Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — البقرة 2:198 – البقرة 2:260

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. البقرة 2:198
  2. البقرة 2:199
  3. البقرة 2:200
  4. البقرة 2:201
  5. البقرة 2:202
  6. البقرة 2:203
  7. البقرة 2:204
  8. البقرة 2:205
  9. البقرة 2:206
  10. البقرة 2:207
  11. البقرة 2:208
  12. البقرة 2:209
  13. البقرة 2:210
  14. البقرة 2:211
  15. البقرة 2:212
  16. البقرة 2:213
  17. البقرة 2:214
  18. البقرة 2:215
  19. البقرة 2:216
  20. البقرة 2:217
  21. البقرة 2:218
  22. البقرة 2:219
  23. البقرة 2:220
  24. البقرة 2:221
  25. البقرة 2:222
  26. البقرة 2:223
  27. البقرة 2:224
  28. البقرة 2:225
  29. البقرة 2:226
  30. البقرة 2:227
  31. البقرة 2:228
  32. البقرة 2:229
  33. البقرة 2:230
  34. البقرة 2:231
  35. البقرة 2:232
  36. البقرة 2:233
  37. البقرة 2:234
  38. البقرة 2:235
  39. البقرة 2:236
  40. البقرة 2:237
  41. البقرة 2:238
  42. البقرة 2:239
  43. البقرة 2:240
  44. البقرة 2:241
  45. البقرة 2:242
  46. البقرة 2:243
  47. البقرة 2:244
  48. البقرة 2:245
  49. البقرة 2:246
  50. البقرة 2:247
  51. البقرة 2:248
  52. البقرة 2:249
  53. البقرة 2:250
  54. البقرة 2:251
  55. البقرة 2:252
  56. البقرة 2:253
  57. البقرة 2:254
  58. البقرة 2:255
  59. البقرة 2:256
  60. البقرة 2:257
  61. البقرة 2:258
  62. البقرة 2:259
  63. البقرة 2:260

البقرة 2:198

مزید احکام حج بیان ہوتے ہیں ، کیا تجارت جائز ہے ۔ کیا دوران حج حاجی مزدوری کرسکتا ہے ؟ وقوف کہاں ہو اور کہاں سے واپسی جائز ہے ؟ ذکر و استغفار کا کیا طریقہ ہے ، یہ مسائل سنئے ! لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ (198) ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ پھر جب عرفات سے چلو ۔ تو مشعر حرام (مزدلفہ) کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے نہیں کی ہے ، ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے ۔ پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو ، اور اللہ سے معافی چاہو ، یقینا ً وہ معاف کرنے والا ، رحم فرمانے والا ہے ۔ “ امام بخاری (رح) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ، فرماتے ہیں عکاظ مجنہ اور ذوالمجاز دور جاہلیت کے مشہور تجارتی میلے ہوا کرتے تھے ۔ مسلمانوں نے خیال کیا کہ شاید دور اسلام میں ان میلوں میں تجارت کرنا اب جائز نہیں ہے ۔ اس پر حکم آیا کہ موسم حج میں ” اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ “ ابوداؤد نے ، اپنی سند کے ساتھ ایک دوسرے واسطے سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں : مسلمان ایام حج اور اس کے بعد تجارتی موسم میں خرید وفروخت سے پرہیز کرتے تھے ۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ یہ تو اللہ کو یاد کرنے کے دن ہیں ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا ، اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرتے جاؤ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ ابوامامہ تیمی کی ایک روایت میں ہے ، کہتے ہیں میں حضرت ابن عمر سے پوچھا ہم باربرداری کا کام کرتے ہیں ۔ کیا ہمارا بھی حج ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کیا تم طواف نہیں کرتے ، نیکی کے کام نہیں کرتے ، جمرے نہیں مارتے ، پھر سر نہیں منڈواتے ؟ کہتے ہیں ہم نے جواب دیا ہاں ، ابن عمر نے فرمایا ایک صاحب رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اس نے آپ ﷺ سے یہی سوال دریافت کیا جو آپ لوگ مجھ سے پوچھ رہے ہیں ۔ آپ نے اس وقت تک کوئی جواب نہ دیا جب تک جبریل یہ آیت لے کر آ نہیں پہنچے ۔ اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رب کا فضل بھی تلاش کرتے جاؤ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ ابن جریر (رح) نے ابوصالح ، حضرت عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام ، سے روایت کی ہے۔ اس نے کہا اس نے سوال کیا امیر المومنین کیا تم حج میں تجارت کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا بھائی ہمارے لوگوں کی معیشت کا دارومدار ہی حج پر تھا۔ تجارت کے بارے میں اوپر کی پہلی دوروایات سے اہل اسلام کی جس احتیاط کا اظہار ہوتا ہے پھر وہ دوسری روایت میں بار برداری اور مزدوری کے بارے میں جس احتیاط اور پرہیز کا ذکر ہے ، یہ اسی احتیاط اور پرہیز گاری کا ایک حصہ ہے جو اسلام نے مسلمانوں کے اندر دور جاہلیت کے ہر فعل وہر رسم کے خلاف پیدا کردی تھی ۔ مسلمانوں کا حال یہ تھا کہ وہ دور جاہلیت کے کسی فعل یا کسی رسم کا ارتکاب اس وقت تک نہ کرتے تھے جب تک اس کے بارے میں اسلام کوئی فیصلہ نہ سنا دیتا ۔ اس پارے کی ابتداء میں ہم اس پر بحث کرچکے ہیں ، یعنی صفاومروہ کے درمیان سعی کے بیان کے ضمن میں ۔ ایام حج کے دوران بیع وشراء باربرداری و مزدوری کی اجازت قرآن نے دے دی مگر اس کی تعبیر یوں ہے کہ یہ اللہ کا فضل ہے ۔ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلا مِنْ رَبِّكُمْ ” تم اگر اپنے رب کا فضل تلاش کرو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “ حلال کمائی کی تعبیر فضل الٰہی سے کی گئی ہے ۔ تاکہ تجارت کرنے والے ، مزدوری کرنے والے یا دوسرا کوئی نفع اور کام کرنے والے ، یہ سمجھیں کہ وہ محض دولت نہیں کماتے بلکہ یہ اللہ کا فضل بھی ہے ۔ یہ کام صرف مادی جسم کا سروساماں ہی نہیں ہے بلکہ اسے تقدس حاصل ہے اور فضل اللہ ہے ۔ اور اللہ اسے اپنے فضل سے نوازتا ہے ۔ اس لئے تجارت کی اس نوعیت یعنی فضل خداوندی کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ فضل خداوندی اسے تب ہی مل سکتا ہے جب وہ لین دین کرے اور ان اسباب کے ذریعے ہی اسے تلاش کرے جو اللہ تعالیٰ نے نظام رزق کے لئے مقررکئے ہوئے ہیں ۔ جب قلب مومن میں یہ احساس جاگزیں ہوجاتا ہے اور پھر وہ طلب رزق میں نکلتا ہے تو وہ اس سعی میں بھی دراصل عبادت کی حالت میں ہوتا ہے اور اس کے لئے یہ سرگرمی حالت حج کے خلاف نہیں ہے ۔ کیونکہ حج بھی اللہ کے لئے ہے اور یہ تجارت بھی فضل الٰہی ہے ۔ اسلام سب سے پہلے قلب مومن میں ایسے جذبات اور ایسے تصورات بٹھا دیتا ہے اور پھر اسے میدان میں عمل اتار دیتا ہے اور کھلا چھوڑدیتا ہے کہ وہ جس طرح چاہے کام کرے ۔ اس نقطہ نظر سے اس کا ہر فعل ، اس کی ہر حرکت اللہ کی عبادت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلب رزق ، تجارت کے حکم کو بھی احکام حج کے عین وسط میں بیان کردیا اور تلاش فضل کے ساتھ ہی شہر حرام کے پاس ذکر اور عرفات سے واپسی کے مسائل بیان ہوئے۔ فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ ” پھر جب عرفات سے چلو ، تو مشعرالحرام کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے ۔ “ عرفات پر وقوف (کھڑا ہونا) افعال حج کا مرکزی ستون ہے ۔ اصحاب سنن نے دیلمی کی روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا : حج عرفات ہے (تین مرتبہ فرمایا) کوئی شخص طلوع فجر سے پہلے پہلے عرفات تک جاپہنچے تو گویا اس نے حج پالیا۔ منیٰ میں قیام کے تین دن ہیں ۔ لیکن اگر کوئی دو دن گزار کر چلاجائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور کوئی تاخیر کرے تو بھی گناہ گار نہیں ۔ عرفات کے میدان میں کھڑے ہونے کا وقت یوم عرفہ کے زوال کے بعد شروع ہوجاتا ہے یعنی 8 ذوالحجہ کے دن ظہر سے ۔ اور یہ وقت دوسرے دن ، یعنی یوم النحر ، قربانی کے دن کے طلوع فجر تک ۔ امام احمد کا قول یہ ہے کہ وقوف عرفہ کا وقت دن کے شروع ہی سے شروع ہوجاتا ہے ۔ وہ ایک حدیث سے استدلال کرتے ہیں جو انہوں نے روایت کی ہے۔ دوسرے اصحاب سنن کے علاوہ امام ترمذی نے روایت کرکے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ شعبی عروہ بن مضرس ابن حارثہ ابن لام الطائی سے روایت کرتے ہیں ۔ میں رسول ﷺ کے پاس مقام مزدلفہ میں آیا ، جب آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے ، میں نے کہا اللہ کے رسول ﷺ میں طے پہاڑ سے آیا ہوں ۔ میری سواری بھی تھک گئی ہے اور میں بھی چور چور ہوگیا ۔ اللہ کی قسم میں ہر پہاڑ پر کھڑا ہوا ہوں ۔ کیا میرا حج مکمل ہوگیا ؟ اس پر رسول ﷺ نے فرمایا جو شخص ہماری اس نماز میں پہنچ جائے اور ہمارے ساتھ یہاں توقف کرے یہاں تک کہ ہم یہاں سے چل پڑیں ۔ بشرطیکہ وہ اس سے پہلے دن کے وقت یا رات کے وقت میدان عرفات میں کھڑا ہوچکا ہو۔ تو اس کا حج پورا ہوگیا اور اس کی تکلیف دور ہوگئی۔ درج بالا دو اقوال کے مطابق ، رسول ﷺ نے عرفات پر وقوف کے وقت کو قدرے بڑھایا یا اسے یوم النحر کی صبح تک بڑھادیا ، یعنی ذوالحجہ کی دسویں تک ، یہ کیوں ؟ اس لئے کہ مسلمانوں کا طرزعمل مشرکین کے طرزعمل سے قدرے مختلف ہوجائے ۔ ابن مردویہ اور حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہے۔ دونوں نے عبدالرحمٰن بن مبارک سے حضرت مسور ابن مخرمہ سے وہ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے ہمیں عرفات میں خطبہ دیا۔ حمد وثناء کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا (امابعد) آج کا دن حج اکبر کا دن ہے ۔ مشرکین اور بت پرست غروب شمس سے پہلے ہی چلنا شروع کردیتے تھے ۔ جب سورج ابھی پہاڑیوں کے سروں پر ہوتا اور سورج کے سامنے پہاڑیاں یوں نظر آئیں گویا کہ آدمیوں کے عمامے ہیں اور ہم ان کے طرز عمل کے خلاف دوسرے دن طلوع الشمس سے پہلے پہلے یہاں سے چلیں گے ۔ رسول ﷺ کی یہ روایت کہ آپ یوم عرفہ کے دن ، غروب آفتاب کے بعد عرفات سے روانہ ہوئے ۔ صحیح مسلم میں جابر ؓ بن عبداللہ کی روایت میں ہے ۔ آپ یوں عرفات میں کھڑے رہے ، سورج غروب ہوگیا ، زردی تھوڑی تھوڑی واضح ہوگئی ۔ اور سورج کی ٹکیہ صاف غائب ہوگئی ۔ اسامہ آپ کے پیچھے آپ کی سواری پر بیٹھ گئے ۔ رسول ﷺ اب آگے بڑھے ۔ اونٹنی کی لگام خوب کھینچ لی ۔ یہاں تک کہ اس کا سر ہودج کے اگلے حصے سے لگنے لگا ۔ آپ ﷺ اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ فرماتے رہے : لوگو ! آرام سے ، رک رک کر چلوجب راستے میں پہاڑی آجاتی اور سواری کو اوپر چڑھنا ہوتا تو آپ مہار ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ سہولت سے چڑھ جائے ۔ جب آپ ﷺ مزدلفہ پہنچے تو آپ ﷺ نے مغرب و عشاء کی دونوں نمازیں ایک اذان اور دواقامتوں کے ساتھ پڑھائیں ۔ دونوں نمازوں کے درمیان تسبیح کچھ نہ تھی ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے آرام فرمایا۔ صبح طلوع ہونے کے بعد جب روشنی خوب پھیل گئی تو آپ ﷺ نے صبح کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت کے ساتھ پڑھائی ۔ آپ ﷺ پھر اونٹنی پر سوار ہوگئے اور مشعرالحرام تک آئے اور رو قبلہ ہوکر وہاں دعا فرمائی ۔ تکبیر وتہلیل فرمائی ۔ یہاں آپ ﷺ کھڑے ہی رہے ، یہاں تک کہ زردی پھیل گئی ۔ اور طلوع آفتاب سے پہلے ہی آپ وہاں سے روانہ ہوگئے ۔ یہ ہے وہ فریضہ جو ادا کیا اور رسول ﷺ نے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے فَإِذَا أَفَضْتُمْ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّين ” پھر جب تم عرفات سے چلو ، تو مشعر حرام کے پاس ٹھہر کر اللہ کو یاد کرو ۔ اور اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے ۔ ورنہ اس سے پہلے تو تم بھٹکے ہوئے تھے۔ “ مشعر حرام سے مراد مزدلفہ ہے ۔ قرآن مجید کا حکم یہ ہے کہ عرفات سے واپسی پر یہاں آکر اللہ کو یاد کرو ، یاد دلایا جاتا ہے کہ اس ذکر کی بھی اس نے انہیں ہدایت کی ہے ۔ اس کی ہدایات میں سے یہ ہدایت ہے اور یہ ذکر گویا ان کی جانب سے ایک شکر یہ ہے کہ جو وہ اللہ تعالیٰ کا ادا کرتے ہیں کیونکہ یہ وہی ہے جس نے انہیں ہدایت دی ورنہ اس ہدایت سے پہلے تو ان کی حالت یہ تھی وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّين ” ورنہ اس سے پہلے تو تم بھٹکے ہوئے تھے۔ “ پہلی جماعت مسلمہ ، صحابہ کرام اس حقیقت کو خوب اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس کا گہرا احساس اپنے اندر پاتے تھے ۔ عرب گمراہی میں ڈوبے ہوئے تھے ، انہوں نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ۔ عقائد خراب ، بتوں ، جنوں اور ملائکہ کے پجاری ، فرشتوں کو اللہ کی اولاد سمجھنے والے ، جنوں کو اللہ تعالیٰ کا رشتہ دار سمجھنے والے ، غرض یہ اور اس قسم کے بیشمار نطریاتی اور عملی گمراہیوں میں یہ لوگ ڈوبے ہوئے تھے ۔ ان غلط تصورات اور باطل عقائد کی اساس پر ان لوگوں نے اپنے لئے ایک نظام عبادت اور نطام زندگی وضع کرلیا تھا ۔ بعض جانوروں کی پشت کا گوشت اور یا پورا گوشت بغیر کسی معقول جواز کے انہوں نے حرام قرار دے دیا تھا ، جواز یہ پیش کرتے تھے کہ ان جانوروں کا اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق ہے ۔ وہ اپنی اولاد کو اللہ کے لئے نذر کرتے اور جنات کو اس میں شریک کرتے ۔ اور اس کے علاوہ بےشمارجاہلی عبادات ورسومات تھے جن کا کوئی جواز نہ تھا ، صرف ان بےبنیاد اور غلط عقائد کا نتیجہ تھے ۔ نیز ان عقائد کی وجہ سے ان کا اجتماعی نظام فاسد ہوچکا تھا اور وہ بحیثیت قوم اخلاق باختہ تھے ۔ ان کے اندر طبقاتی امتیازات گھر کرچکے تھے مثلاً ایک یہ کہ وہ عرفات تک نہ جاتے اور جس کی اصلاح اس آیت سے کی گئی ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ ” پھر جہاں سے اور لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو۔ “ اور قرآن مجید نے ان تمام فسادات اور رسومات کو ختم کرکے رکھ دیا ۔ اس کے علاوہ ان کے درمیان مسلسل خاندانی رقابتیں اور قبائلی جنگیں جاری رہتی تھیں اور وہ اجتماعی طور پر کسی بھی وقت ایک قوم نہ بن سکتے تھے تاکہ اقوام کی برادری میں ان کی کچھ وقعت ہوتی ۔ ان کا خاندانی نظام برباد ہوچکا تھا اور جنسی تعلقات میں سخت بےراہ روی پائی جاتی تھی اور وہ اس جنسی بےراہ روی پر فخر کرتے تھے ۔ ان کے زبردست لوگ ضعفاء کے ساتھ وحشیانہ سلوک کرتے تھے اور اس سلسلے میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے سوا ان کے معاشرے میں کوئی میزان عدالت نہ تھی ۔ غرض اس وقت کے عرب معاشرے کا اگر سرسری جائزہ لیا جائے تو وہ انسان کی فکری اور عملی گمراہی اور فساد کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔ اور یہ صرف اسلام تھا ، جس نے اس معاشرے کو بلند کیا اور اسے فکری اور عملی ضلالت سے نجات دی ۔ اور جب وہ قرآن مجید کی یہ آواز سنتے وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّين ” اللہ کو اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ، ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے ۔ “ تو ان کے حافظہ کے اسکرین پر ان کے تخیلات کے نگار خانہ میں ، ان کے شعور کے نہاں خانہ سے یکلخت وتصاویر ۔ ان کی زندگی کی بھدی تصاویر ، ان کی زندگی کے گرے ہوئے بدنما نقشے سامنے آجاتے ہوں گے ۔ ان کی تاریخ تو ان بدنما مناظر سے بھری پڑی تھی ۔ خیال و شعور کی اسکرین پر اپنی یہ تصاویر دیکھ کر جب وہ پھر اپنی موجودہ پاکیزہ زندگی اور اپنے اس بلند مقام پر نگاہ ڈالتے ہوں گے جو اسلام نے انہیں عطا کیا ، جہاں تک اسلام نے انہیں بلند کیا ۔ تو وہ اس سچائی کی گہرائیوں تک جاپہنچے ہوں گے ۔ وہ بغیر کسی مبحث کے یہ سمجھ جاتے ہوں گے کہ ان کی زندگی میں اسلام کا اساسی رول کیا ہے ؟ عربوں کے علاوہ بھی ہر قوم ، ہر نسل کے مسلمانوں کے سلسلے میں یہ بات اب بھی ایک زندہ حقیقت ہے ۔ اسلام کے بغیر ان کی حیثیت کیا رہ جاتی ؟ اس نظریہ حیات کو اگر نظر انداز کردیاجائے تو ان کا وزن کیا رہ جاتا ہے ؟ جب لوگ اسلام کی روشنی پالیتے ہیں ، اور جب ان کی پوری زندگی میں اسلامی نظام حیات نافذ ہوجاتا ہے اور ایک حقیقت بن جاتا ہے ۔ تو وہ گراوٹ سے رفعت ، چھٹ پنے کے مقابلے میں عظمت ، گمراہی کے بدلے ہدایت اور پریشان خیالی کے مقابلے میں فکر مستقیم پاجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں یہ تبدیلی اس وقت رونما نہیں ہوتی جب تک وہ صحیح معنوں میں مسلمان نہیں بن جاتے ۔ اور جب تک وہ اپنی پوری زندگی کو اسلامی نظام حیات کے مطابق استوار نہیں کرلیتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پوری انسانیت ایک اندھی جاہلیت میں سرگرداں ہے ۔ اور اس وقت تک یوں ہی رہے گی جب تک وہ اسلام کے حظیرہ ہدایت میں داخل نہیں ہوجاتی ۔ اس راز کو تو صرف وہی شخص کماحقہ پاسکتا ہے ، جس نے جاہلیت میں کچھ دن گزارے ہوں ، جس میں آج کل پوری انسانیت مبتلا ہے اور جس نے پوری دنیا کو بدی سے مالا مال کردیا ہے ، جس کا ہر جگہ دور دورہ ہے ، پھر ایسا شخص اسلامی تصور حیات کو پالے اور پھر اس کے مطابق زندگی بسر کرکے دیکھ لے اور تجربہ کرکے معلوم کرے کہ اسلامی نظام زندگی کس قدر اعلیٰ وارفع نظام ہے اور اس کے علاوہ اس کے ماحول میں جو نظام ہیں وہ ناپاکی ، غلاظت اور گندگی کے ڈھیر ہی ڈھیر ہیں ۔ جب انسان اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام زندگی کی بلند ترین چوٹی پر چڑھ جاتا ہے وہاں سے پوری انسانیت کے تمام تصورات زندگی ، تمام مروجہ اجتماعی نظام اور زندگی کے تمام طور وطریقوں پر نظر ڈالتا ہے ، ان تمام بڑے بڑے فلسفیوں کے تصورات پر ، تمام جدید وقدیم مفکرین کے افکار پر ، تمام جدید وقدیم نطام ہائے زندگی پر انسان اس بلندی اور اسلامی نظام حیات کی بلند چوٹی سے جب نظر ڈالتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ پوری انسانیت کس مصیبت ، کس بدبختی میں مبتلا ہے ۔ ان فضولیات اور ان بدبختوں نے اس کس قدر ذلیل ولاغر کردیا ہے ۔ وہ ایسی ژولیدہ فکری اور علمی افراتفری میں مبتلا ہے کہ کوئی عقلمند آدمی اس میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔ اور پھر وہ بزعم خود غلط انسان کا دعویٰ یہ ہے کہ اسے اللہ کے بھیجے ہوئے نظام زندگی کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی یاد دہانی اللہ تعالیٰ یہاں کرا رہے ہیں اور جس کا احسان مومنین کو یاد دلایا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم کرم ہے کہ اس نے تمہیں اس نعمت کبریٰ سے سرفراز کیا وَاذْكُرُوهُ كَمَا هَدَاكُمْ وَإِنْ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنَ الضَّالِّينَ ” اور اسے اس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے۔ اگرچہ اس سے قبل تم گم کردہ راہ تھے۔ “

البقرة 2:199

حج مسلمانوں کا ایک عظیم سالانہ اجتماع ہے ۔ اس میں وہ باہم ملتے ہیں ، اسلام کے اس آسرے کے سوا کوئی آسرا نہیں ہوتا ، اسلامی نشانات کے سوا سب نشانات مٹ جاتے ہیں ۔ بدن پر غیر سلے دوکپڑے ، باقی ہر چیز سے عاری ۔ ضروری ستر کے علاوہ سرپاؤں ننگے ، فرد اور فرد کے درمیان کوئی جدائی نہیں ۔ قبیلے اور قبیلے کے درمیان کوئی اختیار نہیں ، قوم اور قوم کے درمیان کوئی جدائی نہیں ، اسلامی نظریہ حیات ہی سب کا عقیدہ ہے ، اسلامی نسب میں سب کا نسب ہے ۔ اسلامی رنگ ہی سب کا رنگ ہے ۔ قریش دور جاہلیت میں اپنے آپ کو ” حمس “ بہادر وغیور کرہتے تھے ۔ انہوں نے اپنے لئے ایسے امتیازات اختیار کئے ہوئے تھے جو انہیں تمام عربوں سے الگ کردیتے تھے ، ان امتیازات میں سے ایک یہ تھا کہ وہ عام عربوں کی طرح عرفات پر ” وقوف عرفہ “ پر ” وقوف “ نہ کیا کرتے تھے ۔ نہ وہ قیام (عرفات) سے لوٹتے تھے جہاں سے تمام لوگ واپس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ احکام حج میں خصوصی طور پر ان کے لئے حکم نازل ہوا ، اور امتیاز ختم کرکے انہیں اس مساوات کے دائرے کے اندر لے آیا گیا ، جو اسلام پیدا کرنا چاہتا تھا ، چناچہ تمام مصنوعی امتیازات کو ختم کرکے ذی امتیاز قبیلہ قریش کو امت مسلمہ کے اندر ضم کردیا گیا ۔ حکم دیا گیا ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ” اور پھر جہاں سے سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے پلٹو ، اور اللہ سے معافی چاہو ، یقیناً وہ معاف کرنے والا ہے۔ “ امام بخاری نے ہشام ، اس کے باپ کے واسطہ سے حضرت عائشہ کی یہ حدیث روایت کی ہے۔ فرماتی ہیں !” قریش اور ان کے دین کے پیروکارنہ صرف وہاں رک جاتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو ” حمس “ کہتے تھے جبکہ تمام عرب اقوام عرفات میں ” وقوف “ کرتیں ۔ جب اسلام ظہور پذیر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ آپ عرفات پر جائیں اور وہاں وقوف فرمائیں اور پھر وہاں سے پلٹیں ۔ یہ ہے مراد اس آیت سے حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ ” جہاں سے لوگ پلٹیں ۔ “ جہاں اور لوگ ٹھہریں وہاں تم بھی ٹھہرو ، جہاں سے اور لوگ پلٹیں وہیں سے تم بھی پلٹو ، اسلام کی نظر میں انساب اور طبقات کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ تمام لوگ ایک ہی امت کے فرد ہیں ۔ بالکل برابر ، ہوں جس طرح کنگھی کے دندانے ۔ کسی کو کسی پر برتری نہیں ۔ سوائے تقویٰ اور خدا خوفی کے ۔ اسلام نے تو حکم دیا ہے کہ وہ عام طور پر رنگارنگ لباس پہنتے ہیں اسے اتار پھینکیں ۔ اللہ کے گھر میں بھائیوں کی طرح سادہ شکل اور عام حیثیت میں آئیں ۔ بھائی بھائی سے برابری کے ساتھ ملے ۔ جب رنگا رنگ کپڑے تک اتروالئے گئے تو قوم ونسب پر فخر کے کیا معنی ؟ چھوڑ دو ، چھوڑ دو جاہلیت کے تمام تعصبات کو ۔ یہ تو ناپاک ہیں ۔ اسلامی رنگ میں رنگ جاؤ۔ اللہ سے مغفرت کے طلب گار بنو۔ جو دوران حج تمہارے دلوں میں کھٹکے ۔ جن کا تم سے ارتکاب ہوگیا ۔ جو غصے میں تمہاری زبان پر آگئیں ۔ اگرچہ معمولی ہوں کیونکہ ان سے تمہیں روکا گیا تھا ، حکم تھا کسہ شہوانی فعل کو سوچو بھی مت۔ کسی بدفعلی ارتکاب نہ ہو اور کسی سے غصے کی بات نہ کرو۔ یوں اسلام ، دوران حج مسلمانوں کے سلوک اور طرز عمل کو درست کردیتا ہے ۔ ایک امت اور ایک ملت کی تصور پر ، جس میں کوئی طبقاتی امتیاز نہ ہو ۔ جس میں کسی قوم اور قوم کے درمیان کوئی فرق نہ ہو ، جس میں لسانی بنیادوں پر لوگوں کے درمیان امتیازات نہ ہوں ۔ جس میں وطن کی بنیاد پر قوم ، قوم سے جدا نہ ہوجاتی ہو ۔ غرض مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ ہر چیز سے استغفار پڑھیں جو انہیں اس بلند اور پاکیزہ تصور زندگی سے دور پھینک دیتی ہو۔

البقرة 2:200

جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ، اختتام حج کے بعد عرب سوق عکاظ ، مجنہ اور ذوالمجاز نامی بازاروں کو جاتے ۔ یہ بازار صرف خروید وفروخت ہی کے بازار نہ تھے ۔ بلکہ ان میں تقریروں ، اشعار اور آباء اجداد کی نفرتوں کا بھی مقابلہ ہوتا ۔ ان بازاروں میں ہر شخص اپنا نسب نامہ بیان کرتا ۔ اس وقت عربوں کی حالت یہ تھی کہ ان نفرتوں اور کارہائے نمایاں کے بیان و اظہار کے علاوہ عربوں کے پاس کوئی پروگرام ہی نہ تھا ۔ ان کے پاس کوئی انسانی مشن نہ تھا ، جس کی راہ میں وہ اپنی عظیم قوت گویائی اور بلاغت اور عظیم عملی قوتوں کو کام میں لاتے ۔ عربوں کو بلند ترانسانی مشن تو صرف اسلام نے دیا ہے ۔ اسلام سے پہلے ان کی حالت یہ تھی کہ نہ زمین پر ان کا کوئی پروگرام ہے اور نہ آسمانوں پر ان کا کوئی ذکر یا مقام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حج سے فارغ ہوکر لوگ ان میلوں اور بازاروں میں اپنے قیمتی اوقات اور اپنی قیمتی طاقتوں کو ان لغو اور بےکار باتوں میں صرف کرتے ۔ اپنے حسب ونسب بیان کرتے ، اپنے آجاؤ اجداد کے کارنامے یاد کرتے ۔ اور فخر ومباہات کے ساتھ ........ لیکن جب اسلام آیا اور انہیں ایک عظیم نصب العین دیا گیا ، انہیں زندگی کا ایک جدید تصور دیا گیا ، بلکہ انہیں ایک نیا جنم دیا گیا تو وہ بامقصد اور بامراد قوم بن گئے ۔ قرآن کریم انہیں صرف وہ تعلیم دیتا ہے جس میں ان کی بھلائی ہے۔ مناسک حج ادا کرچکنے کے بعد ، اب اسلامی تعلیم پر کھئے کہ آباء و اجداد کے تذکروں کی بجائے اللہ تعالیٰ کو یاد کرو فَإِذَا قَضَيْتُمْ مَنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ” پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کرچکو ۔ تو جس طرح پہلے اپنے آباء اجداد کا ذکر کرتے تھے ، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ “........” جس طرح پہلے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے تھے ۔ “ ان الفاظ سے معلوم ہوتا نہیں کہ اللہ کے ذکر کے ساتھ اب بھی آباء و اجداد کا تذکرہ جائز ہے ۔ اس تمثیل میں تنقیدی پہلو ہے اور مقصد یہ ہے کہ اس کام سے بہتر کام میں اپنے اوقات صرف کرو یعنی جس طرح تم پہلے اپنے آباء اجداد کا تذکرہ کرتے تھے جو ایک فضول حرکت تھی ۔ جو کوئی جائز یا مستحسن کام نہیں تھا ، اس کو بدل دو ۔ اب اللہ کو یاد کرو بلکہ اس سے بھی زیادہ یاد کرو بالخصوص موسم حج میں جبکہ تم نے عام لباس بھی اتار کر ایک خاص لباس پہن لیا ہے ۔ اسی طرح آباء اجداد پر تکابر وتخافر کے لباس کو اتار پھینکو۔ صرف اللہ کے ذکر ہی سے انسان کا رتبہ بلند ہوتا ہے ۔ آباء اجداد کے جائز وناجائز تفاخر کے ذریعے نہیں ۔ اب زندگی کی جدید قدروں کا میزان ومعیار تقویٰ ہے ۔ اللہ کا خوف ہے اور تعلق باللہ ہے ۔ اس کا ذکر اور اس کی خشیت ہے۔

البقرة 2:201

اب یہاں انسانوں کو اسلامی میزان اور اسلامی معیار کے مطابق تولا اور پرکھا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو انسانوں کی قدریں بتاتا ہے اور ان کے مطابق مختلف لوگوں کی قیمتیں متعین کرکے دکھاتا ہے : فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ (200) وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (201) أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ ” ان میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی ، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا ، ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی ۔ “ لوگوں میں دونقطہ ہائے نظر ہیں ۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پیش نظر صرف دنیا ہے ۔ اسے حصول دنیا کا بےحد شوق ہوتا ہے ۔ ہر وقت دنیاوی امور ہی میں مصروف رہتا ہے ۔ اس نقطہ نظر کے حامل لوگ حج کے موقع پر آیا کرتے تھے ، ان لوگوں کی دعائیں کچھ اس قسم کی ہوا کرتی تھیں :” اللہ ! اس سال کو بارش کا سال بنائیے ، تروتازگی کا سال بنائیے ، اچھی اولاد کا سال بنائیے وغیرہ۔ یہ لوگ اپنی دعاؤں میں آخرت کا ذکر تک نہ کرتے تھے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے ۔ کیونکہ ہر نسل اور ہر علاقے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کے پیش نظر صرف دنیا ہی دنیا ہوتی ہے اور یہ لوگ جب اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگیں تو بھی دنیا ہی مانگتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا شغل ہی دنیا میں ہوتا ہے۔ ان کے دل و دماغ پر دنیا ہی چھائی ہوتی ہے ۔ اور دنیا اس کی ذات کی گہرائیوں تک اتر چکی ہوتی ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان کا پورا حصہ اس دنیا ہی میں عطا کردیتا ہے ۔ اگر ان کے لئے یہاں کچھ مقرر ہو ، ان کے مقدر میں ہو ، اور آخرت میں تو ایسے لوگوں کا کچھ حصہ نہیں ہے مطلقاً کچھ نہیں ۔ دوسرا گروہ ایسا ہے جس کا نقطہ نظر سابق سے زیادہ وسیع ہے ۔ ان کا نفس بلند اور فطرت عظیم ہے ۔ یہ لوگ واصل باللہ ہیں ۔ یہ لوگ اچھی دنیا کے بھی طالب ہیں لیکن وہ عالم آخرت میں بھی حصہ چاہتے ہیں ۔ اسے بھی صاف بھولے ہوئے نہیں ہیں ۔ یہ گروہ کہتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ “ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے دونوں جہانوں کی بھلائی کے طلب گار ہیں ۔ یہ بھلائی کا نام نہیں لیتے اس کی تخصیص نہیں کرتے ، یہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ اللہ ان کے لئے جو بھلائی چاہے اختیار کرے ۔ وہ مختار ہے اور یہ لوگ اس کے اختیار پر راضی ہیں ۔ اس قسم کے لوگوں کو اللہ ضمانت دیتا ہے کہ ان کا حصہ انہیں ضرور ملے گا ۔ اس میں دیر نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکاتے ہیں ۔ ان قرآنی تعلیمات کی رو سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو ، اپنے تمام امور اس کو سپرد کردے ، اللہ کو اپنا اختیار دے دے ، اور پھر اللہ اس کے لئے جو اختیار کرے اس پر راضی ہو ، تو ایسے شخص کو دنیاوی بھلائیاں بھی ملیں گی اور آخرت میں بھی خیر ہی خیر اس کے حصے میں ہوگی اور جس شخص نے اپنے پیش نظر صرف دنیاہی کو رکھا تو ایسا شخص تو آخرت کو ابھی سے کھوبیٹھا ۔ اس نقطہ نظر والے شخص نے اپنی دعا میں بھی راہ اعتدال کو اختیار کیا ہے اور یہ اسلام کے پیدا کردہ ایک ایسے تصور حیات پر جما ہوا ہے جو نہایت موزوں اور نہایت خوشگوار ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ ترک دنیا اختیار کرلیں ۔ کیونکہ انہیں خلافت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور منصب خلافت انہوں نے اس کرہ ارض پر سنبھالنا ہے ۔ اسلام کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنے دنیاوی امور میں بھی اللہ کی طرف متوجہ رہیں ۔ وہ اپنے نقطہ نظر کو اس قدر محدود نہ کریں کہ وہ خود دنیا کے محدود دائرے کے اندر محدود ہوکر رہ جائیں ۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان کو اس کی محدود دنیا کی چار دیواری سے آزاد کردے ۔ یوں کہ وہ اس دنیا میں بھی کام کرے ، اس سے کام بھی لے ۔ مگر اس کے اندر نہ گھر جائے ۔ اس کے پنجے سے آزاد بھی رہے ۔ وہ یہاں منصب خلافت کے تمام فرائض سرانجام ۔ لیکن اس کی نظریں افق اعلیٰ پر ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام اہتمامات ، وہ تمام سرگرمیاں جن کے فوائد اس دنیا تک محدود ہوں ۔ ان پر اگر ایک انسان ۔ ایک مومن انسان اسلامی تصور حیات کے مقام بلند سے ایک حقارت آمیز نظر ڈالے تو وہ سب کچھ اسے حقیر و ذلیل اور بےوقعت نظر آئے گا بشرطیکہ وہ اسلامی تصور حیات کی بلند چوٹی پر پہنچا ہواہو۔

البقرة 2:202

اب یہاں انسانوں کو اسلامی میزان اور اسلامی معیار کے مطابق تولا اور پرکھا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو انسانوں کی قدریں بتاتا ہے اور ان کے مطابق مختلف لوگوں کی قیمتیں متعین کرکے دکھاتا ہے : فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الآخِرَةِ مِنْ خَلاقٍ (200) وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (201) أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ ” ان میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی ، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا ، ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ) حصہ پائیں گے اور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی ۔ “ لوگوں میں دونقطہ ہائے نظر ہیں ۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پیش نظر صرف دنیا ہے ۔ اسے حصول دنیا کا بےحد شوق ہوتا ہے ۔ ہر وقت دنیاوی امور ہی میں مصروف رہتا ہے ۔ اس نقطہ نظر کے حامل لوگ حج کے موقع پر آیا کرتے تھے ، ان لوگوں کی دعائیں کچھ اس قسم کی ہوا کرتی تھیں :” اللہ ! اس سال کو بارش کا سال بنائیے ، تروتازگی کا سال بنائیے ، اچھی اولاد کا سال بنائیے وغیرہ۔ یہ لوگ اپنی دعاؤں میں آخرت کا ذکر تک نہ کرتے تھے ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ یہ آیت ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے ۔ کیونکہ ہر نسل اور ہر علاقے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کے پیش نظر صرف دنیا ہی دنیا ہوتی ہے اور یہ لوگ جب اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگیں تو بھی دنیا ہی مانگتے ہیں ۔ کیونکہ ان کا شغل ہی دنیا میں ہوتا ہے۔ ان کے دل و دماغ پر دنیا ہی چھائی ہوتی ہے ۔ اور دنیا اس کی ذات کی گہرائیوں تک اتر چکی ہوتی ہے۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان کا پورا حصہ اس دنیا ہی میں عطا کردیتا ہے ۔ اگر ان کے لئے یہاں کچھ مقرر ہو ، ان کے مقدر میں ہو ، اور آخرت میں تو ایسے لوگوں کا کچھ حصہ نہیں ہے مطلقاً کچھ نہیں ۔ دوسرا گروہ ایسا ہے جس کا نقطہ نظر سابق سے زیادہ وسیع ہے ۔ ان کا نفس بلند اور فطرت عظیم ہے ۔ یہ لوگ واصل باللہ ہیں ۔ یہ لوگ اچھی دنیا کے بھی طالب ہیں لیکن وہ عالم آخرت میں بھی حصہ چاہتے ہیں ۔ اسے بھی صاف بھولے ہوئے نہیں ہیں ۔ یہ گروہ کہتا ہے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ” اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ “ یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے دونوں جہانوں کی بھلائی کے طلب گار ہیں ۔ یہ بھلائی کا نام نہیں لیتے اس کی تخصیص نہیں کرتے ، یہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ اللہ ان کے لئے جو بھلائی چاہے اختیار کرے ۔ وہ مختار ہے اور یہ لوگ اس کے اختیار پر راضی ہیں ۔ اس قسم کے لوگوں کو اللہ ضمانت دیتا ہے کہ ان کا حصہ انہیں ضرور ملے گا ۔ اس میں دیر نہ ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ بڑی جلدی حساب چکاتے ہیں ۔ ان قرآنی تعلیمات کی رو سے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک شخص کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کی جانب متوجہ ہو ، اپنے تمام امور اس کو سپرد کردے ، اللہ کو اپنا اختیار دے دے ، اور پھر اللہ اس کے لئے جو اختیار کرے اس پر راضی ہو ، تو ایسے شخص کو دنیاوی بھلائیاں بھی ملیں گی اور آخرت میں بھی خیر ہی خیر اس کے حصے میں ہوگی اور جس شخص نے اپنے پیش نظر صرف دنیاہی کو رکھا تو ایسا شخص تو آخرت کو ابھی سے کھوبیٹھا ۔ اس نقطہ نظر والے شخص نے اپنی دعا میں بھی راہ اعتدال کو اختیار کیا ہے اور یہ اسلام کے پیدا کردہ ایک ایسے تصور حیات پر جما ہوا ہے جو نہایت موزوں اور نہایت خوشگوار ہے۔ اسلام اپنے ماننے والوں سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ وہ ترک دنیا اختیار کرلیں ۔ کیونکہ انہیں خلافت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور منصب خلافت انہوں نے اس کرہ ارض پر سنبھالنا ہے ۔ اسلام کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ مسلمان اپنے دنیاوی امور میں بھی اللہ کی طرف متوجہ رہیں ۔ وہ اپنے نقطہ نظر کو اس قدر محدود نہ کریں کہ وہ خود دنیا کے محدود دائرے کے اندر محدود ہوکر رہ جائیں ۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان کو اس کی محدود دنیا کی چار دیواری سے آزاد کردے ۔ یوں کہ وہ اس دنیا میں بھی کام کرے ، اس سے کام بھی لے ۔ مگر اس کے اندر نہ گھر جائے ۔ اس کے پنجے سے آزاد بھی رہے ۔ وہ یہاں منصب خلافت کے تمام فرائض سرانجام ۔ لیکن اس کی نظریں افق اعلیٰ پر ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام اہتمامات ، وہ تمام سرگرمیاں جن کے فوائد اس دنیا تک محدود ہوں ۔ ان پر اگر ایک انسان ۔ ایک مومن انسان اسلامی تصور حیات کے مقام بلند سے ایک حقارت آمیز نظر ڈالے تو وہ سب کچھ اسے حقیر و ذلیل اور بےوقعت نظر آئے گا بشرطیکہ وہ اسلامی تصور حیات کی بلند چوٹی پر پہنچا ہواہو۔

البقرة 2:203

وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلا إِثْمَ عَلَيْهِ لِمَنِ اتَّقَى وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ” یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں ۔ پھر جو کوئی جلدی کرے دوہی دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھہر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ بشرطیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے ۔ “ راجح بات یہ ہے کہ ایام ذکر یوم عرفہ ، یوم نحر اور پھر ایام تشریق ہیں ۔ ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ ایام معدودات سے مراد ایام تشریق ہیں ۔ عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ معدود دنوں میں ذکر سے مراد تکبیریں ہیں جو ایام تشریق میں ہر فرض نماز کے بعد پڑھی جاتی ہیں ۔ اللہ اکبر ، اللہ اکبر ۔ پہلے ہم عبدالرحمن بن معمر دیلمی کی حدیث نقل کر آئے ہیں کہ ” منیٰ کے دن تین ہیں ۔ اب اگر کوئی دوہی دنوں میں شتاب واپس ہوگیا تو بھی کوئی حرج نہیں ہے اور اگر کوئی تاخیر کرکے پورے وقت کے بعد آئے تو بھی کوئی حرج نہیں ۔ غرض عرفہ ، حج اور ایام تشریق سب میں مناسب ہے کہ اللہ کا ذکر زیادہ سے زیادہ ہو ، چاہے ان میں پہلے دونوں کو منتخب کیا جائے یا دوسرے دو دنوں کو ، لیکن ہر معاملے میں اللہ خوفی اور پرہیز گاری پیش نظر رہے۔” بشرطیکہ یہ دن تقویٰ کے ساتھ بسر کئے۔ “ لِمَنِ اتَّقَى۔ حج کی گہماگہمی کی مناسبت سے ، اب یہاں یوم حشر کا ذکر کیا گیا جہاں تمام مخلوق حساب و کتاب کے لئے جمع ہوگی ۔ وہاں ایک خوفناک منظر ہوگا لہٰذا اس مقام کی تیاری کرو اور پرہیزگاری کا راستہ اختیار کرو وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ” اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔ “ ان آیات کے مطالعے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے عربوں کے مروجہ حج کو کس طرح ایک اسلامی فریضہ قرار دیا۔ اس کا ربط جاہلیت کے پس منظر سے ٹوٹ گیا ۔ اب وہ اسلامی زندگی کا ایک جزو بن گیا ۔ اسے بداخلاقیوں اور گندگیوں سے پاک کردیا ۔ اسلام نے زندگی کے تمام معاملات میں یہی طریقہ اختیار کیا ہے ، جس رسم ، جس عبادت کو بھی باقی رکھا ہے اسے جاہلیت کے شوائب سے پاک کرکے رکھا ہے ۔ اس کی وہ شکل بدل گئی ہے جو ایام جاہلیت میں ہوا کرتی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے جیسا کہ جدید لباس میں ایک موزوں ٹکڑا۔ اب حج معروف معنوں میں اہل عرب کا ایک عادی اور رسمی فعل نہ رہا بلکہ اب وہ ایک اسلامی عبادت قرار دے دی گئی ہے کیونکہ اب اسلام ہی معیار ہے۔ اسلام کو ہی یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ چاہے تو کسی مفید رسم کو باقی رکھے۔

البقرة 2:204

درس 13 ایک نظر میں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مختلف قسم کی ہدایات دیں۔ مختلف موضوعات پر قانون وضع کئے گئے ہیں ۔ ان ہدایات اور قوانین کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان سے ایک خدائی نظام زندگی وجود میں آتا ہے جو انسان کی پوری زندگی پر حاوی ہے ۔ اس راہنمائی اور اس قانون سازی کے درمیان اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک نظام تربیت بھی عطا کردیا ہے ۔ یہ ایک بہترین نظام اصلاح ہے ۔ اس لئے کہ اللہ نفس انسانی کی حقیقت کے بارے میں اس کی ظاہری اور خفیہ رسم وراہوں کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے اللہ تعالیٰ نفس انسانی کے ہر پہلو کو لیتا ہے ۔ اور مختلف انسانوں کی ایسی تصویر بناتا ہے ، جس کے خدوخال واضح ہوتے ہیں ۔ جس میں تمام مطلوبہ خصائص واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ جب انسان الفاظ کی اس تصویر کو آئینہ دماغ میں رکھ کر ، انسانوں کی بھیڑ میں ان اوصاف کے حاملین کی تلاش میں نکلتا ہے ، تو یوں لگتا ہے کہ گویا وہ لوگ گلیوں اور بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں ۔ زمین پر دوڑتے پھرتے ہیں اور ایک انسان انگلی رکھ کر بتاسکتا ہے کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کا تذکرہ قرآن نے کیا ہے ۔ اس سبق میں انسانوں کی دواقسام کے واضح خدوخال بیان کئے گئے ہیں ۔ یہ اقسام عام طور پر انسانوں میں پائی جاتی ہیں ۔ پہلی قسم نمائشی ، شریر اور زبان دراز لوگوں کی ہے ۔ ایسا شخص اپنی ذات کو پوری زندگی کا محور بنالیتا ہے ۔ ایسا شخص بظاہر بہت ہی بھلامعلوم ہوتا ہے ، لیکن جب اندرون کھلتا ہے تو گندگی ہی گندگی ہوتی ہے ۔ اسے جب اصلاح احوال اور اللہ خوفی کی طرف دعوت دی جائے تو حق کی طرف نہیں آتا ۔ اپنی اصلاح نہیں کرتا ، اپنے وقار کا خیال اسے گناہ پر جما دیتا ہے ۔ اپنے غرور کی وجہ سے وہ سچائی اور بھلائی سے منہ پھیرلیتا ہے وہ کھیتوں کو غارت کرتا ہے اور نسل انسانی کو تباہ کرتا ہے ۔ دوسری قسم ان مومنین صادقین کی ہے جو اپنی پوری ہستی کا سودا رضائے الٰہی کے حصول کے عوض کرلیتے ہیں ۔ پوری زندگی بیچ دیتے ہیں ۔ اس کا کچھ حصہ بھی رہنے نہیں دیتے ۔ اپنی سعی اور عمل ، اپنی تمام تگ ودو میں ، وہ اپنا کوئی حصہ نہیں رکھتے ۔ وہ اپنے آپ کو فنا ۔۔۔۔ کردیتے ہیں اور ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں ۔ انسانوں کے یہ دومعیاری نمونے پیش کرنے کے بعد اب مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ کسی تردد ، کسی جھجھک ، مطالبہ خوارق و معجزات کے بغیر پورے پورے دین اسلام میں داخل ہوجائیں ۔ بنی اسرائیل کی طرح نہ بنیں ، جنہوں نے قدم قدم پر خوارق ومعجزات کا مطالبہ کیا ، اللہ کی اس نعمت یعنی اسلامی نظام زندگی کی نعمت کو چھوڑ کر کفر کا راستہ اختیا کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” پوری طرح اسلام میں داخل ہوجاؤ۔ “ اشارہ اس طرف ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے اور تمہیں اپنی پوری زندگی کو اس نظام میں ڈھالنا ہے اس نظام پر عمل کرنا ہے ۔ (تفصیل آگے آرہی ہے ) ایمان کی نعمت عظمیٰ اور مسلمانوں پر اس کی امن وآشتی کی چھاؤں کے مقابلے میں ، کفار کے غلط نقطہ نظر کی ایک جھلک بھی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ لوگ اپنے ناقص تصور زندگی کی وجہ سے مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ لیکن بتادیا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک کس کی کیا قدر (Value) ہے۔” مگر قیامت کے روز پرہیزگار لوگ ہی ان کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ “ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کے درمیان اختلاف رائے کس طرح پیدا ہوگیا اور یہ کہ اس کا حل صرف یہ ہے کہ وہ معیار حق کی طرف پلٹیں اور اسے اپنا حاکم تسلیم کریں ۔ بتایا جاتا ہے کہ حق کا یہ معیار اللہ کی کتاب ہے ، جو نازل ہی اس لئے کی گئی ہے تاکہ لوگوں کے درمیان حق کے بارے میں جو اختلاف رائے پیدا ہوگیا ہے ، اس میں ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ اس مناسبت سے بتادیا جاتا ہے کہ اس معیار حق کتاب اللہ کے حاملین کی راہ میں بیشمار مشکلات ہیں ۔ امت مسلمہ کو بتایا جاتا ہے کہ اس کی راہ میں سختیاں ہیں ، مصیبتیں ہیں ، نہ صرف تمہاری راہ میں بلکہ تاریخ انسانی مین جس جماعت نے بھی اس امانت کا بوجھ اٹھایا ، اس کا حال یہی رہا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو اس بار امت کے اٹھانے کے لئے تیار کرسکے ۔ جسے بہرحال اس نے اٹھانا ہے ۔ اور تاکہ وہ خوشی خوشی اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیار ہو ، اطمینان کے ساتھ ۔ جب بھی فضا میں خطرات کی آلودگی ہو ، جب بھی اسے یہ نظر آتا ہو کہ صبح دور ہے ، وہ اللہ کی نصرت کے بارے میں پر امید رہے ۔ اس سبق میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی جماعت کی ٹریننگ اور تربیت کے قانون سازی کے ساتھ ساتھ اسلامی نظم وتربیت بھی سکھایا جارہا ہے ۔ اس تربیت کے مختلف پہلو بیان کئے جاتے ہیں جن کا زمزمہ نہایت خوشگوار اور پرتاثیر ہے اور یہ سب کچھ ان ہدایات و وضع قوانین کے اثنا میں ہورہا ہے جن سے اسلامی نظام بنتا ہے جو انسان کی پوری زندگی پر حاوی ہے۔

البقرة 2:205

نفس انسانی کے یہ عجیب خدوخال ، کسی ماہر فن عکاس کی قلم سے ہیں اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں ہے ۔ یہ تصویر کسی انسان کی بنائی ہوئی نہیں ہے ۔ اس کلام اور اس نفسیاتی عکاسی کا سرچشمہ انسانی دماغ ہرگز نہیں ہے ۔ کیونکہ کوئی انسان اس قدر مختصر الفاظ میں ، اتنی مختصر عکاسی کے ساتھ ، اس طرح انسانی نفسیات کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اور نفس انسانی کے ایسے گہرے خدوخال سامنے نہیں لاسکتا۔ جو اس قدر وسیع بھی ہوں اور اس قدر واضح بھی ۔ اس کلام کا ہر لفظ تصویر کی ایک لکیر ہے ، جو انسان کے کسی خدوخال ، کسی خصوصیت کا اظہار کرتی ہے ، جلد ہی یہ نقش ونگار چلتے پھرتے زندہ انسانوں کی صورت میں نظر آتے ہیں ۔ جس کی تصویر کھینچی گئی ہے ۔ وہ ایک الگ شخصیت بن جاتی ہے ، جس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جاسکتا ہے ۔ لاکھوں انسانوں میں سے ، اسے الگ کیا جاسکتا ہے ۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ وہ شخص جس کی مصوری قرآن نے کی ہے ۔ الفاظ میں تصویر کشی بھی ایک قسم کی تخلیق ہے جس طرح زندہ چیزیں دست قدرت سے ، رات اور دن پیدا ہوتی رہتی ہیں ۔ اب یہ زندہ شخصیت ہے ۔ گویا بھی ہے اور چلتی پھرتی ہے ۔ اور اس کی ذات نیکی کا خلاصہ اور اخلاص کا پتلا ہے ۔ محبت ویکسوئی کا نمونہ اور بلند ہمت ہے ، بھلائی و نیکی اور طہارت و پاکیزگی کی ایک تڑپ ہے ۔ جو اس کے اندر پائی جاتی ہے ۔ اور یہ دوسری شخصیت جس کی باتیں بھلی معلوم ہوتی ہیں جو بہت زبان دراز ہے ۔ اس کی آواز کڑاکے دار ہے ، بات کرتا ہے تو بھلائی ، نیکی اور اصلاح کی بات کرتا ہے ۔ اپنی نیک نیتی پر اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہے تاکہ اس کی بات زیادہ موثر اور واضح ہو۔ اور اس کی یکسوئی اور خلوص میں شبہ نہ ہو ، اس سے بظاہر نیکی اور اللہ خوفی کا اظہار ہو ، حالانکہ یہ شخص فی الحقیقت اللہ کا بدترین دشمن ہے ۔ اس کا نفس کینے اور جھگڑے سے بھر پڑا ہے۔ اس میں محبت اور شرافت کا ہلکا سا پرتو بھی نہیں یہ محبت وبھلائی سے یکسر محروم ہے ۔ احسان وایثار اس میں نام کو نہیں ۔ اس شخص کا ظاہر اس کے باطن سے الٹ ہے ۔ اس کا عیاں اس کے نمایاں سے دور ہے ۔ وہ جھوٹ کو بڑی چابکدستی سے سچ کا رنگ دے سکتا ہے لیکن جب عمل کا میدان آتا ہے تو وہ یہاں عیاں ہوجاتا ہے۔ حقیقت پردے سے باہر آجاتی ہے اور اس کا شر و فساد ، اور اس کا فتنہ کھل کر سامنے آجاتا ہے اس کی دشمنی اور کینہ پروری عیاں ہوجاتے ہیں وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الأرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الْفَسَادَ ” جب اسے اقتدار حاصل ہوتا ہے تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اسی لئے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے ، کھیتوں کا غارت کرے ، اور نسل انسانی کو تباہ کرے ۔ حالانکہ اللہ فساد کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ “ جب وہ کسی عملی کام کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کا رجحان شروفساد ، سنگدلی اور ظلم کی جانب ہوتا ہے ۔ ہر معاملے میں سخت جھگڑالو ۔ وہ کھیتوں کو غارت کرتا ہے ، کھیتوں کے پھل ، سبزیاں اور روئیدگی وسرسبزی چھین لیتا ہے اور نسل انسانی کو بھی برباد کردیتا ہے ۔ وہ ہر قسم کی بھلائی کا دشمن ہے ۔ کھیتوں کو غارت کردیتا ہے ۔ پھل اور سبزیاں اور غلے تباہ ہوجاتے ہیں ۔ سرسبزی اور شادابی کی جگہ خشکی وویرانی آبستی ہے ۔ اور اس کا غلبہ نسل انسانی کی ہلاکت کا باعث ہوتا ہے۔ زندگی کی ہلاکت سے مراد وہ کینہ وشر اور وہ غدروفساد ہے ، جو اس بداخلاق شخص کے وجود میں پرورش پارہی تھی لیکن یہ شخص اسے اپنی چرب زبانی اور شیریں کلامی ، نیکی کے مظاہرے اور اصلاح و شرافت اور بھلائی وتقویٰ کی نمائش کے ذریعے چھپائے رکھتا ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا اور ان مفسدین کو بھی پسند نہیں کرتا جو اس کائنات میں فساد پھیلانے کا موجب بنتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سے اس قسم کے لوگ ہرگز پوشیدہ نہیں رہ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ طمع کاری اور یہ پالش کارگر نہیں ہوسکتی ، ہاں انسانوں میں کبھی کبھار یہ روغن سازی اور طمع کاری دھوکہ دے سکتی ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کو اس قسم کے بد اخلاق اور بدفطرت شخص کی ملمع سازی دھوکہ نہیں دے سکتی ۔ ہاں عوام الناس جن کے سامنے خفیہ راز نہیں ہوتے اور ظاہر داری انہیں دھوکہ دے سکتی ہے ۔ ان کی نظروں میں ضرور اس قسم کے لوگ کسی قدروقعت رکھتے ہیں ۔

البقرة 2:206

سیاق کلام آگے بڑھتا ہے ۔ یہی تصور سامنے ہے کچھ لکیریں مزید کھینچی جاتی ہیں اور کچھ نشانات اور واضح ہوکر سامنے آتے ہیں ۔ وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالإثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ” جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اپنے وقار کیا خیال اس کو گناہ پر جما دیتا ہے ۔ ایسے شخص کے لئے تو بس جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے ۔ “ جب اسے اقتدار حاصل ہوتا ہے تو وہ زمین میں فساد برپا کرتا ہے ، کھیتوں کو غارت کرتا ہے ، انسانی نسل کو تباہ کرتا ہے ، تباہی و بربادی کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ ایسے شخص کے سینے میں شروفساد اور کینہ کا جو لاوا پک رہا تھا وہ پھوٹ کر باہر نکل آتا ہے ۔ جب اس قسم کا شخص یہ سب کچھ کرنے لگتا ہے اور اسے نصیحت کی خاطر اللہ خوفی کی یاددہانی کے لئے اللہ کے غضب سے بچنے کے لئے اور اس محسن سے حیا کرنے کے لئے صرف یہ کہا جاتا ہے :” اللہ سے ڈرو “ (اتق اللہ) تو وہ سخت بگڑتا ہے کہ کیوں اس کے سامنے یہ جراءت کی گئی ۔ یہ بات اسے کیوں کہی گئی ، یہ تو بری چیز ہے ۔ اسے نیکی کی طرف متوجہ کرنے والے ہیں کون ؟ اس پر اعتراض کرنے والوں کو یہ جراءت کیسے ہوئی ۔ کیا یہ لوگ اسے ہدایت دے رہے ہیں چناچہ اسے اپنے وقار کا خیال ، حق پر نہیں ، انصاف پر نہیں ، بھلائی پر نہیں بلکہ گناہ پر جما دیتا ہے ۔ وہ جرم کو عزت سمجھنے لگتا ہے ۔ خطا کو صواب سمجھتا ہے ۔ گناہ کو نیکی تصور کرتا ہے اور حق کے مقابلے میں اکڑجاتا ہے ۔ گردن فرازی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بڑی ڈھٹائی سے اتراتا ہے ۔ حالانکہ پہلے خود اس کی حالت یہ تھی کہ یہ اپنی نیک نیتی پر ہر وقت اللہ کو گواہ ٹھہراتا ، اور ہر وقت بھلائی ، نیکی ، یکسوئی اور حیاچشمی کا مظاہرہ کرتا۔ یہ ایک آخری (Touch) ہے ، جس سے اس تصویر کے خدوخال پورے ہوجاتے ہیں۔ یہ واضح تر ہوجاتی ہے اور اس کی کئی اقسام بھی سامنے آجاتی ہیں ۔ یہ تصویر اب زندہ متحرک مثالوں کی شکل اختیار کرلیتی ہے ۔ کسی تردد کے بغیر آپ یہ کہہ سکتے ہیں :” وہ ہے ! وہ ہے ! وہ ہے ! جس کی تصویر قرآن مجید نے ان الفاظ میں کھینچی ہے ۔ غرض ایسے لوگ تمہیں زندہ اشخاص کی صورت میں ہر دور میں اور ہر جگہ نظرآئیں گے ۔ “ ان صفات کفر پر جم جانے ، گناہ کو وطیرہ بنالینے ، حق کے ساتھ دشمنی اختیار کرنے ، سنگدلانہ فساد بپا کرنے اور فسق وفجور پھیلانے غرض ان سب صفات کے مقابلے میں اللہ کا صرف ایک ہی تازیانہ آتا ہے ۔ تازیانہ عبرت ! جو اس قماش کے لوگوں کے لئے موزوں اور ان کے حالات کے مطابق ہے کیا ؟ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ” ایسے لوگوں کے لئے تو جہنم ہی علاج ہے جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔ “ کافی ہے ان کے بس ، کفایت یہ کفایت کرتی ہے ، جہنم جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے ۔ جہنم جس میں ایسے مفسدین کو الٹا کرکے گرایاجائے گا اور شیطان کا تمام لشکر اس میں الٹاکرکے گرایا جائے گا ۔ جہنم جس کی آگ دل کو جلاڈالے گی ۔ جس کی جلن بجلی کی طرح دل سے چیخیں نکال دے گی۔ جہنم جو ہر چیز کو نیست ونابود کردے گی ، جلا کر راکھ کردے گی ۔ جہنم جس کے شعلے خوفناک وغضبناک ہوں گے ........ یہ جہنم ہی اس کا علاج ہے ، بہت ہی براٹھکانہ ہے ۔ غور کیجئے ! کس قدر حقارت آمیز تصویر ہے جہنم کی ۔ اس حقیر ٹھکانے کی ۔ کس قدر بدحال ہوگا وہ شخص جس کا یہ ٹھکانہ ٹھہرے ۔ ابھی ابھی دنیا میں یہ شخص اکڑ کر چلتا تھا ۔ پھولا ہوا پھرتا تھا اور کبر و غرور کا عالم یہ تھا کہ برائی پر بھی جمن جاتا تھا ، لیکن اب کہاں ہے ؟ مقام ذلت میں !

البقرة 2:207

یہ تو ہے ایک قسم کے لوگوں کی تصویر ۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔ دوسرا بھی بھی دیکھئے ۔ اس دنیا میں کچھ اچھے لوگ بھی تو ہیں ۔ ذرا ان نفوس قدسیہ پر بھی نظر ڈالیں ۔ ان کے مقابلے میں وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاةِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ ” دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے۔ “ لفظ یشری کا مفہوم وسیع ہے یعنی فروخت کردینا اپنی جان کو ، پوری جان کو ، پوری کی پوری حوالہ کردیتا ہے ۔ اپنے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑتا ، لیکن اس سودے میں قیمت کیا وصول کرتا ہے ؟ صرف رضائے الٰہی کی امید ۔ اب اس کا نفس اس کا اپنا نہیں رہا ہے ۔ نہ نفس کے بعد اس کے لئے کچھ رہ گیا ہے ، بےدھڑک اس نے سب کچھ بیچ ڈالا ۔ بےخطر سب کچھ دے دیا اور لیا بھی کچھ نہیں ۔ تمام پونجی ، تمام وجود بیچ ڈالا ، اللہ کو دے دیا ۔ غیر اللہ کے لئے نفس کا کوئی حصہ بچا کر نہ رکھا گیا۔ ایک تعبیر یہ بھی ہوسکتی ہے : اس نے اپنے نفس کو بیچا نہیں ، بلکہ خریدا ہے ۔ اس کا نفس اغراض دنیا وی کا غلام تھا ۔ اس نے اسے خرید لیا ۔ خرید کر آزاد کردیا ۔ آزاد کرکے اللہ تعالیٰ خالص اللہ کا کردیا۔ اب اس نفس کے ساتھ کسی کا کوئی حق وابستہ نہیں ہے ۔ صرف اللہ کا حق ہے ۔ مالک کا حق ہے ۔ یہ شخص دنیا کی تمام اغراض ، تمام مقاصد کو قربان کردیتا ہے اور اپنے نفس کو قابض کرکے اللہ کے لئے کردیتا ہے ۔ بعض روایات میں ان آیات کے نزول کا موقعہ بھی بیان کیا گیا ہے ۔ ابن کثیر نے لکھا ہے :” ابن عباس ؓ ، انس ؓ ، سعید بن مسیب (رح) ، ابوعثمان نہدی (رح) ، عکرمہ (رح) اور ایک پوری جماعت صحابہ وتابعین کا کہنا ہے : یہ آیت صہیب بن سنان رومی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ یہ مکہ مکرمہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے ہجرت کی تیاری کرنے لگے ۔ لوگوں نے کہا کہ تم اپنی دولت کے ساتھ نہیں جاسکتے ۔ اگر جانا ہی چاہتے ہو تو دولت یہاں چھوڑ دو اور انہوں نے ان کی شرائط کے مطابق جان چھڑائی ۔ تمام دولت ان کے حوالے کردی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ان کے حق میں نازل فرمائی۔ حضرت عمر ؓ اور آپ کے بعض دوسرے رفقاء کی ملاقات ان سے حرہ کے گرد ونواح میں ہوئی ۔ انہوں نے اس سے کہا : سودا نفع بخش ہے ۔ “ انہوں نے کہا :” اچھا آپ لوگ ہیں ! اللہ آپ کی تجارت میں کبھی خسارہ نہ کرے ۔ معاملہ کیا ہے ؟ “ انہوں نے انہیں پورا قصہ سنایا اور اطلاع دی کہ تمہارے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا :” صہیب نے اس سودے میں بہت ہی نفع کمایا ہے۔ “ ابن مردویہ (رح) نے محمد بن ابراہیم (رح) ، محمد بن عبداللہ (رح) ، سلیمان بن داؤد ، جعفر بن ابی سلیمان ضبی ، عوف (رح) ، اور ابوعثمان نہدی (رح) کے واسطوں سے حضرت صہیب ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں :” جب میں نے مکہ مکرمہ سے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا تو مجھے اہل قریش نے کہا صہیب ! جب تم آئے تھے تو تمہارے پاس ایک کوڑی نہ تھی ، اب تم جاتے ہو تو مال کے ساتھ ۔ یہ نہ ہوسکے گا ۔ میں نے ان سے کہا : اگر میں اپنی دولت تمہارے لئے چھوڑ دوں تو کیا تم مجھے جانے دوگے ؟ انہوں نے کہا :” بڑی خوشی سے ۔ “ میں نے اپنی دولت ان کے حوالے کردی انہوں نے مجھے چھوڑ دیا ۔ میں نکل پڑا ۔ مدینہ پہنچا ۔ اس ماجرا کی اطلاع رسول ﷺ نے پائی تو آپ نے فرمایا :” صہیب خوب کمایا صہیب خوب کمایا۔ “ دو مرتبہ آپ نے فرمایا۔ چاہے آیت اس واقعے میں نازل ہوئی ہو یا اس واقعے پر رسول ﷺ اور صحابہ نے اسے منطبق پایا۔ لیکن اس کا مفہوم ایک حادثہ ایک فرد کے مقابلے میں بہت ہی وسیع ہے ۔ یہ تو ایک نفس کی نفسیاتی کییفیت کی ایک تصویر ہے ۔ اس میں لوگوں کی ایک قسم کے خدوخال بتائے گئے ہیں ۔ اس کی مثالیں جگہ جگہ ملتی ہیں ، دیکھی جاسکتی ہیں ۔ یہ دو فیچر ہیں ، دو تصاویر ہیں ، پہلی تصویر ہر شخص پر منطبق ہوتی ہے جس میں دورنگی ہو ، نمائش ہو ۔ چرب زبان ہو ، سنگ دل ہو ، شریف النفس ہو ، سخت جھگڑالو ہو اور اس کی فطرت فاسدہ ہوچکی ہو ........ دوسری تصویر ہر اس شخص کی ہے جو مومن ہو۔ خالص الایمان ہو ، اللہ کے لئے یکسو ہو ، اس نے اغراض دنیا کو خیر باد کہہ دیا ہو ۔ یہ دونوں انسانوں کے دومعروف نمونے ہیں ۔ تخلیق قلم سے ان کی یہ عجیب معجزانہ تصاویر ہیں ۔ لوگوں کے سامنے ان دونوں تصاویر کی نمائش ہورہی ہے ۔ لوگ ایک طرف قرآن کے اعجاز بیان پر غور کرتے ہیں اور دوسری طرف اس پر حیران ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس اعجاز سے انسانوں میں فرق کیا ہے۔ ایک ہی انسان ہے مگر مومن اور وہی انسان ہے ، مگر منافق ۔ ایک ہی شکل مگر ذائقہ جدا ........ لوگوں کو بتایا جاتا ہے کہ میٹھی میٹھی باتوں سے دھوکہ نہ کھاؤ، محض چرب زبانی کی وجہ سے کسی کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرلو ، میٹھی میٹھی ذائقہ دار باتوں کے پیچھے حقیقت بھی تلاش کرو۔ نیز الفاظ اور بناوٹی لفاظی ، خوش ذائقہ ریاکاری کے پس منظر میں معنی بھی دیکھو اور ساتھ ہی ساتھ بتادیا کہ ایمانی قدریں کیا ہیں ؟ دو تصاویر آئل پینٹنگ (Oil Painting) کی دو چادریں ، ایک بدکار منافقت کا نمونہ اور دوسری خالص ایمان کا نمونہ ۔ ان کو سامنے رکھ کر ، ان کے سائے میں رک کر ، تحریک اسلامی کو پکارا جاتا ہے۔ اہل ایمان کے نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اس نام سے جو ان کا جانا پہچانا ہے ایمان والو ! پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ ! شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو ! ہوشیار ہوجاؤ ! اس بین خطاب کے بعد بھی کہیں پائے خیال پھسل نہ پڑے ۔

