Tafsir As-Saadi - Urdu — التكاثر 102:1 – الناس 114:6
Contents
- التكاثر 102:1
- التكاثر 102:2
- التكاثر 102:3
- التكاثر 102:4
- التكاثر 102:5
- التكاثر 102:6
- التكاثر 102:7
- التكاثر 102:8
- العصر 103:1
- العصر 103:2
- العصر 103:3
- الهمزة 104:1
- الهمزة 104:2
- الهمزة 104:3
- الهمزة 104:4
- الهمزة 104:5
- الهمزة 104:6
- الهمزة 104:7
- الهمزة 104:8
- الهمزة 104:9
- الفيل 105:1
- الفيل 105:2
- الفيل 105:3
- الفيل 105:4
- الفيل 105:5
- قريش 106:1
- قريش 106:2
- قريش 106:3
- قريش 106:4
- الماعون 107:1
- الماعون 107:2
- الماعون 107:3
- الماعون 107:4
- الماعون 107:5
- الماعون 107:6
- الماعون 107:7
- الكوثر 108:1
- الكوثر 108:2
- الكوثر 108:3
- الكافرون 109:1
- الكافرون 109:2
- الكافرون 109:3
- الكافرون 109:4
- الكافرون 109:5
- الكافرون 109:6
- النصر 110:1
- النصر 110:2
- النصر 110:3
- المسد 111:1
- المسد 111:2
- المسد 111:3
- المسد 111:4
- المسد 111:5
- الإخلاص 112:1
- الإخلاص 112:2
- الإخلاص 112:3
- الإخلاص 112:4
- الفلق 113:1
- الفلق 113:2
- الفلق 113:3
- الفلق 113:4
- الفلق 113:5
- الناس 114:1
- الناس 114:2
- الناس 114:3
- الناس 114:4
- الناس 114:5
- الناس 114:6
التكاثر 102:1
غافل کر دیا تمھیں با ہم کثرت کی خواہش نے(1) یہاں تک کہ جا پہنچے تم قبرستانوں میں(2) ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(3) پھر ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(4) یقیناً! اگر جان لو تم جاننا یقین کا(5) تو ضرور دیکھو گے تم دوزخ کو(6) پھر ضرور دیکھو گے تم اسے یقین کی آنکھ سے(7) پھر ضرور سوال کیے جاؤ گے تم اس دن نعمتوں کی بابت(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کو جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی اکیلے اللہ کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں، اس کی معرفت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کو چھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونے پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔ ﴿اَلۡهٰىكُمُ ﴾ ’’تمھیں غافل کردیا۔‘‘ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے ﴿ التَّكَاثُرُ ﴾ ’’زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے‘‘ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نےاس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرنے والے فخر کرتے ہیں، مثلاً: مال، اولاد، اعوان و انصار، فوجیں، خدم و حشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔
[2] تمھاری غفلت، تمھارا لہو و لعب اور تمھاری مشغولیت دائمی ہو گئی ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ ’’یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔‘‘ تب تمھارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمھارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے، جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’زائرین‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، ’’قیام کرنے والوں‘‘ سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعد الموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا و سزا پر دلالت کرتی ہے۔
[6-3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی: ﴿ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ۰۰ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لوگے۔ ہرگز نہیں پھر تمھیں جلد علم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے سامنے ہے، اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمھیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔ ﴿لَـتَرَوُنَّ الۡؔجَحِيۡمَ﴾ یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤگے، پس تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[7]﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔‘‘ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَلَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا﴾(الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔‘‘
[8]﴿ ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ﴾ پھر وہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیا تم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی ۔ تب وہ تمھیں ان نعمتوں سے اعلیٰ و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمھیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا١ۚ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾(الاحقاف:46؍20) ’’ جس دن، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے، پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمھیں رسواکن عذاب دیا جائے گا۔‘‘
التكاثر 102:2
غافل کر دیا تمھیں با ہم کثرت کی خواہش نے(1) یہاں تک کہ جا پہنچے تم قبرستانوں میں(2) ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(3) پھر ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(4) یقیناً! اگر جان لو تم جاننا یقین کا(5) تو ضرور دیکھو گے تم دوزخ کو(6) پھر ضرور دیکھو گے تم اسے یقین کی آنکھ سے(7) پھر ضرور سوال کیے جاؤ گے تم اس دن نعمتوں کی بابت(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کو جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی اکیلے اللہ کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں، اس کی معرفت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کو چھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونے پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔ ﴿اَلۡهٰىكُمُ ﴾ ’’تمھیں غافل کردیا۔‘‘ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے ﴿ التَّكَاثُرُ ﴾ ’’زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے‘‘ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نےاس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرنے والے فخر کرتے ہیں، مثلاً: مال، اولاد، اعوان و انصار، فوجیں، خدم و حشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔
[2] تمھاری غفلت، تمھارا لہو و لعب اور تمھاری مشغولیت دائمی ہو گئی ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ ’’یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔‘‘ تب تمھارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمھارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے، جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’زائرین‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، ’’قیام کرنے والوں‘‘ سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعد الموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا و سزا پر دلالت کرتی ہے۔
[6-3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی: ﴿ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ۰۰ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لوگے۔ ہرگز نہیں پھر تمھیں جلد علم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے سامنے ہے، اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمھیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔ ﴿لَـتَرَوُنَّ الۡؔجَحِيۡمَ﴾ یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤگے، پس تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[7]﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔‘‘ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَلَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا﴾(الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔‘‘
[8]﴿ ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ﴾ پھر وہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیا تم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی ۔ تب وہ تمھیں ان نعمتوں سے اعلیٰ و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمھیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا١ۚ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾(الاحقاف:46؍20) ’’ جس دن، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے، پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمھیں رسواکن عذاب دیا جائے گا۔‘‘
التكاثر 102:3
غافل کر دیا تمھیں با ہم کثرت کی خواہش نے(1) یہاں تک کہ جا پہنچے تم قبرستانوں میں(2) ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(3) پھر ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(4) یقیناً! اگر جان لو تم جاننا یقین کا(5) تو ضرور دیکھو گے تم دوزخ کو(6) پھر ضرور دیکھو گے تم اسے یقین کی آنکھ سے(7) پھر ضرور سوال کیے جاؤ گے تم اس دن نعمتوں کی بابت(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کو جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی اکیلے اللہ کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں، اس کی معرفت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کو چھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونے پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔ ﴿اَلۡهٰىكُمُ ﴾ ’’تمھیں غافل کردیا۔‘‘ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے ﴿ التَّكَاثُرُ ﴾ ’’زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے‘‘ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نےاس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرنے والے فخر کرتے ہیں، مثلاً: مال، اولاد، اعوان و انصار، فوجیں، خدم و حشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔
[2] تمھاری غفلت، تمھارا لہو و لعب اور تمھاری مشغولیت دائمی ہو گئی ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ ’’یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔‘‘ تب تمھارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمھارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے، جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’زائرین‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، ’’قیام کرنے والوں‘‘ سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعد الموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا و سزا پر دلالت کرتی ہے۔
[6-3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی: ﴿ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ۰۰ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لوگے۔ ہرگز نہیں پھر تمھیں جلد علم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے سامنے ہے، اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمھیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔ ﴿لَـتَرَوُنَّ الۡؔجَحِيۡمَ﴾ یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤگے، پس تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[7]﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔‘‘ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَلَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا﴾(الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔‘‘
[8]﴿ ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ﴾ پھر وہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیا تم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی ۔ تب وہ تمھیں ان نعمتوں سے اعلیٰ و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمھیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا١ۚ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾(الاحقاف:46؍20) ’’ جس دن، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے، پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمھیں رسواکن عذاب دیا جائے گا۔‘‘
التكاثر 102:4
غافل کر دیا تمھیں با ہم کثرت کی خواہش نے(1) یہاں تک کہ جا پہنچے تم قبرستانوں میں(2) ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(3) پھر ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(4) یقیناً! اگر جان لو تم جاننا یقین کا(5) تو ضرور دیکھو گے تم دوزخ کو(6) پھر ضرور دیکھو گے تم اسے یقین کی آنکھ سے(7) پھر ضرور سوال کیے جاؤ گے تم اس دن نعمتوں کی بابت(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کو جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی اکیلے اللہ کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں، اس کی معرفت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کو چھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونے پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔ ﴿اَلۡهٰىكُمُ ﴾ ’’تمھیں غافل کردیا۔‘‘ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے ﴿ التَّكَاثُرُ ﴾ ’’زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے‘‘ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نےاس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرنے والے فخر کرتے ہیں، مثلاً: مال، اولاد، اعوان و انصار، فوجیں، خدم و حشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔
[2] تمھاری غفلت، تمھارا لہو و لعب اور تمھاری مشغولیت دائمی ہو گئی ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ ’’یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔‘‘ تب تمھارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمھارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے، جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’زائرین‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، ’’قیام کرنے والوں‘‘ سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعد الموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا و سزا پر دلالت کرتی ہے۔
[6-3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی: ﴿ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ۰۰ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لوگے۔ ہرگز نہیں پھر تمھیں جلد علم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے سامنے ہے، اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمھیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔ ﴿لَـتَرَوُنَّ الۡؔجَحِيۡمَ﴾ یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤگے، پس تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[7]﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔‘‘ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَلَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا﴾(الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔‘‘
[8]﴿ ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ﴾ پھر وہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیا تم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی ۔ تب وہ تمھیں ان نعمتوں سے اعلیٰ و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمھیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا١ۚ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾(الاحقاف:46؍20) ’’ جس دن، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے، پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمھیں رسواکن عذاب دیا جائے گا۔‘‘
التكاثر 102:5
غافل کر دیا تمھیں با ہم کثرت کی خواہش نے(1) یہاں تک کہ جا پہنچے تم قبرستانوں میں(2) ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(3) پھر ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(4) یقیناً! اگر جان لو تم جاننا یقین کا(5) تو ضرور دیکھو گے تم دوزخ کو(6) پھر ضرور دیکھو گے تم اسے یقین کی آنکھ سے(7) پھر ضرور سوال کیے جاؤ گے تم اس دن نعمتوں کی بابت(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کو جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی اکیلے اللہ کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں، اس کی معرفت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کو چھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونے پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔ ﴿اَلۡهٰىكُمُ ﴾ ’’تمھیں غافل کردیا۔‘‘ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے ﴿ التَّكَاثُرُ ﴾ ’’زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے‘‘ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نےاس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرنے والے فخر کرتے ہیں، مثلاً: مال، اولاد، اعوان و انصار، فوجیں، خدم و حشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔
[2] تمھاری غفلت، تمھارا لہو و لعب اور تمھاری مشغولیت دائمی ہو گئی ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ ’’یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔‘‘ تب تمھارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمھارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے، جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’زائرین‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، ’’قیام کرنے والوں‘‘ سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعد الموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا و سزا پر دلالت کرتی ہے۔
[6-3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی: ﴿ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ۰۰ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لوگے۔ ہرگز نہیں پھر تمھیں جلد علم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے سامنے ہے، اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمھیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔ ﴿لَـتَرَوُنَّ الۡؔجَحِيۡمَ﴾ یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤگے، پس تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[7]﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔‘‘ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَلَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا﴾(الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔‘‘
[8]﴿ ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ﴾ پھر وہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیا تم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی ۔ تب وہ تمھیں ان نعمتوں سے اعلیٰ و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمھیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا١ۚ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾(الاحقاف:46؍20) ’’ جس دن، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے، پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمھیں رسواکن عذاب دیا جائے گا۔‘‘
التكاثر 102:6
غافل کر دیا تمھیں با ہم کثرت کی خواہش نے(1) یہاں تک کہ جا پہنچے تم قبرستانوں میں(2) ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(3) پھر ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(4) یقیناً! اگر جان لو تم جاننا یقین کا(5) تو ضرور دیکھو گے تم دوزخ کو(6) پھر ضرور دیکھو گے تم اسے یقین کی آنکھ سے(7) پھر ضرور سوال کیے جاؤ گے تم اس دن نعمتوں کی بابت(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کو جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی اکیلے اللہ کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں، اس کی معرفت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کو چھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونے پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔ ﴿اَلۡهٰىكُمُ ﴾ ’’تمھیں غافل کردیا۔‘‘ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے ﴿ التَّكَاثُرُ ﴾ ’’زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے‘‘ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نےاس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرنے والے فخر کرتے ہیں، مثلاً: مال، اولاد، اعوان و انصار، فوجیں، خدم و حشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔
[2] تمھاری غفلت، تمھارا لہو و لعب اور تمھاری مشغولیت دائمی ہو گئی ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ ’’یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔‘‘ تب تمھارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمھارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے، جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’زائرین‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، ’’قیام کرنے والوں‘‘ سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعد الموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا و سزا پر دلالت کرتی ہے۔
[6-3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی: ﴿ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ۰۰ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لوگے۔ ہرگز نہیں پھر تمھیں جلد علم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے سامنے ہے، اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمھیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔ ﴿لَـتَرَوُنَّ الۡؔجَحِيۡمَ﴾ یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤگے، پس تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[7]﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔‘‘ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَلَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا﴾(الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔‘‘
[8]﴿ ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ﴾ پھر وہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیا تم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی ۔ تب وہ تمھیں ان نعمتوں سے اعلیٰ و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمھیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا١ۚ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾(الاحقاف:46؍20) ’’ جس دن، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے، پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمھیں رسواکن عذاب دیا جائے گا۔‘‘
التكاثر 102:7
غافل کر دیا تمھیں با ہم کثرت کی خواہش نے(1) یہاں تک کہ جا پہنچے تم قبرستانوں میں(2) ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(3) پھر ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(4) یقیناً! اگر جان لو تم جاننا یقین کا(5) تو ضرور دیکھو گے تم دوزخ کو(6) پھر ضرور دیکھو گے تم اسے یقین کی آنکھ سے(7) پھر ضرور سوال کیے جاؤ گے تم اس دن نعمتوں کی بابت(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کو جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی اکیلے اللہ کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں، اس کی معرفت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کو چھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونے پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔ ﴿اَلۡهٰىكُمُ ﴾ ’’تمھیں غافل کردیا۔‘‘ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے ﴿ التَّكَاثُرُ ﴾ ’’زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے‘‘ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نےاس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرنے والے فخر کرتے ہیں، مثلاً: مال، اولاد، اعوان و انصار، فوجیں، خدم و حشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔
[2] تمھاری غفلت، تمھارا لہو و لعب اور تمھاری مشغولیت دائمی ہو گئی ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ ’’یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔‘‘ تب تمھارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمھارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے، جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’زائرین‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، ’’قیام کرنے والوں‘‘ سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعد الموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا و سزا پر دلالت کرتی ہے۔
