Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — البقرة 2:261 – آل عمران 3:66

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. البقرة 2:261
  2. البقرة 2:262
  3. البقرة 2:263
  4. البقرة 2:264
  5. البقرة 2:265
  6. البقرة 2:266
  7. البقرة 2:267
  8. البقرة 2:268
  9. البقرة 2:269
  10. البقرة 2:270
  11. البقرة 2:271
  12. البقرة 2:272
  13. البقرة 2:273
  14. البقرة 2:274
  15. البقرة 2:275
  16. البقرة 2:276
  17. البقرة 2:277
  18. البقرة 2:278
  19. البقرة 2:279
  20. البقرة 2:280
  21. البقرة 2:281
  22. البقرة 2:282
  23. البقرة 2:283
  24. البقرة 2:284
  25. البقرة 2:285
  26. البقرة 2:286
  27. آل عمران 3:1
  28. آل عمران 3:2
  29. آل عمران 3:3
  30. آل عمران 3:4
  31. آل عمران 3:5
  32. آل عمران 3:6
  33. آل عمران 3:7
  34. آل عمران 3:8
  35. آل عمران 3:9
  36. آل عمران 3:10
  37. آل عمران 3:11
  38. آل عمران 3:12
  39. آل عمران 3:13
  40. آل عمران 3:14
  41. آل عمران 3:15
  42. آل عمران 3:16
  43. آل عمران 3:17
  44. آل عمران 3:18
  45. آل عمران 3:19
  46. آل عمران 3:20
  47. آل عمران 3:21
  48. آل عمران 3:22
  49. آل عمران 3:23
  50. آل عمران 3:24
  51. آل عمران 3:25
  52. آل عمران 3:26
  53. آل عمران 3:27
  54. آل عمران 3:28
  55. آل عمران 3:29
  56. آل عمران 3:30
  57. آل عمران 3:31
  58. آل عمران 3:32
  59. آل عمران 3:33
  60. آل عمران 3:34
  61. آل عمران 3:35
  62. آل عمران 3:36
  63. آل عمران 3:37
  64. آل عمران 3:38
  65. آل عمران 3:39
  66. آل عمران 3:40
  67. آل عمران 3:41
  68. آل عمران 3:42
  69. آل عمران 3:43
  70. آل عمران 3:44
  71. آل عمران 3:45
  72. آل عمران 3:46
  73. آل عمران 3:47
  74. آل عمران 3:48
  75. آل عمران 3:49
  76. آل عمران 3:50
  77. آل عمران 3:51
  78. آل عمران 3:52
  79. آل عمران 3:53
  80. آل عمران 3:54
  81. آل عمران 3:55
  82. آل عمران 3:56
  83. آل عمران 3:57
  84. آل عمران 3:58
  85. آل عمران 3:59
  86. آل عمران 3:60
  87. آل عمران 3:61
  88. آل عمران 3:62
  89. آل عمران 3:63
  90. آل عمران 3:64
  91. آل عمران 3:65
  92. آل عمران 3:66

البقرة 2:261

درس نمبر 19 ایک نظر میں اس پارے میں سابقہ تینوں سبق مجموعی طور پر بعض اساسی ایمانی تصورات کے بارے میں تھے ۔ اور ان میں اس تصور حیات کے بارے میں بعض وضاحتیں کی گئی تھیں ۔ اور مختلف پہلوؤں سے اس کی جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ یہ اس طویل سورت کی اس لائن کا ایک مرحلہ تھا ، جس پر یہ پوری سورت جارہی ہے یعنی انسانیت کی قیادت کے نصب العین کی راہ میں امت مسلمہ پر جو فرائض عائد ہوتے ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے کے لئے امت کو تیار کرنا جیسا کہ اس سے قبل ہم بات کی تشریح کرچکے ہیں۔ یہاں سے لے کر تقریباً اس سورت کے اختتام تک اب بیان کا رخ ان اساسی معاشی اصولوں کے بیان کی طرف ہے جن پر امت مسلمہ کے اجتماعی نظام کی نیو اٹھائی جانی مقصود ہے ۔ اور جن کے مطابق جماعت مسلمہ کی تنظیم بھی مقصود تھی ۔ اور یہ اجتماعی نظام دراصل باہم تعاون اور تکافل پر مبنی ہے اور جس کی تشکیل عشر وزکوٰۃ اور خیرات وصدقات پر مبنی ہے ۔ اور یہ معاشی نظام اس سودی نظام سے بالکل مختلف ہے ۔ جو اس دور جاہلیت میں رائج تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں صدقہ کی فضیلت اور آداب کا بیان کیا جاتا ہے اور ربا کی مذمت کی جاتی ہے ۔ اور اگلے اسباق میں آپ پڑھیں گے کہ قرضہ اور تجارت کے اساسی اصول بیان کئے گئے ہیں اور مجموعی طور پر یہ سب چیزیں اسلام کے اقتصادی نظام کا حصہ ہیں اور اسلام کی اجتماعی زندگی ان پر قائم ہے ۔ آگے آنے والے تینوں اسباق باہم مربوط ہیں ۔ یہ سب دراصل ایک موضوع (اقتصادیات) کے مختلف پہلو ہیں یعنی اسلام کا اقتصادی نظام۔ اس سبق میں انفاق فی سبیل اللہ اور دولت کے خرچ کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔ اور اسلام کے ایک اقتصادی پہلو یعنی صدقہ اور اجتماعی کفالتی نظام کے بارے میں زور دیا گیا ہے ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ دراصل جہاد کی ایک قسم ہے اور یہ بات واضح ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ امت مسلمہ پر فرض کیا گیا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کی جانب سے امت مسلمہ پر یہ ڈیوٹی عائد کی گئی ہے کہ وہ پوری دنیا میں اس دعوت کو پھیلائے ۔ پوری دنیا تک اس پیغام کو پہنچائے ۔ پوری دنیا میں اہل ایمان کی حمایت کرے اور پوری دنیا سے شر و فساد اور ظلم و زیادتی کو ختم کردے اور ان تمام قوتوں کو پاش پاش کردے جو اہل اسلام کے مقابلے میں غالب ہیں اور جو زمین پر فساد پھیلاتی ہیں اور اہل دنیا کو اللہ کی سیدھی راہ اپنانے میں رکاوٹ بن رہی ہیں ۔ اور باالفاظ دیگر دنیا کو اس خیر عظیم سے محروم رکھنا چاہتے ہیں ۔ جس کا حامل اسلامی نظام حیات ہے۔ دنیا کو اس خیر سے محروم کرنا اس قدر بڑا جرم ہے اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ اور انسانی روح اور انسانی جسم اور مال کے خلاف اس سے بڑی دست درازی اور کوئی فرق نہیں ہے ۔ اس سورت میں بار بار انفاق فی سبیل اللہ کی دعوت دی گئی ہے لیکن یہاں انفاق فی سبیل اللہ کے اصول وآداب کو ذرا تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے ۔ یہاں دستور انفاق کی تصویر کشی بڑے ہی پیارے اور مانوس پرتو سے کی جاتی ہے۔ اس کے اجتماعی اصول اور آداب و اثرات اور نفسیاتی مضمرات سے تفصیلاً بحث کی جاتی ہے ۔ ایسے آداب جن کی وجہ سے خود انفاق کرنے والے کی نفسیاتی اصلاح ہوجاتی ہے ۔ اور دوسری جانب صدقہ وصول کرنے والے کے لئے وہ مفید بن جاتا ہے ۔ اور اس کے نتیجہ میں معاشرتی انقلاب یوں برپا ہوتا ہے کہ یہ معاشرہ اجتماعی طور پر باہم متعاون اور متکافل (Socally Sacure) معاشرہ بن جاتا ہے ۔ اور اس کے افراد میں باہم محبت اور ہمدردی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس کی وجہ سے انسانیت ایک بلند مقام تک جاپہنچتی ہے ۔ اور جس میں دہندہ اور گیرندہ بالکل ایک ہی سطح کے لوگ بن جاتے ہیں۔ اس حققیت کے باوجود کہ اس سبق میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ عمومی ہیں اور کسی زمان ومکان کی قید کے ساتھ مقید نہیں ہیں ۔ اور ایک دائمی دستور کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ لیکن یہ بات ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس وقت جماعت مسلمہ کے اندر ایسے حالات موجود تھے جن کی اصلاح کے لئے یہ ہدایات اتاری گئیں۔ اور یہ بات بھی عین ممکن ہے کہ آنے والے ادوار میں بھی یہ بات ممکن تھی کہ مستقبل کا اسلامی معاشرہ بھی ایسی ہدایات کا محتاج ہو۔ اس وقت اسلامی معاشرہ میں ایسے اشخاص موجود تھے جن کی نظروں میں مال ہی سب کچھ تھا اور جن کی اصلاح کے لئے ایسی ضربات کی ضرورت تھی اور جن کے لئے اس طرح کی موثر اثر اندازی کی ضرورت تھی ۔ انہیں ضرورت تھی کہ ضرب الامثال کے ذریعہ حقائق کو ان کے مشاہدے میں لایا جائے اور یہ بات ان کی دلی گہرائیوں تک اتر جائے ۔ اس وقت کے معاشرے میں اگر ایک طرف ایسے لوگ تھے جو سود خوری کے بغیر کسی کو مال دینا تصور نہ کرسکتے تھے تو دوسری طرف اس معاشرے میں ایسے لوگ بھی تھے جو بادل ناخواستہ خرچ کرنے والے تھے یا محض دکھاوے کے لئے خرچ کرتے تھے ۔ بعض ایسے بھی تھے جو خرچ کرکے مسلسل احسان جتاتے تھے اور یوں دوسروں کے لئے باعث اذیت ہوتے تھے ۔ بعض ایسے تھے جو ردی اور بیکار مملوکات اللہ کے نام پر دیتے تھے اور ان کے ساتھ ساتھ بہرحال مخلصانہ طور پر اللہ کی راہ میں بھی انفاق کرنے والے موجود تھے جو اپنے بہترین اموال خرچ کیا کرتے تھے جو اگر موقعہ ومحل کا تقاضا خفیہ طور پر خرچ کرنے کا ہو تو خفیہ خرچ کرتے تھے اور اگر موقعہ ومحل علی الاعلان خرچ کرنے کا ہو تو اعلانیہ خرچ کرتے تھے ۔ یہ خرچ خالص اللہ کے لئے ، بالکل پاک اور ستھرا ہوتا تھا۔ اور مذکورہ بالا دونوں قسم کے افراد جماعت مسلمہ میں اس موجود تھے ۔ ہمیں اس حقیقت پر غور کرنا چاہئے اور اگر اسے پالیں تو یہ ہمارے لئے نہایت مفید ہوگی۔ اس حقیقت سے پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم اس کتاب کی حقیقت کو صحیح طرح پاسکیں گے ۔ اور اس کے مقاصد ہم پر واضح ہوں گے ۔ ہمیں یوں نظر آئے گا کہ قرآن کریم ایک زندہ اور متحرک حقیقت ہے ۔ ان واقعات کی روشنی میں وہ ہمیں مسلسل سرگرم اور متحرک نظر آتا ہے اور قرآن کریم کی یہ تحریک جماعت مسلمہ کے اندر نظر آتی ہے ۔ اس کا مقابلہ واقعی حالات سے ہے ۔ وہ بعض اوقات اور حقائق کو برقرار رکھتا ہے اور بعض حالات کو تبدیل کررہا ہے ۔ یوں یہ جماعت قدم بقدم آگے بڑھ رہی ہے۔ اور قرآن ان حالات کا مقابلہ کررہا ہے ۔ وہ مسلسل فعال اور متحرک ہے ۔ اس کی حرکت میں تسلسل اور دوام ہے ۔ وہ زندگی کے عملی میدان میں برسرپیکار ہے ۔ قرآن کریم ہی اس معاشرہ میں واحد ترقی پسند ، محرک اور عملی میدان میں آگے بڑھنے والا عنصر ہے۔ آج ہمیں اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ہم اس نہج پر قرآن کریم کا احساس کریں اور دیکھیں کہ قرآن کریم ایک زندہ حقیقت ، متحرک اور آگے بڑھنے کے لئے اقدام کرنے والا ایک فیکٹر ہے ۔ اس لئے آج تحریک اسلامی ، اسلامی نظام زندگی ، اور اسلامی معاشرہ کے ناپید ہوئے ایک طویل عرصہ گزرچکا ہے ۔ قرآن کریم ، جس طرح ہم نے اسے محسوس کیا ہے اور سمجھا ہے وہ انسانی تاریخ کے زندہ دھارے سے الگ تھلگ ایک کتاب ہے ۔ آج قرآن کریم کو جس طرح ہم نے سمجھا ہے وہ اس نظام زندگی کا کوئی نقشہ پیش نہیں کرتا جو کبھی یہی قرآن عملاً اس کرہ ارض پر وجود میں لایا تھا اور جو جماعت مسلمہ کی تاریخ میں کبھی زندہ حقیقت تھی ۔ اور اب ہمیں یہ سبق یاد نہیں رہا ہے کہ اس وقت کے مسلم مجاہد اول کے لئے قرآن حکم الیوم (Order of the day) تھا۔ یعنی ان کے لئے قرآن کریم ایسی ہدایات تھا جن پر عمل ضروری تھا ۔ ان پر فرض تھا کہ وہ ہر روز کی ہدایات کو عملاً نافذ کردیں ۔ ہمارے فہم وادراک میں وہ عملی قرآن گویا مر گیا ہے یا وہ سو گیا ہے ۔ اور ہم قرآن کریم کو اس طرح سمجھنے اور محسوس کرنے کی کوشش نہیں کرتے جس طرح اسے دور اول کے مسلمانوں نے سمجھا اور محسوس کیا ۔ ہمارا طرز عمل یہ بن گیا ہے کہ ہم قرآن کریم کو نہایت ہی خوش الحانی اور گلوکاری کے ساتھ پڑھتے ہیں اور جھومتے ہیں یا ہمارا وجدان اس سے کچھ چالو ، مجمل اور ناقابل فہم وناقابل تاویل تاثرات لیتا ہے یا ہم اس کی تلاوت اوراد کرتے ہیں ، جس سے مومنین صادقین کے دل میں وجد ، خوشی اور قلبی اطمینان کی ایک مبہم اور مجمل سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ تلاوت قرآن میں یہ سب فائدے بھی موجود ہیں لیکن ان تمام فوائد کے ساتھ ساتھ اصل مطلوب یہ ہے کہ قرآن قلب مومن میں فہم و فراست اور عمل و حرکت پیدا کردے ۔ اسے زندہ کردے ۔ اعلیٰ ترین مقصد یہ ہے کہ مسلمان کے دل و دماغ میں ایسی کیفیت پیدا ہوجائے کہ وہ قرآن کریم کی ہدایات کے ساتھ ساتھ ایک زندہ اور عملی زندگی لے کر چلتا رہے ، ایسی زندگی جسے قرآن یہاں رائج کرنا چاہتا ہے اور جس کے لئے اس کا نزول ہوا ہے ۔ ایسی زندگی جسے مومن اس عرصہ کاروزار میں اور اس میدان کشمکش میں پائے ، جس کے لئے ایک مومن اپنے آپ کو ہمیشہ تیار رکھتا ہے ۔ کیونکہ امت مسلمہ کی زندگی میں یہ کشمکش ایک لابدی امر ہے ۔ مطلوب یہ ہے کہ ایک مسلمان قرآن کریم کی طرف اس نیت سے متوجہ ہوکر وہ اس سے اپنی زندگی کا لائحہ عمل اخذ کرنا چاہتا ہے ۔ بعینہ اس طرح جس طرح ” مسلم اول “ کرتا تھا ، وہ آج کی زندگی ، آج کے واقعات ، آج کے مسائل جو اس کے ارد گرد رواں دواں ہیں ، ان کے بارے میں قرآنی ہدایات واشارات کا طلبگار ہو ۔ اسے چاہئے کہ وہ امت مسلمہ کی تاریخ کی تشریح بھی قرآنی ہدایات کی روشنی میں کرے ۔ قرآنی کلمات واشارات کو اسلامی تاریخ کی تشریح قرار دے ۔ اور یوں محسوس کرے کہ اسلامی تاریخ قرآن کریم سے کوئی علیحدہ تاریخ نہیں ہے ۔ اسلامی تاریخ قرآن کی تاریخ ہے ۔ اور آج امت مسلمہ جس صورت حالات سے دوچار ہے ، وہ بھی قرآنی تاریخ ایک حصہ ہے ۔ آج کے حالات ان حالات کا منطقی نتیجہ ہیں جو اس امت کے اسلاف کو پیش آئے ۔ اس وقت بھی قرآن ان حالات و حوادث میں ایک معین تبدیلی کا خواہاں تھا اور آج بھی یہ قرآن ویسی ہی تبدیلیاں چاہتا ہے ۔ اس لئے ایک مومن یہ محسوس کرتا ہے کہ جس طرح یہ قرآن اس امت کے لئے کتاب عمل تھی ، آج میرے لئے بھی کتاب عمل ہے۔ آج بھی وہ چاہتا ہے کہ اپنے شب وروز کے معاملات میں ، پیش آمد حادثات میں قرآن کی طرف رجوع کرے گا۔ وہ اس کے تصورات اور اس کی فکر کا اصول اساسی ہے ۔ وہ آج بھی اس کی تگ و دو اور اس کی جہد وعمل کا حقیقی محرک ہے ۔ وہ کل بھی اس کے لئے محرک ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی زندگی کا محور ہے۔ اس حقیقت کے سمجھ لینے کا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ اس سے ہمیں انسانی فطرت اور انسانی مزاج کی حقیقت اور ماہیت کا واضح ادراک ہوجاتا ہے ۔ دعوت اسلامی اور اس کے عائد کردہ فرائض اور واجبات کو ہمیشہ اس انسانی فطرت سے واسطہ پڑا ہے۔ ان آیات میں پہلی اسلامی جماعت کے حوالے سے ، انسانی فطرت کا جو واضح نقشہ کھینچا گیا ہے اس سے انسانی فطرت اپنی اصلی شکل اور ماہیت میں واضح ہوتی ہے ۔ اس پہلی جماعت پر قرآن نازل ہورہا تھا۔ اس جماعت کے نگران ومربی خود رسول اکرم ﷺ تھے ۔ اس جماعت کی صفوں میں بعض کمزور پہلو تھے ۔ جن کی اصلاح کی ضرورت تھی ، جن کی طرف مستقلاً توجہ دینے کی ضرورت تھی ۔ اور جن کی نشاندہی اور جن کی رعایت کی ضرورت تھی ۔ یاد رہے کہ صحابہ کرام ؓ کی اصلاح کرنا اس بات کے منافی نہیں کہ وہ امت کے تمام طبقات سے برگزیدہ تھے ۔ اس حقیقت کا ادراک ہمارے لئے بہت ہی مفید ہے ۔ یوں ہم ایک انسانی جماعت اور تنظیم کی حقیقت وماہیت بغیر افراط وتفریط کے سمجھ سکیں گے ۔ بغیر اس کے کہ اس مصنوعی خول چڑھائے ہوئے ہوں۔ بغیر اس کے کہ اس کے بارے میں کسی قسم کے گمراہ کن تصورات قائم کئے جائیں ۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارے دل و دماغ سے مایوسی کے بادل چھٹ جاتے ہیں ۔ کیونکہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام انسانیت کے لئے جو مقام بلند تجویز کرتا ہے ہم اس سے بہت دور ہیں ۔ لہٰذا ہمارے لئے کافی ہے کہ ہم اس راہ پر چلتے رہیں ۔ اس مقام بلند تک پہنچنے کی جدوجہد جاری رکھیں ۔ اس سے ہمیں ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہم اس حقیقت کو پالیتے ہیں کہ لوگوں کو مقام بلند اور کمال کے اعلیٰ درجوں تک پہنچانے کے لئے مسلسل دعوت کی ضرورت ہے ۔ اس میں کسی وقت بھی کمی ، سستی ، مایوسی اور وقفہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اگرچہ بعض نفوس میں نقص اور عیب پایا جاتا ہو کیونکہ انسان تو ہوتا ہی ایسا ہے ۔ انسان مسلسل دعوت اور اصلاحی جدوجہد کے نتیجے میں اصلاح پذیری کی راہ پر آہستہ آہستہ چلتا ہے ۔ اسے قرآن کے مقام بلند تک پہنچانے کے لئے مسلسل دعوت کی ضرورت ہے ۔ اسے ہمیشہ بھلائی کی یاد دہانی کی ضرورت ہے ۔ ہمیشہ اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کے سامنے بھلائی کو اچھی صورت میں اور شر کو قبیح صورت میں مسلسل پیش کیا جاتا رہے ۔ اور کردار کی کمزوری ، اور نقائص سے اس کے دل میں مسلسل نفرت بٹھانا چاہئے ۔ اور جب بھی وہ بےراہ روی اختیار کرے ، اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے صحیح راہ پر ڈال دیا جانا چاہئے ۔ کیونکہ زندگی کا یہ سفر بہت ہی طویل اور کٹھن ہے۔ اس سے ہمیں تیسرا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اس سادہ حقیقت کو اچھی طرح پالیتے ہیں جس سے بارہا ہم غافل ہوجاتے ہیں ۔ یہ کہ انسان بہرحال انسان ہے ۔ دعوت اسلامی بہرحال اسلام کی طرف بلاوا ہے ۔ اور یہ معرکہ بہرحال انسانوں کا معرکہ اور انسانی جدوجہد ہے ۔ یہ معرکہ سب سے پہلے اپنی ذات کی کمزوریوں ، اپنے ذاتی نقائص اور نفس انسانی میں پوشیدہ جذبات حرص اور بخل کے خلاف ہے ۔ اس کے بعد انسان کے اردگرد پھیلی ہوئی زندگی میں باطل ، شر ، ظلم اور گمراہی کے خلاف معرکہ ہے ۔ یہ ایک قسم کی دوطرفہ جنگ ہے جو ایک داعی کو کرنی ہے ۔ اور اس کرہ ارض پر جماعت مسلمہ کی لیڈر شپ کو یہ دو طرفہ جنگ لازماً لڑنا پڑے گی ۔ جس طرح قرآن کریم کو پہلی مرتبہ یہ جنگ لڑنا پڑی تھی اور رسول کریم ﷺ کو سب سے پہلے یہ جنگ لڑنا پڑی تھی اور اس مسلسل معرکہ کے دوران یہ امر لازمی ہے کہ کچھ غلطیاں بھی ہوں ، لغزشیں بھی ہوں اور اس کٹھن راہ کے مختلف مراحل میں بعض نقائص اور بعض کمزوریوں کا ظہور بھی ہو۔ اور نئے واقعات اور نئے تجربوں کے دوران ان نقائص اور لغزشوں کی اصلاح بھی ہوتی رہتی رہے ۔ اور اصلاح وہدایت کے معاملے میں قرآن کریم نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے ، اس کے مطابق لوگوں کے دل و دماغ کی اصلاح بھی ہوتی رہے۔ یہاں میں پھر یہ بات کہوں گا جو پہلے کہہ چکا ہوں کہ ہم تمام حالات ، اور اپنی زندگی کی تمام تگ ودو میں قرآن مجید کو اپنا مشیر اور ہادی بنادیں ۔ یوں نظر آئے کہ ہمارے خیالات سوشعور میں ہماری عملی زندگی میں اور ہمارے تمام معاملات میں قرآن کریم یوں جاری وساری ہے جس طرح پہلی جماعت مسلمہ کی زندگی میں وہ پوری طرح جاری وساری تھا۔ اسلامی نظام زندگی کا آغاز فرائض واجبات سے نہیں ہوتا ۔ اسلام اپنے کام کا آغاز ، محبت ، تالیف قلب اور نیکی کی تحریک سے کرتا ہے ۔ وہ انسانی شعور کو جگاتا ہے اور انسانی زندگی میں زندہ جاوید جذبات پیدا کرتا ہے ۔ وہ انسان کے مطالعہ اور مشاہدہ کے لئے زندگی کی ایک ایسی تصویر پیش کرتا ہے جو پھوٹتی ہے ، بڑھتی ہے اور آخر کار ایک مفید پھل دیتی ہے ۔ انسان اس سے ثمرہ حاصل کرتا ہے۔ وہ انسان کے سامنے فصل کی مثال پیش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور زمین کا ایک عام عطیہ ہے ۔ کھیتی ایک دانہ لیتی ہے لیکن سینکڑوں دانے واپس دیتی ہے تخم اور بیج کی نسبت سے وہ کئی گناحاصلات دیتی ہے ۔ قرآن کریم میں یہ زندہ منظر ان لوگوں کے سامنے رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی کمائی خرچ کرتے ہیں ۔ مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ ” جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے ، جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس کی سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔ “ تعبیر کا یہ تصوراتی انداز حساب و کتاب کے عمل پر جاپہنچتا ہے ۔ ایک دانہ بڑھ کر سات سو دانے بن جاتا ہے لیکن اس مفہوم کو قرآن مجید ، جس زندہ وتابندہ انداز میں پیش کرتا ہے وہ نہایت ہی حسین و جمیل ہے ۔ اس سے انسانی شعور میں ایک قسم کا جوش و خروش پیدا ہوتا ہے ۔ انسانی ضمیر جاگ اٹھتا ہے ۔ ایک زندہ اور بڑھنے والی فصل کا منظر سامنے آتا ہے ۔ ایک زندہ طبیعت ظاہر ہوتی ہے ۔ پیداوار دینے والا ایک ہر ابھرا کھیت نظروں کے سامنے آتا ہے ۔ عام نباتات کا ایک عام اور عجیب بیش پا افتادہ تجربہ سامنے آتا ہے۔ ایک نال پر سات بالیں ہیں اور ہر بال میں سودانے ہیں ۔ اس زندہ اور نامی منظر کے سامنے انسانی ضمیر بھی بذل وعطا کی طرف متوجہ ہوتا ہے لیکن دراصل وہ دیتا نہیں کچھ لیتا ہی ہے ۔ یو یہ عطا اور دادوہش ایک ایسے راستے پر جاتی ہے جس میں وہ کئی گنا نشو ونماپاتی ہے ۔ یوں انسان کا جذبہ دادوہش کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے ۔ اور وہ فصل کی طرح کئی گنا زیادہ حاصلات لاتا ہے ۔ اور اللہ جسے چاہتا ہے ، اس سے زیادہ حاصلات دیتا ہے ۔ بغیر حساب دیتا ہے اور بیشمار دیتا ہے ۔ وہ اپنی مخلوق کے لئے اس کے رزق میں اس قدر فراوانی کرتا ہے جو بےحد و حساب ہوتی ہے ۔ اس کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ جس کی انتہاؤں کا پتہ نہیں۔ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ................ ” وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی ۔ “ وہ اس قدر فراخ دست ہے کہ جس کی عطا میں کوئی تنگی نہیں ہے۔ وہ نہ ختم ہونے والی ہے اور نہ اس کے جوش میں کمی آنے والی ہے وہ علیم ہے ۔ وہ نیتوں کا مالک ہے۔ نیت اور نیکی پر بھی اجر دیتا ہے ۔ اس پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سا انفاق فی سبیل اللہ ہے جو بڑھتا ہے اور نفع بخش ہے اور وہ کون سی جود وکرم ہے ، جسے اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں دوچند کردیتا ہے ؟ جس کے لئے چاہے ۔ یہ انفاق وہ ہے جو انسانی جذبات کو بلند کردے اور انہیں پاک وصاف کردے ۔ وہ انفاق فی سبیل اللہ وہ ہے جو کسی انسان کی شرافت وعزت نفس نہ کچلے ۔ وہ انفاق جسے دلی طہارت اور صفائی کے نتیجے میں روبعمل لایاجائے ۔ وہ محض جذبہ رضائے الٰہی کے تحت کیا جائے ۔ اور اس کے علاوہ کوئی اور مقصد پیش نظر نہ ہو۔

البقرة 2:262

احسان جتلانا ایک مکروہ ، ناپسندیدہ اور گھٹیا درجے کی حرکت ہے ۔ یہ ایک ایسا شعور ہے جو نہایت ہی پست ہے ۔ نفس انسانی صرف اس صورت میں احسان جتلاتا ہے جب وہ جھوٹے احساس برتری میں مبتلاہو اور اسے تعلی کا روگ لگا ہو۔ یا وہ گیرندہ کو ذلیل کرنا چاہتا ہو ، یا وہ دل میں یہ خواہش رکھتا ہو کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے اس فعل انفاق کو پسندیدہ نظروں سے دیکھیں ۔ اس صورت میں بھی مطمح نظر لوگ ہیں ۔ اللہ کی ذات نہیں ہے ۔ یہ تمام جذبات ایسے ہیں جو کبھی ایک پاکیزہ دل میں پروان نہیں چڑھ سکتے ۔ اور نہ ایسے جذبات ایک سچے مومن کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ۔ پس احسان جتلانا بیک وقت ایک دہندہ کے لئے اور گیرندہ کے لئے موجب اذیت ہے ۔ دہندہ کے لئے اذیت ہے کہ اس کے دل میں کبر و غرور پیدا ہوتا ہے ۔ اس کے دل میں یہ خیال اور یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ایک بھائی اس کے سامنے ذلیل اور شکستہ حال صورت میں ظاہر ہو ۔ اور خود دہندہ کے دل میں نفاق ، ریا کاری اور اللہ سے دوری کے جذبات پیدا ہوں گے اور گیرندہ کے لئے اذیت یوں ہے کہ وہ اپنے آپ کو کمتر اور شکستہ حال تصور کرتا ہے اور پھر اس کے دل میں حقارت اور انتقام کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ۔ انفاق فی سبیل اللہ سے اسلام کی غرض صرف یہ نہیں ہے کہ ایک خلا کو پر کردیاجائے ، کسی کی حاجت پوری ہو اور بھوکا پیٹ بھر جائے ۔ صرف یہ غرض ہرگز نہیں ہے ۔ اس سے اسلام ایک طرف تو عطا کنندہ کی اخلاقی تطہیر کا بندوبست کرتا ہے اس کے نفس کو پاک کرتا ہے ۔ اس کے اندر ہمدردی کے جذبات کو ابھارتا ہے ۔ اور ایک مسلم بھائی اور بھائی کے درمیان رابطہ پیدا کرکے بحیثیت انسان اور مسلمان صرف رضائے الٰہی کے لئے اسے ایک فقیر کی امداد پر آمادہ کرتا ہے ۔ اسلام ایک دہندہ کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اس پر اللہ کا فضل ہے اور اس نے اس فضل کے بارے میں اللہ سے ایک عہد بھی کررکھا ہے ۔ اور وہ عہد یہ ہے کہ وہ اس فضل ونعمت سے بغیر اسراف کے بقدر ضرورت کھائے بھی اور اس سے فی سبیل اللہ خرچ بھی کرے ۔ یعنی بغیر کسی رکاوٹ اور احسان جتلانے کے ۔ دوسری جانب اس سے اللہ تعالیٰ گیرندہ کی دلجوئی اور رضامندی کا سامان بھی کرتے ہیں ۔ اور ایک انسان اور ایک انسان اور ایک مومن اور مومن کے درمیان اچھے تعلقات قائم ہوجاتے ہیں ۔ اور اسلامی معاشرہ میں یہ خطرہ بھی نہیں رہتا کہ اس کے درمیان تعاون وتکافل نہ ہو ۔ یوں ایک اسلامی معاشرہ کی تعمیر وحدت ، اس کے رجحانات میں یکسوئی ، اس کے فرائض وذمہ داریوں میں ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ لیکن احسان جتلانے سے یہ تمام فائدے ختم ہوجاتے ہیں اور انفاق فی سبیل اللہ زہر اور آگ بن جاتا ہے ۔ اگرچہ انسان کے ہاتھ اور اس کی زبان سے کسی گیرندہ کو کوئی اذیت نہ پہنچی ہو لیکن مجرد احسان جتلانا ہی بہت بڑی اذیت ہے ۔ یہ بذات خود مجسم اذیت ہے ۔ اس سے انفاق بےاثر ہوجاتا ہے ۔ معاشرہ کے اندر تفرقہ پیدا ہوتا ہے اور افراد معاشرہ کے درمیان دشمنیاں اور نفرتیں پیدا ہوتی ہیں ۔ جدید علوم نفسیات کے ماہرین اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ احسان جتلانے یا احسان کرنے کے نتیجے میں بالآخر محسن اور وہ شخص جس کے ساتھ احسان کیا گیا ، کے درمیان کسی نہ کسی وقت دشمنی ضرور پیدا ہوجاتی ہے ۔ وہ اس سلسلے میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایک گیرندہ اپنے دل ہی دل میں احساس کمتری اور معطی کے سامنے اپنے ضعف جذبات اپنے دل میں پیدا کرلیتا ہے ۔ اور یہ شعور ہر وقت اس کے دل میں چبھتا رہتا ہے ۔ اور ایک احسان مند شخص اس شعور پر غلبہ پانے کے لئے ردعمل میں خود احسان کنندہ پر حملہ آور ہوجاتا ہے اور اپنے دل میں اس کی دشمنی کو چھپالیتا ہے ۔ اس لئے کہ احسان کنندہ کی نسبت سے وہ ہمیشہ اپنے آپ کو کمتر سمجھتا ہے اور خود احسان کنندہ بھی یہ شعور اپنے اندر پیدا کرلیتا ہے کہ وہ اس شخص کے مقابلے میں برتر ہے ۔ اور یوں یہ شعور یعنی ایک جانب احساس برتری اور دوسری جانب احساس کمتری ایک دوسرے کی دشمنی میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ بیشک ماہرین نفسیات کا یہ تجربہ بعض اوقات جاہلی اور غیر اسلامی معاشروں کے درمیان بالکل درست نکلتا ہے ۔ یہ جاہلی معاشرے ایسے ہوتے ہیں ۔ جن میں نہ اسلامی روح ہوتی ہے نہ اس میں اسلامی افکار کی حکمرانی ہوتی ہے ۔ لیکن اسلامی نظام زندگی نے اس مسئلے کو بالکل ایک نئے انداز میں حل کیا ہے ۔ وہ یوں کہ اسلام تمام لوگوں کے دل و دماغ میں یہ حقیقت بٹھاتا ہے کہ مال و دولت دراصل اللہ کی ملکیت ہے جو رزق اور دولت اہل ثروت کے ہاتھوں میں ہے وہ اس کے امین ومحافظ ہیں ۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکارجاہل سے جاہل شخص بھی نہیں کرسکتا ۔ اس لئے کہ دولت و ثروت کے قریبی اور دور کے اسباب اللہ کے پیدا کردہ ہیں ۔ ان اسباب میں سے کوئی سبب بھی انسان کے دائرہ قدرت میں نہیں ہے ۔ یہ سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے ۔ گندم کا ایک دانہ لیجئے ۔ اس کی پیدائش میں اس کائنات کی کئی قوتیں شریک ہوتی ہیں ۔ سورج سے لے کر زمین تک اور پانی سے لے کر ہواتک ۔ ان میں سے کوئی قوت بھی انسان کے دائرہ قدرت میں نہیں ہے ۔ گندم کے ایک دانے پر تمام دوسری اشیاء کو قیاس کیا جاسکتا ہے ۔ چاہے وہ کپڑے کا ایک ریشہ ہو یا کوئی اور چیز ہو ۔ یوں اس تصور کے ساتھ اگر کوئی صاحب ثروت اگر کوئی چیز خرچ کرتا ہے تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی چیز خرچ کرتا ہے ۔ نیز اس تصور کے مطابق اگر کوئی شخص کوئی نیکی کرکے اپنی آخرت کے لئے جمع کرتا ہے تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کو قرض دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے اس کا کئی گنا اجر دے گا ۔ البتہ یہ نادار شخص اس مالدار شخص کے اخروی اجر کا ایک سبب بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اخذوعطا کے لئے ایسے آداب مقرر فرمائے ہیں جن کو یہاں ہم بیان کررہے ہیں۔ یہ آداب انسانی دل و دماغ میں یہ تصور راسخ کرتے ہیں کہ کوئی دینے والا تعلی نہ کرے اور نہ کوئی لینے والا احساس کمتری کا شکار ہو اور دونوں ان آداب و اصول کا لحاظ رکھیں جو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لئے وضع فرمائے ہیں ۔ اور ان عہدوں کی پوری پوری پابندی کریں جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لئے ہیں ۔ فرماتے ہیں وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ................ ” ان کے لئے کسی خوف کا موقعہ نہ ہوگا۔ “ یعنی ان کے لئے نہ یہ خطرہ ہے کہ ان کے ساتھ دشمنی ہوگی ، نہ یہ خطرہ ہے کہ وہ غریب ہوجائیں گے اور نہ یہ خطرہ ہے کہ ان کا کوئی اجر ضائع ہوگا۔ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ................ ” اور نہ ان کے لئے رنج وملال کا موقع ہوگا۔ “ یعنی دنیا میں بھی ان کے لئے کوئی رنج نہ ہوگا۔ اور نہ آخرت میں انجام بد سے دوچار ہوکر وہ پریشان ہوں گے ۔ بذل ونفاق کی مذکورہ بالا حکمت کی تائید مزید کے لئے اور اس بات کی مزید وضاحت کے لئے انفاق فی سبیل اللہ سے اصل غرض وغایت تہذیب نفس اور اصلاح القلوب ہے ۔ اور عطاکنندہ اور گیرندہ کے درمیان محض دینی محبت کا قیام ہے ، اگلی آیت میں کہا جاتا ہے۔

البقرة 2:263

یہاں یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ جس صدقہ کے بعد نادار کو اذیت دی جاتی ہو ، ایسے صدقے کے سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اس سے تو ایک میٹھا بول اور ایک نرم بات ہی بہتر ہے ۔ ایک اچھی بات سے دلوں کے زخم جڑجاتے ہیں ۔ اس سے خوشی اور رضاجوئی پیدا ہوتی ہے ، جس سے زخم بھر آتے ہیں ۔ معافی اور چشم پوشی سے دلوں کی میل دور ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے بدلے بھائی چارہ اور دوستی پیدا ہوجاتی ہے ۔ ایسے حالات میں میٹھابول اور عفو و درگزر دوستی اور اخوت کے راستے میں خشت اول کا کام دیتے ہیں ۔ اس سے نفوس میں پاکیزگی اور دودلوں میں یگانگت پیدا ہوتی ہے ۔ یہ بات کہنے کے بعد کہ صدقہ عطا کنندہ کی طرف سے گیرندپر کوئی برتری نہیں اس لئے کہ صدقہ کرکے ایک شخص دراصل اللہ تعالیٰ کو قرض دیتا ہے ، تو اس کے بعد کیا جاتا ہے وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ................ ” اور اللہ بےنیاز ہے اور بردباری اس کی صفت ہے ۔ “ وہ عطاکنندہ کی ایسی عطا سے مستغنی ہے جس کے بعد وہ ایک نادار کو اذیت دیتا ہو ، اور وہ برد بار ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے بندوں کو سب کچھ دیتا ہے اور پھر بھی وہ اس کا شکر ادا نہیں کرتے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ انہیں سزا دینے میں عجلت سے کام نہیں لیتے اور نہ ہی شتابی سے انہیں اذیت دیتے ہیں ۔ اللہ اپنے بندوں کو سب کچھ دیتا ہے اور سب کچھ دینے سے پہلے انہیں وجود عطا کرتا ہے ۔ لہٰذا بندوں کو بھی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے بردباری سیکھیں ۔ وہ اگر اللہ کے دیئے میں سے کسی کو کچھ دے بھی دیں تو فوراً ہی اس احسان مند کے درپے آزار نہ ہوجائیں ۔ ایسے حالات میں جبکہ انہیں ان کی کوئی بات پسند نہ ہو یا یہ کہ وہ احسان مند شخص ان کا شکر ادا کررہاہو۔ قرآن کریم بار بار لوگوں کے سامنے صفات باری کا ذکر کرتا ہے ۔ اور مطلوب یہ ہے کہ لوگ حتی الوسع اپنے اندر وہ صفات پیدا کریں ۔ اسلامی زندگی کے آداب میں سے یہ ایک اہم طرز عمل ہے کہ ایک مسلم اپنے اندر صفت باری پیدا کرتاہرے اور اس راہ کے مختلف مراحل مسلسل طے کرتا رہے ۔ اور ان صفات میں سے جو حصہ اس کا ہے وہ اسے حاصل کرتا رہے ۔ اپنے مزاج اور اپنی طبیعت کی صلاحتیوں کے مطابق ۔ جب یہ وجدانی تاثر اپنی انتہاؤں کو چھولیتا ہے اور جو لوگ اپنے اموال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، جب ان کے سامنے ترقی پذیر اور مفید زندگی کے طبعی مطاہر پیش کردئیے جاتے ہیں ، اور یہ انفاق ایسا ہوتا ہے کہ اس کے بعد کوئی احسان مندی ، احسان جتلاکر اذیت رسانی نہیں ہوتی اور یہ اشارہ دینے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کو ایسے انفاق اور ایسے صدقات اور احسانات کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ جن کے بعد ایذا رسانی ہو اور یہ کہ اللہ تعالیٰ رازق اور داتا ہے۔ وہ اپنا قہر وغضب نازل کرنے میں اور اذیت رسانی میں جلد بازی نہیں کرتا ۔ غرض جب یہ وجدانی تاثر اپنی ان اتہاؤں تک جاپہنچتا ہے ۔ تو اب روئے سخن ان لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے جو اہل ایمان ہیں کہ وہ احسان جتاکر اور احسان کے بعد اذیت دے کر اپنے صدقات اور نیکیوں کو ضائع نہ کریں ۔ قرآن یہاں ان کے سامنے ایک عجیب صورتحال کی منظر کشی کرتا ہے ۔ یہ وہ مناظر ہیں جو بڑے خوبصورت ہیں ۔ جو پہلے منظر کے ساتھ ایک جگہ چلتے ہیں ۔ پہلا منظر یہ تھا کہ ایک کھیت ہے جو نشوونما پارہا ہے ۔ لیکن ان دونئے مناظر میں اس انفاق فی سبیل اللہ کا مزاج بتایا جارہا ہے جو خالص للّٰہ ہو اور اس انفاق کی حقیقت بھی بتائی جاتی ہے جو احسان مندی اور اذیت رسانی کے ساتھ ہو اور یہ مناظر قرآن کریم کے اسلوب میں ہیں جو وہ فن کارانہ تصویر کشی کے لئے اختیار کرتا ہے یعنی مفہوم اور معنی کو ایک مشخص شکل میں پیدا کیا جاتا ہے اور اس میں کسی عمل کے اثرات متحرک شکل میں ہوتے ہیں اور یہ منظر کشی ایسے حالات میں ہوتی ہے کہ پورا نظارہ ہمارے تخیل کے سامنے ہوتا ہے۔

البقرة 2:264

یہ ہے وہ پہلا منظر یہ ایک مکمل اور دواجزاء سے مرکب منظر ہے ، جو اپنی شکل وضع اور اپنے نتائج کے اعتبار سے ایک دوسرے کے متضاد مناظر ہیں ۔ ہر منظر کے پھر مختلف اجزاء ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ متناسق ہیں ۔ وہ تعبیر اور مشاہدے کے اعتبار سے بھی باہم متوافق اور ہم رنگ ہیں ۔ اور معانی اور جذبات کے اعتبار سے بھی جو معانی اور جو جذبات اس منظر کشی سے پیدا کرنے مطلوب تھے ۔ جن کا اظہار اس پوری منظرکشی سے مطلوب تھا یا جو شعور ان مناظر کی وجہ سے پیدا کیا جانا مطلوب تھا۔ پہلے منظر میں ہمیں ایک ایسے دل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو پتھر سے بھی سخت ہے۔ كَالَّذِي يُنْفِقُ مَالَهُ رِئَاءَ النَّاسِ وَلا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ................ ” اس شخص کی طرح جو اپنے مال کو محض لوگوں کو دکھاوے کے لئے خرچ کرتا ہے ۔ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ آخرت پر ۔ “ اسے ایمان کی تروتازگی اور مٹھاس کا شعور نہیں ہوتا لیکن وہ اپنی اس سنگ دلی پر ریاکاری کا پردہ ڈالتا ہے ۔ یہ دل جس پر ریاکاری کا پردہ ہوتا ہے ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان ہو اور اس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی ہو ۔ ایک ایسا پتھر جس پر کوئی تروتازگی نہ ہو ، جس میں کوئی نرمی نہ ہو ۔ اس پر مٹی کی ایک ہلکی سی تہہ ہو اور اس کی سختی اور درشتی کو اس تہہ نے چھپارکھا ہو ۔ بعینہ اسی طرح جس طرح ایک شخص اپنی ریاکاری کی وجہ سے اپنے دل کی کیفیت کو چھپالیتا ہے جو ایمان سے خالی ہو۔ فَأَصَابَهُ وَابِلٌ فَتَرَكَهُ صَلْدًا ................ ” اس پر زور کا مینہ برسا تو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان رہ گئی ۔ “ موسلا دھار بارش نے مٹی کی اس خفیف تہہ کو ختم کردیا۔ چٹان ظاہر ہوگئی اور وہ کیا تھی ؟ ایک سخت اور مضبوط اور کرخت چٹان ۔ جس پر کوئی روئیدگی ممکن نہ تھی۔ نہ اس سے کسی قسم کی پیداوار حاصل ہوسکتی تھی ۔ یہی مثال اس دل کی ہے جو اپنا مال محض ریاکاری کے طور پر خرچ کرتا ہے ۔ جس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا دنیا میں اور نہ آخرت میں ۔

البقرة 2:265

اس منظر کے بالمقابل ایک دوسرا منظر ہے ، جو اس کے بالکل متضاد ہے ۔ ایک دل ہے جو ایمان سے بھرا ہوا ہے ۔ وہ ایمان کی تروتازگی سے سرشار ہے ۔ وہ اپنے مال کو محض رضائے الٰہی کی خاطر خرچ کرتا ہے ۔ اسے پورا پورا یقین ہے کہ وہ جو کچھ خرچ کررہا ہے اس کا وہ اجر ضرور پائے گا۔ اور یہ خرچ وہ محض اپنے ایمان اور نظریہ کے تقاضے کے طور پر کرتا ہے ۔ یہ نظریہ اس کے دل کی گہرائیوں میں رچا بسا ہے ۔ ایک طرف یہاں ریاکار دل ہے ، اس کو ایک ایسے پتھر کے ساتھ مشابہت دی گئی ہے جس پر مٹی کا ایک خفیف سا پردہ ہے۔ اور دوسری جانب ایک ایسا دل ہے جو ایمان سے بھرپور ہے اور اسے ایک سرسبز باغ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جس کی زمین زرخیز ہے اور مٹی گہری ہے جبکہ پتھر پر مٹی کا ایک خفیف سا پردہ تھا ۔ باغ ایک اونچے مقام پر ہے اور مذکورہ چٹان ایک گہرے گڑھے میں ہے ۔ تاکہ یہ دونوں مناظر متناسب اور ہم شکل ہوجائیں ۔ اب اگر اس باغ پر موسلادھار بارش برس جاتی ہے تو اس سے اس کی تروتازگی ختم نہیں ہوتی ۔ جس طرح چٹان پر سے مٹی کی خفیف تہہ بہہ نکلتی ہے ۔ بلکہ بارش اس باغ کو زیادہ سرسبز اور شاداب کردیتی ہے ۔ اسے نئی زندگی عطا کرتی ہے اور اس کی نشوونما ہوتی ہے ۔ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَآتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ ................ ” اور اس پر زور کی بارش ہوجائے تو دگنا پھل لائے۔ “ یہ بارش اس باغ کو زندہ اور سرسبز کردیتی ہے ۔ جس طرح صدقہ ایک مومن کے دل کو پاک وصاف کردیتا ہے اور اس کی وجہ سے ایک مومن کا تعلق باللہ مضبوط ہوجاتا ہے۔ دل مومن کی طرح ایک مومن کا مال بھی صاف ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالتے ہیں اور اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعہ جماعت مسلمہ کی اجتماعی زندگی میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے اور اس سے اجتماعی روابط بڑھتے ہیں ۔ اور اگر وہ بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوار ہی اس کے لئے کافی ہوجاتی ہے جبکہ مٹی میں پہلے سے نم موجود ہو تو ہلکی بارچ بھی کافی ہوتی ہے۔ یہ ہے ایک مکمل نظارہ ، جس کے مناظر ایک دوسرے کے بالمقابل صاف نظر آتے ہیں جس کی جزئیات باہم متناسب ہیں اور جسے ایک معجزانہ پیرایہ اظہار میں پیش کیا گیا ہے۔ طرز ادا میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور اس کے مناظر تمام دلی خلجانات اور تمام غلط تصورات کے علاج کے لئے بالکل واضح ہیں ۔ یہ منظر انسانی وجدان اور انسانی شعور کے سامنے ایک صاف تصویر پیش کرتا ہے ۔ تمام حالات اور تمام محسوسات کو بڑے امتیاز کے ساتھ پیش کرتا ہے ۔ جو انسان کے قلب پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔ اور انسان بڑی آسانی سے راہ ہدایت پالیتا ہے ۔ اس منظر کا تعلق چونکہ فکر ونظر سے تھا ۔ اور اس سے اصل غرض وغایت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کی جائے اور اس ظاہری دنیا سے آگے اس کے کرشمہ ہائے قدرت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے ۔ اس لئے اس کے آخر میں یہ نتیجہ نکالا گیا وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ................ ” رہا دوسرا منظر تو احسان جتلانے اور اذیت دینے کی انتہائی تمثیل ہے ۔ اس میں باری تعالیٰ بتاتے ہیں کہ اس قسم کے صدقے اور احسان کو اللہ تعالیٰ کس طرح تباہ وبرباد کردیتے ہیں ، جبکہ صاحب صدقہ اور صاحب احسان اس وقت اس صدقے اور احسان کے فائدے کا زیادہ محتاج ہوتا ہے۔ وہ ضعیف ہوجاتا ہے ۔ جسمانی قوتیں ختم ہوتی ہیں لیکن وہ اس بربادی کا کوئی علاج نہیں کرسکتا ۔ یہ انجام بد کی ایک انتہائی قسم کی بری منظر کشی ہے ۔ اور نہایت ہی موثر اور سبق آموز۔ اس منظر میں امن اور خوشحالی کے بعد مکمل تباہی اور ویرانی ہے ۔

البقرة 2:266

یہاں صدقہ کو اپنی حقیقت اور اپنے آثار کے اعتبار سے ایک محسوس شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ ................ ” یہ صدقہ گویا ایک باغ ہے جو نہروں سے سیراب ہے ۔ کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا۔ “ اس کی چھاؤں گھنی ہے ، خوشگوار اور تروتازہ ہے ۔ اس میں ہر قسم کے پھل کثرت سے ہیں جس طرح یہ باغ مفید ہے اس طرح صدقہ بھی مفید اور فائدہ بخش اور فرحت بخش تھا ۔ یہ صدقہ دینے والے کے لئے بھی مفید تھا ۔ لینے والے کے لئے بھی مفید تھا اور پورے معاشرے کے لئے بھی مفید تھا ۔ جس کے روحانی فائدے بیشمار تھے اور اس میں خیر و برکت تھی جس کے ذریعہ معاشرے کو مفید غذامل رہی تھی اور جو معاشرے میں اجتماعی نشوونما اور ترقی کا باعث تھا۔ کوئی ایسا بدبخت ہے جو اس قسم کے باغ کا مالک ہو اور جو اس قسم کے اعلیٰ بھائی چارے اور نیکی کا مالک ہو اور پھر وہ ایسے باغ کو احسان جتلانے یا احسان کے بعد اذیت دینے کی افادیت وبلیات کے ذریعے جلا کر خاکستر کردے ، جس طرح ایک آتشی بگولا کسی سرسبز و شاداب باغ کو جھلسا کر خاکستر کردیتا ہے۔ اور پھر یہ عمل کیسے حالات میں ہو ؟ ایسے حالات میں کہ اس باغ کا مالک صاب احتیاج ہو ۔ جسمانی لحاظ سے ضعیف ہوگیا ہو ، عیالدار ہو اور اسے اس باغ کی چھاؤں اور نعمتوں کی اشد ضروت بھی ہو وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ................ ” وہ خود بوڑھا ہوجائے اور اس کے بچے بھی کسی لائق نہ ہوں اور ایسے میں ایک تیز بگولے کی زد میں آجائے جس میں آگ ہو ۔ “ کون ہے جو ایسی صورتحال کو پسند کرے گا ؟ کون ہے جو اگر ایسے انجام کو سمجھ سکتا ہو اور اس سے بچنے کی سعی نہ کرے ؟ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ................ ” اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے ، شاید تم غوروفکر کرو۔ “ یوں یہ زندہ وتابندہ منظر اسٹیج ہوتا ہے ۔ اس کی ابتدا نہایت خوشی ، خوشگواری اور آرام سے ہوتی ہے ۔ منظر کا آغاز تروتازگی ، فراخ و سرور اور حسن و جمال سے ہوتا ہے ۔ اس کے بعد تباہی کا منظر آتا ہے اور یہ ایک خوفناک منظر ہوتا ہے ۔ ایک بگولا آتا ہے جو اس کی تروتازگی کو پژمردہ کردیتا ہے ۔ جب یہ سب مناظر اسٹیج پر پر آتے ہیں تو انسان کو ایک لاشعوری احساس دلاتے ہیں اور یہ شعور اس قدر پرتاثیر ہوتا ہے کہ ایک باشعور آدمی کو ایک صحیح راہ اختیار کرنے میں کوئی تردد نہیں رہتا ۔ اس سے پہلے کہ انسان کے ہاتھ سے موقعہ جاتا رہے اور اس سے پہلے کہ گھنی چھاؤں والے باغات اور پھلوں سے لدے ہوئے درخت پژمردہ ہوجائیں اور جھلس جائیں ۔ ایک باشعور انسان رد و قبول کا فیصلہ کر ہی لیتا ہے۔ میں یہاں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ حسین و جمیل انداز کلام اور مربوط اور ہم آہنگ مناظر جن سے اس سبق کا ہر انفرادی منظر تشکیل پاتا ہے اور پھر جس خوش اسلوبی سے ہر ایک انفرادی منظر کو پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ ربط وہم آہنگی صرف ان انفرادی مناظر تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ یہ ہم آہنگی مجموعی طور پر ان تمام مناظر میں بھی پائی جاتی ہے ۔ یہ تمام مناظر بھی باہم مربوط اور متناسب ہیں ۔ دیکھئے ! ایک زرعی ماحول ہے ۔ ایک دانہ ہے جس سے سات بالیاں اگتی ہیں ۔ ایک چٹان ہے جس پر مٹی کی ایک خفیف تہہ جمی ہوئی ہے ۔ اور اس پر اچانک موسلا دھار بارش ہوجاتی ہے ۔ پھر ایک اونچی جگہ پر ایک باغ ہے جو ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا ہے ۔ اور دوچند پھل لگا ہوا ہے ۔ یہ باغ کھجوروں اور انگوروں پر مشتمل ہے ۔ کہیں زوردار بارش اور کہیں پھوار ہے ۔ اور پھر ایک بگولا ہے جو اکثر زرعی کھیتوں میں تباہی مچاتا ہے ۔ غرض ایک زرعی ماحول کے تمام قدرتی اجزاء یہاں موجود ہیں اور کوئی ایسا جز غائب نہیں ہے جو موثر ہوسکتا ہو۔ قرآن کریم کے بلیغانہ انداز گفتگو کی یہ ایک اہم خصوصیت ہے کہ وہ انسانی ادراک اور اس زمین کے قدرتی ماحول کے درمیان فاصلے کم کردیتا ہے کیونکہ انسان کا وجود اسی کائنات کے عناصر ترکیبی سے مرکب ہے ۔ انسان اور کائنات میں نباتات کی نشوونما کے درمیان ایک مکمل آہنگی ہے ۔ جس طرح ایک بگولا اس کائنات کی تروتازگی کو جھلس دیتا ہے ، اسی طرح گمراہی انسان کی روحانی دنیا کو نیست ونابود کردیتی ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم ۔ ایک خوبصورت انداز گفتگو جو یقیناً حلیم وخبیر کی جانب سے ہے ۔

البقرة 2:267

انفاق فی سبیل اللہ کے آداب اور نتائج کے بیان کے بعد اب یہاں سیاق کلام ، انفاق فی سبیل اللہ کے دستور کو لے کر اب مزید آگے بڑھتا ہے ۔ انفاق کی حقیقت ، انفاق کا طریقہ کار اور لوازمات کو بیان کیا جاتا ہے۔ اس آیت سے پہلی آیات میں انفاق فی سبیل اللہ کے لئے جو قواعد اور اساسات متعین کئے گئے تھے اور جن پر اس کی عمارت اٹھانے کا حکم دیا تھا ، ان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں بہترین مال خرچ کیا جائے ۔ اللہ کی راہ میں ردی اور گھٹیا اشیاء خرچ کرنے کا ارادہ ہی نہ کیا جائے جن میں خود مالک کی کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ ایسی اشیاء اگر خود ایسے شخص کو کسی سودے یا بیوپار میں دی جائیں تو وہ ان کے دعوض حقیر قیمت دینے کے لئے بمشکل تیار ہو۔ اللہ غنی بادشاہ ہے ۔ اسے ضرورت نہیں ہے کہ ایسی ردی اشیاء قبول کرے ۔ اللہ کی یہ پکار تمام مسلمانوں کے لئے ہے ۔ وہ جب کبھی ہوئے ہوں اور جہاں کہیں بھی ہوں اور یہ حکم تمام اموال کے لئے ہے جو ان کے ہاتھ آجائیں ۔ وہ تمام اموال جو انہوں نے حلال اور پاکیزہ طریقے سے کمائے ہوں یا وہ اموال ہوں جو ان کے لئے زمین سے پیدا کئے گئے ہوں۔ زرعی اجناس ہوں معدنیات ہوں مثلاپٹرول وغیرہ ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت میں عمومی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔ یعنی وہ اموال جو رسول اللہ ﷺ کے وقت موجود تھے یا وہ جو بعد میں پیدا ہوئے ۔ اس لئے آیت کے الفاظ عام ہیں ۔ ان کا اطلاق ان اموال پر بھی ہوتا ہے جو بعد میں پیدا ہوں ۔ ان تمام پر زکوٰۃ واجب ہوگی ۔ ہاں نصاب زکوٰۃ کا تعین سنت نبوی ﷺ نے کردیا ہے۔ لہٰذا ہر قسم کی پیداوار کو ان اموال پر قیاس کرلیا جائے ۔ جو رسول ﷺ کے وقت موجود تھے ۔ ہر نئی پیداوار کو ان اجناس پر قیاس کرلیا جائے جو رسول ﷺ کے وقت موجود تھیں ، اپنی اپنی نوعیت کے مطابق ۔ بعض روایات میں ، اس آیت کا شان نزول بھی بیان ہوا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں یہاں ان کا تذکرہ غیر موزوں نہ ہوگا ۔ کیونکہ ان روایات کے ذریعہ وہ حالاتدوبارہ سامنے آجاتے ہیں ، جن میں ان آیات کا نزول ہوا ۔ ان روایات سے وہ پست معاشرتی صورتحال بھی مستحضر ہوجاتی ہے جس کی اصلاح قرآن کے پیش نظر تھی اور جس کے معیار کی بلندی کے لئے قرآن کریم جدوجہد کررہا تھا۔ ابن جریر نے حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت کی ہے ، فرماتے ہیں ” یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی ، جب کھجوریں توڑنے کا وقت قریب آتا تو وہ اپنے باغوں سے کھجوروں کے ایسے کو شے توڑ لاتے جن کے رنگ پیلے ہوجاتے تھے ، لیکن ابھی پکے نہ ہوتے تھے اور وہ انہیں مسجد نبوی کے دوستونوں کے درمیان لٹکادیتے تھے ، تو فقراء مہاجرین ان سے کھاتے تھے ۔ بعض لوگ ردی قسم کی کھجوریں بھی لاکر ان میں لٹکا دیتے ۔ وہ یہ سمجھتے کہ یہ جائز ہے ۔ جو لوگ یہ کام کرتے تھے ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ ................ ” اور خبیث کا ارادہ نہ کرو کہ اس میں سے تم خرچ کرو۔ “ اس حدیث کو براء سے حاکم نے بھی روایت کیا ہے ۔ اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث اگرچہ بخاری اور مسلم کی شرائط کی صحت کے مطابق ہے ۔ لیکن بخاری ومسلم نے اسے روایت نہیں کیا ۔ ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت براء ؓ سے روایت کی ہے ۔ کہتے ہیں یہ ہمارے متعلق نازل ہوئی ہے ۔ ہم کھجوروں کے مالک تھے تو ہر شخص تھوڑی بہت کھجوریں لایا کرتا تھا ، بعض لوگ ناپختہ لاتے تھے اور مسجد میں لٹکاتے تھے ۔ اہل صفہ کے طعام و قیام کا بندوبست کوئی نہ تھا ۔ ان میں سے جو بھی بھوکا ہوجاتا ، وہ آتا اور اپنی لاٹھی کو ان لٹکی ہوئی کھجوروں پر مارتا اور نیم پختہ اور پوری پختہ کھجوروں میں سے جو کچھ گرتا ، وہ کھالیتا۔ لوگوں میں سے بعض ایسے بھی تھے جو مائل بخیر نہ تھے ، وہ ناپختہ اور ردی قسم کی کھجوریں لے آتے ۔ وہ خصوصاً ایساخوشہ لاتے جو ٹوٹ چکا ہوتا تھا اور جس کے دانے ناپختہ ہوتے تھے ، اسے لٹکادیتے تو یہ آیت نازل ہوئی وَلا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ................ ” ایسانہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لئے بری سی بری چیز چھاٹنے کی کوشش کرنے لگو ، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے تو تم ہرگز اسے لینا گوارا نہ کروگے ۔ الا یہ کہ اسے قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ۔ “ فرمایا : کہ اگر تم میں سے کسی کو ایسی ہر چیز ہدایہ دے جو وہ خود دے رہا ہے ، تو وہ اسے ہرگز نہ لے ۔ الا یہ کہ اغماض برتے یا حیاچشمی سے کام لے ۔ چناچہ اس کے بعد ہم سے ہر شخص کے بعد جو کچھ ہوتا ، اس میں سے اچھی چیز لاتا۔ دونوں روایات قریب المفہوم ہیں ۔ دونوں مدینہ طیبہ میں فی الواقع موجود صورتحال کا نقشہ کھینچ رہی ہیں ۔ یہ دونوں احادیث تاریخ کے ایک ورق کے بالمقابل ایک دوسرا ورق دکھاتی ہیں ، جس کے اوپر انصار مدینہ فیاضانہ دادوہش کے انمٹ نشان چھوڑدیتے ہیں ۔ نیز یہ احادیث بتاتی ہیں کہ ایک ہی جماعت کے اندر بعض افراد نہایت ہی عجیب اور بلند مقام کے حامل ہوتے ہیں اور بعض دوسرے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی تربیت اور تہذیب کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ انہیں درجہ بلند کے راستے پر ڈالا جائے ، جس طرح بعض انصار کے معاملے میں یہ ضرورت پیش آئی ، انہیں اللہ کے راستے میں ردی اموال کو خرچ کرنے سے منع کیا جائے ۔ ایسے اموال کہ خود اگر انہیں پیش کئے جائیں تو وہ انہیں قبول نہ کریں ۔ الا یہ کہ رد کرنے میں حیا مانع ہو اور اگر کوئی لین دین ہو تو اس میں وہ اغماض برت جائیں ۔ یعنی قیمت میں کمی کرنے کے معاملے میں ۔ حالانکہ وہ جس ذات باری کے سامنے ہدیہ پیش کررہے ہیں وہ باری تعالیٰ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کا خاتمہ اس فقرے پر ہوتا ہے ۔ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَنِيٌّ حَمِيدٌ................ ” تمہیں جان لینا چاہئے کہ اللہ بےنیاز ہے اور بہترین اوصاف سے متصف ہے ۔ “ یعنی وہ اس بات سے مطلقاً بےنیاز ہے کہ اس کی راہ میں کوئی دیتا ہے یا نہیں دیتا۔ اگر کوئی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے تو خود اپنے مفاد کے لئے کرتا ہے ۔ تو بس اس کے لئے مناسب یہی ہے کہ وہ بہترین چیز خرچ کرے اور بطیب خاطر کرے نیز وہ حمید ہے ۔ وہ پاکیزہ چیزیں قبول کرتا ہے اور ان کی تعریف کرتا ہے ۔ ان پر جزا دیتا ہے اور اچھی جزا۔ غرض اس مقام پر یہ ان دونوں صفات کے ذکر سے انسانی دل اس طرح دہل جاتے ہیں ، جس طرح انصار کے دل دہل گئے تھے جن کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، جو مال تم نے کمائے ہیں ، ان میں سے بہترین حصہ راہ اللہ میں خرچ کرو ۔ “ ورنہ اللہ کو اس ردی چیز کی ضرورت نہیں جس کو تم چھانٹ کر بطور صدقہ خرچ کرتے ہو ، حالانکہ اللہ وہ ذات ہے جو تمہاری تعریف اس صورت میں کرتا ہے کہ تم اس کی راہ میں پاکیزہ چیزیں خرچ کرو اور اس رضامندی کی وجہ سے وہ پھر تمہیں اچھی جزا بھی دیتا ہے ۔ درآں حالیکہ یہ مال اسی نے تمہیں دیا ہے ۔ اصل داتا تو وہی ہے وہ تو بطور اعزاز تمہیں اس فیاضی پر جزا دیتا ہے ، اس لئے کہ تم جو کچھ دیتے ہو وہ اسی نے تو تمہیں عطا کیا ہے ۔ کس قدر شاندار تفہیم ہے یہ ! کیا عجب انداز ترغیب ہے ! یہ ایک عجیب اسلوب تربیت ہے جو قرآن کریم نے اختیار کیا ہے ۔ حقیقت یہ تھی اور ہے کہ اللہ کی راہ میں انفاق نہ کرنا ، یا ردی اور بےکار چیز بارگاہ الٰہی میں پیش کرنا ، اپنے اندر بعض برے تصورات لئے ہوتے ہیں ۔ ایسے شخص کو دراصل ان اعمال پر اللہ تعالیٰ کے ہاں جو اجر مقرر ہے اس پر پورا یقین نہیں ہوتا یا ایسے شخص کو تنگ دستی کا خوف لاحق ہوتا ہے ، جو کبھی بھی ان لوگوں کو لاحق نہیں ہوتا جن کا رابطہ اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے ، جن کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسہ ہوتا ہے ۔ انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ ہر چیز کا انجام آخرکار اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ پر پختہ ایمان کے مقابلے میں ان تصورات کی حقیقت کھول کر رکھ دی ، یہ بات عیاں کردی اور اچھی طرح سمجھادیا کہ نفس انسانی کے اندر یہ تصورات کہاں سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور انسانی دلوں میں ان کو بار بار جگانے والی وہ قوت کون سی ہے ؟ چناچہ بتایا جاتا ہے کہ وہ قوت شیطانی قوت ہے۔

البقرة 2:268

شیطان تمہیں فقر اور تنگ دستی کا خوف دلاتا ہے ۔ اس وجہ سے تمہارے نفوس کے اندر حرص ، بخل پیدا کرتا ہے ۔ شیطان تمہیں فحاشی کا حکم دیتا ہے ۔ عربی زبان میں فحاشی ہر اس معصیت کو کہتے ہیں ، جس میں انسان حد سے تجاوز کرجائے ۔ اگرچہ زیادہ تر اس کا استعمال ایک خاص معصیت میں ہوتا ہے ۔ تاہم یہ لفظ عام ہے ۔ تنگدستی کا یہ خوف ہی تھا ، جس کی وجہ سے ایام جاہلیت میں اقوام عرب اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے جو ایک قسم کی فحاشی تھی ۔ اسی طرح زیادہ سے زیادہ دولت سمیٹنے کا جذبہ انہیں سود خوری پر آمادہ کرتا تھا ۔ جو ایک قسم کی فحاشی تھا ۔ نیز یہ خوف کہ انفاق فی سبیل اللہ سے وہ تنگدست ہوجائیں گے بجائے خود فحاشی ہے ۔ ایک طرف شیطان تمہیں تنگدستی سے ڈراتا ہے اور فحشاء پر آمادہ کرتا ہے ، جبکہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ تمہیں مغفرت کا یقین دلاتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ پر وہ تمہیں اجر عطا کرے گا وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَغْفِرَةً مِنْهُ وَفَضْلا ................ ” لیکن اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے۔ “ یہاں لفظ مغفرت کو پہلے لایا گیا ہے ، اس لئے کہ کہ فضل وکرم مغفرت کے بعد ہوتا ہے ۔ اور اس فضل وکرم میں اس سرزمین پر وسائل رزق بھی شامل ہیں یعنی بطور جزائے انفاق فی سبیل اللہ اس دنیا میں بھی رزق فراواں ہوگا ۔ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ................ ” اللہ بہت بڑا فراخ دست اور دانا ہے۔ “ وہ اپنی وسعت اور فراخ دستی سے عطا کرتا ہے ، وہ تمام دلی خلجانات کو بخوبی جانتا ہے ۔ وہ انسانی ضمیر کے تمام میلانات اور رجحانات سے بھی واقف ہے ، اس لئے وہ فقط مال ہی عطا نہیں کرتا ، فقط مغفرت ہی نہیں کرتا بلکہ وہ حکمت ودانشمندی بھی عطا کرتا ہے۔ اور دانشمندی اور حکمت سے انسان میں توازن اور اعتدال پیدا ہوتا ہے ۔ انسان اسباب اور مقاصد کے ادراک سے بہرہ ور ہوتا ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں انسان ہر چیز کو ماہیت کے مطابق مقام عطا کرتا ہے ۔ اور وہ تمام فیصلے فہم و فراست کے ساتھ سوچ سمجھ کر کرتا ہے ۔

