Lafzullah

Tafsir As-Saadi - Urdu — العلق 96:1 – القارعة 101:11

Author / source: Tafsir As-Saadi - Urdu

Contents
  1. العلق 96:1
  2. العلق 96:2
  3. العلق 96:3
  4. العلق 96:4
  5. العلق 96:5
  6. العلق 96:6
  7. العلق 96:7
  8. العلق 96:8
  9. العلق 96:9
  10. العلق 96:10
  11. العلق 96:11
  12. العلق 96:12
  13. العلق 96:13
  14. العلق 96:14
  15. العلق 96:15
  16. العلق 96:16
  17. العلق 96:17
  18. العلق 96:18
  19. العلق 96:19
  20. القدر 97:1
  21. القدر 97:2
  22. القدر 97:3
  23. القدر 97:4
  24. القدر 97:5
  25. البينة 98:1
  26. البينة 98:2
  27. البينة 98:3
  28. البينة 98:4
  29. البينة 98:5
  30. البينة 98:6
  31. البينة 98:7
  32. البينة 98:8
  33. الزلزلة 99:1
  34. الزلزلة 99:2
  35. الزلزلة 99:3
  36. الزلزلة 99:4
  37. الزلزلة 99:5
  38. الزلزلة 99:6
  39. الزلزلة 99:7
  40. الزلزلة 99:8
  41. العاديات 100:1
  42. العاديات 100:2
  43. العاديات 100:3
  44. العاديات 100:4
  45. العاديات 100:5
  46. العاديات 100:6
  47. العاديات 100:7
  48. العاديات 100:8
  49. العاديات 100:9
  50. العاديات 100:10
  51. العاديات 100:11
  52. القارعة 101:1
  53. القارعة 101:2
  54. القارعة 101:3
  55. القارعة 101:4
  56. القارعة 101:5
  57. القارعة 101:6
  58. القارعة 101:7
  59. القارعة 101:8
  60. القارعة 101:9
  61. القارعة 101:10
  62. القارعة 101:11

العلق 96:1

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:2

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:3

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:4

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:5

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:6

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:7

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:8

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:9

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:10

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:11

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:12

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:13

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:14

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:15

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:16

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:17

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:18

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

العلق 96:19

پڑھیے اپنے رب کے نام سے وہ جس نے پیدا کیا(1) اس نے پیدا کیا انسان کو جمے ہوئے خون سے(2) پڑھیے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے(3) وہ ذات جس نے (علم) سکھایا قلم کے ذریعے سے(4) اس نے سکھلایا انسان کو جو کچھ نہیں جانتا تھا وہ(5) یقیناً ! بلاشبہ انسان البتہ سرکشی کرتا ہے(6) اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے اپنے آپ کو بے پروا(7) بلاشبہ آپ کے رب ہی کی طرف واپسی ہے(8) بھلا بتلا تو سہی، وہ شخص جو روکتا ہے(9) ایک بندے(محمدﷺ) کو جب وہ نماز پڑھتا ہے (10) بھلا بتلا تو ! اگر ہو وہ (نمازی) ہدایت پر(11) یا وہ حکم دیتا ہو پرہیز گاری کا (12) بھلا بتلا تو، اگر اس نے جھٹلایا اور روگردانی کی(13) کیا نہیں جانا اس نے یہ کہ بلاشبہ اللہ (اسے) دیکھ رہا ہے؟ (14) ہرگز نہیں! البتہ اگر نہ رکا وہ تو ضرور گھسیٹیں گے ہم (اس کو) پیشانی کے بالوں سے (پکڑ کر)(15) پیشانی جھوٹی خطاکار(16) پس چاہیے کہ وہ بلا لے اپنی مجلس کو (17) یقیناً ہم بھی بلا لیں گے عذاب کے فرشتوں کو(18) ہرگز نہیں! نہ اطاعت کریں آپ اس کی، اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے(19) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] رسول اللہﷺ پر نزول کے اعتبار سے یہ قرآن کی اولین سورت ہے، یہ نبوت کے ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی جب آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا چیز ہے۔ پس جبریل uرسالت لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے کہا کہ آپ پڑھیں، مگر آپ نے عذر پیش کیا اور کہا ’’میں پڑھا ہوا نہیں ہوں‘‘ جبریل بار بار یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ آپ نے پڑھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں:﴿ اِقۡرَاۡ بِاسۡمِ رَبِّكَ الَّذِيۡ خَلَقَ﴾ ’’اپنے رب کا نام لے کر پڑھیں جس نے پیدا کیا۔‘‘ یعنی جس نے عام مخلوق کو پیدا کیا۔ [2] پھر انسان کو خاص کر کے اس کی تخلیق کی ابتدا کا ذکر کیا، فرمایا:﴿ مِنۡ عَلَقٍ﴾ ’’خون کے لوتھڑے سے (پیدا کیا)۔‘‘ پس جس ہستی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کی تدبیر کی، لازم ہے کہ وہ امر و نہی کی بھی تدبیر کرے اور یہ کام وہ رسول بھیج کر اور کتابیں نازل کر کے سر انجام دیتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے پڑھنے کا حکم دے کر انسان کی تخلیق کا ذکر کیا۔ [5-3]﴿اِقۡرَاۡ وَرَبُّكَ الۡاَكۡرَمُ﴾ ’’پڑھیے، آپ کا رب بڑا کریم ہے۔‘‘ یعنی آپ کا رب بہت زیادہ اور وسیع صفات کا مالک، بہت زیادہ کرم و احسان اور بے پایاں جود والا ہے۔ جس کا کرم یہ ہے کہ اس نے مختلف انواع کے علوم کے ذریعے سے تعلیم دی اور ﴿عَلَّمَ بِالۡقَلَمِۙ۰۰ عَلَّمَ الۡاِنۡسَانَ مَا لَمۡ يَعۡلَمۡ﴾ ’’قلم کے ذریعے سے سکھایا، اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جن کا اس کو علم نہ تھا۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ سے نکالا، وہ اس وقت کچھ نہیں جانتا تھا، اس کو سماعت، بصارت اور عقل سے بہرہ ور کیا، اس کے لیے حصول علم کے تمام اسباب آسان کیے، اسے قرآن کی تعلیم دی، حکمت سکھائی اور قلم کے ساتھ علم عطا کیا، جس کے ذریعے تمام علوم کو محفوظ اور حقوق کو ضبط کیا جاتا ہے اور وہ لوگوں کے لیے ایسا ایلچی ہوتا ہے جو ان کے لیے بالمشافہ خطاب کا قائم مقام ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کا احسان ہے جس نے اپنے بندوں کو ان نعمتوں سے نوازا جن کی وہ جزا دینے پر قادر ہیں نہ شکر ادا کرنے پر ، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تونگری اور کشائش رزق سے نوازا۔ [8-6] مگر انسان نے اپنے ظلم و جہالت کی بنا پر جب اپنے آپ کو غنی دیکھا تو سرکشی اور بغاوت پر اتر آیا، ہدایت کے مقابلے میں تکبر کیا اور بھول بیٹھا کہ اسے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے اور جزا سے نہ ڈرا۔ بلکہ وہ اس حالت کو پہنچ جاتا ہے کہ خود بھی ہدایت کو چھوڑ دیتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت چھوڑنے کی دعوت دیتا ہے۔ پس وہ نماز پڑھنے سے روکتا ہے جو اعمال ایمان میں سب سے افضل عمل ہے۔ [14-9] اللہ تعالیٰ اس متکبر اور سرکش سے فرماتا ہے: ﴿اَرَءَيۡتَ﴾ بندہ جب نماز پڑھے، اس کو نماز پڑھنے سے روکنے والے! مجھے بتا۔ ﴿اِنۡ كَانَ﴾ بھلا نماز پڑھنے والا بندہ ﴿عَلَى الۡهُدٰۤى﴾ اگر حق کا علم رکھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا ہو ﴿اَوۡ اَمَرَ ﴾ یا دوسروں کو حکم دیتا ہو۔ ﴿ بِالتَّقۡوٰى ﴾’’تقویٰ کا۔‘‘کیا یہ اچھی بات ہے کہ ایسے شخص کو روکا جائے جس کا یہ وصف ہے؟ کیا اس کو روکنا اللہ تعالیٰ کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی اور حق کے خلاف جنگ نہیں؟ کیونکہ نہی کا رخ صرف اسی کی طرف ہوتا ہے جو فی نفسہ ہدایت پر نہیں ہوتا یا وہ دوسروں کو تقویٰ کے خلاف حکم دیتا ہے۔﴿اَرَءَيۡتَ اِنۡ كَذَّبَ﴾ بھلا بتلاؤ! حق سے روکنے والے نے اگر جھٹلایا ہو ﴿وَتَوَلّٰى﴾ اور حکم سے منہ موڑا ہو، کیا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے نہیں ڈرتا ﴿اَلَمۡ يَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰهَ يَرٰى ﴾ ’’کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھتا ہے ‘‘ جو عمل وہ کرتا اور جو فعل وہ سر انجام دیتا ہے ؟ [15، 16] اگر وہ اپنے حال پر جما رہا تو اس کو وعید سنائی، پس فرمایا:﴿كَلَّا لَىِٕنۡ لَّمۡ يَنۡتَهِ﴾ جو کچھ وہ کہتا اور کرتا ہے اگر اس سے باز نہ آیا ﴿لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِيَةِ﴾ تو ہم اس کی پیشانی کو بڑی سختی سے پکڑیں گے اور یہ اسی کی مستحق ہے کیونکہ یہ ﴿نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ﴾ پیشانی اپنے قول میں جھوٹی اور اپنے فعل میں خطا کار ہے۔ [17، 18]﴿فَلۡيَدۡعُ﴾ یعنی یہ شخص جس پر عذاب واجب ہو چکا ہے ﴿نَادِيَهٗ﴾ اپنے اہل مجلس، اپنے ساتھیوں اور ان لوگوں کو بلا لے جو اس کے اردگرد ہیں تاکہ وہ اس عذاب کے خلاف اس کی مدد کریں جو اس پر نازل ہوا ہے۔ ﴿سَنَدۡعُ الزَّبَانِيَةَ﴾ ہم بھی اس کو پکڑنے اور اس کو سزا دینے کے لیے جہنم کے داروغوں کو بلا لیں گے، پھر وہ دیکھے گا کہ کون سا فریق زیادہ طاقتور اور زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ اس روکنے والی ہستی اور اس عقوبت کا حال ہے جس کی وعید سنائی گئی ہے۔ [19] رہا اس شخص کا حال جس کو روکا گیا تو اس کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس روکنے والے کی طرف دھیان ہی نہ دے اور نہ اس کی نہی پر عمل کرے ، چنانچہ فرمایا:﴿كَلَّا١ؕ لَا تُطِعۡهُ﴾ ’’دیکھ! اس کی اطاعت نہ کرنا۔‘‘ یعنی وہ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جس میں خسارہ ہوتا ہے ﴿وَاسۡجُدۡ﴾ اور اپنے رب کے لیے سجدہ کیجیے ﴿وَاقۡتَرِبۡ﴾ سجدوں وغیرہ اور دیگر نیکیوں اور عبادت میں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیجیے، کیونکہ یہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ اور اس کی رضا کے قریب کرتی ہیں۔یہ ہر اس شخص کے لیے عام ہے جو بھلائی سے روکتا ہے اور ہر اس امر کے لیے عام ہے جس سے روکا گیا ہے، اگرچہ یہ آیات ابوجہل کے بارے میں اس وقت نازل ہوئیں جب اس نے رسول اللہﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا، آپ کو تعذیب دی اور اذیت پہنچائی۔

