Tafsir Ibn Kathir — البينة 98:1 – التكاثر 102:8
Contents
- البينة 98:1
- البينة 98:2
- البينة 98:3
- البينة 98:4
- البينة 98:5
- البينة 98:6
- البينة 98:7
- البينة 98:8
- الزلزلة 99:1
- الزلزلة 99:2
- الزلزلة 99:3
- الزلزلة 99:4
- الزلزلة 99:5
- الزلزلة 99:6
- الزلزلة 99:7
- الزلزلة 99:8
- العاديات 100:1
- العاديات 100:2
- العاديات 100:3
- العاديات 100:4
- العاديات 100:5
- العاديات 100:6
- العاديات 100:7
- العاديات 100:8
- العاديات 100:9
- العاديات 100:10
- العاديات 100:11
- القارعة 101:1
- القارعة 101:2
- القارعة 101:3
- القارعة 101:4
- القارعة 101:5
- القارعة 101:6
- القارعة 101:7
- القارعة 101:8
- القارعة 101:9
- القارعة 101:10
- القارعة 101:11
- التكاثر 102:1
- التكاثر 102:2
- التكاثر 102:3
- التكاثر 102:4
- التكاثر 102:5
- التكاثر 102:6
- التكاثر 102:7
- التكاثر 102:8
البينة 98:1
تفسیر سورۃ البینۃ:
جب یہ سورت اتری تو جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اللہ کا آپ کو حکم ہوا ہے کہ یہ سورت ابی کو سناؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! کیا وہاں میرا ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [مسند احمد:489/3،صحيح لغيره ]
مسند ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا؟ [صحيح بخاري:3809] یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔
مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ جس وقت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے جب یہ واقعہ بیان کیا اس وقت سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو تم اے ابومنذر بہت ہی خوش ہوئے ہو گے، کہا: ہاں خوش کیوں نہ ہوتا اللہ خود فرماتا ہے «قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ» [10-يونس:58]
یعنی ” کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ لوگ خوش ہوا کریں، یہ ان کے جمع کیے ہوئے سے بہت ہی بہتر ہے۔“ [مسند احمد:123/5،صحيح ]
اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھی اس میں یہ آیت بھی تھی «وَلَوْ أَنَّ اِبْن آدَم سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَال فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا وَلَوْ سَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأ جَوْف اِبْن آدَم إِلَّا التُّرَاب وَيَتُوب اللَّه عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَات الدِّين عِنْد اللَّه الْحَنِيفِيَّة غَيْر الْمُشْرِكَة وَلَا الْيَهُودِيَّة وَلَا النَّصْرَانِيَّة وَمَنْ يَفْعَل خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ» یعنی اگر انسان مجھ سے ایک جنگل بھر کر سونا مانگے اور میں اسے دے دوں تو پھر دوسرا مانگے گا اور دوسرے کو بھی دے دوں تو یقیناً تیسرے کی طلب کرے گا انسان کے پیٹ کو سوا مٹی کے کوئی چیز نہیں بھر سکتی، جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، اللہ کے نزدیک دیندار وہ ہے جو یک طرفہ ہو کر صرف اس کی عبادت کرے نہ وہ مشرک ہو، نہ یہودی ہو، نہ نصرانی ہو جو شخص بھی کوئی نیک کام کرے اللہ کے ہاں اس کی ناقدری نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد:132/5:قال الشيخ الألباني:حسن] ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے
طبرانی میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ! میں اللہ پر ایمان لایا، آپ کے ہاتھ پر اسلام لایا، آپ ہی سے علم دین حاصل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا اس پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! کیا میرا وہاں ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے نام اور نسب کے ساتھ «لْمَلَإِ الْأَعْلَى»، میں تیرا ذکر ہوا۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا پھر پڑھئے۔ [طبراني اوسط:447،ضعيف] یہ روایت اس طریقہ سے غریب ہے اور ثابت وہ ہے جو پہلے بیان ہوا۔
یہ یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورت کو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھنا یہ ان کی ثابت قدمی اور ان کے ایمان کی زیادتی کے لیے تھا۔
مسند احمد، نسائی، ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بگڑ بیٹھے تھے کیونکہ انہوں نے جس طرح اس سورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نہیں پڑھا تھا تو غصے میں آ کر انہیں لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قرآن سنا اس نے اپنے طریقے سے اس نے اپنے طور پر پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں نے درست پڑھا“، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں تو اس قدر شک و شبہ میں پڑ گیا کہ جاہلیت کے زمانہ کا شک سامنے آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا اور اس قدر مجھ پر خوف طاری ہوا کہ گویا میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن! جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا: اللہ کا حکم ہے کہ قرآن ایک ہی قرأت پر اپنی امت کو پڑھاؤ، میں نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر اور بخشش و مغفرت چاہتا ہوں، پھر مجھے دو طرح کے قرأتوں کی اجازت ہوئی لیکن میں پھر بھی زیادہ طلب کرتا رہا یہاں تک کہ سات قرأتوں کی اجازت ملی۔ [صحيح مسلم:280]
یہ حدیث بہت سی سندوں اور مختلف الفاظ سے تفسیر کے شروع میں پوری طرح بیان ہو چکی ہے , اب جبکہ یہ مبارک سورت نازل ہوئی اور اس میں آیت «رَسُول مِنْ اللَّه يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَة ٭ فِيهَا كُتُبٌ قِيمَةٌ» بھی نازل ہوئی تھی اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ بطور پہنچا دینے کے اور ثابت قدمی عطا فرمانے کے اور آگاہ کرنے کے پڑھ کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کو سنا دیں کسی کو یہ خیال نہ رہے کہ بطور سیکھنے کے اور یاد رہنے کے آپ نے یہ سورۃ ان کے پاس تلاوت کی تھی۔ «والله اعلم»
پس جس طرح آپ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے اس دن کے شک و شبہ کے دفع کرنے کے لیے جو انہیں مختلف قرأت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جائز رکھنے پر پیدا ہوا تھا ان کے سامنے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ٹھیک اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے بھی حدیبیہ والے سال صلح کے معاملہ پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بہت سے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے جن میں ایک یہ بھی تھا کہ کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ شریف جائیں گے اور طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہ تو ضرور کہا تھا لیکن یہ تو نہیں کہا تھا کہ اسی سال یہ ہو گا یقیناً وہ وقت آ رہا ہے کہ تو وہاں پہنچے گا اور طواف کرے گا“، اب حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے سورۃ فتح نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور یہ سورت پڑھ کر سنائی جس میں یہ آیت بھی ہے «لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِد الْحَرَام إِنْ شَاءَ اللَّه آمَنِينَ» یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا یقینا تمہارا داخلہ مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ ہو گا، جیسے کہ پہلے اس کا بیان بھی گزر چکا ہے۔ [صحيح بخاري:2731 ]
حافظ ابونعیم اپنی کتاب اسماء صحابہ میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب سورۃ لم یکن کی قرأت سنتا ہے تو فرماتا ہے میرے بندے خوش ہو جا مجھے اپنی عزت کی قسم میں تجھے جنت میں ایسا ٹھکانا دوں گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ [ابونعيم في معرفة الصحابة:350/1،ضعيف جدا] یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ میں تجھے دنیا اور آخرت کے احوال میں سے کسی حال میں نہ بھولوں گا۔ [اسد الغابة لابن الأثير:325/5،ضعيف جدا]
سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» [80-عبس:13-16] الخ یعنی ” وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں “۔
پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ” ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں “۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
10775
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» [98-البينة:4] یعنی ” اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے “۔
جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:105] یعنی ” تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے “۔
جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ ۔ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» [98-البينة:5] الخ یعنی ” انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو “، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] الخ یعنی ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو “۔
«حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔
پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ” نمازوں کو قائم کریں “، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» “ اور زکوٰۃ دیتے رہیں “ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» “ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے “۔
بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
10776
البينة 98:2
تفسیر سورۃ البینۃ:
جب یہ سورت اتری تو جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اللہ کا آپ کو حکم ہوا ہے کہ یہ سورت ابی کو سناؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! کیا وہاں میرا ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [مسند احمد:489/3،صحيح لغيره ]
مسند ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا؟ [صحيح بخاري:3809] یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔
مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ جس وقت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے جب یہ واقعہ بیان کیا اس وقت سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو تم اے ابومنذر بہت ہی خوش ہوئے ہو گے، کہا: ہاں خوش کیوں نہ ہوتا اللہ خود فرماتا ہے «قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ» [10-يونس:58]
یعنی ” کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ لوگ خوش ہوا کریں، یہ ان کے جمع کیے ہوئے سے بہت ہی بہتر ہے۔“ [مسند احمد:123/5،صحيح ]
اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھی اس میں یہ آیت بھی تھی «وَلَوْ أَنَّ اِبْن آدَم سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَال فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا وَلَوْ سَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأ جَوْف اِبْن آدَم إِلَّا التُّرَاب وَيَتُوب اللَّه عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَات الدِّين عِنْد اللَّه الْحَنِيفِيَّة غَيْر الْمُشْرِكَة وَلَا الْيَهُودِيَّة وَلَا النَّصْرَانِيَّة وَمَنْ يَفْعَل خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ» یعنی اگر انسان مجھ سے ایک جنگل بھر کر سونا مانگے اور میں اسے دے دوں تو پھر دوسرا مانگے گا اور دوسرے کو بھی دے دوں تو یقیناً تیسرے کی طلب کرے گا انسان کے پیٹ کو سوا مٹی کے کوئی چیز نہیں بھر سکتی، جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، اللہ کے نزدیک دیندار وہ ہے جو یک طرفہ ہو کر صرف اس کی عبادت کرے نہ وہ مشرک ہو، نہ یہودی ہو، نہ نصرانی ہو جو شخص بھی کوئی نیک کام کرے اللہ کے ہاں اس کی ناقدری نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد:132/5:قال الشيخ الألباني:حسن] ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے
طبرانی میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ! میں اللہ پر ایمان لایا، آپ کے ہاتھ پر اسلام لایا، آپ ہی سے علم دین حاصل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا اس پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! کیا میرا وہاں ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے نام اور نسب کے ساتھ «لْمَلَإِ الْأَعْلَى»، میں تیرا ذکر ہوا۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا پھر پڑھئے۔ [طبراني اوسط:447،ضعيف] یہ روایت اس طریقہ سے غریب ہے اور ثابت وہ ہے جو پہلے بیان ہوا۔
یہ یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورت کو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھنا یہ ان کی ثابت قدمی اور ان کے ایمان کی زیادتی کے لیے تھا۔
مسند احمد، نسائی، ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بگڑ بیٹھے تھے کیونکہ انہوں نے جس طرح اس سورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نہیں پڑھا تھا تو غصے میں آ کر انہیں لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قرآن سنا اس نے اپنے طریقے سے اس نے اپنے طور پر پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں نے درست پڑھا“، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں تو اس قدر شک و شبہ میں پڑ گیا کہ جاہلیت کے زمانہ کا شک سامنے آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا اور اس قدر مجھ پر خوف طاری ہوا کہ گویا میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن! جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا: اللہ کا حکم ہے کہ قرآن ایک ہی قرأت پر اپنی امت کو پڑھاؤ، میں نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر اور بخشش و مغفرت چاہتا ہوں، پھر مجھے دو طرح کے قرأتوں کی اجازت ہوئی لیکن میں پھر بھی زیادہ طلب کرتا رہا یہاں تک کہ سات قرأتوں کی اجازت ملی۔ [صحيح مسلم:280]
یہ حدیث بہت سی سندوں اور مختلف الفاظ سے تفسیر کے شروع میں پوری طرح بیان ہو چکی ہے , اب جبکہ یہ مبارک سورت نازل ہوئی اور اس میں آیت «رَسُول مِنْ اللَّه يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَة ٭ فِيهَا كُتُبٌ قِيمَةٌ» بھی نازل ہوئی تھی اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ بطور پہنچا دینے کے اور ثابت قدمی عطا فرمانے کے اور آگاہ کرنے کے پڑھ کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کو سنا دیں کسی کو یہ خیال نہ رہے کہ بطور سیکھنے کے اور یاد رہنے کے آپ نے یہ سورۃ ان کے پاس تلاوت کی تھی۔ «والله اعلم»
پس جس طرح آپ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے اس دن کے شک و شبہ کے دفع کرنے کے لیے جو انہیں مختلف قرأت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جائز رکھنے پر پیدا ہوا تھا ان کے سامنے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ٹھیک اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے بھی حدیبیہ والے سال صلح کے معاملہ پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بہت سے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے جن میں ایک یہ بھی تھا کہ کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ شریف جائیں گے اور طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہ تو ضرور کہا تھا لیکن یہ تو نہیں کہا تھا کہ اسی سال یہ ہو گا یقیناً وہ وقت آ رہا ہے کہ تو وہاں پہنچے گا اور طواف کرے گا“، اب حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے سورۃ فتح نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور یہ سورت پڑھ کر سنائی جس میں یہ آیت بھی ہے «لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِد الْحَرَام إِنْ شَاءَ اللَّه آمَنِينَ» یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا یقینا تمہارا داخلہ مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ ہو گا، جیسے کہ پہلے اس کا بیان بھی گزر چکا ہے۔ [صحيح بخاري:2731 ]
حافظ ابونعیم اپنی کتاب اسماء صحابہ میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب سورۃ لم یکن کی قرأت سنتا ہے تو فرماتا ہے میرے بندے خوش ہو جا مجھے اپنی عزت کی قسم میں تجھے جنت میں ایسا ٹھکانا دوں گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ [ابونعيم في معرفة الصحابة:350/1،ضعيف جدا] یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ میں تجھے دنیا اور آخرت کے احوال میں سے کسی حال میں نہ بھولوں گا۔ [اسد الغابة لابن الأثير:325/5،ضعيف جدا]
سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» [80-عبس:13-16] الخ یعنی ” وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں “۔
پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ” ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں “۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
10775
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» [98-البينة:4] یعنی ” اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے “۔
جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:105] یعنی ” تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے “۔
جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ ۔ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» [98-البينة:5] الخ یعنی ” انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو “، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] الخ یعنی ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو “۔
«حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔
پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ” نمازوں کو قائم کریں “، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» “ اور زکوٰۃ دیتے رہیں “ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» “ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے “۔
بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
10776
البينة 98:3
تفسیر سورۃ البینۃ:
جب یہ سورت اتری تو جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اللہ کا آپ کو حکم ہوا ہے کہ یہ سورت ابی کو سناؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! کیا وہاں میرا ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [مسند احمد:489/3،صحيح لغيره ]
مسند ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا؟ [صحيح بخاري:3809] یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔
مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ جس وقت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے جب یہ واقعہ بیان کیا اس وقت سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو تم اے ابومنذر بہت ہی خوش ہوئے ہو گے، کہا: ہاں خوش کیوں نہ ہوتا اللہ خود فرماتا ہے «قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ» [10-يونس:58]
یعنی ” کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ لوگ خوش ہوا کریں، یہ ان کے جمع کیے ہوئے سے بہت ہی بہتر ہے۔“ [مسند احمد:123/5،صحيح ]
اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھی اس میں یہ آیت بھی تھی «وَلَوْ أَنَّ اِبْن آدَم سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَال فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا وَلَوْ سَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأ جَوْف اِبْن آدَم إِلَّا التُّرَاب وَيَتُوب اللَّه عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَات الدِّين عِنْد اللَّه الْحَنِيفِيَّة غَيْر الْمُشْرِكَة وَلَا الْيَهُودِيَّة وَلَا النَّصْرَانِيَّة وَمَنْ يَفْعَل خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ» یعنی اگر انسان مجھ سے ایک جنگل بھر کر سونا مانگے اور میں اسے دے دوں تو پھر دوسرا مانگے گا اور دوسرے کو بھی دے دوں تو یقیناً تیسرے کی طلب کرے گا انسان کے پیٹ کو سوا مٹی کے کوئی چیز نہیں بھر سکتی، جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، اللہ کے نزدیک دیندار وہ ہے جو یک طرفہ ہو کر صرف اس کی عبادت کرے نہ وہ مشرک ہو، نہ یہودی ہو، نہ نصرانی ہو جو شخص بھی کوئی نیک کام کرے اللہ کے ہاں اس کی ناقدری نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد:132/5:قال الشيخ الألباني:حسن] ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے
طبرانی میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ! میں اللہ پر ایمان لایا، آپ کے ہاتھ پر اسلام لایا، آپ ہی سے علم دین حاصل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا اس پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! کیا میرا وہاں ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے نام اور نسب کے ساتھ «لْمَلَإِ الْأَعْلَى»، میں تیرا ذکر ہوا۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا پھر پڑھئے۔ [طبراني اوسط:447،ضعيف] یہ روایت اس طریقہ سے غریب ہے اور ثابت وہ ہے جو پہلے بیان ہوا۔
یہ یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورت کو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھنا یہ ان کی ثابت قدمی اور ان کے ایمان کی زیادتی کے لیے تھا۔
مسند احمد، نسائی، ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بگڑ بیٹھے تھے کیونکہ انہوں نے جس طرح اس سورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نہیں پڑھا تھا تو غصے میں آ کر انہیں لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قرآن سنا اس نے اپنے طریقے سے اس نے اپنے طور پر پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں نے درست پڑھا“، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں تو اس قدر شک و شبہ میں پڑ گیا کہ جاہلیت کے زمانہ کا شک سامنے آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا اور اس قدر مجھ پر خوف طاری ہوا کہ گویا میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن! جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا: اللہ کا حکم ہے کہ قرآن ایک ہی قرأت پر اپنی امت کو پڑھاؤ، میں نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر اور بخشش و مغفرت چاہتا ہوں، پھر مجھے دو طرح کے قرأتوں کی اجازت ہوئی لیکن میں پھر بھی زیادہ طلب کرتا رہا یہاں تک کہ سات قرأتوں کی اجازت ملی۔ [صحيح مسلم:280]
یہ حدیث بہت سی سندوں اور مختلف الفاظ سے تفسیر کے شروع میں پوری طرح بیان ہو چکی ہے , اب جبکہ یہ مبارک سورت نازل ہوئی اور اس میں آیت «رَسُول مِنْ اللَّه يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَة ٭ فِيهَا كُتُبٌ قِيمَةٌ» بھی نازل ہوئی تھی اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ بطور پہنچا دینے کے اور ثابت قدمی عطا فرمانے کے اور آگاہ کرنے کے پڑھ کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کو سنا دیں کسی کو یہ خیال نہ رہے کہ بطور سیکھنے کے اور یاد رہنے کے آپ نے یہ سورۃ ان کے پاس تلاوت کی تھی۔ «والله اعلم»
پس جس طرح آپ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے اس دن کے شک و شبہ کے دفع کرنے کے لیے جو انہیں مختلف قرأت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جائز رکھنے پر پیدا ہوا تھا ان کے سامنے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ٹھیک اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے بھی حدیبیہ والے سال صلح کے معاملہ پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بہت سے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے جن میں ایک یہ بھی تھا کہ کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ شریف جائیں گے اور طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہ تو ضرور کہا تھا لیکن یہ تو نہیں کہا تھا کہ اسی سال یہ ہو گا یقیناً وہ وقت آ رہا ہے کہ تو وہاں پہنچے گا اور طواف کرے گا“، اب حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے سورۃ فتح نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور یہ سورت پڑھ کر سنائی جس میں یہ آیت بھی ہے «لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِد الْحَرَام إِنْ شَاءَ اللَّه آمَنِينَ» یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا یقینا تمہارا داخلہ مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ ہو گا، جیسے کہ پہلے اس کا بیان بھی گزر چکا ہے۔ [صحيح بخاري:2731 ]
حافظ ابونعیم اپنی کتاب اسماء صحابہ میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب سورۃ لم یکن کی قرأت سنتا ہے تو فرماتا ہے میرے بندے خوش ہو جا مجھے اپنی عزت کی قسم میں تجھے جنت میں ایسا ٹھکانا دوں گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ [ابونعيم في معرفة الصحابة:350/1،ضعيف جدا] یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ میں تجھے دنیا اور آخرت کے احوال میں سے کسی حال میں نہ بھولوں گا۔ [اسد الغابة لابن الأثير:325/5،ضعيف جدا]
سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» [80-عبس:13-16] الخ یعنی ” وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں “۔
پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ” ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں “۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
10775
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» [98-البينة:4] یعنی ” اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے “۔
جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:105] یعنی ” تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے “۔
جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ ۔ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» [98-البينة:5] الخ یعنی ” انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو “، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] الخ یعنی ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو “۔
«حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔
پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ” نمازوں کو قائم کریں “، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» “ اور زکوٰۃ دیتے رہیں “ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» “ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے “۔
بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
10776
البينة 98:4
تفسیر سورۃ البینۃ:
جب یہ سورت اتری تو جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اللہ کا آپ کو حکم ہوا ہے کہ یہ سورت ابی کو سناؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! کیا وہاں میرا ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [مسند احمد:489/3،صحيح لغيره ]
مسند ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا؟ [صحيح بخاري:3809] یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔
مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ جس وقت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے جب یہ واقعہ بیان کیا اس وقت سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو تم اے ابومنذر بہت ہی خوش ہوئے ہو گے، کہا: ہاں خوش کیوں نہ ہوتا اللہ خود فرماتا ہے «قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ» [10-يونس:58]
یعنی ” کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ لوگ خوش ہوا کریں، یہ ان کے جمع کیے ہوئے سے بہت ہی بہتر ہے۔“ [مسند احمد:123/5،صحيح ]
اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھی اس میں یہ آیت بھی تھی «وَلَوْ أَنَّ اِبْن آدَم سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَال فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا وَلَوْ سَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأ جَوْف اِبْن آدَم إِلَّا التُّرَاب وَيَتُوب اللَّه عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَات الدِّين عِنْد اللَّه الْحَنِيفِيَّة غَيْر الْمُشْرِكَة وَلَا الْيَهُودِيَّة وَلَا النَّصْرَانِيَّة وَمَنْ يَفْعَل خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ» یعنی اگر انسان مجھ سے ایک جنگل بھر کر سونا مانگے اور میں اسے دے دوں تو پھر دوسرا مانگے گا اور دوسرے کو بھی دے دوں تو یقیناً تیسرے کی طلب کرے گا انسان کے پیٹ کو سوا مٹی کے کوئی چیز نہیں بھر سکتی، جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، اللہ کے نزدیک دیندار وہ ہے جو یک طرفہ ہو کر صرف اس کی عبادت کرے نہ وہ مشرک ہو، نہ یہودی ہو، نہ نصرانی ہو جو شخص بھی کوئی نیک کام کرے اللہ کے ہاں اس کی ناقدری نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد:132/5:قال الشيخ الألباني:حسن] ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے
طبرانی میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ! میں اللہ پر ایمان لایا، آپ کے ہاتھ پر اسلام لایا، آپ ہی سے علم دین حاصل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا اس پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! کیا میرا وہاں ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے نام اور نسب کے ساتھ «لْمَلَإِ الْأَعْلَى»، میں تیرا ذکر ہوا۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا پھر پڑھئے۔ [طبراني اوسط:447،ضعيف] یہ روایت اس طریقہ سے غریب ہے اور ثابت وہ ہے جو پہلے بیان ہوا۔
یہ یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورت کو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھنا یہ ان کی ثابت قدمی اور ان کے ایمان کی زیادتی کے لیے تھا۔
مسند احمد، نسائی، ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بگڑ بیٹھے تھے کیونکہ انہوں نے جس طرح اس سورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نہیں پڑھا تھا تو غصے میں آ کر انہیں لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قرآن سنا اس نے اپنے طریقے سے اس نے اپنے طور پر پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں نے درست پڑھا“، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں تو اس قدر شک و شبہ میں پڑ گیا کہ جاہلیت کے زمانہ کا شک سامنے آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا اور اس قدر مجھ پر خوف طاری ہوا کہ گویا میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن! جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا: اللہ کا حکم ہے کہ قرآن ایک ہی قرأت پر اپنی امت کو پڑھاؤ، میں نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر اور بخشش و مغفرت چاہتا ہوں، پھر مجھے دو طرح کے قرأتوں کی اجازت ہوئی لیکن میں پھر بھی زیادہ طلب کرتا رہا یہاں تک کہ سات قرأتوں کی اجازت ملی۔ [صحيح مسلم:280]
یہ حدیث بہت سی سندوں اور مختلف الفاظ سے تفسیر کے شروع میں پوری طرح بیان ہو چکی ہے , اب جبکہ یہ مبارک سورت نازل ہوئی اور اس میں آیت «رَسُول مِنْ اللَّه يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَة ٭ فِيهَا كُتُبٌ قِيمَةٌ» بھی نازل ہوئی تھی اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ بطور پہنچا دینے کے اور ثابت قدمی عطا فرمانے کے اور آگاہ کرنے کے پڑھ کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کو سنا دیں کسی کو یہ خیال نہ رہے کہ بطور سیکھنے کے اور یاد رہنے کے آپ نے یہ سورۃ ان کے پاس تلاوت کی تھی۔ «والله اعلم»
پس جس طرح آپ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے اس دن کے شک و شبہ کے دفع کرنے کے لیے جو انہیں مختلف قرأت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جائز رکھنے پر پیدا ہوا تھا ان کے سامنے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ٹھیک اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے بھی حدیبیہ والے سال صلح کے معاملہ پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بہت سے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے جن میں ایک یہ بھی تھا کہ کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ شریف جائیں گے اور طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہ تو ضرور کہا تھا لیکن یہ تو نہیں کہا تھا کہ اسی سال یہ ہو گا یقیناً وہ وقت آ رہا ہے کہ تو وہاں پہنچے گا اور طواف کرے گا“، اب حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے سورۃ فتح نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور یہ سورت پڑھ کر سنائی جس میں یہ آیت بھی ہے «لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِد الْحَرَام إِنْ شَاءَ اللَّه آمَنِينَ» یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا یقینا تمہارا داخلہ مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ ہو گا، جیسے کہ پہلے اس کا بیان بھی گزر چکا ہے۔ [صحيح بخاري:2731 ]
حافظ ابونعیم اپنی کتاب اسماء صحابہ میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب سورۃ لم یکن کی قرأت سنتا ہے تو فرماتا ہے میرے بندے خوش ہو جا مجھے اپنی عزت کی قسم میں تجھے جنت میں ایسا ٹھکانا دوں گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ [ابونعيم في معرفة الصحابة:350/1،ضعيف جدا] یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ میں تجھے دنیا اور آخرت کے احوال میں سے کسی حال میں نہ بھولوں گا۔ [اسد الغابة لابن الأثير:325/5،ضعيف جدا]
سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» [80-عبس:13-16] الخ یعنی ” وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں “۔
پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ” ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں “۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
10775
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» [98-البينة:4] یعنی ” اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے “۔
جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:105] یعنی ” تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے “۔
جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ ۔ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» [98-البينة:5] الخ یعنی ” انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو “، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] الخ یعنی ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو “۔
«حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔
پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ” نمازوں کو قائم کریں “، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» “ اور زکوٰۃ دیتے رہیں “ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» “ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے “۔
بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
10776
البينة 98:5
تفسیر سورۃ البینۃ:
جب یہ سورت اتری تو جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ اللہ کا آپ کو حکم ہوا ہے کہ یہ سورت ابی کو سناؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے یہ ذکر کیا تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ ! کیا وہاں میرا ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں ہاں“، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ [مسند احمد:489/3،صحيح لغيره ]
مسند ہی کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا یا رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا؟ [صحيح بخاري:3809] یہ حدیث بخاری مسلم ترمذی اور نسائی میں بھی ہے۔
مسند احمد کی اور روایت میں ہے کہ جس وقت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے جب یہ واقعہ بیان کیا اس وقت سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر تو تم اے ابومنذر بہت ہی خوش ہوئے ہو گے، کہا: ہاں خوش کیوں نہ ہوتا اللہ خود فرماتا ہے «قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ» [10-يونس:58]
یعنی ” کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے ساتھ لوگ خوش ہوا کریں، یہ ان کے جمع کیے ہوئے سے بہت ہی بہتر ہے۔“ [مسند احمد:123/5،صحيح ]
اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سورت سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھی اس میں یہ آیت بھی تھی «وَلَوْ أَنَّ اِبْن آدَم سَأَلَ وَادِيًا مِنْ مَال فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَانِيًا وَلَوْ سَأَلَ ثَانِيًا فَأُعْطِيَهُ لَسَأَلَ ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأ جَوْف اِبْن آدَم إِلَّا التُّرَاب وَيَتُوب اللَّه عَلَى مَنْ تَابَ وَإِنَّ ذَات الدِّين عِنْد اللَّه الْحَنِيفِيَّة غَيْر الْمُشْرِكَة وَلَا الْيَهُودِيَّة وَلَا النَّصْرَانِيَّة وَمَنْ يَفْعَل خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ» یعنی اگر انسان مجھ سے ایک جنگل بھر کر سونا مانگے اور میں اسے دے دوں تو پھر دوسرا مانگے گا اور دوسرے کو بھی دے دوں تو یقیناً تیسرے کی طلب کرے گا انسان کے پیٹ کو سوا مٹی کے کوئی چیز نہیں بھر سکتی، جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے، اللہ کے نزدیک دیندار وہ ہے جو یک طرفہ ہو کر صرف اس کی عبادت کرے نہ وہ مشرک ہو، نہ یہودی ہو، نہ نصرانی ہو جو شخص بھی کوئی نیک کام کرے اللہ کے ہاں اس کی ناقدری نہ کی جائے گی۔ [مسند احمد:132/5:قال الشيخ الألباني:حسن] ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے
طبرانی میں ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے اللہ کے رسول ! میں اللہ پر ایمان لایا، آپ کے ہاتھ پر اسلام لایا، آپ ہی سے علم دین حاصل کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا اس پر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا رسول اللہ! کیا میرا وہاں ذکر کیا گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے نام اور نسب کے ساتھ «لْمَلَإِ الْأَعْلَى»، میں تیرا ذکر ہوا۔“ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا پھر پڑھئے۔ [طبراني اوسط:447،ضعيف] یہ روایت اس طریقہ سے غریب ہے اور ثابت وہ ہے جو پہلے بیان ہوا۔
یہ یاد رہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورت کو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے سامنے پڑھنا یہ ان کی ثابت قدمی اور ان کے ایمان کی زیادتی کے لیے تھا۔
مسند احمد، نسائی، ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت سن کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ بگڑ بیٹھے تھے کیونکہ انہوں نے جس طرح اس سورت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا تھا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح نہیں پڑھا تھا تو غصے میں آ کر انہیں لے کر خدمت نبوی میں حاضر ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے قرآن سنا اس نے اپنے طریقے سے اس نے اپنے طور پر پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دونوں نے درست پڑھا“، سیدنا ابی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں تو اس قدر شک و شبہ میں پڑ گیا کہ جاہلیت کے زمانہ کا شک سامنے آ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حالت دیکھ کر میرے سینے پر اپنا ہاتھ رکھ دیا جس سے میں پسینہ پسینہ ہو گیا اور اس قدر مجھ پر خوف طاری ہوا کہ گویا میں اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سن! جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا: اللہ کا حکم ہے کہ قرآن ایک ہی قرأت پر اپنی امت کو پڑھاؤ، میں نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے عفو و درگزر اور بخشش و مغفرت چاہتا ہوں، پھر مجھے دو طرح کے قرأتوں کی اجازت ہوئی لیکن میں پھر بھی زیادہ طلب کرتا رہا یہاں تک کہ سات قرأتوں کی اجازت ملی۔ [صحيح مسلم:280]
یہ حدیث بہت سی سندوں اور مختلف الفاظ سے تفسیر کے شروع میں پوری طرح بیان ہو چکی ہے , اب جبکہ یہ مبارک سورت نازل ہوئی اور اس میں آیت «رَسُول مِنْ اللَّه يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَة ٭ فِيهَا كُتُبٌ قِيمَةٌ» بھی نازل ہوئی تھی اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ بطور پہنچا دینے کے اور ثابت قدمی عطا فرمانے کے اور آگاہ کرنے کے پڑھ کر سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کو سنا دیں کسی کو یہ خیال نہ رہے کہ بطور سیکھنے کے اور یاد رہنے کے آپ نے یہ سورۃ ان کے پاس تلاوت کی تھی۔ «والله اعلم»
پس جس طرح آپ نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ کے اس دن کے شک و شبہ کے دفع کرنے کے لیے جو انہیں مختلف قرأت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جائز رکھنے پر پیدا ہوا تھا ان کے سامنے یہ سورت تلاوت کر کے سنائی، ٹھیک اسی طرح سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے بھی حدیبیہ والے سال صلح کے معاملہ پر اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے بہت سے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے تھے جن میں ایک یہ بھی تھا کہ کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ شریف جائیں گے اور طواف کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں یہ تو ضرور کہا تھا لیکن یہ تو نہیں کہا تھا کہ اسی سال یہ ہو گا یقیناً وہ وقت آ رہا ہے کہ تو وہاں پہنچے گا اور طواف کرے گا“، اب حدیبیہ سے لوٹتے ہوئے سورۃ فتح نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور یہ سورت پڑھ کر سنائی جس میں یہ آیت بھی ہے «لَقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِد الْحَرَام إِنْ شَاءَ اللَّه آمَنِينَ» یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کا خواب سچا کر دکھایا یقینا تمہارا داخلہ مسجد حرام میں امن و امان کے ساتھ ہو گا، جیسے کہ پہلے اس کا بیان بھی گزر چکا ہے۔ [صحيح بخاري:2731 ]
حافظ ابونعیم اپنی کتاب اسماء صحابہ میں حدیث لائے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جب سورۃ لم یکن کی قرأت سنتا ہے تو فرماتا ہے میرے بندے خوش ہو جا مجھے اپنی عزت کی قسم میں تجھے جنت میں ایسا ٹھکانا دوں گا کہ تو خوش ہو جائے گا۔ [ابونعيم في معرفة الصحابة:350/1،ضعيف جدا] یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور روایت میں اتنی زیادتی بھی ہے کہ میں تجھے دنیا اور آخرت کے احوال میں سے کسی حال میں نہ بھولوں گا۔ [اسد الغابة لابن الأثير:325/5،ضعيف جدا]
سات قرأت اور قرآن حکیم ٭٭
اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں اور مشرکین سے مراد بت پوجنے والے عرب اور آتش پرست عجمی ہیں۔ فرماتا ہے یہ لوگ بغیر دلیل حاصل کیے باز رہنے والے نہ تھے، پھر بتایا کہ وہ دلیل اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو پاک صحیفے یعنی قرآن کریم پڑھ سناتے ہیں۔ جو اعلیٰ فرشتوں نے پاک اوراق میں لکھا ہوا ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «فِي صُحُفٍ مُكَرَّمَةٍ» * «مَرْفُوعَةٍ مُطَهَّرَةٍ» * «بِأَيْدِي سَفَرَةٍ» * «كِرَامٍ بَرَرَةٍ» [80-عبس:13-16] الخ یعنی ” وہ نامی گرامی بلند و بالا، پاک صاف اوراق میں پاک باز نیکوکار بزرگ فرشتوں کے ہاتھوں لکھے ہوئے ہیں “۔
پھر فرماتا ہے «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ” ان پاک صحیفوں میں اللہ کی لکھی ہوئی باتیں عدل و استقامت والی موجود ہیں “۔ جن کے اللہ کی جانب سے ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، نہ ان میں کوئی خطا اور غلطی ہوئی ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں «رَسُولٌ مِنَ اللَّهِ يَتْلُو صُحُفًا مُطَهَّرَةً» کہ وہ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عمدگی کے ساتھ قرآنی وعظ کہتے ہیں اور اس کی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں۔ ابن زید فرماتے ہیں «فِيهَا كُتُبٌ قَيِّمَةٌ» ان صحیفوں میں کتابیں ہیں، استقامت اور عدل و انصاف والی۔
10775
پھر فرمایا «وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَةُ» [98-البينة:4] یعنی ” اگلی کتابوں والے اللہ کی حجتیں قائم ہو چکنے اور دلیلیں پانے کے بعد اللہ کے کلام کے مطالب میں اختلاف کرنے لگے اور جدا جدا راہوں میں بٹ گئے “۔
جیسے کہ آیت میں ہے «وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَأُولَـٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ» [3-آل عمران:105] یعنی ” تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے پاس روشن دلیلیں آ جانے کے بعد بھی تفرقہ ڈلا، اور اختلاف کیا، انہیں لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے “۔
جیسے کہ اس حدیث میں ہے جو مختلف طریقوں سے مروی ہے کہ یہودیوں کے اکہتر فرقے ہو گئے اور نصرانیوں کے بہتر اور اس امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے، ایک کے سب جہنم میں جائیں گے، لوگوں نے پوچھا: وہ ایک کون ہے؟ فرمایا: ”وہ جو اس پر ہو جس پر میں اور میرے اصحاب ہیں“ ۔ [سنن ترمذي:2641،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرمایا: «وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّـهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ» [98-البينة:5] الخ یعنی ” انہیں صرف اتنا ہی حکم تھا کہ خلوص اور اخلاص کے ساتھ صرف اپنے سچے معبود کی عبادت میں لگے رہیں “۔
جیسے اور جگہ فرمایا «وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ» [21-الأنبياء:25] یعنی ” تجھ سے پہلے بھی ہم نے جتنے رسول بھیجے سب کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود برحق نہیں تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو “، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ یکسو ہو کر یعنی شرک سے دور اور توحید میں مشغول ہو کر۔
جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» [16-النحل:36] الخ یعنی ” ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت سے بچو “۔
«حنیف» کی پوری تفسیر سورۃ الانعام میں گزر چکی ہے جسے لوٹانے کی اب ضرورت نہیں۔
پھر فرمایا «وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ» ” نمازوں کو قائم کریں “، جو کہ بدن کی تمام عبادتوں میں سب سے اعلیٰ عبادت ہے، «وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ» “ اور زکوٰۃ دیتے رہیں “ یعنی فقیروں اور محتاجوں کے ساتھ سلوک کرتے رہیں، «وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ» “ یہی دین مضبوط، سیدھا، درست، عدل والا اور عمدگی والا ہے “۔
بہت سے ائمہ کرام نے جیسے امام زہری، امام شافعی رحمہ اللہ علیہم نے اس آیت سے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں کیونکہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی خلوص اور یکسوئی کے ساتھ کی عبادت اور نماز و زکوٰۃ کو دین فرمایا گیا ہے۔
10776
البينة 98:6
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے ” وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے، نہ وہاں سے نکلیں گے، نہ رہا ہوں گے، یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں “۔
پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے ” جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں “۔
اس آیت سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں۔
10781
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے، جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے، نہ وہاں سے نکالے جائیں، نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں، نہ کم ہوں، نہ اور کوئی کھٹکا ہے، نہ غم، پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہو گئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہو گئے ہیں۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے، ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو، جس کی عبادت میں اخلاص ہو، جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق، مالک، سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور، فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں، لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں، وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے، نہ نماز کو چھوڑتا ہے، نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے۔ آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے“ ۔ [مسند احمد:169/2،حسن]
سورۃ «لم یکن» کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے۔
10782
البينة 98:7
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے ” وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے، نہ وہاں سے نکلیں گے، نہ رہا ہوں گے، یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں “۔
پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے ” جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں “۔
اس آیت سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں۔
10781
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے، جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے، نہ وہاں سے نکالے جائیں، نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں، نہ کم ہوں، نہ اور کوئی کھٹکا ہے، نہ غم، پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہو گئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہو گئے ہیں۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے، ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو، جس کی عبادت میں اخلاص ہو، جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق، مالک، سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور، فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں، لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں، وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے، نہ نماز کو چھوڑتا ہے، نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے۔ آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے“ ۔ [مسند احمد:169/2،حسن]
سورۃ «لم یکن» کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے۔
10782
البينة 98:8
ساری مخلوق سے بہتر اور بدتر کون ہے؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ کافروں کا انجام بیان فرماتا ہے ” وہ کافر خواہ یہود و نصاریٰ ہوں یا مشرکین عرب و عجم ہوں جو بھی انبیاء اللہ کے مخالف ہوں اور کتاب اللہ کے جھٹلانے والے ہوں وہ قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈال دئیے جائیں گے اور اسی میں پڑے رہیں گے، نہ وہاں سے نکلیں گے، نہ رہا ہوں گے، یہ لوگ تمام مخلوق سے بدتر اور کمتر ہیں “۔
پھر اپنے نیک بندوں کے انجام کی خبر دیتا ہے ” جن کے دلوں میں ایمان ہے اور جو اپنے جسموں سے سنت کی بجا آوری میں ہر وقت مصروف رہتے ہیں کہ یہ ساری مخلوق سے بہتر اور بزرگ ہیں “۔
اس آیت سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور علماء کرام کی ایک جماعت نے استدلال کیا ہے کہ ایمان والے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہیں۔
10781
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ان کا نیک بدلہ ان کے رب کے پاس ان لازوال جنتوں کی صورت میں ہے، جن کے چپے چپے پر پاک صاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں دوام اور ہمیشہ کی زندگی کے ساتھ رہیں گے، نہ وہاں سے نکالے جائیں، نہ وہ نعمتیں ان سے جدا ہوں، نہ کم ہوں، نہ اور کوئی کھٹکا ہے، نہ غم، پھر ان سب سے بڑھ چڑھ کر نعمت و رحمت یہ ہے کہ رضائے رب مرضی مولا انہیں حاصل ہو گئی ہے اور انہیں اس قدر نعمتیں باری تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں کہ یہ بھی دل سے راضی ہو گئے ہیں۔
پھر ارشاد فرماتا ہے کہ یہ بہترین بدلہ یہ بہت بڑی جزاء یہ اجر عظیم دنیا میں اللہ سے ڈرتے رہنے کا عوض ہے، ہر وہ شخص جس کے دل میں ڈر ہو، جس کی عبادت میں اخلاص ہو، جو جانتا ہو کہ اللہ کی اس پر نظریں ہیں بلکہ عبادت کے وقت اس مشغولی اور دلچسپی سے عبادت کر رہا ہو کہ گویا وہ اپنی آنکھوں سے اپنے خالق، مالک، سچے رب اور حقیقی اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے بہتر شخص کون ہے؟“ لوگوں نے کہا ضرور، فرمایا: ”وہ شخص جو اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے کہ کب جہاد کی آواز بلند ہو اور کب میں کود کر اس کی پیٹھ پر سوار ہو جاؤں اور گرجتا ہوا دشمن کی فوج میں گھسوں اور داد شجاعت دوں، لو میں تمہیں ایک اور بہترین مخلوق کی خبر دوں، وہ شخص جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہے، نہ نماز کو چھوڑتا ہے، نہ زکوٰۃ سے جی چراتا ہے۔ آؤ اب میں بدترین مخلوق بتاؤں وہ شخص کہ اللہ کے نام سے سوال کرے اور پھر نہ دیا جائے“ ۔ [مسند احمد:169/2،حسن]
سورۃ «لم یکن» کی تفسیر ختم ہوئی، اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے۔
10782
الزلزلة 99:1
تفسیر سورۃ الزلزلۃ:
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ ! مجھے پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الر» والی تین سورتیں پڑھو“، تو اس نے کہا بوڑھا ہو گیا، حافظہ کمزور ہو گیا، زبان موٹی ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا! «حم» والی سورتیں پڑھا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يسبح» والی تین سورتیں پڑھ لیا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے تو کوئی جامع سورت کا سبق دے دیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ سورت پڑھائی، جب پڑھا چکے تو وہ کہنے لگا، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں کبھی اس پر زیادتی نہ کروں گا پھر وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مرد نے فلاح پا لی یہ نجات کو پہنچ گیا۔“ پھر فرمایا: ”ذرا اسے بلاؤ“، وہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بقر عید کا حکم کیا گیا ہے اس دن کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کی عید کا دن بنایا ہے“ تو اس شخص نے کہا: اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور کسی شخص نے مجھے دودھ پینے کے لیے کوئی جانور تحفہً دے رکھا ہو تو کیا میں اس کو ذبح کر ڈالوں؟ فرمایا: ”نہیں! پھر تو اپنے بال کتروا، ناخن کٹوا، مونچھیں پست کرا، زیر ناف کے بال صاف کر، اللہ تعالیٰ عزوجل کے نزدیک تیری پوری قربانی یہی ہے۔“ [سنن ابوداود:1399،ضعيف] یہ حدیث مسند احمد، ابوداؤد نسائی میں بھی ہے۔
ترمذی شریف کی اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص اس سورت کو پڑھے اسے نصف قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔“ [سنن ترمذي:2893،قال الشيخ الألباني:حسن دون فضل زلزلت] یہ حدیث غریب ہے۔
اور روایت میں ہے «إِذَا زُلْزِلَتِ» آدھے قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» چوتھائی قرآن کے برابر۔ [سنن ترمذي:2894،قال الشيخ الألباني:صحيح دون فضل زلزلت] یہ حدیث بھی غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابیوں میں سے ایک سے فرمایا: ”کیا تم نے نکاح کر لیا؟“ اس نے کہا: نہیں یا رسول اللہ ! میرے پاس اتنا ہے ہی نہیں جو میں اپنا نکاح کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تیرے ساتھ نہیں؟“ اس نے کہا: ہاں یہ تو ہے، فرمایا: ”تہائی قرآن یہ ہوا، «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» نہیں؟“ کہا: وہ بھی ہے، فرمایا: ”چوتھائی قرآن یہ ہوا، فرمایا: «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» یاد نہیں؟“ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”چوتھائی قرآن کے برابر یہ ہے، جا اب نکاح کر لے۔“ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف] یہ حدیث حسن ہے یہ تینوں حدیثیں صرف ترمذی میں ہیں۔