البقرة 2:269

يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ................” جس کو چاہتا ہے ، حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔ “ اسے میانہ روی دی گئی اور اعتدال نصیب ہوا ، اس لئے وہ انتہاپسندی اور حد سے تجاوز سے محفوظ ہوگیا ۔ اسے تمام چیزوں کے اسباب ونتائج سمجھائے گئے۔ اس لئے وہ ان اشیاء کی قدروقیمت کے تعین میں غلطی نہیں کرتا ، اسے روشن بصیرت دی گئی ، اس لئے وہ حرکات و سکنات اور اعمال وافعال میں سے صالح اور صائب کا انتخاب کرتا ہے اور یہ ایک ایسی دولت ہے جو مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتی ہے ۔ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الألْبَابِ................ ” ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانشمند ہیں ۔ “ غرض وہی لوگ سبق لیتے ہیں صاحب بصیرت ہیں اور عقلمند ہیں ۔ ایسے لوگ سبق کو یاد بھی کرتے ہیں ، بھول بھی جاتے ہیں ۔ ایک دفعہ اگر متنبہ ہوجائیں تو پھر غفلت نہیں کرتے ۔ اگر کسی واقعہ سے عبرت پکڑیں تو پھر گمراہی کے راستے پر نہیں پڑتے ۔ یہ سب کام عقل کے فرائض میں شمار ہوتے ہیں ۔ عقل کا یہ فرض منصبی ہے کہ وہ راہ ہدایت اور اس کے نشانات کو پالے ۔ وہ معقول روش اختیار کرے اور لہو ولعب کی بےمقصد زندگی نہ گزارے ۔ یہ حکمت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے پسند کرتا ہے ، اسے عطا کردیتا ہے ، یہ حکمت و دانائی اللہ کی مشیئت پر موقوف ہے ۔ اسلامی تصور حیات کا یہ اصل الاصول ہے ۔ یہاں ہر چیز کا مرجع اللہ جل شانہ کی بااختیار مشیئت ہے ۔ ہاں اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے ایک دوسرا بھی اصول بیان کیا ہے ۔ وہ یہ کہ جو شخص بھی راہ ہدایت کی تلاش کا ارادہ کرے اور اس کے لئے پوری جدوجہد کرے تو اللہ کبھی بھی اسے راہ ہدایت سے محروم نہیں کرتا بلکہ وہ اس سلسلے میں اس متلاشی کی پوری پوری اعانت کرتا ہے۔ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ................ ” جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے ہم انہیں اپنے راستے دکھائیں گے ، اور یقینا ًاللہ نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ “ (69 : 29) اس لئے ہر وہ شخص جو راہ ہدایت اختیار کرنا چاہتا ہے ، پوری طرح مطمئن رہے کہ مشیئت ایزدی اس کا حصہ ضرور کرے گی اور اسے راہ ہدایت کے ساتھ ساتھ حکمت ودانشمندی بھی عطا ہوگی اور اسے اس کے ساتھ ساتھ خیر کثیر بھی عطاء ہوگی۔ ذرا رکئے ! اس سے قبل کہ ہم اس آیت پر غور وخوص ختم کردیں ۔ ایک دوسری اور اہم حقیقت کی طرف اشارہ ضروری ہے ۔ ذرا غو رکیجئے ، شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے ۔ اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی امید دلاتا ہے ۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے ۔ جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے اور جس کو حکمت ملی ، اسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔ انسان کے سامنے صرف دو راستے ہیں ، کوئی تیسراراستہ نہیں ہے ۔ ایک اللہ کا راستہ ہے اور ایک شیطان کا راستہ ہے ۔ وہ یا تو اللہ کے وعدہ کی طرف کان لگائے اور یا شیطان کی پکار پر لبیک کہے گا ۔ اور یاد رکھو کہ جو شخص اللہ کی راہ پر گامزن نہیں اور اللہ کی پکار نہیں سن رہا ہے ، وہ شیطان کی راہ پر گامزن ہے اور اس کے ورغلانے میں آگیا ہے ۔ صرف ایک ہی طریق زندگی ہے ، یعنی حق کا راستہ ۔ وہ منہج ، وہ نظام جسے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا۔ اس کے علاوہ جو بھی راستہ ہے وہ شیطان کا راستہ ہے اور اس کی انتہاء شیطان تک ہے ۔ وہ شیطان تک پہنچتا ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کو بار بار بیان کرتا ہے ۔ بار بار اس کی تاکید کرتا ہے ۔ اس لئے کہ جو شخص اسلامی طریقہ حیات کو ترک کرکے شیطانی نظام زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے ، اس کے لئے کوئی ایسا دعویٰ کرنے کی گنجائش نہ رہے کہ وہ کسی طرح بھی راہ ہدایت پر ہے ۔ اس میں اب نہ کوئی شبہ کی گنجائش ہے اور نہ اس میں کوئی پوشیدگی ہے ۔ ایک جانب اللہ ہے اور دوسری طرف شیطان ہے ۔ ایک طرف خدائی طریق حیات ہے اور دوسری جانب شیطانی طریقہ کار ہے ۔ ایک طرف اللہ کی راہ ہے دوسری جانب شیطان کی راہ ہے ۔ جو چاہے جس راستے کا اختیار کرلے ۔ لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَا مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ................ ” اور جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے ۔ “ (42 : 8) کوئی بات پوشیدہ نہ ہو ۔ کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہ ہو ۔ یا گمراہی ہے یا صراط مستقیم ہے ۔ یہ راہ راست ہی حق اور سچائی ہے اور یہی واحد راہ ہے ۔ اس راہ کے علاوہ جس قدر راہیں ہیں وہ سب باطل ہیں اور ضلالت کی راہیں ہیں ۔ اس اہم نکتے کے بعد ہم اصل بات کی طرف آتے ہیں ۔ یعنی صدقہ اور انفاق فی سبیل اللہ ۔ جو شخص بھی اللہ کی راہ میں جو کچھ بھی خرچ کرے اللہ کو اس کا پوری طرح علم ہے ۔ وہ صدقہ ہو یا نذر ہو ۔ وہ خفیہ ہو یا اعلانیہ ہو ، وہ اللہ کے علم میں ہوتی ہے اور علم الٰہی کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ اس فعل پر بھی اجر دیتا ہے اور اس فعل کے پس منظر میں جو نیت اور ارادہ پنہاں ہوتا ہے ، اس پر بھی اجر ملتا ہے۔

البقرة 2:270

انسان اپنی دولت میں سے جو کچھ خرچ کرتا ہے ، اس پر صدقہ کا اطلاق ہوتا ہے ۔ زکوٰۃ خیرات وصدقات اور جہاد فی سبیل اللہ کے لئے دیاجانے والا مال سب صدقات کے ضمن میں آتے ہیں ۔ نذر بھی انفاق فی سبیل اللہ کی ایک قسم ہے ۔ صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ انفاق کرنے والا ایک معلوم چیز کو اپنے اوپر لازم کردیتا ہے ۔ اللہ کے سوا کسی کے لئے ، کسی کی راہ میں ، کسی کی وجہ سے ، کسی قسم کی نذر ونیاز دینا منع ہے ۔ اللہ کے سوا ، اس کے بندوں میں کسی کی نذر ماننا ایک گونا شرک ہے ۔ جس طرح مشرکین اپنے الٰہوں اور بتوں کے استہانوں پر مختلف جانور ذبح کرتے تھے اور یہ کام جاہلیت کے مختلف ادوار میں ہوتا رہتا ہے۔ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ أَوْ نَذَرْتُمْ مِنْ نَذْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُهُ................ ” تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو ، اللہ کو اس کا علم ہے ۔ “ مومن کا یہ عقیدہ کہ ذات باری کو اس کی نیت کا پورا علم ہے ، وہ اس کی ضمیر کی پوشیدہ خواہشات سے بھی خبردار ہے اور اس کی تمام خفیہ حرکات بھی اس کی نظر میں ہیں ، اس کے شعور میں مختلف قسم کے زندہ احساسات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ وہ اس بات سے پرہیز کرتا ہے کہ اس کی سوچ اور اس کے عمل میں کسی قسم کی ریاکاری یا دکھاوا پایا جائے ۔ وہ بخیلی اور کنجوسی سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔ اس کے دل میں کمی وسائل اور فقر مسکنت کا خوف پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کا یہ شعور پختہ ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کے ہاں پوری پوری جزا پالے گا ۔ وہ راضی برضا ہوکر اطمینان اور راحت کی زندگی بسر کرنے لگتا ہے ۔ وہ اللہ کے دربار میں اس کے انعامات کا شکر ادا کرتے ہوئے حاضر ہوتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس جو شخص حق نعمت ادا نہیں کرتا ، وہ اللہ اور اپنے بندوں کے حقوق ادا نہیں کرتا ۔ وہ اللہ کے دئیے سے خیرات وصدقات نہیں ادا کرتا ، تو وہ شخص ظلم کا ارتکاب کرتا ہے ۔ وہ اپنے عہد کے ساتھ ظلم کرتا ہے ، عوام الناس پر ظلم کرتا ہے ، خود اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ................ ” اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ “

البقرة 2:271

صدقہ اگر نفلی ہو تو اس صورت میں اللہ کے ہاں پسندیدہ یہ ہے کہ وہ خفیہ ہو ، اور اس لائق ہے کہ اس میں ریاکاری اور دکھاوے کا شائبہ تک نہ ہو ۔ لیکن اگر صدقہ ، صدقات واجبہ اور فرائض میں سے ہو ، تو اس میں اطاعت اور حکم کی بجاآوری کا پہلو بھی ہوتا ہے ۔ اور اس پہلو کا اظاہر اور اشاعت زیادہ مطلوب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ وَإِنْ تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ................ ” اگر اپنے صدقات اعلانیہ دو تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو تو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ “ اس میں ان دوحالتوں کا ذکر کردیا گیا ہے ۔ اس لئے ہر صورت کو اس وقت کے موجودہ حالات کی نسبت اختیار کیا جاتا ہے اور ہر بات عملاً موجودہ حالت کے مطابق اچھی یابری شمار ہوتی ہے۔ بہرحال اہل ایمان انفاق فی سبیل اللہ کے لئے جو صورت بھی اختیار کریں ، اس پر ان کے ساتھ وعدہ کیا جاتا ہے کہ یہ ان گناہوں کا کفارہ ہوگا۔ وَيُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِنْ سَيِّئَاتِكُمْ................ ” تمہاری بہت سی برائیاں محو کردے گا ۔ “ ایک طرف اہل ایمان کے دل خدا خوفی اور برائی کے مقابلے میں پرجوش اور ہوشمند ہوجاتے ہیں اور دوسری طرف وہ راحت ، اطمینان کا صلہ پاتے ہیں ۔ اور نیت اور اعمال کے ہر مرحلے اور ہر حال میں وہ تعلق باللہ قائم رکھے ہوئے ہوتے ہیں ۔ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ................ ” اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ کو بہرحال اس کی خبر ہے۔ “ یہاں مناسب ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کی ان طویل ہدایات پر قدرے غور کریں ۔ ان ہدایات میں مختلف انداز میں ترغیب و ترہیب سے بھی کام لیا گیا ہے ۔ اس غو روفکر سے ہمیں دو باتیں حاصل ہوتی ہیں ۔ پہلی یہ کہ اسلامی نظام میں انسان کے مزاج اور اس کی طبیعت کا پورا خیال رکھا گیا ہے ۔ انسانی مزاج میں بخل اور کنجوس داخل ہے ۔ انسان مال سے بےحد محبت کرتا ہے ۔ اور اس بات کی ضرورت ہے کہ بار بار اسے انفاق فی سبیل اللہ پر آمادہ کیا جائے ۔ اس کے سر انجام دینے کے لئے اسے بار بار جوش دلاتے رہنا چاہئے تاکہ وہ اس بخل اور لالچ سے ذرا بلند ہوکر سوچے اور بخل وکنجوسی کے بندھنوں سے رہائی پائے ۔ اور اس رتبہ بلندپر فائز ہو جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے پسند کیا ہے ۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اگرچہ عربی معاشرہ میں جودوکرم ایک عام صفت تھی لیکن وہ لوگ جودوکرم محض اس لئے کرتے تھے کہ انہیں شہرت عام نصیب ہو ، ان کی فیاضی کا ڈھنڈورہ پٹ جائے ۔ شہروں اور بازاروں میں ان کا تذکرہ ہو ۔ اسلام کے لئے یہ آسان نہ تھا کہ وہ ابتدائے کار ہی میں لوگوں سے یہ مطالبہ کرے کہ وہ ان امور میں سے کسی کا انتظار کئے بغیر ہی اللہ کی راہ میں خرچ کریں ۔ اور ان امور میں سے کسی کا کوئی لحاظ نہ رکھیں ۔ صرف اللہ کی ذات پیش نظر ہو اور عوام الناس ہو خاطر ہی میں نہ لائیں ۔ یہ مقام تو ایک طویل تعلیم وتربیت ہی سے حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ وہ بھی ایک طویل جدوجہد کے بعد ۔ یہ تو تب حاصل ہوگا کہ لوگوں کو یہ بلند مقام حاصل کرنے کے لئے مسلسل پکارا جائے اور ان کو تزکیہ اور اخلاص کی تربیت دی جائے ۔ چناچہ تحریک اسلامی نے مسلسل یہ کام جاری رکھا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اب اہل ایمان سے روئے سخن پھیر کر ، رسول ﷺ کو مخاطب کیا جاتا ہے ۔ اور روئے سخن اس لئے پھیر دیا جاتا ہے کہ وہ تمام حقائق یہاں ذہن نشین کردئیے جائیں جن کا اسلامی تصور حیات کی نشوونما میں بہت زیادہ دخل ہے ، اور اسلامی نظام زندگی کے حوالے سے اسلامی طرز عمل اختیار کرنے اور انسانی طرز عمل کو درست کرنے میں وہ بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔

البقرة 2:272

ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ حکم فرماتے تھے کہ صرف اہل اسلام پر صدقہ کیا جائے ۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ” لوگوں کو ہدایت دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ................“ تو آپ نے حکم دیا کہ جس دین کے پیروکار بھی تم سے سوال کریں انہیں صدقہ دیا کرو۔ دل اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ۔ اللہ کی مخلوق میں سے یہ بات کسی کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کسی کو ہدایت دے یا گمراہ کردے ۔ اگرچہ وہ خود رسول ﷺ خود ہوں۔ ہدایت دینا یا گمراہ کرنا اللہ وحدہ کی ذات کا کام ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں کا خالق ہے ۔ دلوں پر صرف اللہ کی حکمرانی ہے ۔ صرف اللہ ہی دلوں کو موڑسکتا ہے ۔ وہی ہے جو دلوں کو حکم دے سکتا ہے ۔ رسول کا کام صرف یہ ہے کہ وہ پیغام اچھی طرح پہنچادے ۔ رہی ہدایت تو یہ صرف اللہ کا کام ہے ۔ وہ جسے چاہے ہدایت نصیب کردے کیونکہ وہی ہدایت دینے کا مستحق ہے ۔ ہدایت دینا صرف اللہ کا استحقاق ہے ۔ انسان سے اس استحقاق کو لے لینا ، محض اس لئے ہے کہ ایک مومن طلب ہدایت کے لئے صرف اللہ کی طرف رجوع کرے اور وہ صرف اللہ ہی سے دلائل اخذ کرے ۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس استحقاق کو صرف خاصہ خدا قرار دینے کے بعد اب ایک داعی کے لئے یہ جواز باقی نہیں رہتا کہ وہ گمراہ لوگوں کے ساتھ نفرت کرے یا ان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے دلی تنگی محسوس کرے ۔ اس لئے کہ وہ انہیں مسلسل دعوت دیتا رہے گا ۔ ان کے ساتھ رحیمانہ برتاؤ کرے گا اور اس بات کا انتظار کرے گا کہ کب اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اجازت دیتا ہے کہ وہ راہ راست پر آجائیں ؟ کب انہیں توفیق بخشتا ہے کہ وہ اس سمت قدم اٹھائیں اور اپنے اللہ کو پہچانیں۔ لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ............... ” لوگوں کو ہدایت دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے ۔ ہدایت تو اللہ ہی ہے جسے چاہتا ہے بخشتا ہے ۔ “ لہٰذا تم انہیں کھلے دل کے ساتھ دعوت دو اور ان کے لئے سینہ کھول دو ۔ ان پر اپنی رحمت اور حسن عمل کا فیضان کرو ۔ اس کے ساتھ بھلائی کرتے رہو اور ان کے لئے مددگار ثابت بنو جہاں تک وہ تمہاری امداد کے محتاج ہوں ۔ انہیں حکم دیتے رہو کہ وہ اللہ کی طرف لوٹ آئیں اور اس امداد کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے ۔ یہاں آکر ہم ان بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں جن کے آفاق وسیع اور روشن ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے دل و دماغ کو ان بلندیوں تک پہنچادیتے ہیں اور ان پر ان کے دلوں کو مستحکم کردیتے ہیں ۔ اسلام نہ صرف یہ کہ مذہبی آزادیوں کا اصول متعین کرتا ہے ، نہ صرف یہ کہ وہ دینی امور میں جبر وتشدد کا ہی قلع قمع کرتا ہے بلکہ وہ اس سے بھی آگے بڑھ کر مذہنی رواداری کی ایسی فضا قائم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہدایات پر مبنی ہے اور وہ یہ اصول طے کرتا ہے کہ بلا امتیاز مذہب و عقیدہ ، معاشی تعاون اور معاشی امداد کے دروازے تمام لوگوں پر کھلے ہیں ۔ بشرطیکہ وہ امت مسلمہ کے ساتھ حالت جنگ میں نہ ہوں۔ وہ یہ یقین دلاتا ہے کہ ایسے حالات میں غیر مسلموں پر خرچ کرنے والوں کا اجر بھی عنداللہ محفوظ ہے ، بشرطیکہ یہ انفاق فی سبیل اللہ محض رضائے الٰہی کے لئے ہو۔ انسانیت کی یہ ایک ایسی سربلندی ہے جس سے ایک جست میں وہ ایک مقام بلند تک پہنچ جاتی ہے اور یہ مقام بلند اسے صرف اسلام کے طفیل ہی نصیب ہوسکتا ہے اور صرف وہی لوگ اس مقام بلند کی حقیقت پاسکتے ہیں ۔ جو صحیح معنوں میں مسلمان ہوں۔ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلأنْفُسِكُمْ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَأَنْتُمْ لا تُظْلَمُونَ ” اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لئے بھلائی ہے ۔ آخر تم اسی لئے خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم خیرات میں خرچ کروگے ، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا ۔ اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی۔ “ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی شان کی جو جھلک دکھائی ہے ، وہ ہمارے پیش نظر رہنی چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اہل ایمان جب خرچ کرتے ہیں تو وہ وَمَا تُنْفِقُونَ إِلا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ............... ” تم اسی لئے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ “ ایک مومن کی صفت بس یہی ہے ، اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ وہ یہ ہے کہ صرف وہ رضائے الٰہی کے لئے خرچ کرتا ہے ۔ وہ خواہشات نفسانیہ یا کسی غرضب اور مطلب براری کے لئے نہیں خرچ کرتا۔ وہ یوں انفاق فی سبیل اللہ نہیں کرتا کہ انفاق کرے اور پھر کان لگا کر بیٹھ جائے اور سنے کہ لوگ کیا کہتے ہیں ۔ وہ اس لئے خرچ نہیں کرتا کہ وہ اپنے انفاق کے ذریعہ لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوجائے ۔ ان پر اپنی برتری ثابت کرے اور ان کے مقابلے میں اپنے آپ کو بڑ ثابت کرے ۔ وہ اس لئے نہیں خرچ کرتے کہ ان سے صاحبان اقتدار لوگ راضی ہوں یا وہ انہیں اس کا کوئی بدلہ دیں ۔ وہ تو صرف رضائے الٰہی کی لئے خرچ کرتے ہیں ۔ خالص اللہ کے لئے ۔ اس لئے دل مومن اس مطمئن ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس صدقہ کو ضرور قبول فرمائیں گے ۔ نیز اسے پورا اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت دے گا ۔ اسے یہ اطمینان بھی ہوتا ہے کہ اللہ نہ صرف یہ کہ اسے پورا پورا اجر دے گا بلکہ اس پر مزید انعام بھی ہوگا ۔ اسے پورا اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ کی مخلوق پر احسان اور انفاق کے نتیجے میں اللہ کی جانب سے وہ احسان اور بھلائی کا مستحق ہے ۔ چناچہ اسی دادوہش کی وجہ سے اس کا تزکیہ نفس ہوتا ہے ۔ اس کے اخلاق پاکیزہ ہوتے ہیں ۔ اور اس کی شخصیت بلند ہوجاتی ہے ۔ جب تک وہ اس جہاں میں زندہ ہوتا ہے رہی جزائے آخرت تو وہ بہرحال اعلیٰ و افضل ہوتی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ خیرات وصدقات کے مصارف میں سے خصوصاً ایک مصرف کا ذکر فرماتے ہیں ۔ مومنین میں سے ایک گروہ کی تصویر پیش کی جاتی ہے جو صاف و شفاف ہے ۔ شریفانہ اور باوقار ہے ۔ اس تصویر کو دیکھ کر انسانی شعور میں طلاطم برپا ہوتا ہے ۔ اس تصویر کو دیکھ کر دل مومن حرکت میں آتا ہے اور نفس انسانی ایسی شخصیات کا ادراک کرلیتا ہے جو کسی جانب سے ، کسی قسم کی امداد حاصل کرنے کو پسند نہیں کرتیں ۔ اس لئے ان کی عزت نفس کو کسی طرح بھی ٹھیس نہ لگے ۔ اور وہ طلب حاجت نہیں کرتیں ۔ مبادا کہ انہیں حقیر سمجھ لیا جائے ۔ اس لئے وہ دست سوال دراز کرنے پر آمادہ نہیں ہوپاتیں ۔ اور نہ وہ اس سلسلے میں اظہار مطلب کرتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

البقرة 2:273

یہ پر تأثیر صفت مہاجرین کی ایک جماعت پر پوری طرح منطبق تھی ۔ وہ اپنے پیچھے اپنی دولت اور اپنا خاندان چھوڑ آئے ہوئے تھے وہ مدینہ میں قیام پذیر تھے اور انہوں نے اپنے آپ کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف کرلیا تھا ۔ یہ لوگ ہر وقت رسول اللہ ﷺ کے باڈی گارڈ تھے ۔ مثلاً اہل صفہ جو رسول اللہ ﷺ کی اقامت گاہوں کے محافظ بھی تھے ۔ کوئی دشمن ان سے آنکھ چراکر رسول اللہ ﷺ کی اقامت گاہوں تک نہ پہنچ سکتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے وقف تھے اور کسب معاش یا تجارتی مقاصد کے لئے ادہر ادہر نہ جاسکتے تھے ۔ اس صورت حال کے باوجود وہ لوگوں سے کچھ مانگتے بھی نہ تھے ۔ وہ اس قدر خوددارانہ رویہ اختیار کئے ہوئے تھے کہ جو شخص ان کے حالات سے وقف نہ ہوتا ، وہ سمجھتا کہ یہ تو بہت خوش حال اور فارغ البال لوگ ہیں ۔ نہ کسی سے کچھ مانگتے ہیں اور نہ ہی کوئی کاروبار کرتے ہیں ۔ صرف اصحاب عقل و دانش ان کی اصل صورت حال وکیفیت کو سمجھ پاتے تھے۔ لیکن اس ابتدائی مصداق کے باوجود ، یہ آیت عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر دور اور ہر زمانے میں پائے جانے والے لوگوں پر ہوتا ہے جو شرفاء میں سے ہوں جو ایسے حالات میں محبوس ہوں کہ وہ ان میں تلاش معاش نہ کرسکتے ہوں ۔ اور ان کی شرافت نفس انہیں اس بات سے روک رہی ہو کہ وہ کسی سے سوال کریں ۔ وہ بظاہر ایسا رویہ رکھتے ہوں جس سے ان کی اصل حالت کا اندازہ نہ ہوسکتا ہو اور ان کی اس ظاہری حالت کے پس پردہ جو صورت حال ہو ، ناواقف آدمی ان کی اس خودداری کی وجہ سے اس کا صحیح اندازہ نہ کرسکتا ہو ، ہاں ایک حساس اور سمجھ دار شخص ہی ان کی اصل صورت حال سے واقف ہوسکتا ہو۔ اس لئے کسی بھی شخص کے اندرونی تیز احساسات چہرے پر آہی جاتے ہیں۔ اگر چہ وہ شخص حیاء اور خودداری کی وجہ سے انہیں چھپانے کی بہتیری کوشش کرتا ہو۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جو گہرے اشارات کی مظہر ہے ۔ یہ مختصر آیت ان شرفاء کی ایسی تصویر بناتی ہے ۔ یہ ایک مکمل تصویر ہے اور خودداری اور حیا چشمی کے رنگوں سے بنی ہوئی ہے ۔ اس آیت کا ہر جملہ گویا نقاش کی قلم کی نوک ۔ جو ان لوگوں کے خدوخال کو کاغذ پر منتقل کرتی چلی جارہی ہے اور اس تصویر سے ان کے تأثرات اور احساسات کا پوری طرح اظہار ہوتا ہے ۔ جو نہی ایک انسان ان آیات کی تلاوت کرتا ہے ، اس کی لوح دماغ پر ان حضرات کی تصاویر منقش ہوجاتی ہیں ۔ اس طرح کہ گویا وہ شخصیات نظروں کے سامنے کھڑی ہیں ۔ وہ چہرے صاف نظر آرہے ہیں ۔ انسانیت کے مختلف نمونوں کی تصویر کشی میں قرآن کریم کا یہی انداز ہے ۔ مختلف قسم کے انسان یوں نظر آتے ہیں کہ گویا وہ زندہ اور متحرک شخصیات ہیں ۔ ان شرفاء اور فقراء کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ ضروریات اور حاجات کو یوں چھپاتے ہیں ۔ جس طرح ایک انسان اپنے ستر کو چھپاتا ہے ۔ ایسے لوگوں کو اگر کچھ دیا جائے تو وہ صرف تنہائی میں دیا جائے تاکہ ان کی خودداری اور عزت نفس کو ٹھیس نہ لگے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں ایک قسم کا اشارہ دیا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کی امداد بھی نہایت ہی خفیہ طریقے سے کی جانی چاہئے ۔ چناچہ انفاق کنندہ کو یقین دہائی کرائی جاتی ہے کہ اللہ خوب جانتا ہے ۔ اور اس کی پوری پوری جزا دینے والا ہے۔ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ............... ” ایسے لوگوں کی اعانت میں جو مال تم خرچ کروگے وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا۔ “ یہ صرف اللہ ہی ہے جو خفیہ بھیدوں کا جانتا ہے اور اس کے ہاں کوئی بھلائی بغیر اجر کے ضائع نہیں ہوتی ۔ سب سے آخر میں اس ضابطہ انفاق فی سبیل اللہ کا خاتمہ ایک عام اور ایک کلیہ پر مشتمل آیت پر ہوتا ہے ۔ جو ہر قسم کے انفاق اور صدقات کو شامل ہے ۔ اور اس کا حکم بھی عام ہے اور ہر اس چیز کو شامل ہے جو اللہ کے لئے دی جائے ۔

البقرة 2:274

اس خاتمہ کلام میں اس آیت کی عمومیت اور ہم آہنگی بہت ہی خوبصورت نظر آتی ہے ۔ آیت کا آغاز اور اختتام ایک موزوں سر کی طرح باہم متوازن اور اصول عام کی صورت میں دوبارہ دہرایا جاتا ہے۔ اور بہت ہی موزونیت کے ساتھ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ............... ” وہ لوگ جو اپنے اموال خرچ کرتے ہیں۔ “ یعنی ہر قسم کے مال اور دولت جو وہ خرچ کرتے ہیں ۔ اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلانِيَةً............... ” شب و روز چھپے یا کھلے ۔ “ یعنی جن اوقات اور جن حالات میں بھی وہ انفاق فی سبیل اللہ کرتے ہیں فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ............... ” تو ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے ۔ “ ان کا ہر قسم کا اجر محفوظ ہے ۔ اس میں اضافہ بھی ہوگا ، اس سے ان کی عمر میں برکت بھی ہوگی ۔ آخرت میں بھی پوری پوری جزاملے گی ۔ اور اللہ کی رضامندی اس پر مستزاد ہوگی۔ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ............... کسی بھی جانب سے انہیں کوئی خوف نہ ہوگا ۔ کسی جانب سے کسی کا کوئی خدشہ نہ ہوگا۔ نہ دنیا میں ہوگا نہ آخرت میں ہوگا۔ غرض دستور انفاق فی سبیل اللہ کا یہ موزوں اور متناسب اختتامیہ ہے جس میں یہ اشارات پنہاں ہیں کہ انفاق فی سبیل اللہ اپنی عمومی شکل میں ماجور ہے چاہے وہ جس قسم کا ہو جس وقت ہو ، جس مقصد کے لئے ہو۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کی زندگی کی معیشت کا مدار صرف انفاق فی سبیل اللہ پر نہیں رکھتا ۔ اسلامی نظام میں معیشت کا دارومدار اس پر تھا کہ ہر شخص کے لئے جو قدرت رکھتا ہو ، روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں ۔ اس کے علاوہ اسلام نے اپنی معیشت کا دارومدار ، اہل اسلام کے درمیان ، دولت کی منصفانہ تقسیم پر رکھا ہے اور دولت کی اس تقسیم کا اصول حسن کارکردگی اور استحقاق پر رکھا گیا ہے لیکن بعض اوقات ایسے استثنائی حالات درپیش ہوجاتے ہیں ، جن میں معیشت کے عمومی اصول کارآمد نہیں ہوتے اور ان حالات میں درپیش مشکلات ان سے حل نہیں ہوتیں۔ ایسے حالات کو اسلام انفاق فی سبیل اللہ کے ذریعے حل کرتا ہے ۔ یہ انفاق بعض اوقات تو ایک لازمی ٹیکس کی صورت میں ہوتا ہے ، جسے وہ اسلامی حکومت نافذ کرتی ہے جو اسلامی شریعت نافذ کرنے والی ہو ۔ صرف اسلامی حکومت ہی اس قسم کا لازمی ٹیکس نافذ کرسکتی ہے ۔ زکوٰۃ اور صدقات واجبہ اسلامی حکومت کے محاصل میں سے اہم ہوتے ہیں اور بعض اوقات یہ تقسیم دولت صدقات نفلیہ کی صورت میں ہوتا ہے جن کی مقدار کا تعین نہیں ہوتا اور یہ نفلی صدقات اہل ثروت کی جانب سے مستحقین کے لئے ہوتے ہیں ۔ جو انہیں ذاتی طور پر دئیے جاتے ہیں ۔ اور اس قسم کا عطیہ دیتے وقت ان آداب اور شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے جن کا اوپر ذکر ہوا ۔ اور ان آداب ہی کی وجہ سے لینے والے خودداری کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ یہی خودداری ہے جس کا اظہار اس آیت میں ہوا ہے ۔ اس خود داری کو اسلام نے اسلامی معاشرہ میں اس قدر ترقی دی تھی کہ ایک شخص کے پاس کچھ بھی نہ ہوتا تھا اور وہ معمولی ضروریات زندگی کا بھی محتاج ہوتا ، تب بھی وہ دست سوال کسی کے سامنے دراز نہ کرتا۔ بخاری نے عطاء ابن یسار اور عبدالرحمن بن ابی عمرہ سے روایت کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ابوہریرہ سے سنا ۔ فرمایا کہ رسول ﷺ نے فرمایا ” مسکین وہ نہیں ہوتا جسے ایک کھجور یا دوکھجوریں لوٹادیں ۔ یا ایک لقمے یا دو لقموں کے لئے وہ بھیک مانگتا پھرے ، مسکین وہ ہوتا ہے جو خوددار ہو۔ “ اگر تم چاہو تو اس آیت لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ............... ” وہ لوگوں کے پیچھے پڑ کر سوال نہیں کرتے ۔ “ امام احمد نے ابوبکر ، عبدالحمید بن جعفر ، اس کے والد کے واسطہ سے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کی روایت نقل کی ہے ۔ اس شخص کو اس کی والدہ نے مشورہ دیا کہ دوسرے لوگوں کی طرح تم کیوں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاکر سوال نہیں کرتے ؟ اس نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے کچھ مانگوں ۔ پہنچا تو آپ تقریر فرما رہے تھے ” جس نے خودداری کی اللہ تعالیٰ اسے دے دے گا اور جو شخص استغناء کرے گا اللہ تعالیٰ اسے غنی بنادے گا ۔ جو شخص لوگوں سے سوال کرتا ہو حالانکہ اس کے پاس پانچ اوقیہ کے برابر مال موجود ہے تو گویا اس نے اصرار کرکے سوال کیا (الحافاً ) میں نے اپنے دل میں کہا ” میرے پاس ایک اونٹنی ہے جو یقیناً پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمتی ہے ۔ اور میرے غلام کے پاس ایک دوسری اونٹنی ہے ، وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ قیمتی ہے ۔ “ اس لئے میں واپس ہوگیا اور درخواست نہ کی ۔ حافظ طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ ، محمد بن سیرین سے روایت کی ہے ۔ حارث کو (ایک شخص جو قریشی تھے اور شام میں رہتے تھے ) خبر ملی کہ حضرت ابو ذرؓ کے مالی حالات ٹھیک نہیں تو اس نے انہیں تین سو دنیار بھجوائے ۔ ابوذر نے جواب دیا :” کیا عبداللہ کو مجھ سے زیادہ تنگ دست اور کوئی نظر نہیں آیا ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ” جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس چالیس درہم ہوں تو اس نے الحاف کیا ۔ “ ابوذر کے خاندان کے پاس چالیس درہم موجود ہیں ایک بکری اور دونوکر بھی موجود ہیں ۔ ابوبکر بن عیاش نے کہا ماہنان سے خادمان ہیں ۔ غرض اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے ۔ اس کے نصوص ، اس کی ہدایات اور اس کے قوانین سب کے سب بیک وقت کام کرتے ہیں ان نصوص وہدایات اور قوانین کے دفعات پر علیحدہ علیحدہ غور نہ کیا جائے گا ۔ اسلام کے اصول اور ضابطے بیک وقت روبعمل ہوتے ہیں ۔ اس لئے ان میں باہم تناسق اور تناسب ہوتا ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں ایک ایسا مشورہ وجود میں آتا ہے جس کی نظیر اس کرہ ارض پر انسانی معاشروں میں نہیں ہوتی ۔ وہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد معاشرہ ہوتا ہے۔

البقرة 2:275

درس 20 ایک نظر میں گزشتہ سبق میں ، اسلامی نظام زندگی میں انفاق فی سبیل اللہ اور صدقہ کا دستور اور طریقہ بیان کیا گیا تھا۔ یہاں انفاق اور صدقے کا عین صفحہ بالمقابل الٹا جاتا ہے ۔ یعنی نظام ربا اور اس کے ظالمانہ اور سیاکارانہ نتائج صدقہ میں تو داد وہش ، احسان و پاکیزگی ہے اور طہارت وجوانمردی ہے ۔ باہم تعاون اور تکافل ہے ۔ جبکہ سود خوری میں بخل اور کنجوسی ، گندگی اور نجاست ، خود غرضی اور ذاتی مفاد ہے ۔ صدقہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اس میں دنیا میں مال کو ترک کرلیا جاتا ہے ۔ اور بظاہر اس کا کوئی عوض یا بدلہ نہیں لیا جاتا اور ربا کا خلاصہ یہ ہے قرض روپیہ واپس لینے کے ساتھ ساتھ سود خور کچھ زیادہ بھی وصول کرتا ہے ۔ یہ زائد دولت مدیون کی محنت یا اس کے گوشت اور خون سے لی جاتی ہے ۔ محنت سے اس صورت میں جب مدیوں نے مال لیا ، اس کے ساتھ محنت کی اور اس کی محنت کے نتیجے میں اسے منافع حاصل ہوا ۔ اس صورت میں تو زائد دولت محنت کا حصہ ہوگی لیکن اگر اسے منافع نہ ہوا یا اسے خسارہ ہوگیا تو اس صورت میں اس کے خون پسینہ کا حصہ ہوگی ۔ یا مثلاً قرض اس نے ذاتی اخراجات یا اپنے خاندان کے ضروری اخراجات کے لئے لیا ہو اور اسے نفع بخش کاروبار میں لگایا ہی نہ ہو تو اس صورت میں بھی سود کی رقم گویا ، اس شخص کی ذات سے وصول ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ اگر صدقہ روشن صفحہ ہے تو ربا اس کے بالمقابل ایک تاریک صفحہ ہے ۔ انفاق کرنے والے کا چہرہ اگر روشن ہے تو سود خور کا چہرہ تاریک اور سیاہ ہے ۔ اس لئے کہ اس حسین و جمیل اور پاک وصاف اور رحیم وکریم چہرے کے بیان کے متصلاً بعد سود خور کے بدنما چہرے کو بھی پیش کردیا گیا ۔ اس چہرے کو ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے کہ جس سے سودی کاروبار کی تمام اندرونی برائیاں اور قباحتیں اس چہرے سے عیاں ہوگئیں ، افراد کا سنگدلانہ طرز عمل ، ناداروں کی ہلاکت اور معاشرہ میں اس سودی نظام سے پیدا ہونے والی تمام برائیاں اور فسادات ظاہر ہوگئے۔ اسلام نے دورجاہلیت کی تمام برائیوں کو ختم کیا ، لیکن اسلام نے جس قدر مذمت سودخوری کی کی ہے ، اس قدر مذمت کسی دوسری برائی کی نہیں کی ہے ۔ نیز اسلام نے سود خوری کے خلاف جس طرح لفظی اور معنوی دھمکی دی ہے ، اس قدر کسی بھی دوسری برائی کے ارتکاب کرنے والے کو نہیں دی گئی ۔ ان آیات میں بھی اور ان کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی ۔ اور اللہ کی ذات یقیناً دوررس حکمتوں کا احاطہ کرنے والی ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ دور جاہلیت میں جو سودی نظام جاری وساری تھا اس کے اپنے مفاسد اور قباحتیں بھی تھیں ، لیکن آج ہمارے دور سرمایہ داری میں جس طرح اس کے نتائج اور فسادات کھل کر سامنے آگئے ہیں اور اس کا یہ بدنما چہرہ جس خوش اسلوبی سے بےنقاب ہوکر سامنے آگیا ہے ، دور جاہلیت میں ایسا کبھی نہ تھا۔ اس دور میں یہ مکروہ چہرہ اس طرح بدنما ، بدشکل اور پھر تیوری چڑھائے ہوئے نہ تھا ، جس طرح وہ آج ہے ۔ اور ہمارے اس جدید دور میں وہ کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اس وقت کے غالب سودی معیشت پر ، اس آیت میں جو خوفناک حملہ شروع کیا گیا ہے ، اس کی حقیقی حکمت و افادیت ، دورجاہلیت کے مقابلے میں آج بھی اچھی طرح ظاہر ہورہی ہے جبکہ پوری انسانیت آج اس نظام کی چکی میں پس رہی ہے ۔ جو شخص اسلامی نظام زندگی کی اصل حکمت ، اس کی حقیقی عظمت اور اس کی جامعیت اور اس کی باریک بینی پر اچھی طرح غور وفکر اور تدبر کرنا چاہتا ہے ، وہ ان آیات و نصوص پر غور کرکے وہ کچھ پاسکتا ہے ، جو ان لوگوں کے لئے ممکن نہ تھا ، جنہوں نے سب سے پہلے ان آیات کا مطالعہ کیا تھا۔ اس لئے کہ آج پوری انسانی معیشت ان نصوص کے ایک ایک حکم کی براہ راست تصدیق کررہی ہے ۔ آج کی پوری انسانیت جو سود کھلاتی ہے اور سودکھاتی ہے ، اس پر مصائب وشدائد کے وہ پہاڑ ٹوٹ چکے ہیں ، جنہوں نے اس کی کمر توڑ دی ہے اور اسے پیس کر رکھ دیا ہے ۔ اس نظام نے اس کے اخلاق کو بگاڑ دیا ہے۔ اس کی صحت کا معیار گرادیا ہے ، اس کا اقتصادی نظام درہم برہم ہوگیا ہے اور سب سے بڑی خرابی یہ کہ اس کے دین کو تباہ وبرباد کردیا ہے۔ آج دنیا خالق حقیقی کے ساتھ برسر پیکار ہے۔ جس کی وجہ سے وہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہے ۔ ایک فرد ہے تو وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہے۔ کوئی قوم ہے یا امت ہے تو وہ بھی اس مصیبت میں گرفتار ہے ۔ لیکن نہ تو اس عذاب میں کمی آتی ہے اور نہ ہی کوئی قوم یا امت عبرت پکڑتی ہے۔ گزشتہ سبق میں قرآن نے جو دستور انفاق فی سبیل اللہ وضع فرمایا تھا ، تو وہ دراصل اسلام کے اجتماعی اور اقتصادی نظام کا اصل الاصول تھا ، مطلوب یہ تھا کہ ایک اسلامی معاشرہ کا اقتصادی نظام باہم برد احسان اور صدقہ وانفاق پر قائم ہو اور اس کے سائے میں لوگ باہم شفیق وہمدرد بن کر رہیں ۔ جبکہ جاہلی نظام ، اس کے بالمقابل سود خوری کے ظالمانہ اور گھٹیا درجے کی اخلاقیات پر قائم ہوتا ہے ۔ جس میں احسان اور رحم کی گنجائش نہیں ہوتی ۔ یہ دونوں نظام دراصل ایک دوسرے کے بالمقابل نظام ہیں ۔ ایک اسلامی نظام ہے اور دوسرا سودی نظام ہے ۔ اپنے اساسی فکر کے اعتبار سے یہ کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے ۔ کسی اساس پر یہ متحد نہیں ہوسکتے ۔ نہ اپنے اثرات ونتائج کے اعتبار سے وہ ایک جیسے ہوسکتے ہیں ۔ ہر ایک اپنے مخصوص تصورحیات ، اپنے اہداف ومقاصد کے پیش نظر کام کرتا ہے اور یہ دونوں نظام پوری طرح ایک دوسرے سے متضاد ہیں ۔ ان دونوں کے نتائج بھی ایک دوسرے سے مختلف مرتب ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے چھوٹتے ہی اس نظام پر یہ خوفناک حملہ کیا گیا اور جو لوگ نظام سود خوری کے کل پرزے ہیں انہیں خوفناک نتائج کی دہمکی دی گئی ۔ اسلام اپنے اقتصادی نظام ، بلکہ اپنے پورے نظام کی بنیاد اس سچائی کے تصور پر رکھتا ہے جو اس کائنات میں موجود ہے ۔ یہ سچائی ذات باری ہے ۔ وہ اس کائنات کی خالق ہے ۔ وہ اس زمین کی خالق ہے ۔ وہ اس انسان کی خالق ہے ۔ وہی تو ہے جس نے ہر موجود کو انور وجود سے آراستہ کیا ۔ وہی تو ہے جو ہر موجود کا مالک ہے ۔ اس لئے کہ وہی ہر موجود کا موجد ہے۔ اس نے اس کائنات میں ہر بنی نوع انسان کو اپنا جانشین بنایا ۔ اس کائنات میں اس نے جو قوتیں اور جو ضروریات ودیعت کئے تھے ، اس نے انہیں بنی نوع انسان کے تصرف میں دیا ۔ لیکن یہ اختیارات ایک وعدے اور ایک شرط کے ساتھ مشروط تھے ۔ یہ عظیم کائنات اس حضرت انسان کے تصرف میں بےقید وبے شرط نہیں دے دی کہ جو چاہے اس میں کرتا پھرے ۔ یہاں زندگی بسر کرنے کے لئے ، اس نے انسان کے لئے کچھ حدود وقیود واضح طور پر متعین کردیئے تھے ۔ اس نے اسے خلافت فی الارض اس شرط پر دی کہ وہ الٰہی نظام حیات کے مطابق یہاں اپنی زندگی بسر کرے گا ۔ وہ اللہ کی شریعت کا پیروکار ہوگا۔ اس لئے یہاں اس کے وہ تمام فیصلے ، اعمال ، اخلاق اور عبادات جو اس کے عہد کے مطابق ہوں گے وہ نافذ العمل اور معتبر ہوں گے ۔ اور اس کے جو کام اس عہد کے مخالف اور شریعت سے متضاد ہوں گے وہ باطل ، کالعدم اور موقوف ہوں گے ۔ اور اگر وہ خلاف شریعت کسی اصول واخلاق کو زبردستی یہاں نافذ کرتا ہے تو وہ ظلم وعدوان ہوگا۔ اور انہیں نہ مسلمان تسلیم کریں گے اور نہ ہی اللہ انہیں قبول کرے گا ۔ لہٰذا اس کرہ ارض پر حاکمیت صرف اللہ کے لئے مخصوص ہے ۔ جس طرح اس کائنات میں حاکمیت صرف اللہ کی جاری وساری ہے۔ رہے انسان تو وہ حاکم ہوں یا محکوم ، ان کی حاکمیت کا ماخذ اور منبع اسلامی نظام زندگی اور اسلامی شریعت کا نفاذ ہے ۔ پوری کی پوری انسانیت بھی اگر فیصلہ کردے تب بھی اسے یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں کہ اب وہ اتباع شریعت سے آزاد ہے ۔ اس لئے کہ انسان بحیثیت حاکم ومختار یہاں اللہ کا نائب اور ایجنٹ ہے اور اسے یہ ایجنسی ایک چارٹر کے تحت دی گئی ہے۔ جس کی پابندی اس کے لئے ضروری ہے ۔ انسان بذات خود اس دولت کا مالک نہیں ہے جو اس کے تصرف میں ہے۔ اس عہد اور چارٹر کی دفعات میں سے ایک اہم دفعہ یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر وہ تمام لوگ جو اپنے خالق پر ایمان لانے والے ہیں ، باہم تعاون اور تکافل سے زندگی بسر کریں ۔ وہ ایک دوسرے کے ولی اور دوست ہوں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جو وسائل رزق عطا کئے ہیں ان سے سب کے سب فائدہ اٹھائیں ۔ باہمی تعاون ونکافل کی اساس پر ۔ اس اساس پر نہیں کہ یہ تمام وسائل مطلقاً مشترک ہیں ۔ جس طرح مارکسیت جدیدہ کا تصور ہے ۔ یہ تکافل و تعاون محدود انفرادی ملکیت کی اساس پر ہے ۔ اس محدود ملکیت کی اساس پر اگر کسی کی محنت پھل لائے اور اس کے پاس وافر دولت جمع ہوجائے تو اس کا فرض ہے کہ وہ اللہ کے دیئے میں سے ان لوگوں پر خرچ کرے جو نادار ہیں اور جن کے وسائل محدود ہیں لیکن انفاق کے ساتھ ساتھ تمام افراد معاشرہ اپنی طاقت ووسعت کے مطابق کسب وعمل فرض کیا گیا ہے ۔ جس قدر وسائل اسے میسر ہیں ۔ کسی کے لئے جائزیہ نہیں قرار دیا گیا کہ وہ دوسروں پر بوجھ بنے ۔ یا باوجود اس کے کہ وہ کسب وعمل پر قادر ہو اور پھر بھی معاشرے سے اجتماعی کفالت کا طالب ہو ۔ جیسا کہ اس سے قبل ہم بیان کرچکے ہیں ۔ اسلامی نظام کے اس اجتماعی کفالتی نظام کے لئے ہر شریعت نے زکوٰۃ کو فرض قرا ردیا ہے اور صدقہ اور انفاق فی سبیل اللہ کو نفلی مدد قرار دیا ہے ، جس کی کوئی انتہاء اور کوئی حد نہیں ہے ۔ اسلام نے اپنے اقتصادی نظام کے اصول وضع کرتے وقت میانہ روی اور اعتدال کو پیش نظر رکھا ہے ۔ اس نظام میں انفاق فی سبیل اللہ میں بھی اسراف اور ظلم اور حد سے تجاوز کو منع کیا گیا ہے ۔ نیز جو پاک چیزیں یہاں انسان کے لئے جائز قرار دی گئی ہیں ، ان سے انتفاع اور تلذذ میں بھی اسراف سے منع کیا گیا ہے ۔ اس لئے کہ انسان کی ضروریات زندگی کی مد میں اخراجات کے دائرے کو محدود کردیا گیا ہے ۔ اور اسے دائرہ اعتدال میں محدود کیا گیا ہے ۔ محدود ضروریات کے جو بچ جاتا ہے ، اس پر زکوٰۃ اور صدقات نافلہ کا ہر وقت تصرف رہتا ہے ۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ ایک مومن کو یہ حکم بھی دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی دولت کو نفع بخش کاروبار میں لگائے اور اس میں اضافہ کرتا رہے ۔ کاروباری زندگی میں اہل اسلام پر یہ قید لگائی گئی ہے کہ وہ اپنی کاروباری جدوجہد میں کسی کے لئے اذیت اور مضرت کا باعث نہ بنیں ۔ اور ایسا کاروبار نہ کریں جس کے نتیجے میں لوگوں تک ان کی ضروریات کی رسد میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا ہو۔ نہ ایسا کاروبار کریں جس کے نتیجے میں دولت بالا بالا چند ہاتھوں تک محدود ہوجائے اور اس کا دائرہ محدود ہوجائے كَيْ لا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الأغْنِيَاءِ مِنْكُمْ................ ” تاکہ وہ تمہارے مالداروں کے درمیان گردش نہ کرتا رہے ۔ “ اسلام نے معاشی جدوجہد میں فکر وعمل کی طہارت و پاکیزگی کو بھی لازم قرار دیا ہے ۔ اس نے کاروبار میں وسائل ونتائج کی پاکیزگی پر بہت زور دیا ۔ کاروبار کی ترقی اور دولت میں اضافہ کرنے کے بارے میں ایسے ضابطے اور قاعدے وضع کئے ہیں جن کے نتیجے میں انسانی ضمیر اور انسانی اخلاق پر برے اثرات نہیں پڑتے ۔ نہ ان سرگرمیوں سے معاشرے کے اجتماعی وجود اور اجتماعی زندگی متاثر ہوتی ہے (تفصیلات کے لئے ملاحظہ فرمائیں میری کتاب العدالۃ الاجتماعیہ فی الاسلام) یہ سب اصول اور سرگرمیاں اس سچائی کی اساس پر ہیں جو اس پوری کائنات میں جاری ہے ۔ یعنی تصور الٰہ اور پھر اس عہد کے دائرے کے اندر موجود جو انسان اور حقیقت وجود کے درمیاں طے پایا جو خلیفہ بننے والے انسان کے تمام تصرفات اور سرگرمیوں پر حاوی ہے ، جو اللہ کی مملوکہ سرزمین پر فرائض خلافت سرانجام دے رہا ہے۔ یہ وجوہات ہیں جن کے نتیجے میں سود خوری ایک ایسا عمل قرار پاتی ہے ، جو اساسی طور پر پوری پوری طرح ایمانی تصور حیات کے ساتھ متصادم ہے ۔ اس لئے کہ سودی نظام بالکل ایک علیحدہ تصور حیات پر مبنی ہے ۔ ایک ایسا تصور جس میں عقیدہ توحید اور وجود باری کے لئے ” تاکہ وہ تمہارے مالداروں کے درمیان گردش نہ کرتا رہے ۔ “ اسلام نے معاشی جدوجہد میں فکر وعمل کی طہارت و پاکیزگی کو بھی لازم قرار دیا ہے ۔ اس نے کاروبار میں وسائل ونتائج کی پاکیزگی پر بہت زور دیا ۔ کاروبار کی ترقی اور دولت میں اضافہ کرنے کے بارے میں ایسے ضابطے اور قاعدے وضع کئے ہیں جن کے نتیجے میں انسانی ضمیر اور انسانی اخلاق پر برے اثرات نہیں پڑتے ۔ نہ ان سرگرمیوں سے معاشرے کے اجتماعی وجود اور اجتماعی زندگی متاثر ہوتی ہے (تفصیلات کے لئے ملاحظہ فرمائیں میری کتاب العدالۃ الاجتماعیہ فی الاسلام) یہ سب اصول اور سرگرمیاں اس سچائی کی اساس پر ہیں جو اس پوری کائنات میں جاری ہے ۔ یعنی تصور الٰہ اور پھر اس عہد کے دائرے کے اندر موجود جو انسان اور حقیقت وجود کے درمیاں طے پایا جو خلیفہ بننے والے انسان کے تمام تصرفات اور سرگرمیوں پر حاوی ہے ، جو اللہ کی مملوکہ سرزمین پر فرائض خلافت سرانجام دے رہا ہے۔ یہ وجوہات ہیں جن کے نتیجے میں سود خوری ایک ایسا عمل قرار پاتی ہے ، جو اساسی طور پر پوری پوری طرح ایمانی تصور حیات کے ساتھ متصادم ہے ۔ اس لئے کہ سودی نظام بالکل ایک علیحدہ تصور حیات پر مبنی ہے ۔ ایک ایسا تصور جس میں عقیدہ توحید اور وجود باری کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ وہ ایک بے خدا تصور حیات ہے ۔ اس لئے سودی نظام میں اصول واخلاق کی کوئی گنجائش نہیں ہے جس اصول اور اخلاق کی اساس اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کی تنظیم چاہتے ہیں۔ سودی نظام کا اساسی تصور یہ ہے کہ انسانی زندگی اور اراہ الٰہی کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے ۔ انسان بتداء ہی سے کرہ ارض کا مالک ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی عہد و پیمان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔ اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جاری کردہ احکام کا سرے سے پابند ہی نہیں ہے ۔ اسی تصور حیات کے مطابق انسان ان تمام ذرائع کے استعمال میں آزاد ہے ، جن کے ذریعہ وہ دولت جمع کرسکے ۔ وہ دولت کے بڑھانے اور ترقی دینے میں بھی کسی اصول کا پابند نہیں ہے ۔ اسی طرح وہ دولت کے استعمال میں بھی کسی حد وقید کا پابند نہیں ہے ۔ اس سلسلے میں اللہ کے ساتھ کسی عہد و پیمان کا بھی پابند نہیں ہے ۔ نہ وہ اس بات کا پابند ہے کہ دوسرے لوگوں کی مصلحتوں کو خاطر میں لائے ۔ اس لئے اس پر اس بات کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اگر اس کی ذخیرہ اندوزی اور سرمایہ میں بےپناہ اضافے کے نیتجے میں لاکھوں انسانوں کو تکلیف پہنچے ۔ بعض اوقات انسان کے بنائے ہوئے قوانین ، ایسے شخص کی آزادی پر بعض جزوی پابندیاں عائد کرکے ، دولت کی لامحدود ارتکاز کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ مثلاً سود کی شرح پر پابندی عائد کردی جاتی ہے ۔ بعض اوقات انسان کے بنائے ہوئے قوانین بعض مالی چالبازیوں ، ظلم و زیادتی ، دھوکہ بازی اور مالی ضرر انسانی پر پابندیاں عائد کردیتے ہیں ۔ لیکن یہ پابندیاں ایک روٹین بن جاتی ہیں اور لوگ اپنی اصلی عادت کی طرف لوٹ آتے ہیں ۔ اس لئے وہ وہی کام کرنے لگتے ہیں جن کی خواہش ان کے دلوں میں بھی رچی بسی ہوتی ہے ۔ یہ انسانی قوانین معاشرے میں وہ اصول رائج اور راسخ نہیں کرسکتے جو خداوند قدوس کی طرف سے نازل کردہ قوانین انسان کے دل میں پیدا کردیتے ہیں ۔ غرض سودی نظام کی نیو ایک غلط اور فاسد اساس پر اٹھائی جاتی ہے ۔ اور وہ یہ کہ اس جہاں میں انسان کا مقصد اعلیٰ صرف یہ ہے وہ مال و دولت جمع کرتا پھرے ۔ چاہے اس کے لئے جو مکروہ ذریعہ اسے اختیار کرنا پڑے ۔ اور پھر وہ اس دولت سے فائدہ اٹھائے اور اسے جس طرح چاہے خرچ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مادہ پرست شخص کے دل میں اسقدر لالچ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ کتوں کی طرح دولت پر ٹوٹ پڑتا ہے ۔ اور سب کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس سے ہر طرح کے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ یوں وہ تمام اصولوں کو پامال کرکے اور تمام جہاں کے مفادات کو قربان کرکے بھی دولت جمع کرنے میں لگارہتا ہے ۔ نظام ربا کا ایک نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام بشریت کو پیس کر رکھ دیتا ہے ۔ اس میں افراد اور معاشرے کی زندگی دوبھر ہوجاتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں اقوام وملل تباہ ہوجاتی ہیں ۔ اور یہ تباہی صرف ان مٹھی بھر لوگوں کے مفاد کے لئے ہوتی ہے جو اس نظام میں روپیہ فراہم کرتے ہیں ۔ جو اقوام اس نظام کی زد میں آجاتی ہیں وہ اخلاقی ، نفسیاتی اور اعصابی اعتبار سے بھی گرجاتی ہیں ، ان اقوام کا مالی نظام خراب ہوجاتا ہے ، اور انسانی اقتصادیات میں مناسب نشوونما نہیں ہوتا ۔ اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پوری انسانیت پر حقیقی اور عملی اقتدار چند ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے ، جو اللہ کی اس پوری مخلوق میں ذلیل ترین لوگ ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ وہ پرلے در جے کے فسادی ہوتے ہیں ۔ یہ ایک ایسا طبقہ ہوتا ہے جو انسانیت کے لئے اس کرہ ارض پر کسی قسم کی دوستی ، ہمدردی یا ذمہ داری کا کوئی پاس نہیں رکھتا ۔ جیسا کہ ہمارے اس جدید دور میں انسانیت کو ایسے ہی ایک گروہ سے واسطہ پڑا ہوا ہے ۔ یہ گرہ جس طرح افراد کو روپیہ فراہم کرتا ہے اسی طرح حکومتوں اور اقوام کو بھی روپیہ فراہم کرتا ہے ۔ اپنے وہ ممالک جہاں یہ گروہ رہائش پذیر ہوتا ہے ، ان کے اندر یہ کاروبار کرتا ہے اور بیرونی دنیا میں بھی یہ کام کرتا ہے ۔ اور تمام انسانیت کو محنت کا پھل اسے ملتا رہتا ہے ۔ اور لوگوں کی خون پسینے کی کمائی غیر محسوس طور پر ان کی تجوریوں کی طرف لوٹتی رہتی ہے ۔ اور یہ فائدہ انہیں محض اپنے اس سودی کاروبار کی وجہ سے ملتا رہتا ہے ، جس میں خود ان کی محنت ومشقت کا کوئی دخل نہیں ہوتا ۔ نہ صرف یہ کہ لوگوں کی دولت اس گروہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے بلکہ اس گروہ کو اس معاشرہ میں مکمل اثر ورسوخ بھی حاصل ہوتا ہے۔ اس گروہ کے پیش نظر نہ اصول ہوتے ہیں ، نہ وہ کسی اخلاقی نظام کا پابند ہوتا ہے ، نہ وہ کسی دین و مذہب پر یقین رکھتا ہے بلکہ وہ مذہب واخلاق اور اصول اور کردار کا مذاق اڑانے میں اپنا اثر ورسوخ استعمال میں لاتے ہیں ۔ جو اس سودی معاشرے میں انہیں حاصل ہوتا ہے اور اس خوفناک اثر ورسوخ کے نتیجے میں وہ ایسے حالات پیدا کرتے ہیں اور ایسے ایسے منصوبے روبعمل لاتے ہیں اور ایسی فکری فضا پیدا کرتے ہیں جس کے اندر رہ کر وہ اس سودی نظام کی وجہ سے عوام الناس کا مزید استحصال کرتے ہیں ۔ ان حالات میں ان کی خساست اور قابل نفرت لالچ کی راہ میں رکاوٹ نہیں رہتی ۔ اور ان کے تمام مقاصد پورے ہوتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ایسے لوگوں کا بہترین اور آسان طریقہ یہ ہوتا ہے وہ عوام کو جنسیت اور لذتیت کا خوگر بناکر انسانی اخلاق اور عفت کو ختم کرکے انسان کو شہوات ولذتیت کے گندے نالے میں گرادیتے ہیں ۔ اور وہ اس کے اس قدر عادی ہوجاتے ہیں کہ اپنی آخری کوڑی بھی اس میں صرف کردیتے ہیں ۔ چناچہ ان کی دولت ان کے اقتصادی جال میں پھنستی چلی جاتی ہے ۔ یہ کام یوں سر انجام دیا جاتا ہے کہ یہ سودی کاروبار کرنے والے تمام عالمی اقتصادی نظام کو اپنی محدود مصلحتوں کے موافق چلاتے ہیں ۔ چاہے ان کے ان اقدامات کی وجہ سے عالمی اقتصادی پیداوار عوام الناس اور پورے انسانی معاشرے کے مفاد کے مقابلے میں چند سرمایہ داروں کے مفاد میں محبوس ہوجاتی ہے جو سرمایہ فراہم کرتے ہیں اور جن کے ہاتھ میں عالمی سرمایہ کی باگیں آجاتی ہیں اور وہ سب تاریں اپنے مفاد میں ہلاتے ہیں ۔ یہ اندوہناک واقعہ ہمارے ، اس جدید دور میں یوں پایہ تکمیل کو پہنچا کہ دورجاہلیت میں بھی وہ ایسی خوفناک صورت میں نہ تھا ۔ اس لئے کہ قرون اولیٰ کے سود خور ، جو ایک فرد کی صورت میں یا ایک ادارے کی صورت میں ہوتے تھے وہ اس قدر موثر نہ تھے ، جیسا کہ جدید دور کے بینک اور مالی ادارے کام کرتے ہیں ۔ ان جدید مالی اداروں کو پوری دنیا میں بڑی بڑی حکومتوں کے اندر اثر ورسوخ حاصل ہوتا ہے ۔ وہاں حکومتوں کی خارجہ پالیسیوں اور تجارتی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ پھر وہ صحافت اور نشر و اشاعت کے عالمی اداروں پر قابض ہیں ۔ اپنے مزاج اور نظریات کے مطابق تصانیف لکھواتے ہیں ۔ اساتذہ اور یونیورسٹیوں پر ان کا قبضہ ہوتا ہے ۔ اور میڈیا پر مکمل طور پر وہ اثر انداز ہوتے ہیں ۔ ان وسائل وذرائع سے وہ عامۃ الناس میں ایک ایسی ذہنیت پیدا کرتے ہیں کہ وہ عوام جن کا گوشت و پوست وہ کھا رہے ہوتے ہیں ۔ ان کا خون چوس رہے ہوتے ہیں اور اس سودی نظام کی وجہ سے ان کی محنت کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں وہ ان کے ذہنوں کو اس طرح مسخر کردیتے ہیں کہ یہ سودی نظام ان کی نظروں میں ایک معقول نظام اور لازمی نظام بن جاتا ہے جو بالکل معقول نظر آتا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سودی نظام کے بغیر دنیا اقتصادی ترقی سے محروم رہے گی ۔ اور یہ کہ مغربی دنیا کی اقتصادی ترقی محض اس سودی نظام کی وجہ سے ہوئی ہے اور یہ کہ جو لوگ سودی نظام کے خاتمہ کے لئے جدوجہد کررہے ہیں وہ عملی لوگ نہیں ، محض خیالی گھوڑے دوڑاتے ہیں ۔ اور یہ کہ ان کے خیالات و تصورات کی اساس محض اخلاقی نظریات پر ہے یا محض نظریاتی اصولوں پر ہے ۔ جن کا عملی دنیا میں کوئی نمونہ موجود نہیں ہے ۔ اور نہ ان کے نفاذ کی کوئی راہ ہے ۔ اور اگر ایسا کوئی نظام وضع کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں پوری دنیا کا اقتصادی نظام تباہ ہوجائے گا ۔ پھر یہ سود خور ان لوگوں کو مزاح کا نشانہ بناتے ہیں جو موجود سودی اقتصادی نظام پر تنقید کرتے ہیں ۔ اور یہ مزاح ان لوگوں کے ذریعہ سے کرایا جاتا ہے ، جو خود اس سودی نظام کے ڈسے ہوئے ہیں اور صرف اس نظام کی وجہ سے وہ مفلوک الحال ہیں جس طرح آج کا پورا عالمی اقتصادی نظام اس سودی نظام کی وجہ سے خستہ اور تباہ وبرباد ہوگیا ہے اور سود خوروں کی یہ عالمی تنظیمیں اس اقتصادی نظام کو محض اپنی نہج اور اپنی منشاء کے مطابق چلاتی ہیں اور جب وہ ان کی منشاء کے خلاف جائے ، یہ اسے ایسے جھٹکے دیتی ہیں اور ایسے مالی بحران پیدا کرتی ہیں کہ ماہرین اقتصادیات کے دماغ درست ہوجاتے ہیں اور وہ اس پورے عالمی مالی نظام کو از سر نو مٹھی بھر سود خوروں کی جماعت کے مفاد کے مطابق استوار کردیتے ہیں ۔ خاص اقتصادی نقطہ نظر سے بھی ، یہ سودی نظام ایک ناقص نظام ہے ۔ بعض مغربی ماہرین اقتصادیات پر بھی اس کے مفاسد آشکارا ہوچکے ہیں ، حالانکہ یہ لوگ اس سودی نظام میں پروان چڑھے ۔ اور خود مغربی علوم و ثقافت اور اخلاق و تصورات میں مغربی مالیاتی اداروں کے پروپیگنڈے کی وجہ سے سود کا تصور رچابسا تھا ۔ وہ ماہرین اقتصادیات جو محض اقتصادی نظام کے نقطہ نظر سے سود کے خلاف ہیں ، ان میں سرفہرست جرمنی کے ڈاکٹر شاخت ہیں ۔ وہ جرمنی بینک ” رائخ “ کے سابق ڈائریکٹر تھے ۔ 1953 ء میں انہوں نے دمشق میں جو تقاریر کیں ان میں یہ ایک اہم نتیجہ حیرت انگیز ہے کہ ایک گہرے اور مسلسل شماریاتی عمل سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پوری دنیا کی دولت آخر کار چند مٹھی بھر سود خوار مالی اداروں کی طرف لوٹتی نظر آتی ہے ۔ اس لئے کہ اس نظام میں روپیہ فراہم کرنے والا فائدہ ہی اٹھاتا چلا جاتا ہے جبکہ قرض لینے والا ہر وقت خسارہ اٹھاتا ہے ۔ لہٰذا آخر کار شماریات کے عمل کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ دولت ہمیشہ قرض دینے والے سود خواروں کی طرف لوٹتی رہتی ہے ۔ ہمارے دور میں شاخت کا نظریہ پوری طرح ثابت ہوچکا ہے ۔ اس لئے کہ اس وقت کرہ ارض کی پوری دولت کا حقیقی مالک چند ہزار افراد اور ادارے ہیں ۔ دوسرے وہ افراد جو مالک تصور ہوتے ، یاکارخانوں کے مالک جو بینکوں سے قرضہ لیتے ہیں یا وہ لوگ جو ان کارخانوں میں کام کرتے ہیں ، یہ سب لوگ دراصل ان مالی اداروں کے کارکن اور ملازم ہیں اور ان کے مفادات کے لئے کام کرتے ہیں یہ چند ہزار افراد اور ادارے اس پوری دنیا کے کارکنوں کے محنت کے نتائج وصول کرتے ہیں ۔ سودی اقتصادی نظام کی یہ صرف ایک کمزوری ہے ۔ جو نظام بھی سودی لین دین پر مبنی ہوگا ، اس میں رقم ادا کرنے والے اور صنعت وتجارت کے میدانوں میں کام کرنے والوں کے درمیان ہمیشہ مخالفت اور تضاد کا تعلق ہوگا اور وہ ایک جواری کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں اور مسلسل ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں ۔ قرض دہندہ ہر وقت زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے درپے ہوتا ہے ۔ اس لئے وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ دولت کو سمیٹے رکھے اور تجارت اور صنعت کو اس کی بےحد ضرورت ہوجائے اور یوں ایک تاجر اور ایک صنعت کار اسے زیادہ سے زیادہ نفع دینے پر آمادہ ہوجائے ۔ وہ شرح سود مسلسل بڑھاتا رہتا ہے یہاں تک کہ قرض لینے والے تاجر اور صنعت کار یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس کام میں انہیں کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ اس لئے وہ جو کام کرتے ہیں ، اس کے نتائج قرض اور سود میں چلے جاتے ہیں ، ان کے لئے کچھ نہیں بچتا ۔ ایسے وقت میں مال کا پھیلاؤ ختم ہوکر سکڑتا ہے ۔ کارخانے پیداوار بند کردیتے ہیں ۔ کارکن بےروزگار ہوجاتے ہیں ۔ لوگوں کی قوت خرید کم ہوجاتی ہے ۔ اور جب اقتصادی بحران اس مقام تک پہنچ جاتا ہے تو سود خور اب محسوس کرتا ہے کہ دولت کی طلب ختم ہوگئی ہے ، سرمایہ بےکار پڑا ہے تو وہ مجبوراً پھر سود کی شرح کم کردیتا ہے بلکہ کم کرنے پر مجبور ہوتا ہے ۔ اور صنعت کار اور تاجر پھر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور پھر زندگی میں خوشحالی عود کر آتی ہے ۔ یوں دنیا عالمی اقتصادی بحرانوں کا شکار ہوتی رہتی ہے اور ایک عام آدمی اس چکی میں پستا رہتا ہے اور ایک مویشی کی طرح بیخبر رہتا ہے۔ اس نظام میں ہر صارف بالواسطہ سودخوروں کو ان کے حصے کا ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اس لئے تاجر اور صنعت کارسود خوروں کو جو نفع ادا کرتے ہیں وہ انہیں اپنی جیب سے نہیں ادا کرتے ۔ وہ یہ نفع ایک صارف سے وصول کرتے ہیں ۔ وہ اشیائے صرف کی قیمت بڑھاتے ہیں اور یوں یہ سودی رقم پوری انسانیت پر تقسیم ہوتی ہے اور ان سے وصول ہوکر آخرکار سود خوار کے ہاں جمع ہوتی ہے ۔ رہے وہ قرض جو حکومتیں ان مالی اداروں سے لیتی ہیں یعنی اصلاحات اور ترقیاتی منصوبوں کے لئے ، تو ان کا بوجھ بھی آخر کار ایک عام آدمی پر پڑتا ہے۔ اس لئے کہ حکومت ان قرضوں کا سود ادا کرنے کے لئے لوگوں پر مزید ٹیکس عائد کرتی ہے ۔ اور ایک عام آدمی یہ بوجھ بھی اٹھاتا ہے ۔ غرض آخرکار ہر شخص سود خوروں کو شرح سود ادا کرنے میں اپنے حصے کا بوجھ اٹھاتا ہے ۔ لیکن اس حد تک بھی یہ معاملہ رکتا نہیں ۔ یہ استعماریت صرف سودی لین دین پر آکر نہیں رکتی ۔ اس کے اس استحصال کے لئے جنگیں شروع ہوتی ہیں ۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ سودی نظام کے مفاسد گنوادیں۔ اس کے لئے ایک مستقل بحث کی ضرورت ہے (اس سلسلے میں وہ قیمتی مباحث ملاحظہ ہیں جو المسلم العظیم سید ابوالاعلیٰ مودودی نے اسلام اور جدید اقتصادی نظریات کے نام سے لکھیں ہیں۔ سید قطب) اس لئے ہم یہاں صرف اس قدر تلخیص پیش کرتے ہیں تاکہ جو لوگ صحیح مسلمان بننا چاہتے ہیں ، انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ وہ اساسی حقائق کیا ہیں جن کی وجہ سے اسلام نے اس مکروہ سودی نظام کو حرام قرار دیا ہے : 1۔ پہلی بات یہ ہے کہ ہمیں اس بارے میں اپنے دل و دماغ کو صاف کرلینا چاہئے ۔ وہ یہ کہ اسلام کے ساتھ کسی بھی جگہ سودی نظام جمع نہیں ہوسکتا ۔ اس کے علوہ جو عالم ، جو مفتی بھی جو بات کہے گا وہ فریب کاری ہے ۔ اور صریح دھوکہ ہے ۔ اس لئے کہ اسلامی تصور حیات بنیادی طور پر سودی نظام سے متصادم ہے ۔ سودی نظام کے نتائج جو عوام کے فکر وعمل میں پیدا ہوتے ہیں یا اس کے نتیجے میں جو اخلاقیات پیدا ہوتی ہیں وہ اسلام کے خلاف ہیں ۔ 2۔ سودی نظام پوری انسانیت کے لئے ایک مصیبت ہے ۔ صرف ایمان اخلاق ، اور تصور حیات کے میدان ہی میں نہیں بلکہ خالص اقتصادی زندگی کی گہرائیوں میں بھی ایک عذاب ہے ۔ یہ نظام انسان کی خوشحالی اور فلاح پر ڈاکہ ڈالتا ہے اور انسانیت کی متوازن نشوونما کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ حالانکہ بظاہر اس نظام پر یہ جعلی لیبل لگایا گیا ہے کہ وہ پوری انسانیت کی اقتصادی ترقی کے لئے وضع کیا گیا ہے۔ 3۔ اسلام میں عملی نظام اور اخلاقی نظام کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ اسلام میں تصور یہ ہے کہ اپنے تمام معاملات اور تصرفات میں انسان اس عہد کا پابند ہے کہ وہ اس کرہ ارض پر اللہ کا نائب اور خلیفہ ہے ۔ اور اس کے تمام تصرفات شرط خلافت سے مشروط ہیں ۔ اور یہ کہ یہاں اس کی پوری زندگی امتحان گاہ میں ہے ۔ وہ بطور آزمائش بھیجا گیا ہے ۔ اور اس نے اپنی پوری زندگی کا حساب و کتاب ایک دن دینا ہوگا۔ اسلامی نظام زندگی نہ تو صرف اخلاقی نظام ہے جو صرف چند اخلاقی ہدایات پر مشتمل ہو اور نہ ہی صرف عملی نظام ہے ، یہ بیک وقت اخلاقی اور عملی ہدایات پر مشتمل نظام زندگی ہے ۔ اگر اس نے اچھی طرح اس نظام کو اپنایا تو اسے اس کی پوری زندگی پر اس طرح اجر ملے گا ، گویا اس نے عبادت کی ۔ اور اگر اس نے اسے ترک کیا تو بعینہٖ اسی طرح اسے آخرت میں ان دو پہلوؤں پر سزا دی جائے گی ۔ چناچہ اسلام کا اقتصادی نظام اس کے اخلاقی پہلو کے بغیر مکمل نہیں ہوتا ۔ اور اسلام کے اقتصادی اخلاقیات کوئی غیر لازم عمل نہیں ہے بلکہ اسلام کے قتصادی نظام کا لازمی جزو ہیں ۔ ان کے بغیر اسلام کا عملی اقتصادی نظام چل ہی نہیں سکتا۔ 4۔ چوتھی بات یہ کہ سودی کاروبار کے نتیجے میں لازماً انسانی ضمیر مردہ اور خراب ہوجاتا ہے ۔ انسان کے اخلاق خراب ہوجاتے ہیں ۔ دوسرے بنی نوع انسان کے حق میں ایک سود خور کا رویہ اور اس کے جذبات اچھے نہیں رہتے ۔ انسانی معاشرہ کی زندگی دوبھر ہوجاتی ہے ۔ معاشرے کی اجتماعی کفالت کا انتظام خراب ہوجاتا ہے ۔ سودی نظام کی وجہ سے عوام کے اندر طمع ، لالچ ، خود غرضی ، دھوکہ بازی اور قمار بازی کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ دور جدید کے ماہرین اقتصادیات سود خوری کو اس بات کی بڑی وجہ تصور کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے سرمایہ گھٹیا درجے کی غیر پیداواری مصارف کی طرف بہہ نکلتا ہے ، تاکہ سرمایہ کاری پر یقینی فائدہ حاصل ہو ۔ اور سود ادا کرنے کے بعد اس سے قرض حاصل کرنے والے کے لئے بھی کچھ بچ جائے ۔ یہی جذبہ ہے کی وجہ سے گھٹیا درجے کی گندی فلموں ، گندی صحافت ، رقص گاہوں ، عیاشی کے اڈوں ، شراب خانوں اور تمام مصارف میں سرمایہ لگایا جاتا ہے جو اخلاق کے لئے تباہ کن ہوتے ہیں اور جن کے ذریعہ اخلاقی توڑ پھوڑ کا عمل جاری رہتا ہے اور سودی نظام کے تحت ایسے کاموں میں سرمایہ کاری نہیں کی جاتی جو انسانیت کے لئے مفید ہوں بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایسے منصوبوں میں سرمایہ لگایا جائے جن سے زیادہ سے زیادہ نفع ملے ۔ آج کی عالمی اقتصادیات میں یہ روزآنہ کا مشاہدہ ہے ۔ اور اس کا پہلا سبب سودی کاروبار کا موجودہ نظام ہے ۔ 5۔ پانچواں نکتہ یہ ہے کہ اسلامی نظام ایک مکمل نظام حیات ہے جو باہم مربوط ہے ۔ وہ جب سودی کاروبار حرام قرار دیتا ہے تو وہ ایک ایسا نظام تیار کرتا ہے ، جس میں اس سودی کاروبار کی طرف سے کوئی احتیاج ہی نہیں رہتی ۔ وہ اقتصادی زندگی کی تشکیل وتنظیم یوں کرتا ہے کہ کسی شعبے میں سرے سے اس کی ضرورت ہی نہ رہے۔ اور اس سے انسان کی معاشی ترقی کا کوئی گوشہ بھی متاثر نہیں ہوتا ۔ اجتماعی اقتصادی ترقی جاری رہتی ہے ۔ 6۔ ششم نکتہ یہ ہے کہ جب اسلامی نظام زندگی کو اپنا نظام نافذ کرنے کا موقعہ ملے گا ، تو اس کی پالیسی یہ نہ ہوگی کہ وہ اجتماعی ترقی کے اداروں کو سرے سے ختم کردے بلکہ پالیسی یہ ہوگی کہ ان اداروں کو سود سے پاک کردیا جائے ۔ چناچہ ان اداروں سے سودی نجاستوں کو ختم کردیا جائے گا ۔ یہ ادارے بعض دوسرے اصولوں پر منظم ہوں کے اور اجتماعی ترقی کے لئے کام کرتے رہیں گے ۔ ان اداروں میں بینک ، کمپنیاں اور جدید اقتصادی ادارے سب شامل ہیں ۔ 7۔ یہ نہایت ہی اہم نکتہ ہے ۔ ایک مسلمان کو یہ پختہ یقین کرلینا چاہئے کہ یہ بات بالکل محال ہے کہ اللہ تعالیٰ سودی کاروبار کو حرام کردیں اور پھر صورتحال یہ ہو کہ انسان کی اجتماعی زندگی غیر سودی کاروبار کے ذریعے چل ہی نہ سکے ۔ اس طرح یہ بھی محال ہے کہ ایک ناپاک ، نجس اور مضر چیز ہو انسانی زندگی اس کے بغیر استوار نہ ہوسکتی ہو۔ اس لئے اللہ ہی اس کرہ ارض پر حیات انسانی کا خالق ہے ۔ اسی نے اس کرہ ارض پر انسان کو اپنا خلیفہ قرار دیا ہے اور خود ذات باری کا حکم ہے کہ اس کرہ ارض پر حیات انسانی کو ترقی دی جائے اور انسان کو سہولیات فراہم کی جائیں ۔ ہر کام اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہی سرانجام پاتا ہے ۔ وہی ہے جو انسان کو توفیق دیتا ہے کہ وہ اس جہاں میں بھلائی کرے ۔ اسی لئے نظریاتی حوالے سے یہ بات محال ہے کہ کوئی چیز اللہ کے ہاں حرام ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ زندگی کی ترقی اور نشوونما کے لئے ضروری ہو ۔ اس کے سوا زندگی میں ترقی نہ کی جاسکتی ہو ۔ یا کوئی بھی گندگی اور خبیث چیز ایسی ہو ، جس کے سوا زندگی قائم نہ رہ سکتی ہو یا اس کے سوا اس جہاں میں زندگی کو ترقی نہ دی جاسکتی ہو جو شخص یہ سوچ رکھتا ہو ، یقیناً اس کی یہ سوچ غلط ہے اس کا یہ دعویٰ زہر آلود اور یہ تصور غلط ہے ۔ جسے نسل بعد نسل پھیلایا گیا ہے ۔ یعنی یہ کہ سودی نظام دنیا کی ترقی اور نشوونما کے لئے سنگ میل ہے ۔ اور یہ کہ سودی نظام ایک قدرتی نظام ہے ۔ اس تصور کو دراصل ایک منظم سازش کے ذریعہ تعلیم و ثقافت کے سرچشموں میں داخل کردیا گیا ہے اور شرق وغرب میں علوم اور تربیت کے منابع کے اندر سے سے داخل کردیا گیا ہے پھر دور جدید میں ، زندگی کی اساس اس نظام پر استوار کردی گئی ہے ۔ اور یہ کام ان افراد اور ایجنسیوں نے کیا ہے جو اس نظام میں سرمایہ فراہم کرنے والی ہیں ۔ مشکل یہ درپیش ہے کہ ہر کسی کو زندگی کا نظام سود کے سوا کسی دوسری اساس پر قائم کرنا مشکل نظر آتا ہے ۔ یہ مشکل اس ایک بھیانک شکل اختیار کرلیتی ہے جب ایک انسان دولت ایمان سے محروم ہو ۔ پھر ذہنی غلامی اور آزادنہ غوروفکر نہ کرنے کی وجہ سے بھی یہ کام مشکل نظر آتا ہے ۔ اس لئے کہ سرمایہ فراہم کرنے والی ایجنسیوں نے یہ وہم انسانی دل و دماغ میں یقین کی صورت میں جانشین کردیا ہے۔ اس لئے کہ ذرائع علم ومعرفت پر ان کا مکمل کنٹرول ہے ۔ بین الاقوامی اداروں اور حکومتوں پر ان ایجنسیوں کو مکمل کنٹرول حاصل ہے ۔ عام اور خاص نشر و اشاعت کے اداروں پر ان سود خوروں کا مکمل قبضہ ہے ۔ 8۔ آٹھویں بات یہ ہے کہ جو لوگ یہ خیال رکھتے ہیں کہ دور جدید میں سودی نظام کے علاوہ کسی اور نظام پر اقتصادی نظام استوار نہیں ہوسکتا ، دراصل ایک بےحقیقت وہم ہے ۔ یہ دراصل ایک بہت بڑا جھوٹ ہے اور یہ جھوٹ اس لئے رائج ہے کہ بعض طاقتور بین الاقوامی ادارے اسے محض اپنی مصلحت کے لئے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ جس وقت بھی بین الاقوامی مالی اداروں کی نیت درست ہوگی ۔ جس وقت بھی پوری انسانیت اس نظام کو بدلنے کا عزم کرے گی یا کم ازکم امت مسلمہ اس کی تبدیلی کا ارادہ کرلے گی اور یہ ٹھان لے گی کہ اب وہ بین الاقوامی مالی اداروں کے چنگل سے آزاد ہونا چاہتی ہے اور وہ اپنی بھلائی کا انتظام خود کرتی ہے ، اپنی خوشحالی اور ترقی کے نظام کی اساس ، اخلاق اور پاکیزگی پر استوار کرتی ہے تو اسی وقت دنیا کے سامنے بالکل ایک نیا مالی نظام استوار ہوکر سامنے آجائے گا ۔ یہ اسلامی نظام ہوگا اور جسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کے لئے پسند کیا ہوا ہے ۔ جس کا نفاذ عملاً ہوچکا ہے ۔ اس کے سائے میں زندگی نے بھرپور مظاہرہ کیا ہوا ہے ۔ اب بھی یہ نظام قابل نفاذ ہے اور اس کے تحت اقتصادی نظام منظم ہوسکتا ہے ، لیکن شرط یہ ہے کہ لوگ سمجھیں اور راہ ہدایت پالیں۔ یہاں ہم وہ تفصیلات نہیں دے سکتے جن سے اس نظام کی مکمل تفصیلات اور جزئیات سے بحث کی جاسکے ۔ ہمارے لئے یہ اجمالی اشارات ہی کافی ہیں (اس سلسلے میں بعض عملی تجاویز مولاناابو الاعلیٰ مودودی نے پیش کی ہیں جن کا حوالہ میں اس سے پہلے دے چکا ہوں۔ ان پر غور کیا جاسکتا ہے۔ سید قطب) ان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سود خوری کی یہ برائی اقتصادی زندگی کی ضروریات میں سے نہیں ہے ۔ تاریخ انسانیت میں اس سے پہلے بھی سودی نظام چھا گیا تھا اور اسلام نے انسانیت کو اس کے چنگل سے آزاد کرایا تھا ۔ آج بھی انسانیت نے اقتصادی بےراہ روی اختیار کرلی ہے ۔ اور اسے اس بےراہ روی سے صرف اسلام کا مستحکم ، رحیمانہ اور سلیم الفطرت نظام نجات دلاسکتا ہے۔ اب ذرا تفصیل سے ملاحظہ کیجئے کہ سود کے تلخ اقتصادی نظام پر اسلام کس طرح حملہ آور ہوتا ہے ۔ اس نظام نے انسانیت کو ان تلخیوں سے دوچار کردیا ہے ۔ جس سے زیادہ کوئی اور تلخی انسانیت کو کبھی نصیب نہیں ہوئی ۔ یہ ایک خوفناک جملہ ہے اور دہشناک تصویر کشی ہے ۔ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لا يَقُومُونَ إِلا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ................ ” ان کا حال اس شخص جیسا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر باؤلا کردیاہو۔ “ قرآن کریم نے سود خور کی جو تصویر کھینچی ہے جس طرح سود خوار کو زندہ اور متحرک شکل میں پیش کیا ہے۔ اس جیسی تاثیر اور تنبیہ حسین سے حسین معنوی اور نظری پیرایہ اظہار میں نہیں پیدا کی جاسکتی ۔ یہ ایسی تصویرکشی ہے جس کے نتیجے میں سود خوار کی تصویر الگ محسوس اور پیش پا افتادہ پیرائے میں نظر آتی ہے۔ اس تصویر کے ذریعے معروف اور عام طور پر تجربے میں آنے والے کرداروں کو ظاہر کیا گیا ہے ۔ قرآن لوگوں کے اس دیکھے ہوئے کردار کو ان کی نظروں سے تازہ کرتا ہے تاکہ یہ کردار انسانی احساس میں خوف پیدا کرے ، سرمایہ کاری کرنے والے سود خوروں کے انسانی جذبات جاگیں اور متحرک ہوں ۔ انہیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر ان کے مروج اور عادی سودی نظام اقتصادیات سے انہیں نکالاجائے ۔ اور انہیں لالچ اور خود غرضی کی اس فضاء سے نکالا جائے جس میں انہیں بہت سے فائدے نظر آتے ہیں ۔ اپنی جگہ یہ انداز تربیت بہت ہی مفید ہوتا ہے جبکہ یہ پیرایہ بیان اپنی جگہ حقیقت پسندانہ اور واقعی بھی ہوتا ہے۔ اکثر تفاسیر میں لا يَقُومُونَ........ کا مفہوم یہ بیان ہوا ہے کہ اس سے مراد روز قیامت کا قیام اور حشر ہے لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر ہماری زندگی میں بھی خوفناک تصویر عملاً موجد ہوتی ہے ۔ نیز یہ مفہوم کہ دنیا میں سود خوار کی حالت ایسی ہوتی ہے اگلے فقرے کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوتا ہے کہ جو لوگ سودی نظام ترک نہیں کرتے وہ دراصل اللہ تعالیٰ کے ساتھ اعلان جنگ کررہے ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ عالم اقتصادیات میں یہ جنگ مسلسل لڑی جارہی ہے اور گم کردہ راہ انسانیت پر یہ جنگ مسلط ہے اور اس نظام میں ایک سود خور اسی طرح دیوانہ وار تگ ودو میں مصروف ہے جس طرح شیطان کا چھوا ہوا شخص دیوانہ ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ ہم سود خور کی دیوانگی کو زندگی کے عملی نظام میں تلاش کریں ذرا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ رسول اکرم ﷺ کے دور میں نزول قرآن کے وقت سودی اقتصادی نظام جس نہج پر چل رہا تھا ذرا اس کی تصویر کشی کردیں ۔ نیز یہ کہ اس سودی نظام کے بارے میں اہل جاہلیت کے ماہرین اقتصاد کے تصورات کیا تھے ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