البقرة 2:208

اہل ایمان کو بلایا جاتا ہے ایمان کے لقب کے ساتھ جو انہیں بہت ہی پیاری ہے ، جو انہیں امتیاز بخشتی ہے ۔ انہوں اوروں سے ممتاز بناتی ہے۔ جو ان کے اور ان کے پکارنے والے ، ان کے اپنے رب کے درمیان واحد رابطہ ہے ۔ اہل ایمان کو پکار کر دعوت دی جاتی ہے کہ پورے پورے اسلام میں آجاؤ ! اس دعوت کا پہلا اور ابتدائی مفہوم یہ ہے کہ اہل ایمان کلیتاً اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیں۔ اور ان کا پورا وجود ، اپنے چھوٹے اور بڑے سے بڑے معاملے میں ، اللہ کے لئے ہوجائے ۔ ان کے تصور اور ان کے شعور ، ان کی نیت اور ان کے عمل ، ان کی خواہش اور ان کی قناعت کا کوئی حصہ بھی آزاد نہ رہ جائے ۔ وہ پورے کے پورے اسلام میں آجائیں ۔ پورے کے پورے اللہ کے تابع ہوجائیں ۔ اور ہر معاملے میں اللہ کے ہوں اور اللہ کے فیصلے پر راضی ہوں ۔ وہ اپنی لگام اس ہاتھ میں ، مکمل یقین و اطمینان کے ساتھ تھمادیں جو ان کی قیادت کررہا ہے ۔ اور انہیں پورا یقین ہو کہ ان کا قائد بھلائی خیر خواہی اور صحیح راہنمائی کے سوا کچھ بھی نہیں چاہتا ۔ وہ اطمینان کرلیں کہ جس راہ پر وہ گامزن ہیں ، جس منزل کی طرف وہ رواں دواں ہیں وہی حق ہے اور اسی میں دنیا وآخرت کی فلاح ہے۔ اس مرحلے پر ، اہل ایمان کو مکمل تسلیم کی دعوت دینے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ابھی تک مسلمانوں کی صفوں میں ایسے لوگ پائے جاتے تھے جن کے دلوں میں تردد تھا ، خلجان تھا جو ابھی تک اس بات پر مطمئن نہ تھے کہ انہوں نے ظاہراً اور باطناً ہر طرح سے پوری پوری اطاعت کرنی ہے ۔ اور یہ کوئی اچھنبے کی بات بھی نہیں ہے ۔ تحریکات میں ایک طرف اگر مطمئن ، پختہ کار اور مطیع فرمان لوگ ہوتے ہیں ، تو ساتھ ساتھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن میں کمزوریاں ہوتی ہیں ۔ یہ پکار اور یہ دعوت ایسی ہے جو ہر وقت اہل ایمان کو دی جاتی رہے گی کہ وہ مخلص ہوجائیں ، یکسو ہوجائیں ۔ ان کے دل کی دھڑکنیں ، ان کے شعور اور میلانات اللہ کے حکم اور اللہ کے ارادے سے ہم آہنگ ہوجائیں ۔ وہ اللہ کے ہوجائیں جو انہیں ان کے نبی اور ان کے اپنے نظام کی طرف لے جاتا ہے ، بغیر کسی تردد ، بغیر کسی خلجان کے اور پوری یکسوئی کے ساتھ۔ اور ایک مومن جب اس دعوت کو قبول کرتا ہے ، شرح صدر کے ساتھ اور پورے طور پر ، تو وہ ایک ایسی دنیا میں قدم رکھتا ہے ، جو امن کی دنیا ہے ، جو سلامتی کی دنیا ہے۔ وہ ایک ایسے جہاں میں داخل ہوجاتا ہے جو اطمینان کا جہاں ہے ۔ جو رضا اور سکون کا جہاں ہے ، وہ ایک ایسے عالم میں جاپہنچتا ہے جس میں نہ حیرانی ہے نہ پریشانی ، جس میں فساد ہے نہ گمراہی جہاں ہر شخص اور ہر ذی روح کے ساتھ بن پڑتی ہے ۔ جہاں وجود اور موجودات کے ساتھ ہم آہنگی ہوتی ہے ۔ جہاں نفس انسانی کے خفیہ ترین اور پوشیدہ ترین گوشوں میں بھی سکون ہے اور انسان کی ظاہری اور اجتماعی زندگی میں سکون ہے ۔ ایسا عالم ، جس کی زمین میں امن و سکون اور جس کے ایمان پر بھی اطمینان وقرار۔ اس سلامتی کا قلب مومن پر پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ اسے اپنے اللہ اور اپنے رب کے بارے میں ایک صحیح تصور ملتا ہے ۔ یہ تصور خالص بھی ہے اور ستھرا بھی ۔ یہ کہ وہ واحد معبود ہے صرف اسی کی طرف مومن متوجہ ہوتا ہے اور وہی اس کا قبلہ ہوتا ہے۔ پھر اس پر مومن مستقلاً جم جاتا ہے اس کا دل مطمئن ہوجاتا ہے۔ نہ اب مختلف راستے رہتے ہیں نہ مختلف قبلے رہتے ہیں ۔ اب وہ حالت نہیں رہی وہ نہایت ہی اطمینان ، نہایت ہی وثوق اور نہایت صحت اور نہایت صفائی کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسا آلہ ہے جو عزیز اور طاقتور ہے ، جو غالب اور قادر ہے ۔ جب مومن اس کی طرف پھرتا ہے تو وہ سچائی کی ایک زبردست قوت کی طرف پھرتا ہے ، جو اس کائنات کی واحد قوت ہے ۔ اب یہ اطمینان واستراحت کی زندگی بسر کرے گا اور اسے کسی جھوٹی قوت کا کوئی ڈر نہ ہوگا۔ وہ کسی چیز سے خوف نہ کھائے گا وہ ایسے معبود کی بندگی کرے گا جو عزیز اور طاقتور ہے ۔ جو غالب اور صاحب قدرت ہے ۔ اس لئے اب اسے کسی چیز کی محرومی کا کوئی خوف نہ ہوگا۔ نہ وہ ایسی طاقتوں سے خوف کھائے گا نہ ایسی طاقتوں سے توقع کرے گا جن کے پاس نہ دینے کی طاقت ہے اور نہ محروم کرنے کی قوت ہے۔ وہ ایک عادل اور حکیم الٰہ ہے ۔ اس کی قوت اور اس کی قدرت ہی مظالم کے خلاف ضمانت ہے ۔ خواہشات نفسانیہ کے خلاف ضمانت ہے ، کھوٹ کے خلاف ضمانت ہے۔ وہ جاہلیت کے بتوں جیسا معبود نہین ہے ۔ جن کے تصور کے ساتھ سفلی جذبات اور شہوات کا تصور لازم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے تو وہ باطل معبودوں کو چھوڑ کر ایک مضبوط ذات کا سہارا لیتا ہے۔ جہاں سے انصاف ملتا ہے ، امن ملتا ہے اور خصوصی رعایت واکرام حاصل ہوتا ہے۔ وہ ایک ایسا رب ہے جو نہایت مہربان ہے ۔ نہایت مشفق ہے ، منعم ہے ۔ وہاب ہے ، گناہ معاف کرنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ہے ۔ وہ مصیبت زدہ کی پکار کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ اس کی مصیبت کو دور کرتا ہے ، لہٰذا ایک مسلمان اس کے سایہ عطوفت میں مانوس ومامون ہوتا ہے۔ سلامتی میں اور بہرہ مندی میں ہوتا ہے۔ اگر ضعیف ہوجائے تو اس پر رحم ہوتا ہے ۔ اگر تائب ہوجائے تو معاف کردیا جاتا ہے۔ اسلام میں آنے کے بعد ایک مومن کو اسلام سب سے پہلے اپنے اس رب کی صفات سے روشناس کراتا ہے ۔ مومن ان صفات کا مطالعہ کرتا جاتا ہے۔ اس صفت میں اسے ایسا مفہوم ملتا ہے جس سے اس کا دل مانوس ہوتا جاتا ہے۔ اس کی روح مطمئن ہوتی چلی جاتی ہے اور اسے اپنے اس معبود کی طرف سے حمایت ، بچاؤ، مہربانی ، رحمت ، عزت ، شرافت و سکون اور امن کی گارنٹی ملتی ہے۔ سلامتی کے جس نظام میں یہ مومن داخل ہوتا ہے ، اس سے اسے بندے اور خدا کے مابین تعلق کے بارے میں صحیح تصور ملتا ہے۔ نیز یہ اللہ اور بندے کے تعلق ، اس کائنات کے ساتھ انسان کے تعلق کے بارے میں صحیح فکر دیتا ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ اللہ ہی ہے جس نے سچائی کے ساتھ اس کائنات کی تخلیق کی ۔ اس کائنات میں پھر اس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ پورا پورا پیدا کیا ۔ پھر اس نے اس کائنات میں انسان کو ایک حکمت کے تحت پیدا کیا ۔ اس لئے اسے یوں ہی آزاد نہ چھوڑدیا جائے گا ۔ اللہ نے تمام کائناتی ماحول کو ایسا بنایا ہے کہ یہ سب کا سب اور اس کی ہر چیز انسانوں کے لئے ممد حیات ہے ۔ پھر زمین کے اندر جتنی چیزیں ہیں ان پر انسان کا اقتدار قائم کیا ۔ اللہ کے نزدیک بھی انسان بڑی ذی شرف مخلوق ہے ۔ اس زمین پر وہ اللہ کا خلیفہ اور نائب ہے ۔ اس منصب خلافت کے چلانے میں خود اللہ اس کا مددگار ہے۔ اور پھر اس انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات بھی اس کی ہمدم ہے ، اس کے ساتھ مانوس ہے ۔ کائنات کی روح انسان کی روح سے ہم آہنگ ہے ۔ یہ کائنات بھی اللہ کی تسبیح کرتی ہے اور انسان بھی اس کی تمجید کرتا ہے ۔ کائنات کیا ہے بلکہ ارض وسماوات میں ایک میلہ ہے جو قادر مطلق نے اس انسان کی فرحت طبع کے لئے قائم کیا ہے اور اسے دعوت دی ہے کہ وہ اس میلے میں شریک ہو۔ اس کے خلا کو بھر دے اور اس کے ساتھ مانوس ہوجائے ۔ اسے کہا گیا ہے کہ وہ اس کائنات عظیم کی ہر چیز کے ساتھ محبت کرے ، اس کے ہر انداز کے ساتھ پیار کرے ، اس کائنات میں تو بیشمار ہمدم ہیں اور وہ بھی خصوصی دعوت پر اس میلے میں وارد ہیں ، اس کے ہر انداز کے ساتھ پیار کرے ، اس کائنات میں تو بیشمار ہمدم ہیں اور وہ بھی خصوصی دعوت پر اس میلے میں وارد ہیں ، غرض کائنات کی سب چیزیں بےجان یا زندہ سب کی سب اس جشن نوبہاراں کے ارکان ہیں اور پیار کے مستحق ہیں ۔ آشتی کا یہ نظام مسلمان کو ایک نظریہ حیات عطا کرتا ہے ۔ اس نظریہ کے ساتھ وہ اگر ایک حقیر پودے کو دیکھتا ہے ، جسے پانی کی ضرورت ہے اور پھر اسے سیراب کردیتا ہے ، اس کی نشوونما میں معاون ہوتا ہے ، اس کی راہ میں حائل مشکلات کو دور کرتا ہے ، تو اس نظریہ حیات کے مطابق محض اس فعل پر بھی وہ ماجور ہوگا۔ کیا حسین نظریہ ہے ! کیا ہی قیمتی نظریہ ہے ! جو ایک ماننے والے کی روح کو امن سے بھر دیتا ہے۔ وہ اس پوری کائنات کا ہمدم بن جاتا ہے اور ہر موجود کو گلے لگاتا ہے۔ وہ اس طرح بن جاتا ہے کہ ایک قمقمے کی طرح اپنی ہر طرف امن وسلامتی اور رفق و محبت کی ضوپاشی کرتا رہتا ہے۔ پھر اس نظام میں عقیدہ آخرت ہے ۔ مومن کی روح اور مومن کی دنیا میں یہ عقیدہ بہت اہم رول ادا کرتا ہے ۔ اس پر سلامتی کا فیضان ہوجاتا ہے ۔ اس کی زندگی سے ہر قسم کی بےچینی ، پریشانی ، مایوسی اور جھنجھلاہٹ دور ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ حساب و کتاب اس دنیا ہی میں ختم نہیں ہوجاتا ، ضروری نہیں ہے کہ پوری پوری چیز اس دنیا میں چکادی جائے ۔ اصل حساب و کتاب تو عادل مطلق کی عدالت میں ہوگا۔ اس لئے اگر وہ بھلائی کرتا ہے ، اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے اور اس دنیا میں کامیاب نہیں ہوتا اور اسے اس کا کوئی صلہ نہیں ملتا تو اسے کوئی ندامت نہیں ہوتی ۔ اسے اس پر کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی کہ اس دنیا میں ، دنیا والوں کے معیاروں کے مطابق ، اسے کوئی صلہ نہیں ملا ، نہیں ملا تو نہ ملے ۔ عنقریب اسے اللہ کی میزان کے مطابق مل جائے گا اور پورا پورا ۔ جب اس دنیا میں حقوق کی غیر منصفانہ تقسیم ہوتی ہے ۔ اس کے منشاء کے خلاف تقسیم ہوتی ہے تو وہ ” عدل “ کے معاملے میں مایوس نہیں ہوتا ، عدالت تو لازماً لگنے والی ہے۔ جس کا افسر رب العباد ہے ، جو اپنے عباد پر ظلم و زیادتی کا ارادہ ہی نہیں کرتا چہ جائیکہ ظلم کرے ۔ اس دنیا میں ایک مجنونانہ کشمکش برپا ہے ۔ اس کشمکش میں بالعموم بلند اقدار پامال ہورہی ہیں ، آبروئیں لٹ رہی ہیں ۔ بےشرمی اور بےحیائی سے حقوق پامال ہوتے ہیں ، لیکن مومن سلامتی وآشتی کے اس نظام حیات میں داخل ہونے والا مومن اس سے دور رہتا ہے۔ یہ عقیدہ آخرت ہی ہے ، جو اسے گندگی سے دور رکھتا ہے ، وہ تو آخرت پر نظریں جمائے ہوئے ہے ۔ وہاں دادوہش ہے ، وہاں تلافی مافات ہے ۔ وہاں عطا وغنا ہے ۔ یہ دنیا باہمی مسابقت کا ایک میدان ہے ۔ باہمی حسد ومنافقت کی ایک جنگاہ ہے ۔ زندگی کا یہ تصور قلب مومن پر سکون وسلامتی اور صبر و قناعت کی بارش کردیتا ہے ۔ جب وہ اس دوڑ میں حصہ لینے والوں کی حرکات کو دیکھتا ہے تو اسے یہ بھلی معلوم نہیں ہوتیں ۔ انسان میں قدرتاً یہ شعور ہوتا ہے کہ زندگی مختصر ہے ۔ فرصت کے لمحات تھوڑے ہیں ۔ زندگی کی اس دوڑ میں پھر یہ شعور شدید سے شدید تر ہوتا چلا جاتا ہے ۔ لیکن اسلامی نظریہ حیات کا عقیدہ آخرت پیاس کی اس شدت کو کم کردیتا ہے۔ پھر امن وآشتی کے اس نظام میں ، انسان کو وجود میں لانے کی غرض وغایت اور اس کا مقصد تخلیق اللہ کی بندگی اور اللہ کی غلامی کو قرار دیا جاتا ہے ۔ وہ پیدا ہی اس لئے ہوا ہے کہ اللہ کی غلامی کرے ، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح ، یہ انسان کی ایک بلند اور روشن افق پر ایک بلند ستارہ بن جاتا ہے ۔ اس کا خمیر اور اس کا شعور بلند ہوجاتے ہیں ۔ اس کے اعمال اور اس کی سرگرمیاں بلند ہوجاتی ہیں ۔ اس کے وسائل اور اس کے ذرائع پاک ہوجاتے ہیں ۔ وہ اپنے تمام اعمال اور تمام سرگرمیوں میں اللہ کا غلام بن جاتا ہے ۔ اس کا کمانا اور اس کا خرچ کرنا بھی عبادت بن جاتے ہیں۔ وہ دنیا میں منصب خلافت حاصل کرتا ہے اور یہاں اسلامی نظام زندگی قائم کرتا ہے تو بھی عبادت کرتا ہے۔ بندگی ، عبادت اور غلامی کے اس تصور کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مسلم نہ غدار ہوتا ہے نہ بدکار ، وہ نہ فریب کار ہوتا ہے نہ دھوکہ باز ، نہ ظالم ہوتا اور نہ جبار ، وہ حصول مقصد کے لئے ناپاک ذرائع کام میں نہیں لاتا ، نہ وہ خسیسانہ وسائل سے کام لیتا ہے ۔ وہ منزل تک پہنچنے کے لئے بےتاب بھی نہیں ہوتا۔ وہ عجلت اور جلد بازی نہیں کرتا اور وہ اپنے آپ کو دنیاوی مشکلات میں نہیں پھنساتا ۔ وہ خالص نیت کے ساتھ ، مسلسل عمل کے ساتھ ، اپنی طاقت کے حدود میں رہتے ہوئے ، اپنے نصب العین کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی خوف اور کوئی لالچ اس کے نفس پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔ زندگی کے اس سفر کے مختلف مراحل میں کسی مرحلے میں بھی وہ بےچین نہیں ہوجاتا ۔ اس لئے کہ ہر قدم پر وہ اللہ کی عبادت میں ہوتا ہے ۔۔ وہ ہر خطرے کو انگیز کرتا ہے ۔ اس لئے کہ وہی اس کا مقصد تخلیق ہے ۔ غرض وہ ہر سرگرمی اور ہر میدان میں بلندیوں کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ اپنے اللہ رب العالمین اور اپنے خالق کی سمت میں ۔ مومن کا یہ شعور کہ وہ اللہ کی تقدیر کا ہمدم ہے ۔ شاہراہ تقدیر پر گامزن ہے ۔ وہ اللہ کی بندگی میں ہے ، وہ ارادہ الٰہی کا مظہر ہے ، اس کی روح پر طمانیت کی بارش کردیتا ہے ۔ اس کا پیمانہ دل سکون وقرار سے لبریز ہوجاتا ہے۔ کسی تحیر کے بغیر ، کسی بےچینی کے بغیر ، کسی جھنجھلاہٹ کے بغیر اور مصائب ومشکلات کو خاطر میں لائے بغیر اپنے نشان منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے۔ وہ اللہ کی اعانت اور نصرت سے مایوس نہیں ہوتا ۔ اسے یہ خوف بھی نہیں رہتاق کہ اس کا نصب العین نظروں سے اوجھل ہوجائے گا یا اس کا اجر ضائع ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ ، اللہ کے دشمنوں کے ساتھ برسر جنگ بھی ہوتا ہے لیکن اس کی روح میں ٹھہراؤ اور سکون ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ نہ جاہ ومنصب کے لڑرہا ہوتا ہے ، نہ دولت اور غنیمت کے لڑتا ہے اور نہ اغراض دنیا میں سے کسی غرض کے لئے برسر پیکار ہے۔ قلب مومن یہ شعور لئے ہوئے ہے کہ وہ اس پوری کائنات میں سنت اللہ کا ہمقدم ہے ۔ اس کا قانون قانون فطرت ہے ۔ اس کا رخ اسی سمت ہے جو فطرت کائنات کی سمت ہے ۔ پس اس کے اور اقوائے فطرت کے درمیان کوئی تصادم نہیں ، حقائق فطرت کے ساتھ اس کی کوئی لڑائی نہیں ۔ اس لئے مومن کی فطری قوتیں اور اس کائنات کی قوتیں ہم آہنگ ہوجاتی ہیں۔ ان کے درمیان ٹکراؤ کے نتیجے میں یہ قوتیں بکھر نہیں جاتیں ۔ منتشر نہیں ہوجاتیں بلکہ اس کائنات کی تمام قوتیں ایک مسلمان کی قوتوں کے ساتھ آملتی ہیں ۔ یہ قوتیں بھی اسی روشنی کے ساتھ منزل تلاش کرتی ہیں جس کے ساتھ مرد مومن تلاش کرتا ہے ۔ غرض کائنات کی تمام قوتیں اللہ کی سمت میں رواں دواں ہیں اور مرد مومن بھی اسی طرف رواں دواں ہے ۔ اسلام نے ، مسلمانوں کے لئے جو فرائض مقرر کئے ہیں وہ فطری ہیں ۔ فطرت کی تصحیح کے لئے ہیں ۔ سب کے سب انسانی طاقت کے حدود میں ہیں ۔ ان میں انسان کے مزاج اور اس کے عناصر تکوینی کا پوراپورا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ اسلام انسان کی قوتوں میں سے کسی قوت کو بھی مہمل نہیں رہنے دیتا ، ہر قوت کام میں لگی ہوئی ہے ۔ نشوونما اور تعمیر و ترقی میں اپنا پارٹ ادا کررہی ہوتی ہے ۔ وہ انسان کی روحانی اور جسمانی ضروریات میں سے کسی کو نظرانداز نہیں کرتا ، بلکہ وہ بڑی آسانی ، بڑی نرمی ، بڑی فراخ دلی کے ساتھ انسان کے تمام دواعی فطرت کو پورا کرتا ہے ۔ اس لئے ان عبادات پر عمل پیرا ہوتے وقت اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی ، بےچینی کا مقابلہ نہیں کرنا ہوتا ۔ وہ ان عبادات و فرائض پر اپنی طاقت وقدرت کے مطابق عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اور بڑی طمانیت قلب کے ساتھ ، بڑے روحانی سکون کے ساتھ مسلسل اپنی منزل طے کرتا چلا جاتا ہے ۔ کدھر ؟ اپنے خالق معبود کی طرف۔ اسلام ، یعنی ربانی نظام زندگی جس معاشرے کو جنم دیتا ہے ، وہ معاشرہ بھی امن وسلامتی کامینار ہے ۔ یہ مینار ایک اونچے مقام سے مسلسل امن وآشتی کی ضوپاشی کررہا ہے ۔ یہ معاشرہ اس نظام کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ جس کی کونپلیں اس قیمتی اور حسین نظریہ حیات کے شجر سے پھوٹتی ہیں جو قلب مومن میں جاگزیں ہے ، یہ معاشرہ حفظ نفس ، حفظ آبرو اور حفظ مال کی خدائی تحفظات (Guaranties) کے سائے میں نشوونما پاتا ہے۔ ایسا معاشرہ ، جس کے سپوت بھائی بھائی ہوں ، ایک دوسرے کے ساتھ پیار کرنے والے ہوں ، ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں ، ایک دوسرے کا سہارا ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ اجتماعی طور پر ضامن (SocialSureties) ہوں اور جس اک ہر جز دوسرے اجزاء کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ تاریخ ایک بار تو اسلام ایسے معاشرے کو عملاً وجود میں لایا ۔ بہت اعلیٰ واصفیٰ شکل میں ، اپنی ترقی یافتہ صورت میں ، اسلامی تاریخ کے بعد کے ادوار میں بھی ایسے معاشرے وجود آتے رہے جو اپنے معیار کے اعتبار سے بیشک بعض کم رہے ، بعض اچھے رہے ، لیکن اپنی کمزوریوں کے باوجود وہ ان تمام معاشروں سے اونچے رہے جو کبھی بھی وجود میں آئے ، چاہے جاہلیت قدیمہ کے دور میں ہوں ، چاہے جاہلیت جدیدہ کے دور میں ہوں بلکہ ان تمام معاشروں سے بھی جو اگرچہ جاہل نہ ہوں ۔ لیکن ان میں جاہلیت کی آمیزش آگئی ہو۔ جو جاہلیت کے ساتھ آلودہ ہوچکے ہیں اور جن کی فکر میں اور جن کے نظم اجتماعی میں صرف دنیاوی تصورات ہی کارفرما ہوں۔ یہ معاشرہ یعنی اسلامی معاشرہ ایسا ہوتا ہے جس کے افراد و اجزاء میں صرف ایک رابطہ ہوتا ہے یعنی نظریہ حیات کا رابطہ ۔ یہ بہت ہی وسیع نظریاتی معاشرہ ہوتا ہے۔ تمام قومیات ، تمام ملکی حدود ، تمام زبانیں اور تمام رنگ اس کے مقابلے میں پگھل کر فنا ہوجاتے ہیں ۔ غرض تمام غلط افکار قومیت ، لسانیت ، وطنیت اور رنگ ونسل کے تمام فکری فتنے جن کا انسان کی انسانیت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہوتا وہ سب کے سب پگھل کر اس وسیع الاساس اسلامی معاشرے میں جذب ہوجاتے ہیں ۔ ذرا سنئے ! اس معاشرے کے بارے اللہ کی ہدایات :” بیشک مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ (سورۃ الحجرات : 10) “۔ اس معاشرے کی بہترین تصویر رسول ﷺ نے ایک مشہور حدیث میں کھنچی ہے :” باہمی محبت ، باہمی رحم ، باہمی مہربانی کے لحاظ سے ، مومنین کی مثال ایک جسم واحد کی سی ہے ۔ جسم میں سے ایک عضو بھی تکلیف میں ہو تو تمام جسم بےآرام ہوجاتا ہے۔ پورا جسم جاگتا ہے اور پورے جسم میں بخار کی حالت پیدا ہوجاتی ہے۔ “ (روایت امام احمد) ذرا دیکھئے اس معاشرے کے عمومی آداب کیسے حسین ہیں اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم ازکم (نساء : 86) ۔ اسی طرح ” اور لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کر ، نہ زمین میں اکڑ کر چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ (لقمان : 8) “ بدی کو نیکی سے رفع کر جو بہترین ہو ۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی ، وہ جگری دوست بن گیا۔ “ (حم سجدہ : 34) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، نہ مرد دوسرے مرد کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں ، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔ آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد کرو۔ ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بری بات ہے اور جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیں وہ ظالم ہیں (الحجرات : 6) “۔” اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے گا ؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو ۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے رحیم ہے ۔ “ (الحجرات : 12) یہ معاشرہ ایسا ہے جو اپنے کو یہ ضمانتیں (Securities) دیتا ہے :” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کے آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پریشان ہو۔ “ ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ، بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں ۔ تجسّس نہ کرو۔ “ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک گھروالوں کی رضانہ لے لو ، اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج دو (النور : 72) ۔ “ ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے یعنی اس کا خون ، اس کی عزت اور اس کا مال ۔ “ یہ پاک معاشرہ ایسا ہے کہ اس میں فحاشی نہیں پھیل سکتی ۔ اس میں بےحیائی کو پسند نہیں کیا جاتا ۔ اس میں فتنے کا رواج نہیں ۔ اس میں عریانی نہیں پھیلتی ۔ آنکھیں پوشیدہ مقامات جسم کی طرف ملتفت ہی نہیں ہوتیں ۔ اس میں لوگوں کی عصمتیں آزاد شہوت رانی سے محفوظ ہوتی ہیں ۔ اس میں جنسی خواہشات اور خون اور گوشت کاملاپ اس طرح آزاد نہیں ہوتا جس طرح نظام جاہلیت میں ہوتا ہے ، خواہ جاہلیت قدیمہ ہو یا جدیدہ ۔ اس سلسلے میں اسلامی معاشرہ پر ربانی ہدایات کی حکمرانی ہوتی ہے اور وہ ہر وقت اپنے رب کی بات سنتا ہے ۔ آپ بھی سنیں :” جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحاشی پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں ۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ (نور : 19) “ ” زانیہ عورت اور زانی مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیر نہ ہو۔ اگر تم اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور ان کو سزا دیتے وقت اہل ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔ (نور : 4) “ ” اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگائیں ، پھر چار گواہ نہ لے کر آئیں ، ان کو اسی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو ، اور وہ خود ہی فاسق ہیں ۔ (النور : 31) “۔” اے نبی مومنین مردوں سے کہو اپنی نظریں بچاکررکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ، یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے ، اور اے نبی مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظربچاکر رکھیں ، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤسنگھار نہ دکھائیں بجز اس کے کہ جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں ۔ وہ اپنے بناؤ سنگھارنہ ظاہر کریں مگر ان لوگوں کے سامنے شوہر ، باپ ، شوہروں کے باپ ، اپنے بیٹے ، شوہروں کے بیٹے ، بھائی بھائیوں کے بیٹے ، بہنوں کے بیٹے ، اپنے میل جول کی عورتیں ، اپنے لونڈی غلام ، وہ زیردست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ وہ اپنے پاؤں پر مارتی ہوئی نہ چلاکریں کہ اپنی جو زنیت انہوں نے چھپارکھی ہو ، اس کا لوگوں کو علم ہوجائے ۔ اے مومنو ! تم سب مل کر اللہ سے توبہ کرو ، توقع ہے کہ فلاح پاؤگے ۔ (الاحزاب : 33) “ پھر قرآن مجید خود رسول اللہ ﷺ کی عورتوں سے بھی خطاب کرتا ہے جو کردہ ارض پر پاکیزہ ترین عورتیں تھیں ، پاکیزہ ترین گھر ، پاکیزہ ترین خاندان میں اور پھر پاکیزہ ترین دور میں۔ ” نبی کی بیویو ! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔ اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑجائے بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔ اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہل بیت نبی سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کردے۔ “ ایسے معاشرہ میں بیوی کو خاوند پر اعتماد ہوتا ہے ۔ خاوند کو بیوی پر اعتماد ہوتا ہے ۔ والدین و سرپرست اپنی حرمتوں اور عصمتوں کے بارے میں مطمئن ہوتے ہیں ۔ لوگوں کو اپنے دلوں اور اپنے اعصاب پر اعتماد ہوتا ہے ۔ نظروں سے فتنے اوجھل ہوتے ہیں ، اس لئے وہ دلوں کو ممنوعات کی طرف کھینچ ہی نہیں سکتے ۔ اس کے مقابلے میں آج کل مغربی ممالک حال یہ ہے کہدزیدہ نگاہوں کا تبادلہ ہر وقت ہوتا رہتا ہے۔ اس معاشرے کے افراد کو ہر وقت خواہشات کو دبانا پڑتا ہے ۔ جس کے نتیجے میں وہ کئی قسم کی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں ۔ ان کے اعصاب میں ہر وقت تناؤہوتا ہے جبکہ اسلام کا پاکیزہ اور عفت مآب معاشرہ ہر وقت تھما ہوا ہے ۔ اس معاشرے پر ہر وقت امن ، پاکیزگی اور سلامتی کے کشادہ پردوں کا سایہ ہوتا ہے۔ اور سب سے آخر میں یہ کہ معاشرہ ہر اس شخص کو جو کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے ، رزق حلال اور روزگار کی ضمانت دیتا ہے ۔ یہ معاشرہ ہر معذور شخص کو شریفانہ زندگی اور مناسب ضروریات زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ جو شخص عفت اور پاکدامنی کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہے ، اس معاشرے میں اس کے لئے جائز نکاح کی سہولتیں ہوتی ہیں ۔ اسے صالح رفیقہ حیات ملتی ہے۔ یہ ایسا معاشرہ ہوتا ہے کہ اگر اس کے کسی محلے میں کوئی بھوک سے مرجائے تو وہ تمام محلہ کو موت کا قانوناً ذمہ دار ٹھہراتا ہے ۔ اور ان پر تعزیری شرائط عائد کرتا ہے ، بعض فقہاء اور قانون دانوں نے لکھا ہے کہ اہل محلہ کو بطور تاوان اس شخص کی دیت ادا کرنی ہوگی۔ اور پھر ایک نئے پہلو سے دیکھئے ، ی معاشرہ اپنے افراد کو شہری آزادیوں کی ضمانت دیتا ہے ۔ اس میں لوگوں کی شرافت ، ان کی عزتیں اور ان کے جان ومال ازروئے قانون محفوظ ہوتے ہیں ۔ اس بات کی ضمانت خود شارع مطلق رب ذوالجلال دیتا ہے ، جو مطاع ہے اور اس معاشرے میں اس کی ہر بات قانون ہے ۔ لہٰذا اس معاشرے میں محض شک کی بنیاد پر کوئی نہ پکڑاجائے گا۔ کسی کی دیوار کو پھاند کر کوئی کسی کا حق تنہائی چھین نہ لے گا۔ کوئی شخص کسی کے خلاف تجسس نہ کرسکے گا ۔ اس معاشرے میں اگر کسی کا خون بہا تو وہ لغو نہ جائے گا بلکہ قصاص نافذ ہوگا۔ کسی کا مال چوری یا ڈاکے میں نہ جائے گا کیونکہ اس میں حدود نافذ ہیں۔ پھر اس معاشرے کا سیاسی نظام شوریٰ تعاون اور آزادی رائے اور ضمانت حق تنقید (نصح) پر قائم ہوتا ہے ۔ اس معاشرے میں انصاف اور قانون کی نظروں میں سب لوگ برابر ہوتے ہیں ۔ اس کا ہر فرد یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کے بارے میں ہر قانونی فیصلہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ کے قانون کا فیصلہ ہے ، اس میں نہ حاکم وقت کا دخل ہے ، نہ اس کے کسی حاشیہ نشین کا دخل ہے اور نہ ہی اہل کار ان سرکار کے رشتہ داروں کا دخل۔ الغرض پورے انسانی معاشروں میں یہ واحد معاشرہ ہے ، جس میں انسان ، انسان کے تابع نہیں ہے ، بلکہ تمام انسان حاکم ہوں یا محکوم ہر صورت میں اللہ اور اس کی شریعت کے تابع ہیں ۔ حاکم ہوں کہ محکوم دونوں اللہ کی شریعت کو نافذ کرتے ہیں ، چناچہ سب کے سب برابری اور مساوات کے ساتھ ، پورے ایمان ، پورے یقین اور پورے وثوق کے ساتھ ، اللہ رب العالمین اور احکم الحاکمین کے سامنے قدم بقدم کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سب معانی المسلم کے مفہوم میں داخل ہوتے ہیں ، جو آیت میں استعمال ہوا ہے اور جس میں مومنین کو پورا پورا داخل ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں ۔ اس طرح کہ ان کے لئے ان کے نفس کا کچھ حصہ بھی نہ رہے ۔ سب کا سب اللہ کا ہوجائے ، اطاعت وانقیاد میں اور تسلیم ورضا میں ۔ امن وسلامتی کے اس مفہوم کا صحیح ادراک تب ہی ہوسکتا ہے جب ہم ان معاشروں مطالعہ کریں ، جو اسلام سے متعارف نہیں ہیں یا اسلام سے متعارف تو ہیں لیکن پھر بھی اس سے بیگانہ ہوگئے ہیں اور دوبارہ نظام جاہلیت کی طرف پلٹ گئے ہیں اور مختلف ادوار میں انہوں نے اپنے لئے مختلف نام اور مختلف عنوان تجویز کئے ۔ ان معاشروں کی حالت یہ ہے کہ وہ بےیقینی میں مبتلا ہیں ۔ ایمان سے خالی ہیں ۔ ان کے افراد نفیساتی اور اعصابی پریشانیوں اور بےچینیوں کا شکار ہیں ۔ یہ معاشرے تہذیبی ترقی کے اعلیٰ معیار تک پہنچے ہوئے ہیں ۔ ان میں ساری سہولتیں اپنے انتہاء کو پہنچی ہوئی ہیں اور وہ تمام سہولتیں وافر ہیں جنہیں کوئی بھی گم کردہ راہ جاہلی تہذیب ترقی کے لئے ضروری سمجھتی ہو۔ اس مثال کا مطالعہ کیجئے ۔ سویڈن دنیا کے تمام ممالک میں زیادہ ترقی یافتہ ہے جس کے ہر فرد پر قومی دولت سے پانچ سو پونڈ سالانہ خرچ کیا جاتا ہے ۔ جہاں ہر آدمی کے لئے علاج ومعالجے کی ضمانت حاصل ہے۔ جہاں علاج کے نقد رقم دی جاتی ہے ، اور ہسپتالوں میں علاج مفت ہے ۔ جہاں ہر مرحلہ تعلیم میں تعلیم بالکل مفت ہے ، جہاں ہر طالب علم کو کپڑوں کا الاؤنس دیا جاتا ہے ۔ اور لائق طالب علموں کو قرض بھی دیا جاتا ہے ، جہاں حکومت تین سو پونڈ شادی الاؤنس دیتی ہے تاکہ گھریلوسامان خریدا جاسکے ۔ غرض ان کے علاوہ متعدد سہولیات اور آسانیاں ہیں جو وہاں عوام کو میسر ہیں لیکن اس مادی ترقی اور تہذیبی سہولتوں کے نتائج کیا ہیں ؟ جبکہ ان فرزندان تہذیب کے دل ایمان سے خالی ہیں۔ اس قوم کا حال یہ ہے کہ آزادانہ جنسی اختلاط کی وجہ سے جسمانی لحاظ سے پوری قوم مسلسل روبزوال ہے ۔ آزادانہ جنسی اختلاط ، فتنہ انگیزعریانی اور آزادنہ جنسی بےراہ روی کی وجہ سے ہر چھٹی شادی طلاق پر منتج ہوتی ہے ۔ جدید نسل بری طرح منشیات کی عادی ہوچکی ہے ۔ ان منشیات کے استعمال سے یہ لوگ اس روحانی خلا کو بھرتے ہیں اور بےیقینی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عدم اطمینان کا نعم البدل تلاش کرتے ہیں ۔ نفسیاتی بیماریاں ، اعصابی بیماریاں اور جنسی بیماریاں وبا کی طرح ان کے دماغ ، ان کے اعصاب اور ان کی روح پر حملہ آور ہیں اور ہزاروں آدمی ان میں بری طرح مبتلا ہیں ۔ اس بےچینی کی انتہا اس وقت ہوتی ہے ، جب ایک شخص تنگ آکر خودکشی کا فیصلہ کرتا ہے۔ امریکہ کا حال بھی ایسا ہے بلکہ اس سے بھی بدتر ہے۔ اور روس کے حالات تو اس سے بھی بدتر ہیں ۔ یہ تلخی اور بدبختی مقدر ہے ہر اس شخص کے لئے جس کا دل فرحت ایمان سے خالی ہے ، بشاست ایمانی سے خالی ۔ ایسا شخص ہرگز امن وسلامتی سے لطف نہیں اٹھاسکتا ، جس میں پوری طرح داخل ہونے کی دعوت ، مسلمانوں کو دی جارہی ہے تاکہ وہ اس کے سائے میں امن و آرام اور قرار و سکون سے خوش وخرم رہیں ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ (208) ” اے ایمان والو ! تم پورے کے پورے اسلام میں ، امن میں داخل ہوجاؤ اور شیطان کی پیروی نہ کرو ، کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “ اس دعوت کے ساتھ ساتھ کہ تم پورے کے پورے ، اس امن وسلامی (اسلام) میں داخل ہوجاؤ، مسلمانوں کو خبردار کیا جارہا ہے کہ تم ہرگز شیطان کی پیروی نہ کرنا ۔ کیونکہ راستے دو ہی ہیں ۔ ایک اسلام کا ، سلامتی کا راستہ اور شیطان کے نقش قدم والا راستہ ۔ ایک طرف ہدایت کی راہ ہے ، دوسری طرف گمراہی کی راہ ہے ۔ ایک طرف اسلام ہے ، اور دوسری طرف جاہلیت ہے ۔ یا اللہ کا راستہ یا شیطان کا راستہ یا اللہ کی ہدایت اور یا شیطان کی غوایت ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے موقف کے فیصلہ کن انداز کو اچھی طرح سمجھے ، چناچہ اس سلسلے میں وہ کسی تردد ، کسی حیرانی کیو قریب نہ آنے دے اور مختلف راستوں کو دیکھ کر ایک منٹ کے لئے بھی متحیر نہ ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مومن کو یہ آزادی نہیں دی گئی کہ وہ زندگی کے متعدد نظاموں میں سے کسی ایک نظام حیات کو اپنے لئے چن لے ۔ یا ایک دونظاموں کے اجزا کو ملاکر ایک تیسرا نظام گھڑ لے۔ اس کے صرف دوراستے ہیں ، حق یا باطل ، ہدایت یا ضلالت ، اسلام یا جاہلیت ، اللہ کا نظام زندگی ہے یا شیطان کی گمراہی ہے ۔ یہاں اس آیت میں ایک تو اللہ مسلمانوں کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ پورے کے پورے سلامتی کے اس نظام میں آجائیں ۔ دوسرے انہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ وہ شیطان کی پیروی کریں ۔ یہاں ان کے ضمیر اور شعور کو بیدار کیا جارہا ہے ۔ انہیں شیطان کی جدی عدوات یاد دلاکر چوکنا کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے شیطان کے تمہارے ساتھ جو دشمنی ہے وہ کوئی پوشیدہ اور چھپی ہوئی دشمنی نہیں ہے ۔ یہ بالکل بین اور واضح ہے ۔ اسے تو صرف وہ شخص بھول سکتا ہے جو غافل ہو ۔ اور غفلت اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ۔

البقرة 2:209

اب بتایا جاتا ہے کہ اگر ان ہدایات اور واضح ہدایات کے بعد بھی تم لغزش کھاتے ہو تو تمہارا انجام اچھا نہ ہوگا ۔ فَإِنْ زَلَلْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْكُمُ الْبَيِّنَاتُ فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں ، اگر ان کے پالینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی ، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حاکم ہے ۔ “ وہ عزیز ہے اور غالب ہے ۔ اشارہ اس طرف ہے کہ وہ قوت اور غلبے کا مالک ہے ۔ اگر وہ اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے تو انہیں اللہ کی قوت قاہرہ کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور وہ حکیم ہے ، صاحب حکمت ہے۔ اشارہ اس طرف ہے کہ اس نے تمہارے لئے جو نظام زندگی تجویز کیا ہے ، وہ بہتر ہے اور جس سے اس نے تمہیں روکا ہے وہ دراصل تمہارے لئے برا ہے اور اگر وہ اللہ کے احکام کی پیروی نہیں کریں گے اور اس کی منع کی ہوئی چیزوں سے نہیں چبیں گے تو انہیں سخت خسارہ ہوگا ۔ اس لئے اس تعقیب اور خلاصے کے دونوں حصے دراصل سخت تنبیہ ہیں اور ایک ڈراوا ہیں ۔ اب یہاں سے تنبیہ و تخویف کے لئے ایک جدید اسلوب اختیار کیا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام میں پورے نہ آنے اور شیطان کی پیروی اختیار کرنے پر نتائج کیا ہوسکتے ہیں ۔ اب خطاب کا انداز ترک کرکے غائب کے صیغے استعمال کئے جاتے ہیں۔

البقرة 2:210

ھل ، کے لفظ کے ساتھ عربی میں ایسا سوال ہوتا ہے جس میں ناپسندیدگی کا اظہار بھی ہو۔ اس کے جواب میں وہ وجوہات بیان کی گئیں ہیں جن کی وجہ سے بعض مخالفین ، اسلام کو قبول کرنے میں پش وپیش کررہے ہیں اور پورے کے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوتے ۔ وہ کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے وہ اسلام کی اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ؟ وہ کس چیز کا انتطار کررہے ہیں ۔ یہ اسی طرح بغیر کسی وجہ کے انتظار کرتے رہیں گے ، اور اللہ تعالیٰ بادلوں کا کا چتر لگائے آجائے گا۔ فرشتے آجائیں گے ؟ بالفاظ دیگر کیا یہ لوگ اس خوفناک دن کا انتظارکر رہے ہیں ۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے ہوئے آئیں گے اور فرشتے صفیں باندھے ہوئے ہوں گے کوئی بات نہ کرے گا ۔ مگر وہ شخص جسے بات کی اجازت ہوگی اور وہ بات بھی درست کررہا ہوگا۔ اچانک ........ ہم اس تہدید آمیز سوال کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ گویا وہ دن پہنچ ہی گیا اور فیصلہ ہو ہی گیا ۔ معاملہ ختم ہی ہوگیا ۔ لوگوں کے سامنے اچانک وہ منظر آجاتا ہے ، جس سے انہیں ڈرایا جارہا تھا۔ جس کی طرف اشارہ ہورہا تھا۔ قُضِيَ الأمْرُ (” اور فیصلہ ہو ہی گیا) “ وقت کا دفتر لپیٹ کر رکھ دیا گیا ۔ فرصت کے اوقات ختم ہوگئے ۔ نجات مشکل ہوگئی ۔ اب تو گویا لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس اللہ کے سامنے جس کے آگے سارے معاملات کو پیش ہونا ہے : وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ ” تمام امور نے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ۔ “ یہ قرآن مجید کا انوکھا انداز ہے ۔ تمام دوسری تقاریر اور تحریروں سے یہ انداز اسے امتیازی حیثیت دیتا ہے ۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید ، چند لمحوں کے اندر اندر کسی بھی منظر کو زندہ ومتحرک صورت میں پیش کرتا ہے ۔ انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ گویا وہ اس منظر کے سامنے کھڑا ہے اور وہ دیکھتا ہے ، سنتا ہے ، اور اپنی آنکھوں سے گویا اس منظر کا معائنہ کررہا ہے۔ کب تک یہ لوگ پیچھے رہیں گے اور اس سلامتی میں داخل نہ ہوں گے ۔ خوفناک دن ان کے انتظار میں ہے ۔ بلکہ وہ اچانک ان پر آنے ہی والا ہے ۔ اور سلامتی ان کے قریب ہے ۔ دنیا کی سلامتی اور آخرت کی سلامتی ، جس دن آسمان پر بادل پھٹے پھٹے ہوں گے اور فرشتے اتر رہے ہوں گے ۔ جس دن روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے ، کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے ، وہ دن جب فیصلہ اللہ کرے گا ۔ وہ دیکھو گویا اس نے معاملات چکا دئیے اور سب معاملات کو آخر کار اللہ کے حضور پیش ہونا ہی ہے ۔ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الأمُورُ اب اس اندازکلام میں اچانک ایک اور تبدیلی آتی ہے ۔ روئے سخن رسول اللہ ﷺ کی طرف جاتا ہے ۔ آپ ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ ذرا بنی اسرائیل سے تو پوچھئے ، بنی اسرائیل ان لوگوں کے سرخیل تھے جو دعوت اسلامی کو قبول کرنے میں متردد تھے اور پس وپیش کرتے تھے ۔ اسی صورت میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے ” اللہ نے بیشمار واضح نشانیاں انہیں دکھائیں لیکن پھر بھی انہوں نے دعوت کو قبول نہ کیا۔ لیکن انہوں نے ایمان کی نعمت اور سلامتی کے مقابلے میں کفر کو اختیار کیا ۔ حالانکہ یہ انعامات بذریعہ رسول خود ان کے ہاں بھیجی گئیں تھیں۔ “

البقرة 2:211

بات پھر بنی اسرائیل کی طرف پلٹتی ہے اور یہ ایک قدرتی امر ہے ۔ ڈرایا جاتا ہے کہ بنی اسرائیل جیسا موقف اختیار نہ کرو ، اس میں تو ہلاکت ہے۔ جو تردد اور انکار حق کا موقف ہے ۔ بغاوت اور سلامتی سے دور بھاگنے کا موقف ہے ۔ ہٹ دھرمی اور بار بار طلب معجزات کا موقف اور معجزات دیکھ کر بھی بغض وعناد رکھتے اور انکار کرتے چلے جانے کا موقف ۔ یہ ہیں وہ مقامات جہاں یہ قدم ڈگمگاسکتے ہیں ، پائے استقامت پھسل سکتا ہے ، اس لئے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو پہلے سے خبردار کردیتا ہے ، تاکہ مسلمان بنی اسرائیل کی طرح تلخ انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَمْ آتَيْنَاهُمْ مِنْ آيَةٍ بَيِّنَةٍ ” بنی اسرائیل سے پوچھو کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انہیں دکھائی ہیں (اور پھر یہ بھی انہی سے پوچھ لو کہ) اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اسے کیسی سخت سزا دیتا ہے۔ “ سوال سے مراد یہ نہیں ہے کہ رسول ﷺ جائیں اور بنی اسرائیل سے سوال کریں اور وہ پھر کوئی جواب دیں۔ یہ تو اسالیب قرآن میں سے ایک اسلوب ہے ۔ مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ بنی اسرائیل کے سامنے بکثرت معجزات پیش کئے گئے ۔ بیشمار کھلی نشانیاں ان کے سامنے آتی رہیں ۔ بعض نشانیاں تو ان کی ضد اور مطالبے پر دکھائی گئیں اور بعض معجزات اللہ تعالیٰ نے از خود اس وقت کی کسی مصلحت کی خاطر صادر فرمائے ، لیکن کثرت معجزات کے باوجود ان کا طرز عمل کیا تھا ، تردد اور وعدہ خلافی ، ہٹ دھرمی اور پش وپیش کرنا لیکن مسلسل یہ لوگ امن وسلامتی کے اس سایہ سے دور رہے جو صرف حظیرہ ایمان پر سایہ فگن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر ایک عام تعقیب آتی ہے وَمَنْ يُبَدِّلْ نِعْمَةَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ” اللہ کی نعمت پالینے کے بعد جو قوم اسے شقاوت سے بدلتی ہے ، اسے اللہ سخت سزا دیتا ہے۔ “ یہاں جس نصیحت کا ذکر ہورہا ہے وہ نصیحت اسلام ہے یا اس سے مراد ایمان کی نعمت ہے ۔ دونوں تقریباً مترادف ہیں ۔ اللہ کی نعمت کو شقاوت سے بدل دینے کی اعلیٰ مثال تاریخ بنی اسرائیل میں ملے گی ۔ جب انہوں نے نعمت کو شقاوت سے بدلا تو اطمینان اور سکون وقرار سے محروم ہوگئے ۔ انہوں نے تسلیم ورضا سے انکار کردیا ۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے آگے سرتسلیم خم نہ کیا۔ انہوں نے ہمیشہ شک اور تردد کا رویہ اپنایا ۔ قدم قدم پر معجزات طلب کرتے رہے ۔ ہر مرحلے پر دلائل پوچھتے رہے لیکن نہ معجزات سے انہیں اطمینان ہوا نہ دلائل بینات سے وہ قائل ہوئے ۔ نہ انہوں نے اللہ کے نور اور ہدایت سے استفادہ حاصل کیا ۔ اور ” اللہ کے عذاب شدید سے ڈرو “ اس کی اعلیٰ ترین مثال بھی تاریخ بنی اسرائیل ہے ۔ اور اس کے انجام بد کا انتظار وہ سب لوگ ، ہر دور میں اور ہر جگہ کرتے ہیں جو نعمت اسلام کے مقابلے میں شقاوت اور بدبختی کو اختیار کرتے ہیں اور پھر وہ اس پر فخر کرتے ہیں (تاریخ شاہد ہے کہ ایسے لوگ ایسے ہی انجام سے دوچار ہوئے جس طرح بنی اسرائیل) انسانیت نے جب بھی اس نعمت عظمیٰ کو بیچ کر شقاوت اور بدبختی حاصل کی ، اسے آخرت سے بھی پہلے اس کی اس دنیاوی زندگی میں سخت سے سخت سزادی گئی۔ ذرا کرہ ارض پر پھیلی ہوئی اس بدبخت انسانیت کی حالت زار پر نگاہ تو ڈالئے ! کیا وہ ایک شدید عذاب میں مبتلا نہیں ہے ؟ دیکھتے نہیں کہ وہ ہر جگہ کس بدبختی اور تلخی ہی پاتی ہے ۔ ہر جگہ حیرت و اضطراب کا شکا رہے ۔ انسان ، انسان کو کھائے جارہا ہے بلکہ انسان خود اپنی جان اور اپنے اعصاب کو کھائے جارہا ہے ۔ فرد انسانیت کی تلاش میں دوڑتا ہے۔ اور انسانیت فرد کی متلاشی ہے۔ لیکن دونوں خالی سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ غرض عالم انسانیت میں اس وقت ایک مہلک خلا ہے ۔ اس خلاکو بعض نام نہاد تہذیب مغرب کے فرزند بھرنے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر کبھی مسکرات کے استعمال سے اور کبھی منشیات کے کثرت استعمال سے ۔ بعض اوقات ان لوگوں سے ایسی حرکات ہوجاتی ہیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ وہ بھاگ رہے ہیں اور کوئی خوفناک غول ان کے تعاقب میں ہے ۔ فرزندان تہذیب مغرب کی صرف شکل و صورت ہی کا مطالعہ کیجئے ۔ یہ عجیب عجیب شکلیں بناتے ہیں ، اور پھر ان کی نمائش کرتے ہیں ۔ کوئی عورت سرجھکائے ہوئے ہے ۔ کسی نے سینہ بالکل ننگا کررکھا ہے ، کوئی منی اسکرٹ پہنے ہوئے ہے ، کسی نے ایسا ٹوپ بنایا ہے جیسے کوئی حیوان سر پر رکھا ہوا ہے۔ بعض نے ایسی ٹائیاں باندھ رکھی ہیں ، جن پر ہاتھی کی تصویر ہے ، ایسی قمیصیں پہنی ہیں جن پر شیر یا ریچھ کی تصویر ہے ۔ دراصل ایک نظر دیکھئے ! ان کے مجنونانہ رقص ، ہیجان انگیز گانے ، متکلفانہ طرز زندگی ، تقریبات اور مجالس میں شوخ لباس ، انوکھی اور جاذب نظر شکلیں بناکر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا ، اور عجیب و غریب طرح اپنے آپ کو ممتاز کرکے جذبات کی تسکین کرنا ہے۔ ایک نظر ان لوگوں کی بدلتی ہوئی خواہشات پر بھی نظر ڈالئے ۔ خواہشات بدل جاتی ہیں ، خاوند بدل جاتے ہیں ، دوست بدل جاتے ہیں ، لباس بدل جاتے ہیں ، ہر موسم میں ، بلکہ ہر صبح وشام میں ۔ یہ سب چیزیں ظاہر کرتی ہیں کہ یہ معاشرہ قلق اور بےچینی اور حیرت و اضطراب میں مبتلا ہے ۔ جس میں کوئی اطمینان نہیں ہے ۔ جس میں کوئی امن نہیں ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان اقوام کی حالت خوفناک حد تک گرگئی ہے ۔ چناچہ یہ لوگ اپنے معاشرے اور اپنی تہذیب سے فرار اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ لیکن افسوس کہ وہ کوئی راہ نہیں پاتے ۔ یوں لگتا ہے جیسے فرزندان تہذیب کی روح خالی ہے ۔ خود اپنے سایے سے بھاگ رہے ہیں ، گویا کہ جنات اور بھوت ان کا پیچھا کررہے ہیں۔ کیا یہ عذاب الٰہی نہیں ہے ۔ یقیناً یہ عذاب ہے اور ہر اس شخص کے لئے جو اسلامی نظام زندگی اختیار نہیں کرتا ۔ جو اللہ کی یہ پکار نہیں سنتا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً ” اے ایمان لانے والو ! امن وسلامتی میں داخل ہوجاؤ پورے کے پورے ۔ “ غرض اللہ کے انعامات پر پختہ یقین کسی چیز سے بھی نہیں بدلتا الّا یہ کہ کسی کو خداوند کریم کا یہ عذاب گھیر لے تو یقیناً پختہ ایمان ختم ہوجاتا ہے ۔ العیاذباللہ۔ اس سے پہلے بیان ہوا کہ جو لوگ دعوت اسلامی قبول کرنے میں پس وپیش کررہے ہیں اور نعمت کے مقابلے میں شقاوت اور بدبختی لے رہے ہیں ، ایک سخت عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔ اب یہاں بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کی جنت کیا ہے اور ان کا انجام کیا ہوگا اور کافروں کا کیا حال ہے اور ان کا انجام کیا ہوگا ؟ بتایا جاتا ہے کہ اشخاص کی قدر و قیمت معلوم کرنے اور احوال اور اقدار حیات کے ناپ تول کے لئے مسلمانوں کا ترازو کیا ہے ؟ اور کافروں کا ترازو کیا ہے ؟

البقرة 2:212

کافروں کے لئے اس دنیا کی حقیر عارضی چیزوں اور چھوٹی چھوٹی ضروریات کو ہی اہم اور مزین بنایا گیا ہے ۔ یہ چیزیں انہیں اتنی بھلی لگیں کہ وہ انہی کے ہوکررہ گئے ۔ اور آگے نہ بڑھے ۔ ان کی نظریں انہی پر ٹک گئیں اور ان سے آگے حقائق تک نہ پہنچ سکیں ۔ ان لوگوں کو ان حقیر چیزوں کے علاوہ ، بلند اقدار کا علم ہی نہیں ہے اور جو شخص دنیا میں پھنس جاتا ہے ، دنیا کی آخری حد پر جا کے ہی دم لیتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ان کی عقل وفکر ان بلند مقاصد تک رسائی اختیار کرسکے جو مرد مومن کی توجہ کا مرکز ہیں اور جن کو مومن کی نگاہ بلند نے بہت دور اور بلند آفاق میں پالیا ہے ۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک مومن بنیادی ساز و سامان کو بالکل ہی نظر انداز کردیتا ہے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ دوں ہمت ہے ، اس لئے نہیں کہ اس میں حصول دنیا کا جوہر نہیں ہے۔ اس لئے بھی نہیں کہ منفی الفکر ہے اور دنیا کی ترقی و کمال میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے ، یہ محض اس لئے ہوتا ہے کہ وہ ایک نہایت ہی بلند مقام سے ، اس عارضی دنیا پر نگاہ غلط انداز ڈالتا ہے ، باوجود اس کے کہ وہ اس دنیا میں اللہ کا نائب ہے ، اس کی دیکھ بھال اس کی ذمہ داری میں ہے ۔ وہ اس کی تعمیر و ترقی میں حصہ لیتا ہے ، وہ اس کی تہذیب اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے ، لیکن وہ اس مقام کی تمام بوقلمونیوں میں سے اپنے لئے اس اعلیٰ مقصد کو تلاش کرکے چن لیتا ہے جو بہت ہی اعلیٰ ہے ، ارفع ہے ، اور قیمتی ہے۔ اس کی نگاہ انتخاب اس پر پڑتی ہے کہ اس دنیا کے لئے ایک نظام زندگی چاہئے ۔ انسانیت ٹھیکریاں اور خزف تلاش کرتی پھرتی ہے ، اس کی راہنمائی اس کان تک جانی چاہئے جہاں موتی ہی موتی ہیں ۔ لوگوں کے سروں پہ اور زمین کی چوٹیوں پر اللہ کا علم بلند ہونا چاہئے تاکہ انسانیت اس مقام بلند تک ترقی کرسکے ۔ انسانیت اس دنیا کی ذلیل و حقیر چیزوں سے نظریں اٹھاکر آگے بھی دیکھے کہ اس قصر دنیا سے آگے اور جہاں بھی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کے دل میں ایمان کی چنگاری نہیں ہے وہ بڑے مقاصد ، اعلیٰ نصب العین اور وسعت فکر ونظر سے محروم ہوتے ہیں اور ایسے لوگ دنیا کے غلام ہوتے ہیں اور بندگان دنیا کہلاتے ہیں۔ یہ کوتاہ ہمت اور زمین کی آلائشوں میں گھرے ہوئے بونے قد کے لوگ ، یہ دنیا وی اغراض کے بندے اور مطلب پرست ، بڑی حقارت سے ایمان داروں پر نظر ڈالتے ہیں ۔ دیکھتے ہیں کہ ان لوگوں نے دنیا کی تمام آلودگیوں ، تمام کدورتوں اور تمام حقیر سازوسامان کو ان کفار کے لئے کھلا چھوڑ دیا ہے اور اپنے سینوں میں پاک آرزو ہائے عالیہ لئے پھرتے ہیں ، ان آرزؤں کا تعلق ان کی ذات ہی سے نہیں ہوتا ، بلکہ وہ تمام انسانیت کی آرزوئیں ہوتی ہیں ۔ ان تمناؤں کی تعلق ان کا ذات ہی سے نہیں ہوتا ، بلکہ یہ ان کے نظریہ حیات کی تمنائیں ہوتی ہیں ۔ بلکہ وہ تمام انسانیت کی آرزوئیں ہوتی ہیں ۔ ان تمناؤں کا تعلق ان کا ذات ہی سے نہیں ہوتا ، بلکہ یہ ان کے نظریہ حیات کی تمنائیں ہوتی ہیں ۔ اب یہ کفار ذرا اور گہری نظر اور سنجیدگی سے دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ ان آرزؤں کے حصول کے لئے نہ صرف یہ کہ دنیا کو ترک کئے ہوئے ہیں بلکہ وہ اس جدوجہد میں تھک کر چور چور ہوگئے ، وہ ان کی خاطر بڑی سے بڑی مشکلات کا مقابلہ کررہے ہیں اور ان بونے لوگوں نے جن دنیاوی لذائذ کو زندگی کی روح سمجھ رکھا ہے اور جو ان کا بلند ترین مقصد ہے ، ان پر ان اولوالعزم لوگوں نے لات ماردی ہے ۔ غرض ایسے حالات میں یہ بونے اور دوسرے درجے کے لوگ ان لوگوں کی زندگیوں پر نظر دوڑاتے ہیں جو صحیح معنوں میں مومن ہیں تو یہ لوگ ان کے مقاصد بلند تک نہیں پہنچ سکتے ۔ ان کی زندگی کے راز کو نہیں پاسکتے ۔ تو پھر کیا ہوتا ہے ؟ وہ بےاختیار ان سے مذاق کرتے ہیں ، ان کے حال پر انہیں ہنسی آتی ہے ، پھر وہ ان کے نظریات کا مذاق اڑاتے ہیں اور انہوں نے جو طرز عمل اختیار کررکھا ہوتا ہے اس پر منہ چڑاتے ہیں زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا ” جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ان کے لئے دنیا کی زندگی بڑی محبوب اور دل پسند بنادی گئی ہے ۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ “ لیکن جس ترازو میں یہ کفار ، زندگی کی قدروں کو تولتے ہیں ، وہ حقیقی ترازو نہیں ہے ۔ سچائی کا ترازو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ، اور اللہ کے ترازو میں ایمان والوں کا کیا وزن ہے اور کیا قدر و قیمت ہے وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ” مگر قیامت میں پرہیز گار مومن ہی ان کفار کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ “ یہ ہے سچائی کا ترازو اور پھر ہے بھی دست قدرت میں ۔ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اپنی اس قدر و قیمت کا تعین اس ترازو سے کریں ۔ وہ منزل کی طرف بڑھتے چلیں اور ان احمقوں کی حماقتوں کی طرف توجہ ہی نہ کریں ، مذاق اڑانے والوں کے مذاق کی طرف دھیان ہی نہ دیں ، کافروں کی گھٹیا اقدار کو خاطر ہی میں نہ لائیں ۔ اس لئے کہ اہل ایمان تو ان کفار کے مقابلے میں ، دار آخرت میں بلند مرتبت ہوں گے ۔ آخری حساب جب ہوگا تو اہل ایمان کا حساب زیادہ نکلے گا ، اور اس بات پر اللہ گواہ ہے جو احکم الحاکمین ہے ۔ اللہ نے ان کے لئے بھلائی رکھ چھوڑی ہے ، وہ رزق سے بھی زیادہ کشادہ ہے یعنی روح کی غذا ہے ، وہ یہ دولت انہیں دنیا میں بھی عطاکرے گا اور آخرت میں بھی ۔ یا دنیا وآخرت دونوں میں جو وہ مناسب سمجھے ، کیونکہ وہ مختار ہے ۔ حکیم ہے ، وہی سمجھتا ہے کہ ان کے لئے بھلائی کس میں ہے ۔ رزق دنیا کی اہمیت ہی کیا ہے وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ” دنیا کا رزق تو اللہ کو اختیار ہے ، جسے چاہے بےحساب دے ۔ “ وہی داتا ہے ، جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، جس پر چاہتا ہے عطیات کی بارش کردیتا ہے ، وہ کبھی کفار کو دنیاوی شان و شوکت دیتا ہے اور یہ اس کی حکمت ہوتی ہے۔ اس میں ان کی کوئی فضیلت نہیں ہوتی ۔ وہ اپنے مختار بندوں کو بھی دنیا وآخرت دونوں میں دیتا ہے ۔ ہر قسم کی داد وہش کا سرچشمہ وہی ہے لیکن برگزیدہ لوگوں کے لئے اس کی پسند ہی اعلیٰ اور دیرپا ہوتی ہے۔ انسانی زندگی میں ہر وقت انسانوں کے یہ دونوں نمونے پائے جاتے ہیں ۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی قدر و قیمت اپنے فکر و عمل کی قدر اللہ رب العزت سے اخذ کرتے ہیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کی صفات اور زمین کی عارضی چیزوں ، اور چھوٹے چھوٹے مقاصد سے بلند ہوجاتے ہیں ۔ ان لوگوں کی انسانیت ایک ٹھوس حقیقت ہوتی ہے ۔ یہ لوگ زندگی کے حکمران ہوجاتے ہیں ، زندگی کے غلام نہیں ہوتے ۔ بعینہٖ اسی طرح ایسے لوگوں کے مقابلے میں کچھ دوسرے لوگ ہیں ، جن کے لئے دنیا کی زندگی کو محبوب بنادیا گیا ہے۔ وہ دنیا کی عارضی ساز و سامان کے غلام بنادیئے گئے ہیں ۔ وہ بنیادی اقدار کے غلام ہیں ۔ یہ لوگ ضروریات زندگی کے دام میں گرفتار ہیں اور دنیا کے اس گندے دلدل میں ایسے پھنسے ہیں کہ اب اس سے نکل ہی نہیں سکتے ۔ لیکن اس افتادہ مخلوق خدا کے پاس جتنا سازوسامان ہو ، ان پر مرد مومن ایک نہایت ہی بلند مقام سے نظر ڈالتا ہے ۔ اگرچہ اپنی جگہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ خوش قسمت ہیں ۔ صاحب فضل وکرم ہیں اور ایمان والے محروم ہیں ۔ کبھی تو یہ لوگ ایمان والوں کے ساتھ ہمدردی کرتے ہیں اور کبھی ان کا مذاق آڑاتے ہیں ۔ حالانکہ وہ خود ہمدردی کے مستحق ہیں ، خود وہ قابل رحم وقابل شفقت ہیں۔ زندگی کے اعلیٰ قدروں کے بیان اور اہل ایمان کے بارے میں کافروں کے موقف کی وضاحت اور خود اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کفار کے وزن اور مقام کے تعین کے بعد ، اب اگلی آیات میں وہ اصل کہانی بیان کی جاتی ہے کہ لوگوں کے درمیان تصورات ونظریات اور اقدار ومقاصد کے بارے میں اختلاف رائے شروع کیسے ہوا ؟ اور پھر وہ اصول بتادیا جاتا ہے جس پر اختلاف کرنے والے یہ لوگ ایسے اختلافات ختم کرسکتے ہیں اور عدالت کی وہ ترازو بتائی جاتی ہے جو ان کے اختلافات کے بارے میں ، ان لوگوں کے درمیان ، آخر کار یہ فیصلہ دے گی ۔

البقرة 2:213

یہ ہے وہ کہانی ۔ پہلے سب لوگ ایک امت ہی کے افراد تھے ۔ ایک تصور زندگی اور ایک ہی طرز عمل تھا۔ یہ اشارہ ہے اس چھوٹے انسانی خاندان کی طرف ، جو حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا کی ان اولاد پر مشتمل تھا ۔ اور ابھی ابن آدم کے درمیان افکار ونظریات کا اختلاف پیدا نہ ہوا تھا ۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کا آغاز ایک چھوٹے سے خاندان سے محض اس لئے کیا کہ انسانی زندگی میں خاندانی نظام خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے۔ ابتدا میں انسانیت پر ایک ایسا دور گزرا ہے ، جس میں سب انسان ایک ہی سطح کے تھے ، ان کا ایک ہی رخ تھا ، ایک ہی نظریہ تھا ۔ وہ صرف ایک ہی خاندان کی شکل میں تھے ۔ رفتہ رفتہ ان کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ انسان ترقی کرگئے ۔ پھر ادھر ادھر بکھرکر بسنے لگے ان کے بودوباش کے طریقوں میں اختلاف ہوگیا ۔ ان کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو خوبیاں ودیعت کی تھیں وہ ظاہر ہونے لگیں ۔ یہ خوبیاں اللہ نے تخلیق کے وقت ان کے اندر رکھ دی تھیں ۔ کسی میں کم تھیں کسی میں زیادہ ۔ اس کی حکمت اللہ ہی کے علم میں ہے اور زندگی کی بوقلمونی کے لئے یہ ضروری سمجھا گیا کہ کسی میں کچھ استعداد اور کسی کا کچھ رجحان ۔ قدرت کی اسکیم کے مطابق لوگوں کے درمیان نقطہ نظرکا اختلاف پیدا ہوگیا ، لہٰذا انسانیت نے اگلے درجے میں قدم رکھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کے لئے نبی بھیجے جو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے تھے وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ ” اور ان کے ساتھ برحق کتاب نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے ، ان کا فیصلہ کرے ۔ “ یہاں وہ عظیم حقیقت کھل کر سامنے آجاتی ہے یہ کہ لوگوں کے درمیان اختلاف رائے ایک طبعی امر ہے ۔ کیونکہ اختلاف ان کی تخلیق کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے ۔ اس اختلاف ہی کے نتیجے میں وہ اسکیم روبعمل آتی ہے جس کی خاطر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ۔ یعنی زمین پر نیابت الٰہی اور منصب خلافت کے چلانے میں انسان کو مختلف قسم کے فرائض سرانجام دینے تھے ، ان کے لئے مختلف قسم کے لوگ اور گوناگوں قابلتیں رکھنے والوں کی ضرورت تھی ، تاکہ یہ سب افراد مل کر نظام خلافت کو پوری ہم آہنگی کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور اس کرہ ارض کی تعمیر و ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ کی تیار کردہ اسکیم کو روبعمل لائیں اور ہر شخص اس میں اس کے لئے طے شدہ رول ادا کرے ، لہٰذا ضروری ہے کہ مختلف فرائض کی ادائیگی کے لئے لوگوں کی صلاحتیں بھی مختلف ہوں اور جس طرح انسان کی ضروریات ہیں اسی طرح انسانوں کی استعداد بھی مختلف ہو : وَلَا یَزَالُونَ مُختَلِفِینَ اِلَّا مَن رَّحِمَ رَبُّکَ وَلِذَٰلِکَ خَلَقَھُم ” اور یہ لوگ یونہی مختلف رہیں گے ۔ ماسوائے ان کے جن پر اللہ رحم فرمائے اور اسی اختلاف کے لئے تو اللہ نے انہیں پیدا کیا ہے ۔ “ قابلیتوں اور فرائض کے اس قدرتی اختلاف کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان افکار کا اختلاف جنم لیتا ہے ، ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں ۔ ان کا طریقہ کار اور پھر آخر کار ان کا نظام زندگی بدل جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ یہ فطری اختلافات مطلوب حد تک ہونے ضروری ہیں ۔ البتہ ان اختلافات کو ایک وسیع دائرے کے اندر رہنا چاہئے اور یہ اختلافات تعمیری ہونے چاہییں اور سیدھے ہونے چاہئیں ۔ یہ وسیع دائرہ کیا ہے جس کے اندر یہ محدود ہوں ؟ وہ ایمانی تصور حیات کا دائرہ ہے اور یہ اس قدر وسیع ہے کہ مختلف استعداد رکھنے والے لوگ ، مختلف طاقتوں کے مالک لوگ ، اور مختلف قابلیتوں کے لوگ اس کے اندر پوری ہم آہنگی کے ساتھ کام کرسکتے ہیں ۔ ایمانی تصور حیات ان اختلافات یعنی فطری اختلافات کو نہ دباتا ہے اور نہ ہی بالکل ان کا قتل عام کرتا ہے بلکہ ان کو ایک تنظیم میں لاتا ہے اور ہم آہنگ کرتا ہے اور ان سب کے رخ کو اصلاح و ترقی کی شاہراہ کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اندریں حالات میں ایک ایسے معیار کا وجود ضروری ہوگیا کہ باہم ٹکراؤ کی اس صورت میں لوگ اس کی طرف رجوع کریں ۔ جو ایک حاکم عادل ہو ، جس کے سامنے فریقین پیش ہوں اور جس کا قول فیصل ہو ، جس کے بعد بحث و تکرار ہی نہ رہے ، وہ ایسا ہو کہ سب لوگ اس کے ذریعہ ذوق یقین اپنے اندر پیش کریں فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ وَأَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيمَا اخْتَلَفُوا ” تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے اور ان کے ساتھ کتاب برحق نازل کی تاکہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلاف رونما ہوگئے تھے ، ان کا فیصلہ کرے ۔ “ ہمیں چاہئے کہ لفظ بالحق پر غور کریں ۔ یہ دراصل اس امرپر قول فیصل ہے کہ حق وہی ہے جو کتاب اللہ میں ہے ۔ اور اس حق کو اس لئے اتارا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے مختلف تصورات ، ان کے طریقہ ہائے کار اور ان کی اقدار کے لئے بمنزلہ دیانت دار منصف ہے اور تمام اختلافات میں فیصلے کا آخری مقام ہے ۔ اس کے سوا سچائی کہیں نہیں ملے گی ، اس کے ساتھ کوئی متوازی منصف نہیں ہے ، اس کی بات کے بعد پھر کوئی بات نہیں ہے ، یہ حق جو ایک اور لاشریک ہے ، اس کے بغیر تمام اختلافات اور نظریات میں اسے حکم بنائے بغیر ، اور بغیر کسی مزید مقدمہ بازی اور بغیر کسی اعتراض کے اس کے حکم کو حکم آخر تسلیم کئے بغیر اس زندگی کی گاڑی سیدھی پٹری پر روانہ نہیں ہوسکتی ۔ ہرگز نہیں ہوسکتی ۔ لوگوں کے درمیان موجود شدید اختلافات ختم نہیں ہوسکتے ۔ زمین پرامن قائم نہیں ہوسکتا اور کسی صورت میں بھی ، ان تدابیر کے بغیر ، انسان امن وسلامتی میں داخل نہیں ہوسکتا۔ لوگ اپنے تصورات اور قوانین حیات کہاں سے لیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قوانین حیات اور نظام حیات کے سرچشمے کے تعین کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کتاب اللہ کی اس حیثیت کو تسلیم کیا جائے کہ تمام اختلافات کا آخری فیصلہ کتاب اللہ ہی سے ہوگا۔ نیز یہ کہ یہ دوئی قبول نہیں کرتا ۔ اللہ پاک نے اس کتاب کو نازل فرمایا اور حق کے ساتھ نازل فرمایا۔ وہ منبع ایک ہی ہے ۔ اس میں تعدد ممکن نہیں اور یہ وہی منبع ہے جہاں سے کتاب اللہ کا نزول ہوا اور اس لئے ہوا کہ وہ اختلافی امور میں قوت فیصلہ ہو ، معیار حق ہو۔ وہ کتاب اپنی ماہیت کے اعتبار سے ایک ہی ہے۔ سب رسول اسی ایک کتاب کو لے کر آتے رہے ہیں ، لہٰذا تمام آسمانی کتابیں ایک ہی کتاب ہیں اور تمام ملتیں بھی دراصل ایک ہی ملت ہیں اور ان کتب ورسل کے تصورات حیات بھی دراصل ایک ہی ہیں ۔ ایک اللہ ، ایک معبود ، تمام انسانوں کے لئے ایک ہی قانون ساز ، البتہ مختلف ادوار اور مختلف ملل ونحل اور مختلف طرز ہائے زندگی اور مختلف قسم کے ادوار کے لئے تفصیلی اور جزوی احکام میں قدرے فرق ہوا۔ اور تمام حذف واضافہ کے بعد آخری مستقل اور مکمل صورت قرآنی تعلیمات اور ان تعلمیات کے ذریعہ زندگی کو بغیر کسی رکاوٹ کے ترقی کی راہ پر آزادانہ طور پر ڈال دیا گیا ، تاکہ انسانی زندگی اپنے وسیع دائرے میں ، اللہ کی راہنمائی اور ہدایت کی روشنی میں ، اللہ کی شریعت اور زندہ نظام زندگی کے مطابق اپنے وسیع حدود میں ترقی کرتی چلی جائے ۔ کتاب اللہ کے بارے میں قرآن کریم کا یہ فیصلہ ہی دراصل تمام نظریات اور تمام عقائد کے بارے میں صحیح اسلامی نقطہ نظر ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اصل میں ہر نبی اسی ایک دین کو لے کر آیاجو چند بنیادی عقائد یعنی عقیدہ توحیدوغیرہ پر مشتمل رہا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ ہر امت نے اپنے رسول کے اٹھ جانے کے بعد رفتہ رفتہ اپنے اصل دین سے انحراف اختیار کرلیا اور غلط روایات اور کہانیوں کا ایک ایسا انبار جمع ہوا کہ اس کے اندر دین اصل الاصول دب کر رہ گئے ۔ لوگ اصل دین سے دور جاپڑے ۔ یوں ضرورت پیش آتی ہے کہ ایک جدید رسالت ایک جدید نبی کے ذریعے بھیجی جائے ۔ جدید نبی ضرور آتا رہا لیکن دراصل دین اسلام کی تجدید ہی ہوتی رہی ۔ خرافات کا جو انبار دین میں داخل ہوچکا تھا یہ رسول اس کی نفی کرتا رہا۔ اور اس دور کے حالات کے مطابق لوگوں کو ایک نظام ایک قانون دیا جاتا رہا ۔ ایک نظام معاشرت کی بنیاد رکھتا رہا ، تاآنکہ قرآن نازل ہوا اور اب دینی نظریات و عقائد کے بارے میں قرآن کریم ہی لائق اتباع ہے اور حق ہے۔ بعض غیر مسلم علماء جب تاریخ مذاہب و عقائد پر بحث کرتے ہیں تو ان کا منہاج بحث یہ ہوتا ہے کہ وہ ہر نبی کی تعلیمات کو نبی ماقبل سے مختلف ثابت کرتے ہیں ، یوں گویا وہ نظریاتی ارتقاء ثابت کرتے ہیں۔ بعض مسلم محققین بھی اس منہج بحث سے متاثر ہوجاتے ہیں اور غیر شعوری طور پر وہ بھی ادیان کے اصل نظریات و عقائد میں تغیر وبتدل ڈھونڈتے ہیں ۔ یہ انداز بحث مستشرقین اور مذاہب کے بارے میں خود مغرب کے اہل تحقیق اختیار کرتے ہیں۔ ایمان کے اصل تصور میں تسلسل اور ثبات کا یہ نظریہ ہی اس کتاب کا مقصد نزول ہے ، جسے سچائی کے ساتھ نازل کیا گیا ہے اور اس لئے نازل کیا گیا کہ وہ لوگوں کے درمیان ، ان کے اختلافی مسائل کے بارے میں فیصلہ کرے ۔ ہر دور میں ، ہر رسول ، نبی کے بارے میں اور ابتدائی زمانوں سے لے کر آج تک تمام مسائل کے بارے میں کرے ۔ اس بات کی ضرورت تھی کہ ایک ایسی ترازو موجود ہو جس کے مطابق سب لوگ اپنے نظریات و عقائد کی قیمت معلوم کریں ۔ ایک قول فیصل ہو جس کے بعد بحث ختم ہوجائے ، نیز اس بات کی بھی اشد ضرورت تھی کہ اس ترازو اور اس قول فیصل کا سرچشمہ انسانی نہ ہو ۔ یہ ترازو اور قول فیصل اس ذات کا ہو جو انسانی خواہشات سے متاثر نہ ہو ، وہ انسانی نقائص سے بھی پاک ہو اور اس سرچشمے میں انسان کی طرح جہالت بھی نہ ہو ۔ پھر اس قسم کی ترازو قائم کرنے کے لئے لامحدود علم کی ضرورت ہے ۔ ہر واقعہ کا علم ضروری ہے ، خواہ ہوچکا ہے ، ہورہا ہے یا ہونے والا ہے ۔ یہ علم ہو بھی مطلق یعنی وہ علم نہ زمانے کی قید سے مقید ہو کر ایک ہی چیز زمانے کے اعتبار سے جدا ہوجاتی ہے۔ ماضی ، حال اور مستقبل قرار پاتی ہے ۔ ایک چیز یقینی ، ظنی اور مجہول کہلاتی ہے ۔ ایک ہی چیز کبھی حاضر ہوتی ہے کبھی غائب ہوتی ہے ۔ کبھی قابل مشاہدہ ہوتی ہے اور کبھی چھپی ہوئی ۔ پھر مکان کی قید سے ایک ہی چیز قریب ہوتی ہے ، پھر وہی بعید ہوتی ہے ۔ کبھی دائرہ نظر میں ہوتی ہے کبھی پس پردہ ہوتی ہے ، یا کبھی محسوس ہوتی ہے اور کبھی غیر محسوس ہوتی ہے ، غرض ایسے اللہ و معبود کے علم کی ضرورت ہے جو یہ جانے کہ کیا پیدا کیا اور کس نے پیدا کیا ۔ اسے معلوم ہو کہ مفید کیا ہے اور کیا سب کے لئے مفید ہے ۔ اس قسم کی میزان قائم کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ میزان قائم کرنے والا ضروریات سے بےنیاز ہو ، نقص سے پاک ہو ، فنا سے مبرا ہو ، کوئی چیز اس سے بچ نہ سکتی ہو ، اور موت اسے لاحق نہ ہوتی ہو ، وہ طمع سے پاک ہو ، اسے کسی چیز کی رغبت نہ ہو اور نہ کسی کا ڈر ہو ۔ وہ اس پوری کائنات پر غالب ہو اور اس کی ہر چیز اور ہر شخص پر حکمرانی ہو ۔ غرض میزان اس اللہ اور معبود کی ہو جو خواہشات سے پاک ، ضروریات سے پاک اور اس میں کوئی قصور اور کمی نہ ہو۔ رہی خود انسان کی عقل و دانش ، تو اس کے لئے تو یہی کافی ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات پر نظر رکھے ، بدلتے ہوئے ماحول پر اس کی نظر ہو ، نئی نئی ضروریات اس کے سامنے ہوں اور پھر وہ ان حالات میں ایک متعین وقت اور ایک مخصوص صورتحال میں ، ہم آۃ ن گی پیدا کرے ، لیکن اس صورت میں جب انسان کے پاس کوئی معیار حق موجود ہو ، جس کے ذریعہ انسان اپنی غلطی اور اپنی راستی کا اندازہ کرسکے ۔ اپنی راست روی اور کج روی معلوم کرسکے ، برسر حق اور برسر باطل ہونے کا اندازہ کرسکے اور یہ سب فیصلے اسی معیار کے مطابق ہی ہوں ۔ صرف یہی ایک صورت ہے جس کے مطابق زندگی صحیح ڈگر پر چل سکتی ہے ۔ اور لوگ اس بات پر مطمئن ہوسکتے ہیں کہ ان کے امور سیاست و قیادت رب معبود کے ہاتھ میں ہیں۔ یہ کتاب سچائی کے ساتھ اس لئے نہیں اتاری گئی کہ یہ لوگوں کے درمیان قدرتی صلاحیتیوں کے امتیازات ختم کردے ۔ متنوع وسائل حیات کو ختم کردے ، مختلف طور طریقوں اور مختلف قابلیتوں کا فرق اور امتیاز مٹاڈالے بلکہ اس کتاب کا مقصد ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اگر لوگوں کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہوجائے تو حق کے مطابق فیصلہ کردے۔ اس حقیقت کو اگر صحیح طرح ذہنن نشین کرلیا جائے تو اس کے منطقی نتیجہ کے طور پر اسلام کا تاریخی نقطہ نظر اچھی طرح سمجھاجاسکتا ہے۔ وہ یہ کہ اسلام اس کتاب کو ، جسے اللہ تعالیٰ نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ، لوگوں کے اختلافی امور میں ایک لازمی حاکمیت کا درجہ دیتا ہے۔ وہ اس کتاب کو انسانی زندگی کا اصل الاصول قرار دیتا ہے۔ اب قافلہ حیات کو دیکھا جائے گا کہ اگر وہ اس اصل سے متفق ہے ، اس کے مطابق جارہا ہے ، اس اصول پر قائم ہے ، تو وہ راہ حق پر ہے ۔ اگر قافلہ نظام حیات سے نکل جائے اور کچھ دوسرے اصولوں پر چل پڑے ، تو معلوم ہوجائے گا کہ اب یہ قافلہ راہ باطل پر گامزن ہوگیا ہے ۔ اگر تاریخ انسان کے کسی دور میں تمام کے تمام انسان اس نظام باطل پر راضی بھی ہوجائیں تب بھی وہ اس باطل کو حق میں نہیں بدل سکتے ۔ باطل ، باطل ہی رہے گا ۔ اس لئے کہ لوگ حق و باطل کھرے اور کھوٹے کو معلوم کرنے کا معیار ہی نہیں ہیں ۔ وہ حکم نہیں ہیں ۔ لوگ اگر خود کسی بات کا فیصلہ کرلیں تو وہ حق نہیں بن جائے گی اور نہ یہ کہ اگر پوری انسانی آبادی کوئی فیصلہ کردے تو وہ دین بن جائے گا ۔ اسلام کا نظریہ ہے کہ اگر لوگ کسی بات پر عمل پیرا ہیں ۔ اگر لوگ کسی بات کے قائل ہوگئے ہیں ، اگر سب لوگ کسی غلط اصول پر اپنی زندگیاں استوار بھی کرلیں تب بھی وہ قول ، وہ فعل اور وہ اصول حق میں نہیں بدل جاتا ۔ اگر وہ اللہ کی کتاب کے خلاف ہو ، لوگوں کا اجتماع اس باطل کو اصول دین میں داخل نہیں کردیتا ، نہ لوگوں کے اس عمل سے وہ اصول دین کی تعبیر وتشریح بن جائے گا ۔ ایسی باتوں پر اگر صدیوں عمل ہوتا رہا ہے ۔ تب بھی اس کے معنی یہ نہیں کہ اب وہ جائز ہوگئی ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے اور اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اصول دین میں لوگوں نے کئی نئی چیزیں داخل کردی ہیں اور صرف اس صورت میں ہم ان چیزوں کو دین سے علیحدہ کرسکتے ہیں کہ کتاب اللہ کو حکم مانیں ۔ خود اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ مختلف مراحل میں لوگوں نے اصول دین سے انحراف کیا اور یہ انحراف رفتہ رفتہ بڑھ رہا ہے ۔ لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا چونکہ ایک عرصہ سے لوگوں کی زندگی کا اجتماعی نظام اس انحراف پر استوار ہوگیا ہے اس لئے اب یہ انحراف ہی اسلامی نظام کی واقعی اور عملی شکل ہے ۔ ہرگز نہیں ، ایسا نہیں ہوسکتا۔ اگر تاریخ میں اسلام سے کوئی انحراف ہوا ہے اور تعامل بن گیا تو اسلام اس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ یہ انحراف اب بھی ایک غلطی تصور ہوگی ۔ اسے حجت نہ سمجھاجائے گا اور نہ وہ کوئی نظیر قرار پائے گا ۔ اس لئے جو لوگ نئے سرے سے اسلامی نظام زندگی قائم کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ ان تمام انحرافات کو اکھاڑ پھینکیں ، ان کو کالعدم قرار دیں ۔ اور سب لوگ اس کتاب کی طرف لوٹ آئیں جو نازل ہی اس لئے کی گئی ہے کہ حق کے ساتھ لوگوں کے اختلاف کا فیصلہ کرے اور ان کے درمیان حکم ہو۔ جب یہ کتاب آئی تو لوگ ہر طرف سے خواہشات میں گھرے ہوئے تھے ۔ لوگوں پر ان کی خواہشات غالب تھیں ۔ خوف اور لالچ مرغوبات اور کجروی لوگوں کو اللہ کی اس کتاب کی حاکمیت سے دور کئے ہوئے تھی ۔ لوگوں نے حق کی طرف لوٹنا چھوڑ دیا تھا ۔ محض خواہشات نفسیانیہ کی بناپروَمَا اخْتَلَفَ فِيهِ إِلا الَّذِينَ أُوتُوهُ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ” اختلاف ان لوگوں نے کیا جنہیں حق کا علم دیا جاچکا تھا ، انہوں نے روشن ہدایات پالینے کے بعد محض اس لئے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے ۔ “ بغی سے مراد حسد ہے۔ لالچ میں منافست ہے ۔ حرص میں مقابلہ اور خواہشات نفسانیہ کی حسد ہے ۔ غرض یہ حسد اور منافست ہی ہے جس نے لوگوں کو اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام زندگی کے بارے میں اختلاف کو ہوا دینے پر آمادہ کیا ۔ لوگ تفرقہ بازی ، عناد اور بحث و تکرار میں مبتلا رہے ۔ اس اصول کے مطابق مذہبی اختلافات کا تاریخی مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اگر اصول دین کے بارے میں کبھی دوآدمیوں کے درمیان اختلاف ہوا ہے تو دو میں سے ایک کے دل میں حسد ضرور تھا ، یا دونوں ہی حسد کا شکار تھے لیکن اگر ان فریقین میں ایمانی قوت موجود ہو تو پھر اتحاد واتفاق کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِهِ ” پس جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھایا ، جس میں ان لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ “ اہل ایمان کو اس لئے ہدایت نصیب ہوئی کہ ان کے دل صاف تھے ، ان کی روح یکسو تھی ، ان کے دلوں میں حق تک پہنچنے کی امنگ تھی ۔ اگر حالات ایسے ہوں تو پھر حق تک پہنچنا اور اس پر جم جانا بہت ہی آسان ہوجاتا ہے وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ” اللہ جسے چاہتا ہے ، راہ راست دکھا دیتا ہے۔ “ وہ راہ کون سی ہے جس کی طرف یہ کتاب راہنمائی کرتی ہے ؟ وہ نظام جو حق پر قائم ہوتا ہے اور حق پر چلتا ہے اور حق پر جمارہتا ہے۔ لوگوں کی خواہشات کے مطابق کبھی ادہر ادہر نہیں بدلتا۔ انسانوں کی مرغوبات اور ان کے رجحانات کے ہاتھ میں ایک کھلونابن کر نہیں رہ جاتا۔ اللہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے راہ مستقیم کے لئے چن لیتا ہے ۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ کون لوگ ہیں جن میں قبولیت حق کی استعداد ہے اور پھر اس پر جم سکتے ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جو سلامتی کی راہ پالیتے ہیں بلکہ سلامتی کے دائرے میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ یہی لوگ غالب ہوں گے ۔ اگرچہ دنیا پرستوں کی نظروں میں ان کی کچھ قدروقیمت نہیں ہوتی اور یہ لوگ محروم تصور ہوتے ہیں ۔ اگرچہ یہ دنیا پرست ان کا مذاق اڑاتے ہیں ، جس طرح کافر مومنین کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ اب تک جو ہدایات دی گئیں ان کا مقصد یہ تھا ، جماعت مسلمہ کے دل میں ایک مکمل واضح اور جامع تصور حیات قائم ہوجائے ۔ یہ ہدایات یہاں ختم ہوجاتی ہیں ۔ اب جماعت مسلمہ کو توجہ دلائی جاتی ہے کہ وہ ذرا ان اہل ایمان کے حالات کا مطالعہ کرے ، جو اپنے مخالف دشمنان اسلام ، مشرکین اور اہل کتاب کے اختلاف رائے رکھتے تھے ، پھر ان نظریاتی اختلافات کی وجہ سے ان پر بیشمار مصیبتیں آئیں ۔ ان اختلافات کی بناپر بڑی بڑی جنگیں لڑی گئیں ، لوگوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے اور وہ چور چور ہوگئے۔ جماعت مسلمہ کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ یہ سنت اللہ ہے جو زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے ۔ یوں اہل ایمان کو عام لوگوں سے علیحدہ کردیا جاتا ہے اور انہیں جنت میں داخل کرنے کے لئے تیار کیا جاتا ہے ۔ تاکہ وہ اس میں داخل ہوں اور اس کے مستحق ہوں۔ سنت اللہ یہ ہے کہ نظریاتی لوگ اپنے نظریات کی مدافعت کریں ۔ وہ اپنے عقائد ونظریات کے لئے مشکلات ، تکالیف اور دکھ و درد برداشت کریں ۔ انہیں کبھی فتح نصیب ہوگی کبھی شکست لیکن وہ ہر حال میں اپنے نظریات پر ثابت قدم رہیں گے ، کوئی سختی انہیں متزلزل نہ کرسکے گی ۔ کوئی قوت انہیں ڈرا نہ سکے گی ۔ مشکلات اور آزمائشوں کے پے درپے حملوں میں وہ ہمت نہ ہاریں ۔ اگر انہوں نے ایسا کیا تو وہ لوگ اللہ کی نصرت کے مستحق ہوجائیں گے ۔ کیونکہ وہ اللہ کے دین کے امین بن گئے ہیں اور جو امانت ان کے سپرد کی گئی ہے اس میں وہ دیانت دار ہیں ۔ وہ اس کو بچانے کی قابلیت رکھتے ہیں اور اس کے لئے وہ جنت کے بھی مستحق ہیں ۔ ان کی روحیں خوف سے آزاد ہوگئی ہیں ، وہ ذلت سے آزاد ہوگئے ہیں ۔ وہ عیش و آرام کے حریص نہیں رہے ۔ بلکہ انہیں اب خود اپنی زندگی کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ ایسے حالات میں اللہ کے یہ سپاہی آب وگل کی اس دنیا سے بہت ہی دور ہوجاتے ہیں اور جنت اور اللہ کے زیادہ قریب ہوجاتے ہیں۔

البقرة 2:214

یہ تھا اللہ تعالیٰ کا خطاب ، پہلی اسلامی جماعت سے ۔ فرماتے ہیں کہ میری ایک سنت ہے کہ میں اپنے بندوں میں سے جس کے ہاتھ میں اپنا علم پکڑاتا ہوں ۔ جنہیں میں اس دنیا میں اپنا امین بنالیتا ہوں ، جن کے ذریعے میں اسلامی نظام قائم کرتا ہوں ، اور شریعت نافذ کرتا ہوں انہیں پہلے مصائب کی بھٹی میں ڈال کر ان کی تربیت کرتا ہوں ، یہ میری تاریخی سنت ہے۔ ذرا انسانی تاریخ میں اسلامی تحریکات کا مطالعہ تو کرو ۔ یہ خطاب صرف مدینہ طیبہ کی پہلی تحریک اسلامی کے لئے مخصوص نہ تھا ، بلکہ یہ خطاب ہر اس تحریک کے لئے ہے جسے اللہ تعالیٰ اس کائنات میں یہ عظیم رول ادا کرنے کے لئے منتخب کرلیتا ہے جو اسلامی نظام کے داعی ہوں ، ان سے یہ خطاب ہے ۔ یہ ایک عظیم ، دور رس اور خوفناک تجربہ ہے ، رسولوں کا چیخ اٹھنا ، رسولوں کے ساتھ مومنین کا پکار اٹھنا ، سب کا بیک آواز پکار اٹھنا کہ کب آئے گی اللہ کی مدد ؟ “ اس سوال ہی سے مصائب وشدائد کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جنہوں ان خدا رسیدہ لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا ، یقیناً وہ مصائب وشدائد ناقابل برداشت ہوں گے ، جنہوں نے ایمان سے بھرے ہوئے ان دلوں کو متاثر کرلیا اور ان کے منہ سے بھی یہ کربناک چیخ نکل ہی گئی ” کب آئے گی اللہ کی مدد ؟ “ اللہ کی سنت ہے کہ جب ایمان سے بھرے ہوئے یہ دل ان ہلامارنے والے مصائب کو برداشت کرلیتے ہیں تو پھر اللہ کی بات پوری ہوجاتی ہے اور اس کی مدد آپہنچتی ہےأَلا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ” ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔ “ ہاں اللہ کی نصرت محفوظ ہوتی ہے ، ان کے لئے جو اس کے مستحق ہوتے ہیں اور اس کے مستحق وہ لوگ ہوتے ہیں جو آخر وقت تک ثابت قدم رہتے ہیں ۔ جو تنگی اور مصیبت میں ثابت قدم رہتے ہیں جو لوگ مصائب کے مقابلے میں کھڑے رہتے ہیں ۔ شدائد کی آندھیوں کے آگے جھکتے نہیں ، جنہیں یہ یقین ہوتا ہے کہ صرف اللہ ہی ہے جو امداد ونصرت دے سکتا ہے (اور جب اس کی مشیئت ہوگی وہ نصرت دے گا ) حالت یہ ہوجائے کہ مصائب انتہاء کو پہنچ جائیں اور اہل ایمان کا کوئی اور سہارا نہ رہے ۔ اللہ کے سوا کسی اور نصرت وامداد کا کوئی ذریعہ نہ رہے ۔ صرف اللہ ہی نصرت باقی رہ جائے اور اہل ایمان بھی صرف اللہ ہی کی طرف نظریں اٹھائے ہوئے ہیں ۔ یہ ہے وہ حالت جس کی بناپر اب تو مومنین داخلہ جنت کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ وہ جنت میں داخل ہوتے ہیں ، آزمائش وامتحان کے بعد ، صبرواثبات کے بعد ، صرف اللہ کی ہی طرف یکسو ہوجانے کے بعد صرف اللہ کے لیے اپنا شعور خالص کردینے کے بعد اور اللہ کے سوا ہر چیز اور ہر سبب بھول چکنے کے بعد ۔ اسلامی جدوجہد اور اس کے دوران میں مصائب وشدائد پر صبر کے نتیجے میں انسان کو ایک عظیم قوت عطا ہوجاتی ہے ۔ انسان کو اپنی ذات پر حاکمیت حاصل ہوجاتی ہے ۔ اذیت ومصیبت کی بھٹی میں نفس انسانی کے عناصر صاف و شفاف ہوجاتے ہیں ۔ اسلامی نظریہ حیات میں گہرائی ۔ زندگی اور قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔ نہ نظریہ زندہ اور تابندہ ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس کے اس نظریہ کے اعداء کی آنکھیں بھی چکاچوند ہوجاتی ہیں اور یہ وہ مقام ہوتا ہے۔ جہاں پھر یہ دین کے ازلی دشمن بھی فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہونے لگتے ہیں ۔ ہر مسئلہ حق میں یہی کچھ ہوتا ہے ۔ آغاز سفر میں حاملین حق کو مشکلات پیش آتی ہیں ، لیکن جب وہ ثابت قدمی دکھائیں تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے دشمن اور محارب بھی ان کی طرف جھکتے ہیں اور اس نظریہ حیات کے شدید ترین دشمن اور اس کے طاقتور مخالف بھی ہتھیار ڈالتے ہیں اور اس کی دعوت کی نصرت اور امداد کرنے لگتے ہیں لیکن اگر یہ نتیجہ نہ بھی نکلے ، تو بھی اس سے زیادہ عظیم نتائج نکلتے ہیں ۔ دعوت اسلامی کے حاملین کی روح تمام دنیاوی فتنوں ، تمام دنیاوی خرابیوں پر غالب آجاتی ہے ۔ یہ روح حرص و لالچ اور عیش و عشرت کی غلامی سے آزاد ہوجاتی ہے ۔ یہاں تک کہ آخر میں جاکر مرد مومن کو اپنی زندگی کالالچ بھی نہیں رہتا۔ جب نفس انسانی اس مقام تک پہنچ جائے تو وہ پوری کائنات کو جیت لیتا ہے ۔ ان تمام دلوں کو جیت لیتا ہے جو اس مقام تک مشکلات پر غالب ہو کر پہنچتے ہیں ۔ یہ وہ نفع ہے جو تمام مصائب تمام سختیوں پر بھاری ہے ۔ جو اہل ایمان اس مقام تک پہنچنے کے لئے برداشت کرتے ہیں ، یہ وہ اہل ایمان جو اللہ کے علم کے امین ہیں ۔ جو اللہ کے دین ، اس کی شریعت اور اس کی امانت کے اٹھانے والے ہیں ۔ یہ آزادی ہی اہل ایمان کو ، اس جہاں میں داخلہ جنت کے اہل بناتی ہے ۔ یہ ہے اصل راہ ۔ یہ وہ راہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے روز اول تحریک اسلامی کو دکھائی ۔ ہر دور میں اٹھنے والی ہر اسلامی تحریک کے لئے یہی راہ ہے ۔ یہی ہے راہ ایمان و جہاد کی راہ ، آزمائش وابتلا کی راہ ، صبر وثبات کی راہ ، صرف اللہ وحدہ لاشریک کی طرف رخ ۔ پھر دیکھئے کہ کس طرح مدد آتی ہے ، پھر دیکھئے کہ انعامات کی بارش کس طرح ہوتی ہے۔