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» [22-الحج:1] یعنی ” لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» [84-الانشقاق:3-4] یعنی ” جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی “۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
10785
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں
معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ ۔ [طبرانی:4596:ضعیف]
یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔
یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ ۔ [صحیح مسلم:987]
10786
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح]
صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو ۔ [صحیح بخاری:1413]
اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے ۔ [مسند احمد:63/5:صحیح]
دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو ۔ [صحیح بخاری:2566]
اور حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو ۔ [مسند احمد:435/6]
مسند احمد کی حدیث میں ہے، اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ۔ [مسند احمد:70/6]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747]
ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
10787
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ ۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) ۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ]
سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10788
الزلزلة 99:2
تفسیر سورۃ الزلزلۃ:
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ ! مجھے پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الر» والی تین سورتیں پڑھو“، تو اس نے کہا بوڑھا ہو گیا، حافظہ کمزور ہو گیا، زبان موٹی ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا! «حم» والی سورتیں پڑھا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يسبح» والی تین سورتیں پڑھ لیا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے تو کوئی جامع سورت کا سبق دے دیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ سورت پڑھائی، جب پڑھا چکے تو وہ کہنے لگا، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں کبھی اس پر زیادتی نہ کروں گا پھر وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مرد نے فلاح پا لی یہ نجات کو پہنچ گیا۔“ پھر فرمایا: ”ذرا اسے بلاؤ“، وہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بقر عید کا حکم کیا گیا ہے اس دن کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کی عید کا دن بنایا ہے“ تو اس شخص نے کہا: اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور کسی شخص نے مجھے دودھ پینے کے لیے کوئی جانور تحفہً دے رکھا ہو تو کیا میں اس کو ذبح کر ڈالوں؟ فرمایا: ”نہیں! پھر تو اپنے بال کتروا، ناخن کٹوا، مونچھیں پست کرا، زیر ناف کے بال صاف کر، اللہ تعالیٰ عزوجل کے نزدیک تیری پوری قربانی یہی ہے۔“ [سنن ابوداود:1399،ضعيف] یہ حدیث مسند احمد، ابوداؤد نسائی میں بھی ہے۔
ترمذی شریف کی اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص اس سورت کو پڑھے اسے نصف قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔“ [سنن ترمذي:2893،قال الشيخ الألباني:حسن دون فضل زلزلت] یہ حدیث غریب ہے۔
اور روایت میں ہے «إِذَا زُلْزِلَتِ» آدھے قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» چوتھائی قرآن کے برابر۔ [سنن ترمذي:2894،قال الشيخ الألباني:صحيح دون فضل زلزلت] یہ حدیث بھی غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابیوں میں سے ایک سے فرمایا: ”کیا تم نے نکاح کر لیا؟“ اس نے کہا: نہیں یا رسول اللہ ! میرے پاس اتنا ہے ہی نہیں جو میں اپنا نکاح کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تیرے ساتھ نہیں؟“ اس نے کہا: ہاں یہ تو ہے، فرمایا: ”تہائی قرآن یہ ہوا، «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» نہیں؟“ کہا: وہ بھی ہے، فرمایا: ”چوتھائی قرآن یہ ہوا، فرمایا: «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» یاد نہیں؟“ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”چوتھائی قرآن کے برابر یہ ہے، جا اب نکاح کر لے۔“ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف] یہ حدیث حسن ہے یہ تینوں حدیثیں صرف ترمذی میں ہیں۔
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» [22-الحج:1] یعنی ” لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» [84-الانشقاق:3-4] یعنی ” جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی “۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
10785
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں
معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ ۔ [طبرانی:4596:ضعیف]
یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔
یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ ۔ [صحیح مسلم:987]
10786
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح]
صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو ۔ [صحیح بخاری:1413]
اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے ۔ [مسند احمد:63/5:صحیح]
دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو ۔ [صحیح بخاری:2566]
اور حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو ۔ [مسند احمد:435/6]
مسند احمد کی حدیث میں ہے، اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ۔ [مسند احمد:70/6]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747]
ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
10787
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ ۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) ۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ]
سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10788
الزلزلة 99:3
تفسیر سورۃ الزلزلۃ:
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ ! مجھے پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الر» والی تین سورتیں پڑھو“، تو اس نے کہا بوڑھا ہو گیا، حافظہ کمزور ہو گیا، زبان موٹی ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا! «حم» والی سورتیں پڑھا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يسبح» والی تین سورتیں پڑھ لیا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے تو کوئی جامع سورت کا سبق دے دیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ سورت پڑھائی، جب پڑھا چکے تو وہ کہنے لگا، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں کبھی اس پر زیادتی نہ کروں گا پھر وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مرد نے فلاح پا لی یہ نجات کو پہنچ گیا۔“ پھر فرمایا: ”ذرا اسے بلاؤ“، وہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بقر عید کا حکم کیا گیا ہے اس دن کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کی عید کا دن بنایا ہے“ تو اس شخص نے کہا: اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور کسی شخص نے مجھے دودھ پینے کے لیے کوئی جانور تحفہً دے رکھا ہو تو کیا میں اس کو ذبح کر ڈالوں؟ فرمایا: ”نہیں! پھر تو اپنے بال کتروا، ناخن کٹوا، مونچھیں پست کرا، زیر ناف کے بال صاف کر، اللہ تعالیٰ عزوجل کے نزدیک تیری پوری قربانی یہی ہے۔“ [سنن ابوداود:1399،ضعيف] یہ حدیث مسند احمد، ابوداؤد نسائی میں بھی ہے۔
ترمذی شریف کی اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص اس سورت کو پڑھے اسے نصف قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔“ [سنن ترمذي:2893،قال الشيخ الألباني:حسن دون فضل زلزلت] یہ حدیث غریب ہے۔
اور روایت میں ہے «إِذَا زُلْزِلَتِ» آدھے قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» چوتھائی قرآن کے برابر۔ [سنن ترمذي:2894،قال الشيخ الألباني:صحيح دون فضل زلزلت] یہ حدیث بھی غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابیوں میں سے ایک سے فرمایا: ”کیا تم نے نکاح کر لیا؟“ اس نے کہا: نہیں یا رسول اللہ ! میرے پاس اتنا ہے ہی نہیں جو میں اپنا نکاح کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تیرے ساتھ نہیں؟“ اس نے کہا: ہاں یہ تو ہے، فرمایا: ”تہائی قرآن یہ ہوا، «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» نہیں؟“ کہا: وہ بھی ہے، فرمایا: ”چوتھائی قرآن یہ ہوا، فرمایا: «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» یاد نہیں؟“ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”چوتھائی قرآن کے برابر یہ ہے، جا اب نکاح کر لے۔“ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف] یہ حدیث حسن ہے یہ تینوں حدیثیں صرف ترمذی میں ہیں۔
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» [22-الحج:1] یعنی ” لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» [84-الانشقاق:3-4] یعنی ” جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی “۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
10785
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں
معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ ۔ [طبرانی:4596:ضعیف]
یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔
یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ ۔ [صحیح مسلم:987]
10786
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح]
صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو ۔ [صحیح بخاری:1413]
اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے ۔ [مسند احمد:63/5:صحیح]
دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو ۔ [صحیح بخاری:2566]
اور حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو ۔ [مسند احمد:435/6]
مسند احمد کی حدیث میں ہے، اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ۔ [مسند احمد:70/6]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747]
ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
10787
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ ۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) ۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ]
سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10788
الزلزلة 99:4
تفسیر سورۃ الزلزلۃ:
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ ! مجھے پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الر» والی تین سورتیں پڑھو“، تو اس نے کہا بوڑھا ہو گیا، حافظہ کمزور ہو گیا، زبان موٹی ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا! «حم» والی سورتیں پڑھا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يسبح» والی تین سورتیں پڑھ لیا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے تو کوئی جامع سورت کا سبق دے دیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ سورت پڑھائی، جب پڑھا چکے تو وہ کہنے لگا، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں کبھی اس پر زیادتی نہ کروں گا پھر وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مرد نے فلاح پا لی یہ نجات کو پہنچ گیا۔“ پھر فرمایا: ”ذرا اسے بلاؤ“، وہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بقر عید کا حکم کیا گیا ہے اس دن کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کی عید کا دن بنایا ہے“ تو اس شخص نے کہا: اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور کسی شخص نے مجھے دودھ پینے کے لیے کوئی جانور تحفہً دے رکھا ہو تو کیا میں اس کو ذبح کر ڈالوں؟ فرمایا: ”نہیں! پھر تو اپنے بال کتروا، ناخن کٹوا، مونچھیں پست کرا، زیر ناف کے بال صاف کر، اللہ تعالیٰ عزوجل کے نزدیک تیری پوری قربانی یہی ہے۔“ [سنن ابوداود:1399،ضعيف] یہ حدیث مسند احمد، ابوداؤد نسائی میں بھی ہے۔
ترمذی شریف کی اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص اس سورت کو پڑھے اسے نصف قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔“ [سنن ترمذي:2893،قال الشيخ الألباني:حسن دون فضل زلزلت] یہ حدیث غریب ہے۔
اور روایت میں ہے «إِذَا زُلْزِلَتِ» آدھے قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» چوتھائی قرآن کے برابر۔ [سنن ترمذي:2894،قال الشيخ الألباني:صحيح دون فضل زلزلت] یہ حدیث بھی غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابیوں میں سے ایک سے فرمایا: ”کیا تم نے نکاح کر لیا؟“ اس نے کہا: نہیں یا رسول اللہ ! میرے پاس اتنا ہے ہی نہیں جو میں اپنا نکاح کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تیرے ساتھ نہیں؟“ اس نے کہا: ہاں یہ تو ہے، فرمایا: ”تہائی قرآن یہ ہوا، «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» نہیں؟“ کہا: وہ بھی ہے، فرمایا: ”چوتھائی قرآن یہ ہوا، فرمایا: «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» یاد نہیں؟“ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”چوتھائی قرآن کے برابر یہ ہے، جا اب نکاح کر لے۔“ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف] یہ حدیث حسن ہے یہ تینوں حدیثیں صرف ترمذی میں ہیں۔
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» [22-الحج:1] یعنی ” لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» [84-الانشقاق:3-4] یعنی ” جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی “۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
10785
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں
معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ ۔ [طبرانی:4596:ضعیف]
یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔
یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ ۔ [صحیح مسلم:987]
10786
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح]
صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو ۔ [صحیح بخاری:1413]
اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے ۔ [مسند احمد:63/5:صحیح]
دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو ۔ [صحیح بخاری:2566]
اور حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو ۔ [مسند احمد:435/6]
مسند احمد کی حدیث میں ہے، اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ۔ [مسند احمد:70/6]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747]
ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
10787
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ ۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) ۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ]
سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10788
الزلزلة 99:5
تفسیر سورۃ الزلزلۃ:
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ ! مجھے پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الر» والی تین سورتیں پڑھو“، تو اس نے کہا بوڑھا ہو گیا، حافظہ کمزور ہو گیا، زبان موٹی ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا! «حم» والی سورتیں پڑھا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يسبح» والی تین سورتیں پڑھ لیا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے تو کوئی جامع سورت کا سبق دے دیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ سورت پڑھائی، جب پڑھا چکے تو وہ کہنے لگا، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں کبھی اس پر زیادتی نہ کروں گا پھر وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مرد نے فلاح پا لی یہ نجات کو پہنچ گیا۔“ پھر فرمایا: ”ذرا اسے بلاؤ“، وہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بقر عید کا حکم کیا گیا ہے اس دن کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کی عید کا دن بنایا ہے“ تو اس شخص نے کہا: اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور کسی شخص نے مجھے دودھ پینے کے لیے کوئی جانور تحفہً دے رکھا ہو تو کیا میں اس کو ذبح کر ڈالوں؟ فرمایا: ”نہیں! پھر تو اپنے بال کتروا، ناخن کٹوا، مونچھیں پست کرا، زیر ناف کے بال صاف کر، اللہ تعالیٰ عزوجل کے نزدیک تیری پوری قربانی یہی ہے۔“ [سنن ابوداود:1399،ضعيف] یہ حدیث مسند احمد، ابوداؤد نسائی میں بھی ہے۔
ترمذی شریف کی اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص اس سورت کو پڑھے اسے نصف قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔“ [سنن ترمذي:2893،قال الشيخ الألباني:حسن دون فضل زلزلت] یہ حدیث غریب ہے۔
اور روایت میں ہے «إِذَا زُلْزِلَتِ» آدھے قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» چوتھائی قرآن کے برابر۔ [سنن ترمذي:2894،قال الشيخ الألباني:صحيح دون فضل زلزلت] یہ حدیث بھی غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابیوں میں سے ایک سے فرمایا: ”کیا تم نے نکاح کر لیا؟“ اس نے کہا: نہیں یا رسول اللہ ! میرے پاس اتنا ہے ہی نہیں جو میں اپنا نکاح کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تیرے ساتھ نہیں؟“ اس نے کہا: ہاں یہ تو ہے، فرمایا: ”تہائی قرآن یہ ہوا، «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» نہیں؟“ کہا: وہ بھی ہے، فرمایا: ”چوتھائی قرآن یہ ہوا، فرمایا: «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» یاد نہیں؟“ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”چوتھائی قرآن کے برابر یہ ہے، جا اب نکاح کر لے۔“ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف] یہ حدیث حسن ہے یہ تینوں حدیثیں صرف ترمذی میں ہیں۔
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» [22-الحج:1] یعنی ” لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» [84-الانشقاق:3-4] یعنی ” جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی “۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
10785
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں
معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ ۔ [طبرانی:4596:ضعیف]
یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔
یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ ۔ [صحیح مسلم:987]
10786
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح]
صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو ۔ [صحیح بخاری:1413]
اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے ۔ [مسند احمد:63/5:صحیح]
دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو ۔ [صحیح بخاری:2566]
اور حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو ۔ [مسند احمد:435/6]
مسند احمد کی حدیث میں ہے، اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ۔ [مسند احمد:70/6]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747]
ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
10787
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ ۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) ۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ]
سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10788
الزلزلة 99:6
تفسیر سورۃ الزلزلۃ:
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ ! مجھے پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الر» والی تین سورتیں پڑھو“، تو اس نے کہا بوڑھا ہو گیا، حافظہ کمزور ہو گیا، زبان موٹی ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا! «حم» والی سورتیں پڑھا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يسبح» والی تین سورتیں پڑھ لیا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے تو کوئی جامع سورت کا سبق دے دیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ سورت پڑھائی، جب پڑھا چکے تو وہ کہنے لگا، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں کبھی اس پر زیادتی نہ کروں گا پھر وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مرد نے فلاح پا لی یہ نجات کو پہنچ گیا۔“ پھر فرمایا: ”ذرا اسے بلاؤ“، وہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بقر عید کا حکم کیا گیا ہے اس دن کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کی عید کا دن بنایا ہے“ تو اس شخص نے کہا: اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور کسی شخص نے مجھے دودھ پینے کے لیے کوئی جانور تحفہً دے رکھا ہو تو کیا میں اس کو ذبح کر ڈالوں؟ فرمایا: ”نہیں! پھر تو اپنے بال کتروا، ناخن کٹوا، مونچھیں پست کرا، زیر ناف کے بال صاف کر، اللہ تعالیٰ عزوجل کے نزدیک تیری پوری قربانی یہی ہے۔“ [سنن ابوداود:1399،ضعيف] یہ حدیث مسند احمد، ابوداؤد نسائی میں بھی ہے۔
ترمذی شریف کی اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص اس سورت کو پڑھے اسے نصف قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔“ [سنن ترمذي:2893،قال الشيخ الألباني:حسن دون فضل زلزلت] یہ حدیث غریب ہے۔
اور روایت میں ہے «إِذَا زُلْزِلَتِ» آدھے قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» چوتھائی قرآن کے برابر۔ [سنن ترمذي:2894،قال الشيخ الألباني:صحيح دون فضل زلزلت] یہ حدیث بھی غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابیوں میں سے ایک سے فرمایا: ”کیا تم نے نکاح کر لیا؟“ اس نے کہا: نہیں یا رسول اللہ ! میرے پاس اتنا ہے ہی نہیں جو میں اپنا نکاح کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تیرے ساتھ نہیں؟“ اس نے کہا: ہاں یہ تو ہے، فرمایا: ”تہائی قرآن یہ ہوا، «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» نہیں؟“ کہا: وہ بھی ہے، فرمایا: ”چوتھائی قرآن یہ ہوا، فرمایا: «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» یاد نہیں؟“ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”چوتھائی قرآن کے برابر یہ ہے، جا اب نکاح کر لے۔“ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف] یہ حدیث حسن ہے یہ تینوں حدیثیں صرف ترمذی میں ہیں۔
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» [22-الحج:1] یعنی ” لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» [84-الانشقاق:3-4] یعنی ” جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی “۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
10785
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں
معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ ۔ [طبرانی:4596:ضعیف]
یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔
یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ ۔ [صحیح مسلم:987]
10786
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح]
صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو ۔ [صحیح بخاری:1413]
اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے ۔ [مسند احمد:63/5:صحیح]
دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو ۔ [صحیح بخاری:2566]
اور حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو ۔ [مسند احمد:435/6]
مسند احمد کی حدیث میں ہے، اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ۔ [مسند احمد:70/6]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747]
ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
10787
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ ۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) ۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ]
سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10788
الزلزلة 99:7
تفسیر سورۃ الزلزلۃ:
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ ! مجھے پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الر» والی تین سورتیں پڑھو“، تو اس نے کہا بوڑھا ہو گیا، حافظہ کمزور ہو گیا، زبان موٹی ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا! «حم» والی سورتیں پڑھا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يسبح» والی تین سورتیں پڑھ لیا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے تو کوئی جامع سورت کا سبق دے دیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ سورت پڑھائی، جب پڑھا چکے تو وہ کہنے لگا، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں کبھی اس پر زیادتی نہ کروں گا پھر وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مرد نے فلاح پا لی یہ نجات کو پہنچ گیا۔“ پھر فرمایا: ”ذرا اسے بلاؤ“، وہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بقر عید کا حکم کیا گیا ہے اس دن کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کی عید کا دن بنایا ہے“ تو اس شخص نے کہا: اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور کسی شخص نے مجھے دودھ پینے کے لیے کوئی جانور تحفہً دے رکھا ہو تو کیا میں اس کو ذبح کر ڈالوں؟ فرمایا: ”نہیں! پھر تو اپنے بال کتروا، ناخن کٹوا، مونچھیں پست کرا، زیر ناف کے بال صاف کر، اللہ تعالیٰ عزوجل کے نزدیک تیری پوری قربانی یہی ہے۔“ [سنن ابوداود:1399،ضعيف] یہ حدیث مسند احمد، ابوداؤد نسائی میں بھی ہے۔
ترمذی شریف کی اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص اس سورت کو پڑھے اسے نصف قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔“ [سنن ترمذي:2893،قال الشيخ الألباني:حسن دون فضل زلزلت] یہ حدیث غریب ہے۔
اور روایت میں ہے «إِذَا زُلْزِلَتِ» آدھے قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» چوتھائی قرآن کے برابر۔ [سنن ترمذي:2894،قال الشيخ الألباني:صحيح دون فضل زلزلت] یہ حدیث بھی غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابیوں میں سے ایک سے فرمایا: ”کیا تم نے نکاح کر لیا؟“ اس نے کہا: نہیں یا رسول اللہ ! میرے پاس اتنا ہے ہی نہیں جو میں اپنا نکاح کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تیرے ساتھ نہیں؟“ اس نے کہا: ہاں یہ تو ہے، فرمایا: ”تہائی قرآن یہ ہوا، «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» نہیں؟“ کہا: وہ بھی ہے، فرمایا: ”چوتھائی قرآن یہ ہوا، فرمایا: «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» یاد نہیں؟“ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”چوتھائی قرآن کے برابر یہ ہے، جا اب نکاح کر لے۔“ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف] یہ حدیث حسن ہے یہ تینوں حدیثیں صرف ترمذی میں ہیں۔
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» [22-الحج:1] یعنی ” لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» [84-الانشقاق:3-4] یعنی ” جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی “۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
10785
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں
معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ ۔ [طبرانی:4596:ضعیف]
یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔
یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ ۔ [صحیح مسلم:987]
10786
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح]
صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو ۔ [صحیح بخاری:1413]
اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے ۔ [مسند احمد:63/5:صحیح]
دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو ۔ [صحیح بخاری:2566]
اور حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو ۔ [مسند احمد:435/6]