البقرة 2:276

يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ............... ” اللہ تعالیٰ سود کا مٹھ ماردیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا ۔ “ اللہ تعالیٰ کا وعدہ بھی سچا ہے اور اس کی وعید بھی یقینی ہے ۔ ہمارے اس دور میں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آج کے دورجدید میں جو معاشرے بھی سودی کاروبار کرتے ہیں ان کے افراد کے دلوں میں سکون اور اطمینان نصیب نہیں ہے ان معاشروں سے برکت اٹھ گئی ہے اور خوشحالی اور اطمینان قلب ختم ہے ۔ اللہ تعالیٰ ربا کو محو کرنا چاہتا ہے اس لئے وہ ایسے معاشرے پر اپنے فیوض وبرکات نازل نہیں فرماتا جس میں ربا کی گندگی پائی جاتی ہو ۔ ایسے معاشروں کو وہ قحط اور بدنصیبی سے دوچار کرتا ہے بظاہر تو یوں نظرآتا ہے کہ معاشرے میں ہر سو خوشحالی ہی خوشحالی ہے ۔ ہر طرف وافر پیداوار نظر آتی ہے ۔ ہر طرف سے وافر مقدار میں آمدن ہورہی ہے لیکن جس قدر زیادہ آمدن ہورہی ہے اس قدر برکت نظر نہیں آتی ۔ اس طرح کہ انسان اس وافر آمدنی سے پاکیزہ طریقے سے امن و اطمینان کے ساتھ فائدہ اٹھائے ۔ اس سے پہلے ہم اس محرومی اور بدنصیبی کی طرف اشارہ کرچکے ہیں جو مغرب کے مالدار اور کثیر آمدنیوں والے ممالک میں لوگوں کے چہروں سے ٹپکی پڑتی ہے اور اس روحانی قلق اور پریشانی کا بیان بھی ہم اس سے قبل بیان کرچکے ہیں ۔ جس میں زیادہ دولت مندی کی وجہ سے اضافہ ہی ہورہا ہے ، کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ ان ممالک کی جانب سے یہ قلق و اضطراب اور یہ محرومی اور بدحالی تمام دنیا میں پھیل رہی ہے ۔ اس لئے کہ ان ممالک میں انسانیت ایک دائمی اور مسلسل مہلک جنگ میں مصروف ہے ۔ وہاں کے لوگ صبح وشام سرد جنگ میں اپنی زندگی بسر کررہے ہیں ۔ یہ شب وروز کے بعد ان اعصاب پر زندگی کا بوجھ بھاری ہوتا جارہا ہے۔ چاہے انہیں اس کا شعور ہو یا نہ ہو۔ اس ذہنی اور اعصابی کشمکش کی وجہ سے نہ ان کے مال میں برکت ہوتی ہے ، نہ عمر میں برکت ہوتی ہے ، نہ ان کی صحت قابل رشک ہوتی ہے اور نہ ان کے دل مطمئن ہوتے ہیں ۔ اس کے برعکس جو معاشرہ اجتماعی تعاون اور باہم کفالت پر استوار ہو ، چاہے یہ تعاون بذریعہ سدقات واجبہ ہو یا صدقات نافلہ ہو اور اس معاشرے میں باہم محبت ، باہم احسان ، باہم رضامندی کی روح کارفرما ہو اور جس میں ہر فرد تگ و دو محض اس لئے ہو کہ وہ اللہ کی رضامندی حاصل کرکے اس کے اجر کا مستحق بنے اور جسے ہر وقت اطمینان ہو کہ اللہ اس کا مددگار ہے اور وہ صدقہ اور احسان کا اجر اس سے کئی گنا دے گا تو ایسے تمام معاشروں پر اللہ تعالیٰ اپنی برکت نازل کرتا ہے ، جو معاشرے کے افراد پر بھی برکات نازل ہوتی ہیں اور ایسے معاشرہ کی جماعتوں پر بھی فیوض نازل ہوتے ہیں ۔ ان کے مال میں برکت ہوتی ہے ، ان کے رزق میں فراوانی ہوتی ہے ، ان کی صحت میں برکت ہوتی ہے ، ان کی قوت میں برکت ہوتی ہے اور ان کے دل اطمینان سے سرشار ہوتے ہیں اور دل برقرار ہوتے ہیں ۔ جن لوگوں کو انسان کی موجودہ صورتحال میں یہ حقائق نظر نہیں آتے ، وہ اس قسم کے لوگ ہیں جو ان حقائقب کو درحقیقت دیکھنا ہی نہیں چاہتے ، اس لئے کہ ان کی نفسانی خواہشات یہ تقاضا کرتی ہیں کہ وہ ان حقائق کو نہ دیکھیں ۔ یہ لوگ ایسے ہیں جن کی آنکھوں پر پردے پڑگئے ہیں اور یہ پردے انہوں نے قصداً ڈالے ہوئے ہیں اور یہ لوگ وہ سود خوار ہیں جن کی ذاتی مصلحت اس میں ہے کہ یہ سودی نظام دائم وقائم رہے ، اس لئے ان حقائق کو نہ دیکھ سکے ۔ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ............... ” اور اللہ تعالیٰ کسی ناشکرے ، بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا ۔ “ اس تعقیب اور اس نتیجے سے یہ بات قطعی طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ سودی نظام اقتصادیات کی حرمت کے بعد بھی اگر کچھ لوگ اسے جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں تو وہ گناہ گار اور کفار ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان سے محبت نہیں کرتا اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قراردیتے ہیں ان پر کفر اور گناہ گاری کی صفت کا اطلاق ہوتا ہے اگرچہ وہ اپنی زبان سے ایک ہزار مرتبہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُولُ اللّٰہِ............... کہتے رہیں ، اس لئے کہ اسلام صرف زبانی کلمات کا نام نہیں ہے وہ تو ایک مکمل نظام حیات اور طریقہ عمل ہے اور اس کے سوا کسی ایک جزو کا انکار اس بات کو مستلزم ہے کہ وہ سب کا انکار کردے ۔ ربا اور سود خوری کی حرمت میں تو کوئی شبہ نہیں ہے اور اسے حلال تصور کرنے اور اس کی اساس پر اپنی اقتصادیات کو استوار کرنے پر یقیناً ایک شخص گناہ گار ہوتا ہے اور کفر کا ارتکاب کرتا ہے ۔ نعوذ باللہ منہ ۔ اس کفریہ اور غیر صالح نظام زندگی کے بالمقابل اور سودی اقتصادیات کے حاملین اور حامیوں کے لئے اس حقارت آمیز ڈراوے کے مقابلے میں ، قرآن کریم اور عمل صالح کے باب کا آغاز کرتا ہے جو اس معاملے میں جماعت مسلمہ کی اہم خصوصیات ہیں اور اس ظالمانہ سودی نظام کے بالمقابل جو صالح اسلامی نظام ہے ، اس کا مرکزی نکتہ یہاں بیان کیا جاتا ہے ، یعنی نظام ربا کے مقابلے میں نظام زکوٰۃ ۔

البقرة 2:277

نظامِ ربا کے صفحہ بالمقابل کا بنیادی عنصر زکوٰۃ ہے اور زکوٰۃ کی ماہیت یہ ہے کہ وہ ایک قسم کا خرچ اور انفاق ہے ، جس کا کوئی عوض اس جہاں میں نہیں ہے نہ اس خرچ کے نتیجے میں کچھ واپس ہوتا ہے اور سیاق کلام میں زکوٰۃ کے ذکر سے مقصد یہ ہے کہ یہاں مومنین کی اس اہم صفت کو بیان کردیا جائے نیز اسلامی معاشرہ کی اس اہم صفت کو بیان کردیا جائے اور یہ بتایاجائے کہ سودی معاشرہ کے مقابلے میں اس ایمانی معاشرہ میں اطمینان قلب ، امن وامان ، اللہ کی رضامندی اور برکات الٰہی کے کیا کیا نظارے ہیں اور کس قدر پر کیف منظر ہے اس معاشرہ کا ۔ زکوٰۃ دراصل ایک ایسے معاشرے کا اصل الاصول ہے جو باہم تضامن اور باہم کفالت پر مبنی ہوتا ہے اور اس معاشرے کے کسی بھی شعبے اور کسی بھی پہلو میں سودی اقتصادیات کانہ وجود ہوتا ہے اور نہ وہ اقتصادیات سے کوئی ضمانت طلب کرتا ہے ۔ امت اسلامیہ کے احساس اور خود ہمارے احساسات میں زکوٰۃ کی اصل صورت پریشان اور گم ہوگئی ہے ۔ امت مسلمہ کی بدبخت نسلوں نے صدیاں گزرگئیں کہ اسلام کے اقتصادی نظام کو عملاً چلتا ہوا نہیں دیکھا ہے۔ اس نے اسلامی نظام زندگی کا عملی مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ خالص ایمانی تصور حیات ، خالص نظریاتی تربیت اور نظریاتی اخلاق کی اساس پر قائم ہوا ہو اور وہ انسانیت کو اور انسانی نفسیات کو ایک خاص نہج پر ڈھال رہا ہو اور خود یہ نظام اس طرح ہو کہ اس میں اس کے صحیح تصورات زندہ ہوں ، پاک اخلاق نظام رائج ہو اور اونچی اقدار حیات قائم ہوں اور اس میں اسلام کے اقتصادی نظام کا مرکزی نکتہ زکوٰۃ ہو جبکہ اس کے مقابلے میں تمام دوسرے نظام عملاً ربا کی اساس پر قائم ہوں اور پھر امت دیکھے کہ انسانی زندگی نشو ونما پارہی ہو اور اقتصادی نظام انفرادی سعی وجدوجہد پر قائم ہو اور اگر باہم تعاون کی کوئی اجتماعی شکل ہو تو وہ ربا سے پاک ہو ۔ زکوٰۃ کی اصل شکل و صورت ہمارے دور کی بدبخت اور ہدایت سے محروم نسلوں کے دل و دماغ میں مشتبہ ہوگئی ہے ، اس لئے کہ ان نسلوں نے انسانیت کی وہ بلندو برتر خوبصورت تصویر دیکھی ہی نہیں جو نظام زکوٰۃ کے نتیجے میں سامنے آتی ہے۔ موجودہ نسلیں جدید مادی نظام کے اندر پیدا ہوئیں اور اسی کے سائے میں پروان چڑھیں اور یہ جدید نظام خالص سودی تصور پر قائم ہے ۔ ان نسلوں نے صرف بخل اور کنجوسی ، حرص و لالچ اور انفرادیت اور خود غرضی ہی دیکھی ہے جو دورجدید میں ہر کسی کے دلوں پر حکمران ہے ۔ اس دور میں دولت محتاجوں اور غریبوں تک صرف قابل نفرت سودی نظام ہی کے ذریعے پہنچ رہی ہے ۔ لوگ بغیر کسی اجتماعی کفالتی نظام کے زندگی بسر کررہے ہیں ۔ صرف اس صورت میں انہیں تحفظ ملتا ہے جب وہ خود سرمایہ رکھتے ہوں یا انہوں نے اپنی دولت کا ایک معتدبہ حصہ خرچ کرکے موجودہ سودی نظام کے تحت اپنے آپ کو انشور کرالیا ہو ۔ آج صنعت اور تجارت کو صرف اس صورت میں سرمایہ دستیاب ہوتا ہے۔ جب وہ اسے سودی نظام کے واسطہ سے لیں ، اس لئے جدید نسلوں کے دل و دماغ پر یہ بات چھاگئی ہے کہ ماسوائے سودی نظام اقتصادیات کے اور کوئی اقتصادی نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے اور یہ کہ صرف اسی نظام کے تحت زندگی بسر ہوسکتی ہے۔ جدید دور کے انسانوں کے ذہن سے زکوٰۃ کا حقیقی تصور یوں مٹ گیا ہے کہ وہ اسے صرف ایک انفرادی احسان اور نیکی سمجھنے لگے ہیں اور یہ کہ اس کی اساس پر کوئی اجتماعی نظام استوار نہیں ہوسکتا لیکن یہ لوگ حاصلات زکوٰۃ کے عظیم حجم کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ اڑھائی فیصد زکوٰۃ اصل سرمایہ اور منافع دونوں پر واجب ہے اور وہ لوگ بڑی خوشی سے یہ شرح ادا کرتے ہیں جن کی تربیت اسلام نے کی ہوئی ہوتی ہے اور اپنے مخصوص انداز میں کی ہوئی ہوتی ہے۔ وعظ و ارشاد کے ذریعہ ، قانون سازی کے ذریعہ اور ایک ایسے نظام زندگی کے ذریعے جس کا تصور ان کے دل و دماغ پر چھایا ہوتا ہے اور اس شرح زکوٰ ۃ کو ایک اسلامی حکومت بطور ایک لازمی حق کے وصول کرتی ہے ، یوں نہیں کہ کوئی چیز بطور خیرات یہ حق ادا کرے اور اس عظیم فنڈ سے ان تمام لوگوں کی کفالت ہوتی ہے ، جن کے لیے اپنے ذاتی وسائل ناکافی ہوجائیں اور حالت یہ ہوتی ہے کہ کہ معاشرے کا ہر فرد یہ ضمانت پالیتا ہے کہ اس کی زندگی اور اس کی اولاد کی زندگی محفوظ ہے اور ہر حالت میں محفوظ ہے ۔ اس فنڈ میں سے ان لوگوں کے قرضے بھی ادا کئے جاتے ہیں جو قرضوں کے بوجھ تلے دب جائیں چاہے یہ تجارتی قرضے ہوں یا غیر تجارتی ہوں۔ اسلام میں اہمیت اس بات کو حاصل نہیں ہے کہ کسی نظام کی ظاہری شکل و صورت کیسی ہے ۔ اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ کسی نظام کی روح کیسی ہے ۔ اسلام اپنی تربیت اور ہدایت ، اپنے قانونی نظام اور ضابطہ بندی اور اپنے پورے نظام کے ذریعہ جس قسم کی سوسائٹی وجود میں لانا چاہتا ہے ۔ وہ سوسائٹی اسکے نظام کی شکل و صورت ، اس کے اجزاء اور اداروں اور اس کی حکمت عملی کے ساتھ مکمل طور پر متناسب اور متناسق ہوتی ہے ۔ وہ سوسائٹی اس کے قانون کا تکملہ ہوتی ہے ۔ اس سوسائٹی کے افراد کے ضمیر کی گہرائیوں میں سے ایک اجتماعی کفالتی نظام وجود میں آتا ہے ۔ اس کے تمام ادارے اور حکمت عملیاں ایک اجتماعی کفالت وجود میں لاتی ہیں ۔ اس نظام میں فرد اور ادارہ باہم معاون اور باہم کفیل ہوتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ان لوگوں کے فہم وادراک سے بہت بلند ہے جو جدید مادی نظام زندگی میں پروان چڑھے ہیں لیکن یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہم مسلمان بخوبی جانتے ہیں ۔ اور ہمارا ذوق ایمانی اس کی مٹھاس محسوس کرتا ہے ۔ جبکہ جدید دور کے باسی اپنی بدبختی اور بد ذوقی کی وجہ سے یہ مٹھاس نہیں محسوس کرتے ۔ جدید دور کا انسان اس محرومی اور بدبختی میں اس لئے مبتلا ہے کہ اس کی باگ دوڑ اس جدید مادی نظام کے ہاتھ میں ہے ۔ خدا کرے یہ اسی طرح محروم ہوں اور یہ اس خیر سے دور ہی رہیں جس کی خوشخبری اللہ ان الفاظ میں دیتے ہیں ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ............... ” جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں ، ان کا اجر بیشک ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقعہ نہیں “ ایسے لوگ جو ان آسمانی ہدایات سے محروم ہیں ۔ وہ قلبی اطمینان اور سکون سے بھی محروم رہیں گے ۔ جبکہ اجر وثواب سے تو وہ محروم ہیں ہی۔ اس لئے کہ وہ اپنی جہالت ، اپنی جاہلیت ، اپنی ضلالت اور اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے تو وہ محروم ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے پختہ عہد کرتا ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کو ایمان اور عمل صالح پر استوار کریں گے ۔ باہم اقتصادی تعاون کرکے اپنی معیشت کو درست کریں گے ۔ ان کا اجر اللہ کے ہاں محفوظ ہے ۔ وہ امن میں رہیں گے ، وہ کسی خوف و خطرے سے دوچار نہ ہوں گے ۔ وہ خوش قسمت ہیں ۔ محروم نہیں ہیں ۔ اس لئے وہ ہر قسم کے اندیشوں سے محفوظ ہوں گے لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ............... ” ان کا اجر بیشک ان کے رب کے پاس ہے ، ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ “ ایسے حالات میں جبکہ ایک سودی نظام اقتصادیات والی سوسائٹی اللہ کے قہر وغضب کی مستحق قرار پاتی ہے ۔ اس کے افراد مخبوط الحواس اور گم کردہ راہ ہوتے ہیں ۔ جس کے نتیجے میں وہ روحانی خوف اور رنج والم کا شکار ہوتے ہیں ۔ انسانی تاریخ میں انسانیت نے صحیح اسلامی معاشرہ میں یہ نظام امن و سکون بچشم سر دیکھا ہے ۔ اور وہ رنج والم اور خوف وبے اطمینانی کی عام فضاء وہ جدید سودی معاشرہ میں بھی دیکھ رہی ہے ۔ اے کاش کہ ہم ہر حساس دل کو پکڑ کر جھنجھوڑ سکتے ۔ تو اسے خوب جھنجھوڑتے اور وہ خواب غفلت سے بیدار ہوکر اس حقیقت کو پالیتا ۔ اے کاش ! کہ اگر ممکن ہوتا تو ہم سوتی آنکھ کو جگاتے ۔ اسے کھولتے اور وہ اس عظیم حقیقت کو پالیتی ۔ افسوس کے ہمارے پاس وہ قوت نہیں ہے ۔ اگر ہوتی تو ہم ایسا کر گزرتے ........ ہم صرف حقیقت کی طرف اشارہ ہی کرسکتے ہیں ۔ ممکن ہے کہ اللہ اس گم کردہ راہ اور بدنصیب انسانیت کو اس طرف متوجہ کردیں ۔ اور دل تو اللہ تعالیٰ کی دوانگلیوں کے درمیان ہیں وہ جدہر چاہے پھیردے ۔ اور ہدایت تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہی میں ہے جسے چاہے عطاکرے ۔ ان حالات میں امن وفراوانی ، جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے ایک اسلامی سوسائٹی کے ساتھ کررہا ہے ۔ جو اپنی زندگی سے ربا کو نکال دیتی ہے ۔ یوں وہ گویا کفر اور معصیت کو اپنی زندگی سے نکال پھینکتی ہے ۔ اور اپنی زندگی کو ایمان ، عمل صالح اور اللہ کی بندگی اور نظام زکوٰۃ پر قائم کرتی ہے ۔ غرض ایسے حالات میں امن وفراوانی میں اللہ تعالیٰ اپنی جانب لوگوں کو پکارتے ہیں ۔ جو ایمان لے آئے ہیں اور یہ پکار دراصل آخری وارننگ ہے ۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو نجس اور مفلس سودی اقتصادی نظام سے پاک کردیں اور اگر وہ اس کام کے لئے تیار نہیں ہیں تو یہ گویا ان کی جانب سے اللہ اور رسول ﷺ کے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ بغیر کسی نرمی کے ، بغیر مہلت کے اور بغیر کسی تاخیری حربے کے۔

البقرة 2:278

اس آیت میں ان لوگوں کو جو ایمان لاچکے ہیں ۔ اس بات سے متعلق کردیا گیا ہے کہ وہ اس سود کو چھوڑدیں جو باقی رہ گیا ہے ۔ وہ اس وقت تک صحیح مومن نہیں ہوسکتے جب تک وہ اللہ سے ڈریں گے نہیں اور باقی ماندہ سودی رقم کو ترک نہ کردیں گے وہ صحیح مومن نہیں ہیں اگرچہ وہ اپنے ایمان کا اعلان کرتے پھریں ۔ اس لئے کہ اللہ کے احکام و فرامین کی اطاعت وانقیاد کے بغیر ایمان کے کیا معنی ہیں ۔ آیت انہیں کسی دھوکے میں نہیں رکھتی نہ وہ کسی بھی شخص کو اس شب ہے میں چھوڑتی ہے ، جو ایمان کے اعلان کے پردے میں چھپ کر اپنی حقیقت پر پردہ ڈالتا ہے ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ نہ تو وہ مطیع فرمان ہوتا ہے اور نہ راضی برضائے شریعت ہوتا ہے ۔ وہ اپنی زندگی میں شریعت کو نافذ نہیں کرتا ۔ وہ اپنے معاملات میں شریعت کو حکم نہیں بناتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ دین اسلام میں اعتقادات اور اعمال میں فرق کرتے ہیں وہ صحیح مومن نہیں ہیں ۔ اگرچہ وہ طویل و عریض دعوائے ایمان کریں ۔ زبان سے ایمان کا اعلان کریں ، یہاں تک کہ وہ دوسری عبادات میں پابند صوم وصلوٰۃ کیوں نہ ہوں ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ................ ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے ۔ اسے چھوڑ دو ، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو ۔ “

البقرة 2:279

اسلام نے ان لوگوں کے حق میں وہ سودی منافع چھوڑ دیا جو وہ کھاچکے تھے ۔ یہ فیصلہ نہ کیا کہ کھایا ہوا سود بھی ان سے لوٹایا جائے ۔ نہ اسلام نے ان کی تمام یا کچھ جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم دیا ۔ اس سبب سے کہ ان کے کاروبار میں سود شامل تھا ۔ اس لئے کہ اسلام میں کوئی بات حرام نہیں قرار پاتی جب تک اسے اللہ تعالیٰ حرام قرارنہ دیں ۔ بغیر قانون سازی کے کوئی حکم نہیں دیا جاسکتا ۔ اور قانون کا مزاج یہ ہے کہ وہ اپنے آثار اپنے نفاذ کے بعد ظاہر کرتا ہے ۔ جو گزرچکا سو گزرچکا ۔ گزرے ہوئے معاملات اللہ کے سپرد ہیں ۔ ان پر قانونی احکام کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ اس طرح اسلام نے سوسائٹی کو ایک بڑے دھماکہ خیز اقتصادی اور اجتماعی بحران سے بچالیا ۔ اگر اس قانون کا موثر بماضی قرار دیا جاتا تو ایک بہت بڑا بحران پیدا ہوجاتا ۔ یہ وہ اصول ہے جسے جدید قانونی نظام نے حال ہی میں اپنایا ہے ۔ اس لئے کہ اسلام میں قانون سازی اس لئے کی جاتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان کی واقعی اور زندگی کی اصلاح ہو۔ وہ اسے صحیح راستے پر ڈالے ، اسے گندگیوں سے پاک کرے ، اسے ناجائز بندھنوں سے آزاد کرے تاکہ وہ ترقی کرے اور اس کا معیار بلندہو ، اس کے ساتھ ساتھ اسلام نے اہل ایمان کے ایمان کو اس بات پر موقوف کردیا کہ وہ تب ہی مومن ہوں گے جب وہ اس قانون سازی کو قبول کریں ۔ وہ نازل ہوتے ہی اور علم میں آتے ہی اسے اپنی زندگیوں میں نافذ کردیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام ان کے دلوں میں خوف اللہ اور تقویٰ بھی پیدا کرتا ہے ۔ تقویٰ کا شعور ہی وہ گارنٹی ہے جس کے ذریعہ اسلام اپنے قوانین نافذ کراتا ہے ۔ یہ وہ گارنٹی ہوتی ہے جو خود اہل ایمان کے نفس کے اندر پیدا ہوتی ہے ۔ یہ اندر کا چوکیدار ہوتا ہے اور اسلام میں اس کا درجہ ان گارنٹیوں اور چوکیداروں سے اونچا ہے جو کسی قانون کو روایتی طور پر حاصل ہوتا ہے ۔ اس لئے اسلامی قوانین کو نفاذ کے لئے وہ گارنٹی اور نگرانی حاصل ہوتی ہے جو جدید دور کے وضعی قوانین کو حاصل نہیں ہوتی ، اس لئے کہ یہ قوانین صرف خارجی دباؤ کی وجہ سے نافذ ہوتے ہیں ۔ اور یہ بات پوشیدہ نہیں کہ خارجی نگران کو کس خوبی سے جل دی جاسکتی ہے ۔ ایسے حالات میں جب انسان کے ضمیر کے اندر کوئی چوکیدار نہ بیٹھا ہو یعنی اللہ خوفی اور رضائے الٰہی کا نگران ۔ یہ تو تھی ترغیب اس بات کی کہ ربا کو ترک کردو ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ دھمکی اور ترہیب بھی آتی ہے ۔ اور یہ دھمکی اس قدر شدید ہے کہ اس سے دل دہل جاتے ہیں ۔ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ........ ........ ” اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ “ اللہ کی پناہ ! اور اس کے رسول کی جانب سے اعلان جنگ ! یہ ایسی جنگ ہے ، جو نفس انسانی کو درپیش ہے ۔ خوفناک جنگ ہے ۔ جس کا انجام بالکل سامنے ہے ۔ جس میں بشر کو شکست سے دوچار ہونا ہی ہے ۔ انسان فانی اور ضعیف ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی قوت جابرہ کا کیا مقابلہ کرے گا جو آن واحد میں سب کچھ بھسم کرکے رکھ دے گی ۔ اور اس کا نام ونشان مٹادے گی ۔ ان آیات کے نزول کے بعد ، رسول اکرم ﷺ نے حاکم مکہ کو حکم دیا کہ وہ مکہ کے آل مغیرہ کے ساتھ جنگ کریں ، اس لئے کہ وہ ان آیات کے نزول کے بعد بھی سودی کاروبار سے باز نہ آئے تھے ۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبے میں جاہلیت کے دور کے تمام سودی قرضوں کو ختم کردیا تھا ۔ اور آپ نے فرمایا سب سے پہلے میں اپنے چچا عباس ؓ کے قرضے کو معاف کرتا ہوں ۔ اور یہ بوجھ قرضداروں پر اسلام کے آنے کے بعد ایک عرصہ تک رہا ۔ لیکن جب اسلامی معاشرہ پختہ ہوگیا ۔ اور اس کی بنیادیں مضبوط ہوگئیں اور وقت آگیا کہ علاقے کے اقتصادی نظام کو اصول ربا سے ہٹا کر صحیح اسلامی اصولوں سے استوار کیا جائے تو اسلام نے یہ قدم اٹھایا ۔ اس موقع پر رسول ﷺ نے فرمایا۔ ” جاہلیت کے دور کا تمام سود میرے ان دونوں پاؤں کے نیچے ہے اور سب سے پہلا سودی قرضہ جسے میں موقوف کرتا ہوں وہ عباس کا سود ہے ۔ “ اس کے ساتھ ساتھ آپ لوگوں کو یہ تلقین بھی فرماتے کہ دورجاہلیت میں انہوں نے جو سود وصول کیا اسے واپس کردیں ........ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ جنگ کرے جو سودی اقتصادیات کو جاری رکھنے پر مصر ہیں ۔ اور جو اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں ۔ اگرچہ ایسے لوگ یہ اعلان کریں کہ وہ مسلمان ہیں ۔ حضرت ابوبکر ؓ نے مانعین زکوٰۃ کے خلاف جنگ اسی اصول کے تحت کی تھی حالانکہ وہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ یعنی کلمہ پڑھتے تھے ۔ نماز ادا کرتے تھے ۔ اس لئے جو شخص شریعت کی اطاعت کا انکار کردے اور اسے اپنی زندگی میں نافذ نہ کرے وہ مسلم نہیں رہتا ۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ اللہ اور رسول اللہ کی جانب سے سود خوروں کے خلاف اعلان جنگ توپ وتفنگ کی جنگ سے عام ہے ۔ جو ایک امام وقت کسی قوت کے خلاف کرتا ہے۔ یہ اعلان جنگ ، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر اس معاشرے کے خلاف ہے جو اپنے اقتصادی نظام کی اساس سود پر رکھتاہو ، یہ جنگ ہمہ گیر اور خوفناک جنگ ہے ۔ یہ اعصاب کی جنگ ہے ۔ یہ دلوں کی جنگ ہے ۔ یہ خیر و برکت اور خوشحالی کے خلاف ربا کی جنگ ہے ۔ یہ سودی نظام کی جانب سے انسانیت کی سعادت اور خوشحالی اور اطمینان کے خلاف جنگ ہے ۔ یہ انسان کی کشاکش اور ایک دوسرے کے تعاقب کی جنگ ہے ۔ آخرکار یہ جنگ اقوام اور امم کے درمیان افواج اور اسلحہ کی جنگ ہے ۔ یہ ایک ہمہ گیر اور تباہ کن جنگ ہے اس کرہ ارض پر اس لئے برپا ہوتی ہے کہ یہاں کا نظام اصول ربا پر مبنی ہوجاتا ہے ۔ اور جس کی وجہ سے اس زمین سے خیر و برکت ختم ہوکر رہ جاتی ہے اور خوشحالی ناپید ہوجاتی ہے ۔ یہ تمام جنگیں اور کشمکشیں ان سرمایہ داروں کی جانب سے برپا کی جاتی ہیں جو پوری دنیا کے سرمایہ پر قابض ہوتے ہیں ۔ اور ان جنگوں کے شعلے بھڑکاتے ہیں ۔ کبھی وہ یہ کام براہ راست کرتے ہیں اور کبھی بالواسطہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے دام تزویر میں کارخانوں اور کمپنیوں کو پھانس لیتے ہیں ۔ اس کے بعد اقوام اور حکومتیں ان کے دام میں شکار ہوتی ہیں ۔ اس کے بعد یہ حکومتیں ، اپنے شکار پر جھپٹتی ہیں اور یوں ان کے درمیان جنگ شروع ہوجاتی ہے ۔ کبھی یہ حکومتیں اپنے مفادات اور سرمائے کو بچانے کے لئے دوڑتی ہیں اور اپنی فوجی قوت میدان میں لاتی ہیں اور یوں میدان جنگ کے شعلے بھڑک ہیں ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ عوام الناس ٹیکس اور حکومتی واجبات ادا کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں ۔ عوام میں غربت عام ہوجاتی ہے ۔ محنت کار اور جفاکش لوگ تنگ آکر ایسی تحریکات سے وابستہ ہوجاتے ہیں جن کا مشن تخریب کاری اور تباہی پھیلانا ہوتا ہے ۔ اور یوں کسی بھی علاقے میں عوامی جنگ شروع ہوجاتی ہے ۔ اور اس سودی نظام کے تحت جو کشمکش برپا ہوتی ہے۔ اس کے عام بسہولت برآمدہونے والے نتائج یہ ہوتے ہیں کہ لوگوں کے نفوس خراب ہوجاتے ہیں ۔ اخلاقی تباہی پھیل جاتی ہے ۔ لوگوں میں عیاشی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور انسانیت کا ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ جاتا ہے۔ اور انسان کی روحانی دنیا ایسی تباہی کا شکار ہوتی ہے کہ اس جیسی تباہی انسان کے جسم کو کسی ایٹمی جنگ سے بھی نہیں پہنچ سکتی ۔ یہ جنگ جس کا اعلان سودی کاروبار کرنے والوں کے خلاف کیا گیا ہے ۔ ہر وقت اس کے شعلے بلندہوتے ہیں ۔ آج بھی یہ ہر طرف برپا ہے ۔ گم کردہ راہ انسانیت کا رطب دیا بس اس کی نظر ہورہا ہے ۔ لیکن یہ انسانیت اس کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔ انسانیت یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ دولت کمارہی ہے ۔ وہ ترقی کررہی ہے ۔ وہ بڑی کثرت سے مادی نتائج پیدا کررہی ہے ۔ متنوع مصنوعات تیار ہورہی ہیں ۔ لیکن یہ پیداوارہی اس کے لئے تباہی ہے ۔ یہی پیداوار اگر کسی پاک اور غیر سودی نظام سے ہوتی تو یہ انسانیت کیلئے نیک بختی اور خوشحالی کا سبب ہوتی ۔ لیکن یہ پیداوار سود کے ناپاک اور آلودہ نظام کے نتیجے میں سامنے آتی ہے ۔ اس لئے یہ انسانیت کے لئے ایک ایسا بوجھ ہے جس کے نتیجے میں انسانیت کا دم گھٹ رہا ہے ۔ جبکہ سود خوروں کا علمی گروہ عیش و آرام سے زندگی بسر کررہا ہے ۔ اور اسے اس پوری انسانیت کی مصیبتوں اور رنج والم کا کوئی احساس ہی نہیں ہورہا ہے ۔ اسلام نے پہلی اسلامی جماعت کو اس بات کی دعوت دی اور آج پوری انسانیت کو اس بات کی دعوت دے رہا ہے کہ وہ پاک و صاف ذریعہ آمدن اختیار کریں اور وبائی سودی نظام سے تائب ہوکر راہ راست اختیار کریں وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ................ ” اب بھی توبہ کرلو تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو ۔ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔ “ یہ ایک معصیت سے توبہ ہے ، ایام جاہلیت میں رائج خطاکاری سے رجوع ہے ۔ اور جاہلیت کا تعلق کسی خاص زمانے سے نہیں ہوتا یا کسی خاص نظام ہی پر جاہلیت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جاہلیت کی حقیقت یہ ہے انسان الٰہی نظام زندگی سے منحرف ہوجائے جب بھی یہ انحراف ہو اور جہاں بھی ہو ، وہ جاہلیت ہوگی ۔ ربا ایک ایسی خطاکاری ہے جس کے اثرات انسان کے تصور حیات ، انسان کے اخلاق اور انسان کے شعور پر چھاجاتے ہیں ۔ پھر اس کے اثرات سوسائٹی پر اور سوسائٹی کے اجتماعی تعلقات پر پڑتے ہیں ۔ پوری انسانی زندگی پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اقتصادی نشوونما اور ترقی پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں اگرچہ وہ لوگ جو سودی کاروبار کرنے والوں کے جھانسے میں آچکے ہیں ، یہ سمجھتے ہیں کہ سودی نظام اقتصادیات وہ واحد نظام ہے جو نشوونما اور اقتصادی ترقی کا اہل اور سبب ہے۔ صرف اصل زر کی واپسی کا حق دینا ایک ایسا قاعدہ ہے جس کی رو سے نہ قرض دہندہ کو نقصان ہے اور نہ ہی قرض گیرندہ پر ظلم ہے ۔ رہی یہ بات کہ دولت میں اضافہ کیسے کیا جائے گا تو اس کے وسائل وذرائع علیحدہ ہیں ۔ جو ربا سے پاک وصاف ہیں ۔ اس کا پہلا ذریعہ ایک فرد کی ذاتی جدوجہد ہے ۔ دوسرا ذریعہ بطریقہ مضاربت باہم شراکت اموال ہے ۔ یعنی ایک شخص سرمایہ فراہم کرے اور دوسرا اس کے ساتھ کاروبار کرے اور دونوں فائدے اور نقصان میں شریک ہوں ۔ نیز اقتصادی ترقی ان کمپنیوں کے ذریعہ بھی ممکن ہوگی جو اپنے حصص براہ راست بازار حصص میں فروخت کرتی ہیں ۔ (ماسوائے تاسیسی سندات کے جن کے ذریعہ زیادہ نفع سمیٹ لیا جاتا ہے۔ ) اور حلال اور جائز کاروبار سے منافع حاصل کرتی ہیں ۔ پھر ایسی رقومات سے بھی اقتصادی ترقی ممکن ہوگی جو بغیر منافع کے محض امانت کے طور پر بینکوں میں جمع ہوں گی ۔ اس طرح کہ ایسی رقومات کو بینک ، کمپنیوں ، صنعتوں ، تجارتی اور کاروباری مدات میں براہ راست استعمال کریں یا بالواسطہ ان میں شرکت کریں اور شرط یہ ہو کہ وہ اپنے لئے متعین منافع طے نہ کریں اور بینک اپنا منافع یا خسارہ ایک مقررہ نظام کے تحت ان لوگوں پر تقسیم کریں جو ان کے پاس اپنی امانتیں رکھتے ہیں ۔ اور بینک کو یہ اجازت ہو کہ وہ اپنی کاروباری مصروفیات کے عوض ایک مقرر اور معین منافع اپنے لئے رکھ لے ۔ غرض ان ذرائع اور وسائل کے علاوہ بھی اقتصادی ترقیات کے لئے مزید اور وسائل اور ذرائع بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں ۔ جن کی تفصیلات کا یہ موقع نہیں ہے ۔ اگر کسی قوم کا ایمان مضبوط ہو تو ایسے بیشمار وسائل پیدا کئے جاسکتے ہیں ۔ نیز نیت صاف ہوجائے اور پختہ ارادہ کرلیا جائے کہ ہم نے پاک اور صاف ذرائع سے وسائل رزق و ترقی حاصل کرنے ہیں اور گندہ اور ناپاک ذرائع پر لات مارنی ہے ۔ آخر میں قرآن کریم قرضوں کے بارے میں احکام کی ایک خاص شکل کو بیان کرتا ہے کہ اگر مدیون کے لئے قرضے کی ادائیگی ممکن نہ ہو ، اس کے لئے مشکلات ہوں تو اس کا حل یہ نہیں ہے کہ اس پر بذریعہ ربا قرضے کا اضافہ کردیا جائے ، بلکہ حل یہ ہے کہ اسے اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک اس کے حالات اچھے نہیں ہوجاتے ۔ اور جو شخص زیادہ بھلائی سمیٹنا چاہے اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ سرے سے قرضہ ہی معاف کردے ۔ اسلام کی نظر میں یہی بلند مرتبہ ہے ۔

البقرة 2:280

یہ وہ خوشگوار دادوہش ہے جسے اسلامی نظام انسانیت کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ وہ یہ گھنی چھاؤں ہے جس میں ، خود غرضی ، لالچ ، بخل اور مفاد پرستی کی تپش میں تھکی ماندی انسانیت پناہ لیتی ہے اور سکون کا سانس لیتی ہے ۔ یہ قرضدار کے لئے بھی رحمت ہے اور قرض خواہ کے لئے بھی رحمت ہے ۔ اور اس پورے معاشرہ کے لئے بھی رحمت و شفقت ہے ۔ جس میں یہ دونوں رہتے ہیں ۔ ہمیں یقین ہے دور حاضر کی مادی جاہلیت کے زیر سایہ پلنے والے جدید مفلوک الحال لوگ ہماری یہ باتیں لایعنی تصور کریں گے اور یہ باتیں انہیں نامعقول نظر آئیں گی ۔ ان کے منہ کا بگڑا ہوا ذائقہ ، ان باتوں کے مٹھاس کا احساس ہر گز نہیں کرسکتا ۔ خصوصاً وہ وحشی سود خوارجو اس کرہ ارض کے کونے کونے پر پھیلے ہوئے ہیں ۔ جو اپنے شکار کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں ۔ جو ایسے محتاجوں اور مفلوک الحال لوگوں کی تلاش میں رہتے ہیں جن پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ چکے ہیں ۔ جو روٹی کپڑے اور علاج معالجے کے ضرورت مند ہیں ۔ تاکہ ان کا استحصال کریں ۔ بعض اوقات ان کے پاس اس قدر رقم نہیں ہوتی کہ وہ اپنے مردے دفن کرسکیں اور ان لوگوں کو اس کنجوس اور بخیل دنیا میں کوئی نہیں ملتا ۔ جو ان کے لئے بےلوث معاون ثابت ہو ۔ اس لئے وہ مجبور ہوکر ان وحشی سودخوروں کے جال میں پھنس جاتے ہیں ۔ ان کی حالت ایک ایسے شکار جیسی ہوتی ہے جو خودچل کر دام میں اپنے آپ کو پھنساتا ہے ۔ ضرورتمندی اور مجبوری انہیں دھکیل کر ان سودخوروں کی طرف لے جاتی ہے ۔ بعض اوقات یہ سود خور تو ایسے بیت المالوں کی صورت میں منظم ہوتے ہیں جو سرمایہ فراہم کرتے ہیں اور بعض اوقات بینکوں کی شکل میں کام کرتے ہیں ۔ یہ سب کے سب اسلام کی نظر میں برابر ہیں ۔ ہاں فرق صرف اس قدر ہے کہ ان کی پشت پر سود کی اقتصادی نظریات کی قوت ہوتی ہے ۔ بڑی بڑی علمی کتابیں ان کے اس کاروبار کی تائید میں ہوتی ہیں ۔ بڑے بڑے تعلیمی ادارے اور انسٹی ٹیوٹ ان کی حمایت میں لگے ہوتے ہیں ۔ عدالتیں اور بڑی بڑی فوجیں اس نظام کی مؤید ہوتی ہیں ۔ یہ تمام ادارے جرم سود خوری کے لئے جواز فراہم کرتے ہیں ، ان کے حامی ان کو تحفظ دینے کے لئے ایک وسیع قانونی نظام اور ضابطے کا کررہے ہوتے ہیں اور مددگار ہوتے ہیں ۔ اور جو لوگ انہیں سود ادا نہیں کرتے ۔ اس قانونی نظام کے ذریعہ وہ ان کی پکڑ دھکڑ شروع کردیتے ہیں ۔ اور یہ سب داروگیر نصاف کے نام پر ہوتی ہے ۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ہماری یہ باتیں ہرگز ایسے لوگوں کے دلوں میں نہیں اترتیں ۔ لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ حق ہے اور ہمیں بھی یہ یقین ہے کہ تمام انسانیت کی فلاح اسی میں ہے کہ وہ ان باتوں پر کان دھرے ، اور ان پر عمل کرے یعنی وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ................ ” تمہارا قرضدار اگر تنگ دست ہو تو ہاتھ کھلنے تک اسے مہلت دو ، اور جو صدقہ کرو تمہارے لئے یہ بہتر ہے ۔ اگر سمجھو۔ “ اسلامی نظام زندگی میں ضابطہ یہ ہے کہ تنگ دست کا تعاقب نہ کیا جائے ۔ نہ تو قرض خواہ یہ کرے گا اور نہ ہی قانون اور عدالتوں کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ تنگ دست مقروض کا تعاقب کریں ۔ بلکہ اسے اس وقت تک مہلت دی جائے گی جب تک اس کے حالات اچھے نہیں ہوجاتے ۔ پھر اسلامی سوسائٹی مقروض کو اپنے حال پر نہیں چھوڑتی ۔ پہلے تو قرض خواہ سے یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اسے معاف کردے ۔ اگر وہ ایسا کرسکے ۔ وہ خود اس کے لئے بھی بہتر ہے اور مدیوں کے لئے بھی خیر ہے۔ یہ اس سوسائٹی کے لئے بھی بہتر ہے جو اپنے افراد کے لئے تکافل فراہم کرتی ہے ۔ بشرطیکہ داین ومدیون دونوں اس بات کو سمجھیں کہ اللہ کے علم میں جو کچھ ہے وہ ان کے لئے مفید ہے ۔ اگر قرض خواہ کو یہ اجازت دیدی جائے کہ وہ مدیون پر عرصہ حیات تنگ کردے اور اس کا تعاقب کرے تو اس صورت میں تحریم ربا سے جو فوائد مطلوب تھے ، وہ سب فوت ہوجائیں گے ۔ اس لئے کہ مدیون تنگ دست ہے اس کے پاس کچھ نہیں ۔ دوسری جانب سے قرض خواہ ازروئے قانون اسے تنگ کرنے کا مجاز ہے ۔ چناچہ یہاں شرط و جواب شرط کی شکل میں یہ حکم دیا گیا کہ اگر تنگ دست ہے تو اسے اس وقت تک مہلت دی جائے جب تک اس کے مالی حالات اچھے نہیں ہوجاتے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ تنگدستی کی صورت میں قرض خواہ کو یہ ترغیب دی جاتی ہے کہ اگر وہ ایسی صورت میں کچھ معاف کردے یا سب کچھ معاف کردے تو اس کے لئے یہ بہت اچھا ہے ۔ مہلت کے علاوہ قرآن کریم نے دوسری جگہ ایسے نادار قرض داروں کے لئے زکوٰۃ فنڈ سے بھی ایک مد فراہم کی ہے ، تاکہ وہ اپنا قرضہ ادا کرسکے ۔ اور اس کی زندگی کا بوجھ اترجائے۔ اِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلفُقرَآءِ وَالمَسَاکِینِ........ وَالغَارِمِینَ................” بیشک صدقات کے حق دار فقراء مساکین ،........ اور قرضدار ہیں ۔ “ الغارمین سے مراد وہ قرضدار ہیں جو قرضوں کے بوجھ تلے دب گئے ہوں ۔ وہ نہیں جنہوں نے قرضے لے کر عیاشی اور لذت پرستی کی ہو ۔ بلکہ انہوں نے جائز مدات میں اخراجات کئے ہوں یا وہ معقول وجوہ کی بنا پر قرضدار ہوگئے ہوں ۔ اور ان کے حالات خراب ہوگئے ہوں۔ اب آخر میں قرآن کریم ۔ خاتمہ کلام پر ، ایک نہایت موثر اور گہرا اشارہ دیتا ہے جس سے ایک مومن پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے ۔ وہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ کاش وہ سب ہی قرضہ معاف کردے ۔ اور قیامت کے دن اللہ کے ہاں فلاح پالے ۔

البقرة 2:281

یہ وہ دن ہوگا ، جس میں سب اللہ کی طرف لوٹیں گے اور ہر شخص کو اس کی کمائی پوری پوری دی جائے گی ۔ وہ دن بڑا مشکل ہوگا۔ اس دن کی بابت دل مسلم میں بڑا خوف پایا جاتا ہے ۔ مومن کے ضمیر کی گہرائیوں میں شاید قیامت کا نقشہ اور اس کی ہولناکیاں موجود ہوتی ہیں ۔ اس لئے کہ باری تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونے کا تصور ہی اس قدر خوفناک ہوتا ہے کہ اس سے انسان کا پورا وجود کانپ اٹھتا ہے ۔ یہ خاتمہ کلام ایسا ہے جو مذکورہ معاملات کی فضا کے ساتھ متناسق ہے ۔ یہ فضا لینے اور دینے کی فضا ہے ۔ کسب اور جزاء کی فضا ہے ۔ اس فضا میں انسان کی پوری زندگی کا تصفیہ ہورہا ہے ۔ انسان کی پوری زندگی کے فیصلے کی فضا ہے ۔ اس فضا سے دل مومن خائف ہوتا ہے اور اپنے آپ کو اس کی ہولناکیوں سے بچاتا ہے ۔ تقویٰ اور خدا خوفی وہ چوکیدار ہے جو انسانی ضمیر کی گہرائیوں میں بیٹھا ہوتا ہے ۔ اسلام ہر مومن کے دل کی گہرائیوں میں یہ چوکیدار بٹھا دیتا ہے۔ تاکہ دل مومن کے فرار کی کوئی راہ ہی نہ رہے ۔ یہ ہے اسلامی نظام جو ایک مضبوط اور قوی نظام ہے ۔ یہ ایک سنجیدہ اور زندگی سے بھرپور نظام زندگی ہے اور ایسا نظام ہے جو اس کرہ ارض پر عملاً چلنے کے قابل ہے ۔ انسانیت کے لئے یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ورأفت ہے ۔ یہ انسانیت کے لئے ایک اعزا ہے ۔ یہ ایک ایسی بھلائی ہے جس سے انسانیت کو دور رکھا جارہا ہے ۔ اور اللہ کے دشمن اور انسانیت کے دشمن انسانوں کو اس کی طرف آنے سے روکتے ہیں۔

البقرة 2:282

درس 21 ایک نظر میں درس سابق کا موضوع سودخوری اور صدقہ تھا ، اس درس میں اسی موضوع کے تکمیلی احکام بابت قرضہ جات ، تجارت وغیرہ کا ذکر ہے ۔ درس سابق میں سودی کاروبار کو ممنوع قرار دیا گیا ۔ اسی طرح وہاں سودی قرضہ جات اور سودی نظام تجارت اور بیع وشراء کو ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ قرض حسن ، جس میں ربا کا کوئی شبہ نہ ہو ، جس پر کوئی سودی منافع عائد نہ ہو ، کی بات ہورہی ہے ۔ ان تجارتی امور پر بحث ہورہی ہے جو دستی طور پر طے ہوتے ہیں اور جن میں کسی قسم کے سودی نفع کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ اس درس پر ایک نظر ڈال کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم قانون سازی کے لئے جو انداز تعبیر اختیار کرتا ہے وہ حیران کن انداز ہے ۔ قانون مدعی کو اس باریک بینی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ اس میں کسی لفظ کو بدل کر دوسرا لفظ اس کی جگہ نہیں رکھا جاسکتا ۔ کوئی فقرہ نہ بدلاجاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے ۔ اس خالص قانونی انداز تعبیر کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی خوبصورت ادیبانہ طرز ادا اور الفاظ کی خوشگواری اور مٹھاس اور روانی میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ قانونی مدعا دینی وجدان کے رنگ میں بیان ہوتا ہتے ۔ جو بہت ہی لطیف انداز میں اور نہایت ہی اثر آفرینی کے ساتھ اور بہترین طرز کے ساتھ جبکہ اس آیت کے ربط میں بھی کوئی خلل نہیں آتا ۔ اور مکمل قانونی مدعا بھی بیان ہوجاتا ہے ۔ اس میں معاہدہ کرنے والے فریقین کے درمیان جو جو احتمالات ہوسکتے ہیں ، جو جو موقف بھی ہوسکتا ہے ، لکھنے والوں کی ذمہ داری ، گواہوں کی ذمہ داری وغیرہ سب امور کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ غلط طور پر اثر انداز ہونے والے تمام عوامل کی نفی کردی گئی ہے ۔ اور ہر ممکن صورت کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں ۔ بیان مدعا میں ایک قانونی نکتے سے دوسرے قانونی نکتے کی طرف منتقل ہونے سے پہلے اسے مکمل طور پر بیان کردیا جاتا ہے۔ جسے دوبارہ نہیں دہرایا جاتا ۔ الایہ کہ اسکے اور جدید نکتے کے درمیان کوئی خاص تعلق ہو ۔ اس صورت میں پہلے بیان کردہ قانونی نکتے کے ساتھ اسے جوڑ دیا جاتا ہے اور اشارہ کردیا جاتا ہے۔ قرآن کریم جس طرح اپنی قانون سازی کے لئے انتخاب الفاظ وفقرات میں اعجاز رکھتا ہے ، اسی طرح وہ انسان کی ہدایت اور راہنمائی کے سلسلے میں نازل ہونے والی آیات میں بھی صاحب اعجاز ہے ۔ بلکہ قانونی عبارات میں اس کا اعجاز عام آیات سے بھی زیادہ واضح اور حیران کن ہے ۔ یہاں کوئی بھی قانونی مدعا اور اصول ایسے لطیف اور ٹیکنیکل پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے کہ کسی ایک لفظ کو بھی کسی دوسرے لفظ سے بدل کر وہ مدعا حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ کسی لفظ کی جگہ کوئی دوسرا لفظ نہیں لے سکتا ۔ اگر قرآن مجید معجزہ نہ ہوتاتو خالص قانونی تعبیرات میں ، اس طرز ادا کے ساتھ ، کالص ادبی اور فنی پیرایہ اظہار میں کلام نہ کیا جاسکتا ، جس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔ ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے ۔ دیوانی ، شہری ، اقتصادی اور تجارتی معاملات میں دور جدید سے بھی تقریباً ایک ہزار سال پہلے قرآن کریم نے یہ قانون سازی کی ہے ۔ جسے تمام جدید ماہرین قانون تسلیم کرتے ہیں اور فقہاء اور محدثین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ قرآن کریم اس معاملے میں سرخیل ہے ۔ یہ ایک عام قانون ہے اس آیت میں طے کیا گیا ہے ۔ اس آیت کی رو سے کسی معاہدے کا لکھنا نہایت ہی ضروری ہے ۔ اور اگر کسی قرضے کا معاملہ ہو اور اس قرضے کے سلسلے میں کوئی معیاد مقرر ہو تو اس صورت میں اس کا تحریر میں آنا فرض ہے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ تحریر میں نہ لائے ۔ اور اس کی حکمت بھی اس آیت کے آخر میں بیان کردی گئی ہے ۔ یہاں اس شخص کو بھی متعین کردیا گیا جو ان قرضہ جات کے سلسلے میں دستاویز تیار کرے گا۔ مثلا عرضی نویس ، یہ ایک تیسرا شخص ہوگا ۔ فریقین میں سے کوئی نہ ہوگا۔ کسی معاملے میں فریقین معاہدہ کے علاوہ تیسرے شخص کو بلانا ، محض زیادہ احتیاط کے لئے ہے تاکہ کوئی شک نہ رہے ۔ پھر کاتب کو بھی یہ حکم دیا گیا کہ وہ عدل و انصاف کے ساتھ لکھے گا ۔ فریقین میں سے کسی کی طرفداری نہ کرے گا۔ عبارت میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کرے گا۔ اس لئے کہ لکھنے کا حکم اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے یعنی کاتب کو بھی اللہ کی جانب سے حکم دیا جارہا ہے ۔ تاکہ وہ پیچھے نہ ہٹے ۔ لکھنے سے انکار نہ کرے اور لکھنے کا یہ کام اس کے لئے ایک بوجھ نہ ہو ۔ یہ تو اب اللہ تعالیٰ کی جانب سے منصوص فریضہ ہے ۔ اور ازروئے قانون یہ لکھنے والی کی ڈیوٹی ہے ۔ اور اس کا معاوضہ بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے ۔ لکھنے کا عمل اس کی جانب سے اللہ تعالیٰ کے ہاں شکر نعمت ہے ۔ اللہ ہی ہے جس نے اپنا فضل کرکے اسے لکھنے کا فن سکھایا ۔ اس لئے اسے معاہدات کو تحریر میں لانا چاہئے کیونکہ اللہ ہی نے اسے یہ علم دیا ہے۔ یہاں تک شارع نے معیادی قرضے کو تحریر میں لانے کی قانونی دفعہ کو ختم کردیا۔ یہ بھی متعین کردیا گیا کہ لکھنے کی ڈیوٹی کون سر انجام دے گا ۔ اس پر یہ فریضہ عائد کردیا گیا کہ وہ لکھے ، اسی اثناء میں کاتب کو یہ بھی یاددلایا گیا کہ وہ اس ضمن میں اللہ کی اس نعمت کا شکر ادا کرے ۔ اشارہ اس طرف ہے کہ صاحب فن ہونے کی وجہ سے اس کا فرض ہے کہ وہ لکھنے میں عدل و انصاف کے دامن کو تھامے رکھے۔ اس پہلہ دفعہ کی تکمیل کے بعد اب دوسری دفعہ کیفیت تحریر کے بارے میں ہے ۔ مدیون ، جس پر حق آرہا ہو ، وہ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ دستاویز املاء کرائے ۔ قرضے کا اعتراف کرے ۔ قرضے کی مقدار لکھوائے ۔ اس کی شرائط طے کرے اور نوٹ کرائے اور اس کی میعاد لکھوائے ۔ یہ اس لئے کہ مدیوں کے ساتھ تحریر وستاویز میں کوئی زیادتی نہ ہوجائے ۔ کیونکہ اگر قرض فراہم کرنے والا دستاویز طے کرائے تو وہ شرائط یاقرضے میں اضافہ کرسکتا ہے ۔ میعاد میں کمی بیشی کرسکتا ہے ۔ یا اپنی مصلحت ومفاد کے لئے کچھ شرائط اس میں لکھ سکتا ہے ۔ اس لئے قرض لینے والا کمزور پوزیشن میں ہوتا ہے ۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ، دائن کی املاء کی اس مخالفت کرنے کی جراءت نہ کرسکے ۔ اس لئے کہ وہ سودا ہر صورت میں کرنا چاہتا ہے اور اسے سخت ضرورت ہے اور اس صورت میں دائن املاء کرکے اس کے ساتھ زیادتی کرے ۔ لیکن خود اگر مدیون دستاویز لکھوا رہا ہو تو وہ اپنی بات لکھوائے گا ، جو اس نے بطیب نفس قبول کی ہو ۔ ایسی صورت میں اس کا اقرار زیادہ قوی اور مضبوط ہوگا ۔ کیونکہ اس نے خود تحریر کو املاء کیا ہوتا ہے ۔ لیکن ساتھ ساتھ مدیوں کے ضمیر کو بھی بیدار کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ خوفی کو پیش نظر رکھے ۔ اور اس کے ذمے جو قرض ہے ۔ اس میں سے کسی چیز کو بھی کم نہ کرے ۔ اور نہ ہی اس دستاویز کی ضروری شرائط میں سے کسی ایک کو ترک کرے ۔ اگر مدیون نادان ہو ، اپنے معاملات کو اچھی طرح طے نہ کرسکتا ہو ، یا وہ ضعیف ہو یعنی عمر میں کم ہو یا ضعیف العقل ہو ، یا کسی اور عذر کی وجہ سے وہ املا نہ کرسکتا ہو یعنی ان پڑھ ہے ، جاہل ہے ۔ یا اس کی زبان میں کوئی لکنت وغیرہ ہے ۔ یا کوئی محسوس یا معقول سب ہو ، تو اس صورت میں اس کا ولی الامر یہ کام کرے اور اس ولی الامر کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ بھی فریقین کے ساتھ انصاف اور عدل سے معاملہ کرے ۔ یہاں عدل کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ بعض اوقات ولی الامر بھی لاپرواہی کرسکتا ہے ۔ اس لئے کہ قرضے کا تعلق اس کی ذات سے نہیں ہے تاکہ وہ اس تحریر میں تمام مفادات اور گارنٹیوں کو ضابطہ بند کردے ۔ اور یہ معاہدہ صحیح طور پر طے ہوجائے۔ یہاں آکر تحریری معاہدہ کے سلسلے میں بات ختم ہوجاتی ہے اور تحریر معاہدہ بابت قرضہ جات کے تمام پہلوؤں پر بحث مکمل ہوجاتی ہے ۔ اور اب معاہدے کے دوسرے ضروری جزء پر بات ہوتی ہے ۔ یعنی گواہان دستاویزات (Margucl Witnessess) ہر معاہدے ہر دوگواہوں کی شہادت ضروری ہے ۔ اور وہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں جن کی گواہی مقبول ہو ۔ ترضون کے دومفہوم ہیں ۔ ایک یہ کہ گواہ عادل ہوں اور امت میں ان کی شہادت کو قبولیت حاصل ہو۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ ان کی شہادت پر معاہدے کے ہر دو فریق راضی ہو۔ لیکن بعض اوقات ایسے حالات ہوتے ہیں کہ شہادت میسر نہیں ہوتی اس لئے یہاں قانون میں یہ سہولت رکھ دی گئی ہے کہ اگر مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بن سکتی ہیں ۔ گواہی کا کام مردوں کے سپرد اس لئے کیا گیا ہے کہ ایک صحت مند اسلامی معاشرہ میں عموماً مرد ہی یہ کام کرتے ہیں ۔ کیونکہ اسلامی معاشرہ میں بالعموم ، عورت کو اپنی ضرریات زندگی کے لئے جدوجہد نہیں کرنی پڑتی ۔ وہ بحیثیت ماں اور بحیثیت صنف نازک اپنے فرائض سر انجام دیتی ہے ۔ اور اس کا سب سے بڑا فریضہ یہ ہے کہ وہ انسانیت کے سب سے بڑے سرمایہ یعنی بچوں کی پرورش اور تربیت کا کام کرے جو مستقبل کے نمائندے ہوتے ہیں اور ان بچوں کی قدروقیمت ان چند لقموں اور چند ٹکوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔ جو کوئی عورت اپنے عمل سے کماسکتی ہے ۔ جب کہ آج کے بےراہ اور محروم معاشرہ میں عورت کو مجبوراً اپنے ان فرائض کے ساتھ یہ کام بھی کرنا پڑتا ہے ، تو ایسے حالات میں اگر دو مرد گواہ نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بن جائیں ۔ سوال یہ ہے کہ ایک مرد کے مقابلے میں عورتیں دو کیوں رکھی گئی ہیں ؟ قرآن کریم نے اس بات کو مجمل نہیں چھوڑا ہے ۔ اس لئے کہ قانون سازی کے میدان میں ہر عبارت واضح ، متعین اور قانون سازی کے اصل سبب پر مشتمل ہونا چاہئے۔ أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الأخْرَى................ ” تاکہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے۔ “ سوال یہ ہے کہ عورت بھولتی کیوں ہے ؟ اس کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں کبھی یہ سبب ہوسکتا ہے کہ عورتوں کو عموماً معاہدات کے میدان میں زیادہ تجربہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ کسی معاہدے کے حالات اور شرائط پوری طرح اس کے ذہن میں نہ بیٹھے ہوں ۔ اور وہ مقدمہ بازی کے وقت ان کے بارے بالکل اچھی طرح شہادت نہ دے سکتی ہو ۔ اس لئے سہولت کے لئے دوسری عورت کو ساتھ رکھا گیا تاکہ شہادت کے وقت وہ اسے اصل بات یاد دلادے ۔ اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور موضوع متازعہ کے اصل حالات کو ذہن میں لاسکیں ۔ کبھی اس بھول سبب یہ ہوتا ہے کہ عورت بہت زیادہ منفعل مزاج ہوتی ہے ۔ عورت کی مامتا اور اس کی جسمانی اور عضویاتی اور طبیعاتی وظائف کا بھی یہ اہم تقاضا ہے کہ عورت منفعل ہو ۔ جلد لبیک کہنے والی ہو تاکہ وہ بچے کی نشوونما کے سلسلے میں اپنے طبیعی فرائض اچھی طرح سر انجام دے سکے ۔ یہ فرائض ایسے ہیں جو کسی بھی عورت کی شخصیت سے جدا نہیں کئے جاسکتے ۔ عورت پر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا کرم ہے اور اسی طرح پیدا ہونے والے بچے پر بھی اللہ کی رحمت ہے ۔ اس لئے عورت کا یہ مزاج کسی بھی وقت اس کی شخصیت سے جدا نہیں ہوسکتا ۔ اس کی اپنی شخصیت ہے اور اپنا مزاج ہے بشرطیکہ عورت صحت مند ہو اور اس کی شخصیت کو بگاڑ نہ دیا گیا ہو ۔ جبکہ معاہدات جیسے پیچیدہ معاملات اور ان معاملات میں شہادت دینا ایک ایسا فریضہ ہے ۔ جس میں کسی شخص کا اپنے موقف پر جمارہنے اور کسی بات سے متاثر نہ ہونا ایک ضروری امر ہے اور یہ بھی ضروری ہے کہ گواہ ایک حقیقت سے اچھی طرح واقف ہو اور ثابت قدم ہو ۔ ایسے مواقع پر دو عورتوں کا بیک وقت شہادت دینا اس بات کی ضمانت ہے کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلائے ۔ جبکہ وہ بھول اور فطری انفعال کی وجہ سے غلط ہورہی ہو ۔ اس طرح یاد دہانی کے بعد وہ اصلی واقعہ کی طرف لوٹ آئے گی ۔ آغاز آیت میں جس طرح لکھنے والوں کو یہ کہا گیا تھا کہ وہ لکھنے سے انکار نہ کریں ۔ اب گواہوں سے بھی کہا جاتا ہے کہ جب انہیں شہادت کے لئے بلایاجائے تو وہ شہادت حق دینے سے انکار نہ کریں ۔ گویا شہادت دینا ایک فریضہ ہے ، محض نفل اور غیرلازم کام نہیں ہے ۔ اس لئے کہ احقاق حق اور قیام عدل کا اہم ذریعہ شہادت حق ہے ۔ چونکہ یہہ فریضہ اللہ تعالیٰ نے عائد کیا ہے اس لئے اسلامی نظام عدل میں گواہ اپنی دلی رضا ، شعوری آمادی کے ساتھ شہادت دینے کے لئے آئیں گے اور وہ بغیر کسی نقصان دہی یا ہچکچاہٹ کے شہادت کے لئے آئیں گے ۔ اسی طرح وہ فریقین مقدمہ میں سے کسی پر کوئی احسان بھی نہ کررہے ہوں گے ۔ چاہے وہ ایک فریق کی طرف سے بلائے گئے ہوں یا دونوں کی طرف سے بلائے گئے ہوں۔ یہاں شہادت کی بات ختم ہوجاتی ہے ۔ اس لئے شارع اب ایک دوسرے اہم معاملے کے سلسلے میں ہدایات دیتے ہیں ۔ یہ ایک عام ہدایت ہے ۔ اس میں تحریر کی تاکید کی گئی ہے ۔ معاملہ چھوٹا ہو بڑا ہو ۔ بعض اوقات ایک انسان یہ بات سوچ کر کہ قرضہ تھوڑا ہے یا معاملے کی اتنی اہمیت زیادہ نہیں ہے ۔ وہ لکھنے میں سستی کرتا ہے ۔ یا بعض اوقات بعض دوسرے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ انسان لکھنے میں کوتاہی کرلیتا ہے ۔ مثلاً شرم وحیاء ، سستی اور تن آسانی ، لاپرواہی اور عدم مبالات وغیرہ ۔ چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ وجدانی اور عملی وجوہات کی بناپر لکھنے اور تحریر میں لانے کو ضروری قرار دیتے ہیں ۔ ” تساہل نہ کرو “ جب نفس انسانی یہ محسوس کرتا ہے کسی کام کی مشقت اس کی قدر و قیمت سے زیادہ ہے تو اس وقت نفس انسانی متاثر ہوکر وہ کام کرنے سے کتراتا ہے اور قرآن کریم اس حقیقت سے اچھی طرح باخبر ہے ۔” یہ طریقہ تمہارے لئے زیادہ مبنی برانصاف ہے ۔ “ اس لئے کہ کسی معاملے میں زبانی شہادت کے مقابلے میں دستاویزی شہادت کی اساس پر زیادہ سہولت کے ساتھ انصاف کیا جاسکتا ہے ۔ کیونکہ زبانی شہادت کا دارومدار صرف حافظہ پر ہوتا ہے ۔ اسی طرح دومردوں یا دو عورتوں کی شہادت بمقابلہ ایک مرد یا ایک عورت کے زیادہ قوی ہے ۔ اور شکوک و شبہات میں مبتلاہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے ۔ اس صورت میں شک کی گنجائش کم سے کم ہوجاتی ہے ۔ یعنی معاہدہ کے اندر مشمولہ بیانات میں شک نہ رہے ۔ یا تمہارے نفوس کے اندر شک نہ رہے یا دوسرے لوگوں کے اندر شک نہ رہے ۔ یہاں شک کو عام رکھا گیا ہے ۔ یعنی کسی پہلو میں بھی شک نہ رہے ۔ یوں ان اقدامات کی حکمت آشکارا ہوجاتی ہے ۔ اور معاملہ کرنے والے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے جو قانون سازی فرمائی ہے وہ نہایت ہی حکیمانہ ہے اور اس کے مقاصد بہت ہی گہرے ہیں اور نہایت ہی عملی ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ معاملات کے اندر صحت ، یقین ، اطمینان اور اعتبار قائم ہو۔ یہ احکام اس قرض کے بارے میں ہیں ، جو معیادی قرض ہو ، رہی وہ تجارت جو ہم روز مرہ کے معمولات کے مطابق کرتے ہیں ، تو روزمرہ کے معاملات میں یہ حکم نہیں ہے کہ انہیں لازماً ضابطہ تحریر میں لایاجائے ۔ اس میں گواہوں کی شہادت ہی کافی ہے ۔ اس لئے کہ ہر کام میں معاہدے اور تحریر کے لازم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تجارتی اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی ۔ اس لئے کہ روزمرہ کی تجارتی سرگرمیاں بڑی تیزی سے اور مختصر وقت صرف کرکے کی جاتی ہیں ۔ اسلام قانون سازی انسانی زندگی کی بہتری کے لئے کرتا ہے۔ وہ انسانی زندگی کے تمام حالات کے پیش نظر رکھ کر قانون بناتا ہے ۔ وہ ایک عملی نظام قانون ہے ، جس میں کوئی پیچیدگی نہیں ہے ۔ نہ اس قانون کی وجہ سے زندگی کی پرسکون رفتار میں کمی آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ بظاہر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عام معاملات تحریر نہ کرنا رخصت ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ کتابت واجب ہے ۔ اور لازمی ہے ۔ بعض روایات میں یہ بھی ذکر ہے کہ ہر معاملے کی کتابت مستحسن ہے ۔ لازمی نہیں ہے ۔ لیکن راحج بات یہ ہے کہ کتابت معاملات لازمی ہے ۔ یہاں تک تو قانون سازی تھی اس قرضے کی بابت جس کی میعاد متعین ہو ، یا وہ تجارت جس کا تعلق روز مرہ لین دین سے ہو ، اور دونوں میں کتابت اور شہادت کو ضروری قراردیا گیا ہو ، لازماً یا بطور استحباب یہاں سے آگے اب کاتبوں اور گواہوں کے حقوق کا تعین کیا جاتا ہے۔ نیز ان کے فرائض کا بھی تعین کردیا جاتا ہے ۔ ان پر پہلا فریضہ یہ عائد ہوتا کہ سچائی اور لوگوں کے حقوق میں توازن پیدا ہو اور یہ لوگ بسہولت اپنے سوشل فرائض سر انجام دے سکیں ۔ بلاخوف وخطر ........ فرماتے ہیں۔ کسی لکھنے والے یا کسی گواہی دینے والے کو کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہئے ۔ محض اس وجہ سے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ، اس پر عائد کردہ فریضہ ادا کررہا ہے ۔ اگر تم ایسا کروگے تو یہ تمہاری جانب سے اللہ کے قانون کے خلاف بغاوت ہوگی اور اسلامی طریقہ حیات کی مخالفت ہوگی ۔ لہٰذا اسلامی ریاست کو چاہئے کہ وہ یہ تحفظ لازماً فراہم کرے ۔ کیونکہ کاتبین اور شاہد اکثر اوقات مقدمہ کے فریقین میں سے کسی ایک کے غیض وغضب کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے انہیں ایسے تحفظات اور ایسی ضمانتیں حاصل ہونی چاہئیں جن کی وجہ سے وہ مطمئن ہو کر اپنا فرض ادا کرسکیں ۔ بلکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو کہ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں سے اچھی طرح عہدہ برآ ہوسکیں اور شرح صدر کے ساتھ اپنے فرائض سر انجام دے سکیں چاہے حالات کیسے ہی ہوں ۔ قرآن کریم کی یہ عادت ہے کہ وہ ہر وقت انسان کے ضمیر کا جگاتا رہے ، انسان کے دل میں یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار شخصیت ہے ۔ تاکہ اطاعت قانون کا جذبہ خود نفس انسانی کے اندر سے پیدا ہو ، اسلام صرف دفعات قانون کے دباؤ پر اکتفاء نہیں کرتا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن اہل ایمان کو خدا خوفی کی دعوت دیتا ہے ۔ اور یہ بات تقریباً ہر مضمون کے خاتمہ پر کی جاتی ہے ۔ قرآن کریم اہل ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ یہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے تم پر اپنا فضل وکرم کیا ۔ وہی ہے جو تمہیں تعلیم دیتا ہے ۔ اور تمہاری راہ نمائی کرتا ہے ۔ اللہ خوفی سے ان کے دلوں کے دروازے معرفت الٰہیہ کے لئے کھل جاتے ہیں۔ ان کی روح علم حاصل کرنے کے لئے متوجہ ہوتی ہے ۔ اور یہ سب کچھ محض اس لئے ہے کہ وہ اللہ کے اس کے فضل وکرم کا شکرانہ ادا کرتے ہوئے اس کی اطاعت کریں ۔ اس سے راضی ہوں ، اور اس کی ذات پر مکمل بھروسہ کریں۔ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ” اللہ کے غضب سے بچو ، وہ تم کو صحیح طریق عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ “ اس کے بعد شارع قرضے کے احکام کی تکمیلی دفعات بیان کرتا ہے ۔ یہ احکام ذرا مؤخر اس لئے بیان کئے گئے ہیں کہ ان کا تعلق عام حالات سے نہیں ہے ۔ بلکہ بعض خاص حالات سے ان کا تعلق ہے ۔ مثلاً فریقین معاہدہ اگر سفر میں ہوں اور انہیں ایسا شخص نہ مل رہا ہو جو تحریر تیار کرے تو اللہ تعالیٰ نے بغیر تحریر کے زبانی معاہدہ کرنے کی بھی اجازت دے دی بشرطیکہ قبضہ موقعہ پر ہی دے دیا گیا ہو یعنی اس چیز کا قبضہ جو مقروض نے قرض خواہ کو بطور گارنٹی دینا ہو ۔ فرماتے ہیں۔