البقرة 2:215

جیسا کہ واضح ہے ، سورت کے اس حصے میں احکام کے سوال و جواب کی فضا ہے ۔ جیسا کہ ہم آیت یسئلونک عن الاھلۃ کی تفسیر میں بیان کر آئے ہیں کہ یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کس قدر بیدار تھا ، جماعت کے افراد کے دلوں پر کس طرح چھایا ہوا تھا اور یہ کہ مسلمان اپنی روزمرہ کی زندگی کے ہر معاملے میں اپنے نظریے کا حکم معلوم کرنے کے لئے کس قدر بےتاب تھے تاکہ ان کا طرز عمل ان کے نظریہ حیات کے مطابق ہو اور یہ ایک صحیح مسلمان کی پختہ علامت ہے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اسلام کا حکم معلوم کرنے کی کوشش کرے ۔ اور وہ اس وقت تک عملی قدم نہ اٹھائے جب تک یہ معلوم نہ کرلے کہ اس بارے میں اسلام کا کیا حکم ہے ؟ جس چیز کو اسلام برقرار رکھے وہ اس کا دستور اور قانون بن جائے اور جسے اسلام ترک کردے وہ اس کے لئے ممنوع اور حرام ہوجائے ۔ یہ حساسیت دراصل اس نظریہ حیات پر پختہ ایمان کی علامت ہے۔ یہودیوں ، منافقین اور مشرکین نے ، اسلام کی بعض اصلاحات کے خلاف جو اعتراضات شروع کر رکھے تھے وہ اس سلسلے میں وہ سازش کے طور پر حملے کررہے تھے ، ان سے متاثر ہوکر یا ان کی اصل حقیقت اور حکمت معلوم کرنے کی خاطر بعض مسلمان بھی سوالات اٹھا رہے تھے ۔ ان اصلاحات کے خلاف یہودی سخت زہریلا پروپیگنڈا کرتے تھے اور بعض مسلمان اس سے متاثر بھی ہوجاتے ۔ ایسے مواقع پر قرآن مجید کا کوئی حصہ نازل ہوتا اور مسئلہ زیر بحث کا فیصلہ کردیتا ۔ مسلمان یقین حاصل کرلیتے ، سازشیں ختم ہوجاتیں ۔ فتنے اپنی موت آپ مرجاتے اور سازشیوں کی سازش خود ان کے گلے پڑجاتی ۔ ان سوالات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں قرآن مجید چومکھی فکری جنگ لڑرہا تھا ، کبھی یہ معرکہ خود مسلمانوں کے دل و دماغ میں برپا ہے۔ کبھی مسلمانوں کی صفوں میں اور کبھی ان دشمنان اسلام کے خلاف ہے جو اسلام سے برسر پیکار تھے اور اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔ یہ سبق بھی اس فکری جنگ کا حصہ ہے اور اس میں بعض سوالات کے جوابات دیئے گئے ہیں ۔ مثلاً انفاق ، اس کی مقدار ، اس کے مصرف اور مال کی قسم جس سے انفاق کیا جائے ، کے بارے میں سوال ، حرام مہینوں میں لڑنے کے بارے میں سوال ، شراب اور جوئے کے بارے میں سوال ، یتیموں کے بارے میں سوال ، ان سب سوالات کے اسباب وہی تھے جن کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں اور آیات پر بحث کے وقت تفصیلات عرض ہوں گی انشاء اللہ ! اس سوال سے پہلے انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں متعدد آیات نازل ہوچکی تھیں ۔ جن حالات میں تحریک اسلامی کا آغاز ہوا ، ایسے حالات میں انفاق فی سبیل اللہ نہایت ضروری ہوتا ہے ، تاکہ اسلامی جماعت مصائب ومشکلات اور ان جنگی معرکوں میں دشمنوں کا مقابلہ کرسکے ، جو اسے درپیش آنے والے تھے ۔ انفاق کی اہمیت ایک دوسری وجہ سے بھی اس دور میں زیادہ ہوگئی تھی ، مثلاً یہ کہ تحریک اسلامی میں ساتھیوں کے درمیان اجتماعی تکافل کے قیام کی بھی اشد ضرورت تھی ۔ افراد جماعت کے مابین ظاہری امتیازات کو ختم کرنے کی ضرورت تھی ، تاکہ ہر فرد یہ سمجھے کہ وہ ایک جسم کا عضو ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور نہ کوئی چیز ان سے روکی جاتی ہے ۔ شعوری طور پر ایک جماعت کے قیام کے لئے اجتماعی تکافل اور انفاق کا نظام قائم کرنا بہت ضروری ہے ۔ افراد جماعت کی کارکردگی میں اضافہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی ضروریات کا لحاظ رکھا جائے ۔ ایسے حالات میں بعض مسلمانوں نے سوال کیا تھا کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ سوال تو یہ تھا کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ نوعیت انفاق کیا ہو ؟ جواب میں انفاق کی صفت اور انفاق کے مصارف بیان کئے گئے : قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ ” جو مال بھی تم خرچ کرو “ اس تعبیر میں دواشارے ہیں ۔ ایک یہ کہ جو چیز بھی تم خرچ کرو اسے خیر ہونا چاہئے ۔ دینے والے کے لئے بھی خیر ہو ، لینے والے کے لئے بھی ۔ اس معاشرے کے لئے بھی جس میں یہ لین دین ہورہا ہے اور اپنی ذات میں بھی وہ خیر ہو ۔ اس طرح ہو کہ عمل بھی پاک ۔ تحفہ بھی پاک ۔ چیز بھی پاک۔ دوسرا اشارہ یہ ہے کہ خراچ کرنے والے کو اچھی طرح سوچ کر اپنے مال سے اعلیٰ تر چیز خرچ کرنی چاہئے ۔ اس کے پاس جو بہترین چیزیں ہوں انہیں خرچ کرے ۔ اس میں دوسروں کو شریک کرے ۔ انفاق سے دل پاک ہوجاتا ہے ۔ نفس کا تزکیہ ہوتا ہے اور دوسروں کا فائدہ ہوتا ہے ۔ ان کی اعانت ہوجاتی ہے ۔ پھر تلاش کرکے اپنے مال میں سے بہتر چیز خرچ کرنا ایک ایسا اقدام ہے جس سے دل میں طہارت آجاتی ہے ۔ نفس انسانی پاک وصاف ہوجاتا ہے اور انفاق کو اپنانے کا اعلیٰ مفہوم سامنے آتا ہے۔ لیکن یہ محض اشارہ ہے اور اسے لازم اور فرض قرار نہیں دیا گیا ۔ جبکہ دوسری آیت میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے ۔ اس سلسلے میں مناسب ہے کہ اوسط درجے کا مال اللہ کی راہ میں دیا جائے ۔ نہ بہت قیمتی ہو اور نہ بالکل ردی ہو ، البتہ آیت میں یہ اشارہ ہے کہ نفس پر قابو پانے کے لئے بہتر مال خرچ کیا جائے اور اہل ایمان کو اس پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہی قرآن کریم کا انداز تربیت ہے یعنی بذریعہ ترغیب اور آمادگی اصلاح کی جاتی ہے ۔ انفاق کا طریقہ اور مصرف کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالأقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ” اپنے والدین رشتے داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ “ انفاق کرنے والے اور ان لوگوں کے درمیان مخصوص روابط ہیں ۔ بعض افراد اور انفاق کرنے کے درمیان نسبتی رشتہ ہے ۔ بعض کے درمیان رحم کے رشتے ہیں ۔ بعض کے ساتھ محض رحم و شفقت کا رشتہ ہے اور بعض کے ساتھ نظریات کے وسیع حدود میں صرف انسانی ہمدردی کا تعلق ہے ۔ اور سب کو ایک ہی آیت میں سمودیا گیا ہے ۔ والدین ، اقربین ، یتامی ، مساکین ، مسافر ، ان سب کو اسلامی نظریہ ٔ حیات کے وسیع دائرے میں ضروریات اور بوقت ضرورت معاونت کی گارنٹی حاصل ہے ۔ انفاق کے مصارف میں وہی ترتیب ہے جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے ۔ نیز بعض دوسری آیات میں بھی اس کی وضاحت کی گئی اور بعض احادیث میں اس کی مزید تفصیل اور تشریح کا ذکر ہے ۔ صحیح مسلم میں ایک روایت ہے جس میں رسول ﷺ نے ایک شخص سے کہا :” پہلے اپنے نفس سے آغاز کرو اور اس پر صدقہ کرو۔ اس سے زیادہ ہو تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرو ، اگر پھر بھی کچھ بچ جائے تو رشتے داروں پر خرچ کرو ، اگر ان سے بھی بچ جائے .......“ مصارف کی اس ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے نفس انسانی کی تربیت اور اس کی قیادت اور راہنمائی کے لئے کیا حکیمانہ اور سادہ انداز اختیار کیا ہے۔ اسلام انسان کے ساتھ اس کی حقیقت کے مطابق معاملہ کرتا ہے ۔ اس کی فطرت ۔ اس کے میلانات اور اس کے رجحانات کے عین مطابق۔ اسلام انسان کو ساتھ لے کر اس طرح چلتا ہے جس طرح بچہ پیدا ہوتا ہے پھر وہ کھڑا ہوجاتا ہے اور ایک متعین مقام پر ہوتا ہے ۔ اسلام اس کا ہاتھ پکڑ کر قدم بقدم اسے لے کر چلتا ہے ۔ آہستہ آہستہ اس کی یہ رفتار اس کی فطرت ، اس کے رجحانات اور اس کی استعداد کے تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے ۔ وہ تدریج کے ساتھ اپنے ساتھ پوری زندگی کو نشوونما اور ترقی دیتا جاتا ہے ۔ وہ بلندی کی طرف جارہا ہوتا ہے۔ لیکن تنگی اور تھکاوٹ کا اسے احساس تک نہیں ہوتا ۔ اسلام کی ترقی کا انداز یہ نہیں ہے کہ کسی کو بیڑیاں اور ہتھکڑیاں پہناکر اور اسے گھسیٹ کر بلندیوں تک لے جایا جائے ۔ نہ ہی اس کی فطری قوتوں اور فطری رجحانات کو دبایا جاتا ہے کہ وہ ایک پرندے کی طرح پنجرے میں بند ہوجائے اور پھڑپھڑائے اسے راہ ترقی پر اس طرح نہ لے جایا جائے کہ ترقی نہ رہے بلکہ ظلم بن جائے ۔ یا اسے ٹیلوں اور پہاڑیوں سے اڑاتے ہوئے لے جایاجائے ۔ بلکہ اسے آہستگی اور نرمی سے اوپر کی طرف لے جایاجائے ۔ قدم زمین پر ہوں ، آنکھیں آسمان پر ہوں اور دل افق کے ساتھ لٹکا ہوا ہو اور اس کی روح عرش کی بلندیوں میں واصل باللہ ہو۔ یہ بات تو اللہ کے علم میں تھی کہ انسان میں حب ذات کا داعیہ ہے ۔ اس لئے اللہ نے حکم دیا کہ پہلے اپنی ذات کے لئے بقدر کفایت سامان مہیا کرو۔ ذات کے بعد پھر دوسرے رشتہ داروں پر انفاق کا حکم دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے کھانے پینے کی پاک چیزوں کو جائز قرار دیا ۔ اسے ترغیب دی کہ وہ ان حلال چیزوں سے لطف اٹھا 4 ے ۔ البتہ یہ پابندی لگادی کہ عیاشی اور غرور سے دور رہے ۔ انفاق و صدقہ تو تب شروع ہوتا ہے جب انسان بقدر کفایت خود اپنی ضروریات پوری کرلے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں :” بہترین صدقہ تو وہ ہے جو ضروریات پورا کرکے دیا جائے اور اوپر کا ہاتھ نچلے ہاتھ سے زیادہ بہتر ہے اور شروع اپنے خاندان سے کرو۔ “ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں :” رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک شخص ایک انڈے کے برابر سونا لے کر حاضر ہوا۔ اس نے عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ یہ مجھے کان سے ملا ہے ۔ آپ ﷺ اسے لے لیں ۔ یہ صدقہ ہے اور اس کے سوا میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا۔ وہ رسول ﷺ کے داہنے جانب سے لے آیا اور وہی بات دہرائی ، تو آپ ﷺ نے پھر منہ پھیرلیا۔ پھر بائیں جانب سے آیا اور وہی بات دہرائی ۔ رسول ﷺ نے پھر منہ پھیرلیا۔ پھر وہ پیچھے کی طرف سے آیا اور وہی بات دہرائی ۔ اس پر رسول ﷺ نے اس سونے کو لے لیا اور اسے اس پر دے مارا۔ اگر اسے لگی ہو تو یاد رکھنا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :” تم میں ایک صاحب میرے پاس وہ سب کچھ لے کر آجاتا ہے جو اس کے پاس ہوتا ہے اور کہتا ہے یہ صدقہ ہے ، اور پھر بیٹھ جاتا ہے لوگوں سے بھیک مانگنے ۔ بہترین صدقہ وہ ہے جو غنا پر کیا جائے۔ “ یہ حقیقت اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ انسان سب سے پہلے اپنے قریبی افراد خاندان سے محبت کرتا ہے ، اپنی اولاد سے اور اپنے والدین سے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کی ذات کے بعد انفاق کے لئے ان افراد کو مستحق قرار دیا تاکہ وہ اپنی دولت کا کچھ حصہ ان پر خوشی ورضا کے ساتھ خرچ کرے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں انسان کے اس فطری میلانات کا لحاظ رکھا ہے ، جو بےضرر ہیں ، بلکہ ان کا لحاظ رکھنے میں بھلائی اور حکمت پوشیدہ ہے ۔ اور اس حکمت کے ساتھ ساتھ بعض ایسے افراد کی کفالت بھی ہوجاتی ہے جو صدقہ دینے والے کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں اور خود امت مسلمہ کے بھی افراد ہیں ۔ اگر ان حضرات کی اعانت ان کے اس قریبی رشتہ دار نے نہ کی تو وہ محتاج ہوں گے ۔ ان کے لئے اپنے اس قریب رشتہ دار سے امداد حاصل کرنا زیادہ بہتر ہے ، بہ نسبت اس کے کہ وہ کسی دور کے شناسا یا غیر شناسا شخص سے امداد لینے پر مجبور ہوجائیں ۔ پھر یہ فائدہ مزید ہے کہ اس کے ذریعہ انسان کی پہلی تربیت گاہ یعنی خاندان کے اندر امن و محبت میں اضافہ ہوگا اور افراد خاندان کے درمیان روابط مضبوط ہوں گے جو ایک عظیم انسانیت کی تعمیر میں خشت اول کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کے بعد انسان فطرتاً اپنے جملہ رشتہ داروں کو درجہ بدرجہ اور تعلقات ورابط کے مطابق ترجیح دیتا ہے اور خالق فطرت اس بات سے خوب واقف ہے ۔ اور یہ کوئی بری بات بھی نہیں ہے کیونکہ یہ رشتہ دار بھی بہرحال امت کا ایک حصہ ہیں اور اسلامی معاشرے کے اجزاء ہیں ۔ چناچہ ایک دولت مند مسلمان اپنے قریبی رشتے داروں کے دائرہ سے ایک قدم اور باہر نکل آتا ہے ۔ اس کی پیش رفت بدستور اس کے فطری رجحانات اور میلانات کی سمت میں ہے اور ان کے دور کے رشتے داروں کی ضرورت بھی پوری ہو رہی ہے اور دور کے رشتے داروں کے ساتھ محبت اور رشتے کے تعلقات بھی استوار ہورہے ہیں ۔ یوں اسلامی جماعت کی ابتدائی یونٹ کے باہم تعلقات مربوط ہوجاتے ہیں اور روابط قوی ہوجاتے ہیں۔ اپنی ذات اور قریب وبعید رشتے کے لوگوں پر خرچ کرنے کے بعد بھی اگر کچھ بچ رہتا ہے تو پھر اسلام کا حکم یہ ہے کہ معاشرے کے ان ضعفاء پر خرچ کرو جنہیں دیکھ کر ہی ایک آدمی شرافت ، جذبہ رحمت اور جذبہ اشتراک میں جوش میں آجاتا ہے اور ایک شریف انسان ایسے کمزور لوگوں کی امداد کے تیار ہوجاتا ہے ۔ ایسے لوگوں میں یتیم سب سے پہلے درجے میں آتے ہیں جو چھوٹے بھی ہوتے ہیں اور کمزور بھی ۔ پھر ان مساکین کا درجہ ہے جن کے پاس اخراجات کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ لیکن وہ اپنی شرافت اور سفید پوشی کی وجہ سے ۔ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے ۔ پھر مسافروں کا نمبر آتا ہے جن کے پاس اگر مال و دولت ہوتا ہے لیکن ان سے دور گھر میں اور اس کے حصول میں رکاوٹیں ہوتی ہیں۔ ابتدائی دور میں تحریک اسلامی میں ایسے لوگوں کی کثرت تھی ۔ یہ لوگ اپنی دولت مکہ مکرمہ میں چھوڑ کر ہجرت کر آئے تھے ، اور اب یہ لوگ اسلامی معاشرے کے افراد تھے ۔ اسلام تحریک اسلامی کے خوش حال لوگوں کی راہنمائی کرتا ہے کہ وہ ایسے نادار لوگوں پر خرچ کریں ۔ اس سلسلے میں اسلام ان لوگوں کے پاک فطری رجحانات کو ابھارتا ہے اور ان کی تطہیر کرتا ہے اور بڑی نرمی اور تدریج کے ساتھ ان لوگوں کو نصب العین تک پہنچا دیتا ہے۔ پہلے ان خوش حال لوگوں کے نفوس کا تزکیہ کیا جاتا ہے ۔ اور وہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں وہ طیب نفس کے ساتھ خرچ کرتے ہیں ، خرچ پر راضی ہوتے ہیں ۔ بغیر کسی تنگی اور بغیر کسی جبر کے ، اپنے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ معاشرے کے ضعیف اور محتاج لوگوں کو ان کی ضروریات مل جاتی ہیں ۔ دوسرے یہ کہ تمام افراد معاشرہ باہم پیوست ہوجاتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے کفیل اور مددگاربن جاتے ہیں لیکن اس اجتماعی کفالت میں نہ جبر ہے اور نہ کسی کا نقصان ہے ۔ اسلام کی یہ راہنمائی نہایت ہی لطیف ۔ نہایت ہی خوشگوار اور نہایت ہی دوررس ہے ۔ اس میں بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ یہ راہنمائی نہ جابرانہ ہے ، نہ مصنوعی ہے اور نہ اس میں کسی قسم کا تشدد ہے ۔ انفاق فی سبیل اللہ کے اس کفالتی انتظام کا سررشتہ بھی افق اعلیٰ سے ملادیا جاتا ہے ۔ اس لئے انفاق کرکے دل مومن میں تعلق باللہ کا ایک جوش پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس کی دادودہش میں ، اس کے قول وفعل میں ، اس کے ضمیر ونیت میں اور اس کے فہم و شعور میں ، غرض اس کی پر چیز میں تعلق باللہ پیدا ہوجاتا ہے وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ” اور جو بھی بھلائی تم کروگے ، اللہ اس سے باخبر ہوگا۔ “ اللہ تعالیٰ اس انفاق سے بھی باخبر ہے ۔ اس کی غایت سے بھی خبردار ہے ، اس کے پس منظر میں جو نیت ہے اس کا بھی اسے علم ہے ۔ اس لئے یہ انفاق ہرگز ضائع نہیں ہوسکتا ۔ وہ اللہ کے کھاتے میں لکھا گیا ہے اور اس کھاتے میں کوئی چیزضائع نہیں ہوتی ۔ وہ لوگوں کے حقوق میں کوئی کمی نہیں کرتا اور نہ ان پر کسی قسم کا ظلم کرتا ہے ، لیکن اس پر ریاکاری کا کچھ اثر ہوتا ہے نہ دھوکہ بازی اس کے ہاں چل سکتی ہے ۔ یوں قرآن کی یہ راہنمائی دلوں کو لے کر افق اعلیٰ کی بلندیوں تک جاپہنچتی ہے ۔ یہ دل صاف و شفاف ہوجاتے ہیں ، یکسو ہوجاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں ، لیکن بڑی نرمی کے ساتھ ، بڑی دھیمی رفتار کے ساتھ ، بغیر کسی مصنوعی طریقے کے ، بغیر کسی جابرانہ ذریعے کے ۔ یہ ہے وہ نظام تربیت جسے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا ہے جو علیم بھی ہے اور خبیر بھی ہے ۔ اور اس نظام تربیت کے اصولوں کے مطابق اسلامی نظام زندگی تیار ہوتا ہے۔ یہ نظام انسان کی نکیل اپنے ہاتھ میں لے کر ایک عام انسان کی قیادت سنبھالتا ہے ۔ وہ جہاں بھی ہو وہاں سے اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور اسے عروج و کمال کے اس مقام بلند تک لے جاتا ہے جہاں تک یہ انسانیت اسلام سے قبل اپنی پوری تاریخ میں پہنچ سکی ہوتی ۔ ہاں انسانیت نے یہ مقام بلند اگر کبھی حاصل کیا ہے تو وہ صرف اسلامی نظام زندگی کے سایہ میں ، اسلام کے صراط مستقیم پر چل کر ۔ انفاق فی سبیل اللہ کے بعد ، جہاد فی سبیل اللہ کا حکم آجاتا ہے اور اس میں بھی اسلام نے وہی منہاج تربیت اختیار کیا ہے جو انفاق کے سلسلے میں اختیار کیا گیا ہے۔

البقرة 2:216

قتال فی سبیل اللہ بہت بارگراں فریضہ ہے ۔ اس کے باوجود یہ ایسا ہے کہ اس کی ادائیگی واجب ہے ۔ اس لئے کہ اس میں ایک مسلمان کے لئے بھی بڑی خیر ہے ، اسلامی جماعت کے لئے بھی خیر کثیر ہے بلکہ اس میں پوری انسانیت کی عظیم بھائی ہے ۔ یہ فریضہ محض سچائی کے لئے ہے ، بھلائی کے لئے ہے اور اصلاح احوال کے لئے ہے ۔ اسلام چونکہ ایک فطری دین ہے ، اس لئے وہ ہر معاملے میں اپنا موقف اور نقطہ نظر بھی عین فطرت کے مطابق اختیار کرتا ہے ۔ اس فریضے کی ادائیگی میں جو مشقتیں اور دشواریاں ہیں اللہ ان کا انکار نہیں کرتا۔ نہ اسے آسان اور ہلکا تصور کیا جاتا ہے۔ نہ اس بات کا انکار کیا جاتا ہے کہ نفس انسانی اسے بتقاضائے فطرت ناپسند کرتا ہے اور اسے بھاری سمجھتا ہے ۔ اسلام نہ فطرت کا انکار کرتا ہے ۔ نہ کسی معاملے میں نظام فطرت سے متصادم ہوتا ہے ۔ نہ انسان پر اس کے ان فطری احساسات کو حرام قرار دیتا ہے ، جن کے انکار کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ جن کو کالعدم نہیں گردانا جاسکتا ۔ البتہ اسلام ان فطری احساسات کا علاج ایک دوسرے طریقے سے کرتا ہے ۔ اسلام فطرت کی ان تاریکیوں کو ایک جدید قسم کی روشنی سے ختم کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ تم جو فرض عائد کیا گیا ہے بیشک وہ شاق ناپسندیدہ ہے ، لیکن اس کے پس منظر میں ایک عظیم مصلحت ہے جس کی وجہ سے وہ بہت ہی ہلکا ہوجاتا ہے ، آسان ہوجاتا ہے ۔ اس کی مشقت کم ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے ذائقے کی کڑواہٹ کم ہوجاتی ہے ۔ اس کے ذریعہ ایک پوشیدہ بھلائی وجود میں آتی ہے ۔ اس پوشیدہ بھلائی کو انسان کی سطحی نظر اچھی طرح نہیں دیکھ سکتی ۔ اس نقطہ نظر کو پالینے کے بعد ، انسانی روح پر معرفت کے لئے دروازے کھل جاتے ہیں اور ان کے ذریعہ انسان اس معاملے کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے ۔ اب انسان جہاد و قتال کے مسئلے پر ایک نئے زاویہ سے نگاہ ڈالتا ہے ۔ اور پھر جب انسان مشکلات سے دوچار ہوتا ہے اور مصائب میں گھر اہوتا ہے ، تو اس کے روح کے اس زاویہ ار معرفت کے اس نئے دروازے سے اس کے قلب ونظر پر ٹھنڈی ٹھنڈی خوشگوار ہواچلتی ہے اور اسے اطمینان نصیب ہوتا ہے اس لئے کہ عین ممکن ہے شاید ان مشکلات کے بعد آسانیاں ہوں اور کسے خبر ہے کہ شاید پسندیدہ امر کا انجام یہ نہ ہوگا ۔ یہ تو وہی ہے جو دور دراز انتہاؤں کا علم رکھنے والا ہے جبکہ تمام لوگ اس علم کے ایک حصہ سے بھی خبردار نہیں ہیں ۔ جب نفس انسانی پر یہ خوشگوار بادنسیم چلتی ہے تو اس پر ٹوٹنے والے تمام مصائب اور مشقتیں اور سختیاں آسان ہوجاتی ہیں ۔ امید وبقا کے دریچے کھل جاتے ہیں ، سخت تپش میں بھی دل ٹھنڈک محسوس کرتا ہے اور یقین وامید کے ساتھ اطاعت اور ادائے فرض کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ اسلام فطرت کے ساتھ یوں معاملہ کرتا ہے کہ وہ انسان کے فطری رجحانات پر کوئی نکیر نہیں کرتا ۔ اور نہ ہی انسان کو کسی مشکل فرض کے سرانجام دینے پر محض آرڈر اور حکم کے ذریعہ مجبور کرتا ہے ، بلکہ وہ انسان کی تربیت کرکے اسے اطاعت پر آمادہ کرتا ہے ۔ امید کا دائرہ وسیع کردیتا ہے ۔ وہ اسے یہ تعلیم دیتا ہے کہ ادنیٰ چیز کو خرچ کرکے اعلیٰ ترین حاصل کرو ، وہ انسان کو ذاتی خواہشات کے مقابلے میں نہیں بلکہ خوشی ورضا سے کھڑا کرتا ہے تاکہ انسان کی فطرت کو اس بات کا احساس ہو کہ اللہ کا رحم وکرم اس کے شامل حال ہے کیونکہ وہ انسانی کمزوریوں سے خوب واقف ہے ۔ وہ وہ معترف ہے کہ انسان پر جو فریضہ عائد کیا گیا ہے وہ ایک مشکل کام ہے ۔ وہ اس کی مجبوریوں سے بھی واقف ہے اور انسان کی بھی قدر کرتا ہے اور بلندہمتی ، التجا اور امید کے ذریعے اسے مسلسل آگے بڑھانے کی ہمت بھی دیتا رہتا ہے ۔ یوں اسلام انسانی فطرت کی تربیت کرتا ہے ، وہ فرائض پر ملول نہیں ہوتی ، صدمات کی ابتلا میں جزع وفزع نہیں کرتی اور نہ مصائب شروع ہوتے ہی وہ ہمت ہار بیٹھتی ہے ۔ اگر مشکلات کے مقابلے میں کمزوری ظاہر ہوجائے تو شرمندہ ہو کر صاف گرہی نہیں جاتی بلکہ ثابت قدم رہنے کی سعی کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ اسے عنداللہ معذور سمجھاجائے گا۔ اسے یہ امید ہوتی ہے کہ اللہ اس کی امداد کرے گا اور اپنی طرف سے قوت بخشے گا اور مصائب کا مقابلہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلیتی ہے ۔ کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان مشکلات کی تہہ میں کچھ خیر پوشیدہ ہو۔ مشکلات کے بعد آسانیاں آجائیں ۔ تھکاوٹ اور ضعف کے بعد بہت بڑا آرام نصیب ہوجائے ۔ یہ فطرت محبوبات ومرغوبات پر فریفتہ نہیں ہوتی اس لئے کہ عیش و عشرت کا نتیجہ حسرت بھی تو ہوسکتی ہے۔ محبوب کی تہہ سے مکروہ بھی برآمد ہوسکتا ہے ۔ کبھی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روشن تر امیدوں کے پس پردہ ہلاکت اور مصیبت انتظار کررہی ہو۔ تربیت کا یہ عجیب نظام ہے ۔ بہت ہی گہرا اور بہت ہی سادہ ۔ یہ نظام نفس انسانی کے سرچشموں ، اس کے پوشیدہ گوشوں اور اس کے مختلف گزرگاہوں کا شناسا ہے ۔ یہ نظام تربیت سچائی اور صداقت سے کام لیتا ہے ۔ اس میں جھوٹے اشارے ، جھوٹے تاثرات اور نظر فریب جعل سازی نہیں ہوتی ۔ پس یہ حقیقت ہے انسان کا ناقص اور ضعیف ذہن کسی بات کو ناپسند کرے حالانکہ وہ خیر ہی خیر ہو۔ اور یہ بھی حق ہے کہ انسان کسی چیز کو پسند کرے اور اس کا جانثار ہو ۔ لیکن اس میں شر ہی شر ہو ۔ اور یہ بھی حق ہے کہ اللہ جانتا ہے اور انسان نہیں جانتے ۔ لوگوں کو عواقب اور انجام کا کیا علم ہے ۔ وہ کیا جانیں کیونکہ پردہ گرا ہوا ہے اور پس پردہ کیا ہے ؟ غرض لوگوں کو ان حقائق کا علم نہیں ہوسکتا جو ہماری خواہشات ، جہالت اور نفس کے تابع نہیں ہیں۔ قلب انسانی کے اندر یہ ربانی احساس ، اس کے دریچے کھول دیتا ہے ۔ اس کے سامنے ایک نئی دنیا نمودار ہوجاتی ہے ۔ یہ دنیا اس محدود دنیا سے بالکل مختلف ہے جسے ہماری آنکھیں دیکھ رہی ہیں ۔ اس کی نظروں کے سامنے کچھ دوسرے عوامل بھی آجاتے ہیں جو اس کائنات کی گہرائیوں میں کام کررہے ہوتے ہیں ، جو معاملات کی کا یا پلٹ دیتے ہیں ، جو نتائج کی اس ترتیب کو الٹ دیتے ہیں جن میں انسان کو تمنا ہوتی ہے یا وہ ان کی توقع کئے ہوئے ہوتا ہے ۔ جب قلب مومن تن بہ تقدیر اس ربانی احساس کے تابع ہوجاتا ہے ، تو پھر وہ پرامیدہوکر کام کرتا ہے ۔ اسے امید بھی ہوتی ہے اور اللہ کا ڈر بھی ، لیکن وہ تمام نتائج برضا ورغبت دست قدرت کے سپرد کردیتا ہے جو حکیم ہے اور علیم ہے ۔ جس کا علم سب کو گھیرے ہوئے ہے ۔ یہ ہے دراصل سلامتی کے کھلے دروازے کا داخلہ ۔ نفس انسانی کو اسلام کا صحیح شعور اس وقت تک نصیب نہیں ہوسکتا ، جب تک اس میں یہ یقین پیدا نہ ہوجائے کہ خیر اسی میں ہے جسے اللہ نے خیر بتایا ، بھلائی اس میں ہے کہ اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری اختیار کی جائے ۔ اللہ تعالیٰ کو آزمانے اور اللہ سے براہین طلب کرنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ پختہ یقین ، پرسکوں امید اور سعی پیہم ہی سلامتی کے دروازے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو انہی دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دیتا ہے اور حکم دیتا کہ نیمے دروں اور نیمے بیروں میں نہیں بلکہ پورے پورے ان دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو بڑے سادہ عجیب لیکن بہت گہرے منہاج کے ساتھ اس سلامتی کی طرف لے جارہا ہے ۔ بڑی نرمی ، بڑی آسانی اور دھیمی رفتار سے ۔ سلامتی کے اس راستے پر وہ انہیں اس طریقے سے لے جارہا ہے کہ آخرکار وہ ان پر قیام امن کے لئے قتال بھی فرض کردیتا ہے ۔ سلامتی کیا چیز ہے ؟ سلامتی یہ ہے کہ میدان جنگ میں انسان کی روح اور اس کا ضمیر مطمئن اور امن وسلامتی سے رہیں ۔ قرآن کریم کی اس آیت میں قتال کی نسبت سے جو اشارہ کیا گیا ہے ، وہ قتال تک ہی محدود نہیں ہے ۔ قتال تو ان امور کی ایک واضح مثال ہے جسے نفس انسانی فطرتاً پسند نہیں کرتا۔ لیکن اس میں نتائج کے اعتبار سے بھلائی ہوتی ہے ۔ یہ نکتہ دراصل مومن کی پوری زندگی میں اس کا فلسفہ حیات ہے ۔ اس کے تمام واقعات زندگی پر اس کا پرتو ہوتا ہے ۔ انسان تو کسی معاملے میں یہ نہیں جانتا کہ خیر کہاں ہے اور شر کہاں ہے ؟ بدر کے دن مسلمان نکلے کہ قریش کے قافلے کو لوٹ لیں اور ان کے مال تجارت پر قبضہ کرلیں ۔ اللہ نے ان سے غنیمت کا وعدہ بھی کر رکھا تھا ، وہ سمجھتے تھے کہ یہی قافلہ اور اس کا مال تجارت بس انہیں ملنے ہی والا ہے ۔ ان کے تصور میں بھی یہ نہ تھا کہ انہیں قریش کی فوج کے ساتھ دوچار ہونا پڑے گا ، لیکن اللہ کا کرنا یہ تھا کہ قافلہ بچ نکلا اور ان کا سامنا قریش کی ساز و سامان سے لیس فوج سے ہوگیا اور اس کے نتیجہ میں اہل اسلام کو وہ کامیابی نصیب ہوئی جس کی آواز بازگشت پورے جزیرۃ العرب میں سنی گئی ۔ اب دیکھئے کہ مسلمانوں کی کامیابی کے مقابلہ میں قافلہ اور اس کے تجارتی سامان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟ اب دیکھئے ، مسلمانوں نے اپنے لئے جو پسند کیا اس کی قدر و قیمت کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو اختیار کیا اس کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ جانتا ہے اور لوگ نہیں جانتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی نوجوان اپنا کھانا بھول گیا یعنی مچھلی ۔ جب پتھر کے پاس پہنچے تو مچھلی دریا میں چلی گئی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آگے چلے گئے اور اپنے خادم سے کہا لاؤ ہمارا ناشتہ آج کے سفر میں تو ہم بری طرح تھک گئے ہیں ۔ خادم نے کہا آپ نے دیکھا ، یہ کیا ہوا ؟ جب ہم اس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے ، اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کردیا کہ میں اس کا ذکر آپ سے کرنا بھول گیا ۔ مچھلی توعجیب طریقے سے نکل کردریا میں چلی گئی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : اسی کی تو ہمیں تلاش تھی ، چناچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر واپس ہوئے اور وہاں انہوں نے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا ۔ یہی وہ مقصد تھا جس کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سفر اختیار کیا ۔ اگر مچھلی کا واقع نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہ لوٹتے اور وہ پورا مقصد فوت ہوجاتا جس کے لئے انہوں نے یہ تھکا دینے والا سفر اختیار کیا تھا۔ ہر اگر انسان اگر تامل کرے تو وہ بعض مخصوص تجربوں میں اس سچائی کو دریافت کرسکتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں کئی ایسے تجربات سے دوچار ہوا جو اسے ناپسند تھے ۔ لیکن ان کے پس پردہ وہ خیر عظیم کارفرما تھی ۔ اور کئی پر ذائقہ اور لذید چیزیں بھی تھیں ۔ لیکن ان کی تہہ میں شر عظیم نہا تھا۔ کئی ایسے مقاصد ہوتے ہیں کہ جن سے انسان محروم ہوجاتا ہے اور اسے اپنی اس محرومی کا بےحد صدمہ بھی ہوتا ہے لیکن ایک عرصہ کے بعد نتائج دیکھ کر انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے محروم رکھ کر دراصل بلائے عظیم سے نجات دی تھی ۔ کئی مصائب وشدائد ایسے جاں گسل ہوتے ہیں ، کہ انسان بڑی ناخوش گواری سے ان کے کڑوے گھونٹ بھرتا ہے اور قریب ہوتا ہے کہ ان مصائب کی سختی کے نتیجے میں اس کی جان ہی نکل جائے ، لیکن ایک طویل عرصہ نہیں گزرتا کہ ان سختیوں کے نتائج اتنے اچھے نکلتے ہیں جتنے ایک طویل پر آسائش زندگی کے نتیجے میں اچھے نہ ہوسکتے تھے۔ یہ ہے منہاج تربیت جس کے مطابق اللہ نفس انسانی کو لیتا ہے کہ وہ ایمان لے آئے ، اسلام میں داخل ہوجائے اور آنے والے نتائج اللہ کے سپرد کردے ۔ اس کا کام صرف یہ ہے کہ بقدر استطاعت ، ظاہری جدوجہد کے میدان میں اپنی پوری قوت لگادے ۔ تحریک اسلامی کو امن وسلامتی کی طرف لے جایا جارہا تھا کہ وہ پوری کی پوری سلامتی کے نظام میں داخل ہوجائے ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی حرام مہینوں میں قتال کے بارے میں فتویٰ بھی ہے ۔ چناچہ فرماتے ہیں

البقرة 2:217

متعدد روایات میں آیا ہے کہ یہ آیات عبداللہ ابن حجش کے سریہ کے بارے میں نازل ہوئیں ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک سیل شدہ خط دیا اور آٹھ افراد ان کے ساتھ روانہ کئے جو سب کے سب مہاجر تھے ، انصار کا ان میں کوئی نہ تھا۔ آپ ﷺ نے عبداللہ کو حکم دیا کہ وہ دو رات دن کے سفر سے پہلے اس خط کو نہ کھولے ۔ جب اس نے مقررہ وقت پر خط پڑھا تو اس کی عبارت یہ تھی جب تم میرے اس خط کو پڑھو تو آگے بڑھو یہاں تک کہ وادی بطن نخلہ میں جا اترو ۔ جو مکہ اور طائف کے درمیان ہے ۔ یہاں تم قریش کے حالات نگاہ میں رکھو اور ہمیں ان کی اطلاع دیتے رہو ۔ لیکن اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اپنے ساتھ لے جانے پر مجبو رنہ کرنا ۔ یہ واقعہ بدر کبریٰ سے پہلے کا ہے ۔ عبداللہ بن حجش نے خط پڑھ کر کہا ” سر آنکھوں پر “۔ اس کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہا کہ رسول ﷺ نے تو مجھے حکمم دیا ہے میں بطن نخلہ جاؤں ۔ وہاں قریش کو نگاہ میں رکھوں اور ان کے حالات کی اطلاع رسول ﷺ کو دوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس سے منع کیا ہے کہ میں تم میں سے کسی کو اپنے ساتھ لے جانے پر مجبور کروں ۔ تم میں سے جو شخص شہادت کا درجہ حاصل کرنا چاہتا ہے اور اسے اس کا شوق ہے تو وہ چلے اور اگر کوئی اسے ناپسند کرتا ہے تو واپس ہوجائے ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے تو میں رسول اللہ ﷺ کے حکم کو بجالاؤں گا۔ چناچہ وہ آگے چلا اور اس کے تمام ساتھی اس کے ساتھ ہولیے ، کوئی بھی ان میں پیچھے نہ مڑا ۔ وہ مجاز کے راستے گئے اور ابھی اس راستے پر ہی تھے کہ سعد بن ابی وقاص اور عتبہ بن غزوان کا اونٹ گم ہوگیا۔ وہ عبداللہ بن حجش کے قافلے کے پیچھے رہ گئے تاکہ اونٹ تلاش کرلیں ۔ باقی چھ افراد آگے بڑھ گئے ۔ جب یہ بطن نخلہ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ قریش کا ایک قافلہ جارہا ہے ، جس کے اونٹوں پر سامان تجارت لدا ہوا ہے ۔ اس قافلے میں عمروالحضرمی اور تین دوسرے افراد تھے ۔ عمرو کو قتل کردیا گیا اور دوگرفتار ہوئے اور ایک بھاگ نکلا ۔ انہوں نے پورے قافلے کے سامان کو قبضے میں کرلیا۔ اس دستے کا یہ خیال تھا کہ حملے کا دن جمادی الاخر کا آخری دن ہے ۔ حالانکہ دراصل حملے کا دن رجب کا پہلا دن تھا ۔ اور حرام مہینوں کا آغاز ہوگیا تھا ، جن کا احترام عرب بھی بہت زیادہ کرتے تھے اور اسلام نے بھی ان کے احترام کو برقرار رکھا تھا۔ جب یہ دستہ اس قافلے اور قیدیوں کو لے مدینہ پہنچا اور رسول اللہ ﷺ کے سامنے غنیمت پیش کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا میں نے تمہیں حرام مہینوں میں لڑنے کا حکم دیا ہی کب تھا ؟ قافلہ اور قیدی کھڑے کردیئے گئے اور آپ ﷺ نے ان کے لینے سے انکار فرمایا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا تو لوگ گھبراگئے اور انہوں نے یقین کرلیا کہ ان سے ایک عظیم جرم کا ارتکاب ہوگیا ہے ، وہ تو مارے گئے ۔ مسلمان بھائیوں نے بھی انہیں سخت سست کہا کہ انہوں نے یہ کیا کیا ؟ قریش مکہ نے کہا محمد ﷺ اور اس کے ساتھیوں نے حرام مہینوں کی حرمت کو ختم کردیا ہے ، انہوں نے ان میں خونریزی ، مال کو چھین لیا اور لوگوں کو قید کرلیا ۔ یہودیوں نے اس واقعے سے رسول ﷺ کے لئے فال بدنکالی ۔ انہوں نے کہا : عمروالحضرمی کو واقد بن عبداللہ نے قتل کیا :” عمرو “ یعنی جنگ کی عمارت بن گئی ” حضرمی “ یعنی جنگ سرسبز ہوگئی ” واقد “ جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ غرض اس واقعے کے بعد ، گمراہ کن پروپیگنڈے کا طوفان برپا ہوگیا اور اسے مختلف مکارانہ طریقوں سے اہل عرب کے درمیان پھیلایا گیا۔ اور اس میں رسول ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو ایک ایسے شخص کی شکل میں پیش کیا گیا جو عربوں کے تمام مقدسات کا انکار کرتا ہے اور صدیوں سے قائم روایات کو پامال کررہا ہے۔ اور جب بھی مصلحت کا تقاضا ہو وہ ہر بندھن کو توڑتا ہے ۔ (نعوذباللہ) اس پروپیگنڈا کے طوفان بدتمیزی کے دوران ، اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں ، جنہوں نے بات کو کاٹ کر رکھ دیا اور معاملے کا فیصلہ سچائی کے ساتھ کردیا گیا۔ رسول ﷺ نے مال غنیمت اور قیدیوں کو قبول فرمالیا : يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ” لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو : اس میں لڑنا بہت برا ہے۔ “ یہ آیات نازل ہوئیں ۔ انہوں نے حرام مہینوں میں لڑائی جھگڑے کو تو برا اور گناہ کبیرہ قرار دیا اور کہا یہ تو ٹھیک ہے ، لیکنوَصَدٌّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَكُفْرٌ بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللَّهِ وَالْفِتْنَةُ أَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ” مگر راہ اللہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ اللہ پرستوں کا بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا ، اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے۔ “ یہ جنگ مسلمانوں نے شروع نہ کی تھی ، دشمنی کا آغاز انہوں نے کیا تھا۔ یہ تو مشرکین ہی تھے جنہوں نے پہل کی ۔ انہی لوگوں نے اللہ کی راہ میں لوگوں کو روکا ، انہی لوگوں نے اللہ سے کفر کیا۔ انہی لوگوں نے اللہ پرستوں کو مسجد حرام سے روکا ۔ انہی لوگوں نے اللہ کی راہ سے روکنے کے لئے ہر گناہ کبیرہ کا ارتکاب کیا ۔ انہوں نے خود بھی اللہ کا انکار کیا اور لوگوں کو بھی اللہ کا منکر بنایا ۔ انہوں نے مسجد حرام کی حرمت کا بھی انکار کیا اور اس کی حرمت کو توڑا ۔ اس میں مسلمانوں کو اذیت دی اور ہجرت سے پہلے پورے تیرہ سال تک ، وہ مسلمانوں کو اذیتیں دے دے کر انہیں ان کے دین سے روکتے رہے ۔ پھر انہوں نے اس پر بھی اکتفا نہ کیا بلکہ انہوں نے مسجد حرام کے باشندوں کو ان کے گھروں سے نکالا حالانکہ وہ قابل احترام اور امن کی جگہ تھی ۔ انہوں نے حرم کے تقدس کا کوئی خیال نہ رکھا اور اس کے احترام کے کسی اصول پر عمل نہ کیا ۔ اللہ کے نزدیک باشندگان حرم کو ان کے گھروں سے نکالنا حرام مہینوں میں جنگ کرنے سے زیادہ برا ہے ۔ اور لوگوں کو محض دین اور نظریہ کی وجہ سے مصائب میں مبتلا کرنا اور انہیں تکالیف پہنچانا قتل سے بھی زیادہ برا ہے ۔ چونکہ مشرکین مکہ نے اعلانیہ ان دوکبائر کا ارتکاب کرلیا تھا ، لہٰذا ان کا یہ استدلال کہ مسلمانوں نے حرام مہینوں کے احترام کا کوئی خیال نہیں کیا ، یا بیت الحرام کی حرمت کا کوئی خیال نہیں کیا ، یہ محض پروپیگنڈا ہے اور ساقط الاعتبار ہے ۔ چناچہ ان آیات کے ذریعہ خود مسلمانوں کا موقف واضح ہوکر سامنے آگیا کہ مسلمان تو درحقیقت ان لوگوں کے خلاف برسرپیکار ہیں جو حرم مقدس کا کوئی احترام نہیں کرتے ۔ دراصل حرم شریف اور حرام مہینوں کے احترام کو اپنے لئے ایک پردہ اور پناہ بنالیا ہے جس کی آڑ میں یہ لوگ جب چاہیں قداست اور پاکی کا ڈھنڈورا پیٹیں اور جب چاہیں اس تقدس کو پامال کردیں ۔ مسلمانوں کا یہ فرض تھا کہ یہ لوگ جہاں ملیں انہیں ختم کردیں کیونکہ یہ لوگ باغی اور شرپسند ہیں ، کسی احترام کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے ، کسی جعلی پردے کے پیچھے من مانی کرنے نہ دیتے ۔ کیونکہ ان کے دل میں کوئی حقیقی احترام نہیں ہے۔ حرمتوں کے شعار اور روایات دراصل ایک حق بات تھی مگر اس سے وہ ناجائز فائدہ اٹھاتے تھے ، کفار مکہ ماہ حرام کی بےحرمتی کا جو پروپیگنڈا کررہے تھ ، وہ تو محض ظاہرداری تھی ، اس کے پردے میں چھپ کر دراصل وہ ثابت یہ کرنا چاہتے تھے ، مسلمان زیادتی کررہے ہیں اور یہ ان کا موقف درست نہیں ہے ۔ حالانکہ ظلم و زیادتی کی ابتدا خود انہوں نے کی ۔ یہ وہی تھے جنہوں نے بیت الحرام کی حرمت کا کوئی خیال نہ کیا۔ اسلام زندگی کا ایک حقیقت پسندانہ نظم ہے ۔ وہ محض مثالوں اور نطریاتی شکلوں پر مبنی نہیں ہے وہ انسانی زندگی کا حقیقت پسندانہ مطالعہ کرتا ہے۔ اس کی مشکلات ، اس کے میلانات اور اس کے واقعی حالات پر نظر رکھتا ہے۔ اس کی حقیقت پسندانہ راہنمائی کرتا ہے ۔ وہ اس زندگی کو زمین پر بطور حقیقت واقعیہ چلاتا ہے اور آہستہ آہستہ اسے ترقی کی سمت میں لے جاتا ہے ۔ وہ اس کے مسائل کو اس طرح حل کرتا ہے کہ وہ حل ایک عملی حل ہو۔ محض خام خیالی اور فلسفیانہ تخلیات ہی نہ ہوں بلکہ وہ ایسا حل پیش کرتا ہے جو عملی دنیا میں چل بھی سکے ۔ اب ذرا قریش کی حالت کو دیکھئے ۔ یہ لوگ سخت ظالم اور سرکش تھے ، مقامات مقدسہ میں کچھ حیثیت ہی نہ رکھتے تھے ۔ وہ حرمتوں کے تقدس کے قائل ہی نہ تھے ۔ وہ ہر اچھے اخلاق ، ہر دینداری اور ہر اچھے نظریہ کو کچل رہے تھے ۔ حق کے مقابلے میں اکڑگئے تھے اور لوگوں کو حق قبول کرنے سے روکتے تھے ۔ مومنین کو انہوں نے فتنوں میں مبتلا کررکھا تھا ، اور انہیں سخت اذیتیں پہنچاتے تھے ، وہ انہیں مسجد حرام سے نکال رہے تھے حالانکہ عربوں کی روایات کے مطابق مسجد حرام اور بیت الحرام درالامان تھے اور ان میں انسان کیا ، حیوانوں اور کیڑوں مکوڑوں کو بھی امن امان حاصل تھا ، لیکن ان سب حقائق کے باوجود ان لوگوں نے ان حرمتوں کی آڑ میں پوری دنیا کو سر پر اٹھا رکھا تھا ، اور ان حرمتوں کا ڈھنڈوراپیٹ رہے تھے ۔ وہ چلاتے تھے دیکھو ، یہ ہے محمد ﷺ اور اس کے ساتھی ، انہوں نے حرام ماہ کی حرمت کو پامال کردیا۔ اب دیکھئے اسلام ان کے مقابلے میں کیا رویہ اختیار کرتا ہے ۔ کیا اسلام ان کے مقابلے میں کوئی نظری ، مثالی اور خیالی جواب لاتا ہے اور مسئلے کا نظریاتی جائزہ لیتا ہے ۔ اگر اسلام اس معاملے میں کوئی خیالی حل پیش کرتا ہے تو یقینا ً وہ آئیڈیل ضرور ہوتا لیکن نتیجہ یہ ہوتا کہ مسلمانوں کی حالت یہ ہوتی کہ ان کو غیر مسلح کردیا جاتا۔ جب کہ ان کا مقابلہ ایک ایسے شریر اور سرکش دشمن سے تھا ، جو ہر ہتھیار استعمال کرتا تھا اور کوئی حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہ کرتا تھا ۔ ہرگز نہیں ، اسلام کبھی بھی یہ رویہ اختیار نہیں کرتا کیونکہ اس کا مقابلہ ایک حقیقی صورت حال سے تھا۔ اس نے اس صورت حال کا مقابلہ کرنا تھا ۔ اور اسے اپنے راستے سے ہٹانا تھا۔ اسلام شر و فساد کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتا تھا۔ وہ اس زمین کے اختیارات ایک صالح قوت کے ہاتھ میں دینا چاہتا تھا ، وہ اختیارات اور قیادت ایک صالح جماعت کے ہاتھ میں دینا چاہتا تھا۔ اس لئے وہ ہرگز یہ نہ کرسکتا تھا کہ یہ حرمتیں مفسدوں اور باغیوں کے لئے قلعہ بن جائیں اور اس کے اندر پناہ لے کر یہ لوگ پاک طینت صالح اور تعمیری کام کرنے والوں پر وار کریں ۔ اور جوابی حملے سے بالکل محفوظ بیٹھے ہوں۔ اسلام تو ان لوگوں کے مقابلے میں حرمتوں کا بہت خیال رکھتا ہے جو خود ان کا لحاظ رکھیں اور وہ حرمتوں کے اصول ودرایت کا سختی سے پابند ہے ۔ لیکن وہ ہرگز کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ خود تو ان حرمتوں کا کوئی خیال نہ کرے ، ان کو خوب توڑے اور اپنے لئے انہیں ایک حصار قرار دے رہے ہیں اور اس کی اوٹ سے نیک بندوں کو اذیت دے ، بھلے لوگوں کو قتل کرے اور ہر برائی کا مزے سے ارتکاب کرے اور ان حرمتوں کی اوٹ میں جوابی حملے سے محفوظ ومامون رہے اور لوگوں کو تلقین کرے کہ ان حرمتوں کا لحاظ رکھو۔ اسلام نے ہر معاملے میں یہی پالیسی اختیار کی ہے ، مثلاً اسلام میں غیبت حرام ہے ، لیکن فاسق کی غیبت ، غیبت ہی نہیں ہے۔ اگر وہ اپنے فسق وفجور میں مشہور ہو تو جو لوگ اس کے فسق وفجور کے نتیجے میں داغہائے سینہ رکھتے ہیں ۔ وہ معاف ہیں ۔ اسلام الجہر (بدگوئی ) کو حرام قرار دیتا ہے لیکن اس شخص کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے ، جس پر ظلم کیا گیا ہو ، اگر کوئی مظلوم ہے تو وہ اس ظالم کے خلاف علی الاعلان بدگوئی کرسکتا ہے کیونکہ یہ اس کا حق ہے ۔ اگر ظالم کے خلاف آواز نہ اٹھائی گئی ، اس نیت سے کہ وہ غیبت ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم ظالم کو ایک اچھے اصول کی پناہ دیتے ہیں حالانکہ وہ اس بات کا مستحق نہیں ہے کہ وہ اس اصول سے فائدہ اٹھائے۔ لیکن برابر کے اس معاملے میں باوجود اسلام اپنا معیار گرنے نہیں دیتا ، وہ اپنی اونچی سطح سے اتر کر ان شریروں اور ظالموں کی سطح تک نہیں اترتا ۔ وہ اپنے مخالفین کے مقابلے میں اوچھے ہتھیار استعمال کرتا ہے ، نہ غیر اخلاقی وسائل یا قابل نفرت ذرائع ۔ وہ مسلمانوں کو صرف یہ حکم دیتا ہے کہ ظالموں کے ہاتھ توڑدو ، ان سے لڑائی کرو ، ان کو قتل کردو۔ اور زندگی کے ماحول کو ان سے پاک کردو ، کھلے طور پر اور علی الاعلان ۔ اصل مسئلہ ہے قیادت کا ، جب قیادت پاک لوگوں کے ہاتھ میں آجائے ، جو مومن ہوں ، سلیم الفطرت ہوں اور جب زمین کو ان لوگوں کی نجاست سے پاک کردیا جائے جو کسی حرمت کا لحاظ نہیں رکھتے اور تمام مقدسات کو پامال کرتے ہیں تب جاکر تمام مقدسات کی حرمت بحال ہوگی اور اس طرح بحال ہوگی جس طرح اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔ یہ ہے اسلام ۔ صریح ، واضح ، قوی اور باطل کا سر پھوڑنے والا جس میں کوئی لگی لپٹی نہیں ۔ کوئی ہیر پھیر نہیں ۔ نہ وہ کسی دوسری طاقت کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کوئی ہیرا پھیری کرے یا اس سے کوئی دھوکہ دے ۔ اور یہ ہے قرآن مجید جو مسلمانوں کو ایک مضبوط موقف عطا کرتا ہے ۔ اس قدر مضبوط جس پر ان کے قدم ڈگمگانہ پائیں ۔ وہ راہ اللہ میں آگے ہی بڑھتے جائیں اور اللہ کی اس زمین کو ہر قسم کے شر و فساد سے پاک کردیں ۔ قرآن مجید ان کے دل و دماغ کو شیشے کی طرح صاف نقطہ عطا کرتا ہے ، وہ ان کے دلوں میں کسی قسم کا قلق ، کسی قسم کا خلجان نہیں رہنے دیتا ، شبہات ووساوس ان کے دلوں سے ختم کردیئے جاتے ہیں ۔ قرآن صاف صاف کہتا ہے دیکھو ! وہ شر ہے ، فساد ہے ، نافرمانی ہے اور باطل ہے ، لہٰذا اسے کوئی حرمت اور کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے ۔ اس باطل کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ان حرمتوں کو ڈھال بناکر خود ان کی حرمتوں پر ضربیں لگائے ۔ قرآن مجید واضح طور پر یہ ہدایت کرتا ہے کہ اپنی منزل کی طرف بڑھتے چلو ، یقین کے ساتھ ، اطمینان کے ساتھ ، اپنے ضمیر کی سلامتی کے ساتھ اور اپنے اللہ کے ساتھ جڑے ہوئے ۔ اس حقیقت کے بیان اور اچھی طرح ذہن نشین کرنے اور مسلمانوں کو دلجمعی اور صبر وثبات دینے کے بعد اب انہیں بتایا جاتا ہے کہ جس شر سے ان کا مقابلہ ہے وہ کوئی سطحی شر نہیں ہے وہ بہت ہی گہری برائی ہے ۔ دشمنوں کا منصوبہ بہت ہی گہرا ہے اور وہ اس پر بطور اصول جمے ہوئے ہیں ۔ وَلا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا ” اور وہ تم سے لڑتے ہی جائیں گے حتیٰ کہ اگر ان کا بس چلے تو تمہارے دین سے تم کو پھیرکر لے جائیں۔ “ یہ ہے صحیح رپورٹ ، جو علیم وخبیر کی طرف سے ہے اور جو بتاتی ہے کہ شر اپنے ناپاک موقف پر کس قدر مصر ہے ، کفار ، مسلمانوں کو اپنے دین سے ہٹانے کے لئے کس قدر زور لگا رہے ہیں اور یہ کہ مسلمانوں کے دشمنوں کا یہ ایک مستقل نصب العین ہے ، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کسی طرح اسلام سے دور کردیں ۔ دشمنان اسلام کا یہ نصب العین ایسا مستقل نصب العین ہے کہ یہ کسی دور میں اور کسی علاقے میں کبھی تبدیل نہیں ہوا ۔ زمین پر اسلام کا وجود ہی ان کو ناگوار ہے ۔ دین کے دشمن اس سے ہمیشہ خائف رہے ہیں ۔ ہر دور میں یہ لوگ اسلامی جماعت اور اسلامی تحریک سے خائف رہتے ہیں ۔ نفس اسلام سے انہیں چڑ ہے ، انہیں اس سے سخت اذیت ہوتی ہے ۔ وہ ہر وقت اس سے خوف کھاتے ہیں ۔ اسلامی نظام کی قوت اور اس کی سنجیدگی سے ہر باطل پرست خائف رہتا ہے ۔ اللہ کا ہر باغی اس سے مرعوب ہوتا ہے ۔ ہر مفسد اسلام کا ناپسند کرتا ہے ۔ اسلام بذات خود کفر سے ایک جنگ ہے ۔ اسلام کی روشن سچائی ، اس کا پائیدار نظام زندگی اور اس کا پائیدار طریق کار ہی باطل کے لئے چیلنج ہے ۔ ان خوبیوں کی وجہ سے اسلام بذات خودکفر اور فساد کے لئے اعلان جنگ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ باطل پرست ، باغی اور مفسد کبھی اسلام کو برداشت نہیں کرتے ۔ وہ ہر وقت اس ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ اہل اسلام کو کسی نہ کسی طرح فتنے میں ڈال دیں ۔ انہیں واپس کفر کی طرف لے آئیں ۔ چاہے کفر کی کوئی صورت ہی وہ اختیار کریں لیکن اسلام کو چھوڑدیں ۔ جب تک اس کرہ ارض پر کوئی ایسی جماعت بھی موجود ہے جس کا نصب العین اسلامی نظام زندگی ہے ، جو اسلام کی پیروکار ہو اور اسلام میں زندہ رہنا چاہتی ہو ۔ اس وقت تک باطل پرست اپنے باطل پر اور اپنے فساد پر پر امن طور پر گامزن نہیں رہ سکتے ۔ اس لئے وہ تحریک اسلامی سے ہر وقت خائف رہتے ہیں ۔ اسلام کے یہ دشمن ، مسلمانوں کے خلاف کئی قسم کی جنگ لڑتے ہیں اور اس میں قسم قسم کے ہتھیار استعمال کرتے ہیں ، لیکن ان کا مقصد ایک ہی رہتا ہے اور ہمیشہ وہی ان کے پیش نظر رہتا ہے یہ کہ اگر ان کا بس چل سکے تو یہ لوگ صادق مسلمانوں کو اپنے دین سے پھیر دیں۔ جب ان کا کوئی ہتھیار ناکارہ ہوجاتا ہے تو یہ فوراً دوسرا ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ جب ان کا ایک ہتھیار کند ہوجاتا ہے تو یہ لوگ دوسرا ہتھیار تیز کرلیتے ہیں ، لیکن علیم وخبیر کی یہ سچی رپورٹ اپنی جگہ قائم ہے اور مسلمانوں کو ان مخالفین کے ہتھکنڈوں سے خبردار کرتی ہے کہ وہ ہتھیار نہ ڈالیں ۔ مسلمانوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان کفار کی سازشوں کے مقابلے میں ثابت قدم رہیں ۔ ان کے ساتھ جنگ پیش آئے تو اس میں صبر و تحمل سے کام لیں ۔ اور اگر ایسا نہ کریں گے تو دنیا وآخرت میں خسارہ اٹھائیں گے ۔ وہ ایسے عذاب سے دوچار ہوں گے جو کسی عذر سے معاف نہ ہوگا اور جو کسی جواز سے کم نہ ہوگا : وَمَنْ يَرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَأُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا ، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوجائیں گے ۔ ایسے لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے۔ “ حبطت حبوط سے نکلا ہے ۔ عرب کہتے ہیں حبطت الناقۃ ، یعنی اونٹنی پھول گئی ۔ جب وہ کوئی ایسی چیز لے جس سے وہ پھول جائے اور آخر کار مرجائے (جس طرح شفتل اور بعض دوسرے چاروں سے جانور پھول جاتے ہیں ) ۔ قرآن مجید نے اس لفظ کو کفار کے اعمال کے لئے استعمال کیا ہے جس سے حسی اور معنوی مفاہیم کا تطابق بھی معلوم ہوتا ہے ۔ جس طرح اونٹنی بظاہر پھول کر بڑی ہوجاتی ہے لیکن اس کا انجام ہلاکت ہوتا ہے ۔ اس طرح کفار کے اعمال بہت ہی بڑے اور پھولے ہوئے معلوم ہوتے ہیں ۔ لیکن انجام ان کا کچھ نہیں ہوتا بلکہ تباہ ہوجاتے ہیں ۔ یہی حال اس شخص کا ہوگا ، جو اسلام کو سمجھنے اور اس کا تجربہ کرلینے کے بعد ، اس سے روگردانی کرے گا ۔ محض اذیتوں اور مصیبتوں سے گھبر اکر ۔ اگر وہ حد سے گزرجائیں تو اس کا انجام یہی ہوگا جس کا اللہ نے ذکر فرمایا : کہ دنیا وآخرت میں اس کے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور آخرت میں وہ ہمیشہ جہنم کی آگ میں رہیں گے ۔ جو دل ایمان کا ذوق آشنا ہوجائے ، صحیح طرح وہ اسلام کو سمجھ لے ، اس بات کا امکان ہی نہیں کہ وہ فی الواقع اسلام کو چھوڑ دے اور راہ ارتداد اختیار کرے ۔ الا یہ کہ کسی کا دل و دماغ اس قدر فاسد ہوجائے جس کی اصلاح کی کوئی صورت نہ رہے لیکن یہ حکم ان لوگوں کا نہیں ہے جو ناقابل برداشت عذاب سے بچنے کے لئے تقیہ اختیار کرلیں۔ اللہ رحیم وکریم ہے ، اس نے مسلمانوں کو اجازت دی ہے کہ جب مصائب اس کی قوت برداشت سے بڑھ جائیں تو وہ ظاہری رواہ روی اختیار کرلیں بشرطیکہ ان کا دل اسلام پر ثابت قدم ہو ، قلب ایمان پر مطمئن ہو ۔ لیکن اللہ نے کسی صورت میں بھی کفر حقیقی اور ارتداد حقیقی اختیار کرنے کی کوئی رخصت نہیں دی ۔ یوں کہ وہ کافر ہوکر رہ جائے نعوذ باللہ من ذلک۔ اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ تنبیہ اور تحذیر روز قیامت تک اپنی جگہ پر قائم ہے۔ مسلمان کے لئے اس بات کا کوئی عذر نہیں ہے کہ وہ مصائب اور شدائد سے تنگ آکر اپنا دین ایمان چھوڑ دے ۔ اور ایمان واسلام سے منحرف ہوجائے اور اس حق کو ترک کردے جو اس نے چکھا اور جانا ۔ بلکہ یہ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جس قدر ممکن ہو وہ مجاہدہ کرے ۔ جبر وثبات سے کام لے اور سخت جانی سے کام لے ۔ یہاں تک کہ اللہ کا حکم آجائے ۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو جو اس پر ایمان لے آئیں اور پھر اس کی راہ میں مصائب برداشت کریں یونہی نہیں چھوڑ دیتا ۔ وہ ان کی تکالیف پر انہیں جزائے خیر دیتا ہے اور وہ دو باتوں میں سے ایک ضروری ہوتی ہے یا اس کی نصرت آجاتی ہے اور مومن کامیاب ہوجاتا ہے اور یا اسے شہادت کا مقام بلند حاصل ہوجاتا ہے۔

البقرة 2:218

جن لوگوں کو اللہ کی راہ میں اذیت دی جائے ۔ وہ اللہ کی خصوصی رحمت کے امیدوار ہوتے ہیں اور جس کا دل ایمان سے معمور ہو وہ کبھی بھی مایوس نہیں ہوتاإِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُولَئِكَ يَرْجُونَ رَحْمَةَ اللَّهِ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ، وہ رحمت الٰہی کے جائز امید وار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے۔ “ جب ایک مومن رحمت خداوندی کا امیدوار ہو تو اللہ اسے کبھی نامراد نہیں لوٹاتے ۔ مہاجرین وانصار کے مخلص مومنین نے ، اگرچہ وہ قلیل تعداد میں تھے ، اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کو اپنے کانوں سے سنا تھا ، انہوں نے جہاد کیا ، مشکلات پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنا وعدہ پورا کردیا ۔ بعض کو شہادت نصیب ہوئی اور بعض کو نصرت خداوندی پہنچی ۔ دونوں خیر ہیں۔ دونوں اللہ کی رحمت ہیں ۔ یہ لوگ اللہ کی مغفرت اور اللہ کی رحمت کے مراتب پر فائز ہوگئے کیونکہ اللہ غفور ہے اور رحیم ہے ۔ یہ ہے طریقہ مومن۔ اب سیاق کلام بعٓض منہیات کی طرف آتا ہے ۔ شراب اور جوئے کے احکام بیان ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں چیزیں ان لذات میں سے ہیں ۔ جن میں عرب کانوں تک غرق تھے ۔ کیونکہ اس دور میں اس کے سامنے کچھ اونچے مقاصد نہ تھے جن وہ اپنے آپ کو مصروف رکھتے اور یوں ان کی قیمتی قوتیں کام میں صرف ہوتیں۔

البقرة 2:219

اس وقت شراب اور جوئے کی حرمت کا حکم نازل نہ ہوا تھا ، لیکن قرآن مجید میں کوئی ایسی آیت بھی نہیں ہے جس سے اس کی حلت کا ثبوت ملتا ہو ، لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جس راستے پر لے جانا چاہتا تھا ، اس کی مرضی یہ تھی کہ وہ انہیں اس راہ پر قدم بقدم لے جائے اور خود اپنی نگرانی میں اس امت کو اس رول کے لئے تیار کرے جس کے کے لیے اس نے اسے برپا کیا ۔ یہ رول اس قدر عظیم تھا کہ اس کے ساتھ شراب اور جوئے جیسے مخرب الاخلاق ومخرب اوقات کام چل ہی نہ سکتے تھے ۔ عمر کا ٹکڑے ٹکڑے کردینا ، فہم کا پریشان کردینا اور جدوجہد کے حصے بخرے کردینا اس رول اور اس منصب کے مناسب نہیں ۔ اس کے حاملین ان نکتوں کی طرح نہیں ہوسکتے ، جن کا کوئی کام اس کے سوا نہیں ہوتا کہ وہ کام ودہن اور گوشت پوست کی لذت کے پیچھے دوڑتے پھریں ۔ نہ وہ ایسے لوگوں کی طرح ہوتے ہیں جن کا کوئی نظریہ نہ ہو اور ذہن و شعور کا خلا ، خوفناک خلا ، ان کے تعاقب میں ہو اور وہ اس خلا کو شراب کی مدہوشی اور جوئے کی مشغولیت سے بھرنا چاہتے ہیں : نہ وہ ایسے لوگوں کی طرح ہوتے ہیں کہ جو نفسیاتی مریض ہیں اور خود اپنے سایے سے بھاگ رہے ہیں اور شراب وقمار کی پناہ لینے پر مجبور ہیں ۔ حاملین جاہلیت ہمیشہ ان مفاسد میں مبتلا رہے ہیں ۔ آج بھی وہ اس میں مبتلا ہیں اور مستقبل میں بھی جاہلیت کا یہی نشان ہوگا ۔ البتہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اسلام اپنے مخصوص نظام تربیت کے مطابق ، نفس انسانی کو بڑی سہولت میں لے کر چلتا ہے اور بڑی تدریج اور ترقی کے ساتھ اس کی تربیت کرتا ہے ۔ آیت زیر بحث کے سلسلے میں پہلی کڑی ہے ۔ یہ پہلا قدم ہے ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ کوئی چیز یا کوئی فعل بذات خود شر ہی شر ہو ، ہوسکتا ہے کہ شر میں خیر کا پہلو بھی کوئی پہلو موجود ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ خیر اور بھلائی میں شر کا کوئی پہلو ہو ۔ لیکن جائز ، حلال و حرام اور امر ونہی کا دارومدار دراصل غالب خیر یا غالب شر کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ جوئے اور شراب میں شر کا پہلو چونکہ غالب ہے اس لئے یہ ان چیزوں کی حرمت کے لئے علت بن جائے گا ۔ اگرچہ یہاں ان اشیاء کی حرمت کی صراحت نہیں کی گئی ۔ یہاں اسلامی نظام تربیت اور قرآنی منہاج تعمیر اور ربانی طرز تعلیم کا ایک انداز کھل کر سامنے آجاتا ہے ۔ یہ نہایت ہی حکیمانہ انداز تربیت ہے ۔ اسلام کی اکثر ہدایات وفرائض اور قانون سازی میں تتبع اور استقراء سے معلوم ہوگا کہ یہی منہاج اختیار کیا گیا ہے ۔ خمر اور میسر کے بارے میں اس ہدایت کی مناسبت سے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام تربیت کے ایک اصول کی طرف یہاں ایک اشارہ کردیں : 1۔ اگر کسی امر ونہی کا تعلق کسی ایسے اصول سے ہو جس کا تعلق اسلام کے نظریات و عقائد سے ہو تو اسلام پہلی فرصت میں اس کا قطعی اور اٹل فیصلہ کردیتا ہے۔ 2۔ اگر کسی امر ونہی کا تعلق کسی ایسے مسئلہ سے ہو جو بطور عادت معمول بہ ہو یا بطور رسم چلا آتا ہو ، تو اسلام اس کے بارے میں اصلاحی قدم اٹھانے سے پہلے انتظار کرتا ہے ۔ تدریج ، رفق اور سہولت سے اس میں کوئی قدم اٹھاتا ہے اور اقدام سے پہلے ایسے حالات تیار کرتا ہے ، جن میں نفاذ قانون اور نفاذ حکم کے لئے راہ اچھی ہموار ہوجاتی ہے۔ مثلاً مسئلہ توحید اور مسئلہ شرک کے بارے میں اسلام نے پہلی فرصت میں فیصلہ کن بات کردی ۔ عقائد شرکیہ پر فیصلہ کن حملہ کیا ۔ بغیر کسی تردد ، بغیر کسی جھجھک کے ، بغیر کسی رکھ رکھاؤ کے ، بغیر کسی سودے بازی کے ، بغیر کچھ لو اور کچھ دو پالیسی کے ۔ پہلے ہی مرحلے میں ایک ایسا وار کیا کہ شرک کا تانا بانا ادھیڑ کر رکھ دیا ۔ کیونکہ یہ مسئلہ اسلامی نظریہ حیات کا اساسی مسئلہ ، اعتقاد کا مسئلہ تھا ۔ اس کے بغیر ایمان مکمل ہی نہ ہوسکتا تھا۔ اس کی صفائی کے بغیر اسلام اپنی جگہ پر قائم ہی نہیں رہ سکتا تھا شراب اور جوأ ایسے معاملات تھے جن کا تعلق (Custom) سے تھا۔ عادت بد ایک ایسی بیماری ہے جس کا علاج معالجہ ضروری ہے ۔ اس لئے اس کے علاج کے لئے قرآن کریم نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ ان چیزوں کے خلاف دینی شعور بیدار کیا گیا ، مسلمانوں کے دماغ میں قانون سازی کرنے کے لئے وہ دلائل بٹھائے گئے جن کی وجہ سے ان چیزوں کو حرام قرار دیا جاسکتا ہے ۔ مثلاًیہ کہ جوئے اور شراب میں جو مضرات اور قباحتیں ہیں وہ ان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں جوان میں ہیں ۔ اس منطقی دلیل میں اسی طرف اشارہ تھا کہ ان چیزوں سے پرہیز کرنا زیادہ بہتر اور مناسب ہے ۔ اس کے بعد دوسرا قدم سورة نساء کے ذریعہ کیا گیا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ” اے لوگوجو ایمان لائے ہو نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ تم جو کہتے ہو اسے سمجھنے لگو پھر نماز پڑھو ۔ “ اب نماز کے پانچ اوقات ہیں اور اکثر اوقات ایک دوسرے کے بہت ہی قریب ہیں ۔ ان کے مابین اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ایک شخص شراب پئیے ، نشہ میں ہوجائے اور پھر اسے افاقہ ہوجائے ۔ یوں عملاً اس کے اوقات میں کمی کردی گئی ۔ یوں نشے کے مخصوص اوقات میں نفس میں جو اشتیاق پیدا ہوتا ہے اسے توڑدیا گیا ۔ یہ بات عام طور پر مشہور ہے کہ نشے کے عادی نشے کے اوقات میں طلب محسوس کرتے ہیں یعنی جن اوقات میں عام طور پر وہ نشہ کرتے ہیں ۔ اگر کوشش کرکے کسی طرح وہ وقت گزار دیا جائت تو پھر نشے کی حدت طلب ختم ہوجاتی ہے اور اگر مسلسل اس طرح کیا جائے تو اس پر غلبہ پایا جاسکتا ہے جب یہ دو مرحلے طے ہوگئے تو پھر آخری اور قطعی حکم نازل ہوا اور شراب اور جوئے کو قطعاً حرام قرار دے دیا گیا ۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأنْصَابُ وَالأزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ” اے ایمان لانے والو ! یہ شراب اور جوا ، یہ آستانے اور پانسے ، یہ سب شیطانی گندے کام ہیں ۔ ان سے پرہیز کرو ۔ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔ “ اس اصول کی دوسری مثال غلامی ہے ۔ غلامی اس وقت کے اجتماعی اور اقتصادی نظام کا ایک لازمی حصہ تھی ۔ اس وقت کا یہ ایک مسلم بین الاقوامی قانون (Inernation Law) تھا اور اقوام کا یہ رواج تھا کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنالیا جاتا تھا اور ان سے کام لیا جاتا تھا ۔ ان بین الاقوامی اجتماعی حالات کی ظاہری شکل و صورت کو تبدیل کرنے سے پہلے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان اسباب میں تبدیلی کی جائے جن کی وجہ سے یہ حالات رونما ہوئے اور ان بین الاقوامی روابط کو بدلاجائے جن کے نتیجے میں غلامی کے ذرائع وجود میں آتے ہیں ۔ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی رسومات میں بین الاقوامی سمجھوتوں اور معاہدوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے اس نے قیام غلامی کے سلسلے میں کوئی حکم نہیں دیا ۔ نہ قرآن مجید میں کوئی آیت اتری ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنالیا جائے۔ جس وقت اسلامی نظام زندگی کا آغاز ہوا ، تو اس وقت غلامی کا ایک عالمی نظام رائج تھا ، اور یہ مسئلہ صرف غلامی اور جنگی قیدیوں کا نہ تھا ، بلکہ غلامی بین الاقوامی تجارت کا بھی ایک حصہ تھی ۔ اور جنگی قیدیوں کو غلام بنانا ایک بین الاقوامی معروف ضابطہ تھا ۔ اور اس پر بین الاقوامی اور مقامی جنگوں میں حصہ لینے والے تمام فریق عمل کرتے تھے ۔ اس لئے ضروری تھا کہ اسلام اس عالمی اور اجتماعی مسئلے کے مکمل حل کے لئے ٹھوس اقدامات کرتا۔ اسلام نے ابتدائی طور پر جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ اس نے اس جبر ، تشدد اور استحصال کو ختم کردیا جو غلامی کا خاصہ تھا ، اس نے کوشش کی کہ غلامی کا یہ نظام ہی ختم ہوجائے ۔ غلامی ختم کرنے کے لئے اسلام نے کوئی انتہائی قدم نہیں اٹھایا۔ نہ اس نے ایک جھٹکے کے ساتھ اس وقت کے اجتماعی نظام کو درہم برہم کرنے کوشش کی ، اس طرح کہ جھٹکے کے بعد اس کے نتائج کو کنٹرول نہ کیا جاسکے یا اس تحریک کی قیادت ہی مشکل ہوجائے ۔ غرض غلامی کے سرچشمے بند کرنے کے ساتھ ساتھ غلاموں کی زندگی کی سہولیات میں اضافہ کیا ۔ ان کو مناسب زندگی گزارنے کی ضمانت دی اور وسیع حدود میں انہیں شریفانہ زندگی بسر کرنے کی اجازت دے دی ۔ اسلام نے سب سے پہلے دو ذرائع کے علاوہ غلامی کے تمام سرچشمے بند کردئیے ۔ ایک یہ کہ کوئی شخص جنگی قیدی بن جائے اور اس کے نتیجے میں وہ غلام بن جائے ۔ دوسرا یہ کہ اس شخص کا باپ غلام ہو تو اس کا بیٹا بھی غلام ہوگا۔ یہ بھی اس لئے کہ اسلامی نظام کے دشمن معاشروں میں مسلمان اسیروں کو غلام بنالیا جاتا تھا ، اور یہ اس وقت کا معروف طریقہ تھا ، اور اسلام اس وقت کوئی بین الاقوامی غالب قوت نہ تھا کہ وہ ان دشمن معاشروں کو اس بات پر مجبور کرسکتا کہ وہ نظم غلامی سے دستبردار ہوجائیں ، جس پر پوری دنیا کا اجتماعی اور اقتصادی نظام قائم تھا۔ اگر اسلام یکطرفہ طو رپر غلامی کے نظام کو ختم کردیتا تو نتیجہ یہ ہوتا کہ اسلامی ضابطے کا اجراء صرف ان اسیروں پر ہوتا جو مسلمانوں کے ہاتھ میں تھے ۔ جبکہ خود مسلمانوں کے قیدی اس وقت کے نظام کے مطابق غلام ہی رہ جاتے ۔ اس طرح اسلام دشمن بڑی جرأت سے اسلام کے خلاف لڑتے ، اس خیال سے کہ اگر وہ قید ہوئے تو رہا ہوجائیں گے جبکہ جو مسلمان ان کے ہاتھ آئیں گے وہ غلام بن جائیں گے اور قبل اس کے کہ اسلامی حکومت کا اقتصادی نظام مستحکم ہوتا ۔ غلاموں کی جو نسل اس وقت عملاً موجود تھی ، اگر اسے آزاد کردیا جاتا تو ان غلاموں کا اس وقت کے معاشرے میں آمدن کا کوئی ذریعہ نہ ہوتا ، نہ ان کی کفالت کرنے والا کوئی ہوتا اور نہ ہی وہ کسی خاندان کے اجزاء تصور ہوتے ، نہ ان کے کسی کے ساتھ رشتے ناطے کے تعلقات ہوتے جو انہیں معاشرتی اور اخلاقی بےراہ روی سے بچاتے ۔ اس حالت میں ایک تو ان لوگوں کے معاشی حالات خراب ہوتے جن کی غلامی سے یہ آزاد ہوتے ۔ اور دوسرے خود یہ لوگ اسلامی معاشرہ کو ایک گری پڑی نسل کی حیثیت سے ، خراب اور گندہ کردیتے جبکہ خود مسلمان مالکان کے حالات بھی اچھے نہ تھے اور اسلامی معاشرہ بھی بالکل نیا تھا۔ غرض یہ تھی اس وقت کی صورتحال اور اس کے پیش نظر ، اس کے مطابق قرآن مجید نے صرف یہ کیا کہ اسلامی قانون میں کوئی ایسی دفعہ نہیں رکھی جس کے مطابق جنگی قیدیوں کو لازماً غلام بنالیا جائے بلکہ قرآن مجید نے صرف یہ حکم دیافَإِذا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنْتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ” پس جب ان کافروں سے تمہاری مدبھیڑ ہوتوپہلاکام گردنیں مارنا ہے ۔ یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو اس کے بعد (تمہیں اختیار ہے ) احسان کرو یا فدیے کا معاملہ کرلو ، تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے ۔ “ قرآن مجید نے یہ بھی نہیں کہا کہ جنگی قیدیوں کو غلام نہ بنایاجائے ۔ بلکہ اس معاملے کو اسلامی حکومت کی صوابدید پر چھوڑدیا ہے ۔ تاکہ وہ موقع ومحل کے اعتبار سے جو موقف مناسب ہو وہ اختیار کرے ۔ یا فریقین کے قیدیوں کا باہمی تبادلہ ہوجائے اور جن لوگوں کا غلام بنانا ہی مناسب ہوا انہیں غلام بنالے ۔ اس صورت میں معاملہ وہی ہی ہوگا جو کہ محارب قوت معاملہ کرے گی۔ اسی طرح غلامی کے دوسرے سر چشمے بند ہوجانے سے غلاموں کی تعداد کم ہوتی چلی گئی ۔ جبکہ اس وقت مختلف ذریعوں سے لوگوں کو غلام بنالیا تھا ۔ غلاموں کی جو قلیل تعداد رہ گئی تھی اسے بھی اسلامی نظام مختلف تدابیر کے ذریعہ کم سے کم کئے جارہا تھا۔ مثلاً جب کوئی غلام دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتا اور پھر وہ دشمن کے کیمپ کو چھوڑ کر اسلامی کیمپ میں داخل ہوجاتا تو وہ آزاد قرار پاتا ۔ پھر اسلام نے ہر غلام کو یہ حق دیا کہ وہ اپنے مالک سے آزادی کا سودا کرسکتا ہے۔ اور اس سودے کا معاوضہ ادا کرنے کے سلسلے میں مالک کے ساتھ اسے تحریری یا زبانی ایگریمنٹ کرنے کا پورا پورا اختیار ہے ۔ یہ معاہدہ ہونے کے بعد جسے مکاتبت کہتے تھے غلام آزاد ہوجاتا تھا ۔ آزادانہ کاروبار کرسکتا تھا۔ چاہے اپنے مالک ہی کی نوکری کرلیتا ۔ وہ اپنی کمائی کا خود مالک ہوتا تھا۔ چاہے دوسری جگہ آزادانہ کام کرتا اور مالک کو مقررہ رقم ادا کردیتا۔ مکاتبت کے ساتھ یہ غلام اس معاشرے کا ایک مستقل فرد بن جاتا تھا۔ ایسے افراد کے لئے اسلام کے نظام زکوٰۃ کا 1/7 حصہ مقرر ہے ۔ اس کے علاوہ بھی مسلمانوں کے لئے یہ بات ضروری قرار دی گئی کہ وہ ایسے افراد کو مالی امداد دیں تاکہ وہ اپنی گردن کو غلامی کے جوئے سے آزاد کرسکیں ۔ اس کے علاوہ جو اسلامی نظام نے مختلف معاملات میں افراد معاشرہ پر کفارات (Fines) واجب کئے اور کفارے کی شقوں میں ایک شق یہ ہوا کرتی ہے کہ کسی غلام کو آزاد کردیا جائے ۔ مثلاً قتل خطاء کی بعض صورتوں میں ، قسم کے کفارے میں ظہار کے کفارے میں ، ان تدابیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ غلامی کا وجود ہی ختم ہوگیا ۔ اور یہ چیز طبعی موت مرگئی ۔ اگر اسے یکلخت ختم کردیا جاتا تو اس وقت کے معاشرے میں بےحد افراتفری پیدا ہوجاتی ، اور معاشرے میں فتنہ و فساد برپا ہوجاتا۔ سوال یہ ہے کہ دور نبوی کے بعد اسلامی معاشرے میں غلامی ختم ہونے کے بجائے غلامی میں اضافہ کیوں ہوگیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بعد کے ادوار میں غلامی میں اضافہ محض اس لئے ہوگیا تھا ، کہ مسلمانوں نے اسلامی زندگی سے انحراف کرلیا تھا ، جوں جوں مسلمان اسلامی نظام سے دور ہوتے گئے ، خرابیاں زیادہ ہوتی گئیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کا قصور تھا ، اسلامی نظام زندگی کا اس میں کوئی قصور نہ تھا ۔ دور نبوی کے بعد اگر لوگوں نے اسلامی نظام زندگی سے انحراف کیا ، تھوڑا کیا یا زیادہ کیا اور اسلامی نظام زندگی کے اصولوں کو اچھی طرح نافذ نہ کیا ، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلامی نظام میں کچھ خرابی ہے ۔ اسلامی تاریخ کے سلسلے میں ہمار اجو نقطہ نظر ہے وہ ہم اس سے پہلے بیان کر آئے ہیں ۔ اگر اسلامی نظام سے انحراف کے نتیجے میں کچھ ناپسندیدہ حالات ، اسلامی تاریخ کے کسی دور میں ، کبھی پیدا ہوگئے تھے ۔ تو ان حالات کو اسلام کے اسر نہیں تھوپا جاسکتا ۔ ایسے حالات کو اسلامی تاریخ کی کوئی کڑی نہ گردانا جائے گا۔ اس لئے کہ اسلام میں کوئی تبدیلی نہیں آگئی ۔ نہ اس کے اصولوں میں نئے اصولوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اگر تبدیلی آئی ہے تو لوگوں میں تبدیلی آئی ہے ۔ لوگ اسلام سے اس قدر دور ہوگئے کہ ان کا اسلام سے کوئی واسطہ ہی نہ رہا ۔ اور ان کی تاریخ اسلامی تاریخ کا حصہ نہ رہی۔ اب اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ نئے سرے سے اسلامی نظام قائم ہو ، تو وہ اسلامی نظام زندگی کا آغاز اسلامی تاریخ کے اس مقام سے ہرگز نہ کرے گا جہاں اسلامی تاریخ ختم ہوجاتی ہے ، بلکہ اب اسلامی نظام زندگی کے قیام ازسر نو اسلامی اصولوں کی روشنی میں کیا جائے گا ۔ خالص اسلامی اصولوں کی روشنی میں ! یہ ایک اہم حقیقت ہے کہ نظریہ اور نقطہ نظر کے اعتبار سے بھی اور اسلامی نظریہ اور اسلامی نظام کے قیام کی تحریک کے نشوونما کے نقطہ نظر سے بھی ۔ اس نکتے کی تاکید یہاں دوبارہ اس لئے کی جارہی ہے کہ اسلام کی تاریخ اور اسلامی نظام زندگی کے درمیان لوگوں کے ذہنوں میں سخت الجھاؤ پیدا ہوگیا ہے ، حالانکہ اسلامی نظام زندگی اور مسلمانوں کی تاریخ چیزے دیگر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ صحیح اسلامی تحریک اور صحیح اسلامی نظام زندگی کے درمیان فرق نہیں کرپاتے ۔ اس دھوکے میں وہ تمام مستشرقین مبتلا ہیں ، جنہوں نے اسلامی تاریخ پر قلم اٹھایا ہے ۔ بعض لوگ جان بوجھ کر اسلامی تاریخ کو یہ رنگ دیتے ہیں اور بعض لوگ فی الواقعہ غلط فہمی کا شکار ہیں ۔