مسند احمد کی حدیث میں ہے، اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ۔ [مسند احمد:70/6]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747]
ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
10787
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ ۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) ۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ]
سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10788
الزلزلة 99:8
تفسیر سورۃ الزلزلۃ:
مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ ! مجھے پڑھائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «الر» والی تین سورتیں پڑھو“، تو اس نے کہا بوڑھا ہو گیا، حافظہ کمزور ہو گیا، زبان موٹی ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا! «حم» والی سورتیں پڑھا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «يسبح» والی تین سورتیں پڑھ لیا کرو۔“ اس نے پھر وہی عذر بیان کیا اور درخواست کی کہ یا رسول اللہ ! مجھے تو کوئی جامع سورت کا سبق دے دیجئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ سورت پڑھائی، جب پڑھا چکے تو وہ کہنے لگا، اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے کہ میں کبھی اس پر زیادتی نہ کروں گا پھر وہ پیٹھ پھیر کر جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس مرد نے فلاح پا لی یہ نجات کو پہنچ گیا۔“ پھر فرمایا: ”ذرا اسے بلاؤ“، وہ حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بقر عید کا حکم کیا گیا ہے اس دن کو اللہ تعالیٰ نے اس امت کی عید کا دن بنایا ہے“ تو اس شخص نے کہا: اگر میرے پاس قربانی کا جانور نہ ہو اور کسی شخص نے مجھے دودھ پینے کے لیے کوئی جانور تحفہً دے رکھا ہو تو کیا میں اس کو ذبح کر ڈالوں؟ فرمایا: ”نہیں! پھر تو اپنے بال کتروا، ناخن کٹوا، مونچھیں پست کرا، زیر ناف کے بال صاف کر، اللہ تعالیٰ عزوجل کے نزدیک تیری پوری قربانی یہی ہے۔“ [سنن ابوداود:1399،ضعيف] یہ حدیث مسند احمد، ابوداؤد نسائی میں بھی ہے۔
ترمذی شریف کی اور حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جو شخص اس سورت کو پڑھے اسے نصف قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔“ [سنن ترمذي:2893،قال الشيخ الألباني:حسن دون فضل زلزلت] یہ حدیث غریب ہے۔
اور روایت میں ہے «إِذَا زُلْزِلَتِ» آدھے قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تہائی قرآن کے برابر ہے اور «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» چوتھائی قرآن کے برابر۔ [سنن ترمذي:2894،قال الشيخ الألباني:صحيح دون فضل زلزلت] یہ حدیث بھی غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابیوں میں سے ایک سے فرمایا: ”کیا تم نے نکاح کر لیا؟“ اس نے کہا: نہیں یا رسول اللہ ! میرے پاس اتنا ہے ہی نہیں جو میں اپنا نکاح کر سکوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ» تیرے ساتھ نہیں؟“ اس نے کہا: ہاں یہ تو ہے، فرمایا: ”تہائی قرآن یہ ہوا، «إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ» نہیں؟“ کہا: وہ بھی ہے، فرمایا: ”چوتھائی قرآن یہ ہوا، فرمایا: «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» یاد نہیں؟“ کہا: ہاں۔ فرمایا: ”چوتھائی قرآن کے برابر یہ ہے، جا اب نکاح کر لے۔“ [سنن ترمذي:2895،قال الشيخ الألباني:ضعيف] یہ حدیث حسن ہے یہ تینوں حدیثیں صرف ترمذی میں ہیں۔
مرحلہ وار قیامت ٭٭
زمین اپنے نیچے سے اوپر تک کپکپانے لگے گی اور جتنے مردے اس میں ہیں سب نکال پھینکے گی۔ جیسے اور جگہ ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ» [22-الحج:1] یعنی ” لوگو اپنے رب سے ڈرو یقین مانو کہ قیامت کا زلزلہ اس دن کا بھونچال بڑی چیز ہے “۔
اور جگہ ارشاد ہے «وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ» * «وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ» [84-الانشقاق:3-4] یعنی ” جبکہ زمین کھینچ کھانچ کر برابر ہموار کر دی جائیگی اور اس میں جو کچھ ہے وہ اسے باہر ڈال دے گی اور بالکل خالی ہو جائیگی “۔
صحیح مسلم شریف میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”زمین اپنے کلیجے کے ٹکڑوں کو اگل دے گی، سونا چاندی مثل ستونوں کے باہر نکل پڑے گا، قاتل اسے دیکھ کر افسوس کرتا ہوا کہے گا کہ ہائے اسی مال کے لیے میں نے فلاں کو قتل کیا تھا، آج یہ یوں ادھر ادھر بکھر رہا ہے کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا بھی نہیں، اسی طرح صلہ رحمی توڑنے والا بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں آ کر رشتہ داروں سے میں سلوک نہیں کرتا تھا، چور بھی کہے گا کہ اسی کی محبت میں میں نے ہاتھ کٹوا دئیے تھے غرض وہ مال یونہی بکھرا پھرے گا کوئی نہیں لے گا“ [صحیح مسلم:1013] ، انسان اس وقت ہکا بکا رہ جائے گا اور کہے گا یہ تو ہلنے جلنے والی نہ تھی بلکہ ٹھہری ہوئی بوجھل اور جمی ہوئی تھی اسے کیا ہو گیا کہ یوں بید کی طرح تھرانے لگی اور ساتھ ہی جب دیکھے گا کہ تمام پہلی پچھلی لاشیں بھی زمین نے اگل دیں تو اور حیران و پریشان ہو جائے گا کہ آخر اسے کیا ہو گیا ہے؟ پس زمین بالکل بدل دی جائے گی اور آسمان بھی اور سب لوگ اس قہار اللہ کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے زمین کھلے طور پر صاف صاف گواہی دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں فلاں زیادتی اس شخص پر کی ہے۔
10785
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا: ”جانتے بھی ہو کہ زمین کی بیان کردہ خبریں کیا ہوں گی“، لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی کو علم ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جو جو اعمال بنی آدم نے زمین پر کیے ہیں وہ تمام وہ ظاہر کر دے گی کہ فلاں فلاں شخص نے فلاں نیکی یا بدی فلاں جگہ فلاں وقت کی ہے“ ۔ [سنن ترمذي:3353:قال الشيخ الألباني:ضعيف الإسناد] امام ترمذی اس حدیث کو حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں
معجم طبرانی میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ”زمین سے بچو یہ تمہاری ماں ہے جو شخص جو نیکی بدی اس پر کرتا ہے یہ سب کھول کھول کر بیان کر دے گی“ ۔ [طبرانی:4596:ضعیف]
یہاں «وحی» سے مراد حکم دینا ہے «اوحی» اور اس کے ہم معنی افعال کا صلہ حرف «لام» بھی آتا ہے «الی» بھی۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اسے فرمائے گا کہ بتا اور وہ بتاتی جائیگی اس دن لوگ حساب کی جگہ سے مختلف قسموں کی جماعتیں بن بن کر لوٹیں گے کوئی بد ہو گا کوئی نیک کوئی جنتی بنا ہو گا کوئی جہنمی۔
یہ معنی بھی ہیں کہ یہاں سے جو الگ الگ ہوں گے تو پھر اجتماع نہ ہو گا یہ اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کو جان لیں اور بھلائی برائی کا بدلہ پا لیں گے اسی لیے آخر میں بھی بیان فرما دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ گھوڑوں والے تین قسم کے ہیں، ایک اجر پانے والا، ایک پردہ پوشی والا اور ایک بوجھ اور گناہ والا اجر والا تو وہ ہے جو گھوڑا پالتا ہے جہاد کی نیت سے اگر اس کے گھوڑے کی اگاڑی پچھاڑی ڈھیلی ہو گئی اور یہ ادھر ادھر سے چرتا رہا تو یہ بھی گھوڑے والے کے لیے اجر کا باعث ہے اور اگر اس کی رسی ٹوٹ گئی اور یہ ادھر ادھر چلا گیا تو اس کے نشان قدم اور لید کا بھی اسے ثواب ملتا ہے اگر یہ کسی نہر پر جا کر پانی پی لے چاہے پلانے کا ارادہ نہ ہو تو بھی ثواب مل جاتا، یہ گھوڑا تو اس کے لیے سراسر اجر و ثواب ہے دوسرا وہ شخص جس نے اس لیے پال رکھا ہے کہ دوسروں سے بےپرواہ اور کسی سے سوال کی ضرورت نہ ہو لیکن اللہ کا حق نہ تو اس بارے میں بھولتا ہے نہ اس کی سواری میں پس یہ اس کے لیے پردہ ہے تیسرا وہ شخص ہے جس نے فخر و ریا کاری اور ظلم و ستم کے لیے پال رکھا ہے پس یہ اس کے ذمہ بوجھ اور اس پر گناہ کا بار ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گدھوں کے بارے میں کیا حکم ہے آپ نے فرمایا: ”مجھ پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سوائے تنہا اور جامع آیت کے اور کچھ نازل نہیں ہوا کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی ہر شخص دیکھ لے گا“ ۔ [صحیح مسلم:987]
10786
سیدنا صعصعہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ آیت سن کر کہہ دیا کہ صرف یہی آیت کافی ہے اور زیادہ اگر نہ بھی سنوں تو کوئی ضرورت نہیں۔ [مسند احمد:59/5:صحیح]
صحیح بخاری میں بروایت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ آگ سے بچو اگرچہ آدھی کھجور کا صدقہ ہی ہو ۔ [صحیح بخاری:1413]
اسی طرح صحیح حدیث میں ہے کہ نیکی کے کام کو ہلکا نہ سمجھو گو اتنا ہی کام ہو کہ تو اپنے ڈول میں سے ذرا سا پانی کسی پیاسے کو پلوا دے یا اپنے کسی مسلمان بھائی سے کشادہ روئی اور خندہ پیشانی سے ملاقات کر لے ۔ [مسند احمد:63/5:صحیح]
دوسری ایک صحیح حدیث میں ہے، اے ایمان والی عورتو! تم پڑوسن کے بھیجے ہوئے تحفے یا ہدئے کو حقیر نہ سمجھو گو ایک کھر ہی آیا ہو ۔ [صحیح بخاری:2566]
اور حدیث میں ہے کہ سائل کو کچھ نہ کچھ دے دو گو جلا ہوا کھر ہی ہو ۔ [مسند احمد:435/6]
مسند احمد کی حدیث میں ہے، اے عائشہ! گناہوں کو حقیر نہ سمجھو یاد رکھو کہ ان کا بھی حساب لینے والا ہے ۔ [مسند احمد:70/6]
ابن جریر میں ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے کہ یہ آیت اتری تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کھانے سے ہاتھ اٹھا لیا اور پوچھنے لگے کہ یا رسول اللہ! کیا میں ایک ایک ذرے برابر کا بدلہ دیا جاؤں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے صدیق دنیا میں جو جو تکلیفیں تمہیں پہنچی ہیں یہ تو اس میں آ گئیں اور نیکیاں تمہارے لیے اللہ کے ہاں ذخیرہ بنی ہوئی ہیں اور ان سب کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن تمہیں دیا جائے گا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37747]
ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سورت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی آپ اسے سن کر بہت روئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبب پوچھا: تو آپ نے فرمایا: مجھے یہ سورت رلا رہی ہے آپ نے فرمایا: ”اگر تم خطا اور گناہ نہ کرتے کہ تمہیں بخشا جائے اور معاف کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی اور امت کو پیدا کرتا جو خطا اور گناہ کرتے اور اللہ انہیں بخشتا“ ۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:37760:حسن]
10787
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ آیت سن کر پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا مجھے اپنے سب اعمال دیکھنے پڑیں گے آپ نے فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: بڑے بڑے، فرمایا: ”ہاں“، پوچھا: اور چھوٹے چھوٹے بھی، فرمایا: ”ہاں“، میں نے کہا، ہائے افسوس! آپ نے فرمایا: ”ابوسعید خوش ہو جاؤ، نیکی تو دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ تک اللہ جسے چاہے دے گا ہاں گناہ اسی کے مثل ہوں گے یا اللہ تعالیٰ اسے بھی بخش دے گا، سنو! کسی شخص کو صرف اس کے اعمال نجات نہ دے سکیں گے“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا: ”نہ مجھے ہی مگر یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے ڈھانپ لے“ ۔ (اسنادہ ضعیف: اس کی سند ابن لہیعہ کی وجہ سے ضعیف ہے ـ) اس کے راویوں میں ایک ابن لہیعہ ہیں یہ روایت صرف انہی سے مروی ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آیت «وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا» [76-الإنسان:8] نازل ہوئی یعنی مال کی محبت کے باوجود مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں تو لوگ یہ سمجھ گئے کہ اگر ہم تھوڑی سی چیز راہ اللہ دیں گے تو کوئی ثواب نہ ملے گا مسکین ان کے دروازے پر آتا لیکن ایک آدھ کھجور یا روٹی کا ٹکڑا وغیرہ دینے کو حقارت خیال کر کے یونہی لوٹا دیتے تھے کہ اگر دیں تو کوئی اچھی محبوب و مرغوب چیز دیں ادھر تو ایک جماعت یہ تھی، دوسری جماعت وہ تھی جنہیں یہ خیال پیدا ہو گیا تھا کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں پر ہماری پکڑ نہ ہو گی مثلا کبھی کوئی جھوٹ بات کہہ دی کبھی ادھر ادھر نظریں ڈال لیں، کبھی غیبت کر لی وغیرہ جہنم کی وعید تو کبیرہ گناہوں پر ہے تو یہ آیت «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» [99-الزلزلہ:7] نازل ہوئی۔ اور انہیں بتایا گیا کہ چھوٹی سی نیکی کو حقیر نہ سمجھو یہ بڑی ہو کر ملے گی اور تھوڑے سے گناہ کو بھی بےجان نہ سمجھو کہیں تھوڑا تھوڑا مل کر بہت نہ بن جائے «ذرہ» کے معنی چھوٹی چیونٹی کے ہیں، یعنی نیکیوں اور برائیوں کو چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لے گا بدی تو ایک ہی لکھی جاتی ہے نیکی ایک کے بدلے دس بلکہ جس کے لیے اللہ چاہے اس سے بھی بہت زیادہ بلکہ ان نیکیوں کے بدلے برائیاں بھی معاف ہو جاتی ہیں ایک ایک کے بدلے دس دس بدیاں معاف ہو جاتی ہیں پھر یہ بھی ہے کہ جس کی نیکی برائی سے ایک ذرے کے برابر بڑھ گئی وہ جنتی ہو گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”گناہوں کو ہلکا نہ سمجھا کرو یہ سب جمع ہو کر آدمی کو ہلاک کر ڈالتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان برائیوں کی مثال بیان کی کہ جیسے کچھ لوگ کسی جگہ اترے پھر ایک ایک دو دو لکڑیاں چن لائے تو لکڑیوں کا ڈھیر لگ جائے گا پھر اگر انہیں سلگایا جائے تو اس وقت اس آگ پر جو چاہیں پکا سکتے ہیں (اسی طرح تھوڑے تھوڑے گناہ بہت زیادہ ہو کر آگ کا کام کرتے ہیں اور انسان کو جلا دیتے ہیں) ۔ [مسند احمد:402/1:صحیح لغیرہ]
سورۃ اذازلزلت کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10788
العاديات 100:1
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
العاديات 100:2
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
العاديات 100:3
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
العاديات 100:4
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
العاديات 100:5
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
العاديات 100:6
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
العاديات 100:7
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
العاديات 100:8
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
العاديات 100:9
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
العاديات 100:10
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
العاديات 100:11
انسان کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
مجاہدین کے گھوڑے جبکہ اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے ہانپتے اور ہنہناتے ہوئے دوڑتے ہیں ان کی اللہ تبارک و تعالیٰ قسم کھاتا ہے پھر اس تیزی میں دوڑتے ہوئے پتھروں کے ساتھ ان کے نعل کا ٹکرانا اور اس رگڑ سے آگ کی چنگاڑیاں اڑنا پھر صبح کے وقت دشمن پر ان کا چھاپہ مارنا اور دشمنان رب کو تہہ و بالا کرنا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی عادت مبارک تھی کہ دشمن کی کسی بستی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے تو وہاں رات کو ٹھہر کر کان لگا کر سنتے اگر اذان کی آواز آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رک جاتے، نہ آتی تو لشکر کو حکم دیتے کہ بزن بول دیں ۔ [صحیح مسلم:382]
پھر ان گھوڑوں کا گردو غبار اڑانا اور ان سب کا دشمنوں کے درمیان گھس جانا ان سب چیزوں کی قسم کھا کر پھر مضمون شروع ہوتا ہے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «وَالْعَادِيَاتِ» سے مراد اونٹ ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں۔
10796
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول کہ ”اس سے مراد گھوڑے ہیں“، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا: ”گھوڑے ہمارے بدر والے دن تھے ہی کب، یہ تو اس چھوٹے لشکر میں تھے جو بھیجا گیا تھا۔“
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک مرتبہ حطیم میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر اس آیت کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو بوقت جہاد دشمنوں پر دھاوا بولتے ہیں پھر رات کے وقت یہ گھڑ سوار مجاہد اپنے کیمپ میں آ کر کھانے پکانے کے لیے آگ جلاتے ہیں۔“ وہ یہ پوچھ کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا آپ اس وقت زمزم کا پانی لوگوں کو پلا رہے تھے اس نے آپ سے بھی یہی سوال کیا آپ نے فرمایا: ”مجھ سے پہلے کسی اور سے بھی تم نے پوچھا ہے؟“ کہا ہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ہے تو انہوں نے فرمایا ”مجاہدین کے گھوڑے ہیں جو اللہ کی راہ میں دھاوا بولیں۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جانا ذرا انہیں میرے پاس بلانا“، جب وہ آ گئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں معلوم نہیں اور تم لوگوں کو فتوے دے رہے ہو، اللہ کی قسم پہلا غزوہ اسلام میں بدر کا ہوا اس لڑائی میں ہمارے ساتھ صرف دو گھوڑے تھے ایک زبیر رضی اللہ عنہ کا دوسرا مقداد رضی اللہ عنہ کا، تو «عَادِيَاتِ ضَبْحًا» یہ کیسے ہو سکتے ہیں اس سے مراد تو عرفات سے مزدلفہ کی طرف جانے والے اور پھر مزدلفہ سے منیٰ کی طرف جانے والے ہیں۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”یہ سن کر میں نے اپنے اگلے قول سے رجوع کر لیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا تھا وہی کہنے لگا۔“ [تفسیر ابن جریر الطبری:272/30:حسن]
مزدلفہ میں پہنچ کر حاجی بھی اپنی ہنڈیا روٹی کے لیے آگ سلگاتے ہیں، غرض سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فرمان یہ ہوا کہ اس سے مراد اونٹ ہیں اور یہی قول ایک جماعت کا ہے۔ جن میں ابراہیم عبید بن عمیر وغیرہ ہیں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما سے گھوڑے مروی ہیں۔
10797
مجاہد، عکرمہ، عطاء، قتادہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم بھی یہی کہتے ہیں اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں بلکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطا رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ «ضَبْحً» یعنی ہانپنا کسی جانور کے لیے نہیں ہوتا سوائے گھوڑے اور کتے کے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”ان کے منہ سے ہانپتے ہوئے جو آواز (اح اح) کی نکلتی ہے یہی «ضَبْحً» ہے اور دوسرے جملے کے ایک تو معنی یہ کیے گئے ہیں کہ ان گھوڑوں کی ٹاپوں کا پتھر سے ٹکرا کر آگ پیدا کرنا اور دوسرے معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ ان کے سواروں کا لڑائی کی آگ کو بھڑکانا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لڑائی میں مکر و دھوکہ کرنا اور یہ بھی مروی ہے کہ راتوں کو اپنی قیام گاہ پر پہنچ کر آگ روشن کرنا اور مزدلفہ میں حاجیوں کا بعد از مغرب پہنچ کر آگ جلانا۔
10798
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میرے نزدیک سب سے زیادہ ٹھیک قول یہی ہے کہ گھوڑوں کی ٹاپوں اور سموں کا پتھر سے رگڑ کھا کر آگ پیدا کرنا پھر صبح کے وقت مجاہدین کا دشمنوں پر اچانک ٹوٹ پڑنا“، اور جن صاحبان نے اس سے مراد اونٹ لیے ہیں وہ فرماتے ہیں ”اس سے مراد مزدلفہ سے منیٰ کی طرف صبح کو جانا ہے۔“
پھر یہ سب کہتے ہیں کہ پھر ان کا جس مکان میں یہ اترے ہیں خواہ جہاد میں ہوں، خواہ حج میں غبار اڑانا، پھر ان مجاہدین کا کفار کی فوجوں میں مردانہ گھس جانا اور چیرتے پھاڑتے مارتے پچھاڑتے ان کے بیچ لشکر میں پہنچ جانا اور یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ سب جمع ہو کر اس جگہ درمیان میں آ جاتے ہیں تو اس صورت میں «جَمْعاً» حال موکد ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گا
ابوبکر بزار میں اس جگہ ایک غریب حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تھا ایک مہینہ گزر گیا لیکن اس کی کوئی خبر نہ آئی اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس لشکر کی اللہ تعالیٰ نے خبر دی کہ ان کے گھوڑے ہانپتے ہوئے تیز چال سے گئے ان کے سموں کی ٹکر سے چنگاڑیاں اڑ رہی تھیں انہوں نے صبح ہی صبح دشمنوں پر پوری یلغار کے ساتھ حملہ کر دیا ان کی ٹاپوں سے گرد اڑ رہی تھی پھر غالب آ کر سب جمع ہو کر بیٹھ گئے ۔ [مسند بزار:2291:ضعیف]
ان قسموں کے بعد اب وہ مضمون بیان ہو رہا ہے جس پر قسمیں کھائیں گئی تھیں کہ انسان اپنے رب کی نعمتوں کا قدردان نہیں اگر کوئی دکھ درد کسی وقت آ گیا ہے تو وہ تو بخوبی یاد رکھتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی ہزارہا نعمتیں جو ہیں سب کو بھلائے ہوئے ہے۔
10799
ابن ابی حاتم کی حدیث میں ہے کہ «کَنُوْد» وہ ہے جو تنہا کھائے غلاموں کو مارے اور آسان سلوک نہ کرے ۔ [طبرانی:3778:مرفوعا ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔
پھر فرمایا ” اللہ اس پر شاہد ہے “ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود اس بات پر اپنا گواہ آپ ہے اس کی ناشکری اس کے افعال و اقوال سے صاف ظاہر ہے۔
جیسے اور جگہ ہے «مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّـهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ» [9-التوبة:17] یعنی ” مشرکین سے اللہ تعالیٰ کی مسجدوں کی آبادی نہیں ہو سکتی جبکہ یہ اپنے فکر کے آپ گواہ ہیں “۔
پھر فرمایا ” یہ مال کی چاہت میں بڑا سخت ہے “ یعنی اسے مال کی بے حد محبت ہے اور یہ بھی معنی ہیں کہ اس کی محبت میں پھنس کر ہماری راہ میں دینے سے جی چراتا اور بخل کرتا ہے۔ پھر پروردگار عالم اسے دنیا سے بے رغبت کرنے اور آخرت کی طرف متوجہ کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ کیا انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ایک وقت وہ آ رہا ہے کہ جب تمام مردے قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے اور جو کچھ باتیں چھپی لگی ہوئی تھیں سب ظاہر ہو جائیں گی، سن لو ان کا رب ان کے تمام کاموں سے باخبر ہے اور ہر ایک عمل کا بدلہ پورا پورا دینے والا ہے ایک ذرے کے برابر ظلم وہ روا نہیں رکھتا اور نہ رکھے۔
سورۃ العادیات کی تفسیر اللہ کے فضل و احسان سے ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10800
القارعة 101:1
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
القارعة 101:2
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
القارعة 101:3
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
القارعة 101:4
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
القارعة 101:5
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
القارعة 101:6
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
القارعة 101:7
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
القارعة 101:8
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
القارعة 101:9
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
القارعة 101:10
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
القارعة 101:11
اعمال کا ترازو ٭٭
«قارعہ» بھی قیامت کا ایک نام ہے جیسے «الْحَاقَّةِ»، «الطَّامَّةِ»، «الصَّاخَّةِ»، «الْغَاشِيَةِ» وغیرہ اس کی بڑائی اور ہولناکی کے بیان کے لیے سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے؟ اس کا علم بغیر میرے بتائے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، پھر خود بتاتا ہے کہ اس دن لوگ منتشر اور پراگندہ حیران و پریشان ادھر ادھر گھوم رہے ہوں گے، جس طرح پروانے ہوتے ہیں۔
اور جگہ فرمایا ہے «كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنتَشِرٌ» [54-القمر:7] گویا وہ ٹڈیاں ہیں پھیلی ہوئیں۔
پھر فرمایا: پہاڑوں کا یہ حال ہو گا کہ وہ دھنی ہوئی اون کی طرح ادھر ادھر اڑتے نظر آئیں گے، پھر فرماتا ہے اس دن ہر نیک و بد کا انجام ظاہر ہو جائے گا، نیکوں کی بزرگی اور بروں کی اہانت کھل جائے گی، جس کی نیکیاں وزن میں برائیوں سے بڑھ گئیں وہ عیش و آرام کی زندگی جنت میں بسر کرے گا، اور جس کی بدیاں نیکیوں پر چھا گئیں، بھلائیوں کا پلڑا ہلکا ہو گیا وہ جہنمی ہو جائے گا، وہ منہ کے بل اوندھا جہنم میں گرا دیا جائے گا۔ «ام» سے مراد دماغ ہے یعنی سر کے بل «ہاویہ» میں جائے گا اور یہ بھی معنی ہیں کہ فرشتے جہنم میں اس کے سر پر عذابوں کی بارش برسائیں گے اور یہ بھی مطلب ہے کہ اس کا اصلی ٹھکانا وہ جگہ ہے جہاں اس کے لیے قرار گاہ مقرر کیا گیا ہے وہ جہنم ہے۔
«هَاوِيَةٌ» جہنم کا نام ہے اسی لیے اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں نہیں معلوم کہ «ہاویہ» کیا ہے؟ اب میں بتاتا ہوں کہ وہ شعلے مارتی بھڑکتی ہوئی آگ ہے۔
10811
اشعث بن عبداللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مومن کی موت کے بعد فرشے اس کی روح کو ایمانداروں کی روحوں کی طرف لے جاتے ہیں اور فرتے ان سے کہتے ہیں کہ اپنے بھائی کی دلجوئی اور تسکین کرو یہ دنیا کے رنج و غم میں مبتلا تھا، اب وہ نیک روحیں اس سے پوچھتی ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ وہ کہتا ہے کہ وہ تو مر چکا تمہارے پاس نہیں آیا تو یہ سمجھ لیتے ہیں اور کہتے ہیں پھونکو اسے وہ تو اپنی ماں «ہاویہ» میں پہنچا۔
ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں یہ بیان خوب سبط سے ہے اور ہم نے بھی اسے کتاب «صفتہ النار» میں وارد کیا ہے، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و کرم سے اس آگ جہنم سے نجات دے، آمین!
پھر فرماتا ہے کہ وہ سخت تیز حرارت والی آگ ہے بڑے شعلے مارنے والی جھلسا دینے والی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہاری یہ آگ تو اس کا سترھواں حصہ ہے“، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہلاکت کو تو یہی کافی ہے، آپ نے فرمایا: ”ہاں، لیکن آتش دوزخ تو اس سے انہتر حصے تیز ہے“ ۔ صحیح بخاری میں یہ حدیث ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ ہر ایک حصہ اس آگ جیسا ہے ۔ [صحیح بخاری:3265] مسند احمد میں بھی یہ روایت موجود ہے۔ [مسند احمد:467/2:صحیح]
مسند احمد کی ایک حدیث میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ یہ آگ باوجود اس آگ کا سترھواں حصہ ہونے کے پھر بھی دو مرتبہ سمندر کے پانی میں بجھا کر بھیجی گئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اس سے بھی نفع نہ اٹھا سکتے ۔ [مسند احمد:244/2:صحیح]
اور حدیث میں ہے یہ آگ سوواں حصہ ہے ۔ [مسند احمد:379/2:اسنادہ قوی]
طبرانی میں ہے جانتے ہو کہ تمہاری اس آگ اور جہنم کی آگ کے درمیان کیا نسبت ہے؟ تمہاری اس آگ کے دھوئیں سے بھی ستر حصہ زیادہ سیاہ خود وہ آگ ہے ۔ [طبرانی اوسط:489:صحیح]
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث ہے کہ جہنم کی آگ ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سرخ ہوئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سفید ہو گئی پھر ایک ہزار سال تک جلائی گئی تو سیاہ ہو گئی، پس وہ سخت سیاہ اور بالکل اندھیرے والی ہے ۔ [سنن ابن ماجہ:4320،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
10812
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ سب سے ہلکے عذاب والا جہنمی وہ ہے، جس کے پیروں میں آگ کی دو جوتیاں ہوں گی، جس سے اس کا دماغ کھدبدا رہا ہو گا ۔ [مسند احمد:432/2:صحیح لغیرہ]
بخاری و مسلم میں ہے کہ آگ نے اپنے رب سے شکایت کی کہ اے اللہ! میرا ایک حصہ دوسرے کو کھائے جا رہا ہے تو پروردگار نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی ایک جاڑے میں، ایک گرمی میں، پس سخت جاڑا جو تم پاتے ہو اس کا سرد سانس ہے اور سخت گرمی جو پڑتی ہے یہ اس کے گرم سانس کا اثر ہے ۔ [صحیح بخاری:3657]
اور حدیث میں ہے کہ جب گرمی شدت کی پڑے تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو گرمی کی سختی جہنم کے جوش کی وجہ سے ہے ۔ [صحیح بخاری:536]
«الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ القارعہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
10813
التكاثر 102:1