[6-3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی: ﴿ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ۰۰ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لوگے۔ ہرگز نہیں پھر تمھیں جلد علم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے سامنے ہے، اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمھیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔ ﴿لَـتَرَوُنَّ الۡؔجَحِيۡمَ﴾ یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤگے، پس تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[7]﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔‘‘ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَلَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا﴾(الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔‘‘
[8]﴿ ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ﴾ پھر وہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیا تم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی ۔ تب وہ تمھیں ان نعمتوں سے اعلیٰ و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمھیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا١ۚ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾(الاحقاف:46؍20) ’’ جس دن، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے، پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمھیں رسواکن عذاب دیا جائے گا۔‘‘
التكاثر 102:8
غافل کر دیا تمھیں با ہم کثرت کی خواہش نے(1) یہاں تک کہ جا پہنچے تم قبرستانوں میں(2) ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(3) پھر ہرگز نہیں! عنقریب تم جان لو گے(4) یقیناً! اگر جان لو تم جاننا یقین کا(5) تو ضرور دیکھو گے تم دوزخ کو(6) پھر ضرور دیکھو گے تم اسے یقین کی آنکھ سے(7) پھر ضرور سوال کیے جاؤ گے تم اس دن نعمتوں کی بابت(8)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو ان امور کو جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا ہے یعنی اکیلے اللہ کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں، اس کی معرفت، اس کی طرف انابت اور اس کی محبت کو ہر چیز پر مقدم رکھنے کو چھوڑ کر دوسری چیزوں میں مشغول ہونے پر زجر و توبیخ کرتا ہے۔ ﴿اَلۡهٰىكُمُ ﴾ ’’تمھیں غافل کردیا۔‘‘ مذکورہ بالا تمام چیزوں سے ﴿ التَّكَاثُرُ ﴾ ’’زیادہ طلب کرنے کی خواہش نے‘‘ اور جس چیز کی کثرت طلب کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ نےاس کا ذکر نہیں کیا تاکہ یہ ہر چیز کو شامل ہو جس کے ذریعے سے کثرت میں مقابلہ کرنے والے مقابلہ کرتے ہیں اور باہم فخر کرنے والے فخر کرتے ہیں، مثلاً: مال، اولاد، اعوان و انصار، فوجیں، خدم و حشم اور جاہ وغیرہ جس میں لوگ ایک دوسرے سے زیادہ حاصل کرنے کا قصد کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا ان کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتا۔
[2] تمھاری غفلت، تمھارا لہو و لعب اور تمھاری مشغولیت دائمی ہو گئی ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ ’’یہاں تک کہ تم قبرستان جا پہنچے۔‘‘ تب تمھارے سامنے سے پردہ ہٹ گیا مگر اس وقت جب تمھارا دنیا میں دوبارہ آنا ممکن نہیں رہا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد: ﴿ حَتّٰى زُرۡتُمُ الۡمَقَابِرَ﴾ دلالت کرتا ہے کہ برزخ ایسا گھر ہے، جس سے مقصود آخرت کے گھر کی طرف نفوذ کرنا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ’’زائرین‘‘ کے نام سے موسوم کیا ہے، ’’قیام کرنے والوں‘‘ سے موسوم نہیں کیا۔ اور یہ چیز حیات بعد الموت اور ہمیشہ باقی رہنے والے غیر فانی گھر میں اعمال کی جزا و سزا پر دلالت کرتی ہے۔
[6-3] اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد کے ذریعے سے ان کو وعید سنائی: ﴿ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَۙ۰۰ثُمَّ كَلَّا سَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَؕ۰۰ كَلَّا لَوۡ تَعۡلَمُوۡنَ عِلۡمَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ہرگز نہیں تم عنقریب معلوم کر لوگے۔ ہرگز نہیں پھر تمھیں جلد علم ہوجائے گا۔ ہرگز نہیں اگر تم یقینی طور پر جان لو۔‘‘ یعنی جو کچھ تمھارے سامنے ہے، اگر تم اس کو جانتے ہوتے، ایسا جاننا جو دل کی گہرائیوں تک پہنچ جاتا ہے، تو تمھیں ایک دوسرے سے زیادہ مال و متاع حاصل کرنے کی خواہش غافل نہ کرتی اور تم جلدی سے اعمال صالحہ کی طرف بڑھتے مگر حقیقی علم کے معدوم ہونے نے تمھیں اس مقام پر پہنچا دیا جہاں تم اپنے آپ کو دیکھتے ہو۔ ﴿لَـتَرَوُنَّ الۡؔجَحِيۡمَ﴾ یعنی تم ضرور قیامت کو لوٹائے جاؤگے، پس تم یقیناً اس جہنم کو دیکھ لو گے جسے اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔
[7]﴿ثُمَّ لَـتَرَوُنَّهَا عَيۡنَ الۡيَقِيۡنِ﴾ ’’ پھر تم اس کو ضرور عین الیقین کے طور پر دیکھو گے۔‘‘ یعنی رؤ یت بصری سے دیکھو گے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَرَاَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ النَّارَ فَظَنُّوۡۤا اَنَّهُمۡ مُّوَاقِعُوۡهَا وَلَمۡ يَجِدُوۡا عَنۡهَا مَصۡرِفًا﴾(الکہف: 18؍53) ’اور مجرم جہنم کو دیکھ کر یقین کر لیں گے کہ وہ اس میں جھونکے جانے والے ہیں اور وہ اس سے بچنے کی کوئی جگہ نہیں پائیں گے۔‘‘
[8]﴿ ثُمَّ لَتُسۡـَٔلُنَّ يَوۡمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيۡمِ﴾ پھر وہ تم سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا جن سے تم دنیا کی زندگی میں متمتع ہوتے رہے ہو کہ آیا تم نے ان نعمتوں کا شکر ادا کیا اور آیا تم نے ان نعمتوں میں سے اللہ تعالیٰ کے حق کو ادا کیا اور تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد نہیں لی ۔ تب وہ تمھیں ان نعمتوں سے اعلیٰ و افضل نعمتیں عطا کرے گا۔یا تم ان نعمتوں کی وجہ سے فریب خوردہ رہے اور تم نے ان کا شکر ادا نہ کیا؟ بلکہ تم نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں ان نعمتوں سے مدد لی تو اس پر اللہ تعالیٰ تمھیں سزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَيَوۡمَ يُعۡرَضُ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا عَلَى النَّارِ١ؕ اَذۡهَبۡتُمۡ طَيِّبٰؔتِكُمۡ فِيۡ حَيَاتِكُمُ الدُّنۡيَا وَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهَا١ۚ فَالۡيَوۡمَ تُجۡزَوۡنَ عَذَابَ الۡهُوۡنِ بِمَا كُنۡتُمۡ تَسۡتَكۡبِرُوۡنَ۠ فِي الۡاَرۡضِ بِغَيۡرِ الۡحَقِّ وَبِمَا كُنۡتُمۡ تَفۡسُقُوۡنَ﴾(الاحقاف:46؍20) ’’ جس دن، ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، جہنم کے سامنے پیش کیا جائے گا (تو ان سے کہا جائے گا) تم اپنی لذتیں، اپنی دنیا کی زندگی ہی میں ختم کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے، پس دنیا میں جو تم ناحق اکڑتے (تکبر کرتے) تھے اور نافرمانیاں کرتے تھے اس کے بدلے آج تمھیں رسواکن عذاب دیا جائے گا۔‘‘
العصر 103:1
قسم ہے زمانے کی(1) بلاشبہ انسان خسارے میں ہے(2) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور ایک دوسرے کو وصیت کی حق کی اور ایک دوسرے کو وصیت کی صبر (کرنے ) کی(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھائی ہے، جو گردش شب و روز کا نام ہے جو بندوں کے اعمال اور ان کے افعال کا محل ہے کہ بے شک انسان خسارے میں ہے۔ خاسر نفع اٹھانے والے کی ضد ہے۔ خسارے کے متعدد اور متفاوت مراتب ہیں۔ کبھی خسارہ مطلق ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا حال جس نے دنیا و آخرت میں خسارہ اٹھایا، جنت سے محروم ہوا اور جہنم کا مستحق ہوا۔ کبھی خسارہ اٹھانے والا کسی ایک پہلو سے خسارے میں رہتا ہے، کسی دوسرے پہلو سے خسارے میں نہیں رہتا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ہر انسان کے لیے عام قرار دیا ہے سوائے اس شخص کے جو ان چار صفات سے متصف ہے:(۱)ان امور پر ایمان لانا جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ایمان علم کے بغیر نہیں ہوتا، اس لیے علم ایمان ہی کی فرع ہے ، علم کے بغیر اس ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔(۲)عمل صالح: یہ تمام ظاہری اور باطنی بھلائی کے افعال کو شامل ہے، جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ سے متعلق ہیں۔(۳)ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنا، حق جو ایمان اور عمل صالح کا نام ہے، یعنی اہل ایمان ایک دوسرے کو ان امور کی وصیت کرتے ہیں، ان پر ایک دوسرے کو آمادہ کرتے اور ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہیں۔(۴) اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی، اس کی نافرمانی سے باز رہنے کی اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ تقدیر پر صبر کرنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرنا۔پہلے دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن اپنے آپ کی تکمیل کرتا ہے اور آخری دو امور کے ذریعے سے وہ دوسروں کی تکمیل کرتا ہے۔ ان چاروں امور کی تکمیل سے بندہ خسارے سے محفوظ رہتا ہے اور بہت بڑا نفع حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
العصر 103:2
قسم ہے زمانے کی(1) بلاشبہ انسان خسارے میں ہے(2) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور ایک دوسرے کو وصیت کی حق کی اور ایک دوسرے کو وصیت کی صبر (کرنے ) کی(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھائی ہے، جو گردش شب و روز کا نام ہے جو بندوں کے اعمال اور ان کے افعال کا محل ہے کہ بے شک انسان خسارے میں ہے۔ خاسر نفع اٹھانے والے کی ضد ہے۔ خسارے کے متعدد اور متفاوت مراتب ہیں۔ کبھی خسارہ مطلق ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا حال جس نے دنیا و آخرت میں خسارہ اٹھایا، جنت سے محروم ہوا اور جہنم کا مستحق ہوا۔ کبھی خسارہ اٹھانے والا کسی ایک پہلو سے خسارے میں رہتا ہے، کسی دوسرے پہلو سے خسارے میں نہیں رہتا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ہر انسان کے لیے عام قرار دیا ہے سوائے اس شخص کے جو ان چار صفات سے متصف ہے:(۱)ان امور پر ایمان لانا جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ایمان علم کے بغیر نہیں ہوتا، اس لیے علم ایمان ہی کی فرع ہے ، علم کے بغیر اس ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔(۲)عمل صالح: یہ تمام ظاہری اور باطنی بھلائی کے افعال کو شامل ہے، جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ سے متعلق ہیں۔(۳)ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنا، حق جو ایمان اور عمل صالح کا نام ہے، یعنی اہل ایمان ایک دوسرے کو ان امور کی وصیت کرتے ہیں، ان پر ایک دوسرے کو آمادہ کرتے اور ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہیں۔(۴) اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی، اس کی نافرمانی سے باز رہنے کی اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ تقدیر پر صبر کرنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرنا۔پہلے دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن اپنے آپ کی تکمیل کرتا ہے اور آخری دو امور کے ذریعے سے وہ دوسروں کی تکمیل کرتا ہے۔ ان چاروں امور کی تکمیل سے بندہ خسارے سے محفوظ رہتا ہے اور بہت بڑا نفع حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
العصر 103:3
قسم ہے زمانے کی(1) بلاشبہ انسان خسارے میں ہے(2) سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک اور ایک دوسرے کو وصیت کی حق کی اور ایک دوسرے کو وصیت کی صبر (کرنے ) کی(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے زمانے کی قسم کھائی ہے، جو گردش شب و روز کا نام ہے جو بندوں کے اعمال اور ان کے افعال کا محل ہے کہ بے شک انسان خسارے میں ہے۔ خاسر نفع اٹھانے والے کی ضد ہے۔ خسارے کے متعدد اور متفاوت مراتب ہیں۔ کبھی خسارہ مطلق ہوتا ہے، جیسے اس شخص کا حال جس نے دنیا و آخرت میں خسارہ اٹھایا، جنت سے محروم ہوا اور جہنم کا مستحق ہوا۔ کبھی خسارہ اٹھانے والا کسی ایک پہلو سے خسارے میں رہتا ہے، کسی دوسرے پہلو سے خسارے میں نہیں رہتا، بنابریں اللہ تعالیٰ نے خسارے کو ہر انسان کے لیے عام قرار دیا ہے سوائے اس شخص کے جو ان چار صفات سے متصف ہے:(۱)ان امور پر ایمان لانا جن پر ایمان لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اور ایمان علم کے بغیر نہیں ہوتا، اس لیے علم ایمان ہی کی فرع ہے ، علم کے بغیر اس ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی۔(۲)عمل صالح: یہ تمام ظاہری اور باطنی بھلائی کے افعال کو شامل ہے، جو اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ سے متعلق ہیں۔(۳)ایک دوسرے کو حق کی وصیت کرنا، حق جو ایمان اور عمل صالح کا نام ہے، یعنی اہل ایمان ایک دوسرے کو ان امور کی وصیت کرتے ہیں، ان پر ایک دوسرے کو آمادہ کرتے اور ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہیں۔(۴) اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے کی، اس کی نافرمانی سے باز رہنے کی اور اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ تقدیر پر صبر کرنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرنا۔پہلے دو امور کے ذریعے سے بندۂ مومن اپنے آپ کی تکمیل کرتا ہے اور آخری دو امور کے ذریعے سے وہ دوسروں کی تکمیل کرتا ہے۔ ان چاروں امور کی تکمیل سے بندہ خسارے سے محفوظ رہتا ہے اور بہت بڑا نفع حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
الهمزة 104:1
ہلاکت ہے واسطے ہر عیب جو، غیبت کرنے والے کے(1) وہ جس نے جمع کیا مال اور گن (گن) کر رکھا اس کو(2) وہ سمجھتا ہے کہ بلاشبہ اس کا مال ہمیشہ (زندہ) رکھے گا اس کو(3) ہرگز نہیں! البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ حُطَمَہ میں(4) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے حُطَمَہ؟(5) وہ آگ ہے اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی(6) وہ جو پہنچتی ہے دلوں تک(7) بلاشبہ وہ (آگ) ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی(8) لمبے لمبے ستونوں میں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿وَيۡلٌ﴾ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ ’’ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔‘‘ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
[2] اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
[3]﴿يَحۡسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
[7-4]﴿كَلَّا لَيُنۢۡبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِي الۡحُطَمَةِٞۖ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحُطَمَةُ﴾ ’’حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ’’یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی:﴿نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ﴾ ’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِيۡ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
[8] اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِيۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾(السجدہ:32؍20) ’’جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الهمزة 104:2
ہلاکت ہے واسطے ہر عیب جو، غیبت کرنے والے کے(1) وہ جس نے جمع کیا مال اور گن (گن) کر رکھا اس کو(2) وہ سمجھتا ہے کہ بلاشبہ اس کا مال ہمیشہ (زندہ) رکھے گا اس کو(3) ہرگز نہیں! البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ حُطَمَہ میں(4) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے حُطَمَہ؟(5) وہ آگ ہے اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی(6) وہ جو پہنچتی ہے دلوں تک(7) بلاشبہ وہ (آگ) ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی(8) لمبے لمبے ستونوں میں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿وَيۡلٌ﴾ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ ’’ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔‘‘ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
[2] اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
[3]﴿يَحۡسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
[7-4]﴿كَلَّا لَيُنۢۡبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِي الۡحُطَمَةِٞۖ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحُطَمَةُ﴾ ’’حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ’’یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی:﴿نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ﴾ ’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِيۡ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
[8] اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِيۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾(السجدہ:32؍20) ’’جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الهمزة 104:3
ہلاکت ہے واسطے ہر عیب جو، غیبت کرنے والے کے(1) وہ جس نے جمع کیا مال اور گن (گن) کر رکھا اس کو(2) وہ سمجھتا ہے کہ بلاشبہ اس کا مال ہمیشہ (زندہ) رکھے گا اس کو(3) ہرگز نہیں! البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ حُطَمَہ میں(4) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے حُطَمَہ؟(5) وہ آگ ہے اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی(6) وہ جو پہنچتی ہے دلوں تک(7) بلاشبہ وہ (آگ) ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی(8) لمبے لمبے ستونوں میں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿وَيۡلٌ﴾ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ ’’ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔‘‘ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
[2] اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
[3]﴿يَحۡسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
[7-4]﴿كَلَّا لَيُنۢۡبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِي الۡحُطَمَةِٞۖ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحُطَمَةُ﴾ ’’حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ’’یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی:﴿نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ﴾ ’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِيۡ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
[8] اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِيۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾(السجدہ:32؍20) ’’جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الهمزة 104:4
ہلاکت ہے واسطے ہر عیب جو، غیبت کرنے والے کے(1) وہ جس نے جمع کیا مال اور گن (گن) کر رکھا اس کو(2) وہ سمجھتا ہے کہ بلاشبہ اس کا مال ہمیشہ (زندہ) رکھے گا اس کو(3) ہرگز نہیں! البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ حُطَمَہ میں(4) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے حُطَمَہ؟(5) وہ آگ ہے اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی(6) وہ جو پہنچتی ہے دلوں تک(7) بلاشبہ وہ (آگ) ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی(8) لمبے لمبے ستونوں میں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿وَيۡلٌ﴾ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ ’’ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔‘‘ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
[2] اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
[3]﴿يَحۡسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
[7-4]﴿كَلَّا لَيُنۢۡبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِي الۡحُطَمَةِٞۖ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحُطَمَةُ﴾ ’’حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ’’یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی:﴿نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ﴾ ’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِيۡ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
[8] اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِيۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾(السجدہ:32؍20) ’’جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الهمزة 104:5
ہلاکت ہے واسطے ہر عیب جو، غیبت کرنے والے کے(1) وہ جس نے جمع کیا مال اور گن (گن) کر رکھا اس کو(2) وہ سمجھتا ہے کہ بلاشبہ اس کا مال ہمیشہ (زندہ) رکھے گا اس کو(3) ہرگز نہیں! البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ حُطَمَہ میں(4) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے حُطَمَہ؟(5) وہ آگ ہے اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی(6) وہ جو پہنچتی ہے دلوں تک(7) بلاشبہ وہ (آگ) ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی(8) لمبے لمبے ستونوں میں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿وَيۡلٌ﴾ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ ’’ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔‘‘ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
[2] اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
[3]﴿يَحۡسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
[7-4]﴿كَلَّا لَيُنۢۡبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِي الۡحُطَمَةِٞۖ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحُطَمَةُ﴾ ’’حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ’’یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی:﴿نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ﴾ ’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِيۡ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
[8] اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِيۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾(السجدہ:32؍20) ’’جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الهمزة 104:6
ہلاکت ہے واسطے ہر عیب جو، غیبت کرنے والے کے(1) وہ جس نے جمع کیا مال اور گن (گن) کر رکھا اس کو(2) وہ سمجھتا ہے کہ بلاشبہ اس کا مال ہمیشہ (زندہ) رکھے گا اس کو(3) ہرگز نہیں! البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ حُطَمَہ میں(4) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے حُطَمَہ؟(5) وہ آگ ہے اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی(6) وہ جو پہنچتی ہے دلوں تک(7) بلاشبہ وہ (آگ) ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی(8) لمبے لمبے ستونوں میں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿وَيۡلٌ﴾ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ ’’ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔‘‘ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
[2] اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
[3]﴿يَحۡسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
[7-4]﴿كَلَّا لَيُنۢۡبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِي الۡحُطَمَةِٞۖ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحُطَمَةُ﴾ ’’حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ’’یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی:﴿نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ﴾ ’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِيۡ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
[8] اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِيۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾(السجدہ:32؍20) ’’جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الهمزة 104:7
ہلاکت ہے واسطے ہر عیب جو، غیبت کرنے والے کے(1) وہ جس نے جمع کیا مال اور گن (گن) کر رکھا اس کو(2) وہ سمجھتا ہے کہ بلاشبہ اس کا مال ہمیشہ (زندہ) رکھے گا اس کو(3) ہرگز نہیں! البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ حُطَمَہ میں(4) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے حُطَمَہ؟(5) وہ آگ ہے اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی(6) وہ جو پہنچتی ہے دلوں تک(7) بلاشبہ وہ (آگ) ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی(8) لمبے لمبے ستونوں میں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿وَيۡلٌ﴾ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ ’’ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔‘‘ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