القدر 97:1

بلاشبہ ہم نے نازل کیا اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے لیلۃ القدر؟(2) لیلۃ القدر بہتر ہے ایک ہزار مہینوں سے(3) نازل ہوتے ہیں فرشتے اور روح (جبریل) اس (رات) میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے(4) سلامتی (ہی سلامتی) ہے وہ رات یہاں تک کہ طلوع ہو فجر(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کی فضیلت اور اس کی بلند قدر و منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِيۡ لَيۡلَةِ الۡقَدۡرِ﴾ ’’بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا۔‘‘ اور اس کا شب قدر میں نازل کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل کرنے کی ابتدا، رمضان المبارک میں اور شب قدر میں کی۔ شب قدر کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عام رحمت فرمائی، بندے جس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔اس کی عظیم قدر و منزلت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی فضیلت کی بنا پر اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کے نام سے موسوم کیا گیا، نیز اس لیے بھی اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کہا گیا کہ سال بھر میں جو کچھ واقع ہوتا ہے، یعنی عمر، رزق، دیگر تقدیر وغیرہ اس میں مقدر کر دی جاتی ہیں۔ [2] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت شان اور عظمت مقدار بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ﴾ ’’اور تجھے کس نے خبر دی کہ شب قدر کیا ہے؟‘‘ یعنی اس کی شان بہت جلیل اور اس کا رتبہ بہت عظیم ہے۔ آپ کو اس کا علم نہیں۔ [3]﴿لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ١ۙ۬ خَيۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَهۡرٍ﴾ یعنی قدر کی رات فضیلت میں ایک ہزار مہینے کے برابر ہے۔ وہ عمل جو شب قدر میں واقع ہوتا ہے، ایک ہزار مہینے میں جو شب قدر سے خالی ہوں، واقع ہونے والے عمل سے بہتر ہے۔یہ ان امور میں سے ہے جن پر خرد حیران اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ضعیف القویٰ امت کو ایسی رات سے نوازا جس کے اندر عمل ایک ہزار مہینوں کے عمل سے بڑھ کر ہے، یہ ایک ایسے معمر شخص کی عمر کے برابر ہے جسے اسّی سال سے زیادہ طویل عمر دی گئی ہو۔ [4]﴿تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ فِيۡهَا﴾ یعنی فرشتے اور جبریل امین اس رات میں کثرت سے نازل ہوتے ہیں ﴿مِنۡ كُلِّ اَمۡرٍۙۛ۰۰﴾ ’’ہر کام کے لیے۔‘‘ [5]﴿سَلٰمٌ هِىَ﴾’’یہ (رات) سلامتی ہے۔‘‘ یعنی شب قدر ہر آفت اور ہر شر سے سلامت ہے اور اس کا سبب اس کی بھلائی کی کثرت ہے۔ ﴿حَتّٰى مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ﴾ ’’صبح کے طلوع ہونے تک۔‘‘ یعنی اس رات کی ابتدا غروب آفتاب اور اس کی انتہا طلوع فجر ہے۔اس کی فضیلت میں تواتر سے احادیث وارد ہوئی ہیں، نیز یہ کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں خاص طور پر طاق راتوں میں واقع ہوتی ہے اور یہ رات ہر سال آتی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور کثرت سے عبادت کرتے تھے، اس امید میں کہ شاید شب قدر مل جائے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ سورۂ قدر کی تفسیر مکمل ہوئی۔ بِعَوْنِ اللہِ۔

القدر 97:2

بلاشبہ ہم نے نازل کیا اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے لیلۃ القدر؟(2) لیلۃ القدر بہتر ہے ایک ہزار مہینوں سے(3) نازل ہوتے ہیں فرشتے اور روح (جبریل) اس (رات) میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے(4) سلامتی (ہی سلامتی) ہے وہ رات یہاں تک کہ طلوع ہو فجر(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کی فضیلت اور اس کی بلند قدر و منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِيۡ لَيۡلَةِ الۡقَدۡرِ﴾ ’’بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا۔‘‘ اور اس کا شب قدر میں نازل کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل کرنے کی ابتدا، رمضان المبارک میں اور شب قدر میں کی۔ شب قدر کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عام رحمت فرمائی، بندے جس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔اس کی عظیم قدر و منزلت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی فضیلت کی بنا پر اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کے نام سے موسوم کیا گیا، نیز اس لیے بھی اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کہا گیا کہ سال بھر میں جو کچھ واقع ہوتا ہے، یعنی عمر، رزق، دیگر تقدیر وغیرہ اس میں مقدر کر دی جاتی ہیں۔ [2] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت شان اور عظمت مقدار بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ﴾ ’’اور تجھے کس نے خبر دی کہ شب قدر کیا ہے؟‘‘ یعنی اس کی شان بہت جلیل اور اس کا رتبہ بہت عظیم ہے۔ آپ کو اس کا علم نہیں۔ [3]﴿لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ١ۙ۬ خَيۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَهۡرٍ﴾ یعنی قدر کی رات فضیلت میں ایک ہزار مہینے کے برابر ہے۔ وہ عمل جو شب قدر میں واقع ہوتا ہے، ایک ہزار مہینے میں جو شب قدر سے خالی ہوں، واقع ہونے والے عمل سے بہتر ہے۔یہ ان امور میں سے ہے جن پر خرد حیران اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ضعیف القویٰ امت کو ایسی رات سے نوازا جس کے اندر عمل ایک ہزار مہینوں کے عمل سے بڑھ کر ہے، یہ ایک ایسے معمر شخص کی عمر کے برابر ہے جسے اسّی سال سے زیادہ طویل عمر دی گئی ہو۔ [4]﴿تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ فِيۡهَا﴾ یعنی فرشتے اور جبریل امین اس رات میں کثرت سے نازل ہوتے ہیں ﴿مِنۡ كُلِّ اَمۡرٍۙۛ۰۰﴾ ’’ہر کام کے لیے۔‘‘ [5]﴿سَلٰمٌ هِىَ﴾’’یہ (رات) سلامتی ہے۔‘‘ یعنی شب قدر ہر آفت اور ہر شر سے سلامت ہے اور اس کا سبب اس کی بھلائی کی کثرت ہے۔ ﴿حَتّٰى مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ﴾ ’’صبح کے طلوع ہونے تک۔‘‘ یعنی اس رات کی ابتدا غروب آفتاب اور اس کی انتہا طلوع فجر ہے۔اس کی فضیلت میں تواتر سے احادیث وارد ہوئی ہیں، نیز یہ کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں خاص طور پر طاق راتوں میں واقع ہوتی ہے اور یہ رات ہر سال آتی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور کثرت سے عبادت کرتے تھے، اس امید میں کہ شاید شب قدر مل جائے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ سورۂ قدر کی تفسیر مکمل ہوئی۔ بِعَوْنِ اللہِ۔

القدر 97:3

بلاشبہ ہم نے نازل کیا اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے لیلۃ القدر؟(2) لیلۃ القدر بہتر ہے ایک ہزار مہینوں سے(3) نازل ہوتے ہیں فرشتے اور روح (جبریل) اس (رات) میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے(4) سلامتی (ہی سلامتی) ہے وہ رات یہاں تک کہ طلوع ہو فجر(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کی فضیلت اور اس کی بلند قدر و منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِيۡ لَيۡلَةِ الۡقَدۡرِ﴾ ’’بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا۔‘‘ اور اس کا شب قدر میں نازل کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل کرنے کی ابتدا، رمضان المبارک میں اور شب قدر میں کی۔ شب قدر کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عام رحمت فرمائی، بندے جس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔اس کی عظیم قدر و منزلت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی فضیلت کی بنا پر اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کے نام سے موسوم کیا گیا، نیز اس لیے بھی اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کہا گیا کہ سال بھر میں جو کچھ واقع ہوتا ہے، یعنی عمر، رزق، دیگر تقدیر وغیرہ اس میں مقدر کر دی جاتی ہیں۔ [2] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت شان اور عظمت مقدار بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ﴾ ’’اور تجھے کس نے خبر دی کہ شب قدر کیا ہے؟‘‘ یعنی اس کی شان بہت جلیل اور اس کا رتبہ بہت عظیم ہے۔ آپ کو اس کا علم نہیں۔ [3]﴿لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ١ۙ۬ خَيۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَهۡرٍ﴾ یعنی قدر کی رات فضیلت میں ایک ہزار مہینے کے برابر ہے۔ وہ عمل جو شب قدر میں واقع ہوتا ہے، ایک ہزار مہینے میں جو شب قدر سے خالی ہوں، واقع ہونے والے عمل سے بہتر ہے۔یہ ان امور میں سے ہے جن پر خرد حیران اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ضعیف القویٰ امت کو ایسی رات سے نوازا جس کے اندر عمل ایک ہزار مہینوں کے عمل سے بڑھ کر ہے، یہ ایک ایسے معمر شخص کی عمر کے برابر ہے جسے اسّی سال سے زیادہ طویل عمر دی گئی ہو۔ [4]﴿تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ فِيۡهَا﴾ یعنی فرشتے اور جبریل امین اس رات میں کثرت سے نازل ہوتے ہیں ﴿مِنۡ كُلِّ اَمۡرٍۙۛ۰۰﴾ ’’ہر کام کے لیے۔‘‘ [5]﴿سَلٰمٌ هِىَ﴾’’یہ (رات) سلامتی ہے۔‘‘ یعنی شب قدر ہر آفت اور ہر شر سے سلامت ہے اور اس کا سبب اس کی بھلائی کی کثرت ہے۔ ﴿حَتّٰى مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ﴾ ’’صبح کے طلوع ہونے تک۔‘‘ یعنی اس رات کی ابتدا غروب آفتاب اور اس کی انتہا طلوع فجر ہے۔اس کی فضیلت میں تواتر سے احادیث وارد ہوئی ہیں، نیز یہ کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں خاص طور پر طاق راتوں میں واقع ہوتی ہے اور یہ رات ہر سال آتی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور کثرت سے عبادت کرتے تھے، اس امید میں کہ شاید شب قدر مل جائے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ سورۂ قدر کی تفسیر مکمل ہوئی۔ بِعَوْنِ اللہِ۔