مال و دولت اور اعمال ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت، اس کے پا لینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کر دیا، تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آ گئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کر لی اور مرتے دم تک غفلت برتی“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف ولا اصل لہ]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَم وَادٍ مِنْ ذَهَب» یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو ۔ [صحیح بخاری:6440] اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» [102-التكاثر:1] نازل ہوئی۔
10824
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آیا تو آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال صرف وہ ہے جسے تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پھاڑ دیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا“ ۔ [صحیح مسلم:2958]
صحیح مسلم میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو لوگوں کے لیے چھوڑ چھاڑ کر چل دے گا ۔ [صحیح مسلم:2959]
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں جن میں سے دو تو پلٹ آتی ہیں صرف ایک ساتھ رہ جاتی ہے، گھر والے، مال اور اعمال۔ اہل و مال لوٹ آئے عمل ساتھ رہ گئے ۔ [صحیح بخاری:6514]
مسند احمد کی حدیث میں ہے ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہیں لالچ اور امنگ ۔ [صحیح بخاری:6421]
ضحاک رحمہ اللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا میرا، فرمایا: تیرا تو اس وقت ہو گا کہ کسی نیک کام میں تو خرچ کر دے یا بطور شکر رب کے خرچ کر۔ احنف رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو بیان کر کے پھر یہ شعر پڑھا: «أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَكْته *** فَإِذَا أَنْفَقْته فَالْمَال لَك» یعنی ”جب کہ تو مال کو لیے بیٹھا ہے، تو تو مال کی ملکیت ہے ہاں جب اسے خرچ کر دے گا اس وقت مال تیری ملکیت میں ہو جائے گا۔“
10825
ابن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بنو حارثہ اور بنو حارث انصار کے قبائل آپس میں فخر و غرور کرنے لگے ایک کہتا دیکھو ہم میں فلاں شخص ایسا بہادر ایسا جیوٹ یا اتنا بڑا مالدار وغیرہ ہے، دوسرے قبیلے والے اپنے میں سے ایسوں کو پیش کرتے تھے جب زندوں کے ساتھ یہ فخر و مباہات کر چکے تو کہنے لگے آؤ قبرستان میں چلیں وہاں جا کر اپنے اپنے مردوں کی قبروں کی طرف اشارے کر کے کہنے لگے بتلاؤ اس جیسا بھی تم میں کوئی گزرا ہے؟ وہ انہیں اپنے مردوں کے ساتھ الزام دینے لگے اس پر یہ دونوں ابتدائی آیتیں اتریں کہ تم فخر و مباہات کرتے ہوئے قبرستان میں پہنچ گئے اور اپنے مردوں پر بھی فخر و غرور کرنے لگے، چاہیئے تھا کہ یہاں آ کر عبرت حاصل کرتے اپنا مرنا اور سڑنا گلنا یاد کرتے۔
10826
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی زیادتی اور اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک ہو کر قبروں میں پہنچ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ بہتات کی چاہت نے غفلت میں ہی رکھا یہاں تک کہ مر گئے اور قبروں میں دفن ہو گئے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی بیمار پرسی کو گئے اور حسب عادت فرمایا: ”کوئی ڈر خوف نہیں ان شاءاللہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہو گی“، تو اس نے کہا: آپ اسے خوب پاک بتلا رہے ہیں یہ تو وہ بخار ہے جو بوڑھے بڑوں پر جوش مارتا ہے اور قبرستان تک پہنچا کر رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا پھر یوں ہی سہی“ ۔ [صحیح بخاری:5656]
اس حدیث میں بھی لفظ «تُزِيرهُ الْقُبُور» ہے اور یہاں قرآن میں بھی «زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مر کر قبر میں دفن ہونا ہی ہے۔
ترمذی میں ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب تک یہ آیت نہ اتری ہم عذاب قبر کے بارے میں شک میں ہی رہے ۔ [سنن ترمذي:3355،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر کچھ دیر سوچ کر فرمانے لگے: میمون! قبروں کا دیکھنا تو صرف بطور زیارت ہے اور ہر زیارت کرنے والا اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے یعنی خواہ جنت کی طرف خواہ دوزخ کی طرف، ایک اعرابی نے بھی ایک شخص کی زبانی ان دونوں آیتوں کی تلاوت سن کر یہی فرمایا تھا کہ اصل مقام اور ہی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دھمکاتے ہوئے دو دو مرتبہ فرماتا ہے کہ حقیقت حال کا علم تمہیں ابھی ہو جائے گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراد کفار ہیں دوبارہ مومن مراد ہیں پھر فرماتا ہے کہ اگر تم علم یقینی کے ساتھ اسے معلوم کر لیتے یعنی اگر ایسا ہوتا تو تم غفلت میں نہ پڑتے اور مرتے دم تک اپنی آخری منزل آخرت سے غافل نہ رہتے پھر جس چیز سے پہلے دھمکایا تھا اسی کا بیان کر رہا ہے کہ تم جہنم کو ان آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کی ایک ہی جنبش کے ساتھ اور تو اور انبیاء علیہم السلام بھی ہیبت و خوف کے مارے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے، اس کی عظمت اور دہشت ہر دل پر چھائی ہوئی ہو گی، جیسے کہ بہت سی احادیث میں بہ تفصیل مروی ہے۔
10827
پھر فرمایا کہ اس دن تم سے نعمتوں کی باز پرس ہو گی، صحت، امن، رزق وغیرہ تمام نعمتوں کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کا شکر کہاں تک ادا کیا۔
ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ ٹھیک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے چلے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسجد میں آ رہے ہیں پوچھا: کہ ”اس وقت کیسے نکلے ہو؟“ کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے بھی نکالا ہے، اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ان سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال کیا اور آپ نے بھی یہی جواب دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے باتیں کرنی شروع کیں، پھر فرمایا: ”اگر ہمت ہو تو اس باغ تک چلے چلو کھانا پینا مل ہی جائے گا اور سائے دار جگہ بھی، ہم نے کہا بہت اچھا“، پس آپ ہمیں لے کر سیدنا ابوالہیشم انصاری رضی اللہ عنہ کے باغ کے دروازہ پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور اجازت چاہی، سیدہ ام ہیثم انصاریہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے ہی کھڑی تھیں سن رہی تھیں لیکن اونچی آواز سے جواب نہیں دیا اور اس لالچ سے کہ اللہ کے رسول اور زیادہ سلامتی کی دعا کریں اور کئی کئی مرتبہ آپ کا سلام سنیں جب تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر چکے اور کوئی جواب نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے دئیے، اب تو ابوالہیشم کی بیوی صاحبہ دوڑیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی آواز سن رہی تھی لیکن میرا ارادہ تھا کہ اللہ کرے آپ کئی کئی مرتبہ سلام کریں اس لیے میں نے اپنی آواز آپ کو نہ سنائی، آپ آئیے تشریف لے چلئے، آپ نے ان کے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا پھر پوچھا کہ خود ابوالہیشم کہاں ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! وہ بھی یہیں قریب ہی پانی لینے گئے ہیں، آپ تشریف لائیے، ان شاءاللہ آتے ہی ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں رونق افروز ہوئے، مائی صاحبہ نے ایک سایہ دار درخت تلے کچھ بچھا دیا جس پر آپ بیٹھ گئے، اتنے میں ہی ابوالہیشم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے بےحد خوش ہوئے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون نصیب ہوا اور جلدی جلدی ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گئے اور اچھے اچھے خوشے اتار اتار کر دینے لگے یہاں تک کہ خود آپ نے روک دیا، صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! گیلی اور تر اور بالکل پکی اور جس طرح کی چاہیں تناول فرمائیں، جب کھجوریں کھا چکے تو میٹھا پانی لائے جسے پیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے ۔ [اسنادہ ضعیف]
10828
ابن جریر کی اسی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا کہ ”یہاں کیسے بیٹھے ہو؟“ دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک کے مارے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہیں، فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بھی اسی وجہ سے اس وقت نکلا ہوں“ اب آپ انہیں لے کر چلے اور ایک انصاری کے گھر آئے ان کی بیوی صاحبہ مل گئیں پوچھا کہ ”تمہارے میاں کہاں گئے ہیں؟“ کہا: گھر کے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، اتنے میں تو وہ مشک اٹھائے ہوئے آ ہی گئے، خوش ہو گئے اور کہنے لگے مجھ جیسا خوش قسمت آج کوئی بھی نہیں جس کے گھر اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں، مشک تو لٹکا دی اور خود جا کر کھجوروں کے تازہ تازہ خوشے لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چن چن کر الگ کر کے لاتے“ تو جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ اپنی طبیعت کے مطابق اپنی پسند سے چن لیں اور نوش فرمائیں، پھر چھری ہاتھ میں اٹھائی کہ کوئی جانور ذبح کر کے گوشت پکائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ دینے والے جانور ذبح نہ کرنا“ چنانچہ اس نے ذبیحہ کیا آپ نے وہیں کھانا کیا، پھر فرمانے لگے: ”دیکھو! بھوکے گھر سے نکلے اور پیٹ بھرے جا رہے ہیں یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا“ [صحیح مسلم:2038]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد غلام سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی میں نکلا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا پھر کسی انصاری کے باغ میں گئے اور اس سے فرمایا:”لاؤ بھائی کھانے کو دو“، وہ انگور کے خوشے اٹھا لائے اور آپ کے سامنے رکھ دئیے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھائے، پھر فرمایا: ”ٹھنڈا پانی پلاؤ“، وہ لائے آپ نے پیا پھر فرمانے لگے: ”قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خوشہ اٹھا کر زمین پر دے مارا اور کہنے لگے اس کے بارے میں بھی اللہ کے ہاں پرسش ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں صرف تین چیزوں کی پرسش نہیں۔ پردہ پوشی کے لائق کپڑا، بھوک روکنے کے قابل ٹکڑا اور سردی گرمی میں سر چھپانے کے لیے مکان“ ۔ [ مسند احمد:81/5:حسن]
10829
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے ہم سے کس نعمت کا سوال ہو گا؟ کھجوریں کھا رہے ہیں اور پانی پی رہے ہیں، تلواریں گردنوں میں لٹکا رہے ہیں اور دشمن سر پر کھڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھبراؤ نہیں عنقریب نعمتیں آ جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:429/5:حسن]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نہائے ہوئے معلوم ہوتے تھے ہم نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت تو آپ خوش و خرم نظر آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر لوگ تونگری کا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اس کے لیے تونگری کوئی بری چیز نہیں اور یاد رکھو متقی شخص کے لیے صحت تونگری سے بھی اچھی ہے اور خوش نفسی بھی اللہ کی نعمت ہے“ ۔ [مسند احمد::375/5:صحیح] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
10830
ترمذی شریف میں ہے نعمتوں کے سوال میں قیامت والے دن سب سے پہلے یہ کہا جائے گا کہ ہم نے تجھے صحت نہیں دی تھی اور ٹھنڈے پانی سے تجھے آسودہ نہیں کیا کرتے تھے؟ [سنن ترمذي:3358،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ اس آیت «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [102-التكاثر:8] کو سنا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم تو جو کی روٹی اور وہ بھی آدھا پیٹ کھا رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ کیا تم پیر بچانے کے لیے جوتیاں نہیں پہنتے اور کیا تم ٹھنڈے پانی نہیں پیتے؟ یہی قابل پرسش نعمتیں ہیں ۔ [الدر المنثور السیوطی:661/6:اسنادہ ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امن اور صحت کے بارے میں سوال ہو گا [تفسیر ابن جریر الطبری:285/30:اسنادہ ضعیف] پیٹ بھر کھانے ٹھنڈے پانی سائے دار گھروں میٹھی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ ضعیف]
شہد پینے، لذت حاصل کرنے، صبح و شام کے کھانے، گھی شہد اور میدے کی روٹی وغیرہ، غرض ان تمام نعمتوں کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بدن کی صحت، کانوں اور آنکھوں کی صحت کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ ان طاقتوں سے کیا کیا کام کیے۔
10831
جیسے قرآن کریم میں ہے «إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا» [17-الاسراء:36] یعنی ” ہر شخص سے اس کے کان، اس کی آنکھ اور اس کے دل کے بارے میں بھی پوچھ ہو گی “۔
صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے دو نعمتوں کے بارے میں لوگ بہت ہی غفلت برت رہے ہیں۔ صحت اور فراغت ۔ [صحیح بخاری:6421] یعنی نہ تو ان کا پورا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو جانتے ہیں نہ انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق صرف کرتے ہیں۔
مسند بزار میں ہے تہ بند کے سوا، سائے دار دیواروں کے سوا اور روٹی کے ٹکڑے کے سوا ہر چیز کا قیامت کے دن حساب دینا پڑے گا ۔ [مسند بزار:3643:ضعیف]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن کہے گا، اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار کرایا۔ عورتیں تیرے نکاح میں دیں تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے اب بتا کہ اس کا شکریہ کہاں ہے ؟ [صحیح مسلم:2968]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ اتکاثر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10832
التكاثر 102:2
مال و دولت اور اعمال ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت، اس کے پا لینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کر دیا، تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آ گئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کر لی اور مرتے دم تک غفلت برتی“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف ولا اصل لہ]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَم وَادٍ مِنْ ذَهَب» یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو ۔ [صحیح بخاری:6440] اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» [102-التكاثر:1] نازل ہوئی۔
10824
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آیا تو آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال صرف وہ ہے جسے تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پھاڑ دیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا“ ۔ [صحیح مسلم:2958]
صحیح مسلم میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو لوگوں کے لیے چھوڑ چھاڑ کر چل دے گا ۔ [صحیح مسلم:2959]
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں جن میں سے دو تو پلٹ آتی ہیں صرف ایک ساتھ رہ جاتی ہے، گھر والے، مال اور اعمال۔ اہل و مال لوٹ آئے عمل ساتھ رہ گئے ۔ [صحیح بخاری:6514]
مسند احمد کی حدیث میں ہے ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہیں لالچ اور امنگ ۔ [صحیح بخاری:6421]
ضحاک رحمہ اللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا میرا، فرمایا: تیرا تو اس وقت ہو گا کہ کسی نیک کام میں تو خرچ کر دے یا بطور شکر رب کے خرچ کر۔ احنف رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو بیان کر کے پھر یہ شعر پڑھا: «أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَكْته *** فَإِذَا أَنْفَقْته فَالْمَال لَك» یعنی ”جب کہ تو مال کو لیے بیٹھا ہے، تو تو مال کی ملکیت ہے ہاں جب اسے خرچ کر دے گا اس وقت مال تیری ملکیت میں ہو جائے گا۔“
10825
ابن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بنو حارثہ اور بنو حارث انصار کے قبائل آپس میں فخر و غرور کرنے لگے ایک کہتا دیکھو ہم میں فلاں شخص ایسا بہادر ایسا جیوٹ یا اتنا بڑا مالدار وغیرہ ہے، دوسرے قبیلے والے اپنے میں سے ایسوں کو پیش کرتے تھے جب زندوں کے ساتھ یہ فخر و مباہات کر چکے تو کہنے لگے آؤ قبرستان میں چلیں وہاں جا کر اپنے اپنے مردوں کی قبروں کی طرف اشارے کر کے کہنے لگے بتلاؤ اس جیسا بھی تم میں کوئی گزرا ہے؟ وہ انہیں اپنے مردوں کے ساتھ الزام دینے لگے اس پر یہ دونوں ابتدائی آیتیں اتریں کہ تم فخر و مباہات کرتے ہوئے قبرستان میں پہنچ گئے اور اپنے مردوں پر بھی فخر و غرور کرنے لگے، چاہیئے تھا کہ یہاں آ کر عبرت حاصل کرتے اپنا مرنا اور سڑنا گلنا یاد کرتے۔
10826
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی زیادتی اور اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک ہو کر قبروں میں پہنچ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ بہتات کی چاہت نے غفلت میں ہی رکھا یہاں تک کہ مر گئے اور قبروں میں دفن ہو گئے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی بیمار پرسی کو گئے اور حسب عادت فرمایا: ”کوئی ڈر خوف نہیں ان شاءاللہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہو گی“، تو اس نے کہا: آپ اسے خوب پاک بتلا رہے ہیں یہ تو وہ بخار ہے جو بوڑھے بڑوں پر جوش مارتا ہے اور قبرستان تک پہنچا کر رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا پھر یوں ہی سہی“ ۔ [صحیح بخاری:5656]
اس حدیث میں بھی لفظ «تُزِيرهُ الْقُبُور» ہے اور یہاں قرآن میں بھی «زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مر کر قبر میں دفن ہونا ہی ہے۔
ترمذی میں ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب تک یہ آیت نہ اتری ہم عذاب قبر کے بارے میں شک میں ہی رہے ۔ [سنن ترمذي:3355،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر کچھ دیر سوچ کر فرمانے لگے: میمون! قبروں کا دیکھنا تو صرف بطور زیارت ہے اور ہر زیارت کرنے والا اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے یعنی خواہ جنت کی طرف خواہ دوزخ کی طرف، ایک اعرابی نے بھی ایک شخص کی زبانی ان دونوں آیتوں کی تلاوت سن کر یہی فرمایا تھا کہ اصل مقام اور ہی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دھمکاتے ہوئے دو دو مرتبہ فرماتا ہے کہ حقیقت حال کا علم تمہیں ابھی ہو جائے گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراد کفار ہیں دوبارہ مومن مراد ہیں پھر فرماتا ہے کہ اگر تم علم یقینی کے ساتھ اسے معلوم کر لیتے یعنی اگر ایسا ہوتا تو تم غفلت میں نہ پڑتے اور مرتے دم تک اپنی آخری منزل آخرت سے غافل نہ رہتے پھر جس چیز سے پہلے دھمکایا تھا اسی کا بیان کر رہا ہے کہ تم جہنم کو ان آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کی ایک ہی جنبش کے ساتھ اور تو اور انبیاء علیہم السلام بھی ہیبت و خوف کے مارے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے، اس کی عظمت اور دہشت ہر دل پر چھائی ہوئی ہو گی، جیسے کہ بہت سی احادیث میں بہ تفصیل مروی ہے۔
10827
پھر فرمایا کہ اس دن تم سے نعمتوں کی باز پرس ہو گی، صحت، امن، رزق وغیرہ تمام نعمتوں کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کا شکر کہاں تک ادا کیا۔
ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ ٹھیک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے چلے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسجد میں آ رہے ہیں پوچھا: کہ ”اس وقت کیسے نکلے ہو؟“ کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے بھی نکالا ہے، اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ان سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال کیا اور آپ نے بھی یہی جواب دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے باتیں کرنی شروع کیں، پھر فرمایا: ”اگر ہمت ہو تو اس باغ تک چلے چلو کھانا پینا مل ہی جائے گا اور سائے دار جگہ بھی، ہم نے کہا بہت اچھا“، پس آپ ہمیں لے کر سیدنا ابوالہیشم انصاری رضی اللہ عنہ کے باغ کے دروازہ پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور اجازت چاہی، سیدہ ام ہیثم انصاریہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے ہی کھڑی تھیں سن رہی تھیں لیکن اونچی آواز سے جواب نہیں دیا اور اس لالچ سے کہ اللہ کے رسول اور زیادہ سلامتی کی دعا کریں اور کئی کئی مرتبہ آپ کا سلام سنیں جب تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر چکے اور کوئی جواب نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے دئیے، اب تو ابوالہیشم کی بیوی صاحبہ دوڑیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی آواز سن رہی تھی لیکن میرا ارادہ تھا کہ اللہ کرے آپ کئی کئی مرتبہ سلام کریں اس لیے میں نے اپنی آواز آپ کو نہ سنائی، آپ آئیے تشریف لے چلئے، آپ نے ان کے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا پھر پوچھا کہ خود ابوالہیشم کہاں ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! وہ بھی یہیں قریب ہی پانی لینے گئے ہیں، آپ تشریف لائیے، ان شاءاللہ آتے ہی ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں رونق افروز ہوئے، مائی صاحبہ نے ایک سایہ دار درخت تلے کچھ بچھا دیا جس پر آپ بیٹھ گئے، اتنے میں ہی ابوالہیشم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے بےحد خوش ہوئے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون نصیب ہوا اور جلدی جلدی ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گئے اور اچھے اچھے خوشے اتار اتار کر دینے لگے یہاں تک کہ خود آپ نے روک دیا، صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! گیلی اور تر اور بالکل پکی اور جس طرح کی چاہیں تناول فرمائیں، جب کھجوریں کھا چکے تو میٹھا پانی لائے جسے پیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے ۔ [اسنادہ ضعیف]
10828
ابن جریر کی اسی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا کہ ”یہاں کیسے بیٹھے ہو؟“ دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک کے مارے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہیں، فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بھی اسی وجہ سے اس وقت نکلا ہوں“ اب آپ انہیں لے کر چلے اور ایک انصاری کے گھر آئے ان کی بیوی صاحبہ مل گئیں پوچھا کہ ”تمہارے میاں کہاں گئے ہیں؟“ کہا: گھر کے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، اتنے میں تو وہ مشک اٹھائے ہوئے آ ہی گئے، خوش ہو گئے اور کہنے لگے مجھ جیسا خوش قسمت آج کوئی بھی نہیں جس کے گھر اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں، مشک تو لٹکا دی اور خود جا کر کھجوروں کے تازہ تازہ خوشے لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چن چن کر الگ کر کے لاتے“ تو جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ اپنی طبیعت کے مطابق اپنی پسند سے چن لیں اور نوش فرمائیں، پھر چھری ہاتھ میں اٹھائی کہ کوئی جانور ذبح کر کے گوشت پکائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ دینے والے جانور ذبح نہ کرنا“ چنانچہ اس نے ذبیحہ کیا آپ نے وہیں کھانا کیا، پھر فرمانے لگے: ”دیکھو! بھوکے گھر سے نکلے اور پیٹ بھرے جا رہے ہیں یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا“ [صحیح مسلم:2038]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد غلام سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی میں نکلا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا پھر کسی انصاری کے باغ میں گئے اور اس سے فرمایا:”لاؤ بھائی کھانے کو دو“، وہ انگور کے خوشے اٹھا لائے اور آپ کے سامنے رکھ دئیے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھائے، پھر فرمایا: ”ٹھنڈا پانی پلاؤ“، وہ لائے آپ نے پیا پھر فرمانے لگے: ”قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خوشہ اٹھا کر زمین پر دے مارا اور کہنے لگے اس کے بارے میں بھی اللہ کے ہاں پرسش ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں صرف تین چیزوں کی پرسش نہیں۔ پردہ پوشی کے لائق کپڑا، بھوک روکنے کے قابل ٹکڑا اور سردی گرمی میں سر چھپانے کے لیے مکان“ ۔ [ مسند احمد:81/5:حسن]
10829
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے ہم سے کس نعمت کا سوال ہو گا؟ کھجوریں کھا رہے ہیں اور پانی پی رہے ہیں، تلواریں گردنوں میں لٹکا رہے ہیں اور دشمن سر پر کھڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھبراؤ نہیں عنقریب نعمتیں آ جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:429/5:حسن]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نہائے ہوئے معلوم ہوتے تھے ہم نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت تو آپ خوش و خرم نظر آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر لوگ تونگری کا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اس کے لیے تونگری کوئی بری چیز نہیں اور یاد رکھو متقی شخص کے لیے صحت تونگری سے بھی اچھی ہے اور خوش نفسی بھی اللہ کی نعمت ہے“ ۔ [مسند احمد::375/5:صحیح] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
10830
ترمذی شریف میں ہے نعمتوں کے سوال میں قیامت والے دن سب سے پہلے یہ کہا جائے گا کہ ہم نے تجھے صحت نہیں دی تھی اور ٹھنڈے پانی سے تجھے آسودہ نہیں کیا کرتے تھے؟ [سنن ترمذي:3358،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ اس آیت «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [102-التكاثر:8] کو سنا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم تو جو کی روٹی اور وہ بھی آدھا پیٹ کھا رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ کیا تم پیر بچانے کے لیے جوتیاں نہیں پہنتے اور کیا تم ٹھنڈے پانی نہیں پیتے؟ یہی قابل پرسش نعمتیں ہیں ۔ [الدر المنثور السیوطی:661/6:اسنادہ ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امن اور صحت کے بارے میں سوال ہو گا [تفسیر ابن جریر الطبری:285/30:اسنادہ ضعیف] پیٹ بھر کھانے ٹھنڈے پانی سائے دار گھروں میٹھی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ ضعیف]
شہد پینے، لذت حاصل کرنے، صبح و شام کے کھانے، گھی شہد اور میدے کی روٹی وغیرہ، غرض ان تمام نعمتوں کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بدن کی صحت، کانوں اور آنکھوں کی صحت کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ ان طاقتوں سے کیا کیا کام کیے۔
10831
جیسے قرآن کریم میں ہے «إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا» [17-الاسراء:36] یعنی ” ہر شخص سے اس کے کان، اس کی آنکھ اور اس کے دل کے بارے میں بھی پوچھ ہو گی “۔
صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے دو نعمتوں کے بارے میں لوگ بہت ہی غفلت برت رہے ہیں۔ صحت اور فراغت ۔ [صحیح بخاری:6421] یعنی نہ تو ان کا پورا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو جانتے ہیں نہ انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق صرف کرتے ہیں۔
مسند بزار میں ہے تہ بند کے سوا، سائے دار دیواروں کے سوا اور روٹی کے ٹکڑے کے سوا ہر چیز کا قیامت کے دن حساب دینا پڑے گا ۔ [مسند بزار:3643:ضعیف]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن کہے گا، اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار کرایا۔ عورتیں تیرے نکاح میں دیں تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے اب بتا کہ اس کا شکریہ کہاں ہے ؟ [صحیح مسلم:2968]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ اتکاثر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10832
التكاثر 102:3