البقرة 2:220

اب اس اگلی آیات میں ، اسلامی اصول حیات کے بارے میں چند سوالات کا جواب دیا گیا ہے ۔ یہ سوالات مختلف لوگوں نے مسائل سمجھنے کے لئے کئے تھے : اس سے پہلے بھی انہوں نے سوال کیا تھا ، کہ وہ کیا خرچ کریں ؟ اس کے جواب میں خرچ کی نوعیت اور مصرف کی تشریح کردی گئی ۔ یہاں بھی سوال تو وہی ہے ، جواب میں خرچ کی مقدار اور اس کا درجہ بتایا گیا ہے ۔ عفو کے معنی عربی میں فاضل اور زیادہ کے ہوتے ہیں ۔ جو مال ذاتی ضروریات سے زیادہ ہو ۔ ضروریات سے مراد ایسی ضروریات جو عیاشی اور نمائشی نہ ہوں ۔ اسے خرچ کیا جاسکتا ہے اور مصرف کی ترتیب وہی ہے جو اس سے پہلے بیان ہوچکا ہے۔ قریب سے قریب تر کا حق زیادہ ہے اور اس کے بعد دوسرے لوگ درجہ بدرجہ ہیں ۔ انفاق کا حکم صرف ادائیگی زکوٰۃ ہی سے پورا نہیں ہوجاتا۔ کیونکہ اس آیت کو نہ تو زکوٰۃ نے منسوخ کیا ہے اور نہ مخصوص کیا ہے ۔ جیسا کہ میں سمجھا ہوں ۔ زکوٰۃ کی ادائیگی سے ایک فرض ادا ہوجاتا ہے لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ ادا کنندہ بس دوسری معاشرتی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوگیا بلکہ زکوٰۃ کے بعد بھی انفاق کا حکم علی حالہ باقی رہتا ہے ۔ زکوٰۃ مسلمانوں کے بیت المال کا حق ہے اور اسے وہ حکومت حاصل کرے گی جو اللہ کی شریعت نافذ کرے ۔ اور یہ حکومت بھی اسے اس کے معلوم ومعروف مصارف پر خرچ کرے گی۔ لیکن اس کے بعد بھی مسلمانوں کی جانب سے اور خود مسلمان بھائیوں کی جانب سے عائد شدہ ذمہ داریاں بدستور قائم رہتی ہیں ۔ پھر زکوٰۃ تو ایک خاص شرح سے فرض کی گئی ہے ۔ اور یہ ممکن نہیں ہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے تمام فاضل دولت سرمایہ دار کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ لیکن آیت زیر بحث تو واضح طور پر بتاتی ہے کہ العفو پورا کا پورا خرچ ہونا چاہئے ۔ اس سلسلے میں ایک واضح حدیث بھی موجود ہے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : اِنَّ فِی المَالِ حَقًّا سَوِی الزَّکوٰۃٍ ” بیشک دولت میں زکوٰۃ کے سوا بھی حق ہے۔ “ ایسا حق ، جسے صاحب ثروت اللہ کی رضا کے لئے خود مناسب جگہ خرچ کرتا ہے اور یہ خرچ کی اعلیٰ صورت ہے ، کامل صورت۔ اگر وہ خود خرچ نہیں کرتا اور اسلامی نظام کو نافذ کرنے والی حکومت کو اس کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ یہ دولت اس صاحب ثروت سے حاصل کرے اور اسلامی جماعت کے ان افراد پر خرچ کردے جو امداد کی مستحق ہیں ۔ تاکہ صاحب ثروت نہ اسے عیش و عشرت اور عیاشی کے کاموں میں استعمال کرسکے اور نہ ہی ذخیرہ کرکے معطل کردے۔ دولت کی گردش روک دے اور اس پر سانپ بن کر بیٹھ جائے كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ ، فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ” اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے ۔ شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو۔ “ اس آیت میں فرمایا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے احکام بیان کرتا ہے اور اس لئے بیان کرتا ہے کہ تم لوگ دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں غوروفکر سے کام لو۔ اس لئے کہ صرف دنیا کے بارے میں غور وفکر کرنے سے ، وجود انسانی کی حقیقت ، انسان کی زندگی اور اس کے فرائض کے درمیان باہمی ربط کی اصل حقیقت کے بارے میں نہ عقل انسانی صحیح تجزیہ کرسکتی ہے۔ اور نہ ہی اسلام کے قلب ونظام زندگی اور اس کی قدروں کی صحیح تصویر بنائی جاسکتی ہے ۔ اس لئے کہ دنیا تو زندگی کا ایک حصہ ہے ۔ اور بہت ہی ادنیٰ اور مختصر حصہ ہے ۔ اگر انسان اپنے نظریات اور اپنے نظام کی اساس اس مختصر اور سطحی نقطہ نظر پر رکھے تو اس کے نتیجے میں کبھی انسان نہ کسی صحیح تصور حیات تک پہنچ سکتا ہے اور نہ زندگی میں کوئی صحیح طرزعمل اختیار کرسکتا ہے ۔ پھر انفاق کا ذاتی طور پر دنیا سے بھی تعلق ہے ۔ اور آخرت سے بھی تعلق ہے ۔ انفاق سے اس کی دولت میں جو کمی آتی ہے اس کے نتیجے میں اسے دل کی صفائی اور قلب ونظر کی پاکیزگی ، اس دنیا میں نصیب ہوجاتی ہے ۔ پھر انفاق کرنے والا جس معاشرے میں رہتا ہے اس معاشرے کے ساتھ اس کی آشتی ہوجاتی ہے ، صلح ہوجاتی ہے اور افراد کے درمیان تعلقات مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ابنائے معاشرہ کا ہر فرد ہوسکتا ہے یہ باتیں نہ سوچ سکے اس لئے ، آخرت کا عقیدہ اور شعور اور جزائے اخروی کی امید اور آخرت میں جو درجات ہیں اور جو قدریں ہیں ان کا خیال تو ہر شخص کے ذہن میں وزن رکھتا ہے اور اس سے انفاق کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے ۔ اس سے نفس انسانی مطمئن ہوجاتا ہے ، اسے سکون و آرام نصیب ہوتا ہے ۔ ترازو نفس انسانی کے ہاتھ میں آجاتا ہے جو ہر وقت معتدل رہتا ہے اور کسی وقت بھی کھوئی قدروں اور آنکھوں کو چکاچوند کرنے والے دنیاوی معیارات سے اس کے ترازو کو ہلکا نہیں کرسکتے ۔ اجتماعی تکافل (Social Security) اسلامی معاشرے کا سنگ اول ہے ۔ اسلامی جماعت کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے نادار اور ضعیف لوگوں کو خیال رکھے ، یتیموں کا بالخصوص ، جو نابالغ ہیں اور ماں باپ کے سائے سے محروم ہوگئے ہیں ۔ چونکہ وہ کمزور ہیں اس لئے وہ اجتماعی امداد اور اجتماعی حمایت کے مستحق ہیں ۔ اسلامی معاشرے کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کی پرورش کرے اور ان کے اموال اور ان کی جائدادوں کی حفاظت کرے ۔ بعض اولیاء (Guardians) ایسے تھے جو یتیموں اور خود اپنے کھانے پینے کا انتظام یکجا کرتے تھے ۔ نیز انہوں نے اپنے اور یتیموں کے اموال یکجا کرکے تجارت میں لگایا ہوا تھا۔ بعض اوقات اس طرح یتیموں کو نقصان ہوتا تھا ۔ اس پر قرآن مجید کی آیات اتریں جن میں مسلمانوں کو یتیموں کا مال کھانے سے سخت ڈرایا گیا ۔ اس پر بعض نیک لوگوں نے اس قدر احتیاط شروع کردی کہ انہوں نے یتیموں کا مال کھانا بھی الگ کردیا۔ اب صورتحال یہ ہوگئی کہ کسی کے پاس اگر یتیم ہوتا تو وہ یتیم کے مال سے اس کے لئے کھانا تیار کرتے ۔ اگر کچھ بچ جاتا تو وہ دھرا رہتا اور دوسرے وقت اسے کھاتا یا ضائع ہوجاتا اور پھینک دیا جاتا۔ یہ اس قدر زیادہ تشدد تھا جسے اسلام کا مزاج گوارا نہ کرتا تھا۔ علاوہ ازیں بعض اوقات اس میں یتیم کو نقصان بھی ہوتا چناچہ ، یہ آیات نازل ہوئیں اور مسلمانوں کو تلقین کردی گئی کہ وہ اعتدال اور آسانی کا راستہ اختیار کریں ، جس میں اس کی مصلحت ہو۔ درحقیقت ان کے لئے خیر خواہی کا جذبہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں الگ تھلگ کردیا جائے ۔ اگر اکھٹا رہنے سہنے اور کھانے پینے کے انتظام میں یتیم کی بھلائی ہے تو ساتھ رکھنا چاہئے ۔ کیونکہ یتیم بھی بہرحال اولیاء کے بھائی بند ہی تو ہیں ہیں ۔ تمام مسلمان ہیں اور بھائی بھائی ہیں۔ سب کے سب ایک عظیم اسلامی خاندان کے افراد ہیں ۔ اللہ بھلائی کرنے والے اور برائی کرنے والے دونوں کے حال سے باخبر ہے۔ اللہ کے ہاں ظاہری شکل و صورت پر ہی فیصلے نہ ہوں گے ، نیت اور نتائج کو بھی دیکھاجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو تکلیف میں ڈالنا پسند نہیں کرتا نہ امر ونہی میں ان پر کوئی تکلیف لانا چاہتا ہے یا ان کو مشقت میں ڈالنا چاہتا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تکلیف میں ڈال دیتا ، لیکن اللہ کا یہ ارادہ نہ تھا ، وہ تو عزیز و حکیم ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے کر گزرتا ہے لیکن وہ حکیم ہے ۔ آسان بھلائی اور اصلاح کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔ یوں تمام معاملات کا ربط خدائے لایزل سے قائم ہوجاتا ہے ۔ تمام معاملات کو اس اصلی محور کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے ۔ جس کے گرد پورا نظریہ حیات گھومتا ہے ۔ جس کے گرد پوری زندگی گھومتی ہے ۔ یہ ہوتا ہے حال اس نظام قانون کا جو کسی نظریہ حیات پر مبنی ہوتا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کی ضمانت ، انسان کے خارج ، انسان کی ذات سے علیحدہ کسی اور ذریعہ سے فراہم نہیں ہوتی ۔ بلکہ انسان کے ضمیر کے اندر گہرائیوں میں سے اس قانون پر عمل کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور ہر شخص اس پر از خود عمل کرتا ہے۔

البقرة 2:221

درس 15 ایک نظر میں یہ سبق گویا عائلی قوانین پر مشتمل ایک ضابطہ ہے ۔ اس میں خاندانی نظام کی شیرازہ بندی کی گئی ہے ۔ خاندان تحریک اسلامی کی تنظیم کی اساس ہے ۔ خشت اول ہے ۔ اس اساس کو اسلام نے ہر پہلو سے مضبوط کیا ہے ۔ اس پر بےحد توجہ دی گئی ہے ۔ اسے بڑی تفصیل سے منظم کیا ہے ۔ اسے ہر طرح سے بچاکررکھا گیا ہے۔ اسے دور جاہلیت کی انارکی سے پاک کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں اتنی کوشش کی گئی ہے کہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں جگہ جگہ اس سلسلے میں ہدایات دی گئی ہیں اور ان میں وہ تمام بنیادیں فراہم کردی گئی ہیں جو تحریک اسلامی کی تنظیم کے ابتدائی حلقے کی تنظیم اور تعمیر کے لئے ضروری تھیں ۔ اسلام کا اجتماعی نظام ایک قسم کا خاندانی نظام ہے ۔ اس کی اساس خاندان پر ہے ۔ اس لئے کہ انسان کے لئے اس کے رب کا تجویز کردہ نظام ہے ۔ اس میں انسان کی فطرت کی تمام ضروریات ، تمام خصوصیات اور تمام بنیادی باتوں کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ خاندانی نظام کی جڑیں ابتداً تخلیق تک جاپہنچتی ہیں ۔ اس کی کونپلیں شاخ فطرت سے پھوٹتی ہیں ۔ انسان بلکہ تمام حیوانات کی تخلیق ہی خاندانی نظام پر ہے ۔ قرآن مجید سے صاف ظاہر ہوتا ہے۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ” اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں ۔ شاید کے تم اس سے سبق لو۔ “ ایک دوسری آیت میں فرماتے ہیں سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الأزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْبِتُ الأرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لا يَعْلَمُونَ ” پاک ہے وہ ذات جس نے تمام جوڑوں کو پیدا کیا ، ان تمام چیزوں سے سے جو زمین اگاتی ہے ۔ انسانی نفوس سے اور ان تمام دوسری چیزوں سے جو وہ نہیں جانتے۔ “ اب انسان کا مزید نقطہ نظر سے جائزہ لیا جاتا ہے اور اسے وہ پہلا انسان یاد دلایا جاتا ہے جس کے واسطہ سے یہاں انسانوں کی بستی کا آغاز ہوا ۔ پہلی انسانی آبادی ایک جوڑا تھا ۔ پھر اس کی اولاد پیداہوئی ، پھر اس سے انسانیت اور انسانی آبادی پھیل گئی ۔ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا ” لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلادیئے۔ اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو ، اور رشتہ وقربت کے تعلقات بگاڑنے سے پرہیز کرو ۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے ۔ “ دوسری جگہ ہے يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ” لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ “ پھر بتایا جاتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ایک فطری جاذبیت ہے ۔ اس لئے نہیں کہ مرد و عورت علی الاطلاق اکٹھے ہوں ، بلکہ ان کے درمیان انس و محبت کا نتیجہ پیدا ہونا چاہئے کہ وہ خاندان کی بنیاد ڈالیں اور گھرانے تعمیر ہوں : وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ “ ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُم وَاَنتُم لِبَاسٌ لَّھُنَّ ” وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ “ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لأنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تمہیں اختیار ہے ۔ جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جاؤمگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضگی سے بچو ۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے ۔ “ واللّٰہ جعل لکم من بیوتکم سکنا ” حقیقت ہے کہ اللہ نے تمہارے گھروں کو تمہارے لئے جائے سکون بنایا ہے۔ “ یہ فطرت ہے کہ جو اپنا کام کرتی ہے اور یہ خاندان ہی ہے جو ابتدائی تخلیق اور پھر انسان کی تعمیر وتربیت میں فطرت عمیق مقاصد کی بجا آوری کے لئے لبیک کہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں خاندانی نظام ایک فطری اور طبعی نظام ہے جس کا سر چشمہ انسان کی تخلیق کے آغاز سے پھوٹا ہے ۔ (آدم وحوا سے ) اگر گہرامطالعہ کیا جائے تو کائنات کی تمام اشیاء کا آغاز تخلیق بھی اسی نظام کے مطابق ہوا ہے ۔ اس طرح اسلام نے فطرت کے منہاج کو اپنایا ہے ، جس طرح اس کائنات کی دوسری اشیاء کی تخلیق خاندانی نظام کے اسلوب پر ہوتی ہے ۔ اسی طرح نظام کی اساس بھی خاندان کو قرار دیا گیا کیونکہ انسان بھی بہرحال اس کائنات کا ایک جزء ہے ۔ خاندان دراصل ایک قدرتی نرسری ہے ۔ جہاں چھوٹے بچوں کی صحیح دیکھ بھال اور تربیت ہوسکتی ہے ۔ صرف اس نرسری میں وہ صحیح طرح روحانی ، عقلی اور جسمانی نشوونما پاسکتے ہیں ۔ خاندان کے سایہ میں بچے میں محبت ، شفقت اور اجتماعی ذمہ داری (Reciprocal Responsibility) کا شعور پیدا ہوتا ہے ۔ اور اس نرسری میں اس پر جو رنگ چڑھتا ہے ، وہ پوری زندگی میں قائم رہتا ہے۔ بچے کو خاندان کی نرسری میں جو سبق ملتا ہے اسی کی روشنی میں وہ زندگی ۔ عملی زندگی کے لئے آنکھیں کھولتا ہے ، اسی کی روشنی میں وہ حقائق حیات کی تشریح کرتا ہے اور اسی کی روشنی میں زندگی میں عمل پیرا ہوتا ہے۔ تمام زندہ مخلوقات میں طفل آدم کی طفولیت سب سے طویل ہوتی ہے ۔ تمام زندہ چیزوں سے زیادہ ۔ وجہ یہ ہے کہ ہر زندہ ذی روح کا عہد طفولیت دراصل باقی زندگی کے لئے تیاری ، تربیت اور ٹریننگ کا زمانہ ہوتا ہے ۔ اس میں بچے کو اس رول کے لئے تیار کیا جاتا ہے جو اس نے باقی زندگی میں ادا کرنا ہوتا ہے ۔ چونکہ دنیا میں انسان نے جو فرائض سر انجام دینے ہیں وہ عظیم فرائض ہیں ۔ جو رول زمین پر انسان نے ادا کرنا ہوتا ہے وہ ایک عظیم رول ہے ، اس لئے اس کا عہد طفولیت بھی نسبتاً لمبا رکھا گیا ہے تاکہ اسے مستقبل کی ذمہ داریوں کے لئے بطریق احسن تیار کیا جاسکے اور اسے اچھی طرح ٹریننگ دی جاسکے ۔ اس لئے دوسرے حیوانات کے مقابلے میں وہ والدین کے ساتھ رہنے کے لئے زیادہ محتاج ہے لہٰذا ایک پرسکون خاندانی ماحول ، مستقل خاندانی نرسری انسانی نظام زندگی کے لئے لازمی ہے۔ انسانی فطرت کے زیادہ قریب اور اس کی تشکیل اور نشوونما اور اس کی زندگی میں اس کے کردار کے لئے موزوں تر ہے۔ دور جدید کے تجربات نے اس بات کو یقین تک پہنچادیا ہے کہ خاندانی گہوارے کے مقابلے میں لوگوں نے بچوں کی نگہداشت کے جو انتظامات بھی کئے وہ سب کے سب ناقص رہے اور وہ خاندان کے نعم البدل ثابت نہیں ہوسکے ۔ بلکہ ان انتظامات میں سے کوئی انتظام بھی ایسا نہیں ہے جس میں بچے کی نشوونما کے لئے مضر پہلو نہ ہوں یا جس میں اس کی معیاری تربیت ممکن ہوسکے ۔ خصوصاً اجتماعی نرسری کا وہ نظام جسے دور جدید کے بعض مصنوعی اور جابرانہ نظام ہائے حیات نے محض اس لئے قائم کیا کہ وہ اللہ کے قائم کردہ مضبوط فطری اور صالح خاندانی نظام کی جگہ لے سکے ۔ محض اس لئے کہ یہ لوگ دین کی دشمنی میں مبتلا ہوگئے اور دین پر اندھا دھند حملے کرکے اس کی ہر چیز کے خلاف ہوگئے۔ اس لئے خاندانی نظام کو جبراً ختم کرکے اس کی جگہ بچوں کے لئے نرسریاں قائم کردیں۔ اگرچہ بعض اوقات ایسی نرسریاں حکومت کے تحت بھی قائم ہوئیں مثلاً دینی حدود وقیود سے آزاد مغربی ممالک نے ماضی قریب میں جو وحشیانہ جنگیں لڑیں ۔ وہ سب کے سامنے ہیں ۔ ان جنگوں میں وحشیوں نے لڑنے والوں اور پر امن شہریوں میں کوئی تمیز نہ کی ، اس کے نتیجے میں لاتعداد لاوارث بچے ماں باپ کے سایہ کے بغیر رہ گئے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یورپ کی بعض حکومتیں ان بچوں کے لئے اجتماعی نرسریاں قائم کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ علاوہ ازیں مغرب کے جاہلی تصور حیات کے نتیجہ میں وہاں کے انسان کے لئے مناسب اجتماعی اور اقتصادی نظام کے مقابلے میں بدشکل اقتصادی اور معاشرتی نظام وجود میں آیا اور جس میں نوزائیدہ بچوں کی مائیں اس پر مجبور ہوگئیں کہ وہ اپنے لئے خود کمائیں اور مجبوراً بتقاضائے ضروریات بچوں کی اجتماعی نرسریاں وجود میں آئیں ۔ یہ نظام نہ تھا بلکہ ایک لعنت تھی ۔ اس نے بچوں کو ماؤں کی مامتا اور خاندان کے زیرسایہ ان کی تربیت سے محروم کردیا ، بیماروں کو نرسری میں پھینک دیا گیا ، نرسری کا نظام بچوں کی فطرت اور ان کے نفسیاتی ساخت سے متصادم تھا اس لئے نتیجہ یہ نکلا کہ اس قسم کے بچے ذہنی الجھنوں کا شکار ہوگئے اور انہیں بیشمار نفسیاتی پریشانیاں لاحق ہوگئیں۔ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے بعض معاصرین ان حقائق کے باوجود اس بات پر زور دیتے ہیں کہ عورت کے لئے ملازمت کا اختیار کرنا ترقی اور آزادی کی علامت ہے ۔ اور اس بات کا ثبوت ہے معاشرہ رجعت پسندی سے آزاد ہوگیا ہے۔ آپ نے دیکھا ! ان لوگوں کے نزدیک آزادی اور ترقی اس لعنت کا نام ہے جس کی وجہ سے اس دنیا میں انسان کی سب سے قیمتی ذخیرہ یعنی بچوں کی نفسیاتی صحت اور ان کی اخلاقی ترقی تو ختم ہوکر رہ گئی ہے ۔ حالانکہ بچے انسانیت کے مستقبل کا سرمایہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس قیمتی سرمایہ کو ضائع کرکے انسان کیا فائدہ حاصل کرتا ہے ؟ صرف یہ خاندان کی آمدنی میں حقیر سا اضافہ ہوجاتا ہے بجائے اس کے کہ وہ اپنی اولاد کی کفالت کرے ۔ یہ صورتحال اس لئے پیش آئی کہ مغربی جاہلیت اور جدید مشرقی جاہلیت اور اس کے فاسد اجتماعی نظام نے بچوں کے لئے والدہ کی کفالت کی خاطر والدہ کی ملازمت کی حوصلہ شکنی کرنے سے انکار کیا ۔ اور صورت یہ ہوگئی کہ اگر کوئی عورت ملازمت نہیں کرتی تو اس کے ساتھ رشتہ کرنے کے لئے بھی کوئی تیار نہ ہوتا۔ حالانکہ ملازمت سے وہ جو کچھ کماتی وہ اس عظیم سرمایہ کی تربیت اور نگہداشت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ۔ اس لئے بچے انسانیت کا نہایت ہی قیمتی اور نایاب سرمایہ ہیں ۔ نرسریوں کے تجربات سے سب سے پہلے جو چیز ثابت ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے دو سال کے عرصہ میں بچہ فطری اور نفسیاتی طور پر اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ اسے مستقلاً والدین کی گود میں ہونا چاہئے۔ بالخصوص والدہ کے معاملے میں تو اس کی ضرورت یہ ہے کہ والدہ مستقلاً صرف اس کی خدمت گزار ہو اور اس کے ساتھ اس میں کوئی دوسرا بچہ بھی شریک نہ ہو۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک پھر اسے یہ ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے ماں اور باپ ہوں اور اس کی نسبت ان کی طرف ہو۔ پہلی ضرورت نرسری کے سلسلہ میں ممکن نہیں ہے اور دوسری صورت سوائے اس کے کہ خاندانی نظام موجود ہو ممکن الحصول نہیں ہے۔ جو بچہ ان دوسہولتوں سے محروم رہے وہ توانائی اور نفسیاتی لحاظ سے ناقص رہے گا ۔ ایسے بچے لازماً کسی نہ کسی نفسیاتی الجھن کا شکار ہوتے ہیں ۔ اگر کسی کو کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے اور وہ ان دونوں سہولتوں میں سے کسی ایک سے محروم ہوجائے تو یہ حادثہ اس بچے کے لئے تباہ کن ہوتا ہے لیکن ہمیں تعجب ہے کہ ہم کدہر جارہے ہیں ؟ ذرا اس غافل اور بیخبر جاہلیت پر غور کریں ، جس کی کوشش یہ ہے کہ نرسری کا نظام عام کردیا جائے اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو ایسے تباہ کن حادثوں سے دوچار کیا جائے اور پھر جاہلیت کے بعض وہ تماشائی جو اسلام کی عطا کردہ امن وسلامتی سے محروم ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہلاکت ، چھوٹے چھوٹے بچوں کی ہلاکت وتباہی ترقی اور آزادی ہے ۔ ثقافت وتہذیب ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اسلامی نظام حیات نے ، اپنے اجتماعی نظام کی بنیاد ” خاندان “ پر رکھی ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا یہ تھی کہ مسلمان امن سلامتی کے دائرے میں داخل ہوجائیں ۔ اور اسلام کے زیر سایہ سلامتی اور چین کی زندگی بسر کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے خاندانی نظام کے استحکام پر بہت زیادہ توجہ کی ہے۔ اس لئے کہ اسلام کے اجتماعی نظام میں خاندان بنیادی یونٹ قرار پانے والا تھا ۔ چناچہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں خاندانی نظام کے استحکام کے لئے ، اس کے مختلف پہلوؤں کو منظم کیا گیا ہے اور اس کے لئے بنیادی مواد فراہم کیا گیا ہے ۔ چناچہ سورة بقرہ ان سورتوں میں سے ایک ہے ۔ اس سورت میں خاندانی نظام کے سلسلے میں جو آیات نازل ہوئی ہیں ان میں نکاح ، معاشرت ، ایلا ، طلاق ، نفقہ ، متعہ ، رضاعت اور حضانت کے اہم مسائل بیان کئے گئے ہیں ، لیکن یہاں ان احکام کو خاص احکام کی شکل میں بیان نہیں کیا گیا جیسا کہ عام طور پر قانون کی کتابیں پڑھنے والے کتب قانون میں مجرد دفعات اور احکام پاتے ہیں۔ ہرگز نہیں ! یہ احکام ایسی فضا میں وارد ہوتے ہیں کہ انسان کا دل و دماغ اسے بحیثیت ایک عظیم اصول کے لیتے ہیں ۔ انسانی زندگی کے لئے اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نظام زندگی کا ایک عظیم اصول اور اس نظریہ حیات کا عظیم اصول جس سے اسلامی نظام زندگی کی کونپلیں پھوٹتی ہیں ۔ اور یہ کہ اس اصول اور اس قانون کا تعلق براہ راست اللہ تبارک وتعالیٰ سے ہے۔ یہ قانون اس کے ارادے ، اس کی حکمت ، اس کی مشیئت سے ملا ہوا ہے ۔ اور یہ اصول اس نظام زندگی کا ایک اہم حصہ ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ساتھ اللہ کی رضا وغضب ، ثواب و عقاب وابستہ ہوتے ہیں اور ان احکام کا تعلق اسلامی نظریہ حیات سے ہوتا ہے ۔ اگر کوئی ان پر عمل کرے گا ، تو وہ شخص مسلم کہلائے گا ۔ اگر عمل نہ کرے گا تو مسلم نہ کہلائے گا۔ انسان پہلی ہی نظر میں اس معاملے کی نزاکت اور اہمیت کو سمجھ لیتا ہے ۔ اسی طرح یہ بات بھی اس کی سمجھ میں آجاتی ہے کہ اس نظام کا ہر جز خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو اہمیت کا حامل ہے ۔ خود اللہ تعالیٰ اس نظام کا نگران ہے اور اس طرف اس کی خاص توجہ ہے ۔ اور یہ کہ اس نظام کی ہر چھوٹی اور بڑی بات مقصد بالذات ہے اور اللہ کے ہاں ایک عظیم مقصد کے لئے اسے رکھا گیا ہے ۔ اور یہ کہ اس انسان کی ذات کی نگرانی خود اللہ تعالیٰ کرتا ہے ۔ پھر تحریک کی تعمیر وتربیت کا کام بھی خودذات باری اپنی نگرانی میں فرماتی ہے اور اس تعمیر اور نشوونما اور ٹریننگ کی غرض صرف یہ ہے کہ تحریک اسلامی کو اس عظیم رول کے لئے تیار کرنا ہے ، جو اس نے اس کائنات میں ادا کرنا ہے ، پھر انسان یہ محسوس کرلیتا ہے کہ اس نظام زندگی کے کسی حصے پر عمل نہ کرنا ، اسے کمزور کرنا ، اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے ۔ ایسے افراد شدید غضب کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ پھر یہ احکام بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کئے جاتے ہیں ، جب تک ایک حکم ختم نہیں ہوجاتا ، اس کے مالہ وماعلیہ بیان نہیں کردیئے جاتے ، اس وقت تک دوسرے حکم کا آغاز نہیں کیا جاتا ۔ پھر ہر حکم کے بعد تعقیبات اختتامیہ تبصرے اور نتائج بیان کئے جاتے ہیں ۔ بعض اوقات تو یہ تعقیبات اور تنبیہات بیان احکام کے درمیان ہی آجاتی ہیں ، جن سے مقصود یہ بتلانا ہوتا ہے کہ یہ معاملہ اہمیت کا حامل ہے ۔ بالخصوص وہ تعقیبات ، جن کا تعلق ضمیر و احساس اور دل کے تقویٰ سے ہوتا ہے کیونکہ یہ بیدار تقویٰ ، احساس اطاعت اور ضمیر کی نگرانی کے بغیر نہیں ہوسکتا کہ ان احکام کے بجالانے میں حیلہ سازی سے کام لیاجائے۔ پہلا حکم یہ ہے کہ مسلمان مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کریں نہ اپنی عورتوں کا نکاح کرکے مشرک کے حوالہ کریں ۔ اس کی وجوہات یہ بتائی گئی ہیںأُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ” یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے۔ “ دوسرا حکم حیض کے دوران عورتوں سے مباشرت کرنے کے مسئلے کے متعلق ہے ۔ اس پر جو تعلیق وتبصرہ ہے ، اس میں اس فعل کو محض قضائے شہوت کے چند جسمانی منٹ کے تلذذ سے بلند کرکے ، اعلیٰ مقاصد اور انسانی فریضے کے اعلیٰ مقام تک بلند کیا جاتا ہے۔ بلکہ بتایا گیا ہے کہ یہ انسان کے ذاتی اور نجی فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے اور اس کا تعلق خالق تعالیٰ کی اس اسکیم سے ہے کہ اس کی مخلوق اس کی عبادت اور اس کے ڈر کی وجہ سے پاک وصاف ہوجائے۔ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (222) نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ وَقَدِّمُوا لأنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ” پھر جب وہ پاک ہوجائیں ، تو ان کے پاس جاؤ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے ، اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے ، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں ۔ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ۔ تمہیں اختیار ہے ، جس طرح چاہو ، اپنی کھیتی میں جاؤ مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو اور اللہ کی ناراضی سے بچو ۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے ۔ اور اے نبی جو تمہاری ہدایات لیں انہیں خوشخبری دے۔ “ تیسرے حکم میں قسموں کے بارے میں احکام ہیں بعد میں چونکہ ایلا اور طلاق کے احکام بیان ہوں گے ۔ اس لئے یہاں بطور تمہید قسموں کے بارے میں عمومی حکم دے دیا۔ اللہ کے نام کی قسمیں کھانے کا ربط بھی ، اللہ پر پختہ یقین اور اللہ خوفی سے قائم کردیا گیا ہے ۔ ایک جگہ کہا گیا وَاللّٰہُ سَمِیعٌ عَلِیمٌ” اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ “ اور دوسری جگہ ہے وَاللّٰہ غَفُورٌ حَلِیمٌ” اللہ بہت درگزر کرنے والا بردبار ہے۔ “ چوتھا حکم ایلا کا ہے اور اس کے آخر میں یہ تعقیب ہے فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” اگر انہوں نے رجوع کرلیا تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ “ پانچواں حکم مطلقہ عورت کی عدت کے بارے میں ہے ۔ اور اس حکم کے ساتھ بھی متعدد تعقیبات پیوستہ ہیں ۔ لا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ” اور ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو ، اسے چھپائیں ، انہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہئے اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ “ اور چھٹا حکم طلاقوں کی تعداد کے بارے میں ہے اور طلاق کی حالت میں مہر اور نفقہ واپس لینے کے احکام ہیں ۔ ان احکام کے بعد بھی یہ تعقیبات وارد ہیں ۔ وَلا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلا أَنْ يَخَافَا أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ” اور تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو ، اس میں سے کچھ واپس لے لو ، البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ، ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے تو ان کے دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہوجانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرے ۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں۔ “ اور یہ کہ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ” اور یہ دوسرا شخص بھی اسے طلاق دے دے تب اگر پہلا شوہر اور یہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الٰہی پر قائم رہیں گے ، تو ان کے لئے ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں ، جنہیں وہ ان لوگوں کی ہدایت کے لئے واضح کررہا ہے ، جو (ان حدود کو توڑنے کا انجام) جانتے ہیں۔ “ ساتواں حکم یہ ہے کہ اگر تم عورت کو طلاق دو تو یا پھر صحیح طرح اسے الگ کردو اور یا صحیح طرح اسے اچھے طریقے سے رخصت کردو اور اس حکم پر اللہ تعالیٰ کا تبصرہ یہ ہے ۔................................................ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ” یابھلے طریقے سے انہیں روکو یا بھلے طریقے سے رخصت کرو۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا ، وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا ۔ اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے ۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکم اس نے تم پر نازل کی ہے اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے ۔ “ دوسری ہدایت یہ ہے : ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ ” یہ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت نہ کرنا ، اگر تم اللہ اور آخر پر ایمان لانے والے ہو ، تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو ۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ “ آٹھواں حکم رضاعت اور اجرت پر دودھ پلانے اور اس کی اجرت کے متعلق ہے ۔ اور مفصل احکام بیان کرنے کے بعد اس پر یہ نصیحت کی جاتی ہے وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ” اللہ سے ڈر و اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے۔ “ نواں حکم اس عورت کی عدت کے بارے میں ہے جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو ، اس پر یہ تعقیب باپروانہ آزادی فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ” پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے تو انہیں اختیار ہے کہ اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے ، جو چاہیں فیصلہ کریں ، تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے۔ “ دسواں حکم دوران عدت عورت کو اشارۃً نکاح دینے کے بارے میں ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ تعقیب وتبصرہ آتا ہے۔ عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ وَلَكِنْ لا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا إِلا أَنْ تَقُولُوا قَوْلا مَعْرُوفًا وَلا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ” اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تمہارے دل میں تو آئے گا ہی مگر دیکھو ، خفیہ عہدوپیمان نہ کرنا ، اگر کوئی بات کرنی ہے تو معروف طریقے سے کرو۔ اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے ۔ لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بردبار ہے ۔ (چھوٹی چھوٹی باتوں سے) درگذر فرماتا ہے۔ “ گیارہواں حکم اس مطلقہ عورت کے بارے میں ہے ، جس کے ساتھ مباشرت نہ ہوئی ہو ، ایسی عورت کا مہر مقررنہ کیا گیا ہو تو حکم یا ادا کردیا ہو تو حکم ۔ اس پر یہ وجدانی تبصرہ دیکھئے۔ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ” اور اگر تم (مرد) نرمی سے کام لو ، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو ۔ تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ “ بارہواں حکم مطلقہ عورتوں کے بارے میں اور جس کا خاوند فوت ہوچکا ہے۔ اس کے بارے میں ہے کہ ایک سال تک نان ونفقہ دو ۔ اس حکم پر آخر میں حکم ہوتا ہے وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ” اور مطلقہ عورتوں کا حق ہے کہ انہیں مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے ۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر ۔ “ اب ان سب احکام کے بیان کرنے کے بعد ان سب پر ایک جامع تبصرہ کیا جاتا ہے : كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ” اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے ۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کروگے ۔ “ یہ سب احکام عبادت ہیں ۔ نکاح میں اللہ کی بندگی ہے ۔ مباشرت اور اضافہ نسل میں اللہ کی بندگی ہے ۔ طلاق اور جدائی بھی اللہ کی غلامی اور بندگی ہے۔ عدت اور دوران عدت طلاق سے رجوع بھی بندگی ہے ، نفقہ اور رخصتی کا سازوسامان بھی اللہ کی بندگی ہے ۔ معروف طریقے سے عورت کو روک کر بیوی بنالینا بھی بندگی ہے ۔ ورنہ اچھے طریقہ سے ہمیشہ کے لئے رخصت کردینا بھی اللہ کی بندگی ، فدیہ دینا بھی بندگی ہے۔ عوض دینا بھی بندگی دودھ پلانا بھی بندگی ہے اور دودھ سے چھڑانا بھی اللہ کی بندگی اور اطاعت ہے۔ غرض ہر حرکت اور ہر پیش آمد واقعہ میں ایک مسلمان کا طرز عمل اگر خدائی ہدایات کے مطابق ہے تو بندگی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان احکام کے عین وسط میں اچانک نماز کا حکم بھی آجاتا ہے ۔ یعنی خوف میں بھی نماز اور امن میں بھی نماز فرماتے ہیں حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ (238) فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالا أَوْ رُكْبَانًا فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ” اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو ، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جامع ہو ۔ (یابیچ والی نماز) اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو ، جیسے فرمانبردار غلام کھڑے ہوتے ہیں ، بدامنی کی حالت ہو تو خواہ پیدل ہو ، خواہ سوار جس طرح ممکن ہو ، نماز پڑھو اور جب امن میسر آجائے تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو جو اس نے تمہیں سکھایا ہے ، جس سے پہلے تم ناواقف تھے۔ “ آپ دیکھیں نماز کا یہ حکم عائلی احکام کے درمیان واقعہ ہے ۔ ابھی عائلی احکام ختم نہ ہوئے تھے کہ درمیان میں نماز کا ذکر آگیا ۔ تاکہ نماز کی عبادت کا حکم دوسری عبادات زندگی کے درمیان خلط ہوجائے ۔ یہ خلط اس لئے ہوا کہ یہ اسلام کے مزاج کے عین مطابق ہے ۔ اور اسلامی نظریہ حیات کی رو سے یہ کلی بندگی اور ہر کام میں عبادت وجود انسان کی اصل غرض وغایت ہے ۔ اس پورے سبق کا انداز بیان ، اس طرف بہت ہی لطیف انداز میں اشارہ کرتا ہے ۔ یہ کہ یہ سب چیزیں عبادت ہیں ، جس طرح نماز کے معاملے میں احکام الٰہی کی اطاعت عبادت ہے ، اسی طرح ان دوسرے عائلی معاملات میں بھی احکام الٰہی کی اطاعت عبادت ہے ۔ زندگی ایک اکائی ہے اور عبادات سب کی سب ایک ہی نوعیت کی ہیں ۔ تو احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور یہ سب احکام ہی زندگی کا وہ نظام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا ہے ۔ ان تمام احکام میں ، جس طرح اللہ کی عبادت اور بندگی کا ماحول ، اللہ کی اطاعت و عبادت کا رنگ ہے اور اللہ کی غلامی کا پرسکون سایہ ہے ، اسی طرح ان میں واقعی زندگی کے ماحول کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا ۔ انسان کی طبعی ساخت اور اس کی فطری خواہشات سے بھی قطع نظر نہیں کی گئی اور اس کرہ ارض پر انسانوں کی انسانی ضروریات کو بھی اچھی طرح پورا کیا گیا ہے۔ اسلام جو قانون بناتا ہے وہ انسانوں کے ایک گروہ کے لئے بنارہا ہے ، وہ یہ قانون بہرحال فرشتوں کے لئے نہیں بنارہا ہے ۔ نہ اڑتے ہوئے تخیلات کے عالم میں کسی فرضی مخلوق کے لئے ۔ اس لئے عام ہدایات اور قانون سازی یا شرعی احکام کے ذریعے ، جب اسلام انہیں اللہ کی بندگی کی فضاتک بلند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ حقیقت اچھی طرح اس کے سامنے ہوتی ہے کہ وہ سب کچھ ایک انسان کے لئے کررہا ہے ۔ یہ کہ بندگی ایک بشر نے کرنی ہے اور انسانوں میں انسانی جذبات ومیلانات پائے جاتے ہیں ۔ ان میں ضعف ہے اور کئی قسم کی کمزوریاں ہیں ۔ ان کو ضروریات لاحق ہوتی ہیں اور ماحول سے متاثر ہوتے ہیں ، وہ جذبات رکھتے ہیں اور باشعور مخلوق ہیں ۔ ایک طرف ان میں روحانی اشراق ہے تو دوسری طرف انسانی کثافتیں بھی ہیں اور اسلامی نظام زندگی میں ایک ایسا نظام ہے جوان سب امور کا خیال رکھتا ہے ۔ اور ان کے باوجود انسان کو ایک پاک بندگی کی راہ پر لگا دیتا ہے ۔ ایک روشن چراغ انہیں دکھاتا ہے ۔ ہدایت کا روشن چراغ ۔ لیکن بغیر کسی جبر کے ، بغیر کسی مصنوعی ذریعہ کے ، وہ اپنے تمام نظام زندگی کی بنیاد اس پر قائم کرتا ہے کہ یہ انسان بہر حال انسان ہے ! یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ایلا کو جائز قرار دیا ۔ یعنی ایک مرد کے جائز ہے کہ وہ ایک مقررہ وقت تک عورت کے ساتھ مباشرت نہ کرنے کی قسم کھالے ۔ لیکن شرط یہ ہے یہ قسم چار ماہ سے زیادہ نہ ہوگی۔ پھر اسلام طلاق کی گنجائش رکھتا ہے ۔ اور اس کے باقاعدہ قانون سازی کرتا ہے۔ اس کے احکام اور نتائج کو بھی منظم طریقے سے قانونی ضابطہ کا پابند کردیتا ہے۔ ایسے حالات میں ازروئے قانون طلاق کی گنجائش رکھی گئی ہے ، جبکہ دوسری طرف خاندانی نظام کی بنیادوں کو پوری طرح مستحکم کرنے کی پالیسی اختیار کی گئی ہے ۔ خاندانی تعلقات کو مزید پختہ کرنے کی سعی کی گئی ہے اور افراد خاندان کے باہمی ربط کو محض معاشرتی فائدوں سے بلند کرکے اسے اطاعت خداوندی اور عبادت رب کا بلند تصور دے دیا گیا ہے ۔ یہ وہ توازن ہے جو اسلامی نظام زندگی کے عملی پہلوؤں کو واقعی بہت ہی بلند اور ایک حقیقی مثالی نظام کردیتا ہے۔ جو مثالی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی طاقت اور وسعت کے دائرے کے اندر بھی رہتا ہے ۔ اور یوں لگتا ہے کہ یہی نظام ہے جو فی الواقعہ ایک عام انسان کے لئے بنایا گیا ہے۔ نظام کیا ہے فطرت کی سہولتیں ہی سہولتیں ہیں ۔ مرد اور عورت دونوں کے لئے حکیمانہ سہولیات ہیں ۔ اگر ایک تشکیل شدہ خاندان ، جس کی بنیاد مرد و عورت کے نکاح سے پڑی تھی کامیاب نہیں ہوتا ، اس ابتدائی انسانی خلیہ (Cell) میں امن و سکون قائم نہیں ہوسکتا تو اللہ وہ ذات ہے جو جاننے والا خبردار ہے ، وہ لوگوں کے بارے میں وہ کچھ جانتا ہے ، جو وہ خود بھی نہیں جانتے ۔ اس لئے ذات باری نے یہ نہ چاہا کہ وہ مرد و عورت کے رابطہ نکاح کو ناقابل انفکاک بنادے اور اس طرح ابتدائی انسانی جوڑے کو انس و محبت کے گہوارے کے بجائے ایک قید خانہ بنادے ۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو دیکھنا چاہتے ہوں مگر جدائی محال ہو ، ان کے دلوں میں سب شکوک و شبہات سیلابی شکل اختیار کرگئے ہیں لیکن بچنے کی کوئی صورت نہ ہو ۔ میاں بیوی کے تعلقات شبہات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں دب کر ررہ گئے ہوں لیکن روشنی کی طرف نکل آنے کی کوئی صورت نہ ہو ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تومیاں بیوی کے جوڑ اور اس چھوٹے خاندان کو اس لئے بنایا تھا کہ وہ دارالسکون ہو ، دارالامن ہو۔ اگر اس سے یہ مقصد پورا نہ ہورہا ہو اور اس لئے نہ ہورہا ہو کہ فریقین کی فطرت اور طبائع میں اختلاف ہو ، تو پھر ایسی صورت میں بہتر یہی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان جدائی ہوجائے اور اس بیمار خاندان کو ختم کردیا جائے اور وہ دوبارہ کوشش کریں کہ جڑسکیں لیکن جدائی کا فیصلہ بھی محض سرسری اختلافات کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا بلکہ اس خاندان کو بچانے کے لئے تمام وسائل کام میں لائے جاتے ہیں ۔ اس لئے کہ اسلامی نظام زندگی میں انسانی اجتماع میں خاندان مقدس ترین اکٹھ ہے ۔ لیکن جدائی کی صورت میں بھی ایسے احکام دیئے گئے ہیں کہ نہ خاوند کو نقصان پہنچے نہ بیوی کو ۔ نہ بچے کو اور نہ ہی جنین کو ۔ یہ ہے وہ ربانی نظام زندگی ، جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے تشکیل دیا۔ جب انسان اس نظام کی بنیاد وں پر غور کرتا ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے تجویز کیا ہے اور پھر اس نظام کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اس معاشرے ، پاک معاشرے پر نگاہ ڈالتا ہے جس میں امن وسلامتی کا دور دورہ ہوتا ہے اور پھر اس کے مقابلے میں اس نظام زندگی کا مطالعہ کرتا ہے ، جو اس وقت فعلاً انسانی زندگی میں قائم ورائج تھا ۔ تو نظر آتا ہے کہ دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ اور اسلامی معاشرہ ایک مثالی معاشرہ ہے ۔ اور اگر اسلامی معاشرے کا مقابلہ مشرق ومغرب میں آج کے جدید جاہلی معاشروں سے کیا جائے تو بھی یہ مثالی معاشرہ ایک اونچے مقام پر نظر آتا ہے ، حالانکہ ان جدید جاہلی معاشروں کے حامی اپنے آپ کو بڑا ترقی یافتہ معاشرہ سمجھتے ہیں ۔ اس تقابلی مطالعہ کے نتیجے میں اچھی طرح احساس ہوجاتا ہے کہ اسلام نے شرافت ، پاکیزگی اور امن و سکون کا اونچا معیار قائم کیا ہے ۔ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اس اونچے مقام تک انسانوں کو پہچانے کے لئے قانون بنایا ۔ خصوصاً عورت کو تو اس نظام میں خصوصی رعایتیں دی گئیں ہیں ۔ بہت بڑی حرمت اور شرافت اسے عطاکردی گئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جو مستقیم الفطرت عورت بھی ان خصوصی رعایتوں پر غور کرے ، جو اللہ نے اسلامی نظام میں عورتوں کو دی ہیں ، وہ بےاختیار اللہ تعالیٰ کے ساتھ بےپناہ محبت کرنے لگے گی ، بشرطیکہ وہ استقامت فکر سے غور کرے ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

البقرة 2:222

زن وشوہر کے باہمی تعلقات پر یہ ایک دوسری نظر ہے ۔ اچٹتی نظر۔ اس طبیعی تعلق کو اللہ کی طرف ذرا بلند کردیا جاتا ہے۔ جسم انسانی کے اعضائے رئیسہ کی شدید ترین طبیعی اور حیوانی لذتیت یعنی مباشرت کو بھی بلند مقصدیت عطا کردی جاتی ہے ۔ اور اس میں بھی ایک گونہ تقدس کا رنگ آجاتا ہے۔ زن وشوہر کے باہمی تعلق میں مباشرت بھی ایک وسیلہ اور ذریعہ ہے۔ بذات خود مقصد نہیں ہے ۔ یہ حیات انسانی کے ایک گہرے راز اور بلند مقصد کا ذریعہ ہے ۔ نسل کشی اور زندگی کا تسلسل اور یہ نقطہ نظر آخرکار ہمیں اللہ تک پہنچاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ دوران حیض مباشرت سے مرد وزن دونوں کے لئے مضرات یقینی ہیں لیکن اس کے باوجود محض حیوانی لذت تو بہرحال موجود ہوتی ہے ، پھر کیوں اس کی ممانعت کی گئی ۔ اس لئے کہ اس صورت میں وہ مقصد اعلیٰ پورا نہیں ہوسکتا ۔ نیز یہ وجہ بھی ہوتی ہے کہ اس دوران طبع سلیم بھی مباشرت سے ابا کرتی ہے۔ کیونکہ جس طرح خارج سے اسلامی قانون اس عرصہ میں مباشرت سے روکتا ہے ، اسی طرح ذات انسانی کے اندر سے فطرت سلیمہ بھی اسے روکتی ہے ۔ اس لئے کہ بجائی کے لئے یہ موزوں موسم نہیں ہے ۔ اس موسم میں فصل نہیں اگ سکتی ۔ نہ اس بجائی سے زندگی کے کھیت میں کسی پودے کا اضافہ ہوسکتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں پاکی کے دنوں میں مباشرت میں لذت بھی پوری پوری ہوتی ہے اور وہ فطری مقاصد بھی پورے ہوتے ہیں ، جن کے ئے یہ نظام وضع کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے ایام حیض کے بارے میں سوال کا یہ جواب دیا گیا وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ ” پوچھتے ہیں حیض کیا حکم ہے ؟ “ وہ ایک گندگی کی حالت ہے ، اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ۔ جب تک کہ وہ پاک نہ ہوجائیں۔ لیکن اس کے بعد بھی تم اس میں بالکل آزاد نہیں ہو کہ اپنی خواہشات کے مطابق جو چاہو کرو۔ ایام حیض کے بعد بھی تم امر ونہی کے پابند ہو۔ گویا مباشرت بھی ایک فریضہ حیات ہے ۔ اس میں بھی تم اس کے نازل کردہ حدود وقیود کے پابند ہو۔ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ” پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ ، اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔ “ یعنی رحم کی جانب سے دوسری جانب سے نہیں کیونکہ مقسد مطلق شہوت رانی ہی نہیں بلکہ مقصد زمین پر سلسلہ حیات کو بھی جاری رکھنا ہے۔ مباشرت کے نتیجے میں اولاد کی دولت حاصل کرنا ہے ۔ جس کا آنا اللہ نے مقرر فرمادیا ہے ۔ اللہ حلال اور جائز چیز کو مقرر فرماتے ہیں اور اسے فرض قرار دیتے ہیں ۔ مسلمان اس حلال کا متلاشی ہوتا ہے ، جو اس کے لئے اس کے رب نے لکھ دیا ہے ۔ وہ اپنے لئے خود کوئی منصوبہ نہیں بناتا ۔ اللہ اپنے بندوں کے لئے جو فرائض مقرر فرماتا ہے ، وہ سب اس لئے ہیں کہ اس کے یہ بندے پاک وصاف ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو بدی سے باز رہیں ۔ اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو اس کی طرف رجوع کریں ۔ اور اس کی مغفرت کے طلبگار ہوکر اس کی جانب سے لوٹ آئیں۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ” اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے ، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔ “

البقرة 2:223

یہ ہے قرآن مجید کے خوشگوار سایوں میں سے ایک ظل ، ایک چھاؤں ۔ اس میں زن وشو کے باہمی تعلقات کے مختلف رنگوں میں سے ایک رنگ کو تصویر کی شکل دی گئی ہے ۔ جو قرآنی تعلیمات کے ساتھ مناسب ہے اور جو قرآنی منوبہ حیات کے عین مطابق ہے۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ، جس طرح چاہو اپنی کھیتی میں جاؤ۔ “ یہاں اس آیت میں زن وشوئی تعلقات کی نوعیت اور اس کے خاص پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ یعنی اس تعلق کے مقاصد کیا ہیں اور اس کا اصلی رجحان کیا ہونا چاہئے ۔ اس کے سب پہلو یہاں نہیں بیان کئے گئے ۔ دوسرے مقامات پر ان مقامات کی مناسبت سے کچھ دوسرے پہلو بھی نمایاں کئے گئے ہیں ۔ مثلاً ایک جگہ یہ فرمایا گیا ہے هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ ” وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔ “................ دوسری جگہ فرمایا : وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے ، تمہاری جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت و رحمت پیدا کی۔ “ غرض ان تعبیرات میں سے ہر تعبیر اس عمیق وعظیم تعلق کا کسی نہ کسی پہلو کو ظاہر کرتی ہے ، ہر جگہ جو پہلو مناسب ہو۔ یہاں سیاق کلام ایسا ہے جس کے ساتھ ” کھیتی “ کیتعبیر زیادہ مناسب تھی ۔ کیونکہ یہاں تروتازگی ، پیدائش اور نشوونما کی فضا ہے ۔ اس لئے کھیتی کے لفظ سے اس تعلق کی تعبیر کی گئی اور حکم دیا گیا کہ جس طرح چاہو اپنی عورتوں کے پاس جاؤ مگر رحم کی جانب سے جہاں سے پیداواری عمل ہوتا ہے ۔ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ” تم اپنی کھیتی میں آؤ جس طرح چاہو۔ “ لیکن ساتھ ساتھ اس ملاپ کا مقصدا صلی بھی نہ بھولو ، اسے عبادت اور اللہ خوفی سمجھو اور اس لئے اگر تم اس میں بھی اللہ کے بیان کردہ حدود وقیود کی پابندی کروگے تو یہ تمہارے لئے توشہ آخرت ہوگا۔ اور یقین رکھو کہ ایک دن تمہیں اللہ کے سامنے جانا ہے اور وہاں تم اپنے تمام اعمال کا صلہ پاؤگے۔ وَقَدِّمُوا لأنْفُسِكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ مُلاقُوهُ ” مگر اپنے مستقبل کے لئے کچھ آگے بھیجو ، اللہ کی ناراضی سے بچو ، خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے اور اے نبی ، جو تمہاری ہدایات کو مان لیں انہیں خوشخبری دے دو ۔ “ آیت یہاں ختم ہوجاتی ہے اور مسلمانوں کو خوشخبری دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بہت بڑی بھلائی تیار کی ہوئی ہے اور اس بھلائی میں وہ بھلائیاں بھی شامل ہیں جو انہوں نے اپنے کھیت میں بوئی ہیں ۔ کیونکہ مومن جو کچھ بھی کرتا ہے وہ خیر ہے اور اللہ اس پر اس کا ثواب دیتا ہے۔ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ” مومنین کو خوشخبری دیجئے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام ایک فطری اور سادہ نظام زندگی ہے ۔ وہ انسان کو بحیثیت انسان لیتا ہے ۔ اس کے رجحانات اور میلانات کو تسلیم کرتا ہے ۔ وہ بلندی اور پاکیزگی کے نام پر فطرت کے ساتھ جنگ نہیں کرتا ۔۔ وہ انسانوں کی ان ضروریات کو گندگی قرار نہیں دیتا ، جن پر ان کا بس ہی نہ چلے ۔ اور بلکہ وہ قرار دیتا ہے کہ زندگی کی ترقی ، نشوونما اور تسلسل کے لئے ، یہ اس کا فریضہ حیات ہیں اور فطری فریضہ ہیں ۔ اسلام کی کوشش تو یہ ہے کہ انسان کی انسانیت برقرار رہے ۔ اسے اس انسانیت کے دائرے کے اندر ترقی دے ۔ اسے اللہ سے جوڑ دے ، اس کے جسمانی میلانات بھی پورے کرے ، پہلے جسمانی تقاضوں اور انسانی شعور کا امتزاج پیدا کردے اور پھر اس پر دینی شعور کا رنگ غالب کردے ۔ اور یوں عارضی جسمانی تقاضے پورے کرتے ہوئے ، اس تلذذ کو دائمی انسانی فرائض کے ساتھ مربوط کردے اور یہ سب کچھ دینی وجدان اور دینی شعور کے ماحول میں ہو۔ غرض ایک ہی لمحہ میں ایک ہی وقت میں ، ایک ہی رخ میں یہ دینی شعور اور جسمانی تلذذ انسان کی اس چھوٹی سی ہستی میں جمع ہوجاتے ہیں ۔ وہ زمین میں اللہ کا خلیفہ ہو۔ اور اس وجہ سے ہو کہ اس کی اس ہستی میں اللہ تعالیٰ نے مختلف النوع طاقتیں ودیعت فرمائی ہیں ۔ دینی شعور اور جسمانی تقاضے ۔ یہ ہے اسلامی نظام اور یہ ہے انسان کی فطرت ۔ چونکہ اللہ خالق فطرت بھی ہے اور اسلامی نظام زندگی بھی اس کی طرف سے آیا ہے۔ اس لئے اس نظام میں تمام فطری تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے ۔ اور تمام دوسرے نظامہائے زندگی جو من جانب اللہ نہیں ہیں وہ فطرت سے متصادم ہیں اور بعض میں یہ تصادم کم ہے اور بعض میں بہت ہی زیادہ ہے۔ اس لئے ان کا انجام ہلاکت و بربادی ہے ۔ ان نظاموں میں افراد کی بھی کم بختی ہے اور جماعتوں کی بھی ہلاکت ہے ۔ اس لئے کہ اللہ جانتا ہے اور انسان نہیں جانتا۔ ایام حیض میں مباشرت کے مسائل کے بعد ایلا کا حکم بیان کیا جاتا ہے ۔ ایلا کا مفہوم یہ ہے کہ خاوند یہ قسم کھائے کہ وہ بیوی کے ساتھ مباشرت نہیں کرے گا ۔ قبل اس کے کہ قسم ایلا کا بیان ہو ، نفس قسم کے بارے میں بھی ہدایات دے دی جاتی ہیں ۔ گویا قسم تمہید ہے ایلا کے لئے۔

البقرة 2:224

وَلا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةًکی تفسیر میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ تم اپنی قسم کو اس لئے استعمال نہ کرو کہ تم بھلائی کے کچھ کام نہ کروگے بلکہ قسم کا کفارہ ادا کرو اور بھلائی کرتے چلے جاؤ۔ یہی تفسیر مسروق ، شعبی ابراہیم نخعی مجاہد ، طاؤس ، سعید بن جبیر ، عطاء ، عکرمہ ، مکحول ، زہری ، حسن ، قتادہ ، مقاتل بن حیان ، ربیع بن انس ، ضحاک ، عطاخراسانی ، السدی سے منقول ہے ۔ تفصیل دیکھئے ابن کثیر میں۔ اسی کی تائید میں امام مسلم (رح) کی روایت ہے جو کہ ابوہریرہ ؓ سے منقول ہے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں ” جو کوئی ایسی قسم کھابیٹھے کہ اس کے توڑ میں خیر ہو ، اسے چاہئے کہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرے ۔ اور وہ کام کرتا رہے جس میں بھلائی ہے۔ “ اسی طرح امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے ، رسول ﷺ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم تم میں سے کوئی شخص اپنے اہل و عیال کے بارے میں قسم کو پوراکرے ۔ تو وہ زیادہ گناہ گار ہے بہ نسبت اس کے کہ وہ کفارہ دے دے ، جو اللہ نے فرض کیا ہے ۔ ان احادیث کی روشنی میں مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ کے نام کی قسم کھالینا تمہیں نیکی ، تقویٰ اور اصلاح بین الناس کے کاموں سے کہیں روک نہ دے ۔ اگر تم اس قسم کی کوئی قسم کھابیٹھے ہو تو اسے توڑ دو ، نیکی کے کام جاری رکھو اور حلف توڑنے کا کفارہ ادا کرو۔ کیونکہ نیکی ، تقویٰ اور بھلائی کے کاموں پر عمل کرنا اس سے بہتر ہے کہ کوئی اپنی قسم کو پورا کرے ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ایسا ہی واقعہ پیش آیا ۔ آپ کے رشتہ دار کا نام مسطح تھا ، آپ ان کے ساتھ امداد و تعاون فرمایا کرتے تھے ۔ حضرت عائشہ ؓ پر افک کے معاملے میں غیر شعوری طور پر یہ بھی شریک ہوگیا تھا ، اور اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ قسم اٹھالی کہ وہ اس کے ساتھ کوئی امداد نہ کریں گے ۔ اس پر سورة النور کی یہ آیت نازل ہوئیوَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ” تم میں سے جو لوگن صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار ، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہئے ، درگزر کرنا چاہئے ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ۔ “ اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے اپنی قسم کو توڑ دیا اور کفارہ ادا کیا ۔

البقرة 2:225

اللہ تعالیٰ رؤف ورحیم ہے ، اس لئے اس نے کفارہ اس قسم پر عائد کیا ہے جو قصد و ارادہ سے ہو ، جس میں قسم کھانے والا قصداً قسم کھالے ۔ اور اس کا ارادہ یہ ہو کہ اس نے جس چیز پر قسم کھائی ہے وہ اس کا ارتکاب نہ کرے گا ، لیکن عام طور پر لوگ بلا ارادہ اور بلا قصد جو قسمیں کھالیتے ہیں ان پر کفارہ عائد نہیں کیا گیا۔ لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ” جو بےمعنی قسمیں تم بلاارادہ کھالیا کرتے ہو ، ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ، ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا ۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا ہے۔ “ ابوداؤد نے اپنی سند سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم میں لغو یہ ہے کہ آدمی گھر میں کہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم ، یا کہے ہاں اللہ کی قسم ۔ ابن جریر نے عروہ کے واسطہ سے اس روایت کو حضرت عائشہ ؓ سے موقوف نقل کیا ، فرماتی ہیں جن بےمعنی قسموں پر اللہ کی گرفت نہیں ہے وہ یہ ہیں ، کہ کوئی کہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم یا کہے ہاں اللہ کی قسم ، حسن بن حسن سے ایک مرسل حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ ایک گروہ پر سے گزرے جو تیر اندازی کررہے تھے ۔ رسول ﷺ کے ساتھ ایک صحابی بھی تھے ۔ ایک شخص ان میں سے اٹھا اور چلایا اللہ کی قسم میرا تیر نشانے پر لگ گیا اور تمہارا نشانہ ٹھیک نہیں لگا ، اللہ کی قسم ، رسول ﷺ کے ساتھ جو صحابی جارہا تھا اس نے کہا اللہ کے رسول ﷺ ، یہ شخص تو اپنی قسم میں حانث ہوگیا۔ اس پر رسول ﷺ نے فرمایا ، ہرگز نہیں ، تیر اندازی کا مقابلہ کرنے والوں کی قسمیں لغ وہیں ۔ بےمعنی ہیں ان میں نہ کفارہ ہے اور نہ ہی کوئی عذاب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں ، لغو قسم یہ ہے کہ کوئی شخص غصے کی حالت میں قسم کھابیٹھے ۔ نیز ان سے یہ روایت ہے کہ یمین لغو یہ ہے کہ تم اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام قرار دو ۔ اس میں تم پر کوئی کفارہ نہیں ہے ۔ حضرت سعید ابن المسیب سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ دو انصار بھائیوں کے درمیان میراث کا تنازعہ تھا ، ایک نے دوسرے سے کہا کہ وہ اسے اس کا حصہ دے دے ، اس پر اس نے قسم کھالی کہ اگر تم نے دوبارہ مجھ سے اپنا حصہ طلب کیا تو میرا تمام مال خانہ کعبہ کے لئے وقف ہوا ، حضرت عمر ؓ نے فرمایا کعبہ غریب نہیں ہے ۔ کعبہ کو تیرے مال کی ضرورت نہیں ہے ، اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو اور اپنے بھائی سے بات کرو ۔ میں نے رسول ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ کی معصیت میں تم جو قسم کھاؤ وہ کوئی قسم نہیں ہے اور نہ وہ کوئی نذر ہے ۔ نہ صلہ رحمہ قطع کرنے کی کوئی قسم واجب ہے ۔ نہ اس چیز کی قسم جس کے تم مالک ہو۔ ان روایات سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ قسم میں اگر اس کام کے کرنے اور چھوڑنے کی نیت نہ ہو ، جس پر قسم کھائی گئی ہے تو یہ قسم بےمعنی ہے اور اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے ۔ وہی قسم ، قسم کہلائے گی کہ قسم کھانے والا کسی بات کے کرنے یا کسی کام سے رکنے کا پختہ ارادہ کرے جس پر وہ قسم کھارہا ہے ۔ ایسی قسم اگر توڑ دی جائے تو اس پر کفارہ واجب ہوگا۔ اور اگر اس قسم کی قسم کسی اچھے کام سے رکنے کے لئے ہو یا کسی برے کام یا برے فعل کے ارتکاب کے لئے ہو ، تو ایسی قسم کا توڑنا لازمی ہے ۔ رہا وہ شخص جو کسی ایسے امر پر قسم کھائے جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ وہ جھوٹا ہے تو بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اس قسم کا کوئی کفارہ نہیں ہے ، نہ کسی کے کفارے سے اس گناہ کی تلافی ممکن ہے ۔ امام مالک (رح) مؤطا میں فرماتے ہیں ، اس سلسلے میں سب سے اچھی جو بات میں نے سنی ہے وہ یہ ہے کہ یمین لغو وہ ہے کہ انسان کسی بات پر قسم کھائے اور جان رہا ہو کہ وہ جھوٹا ہے ، گناہ گار ہے ، اس طرح کرنے سے وہ کسی کو خوش کررہا ہو ، یا کسی کا حق مارنا چاہتا ہو ، یہ عظیم گناہ ہے اور کفارہ سے اس کی تلافی نہیں ہوسکتی ۔ جس قسم کے توڑنے میں خیر ہو ، بھلائی ہو ، اس کے حکم کے آخر میں فرمایا جاتا ہے وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” اللہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے۔ “ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ تم جو کچھ کہتے ہو وہ اسے سنتا ہے لیکن وہ یہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ خیر کس میں ہے اس لئے وہ یہ حکم دیتا ہے۔ اور لغو وبے معنی قسم اور سچی قسم کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ ” غفور رحیم “ معاف کرنے والا اور رحیم ہے کہ وہ بندوں کے ہر فعل پر مواخذہ نہیں کرتا ۔ جب ان کے منہ سے غلطی سے جو نکل جائے وہ اس پر مواخذہ نہیں کرتا ۔ وہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو معاف کردیتا ہے ۔ بشرطیکہ بندہ اس کی طرف لوٹ آئے ۔ ان دونوں تبصروں اور نتائج سے قسم کے یہ معاملات سب کے سب اللہ سے جڑجاتے ہیں اور ایک مسلمان کا دل ہر قول میں اور ہر فعل میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے۔

البقرة 2:226

قسم کے قاعدہ کلیہ کے بیان کے بعد اب مسئلہ ایلا کا بیان شروع ہوتا ہے ، جو قسم ہی ایک قسم ہے ۔ ایک خاوند قسم کھالے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائے گا ۔ یا محدود وقت کے لئے تو اس قسم کو شرعی اصطلاح میں ایلا کہا جاتا ہے۔ لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھابیٹھتے ہیں ان کے لئے چار مہینے کی مہلت ہے ۔ اگر انہوں نے رجوع کرلیا ، تو اللہ معاف کرنے والا رحیم ہے ۔ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو ، تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ “ میاں بیوی کی زندگی میں ایک طویل رفاقت ہوتی ہے ، جس میں مختلف قسم کے حالات پیش آتے رہتے ہیں ۔ مختلف نفسیاتی کیفیات زوجین پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں ۔ اور ان کے بیشمار اسباب ہوتے ہیں ۔ ان حالات میں جب شدت آجاتی ہے تو زوجین مباشرت تک کے تعلقات قطع کردیتے ہیں ۔ یہ عارضی جدائی اور قطع تعلق بیوی کے لئے سخت دشوار ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی ذات پر نفسیاتی اور اعصابی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ بحیثیت ایک عورت اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔ غرض ہر قسم کے تعلقات زن وشوئی ختم ہوکر رہ جاتے ہیں اور حسن معاشرت کے تمام بندھن ٹوٹ کر رہ جاتے ہیں اور اگر یہ کیفیت غیر متعین مدت تک رہے تو پورا خاندان تباہ ہوکر رہ جائے ۔ اسلام نے ابتداء ہی سے ایلا کو حرام قرار نہیں دیا ۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ بعض حالات میں وہ ترش مزاج بیوی کے لئے ایک مفید علاج ہو ، بالخصوص ایسی بیوی کا علاج جسے اپنی نسوانیت پر بہت ناز ہو ۔ جو کبر و غرور میں مبتلا ہو اور اپنے غرور یا ناز وادا کے ذریعہ مرد کو ذلیل کرنا چاہتی ہو ، یا وہ سمجھتی ہو کہ وہ مرد کو جس طرح چاہے زیر کرسکتی ہے ۔ نیز بعض اوقات اس عرصہ میں ذہنی کوفت اور تھکاوٹ دور کرنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ جس طرح بعض اوقات آدمی پر غصے کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور اس کے بعد دل کا غبار نکل جاتا ہے اور زندگی کی گاڑی نئے سرے سے بڑی قوت اور خوشی سے چل پڑتی ہے ۔ لیکن اسلام نے مرد کو بھی اس معاملے میں مکمل آزاد نہیں چھوڑدیا ۔ ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات وہ حد سے گزرجائے اور عورت کے ساتھ ظلم و زیادتی شروع کردے ۔ اور اسے ذلیل کرکے رکھ دے ۔ اس کی حالت اس طرح ہو جس طرح کوئی چیز فضا میں معلق ہو ، نہ وہ بیوی بن کر رہ سکے اور نہ وہ آزاد ہو کہ کسی دوسری جگہ گھر بساسکے ۔ اس لئے ، متعدد صورتوں ، مختلف قسم کے حالات اور زندگی کے عملی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام نے یہ فیصلہ کیا کہ ایلا اور تعلق زن وشوئی کے بائیکاٹ کے لئے انتہائی مدت چار ماہ ہے ۔ اس سے زیادہ کسی خاوند کو اجازت نہ ہوگی کہ وہ بائیکاٹ کرے ۔ چار ماہ کی مدت بھی صانع فطرت نے اس لئے مقرر کی ہے اس میں عورت کی فطری خواہشات اور قوت برداشت کا بھی خیال رکھا گیا ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے فطری تقاضے پورے کرنے کے لئے اپنے خاوند کی بجائے کسی دوسرے کسی دوسرے ناجائز ذریعہ کی طرف رجوع کرے ۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ ایک رات خفیہ طور پر نکلے ۔ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے ۔ ان کی ضروریات معلوم کرنے کے لئے ۔ ایک گھر سے انہیں آواز آئی ایک عورت یہ شعر گا رہی تھی۔ رات لمبی ہے ۔ اور اس کا ہر پہلو تاریک ہوگیا ! میں جاگ رہی ہوں ! کیوں ؟ اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم جو نگہباں ہے ، جو دیکھ رہا ہے ! اگر یہ اللہ نہ ہوتا تو میری چارپائی کے چاروں کونے جھٹکاکھا رہے ہوتے۔ حضرت عمر ؓ نے اپنی بیٹی حفصہ سے پوچھا ، کہ عورت خاوند کے بغیر کتنا عرصہ رہ سکتی ہے ۔ حضرت حفصہ ؓ نے فرمایا چھ ماہ یا چار ماہ ۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا ۔ میں اپنے فوجیوں میں سے کسی کو بھی چھ ماہ سے زیادہ باہر نہ رکھوں گا ۔ اسی پر آپ نے احکامات جاری کردئیے کہ فوجیوں کو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ کے لئے اپنے گھروں سے دور نہ رکھاجائے ۔ بہرحال ان معاملات میں مختلف لوگوں کے مختلف مزاج ہوتے ہیں۔ لیکن چار ماہ کا عرصہ ایک مرد کے لئے کافی ہے کہ وہ اس میں اپنے نفس اور اپنے جذبات کو آزمائے۔ ان چارمہینوں میں یا تو وہ لوٹ آئے اور میاں بیوی کے درمیان از سر نو ایک صحت مند عائلی زندگی کا آغاز ہوجائے اور اپنی بیوی کو گلے لگائے ۔ اور اپنے بستر پر لوٹ آئے اور یا یہ کہ چار ماہ کے عرصہ میں بھی وہ اپنے آپ کو اس قابل نہ پائے کہ تعلقات کی پھر سے تجدید ہو اور قطع تعلق مجبورا جاری ہو ، اگر حالات دوسری صورت ہی کے ہوں تو پھر قرآن کا حکم یہ ہے کہ عقدۃً نکاح کو کھل جانا چاہئے ۔ بیوی کو طلاق دے کر اسے آزاد کردینا چاہئے ۔ یا وہ خود طلاق دے دے اور اگر وہ نہ دے تو قاضی اس کی طرف سے طلاق دے دے تاکہ میاں بیوی سے ہر دو اس امر میں آزاد ہوجائیں کہ وہ اپنے لئے کسی دوسرے جوڑے سے نئی صحت مند عائلی زندگی کا آغاز کرسکیں۔ بیوی کے لئے بھی یہی شریفانہ اور پاکیزہ راستہ ہے اور مرد کے لئے بھی یہی خوشگوار اور فرحت بخش راستہ ہے ۔ اور یہی مناسب ہے ۔ یہی وہ راستہ ہے جو سنجیدہ راستہ ہے ، جو منصفانہ راستہ ہے ۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر زندگی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے ورنہ کشیدہ تعلقات کی صورت میں زندگی ، دونوں فریقوں کی زندگی ، منجمد ہوکر رہ جاتی ہے۔ قسم اور ایلا کے مسائل آخر کار طلاق پر منتہی ہوئے ۔ اس مناسبت سے یہاں طلاق کے تفصیلی احکام دیئے گئے ۔ نیز طلاق کے ساتھ دوسرے متعلقہ مسائل مثلاً عدت ، فدیہ ، نفقہ ، رخصتی کا سامان اور دوسرے نتائج وغیرہ۔ سب سے پہلے عدت اور رجوع کے مسائل۔

البقرة 2:227

قسم کے قاعدہ کلیہ کے بیان کے بعد اب مسئلہ ایلا کا بیان شروع ہوتا ہے ، جو قسم ہی ایک قسم ہے ۔ ایک خاوند قسم کھالے کہ وہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائے گا ۔ یا محدود وقت کے لئے تو اس قسم کو شرعی اصطلاح میں ایلا کہا جاتا ہے۔ لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ فَإِنْ فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھابیٹھتے ہیں ان کے لئے چار مہینے کی مہلت ہے ۔ اگر انہوں نے رجوع کرلیا ، تو اللہ معاف کرنے والا رحیم ہے ۔ اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی ہو ، تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ “ میاں بیوی کی زندگی میں ایک طویل رفاقت ہوتی ہے ، جس میں مختلف قسم کے حالات پیش آتے رہتے ہیں ۔ مختلف نفسیاتی کیفیات زوجین پر اثر انداز ہوتی رہتی ہیں ۔ اور ان کے بیشمار اسباب ہوتے ہیں ۔ ان حالات میں جب شدت آجاتی ہے تو زوجین مباشرت تک کے تعلقات قطع کردیتے ہیں ۔ یہ عارضی جدائی اور قطع تعلق بیوی کے لئے سخت دشوار ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کی ذات پر نفسیاتی اور اعصابی اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ بحیثیت ایک عورت اس کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے ۔ غرض ہر قسم کے تعلقات زن وشوئی ختم ہوکر رہ جاتے ہیں اور حسن معاشرت کے تمام بندھن ٹوٹ کر رہ جاتے ہیں اور اگر یہ کیفیت غیر متعین مدت تک رہے تو پورا خاندان تباہ ہوکر رہ جائے ۔ اسلام نے ابتداء ہی سے ایلا کو حرام قرار نہیں دیا ۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ بعض حالات میں وہ ترش مزاج بیوی کے لئے ایک مفید علاج ہو ، بالخصوص ایسی بیوی کا علاج جسے اپنی نسوانیت پر بہت ناز ہو ۔ جو کبر و غرور میں مبتلا ہو اور اپنے غرور یا ناز وادا کے ذریعہ مرد کو ذلیل کرنا چاہتی ہو ، یا وہ سمجھتی ہو کہ وہ مرد کو جس طرح چاہے زیر کرسکتی ہے ۔ نیز بعض اوقات اس عرصہ میں ذہنی کوفت اور تھکاوٹ دور کرنے کا موقع مل جاتا ہے ۔ جس طرح بعض اوقات آدمی پر غصے کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور اس کے بعد دل کا غبار نکل جاتا ہے اور زندگی کی گاڑی نئے سرے سے بڑی قوت اور خوشی سے چل پڑتی ہے ۔ لیکن اسلام نے مرد کو بھی اس معاملے میں مکمل آزاد نہیں چھوڑدیا ۔ ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات وہ حد سے گزرجائے اور عورت کے ساتھ ظلم و زیادتی شروع کردے ۔ اور اسے ذلیل کرکے رکھ دے ۔ اس کی حالت اس طرح ہو جس طرح کوئی چیز فضا میں معلق ہو ، نہ وہ بیوی بن کر رہ سکے اور نہ وہ آزاد ہو کہ کسی دوسری جگہ گھر بساسکے ۔ اس لئے ، متعدد صورتوں ، مختلف قسم کے حالات اور زندگی کے عملی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلام نے یہ فیصلہ کیا کہ ایلا اور تعلق زن وشوئی کے بائیکاٹ کے لئے انتہائی مدت چار ماہ ہے ۔ اس سے زیادہ کسی خاوند کو اجازت نہ ہوگی کہ وہ بائیکاٹ کرے ۔ چار ماہ کی مدت بھی صانع فطرت نے اس لئے مقرر کی ہے اس میں عورت کی فطری خواہشات اور قوت برداشت کا بھی خیال رکھا گیا ہے ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے فطری تقاضے پورے کرنے کے لئے اپنے خاوند کی بجائے کسی دوسرے کسی دوسرے ناجائز ذریعہ کی طرف رجوع کرے ۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ ایک رات خفیہ طور پر نکلے ۔ لوگوں کے حالات معلوم کرنے کے لئے ۔ ان کی ضروریات معلوم کرنے کے لئے ۔ ایک گھر سے انہیں آواز آئی ایک عورت یہ شعر گا رہی تھی۔ رات لمبی ہے ۔ اور اس کا ہر پہلو تاریک ہوگیا ! میں جاگ رہی ہوں ! کیوں ؟ اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم جو نگہباں ہے ، جو دیکھ رہا ہے ! اگر یہ اللہ نہ ہوتا تو میری چارپائی کے چاروں کونے جھٹکاکھا رہے ہوتے۔ حضرت عمر ؓ نے اپنی بیٹی حفصہ سے پوچھا ، کہ عورت خاوند کے بغیر کتنا عرصہ رہ سکتی ہے ۔ حضرت حفصہ ؓ نے فرمایا چھ ماہ یا چار ماہ ۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا ۔ میں اپنے فوجیوں میں سے کسی کو بھی چھ ماہ سے زیادہ باہر نہ رکھوں گا ۔ اسی پر آپ نے احکامات جاری کردئیے کہ فوجیوں کو چھ ماہ سے زیادہ عرصہ کے لئے اپنے گھروں سے دور نہ رکھاجائے ۔ بہرحال ان معاملات میں مختلف لوگوں کے مختلف مزاج ہوتے ہیں۔ لیکن چار ماہ کا عرصہ ایک مرد کے لئے کافی ہے کہ وہ اس میں اپنے نفس اور اپنے جذبات کو آزمائے۔ ان چارمہینوں میں یا تو وہ لوٹ آئے اور میاں بیوی کے درمیان از سر نو ایک صحت مند عائلی زندگی کا آغاز ہوجائے اور اپنی بیوی کو گلے لگائے ۔ اور اپنے بستر پر لوٹ آئے اور یا یہ کہ چار ماہ کے عرصہ میں بھی وہ اپنے آپ کو اس قابل نہ پائے کہ تعلقات کی پھر سے تجدید ہو اور قطع تعلق مجبورا جاری ہو ، اگر حالات دوسری صورت ہی کے ہوں تو پھر قرآن کا حکم یہ ہے کہ عقدۃً نکاح کو کھل جانا چاہئے ۔ بیوی کو طلاق دے کر اسے آزاد کردینا چاہئے ۔ یا وہ خود طلاق دے دے اور اگر وہ نہ دے تو قاضی اس کی طرف سے طلاق دے دے تاکہ میاں بیوی سے ہر دو اس امر میں آزاد ہوجائیں کہ وہ اپنے لئے کسی دوسرے جوڑے سے نئی صحت مند عائلی زندگی کا آغاز کرسکیں۔ بیوی کے لئے بھی یہی شریفانہ اور پاکیزہ راستہ ہے اور مرد کے لئے بھی یہی خوشگوار اور فرحت بخش راستہ ہے ۔ اور یہی مناسب ہے ۔ یہی وہ راستہ ہے جو سنجیدہ راستہ ہے ، جو منصفانہ راستہ ہے ۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر زندگی کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے ورنہ کشیدہ تعلقات کی صورت میں زندگی ، دونوں فریقوں کی زندگی ، منجمد ہوکر رہ جاتی ہے۔ قسم اور ایلا کے مسائل آخر کار طلاق پر منتہی ہوئے ۔ اس مناسبت سے یہاں طلاق کے تفصیلی احکام دیئے گئے ۔ نیز طلاق کے ساتھ دوسرے متعلقہ مسائل مثلاً عدت ، فدیہ ، نفقہ ، رخصتی کا سامان اور دوسرے نتائج وغیرہ۔ سب سے پہلے عدت اور رجوع کے مسائل۔