البقرة 2:283

لیکن اس ظاہری ضمانت کے ساتھ شارع اہل ایمان کے ضمیر کے اندر اللہ خوفی کا جذبہ پیدا کرکے انہیں آمادہ کرتا ہے کہ وہ امانت دار بنیں ، اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، اس لئے کہ ظاہری ضمانت کے مقابلے میں اللہ خوفی وہ آخری ضمانت ہے جو کسی معاملے میں کارگر ثابت ہوسکتی ہے ۔ اور جس کی اساس پر کسی قانون پر صحیح طرح عمل کیا جاسکتا ہے۔ اور جس کی وجہ سے کسی حق دار تک اس کا حق اچھی طرح پہنچ سکتا ہے ۔ اور سب کے حقوق محفوظ ہوسکتے ہیں۔ مدیون پر بھروسہ کیا جاتا ہے کہ وہ قرضہ پوری طرح ادا کرے گا اور مقروض پر یہ اعتماد کیا گیا ہے کہ وہ مرہون چیز کو اپنی اصلی حالت میں واپس کرے گا ۔ دونوں کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ خدا خوفی کا رویہ اختیار کرکے اپنے اپنے فرائض سر انجام دیں ۔ اس لئے کہ اللہ ہی ہے جو ان دونوں کا رب ہے ۔ وہی دونوں کا نگہبان ، مربی ، سربراہ ، حکم اور قاضی ہے ۔ یہ تمام تصورات ، معاملات اور فرائض وذمہ داریوں کی ادائیگی کے معاملے میں بڑی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ بعض مفسرین نے یہ کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اس نے امانتداری کے معاملے میں آیت کتابت کو مسنوخ کردیا ہے ۔ لیکن یہ رائے درست نہیں ہے ۔ اس لئے کہ صرف حالت سفر میں معاملات کے اندر تحریر نہ کرنے کی رخصت ہے اور یہ امانت داری اور قرض مکفول کا تعلق بھی سفر کی حالت سے ہے اور سفر میں قرض خواہ اور قرض دار دونوں ہی ایک دوسرے پر بھروسہ کرکے معاملہ کرتے ہیں ۔ غرض تقویٰ و طہارت پر ابھارتے ہوئے یہاں شہادت کے سلسلے میں بات اختتام تک پہنچتی ہے ۔ اور یہاں شہادت سے مراد وہ شہادت نہیں ہے جو بوقت کتابت کسی تحریر پر ڈالی جاتی ہے بلکہ اس سے مراد ہو شہادت ہے جو عدالت میں دی جاتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ شہادت گواہ کے پاس ایک قسم کی امانت ہوتی ہے ۔ یہاں بات کی نسبت قلب مومن کی طرف کی جاتی ہے ۔ اور گناہ کا استناد قلب مؤمن کی طرف کیا جاتا ہے ۔ یوں شہادت کا چھپانا دراصل اپنے ضمیر میں گناہ کا چھپانا ہے ۔ دونوں باتوں کا تعلق دل و دماغ کی گہرائیوں سے ہے۔ چناچہ خاتمہ کلام ایک دہمکی آمیز فقرے سے کیا جاتا ہے۔ جس میں یہ توجہ دلائی جاتی ہے کہ اور وہ اپنے علم کے مطابق پوشیدہ قلبی اعمال پر بھی جزاء وسزادے گا۔ “ انہی ہدایات کی مزید تاکید اگلی آیت میں بھی جاری ہے ۔ مالک ارض وسماوات کے خوف پر دلوں کو ابھارا جاتا ہے ۔ جو اس کائنات کی تمام چیزوں کا مالک حقیقی ہے ۔ جو تمام دلی بھیدوں کا بھی جاننے والا ہے اور تمام ظاہری باتوں سے بھی خبردار ہے ۔ اور وہ تمام اعمال پر سزا اور جزاء بھی دینے والا ہے ۔ وہی ہے جو تمام بندوں کے معاملات پر فیصلے کرتا ہے۔ کسی اس کی رحمت نازل ہوتی ہے اور کوئی اس کے عذاب میں گرفتار ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور ہر چیز اس کی مشیئت کے تابع ہے ۔ اور اللہ کی مشیئت بےقید ہے ۔

البقرة 2:284

قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ خالص قانون سازی کرنے والی آیات کے خاتمہ کلام پر بھی خالص وجدانی اور اخلاقی راہنمائی کرتا ہے ۔ یوں وہ دنیاوی زندگی کے لئے ضابطہ بندی کا تعلق بھی خالق کائنات سے جوڑ دیتا ہے ۔ اور یہ رابطہ ایک مستحکم رابطہ ہوتا ہے۔ جس میں ایک طرف تو اللہ خوفی کا تصور ہوتا ہے اور دوسری جانب مالک ارض وسما کی مغفرت اور رحمت کی امیداواری ہوتی ہے ۔ یہی اخلاقی ضمانت ہے جو اسلامی نظام قانون کو حاصل ہوتی ہے ۔ اور جو اسے دوسرے نظامہائے قانون سے ممتاز اور ممیز کردیتی ہے ۔ اور ایک اسلامی معاشرے میں ایک مسلمان کے دل میں اسلامی قانون کا بےحد احترام پایا جاتا ہے ۔ یہ اخلاقی گارنٹی اور قانون سازی اسلامی معاشرہ میں متوازی طور پر چلتی ہیں ۔ اسلام ان دونوں کی اخلاقی تربیت کا بھی انتظام کرتا ہے جس کے لئے وہ قانون سازی کرتا ہے ۔ نیز اسلام اس معاشرے کی اخلاقی تربیت بھی کرتا ہے جس کے لئے وہ قانون سازی کرتا ہے ۔ اور یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کی مکمل اور متوازن حکمت عملی پر مبنی ہوتا ہے ۔ کہ ایک طرف افراد ومعاشرہ کی اخلاقی تربیت ہورہی ہوتی ہے ، اور دوسری جانب ان کے لئے حکیمانہ قانون سازی ہورہی ہوتی ہے ۔ اللہ کا خوف اور قانون کا خوف ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ اور انسان کے کے لئے قانون وہی ہوتا ہے جو انسان کے خالق نے اس کے لئے تجویز کیا ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کے مقابلے میں اہل زمین کے قوانین ، اہل دنیا کی ضابطہ بندیاں ، اہل زمین کے نظام کیسے چل سکتے ہیں ۔ انسان کی کوتاہ سوچ ، انسان کا محدود علم ، انسان کی محدود فکر ، اس کا مقابلہ کیسے کرسکتی ہے ۔ انسان کی خواہشات آئے دن بدلتی رہتی ہیں ۔ کبھی وہ انسان کسی بات پر متفق نہیں ہوتے ۔ انسان کی کسی رائے کو قرار وثبات حاصل نہیں ہوتا ۔ اس کی معلومات آئے دن بدلتی رہتی ہیں ۔ ایسے حالات میں انسانیت کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق سے جداہوکر ماری ماری پھر رہی ہے ۔ حالانکہ اللہ وہ ذات ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ۔ وہ جانتا ہے کہ اس نے جس چیز کی تخلیق کی ہے اس کی فطرت کیا ہے ۔ اس کی مصلحت کیا ہے ، ہر آن اور ہر جگہ اس کے بدلتے ہوئے مصالح اور ضروریات کیا ہیں ۔ انسانیت جان لے کہ اس کی یہ عظیم بدبختی ہے کہ وہ اللہ کی شریعت اور اللہ کے منہاج زندگی سے روگردانی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ یاد رہے کہ الٰہی نظام زندگی سے فرار اور بغاوت کا آغاز مغرب میں اس وقت شروع ہوا ، جب لوگوں ظالم اور باغی کلیسا کا جؤا اپنی گردن سے اتارنا چہا ۔ مغرب میں لوگوں نے کنیسا کے تصور خدا اور تصور الٰہ کے خلاف بغاوت کی تھی ۔ جس کی طرف کنیسا لوگوں بلاتا تھا۔ اور جس تصور کے مطابق لوگوں کے لئے غور وفکر کرنا اور عقل سے کام لینا حرام تھا ۔ اور کلیسا نے مغرب میں عوام پر بھاری ٹیکس عائد کر رکھے تھے ۔ اور ان پر ایک ظالمانہ استبدادی نظام مسلط کررکھا تھا ، جس سے عوام کے اندر سخت نفرت پیدا ہوگئی تھی ۔ جب لوگوں نے اس جبر و استبداد سے گلوخاصی چاہی تو انہوں نے سوچا کہ جب تک وہ کنیسا کے خلاف اعلان جنگ نہ کریں گے اور اس جبر و استبداد سے گلو خاصی حاصل نہیں کرسکتے ۔ لیکن اس معاملے میں اہل مغرب حد اعتدال پر قائم نہ رہے ، انہوں نے اہل کنیسا سے آزادی حاصل کرنے پر اکتفا نہ کیا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ خدا اور خدا کے اقتدار اعلیٰ سے بھی اپنے آپ کو آزاد کرلیا۔ اس طرح انہوں نے کرہ ارض پر سے ہر اس دین کو مٹادیا جس کی دعوت یہ ہو کہ لوگ اللہ کے نظام زندگی کے مطابق زندگی بسر کریں ۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری انسانیت پر ایک عظیم تباہی نازل ہوئی اور اس پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے۔ رہے ہم جو اسلام کے مدعی ہیں ، تو ہمارے حالات قابل غور ہیں ۔ ہمارا حال یہ ہے ہم نے اسلامی نظام زندگی سے بغاوت حاصل کرلی ہے ۔ اللہ کی شریعت اور اسلامی قانون کو ترک کردیا ہے ۔ اور ہمارے یہ حالات اس حقیقت کے باوجود ہیں کہ ہمارے سیدھے سادھے فطری دین نے ہمیں صرف وہی احکام دئیے ہیں جو ہم سے وہ تمام بوجھ اتارتے ہیں جو عیسائیت نے عائد کئے تھے ۔ وہ تمام بندھن توڑدیئے ہیں جن میں ہم ناجائز طور پر جکڑے ہوئے تھے ۔ اس دین نے ہمارے ساتھ نہایت ہی مشفقانہ رحیمانہ سلوک کیا اور ہمارے لئے راہنمائی ، یسر اور استقامت کا سامان فراہم کیا ۔ اور ایک ایسے راستے پر ہمیں گامزن کیا جو ہر طرف سے ترقی واصلاح کی طرف جاتا ہے ۔ اور جس راستے میں کامیابی ہی کامیابی ہے ۔

البقرة 2:285

درس 22 ایک نظر میں یہ سبق اس عظیم سورت کا اختتامیہ ۔ یہ قرآن کریم کی طویل ترین سورت ہے ۔ اور اس کی تعبیرات بھی اپنے اندر ایک بڑا حجم رکھتی ہیں ۔ اس سورت کے اس حجم اور طوالت کے اندر اسلامی تصور حیات کے ایک بڑے حصے کو سمودیا گیا ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کے ساتھ ساتھ ، اسلامی جماعت کی مختلف صفات ، اس کے فرائض ، اس کے طریقہ کار اور اس کرہ ارض پر مختلف امور کے بارے میں اس کی پالیسیوں کے بارے میں پوری تفصیلات اس سورت میں موجود ہیں ۔ اس پوری کائنات میں امت مسلمہ کا کیا کردار ہے ؟ اسلامی نظام زندگی کے مخالفین ، مقابلین اور دشمنان کے بارے میں اس کا کیا موقف ہے ؟ ان دشمنان کا مزاج کیا ہے اور اسلامی نظام کی محاربت میں ان کے وسائل کیا ہیں ؟ نیز اسلامی جماعت ان کے مقابلے میں کیا وسائل وذرائع اختیار کررہی ہے ۔ اور ان کی سازشوں کا مقابلہ کن ذرائع سے کررہی ہے ۔ ان امور کے علاوہ اس سورت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مجموعی لحاظ سے خود حضرت انسان کا اس کرہ ارض پر کیا کردار مقرر کیا گیا ہے ؟ انسان کی فطرت کیا ہے ؟ اور انسانی تاریخ میں انسان کیا سے کیا کو تاہیاں اور لغزشیں ہوئی ہیں ۔ تاریخی قصص پیش کرکے ان کی وضاحت کی گئی ہے ۔ غرض یہ اور وہ تمام دوسری باتیں جن کی تفصیلات اس طویل سورت میں بیان کی گئیں ۔ یہ سبق اس طویل سورت کا اختتامیہ ہے اور صرف دو آیات میں لیکن ان دو آیات میں ان تمام مضامین اور افکار کو سمودیا گیا ہے ۔ جو اس طویل ترین سورت میں زیر بحث آئے ۔ یہ آیات فی الواقع سورت کا ایک اچھا اختتامیہ ہیں جو اس پوری سورت کے ساتھ ہم آہنگ ، متناسب اور اس سورت کے مقاصد اور اس کے اندر پائی جانے والی واقعاتی فضاء کے ساتھ مناسب ہیں ۔ اس سورت کا آغاز ان الفاظ ان الفاظ سے ہوا تھا ۔” لاف ، لام ، میم ، یہ اللہ کی کتاب ہے۔ “ اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ ہدایت ہے ان پرہیز گاروں کے لئے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں ، جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں ۔ اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔ “ ان الفاظ میں اس حقیقت کی طرف واضح اشارات دئیے گئے ہیں کہ اہل ایمان تمام رسولوں اور تمام کتابوں پر ایمان لاتے ہیں ۔ ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے ۔ اب ذرا اس اختتامیہ کے الفاظ پر غور کریں ۔ اور رسول اس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے رب کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے ۔ اور جو لوگ اس رسول کے ماننے والے ہیں ۔ انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کرلیا ہے۔ یہ سب اللہ اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ” ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ۔ “ غرض یہ ایک ایسا اختتامیہ ہے جس طرح کتاب کے کور کے دوحصے ہوتے ہیں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس سورت میں امت مسلمہ کے فرائض کا بڑا حصہ بیان کیا گیا ہے ۔ اور زندگی کے مختلف میدانوں میں اسلامی قوانین کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل نے جس طرح اپنے فرائض کو نظر انداز کیا اور جس طرح انہوں نے شریعت خداوندی سے روگردانیاں کیں ان کا بھی تفصیلاً ذکر کیا گیا ۔ چناچہ اختتامیہ میں یہ آیات صاف بتادیتی ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی اور شریعت کی اطاعت کس طرح ہوتی ہے اور ذمہ داریوں سے پہلو تہی اور شریعت سے نافرمانیاں کیوں کر جاتی ہیں ۔ اور کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ پر کوئی مصیبت ڈالنا نہیں چاہتے ۔ نہ اس پر کوئی بھاری بوجھ لادنا چاہتے ہیں ۔ نہ اللہ تعالیٰ کو امت مسلمہ سے کوئی خاص دوستی ہے ۔ جس طرح یہود ونصاریٰ یہ سمجھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے خاص محبوبین میں سے ہیں۔ اور نہ یہ صورت حال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو نظر انداز کردیا ہے ۔ بلکہ صورت احوال یہ ہے کہ ” اللہ تعالیٰ کسی متنفس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے ، اس کا پھل اسی کے لئے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے ، اس کا وبال اسی پر ہے ۔ “ اس سورت میں بنی اسرائیل کے قصے بھی بیان کئے گئے ہیں ۔ وہ حالات بھی بیان کئے گئے ہیں جن میں بڑے مشکل وقت اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر اپنا فضل وکرم کیا اور اس کا انکار اور ناشکری کا تذکرہ بھی ہوا ہے ۔ جو ان انعامات کے مقابلے میں انہوں نے کی ۔ پھر وہ سزائیں بھی مذکور ہیں ۔ جو اللہ تعالیٰ نے بطور کفارہ ناشکری انہیں دیں اور یہ سزائیں سزائے موت تک تھیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ فَتُوبُوا إِلَى بَارِئِكُمْ فَاقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ................” تو اپنے باری تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اور اپنے آپ کو قتل کرو۔ “ ایسے ہی حالات کے بارے میں اسی سورت کے اختتام پر اہل ایمان کو دعا سکھائی جاتی ہے کہ وہ خشوع و خضوع کے ساتھ ایسے حالات سے پناہ مانگیں جو بنی اسرائیل کو پیش آئے ۔ فرماتے ہیں ۔” اے ایمان والو ، یوں دعا کرو “ اے ہمارے رب ، ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ، ان پر گرفت نہ کر ، مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ پروردگار ! جس بار کو اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے وہ ہم پر نہ رکھ ، ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ، ہم پر رحم کر۔ “ اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے مومنین پر قتال فی سبیل اللہ فرض کیا تھا ۔ اور انہیں حکم دیا تھا کہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کریں اور اپنا مال اس کی راہ میں خرچ کریں تاکہ کفار اور کفر دونوں کا دفاع کیا جاسکے ۔ چناچہ سورت کے آخر میں اس دعا میں وہ ان تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اللہ کی امداد چاہتے ہیں ۔ دشمن کے مقابلے میں اللہ کی نصرت کے طلبگار ہوتے ہیں ۔” تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ غرض یہ اس پوری سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں مضامین سورت کا خلاصہ بصورت اشارات دیا گیا ہے ۔ جو پوری سورت کے اصل خطوط کے ساتھ متناسب اور متوازی ہے ۔ پھر ان دونوں آیات پر مشتمل اس اختتامیہ کا ہر لفظ اپنے اندر وسیع معانی رکھتا ہے ۔ ہر لفظ کا اپنا موضوع اور اپنی اہمیت ہے اور اس کے پیچھے جو مباحث گزرے ہیں ۔ یہ لفظ ان کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ اور یہ مباحث عظیم مباحث ہیں ۔ جن کا تعلق اسلامی نظریہ حیات ۔ نیز دین اسلام میں اسلامی نظریہ حیات کی اہمیت ، اس کی خصوصیات اور اس کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں ہیں ۔ ان میں اہل ایمان کا اپنے رب کے ساتھ تعلق کی نوعیت ، اللہ کے بارے میں ان کا تصور ، وہ فرائض اور ذمہ داریاں جو اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کیں ۔ ان کی تفصیلات ہیں ۔ وہ التجا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں اپنی جوار رحمت میں جگہ دے ۔ وہ مشیئت ایزدی کے تابع ہوں اور اللہ کی مدد ان کے شامل حال رہے ۔ غرض اس اختتامیہ کے ہر لفظ کی اپنی جگہ ایک عظیم اہمیت ہے ۔ اور جو شخص قرآن کے سائے میں زندگی بسر کرچکا ہو اور اسے معلوم ہو کہ قرآن کریم کا انداز تعبیر کیا ہے ؟ اور اس کی آیات میں سے ہر آیت کے اسرار و رموز کیا ہیں تو اسے معلوم ہے کہ ان الفاظ میں سے ہر لفظ کی اپنی شان ہے اور ہر لفظ ایک اعجوبہ ہے ........ مناسب ہے کہ ہم ان آیات پر قدرے تفصیلی بحث کریں۔ ان آیات میں اہل ایمان کی بہترین تصویر کشی کی گئی ہے ۔ یہ اس برگزیدہ جماعت کی تصویر ہے ۔ جس کی زندگی میں حقیقت ایمان عملی شکل میں ظاہر تھی ۔ اور قیامت تک آنے والی تمام جماعتوں کے یہی خدوخال ہوں گے ۔ جن کی زندگیوں میں حقیقت ایمان عملی شکل اختیار کرلے ۔ اس جماعت مومنہ کو اللہ تعالیٰ یوں اعزاز دیتے ہیں کہ اس کا ذکر رسول ﷺ کے ساتھ صفت ایمان میں یکجا کرتے ہیں ۔ یہ ایک عظیم اعزاز وشرف ہے ۔ اس لئے کہ اس یکجائی سے جماعت مومنہ حقیقت رسالت تک رسائی حاصل کرلیتی ہے ۔ اور جماعت مسلمہ کو یہ شعور بھی حاصل ہوجاتا ہے کہ اس کرہ ارض پر اس کی حیثیت اور مقام کیا ہے ، اسے احساس ہوجاتا ہے ۔ وہ کیا مرتبہ بلند ہے ۔ جس تک اللہ تعالیٰ نے اسے اٹھایا ہے ۔ اس طرح کہ اللہ صفت ایمان میں اہل ایمان کو رسول اکرم ﷺ کے ساتھ یکجا فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سب ایمان لائے ہیں۔ ایک ہی صفت ایک ہی آیت میں اور پھر اللہ کے کلام میں آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ................ ” رسول اس ہدایت پر ایمان لائے ہیں ۔ جوان کے رب کی طرف سے ان پر نازل ہوئی ہے ۔ اور جو لوگ اس رسول کے ماننے والے ہیں ۔ انہوں نے بھی اسی ہدایت کو دل سے تسلیم کیا ہے ۔ “ رسول اللہ پر جو کلام نازل ہوتا ہے ، اس پر رسول کا ایمان مہبط وحی ہونے کی وجہ سے براہ راست ہوتا ہے ۔ آپ کے قلب صافی پر بلندو برتر وحی نازل ہوتی ہے اور براہ راست حقیقت عظمیٰ کے ساتھ آپ کا بلاواسطہ تعلق قائم ہوتا ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو شخصیت رسول میں بذات خود ، بلاکسب واکتساب متشکل ہوتی ہے ۔ رسول اور ذات باری کے درمیان نہ کوئی واسطہ ہوتا ہے اور نہ ہی رسول کے مقام رسالت کے بارے میں کچھ عزائم ہوتے ہیں ۔ اس لئے رسول کا درجہ ایمان کے متعلق تو رسول ہی سوچ سکتا ہے اور اس کا وصف اور بیان بھی وہی شخص کرسکتا ہے جس نے درجہ ایمان کو بعینہ رسول ﷺ کی طرح پالیا ہے ۔ تو ذات باری اور کلام باری پر یہ براہ راست ایمان صرف رسول کا ایمان ہوتا ہے ۔ اب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صفت ایمان میں شریک کرکے گویا ان کو ایک قسم کا شرف و اعزاز عطا فرماتے ہیں ۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صفت ایمان کی حقیقت اور آپ کے سوا تمام اہل ایمان کی حقیقت ، ماہیت اور کیفیت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ اور اس ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ اور اس کے حدود اربعہ کیا ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ” یہ سب اللہ ، اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کا مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ۔ ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک ہم تجھ سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ “ یہ ہے مکمل ایمان جو دین اسلام نے پیش کیا ہے ۔ یہ ایمان اس قابل ہے کہ جس پر یہ امت پوری طرح جم جائے جو دین کی وارث ہے ۔ جو اس دین کی داعی ہے ۔ اور یہ دعوت اس نے قیام تک پوری دنیاکو دینی ہے ۔ جس دعوت کی جڑیں تاریخ کی طویل وادیوں میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ جس کے قافلے مسلسل چل رہے ہیں ۔ یہ رسالت کے قافلے ہیں اور انسان کی طویل تاریخ میں یہ قافلے پھیلے ہوئے ہیں ۔ یہی ایمان ہے جس نے آغاز انسانیت سے ، انسانوں کو دومحاذوں میں تقسیم کردیا ہے ۔ ایک محاذ اہل ایمان کا ہے ۔ اور دوسرا محاذ اہل کفر کا ہے ۔ ایک محاذ حزب اللہ کا ہے اور دوسرا حزب الشیطان کا ہے ۔ اور پوری انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ان کے علاوہ کوئی تیسرا محاذ نہیں ہے۔ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ................ ” سب ایمان لائے ہیں۔ “ اللہ کی ذات پر ایمان اسلامی تصور حیات کا بنیادی پتھر ہے ۔ یہ اس نظام زندگی کی اساس ہے جو زندگی کو استحکام بخشتا ہے ۔ یہ اسلامی اخلاقیات کی اساس ہے ۔ اور اسی پر اسلام کا اقتصادی نظام استوار ہوا ہے ۔ اور یہ ہر اس تحریک کی اساس ہے جو ایک مسلم یہاں یا وہاں برپا کرتا ہے ۔ اور ایمان باللہ کا مفہوم کیا ہے ؟ یہ کہ صرف اللہ ہی الٰہ ہے ۔ وہی رب ہے ، وہ بندگی کے لائق ہے ۔ وہی ہے جسے انسان کے ضمیر ، انسان کے طرز عمل ، اور اس کی زندگی کے ہر موڑ پر حکمرانی کا حق حاصل ہے ۔ اس لئے اللہ کے ساتھ اس کی خدائی میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ اس جہاں کی نگہبانی میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اسی کائنات کی تخلیق میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس کائنات کو چلانے میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس کائنات کے چلانے میں اس کے کام میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا ۔ اس زندگی کے چلانے میں کوئی دخیل نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ اس مخلوق کی رزاقی میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس مخلوق کی نفع رسانی یا ضرر رسانی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ غرض اس کائنات کا کوئی بڑا معاملہ ہو یا چھوٹا ، اس کی مشیئت اور رضا کے سوا پائے تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ عبادت اور بندگی کے معاملے میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں ۔ عبادت کے شعائر میں کوئی شریک نہیں ، اطاعت و بندگی میں اس کا کوئی شریک نہیں ۔ نہ دین میں اس کا کوئی شریک ہے ۔ لہٰذا پرستش صرف اسی کی ہوگی ۔ اطاعت صرف اسی کی ہوگی یا اس کی ہوگی جو اللہ تعالیٰ کے لئے کام کررہا ہے اور اس کی شریعت کو نافذ کررہا ہے اور اپنے اقتدار اور سلطنت کو اللہ سے اخذ کرتا ہے ۔ اس لئے کہ مقتدر اعلیٰ تو وہی ذات ہے ۔ لہٰذا عوام الناس پر فکری حکومت ، یا ان کے طرز عمل پر حکومت وہی شخص کرسکتا ہے ۔ جو دین اسلام سے اپنے لئے اقتدار اعلیٰ حاصل کرتا ہے ۔ لہٰذا اخلاقی اصول اور قانون سازی کے اصول وقواعد ، ہمارے اجتماعی نظام کے اصول اور ہمارے اقتصادی اصول ، سب کے سب صرف ذات باری تعالیٰ کے احکام اور اس کی ذات سے اخذ ہوسکتے ہیں ۔ یہی ہے ایمان کا مفہوم اور اس کا خلاصہ ، یہی ایمانی تصور حیات ہے جس کو اپنا کر ایک شخص ماسوا اللہ کے بندھنوں اور غلامیوں سے آزاد ہوسکتا ہے ۔ شریعت خداوندی کے علاوہ تمام حدود وقیود سے آزاد ہوجات ہے ۔ آزاد ہی نہیں بلکہ انسان سلطنت الٰہیہ کے سوا تمام قوتوں پر غالب آجاتا ہے۔ وَمَلائِكَتِهِ................ ” اور اس کے فرشتوں پر۔ “ اللہ کے فرشتوں پر ایمان لانا ، ایمان بالغیب کا ایک پہلو ہے ، اسی سورت کے آغاز میں ، یعنی حصہ اول میں ہم اس موضوع پر بحث کر آئے ہیں کہ فرشتوں پر ایمان لانے کے اثرات انسانی زندگی پر کیا پڑتے ہیں اور اس کے کیا فوائد ہیں ۔ یہ ایمان انسان کو نچلی سطح سے بلند کردیتا ہے جو خود اس کی دنیا تک محدود ہے اور جو خاصہ حیوانات ہے ۔ اس ایمان کی بدولت انسانی علم ومعرفت کا ماخذ حواس سے وراء ہوجاتا ہے ۔ اور ایک انسان ایک حیوان کی سطح سے بلند ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح وہ اعلان کردیتا ہے کہ وہ انسان ہے اور اس کے خواص بالکل جدا ہیں ۔ انسان کا یہ ایک فطرتی تقاضا ہے کہ وہ پردہ غیب کے اندر مستور نامعلوم حقائق کو معلوم کرنے کا شوق رکھتا ہے ۔ یہ حقائق اگرچہ اس کے حواس کے دائرے سے باہر ہوتے ہیں لیکن انسان بتقاضائے فطرت ان کے وجود کو محسوس کرتا ہے ۔ اگر انسا کے اس فطری داعیہ اور تقاضے کے سامنے وہ غیبی حقائق نہ رکھے گئے ۔ جو اسے اللہ تعالیٰ نے عطاکئے ہیں تو انسان کا یہ داعیہ انسانوں اور مذہبی دیومالاؤں میں گم ہوکر اپنے اس فطری تقاضے کی تشفی کرتا ہے ۔ اس طرح وہ اپنی ایک فطری پیاس کو بجھاتا ہے اور اگر وہ ان توہمات اور طلسمات میں نہ پڑے تو وہ نفسیاتی الجھنوں اور اضطرابات کا شکار ہوجاتا ہے۔ فرشتوں پر ایمان لانا بھی ایک ایسی حقیقت ہے کہ انسان کا فہم وادراک بذات خود اسے نہیں پاسکتا ۔ یعنی صرف ان محسوس اور عقلی قوتوں کے بل پر جو اسے عطاکی گئی ہیں ۔ لیکن اپنی فطرت کے اعتبار سے ، انسان کے اندر ان غیبی حقائق تک رسائی کا بےحد شوق پایا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ چونکہ خالق انسان ہے ۔ وہ اس کی ساخت اور اس کے رجحانات سے اچھی طرح واقف ہے ۔ وہ ان امور سے بھی واقف ہے جو انسان کے لئے مفید ہیں اور جن سے اس کی اصلاح بھی اچھی طرح ہوسکتی ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی رحمت و شفقت کی وجہ سے بعض غیبی حقائق سے مطلع کیا ۔ اور تمثیلات کے ذریعہ ، ان غیبی حقائق کو اس کے فہم وادراک کے قریب لانے کی کوشش کی ۔ کیونکہ بغیر تمثیلات کے انسان کے موجودہ ذرائع فہم ان کا براہ راست ادراک کرنے سے قاصر تھے ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی ذاتی جدوجہد سے ان حقائق کے معلوم کرنے کی خاطر محنت ومشقت سے بچالیا ۔ اس لئے کہ صرف اپنی ذاتی قوتوں کے بل بوتے پر اس کے لئے ممکن ہی نہ تھا۔ اس سلسلے میں وہ الٰہی علم ومعرفت کا محتاج تھا ۔ اگر اللہ کی جانب سے یہ حقائق بتلائے نہ جاتے تو اس کا دل کبھی مطمئن نہ ہوتا اور اس کی شخصیت سکون وقرار سے محروم ہوتی ۔ جو لوگ اپنی فطرت کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے تصور سے غیبی حقائق کی نفی کرتے ہیں ۔ وہ ایسے خرافات اور اوہام کا شکار ہوجاتے ہیں جنہیں دیکھ کر بےاختیار ہنسی آتی ہے ۔ یا پھر وہ ذہنی خلجان میں مبتلاء ہوجاتے اور ان کی زندگی پیچیدگیوں اور مضحکہ انگیز خرافات کا شکار ہوجاتی ہے ۔ ملائکہ پر ایمان ان غیبی حقائق پر ایمان ہے ، جو عقل وخرد کے اعتبار سے یقینی حقائق ہیں ۔ پھر یہ حقائق منجانب اللہ ہیں اور ان پر ایمان کے نتیجے میں اس کائنات کے بارے میں انسانی شعور کو وسعت ملتی ہے ۔ مومن کے تصور میں یہ جہاں اس قدر سکڑا ہو انہیں ہوتا کہ یہ اسی قدر ہے جس قدر اس کے حواس میں آسکتا ہو۔ اس لئے کہ انسانی حواس اس کائنات کے نہایت ہی مختصر حصے پر قابو پاسکتے ہیں ۔ فرشتوں پر ایمان لانے والے انسان میں یہ شعور بھی موجزن ہوتا ہے کہ اس کی رفاقت میں ، اس کے اردگرد پھیلے ہوئے ، بیشمار غیر مرئی مومنین ہیں ، جو اس کے ساتھ اپنے رب پر ایمان لانے میں شریک ہیں ، جو اس کے لئے ہر وقت استغفار کرتے رہتے ہیں ۔ ہر بھلے کام میں اس کے معاون و مددگار ہیں ، اگر اللہ چاہے ۔ غرض یہ ایک لطیف ، اور تروتازہ ہم نشین کا شعور ہوتا جو ہر وقت ایک مومن کو حاصل ہوتا ہے ۔ اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے غیبی معرفت حاصل کئے ہوتا ہے ۔ جو اللہ پر ایمان لانیوالوں اور فرشتوں پر ایمان لانے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ................ ” اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر اور ہم اس کے رسولوں میں سے کسی ایک میں تفریق نہیں کرتے ۔ “ اسلام نے اللہ پر ایمان لانے کا جو تصور دیا ہے ۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی تمام کتابوں اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آئیں ۔ اور اس سلسلے میں کسی ایک رسول اور دوسرے رسول کے درمیان امتیاز نہ کریں ۔ اس لئے کہ اللہ پر ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ان تمام حقائق پر ایمان لے آئے ، جو منجانب اللہ آئے ہیں ۔ ان تمام رسولوں کی تصدیق کرے ، جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے کبھی مبعوث ہوئے۔ اس لئے کہ وہ سرچشمہ ایک ہے ۔ جس کی جانب سے یہ سب رسول آئے ۔ وہ تمام کتابیں جو نازل ہوئیں وہ ایک ہی ذات کی طرف سے نازل ہوئیں ۔ اس لئے ، اس تصور ایمان کے نتیجے میں ایک مسلمان کے ذہن میں رسولوں کے مقام وحیثیت میں کوئی فرق و امتیاز ممکن ہی نہیں ۔ ہر رسول اللہ جل شانہ کی جانب سے مبعوث ہوا ۔ اور وہ ایسی صورت میں مبعوث ہوا ، جو ان لوگوں کے لئے حالات کے لئے مناسب تھی جن کی طرف وہ رسول مبعوث ہوا تھا۔ اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور آخرکار حضرت محمد خاتم النبیین ﷺ پر ختم ہوا۔ اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت ایسی شکل و صورت میں تشکیل پائی کہ وہ قیامت تک تمام انسانیت کے لئے ایک آخری اور مکمل نظام زندگی قرار پائی۔ اس تصور ایمان کے نتیجے میں امت مسلمہ تمام رسولوں کی رسالت کی وارث قرار پائی ۔ اب اسلامی نظام زندگی امت مسلمہ کی وراثت ہے اور اس کرہ ارض پر اس کے کاندھے پر عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہے ۔ اور مومنین اللہ تعالیٰ کے صاحب اختیار علم بردار ہیں ۔ وہ صرف اللہ کا علم بلند کریں گے اور اس علم کے بل بوتے پر وہ اس کرہ ارض پر ، جاہلیت کے تمام نشانات اور علامات کا مقابلہ کریں گے ۔ اس وقت یہ جاہلیت کبھی وطنی قومیت کا علم بلند کرتی ہے ۔ کبھی نسلی قومیت کے روپ میں آگے بڑھتی ہے ۔ کبھی یہ طبقاتی رنگ میں آتی ہے اور کبھی یہ صہیونیوں اور صلیبیوں کے جھنڈوں کے سایہ میں استعماری شکل میں آتی ہے ۔ کبھی وہ الحاد اور بےدینی کی شکل میں آتی ہے ۔ غرض زمان ومکان کے اختلاف سے ، اس کے رنگ ڈھنگ بھی مختلف ہیں ۔ کبھی وہ کس نام سے آتی ہے اور کبھی کس نشان سے آتی ہے ۔ لیکن اس کے علم بردار وہی ہیں یعنی جاہلیت کے پرستار ۔ اس کرہ ارض پر امت مسلمہ جس سرمایہ کی حفاظت پر مامور ہے ، وہ اسے قدیم ترین ادوار سے اس کرہ ارض پر مبعوث ہونے والے تمام رسولوں سے ملا ہے۔ اور یہ سرمایہ پوری انسانیت کا نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ یہ ہدایت اور روشنی کا سرمایہ ہے ۔ یہ یقین و اطمینان کا سرمایہ ہے ۔ یہ سعادت اور رضائے الٰہی کا سرمایہ ہے ۔ یہ علم ومعرفت کا سرمایہ ہے ۔ یادر کھو ! جو دل اس سرمایہ سے تہی دامن ہوا وہ تاریکیوں اور رنج والم کا شکار ہوگا ۔ وہ اضطراب وخلجان سے دوچار ہوگا اور شکوک و شبہات میں گرفتار ہوگا۔ وہ بدبختی اور پریشانی کے ہاتھوں عاجز آجائے گا ۔ اس کی زندگی یوں گزرے گی جس طرح ایک شخص تہہ بہ تہہ اندھیروں ، بےآب وگیاہ ریگستان میں ٹامک ٹوئیاں ماررہاہو ۔ اسے نظر نہ آرہاہو کہ وہ کہاں قدم رکھے اور کہاں نہ رکھے ۔ ان دلوں کی چیخ و پکار انتہائی کربناک ہے ۔ وہ اس زاد راہ سے محروم ہوگئے ہیں ۔ جن سے یہ قیمتی سرمایہ لٹ گیا ہے ۔ جو ایسے غمگسار رفیق سفر سے محروم ہوچکے ہیں ۔ یہ کربناک چیخ و پکار تاریخ کے ہر دور میں سنی گئی ۔ بشرطیکہ دل زندہ ہوں ، ان میں احساس ہو ، وہ اپنے اندر معرفت حقیقت اور حصول یقین کا داعیہ رکھتے ہوں ۔ رہے وہ دل جو مرچکے ہیں جو غبی ہیں ، جن کی عقل موٹی ہے ، جن کی سوچ کے سوتے خشک ہوچکے ہیں ، ہوسکتا ہے کہ ان میں حصول معرفت کی یہ تڑپ نہ ہو ، وہ حصول معرفت سے بےنیاز ہوں ۔ لیکن اس کرہ ارض پر ان جیسے لوگوں کی روش بہائم کی طرح روش ہوتی ہے ۔ وہ مویشیوں کی طرح کھاتے اور پیتے ہیں ۔ ان کا محبوب مشغلہ یہ ہوتا ہے ۔ اس کرہ ارض پر ظلم و استبداد کا ارتکاب کریں ، مار دھاڑ میں مشغول ہوں اس زمین میں فساد پھیلائیں اور اس سے اس طرح رخصت ہوں کہ ان پر تمام لوگوں کی نفریں ہوں اور اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ وہ معاشرے انتہائی ، بدبخت معاشرے ہیں جو اس دولت سے محروم رہ گئے ۔ اگرچہ وہ مادی سہولیات میں گردن تک ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ مرعاشرے گرے ہوئے تباہ حال معاشرے ہیں ۔ اگرچہ مادی پیداوار کے اعتبار سے ان کا گراف بہت اونچا ہو ۔ یہ معاشرے کربناک معاشرے ہیں ۔ اگرچہ وہ مکمل شہری آزادیوں سے مستفید ہوں ، داخلی طور پر زندگی پرامن ہو اور انہیں کوئی خارجی خطرہ بھی لاحق نہ ہو ، ہمارے پاس اس جدید دور میں ایسے معاشروں کی کئی مثالیں موجود ہیں ، اس بات کا انکار صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو انتہائی درجے کا مکار ہو اور جو اس قدر بےحیا ہو کہ محسوس اور کھلے حقائق کا انکار کرسکتا ہو۔ رہے اہل ایمان تو ان کی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ۔ اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں ۔ وہ بارگاہ الٰہی میں تسلیم ورضا اور سمع وطاعت کے ساتھ حاضر ہوتے ہیں ۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ آخر کار اللہ کی جانب لوٹنے والے ہیں ۔ لہٰذا وہ ہر وقت اپنی تقصیرات پر طلب مغفرت کرتے ہیں وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ................ ” ہم نے حکم سنا اور اطاعت کی ۔ مالک ! ہم تجھ ہی سے خطا بخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ “ ان کلمات سے ایمان باللہ ، فرشتوں ، ، کتابوں اور رسولوں پر ایمان کے اثرات روشنی کی طرح ظاہرہوتے ہیں ۔ ان کا ظہور سمع و اطاعت کی صورت میں ہوتا ہے۔ اہل ایمان کے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کچھ پیغام آتا ہے ، وہ اسے سنتے ہیں ، وہ ہر اس حکم پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ جس کا حکم اللہ تعالیٰ دیتے ہیں ۔ یعنی ان کا قائد صرف اللہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنے قائد کے ہر اشارے کو روبعمل لاتے ہیں ۔ اس لئے کہ اسلام کا کوئی ایساتصور نہیں ہے جس میں اللہ کے احکام کی اطاعت نہ ہو ، جس میں پوری زندگی میں نظام ربانی کا نفاذ ضروری نہ ہو ۔ اگر کسی معاشرے کی یہ حالت ہوجائے کہ اس میں لوگ اپنی زندگیوں کے یہ چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر اتر آئے ہوں تو ایسے معاشرے کو اہل ایمان کا معاشرہ نہیں کہا جاسکتا ۔ یا جہاں اللہ کی شریعت نافذ نہ ہو ۔ جس کے اخلاقی تصورات جس کا طرز عمل ، جس کے اجتماعی اور اقتصادی اور سیاسی امور سب کے سب غیر اسلامی تصورات سے ماخوذ ہوں تو ایسے معاشرے کو کس طرح ایک اسلامی معاشرہ کہا جاسکتا ہے ۔ اس لئے ایمان کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ دل مومن میں قرار پکڑے اور اس کی تصدیق عمل سے ہو۔ اور سمع وطاعت کے ساتھ ساتھ ، انسان کو اپنی تقصیرات اور کوتاہیوں کا بھی مکمل شعورہو ، وہ یقین رکھتاہو کہ وہ اللہ کی نعمتوں کا حق شکر ادا نہیں کرسکتا ۔ وہ اپنے فرائض سے کماحقہ عہدہ برآ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں التجا کرتا ہے کہ وہ اس کی کوتاہیوں کا تدارک اپنی رحمت اور مغفرت سے فرمائیں۔ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا ................ ” اے ہمارے رب ، ہم تیری مغفرت کے طلبگار ہیں۔ “ یہ بات قابل لحاظ ہے کہ اپنی تقصیرات پر طلب مغفرت کا مقام ومحل سمع و اطاعت اور اللہ کے سامنے مکمل طور پر سر تسلیم خم کرنے کے بعد آتا ہے ۔ پہلے بغیر کسی نافرمانی اور بغیر کسی انکار کے مکمل انقیاد ضروری ہے ۔ اس کے بعد ہی انسان کے اندر یہ یقین پیدا ہوسکتا ہے کہ اس نے دنیا وآخرت میں اللہ کی طرف لوٹنا ہے ۔ اس کے عمل معاملے میں ، اور ہر عمل میں اس نے اللہ کے سامنے جوابدہی کرنی ہے ۔ اور اللہ کا فیصلہ پھر اس معاملے میں اٹل ہوگا۔ اس کے علاوہ کوئی جائے پناہ نہ ہوگی ، اس کے مقابلے میں کوئی طاقت بچانے والی نہیں ہے ۔ اس کے فیصلے اور حکم سے صرف اس کی مغفرت ہی بچاسکتی ہے ۔ صرف اس کی رحمانیت ہی کام آسکتی ہے ۔ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ................ ” تیری ہی طرف پلٹنا ہے ۔ “ ان الفاظ میں ایمان بالآخرۃ کا بیان ہوا ہے ۔ اللہ پر ایمان لانے کے تقاضوں میں سے ایک بین تقاضا ایمان بالآخرت ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے حوالے سے یہ لازم وملزوم ہیں ۔ اس تصور حیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا۔ ایک عہد کے تحت اسے زمین پر اپنا خلیفہ بنایا ۔ یہ عہد اس کے اندر طے شدہ شرائط ، اس کرہ ارض پر انسان کی پوری زندگی کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ اللہ نے یہاں اسے خلیفہ اس غرض وغایت کے لئے بنایا ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں وہ اس کا امتحان لے ۔ اور آخری امتحان کے بعد وہ آخرت میں اسے جزاء و سزاء دے ۔ اس لئے اسلامی تصور حیات کی رو سے عقیدٔ آخرت ایمان کے لازمی تقاضوں میں سے ایک اہم تقاضا ہے۔ اس پر ایمان لانا ، ایک مومن ومسلم کے تصورات اور اس کے طرزعمل پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اسی ایمان کی روشنی میں ، اس دنیا میں ایک مومن کی اقدار حیات تشکیل پاتی ہیں ۔ اور اس کے حسی نتائج مرتب ہوتے ہیں ۔ وہ مطیع فرمان ہو کر چلتا ہے ۔ وہ بھلائی کی راہ پر چلتا ہے ۔ وہ بھلائی کا متلاشی اور سچائی پر قائم رہتا ہے ۔ چاہے اس کا نتیجہ اس جہاں میں اسے بصورت راحت ملے یا بصورت مشقت ۔ اسے اس جہاں میں فائدہ ہو یا نقصان ہو ، اسے فتح ہو یا شکست ہو ، وہ کچھ پارہا ہو یا کچھ کھو رہا ہو ، اسے یہاں زندگی مل رہی ہو یا شہادت نصیب ہورہی ہو ۔ اس لئے کہ اس کی اصل جزاء اسے یوم آخرت میں ملے گی جب وہ اس دنیا کے امتحان میں کامیاب اور سرخرو ہوجائے گا ....... اس کا عزم اس قدر صمیم ہوتا ہے کہ اس کی راہ اطاعت ، راہ حق ، راہ بر اور راہ صداقت سے ، اسے پوری دنیا کی مخالفت ، پوری دنیا کی فتنہ انگیزی اور فتنہ وقتل اسے ہٹا نہیں سکتے ، کیونکہ اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ وہ عہد الست کو اپنی پوری شرائط کے ساتھ نافذ کررہا ہوتا ہے ۔ اور اپنے اجر کا طلب گار آخرت میں ہوتا ہے۔ یہ ایک عظیم وحدت ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات کا یہی مزاج ہے ۔ اور اسے اس مختصر سی آیت میں سمودیا گیا ہے ۔ اللہ اور ملائکہ پر ایمان ، تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان ، بلا تفریق و امتیاز ، اور اللہ کی طرف مکمل رجوع وسمع وطاعت کے ساتھ اور یوم آخرت میں جو ابدہی پر ایمان اور اس کا ہر وقت احساس ۔ یہ ہے اسلام ، یہ ایسا عقیدہ جو خاتم العقائد ہے ۔ یہ آخری رسالت ہے ۔ ایسا عقیدہ جو قافلہ اہل ایمان کو آغاز انسانیت سے انتہائے انسانیت تک ساتھ لے کر چلتا ہے ۔ اس کے سفر کی سمت پوری تاریخ انسانیت میں ، اللہ کے رسول متعین کرتے ہیں ۔ جن کی قیادت میں انسانیت بتدریج ترقی کے درجات طے کرتی ہے ۔ یہ عقیدہ اسے اس کائنات کے ناموس اکبر سے بقدر استطاعت انسان ، اسے متعارف کراتا ہے ۔ یہاں تک کہ آخر میں اسلامی نظام زندگی آتا ہے ۔ وہ توحید کا اعلان کرتا ہے اور عقل انسانی کو آزاد چھوڑدیا جاتا ہے کہ اب وہ معرفت کردگار میں خود آگے بڑھے ۔ یہی وہ نظریہ حیات ہے جو ایک انسان کو انسانیت سے روشناس کراتا ہے ۔ وہ اسے جمادات اور حیوانات کے مقام سے بلند کرتا ہے ۔ وہ اسے فرشتوں اور شیطانوں سے بھی ایک علیحدہ تشخص دیتا ہے ۔ وہ انسان کا بحیثیت انسان اعتراف کرتا ہے ۔ وہ اس کی کمزوریوں کو بھی تسلیم کرتا ہے اور اس کے کمالات کا بھی لحاظ رکھتا ہے ۔ وہ اسے ایک ایسی مخلوق کی طرح لیتا ہے جس کے جسم میں مختلف قسم کے رجحانات ہیں ۔ وہ ایک عقل فعال کا حامل ہے ۔ وہ ایک روح رکھتا ہے جس کے میلانات میں بوقلمونی ہے ۔ اس لئے وہ اس پر صرف ایسے فرائض و واجبات عائد کرتا ہے جن کے لئے یہ جسم اور یہ حضرت انسان اور اس کی شخصیت متحمل ہوسکتی ہے۔ یہ عقیدہ ان فرائض اور انسان کی صلاحیت اور طاقت کے درمیان بہترین توازن قائم رکھتا ہے ۔ اس قدر بوجھ ڈالتا ہے کہ انسان مشقت اور تھکاوٹ محسوس نہ کرے ۔ یہ عقیدہ انسان کے جسمانی تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے ۔ انسان کے عقلی تقاضوں کا بھی خیال رکھتا ہے ۔ اور اس کی روحانی دنیا بھی آباد کرتا ہے ۔ اور یہ سب کام انتہائی فطری توازن کے ساتھ ، اور ان سب امور کے بعد وہ انسان کو یہ آزادی عطا کرتا ہے کہ وہ جو راہ اپنے لئے اختیار کرتا ہے ، کرے۔

البقرة 2:286

یو ایک مسلمان کی سوچ ہی میں یہ بات ہوتی ہے کہ اس کا رب رحیم ہے ، وہ بطور خلیفہ اس پر جو فرائض وواجبات عائد کرتا ہے وہ نہایت ہی عادلانہ اور منصفانہ ہیں ۔ اس کی جانب سے ڈالی جانے والی آزمائشیں بھی عادلانہ ہیں اور آخرکار قیامت کے دن بھی اس کے ساتھ ٹھیک ٹھیک انصاف ہوگا ۔ اور وہ پوری طرح مطمئن ہوگا۔ اس لئے وہ اللہ کی جانب سے عائد کردہ فرائض پر کوئی تنگی اور دشواری محسوس نہیں کرتا ۔ وہ انہیں بوجھ نہیں سمجھتا ۔ اس لئے کہ اس کا یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ جس اللہ نے یہ فرائض عائد کئے ہیں وہ خوب جانتا ہے کہ میرے اندر ان کے سر انجام دینے کی استطاعت فی الواقعہ ہے ۔ اگر طاقت نہ ہوتی تو وہ فرض ہی نہ کرتا ۔ اس تصور سے ایک طرف تو دل مومن اطمینان اور انس و محبت سے بھرجاتا ہے ، دوسری جانب اس کے اندر ان فرائض وواجبات کو سر انجام دینے کے لئے عزم اور ولولہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرائض اس پر عائد کردیئے ہیں تو لامحالہ وہ اس ڈیوٹی کا حصہ ہیں ۔ اور جب بھی وہ ضعف محسوس کرتا ہے ، کبھی تھکاوٹ محسوس کرتا ہے ، یہ فرائض بھاری ہونے لگتے ہیں تو وہ محسوس کرتا ہے کہ یہ اس کی ذاتی کمزوری ہے ۔ بوجھ زیادہ نہیں ہے ۔ چناچہ وہ اپنے عزم کو از سر نو تازہ کرتا ہے ۔ اپنی کمزوری کو دور کرتا ہے اور از سر نو فرائض پورے کرنے کا عزم صمیم کرلیتا ہے ۔ جب تک وہ ایسا کرسکتا ہے ۔ ازسر نو عزم کرنے کے لئے مومن کے لئے یہ اشارہ ہے کہ اگر راہ طویل ہوجائے تو از سر نو عزم کرو چناچہ تصور روح مومن اور اس کی ہمت مردانہ کے لئے مہمیز کا کام کرتا ہے۔ اور اس طرح اس کی ہمت اور اس کے ارادے میں پختگی آجاتی ہے ۔ اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اس تصور حیات کا دوسرا اہم حصہ ہے ۔ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ................ ” ہر شخص نے جو نیکی کمائی اس کا پھل اسی کے لئے ہے اور جو برائی سمیٹی اس کا وبال اسی پر ہے۔ “ ہر فرد اپنے کئے کا ذمہ دار ہے ۔ اس لئے اسے وہی کچھ ملے گا جو اس نے خود کمایا ۔ نیز سزا بھی کسی کو صرف اس کے جرم کی ملے گی جو وہ خود کرے گا ۔ ہر کوئی اپنے کئے کا ذمہ دار خود ہوگا۔ ہر شخص اپنے رب کے سامنے خود اپنا اعمال نامہ لے کر جائے گا۔ اور اس میں وہی کچھ ہوگا جو اس نے کمایا ، جس کا اس نے ارتکاب کیا ۔ کوئی شخص وہاں حیلہ بہانہ نہ کرسکے گا ۔ نہ وہاں کسی کو کسی کی امداد یا سفارش کی امید ہوگی ۔ انسان بحیثیت فرد اپنے رب کے سامنے ہوگا۔ جب انفرادی مسئولیت کا یہ تصور کسی مومن کے قلب میں جاگزین ہوجاتا ہے ، تو ہر فرد اپنے اللہ کے جو حقوق اس کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔ ان کا ذمہ دار بن جاتا ہے ۔ وہ دوسرے انسانوں کی وجہ سے کسی صورت میں بھی ان حقوق الٰہیہ سے دست بردار نہیں ہوتا الا یہ کہ شریعت کے مطابق یہ دست برداری ہو ۔ اب ہر انسان مومن کی ذات کے ساتھ جو حقوق اللہ وابستہ ہوتے ہیں وہ اس بارے میں ہر دھوکے ، ہر حدود شکنی ، ہر گمراہی اور ہر فساد کے مقابلے میں سینہ سپر ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ اپنے نفس اور اس کے ساتھ وابستہ حقوق اللہ کے بارے میں ذاتی طور پر خود جوابدہ ہے ۔ اور ہر نفس کے ساتھ اللہ کے جو حقوق وابستہ ہیں وہ صرف وہی ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے یا جن سے اس نے منع فرمایا ہے۔ یعنی ہر فرد اپنے طرز عمل اور اپنے شعور میں صرف اللہ وحدہ کی بندگی بجالائے ۔ اگر وہ ان حقوق میں کسی انسان کی وجہ سے کمی کرتا ہے ۔ مثلاً یوں کہ اسے کوئی گمراہ کردے ، اسے دھوکہ دیدے ، یا اسے مجبور کرے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کے دن یہ انسان اس مومن کی کوئی امداد نہ کرسکیں گے ۔ (ہاں اگر یہ نافرمانی وہ بحالت جبر کرتا ہے اور دل اس کا اسلامی فرائض حقوق پر مطمئن ہے ، تو پھر یہ معذور تصور ہوگا۔ ) غرض ایسے اشخاص قیامت کے دن نہ اس مومن کی مدافعت کرسکیں گے نہ سفارش کرسکیں گے ، نہ وہ اس پوزیشن میں ہوں گے کہ اس شخص کا بوجھ اتاردیں یا خود اٹھائیں۔ مسؤلیت کے اس ذاتی تصور کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر شخص بڑی جرأت کے ساتھ خود اپنی اور اس کے ساتھ وابستہ حقوق اللہ کی مدافعت کرتا ہے ۔ اسی لئے کہ اس کی سزاصرف اسے ہوگی ۔ اور وہ خود اپنے کئے کا ذمہ دار ہوگا ۔ یاد رہے کہ یہاں انفرادی مسؤلیت کے نظریہ سے مراد یہ خطرہ نہیں ہے کہ کوئی شخص معاشرہ کے اندر اپنی اجتماعی ذمہ داریاں پوری کرنے سے پہلوتہی کرے ۔ اس لئے کہ اجتماعی ذمہ داریاں بھی شریعت نے ایک فرد پر بحیثیت فرد ڈالی ہیں ۔ اگر معاشرہ میں اجتماعی ذمہ داریاں پوری نہ ہوں گی تو بھی فردذمہ دار ہوگا۔ کیونکہ یہ بھی اللہ کی جانب سے اس پر انفرادی طور پر ڈالی گئی ہیں ۔ مثلاً ہر فرد اللہ کی جانب سے مامور ہے کہ وہ اپنے مال اور اپنی دولت سے اجتماعی ذمہ داریہ ادا کرے ۔ نیز اسے یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ دوسروں کو تواصی بالحق کرے ، معاشرہ میں عدل و انصاف قائم کرے ، اپنے معاشرے سے باطل کو مٹانے کی کوشش کرے ۔ معاشرے میں سچائی اور بھلائی کو مستحکم کرے اور شر اور منکر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے ۔ اس کے اعمال نامہ میں اجتماعی معاملات کے حوالے سے بھی اس کی تمام کارکردگیاں اور کو تاہیاں درج ہوں گی ۔ اور جزا وسزاکا وہ انفرادی طور پر ذمہ دار یا حقدار ہوگا۔ اہل ایمان نے جب انفرادی ذمہ داری کے حکم کو سن لیا اور سمجھ لیا ۔ تو اب ان کے دلوں سے یہ دعانکلی ، جو بڑی جامع اور پر از اخلاص ہے ۔ اس دعا کو قرآن کریم اپنے خاص انداز تصویر کشی میں بیان کرتا ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ اہل ایمان ہاتھ اٹھائے ہمارے سامنے کھڑے ہیں ۔ صفیں باندھی ہوئی ہیں ۔ اور خشوع و خضوع کے ساتھ وہ یہ دعا پڑھ رہے ہیں ۔ (خصوصاً فرائض وذمہ داریوں کی حقیقت پاکر) یہ ایسی دعا ہے جو اہل ایمان اور ان کے رب کے ساتھ ان کے تعلق کی خوب تصویر کشی کرتی ہے ۔ وہ اپنے عجز اور ناتوانی کا گہرا دراک رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو اپنے رب کی رحمت اور درگزر کا محتاج پاتے ہیں ۔ وہ اس کی درگاہ میں پناہ کے خواستگار ہیں۔ وہ اپنے آپ کو صرف اللہ کے حوالے کرتے ہیں ۔ اسی سے تعلق جوڑ رہے ہیں اور ماسوا اللہ سے کٹ رہے ہیں ۔ وہ اس کی راہ میں جہاد کے لئے تیار ہیں ۔ اور اسی سے نصرت کے طلبگار ہیں ۔ اور ان کی یہ دعا ایک انتہائی دلدوز اور ملال انگیز نغمے کی صورت میں ہے ۔ جس کے صوتی زیروبم میں ان کے دل کی دھڑکن اور ان کے روح کی بےقراری صاف سنائی دیتی ہے اور صاف نظر آتی ہے۔ رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ” اے ہمارے رب ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ان پر گرفت نہ کر ۔ “ اگر انسان اس قدر کمزور ہوجائے اور اس سے ایسی بھول چوک ہوجائے جس میں اس کا کوئی دخل نہ ہو اور یہ بھول چوک کبھی کبھار ہو ہی جاتی ہے تو ایسی غلطیاں ، خطاء اور نسیان کے حکم میں ہون گی ۔ ان پر ایک مؤمن کے لئے صحیح طریقہ کار یہ ہے کہ وہ فوراً اللہ سے معفی مانگے ۔ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو ۔ بھول چوک وہ ہوتی ہے کہ اس میں کوئی شخص غلطی پر مصر نہ ہو ۔ یا وہ قصداً حکم عدولی نہ کررہا ہو۔ یا وہ کبر وغرور کی وجہ سے نافرمانی نہ کررہا ہو یا بالارادہ ٹیڑھے راستے پر نہ چل رہا ہو ۔ ان حالات میں کوئی صورت حال بھی وہ نہیں ہے جو ایک مومن اپنے رب کی بارگاہ میں اختیار کرتا ہے ۔ نہ ایسے حالات میں وہ اللہ کی جانب سے عفو و درگزر کا مستحق ہوگا ۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ وہ تائب ہوجائے اور ٹھیک طور پر اللہ کی طرف رجوع کرلے ۔ غرض مومنین نے بھول چوک کے بارے میں جو درخواست معافی گزاری ، اسے اللہ نے قبول فرمالیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ” میری امت سے خطاء اور نسیان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا جب تک انہوں نے ایسے افعال کو برا سمجھا۔ “ (طبرانی وغیرہ) رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ” اے ہمارے رب ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تونے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے ۔ “ یہ دعا مرد مومن کی زبان پر اس احساس ذمہ داری کی وجہ سے آتی ہے جو امت مسلمہ پر تمام رسولوں کی رسالت کے سلسلے میں اٹھائی گئی ہے ، یہ امت تمام رسالتوں کے بار امانت کے نیچے آگئی ہے ۔ جیسا کہ ان کے رب نے اس قرآن کریم میں اس امت کو جابجا بتلایا کہ اس سے قبل جن امتوں کے پاس رسول بھیجے گئے انہوں نے اپنے رسولوں کے ساتھ کیا کیا سلوک کئے اور ان امتوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر کیا کیا بوجھ ڈالے گئے ۔ اور یہ بوجھ ان پر ان کے بعض جرائم کی وجہ سے ڈالے گئے ۔ مثلا ً بنی اسرائیل کی بعض بد اعمالیوں کی وجہ سے ان پر بعض پاکیزہ قسم کی غذائیں حرام کردی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور چربی بھی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ “ (146 : 6) یا جس طرح سورة البقرہ میں ہے کہ انہوں نے بچھڑے کی عبادت شروع کردی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ ایک دوسرے کو قتل کریں ۔ اسی طرح ان کی اس بدعملی کا کفارہ ہوسکے ۔ ان پر سبت کے دن تجارت اور شکار کو حرام قرار دیا گیا ۔ اسی وجہ سے یہاں اہل ایمان کو دعا سکھائی گئی کہ وہ دست بدعا ہوں کہ ان پر اللہ تعالیٰ وہ بوجھ نہ ڈالے جو ان سے پہلے لوگوں پر ڈالے گئے ۔ اس لئے کہ نبی آخرالزماں کی بعثت کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ وہ ان کے ذریعہ اہل ایمان اور پوری انسانیت سے وہ بوجھ اتاردیں جو انسانیت پر ڈالے گئے تھے ۔ اور وہ بندھن توڑدیں جن میں بشریت خوامخواہ جکڑی ہوئی تھی اور جس کے نتیجے میں اسلامی نظریہ ٔ حیات سیدھا سادھا نظریہ بن کر آیا ، جو آسان بھی ہے اور نرم بھی ہے ۔ فطرت انسانی کے عین مطابق شاہری فطرت سے ہمقدم اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ سے فرمایا ۔ وَنُیَسِّرُکَ لِلیُسرٰی ................” اور ہم تیری راہنمائی سہولت کے ساتھ ۔ سہل فرائض کی طرف کریں گے ۔ “ وہ عظیم بوجھ کیا ہے جو امم سابقہ کے کاندھوں پر ڈالا گیا تھا اور اس لئے ڈالا گیا تھا کہ انہوں نے خلیفۃ اللہ فی الارض ہونے کے ناطے اپنے عہد کی خلاف ورزی کی تھی اور عہد توڑ دیا تھا اور وہ عظیم بوجھ جو اب امت مسلمہ کے کاندھوں سے اتار دیا گیا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا ہے اور اس کی ماہیت کیا ہے ؟ یہ عظیم بوجھ انسان کے انسان کی غلامی کا بوجھ ہے ۔ جس میں بندہ بندے کا غلام ہوتا ہے ، جس میں انسان کے لئے دوسرا انسان ضابطہ حیات ہوتا ہے ۔ اس طرح ایک نسل انسانی دوسرے انسان کی ذات کے تابع ہوتی ہے ، یا انسان ایک طبقے کے غلام ہوتے ہیں یا جس میں انسان ایک نسل کے غلام ہوتے ہیں ۔ یہ ہے وہ عظیم بوجھ جس سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو رہائی دلائی ۔ اور ان تمام غلامیوں سے انہیں چھڑا کر صرف اپنی بند گی اور غلامی اور اپنی اطاعت میں داخل کردیا ۔ اس آزادی کے بعد اب اہل ایمان صرف اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے ضابطہ حیات اخذ کرنے لگے ۔ یوں انہیں ایک اللہ وحدہ کی غلامی میں داخل کرکے ، ان کی روح ، ان کی عقل اور ان کی پوری زندگی کو دوسرے انسانوں کی غلامی سے نکالا گیا ۔ اللہ جل شانہٗ کی بندگی اور غلامی بایں مفہوم کہ انسان اپنی اقدار حیات نیک وبد کا معیار اور اجتماعی زندگی کے قوانین صرف اللہ سے اخذ کرے گا ۔ پوری انسانیت کے لئے آزادی کا نقطہ آغاز ہے ۔ یوں ایک انسان دوسرے جبار وقہار انسانوں کی غلامی اور بندگی سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح وہ مذہبی پروہتوں ، کاہنوں اور پیشواؤں کی غلامی سے بھی آزاد ہوجاتا ہے ۔ مزید یہ کہ ایک انسان اوہام و خرافات اور رسوم ورواجات کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ ایک انسان ہوائے نفس اور جسمانی شہوات ومرغوبات کے بندھنوں سے بھی چھٹکارا پاتا ہے ۔ انسان ہر کھوئی ہوئی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے جو ناحق انسان کے کاندھوں پر سوار ہوتی ہے اور تاریخ شاہد ہے ایسی غلامیوں نے انسانوں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی ۔ اور جس کی وجہ سے لوگوں کے سر اللہ واحد القہار کے مقابلے میں دوسرے جباروں کے سامنے جھکتے تھے ۔ رَبَّنَا وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ” پروردگار ، جس بوجھ کو ہم اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے وہ ہم سے نہ اٹھوا۔ “ اس دعا سے اہل ایمان کے اس شعور کا اظہار ہوتا ہے کہ اب وہ انسان کی غلامی سے آزاد ہوگئے ہیں ۔ نیز اب وہ خائف ہیں کہ کہیں وہ اپنی کوتاہیوں کے سبب دوبارہ غلامی میں واپس نہ چلے جائیں جو نہایت ہی برا دور تھا۔ ” اے ہمارے رب ، ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی طاقت ہم میں نہیں ہے۔ “ ایک ایسی دعا ہے جس سے مکمل طور پر سر تسلیم خم کردینے کی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ اہل ایمان کے دل سے اب یہ ارادہ اور نیت ہی نکل گئی ہے کہ وہ احکام خداوندی کی خلاف ورزی کریں گے ۔ چاہے جو احکام بھی ہوں ، وہ صرف یہ درخواست پیش کرتے ہیں کہ وہ ضعیف ہیں ۔ یہ توقع رکھتے ہیں ۔ اجرائے احکام میں ان کی صفت کو مدنظر رکھاجائے گا۔ پروردگار ، ہم پر رحم کر اور تکلیف مالایطاق سے ہمیں بچا تاکہ ان سے تعمیل احکام میں عجز و قصور کا ارتکاب نہ ہو ، ورنہ وہ تو پختہ ارادہ کئے ہیں کہ مکمل تسلیم وانقیاد کا مظاہرہ کریں گے ۔ صرف بندہ ناتواں کی امید یہ ہے کہ مالک الملک ان کے ساتھ مہربانی کرے۔ اور جس طرح وہ اپنے بندوں کے ساتھ جودوکرم ، نرمی اور محبت کا رویہ رکھنے کے عادی ہیں وہی سلوک ہم سے جاری رکھاجائے ۔ ہم اپنی تقصیرات کا اعتراف کرتے ہیں اور وہ تقصیریں صرف اسی صورت میں معاف اور بےاثر ہوسکتی ہیں جب اللہ کا فضل شامل حال ہو۔ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ” ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ، ہم پر رحم فرما۔ “ اس لئے کہ اس امتحان میں کامیاب ہونے کی یہ واحد گارنٹی صرف اسی صورت میں اللہ کی رضامندی حاصل ہوسکتی ہے ۔ انسان جس قدر محنت سے بھی وفاداری کرے ، اس کے کام میں کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے اور اگر اللہ کا فضل شامل حال نہ ہو وہ عفو و درگزر اور رحمت نرمی سے کام لے گا ۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے ، فرماتی ہیں ۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص بھی صرف اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہ ہوگا ۔ صحابہ کرام ؓ نے پوچھا ، رسول اللہ ﷺ آپ بھی ؟ تو رسول ﷺ نے فرمایا ۔” اور میں بھی ، الا یہ کہ اللہ نے مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا ہے۔ “ ایک صحیح مومن کے احساس میں یہی اصل بات ہے ۔ وہ حتی المقدور عمل کرتا ہے لیکن اپنی تقصیرات کا اسے پوری طرح احساس ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد اسے پوری امید ہوتی ہے کہ اللہ اس کی تقصیرات سے عفو و درگزر فرمائے گا ۔ اور اس کے ساتھ نرمی برتی جائے گی ۔ سب سے آخر میں اہل ایمان اللہ کے مضبوط سہارے کو پکڑتے ہیں ، وہ جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ کا ارادہ ہے کہ حق کا بول بالا ہو ، دین اسلام اور اسلامی نظام زندگی اس کرہ ارض پر غالب ہو ، اور صورت حال یہ ہو کہ ” کوئی فتنہ نہ رہے اور دین صرف اللہ کا چلے ۔ “ اب اہل ایمان اللہ کا مضبوط سہارا لیتے ہیں ۔ وہ اپنے سروں پر اسلام کے جھنڈے بلند کرتے ہیں ۔ وہ صرف انہی جھنڈوں سے اپنی پہچان کراتے ہیں ۔ جبکہ جاہلیت کی علامات اور جھنڈے بہت ہی مختلف ہیں ، اب وہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے طلبگار ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کا وہی والی اور وارث ہے ۔ وہ اہل کفر کے ساتھ صرف اللہ کے لئے لڑتے ہیں ۔ جو دین اسلام سے خارج ہیں۔ أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (286) ” تو ہمارا مولیٰ ہے کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “ یہ ہے اس عظیم سورت کا خاتمہ جس میں اس پوری سورت کے مضامین کا خلاصہ بیان کیا گیا ہے ۔ اس خلاصے میں اسلامی تصور حیات کا خلاصہ بیان ہوا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ ایک سچے مومن کا اپنے رب کے ساتھ ہر حال میں کیا تعلق ہوتا ہے۔