مال و دولت اور اعمال ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت، اس کے پا لینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کر دیا، تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آ گئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کر لی اور مرتے دم تک غفلت برتی“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف ولا اصل لہ]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَم وَادٍ مِنْ ذَهَب» یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو ۔ [صحیح بخاری:6440] اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» [102-التكاثر:1] نازل ہوئی۔
10824
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آیا تو آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال صرف وہ ہے جسے تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پھاڑ دیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا“ ۔ [صحیح مسلم:2958]
صحیح مسلم میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو لوگوں کے لیے چھوڑ چھاڑ کر چل دے گا ۔ [صحیح مسلم:2959]
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں جن میں سے دو تو پلٹ آتی ہیں صرف ایک ساتھ رہ جاتی ہے، گھر والے، مال اور اعمال۔ اہل و مال لوٹ آئے عمل ساتھ رہ گئے ۔ [صحیح بخاری:6514]
مسند احمد کی حدیث میں ہے ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہیں لالچ اور امنگ ۔ [صحیح بخاری:6421]
ضحاک رحمہ اللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا میرا، فرمایا: تیرا تو اس وقت ہو گا کہ کسی نیک کام میں تو خرچ کر دے یا بطور شکر رب کے خرچ کر۔ احنف رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو بیان کر کے پھر یہ شعر پڑھا: «أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَكْته *** فَإِذَا أَنْفَقْته فَالْمَال لَك» یعنی ”جب کہ تو مال کو لیے بیٹھا ہے، تو تو مال کی ملکیت ہے ہاں جب اسے خرچ کر دے گا اس وقت مال تیری ملکیت میں ہو جائے گا۔“
10825
ابن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بنو حارثہ اور بنو حارث انصار کے قبائل آپس میں فخر و غرور کرنے لگے ایک کہتا دیکھو ہم میں فلاں شخص ایسا بہادر ایسا جیوٹ یا اتنا بڑا مالدار وغیرہ ہے، دوسرے قبیلے والے اپنے میں سے ایسوں کو پیش کرتے تھے جب زندوں کے ساتھ یہ فخر و مباہات کر چکے تو کہنے لگے آؤ قبرستان میں چلیں وہاں جا کر اپنے اپنے مردوں کی قبروں کی طرف اشارے کر کے کہنے لگے بتلاؤ اس جیسا بھی تم میں کوئی گزرا ہے؟ وہ انہیں اپنے مردوں کے ساتھ الزام دینے لگے اس پر یہ دونوں ابتدائی آیتیں اتریں کہ تم فخر و مباہات کرتے ہوئے قبرستان میں پہنچ گئے اور اپنے مردوں پر بھی فخر و غرور کرنے لگے، چاہیئے تھا کہ یہاں آ کر عبرت حاصل کرتے اپنا مرنا اور سڑنا گلنا یاد کرتے۔
10826
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی زیادتی اور اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک ہو کر قبروں میں پہنچ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ بہتات کی چاہت نے غفلت میں ہی رکھا یہاں تک کہ مر گئے اور قبروں میں دفن ہو گئے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی بیمار پرسی کو گئے اور حسب عادت فرمایا: ”کوئی ڈر خوف نہیں ان شاءاللہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہو گی“، تو اس نے کہا: آپ اسے خوب پاک بتلا رہے ہیں یہ تو وہ بخار ہے جو بوڑھے بڑوں پر جوش مارتا ہے اور قبرستان تک پہنچا کر رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا پھر یوں ہی سہی“ ۔ [صحیح بخاری:5656]
اس حدیث میں بھی لفظ «تُزِيرهُ الْقُبُور» ہے اور یہاں قرآن میں بھی «زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مر کر قبر میں دفن ہونا ہی ہے۔
ترمذی میں ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب تک یہ آیت نہ اتری ہم عذاب قبر کے بارے میں شک میں ہی رہے ۔ [سنن ترمذي:3355،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر کچھ دیر سوچ کر فرمانے لگے: میمون! قبروں کا دیکھنا تو صرف بطور زیارت ہے اور ہر زیارت کرنے والا اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے یعنی خواہ جنت کی طرف خواہ دوزخ کی طرف، ایک اعرابی نے بھی ایک شخص کی زبانی ان دونوں آیتوں کی تلاوت سن کر یہی فرمایا تھا کہ اصل مقام اور ہی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دھمکاتے ہوئے دو دو مرتبہ فرماتا ہے کہ حقیقت حال کا علم تمہیں ابھی ہو جائے گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراد کفار ہیں دوبارہ مومن مراد ہیں پھر فرماتا ہے کہ اگر تم علم یقینی کے ساتھ اسے معلوم کر لیتے یعنی اگر ایسا ہوتا تو تم غفلت میں نہ پڑتے اور مرتے دم تک اپنی آخری منزل آخرت سے غافل نہ رہتے پھر جس چیز سے پہلے دھمکایا تھا اسی کا بیان کر رہا ہے کہ تم جہنم کو ان آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کی ایک ہی جنبش کے ساتھ اور تو اور انبیاء علیہم السلام بھی ہیبت و خوف کے مارے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے، اس کی عظمت اور دہشت ہر دل پر چھائی ہوئی ہو گی، جیسے کہ بہت سی احادیث میں بہ تفصیل مروی ہے۔
10827
پھر فرمایا کہ اس دن تم سے نعمتوں کی باز پرس ہو گی، صحت، امن، رزق وغیرہ تمام نعمتوں کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کا شکر کہاں تک ادا کیا۔
ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ ٹھیک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے چلے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسجد میں آ رہے ہیں پوچھا: کہ ”اس وقت کیسے نکلے ہو؟“ کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے بھی نکالا ہے، اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ان سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال کیا اور آپ نے بھی یہی جواب دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے باتیں کرنی شروع کیں، پھر فرمایا: ”اگر ہمت ہو تو اس باغ تک چلے چلو کھانا پینا مل ہی جائے گا اور سائے دار جگہ بھی، ہم نے کہا بہت اچھا“، پس آپ ہمیں لے کر سیدنا ابوالہیشم انصاری رضی اللہ عنہ کے باغ کے دروازہ پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور اجازت چاہی، سیدہ ام ہیثم انصاریہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے ہی کھڑی تھیں سن رہی تھیں لیکن اونچی آواز سے جواب نہیں دیا اور اس لالچ سے کہ اللہ کے رسول اور زیادہ سلامتی کی دعا کریں اور کئی کئی مرتبہ آپ کا سلام سنیں جب تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر چکے اور کوئی جواب نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے دئیے، اب تو ابوالہیشم کی بیوی صاحبہ دوڑیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی آواز سن رہی تھی لیکن میرا ارادہ تھا کہ اللہ کرے آپ کئی کئی مرتبہ سلام کریں اس لیے میں نے اپنی آواز آپ کو نہ سنائی، آپ آئیے تشریف لے چلئے، آپ نے ان کے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا پھر پوچھا کہ خود ابوالہیشم کہاں ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! وہ بھی یہیں قریب ہی پانی لینے گئے ہیں، آپ تشریف لائیے، ان شاءاللہ آتے ہی ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں رونق افروز ہوئے، مائی صاحبہ نے ایک سایہ دار درخت تلے کچھ بچھا دیا جس پر آپ بیٹھ گئے، اتنے میں ہی ابوالہیشم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے بےحد خوش ہوئے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون نصیب ہوا اور جلدی جلدی ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گئے اور اچھے اچھے خوشے اتار اتار کر دینے لگے یہاں تک کہ خود آپ نے روک دیا، صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! گیلی اور تر اور بالکل پکی اور جس طرح کی چاہیں تناول فرمائیں، جب کھجوریں کھا چکے تو میٹھا پانی لائے جسے پیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے ۔ [اسنادہ ضعیف]
10828
ابن جریر کی اسی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا کہ ”یہاں کیسے بیٹھے ہو؟“ دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک کے مارے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہیں، فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بھی اسی وجہ سے اس وقت نکلا ہوں“ اب آپ انہیں لے کر چلے اور ایک انصاری کے گھر آئے ان کی بیوی صاحبہ مل گئیں پوچھا کہ ”تمہارے میاں کہاں گئے ہیں؟“ کہا: گھر کے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، اتنے میں تو وہ مشک اٹھائے ہوئے آ ہی گئے، خوش ہو گئے اور کہنے لگے مجھ جیسا خوش قسمت آج کوئی بھی نہیں جس کے گھر اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں، مشک تو لٹکا دی اور خود جا کر کھجوروں کے تازہ تازہ خوشے لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چن چن کر الگ کر کے لاتے“ تو جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ اپنی طبیعت کے مطابق اپنی پسند سے چن لیں اور نوش فرمائیں، پھر چھری ہاتھ میں اٹھائی کہ کوئی جانور ذبح کر کے گوشت پکائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ دینے والے جانور ذبح نہ کرنا“ چنانچہ اس نے ذبیحہ کیا آپ نے وہیں کھانا کیا، پھر فرمانے لگے: ”دیکھو! بھوکے گھر سے نکلے اور پیٹ بھرے جا رہے ہیں یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا“ [صحیح مسلم:2038]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد غلام سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی میں نکلا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا پھر کسی انصاری کے باغ میں گئے اور اس سے فرمایا:”لاؤ بھائی کھانے کو دو“، وہ انگور کے خوشے اٹھا لائے اور آپ کے سامنے رکھ دئیے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھائے، پھر فرمایا: ”ٹھنڈا پانی پلاؤ“، وہ لائے آپ نے پیا پھر فرمانے لگے: ”قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خوشہ اٹھا کر زمین پر دے مارا اور کہنے لگے اس کے بارے میں بھی اللہ کے ہاں پرسش ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں صرف تین چیزوں کی پرسش نہیں۔ پردہ پوشی کے لائق کپڑا، بھوک روکنے کے قابل ٹکڑا اور سردی گرمی میں سر چھپانے کے لیے مکان“ ۔ [ مسند احمد:81/5:حسن]
10829
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے ہم سے کس نعمت کا سوال ہو گا؟ کھجوریں کھا رہے ہیں اور پانی پی رہے ہیں، تلواریں گردنوں میں لٹکا رہے ہیں اور دشمن سر پر کھڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھبراؤ نہیں عنقریب نعمتیں آ جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:429/5:حسن]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نہائے ہوئے معلوم ہوتے تھے ہم نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت تو آپ خوش و خرم نظر آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر لوگ تونگری کا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اس کے لیے تونگری کوئی بری چیز نہیں اور یاد رکھو متقی شخص کے لیے صحت تونگری سے بھی اچھی ہے اور خوش نفسی بھی اللہ کی نعمت ہے“ ۔ [مسند احمد::375/5:صحیح] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
10830
ترمذی شریف میں ہے نعمتوں کے سوال میں قیامت والے دن سب سے پہلے یہ کہا جائے گا کہ ہم نے تجھے صحت نہیں دی تھی اور ٹھنڈے پانی سے تجھے آسودہ نہیں کیا کرتے تھے؟ [سنن ترمذي:3358،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ اس آیت «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [102-التكاثر:8] کو سنا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم تو جو کی روٹی اور وہ بھی آدھا پیٹ کھا رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ کیا تم پیر بچانے کے لیے جوتیاں نہیں پہنتے اور کیا تم ٹھنڈے پانی نہیں پیتے؟ یہی قابل پرسش نعمتیں ہیں ۔ [الدر المنثور السیوطی:661/6:اسنادہ ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امن اور صحت کے بارے میں سوال ہو گا [تفسیر ابن جریر الطبری:285/30:اسنادہ ضعیف] پیٹ بھر کھانے ٹھنڈے پانی سائے دار گھروں میٹھی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ ضعیف]
شہد پینے، لذت حاصل کرنے، صبح و شام کے کھانے، گھی شہد اور میدے کی روٹی وغیرہ، غرض ان تمام نعمتوں کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بدن کی صحت، کانوں اور آنکھوں کی صحت کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ ان طاقتوں سے کیا کیا کام کیے۔
10831
جیسے قرآن کریم میں ہے «إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا» [17-الاسراء:36] یعنی ” ہر شخص سے اس کے کان، اس کی آنکھ اور اس کے دل کے بارے میں بھی پوچھ ہو گی “۔
صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے دو نعمتوں کے بارے میں لوگ بہت ہی غفلت برت رہے ہیں۔ صحت اور فراغت ۔ [صحیح بخاری:6421] یعنی نہ تو ان کا پورا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو جانتے ہیں نہ انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق صرف کرتے ہیں۔
مسند بزار میں ہے تہ بند کے سوا، سائے دار دیواروں کے سوا اور روٹی کے ٹکڑے کے سوا ہر چیز کا قیامت کے دن حساب دینا پڑے گا ۔ [مسند بزار:3643:ضعیف]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن کہے گا، اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار کرایا۔ عورتیں تیرے نکاح میں دیں تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے اب بتا کہ اس کا شکریہ کہاں ہے ؟ [صحیح مسلم:2968]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ اتکاثر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10832
التكاثر 102:4
مال و دولت اور اعمال ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت، اس کے پا لینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کر دیا، تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آ گئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کر لی اور مرتے دم تک غفلت برتی“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف ولا اصل لہ]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَم وَادٍ مِنْ ذَهَب» یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو ۔ [صحیح بخاری:6440] اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» [102-التكاثر:1] نازل ہوئی۔
10824
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آیا تو آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال صرف وہ ہے جسے تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پھاڑ دیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا“ ۔ [صحیح مسلم:2958]
صحیح مسلم میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو لوگوں کے لیے چھوڑ چھاڑ کر چل دے گا ۔ [صحیح مسلم:2959]
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں جن میں سے دو تو پلٹ آتی ہیں صرف ایک ساتھ رہ جاتی ہے، گھر والے، مال اور اعمال۔ اہل و مال لوٹ آئے عمل ساتھ رہ گئے ۔ [صحیح بخاری:6514]
مسند احمد کی حدیث میں ہے ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہیں لالچ اور امنگ ۔ [صحیح بخاری:6421]
ضحاک رحمہ اللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا میرا، فرمایا: تیرا تو اس وقت ہو گا کہ کسی نیک کام میں تو خرچ کر دے یا بطور شکر رب کے خرچ کر۔ احنف رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو بیان کر کے پھر یہ شعر پڑھا: «أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَكْته *** فَإِذَا أَنْفَقْته فَالْمَال لَك» یعنی ”جب کہ تو مال کو لیے بیٹھا ہے، تو تو مال کی ملکیت ہے ہاں جب اسے خرچ کر دے گا اس وقت مال تیری ملکیت میں ہو جائے گا۔“
10825
ابن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بنو حارثہ اور بنو حارث انصار کے قبائل آپس میں فخر و غرور کرنے لگے ایک کہتا دیکھو ہم میں فلاں شخص ایسا بہادر ایسا جیوٹ یا اتنا بڑا مالدار وغیرہ ہے، دوسرے قبیلے والے اپنے میں سے ایسوں کو پیش کرتے تھے جب زندوں کے ساتھ یہ فخر و مباہات کر چکے تو کہنے لگے آؤ قبرستان میں چلیں وہاں جا کر اپنے اپنے مردوں کی قبروں کی طرف اشارے کر کے کہنے لگے بتلاؤ اس جیسا بھی تم میں کوئی گزرا ہے؟ وہ انہیں اپنے مردوں کے ساتھ الزام دینے لگے اس پر یہ دونوں ابتدائی آیتیں اتریں کہ تم فخر و مباہات کرتے ہوئے قبرستان میں پہنچ گئے اور اپنے مردوں پر بھی فخر و غرور کرنے لگے، چاہیئے تھا کہ یہاں آ کر عبرت حاصل کرتے اپنا مرنا اور سڑنا گلنا یاد کرتے۔
10826
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی زیادتی اور اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک ہو کر قبروں میں پہنچ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ بہتات کی چاہت نے غفلت میں ہی رکھا یہاں تک کہ مر گئے اور قبروں میں دفن ہو گئے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی بیمار پرسی کو گئے اور حسب عادت فرمایا: ”کوئی ڈر خوف نہیں ان شاءاللہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہو گی“، تو اس نے کہا: آپ اسے خوب پاک بتلا رہے ہیں یہ تو وہ بخار ہے جو بوڑھے بڑوں پر جوش مارتا ہے اور قبرستان تک پہنچا کر رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا پھر یوں ہی سہی“ ۔ [صحیح بخاری:5656]
اس حدیث میں بھی لفظ «تُزِيرهُ الْقُبُور» ہے اور یہاں قرآن میں بھی «زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مر کر قبر میں دفن ہونا ہی ہے۔
ترمذی میں ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب تک یہ آیت نہ اتری ہم عذاب قبر کے بارے میں شک میں ہی رہے ۔ [سنن ترمذي:3355،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر کچھ دیر سوچ کر فرمانے لگے: میمون! قبروں کا دیکھنا تو صرف بطور زیارت ہے اور ہر زیارت کرنے والا اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے یعنی خواہ جنت کی طرف خواہ دوزخ کی طرف، ایک اعرابی نے بھی ایک شخص کی زبانی ان دونوں آیتوں کی تلاوت سن کر یہی فرمایا تھا کہ اصل مقام اور ہی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دھمکاتے ہوئے دو دو مرتبہ فرماتا ہے کہ حقیقت حال کا علم تمہیں ابھی ہو جائے گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراد کفار ہیں دوبارہ مومن مراد ہیں پھر فرماتا ہے کہ اگر تم علم یقینی کے ساتھ اسے معلوم کر لیتے یعنی اگر ایسا ہوتا تو تم غفلت میں نہ پڑتے اور مرتے دم تک اپنی آخری منزل آخرت سے غافل نہ رہتے پھر جس چیز سے پہلے دھمکایا تھا اسی کا بیان کر رہا ہے کہ تم جہنم کو ان آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کی ایک ہی جنبش کے ساتھ اور تو اور انبیاء علیہم السلام بھی ہیبت و خوف کے مارے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے، اس کی عظمت اور دہشت ہر دل پر چھائی ہوئی ہو گی، جیسے کہ بہت سی احادیث میں بہ تفصیل مروی ہے۔
10827
پھر فرمایا کہ اس دن تم سے نعمتوں کی باز پرس ہو گی، صحت، امن، رزق وغیرہ تمام نعمتوں کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کا شکر کہاں تک ادا کیا۔
ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ ٹھیک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے چلے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسجد میں آ رہے ہیں پوچھا: کہ ”اس وقت کیسے نکلے ہو؟“ کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے بھی نکالا ہے، اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ان سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال کیا اور آپ نے بھی یہی جواب دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے باتیں کرنی شروع کیں، پھر فرمایا: ”اگر ہمت ہو تو اس باغ تک چلے چلو کھانا پینا مل ہی جائے گا اور سائے دار جگہ بھی، ہم نے کہا بہت اچھا“، پس آپ ہمیں لے کر سیدنا ابوالہیشم انصاری رضی اللہ عنہ کے باغ کے دروازہ پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور اجازت چاہی، سیدہ ام ہیثم انصاریہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے ہی کھڑی تھیں سن رہی تھیں لیکن اونچی آواز سے جواب نہیں دیا اور اس لالچ سے کہ اللہ کے رسول اور زیادہ سلامتی کی دعا کریں اور کئی کئی مرتبہ آپ کا سلام سنیں جب تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر چکے اور کوئی جواب نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے دئیے، اب تو ابوالہیشم کی بیوی صاحبہ دوڑیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی آواز سن رہی تھی لیکن میرا ارادہ تھا کہ اللہ کرے آپ کئی کئی مرتبہ سلام کریں اس لیے میں نے اپنی آواز آپ کو نہ سنائی، آپ آئیے تشریف لے چلئے، آپ نے ان کے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا پھر پوچھا کہ خود ابوالہیشم کہاں ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! وہ بھی یہیں قریب ہی پانی لینے گئے ہیں، آپ تشریف لائیے، ان شاءاللہ آتے ہی ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں رونق افروز ہوئے، مائی صاحبہ نے ایک سایہ دار درخت تلے کچھ بچھا دیا جس پر آپ بیٹھ گئے، اتنے میں ہی ابوالہیشم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے بےحد خوش ہوئے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون نصیب ہوا اور جلدی جلدی ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گئے اور اچھے اچھے خوشے اتار اتار کر دینے لگے یہاں تک کہ خود آپ نے روک دیا، صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! گیلی اور تر اور بالکل پکی اور جس طرح کی چاہیں تناول فرمائیں، جب کھجوریں کھا چکے تو میٹھا پانی لائے جسے پیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے ۔ [اسنادہ ضعیف]
10828
ابن جریر کی اسی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا کہ ”یہاں کیسے بیٹھے ہو؟“ دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک کے مارے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہیں، فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بھی اسی وجہ سے اس وقت نکلا ہوں“ اب آپ انہیں لے کر چلے اور ایک انصاری کے گھر آئے ان کی بیوی صاحبہ مل گئیں پوچھا کہ ”تمہارے میاں کہاں گئے ہیں؟“ کہا: گھر کے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، اتنے میں تو وہ مشک اٹھائے ہوئے آ ہی گئے، خوش ہو گئے اور کہنے لگے مجھ جیسا خوش قسمت آج کوئی بھی نہیں جس کے گھر اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں، مشک تو لٹکا دی اور خود جا کر کھجوروں کے تازہ تازہ خوشے لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چن چن کر الگ کر کے لاتے“ تو جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ اپنی طبیعت کے مطابق اپنی پسند سے چن لیں اور نوش فرمائیں، پھر چھری ہاتھ میں اٹھائی کہ کوئی جانور ذبح کر کے گوشت پکائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ دینے والے جانور ذبح نہ کرنا“ چنانچہ اس نے ذبیحہ کیا آپ نے وہیں کھانا کیا، پھر فرمانے لگے: ”دیکھو! بھوکے گھر سے نکلے اور پیٹ بھرے جا رہے ہیں یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا“ [صحیح مسلم:2038]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد غلام سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی میں نکلا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا پھر کسی انصاری کے باغ میں گئے اور اس سے فرمایا:”لاؤ بھائی کھانے کو دو“، وہ انگور کے خوشے اٹھا لائے اور آپ کے سامنے رکھ دئیے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھائے، پھر فرمایا: ”ٹھنڈا پانی پلاؤ“، وہ لائے آپ نے پیا پھر فرمانے لگے: ”قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خوشہ اٹھا کر زمین پر دے مارا اور کہنے لگے اس کے بارے میں بھی اللہ کے ہاں پرسش ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں صرف تین چیزوں کی پرسش نہیں۔ پردہ پوشی کے لائق کپڑا، بھوک روکنے کے قابل ٹکڑا اور سردی گرمی میں سر چھپانے کے لیے مکان“ ۔ [ مسند احمد:81/5:حسن]
10829
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے ہم سے کس نعمت کا سوال ہو گا؟ کھجوریں کھا رہے ہیں اور پانی پی رہے ہیں، تلواریں گردنوں میں لٹکا رہے ہیں اور دشمن سر پر کھڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھبراؤ نہیں عنقریب نعمتیں آ جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:429/5:حسن]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نہائے ہوئے معلوم ہوتے تھے ہم نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت تو آپ خوش و خرم نظر آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر لوگ تونگری کا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اس کے لیے تونگری کوئی بری چیز نہیں اور یاد رکھو متقی شخص کے لیے صحت تونگری سے بھی اچھی ہے اور خوش نفسی بھی اللہ کی نعمت ہے“ ۔ [مسند احمد::375/5:صحیح] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
10830
ترمذی شریف میں ہے نعمتوں کے سوال میں قیامت والے دن سب سے پہلے یہ کہا جائے گا کہ ہم نے تجھے صحت نہیں دی تھی اور ٹھنڈے پانی سے تجھے آسودہ نہیں کیا کرتے تھے؟ [سنن ترمذي:3358،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ اس آیت «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [102-التكاثر:8] کو سنا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم تو جو کی روٹی اور وہ بھی آدھا پیٹ کھا رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ کیا تم پیر بچانے کے لیے جوتیاں نہیں پہنتے اور کیا تم ٹھنڈے پانی نہیں پیتے؟ یہی قابل پرسش نعمتیں ہیں ۔ [الدر المنثور السیوطی:661/6:اسنادہ ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امن اور صحت کے بارے میں سوال ہو گا [تفسیر ابن جریر الطبری:285/30:اسنادہ ضعیف] پیٹ بھر کھانے ٹھنڈے پانی سائے دار گھروں میٹھی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ ضعیف]
شہد پینے، لذت حاصل کرنے، صبح و شام کے کھانے، گھی شہد اور میدے کی روٹی وغیرہ، غرض ان تمام نعمتوں کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بدن کی صحت، کانوں اور آنکھوں کی صحت کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ ان طاقتوں سے کیا کیا کام کیے۔
10831
جیسے قرآن کریم میں ہے «إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا» [17-الاسراء:36] یعنی ” ہر شخص سے اس کے کان، اس کی آنکھ اور اس کے دل کے بارے میں بھی پوچھ ہو گی “۔
صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے دو نعمتوں کے بارے میں لوگ بہت ہی غفلت برت رہے ہیں۔ صحت اور فراغت ۔ [صحیح بخاری:6421] یعنی نہ تو ان کا پورا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو جانتے ہیں نہ انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق صرف کرتے ہیں۔
مسند بزار میں ہے تہ بند کے سوا، سائے دار دیواروں کے سوا اور روٹی کے ٹکڑے کے سوا ہر چیز کا قیامت کے دن حساب دینا پڑے گا ۔ [مسند بزار:3643:ضعیف]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن کہے گا، اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار کرایا۔ عورتیں تیرے نکاح میں دیں تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے اب بتا کہ اس کا شکریہ کہاں ہے ؟ [صحیح مسلم:2968]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ اتکاثر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10832
التكاثر 102:5
مال و دولت اور اعمال ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت، اس کے پا لینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کر دیا، تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آ گئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کر لی اور مرتے دم تک غفلت برتی“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف ولا اصل لہ]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَم وَادٍ مِنْ ذَهَب» یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو ۔ [صحیح بخاری:6440] اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» [102-التكاثر:1] نازل ہوئی۔