البقرة 2:228

اپنے آپ کو روکیں رکھیں ذرا اپنے جذبات پر کنٹرول کریں۔ تین مرتبہ ایام ماہواری تک یا تین مرتبہ ایام ماہواری سے پاک ہونے تک ، اپنے آپ کو روکیں رکھیں۔ میں نے قرآن مجید کی اس تعبیر اور انداز بیان پر بہت غور کیا ، لطیف نفسیاتی حالت کی یہ عجیب تصویر کشی ہے ۔ مفہوم اور مقصد یہ ہے کہ تین دفعہ ایام ماہواری آنے یا ان سے پاک ہونے تک دوسری شادی کرنے سے باز رہیں ۔ لیکن اس عقلی اور قانونی مفہوم کے علاوہ قرآن کریم کا طرز تعبیر کچھ اور بھی بتاتا ہے ۔ انداز تعبیر روکے رکھیں ، لگام کھینچ لیں باوجود اچھلنے کودنے کے روکے رکھیں ، اس تعبیر سے اس نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ایسے حالات میں پائی جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں بالعموم مطلقہ عورت کو اس بات کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ وہ جلد از جلد نئی زندگی کا آغاز ایک نئے شوہر کی قیادت میں کردے ۔ یہ کیفیت فطری ہے ۔ ایسے حالات میں عورت پر شدید اعصابی دباؤ ہوتا ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ وہ ثابت کردکھائے کہ سابقہ تجربہ ازدواج میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے۔۔ اس میں کوئی جسمانی نقص نہیں ہے ۔ وہ کسی وقت بھی ، دوسرے شوہر کے لئے پرکشش بن سکتی ہے اور جدید ازدواجی زندگی کا آغاز کرسکتی ہے جبکہ یہ جذبہ اور احساس مرد میں نہیں ہوتا ، اس لئے طلاق کا حق اس کے ہاتھ میں ہے ، طلاق کا وار اس نے کیا ہے اور عورت نے اس وار کو برداشت کیا ہے ۔ اس لئے عورت سے یہ کہا گیا ہے کہ ذرا نفس کو روکے رکھو ، اس کی لگام کو کم ازکم تین ماہ تک کھینچے رکھو ۔ یوں قرآن مجید ایک لفظ اور ایک انداز تعبیر سے نفسیاتی کیفیت کی فضا ظاہر کردیتا ہے ۔ اس نفیساتی کیفیت کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہدایات دیتا ہے اور ضابطہ بندی کرتا ہے۔ وہ اس عرصہ کے لئے اپنے نفوس کو روکھے رکھیں تاکہ ان کے رحم سابق زوجیت کے آثار سے پاک ہوجائیں اور پھر وہ نئے سرے سے ازدواجی زندگی کا آغاز کرسکیں ، اگر چاہیں لا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ” اور ان کے لئے یہ جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں کو کچھ خلق فرمایا ہو ، اسے چھپائیں ۔ انہیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہئے اگر وہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہیں۔ “ ان کے رحم میں حالت حمل ہے یا حالت حیض ان کے لئے جائز نہیں ہے کہ اسے چھپائیں ۔ رحم میں جو کچھ ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کی خالقیت سے وابستہ کردیا گیا ہے ۔ تاکہ ان کے دلوں میں اللہ خوفی پیدا ہو ۔ انہیں اللہ اور یوم آخرت پر ایمان و یقین کی غیرت دلا کر کہا جاتا ہے کہ اگر تم مومن ہو تو تمہیں ہرگز کسی چیز کو چھپانا نہیں چاہئے ۔ یہاں یوم آخرت کا ذکر اس لئے ہوا کہ یوم آخرت یوم الجزاء ہے ۔ اس دنیا میں جو چیز احکام خداوندی کے بجالاتے ہوئے فوت ہوجائے وہ ایک مومن کو وہاں بطور اجر ملتی ہے ۔ یہاں چونکہ عورتوں کے لئے حکم ہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے جذبات کو ٹھیس لگی ہے وہپ اپنے نفوس کو روکے رکھیں ۔ اس لئے کہا گیا ہے کہ جزاء آنے والی ہے ۔ ہاں اگر وہ پردہ داری کریں گی اور جو کچھ ان کے رحم میں ہے صاف صاف اس کا اظہار نہ کریں گی تو اس پر سزا بھی ہے ۔ اس سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ۔ کیا کوئی چیز اللہ سے چھپائی جاسکتی ہے ؟ لہٰذا مت چھپاؤ۔ کسی بات سے اثر لے کر ، کسی مطلب کے لئے ۔ کسی خواہش سے مغلوب ہوکر ، کہیں خلق اللہ کو نہ چھپا لو۔ یہ تو تھا ایک پہلو ، دوسرا پہلو یہ ہے کہ قطعی جدائی سے پہلے ، ایک وقفہ کی ضرورت ہے ۔ معقول وقفہ ۔ اس وقفے میں فریقین جدائی کے بعد اپنے جذبات کو اچھی طرح آزمالیں ۔ ہوسکتا ہے کہ ان کے دل میں محبت کی کوئی چنگاری باقی ہو اور پھر محبت سلگ اٹھے ۔ ہوسکتا ہے کہ جذبات محبت میں پھر طلاطم برپا ہوجائے اور وہ ایک دوسرے سے آملیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی سوچ جذبات ، کوتاہی یا کبر و غرور کے نیچے دب گئی ہو اور وقفے میں انہیں سوچ آجائے ۔ جب غصہ فرو ہوجائے ، جب طیش اترجائے ، جب نفس مطمئن ہوجائے اور وہ اسباب جو موجب فراق بن گئے تھے دب جائیں ، کچھ عقل کی باتیں سامنے آجائیں ، سوچ کی نئی راہیں کھل جائیں ۔ جب اسباب کو عظیم سمجھ کر فراق کا فیصلہ کرلیا گیا تھا وہ اس وقفے میں مومعمولی نظر آنے لگ جائیں اور فریقین میں از سر نو زندگی کا آغاز کرنے کا داعیہ پیدا ہوجائے ۔ یا اس عرصہ میں کسی اور حسن عمل اور حسن تدبیر سے حالات کا رخ بدل جائے ۔ اس لئے یہ بات نہایت ضروری تھی کہ ایک طلاق کے بعد متعلقہ تین ایام ماہواری یا ان کے پاک ہونے کا انتظار کرے ۔ اسلام میں طلاق مشروع ہے ۔ لیکن اللہ اور رسول کو سخت ناپسندیدہ بھی ہے ۔ یہ کاٹ دینے کا عمل ہے اور اسے صرف اس وقت اختیار کرنا چاہئے ، جب علاج کا کوئی طریقہ ، جوڑنے کا کوئی حربہ کام نہ آسکے ۔ (قرآن مجید میں دوسری جگہ تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے کہ طلاق واقع ہونے سے پہلے صلح وصفائی کے لئے سخت کوشش ہونی چاہئے ۔ نیز یہ بھی ہدایت ہے کہ طلاق ایسی حالت میں دینی چاہئے کہ عورت ایام ماہواری سے پاک ہوچکی ہو ، اور ابھی مرد نے اس کے ساتھ مباشرت نہ کی ہو ، محض اس لئے طلاق دینے یا یا طلاق کا آخری شکل دیتے وقت مرد کو سوچ بچار کی کافی مہلت ملے ۔ اگر حیض کی حالت ہے تو مرد طلاق دینے کے لئے طہر کا انتظار کرے گا۔ جہاں تک پہلی طلاق کا تعلق ہے ، یہ ایک تجربہ ہے ۔ اس تجربہ سے میاں بیوی دونوں یہ معلوم کرلیتے ہیں کہ ان کے جذبات اور احساسات کیا رخ اختیار کرتے ہیں ۔ اگر دوران عدت انہوں نے محسوس کرلیا کہ وہ ایک دوسرے کی رفاقت میں زندگی کا آغاز نئے سرے سے کرسکتے ہیں تو راستہ کھلا وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلاحًا ” ان کے شوہر تعلقات درست کرلینے پر آمادہ ہوں ۔ تو وہ اس عدت کے دوران پھر انہیں اپنی زوجیت میں واپس لینے کے حق دار ہیں ۔ “ فِي ذَلِكَیعنی اس میں ، اس سے مراد عدت کے دوران میں انتظار اور تربص کے زمانے میں ۔ بشرطیکہ تعلقات زوجیت کو نئے سرے سے اختیار کرنے کا اراہ ہو محض عورت کو اذیت دینا مقصود نہ ہو ، محض انتقام لینے کی خاطر اسے ایسی زندگی کی طرف لوٹانا مقصود نہ ہو ، جس میں کانٹے ہی کانٹے ہوں ۔ یا محض غرور کی خاطر یہ رجوع نہ ہو ۔ یا محض اس لئے نہ ہو کہ اگر میں نے رجوع نہ کیا تو اسے کوئی دوسرا خاوند نکاح میں لے لے گا ، جو میرے لئے شرم کی بات ہے : وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ” عورتوں کے لئے بھی معروف طریقے پر وہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں ۔ “ یعنی اس حالت میں مطلقات کے لئے ایسے حقوق ہیں جس طرح ان پر واجبات ہیں وہ مکلف ہیں کے دوران عدت میں اپنے آپ کو روکے ہوں ، ان کے رحموں میں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ خلق فرمایا ہے اسے چھپائیں نہیں ۔ خاوند کا فرض ہے کہ اگر وہ رجوع کرتا ہے تو خالص نیت سے ہو ، اس سے عورتوں کو تکلیف دینا مقصود نہ ہو ، نہ اذیت دینا ہو ، اس پر مزید یہ کہ دوران عدت نان ونفقہ کی بھی حق دار ہوں گی جیسا کہ عنقریب بیان ہوگا ۔ اس لئے کہ وہ ازروئے قانون کی رو سے ہوئی ہیں ۔ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ” البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ “ اس درجہ سے مراد یہ ہے کہ مردوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دوران عدت اگر چاہیں تو مطلقہ عورت کو دوبارہ اپنی زوجیت میں لوٹاسکتے ہیں۔ یہ حق اللہ تعالیٰ نے مرد کو اس لئے دیا ہے کہ طلاق کا حق مرد کا ہے ۔ بعض لوگوں نے اس فقرے سے یہ مفہوم لیا ہے کہ عمومی طور پر مردوں کو عورتوں پر برتری حاصل ہے ۔ یہ حضرات اس سے مراد یہ نہیں لیتے کہ صرف مرد کو حق مراجعت حاصل ہے چانچہ وہ حق مراجعت عورت کو بھی دیتے ہیں کہ عورت کو بھی اختیار ہے کہ وہ واپس چلی آئے اور مرد کو اپنی زوجیت میں لے لے ، لیکن ان حضرات کا یہ استدلال نہایت ہی سقیم ، بےمحل اور بےموقع ہے ۔ یہ حق ، حق طلاق کے ساتھ وابستہ ہے اور صرف مرد ہی کو حاصل ہے ۔ اب آخری تبصرہ اور نتیجہ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے۔ “ یعنی اللہ قوت اور اقتدار اعلیٰ کا مالک ہے ۔ لہٰذا وہ ہر قسم کا حکم نافذ کرنے کا مجا زہے ۔ اور پھر یہ کہ حکیم ودانا ہے ۔ اس کے احکام بھی حکیمانہ ہیں ۔ اس آخری تبصرے کا اثر یہ ہے کہہ مختلف وجوہات اور مختلف حالات سے متاثر ہوکر تم اللہ کے احکام سے منحرف نہ ہوجاؤ ، انہیں پس پشت نہ ڈال دو ۔ اب آنے والا حکم طلاقوں کی تعداد کی تحدید کے بارے میں ہے ۔ یہ کہ مطلقہ کو یہ حق ہے کہ وہ پورا مہر حاصل کرے ۔ یہ حرام ہے کہ وہ مرد طلاق کے وقت اس سے کچھ لے سکتا ہے ۔ ہاں ایک صورت ایسی ہے جس میں مرد کو حق ہے کہ وہ اگر چاہے تو واپس لے سکتا ہے ۔ اگر صورتحال یہ ہو کہ عورت کو مرد سے سخت نفرت ہو ، اور وہ اس کے ساتھ حدود الٰہی کی پابندی کرتے ہوئے زندگی گزارنے کے اہل نہ ہو ، خطرہ ہو کہ وہ کسی معصیت میں مبتلاہوجائے یعنی خلع کی وہ حالت جس میں عورت ، فدیہ کے بدلے اپنی آزادی خریدنا چاہتی ہو۔ اس صورت میں مرد کو حق ہے کہ وہ کچھ لے لے ۔

البقرة 2:229

وہ طلاق جن کے بعد ، فریقین ازدواجی زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں دو ہیں ۔ اگر خاوند ان دو سے بھی آگے بڑھ جائے تو پھر ان کے درمیان زادواجی تعلقات صرف اس صورت میں قائم ہوسکتے ہیں ، جس کی تشریح اگلی آیات میں آرہی ہے ۔ یعنی یہ کہ پہلے وہ کسی دوسرے خاوند سے جدا ہوجائے ۔ صرف اس صورت میں پہلے خاوند کے لئے ، جس نے تین طلاقوں کا حق استعمال کرلیا تھا ، یہ جائز ہے کہ اس عورت سے دوبارنکاح کرے بشرطیکہ یہ عورت ازسر نو اس کے ساتھ نکاح کرنے پر راضی ہو۔ اس پابندی کے عائد ہونے کی وجہ کے بارے میں بعض روایات میں آتا ہے کہ اسلامی دور آغاز میں بھی (جاہلیت کی طرح) طلاقوں کی تعداد مقرر نہ تھی ۔ اور مرد کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ وہ ہر طلاق کے دوران عدت رجوع کرسکے ۔ چناچہ بعض لوگ اسی طرح طلاق دیتے ، پھر رجوع کرتے اور یوں ہی یہ سلسلہ چلتا رہتا ۔ اسلامی دور میں انصار میں سے ایک صاحب کی اپنی بیوی کے ساتھ ان بن ہوگئی ، اس نے بیوی سے کہا اللہ کی قسم نہ میں تجھے اپنے قریب چھوڑوں گا اور نہ ہی تجھے اپنے سے جدا کروں گا ۔ اس نے کہا کیونکر ہوگا ؟ اس نے کہا میں تجھے طلاق دوں گا ، لیکن جب عدت کا وقت قریب آئے گا تو میں رجوع کرلوں گا ۔ وہ پریشان ہوئی اور اس نے رسول اللہ ﷺ سے یہ شکا یت کی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ وحی آئی الطَّلاقُ مَرَّتَانِ ” طلاقیں دو ہیں۔ “ اللہ نے اسلامی نظام کے نزول احکام میں حکیمانہ پالیسی اختیار کی جب بھی کسی حکم کی ضرورت پڑی ، حکم نزال کردیا گیا۔ اور اس طرح بتدریج پورے احکام نازل ہوگئے ۔ اور اسلامی زندگی کے اصول مکمل کرلئے گئے ۔ اب جو کام رہ گیا تھا وہ جزوی اور نئے حالات پر ان اصولی احکام کی تطبیق کا تھا کہ اصول کی روشنی میں جزئیات کے حل معلوم کئے جائیں۔ اس پابندی کے نتیجے میں طلاقوں کی تعداد محدود ہوگئی ۔ اب وہ سابقہ صورت حال باقی نہ رہی کہ خاوند مسلسل طلاق دیتا جائے اور اس کو بازیچہ اطفال بنادے ۔ اب طریق کار یہ ہوگیا کہ جب مرد عورت کو ایک مرتبہ طلاق دے دے تو وہ دوران عدت کسی قانونی پیچیدگی کے بغیر اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے ۔ اور اگر یوں ہی عدت گزرجائے تو عورت جدا ہوجائے گی جسے فقہ میں ” بائنہ “ کہتے ہیں ۔ اب بھی عدت کا عرصہ گزرجانے کے بعد وہ محض رجوع سے واپس نہیں لے سکتا ۔ بلکہ اسے ایک نئے نکاح کے ذریعہ ، اور ایک نیا مہر مقرر کرکے عورت کی رضا سے اسے واپس نکاح میں لانا ہوگا ۔ ایک طلاق کے بعد مرد عورت کو دوران عدت میں واپس لے لے ، رجوع کرکے یا عدت گزرنے کے بعد وہ نکاح تازہ کرلے اور جدید مہر کے ساتھ عورت کو واپس کرلے دونوں صورتیں جائز ہیں۔ اس کے بعد اگر دوسری مرتبہ یہ خاوند پھر اسے ایک طلاق دے دیتا ہے تو بھی اسے یہی حق حاصل ہوگا۔ یعنی دوران عدت میں رجوع اور بعد از عدت نکاح جدید ۔ لیکن اگر وہ تیسری مرتبہ طلاق دے دے تو اس صورت میں یہ عورت اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوجائے گی ۔ فقہی اصطلاح میں اسے عظیم جدائی (بینونت کبریٰ ) کہتے ہیں ۔ تیسری مرتبہ طلاق دیتے ہی عورت بائن ہوجائے گی یعنی جدا تصور ہوگی ۔ اب یہ مرد دوران عدت رجوع کا حق استعمال نہیں کرسکتا ، نہ وہ نکاح جدید کرسکتا ہے ۔ الایہ کہ اس عورت کا نکاح کسی دوسرے مرد سے ہوجائے اور یہ دوسرا خاوند اپنی ازدواج زندگی کے دوران اسے طلاق دے دے ، پھر رجوع نہ کرے یا یہ دوسرا خاوند بھی تین طلاقوں کا حق استعمال کرے اور عورت ہمیشہ کے لئے جدا ہوجائے تو پھر پہلے مرد کے لئے جائز ہے کہ وہ اس عورت کو اپنے نکاح میں لے لے ۔ لیکن یہ سب کام اپنی قدرتی رفتار سے ہونا چاہئے۔ پہلی طلاق ایک کسوٹی اور ایک معیار ہے جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں ۔ دوسری طلاق دوبارہ آزمائش اور ایک آخری تجربہ ہے ۔ دوسری طلاق کے بعد اگر زندگی کی گاڑی چل پڑے تو فبہا ورنہ تیسری طلاق اس بات کا بین ثبوت فراہم کردیتی ہے کہ زوجین کے درمیان طبائع اور مزاجوں کا اختلاف بہت ہی بنیادی نوعیت کا ہے اور ناقابل اصلاح ہے۔ بہرحال طلاق بھی ایک آخری علاج ہے ۔ کوششوں کے بعد بھی اگر فریقین کے درمیان مصالحت کا کوئی امکان نہ رہے تو پھر یہی بہتر ہے کہ دائمی جدائی ہوجائے ۔ اگر دوطلاقیں ہوجائیں تو پھر بیوی کو یا تو معروف طریقے سے رکھنا ہے اور نرمی و محبت کا نئے سرے سے آغاز کرنا ہے اور پا پھر بھلے انداز میں حسن و خوبی کے ساتھ ، احسان کے ساتھ ، شرافت کے ساتھ اس کو رخصت کردینا ہے ، یعنی تیسری مرتبہ طلاق دے کر ، جس کے بعد عورت کو پھر زندگی کی نئی لائن اختیار کرنی ہوتی ہے ۔ یہ ہے حقیقت پسندانہ قانون سازی ، جو انسان کے حقیقی واخلاقی زندگی کو سامنے رکھ کر کی گئی ہے ۔ اور جو عائلی زندگی کے پیچیدہ مسائل کا بہترین اور عملی (Paractical) حل پیش کرتی ہے ۔ اس قانون سازی میں ایسی شدت بھی نہیں ہے جو مفید نہ ہو ، انسان کو ایسے اخلاقی نظام میں ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتی جو اس کی جبلت سے متصادم ہو ، نہ یہ قانون سازی انسان اور اس کی قوتوں کو مہمل چھوڑنے پر اصرار کرتی ہے ، اگر یہ اسے یوں ہی چھوڑدیتے ہیں کوئی فائدہ نہ ہو۔ ازدواجی زندگی کے دوران مرد نے عورت کو جو مہر دیا ہے ، یا اس پر مختلف قسم کے جو اخراجات کئے ہیں ، مرد کے لئے جائز نہیں ہے کہ تیسری مرتبہ طلاق کے بعد ، وہ اس سے کوئی چیز واپس لینے کا حق دار بن جاتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ عورت کو ذاتی اسباب کی بناپر ذاتی جذبات اور بمقتضائے طبیعت مرد ناپسند ہو اور عورت یہ محسوس کرتی ہو کہ اس نفرت اور کراہت کی وجہ سے وہ اس خاوند کے ساتھ حدودالٰہی کی پابندی کرتے ہوئے زندگی بسر نہیں کرسکتی ۔ وہ اس قابل نہیں ہے کہ اس کے ساتھ حسن معاشرت سے پیش آئے ۔ اس کے ادب کا خیال رکھے یا اس کی عزت وآبرو بچائے اور عفیفانہ زندگی بسر کرسکے تو ایسے حالات میں عورت کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ مرد سے طلاق طلب کرے ۔ اس صورت میں یہ عورت چونکہ محض ذاتی وجوہات کی بناپر اس مرد کے جذبات مجروح کرتی ہے اور اس کے خاندان اور گھر کو خراب کررہی ہے ۔ اور اس میں بیچارے مرد کا کوئی ذاتی قصور نہیں ہے ۔ اس لئے اس عورت کا فرض ہے وہ مہر واپس کردے ۔ یہ محض اس لئے کہ عورت اللہ کی معصیت سے بچے ، اس کی حدود توڑنے کا موقع اسے نہ ملے ، اور نہ اپنے نفس پر اور نہ دوسروں پر مصیبت لانے کے مواقع پیدا ہوں۔ یہ ہے اسلامی نظام زندگی ، جس میں لوگوں کو پیش آنے والے تمام واقعی حالات زندگی کی رعایت کی گئی ہے ۔ اس میں انسانی جذبات اور فطری پسند وناپسند کا بھی خاطر خواہ لحاظ رکھا گیا ہے ، جن پر خود انسان کو کنٹرول نہ ہو ، بیوی کو بھی مجبور نہیں کیا گیا کہ وہ اپنی پوری زندگی ایک ایسے شخص کے ساتھ بسر کردے جسے وہ پسند ہی نہیں کرتی ، اس سے طبعاً متنفر ہے ، اور ساتھ ہی مرد کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کرتی ۔ جس میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ اس طبعی نفرت اور مزاج کی ناہمواری کے پیدا کرنے میں اس کا کوئی قصور نہیں ہے ۔ اس آیت کی اہمیت اور اس کے دوررس نتائج تک پہنچنے کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم قارئین کے سامنے وہ واقعی حالات بھی رکھ دیں جن حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بنایا اور اسے نافذ کیا گیا۔ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے اس ربانی نظام زندگی میں کس حقیقت پسندی ، کس دقت نظری ، کس میانہ روی اور عدل و انصاف کے کس اونچے معیار کو پیش نظررکھا گیا ہے ۔ امام مالک (رح) نے اپنی مشہور کتاب مؤطا میں روایت کی ہے کہ حبیبہ بنت سہل انصاری ، ثابت ابن قیس ابن شماس کی بیوی تھیں ۔ رسول اللہ ﷺ صبح اندھیرے منہ گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ صبح کی تاریکی میں حبیبہ کھڑی ہیں ۔ رسول ﷺ نے فرمایا کون ہوسکتی ہیں یہ ؟ کہنے لگی میں حبیبہ بنت سہیل ہوں جناب ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ! ایسے وقت میں کیسے ؟ کہنے لگی اللہ کے رسول ﷺ میں کسی صورت میں بھی ثابت ابن قیس کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔ اس کے بعد ثابت بن قیس بلائے گئے تو رسول ﷺ نے فرمایا ! ثابت ، یہ حبیبہ ہے اس نے میرے سامنے تمہارے بارے میں وہ باتیں کی ہیں جو اللہ کو منظور ہوں گی۔ اس پر حبیبہ نے کہا اللہ کے رسول ﷺ ” اس نے مجھے جو کچھ دیا ہے وہ میرے پاس محفوظ ہے۔ “ اس پر رسول ﷺ نے ثابت سے کہا اس سے لے لو چناچہ اس نے وہ سب کچھ لے لیا اور حبیبہ اپنے اہل خاندان کے پاس چلی گئی۔ امام بخاری (رح) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ ثابت ابن قیس ابن شماس کی بیوی رسول ﷺ کے پاس آئیں ۔ کہنے لگیں میں اس کسی بےدینی وبداخلاقی کا الزام نہیں لگاتی ۔ لیکن میں نہیں چاہتی کہ ہم مسلمان ہوکر کفر کا ارتکاب کریں۔ رسول ﷺ نے فرمایا !” کیا تم اس باغ کو واپس کردو گی جو اس نے تمہیں (بطورمہر) دیا ہے ؟ “ اس نے کہا :” ہاں “ رسول ﷺ نے فرمایا :” ثابت ! اپنا باغ واپس لے لو اور اسے ایک طلاق دے دو ۔ “ ایک دوسری روایت میں ذرا زیادہ تفصیل آئی ہے ۔ ابن جریر (رح) نے نقل کیا ہے کہ ابوجریر (رح) نے عکرمہ (رح) سے دریافت کیا : کیا خلع کی کوئی شرعی حقیقت ہے ؟ عکرمہ (رح) نے جواب دیا حضرت ابن عباس ؓ کہا کرتے تھے اسلام میں پہلا خلع عبداللہ ابن ابی کی بہن کا ہوا۔ وہ رسول ﷺ کے پاس آئیں اور کہا : اللہ کے رسول ﷺ ، میرا سر اس چیز کے سر کے ساتھ ہرگز جمع نہیں ہوسکتا ۔ میں نے پردے کا ایک کونا اٹھایا اور اسے چند آدمیوں کے درمیان آتے ہوئے دیکھا۔ وہ سب میں سیاہ رنگ تھا ، سب میں کوتاہ قد اور سب میں قبیح صورت تھا۔ “ اس پر اس کے خاوند نے کہا :” رسول ﷺ میں نے تو اسے بہترین جائیداد عطا کردی ہے ۔ ایک ہی باغ تھا میرا جو میں نے اسے دے دیا ہے کیا وہ میرا باغ واپس کردے گی ؟ “ رسول ﷺ نے عورت سے دریافت کیا تمہاری رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا : ہاں اگر وہ چاہتا ہے تو میں اسے واپس کردوں گا۔” ابن عباس کہتے ہیں :” اس پر رسول ﷺ نے دونوں کے درمیان تفریق کرادی۔ “ ان تمام روایات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیا نفسیاتی صورت حال تھی ، جو رسول ﷺ کے سامنے آئی۔ رسول ﷺ نے اس صورتحال کو اس طرح قبول کرلیا کہ یہ کیس ناقابل علاج ہے ۔ تشدد اور سختی سے اس کا علاج ممکن نہیں ہے اور نہ اس میں ازدواجی زندگی میں کوئی مفید مثال قائم ہوسکتی ہے ۔ کہ عورت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایسی تلخ معاشرت پر مجبور کرکے رکھ دیا جائے۔ اس لئے رسول ﷺ نے اس صورت حال کا اصل اسلامی نظام زندگی کے مطابق ، اسلامی منہاج کے مطابق ، پیش کردیا جو بےحد عملی ہے ۔ واضح ہے ۔ حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہو ، کہ اس نفس کے اندر کیا جذبات کام کررہے ہیں ۔ کیا رجحانات ہیں ۔ پھر ایسی تمام صورتوں میں سنجیدہ طرز عمل یا طفلانہ طرزعمل ، اور سچائی کی راہ یا فریب کاری کی راہ اختیار کرنے کے لئے واحد نگراں صرف اللہ خوفی اور اس کی پکڑ کا ڈر ہی ہوسکتا تھا ، اس لئے ان احکام کے خاتمہ پر تنبیہ کردی گئی کہ یہ ہیں اللہ کی حدود ۔ ان سے تجاوز مت کرنا۔ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ، ان سے تجاوز نہ کرو اور جو حدود الٰہی سے تجاوز کریں ، وہی ظالم ہیں۔ “ یہاں تھوڑی دیر کے لئے رکیے ! یہاں ہمارے سامنے قرآن مجید نے ایک ہی مضمون کو مختلف حالات میں مختلف انداز میں بیان کیا ہے ۔ مضمون ایک ، حالات مختلف ، اس لئے انداز بیان اور ۔ اس صورت میں روزے پر بحث کرتے ہوئے آخر میں یہ تنبیہ فرمائی گئی تھی تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَقْرَبُوهَا ” یہ اللہ کی حدیں ہیں ، ان کے قریب مت پھٹکو اور یہاں یہ کہا گیا ہے ۔ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَعْتَدُوهَا ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو۔ “ سوال یہ ہے کہ انداز میں یہ اختلاف کیوں ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ سابقہ مقام ایسا تھا ، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی چیزوں سے روکا تھا ، جو طبعاً سخت ناپسندیدہ ہیں بلکہ ایک مادہ پرست کے لئے خلاصہ حیات ہیں وہاں فرمایا گیا تھا : ” تمہارے لئے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا ہے ۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کررہے تھے ۔ مگر اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لطف اللہ نے تمہارے لئے جائز کردیا ہے اسے حاصل کرو ۔ نیز راتوں کو کھاؤ پیو یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدہ صبح کی دھاری سے نمایاں نظر آجائے۔ تب یہ سب کام چھوڑ کر اپنا روزہ پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو تو بیوی سے مباشرت نہ کرو ۔ یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ، ان کے قریب نہ پھٹکنا ۔ “ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلا تَقْرَبُوهَا ان آیات میں جن چیزوں کی ممانعت کردی گئی ہے ، وہ سب ایسی ہیں کہ انسان ازروئے طبیعت انہیں بےحد چاہتا ہے ۔ اس لئے یہاں حکم دیا گیا کہ ان کے قریب نہ پھٹکنا ، قریب ہی نہ ہونا ، انسان ضعیف ہے ، ہوسکتا ہے کہ ان چیزوں کی جاذبیت کا مقابلہ نہ کرسکے اور ان میں مبتلا ہوجائے ، ان کے پھندے میں بس کہیں پھنس ہی نہ جائے ۔ اب یہاں سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی چیزوں سے منع کیا گیا ہے جو بذات خود ناپسندیدہ ہیں ۔ گھریلو اختلافات ، جھگڑے بذات خود ناپسندیدہ ہیں ۔ یہاں خطرہ اس بات کا نہیں ہے کہ کوئی لڑائی جھگڑے کا شوق کرے ، بلکہ خطرہ اس بات کا ہے کہ بامر مجبوری اگر کوئی مبتلا ہو ہی جائے تو اس میں حدود سے تجاوز نہ کرے ۔ معقول حدود میں رہے ، حدیں توڑ ہی نہ دے۔ اس لئے یہاں حکم یہ نہیں دیا گیا کہ قریب ہی مت جاؤ بلکہ یہ حکم دیا گیا کہ حدود سے آگے نہ بڑھو۔ انداز بیان میں یہ لطیف فرق اس لئے ہوا ہے کہ موقع ومحل میں اختلاف ہے ۔ دونوں مواقع ومحل کے اس قدر لطیف فرق میں بالکل جدا ہیں ۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ وہ موقع ومحل کے اس قدر لطیف فرق میں بھی انداز بیان مختلف اختیار کرتا ہے۔ احکام طلاق کا سلسلہ جاری ہے ۔ چلتے جائیے :

البقرة 2:230

جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں ، تیسری بار طلاق اس بات کی دلیل ہے کہ میاں بیوی کے یہاں بنیادی اختلاف موجود ہے ۔ اس قدر گہرا کہ اصلاح کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ تو اس صورت میں مناسب یہی ہے کہ میاں بیوی کو ہمیشہ کے لئے جدا کردیا جائے اور ہر ایک کو آزاد کردیا جائے کہ وہ اپنے لئے جدید رفیق حیات تلاش کریں اور ازسر نو عائلی زندگی کا آغاز کریں۔ اور اگر خاوند محض ژاوہ گوئی ، جلد بازی اور کبر و غرور کی وجہ سے یہ طلاقیں دے رہا ہو تو پھر بھی تیسری طلاق دینے کو نافذ کردیا گیا ہے ۔ اس لئے کہ اس نازک معاملے میں ژاوہ گوئی کے لئے بھی کوئی حد ہونی چاہئے ۔ اس لئے طلاق کی گنجائش اس لئے نہیں رکھی گئی کہ اسے مذاق بنادیا جائے ۔ یہ تو اس لئے مقرر ہوئی ہے کہ بعض قابل علاج اور ناقابل اصلاح کیسوں میں اسے استعمال کرنا چاہئے ۔ اس لئے ایسے جوڑے کو بھی علیحدہ کردینا چاہئے جس کے دل میں اس مقدس عقد کا کوئی احترام اور اس کا تقدس نہیں ہے ۔ اور خاوند بار بار طلاق کو استعمال کررہا ہے اور اس معاملے میں کوئی احتیاط نہیں کرتا۔ یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ ایک غیر ذمہ دار خاوند کی جانب سے لفظ طلاق کے نتیجے میں ایک بےگناہ عورت کا امن و سکون کیوں تباہ کیا جاتا ہے ۔ اس کی زندگی کو کیوں خطرے میں ڈالا جارہا ہے ؟ جواب یہ ہے کہ انسانی معاشرے میں فی الحقیقت ایسے واقعات سے دوچار ہوتے ہیں ، جن کا علاج ضروری ہوتا ہے ، ایسے قضیے ہوتے ہیں جن کا فیصلہ ضروری ہے ، قانون سازی ضروری ہے ۔ اگر ہم یہ علاج نہ کریں جو قرآن کریم نے بتایا جو قرآن کریم نے بتایا ، اس قانون پر فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے دیا ہے تو بتائیے کیا کریں ۔ کیا ہم اس عورت کو اس مرد پر ٹھونس دیں لو یہ تمہاری بیوی ہے ، تم چاہو نہ چاہو ، یہ تمہاری بیوی ہے ۔ تم سو بار طلاق دو ہم تمہاری طلاق کو تسلیم نہیں کرتے ۔ تمہاری طلاق بےاثر ہے ، حالانکہ اس شخص کے دل میں بیوی کا کوئی احترام نہیں ہے ۔ اس کے ذرہ بھر محبت نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت کے لئے اس سے بڑی اہانت اور کیا ہوسکتی ہے ؟ ازدواجی تعلقات کی اس سے زیادہ اور تذلیل کیا ہوسکتی ہے ؟ اسلام میں عورت کا احترام ضروری ہے ۔ مردوزن کے باہمی تعلقات کو اسلام مقدس رشتہ سمجھتا ہے ۔ اس رشتے کو محض رشتہ تلذز ہی نہیں سمجھتا بلکہ اسے فریضہ حیات اور اللہ کی عبادت اور بندگی کا درجہ دیتا ہے۔ وہ خاوند جو طلاق کو ایک مذاق بنا دیتا ہے تو اگر اس نے ایک طلاق دی ہے یا دوسری طلاق دی ہے اور قبل از رجوع عورت بائن ہوگئی ہے ، جدا ہوگئی ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اگر وہ دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہے تو اس عورت کو دوبارہ راضی کرے گا ۔ نکاح ہوگا اور اسے مہر ادا کرنا ہوگا۔ اور اگر وہ تیسری طلاق دیتا ہے تو پھر اس کی یہ سزا ہے کہ وہ عورت اس پر حرام ہوگئی ہے مکمل حرام اگرچہ اب یہ پشیمان ہوجائے ۔ اب اس عورت کی دوسری شادی اور اس میں بھی ناکامی سے قبل یہ اس کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتا ۔ مزید یہ کہ مہر بھی اسے دینا پڑے گا اور جو کچھ عورت کو دیا ہے اس کی واپسی سے بھی یہ محروم ہوگا۔ ہر حال میں اسے دوران عدت نفقہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہم انسانی نفسیات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں ۔ انسان کی زندگی کے عملی پہلوؤں پر غور کریں ۔ ہمیں ایسی تخیلاتی دنیا میں نہیں ٹھہرنا چاہئے چاہے جس کا عملی وجود ، اس کرہ ارض پر نہ ہو ، انسان کی عملی زندگی میں وہ خیالی تصور قابل عمل نہ ہو۔ اب اگر یہ عورت تیسری طلاق کے بعد ، جیسا کہ قدرتی طور پر ہوتا ہے ، دوسرے خاوند سے شادی کرلیتی ہے اور یہ دوسرا خاوند بھی اتفاقًا اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے ، تو پھر یہ بیوی اور اس کا پہلا خاوند اگر چاہیں تو دوبارہ معاہدہ نکاح کرسکتے ہیں ، اب ان کے لئے کوئی ممانعت نہیں ہے ۔ صرف یہ شرط ہے (قانونی نہیں ) اخلاقی اور ایمانی شرط ہے۔ إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ ” اگر ان دونوں کا خیال یہ ہو کہ وہ حدود الٰہی پر قائم رہ سکیں گے۔ “ اور ویسا معاملہ نہ ہوگا جس طرح پہلے ہوا۔ کیونکہ اسلام میں رشتہ نکاح محض خواہش نفس کی پیروی کا نام نہیں ہے۔ یہ محض داعیہ شہوت کی تشفی کے لئے کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ اور اسلامی معاشرہ میں میاں بیوی کو اس آزاد نہیں چھوڑدیا گیا کہ بس وہ آزاد شہوت رانی کریں ، جب چاہیں نکاح کرلیں ، جب چاہیں ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں ۔ ان کو حدود الٰہی کی پابندی کرنی ہوگی ۔ اسلام کا نظام ازدواج تو حیات انسانی کی شیرازہ بندی ہے ، زندگی کے لئے ایک فریم ہے ۔ اگر زندگی اس فریم سے باہر نکل آئے تو وہ زندگی اللہ کو مطلوب نہیں ہے۔ وہ اللہ کو پسند نہیں ہے۔ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ” یہ اللہ کی مقررکردہ حدیں ہیں جنہیں وہ ان لوگوں کی ہدایت کے لئے واضح کررہا ہے ۔ جو (اس کی حدوں کو توڑنے کا انجام ) جانتے ہیں۔ “ اپنے بندوں پر اللہ کی یہ عظیم رحمت ہے کہ اس نے اپنی حدیں کھول کر بیان فرمادی ہیں ۔ ان میں کوئی شبہ اور کوئی پیچیدگی نہیں چھوڑی گئی ۔ ان سب کو واضح کردیا گیا ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو جانتے ہیں ، جو قدر کرتے ہیں جو لوگ ان حدوں کو صحیح طرح جانتے ہیں وہ ان حدود پر جاکر رک جاتے ہیں ۔ اگر وہ ان حدود کو پار کرجائیں تو آگے قابل مذمت جاہلی دنیا ہے ۔ اور اندھی جاہلیت ہے ۔ اب ان مردو کو ہدایات دی جارہی ہیں جو طلاق کا حق استعمال کرتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ تم مطلقہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ شریفانہ رویہ اختیارکرو اور طلاق کے متصلاً بعد کے تلخ دور میں بھی معروف طریقے کے مطابق حسن سلوک کا رویہ اختیار کرو

البقرة 2:231

زندگی کے رشتے کٹ رہے ہوں یا جڑ رہے ہوں ، ہر صورت میں اسلام یہ ہدایات دیتا ہے کہ احسان ، حسن سلوک اور معروف و مستحسن طرز عمل کو فضا پر غالب رہنا چاہئے۔ اگر رشتے ٹوٹ رہے ہوں تو نیت یہ نہ ہو کہ فریق مخالف کو اذیت دی جائے ، اسے بطور پالیسی دکھ پہنچایا جائے ۔ جدائی اور طلاق کی فضا میں نفوس اور مزاج ایک دوسرے سے کھنچے رہتے ہیں ، ایسے حالات میں حسن سلوک کا یہ اعلیٰ وارفع معیار صرف اس صورت میں قائم کیا جاسکتا ہے کہ اس کی اساس کسی ایسے اصول پر رکھی گئی ہو جو اس دنیاوی زندگی کے حالات سے بلند تر ہو ۔ ایسا اصول جو دلوں سے حسد اور بغض اور کینہ نکال دے ، زندگی کے آفاق کو وسیع تر کردے ، زندگی کو موجود اور حاضر سے وسیع کرکے غیر موجود اور دوسرے جہاں کو وسیع کردے ۔ یہ اساس صرف اللہ پر ایمان کی اساس ہوسکتی ہے ۔ آخرت پر ایمان کی اساس ہوسکتی ہے ۔ یہ اساس ہوسکتی ہے کہ انسان انعامات الٰہی پر غور کرے ۔ جن میں سب سے بڑی نعمت ، نعمت ایمان ہے ۔ پھر اس نے ہر شخص کو قدر کے مطابق جو فراخی رزق دیا ہے اس پر غور کرے ۔ پھر ہر شخص کو جو صحت اور توانائی دی ہے ، اس پر غور کرے تو انسان کے سوچ کی سطح بلند ہوسکتی ہے ۔ پھر اللہ کا خوف دل میں موجود ہو ، اور یہ امید بھی ہو کہ جو ازدواجی زندگی ناکام ہوگئی ہے جو نقصانات و اخراجات ضائع ہوچکے ، ان کے عوض اللہ تعالیٰ نعم البدل عطا کرسکتا ہے ۔ غرض یہ ہے وہ اساس جسے وہ آیات پیش کررہی ہیں ، جن کا مقصد صرف یہ ہے کہ رشتہ کٹ رہا ہو یا جڑ رہا ہو ، ہر صورت میں ایثار ، بھلائی اور احسان کا رویہ اختیار کرنا چاہئے ۔ زمانہ جاہلیت میں عورت پر جو مظالم ممکن تھے ، ہوا کرتے تھے ۔ بچپن میں اس پر مظالم ہوتے تھے ، اسے زندہ درگور کردیا جاتا ، اگر زندہ دفن کرنے سے بچ جاتی تو وہ ذلت ، مشقت اور سخت اہانت کی زندگی بسر کرتی ۔ پھر جب وہ ازدواجی زندگی میں قدم رکھتی تو اسے مرد کے عام سامان اور مال کی طرح ایک مال ہی سمجھا جاتا ہے ۔ مال بھی اس درجے کا کہ اس مقابلے میں گھوڑے کی قیمت زیادہ ہوتی ۔ بہت زیادہ اگر ناچاقی کے نتیجے میں خاوند اسے طلاق دے دیتا تو یہ عضو معطل کی طرح پابند رہتی اور جب تک طلاق دینے والا خاوند رحم کھا کر اسے اجازت نہ دیتا وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرسکتی یا اس کے اہل خاندان غیرت میں آکر اسے بند کردے ۔ اور اگر طلاق دینے والا شخص پشیمان ہوکر رجوع کرنا چاہتا تو یہ لوگ اسے اس کے پاس واپس جانے سے روکتے۔ عمومی طور پر عورت کو حقارت آمیز نظروں سے دیکھا جاتا ۔ معاشرے میں اسے گھٹیا درجے کی شئے تصور کیا جاتا ۔ غرض عرب معاشرہ میں عورت کی وہی حیثیت تھی جس طرح اس دور کے دوسرے جاہل معاشروں میں عورت کی حیثیت تھی ۔ ایسے حالات میں اسلامی نظام کا نزول ہوتا ہے ۔ اب ریگستان عرب کی طوفانی اور گرم ہواؤں کے بجائے ۔ مصیبت زدہ عورت باد نسیم کے خوشگوار جھونکے محسوس کرتی ہے ، جس کے کچھ نمونے ان آیات میں دیکھے جاسکتے ہیں ۔ اب عورت کے بارے میں یہ نقطہ نظر دیا جاتا ہے کہ مرد و عورت دونوں ہی ایک ہی نفس سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ دونوں کا خالق ایک ہے ۔ ازدواجی تعلقات کو محض ذریعہ لذت کے بجائے عبادت اور احسان کا درجہ دیا گیا ۔ اسے فریضہ حیات کا درجہ دیا گیا۔ یہ اس وقت اور ایسے حالات میں دیا گیا جبکہ عورتوں کی کسی انجمن نے کوئی مطالبہ نہ کیا تھا ، نہ عورت اس وقت ان حقوق کی اہمیت سے واقف تھی ۔ نہ اس وقت عورت کے سرپرست مردوں نے عورت کے حقوق کے لئے کوئی مطالبہ کیا تھا ، نہ ایسا کوئی مطالبہ ان کے تصور ہی میں تھا ، یہ تو اللہ کی رحمت اور فضل کی ایک عام بارش تھی ، جس سے بیک وقت مرد اور عورت دونوں فیض یاب ہوئے اور پوری انسانیت اور انسانی زندگی کو سیراب کیا۔ وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ سَرِّحُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا ” اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آجائے ، تو بھلے طریقے سے انہیں روک لو ، یا بھلے طریقے سے رخصت کردو ۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہوگی۔ “ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّکا مفہوم یہ ہے کہ وہ میعاد جو گزشتہ آیت میں مقرر کی گئی ہے ، وہ پوری ہونے کو آجائے ۔ اگر عدت ختم ہونے کو آجائے تو پھر دو طریقے ہیں یا تو معروف طریقے سے ۔ اصلاح احوال کی نیت سے روک لو ، یعنی طلاق سے رجوع کرلو۔ امساک معروف کا یہی مفہوم ہے ۔ اگر اصلاح نیت سے روکنا مطلوب نہیں ہے تو پھر رجوع نہ کرو اور عدت پوری ہونے دو تاکہ عورت کی طلاق ، طلاق بائنہ ہوجائے ۔ یہ ہے معنی تسریح باحسان کا ۔ یعنی بغیر کسی قسم کی ایذارسانی کے ، بغیر فدیہ طلب کرنے کے اور بغیر کسی قسم کی جاہلانہ پابندی کے کہ وہ فلاں جگہ شادی نہ کرے گی یا فلاں حدود کے اندر شادی نہ کرے گی ۔ وَلا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا لِتَعْتَدُوا ” محض ستانے کی خاطر انہیں روکے نہ رکھنا۔ “ جیسا کہ ہم اوپر ایک انصاری کی روایت نقل کر آئے ہیں جس نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ نہ تو میں تمہیں زوجیت میں لوں گا اور نہ ہی تمہیں طلاق دوں گا ۔ یہ ہے برے طریقے سے روکے رکھنا۔ محض ستانے کے لئے روکے رکھنا ۔ اسلام ایسے روکنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس سلسلے میں ان آیات میں باربار نہیں آئی ہے ۔ یہ مکرر تاکید اس لئے ہے کہ اس وقت کی ععربی سوسائٹی میں یہ ظلم عام تھا۔ بلکہ یہ ظلم ہر اس سوسائٹی میں عام ہوسکتا ہے جسے اسلام نے مہذب نہ بنایا ہو اور جسے ایمان نے اونچا نہ کردیا ہو۔ یہاں اب قرآن مجید انسان کے فہم و شعور میں جوش پیدا کرتا ہے ، انسان کے جذبات شرم وحیا کو بیدار کرتا ہے ۔ اور ساتھ ساتھ انہیں اپنے برے انجام سے بھی ڈراتا ہے۔ یہ سب ذرائع محض اس لئے استعمال کئے جارہے ہیں کہ انسان کی زندگی سے جاہلیت کے آثار کو ایک ایک کرکے مٹادیا جائے اور اسے شرافت وعزت کے اس بلند مقام تک پہنچادیا جائے جہاں تک اسے اسلامی نظام زندگی ہاتھ پکڑ کرلے جانا چاہتا ہے۔ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ وَلا تَتَّخِذُوا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنَ الْكِتَابِ وَالْحِكْمَةِ يَعِظُكُمْ بِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ” اور جو ایسا کرے گا وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا ۔ اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے ۔ اور وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے ، اس کا احترام ملحوظ رکھو ۔ اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔ “ جو شخص عدت گزرنے والی عورت کو محض ستانے کے لئے یا اسے نقصان پہنچانے کے لئے روکے رکھتا ہے ، وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتا ہے۔ آخر یہ بیچاری عورت بھی تو بنت آدم ہے اور اس طرح اس کی بہن ہے ۔ اس کی جنس ہے ۔ اگر یہ اس پر ظلم کرتا ہے تو گویا خود اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے ۔ پھر وہ اپنی جان پر بھی ظلم کرتا ہے کہ وہ معصیت کرکے اسے مستوجب سزا رٹھہرارہا ہے ۔ اور راہ اطاعت اسے ہٹارہا ہے ۔ یہ ہے وہ پہلا احساس جو ان آیات میں لایا جارہا ہے۔ معاشرت اور طلاق کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جو آیات بیان کی ہیں وہ بین ہیں ، ظاہر ہیں ، اور بالکل سیدھی ہیں ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کی تنظیم صداقت اور سنجیدگی پر ہونا چاہئے ۔ کوئی شخص ان آیات کو کھیل نہ بنائے ، انہیں عورت کو محض تکلیف دینے اور اسے ایذاپہنچانے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ یہ رخصتیں تو اللہ تعالیٰ نے اس لئے دیں کہ معاشرتی زندگی امن وقرار کی جگہ بن جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے مرد کو رجوع کرنے کا حق اس لئے دیا ہے میاں بیوی کی شکر رنجی ختم ہوجائے اور ان کے درمیان ازدواجی زندگی کا از سر نو آغاز ہوجائے ۔ اس لئے نہیں کہ مرد اس حق کا ناجائزفائدہ اٹھاتے ہوئے اس عورت کو ایذا دینے اور اس پر تشدد کرنے کے لئے استعمال کرے ۔ اگر کوئی شخص اس حق کو اس مطلب کے لئے استعمال کرے گا تو وہ آیات الٰہی کا کھیل بنارہا ہے اور ان سے مذاق کررہا ہے ۔ یہ صورت حال ہمارے موجودہ جاہلی معاشرے میں بہت عام ہے ۔ لوگ فقہی رخصتوں اور فقہی مسائل کو آڑ بناکر ان کی بناپر دھوکہ ، ایذا رسانی اور شر و فساد کا کام کررہے ہیں ۔ نیز مرد کو جو طلاق اور جعت کا حق دیا گیا ہے ، اس سے بھی یہ لوگ بہت ہی غلط فائدہ اٹھاتے ہیں ، ہلاکت ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی آیات کا کھیل بناتے ہیں اور انہیں اپنی حیلہ سازیوں کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس سارے عمل میں انہیں شرم بھی نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ یہاں انسان کے جذبہ حیا اور اعتراف نعمت کو بیدار فرماتے ہیں۔ انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ ان پر اللہ نے جو انعام واکرام کیا ہے ذرا اس پر بھی غور کریں ۔ ان پر اس نے اپنی کتاب نازل فرمائی ، حکمت و دانائی کے ذخائر سے انہیں نوازا ۔ اس وقت کے اہل ایمان کو نعمت الٰہی کا یاددلانا ۔ دراصل اس عظیم انقلاب کی طرف ان کو متوجہ کرنا تھا ، جو ان کی پوری زندگی میں تحریک اسلامی کی وجہ سے رونما ہوگیا تھا۔ ان مسلمانوں کے لئے انعامات الٰہی کا یاد دلایا جانا ایک گہرے مفہوم کا حامل تھا۔ شاید آج کے لوگ اس کا اچھی طرح تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ اہل ایمان ، یہ محسوس کرتے تھے کہ انعامات الٰہی میں سے پہلاانعام ان پر یہ ہے کہ جو اس کرہ ارض پر ایک امت کی حیثیت سے موجود ہیں ، ذرا غور کریں کہ عرب اور اعراب اسلام کے آنے سے پہلے تھے کیا ؟ ان کی کیا حقیقت تھی ؟ ان کی کوئی قابل ذکر حیثیت نہ تھی ۔ ان کو دنیا نہ جانتی تھی اور نہ ہی دنیا عربوں کو کچھ سمجھتی تھی ۔ وہ قبائل کی شکل میں ٹکڑے ٹکرے تھے ۔ نہ ان کا کوئی وزن تھا اور نہ کوئی قیمت تھی۔ ان کے پاس کوئی پیغام نہ تھا کہ وہ یہ پیغام انسانیت کو دیتے اور یوں وہ پہچانے جاتے ۔ بلکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جو وہ خود استعمال کرتے اور دوسری اقوام سے کم ازکم بےنیاز تو ہوجاتے ۔ غرض وہ تہی دامن تھے ، کچھ بھی نہ تھا ان کے پاس ۔ نہ کوئی مادی چیز ان کے پاس تھی ، نہ کوئی معنوی چیز ، نہ مصنوعات اور نہ ہی نظریات ۔ وہ فقراء کی طرح غربت کی زندگی بسر کرتے تھے ۔ ایک قلیل تعداد ایسی تھی جنہیں خوشحال کہا جاسکتا تھا ، لیکن اسکی خوشحالی بھی ایسی تھی جیسے بدویانہ زندگی ہوتی ہے۔ مثلاً کوئی بدوی کسی ایسی جگہ خیمہ زن ہو جہاں زیادہ شکار ملتا ہو ، یعنی یہ خوشحالی بھی بہت سادہ اور ابتدائی قسم کی تھی ، جسے آج کی دنیا میں خوش حال بھی نہیں کہا جاسکتا۔ عقل ، روح اور ضمیر کے لحاظ سے وہ بالکل تہی دامن تھے ۔ عقائد بالکل مہمل ، بےہودہ اور بہت ہی سادہ قسم کے تھے ۔ زندگی کا تصور ان کے دماغ میں تھا ، وہ بالکل سادہ ، ابتدائی اور قبائلی قسم کا تھا ۔ ان کی زندگی کا ہم مشغلہ لوٹ مار اور ڈاکے ڈکیتی تک محدود تھا ۔ اس سے اگر زیادہ کوئی چیز تھی تو وہ یہ تھی کہ لوگ سخت منتقم المزاج تھے ۔ لہو ولعب ، شراب وکباب اور جوئے اور قمار کے دلدادہ تھے ۔ غرض زندگی کے ہر پہلو میں یہ لوگ بالکل ابتدائی حالت میں تھے۔ یہ تھا قعر مذلت جس میں عرب گرے ہوئے تھے اور یہ تھا اسلام جس نے اس سے انہیں نجات دلائی بلکہ انہیں از سرنو پیدا کیا ۔ نئی زندگی دی ۔ انہیں پیدا کیا اور عظیم وجود انہیں عطا کیا ۔ ایسا وجود جسے پوری انسانیت سے پہچانا ۔ اسلام نے انہیں ایک ایسا پیغام دیا ، جو انہوں نے پوری انسانیت کو عطا کیا ۔ یوں عرب بھی اس پیغام کی وجہ سے نامور ہوگئے ۔ اسلام نے ان کو ایک عظیم نظریہ حیات دیا ، مکمل نظریہ حیات ۔ اس نظریہ حیات نے اس کائنات کی وہ تشریح ، دل لگتی تشریح کی جو اس سے قبل کسی نظریہ حیات نے نہ کی تھی ۔ اس نظریہ حیات نے انہیں قیادت کا مقام عطا کیا اور انہوں نے انسانی تاریخ میں پوری انسانیت کی قیادت کی ۔ بہت اعلیٰ وارفع قیادت کی ۔ برادری اقوام میں ان کی کوئی حیثیت نہ تھی ۔ اس نظریہ حیات اور اس پیغام کی بدولت انہوں نے اقوام عالم کی صف میں ایک عالی مقام اور مرتبہ بلند حاصل کیا بلکہ ان کی شخصیت امور عالم میں ممتاز شخصیت بن گئی ۔ پھر اس نظریہ حیات نے انہیں ایک ایسی عظیم قوت کی شکل میں نمودار کیا کہ پوری دنیا اس قوت سے خائف ہوگئی اور اسے قابل قدر اہمیت دینے لگی ۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ عربوں کے اردگرد پھیلی شہنشاہیتوں کے خدام سمجھے جاتے تھے ۔ یا ایسی گری پڑی قوم اور بدوی قبائل سمجھے جاتے تھے ، جن کی طرف سرے سے کوئی متوجہ ہی ہوتا۔ اور پھر سب سے ممتاز چیز یہ کہ اس فقر کے مقابلے میں اسلام نے ان لوگوں کو عظیم دولت و ثروت سے نوازا۔ دولت کے دروازے ہر طرف سے کھل گئے اور تمام دنیا کی ثروت ان کے پاس جمع ہوگئی ۔ اور سب سے بڑی چیز یہ کہ اسلام نے امن وسلامتی دی ۔ نفس کی سلامتی ، گھر کا امن اور معاشرے کا سکوں دیاجس میں عیش و عشرت سے زندگی بسر کرنے لگے ۔ ان کے دل مطمئن ہوگئے ، ان کے شعور وضمیر میں فرحت آگئی اور جو نظام زندگی انہوں نے پایا وہ اس پر جم گئے ۔ اور انہیں وہ سربلندی دی ، وہ اونچا مقام دیا کہ جہاں سے وہ پوری انسانیت کے گم کردہ راہوں پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ جاہلیت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں راہ حیات گم کئے ہوئے ہیں اور ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور پوری دنیا کی یہی حالت ہے ۔ اس مقام بلند پر انہیں احساس ہوجاتا ہے کہ فی الواقعہ وہی اعلون ہیں ، وہی سربلند ہیں اور اللہ نے انہیں دولت دی ہے جس سے پوری آباد دنیا محروم ہے۔ ان حالات میں جب قرآن مجید اہل ایمان عربوں کو اپنے انعامات یاددلاتا ہے تو ان انعامات کی فہرست دینے یا اس دعوت تذکیر پر ان کو زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ خود ان کی پوری زندگی ہی انعامات الٰہیہ کی ایک نمونہ تھی ۔ وہی لوگ تھے جو جاہلیت کے زمانے میں ایک عرصے تک پس رہے تھے اور وہی ہیں جو اب اسلامی نظام حیات کی برکات سے لطف اندوز ہورہے تھے ۔ وہ اپنی آنکھوں سے اس عظیم انقلاب کا مشاہدہ کررہے تھے جس کے بارے میں انسان تصور بھی نہ کرسکتا تھا اور جو اسلام اور قرآن کا ایک زندہ معجزہ تھا ۔ وہ اللہ کی کتاب اور اس میں بیان کردہ حکیمانہ فلسفہ حیات کی صورت میں اس نعمت عظمیٰ کا یاد کیا ، دیکھ ہی رہے تھے وہ اس کا زندہ نمونہ تھے ۔ قرآن انہیں خطاب کرکے کہہ رہا تھا وَمَا أَنْزَلَ عَلَيْكُمْجو تم پر نازل کیا گیا ، انہیں مخاطب کرکے کہا گیا تم پر ، تاکہ وہ اس انعام کی عظمت کا شعور پیدا کرسکیں ۔ اس کی گہرائی تک پہنچ سکیں اور یہ دیکھ سکیں کہ یہ انعام الٰہی ان کے لئے ہے ، ان پر حاوی ہے اور ان کے ساتھ چمٹا ہوا ہے ۔ اللہ یہ آیات حکمت ان پر نازل کررہا ہے جو آیات اسلامی نظام زندگی کی تشریح وتکمیل کررہی ہیں اور مسلمانوں کا عائلی ضابطہ بھی اسی ربانی نظام کا ایک حصہ ہے ۔ اب ذرا آخری احساس دیکھئے ۔ آخری بار چٹکی بھری جاتی ہے۔ متنبہ کیا جاتا ہے کہ جاگو ، سوچو کہ اللہ تو علیم بذات الصدور ہے ۔ جانو کہ وہ جاننے والا ہے ، سنبھل کر رہو وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ” اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے ۔ “ حیا اور شکر کے بعد اب یہاں خوف اور خبرداری کے جذبات کو بیدار کیا جارہا ہے۔ یوں نفس انسانی کو ہر طرف سے گھیر کر اسے حسن سلوک ، مشفقانہ طرز عمل اور سچائی کا رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

البقرة 2:232

پھر مزید یہ کہ اگر ایک بیچاری کو تم نے طلاق دے دی ہے ، اپنی رفاقت کے لائق نہیں سمجھا تو اسے پابند نہ بناؤ ۔ اگر وہ عدت پوری کردیتی ہے تو اب اسے ہر طرح سے ، ہر طرف سے آزاد چھوڑ دو ۔ اگر وہ اس سابق خاوند کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا چاہتی ہے اور دونوں اس پر راضی ہوگئے ہیں تو تم اسے اپنی عزت کا مسئلہ نہ بناؤ اور اسے ایسا کرنے دو وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ ” اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں ، تو پھر اس میں مانع نہ ہو ، کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کرلیں ، جبکہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں۔ “ ترمذی میں معقل بن یسار سے روایت ہے کہ اس نے اپنی بہن کا نکاح مسلمانوں میں سے کسی سے کرادیا تھا۔ وہ اس کے پاس کچھ عرصہ رہی پھر اس نے اسے ایک طلاق دے دی لیکن رجوع نہ کیا اور عدت ختم ہوگئی ۔ اس کے بعد وہ اسے چاہنے لگا اور عورت اسے چاہنے لگی ۔ اب دوسرے پیغام دینے والوں کے ساتھ اس نے بھی دوبارہ اس کا پیغام دیا ۔ اس پر معقل نے اسے کہا : اے ذلیل بن ذلیل ، میں نے تجھے اپنی بہن دے کر تمہیں اعزاز بخشا ، تجھے نکاح کرکے دے دی لیکن تو نے اسے ناحق طلاق دے دی ۔ اللہ کی قسم ! اب وہ کبھی تمہارے پاس نہ لوٹے گی۔ اور قیامت تک ، معقل کہتا ہے : اللہ کو اس بات کا علم تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اس لئے یہ آیات نازل ہوئیں وَإِذَا طَلَّقْتُمُ................ لا تَعْلَمُونَجب معقل نے سنا کہ یہ آیات نازل ہوگئی ہیں تو اس نے کہا : میرا رب سنتا ہے ۔ میں مطیع فرمان ہو۔ اس کے بعد اس نے اس شخص کو بلایا اور کہا کہ میں تمہیں اپنی بہن نکاح کرکے دیتا ہوں اور میں تمہارا احترام کرتا ہوں۔ اللہ نے جان لیا کہ میاں بیوی دونوں صدق دل سے ازدواجی زندگی کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ۔ اور ایک دوسرے کی طرف مائل ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فوراً ہمدردانہ انداز میں ان کی خواہش کو قبول کرلیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں پر کس قدر شفقت و رحمت ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ کس نرمی چاہتا ہے ۔ جماعت مسلمہ کو کس قدر تربیت دی جارہی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کے زیر سایہ وہ مہذب انسان بن رہے ہیں اور اسلامی نظام کے زیر سایہ ان پر ربانی عنایات کی بارش ہورہی ہے ۔ زندگی کے پر موڑ پر ان کی بہترین راہنمائی کی جارہی ہے ۔ اس ممانعت اور تنبیہ کے بعد اب مسلمانوں کے ضمیر اور ان کے وجدان کو جگایا جارہا ہے ذَلِكَ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكُمْ أَزْكَى لَكُمْ وَأَطْهَرُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لا تَعْلَمُونَ ” تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا ، اگر تم اللہ اور روز آخرت پر ایمان لانے والے ہو ، تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے۔ اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ “ اللہ و رسول پر ایمان ہی وہ عامل ہے جس کی وجہ سے یہ نصیحت دلوں کی تہوں تک پہنچ جاتی ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب یہ دل اس دنیا سے زیادہ تر وسیع دنیا یعنی دار آخرت سے معلق ہوں۔ جب دلوں کی پسند وناپسند اللہ کی رضا کے تابع ہوجاتی ہے ۔ جب دلوں میں یہ شعور پیدا ہوجاتا ہے کہ اللہ ، جو طرزعمل اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے ، وہی اعلیٰ ہوتا ہے ، وہی شائستہ ہوتا ہے اور وہی پاکیزہ ہوتا ہے لہٰذا اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ اسے اپنائیں اور پاکیزگی اور شائستگی اختیار کریں ، اپنے لئے بھی اور اپنے پورے معاشرے کے لئے بھی ۔ آخر میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ جو ذات تمہارے لئے لائحہ عمل کا انتخاب کرتی ہے ، وہ ذات وہ ہے ، جو سب کچھ جانتی ہے لہٰذا تمہارا فرض ہے کہ تسلیم ورضا کی حالت میں اس کی ہر بات پر لبیک کہو۔ یو اللہ تعالیٰ عائلی زندگی کے ان چھوٹے چھوٹے معاملات کو بلند کرکے عبادت کے مقام تک پہنچادیتے ہیں ۔ ان معاملات کا تعلق بھی اللہ کی رسی سے ہوجاتا ہے۔ ان کو زمین کی آلودگیوں سے پاک کردیا جاتا ہے ۔ زندگی کی گندگیوں سے صاف کردیا جاتا ہے اور یہ معاملات اب محض دنیاوی کھینچاتانی یا محض خاندانی اور معاشرتی کشمکش نہیں رہتے جو بالعموم طلاق کے وقت ایک فضابن جاتی ہے ، بلکہ ان کو پاک کرکے خدائی تعلیم کے ساتھ وابستہ کردیا جاتا ہے۔ اگلا حکم طلاق کے بعد ، بچے کی پرورش اور دودھ پلانے کے بارے میں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات محض تکمیل طلاق سے میاں بیوی کے باہمی معاملات ختم نہیں ہوجاتے ۔ اکثر اوقات بچے رہ جاتے ہیں جن کی پرورش میں دونوں نے حصہ لیا ہوتا ہے ۔ جواب بھی دونوں کے لئے باہمی رابطے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ اگر والدین کی باہم نہیں نبھتی تو چھوٹے لوگوں کا قصور کیا ہے ؟ ان کے لئے تو مناسب اور تفصیلی گارنٹی ہونی چاہئے تاکہ وہ عملی زندگی میں قدم رکھنے کے قابل بن سکیں ، ایسی گارنٹی جو سب حالات میں ان کے لئے مفید ہو :

البقرة 2:233

مطلقہ والدہ ، اپنے بچوں کے بارے میں بالخصوص دودھ پینے والے بچوں کے بارے میں بری الذمہ نہیں ہے ۔ اس پر اس سلسلے میں فرائض عائد ہوتے ہیں ۔ یہ فرائض اللہ تعالیٰ کی جانب سے عائد ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عورت کو آزاد نہیں چھوڑدیا کیونکہ ایسے حالات میں ، اگر عورت کو ................ اپنی فطرت کے مطابق آزاد چھوڑدیا جائے تو کشیدہ تعلقات کی وجہ سے کوئی غلط فیصلہ بھی کرسکتی ہے اور اس غلط فیصلے کے نتیجے میں بچہ ضائع ہوسکتا ہے ، اسے نقصان پہنچ سکتا ہے ، چناچہ اللہ تعالیٰ یہاں بچوں کے لئے ضابطہ وضع فرماتے ہیں اور والدہ پر فرض کردیتے ہیں کہ وہ ایسے حالات میں کوئی ایسا رویہ اختیار نہ کرے جس سے بچے کو نقصان پہنچے ۔ اللہ ہم سے بھی ، ہمارے ساتھ زیادہ محبت ہے ۔ وہ سب سے زیادہ مہربان ہے بلکہ والدین سے بھی زیادہ رحیم وکریم ہے ۔ ماں کا فرض ہے کہ وہ پورے دو سال تک بچے کو دودھ پلائے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ اس بات سے واقف ہیں کہ اصول صحت کے لحاظ سے بچے کے لئے دو سال کے عرصہ تک دودھ پینا ضروری ہے ۔ صحت کے اصولوں کے لحاظ سے بھی اور نفسیاتی اصولوں کے اعتبار سے بھی لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ” جو لوگ پوری مدت رضاعت تک دودھ پلانا چاہیں۔ “ جدید اصول صحت اور جدید اصول نفسیات کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت اور نفسیات دونوں اعتبار سے بچے کو اپنی ماں کی گود میں ہونا ضروری ہے ۔ تاکہ دونوں لحاظ سے وہ صحیح نشوونما پاسکے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی نعمت نے اس وقت کا انتظار نہ کیا کہ مسلمان از خود ، اصول فطرت کے ان رازوں تک رسائی حاصل کریں اور پھر ان پر عمل پیرا ہوں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صدیوں تک بچوں کی قیمتی نسل کو انسان کی جہالت کے حوالے نہیں فرماسکتے تھے ۔ اللہ تو اپنے بندوں پر بےحد مہربان ہے ۔ بالخصوص ان چھوٹے اور بےبس بچوں پر تو وہ بہت مہربان ہے ۔ کیونکہ وہ اس کے رحم و شفقت کے زیادہ محتاج ہیں ۔ لیکن والدہ پر جو فرض عائد کیا گیا ہے ، اس کے مقابلے میں اسے حق بھی دیا گیا ہے اور یہ حق والد کے ذمہ ہے یہ کہ وہ والدہ کو معروف طریقے کے مطابق نفقہ اور لباس فراہم کرے ۔ اور اس کے ساتھ حسن سلوک کرے ، کیونکہ بچوں کے معاملے میں دونوں شریک ہیں ۔ اور دودھ پینے والے اس چھوٹے بچے کے مقابلے میں دونوں مسئول ہیں ، وہ اسے دودھ پلائے گی اور دیکھ بھال کرے گی اور والد اس کی ماں کو نفقہ اور لباس فراہم کرے گا ۔ دونوں اپنے فرائض ادا کریں گے۔ اپنی اپنی طاقت کی حدود میں۔ لا تُكَلَّفُ نَفْسٌ إِلا وُسْعَهَا ” کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالاجائے۔ “ اور یہ بھی مناسب نہیں ہے کہ والدین میں کوئی بھی اس بچے کو اذیت وانتقام کا وسیلہ بنائے لا تُضَارَّ وَالِدَةٌ بِوَلَدِهَا وَلا مَوْلُودٌ لَهُ بِوَلَدِهِ ” نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالاجائے کہ بچہ اس کا ہے ، نہ ہی باپ کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اس کا ہے ۔ “ ماں کو بچے سے بےحد محبت ہوتی ہے ۔ وہ بچے کے سوا زندہ نہیں رہ سکتی ۔ باپ کے لئے یہ مناسب نہیں کہ ماں کی محبت سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور اسے ایسی شرائط پر مجبور کردے جو معروف نہ ہوں۔ نہ ہی ماں کے لئے یہ مناسب ہے کہ وہ والد کی مجبوری اور اس کی محبت سے غلط فائدہ اٹھائے اور اس پر ایسا بوجھ ڈالے جو اس کی قوت برداشت سوے زیادہ ہو ، یا ضد میں آکر سرے سے انکار کردے۔ اگر والد فوت ہوجائے تو اس کے ورثاء پر یہی فرائض عائد ہوتے ہیں جو بچے کے والد پر عائد ہوتے ہیں ۔ وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ ” اور وارث پر بھی اس کے ورثاء کے ایسے ہی حقوق ہیں جس طرح والد پر ہیں ۔ “ وارث کا یہ فرض ہے کہ وہ دودھ پلانے والی کو خرچہ اور کپڑے دے ، معروف طریقے کے مطابق اور حسن سلوک کے ساتھ ۔ اس لئے معاشرہ کی اجتماعی ذمہ داریاں پوری کی جاسکیں ۔ ایک طرف میت کی میراث وارثوں کو ملے تو دوسری طرف میت کے ذمہ جو عائد فرائض ہیں وہ بھی وارثوں پر عائد ہوں۔ اس طرح اگر کبھی ایسا ہو کہ بچے کا والد فوت ہوجائے تو بچہ ضائع نہ ہو ۔ یوں اسلامی نظام میں ایسے بچے اور اس کی والدہ دونوں کے حقوق ہمیشہ کے لئے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ ان تمام احتیاطی تدابیر کے بعد اب قرآن مجید حالت رضاعت کی ایک دوسری صورت کی طرف متوجہ ہوتا ہے فَإِنْ أَرَادَا فِصَالا عَنْ تَرَاضٍ مِنْهُمَا وَتَشَاوُرٍ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا ” اگر فریقین باہمی رضامندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں ، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “ اگر والد اور والدہ یاوارث اور والدہ باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرلیں کہ دو سال کا عرصہ پورا ہونے سے پہلے ہی بچے کا دودھ چھڑا لیں ، اس لئے کہ اسی میں بچے کی مصلحت ہے ، مثلاً اصول صحت کے اعتبار سے یا اور کسی وجہ سے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بشرطیکہ یہ فیصلہ دونوں فریقوں کی رضامندی اور مشورے سے ہو۔ اور اس میں بچے کے لئے کوئی مصلحت ہو ، جس کی تربیت ان دونوں کے حوالہ سے ہے ، جس کی دیکھ بھال ان دونوں پر منجانب اللہ فرض ہے ۔ یہی حکم اس صورت میں ہے کہ والدہ کی خواہش یہ ہو کہ وہ اجرت پر کسی بچے کو کسی کا دودھ پلائے۔ بشرطیکہ بچے کا مفاد اس میں ہو ، بشرطیکہ وہ دودھ پلانے والی کو طے شدہ اجرت ادا کرے ۔ اور اس کے ساتھ بھی حسن سلوک اختیارکرکے ۔ وَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَسْتَرْضِعُوا أَوْلادَكُمْ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِذَا سَلَّمْتُمْ مَا آتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ ” اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ، بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کردو ، معروف طریقے سے ادا کرو۔ “ یہ ادائیگی اس بات کی ضمانت ہوگی کہ دودھ پلانے والی بچے کے ساتھ اچھا سلوک رکھے گی ۔ اس کی خدمت کرے گی اور اس کی ہر ضرورت کو پوری کرے گی ۔ اور آخر کار پھر اس سارے معاملہ کو اللہ کے ساتھ وابستہ کردیا جاتا ہے۔ تقویٰ کے ساتھ وابستہ کردیا جاتا ہے۔ اس گہرے اور لطیف شعور سے وابستہ کردیا جاتا ہے ، جو وہ کام کرسکتا ہے جو دوسرے ذرائع سے نہ کیا جاسکتا ہو یا نہ کرایا جاسکتا ہو وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ” اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ کام تم کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے۔ “ یہ ہے وہ آخری ضمانت ۔ پختہ گارنٹی اور یہی وہ آخری ضمانت ہے جو قابل اعتماد ہے ۔ مطلقات یعنی مطلقہ عورتوں کے بارے میں احکام بیان کرنے اور طلاق کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاملات کے بارے میں قانون سازی کے بعد ، اب اس عورت کا حکم بیان ہوتا ہے ، جس کا خاوند فوت ہوجائے ۔ اس کی عدت کا حکم ، عدت کے اختتام کے بعد اسے نکاح ثانی کی پیشکش دینے کے بارے میں اور دوران عدت کنایوں سے خواہش نکاح کرنے کے سلسلے میں احکام :

البقرة 2:234

دور جاہلیت میں ، جس عورت کا خاوند فوت ہوجاتا ، وہ بیچاری سخت مصیبت میں مبتلا ہوجاتی ۔ اہل خاندان ، مرد کے اہل خاندان اور پورا معاشرہ اس پر ظلم کرتا ۔ عربوں میں رواج یہ تھا کہ جب اس کا خاوند فوت ہوجاتا تو وہ ایک خستہ حال مکان میں چلی جاتی ، سب سے بےکار کپڑے پہن لیتی ۔ وہ ایک سال تک خوشبو نہ لگاسکتی اور نہ ہی زیب وزینت کا کوئی کام کرسکتی ۔ اس کے بعد یہ زمانہ جاہلیت چند جاہلانہ رسومات کی ادائیگی پر ختم ہوجاتا ، جو سب کی سب توہین آمیز اور گری ہوئی تھیں ۔ جیسا کہ جاہلیت کی دوسری رسومات ہوا کرتی تھیں ۔ مثلاً وہ اونٹ کی مینگنی لیتی اور اسے پھینکتی ۔ کسی سواری مثلاً گدھے یا بکری پر سوار ہوتی وغیرہ وغیرہ لیکن جب اسلام آیاتو اس نے اس بیچاری کو ان تمام مصیبتوں سے چھڑایا۔ اس کے کندھوں سے یہ تمام بوجھ اتاردیئے ۔ اس کے بعد وہ بیک وقت دومصیبتوں میں گرفتار نہ ہوتی ، ایک تو خاوند فوت ہوجائے اور دوسرے اہل خاندان اس کے ساتھ برا سلوک کریں۔ اس پر شریفانہ زندگی کے تمام دروازے بند کردیں اور مطمئن ہوکر عائلی زندگی گزارنے کے لئے آزاد نہ ہونے دیں ۔ اسلام نے اس کی عدت چار ماہ اور دس دن مقرر کئے بشرطیکہ حاملہ نہ ہو ، ورنہ اس کی عدت وضع حمل ہوگی ، یہ عدت مطلقہ کی عدت سے قدرے طویل ہے ۔ اس میں ایک طرف تو اس کا رحم صاف ہوگا ۔ یہ شبہ نہ رہے گا کہ سابق خاوند کے کچھ آثار اس میں ہیں ۔ اور چار ماہ دس دن کے انتظار میں یہ فائدہ بھی ہوگا کہ خاوند کے اہل خاندان کے جذبات بھی مجروح نہ ہوں گے ، کیونکہ ادہر خاوند فوت ہوا ، ادہر عورت دوسرے خاوند کی تلاش میں نکل پڑے تو خاوند کے اہل خاندان لازماً اسے محسوس کریں گے ۔ اس عدت کے دوران میں اچھے کپڑے زیب تن کرنے کی اجازت ہوگی ، البتہ وہ ایسے کپڑے نہ پہنے گی جن کی وجہ سے لوگ اسے نکاح ثانی کا پیغام دیں۔ اور جب عدت ختم ہوجائے تو اب وہ مکمل آزاد ہے ، اس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں ہے ، نہ اس کے اپنے خاندان کی طرف سے اور نہ ہی اس کے خاوند کے خاندان کی طرف سے۔ وہ معروف طریقے سے اپنے لئے جو شریفانہ رویہ اختیار کرنا چاہے ، قرآن وسنت کے مطابق وہ آزادانہ طور پر اپنے لئے اختیار کرسکتی ہے۔ مسلمان عورتوں کے لئے وہ زیب وزینت جائز ہے وہ اسے اختیار کرسکتی ہے وہ پیغام نکاح حصول کرسکتی ہے۔ وہ جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔ اب اس کی راہ میں کوئی جاہلی رسم رکاوٹ نہیں ہے ۔ اور نہ کوئی کھوٹا تکبر و غرور اسے روک سکتا ہے۔ اب اس پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی رقیب ونگراں نہیں ہے وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ” جو تم کام کرتے ہو اللہ اس سے خبردار ہے۔ “

البقرة 2:235

یہ تو تھی عورت ۔ اب اللہ تعالیٰ مردوں کو بھی ہدایات دیتے ہیں جو اس عورت کو نکاح میں لانا چاہتے ہیں ، لیکن وہ عدت گزاررہی ہے ۔ ان کو ایسی ہدایت دی جاتی ہے کہ جس میں ذاتی آداب ، اجتماعی آداب ، فریقین کے جذبات ومیلانات اور ایسے مرحلے کے مصالح اور تقاضوں سب کو ملحوظ رکھا گیا ہے : وَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُمْ بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ أَوْ أَكْنَنْتُمْ فِي أَنْفُسِكُمْ ” زمانہ عدت میں خواہ تم ان بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کردو ، خواہ وہ دل میں چھپائے رکھو ، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ “ دوران عدت عورت کے ساتھ ، میت کے خاندان کی کچھ ایسی یادیں وابستہ ہوتی ہیں ، جو ابھی تک زندہ ہوتی ہیں ۔ پھر ابھی تک اس بات کا امکان بھی ہوتا ہے کہ اس کے رحم میں حمل کے آثار نمایاں ہوجائیں یا حمل واضح ہے اور عدت وضع حمل تک متعلق ہے۔ یہ تمام حالات ایسے ہیں ، جن میں کوئی شریف عورت مناسب نہیں سمجھتی کہ بصراحت جدید ازدواجی زندگی کے سلسلے میں کوئی بات کرسکے ، کیونکہ ایسے حالات میں ایسی باتوں کا ہونا مناسب نہیں ہوتا ۔ اس طرح عورت کے جذبات مجروح ہوتے ہیں اور ابھی یادیں تازہ تازہ ہوئی ہیں۔ ان آداب کا لحاظ کرتے ہوئے ، اشارے ، کنایے میں بات کرنے کو جائز قرار دیا گیا ہے ، لیکن بصراحت کوئی معاملہ طے کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اشارہ ایسا ہو کہ اس سے عورت یہ سمجھ جائے کہ یہ مرد اسے بحیثیت رفیقہ حیات لینے میں دلچسپی رکھتا ہے ، لیکن کنایات میں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اس اشارے کنایے کی یہ مثال بیان کی ہے ۔ مجھے ایک رفیقہ حیات کی ضرورت ہے ۔ مجھے عورتوں سے دلچسپی ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ کوئی صالح رفیقہ حیات مل جائے۔ اسی طرح قرآن کریم نے دلی رغبت اور خواہش کی بھی کوئی ممانعت نہیں کی ہے۔ بشرطیکہ اس کی کوئی صراحت نہ کی گئی ہو اور نہ ہی اشارہ کنایہ سے ظاہر کی گئی ہو۔ اس لئے کہ دلی خواہش پر انسان کوئی ضبط نہیں کرسکتا۔ دل پر کوئی کنٹرول کس طرح کرسکتا ہے : عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ سَتَذْكُرُونَهُنَّ ” اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گا ہی۔ “ یہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے جائز قرار دیا ہے کہ یہ فطری میلان ہے ۔ اور بذات خود نکاح جائز ہے ۔ اس میں کسی قسم کی ممانعت نہیں ہے ۔ یہاں بعض خارجی اسباب کی بناپر اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ بصراحت شادی کا پیغام دوران عدت میں نہ دیا جائے ۔ کوئی عملی قدم نہ اٹھایا جائے ۔ اسلام فطری میلانات کا قلع قمع کرنا نہیں چاہتا ۔ بلکہ وہ انہیں تہذیب کے دائرے میں لاتا ہے اور ان کی اصلاح کرتا ہے ۔ وہ انسان کے طبیعی جذبات کو دباتا نہیں بلکہ ان کی ضابطہ بندی کرتا ہے۔ اس معاملے میں وہ صرف ایسی پابندیاں عائد کرتا ہے جو شعور کی پاکیزگی کے خلاف ہوں اور جو ضمیر کی طہارت کے منافی ہوں : وَلَكِنْ لا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا ” مگر ان کے ساتھ خفیہ عہد وپیان نہ کرو۔ “ اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا کہ تم منگنی کی طرف اشاروں کنایوں میں عورت کی توجہ مبذول کردو۔ یا تم دل ہی دل میں نکاح کی خواہش رکھو ۔ ممنوع یہ ہے کہ تم خفیہ طور پر عدت گزارنے سے پہلے ہی نکاح کا کوئی معاہدہ کرلو۔ یہ فعل آداب نفسیات کے خلاف ہے ، سابقہ خاوند کی یادوں کو مجروح کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ازدواجی زندگی کے دو ادوار کے درمیان عرصہ عدت کو حد فاصل رکھا ہے ، ہمیں ایسا کرنے سے حیاء آنا چاہئے اور ایسا کرنے سے انقضائے عدت تک باز رہنا چاہئے إِلا أَنْ تَقُولُوا قَوْلا مَعْرُوفًا ” اگر کوئی بات کرنی ہے تو معروف طریقے سے کرو۔ “ جس میں کوئی ناپسندیدہ بات نہ ہو ، کوئی فحش بات نہ ہو اور کوئی ایسی بات نہ ہو ، جس کے ذریعے اللہ کے وہ حدود ٹوٹتے ہوں ، جو اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں ولا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ ” اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے ۔ “ یہاں قرآن مجید کے الفاظ قابل غور ہیں ۔ یہ نہیں کہا :” تم نکاح نہ کرو “ یا ” عقد نکاح نہ باندھو “ بلکہ یہ کہا ہے :” عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ نہ کرو۔ “” مقصد یہ ہے کہ دوران عدت عقد نکاح باندھنے سے سخت گریز کرو۔ یہاں تک کہ اس کا فیصلہ بھی نہ کرو۔ “ کیونکہ فیصلہ عقد کے نتیجے ہی میں عقد وجود میں آتا ہے ، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ۔ قرآن مجید کی اس قسم کی لطیف طرز ادا کی طرف ہم اوپر آیت تِلکَ حُدُودُاللّٰہِ فَلَا تَقرَبُوھَا ” یہ اللہ کی حدیں ہیں ، ان کے قریب ہی نہ جاؤ۔ “ میں بیان کر آئے ہیں ۔ یعنی قرآن مجید محض ایک لفظ کے انتخاب کے ذریعہ ایک ایسے مفہوم کی طرف اشارہ کردیت ہے جو نہایت ہی لطیف ودقیق ہوتا ہے وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي أَنْفُسِكُمْ ” خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرو۔ “ یہاں آکر قرآن مجید اپنے منہاج کے عین مطابق قانون سازی اور اللہ خوفی کو باہم مربوط کردیتا ہے ، بتاتا ہے کہ اللہ جو قانون بنارہا ہے وہ تمہارے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے ۔ مرد وزن کے باہمی تعلقات کا گہرے میلانات اور خفیہ جذبات سے گہرا تعلق ہے ۔ اس تعلق میں دل کو دل سے ربط ہوتا ہے ، ایک دوسر کی محبت دلوں کی تہوں تک پہنچی ہوئی ہوتی ہے ۔ اس لئے یہاں انہیں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ اللہ تو تمہارے ہر راز سے واقف ہے ۔ تمہارے دلی بھیدوں کا جاننے والا ہے ۔ خبرداررہو ! اس سے ڈرو ! اور اللہ کے حدود اور اللہ کے قانون کے سلسلے میں تمہاری حیلہ سازی یا کوئی بات خفیہ اور راز ، اس کے مقابلے میں نہ رہ سکے گی ۔ خبردار ! اب تک انسانی ضمیر کو خوف دلا کر متنبہ کرکے جھنجھوڑ دیا گیا ، وہ جاگ اٹھا اور اس کے اندر احتیاط اور اللہ خوفی پیدا کردی گئی ۔ تو خدائے رحیم شفیق وکریم دیر کئے بغیر خود اسے تسلی بھی دے دیتے ہیں ، اطمینان قلب کا سامان بھی فراہم کردیا جاتا ہے ۔ یقین دلایا جاتا ہے کہ وہ تو غفور ورحیم ہے ۔ وہ نہایت بردبار ہے اور سزا دہی میں جلدی نہیں کرتا ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ” اور جان لو کہ اللہ بردبار ہے ، چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر فرماتا ہے۔ “ وہ تو بخشنے والا ہے اور اس دل کی خطا معاف کردیتا ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ کا شعور ہو ، جو اپنی پوشیدہ اور نہفتہ بھیدوں کے بارے میں محتاط ہو ۔ وہ حلیم اور بردبار ہے ۔ سزا دہی میں جلدی نہیں کرتا ، اس انتظار میں کہ بیچارہ بندہ عاجز بندہ ، شاید باز آجائے اور توبہ تائب ہوجائے۔ سلسلہ عائلی احکام جاری ہے ، اب اس عورت کے احکام آتے ہیں جس کو رخصتی سے پہلے طلاق دے دی جائے ۔ یہ صورت ان سے مختلف ہے ، جن میں مطلقہ عورتوں کے ساتھ شب باشی ہوچکی ہو ، جن کا بیان پوری طرح ہوچکا ہے ۔ یہ ایسی صورت ہے جو اکثر بیشتر آتی رہتی ہے ، اس صورت میں حقوق الزوجین یہ ہیں :

البقرة 2:236

اس میں دوحالتیں ہیں ۔ پہلی حالت یہ ہے مطلقہ کو اپنی وسعت کے مطابق کچھ سازوسامان دے ۔ اس سے تو ایک تو عورت کی دلجوئی ہوگی اور نفسیاتی طور پر دونوں خاندانوں کے درمیان خوشگواری پیدا ہوگی اور دوسرے یہ کہ اسے کچھ نہ کچھ مالی فائدہ ہوگا۔ اس طرح کی جدائی سے عورت اپنے لئے کرب اور درد محسوس کرتی ہے ۔ یہ اس کے لئے عمر بھر کا طعنہ اور دشمنی بن جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں اگر اسے بطور تحفہ کچھ دے دے تو اس سے نفسیاتی طور پر اس عورت کے برے احساسات میں کمی آسکتی ہے اور دونوں خاندانوں کے درمیان کشمکش ، کشیدہ تعلقات کے بادل چھٹ سکتے ہیں اور یہ تحفہ اس قسم کا اظہار محبت ہوسکتا ہے اور ساتھ ہی اعتراف جرم اور معذرت بھی ۔ اس سے خود مرد کی جانب سے بھی اس بات کا اظہار ہوگا کہ وہ خود بھی اس طلاق اور جدائی پر متاسف ہے ، معذرت خواہ ہے ۔ یہ کہ یہ باہمی تعلقات کی یہ ایک ناکام کوشش تھی لیکن یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس سے باہمی حسن سلوک کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کردیا جائے ۔ اس لئے یہاں وصیت کی گئی کہ اس صورت میں عورت کو کچھ نہ کچھ ضرور دیا جائے معروف طریقے کے مطابق تاکہ فریقین کے درمیان انسانی بنیادوں پر انس و محبت قائم رہ سکے اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کی اچھی یادیں باقی رہیں ۔ لیکن قرآن مجید ساتھ ساتھ یہ ہدایات بھی کردیتا ہے کہ خاوند پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے ۔ غنی اپنی مقدرت کے مطابق اور نادار آدمی اپنی وسعت کے مطابق دے عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ ” خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق۔ “ اشارہ کیا جاتا ہے کہ یہ تحفہ معروف طریقے کے مطابق احسان سے ہوتا ہے کہ خشک دلوں میں تازگی پیدا ہوجائے اور باہمی تعلقات کی فضا پر جو گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں وہ چھٹ جائیں ۔ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ ” یہ تحفہ ہے معروف طریقے کے مطابق اور یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ “

البقرة 2:237

دوسری صورت یہ ہے کہ مباشرت سے پہلے ہی طلاق دے دی جائے ، لیکن نکاح کے ساتھ مہر بھی مقرر کردیا گیا ہو ۔ اس صورت میں مہر کا نصف حصہ واجب ہوگا ۔ یہ تو ہے قانون ، لیکن قرآن مجید قانون کے بجائے معاملہ مہربانی حسن سلوک اور سہولت پر چھوڑ دیتا ہے ۔ عورت اور اگر وہ بالغ ہے تو اس کے ولی نکاح کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ معاف کرے اور اپنے قانونی حق سے دستبردار ہوجائے ۔ ایسے کشیدہ حالات میں جو فریق اپنے حق سے دستبردار ہوجاتا ہے ، دراصل بہت ہی شریف النفس ، خوش اخلاق ، بردبار اور معاف کرنے والا ہوتا ہے ۔ وہ کسی ایسے شخص کے مال کو بھی اسی کے پاس رہنے دیتا ہے ، جس کے ساتھ اب دوسرے تعلقات باقی نہیں رہے ۔ لیکن قرآن مجید آخر تک اس کوشش میں ہے کہ ان کے درمیان کدورتیں صاف ہوجائیں ۔ ان میں کوئی کدورت نہ رہے اور دل ہلکے ہوجائیں وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ” اور اگر تم نرمی سے کام لو تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسب ہے ۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو ، تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ “ سب سے آخر میں تقویٰ کے احساس کو تیز کیا جاتا ہے ۔ باہمی حسن سلوک اور احسان کے رویہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ اپنے دلوں میں یہ شعور پیدا کرو کہ اللہ تعالیٰ دیکھنے والا ہے اور نگران ہے تاکہ تمہارے باہمی تعلقات میں حسن سلوک ، نرمی اور احسان کی فضا غالب رہے ، چاہے تعلقات رشتہ داری کامیاب ہوں یا ناکام ہوچکے ہوں ۔ دلوں کو صاف اور خالی رہنا چاہئے اور ہر حال میں تعلق باللہ قائم اور پختہ رہنا چاہئے ۔ مندرجہ بالا تمام احکام میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ دلوں کا رابطہ اور تعلق باللہ مضبوط ہوجائے اور یہ سعی کی گئی ہے کہ باہمی معاشرت میں نیکی اور احسان کو عبادت سمجھا جائے ، ایسی فضا کے عین بیچ میں نماز کا ذکر کردیا جاتا ہے جو اسلام کی سب سے بڑی اور اہم عبادت ہے ۔ حالانکہ ابھی تک عائلی احکام کا بیان جاری تھا اور وہ ختم نہ ہوئے تھے ۔ ابھی ایک حکم یہ باقی تھا کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوجائے ۔ اس کے حق میں یہ وصیت کی جائے کہ اسے ایک سال تک گھر سے نہ نکالاجائے اور نان ونفقہ دیا جائے ۔ دوسرا یہ کہ مطلقہ عورتوں کو بالعموم کچھ نہ کچھ سامان بطور تحفہ دے دیاجائے ۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ جس طرح نماز ایک عبادت ہے اس طرح ان احکام پر عمل کرنا عبادت ہے ۔ یہ دونوں امور اللہ کی بندگی میں آتے ہیں ۔ یہ ایک بہت ہی لطیف اشارہ ہے اور یہ اشارہ انسان کی تخلیق کے بارے میں ہے ، اسلامی نقطہ نظر کے عین مطابق ہے ۔ اللہ انسان کے بارے میں فرماتے ہیں وَمَاخَلَقتُ الجِنَّ وَالاِنسَ اِلَّا لِیَعبُدُونِ ” میں نے جن وانس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں ۔ “ (عبادت اور بندگی صرف ان چیزوں میں نہیں ہے جو شعائر عبادات ہیں بلکہ ہر وہ کام عبادت ہے جس میں انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کا مقصد ، اس کام سے صرف یہ ہو کہ اللہ کی اطاعت کی جائے۔ )

البقرة 2:238

یہاں حکم دیا جاتا ہے نماز کی حفاظت کرو ۔ یعنی اسے اپنے وقت پر ، تمام ارکان نماز صحیح ادا کرتے ہوئے تمام شرائط پوری کرتے ہوئے ادا کرو۔ راحج قول یہ ہے کہ صلوٰۃ وسطی سے نماز عصر مراد ہے ۔ یوم احزاب کے موقع پر رسول ﷺ نے فرمایا :” ہمیں ان لوگوں نے درمیانی نماز سے مشغول کردیا ، نماز عصر سے ، اللہ ان کے گھروں اور دلوں کو آگ سے بھردے۔ “ نماز عصر کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا گیا کہ اکثر اوقات قیلولہ کے بعد نماز آتی ہے اور اس کے قضا ہونے یا موخر ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔ راحج قول یہ ہے کہ قنوت کے معنی عاجزی اور خشوع کے ہیں ۔ نماز میں اس کی یاد کی طرف یکسو ہوجانے کا مفہوم بھی اس میں داخل ہے ۔ ایک وقت تک سخت ضرورت کے وقت مسلمان ، نماز کے دوران ، ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرلیا کرتے تھے ۔ اس آیت کے نزول کے بعد مسلمانوں نے جان لیا کہ اللہ کے ذکر ، خشوع اور یکسوئی کے سوا کوئی اور شغل نماز کے دوران جائز نہیں ہے ۔ اگر حالت خوف وخطر کی ہو اور ممکن نہ ہو کہ قبلہ رخ ہوکر نماز ادا کی جاسکے تو بھی نماز ادا ہوگی ۔ اسے موقوف نہ کیا جائے گا۔ اگر کوئی سواری پر سوار ہے یا کوئی خطرے کی حالت میں ہے مدافعت پر مامور ہے تو اس کے لئے جس طرح ممکن ہو ، اس طرف منہ کرکے پڑھ لے ۔ اشارے سے پڑھے اور رکوع و سجود کے لئے خفیف اشارہ کرے ۔ یہ نماز اس سے مختلف ہے ، جسے صلوٰۃ الخوف کہا جاتا ہے ۔ اور جس کی تفصیل سورت نساء میں بیان کی گئی ہے ۔ وہ نماز ایسی حالت میں ادا ہوتی ہے ، جہاں ایسے حالات ہوں کہ مسلمانوں کا صف میں کھڑا ہونا ممکن ہو ، یوں امام کھڑا ہو اور ایک صف آکر ایک رکعت پڑھ لے ۔ پھر دوسری صف آجائے اور وہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے ۔ اور دوسری صف اس کی حفاظت میں کھڑی رہے ۔ یہاں جس نماز کا ذکر کیا گیا ہے ، اس سے مراد وہ نماز ہے ، جو ایسے حالات میں ادا کی جارہی ہو جہاں جنگ عملاً شروع ہو ، تلواریں چل رہی ہوں ، فائرنگ ہورہی ہو اور صف بستہ ہونا ممکن نہ ہو۔ یہ ایک عجیب بات ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نماز کی اہمیت کتنی زیادہ ہے ۔ مسلمانوں کو یہاں اشارہً بتایا جاتا ہے کہ خوف اور شدائد جنگ کی انتہائی حالت میں بھی نماز پڑھنی چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قدر خوف میں ، عین جنگ کے وقت ، تلوار ہاتھ میں ہو بلکہ دشمن کی تلوار سر پر ہے ، لیکن نماز کی ادا ہورہی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز مرد مومن کا اسلحہ ہے ، اس کا سامان جنگ ہے ۔ وہ مومن ایک دفاعی تدبیر ہے ۔ ایسے حالات میں مومن نماز میں کھڑا ہوجاتا ہے تو وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور یہی وقت ایسا ہوتا ہے جس میں اللہ تک پہنچنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسے ماحول میں ، جس میں انسان چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہو ، اللہ تعالیٰ سے بہت زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ کیا خوب دین ہے ہمارا ۔ یہ عبادت کا نظام ہے ۔ مختلف شکلوں اور مختلف عنوانوں سے عبارت ، جن میں نماز ایک جلی سرخی ہے ۔ اس عبادت کے ذریعے یہ دین ، انسان کو بلند مقام تک پہنچاتا ہے ۔ اس عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مومن کو شدائد کے وقت ثابت قدم کردیتا ہے ۔ اس عبادت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ، امن وامان کے دور میں ایک مومن کو مہذب بنادیاتا ہے۔ اس عبادت ہی کے ذریعہ ایک مومن پورے کا پورا ایک ایسی دنیا میں داخل ہوجاتا ہے جو امن و سکون کی دنیا ہے ۔ جہاں اس پر اطمینان اور سلامتی کی بارش ہوجاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس عبادت کی سخت تاکید عین ایسے حالات میں بھی کی جاتی ہے جبکہ تلواریں سروں کو کاٹ رہی ہوں اور گردنوں کو اڑارہی ہوں ۔

البقرة 2:239

اور اگر بالکل امن وامان کی حالت ہوجائے تو پھر نماز وہی ہے ، جس کی تعلیم دی ہے اور مزید انہیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھنا چاہئے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ان باتوں کی تعلیم دی جن سے وہ واقف نہ تھے : فَإِذَا أَمِنْتُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَمَا عَلَّمَكُمْ مَا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ ” اور جب امن میسر آجائے تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو ، جو اس نے تمہیں سکھایا ہے ۔ جس سے پہلے تم واقف نہ تھے۔ “ لوگ جانتے ہی کیا تھے ، اگر اللہ تعالیٰ انہیں نہ سکھاتا ، اگر اللہ تعالیٰ زندگی کے ہر موڑ پر لمحہ لمحہ ان کی راہنمائی نہ فرماتا۔ ازدواجی زندگی کے احکام اور طلاق کے احکام کے دوران ، نماز کی یہ سرسری بحث بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس سے مقصود مسلمانوں کے دل میں عبادت اور بندگی کا وہ جامع تصور بٹھانا ہے جو اسلامی نظام زندگی کا اصل الاصول ہے یعنی امتثال امر عبادت ہے چناچہ پھر اصل موضوع یعنی عائلی احکام کو یہاں مکمل کردیا جاتا ہے :

البقرة 2:240

پہلی آیت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جس عورت کا خاوند فوت ہو ، اپنی وفات سے پہلے وہ اپنی عورت کے بارے میں ضرور یہ وصیت کرجائے کہ اسے گھر سے ایک سال کے عرصہ تک کم ازکم نہ نکالاجائے اور ایک سال تک اسے اجازت ہو کہ وہ اس کے مال سے اخراجات کرے۔ گھر سے نہ نکلے اور اگر وہ مناسب سمجھتی ہے کہ اس کے حالات ابھی نکاح ثانی کے لئے مناسب نہیں یا اس کے جذبات ابھی تک مجروح ہیں تو ایک سال تک گھر میں رکی رہے ۔ لیکن یہ حق عورت کا ہے اور چار ماہ دس دن کی عدت گزارنے کے بعد بہرحال وہ آزاد ہوجاتی ہے اور اگر وہ گھر سے نکلنا چاہے تو نکل سکتی ہے کیونکہ عدت تو اس پر فرض ہے اور گھر میں رہنا اس پر فرض نہیں ہے بلکہ یہ اس کا حق ہے جس کا استعمال کرنا اس پر لازمی نہیں ہے ۔ بعض مفسرین نے یہ کہا کہ یہ آیت ، آیت عدت کے ذریعہ منسوخ ہوگئی ہے ۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ نسخ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ دونوں آیات کے محل میں اختلاف ہے ۔ جیسا کہ ہم کہہ آئے ہیں عدت اس کے ذمہ ایک فریضہ ہے ، جو اس نے ادا کرنا ہے اور ایک سال کا عرصہ اس کا حق ہے جس کا استعمال کرنا اس پر لازم نہیں ہے ۔ فَإِنْ خَرَجْنَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَعْرُوفٍ ” پھر اگر وہ خود نکل جائیں ، تو اپنی ذات کے معاملے میں ، معروف طریقے سے ، وہ جو کچھ بھی کریں ، اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ۔ “ علیکم (تم پر) سے مراد مسلمانوں کا اجتماعی نظام ہے ، جو ہر فعل کا ذمہ دار ہے جو اسلامی معاشرہ میں وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی میں ، ہر نظریے کا معاملہ ، ہر فرد کا معاملہ ، اور ہر واقعہ کی ذمہ داری معاشرے پر ہے ۔ اگر اسلامی معاشرے میں بھلائی ہو یا برائی دونوں کا اجر اور باز پرس اسلامی معاشرے سے بھی ہوگی۔ اسلامی جماعت کی حقیقت اور اس کے فرائض کی نوعیت کا اندازہ اس اشارے سے بھی اچھی طرح ہوجاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک اسلامی کا قیام ضروری ہے تاکہ اسلامی نظام زندگی کا قیام عمل میں آسکے ۔ قیام کے بعد پھر اس نظام کی حفاظت کی جاسکے اور یہ نگرانی ہوتی رہے کہ اسلامی معاشرے کا کوئی فرد اس نظام کی خلاف ورزی یا اس سے بغاوت کا ارتکاب تو نہیں کررہا ہے ۔ اس لئے کہ افراد جماعت کے ہر چھوٹے بڑے کام کی آخری مسؤلیت اسلامی جماعت ہی کے کاندھوں پر ڈالی گئی ہے ۔ یہاں لفظ ” تم پر “ استعمال کرکے اس حقیقت کو اسلامی جماعت کے ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ حقیقت اسلامی جماعت اور اس کے ہر فرد کے حس و شعور میں اچھی طرح جاگزیں ہوجائے اور آخری تبصرہ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ” اللہ مقتدر اعلیٰ ودانا ہے۔ “ وہ مقتدر اعلیٰ ہے اس لئے اسے حق ہے جو قانون بنائے لیکن جو قانون بنائے گا ، حکیمانہ ہوگا۔ مقتدر ہے ، صاحب قوت ہے ، نافرمانی پر تمہیں سزا دے سکتا ہے ۔

البقرة 2:241

دوسری آیت میں اللہ خوفی کی دعوت دیتے ہوئے حکم دیا گیا کہ ہر مطلقہ عورت کو رخصت کرتے وقت کچھ نہ کچھ سامان ضرور دیا جائے : وَلِلْمُطَلَّقَاتِ مَتَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ” جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر ۔ “ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ چونکہ مطلقات کے بارے میں سابقہ آیات میں تفصیلی احکام آچکے ہیں ، اس لئے یہ آیت ان آیات کی وجہ سے منسوخ تصور ہوگی ۔ لیکن یہاں اسے منسوخ سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اس لئے کہ متاع یعنی کچھ نہ کچھ دے دینا نفقات واجبہ سے علیحدہ ایک چیز ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن مجید نے جو احکامات اب تک دیئے ہیں ، ان کی حقیقت پر غور کیا جائے تو ہر مطلقہ عورت کے لئے تحفہ کیے طور پر کچھ نہ کچھ دئیے جانے کی گنجائش رکھنا اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے ۔ چاہے اس کے ساتھ مباشرت ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ اس کا مہر مقرر کیا گیا ہو یا مقرر نہ کیا جاسکا ہو۔ اس لئے طلاق کی وجہ سے فریقین کے تعلقات میں خشکی پیدا ہوجاتی ہے ، دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف وحشت اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے ، چناچہ ایسے موقع پر اس قسم کے حسن سلوک سے تعلقات میں تازگی پیدا ہو سکتی ہے ، دلوں کی باہمی وحشت دور ہوسکتی ہے ۔ یہ واحد گارنٹی ہے ، جس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اور جس سے جماعت مسلمہ کے تعلقات درست ہوسکتے ہیں۔

البقرة 2:242

اب تیسری آیت اس میں ان تمام عائلی احکام پر تبصرہ ہے جو اس پورے سبق میں بیان کئے گئے ہیں ۔ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ” اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے ، امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کروگے۔ “ اسی طرح اس بیان کی طرح جو اس پورے سبق میں بیان احکام کے سلسلے میں تمہاری نظروں سے گزرا ، جو محکم ، دقیق ، الہامی اور اثر انگیز بیان ہے ۔ اس طرح ، اللہ صاف صاف اپنے احکام بیان کرتا ہے ، اس امید پر کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لوگے ، تمہیں عقل آجائے اور تم ان احکام میں تدبر کروگے ، غور وفکر سے کام لوگے ، ان کی تہہ میں جو حکمت کارفرما ہے اسے پانے کی کوشش کروگے ۔ ان میں اللہ کی شان رحمت جو جھلک ہے اسے دیکھ سکوگے ، ان میں تمہارے لئے جو انعامات پوشیدہ ہیں انہیں جان سکوگے ۔ سہولت اور تیسیر کی نعمت ، سادگی اور صفائی کی نعمت ، پختگی اور قطعیت کی نعمت اور پھر ان کی وجہ سے پوری زندگی پر امن وسلامتی کی موسلا دھار بارش کی نعمت ۔ اے کاش ! لوگ اسلامی نظام کو سمجھتے ۔ کاش ! وہ اس پر غور کرتے ۔ اگر وہ اسے صحیح طرح سمجھتے تو ان لوگوں کا اسلامی نظام سے وہ تعلق نہ ہوتا جو آج ہے ، بلکہ وہ اسلامی نظام کے مطیع ہوجاتے ، اس کے ہر حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ، ان کے دل قبولیت کے لیے ہر وقت تیار ہوتے ، ان کے دل اس کی ہر ہدایت پر راضی ہوتے اور ان کے قلوب اور ان کی روح ، امن وسلامتی اور یقین اطمینان سے بھر جاتے ۔ کاش ! کہ وہ سوچتے کاش کہ وہ سمجھتے ۔

البقرة 2:243

درس 16 ایک نظر میں اس سبق کی اہمیت اور اس میں امم سابقہ کے جو واقعات بیان کئے گئے ہیں ان کی صحیح قدروقیمت تب ہی ذہن میں بیٹھ سکتی ہے ، جب ہم پہلے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ قرآن امت مسلمہ کی ایک زندہ کتاب ہے ، یہ کتاب اس کے لئے ایک رہنما ئے ناصح ہے ۔ یہ اس کی مرشد ہے ۔ یہ اس کا مدرسہ ہے جہاں وہ امن سے زندگی کا سبق حاصل کرتی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے پہلی اسلامی جماعت کے لئے اس کتاب کو ضابطہ ترتیب قرار دیا ۔ جس نے اپنے وقت پر اس کتاب کی روشنی میں اسلامی نظام قائم کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا اور یہ کہ پہلی اسلامی جماعت کو اس منصب پر اس وقت فائز کیا گیا ، جب اس کتاب کے مطابق اسے اچھی تیار کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے لئے یہ مقام متعین کیا ہے کہ وہ تحریک اسلامی کا ایک زندہ راہنما ہوگی اور یہ کہ رسول ﷺ کی وفات کے بعد اس تحریک کی آنے والی نسلوں کے لئے یہ کتاب زندہ قائد کا کام سرانجام دے گی ۔ ان آنے والی نسلوں کی تربیت کرے گی اور انہیں اس قائدانہ رول کے لئے تیار کرے گی ، جس کے لئے اس کتاب نے اس تحریک کی ہرنسل کے ساتھ پختہ وعدہ کررکھا ہے کہ جب بھی تحریک اسلامی اس کتاب کو اپنا ہادی اور راہنما تسلیم کرے گی ، جب بھی اس کی ہدایت کو اپنائے گی ، جب بھی تحریک اپنا یہ عہد پورا کرے گی کہ وہ مطیع فرمان ہے اور اپنا نظام زندگی اس کتاب سے اخذ کرے گی ، اس کتاب کو باعث عزت سمجھے گی ، اور تمام نظاموں پر اس کو غالب کرے گی تو تحریک اسلامی دنیا میں اعلیٰ مقام پائے گی ۔ سب سے برتر ہوگی اور یہ اللہ کا وعدہ ہے ، یہ اس کتاب کا وعدہ ہے ۔ یاد رکھو ! قرآن مجید محض ایک کتاب تلاوت ہی نہیں ہے یہ تو ایک مکمل دستور حیات ہے ۔ یہ تو دستور ترتیب ہے ۔ یہ تودستور عمل ہے اور پوری زندگی کے لئے راہ عمل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں امم سابقہ کے تجربے اور ان کے واقعات بھی بیان کئے گئے ہیں تاکہ ان سے جماعت مسلمہ عبرت حاصل کرے ، اس لئے یہ کتاب نازل ہی اس لئے ہوئی کہ اس سے اس جماعت کی ترتیب ہو ۔ اس کتاب میں آدم (علیہ السلام) سے لے کر رسول اللہ ﷺ کے دور تک تمام کرہ ارض پر ان تمام ایمانی دعوتوں کے تجربات بیان کئے گئے ہیں ۔ یہ تمام دعوتی تجربات امت مسلمہ کے لئے تا قیامت زاد راہ ہیں ۔ نفس انسانی کے تجربات اور حیات انسانی کے مختلف واقعاتی تجربات اس کتاب میں ضبط ہیں تاکہ امت مسلمہ اپنی راہ ورسم سے باخبر ہوجائے ، اپنے لئے زاد راہ کا ساز و سامان تیار کرے اور اس راہ میں ان متنوع تجربات کا ذخیرہ اس کے لئے مشعل راہ ہو۔ یہی وہ مقاصد ہیں جن کی خاطر قرآن مجید میں بکثرت قصص بیان ہوئے ، یہ قصے مختلف نوعیت رکھتے ہیں اور ہر قصے میں امت کے لئے واضح اشارات پائے جاتے ہیں ۔ قرآن مجید نے اور اقوام کی نسبت ، بنی اسرائیل کے قصے زیادہ تعداد میں نقل کئے ہیں ، جس کی متعدد وجوہات ہیں ۔ ان میں سے کچھ وجوہات ہم نے فی ظلال القرآن پارہ اول کی تفسیر میں ، آغاز ذکر بنی اسرائیل کے موقع پر بیان کئے ہیں ۔ کچھ وجوہات اس بارے میں مختلف مقامات پر ہم نے بیان کی ہیں ۔ بعض وجوہات یہاں کی مناسبت سے پیش خدمت ہیں ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ امت مسلمہ کی بعض آنے والی نسلیں ان حالات سے گزریں گی ، جن سے بنی اسرائیل گزرے ۔ مسلمان اپنے دین اور اپنے نظریہ حیات کے معاملے میں وہی موقف اختیار کریں گے جو بنی اسرائیل نے اختیار کیا ۔ اس لئے قرآن مجید نے درحقیقت سرد لبراں ، قصص بنی اسرائیل کی صورت میں بیان کیا ہے تاکہ مسلمانوں کی آنے والی نسلیں ان سے نصیحت حاصل کریں اور عبرت پکڑیں ۔ گویا اللہ تعالیٰ نے آنے والی نسلوں کے ہاتھ میں ایک صاف آئینہ تھما دیا تاکہ وہ ہر وقت اس میں اپنی شکل دیکھ سکیں ، اور زندگی کی گزرگاہوں میں ، جو نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ، ان کے بارے میں پیشگی ہدایات ان کے پاس ہوں۔ امت مسلمہ کی تمام نسلوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اس کتاب الٰہی کو خوب سمجھ بوجھ کر پڑھیں ۔ وہ اس کی ہدایات پر اس طرح غور کریں کہ گویا یہ ہدایات آج اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہورہی ہیں ، تاکہ آج کے مسائل کو ان کی روشنی میں حل کیا جائے اور انسانیت کے لئے آج کے سفر میں ، اس کے مستقبل کی تاریکیاں روشن کرے ۔ اس کتاب کو محض کلام جمیل سمجھ کر اور نہایت ہی حسن قرأت سے پڑھ کر ہی نہ بیٹھ جاؤیا اسے یہ سمجھ کر نہ پڑھو کہ یہ ایک رفتہ وگزشتہ حقیقت کی محض ایک روئیداد ہے ۔ اور اس حقیقت کو اس کرہ ارض پر اب دوبارہ نہیں دہرایا جاتا۔ ہم اس قرآن مجید سے اس وقت تک فائدہ نہیں اٹھاسکتے جب تک اس میں ہم روزمرہ کی واقعاتی زندگی کے حقائق کے بارے میں ہدایات تلاش نہ کریں ۔ آج کے مسائل کا حل اور کل کے مسائل کی منصوبہ بندی ، بعینہ اسی طرح جس طرح پہلی جماعت اسلامی اس کتاب کو اس طرح لیتی تھی ۔ وہ اپنے تمام موجودہ مسائل کا حل اس کتاب میں تلاش کرتی تھی ۔ جب بھی ہم قرآن مجید کو ، اس فہم و تدبر کے ساتھ پڑھیں گے ، ہمیں جس چیز کی تلاش ہوگی وہ ہمیں اس میں ملے گی ۔ بلکہ ہم اس میں ایسی عجیب ہدایات پائیں گے ، جن تک کسی ایسے شخص کا ذہن نہیں پہنچ سکتا ، جو اس کتاب کو غفلت سے پڑھتا ہے ، ہمیں اس کا ہر کلمہ ، اس کا ہر لفظ ، اس کی ہر عبارت اور اس کی ہر ہدایت زندہ جاوید نظر آئے گی ۔ چلتی پھرتی نظر آئے گی ، زندہ ومتحرک نظر آئے گی اور صاف صاف اشارہ کرتی نظر آئے گی وہ ہے تمہاری راہ ! وہ ہے نشان راہ ! یہ کتاب کہے گی یہ کرو اور اس سے بچو ، وہ کہے گی : یہ تمہارا دوست ہے اور یہ دشمن ہے ۔ وہ کہے گی : یہ احتیاط کرو اور یہ تیاری کرو ۔ غرض یہ کتاب ہماری زندگی کے ہر حال کے بارے میں ہم سے طویل اور مفصل گفتگو کرے گی اگر ہم اس انداز سے قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو یقیناً ہمیں اس میں زندگی بھی ملے گی اور زندگی کا سازوسامان بھی ملے گا۔ اور تب ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو صحیح طرح سمجھ سکیں گے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، جب اللہ اور رسول تمہیں اس بات کی طرف بلائیں ، جو تمہیں زندہ کرتی ہے ، تو اس پر لبیک کہیں۔ “ قرآن کریم دراصل زندگی کی طرف دعوت ہے ۔ دائمی زندگی اور تازہ بتازہ زندگی کی دعوت ہے ۔ وہ تمہیں ایسی زندگی کی طرف دعوت نہیں دیتا جو گزرچکی ہے اور جو صفحات تاریخ کا ایک ورق بن چکی ہے۔ اب اس تمہید کی روشنی میں ذرا اس پورے سبق پر ایک نظر دوڑائیں ۔ اس سبق میں امم سابقہ کے تجربات میں سے دوتجربے پیش کئے گئے ہیں ۔ امت مسلمہ جن عملی تجربات سے گزری ، ان دوتجربات کو بھی اس ذخیرہ میں شامل کیا جارہا ہے ۔ امت کے سامنے یہ تجربات رکھ کر اسے ، ان حالات کے لئے تیار کیا جارہا ہے جو اس کی زندگی میں پیش آنے والے ہیں ۔ اس لئے کہ وہی ایمانی نظریہ حیات کی وارث ہے اور امم سابقہ کے تجربات کے اس ، سرسبز کھیت کی دہقانی اب اس امت کے حصے میں ہے اور اسے میدان میں ایک اہم رول ادا کرنا ہے۔ پہلا تجربہ ایسے لوگوں کا ہے جس کا نام قرآن مجید نے نہیں لیا ۔ یہ واقعہ قرآن مجید نے پورے اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ، لیکن جس مقصد کے لئے اسے لایا گیا ہے وہ اچھی طرح پورا ہوجاتا ہے ۔ یہ ایسے لوگوں کا تجربہ ہے جو أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ ” موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑ کرنکلے تھے اور ہزاروں کی تعدد میں تھے ۔ “ لیکن انہیں خروج وفرار اور اس خوف وہراس نے کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور وہ جس انجام سے ڈر کے بھاگ رہے تھے اور جو اللہ نے ان کے لئے مقدر کررکھا تھا ، اس نے انہیں آلیا۔ ان سے اللہ نے کہا : مُوتُوا مرجاؤ۔ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ” پھر اس نے ان کو زندگی بخشی “ نہ ان کی جدوجہد انہیں موت سے بچاسکی اور نہ دوبارہ زندگی حاصل کرنے کے لئے ان کو کچھ جدوجہد کرنی پڑی ۔ دونوں حالات میں اللہ کی مشیئت نے فیصلہ کیا۔ اس تجربہ کی روشنی میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے متوجہ ہوتے ہیں اور انہیں قتال فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دیتے ہیں ۔ اس لئے کہ زندگی دینے والا بھی وہ ہے اور مال دینے والابھی وہ ہے ۔ وہ اس بات پر قادر ہے کہ زندگی قبض کرے اور مال واپس لے لے ۔ دوسرا تجربہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ، تاریخ بنی اسرائیل سے لیا گیا ہے ۔ اس دور میں ان کی مملکت تباہ ہوچکی تھی ۔ ان کے مقدسات لوٹ لئے گئے تھے ۔ وہ دشمنوں کے سامنے ذلیل و خوار ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اپنے نبی کی تعلیمات اور اپنے رب کی ہدایات کو پس پشت ڈال دیا تھا ۔ اور اس وجہ سے وہ ذلت اور خواری میں مبتلا ہوگئے تھے ۔ لیکن اس گراوٹ کے بعد وہ پھر اٹھ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے اپنے کپڑے جھاڑے اور نئے سرے سے تیار ہوئے اور ان کے دلوں میں نظریہ حیات پھر سے زندہ ہوگیا اور ان کے دلوں میں اپنے نظریہ حیات کے لئے پھر سے ولولہ جہاد پیدا ہوا اور اپنے نبی سے کہنے لگے : ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ” ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔ “ قرآن مجید جس الہامی انداز میں اس تجربے کا بیان کرتا ہے ، اس سے تمام حقائق کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور اس میں دور اول کی تحریک اسلامی کے لئے جس طرح واضح اشارات پائے جاتے ہیں ، اسی طرح ہر دور کی اسلامی جماعت کے لئے واضح ہدایات موجود ہیں ۔ اس قصے سے جو عام عبرت حاصل ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ مومنین کی ایک مٹھی بھر تعداد نے ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور اس کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو ایک عظیم کامیابی نصیب ہوئی ، اگرچہ اس پورے واقعہ میں لشکر اسلام کو بار بار مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اس مہم میں کئی نقائص تھے جو سامنے آئے ، متعدد کمزوریاں بار بار سامنے آتی رہیں ۔ لشکر کشی کے مختلف مراحل میں ، فوج در فوج لوگ الگ ہوتے رہے اور نافرمانیاں کرتے رہے ، لیکن ان سب کمزوریوں کے باجود بنی اسرائیل کا یہ اٹھنا ، آلودگیاں جھاڑ کر اٹھنا اور نظریہ حیات کو لے کر اٹھنا ، مٹھی بھر ثابت قدم مومنین کی وجہ سے کامیاب رہا ۔ اس کامیابی کے نتیجے میں بنی اسرائیل کو نصرت ، عزت اور استقرار حاصل ہوا ، حالانکہ اس سے پہلے وہ شکست فاش کھاچکے تھے ۔ انتہائی ذلت کی زندگی بسر کررہے تھے ، طویل عرصہ تک جلاوطنی کی زندگی بسر کررہے تھے اور ان پر دوسری اقوام مسلط تھیں ۔ اس کامیابی کے نتیجے میں بنی اسرائیل میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی حکومت قائم ہوئی ، جن کے دور میں بنی اسرائیل کی حکومت اپنے عروج کو پہنچی اور ان حضرات کا دور ان کی تاریخ کا سنہرا دور قرار پایا ۔ جس کے بارے میں بنی اسرائیل فخریہ انداز میں بات کرتے ہیں اور اس مقام تک بنی اسرائیل اپنی نبوت کبریٰ کے دور میں بھی نہ پہنچے تھے ۔ یہ تمام کامیابی نتیجہ ہے اس نظریاتی قیام کا ، جبکہ انہوں نے نظریہ حیات کو جاہلیت کے ڈھیروں کے نیچے سے نکالا اور ایک قلیل جماعت اس نظریہ کو لے کر اس ثابت قدمی سے اٹھی اور جالوت کی عظیم افواج سے ٹکراگئی اور کامیاب رہی۔ اس تجربے کے دوران بعض جزوی مسائل کے بارے میں بھی ہدایات دی گئی ہیں ، جن کی اس دور میں اسلامی جماعت کو بہت ضرورت تھی اور اس کے لئے بہت اہم تھیں ۔ مثلاً یہ کہ اجتماعی جوش و خروش بعض اوقات قائد کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ اگر وہ محض ظاہر بینی سے کام لے اور حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے ۔ اس لئے قائدین کا فرض ہے کہ وہ کارکنان کو کسی سخت معرکے میں ڈالنے سے پہلے انہیں آزمائے ۔ اس واقعہ میں بنی اسرائیل کے اصحاب رائے ، نبی وقت کے پاس گئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ کوئی بادشاہ مقرر کردیں ، جس کی قیادت میں وہ اپنے دین کے دشمنوں سے لڑیں ، اس لئے کہ ان دشمنوں نے ان سے حکومت چھین لی ہے ، ان کی دولت پر قابض ہوگئے ہیں ، وہ ان مقدسات سے بھی محروم کردیئے گئے ہیں جو آل موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کے عہد میں ان کے پاس محفوظ تھے ۔ جب نبی وقت نے ان سے ، ان کے اس ارادے کے بارے میں تسلی چاہی اور ان سے کہا : قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلا تُقَاتِلُوا ” کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور تم پھر نہ لڑو۔ “ انہوں نے نبی کے اس سوال اور طلب یقین دہانی کو اچھا نہ سمجھا ۔ یہ بات ان پر ناگوار گزری اور ان کا جوش و خروش انتہا کو پہنچ گیا اور کہنے لگے قَالُوا وَمَا لَنَا أَلا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا ” بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم راہ اللہ میں نہ لڑیں ، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے ۔ اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کردئیے گئے ہیں ؟ “ لیکن اس جوش و خروش کی آگ جلد ہی بجھ گئی ۔ جذبات کا طوفان ختم ہوگا ۔ اور اس راہ کے مختلف مراحل میں وہ بیٹھتے گئے ۔ جیسا کہ اس واقعہ میں تفصیلات آئی ہیں یا سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا ، وہ سب پیٹھ موڑ گئے ۔ “ بنی اسرائیل کی تو یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ وعدہ خلافی کرتے ہیں ، اپنے عہد سے پھرجاتے ہیں اور اپنے ساتھی کو آدھی راہ میں چھوڑ دیتے ہیں ، لیکن ایسے واقعات انسانی جماعتوں میں بہرحال پائے جاتے ہیں اور خصوصاً ان جماعتوں میں جو اپنے ایمان ویقین کے اعتبار سے ، اور اپنی اعلیٰ تربیت کے اعتبار سے ابھی اعلیٰ معیار تک نہ پہنچی ہوں ۔ اس لئے جماعتی زندگی کا یہ منظر بھی ، ہر دور کی جماعت مسلمہ کے سامنے پیش کیا جانا ضروری تھا ، تاکہ ہر دور کی مسلم جماعت بنی اسرائیل کے اس تجربے سے فائدہ اٹھائے۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کے ظاہری جوش و خروش ، جذباتی اور فوری اقدام کی آزمائش صرف ایک مرتبہ ہی نہ ہو بلکہ بار بار کارکنوں کو آزمانا چاہئے ۔ جب بنی اسرائیل کے اپنے مطالبے پر قتال فرض ہوئی تو ان کی اکثریت نے پیٹھ پھیرلی ۔ وہی قلیل تعداد رہی جس نے اپنے نبی کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو قائم رکھا ۔ اور یہ وہی لوگ تھے جو پہلے تو نبی وقت کے طالوت کی سربراہی پر لڑتے رہے کہ وہ بادشاہت کے قابل ہی نہیں ہے ۔ لیکن جس وقت اس کی بادشاہی کی علامت ظاہر ہوگئی اور نبی اسرائیل کو اس کی قیادت میں وہ مقدسات واپس مل گئے جو دشمنوں کے قبضے میں چلے گئے تھے اور جنہیں فرشتوں نے اٹھاکر واپس کیا ، تب بنی اسرائیل قیادت پر تو راضی ہوئے لیکن ان کی اکثریت پہلے مرحلے ہی میں جہاد سے مکر گئی ۔ اور وہ پہلی آزمائش ہی میں ، جو ان کے قائد نے قائم کی ، ناکام ہوگئے۔ فَلَمَّا فَصَلَ طَالُوتُ بِالْجُنُودِ قَالَ إِنَّ اللَّهَ مُبْتَلِيكُمْ بِنَهَرٍ فَمَنْ شَرِبَ مِنْهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ فَإِنَّهُ مِنِّي إِلا مَنِ اغْتَرَفَ غُرْفَةً بِيَدِهِ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا ، تو اس نے کہا :” ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ۔ جو اس کا پانی پئے گا وہ میرا ساتھی نہیں ۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے ، جو اس سے پیاس نہ بجھائے ، ہاں ایک آدھ چلو کوئی پی لے ، مگر ایک گروہ قلیل کے سوا سب ہی دریا سے سیراب ہوئے ۔ “ لیکن یہ قلیل تعداد بھی آخر تک ثابت قدم نہ رہ سکی ۔ یہ قلیل تعداد ایک زندہ خطرہ کے مقابلے میں آئی ، جب انہوں نے دشمن کی کثرت اور ان کی قوت کو دیکھا تو حوصلے پست ہوگئے ۔ دل متزلزل ہوگئے فَلَمَّا جَاوَزَهُ هُوَ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ قَالُوا لا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ ” پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔ “ اس شرمناک موقف کے مقابلے میں صرف چنے ہوئے مٹھی بھر لوگ ڈٹ گئے ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا ۔ اور اس پر یقین کیا اور انہوں نے کہا : كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ” بارہا ایسا ہوا کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے ۔ “ یہ تھا وہ قلیل گروہ جس نے پلڑا بھاری کردیا ۔ اور اللہ کی امداد آگئی اور بنی اسرائیل عزت اور استقرار کے مالک بن گئے۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک صالح ، دانشمند اور مومن قیادت کی شان کیا ہوتی ہے ؟ طالوت کی قیادت میں یہ تمام صفات موجود ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طالوت لوگوں کی نفسیات سے اچھی طرح واقف تھے ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کا ظاہری جوش و خروش دیکھ کر دھوکہ نہ کھایا ۔ پھر انہوں نے صرف ایک ہی تجربہ پر اکتفا نہ کیا ۔ انہوں نے اپنے فوجیوں کے عزم اور اطاعت امر کا ، اصل معرکہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی امتحان لیا ۔ جو لوگ ان آزمائشوں میں ناپختہ پائے گئے انہیں جدا کرکے پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ پھر اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہمت نہیں ہاری ۔ ایک ایک تجربہ کے بعد ان کی فوج گھٹتی ہی رہی لیکن وہ بڑھتے چلے گئے اور ہمت نہ ہاری ۔ آخر کار ان کے ساتھ مٹھی بھر لوگ ہی جمے رہے لیکن چنے ہوئے لوگ منتخب مجاہد تھے ۔ اب وہ خالص قوت ایمان اور اللہ کے بھروسہ کے بل بوتے پر معرکے میں کود پڑے اور اللہ کا وعدہ تو ایمان والوں سے سچا ہوتا ہی ہے ۔ اس معرکہ میں جو آخری عبرت ہے وہ یہ ہے کہ جو انسان اللہ سے لو لگالیتا ہے تو اس کی اقدار بدل جاتی ہیں ، اس کے تصورات کے پیمانے بدل جاتے ہیں ، کیونکہ اس کی نظر صرف اس دنیا کے اس محدود دائرے پر ہی نہیں ہوتی بلکہ وہ اس دنیا سے بہت ہی آگے ، ایک وسیع دائرے میں جاکر سوچتا ہے ۔ جو تمام معاملات کا اصل الاصول ہے ۔ یہ مٹھی بھر اہل ایمان جو ثابت قدم رہے جو معرکے میں کود پڑے ، اور جنہوں نے اللہ کی نصرت حاصل کی ، وہ بھی تو اپنی قلت دیکھ رہے تھے کہ ان کی تعداد کم ہے ۔ اور ان کے دشمن تعداد میں بہت ہی زیادہ ہیں اور جنہیں دیکھ کر ان کے دوسرے بھائی یہ پکار چکے قَالُوا لا طَاقَةَ لَنَا الْيَوْمَ بِجَالُوتَ وَجُنُودِهِ ” ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں کے ساتھ لڑنے کی طاقت نہیں ۔ “ لیکن اس مٹھی بھر ایماندار جماعت نے اس صورت حال کے بارے میں وہ فیصلہ نہ کیا ۔ اس نے بہت ہی مختلف فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ” بارہا ایسا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔ “ اس کے بعد یہ گروہ مٹھی بھر ایمانداروں کا گروہ اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے : رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ” اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر ۔ ہمارے قدم جمادے اور کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر۔ “ یہ جماعت محسوس کرتی تھی کہ قوتوں کا ترازو کافروں کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ وہ تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے اس گروہ نے اللہ سے نصرت طلب کی اور اس نے وہ امداد اس ہاتھ سے وصول کرلی جس کا وہ ہاتھ مالک تھا ، اور جس کو وہ ہاتھ عطا کرسکتا تھا۔ جب اہل ایمان اللہ تک پہنچ جاتے ہیں تو ان کے پیمانے بدل جاتے ہیں ، ان کی اقدار بدل جاتی ہیں اور جب دل میں صحیح ایمان پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ دل کی دنیا میں اللہ کے ساتھ معاملہ کرنا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ ہم اس ظاہری اور جھوٹی دنیا کے معیاروں کے مطابق کوئی معاملہ کریں ۔ اس سطور میں ہم نے ان تمام اشارات کا احاطہ نہیں کرلیا ، جو اس قصے میں پائے جاتے ہیں ۔ اس لئے کہ قرآنی اشارات اور حکمتوں کا القاء ہر اس شخص پر اس کے حالات کے مطابق ہوتا ہے اور نیز اس مقدار کے مطابق ہوتا ہے جس قدر اس کو ضرورت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود ہر شخص اپنا حصہ لے لیتا ہے ، پھر بھی اشارات اور حکم کا بڑ احصہ محفوظ ہوتا ہے اور مختلف حالات میں اپنی اپنی مقسوم کے مطابق ، ان اشارات کا انکشاف ہوتا رہتا ہے ۔ غرض اس عمومی تبصرے کے بعد اب مناسب ہے کہ آیات پر تفصیلاً بحث کی جائے۔ یہ لوگ کون تھے ؟ جو ہزاروں میں تھے اور جو موت کے ڈر کے مارے اپنے گھروں سے نکلے ۔ یہ کس سرزمین کے باشندے تھے ؟ تاریخ کے کس دور میں نکلے یہ لوگ ان کے بارے میں تاویلات وتوجیہات کے انبار میں اپنے آپ کو گم نہیں کرنا چاہتا ۔ اگر اللہ تعالیٰ کو ان کے بارے میں کچھ بتانامقصود ہوتا تو وہ ضرور بتا دیتا ۔ جیسا کہ قرآن مجید کے بعض دوسرے متعین قسم کے قصص کے سلسلے میں کیا گیا ہے ۔ یہاں مطلب صرف عبرت کا حصول اور مسلمانوں کو نصیحت کرنا ہے ۔ مقصد یہ نہیں کہ قصہ بذات خود مطلوب ہے تاکہ اس کے اشخاص ، مقام واقعہ اور زمان واقعہ کی تفصیلات دی جائیں ۔ یہاں اگر مکان وزمان کا تعین بھی کرلیا جائے تو بھی اس سے معنی ومطلب میں نہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی ۔ یعنی واقعہ سے عبرت لینا۔ یہاں مقصود صرف یہ ہے کہ موت وحیات کے ظاہری اسباب اور ان اسباب سے بھی آگے اس کی اصل حقیقت کے بارے میں مسلمانوں کے نقطہ نظر کو درست کردیا جائے ۔ اور یہ بتادیا جائے کہ موت وحیات کا فیصلہ اس دنیا میں نہیں ہوتا ۔ یہ فیصلے قادرمطلق اور مدبر الکون کرتا ہے۔ اور یہ کہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کے نوشتہ پر مکمل اطمینان کرلینا چاہئے ۔ اور اس دنیا میں انسان کو بغیر کسی خوف وخطر اور بغیر کسی جزع وفزع کے اپنے فرائض سر انجام دینے چاہئیں ۔ تقدیریں لکھنے والا موجود ہے اور زندگی اور موت کا آخری فیصلہ صرف اس کے ہاتھ میں ہے ۔ یہاں مقصدیہ کہنا ہے کہ موت کے ڈر سے موت ٹل نہیں جاتی اور جزع وفزع کرنے سے ، چیخنے پکارنے سے ، زندگی میں اضافہ نہیں ہوجاتا ، نہ ان سے قضائے الٰہی ٹل سکتی ہے ۔ نہ اجل ان سے ذرا بھی موخر ہوسکتی ہے۔ اللہ ہی ہے جو زندگی عطا کرتا ہے ۔ وہی زندگی کی بخشش کرتا ہے اور وہی ہے جو زندگی واپس لے لیتا ہے۔ دونوں حالات میں اس کا فضل انسان کے شامل حال ہوتا ہے ۔ لیتا ہے پھر اس کا فضل ہے اور اگر دیتا ہے پھر فضل ہے ۔ زندگی دینے کے پس منظر میں اور زندگی نہ دینے کے پس منظر میں دونوں حالات میں اس کی عظیم حکمت عملی کارفرماہوتی ہے ۔ ان دونوں حالات میں لوگوں کی مصلحت ہے ۔ دونوں صورتوں میں لینے اور دینے میں اللہ کا فضل ہمارے شامل حال ہوتا ہے : إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَشْكُرُونَ (243) ” حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے ، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ “ ان لوگوں کا جمع ہونا ، پھر ہزاروں کی تعداد میں جمع ہونا ، پھر اپنے گھروں سے نکل پڑنا اور موت کے ڈر سے نکل پڑنا ، لازماً ایسے حالات میں جزع وفزع ، ہائے ہو کا عالم ہوگا۔ ان کا یہ بھاگنا کسی جنگجو دشمن کے ڈر سے ہو یا کسی سخت وبائی بیماری کے پھوٹ پڑنے کی وجہ سے ہو ، چاہے وجہ جو بھی ہو ، اس سے موت کا کوئی علاج نہیں ہوسکتا فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ” اللہ نے فرمایا : مرجاؤ۔ “ اللہ تعالیٰ نے کس طرح انہیں کہا ؟ وہ کس طرح مرگئے ؟ کیا وہ اسی مصیبت کی وجہ سے مرگئے ، جس کی وجہ سے نکلے تھے یا وہ کسی دوسرے ایسے سبب کی وجہ سے مرگئے جس کا انہیں وہم و گمان بھی نہ تھا۔ اس کی کوئی تفصیل قرآن مجید نے نہیں دی ہے ۔ کیونکہ ان تفصیلات کی اس مقصد کے لئے کوئی ضرورت نہ تھی یعنی عبرت انگیزی ۔ بتانا یہ ہے کہ جزع وفزع اور خوف وہراس کی وجہ سے وہ اس چیز سے بچ نہ سکے جس کی وجہ سے وہ بھاگ رہے تھے ۔ وہ موت سے بچ نہ سکے اور اللہ کے فیصلے کو رد کرنے کی کوئی سبیل نہ تھی ۔ اگر وہ اللہ کی طرف لوٹ آتے اور صبر وثبات اور سنجیدہ رویہ اختیار کرتے تو یہ زیادہ بھلا ہوتا ۔ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ” پھر اس نے ان کو دوبارہ زندگی بخشی۔ “ کسی طرح اس نے ان لوگوں کو زندہ کردیا ؟ کیا انہی لوگوں کی موت کے بعد معجزانہ طور پر زندہ کردیا گیا۔ یا ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا کئے جو طاقتور اور بہادر تھے اور آباء و اجداد کی طرح آہ وبکا کرنے والے نہ تھے ۔ ان باتوں کی تفصیل بھی قرآن مجید نے پیش نہیں فرمائی ۔ اس لئے ہمیں بھی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم اس کی تشریح میں طرح طرح کی تاویلات شروع کردیں اور بےسند روایات کے انباروں میں خوامخواہ اپنے آپ کو گم کردیں ، جیسا کہ بعض تفاسیر میں ذکر ہوا ہے ۔ جو کچھ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے ، وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ، بغیر کسی جدوجہد ومشقت کے ان کو دوبارہ زندگی دے دی ، حالانکہ انہوں نے موت سے بچنے کے لئے جو آہ وبکا کیا تھا ، اس سے ان کی موت رک نہ سکی۔ خلاصہ یہ ہے کہ آہ وبکا اللہ کے فیصلے کو روک نہیں سکتی ۔ جزع وفزع سے زندگی محفوظ نہیں ہوجاتی ۔ زندگی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ ایک شخص کو اس کی اپنی جدوجہد کے بغیر ہی دی جاتی ہے ۔ اگر یہ ہے حقیقت تو پھر بزدلو ! تمہاری آنکھیں نیند کے لئے ترس جائیں اور تمہیں کبھی چین نہ ملے :

البقرة 2:244

یہاں اس حادثے کا ایک اور پہلو سامنے آتا ہے ، بلکہ اس کی مغز سامنے آجاتی ہے ۔ اور یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ مسلمانوں کی نسلوں میں سے پہلی نسل کے سامنے اس واقعہ کو کس غرض کے لئے بیان کیا گیا تھا۔ یہ کہ کہیں زندگی کی محبت کی وجہ سے تم گھروں ہی میں نہ بیٹھ جاؤ۔ موت کے ڈر سے کہیں پیچھے نہ ہٹ جاؤ۔ ان وجوہات سے کہیں جہاد فی سبیل اللہ ترک نہ کردو ۔ موت وحیات تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور تم صرف اللہ کی راہ میں لڑو۔ کسی اور مقصد کے لئے نہ لڑو۔ صرف اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوجاؤ اور اس کے سوا تمام جھنڈوں کو ترک کردو ۔ اس کی راہ میں لڑو اور یاد رکھو وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ” خوب جان رکھو کہ وہ سنتا ہے اور جانتا ہے۔ “ وہ بات سنتا ہے اور اس کے پس منظر کو بھی جانتا ہے ۔ وہ سنتا ہے ، اور دعا قبول کرتا ہے ، اور یہ بھی جانتا ہے کہ انسان کی زندگی اور اس کے قلب ونظر کے لئے کیا مفید ہے اور کیا نہیں ہے ۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اپنی جدوجہد جاری رکھو۔ تمہارا کوئی عمل بھی ضائع نہ ہوگا ۔ اور وہی ہے جو زندگی دیتا ہے اور وہی ہے جو زندگی واپس لیتا ہے۔ جہاد فی سبیل اللہ قربانی اور خرچ کا دوسرا نام ہے ۔ قرآن مجید کے اکثر مقامات میں جہاد و قتال کے ساتھ ساتھ مال خرچ کرنے اور انفاق فی سبیل اللہ کا تذکرہ بھی ہوتا ہے ۔ بالخصوص رسول ﷺ کے دور میں تو انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت اور زیادہ اس لئے تھی کہ آپ ﷺ کے دور میں جہاد فی سبیل اللہ میں لوگ رضاکارانہ طور پر حصہ لیتے تھے اور مجاہدین اپنا خرچہ خود برداشت کیا کرتے تھے ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا تھا کہ وہ جذبہ جہاد سے تو سرشار ہوتے تھے لیکن وہ مال سے محروم ہوتے تھے اور ان کے پاس اسلحہ اور سواری نہ ہوتی ۔ اس لئے نادار مجاہدین کی سہولیات کے لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو باربارانفاق فی سبیل اللہ کی طرف متوجہ کیا جاتا رہے ۔ اس لئے قرآن مجید بہت ہی موثر انداز میں انفاق کی دعوت دیتا ہے :

البقرة 2:245

جس طرح موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اگر اللہ نے زندگی لکھی ہوئی ہے تو موت آہی نہیں سکتی ، اسی طرح مال انفاق فی سبیل اللہ سے نہیں جاتا ۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے نام قرض حسن ہوتا ہے ۔ اللہ اس کا ضامن ہے اور وہ اس قرض کو بڑھا چڑھا کر کئی گنادے گا۔ دنیا میں بھی ایسے شخص کا مال بڑھے گا اسے سعادت و برکت نصیب ہوگی اور آخرت میں بھی سکون اور راحت نصیب ہوگی ۔ اور آخرت میں تو ایسے شخص کے لئے بیشمار سازوسامان اور انعام واکرام ہوگا۔ اسے اللہ کا قرب نصیب ہوگا اور اللہ راضی ہوگا۔ انسان حرص اور بخل کی وجہ سے غنی نہیں ہوتا۔ غنا وفقر تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ انفاق اور خرچ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے : وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُط ” گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی ۔ “ اور آخر کار تم سب نے اللہ کی طرف پلٹ کرجانا ہے ۔ جب تم چار وناچار اللہ کی طرف روانہ ہوگئے اور اس دنیا سے رخصت ہوگے ، تو اس وقت تمہیں مال و دولت سے کیا فائدہ ہوگا : وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ” اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے ۔ “ اور اگر اسی کی طرف بہرحال جانا ہے تو پھر موت سے ڈرنا کیا ؟ جزع وفزع سے کیا حاصل ؟ نہ موت کا ڈر اس لئے کہ اللہ کی طرف تو جانا ہے ۔ نہ فقر ومسکنت کا ڈر ، اس لئے کہ بہرحال اس دنیا کو چھوڑ کر جانا ہی ہے۔ تو پھر مومنین کو چاہئے کہ وہ اللہ کی راہ میں زور وشور کے ساتھ جہاد شروع کریں ۔ وہ جان بھی پیش کریں اور مال بھی ۔ وہ یقین کرلیں کہ اس دنیا میں ان کے گنے چنے سانس ہیں ۔ زندگی محدود ہے ۔ ان کا رزق مقرر ہے ۔ ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ جرأت وبہادری کی زندگی گزاریں ۔ شریفانہ اور آزادانہ زندگی بسر کریں ۔ آخر کار جانا انہوں نے اللہ تعالیٰ ہی کے سامنے ہے ۔ ان آیات کی تشریح ، ایمانی ہدایات کی توضیح اور تربیتی ہدایات کے اظہار کے بعد مناسب ہے کہ قرآن مجید کے حسن ادا اور اظہار خیال کی فنی خوبیوں کو بھی کچھ وقت دیں ۔ مناسب نہیں کہ یوں ہی گزرجائیں أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ ” کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟ جو موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکلے ۔ انداز تعبیر ایسا ہے ، جیسا کہ یہ لوگ ہزارہا کی تعداد میں صفیں باندھیں کھڑے ہیں اور ان کا معائنہ ہورہا ہے۔ (جس طرح گارڈ آف آنر کا معائنہ ہوتا ہے) ، قرآن نے صرف دو الفاظ استعمال کرکے ان لوگوں کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے أَلَمْ تَرَکیا آپ نے نظر نہیں ڈالی ۔ ان دو الفاظ کے سوا ، کوئی اور انداز تعبیر وہ نقشہ نہیں کھینچ سکتا تھا جو ان دو الفاظ نے پردہ تخیل پر منقش کردیا ۔ یوں لگتا ہے کہ گویا یہ لوگ صف بستہ کھڑے ہیں اور ہم انہیں دیکھ رہے ہیں۔ ان کی حالت یہ ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں ہیں ۔ گھروں سے نکل پڑے ہیں ، ڈرے سہمے ، پھٹی پھٹی نظروں سے ادہر ادہر دیکھ رہے ہیں ۔ اب قرآن مجید صرف ایک لفظ استعمال کرتا ہے اور یہ تمام لوگ میدان معائنہ کی بجائے اب میدان مقتل میں پہنچ جاتے ہیں۔ گویا گارڈ آف آنر کیا معائنہ کرنے والا حاکم مطلق ایک کاشن دیتا ہے مُوتُوا ” مرجاؤ “ اور نقشہ بدل جاتا ہے ۔ اس لفظ سے احساس دلایا جاتا ہے کہ موت کے سامنے بند نہیں باندھے جاسکتے ۔ تمہارا طرز عمل غلط ہے ۔ یہ لفظ بتاتا ہے کہ اللہ کے فیصلے کا کاشن کی طرح نافذ ہوتے ہیں ۔ ادہر لفظ نکلتا ہے ، ادہر اس پر عمل ہوجاتا ہے۔ جس طرح پریڈ کے میدان میں ہوتا ہے۔ ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ” پھر ان کو زندہ کردیا۔ “ کیونکر ؟ اس کی کوئی تفصیل یہاں نہیں ۔ اللہ قادر ہے ، مالک ہے ۔ موت وحیات کی زمام اس کے ہاتھ میں ہے ۔ بندوں کے ہر معاملے میں خود وہ متصرف ہے ۔ اس کا کوئی ارادہ مسترد نہیں ہوسکتا۔ وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ یہ انداز تعبیر ہی بتا دیتا ہے کہ اللہ کے ہاں موت وحیات کے فیصلے کس طرح ہوتے ہیں اور امر الٰہی کے نفاذ کا منظر کیا ہوتا ہے۔ یوں جیسے پریڈ کا میدان اور کاشن پر کاشن ۔ اوپر ہمارے پردہ تخیل پر موت وحیات کا منظر تھا۔ روح کو مٹھی میں لے لینے ، قبض کرنے اور پھر یکلخت اسے آزاد کرنے کے مناظر تھے ۔ اس کے متصلاً مابعد جب رزق کا معاملہ آتا ہے تو قرآن مجید اس کے لئے قبض اور بسط کے الفاظ استعمال کرتا ہے وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ ” اللہ مٹھی بند کرتا ہے اور کھولتا ہے۔ “ تنگی رزق وفراخی رزق کی یہ تعبیر اس لئے اختیار کی تاکہ قبض روح اور اعادہ روح کے سابقہ مضامین سے متناسق الفاظ آجائیں ۔ یہ دونوں جگہ الفاظ کا اختصار ، معانی کا استحضار قرآن مجید کا عظیم الشان اعجاز ہے ۔ ایک طرف عجیب منظر کشی ہے ۔ دوسری طرف استعمال الفاظ میں عجیب تناسق اور ہم آہنگی ہے ۔ معانی چلتے پھرتے نظرآتے ہیں اور حسن ادا کی تو کوئی انتہاء نہیں ہے ۔ اب قرآن مجید دوسرا تجربہ امت مسلمہ کے سامنے رکھتا ہے ۔ اس کے کردار بنی اسرائیل ہیں ۔ واقعہ حضرت موسیٰ کے زمانہ مابعد کا ہے :

البقرة 2:246

کیا تو نہیں دیکھا ، گویا یہ ابھی ابھی کا واقعہ ہے اور دیکھا ہوا منظر ہے ۔ بنی اسرائیل کے سردار جمع ہوئے ہیں ۔ ان کے اکابرین اور اہل الرائے کا ایک عظیم اجتماع ہے ۔ وہ اپنے نبی وقت کے پاس آتے ہیں ۔ سیاق کلام میں نبی کا نام نہیں لیا جاتا ، اس لئے کہ مقصد قصہ گوئی نہیں ہے ۔ اگر نبی کا نام لیا جائے تو اس سے قصے کی مقصدیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوجاتا۔ بنی اسرائیل میں نبیوں کی کثرت تھی ان کی طویل تاریخ میں بیشمار نبی مبعوث ہوئے ۔ غرض یہ سردار اور یہ امراء جمع ہیں ۔ وہ نبی وقت سے مطالبہ کررہے ہیں کہ وہ ان کے اوپر ایک بادشاہ مقرر فرمادیں ، جس کی کمانڈ میں وہ فی سبیل اللہ جہاد کریں ۔ اس جنگ کے لئے وہ فی سبیل اللہ کا لفظ استعمال کررہے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ جنگ کی نوعیت کا اظہار بھی کرنا چاہتے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دلوں میں ایمان نے کروٹ لی ہے ۔ ایمان پیدا ہوکر کھڑا ہوگیا اور اپنے آپ کو جھاڑ کر اقدام کے تیار ہوگیا ۔ ان کا یہ شعور زندہ ہوگیا کہ وہ تو ایمان اور نظریہ حیات کے حاملین ہیں ۔ وہ تو حق اور سچائی کے علمبردار ہیں ۔ ان کے دشمن ضلالت ، کفر اور باطل کے علمبردار ہیں ۔ ان کے سامنے اب ایک منزل ہے ، جہاد فی سبیل اللہ کی منزل۔ غرض مقصد کی یہ وضاحت ، مقصد کا تعین اور مقصد کی قطعیت سے کامرانی اور فتح مندی کی نصف منزل طے ہوجاتی ہے ۔ اس لئے مومن کے ذہن میں سب سے پہلے یہ بات واضح ہوکر بیٹھ جانی چاہئے کہ وہ حق پر ہے اور اس کا دشمن باطل پر ہے ۔ اس کے شعور میں مقصد متعین ہو ۔ خالص اللہ کے لئے ہو ۔ اس میں کسی دوسری چیز کی آمیزش نہ ہو اور نہ ہی اس میں کوئی التباس ہو جس کی وجہ سے اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کدھر جارہا ہے ؟ نبی نے چاہا کہ وہ نیت کی پختگی اور عزم کی سچائی کے بارے میں تسلی کرلیں ۔ معلوم کرلیں کہ آیا وہ اس قدر عظیم ذمہ داری کے اٹھانے کا بل بوتا بھی نہیں رکھتے ہیں یا نہیں ۔ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں ۔ سوچ سمجھ کر مطالبہ کررہے ہیں : قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلا تُقَاتِلُوا ” نبی نے پوچھا ! کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو۔ “ آیا ایسا ممکن ہے کہ تم پر جہاد فرض کرلیا جائے اور تم اس سے پیٹھ پھیر لو ؟ اب تم تو آزاد ہو ۔ جہاد نہ کرو۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ تمہارے اس مطالبے کو مان لیتے ہیں اور تم کو جہاد کا حکم دیا جاتا ہے تو پھر یہ تم پر فرض ہوجائے گا ۔ پھر تم انکار نہ کرسکوگے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک نبی کو ایسا ہی سوال کرنا چاہئے کہ وہ معاملہ کی تاکید و توثیق کرے ۔ انبیاء کے کلمات اور ان کی باتیں مذاق نہیں ہوا کرتیں ۔ ان کے احکام میں نہ ترددہوتا ہے اور نہ ہی ذرہ بھر تاخیر ہوسکتی ہے۔ نبی وقت کے اس استفسار پر ان کا جوش و خروش عروج تک پہنچ گیا ۔ سردار نے بتایا کہ جنگ ناگزیر ہوچکی ہے ۔ اس کے سوا کوئی چارہ کا رہی نہیں رہا ہے۔ درستی حالات کا مدار اب صرف جہاد اور جہاد فی سبیل اللہ پر ہے۔ جنگ متعین ہے اور اس میں تردد کی کوئی گنجائش نہیں قَالُوا وَمَا لَنَا أَلا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا ” کہنے لگے : بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم راہ اللہ میں نہ لڑیں جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکالا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جدا کردئیے گئے ہیں ؟ “ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے دل میں بات واضح ہے ۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ جنگ ضروری ہے ۔ ان کے دشمن اللہ کے دشمن ہیں ۔ اللہ کے دین کے دشمن ہیں۔ انہیں گھروں سے نکال دیا گیا ہے ۔ ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیا گیا ہے ۔ اس لئے ان دشمنوں کے ساتھ جنگ کرنا واجب ہے ۔ بلکہ ان کے سامنے واحد راستہ ہی یہ ہے کہ وہ ان دشمنان حق کے ساتھ جنگ کریں ۔ اس لئے اس سلسلے میں ان سے بار بار پوچھنا اور تکرار کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ تو عزم صمیم ہے اور ہم یہ عزم کئے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ وقتی بہادری ، اور حالات امن کی یہ جرأت مندی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی ۔ قرآن مجید جلہد ہی تصویر کا دوسرا رخ سامنے کردیتا ہے فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے۔ “ یہاں آکر بنی اسرائیل کی ایک اہم خصوصیت معلوم ہوجاتی ہے ۔ اپنی تاریخ میں وہ سخت وعدہ خلاف رہے ہیں ، عہد کرکے فوراً پھرجائیں گے ۔ جب حکم دیا جائے تو اطاعت سے پہلو تہی کریں گے ۔ فرائض کی ادائیگی میں پیچھے رہتے ہیں ۔ حق سے منہ موڑتے ہیں اور باہمی اختلافات ان کا شعار ہوتا ہے ۔ لیکن یہ صفات ہر اس جماعت میں پائی جاتی ہیں جن کی ایمانی تربیت مکمل نہ ہوئی ہو ۔ جن کو دیر تک گہری اور اعلیٰ معیار کی تربیت سے نہ گزارا گیا ہو ۔ یہ ایک ایسی کمزوری ہے ، جس پر تحریک کی قیادت کو خبردار رہنا چاہئے اور اس کی فکر کرنی چاہئے ۔ مشکلات راہ میں اس کا خیال رکھنا چاہئے ۔ یہ نہ ہو کہ مشکلات میں کمزوریاں سامنے آجائیں اور معاملات مشکل ہوجائیں ۔ ایسے حالات میں ان تمام انسانی جماعتوں کو پیش آتے رہتے ہیں جن کی صفوں میں ابھی تک کمزور لوگ موجود ہوں اور جن کو پگھلا کر میل کچیل سے صاف نہ کیا گیا ہو۔ اس روگردانی پر اللہ تعالیٰ صرف یہ تبصرہ فرماتے ہیں وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ” اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔ “ یہ بنی اسرائیل کے لئے سخت نکیر ہے ۔ ان لوگوں نے پہلے جہاد کا مطالبہ کیا ۔ جہاد فرض کیا گیا اور قبل اس کے کہ یہ لوگ میدان جہاد کو جائیں ، انہوں نے انکار کردیا ۔ حالانکہ تعداد میں یہ بہت زیادہ ہیں ۔ بہت ہی ذلیل ہیں یہ لوگ ۔ ذلت کے ساتھ ساتھ ظالم بھی ہیں ۔ اپنے نفس کے لئے ظالم ، نبی کے لئے بھی ظالم ، حق کے لئے بھی ظالم ۔ انہوں نے حق کو پہچانا اور پھر اسے اہل باطل کے ہاتھوں ذلیل ہونے دیا ۔ جو شخص سچائی اور یقین کو پہچان لے اور یقین کرے کہ وہ حق پر ہے ۔ یہ جان لے کہ اس کا دشمن باطل پر ہے ۔ جس طرح بنی اسرائیل کے سرداروں نے جان لیا تھا ، اور نبی سے مطالبہ کردیا تھا کہ وہ ان کے لئے ایک باشاہ مقرر کردے تاکہ اس کی سرکردگی میں وہ دشمنوں سے ، اللہ کی خاطر جنگ کریں اور پھر یہ شخص پیٹھ پھیر لے اور دشمن کے مقابلے میں علم جہاد بلند نہ کرے اور نہ ہی تکالیف اٹھائے ، سب کچھ جانتے ہوئے تو یہ شخص ظالم ہے ، اور اسے اس ظلم کی سزا دی جائے گی ۔ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ ” اور اللہ ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔ “

البقرة 2:247

اس بحث و تکرار اور سوال و جواب سے بنی اسرائیل کی ایک اور خصوصیت کا اظہار ہوتا ہے ، جس کا تذکرہ اس سورت میں بارہا ہوا ہے ۔ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ان کے لئے ایک بادشاہ مقرر ہو ، جس کی قیادت میں رہ کر ، وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جنگ کریں ، لیکن بادشاہ کے تقرر کا اعلان ہوتے ہی انہوں نے سرجھکالئے ، گردنیں پھیرلیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے بادشاہ کی تقرری اور نبی کی جانب سے اس کی اطلاع پر اس معاملے میں بحث و تکرار میں مشغول ہوگئے ۔ طالوت کی بادشاہت پر ناک بھنویں چڑھانے لگے ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ طالوت کے مقابلے میں اپنے آپ کو موروثی طور پر زیادہ مستحق رکھتے ہیں ۔ طالوت ایک تو شاہی خاندان سے نہ تھا ، دوسرے یہ کہ وہ کوئی دولت مند آدمی نہ تھا کہ دولت کی بناپر وراثت کے استحقاق کو نظر انداز کردیاجائے ۔ غرض یہ تاریک خیالی اور یہ لجاجت بنی اسرائیل کی مستقل خصوصیت ہے ۔ نبی وقت نے بتایا کہ وہ ذاتی خصوصیات کی وجہ سے زیادہ مستحق ہے اور یہ کہ اس کے انتخاب میں حکمت کارفرما ہے : قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ” اللہ نے تمہارے مقابلے میں اس کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی اور جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے ، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ “ وہ ایسا شخص ہے جسے اللہ نے چنا ہے ۔ یہ تو اس کی صفت ہے ۔ اس کو دماغی اور جسمانی قابلیتیں دی ہیں ۔ یہ اس کی دوسری ترجیح ہے اور پھر اللہ جسے چاہے اپنا ملک عطا کردے ۔ وہ اس کا ملک ہے ۔ دنیا اس کی ہے ۔ وہ متصرف ومختار ہے ۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چن لے ۔ وہ بڑی وسعت والا ہے ۔ بڑے علم والا ہے ۔ اس کے فضل وکرم پر کوئی خازن مقرر نہیں ۔ اس کی دادوہش کے لئے کوئی حد وقید نہیں ہے ۔ وہی جانتا ہے کہ بھلائی کس میں ہے ۔ وہی جانتا ہے کہ کس موقع پر کیا فیصلہ بہتر ہے ؟ یہ ایسے معاملات ہیں جن کے بارے میں ایک مسلمان کا نقطہ نظر درست ہونا چاہئے ۔ اور اس کا ذہن کدورت سے صاف ہونا چاہئے ۔ لیکن کیا کیا جائے معاملہ بنی اسرائیل سے آپڑا ہے ۔ ان کے نبی اس بات سے خوب واقف ہیں ۔ نبی وقت جانتا ہے کہ نبی اسرائیل کا مزاج ان بلند حقائق کا متحمل ہی نہیں ہے ۔ حالات ایسے ہیں کہ فہمائش کے لئے وقت نہیں ہے ۔ معرکہ حق و باطل سرپر ہے۔ اس لئے مناسب یہی ہے کہ وقت کی کمی کے باعث ان کے سامنے ایک ایسا معجزہ ظاہر کردیا جائے جس سے ان کے دل نرم ہوجائیں ۔ وہ بےحد متاثر ہوں اور انہیں اس قیادت پر اطمینان ہوجائے اور وہ یقین کرلیں :

البقرة 2:248

تیہ کی سرگردانی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے زمانہ مابعد میں اس دور کا واقعہ ہے جبکہ حضرت ہوشع نبی تھے ۔ اس دور میں بنی اسرائیل کے دشمنوں نے ان پر حملہ کیا ۔ ان سے ان کا علاقہ بھی چھین لیا اور وہ تبرکات بھی چھین لئے جو ان کے پاس ایک بکس میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کے خاندانوں سے محفوظ چلے آرہے تھے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس بکس میں تورات کا وہ نسخہ بھی محفوظ تھا ، جو کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے دیا گیا تھا۔ نبی وقت نے اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علامت قراردیا کہ یہ معجزہ تمہارے سامنے رونما ہوگا۔ یہ بکس تمہارے پاس لوٹ آئے گا ۔ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے تاکہ ان کے دلوں پر اطمینان کی بارش ہوجائے ۔ نبی وقت نے فرمایا کہ یہ معجزہ اس بات کا شاہد صادق ہوگا کہ اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے بشرطیکہ تمہارے دلوں میں ایمان ہو۔ سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معجزہ رونماہوا اور تب جاکر ان لوگوں کو یقین ہوا کہ طالوت اللہ کی جانب سے مقرر ہیں ۔ اب طالوت نے ان لوگوں کو منظم کیا جنہوں نے جہاد میں شریک ہونے سے انکار نہ کیا تھا ، اور انہوں نے نبی وقت کے ساتھ جو پختہ عہد کیا تھا ، وہ اس پر قائم تھے ۔ یہ سب باتیں قرآن مجید نے ، اپنے اسلوب قصص کے عین مطابق ترک کردیں ۔ قرآن کا اسلوب یہ ہے کہ وہ کسی قصے کے ایک منظر کے بعد متصلاً دوسرا منظر پیش کردیتا ہے ۔ اور درمیان کی غیر ضروری کڑیاں چھوڑدیتا ہے (دیکھئے میری کتاب التصویر الفنی فی القرآن) ۔ چناچہ یہاں بھی جو منظر پیش ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت طالوت لشکر اسلام کو لے کر دشمن کی طرف مارچ کررہے ہیں :

البقرة 2:249

یہاں پہلے قدم پر ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت طالوت کا انتخاب کیوں فرمایا تھا۔ وہ ایک سخت معرکہ سر کرنے جارہے تھے ، لیکن ان کے ساتھ جو فوج تھی وہ شکست خوردہ لوگوں پر مشتمل تھی ۔ یہ لوگ اپنی طویل تاریخ میں بار بار ہزیمت اٹھاچکے تھے ۔ اور بار بار ذلت اٹھانے کے خوگر ہوگئے تھے ۔۔ اور مقاتلہ ایک فاتح اور غالب قوم کی فوج کے ساتھ تھا ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ وہ اس ظاہریہ شان و شوکت والی فوج کے مقابلے میں ایک ایسی فوج لے کر جائیں جن کے ضمیر قوت ، پوشیدہ قوت سے بھرے ہوئے ہوں ، یہ پوشیدہ قوت ، قوت ارادہ ہی ہوسکتی ہے۔ اتنا پختہ ارادہ کہ وہ ہر خواہش اور ہر رجحان کو ضبط کرسکے ۔ وہ محرومیت اور شدائد کے مقابلے میں چٹان کی طرح کھڑا ہوسکے ۔ جو ضروریات اور لازمی حاجات سے بھی بلند ہوجائے ۔ وہ اطاعت حکم کو ترجیح دے اور اس سلسلے میں مشکلات اور تکلیفات کو انگیز کرے ۔ آزمائش کے بعد آزمائش سے گزرتا چلاجائے ، لہٰذا اس چنے ہوئے ، اللہ کے پسند کئے ہوئے کمانڈر کا فرض تھا کہ وہ اپنی فوج کی قوت ارادی کو آزمائے ۔ اس کی ثابت قدمی اور صبر کو پرکھے کس حدتک وہ خواہشات نفس اور مرغوبات کے مقابلے میں ٹھہر سکتے ہیں ۔ کس قدر وہ ضروریات زندگی سے محرومی اور مشکلات برداشت کرسکتے ہیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ کمانڈر نے یہ حکم فوج کو اس وقت دیا جبکہ وہ سخت پیاسے تھے ۔ پیاس سے نڈھال ہورہے تھے ۔ یہ جاننے کے لئے کہ کون ہے جو صبر کرتا ہے اور کون ہے جو پیٹھ پھیر کر واپس ہوجاتا ہے ، الٹے پاؤں پھرتا ہے اور کنج عافیت میں بیٹھ جاتا ہے چناچہ اس مختا رکمانڈر کی فراست صحیح ثابت ہوئی ۔ فَشَرِبُوا مِنْهُ إِلا قَلِيلا مِنْهُمْ ” ایک گروہ قلیل کے سب اس سے سیراب ہوئے ۔ “ انہوں نے پیا لیکن خوب پیٹ بھر کر حالانکہ ان کو اجازت یہ دی گئی تھی کہ وہ صرف ہاتھ سے ایک آدھ چلو بھر کر پی لیں ۔ اس قدر کہ پیاس کی تیزی ختم ہوجائے ۔ لیکن یہ معلوم نہ ہو کہ وہ واپس ہونا چاہتے ہیں۔ ان لوگوں کی اکثریت نے گویا ہتھیار ڈال دئیے ۔ پیاس کے سامنے ، اور پیٹھ پھیرلی دشمن سے ، اس لئے یہ جدا ہوگئے ۔ یہ اس قابل ہی نہ تھے کہ طالوت اور اس کے ساتھیوں کے ذمہ جو مہم سر کرنی تھی اس میں ان کو شریک کیا جائے ۔ بہتری اسی میں تھی ۔ دانشمندی یہی تھی کہ وہ اس فوج سے الگ ہوجائیں جس نے فی الوقعہ جنگ لڑنی ہے ۔ یہ دراصل کمزوری ، شکست اور ناکامی کا بیج تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ فوج کی کامیابی عظیم تعداد کی وجہ سے نہیں ہوا کرتی بلکہ پختہ ارادے اور مضبوط ایمان ، مضبوط دل اور مستقبل مزاجی سے ہوا کرتی ہے۔ اس تجربہ سے معلوم ہوا کہ صرف چھپی ہوئی نیت ہی کافی نہیں بلکہ عملی تجربہ بھی ضروری ہے ۔ میدان جنگ میں قدم رکھنے سے پہلے اس راہ کے نشیب و فراز سے واقفیت ضروری ہے ۔ اس تجربے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو قائد چنا تھا وہ کس قدر اولوالعزم تھا ۔ اس کی ہمت کی بلندی تو دیکھو کہ اکثر لوگوں نے اعلان جہاد کے وقت ہی انکار کردیا لیکن اس کا ارادہ متزلزل نہ ہوا۔ پھر پہلے تجربہ ہی میں اس کی فوج کی اکثریت ناکام رہی اور انہوں نے پیٹھ پھیرلی ۔ لیکن وہ ثابت قدم رہا اور اپنی راہ پر گامزن رہا ۔ یہاں پہلے تجربے نے جیش طالوت کو اگرچہ چھان کر رکھ دیا ، کمزور لوگ اگرچہ الگ ہوگئے تھے لیکن اب بھی تجربات کا سلسلہ جاری ہے : اب یہاں آکر فی الواقعہ وہ ایک قلیل تعداد میں رہ گئے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ دشمن کے پاس ایک عظیم قوت ہے ۔ جالوت جیسا کمانڈر اس کی قیادت کررہا ہے ۔ وہ مومن ہیں انہوں نے اپنے نبی کے ساتھ جو کیا تھا ، اس پر وہ اب بھی قائم ہیں ۔ لیکن اب وہ اپنی آنکھوں سے حالات کو دیکھ رہے ہیں ، وہ صدق دل سے محسوس کررہے ہیں کہ وہ اس عظیم قوت کے ساتھ مقابلے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔ اب یہ آخری اور فیصلہ کن تجربہ ہے ۔ یہ تجربہ کہ کون دنیا کی ظاہری قوت پر بھروسہ کرتا ہے اور کون ہے جو ظاہری قوت کے مقابلے میں اللہ کی عظیم قوت پر بھروسہ کرتا ہے۔ ایسے معاملات میں صرف وہ لوگ ہی ثابت رہ سکتے ہیں جن کا ایمان مکمل ہوچکا ہو ، ان کے دل اللہ تک پہنچ چکے ہوں ۔ ان کی قدریں بدل چکی ہوں ۔ وہ خیر وشر کا امتیاز اپنے ایمان کی روشنی میں متعین کرتے ہوں ، ان ظاہری حالات کی روشنی میں نہیں جن میں عوام الناس گرفتارہوتے ہیں۔ یہاں آکر اب وہ مٹھی بھرگنے چنے اہل ایمان کھل کر سامنے آجاتے ہیں ۔ وہ لوگ جن کی تعداد کا یقین ایمان کی روشنی میں ہوتا ہے۔ جن کا پیمانہ ظاہر بیں کے پیمانوں سے مختلف ہوتا ہے : یہ ہے اصول ان لوگوں کا جنہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ایک دن اللہ کے سامنے پیش ہوں گے ، کہ بار بار ایسا ہوا ہے کہ کم لوگ کثیر تعداد پر غالب آگئے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ مصائب وشدائد کے مختلف مراحل سے گزرکر ، کٹھن حالات سے دوچار ہوکر ، مقام برگزیدگی اور مقام عالی پر فائز ہوچکے ہوتے ہیں اور غالب اس لئے ہوتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ ان کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہ اس عظیم قوت تک رسائی پاچکے ہوتے ہیں ، جو تمام قوتوں کا سرچشمہ ہوتی ہے ، تمام قوتوں پر غالب ہوتی ہے جس کے احکام نافذ ہوتے ہیں جو اپنی مخلوق کے مقابلے میں جبار ہے ، جو دنیا کے جباروں کو پاش پاش کردیتی ہ ہے ، جو ظالموں کو ذلیل کردیتی ہے اور بڑے بڑے گردن فرازوں پر غلبہ پالیتی ہے ۔ ان کو یہ کامیابی اللہ کے اذن سے ہوتی ہے ، خود ان میں کوئی کمال نہیں ہوتا ۔ اس کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی ذات برترہوتی ہے ۔ وَاللَّهُ مَعَ الصَّابِرِينَ اس لئے کہ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہوتا ہے ۔ وہ اس لئے کامیاب ہوتے ہیں کہ اذن الٰہی ایسا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں کہہ کر یہ مٹھی بھر لوگ ثابت کردیتے ہیں کہ یہ ہیں وہ لوگ جو معرکہ حق و باطل کے لئے چن لئے گئے ہیں۔ اب ہم اس کہانی کو لے کر ذرا آگے بڑھتے ہیں ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ نہایت ہی قلیل افراد پر مشتمل ایک گروہ ہے جسے یہ یقین ہے کہ وہ ایک دن اللہ کے سامنے پیش ہوں گے ۔ اسے اس ملاقات کا پورا یقین ہے اور یہی یقین اس کی اس مصابرت کا سرچشمہ ہے ۔ یہ گروہ اپنی قوت حکم الٰہی اور اذن اللہ میں تلاش کرتا ہے ۔ اسے اللہ پر پورا بھروسہ ہے ، اس لئے اسے اپنی کامیابی کو پورا یقین ہے اور یہ گروہ ان لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہے جو اللہ کے ہاں صابرین کہلاتے ہیں ۔ غرض یہ گروہ جو صابر ہے ثابت قدم ہے اور غیر متزلزل ، ضعف و قلت کے باوجود خائف نہیں ۔ یہ گروہ اچانک میدان معرکہ میں ایک عظیم قوت کے مقابلے میں کود پڑتا ہے اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے ۔ یہ تجدید عہد کرتا ہے ۔ اس کے دل اللہ تک جاپہنچتے ہیں ، صرف اللہ سے نصرت مانگتے ہیں اور اس ہولناک معرکے میں کود پڑتے ہیں ۔

البقرة 2:250

یہ ہے صحیح طریقہ ” اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر۔ “ یہ ایسی تعبیر ہے جس سے فیضان صبر کا پورا منظر آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے اللہ کی طرف سے فیضان اس طرح ہوتا ہے جس طرح ایک برتن بھر کر ان پر انڈیل دیا جائے اور ان کا پیالہ دل اس سے لبریز ہوجائے ۔ اس کے نتیجے میں ان پر طمانیت اور سکینت نازل ہوجاتی ہے اور وہ اس ہولناک معرکے کے تیارہوجاتے ہیں ۔” ہمارے قدم جمادے۔ “ اس لئے کہ قدم اس کے دست قدرت میں ہیں ۔ وہی ہے جو ان کو اپنی جگہ ثابت کرتا ہے کہ متزلزل نہ ہوں ، پھسلیں نہیں ، جگہ چھوڑ کر نہ جائیں ” اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب فرما۔ “ موقف واضح ہے ایمان کا مقابلہ کفر کے ساتھ ہے حق باطل کے مقابلے میں صف آراء ہے اسی لئے اللہ کو پکارا جاتا ہے کہ اللہ اپنے دوستوں کی مددفرما ، جو تیرے کافر دشمنوں کے مقابلے میں صف آراء ہیں ۔ ان لوگوں کے ضمیر میں کوئی شک وشبہ نہیں ، کوئی خلجان نہیں ، ان کی فکر میں کوئی کھوٹ نہیں اور نصب العین کی صحت اور طریق کار کے تعین میں کوئی شک نہیں ۔