[2] اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
[3]﴿يَحۡسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
[7-4]﴿كَلَّا لَيُنۢۡبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِي الۡحُطَمَةِٞۖ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحُطَمَةُ﴾ ’’حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ’’یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی:﴿نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ﴾ ’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِيۡ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
[8] اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِيۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾(السجدہ:32؍20) ’’جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الهمزة 104:8
ہلاکت ہے واسطے ہر عیب جو، غیبت کرنے والے کے(1) وہ جس نے جمع کیا مال اور گن (گن) کر رکھا اس کو(2) وہ سمجھتا ہے کہ بلاشبہ اس کا مال ہمیشہ (زندہ) رکھے گا اس کو(3) ہرگز نہیں! البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ حُطَمَہ میں(4) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے حُطَمَہ؟(5) وہ آگ ہے اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی(6) وہ جو پہنچتی ہے دلوں تک(7) بلاشبہ وہ (آگ) ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی(8) لمبے لمبے ستونوں میں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿وَيۡلٌ﴾ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ ’’ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔‘‘ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
[2] اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
[3]﴿يَحۡسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
[7-4]﴿كَلَّا لَيُنۢۡبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِي الۡحُطَمَةِٞۖ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحُطَمَةُ﴾ ’’حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ’’یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی:﴿نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ﴾ ’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِيۡ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
[8] اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِيۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾(السجدہ:32؍20) ’’جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الهمزة 104:9
ہلاکت ہے واسطے ہر عیب جو، غیبت کرنے والے کے(1) وہ جس نے جمع کیا مال اور گن (گن) کر رکھا اس کو(2) وہ سمجھتا ہے کہ بلاشبہ اس کا مال ہمیشہ (زندہ) رکھے گا اس کو(3) ہرگز نہیں! البتہ ضرور پھینکا جائے گا وہ حُطَمَہ میں(4) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے حُطَمَہ؟(5) وہ آگ ہے اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی(6) وہ جو پہنچتی ہے دلوں تک(7) بلاشبہ وہ (آگ) ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی(8) لمبے لمبے ستونوں میں(9)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿وَيۡلٌ﴾ یعنی وعید، وبال اور سخت عذاب ﴿ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ﴾ ’’ہر اس شخص کے لیے جو طعن آمیز اشارے کرنے والا اور عیب جو ہے۔‘‘ یعنی جو اپنے فعل سے لوگوں کی عیب جوئی کرتا ہے اور اپنے قول سے چغل خوری کرتا ہے۔ ھَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو لوگوں میں عیب نکالتا ہے، اپنے فعل اور اشاروں سے طعنہ زنی کرتا ہے۔ لَمَّاز اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے قول سے لوگوں پر عیب نکالتا ہے۔
[2] اس طعن آمیز اشارے کرنے والے اور چغل خور کی صفت یہ ہے کہ مال جمع کرنے، اس کو گننے اور اس پر خوش ہونے کے سوا اس کا کوئی مقصد نہیں، بھلائی کے راستوں میں اور صلہ رحمی کے لیے اس مال کو خرچ کرنے میں اسے کوئی رغبت نہیں۔
[3]﴿يَحۡسَبُ﴾ اپنی جہالت کی وجہ سے سمجھتا ہے ﴿اَنَّ مَالَهٗۤ اَخۡلَدَهٗ﴾ کہ اس کا مال اسے دنیا میں ہمیشہ زندہ رکھے گا، اسی لیے اس کی تمام کدو کاوش اپنا مال بڑھانے میں صرف ہوتی ہے، جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہے کہ یہ اس کی عمر کو بڑھاتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا کہ بخل اعمال کو ختم اور شہروں کو برباد کر دیتا ہے اور نیکی عمر میں اضافہ کرتی ہے۔
[7-4]﴿كَلَّا لَيُنۢۡبَذَنَّ﴾ یعنی اسے ضرور پھینکا جائے گا ﴿فِي الۡحُطَمَةِٞۖ۰۰ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡحُطَمَةُ﴾ ’’حُطَمَہ میں اور آپ سمجھے کہ حطمہ کیا ہے؟ ’’یہ اس کی تعظیم اور اس کی ہولناکی کا بیان ہے، پھر اپنے اس ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی:﴿نَارُ اللّٰهِ الۡمُوۡقَدَةُ﴾ ’’وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے۔‘‘ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے ﴿الَّتِيۡ﴾ جو اپنی شدت کے باعث ﴿تَطَّلِعُ عَلَى الۡاَفۡـِٕدَةِ﴾ جسموں کو چھیدتی ہوئی دلوں تک جا پہنچے گی۔
[8] اتنی سخت حرارت کے باوجود وہ اس آگ میں محبوس ہوں گے، اس سے باہر نکلنے سے مایوس ہوں گے۔ اس لیے فرمایا:﴿اِنَّهَا عَلَيۡهِمۡ مُّؤۡصَدَةٌ﴾ یعنی وہ آگ ان پر (ہر طرف سے) بند کر دی جائے گی ﴿فِيۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ﴾ دروازوں کے پیچھے بڑے بڑے ستونوں میں، تاکہ وہ اس سے باہر نہ نکل سکیں۔ ﴿كُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ يَّخۡرُجُوۡا مِنۡهَاۤ اُعِيۡدُوۡا فِيۡهَا﴾(السجدہ:32؍20) ’’جب بھی وہ اس آگ سے باہر نکلنا چاہیں گے، اسی میں واپس لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘ ہم اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے عفو اور عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
الفيل 105:1
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسے کیا آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ؟(1)کیا نہیں کر دیا تھا اس نے ان کی چال کو بے کار؟(2) اور اس نے بھیجے ان پر پرندے جھنڈ کے جھنڈ(3) وہ پھینکتے تھے ان پر کنکریاں کھنگر کی(4) سو (اللہ) نے کر دیا انھیں (ایسے) جیسے بھوسا کھایا ہوا(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی عظمت شان، اپنے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمدﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ جنھوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا۔ پس اس کے لیے انھوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے۔ وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا، اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے، یعنی متفرق غول جو کھنگر کی گرم کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ پس پرندوں نے یہ کنکریاں ان پر پھینکیں اور انھوں نے دور اور نزدیک سب کو نشانہ بنایا اور وہ سب موت کے گھاٹ اتر گئے اور وہ یوں ہو گئے جیسے کھایا ہوا بھس۔اللہ تعالیٰ ان کے شر کے لیے کافی ہو گیا اور اس نے ان کی چال کو انھی پر لوٹا دیا۔ ان کا یہ واقعہ بہت مشہور اور معروف ہے۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہﷺ متولد ہوئے۔ پس یہ واقعہ آپ کی دعوت کی بنیاد اور آپ کی رسالت کی دلیل بن گیا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کی حمد و ثنا اور اسی کا شکر ہے۔
الفيل 105:2
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسے کیا آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ؟(1)کیا نہیں کر دیا تھا اس نے ان کی چال کو بے کار؟(2) اور اس نے بھیجے ان پر پرندے جھنڈ کے جھنڈ(3) وہ پھینکتے تھے ان پر کنکریاں کھنگر کی(4) سو (اللہ) نے کر دیا انھیں (ایسے) جیسے بھوسا کھایا ہوا(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی عظمت شان، اپنے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمدﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ جنھوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا۔ پس اس کے لیے انھوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے۔ وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا، اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے، یعنی متفرق غول جو کھنگر کی گرم کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ پس پرندوں نے یہ کنکریاں ان پر پھینکیں اور انھوں نے دور اور نزدیک سب کو نشانہ بنایا اور وہ سب موت کے گھاٹ اتر گئے اور وہ یوں ہو گئے جیسے کھایا ہوا بھس۔اللہ تعالیٰ ان کے شر کے لیے کافی ہو گیا اور اس نے ان کی چال کو انھی پر لوٹا دیا۔ ان کا یہ واقعہ بہت مشہور اور معروف ہے۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہﷺ متولد ہوئے۔ پس یہ واقعہ آپ کی دعوت کی بنیاد اور آپ کی رسالت کی دلیل بن گیا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کی حمد و ثنا اور اسی کا شکر ہے۔
الفيل 105:3
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسے کیا آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ؟(1)کیا نہیں کر دیا تھا اس نے ان کی چال کو بے کار؟(2) اور اس نے بھیجے ان پر پرندے جھنڈ کے جھنڈ(3) وہ پھینکتے تھے ان پر کنکریاں کھنگر کی(4) سو (اللہ) نے کر دیا انھیں (ایسے) جیسے بھوسا کھایا ہوا(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی عظمت شان، اپنے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمدﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ جنھوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا۔ پس اس کے لیے انھوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے۔ وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا، اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے، یعنی متفرق غول جو کھنگر کی گرم کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ پس پرندوں نے یہ کنکریاں ان پر پھینکیں اور انھوں نے دور اور نزدیک سب کو نشانہ بنایا اور وہ سب موت کے گھاٹ اتر گئے اور وہ یوں ہو گئے جیسے کھایا ہوا بھس۔اللہ تعالیٰ ان کے شر کے لیے کافی ہو گیا اور اس نے ان کی چال کو انھی پر لوٹا دیا۔ ان کا یہ واقعہ بہت مشہور اور معروف ہے۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہﷺ متولد ہوئے۔ پس یہ واقعہ آپ کی دعوت کی بنیاد اور آپ کی رسالت کی دلیل بن گیا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کی حمد و ثنا اور اسی کا شکر ہے۔
الفيل 105:4
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسے کیا آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ؟(1)کیا نہیں کر دیا تھا اس نے ان کی چال کو بے کار؟(2) اور اس نے بھیجے ان پر پرندے جھنڈ کے جھنڈ(3) وہ پھینکتے تھے ان پر کنکریاں کھنگر کی(4) سو (اللہ) نے کر دیا انھیں (ایسے) جیسے بھوسا کھایا ہوا(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی عظمت شان، اپنے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمدﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ جنھوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا۔ پس اس کے لیے انھوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے۔ وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا، اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے، یعنی متفرق غول جو کھنگر کی گرم کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ پس پرندوں نے یہ کنکریاں ان پر پھینکیں اور انھوں نے دور اور نزدیک سب کو نشانہ بنایا اور وہ سب موت کے گھاٹ اتر گئے اور وہ یوں ہو گئے جیسے کھایا ہوا بھس۔اللہ تعالیٰ ان کے شر کے لیے کافی ہو گیا اور اس نے ان کی چال کو انھی پر لوٹا دیا۔ ان کا یہ واقعہ بہت مشہور اور معروف ہے۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہﷺ متولد ہوئے۔ پس یہ واقعہ آپ کی دعوت کی بنیاد اور آپ کی رسالت کی دلیل بن گیا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کی حمد و ثنا اور اسی کا شکر ہے۔
الفيل 105:5
کیا نہیں دیکھا آپ نے کیسے کیا آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ؟(1)کیا نہیں کر دیا تھا اس نے ان کی چال کو بے کار؟(2) اور اس نے بھیجے ان پر پرندے جھنڈ کے جھنڈ(3) وہ پھینکتے تھے ان پر کنکریاں کھنگر کی(4) سو (اللہ) نے کر دیا انھیں (ایسے) جیسے بھوسا کھایا ہوا(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[5-1] کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی عظمت شان، اپنے بندوں پر اس کی رحمت، اس کی توحید کے دلائل اور اس کے رسول محمدﷺ کی صداقت کو نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟ جنھوں نے اس کے حرمت والے گھر کے خلاف سازش کی اور اس کو ڈھانے کا ارادہ کیا۔ پس اس کے لیے انھوں نے خوب تیاری کی اور بیت اللہ کو منہدم کرنے کے لیے انھوں نے اپنے ساتھ ہاتھی بھی لے لیے تھے۔ وہ حبشہ اور یمن سے ایک ایسی فوج لے کر آئے جس کا مقابلہ کرنا عربوں کے بس میں نہ تھا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچے تو عربوں میں مزاحمت کرنے والا کوئی نہ تھا، اہل مکہ ان کے خوف سے مکہ سے نکل گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کے غول بھیجے، یعنی متفرق غول جو کھنگر کی گرم کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ پس پرندوں نے یہ کنکریاں ان پر پھینکیں اور انھوں نے دور اور نزدیک سب کو نشانہ بنایا اور وہ سب موت کے گھاٹ اتر گئے اور وہ یوں ہو گئے جیسے کھایا ہوا بھس۔اللہ تعالیٰ ان کے شر کے لیے کافی ہو گیا اور اس نے ان کی چال کو انھی پر لوٹا دیا۔ ان کا یہ واقعہ بہت مشہور اور معروف ہے۔ یہ واقعہ اس سال پیش آیا جس سال رسول اللہﷺ متولد ہوئے۔ پس یہ واقعہ آپ کی دعوت کی بنیاد اور آپ کی رسالت کی دلیل بن گیا۔ پس اللہ تعالیٰ ہی کی حمد و ثنا اور اسی کا شکر ہے۔
قريش 106:1
بوجہ مانوس ہونے قریش کے(1)( یعنی ) مانوس ہونا ان کا سفر سے سردی اور گرمی کے(2) پس چاہیے کہ وہ عبادت کریں مالک کی اس گھر (کعبہ) کے(3) وہ ذات جس نے کھانا کھلایا ان کو بھوک میں اور امن دیا ان کو خوف سے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ما قبل سورۃ سے ہے ، یعنی ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش، ان کے لیے امن، ان کے مصالح کی درستی، تجارت اور کسب معاش کے لیے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطر کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا جنھوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا۔ عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو تعظیم بخشی، یہاں تک کہ عرب قریش کا احترام کرنے لگے، قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلۡيَعۡبُدُوۡا رَبَّ هٰؔذَا الۡبَيۡتِ﴾ ’’پس اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔‘‘ یعنی اس کی توحید بیان کریں اور اس کے لیے عبادت کو خالص کریں۔ ﴿الَّذِيۡۤ اَطۡعَمَهُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ١ۙ ۬ وَّاٰمَنَهُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ﴾ ’’جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن و امان دیا۔‘‘ رزق میں کشادگی، خوف کے حالات میں امن سے بہرہ مند ہونا سب سے بڑی دنیاوی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ کے شکر کی موجب ہے ۔ اے اللہ! اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں پر تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے ساتھ اپنی ربوبیت کو اس کے فضل و شرف کی وجہ سے مخصوص کیا ہے ورنہ تو وہ ہر چیز کا رب ہے۔
قريش 106:2
بوجہ مانوس ہونے قریش کے(1)( یعنی ) مانوس ہونا ان کا سفر سے سردی اور گرمی کے(2) پس چاہیے کہ وہ عبادت کریں مالک کی اس گھر (کعبہ) کے(3) وہ ذات جس نے کھانا کھلایا ان کو بھوک میں اور امن دیا ان کو خوف سے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ما قبل سورۃ سے ہے ، یعنی ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش، ان کے لیے امن، ان کے مصالح کی درستی، تجارت اور کسب معاش کے لیے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطر کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا جنھوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا۔ عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو تعظیم بخشی، یہاں تک کہ عرب قریش کا احترام کرنے لگے، قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلۡيَعۡبُدُوۡا رَبَّ هٰؔذَا الۡبَيۡتِ﴾ ’’پس اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔‘‘ یعنی اس کی توحید بیان کریں اور اس کے لیے عبادت کو خالص کریں۔ ﴿الَّذِيۡۤ اَطۡعَمَهُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ١ۙ ۬ وَّاٰمَنَهُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ﴾ ’’جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن و امان دیا۔‘‘ رزق میں کشادگی، خوف کے حالات میں امن سے بہرہ مند ہونا سب سے بڑی دنیاوی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ کے شکر کی موجب ہے ۔ اے اللہ! اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں پر تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے ساتھ اپنی ربوبیت کو اس کے فضل و شرف کی وجہ سے مخصوص کیا ہے ورنہ تو وہ ہر چیز کا رب ہے۔
قريش 106:3
بوجہ مانوس ہونے قریش کے(1)( یعنی ) مانوس ہونا ان کا سفر سے سردی اور گرمی کے(2) پس چاہیے کہ وہ عبادت کریں مالک کی اس گھر (کعبہ) کے(3) وہ ذات جس نے کھانا کھلایا ان کو بھوک میں اور امن دیا ان کو خوف سے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ما قبل سورۃ سے ہے ، یعنی ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش، ان کے لیے امن، ان کے مصالح کی درستی، تجارت اور کسب معاش کے لیے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطر کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا جنھوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا۔ عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو تعظیم بخشی، یہاں تک کہ عرب قریش کا احترام کرنے لگے، قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلۡيَعۡبُدُوۡا رَبَّ هٰؔذَا الۡبَيۡتِ﴾ ’’پس اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔‘‘ یعنی اس کی توحید بیان کریں اور اس کے لیے عبادت کو خالص کریں۔ ﴿الَّذِيۡۤ اَطۡعَمَهُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ١ۙ ۬ وَّاٰمَنَهُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ﴾ ’’جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن و امان دیا۔‘‘ رزق میں کشادگی، خوف کے حالات میں امن سے بہرہ مند ہونا سب سے بڑی دنیاوی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ کے شکر کی موجب ہے ۔ اے اللہ! اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں پر تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے ساتھ اپنی ربوبیت کو اس کے فضل و شرف کی وجہ سے مخصوص کیا ہے ورنہ تو وہ ہر چیز کا رب ہے۔
قريش 106:4
بوجہ مانوس ہونے قریش کے(1)( یعنی ) مانوس ہونا ان کا سفر سے سردی اور گرمی کے(2) پس چاہیے کہ وہ عبادت کریں مالک کی اس گھر (کعبہ) کے(3) وہ ذات جس نے کھانا کھلایا ان کو بھوک میں اور امن دیا ان کو خوف سے(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[4-1] بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ جار اور مجرور کا تعلق ما قبل سورۃ سے ہے ، یعنی ہم نے اصحاب فیل کے ساتھ جو کچھ کیا وہ قریش، ان کے لیے امن، ان کے مصالح کی درستی، تجارت اور کسب معاش کے لیے سردیوں میں یمن کی طرف اور گرمیوں میں شام کی طرف ان کے سفر کی خاطر کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان تمام لوگوں کو ہلاک کر دیا جنھوں نے ان کے بارے میں کسی برائی کا ارادہ کیا۔ عربوں کے دلوں میں حرم اور اہل حرم کے معاملے کو تعظیم بخشی، یہاں تک کہ عرب قریش کا احترام کرنے لگے، قریش جہاں بھی سفر کا ارادہ کرتے تو عرب معترض نہ ہوتے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو شکر ادا کرنے کا حکم دیا۔ فرمایا:﴿فَلۡيَعۡبُدُوۡا رَبَّ هٰؔذَا الۡبَيۡتِ﴾ ’’پس اس گھر کے رب کی عبادت کریں۔‘‘ یعنی اس کی توحید بیان کریں اور اس کے لیے عبادت کو خالص کریں۔ ﴿الَّذِيۡۤ اَطۡعَمَهُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ ١ۙ ۬ وَّاٰمَنَهُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ﴾ ’’جس نے انھیں بھوک میں کھانا دیا اور خوف سے امن و امان دیا۔‘‘ رزق میں کشادگی، خوف کے حالات میں امن سے بہرہ مند ہونا سب سے بڑی دنیاوی نعمت ہے جو اللہ تعالیٰ کے شکر کی موجب ہے ۔ اے اللہ! اپنی ظاہری اور باطنی نعمتوں پر تو ہی ہر قسم کی حمد و ثنا اور شکر کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے ساتھ اپنی ربوبیت کو اس کے فضل و شرف کی وجہ سے مخصوص کیا ہے ورنہ تو وہ ہر چیز کا رب ہے۔
الماعون 107:1
بھلا دیکھا آپ نے اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے جزا کو؟(1) پس یہ وہ شخص ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو(2) اور نہیں شوق دلاتا وہ کھانا کھلانے پر مسکین کو(3) پس ہلاکت ہے (ان) نمازیوں کے لیے(4) وہ جو کہ اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں(5) وہ جو کہ دکھلاوا کرتے ہیں(6) اور وہ انکار کرتے ہیں استعمال کی معمولی چیزوں سے بھی(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہوئے جس نے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق کو ترک کردیا، فرماتا ہے:﴿اَرَءَيۡتَ الَّذِيۡ يُكَذِّبُ بِالـدِّيۡنِ﴾ کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو حیات بعدالموت کو جھٹلاتا ہے اورجو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا۔
[2]﴿فَذٰلِكَ الَّذِيۡ يَدُعُّ الۡيَتِيۡمَ﴾ پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تندخوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
[3]﴿وَلَا يَحُضُّ﴾ اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا ﴿ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ ’’مسکین کے کھانے پر۔‘‘ اور وہ خود تو بالاولیٰ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔
[4، 5]﴿فَوَيۡلٌ لِّلۡمُصَلِّيۡنَ۠﴾ ہلاکت ہے نماز کا التزام کرنے والوں کے لیے مگر وہ جو ﴿عَنۡ صَلَاتِهِمۡ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اپنی نماز سے غافل ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں، اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انھوں نے نماز کو ترک کر دیا جو سب سے اہم عبادت ہے۔ نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے۔ اور رہا نماز کے اندر سہو، تو یہ ہر ایک سے واقع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نبی اکرمﷺ سے بھی سہو واقع ہوا ہے۔
[6، 7] بنابریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کو ریا، قساوت اور بے رحمی جیسے اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ يُرَآءُوۡنَ﴾ یعنی وہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔ ﴿وَيَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ﴾ کسی چیز کو عاریتاً یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا، روکتے ہیں، مثلاً: برتن، ڈول، کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اور ان کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے۔ یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیاء کو دینے سے منع کرتے ہیں تب ان سے زیادہ بڑی اشیاء (لوگوں کو استعمال کے لیے) دیتے وقت ان کا کیا حال ہو گا۔اس سورۂ مبارکہ میں یتیموں اور مساکین کو کھانا کھلانے، نیز نماز کا خیال رکھنے، اس کی حفاطت کرنے اور نماز اور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز معروف پر عمل کرنے، معمولی اموال کو استعمال کے لیے عطا کرنے کی ترغیب ہے، مثلاً: برتن، ڈول اور کتاب وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ وَاللہُ سُبْحَانَہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ .
الماعون 107:2
بھلا دیکھا آپ نے اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے جزا کو؟(1) پس یہ وہ شخص ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو(2) اور نہیں شوق دلاتا وہ کھانا کھلانے پر مسکین کو(3) پس ہلاکت ہے (ان) نمازیوں کے لیے(4) وہ جو کہ اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں(5) وہ جو کہ دکھلاوا کرتے ہیں(6) اور وہ انکار کرتے ہیں استعمال کی معمولی چیزوں سے بھی(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہوئے جس نے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق کو ترک کردیا، فرماتا ہے:﴿اَرَءَيۡتَ الَّذِيۡ يُكَذِّبُ بِالـدِّيۡنِ﴾ کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو حیات بعدالموت کو جھٹلاتا ہے اورجو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا۔
[2]﴿فَذٰلِكَ الَّذِيۡ يَدُعُّ الۡيَتِيۡمَ﴾ پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تندخوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
[3]﴿وَلَا يَحُضُّ﴾ اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا ﴿ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ ’’مسکین کے کھانے پر۔‘‘ اور وہ خود تو بالاولیٰ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔
[4، 5]﴿فَوَيۡلٌ لِّلۡمُصَلِّيۡنَ۠﴾ ہلاکت ہے نماز کا التزام کرنے والوں کے لیے مگر وہ جو ﴿عَنۡ صَلَاتِهِمۡ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اپنی نماز سے غافل ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں، اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انھوں نے نماز کو ترک کر دیا جو سب سے اہم عبادت ہے۔ نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے۔ اور رہا نماز کے اندر سہو، تو یہ ہر ایک سے واقع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نبی اکرمﷺ سے بھی سہو واقع ہوا ہے۔
[6، 7] بنابریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کو ریا، قساوت اور بے رحمی جیسے اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ يُرَآءُوۡنَ﴾ یعنی وہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔ ﴿وَيَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ﴾ کسی چیز کو عاریتاً یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا، روکتے ہیں، مثلاً: برتن، ڈول، کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اور ان کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے۔ یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیاء کو دینے سے منع کرتے ہیں تب ان سے زیادہ بڑی اشیاء (لوگوں کو استعمال کے لیے) دیتے وقت ان کا کیا حال ہو گا۔اس سورۂ مبارکہ میں یتیموں اور مساکین کو کھانا کھلانے، نیز نماز کا خیال رکھنے، اس کی حفاطت کرنے اور نماز اور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز معروف پر عمل کرنے، معمولی اموال کو استعمال کے لیے عطا کرنے کی ترغیب ہے، مثلاً: برتن، ڈول اور کتاب وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ وَاللہُ سُبْحَانَہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ .
الماعون 107:3
بھلا دیکھا آپ نے اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے جزا کو؟(1) پس یہ وہ شخص ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو(2) اور نہیں شوق دلاتا وہ کھانا کھلانے پر مسکین کو(3) پس ہلاکت ہے (ان) نمازیوں کے لیے(4) وہ جو کہ اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں(5) وہ جو کہ دکھلاوا کرتے ہیں(6) اور وہ انکار کرتے ہیں استعمال کی معمولی چیزوں سے بھی(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہوئے جس نے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق کو ترک کردیا، فرماتا ہے:﴿اَرَءَيۡتَ الَّذِيۡ يُكَذِّبُ بِالـدِّيۡنِ﴾ کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو حیات بعدالموت کو جھٹلاتا ہے اورجو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا۔
[2]﴿فَذٰلِكَ الَّذِيۡ يَدُعُّ الۡيَتِيۡمَ﴾ پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تندخوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
[3]﴿وَلَا يَحُضُّ﴾ اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا ﴿ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ ’’مسکین کے کھانے پر۔‘‘ اور وہ خود تو بالاولیٰ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔
[4، 5]﴿فَوَيۡلٌ لِّلۡمُصَلِّيۡنَ۠﴾ ہلاکت ہے نماز کا التزام کرنے والوں کے لیے مگر وہ جو ﴿عَنۡ صَلَاتِهِمۡ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اپنی نماز سے غافل ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں، اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انھوں نے نماز کو ترک کر دیا جو سب سے اہم عبادت ہے۔ نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے۔ اور رہا نماز کے اندر سہو، تو یہ ہر ایک سے واقع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نبی اکرمﷺ سے بھی سہو واقع ہوا ہے۔
[6، 7] بنابریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کو ریا، قساوت اور بے رحمی جیسے اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ يُرَآءُوۡنَ﴾ یعنی وہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔ ﴿وَيَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ﴾ کسی چیز کو عاریتاً یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا، روکتے ہیں، مثلاً: برتن، ڈول، کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اور ان کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے۔ یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیاء کو دینے سے منع کرتے ہیں تب ان سے زیادہ بڑی اشیاء (لوگوں کو استعمال کے لیے) دیتے وقت ان کا کیا حال ہو گا۔اس سورۂ مبارکہ میں یتیموں اور مساکین کو کھانا کھلانے، نیز نماز کا خیال رکھنے، اس کی حفاطت کرنے اور نماز اور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز معروف پر عمل کرنے، معمولی اموال کو استعمال کے لیے عطا کرنے کی ترغیب ہے، مثلاً: برتن، ڈول اور کتاب وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ وَاللہُ سُبْحَانَہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ .
الماعون 107:4
بھلا دیکھا آپ نے اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے جزا کو؟(1) پس یہ وہ شخص ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو(2) اور نہیں شوق دلاتا وہ کھانا کھلانے پر مسکین کو(3) پس ہلاکت ہے (ان) نمازیوں کے لیے(4) وہ جو کہ اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں(5) وہ جو کہ دکھلاوا کرتے ہیں(6) اور وہ انکار کرتے ہیں استعمال کی معمولی چیزوں سے بھی(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہوئے جس نے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق کو ترک کردیا، فرماتا ہے:﴿اَرَءَيۡتَ الَّذِيۡ يُكَذِّبُ بِالـدِّيۡنِ﴾ کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو حیات بعدالموت کو جھٹلاتا ہے اورجو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا۔
[2]﴿فَذٰلِكَ الَّذِيۡ يَدُعُّ الۡيَتِيۡمَ﴾ پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تندخوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
[3]﴿وَلَا يَحُضُّ﴾ اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا ﴿ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ ’’مسکین کے کھانے پر۔‘‘ اور وہ خود تو بالاولیٰ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔
[4، 5]﴿فَوَيۡلٌ لِّلۡمُصَلِّيۡنَ۠﴾ ہلاکت ہے نماز کا التزام کرنے والوں کے لیے مگر وہ جو ﴿عَنۡ صَلَاتِهِمۡ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اپنی نماز سے غافل ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں، اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انھوں نے نماز کو ترک کر دیا جو سب سے اہم عبادت ہے۔ نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے۔ اور رہا نماز کے اندر سہو، تو یہ ہر ایک سے واقع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نبی اکرمﷺ سے بھی سہو واقع ہوا ہے۔
[6، 7] بنابریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کو ریا، قساوت اور بے رحمی جیسے اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ يُرَآءُوۡنَ﴾ یعنی وہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔ ﴿وَيَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ﴾ کسی چیز کو عاریتاً یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا، روکتے ہیں، مثلاً: برتن، ڈول، کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اور ان کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے۔ یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیاء کو دینے سے منع کرتے ہیں تب ان سے زیادہ بڑی اشیاء (لوگوں کو استعمال کے لیے) دیتے وقت ان کا کیا حال ہو گا۔اس سورۂ مبارکہ میں یتیموں اور مساکین کو کھانا کھلانے، نیز نماز کا خیال رکھنے، اس کی حفاطت کرنے اور نماز اور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز معروف پر عمل کرنے، معمولی اموال کو استعمال کے لیے عطا کرنے کی ترغیب ہے، مثلاً: برتن، ڈول اور کتاب وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ وَاللہُ سُبْحَانَہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ .
الماعون 107:5
بھلا دیکھا آپ نے اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے جزا کو؟(1) پس یہ وہ شخص ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو(2) اور نہیں شوق دلاتا وہ کھانا کھلانے پر مسکین کو(3) پس ہلاکت ہے (ان) نمازیوں کے لیے(4) وہ جو کہ اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں(5) وہ جو کہ دکھلاوا کرتے ہیں(6) اور وہ انکار کرتے ہیں استعمال کی معمولی چیزوں سے بھی(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہوئے جس نے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق کو ترک کردیا، فرماتا ہے:﴿اَرَءَيۡتَ الَّذِيۡ يُكَذِّبُ بِالـدِّيۡنِ﴾ کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو حیات بعدالموت کو جھٹلاتا ہے اورجو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا۔
[2]﴿فَذٰلِكَ الَّذِيۡ يَدُعُّ الۡيَتِيۡمَ﴾ پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تندخوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
[3]﴿وَلَا يَحُضُّ﴾ اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا ﴿ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ ’’مسکین کے کھانے پر۔‘‘ اور وہ خود تو بالاولیٰ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔
[4، 5]﴿فَوَيۡلٌ لِّلۡمُصَلِّيۡنَ۠﴾ ہلاکت ہے نماز کا التزام کرنے والوں کے لیے مگر وہ جو ﴿عَنۡ صَلَاتِهِمۡ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اپنی نماز سے غافل ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں، اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انھوں نے نماز کو ترک کر دیا جو سب سے اہم عبادت ہے۔ نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے۔ اور رہا نماز کے اندر سہو، تو یہ ہر ایک سے واقع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نبی اکرمﷺ سے بھی سہو واقع ہوا ہے۔
[6، 7] بنابریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کو ریا، قساوت اور بے رحمی جیسے اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ يُرَآءُوۡنَ﴾ یعنی وہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔ ﴿وَيَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ﴾ کسی چیز کو عاریتاً یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا، روکتے ہیں، مثلاً: برتن، ڈول، کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اور ان کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے۔ یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیاء کو دینے سے منع کرتے ہیں تب ان سے زیادہ بڑی اشیاء (لوگوں کو استعمال کے لیے) دیتے وقت ان کا کیا حال ہو گا۔اس سورۂ مبارکہ میں یتیموں اور مساکین کو کھانا کھلانے، نیز نماز کا خیال رکھنے، اس کی حفاطت کرنے اور نماز اور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز معروف پر عمل کرنے، معمولی اموال کو استعمال کے لیے عطا کرنے کی ترغیب ہے، مثلاً: برتن، ڈول اور کتاب وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ وَاللہُ سُبْحَانَہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ .
الماعون 107:6
بھلا دیکھا آپ نے اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے جزا کو؟(1) پس یہ وہ شخص ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو(2) اور نہیں شوق دلاتا وہ کھانا کھلانے پر مسکین کو(3) پس ہلاکت ہے (ان) نمازیوں کے لیے(4) وہ جو کہ اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں(5) وہ جو کہ دکھلاوا کرتے ہیں(6) اور وہ انکار کرتے ہیں استعمال کی معمولی چیزوں سے بھی(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہوئے جس نے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق کو ترک کردیا، فرماتا ہے:﴿اَرَءَيۡتَ الَّذِيۡ يُكَذِّبُ بِالـدِّيۡنِ﴾ کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو حیات بعدالموت کو جھٹلاتا ہے اورجو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا۔
[2]﴿فَذٰلِكَ الَّذِيۡ يَدُعُّ الۡيَتِيۡمَ﴾ پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تندخوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
[3]﴿وَلَا يَحُضُّ﴾ اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا ﴿ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ ’’مسکین کے کھانے پر۔‘‘ اور وہ خود تو بالاولیٰ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔
[4، 5]﴿فَوَيۡلٌ لِّلۡمُصَلِّيۡنَ۠﴾ ہلاکت ہے نماز کا التزام کرنے والوں کے لیے مگر وہ جو ﴿عَنۡ صَلَاتِهِمۡ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اپنی نماز سے غافل ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں، اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انھوں نے نماز کو ترک کر دیا جو سب سے اہم عبادت ہے۔ نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے۔ اور رہا نماز کے اندر سہو، تو یہ ہر ایک سے واقع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نبی اکرمﷺ سے بھی سہو واقع ہوا ہے۔
[6، 7] بنابریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کو ریا، قساوت اور بے رحمی جیسے اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ يُرَآءُوۡنَ﴾ یعنی وہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔ ﴿وَيَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ﴾ کسی چیز کو عاریتاً یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا، روکتے ہیں، مثلاً: برتن، ڈول، کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اور ان کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے۔ یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیاء کو دینے سے منع کرتے ہیں تب ان سے زیادہ بڑی اشیاء (لوگوں کو استعمال کے لیے) دیتے وقت ان کا کیا حال ہو گا۔اس سورۂ مبارکہ میں یتیموں اور مساکین کو کھانا کھلانے، نیز نماز کا خیال رکھنے، اس کی حفاطت کرنے اور نماز اور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز معروف پر عمل کرنے، معمولی اموال کو استعمال کے لیے عطا کرنے کی ترغیب ہے، مثلاً: برتن، ڈول اور کتاب وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ وَاللہُ سُبْحَانَہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ .
الماعون 107:7
بھلا دیکھا آپ نے اس شخص کو جو جھٹلاتا ہے جزا کو؟(1) پس یہ وہ شخص ہے جو دھکے دیتا ہے یتیم کو(2) اور نہیں شوق دلاتا وہ کھانا کھلانے پر مسکین کو(3) پس ہلاکت ہے (ان) نمازیوں کے لیے(4) وہ جو کہ اپنی نماز سے غفلت کرتے ہیں(5) وہ جو کہ دکھلاوا کرتے ہیں(6) اور وہ انکار کرتے ہیں استعمال کی معمولی چیزوں سے بھی(7)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تعالیٰ اس شخص کی مذمت کرتے ہوئے جس نے اس کے اور اس کے بندوں کے حقوق کو ترک کردیا، فرماتا ہے:﴿اَرَءَيۡتَ الَّذِيۡ يُكَذِّبُ بِالـدِّيۡنِ﴾ کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جو حیات بعدالموت کو جھٹلاتا ہے اورجو کچھ انبیاء و مرسلین لے کر آئے ہیں ان پر ایمان نہیں لاتا۔
[2]﴿فَذٰلِكَ الَّذِيۡ يَدُعُّ الۡيَتِيۡمَ﴾ پس یہی وہ شخص ہے جو سخت دلی اور تندخوئی سے یتیم کو دھکے دیتا ہے اور اپنی قساوت قلبی کی بنا پر اس پر رحم نہیں کرتا۔ نیز اس کا سبب یہ بھی ہے کہ وہ ثواب کی امید رکھتا ہے نہ عذاب سے ڈرتا ہے۔
[3]﴿وَلَا يَحُضُّ﴾ اور دوسروں کو ترغیب نہیں دیتا ﴿ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِ﴾ ’’مسکین کے کھانے پر۔‘‘ اور وہ خود تو بالاولیٰ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتا۔
[4، 5]﴿فَوَيۡلٌ لِّلۡمُصَلِّيۡنَ۠﴾ ہلاکت ہے نماز کا التزام کرنے والوں کے لیے مگر وہ جو ﴿عَنۡ صَلَاتِهِمۡ سَاهُوۡنَ﴾ ’’اپنی نماز سے غافل ہیں۔‘‘ یعنی وہ اپنی نماز کو ضائع کرتے ہیں، اس کے وقت مسنون کو ترک کرتے ہیں اور اس کے ارکان کو برے طریقے سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا سبب اللہ تعالیٰ کے حکم کا عدم اہتمام ہے کہ انھوں نے نماز کو ترک کر دیا جو سب سے اہم عبادت ہے۔ نماز سے غفلت ہی ہے جو نمازی کو مذمت اور ملامت کا مستحق بناتی ہے۔ اور رہا نماز کے اندر سہو، تو یہ ہر ایک سے واقع ہو جاتا ہے حتیٰ کہ نبی اکرمﷺ سے بھی سہو واقع ہوا ہے۔
[6، 7] بنابریں اللہ تعالیٰ نے نماز سے غافل لوگوں کو ریا، قساوت اور بے رحمی جیسے اوصاف سے موصوف کیا ہے۔ فرمایا:﴿الَّذِيۡنَ هُمۡ يُرَآءُوۡنَ﴾ یعنی وہ لوگوں کے دکھلاوے کے لیے عمل کرتے ہیں۔ ﴿وَيَمۡنَعُوۡنَ الۡمَاعُوۡنَ﴾ کسی چیز کو عاریتاً یا ہبہ کے طور پر عطا کرنے سے جس کے عطا کرنے پر ان کو نقصان نہیں پہنچتا، روکتے ہیں، مثلاً: برتن، ڈول، کلہاڑی وغیرہ جن کو استعمال کے لیے دینے اور ان کے بارے میں فیاضی کرنے کی عام عادت جاری ہے۔ یہ لوگوں کو اپنی شدید حرص کے باعث استعمال کی معمولی اشیاء کو دینے سے منع کرتے ہیں تب ان سے زیادہ بڑی اشیاء (لوگوں کو استعمال کے لیے) دیتے وقت ان کا کیا حال ہو گا۔اس سورۂ مبارکہ میں یتیموں اور مساکین کو کھانا کھلانے، نیز نماز کا خیال رکھنے، اس کی حفاطت کرنے اور نماز اور دیگر تمام اعمال میں اخلاص کو مدنظر رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز معروف پر عمل کرنے، معمولی اموال کو استعمال کے لیے عطا کرنے کی ترغیب ہے، مثلاً: برتن، ڈول اور کتاب وغیرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کی مذمت کی ہے جو ایسا نہیں کرتا۔ وَاللہُ سُبْحَانَہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ ، وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ .
الكوثر 108:1
یقیناً عطا کی ہم نے آپ کو کوثر(1) سو آپ نماز پڑھیں اپنے رب کے لیے اور قربانی کریں(2) بلاشبہ آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ پر احسان کرتے ہوئے خطاب فرماتا ہے: ﴿اِنَّـاۤ اَعۡطَيۡنٰكَ الۡكَوۡثَرَ﴾ یعنی ہم نے آپ کو خیر کثیر اور فضل عظیم عطا کیا ۔منجملہ اس خیر کثیر میں سے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو عطا فرمائے گا، ایک نہر بھی ہے جس کو ﴿الۡكَوۡثَرَ﴾ کہا جاتا ہے۔ حوضِ کوثر کا طول ایک ماہ کی مسافت اور اس کا عرض بھی ایک ماہ کی مسافت ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے بڑھ کر میٹھا ہے، اس کے پینے کے برتن اپنی کثرت اور چمک میں آسمان کے ستاروں کے مانند ہوں گے، جو کوئی حوض کوثر سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا، اس کے بعد اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
[2] اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرنے کے بعد آپ کو اس احسان پر شکر اداکرنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانۡحَرۡ﴾ ’’پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان دو عبادتوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ دونوں افضل ترین عبادات اور تقرب الٰہی کا جلیل ترین ذریعہ ہیں۔ نیز ان دونوں کا خاص طور پر ذکر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نماز قلب اور جوارح میں خشوع کو متضمن ہے ، پھر اسے عبادت کی دیگر تمام انواع میں منتقل کر دیتی ہے۔ جانور ذبح کرنے میں یہ حکمت ہے کہ بندے کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے افضل ترین چیز، یعنی قربانی کے ذریعے سے تقرب الٰہی حاصل کرنا اور مال خرچ کرنا ہے جس سے محبت کرنا اور اس میں بخل کرنا نفس انسانی کی جبلت ہے۔
[3]﴿اِنَّ شَانِئَكَ﴾ آپ سے بغض رکھنے والا، آپ کی مذمت اور تنقیص کرنے والا ﴿هُوَ الۡاَبۡتَرُ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے محروم ہے، اس کا عمل منقطع ہے اور اس کا ذکر منقطع ہے۔رہے رسول مصطفیٰ محمدﷺ تو حقیقت میں وہی کامل ہیں، آپ کمال کے اس بلند ترین مرتبے پر پہنچے ہوئے ہیں جہاں تک پہنچنا مخلوق میں سے کسی کے لیے ممکن نہیں، مثلاً: رفعت ذکر، کثرت الانصار اور کثرت متبعین ۔
الكوثر 108:2
یقیناً عطا کی ہم نے آپ کو کوثر(1) سو آپ نماز پڑھیں اپنے رب کے لیے اور قربانی کریں(2) بلاشبہ آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ پر احسان کرتے ہوئے خطاب فرماتا ہے: ﴿اِنَّـاۤ اَعۡطَيۡنٰكَ الۡكَوۡثَرَ﴾ یعنی ہم نے آپ کو خیر کثیر اور فضل عظیم عطا کیا ۔منجملہ اس خیر کثیر میں سے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو عطا فرمائے گا، ایک نہر بھی ہے جس کو ﴿الۡكَوۡثَرَ﴾ کہا جاتا ہے۔ حوضِ کوثر کا طول ایک ماہ کی مسافت اور اس کا عرض بھی ایک ماہ کی مسافت ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے بڑھ کر میٹھا ہے، اس کے پینے کے برتن اپنی کثرت اور چمک میں آسمان کے ستاروں کے مانند ہوں گے، جو کوئی حوض کوثر سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا، اس کے بعد اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
[2] اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرنے کے بعد آپ کو اس احسان پر شکر اداکرنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانۡحَرۡ﴾ ’’پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان دو عبادتوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ دونوں افضل ترین عبادات اور تقرب الٰہی کا جلیل ترین ذریعہ ہیں۔ نیز ان دونوں کا خاص طور پر ذکر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نماز قلب اور جوارح میں خشوع کو متضمن ہے ، پھر اسے عبادت کی دیگر تمام انواع میں منتقل کر دیتی ہے۔ جانور ذبح کرنے میں یہ حکمت ہے کہ بندے کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے افضل ترین چیز، یعنی قربانی کے ذریعے سے تقرب الٰہی حاصل کرنا اور مال خرچ کرنا ہے جس سے محبت کرنا اور اس میں بخل کرنا نفس انسانی کی جبلت ہے۔
[3]﴿اِنَّ شَانِئَكَ﴾ آپ سے بغض رکھنے والا، آپ کی مذمت اور تنقیص کرنے والا ﴿هُوَ الۡاَبۡتَرُ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے محروم ہے، اس کا عمل منقطع ہے اور اس کا ذکر منقطع ہے۔رہے رسول مصطفیٰ محمدﷺ تو حقیقت میں وہی کامل ہیں، آپ کمال کے اس بلند ترین مرتبے پر پہنچے ہوئے ہیں جہاں تک پہنچنا مخلوق میں سے کسی کے لیے ممکن نہیں، مثلاً: رفعت ذکر، کثرت الانصار اور کثرت متبعین ۔
الكوثر 108:3
یقیناً عطا کی ہم نے آپ کو کوثر(1) سو آپ نماز پڑھیں اپنے رب کے لیے اور قربانی کریں(2) بلاشبہ آپ کا دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1] اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰﷺ پر احسان کرتے ہوئے خطاب فرماتا ہے: ﴿اِنَّـاۤ اَعۡطَيۡنٰكَ الۡكَوۡثَرَ﴾ یعنی ہم نے آپ کو خیر کثیر اور فضل عظیم عطا کیا ۔منجملہ اس خیر کثیر میں سے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو عطا فرمائے گا، ایک نہر بھی ہے جس کو ﴿الۡكَوۡثَرَ﴾ کہا جاتا ہے۔ حوضِ کوثر کا طول ایک ماہ کی مسافت اور اس کا عرض بھی ایک ماہ کی مسافت ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے بڑھ کر میٹھا ہے، اس کے پینے کے برتن اپنی کثرت اور چمک میں آسمان کے ستاروں کے مانند ہوں گے، جو کوئی حوض کوثر سے ایک مرتبہ پانی پی لے گا، اس کے بعد اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی۔
[2] اللہ تعالیٰ نے آپ پر اپنے احسان و عنایت کا ذکر کرنے کے بعد آپ کو اس احسان پر شکر اداکرنے کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانۡحَرۡ﴾ ’’پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ان دو عبادتوں کا خاص طور پر ذکر فرمایا کیونکہ یہ دونوں افضل ترین عبادات اور تقرب الٰہی کا جلیل ترین ذریعہ ہیں۔ نیز ان دونوں کا خاص طور پر ذکر کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نماز قلب اور جوارح میں خشوع کو متضمن ہے ، پھر اسے عبادت کی دیگر تمام انواع میں منتقل کر دیتی ہے۔ جانور ذبح کرنے میں یہ حکمت ہے کہ بندے کے پاس جو کچھ ہے اس میں سے افضل ترین چیز، یعنی قربانی کے ذریعے سے تقرب الٰہی حاصل کرنا اور مال خرچ کرنا ہے جس سے محبت کرنا اور اس میں بخل کرنا نفس انسانی کی جبلت ہے۔
[3]﴿اِنَّ شَانِئَكَ﴾ آپ سے بغض رکھنے والا، آپ کی مذمت اور تنقیص کرنے والا ﴿هُوَ الۡاَبۡتَرُ﴾ یعنی وہ ہر بھلائی سے محروم ہے، اس کا عمل منقطع ہے اور اس کا ذکر منقطع ہے۔رہے رسول مصطفیٰ محمدﷺ تو حقیقت میں وہی کامل ہیں، آپ کمال کے اس بلند ترین مرتبے پر پہنچے ہوئے ہیں جہاں تک پہنچنا مخلوق میں سے کسی کے لیے ممکن نہیں، مثلاً: رفعت ذکر، کثرت الانصار اور کثرت متبعین ۔
الكافرون 109:1
آپ کہہ دیجیے! اے کافرو!(1) نہیں عبادت کرتا میں جن (بتوں) کی تم عبادت کرتے ہو(2) اور نہ تم عبادت کرتے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(3) اور نہ میں ہی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو(4) اور نہ تم ہی عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(5) تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یعنی کفار کو نہایت صراحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’ جن کو تم پوجتے ہو، میں ان کو نہیں پوجتا۔‘‘ یعنی آپ کفار کے ان خود ساختہ معبودوں سے براء ت کا اظہار کریں، جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ظاہر اور باطن میں عبادت کرتے تھے۔ ﴿وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ﴾ ’’اور جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت میں تمھارا اخلاص معدوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت جو شرک سے مقرون ہے، عبادت نہیں کہلا سکتی۔ اس جملے کو مکرر بیان کیا تاکہ اول عدم وجود فعل پر دلالت کرے اور دوسرا اس امر پر دلالت کرے کہ یہ ان کا وصف لازم بن گیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان امتیاز اور تفریق کی ہے۔ فرمایا:﴿لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾ ’’تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلۡ كُلٌّ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ﴾(بنی اسرائیل:17؍84) ’’کہہ دیجیے کہ ہر شخص اپنے اپنے طریقے کے مطابق عمل کرتا ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿اَنۡتُمۡ بَرِيۡؔـٓــُٔوۡنَؔ مِمَّؔاۤ اَعۡمَلُ وَ اَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(یونس:10؍41) ’’جو کچھ میں کرتا ہوں تم اس سے بری ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو، میں اس سے بری ہوں۔‘‘
الكافرون 109:2
آپ کہہ دیجیے! اے کافرو!(1) نہیں عبادت کرتا میں جن (بتوں) کی تم عبادت کرتے ہو(2) اور نہ تم عبادت کرتے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(3) اور نہ میں ہی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو(4) اور نہ تم ہی عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(5) تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یعنی کفار کو نہایت صراحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’ جن کو تم پوجتے ہو، میں ان کو نہیں پوجتا۔‘‘ یعنی آپ کفار کے ان خود ساختہ معبودوں سے براء ت کا اظہار کریں، جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ظاہر اور باطن میں عبادت کرتے تھے۔ ﴿وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ﴾ ’’اور جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت میں تمھارا اخلاص معدوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت جو شرک سے مقرون ہے، عبادت نہیں کہلا سکتی۔ اس جملے کو مکرر بیان کیا تاکہ اول عدم وجود فعل پر دلالت کرے اور دوسرا اس امر پر دلالت کرے کہ یہ ان کا وصف لازم بن گیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان امتیاز اور تفریق کی ہے۔ فرمایا:﴿لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾ ’’تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلۡ كُلٌّ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ﴾(بنی اسرائیل:17؍84) ’’کہہ دیجیے کہ ہر شخص اپنے اپنے طریقے کے مطابق عمل کرتا ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿اَنۡتُمۡ بَرِيۡؔـٓــُٔوۡنَؔ مِمَّؔاۤ اَعۡمَلُ وَ اَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(یونس:10؍41) ’’جو کچھ میں کرتا ہوں تم اس سے بری ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو، میں اس سے بری ہوں۔‘‘
الكافرون 109:3
آپ کہہ دیجیے! اے کافرو!(1) نہیں عبادت کرتا میں جن (بتوں) کی تم عبادت کرتے ہو(2) اور نہ تم عبادت کرتے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(3) اور نہ میں ہی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو(4) اور نہ تم ہی عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(5) تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یعنی کفار کو نہایت صراحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’ جن کو تم پوجتے ہو، میں ان کو نہیں پوجتا۔‘‘ یعنی آپ کفار کے ان خود ساختہ معبودوں سے براء ت کا اظہار کریں، جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ظاہر اور باطن میں عبادت کرتے تھے۔ ﴿وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ﴾ ’’اور جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت میں تمھارا اخلاص معدوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت جو شرک سے مقرون ہے، عبادت نہیں کہلا سکتی۔ اس جملے کو مکرر بیان کیا تاکہ اول عدم وجود فعل پر دلالت کرے اور دوسرا اس امر پر دلالت کرے کہ یہ ان کا وصف لازم بن گیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان امتیاز اور تفریق کی ہے۔ فرمایا:﴿لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾ ’’تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلۡ كُلٌّ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ﴾(بنی اسرائیل:17؍84) ’’کہہ دیجیے کہ ہر شخص اپنے اپنے طریقے کے مطابق عمل کرتا ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿اَنۡتُمۡ بَرِيۡؔـٓــُٔوۡنَؔ مِمَّؔاۤ اَعۡمَلُ وَ اَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(یونس:10؍41) ’’جو کچھ میں کرتا ہوں تم اس سے بری ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو، میں اس سے بری ہوں۔‘‘
الكافرون 109:4
آپ کہہ دیجیے! اے کافرو!(1) نہیں عبادت کرتا میں جن (بتوں) کی تم عبادت کرتے ہو(2) اور نہ تم عبادت کرتے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(3) اور نہ میں ہی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو(4) اور نہ تم ہی عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(5) تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یعنی کفار کو نہایت صراحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’ جن کو تم پوجتے ہو، میں ان کو نہیں پوجتا۔‘‘ یعنی آپ کفار کے ان خود ساختہ معبودوں سے براء ت کا اظہار کریں، جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ظاہر اور باطن میں عبادت کرتے تھے۔ ﴿وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ﴾ ’’اور جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت میں تمھارا اخلاص معدوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت جو شرک سے مقرون ہے، عبادت نہیں کہلا سکتی۔ اس جملے کو مکرر بیان کیا تاکہ اول عدم وجود فعل پر دلالت کرے اور دوسرا اس امر پر دلالت کرے کہ یہ ان کا وصف لازم بن گیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان امتیاز اور تفریق کی ہے۔ فرمایا:﴿لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾ ’’تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلۡ كُلٌّ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ﴾(بنی اسرائیل:17؍84) ’’کہہ دیجیے کہ ہر شخص اپنے اپنے طریقے کے مطابق عمل کرتا ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿اَنۡتُمۡ بَرِيۡؔـٓــُٔوۡنَؔ مِمَّؔاۤ اَعۡمَلُ وَ اَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(یونس:10؍41) ’’جو کچھ میں کرتا ہوں تم اس سے بری ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو، میں اس سے بری ہوں۔‘‘
الكافرون 109:5
آپ کہہ دیجیے! اے کافرو!(1) نہیں عبادت کرتا میں جن (بتوں) کی تم عبادت کرتے ہو(2) اور نہ تم عبادت کرتے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(3) اور نہ میں ہی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو(4) اور نہ تم ہی عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(5) تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یعنی کفار کو نہایت صراحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’ جن کو تم پوجتے ہو، میں ان کو نہیں پوجتا۔‘‘ یعنی آپ کفار کے ان خود ساختہ معبودوں سے براء ت کا اظہار کریں، جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ظاہر اور باطن میں عبادت کرتے تھے۔ ﴿وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ﴾ ’’اور جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت میں تمھارا اخلاص معدوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت جو شرک سے مقرون ہے، عبادت نہیں کہلا سکتی۔ اس جملے کو مکرر بیان کیا تاکہ اول عدم وجود فعل پر دلالت کرے اور دوسرا اس امر پر دلالت کرے کہ یہ ان کا وصف لازم بن گیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان امتیاز اور تفریق کی ہے۔ فرمایا:﴿لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾ ’’تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلۡ كُلٌّ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ﴾(بنی اسرائیل:17؍84) ’’کہہ دیجیے کہ ہر شخص اپنے اپنے طریقے کے مطابق عمل کرتا ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿اَنۡتُمۡ بَرِيۡؔـٓــُٔوۡنَؔ مِمَّؔاۤ اَعۡمَلُ وَ اَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(یونس:10؍41) ’’جو کچھ میں کرتا ہوں تم اس سے بری ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو، میں اس سے بری ہوں۔‘‘
الكافرون 109:6
آپ کہہ دیجیے! اے کافرو!(1) نہیں عبادت کرتا میں جن (بتوں) کی تم عبادت کرتے ہو(2) اور نہ تم عبادت کرتے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(3) اور نہ میں ہی عبادت کرنے والا ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو(4) اور نہ تم ہی عبادت کرنے والے ہو اس کی جس کی میں عبادت کرتا ہوں(5) تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یعنی کفار کو نہایت صراحت کے ساتھ آگاہ کرتے ہوئے کہہ دیجیے: ﴿ لَاۤ اَعۡبُدُ مَا تَعۡبُدُوۡنَ﴾ ’’ جن کو تم پوجتے ہو، میں ان کو نہیں پوجتا۔‘‘ یعنی آپ کفار کے ان خود ساختہ معبودوں سے براء ت کا اظہار کریں، جن کی وہ اللہ تعالیٰ کے سوا ظاہر اور باطن میں عبادت کرتے تھے۔ ﴿وَلَاۤ اَنۡتُمۡ عٰؔبِدُوۡنَ مَاۤ اَعۡبُدُ﴾ ’’اور جس کی میں عبادت کرتا ہوں اس کی تم عبادت نہیں کرتے۔‘‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت میں تمھارا اخلاص معدوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے تمھاری عبادت جو شرک سے مقرون ہے، عبادت نہیں کہلا سکتی۔ اس جملے کو مکرر بیان کیا تاکہ اول عدم وجود فعل پر دلالت کرے اور دوسرا اس امر پر دلالت کرے کہ یہ ان کا وصف لازم بن گیا تھا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے درمیان امتیاز اور تفریق کی ہے۔ فرمایا:﴿لَكُمۡ دِيۡنُكُمۡ وَ لِيَ دِيۡنِ﴾ ’’تم اپنے دین پر اور میں اپنے دین پر۔‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿قُلۡ كُلٌّ يَّعۡمَلُ عَلٰى شَاكِلَتِهٖ﴾(بنی اسرائیل:17؍84) ’’کہہ دیجیے کہ ہر شخص اپنے اپنے طریقے کے مطابق عمل کرتا ہے۔‘‘ فرمایا: ﴿اَنۡتُمۡ بَرِيۡؔـٓــُٔوۡنَؔ مِمَّؔاۤ اَعۡمَلُ وَ اَنَا بَرِيۡٓءٌ مِّؔمَّؔا تَعۡمَلُوۡنَ﴾(یونس:10؍41) ’’جو کچھ میں کرتا ہوں تم اس سے بری ہو اور جو کچھ تم کرتے ہو، میں اس سے بری ہوں۔‘‘
النصر 110:1
جب آ جائے مدد اللہ کی اور فتح(1) اور آپ دیکھیں لوگوں کو کہ وہ داخل ہو رہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج(2) تو آپ تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور بخشش مانگیے اس سے، بلاشبہ وہ ہے بڑا توبہ قبول کرنے والا(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اس سورۂ کریمہ میں ایک خوشخبری ہے، اس خوشخبری کے حاصل ہو جانے پر رسول اللہﷺ کے لیے ایک حکم ہے، نیز اس میں اس خوشخبری پر مترتب ہونے والے احوال کی طرف اشارہ اور اس پر تنبیہ ہے۔خوشخبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ کے لیے نصرت، فتح مکہ اور لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے کی ہے، ان میں سے بہت لوگ آپ کے دشمن تھے، اس کے بعد وہی لوگ آپ کے اعوان و انصار ہوں گے اور جس چیز کے بارے میں خوشخبری دی گئی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔رہا فتح و نصرت کے بعد حکم تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ اس فتح و نصرت پر اس کا شکر ادا کریں، اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں اور اس سے استغفار کریں۔رہا اشارہ تو اس میں دو اشارے ہیں:اول: دین اسلام دائمی فتح و نصرت سے بہرہ مند رہے گا، اس کے رسول کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور استغفار پر اس نصرت میں اضافہ ہو گا کیونکہ تسبیح و استغفار، شکر ہی شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَىِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ ﴾(ابراہیم:14؍7) ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ عطا کروں گا۔‘‘اور یہ چیز خلفائے راشدین کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی امت کو حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ ہم رکاب رہی، یہاں تک کہ اسلام اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تمام ادیان میں سے کوئی دین نہیں پہنچ سکا، حتیٰ کہ امت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت میں افعال صادر ہونے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تفرقِ کلمہ اور تشتُّتِ امر کے ذریعے سے انھیں آزمایا۔ پس پھر جو ہونا تھا ہوا۔ بایں ہمہ اس امت پر اور اس دین پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ خیال کی وہاں تک رسائی ہی ہے۔دویم : رہا دوسرا اشارہ تو یہ رسول اللہﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی اجل قریب آ گئی ہے، اس کی وجہ یہ کہ آپ کی عمر مبارک فضیلت والی عمر ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے اور اس نے مقرر فرما دیا ہے کہ فضیلت والے امور کا اختتام استغفار کے ساتھ ہو ، مثلاً: نماز اور حج وغیرہ۔ پس اللہ تعالیٰ کا اس حال میں آپ کو حمد و استغفار کا حکم دینا اس مر کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آ گیا ہے۔ اب آپ کو اپنے رب کی ملاقات کے لیے مستعد اور تیار رہنا چاہیے اور آپ کو اپنی عمر کا اختتام اس افضل ترین چیز پر کرنا چاہیے جو آپ موجود پاتے ہیں۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ. چنانچہ آپ قرآن کی (اس آیت کی) تاویل کرتے ہوئے اپنی نماز کے اندر، رکوع و سجود میں نہایت کثرت سے یہ پڑھا کرتے تھے :’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي‘ (صحیح البخاري، الاذان، باب الدعاء فی الرکوع، ح: 794 و صحیح مسلم، الصلوۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود، ح: 484)’’اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔‘‘