آل عمران 3:1

درس 23 ایک نظر میں اگر ہم ان روایات کو لے لیں ‘ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ اس سورت کی ابتدائی 80 سے کچھ اوپر آیات اس موقع پر نازل ہوئیں جب وفد نجران رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مناظرے کے لئے آیا تھا ‘ یہ وفد عیسائیوں پر مشتمل تھا ‘ اور یہ لوگ رسول ﷺ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے تھے ۔ تو پھر اس سبق کی تمام آیات گویا اس موقع پر نازل شدہ تصور ہوں گی ‘ لیکن یہ روایات خود اس حقیقت کو بیان کردیتی ہیں کہ یہ وفد عام الوفود 9 ھ میں آیا تھا ‘ اس وقت غلبہ اسلام کا شہرہ جزیرۃ العرب اور اس کے اردگرد علاقوں میں پھیل گیا تھا اور جزیرۃ العرب کے مختلف علاقوں سے وفود رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ملاقات کے لئے دھڑا دھڑ حاضر ہورہے تھے ‘ ان وفود میں سے بعض تو معلومات حاصل کرنے آئے تھے اور بعض ایسے تھے جو جدید حالات میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ معاہدات کی پیشکش بھی کرتے تھے ۔ جیسا کہ میں اس سے پہلے کہہ چکا ہوں ‘ کہ ان آیات میں جن موضوعات پر بحث کی گئی ہے اور جس انداز سے بحث کی گئی ہے ۔ یہ دونوں اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ آیات ہجرت کے بعد قریبی زمانہ میں نازل ہوئیں ۔ اس سورت میں زیادہ تر اہل کتاب کے ساتھ نظریاتی مباحثہ ہے ۔ ان کے غلط عقائد کی وجہ سے مسلمانوں کے اندر جو شبہات پیدا ہوتے تھے ۔ ان کے جوابات ہیں ‘ یا ان اعتراضات کے جوابات ہیں جو وہ رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی صحت کے بارے میں کیا کرتے تھے ‘ یا وہ ہدایات ہیں جو اہل کتاب کے حوالے سے حقیقت توحید اور شرک کے بارے میں نازل ہوئیں ‘ یا وہ خبرداری ہے جو اللہ نے یہاں اہل کتاب کی سازشوں کے مقابلے میں دی اور کہا کہ تم ان کے دھوکے میں نہ آؤ ‘ اپنے موقف پر ثابت قدم رہو ‘ ان موضوعات و مباحث کی وجہ سے میرا میلان اس طرف ہے کہ یہ آیات وفد نجران کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں ۔ کیونکہ یہ وفد 9 ھ میں آیا تھا ‘ اس لئے کہ ان آیات کے نزول کے لئے 9 ھ سے پہلے بھی مدینہ طیبہ میں ایسے حالات تھے کہ ان کا نزول ان میں ہوایا یہ پوری سورت ان میں نازل ہوگئی ہو۔ اس لئے ان آیات کی تشریح کے وقت ہم واقعہ نجران ہی کو پیش نظر نہ رکھیں گے بلکہ اس سورت کا خطاب عام اہل کتاب کو سمجھاجائے گا ۔ کیونکہ تاریخی شواہد کے مطابق یہ واقعہ بہت متاخر ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر تمہید میں کہا ‘ ان آیات میں ‘ اس اصلی کشمکش کا ذکر ہے ‘ جو اس وقت تحریک اسلامی اور اس کے عقائد و نظریات اور اہل کتاب اور مشرکین اور ان کے عقائد ونظریات کے درمیان برپاتھی ‘ یہ جنگ ظہور اسلام کے ساتھ ہی شروع تھی ‘ اس میں کوئی وقفہ نہ تھا ‘ خصوصاً اس وقت اس کشمکش میں بڑی تیزی آگئی تھی جب تحریک اسلامی کا ہیڈ کو راٹر مدینہ منتقل ہوا اور وہاں ایک اسلامی حکومت قائم ہوگئی ۔ اس نظریاتی جنگ میں مشرکین اور یہودی شانہ بشانہ لڑ رہے تھے ۔ اور ان کی اس مشترکہ مہم کو قرآن کریم تفصیل سے ریکارڈ کرتا ہے۔ یہ بات بعید از امکان نہیں ہے کہ جزیرۃ العرب کے اطراف واکناف میں جو عیسائی آباد تھے ‘ ان میں مذہبی پیشوا بھی اس نظریاتی جنگ میں کسی نہ کسی صورت میں شریک ہوں ‘ نیز یہ بات بھی بعید از قیاس نہیں ہے کہ قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں جو صحیح عقائد ونظریات پیش کئے تھے ان کا علم ان عیسائیوں کو ہوگیا ہو ‘ اور وہ اس موضوع پر رسول اکرم ﷺ کے ساتھ بحث و مباحثہ کے لئے آئے ہوں ‘ کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں عیسائی اپنی اصل راہ سے ہٹ گئے تھے ۔ اور اس موضوع پر قرآن کریم تنقید کرچکا تھا ‘ اور عقیدہ توحید کے حوالے سے عیسائیوں پر رد آگیا تھا۔ اس سبق میں ابتداء ہی اسلام کے عقیدہ توحید کو اہل شرک کے انحرافات اور شبہات سے پاک وصاف کرکے بیان کیا گیا ہے ‘ اور یہ قرار دیا گیا کہ قرآن کریم حق و باطل کے درمیان فرقان ہے ‘ اور جو شخص بھی آیات الٰہی کا انکار کرے گا وہ کافر تصور ہوگا۔ چاہے وہ اہل کتاب میں سے ‘ ان آیات میں قرآن کے حوالے سے بتایا گیا مسلمانوں اور اہل ایمان کا رویہ ان آیات کے ساتھ کیا ہے ‘ اپنے رب کے ساتھ ان کا کیا رویہ ہونا چاہئے ‘ واضح طو رپر بیان کیا جاتا ہے کہ ایمان کی کیا علامات ہوتی ہیں ‘ وہ اس قدر واضح ہوتی ہیں کہ اہل ایمان کی پہچان میں کوئی غلطی نہیں ہوتی ۔ اور کفر کی بھی کچھ علامات ہوتی ہیں اور اہل کفر کی پہچان میں بھی غلطی نہیں ہوسکتی ۔ فرماتے ہیں : ” اللہ وہ ‘ زندہ جاوید ہستی ‘ جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے ‘ حقیقت میں اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ اس نے تم پر کتاب نازل کی ‘ جو حق لے کر آئی ہے ‘ اور ان کتابوں کی تصدیق کررہی ہے جو پہلے آئی ہوئی تھیں۔ اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لئے تورات و انجیل نازل کرچکا ہے ‘ اور اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے ۔ اب جو لوگ اللہ کے فرامین قبول کرنے سے انکار کریں۔ ان کو یقیناً سخت سزا ملے گی ۔ “ اللہ بےپناہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے ‘ زمین و آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں ‘ تمہاری صورتیں ، جیسی چاہتا ہے بناتا ہے ‘ اس زبردست حکمت والے کے سوا کوئی اور خدا نہیں۔ وہی اللہ ہے ‘ جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں ۔ ایک محکمات جو کتاب کی اصل بنیادیں ہیں ۔ اور دوسری متشابہات ‘ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کو معنی پہنانے کی کوشش کیا کرتے ہیں ‘ حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ بخلاف اس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ۔” ہمارا ان پر ایمان ہے ‘ یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں ‘ اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ “ (1 : 3 تا 8) ” اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ‘ اور فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی شہادت دی ہے ‘ وہ انصاف پر قائم ہے ‘ اس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی اللہ نہیں ‘ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ‘ اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے ان لوگوں نے اختیار کئے جنہیں کتاب دی گئی تھی ۔ ان کے اس طرزعمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آجانے کے بعد ‘ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لئے ایسا کیا ‘ اور جو کوئی اللہ کے احکام وہدایات کی اطاعت سے انکار کردے ‘ اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی ۔ اور اس سبق میں ایک تہدید تو ایسی آئی ہے جس میں روئے سخن یہود کی طرف ہے ‘ مثلاً فرمایا ” جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ‘ جو نبیوں کو ناحق قتل کرتے ہیں ‘ اور ان لوگوں کو بھی قتل کرتے ہیں جو عدل و انصاف کا حکم دیتے ہیں تو انہیں درناک عذاب کی خوشخبری دیجئے ۔ “ قتل انبیاء کا ذکر آتے ہی ذہن یہودیوں کی طرف چلا جاتا ہے ‘ اس لئے کہ یہ کارنامہ وہی سرانجام دیتے رہے ہیں ۔ ایک دوسری آیت میں آیا ہے ۔” اہل ایمان اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بنائیں ۔ “ اس آیت میں اگرچہ لفظ کافر واقع ہے تاہم اس سے مراد غالباً یہودی ہیں ‘ اگرچہ اس میں مشرکین بھی شامل ہوسکتے ہیں ۔ اس لئے تحریک اسلامی کے اس دور تک بعض مسلمان ‘ اپنے کافر مشرکین اقارب اور یہودیوں میں سے اپنے دوستوں کے ساتھ تعلقات قائم کئے ہوتے تھے ۔ اس لئے یہاں انہیں اب ایسے تعلقات جاری رکھنے سے منع کردیا گیا اور اس قدر سخت الفاظ میں ان تعلقات کے انجام بد سے ڈرایا گیا ‘ چاہے یہ دوست یہودی ہوں یا مشرکین ہوں ۔ کیونکہ سب کے الکافرین کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اسی طرح ایک دوسری آیت ” ان لوگوں کو کہہ دو جنہوں نے کفر اختیار کیا ‘ تم عنقریب مغلوب ہوگے اور تمہیں جہنم کی طرف لے جایا جائے گا ‘ جو بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ‘ تمہارے لیے ان دوگروہوں میں سامان عبرت ہے جو ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے ‘ ایک اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا اور دوسرا کافر تھا ‘ دیکھنے والے دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دوچند تھا۔ “ اس آیت میں غزوہ بدر کے واقعات کی طرف اشارہ ہے ‘ لیکن خطاب یہودیوں سے ہے ‘ اس سلسلے میں حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت منقول ہے ‘ فرماتے ہیں کہ جب رسول اکرم ﷺ نے بدر کے دن قریش کو شکست دی اور آپ ﷺ مدینہ طیبہ لوٹے تو یہودیوں کو جمع کیا تو انہیں یہ نصیحت کی کہ اس سے قبل کے تمہارا وہ حال ہوجائے جو قریش کا ہو ‘ تم مسلمان ہوجاؤ۔ انہوں نے کہا : محمد ! بیشک تم نے قریش کے چند آدمیوں کو قتل کردیا ہے مگر اس سے کہیں غرور میں مبتلا نہ ہوجاؤ کیونکہ وہ ناتجربہ کار تھے اور جنگ کے بارے میں زیادہ جانتے نہ تھے ۔ اگر تم نے ہمارے ساتھ جنگ کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم کچھ لوگ ہیں شائد آپ کو ہم جیسے لوگوں کبھی واسطہ نہ پڑے ۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت فرمائی کہ ” ان لوگوں سے کہہ دو کہ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ‘ بہت جلدی تم مغلوب ہوجاؤگے اور پھر جہنم کی طرف تمہیں اٹھایاجائے گا “………ان الفاظ تک ” ایک گروہ اللہ کے راستے میں لڑتا ہے ۔ “ یعنی بدر میں اور ” دوسرا کافر ہے۔ “ (ابوداؤد) اس طرح اس سبق کی آیت ” اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں ‘ کیا تم نے بھی اس کی اطاعت اور بندگی قبول کی ؟ “ اگر کی ‘ تو راہ راست پاگئے اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچانا ہے ۔ آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے ۔ “ (60 : 3 میں رسول ﷺ کو خطاب ہے ‘ اور یہ خطاب اگرچہ اہل کتاب کے ساتھ نظریاتی مباحثہ کے اس سبق کے آغاز میں ہے ‘ تاہم یہ عام ہے اور مخالف خواہ اہل کتاب ہوں یا غیر اہل کتاب ہوں ‘ اس آیت کا آخری حصہ ” اگر انہوں نے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچانے کی ذمہ داری ہے ۔ “ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت رسول ﷺ پر اہل کتاب کے خلاف جہاد فرض نہ ہوا تھا۔ اور آپ ان سے جزیہ بھی وصول نہ کرتے تھے ۔ جس سے ہمارا یہ نظریہ درست معلوم ہوتا ہے کہ اس سبق میں جو زیر بحث آیات ہیں وہ ہجرت کے بعد ابتدائی دور میں نازل ہوئیں۔ غرض ان تمام آیات پر اچھی طرح غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق کسی ایک واقعہ مثلاً قدوم نجران سے نہیں ہے ‘ ان میں دی گئی ہدایات عام ہیں اور ان کا انطباق تمام مخالفین اسلام پر ہوتا ہے ‘ ہاں جن واقعات کی نسبت سے ان آیات کا نزول ہوا ہے۔ ایسے واقعات میں ایک واقعہ وفد نجران کا بھی ہوسکتا ہے ‘ کیونکہ ان ابتدائی دنوں میں ایسے مواقع بار بار وقوع پذیر ہوا کرتے تھے ۔ کیونکہ اس دور میں جزیرۃ العرب میں مسلمانوں اور ان کے مخالفین کے درمیان ایک ہمہ گیر نظریاتی جنگ جاری تھی ۔ خصوصاً یہود مدینہ کے ساتھ۔ اس پہلے سبق میں اسلامی تصور حیات کے بارے میں نہایت ہی اہم بنیادی تصورات کو پیش کیا گیا ہے ۔ اس نظریہ حیات کی نوعیت اور اس کے مزاج کے بارے میں بھی اہم وضاحتیں دی گئی ہیں۔ نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس نظریہ حیات کے عملی اثرات ‘ انسانی زندگی پر کیا مرتب ہوتے ہیں ‘ وہ آثار جو لازمہ ایمان ہیں ‘ مثلاً اللہ تعالیٰ کو وحدہٗ لاشریک سمجھنا ‘ اور اس کا لازمی نتیجہ یہ بتا گیا ہے کہ ایک مؤحد اللہ کا مسلم بھی ہوجائے ‘ یہی دین ہے اور اس کے سوا کوئی دین نہیں ہے۔ اور مسلم ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردے اور اس کی اطاعت کرے ۔ اس کے اوامر کو مانے ‘ اس کی شریعت کو مانے ‘ اس کے رسول اور رسول کے طریقہ زندگی کا اتباع کرے۔ پس اس نظریہ حیات کی رو سے اگر کوئی سر تسلیم خم نہیں کرتا ‘ کوئی اطاعت نہیں کرتا ‘ کوئی رسول کا اتباع نہیں کرتا تو وہ مسلم نہیں ہے۔ لہٰذا وہ ایسا دیندار نہیں ہے جس کے دین کو اللہ نے پسند کیا ہو۔ اور اللہ نے صرف اسلام کو پسند کیا ہے ۔ اور اسلام جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا مکمل طور پر سر تسلیم خم کردینے ‘ اطاعت کرنے اور اتباع کرنے کا نام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بڑے تعجب کے ساتھ اہل کتاب پر یہ تبصرہ کرتا ہے جب انہیں اس طرف بلایا جاتا ہے کہ آؤ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کریں یَتَوَلّٰی فَرِیقٌ مِّنھُم وَھُم مُّعرِضُونَ وہ منہ پھیر کر چلے جاتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ قرآن کی اصلاح میں یہ اعراض کفر کے ہم معنی ہے ‘ اور اس اعراض سے ان کے دعوائے ایمان کی قلعی کھل جاتی ہے اور اس سے ایمان کی نفی ہوتی ہے۔ اس حقیقت کی مزید وضاحت اس سورت کے حصہ دوئم میں کی گئی ہے ………اس قدر اجمالی تعارف کے بعد اب مناسب ہے کہ اس درس کی آیات کی مفصل تشریح و تفسیر پیش کی جائے۔ یہ حروف مقطعات ہیں ‘ ان کی کوئی توضیح وتشریح تو ممکن نہیں ہے ‘ البتہ ترجیحی بنیاد پر ‘ میں اس کا وہی مفہوم بیان کرتا ہوں ‘ جو میں نے سورة بقرہ کے ابتداء میں بیان کیا تھا ‘ یعنی یہ اس چیلنج کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کتاب انہی حروف سے بنی ہے ‘ جو مخالفین اسلام کے دسترس میں ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود یہ کتاب معجزہ ہے ‘ اور مخالفین اس جیسی کتاب لانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان حروف کی جس تفسیر کو ہم نے ترجیح دی ہے ‘ متعددسورتوں میں اس چیلنج کی تشریح یا اشارہ خود اس سورت میں بھی پایا جاتا ہے جس کی ابتداء میں یہ حروف وارد ہوئے ہیں ۔ مثلاً سورة بقرہ میں یہ اشارہ بطور صریح چیلنج موجود ہے وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (23) ” اور اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ‘ یہ ہماری ہے یا نہیں تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنالاؤ ‘ اپنے سارے ہم نواؤں کو بلالو ‘ ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو ‘ مدد لے لو ‘ اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر دکھاؤ۔ “ (23 : 2) زیربحث سورة آل عمران میں ‘ تحدی اور چیلنج کا اشارہ ایک دوسری نوعیت سے کیا گیا ہے ‘ یہ کہ یہ کتاب اس اللہ کی جانب سے نازل کی گئی ہے ۔ جس کے سوا کوئی دوسرا الٰہ نہیں ہے ۔ اور یہ انہی حروف وکلمات سے مولف ہے جن حروف وکلمات میں تمام دوسری کتب سماوی نازل ہوئی تھیں ۔ اور جن پر خود اہل کتاب ایمان لاچکے ہیں ‘ جن سے اس سورت کا زیادہ تر خطاب متعلق ہے ۔ اس لئے یہ بات کوئی قابل تعجب یا قابل انکار نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ہی حروف سے مولف ایک نئی کتاب اپنے رسول پر نازل کرے۔

آل عمران 3:2

یوں اس سورت کا آغاز ان منکرین اسلام اہل کتاب پر تنقید سے ہوتا ہے ‘ جو رسول ﷺ کی رسالت کا انکار کررہے تھے ‘ حالانکہ وہ اپنے دین کی بنیاد پر اور اہل کتاب ہونے کے ناطے نبوت ‘ رسالت ‘ کتب سماوی اور وحی الٰہی کے تصور سے واقف تھے ‘ اس لئے ان کا فرض تھا کہ سب سے پہلے اسلام لاتے اور رسول ﷺ کی تصدیق کرتے بشرطیکہ ان کی تصدیق صرف دلیل اور حجت کے اطمینان پر موقوف ہوتی۔ اس فیصلہ کن حملے میں ‘ ان تمام شبہات کی بیخ کنی کردی جاتی ‘ جو اہل کتاب کے دلوں میں پائے جاتے تھے ‘ یا جنہیں وہ جان بوجھ کر مومنین کے دلوں میں ڈالنا چاہتے تھے ‘ اس لئے ان کا پروپیگنڈا کرتے تھے ۔ اس تنقید میں ان راستوں اور ان دروازوں کی نشان دہی کردی گئی ہے جن کے ذریعہ یہ شبہات داخل ہوتے تھے ۔ اس لئے یہاں انسدادی طور پر بتادیا گیا کہ اللہ کی آیات سے متعلق سچے مومنوں کا موقف کیا ہے اور ان کے بارے میں مخالفین اور منحرفین کی سوچ کیا ہے ۔ سورت کے اس آغاز میں سچے اہل ایمان کا تعلق باللہ ‘ اللہ کے دربار میں ان کی عاجزی اور ان کی التجاؤں کی ایک خوبصورت تصویر کشی کی گئی ہے۔ اور بتایا گیا ہے کہ وہ اللہ کی صفات کے بارے میں یہ تصور رکھتے ہیں ۔ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ…………… ” اللہ وہ زندہ جاوید ہستی ہے ‘ جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ “ یہ خالص اور صاف ستھری توحید دراصل ایک مسلمان کے عقیدہ اور تمام غیر مسلموں کے عقائد کے درمیان ایک خط امتیاز کھینچ دیتی ‘ جن میں ملحدین اور مشرکین بھی شامل ہیں اور منحرفین اہل کتاب بھی شامل ہیں چاہے یہودی ہوں یا نصاریٰ ہوں ‘ اپنے تصورات اور عقائد کے اختلاف کے مطابق ‘ غرض توحید ایک مسلم اور تمام غیر مسلموں کے عقائد کے درمیان ایک خط امتیاز ہے ‘ اس لئے کہ یہاں نظام زندگی کا تعین تصور حیات اور عقائد پر ہوتا ہے ۔ یہ عقیدہ ہی جو نظام زندگی کا تعین کرتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ‘ خدائی میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ‘ وہ زندہ ہے ‘ اور حیات اس کی ذاتی صفت ہے ۔ وہ ہر قید سے آزاد ہے ، زندہ مطلق ہے ‘ وہ القیوم ہے ‘ اس کائنات کو اسی نے تھاما ہوا ہے ‘ زندگی اس کی وجہ سے قائم ہے ‘ ہر موجود اس کی وجہ سے موجود ہے ۔ پھر وہ سب کو قائم رکھے ہوئے ہے ۔ اس لئے اس کے بغیر کائنات میں نہ کوئی ہستی موجود رہ سکتی ہے اور نہ موجود ہوسکتی ہے۔ یہ ہے خط امتیاز ایک تصور حیات اور عقیدہ میں اور یہی فرق ہے ایک مسلم کے طرزعمل اور نظام زندگی میں بمقابلہ ایک غیر مسلم ‘ اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں اسلامی تصور توحید اور اسلامی عقائد اور ان کے عقائد باطلہ اور عقائد جاہلیت کے اندھیروں کے درمیان بھی امتیاز ہوجاتا ہے ۔ جاہلیت کے تصورات میں مشرکین عرب کے اس وقت کے تصورات بھی شامل ہیں اور یہود ونصاریٰ کے وہ منحرف شدہ تصورات بھی جن کے وہ قائل تھے ۔ قرآن کریم نے یہودیوں کے بارے میں ‘ یہ بات نقل کی ہے کہ وہ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ کا مقام دیتے تھے ‘ قرآن کریم نے یہودیوں کے جس باطل عقیدے کا ذکر کیا ہے آج یہودی جس کتاب مقدس کے قائل ہیں اس میں موجود ہے ‘ مثلاً سفر تکوین اصحاح ششم میں ذکر ہے۔ ” جب روئے زمین پر آدمی بہت بڑھنے لگے اور ان کی بیٹیاں پیدا ہوئیں ‘ تو خدا کے ” بیٹوں “ نے آدمی کی بیٹیوں کو دیکھا کہ وہ خوبصورت ہیں اور جن کو انہوں نے جنا ان سے بیاہ کرلیا۔ تب خداوند نے کہا کہ میری روح انسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہے گی کیونکہ وہ بھی تو بشر ہے اس کی عمر ایک سو بیس برس ہوگی ۔ ان دنوں میں زمین پر جبار تھے اور بعد میں جب خداوند کے بیٹے انسانوں کی بیٹیوں کے پاس گئے تو ان کے لئے ان سے اولاد ہوئی ۔ یہی قدیم زمانے کے سورما ہیں جو بڑے نامور ہوئے۔ “ مسیحی تصور ات میں جو خرابیاں پیدا ہوگئی تھیں ‘ قرآن کریم نے ان کا قول نقل کیا ہے کہ ” اللہ تینوں میں سے ایک ہے “ اِنَّ اللّٰہَ ثَالِثٌ ثَلَاثَة……………اور ان کا یہ قول اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ المَسِیحُ ابنُ مَریَمَ……………” کہ اللہ مسیح بن مریم ہیں “ اور یہ کہ انہوں نے حضرت مسیح اور ان کی والدہ کو اللہ کے سوا دوالٰہ بنالیا تھا۔ اور انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو بھی اللہ کے علاوہ رب بنالیا تھا ‘ مشہور مصنف آرنلڈ اپنی کتاب تبلیغ اسلام میں لکھتے ہیں : ” ظہور اسلام سے تقریباً ایک سو سال پہلے قیصر یوستینیان روسی سلطنت میں اتحاد پیدا کرنے میں بظاہر کامیاب رہا تھا ‘ مگر اس کی وفات کے بعد سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے ‘ کیونکہ دارالسلطنت اور صوبجات کے درمیان ایک مشترکہ قومیت کا جذبہ بالکل باقی نہیں رہا تھا ۔ ہرقل نے کوشش کی تھی کہ شام کے ملک کو مرکزی حکومت کے ساتھ دوبارہ وابستہ کرے اور اسے اس میں کسی قدر کامیابی بھی ہوئی تھی ‘ مگر بدقسمتی سے اس نے مصالحت کے لئے جو طریقے اختیار کئے ‘ ان سے اختلاف رفع ہونے کی بجائے اور شدید ہوگیا ‘ لوگوں کے دلوں میں مذہبی تعصبات نے قومی جذبے کی جگہ لے رکھی تھی لہٰذا قیصر نے کوشش کی کہ دین مسیحی کی تفسیر وتشریح ایسے طریق پر کرے جس سے مخالف فرقوں کے باہمی مناقشات مٹ جائیں اور جو لوگ دین سے منحرف ہوچکے ہیں ان کو آرتھوڈوکس ‘ کلیسا اور مرکزی حکومت کے ساتھ متحد کردیں ۔ خلقیدونہ کے مقام پر مسیحی علماء کی جو مجلس 451 ء میں بیٹھی تھی اس نے اس عقیدے کا اعلان کیا تھا کہ ” حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دو اقنوم تسلیم کرنے چاہئیں ‘ اس طور پر کہ ان میں کوئی اختلاط یاتبدیلی یا تقسیم یا علیحدگی نہیں ہے ۔ ان کی فطرتوں کا جو اختلاف ہے جو ان کے اجتماع سے باطل نہیں ہوجاتا بلکہ ہر اقنوم کے خواص برقرار ہیں اور ایک ذات اور ایک وجود میں موجود ہیں ۔ مگر اس طرح نہیں کہ یہ خواص دوہستیوں میں منقسم یا الگ الگ ہوں بلکہ وہی ایک بیٹا ہے ، اکلوتا ، کلمۃ اللہ مگر مونوفرائٹ (Monophysites) فرقے نے اس عقیدے کو رد کردیا کیونکہ وہ لوگ اس بات کے قائل تھے کہ ” مسیح کی ذات میں صرف ایک اقنوم ہے ‘ یہ ذات مرکب ہے جس میں تمام ربانی اور انسانی صفات شامل ہیں ۔ مگر وہ وجود جس میں یہ صفات ہیں ‘ اس میں دوئی نہیں ہے بلکہ وہ ایک مرکب وحدت ہے ۔ “ اس فرقے کے لوگ خاص طور پر شام ‘ مصر اور رومی سلطنت کے باہر ملکوں میں آباد تھے ۔ چناچہ ان دونوں فرقوں کے درمیان اس مسئلے پر دوصدیوں تک گرماگرم مباحثہ جاری رہا ‘ یہاں تک کہ ہرقل نے آکر فریقین کے درمیان مونوتھیلتزم (Monotheletism) کے عقیدے کے ذریعے سے مصالحت پیدا کرنی چاہی ۔ اس عقیدے کا مفہوم یہ تھا کہ اقانیم کی دوئی کو تسلیم کرتے ہوئے مسیح کی واقعی زندگی میں ذات کی وحدت کو قائم رکھا جائے ‘ اس لئے کہ ایک واحد ذات میں حرکت وعمل کے دوسلسلے قابل قبول نہیں ہوسکتے ۔ چناچہ مسیح ‘ جو ابن اللہ ہیں ‘ ایک ہی ذریعے اور وسیلے سے انسانی اور ربانی دونوں قسم کے نتائج پیدا کرتے ہیں ‘ یعنی کلمہ مجسم میں ایک ہی مشیئت کارفرما ہے۔ “ ” مگر ہرقل کا بھی وہی انجام ہوا جو بہت سے صلح کرانے والوں کا ہوا کرتا ہے ‘ کیونکہ نہ صرف مناظرے کی آگ اور بھڑک اٹھی بلکہ لوگوں نے قیصر پر بےدینی کا الزام لگایا اور دونوں فرقوں کو مورد عتاب بننا پڑا۔ “ ایک دوسرے مسیحی مسٹر کینن ٹیلر لکھتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے وقت مشرقی عیسائیوں کی حالت یہ تھی کہ یہ لوگ درحقیقت مشرکین تھے ‘ وہ شہداء کے ایک طبقے کی پوجا کرتے تھے ۔ اسی طرح عیسائی پیروں اور فرشتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ اور ان کا کم سے کم جو شرکیہ عقیدہ تھا وہ یہ ہے کہ بقول ان کے وہ ان الہٰوں کی بندگی محض اس لئے کرتے ہیں کہ کی بندگی کی وجہ سے انہیں قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے۔ مَا نَعْبُدُهُمْ إِلا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّهِ زُلْفَى …………… غلط اعتقادات اور تصورات کے اس جنگل اور ڈھیر میں ‘ جن کی طرف اس سے قبل ہم اشارہ کرچکے ہیں ‘ اسلام آیا اور اس نے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقیدے کا فیصلہ کن ‘ صریح اور واضح ممتاز تصور دیا۔ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ…………… ” نہیں کوئی الٰہ مگر اللہ ‘ وہی زندہ ہے اور وہی ہے جو تھامنے والا ہے ۔ “………یہ عقیدہ اور یہ تصور حیات ایسا تھا کہ اس نے فریقین کے راستے جدا کردئیے ۔ دونوں کا طرز عمل اور دونوں کا طریق زندگی جدا کردیا ………جس شخص کے نظریہ اور شعور میں یہ ہو کہ اللہ ایک وحدہ لاشریک ہے اور اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ وہ زندہ ہے اور اس کے سوا اس مفہوم میں کوئی زندہ نہیں ہے ‘ تمام دوسرے موجودات کا وجود اس کے ساتھ قائم ہے۔ اور وہی ہے جو تمام موجودات اور تمام زندوں کو تھامے ہوئے ہے ………جس شخص کا یہ عقیدہ ہو اور ان صفات کے ساتھ ہو ‘ اس کا نظام زندگی اور طرز حیات یقیناً اس شخص سے مختلف ہونا چاہئے جس کی ذہنی دنیا پر غلط اور وہم پرستانہ تصورات کے بادل چھائے ہوئے ہوں جن کا اوپر ہم نے ذکر کیا ۔ اس قسم کے غلط تصورات کے حامل شخص کی زندگی پر وہ اثرات مرتب نہیں ہوسکتے ۔ جو اس شخص کی زندگی پر ہوسکتے ہیں ایسے خدا کا قائل ہو جو اس کی زندگی میں فعال اور متصرف ہے اور علی کل شیئ قدیر ہے۔ یہ صرف توحید خالص کی برکت ہے جس کے نتیجے میں ایک انسان صرف ایک ہی الٰہ کی بندگی کرسکتا ہے ۔ ایسے تصور میں کوئی شخص کسی غیر اللہ سے کوئی امداد طلب نہیں کرتا ۔ وہ صرف اللہ سے نصرت کا طلبگار ہوتا ہے ۔ نہ وہ غیر اللہ سے نظام حیات اور نظام قانون اخذ کرتا ہے ‘ نہ وہ اخلاق وآداب غیر اللہ سے اخذ کرتا ہے ۔ نہ وہ اجتماعی اور اقتصادی نظام اغیار سے لیتا ہے ۔ غرض ایک موحد اپنی زندگی کے کسی بھی شعبے میں غیر اللہ سے کچھ اخذ نہیں کرتا اور نہ ہی حیات بعد الممات کے تصور میں غیر اللہ کو اہمیت دیتا ہے ۔ رہے وہ کھوٹے ‘ ٹیڑھے ‘ پیچیدہ شرکیہ جاہلی عقائد تو ان کے حاملین کا ایک رخ ہوتا ہے نہ ان کو قرار وثبات حاصل ہوتا ہے ‘ نہ ان میں حدود حلال و حرام ہوتے ہیں ‘ نہ ان میں صحیح اور غلط کے اندر کوئی تمیز ہوتی ہے ‘ نہ نظام اور شریعت میں ‘ نہ آداب واخلاق میں ‘ نہ طرزعمل اور سلوک میں ‘ غرض یہ تمام امور تب طے ہوتے جب کسی شخص کے عقیدے اور نظریے میں ان کی جہت طے ہوتی ہے ‘ اس کے بعد ایک انسان ‘ اس مصدر ‘ اس جہت کی طرف متوجہ ہوکر اس کی بندگی اور اطاعت کرتا ہے۔ اور جب اسلام نے طے کردیا کہ …………… اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُتو اس طرح ایک مسلمان اللہ وحدہ کی طرف متوجہ ہوگیا اور اس طرح اس کے اور دوسرے عقائد والوں کے راستے جدا ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اعتقادی جدائی کی وجہ سے اسلامی نظام زندگی کا مزاج بالکل علیحدہ ہوگیا ہے ۔ اسلامی زندگی ‘ اپنے تمام عناصر ترکیبی کے ساتھ پوری کی پوری اسلامی تصور حیات سے تشکیل پاتی ہے ۔ اور اسلامی تصور حیات ایک خالص اور مکمل توحید پر مبنی ہے اور یہ عقیدہ توحید اس وقت انسانی ضمیر میں مستقلاً قرار نہیں پکڑتا جب تک اس کے کچھ عملی آثار زندگی میں مرتب نہ ہوں ‘ مثلاً زندگی کے ہر شعبے میں عقیدہ توحید کے ساتھ انسانی نظام شریعت بھی اللہ تعالیٰ سے اخذ کرے اور زندگی کی ہر سرگرمی اور تگ ودو میں ذات خداوندی کی طرف متوجہ ہو۔ توحید خالص کے بیان کے بعد ‘ ایسی جامع توحید کہ اللہ کی ذات میں بھی اس کا کوئی شریک نہ اور اس کی صفات میں کوئی شریک نہ ہو ‘ اب اس منبع اور مصدر کا بیان ہوتا ہے جس سے کہ ایک مسلمان اپنا دین اخذ کرتا ہے۔ جہاں سے کتب سماوی اور رسولوں کی تعلیمات نازل ہوتی ہیں ۔ یعنی جہاں سے ہر دور اور ہر زمانے میں انسانوں نے اپنے نظام زندگی اخذ کیا ہے ۔

آل عمران 3:3

اس آیت کے پہلے جملے میں اسلامی تصور حیات کے تمام اساسی حقائق ذکر ہوئے ہیں ‘ اہل کتاب وغیرہ میں سے جو لوگ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے منکر تھے۔ ان کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کچھ نازل ہوا وہ درست ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ ہدایت کا نزول صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا ہے۔ تمام کتب سماوی اس کی جانب سے ہیں ‘ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور وہ حی اور قیوم ہے ‘ وہی ہے جس نے آپ پر یہ قرآن کریم اتارا اور وہی ہے جس نے اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری ‘ وہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل اتاری ‘ اس لئے اللہ کی الوہیت اور اس کی بندگی میں اس کے ساتھ کسی کا اشتراک و اختلاط نہ ہوگا۔ وہی ایک الٰہ ہے جو اپنے مختار بندوں پر کتابیں نازل کرتا ہے ۔ اور وہ بندے اس سے ہدایت اخذ کرتے ہیں ۔ اور وہ اخذ کرنے والے بھی اللہ کے بندے ہی ہوتے ہیں اگرچہ وہ انبیاء ہوں۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ کتب سماوی میں جو راہ ہدایت وہ ایک دین ہے ‘ اس لئے کہ آپ پر یہ کتاب جو سچائی لے کر آئی ہے ‘ وہ ان تمام صداقتوں کی تصدیق کرتی ہے ‘ جو انبیاء سابقہ پر نازل ہوئیں۔ مثلاً تورات اور انجیل میں ‘ اور ان سب کتابوں اور رسالتوں کا ہدف ایک ہی رہا ہے یعنی لوگوں کو راہ راست پر لانا ‘ پھر یہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی ہے۔ اس کی ایک دوسری صفت بھی ہے ۔ وہ یہ کہ چونکہ کتب سماوی کے اندر ان کے ماننے والوں نے مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بہت تحریفات کی ہیں اس لئے یہ فرقان بھی ہے ۔ یہ ان کتب سماوی کی اصل ہدایات اور ان محرفہ ہدایات کے درمیان فرق کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ کیا اصل ہے اور کیا انحراف اور کیا تحریف ہے ‘ جیسا کہ اس کا ایک نمونہ ہم نے آرنلڈ کی کتاب دعوت الی الاسلام کے طویل اقتباس میں دیا تھا۔ اس میں ضمناً یہ فیصلہ بھی کردیا جاتا ہے کہ اہل کتاب کے لئے اس رسالت جدیدہ کے انکار کرنے کے لئے کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس رسالت کی راہ بھی وہی ہے جس پر سابقہ رسالتیں تھیں ۔ یہ کتاب اسی طرح نازل ہوئی جس طرح اس سے قبل کتابیں نازل ہوئیں ۔ جس طرح اس سے قبل ایک بشر رسول پر نازل ہوئیں ‘ اسی طرح یہ کتاب بھی ایک بشر پر نازل ہوئی ہے ۔ اور یہ کتاب ان تمام کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ جس طرح یہ حق پر مشتمل ہے ‘ اسی طرح وہ کتابیں بھی سچائی پر مشتمل تھیں ۔ اور اس کتاب کو اسی ذات نے اتارا جس کا حق ہے کہ وہ سچائی اتارے ‘ اس لئے کہ صرف اسی ذات کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انسانوں کے لئے نظام زندگی تجویز کرے ‘ ان کے فکری تصورات ان کے لئے وضع کرے ۔ ان کے لئے شریعت تجویز کرے ۔ ان کے لئے اخلاق وآداب کا نظام تجویز کرے اور یہ تمام کتابیں اس کتاب منزل میں موجود ہوں۔ اس آیت کے دوسرے حصے میں ان لوگوں کے لئے ایک خوفناک تنبیہ کا ذکر ہے جو بغیر کسی حجت کے اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ عزیز ہے ‘ وہ بےپناہ قوتوں کا مالک ہے اور اس کی پکڑ شدید ہوتی ہے اور کبھی انتقام بھی لیتا ہے جو بہت خوفناک ہوتا ہے ۔ اور وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں گویا وہ تمام دینوں کا انکار کرتے ہیں جو اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہے ‘ اہل کتاب نے پہلے اس کتاب کا انکار کیا جو ان پر نازل ہوئی ہے اور جس کی انہوں نے تحریف کی ہے۔ وہی اب اس کتاب کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنی کتابوں کی بھی تحریف کی تھی ۔ اس لئے یہ کتاب جدید ان کے لئے فرقان ہے ۔ اس لئے یہاں یہ شدید دہمکی انہی کو دی گئی ہے ۔ اور انہی سے کہا گیا ہے کہ تم اللہ کے انتقام سے بچو۔

آل عمران 3:4

اس آیت کے پہلے جملے میں اسلامی تصور حیات کے تمام اساسی حقائق ذکر ہوئے ہیں ‘ اہل کتاب وغیرہ میں سے جو لوگ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے منکر تھے۔ ان کی تردید کی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو کچھ نازل ہوا وہ درست ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ ہدایت کا نزول صرف اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا ہے۔ تمام کتب سماوی اس کی جانب سے ہیں ‘ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور وہ حی اور قیوم ہے ‘ وہی ہے جس نے آپ پر یہ قرآن کریم اتارا اور وہی ہے جس نے اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری ‘ وہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر انجیل اتاری ‘ اس لئے اللہ کی الوہیت اور اس کی بندگی میں اس کے ساتھ کسی کا اشتراک و اختلاط نہ ہوگا۔ وہی ایک الٰہ ہے جو اپنے مختار بندوں پر کتابیں نازل کرتا ہے ۔ اور وہ بندے اس سے ہدایت اخذ کرتے ہیں ۔ اور وہ اخذ کرنے والے بھی اللہ کے بندے ہی ہوتے ہیں اگرچہ وہ انبیاء ہوں۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ کتب سماوی میں جو راہ ہدایت وہ ایک دین ہے ‘ اس لئے کہ آپ پر یہ کتاب جو سچائی لے کر آئی ہے ‘ وہ ان تمام صداقتوں کی تصدیق کرتی ہے ‘ جو انبیاء سابقہ پر نازل ہوئیں۔ مثلاً تورات اور انجیل میں ‘ اور ان سب کتابوں اور رسالتوں کا ہدف ایک ہی رہا ہے یعنی لوگوں کو راہ راست پر لانا ‘ پھر یہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی ہے۔ اس کی ایک دوسری صفت بھی ہے ۔ وہ یہ کہ چونکہ کتب سماوی کے اندر ان کے ماننے والوں نے مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بہت تحریفات کی ہیں اس لئے یہ فرقان بھی ہے ۔ یہ ان کتب سماوی کی اصل ہدایات اور ان محرفہ ہدایات کے درمیان فرق کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ کیا اصل ہے اور کیا انحراف اور کیا تحریف ہے ‘ جیسا کہ اس کا ایک نمونہ ہم نے آرنلڈ کی کتاب دعوت الی الاسلام کے طویل اقتباس میں دیا تھا۔ اس میں ضمناً یہ فیصلہ بھی کردیا جاتا ہے کہ اہل کتاب کے لئے اس رسالت جدیدہ کے انکار کرنے کے لئے کوئی وجہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس رسالت کی راہ بھی وہی ہے جس پر سابقہ رسالتیں تھیں ۔ یہ کتاب اسی طرح نازل ہوئی جس طرح اس سے قبل کتابیں نازل ہوئیں ۔ جس طرح اس سے قبل ایک بشر رسول پر نازل ہوئیں ‘ اسی طرح یہ کتاب بھی ایک بشر پر نازل ہوئی ہے ۔ اور یہ کتاب ان تمام کتابوں اور رسولوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ جس طرح یہ حق پر مشتمل ہے ‘ اسی طرح وہ کتابیں بھی سچائی پر مشتمل تھیں ۔ اور اس کتاب کو اسی ذات نے اتارا جس کا حق ہے کہ وہ سچائی اتارے ‘ اس لئے کہ صرف اسی ذات کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انسانوں کے لئے نظام زندگی تجویز کرے ‘ ان کے فکری تصورات ان کے لئے وضع کرے ۔ ان کے لئے شریعت تجویز کرے ۔ ان کے لئے اخلاق وآداب کا نظام تجویز کرے اور یہ تمام کتابیں اس کتاب منزل میں موجود ہوں۔ اس آیت کے دوسرے حصے میں ان لوگوں کے لئے ایک خوفناک تنبیہ کا ذکر ہے جو بغیر کسی حجت کے اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ عزیز ہے ‘ وہ بےپناہ قوتوں کا مالک ہے اور اس کی پکڑ شدید ہوتی ہے اور کبھی انتقام بھی لیتا ہے جو بہت خوفناک ہوتا ہے ۔ اور وہ لوگ جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں گویا وہ تمام دینوں کا انکار کرتے ہیں جو اپنی اصل کے اعتبار سے ایک ہے ‘ اہل کتاب نے پہلے اس کتاب کا انکار کیا جو ان پر نازل ہوئی ہے اور جس کی انہوں نے تحریف کی ہے۔ وہی اب اس کتاب کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنی کتابوں کی بھی تحریف کی تھی ۔ اس لئے یہ کتاب جدید ان کے لئے فرقان ہے ۔ اس لئے یہاں یہ شدید دہمکی انہی کو دی گئی ہے ۔ اور انہی سے کہا گیا ہے کہ تم اللہ کے انتقام سے بچو۔

آل عمران 3:5

عذاب الٰہی اور انتقام الٰہی کی دہمکی کے بعد انہیں یہ بھی کہہ دیا جاتا ہے کہ اللہ کی ذات سے کسی کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس سے نہ کوئی چیز مخفی ہے اور نہ ہی اس سے کوئی چیز بچ سکتی ہے۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَخْفَى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الأرْضِ وَلا فِي السَّمَاءِ ………… ” اللہ وہ ذات ہے جس پر زمین و آسمان دونوں کے اندر پائے جانے والی کوئی شئے مخفی نہیں ہے ۔ “ یہ کہ اس پر کوئی بات مخفی نہیں ہے اور وہ ہر چیز کو جانتا ہے اس لئے کہ وہی الٰہ ہے ‘ وہی ہے جس نے اس کائنات کو تھاما ہوا ہے ۔ اس لئے اس کا علم محیط ہے ، سورت کے آغاز میں اس کی صفت قیومیت کا ذکر موجود ہے ۔ نیز یہاں خصوصاًاس لئے بھی صفت احاطہ علم کا ذکر کیا گیا کہ اس آیت میں ایک خوفناک ‘ ڈراوا بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ اس سے کوئی چیز پوشیدہ رکھی جائے ۔ ارض وسماء میں کوئی شیئ بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس سے کسی نیت و ارادہ کو بھی پوشیدہ نہیں رکھاجاسکتا ۔ کوئی تدبیر بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے ۔ اس طرح اس کے نظام میں یہ بھی ممکن نہیں ہے کوئی سزا سے بچ نکلے گا یا اس کے حیطہ علم سے کچھ باہر رہ جائے گا ۔ اللہ کے اس لطیف اور دقیق علم کے سائے ‘ انسانی شعور کو خود اس کی پیدائش کے سلسلے میں ایک ٹچ دیا جاتا ہے ‘ انسانی شعور کو یہ چٹکی ‘ خود تخلیق انسان کے بارے میں دی جاتی ہے ۔ انسان کی تخلیق جو پردہ غیب میں ‘ رحم مادر کے پس پردہ اندھیروں میں عمل پذیر ہوتی ہے ‘ جس کے بارے میں نہ انسان کا علم رسائی حاصل کرسکا ہے اور نہ ہی اس کا ادراک کرتا ہے۔ اور نہ ہی وہ عمل تخلیق انسان کے دائرہ قدرت میں آسکا ہے۔

آل عمران 3:6

وہ رحم مادر میں تمہیں ایک شکل و حرارت دیتا ہے ‘ جس طرح اس کی مشیئت ہوتی ہے پھر وہ تمہیں اس شکل و صورت کے ساتھ مناسب خصوصیات بھی عطا کرتا ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس کے سوا کوئی ذات اس تصویر سازی میں شریک نہیں ہوتی ‘ یہ کام وہ صرف اپنے ارادے اور اپنی مشیئت سے کرتا ہے ۔” جس طرح چاہتا ہے۔ “ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ “ وہ عزیز ہے۔ “ وہ اس تخلیق اور تصویر سازی پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔” وہ حکیم ہے ‘ یہ تمام تخلیقی عمل بڑی گہری ‘ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔ اس میں نہ کوئی رکاوٹ آتی ہے ‘ اور نہ اس کام میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ “ تخلیق انسان کی طرف یہاں اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے خطاب اہل کتاب سے ہے اور اہل کتاب کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق کے بارے میں نہایت ہی غلط خیالات اور شکوک و شبہات پائے جاتے تھے ۔ اللہ ہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ کی تصویر کشی کی ‘ جس طرح اس نے چاہا ‘ یہ عقیدہ باطل ہے کہ حضرت عیسیٰ بذات خود رب ہیں ۔ یا خدا ہیں ‘ یا خدا کے بیٹے ہیں یا کوئی لاہوتی ناسوتی اقنوم ہیں۔ اس لئے کہ یہ تصورات ناقابل فہم ناقابل ادراک ہونے کے ساتھ ساتھ ‘ عقیدہ توحید کے صحیح ‘ قابل فہم اور واضح تصور کے بھی خلاف ہیں ۔ اس کے بعد قرآن مجید ان لوگوں کی نشان دہی کرتا ہے جن کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ۔ اور یہ لوگ وہ ہیں جو قرآن کریم کی قطعی الدلالت آیات کو چھوڑ کر ان آیات کے درپے ہوتے ہیں جن کے مفہوم میں تاویل کا احتمال ہوتا ہے تاکہ وہ ایسی آیات کی غلط تاویل کرکے اسلامی نظریات کے اندر شبہات پیدا کریں ۔ یہ نشان دہی اس لئے کی جاتی ہے کہ اہل ایمان اور اہل حقائق کی حقیقی صفات بیان کردی جائیں ۔ یہ بتایا جائے کہ ان کا ایمان کس قدر خالص ہے ۔ اور کس طرح اللہ کے قطعی احکام کو بلا چون وچراء عمل میں لاتے ہیں ۔ فرماتے ہیں۔

آل عمران 3:7

ایک روایت میں آتا ہے کہ وفد نجران کے عیسائیوں نے رسول ﷺ سے پوچھا کہ کیا آپ کا یہ عقیدہ ہے کہ آپ حضرت عیسیٰ کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ سمجھتے ہیں ؟ وہ ان الفاظ سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے عقائد باطلہ ثابت کرنا چاہتے تھے ۔ مثلاً یہ کہ وہ بشر نہیں ‘ روح اللہ ہیں اور روح اللہ کی وہ اپنی تعبیرات کرتے تھے ۔ لیکن وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں قرآن کریم کی ان آیات کی بات بھی نہ کرتے تھے ۔ جو اس موضوع پر محکمات تھیں ‘ جن میں اللہ کی بےقید وحدانیت کا ذکر تھا۔ اور جن میں اس بات کی قطعی تردیدکردی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک یا اس کا کوئی لڑکا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیات کا نزول فرمایا اور ان کی اس سازش کا انکشاف کیا جس کی وجہ سے وہ ان متشابہ تعبیرات قرآن سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے ۔ اور قطعی الدلالت آیات سے صرف نظر کرتے تھے ۔ لیکن یہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے عام ہے ‘ اس میں قرآن مجید کی آیات کے بارے میں مختلف مکتب ہائے فکر کے لوگوں کے مختلف مواقف پر تبصرہ کیا گیا ہے ۔ چناچہ اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ قرآن مجید ایک کتاب ہدایت ہے ۔ اس میں بعض باتیں تو ایسی ہیں جن کا تعلق اصول ایمان اور اسلامی فکر کے بنیادی حقائق سے ہے ۔ بعض میں اسلامی نظام حیات کی تفصیلات دی گئی ہیں اور بعض آیات میں ان غیبی امور کا بیان ہے جن کا صحیح تصور ہماری محدود عقل کے دائرہ قدرت سے باہر ‘ جن پر ادراک انسانی اپنے موجود محدود وسائل علم کے ذریعہ قابو نہیں پاسکتا ۔ اور ان نصوص میں اکثر وہ باتیں بیان کی گئی ہیں جو انسان کے ادراک سے باہر ہیں ۔ قرآن مجید نے پہلے دو امور یعنی عقیدہ اور نظریہ تصورات اور افکار کے بارے میں اور اسلامی نظام حیات اور شریعت کے بارے میں قطعی الدلالت آیات نازل فرمائیں ۔ جن کا تصور بھی ممکن ہے اور جن کے مقاصد بھی بالکل واضح ہیں اور یہی دوشعبے ہیں جو قرآن کا اصل موضوع ہیں ۔ رہے وہ جن کی خبر رسول ﷺ نے خبر دی یا قرآن نے دی اور ہم نے انہیں سنایا پڑھایا وہ غیبی خبریں جو قرآن نے سنائیں ہیں جن میں پیدائش مسیح کی خبر بھی ہے تو اس بارے میں ہدایت یہ ہے کہ جس حد تک انہیں سمجھ سکتے ہو تو ضرور را ہوار ادراک کو طولانی دو لیکن حد ادراک سے آگے ایمان لاؤ کہ بس یہ خالق حقیقی کی جانب سے ایک حق بات اور ماہیت اور کیفیت کا ادراک فی الحال مشکل ہے ‘ اس لئے کہ اپنی ماہیت کے اعتبار سے وہ انسان کے موجودہ ذرائع سے وراء ہے۔ اب رہے وہ لوگ ‘ تو وہ ان آیات پر غور ‘ خود اپنی شخصیت کے حوالے سے کرتے ہیں ‘ اگر وہ صحیح الفکر ہیں تو ان کی سوچ صحیح ہے ۔ اگر ان کی فکر ٹیڑھی ہے تو ان کی سوچ بھی ٹیڑھی ہے ۔ اور وہ اپنی اس ٹیڑھی فطرت کی وجہ سے گمراہ ہوگئے ہیں تو یہ لوگ قرآن کریم صاف ستھری اور واضح آیات سے صرف نظر کرتے ہیں ۔ وہ واضح اصولوں کو ترک کردیتے ہیں ۔ وہ نہایت ہی مفصل ہیں اور جن کے اوپر اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام زندگی قائم ہے ۔ اور یہ لوگ متشابہات کے درپے ہوتے ہیں جن کی تصدیق کا دارومدار صرف ایمان پر ہے اور یہ کہ اللہ کی جانب سے نازل کی گئی ہیں ۔ اور یہ کہ ان کے صحیح معنی صرف اللہ جل شانہ کے علم میں ہیں ۔ جیسا کہ انسانی ذرائع علم نسبتی ہیں اور ان کی قوت مدرکہ کا میدان کار محدود ہے ۔ نیز ان کے صحیح فہم کا مدار اس براہ راست الہام اور شعور پر ہے ‘ جو کتاب اللہ کی صداقت کے بارے میں ایک صحیح الفکر آدمی کو حاصل ہوتا ہے کہ یہ پوری کتاب ایک سچی کتاب ہے ۔ اور یہ کہ وہ سچائی کے ساتھ اتاری گئی ہے اور کسی پہلو سے بھی باطل نہ اس پر حملہ آور ہوسکتا ہے ۔ اور ٹیڑھے دل و دماغ والے ان متشابہات کے پیچھے اس لئے پڑے رہتے ہیں کہ وہ ان آیات میں ایسے مواقع تلاش کرلیتے ہیں جن کے ذریعے وہ فتنے پیدا کرتے ہیں ۔ ایسی تاویلات پیدا کرتے ہیں ۔ جس سے اسلامی تصور حیات کے اندر شکوک پیدا کئے جاسکیں ۔ اور جب ان کے ذریعے وہ فکری انتشار پیدا کرلیں تو پھر وہ فکری ژولیدگی کو ان آیات میں بھی داخل کردیں جو بالکل قطعی اور واضح ہیں ۔ حالانکہ ان متشابہات کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ …………… ” حالانکہ اس کے اصل معنی صرف اللہ جانتا ہے۔ “ رہے وہ لوگ جو علم میں پختہ کار ہیں ‘ وہ لوگ جنہوں نے علم کے بل بوتے پر جان لیا ہے کہ انسانی عقل ‘ انسانی فکر اور یہ عقل وفکر اپنی موجودہ قوت اور موجودہ ذرائع عقل وفکر کی مدد سے وہ ان متشابہات کے مفاہیم نہیں پاسکتے ۔ اس لئے وہ پوری شرح صدر اور اطمینان سے کہتے ہیں آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا……………” ہم ان پر ایمان لائے ‘ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں “ ان کا یہ ایمان انہیں اس نتیجے تک پہنچاتا ہے ‘ بڑے وثوق سے کہ یہ آیات اللہ کی جانب سے ہیں ‘ اس لئے یہ حق ہیں اور سچائی پر مبنی ہیں ۔ اور جس چیز کا فیصلہ اللہ کردے وہ بذات خود سچی ہوتی ہیں اور انسانی عقل کے نہ بات فرائض میں شامل ہے ۔ اور نہ ہی اس کے دائرہ قدرت میں ہے کہ وہ ان آیات کے اسباب وعلل کا کھوج لگائے ………اس کے مفاہیم کی ماہیت معلوم کرے اور ان کے اندر پوشیدہ اسباب وعلل کا کھوج لائے وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ……………کے سامنے جب یہ آیات پیش ہوتی ہیں تو وہ ان کی صداقت کو قبول کرلیتے ہیں۔ وہ اپنی داقت شعار فطرت اور فہم رسا کی وجہ سے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ ان کی عقل ان میں شک ہی نہیں کرتی ۔ اس لئے کہ انہوں نے یہ بات پالی ہوتی ہے کہ علم اور خردمندی یہ ہے کہ جس حقیقت کا ادراک بذریعہ علم وعقل نہ ہوسکے اس میں دلچسپی نہ لی جائے ۔ خصوصاً جو امور انسان کے ذرائع علم کے حدود سے باہر ہوں۔ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ……………کی یہ ایک بہترین تصویر ہے ‘ اس تصویر اور تعریف کا انکار وہی شخص کرسکتا ہے جو سطحی ہو ۔ جو اپنے سطحی علم کی وجہ سے اس غرے میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ انہوں نے سب کچھ حاصل کرلیا ہے ۔ اور جو چیز ان کے علم میں نہیں ہے گویا اس کا وجود ہی نہیں ہے ۔ وہ فرض کرلیتے ہیں کہ وہ سب کچھ پاگئے ۔ اس لئے تمام حقائق کی صورت وہی ہے جو ان کے ذہن میں آتی ہو ‘ اس سے وہ اللہ تعالیٰ کے مطلق اور بےقید کلام کا قیاس اپنی عقلیت کے پیمانوں اور فصیلوں کے مطابق کرتے ہیں ‘ حالانکہ یہ پیمانے ان کی محدود عقل میں نہیں سماتے ‘ اس لئے ہزار حقائق عقل بشری کے دائرے سے باہر ہیں ۔ چونکہ وہ فطرتاً یقین کرنے والے ہوتے ہیں ‘ اس لئے ان کی سچی فطرت تک سچائی جلدی پہنچ جاتی ہے اور تصدیق کرلیتی ہے اور مطمئن ہوجاتی ہے۔ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلا أُولُو الألْبَابِ……………” اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ “ جب ایک انسان دانشمندی کے اس مقام تک آپہنچتا ہے تو ان کا اجر اللہ کی طرف سے ہوتا ہے وہ خشوع و خضوع اور گڑگڑا کر دست بدعا ہوجاتے ہیں کہ اللہ ۔ انہیں حق پر قائم رکھ کر ہدایت کے بعد گمراہ نہ کر ‘ ان پر اپنی رحمت اور اپنے فضل کی بارش کردے ۔ خوف آخرت ان کے دامن گیر ہوجاتا ہے ‘ جہاں انہیں لازماً جانا ہے ‘ جس سے کوئی مفر نہیں۔

آل عمران 3:8

جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں ان کا اپنے رب کے ساتھ یہ تعلق ہے ‘ اور یہ ایسا تعلق ہے جو ایک صحیح مومن کا ہونا چاہئے ‘ جو اللہ کے کلام اور اللہ کے عہد پر پورا بھروسہ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے صحیح شعور کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے ‘ خصوصاً اس وقت جب ایک مومن اللہ کی قضا وقدر پر پختہ یقین بھی رکھتا ہو اور اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں موجزن ہو۔ اور ایک مومن نہ غافل ہوتا ہے ‘ نہ مغرور ہوتا ہے ‘ نہ اپنے روز وشب میں کبھی اپنے فرائض بھولتا ہے۔ قلب مومن کی ضلالت اور گمراہی کے بعد دولت ایمان ملنے کی بڑی قدر دانی ہوتی ہے ۔ اور کسی دھندلے تصور کے بعد اپنی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھ لینے کی اس کے دل میں بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔ اور حیرانی و پریشانی کے کے بعد راہ راست پانے سے اسے شعور ہوتا ہے ۔ خلجان اور بےیقینی کے بعد اطمینان پانے پر وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے ‘ وہ دنیا کی تمام غلامیوں سے آزاد ہوکر ایک اللہ کی غلامی میں داخل ہوکر پر مسرت ہوتا ہے اور اسے یہ شعور ہوتا ہے کہ دولت ایمان دیکر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت کچھ دیدیاہے……………اس لئے وہ دوبارہ گمراہی کی راہ سے بہت ہی ڈرتا ہے ‘ چونکہ وہ راہ راست پر آچکا ہوتا ہے اس لئے دوبارہ گمراہی کے نشیب و فراز اور تاریک راہوں میں پھنس جانے سے بہت خوف کھاتا ہے ‘ وہ یوں ڈرتا ہے جس طرح وہ شخص جو ایک خوش گوار موسم میں گھنی چھاؤں میں بیٹھا ہو تو جھلسادینے والی گرمی اور بےآب وگیاہ صحرا کے تصور سے بھی ڈر رہا ہو ‘ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی قدر اور ذوق یقین وہی شخص پاسکتا ہے جس نے بدبختی کے کڑے دن اور الحاد وزندگی کی ذہنی خشکی کے دن دیکھے ہوں ۔ ایسا ہی شخص اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہے کہ بےدینی گمراہی اور فسق وفجور کی زندگی کے مقابلے میں ایمانی زندگی کے اندر کس قدر مٹھاس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مقامات پر ایک مومن ایسے خضوع وخشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا……………” اے ہمارے رب ! راہ ہدایت دکھانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کردیجیو۔ “ یہ پکارتے ہیں کہ انہیں گمراہی کے بعد ایک عظیم رحمت مل گئی ہے ۔ کہیں وہ لٹ نہ جائے ‘ یہ ایک ایسا انعام ہے جس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہے ۔ وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ……………” ہمیں اپنے خزانہ غیب سے رحمت عطاکر تو ہی فیاض حقیقی ہے۔ “ یعنی یہ لوگ اپنے شعور ایمان کے ذریعہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ۔ خود ان کے دل بھی ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں ۔ اس لئے وہ اپنی ہدایت اور نجات اخروی کے لئے بھی اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ اکثر اوقات یہ دعا فرمایا کرتے تھے ۔” تمام دل اللہ رحمان کی دوانگلیوں کی گرفت میں ہیں ‘ جب وہ دلوں کو سیدھا کرنا چاہے تو سیدھا کردیتا ہے۔ اور جب وہ ٹیڑھا کرنا چاہے تو وہ ٹیڑھا کردیتا ہے۔ “ اور جب ایک مومن کو صحیح طرح اس بات کا شعور حاصل ہوتا ہے تو وہ نہایت گرم جوشی کے ساتھ آستانہ درگاہ الٰہی کے ساتھ چمٹ جاتا ہے ‘ اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کی معاونت اور توفیق کا طلب گار ہوجاتا ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوکر اس کی رحمت اور اس کے فضل وکرم کا طلبگار ہوتا ہے تاکہ وہ خزانہ محفوظ رہے ‘ جو اس نے اس مومن کو عطا کیا ہے اور وہ کرم باقی رہے جن سے اسے نوازا گیا ہے۔ اس کے بعد روئے سخن اہل کفر کی طرف مڑجاتا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ ان کے بارے میں وہ سنت الٰہی کیا ہے۔ جس میں کوئی تبدیلی کبھی واقعہ نہیں ہوتی ۔ معنی یہ کہ ان کے گناہوں پر ان سے ضرور مواخذہ ہوگا ۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ ‘ اس دین کا انکار کرتے ہیں اور اس کی راہ روکے کھڑے ہوتے ہیں انہیں یہ دہمکی کی جاتی ہے کہ وہ باز آجائیں ‘ رسول ﷺ کے واسطہ سے انہیں متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ کفار مکہ کے انجام بد سے عبرت حاصل کریں ‘ جوان کی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوا ‘ جن میں ایک قلت قلیلہ کے مقابلے میں ان کے بھاری لشکر کو شکست ہوئی۔