البقرة 2:251

نتیجہ وہی ہوا جس کے وہ منتظر تھے ، جس کا انہیں پوری طرح یقین تھا فَهَزَمُوهُمْ بِإِذْنِ اللَّهِآخر کار انہوں نے کافروں کو مار بھگایا ” اللہ کے اذن سے “ کا لفظ استعمال کرکے یہ بتایا جاتا ہے کہ فتح ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اور مسلمانوں کو اس معاملے میں اپنا ذہن اچھی طرح صاف کرلینا چاہئے کہ اس کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کے اذن سے ہوتا ہے ، اس قوت کی منشا کے مطابق ہوتا ہے جو اس کائنات کو چلارہی ہے ۔ مومن تو دراصل قدرت کا ایک ہاتھ ہیں ۔ ان کے ذریعے اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، جو چاہتا ہے ان کے ذریعے نافذ کرتا ہے ۔ وہ خود مختار نہیں ہیں نہ ان کے ہاتھ میں کوئی قدرت ہے ۔ نہ ان کے پاس کوئی طاقت ہے ۔ اللہ ان کے ذریعے اپنی مشئیت نافذ کرتا ہے ۔ اس لئے وہ جو چاہتا ہے ، ان کے ذریعے وہ چیز صادرہوجاتی ہے ۔ یہ ہے وہ حقیقت جو مرد مومن کے دل کو ایمان ، اطمینان اور یقین و سکون سے بھردیتی ہے ۔ مومن اللہ کا غلام ہے ۔ اللہ نے اسے اہم رول ادا کرنے کے لئے استعمال کیا ہے ۔ اور یہ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ اس نے اس اہم روک کے لئے مومنین کا انتخاب کیا تاکہ وہ اس قدر اہم رول ادا کرے ۔ یعنی وہ اللہ کی تقدیر کو حقیقت بنانے والا ہو۔ اس اہم رول کے لئے اسے چن لینے کے بعد اللہ مزید فضل وکرم کا اظہار یوں کرتا ہے کہ یہ اہم رول ادا کرنے کا اعزاز حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ اسے اس کا ثواب بھی عطا کرتا ہے ۔ اگر اللہ کا یہ کرم نہ ہوتا تو ہرگز ایسا نہ کرتا ۔ اور اگر اللہ کی کرم نوازی نہ ہوتی تو اس پر وہ ثواب نہ دیتا ۔ پھر مرد مومن کو یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ضرور اپنی منزل مقصود تک پہنچے گا ۔ اس کا مقصد پاک ہوتا ہے ۔ اس کا طریقہ کار پاکیزہ ہوتا ہے۔ کیونکہ جہاد فی سبیل اللہ سے اس کی کوئی ذاتی غرض وابستہ نہیں ہوتی ۔ وہ تو اللہ کی مشیئت کا نافذ کنندہ ہوتا ہے ۔ اس کے ارادے کا تابع ہوتا ہے اور اس مقام کا وہ مستحق بھی اس لئے ہوا کہ اس کی نیت صاف ہے ۔ وہ اطاعت کا عزم صمیم کئے ہوئے ہے اور پر خلوص طریقے سے اللہ کی طرف متوجہ ہے۔ قرآن مجید حضرت داؤد کا نام لے کر کہتا ہے وَقَتَلَ دَاوُدُ جَالُوتَ ” اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا “ داؤد بنی اسرائیل کا ایک چھوٹا سا لڑکا تھا ۔ جبکہ جالوت ایک شہنشاہ اور خوفناک قائد تھا ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیئت تھی کہ وہ مسلمانوں کو موقع پر ہی یہ سبق دے دے کہ معاملات ہمیشہ اس طرح نہیں چلتے رہتے جس طرح بظاہر نظر آتے ہیں ۔ بلکہ معاملات کا فیصلہ حقائق کے مطابق ہوتا ہے۔ اور حقائق کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے۔ واقعات کی قدریں اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ۔ مومنین کا فرض یہ ہے کہ ان کے ذمے جو ڈیوٹی ہے وہ بس اسے ادا کردیں۔ اللہ کے ساتھ انہوں نے جو عہد باندھا ہوا ہے اسے پورا کردیں ، اس کے بعد فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیں ، وہ جو چاہتا ہے وہی ہوگا۔ دیکھئے اللہ نے چاہا کہ اس جبار اور طاقتور بادشاہ کا کام اس چھوٹے سے نوجوان کے ہاتھوں تمام کردے ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا ، تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ وہ جبار وقہار لوگ جن سے ضعفاء ڈرتے رہتے ہیں ، جب اللہ چاہتا ہے کہ وہ ختم ہوجائیں تو ایسے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں ۔ ایک دوسری پوشیدہ حکمت یہ تھی کہ مشیئت الٰہی میں یہ بات طے شدہ تھی کہ طالوت کے بعد داؤد نظام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لیں اور اس کے بعد داؤد کے بیٹے سلیمان تک یہ نظام پہنچے تاکہ سلیمان (علیہ السلام) اور داؤد (علیہ السلام) کا دور بنی اسرائیل کا سنہری دور بنے ۔ اس لئے کہ بنی اسرائیل محض اسلامی نظریہ حیات لے کر اٹھے ۔ بڑے عرصہ تک وہ گمراہی کی حالت میں پھرتے رہے ۔ بار بار نقص عہد اور نافرمانی کرتے رہے ، لیکن جب بھی انہوں نے اسلامی نظریہ حیات کے مطابق انقلاب برپا کیا تو بطور جزاء اللہ تعالیٰ نے انہیں بام عروج پر پہنچایا وَآتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَهُ مِمَّا يَشَاءُ ” اور اللہ نے اسے سلطنت و حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا اس کو علم دیا۔ “ حضرت داؤد بیک وقت نبی اور بادشاہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو زرہ اور دوسرا سامان جنگ کی تیاری کی مہارت دی تھی ، جن کی تفصیلات قرآن مجید نے دوسری جگہ دی ہیں ۔ یہاں اس قصے کو لانے کا مقصد چونکہ اور ہے اس لئے یہاں تفصیلات ترک کردی ہیں ۔ جب بات یہاں تک پہنچ گئی اور اعلان ہوگیا کہ فتح نظریہ حیات اور پختہ عقائد کی ہوگی ، مادیت کو شکست ہوگی ، کثرت تعداد کو نہیں بلکہ ہمت بلند کو کامرانی ہوگی ۔ اس لئے یہاں وہ بلند حکمت بیان کردی جاتی ہے ۔ وہ فلسفہ بتایا جاتا ہے ، جو حق و باطل کے اس ٹکراؤ کے پس پشت کارفرما ہے۔ اللہ نے جہاد و قتال اس لئے نہیں فرض کیا کہ مال غنیمت حاصل کیا جائے ، لوٹ مار کی جائے ، دنیا میں عزت و برتری حاصل کی جائے ، بلکہ اسلام کا فلسفہ جنگ یہ ہے کہ یہ جنگ دراصل بھلائی اور شر کا ٹکراؤ ہے ۔ یہ اس لئے کہ کرہ ارض پر حق وصداقت اور خیر کو غلبہ حاصل ہو اور شر مغلوب ہو۔ اس لئے ہے کہ طاقت کو اصلاح فی الارض کے لئے استعمال کیا جائے ۔ اب اشخاص پس منظر میں چلے جاتے ہیں ۔ واقعات اختتام پذیر ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ایک مختصر فقرے میں ، اس کرہ ارض پر مختلف طاقتوں کے ٹکراؤ ، مختلف قوتوں کی باہمی منافست اور زندگی کے میدان میں آگے بڑھنے کی سعی اور جدوجہد کا عظیم فلسفہ بیان کردیتے ہیں ۔ اب اسکرین پر کرہ ارض کا وسیع و عریض میدان ہے ۔ اس میدان میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے ۔ دھکم پیل شروع ہے ، کھینچا تانی شروع ہے ، مختلف لوگوں کے سامنے مختلف مقاصد ہیں اور حصول مقاصد کے لئے ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ ہر شخص کی یہ کوشش ہے کہ وہ گیند لے جائے لیکن سب کی ڈوری اللہ جل شانہ کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے آگے بڑھا دیتا ہے ، جسے چاہتا ہے ڈوری کھینچ لیتا ہے ۔ اس اژدہام میں جو لوگ بھلائی اصلاح اور ترقی کے لئے کوشش کررہے ہیں آخر کار نتیجہ یہ ہے کہ وہ آگے بڑھ جاتے ہیں اور دست قدرت تمام اہل باطل کی لگام کھینچ لیتا ہے۔ اگر لوگ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء نہ ہوتے اور ان کا مزاج ، جس پر انہیں پیدا کیا گیا ہے ایک دوسرے سے مختلف نہ ہوتا ، ان کے ظاہری رجحانات اور ان کے قریبی مقاصد باہم متعارض نہ ہوتے ، تو زندگی باسی ہوکر متعفن ہوجاتی ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے مزاج مختلف بنائے تاکہ وہ اپنی تمام قوتوں کو کام میں لاکر ایک دوسرے کی مزاحمت کریں ، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی سعی کریں وہ سستی اور جمود کو ختم کریں ، اپنی خفیہ قوتوں کو بیدار کریں ، ہر وقت چوکنے رہیں ۔ زمین کے خفیہ ذخائر کی تلاش کریں ۔ زمین کی خفیہ قوتوں اور پوشیدہ اسرار کو دریافت کریں اور آخر کار اصلاح ، بھلائی اور ترقی کا دور دورہ ہو۔ لیکن یہ سارا کام اللہ تعالیٰ کس طرح کرتے ہیں ؟ ایک صالح ، ہدایات یافتہ اور مخلص جماعت کے قیام سے ، جو اس سچائی سے واقف ہو ، جسے اللہ تعالیٰ نے سچائی قرار دیا ہو ، وہ اس طریقہ کار سے بھی واقف ہو ، جو طریقہ کار اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے ۔ اسے یہ یقین ہو کہ وہ اس کرہ ارض پر سچائی کو غالب کرنے اور باطل کا مقابلہ کرنے کے لئے من جانب اللہ مامور ہے ۔ اسے یہ یقین ہو کہ اس کی نجات اسی میں ہے کہ وہ بلند رول ادا کرے ۔ وہ صرف اسی صورت میں نجات پاسکتی ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کے لئے مشکلات برداشت کرے ۔ اور یہ سب کچھ وہ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے اور حصول رضائے الٰہی کے لئے کرے۔ جب ایسی جماعت قائم ہوتی ہے اور جدوجہد کرتی ہے تو پھر امر ونہی نافذ ہوتا ہے ، اللہ کی تقدیر ظاہر ہوتی ہے ۔ سچائی ، بھلائی اور اصلاح کا کلمہ بلند ہوجاتا ہے۔ اس کشمکش ، باہمی منافست اور باہمی مدافعت کا حاصل اس قوت کے ہاتھ آتا ہے جو اس کرہ ارض پر بھلائی اور تعمیر کی علمبردار ہوتی ہے ، وہ اس کشمکش کے نتیجے میں آگے بڑھتے ہیں اور ان کو درجات کمال کی انتہاؤں کو پہنچادیا جاتا ہے جو ان کے لئے مقرر اور مقدر تھا ۔ سب سے آخر میں ، اس پورے قصے پر ایک تعقیب ہے :

البقرة 2:252

یہ آیات عالی مقام ہیں ، دوررس مقاصد کی حامل ہیں ، اور اللہ تعالیٰ خود ان کو اپنے نبی کو پڑھ کر سناتے ہیں نَتْلُوهَا عَلَيْكَ ” ہم خود تم کو سنا رہے ہیں ۔ “ ہم خود سنا رہے ہیں ۔ کس قدر عظیم بات ہے ۔ انتہائی مہیب حقیقت ہے یہ ۔ سوچنے کی بات ہے کہ خود رب ذوالجلال ان آیات کو پڑھ کر سنارہا ہے اور جو بالحق سچائی کے ساتھ ۔ خود ذات باری یہ آیات سنارہی ہے جسے سنانے کا حق ہے ۔ جس کے حکم پر یہ آیات نازل ہورہی ہیں ، جس کے حکم سے یہ انسانوں کا دستور العمل بنی ہیں ۔ اللہ کے سوا یہ مقام کسی کو حاصل نہیں ہے ۔ اس لئے جو شخص انسانوں کے لئے از خود کوئی نظام تجویز کرتا ہے وہ مفتری ہے ۔ وہ حق تعالیٰ پر افتراء باندھتا ہے۔ وہ خود اپنے ظلم کررہا ہے اور بندوں پر بھی ظلم کررہا ہے ۔ وہ ایک ایسا دعویٰ کررہا ہے جس کا وہ مستحق نہیں ہے ۔ وہ باطل پرست ہے اور اس بات کا مستحق نہیں کہ اس کی اطاعت کی جائے ۔ اطاعت تو امرالٰہی کے لئے مخصوص ہے ۔ پھر اس کی اطاعت کی جانی ہے جو اللہ تعالیٰ سے ہدایت لیتا ہے ۔ اس کے سوا کوئی مستحق اطاعت نہیں ہے۔ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ ” تم یقیناً ان لوگوں میں سے ہو ، جو رسول بناکر بھیجے گئے ہیں ۔ “ یہی وجہ ہے باری تعالیٰ خود تم پر آیات کی تلاوت فرماتے ہیں اور پوری انسانی تاریخ کے تمام تجربات سے تمہیں آگاہ کررہے ہیں ۔ قافلہ اہل ایمان کے تمام تجربے ، تمام مراحل کے نشیب و فراز تمہیں بتائے جارہے ہیں اور تمام مرسلین کی میراث تمہارے حوالے کی جارہی ہے ۔ چناچہ یہاں یہ سبق ختم ہوجاتا ہے ، جو تحریکی تجربات کیے ذخیرہ سے بھر پڑا ہے ۔ اس سبق پر فی ظلال القرآن کا یہ دوسرا حصہ بھی ختم ہوجاتا ہے ۔ جس میں تحریک اسلامی کو مختلف سمتوں میں لے جایا گیا اور مختلف میدانوں اسے پھرایا گیا ۔ اور اسے اس عظیم رول کے لئے تربیت دی گئی جس کو اس نے کرہ ارض پر ادا کرنا تھا ، جسے اللہ تعالیٰ نے اس کا نگران مقرر کیا اور اسے امت وسط قرار دیا تاکہ وہ زمانہ آخر تک لوگوں کے لئے اس ربانی نظام زندگی کی حامل ہو۔

البقرة 2:253

پارہ سوم ایک نظر میں (سورۃ البقرہ کا آخری حصہ) یہ تیسرا پارہ دواجزاء پر مشتمل ہے۔ پہلا سورة بقرہ کے بقیہ پر مشتمل ہے (یاد رہے کہ پہلے دواجزاء سورة بقرہ ہی پر مشتمل رہے ہیں) اور دوسرا سورة آل عمران کے ابتدائی حصہ پر مشتمل ہے ۔ یہاں صرف بقرہ کے آخری حصہ کے بارے میں اجمالی بحث کریں گے ۔ اور آل عمران کے حصہ پر بحث اس وقت کریں گے جب سورة آل عمران پر بحث کا آغاز ہوگا۔ سورة بقرہ کے اس حصہ میں بھی اسی اساسی موضوع ہی کو لیا گیا ہے جس کے بارے میں ہم حصہ اول کے آغاز میں بتاچکے ہیں ۔ اور جس کا مطالعہ ہر اس سورت میں مسلسل کرتے رہتے ہیں ۔ وہ یہ کہ امت مسلمہ کو اس ہدف کے لئے تیار کرنا جس کی خاطر اسے برپا کیا گیا ہے تاکہ وہ ان مقاصد کو لے کر آگے بڑھے ، ایسے حالات میں کہ اس کے سامنے ایمانی تصور حیات ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ اس عظیم امت اور تحریک کو انہی مقاصد کے لئے برپا کیا گیا ہے ۔ اور اس کے سامنے امم سابقہ کے وہ تمام تجربات بھی کھول کر رکھ دیئے ہیں ۔ اسے آگاہ کردیا گیا ہے کہ اس راہ کے لئے اس نے کن وسائل کو کام میں لانا ہے ، اور یہ کہ اس راہ کی مشکلات کیا ہیں اور یہ کہ تحریک کے دشمن اس کے خلاف کیا کیا سازشیں کرسکتے ہیں ۔ کیونکہ وہ اللہ کے دشمن ، حق کے دشمن اور ایمان کے دشمن ہیں ، اور یہ اس لئے کہ یہ امت اس مشکل راہ میں بیدار مغزی کے ساتھ آگے بڑھے اور تمام مراحل طے کرے۔ امت مسلمہ کی تربیت وتیاری ، اس کی یہ تمام سروسامانیاں اور اس کی ہمہ گیر ٹریننگ اور اس کا نصب العین اور اس کے اغراض و مقاصد وہ مضامین ہیں جن کے ذریعہ قرآن کریم ، ابتدائی نسل کے بعد ، ہر دور میں جماعت مسلمہ کو تروتازہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ ہر دور میں تحریک اسلامی کی قیادت و راہنمائی کے لئے یہی منتہاہ متین ہے ۔ لہٰذا قرآن مجید ایک زندہ فعال اور محرک ذریعہ تربیت ہے اور وہ ہر وقت اور ہر زمانہ میں ایک زندہ اور فعال اور مکمل دستور ہے بلکہ قرآن مجید ہر مرحلے ، ہر قدم اور ہر دور میں ایک قائد ، ایک مرشد اور ایک راہنما ہے ۔ لیکن صرف اس شخص کے لئے جو قرآن سے نصیحت ، ہدایت اور راہنمائی کا طالب ہے ۔ پارہ دوئم کا خاتمہ اس آیت پر ہوا تھا تِلْكَ آيَاتُ اللَّهِ نَتْلُوهَا عَلَيْكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ................ ” یہ اللہ کی آیات ہیں جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سنا رہے ہیں اور تم یقیناً مرسلین میں سے ہو۔ “ اور یہ آیت بنی اسرائیل کے بعض لوگوں کے اس قصے کے بعد ” جو موسیٰ کے بعد سرداران بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا ، جنہوں نے اپنے نبی سے کہا تھا کہ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں ۔ “ (246 : 2) اور اس قصے کے آخر میں کہا گیا تھا ” اور داؤد نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن چیزوں کا چاہا اسے علم دیا۔ “ (251 : 2) تو گویا پارہ دوئم کا خاتمہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی بات پر ہوا۔ جس میں حضرت داؤد کے واقعہ کی تفصیل تھی ۔ اس میں رسول اکرم ﷺ کی رسالت کی طرف بھی اشارہ تھا اور یہ بتادیا گیا تھا کہ آپ ﷺ کو ان تجربات سے مسلح کیا جارہا ہے جو تمام مرسلین کو انسانی تاریخ میں پیش آتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارہ سوئم میں بات یوں شروع کی جاتی ہے کہ وہ اس سے پہلے کے کلام سے مربوط ہے ۔ یعنی انبیائے سابقہ کے بارے میں بات یوں چلتی ہے کہ ان میں سے بعض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ برگزیدہ تھے ۔ بعض کے درجات دوسروں پر بلند تھے ۔ اور یہ کہ ان رسولوں کے پیروکاروں نے ازمنہ مابعد میں باہم اختلافات پیدا کرلئے ۔ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ حق پر کون ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے اختلافات قائم رکھے ۔ ان میں سے بعض لوگ ایمان پر قائم رہے اور بعض نے کفر کا راستہ اپنایا۔ ان میں سے بعض نے دوسروں کو قتل کیا :” یہ رسول ................ ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کئے ۔ ان میں سے کوئی ایسا تھا جس سے اللہ خود ہمکلام ہوا۔ کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلنددرجے دئیے اور آخر میں عیسیٰ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطاکیں اور روح پاک سے اس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے وہ آپس میں لڑتے ۔ مگر انہوں نے باہم اختلاف کیا ، پھر کوئی ان میں ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی ۔ ہاں ، اللہ چاہتا ، تو وہ ہرگز نہ لڑتے ، مگر اللہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے۔ “ ربط کلام بالکل واضح ہے کہ پارہ دوئم کے آخر میں بھی رسولوں کی نسبت بات تھی اور پارہ سوئم کے آغاز میں بھی یہی بات ہے بلکہ اس پوریہ سورت میں کلام مربوط ہے ۔ اس پوری سورت میں ، مدینہ میں منظم ہونے والی اسلامی جماعت اور بنی اسرائیل کے درمیان فکری مجادلہ ہے ۔ اور قرآن مجید کے پہلے دوپاروں میں عموماً یہی مباحث ہیں ۔ اسی نسبت سے یہاں رسولوں اور ان کے بعد ان کی امم کے مابین فرقہ وارانہ اختلافات اور باہم قتل ومقاتلہ کی بات یہاں تفصیل سے چھیڑی گئی ہے ۔ یعنی یہ کہ ان امتوں میں سے بعض لوگ تو ایمان پر قائم رہے اور بعض نے کفر کا راستہ اختیار کیا اور پھر ناحق باہم دست گریباں ہوئے ۔ لہٰذا ربط کلام واضح ہے ۔ (مرحوم سید قطب نے اپنی تفسیر قرآن مجید کے پاروں کو پیش نظر رکھ کر لکھی ہے ۔ حالانکہ قرآن مجید کی تدوین میں پاروں کا لحاظ نہ تھا ۔ پاروں کی تقسیم محض ایک ماہ میں تلاوت کرنے کی سہولت پیدا کرنے کے لئے کی گئی ہے ۔ لہٰذا تلک الرسل سے جو کلام شروع ہوتا ہے ظاہر ہے کہ وہ سابقہ آیات سے مربوط ہے ۔ مترجم) یہاں یہ بات اس لئے کی گئی ہے کہ تحریک اسلامی کے سامنے ، اس وقت کے متبعین انبیاء ، بنی اسرائیل وغیرہ کی مبہم اور واقعی بہتر مال خرچ کرے اور یہ تو محض توشہ آخرت کے لئے جہاں ” نہ خرید وفروخت ہوگی ، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی “ (2104 : 2) اس لئے انفاق فی سبیل ایک ایسا مالی فریضہ ہے جو فریضہ جہاد فی سبیل اللہ کا ایک لازمہ ہے ۔ اور خصوصاً ایسے حالات میں جو تحریک اسلامی کو اس وقت درپیش تھے ۔ جن میں غازیان کرام کو خود ان کے لئے اپنے اموال اور ان لوگوں کے اموال کے ذریعہ جنگ کے لئے تیار کیا جارہا تھا جو انفاق فی سبیل اللہ کے نتیجے میں فراہم ہوتے تھے ۔ اس کے بعد اس فکری اساس کے بعض پہلوؤں پر بحث کی گئی ہے جس پر اسلامی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ یعنی وجود باری اور اس کی وحدانیت یہ کہ اللہ وحدہ ہر چیز کا منتظم ہے اور ہر چیز اس کی وجہ سے قائم ہے ۔ وہ اس کائنات کا مالک مطلق ہے ۔ وہ اس کائنات کی ہر چیز کا علیم وخبیر ہے۔ اسے اس پوری کائنات پر قدرت حاصل ہے ، وہ پوری طرح اس کے قبضہ میں ہے اور اس کی حفاظت میں ہے ۔ اور یہ کہ قیامت کے دن اس کے ہاں کوئی سفارش کارگر نہ ہوگی الا یہ کہ وہ اجازت دے ، یہ کہ اس جہاں میں انسان کو وہی علم حاصل ہے جو وہ عطا کرتا ہے ، تاکہ ایک مسلمان اپنی راہ پر اس طرح گامزن ہو کہ اس کے ذہن میں اس کے نظریات کا ایک واضح تصور ہو جن نظریات پر یہاں وہ نظام زندگی قائم کرنے چلا ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” اللہ وہ زندہ ٔ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے ، اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ہے ۔ وہ نہ سوتا ہے اور نہ اسے اونگھ لگتی ہے زمین وہ آسمان میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ۔ کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے ؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے وہ بھی جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے ، اس سے بھی واقف ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز بھی ان کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی ۔ الا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے ۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لئے کوئی تھکادینے والا کام نہیں ہے ۔ بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے۔ “ (200 : 2) اس تصور حیات کے مطابق ایک مسلمان آگے بڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال شروع کرتا ہے ، اس لئے نہیں کہ وہ لوگوں سے اپنے نظریہ حیات اور اپنے عقائد زور سے منوائے ، بلکہ اس لئے کہ ہدایت اور گمراہی کے درمیان تمیز ہوجائے فتنہ و فساد اور ضلالت وگمراہی کے اصل عوامل واسباب کا خاتمہ کردیا جائے اور اس کے بعد لوگوں کو مکمل آزادی ہوگی کہ وہ جو رویہ چاہیں اپنائیں۔ ” دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں ہے ۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے ۔ اب جو کوئی طاغوت سے انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا ، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا ، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ۔ اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ “ (256 : 2) یوں ایک مسلمان اپنی راہ حیات پر پورے اطمینان کے ساتھ رواں دواں ہے ۔ وہ اپنے آپ کو اللہ کی پناہ میں سمجھتا ہے ۔ اور اللہ کی نصرت اس کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ کی راہنمائی اور اللہ کی امداد اس کے شامل حال ہے ۔ ” جو لوگ ایمان لاتے ہی اللہ ان کا مددگار ہے ۔ وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف لاتا ہے ۔ اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اپنائی ہے ان کے حامی شیطان ہیں جو انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف لاتے ہیں ۔ یہ لوگ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جو وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ “ (257 : 2) غرض اس پارے کے آخر میں بھی ، یہ پیراگراف مسلسل اسی ہدف کی طرف آگے بڑھتا ہے جس کی طرف اس پارہ کے آغاز میں روئے سخن تھا یعنی تحریک اسلامی کے اغراض ومقاصد کا بیان اور جماعت اسلامی میں ان مقاصد کی آبیاری۔ اس کے بعد اسلامی نقطہ نظر سے موت وحیات کی حقیقت پر ایک نظر ڈالی جاتی ہے ۔ اس سلسلے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نظریاتی زندگی کے دوتجربات بیان کئے جاتے ہیں اور ایک مشاہدہ ایک دوسرے شخص کا بیان کیا گیا ہے جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ ان تجربات میں موت وحیات کی یہ حقیقت بتائی گئی ہے کہ اس کا تعلق صرف اللہ کے علم و ارادہ کے ساتھ ہے ۔ اور یہ کہ انسان کا محدود ادراک موت وحیات کی اصل حقیقت کو اپنے احاطہ میں لانے سے قاصر ہے کیونکہ اصل حقیقت ماوراء الادراک ہے ۔ اور اس کی حقیقت صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ یہاں موت اور حیات کو اس واضح کیا گیا ہے کہ ایک تو حیات انسانی کے بارے میں انسانی تصور اور فکر کی اصلاح ہو دوسرے یہ کہ جہاد و قتال میں جو لوگ شریک ہوتے ہیں ان کے پیش نظر بھی موت وحیات کا صحیح تصور آنا ضروری ہے ۔ ان فکری ہدایات کے بعد اسلامی معاشرہ کے اجتماعی معاملات کے سلسلے میں قدرے طویل بات ہوتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سوشل سیکورٹی اسلامی معاشرہ کی اساس ہے ، اس معاشرہ میں ربا کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ ایک قابل لعنت فعل تصور ہوگا۔ اس کے مقابلے میں اسلامی معاشرہ میں زیادہ دولت بذریعہ صدقات وانفاق فی سبیل اللہ خرچ کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس پر قدرے طویل بحث ہوتی ہے ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا بیان بہترین تصویر کشی ، بہترین تاثرات واشارات اور اعلیٰ فنی خوبیوں پر مشتمل ہے ۔ اس فنی اور ادبی پہلو پر ہم انشاء اللہ اس وقت بات کریں گے جب یہ خوبصورت آیات تشریح کے وقت ہمارے سامنے ہوں گی۔ یہاں اس قدر اشارہ مناسب ہے جہاد و قتال اور انفاق فی سبیل اللہ کا چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ نیز انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ و خیرات اسلام کی اجتماعی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے ۔ اور معاشی زندگی کے اس پہلو کو اس سورت میں ترغیب اور قانون سازی کے مختلف طریقوں سے منظم کیا گیا ہے ۔ احسان و صدقہ کے بالمقابل سود کا خبیث نظام ہے ۔ اس خبیث نظام کے خلاف قرآن مجید نے طویل جنگ کی ہے ۔ اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ قرآن مجید نے بمباری کرکے اجتماعی زندگی کے معاشی نظام سے اس مذموم ادارے کی بنیادیں بھی منہدم کردی ہیں ۔ قرآن سودی نظام کی جگہ ایک مستحکم اور صحت مند معاشی نظام قائم کرنا چاہتا ہے ۔ جس کے ذریعہ معاشرے کا اقتصادی نظام ترقی کرسکے ۔ اس کے بعد باہمی لین دین کے بارے میں قانون سازی کی گئی ہے اور ایسا قانون بنایا گیا ہے کہ دنیا کے کسی قانونی نظام میں یہ قانون (معاملات کی تحریری شکل) نہ تھا۔ یہ قانون سازی دوآیات میں کی گئی ہے ۔ ایک آیت قرآن کریم کی طویل ترین آیات میں سے ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم قانون سازی میں کیا طریق کار اختیار کرتا ہے ۔ اور کس انداز سے کرتا ہے ۔ قرآن کا قانون ایک زندہ ، منفرد اور معجزانہ قانون ہوتا ہے اور ہر دور اور ہر زمانے کے لئے موزوں بھی ۔ اس سورت کا خاتمہ بھی انہی الفاظ اور مضامین پر کیا جاتا ہے جس سے اس کا آغاز ہوا تھا یعنی اللہ کی ذات ، ملائکہ ، اللہ کی کتابوں اور رسولوں کے بارے میں اسلامی تصور اور نظریہ کہ لَا نُفَرِّقُ بَینَ اَحَدٍ مِّن رُّسُلِہٖ ” ہم اللہ کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے ۔ “ یہ وہ اصول ہے جس کا اس سورت میں بار بار اظہار کیا گیا۔ آخر میں مومنین کو طریقہ دعا سکھایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ایک مومن کا تعلق اپنے رب کے ساتھ کیسا ہوتا ہے ؟ اور اس دعا میں بھی بنی اسرائیل کی تاریخ کی طرف ایک اشارہ ہے یعنی یہ کہ انہوں نے اپنے اللہ کے ساتھ اپنا تعلق نہ جوڑا تھا۔ اس دعا پر اس سورت کا خاتمہ ہوتا ہے جو مختلف مضامین پر مشتمل ایک طویل سورت کا مناسب خاتمہ ہے ۔ ” اے ہمارے رب ! ہم سے بھول وچوک میں قصور ہوجائے ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بوجھ کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ ۔ ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ، ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ (286 : 2) درس 17 ایک نظر میں اس سبق کے آغازہی میں ہمیں رسولوں کے بارے میں قرآن کریم کا مخصوص انداز تعبیر ملتا ہے ۔ تِلکَ الرُّسُلُ.........” رسولوں کی جماعت “ اور ھٰٓؤُلَآ ءِالرُّسُلُ.........” یہ رسول “ کا لفظ اختیار نہیں کیا گیا ۔ رسولوں کے لئے آغاز کلام میں یہ خاص طرز تعبیر کیوں اختیار کیا گیا ؟ اس میں کچھ واضح اشارات ہیں ۔ مناسب ہے کہ تشریح آیات سے پہلے اس انداز کلام پر کچھ بات ہوجائے ۔ تِلکَ الرُّسُلُ.........” یہ گروہ رسل “ جو ایک خاص جماعت ہیں ۔ اس جماعت کا ایک خاص مزاج ہے اور ایک خاص ماہیت ہے ۔ اگرچہ وہ بشر ہیں ۔ تو پھر وہ کون ہیں ؟ رسالت کی حقیقت کیا ہے ؟ رسالت کا مزاج کیا ہے ؟ یہ فریضہ کیسے ادا کیا جاتا ہے ؟ پھر صرف ان مخصوص افراد ہی کو کیوں درجہ رسالت پر فائز کیا گیا اور کیسے کیا گیا ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر میں ایک طویل عرصہ سے سوچتا رہا ہوں ۔ تسلی بخش جواب کا متلاشی رہا ہوں۔ میرے پردہ احساس پر کچھ ایسے مفہوم اور معانی ابھرتے ہیں جن میں کلمات وعبارات کی صورت میں منتقل نہیں کرسکتا۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ میں اپنے اس وجدان و شعور کو اور ان تصورات ومفہومات کو الفاظ وافہام کے قریب تر کرسکوں ۔ یہ کائنات جس میں ہم زندہ ہیں اور ہم جس کا ایک اہم حصہ ہیں کچھ اصول وقواعد پر چل رہی ہے ۔ اور یہ اصول وہ تکوینی اصول و ضوابط ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے لئے وضع فرمائے ہیں ۔ اور اس کائنات کو حکم دیا ہے کہ یہ ان کے مطابق چلتی رہے اور ان کے مطابق حرکت کرے اور ان اصولوں کے منشا کے مطابق چلے ۔ اور اس کائنات میں انسان جونہی علمی میدان میں ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور کچھ نئے اکتشافات ودریافت کرلیتا ہے یا انسان کو اللہ تعالیٰ کچھ مزید معلومات حاصل کرنے کے مواقع فراہم کردیتا ہے تو یہ ادراک اورا کتشاف اس کی محدود قوت مدرکہ کے حدود کے اندر ہوتا ہے اور اسی قدر ہوتا ہے جس قدر اسے اس دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ یہاں اپنی محدود زندگی میں انسانی خلافت کے فرائض اچھی طرح سر انجام دے سکے ۔ اور اس کائنات میں ، ان طبعی قوانین اور ضوابط کے دریافت کرنے کے لئے انسان اپنی شخصیت کے نقطہ نظر سے دوچیزوں کو کام میں لاتا ہے۔ ایک مشاہدہ اور دوسرا رتجربہ۔ مشاہدہ اور تجربہ اپنے مزاج کے اعتبار سے دونوں جزوی ذرائع علم ہیں ۔ وہ اپنے نتائج کے اعتبار سے اٹل اور آخری اور فیصلہ کن نہیں ہوتے ۔ البتہ ان دو ذرائع سے اس کائنات میں بعض ایسے کلی قواعد و ضوابط دریافت کرلیے جاتے ہیں جو ایک طویل عرصے تک قوانین کلیہ سمجھے جاتے ہیں لیکن آخر کار یہ دریافت بھی ایک جزوی دریافت بن جاتی ہے ۔ جو نہ تو انتہائی ہوتی ہے اور نہ ہی مطلق ۔ اس لئے کہ کائنات کے ان قوانین کے درمیان تناسق وتطابق اس کلی ناموس سے منسلک ہے ، جو ان تمام کلیات کو باہم مربوط کرتا ہے ۔ اور یہ ناموس اکبر ہمیشہ سے مخفی رہتا ہے اور یہ اس کی جزوی مشاہدہ اور تجربہ کے دائرہ سے باہرہوتا ہے ۔ اگرچہ بحث وتحقیق کا ایک طویل دور گزرجائے اس لئے کہ اس سلسلے میں زمانہ کوئی اہم عنصر نہیں ہے ۔ اس کائنات میں اس کی اہمیت اور اس کی تشکیل کے لحاظ سے یہ تو انسانی ذات اور طاقت کے میدان کے لئے ایک حد ہے ۔ اور اس کی یہ حیثیت بھی ایک جزوی اور نسبتی حیثیت ہے ۔ پھر پوری بنی نوع انسان کو جو زمان عطا کیا گیا ہے وہ بھی جزئی اور محدود ہے ۔ اس لئے ہمارے ذرائع معرفت اور ان ذرائع کے نتیجے میں حاصل ہونے والے تمام نتائج جزئی ہی رہتے ہیں اس لئے کہ یہ جزوی اور نسبتی ذرائع کے واسطے سے سامنے آتے ہیں ۔ یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات میں رسالت کی اہمیت کیا ہے ۔ رسالت کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے اور یہ مزاج خاص اور یہ قوت اسے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا ہوتی ہے تاکہ وہ اس ناموس اکبرکو اخذ کرکے اور اس کی گہرائی تک جاسکے ۔ جس پر اس کائنات کا وجود قائم ہے ۔ ایک رسول کا رابطہ اس ناموس اکبر کے ساتھ کس نوعیت کا ہوتا ہے ، ہم آج تک اس کی حقیقت کو نہیں پاسکے ۔ ہم صرف اس رابطہ وتعلق کے آثار کو سمجھ سکتے ہیں۔ رسول کی یہ مخصوص طبیعی قوت ہوتی ہے جو اس ناموس اکبر سے وحی حاصل کرتی ہے اور اس میں اس کی صلاحیت ہوتی ہے ، اس لئے کہ رسول کا یہ مزاج اس پیغام کے وصول کرنے کے لئے تیارہوتا ہے۔ اور یہ پیغام وہی پیغام ہوتا ہے جو اس ناموس اکبر سے یہ پوری کائنات بھی وصول کرتی رہتی ہے ۔ اس لئے یہ پوری کائنات براہ راست اس ناموس اکبر سے منسلک ہے اور اس کے تصرف اور کنٹرول میں ہے ۔ اب رسول یہ اشارہ کس طرح وصول کرتا ہے ، وہ کس ذریعہ یا کس سے یہ اشارہ وصول کرتا ہے ؟ اس سوال کا جواب ہم صرف اس وقت دے سکتے ہیں جب اللہ تعالیٰ ہمیں بھی وہ استعدادبخش دے جو وہ اپنے بندوں میں سے ان مختار اور منتخب لوگوں کو بخش دیتا ہے جو رسول کہلاتے ہیں اور اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ................” اور اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ استعداد رسالت کہاں رکھ دے “ یہ ایک عظیم الشان معاملہ ہے اور یہ اس کائنات کا وہ عظیم الشان راز ہے جو انسان کی قوت ادراک سے ماوراء ہے ۔ تمام رسول توحید کی حقیقت کو پاگئے تھے اور تمام رسولوں کا نظریہ نظریہ توحید رہا ہے ۔ اس لئے کہ ان رسولوں کے وجود کے اندرناموس اعظم کے ساتھ رابطے کی استعداد ودیعت کی گئی اس لئے کہ ان تمام انبیاء کا منبع ہدایت ایک ہی تھا ۔ اگر یہ منبع اور مصدر ہدایت ایک نہ ہوتا تو ان انبیاء کے نظریات جدا ہوتے اور ان کا طریقہ واردات متنوع ہوجاتا ۔ رسولوں کا یہ ادراک اس دور میں ہوا جب کہ انسانیت اپنے ابتدائی دور میں تھی اور فہم وادراک اور مشاہدہ و تجربہ کے وہ ذرائع جو آج ہیں انسانیت کو میسر نہ تھے اور نہ ہی اس دور میں کلی قوانین بشریت پر ظاہر ہوئے تھے جو نظریہ توحید پر دلالت کرتے ہیں ۔ آغاز بشریت سے آج تک تمام رسولوں نے صرف اللہ کی بندگی کی طرف دعوت دی ہے ۔ یہ تمام انبیاء اس ایک حقیقت کی طرف بلاتے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے اس مزاج خاص اور طبیعت خاصہ سے یہی پیغام پایا ہے ۔ اس لئے ان کے اس مزاج نبوی پر جب اس ناموس کلی کا القاء ہوا ، تو اس سے ان کے قلوب پر ایک فطری سوچ ابھری جو اس ناموس کلی سے پوری طرح مربوط تھی ۔ پھر اس پیغام کی تبلیغ و اشاعت بھی ان کی اس سوچ اور یقین کا قدرتی نتیجہ تھی۔ ان کا یہ پختہ ایمان تھا کہ یہ حق ہے اور سوچ ان کی طرف اللہ وحدہ کی طرف سے القاء ہوئی ہے اور یہ کہ عالم بالا سے ان کے اس وثیق اور قوی رابطہ اور ان کی مخصوص رسولانہ فطرت کی وجہ سے ان کو پورا یقین تھا کہ وہ ناموس اللہ وحدہ لاشریک ہے اور اس کی ذات میں تعدد ممکن نہیں ہے۔ عقیدہ توحید رسولوں کی فطرت نبوت کا لازمی شعور ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے انبیاء (علیہم السلام) کے جو قصص نقل کئے ہیں ان میں بعض الفاظ ایسے موجود ہیں جن سے اس فطرت نبویہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے ۔ بعض اوقات انبیاء کو اس فطرت سے موصوف کیا جاتا ہے ۔ مثلاً حضرت نوح (علیہ السلام) کے قصے میں مذکور ہے ۔ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي رَحْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَارِهُونَ (28) وَيَا قَوْمِ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالا إِنْ أَجْرِيَ إِلا عَلَى اللَّهِ وَمَا أَنَا بِطَارِدِ الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُونَ (29) ” اے برادران قوم ! ذرا سوچوتوسہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا ، مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر چپک دیں ؟ اور اے برادران قوم ! میں اس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا ، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے ۔ اور میں ان لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے ، وہ آپ بھی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو اور اے قوم ! اگر میں ان لوگوں کو دھتکار دوں تو اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچانے آئے گا ؟ تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات نہیں آتی ؟ “ (28 : 11) اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی زبانی فرمایا گیا : قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ ” اے برادارن قوم ! تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھے نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ۔ اگر میں اس کی نافرمانی کروں تم خسارے میں ڈالنے کے سوا میرے کس کام آسکتے ہو۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرۃ میں بھی یہی نظر آتا ہے۔ وَحَاجَّهُ قَوْمُهُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّي فِي اللَّهِ وَقَدْ هَدَانِي وَلا أَخَافُ مَا تُشْرِكُونَ بِهِ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبِّي شَيْئًا وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا أَفَلا تَتَذَكَّرُونَ (80) وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالأمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (81) ” اور اس کی قوم اس سے گھڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا ” کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے ۔ اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا ۔ ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو ضرور ہوسکتا ہے ۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ۔ پھر کیا تم ہوش میں نہیں آؤگے ؟ اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے میں کیسے ڈروں جب کہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے ۔ جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں نازل کی ہے ۔ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے ۔ بتاؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔ “ اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کے حصے میں بھی یہی بات بتائی گئی ہے۔ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ إِنْ أُرِيدُ إِلا الإصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ وَمَا تَوْفِيقِي إِلا بِاللَّهِ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (88) ” بھائیو ! تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں ۔ میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں ، جہاں تک میرا بس چلے اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں ، اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے ۔ اس پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ “ (88 : 11) اور یہ بات حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں کی قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ ” اس نے کہا میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا۔ اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو۔ “ (86 : 12) یوں اور اسی طرح تمام رسولوں کے اقوال اور ان کے اوصاف میں اس گہری ہم آہنگی اور رابطے کے اثرات پائے جاتے ہیں جو ان کی فطرت کا حصہ ہیں اور ان کے ضمیر کی گہرائیوں میں جاگزیں ہیں ۔ اور جن کی وجہ سے ان رسولوں کا کلام متنوع اور مزین ہوتا ہے ۔ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ انسان کے علم ومعرفت نے کچھ ایسی علامات ودریافت کرلی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قانون وحدت موجود ہے ۔ انسانوں میں اہل علم اس بات کو پاچکے ہیں کہ اس طویل و عریض کائنات میں وحدت وجود اور وحدت حرکت موجود ہے ۔ اور انسان نے اپنے محدود علم کے اندر رہتے ہوئے اس بات کو پالیا ہے کہ اس کائنات کی تعمیر ذرہ سے ہوئی ہے اور یہ کہ ذرہ دراصل (Power) ہے۔ یوں اس ذرے میں مادہ اور قوت دونوں ملے ہوئے ہیں اور علماء طبیعات اس عرصے تک جس نظریہ پر قائم تھے کہ یہ کائنات مادہ اور قوت دو علیحدہ چیزوں سے مرکب ہے وہ اب ختم ہوگیا ہے ۔ اب صحیح بات یہ ہے کہ کائنات ذرے سے مرکب ہے اور ذرے کو اگر توڑ دیا جائے تو یہ ایک عظیم قوت ہے ۔ اور انسان نے اپنے محدود علم کی حد تک اس بات کو پالیا ہے کہ یہ ذرہ اپنے اندرونی نظام کے اندر متحرک ہے اور وہ الیکٹرون اور پروٹون اور نیوٹرون سے مرکب ہے ۔ اور الیکٹرون دونوں کے ارد گرد ہر وقت حرکت کرتے ہیں جو اس ذرے کا قلب ہوتا ہے۔ اور یہ حرکت دائمی ہے اور ہر ذرے میں ہے ۔ اور جس طرح فرید الدین العطار نے کہا ہے کہ ہر ذرہ ایک سورج کے مانند ہے جس کے اردگرد ستارے گھومتے ہیں ۔ جس طرح ہمارے اس سورج کے ارد گرد ستارے گھومتے ہیں اور جو تسلسل کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ اس کائنات کی وحدت اور حرکت کی وحدت اس کائنات کی وہ خصوصیات ہیں جن کو انسان نے پالیا ہے اور یہ دونوں خصوصیات دور سے یہ اشارہ کررہی ہیں کہ اس کائنات کو ایک وسیع تر ضابطہ وحدت اپنے احاطہ میں لئے ہوئے ہے ۔ اس حقیقت تک انسانی علم نے اس حد تک رسائی کرلی ہے جس حد تک انسان کی قوت مشاہدہ اور قوت تجربہ کے لئے رسائی ممکن تھی لیکن خواص کی قوائے موہوبہ اس قدر طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ ان تمام حقائق کو ایک لمحہ میں پالیتی ہیں ، اس لئے کہ ان پر یہ حقائق بلا واسطہ القاء ہوتے ہیں اور ان حقائق کی ادراک کی قوت صرف ان خواص کے پاس ہوتی ہے۔ ان خواص نے علمی تجربات کے ذریعہ ان مشاہدات اور خصوصیات کا ادراک نہیں کیا ہوتا ، ان کو ایسی قوت مدرکہ عطا کی گئی ہوتی ہے جو اس حقیقت وحدت کو براہ راست پالیتی ہے ۔ یہ خواص اس واحد ناموس کو براہ راست پاتے ہیں اور یہ ان کا داخلی ، اپنی ذات کے اندر کا عمل ہوتا ہے ۔ وہ اس بات کو پاتے ہیں کہ یہ ایک جیسا القاء لازماً ایک ہی مصدر اور منبع سے صادر شدہ ہے ۔ ان خواص کی ذات میں جو مشینی قوت مدرکہ ودیعت کی جاتی ہے وہ نہایت ہی کامل اور نہایت ہی پیچیدہ ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ وہ آن واحد میں اس حقیقت کو پالیتے ہیں ، جس منبع سے ان کو ہدایت ملتی ہے ۔ وہ واحد ہے ، جس ارادے کے تحت وہ روبعمل ہوتے ہیں ۔ وہ اسی منبع سے صادر ہوتا ہے ۔ لہٰذا ان کی یہ مخصوص قوت مدرکہ یا یہ مخصوص آلات مدرکہ بشکل یقین اس حقیقت کو پالیتے ہیں کہ اللہ جل شانہ کی وحد ذات ہی ہے جو اس کائنات میں متصرف حقیقی ہے ۔ میں یہ بات اس بناء نہیں کہہ رہا ہوں کہ جدید سائنس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس وحدت کائنات سے متعلق کوئی ایک یا دو حقائق دریافت کرلئے ہیں ۔ اس لئے کہ سائنسی حقائق کبھی ثابت تصور ہوتے ہیں اور کبھی ان کی تردید ہوجاتی ہے اور سائنس جن حقائق تک پہنچتی ہے جو جزوی اور نسبتی حقائق ہوتے ہیں کیونکہ سائنس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی مطلق اور اٹل حقیقت تک پہنچ سکے ۔ اس لئے کہ سائنسی نظریات بدلتے رہتے ہیں ۔ بعض نظریات بعض دوسرے نظریات کی تکذیب کرتے ہیں ۔ بعض ایک دوسرے میں تبدیلی کرتے ہیں ۔ میں نے وحدت کائنات اور وحدت حرکت کے بارے میں جو بات کی ہے اس لئے نہیں کہ اس کا اور اس ناموس وحدت کے درمیان کو ئی مماثلت ہے جو ان خواص رسل پر منجانب اللہ القاء ہوا کرتی ہے ۔ میرا منشاء یہ ہرگز نہیں ہے ۔ میرا مقصد ایک دوسرا امر ہے اور وہ یہ ہے کہ ہدایت اور راہنمائی کا قابل اعتماد مصدر اور منبع صرف انبیاء کے ہاں ہے اور انبیاء ہی اس کائنات کے بارے میں واحد ، مکمل ، جامع اور سچائی پر مشتمل تصور دے سکتے ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ جدید علمی اتکشافات نے اس کائنات کی حقیقت عظمیٰ کے بعض پہلو اور بعض خواص پالئے ہوں اور انہوں نے یہ معلوم کرلیا ہو کہ حقیقت کبریٰ صرف ایک ہی ہے لیکن وہی حقیقت ہے جسے رسولوں نے براہ راست اپنی مخصوص قوت مدرک سے پالیا ہوتا ہے اور اس کا احاطہ کرلیا ہوتا ہے اور وہ حقیقت ان رسولوں کی فطری قوت مدرکہ میں براہ راست پوری طرح موجود ہوتی ہے اور یہ کہ رسولوں کا یہ ادراک اپنی جگہ سچائی پر مبنی ہوتا ہے ، چاہے جدید سائنس نے اس کی بعض خصوصیات کو صحیح طرح پالیا ہو یا نہ پایا ہو۔ اس لئے کہ سائنسی نظریات قابل بحث اور قابل نظرثانی ہوتے ہیں ۔ پہلے تو یہ ثابت نہیں ہوتے ۔ ظن وتخمین پر مبنی ہوتے ہیں پھر اگر بظاہر ثابت نظر بھی آئیں تو یہ ثبوت اٹل نہیں ہوتا ۔ اس لئے حقیقت رسالت کو ان نظریات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ مقیاس ومعیار ہمیشہ ایسا ہونا چاہئے جو ثابت ہو اور اٹل ہو۔ اس لئے ہم لازماً اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ رسالت ہی وہ معیار ومقیاس ہے جس پر ہم جدید سائنسی نظریات کی جانچ پڑتال کریں گے ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

البقرة 2:254

اہل ایمان کے دلوں سے یہ ایک محبت بھری اپیل ہے ۔ یہ اپیل اہل ایمان اور اپیل کنندہ کے درمیان ایک روحانی رابطہ ہے کیونکہ وہ ذات باری پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔” اے ایمان لانے والو ! “ اپیل یہ ہے کہ جو ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس کا ایک حصہ ہمیں دے دد۔ آخر ہم ہی دینے والے ہیں اور داتا ہیں اور ہم ہی اپنے دئیے سے کچھ مانگ رہے ہیں۔ أَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاكُمْ........ ” اور جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے ، اس میں سے خرچ کرو۔ “ دیکھو ایسے مواقع بار بار نہیں آتے ۔ اگر تم نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا تو پھر یہ مواقع نصیب نہ ہوں گے ۔ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لا بَيْعٌ فِيهِ وَلا خُلَّةٌ وَلا شَفَاعَةٌ........ ” قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید وفروخت ہوگی ، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی ۔ “ یہ آخری موقعہ ہے ۔ اگر تم سے چلا گیا تو پھر ہاتھ نہ آئے گا ۔ اس موقعہ پر مال نفع بخش کاروبار میں لگ رہا ہے ۔ اس کے بعد کوئی دوستی ، کوئی سفارش اس نقصان اور خسارے کی تلافی کرنے کے لئے نہیں ہے۔ یہاں اس مقصد کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے جس کے لئے خالق کائنات خود چندہ کی اپیل کررہے ہیں یعنی جہاد فی سبیل اللہ کے یہ مطالبہ ہورہا ہے ۔ اور جہاد اس لئے ہے کہ کفر کا دفعیہ کیا جائے گا ۔ دنیا سے ظالمانہ نظام کو ختم کیا جائے جو کفر کی شکل میں قائم ہے ۔ وَالْكَافِرُونَ هُمُ الظَّالِمُونَ................ ” ظالم وہی ہیں جو کفر کی روش پر جم جاتے ہیں ۔ “ انہوں نے سچائی کا انکارکرکے ظلم کا ارتکاب کیا ۔ انہوں نے خود اپنے نفوس پر ظلم کیا ہے جنہیں وہ ابدی ہلاکت کے گڑھے میں گرا رہے ہیں ۔ وہ عوام الناس پر بھی ظلم کررہے ہیں ۔ یوں کہ وہ انہیں راہ ہدایت پر آنے سے روکتے ہیں اور انہیں گمراہ کرتے ہیں اور انہیں اس بھلائی تک پہنچنے نہیں دیتے جس جیسی اور کوئی بھلائی نہیں ہے ۔ یعنی امن وسلامتی کی بھلائی ، اطمینان و محبت کی بھلائی اور اصلاح و یقین کی بھلائی۔ جو لوگ اس بات کے دشمن ہیں کہ لوگوں کے دل و دماغ میں ایمان کی حقیقت جاگزیں ہوجائے ۔ جو اس بات کے دشمن ہیں کہ ایمانی نظام زندگی ہماری زندگیوں میں جاری وساری ہوجائے اور جو لوگ اس بات کی جدوجہد کررہے ہیں کہ ایمانی شریعت ہمارے اجتماعی نظام میں نافذ نہ ہونے پائے ، وہ اس انسانیت کے بدترین دشمن ہیں ۔ وہ پرلے درجے کے ظالم ہیں ۔ اگر انسانیت نے راہ راست کو پالیا ہے تو اس کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسے لوگوں کا اس وقت تک تعاقب کرے جب تک وہ اس ظلم سے باز نہیں آتے ۔ جو وہ مسلسل انسانیت پر ظلم ڈھا رہے ہیں ۔ انسانیت کا یہ فرض اولیں ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے مقابلے کے لئے جان ومال کی یہ قربانی دے ۔ اور یہ ہر اس اسلامی جماعت کا بھی فرض ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کام کے لئے برپا کیا ہے ۔ اور جسے یہ فریضہ سر انجام دینے کی دعوت دی جارہی ہے اور جسے اس کا رب ایسے گہرے الہامی الفاظ میں پکار رہا ہے۔ رسولوں کے بعد ان کی امتوں کے درمیان نظریاتی اختلافات اور تاریخی جنگ وجدال کے بیان کے بعد اور یہ واضح کرنے کے بعد کہ واضح ایمانی دلائل کے باجود انہوں نے ناحق کفریہ تصورات اپنا لئے ۔ اب یہاں یہ مناسب سمجھا گیا کہ یہاں ایک ایسی جامع آیت اتاری دی جائے جو ایمانی تصورات کے اصول وقواعد پر مشتمل ہے ۔ یہ آیت الکرسی ہے جو نظریہ توحید کو اپنی پوری گہرائیوں اور واضح نشانات کے ساتھ پیش کرتی ہے ۔ یہ ایک عظیم المرتبہ آیت ہے ۔ جس میں گہرے معانی پوشیدہ ہیں اور جس کا دائرہ اطلاق بہت ہی وسیع ہے۔ (جس میں وہ کم ازکم عقائد بیان کئے گئے ہیں جو کفر و ایمان کے درمیان فاصلہ متعین کرتے ہیں)

البقرة 2:255

اس آیت میں جن صفات کو گنوایا گیا ہے ان میں ہر ایک اسلامی تصور کائنات کے اساسی اصولوں میں کسی ایک اصول پر مشتمل ہے ۔ اگرچہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلام کے اساسی عقائد پر مکی دور میں نازل ہونے والی آیات میں تفصیلی بحث کی گئی ہے ۔ تاہم اس اہم اور اساسی موضوع پر مدینہ میں نازل ہونے والی آیات میں بھی بعض اوقات بحث کی گئی ہے ۔ اس لئے کہ ان عقائد و تصورات پر ہی اسلامی نظام زندگی کی بنیادرکھی گئی ہے اور جب تک اساس ٹھیک نہ ہو ، پوری دیوار درست نہیں ہوسکتی ۔ نہ اس نظام کی تشریح ہوسکتی اور نہ یہ نظام نفس انسانی کے مسلمہ حقائق سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے ۔ نہ اس کی کوئی معقول اور پر از تعین تعبیر کی جاسکتی ہے ۔ اس کتاب کے حصہ اول میں ، تفسیر سورة فاتحہ کے ضمن میں ، میں نے اس گمراہی پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ۔ اور یہ کہا ہے کہ ذات باری کے بارے میں انسانی ضمیر اور عقیدہ کی تطہیر کی بڑی ضرورت ہے ۔ انسانی ضمیر جاہلیت کی تہہ بہ تہہ افکار کے نیچے محض اس لئے دبا ہوا تھا کہ انسان کے ذہن میں تصور الٰہ اپنی صاف و شفاف اور واضح شکل میں نہ تھا ۔ یہ عقیدہ خرافات اور دیومالائی عقائد کے نیچے دبا ہوا تھا۔ یہاں تک کے بڑے بڑے فلاسفر کے ہاں بھی تصور خدا واضح اور صاف نہ تھا ۔ یہاں تک کہ جب اسلامی نظریہ حیات آیا اور اس نے ذات باری کو اپنے صحیح تصور کے ساتھ پیش کیا اور انسانی ضمیر کو ان ناقابل یقین مروجہ تصورات کے بوجھ کے نیچے سے نکال دیا اور انسان جس اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا تھا ، اس سے اسے نجات ملی۔ غرض اس آیت میں جو صفات بھی بیان کی گئی ہیں وہ اسلامی تصور کائنات کے لئے ایک عمومی اساس ہیں اور اس طرح یہ صفات پھر اسلام کے تفصیلی نظام زندگی کے لئے ماخذ ہیں۔ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ........ ” اللہ ، جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ “ یہ ایک فیصلہ کن وحدانیت ہے جس میں کسی قسم کے انحراف کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اور اس میں وہ شرکیہ شائبے بھی نہیں ہیں جو سابقہ ادیان کے تصور الٰہ پر طاری ہوگئے تھے ۔ مثلاً تثلیث کا خودساختہ عقیدہ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد اہل کلیسا نے اختیار کیا ........ یا وہ عقائد جن کی قدیم مصری اقوام قائل تھیں ۔ جو کسی وقت ایک خدا کے قائل تھے لیکن ازمنہ مابعد میں اس ایک خدا کو سورج کی ٹکیا کی شکل میں متمثل کردیا گیا اور بعدہ ، اس بڑے سورج الٰہ کے تحت بہت سے چھوٹے الٰہ گھڑلئے گئے ۔ یہ فیصلہ کن وحدانیت ، اسلامی تصورات و عقائد کی اساس ہے جس سے اسلامی نظام زندگی اپنی مفصل صورت میں متشکل ہوتا ہے۔ یہی تصور اللہ ہے جس کے نتیجے میں ہم اپنی عبادات اور اطاعات میں صرف اللہ کی جانب متوجہ ہوتے ہیں اس کے مطابق کوئی انسان اللہ کے سوا کسی کا مطیع فرمان اور کسی کا غلام نہیں ہوسکتا ۔ وہ صرف اللہ کی عبادت کرسکتا ہے ۔ صرف اللہ کی اطاعت اس پر فرض ہے جس کا اللہ نے اطاعت کرنے کا واضح حکم دیا ہے ۔ اسی تصور خدا سے یہ اصول پھوٹتا ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اس لئے صرف وہی قانون ساز ہوسکتا ہے اور انسان اپنے قواعد و ضوابط صرف شریعت کی روشنی میں وضع کرسکتا ہے ۔ اسی تصور الٰہ سے یہ بات نکلتی ہے کہ انسان اپنے لئے اقدار حیات صرف اللہ سے اخذ کرسکتا ہے ۔ زندگی کی کوئی قدر اگر اللہ کے ترازو میں کوئی وزن نہیں رکھتی تو اس کا کوئی وزن نہ ہوگا۔ کوئی قانون ، کوئی رواج اور کوئی تنظیم جو اللہ کے نظام کے خلاف ہے بالکل کالعدم ہے ۔ غرض عقیدہ توحید کے نتیجے میں انسانی ضمیر میں ایک شعور پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں ایک تفصیلی نقشہ حیات مرتب ہوتا ہے۔ الْحَيُّ الْقَيُّومُ........ ” زندہ جاوید اور سنبھالنے والا “ جس حیات کی نسبت یہاں ذات باری کی طرف کی گئی ہے ۔ وہ ذاتی صفت ہے ۔ وہ ایسی حیات نہیں ہے جو مثلاً ایک مخلوق اپنے خالق سے مستعار لیتی ہے ۔ اس معنی میں صرف اللہ ہی زندہ جاوید ہے ۔ وہ ازلی اور ابدی زندہ ہے ۔ نہ اس کا کوئی نقطہ آغاز ہے اور نہ نقطہ انتہا ہے ۔ حیات الٰہیہ زمان ومکان کے اس تصور سے پاک ہے جو مخلوقات کی زندگی کا ایک لازمہ ہے ۔ جس کا ایک نقطہ سے آغاز ہوتا ہے اور ایک یونٹ پر وہ جاکر ختم ہوجاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں هُوَ الْحَيُّ........ کہا گیا کہ صرف وہی زندہ ہے ۔ اس مفہوم کے ساتھ اور کوئی زندہ نہیں ہے ۔ پھر حیات باری ان تصوراتی لوازم سے پاک ہے ۔ جن کے ساتھ ایک انسان زندگی کا کوئی تصور کرسکتا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ جیسا کوئی نہیں ہے لَیسَ کَمِثلِہٖ شَیئیٌ........ یہی وجہ ہے کہ عام زندگی کے مفہوم کے ساتھ جو خصائص وابستہ ہیں اللہ تعالیٰ کی زندگی میں ان کا شائبہ تک نہیں ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی حیات ایک مطلق اور بےقید حیات ہے اور ان خصوصیات سے پاک ہے جو انسانی زندگی کا لازمہ ہیں ۔ لہٰذا اس سے ان تمام تصوراتی دیومالائی مفاہیم کی نفی ہوجاتی ہے جو لوگوں نے اللہ کی جانب منسوب کر رکھے ہیں۔ القیوم کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کانگہبان ہے اور تمام موجودات اس کی وجہ سے موجود ہیں ۔ اور تمام موجودات اپنے وجود اور قیام کے لئے اس کے محتاج ہیں اور اس کے زیر تدبیر ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تخلیق کے بعد اپنی مخلوقات کے بارے میں کوئی فکر نہیں کرتا جیسا کہ ارسطو کا قول ہے ۔ ارسطو کا یہ خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے علاوہ کسی کے بارے میں فکر مند نہیں ہوسکتا ۔ وہ سمجھتا ہے کہ قیومیت کے اس تصور میں مکمل پاکی اور عظمت پائی جاتی ہے ۔ حالانکہ اس کے اس تصور کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ جل شانہ کا رابطہ اپنی مخلوق کے ساتھ کٹ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ مخلوق کو ترک کردیتے ہیں ۔ اس کے مقابلے میں اللہ کا اسلامی تصور ایک مثبت تصور ہے اس میں سلبیت نہیں ہے ۔ وہ اس اساس پر قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا نگہبان ہے اور دنیا کی ہر ہستی اپنے وجود میں اللہ کے وجود اور تدبیر کی محتاج ہے ۔ یوں ایک مسلم مومن کا ضمیر و شعور ، اس کی پوری زندگی اور اس کا پورا وجود ، اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کا وجود اللہ جل شانہ کے وجود کے ساتھ مربوط اور متعلق ہوجاتا ہے۔ اور وہ اللہ ہی ہے جو اس مومن ومسلم کی زندگی میں متصرف ہے اور پھر وہی ذات اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں بھی متصرف ہے اور یہ تصرف ذات باری تعالیٰ نہایت ہی حکیمانہ اور مدبرانہ ہے ۔ اسی منہاج سے وہ اپنی اقدار حیات اور حسن وقبیح کے پیمانے اخذ کرتا ہے ۔ اور اس پوری زندگی میں اور اس پورے عمل میں اللہ تعالیٰ انسان کا نگہبان رہتا ہے۔ لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ................ ” زمین و آسمان میں جو کچھ ہے ، اسی کا ہے ۔ “ یہ ایک ہمہ گیر ملکیت ہے اور بےقید ملکیت ہے ۔ کسی شرط کے ساتھ مشروط نہیں ۔ کسی حد میں محدود نہیں ہے ۔ نہ اس میں کوئی شریک ہے اور نہ یہ ملکیت کبھی ختم ہوتی ہے ۔ یہ وحدہٗ لاشریک الٰہ واحد ہے معانی میں سے ایک معنی ہے ۔ وہ واحد اللہ ہے ۔ صرف وہی الحی ہے ۔ صرف وہی نگہبان ہے ۔ صرف وہی مالک ہے ۔ اس سے ان تمام شرکیہ عقائد کی نفی کردی گئی جو بھی انسانی عقل میں در آسکتے ہیں ۔ اس دنیا میں ملکیت اور حاکمیت کے نظریہ کی بھی وضاحت ہوجاتی ۔ جب اللہ ہی حاکم ومالک ٹھہرا تو پھر اس دنیا میں بھی حق ملکیت کسی کو حاصل نہ ہوگا ۔ انسان حاکم نہ ہوگا بلکہ وہ اسی وحدہ لاشریک حاکم کا خلیفہ ہوگا۔ اور وہ نظام خلافت میں ان تمام حدود وقیود کا پابند ہوگا جو حدود وقیود خلیفہ گیرندہ نے استخلاف کے وقت اپنی شریعت میں خلیفہ پر عائد کی ہیں ۔ اس لئے کوئی خلیفہ شریعت کی حدود وقیود سے آزاد نہ ہوسکے گا ۔ اور اگر کوئی خلیفہ ان قیود کی پابندی نہ کرے گا جو خلافت کے منصب کی وجہ سے اس پر عائد ہیں تو سرے سے اس کی خلافت ہی کالعدم ہوجائے۔ اور اہل ایمان کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اس خلیفہ کے خلاف شریعت اقدامات کو مسترد کردیں ۔ اسلامی شریعت میں یہی اسلامی نظریہ کارفرما ہے نیز اس شریعت پر مبنی جو عملی زندگی تشکیل ہوتی ہے ۔ اس کی تہہ میں بھی یہی نظریہ کارفرما ہے۔ جب اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرماتے ہیں لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ........ ” اور اسی کے لئے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ “ تو اس سے محض عقیدہ اور نظریہ یا محض خیال مراد نہیں ہوتا ۔ یہ فقرہ دراصل انسان کی پوری زندگی کے لئے ایک دستوری دفعہ ہوتی ہے ۔ نیز دنیاوی زندگی میں باہم جو رابطے قائم ہوتے ہیں ، وہ بھی اسی اساس پر ہیں کہ جو اس دنیا میں ہے وہ اللہ کا ہے ۔ جب یہ حقیقت انسانی ضمیر میں جاگزیں ہوجائے ۔ جب انسان اپنے مالک حقیقی کا صحیح شعور اپنالیتا ہے کہ وہ زمین و آسمان کا مالک ہے اور جب انسان اپنے دل و دماغ سے یہ غلط خیال نکال لیتا ہے کہ جسے وہ اپنی ملکیت سمجھتا ہے وہ تو اس کی ملکیت ہی نہیں ہے اور جب وہ شعوری طور پر اپنی جملہ مقبوضات کو مالک حقیقی کی ملکیت سمجھتا ہے اور جب انسان کے ذہن میں صرف یہ احساس پیدا ہوجاتا ہے کہ اس کے ہاتھ میں جو کچھ ہے وہ تو عارضی طور پر مانگا ہوا ہے ۔ اور اسے مالک حقیقی کی جانب سے ایک محددود وقت کے لئے دیا ہوا ہے تو ان حقائق کا محض ادراک اور احساس ہی انسان کے دل سے اس کی سرتیزی ، لالچ ، حرص ، بخل اور رات دن جمع کرنے کی فکر کی شدت کو کم کردیتا ہے۔ اس تصور حیات اور ان احساسات کی وجہ سے انسان کے اندر صبر ، تمنا اور قناعت اور راضی برضا ہونے کی صفات پیدا ہوجاتی ہیں ۔ وہ فیاض اور سخی ہوجاتا ہے ۔ اس کے دل میں سکون اور طمانیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ چاہے وہ امیر ہو یا غریب اس کی چال ڈھال میں ایک قسم کا سکون و اطمینان اور قرار پیدا ہوجاتا ہے ۔ اگر اسے کچھ نہ ملے تو اسے حسرت نہیں ہوتی اور اگر اسے اس کا مطلوب حاصل نہیں ہوتا تو وہ اپنے دل میں جلن یا گھٹن نہیں پاتا۔ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلا بِإِذْنِهِ................ ” کون ہے جو اس کے ہاں ، اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرتا ہے ؟ “ یہ صفات باری میں سے ایک دوسری صفت ہے ۔ اس سے مقام الوہیت اور مقام عبدیت کی اچھی طرح وضاحت ہوجاتی ہے ۔ بندے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے دربار میں مقام عبودیت میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے اس مقام سے نہ آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ تجاوز کرسکتے ہیں ۔ وہ بندے کے مقام پر خشوع و خضوع کی حالت میں ایستادہ ہوتے ہیں ۔ جو نہ رب کی طرف آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی اس کے ہاں سفارش کی جرأت کرسکتا ہے ۔ الایہ کہ اسے پیشگی اجازت مل گئی ہو تو وہ اس صورت میں اس اجازت کی حدود میں سفارش کرسکتا ہے ۔ ہاں یہ بندے اور غلام خود اپنے درمیان ضرور فرق مراتب رکھتے ہیں اور خود اللہ کے ہاں بھی ان کے درجات ومقامات میں ضرور تفاوت ہے۔ لیکن جناب باری تعالیٰ میں ان کے لئے ایک حد عبدیت ہے جس سے انہیں آگے بڑھنے کی نہ اجازت ہے اور نہ صلاحیت۔ اللہ تعالیٰ کی شان کبریائی ، اس کی جلالت شان اور اس کے رعب ودبدبے کی طرف یہاں ایک اشارہ کیا گیا ہے اور استفہام انکاری کا فقرہ استعمال کرکے اس اشارے کو مزید مؤثر بنادیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور اگر ایسا ہوا تو وہ ناپسندیدہ ہوگا ۔ لہٰذا کون ہے جو جناب باری تعالیٰ میں ایسی جرأت کرسکے ؟ ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو ........ اس حقیقت کی روشنی میں وہ تمام باطل تصورات واضح ہوجاتے ہیں ۔ جو انبیاء ورسل کے بعد میں آنے والے لوگوں میں پیدا ہوگئے تھے جن کے حاملین نے حقیقت الٰہیہ اور حقیقت عبدیت کے درمیان التباس پیدا کردیا تھا ۔ ان لوگوں نے یہ عقیدہ اختیار کرلیا تھا کہ اللہ کا بیٹا ہے جو اس کے ساتھ بوجہ تعلق ابنیت کسی نہ کسی شکل میں شریک اور خلیط ہے ۔ پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسے لوگوں کا شریک بنالیا تھا جو اللہ کے ہاں سفارش کرتے ہیں اور وہ لازماً ان کی سفارش کو تسلیم کرتے ہیں یا پھر انہوں نے انسانوں میں سے بعض کو اللہ کا جانشین مقرر کردیا تھا جو اللہ سے اپنی قرابت کی وجہ سے اختیارات حاصل کرچکے تھے لیکن اس حقیقت کے اظہار کے بعد اللہ کے ہاں کوئی شفیع نہیں ہے ۔ یہ تمام تصورات باطل اور ناپسندیدہ ٹھہرتے ہیں ۔ اور انسانی ذہن انہیں قبول ہی نہیں کرتا ۔ انسانی ضمیر اس کا انکار کرتا ہے اور وہ ایک مومن کے رخ خیال پر آتے ہی نہیں ۔ یہ اسلامی تصور حیات کا ایک جلا ہے کہ اس میں کوئی وہم وتلبیس نہیں ہے ۔ اسلامی سوچ میں کوئی لچک نہیں ہے ۔ خدائی ، خدائی ہے اور بندگی ، بندگی ہے۔ ان دوحقائق میں کوئی ذاتی التقاء ممکن نہیں ہے ۔ رب ، رب ہے اور بندہ ، بندہ ہے ۔ ان کے مزاج اور طبیعت میں اشتراک ممکن نہیں ہے اور نہ ہی ان کا آپس میں ملاپ اور ایکا ممکن ہے ۔ ہاں بندے کا اپنے رب کے ساتھ ایک تعلق ہوتا ہے ۔ رب کی جانب سے بندے پر رحمت کا نزول ہوتا ہے ۔ قرب ، محبت اور اعانت ہوتی ہے ۔ اسلام اس تعلق کو تسلیم کرتا ہے اور تعلق باللہ سے نفس انسانی کو شرابور کردیتا ہے ۔ اس سے دل مومن بھرجاتا ہے اور اس پر فیضان رحمت و محبت ہوتا ہے اور مومن رحمت رب کی خوشگوار چھاؤں میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ بغیر اس کے ذات الٰہی اور ذات انسانی کے درمیان اختلاط ہو کوئی تصور پیش کیا جائے ۔ بغیر اس کے کہ ہم حق و باطل کی کوئی آمیزش کریں یا افکار باطلہ کا ڈھیر لگاکر کوئی ایسا فکری انتشار و اضطراب پیدا کریں ، جس میں صداقت اور سچائی کوئی واضح اور صاف و شفاف صورت نظر نہ آئے۔ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلا بِمَا شَاءَ................ ” جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے ۔ اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز بھی ان کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی ۔ الایہ کہ کسی چیز کا علم ہو خود انہیں دینا چاہے۔ “ اس حقیقت کے دومتقابل پہل وہیں ۔ ایک جانب اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ایک مسلم کا تصور الٰہ کیا ہے ؟ دوسری جانب اس کا اظہار ہوتا ہے کہ اس الٰہ کے سامنے بندہ مسلم کا مقام کیا ہے ؟ اللہ کا مقام یہ ہے کہ وہ ہر ظاہر و باطن ، حاضر و غائب کے بارے میں مکمل علم رکھتا ہے ۔ وہ علیم وخبیر ہے ۔ اس کا علم ، کامل ، جزئیات پر حاوی اور تمام موجودات پر مشتمل ہے ۔ وہ انسان کی موجود حاضر پر بھی حاوی ہے ۔ اور ان سے پوشیدہ ماضی اور آنے والے مستقبل پر بھی حاوی ہے ۔ وہ ان امور پر بھی حاوی ہے جنہیں انسان جانتا ہے اور ان پر بھی حاوی جن کے بارے میں اسے کوئی علم نہیں ہے ۔ غرض ان فقیروں میں اللہ تعالیٰ کے علم کی شمولیت اور استقصاء کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ رہے انسان تو وہ صرف اس قدر جانتے ہیں جس قدر انہیں اللہ تعالیٰ جاننے کی اجازت دیتے ہیں ۔ حقیقت کا پہلاحصہ یہ ہے کہ اللہ ہر ظاہر و باطن کا عالم ہے ۔ یہ حقیقت نفس انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے انسان اور اس کا ضمیر باری تعالیٰ کے سامنے بالکل ننگا ہوجاتا ہے۔ باری تعالیٰ ظاہر و باطن کا علیم وبصیر ہے ۔ جس حقیقت کا انسان کو علم ہے اور وہ اس کا اظہار کررہا ہے وہ بھی اس کے سامنے ہے اور جس چیزکو وہ نہیں جانتا وہ بھی اس کے سامنے ہے ۔ وہ ماضی ، حال اور مستقبل مستور کو بھی جانتا ہے۔ جس کے بارے میں نفس انسانی بےعلم ہوتا ہے ۔ جب انسان کو اس حقیقت کا صحیح شعور ہوجائے تو اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ۔ کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ تو باری تعالیٰ کے سامنے بالکل ننگا کھڑا ہے ۔ نیز اس تصور سے نفس انسانی میں تسلیم ورضا اور خدا خوفی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اس لئے کہ وہ علیم وبصیر ہے۔ دوسرا پہلو اس حقیقت کا یہ ہے کہ انسان کا علم صرف اس حد تک محیط ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ کی مرضی ہو ۔ انسانوں کو اس حقیقت پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے ۔ خصوصاً اس دور میں جبکہ انہوں نے اس کائنات کے طبیعی اور تخلیقی شعبے میں قدرے معلومات حاصل کرلی ہیں ۔ وَلا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلا بِمَا شَاءَ................ ” اور وہ اللہ کے علم میں سے کسی چیز کا ادراک نہیں کرسکتے الا یہ کہ خود اللہ چاہے ۔ “ صرف اللہ ہی ہر چیز کا مکمل علم رکھتا ہے جو کامل اور شامل ہے ۔ اور اس کا علم بےقید ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ کی اجازت ہی سے انسانوں پر بعض علوم منکشف ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ انکشافات اللہ تعالیٰ اس لئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرمایا ہوا ہے اور اس کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے ۔ فرماتے ہیں سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ................ ” عنقریب ہم ان کو اپنے نشانات دکھائیں گے جو آفاق میں بھی ہیں اور خود ان کے نفسوں میں بھی ہیں ، تاکہ ان پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ وہ حق ہیں۔ “ لیکن انسان اس بات کو بھول جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر جن علوم وحقائق کا انکشاف کردیتے ہیں وہ ان کے لئے فتنہ بن جاتے ہیں ۔ چاہے اس انکشاف کا تعلق قوانین فطرت کائنات سے ہو یا اس کا تعلق ان پوشیدہ معلومات سے ہو جسے وہ چند لحظوں کے لئے ایک متعین حد کے اندر اندر رہ کر جان لیتے ہیں ۔ ان دونوں حقائق اور عطاکردہ معلومات سے انسان فتنے اور گمراہی میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور وہ اس حقیقت کو فراموش کردیتا ہے کہ ان انکشافات کا اصل داتا تو اللہ ہے۔ اس فتنے اور گمراہی کی وجہ سے وہ نہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور نہ ذکر الٰہی ان کے دل میں ہوتا ہے بلکہ وہ خود سر ہوجاتے ہیں اور پھول جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات کفر تک کی نوبت پہنچ جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب چاہا کہ انسان کو اس کرہ ارض پر اپنا خلیفہ بنائے تو اس نے انسان کو اپنی معرفت سے نوازا ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ وہ عنقریب تمہیں انفس اور تمہارے آفاق میں تمہیں بعض نشانات راہ دکھائے گا ۔ اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔ اور اللہ نے اسے یوں سچا کر دکھایا کہ آئے دن انسان پر نئے نئے رازوں کا انکشاف ہوتا ہے۔ نسلوں کے بعد نسلوں میں ان اکتشافات کا گراف مسلسل اوپر چلا جارہا ہے ۔ ان انکشافات میں قدرتی توانائیاں ، اور اس کائنات کے طبیعی اصول شامل ہیں جو فریضہ خلافت ارضی ادا کرنے کے لئے انسان کے لئے ضروری ہیں تاکہ وہ اصولوں کی دریافت کے نتیجے میں ان درجات بلند تک پہنچ سکے جو اس کے لئے اللہ نے مقدر کر رکھے ہیں ۔ اس میدان میں اللہ تعالیٰ نے جس قدر علم مناسب سمجھا ، انسان کو عطا کردیا اور اسے اجازت دے دی کہ وہ اس میں کام کرے اور کچھ گوشے ایسے بھی تھے جن کی بابت اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم نہیں دیا ۔ اس لئے کہ منصب خلافت فی الارض کے لئے اسے ان گوشوں کی ضرورت نہ تھی ۔ مثلاً انسان سے خود زندگی کا راز پوشیدہ رکھا گیا جو ابھی تک پوشیدہ ہے اور مستقبل میں بھی وہ ذہن انسانی کے قابو میں آنے والا معلوم نہیں ہوتا ۔ اور ابھی تک پوزیشن یہ ہے کہ اس موضوع پر بحث کرنا اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے برابر ہے ۔ جبکہ کسی بات پر کوئی بین دلیل نہیں ہوتی ۔ اس طرح انسان سے اگلے لمحے میں ہونے والے واقعات محفوظ اور پوشیدہ رکھے گئے ۔ کیونکہ وہ واقعات غیب ہیں جن تک رسائی کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ اور ان کے آگے اس قدر بھاری دیوار کھڑی کردی گئی ہے کہ انسان اسے دور نہیں کرسکتا۔ ہاں البتہ بعض اوقات اس پردہ مستور کے پیچھے سے اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو ایک جھلک دکھا دیتا ہے ۔ اور پھر پردہ گرجاتا ہے اور خاموشی چھاجاتی ہے ۔ اور انسان کی رفتار ایک حد پر رک جاتی ہے اور وہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ بہت سے اسرار و رموز انسان سے پوشیدہ رکھے گئے ، جن کے علم کی اسے کوئی حقیقی ضرورت نہ تھی ۔ جن کے بغیر بھی وہ خلافت فی الارض کے فرائض سرانجام دے سکتا تھا۔ اور اس زمین کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ تو ایک ذرہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اس وسیع کائنات کی فضا میں تیر رہا ہے۔ اپنے اس علم کی محدودیت کے باوجود اور اس حقیقت کے باوجود کہ اسے جو کچھ دیا گیا ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور اس کی اجازت ہے ۔ انسان فتنے میں پڑجاتا ہے ۔ وہ اس زمین پر اپنے آپ کو الٰہ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ کفر کی راہ اختیار کرتے ہوئے اس کائنات کے لئے کوئی اور الٰہ تسلیم کرنے سے انکار کردیتا ہے ۔ حالانکہ آج بیسویں صدی کے سائنس دان بڑی عاجزی سے یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ ان کا علم محدود ہے ۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس کائنات کے وہ گوشے بہت ہی کم ہیں جن کا وہ ادراک کرسکے ہیں ۔ ہاں بعض جاہل جو اپنے آپ کو سائنس دان سمجھتے ہیں وہ اس غرے میں مبتلا ہیں کہ وہ بہت کچھ جانتے ہیں ۔ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضَ وَلا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ........ ” اس کی حکومت آسمانوں اور زمینوں پر چھائی ہوئی ہے اور اس کی نگہبانی اس کے لئے تھکادینے والا کام نہیں ہے ۔ “ یہ مقام تو ایسا ہے کہ یہاں اللہ کے اقتدار اعلیٰ کا بیان مجرد طور پر کیا جاتا لیکن یہ قرآن کریم کا ایک خاص انداز بیان ہے کہ وہ مجرد حقائق کو بھی محسوسات کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ اس محسوس تصویر کشی کے انداز بیان سے ذہن انسانی اصل حقیقت کے قریب آجاتا ہے ۔ اور یوں حقیقت انسان کے دل و دماغ میں بیٹھ جاتی ہے ۔ کرسی سے مراد بالعموم اقتدار اعلیٰ ہوتا ہے۔ اور جب یہ کہا گیا کہ اس کی کرسی آسمانوں اور زمین سے بھی وسیع تر ہے تو گویا آسمانوں اور زمین پر اسی کا اقتدار اعلیٰ قائم ہے ۔ یہ بات تو تصوراتی پہلو سے ہے لیکن ایک محسوس اور ٹھوس انداز تعبیر سے جو تصویر ذہن نشین ہوتی ہے وہ دیرپا اور ٹھوس ہوتی ہے ۔ یہی بات ولا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا میں ہے ۔ اس میں بطو رکنایہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان کیا گیا ہے ۔ لیکن یہ تعبیر بھی محسوس انداز میں پیش کی گئی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو اس عظیم نگہبانی میں نہ کوئی جدوجہد کرنا پڑتی ہے ۔ اور نہ ہی اسے کوئی تھکاوٹ لاحق ہوتی ہے ۔ تعبیر کا یہ انداز قرآن کریم اس لئے اختیار کرتا ہے کہ معانی کی ایسی تصویر کشی کی جائے کہ وہ حس میں اتر جائے اور اس طرح ذہن انسانی میں یہ معانی اچھی طرح بیٹھ جائیں اور یوں نظر آئیں جس طرح محسوسات نظر آتے ہیں۔ جو شخص قرآن کے اس انداز بیان کو سمجھ لیتا ہے اسے ان مباحث اور اعتراضات سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی جو قرآن کی اس محسوس انداز تعبیر پر یونانی فلسفہ کے نتیجے میں پیدا ہوئیں اور ان پر طویل عرصے تک جدل وجدال ہوتا رہا ۔ کیونکہ ان مباحث نے قرآن مجید کے سادہ اور فطری انداز تعبیر کو خواہ مخواہ چیستاں بنانے کی کوشش کی اور اس کے حسن سادہ کو ختم کردیا (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتاب التصویر الفنی فی القرآن میں فصل التصویر الفنی اور طریقتہ القرآن) یہاں اس قدر کہنا کافی ہے کہ کرسی اور عرش کے بارے میں مجھے کوئی ایسی صحیح حدیث نہیں ملی ہے جس میں کرسی اور عرش کی تفسیر اور توضیح کی گئی ہو ۔ اس لئے میں یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ ان کے بارے میں مزید کچھ نہ کہوں۔ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ................ ” اور وہ بزرگ و برتر ہے ۔ “ اس آیت میں جو صفات بیان کی گئی ہیں یہ ان میں سے آخری صفات ہیں ۔ جن میں ایک حقیقت کا بیان ہے اور نفس انسانی میں اس حقیقت کا القاء مقصود ہے ۔ یعنی صرف وہ ذات ہی بلند ہے اور صرف وہ ذات ہی عظیم ہے ۔ مفہوم یہ ہے کہ اس کے علاوہ نہ کوئی عظیم ہے اور نہ کوئی سربلند ہے ۔ یہ نہیں کہا گیا کہ ” وہ بزرگ و برتر ہے “ بلکہ یہ کہا گیا کہ ” وہی علی اور وہی عظیم ہے “ پہلی تعبیر میں نص علو و عظمت ثابت ہوتی ہے ۔ دوسری تعبیر میں علو اور عظمت کو ذات باری کے ساتھ مخصوص کردیا گیا ۔ اور یہ اشارہ دیا گیا کہ اس معاملے میں اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے ۔ صرف وہی علی ہے ۔ عظمت میں وہ منفرد ہے ۔ اور بندوں میں سے جو بھی علو اور عظمت کا ادعاء کرتا ہے اللہ اسے ذلیل اور سرنگوں کرتا ہے۔ اور آخرت میں وہ توہین آمیز سزا کا مستحق ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تِلْكَ الدَّارُ الآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الأرْضِ وَلا فَسَادًا ................ ” وہ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے مخصوص کردیں گے جو زمین پر اپنی بڑائی نہیں چاہتے اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں “ (83 : 28) اور جب فرعون کو ہلاک کیا گیا تو اس پر یہ تبصرہ کیا گیا انہ کان من العالین ................” وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔ “ انسان بہت بلند ہوسکتا ہے ، وہ عظمت وسربلندی کے اونچے مدارج تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کے حدود وقیود سے باہر نہیں نکل سکتا ۔ اور جب قلب مومن میں یہ عقیدہ اچھی طرح بیٹھ جاتا ہے تو وہ اسے مقام عبودیت تک پہنچا دیتا ہے ۔ اور وہ سرکشی اور بڑائی سے محفوظ ہوجاتا ہے ۔ اس کی طبیعت میں جھکاؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور اس کی ہیبت بیٹھ جاتی ہے ۔ اس کے دل میں اللہ کی عظمت اور جلالت قدر کا شعور پیدا ہوجاتا ہے ۔ اس کا طرز عمل نہایت ہی مؤدبانہ اور پھر وہ اللہ کے بندوں کے مقابلے میں غرور وتکبر کا رویہ بھی اختیار نہیں کرتا ۔ غرض یہ شعور ایک طرف سے ایک عقیدہ اور ایک تصور ہے اور دوسری جانب ایک طرز عمل اور ایک سلوک اور رویہ ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے ان دقیق پہلوؤں کی وضاحت اور تشریح اور اس کے بیان کے بعد کہ اس کائنات اور مخلوقات کا اپنے خالق کے ساتھ تعلق کیا ہے اور وضاحت کے بعد کہ خالق کائنات کے اوصاف کیا ہیں ، اب یہاں یہ موضوع لیا جاتا ہے کہ اس ایمانین تصور حیات کو اپنا نصب العین بنانے کے بعد اب اہل ایمان کا طریق کار کیا ہوگا ؟ وہ اس نظریہ کی دعوت کس طرح دیں گے ۔ اور وہ اس گم راہ انسانیت کی ہدایت کے لئے کیا طریقہ اختیار کریں گے ۔