النصر 110:2
جب آ جائے مدد اللہ کی اور فتح(1) اور آپ دیکھیں لوگوں کو کہ وہ داخل ہو رہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج(2) تو آپ تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور بخشش مانگیے اس سے، بلاشبہ وہ ہے بڑا توبہ قبول کرنے والا(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اس سورۂ کریمہ میں ایک خوشخبری ہے، اس خوشخبری کے حاصل ہو جانے پر رسول اللہﷺ کے لیے ایک حکم ہے، نیز اس میں اس خوشخبری پر مترتب ہونے والے احوال کی طرف اشارہ اور اس پر تنبیہ ہے۔خوشخبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ کے لیے نصرت، فتح مکہ اور لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے کی ہے، ان میں سے بہت لوگ آپ کے دشمن تھے، اس کے بعد وہی لوگ آپ کے اعوان و انصار ہوں گے اور جس چیز کے بارے میں خوشخبری دی گئی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔رہا فتح و نصرت کے بعد حکم تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ اس فتح و نصرت پر اس کا شکر ادا کریں، اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں اور اس سے استغفار کریں۔رہا اشارہ تو اس میں دو اشارے ہیں:اول: دین اسلام دائمی فتح و نصرت سے بہرہ مند رہے گا، اس کے رسول کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور استغفار پر اس نصرت میں اضافہ ہو گا کیونکہ تسبیح و استغفار، شکر ہی شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَىِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ ﴾(ابراہیم:14؍7) ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ عطا کروں گا۔‘‘اور یہ چیز خلفائے راشدین کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی امت کو حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ ہم رکاب رہی، یہاں تک کہ اسلام اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تمام ادیان میں سے کوئی دین نہیں پہنچ سکا، حتیٰ کہ امت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت میں افعال صادر ہونے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تفرقِ کلمہ اور تشتُّتِ امر کے ذریعے سے انھیں آزمایا۔ پس پھر جو ہونا تھا ہوا۔ بایں ہمہ اس امت پر اور اس دین پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ خیال کی وہاں تک رسائی ہی ہے۔دویم : رہا دوسرا اشارہ تو یہ رسول اللہﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی اجل قریب آ گئی ہے، اس کی وجہ یہ کہ آپ کی عمر مبارک فضیلت والی عمر ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے اور اس نے مقرر فرما دیا ہے کہ فضیلت والے امور کا اختتام استغفار کے ساتھ ہو ، مثلاً: نماز اور حج وغیرہ۔ پس اللہ تعالیٰ کا اس حال میں آپ کو حمد و استغفار کا حکم دینا اس مر کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آ گیا ہے۔ اب آپ کو اپنے رب کی ملاقات کے لیے مستعد اور تیار رہنا چاہیے اور آپ کو اپنی عمر کا اختتام اس افضل ترین چیز پر کرنا چاہیے جو آپ موجود پاتے ہیں۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ. چنانچہ آپ قرآن کی (اس آیت کی) تاویل کرتے ہوئے اپنی نماز کے اندر، رکوع و سجود میں نہایت کثرت سے یہ پڑھا کرتے تھے :’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي‘ (صحیح البخاري، الاذان، باب الدعاء فی الرکوع، ح: 794 و صحیح مسلم، الصلوۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود، ح: 484)’’اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔‘‘
النصر 110:3
جب آ جائے مدد اللہ کی اور فتح(1) اور آپ دیکھیں لوگوں کو کہ وہ داخل ہو رہے ہیں اللہ کے دین میں فوج در فوج(2) تو آپ تسبیح کیجیے ساتھ حمد کے اپنے رب کی اور بخشش مانگیے اس سے، بلاشبہ وہ ہے بڑا توبہ قبول کرنے والا(3)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[3-1] اس سورۂ کریمہ میں ایک خوشخبری ہے، اس خوشخبری کے حاصل ہو جانے پر رسول اللہﷺ کے لیے ایک حکم ہے، نیز اس میں اس خوشخبری پر مترتب ہونے والے احوال کی طرف اشارہ اور اس پر تنبیہ ہے۔خوشخبری اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسولﷺ کے لیے نصرت، فتح مکہ اور لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے کی ہے، ان میں سے بہت لوگ آپ کے دشمن تھے، اس کے بعد وہی لوگ آپ کے اعوان و انصار ہوں گے اور جس چیز کے بارے میں خوشخبری دی گئی تھی وہ حرف بحرف پوری ہوئی۔رہا فتح و نصرت کے بعد حکم تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کو حکم دیا کہ وہ اس فتح و نصرت پر اس کا شکر ادا کریں، اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کریں اور اس سے استغفار کریں۔رہا اشارہ تو اس میں دو اشارے ہیں:اول: دین اسلام دائمی فتح و نصرت سے بہرہ مند رہے گا، اس کے رسول کی طرف سے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ساتھ تسبیح اور استغفار پر اس نصرت میں اضافہ ہو گا کیونکہ تسبیح و استغفار، شکر ہی شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:﴿لَىِٕنۡ شَكَرۡتُمۡ لَاَزِيۡدَنَّـكُمۡ ﴾(ابراہیم:14؍7) ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ عطا کروں گا۔‘‘اور یہ چیز خلفائے راشدین کے زمانے میں اور ان کے بعد بھی امت کو حاصل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت ہمیشہ ہم رکاب رہی، یہاں تک کہ اسلام اس مقام پر پہنچ گیا جہاں تمام ادیان میں سے کوئی دین نہیں پہنچ سکا، حتیٰ کہ امت سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت میں افعال صادر ہونے لگے۔ پس اللہ تعالیٰ نے تفرقِ کلمہ اور تشتُّتِ امر کے ذریعے سے انھیں آزمایا۔ پس پھر جو ہونا تھا ہوا۔ بایں ہمہ اس امت پر اور اس دین پر اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور نہ خیال کی وہاں تک رسائی ہی ہے۔دویم : رہا دوسرا اشارہ تو یہ رسول اللہﷺ کی وفات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی اجل قریب آ گئی ہے، اس کی وجہ یہ کہ آپ کی عمر مبارک فضیلت والی عمر ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے اور اس نے مقرر فرما دیا ہے کہ فضیلت والے امور کا اختتام استغفار کے ساتھ ہو ، مثلاً: نماز اور حج وغیرہ۔ پس اللہ تعالیٰ کا اس حال میں آپ کو حمد و استغفار کا حکم دینا اس مر کی طرف اشارہ ہے کہ آپ کی وفات کا وقت قریب آ گیا ہے۔ اب آپ کو اپنے رب کی ملاقات کے لیے مستعد اور تیار رہنا چاہیے اور آپ کو اپنی عمر کا اختتام اس افضل ترین چیز پر کرنا چاہیے جو آپ موجود پاتے ہیں۔ صَلَوَاتُ اللہِ وَسَلَامُہُ عَلَیْہِ. چنانچہ آپ قرآن کی (اس آیت کی) تاویل کرتے ہوئے اپنی نماز کے اندر، رکوع و سجود میں نہایت کثرت سے یہ پڑھا کرتے تھے :’سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِکَ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِي‘ (صحیح البخاري، الاذان، باب الدعاء فی الرکوع، ح: 794 و صحیح مسلم، الصلوۃ، باب ما یقال فی الرکوع والسجود، ح: 484)’’اے اللہ! اے ہمارے رب! ہم تیری حمد و ثنا کے ساتھ تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔‘‘
المسد 111:1
ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابولہب کے اور وہ ہلاک ہو گیا(1) نہ فائدہ دیا اس کو اس کےمال نے اور جو کچھ اس نے کمایا(2) ضرور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(3) اور اس کی بیوی بھی، لکڑیاں ڈھونے والی(4) اس کی گردن میں رسی ہو گی چھال کی بٹی ہوئی(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
ابولہب، نبی ٔاکرمﷺ کا چچا تھا، آپ سے شدید عداوت رکھتا تھا اور آپ کو سخت اذیت پہنچاتا تھا، اس میں کوئی دین کی رمق تھی نہ قرابت کی حمیت۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ذم عظیم کے ذریعے سے اس کی مذمت بیان فرمائی جو قیامت کے دن تک اس کے لیے رسوائی ہے۔ چنانچہ فرمایا:
[1]﴿تَبَّتۡ يَدَاۤ اَبِيۡ لَهَبٍ ﴾ یعنی اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ بدبختی میں پڑ گیا ﴿ وَّتَبَّ ﴾ اس نے نفع حاصل نہ کیا۔
[2]﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُ مَالُهٗ ﴾ وہ مال اس کے کسی کام نہ آیا جو اس کے پاس تھا اور اس مال نے اسے سرکش بنا دیا تھااور جو مال اس نے کمایا۔جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس عذاب کو کچھ بھی دور نہ کر سکا۔
[5-3]﴿ سَيَصۡلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ﴾ ’’وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی آگ اسے ہر جانب سے گھیرلے گی ﴿وَّامۡرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الۡؔحَطَبِ﴾ ’’اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے۔‘‘ اس کی بیوی بھی رسول اللہﷺ کو سخت اذیت پہنچاتی تھی، میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے، وہ تکلیف پہنچاتی تھی اور رسول اللہﷺ کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کے مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے۔ اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے ایک رسی تیار کی گئی ہے۔ ﴿ مِّنۡ مَّسَدٍ﴾ ’’مونج کی۔‘‘یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی۔یا اس کےمعنی یہ ہیں کہ (جہنم میں) وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بٹی ہوئی رسی بندھی ہوئی ہو گی۔ دونوں معنوں کے مطابق اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ یہ سورۂ کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب ابولہب اور اس کی بیوی ابھی ہلاک نہیں ہوئے تھے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ عنقریب انھیں جہنم میں عذاب دیا جائے گا ۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ دونوں ایمان نہیں لائیں گے۔ پس یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح عالم الغیب والشہادہ نے خبر دی تھی۔
المسد 111:2
ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابولہب کے اور وہ ہلاک ہو گیا(1) نہ فائدہ دیا اس کو اس کےمال نے اور جو کچھ اس نے کمایا(2) ضرور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(3) اور اس کی بیوی بھی، لکڑیاں ڈھونے والی(4) اس کی گردن میں رسی ہو گی چھال کی بٹی ہوئی(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
ابولہب، نبی ٔاکرمﷺ کا چچا تھا، آپ سے شدید عداوت رکھتا تھا اور آپ کو سخت اذیت پہنچاتا تھا، اس میں کوئی دین کی رمق تھی نہ قرابت کی حمیت۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ذم عظیم کے ذریعے سے اس کی مذمت بیان فرمائی جو قیامت کے دن تک اس کے لیے رسوائی ہے۔ چنانچہ فرمایا:
[1]﴿تَبَّتۡ يَدَاۤ اَبِيۡ لَهَبٍ ﴾ یعنی اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ بدبختی میں پڑ گیا ﴿ وَّتَبَّ ﴾ اس نے نفع حاصل نہ کیا۔
[2]﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُ مَالُهٗ ﴾ وہ مال اس کے کسی کام نہ آیا جو اس کے پاس تھا اور اس مال نے اسے سرکش بنا دیا تھااور جو مال اس نے کمایا۔جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس عذاب کو کچھ بھی دور نہ کر سکا۔
[5-3]﴿ سَيَصۡلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ﴾ ’’وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی آگ اسے ہر جانب سے گھیرلے گی ﴿وَّامۡرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الۡؔحَطَبِ﴾ ’’اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے۔‘‘ اس کی بیوی بھی رسول اللہﷺ کو سخت اذیت پہنچاتی تھی، میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے، وہ تکلیف پہنچاتی تھی اور رسول اللہﷺ کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کے مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے۔ اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے ایک رسی تیار کی گئی ہے۔ ﴿ مِّنۡ مَّسَدٍ﴾ ’’مونج کی۔‘‘یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی۔یا اس کےمعنی یہ ہیں کہ (جہنم میں) وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بٹی ہوئی رسی بندھی ہوئی ہو گی۔ دونوں معنوں کے مطابق اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ یہ سورۂ کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب ابولہب اور اس کی بیوی ابھی ہلاک نہیں ہوئے تھے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ عنقریب انھیں جہنم میں عذاب دیا جائے گا ۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ دونوں ایمان نہیں لائیں گے۔ پس یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح عالم الغیب والشہادہ نے خبر دی تھی۔
المسد 111:3
ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابولہب کے اور وہ ہلاک ہو گیا(1) نہ فائدہ دیا اس کو اس کےمال نے اور جو کچھ اس نے کمایا(2) ضرور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(3) اور اس کی بیوی بھی، لکڑیاں ڈھونے والی(4) اس کی گردن میں رسی ہو گی چھال کی بٹی ہوئی(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
ابولہب، نبی ٔاکرمﷺ کا چچا تھا، آپ سے شدید عداوت رکھتا تھا اور آپ کو سخت اذیت پہنچاتا تھا، اس میں کوئی دین کی رمق تھی نہ قرابت کی حمیت۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ذم عظیم کے ذریعے سے اس کی مذمت بیان فرمائی جو قیامت کے دن تک اس کے لیے رسوائی ہے۔ چنانچہ فرمایا:
[1]﴿تَبَّتۡ يَدَاۤ اَبِيۡ لَهَبٍ ﴾ یعنی اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ بدبختی میں پڑ گیا ﴿ وَّتَبَّ ﴾ اس نے نفع حاصل نہ کیا۔
[2]﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُ مَالُهٗ ﴾ وہ مال اس کے کسی کام نہ آیا جو اس کے پاس تھا اور اس مال نے اسے سرکش بنا دیا تھااور جو مال اس نے کمایا۔جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس عذاب کو کچھ بھی دور نہ کر سکا۔
[5-3]﴿ سَيَصۡلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ﴾ ’’وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی آگ اسے ہر جانب سے گھیرلے گی ﴿وَّامۡرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الۡؔحَطَبِ﴾ ’’اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے۔‘‘ اس کی بیوی بھی رسول اللہﷺ کو سخت اذیت پہنچاتی تھی، میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے، وہ تکلیف پہنچاتی تھی اور رسول اللہﷺ کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کے مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے۔ اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے ایک رسی تیار کی گئی ہے۔ ﴿ مِّنۡ مَّسَدٍ﴾ ’’مونج کی۔‘‘یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی۔یا اس کےمعنی یہ ہیں کہ (جہنم میں) وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بٹی ہوئی رسی بندھی ہوئی ہو گی۔ دونوں معنوں کے مطابق اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ یہ سورۂ کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب ابولہب اور اس کی بیوی ابھی ہلاک نہیں ہوئے تھے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ عنقریب انھیں جہنم میں عذاب دیا جائے گا ۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ دونوں ایمان نہیں لائیں گے۔ پس یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح عالم الغیب والشہادہ نے خبر دی تھی۔
المسد 111:4
ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابولہب کے اور وہ ہلاک ہو گیا(1) نہ فائدہ دیا اس کو اس کےمال نے اور جو کچھ اس نے کمایا(2) ضرور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(3) اور اس کی بیوی بھی، لکڑیاں ڈھونے والی(4) اس کی گردن میں رسی ہو گی چھال کی بٹی ہوئی(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
ابولہب، نبی ٔاکرمﷺ کا چچا تھا، آپ سے شدید عداوت رکھتا تھا اور آپ کو سخت اذیت پہنچاتا تھا، اس میں کوئی دین کی رمق تھی نہ قرابت کی حمیت۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ذم عظیم کے ذریعے سے اس کی مذمت بیان فرمائی جو قیامت کے دن تک اس کے لیے رسوائی ہے۔ چنانچہ فرمایا:
[1]﴿تَبَّتۡ يَدَاۤ اَبِيۡ لَهَبٍ ﴾ یعنی اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ بدبختی میں پڑ گیا ﴿ وَّتَبَّ ﴾ اس نے نفع حاصل نہ کیا۔
[2]﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُ مَالُهٗ ﴾ وہ مال اس کے کسی کام نہ آیا جو اس کے پاس تھا اور اس مال نے اسے سرکش بنا دیا تھااور جو مال اس نے کمایا۔جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس عذاب کو کچھ بھی دور نہ کر سکا۔
[5-3]﴿ سَيَصۡلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ﴾ ’’وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی آگ اسے ہر جانب سے گھیرلے گی ﴿وَّامۡرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الۡؔحَطَبِ﴾ ’’اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے۔‘‘ اس کی بیوی بھی رسول اللہﷺ کو سخت اذیت پہنچاتی تھی، میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے، وہ تکلیف پہنچاتی تھی اور رسول اللہﷺ کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کے مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے۔ اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے ایک رسی تیار کی گئی ہے۔ ﴿ مِّنۡ مَّسَدٍ﴾ ’’مونج کی۔‘‘یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی۔یا اس کےمعنی یہ ہیں کہ (جہنم میں) وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بٹی ہوئی رسی بندھی ہوئی ہو گی۔ دونوں معنوں کے مطابق اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ یہ سورۂ کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب ابولہب اور اس کی بیوی ابھی ہلاک نہیں ہوئے تھے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ عنقریب انھیں جہنم میں عذاب دیا جائے گا ۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ دونوں ایمان نہیں لائیں گے۔ پس یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح عالم الغیب والشہادہ نے خبر دی تھی۔
المسد 111:5
ٹوٹ جائیں دونوں ہاتھ ابولہب کے اور وہ ہلاک ہو گیا(1) نہ فائدہ دیا اس کو اس کےمال نے اور جو کچھ اس نے کمایا(2) ضرور داخل ہو گا وہ بھڑکتی آگ میں(3) اور اس کی بیوی بھی، لکڑیاں ڈھونے والی(4) اس کی گردن میں رسی ہو گی چھال کی بٹی ہوئی(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
ابولہب، نبی ٔاکرمﷺ کا چچا تھا، آپ سے شدید عداوت رکھتا تھا اور آپ کو سخت اذیت پہنچاتا تھا، اس میں کوئی دین کی رمق تھی نہ قرابت کی حمیت۔ اللہ تعالیٰ اس کا برا کرے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس ذم عظیم کے ذریعے سے اس کی مذمت بیان فرمائی جو قیامت کے دن تک اس کے لیے رسوائی ہے۔ چنانچہ فرمایا:
[1]﴿تَبَّتۡ يَدَاۤ اَبِيۡ لَهَبٍ ﴾ یعنی اس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ بدبختی میں پڑ گیا ﴿ وَّتَبَّ ﴾ اس نے نفع حاصل نہ کیا۔
[2]﴿ مَاۤ اَغۡنٰى عَنۡهُ مَالُهٗ ﴾ وہ مال اس کے کسی کام نہ آیا جو اس کے پاس تھا اور اس مال نے اسے سرکش بنا دیا تھااور جو مال اس نے کمایا۔جب اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو وہ اس عذاب کو کچھ بھی دور نہ کر سکا۔