10824
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آیا تو آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال صرف وہ ہے جسے تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پھاڑ دیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا“ ۔ [صحیح مسلم:2958]
صحیح مسلم میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو لوگوں کے لیے چھوڑ چھاڑ کر چل دے گا ۔ [صحیح مسلم:2959]
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں جن میں سے دو تو پلٹ آتی ہیں صرف ایک ساتھ رہ جاتی ہے، گھر والے، مال اور اعمال۔ اہل و مال لوٹ آئے عمل ساتھ رہ گئے ۔ [صحیح بخاری:6514]
مسند احمد کی حدیث میں ہے ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہیں لالچ اور امنگ ۔ [صحیح بخاری:6421]
ضحاک رحمہ اللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا میرا، فرمایا: تیرا تو اس وقت ہو گا کہ کسی نیک کام میں تو خرچ کر دے یا بطور شکر رب کے خرچ کر۔ احنف رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو بیان کر کے پھر یہ شعر پڑھا: «أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَكْته *** فَإِذَا أَنْفَقْته فَالْمَال لَك» یعنی ”جب کہ تو مال کو لیے بیٹھا ہے، تو تو مال کی ملکیت ہے ہاں جب اسے خرچ کر دے گا اس وقت مال تیری ملکیت میں ہو جائے گا۔“
10825
ابن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بنو حارثہ اور بنو حارث انصار کے قبائل آپس میں فخر و غرور کرنے لگے ایک کہتا دیکھو ہم میں فلاں شخص ایسا بہادر ایسا جیوٹ یا اتنا بڑا مالدار وغیرہ ہے، دوسرے قبیلے والے اپنے میں سے ایسوں کو پیش کرتے تھے جب زندوں کے ساتھ یہ فخر و مباہات کر چکے تو کہنے لگے آؤ قبرستان میں چلیں وہاں جا کر اپنے اپنے مردوں کی قبروں کی طرف اشارے کر کے کہنے لگے بتلاؤ اس جیسا بھی تم میں کوئی گزرا ہے؟ وہ انہیں اپنے مردوں کے ساتھ الزام دینے لگے اس پر یہ دونوں ابتدائی آیتیں اتریں کہ تم فخر و مباہات کرتے ہوئے قبرستان میں پہنچ گئے اور اپنے مردوں پر بھی فخر و غرور کرنے لگے، چاہیئے تھا کہ یہاں آ کر عبرت حاصل کرتے اپنا مرنا اور سڑنا گلنا یاد کرتے۔
10826
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی زیادتی اور اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک ہو کر قبروں میں پہنچ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ بہتات کی چاہت نے غفلت میں ہی رکھا یہاں تک کہ مر گئے اور قبروں میں دفن ہو گئے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی بیمار پرسی کو گئے اور حسب عادت فرمایا: ”کوئی ڈر خوف نہیں ان شاءاللہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہو گی“، تو اس نے کہا: آپ اسے خوب پاک بتلا رہے ہیں یہ تو وہ بخار ہے جو بوڑھے بڑوں پر جوش مارتا ہے اور قبرستان تک پہنچا کر رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا پھر یوں ہی سہی“ ۔ [صحیح بخاری:5656]
اس حدیث میں بھی لفظ «تُزِيرهُ الْقُبُور» ہے اور یہاں قرآن میں بھی «زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مر کر قبر میں دفن ہونا ہی ہے۔
ترمذی میں ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب تک یہ آیت نہ اتری ہم عذاب قبر کے بارے میں شک میں ہی رہے ۔ [سنن ترمذي:3355،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر کچھ دیر سوچ کر فرمانے لگے: میمون! قبروں کا دیکھنا تو صرف بطور زیارت ہے اور ہر زیارت کرنے والا اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے یعنی خواہ جنت کی طرف خواہ دوزخ کی طرف، ایک اعرابی نے بھی ایک شخص کی زبانی ان دونوں آیتوں کی تلاوت سن کر یہی فرمایا تھا کہ اصل مقام اور ہی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دھمکاتے ہوئے دو دو مرتبہ فرماتا ہے کہ حقیقت حال کا علم تمہیں ابھی ہو جائے گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراد کفار ہیں دوبارہ مومن مراد ہیں پھر فرماتا ہے کہ اگر تم علم یقینی کے ساتھ اسے معلوم کر لیتے یعنی اگر ایسا ہوتا تو تم غفلت میں نہ پڑتے اور مرتے دم تک اپنی آخری منزل آخرت سے غافل نہ رہتے پھر جس چیز سے پہلے دھمکایا تھا اسی کا بیان کر رہا ہے کہ تم جہنم کو ان آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کی ایک ہی جنبش کے ساتھ اور تو اور انبیاء علیہم السلام بھی ہیبت و خوف کے مارے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے، اس کی عظمت اور دہشت ہر دل پر چھائی ہوئی ہو گی، جیسے کہ بہت سی احادیث میں بہ تفصیل مروی ہے۔
10827
پھر فرمایا کہ اس دن تم سے نعمتوں کی باز پرس ہو گی، صحت، امن، رزق وغیرہ تمام نعمتوں کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کا شکر کہاں تک ادا کیا۔
ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ ٹھیک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے چلے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسجد میں آ رہے ہیں پوچھا: کہ ”اس وقت کیسے نکلے ہو؟“ کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے بھی نکالا ہے، اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ان سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال کیا اور آپ نے بھی یہی جواب دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے باتیں کرنی شروع کیں، پھر فرمایا: ”اگر ہمت ہو تو اس باغ تک چلے چلو کھانا پینا مل ہی جائے گا اور سائے دار جگہ بھی، ہم نے کہا بہت اچھا“، پس آپ ہمیں لے کر سیدنا ابوالہیشم انصاری رضی اللہ عنہ کے باغ کے دروازہ پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور اجازت چاہی، سیدہ ام ہیثم انصاریہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے ہی کھڑی تھیں سن رہی تھیں لیکن اونچی آواز سے جواب نہیں دیا اور اس لالچ سے کہ اللہ کے رسول اور زیادہ سلامتی کی دعا کریں اور کئی کئی مرتبہ آپ کا سلام سنیں جب تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر چکے اور کوئی جواب نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے دئیے، اب تو ابوالہیشم کی بیوی صاحبہ دوڑیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی آواز سن رہی تھی لیکن میرا ارادہ تھا کہ اللہ کرے آپ کئی کئی مرتبہ سلام کریں اس لیے میں نے اپنی آواز آپ کو نہ سنائی، آپ آئیے تشریف لے چلئے، آپ نے ان کے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا پھر پوچھا کہ خود ابوالہیشم کہاں ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! وہ بھی یہیں قریب ہی پانی لینے گئے ہیں، آپ تشریف لائیے، ان شاءاللہ آتے ہی ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں رونق افروز ہوئے، مائی صاحبہ نے ایک سایہ دار درخت تلے کچھ بچھا دیا جس پر آپ بیٹھ گئے، اتنے میں ہی ابوالہیشم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے بےحد خوش ہوئے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون نصیب ہوا اور جلدی جلدی ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گئے اور اچھے اچھے خوشے اتار اتار کر دینے لگے یہاں تک کہ خود آپ نے روک دیا، صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! گیلی اور تر اور بالکل پکی اور جس طرح کی چاہیں تناول فرمائیں، جب کھجوریں کھا چکے تو میٹھا پانی لائے جسے پیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے ۔ [اسنادہ ضعیف]
10828
ابن جریر کی اسی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا کہ ”یہاں کیسے بیٹھے ہو؟“ دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک کے مارے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہیں، فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بھی اسی وجہ سے اس وقت نکلا ہوں“ اب آپ انہیں لے کر چلے اور ایک انصاری کے گھر آئے ان کی بیوی صاحبہ مل گئیں پوچھا کہ ”تمہارے میاں کہاں گئے ہیں؟“ کہا: گھر کے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، اتنے میں تو وہ مشک اٹھائے ہوئے آ ہی گئے، خوش ہو گئے اور کہنے لگے مجھ جیسا خوش قسمت آج کوئی بھی نہیں جس کے گھر اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں، مشک تو لٹکا دی اور خود جا کر کھجوروں کے تازہ تازہ خوشے لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چن چن کر الگ کر کے لاتے“ تو جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ اپنی طبیعت کے مطابق اپنی پسند سے چن لیں اور نوش فرمائیں، پھر چھری ہاتھ میں اٹھائی کہ کوئی جانور ذبح کر کے گوشت پکائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ دینے والے جانور ذبح نہ کرنا“ چنانچہ اس نے ذبیحہ کیا آپ نے وہیں کھانا کیا، پھر فرمانے لگے: ”دیکھو! بھوکے گھر سے نکلے اور پیٹ بھرے جا رہے ہیں یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا“ [صحیح مسلم:2038]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد غلام سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی میں نکلا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا پھر کسی انصاری کے باغ میں گئے اور اس سے فرمایا:”لاؤ بھائی کھانے کو دو“، وہ انگور کے خوشے اٹھا لائے اور آپ کے سامنے رکھ دئیے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھائے، پھر فرمایا: ”ٹھنڈا پانی پلاؤ“، وہ لائے آپ نے پیا پھر فرمانے لگے: ”قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خوشہ اٹھا کر زمین پر دے مارا اور کہنے لگے اس کے بارے میں بھی اللہ کے ہاں پرسش ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں صرف تین چیزوں کی پرسش نہیں۔ پردہ پوشی کے لائق کپڑا، بھوک روکنے کے قابل ٹکڑا اور سردی گرمی میں سر چھپانے کے لیے مکان“ ۔ [ مسند احمد:81/5:حسن]
10829
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے ہم سے کس نعمت کا سوال ہو گا؟ کھجوریں کھا رہے ہیں اور پانی پی رہے ہیں، تلواریں گردنوں میں لٹکا رہے ہیں اور دشمن سر پر کھڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھبراؤ نہیں عنقریب نعمتیں آ جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:429/5:حسن]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نہائے ہوئے معلوم ہوتے تھے ہم نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت تو آپ خوش و خرم نظر آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر لوگ تونگری کا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اس کے لیے تونگری کوئی بری چیز نہیں اور یاد رکھو متقی شخص کے لیے صحت تونگری سے بھی اچھی ہے اور خوش نفسی بھی اللہ کی نعمت ہے“ ۔ [مسند احمد::375/5:صحیح] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
10830
ترمذی شریف میں ہے نعمتوں کے سوال میں قیامت والے دن سب سے پہلے یہ کہا جائے گا کہ ہم نے تجھے صحت نہیں دی تھی اور ٹھنڈے پانی سے تجھے آسودہ نہیں کیا کرتے تھے؟ [سنن ترمذي:3358،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ اس آیت «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [102-التكاثر:8] کو سنا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم تو جو کی روٹی اور وہ بھی آدھا پیٹ کھا رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ کیا تم پیر بچانے کے لیے جوتیاں نہیں پہنتے اور کیا تم ٹھنڈے پانی نہیں پیتے؟ یہی قابل پرسش نعمتیں ہیں ۔ [الدر المنثور السیوطی:661/6:اسنادہ ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امن اور صحت کے بارے میں سوال ہو گا [تفسیر ابن جریر الطبری:285/30:اسنادہ ضعیف] پیٹ بھر کھانے ٹھنڈے پانی سائے دار گھروں میٹھی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ ضعیف]
شہد پینے، لذت حاصل کرنے، صبح و شام کے کھانے، گھی شہد اور میدے کی روٹی وغیرہ، غرض ان تمام نعمتوں کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بدن کی صحت، کانوں اور آنکھوں کی صحت کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ ان طاقتوں سے کیا کیا کام کیے۔
10831
جیسے قرآن کریم میں ہے «إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا» [17-الاسراء:36] یعنی ” ہر شخص سے اس کے کان، اس کی آنکھ اور اس کے دل کے بارے میں بھی پوچھ ہو گی “۔
صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے دو نعمتوں کے بارے میں لوگ بہت ہی غفلت برت رہے ہیں۔ صحت اور فراغت ۔ [صحیح بخاری:6421] یعنی نہ تو ان کا پورا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو جانتے ہیں نہ انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق صرف کرتے ہیں۔
مسند بزار میں ہے تہ بند کے سوا، سائے دار دیواروں کے سوا اور روٹی کے ٹکڑے کے سوا ہر چیز کا قیامت کے دن حساب دینا پڑے گا ۔ [مسند بزار:3643:ضعیف]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن کہے گا، اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار کرایا۔ عورتیں تیرے نکاح میں دیں تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے اب بتا کہ اس کا شکریہ کہاں ہے ؟ [صحیح مسلم:2968]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ اتکاثر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10832
التكاثر 102:6
مال و دولت اور اعمال ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت، اس کے پا لینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کر دیا، تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آ گئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کر لی اور مرتے دم تک غفلت برتی“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف ولا اصل لہ]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَم وَادٍ مِنْ ذَهَب» یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو ۔ [صحیح بخاری:6440] اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» [102-التكاثر:1] نازل ہوئی۔
10824
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آیا تو آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال صرف وہ ہے جسے تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پھاڑ دیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا“ ۔ [صحیح مسلم:2958]
صحیح مسلم میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو لوگوں کے لیے چھوڑ چھاڑ کر چل دے گا ۔ [صحیح مسلم:2959]
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں جن میں سے دو تو پلٹ آتی ہیں صرف ایک ساتھ رہ جاتی ہے، گھر والے، مال اور اعمال۔ اہل و مال لوٹ آئے عمل ساتھ رہ گئے ۔ [صحیح بخاری:6514]
مسند احمد کی حدیث میں ہے ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہیں لالچ اور امنگ ۔ [صحیح بخاری:6421]
ضحاک رحمہ اللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا میرا، فرمایا: تیرا تو اس وقت ہو گا کہ کسی نیک کام میں تو خرچ کر دے یا بطور شکر رب کے خرچ کر۔ احنف رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو بیان کر کے پھر یہ شعر پڑھا: «أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَكْته *** فَإِذَا أَنْفَقْته فَالْمَال لَك» یعنی ”جب کہ تو مال کو لیے بیٹھا ہے، تو تو مال کی ملکیت ہے ہاں جب اسے خرچ کر دے گا اس وقت مال تیری ملکیت میں ہو جائے گا۔“
10825
ابن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بنو حارثہ اور بنو حارث انصار کے قبائل آپس میں فخر و غرور کرنے لگے ایک کہتا دیکھو ہم میں فلاں شخص ایسا بہادر ایسا جیوٹ یا اتنا بڑا مالدار وغیرہ ہے، دوسرے قبیلے والے اپنے میں سے ایسوں کو پیش کرتے تھے جب زندوں کے ساتھ یہ فخر و مباہات کر چکے تو کہنے لگے آؤ قبرستان میں چلیں وہاں جا کر اپنے اپنے مردوں کی قبروں کی طرف اشارے کر کے کہنے لگے بتلاؤ اس جیسا بھی تم میں کوئی گزرا ہے؟ وہ انہیں اپنے مردوں کے ساتھ الزام دینے لگے اس پر یہ دونوں ابتدائی آیتیں اتریں کہ تم فخر و مباہات کرتے ہوئے قبرستان میں پہنچ گئے اور اپنے مردوں پر بھی فخر و غرور کرنے لگے، چاہیئے تھا کہ یہاں آ کر عبرت حاصل کرتے اپنا مرنا اور سڑنا گلنا یاد کرتے۔
10826
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی زیادتی اور اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک ہو کر قبروں میں پہنچ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ بہتات کی چاہت نے غفلت میں ہی رکھا یہاں تک کہ مر گئے اور قبروں میں دفن ہو گئے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی بیمار پرسی کو گئے اور حسب عادت فرمایا: ”کوئی ڈر خوف نہیں ان شاءاللہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہو گی“، تو اس نے کہا: آپ اسے خوب پاک بتلا رہے ہیں یہ تو وہ بخار ہے جو بوڑھے بڑوں پر جوش مارتا ہے اور قبرستان تک پہنچا کر رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا پھر یوں ہی سہی“ ۔ [صحیح بخاری:5656]
اس حدیث میں بھی لفظ «تُزِيرهُ الْقُبُور» ہے اور یہاں قرآن میں بھی «زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مر کر قبر میں دفن ہونا ہی ہے۔
ترمذی میں ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب تک یہ آیت نہ اتری ہم عذاب قبر کے بارے میں شک میں ہی رہے ۔ [سنن ترمذي:3355،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر کچھ دیر سوچ کر فرمانے لگے: میمون! قبروں کا دیکھنا تو صرف بطور زیارت ہے اور ہر زیارت کرنے والا اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے یعنی خواہ جنت کی طرف خواہ دوزخ کی طرف، ایک اعرابی نے بھی ایک شخص کی زبانی ان دونوں آیتوں کی تلاوت سن کر یہی فرمایا تھا کہ اصل مقام اور ہی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دھمکاتے ہوئے دو دو مرتبہ فرماتا ہے کہ حقیقت حال کا علم تمہیں ابھی ہو جائے گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراد کفار ہیں دوبارہ مومن مراد ہیں پھر فرماتا ہے کہ اگر تم علم یقینی کے ساتھ اسے معلوم کر لیتے یعنی اگر ایسا ہوتا تو تم غفلت میں نہ پڑتے اور مرتے دم تک اپنی آخری منزل آخرت سے غافل نہ رہتے پھر جس چیز سے پہلے دھمکایا تھا اسی کا بیان کر رہا ہے کہ تم جہنم کو ان آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کی ایک ہی جنبش کے ساتھ اور تو اور انبیاء علیہم السلام بھی ہیبت و خوف کے مارے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے، اس کی عظمت اور دہشت ہر دل پر چھائی ہوئی ہو گی، جیسے کہ بہت سی احادیث میں بہ تفصیل مروی ہے۔
10827
پھر فرمایا کہ اس دن تم سے نعمتوں کی باز پرس ہو گی، صحت، امن، رزق وغیرہ تمام نعمتوں کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کا شکر کہاں تک ادا کیا۔
ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ ٹھیک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے چلے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسجد میں آ رہے ہیں پوچھا: کہ ”اس وقت کیسے نکلے ہو؟“ کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے بھی نکالا ہے، اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ان سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال کیا اور آپ نے بھی یہی جواب دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے باتیں کرنی شروع کیں، پھر فرمایا: ”اگر ہمت ہو تو اس باغ تک چلے چلو کھانا پینا مل ہی جائے گا اور سائے دار جگہ بھی، ہم نے کہا بہت اچھا“، پس آپ ہمیں لے کر سیدنا ابوالہیشم انصاری رضی اللہ عنہ کے باغ کے دروازہ پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور اجازت چاہی، سیدہ ام ہیثم انصاریہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے ہی کھڑی تھیں سن رہی تھیں لیکن اونچی آواز سے جواب نہیں دیا اور اس لالچ سے کہ اللہ کے رسول اور زیادہ سلامتی کی دعا کریں اور کئی کئی مرتبہ آپ کا سلام سنیں جب تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر چکے اور کوئی جواب نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے دئیے، اب تو ابوالہیشم کی بیوی صاحبہ دوڑیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی آواز سن رہی تھی لیکن میرا ارادہ تھا کہ اللہ کرے آپ کئی کئی مرتبہ سلام کریں اس لیے میں نے اپنی آواز آپ کو نہ سنائی، آپ آئیے تشریف لے چلئے، آپ نے ان کے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا پھر پوچھا کہ خود ابوالہیشم کہاں ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! وہ بھی یہیں قریب ہی پانی لینے گئے ہیں، آپ تشریف لائیے، ان شاءاللہ آتے ہی ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں رونق افروز ہوئے، مائی صاحبہ نے ایک سایہ دار درخت تلے کچھ بچھا دیا جس پر آپ بیٹھ گئے، اتنے میں ہی ابوالہیشم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے بےحد خوش ہوئے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون نصیب ہوا اور جلدی جلدی ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گئے اور اچھے اچھے خوشے اتار اتار کر دینے لگے یہاں تک کہ خود آپ نے روک دیا، صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! گیلی اور تر اور بالکل پکی اور جس طرح کی چاہیں تناول فرمائیں، جب کھجوریں کھا چکے تو میٹھا پانی لائے جسے پیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے ۔ [اسنادہ ضعیف]
10828
ابن جریر کی اسی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا کہ ”یہاں کیسے بیٹھے ہو؟“ دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک کے مارے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہیں، فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بھی اسی وجہ سے اس وقت نکلا ہوں“ اب آپ انہیں لے کر چلے اور ایک انصاری کے گھر آئے ان کی بیوی صاحبہ مل گئیں پوچھا کہ ”تمہارے میاں کہاں گئے ہیں؟“ کہا: گھر کے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، اتنے میں تو وہ مشک اٹھائے ہوئے آ ہی گئے، خوش ہو گئے اور کہنے لگے مجھ جیسا خوش قسمت آج کوئی بھی نہیں جس کے گھر اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں، مشک تو لٹکا دی اور خود جا کر کھجوروں کے تازہ تازہ خوشے لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چن چن کر الگ کر کے لاتے“ تو جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ اپنی طبیعت کے مطابق اپنی پسند سے چن لیں اور نوش فرمائیں، پھر چھری ہاتھ میں اٹھائی کہ کوئی جانور ذبح کر کے گوشت پکائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ دینے والے جانور ذبح نہ کرنا“ چنانچہ اس نے ذبیحہ کیا آپ نے وہیں کھانا کیا، پھر فرمانے لگے: ”دیکھو! بھوکے گھر سے نکلے اور پیٹ بھرے جا رہے ہیں یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا“ [صحیح مسلم:2038]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد غلام سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی میں نکلا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا پھر کسی انصاری کے باغ میں گئے اور اس سے فرمایا:”لاؤ بھائی کھانے کو دو“، وہ انگور کے خوشے اٹھا لائے اور آپ کے سامنے رکھ دئیے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھائے، پھر فرمایا: ”ٹھنڈا پانی پلاؤ“، وہ لائے آپ نے پیا پھر فرمانے لگے: ”قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خوشہ اٹھا کر زمین پر دے مارا اور کہنے لگے اس کے بارے میں بھی اللہ کے ہاں پرسش ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں صرف تین چیزوں کی پرسش نہیں۔ پردہ پوشی کے لائق کپڑا، بھوک روکنے کے قابل ٹکڑا اور سردی گرمی میں سر چھپانے کے لیے مکان“ ۔ [ مسند احمد:81/5:حسن]
10829
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے ہم سے کس نعمت کا سوال ہو گا؟ کھجوریں کھا رہے ہیں اور پانی پی رہے ہیں، تلواریں گردنوں میں لٹکا رہے ہیں اور دشمن سر پر کھڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھبراؤ نہیں عنقریب نعمتیں آ جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:429/5:حسن]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نہائے ہوئے معلوم ہوتے تھے ہم نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت تو آپ خوش و خرم نظر آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر لوگ تونگری کا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اس کے لیے تونگری کوئی بری چیز نہیں اور یاد رکھو متقی شخص کے لیے صحت تونگری سے بھی اچھی ہے اور خوش نفسی بھی اللہ کی نعمت ہے“ ۔ [مسند احمد::375/5:صحیح] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
10830
ترمذی شریف میں ہے نعمتوں کے سوال میں قیامت والے دن سب سے پہلے یہ کہا جائے گا کہ ہم نے تجھے صحت نہیں دی تھی اور ٹھنڈے پانی سے تجھے آسودہ نہیں کیا کرتے تھے؟ [سنن ترمذي:3358،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ اس آیت «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [102-التكاثر:8] کو سنا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم تو جو کی روٹی اور وہ بھی آدھا پیٹ کھا رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ کیا تم پیر بچانے کے لیے جوتیاں نہیں پہنتے اور کیا تم ٹھنڈے پانی نہیں پیتے؟ یہی قابل پرسش نعمتیں ہیں ۔ [الدر المنثور السیوطی:661/6:اسنادہ ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امن اور صحت کے بارے میں سوال ہو گا [تفسیر ابن جریر الطبری:285/30:اسنادہ ضعیف] پیٹ بھر کھانے ٹھنڈے پانی سائے دار گھروں میٹھی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ ضعیف]
شہد پینے، لذت حاصل کرنے، صبح و شام کے کھانے، گھی شہد اور میدے کی روٹی وغیرہ، غرض ان تمام نعمتوں کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بدن کی صحت، کانوں اور آنکھوں کی صحت کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ ان طاقتوں سے کیا کیا کام کیے۔
10831
جیسے قرآن کریم میں ہے «إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا» [17-الاسراء:36] یعنی ” ہر شخص سے اس کے کان، اس کی آنکھ اور اس کے دل کے بارے میں بھی پوچھ ہو گی “۔
صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے دو نعمتوں کے بارے میں لوگ بہت ہی غفلت برت رہے ہیں۔ صحت اور فراغت ۔ [صحیح بخاری:6421] یعنی نہ تو ان کا پورا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو جانتے ہیں نہ انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق صرف کرتے ہیں۔
مسند بزار میں ہے تہ بند کے سوا، سائے دار دیواروں کے سوا اور روٹی کے ٹکڑے کے سوا ہر چیز کا قیامت کے دن حساب دینا پڑے گا ۔ [مسند بزار:3643:ضعیف]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن کہے گا، اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار کرایا۔ عورتیں تیرے نکاح میں دیں تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے اب بتا کہ اس کا شکریہ کہاں ہے ؟ [صحیح مسلم:2968]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ اتکاثر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10832
التكاثر 102:7
مال و دولت اور اعمال ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت، اس کے پا لینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کر دیا، تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آ گئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کر لی اور مرتے دم تک غفلت برتی“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف ولا اصل لہ]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَم وَادٍ مِنْ ذَهَب» یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو ۔ [صحیح بخاری:6440] اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» [102-التكاثر:1] نازل ہوئی۔