آل عمران 3:9

جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں ان کا اپنے رب کے ساتھ یہ تعلق ہے ‘ اور یہ ایسا تعلق ہے جو ایک صحیح مومن کا ہونا چاہئے ‘ جو اللہ کے کلام اور اللہ کے عہد پر پورا بھروسہ ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے صحیح شعور کے نتیجے میں حاصل ہوتا ہے ‘ خصوصاً اس وقت جب ایک مومن اللہ کی قضا وقدر پر پختہ یقین بھی رکھتا ہو اور اللہ کا خوف بھی اس کے دل میں موجزن ہو۔ اور ایک مومن نہ غافل ہوتا ہے ‘ نہ مغرور ہوتا ہے ‘ نہ اپنے روز وشب میں کبھی اپنے فرائض بھولتا ہے۔ قلب مومن کی ضلالت اور گمراہی کے بعد دولت ایمان ملنے کی بڑی قدر دانی ہوتی ہے ۔ اور کسی دھندلے تصور کے بعد اپنی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھ لینے کی اس کے دل میں بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔ اور حیرانی و پریشانی کے کے بعد راہ راست پانے سے اسے شعور ہوتا ہے ۔ خلجان اور بےیقینی کے بعد اطمینان پانے پر وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے ‘ وہ دنیا کی تمام غلامیوں سے آزاد ہوکر ایک اللہ کی غلامی میں داخل ہوکر پر مسرت ہوتا ہے اور اسے یہ شعور ہوتا ہے کہ دولت ایمان دیکر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت کچھ دیدیاہے……………اس لئے وہ دوبارہ گمراہی کی راہ سے بہت ہی ڈرتا ہے ‘ چونکہ وہ راہ راست پر آچکا ہوتا ہے اس لئے دوبارہ گمراہی کے نشیب و فراز اور تاریک راہوں میں پھنس جانے سے بہت خوف کھاتا ہے ‘ وہ یوں ڈرتا ہے جس طرح وہ شخص جو ایک خوش گوار موسم میں گھنی چھاؤں میں بیٹھا ہو تو جھلسادینے والی گرمی اور بےآب وگیاہ صحرا کے تصور سے بھی ڈر رہا ہو ‘ حقیقت یہ ہے کہ ایمان کی قدر اور ذوق یقین وہی شخص پاسکتا ہے جس نے بدبختی کے کڑے دن اور الحاد وزندگی کی ذہنی خشکی کے دن دیکھے ہوں ۔ ایسا ہی شخص اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہے کہ بےدینی گمراہی اور فسق وفجور کی زندگی کے مقابلے میں ایمانی زندگی کے اندر کس قدر مٹھاس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے مقامات پر ایک مومن ایسے خضوع وخشوع کے ساتھ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا……………” اے ہمارے رب ! راہ ہدایت دکھانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کردیجیو۔ “ یہ پکارتے ہیں کہ انہیں گمراہی کے بعد ایک عظیم رحمت مل گئی ہے ۔ کہیں وہ لٹ نہ جائے ‘ یہ ایک ایسا انعام ہے جس سے بڑا کوئی انعام نہیں ہے ۔ وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ……………” ہمیں اپنے خزانہ غیب سے رحمت عطاکر تو ہی فیاض حقیقی ہے۔ “ یعنی یہ لوگ اپنے شعور ایمان کے ذریعہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے فضل و رحمت کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ۔ خود ان کے دل بھی ان کے ہاتھ میں نہیں ہیں ۔ اس لئے وہ اپنی ہدایت اور نجات اخروی کے لئے بھی اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول ﷺ اکثر اوقات یہ دعا فرمایا کرتے تھے ۔” تمام دل اللہ رحمان کی دوانگلیوں کی گرفت میں ہیں ‘ جب وہ دلوں کو سیدھا کرنا چاہے تو سیدھا کردیتا ہے۔ اور جب وہ ٹیڑھا کرنا چاہے تو وہ ٹیڑھا کردیتا ہے۔ “ اور جب ایک مومن کو صحیح طرح اس بات کا شعور حاصل ہوتا ہے تو وہ نہایت گرم جوشی کے ساتھ آستانہ درگاہ الٰہی کے ساتھ چمٹ جاتا ہے ‘ اور گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ کی معاونت اور توفیق کا طلب گار ہوجاتا ہے اور اس کی طرف متوجہ ہوکر اس کی رحمت اور اس کے فضل وکرم کا طلبگار ہوتا ہے تاکہ وہ خزانہ محفوظ رہے ‘ جو اس نے اس مومن کو عطا کیا ہے اور وہ کرم باقی رہے جن سے اسے نوازا گیا ہے۔ اس کے بعد روئے سخن اہل کفر کی طرف مڑجاتا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ ان کے بارے میں وہ سنت الٰہی کیا ہے۔ جس میں کوئی تبدیلی کبھی واقعہ نہیں ہوتی ۔ معنی یہ کہ ان کے گناہوں پر ان سے ضرور مواخذہ ہوگا ۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ ‘ اس دین کا انکار کرتے ہیں اور اس کی راہ روکے کھڑے ہوتے ہیں انہیں یہ دہمکی کی جاتی ہے کہ وہ باز آجائیں ‘ رسول ﷺ کے واسطہ سے انہیں متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ کفار مکہ کے انجام بد سے عبرت حاصل کریں ‘ جوان کی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوا ‘ جن میں ایک قلت قلیلہ کے مقابلے میں ان کے بھاری لشکر کو شکست ہوئی۔

آل عمران 3:10

یہ آیات بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے کہی گئی ہیں ۔ ان میں یہ دہمکی دی گئی ہے کہ وہ اہل کفر کے انجام پر غور کرلیں ۔ پہلے جو ہوچکا ہے اور آئندہ جو ہونے والا ہے ۔ اس میں ایک لطیف اور عمیق اشارہ ہے اس جانب کہ اللہ تعالیٰ نے فرعون کو ہلاک کیا اور بنی اسرائیل کو نجات دی لیکن یہ ہلاکت اس لئے نہ تھی کہ فرعون فرعون تھا بلکہ اس لئے کہ وہ کافر تھا۔ اور نجات بنی اسرائیل بھی اس لئے نہ تھی کہ وہ قوم بنی اسرائیل سے نسبی رشتہ رکھتے تھے ۔ بلکہ اس لئے تھی کہ وہ اہل ایمان تھے ۔ اس لئے اب اگر وہ کفر اور گمراہی کا رویہ اختیار کریں گے تو وہ نجات کے مستحق نہ ہوں گے ۔ اگر وہ گمراہ ہوگئے تو وہ اہل کفر کہلانے سے نہ بچ سکیں گے ۔ اسی طرح وہ دنیا وآخرت میں اہل کفر کے انجام بد سے لازماً دوچار ہوں گے جیسا کہ بوجہ کفر آل فرعون کا یہ انجام ہوا۔ اسی طرح انہیں بدر کے میدان میں اہل قریش کے مقتل کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ اس صورت حال سے وہ محض اس لئے دوچار ہوئے کہ وہ کفار تھے ۔ اگر وہ بھی کفر پر قائم رہے تو پھر سنت الٰہی یہی ہے کہ وہ لازماً اسی انجام سے دوچار ہوں گے جن سے اہل قریش دوچار ہوئے۔ اس لئے کہ اس انجام کا اصل سب کفر تھا۔ اللہ کے ہاں کسی کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہے ‘ نہ وہاں سفارش چلتی ہے ‘ صرف ایمان صحیح ہی وہاں شفیع ہوسکتا ہے۔ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَأُولَئِكَ هُمْ وَقُودُ النَّارِ ” جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ‘ انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ ان کا مال کچھ کام دے گا اور نہ اولاد ‘ وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے۔ “ دنیا میں مال اور اولاد بچاؤ کا سہارا ہوتے ہیں لیکن یہ دونوں چیزیں ‘ اس دن کام نہ دیں گی جس کے آنے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس دن کے آنے کا وعدہ اللہ نے کیا ہے اور اللہ کے وعدے میں کبھی تخلف نہیں ہوتا ۔ اللہ کا وعدہ کبھی ٹلتا نہیں ‘ اہل کفر وہاں جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔ یہاں انداز تعبیر ایسا اختیار کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان اہل جہنم سے انسانی خصوصیات سلب ہوجائیں گی اور وہ جہنم میں خس و خاشاک کی طرح سوختی کی اشیاء ہوں گے ۔ اور اس وقت نہ مال اور دولت ‘ نہ جاہ اور نہ سلطنت ان کے کچھ کام آئے گی۔

آل عمران 3:11

كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ ” ان کا انجام ایسا ہی ہوگا جیسا کہ فرعون کے ساتھیوں کا اور اس کے پہلے کے نافرمانوں کا ہوچکا ہے ۔ کہ انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا ‘ اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ “ یہ ایک ایسی مثال ہے جو تاریخ میں بارہا دہرائی گئی ہے ۔ اور اس کے کئی قصے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیلات کے ساتھ بیان کئے ہیں ۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ کی سنت ان قصوں میں پائی جاتی ہے ۔ جہاں اللہ چاہے ‘ اپنی اس سنت کو کام میں لاتا ہے ۔ اس لئے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کو اس جہاں میں کوئی گارنٹی حاصل نہیں ‘ نہ وہ محفوظ ہیں ۔ اس لئے اب جو لوگ رسالت محمدیہ کا انکار کررہے ہیں اور قرآن کریم کی تکذیب کررہے ہیں جو آپ پر نازل ہوا ہے ۔ ان کے لئے اس انجام ست دوچار ہونا یقینی ہے ۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ اس لئے یہاں رسول اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان کفار اہل کتاب کو اس انجام بد سے خبردار کریں۔ اگر وہ فرعون اور تاریخ اسلامی کے دوسرے نافرمانوں کے انجام بد کو بھول چکے ہیں تو خدارا اہل مکہ کے اس انجام بد پر غور کریں جس کا مظاہرہ ابھی ان کی آنکھوں کے سامنے ہوچکا ہے ۔ یہ سب کچھ تکذیب آیات ہی کا شاخسانہ تو ہے ۔

آل عمران 3:12

كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَاللَّهُ شَدِيدُ الْعِقَابِ ” ان کا انجام ایسا ہی ہوگا جیسا کہ فرعون کے ساتھیوں کا اور اس کے پہلے کے نافرمانوں کا ہوچکا ہے ۔ کہ انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا ‘ اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے ۔ “ یہ ایک ایسی مثال ہے جو تاریخ میں بارہا دہرائی گئی ہے ۔ اور اس کے کئی قصے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بڑی تفصیلات کے ساتھ بیان کئے ہیں ۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ کی سنت ان قصوں میں پائی جاتی ہے ۔ جہاں اللہ چاہے ‘ اپنی اس سنت کو کام میں لاتا ہے ۔ اس لئے اللہ کی آیات کو جھٹلانے والوں کو اس جہاں میں کوئی گارنٹی حاصل نہیں ‘ نہ وہ محفوظ ہیں ۔ اس لئے اب جو لوگ رسالت محمدیہ کا انکار کررہے ہیں اور قرآن کریم کی تکذیب کررہے ہیں جو آپ پر نازل ہوا ہے ۔ ان کے لئے اس انجام ست دوچار ہونا یقینی ہے ۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ اس لئے یہاں رسول اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان کفار اہل کتاب کو اس انجام بد سے خبردار کریں۔ اگر وہ فرعون اور تاریخ اسلامی کے دوسرے نافرمانوں کے انجام بد کو بھول چکے ہیں تو خدارا اہل مکہ کے اس انجام بد پر غور کریں جس کا مظاہرہ ابھی ان کی آنکھوں کے سامنے ہوچکا ہے ۔ یہ سب کچھ تکذیب آیات ہی کا شاخسانہ تو ہے ۔

آل عمران 3:13

اس آیت يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ …………… کے دومفہوم ہوسکتے ہیں ‘ یرون کی ضمیر اگر کفار کی طرف ہے اور ہم سے مراد اہل ایمان ہیں تو مفہوم ہوگا کہ اہل کفر کو اپنی ظاہری کثرت کے باجود نظر یوں آرہا تھا کہ اہل اسلام ان سے دوگنا ہیں ۔ اور یوں یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تائید غیبی تھی کہ کفار کو اہل اسلام زیادہ اور وہ خود تھوڑے نظر آرہے تھے ۔ یوں ان کے قدم اکھڑ گئے اور ان کے دل بیٹھ گئے۔ اور اگر اس کے برعکس لیا جائے یعنی یرون سے مراد ہو کہ مسلمان ھم ان کو دیکھ رہے تھے ۔ تو مفہوم یہ ہوگا کہ مسلمانوں کو وہ اپنے دوگنا نظر آرہے تھے ‘ وہ تین گنا تھے ۔ اس کے باوجود اہل اسلام ثابت قدم رہے ‘ اور فتح یاب ہوئے ۔ اصل بات یہ ہے کہ تائید ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے دکھانا یہ مطلوب ہے کہ اہل کفر اپنے انجام پر غور کریں ۔ اور اہل اسلام دلوں کو مضبوط کرلیں اور یقین کرلیں کہ ان کے اعداء کی تقدیر میں شکست لکھی جاچکی ہے ۔ اس لئے وہ ان اعداء سے خوف نہ کھائیں ۔ جیسا کہ ہم نے اس سورت پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ اس وقت جو صورتحال تھی ‘ اس میں اہل کتاب کو اس قسم کی تنبیہ اور تخویف کی ضرورت تھی ۔ قرآن کریم مسلسل اپنی عظیم حقیقت پر کاربند ہے اور اس عظیم سچائی میں سے ایک بات یہ ہے کہ اس دنیا میں جو لوگ کفر کرتے ہیں ‘ آیات کو جھٹلاتے ہیں اور اسلامی نظام زندگی سے انحراف کرتے ہیں ان کی شکست کا وعدہ اب بھی اپنی جگہ قائم ہے اور قائم رہے گا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ‘ اہل ایمان کے ساتھ یہ وعدہ بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ فتح یاب ہوں گے اگرچہ وہ قلیل تعداد میں ہوں ‘ اور نصرت اور فتح صرف تائید ایزدی پر موقوف ہے اور یہ صرف اس کا اختیا رہے ‘ جسے چاہے وہ فتح ونصرت سے نوازے ۔ حقیقت اپنی جگہ اب بھی قائم ہے ۔ منسوخ نہیں ہوئی۔ اہل ایمان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت پر اچھی طرح مطمئن ہوجائیں ۔ اور اس پر پوری طرح اعتماد کریں ۔ اور میدان جہاد میں اپنی تیاریاں مکمل طور پر کریں جس قدر ممکن ہو ‘ اور اس تیاری کے بعد پھر تائید خداوندی کا انتظار کریں ۔ وہ نہ جلدبازی کریں ‘ نہ مایوس ہوں ‘ اگرچہ انہیں طویل انتظار ہی کیوں نہ کرنا پڑے ۔ کیونکہ اللہ حکیم ہے وہ اپنی تدابیر خود اپنے وقت پر کرتا ہے ‘ اور اس حکمت کے مطابق ہی اس کا وعدہ اپنے وقت پر پورا ہوتا ہے۔ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لأولِي الأبْصَارِ ……………” دیدہ بینا رکھنے والوں کے لئے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے دیکھنے والی آنکھ ہو ‘ تدبیر کرنے والی بصیرت ہو ‘ تب ہی ایک انسان عبرت حاصل کرسکتا ہے اور تب ہی قلب میں فہم پیدا ہوتا ہے ۔ اگر بصیرت نہ ہو تو سامان عبرت شب وروز آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہے مگر آنکھ نہیں دیکھ پاتی۔ “ اگلی آیت میں ‘ جماعت مسلم کی تربیت کے سلسلے میں ‘ اسے ان فطری میلانات اور فطری اسباب کے بارے میں آگاہ کیا جاتا ہے ‘ جن کی وجہ سے انسان کی زندگی میں گمراہی اور انحراف کا آگاز ہوتا ہے ‘ اس لئے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ان فطری میلانات کو ہر وقت ضبط کنٹرول میں رکھا جائے ۔ اور ہر وقت زندگی کے اعلیٰ مقاصد کو پیش نظر رکھاجائے اور اصل مطمح نظر وہ اکرام وانعام ہوجائے جو کسی انسان کو یوم آخرت میں مل سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہشات دنیاوی میں گم ہوجانے ‘ مرغوبات نفس کے درپے ہوجانے اور دوسرے فطری میلانات کا بندہ بن جانے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ‘ کہ انسان کے دل بصیرت اور اس کی عقل سے عبرت آموزی ختم ہوجاتی ہے۔ اور انسان کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ حسی لذتوں اور دنیاوی مرغوبات کے ہاتھوں مجبور ہوجاتا ہے۔ اعلیٰ اور بلند مقاصد نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں ۔ انسان کے احساسات مادی ہوجاتے ہیں وہ دنیائے قریب کی ان لذتوں کے دائرے سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ اور وہ ان اعلیٰ مقاصد کے حصول کی لذت سے محروم ہوجاتا ہے جس کا تعلق انسان کے خلیفۃ اللہ فی الارض ہونے کے منصب سے ہے ۔ اور جو اس دنیا کی اس مخلوق کے شایان شان ہیں جسے اللہ نے اپنا خلیفہ بنایا ہے۔ اس وسیع مملکت دنیا میں۔ یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ فطری میلانات اور دنیاوی مرغوبات چونکہ اللہ کی جانب سے ‘ انسان کے تکوینی فرائض ہیں اور یہ رجحانات ومیلانات ‘ اس دنیا میں حیات انسانی کی نشوونما اور ترقی کے لئے اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یہ ایک قسم کا فطری فریضہ ہیں ‘ اس لئے اسلام نے ان فطری میلانات کو ختم کرنے یا ان کی بیخ کنی کا کوئی اشارہ نہیں دیتا ۔ ہاں اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ ان میلانات کو ضابطے کا پابند بنایاجائے ۔ ان کو منظم کیا جائے ‘ ان کی تیزی کو کم کیا جائے ان کو اس طرح کنٹرول کیا جائے کہ ان پر انسان کو پورا پورا ضبط حاصل ہو ‘ انسان ان کا مالک اور متصرف ہو ‘ اور انسان ان سے آگے مقاصد عالیہ پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہو اور اپنے آپ کو ان کی غلامی سے بلند سمجھتا ہو۔ اس لئے قرآن کریم کی آنیونی آیات ان مرغوبات اور ان میلانات کے بارے میں بحث کرتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان اخروی لذائذ ‘ مرغوبات جن کا تعلق کام ودہن سے ہے اور ان کا ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق عقل وخرد سے ہوتا ۔ اور یہ اخروی لذات ان لوگوں کا نصیبہ ہوگا جنہوں نے اس جہاں میں اپنے نفوس کے اوپر کنٹرول کیا ۔ اور وہ اس جہاں میں عیش و عشرت اور لذات میں غرق نہ ہوئے اور انہوں نے یہاں اپنے آپ کو مقام انسانیت پر بلند رکھا۔ اس ایک ہی آیت میں قرآن کریم نے دوران کلام ‘ اس دنیا کی تمام اہم مرغوبات کو ایک ساتھ جمع کردیا ۔ مثلاً عورتیں ‘ اولاد ‘ مال دولت ‘ گھوڑے اور سواری ‘ سرسبز و شاداب اراضی اور اس میں قسم قسم کے مویشی ‘ اس دنیا میں جس قدر مرغوبات ممکن ہیں وہ سب اس آیت میں جمع کردی گئی ہیں ۔ یا تو بذات خود یہ اشیاء مرغوبات میں شامل ہیں ‘ یا وہ انسان کے لئے فراہمی مرغوبات کا ذریعہ ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی دوسری آیت میں ان مرغوبات اور لذائذ کا ذکر ہے ‘ جو اللہ نے اہل ایمان کے لئے ‘ اس جہاں میں تیار کی ہیں ۔ ایسے باغات اور لذائذ کا ذکر ہے ‘ جو اللہ نے اہل ایمان کے لئے ‘ اس جہاں میں تیار کی ہیں ۔ ایسے باغات جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ‘ پاکیزہ بیویاں ‘ اور ان سب انعامات سے بڑا انعام ذات باری کی رضامندی اور خوشنودی ۔ اور یہ انعام صرف ان لوگوں کے لئے ہیں جن کی نظریں ان دنیاوی لذائذ سے اونچی ہیں ‘ جن کا تعلق اللہ سے قائم ہے ‘ ذرا ان آیات پر غور فرمائیں۔

آل عمران 3:14

زُيِّنَ لِلنَّاسِ……………” میں فعل مجہول کا صیغہ استعمال کرکے اس طرف اشارہ دیا گیا ہے کہ ان چیزوں کی طرف لوگوں کا میلان بتقضائے فطرت ہے ۔ ان چیزوں کو محبوب بنادیا گیا ہے اور ان کی تزئین کرکے ان کی محبوبیت میں اضافہ کردیا گیا ہے ۔ گویا یہ حقیقت واقعہ کے ایک پہلو کی تصدیق ہے ۔ اس لئے کہ انسان کی شخصیت میں ان چیزوں کی طرف میلان اور رغبت رکھی گئی ہے ۔ یہ اس کے اصل وجود اور اس کی ذات کا حصہ ہے ۔ اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ انسان خواہ مخواہ اس حقیقت کا انکار کرے ۔ نہ خود انسان اپنی ذات میں ان میلانات اور رجحانات کو قابل اعتراض سمجھے ۔ اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کی ترقی اور نشوونما کے لئے ان میلانات کا موجود ہونا ازبس ضروری ہے جیسا کہ اس موضوع پر اس سے پہلے ہم مفصل بحث کر آئے ہیں ۔ لیکن یہ بھی حقیقت واقعیہ ہے کہ انسان کی فطرت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے ‘ جوان میلانات اور فطری رجحانات میں توازن پیدا کرتا ہے اور وہ ایک قسم کا چوکیدار ‘ جو انسان کو ان میلانات میں مستغرق ہونے سے بچاتا ہے ۔ اور یہ پہلو انسان کے عالم بالا کے ساتھ روحانی تعلق کو قائم رکھتا ہے ۔ چناچہ اس کی زندگی میں روحانی معنویت اور روحانی ہدایات پائی جاتی ہے ۔ اور یہ پہلو انسان کی روحانی زندگی کا پہلو ہے جو اس کے اندر بلندی کی استعداد پیدا کرتا ہے ۔ اس کے اندر ضبط نفس کی قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں انسان ان ‘ دنیاوی مرغوبات کے استعمال میں ایک حد اعتدال پر قائم رہتا ہے ۔ ایسی حدود کے اندر جس میں نفس کی تعمیر ہو ۔ زندگی کا نشوونما ہو اور اس کے ساتھ ساتھ یہ جدوجہد بھی جاری رہے کہ انسانی زندگی کو حیوانیت کے نچلے مقام سے بلند کرکے عالم بالا کے روحانی افق تک پہنچایا جائے ۔ انسان کے دل کا تعلق عالم بالا سے قائم ہو اور اس کا ہدف دار آخرت اور اللہ کی رضامندی ہو ۔ نفس انسانی کی یہ دوسری جبلت ‘ اس کی پہلی فطری جبلت کو مہذب بناتی ہے ۔ اور اس کو تمام حیوانی ‘ آمیزشوں سے پاک کرتی ہے ۔ اور اسے ایسے حدود وقیود کے اندر بند کردیتی ہے جس کے نتیجے میں فطری میلانات سرکش نہیں ہوتے اور انسان صرف دنیاوی لذات کا گرویدہ نہیں ہوجاتا۔ اس طرح کہ انسانی ‘ روحانی قدریں دب جائیں ۔ تقویٰ اللہ خوفی اور زندگی کی اونچی اقدار کی راہیں بالکل مسدود ہوجائیں۔ زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ …………… ” لوگوں کے لئے مرغوبات نفس کو مزین بنادیا گیا ہے۔ “ بس یہ مرغوبات مستحب ہیں اور لذیذ ہیں ……………یہ مکروہ اور غلیظ نہیں ہیں ۔ انداز تعبیر ایسا ہے کہ جس سے ان مرغوبات کی غلاظت اور کراہت کا اظہار نہیں ہوتا ۔ آیت صرف ان چیزوں کے مزاج اور ان کی حقیقت کو سمجھانا چاہتی ہے ۔ اور ان کے اثرات کا اظہار مقصود ہے ۔ نیز یہاں مطلوب یہ ہے کہ ان اشیاء کی قدرومنزلت اور ان کے مقام کا تعین کردیا جائے ‘ تاکہ وہ اس مقام سے آگے نہ بڑھ سکیں ۔ نہ وہ ان اقدار پر دست درازی کرسکیں جو ان کے مقابلے میں اعلیٰ وارفع ہیں ۔ انسان صرف ان دنیاوی شہوات میں غرق ہوکر نہ رہ جائے بلکہ اس کی نظریں دار آخرت پر مسلسل لگی ہوں ‘ اگرچہ وہ بقدر ضرورت ان لذات سے بھی لطف اندوز ہوتا رہے ۔ یہاں آکر معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام فطرت انسانی کو ایک حقیقت واقعیہ کے طور پر لیتا ہے اور فطری میلانات کا مناسب لحاظ رکھتا ہے ۔ اور وہ ان میلانات کو مہذب اور شائستہ بناتا ہے۔ اور ان کو رفعت دیتا ہے ۔ وہ کسی صورت میں بھی ان میلانات کی بیخ کنی نہیں کرتا ‘ جو لوگ آج کل علم النفس کے مضمون میں میلانات کی بیخ کنی کے نقصانات بیان کرتے ہیں یا وہ نفسیاتی الجھنوں پر بحث کرتے ہیں جو جذبات کی بیخ کنی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں ۔ وہ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ نفسیاتی الجھن جذبات کی بیخ کنی سے پیدا ہوتی ہے ‘ وہ جذبات کے ضبط اور تہذیب سے پیدا نہیں ہوتی اور بیخ کنی کا مفہوم یہ ہے تقاضائے فطرت کو گندگی سمجھاجائے اور اس کے ارتکاب کو برا سمجھاجائے ۔ ایسا کرنے کا انجام یہ ہوتا ہے کہ ایک فرد مختلف سمتوں سے مختلف قسم کے دومیلانات کے دباؤ میں آجاتا ہے ۔ ایک طرف اس کے شعور اور میلان اس کے نظریہ حیات ‘ اس کے مذہب یا اس کے رسم و رواج کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ۔ مثلاً یوں کہ اس کا نظریہ یہ ہو کہ فطری میلانات تمام کے تمام گندے ہیں ۔ ان کا وجود ہی نہیں ہونا چاہئے ‘ اور درحقیقت وہ شیطانی میلانات ہیں ۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ کوئی نظریاتی یا کوئی مذہبی شعور کبھی بھی ان فطری رجحانات کے دبانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس لئے یہ میلانات فطری ہوتے ہیں اور فطرت کے اندر اس کی گہری جڑیں ہوتی ہیں ۔ نیز ان کا تعلق بسا اوقات وظیفہ بقائے انسانیت سے ہوتا ہے ۔ ان کے بغیر بقائے انسانیت کا فرض اداہی نہیں کیا جاسکتا۔ انسانی فطرت میں ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ میلانات یونہی عبث طور پر نہیں ودیعت کئے ۔ اس کشمکش کے نتیجے میں نفسیاتی الجھن پیدا ہوتی ہے ۔ اگر ہم ان نفسیاتی مباحث کو تسلیم بھی کرلیں تب بھی یہ بات نظر آئے گی کہ اسلام نے بہت پہلے فطرت انسانی کے ان دونوں رجحانات ومیلانات کے اندر توازن پیدا کیا ہے۔ اس نے شہوات اور لذت اور اخلاقی بلندی اور پاکیزگی کے درمیان ایک حسین توازن پیدا کرکے دونوں کو اپنے اپنے مقام پر حدود کے اعتدال کے اندر کام کرنے کی اجازت دی ہے ۔ زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأنْعَامِ وَالْحَرْثِ ” لوگوں کے لئے مرغوبات نفس ‘ عورتیں ‘ اولاد ‘ سونے اور چاندی کے ڈھیر ‘ چیدہ گھوڑے ‘ مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوشنما بنادی گئی ہیں۔ “ عورتیں اور بچے انسانی خواہشات میں بہت ہی قوی اور شدید خواہشات ہیں ۔ اور ان کے ساتھ ساتھ سونے اور چاندی کے ڈھیروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کو وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنْطَرَة…………سے بیان کیا گیا ہے ۔ اور اگر صرف مال و دولت کی مذمت مطلوب ہوتی تومِنَ الاَموَالِ……………کا لفظ ہوتا ہے مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ …………… ہوتا لیکن قناطیر مقنطرۃ یعنی مال و دولت اور سونے چاندی کے ڈھیر کے الفاظ ایک خاص شیڈو دیتے ہیں۔ اور یہ سونے اور چاندی کے زیادہ سے زیادہ ذخار کا مطلب یہ ہے کہ ایک کہ دولت کا جمع کرنا بذات خود ایک مرغوب چیز ہے ۔ رہے اس کے فوائد تو وہ سب کو معلوم ہیں یعنی یہ ڈھیر ایک انسان کے لئے ہر قسم کے شہوات کی فراہمی کا سبب بنتے ہیں ۔ عورتوں ‘ اولاد اور ڈھیر سے سونے چاندی کے ساتھ ساتھ یہاں وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ……………کیا ذکر کیا گیا یعنی چیدہ گھوڑے ۔ گھوڑے ‘ جس طرح آج کے اس مادی اور صنعتی دور میں بھی محبوب سواری تصور ہوتے ہیں ۔ اس دور میں نہایت ہی محبوب اور مرغوب ہوتے تھے ۔ اور یہ اس لئے کہ ان میں حسن وجال بھی ہوتا ہے۔ وہ ہر شوکت اور سریع الحرکت ہوتے ہیں ۔ ان میں ذہانت اور اپنے مالک کے ساتھ بےحد محبت بھی ہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ جن لوگوں نے عملاً گھوڑے سواری نہیں کی ہوتی انہیں بھی اسے دیکھ کر خوب مزہ آتا ہے ۔ جب تک ان میں اس قدر زندگی موجود ہو کہ وہ ایک مضبوط اور جوان گھوڑے کو دیکھ کر خوش ہوتے ہوں۔ ان کے بعد ان مرغوبات کے ساتھ ساتھ دوسرے مویشیوں اور زرعی اراضی کا ذکر کیا ‘ مویشی اور زرعی اراضی کے درمیان چولی دامن کا تعلق ہوتا ہے ۔ اس لئے ان کا ایک ساتھ ذکر ہوا ۔ ذہن میں بھی وہ ساتھ ہوتے ہیں اور حقیقت واقعہ میں بھی ۔ مویشی اور کھیت اور تروتازہ کھیت ‘ جہاں نشوونما کا کام جاری رہتا ہے ۔ انسان کے پسندیدہ مرغوبات ہیں ۔ اس لئے کہ ان کھیتوں میں سے زندگی پھوٹ کر نکلتی ہے۔ اور یہ ایک عجیب نظارہ ہوتا ہے ۔ بہت ہی پسندیدہ اور جب اس منظر کے ساتھ یہ شعور بھی وابستہ ہوجاتے کہ اس کھیت اور اس میں چلتی جوڑی کا مالک میں بھی ہوں تو واقعی یہ ایک فطرتاً پسندیدہ منظر ہوتا ہے۔ یہاں جن مرغوبات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ وہ مرغوبات نفس کا ایک ادنیٰ نمونہ ہے ۔ ان میں سے بعض ایسی مرغوبات ہیں جو اس سوسائٹی میں اعلیٰ ترین مرغوبات تھیں جن سے قرآن کریم اس دور میں خطاب کررہا تھا اور بعض مرغوبات ایسی ہیں جو ہر زمانے میں نفس انسانی کے لئے مرغوب ہیں ۔ اسلام ان مرغوبات کا ذکر کرتا ہے ‘ ہر ایک کی قدر و قیمت متعین کرتا ہے ۔ تاکہ یہ مرغوبات اپنی جگہ قائم رہیں اور زندگی کی دوسری قدروں پر دست درازی نہ کریں۔ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ” یہ دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں ۔ “ یہ تمام مرغوبات جو پیش کی گئیں یا ان کے علاوہ جو دوسری فطرتاً پسندیدہ چیزیں ہیں یہ دنیا کی چند روزہ حیات کے لئے ساز و سامان ہیں جو اعلیٰ وارفع اور دائمی زندگی کا سامان نہیں ہیں نہ یہ ان آفاق عالیہ تک انسان کو بلند کرتے ہیں۔ یہ تو قریب ہی زمین کے اوپر زندہ رہنے کے اسباب ہیں ۔ لیکن جو شخص اس سے بہتر مرغوبات چاہتا ہے ان سب زیادہ قیمتی ‘ زیادہ بلند اور پاکیزہ مقاصد چاہتا ہے اور اس لئے چاہتا ہے کہ وہ ان مرغوبات ارضی اور شہوات نفسی میں مستغرق نہ ہوجائے اور بلندیوں تک اونچا ہونے کی بجائے زمین پر ہی پڑانہ رہے تو جو شخص فی الواقعہ اس دنیائے ادنیٰ سے کہیں بلند آشیانے کی تلاش میں ہے تو قرآن کریم اس مقام بلند تک بھی اس کی راہنمائی یوں کرتا ہے۔

آل عمران 3:15

یہ ہے آخرت کا سازوسامان ‘ جس کا تذکرہ قرآن مجید کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اہل تقویٰ مؤمنین کو اس بارے میں خوشخبری دے دیں ۔ نعیم اخروی بھی عموماً انسانی خواہش ہی سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اس کے اور اس دنیاوی انعام واکرام کے درمیان ایک بہت ہی بڑا فرق بھی ہے۔ یہ ایک ایسا سازوسامان ہے جس تک صرف ان لوگوں کی رسائی ہوگی ‘ جو اس دنیا میں اہل تقویٰ تھے ‘ جس کے دل خوف اللہ سے بھرے تھے ۔ ان کے دل یاد الٰہی سے معمور تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا خوفی کا شعور بیک وقت روحانی دنیا اور حسی دنیا کی اصلاح کرتا ہے ۔ وہ نفس انسانی کو شہوات میں مستغرق ہونے سے بچاتا ہے ۔ اس کی حفاظت کرتا ہے کہ وہ ان مرغوبات میں جانوروں کی طرح گم نہ ہوجائے ۔ جن لوگوں کے دلوں میں خوف خدا ہوتا ہے وہ عالم آخرت کے ان حسی مرغوبات کو بھی غلیظ حسی لذتیت کے مقام سے ذرابلند دیکھتے ہیں ۔ اسے جانوروں کی طرح شہوت رانی سے ذرا اونچا مقام دیتے ہیں ۔ وہ اس زمین پر رہتے ہوئے اپنے دلوں میں اس مقام رفیع کی تمنا رکھتے ہیں ‘ اس سے قبل کہ وہ اس جہاں فانی سے کوچ کریں اور رخصت ہوں۔ عالم آخرت کے اس پاک وصاف اور کامل ساز و سامان میں ‘ اس دنیائے ونی کی ترک کردہ شہوات کا بہترین بدلہ ہے ۔ بلکہ وہ انعام ان شہوات سے بہت زیادہ ہے ۔ اس دنیا میں اگر وہ ان کھیتوں کے مالک تھے ‘ جو سرسبز و شاداب تھے اور اچھی پیداوار دیتے تھے تو آخرت میں انہیں ایسے باغات دئیے جائیں گے جو مکمل ہوں گے ‘ جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ۔ اور اس شعور اور یقین کے ساتھ ہوں گے کہ وہ ان باغوں میں ہمیشہ کے لئے ہوں گے اور وہ باغ بھی دائمی طور پر سر سبز ہوں گے جو موسمی نہ ہوں گے ۔ اس دنیا کے موسمی کھیت کی طرح نہ ہوں گے ۔ اگر دنیا میں عورتیں اور بچے ہیں تو وہاں بہت ہی پاکیزہ بیویاں ہیں ۔ اور ان کی پاکیزگی گویا دنیاوی بیویوں کے مقابلے میں ایک امتیاز ہے اور بہتری ہے ۔ رہے چیدہ گھوڑے ‘ مویشی کھیت اور سونے چاندی کے ڈھیر ‘ تو اس دنیا میں یہ وسائل عیش تھے۔ فراہمی مرغوبات کا سبب تھے ۔ قیامت میں ان کی ضرورت ہی نہ ہوگی ۔ اس لئے وہاں وسائل رغبت کی فراوانی ہوگی ۔ اور وہ اپنی بڑی تعداد میں حاصل ہوں گے ‘ پس وسائل کی کیا ضرورت جب مراد حاصل ہو۔ اور وہاں پر سازوسامان سے بھی ایک عظیم نعمت ہوگی ۔ یعنی رب ذوالجلال کی رضامندی ۔ یہ رضامندی اس قدر عظیم نعمت ہے جو اس پوری دنیا کی شہوات اور پوری آخرت کی مرغوبات پر بھی بھاری ہے ۔ اور پھر ذرالفظ رضوان پر غور کریں ‘ بذات خود لفظ رضوان کس قدرخوش کن ہے ۔ تروتازہ ہے ۔ انس و محبت کی خوشبو لئے ہوئے ہے۔ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ …………… ” اور اللہ اپنے بندوں پر گہری نظر رکھتا ہے ۔ “…………وہ خوب جانتا ہے کہ ان کی فطرت کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ اس میں کیا کیا میلانات ہیں ‘ اس فطرت کو کن کن ہدایات کی ضرورت ہے ۔ وہ بھی اس کے علم میں ہیں ‘ وہ فطرت انسانی کے امور کے فیصلے کی اچھی بصیرت رکھتا ہے ‘ اس جہاں میں بھی اور آخرت میں بھی ‘ اس لئے کہ وہ صانع فطرت ہے۔

آل عمران 3:16

یہاں اب اللہ تعالیٰ ‘ اپنے خاص بندوں کی صفات گنواتے ہیں ‘ یہ کہ اب آپ کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوتا ہے۔ اور وہ کیا اعمال ہوتے ہیں جن کی بناء بندے جنتوں کے انعامات کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ ان کی دعاؤں میں ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ ان کے تقویٰ اور اللہ خوفی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ اللہ سے ڈر کر پہلے ایمان کا اعلان کرتے ہیں ۔ پھر ایمان کو عنداللہ اپنا شفیع بناتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ سے بچاتے ہیں ۔ ان کی تمام صفات میں سے ‘ انسانی زندگی کی اقدار میں سے ایک اعلیٰ قدر کا ذکر ہے ۔ خصوصاً جماعت مسلمہ کے لئے ان اقدار کی بہت اہمیت ہے ۔ وہ صبر کرنے والے ہیں ‘ صبر میں انسان ہر رنج والم کو برداشت کرتا ہے ۔ اور دعوت اسلامی کی راہ میں جو بھی مشکلادرپیش ہوں ان پر ثابت قدم رہتا ہے۔ دعوت اسلامی کی راہ میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے ۔ وہ اللہ کے سامنے تسلیم ورضا کا پیکر بن جاتا ہے اور حالات اس پر مصائب کے جو پہاڑ بھی توڑیں وہ اللہ کے حکم پر راضی برضا ہوتا ہے۔ وہ سچے ہیں ۔ اس لئے کہ سچائی اس کائنات کی بنیاد ہے ۔ سچائی کا دامن تھام کر وہ عام لوگوں سے اونچے ہوجاتے ہیں ۔ جھوٹ کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی فائدے کے لئے یا کسی ضرر سے بچنے کے لئے سچائی چھوڑ دیتا ہے۔ اور فرمان بردار ہیں ‘ یوں حق الوہیت ادا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے واجبات بندگی پر کاربند ہوتے ہیں ۔ اور صرف اللہ کی بندگی کرتے ہیں جس کے سوا اور کسی کی بندگی ان کے تصور حیات میں نہیں ہے ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دولت کے ہاتھوں ذلیل نہیں ہوتا ۔ اور اسے بخل سے نجات ملتی ہے ۔ اور انفاق کرکے ایک شخص عملاً انسانی اخوت کو ذاتی خواہش اور لذت پر ترجیح دیتا ہے اور وہ ایسے اجتماعی تحفظ کی فضا پیدا کرتا ہے جو سب انسانوں کے لئے خوشگوار ہو۔ اور رات کے آخری پہر میں استغفار تو ایک ایسا مقام ہے ‘ جہاں گھنی اور خوشگوار چھاؤں ‘ جس کی فضا تروتازہ ہے اور لفظ ” اسْحَارِ “ تو اس خاص وقت یعنی طلوع فجر سے قدرے پہلے ایسی خوشگوار اور پرسکون تصویر کشی کرتا ہے جو اپنی جگہ لاجواب ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب کائنات نہایت ہی پرسکون ہوتی ‘ فضا صاف ہوتی ہے ‘ اس وقت نفس انسانی کے روحانی تصورات جاگ اٹھتے ہیں ۔ اچھے خیالات کا ذہن وقلب پر القاء ہوتا ہے ۔ اس پرکیف فضا میں جب انسان کی جانب سے بارگاہ الٰہی میں استغفار ہورہا ہو ‘ تو پھر اس کا پرتو بھی نفس انسانی پر نہایت ہی روحانی اثرات ڈالتا ہے ۔ اس وقت انسان کی روح اور اس کائنات کی روح رب کائنات اور خالق انسان کے سامنے ہم سبق اور ہم سمت ہوجاتی ہیں۔ ایسے صابروں ‘ ایسے صداقت شعاروں ‘ ایسے ہی اطاعت گزاروں ‘ ایسے ہی دولت نثاروں اور ایسے بخشش کے طلبگاروں کا یہ حق ہوتا ہے کہ اللہ کی رضامندی ان کا استقبال کرے اس لئے کہ وہ اس کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ کی رحمت کی چھاؤں گھنی ہوتی ہے ۔ اور اس کا پھل تروتازہ ہوتا ہے۔ اور وہ ہر لذت اور ہر شہوت سے اپنے اندر زیادہ مٹھاس رکھتی ہے ۔ اگر ذوق سلیم ہو۔ یوں قرآن کریم ‘ اس زمین کے اوپر سے اسے مخلوق ارضی سمجھتے ہوئے ‘ نفس انسانی کی راہنمائی شروع کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ اسے بلند کرتا ہے اور اسے ایک بلند افق پر ملاء اعلیٰ کی روشنیوں تک لے جاتا ہے ‘ اور یہ عمل بڑے آرام سے ‘ بڑی تسلی سے ‘ بڑی نرمی اور شفقت سے وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اس روحانی ترقی میں انسان کی فطرت اور اس کے فطری میلانات کو پوری طرح مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس میں اس کی جسمانی کمزوریوں اور ناتوانیوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس محبت اور اس کے شوق کو بھی جوش دلایا جاتا ہے۔ اور اس میں کسی فطری جذبے کی بیخٰ کنی نہیں کی جاتی اور نہ ہی اسے کسی کام پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ اس مہم کے دوران عام زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ اس میں تعطل نہیں پیدا کیا جاتا۔ یہ ہے فطرت اللہ ‘ یہ ہے اللہ کا نظام حیات ‘ اس فطرت کے لئے اور اللہ اپنے بندوں کے حال سے اچھی طرح خبردار ہے وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ! ٭………٭………٭………٭………٭ یہاں تک تو اس سورت کا ہدف یہ تھا کہ عقیدہ توحید کو نکھار کر رکھ دیاجائے۔ یوں کہ اللہ ایک ہے ۔ وہی اس کائنات کو تھامے ہوئے ہے ۔ دنیا میں آنے والے رسول بھی ایک ہیں اور ان کی رسالت بھی ایک ہی اکائی ہے ۔ اور یہ بتایا گیا تھا کہ آیات الٰہی اور افکار الٰہیہ کے بارے میں اصل اہل ایمان کا رویہ کیا ہوتا ہے اور جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے وہ ان افکار وآیات کتاب کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ انحراف کرنیوالوں کو اپنے انجام بد سے ڈرایا گیا اور اس سلسلے میں ان کی توجہ ماضی اور حال کے منحرفین کے انجام بد کو بطور مثال پیش کیا گیا ۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات ایک عام فطری نظام ہے اور اس میں فطری میلانات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔ لیکن متقین کی نظر ان سے بلند ہوتی ہے اور وہ ہر وقت اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے ہیں ۔ لیکن اب یہاں سے لیکر اس سبق کے اختتام تک ایک دوسری حقیقت سے ہمیں روشناس کرایا جاتا ہے ۔ اور یہ دوسری حقیقت عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ ٔ حیات کا ایک لازمی نتیجہ ہے ۔ اگر پہلی حقیقت ہے تو دوسری کو بھی موجود ہونا چاہئے ۔ وہ یہ کہ حقیقت توحید کا مصداق اور مظہر ہماری زندگیوں میں ہونا چاہئے ۔ یہ تمام باتیں اس سبق کے آنے والے حصے میں بیان کی گئی ہیں ۔ پہلے حصہ اول کے خلاصے کو پھر ذہن نشین اور مستحضر کیا جاتا ہے تاکہ اس کے نتائج دوسری حقیقت کے ذریعہ مرتب ہوں ‘ اس حصے کا آغاز اس شہادت سے کیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ اس عقیدہ کی شہادت فرشتے بھی دیتے آئے ہیں اور اصحاب العلم بھی اس کی تصدیق کرتے آئے ہیں ۔ الٰہ ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ قوام بھی ہے یعنی اس کائنات کا نگہبان ‘ اور اس کی قیومیت کا یہ مفہوم ہے کہ وہ اس کائنات اور اس کے اندر انسان دونوں کو عدل کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جب یہ بات مسلم ہے کہ اللہ ہی الٰہ اور قیوم ہے تو پھر دوسری بات خود بخود مستلزم ہوجاتی ہے کہ یہ اللہ کی بندگی کا اقرار کریں ۔ یہ بندگی صرف اس کی ہو ‘ اس کا حکم تمام انسانوں کی زندگی میں نازل ہو۔ اس کے مطابق فیصلے ہوں ‘ تمام بندے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ اس کے سامنے جھکیں ‘ اس ہستی کی اطاعت کریں جو قیوم ہے ۔ اس کی نازل کردہ کتاب اور اس کے رسول کی سنت پر عمل پیر اہوں۔ اور دوسری حقیقت کا اظہار یوں کیا گیا إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلام …………… ” اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ “ اس لئے اللہ اسلام کے سوا کوئی دین قبول نہیں فرماتے ‘ اور اسلام کیا ہے۔ وہ سر تسلیم خم کرنا ‘ اطاعت کرنا ‘ اور ہر معاملے میں اتباع کرنا۔ اس لئے اللہ کے ہاں مقبول دین صرف عقلی تصور نہیں ہے۔ نہ صرف تصدیق بالقلب دین ‘ دین یہ ہے کہ اس تصور حیات اور اس تصدیق ویقین کے تقاضے بھی پورے کئے جائیں اور تقاضے یہ ہیں کہ لوگ اپنے تمام امور میں شریعت کے مطابق فیصلے کریں ۔ اور پھر شریعت جو فیصلہ کرے اسے بطیب خاطر قبول کریں اور اس نظام میں رسول خدا کی اطاعت کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بڑے تعجب خیز انداز میں اہل کتاب کے بارے میں اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ وہ دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے دین پر ہیں لیکن ان کارویہ یہ ہے کہ جب انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے کہ آؤ اس کے مطابق فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک گروہ رو گردانی کرتا ہے جس سے ان کے دعوائے دین کی قلعی کھل جاتی ہے اور وہ باطل ہوجاتا ہے اللہ کے نزدیک مقبول دین صرف اسلام ہے ‘ اور اسلام بغیر سر تسلیم خم کرنے کے نہیں ہے ۔ اسلام یہ ہے کہ رسول خدا کی اطاعت ہو اور امور زندگی میں فیصلے کتاب اللہ کے مطابق ہوں۔ یہاں کتاب اللہ سے اعراض اور روگردانی کی علت کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ‘ اور اس کی ایسی حسی اور واقعی تعبیر کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرے سے دین پر ایمان ہی نہیں رکھتے ۔ اس لئے کہ وہ یوم الحساب کے عدل و انصاف کے تصور پر پوری طرح یقین نہیں رکھتے ۔ وہ اس لئے کہ ان کا خیال تھا ” کہ انہیں دوزخ کی آگ میں صرف چند دن رہنا ہوگا۔ اس لئے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور ان کے دین کے معاملے میں انہیں ان عقیدوں نے فریب میں ڈال دیا تھا جو انہوں نے جھوٹے طور گھڑے ہوئے تھے ۔ “ اور یہ ان کے لئے عجیب دھوکہ تھا ‘ غرض اس وقت وہ نہ اہل کتاب ہیں اور نہ اہل دین ہیں ۔ نہ مومن ہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ جب انہیں بلایا جاتا ہے کہ آؤ تمہاری کتاب کے مطابق کسی قضئیے کا فیصلہ کریں تو وہ منہ موڑ کر بھاگتے ہیں۔ غرض قرآن کریم اس قطعیت اور جزم کے ساتھ دین کا مفہوم اور دین کی حقیقت یہاں بیان کرتا ہے ۔ اس لئے تمام لوگوں کی جانب سے اب اللہ کے ہاں مقبول دین صرف دین اسلام ہے جو واضح صاف اور قطعی ہے ۔ یعنی دین اسلام اور اسلام کا معنی ہے کتاب اللہ کے مطابق عدالتوں میں فیصلہ کرنا اور اس کے بعد اسے تسلیم کرنا اور اس پر عمل کرنا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو وہ دین دار نہیں ہے ۔ وہ مسلم نہیں ہے ۔ اگرچہ وہ دعوائے دین کرے اور دعوائے اسلام کرے ۔ اللہ تعالیٰ دین کی جو حد بیان فرماتے ہیں ‘ جو تعریف کرتے ہیں ‘ جس کی تائید کرتے ہیں وہ وہی ہے جو اوپر ہم نے بیان کیا اور اللہ دین کی تعریف بیان کرنے میں کسی انسان کی خواہش کے تابع نہیں ‘ وہ جس طرح جانتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ جو شخص کفار کو دوست بناتا ہے ۔ (اور سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار وہ ہیں جو عدالتوں کے اندر کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ۔ ) تو اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا۔ “ کسی معاملے میں بھی اللہ سے متعلق نہ ہوگا۔ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رابطہ نہ رہا ۔ یعنی صرف اس لئے کہ اس شخص نے کافروں سے دوستی کی ‘ یا کافروں کی نصرت کی یا کافروں سے نصرت طلب کی ۔ اور کافر وہ جو اللہ کی کتاب پر اپنی عدالتوں میں فیصلے نہیں کرتے ۔ اگرچہ زبانی طور پر وہ دعویٰ کریں کہ وہ دین اللہ پر ہیں۔ کفار کی دوستی سے اس قدر سختی سے منع کیا جاتا ہے کہ اگر تم باز نہ آئے تو اس سے تمہارا دین اپنی اساس سے ختم ہوجائے گا اور قرآن کریم اس تنبیہ اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ انہیں اچھی طرح سمجھاتا بھی ہے۔ مسلمانوں کو یہ بصیرت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ ہی اس پوری کائنات میں اصل متصرف الامور ہے ۔ وہ سردار ہے ۔ اور اسی کے تصرف میں تمام امور ہیں ۔ وہی مالک الملک ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے ملک عطا کرتا ہے جس سے چاہتا ہے ملک لے لیتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس سے چاہتا ہے عزت واپس لے لیتا ہے ۔ اور لوگوں کی زندگی کے امور میں اس کا یہ تصرف بھی اس تکوینی تصرف کا ایک حصہ ہے ‘ جو وہ اس کا ئنات کو چلانے کے لئے کرتا ہے ۔ دیکھئے ‘ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔ وہ مردہ چیزوں سے زندہ چیزوں کو نکالتا ہے اور زندہ چیزوں سے مردہ چیزیں نکالتا ہے ۔ اور یہی اس کا قیام بالعدل ہے ۔ جس کے ساتھ وہ انسانوں کو تھامے ہوئے ہے ۔ اور کائنات کو بھی تھامے ہوئے ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر کفار کے ساتھ دوستیاں قائم کریں ۔ چاہے اہل کفار کی قوت بہت زیادہ ہو ‘ ان کا مال بہت زیادہ ہو اور اولاد بہت زیادہ ہو ۔ اس مکرر اور موکد ڈراوے اور تنبیہ سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اس وقت نوخیز جماعت مسلمہ پر اس نکتے کی اچھی طرح وضاحت نہ ہوئی تھی ۔ اور اس وقت اہل اسلام میں سے بعض لوگوں نے اپنے سابقہ خاندانی ‘ قومی اور اقتصادی روابط بحال رکھے ہوئے تھے ۔ یہ روبط مشرکین مکہ اور یہودیان مدینہ کے ساتھ بیک وقت تھے ، اس لئے دین اسلام کی یہ تفسیر کی گئی اور انہیں اہل کفر کے ساتھ دوستانہ روابط نہ رکھنے کا حکم دیا گیا ۔ نیز اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے ‘ دنیا میں انسان کی ظاہری قوتوں کی طرف میلان رکھتا ہے ‘ ان سے متاثر ہوتا ہے ‘ اس لئے انہیں بتایا جاتا ہے کہ اصلی قوت کون ہے ‘ اصلی حقیقت ان لوگوں کی کیا ہے ‘ اور یہ کہ اسلامی نظریہ ٔ حیات کیا ہے ۔ اور اس کے تقاضے کیا ہیں یعنی عملی زندگی میں۔ اور اس سبق کا خاتمہ اس قطعی فیصلے پر ہوتا ہے کہ اسلام اللہ اور رسول کی اطاعت کا نام ہے اور یہ کہ اللہ کی جانب چلنے کا واحد راستہ یہ ہے رسول اللہ کی اطاعت کی جائے ۔ صرف یہ کافی نہیں ہے کہ کلمہ شہادت پر دل سے مجرد یقین کرلیاجائے اور زبان سے اس کا اقرار کرلیا جائے ۔ فرماتے ہیں ” کہہ دیجئے ‘ اگر تم اللہ کو محبوب رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو اللہ تمہیں محبوب رکھے گا۔ “ …………… ” کہہ دو ‘ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو ‘ اگر وہ اس سے منہ پھیریں ‘ تو جان لو کہ اللہ کافروں کے ساتھ محبت نہیں رکھتا۔ “ ……………پس یا تو اتباع ہوگا اور مکمل تابعداری کروگے تو اللہ بھی اسے پسند کرے گا یا پھر کفر ہوگا جسے اللہ نہایت ہی ناپسند کرتا ہے ۔ یہ ہے وہ مقام جس سے ایک مسلمان اور ایک کافر کے راستے جدا ہوتے ہیں ۔ اس سبق کے اس دوسرے حصے پر اب تفصیل سے غور ہوگا۔

آل عمران 3:17

یہاں اب اللہ تعالیٰ ‘ اپنے خاص بندوں کی صفات گنواتے ہیں ‘ یہ کہ اب آپ کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوتا ہے۔ اور وہ کیا اعمال ہوتے ہیں جن کی بناء بندے جنتوں کے انعامات کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ ان کی دعاؤں میں ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ ان کے تقویٰ اور اللہ خوفی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ اللہ سے ڈر کر پہلے ایمان کا اعلان کرتے ہیں ۔ پھر ایمان کو عنداللہ اپنا شفیع بناتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ سے بچاتے ہیں ۔ ان کی تمام صفات میں سے ‘ انسانی زندگی کی اقدار میں سے ایک اعلیٰ قدر کا ذکر ہے ۔ خصوصاً جماعت مسلمہ کے لئے ان اقدار کی بہت اہمیت ہے ۔ وہ صبر کرنے والے ہیں ‘ صبر میں انسان ہر رنج والم کو برداشت کرتا ہے ۔ اور دعوت اسلامی کی راہ میں جو بھی مشکلادرپیش ہوں ان پر ثابت قدم رہتا ہے۔ دعوت اسلامی کی راہ میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے ۔ وہ اللہ کے سامنے تسلیم ورضا کا پیکر بن جاتا ہے اور حالات اس پر مصائب کے جو پہاڑ بھی توڑیں وہ اللہ کے حکم پر راضی برضا ہوتا ہے۔ وہ سچے ہیں ۔ اس لئے کہ سچائی اس کائنات کی بنیاد ہے ۔ سچائی کا دامن تھام کر وہ عام لوگوں سے اونچے ہوجاتے ہیں ۔ جھوٹ کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی فائدے کے لئے یا کسی ضرر سے بچنے کے لئے سچائی چھوڑ دیتا ہے۔ اور فرمان بردار ہیں ‘ یوں حق الوہیت ادا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے واجبات بندگی پر کاربند ہوتے ہیں ۔ اور صرف اللہ کی بندگی کرتے ہیں جس کے سوا اور کسی کی بندگی ان کے تصور حیات میں نہیں ہے ۔ انفاق فی سبیل اللہ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دولت کے ہاتھوں ذلیل نہیں ہوتا ۔ اور اسے بخل سے نجات ملتی ہے ۔ اور انفاق کرکے ایک شخص عملاً انسانی اخوت کو ذاتی خواہش اور لذت پر ترجیح دیتا ہے اور وہ ایسے اجتماعی تحفظ کی فضا پیدا کرتا ہے جو سب انسانوں کے لئے خوشگوار ہو۔ اور رات کے آخری پہر میں استغفار تو ایک ایسا مقام ہے ‘ جہاں گھنی اور خوشگوار چھاؤں ‘ جس کی فضا تروتازہ ہے اور لفظ ” اسْحَارِ “ تو اس خاص وقت یعنی طلوع فجر سے قدرے پہلے ایسی خوشگوار اور پرسکون تصویر کشی کرتا ہے جو اپنی جگہ لاجواب ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب کائنات نہایت ہی پرسکون ہوتی ‘ فضا صاف ہوتی ہے ‘ اس وقت نفس انسانی کے روحانی تصورات جاگ اٹھتے ہیں ۔ اچھے خیالات کا ذہن وقلب پر القاء ہوتا ہے ۔ اس پرکیف فضا میں جب انسان کی جانب سے بارگاہ الٰہی میں استغفار ہورہا ہو ‘ تو پھر اس کا پرتو بھی نفس انسانی پر نہایت ہی روحانی اثرات ڈالتا ہے ۔ اس وقت انسان کی روح اور اس کائنات کی روح رب کائنات اور خالق انسان کے سامنے ہم سبق اور ہم سمت ہوجاتی ہیں۔ ایسے صابروں ‘ ایسے صداقت شعاروں ‘ ایسے ہی اطاعت گزاروں ‘ ایسے ہی دولت نثاروں اور ایسے بخشش کے طلبگاروں کا یہ حق ہوتا ہے کہ اللہ کی رضامندی ان کا استقبال کرے اس لئے کہ وہ اس کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ کی رحمت کی چھاؤں گھنی ہوتی ہے ۔ اور اس کا پھل تروتازہ ہوتا ہے۔ اور وہ ہر لذت اور ہر شہوت سے اپنے اندر زیادہ مٹھاس رکھتی ہے ۔ اگر ذوق سلیم ہو۔ یوں قرآن کریم ‘ اس زمین کے اوپر سے اسے مخلوق ارضی سمجھتے ہوئے ‘ نفس انسانی کی راہنمائی شروع کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ اسے بلند کرتا ہے اور اسے ایک بلند افق پر ملاء اعلیٰ کی روشنیوں تک لے جاتا ہے ‘ اور یہ عمل بڑے آرام سے ‘ بڑی تسلی سے ‘ بڑی نرمی اور شفقت سے وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اس روحانی ترقی میں انسان کی فطرت اور اس کے فطری میلانات کو پوری طرح مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس میں اس کی جسمانی کمزوریوں اور ناتوانیوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس محبت اور اس کے شوق کو بھی جوش دلایا جاتا ہے۔ اور اس میں کسی فطری جذبے کی بیخٰ کنی نہیں کی جاتی اور نہ ہی اسے کسی کام پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ اس مہم کے دوران عام زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ اس میں تعطل نہیں پیدا کیا جاتا۔ یہ ہے فطرت اللہ ‘ یہ ہے اللہ کا نظام حیات ‘ اس فطرت کے لئے اور اللہ اپنے بندوں کے حال سے اچھی طرح خبردار ہے وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ! ٭………٭………٭………٭………٭ یہاں تک تو اس سورت کا ہدف یہ تھا کہ عقیدہ توحید کو نکھار کر رکھ دیاجائے۔ یوں کہ اللہ ایک ہے ۔ وہی اس کائنات کو تھامے ہوئے ہے ۔ دنیا میں آنے والے رسول بھی ایک ہیں اور ان کی رسالت بھی ایک ہی اکائی ہے ۔ اور یہ بتایا گیا تھا کہ آیات الٰہی اور افکار الٰہیہ کے بارے میں اصل اہل ایمان کا رویہ کیا ہوتا ہے اور جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے وہ ان افکار وآیات کتاب کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ انحراف کرنیوالوں کو اپنے انجام بد سے ڈرایا گیا اور اس سلسلے میں ان کی توجہ ماضی اور حال کے منحرفین کے انجام بد کو بطور مثال پیش کیا گیا ۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات ایک عام فطری نظام ہے اور اس میں فطری میلانات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔ لیکن متقین کی نظر ان سے بلند ہوتی ہے اور وہ ہر وقت اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے ہیں ۔ لیکن اب یہاں سے لیکر اس سبق کے اختتام تک ایک دوسری حقیقت سے ہمیں روشناس کرایا جاتا ہے ۔ اور یہ دوسری حقیقت عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ ٔ حیات کا ایک لازمی نتیجہ ہے ۔ اگر پہلی حقیقت ہے تو دوسری کو بھی موجود ہونا چاہئے ۔ وہ یہ کہ حقیقت توحید کا مصداق اور مظہر ہماری زندگیوں میں ہونا چاہئے ۔ یہ تمام باتیں اس سبق کے آنے والے حصے میں بیان کی گئی ہیں ۔ پہلے حصہ اول کے خلاصے کو پھر ذہن نشین اور مستحضر کیا جاتا ہے تاکہ اس کے نتائج دوسری حقیقت کے ذریعہ مرتب ہوں ‘ اس حصے کا آغاز اس شہادت سے کیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ اس عقیدہ کی شہادت فرشتے بھی دیتے آئے ہیں اور اصحاب العلم بھی اس کی تصدیق کرتے آئے ہیں ۔ الٰہ ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ قوام بھی ہے یعنی اس کائنات کا نگہبان ‘ اور اس کی قیومیت کا یہ مفہوم ہے کہ وہ اس کائنات اور اس کے اندر انسان دونوں کو عدل کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جب یہ بات مسلم ہے کہ اللہ ہی الٰہ اور قیوم ہے تو پھر دوسری بات خود بخود مستلزم ہوجاتی ہے کہ یہ اللہ کی بندگی کا اقرار کریں ۔ یہ بندگی صرف اس کی ہو ‘ اس کا حکم تمام انسانوں کی زندگی میں نازل ہو۔ اس کے مطابق فیصلے ہوں ‘ تمام بندے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ اس کے سامنے جھکیں ‘ اس ہستی کی اطاعت کریں جو قیوم ہے ۔ اس کی نازل کردہ کتاب اور اس کے رسول کی سنت پر عمل پیر اہوں۔ اور دوسری حقیقت کا اظہار یوں کیا گیا إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلام …………… ” اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ “ اس لئے اللہ اسلام کے سوا کوئی دین قبول نہیں فرماتے ‘ اور اسلام کیا ہے۔ وہ سر تسلیم خم کرنا ‘ اطاعت کرنا ‘ اور ہر معاملے میں اتباع کرنا۔ اس لئے اللہ کے ہاں مقبول دین صرف عقلی تصور نہیں ہے۔ نہ صرف تصدیق بالقلب دین ‘ دین یہ ہے کہ اس تصور حیات اور اس تصدیق ویقین کے تقاضے بھی پورے کئے جائیں اور تقاضے یہ ہیں کہ لوگ اپنے تمام امور میں شریعت کے مطابق فیصلے کریں ۔ اور پھر شریعت جو فیصلہ کرے اسے بطیب خاطر قبول کریں اور اس نظام میں رسول خدا کی اطاعت کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بڑے تعجب خیز انداز میں اہل کتاب کے بارے میں اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ وہ دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے دین پر ہیں لیکن ان کارویہ یہ ہے کہ جب انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے کہ آؤ اس کے مطابق فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک گروہ رو گردانی کرتا ہے جس سے ان کے دعوائے دین کی قلعی کھل جاتی ہے اور وہ باطل ہوجاتا ہے اللہ کے نزدیک مقبول دین صرف اسلام ہے ‘ اور اسلام بغیر سر تسلیم خم کرنے کے نہیں ہے ۔ اسلام یہ ہے کہ رسول خدا کی اطاعت ہو اور امور زندگی میں فیصلے کتاب اللہ کے مطابق ہوں۔ یہاں کتاب اللہ سے اعراض اور روگردانی کی علت کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ‘ اور اس کی ایسی حسی اور واقعی تعبیر کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرے سے دین پر ایمان ہی نہیں رکھتے ۔ اس لئے کہ وہ یوم الحساب کے عدل و انصاف کے تصور پر پوری طرح یقین نہیں رکھتے ۔ وہ اس لئے کہ ان کا خیال تھا ” کہ انہیں دوزخ کی آگ میں صرف چند دن رہنا ہوگا۔ اس لئے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور ان کے دین کے معاملے میں انہیں ان عقیدوں نے فریب میں ڈال دیا تھا جو انہوں نے جھوٹے طور گھڑے ہوئے تھے ۔ “ اور یہ ان کے لئے عجیب دھوکہ تھا ‘ غرض اس وقت وہ نہ اہل کتاب ہیں اور نہ اہل دین ہیں ۔ نہ مومن ہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ جب انہیں بلایا جاتا ہے کہ آؤ تمہاری کتاب کے مطابق کسی قضئیے کا فیصلہ کریں تو وہ منہ موڑ کر بھاگتے ہیں۔ غرض قرآن کریم اس قطعیت اور جزم کے ساتھ دین کا مفہوم اور دین کی حقیقت یہاں بیان کرتا ہے ۔ اس لئے تمام لوگوں کی جانب سے اب اللہ کے ہاں مقبول دین صرف دین اسلام ہے جو واضح صاف اور قطعی ہے ۔ یعنی دین اسلام اور اسلام کا معنی ہے کتاب اللہ کے مطابق عدالتوں میں فیصلہ کرنا اور اس کے بعد اسے تسلیم کرنا اور اس پر عمل کرنا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو وہ دین دار نہیں ہے ۔ وہ مسلم نہیں ہے ۔ اگرچہ وہ دعوائے دین کرے اور دعوائے اسلام کرے ۔ اللہ تعالیٰ دین کی جو حد بیان فرماتے ہیں ‘ جو تعریف کرتے ہیں ‘ جس کی تائید کرتے ہیں وہ وہی ہے جو اوپر ہم نے بیان کیا اور اللہ دین کی تعریف بیان کرنے میں کسی انسان کی خواہش کے تابع نہیں ‘ وہ جس طرح جانتا ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ جو شخص کفار کو دوست بناتا ہے ۔ (اور سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار وہ ہیں جو عدالتوں کے اندر کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ۔ ) تو اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا۔ “ کسی معاملے میں بھی اللہ سے متعلق نہ ہوگا۔ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رابطہ نہ رہا ۔ یعنی صرف اس لئے کہ اس شخص نے کافروں سے دوستی کی ‘ یا کافروں کی نصرت کی یا کافروں سے نصرت طلب کی ۔ اور کافر وہ جو اللہ کی کتاب پر اپنی عدالتوں میں فیصلے نہیں کرتے ۔ اگرچہ زبانی طور پر وہ دعویٰ کریں کہ وہ دین اللہ پر ہیں۔ کفار کی دوستی سے اس قدر سختی سے منع کیا جاتا ہے کہ اگر تم باز نہ آئے تو اس سے تمہارا دین اپنی اساس سے ختم ہوجائے گا اور قرآن کریم اس تنبیہ اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ انہیں اچھی طرح سمجھاتا بھی ہے۔ مسلمانوں کو یہ بصیرت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ ہی اس پوری کائنات میں اصل متصرف الامور ہے ۔ وہ سردار ہے ۔ اور اسی کے تصرف میں تمام امور ہیں ۔ وہی مالک الملک ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے ملک عطا کرتا ہے جس سے چاہتا ہے ملک لے لیتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس سے چاہتا ہے عزت واپس لے لیتا ہے ۔ اور لوگوں کی زندگی کے امور میں اس کا یہ تصرف بھی اس تکوینی تصرف کا ایک حصہ ہے ‘ جو وہ اس کا ئنات کو چلانے کے لئے کرتا ہے ۔ دیکھئے ‘ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔ وہ مردہ چیزوں سے زندہ چیزوں کو نکالتا ہے اور زندہ چیزوں سے مردہ چیزیں نکالتا ہے ۔ اور یہی اس کا قیام بالعدل ہے ۔ جس کے ساتھ وہ انسانوں کو تھامے ہوئے ہے ۔ اور کائنات کو بھی تھامے ہوئے ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر کفار کے ساتھ دوستیاں قائم کریں ۔ چاہے اہل کفار کی قوت بہت زیادہ ہو ‘ ان کا مال بہت زیادہ ہو اور اولاد بہت زیادہ ہو ۔ اس مکرر اور موکد ڈراوے اور تنبیہ سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اس وقت نوخیز جماعت مسلمہ پر اس نکتے کی اچھی طرح وضاحت نہ ہوئی تھی ۔ اور اس وقت اہل اسلام میں سے بعض لوگوں نے اپنے سابقہ خاندانی ‘ قومی اور اقتصادی روابط بحال رکھے ہوئے تھے ۔ یہ روبط مشرکین مکہ اور یہودیان مدینہ کے ساتھ بیک وقت تھے ، اس لئے دین اسلام کی یہ تفسیر کی گئی اور انہیں اہل کفر کے ساتھ دوستانہ روابط نہ رکھنے کا حکم دیا گیا ۔ نیز اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے ‘ دنیا میں انسان کی ظاہری قوتوں کی طرف میلان رکھتا ہے ‘ ان سے متاثر ہوتا ہے ‘ اس لئے انہیں بتایا جاتا ہے کہ اصلی قوت کون ہے ‘ اصلی حقیقت ان لوگوں کی کیا ہے ‘ اور یہ کہ اسلامی نظریہ ٔ حیات کیا ہے ۔ اور اس کے تقاضے کیا ہیں یعنی عملی زندگی میں۔ اور اس سبق کا خاتمہ اس قطعی فیصلے پر ہوتا ہے کہ اسلام اللہ اور رسول کی اطاعت کا نام ہے اور یہ کہ اللہ کی جانب چلنے کا واحد راستہ یہ ہے رسول اللہ کی اطاعت کی جائے ۔ صرف یہ کافی نہیں ہے کہ کلمہ شہادت پر دل سے مجرد یقین کرلیاجائے اور زبان سے اس کا اقرار کرلیا جائے ۔ فرماتے ہیں ” کہہ دیجئے ‘ اگر تم اللہ کو محبوب رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو اللہ تمہیں محبوب رکھے گا۔ “ …………… ” کہہ دو ‘ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو ‘ اگر وہ اس سے منہ پھیریں ‘ تو جان لو کہ اللہ کافروں کے ساتھ محبت نہیں رکھتا۔ “ ……………پس یا تو اتباع ہوگا اور مکمل تابعداری کروگے تو اللہ بھی اسے پسند کرے گا یا پھر کفر ہوگا جسے اللہ نہایت ہی ناپسند کرتا ہے ۔ یہ ہے وہ مقام جس سے ایک مسلمان اور ایک کافر کے راستے جدا ہوتے ہیں ۔ اس سبق کے اس دوسرے حصے پر اب تفصیل سے غور ہوگا۔