[5-3]﴿ سَيَصۡلٰى نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ﴾ ’’وہ جلد بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔‘‘ یعنی آگ اسے ہر جانب سے گھیرلے گی ﴿وَّامۡرَاَتُهٗ١ؕ حَمَّالَةَ الۡؔحَطَبِ﴾ ’’اور اس کی بیوی بھی جو ایندھن اٹھانے والی ہے۔‘‘ اس کی بیوی بھی رسول اللہﷺ کو سخت اذیت پہنچاتی تھی، میاں بیوی دونوں گناہ اور ظلم پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے تھے، وہ تکلیف پہنچاتی تھی اور رسول اللہﷺ کو اذیت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی تھی۔ اس کی پیٹھ پر بوجھ لاد دیا جائے گا اس شخص کے مانند جو ایندھن اکٹھا کرتا ہے۔ اس کی گردن میں ڈالنے کے لیے ایک رسی تیار کی گئی ہے۔ ﴿ مِّنۡ مَّسَدٍ﴾ ’’مونج کی۔‘‘یعنی کھجور کے پتوں کے ریشے سے بٹی ہوئی۔یا اس کےمعنی یہ ہیں کہ (جہنم میں) وہ ایندھن اٹھا اٹھا کر اپنے شوہر پر ڈالے گی اور اس کے گلے میں کھجور کے پتوں کے ریشوں سے بٹی ہوئی رسی بندھی ہوئی ہو گی۔ دونوں معنوں کے مطابق اس سورۂ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے کیونکہ یہ سورۂ کریمہ اس وقت نازل ہوئی جب ابولہب اور اس کی بیوی ابھی ہلاک نہیں ہوئے تھے۔ اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی کہ عنقریب انھیں جہنم میں عذاب دیا جائے گا ۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ یہ دونوں ایمان نہیں لائیں گے۔ پس یہ اسی طرح واقع ہوا جس طرح عالم الغیب والشہادہ نے خبر دی تھی۔
الإخلاص 112:1
آپ کہہ دیجیے: وہ اللہ یکتا ہے(1) اللہ بے نیاز ہے(2) نہیں جنا اس نے (کسی کو) اور نہیں وہ (خود) جنا گیا(3) اور نہیں ہے اس کا ہمسر کوئی بھی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی اس حقیقت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اور اس کے معنی کو جانتے ہوئے حتمی طور پر کہہ دیجیے: ﴿هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ وہ اللہ ایک ہی ہے یعنی وحدانیت اس کی ذات میں منحصر ہے۔ وہ ہر قسم کے کمال میں احد اور منفرد ہے جو اسمائے حسنیٰ، صفات کاملہ و عالیہ اور افعال مقدسہ کا مالک ہے، جس کی کوئی نظیر ہے نہ مثیل۔
[2]﴿اَللّٰهُ الصَّمَدُ﴾ ’’اللہ بے نیاز ہے۔‘‘ یعنی تمام حوائج میں وہی مقصود ہے۔ عالم بالا اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اس کے انتہائی محتاج ہیں، اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں، اپنے اہم امور میں اسی کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اوصاف میں کامل ہے ، وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہے، حلیم ہے جو اپنے حلم میں کامل ہے اور رحیم ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے تمام اوصاف میں کامل ہے۔
[3] یہ اس کا کمال ہے کہ ﴿لَمۡ يَلِدۡ١ۙ۬ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ﴾ اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے کیونکہ وہ کامل طور پر غنی ہے۔
[4]﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ﴾ اس کے اسماء میں نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں اس کا کوئی ہم سر ہے۔ اس کی ذات بابرکت اور بہت بلند ہے۔ یہ سورۂ کریمہ توحیدِ اسماء و صفات پر مشتمل ہے۔
الإخلاص 112:2
آپ کہہ دیجیے: وہ اللہ یکتا ہے(1) اللہ بے نیاز ہے(2) نہیں جنا اس نے (کسی کو) اور نہیں وہ (خود) جنا گیا(3) اور نہیں ہے اس کا ہمسر کوئی بھی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی اس حقیقت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اور اس کے معنی کو جانتے ہوئے حتمی طور پر کہہ دیجیے: ﴿هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ وہ اللہ ایک ہی ہے یعنی وحدانیت اس کی ذات میں منحصر ہے۔ وہ ہر قسم کے کمال میں احد اور منفرد ہے جو اسمائے حسنیٰ، صفات کاملہ و عالیہ اور افعال مقدسہ کا مالک ہے، جس کی کوئی نظیر ہے نہ مثیل۔
[2]﴿اَللّٰهُ الصَّمَدُ﴾ ’’اللہ بے نیاز ہے۔‘‘ یعنی تمام حوائج میں وہی مقصود ہے۔ عالم بالا اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اس کے انتہائی محتاج ہیں، اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں، اپنے اہم امور میں اسی کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اوصاف میں کامل ہے ، وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہے، حلیم ہے جو اپنے حلم میں کامل ہے اور رحیم ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے تمام اوصاف میں کامل ہے۔
[3] یہ اس کا کمال ہے کہ ﴿لَمۡ يَلِدۡ١ۙ۬ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ﴾ اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے کیونکہ وہ کامل طور پر غنی ہے۔
[4]﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ﴾ اس کے اسماء میں نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں اس کا کوئی ہم سر ہے۔ اس کی ذات بابرکت اور بہت بلند ہے۔ یہ سورۂ کریمہ توحیدِ اسماء و صفات پر مشتمل ہے۔
الإخلاص 112:3
آپ کہہ دیجیے: وہ اللہ یکتا ہے(1) اللہ بے نیاز ہے(2) نہیں جنا اس نے (کسی کو) اور نہیں وہ (خود) جنا گیا(3) اور نہیں ہے اس کا ہمسر کوئی بھی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی اس حقیقت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اور اس کے معنی کو جانتے ہوئے حتمی طور پر کہہ دیجیے: ﴿هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ وہ اللہ ایک ہی ہے یعنی وحدانیت اس کی ذات میں منحصر ہے۔ وہ ہر قسم کے کمال میں احد اور منفرد ہے جو اسمائے حسنیٰ، صفات کاملہ و عالیہ اور افعال مقدسہ کا مالک ہے، جس کی کوئی نظیر ہے نہ مثیل۔
[2]﴿اَللّٰهُ الصَّمَدُ﴾ ’’اللہ بے نیاز ہے۔‘‘ یعنی تمام حوائج میں وہی مقصود ہے۔ عالم بالا اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اس کے انتہائی محتاج ہیں، اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں، اپنے اہم امور میں اسی کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اوصاف میں کامل ہے ، وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہے، حلیم ہے جو اپنے حلم میں کامل ہے اور رحیم ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے تمام اوصاف میں کامل ہے۔
[3] یہ اس کا کمال ہے کہ ﴿لَمۡ يَلِدۡ١ۙ۬ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ﴾ اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے کیونکہ وہ کامل طور پر غنی ہے۔
[4]﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ﴾ اس کے اسماء میں نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں اس کا کوئی ہم سر ہے۔ اس کی ذات بابرکت اور بہت بلند ہے۔ یہ سورۂ کریمہ توحیدِ اسماء و صفات پر مشتمل ہے۔
الإخلاص 112:4
آپ کہہ دیجیے: وہ اللہ یکتا ہے(1) اللہ بے نیاز ہے(2) نہیں جنا اس نے (کسی کو) اور نہیں وہ (خود) جنا گیا(3) اور نہیں ہے اس کا ہمسر کوئی بھی(4)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی اس حقیقت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اور اس کے معنی کو جانتے ہوئے حتمی طور پر کہہ دیجیے: ﴿هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ وہ اللہ ایک ہی ہے یعنی وحدانیت اس کی ذات میں منحصر ہے۔ وہ ہر قسم کے کمال میں احد اور منفرد ہے جو اسمائے حسنیٰ، صفات کاملہ و عالیہ اور افعال مقدسہ کا مالک ہے، جس کی کوئی نظیر ہے نہ مثیل۔
[2]﴿اَللّٰهُ الصَّمَدُ﴾ ’’اللہ بے نیاز ہے۔‘‘ یعنی تمام حوائج میں وہی مقصود ہے۔ عالم بالا اور عالم سفلی کے رہنے والے سب اس کے انتہائی محتاج ہیں، اسی سے اپنی حاجتوں کا سوال کرتے ہیں، اپنے اہم امور میں اسی کی طرف راغب ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اوصاف میں کامل ہے ، وہ علیم ہے جو اپنے علم میں کامل ہے، حلیم ہے جو اپنے حلم میں کامل ہے اور رحیم ہے جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے تمام اوصاف میں کامل ہے۔
[3] یہ اس کا کمال ہے کہ ﴿لَمۡ يَلِدۡ١ۙ۬ وَلَمۡ يُوۡلَدۡ﴾ اس نے کسی کو جنم دیا ہے نہ اسے کسی نے جنم دیا ہے کیونکہ وہ کامل طور پر غنی ہے۔
[4]﴿وَلَمۡ يَكُنۡ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ﴾ اس کے اسماء میں نہ اس کی صفات میں اور نہ اس کے افعال میں اس کا کوئی ہم سر ہے۔ اس کی ذات بابرکت اور بہت بلند ہے۔ یہ سورۂ کریمہ توحیدِ اسماء و صفات پر مشتمل ہے۔
الفلق 113:1
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی(1)(ہر) اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی(2) اور اندھیری رات کے شرسے جب وہ چھا جائے(3) اور پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے گرہوں میں(4) اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی آپ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے کہیے : ﴿اَعُوۡذُ﴾ میں پناہ ڈھونڈتا ہوں اور اپنا بچاؤ تلاش کرتا ہوں ﴿بِرَبِّ الۡفَلَقِ﴾ ’’ربِ فلق کے ذریعے سے۔‘‘ یعنی جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور صبح کو نمودار کرتا ہے۔
[2]﴿مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ ’’ہر چیز کے شر سے جو اس نے بنائی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق، انسان، جنات اور حیوانات سب کو شامل ہے۔ پس ان تمام مخلوقات کے اندر موجود شر سے ان کو پیدا کرنے والے کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
[3] پھر اللہ تعالیٰ نے عام کا ذکر کرنے کے بعد خاص کا ذکر کیا، فرمایا :﴿ وَمِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ﴾ ’’اور شبِ تاریک کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔‘‘ یعنی میں اس شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جو رات کے اندر ہوتا ہے، جب وہ لوگوں پر چھا جاتا ہے اور اس میں بہت سی شریر ارواح اور موذی حیوانات پھیل جاتے ہیں۔
[4]﴿وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الۡعُقَدِ﴾ یعنی جادو کرنے والی عورتوں کے شر سے جو اپنے جادو میں گرہوں میں پھونکوں سے کام لیتی ہیں جن کو وہ جادو کے لیے باندھتی ہیں۔
[5]﴿وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ﴾ ’’اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ حاسد وہ ہے جو محسود کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور ان تمام اسباب کے ذریعے سے، جن پر وہ قادر ہے اس نعمت کے زوال کے لیے کوشاں رہتا ہے، تب اس کے شر سے بچنے اور اس کے مکر و فریب کے ابطال کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ کی حاجت ہوتی ہے۔ نظر لگانے والا بھی حاسد ہی شمار ہوتا ہے کیونکہ نظر بد صرف حاسد، شریر الطبع اور خبیث النفس شخص ہی سے صادر ہوتی ہے۔یہ سورۂ کریمہ عام طور پر اور خاص طور پر شر کی تمام انواع سے استعاذہ کو متضمن ہے۔ نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی حقیقت ہے، اس کے ضرر سے ڈرا جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
الفلق 113:2
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی(1)(ہر) اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی(2) اور اندھیری رات کے شرسے جب وہ چھا جائے(3) اور پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے گرہوں میں(4) اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی آپ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے کہیے : ﴿اَعُوۡذُ﴾ میں پناہ ڈھونڈتا ہوں اور اپنا بچاؤ تلاش کرتا ہوں ﴿بِرَبِّ الۡفَلَقِ﴾ ’’ربِ فلق کے ذریعے سے۔‘‘ یعنی جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور صبح کو نمودار کرتا ہے۔
[2]﴿مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ ’’ہر چیز کے شر سے جو اس نے بنائی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق، انسان، جنات اور حیوانات سب کو شامل ہے۔ پس ان تمام مخلوقات کے اندر موجود شر سے ان کو پیدا کرنے والے کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
[3] پھر اللہ تعالیٰ نے عام کا ذکر کرنے کے بعد خاص کا ذکر کیا، فرمایا :﴿ وَمِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ﴾ ’’اور شبِ تاریک کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔‘‘ یعنی میں اس شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جو رات کے اندر ہوتا ہے، جب وہ لوگوں پر چھا جاتا ہے اور اس میں بہت سی شریر ارواح اور موذی حیوانات پھیل جاتے ہیں۔
[4]﴿وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الۡعُقَدِ﴾ یعنی جادو کرنے والی عورتوں کے شر سے جو اپنے جادو میں گرہوں میں پھونکوں سے کام لیتی ہیں جن کو وہ جادو کے لیے باندھتی ہیں۔
[5]﴿وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ﴾ ’’اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ حاسد وہ ہے جو محسود کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور ان تمام اسباب کے ذریعے سے، جن پر وہ قادر ہے اس نعمت کے زوال کے لیے کوشاں رہتا ہے، تب اس کے شر سے بچنے اور اس کے مکر و فریب کے ابطال کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ کی حاجت ہوتی ہے۔ نظر لگانے والا بھی حاسد ہی شمار ہوتا ہے کیونکہ نظر بد صرف حاسد، شریر الطبع اور خبیث النفس شخص ہی سے صادر ہوتی ہے۔یہ سورۂ کریمہ عام طور پر اور خاص طور پر شر کی تمام انواع سے استعاذہ کو متضمن ہے۔ نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی حقیقت ہے، اس کے ضرر سے ڈرا جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
الفلق 113:3
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی(1)(ہر) اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی(2) اور اندھیری رات کے شرسے جب وہ چھا جائے(3) اور پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے گرہوں میں(4) اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی آپ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے کہیے : ﴿اَعُوۡذُ﴾ میں پناہ ڈھونڈتا ہوں اور اپنا بچاؤ تلاش کرتا ہوں ﴿بِرَبِّ الۡفَلَقِ﴾ ’’ربِ فلق کے ذریعے سے۔‘‘ یعنی جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور صبح کو نمودار کرتا ہے۔
[2]﴿مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ ’’ہر چیز کے شر سے جو اس نے بنائی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق، انسان، جنات اور حیوانات سب کو شامل ہے۔ پس ان تمام مخلوقات کے اندر موجود شر سے ان کو پیدا کرنے والے کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
[3] پھر اللہ تعالیٰ نے عام کا ذکر کرنے کے بعد خاص کا ذکر کیا، فرمایا :﴿ وَمِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ﴾ ’’اور شبِ تاریک کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔‘‘ یعنی میں اس شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جو رات کے اندر ہوتا ہے، جب وہ لوگوں پر چھا جاتا ہے اور اس میں بہت سی شریر ارواح اور موذی حیوانات پھیل جاتے ہیں۔
[4]﴿وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الۡعُقَدِ﴾ یعنی جادو کرنے والی عورتوں کے شر سے جو اپنے جادو میں گرہوں میں پھونکوں سے کام لیتی ہیں جن کو وہ جادو کے لیے باندھتی ہیں۔
[5]﴿وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ﴾ ’’اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ حاسد وہ ہے جو محسود کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور ان تمام اسباب کے ذریعے سے، جن پر وہ قادر ہے اس نعمت کے زوال کے لیے کوشاں رہتا ہے، تب اس کے شر سے بچنے اور اس کے مکر و فریب کے ابطال کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ کی حاجت ہوتی ہے۔ نظر لگانے والا بھی حاسد ہی شمار ہوتا ہے کیونکہ نظر بد صرف حاسد، شریر الطبع اور خبیث النفس شخص ہی سے صادر ہوتی ہے۔یہ سورۂ کریمہ عام طور پر اور خاص طور پر شر کی تمام انواع سے استعاذہ کو متضمن ہے۔ نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی حقیقت ہے، اس کے ضرر سے ڈرا جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
الفلق 113:4
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی(1)(ہر) اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی(2) اور اندھیری رات کے شرسے جب وہ چھا جائے(3) اور پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے گرہوں میں(4) اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی آپ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے کہیے : ﴿اَعُوۡذُ﴾ میں پناہ ڈھونڈتا ہوں اور اپنا بچاؤ تلاش کرتا ہوں ﴿بِرَبِّ الۡفَلَقِ﴾ ’’ربِ فلق کے ذریعے سے۔‘‘ یعنی جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور صبح کو نمودار کرتا ہے۔
[2]﴿مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ ’’ہر چیز کے شر سے جو اس نے بنائی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق، انسان، جنات اور حیوانات سب کو شامل ہے۔ پس ان تمام مخلوقات کے اندر موجود شر سے ان کو پیدا کرنے والے کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
[3] پھر اللہ تعالیٰ نے عام کا ذکر کرنے کے بعد خاص کا ذکر کیا، فرمایا :﴿ وَمِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ﴾ ’’اور شبِ تاریک کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔‘‘ یعنی میں اس شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جو رات کے اندر ہوتا ہے، جب وہ لوگوں پر چھا جاتا ہے اور اس میں بہت سی شریر ارواح اور موذی حیوانات پھیل جاتے ہیں۔
[4]﴿وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الۡعُقَدِ﴾ یعنی جادو کرنے والی عورتوں کے شر سے جو اپنے جادو میں گرہوں میں پھونکوں سے کام لیتی ہیں جن کو وہ جادو کے لیے باندھتی ہیں۔
[5]﴿وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ﴾ ’’اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ حاسد وہ ہے جو محسود کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور ان تمام اسباب کے ذریعے سے، جن پر وہ قادر ہے اس نعمت کے زوال کے لیے کوشاں رہتا ہے، تب اس کے شر سے بچنے اور اس کے مکر و فریب کے ابطال کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ کی حاجت ہوتی ہے۔ نظر لگانے والا بھی حاسد ہی شمار ہوتا ہے کیونکہ نظر بد صرف حاسد، شریر الطبع اور خبیث النفس شخص ہی سے صادر ہوتی ہے۔یہ سورۂ کریمہ عام طور پر اور خاص طور پر شر کی تمام انواع سے استعاذہ کو متضمن ہے۔ نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی حقیقت ہے، اس کے ضرر سے ڈرا جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
الفلق 113:5
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں صبح کے رب کی(1)(ہر) اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی(2) اور اندھیری رات کے شرسے جب وہ چھا جائے(3) اور پھونکیں مارنے والیوں کے شر سے گرہوں میں(4) اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے(5)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[1]﴿قُلۡ﴾ یعنی آپ اللہ کی پناہ مانگنے کے لیے کہیے : ﴿اَعُوۡذُ﴾ میں پناہ ڈھونڈتا ہوں اور اپنا بچاؤ تلاش کرتا ہوں ﴿بِرَبِّ الۡفَلَقِ﴾ ’’ربِ فلق کے ذریعے سے۔‘‘ یعنی جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑتا ہے اور صبح کو نمودار کرتا ہے۔
[2]﴿مِنۡ شَرِّ مَا خَلَقَ﴾ ’’ہر چیز کے شر سے جو اس نے بنائی۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق، انسان، جنات اور حیوانات سب کو شامل ہے۔ پس ان تمام مخلوقات کے اندر موجود شر سے ان کو پیدا کرنے والے کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
[3] پھر اللہ تعالیٰ نے عام کا ذکر کرنے کے بعد خاص کا ذکر کیا، فرمایا :﴿ وَمِنۡ شَرِّ غَاسِقٍ اِذَا وَقَبَ﴾ ’’اور شبِ تاریک کی برائی سے جب اس کا اندھیرا چھا جائے۔‘‘ یعنی میں اس شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں جو رات کے اندر ہوتا ہے، جب وہ لوگوں پر چھا جاتا ہے اور اس میں بہت سی شریر ارواح اور موذی حیوانات پھیل جاتے ہیں۔
[4]﴿وَمِنۡ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِي الۡعُقَدِ﴾ یعنی جادو کرنے والی عورتوں کے شر سے جو اپنے جادو میں گرہوں میں پھونکوں سے کام لیتی ہیں جن کو وہ جادو کے لیے باندھتی ہیں۔