10824
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آیا تو آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال صرف وہ ہے جسے تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پھاڑ دیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا“ ۔ [صحیح مسلم:2958]
صحیح مسلم میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو لوگوں کے لیے چھوڑ چھاڑ کر چل دے گا ۔ [صحیح مسلم:2959]
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں جن میں سے دو تو پلٹ آتی ہیں صرف ایک ساتھ رہ جاتی ہے، گھر والے، مال اور اعمال۔ اہل و مال لوٹ آئے عمل ساتھ رہ گئے ۔ [صحیح بخاری:6514]
مسند احمد کی حدیث میں ہے ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہیں لالچ اور امنگ ۔ [صحیح بخاری:6421]
ضحاک رحمہ اللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا میرا، فرمایا: تیرا تو اس وقت ہو گا کہ کسی نیک کام میں تو خرچ کر دے یا بطور شکر رب کے خرچ کر۔ احنف رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو بیان کر کے پھر یہ شعر پڑھا: «أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَكْته *** فَإِذَا أَنْفَقْته فَالْمَال لَك» یعنی ”جب کہ تو مال کو لیے بیٹھا ہے، تو تو مال کی ملکیت ہے ہاں جب اسے خرچ کر دے گا اس وقت مال تیری ملکیت میں ہو جائے گا۔“
10825
ابن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بنو حارثہ اور بنو حارث انصار کے قبائل آپس میں فخر و غرور کرنے لگے ایک کہتا دیکھو ہم میں فلاں شخص ایسا بہادر ایسا جیوٹ یا اتنا بڑا مالدار وغیرہ ہے، دوسرے قبیلے والے اپنے میں سے ایسوں کو پیش کرتے تھے جب زندوں کے ساتھ یہ فخر و مباہات کر چکے تو کہنے لگے آؤ قبرستان میں چلیں وہاں جا کر اپنے اپنے مردوں کی قبروں کی طرف اشارے کر کے کہنے لگے بتلاؤ اس جیسا بھی تم میں کوئی گزرا ہے؟ وہ انہیں اپنے مردوں کے ساتھ الزام دینے لگے اس پر یہ دونوں ابتدائی آیتیں اتریں کہ تم فخر و مباہات کرتے ہوئے قبرستان میں پہنچ گئے اور اپنے مردوں پر بھی فخر و غرور کرنے لگے، چاہیئے تھا کہ یہاں آ کر عبرت حاصل کرتے اپنا مرنا اور سڑنا گلنا یاد کرتے۔
10826
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی زیادتی اور اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک ہو کر قبروں میں پہنچ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ بہتات کی چاہت نے غفلت میں ہی رکھا یہاں تک کہ مر گئے اور قبروں میں دفن ہو گئے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی بیمار پرسی کو گئے اور حسب عادت فرمایا: ”کوئی ڈر خوف نہیں ان شاءاللہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہو گی“، تو اس نے کہا: آپ اسے خوب پاک بتلا رہے ہیں یہ تو وہ بخار ہے جو بوڑھے بڑوں پر جوش مارتا ہے اور قبرستان تک پہنچا کر رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا پھر یوں ہی سہی“ ۔ [صحیح بخاری:5656]
اس حدیث میں بھی لفظ «تُزِيرهُ الْقُبُور» ہے اور یہاں قرآن میں بھی «زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مر کر قبر میں دفن ہونا ہی ہے۔
ترمذی میں ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب تک یہ آیت نہ اتری ہم عذاب قبر کے بارے میں شک میں ہی رہے ۔ [سنن ترمذي:3355،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر کچھ دیر سوچ کر فرمانے لگے: میمون! قبروں کا دیکھنا تو صرف بطور زیارت ہے اور ہر زیارت کرنے والا اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے یعنی خواہ جنت کی طرف خواہ دوزخ کی طرف، ایک اعرابی نے بھی ایک شخص کی زبانی ان دونوں آیتوں کی تلاوت سن کر یہی فرمایا تھا کہ اصل مقام اور ہی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دھمکاتے ہوئے دو دو مرتبہ فرماتا ہے کہ حقیقت حال کا علم تمہیں ابھی ہو جائے گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراد کفار ہیں دوبارہ مومن مراد ہیں پھر فرماتا ہے کہ اگر تم علم یقینی کے ساتھ اسے معلوم کر لیتے یعنی اگر ایسا ہوتا تو تم غفلت میں نہ پڑتے اور مرتے دم تک اپنی آخری منزل آخرت سے غافل نہ رہتے پھر جس چیز سے پہلے دھمکایا تھا اسی کا بیان کر رہا ہے کہ تم جہنم کو ان آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کی ایک ہی جنبش کے ساتھ اور تو اور انبیاء علیہم السلام بھی ہیبت و خوف کے مارے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے، اس کی عظمت اور دہشت ہر دل پر چھائی ہوئی ہو گی، جیسے کہ بہت سی احادیث میں بہ تفصیل مروی ہے۔
10827
پھر فرمایا کہ اس دن تم سے نعمتوں کی باز پرس ہو گی، صحت، امن، رزق وغیرہ تمام نعمتوں کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کا شکر کہاں تک ادا کیا۔
ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ ٹھیک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے چلے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسجد میں آ رہے ہیں پوچھا: کہ ”اس وقت کیسے نکلے ہو؟“ کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے بھی نکالا ہے، اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ان سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال کیا اور آپ نے بھی یہی جواب دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے باتیں کرنی شروع کیں، پھر فرمایا: ”اگر ہمت ہو تو اس باغ تک چلے چلو کھانا پینا مل ہی جائے گا اور سائے دار جگہ بھی، ہم نے کہا بہت اچھا“، پس آپ ہمیں لے کر سیدنا ابوالہیشم انصاری رضی اللہ عنہ کے باغ کے دروازہ پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور اجازت چاہی، سیدہ ام ہیثم انصاریہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے ہی کھڑی تھیں سن رہی تھیں لیکن اونچی آواز سے جواب نہیں دیا اور اس لالچ سے کہ اللہ کے رسول اور زیادہ سلامتی کی دعا کریں اور کئی کئی مرتبہ آپ کا سلام سنیں جب تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر چکے اور کوئی جواب نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے دئیے، اب تو ابوالہیشم کی بیوی صاحبہ دوڑیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی آواز سن رہی تھی لیکن میرا ارادہ تھا کہ اللہ کرے آپ کئی کئی مرتبہ سلام کریں اس لیے میں نے اپنی آواز آپ کو نہ سنائی، آپ آئیے تشریف لے چلئے، آپ نے ان کے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا پھر پوچھا کہ خود ابوالہیشم کہاں ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! وہ بھی یہیں قریب ہی پانی لینے گئے ہیں، آپ تشریف لائیے، ان شاءاللہ آتے ہی ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں رونق افروز ہوئے، مائی صاحبہ نے ایک سایہ دار درخت تلے کچھ بچھا دیا جس پر آپ بیٹھ گئے، اتنے میں ہی ابوالہیشم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے بےحد خوش ہوئے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون نصیب ہوا اور جلدی جلدی ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گئے اور اچھے اچھے خوشے اتار اتار کر دینے لگے یہاں تک کہ خود آپ نے روک دیا، صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! گیلی اور تر اور بالکل پکی اور جس طرح کی چاہیں تناول فرمائیں، جب کھجوریں کھا چکے تو میٹھا پانی لائے جسے پیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے ۔ [اسنادہ ضعیف]
10828
ابن جریر کی اسی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا کہ ”یہاں کیسے بیٹھے ہو؟“ دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک کے مارے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہیں، فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بھی اسی وجہ سے اس وقت نکلا ہوں“ اب آپ انہیں لے کر چلے اور ایک انصاری کے گھر آئے ان کی بیوی صاحبہ مل گئیں پوچھا کہ ”تمہارے میاں کہاں گئے ہیں؟“ کہا: گھر کے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، اتنے میں تو وہ مشک اٹھائے ہوئے آ ہی گئے، خوش ہو گئے اور کہنے لگے مجھ جیسا خوش قسمت آج کوئی بھی نہیں جس کے گھر اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں، مشک تو لٹکا دی اور خود جا کر کھجوروں کے تازہ تازہ خوشے لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چن چن کر الگ کر کے لاتے“ تو جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ اپنی طبیعت کے مطابق اپنی پسند سے چن لیں اور نوش فرمائیں، پھر چھری ہاتھ میں اٹھائی کہ کوئی جانور ذبح کر کے گوشت پکائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ دینے والے جانور ذبح نہ کرنا“ چنانچہ اس نے ذبیحہ کیا آپ نے وہیں کھانا کیا، پھر فرمانے لگے: ”دیکھو! بھوکے گھر سے نکلے اور پیٹ بھرے جا رہے ہیں یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا“ [صحیح مسلم:2038]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد غلام سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی میں نکلا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا پھر کسی انصاری کے باغ میں گئے اور اس سے فرمایا:”لاؤ بھائی کھانے کو دو“، وہ انگور کے خوشے اٹھا لائے اور آپ کے سامنے رکھ دئیے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھائے، پھر فرمایا: ”ٹھنڈا پانی پلاؤ“، وہ لائے آپ نے پیا پھر فرمانے لگے: ”قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خوشہ اٹھا کر زمین پر دے مارا اور کہنے لگے اس کے بارے میں بھی اللہ کے ہاں پرسش ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں صرف تین چیزوں کی پرسش نہیں۔ پردہ پوشی کے لائق کپڑا، بھوک روکنے کے قابل ٹکڑا اور سردی گرمی میں سر چھپانے کے لیے مکان“ ۔ [ مسند احمد:81/5:حسن]
10829
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے ہم سے کس نعمت کا سوال ہو گا؟ کھجوریں کھا رہے ہیں اور پانی پی رہے ہیں، تلواریں گردنوں میں لٹکا رہے ہیں اور دشمن سر پر کھڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھبراؤ نہیں عنقریب نعمتیں آ جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:429/5:حسن]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نہائے ہوئے معلوم ہوتے تھے ہم نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت تو آپ خوش و خرم نظر آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر لوگ تونگری کا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اس کے لیے تونگری کوئی بری چیز نہیں اور یاد رکھو متقی شخص کے لیے صحت تونگری سے بھی اچھی ہے اور خوش نفسی بھی اللہ کی نعمت ہے“ ۔ [مسند احمد::375/5:صحیح] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
10830
ترمذی شریف میں ہے نعمتوں کے سوال میں قیامت والے دن سب سے پہلے یہ کہا جائے گا کہ ہم نے تجھے صحت نہیں دی تھی اور ٹھنڈے پانی سے تجھے آسودہ نہیں کیا کرتے تھے؟ [سنن ترمذي:3358،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ اس آیت «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [102-التكاثر:8] کو سنا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم تو جو کی روٹی اور وہ بھی آدھا پیٹ کھا رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ کیا تم پیر بچانے کے لیے جوتیاں نہیں پہنتے اور کیا تم ٹھنڈے پانی نہیں پیتے؟ یہی قابل پرسش نعمتیں ہیں ۔ [الدر المنثور السیوطی:661/6:اسنادہ ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امن اور صحت کے بارے میں سوال ہو گا [تفسیر ابن جریر الطبری:285/30:اسنادہ ضعیف] پیٹ بھر کھانے ٹھنڈے پانی سائے دار گھروں میٹھی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ ضعیف]
شہد پینے، لذت حاصل کرنے، صبح و شام کے کھانے، گھی شہد اور میدے کی روٹی وغیرہ، غرض ان تمام نعمتوں کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بدن کی صحت، کانوں اور آنکھوں کی صحت کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ ان طاقتوں سے کیا کیا کام کیے۔
10831
جیسے قرآن کریم میں ہے «إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا» [17-الاسراء:36] یعنی ” ہر شخص سے اس کے کان، اس کی آنکھ اور اس کے دل کے بارے میں بھی پوچھ ہو گی “۔
صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے دو نعمتوں کے بارے میں لوگ بہت ہی غفلت برت رہے ہیں۔ صحت اور فراغت ۔ [صحیح بخاری:6421] یعنی نہ تو ان کا پورا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو جانتے ہیں نہ انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق صرف کرتے ہیں۔
مسند بزار میں ہے تہ بند کے سوا، سائے دار دیواروں کے سوا اور روٹی کے ٹکڑے کے سوا ہر چیز کا قیامت کے دن حساب دینا پڑے گا ۔ [مسند بزار:3643:ضعیف]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن کہے گا، اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار کرایا۔ عورتیں تیرے نکاح میں دیں تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے اب بتا کہ اس کا شکریہ کہاں ہے ؟ [صحیح مسلم:2968]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ اتکاثر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10832
التكاثر 102:8
مال و دولت اور اعمال ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ دنیا کی محبت، اس کے پا لینے کی کوشش نے تمہیں آخرت کی طلب اور نیک کاموں سے بےپرواہ کر دیا، تم اسی دنیا کی ادھیڑ بن میں رہے کہ اچانک موت آ گئی اور تم قبروں میں پہنچ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اطاعت پروردگار سے تم نے دنیا کی جستجو میں پھنس کر بےرغبتی کر لی اور مرتے دم تک غفلت برتی“ ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف ولا اصل لہ]
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مال اور اولاد کی زیادتی کی ہوس میں موت کا خیال پرے پھینک دیا صحیح بخاری کتاب الرقاق میں ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہم «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَم وَادٍ مِنْ ذَهَب» یعنی اگر ابن آدم کے پاس ایک جنگل بھر کر سونا ہو ۔ [صحیح بخاری:6440] اسے قرآن کی آیت ہی سمجھتے رہے، یہاں تک کہ «أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ» [102-التكاثر:1] نازل ہوئی۔
10824
مسند احمد میں ہے سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آیا تو آپ اس آیت کو پڑھ رہے تھے آپ نے فرمایا: ”ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تیرا مال صرف وہ ہے جسے تو نے کھا کر فنا کر دیا یا پہن کر پھاڑ دیا یا صدقہ دے کر باقی رکھ لیا“ ۔ [صحیح مسلم:2958]
صحیح مسلم میں اتنا اور زیادہ ہے کہ اس کے سوا جو کچھ ہے اسے تو تو لوگوں کے لیے چھوڑ چھاڑ کر چل دے گا ۔ [صحیح مسلم:2959]
صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں جن میں سے دو تو پلٹ آتی ہیں صرف ایک ساتھ رہ جاتی ہے، گھر والے، مال اور اعمال۔ اہل و مال لوٹ آئے عمل ساتھ رہ گئے ۔ [صحیح بخاری:6514]
مسند احمد کی حدیث میں ہے ابن آدم بوڑھا ہو جاتا ہے لیکن دو چیزیں اس کے ساتھ باقی رہ جاتی ہیں لالچ اور امنگ ۔ [صحیح بخاری:6421]
ضحاک رحمہ اللہ نے ایک شخص کے ہاتھ میں ایک درہم دیکھ کر پوچھا یہ درہم کس کا ہے؟ اس نے کہا میرا، فرمایا: تیرا تو اس وقت ہو گا کہ کسی نیک کام میں تو خرچ کر دے یا بطور شکر رب کے خرچ کر۔ احنف رحمہ اللہ نے اس واقعہ کو بیان کر کے پھر یہ شعر پڑھا: «أَنْتَ لِلْمَالِ إِذَا أَمْسَكْته *** فَإِذَا أَنْفَقْته فَالْمَال لَك» یعنی ”جب کہ تو مال کو لیے بیٹھا ہے، تو تو مال کی ملکیت ہے ہاں جب اسے خرچ کر دے گا اس وقت مال تیری ملکیت میں ہو جائے گا۔“
10825
ابن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں بنو حارثہ اور بنو حارث انصار کے قبائل آپس میں فخر و غرور کرنے لگے ایک کہتا دیکھو ہم میں فلاں شخص ایسا بہادر ایسا جیوٹ یا اتنا بڑا مالدار وغیرہ ہے، دوسرے قبیلے والے اپنے میں سے ایسوں کو پیش کرتے تھے جب زندوں کے ساتھ یہ فخر و مباہات کر چکے تو کہنے لگے آؤ قبرستان میں چلیں وہاں جا کر اپنے اپنے مردوں کی قبروں کی طرف اشارے کر کے کہنے لگے بتلاؤ اس جیسا بھی تم میں کوئی گزرا ہے؟ وہ انہیں اپنے مردوں کے ساتھ الزام دینے لگے اس پر یہ دونوں ابتدائی آیتیں اتریں کہ تم فخر و مباہات کرتے ہوئے قبرستان میں پہنچ گئے اور اپنے مردوں پر بھی فخر و غرور کرنے لگے، چاہیئے تھا کہ یہاں آ کر عبرت حاصل کرتے اپنا مرنا اور سڑنا گلنا یاد کرتے۔
10826
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ اپنی زیادتی اور اپنی کثرت پر گھمنڈ کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک ہو کر قبروں میں پہنچ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ بہتات کی چاہت نے غفلت میں ہی رکھا یہاں تک کہ مر گئے اور قبروں میں دفن ہو گئے۔
صحیح حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی بیمار پرسی کو گئے اور حسب عادت فرمایا: ”کوئی ڈر خوف نہیں ان شاءاللہ گناہوں سے پاکیزگی حاصل ہو گی“، تو اس نے کہا: آپ اسے خوب پاک بتلا رہے ہیں یہ تو وہ بخار ہے جو بوڑھے بڑوں پر جوش مارتا ہے اور قبرستان تک پہنچا کر رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا پھر یوں ہی سہی“ ۔ [صحیح بخاری:5656]
اس حدیث میں بھی لفظ «تُزِيرهُ الْقُبُور» ہے اور یہاں قرآن میں بھی «زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ» ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد مر کر قبر میں دفن ہونا ہی ہے۔
ترمذی میں ہے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جب تک یہ آیت نہ اتری ہم عذاب قبر کے بارے میں شک میں ہی رہے ۔ [سنن ترمذي:3355،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔
ابن ابی حاتم میں ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی پھر کچھ دیر سوچ کر فرمانے لگے: میمون! قبروں کا دیکھنا تو صرف بطور زیارت ہے اور ہر زیارت کرنے والا اپنی جگہ لوٹ جاتا ہے یعنی خواہ جنت کی طرف خواہ دوزخ کی طرف، ایک اعرابی نے بھی ایک شخص کی زبانی ان دونوں آیتوں کی تلاوت سن کر یہی فرمایا تھا کہ اصل مقام اور ہی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ دھمکاتے ہوئے دو دو مرتبہ فرماتا ہے کہ حقیقت حال کا علم تمہیں ابھی ہو جائے گا یہ مطلب بھی بیان کیا گیا ہے کہ پہلے مراد کفار ہیں دوبارہ مومن مراد ہیں پھر فرماتا ہے کہ اگر تم علم یقینی کے ساتھ اسے معلوم کر لیتے یعنی اگر ایسا ہوتا تو تم غفلت میں نہ پڑتے اور مرتے دم تک اپنی آخری منزل آخرت سے غافل نہ رہتے پھر جس چیز سے پہلے دھمکایا تھا اسی کا بیان کر رہا ہے کہ تم جہنم کو ان آنکھوں سے دیکھ لو گے کہ اس کی ایک ہی جنبش کے ساتھ اور تو اور انبیاء علیہم السلام بھی ہیبت و خوف کے مارے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے، اس کی عظمت اور دہشت ہر دل پر چھائی ہوئی ہو گی، جیسے کہ بہت سی احادیث میں بہ تفصیل مروی ہے۔
10827
پھر فرمایا کہ اس دن تم سے نعمتوں کی باز پرس ہو گی، صحت، امن، رزق وغیرہ تمام نعمتوں کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کا شکر کہاں تک ادا کیا۔
ابن ابی حاتم کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ ٹھیک دوپہر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے چلے دیکھا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی مسجد میں آ رہے ہیں پوچھا: کہ ”اس وقت کیسے نکلے ہو؟“ کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز نے آپ کو نکالا ہے اسی نے مجھے بھی نکالا ہے، اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ان سے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی سوال کیا اور آپ نے بھی یہی جواب دیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں بزرگوں سے باتیں کرنی شروع کیں، پھر فرمایا: ”اگر ہمت ہو تو اس باغ تک چلے چلو کھانا پینا مل ہی جائے گا اور سائے دار جگہ بھی، ہم نے کہا بہت اچھا“، پس آپ ہمیں لے کر سیدنا ابوالہیشم انصاری رضی اللہ عنہ کے باغ کے دروازہ پر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور اجازت چاہی، سیدہ ام ہیثم انصاریہ رضی اللہ عنہا دروازے کے پیچھے ہی کھڑی تھیں سن رہی تھیں لیکن اونچی آواز سے جواب نہیں دیا اور اس لالچ سے کہ اللہ کے رسول اور زیادہ سلامتی کی دعا کریں اور کئی کئی مرتبہ آپ کا سلام سنیں جب تین مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سلام کر چکے اور کوئی جواب نہ ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس چلے دئیے، اب تو ابوالہیشم کی بیوی صاحبہ دوڑیں اور کہا: اے اللہ کے نبی! میں آپ کی آواز سن رہی تھی لیکن میرا ارادہ تھا کہ اللہ کرے آپ کئی کئی مرتبہ سلام کریں اس لیے میں نے اپنی آواز آپ کو نہ سنائی، آپ آئیے تشریف لے چلئے، آپ نے ان کے اس فعل کو اچھی نظروں سے دیکھا پھر پوچھا کہ خود ابوالہیشم کہاں ہیں مائی صاحبہ نے فرمایا: اے اللہ کے نبی! وہ بھی یہیں قریب ہی پانی لینے گئے ہیں، آپ تشریف لائیے، ان شاءاللہ آتے ہی ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں رونق افروز ہوئے، مائی صاحبہ نے ایک سایہ دار درخت تلے کچھ بچھا دیا جس پر آپ بیٹھ گئے، اتنے میں ہی ابوالہیشم رضی اللہ عنہ بھی آ گئے بےحد خوش ہوئے آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون نصیب ہوا اور جلدی جلدی ایک کھجور کے درخت پر چڑھ گئے اور اچھے اچھے خوشے اتار اتار کر دینے لگے یہاں تک کہ خود آپ نے روک دیا، صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! گیلی اور تر اور بالکل پکی اور جس طرح کی چاہیں تناول فرمائیں، جب کھجوریں کھا چکے تو میٹھا پانی لائے جسے پیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ کے ہاں پوچھے جاؤ گے ۔ [اسنادہ ضعیف]
10828
ابن جریر کی اسی حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکر، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور پوچھا کہ ”یہاں کیسے بیٹھے ہو؟“ دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بھوک کے مارے گھر سے نکل کھڑے ہوئے ہیں، فرمایا: ”اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بھی اسی وجہ سے اس وقت نکلا ہوں“ اب آپ انہیں لے کر چلے اور ایک انصاری کے گھر آئے ان کی بیوی صاحبہ مل گئیں پوچھا کہ ”تمہارے میاں کہاں گئے ہیں؟“ کہا: گھر کے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، اتنے میں تو وہ مشک اٹھائے ہوئے آ ہی گئے، خوش ہو گئے اور کہنے لگے مجھ جیسا خوش قسمت آج کوئی بھی نہیں جس کے گھر اللہ کے نبی تشریف لائے ہیں، مشک تو لٹکا دی اور خود جا کر کھجوروں کے تازہ تازہ خوشے لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چن چن کر الگ کر کے لاتے“ تو جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ اپنی طبیعت کے مطابق اپنی پسند سے چن لیں اور نوش فرمائیں، پھر چھری ہاتھ میں اٹھائی کہ کوئی جانور ذبح کر کے گوشت پکائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دودھ دینے والے جانور ذبح نہ کرنا“ چنانچہ اس نے ذبیحہ کیا آپ نے وہیں کھانا کیا، پھر فرمانے لگے: ”دیکھو! بھوکے گھر سے نکلے اور پیٹ بھرے جا رہے ہیں یہی وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہو گا“ [صحیح مسلم:2038]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد غلام سیدنا ابوعسیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے آواز دی میں نکلا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلایا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلایا پھر کسی انصاری کے باغ میں گئے اور اس سے فرمایا:”لاؤ بھائی کھانے کو دو“، وہ انگور کے خوشے اٹھا لائے اور آپ کے سامنے رکھ دئیے آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے کھائے، پھر فرمایا: ”ٹھنڈا پانی پلاؤ“، وہ لائے آپ نے پیا پھر فرمانے لگے: ”قیامت کے دن اس سے باز پرس ہو گی“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ خوشہ اٹھا کر زمین پر دے مارا اور کہنے لگے اس کے بارے میں بھی اللہ کے ہاں پرسش ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”ہاں صرف تین چیزوں کی پرسش نہیں۔ پردہ پوشی کے لائق کپڑا، بھوک روکنے کے قابل ٹکڑا اور سردی گرمی میں سر چھپانے کے لیے مکان“ ۔ [ مسند احمد:81/5:حسن]
10829
مسند کی ایک اور حدیث میں ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھ کر سنائی تو صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے ہم سے کس نعمت کا سوال ہو گا؟ کھجوریں کھا رہے ہیں اور پانی پی رہے ہیں، تلواریں گردنوں میں لٹکا رہے ہیں اور دشمن سر پر کھڑا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھبراؤ نہیں عنقریب نعمتیں آ جائیں گی“ ۔ [مسند احمد:429/5:حسن]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بیٹھے ہوئے تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نہائے ہوئے معلوم ہوتے تھے ہم نے کہا: یا رسول اللہ! اس وقت تو آپ خوش و خرم نظر آتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، پھر لوگ تونگری کا ذکر کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو اس کے لیے تونگری کوئی بری چیز نہیں اور یاد رکھو متقی شخص کے لیے صحت تونگری سے بھی اچھی ہے اور خوش نفسی بھی اللہ کی نعمت ہے“ ۔ [مسند احمد::375/5:صحیح] ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے۔
10830
ترمذی شریف میں ہے نعمتوں کے سوال میں قیامت والے دن سب سے پہلے یہ کہا جائے گا کہ ہم نے تجھے صحت نہیں دی تھی اور ٹھنڈے پانی سے تجھے آسودہ نہیں کیا کرتے تھے؟ [سنن ترمذي:3358،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ اس آیت «ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ» [102-التكاثر:8] کو سنا کر صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے کہ یا رسول اللہ! ہم تو جو کی روٹی اور وہ بھی آدھا پیٹ کھا رہے ہیں تو اللہ کی طرف سے وحی آئی کہ کیا تم پیر بچانے کے لیے جوتیاں نہیں پہنتے اور کیا تم ٹھنڈے پانی نہیں پیتے؟ یہی قابل پرسش نعمتیں ہیں ۔ [الدر المنثور السیوطی:661/6:اسنادہ ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ امن اور صحت کے بارے میں سوال ہو گا [تفسیر ابن جریر الطبری:285/30:اسنادہ ضعیف] پیٹ بھر کھانے ٹھنڈے پانی سائے دار گھروں میٹھی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا ۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ ضعیف]
شہد پینے، لذت حاصل کرنے، صبح و شام کے کھانے، گھی شہد اور میدے کی روٹی وغیرہ، غرض ان تمام نعمتوں کے بارے میں اللہ کے ہاں سوال ہو گا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ بدن کی صحت، کانوں اور آنکھوں کی صحت کے بارے میں بھی سوال ہو گا کہ ان طاقتوں سے کیا کیا کام کیے۔
10831
جیسے قرآن کریم میں ہے «إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا» [17-الاسراء:36] یعنی ” ہر شخص سے اس کے کان، اس کی آنکھ اور اس کے دل کے بارے میں بھی پوچھ ہو گی “۔
صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث میں ہے دو نعمتوں کے بارے میں لوگ بہت ہی غفلت برت رہے ہیں۔ صحت اور فراغت ۔ [صحیح بخاری:6421] یعنی نہ تو ان کا پورا شکر ادا کرتے ہیں اور ان کی عظمت کو جانتے ہیں نہ انہیں اللہ کی مرضی کے مطابق صرف کرتے ہیں۔
مسند بزار میں ہے تہ بند کے سوا، سائے دار دیواروں کے سوا اور روٹی کے ٹکڑے کے سوا ہر چیز کا قیامت کے دن حساب دینا پڑے گا ۔ [مسند بزار:3643:ضعیف]
مسند احمد کی مرفوع حدیث میں ہے کہ اللہ عزوجل قیامت کے دن کہے گا، اے ابن آدم! میں نے تجھے گھوڑوں پر اور اونٹوں پر سوار کرایا۔ عورتیں تیرے نکاح میں دیں تجھے مہلت دی کہ تو ہنسی خوشی آرام و راحت سے زندگی گزارے اب بتا کہ اس کا شکریہ کہاں ہے ؟ [صحیح مسلم:2968]
اللہ کے فضل و کرم سے سورۃ اتکاثر کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
10832