البقرة 2:256

نظریہ ایک ایسی چیز ہے کہ بیان وادراک کے بعد یہ سمجھنے اور سمجھانے کی چیز ہے ۔ جبر وتشدد اور ظلم وعدوان کے نتیجے میں نظریات نہیں پھیلائے جاسکتے اور یہی پالیسی اسلام نے اسلامی نظریہ حیات کی بابت اختیا رکی ہے ۔ دین اسلام اپنی پوری قوت اور طاقت کے ساتھ انسانی قوت مدرکہ کو خطاب کرتا ہے ۔ وہ غوروفکر کرنے والے دماغوں کو خطاب کرتا ہے ۔ اور ایک واضح سوچ دیتا ہے ۔ اور وہ اثر پذیر وجدان کو مخاطب کرتا ہے ۔ اسلام فطرت سلیمہ کو خطاب کرتا ہے بلکہ پوری انسانی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے اور وہ انسانی فہم وادراک کے ہر پہلو کو آزماتا ہے ۔ جس میں وہ جبر وتشدد کو کام میں نہیں لاتا ۔ یہاں تک کہ وہ نظریہ حیات دینے میں خوارق عادت ذرائع کا بھی زیادہ استعمال نہیں کرتا ۔ اس لئے کہ خوارق عادت واقعات کے نتیجے میں ذہن انسانی اگرچہ یقین کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے لیکن یقین کے باوجود ذہن انسانی اس حقیقت کے فہم وادراک سے قاصر رہتا ہے ۔ بات انسان کی عقل میں نہیں اترتی کیونکہ خارق عادت مناظر کی وجہ سے وہ عقل وادراک کے دائرے سے باہر ہوتی ہے۔ اگر دین اسلام ، اسلامی نظریہ حیات کو لوگوں کے دلوں میں اتارنے کے لئے خارق عادت مناظر اور معجزات کا استعمال کرنا مناسب نہیں سمجھتا ، اس لئے کہ یہ بھی مخاطب کو ایک طرح مجبور کرنا ہوتا ہے کہ وہ مان لے ، تو اسلامی نظریہ کے پھیلانے میں جبر واکراہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اسلام کی یہ پالیسی نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو دباؤ اور تہدید کے ذریعہ دائرہ اسلام میں داخل کرے ، اس معاملہ میں اسلام صرف تبلیغ اور تلقین افہام و تفہیم سے کام لیتا ہے ۔ اور وہ لوگوں کے دل و دماغ کو مطمئن کرتا ہے۔ اسلام سے قبل مسیحیت آخری دین حق تھا۔ اس کے پیروکاروں نے اس کے پھیلانے کے لئے اسلحہ کا استعمال کیا ۔ لوگوں کو زندہ جلایا گیا ۔ اور جوں ہی شہنشاہیت روما کے فرمانروا قسطنطین نے عیسائیت کو قبول کیا ، حکومت نے جبر وتشدد کے تمام وسائل استعمال کئے اور لوگوں کو مسیحیت قبول کرنے پر مجبور کیا ۔ حالانکہ اس سے پہلے یہی حکومت ان مسیحیوں کے خلاف جبر وتشدد کے تمام وسائل بروئے کار لاچکی تھی جنہوں نے برضاء ورغبت عیسائیت کو قبول کیا تھا۔ سلطنت روما کا یہ جبر وتشدد صرف ان لوگوں کے خلاف نہ تھا جو مسیحیت قبول نہ کررہے تھے بلکہ یہ جبر وتشدد ان صحیح العقیدہ مسیحیوں کے خلاف بھی بڑی بےدردی سے جاری رہا جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ذات کے بارے میں حکومت روما کے غلط عقائد تثلیث قبول کرنے پر آمادہ نہ تھے ۔ جب اسلام آیا تو اس کا پہلا اعلان ہی یہ زریں اصول تھا کہ اسلام کے قبول کرنے پر کسی کو مجبور نہ کیا جائے ۔ گمراہی سے ہدایت بالکل الگ ہوگئی ہے ۔ اب یہ لوگوں کا اپنا کام ہے کہ وہ برضا ہدایت قبول کریں۔ اس اصول کو وضع کرکے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و کرامت سے نوازا ۔ اس کے ارادے ، اس کی فکر اور اس کے شعور کا احترام کیا گیا اور نظریاتی ہدایت وگمراہی کے اختیار کرنے میں اسے آزاد چھوڑ دیا ہے ۔ اسے کہہ دیا گیا کہ وہ ایک ذمہ دار ذات ہے ۔ اس سے اس کے افعال و اعمال کا حساب لیاجائے گا ۔ یہ آزادی انسانی آزادیوں میں سے اہم ترین آزادی ہے جو اسلام نے انسان کو عطا کی ۔ یہ وہ آزادی ہے جس سے انسان اس بیسویں صدی میں بھی محروم ہے ۔ متعصب نظریات اور ظالمانہ نظامہائے زندگی آج بھی انسان کو یہ آزادی نہیں دیتے ۔ ذات انسانی جسے اللہ نے مکرم بنایا ہے آج اسے اپنے عقائد کے معاملے میں مجبور ومقہور بنادیا گیا ہے ۔ اسے مجبور کیا جارہا ہے کہ یا تو ان نظریات کو اپنائے جسے حکومت وقت اپنے تمام وسائل اور میڈیا کے ذریعہ پھیلاتی ہے اور جو ایسے نظریات ہیں جو انکار خدا کے تصورات پر مبنی ہیں اور یا وہ موت کے لئے تیارہوجائے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظریاتی آزادی وہ پہلا حق ہے جو انسان کو بحیثیت ملنا چاہئے ۔ جو شخص یا نظام انسان سے نظریاتی آزادی چھین لیتا ہے ، وہ درحقیقت انسان سے اس کی انسانیت سلب کرلیتا ہے ۔ نظریاتی آزادی کا پھر فطری تقاضا ہے کہ انسان کو اپنے عقیدہ کی تبلیغ کی بھی اجازت ہو ۔ اور ایسا کرنے میں وہ محفوظ ومامون بھی ہو ۔ اگر حریت عقیدہ کے ساتھ اظہار رائے کی آزادی نہ ہو تو آزادی رائے بےمعنی ہوجاتی ہے اور اس میں کوئی واقعیت نہیں رہتی ۔ اسلام زندگی اور موجودات کا ایک بہترین تصور ہے اور وہ بلاشک وشبہ ایک بہترین اور مستحکم نظام زندگی ہے ۔ یہ اسلام ہی ہے جو ببانگ دہل پکار رہا ہے کہ اختیار کردہ دین میں کوئی جبر واکراہ نہیں ہے ۔ وہ اپنے قبول کرنے والوں کو سب سے پہلے یہ تلقین کرتا ہے کہ وہ لوگوں کو دین اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرسکتے ۔ جب اسلام جیسا دین فطرت لوگوں کو مسلمان بنانے کے لئے مجبور نہیں کرسکتا تو اس کے دوسرے مروجہ ادیان باطلہ کو یہ اجازت کیسے دی جاسکتی ہے کہ وہ محض حکومت کے بل بوتے پر ان ادیان کے نہ ماننے والوں پر عرصہ حیات تنگ کردیں۔ یہاں جبر واکراہ کی مطلق نفی کی گئی ہے ۔ یعنی دین میں سرے سے جبر نہیں ہے ۔ یعنی جنس جبر کا وجود دین میں نہیں ہوگا ۔ یعنی جبر کا وجود ہی نہ ہوگا۔ وہ وقوع پذیر ہی نہ ہوگا۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ تم جبرکا ارتکاب نہ کرو۔ یعنی جبر تو ہوگا مگر تم جبر کا ارتکاب نہ کرو ۔ جنس جبر اور وجود جبر کی نفی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سخت تاکید فرما رہے ہیں کہ اسلام میں جبر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ انداز کلام نہایت ہی مؤثر ہے ۔ یہاں سیاق کلام ، انسانی ضمیر کو ٹچ کرتا ہے اور اسے جگا دیتا ہے ، اسے راہ ہدایت اختیار کرنے کی ترغیب دلاتا ہے ۔ اسے راہ راست کی طرف موڑ دیتا ہے اور یہ بیان کردیا جاتا ہے کہ جس حقیقت ایمانی کا اعلان کیا گیا ہے وہ واضح اور متمیّز ہوچکی ہے ۔ فرماتے ہیں قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ................ ” راہ ہدایت غلط راہوں سے الگ کردی گئی ہے ۔ “ ایمان کی راہ ، راہ ہدایت ہے ۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اسے پالے اور اس کی طرف لپکے ۔ اور کفر بےراہ روی ہے ۔ انسان کو چاہئے کہ اس سے نفرت کرے اور اس سے منسوب ہونے کے مواقع اپنے لئے فراہم نہ کرے ۔ عملی صورتحال کچھ ایسی ہے کہ انسان دولت ایمان کی حقیت کو پانے کی کوشش نہیں کررہا ہے ۔ ایمان انسانیت کو ایک صاف ستھرا تصور حیات دیتا ہے ۔ وہ انسانیت کو اطمینان قلب اور سلامتی عطا کرتا ہے ۔ وہ انسان کے دل و دماغ میں اعلیٰ قدریں اور پاک ترجیحات پیدا کرتا ہے ۔ وہ انسانی معاشرہ کو ایک صحت مند نظام زندگی اور ترقی پذیر پالیسی عطا کرتا ہے۔ جس سے زندگی ترقی یافتہ اور متنوع بن جاتی ہے ۔ ان خطوط پر اگر انسان حقیقت ایمانی پر غور کرتا تو پھر کوئی بیوقوف ہی ہوتا جو راہ ایمان کو اختیار نہ کرتا ۔ ہدایت چھوڑ کر گمراہی لیتا ، سیدھی راہ چھوڑ کر ٹیڑھی راہ اختیار کرتا ۔ اطمینان ، سلامتی ، بلندی اور علوشان کے مقابلے میں بےاطمینانی ، پریشانی ، گراوٹ اور گمراہی اختیار کرتا۔ اس کے بعد حقیقت ایمانی کی مزید وضاحت اور تشریح کرتے ہوئے کہا جاتا ہے فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لا انْفِصَامَ لَهَا ................ ” اب جو طاغوت کا انکار کرکے ، اللہ پر ایمان لے آیا ، اس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا ، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ “ الطاغوت ، طغیان سے ہے ۔ مفہوم ہے ہر وہ شخص جو صحیح فکر سے تجاوز کرجائے جو حق سے سرکشی کرے ۔ جو ان حدود سے آگے بڑھ جائے جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے قائم کئے ہیں ۔ اس کا اللہ کے بارے میں کوئی باضابطہ عقیدہ نہ ہو ۔ وہ اللہ کی شریعت کا پابند نہ ہو۔ اسی طرح ہر وہ نظام طاغوتی نظام ہے جو ذات باری سے اخذ نہ کیا گیا ہو۔ اسی طرح ہر وہ عقیدہ ، وہ تمام عادات وتقالید جو ذات باری سے مستفاد نہ ہوں ، طاغوت ہیں ۔ پس راہ راست پر وہی شخص ہے جو طاغوت کی ان تمام شکلوں اور تمام صورتوں کا انکار کردے اور صرف اللہ وحدہ پر ایمان لائے اور وہی کامیاب ہے ۔ اور اس کی مثال اس طرح ہے جس طرح ایک شخص مشکل حالات میں ایک مضبوط سہارا تھام لے جو گرنے والا نہ ہو۔ یہاں آکر ہم اپنے آپ کو ایک شعوری حقیقت کی محسوس تصویر سامنے پاتے ہیں ۔ اللہ پر ایمان لانا دراصل ایک ایسے سہارے کا دستیاب ہونا ہے جس کے کبھی کوئی زوال نہیں ہے ۔ یہ ایک ناقابل انقطاع ٹھوس سہارا ہے جو شخص بھی اس سہارے کو مضبوطی سے پکڑلے وہ کبھی بھی گمراہ نہ ہوگا۔ اس سہارے کا براہ راست اس ذات سے تعلق ہے جو کامیابی اور ناکامی کا مالک ہے ۔ ایمان دراصل اس حقیقت کبریٰ تک رسائی کا نام ہے جس کی ذات سے اس کائنات کے تمام حقائق قائم ہیں یعنی ذات باری تک رسائی ۔ ایمان اس ناموس اکبر تک رسائی کا نام ہے جو ذات باری نے کائنات کے لئے وضع کیا ہے ۔ اور جس پر یہ کائنات قائم ہے ۔ اور جو شخص ایمان کو مضبوط کرلیتا ہے وہ راہ راست پر پڑ کر اپنے رب تک جاپہنچتا ہے ۔ اس کے پاؤں نہیں ڈگمگاتے ۔ وہ پیچھے نہیں رہتا اور نہ وہ بھول بھلیوں میں پڑتا ہے ۔ نہ بےراہ روی میں پڑتا ہے اور نہ گمراہی کا شکار ہوتا ہے۔ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ................ ” اور اللہ سن کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔ “ وہ مختلف بولیوں کی بات سنتا ہے ۔ وہ دلوں کے مضمرات کو جانتا ہے ۔ اس لئے جو شخص اس ذات پر ایمان لے آئے وہ گھاٹے میں نہ رہے گا۔ اس پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ اور نہ ہی وہ کبھی ناکام ہوگا۔

البقرة 2:257

اب سلسلہ کلام اور آگے بڑھتا ہے ۔ ایک متحرک اور محسوس انداز میں منظر کشی کی جاتی ہے ۔ ہدایت کا صراط مستقیم اور گمراہی اور ضلالت کے راستے صاف صاف آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیسی ہے ؟ اسکرین پر نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ہاتھ سے پکڑ کر اندھیروں سے نکالتے ہیں اور روشنی میں لاتے ہیں جبکہ طاغوت جو کفار کے مددگار ہیں اہل کفر کا ہاتھ تھامے ہوئے انہیں نور ایمان سے ظلمات کفر میں لے جاتے ہیں ۔ یہ ایک عجیب پر کیف زندہ منظر ہے ۔ رہوار خیال کبھی ایک منظر کی طرف سرپٹ دوڑ رہا ہے اور کبھی دوسرے کی طرف ۔ ادہر سے واپس ہوتا ہے تو ادہر بھاگ کھڑا ہوتا ہے ۔ یہ انداز گفتگو ایسے جامد اور غیر متحرک انداز میں کلام کی جگہ اختیار کرتا ہے جو را ہوار خیال کو مہمیز نہیں دے سکتا ۔ نہ اس سے انسانی احساس لطف اندوز ہوسکتا ہے نہ شعور ووجدان میں طلاطم آتا ہے۔ اور جو صرف ذہن انسانی سے بذریعہ الفاظ ہی خطاب کرسکتا ہے ۔ اگر ہم کلام الٰہی کی عظمت کا صحیح اندازہ کرنا چاہیں تو اسی مفہوم کو ہم مختلف الفاظ میں لفظ اور معانی کا اظہار کرسکتے ہیں مثلاً ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ مسلمانوں کا دوست ہے وہ انہیں راہ ایمان کی طرف لاتا ہے اور وہ لوگ جو کفر اختیار کرتے ہیں ، وہ انہیں راہ کفر کی طرف کھینچتے ہیں ۔ “ دیکھئے یہ الفاظ اور انداز کلام ہمارے سامنے مردہ پڑا ہے ۔ اس میں وہ گرمی ، وہ حرکت اور القاء نہیں ہے جو کلام الٰہی میں ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے میری کتاب التصویر الفنی فی القرآن کی فصل طریقہ قرآن) لیکن اس حسی اور القائی تصویر کشی کے ساتھ قرآن کریم کا حسن تعبیر اور حقیقت پسندانہ اظہار مفہوم دیکھئے ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ................ ” جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انہیں تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ “ حقیقت یہ ہے ایمان نور ہے ۔ وہ اپنے مزاج اور حقیقت کے اعتبار سے ایک منفرد نور ہے ۔ اور بیشک کفر اندھیرے ہیں اور یہ اپنے مزاج اور حقیقت کے اعتبار سے متعدد اور متنوع ہیں لیکن ہیں سب کے سب اندھیرے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی تعبیر نور کے ساتھ اور کفر کی تعبیر ظلمات کے ساتھ ایک بہترین تعبیر ہے ۔ یہ نہایت ہی حقیقت پسندانہ انداز تعبیر ہے ۔ جب دل مومن میں پہلے پہل ایمان کی چنگاری سلگتی ہے تو اس کے ذریعہ مومن کی پوری شخصیت نور سے بھرجاتی ہے ۔ اس کی روح روشن ہوتی ہے اور اسے تشفی ہوجاتی ہے ۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مومن کی روح اپنے ماحول میں روشنی پھیلاتی ہے ۔ اس کا ماحول روشن اور واضح ہوجاتا ہے ۔ اس نور سے تمام موجودات کی حقیقت سامنے آجاتی ہے ۔ تمام اقدار کی تشریح ہوجاتی ہے ۔ تمام تصورات حیات کی اصلیت سامنے آجاتی ہے ۔ مومن کا دل و دماغ ان تمام حقائق کو بغیر کسی ملاوٹ کے واضح طو رپر پالیتا ہے ۔ وہ ہر قدر کو اپنی جگہ دیکھتا ہے اور اسے اس کا صحیح مقام دیتا ہے۔ ایمان ایک ایسا نور ہوتا ہے جس کے ذریعہ ایک مومن اس کائنات میں رائج قانون قدرت کو پالیتا ہے ۔ اب یہ مومن اپنے طرز عمل کو اس کائنات میں رائج قانون قدرت کے ساتھ ہم آہنگ کرلیتا ہے ۔ جو اس کے ارد گرد جاری وساری ہوتا ہے ۔ اور وہ بڑی سنجیدگی کے ساتھ پروقار طریقے سے اپنی راہ پر آگے بڑھتا ہے ۔ وہ اپنی راہ کو چونکہ اچھی طرح پالیتا ہے اس لئے وہ نہ کہیں گمراہ ہوتا ہے اور نہ ہی اپنی راہ میں غیر اہم رکاوٹوں کے ساتھ الجھتا ہے ۔ یہ ایک ایسی روشنی ہے جو صرف ایک اور منفرد راستہ دکھاتی ہے ۔ کفر کی گمراہیاں تو وہ مختلف قسم کی تاریکیاں ہیں ۔ شہوت وخود سری کی تاریکی ، فسق وفجور کی تاریکی ، کبر و غرور اور سرکشی کی تاریکی ، غلامی اور ضعیفی کی تاریکی ، ریاکاری اور نفاق کی تاریکی ، لالچ اور نفع اندوزی کی تاریکی ، شک اور بےچینی کی تاریکی ، غرض بیشمار اور لاتعداد ظلمات ہیں جو سب کے سب کفر وگمراہی کی تاریکیاں ہیں اور سب کا مزاج یہ ہے کہ ان میں گھرا ہوا انسان اللہ کی راہ سے بےطرف ہوجاتا ہے۔ وہ غیر اللہ سے ہدایت حاصل کرتا ہے اور غیر اسلامی نظام زندگی کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے اور جونہی ایک انسان اللہ کے اس منفرد نور اس واحد حقیقت پسندانہ اور واضح روشنی کو ترک کردیتا ہے ، وہ کفر کے مختلف اندھیروں میں سے کسی اندھیرے میں پھنس جاتا ہے ۔ یہ اندھیرے متنوع ہیں اور سب ہپی اندھیرے ہیں ۔ اور ان اندھیروں کا انجام کیا ہے ؟ جو لوگ ان اندھیروں میں زندگی بسر کرتے ہیں أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ................ ” یہ لوگ آگ والے ہیں اور یہ ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں ۔ “ اگر یہ لوگ اسلام کی روشنی میں راہ پانے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ہمیشہ آگ میں رہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ سچائی ایک اور منفرد حقیقت ہے ۔ سچائیاں دو نہیں ہوسکتیں اور گمراہی کی مختلف انواع و اقسام ہیں اور حق وصداقت کے علاوہ جو کچھ ہے وہ سب گمراہی ہے ۔ اس سے پہلے کہ ہم اس سبق پر بات ختم کرکے آگے بڑھیں ، مناسب یہ ہے کہ ہم اس قاعدے یعنیلاإِكْرَاهَ فِي الدِّينِ................ کے بارے میں ایک اصولی بات کردیں ۔ اس قاعدہ کلیہ کے ساتھ ساتھ اسلام میں فرضیت جہاد کا بھی حکم دیا گیا ہے اور ایسے مواقع پیش آئے ہیں جن میں اسلام نے جہاد میں حصہ لیا ہے ۔ حالانکہ ایک سابقہ آیت میں کہا گیا ہے ۔ وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ................ (بقرہ 193) ” اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور نظام زندگی اللہ کا ہوجائے ۔ “ اسلام کے بعض مفاد پرست دشمنوں نے یہ الزام لگایا ہے کہ لاإِكْرَاهَ فِي الدِّينِ................ کے اصولی قاعدہ کے ساتھ ساتھ جہاد کی فرضیت کا حکم دینا ایک متضاد بات ہیں۔ اس سوال کے جواب میں بعض لوگوں نے بظاہر اسلام کی مدافعت کرتے ہوئے اور بباطن اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہوئے مسلمانوں کے شعور سے جذبہ جہاد ختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔ ایسے لوگ فریضہ جہاد کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اسلام کے قیام اور اس کی نشرواشاعت میں فریضہ جہاد نے بہت اہم رول ادا کیا ہے ۔ ایسے لوگ بڑی مکاری سے ، نہایت ہی نرم انداز سے اور نہایت ہی حکیمانہ انداز سے مسلمانوں کے دل میں یہ بات بٹھانا چاہتے ہیں کہ آج جہاد کی ضرورت باقی نہیں رہی اور نہ آئندہ کبھی فریضہ جہاد کی ضرورت پیش آسکتی ہے ۔ بظاہر یہ لوگ یہ بات اسلام کی مدافعت میں کرتے ہیں (دیکھئے آرنلڈ کی کتاب ” دعوت اسلامی “ ترجمہ ڈاکٹر ابراہیم حسن وبرادرز) یہ دونوں قسم کے لوگ مستشرقین ہیں ۔ جو ایک ہی میدان میں کام کرتے ہیں ۔ یہ دونوں اسلام کے خلاف برسرپیکار ہیں ۔ یہ اسلامی منہاج میں تحریف کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ اس شعور کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو نظام جہاد ایک مسلمان کے نفس میں پیدا کردیتا ہے۔ یہ لوگ اسلام کے شعور جہاد سے خائف ہیں ۔ اس لئے کہ میدان جہاد میں وہ کبھی بھی اسلام کا مقابلہ نہیں کرسکے ۔ اس لئے اس شعور کو مٹاکر یہ اپنے لئے امن و اطمینان پیدا کرنا چاہتے ہیں اور جب سے انہوں نے دل مسلم سے جہاد ختم کیا ہے یا اسے الجھا دیا ہے ، انہوں نے امت مسلمہ کے جسم پر مختلف پہلوؤں سے ضرب ہائے کاری لگائی ہیں اور ہر میدان میں اسے شکست دے دی ہے ۔ یہ لوگ امت مسلمہ کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ مسلم اقوام اور استعماری قوم کی جنگ فقط معاشی اور تجارتی منڈیوں کی جنگ ہے ۔ لہٰذا اس جنگ میں امت مسلمہ کو جذبہ جہاد کو بیچ میں نہیں لاناچا ہئے جو فقط نظریاتی جنگ میں کارآمد ہوتا ہے ۔ اس لئے اس دور جدید میں جہاد کی بات بلاجواز ہے ۔ اسلام نے پہلے پہل جہاد اس وقت شروع کیا جس وقت مسلمانوں پر مظالم توڑے جارہے تھے تاکہ ان کی جان ، مال اور نظریہ حیات کو محفوظ کیا جاسکے ۔ یعنی جہاد برائے قیام امن ۔ اس تفسیر کے حصہ دوئم میں اس اصول کی تشریح آیت وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ................ ” اور فتنہ و فساد قتل سے زیادہ شدید ہیں “ کی تفسیر کے موقع پر کرچکے ہیں ۔ اس اصول کے مطابق اسلام نے نظریاتی تشدد اور اس کی وجہ سے جسمانی اذیت اور اہل نظریہ پر بوجہ نظریہ ظلم وتشدد کو قتل سے زیادہ شدید قرار دیا ۔ اس اصول کے مطابق نظریات کی قدر و قیمت انسانی زندگی سے بھی زیادہ ہے ۔ اگر ایک مسلمان کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے مال اور اپنی جان کی حفاظت میں ہتھیار اٹھاسکتا ہے تو اسے بطریق اولیٰ اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے دین ، عقیدے اور نظریہ کی حفاظت اور دفاع میں ہتھیار اٹھائے ۔ اس وقت مسلمان محض اپنے عقیدے کی وجہ سے ظلم وتشدد کی چکی میں پس رہے تھے ۔ ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہ تھا کہ وہ اپنی عزیز ترین دولت یعنی دولت ایمان کی مدافعت میں ہتھیار اٹھائیں ۔ ان پر یہ تشدد محض ان کے عقیدے کی وجہ سے ہورہا تھا اور کرہ ارض کے مختلف حصوں میں ان پر یہ مظالم ڈھائے جارہے تھے ۔ سرزمین اندلس نے ان وحشیانہ مظالم کو دیکھا ہے ۔ وہ اس اجتماعی قتل و غارت کی گواہ ہے ۔ جو مسلمانوں پر محض ان کے دین اور عقیدے کی وجہ سے ڈھائے گئے ۔ پھر یہ سرزمین ان مظالم کی بھی گواہ ہے جو وہاں عیسائیوں کے کیتھولک فرقے نے دوسرے فرقوں کے خلاف روا رکھے تاکہ انہیں زبردستی کیتھولک بنایاجائے۔ آج اسپین کی حالت یہ ہے کہ وہاں سے مسلمان اور دوسرے عیسائی فرقوں کا نام ونشان مٹادیا گیا ہے ۔ پھر بیت المقدس اور اس کے اردگرد کے اسلامی علاقے صلیبی حملوں سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔ جن کا ہدف صرف اسلامی نظریہ حیات اور دین اسلام پر غلبہ پانا تھا ۔ ان جنگوں کا دفاع بھی اہل اسلام نے اسلامی نظریہ حیات کے پلیٹ فارم سے کیا اور وہ اس میں بہت اچھی طرح کامیاب رہے ۔ اور اس علاقے کو اندلس کے انجام بد سے بچالیا ۔ آج بھی اشتراکی علاقوں ، بت پرست علاقوں ، یہودی علاقوں اور مسیحی علاقوں میں مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جارہے ہیں اور یہ محض اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں ۔ لہٰذا اگر صحیح معنوں میں مسلمان ہیں تو آج بھی ان پر جہاد فرض ہے جس طرح پہلے فرض تھا تاکہ مسلمانوں کے خلاف ان مظالم کو بند کیا جاسکے ۔ اسلام کے نظریہ جہاد کی پشت پر دوسرا محرک یہ تھا کہ نظریاتی آزادی کے بعد نظریاتی دعوت وتبلیغ کی آزادی کے لئے بھی مواقع پیدا کئے جائیں ۔ اس لئے اسلام انسانی زندگی اور اس کائنات کا ایک بہترین حل پیش کرتا ہے ۔ وہ اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کی نشوونما کے لئے ایک بہترین نظام تجویز کرتا ہے ۔ وہ اس بہترین عقیدے اور مکمل نظام کو پوری انسانیت تک پہنچانا چاہتا ہے ۔ تاکہ وہ اسے سنیں اور سمجھیں ۔ اور سننے اور سمجھنے کے بعد پھر وہ آزاد ہیں کہ وہ اسے قبول کرلیں یا رد کردیں ۔ اس لئے کہ دین وہ عقیدے کے بارے میں وہ کسی جبر واکراہ کا قائل نہیں ہے ۔ لیکن مکمل نظریاتی آزادی سے پہلے اس امر کی ضرورت ہے کہ تمام انسانوں تک اسلامی پیغام کے پہنچنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ۔ اس لئے کہ اللہ کی جانب سے یہ پیغام تمام انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے ۔ لہٰذا وہ تمام رکاوٹیں دور ہونی چاہئیں جو عوام الناس کو اس پیغام کے سننے ، اسے قبول کرنے اور اگر وہ چاہیں تو قافلہ ہدایت یافتگان میں شامل ہونے کی راہ میں حائل ہیں ۔ ان رکاوٹوں میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کرہ ارض پر قائم طاغوتی نظام زندگی ہوتا ہے ۔ یہ نظام عوام الناس اور اس پیغام کی راہ میں حائل ہوتا ہے ۔ اور جو لوگ کسی طرح اس عقیدے اور پیغام کو سن کر اپنالیتے ہیں۔ یہ طاغوتی نظام ان پر تشدد شروع کردیتا ہے ۔ لہٰذا اسلام نے جب بھی جہاد کیا ہے اس نے ایسے باطل اور طاغوتی نظامہائے زندگی کا قلع قمع کیا ہے ۔ اور اس نے ایسے نظاموں کی جگہ ایسا عادلانہ نظام زندگی قائم کیا ہے جس میں ہر جگہ دعوت حق اور داعی حق کو پوری پوری آزادی حاصل ہو ۔ یہ مقصد اور ہدف آج بھی قائم ہے ۔ لہٰذا آج بھی مسلمانوں پر جہاد فرض ہے تاکہ وہ اس پیغام کو عام کرسکیں بشرطیکہ مسلمان ، مسلمان ہوں۔ ایک دوسرا مقصد جس کے لئے اسلام نے جہاد کو روا رکھا ہے وہ اسلامی نظام زندگی کا قیام اور اس کی حفاظت ہے۔ یہ واحد نظام زندگی ہے جو ایک انسان کو اپنے دوسرے انسان بھائی تک رسائی حاصل کرنے کی آزادی عطا کرتا ہے۔ اور اس میں ہر انسان دوسرے انسان کی نسبت سے بالکل آزاد بھی ہے ۔ اس نظام میں بندگی صرف خدائے واحد بلندو برتر کے لئے مخصوص ہے ۔ اور یہ نظام اس دنیا سے انسان کی جانب سے دوسرے انسان کے لئے ہر قسم کی غلامی کا قلع قمع کردیتا ہے ۔ اس نظام میں کوئی فرد ، کوئی طبقہ اور کوئی قوم دوسرے انسان کے لئے قانون سازی کا کام نہیں کرسکتی ۔ اور نہ اس قانون سازی کے ذریعہ انسانوں کو کوئی اپنا غلام اور زیر دست بناسکتا ہے ۔ اس نظام میں سب انسانوں کا ایک ہی رب ہے ۔ وہ تمام انسانوں کے قانون وضع کرتا ہے بالکل مساوات کے ساتھ ۔ اور تمام انسان صرف اس رب کی بارگاہ میں خضوع اور خشوع کے ساتھ سجدہ ریز ہوتے ہیں ، صرف اس رب واحد کی بندگی کرتے ہیں اور صرف اس پر ایمان لاتے ہیں ۔ اس نظام میں انسان کی جانب سے کسی دوسرے انسان کی اطاعت صرف ایک ہی صورت میں کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی شریعت کا نافذ کنندہ ہو۔ اور امت کی جانب سے نفاذ شریعت کا کام اس کے سپرد کردیا گیا ہو ۔ نفاذ شریعت کا کام بھی کوئی از خود نہیں کرسکتا۔ اس لئے کہ قانون سازی صرف اللہ کا کام ہے ۔ انسانی زندگی میں شریعت شان خداوندی کا اظہار ہے ۔ اس لئے کوئی انسان اس بات کا مستحق نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے شریعت سازی کا کام مخصوص کرسکے حالانکہ وہ صرف ایک بندہ اللہ ہے ۔ یہ اسلامی نظام حیات کا اصل الاصول ہے اور اس اصول ودستور کے نتیجے میں ایک ایسا پاک اخلاقی نظام زندگی پرورش پاتا ہے جس میں تمام بنی نوع انسان کو کامل حریت اور آزادی حاصل ہوتی ہے ۔ ان انسانوں کو بھی جو اسلامی عقیدہ حیات کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتے ۔ اس نظام میں ہر شخص کی عزت محفوظ ہوتی ہے ، یہاں تک کہ جو لوگ اسلامی نظام زندگی کو قبول ہی نہیں کرتے ہر اس باشندے کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں جو کسی اسلامی ملک میں رہائش پذیر ہوتا ہے ۔ چاہے اس کا عقیدہ جو بھی ہو ۔ اس نظام میں کسی بھی شخص کو اسلامی عقیدہ اپنانے پر مجبور نہیں کیا جاتا ۔ اس میں دین کے بارے میں کسی کو مجبور نہیں کیا جاتا ۔ اس میں صرف تبلیغ کی آزادی ہوتی ہے۔ محض اسلام نے جہاد کو اس لئے فرض کیا ہے کہ وہ دنیا میں مذکورہ بالا ارفع اور اکمل نظام زندگی کو قائم کرے اور اس کی حمایت اور بچاؤ کی تدابیر اختیار کرے ۔ یہ اسلام کا حق تھا کہ وہ بذریعہ جہاد باطل اور فاسد نظام ہائے زندگی کا قلع قمع کردے جو اس اصول پر قائم تھے کہ بعض انسان بعض دوسرے انسانوں کے غلام ہیں اور جن میں بعض انسان خدائی کے مقام کے مدعی ہوتے ہیں جو خدائی فرائض سنبھالتے ہیں ، حالانکہ یہ ان کا حق نہیں ہوتا ۔ اور ظاہر ہے کہ جب اسلام اس نصب العین کو لے کر اٹھتا ہے تو باطل نظامہائے زندگی بھی اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہ اس کے دشمن ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہ تھا کہ اسلام ان طاغوتی نظاموں کا قلع قمع کرکے ان کی جگہ اس کرہ ارض پر اپنے ارفع اور اکمل نظام کا اعلان کردے ۔ اور پھر اس نظام کے زیر سایہ انہیں اپنے مخصوص عقائد کے اندر آزادی عطاکردے اور ان پر صرف اسلام کے اجتماعی سول کوڈ ، اسلامی اخلاقیات اور مملکت کی اقتصادی پالیسی کی پابندی لازم ہو ۔ رہے دینی اور قلبی عقائد ورجحانات تو وہ ان میں مکمل طور پر آزاد ہیں ۔ ان کے شخصی قوانین ومعاملات میں بھی وہ مکمل طور پر آزاد ہیں۔ اپنے عقائد کے مطابق اپنے معاملات طے کریں لیکن اسلامی نظام زندگی ان پر قائم ہو جو ان کی حفاظت کرے ۔ ان کی آزادی اس کے سایہ میں محفوظ ہو ۔ ان کو مکمل آزادی رائے حاصل ہو ۔ ان کی عزت محفوظ ہو اور ان کے مکمل اساسی حقوق انہیں حاصل ہوں لیکن اس نظام کے دائرے کے اندر۔ یہ جہاد اب بھی باقی ہے اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے اس جہاد کو قائم رکھیں ۔ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ................ ” یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے اور جنس دین اللہ کا ہوجائے۔ “ اور اس دنیا سے انسان کی خدائی ختم ہو اور اللہ کے سوا کسی کی بندگی اور غلامی دنیا میں نہ رہے ۔ (مسئلہ جہاد کی زیادہ وضاحت کے لئے ملاحظہ فرمائیے کتاب الجہاد فی الاسلام مصنفہ المسلم العظیم سید ابوا لاعلیٰ مودودی ۔ نیز میری کتاب ” السلام العالمی فی الاسلام “ (سید قطب) غرض اسلام نے تلوار اس لئے نہیں اٹھائی کہ وہ لوگوں کو اسلامی اعتقادات اور تصورات اپنانے پر مجبور کردے ۔ نہ دنیا میں اسلام کا پھلاؤ تلوار کے بل بوتے پر ہوا ہے جیسا کہ اسلام کے بعض اعداء اسلام یہ الزام لگاتے ہیں ۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے جہاد اس لئے شروع کیا تھا کہ وہ اس کرہ ارض پر ایک پر امن نظام زندگی قائم کردے جس کے سائے میں تمام عقائد اور مختلف دینی تصورات رکھنے والے لوگ امن وآشتی کی زندگی بسر کرسکیں ۔ ہاں وہ اسلام کے سیاسی دائرے عمل میں رہتے ہوئے اپنے عقائد محفوظ رکھیں اور آزادی سے رہیں ۔ اگرچہ وہ اسلامی عقائد قبول نہ کریں۔ اسلامی نظام کے وجود ، اس کے پھیلاؤ اور اہل اسلام کے امن و سکون کے لئے اور ان لوگوں کے امن و اطمینان کے لئے جو لوگ اس نظام زندگی میں داخل ہونا چاہتے تھے اسلام کی مسلح قوت کی اشد ضرورت تھی ۔ نیز اقامت دین اور حفاظت دین کے لئے بھی مسلح قوت کا وجود از بس ضروری تھا ۔ اسلامی جہاد کا ادارہ کوئی معمولی اہمیت کا حامل نہ تھا ۔ نہ وہ ایسا تھا کہ اس کی اس وقت کوئی ضرورت نہ ہو یا اس کی ضرورت نہ ہو یا یہ کہ مستقبل میں اس کی ضرورت نہ ہو ۔ مسلمانوں کا بدترین دشمن یہ بات ان کے ذہن نشین کرتے ہیں کہ اب جہاد کی ضرورت نہیں ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو ایک اجتماعی نظام کی ضرورت ہے ۔ اس نظام کو ایک اجتماعی قوت کی ضرورت ہے ۔ اور یہ قوت اسلام کے جذبہ جہاد میں مضمر ہے ۔ یہ اسلام کا مزاج ہے جس کے بغیر نہ اسلام قائم ہوسکتا ہے اور نہ ہی وہ قائدانہ کردار ادا کرسکتا ہے۔ لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ................” دین میں جبر نہیں ہے “ لیکن اس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید یہ حکم بھی دیتا ہے وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ وَآخَرِينَ مِنْ دُونِهِمْ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ ” اور تم لوگ ، جہاں تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لئے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداء کو خوفزدہ کردو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ “ اسلام کی نظر میں یہ بنیادی نقطہ ہے اور اسی کی روشنی میں مسلمانوں کو اپنے دین کو سمجھنا چاہئے اور اسی نقطہ نظر سے اہل اسلام کو اپنی تاریخ پڑھنا چاہئے ۔ اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں مسلمانوں کو ایسا موقف اختیارنہ کرنا چاہئے جس میں وہ ایک ملزم کی طرح کھڑے ہوں اور اپنا دفاع کرنے کی کوشش کررہے ہوں ۔ اس سلسلے میں انہیں ایک پر اعتماد ، پر عزم اور خود دار شخص کا موقف اختیار کرنا چاہئے جسے یہ یقین ہو کہ وہ اس دنیا کے تمام تصورات سے بلند تر ہے ۔ اسلامی نظام تمام نظاموں کے مقابلے میں بلند تر ہے ۔ دین اسلام تمام ادیان سے بالاتر ہے۔ اہل اسلام کو ان لوگوں سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے جو بظاہر دین اسلام کا دفاع کررہے ہوتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ ان کے دل و دماغ سے تصور جہاد کھرچ کھرچ کر نکال رہے ہیں تاکہ وہ خود اسلام دشمن اقوام کو محفوظ کرسکیں ۔ جہاد دراصل ظالم طاغوت کی برتری کو ریزہ ریزہ کرنے والا عمل ہے ۔ اور جہاد میں تمام انسانیت کی بھلائی ہے ۔ اور انسانیت کا سب سے بڑ دشمن وہ شخص ہے جو اسے جہاد سے محروم کرتا ہے اور انسانیت اور جہاد کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے ۔ لہٰذا یہ شخص انسانیت کا دشمن نمبر ایک قرار پاتا ہے۔ اور انسانیت میں اگر رشد وہدایت ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے اس عظیم دشمن انسانیت کا پیچھا کرے ۔ اس لئے کہ اہل ایمان امت مختار ہیں ۔ انہیں دولت ایمان سے برگزیدہ بنایا گیا ہے ۔ اس لئے خود ان کے اپنے نفوس کے لئے بھی اور پوری انسانیت کی خاطر بھی یہ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ منکر جہاد کا تعاقب کریں اور یہ ان کا ایسا فریضہ ہے جس کے بارے میں ازروئے شریعت وہ عنداللہ مسئول ہیں۔

البقرة 2:258

درس 18 ایک نظر میں یہ تین آیات ہیں اور ان کا موضوع ایک ہے یعنی زندگی اور موت کی حقیقت کیا ہے ؟ اور موت کے بعد زندگی کا راز کیا ہے ؟ حیات بعد الممات اسلامی نظریات کا ایک اہم پہلو ہے ۔ جس پر قرآن مجید میں بحث کی گئی ہے ۔ اور اس پارہ کے آغاز ہی سے جابجا اس پر بحث کی گئی ہے ۔ نیز ان آیات کا ان صفات الٰہی کے ساتھ بھی براہ راست تعلق ہے جو آیت الکرسی میں بیان کی گئی ہیں ۔ اور ان سب آیات سے قرآن کریم کی اس واضح جدوجہد کا اظہار ہوتا ہے ، جو قرآن مجید ، ایک مسلمان کے شعور وادراک میں ، ایک صحیح اسلامی تصور حیات کے پیدا کرنے کے لئے آرہا ہے ۔ اور انسانی زندگی کے بصیرت افروز جائزے کی خاطر اس بات کی ضرورت ہے کہ ذہن انسانی میں اس کا صاف ستھرا تصور موجود ہو ، جو اس کائنات کے حقیقی مشاہدے پر مبنی ہو ۔ اور جو مضبوط اور دل نشین اعتقاد پر مبنی ہو۔ اس لئے کہ انسان کے پورے نظام زندگی ، انسان کے مکمل طرز عمل اور اس کے تمام اخلاق وآداب کے قواعد و ضوابط کا ایک گہرا تعلق اگر اس عقائد ونظریات اور اس کے مکمل تصور کائنات کے ساتھ نہ ہو تو وہ نظام زندگی نہ تو مضبوط ومستحکم ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ایک مستقل معیار ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے تطہیر افکار اور عقائد و تصورات کی توضیح اور پختگی پر بڑا زو دیا ہے اور قرآن کریم کا مکی دور زیدہ تر اسی پر مشتمل ہے ۔ اور یہی رنگ مدنی دور کی آیات میں بھی نظر آتا ہے ۔ جہاں تفصیلی ہدایات اور قانون سازی بھی ہورہی ہے ۔ ان میں سے پہلی آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے دور کے بادشاہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو نقل کیا گیا ہے ۔ یہاں بادشاہ کا نام نہیں دیا گیا ، اس لئے کہ یہاں اس کے نام کے ذکر سے اصل بات میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا ۔ یہاں رسول اکرم ﷺ اور جماعت مسلمہ کے سامنے استعجاب کے ساتھ اس گفتگو کو پیش کیا جاتا ہے کہ اس شخص نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ رب کائنات کے بارے میں یہ مناظرہ کیا اور کس قدر احمقانہ موقف اختیار کیا ۔ اس نے اور قرآن کریم نے اپنے خاص بلیغانہ انداز میں اس مباحثے کو نقل کیا ہے ۔ یہ شخص جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ یہ مباحثہ کیا وہ وجود باری کا منکر نہ تھا۔ وہ اگر منکر تھا تو اللہ کی وحدانیت اور ربوبیت کا منکر تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کو اس کائنات میں واحد متصرف اور واحد مدبر ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔ اسی طرح جس طرح جاہلیت کے گمراہ لوگوں میں سے بعض ایسے تھے جو وجود باری کے معترف تھے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بعض دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے ۔ بعض افعال واقعات کو ان شریکوں کی طرف منسوب کرتے تھے ۔ اسی طرح یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی صفت حاکمیت کے بھی منکر تھے ۔ اسلامی تصور کائنات کے مطابق جس طرح اس کائنات کے تکوینی امور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اسی طرح یہاں قانون سازی اور اجتماعی امور کے فیصلے کا اختیار بھی اللہ کے پاس ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہ منکر حق بادشاہ بہت ہی ہٹ دھرم تھا اور یہ اس سبب کی وجہ سے منکر حق تھا کہ اسے اللہ نے حکومت دی رکھی تھی۔ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ................ حالانکہ اس سبب کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اس کی وجہ سے پکا مومن ہوتا اور شکر گزار ہوتا اور اللہ کے احسانات کا معترف ہوتا لیکن اس نے اس قتدار اور بادشاہت کی وجہ سے کفر و طغیان کا راستہ اختیار کیا ۔ اور اللہ کے اس انعام کی ناقدری کی اور اس انعام واکرام کی اصل حقیقت اور اس کے حقیقی تصور کو نہ پاسکا ۔ شکر کی جگہ اس نے کفر کی روش اختیار کی ۔ اور جو بات ان کی ہدایت کا سبب ہونا چاہئے تھی ، اس کی وجہ سے وہ گمراہ ہوگئے ۔ وہ حاکم اس لئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حاکم اس لئے نہیں بنایا کہ وہ عوام کو خود اپنا بندہ بنالیں ۔ اور خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کی پیروی کرائیں۔ وہ تو خود اللہ کے بندے ہیں جس طرح دوسرے لوگ اللہ کے بندے ہیں ۔ وہ بھی ان کی طرح اللہ سے شریعت پانے والے ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرکے نہ حاکم رہتے ہیں اور نہ کوئی قانون بناسکتے ہیں ۔ یہ حکام تو خلفاء ہیں اصل حاکم نہیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ بادشاہ نبی وقت کے ساتھ مباحثہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو ان کا یہ طرز عمل عجیب نظر آتا ہے ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِي حَاجَّ إِبْرَاهِيمَ فِي رَبِّهِ أَنْ آتَاهُ اللَّهُ الْمُلْكَ................ ” کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑا کیا تھا۔ جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیم کا رب کون ہے ؟ اس بناپر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی ۔ “ کیا تو نے نہیں دیکھا ! یہ قابل مذمت رویے اور حقارت آمیز طرز عمل پر استعجاب کا اظہار ہے ۔ انکار اور استنکار اپنے لفظی اور معنوی ہم آہنگی کی وجہ سے ایک ساتھ چلتے ہیں ۔ اس بادشاہ کی یہ حرکت فی الحقیقت ناپسندیدہ ہے ۔ اس لئے کہ انعام واکرام پانے کے سبب اگر کوئی جدل وجدال شروع کردے تو یقیناً قابل مذمت ہوتا ہے۔ نیز یہ بات بھی قابل مذمت ہے کہ کوئی رب کائنات کی صفات اپنے لئے مخصوص کرے ۔ اور کوئی حاکم اپنی خواہشات نفس کے مطابق عوام الناس پر حکمرانی کرے اور تقنین وتشریح کے کام میں اللہ سے ہدایت نہ لے ۔ إِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّيَ الَّذِي يُحْيِي وَيُمِيتُ................ ” جب ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے ۔ “ زندگی اور موت ایسے واقعات ہیں جن کا اعادہ ہر لحظہ ہوتا رہتا ہے ، یہ حقائق ہر وقت انسانی احساس اور انسانی عقل کے سامنے آتے رہتے ہیں لیکن باوجود اس تکرار اور کثرت وقوع کے زندگی اور موت ایک حیرت انگیز راز ہیں ۔ اس سربستہ راز کے حل کے لئے عقل انسانی ایک ایسے سرچشمے کی طرف رجوع کرتی ہے جو بشریت سے وراء ہے ۔ اور ایک ایسے مرجع اور مصدر کی رجوع جس کا اس مخلوقات سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ لہٰذا اس ناقابل حل پہیلی کے صحیح حل کے لئے ضروری ہے کہ انسان ذات باری کی طرف رجوع کرے جو پیدا کرنے پر بھی قادر ہے اور فنا کرنے پر بھی قادر ہے ۔ آج تک ہم موت وحیات کی حقیقت نہیں پاسکے ۔ البتہ زندوں میں ہم زندگی کے آثار سمجھ لیتے ہیں اور مردوں سے ہم موت کی خصوصیات جان لیتے ہیں ۔ اس لئے ہم مجبور ہیں کہ موت وحیات کی حقیقت اس حقیقی قوت کے حوالے کردیں جو ان تمام قوتوں سے وراء ہے جن کو ہم جانتے ہیں یعنی قوت الٰہیہ ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی ایک ایسی صفت بیان کی جس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ نہ کسی کو یہ زعم ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں شریک کار ہوسکتا ہے ۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) سے اس بادشاہ نے پوچھا کہ تمہارا رب کون ہے جو تمہارے لئے قانون بناتا ہے ، ، جس کے پاس اقتدار اعلیٰ ہے اور جسے قانون سازی کے پورے اختیارات حاصل ہیں ؟ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ میرا رب وہ ہے جس کے ہاتھ میں موت وحیات ہے ۔ لہٰذا وہی ہے جو حاکم اور قانون ساز ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) موت وحیات کی حقیقت سے خوب واقف تھے ۔ اور موت اور زندگی سے ان کی مراد یہ تھی کہ اللہ ان حقائق کا خالق ہے ۔ اس لئے کہ وہ رسول تھے اور انہیں وہ لدنی اسرار و رموز عطاکئے گئے تھے جن کے بارے میں ہم نے حصہ اول میں بحث کی ہے ۔ اور موت وحیات کی تخلیق ایک ایسا عمل ہے جس میں اللہ کے ساتھ اس کے بندوں میں سے کوئی شریک نہیں ہے لیکن جو بادشاہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ مباحثہ کررہا تھا وہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنی قوم کا حاکم مختار ہے۔ اس کی قوم پر اس کے پورے احکام نافذ ہوتے ہیں ۔ وہ سزائے موت بھی دے سکتا ہے اور معاف بھی کرسکتا ہے ۔ تو گویا یہ بھی ایک قسم کی ربوبیت ہے ۔ اس لئے اس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا :” میں اس قوم کا سردار ہوں ۔ ان کے معاملات میرے ہاتھ میں ہیں ۔ اس لئے میں ہی ایک قسم کا رب ہوں۔ جس کے سامنے تمہیں بھی جھکنا چاہئے اور مری حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرنا چاہئے ۔ “ چناچہ اس نے کہا أَنَا أُحْيِي وَأُمِيتُ................” زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے ۔ “ اس موقعہ پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ مناسب نہ سمجھا کہ وہ اس کے ساتھ حقیقت موت وحیات کے موضوع پر تفصیلی بات چیت شروع کردیں ۔ خصوصاً ایسے شخص کے ساتھ جو حقیقت موت وحیات میں بذات خوداشتباہ میں تھا اور ڈانواں ڈول تھا ۔ جو ہمیشہ ایک مشکل مسئلہ رہی ہے ۔ یعنی یہ مشیئت کہ اللہ تعالیٰ انسان کو کس طرح زندگی عطا کرتے ہیں اور کس طرح اس پر موت طاری کردیتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا راز ہے جس تک پوری انسانیت کی رسائی آج تک نہیں ہوسکی ہے ۔ اس لئے اس مقام پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مناسب سمجھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس مشکل تکوینی حقیقت سے ذرا ہٹ کر ایسی ظاہری سنت کا سہارالیں جو ہر وقت اس شخص کے مشاہدے میں آتی رہتی ہے ۔ پہلے تو آپ نے صرف تکوینی سنت الٰہیہ کو پیش کیا کہ اللہ وہ ہے جو زندگی اور موت عطا کرتا ہے ۔ اب انہوں نے اپنے مخالف کے لئے ظاہری چیلنج کا راستہ اختیار کیا کہ تم اللہ کی قدرت کے بارے میں جھگڑتے ہو تو اللہ کی سنن میں سے کسی سنت کو تبدیل کرکے دیکھ لو ۔ اور یہ چیلنج انہوں نے یہ دکھانے کے لئے دیا کہ رب وہ نہیں ہوتا جو انسانی زندگی کے کسی ایک شعبے میں حاکم ہو یا کسی ایک خطے میں حاکم ہو وہ تو اس پوری کائنات میں متصرف ہوتا ہے اور اس کی عمومی ربوبیت کا تقاضا یہی ہے کہ وہ تمام لوگوں کے لئے قانون ساز بھی ہو اس لئے کہ وہ ان کا رب ہے ۔ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِبِ................ ” ابراہیم نے کہا :” اچھا اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے ، تو ذرا اسے مغرب سے نکال لا۔ “ یہ بھی ایک مسلسل وقوع پذیر ہونے والی کائناتی حقیقت ہے ۔ ہماری نظر روز یہ نظارہ دیکھتی ہے اور ہماری قوت مدرکہ روز اسے پاتی ہے اور کبھی بھی اس نظام میں کوئی تعطل یا تاخیر واقعہ نہیں ہوتی ۔ یہ کائنات ایک شہادت ہے جو ہماری فطرت کو اپیل کرتی ہے ۔ اگرچہ ہم اس کائنات کی طبیعت اور مزاج کو اچھی طرح نہ سمجھ پا رہے ہوں ۔ اگرچہ ہم نے فلکیات کے بارے میں مختلف نظریات کا علم حاصل نہ کیا ہو ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جس قدر انبیاء مبعوث فرمائے ہیں انہوں نے ہمیشہ انسانی فطرت کو مخاطب کیا ہے ۔ چاہے فطرت انسانی اپنی علمی اور عقلی ترقی کے تاریخی مراحل میں سے جس مرحلے میں بھی ہو اور فطرت انسانی نے اجتماعی لحاظ سے ترقی کے جو مدارج بھی طے کئے ہوں انبیاء نے فطرت انسانی کا ہاتھ پکڑا ہے ۔ اور اسے ترقی کے اگلے مدارج تک پہنچایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بادشاہ کو چیلنج دیا اور جو مطالعہ فطرت پر مبنی تھا وہ لاجواب تھا ۔ اور نتیجہ یہ نکلا فَبُهِتَ الَّذِي كَفَرَ................ ” تو وہ منکر حق ششدر رہ گیا۔ “ یہ چیلنج اس منکر حق کے سامنے کھڑا تھا ۔ بات بالکل واضح تھی ، کسی غلط فہمی کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔ مناسب رویہ تو یہ تھا کہ وہ سیدھی طرح ایمان لے آتا اور سر تسلیم خم کردیتا لیکن جو شخص کافرانہ رویہ اختیار کرلیتا ہے اور پھر متکبر بھی ہوتا ہے ۔ یہ صفات اسے رجوع الی الحق سے روک لیتی ہیں اور وہ حیران رہ جاتا ہے ، پریشان ہوتا ہے اور متحیر ہوجاتا ہے ۔ اسے نہیں سوجھتا کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے ۔ لیکن اسے اللہ تعالیٰ راہ حق اس لئے نہیں سجھاتے کہ وہ ہدایت کا متلاشی ہی نہیں ہوتا ۔ اسے راہ حق کی طرف آنے کا شوق نہیں ہوتا ۔ وہ سیدھی راہ نہیں پکڑتا تاکہ منزل مقصود پائے ۔ اس لئے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ................ ” مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔ “ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ اور آپ کی پہلی جماعت ، جماعت مسلمہ کے سامنے ، بغض عناد اور ضلالت اور ہٹ دھرمی کی مثال کے طور پر پیش فرمایا۔ نیز ان لوگوں کے لئے بھی جو دور جدید میں دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی تجربہ کے طور پر قرآن مجید میں درج کردیا گیا کہ اہل دعوت منکرین حق کا مقابلہ کس طرح کریں۔ سیاق کلام ایسے حقائق کو لے کے آگے بڑھتا جو ایمان ویقین کے ساتھ ایک واضح تصور کے عناصر ترکیبی ہیں ۔” میرا رب وہ ہے جس کے اختیار میں موت وحیات ہے۔ “ اور ” اللہ تو سورج کو مشرق سے نکال کر لاتے ہیں ، تم ذرا اسے مغرب سے نکال کر دکھاؤ۔ “ ایک حقیقت ایسی ہے جو نفوس انسانی میں پائی جاتی ہے ۔ دوسری حقیقت ایسی ہے جو آفاق کائنات میں عیاں ہے ۔ دونوں عظیم تکوینی حقیقتیں ہیں لیکن اپنی عظمت کے ساتھ ساتھ پیش پا افتادہ ہیں ۔ روز کے مشاہدے میں ہیں ۔ رات دن فکر ونظر کی آماجگاہ ہیں اور ان حقائق کے پانے کے لئے کسی بڑی علمی استعداد کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور نہ کسی طویل غور وفکر کی ضرورت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحیم و کریم ہے ۔ وہ اللہ پر ایمان لانے اور اللہ کی جانب ہدایت پانے کے مسئلے پر اس قسم کی علمی اور منطقی بحث نہیں کرتا کہ جو کم علم آدمی کی دسترس سے باہر ہو یا ایسے لوگوں کی استعداد فکری کے دائرے سے باہر ہو جو غوروفکر کے معاملے میں طفل مکتب ہوں۔ یہ ایک زندہ اور اہم معاملہ ہے ۔ انسانی فطرت کے لئے وہ لابدی ہے ۔ اس کے بغیر انسانی زندگی استوار ہوسکتی ہے نہ انسانی معاشرہ اس کے بغیر منظم ہوسکتا ہے ۔ اس کے بغیر انسان یہ پہچان حاصل نہیں کرسکتے کہ ان کے اجتماعی نظام اور اعلیٰ اقتدار اور آداب کا ماخذ کیا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ ایمان کے مسئلہ میں انسان کے ساتھ ایسے حقائق کو پیش نظر رکھ کر بات کرتا ہے ، جو سب کے سامنے ہوتے ہیں اور جن کا تعلق فطرت انسانی سے ہوتا ہے۔ اور وہ حقائق ایسے ہوتے ہیں جو ہر فطرت سلیمہ سے اپنے آپ کو خود تسلیم کراتے ہیں ۔ ان حقائق اور مشاہدات کے اشارات اس قدر مضبوط ہوتے ہیں کہ ان کی گرفت سے انسان بمشکل نکل سکتا ہے ۔ اور ان سے دامن چھڑانے کے لئے اسے انتہائی محنت ، مشقت ، کبر و غرور اور عناد ومکابرہ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اعتقادات اور ایمانیات کے علاوہ بھی انسانی زندگی کے وہ معاملات جن پر حیات انسانی مکمل طور پر موقوف ہے ، ان میں بھی انسان راہ فطرت اپناتا ہے اور اشارات فطرت کے دائرے میں رہتا ہے ۔ مثلاً تلاش معاش ، ہوا ، پانی ، تناسل وتکاثر وغیرہ ان اہم معاملات میں بھی انسان کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا گیا ۔ یہاں تک کہ اس کی سوچ مکمل اور پختہ ہوگئی ۔ اس کا علم ترقی کر گیا اور پختہ ہوگیا۔ اگر اسے یونہی چھوڑ دیا جاتا تو وہ کب کا ہلاک وبرباد ہوگیا ہوتا۔ ایمان انسان کے لئے اسی قدر اہم اور ضروری ہے جس قدر اس کی زندگی کے لئے کھانا ، پینا اور ہوا ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان موضوعات پر اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کے تقاضوں کے مطابق بات کرتا ہے اور ایسے آثار و شواہد پیش کرتا ہے جو انسان کے اردگرد صفحہ کائنات پر پھیلے ہوئے ہیں ۔

البقرة 2:259

یہ شخص کون تھا جس کا گزر ایک بستی پر ہوا ۔ وہ کون سی بستی تھی جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری ہوئی تھی ۔ اس کے بارے میں قرآن کریم خاموش ہے ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی مشیئت ہوتی تو قرآن کریم اس بستی کے بارے میں تفصیلات بتا دیتا ۔ اگر ان تفصیلات کے حذف کردینے سے حکمت قرآنی کے اظہار وبیان میں کچھ فرق پڑتا تو قرآن کریم میں اس کی تفصیلات ضرور بتائی جاتیں ۔ یہاں صرف اس بستی کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے اور جس طرح فی ظلال القرآن میں ہمارا منہج ہے ہم بھی بس اس جھلک سے آگے تفصیلات میں جانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ اس بستی کی جو جھلک دکھائی گئی ہے وہ نہایت ہی واضح ، مؤثر اور پردہ دماغ میں مرتسم اور منقش ہوجاتی ہے ۔ موت ، پھر بوسیدگی اور ٹوٹ پھوٹ کا ایک واضح نقشہ اپنی پوری صفات کے ساتھ ذہن نشین ہوجاتا ہے۔ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَى عُرُوشِهَا ................ ” جو اپنی چھتوں پر اوندھی گری پڑی ہے۔ “ یہ بستی گر کر اپنی بنیادوں پر پڑی ہے اور ریزہ ریزہ ہوچکی ہے ۔ جو شخص اس پر سے گزرتا ہے اس کے احساسات میں یہ تصور نمودار ہوتا ہے۔ وہ سوچنے لگتا ہے قَالَ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ................ ” یہ آبادی جو مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “ قائل یہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ موجود ہے لیکن اس بستی کی موجودہ شکست وریخت کی صورتحال دیکھ کر سوچتا ہے ۔ اس کے احساسات میں یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ اس ہمہ گیر تباہی کے بعد اللہ اسے کس طرح دوبارہ زندہ وتابندہ بنادے گا ۔ احساسات کی یہ تعبیر ! کسی منظر کو دیکھ کر جو احساسات پیدا ہوسکتے ہیں۔ قرآن کریم ان کی نہایت رقت کے ساتھ ، پر تاثیر تعبیر کرتا ہے ۔ یوں قرآن کریم اپنا پر تو اور اپنی تعبیرات کو مخاطب کے ذہن میں منقش کردیتا ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ قاری کے سامنے وہ منظر عیاناً موجود ہے ۔ وہ اسے دیکھ رہا ہے اور اس کے دل میں وہی احساسات پیدا ہورہے ہیں جو کبھی اس شخص کے دل میں پیدا ہوئے تھے ۔ أَنَّى يُحْيِي هَذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ................ ” اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا۔ “ اس تباہی میں سے تعمیر کس طرح نمودار ہوگی ؟ “ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ................ ” تو اللہ تعالیٰ نے اس کی روح قبض کرلی ۔ وہ سو برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی۔ “ اللہ تعالیٰ نے اسے زبانی طور پر یہ نہ کہا کہ اسے اس طرح زندہ کیا جائے گا ۔ بلکہ اسے واقعات کی دنیا میں بطور تجربہ دکھایا گیا ۔ اس لئے کہ تأثر اور شعور بعض اوقات اس قدر گہرے اور مشکل ہوتے ہیں کہ عقلی دلائل سے انہیں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ نہ منطق اور وجدان سے وہ تأثر پیدا کیا جاسکتا ہے ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ عام اور پیش پا افتادہ واقعات سے بھی ایسا تأثر اخذ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ شعور اور تأثر صرف براہ راست ذاتی تجربے ہی سے پیدا کا جاسکتا ہے ۔ ایسے تجربے کے بعد یہ شعور انسان کے احساسات پر چھا جاتا ہے۔ دل اس پر مطمئن ہوجاتا ہے اور پھر کسی مزید یقین دہانی کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ................ ” اللہ نے اس سے پوچھا ” بتاؤ کتنی مدت پڑے رہے ہو ؟ اس نے کہا ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں۔ “ اسے کیا پتہ تھا کہ وہ کتنی مدت پڑا رہا ہے ۔ زمانے کا احساس اور شعور تب ہوتا ہے جب انسان زندہ ہو اور اس کی سمجھ کام کررہی ہو ۔ یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ انسانی حس دراصل ادراک حقیقت کے لئے صحیح معیار بھی نہیں ہے ۔ اس لئے کہ حس اور ادراک حقیقت میں کبھی دھوکہ دیتی ہے اور کبھی دھوکہ کھاجاتی ہے ۔ مثلاً حس نے یہاں ایک طویل زمانے کے ادراک میں دھوکہ کھایا اور اسے ایک دن یا اس سے بھی مختصر زمانہ سمجھا ۔ اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ انسانی حس ایک مختصر زمانے کو ایک طویل عرصہ تصور کرتی ہے۔ قَالَ بَلْ لَبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ................ ” اللہ نے کہا بلکہ تونے اس حالت میں سو سال گزارے ہیں ۔ “ اس تجربے کی نوعیت کا تقاضا یہ تھا ، خصوصاً جبکہ ایک حسی تجربہ تھا ، کہ وہاں لازماً ایسے آثار ہونے چاہئیں جو یہ بتائیں کہ ایک سو سال کا طویل عرصہ گزر گیا ہے لیکن اس شخص کے کھانے اور پینے کے سامان سے تو ایسے آثار ظاہر نہیں ہورہے تھے ۔ اس لئے کہ اس کے کھانے پینے کے سامان میں کوئی تغیر واقعہ نہیں ہوا تھا ۔ نہ وہ خراب اور متعفن ہوئے تھے ۔ فَانْظُرْ إِلَى طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ................ ” اور اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں کوئی تغیر واقعہ نہیں ہوا۔ “ اور ظاہر ہے کہ پھر ایسے آثار صرف اس شخص کی ذات یا اس کے گدھے کے ساتھ متعلق ہوسکتے ہیں ۔ وَانْظُرْ إِلَى حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِلنَّاسِ وَانْظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنْشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ” اور اپنے گدھے کو بھی دیکھو اور یہ ہم نے اس لئے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لئے ایک نشانی بنادینا چاہتے ہیں ۔ پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اٹھاکر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں ۔ “ کون سی ہڈیاں ؟ کیا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کی ہڈیاں ؟ اگر یوں ہوتا جس طرح بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اس شخص کی ہڈیاں گوشت و پوست سے ننگی ہوگئی تھیں تو جب اس کی نظروں میں بینائی ڈالی گئی اور وہ سمجھنے لگا تو وہ سب سے پہلے خود اپنی حالت کو دیکھتا اور سوچنے لگتا ۔ اور اس وقت اس کا جواب یہ نہ ہوتالَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ................ ” کہ میں ایک دن یا چند گھنٹے رہا ہوں۔ “ اس لئے صحیح تفسیر یہ ہے کہ ان ہڈیوں سے مراد صرف گدھے کی ہڈیوں کا پنجر ہے جو گوشت پوست سے ننگی ہوکر علیحدہ ہوگئی تھیں ۔ اور اس کے بعد یہ معجزہ رونما ہوا کہ یہ ہڈیاں آپس میں جڑنے لگیں ۔ ان پر گوشت و پوست چڑھنے لگا ۔ اور پھر اسی صحیح وسالم گدھے کو دوبارہ حیات بخشی گئی ۔ اور یہ شخص جو اس طویل عرصہ میں بذات خود اپنے کھانے اور پینے کے سامان سمیت صحیح وسالم اپنی اصلی حالت میں رہا تھا اس کے دیکھتے ہی دیکھتے یہ معجزہ رونما ہوا۔ تاکہ ایک ہی جگہ ان دونوں مادی اشیاء کے انجام کا یہ متضاد فرق ، باوجود اس کے کہ فضا اور موسمی موثرات ایک ہی تھے ۔ ایک دوسرے معجزے کا اظہار کردے ۔ یہ معجزہ بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی اس مخلوقات پر قدرت کاملہ حاصل ہے ۔ اس کی قدرت واختیار بےقید ہے ۔ اس معجزے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کو دوبارہ زندہ کرے گا اور اس کی کیفیت کچھ ایسی ہی ہوگی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ معجزہ کس طرح وقوع پذیر ہوا ۔ یہ اسی طرح ہوا جس طرح تمام معجزات وقوع پذیر ہوا کرتے ہیں ۔ اس طرح کرہ ارض پر پہلی زندگی کو وجود میں لانے کا معجزہ رونما ہوا ۔ جسے ہم اکثر اوقات بھول جاتے ہیں ۔ اور ہم نہیں جانتے کہ آغاز حیات کیونکر ہوا ؟ زندگی کس طرح آئی ؟ یہ آئی اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے چاہا ، اسے لے آیا اور جو ہمارے سامنے موجود ہے ۔ ڈارون ، علمائے حیاتیات میں ایک اونچے درجے کا سائنسدان تھا ۔ وہ اپنے نظریات کو لے کر درجہ بدرجہ نیچے آتا رہا ۔ زندگی کی گہرائیوں میں دور تک سرگرداں رہا اور آخر کار وہ اسے یہاں تک پہنچاسکا کہ اس کا آغاز ایک زندہ خلیے سے ہوتا ہے۔ یہاں آکر وہ رک جاتا ہے اور اس کا راستہ آگے سے بند ہے ۔ اس زندہ خلیے میں زندگی کہاں سے داخل ہوئی ؟ اس راز کو وہ نہیں پاسکتا ۔ لیکن اس کے باوجود وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا جسے انسانی ادراک کو تسلیم کرلینا چاہئے ۔ جو حقیقت انسانی کی فطری سوچ اور منطق کو ہر لمحہ مجبور کررہی ہے کہ اسے تسلیم کیا جائے ۔ یہ کہ ایک ایسی ذات کو تسلیم کیا جائے جس نے اس خلیے کو زندگی عطا کی اور ڈارون کسی علمی یا منطقی دلیل کی بناپر اس حقیقت کے تسلیم کرنے سے انکاری نہیں ہے بلکہ یہ انکار اہل کلیسا کے اس رویہ کی وجہ سے ہے جو انہوں نے اہل علم و دانش کے خلاف اپنی پوری تاریخ میں اختیار کیا ۔ ڈارون اس تعصب کی وجہ سے کہتا ہے ” زندگی کے معاملات کی ایسی تفسیر جس میں ایک خالق کے وجود کو تسلیم کیا جائے ، رب ہے جس طرح ایک خالص طبعی میکانزم میں ایک خارق العادت عنصر کو شامل کیا جائے۔ “ سوال یہ ہے کہ وہ طبعی میکانزم کیا ہے ؟ میکانزم کا اس حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے جو ہمارے فکر ونظر کے سامنے کھڑی ہے اور ہم سے باصرار مطالبہ کررہی ہے کہ ہم اس کا راز بتائیں یعنی حیات اولیٰ کا راز۔ ایک مرحلہ ایسا بھی آتا ہے کہ اس فطری نظام اور منطقی استدلال کے سامنے خود ڈارون بھی بےبس ہوجاتا ہے ۔ جو استدلال باصرار مطالبہ کرتا ہے کہ خلیہ اولیٰ کے پیچھے خالق کائنات کو تسلیم کیا جائے تو وہ خلیہ اول کو سب اول کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ اور اگر اس سے کوئی پوچھے کہ یہ سبب اول ہے کیا ؟ اس کا ماہر حیاتیات کے پاس کوئی جواب نہیں ہے حالانکہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ خلیہ اول کے اندر حیات اور زندگی کا موجد کون ہے ؟ اس سوال کا جواب دئیے بغیر ہی وہ اس خلیے سے اپنے نظرئیے کا آغاز کرتا ہے جبکہ آج اس کا یہ مشہور نظریہ بھی محل نظر بن گیا ہے۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ زندگی اپنی موجودہ شکل میں اس خلیے کی ترقی یافتہ شکل ہے حالانکہ آغاز حیات کا دوسرا طریق کار بھی ہوسکتا ہے اور ہے ۔ آغاز حیات کے بارے میں اہم سوال کا جواب ڈارون نہ دے سکا ۔ اس نے فرار کی راہ اختیار کی اور اپنا بناؤٹی بوگس نظریہ پیش کیا۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے کتاب ” الانسان بین المادیہ والاسلام “ کا باب ” فرائڈ “ ) اس متضاد صورت حال کی وضاحت دراصل اس حقیقت سے ہوتی ہے کہ مشیئت ایزدی بےقید ہے ۔ اللہ کی مشیئت اس ہمہ گیر قانون فطرت سے بھی آزاد ہے جسے ہم لازمی اور اٹل سمجھتے ہیں اور ہمارے ذہنوں میں بیٹھی ہوئی ہے نہ اس قانون فطرت کی مخالفت ہوسکتی ہے اور نہ اس سے کوئی جزئیہ مستثنیٰ ہوسکتا ہے ۔ ہمارے لئے یہ بات کافی ہے کہ اللہ کی مشیئت کی نسبت یہ عقیدہ غلط ہے کہ قانون طبیعت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی ۔ اور ہمارے لئے یہ الجھن اس لئے پیدا ہوجاتی ہے کہ ہم اپنے اندازوں یا عقلی فیصلوں کو نام نہاد سائنسی اصولوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی لازماً منطبق کرتے ہیں اور یہ ہمارے فکر ونظر کی وہ غلطی ہے جو کئی دوسری غلطیوں کو جنم دیتی ہے۔ 1۔ مثلاً ہمیں یہ حق کب پہنچتا ہے کہ ہم قادر مطلق کو اس قانون کا تابع قرار دیں جس کے ہم قائل ہیں ، جو ہمارے محدود وسائل کے محدود تجربات سے اخذ کیا گیا ہوتا ہے۔ پھر ہم اپنی محدود قوت مدرکہ کی وجہ سے ان تجربات کی تفسیر کرتے ہیں جس میں غلطی کا امکان ہر وقت موجود ہوتا ہے۔ 2۔ چلو ہم نے قوانین قدرت میں سے کوئی قانون صحیح طور پر سمجھ لیا اور وہ فی الحقیقت ہے بھی قانون قدرت ۔ لیکن ہمیں یہ کس نے بتایا کہ بس یہ قانون انتہائی اٹل قانون ہے ، بےقید وشرط ہے ۔ اور اس سے زیادہ کلی اور جامع اور کوئی قانون اور ضابطہ نہیں ہے ۔ 3۔ چلو مان لیا کہ وہ قانون اٹل ہے ، مطلق ہے اور عام حالات میں اس سے تخلف ممکن نہیں لیکن یہ قانون اللہ کا وضع کردہ ہے ۔ ذات باری کس طرح اپنے بنائے ہوئے قانون میں مقید ہوگئی ۔ ذات باری تو بہرحال مختار کل ہے۔ غرض یہ تجربہ یوں ہی آگے بڑھتا ہے ۔ جدید اہل دعوت کے فکری سرمایہ میں ایک صحیح ایمانی تصور حیات کا اضافہ کرتا ہے اور موت وحیات کی حقیقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ اس دوسری حقیقت کا اضافہ بھی کرتا ہے جس کی جانب ہم نے ابھی اشارہ کیا ۔ یہ حقیقت کہ اللہ مشیئت بےقید ہے ۔ اور قرآن کریم نے اس حقیقت کو بار بار بیان کرکے اہل ایمان کے ضمیر میں اسے پختہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ تاکہ اہل ایمان براہ راست اپنے اللہ سے تعلق قائم کریں ۔ اس سلسلے میں ظاہری اسباب کو کوئی اہمیت نہ دیں ۔ ان تمہیدات کو خاطر میں نہ لائیں جو عام طور پر منظور ہوتی ہیں ۔ اللہ جو چاہتا ہے ، کر گزرتا ہے۔ اور یہی بات اس شخص نے کی ، جس کے سامنے اس تجربے کو دہرایا گیا تھا فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ................ ” میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ “

البقرة 2:260

اس کے بعد حقیقت موت وحیات کے سلسلے میں ایک تیسرا تجربہ بیان کیا جاتا ہے۔ یہ تجربہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو کرایا گیا ۔ جو امت مسلمہ کے ترنبی گزرے ہیں۔ یہ قدر الٰہیہ کی کاریگریوں تک رسائی کا ایک شوق ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جو نہایت ہی حلیم الطبع اور مطیع فرمان اولوالعزم نبی تھے ان کی جانب سے شوق اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ بعض اوقات اللہ کے برگزیدہ اور اقرب المقربین بندوں کے دل میں بھی یہ امنگ پیدا ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کاریگریوں کے راز ہائے پس پردہ تک رسائی حاصل کریں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے راضی برضا ، خشوع و خضوع کرنے والے اور عبادت گزار بندے کی جانب سے اس خواہش کا اظہار دراصل اسی قسم کی امنگ کا نتیجہ ہے ۔ اس امنگ کا تعلق ایمان ، کمال ایمان یا ایمان کی پختگی اور ثبوت وقرار کے ساتھ نہیں ہے ۔ اس امنگ کے ذریعہ حضرت ابراہیم کسی قوی دلیل کا مطالبہ نہ کررہے تھے یا ایمان کی کمزوری دور کرکے اس میں پختگی حاصل نہ کرنا چاہتے تھے ۔ یہ چیزیں تو انہیں پہلے سے حاصل تھیں ۔ راز ہائے درون پردہ تک رسائی دراصل ایک دوسرا ہی ذوق ہے ۔ یہ ایک قسم کا روحانی شوق ہے ۔ بندہ مومن راز ہائے الٰہیہ کے ساتھ منسلک ہونا چاہتا ہے ۔ عملاً ان واقعات کو رونما ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ وجود انسانی میں یہ ذوق وشوق ایک فطری امر ہے ۔ اس کا تعلق ایمان بالغیب سے نہیں ہے۔ ایمان بالغیب کمال درجہ میں موجود ہوتا ہے ۔ پھر بھی یہ جذبہ کمال درجہ موجود ہوتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ذات باری سے ہمکلام ہیں ۔ رب کریم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے ہمکلام ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس ہمکلامی سے زیادہ کس ایمان کی ضرورت تھی ، کس دلیل وبرہان کی ضرورت تھی ؟ وہ جو چیز دیکھنا چاہتے تھے وہ یہ تھی کہ کارخانہ قدرت میں قدرت کو کام کرتے ہوئے دیکھیں تاکہ ان کے اس جذبہ حصول رازہائے دروں کو تسکین حاصل ہو ۔ وہ ان رازوں کے ہم نفس ہوجائیں ۔ اور ان میں گھل مل جائیں ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس نفس ایمان سے کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ کیونکہ نبی کے ایمان کے لئے کوئی اور ایمان درکار نہیں ہوتا وہ تو درجہ کمال میں ہوتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی گفتگو اور ان کا یہ تجربہ مکمل ہوتا ہے تو پھر پتہ چلتا ہے کہ ایمان کے نتیجے میں قلب مومن میں متعدد قسم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ اور مومن کامل کے دل میں پیدا ہونے والی یہ امنگیں اسے مجبور کرتی ہیں کہ وہ حریم قدرت کے اندر جھانکنے کی کوشش کرے۔ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِنْ قَالَ بَلَى وَلَكِنْ لِيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ” جب ابراہیم نے کہا ” مجھے دکھادے تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ؟ “ فرمایا :” کیا تو ایمان نہیں رکھتا ؟ “ اس نے عرض کیا ” ایمان تو رکھتا ہوں مگر دل اک اطمینان درکار ہے ۔ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ قلبی اطمینان تب حاصل ہوتا جب وہ دست قدرت کو کام کرتے دیکھ لیں ۔ اور جذبہ افشائے راز ہاں درون خانہ کی تسکین تب ہوتی ہے جب انسان ان رازوں کو کھول دیتا ہے اور وہ اس پر عیاں ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح علم تھا کہ اس کا بندہ اور دوست پکا مومن ہے لیکن اس کا یہ سوال محض تسکین شوق اور اعلان ذوق کی خاطر ہے ۔ سوال و جواب کا یہ سلسلہ اللہ کریم کی جانب سے اپنے اس مطیع فرمان اور حلیم الطبع بندے کے ساتھ ایک قسم کا اظہار لطف وکرم تھا اور ذرہ نوازی تھی ۔ غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس شوق تجسس کی تسکین کا سامان فراہم فرمادیا۔ اور اس کو راہ راست ایک ذاتی تجربے سے دوچار کردیا۔ قَالَ فَخُذْ أَرْبَعَةً مِنَ الطَّيْرِ فَصُرْهُنَّ إِلَيْكَ ثُمَّ اجْعَلْ عَلَى كُلِّ جَبَلٍ مِنْهُنَّ جُزْءًا ثُمَّ ادْعُهُنَّ يَأْتِينَكَ سَعْيًا وَاعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ” فرمایا تو چار پرندے لے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کرلے ۔ پھر ان کا ایک جزء ایک پہاڑ پر رکھ دے ۔ پھر ان کو پکار ، وہ تیرے پاس دوڑتے چلے آئیں گے ۔ خوب جان لے کہ اللہ نہایت بااقتدار اور حکیم ہے ۔ “ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اب چار پرندے لیں ۔ ان کو اپنے ساتھ مانوس کرلیں ۔ ان کی خصوصیات اور ان کی نشانیاں اچھی طرح جان لیں تاکہ انہیں جاننے میں غلطی واقعہ نہ ہو ۔ پھر انہیں ذبح کرکے ٹکڑے ٹکڑے کردیں اور ان کے اجزاء کو ارد گرد کے پہاڑوں پر بکھیر دیں ۔ اور پھر ان کو پکاریں ۔ اب ان کے یہ متفرق اعضاء دوبارہ صحیح ہونے لگیں گے ۔ ان میں زندگی لوٹ آئے گی اور دوڑ کر وہ تمہاری طرف لوٹ آئیں گے ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے راز تخلیق کو عیاں پایا۔ یہ وہ راز ہے جو ہر لحظہ دہرایا جارہا ہے ۔ لیکن لوگ اس راز کی تکمیل کے بعد صرف اس کے آثار دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ راز عطائے حیات کا راز تھا ۔ یہ وہ حیات ہے جو اس کائنات کو عطا کی گئی جبکہ پہلے کچھ نہ تھا ۔ اور اب وہ ہر زندہ مخلوق کی شکل میں دہرائی جارہی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی آنکھوں سے اس راز کو دیکھ لیا ۔ چند پرندے تھے ، جن سے زندگی الگ ہوگئی تھی ۔ ان کا قیمہ مختلف مقامات پر بکھیر دیا گیا ۔ اب ان کے اجزاء جمع ہورہے ہیں اور ان میں دوبارہ زندگی ڈالی جارہی ہے ۔ اور وہ آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک پہنچ جاتے ہیں ۔ یہ کیونکر ہوا ؟ یہی تو وہ راز ہے جس کا ادراک اس بشر کے حیطہ قدرت سے وراء ہے ۔ کبھی انسان اس راز کو اسی طرح دیکھتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا ۔ وہ اس کی تصدیق اس طرح کرتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی تصدیق فرمائی۔ لیکن وہ اس کی حقیقت کا ادراک نہیں کرسکتا ۔ اس کا طریقہ واردات اسے معلوم نہیں ہے ۔ یہ امر الٰہی ہے ۔ اور لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ علوم الٰہیہ میں سے ایک محدود مقدار کو جان اور پاسکتے ہیں ، وہ جسے وہ چاہے دے دے لیکن راز حیات سے اس کسی کو آگاہ نہیں کیا ۔ اس لئے کہ وہ انسان کی قدرت اور طاقت کے مقابلے میں بہت بڑا راز ہے ۔ اس نے کسی کو آگاہ نہیں کیا ۔ اس لئے کہ وہ انسان کی قدرت اور طاقت کے مقابلے میں بہت ہی بڑا راز ہے ۔ اس کو عبث ہمارے حس وادراک کی نوعیت سے مختلف ہے ۔ اور اس کرہ ارض پر ادائیگی فریضہ خلافت کے سلسلے میں انہیں اس تکوینی علم کی قدرت بھی نہیں ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص شان ہے اور مخلوقات کا شملہ علم اس کے مقابلے میں بہت ہی کوتاہ ہے اور اگر انسان دروازہ مستورات میں جھانکنے کی سعی بھی کرے تو اسے پردے ہی پردے نظر آئیں گے اور حجاب در حجاب نظر آئے گا ۔ اس کی یہ سعیٔ لاحاصل ہوگی اور علم الغیب کا دائرہ علوم النبوت تک ہی محدود رہے گا ۔