[5]﴿وَمِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ﴾ ’’اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔‘‘ حاسد وہ ہے جو محسود کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور ان تمام اسباب کے ذریعے سے، جن پر وہ قادر ہے اس نعمت کے زوال کے لیے کوشاں رہتا ہے، تب اس کے شر سے بچنے اور اس کے مکر و فریب کے ابطال کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ کی حاجت ہوتی ہے۔ نظر لگانے والا بھی حاسد ہی شمار ہوتا ہے کیونکہ نظر بد صرف حاسد، شریر الطبع اور خبیث النفس شخص ہی سے صادر ہوتی ہے۔یہ سورۂ کریمہ عام طور پر اور خاص طور پر شر کی تمام انواع سے استعاذہ کو متضمن ہے۔ نیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جادو کی حقیقت ہے، اس کے ضرر سے ڈرا جاتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی جاتی ہے۔
الناس 114:1
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں انسانوں کے رب کی(1) انسانوں کے بادشاہ کی(2) انسانوں کے معبود کی(3) شر سے و سوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے(4) وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے لوگوں کے سینوں میں(5) جنوں میں سے اور انسانوں میں سے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ سورۂ مبارکہ لوگوں کے رب، ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شر یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے، برائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے فعل کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے۔ وہ انھیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہے کہ وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے ، یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ذریعے سے جو تمام لوگوں کے لیے عام ہے، مدد طلب کرے، اس کی پناہ مانگے اور اسی کی پناہ میں آ کر اپنا بچاؤ کرے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے، وہ ہر جان دار کی پیشانی کو پکڑے ہوئے ہے۔نیز وہ اس کی الوہیت کی پناہ حاصل کرے جس کی بنا پر اس نے ان سب کو تخلیق کیا اور ان کے لیے یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے دشمن کا شر دفع نہ کیا جائے جو انھیں اس کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، وہ اس کے اور ان کے درمیان حائل ہونا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ ان کو اپنے گروہ میں شامل کر لے تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔وسوسہ جس طرح جنات کی طرف سے ہوتا ہے، اسی طرح انسانوں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ أَوَّلًا وَّآخِرًا ظَاھِرًا وَّبَاطِنًا۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی نعمتوں کا اتمام کرے، ہمارے گناہوں کو بخش دے جو ہمارے اور اس کی بہت سے برکات کے درمیان حائل ہیں۔ وہ ہماری خطاؤ ں اور شہوات کو معاف کر دے جنھوں نے ہماری عقلوں کو اس کی آیات میں تدبر و تفکر سے عاری کر دیا۔ ہم امید کرتے ہیں اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں، ان کے بدلے میں وہ ہمیں اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس اور اس کی رحمت سے صرف گمراہ ہی ناامید ہوتے ہیں۔وَصَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ عَلٰی رَسُولِہِ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ أَجْمَعِینَ صَلَاۃً وَّسَلَامًا دَائِمًا مُّتَوَاصِلِینَ أَبَدَا الْأَوْقَاتِ وَالْحَمْدُ لِلہِ الَّذِي بِنِعْمَتِہِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ. کتاب اللہ کی تفسیر اس کی مدد اور توفیق سے اس کے مرتب اور کاتب عبدالرحمن بن ناصر بن عبداللہ المعروف بہ ’’ابن سعدی‘‘ کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی، اس کے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔ اور اس کی ترتیب یکم ربیع الاول ۱۳۴۴ھ میں اور اس کی نقل شعبان ۱۳۴۵ھ میں مکمل ہوئی۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا وَاعْفُ عَنَّا إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ۔
الناس 114:2
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں انسانوں کے رب کی(1) انسانوں کے بادشاہ کی(2) انسانوں کے معبود کی(3) شر سے و سوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے(4) وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے لوگوں کے سینوں میں(5) جنوں میں سے اور انسانوں میں سے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ سورۂ مبارکہ لوگوں کے رب، ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شر یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے، برائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے فعل کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے۔ وہ انھیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہے کہ وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے ، یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ذریعے سے جو تمام لوگوں کے لیے عام ہے، مدد طلب کرے، اس کی پناہ مانگے اور اسی کی پناہ میں آ کر اپنا بچاؤ کرے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے، وہ ہر جان دار کی پیشانی کو پکڑے ہوئے ہے۔نیز وہ اس کی الوہیت کی پناہ حاصل کرے جس کی بنا پر اس نے ان سب کو تخلیق کیا اور ان کے لیے یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے دشمن کا شر دفع نہ کیا جائے جو انھیں اس کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، وہ اس کے اور ان کے درمیان حائل ہونا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ ان کو اپنے گروہ میں شامل کر لے تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔وسوسہ جس طرح جنات کی طرف سے ہوتا ہے، اسی طرح انسانوں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ أَوَّلًا وَّآخِرًا ظَاھِرًا وَّبَاطِنًا۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی نعمتوں کا اتمام کرے، ہمارے گناہوں کو بخش دے جو ہمارے اور اس کی بہت سے برکات کے درمیان حائل ہیں۔ وہ ہماری خطاؤ ں اور شہوات کو معاف کر دے جنھوں نے ہماری عقلوں کو اس کی آیات میں تدبر و تفکر سے عاری کر دیا۔ ہم امید کرتے ہیں اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں، ان کے بدلے میں وہ ہمیں اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس اور اس کی رحمت سے صرف گمراہ ہی ناامید ہوتے ہیں۔وَصَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ عَلٰی رَسُولِہِ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ أَجْمَعِینَ صَلَاۃً وَّسَلَامًا دَائِمًا مُّتَوَاصِلِینَ أَبَدَا الْأَوْقَاتِ وَالْحَمْدُ لِلہِ الَّذِي بِنِعْمَتِہِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ. کتاب اللہ کی تفسیر اس کی مدد اور توفیق سے اس کے مرتب اور کاتب عبدالرحمن بن ناصر بن عبداللہ المعروف بہ ’’ابن سعدی‘‘ کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی، اس کے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔ اور اس کی ترتیب یکم ربیع الاول ۱۳۴۴ھ میں اور اس کی نقل شعبان ۱۳۴۵ھ میں مکمل ہوئی۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا وَاعْفُ عَنَّا إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ۔
الناس 114:3
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں انسانوں کے رب کی(1) انسانوں کے بادشاہ کی(2) انسانوں کے معبود کی(3) شر سے و سوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے(4) وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے لوگوں کے سینوں میں(5) جنوں میں سے اور انسانوں میں سے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ سورۂ مبارکہ لوگوں کے رب، ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شر یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے، برائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے فعل کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے۔ وہ انھیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہے کہ وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے ، یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ذریعے سے جو تمام لوگوں کے لیے عام ہے، مدد طلب کرے، اس کی پناہ مانگے اور اسی کی پناہ میں آ کر اپنا بچاؤ کرے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے، وہ ہر جان دار کی پیشانی کو پکڑے ہوئے ہے۔نیز وہ اس کی الوہیت کی پناہ حاصل کرے جس کی بنا پر اس نے ان سب کو تخلیق کیا اور ان کے لیے یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے دشمن کا شر دفع نہ کیا جائے جو انھیں اس کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، وہ اس کے اور ان کے درمیان حائل ہونا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ ان کو اپنے گروہ میں شامل کر لے تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔وسوسہ جس طرح جنات کی طرف سے ہوتا ہے، اسی طرح انسانوں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ أَوَّلًا وَّآخِرًا ظَاھِرًا وَّبَاطِنًا۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی نعمتوں کا اتمام کرے، ہمارے گناہوں کو بخش دے جو ہمارے اور اس کی بہت سے برکات کے درمیان حائل ہیں۔ وہ ہماری خطاؤ ں اور شہوات کو معاف کر دے جنھوں نے ہماری عقلوں کو اس کی آیات میں تدبر و تفکر سے عاری کر دیا۔ ہم امید کرتے ہیں اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں، ان کے بدلے میں وہ ہمیں اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس اور اس کی رحمت سے صرف گمراہ ہی ناامید ہوتے ہیں۔وَصَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ عَلٰی رَسُولِہِ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ أَجْمَعِینَ صَلَاۃً وَّسَلَامًا دَائِمًا مُّتَوَاصِلِینَ أَبَدَا الْأَوْقَاتِ وَالْحَمْدُ لِلہِ الَّذِي بِنِعْمَتِہِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ. کتاب اللہ کی تفسیر اس کی مدد اور توفیق سے اس کے مرتب اور کاتب عبدالرحمن بن ناصر بن عبداللہ المعروف بہ ’’ابن سعدی‘‘ کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی، اس کے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔ اور اس کی ترتیب یکم ربیع الاول ۱۳۴۴ھ میں اور اس کی نقل شعبان ۱۳۴۵ھ میں مکمل ہوئی۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا وَاعْفُ عَنَّا إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ۔
الناس 114:4
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں انسانوں کے رب کی(1) انسانوں کے بادشاہ کی(2) انسانوں کے معبود کی(3) شر سے و سوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے(4) وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے لوگوں کے سینوں میں(5) جنوں میں سے اور انسانوں میں سے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ سورۂ مبارکہ لوگوں کے رب، ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شر یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے، برائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے فعل کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے۔ وہ انھیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہے کہ وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے ، یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ذریعے سے جو تمام لوگوں کے لیے عام ہے، مدد طلب کرے، اس کی پناہ مانگے اور اسی کی پناہ میں آ کر اپنا بچاؤ کرے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے، وہ ہر جان دار کی پیشانی کو پکڑے ہوئے ہے۔نیز وہ اس کی الوہیت کی پناہ حاصل کرے جس کی بنا پر اس نے ان سب کو تخلیق کیا اور ان کے لیے یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے دشمن کا شر دفع نہ کیا جائے جو انھیں اس کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، وہ اس کے اور ان کے درمیان حائل ہونا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ ان کو اپنے گروہ میں شامل کر لے تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔وسوسہ جس طرح جنات کی طرف سے ہوتا ہے، اسی طرح انسانوں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ أَوَّلًا وَّآخِرًا ظَاھِرًا وَّبَاطِنًا۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی نعمتوں کا اتمام کرے، ہمارے گناہوں کو بخش دے جو ہمارے اور اس کی بہت سے برکات کے درمیان حائل ہیں۔ وہ ہماری خطاؤ ں اور شہوات کو معاف کر دے جنھوں نے ہماری عقلوں کو اس کی آیات میں تدبر و تفکر سے عاری کر دیا۔ ہم امید کرتے ہیں اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں، ان کے بدلے میں وہ ہمیں اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس اور اس کی رحمت سے صرف گمراہ ہی ناامید ہوتے ہیں۔وَصَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ عَلٰی رَسُولِہِ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ أَجْمَعِینَ صَلَاۃً وَّسَلَامًا دَائِمًا مُّتَوَاصِلِینَ أَبَدَا الْأَوْقَاتِ وَالْحَمْدُ لِلہِ الَّذِي بِنِعْمَتِہِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ. کتاب اللہ کی تفسیر اس کی مدد اور توفیق سے اس کے مرتب اور کاتب عبدالرحمن بن ناصر بن عبداللہ المعروف بہ ’’ابن سعدی‘‘ کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی، اس کے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔ اور اس کی ترتیب یکم ربیع الاول ۱۳۴۴ھ میں اور اس کی نقل شعبان ۱۳۴۵ھ میں مکمل ہوئی۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا وَاعْفُ عَنَّا إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ۔
الناس 114:5
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں انسانوں کے رب کی(1) انسانوں کے بادشاہ کی(2) انسانوں کے معبود کی(3) شر سے و سوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے(4) وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے لوگوں کے سینوں میں(5) جنوں میں سے اور انسانوں میں سے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ سورۂ مبارکہ لوگوں کے رب، ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شر یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے، برائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے فعل کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے۔ وہ انھیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہے کہ وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے ، یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ذریعے سے جو تمام لوگوں کے لیے عام ہے، مدد طلب کرے، اس کی پناہ مانگے اور اسی کی پناہ میں آ کر اپنا بچاؤ کرے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے، وہ ہر جان دار کی پیشانی کو پکڑے ہوئے ہے۔نیز وہ اس کی الوہیت کی پناہ حاصل کرے جس کی بنا پر اس نے ان سب کو تخلیق کیا اور ان کے لیے یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے دشمن کا شر دفع نہ کیا جائے جو انھیں اس کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، وہ اس کے اور ان کے درمیان حائل ہونا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ ان کو اپنے گروہ میں شامل کر لے تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔وسوسہ جس طرح جنات کی طرف سے ہوتا ہے، اسی طرح انسانوں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ أَوَّلًا وَّآخِرًا ظَاھِرًا وَّبَاطِنًا۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی نعمتوں کا اتمام کرے، ہمارے گناہوں کو بخش دے جو ہمارے اور اس کی بہت سے برکات کے درمیان حائل ہیں۔ وہ ہماری خطاؤ ں اور شہوات کو معاف کر دے جنھوں نے ہماری عقلوں کو اس کی آیات میں تدبر و تفکر سے عاری کر دیا۔ ہم امید کرتے ہیں اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں، ان کے بدلے میں وہ ہمیں اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس اور اس کی رحمت سے صرف گمراہ ہی ناامید ہوتے ہیں۔وَصَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ عَلٰی رَسُولِہِ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ أَجْمَعِینَ صَلَاۃً وَّسَلَامًا دَائِمًا مُّتَوَاصِلِینَ أَبَدَا الْأَوْقَاتِ وَالْحَمْدُ لِلہِ الَّذِي بِنِعْمَتِہِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ. کتاب اللہ کی تفسیر اس کی مدد اور توفیق سے اس کے مرتب اور کاتب عبدالرحمن بن ناصر بن عبداللہ المعروف بہ ’’ابن سعدی‘‘ کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی، اس کے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔ اور اس کی ترتیب یکم ربیع الاول ۱۳۴۴ھ میں اور اس کی نقل شعبان ۱۳۴۵ھ میں مکمل ہوئی۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا وَاعْفُ عَنَّا إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ۔
الناس 114:6
کہہ دیجیے: میں پناہ میں آتا ہوں انسانوں کے رب کی(1) انسانوں کے بادشاہ کی(2) انسانوں کے معبود کی(3) شر سے و سوسہ ڈالنے والے پیچھے ہٹ جانے والے کے(4) وہ جو وسوسہ ڈالتا ہے لوگوں کے سینوں میں(5) جنوں میں سے اور انسانوں میں سے(6)
(شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔
[6-1] یہ سورۂ مبارکہ لوگوں کے رب، ان کے مالک اور ان کے معبود کے پاس شیطان سے پناہ ہے جو تمام برائیوں کی جڑ اور ان کا مادہ ہے جس کا فتنہ اور شر یہ ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے، ان کے سامنے شر کی تحسین کرتا ہے، برائی کو انتہائی خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتا ہے اور برائی کے فعل کے لیے ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے۔ وہ انھیں بھلائی سے باز رکھتا ہے اور اس کو کسی اور ہی صورت میں ان کے سامنے پیش کرتا ہے۔وہ ہمیشہ اسی حال میں رہتا ہے کہ وہ وسوسہ ڈالتا ہے اور پیچھے ہٹ جاتا ہے ، یعنی جب بندہ مومن اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور اس کو دفع کرنے کے لیے اپنے رب کی مدد چاہتا ہے تو یہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔بندے کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے ذریعے سے جو تمام لوگوں کے لیے عام ہے، مدد طلب کرے، اس کی پناہ مانگے اور اسی کی پناہ میں آ کر اپنا بچاؤ کرے۔ تمام مخلوق اس کی ربوبیت اور بادشاہی کے تحت ہے، وہ ہر جان دار کی پیشانی کو پکڑے ہوئے ہے۔نیز وہ اس کی الوہیت کی پناہ حاصل کرے جس کی بنا پر اس نے ان سب کو تخلیق کیا اور ان کے لیے یہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک کہ ان کے دشمن کا شر دفع نہ کیا جائے جو انھیں اس کے راستے سے ہٹانا چاہتا ہے، وہ اس کے اور ان کے درمیان حائل ہونا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ ان کو اپنے گروہ میں شامل کر لے تاکہ وہ بھی جہنمی بن جائیں۔وسوسہ جس طرح جنات کی طرف سے ہوتا ہے، اسی طرح انسانوں کی طرف سے بھی ہو سکتا ہے۔ اس لیے فرمایا:﴿مِنَ الۡؔجِنَّةِ وَالنَّاسِ﴾ وسوسہ ڈالنے والا خواہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔
وَالْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ أَوَّلًا وَّآخِرًا ظَاھِرًا وَّبَاطِنًا۔ہم اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ اپنی نعمتوں کا اتمام کرے، ہمارے گناہوں کو بخش دے جو ہمارے اور اس کی بہت سے برکات کے درمیان حائل ہیں۔ وہ ہماری خطاؤ ں اور شہوات کو معاف کر دے جنھوں نے ہماری عقلوں کو اس کی آیات میں تدبر و تفکر سے عاری کر دیا۔ ہم امید کرتے ہیں اور ہم توقع رکھتے ہیں کہ ہمارے دامن میں جو برائیاں ہیں، ان کے بدلے میں وہ ہمیں اپنی بھلائی سے محروم نہیں کرے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس اور اس کی رحمت سے صرف گمراہ ہی ناامید ہوتے ہیں۔وَصَلَّی اللہُ وَسَلَّمَ عَلٰی رَسُولِہِ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ أَجْمَعِینَ صَلَاۃً وَّسَلَامًا دَائِمًا مُّتَوَاصِلِینَ أَبَدَا الْأَوْقَاتِ وَالْحَمْدُ لِلہِ الَّذِي بِنِعْمَتِہِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ. کتاب اللہ کی تفسیر اس کی مدد اور توفیق سے اس کے مرتب اور کاتب عبدالرحمن بن ناصر بن عبداللہ المعروف بہ ’’ابن سعدی‘‘ کے ہاتھوں مکمل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ اس کی، اس کے والدین کی اور تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے۔ اور اس کی ترتیب یکم ربیع الاول ۱۳۴۴ھ میں اور اس کی نقل شعبان ۱۳۴۵ھ میں مکمل ہوئی۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا وَاعْفُ عَنَّا إِنَّکَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ ۔