آل عمران 3:18

یہ وہ پہلی حقیقت ہے ‘ جس پر اسلام کے نظریاتی تصورات قائم ہیں یعنی عقیدہ توحید ‘ الوہیت میں توحید ‘ قیومیت میں توحید اور یہ کہ اس کائنات کی پوری نگہبانی اصول انصاف وعدل پر منجانب اللہ ہورہی ہے ۔ اس پہلی حقیقت کے ساتھ اس سورت میں کلام کا آغاز ہوا تھا اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ …………… ” اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور وہ زندہ جاوید اور نگہبان ہے۔ “ اس آغاز سے ایک تو اسلامی عقیدہ کا اظہار اور توضیح مقصود تھی اور دوسری جانب سے اہل کتاب کے پھیلائے ہوئے شبہات کا رد مطلوب تھا ۔ ایک تو خود اہل کتاب کے لئے ان کے موروثی عقیدہ توحید کی تشریح اور توضیح بھی مقصود تھی ‘ دوسرے یہ کہ ان کے پھیلائے ہوئے شبہات کا جو اثر اہل اسلام پر ہورہا تھا ‘ اس کی توضیح بھی مقصود تھی ‘ کیونکہ بعض اوقات اہل اسلام بھی ان سے متاثر ہوجاتے تھے ۔ اللہ کی شہادت ‘ کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ‘ یہ ہر اس شخص کے لئے کافی وشافی عقیدہ ہے ‘ جو ایمان لاچکا ہے ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اللہ کی گواہی تو ان کے لئے کافی وشافی ہوسکتی ہے۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہوں ‘ اور جو لوگ ایمان لے آئے ہوں ۔ پھر ان کو شہادت کی ضرورت کیا رہتی ہے ۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ اہل کتاب تو اللہ پر ایمان لاتے تھے لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے لئے اولاد بھی ٹھہراتے تھے اور اس کے لئے شریک بھی ٹھہراتے تھے ۔ بلکہ مشرکین مکہ بھی خدا پر ایمان لاتے تھے ۔ وہ گمراہ اس حوالے سے ہوتے تھے کہ وہ اللہ کے ساتھ کئی شرکاء بناتے تھے ۔ کئی کو اللہ کے مساوی ٹھہراتے تھے ۔ اللہ کے لئے بیٹے اور بیٹیوں کے قائل تھے ۔ اس لئے جب قرآن کریم نے اس بات کی تصدیق کی کہ خود وہ جس خدا کے قائل ہیں وہ شہادت دے رہا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ لہٰذا یہ شہادت ان کے تطہیر افکار کے لئے ایک مؤثر شہادت تھی ۔ نیز یہ معاملہ جس طرح کہ ہم نے اس حصے سے قبل اپنے تبصرے میں اس کا جائزہ لیا ہے ۔ یہ ایک بڑا ہی گہرا اور دقیق معاملہ ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی جانب سے نظریہ توحید پر شہادت اس لئے دی گئی ہے کہ شہادت توحید کے ساتھ اس کے تقاضے بھی وابستہ ہیں اور ان تقاضوں کا ذکر بعد میں آرہا ہے ۔ اور وہ یہ عقیدہ توحید کے حاملین سے بندگی اور اطاعت بھی صرف اس وحدہ لاشریک کی متوقع ہے ۔ اور وہ بندگی اور اطاعت بھی صرف اسلام کی شکل میں ہے ۔ اور اسلام بھی سر تسلیم خم کردینے اور مکمل انقیاد کے معنی میں مطلوب ہے ۔ اسلام سے مراد صرف شعور ‘ تصور اور عقیدہ مراد نہیں ہے ۔ بلکہ اس سے مراد عمل ‘ اطاعت اور مکمل انقیاد بھی ہے ۔ اور یہ انقیاد بھی اسلامی نظام زندگی کی اس شکل و صورت کے مطابق جو قرآن وسنت سے ماخوذ ہے ۔ اس پہلو سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر دور اور ہر زمانے میں لوگوں کی اکثریت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ایمان لاچکے ہیں ‘ لیکن وہ اس اللہ کے ساتھ بیشمار غیروں کو شریک بھی ٹھہراتے ہیں ‘ اس صورت میں جب وہ اپنے فیصلے ایسے قوانین کے مطابق کراتے ہیں جو شریعت پر مبنی نہیں ہیں اور وہ ایسے لوگوں کی اطاعت کرتے ہیں جو اللہ اور رسول کی اطاعت نہیں کرتے ‘ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اخلاق واقدار ‘ اپنے تصورات و افکار اور اپنے حسن وقبح کے پیمانے غیر اللہ سے لیتے ہیں ‘ تو یہ سب باتیں ان کے اس قول سے متصادم ہوتی ہیں کہ ہم ایمان لاچکے ہیں ‘ نیز ان کا یہ طرزعمل خود اللہ کی شہادت کے بھی منافی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔ اب سوال رہ جاتا ہے ‘ ملائکہ اور علماء کی شہادت کا ‘ تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ علماء اور ملائکہ کے مکمل طور پر اللہ اور اس کے اوامر ونواہی کی اطاعت کرتے ہیں ‘ وہ صرف اللہ سے ہدایات لیتے ہیں ۔ اور اللہ کی جانب سے جو کچھ نازل ہوتا ہے اس کی پیروی کرتے ہیں ۔ نہ اس کے بارے میں بحث ومناظرہ کرتے ہیں ۔ اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا شک کرتے ہیں ۔ بشرطیکہ یہ ثابت ہوجائے کہ یہ بات منجانب اللہ ہے ۔ اس سورت میں اولوالعلم کا حال بیان کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا تھا۔ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا …………… ” اور علم میں جو لوگ پختہ کار ہیں وہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں ‘ سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہے ۔ یہ ہے اہل علم اور فرشتوں کی شہادت یعنی تصدیق ‘ اطاعت اتباع اور انقیاد ‘ اور فرشتوں ‘ اہل علم کی شہادت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ قائم ہے۔ یعنی عدل و انصاف ایک ایسی صفت ہے جو اس کی شان الوہیت کے ساتھ وہ قائم و لازم ہے۔ “ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ” اللہ خود اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور فرشتے اور سب اہل علم بھی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ راستی اور انصاف کے ساتھ قائم ہے۔ “ جس طرح عبارت نص سے معلوم ہوتا ہے قائمابالقسط ایسی حالت ہے جو شان الوہیت کے ساتھ لازم ہے ۔ اور یہ اس بات کی وضاحت ہے جو اس سے پہلے سورت میں کہا گیا کہ اللہ قیوم اور نگہبان ہے ‘ مطلب یہ ہوا کہ اس کی نگہبانی عدل پر قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جہان کے چلانے کے لئے جو تدابیر اختیار کی ہیں ‘ یا یہاں لوگوں کی زندگی کے قیام و دوام کے لئے جو تدابیر اختیار کی ہیں وہ عدل و انصاف کے اصولوں پر کی ہیں ۔ اس لئے لوگوں کی زندگیوں میں عدل تب قائم ہوسکتا ہے جب ان کی زندگیاں کتاب اللہ کی شریعت پر استوار ہوں ‘ جس طرح اس کائنات کو نوامیس فطرت کے عادلانہ اصولوں پر قائم کیا گیا ہے اور وہ استوار ہے ۔ صرف اسی صورت میں انسان اور فطرت ہم آہنگ ہوکر چل سکتے ہیں ‘ شریعت وہ نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ اگر یہ ہوگا تو اس جہان میں عدل و انصاف نہ ہوگا اور یہاں توازن و اعتدال قائم نہ ہوسکے گا۔ اس کائنات کی چلن اور انسان کی چلن کے درمیان تطابق اور ملائمت نہ ہوگی ۔ نتیجہ ظلم ‘ افتراق اور قوتوں کے ضیاع کی صورت میں برآمد ہوگا۔ انسانی تاریخ شاہد عادل ہے کہ اس میں انسانیت نے عدل و انصاف کا مزہ انہیں ادوار میں چکھا جن میں صرف کتاب اللہ کی حکمرانی رہی ۔ اور ان کی زندگی اس طرح منظم اور استوار ہوئی جس طرح اس زمین کے گردش منظم اور استوار ہے ۔ اس قدر جس قدر انسانی فطرت کے لئے ممکن ہو ۔ یعنی فطرت انسانی کے رجحانات اطاعت اور جحانات معصیت کے درمیان توازن ہو ۔ اور ان دونوں پلڑوں کے درمیان توازن ہو ۔ اور انسان اسلامی نظام زندگی کے قیام اور کتاب اللہ کی حکمرانی کی صورت میں اللہ کی اطاعت کی طرف مائل ہو۔ اگر انسانی زندگی پر کوئی ایسا نظام حکمران ہو ۔ جو خود انسان نے بنایا ہو تو اس میں لازماً انسانی جہلات کا دخل ہوگا۔ انسان کے تصور اور ادراک کا قصور اس میں شامل ہوگا۔ اور اس کے نتیجے میں یہ نظام کسی نہ کسی شکل میں ظلم اور تضاد کا شکار ہوگا۔ کبھی ایک فرد پوری سوسائٹی پر ظلم ڈھائے گا ، اور کبھی ایک سوسائٹی ایک فرد پر ظلم کررہی ہوگی ‘ یا کبھی ایک طبقہ دوسرے طبقہ پر ظلم کررہا ہوگا یا ایک قوم دوسری اقوام پر ظلم کررہی ہوگی یا ایک نسل دوسری نسل پر ظلم کررہی ہوگی ‘ رہا اسلامی نظام زندگی تو وہ ان تمام میلانات رجحانات سے پاک ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ سب کا الٰہ ہے ۔ اور اس ارض وسماء میں کوئی راز مخفی بھی نہیں ہے ۔ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ……………” اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ۔ وہی غالب ہے اور وہی حکیم ہے۔ “ یہاں اس آیت کے اس ٹکڑے میں دوبارہ وحدت الہٰیت کو دو اہم صفات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ ایک صفت یہ کہ وہ غالب ہے قوت والا ہے اور دوسری یہ کہ وہ حکیم ہے اور قدرت و حکمت دونوں ایسی صفات ہیں جن کا موجود ہونا اللہ کی شان عدل ونگہبانی کے لئے ضروری ہے ۔ اس لئے کہ عدل کا مفہوم یہ ہے کہ حقدار کو حق ملے اور اسے حق دلایا جاسکے ۔ اور اللہ کی صفات کا تصور یہ ہے کہ مثبت کارکردگی کا شعور دیتی ہے ۔ اس لئے کہ اسلام کے تصور خدا میں کوئی سلبیت نہیں ہے ۔ ایجاب ہی ایجاب ہے ‘ اور یہ تصور اللہ کا سب سے مکمل تصور ہے ۔ سب سے سچا تصور ہے ‘ اور یہ تصورخود اللہ تعالیٰ نے اپنے حوالے سے پیش کیا ہے ۔ اور اس مثبت اور ایجابی فعالیت کا اثر انسان پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل اللہ کے ارادے سے متعلق ہوجاتا ہے ۔ اس لئے انسان کا عقیدہ زندہ اور موثر عقیدہ ہوتا ہے ‘ وہ محض خشک تصور ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر فعالیت اور تروتازگی ہوتی ہے۔

آل عمران 3:19

اب اس حقیقت پر جسے اس ایک آیت میں دو بار دہرایا گیا ‘ اس کا فطری نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے وہ یہ کہ خدائی ایک ہے تو پھر بندگی اور انقیاد بھی صرف اسی خدائی کے لئے ہے ۔ غرض تصور یہ ہے کہ ایک الٰہ ہے ۔ اس لئے ایک ہی نظام ہے ‘ پھر اس الٰہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے۔ نہ ان کے تصور میں اس کے سوا کوئی تصور ہو ‘ نہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ اس نظام سے آزاد ہو……………جب اللہ ایک ہے تو پھر بندگی اور انقیاد بھی اسی کے لئے ہے ۔ اور یہی اللہ اس بات کا حقدار بھی ہے کہ لوگ اس کے مطیع فرمان ہوں ‘ ان کے قانونی نظام میں شریعت نافذ ہو اور ان کی اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانوں میں یہ شریعت معیار ہو ۔ اور ان کی پوری عملی زندگی اس شریعت پر قائم ہو۔ اگر ایک اللہ ہے تو پھر تصورحیات بھی ایک ہی ہوگا۔ اور یہ تصور ونظریہ وہی ہوگا جسے اس الٰہ نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے۔ یعنی خالص عقیدہ توحید کا چمکتا ہوا اور صاف ستھرا۔ جس طرح ہم مکرر کہہ آئے ہیں کہ عقیدہ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے ۔إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلامُ……………اللہ کے نزدیک نظام زندگی صرف دین اسلام ہے ۔ اور اسلام صرف دعویٰ ہی نہیں ہے ۔ وہ صرف جھنڈے کا نام بھی نہیں ہے ۔ وہ صرف نعرے کا نام بھی نہیں ہے ‘ وہ صرف ایک تصور اور خام خیال کا نام بھی نہیں ہے جہاں پر دل مطمئن ہو ‘ اور وہ صرف انفرادی عبادات کا نام ہے جنہیں ایک بطور فرد ادا کرتا ہے۔ مثلاً نماز ‘ حج اور روزے ‘ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ صرف یہ امور وہ اسلام نہیں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں کرتا ۔ بلکہ اسلام تو مکمل انقیاد کا نام ہے ۔ اسلام مکمل عبادت کا نام ہے۔ وہ مکمل اتباع ہے ۔ اسلام یہ ہے کہ عدالتوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے ہورہے ہوں ‘ جس کی تفصیلات عنقریب آرہی ہیں ۔ اسلام یہ ہے کہ اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھاجائے ۔ یہ عقیدہ پختہ ہو کہ اس کائنات کو وہی تھامنے والا ہے ۔ جبکہ اہل کتاب ذات باری اور ذات مسیح میں خلط ۔ کرتے تھے ۔ بلکہ وہ اللہ کے ارادے اور مسیح کے ارادے کو بھی خلط کرتے تھے ۔ اور اس موضوع پر خود ان کے درمیان کئی فرقے تھے اور ہر فرقے کا اپنا عقیدہ تھا ۔ اور ان کے یہ اختلافات بعض اوقات اس قدر شدید ہوجاتے تھے کہ وہ قتل و غارت پر منتج ہوتے تھے ۔ اس لئے یہاں اللہ تعالیٰ اہل کتاب اور جماعت مسلمہ کو بتاتے ہیں کہ ان اختلافات اور فکری ژولیدگی کا اصل سبب کیا تھا۔ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ” اور اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے ان لوگوں نے اختیار کئے جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ ان کے اس طرز عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آجانے کے بعد ‘ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لئے ایسا کیا۔ “ یہ اختلافات اس لئے نہ تھے کہ انہیں حقیقت واقعہ کا پتہ نہ تھا ‘ کیونکہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں فیصلہ کن معلومات آگئی تھیں کہ اللہ صرف ایک ہے ‘ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ صرف بندہ ہے ‘ معبود نہیں ہے ۔ یہ جو انہوں نے شدید اختلافات پیدا کئے یہ محض ایک دوسرے پر زیادتی کی خاطر کئے ۔ ایک دوسرے پر ظلم اور دست درازی کے لئے جواز پیدا کیا گیا ۔ ان کے لئے اللہ کے نظام عدل و انصاف میں کوئی جواز نہ تھا ‘ اسلامی نظریہ حیات اور سماوی شریعت یا سماوی کتب میں ایسے اختلافات کے لئے کوئی جواز نہ تھا۔ اس سے قبل ہم مسیحی مورخ کا حوالہ دے چکے ہیں جس میں ہم نے بتایا کہ عیسائیوں کے ہاں سیاسی تحریکات کس طرح جان بوجھ کر مذہبی اختلافات پیدا کرتی تھیں اور یہودی اور عیسائی افکار کے درمیان اختلافات بھی اسی قبیل کے تھے ۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ مصر اور شام کے درمیان یہ مذہبی منافرت کس قدر پھیلی ہوتی تھی ۔ شام میں چونکہ رومی سلطنت کی حکمرانی تھی ۔ اس لئے مصریوں نے اس سیاسی نفرت کی وجہ سے رومی کیتھولک مکتب کو چھوڑ کر دوسرا مکتب فکر اپنایا ۔ یا جس طرح روم کے قیصروں میں سے بعض نے یہ کوشش کی یہ تمام عیسائی مکاتب فکر ایک متوسط مکتبہ فکر پر متفق ہوجائیں ‘ تاکہ ان کے زیر انقلاب رعایا کے درمیان فکری اتحاد پیدا ہوجائے ‘ ان کا خیال تھا ایسے مذہب سے سب کے مقاصد پورے ہوجائیں گے ۔ گویا عقیدہ ایک کھیل تھا اور اسے بڑی آسانی سے سیاسی اور ملکی مقاصد کے لئے بدلا جاسکتا تھا ۔ حالانکہ درحقیقت یہ ایک عظیم ظلم تھا ۔ اور یہ ظلم اور تعدی وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسی حرکت پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سخت سرزنش ہوتی ہے اور ٹھیک مناسب وقت پر وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ……………” اور جو کوئی اللہ کی ہدایات اور احکام کی اطاعت سے انکار کردے ‘ اللہ کو اس سے حساب لینے میں دیر نہیں لگتی ۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ نے عقیدہ توحید میں اختلاف کرنے کو کفر سے تعبیر فرمایا ‘ اور اہل کفر کو تنبیہ کی اور خوف دلایا کہ میں بہت جلد حساب لینے والا ہوں ۔ اس لئے اگر زیادہ مہلت دوں تو یہ لوگ اختلافات اور کفر والحاد میں مزید سرگرداں رہیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ان لوگوں سے فیصلہ کن بات کردیں ۔ یعنی اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب سے تاکہ ان کے ساتھ بات چیت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوجائے ۔ اور اس کے بعد اسے ختم کردیاجائے ‘ اور آپ اپنے واضح راستے پر اکیلے گامزن ہوجائیں۔

آل عمران 3:20

اب مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بہت کچھ کہہ دیا گیا ‘ اس لئے اب یا تو تم لوگ اللہ وحدہ کی الوہیت کا اعتراف کرو ‘ اس کی نگہبانی کا اعتراف کرو اور نتیجتاً اتباع اور انقیاد کرو ورنہ پھر تمہیں اس کا کوئی حل نہ ملے گا ۔ اور یہ مباحثہ یونہی جاری رہے گا ۔ اور تم توحید اور اسلام سے محروم رہو گے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو صرف ایک لفظ ایسا بتاتے ہیں جو بیک وقت نظریہ حیات اور نظام زندگی کا مظہر ہے ۔ اور وہ یہ کہ اگر پھر بھی یہ لوگ تم سے جھگڑیں تو تم صاف کہہ دو کہ ہم نے اس کے آگے سر تسلیم خم کردیا ہے۔ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ…………میں اسلام لایا اور میرے متبعین بھی ‘ یہاں اہل ایمان کو متبعین کہہ کر اشارہ اس طرف مطلوب ہے کہ اسلام صرف تصدیق ہی نہیں ہے ۔ اس کے بعد اتباع بھی ضروری ہے ‘ اسی طرح یہ تعبیر کہ میرا چہرہ اللہ کے سامنے جھک گیا ہے۔ اس لئے کہ اسلام محض قول وقرار کا نام بھی نہیں ہے ۔ نہ صرف عقیدے اور تصور کا نام ہے ۔ اس کے مفہوم میں انقیاد بھی داخل ہے ۔ اتباع اور اطاعت بھی داخل ہے ۔ چہرے کا مطیع ہونا مقصد ہے مکمل انقیاد واتباع ‘ اس لئے کہ انسان کے جسم میں چہرے کو اعلیٰ مقام حاصل ہے ۔ چہرے مہرے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس قدر مطیع ‘ متبع ‘ فرماں بردار اور ہر وقت عمل کے لئے چاق وچوبند ہے ۔ یہ ہے خود حضرت محمد ﷺ کا اعتقاد اور آپ کا نظام زندگی ‘ نظام مصطفیٰ ‘ اور مسلمان تو ہیں ہی وہ لوگ جو اس کے متبع اور مقلد ہیں ‘ اس کے اعتقاد میں بھی اور اس کے عمل میں بھی اس لئے اب یہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے پوچھا جائے ۔ اب یہ سوال کیا جائے جو دونوں کیمپوں کے درمیان واضح حد بندی کردے ۔ دونوں کے درمیان حد فاصل قائم کردے ۔ جس میں کوئی اشتباہ نہ رہے اور دونوں کے درمیان کوئی فکری اختلاط والتباس نہ رہے ۔ وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالأمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ……………” اہل کتاب اور امیوں (غیر اہل کتاب) سے کہو :” کیا تم نے بھی سر تسلیم خم کردیا ؟ “ یہاں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کا فرق اب ختم کردیا جاتا ہے ۔ اب دونوں ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں ۔ اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو دعوت اسلام دی جاتی ہے اور یہ دعوت اسلام اسی مفہوم کے ساتھ ہے جس کی تشریح ہم کرتے ہیں ۔ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ عقیدہ توحید قبول کریں اللہ کی ذات میں اور اس کی قیومیت اور نگہبانی میں ‘ اس کے بعد انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس عقیدے کو اپنانے کے بعد پھر مطیع فرمان ہوجائیں اور اطاعت یہ ہوگی کہ وہ اپنی پوری زندگی میں فیصلے کتاب اللہ کے مطابق کریں ‘ اسلامی نظام زندگی کو اپنائیں فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا……………” اگر انہوں نے یہ اطاعت قبول کرلی تو راہ راست پاگئے ۔ “ معلوم ہوا کہ ہدایت کا ظہور صرف ایک ہی شکل میں ہوتا ہے یعنی اسلام کی صورت میں یعنی اس کی ماہیت اور اس طبیعت کے مطابق ‘ اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں ہے ‘ کوئی دوسرا تصور نہیں ہے ‘ کوئی دوسرا طریق کار نہیں اور نہ کوئی دوسرا ایسا منہاج ہے جس کے ذریعہ ہدایت حاصل کی جاسکتی ہو ۔ اس کے سوا جو بھی اور راستے ہیں وہ سب ٹیڑھے ہیں ‘ وہ سب حیرانی و پریشانی کے راستے ہیں ۔ وہ سب زیغ وضلال کے راستے ہیں۔ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ……………” اگر وہ منہ موڑیں تو تم پر صرف پیغام پہنچادینے کی ذمہ داری ہے ۔ “ پیغام پہنچانے کے بعد رسول کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے ۔ آپ کا کام ختم ہوجاتا ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کو ان لوگوں کے ساتھ قتال کی اجازت نہ دی گئی تھی جو اسلام قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ باز آجائیں ‘ بعد کا حکم یہ تھا وہ یا تو مکمل انقیاد اختیار کرلیں اور اسلامی نظام کے مطیع ہوجائیں یا پھر وہ معاہدہ کریں اور جزیہ ادا کرکے اسلامی نظام کے تابع ہوجائیں پھر وہ آزاد ہیں اس لئے کہ اسلام میں عقائد تبدیل کرنے کا کوئی جبر نہیں ہے ۔ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ……………” اللہ اپنے بندوں کے معاملات سے اچھی طرح باخبر ہے ۔ “ وہ اپنے علم اور بصیرت کے مطابق ہی ان کے معاملات کو چلاتا ہے اور ان کے تمام امور اسی کے ہاتھ میں ہیں ہر حال میں ‘ اس لئے وہ اپنے بندوں کو اندھیرے میں نہیں رکھتا ۔ اور وہ انہیں صاف صاف بتاتا ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ وہ بتاتا ہے کہ گزشتہ تاریخ انسانیت میں اللہ کے باغیوں اور نافرمانیوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور اب بھی اس کی سنت وہی ہے ۔ فرماتے ہیں :

آل عمران 3:21

یہ ہے ان لوگوں کا حتمی انجام ‘ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ‘ یہ عذاب دنیا وآخرت دونوں میں ہوگا ۔ یہاں بھی وہ اس کی توقع کریں اور آخرت میں تو یقینی ہے ہی………دنیا اور آخرت میں ان کے اعمال باطل ہوں گے ‘ بےاثر ہوں گے ۔ یہ عجیب تصویر کشی ہے ‘ حبوط کا لغوی معنی ہے ۔ کسی مویشی کا زہریلی گھاس چر کر پھول ۔ بظاہر تو اس صورت میں ایک مویشی خوب موٹاتازہ ہوجاتا ہے ‘ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر کار برباد اور ہلاک ہوجاتا ہے ‘ یہاں بظاہر تو ان کے بڑے بڑے کارنامے ہیں لیکن قیامت میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حامی و مددگار ہوگا۔ قرآن کریم نے آیات الٰہی کا انکار کے ساتھ ساتھ انبیاء (علیہم السلام) کے قتل کا ذکر بھی کیا ۔ جو ناحق قتل کئے گئے ‘ اس لئے کہ قتل انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کبھی حق یکجا نہیں ہوسکتا۔ اور ساتھ ہی یہ ذکر کیا کہ وہ لوگ ان افراد کو بھی قتل کرتے تھے جو عدل و انصاف کا حکم دیتے تھے ۔ یعنی وہ لوگ انہیں اس لئے قتل کرتے تھے کہ وہ نظام الٰہی کے قائل اور داعی تھے جو عادلانہ نظام تھا۔ اور اس کے سوا کسی دوسرے نظام کے ذریعہ عدل کا قیام ممکن ہی نہ تھا۔ ان تمام صفات کے ذکر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ توبیخ اور تخویف یہود کے لئے تھی ۔ کیونکہ یہ ان کی تاریخی صفات ہیں اور ان صفات کے ساتھ وہ مشہور ہیں ۔ جہاں بھی ان کا ذکر ہو ذہن اس کی طرف جاتا ہے ۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں نصاریٰ سے خطاب ہو ‘ کیونکہ نزول قرآن کے زمانے تک انہوں نے بھی اپنے مذہب کے مخالفین کو ہزاروں کی تعداد میں قتل کیا تھا۔ کیونکہ جو شخص بھی رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کے خلاف ہوتا تھا وہ اسے قتل کردیتے تھے ۔ ان میں وہ مسیحی بھی شامل تھے جو توحید کے قائل تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بشر سمجھتے تھے ۔ اور یہ لوگ ایسے تھے جو نظام حکومت میں عدل و انصاف کا پرچار بھی کرتے تھے ۔ یہود ونصاریٰ کے علاوہ یہ حکم ہر زمان ومکان میں تمام ان لوگوں پر صادق آتا ہے جو اس قسم کی متشددانہ حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں اور ہر دور میں کبھی بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں رہی ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنے کے قابل ہے کہ قرآن کے الفاظ ” وہ لوگ جو آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ “ سے مراد کیا ہے ۔ ان سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی آیات الٰہی کا انکار کرکے کلمہ کفر ادا کردے ۔ اس لفظ کے مفہوم میں یہ شامل ہے کہ کوئی وحدت الٰہ یا عقیدہ توحید کا قائل نہ ہو ‘ پھر وہ صرف اللہ کی بندگی کا قائل نہ ہو ۔ اور اس میں یہ بات از خود آجاتی ہے کہ کوئی مصدر اور منبع کا قائل نہ ہو جہاں سے انسانی زندگی کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے اور حسن وقبح کی اقدار کا تعین کرنا ہے یعنی کتاب اللہ کا ‘ اس لئے جو شخص ان امور میں بھی اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرے گا وہ بھی مشرک تصور ہوگا اور الوہیت کا منکر شمار ہوگا۔ اگرچہ وہ فقط زبان سے اسے ایک ہزار بار جھپتا رہے۔ اس مفہوم کا اظہار آنے والی آیات میں ملے گا۔

آل عمران 3:22

یہ ہے ان لوگوں کا حتمی انجام ‘ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ‘ یہ عذاب دنیا وآخرت دونوں میں ہوگا ۔ یہاں بھی وہ اس کی توقع کریں اور آخرت میں تو یقینی ہے ہی………دنیا اور آخرت میں ان کے اعمال باطل ہوں گے ‘ بےاثر ہوں گے ۔ یہ عجیب تصویر کشی ہے ‘ حبوط کا لغوی معنی ہے ۔ کسی مویشی کا زہریلی گھاس چر کر پھول ۔ بظاہر تو اس صورت میں ایک مویشی خوب موٹاتازہ ہوجاتا ہے ‘ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر کار برباد اور ہلاک ہوجاتا ہے ‘ یہاں بظاہر تو ان کے بڑے بڑے کارنامے ہیں لیکن قیامت میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حامی و مددگار ہوگا۔ قرآن کریم نے آیات الٰہی کا انکار کے ساتھ ساتھ انبیاء (علیہم السلام) کے قتل کا ذکر بھی کیا ۔ جو ناحق قتل کئے گئے ‘ اس لئے کہ قتل انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کبھی حق یکجا نہیں ہوسکتا۔ اور ساتھ ہی یہ ذکر کیا کہ وہ لوگ ان افراد کو بھی قتل کرتے تھے جو عدل و انصاف کا حکم دیتے تھے ۔ یعنی وہ لوگ انہیں اس لئے قتل کرتے تھے کہ وہ نظام الٰہی کے قائل اور داعی تھے جو عادلانہ نظام تھا۔ اور اس کے سوا کسی دوسرے نظام کے ذریعہ عدل کا قیام ممکن ہی نہ تھا۔ ان تمام صفات کے ذکر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ توبیخ اور تخویف یہود کے لئے تھی ۔ کیونکہ یہ ان کی تاریخی صفات ہیں اور ان صفات کے ساتھ وہ مشہور ہیں ۔ جہاں بھی ان کا ذکر ہو ذہن اس کی طرف جاتا ہے ۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں نصاریٰ سے خطاب ہو ‘ کیونکہ نزول قرآن کے زمانے تک انہوں نے بھی اپنے مذہب کے مخالفین کو ہزاروں کی تعداد میں قتل کیا تھا۔ کیونکہ جو شخص بھی رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کے خلاف ہوتا تھا وہ اسے قتل کردیتے تھے ۔ ان میں وہ مسیحی بھی شامل تھے جو توحید کے قائل تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بشر سمجھتے تھے ۔ اور یہ لوگ ایسے تھے جو نظام حکومت میں عدل و انصاف کا پرچار بھی کرتے تھے ۔ یہود ونصاریٰ کے علاوہ یہ حکم ہر زمان ومکان میں تمام ان لوگوں پر صادق آتا ہے جو اس قسم کی متشددانہ حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں اور ہر دور میں کبھی بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں رہی ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنے کے قابل ہے کہ قرآن کے الفاظ ” وہ لوگ جو آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ “ سے مراد کیا ہے ۔ ان سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی آیات الٰہی کا انکار کرکے کلمہ کفر ادا کردے ۔ اس لفظ کے مفہوم میں یہ شامل ہے کہ کوئی وحدت الٰہ یا عقیدہ توحید کا قائل نہ ہو ‘ پھر وہ صرف اللہ کی بندگی کا قائل نہ ہو ۔ اور اس میں یہ بات از خود آجاتی ہے کہ کوئی مصدر اور منبع کا قائل نہ ہو جہاں سے انسانی زندگی کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے اور حسن وقبح کی اقدار کا تعین کرنا ہے یعنی کتاب اللہ کا ‘ اس لئے جو شخص ان امور میں بھی اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرے گا وہ بھی مشرک تصور ہوگا اور الوہیت کا منکر شمار ہوگا۔ اگرچہ وہ فقط زبان سے اسے ایک ہزار بار جھپتا رہے۔ اس مفہوم کا اظہار آنے والی آیات میں ملے گا۔

آل عمران 3:23

یہ سوال سوالیہ ہے اور اسی سے ان کے اس عجیب اور متضاد موقف کی تشہیر مطلوب ہے ۔ یہ موقف ان لوگوں نے اختیار کیا ہے جنہیں کتاب الٰہی کا ایک حصہ بھی خوش قسمتی سے ملا۔ مثلاً یہود کو تورات اور عیسائیوں کو انجیل کی شکل میں ‘ اور یہ کتابیں کتاب اللہ کا حصہ اس اعتبار سے ہیں کہ کتاب اللہ تو وہ تمام ریکارڈ ہے جو اللہ کی طرف سے کسی بھی زمان ومکان میں کسی نبی پر اترا ۔ کیونکہ اللہ کے ہاں اللہ بھی ایک ہے ۔ نگہبانی بھی ایک ہے ۔ اور حقیقتاً کتاب بھی ایک ہے ۔ یہود ونصاریٰ کو تو اس کا ایک حصہ ملا اور مسلمانوں کو پوری کتاب ملی ۔ اس لئے کہ قرآن کریم اصول الدین کا جامع ہے ۔ اور سابقہ کتب کی توثیق کرتا ہے ۔ یہ سوال ان لوگوں سے کیا گیا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ۔ تاکہ وہ کتاب ان کے درمیان برپا شدہ اختلافات کا بھی فیصلہ کردے ۔ ان کے تمام امور حیات میں وہ فیصلہ کن ہو ۔ ان کی معیشت اور معاش میں وہ فیصلہ کن ہو ۔ تو وہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ۔ ان کا ایک فریق اس سے پیچھے ہٹ منہ موڑ دیتا ہے۔ اور کتاب الٰہی اور شریعت الٰہیہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتا لہٰذا یہ ایک ایسا موقف ہے جو ایمان کے خلاف ہے اور وہ ان کے اس دعوے کے بھی خلاف ہے کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ ” تم نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے۔ ان کا حال کیا ہے ؟ انہیں جب کتاب الٰہی کی طرف بلایا جاتا ہے ‘ تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلے کرے ‘ تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلو تہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منہ پھیرتا ہے۔ “ اسی طرح اللہ تعالیٰ بعض اہل کتاب کے طرز عمل پر تعجب کا اظہار فرماتے ہیں ‘ سب کے نہیں بعض کے طرز عمل پر کہ انہیں یہ دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے نظریاتی امور میں اور اپنے عملی امور میں کتاب الٰہی کی طرف رجوع کریں اور اس کا انکار کردیں۔ وہ یہ انکار مسلمان ہوتے ہوئے کیسے کرسکتے ہیں ‘ مسلمان بھی ہیں اور شریعت کو انہوں نے اپنی زندگی سے بدر کیا ہوا ہے ۔ اور یہ یقین پھر بھی کئے جارہے ہیں کہ وہ مسلم ہیں ۔ یہ تعجب انگیز سوال اس لئے کیا جارہا ہے تاکہ مسلمان بھی سمجھ لیں کہ حقیقت دین کیا ہے ۔ اور حقیقت اسلام کیا ہے ۔ اس لئے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ اللہ کے ہاں اضحوکہ بن جائیں اور اس کی جانب سے ایسے سوال کا سامنا کرنا پڑے۔ اہل کتاب جو اسلام کے مدعی نہیں ہیں اگر ان کا حال یہ ہوگا اگر وہ کتاب اللہ کے مطابق اپنے فیصلے نہ کرائیں تو پھر اہل اسلام کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ کہ اگر وہ اپنے فیصلے اللہ کی کتاب اور شریعت کے مطابق نہیں کرتے تو وہ اللہ کی جانب سے کس قدر نکیر ‘ استنکار ‘ تعجب اور قابل نفرت اور مضحکہ خیزی کے مستحق ہوں گے ۔ یہ ایک ایسا تعجب ہے جو رفع نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک عظیم مصیبت ہے جس کا اندازہ نہیں کیا گیا۔ اور یہ اللہ کا اس قدر عظیم غضب الٰہی کو دعوت دینا ہے جس کے نتیجے میں ایک مسلم غضب الٰہی کا مستحق ہوسکتا ہے اور راندہ درگاہ بھی ہوسکتا ہے۔ اور اللہ کی رحمت سے محروم بھی ہوسکتا ہے۔ العیاذ باللہ۔

آل عمران 3:24

ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلا أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ وَغَرَّهُمْ فِي دِينِهِمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ” ان کا یہ طرزعمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ۔” کہ آتش دوزخ تو ہمیں مس تک نہیں کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو چند روز “ ان کے خود ساختہ عقیدوں نے ان کو اپنے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے۔ “ یہ ہے ان کے اعراض کا اصل سبب ‘ جس کی وجہ سے وہ کتاب اللہ کے مطابق اپنے فیصلے نہیں کراتے ۔ اور ان کے موقف میں یہ تناقض ان کے اس دعوے کے باوجود ہے کہ وہ اہل کتاب ہیں ‘ دراصل وہ قیامت کے دن حساب و کتاب کے بارے میں سنجیدہ ہی نہیں ہیں ۔ یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پورا پورا انصاف دین گے ۔ اس پر انہیں کوئی بھروسہ نہیں ہے اور یہ بات ان کے اس قول سے اچھی طرح ظاہر ہوتی ہے کہ دوزخ کی آگ انہیں مس تک نہ کرے گی ۔ اگر کوئی سزا ہوگی تھی تو وہ چند روزہ ہوگی ۔ اگر یہ حقیقت نہیں تو پھر کیوں انہیں آگ نہیں چھوئے گی ۔ اور ان کو چند روزہ سزا ہی کیوں ہوگی ۔ وہ اصول الدین سے کیوں پھرگئے ہیں ۔ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کیوں نہیں کراتے ۔ اگر ان کا اللہ کے عدل و انصاف پر یقین ہے تو پھر ان کا یہ موقف کیوں ہے ؟ یہ ممکن نہیں ہے اگر انہیں یوم الآخرۃ کے حساب کا یقین ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کرتے ۔ یہ دراصل وہ جھوٹ بولتے ہیں جس پر خود انہیں بھی یقین نہیں اور وہ اپنے ان خودساختہ عقائد کے جال میں خود پھنس گئے ہیں وَغَرَّهُمْ فِي دِينِهِمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ……………” ان کے خودساختہ عقیدوں نے ‘ ان کو ان کے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال دیا ہے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی دل میں قیام قیامت کا صحیح عقیدہ موجود ہے تو وہ شخص قیامت کے دن کے حساب و کتاب اور اللہ کی جانب سے عدل و انصاف کے بارے میں وہ سوقیانہ تصورات نہیں اپناسکتا جو یہ لوگ اپنائے ہوئے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی معقول شخص کے دل و دماغ میں خوف آخرت ‘ اللہ کے مقابلے میں حیادار انہ موقف ہونے کے بعد یہ بات آہی نہیں سکتی کہ اسے کتاب الٰہی کے مطابق فیصلے کے لئے بلایا جائے اور وہ انکارکردے یا اعراض کردے۔ آج ہمارے دور میں بھی مسلمانوں کی حالت ایسی ہی ہے جیسا کہ اہل کتاب کی تھی ۔ آج کے مسلمان بھی بزعم خود مسلمان ہیں ۔ اور جب انہیں یہ دعوت دی جاتی ہے کہ آؤ کتاب اللہ کے مطابق اپنے فیصلے کرائیں اور شریعت نافذ کردیں تو وہ روگردانی کرتے ہوئے اس بات سے انکار کرتے ہیں ان میں بعض کھاتے پیتے لوگ اس قدر بےحیا ہوگئے ہیں ۔ زندگی دنیا کا نام ہے اور دنیا کے ساتھ دین کا تعلق کیا ہے ۔ ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ لوگوں کی روزمرہ کی عملی ‘ اقتصادی اور اجتماعی روابط کے اندر دین کو گھسیڑنے کی ضرورت ہی کیا۔ بلکہ اب وہ کہتے ہیں کہ خاندانی زندگی میں بھی دین کی ضرورت نہیں ہے۔ اور ان خیالات کے حامل ہونے کے بعد بھی وہ مسلسل یہ دعویٰ کئے چلے جارہے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں ۔ اس کے بعد ان میں سے بعض اس احمقانہ دھوکے میں مبتلا ہیں کہ اللہ انہیں پاک وصاف کرنے کے لئے صرف چند روز تک آگ میں ڈالے گا ۔ اس کے بعد وہ جنت کی طرف لے جائے جائیں گے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ یہ حقیقت نہیں ہے ۔ اور یہ اہل اسلام بھی دین سے اسی طرح دور ہوگئے ہیں جس طرح اہل کتاب دور ہوگئے تھے ۔ اور یہ لوگ دراصل دین سے اس طرح بسہولت نکل گئے ہیں جس طرح کسی کے ہاتھ سے مچھلی چھوٹ جاتی ہے ۔ یہ اس حقیقت سے نکل گئے جسے اللہ نے پسند فرمایا تھا۔ اس لئے اسلام سے مراد انقیاد اور اطاعت ہے ۔ اور زندگی کے ہر شعبے میں اللہ سے ہدایت اور تعلیم لینے کا نام اسلام ہے ۔

آل عمران 3:25

فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَاهُمْ لِيَوْمٍ لا رَيْبَ فِيهِ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ ” مگر کیا بنے گی ان پر جب ہم انہیں اس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے ؟ اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پورا پورا دیدیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ “……………کیاحال ہوگا ؟ یہ ایک خوفناک دہمکی ہے ۔ دل مومن کانپ اٹھتا ہے ‘ وہ سنتے ہی محسوس کرتا ہے کہ وہ دن نہایت ہی خوفناک اور سنجیدہ ہوگا ‘ اللہ کے سامنے پیشی کا دن ہوگا۔ اس صحیح عدل ہوگا۔ اس دن کا تصور اور اس کا صحیح شعور ان باطل تصورات اور ان کے خود گھڑے ہوئے تصورات سے کوئی میل نہیں کھاتا ۔ اس تہدید اور تخویف کے بعد یہ حکم قائم ہے ۔ یہ مشرکین کے لئے بھی ہے ‘ ملحدین کے لئے بھی دعوائے اسلام رکھنے والے اہل کتاب کے لئے بھی اور آج کے مسلمانوں کے لئے بھی جو اپنی زندگیوں میں اسلام کو صحیح طرح نافذ نہیں کرتے ۔ ان لوگوں کا اس دن کیا حال ہوگا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں اور جس میں ہم ان سب کو جمع کریں گے ۔ اور جس دن اللہ تعالیٰ کا نظام عدل اپنے طریقوں پر چلے گا۔ اور ہر شخص کو اس کی کمائی کا صلہ مل جائے گا ۔ پورا پورا بغیر کسی ظلم اور بغیر کسی لحاظ کے ‘ کسی پر کوئی زیادتی نہ ہوگی ۔ گو اللہ کے حساب میں کوئی روع رعایت ان سے نہ ہوگی ۔………آیت میں سوال کردیا گیا ہے ‘ لیکن اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ‘ دل کانپ اٹھے ‘ بدن دہل گیا اور جواب از خود آنکھوں کے سامنے تھا۔

آل عمران 3:26

اس کے بعد ہر مومن اور خود رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوں ‘ اللہ کو اپنی الوہیت میں ایک سمجھتے ہوئے ‘ اسے اس جہاں کا واحد نگہبان سمجھتے ہوئے ‘ خود بشر کی زندگی میں بھی اور اس کائنات کی تدبیر میں بھی کیونکہ یہ دونوں پہلو اللہ کی خدائی اور اس کی حاکمیت کے مظاہر ہیں اور ان میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ نہ اس کا کوئی مثیل اور شبیہ ہے ۔ یہ نہایت ہی دھیمی اور پر مشیئت آواز ہے ۔ اس کی لفظی ترکیب دعائیہ ہے ۔ لیکن اس کی روح میں گیری معنویت اور خشوع و خضوع ہے ۔ اس میں اس ………کھلی کائنات کی کھلی کتاب پر نظر التفات ڈالی گئی ہے ۔ بڑی نرمی اور بڑی محبت کے ساتھ انسان کے شعور میں ابال آتا ہے اس کو بتایا گیا ہے کہ وہ باری مدبر کائنات ہے اور ساتھ ہی انسانی امور کا بھی مدبر ہے۔ اس کی ہمہ گیر تدبیر کو یکجا کرکے ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ عظیم سچائی یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ اور نگہبان اور اس کے اندر اس انسان کا الٰہ ونگہبان ایک ہی ہیں ۔ یہ انسان اس کائنات کا ایک حصہ ہے ۔ وہ اس سے علیحدہ کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اور دونوں میں اصل متصرف اللہ ہے ۔ صرف اللہ کے نظام زندگی سے اس کائنات کی شان ہے ۔ انسان کا فریضہ بھی یہی ہے ۔ اور جس طرح یہ کائنات اللہ کے دین سے خارج نہیں ہوسکتی ۔ اسی طرح انسان کے لئے بھی دین الٰہی سے خارج ایک قسم کا انحراف ہے ‘ حماقت ہے اور فساد ہے ۔ اللہ فرماتے ہیں : قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ ” کہو اے ملک کے مالک ! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے ‘ چھین لے ‘ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ “ یہ وہ حقیقت ہے ‘ جو عقیدہ وحدالوہیت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ایک خدا کا مفہوم یہ ہے کہ وہی ایک مالک ہے ۔ وہ مالک الملک ہے ۔ اس کے ساتھ اس میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنی جانب جو کچھ چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اس کی یہ عطا عاریتاً ہوتی ہے جب چاہتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اپنا ملک واپس لے لیتا ہے۔ اس لئے یہاں کوئی کسی چیز کا بھی اصلی مالک نہیں ہے کہ اپنی ذاتی خواہش کے مطابق اس میں تصرف کرے ۔ انسانوں کی ملکیت عارضی ہے ۔ عطائی ہے ۔ اور یہ ان شرائط وقیود کے تحت ہے جن کے تحت عطا کنندہ نے عطا کی ہے ۔ اس کی تعلیمات کے تحت حکومت اور ملکیت میں تصرف ہوگا۔ اگر عطا کنندہ کے شرائط کے خلاف کیا گیا تو وہ باطل ہوگا۔ اس دنیا میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس قسم کے ہر تصرف کو مسترد کردیں اور آخرت میں خود اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے حساب و کتاب لیں گے ۔ نیز یہ اس کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے چاہے عزت بخشے اور جسے چاہے ذلیل کردے۔ اس کے حکم اور ارادہ کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالنے والا نہیں ہے ۔ اس پر کسی کا کوئی جبر نہیں اور اس کے فیصلوں کو کوئی رد کرنے والا بھی نہیں ہے ۔ وہ صاحب الامر ہے ۔ تمام امور اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ وہی اللہ ہے اور شرک سے پاک ‘ اور اس کے اس اختصاص اور اس کبریائی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی اس نگہبانی میں سب کا بھلا ہے ۔ وہ اس کائنات اور انسان کی نگہبانی انتہائی عدل کے اصولوں پر کرتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے مملکت اور سلطنت دیتا ہے ۔ اور جس سے چاہتا ہے لے لیتا ہے ۔ اور یہ سب کچھ انصاف وعدل کے ساتھ ۔ جسے چاہتا ہے معزز بنا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے اور یہ سب کچھ عدل کے ساتھ ۔ وہ ہر حالت میں خیر ہی خیر ہے ۔” اس کے ہاتھ میں بھلائی ہے ۔ “” وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “

آل عمران 3:27

انسانی امور کی نگہبانی اور انسانی معاملات کا بھلائی کے ساتھ یہ انتظام یہ سب کے سب اس کے اس عظیم اور عظیم ترکائنات کی تدبیر کا ایک حصہ ہے ۔ اور اس وسیع اور عریض نظام حیات کا ایک پرتو وہ فرماتا ہے۔ تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ” تو رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں ‘ جاندار میں سے بےجان کو نکالتا ہے اور بےجان میں سے جاندار کو ‘ اور جسے چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے۔ “ اس عظیم حقیقت کو ایک تصویر کشی کے انداز میں بیان کیا گیا ہے ‘ جس کی ایک جانب قلب و شعور خوشی سے بھرجاتے ہیں اور دوسری جانب حواس اور نظر بھی مزے لیتی ہے ۔ ایک غیر محسوس باہم حرکت رات اور دن کی شکل اختیار کرتی ہے ۔ رات دن میں بدلتی ہے اور دن رات میں پرویا جاتا ہے اور شب وروز سلسلہ تسبیح کے دانے نظر آتے ہیں ‘ مردہ سے زندہ چیز نکل رہی ہے اور زندہ سے مردہ ‘ اور یہ حرکت اور مسلسل حرکت بلاشبہ یہ بتارہی ہے کہ اس نظام میں خدائے حکیم کا ہاتھ ہے ۔ جو شخص غور سے اور کان لگا کر سنے ‘ اسے معلوم ہوگا کہ اس کائنات سے گہری صداقت پر مبنی آواز آرہی ہے ۔ رات کو دن میں داخل کرنے اور دن کو رات میں داخل کرنے کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گرمیوں میں رات کا ایک حصہ دن میں بدل جاتا ہے اور سردیوں میں دن کا حصہ رات بن جاتا ہے اور یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ رات کی تاریکی میں دن کی روشنی نفوذ کرتی ہے اور دن کی روشنی میں رات داخل ہوتی ہے ‘ جو مفہوم بھی مراد ہو ‘ لیکن اس منظر میں حسی طور پر نظر آتا ہے کہ دست قدرت ارض وسما کو حرکت دے رہا ہے اور یہ زمین جو ایک تاریک کمرہ ہے وہ سورج کے روشن کرے کے سامنے اپنے محور پر گردان ہے ۔ یوں تاریک حصہ روشن حصے سے بدلتا رہتا ہے اور روشن تاریک سے ‘ یوں دھیرے دھیرے رات کی تاریکی دن کی روشنی کی طرف آرہی ہے ۔ اور دن کی روشنی رات میں بدلتی ہے ۔ آہستہ آہستہ رات لمبی ہوتی ہے اور دن کو کھاتی جاتی ہے اور اس طرح غیر محسوس طور پر دن بڑا ہوتا ہے اور رات کو کھاتا جاتا ہے ۔ اور یہ ایک ایسی حرکت ہے جس کے بارے میں کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کر سکت کہ اس کی تنابیں اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ اور نہ ہی کوئی عقل مند یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ حرکت اتفاقاً کسی مدبر کی تدبیر کے بغیر ہی شروع ہوگئی ۔ اسی طرح زندگی اور موت کا اعجوبہ بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ زندگی موت کی طرف بڑھتی ہے اور موت سے زندگی نمودار ہوتی ہے ۔ اور یہ کام بڑے آرام اور سکون سے ہوتا ہے۔ ایک زندہ مخلوق پر جو لمحہ بھی گزرتا ہے ‘ اس میں زندگی کے ساتھ اس موت بھی طاری ہوتی رہتی ہے ۔ اور اس کی زندگی کو موت کھاتی جاتی ہے ۔ اور اس سے پھر حیات نمودار ہوتی ہے ۔ ایک زندہ چیز سے خلئے مرجاتے ہیں اور ختم ہوجاتے ہیں ۔ اور ان کی جگہ جدید خلئے پیدا ہوتے ہیں اور کام کرتے ہیں ۔ اور جو خلئے مرجاتے ہیں وہ دوسرے دور میں دوبارہ زندہ ہوتے ہیں ۔ اور ان میں سے جو زندہ ہوگئے وہ دوسرے کے دور میں پھر مرجاتے ہیں۔ یہ حالت تو ایک زندہ جسم کی ہے ۔ اب موت کا دائرہ وسیع ہوتا ہے اور یہ تمام زندہ مرجاتا ہے ‘ لیکن اس کے خلئے ذرات کی شکل اختیار کرلیتے ہیں جو دوسری ترکیب میں آتے ہیں اور دوسرے زندہ جسم میں آتے ہیں اور یہ زندگی اس میں داخل ہوتی ہے ۔ یوں رات اور دن یہ دورہ یوں ہی چلتا رہتا ہے ۔ اور کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ خود ان زندہ مخلوقات میں سے کوئی مخلوق تیار کرسکتا ہے۔ اور نہ ہی کوئی اس بات پر یقین کرسکتا ہے کہ موت وحیات کا یہ نظام از خود اتفاقاً اور مصادفتہ قائم ہوگیا ہے۔ اس پوری کائنات میں ایک حرکت جاری ہے اور ہر موجود کے جسم کے اندر ایک حرکت جاری ہے ۔ یہ ایک عظیم حرکت ہے مگر نہایت ہی خفیہ ‘ نہایت ہی گہری اور نہایت ہی لطیف ‘ قرآن کا یہ مختصر اشارہ اس مسلسل ذات کا انکشاف کرتا ہے انسان کے دل و دماغ کو ایک اشارہ دیا جاتا ہے اور اس حرکت سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ وہ قادر ہے ‘ از سر نو پیدا کرنے والا ہے ۔ اور مدبر ہے ‘ کوئی شخص بھی یہ سعی نہیں کرسکتا کہ وہ اپنی کسی بھی تدبیر اور بہبود میں اللہ تعالیٰ سے علیحدہ ہوجائے جو لطیف اور مدبر ہے ۔ اور کس طرح وہ اپنے لئے از خود کوئی نظام تجویز کرسکتے ہیں ۔ جو خود ان کی اپنی خواہش نفس پر مبنی ہوں ‘ اس لئے کہ وہ اس کائنات کا حصہ ہیں اور اس کائنات کی تنظیم وہ حکیم وخبیر ہی کررہا ہے۔ پھر وہ کس طرح ایک دوسرے کو غلام اور بندے بناسکتے ہیں اور کیا جواز ہے کہ بعض دوسرے کے لئے رب اور الٰہ بن جائیں ۔ حالانکہ سب کا روزی رساں اللہ ہے ۔ اور سب لوگ اللہ کے عیال ہیں ۔ فرماتے ہیں وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ……………” اور تو جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ “ یہ ایک آخری ڈچ ہے اور اس سے انسانی دل پر حقیقت کبری منکشف ہوجاتی ہے۔ وہ کون سی حقیقت ہے ؟ یہ کہ الٰہ ایک ہی ہے یعنی اللہ ‘ وہی ایک کائنات کا نگہبان ہے ۔ وہی ایک ذات ہے جو فعال ہے ۔ وہ ایک ہی ہے جو مدبر ہے ‘ وہی ایک مالک ہے ، وہی مدبر ہے ۔ وہی داتا ہے ‘ اور دین بھی اسی کا ہے ۔ وہی مالک الملک ہے ‘ وہی معز اور مذل ہے ۔ وہی زندہ کرنیوالا اور مارنیوالا ہے ۔ وہی دینے والا اور لینے والا ہے ۔ وہی اس کائنات کا مدبر ہے جو نظام عدل پر تدبیر کرتا ہے وہی ہے جو بھلائی ہی بھلائی ہے۔

آل عمران 3:28

اس سے پہلے ‘ اہل کتاب کے موقف پر استنکار اور تنبیہ کی گئی تھی ‘ یہ آخری تبصرہ بھی اس کی مزید تائید ہے ۔ پہلے اہل کتاب کے اس رویے کی مذمت کی گئی تھی ۔ کہ انہیں جب اس بات کی طرف بلایا جاتا ہے کہ آؤ اپنے فیصلے کتاب اللہ کے مطابق کریں تو وہ اس بات سے بھی اعراض کرتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں سمجھایا گیا تھا کہ کتاب اللہ اسی نظام زندگی پر مشتمل ہے ۔ جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے اتارا اور یہ پوری کائنات بھی منہاج الٰہی کے مطابق رواں دواں ہے ۔ جس میں خود انسان بھی شامل ہے ۔ یہ اس بات کی تمہید تھی جو آگے آرہی ہے کہ مومنین کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اہل ایمان کے مقابلے میں کافروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ‘ اس لئے کہ کافروں کی اس کائنات میں کوئی قوت نہیں ہے۔ نہ ان کا یہاں اختیار چلتا ہے ‘ یہاں تو تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور اللہ ہی اہل ایمان کا ولی و مددگار ہے۔ سابقہ آیت میں قرآن کریم نے اہل ایمان کے اس شعور کو بیدار کیا تھا کہ تمام امور اللہ کے ہاتھ میں ہیں ‘ ہر قسم کی قوتوں کا مالک وہ ہے ۔ تمام تدابیر وہ اختیار کرتا ہے اور رزق صرف اس کے ہاتھ میں ‘ تو اب یہاں سمجھایا جاتا ہے کہ اہل ایمان پھر کس غرض کے لئے کافروں کے ساتھ دوستیاں قائم کرتے ہیں ۔ قلب مومن میں یہ دومتضاد امور کس طرح جمع ہوسکتے ہیں ۔ ایک طرف اللہ پر ایمان اور اللہ سے محبت دوسری جانب اللہ کے دشمنوں سے محبت جن کا حال یہ ہے کہ جب انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ اس کے مطابق فیصلے کئے جائیں تو وہ اس سے اعراض کرتے ہیں ۔ اس لئے یہاں یہ شدید دہمکی دی گئی ہے کہ اگر مومن ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہے جو کتاب اللہ اور شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو ان کا ایمان خطرے میں ہے ۔ کفار کے دوستی مختلف شکلوں میں ممکن ہے ۔ دل سے محبت کرے ‘ ان کی مدد کرے یا ان سے مدد مانگے یہ سب موالات الکفار ہے ۔ لا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ ” مومنین ‘ اہل ایمان کو چھوڑ کر ‘ کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں ۔ جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ “ بالکل یونہی ‘ وہ اللہ کے نزدیک کچھ نہیں ہے ۔ اس کا اللہ کے ساتھ نہ تعلق ہے اور نہ نسبت ہے۔ نہ وہ اللہ کے دین پر ہے اور نہ عقیدے پر ‘ نہ اس کا اللہ سے ربط ہے اور نہ دوستی ۔ یہ شخص اللہ سے دور ہے ۔ وہ ہر چیز سے غیر متعلق ہوگیا ہے ‘ جس کے ذریعہ کوئی بھی تعلق قائم ہوا کرتا ہے۔ ہاں یہاں بعض غیر معمولی حالات میں استثناء رکھی جاتی ہے ۔ بعض ممالک ایسے ہوسکتے ہیں جہاں بامر مجبوری ایسے تعلقات رکھنے پڑتے ہیں ۔ لیکن ان حالات اور علاقوں میں بھی صرف زبانی تقیہ جائز ہے ۔ یہ جائز نہیں ہے کہ انسان دل سے اہل کفر کے ساتھ محبت کرے یا گہرے تعلقات قائم کرے ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں تقیہ کا تعلق عمل سے نہیں ہوتا ‘ تقیہ صرف زبان سے تعلق رکھتا ہے ۔ اس لئے جس تقیہ کا اجازت دی گئی اس میں یہ نہیں ہوتا کہ اہل ایمان اور کفار کے درمیان تعلقات قائم ہوں۔ اور اس سیاق میں کافر کا لفظ اس شخص کے لئے استعمال ہوا ہے جو شخص کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرنے سے روگردانی کرتا ہے ۔ یعنی پوری زندگی میں ‘ یہاں تو یہ بات ضمناً کی گئی مگر دوسری جگہ قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ ایسے لوگوں کے لئے الکافرون کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ نیز تقیہ میں یہ بات بھی شامل نہیں ہے کہ ایک مسلمان کسی بھی صورت میں اہل کفر کے ساتھ عملی تعاون کرے ۔ اللہ کے ساتھ اس قسم کا کوئی دھوکہ نہیں کیا جاسکتا۔ ولایت اور محبت چونکہ دلوں کا کام ہے ۔ انسانی ضمیر اور شعور کے ساتھ اس کا تعلق ہوتا ہے اور جذبہ اللہ خوفی اور تقویٰ اس جرم سے باز رکھ سکتا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایک عجیب انداز میں اپنے غضب اور اپنے قہرانہ انتقام سے ڈرایا ہے ۔ وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ ” اللہ تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے۔ “ اور اسی کی طرف تو تمہیں آنا ہے۔ اور یہ تخویف اور ڈراوا مزید آگے بڑھ کر دلوں کو چھوتا ہے ‘ ان کی توجہ اس طرف مبذول کرتا ہے دیکھو تم اللہ کی نظروں میں ہو۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

آل عمران 3:29

قُلْ إِنْ تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ” اے نبی لوگوں کو خبردار کردو کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے خواہ تم چھپاؤ ‘ یا ظاہر کرو ‘ اللہ بہرحال اسے جانتا ہے ۔ زمین و آسمان کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اس کا اقتدار ہر چیز پر حاوی ہے ۔ “ تہدید اور ڈراوے کی یہ انتہاء ہے ۔ اللہ خوفی کو جوش میں لایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے انتقام سے اپنے آپ کو بچاؤ ‘ اللہ کے پاس علم وقدرت کے دوررس وسائل ہیں ۔ اس سے بچ نکلنے کی کوئی جگہ نہیں ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی مددگار نہ ہوگا۔ یہ تہدید اور ڈراوا مزید آگے بڑھتا ہے اور دلوں کی گہرائیوں کو چھوتا ہے ‘ اب اس خوفناک دن کو یادوں کے پردے پر لایا جاتا ہے جس میں ہر عمل اور ہر نیت پیش ہوگی اور اس دن ہر شخص کا مکمل سرمایہ اس کے سامنے ہوگا۔

آل عمران 3:30

يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا ” وہ دن آنے والا ہے جب ہر نفس اپنے کئے کا پھل حاضر پائے گا ۔ خواہ اس نے بھلائی کی ہو یا برائی ‘ اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے دور ہوتا۔ “ یہ ایک ایسا خطاب ہے ‘ جو قلب انسانی کی گہرائیوں تک اترتا چلا جاتا ہے ‘ انسان کا کل سرمایہ اس کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے اور اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک دن وہ بذات خود اپنے اس سرمائے کے سامنے کھڑا ہوگا اور وہ پسند کرے گا اس کا یہ سرمایہ اس سے دور ہوتا لیکن افسوس کہ اس کی یہ خواہش ہرگز پوری نہ ہوسکے گی ۔ یا وہ یہ خواہش کرے گا کہ یہ دن ہی نہ آتا ‘ لیکن وہ تو آگیا ہے۔ وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔ وہ پکڑا گیا ہے ۔ اب کوئی چھٹکارا نہیں ہے ۔ اب کوئی جائے فرار نہیں ہے ! اور یہ کلام عالی مقام قلب بشری پر مزید حملے جاری رکھتا ہے ‘ اب اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی ذات ہیب مال سے ڈراتا ہے وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ……………” اور اللہ اب تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے ۔ “………لیکن آخر میں اللہ تعالیٰ اس خوفناک ماحول میں بھی بندے کو اپنی رحمت کی کرن بھی دکھاتا ہے اور یہ اشارہ کرتا ہے کہ ابھی فرصت باقی ہے وقت ختم نہیں ہوگیا۔ واللہ رؤف بالعباد ” اور اللہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے ۔ “ اور اللہ کی جانب سے قبل از وقت یہ تحذیر اور ڈراوا بھی اس کی مہربانی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے ۔ اہل ایمان اور کفار کے درمیان دوستی کے تعلق کے خلاف یہ عظیم حملہ ‘ یہ ہمہ جہت حملہ ‘ جس کے اندر مختلف قسم کے مفید اشارے ‘ ہدایات اور نصیحتیں پائی جاتی ہیں ۔ اس کی ضروریات اس موقع پر کیوں پیش آئی ‘ اس سے اس بات کا اظہارہوتا ہے کہ اس دور میں اسلامی کیمپ اور اس اردگرد پھیلے ہوئے مخالف کیمپ میں ‘ لوگوں کے درمیان رشتہ داری ‘ معاشی اور معاشرتی تعلقات موجود تھے ۔ جماعت مسلمہ کے افراد کے تعلقات اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے قائم تھے ۔ یہ تعلقات مکہ کے لوگوں کے ساتھ بھی تھے ۔ اور مدینہ کے اردگرد یہودیوں کے ساتھ بھی قائم تھے ۔ ان تعلقات کی اساس رشتہ داری یا تجارت پر تھی ۔ جبکہ اسلام یہ چاہتا تھا کہ اس کے اس جدید معاشرے میں لوگوں کے باہمی تعلقات صرف نظریہ حیات کی اساس پر ہوں ۔ اس نظام زندگی کی اساس پر جو اس نظریہ حیات سے تشکیل پایا ہے ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں اسلام کسی قسم کی کمزوری یا ترقی ہرگز برداشت نہیں کرتا ۔ نیز اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے ‘ انسانی دل و دماغ اور اس کی فکر ونظر ہر وقت اس بات کی محتاج ہے وہ ان مشکلات اور رکاوٹوں سے آزادی حاصل کرے اور ان بندھنوں کو توڑ دے جو اسلامی نظام اور اللہ کی راہ کی طرف آنے میں حائل ہوں………ہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اسلام اپنے دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک سے منع نہیں کرتا ۔ اگرچہ وہ اس کے دین کے دشمن ہوں ۔ اس لئے کہ حسن سلوک اور حسن معاملہ ایک الگ چیز ہے اور ولاء اور دوستی ایک الگ معاملہ ہے ۔ دوستی میں باہم محبت ہوتی ہے ‘ ایک دوسرے کی امداد ونصرت ہوتی ہے ۔ اور یہ کام وہ دل سے ہرگز نہیں کرسکتا جو مومن ہے ۔ ایک مومن صرف مومنین کے ساتھ دوستی کرسکتا ہے جو رابطہ ایمان میں منسلک ہیں۔ اور جو اسلامی نظام زندگی میں باہم رفیق ہیں اور جو لوگ شریعت نافذ کرتے اور اس کے سامنے جھکتے ہیں۔ سب سے آخر میں اس سبق کا اختتامیہ ایک فیصلہ کن انداز میں سامنے آتا ہے۔ اور وہ اس مسئلے کو فیصلہ کن انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ مسئلہ وہی ہے جس کے اردگرد یہ پوری سورت گھوم رہی ہے ۔ یہ اختتامیہ فیصلہ کن اور مختصر انداز میں حقیقت ایمان اور حقیقت دین کو بیان کردیتا ہے اور ایمان اور کفر کے درمیان ایک حد فاصل قائم کردی جاتی ہے ۔ یہ حد اس قدر واضح ہے کہ اب کسی کو کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

آل عمران 3:31

اللہ کی محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں ہے اور نہ کوئی وہ وجدانی امر ہے۔ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا اتباع ضروری ہے ۔ آپ کی سیرت اور نقش قدم پر چلنا ضروری ہے ۔ اپنی زندگی میں اسلامی نظام رائج کرنا ضروری ہے ۔ ایمان صرف چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں ہے ۔ نہ یہ شعور اور جذبات سے عبارت ہے ۔ نہ وہ صرف چند شعائر کے قیام کا نام ہے ۔ بلکہ ایمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے ۔ اور اس منہاج پر عمل کا نام جس کے حامل رسول اللہ ہیں ۔ پہلی آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں ” یہ آیت ہر اس شخص کے کیس کا فیصلہ کردیتی ہے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کا سلوک طریقہ محمدیہ پر نہیں ہے ۔ یہ شخص فی الحقیقت جھوٹا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ شریعت محمدیہ کی اطاعت کرے ۔ اور اپنے تمام اقوال اور اعمال میں دین محمدی کی اطاعت کرے ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔” جس شخص نے جو عمل کیا ‘ جو ہمارے کام کے مطابق نہیں ہے ‘ تو وہ مردود ہے ۔ “ اور دوسری آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا……………” کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو بس اگر وہ منہ پھیر دیں ۔ “………اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے طریقے کی مخالفت کفر ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے اوصاف والے شخص سے محبت ہرگز نہیں کرتا۔ اگرچہ ایسا شخص یہ دعویٰ کرے یا یہ یقین کرے کہ وہ محب اللہ ہے ۔ “ امام شمس الدین ابومحمد ‘ ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں فرماتے ہیں ۔” جو شخص کتب سیرت اور ثابت شدہ احادیث پر غور کرے گا اسے معلوم ہوگا بیشمار اہل کتاب اور مشرکین ایسے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور حقانیت کی شہادت دیتے ہیں ۔ لیکن ان کی یہ شہادت انہیں اسلام میں داخل نہیں کرتی ۔ تو معلوم ہوا کہ اسلام اس سے کہیں زیادہ کوئی اور چیز ہے ۔ اسلام صرف علم اور معرفت کا نام نہیں ہے ۔ اور نہ ہی وہ معرفت اور اقرار سے عبارت ہے ۔ بلکہ اسلام عبارت ہے ‘ معرفت اقرار اور اطاعت تینوں سے ۔ یہ انقیاد اور طاعت ظاہری امور میں بھی لازمی ہے اور باطنی امور میں بھی ۔ “ دین اسلام کی ایک حقیقت اور ماہیت ہے اور جب تک وہ حقیقت اور ماہیت موجود نہ ہوگی دین نہ ہوگا۔ اور وہ حقیقت صرف رسول اللہ ﷺ کا اتباع ہے ۔ شریعت کا اتباع ہے ۔ کتاب اللہ کے مطابق عدالتی نظام کا قیام ہے ۔ اور یہ حقیقت عقیدہ توحید سے پھوٹ کر نکلتی ہے ۔ جس طرح اس عقیدے کی تشریح اسلام نے کی ہے ۔ یعنی یہ کہ اللہ اپنی ذات میں وحدہ لاشریک ہے ۔ اس کا حق ہے کہ لوگ پوری طرح اس کے غلام اور بندے ہوں ‘ وہ اللہ کے احکام نافذ کرنے والے ہوں۔ ان میں شریعت الٰہیہ نافذ ہو اور وہ ایسی اقدار قائم کریں جن کے مطابق لوگ اپنے فیصلے کریں اور پھر ان پر راضی ہوں ۔ اس عقیدے کی رو سے اللہ واحد نگہبان ہے ۔ اس لئے وہی حاکم ہے اور لوگوں کے درمیان تمام اجتماعی تعلقات اس حاکمیت کی اساس پر قائم ہوں ‘ جس طرح اس پوری کائنات کا نظام اس کے قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ انسان بھی اس کائنات کا ایک جزء ہے ۔ جیسا کہ ہم نے تفصیل سے مطالعہ کیا اس سورت کا پہلا سبق بالکل وضاحت اور صاف ستھرے طریقے سے اس بات کا فیصلہ کردیتا ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول نظام زندگی صرف اسلام ہے۔ اس سے فرار اور جان چھڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو شخص بھی مسلمان بننا چاہتا ہے اسے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی ۔ اسلام کی یہی صورت ہے ‘ وہ صورت نہیں ہے جو آج کل لوگوں نے اپنے لئے خود گھڑ رکھی ہے ۔ وہ محض اوہام ہیں ‘ محض خرافات ہیں۔

آل عمران 3:32

اللہ کی محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں ہے اور نہ کوئی وہ وجدانی امر ہے۔ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا اتباع ضروری ہے ۔ آپ کی سیرت اور نقش قدم پر چلنا ضروری ہے ۔ اپنی زندگی میں اسلامی نظام رائج کرنا ضروری ہے ۔ ایمان صرف چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں ہے ۔ نہ یہ شعور اور جذبات سے عبارت ہے ۔ نہ وہ صرف چند شعائر کے قیام کا نام ہے ۔ بلکہ ایمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے ۔ اور اس منہاج پر عمل کا نام جس کے حامل رسول اللہ ہیں ۔ پہلی آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں ” یہ آیت ہر اس شخص کے کیس کا فیصلہ کردیتی ہے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کا سلوک طریقہ محمدیہ پر نہیں ہے ۔ یہ شخص فی الحقیقت جھوٹا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ شریعت محمدیہ کی اطاعت کرے ۔ اور اپنے تمام اقوال اور اعمال میں دین محمدی کی اطاعت کرے ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔” جس شخص نے جو عمل کیا ‘ جو ہمارے کام کے مطابق نہیں ہے ‘ تو وہ مردود ہے ۔ “ اور دوسری آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا……………” کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو بس اگر وہ منہ پھیر دیں ۔ “………اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے طریقے کی مخالفت کفر ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے اوصاف والے شخص سے محبت ہرگز نہیں کرتا۔ اگرچہ ایسا شخص یہ دعویٰ کرے یا یہ یقین کرے کہ وہ محب اللہ ہے ۔ “ امام شمس الدین ابومحمد ‘ ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں فرماتے ہیں ۔” جو شخص کتب سیرت اور ثابت شدہ احادیث پر غور کرے گا اسے معلوم ہوگا بیشمار اہل کتاب اور مشرکین ایسے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور حقانیت کی شہادت دیتے ہیں ۔ لیکن ان کی یہ شہادت انہیں اسلام میں داخل نہیں کرتی ۔ تو معلوم ہوا کہ اسلام اس سے کہیں زیادہ کوئی اور چیز ہے ۔ اسلام صرف علم اور معرفت کا نام نہیں ہے ۔ اور نہ ہی وہ معرفت اور اقرار سے عبارت ہے ۔ بلکہ اسلام عبارت ہے ‘ معرفت اقرار اور اطاعت تینوں سے ۔ یہ انقیاد اور طاعت ظاہری امور میں بھی لازمی ہے اور باطنی امور میں بھی ۔ “ دین اسلام کی ایک حقیقت اور ماہیت ہے اور جب تک وہ حقیقت اور ماہیت موجود نہ ہوگی دین نہ ہوگا۔ اور وہ حقیقت صرف رسول اللہ ﷺ کا اتباع ہے ۔ شریعت کا اتباع ہے ۔ کتاب اللہ کے مطابق عدالتی نظام کا قیام ہے ۔ اور یہ حقیقت عقیدہ توحید سے پھوٹ کر نکلتی ہے ۔ جس طرح اس عقیدے کی تشریح اسلام نے کی ہے ۔ یعنی یہ کہ اللہ اپنی ذات میں وحدہ لاشریک ہے ۔ اس کا حق ہے کہ لوگ پوری طرح اس کے غلام اور بندے ہوں ‘ وہ اللہ کے احکام نافذ کرنے والے ہوں۔ ان میں شریعت الٰہیہ نافذ ہو اور وہ ایسی اقدار قائم کریں جن کے مطابق لوگ اپنے فیصلے کریں اور پھر ان پر راضی ہوں ۔ اس عقیدے کی رو سے اللہ واحد نگہبان ہے ۔ اس لئے وہی حاکم ہے اور لوگوں کے درمیان تمام اجتماعی تعلقات اس حاکمیت کی اساس پر قائم ہوں ‘ جس طرح اس پوری کائنات کا نظام اس کے قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ انسان بھی اس کائنات کا ایک جزء ہے ۔ جیسا کہ ہم نے تفصیل سے مطالعہ کیا اس سورت کا پہلا سبق بالکل وضاحت اور صاف ستھرے طریقے سے اس بات کا فیصلہ کردیتا ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول نظام زندگی صرف اسلام ہے۔ اس سے فرار اور جان چھڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو شخص بھی مسلمان بننا چاہتا ہے اسے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی ۔ اسلام کی یہی صورت ہے ‘ وہ صورت نہیں ہے جو آج کل لوگوں نے اپنے لئے خود گھڑ رکھی ہے ۔ وہ محض اوہام ہیں ‘ محض خرافات ہیں۔