القدر 97:4

بلاشبہ ہم نے نازل کیا اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے لیلۃ القدر؟(2) لیلۃ القدر بہتر ہے ایک ہزار مہینوں سے(3) نازل ہوتے ہیں فرشتے اور روح (جبریل) اس (رات) میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے(4) سلامتی (ہی سلامتی) ہے وہ رات یہاں تک کہ طلوع ہو فجر(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کی فضیلت اور اس کی بلند قدر و منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِيۡ لَيۡلَةِ الۡقَدۡرِ﴾ ’’بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا۔‘‘ اور اس کا شب قدر میں نازل کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل کرنے کی ابتدا، رمضان المبارک میں اور شب قدر میں کی۔ شب قدر کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عام رحمت فرمائی، بندے جس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔اس کی عظیم قدر و منزلت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی فضیلت کی بنا پر اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کے نام سے موسوم کیا گیا، نیز اس لیے بھی اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کہا گیا کہ سال بھر میں جو کچھ واقع ہوتا ہے، یعنی عمر، رزق، دیگر تقدیر وغیرہ اس میں مقدر کر دی جاتی ہیں۔ [2] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت شان اور عظمت مقدار بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ﴾ ’’اور تجھے کس نے خبر دی کہ شب قدر کیا ہے؟‘‘ یعنی اس کی شان بہت جلیل اور اس کا رتبہ بہت عظیم ہے۔ آپ کو اس کا علم نہیں۔ [3]﴿لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ١ۙ۬ خَيۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَهۡرٍ﴾ یعنی قدر کی رات فضیلت میں ایک ہزار مہینے کے برابر ہے۔ وہ عمل جو شب قدر میں واقع ہوتا ہے، ایک ہزار مہینے میں جو شب قدر سے خالی ہوں، واقع ہونے والے عمل سے بہتر ہے۔یہ ان امور میں سے ہے جن پر خرد حیران اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ضعیف القویٰ امت کو ایسی رات سے نوازا جس کے اندر عمل ایک ہزار مہینوں کے عمل سے بڑھ کر ہے، یہ ایک ایسے معمر شخص کی عمر کے برابر ہے جسے اسّی سال سے زیادہ طویل عمر دی گئی ہو۔ [4]﴿تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ فِيۡهَا﴾ یعنی فرشتے اور جبریل امین اس رات میں کثرت سے نازل ہوتے ہیں ﴿مِنۡ كُلِّ اَمۡرٍۙۛ۰۰﴾ ’’ہر کام کے لیے۔‘‘ [5]﴿سَلٰمٌ هِىَ﴾’’یہ (رات) سلامتی ہے۔‘‘ یعنی شب قدر ہر آفت اور ہر شر سے سلامت ہے اور اس کا سبب اس کی بھلائی کی کثرت ہے۔ ﴿حَتّٰى مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ﴾ ’’صبح کے طلوع ہونے تک۔‘‘ یعنی اس رات کی ابتدا غروب آفتاب اور اس کی انتہا طلوع فجر ہے۔اس کی فضیلت میں تواتر سے احادیث وارد ہوئی ہیں، نیز یہ کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں خاص طور پر طاق راتوں میں واقع ہوتی ہے اور یہ رات ہر سال آتی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور کثرت سے عبادت کرتے تھے، اس امید میں کہ شاید شب قدر مل جائے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ سورۂ قدر کی تفسیر مکمل ہوئی۔ بِعَوْنِ اللہِ۔

القدر 97:5

بلاشبہ ہم نے نازل کیا اس (قرآن) کو لیلۃ القدر میں(1) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کیا ہے لیلۃ القدر؟(2) لیلۃ القدر بہتر ہے ایک ہزار مہینوں سے(3) نازل ہوتے ہیں فرشتے اور روح (جبریل) اس (رات) میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لیے(4) سلامتی (ہی سلامتی) ہے وہ رات یہاں تک کہ طلوع ہو فجر(5) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن کی فضیلت اور اس کی بلند قدر و منزلت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنَّـاۤ اَنۡزَلۡنٰهُ فِيۡ لَيۡلَةِ الۡقَدۡرِ﴾ ’’بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا۔‘‘ اور اس کا شب قدر میں نازل کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے نازل کرنے کی ابتدا، رمضان المبارک میں اور شب قدر میں کی۔ شب قدر کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر عام رحمت فرمائی، بندے جس کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔اس کی عظیم قدر و منزلت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی فضیلت کی بنا پر اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کے نام سے موسوم کیا گیا، نیز اس لیے بھی اس کو ﴿لَيۡلَۃُ الۡقَدۡرِ﴾ کہا گیا کہ سال بھر میں جو کچھ واقع ہوتا ہے، یعنی عمر، رزق، دیگر تقدیر وغیرہ اس میں مقدر کر دی جاتی ہیں۔ [2] پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی عظمت شان اور عظمت مقدار بیان کی، چنانچہ فرمایا:﴿وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ﴾ ’’اور تجھے کس نے خبر دی کہ شب قدر کیا ہے؟‘‘ یعنی اس کی شان بہت جلیل اور اس کا رتبہ بہت عظیم ہے۔ آپ کو اس کا علم نہیں۔ [3]﴿لَيۡلَةُ الۡقَدۡرِ١ۙ۬ خَيۡرٌ مِّنۡ اَلۡفِ شَهۡرٍ﴾ یعنی قدر کی رات فضیلت میں ایک ہزار مہینے کے برابر ہے۔ وہ عمل جو شب قدر میں واقع ہوتا ہے، ایک ہزار مہینے میں جو شب قدر سے خالی ہوں، واقع ہونے والے عمل سے بہتر ہے۔یہ ان امور میں سے ہے جن پر خرد حیران اور عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس ضعیف القویٰ امت کو ایسی رات سے نوازا جس کے اندر عمل ایک ہزار مہینوں کے عمل سے بڑھ کر ہے، یہ ایک ایسے معمر شخص کی عمر کے برابر ہے جسے اسّی سال سے زیادہ طویل عمر دی گئی ہو۔ [4]﴿تَنَزَّلُ الۡمَلٰٓىِٕكَةُ وَالرُّوۡحُ فِيۡهَا﴾ یعنی فرشتے اور جبریل امین اس رات میں کثرت سے نازل ہوتے ہیں ﴿مِنۡ كُلِّ اَمۡرٍۙۛ۰۰﴾ ’’ہر کام کے لیے۔‘‘ [5]﴿سَلٰمٌ هِىَ﴾’’یہ (رات) سلامتی ہے۔‘‘ یعنی شب قدر ہر آفت اور ہر شر سے سلامت ہے اور اس کا سبب اس کی بھلائی کی کثرت ہے۔ ﴿حَتّٰى مَطۡلَعِ الۡفَجۡرِ﴾ ’’صبح کے طلوع ہونے تک۔‘‘ یعنی اس رات کی ابتدا غروب آفتاب اور اس کی انتہا طلوع فجر ہے۔اس کی فضیلت میں تواتر سے احادیث وارد ہوئی ہیں، نیز یہ کہ شب قدر رمضان کے آخری عشرے میں خاص طور پر طاق راتوں میں واقع ہوتی ہے اور یہ رات ہر سال آتی ہے اور قیامت تک باقی رہے گی۔ اسی لیے نبی اکرمﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف بیٹھتے تھے اور کثرت سے عبادت کرتے تھے، اس امید میں کہ شاید شب قدر مل جائے۔ وَاللہُ أَعْلَمُ۔ سورۂ قدر کی تفسیر مکمل ہوئی۔ بِعَوْنِ اللہِ۔

البينة 98:1

نہیں تھے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین رکنے والے (کفر سے) یہاں تک کہ آئے ان کے پاس واضح دلیل(1)(یعنی ) ایک رسول اللہ کی طرف سے وہ پڑھے صحیفے پاکیزہ(2) ان (صحیفوں) میں احکام ہیں درست معتدل(3) اور نہیں متفرق (مختلف) ہوئے وہ لوگ جو دیے گئے کتاب (کبھی بھی) مگر بعد اس کےکہ آئی ان کے پاس واضح دلیل (4) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی یکسو ہو کر اور وہ قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ، اور یہی ہے دین سیدھی (ملت) کا(5) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین (وہ ہوں گے) آتش جہنم میں، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی لوگ ہیں بدترین خلائق(6)بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں بہترین خلائق(7) جزا ان کی ان کے رب کے ہاں باغات ہیں ہمیشگی والے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ (جزا) اس شخص کے لیے ہے جو ڈر گیا اپنے رب سے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’نہیں ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔‘‘یعنی یہود و نصاریٰ میں سے۔ ﴿وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ اور مشر کین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے ﴿مُنۡفَكِّيۡنَ﴾ ’’باز آنے والے۔‘‘ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے، وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر میں اضافہ ہی کرے گا۔ ﴿حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آ جائے ۔ [2، 3] پھر ﴿ الۡبَيِّنَةُ ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کے رسول ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً﴾ ’’وہ (رسول) پاک اوراق پڑھتا ہے۔‘‘ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں، اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں، کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔ اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا:﴿فِيۡهَا﴾ ان صحیفوں میں ﴿كُتُبٌ قَيِّمَةٌ﴾ سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آ جاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے، دونوں واضح ہو جاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل سے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔ [4] اگر اہل کتاب اس رسول (ﷺ) پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ انھوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آ گئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع و اتفاق کی موجب ہے، مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ [5] حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔ ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہوا تھا کہ عبادت کریں ﴿ اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’ اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔‘‘ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادات میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے۔ ﴿حُنَفَآءَ﴾ ’’یکسو ہوکر۔‘‘ یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر ﴿وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ’’اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکاۃ کو ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ میں داخل ہیں ، نیز اس لیے بھی انھیں الگ ذکر کیا کہ یہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو قائم کیا اس نے دین کی تمام شرائع کو قائم کیا ﴿وَذٰلِكَ﴾ ’’ اور یہ‘‘ یعنی توحید اور اخلاص فی الدین دونوں ﴿دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ﴾ دین مستقیم ہیں، جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے، اور اس کے سوا دیگر ادیان ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔ [6] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آ جانے کے بعد ان کی جزا کیا ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے۔‘‘ اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا﴾ یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہو گا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ شَرُّ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’یہ مخلوق میں سے بدترین ہیں‘‘ کیونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کر دیا اور یوں دنیا و آخرت میں انھوں نے نقصان اٹھایا۔ [7]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی، اور وہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے فوزیاب ہوئے۔ [8]﴿جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ﴾ ’’ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔‘‘ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ ہو گا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ﴾ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انھوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ ﴿ذٰلِكَ﴾ یہ جزائے حسن ﴿لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔

البينة 98:2

نہیں تھے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین رکنے والے (کفر سے) یہاں تک کہ آئے ان کے پاس واضح دلیل(1)(یعنی ) ایک رسول اللہ کی طرف سے وہ پڑھے صحیفے پاکیزہ(2) ان (صحیفوں) میں احکام ہیں درست معتدل(3) اور نہیں متفرق (مختلف) ہوئے وہ لوگ جو دیے گئے کتاب (کبھی بھی) مگر بعد اس کےکہ آئی ان کے پاس واضح دلیل (4) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی یکسو ہو کر اور وہ قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ، اور یہی ہے دین سیدھی (ملت) کا(5) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین (وہ ہوں گے) آتش جہنم میں، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی لوگ ہیں بدترین خلائق(6)بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں بہترین خلائق(7) جزا ان کی ان کے رب کے ہاں باغات ہیں ہمیشگی والے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ (جزا) اس شخص کے لیے ہے جو ڈر گیا اپنے رب سے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’نہیں ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔‘‘یعنی یہود و نصاریٰ میں سے۔ ﴿وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ اور مشر کین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے ﴿مُنۡفَكِّيۡنَ﴾ ’’باز آنے والے۔‘‘ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے، وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر میں اضافہ ہی کرے گا۔ ﴿حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آ جائے ۔ [2، 3] پھر ﴿ الۡبَيِّنَةُ ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کے رسول ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً﴾ ’’وہ (رسول) پاک اوراق پڑھتا ہے۔‘‘ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں، اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں، کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔ اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا:﴿فِيۡهَا﴾ ان صحیفوں میں ﴿كُتُبٌ قَيِّمَةٌ﴾ سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آ جاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے، دونوں واضح ہو جاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل سے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔ [4] اگر اہل کتاب اس رسول (ﷺ) پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ انھوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آ گئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع و اتفاق کی موجب ہے، مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ [5] حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔ ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہوا تھا کہ عبادت کریں ﴿ اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’ اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔‘‘ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادات میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے۔ ﴿حُنَفَآءَ﴾ ’’یکسو ہوکر۔‘‘ یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر ﴿وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ’’اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکاۃ کو ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ میں داخل ہیں ، نیز اس لیے بھی انھیں الگ ذکر کیا کہ یہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو قائم کیا اس نے دین کی تمام شرائع کو قائم کیا ﴿وَذٰلِكَ﴾ ’’ اور یہ‘‘ یعنی توحید اور اخلاص فی الدین دونوں ﴿دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ﴾ دین مستقیم ہیں، جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے، اور اس کے سوا دیگر ادیان ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔ [6] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آ جانے کے بعد ان کی جزا کیا ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے۔‘‘ اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا﴾ یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہو گا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ شَرُّ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’یہ مخلوق میں سے بدترین ہیں‘‘ کیونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کر دیا اور یوں دنیا و آخرت میں انھوں نے نقصان اٹھایا۔ [7]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی، اور وہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے فوزیاب ہوئے۔ [8]﴿جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ﴾ ’’ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔‘‘ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ ہو گا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ﴾ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انھوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ ﴿ذٰلِكَ﴾ یہ جزائے حسن ﴿لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔

البينة 98:3

نہیں تھے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین رکنے والے (کفر سے) یہاں تک کہ آئے ان کے پاس واضح دلیل(1)(یعنی ) ایک رسول اللہ کی طرف سے وہ پڑھے صحیفے پاکیزہ(2) ان (صحیفوں) میں احکام ہیں درست معتدل(3) اور نہیں متفرق (مختلف) ہوئے وہ لوگ جو دیے گئے کتاب (کبھی بھی) مگر بعد اس کےکہ آئی ان کے پاس واضح دلیل (4) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی یکسو ہو کر اور وہ قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ، اور یہی ہے دین سیدھی (ملت) کا(5) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین (وہ ہوں گے) آتش جہنم میں، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی لوگ ہیں بدترین خلائق(6)بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں بہترین خلائق(7) جزا ان کی ان کے رب کے ہاں باغات ہیں ہمیشگی والے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ (جزا) اس شخص کے لیے ہے جو ڈر گیا اپنے رب سے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’نہیں ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔‘‘یعنی یہود و نصاریٰ میں سے۔ ﴿وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ اور مشر کین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے ﴿مُنۡفَكِّيۡنَ﴾ ’’باز آنے والے۔‘‘ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے، وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر میں اضافہ ہی کرے گا۔ ﴿حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آ جائے ۔ [2، 3] پھر ﴿ الۡبَيِّنَةُ ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کے رسول ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً﴾ ’’وہ (رسول) پاک اوراق پڑھتا ہے۔‘‘ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں، اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں، کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔ اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا:﴿فِيۡهَا﴾ ان صحیفوں میں ﴿كُتُبٌ قَيِّمَةٌ﴾ سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آ جاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے، دونوں واضح ہو جاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل سے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔ [4] اگر اہل کتاب اس رسول (ﷺ) پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ انھوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آ گئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع و اتفاق کی موجب ہے، مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ [5] حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔ ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہوا تھا کہ عبادت کریں ﴿ اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’ اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔‘‘ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادات میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے۔ ﴿حُنَفَآءَ﴾ ’’یکسو ہوکر۔‘‘ یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر ﴿وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ’’اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکاۃ کو ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ میں داخل ہیں ، نیز اس لیے بھی انھیں الگ ذکر کیا کہ یہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو قائم کیا اس نے دین کی تمام شرائع کو قائم کیا ﴿وَذٰلِكَ﴾ ’’ اور یہ‘‘ یعنی توحید اور اخلاص فی الدین دونوں ﴿دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ﴾ دین مستقیم ہیں، جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے، اور اس کے سوا دیگر ادیان ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔ [6] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آ جانے کے بعد ان کی جزا کیا ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے۔‘‘ اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا﴾ یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہو گا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ شَرُّ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’یہ مخلوق میں سے بدترین ہیں‘‘ کیونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کر دیا اور یوں دنیا و آخرت میں انھوں نے نقصان اٹھایا۔ [7]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی، اور وہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے فوزیاب ہوئے۔ [8]﴿جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ﴾ ’’ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔‘‘ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ ہو گا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ﴾ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انھوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ ﴿ذٰلِكَ﴾ یہ جزائے حسن ﴿لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔

البينة 98:4

نہیں تھے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین رکنے والے (کفر سے) یہاں تک کہ آئے ان کے پاس واضح دلیل(1)(یعنی ) ایک رسول اللہ کی طرف سے وہ پڑھے صحیفے پاکیزہ(2) ان (صحیفوں) میں احکام ہیں درست معتدل(3) اور نہیں متفرق (مختلف) ہوئے وہ لوگ جو دیے گئے کتاب (کبھی بھی) مگر بعد اس کےکہ آئی ان کے پاس واضح دلیل (4) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی یکسو ہو کر اور وہ قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ، اور یہی ہے دین سیدھی (ملت) کا(5) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین (وہ ہوں گے) آتش جہنم میں، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی لوگ ہیں بدترین خلائق(6)بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں بہترین خلائق(7) جزا ان کی ان کے رب کے ہاں باغات ہیں ہمیشگی والے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ (جزا) اس شخص کے لیے ہے جو ڈر گیا اپنے رب سے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’نہیں ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔‘‘یعنی یہود و نصاریٰ میں سے۔ ﴿وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ اور مشر کین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے ﴿مُنۡفَكِّيۡنَ﴾ ’’باز آنے والے۔‘‘ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے، وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر میں اضافہ ہی کرے گا۔ ﴿حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آ جائے ۔ [2، 3] پھر ﴿ الۡبَيِّنَةُ ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کے رسول ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً﴾ ’’وہ (رسول) پاک اوراق پڑھتا ہے۔‘‘ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں، اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں، کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔ اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا:﴿فِيۡهَا﴾ ان صحیفوں میں ﴿كُتُبٌ قَيِّمَةٌ﴾ سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آ جاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے، دونوں واضح ہو جاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل سے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔ [4] اگر اہل کتاب اس رسول (ﷺ) پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ انھوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آ گئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع و اتفاق کی موجب ہے، مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ [5] حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔ ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہوا تھا کہ عبادت کریں ﴿ اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’ اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔‘‘ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادات میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے۔ ﴿حُنَفَآءَ﴾ ’’یکسو ہوکر۔‘‘ یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر ﴿وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ’’اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکاۃ کو ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ میں داخل ہیں ، نیز اس لیے بھی انھیں الگ ذکر کیا کہ یہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو قائم کیا اس نے دین کی تمام شرائع کو قائم کیا ﴿وَذٰلِكَ﴾ ’’ اور یہ‘‘ یعنی توحید اور اخلاص فی الدین دونوں ﴿دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ﴾ دین مستقیم ہیں، جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے، اور اس کے سوا دیگر ادیان ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔ [6] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آ جانے کے بعد ان کی جزا کیا ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے۔‘‘ اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا﴾ یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہو گا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ شَرُّ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’یہ مخلوق میں سے بدترین ہیں‘‘ کیونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کر دیا اور یوں دنیا و آخرت میں انھوں نے نقصان اٹھایا۔ [7]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی، اور وہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے فوزیاب ہوئے۔ [8]﴿جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ﴾ ’’ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔‘‘ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ ہو گا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ﴾ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انھوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ ﴿ذٰلِكَ﴾ یہ جزائے حسن ﴿لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔

البينة 98:5

نہیں تھے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین رکنے والے (کفر سے) یہاں تک کہ آئے ان کے پاس واضح دلیل(1)(یعنی ) ایک رسول اللہ کی طرف سے وہ پڑھے صحیفے پاکیزہ(2) ان (صحیفوں) میں احکام ہیں درست معتدل(3) اور نہیں متفرق (مختلف) ہوئے وہ لوگ جو دیے گئے کتاب (کبھی بھی) مگر بعد اس کےکہ آئی ان کے پاس واضح دلیل (4) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی یکسو ہو کر اور وہ قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ، اور یہی ہے دین سیدھی (ملت) کا(5) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین (وہ ہوں گے) آتش جہنم میں، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی لوگ ہیں بدترین خلائق(6)بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں بہترین خلائق(7) جزا ان کی ان کے رب کے ہاں باغات ہیں ہمیشگی والے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ (جزا) اس شخص کے لیے ہے جو ڈر گیا اپنے رب سے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’نہیں ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔‘‘یعنی یہود و نصاریٰ میں سے۔ ﴿وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ اور مشر کین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے ﴿مُنۡفَكِّيۡنَ﴾ ’’باز آنے والے۔‘‘ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے، وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر میں اضافہ ہی کرے گا۔ ﴿حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آ جائے ۔ [2، 3] پھر ﴿ الۡبَيِّنَةُ ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کے رسول ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً﴾ ’’وہ (رسول) پاک اوراق پڑھتا ہے۔‘‘ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں، اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں، کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔ اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا:﴿فِيۡهَا﴾ ان صحیفوں میں ﴿كُتُبٌ قَيِّمَةٌ﴾ سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آ جاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے، دونوں واضح ہو جاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل سے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔ [4] اگر اہل کتاب اس رسول (ﷺ) پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ انھوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آ گئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع و اتفاق کی موجب ہے، مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ [5] حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔ ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہوا تھا کہ عبادت کریں ﴿ اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’ اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔‘‘ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادات میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے۔ ﴿حُنَفَآءَ﴾ ’’یکسو ہوکر۔‘‘ یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر ﴿وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ’’اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکاۃ کو ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ میں داخل ہیں ، نیز اس لیے بھی انھیں الگ ذکر کیا کہ یہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو قائم کیا اس نے دین کی تمام شرائع کو قائم کیا ﴿وَذٰلِكَ﴾ ’’ اور یہ‘‘ یعنی توحید اور اخلاص فی الدین دونوں ﴿دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ﴾ دین مستقیم ہیں، جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے، اور اس کے سوا دیگر ادیان ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔ [6] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آ جانے کے بعد ان کی جزا کیا ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے۔‘‘ اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا﴾ یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہو گا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ شَرُّ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’یہ مخلوق میں سے بدترین ہیں‘‘ کیونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کر دیا اور یوں دنیا و آخرت میں انھوں نے نقصان اٹھایا۔ [7]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی، اور وہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے فوزیاب ہوئے۔ [8]﴿جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ﴾ ’’ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔‘‘ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ ہو گا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ﴾ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انھوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ ﴿ذٰلِكَ﴾ یہ جزائے حسن ﴿لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔

البينة 98:6

نہیں تھے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین رکنے والے (کفر سے) یہاں تک کہ آئے ان کے پاس واضح دلیل(1)(یعنی ) ایک رسول اللہ کی طرف سے وہ پڑھے صحیفے پاکیزہ(2) ان (صحیفوں) میں احکام ہیں درست معتدل(3) اور نہیں متفرق (مختلف) ہوئے وہ لوگ جو دیے گئے کتاب (کبھی بھی) مگر بعد اس کےکہ آئی ان کے پاس واضح دلیل (4) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی یکسو ہو کر اور وہ قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ، اور یہی ہے دین سیدھی (ملت) کا(5) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین (وہ ہوں گے) آتش جہنم میں، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی لوگ ہیں بدترین خلائق(6)بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں بہترین خلائق(7) جزا ان کی ان کے رب کے ہاں باغات ہیں ہمیشگی والے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ (جزا) اس شخص کے لیے ہے جو ڈر گیا اپنے رب سے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’نہیں ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔‘‘یعنی یہود و نصاریٰ میں سے۔ ﴿وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ اور مشر کین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے ﴿مُنۡفَكِّيۡنَ﴾ ’’باز آنے والے۔‘‘ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے، وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر میں اضافہ ہی کرے گا۔ ﴿حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آ جائے ۔ [2، 3] پھر ﴿ الۡبَيِّنَةُ ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کے رسول ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً﴾ ’’وہ (رسول) پاک اوراق پڑھتا ہے۔‘‘ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں، اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں، کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔ اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا:﴿فِيۡهَا﴾ ان صحیفوں میں ﴿كُتُبٌ قَيِّمَةٌ﴾ سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آ جاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے، دونوں واضح ہو جاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل سے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔ [4] اگر اہل کتاب اس رسول (ﷺ) پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ انھوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آ گئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع و اتفاق کی موجب ہے، مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ [5] حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔ ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہوا تھا کہ عبادت کریں ﴿ اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’ اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔‘‘ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادات میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے۔ ﴿حُنَفَآءَ﴾ ’’یکسو ہوکر۔‘‘ یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر ﴿وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ’’اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکاۃ کو ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ میں داخل ہیں ، نیز اس لیے بھی انھیں الگ ذکر کیا کہ یہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو قائم کیا اس نے دین کی تمام شرائع کو قائم کیا ﴿وَذٰلِكَ﴾ ’’ اور یہ‘‘ یعنی توحید اور اخلاص فی الدین دونوں ﴿دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ﴾ دین مستقیم ہیں، جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے، اور اس کے سوا دیگر ادیان ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔ [6] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آ جانے کے بعد ان کی جزا کیا ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے۔‘‘ اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا﴾ یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہو گا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ شَرُّ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’یہ مخلوق میں سے بدترین ہیں‘‘ کیونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کر دیا اور یوں دنیا و آخرت میں انھوں نے نقصان اٹھایا۔ [7]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی، اور وہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے فوزیاب ہوئے۔ [8]﴿جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ﴾ ’’ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔‘‘ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ ہو گا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ﴾ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انھوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ ﴿ذٰلِكَ﴾ یہ جزائے حسن ﴿لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔

البينة 98:7

نہیں تھے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین رکنے والے (کفر سے) یہاں تک کہ آئے ان کے پاس واضح دلیل(1)(یعنی ) ایک رسول اللہ کی طرف سے وہ پڑھے صحیفے پاکیزہ(2) ان (صحیفوں) میں احکام ہیں درست معتدل(3) اور نہیں متفرق (مختلف) ہوئے وہ لوگ جو دیے گئے کتاب (کبھی بھی) مگر بعد اس کےکہ آئی ان کے پاس واضح دلیل (4) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی یکسو ہو کر اور وہ قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ، اور یہی ہے دین سیدھی (ملت) کا(5) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین (وہ ہوں گے) آتش جہنم میں، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی لوگ ہیں بدترین خلائق(6)بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں بہترین خلائق(7) جزا ان کی ان کے رب کے ہاں باغات ہیں ہمیشگی والے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ (جزا) اس شخص کے لیے ہے جو ڈر گیا اپنے رب سے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’نہیں ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔‘‘یعنی یہود و نصاریٰ میں سے۔ ﴿وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ اور مشر کین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے ﴿مُنۡفَكِّيۡنَ﴾ ’’باز آنے والے۔‘‘ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے، وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر میں اضافہ ہی کرے گا۔ ﴿حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آ جائے ۔ [2، 3] پھر ﴿ الۡبَيِّنَةُ ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کے رسول ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً﴾ ’’وہ (رسول) پاک اوراق پڑھتا ہے۔‘‘ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں، اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں، کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔ اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا:﴿فِيۡهَا﴾ ان صحیفوں میں ﴿كُتُبٌ قَيِّمَةٌ﴾ سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آ جاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے، دونوں واضح ہو جاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل سے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔ [4] اگر اہل کتاب اس رسول (ﷺ) پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ انھوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آ گئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع و اتفاق کی موجب ہے، مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ [5] حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔ ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہوا تھا کہ عبادت کریں ﴿ اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’ اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔‘‘ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادات میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے۔ ﴿حُنَفَآءَ﴾ ’’یکسو ہوکر۔‘‘ یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر ﴿وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ’’اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکاۃ کو ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ میں داخل ہیں ، نیز اس لیے بھی انھیں الگ ذکر کیا کہ یہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو قائم کیا اس نے دین کی تمام شرائع کو قائم کیا ﴿وَذٰلِكَ﴾ ’’ اور یہ‘‘ یعنی توحید اور اخلاص فی الدین دونوں ﴿دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ﴾ دین مستقیم ہیں، جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے، اور اس کے سوا دیگر ادیان ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔ [6] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آ جانے کے بعد ان کی جزا کیا ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے۔‘‘ اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا﴾ یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہو گا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ شَرُّ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’یہ مخلوق میں سے بدترین ہیں‘‘ کیونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کر دیا اور یوں دنیا و آخرت میں انھوں نے نقصان اٹھایا۔ [7]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی، اور وہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے فوزیاب ہوئے۔ [8]﴿جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ﴾ ’’ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔‘‘ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ ہو گا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ﴾ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انھوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ ﴿ذٰلِكَ﴾ یہ جزائے حسن ﴿لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔

البينة 98:8

نہیں تھے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین رکنے والے (کفر سے) یہاں تک کہ آئے ان کے پاس واضح دلیل(1)(یعنی ) ایک رسول اللہ کی طرف سے وہ پڑھے صحیفے پاکیزہ(2) ان (صحیفوں) میں احکام ہیں درست معتدل(3) اور نہیں متفرق (مختلف) ہوئے وہ لوگ جو دیے گئے کتاب (کبھی بھی) مگر بعد اس کےکہ آئی ان کے پاس واضح دلیل (4) حالانکہ نہیں حکم دیے گئے تھے وہ مگر یہ کہ عبادت کریں وہ اللہ کی خالص کرتے ہوئے اس کے لیے بندگی یکسو ہو کر اور وہ قائم کریں نماز اور دیں زکاۃ، اور یہی ہے دین سیدھی (ملت) کا(5) بلاشبہ وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے اور مشرکین (وہ ہوں گے) آتش جہنم میں، ہمیشہ رہیں گے وہ اس میں، یہی لوگ ہیں بدترین خلائق(6)بلاشبہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل کیے انھوں نے نیک، یہی لوگ ہیں بہترین خلائق(7) جزا ان کی ان کے رب کے ہاں باغات ہیں ہمیشگی والے، چلتی ہیں ان کے نیچے نہریں، وہ ہمیشہ رہیں گے ان میں ابد تک، راضی ہوا اللہ ان سے اور وہ راضی ہوئے اللہ سے یہ (جزا) اس شخص کے لیے ہے جو ڈر گیا اپنے رب سے(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿لَمۡ يَكُنِ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ﴾ ’’نہیں ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اہل کتاب میں سے۔‘‘یعنی یہود و نصاریٰ میں سے۔ ﴿وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ﴾ اور مشر کین اور دیگر قوموں کی تمام اصناف میں سے ﴿مُنۡفَكِّيۡنَ﴾ ’’باز آنے والے۔‘‘ یعنی یہ سب اپنے کفر اور ضلالت سے جدا نہیں ہوں گے، وہ اپنی گمراہی اور ضلالت میں بھٹکے رہیں گے اور مرور اوقات ان کے کفر میں اضافہ ہی کرے گا۔ ﴿حَتّٰى تَاۡتِيَهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ یہاں تک کہ ان کے پاس واضح دلیل اور نمایاں برہان آ جائے ۔ [2، 3] پھر ﴿ الۡبَيِّنَةُ ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰهِ﴾ ’’اللہ کے رسول ۔‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کو مبعوث کیا جو لوگوں کو حق کی طرف دعوت دیتا ہے، اس پر کتاب اتاری جس کی وہ تلاوت کرتا ہے، تاکہ لوگوں کو دانائی سکھائے، ان کو پاک کرے اور ان کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے۔ اس لیے فرمایا:﴿يَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَهَّرَةً﴾ ’’وہ (رسول) پاک اوراق پڑھتا ہے۔‘‘ یعنی وہ شیطان کے قریب ہونے سے محفوظ ہیں، اسے صرف پاک فرشتے ہی چھوتے ہیں، کیونکہ یہ بلند ترین کلام ہے۔ اس لیے صحیفوں کے بارے میں فرمایا:﴿فِيۡهَا﴾ ان صحیفوں میں ﴿كُتُبٌ قَيِّمَةٌ﴾ سچی خبریں اور عدل پر مبنی احکام ہیں جو حق اور راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتے ہیں۔ جب ان کے پاس یہ واضح دلیل آ جاتی ہے تب اس وقت طالب حق اور وہ شخص جس کا مقصد طلب حق نہیں ہے، دونوں واضح ہو جاتے ہیں پس جو کوئی ہلاک ہوتا ہے تو دلیل سے ہلاک ہوتا ہے اور جو کوئی زندہ رہتا ہے تو دلیل سے زندہ رہتا ہے۔ [4] اگر اہل کتاب اس رسول (ﷺ) پر ایمان نہیں لاتے اور آپ کی اطاعت نہیں کرتے تو یہ ان کی گمراہی اور عناد کی بنا پر کوئی انوکھی چیز نہیں ہے۔ کیونکہ انھوں نے تفرقہ بازی اور باہم اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ ﴿مِنۢۡ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡهُمُ الۡبَيِّنَةُ﴾ اس کے بعد کہ ان کے پاس واضح دلیل آ گئی جو اپنے ماننے والوں کے لیے اجتماع و اتفاق کی موجب ہے، مگر ان کے بگاڑ اور ان کی خساست کی بنا پر ہدایت نے ان کی گمراہی میں اور بصیرت نے ان کے اندھے پن میں اضافے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ [5] حالانکہ تمام کتابیں ایک ہی اصل اور ایک ہی دین لے کر آئی ہیں۔ ان کو تمام شریعتوں میں حکم تو یہی ہوا تھا کہ عبادت کریں ﴿ اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ ’’ اللہ کی اخلاص کے ساتھ اس کے لیے بندگی۔‘‘ یعنی اپنی تمام ظاہری اور باطنی عبادات میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے قرب کی طلب کو مقصد بناتے ہوئے۔ ﴿حُنَفَآءَ﴾ ’’یکسو ہوکر۔‘‘ یعنی دین توحید کے مخالف تمام ادیان سے منہ موڑ کر ﴿وَيُقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوا الزَّكٰوةَ﴾ ’’اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں۔‘‘اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکاۃ کو ان کے فضل و شرف کی بنا پر خاص طور پر ذکر کیا ہے حالانکہ وہ دونوں اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿لِيَعۡبُدُوا اللّٰهَ مُخۡلِصِيۡنَ لَهُ الدِّيۡنَ﴾ میں داخل ہیں ، نیز اس لیے بھی انھیں الگ ذکر کیا کہ یہ دونوں ایسی عبادتیں ہیں کہ جس نے ان کو قائم کیا اس نے دین کی تمام شرائع کو قائم کیا ﴿وَذٰلِكَ﴾ ’’ اور یہ‘‘ یعنی توحید اور اخلاص فی الدین دونوں ﴿دِيۡنُ الۡقَيِّمَةِ﴾ دین مستقیم ہیں، جو نعمتوں بھری جنت میں پہنچاتا ہے، اور اس کے سوا دیگر ادیان ایسے راستے ہیں جو جہنم میں لے جاتے ہیں۔ [6] پھر اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ کافروں کے پاس واضح دلیل آ جانے کے بعد ان کی جزا کیا ہو گی، چنانچہ فرمایا:﴿اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ وَالۡمُشۡرِكِيۡنَ فِيۡ نَارِ جَهَنَّمَ﴾ ’’وہ لوگ جنھوں نے اہل کتاب اور مشرکین میں سے کفر کیا، جہنم کی آگ میں ہوں گے۔‘‘ اس کا عذاب ان کا احاطہ کرلے گا اور اس کی عقوبت ان پر بہت شدت اختیار کرلے گی۔ ﴿خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَا﴾ یہ عذاب ان سے کبھی منقطع نہیں ہو گا اور وہ جہنم کے اندر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس رہیں گے ﴿اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ شَرُّ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’یہ مخلوق میں سے بدترین ہیں‘‘ کیونکہ انھوں نے حق کو پہچان کر اس کو ترک کر دیا اور یوں دنیا و آخرت میں انھوں نے نقصان اٹھایا۔ [7]﴿ اِنَّ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ١ۙ اُولٰٓىِٕكَ هُمۡ خَيۡرُ الۡـبَرِيَّةِ﴾ ’’جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، وہ مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔‘‘ کیونکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی اور اس کی معرفت حاصل کی، اور وہ دنیا و آخرت کی نعمتوں سے فوزیاب ہوئے۔ [8]﴿جَزَآؤُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ جَنّٰتُ عَدۡنٍ﴾ ’’ان کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہمیشہ کے باغات ہیں۔‘‘ یعنی دائمی اقامت کے لیے جنتیں جہاں سے کبھی کوچ ہو گا نہ روانگی اور نہ ان جنتوں سے اوپر کسی اور چیز کی طلب رہے گی۔ ﴿تَجۡرِيۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰؔلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِيَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ﴾ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، پس اللہ تعالیٰ ان سے اس سبب سے راضی ہوا کہ انھوں نے اس کی مرضی کو پورا کیا اور وہ اللہ تعالیٰ پر راضی ہوئے کہ اس نے ان کے لیے مختلف انواع کی تکریمات تیار کیں۔ ﴿ذٰلِكَ﴾ یہ جزائے حسن ﴿لِمَنۡ خَشِيَ رَبَّهٗ﴾ اس شخص کے لیے ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈر کر اس کی نافرمانیوں سے باز رہتا ہے اور ان امور کو قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر واجب کیے ہیں۔

الزلزلة 99:1

جب ہلائی جائے گی زمین خوب زور سے ہلایا جانا(1) اور باہر نکال دے گی زمین اپنے بوجھ(2) اور کہے گا انسان کیا ہوا اس کو؟(3) اس دن بیان کرے گی وہ اپنی خبریں(4) اس لیے کہ بلاشبہ آپ کا رب وحی (حکم) کرے گا اس کو(5) اس دن لوٹیں گے لوگ متفرق (الگ الگ) ہو کر تاکہ دکھائے جائیں وہ اپنے اعمال(6) پس جو کوئی کرے گا ذرہ برابر بھلائی تو وہ دیکھ لے گا اس کو(7) اور جو کوئی کرے گا ذرہ برابر برائی تو وہ بھی دیکھ لے گا اس کو(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے ،نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا، وہ ہلا دی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی، یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گرکر معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے ٹیلے برابر کر دیے جائیں گے، زمین ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی، جس میں کوئی نشیب وفراز نہ ہو گا۔ ﴿وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا﴾ ’’اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔‘‘ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے، وہ انھیں نکال باہر کرے گی۔ [3]﴿وَقَالَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا: ﴿ مَا لَهَا ﴾ یعنی اسے کیا حادثہ پیش آ گیا؟ [4، 5]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ﴾ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخۡبَارَهَا ﴾ ’’اپنی خبریں۔‘‘ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا﴾ کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔ [6]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّصۡدُرُ النَّاسُ ﴾ ’’اس دن لوگ آئیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشۡتَاتًا ﴾ مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـيُرَوۡا اَعۡمَالَهُمۡ﴾ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔ [7، 8]﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾(آل عمران:3؍30) ’’جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔‘‘ ﴿وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔‘‘ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔

الزلزلة 99:2

جب ہلائی جائے گی زمین خوب زور سے ہلایا جانا(1) اور باہر نکال دے گی زمین اپنے بوجھ(2) اور کہے گا انسان کیا ہوا اس کو؟(3) اس دن بیان کرے گی وہ اپنی خبریں(4) اس لیے کہ بلاشبہ آپ کا رب وحی (حکم) کرے گا اس کو(5) اس دن لوٹیں گے لوگ متفرق (الگ الگ) ہو کر تاکہ دکھائے جائیں وہ اپنے اعمال(6) پس جو کوئی کرے گا ذرہ برابر بھلائی تو وہ دیکھ لے گا اس کو(7) اور جو کوئی کرے گا ذرہ برابر برائی تو وہ بھی دیکھ لے گا اس کو(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے ،نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا، وہ ہلا دی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی، یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گرکر معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے ٹیلے برابر کر دیے جائیں گے، زمین ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی، جس میں کوئی نشیب وفراز نہ ہو گا۔ ﴿وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا﴾ ’’اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔‘‘ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے، وہ انھیں نکال باہر کرے گی۔ [3]﴿وَقَالَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا: ﴿ مَا لَهَا ﴾ یعنی اسے کیا حادثہ پیش آ گیا؟ [4، 5]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ﴾ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخۡبَارَهَا ﴾ ’’اپنی خبریں۔‘‘ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا﴾ کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔ [6]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّصۡدُرُ النَّاسُ ﴾ ’’اس دن لوگ آئیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشۡتَاتًا ﴾ مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـيُرَوۡا اَعۡمَالَهُمۡ﴾ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔ [7، 8]﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾(آل عمران:3؍30) ’’جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔‘‘ ﴿وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔‘‘ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔

الزلزلة 99:3

جب ہلائی جائے گی زمین خوب زور سے ہلایا جانا(1) اور باہر نکال دے گی زمین اپنے بوجھ(2) اور کہے گا انسان کیا ہوا اس کو؟(3) اس دن بیان کرے گی وہ اپنی خبریں(4) اس لیے کہ بلاشبہ آپ کا رب وحی (حکم) کرے گا اس کو(5) اس دن لوٹیں گے لوگ متفرق (الگ الگ) ہو کر تاکہ دکھائے جائیں وہ اپنے اعمال(6) پس جو کوئی کرے گا ذرہ برابر بھلائی تو وہ دیکھ لے گا اس کو(7) اور جو کوئی کرے گا ذرہ برابر برائی تو وہ بھی دیکھ لے گا اس کو(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے ،نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا، وہ ہلا دی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی، یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گرکر معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے ٹیلے برابر کر دیے جائیں گے، زمین ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی، جس میں کوئی نشیب وفراز نہ ہو گا۔ ﴿وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا﴾ ’’اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔‘‘ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے، وہ انھیں نکال باہر کرے گی۔ [3]﴿وَقَالَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا: ﴿ مَا لَهَا ﴾ یعنی اسے کیا حادثہ پیش آ گیا؟ [4، 5]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ﴾ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخۡبَارَهَا ﴾ ’’اپنی خبریں۔‘‘ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا﴾ کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔ [6]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّصۡدُرُ النَّاسُ ﴾ ’’اس دن لوگ آئیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشۡتَاتًا ﴾ مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـيُرَوۡا اَعۡمَالَهُمۡ﴾ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔ [7، 8]﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾(آل عمران:3؍30) ’’جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔‘‘ ﴿وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔‘‘ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔

الزلزلة 99:4

جب ہلائی جائے گی زمین خوب زور سے ہلایا جانا(1) اور باہر نکال دے گی زمین اپنے بوجھ(2) اور کہے گا انسان کیا ہوا اس کو؟(3) اس دن بیان کرے گی وہ اپنی خبریں(4) اس لیے کہ بلاشبہ آپ کا رب وحی (حکم) کرے گا اس کو(5) اس دن لوٹیں گے لوگ متفرق (الگ الگ) ہو کر تاکہ دکھائے جائیں وہ اپنے اعمال(6) پس جو کوئی کرے گا ذرہ برابر بھلائی تو وہ دیکھ لے گا اس کو(7) اور جو کوئی کرے گا ذرہ برابر برائی تو وہ بھی دیکھ لے گا اس کو(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے ،نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا، وہ ہلا دی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی، یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گرکر معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے ٹیلے برابر کر دیے جائیں گے، زمین ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی، جس میں کوئی نشیب وفراز نہ ہو گا۔ ﴿وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا﴾ ’’اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔‘‘ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے، وہ انھیں نکال باہر کرے گی۔ [3]﴿وَقَالَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا: ﴿ مَا لَهَا ﴾ یعنی اسے کیا حادثہ پیش آ گیا؟ [4، 5]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ﴾ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخۡبَارَهَا ﴾ ’’اپنی خبریں۔‘‘ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا﴾ کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔ [6]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّصۡدُرُ النَّاسُ ﴾ ’’اس دن لوگ آئیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشۡتَاتًا ﴾ مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـيُرَوۡا اَعۡمَالَهُمۡ﴾ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔ [7، 8]﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾(آل عمران:3؍30) ’’جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔‘‘ ﴿وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔‘‘ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔

الزلزلة 99:5

جب ہلائی جائے گی زمین خوب زور سے ہلایا جانا(1) اور باہر نکال دے گی زمین اپنے بوجھ(2) اور کہے گا انسان کیا ہوا اس کو؟(3) اس دن بیان کرے گی وہ اپنی خبریں(4) اس لیے کہ بلاشبہ آپ کا رب وحی (حکم) کرے گا اس کو(5) اس دن لوٹیں گے لوگ متفرق (الگ الگ) ہو کر تاکہ دکھائے جائیں وہ اپنے اعمال(6) پس جو کوئی کرے گا ذرہ برابر بھلائی تو وہ دیکھ لے گا اس کو(7) اور جو کوئی کرے گا ذرہ برابر برائی تو وہ بھی دیکھ لے گا اس کو(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے ،نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا، وہ ہلا دی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی، یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گرکر معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے ٹیلے برابر کر دیے جائیں گے، زمین ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی، جس میں کوئی نشیب وفراز نہ ہو گا۔ ﴿وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا﴾ ’’اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔‘‘ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے، وہ انھیں نکال باہر کرے گی۔ [3]﴿وَقَالَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا: ﴿ مَا لَهَا ﴾ یعنی اسے کیا حادثہ پیش آ گیا؟ [4، 5]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ﴾ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخۡبَارَهَا ﴾ ’’اپنی خبریں۔‘‘ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا﴾ کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔ [6]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّصۡدُرُ النَّاسُ ﴾ ’’اس دن لوگ آئیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشۡتَاتًا ﴾ مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـيُرَوۡا اَعۡمَالَهُمۡ﴾ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔ [7، 8]﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾(آل عمران:3؍30) ’’جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔‘‘ ﴿وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔‘‘ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔

الزلزلة 99:6

جب ہلائی جائے گی زمین خوب زور سے ہلایا جانا(1) اور باہر نکال دے گی زمین اپنے بوجھ(2) اور کہے گا انسان کیا ہوا اس کو؟(3) اس دن بیان کرے گی وہ اپنی خبریں(4) اس لیے کہ بلاشبہ آپ کا رب وحی (حکم) کرے گا اس کو(5) اس دن لوٹیں گے لوگ متفرق (الگ الگ) ہو کر تاکہ دکھائے جائیں وہ اپنے اعمال(6) پس جو کوئی کرے گا ذرہ برابر بھلائی تو وہ دیکھ لے گا اس کو(7) اور جو کوئی کرے گا ذرہ برابر برائی تو وہ بھی دیکھ لے گا اس کو(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے ،نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا، وہ ہلا دی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی، یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گرکر معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے ٹیلے برابر کر دیے جائیں گے، زمین ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی، جس میں کوئی نشیب وفراز نہ ہو گا۔ ﴿وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا﴾ ’’اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔‘‘ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے، وہ انھیں نکال باہر کرے گی۔ [3]﴿وَقَالَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا: ﴿ مَا لَهَا ﴾ یعنی اسے کیا حادثہ پیش آ گیا؟ [4، 5]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ﴾ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخۡبَارَهَا ﴾ ’’اپنی خبریں۔‘‘ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا﴾ کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔ [6]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّصۡدُرُ النَّاسُ ﴾ ’’اس دن لوگ آئیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشۡتَاتًا ﴾ مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـيُرَوۡا اَعۡمَالَهُمۡ﴾ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔ [7، 8]﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾(آل عمران:3؍30) ’’جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔‘‘ ﴿وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔‘‘ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔

الزلزلة 99:7

جب ہلائی جائے گی زمین خوب زور سے ہلایا جانا(1) اور باہر نکال دے گی زمین اپنے بوجھ(2) اور کہے گا انسان کیا ہوا اس کو؟(3) اس دن بیان کرے گی وہ اپنی خبریں(4) اس لیے کہ بلاشبہ آپ کا رب وحی (حکم) کرے گا اس کو(5) اس دن لوٹیں گے لوگ متفرق (الگ الگ) ہو کر تاکہ دکھائے جائیں وہ اپنے اعمال(6) پس جو کوئی کرے گا ذرہ برابر بھلائی تو وہ دیکھ لے گا اس کو(7) اور جو کوئی کرے گا ذرہ برابر برائی تو وہ بھی دیکھ لے گا اس کو(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے ،نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا، وہ ہلا دی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی، یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گرکر معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے ٹیلے برابر کر دیے جائیں گے، زمین ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی، جس میں کوئی نشیب وفراز نہ ہو گا۔ ﴿وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا﴾ ’’اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔‘‘ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے، وہ انھیں نکال باہر کرے گی۔ [3]﴿وَقَالَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا: ﴿ مَا لَهَا ﴾ یعنی اسے کیا حادثہ پیش آ گیا؟ [4، 5]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ﴾ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخۡبَارَهَا ﴾ ’’اپنی خبریں۔‘‘ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا﴾ کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔ [6]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّصۡدُرُ النَّاسُ ﴾ ’’اس دن لوگ آئیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشۡتَاتًا ﴾ مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـيُرَوۡا اَعۡمَالَهُمۡ﴾ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔ [7، 8]﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾(آل عمران:3؍30) ’’جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔‘‘ ﴿وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔‘‘ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔

الزلزلة 99:8

جب ہلائی جائے گی زمین خوب زور سے ہلایا جانا(1) اور باہر نکال دے گی زمین اپنے بوجھ(2) اور کہے گا انسان کیا ہوا اس کو؟(3) اس دن بیان کرے گی وہ اپنی خبریں(4) اس لیے کہ بلاشبہ آپ کا رب وحی (حکم) کرے گا اس کو(5) اس دن لوٹیں گے لوگ متفرق (الگ الگ) ہو کر تاکہ دکھائے جائیں وہ اپنے اعمال(6) پس جو کوئی کرے گا ذرہ برابر بھلائی تو وہ دیکھ لے گا اس کو(7) اور جو کوئی کرے گا ذرہ برابر برائی تو وہ بھی دیکھ لے گا اس کو(8) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1، 2] اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان واقعات کے بارے میں آگاہ فرمایا ہے جو قیامت کے دن وقوع میں آئیں گے ،نیز یہ کہ زمین میں زلزلہ آئے گا، وہ ہلا دی جائے گی اور وہ کانپ اٹھے گی، یہاں تک کہ اس پر موجود تمام عمارتیں اور تمام نشانات گرکر معدوم ہو جائیں گے۔ اس کے تمام پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے ٹیلے برابر کر دیے جائیں گے، زمین ہموار اور چٹیل میدان بن جائے گی، جس میں کوئی نشیب وفراز نہ ہو گا۔ ﴿وَاَخۡرَجَتِ الۡاَرۡضُ اَثۡقَالَهَا﴾ ’’اور زمین اپنے بوجھ نکال ڈالے گی۔‘‘ یعنی زمین کے پیٹ میں جو خزانے اور مردے ہوں گے، وہ انھیں نکال باہر کرے گی۔ [3]﴿وَقَالَ الۡاِنۡسَانُ ﴾ جب انسان اس عظیم واقعے کو دیکھے گا جو زمین کو پیش آئے گا تو کہے گا: ﴿ مَا لَهَا ﴾ یعنی اسے کیا حادثہ پیش آ گیا؟ [4، 5]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ ﴾ اس دن زمین بیان کرے گی ﴿ اَخۡبَارَهَا ﴾ ’’اپنی خبریں۔‘‘ یعنی عمل کرنے والوں کے اچھے برے اعمال کی گواہی دے گی جو انھوں نے اس کی پیٹھ پر کیے ہیں کیونکہ زمین بھی ان گواہوں میں شمار ہو گی جو بندوں کے خلاف ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔ یہ سب اس لیے ہو گا ﴿ بِاَنَّ رَبَّكَ اَوۡحٰى لَهَا﴾ کہ اللہ تعالیٰ اس کو حکم دے گا کہ وہ ان تمام اعمال کے بارے میں خبر دے جو اس کی سطح پر کیے گئے ہیں۔ پس زمین اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرے گی۔ [6]﴿ يَوۡمَىِٕذٍ يَّصۡدُرُ النَّاسُ ﴾ ’’اس دن لوگ آئیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے میدان سے جب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ ﴿ اَشۡتَاتًا ﴾ مختلف گروہوں کی صورت میں ﴿ لِّـيُرَوۡا اَعۡمَالَهُمۡ﴾ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی برائیاں اور نیکیاں دکھائے جو ان سے صادر ہوئی ہیں اور ان کو ان اعمال کی پوری جزا کا مشاہدہ کرائے۔ [7، 8]﴿ فَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ خَيۡرًا يَّرَهٗؕ۰۰وَمَنۡ يَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَّرَهٗ﴾ ’’پس جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی، وہ اسے دیکھ لے گا۔‘‘ یہ خیر و شر کے تمام اعمال کو شامل ہے، کیونکہ جب وہ ذرہ برابر وزن کو دیکھ سکے گا جو حقیر ترین چیز ہے، اسے اس کی جزا بھی دی جائے گی، تب وہ اعمال جو وزن میں اس سے زیادہ ہوں گے ان کا دکھا دینا تو زیادہ اولیٰ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ يَوۡمَ تَجِدُ كُلُّ نَفۡسٍ مَّا عَمِلَتۡ مِنۡ خَيۡرٍ مُّحۡضَرًا١ۛ ۖ ۚ و َّمَا عَمِلَتۡ مِنۡ سُوۡٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوۡ اَنَّ بَيۡنَهَا وَبَيۡنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِيۡدًا ﴾(آل عمران:3؍30) ’’جس دن ہر شخص اپنے بھلائی کے عمل اور برائی کے عمل کو موجود پائے گا، اور تمنا کرے گا کہ کاش! برائیوں اور اس کے درمیان بہت دوری ہوتی۔‘‘ ﴿وَوَجَدُوۡا مَا عَمِلُوۡا حَاضِرًا ﴾(الکہف:18؍49) ’’اور انھوں نے جو عمل کیے تھے ان کو موجود پائیں گے۔‘‘ان آیات میں بھلائی کے فعل کی ترغیب ہے، خواہ وہ بہت ہی تھوڑا ہو اور برائی کے فعل پر ترہیب ہے، خواہ وہ بہت معمولی ہی ہو۔

العاديات 100:1

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

العاديات 100:2

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

العاديات 100:3

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

العاديات 100:4

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

العاديات 100:5

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

العاديات 100:6

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

العاديات 100:7

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

العاديات 100:8

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

العاديات 100:9

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

العاديات 100:10

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

العاديات 100:11

قسم ہے سر پٹ دوڑنے والے گھوڑوں کی ہانپتے ہوئے(1) پھر آگ نکالنے والوں کی سم مار کر(2) پھر حملہ کرنے والوں کی صبح کے وقت(3) پھر وہ اڑاتے ہیں اس وقت غبار(4) پھر وہ درمیان میں گھس جاتے ہیں اس وقت (دشمن کی) جماعت میں(5) یقیناً انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے(6) اور بلاشبہ وہ اس بات پر البتہ (خودبھی) شاہد ہے(7)اور بلاشبہ وہ محبت مال میں (بھی) بہت سخت ہے(8)کیا پس نہیں جانتا وہ جب نکال باہر کر دیا جائے گا جو کچھ قبروں میں ہے؟(9) اور ظاہر کر دیا جائے گا جو کچھ سینوں میں ہے (10) بلاشبہ ان کا رب ان (کے حال) سے اس دن خبر دار ہو گا (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [1] اللہ تبارک و تعالیٰ نے گھوڑوں کی قسم کھائی ہے کیونکہ ان کے اندر اللہ تعالیٰ کی روشن اور نمایاں نشانیاں اور ظاہری نعمتیں ہیں جو تمام خلائق کو معلوم ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی ان کے اس حال میں قسم کھائی جس حال میں حیوانات کی تمام انواع میں سے کوئی حیوان ان کے ساتھ مشارکت نہیں کر سکتا۔ فرمایا:﴿ وَالۡعٰدِيٰؔتِ ضَبۡحًا﴾ یعنی بہت قوت کے ساتھ دوڑنے والے گھوڑوں کی قسم جبکہ ان سے ہانپنے کی آواز آرہی ہو۔ اَلضَّبْحُ گھوڑوں کے سانس کی آواز جو تیز دوڑتے وقت ان کے سینوں سے نکلتی ہے۔ [2]﴿ فَالۡمُوۡرِيٰتِ ﴾ پھر آگ جھاڑنے والوں کی اپنے سموں سے پتھروں پر ﴿ قَدۡحًا﴾ ’’ ٹاپ مار کر‘‘ یعنی جب وہ گھوڑے دوڑتے ہیں تو ان کے سموں کی سختی اور ان کی قوت کی وجہ سے آگ نکلتی ہے۔ [3]﴿ فَالۡمُغِيۡرٰتِ﴾ دشمن پر شب خون مارنے والے گھوڑوں کی ﴿صُبۡحًا﴾ ’’صبح کے وقت۔‘‘ اور یہ امر غالب ہے کہ (دشمن پر) شب خون صبح کے وقت منہ اندھیرے مارا جاتا ہے۔ [4، 5]﴿ فَاَثَرۡنَ بِهٖ﴾ یعنی اپنے دوڑنے اور شبخون مارنے کے ذریعے سے ﴿ نَقۡعًا﴾ غبار اڑاتے ہیں۔ ﴿ فَوَسَطۡنَ بِهٖ﴾ ’’ پھر جاگھستے ہیں۔‘‘ یعنی اپنے سواروں کے ساتھ ﴿ جَمۡعًا﴾ دشمن کے جتھوں کے درمیان جن پر دھاوا کیا ہے۔ [6] جو اب قسم اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ﴿ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوۡدٌ﴾ ’’بے شک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔‘‘ یعنی وہ اس بھلائی سے محروم کرنے والا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو نوازا ہے۔ انسان کی فطرت اور جبلت یہ ہے کہ اس کا نفس ان حقوق کے بارے میں جو اس کے ذمے عائد ہوتے ہیں، فیاضی نہیں کرتا کہ ان کو کامل طور پر اور پورے پورے ادا کر دے بلکہ اس کے ذمے جو مالی یا بدنی حقوق عائد ہوتے ہیں، ان کے بارے میں اس کی فطرت میں سستی اور حقوق سے منع کرنا ہے، سوائے اس شخص کے جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے بہرہ مند کیا اور اس نے اس وصف سے باہر نکل کر حقوق کی ادائیگی میں فیاضی کے وصف کو اختیار کر لیا۔ [7]﴿ وَاِنَّهٗ عَلٰى ذٰلِكَ لَشَهِيۡدٌ﴾ ’’اور وہ اس پر گواہ ہے۔‘‘ یعنی انسان کے نفس کی طرف جو عدم سماحت اور ناشکری معروف ہے، بے شک وہ بذاتِ خود اس پر گواہ ہے، وہ اس کو جھٹلا سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے، کیونکہ یہ بالکل ظاہر اور واضح ہے ۔ اس میں یہ احتمال بھی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہو ، یعنی بے شک بندہ اپنے رب کا ناشکرا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے۔اس آیت کریمہ میں اس شخص کے لیے وعید اور سخت تہدید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر شاہد ہے جو اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ [8]﴿ وَاِنَّهٗ﴾ اور بلاشبہ انسان ﴿ لِحُبِّ الۡخَيۡرِ﴾ مال کی محبت میں ﴿ لَشَدِيۡدٌ﴾ ’’بہت سخت ہے۔‘‘ یعنی مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے اور مال کی محبت ہی اس کے لیے حقوق واجبہ کو ترک کرنے کی موجب بنی اور یوں اس نے اپنی شہوت نفس کو اپنے رب کی رضا پر ترجیح دی۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اس نے اپنی نظر کو صرف اسی دنیا پر مرکوز رکھا اور آخرت سے غافل رہا۔ [9، 10] اس لیے اللہ تعالیٰ نے یوم وعید کا خوف دلاتے ہوئے فرمایا: ﴿ اَفَلَا يَعۡلَمُ﴾ یعنی اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا یہ شخص کیا نہیں جانتا؟ ﴿ اِذَا بُعۡثِرَ مَا فِي الۡقُبُوۡرِ﴾ جب اللہ تعالیٰ قبروں میں سے مردوں کو ان کے حشر و نشر کے لیے نکالے گا۔ ﴿ وَحُصِّلَ مَا فِي الصُّدُوۡرِ﴾ اور جو کچھ سینوں میں ہے وہ ظاہر اور واضح ہو جائے گا، سینوں کے اندر جو بھلائی یا برائی ہے وہ چھپی نہ رہے گی، ہر بھید کھل جائے گا اور باطل ظاہر ہو جائے گا اور ان کے اعمال کا نتیجہ تمام مخلوق کے سامنے آ جائے گا۔ [11]﴿ اِنَّ رَبَّهُمۡ بِهِمۡ يَوۡمَىِٕذٍ لَّخَبِيۡرٌ﴾ بے شک ان کا رب ان کے ظاہری اور باطنی، جلی اور خفی اعمال سے خبردار ہے اور وہ ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم کو اس دن کے ساتھ خاص طور پر ذکر کیا ہے، حالانکہ وہ ان کے بارے میں ہر وقت خبر رکھنے والا ہے، کیونکہ اس سے مراد اعمال کی وہ جزا ہے جس کا باعث اللہ تعالیٰ کا علم اور اس کی اطلاع ہے۔

القارعة 101:1

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

القارعة 101:2

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

القارعة 101:3

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

القارعة 101:4

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

القارعة 101:5

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

القارعة 101:6

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

القارعة 101:7

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

القارعة 101:8

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

القارعة 101:9

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

القارعة 101:10

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔

القارعة 101:11

کھٹکھٹانے والی(1)کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(2) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو کہ کیا ہے کھٹکھٹانے والی؟(3) جس دن ہو جائیں گے لوگ (ایسے) جیسے پروانے پتنگے بکھرے ہوئے(4) اور ہو جائیں گے پہاڑ (ایسے) جیسے رنگین اون دھنکی ہوئی(5) پس لیکن جو شخص کہ بھاری ہو گئی اس کی میزان(6) تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہو گا(7) اور لیکن جو شخص کہ ہلکی ہو گئی اس کی ترازو(8) تو اس کا ٹھکانا ھاویہ (کھڈ) ہو گا(9) اور کس چیز نے خبر دی آپ کو، کیا ہے ھاویہ؟ (10)(وہ) آگ ہے سخت دہکتی ہوئی (11) (شروع ) اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان رحم کرنے والا ہے۔ [3-1]﴿اَلۡقَارِعَةُ﴾ قیامت کے دن کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور اس کو اس نام سے اس لیے موسوم کیا گیا ہے کہ یہ لوگوں پر اچانک ٹوٹ پڑے گی اور اپنی ہولناکیوں سے ان کو دہشت زدہ کر دے گی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے معاملے کی عظمت اور اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اَلۡقَارِعَةُۙ۰۰ مَا الۡقَارِعَةُۚ۰۰وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَا الۡقَارِعَةُؕ۰۰ ﴾ ’’کھڑ کھڑ دینے والی۔ کیا ہے کھڑ کھڑا دینے والی؟ تجھے کیا معلوم کہ وہ کھڑ کھڑا دینے والی کیا ہے؟‘‘ [4]﴿يَوۡمَ يَكُوۡنُ النَّاسُ ﴾ ’’ جس دن ہوجائیں گے لوگ۔‘‘ سخت گھبراہٹ اور ہولناکی کی وجہ سے ﴿ كَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ ﴾ ’’بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح۔‘‘ یعنی بکھرے ہوئے ٹڈی دل کی طرح ہوں گے، جو ایک دوسرے میں موجزن ہو گا۔ اَلْفَرَاشُ یہ وہ حیوانات (پتنگے) ہیں جو رات کے وقت (روشنی میں) ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر موج بن کر آتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں کا رخ کریں گے، جب ان کے سامنے آگ روشن کی جائے تو اپنے ضعف ادراک کی بنا پر ہجوم کر کے اس میں آ گرتے ہیں۔ یہ تو حال ہو گا خرد مند لوگوں کا۔ [5] رہے بڑے ٹھوس اور سخت پہاڑ تو وہ ﴿ كَالۡعِهۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ﴾ دھنکی ہوئی اون کے مانند ہو جائیں گے جو نہایت کمزور ہو گئی ہو جسے معمولی سی ہوا بھی اڑاتے پھرتی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿ وَتَرَى الۡجِبَالَ تَحۡسَبُهَا جَامِدَةً وَّهِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ ﴾(النمل:27؍88) ’’اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا اور سمجھے گا کہ یہ جامد ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔‘‘ پھر اس کے بعد بکھرا ہوا غبار بن کر ختم ہو جائیں گے اور ان میں سے کچھ باقی نہیں بچے گا جس کو دیکھا جائے ۔ اس وقت ترازوئیں نصب کردی جائیں گی اور لوگ دو قسموں میں منقسم ہو جائیں گے: خوش بخت لوگ اور بدبخت لوگ ۔ [6، 7]﴿ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’پس جس کے (اعمال کے) وزن بھاری نکلیں گے۔‘‘ یعنی جس کی نیکیاں، برائیوں کی نسبت جھک جائیں گی ﴿ فَهُوَ فِيۡ عِيۡشَةٍ رَّاضِيَةٍ﴾ وہ نعمتوں والی جنت میں ہو گا۔ [11-8]﴿ وَاَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِيۡنُهٗ﴾ ’’اور جس کے وزن ہلکے نکلیں گے۔‘‘ یعنی اس کی نیکیاں اتنی نہ ہوں گی جو اس کی برائیوں کے برابر ہوں ﴿ فَاُمُّهٗ هَاوِيَةٌ﴾ تو اس کا ٹھکانا اور مسکن جہنم ہو گا، جس کے ناموں میں سے ایک نام اَلْھَاوِیَۃ ہے، جہنم اس کے لیے بمنزلہ ماں کے ہو گا جو اپنے بیٹے کو ساتھ ساتھ رکھتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :﴿ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا﴾(القرقان:25؍65) ’’بے شک جہنم کا عذاب تو چمٹ جانے والا ہے۔‘‘یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دماغ جہنم میں گرے گا، یعنی اس کو سر کے بل جہنم میں گرایا جائے گا۔ ﴿ وَمَاۤ اَدۡرٰىكَ مَاهِيَهۡ﴾ ’’اور تم کیا سمجھو کہ وہ ہاویہ کیا ہے۔‘‘ یہ سوال اس کے معاملے کو بڑا ہولناک کرکے دکھاتا ہے۔ پھر اپنے ارشاد سے اس کی تفسیر فرمائی: ﴿ نَارٌ حَامِيَةٌ﴾ سخت حرارت والی آگ، اس کی حرارت دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ ہو گی۔ ہم اس آگ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