آل عمران 3:33

درس 24 ایک نظر میں بعض وہ روایات ‘ جن میں رسول اکرم ﷺ اور وفد نجران کے درمیان مناظرے کیا بیان آیا ہے۔ یہ کہتی ہیں کہ اس سورت میں جن قصوں کا ذکر ہوا ہے ۔ مثلاً حضرت عیسیٰ کی ولادت ‘ ان کی والدہ کی ولادت ‘ حضرت یحییٰ اور دوسرے واقعات ‘ ان شبہات کے رد میں نازل ہوئے ۔ جن کو لے کر یہ وفد آیا تھا ۔ اور ان لوگوں کے شبہات کی عمارت قرآن کریم کی اس آیت پر کھڑی کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ کَلِمَۃُ اللّٰہِ …………ہیں جو مریم کی طرف آیا اور وہ ” اس کا روح “ ہیں نیز سورت مریم میں جن امور کا ذکر نہ ہوا تھا انہوں نے اس کے بارے میں رسول ﷺ سے جواب طلب کیا تھا۔ یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے ‘ لیکن اس سورت میں جس طرح ان قصوں کو لایا گیا ہے وہ بعینہ اسی طریقہ پر ہے جس طرح قرآن کریم قصوں کو لاتا ہے۔ یعنی کچھ حقائق پیش نظر ہوتے ہیں ۔ اور ان قصوں کے ذریعے قرآن کریم ان حقائق کو ذہن نشین کرتا ہے اور وہ حقائق دراصل پوری سورت کا موضوع سخن ہوتے ہیں ‘ جو اس موضوع کے گرد گھومتے ہیں ۔ اور قصوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ خود بخود ان سے وہ حقائق ظاہر ہوتے ہیں اور ذہن نشین ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ اور وہ حقائق زندہ حقائق بن جاتے ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض حقائق اور تصورات کے قصوں کے ذریعے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ذہن نشین کردیا جاتا ہے ‘ انسان پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ زندہ صورت میں نظر آتے ہیں ۔ وہ حقائق زندہ حقائق بن جاتے ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض حقائق اور تصورات کے قصوں کے ذریعے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ذہن نشین کردیا جاتا ہے ‘ انسان پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ زندہ صورت میں نظر آتے ہیں ۔ وہ حقائق انسان کی زندگی میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جس طرح اسکرین پر کردار ہوتے ہیں ۔ محض فلسفیانہ اور تجریدی انداز بیان کے مقابلے میں حکایتی انداز بیان بہت ہی موثر ہوتا ہے ۔ اگر غور کریں تو ان قصوں سے بھی وہ حقائق اچھی طرح کھل کر سامنے آتے ہیں جو اس سورت کا موضوع ہیں اور یہ سورت ان حقائق پر مرکوز ہے ۔ اور جن خطوط پر اس میں بحث ہورہی ہے اسی پر یہ قصے چلتے ہیں ۔ اس لئے ان قصوں میں ‘ ان کے شان نزول کا کوئی مخصوص واقعہ نظر نہیں آتا ۔ بلکہ قصوں سے وہ واقعات لئے گئے ہیں جو اصل واقعات ہیں اور جن سے اسلام کا نظریاتی پہلو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ اس سورت کا اصل مسئلہ جس طرح کہ ہم اس سے پہلے کہہ آئے ہیں ۔ عقیدہ توحید ہے ۔ یہ کہ اللہ اپنی ذات میں ایک ہے اور اس کے سوا کوئی الٰہ موجود نہیں ہے ۔ اور یہ کہ وہ واحد نگہبان ہے اور اس جہاں کو چلانے والا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور دوسرے وہ قصص جو اس کی تکمیل میں یہاں لائے گئے ہیں وہ اس عقیدہ ٔ توحید کو اچھی طرح ثابت کرتے ہیں ۔ یہ قصص اللہ کے لئے اولاد کے تصور کی نفی کرتے ہیں ‘ اس لئے شرک کے تصور کو رد کرتے ہیں ۔ وہ ان تصورات کو بعید از قیاس اور بعید ازفہم بناتے ہیں ۔ یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس قسم کے شبہات غلط ہیں ۔ اور ایسے تصورات کھوٹے تصورات ہیں ۔ اس لئے حضرت مریم کی پیدائش کے واقعات کھول کر بیان کئے جاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور متعلقہ واقعات دیئے جاتے ہیں۔ یہ واقعات اس انداز میں لائے جاتے ہیں کہ پڑھنے والے کے ذہن میں اس کی بشریت کے بارے میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا ۔ اور پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ اسی طرح رسول ہیں جس طرح دوسرے رسول گزرے ہیں ۔ ان کا ہی مقام ہے جو ان رسولوں کا تھا۔ ان کی طبعی حقیقت بھی وہی ہے جو ان رسولوں کی تھی ‘ یہ قصص حضرت عیسیٰ کی اور غیر معمولی پیدائش کے خارق العادت واقعہ کی ایسی تعبیر اور ایسی تشریح کرتے ہیں کہ جس سے اس اعجوبے کی دل لگتی تعبیر سامنے آجاتی ہے ۔ جس میں کوئی پیچیدگی اور کوئی لاینحل عقدہ نہیں رہتا ۔ اور اس تعبیر پر دل و دماغ بالکل مطمئن ہوجاتے ہیں اور یہ معاملہ ایک عام اور عادی معاملہ بن جاتا ہے اس میں کوئی بات خارق العادت نظر نہیں آتی اور قصے کے آخر میں جو اختتامیہ آتا ہے وہ قابل غور ہے۔ إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ” بیشک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی پیدائش آدم کی طرح تھی ۔ اس کو اللہ نے مٹی سے بنایا اور پھر اس کو کہا ہوجا ‘ تو ہوگیا “ یوں دل کو یقین اور سکون نصیب ہوگیا ۔ تعجب ہوتا ہے کہ اس سادہ حقیقت کے بارے میں کیونکر شبہات پیدا ہوئے۔ اس سورت میں جو دوسرا اہم مسئلہ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ یہ دوسرا مسئلہ بھی پہلے مسئلے یعنی عقیدہ توحید پر مبنی ہے۔ یعنی دین اسلام ہے اور اسلام کا مفہوم اتباع اور انقیاد ہے ۔ یہ بات بھی ان قصص کے اندر بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے کہتے ہیں ” میں اپنے سے پہلے نازل ہونیوالی کتاب تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور اس لئے کہ میں حلال کروں بعض ان اشیاء کو جو تم پر حرام قرار دی گئی تھیں ۔ “ اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کی نوعیت کیا ہوتی ہے۔ رسول دراصل بھیجا ہی اس لئے جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی تجویز کرے ۔ ان کے لئے حلال و حرام کا ضابطہ وضع کرے تاکہ اہل ایمان اسے تسلیم کریں اور اطاعت کریں ۔ اس کے بعد حواریوں کی زبانی بھی اسی مفہوم کی تائید کی گئی ۔” جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہہ یہ لوگ کفر پر کمر بستہ ہوگئے ہیں ‘ تو آپ نے کہا کون ہے میری مدد کرنے والا اللہ کی راہ میں ؟ حواریوں نے کہا :” ہم ہیں اللہ کے مددگار ہم اللہ پر ایمان لائے ‘ آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں ۔ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے اس پر جو تونے اتارا ہے اور ہم رسول کے مطیع فرمان ہوگئے ہیں۔ ہمیں بھی آپ گواہوں میں لکھ دیجئے ۔ “ اس سورت کا ایک اہم موضوع یہ تھا کہ اہل ایمان اور ان کے اللہ کے درمیان تعلق کی کیا نوعیت ہوتی ہے ۔ ان قصص میں تعلق باللہ پر بھی کافی بات ہوئی ہے ۔ ان قصوں میں ان برگزیدہ ہستیوں کے حالات بیان ہوئے ہیں ۔ جنہیں اللہ نے چن لیا تھا ‘ اور ان میں سے بعض دوسروں کی اولاد تھے ۔ ان قصوں میں بیگم عمران کے قصے میں تعلق باللہ کے موضوع پر روشنی پڑتی ہے ۔ وہ اپنی بچی کے بارے میں اپنے رب سے یوں مخاطب ہوتی ہے جیسے اسے دیکھ رہی ہو ‘ اسی طرح حضرت مریم سے حضرت زکریاعلیہ السلام کا مکالمہ ‘ حضرت زکریا کا اپنے رب کے جناب میں عاجزانہ دعا اور التجاء ‘ پھر حواریوں کا اپنے نبی کو لبیک کہا اور پھر اللہ تعالیٰ سے ملتجی ہونا ‘ یوں ان قصوں میں تعلق باللہ کے زندہ مناظر نظر آتے ہیں ۔ جب یہ قصص ختم ہوتے ہیں تو ان پر ایسا اختتامیہ آتا ہے جس میں یہ تمام حقائق دہرادیئے گئے ہیں جن کے لئے یہ قصص لائے گئے تھے ۔ اور ان حقائق کو خلاصہ کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس خلاصے میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت بیان ہوتی ہے ۔ مخلوق کا مزاج اور تخلیق میں ارادہ الٰہیہ کے دخل کے بارے میں حقائق بیان ہوئے ہیں ۔ یہ بیان خالص وجدانی بیان ہے ۔ اہل کتاب کو ان حقائق کے تسلیم کرنے کء دعوت دی گئی ہے اور ان کو پھر دعوت مباہلہ دی گئی ۔ اس سبق کے آخر میں پھر ایک جامع اور مانع بیان دیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ آپ عام اہل کتاب کو اس حقیقت کی طرف دعوت دیں ‘ چاہے وہ مناظرہ کے لئے آئے ہوں یا نہ آئے ہوں ۔ جو اس وقت موجود تھے یا جو آج کے بعد کے ادوار میں موجود ہیں ۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (64) کہو ‘ اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہار درمیان یکساں ہے ۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ‘ اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ “ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ‘ ہم تو مسلم ہیں۔ “ یہاں یہ مباحثہ ختم ہوجاتا ہے ‘ اور معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام لوگوں سے کیا مطالبات کرتا ہے ۔ وہ زندگی کے کیا قواعد وضع کرتا ہے۔ یہاں دین اور اسلام کا مفہوم بتایا جاتا ہے ۔ ہر وہ بھدی صورت صاف ہوجاتی ہے اور وہ تحریف شدہ نظام چھٹ کر رہ جاتا ہے ۔ جس کے بارے میں اس کے ماننے والوں کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ اسلام ہے ۔ اور وہ دین ہے حالانکہ وہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ غرض اس سبق کا یہ اصل موضوع تھا اور یہی موضوع اس سورت کا بھی موضوع تھا۔ جسے ان قصص نے بیان کیا ایک دلکش اور دلچسپ کہانی کی شکل میں ‘ جس میں گہرے اشارے موجود تھے ۔ قرآن میں قصص کے بیان کی غرض وغایت ہی یہ ہے ۔ اس غرض وغایت کے لئے یہ قصے مناسب اسلوب میں آتے ہیں ۔ اور مختلف سورتوں میں ان قصص کو اسی خاص اسلوب میں لایا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ سورت مریم میں بھی بیان ہوا ہے ۔ اور یہاں بھی یہ قصہ بیان ہوا ہے ۔ یہاں اور وہاں دونوں جگہ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کے بعض حصوں کو مختصر بیان کیا گیا اور بعض تفصیلات دی گئی ہیں ۔ مثلاً سورت مریم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے حصے کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے ‘ جبکہ حضرت مریم کی ولادت کا ذکر وہاں نہیں تھا ۔ یہاں حواریوں کے ساتھ مفصل کلام ‘ اور ولادت کا حصہ مختصر ہے ۔ جبکہ یہاں اختتامیہ بہت ہی طویل ہے ۔ اس لئے کہ یہاں جن موضوعات پر مباحثہ تھا وہ موضوعات بہت ہی اہم تھے ۔ مثلاً عقیدہ توحید ‘ دین کا صحیح تصور ‘ وحی الٰہی اور رسالت کا تصور جبکہ یہ مسائل سورت مریم میں زیر بحث نہ تھے ۔ ان نکات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیان قصص میں قرآن کا اسلوب کیا ہے ۔ یہ اسلوب ہمیشہ سورت کے موضوعات کے پیش نظر طے ہوتا ہے ۔ اب ہم آیات پر بحث کریں گے ۔ اس قصے کا آغاز ان لوگوں کی فہرست سے ہوتا ہے جو برگزیدہ تھے اور جنہیں اللہ نے باررسالت کے اٹھانے کے لئے چن لیا تھا۔ ابتدائے آفرینش سے یہ رسالت ایک تھی اور جس دین کو پیش کیا گیا وہ ایک ہی دین تھا۔ ان لوگوں کا انتخاب اس لئے ہوا تھا کہ وہ اقوام اور ازمنہ کی طویل ترین انسانی تاریخ میں قافلہ ایمان کے سالار ہوں ‘ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ ایک ہی سلسلے کے تھے اور جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان لوگوں کو نسب نامہ طبعی طور پر ملتا ہو اور وہ ایک دوسرے کی نسبی ذریت ہوں ۔ (اگرچہ ان سب کا نسب نامہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت آدم (علیہ السلام) پر جاکر ملتا ہے) ان کا حقیقی نسب نامہ تو یہ ہے کہ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے منتخب ومختار بنالیا تھا ‘ اور ان کا نسب نامہ ایک نظریاتی نسب نامہ تھا جس کے مطابق یہ قافلہ ایمانی چل رہا تھا۔ سیاق کلام میں حضرت آدم اور حضرت نوح کو بطور فرد گنوایا ہے ۔ لیکن حضرت ابراہیم اور عمران کے خاندانوں کا ذکر کیا گیا۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت آدم اپنی ذاتی حیثیت اور حضرت نوح اپنی ذاتی حیثیت میں قابل احترام اور برگزیدہ تھے ۔ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت عمران کی اولاد بھی قابل احترام تھی ۔ اور یہ احترام اور برگزیدگی اس اصول کے مطابق تھا جس کا ذکر سورة بقرہ میں ہوا ہے ۔ اور وہ قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ برکت اور احترام جو خاندان نبوت میں آتا ہے وہ محض خونی وراثت کی وجہ سے نہیں آتا بلکہ وہ نظریاتی وراثت ہے۔ وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ (124) ” اور یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چندباتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو اس نے کہا میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ “ ابراہیم نے عرض کیا :” اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے ۔ “ اس نے جواب دیا میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے ۔ “ بعض روایات میں آتا ہے کہ عمران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ۔ تو اس صورت میں حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے اس خاص برانچ کا ذکر ایک مخصوص مقصد کے لئے کیا گیا ہے یعنی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے قصوں کے لئے بطور تمہید اس کا ذکر ہوا ‘ اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہ حضرات بنی اسرائیل کے پیشوا تھے ‘ یعنی رسول ﷺ کے وقت اہل یہود تھے اور یہاں آئندہ بحث چونکہ نصاریٰ کے بارے میں ہونے والی تھی اس لئے حضرت موسیٰ اور حضرت یعقوب کے ذکر کی ضرورت نہ تھی ۔

آل عمران 3:34

درس 24 ایک نظر میں بعض وہ روایات ‘ جن میں رسول اکرم ﷺ اور وفد نجران کے درمیان مناظرے کیا بیان آیا ہے۔ یہ کہتی ہیں کہ اس سورت میں جن قصوں کا ذکر ہوا ہے ۔ مثلاً حضرت عیسیٰ کی ولادت ‘ ان کی والدہ کی ولادت ‘ حضرت یحییٰ اور دوسرے واقعات ‘ ان شبہات کے رد میں نازل ہوئے ۔ جن کو لے کر یہ وفد آیا تھا ۔ اور ان لوگوں کے شبہات کی عمارت قرآن کریم کی اس آیت پر کھڑی کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ کَلِمَۃُ اللّٰہِ …………ہیں جو مریم کی طرف آیا اور وہ ” اس کا روح “ ہیں نیز سورت مریم میں جن امور کا ذکر نہ ہوا تھا انہوں نے اس کے بارے میں رسول ﷺ سے جواب طلب کیا تھا۔ یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے ‘ لیکن اس سورت میں جس طرح ان قصوں کو لایا گیا ہے وہ بعینہ اسی طریقہ پر ہے جس طرح قرآن کریم قصوں کو لاتا ہے۔ یعنی کچھ حقائق پیش نظر ہوتے ہیں ۔ اور ان قصوں کے ذریعے قرآن کریم ان حقائق کو ذہن نشین کرتا ہے اور وہ حقائق دراصل پوری سورت کا موضوع سخن ہوتے ہیں ‘ جو اس موضوع کے گرد گھومتے ہیں ۔ اور قصوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ خود بخود ان سے وہ حقائق ظاہر ہوتے ہیں اور ذہن نشین ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ اور وہ حقائق زندہ حقائق بن جاتے ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض حقائق اور تصورات کے قصوں کے ذریعے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ذہن نشین کردیا جاتا ہے ‘ انسان پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ زندہ صورت میں نظر آتے ہیں ۔ وہ حقائق زندہ حقائق بن جاتے ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض حقائق اور تصورات کے قصوں کے ذریعے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ذہن نشین کردیا جاتا ہے ‘ انسان پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ زندہ صورت میں نظر آتے ہیں ۔ وہ حقائق انسان کی زندگی میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جس طرح اسکرین پر کردار ہوتے ہیں ۔ محض فلسفیانہ اور تجریدی انداز بیان کے مقابلے میں حکایتی انداز بیان بہت ہی موثر ہوتا ہے ۔ اگر غور کریں تو ان قصوں سے بھی وہ حقائق اچھی طرح کھل کر سامنے آتے ہیں جو اس سورت کا موضوع ہیں اور یہ سورت ان حقائق پر مرکوز ہے ۔ اور جن خطوط پر اس میں بحث ہورہی ہے اسی پر یہ قصے چلتے ہیں ۔ اس لئے ان قصوں میں ‘ ان کے شان نزول کا کوئی مخصوص واقعہ نظر نہیں آتا ۔ بلکہ قصوں سے وہ واقعات لئے گئے ہیں جو اصل واقعات ہیں اور جن سے اسلام کا نظریاتی پہلو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔ اس سورت کا اصل مسئلہ جس طرح کہ ہم اس سے پہلے کہہ آئے ہیں ۔ عقیدہ توحید ہے ۔ یہ کہ اللہ اپنی ذات میں ایک ہے اور اس کے سوا کوئی الٰہ موجود نہیں ہے ۔ اور یہ کہ وہ واحد نگہبان ہے اور اس جہاں کو چلانے والا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور دوسرے وہ قصص جو اس کی تکمیل میں یہاں لائے گئے ہیں وہ اس عقیدہ ٔ توحید کو اچھی طرح ثابت کرتے ہیں ۔ یہ قصص اللہ کے لئے اولاد کے تصور کی نفی کرتے ہیں ‘ اس لئے شرک کے تصور کو رد کرتے ہیں ۔ وہ ان تصورات کو بعید از قیاس اور بعید ازفہم بناتے ہیں ۔ یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس قسم کے شبہات غلط ہیں ۔ اور ایسے تصورات کھوٹے تصورات ہیں ۔ اس لئے حضرت مریم کی پیدائش کے واقعات کھول کر بیان کئے جاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور متعلقہ واقعات دیئے جاتے ہیں۔ یہ واقعات اس انداز میں لائے جاتے ہیں کہ پڑھنے والے کے ذہن میں اس کی بشریت کے بارے میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا ۔ اور پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ اسی طرح رسول ہیں جس طرح دوسرے رسول گزرے ہیں ۔ ان کا ہی مقام ہے جو ان رسولوں کا تھا۔ ان کی طبعی حقیقت بھی وہی ہے جو ان رسولوں کی تھی ‘ یہ قصص حضرت عیسیٰ کی اور غیر معمولی پیدائش کے خارق العادت واقعہ کی ایسی تعبیر اور ایسی تشریح کرتے ہیں کہ جس سے اس اعجوبے کی دل لگتی تعبیر سامنے آجاتی ہے ۔ جس میں کوئی پیچیدگی اور کوئی لاینحل عقدہ نہیں رہتا ۔ اور اس تعبیر پر دل و دماغ بالکل مطمئن ہوجاتے ہیں اور یہ معاملہ ایک عام اور عادی معاملہ بن جاتا ہے اس میں کوئی بات خارق العادت نظر نہیں آتی اور قصے کے آخر میں جو اختتامیہ آتا ہے وہ قابل غور ہے۔ إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ” بیشک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی پیدائش آدم کی طرح تھی ۔ اس کو اللہ نے مٹی سے بنایا اور پھر اس کو کہا ہوجا ‘ تو ہوگیا “ یوں دل کو یقین اور سکون نصیب ہوگیا ۔ تعجب ہوتا ہے کہ اس سادہ حقیقت کے بارے میں کیونکر شبہات پیدا ہوئے۔ اس سورت میں جو دوسرا اہم مسئلہ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ یہ دوسرا مسئلہ بھی پہلے مسئلے یعنی عقیدہ توحید پر مبنی ہے۔ یعنی دین اسلام ہے اور اسلام کا مفہوم اتباع اور انقیاد ہے ۔ یہ بات بھی ان قصص کے اندر بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے کہتے ہیں ” میں اپنے سے پہلے نازل ہونیوالی کتاب تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور اس لئے کہ میں حلال کروں بعض ان اشیاء کو جو تم پر حرام قرار دی گئی تھیں ۔ “ اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کی نوعیت کیا ہوتی ہے۔ رسول دراصل بھیجا ہی اس لئے جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی تجویز کرے ۔ ان کے لئے حلال و حرام کا ضابطہ وضع کرے تاکہ اہل ایمان اسے تسلیم کریں اور اطاعت کریں ۔ اس کے بعد حواریوں کی زبانی بھی اسی مفہوم کی تائید کی گئی ۔” جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہہ یہ لوگ کفر پر کمر بستہ ہوگئے ہیں ‘ تو آپ نے کہا کون ہے میری مدد کرنے والا اللہ کی راہ میں ؟ حواریوں نے کہا :” ہم ہیں اللہ کے مددگار ہم اللہ پر ایمان لائے ‘ آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں ۔ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے اس پر جو تونے اتارا ہے اور ہم رسول کے مطیع فرمان ہوگئے ہیں۔ ہمیں بھی آپ گواہوں میں لکھ دیجئے ۔ “ اس سورت کا ایک اہم موضوع یہ تھا کہ اہل ایمان اور ان کے اللہ کے درمیان تعلق کی کیا نوعیت ہوتی ہے ۔ ان قصص میں تعلق باللہ پر بھی کافی بات ہوئی ہے ۔ ان قصوں میں ان برگزیدہ ہستیوں کے حالات بیان ہوئے ہیں ۔ جنہیں اللہ نے چن لیا تھا ‘ اور ان میں سے بعض دوسروں کی اولاد تھے ۔ ان قصوں میں بیگم عمران کے قصے میں تعلق باللہ کے موضوع پر روشنی پڑتی ہے ۔ وہ اپنی بچی کے بارے میں اپنے رب سے یوں مخاطب ہوتی ہے جیسے اسے دیکھ رہی ہو ‘ اسی طرح حضرت مریم سے حضرت زکریاعلیہ السلام کا مکالمہ ‘ حضرت زکریا کا اپنے رب کے جناب میں عاجزانہ دعا اور التجاء ‘ پھر حواریوں کا اپنے نبی کو لبیک کہا اور پھر اللہ تعالیٰ سے ملتجی ہونا ‘ یوں ان قصوں میں تعلق باللہ کے زندہ مناظر نظر آتے ہیں ۔ جب یہ قصص ختم ہوتے ہیں تو ان پر ایسا اختتامیہ آتا ہے جس میں یہ تمام حقائق دہرادیئے گئے ہیں جن کے لئے یہ قصص لائے گئے تھے ۔ اور ان حقائق کو خلاصہ کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس خلاصے میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت بیان ہوتی ہے ۔ مخلوق کا مزاج اور تخلیق میں ارادہ الٰہیہ کے دخل کے بارے میں حقائق بیان ہوئے ہیں ۔ یہ بیان خالص وجدانی بیان ہے ۔ اہل کتاب کو ان حقائق کے تسلیم کرنے کء دعوت دی گئی ہے اور ان کو پھر دعوت مباہلہ دی گئی ۔ اس سبق کے آخر میں پھر ایک جامع اور مانع بیان دیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ آپ عام اہل کتاب کو اس حقیقت کی طرف دعوت دیں ‘ چاہے وہ مناظرہ کے لئے آئے ہوں یا نہ آئے ہوں ۔ جو اس وقت موجود تھے یا جو آج کے بعد کے ادوار میں موجود ہیں ۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (64) کہو ‘ اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہار درمیان یکساں ہے ۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ‘ اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ “ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ‘ ہم تو مسلم ہیں۔ “ یہاں یہ مباحثہ ختم ہوجاتا ہے ‘ اور معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام لوگوں سے کیا مطالبات کرتا ہے ۔ وہ زندگی کے کیا قواعد وضع کرتا ہے۔ یہاں دین اور اسلام کا مفہوم بتایا جاتا ہے ۔ ہر وہ بھدی صورت صاف ہوجاتی ہے اور وہ تحریف شدہ نظام چھٹ کر رہ جاتا ہے ۔ جس کے بارے میں اس کے ماننے والوں کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ اسلام ہے ۔ اور وہ دین ہے حالانکہ وہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ غرض اس سبق کا یہ اصل موضوع تھا اور یہی موضوع اس سورت کا بھی موضوع تھا۔ جسے ان قصص نے بیان کیا ایک دلکش اور دلچسپ کہانی کی شکل میں ‘ جس میں گہرے اشارے موجود تھے ۔ قرآن میں قصص کے بیان کی غرض وغایت ہی یہ ہے ۔ اس غرض وغایت کے لئے یہ قصے مناسب اسلوب میں آتے ہیں ۔ اور مختلف سورتوں میں ان قصص کو اسی خاص اسلوب میں لایا گیا ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ سورت مریم میں بھی بیان ہوا ہے ۔ اور یہاں بھی یہ قصہ بیان ہوا ہے ۔ یہاں اور وہاں دونوں جگہ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کے بعض حصوں کو مختصر بیان کیا گیا اور بعض تفصیلات دی گئی ہیں ۔ مثلاً سورت مریم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے حصے کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے ‘ جبکہ حضرت مریم کی ولادت کا ذکر وہاں نہیں تھا ۔ یہاں حواریوں کے ساتھ مفصل کلام ‘ اور ولادت کا حصہ مختصر ہے ۔ جبکہ یہاں اختتامیہ بہت ہی طویل ہے ۔ اس لئے کہ یہاں جن موضوعات پر مباحثہ تھا وہ موضوعات بہت ہی اہم تھے ۔ مثلاً عقیدہ توحید ‘ دین کا صحیح تصور ‘ وحی الٰہی اور رسالت کا تصور جبکہ یہ مسائل سورت مریم میں زیر بحث نہ تھے ۔ ان نکات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیان قصص میں قرآن کا اسلوب کیا ہے ۔ یہ اسلوب ہمیشہ سورت کے موضوعات کے پیش نظر طے ہوتا ہے ۔ اب ہم آیات پر بحث کریں گے ۔ اس قصے کا آغاز ان لوگوں کی فہرست سے ہوتا ہے جو برگزیدہ تھے اور جنہیں اللہ نے باررسالت کے اٹھانے کے لئے چن لیا تھا۔ ابتدائے آفرینش سے یہ رسالت ایک تھی اور جس دین کو پیش کیا گیا وہ ایک ہی دین تھا۔ ان لوگوں کا انتخاب اس لئے ہوا تھا کہ وہ اقوام اور ازمنہ کی طویل ترین انسانی تاریخ میں قافلہ ایمان کے سالار ہوں ‘ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ ایک ہی سلسلے کے تھے اور جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان لوگوں کو نسب نامہ طبعی طور پر ملتا ہو اور وہ ایک دوسرے کی نسبی ذریت ہوں ۔ (اگرچہ ان سب کا نسب نامہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت آدم (علیہ السلام) پر جاکر ملتا ہے) ان کا حقیقی نسب نامہ تو یہ ہے کہ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے منتخب ومختار بنالیا تھا ‘ اور ان کا نسب نامہ ایک نظریاتی نسب نامہ تھا جس کے مطابق یہ قافلہ ایمانی چل رہا تھا۔ سیاق کلام میں حضرت آدم اور حضرت نوح کو بطور فرد گنوایا ہے ۔ لیکن حضرت ابراہیم اور عمران کے خاندانوں کا ذکر کیا گیا۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت آدم اپنی ذاتی حیثیت اور حضرت نوح اپنی ذاتی حیثیت میں قابل احترام اور برگزیدہ تھے ۔ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت عمران کی اولاد بھی قابل احترام تھی ۔ اور یہ احترام اور برگزیدگی اس اصول کے مطابق تھا جس کا ذکر سورة بقرہ میں ہوا ہے ۔ اور وہ قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ برکت اور احترام جو خاندان نبوت میں آتا ہے وہ محض خونی وراثت کی وجہ سے نہیں آتا بلکہ وہ نظریاتی وراثت ہے۔ وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ (124) ” اور یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چندباتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو اس نے کہا میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ “ ابراہیم نے عرض کیا :” اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے ۔ “ اس نے جواب دیا میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے ۔ “ بعض روایات میں آتا ہے کہ عمران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ۔ تو اس صورت میں حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے اس خاص برانچ کا ذکر ایک مخصوص مقصد کے لئے کیا گیا ہے یعنی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے قصوں کے لئے بطور تمہید اس کا ذکر ہوا ‘ اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہ حضرات بنی اسرائیل کے پیشوا تھے ‘ یعنی رسول ﷺ کے وقت اہل یہود تھے اور یہاں آئندہ بحث چونکہ نصاریٰ کے بارے میں ہونے والی تھی اس لئے حضرت موسیٰ اور حضرت یعقوب کے ذکر کی ضرورت نہ تھی ۔

آل عمران 3:35

اس تمہیدی اعلان احترام کے بعد اب آل عمران کے بارے میں براہ راست بات شروع ہوجاتی ہے ۔ نذر کے اس قصے سے بیگم عمران کا دل کھل کر سامنے آجاتا ہے ۔ یہ مریم کی ماں تھیں۔ ان کا دل ذوق ایمان سے معمور ہے ۔ وہ اپنے عزیز ترین اثاثے کو اللہ کے لئے پیش کرتی ہے ۔ یعنی وہ بچہ جو ابھی تک ان کے پیٹ میں ہے ۔ وہ اسے خالصتاً اللہ کے لئے پیش کرتی ہیں ‘ اس پیش کش کے ساتھ کوئی شرط اور قید نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ کوئی شرکیہ تصور وابستہ نہیں جیسا کہ اکثر نذروں میں ہوتا ہے۔ اس فعل میں اللہ کے سوا کسی کے حق کا تصور نہیں ہے ۔ اور لفظ ” محرر “ سے اس بےقید نذر کی تعبیر نہایت ہی معنی خیز ہے ۔ اس لئے کہ صحیح معنوں میں آزاد وہی شخص ہوتا ہے ۔ جو اللہ کا ہوجائے ۔ وہ ہر طرف سے بھاگ کر جناب باری میں پناہ لے لے۔ وہ ہر شخص ‘ ہر چیز اور ہر قدر کی غلامی سے نجات پاکر نکل آئے اور بندگی صرف اللہ وحدہ کی اختیار کرے ۔ صرف اسی صورت میں ایک انسان صحیح معنوں میں تمام غلامیوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اس صورت کے علاوہ تمام صورتوں میں کسی نہ کسی شکل میں غلامی موجود رہتی ہے اگرچہ بظاہر کسی کو آزادی نظر آئے۔ اس نکتہ کو پالینے کے بعد ہی یہ بات نظر آتی ہے عقیدہ توحید دراصل مکمل آزادی کا ایک چارٹر ہے ۔ وہ شخص کیونکر آزاد تصور ہوسکتا ہے کہ جب وہ کسی معاملے میں ‘ اللہ کے سوا اوروں کا غلام اور تابع ہونے پر مجبور ہو ‘ اپنی ذات ونفسیات کی دنیا میں ‘ یا اپنے روزمرہ کے امور حیات کے معاملے میں یا اپنے طور طریقوں یا اقدار حیات کے معاملے میں یا قوانین اور دستور حیات کے سلسلے میں اس لئے کہ وہ یہ امور ہیں جو اس کی زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ اگر ایک انسان کا دل غیر اللہ کی محبت میں گرفتار ہو ‘ یا غیر اللہ کی غلامی کے زیر بار ہو یا وہ کسی چیز کی محبت کا شکار ہو تو اسے کن معنوں میں آزاد کہا جاسکتا ہے ۔ جبکہ اس کی زندگی میں ایسی اقدار کی قدر ہو اور ایسے قوانین پر عمل ہو رہا ہو جو غیر اللہ سے ماخوذ ہوں ۔ دنیا میں انسانوں کو حقیقی آزادی اس وقت نصیب ہوئی جب انہوں نے اسلام کے نظریہ توحید کو اپنایا۔

آل عمران 3:36

زوجہ عمران کی یہ خشوع و خضوع کے عطر سے معطر دعا کہ اے رب میری نذر قبول فرما ! وہ نذر جو اس کے دل کا ٹکڑا ہے۔ اس کا جگر گوشہ ہے ۔۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ خالص اللہ کی مسلم اور مطیع فرمان ہیں ۔ وہ کلمۃ اللہ کی جہت کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں ۔ بالکلہ یکسو ہیں ۔ ہر قید سے آزاد ہیں اور ان کے دل میں ماسوائے قبولیت نذر اور رضائے الٰہی کے جذبے کے اور کچھ نہیں ہے۔ فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ” پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا :” مالک ! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے ۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا ‘ اللہ کو اس کی خبر تھی ………اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا ۔ خیر ‘ میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔ “ اس کا خیال یہ تھا کہ میرا بچہ لڑکا ہوگا۔ اور گرجوں میں جن بچوں کی نذر دی جاتی تھی وہ بالعموم لڑکے ہوا کرتے تھے تاکہ وہ ہیکل کی خدمت کریں ۔ اور وہ صرف عبادت کے لئے وقف ہوجائیں اور دنیا سے کٹ جائیں ۔ لیکن وہ کیا دیکھتی ہے کہ بچہ لڑکی ہے ۔ اس لئے وہ گڑگڑا کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور نہایت ہی متأسفانہ انداز میں کہتی ہے ۔ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى……………” میرے رب ‘ میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ۔ “ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ……………” اور جو کچھ اس نے جنا ‘ اس کا علم تو اللہ کو بہرحال تھا۔ “ لیکن وہ یہ الفاظ اس لئے کہتی ہے کہ وہ خود متوجہ الی اللہ ہے اور ہدیہ پیش کرتی ہے ۔ گویا وہ ان الفاظ سے اللہ کے ہاں معذرت پیش کررہی ہے ۔ کہ اگر لڑکا ہوتا تو وہ اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرتا ۔ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى……………” اور لڑکا ‘ لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ “ یعنی جس مقصد کے لئے نذر مانی گئی ہے ‘ اس مقصد کے لئے تو لڑکا ہی موزوں ہوتا ہے۔ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ……………” میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ “ ” یہاں جس انداز سے بات ہورہی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زوجہ عمران اللہ تعالیٰ سے آمنے سامنے بات کررہی ہیں ‘ گو تخلیہ میں بات ہورہی ہے ‘ دل کی پوری بات بتائی جارہی ہے ۔ صاف صاف بتائی جارہی ہے ۔ اور اپنا پورا اثاثہ پیش کیا جارہا ہے ۔ براہ راست خدمت اقدس میں ‘ اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کے تعلق باللہ کا یہی حال ہوتا ہے ۔ محبت ‘ قرب اور براہ راست رابطہ اپنے رب کے ساتھ سادہ الفاظ میں اخلاص کے ساتھ ہمکلامی ‘ جس میں نہ تکلف ہے اور نہ پیچیدگی ہے ۔ وہ بات اس طرح کرتے ہیں جس طرح رب ان کے بالکل قریب ہے ۔ ان سے محبت کرتا ہے ‘ سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ” میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ “ یہ وہ آخری بات ہے جو ایک ماں اپنے بچے کی نذر پیش کرنے بعد الوداعی طور پر کہتی ہے ۔ اور اسے اپنے رب کی حمایت اور اس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتی ہے ۔ اور اس کے لئے اور اس کی اولاد کے لئے شیطان مردود سے پناہ مانگتی ہے ………اور یہ باتیں خلوص قلب کا مظہر ہیں ‘ وبطیب خاطر یہ نذر دے رہی ہے اور اپنی محبوب اولاد کے لئے وہ جو تحفظ طلب کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ اسے شیطان مردود سے بچائے۔

آل عمران 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا……………” آخرکار اللہ نے اس کی لڑکی کو قبول کرلیا اور اسے اچھی لڑکی بناکر اٹھایا۔ “ مال کے دل میں اخلاص اور للّٰہیت کو جذبہ موجزن تھا ‘ یہ اس کا صلہ تھا ‘ یہ ایک خالص نذر تھی جو صرف اللہ کے لئے تھی ‘ اور یہ اسے درحقیقت آنیوالے دور میں نفخ روح کے لئے تیار کرنا تھا ۔ کلمۃ اللہ کے حمل کے لئے اسے تیار کرنا تھا ۔ تاکہ وہ حضرت عیسیٰ کی خارق العادت ولادت کے لئے تیار ہو جس کی کوئی مثال اس سے قبل موجود نہ تھی ۔ وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا……………” ذکریا کو اس کا سرپرست بنادیا گیا۔ “ وہ اس کے ولی اور ذمہ دار قرارپائے ۔ اس دور میں حضرت زکریا ہیکل کے صدر نشین تھے ۔ اور وہ حضرت ہارون کی اولاد سے تھے ۔ اور ہیکل سلیمانی کی مجاوری اور انتظام ان کی اولاد کے ہاتھ میں چلا آرہا تھا ۔ یوں حضرت مریم کی نشوونما اور تربیت کا بابرکت سلسلہ شروع ہوا ۔ اللہ تعالیٰ اسی نوخیز راہبہ کے لئے اپنے فیض خاص سے رزق کا خصوصی انتظام فرماتے تھے۔ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ……………” زکریاجب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا ‘ تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا ۔ پوچھتا ‘ مریم ! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ؟ قوہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔ “ ہم ان تفصیلات میں جانا نہیں چاہتے کہ یہ رزق کیسا تھا ‘ جس طرح کہ مختلف روایات وارد ہیں ‘ یہاں اس قدر کہنا کافی ہے کہ وہ رزق بڑا بابرکت تھا ۔ آپ کے ماحول میں برکت تھی اور ہر طرف سے وہ چیزیں مہیا ہورہی تھیں جن پر رزق کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اس قدر وافر رزق ہوتا تھا کہ ان کا کفیل بھی حیران رہ جاتا ۔ حالانکہ وہ نبی تھا ۔ وہ ان فیوض وبرکات کو دیکھ کر حیرانی سے پوچھتا کہ یہ کیسے اور کہاں سے ؟ لیکن حضرت مریم ایک مومن صادق کی طرح بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ جواب دیتیں اور اللہ کے انعامات کا اعتراف کرتیں ۔ اللہ کے کرم کا اقرار کرکے معاملہ اس کے حوالے کردیتیں۔ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ……………” یہ اللہ کے پاس سے آیا ہے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے ۔ “ یہ وہ کلمات ہیں ‘ جو بتاتے ہیں کہ بندے کا تعلق اپنے رب کے ساتھ کیا ہوتا ہے ۔ اور کس طرح بندگان عالی مقام اپنے ان رازوں کو راز ہی رہنے دیتے ہیں جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہوتے ہیں ۔ اور بات میں اس راز کے بارے میں بڑی تواضع اور کسر نفسی سے بات کرتے ہیں ۔ اس کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے ۔ یہاں حضرت مریم کے ہاں فراہمی رزق کے سلسلے میں غیر معمولی صورت حال دکھائی گئی اور جس پر حضرت زکریا نبی وقت کو بھی تعجب ہوا ۔ وہ آئندہ آنے والے زیادہ عجائبات قدرت کے لئے بطور تمہیدذکر ہوئے ۔ جن میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی ولادت شامل ہے ۔ اس مقام پر (مریم جیسی اولاد اور اس کے پاس وافر رزق ) کو دیکھ کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کے دل میں امید کی کرن پھوٹی ‘ آپ کی اولاد نہ تھی ‘ یہ ایک فطری خواہش تھی ‘ جو ہر انسان کے دل میں دسر قدرت نے ودیعت کی ہوئی ہوتی ہے۔ یعنی اولاد صالح کی زبردست خواہش ۔ تاکہ انسان کی ذات تسلسل میں رہے ۔ اور اس کے بعد اس کا کوئی جانشین ہو ‘ یہ وہ خواہش ہے جو بڑے بڑے عبادت گزاروں اور زاہدوں کے دل میں بھی موجزن رہتی ہے ۔ ان لوگوں کے دل میں بھی جنہوں نے اپنے آپ کو عبادت کے لئے وقف کرلیا ہوتا ہے۔ اور جو ہیکل کی خدمت کے لئے وقف ہوچکے ہوتے ہیں ۔ یہ وہ فطرت ہے جس اللہ نے لوگوں کی تخلیق کی ہے ۔ اور یہ اس گہری حکمت کا نتیجہ ہے کہ اس جہاں میں زندگی کا تسلسل جاری ہے اور وہ دن رات چوگنی ترقی کررہی ہے ۔ اس مقام پر حضرت زکریا (علیہ السلام) سامنے آتے ہیں ۔

آل عمران 3:38

یوں ہم اپنے آپ کو ایک غیر معمولی واقعہ کے سامنے پاتے ہیں ۔ یہ واقعہ اس بات کا اظہار ہے کہ اللہ کی مشیئت بےقید ہے ۔ اور وہ ان سلسلہ اسباب ومسببات کی قید وبند سے آزاد ہے ۔ جنہیں آگے پیچھے دیکھنے کا انسان عادی ہے ۔ اور جن کے بارے میں انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس سلسلے میں تخلف ممکن نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو واقعات وحادثات اس قانون کے حدود وقیود کے اندر نہیں ہوتے یہ انسان ان کے بارے میں شاکی رہتا ہے ۔ اور جب وہ اس بات سے عاجز ہوں کہ اس کی تکذیب کردیں جب ان کے لئے ایسے واقعات کو جھٹلاناممکن نہ رہے کیونکہ وہ واقعات ہوتے ہیں تو وہ ان واقعات کے اوپر قصے اور کہانیوں کے خول چڑھادیتے ہیں ۔ دیکھئے زکریا شیخ اور معمر آدمی ہیں اور ان کی بیوی ان کے معمر ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانی میں بھی بانجھ رہی ہیں ۔ اس بوڑھے کے دل میں اولاد کی خواہش جوش میں آتی ہے ۔ جو ایک فطری خواہش ہے ۔ وہ مریم جیسی نیک اور خوبصورت بچی کو دیکھتے ہیں ‘ جسے وافر مقدار میں رزق دیا گیا ہے ۔ وہ اپنے رب کے ساتھ مناجات کرتے ہیں ۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ انہیں بھی ایسی ہی پاک اولاد عطا ہو۔ هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُ قَالَ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ ” یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا ” پروردگار ! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر ‘ تو ہی دعا سننے والا ہے ۔ “…………اس پرسوز اور پرکیف دعا کا نتیجہ کیا ہوا ؟ یہ فوراً قبول ہوئی اور اب یہ اولاد اور یہ قبولیت زمان ومکان کی قید سے ماوراء تھی ۔ عام معتادطریقے سے نظام ہٹ گیا ۔ اس لئے کہ اصل سبب تو مشیئت الٰہی ہے ۔

آل عمران 3:39

وہ دعا جو دل سے نکلی اور پاک دل سے نکلی وہ قبول ہوگئی ۔ اس لیے کہ اس دعا میں امید صرف اس ذات سے تھی جو دعا سنتا ہے۔ اور جس وقت چاہے اسے قبولیت کا جامہ پہناسکتا ہے ۔ فرشتوں نے زکریا کو ایک لڑکے کی خوشخبری دیدی ۔ اس کا نام بھی ولادت سے پہلے یحییٰ رکھ دیا گیا۔ اور صفت واخلاق بھی قبل از وقت بتادئیے گئے ۔ وہ اچھا سردار ہوگا ۔ وہ اپنی خواہشات نفس کو اچھی طرح قابو میں رکھنے والا ہوگا ۔ اور اس نے اپنے رجحانات اور میلانات کی لگام اچھی طرح تھام لی ہوگی ۔ وہ مومن ومصدق ہوگا اور اس کے پاس اللہ کا جو فرمان آئے گا اس کی تائید کرنے والا ہوگا۔ نبی صالح ہوگا اور قافلہ صلحاء کا رکن ہوگا۔ بہرحال یہ دعا قبول ہوگئی ۔ اور اس کی راہ میں وہ معمولی صورت حال حائل نہ ہوسکی جسے انسان روز مرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں ۔ اور اسے ایک اٹل قانون سمجھتے ہیں ۔ اور پھر یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اللہ کی مشیئت بھی اسی قانون کی پابند ہے ۔ انسان جن امور کا مشاہدہ کرتا ہے اور پھر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہ قانون ہے اور اس سے انحراف ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک نسبتی امر ہے ۔ یہ کوئی آخری مشاہدہ نہیں ہوتا ۔ انسان کی عمر محدود ہے ۔ اور اس کا علم محدود ہے ۔ انسانی عقل طبیعات کے حدود کے اندر محدود ہے ۔ وہ اللہ کے انتہائی قانون تک رسائی بھی نہیں پاسکتی ۔ نہ وہ حقیقت مطلقہ کا ادراک کرسکتی ہے ۔ کیا انسان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ذر انسان بن کر رہے ۔ کیا اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ ” ابار قدر خودبش اس “ کے مطابق اپنی حدود میں رہے اور اس وادی بےکنار میں بغیر کسی راہنمائے باخبر کے داخل ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ ممکنات اور مستحیلات کی وادی بےکراں ہے ۔ تعجب ہے کہ انسان اللہ کی مشیئت کے لئے وہ دائرہ تجویز کرتا ہے جو خود اس کے تجربے میں ہو اور جو اس کے علم قلیل کا دائرہ ہے۔ دعائے پر سوز کی یہ قبولیت خود حضرت زکریا (علیہ السلام) کے لئے بھی تعجب خیر تھی ‘ بہرحال حضرت زکریا بھی تو انسان ہی تھے ۔ چناچہ ان کے دل میں بھی یہ شوق پیدا ہوا کہ وہ دیکھیں کہ یہ خارق العادۃ واقعہ کیسے ظہور پذیر ہوگا ‘ حالانکہ انسان کا روز مرہ کا مشاہدہ اس کے خلاف ہے ۔

آل عمران 3:40

” زکریا نے کہا پروردگار ‘ بھلا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہوگا۔ میں تو بہت بوڑھا ہوچکا ہوں اور میر بیوی بانجھ ہے ۔ “ اس کا جواب بڑی سادگی اور بڑی آسانی سے دیدیا جاتا ہے بات اپنی جگہ تک آجاتی ہے ۔ اور ایسی حقیقت کو پیش کردیا جاتا ہے جس کے فہم میں کوئی مشکل نہیں ہے۔ اور جس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی تعجب نہیں ہوتا۔ قَالَ كَذَلِكَ اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ……………” اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ “ یہی طریقہ ہے ‘ جو فی الحقیقت روبعمل ہے ۔ رات دن دہرایا جاتا ہے ۔ اللہ کی مشیئت کام کرتی رہتی ہے ۔ اللہ کے کام روز وشب یونہی ہوتے ہیں ۔ لیکن لوگ ان واقعات پر اچھی طرح غور نہیں کرتے ۔ وہ اللہ کی اس کاریگری کا گہرا مشاہدہ اور اس پر غور نہیں کرتے ۔ اور حقائق کو ذہن نشین نہیں کرتے ۔ یونہی بسہولت ‘ بہ روانی وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ۔ اس میں اس کے لئے کیا مشکل ہے کہ زکریا کو بیٹا دیدے ۔ اگرچہ وہ بوڑھا ہوگیا ہو اور اس کی عورت بانجھ ہوگئی ہو ۔ بوڑھا ہونا اور بانجھ ہونا تو انسانوں کا مشاہدہ ہے ۔ جس پر وہ اپنے لئے قواعد بناتے ہیں ۔ اس لئے اپنے لئے ضابطہ بناتے ہیں ۔ رہے اللہ تعالیٰ تو وہ انسانی ذہن کے قوانین وقیاسات کے پابند کیسے ہوگئے ۔ وہ تو جس طرح چاہے تجربات کو پھیر دے ۔ اس کی مشیئت تو ہر قید سے آزاد ہے ۔

آل عمران 3:41

لیکن حضرت زکریا کا را ہوار شوق سرپٹ دوڑ رہا تھا ‘ بہرحال وہ بھی انسان تھے اچانک خوشخبری سن کر پریشان ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اپنے رب سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے لئے اس اعجوبے کے ظہور کے لئے کوئی علامت مقرر فرمادیں تاکہ وہ مطمئن ہوکر انتظار کریں ۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِي آيَةً……………” میرے رب میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے ۔ “………اب اللہ تعالیٰ ان کے لئے حقیقی اطمینان کا انتظام فرماتے ہیں ۔ خود انہیں ان کی روز مرہ معمولات کے دائرے سے ذرا باہر لایا جاتا ہے ۔ قرار دیا جاتا ہے کہ علامت یہ ہوگی کہ تین دن کے لئے تیری زبان بند ہوجائے گی ‘ وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ بات نہ کرسکیں گے ۔ صرف اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ اللہ کا ذکر کریں گے اور اس کی تسبیح وتہلیل کریں گے ۔ قَالَ آيَتُكَ أَلا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ إِلا رَمْزًا وَاذْكُرْ رَبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالإبْكَارِ ” کہا :” نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سواء کوئی بات نہ کرسکوگے ۔ اس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہنا ۔ “………یہاں قرآن مجید خاموش ہوجاتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ واقعہ عملاً ایسا ہوا ۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی زبان بند ہوگئی۔ اور وہ تمام روز مرہ کی زندگی سے نکل آئے ۔ لوگوں کی روز مرہ زندگی کا قانون بھی معطل ہوگیا۔ دیکھو اس کی یہی زبان تھی جو زور سے چلتی تھی ۔ آج بند ہے ۔ لوگوں سے بات بند ہے اور اللہ سے مناجات جاری ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اب وہ کس قانون فطرت پر جارہے ہیں ؟ وہ قانون یہ ہے کہ الٰہ مطلق کی مشیئت ہر قید وبند سے آزاد ہے ۔ اگر ہم اپنی زندگی میں یہ اصول تسلیم نہ کریں گے تو پھر ان خوارق عادت معاملات کی اور کیا توجیہ کرسکتے ہیں ۔ ہم اس بوڑھے اور عمر رسیدہ عورت کے ہاں اولاد کی پیدائش کی اور کیا توجیہ کرسکتے ہیں۔ یہ خارق عادت واقعہ یہاں اس لئے بیان کیا گیا کہ آگے عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا اصل خارق واقعہ بیان کیا جائے ۔ جس کی وجہ سے بیشمار شبہات اور ناقابل یقین نظریات وجود میں آگئے تھے ۔ پیدائش مسیح (علیہ السلام) دراصل اللہ کی تعالیٰ کی بےقید مشیئت کے سلسلہ واقعات میں سے ایک واقعہ تھا ۔ یہاں سے پیدائش مسیح کا واقعہ شروع کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے حضرت مریم کو اس روذح کی قبولیت کے لئے ‘ عبادت اور رجوع الی اللہ کے ذریعہ پاک کیا جاتا ہے۔

آل عمران 3:42

یہ برگزیدگی کیا تھی ؟ وہ یہ کہ اللہ براہ راست اس کے اندر اپنی ایک روح ڈالنے والے تھے ۔ جس طرح اللہ نے حضرت آدم کے جسد خاکی میں سب سے پہلے روح ڈالی تھی ۔ اور پھر یہ خارق العادۃ واقعہ پوری انسانیت کے سامنے پیش کیا گیا اپنے خاص طریقے کے مطابق ‘ فی الواقع یہ تاریخ انسانیت کی ایک منفرد برگزیدگی ہے ۔ اور بلاشبہ ایک عظیم واقعہ ہے ………لیکن آج تک اس عظیم واقعہ کا انسانیت کو صحیح علم نہ تھا ۔ یہاں صفائی کی طرف اشارہ کرکے یہ تاثر دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے بارے میں یہودی جو شبہات پھیلاتے تھے اور جو رکیک حملے کرتے تھے ‘ وہ قابل مذمت ہیں ۔ وہ حضرت مریم کی پاکیزگی میں شکوک و شبہات پھیلاتے تھے اور ان کی دلیل یہ تھی کہ آج تک تاریخ انسانیت میں ایسی خارق العادۃ پیدائش کا واقعہ نہیں ہوا ہے۔ اس لئے یہ یہودی (اللہ انہیں غارت کرے) کہتے تھے کہ اس واقعہ کے پیچھے کوئی ناپسندیدہ راز ہے۔ یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی عظمت کا کیا مقام ہے ‘ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کا منبع صافی کس قدر بلند اور قابل اعتماد ہے ۔ رسول ﷺ پر اہل کتاب ‘ بشمول نصاریٰ قسم قسم کے الزامات عائدکر رہے تھے ۔ آپ کی تکذیب کررہے تھے ۔ آپ کے دشمن تھے اور جدل وجدال پر ہر وقت آمادہ رہتے تھے ۔ اسلام کی حقانیت کے خلاف شبہات پھیلاتے تھے ۔ لیکن دیکھئے وہ اپنے رب کی جانب سے یہ پیغام لاتے ہیں کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی حقیقت یہ ہے اور یہ کہ وہ تمام دنیا کی عورتوں پر فضیلت رکھتی ہیں ۔ یوں اسلام حضرت مریم کے مقام کو بلند آفاق تک اونچا کردیتا ہے ۔ لیکن موقعہ ومحل ایسا ہے کہ حضرت مریم کے پیروکار آپ کے ساتھ بحث ومناظرہ کے لئے آئے ہوئے ہیں ۔ اور حضرت مریم (علیہ السلام) کی تعظیم کو آپ کے لئے جواز بناتے ہیں کہ وہ رسول ﷺ پر ایمان نہ لائیں ۔ اور حضرت محمد ﷺ کے دین کی تکذیب کریں۔ کیا سچائی ہے یہ ‘ کس قدر عظمت ہے یہ اسلام کی ‘ اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ رسول ﷺ سچے ہیں اور ایک سچے منبع سے فیض یاب ہیں ۔ آپ پر وحی لانے والے بھی سچے ہیں ۔ وہ سچائی سے اپنے رب سے لیتے ہیں ۔ وہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حق میں جو سچائی پاتے ہیں اس کا اعلان کردیتے ہیں ۔ اگر آپ اللہ کے سچے رسول نہ ہوتے تو وہ ان حالات میں اپنے دشمنوں کے متعلق اس سچائی کا اظہار نہ کرتے ۔

آل عمران 3:43

يَا مَرْيَمُ اقْنُتِي لِرَبِّكِ وَاسْجُدِي وَارْكَعِي مَعَ الرَّاكِعِينَ……………” اے مریم ! رب کی تابع فرمان بن کر رہ ‘ اس کے آگے سر بسجود ہو ‘ اور جو بندے اس کے سامنے جھکنے والے ہیں ‘ ان کے ساتھ تو بھی جھک ۔ “………یعنی خضوع وخشوع اختیار کر ‘ اللہ کی طاعت و عبادت میں مصروف رہ ‘ اور ایسی زندگی بسر کر جو اللہ سے جڑی ہوئی ہو اور یہ سب کچھ عظیم ذمہ داری ادا کرنے کے لئے ‘ جو آنے والی ہے۔

آل عمران 3:44

یہ اشارہ اس واقعہ کی طرف ہے جب ہیکل کے خدام کے درمیان یہ تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ ان میں سے کون اس کا سرپرست ہو ‘ جب اس کی ماں اسے لیکر ہیکل میں آئیں۔ وہ اسی وقت چھوٹی بچی تھی ۔ ماں اس لئے لائی تھی کہ وہ اپنی نذر پوری کرے اور جو عہد اس نے اپنے رب کے ساتھ کیا ہے۔ اسے پورا کرے ۔ اس آیت میں ایسے واقعہ کا ذکر ہے جو عہد قدیم میں مذکور نہیں ہے اور نہ عہد جدید میں مذکور ہے یعنی ان نسخوں میں جو آج کل مروج ہیں ‘ لیکن یہ بات ایسی تھی جو احبار اور رہبان کے درمیان معروف تھی ۔ یعنی خدام کا قلمیں پھینکنے کا واقعہ اس دور میں مشہور واقعہ تھا۔ اور یہ اس لئے تھا کہ کون اس کی کفالت کرے ۔ قرآن کریم نے اس واقعہ کی تفصیلات نہیں دی ہیں ۔ اور شاید اس لئے کہ سامعین قرآن کے نزدیک یہ واقعہ مشہور ومعروف ہوگا۔ یا یہ کہ قرآن کریم نے واقعہ بتادیا اور اس سے زیادہ تفصیلات بتانے کی ضرورت محسوس نہ کی کیونکہ واقعہ ہی یہ اسی قدر ہوگا۔ مثلاً انہوں نے کفالت کے لئے کوئی ایسا طریقہ طے کرلیا ہوگا۔ یعنی قلمیں پھینک کر یہ معلوم کرتے ہوں گے کہ کفالت کس کے حصے میں آئے۔ جیسا کہ آج کل قرعہ اندازی میں ہوتا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی قلمیں نہر اردن میں پھینکیں ‘ تو سب قلمیں موجوں کے ساتھ بہہ گئیں مگر زکریا کی قلم اپنی جگہ ٹھہری رہی اور یہ ان کے درمیان علامت تھی کہ کفالت کس کے حصے میں آئے ۔ بہرحال یہ سب واقعات پردہ غیب میں تھے ۔ اس وقت نبی ﷺ حاضر نہ تھے ۔ نیز رسول ﷺ کے علم تک بھی یہ بات نہ پہنچی تھی ۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بات اہل ہیکل کے خفیہ رازوں میں سے ہو جسے عوام کے لئے شائع کرنا منع ہو ‘ اور قرآن نے اس کا افشا کرکے ‘ اس وقت کے علمائے اہل کتاب کو بتایا کہ حضرت محمد ﷺ رسول صادق ہیں اور قرآن کریم وحی الٰہی پر مبنی ہے ۔ کسی روایت میں یہ نہیں ہے کہ اہل کتاب آئے بھی مناظرہ کے لئے تھے ۔ اگر ان کے ہاں یہ واقعہ نہ ہوتا تو کہتے کہ ایسا کوئی واقعہ ہی سرے سے نہیں ہوا۔ اب یہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کا واقعہ شروع ہوتا ہے ۔ لوگوں کے معمولات کے مطابق یہ عظیم اعجوبہ ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی معمول کے مطابق مشیئت کی جو شان ہوتی ہے وہ اس کے خلاف ہے۔

آل عمران 3:45

حضرت مریم (علیہ السلام) اپنی پاکیزگی ‘ اپنی یکسوئی اور اپنی پیہم عبادت گزاری کی وجہ سے اس بات کی اہل ہوئیں کہ وہ اس کے اس فعل کو قبول کرسکیں اور اس عظیم واقعہ کے لئے تیار ہوسکیں ۔ اور دیکھئے اب وہ تیار ہیں اور اب ملائکہ ان کے ساتھ ہمکلام ہورہے ہیں ۔ انہیں اطلاع دی جاتی ہے ۔ إِذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلا وَمِنَ الصَّالِحِينَ ” اور جب فرشتوں نے کہا ” اے مریم ! اللہ تجھے ایک فرمان کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اس کا نام مسیح بن مریم ہوگا۔ دنیا وآخرت میں معزز ہوگا ‘ اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا ۔ لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور وہ ایک مرد صالح ہوگا۔ “ اس آیت میں بات پوری طرح کھول کر انہیں بشارت دی گئی ہے ۔ یہ بشارت اللہ کے کلام (فرمان) سے متعلق ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ نحو کے اعتبار سے لفظ مسیح کلمہ کا بدل یعنی کلمہ مسیح ابن مریم ہیں ۔ اب اس تعبیر کلام کے بعد کوئی بات ہی نہیں رہتی ………یہ اور اس قسم کے دوسرے بیشمار امور ‘ اصل غیبی امور ہیں اور ان کی ماہیت تک رسائی پوری طرح ممکن نہیں ہوتی ۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ امور ان متشابہات میں سے ہوں ‘ جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں کہا گیا : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ” وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے ۔ اس کتاب میں دوطرح کی آیات درج ہیں ‘ ایک محکمات ‘ جو کتاب کی اصل بنیادیں ہیں اور دوسری متشابہات ‘ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ‘ وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔ اور ان کو معنی پہنانے کی توثیق کرتے ہیں ۔ “………لیکن اس معاملے کا سمجھنا بہت ہی آسان ہے اگر ہم اسے اللہ ترسی کے ساتھ سمجھنا چاہیں ۔ اور اللہ کی کاریگری اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہمارے ذہن میں ہوں اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ اللہ کی مشیئت اور حدود وقیود سے آزد ہے جو اس نے اس جہاں رانی کے لئے خود وضع کئے ہیں ۔ اللہ نے جب چاہا تو اس نے مٹی سے آدم کو پیدا کیا ‘ اب تخلیق آدم براہ راست مٹی سے ہوئی اور مٹی میں نفخ روح ہواہو یا ابتدائی جرثومہ پیدا کیا گیا ہو اور وہ وجود آدم پر منتج ہوا۔ میں یہاں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ تخلیق آدم مجسمے سے ہوئی یا جرثومے سے ۔ اس لئے کہ ان دونوں صورتوں میں وہ راز راز ہی رہتا ہے ۔ جسے ہم رازحیات کہتے ہیں ۔ وہ راز جس نے پہلی مخلوق کو حیات عطا کی ۔ یا جس طرح آدم کے پہلے مجسمے میں روح ڈالی گئی یا جرثومے میں ڈالی دونوں صورتوں میں یہ ایک عظیم اعجاز اور معجزہ ہے ۔ اس لئے کہ جرثومہ زندہ ہو یا پورے انسان کی زندگی میں یکدم روح ڈال دی جائے ۔ دونوں صورتیں معجزہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ زندگی کہاں سے آئی ؟ کیسے آئی ؟ بہرحال ہم یہ بات قطعیت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ زندگی مٹی اور ان تمام مردہ عناصر سے علیحدہ کوئی چیز ہے ۔ یہ ایک زائد چیز ہے ۔ یہ عناصر سے علیحدہ ایک حقیقت ہے ۔ اس کے کچھ آثار ہیں ۔ اس کی کچھ علامات ہیں جو مٹی یا دوسرے عناصر کے اندر موجود نہیں ہیں ۔ نہ دوسرے مردہ مادیات میں موجود ہوتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ راز یعنی حیات کی اصلیت کیا ہے ؟ یہ بات کافی نہیں ہے کہ اس حقیقت کا انکار کرنے کے لئے ہم صرف یہ کہہ دیں کہ ہم نہیں جانتے ۔ جیسا کہ آج کل مادہ پرست عاجز آکر یہ کہہ جاتے ہیں لیکن ان کی اس بات کو نہ کوئی عقلمند آدمی اہمیت دیتا ہے نہ کوئی عالم اسے تسلیم کرتا ہے۔ اس راز کو ہم اس حقیقت کے باوجود نہیں جانتے کہ ہم نے راز حیات کے پانے کے سلسلے میں آج تک انتہائی کوششیں کیں لیکن وہ راز ہم نہ پاسکے ۔ اس لئے کہ ہم نے اس راز کو معروف مادی ذرائع سے پانے کی کوششیں کیں ۔ اور وہ اکارت گئیں ۔ ہم نے زندگی کو موت کے جنگل سے چھڑانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے ۔………ہم نہیں جانتے لیکن اللہ جس نے موت وحیات کی تخلیق کی وہ تو جانتا ہے ۔ وہ کہتا ہے ” اس نے اپنی روح اس میں پھونک دی “ اور اس کا اظہار اس نے لفظ کُن فَیَکُونُ سے کیا ۔ یعنی ” ہوجا “ پس ہوگیا۔ اب یہ نفخ روح کیا ہے ؟ کس طرح حالت موت پر یہ نفخ روح ہوتی ہے اور وہ حالت حیات میں بدل جاتی ہے اور یہ راز لطیف راز فہم سے باہر رہتا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کی کیفیت کیا ہے ؟ یہ وہ ماہیت وکیفیت ہے جس کا ادراک عقل بشری کے دائرہ قدرت سے باہر ہے ۔ کیونکہ یہ اس کی شان اور مقام سے باہر ہے ۔ اسے یہ قدرت ہی نہیں دی گئی کہ وہ اس کا ادراک کرسکے ۔ اس کے کاسہ سر میں یہ سمندروں جیسی حقیقت سماہی نہیں سکتی ؟ اس لئے انسان کا ایک اپنا مقصد تخلیق ہے ۔ اس کے یہاں کچھ فرائض ہیں ۔ یعنی فریضہ خلافت فی الارض اس کے لئے اسے اس راز سے آگاہی ضروری نہیں ہے ۔ وہ یہاں حیات وموت کے کاروبار کے لئے نہیں پیدا کیا گیا تاکہ اسے حیات کی ماہیت بنائی جائے ۔ اسے نفخ روح کی کیفیت سے آگاہ کیا جائے اور زندگی کی یہ پہلی سیڑھی پر اس زندگی کا اتصال ذات آدم سے کیسے ہوا ؟ جب ان میں زندگی کاست ڈالا گیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ جب انہوں نے حضرت آدم میں اپنی روح پھونکی تو اس کی وجہ سے حضرت آدم کو یہ اعزاز حاصل ہوا یہاں تک کہ ان کو ملائکہ پر بھی فوقیت دی گئی ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ یہ اعزاز اور یہ حیات جرثومے اور میکر بادت کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے ۔ یہی وہ نفخ روح ہے جس کی وجہ سے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس کرہ ارض پر انسان ایک ایسی جنس ہے ۔ اس کی تخلیق خاص طور پر علیحدہ ہوئی ہے ۔ اور اس کائنات میں اس کا معتبر اور مکرم مقام ہے ۔ جو دوسری زندہ چیزوں کو حاصل نہیں ہے۔ بہرحال یہاں ہمارا موضوع تخلیق انسان نہیں ہے ۔ سیاق کلام میں کچھ دیر کے لئے ہم نے اسی نکتے پر اس لئے روشنی ڈالی ہے کہ بعض اوقات ایک قاری کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے۔ کہ انسان کی پیدائش اس طریقے پر کیسے ممکن ہے ۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں راز حیات سے ہمیں آگاہ فرماتے ہیں ۔ اگرچہ ہم اس کی ماہیت نہیں پاسکتے ۔ اگرچہ ہم مردہ میں نفخ روح کی کیفیت کا ادراک نہیں کرسکتے لیکن راز حیات کو تو سمجھ سکتے ہیں …………حضرت آدم (علیہ السلام) کو براہ راست پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے پھر پیدائش انسانیت کے لئے ایک طبعی راہ متعین کردی ۔ یعنی میاں بیوی کے ملاپ کے نتیجے میں قافلہ انسانیت رواں دواں ہوا۔ یعنی بیوی کے پیدا کردے انڈے کے ساتھ مرد کے جرثومے کے ملاپ یوں گود ہری ہوئیں ‘ نسلیں چلیں جس طرح یہ انڈہ زندہ ہے ۔ اس طرح یہ جرثومہ بھی زندہ ہے ۔ دونوں متحرک ہیں۔ قافلہ حیات اس شاہراہ پر چل پڑا اور لوگ اس کے عادی ہوگئے ۔ اب ایک مقام ایسا آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیش پا افتادہ راستے کو بدل دیا ۔ مروجہ اصل ایک محدود وقت کے لئے معطل کردیا گیا۔ ایک فرد کے بارے میں اس قاعدے کو معطل کردیا اور ایک مثال ایسی پیدا کردی گئی جو آدم (علیہ السلام) کی شکل میں ہو۔ اگرچہ بتمامہ اس جیسی نہ ہو ۔ یہاں اب صرف عورت سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ وہی روح اس عورت میں پھونک دی جاتی ہے جس کی ابتدائی تخلیق ہوئی ۔ اور اس عورت کے رحم میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے ۔ یہاں لاہوتی سوالات پیدا ہوئے ۔ کیا یہ نفخ کلمہ ہے ؟ کیا کلمہ ارادے کے متوجہ ہونے کا نام ہے ؟ کیا کلمہ کن ہے ؟ جو کبھی حقیقت ہوتا ہے اور کبھی محض توجہ ارادہ سے کنایہ ہوتا ہے۔ کیا کلمہ خود حضرت عیسیٰ ہیں یاکلمہ وہ ہے جس سے وہ وجود میں آئے ؟…………یہ تمام مباحث ایسے ہیں جن سے شبہات ہی حاصل ہوسکتے ہیں ۔ ان مباحث کے نتیجے میں یقین حاصل نہیں ہوتا ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ایک زندگی ایسی وجود میں لانی تھی جس کی کوئی مثال نہ ہو۔ اس نے اپنے بےقید ارادے کے ذریعے اسے وجود بخشا ۔ اس زندگی میں اپنی جانب سے ایک روح پیدا کی ۔ ہمیں اس روح کے آثار تو نظر آتے ہیں لیکن ہم اس کی ماہیت اور کیفیت ادراک سے قاصر ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم اس سے قاصر رہیں ۔ اس لئے کہ اس ادراک کی وجہ سے ہماری اس قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا جو ہمیں اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے ۔ یہ معاملہ ‘ اس صورت میں بہت سہولت کے ساتھ سمجھاجاسکتا ہے اور اس صورت میں اس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی شبہ بھی پیدا نہیں ہوتا…………غرض ملائکہ نے حضرت مریم کو بشارت دی ۔ اس بشارت میں اللہ کی جانب سے فرمان آنا تھا ‘ اس فرمان کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم بتایا گیا۔ ان کی نوع ‘ ونسب کا بھی ذکر کردیا گیا ۔ نسب نامہ مان کی طرف راجع ہوا۔ بشارت میں ان کی صفات اور اللہ کے ہاں ان کے لئے رتبہ بلند کا ذکر کیا گیا ۔ دنیا وآخرت میں ان کی وجاہت کا ذکر بھی ہوا اور یہ اعلان بھی ہوا کہ وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔ اور یہ ذکر بھی ہوا کہ پیدا ہوتے ہی اس سے معجزات کا ظہور شروع ہوگا۔” گہوارے “ ہی میں لوگوں سے باتیں شروع کردے گا ۔ یعنی جوانی میں بھی بات کرے گا ۔ اور اس کی صفات میں سے اہم صفت یہ ہوگی کہ وہ قافلہ صالحین میں سے ہوگا۔

آل عمران 3:46

حضرت مریم (علیہ السلام) اپنی پاکیزگی ‘ اپنی یکسوئی اور اپنی پیہم عبادت گزاری کی وجہ سے اس بات کی اہل ہوئیں کہ وہ اس کے اس فعل کو قبول کرسکیں اور اس عظیم واقعہ کے لئے تیار ہوسکیں ۔ اور دیکھئے اب وہ تیار ہیں اور اب ملائکہ ان کے ساتھ ہمکلام ہورہے ہیں ۔ انہیں اطلاع دی جاتی ہے ۔ إِذْ قَالَتِ الْمَلائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلا وَمِنَ الصَّالِحِينَ ” اور جب فرشتوں نے کہا ” اے مریم ! اللہ تجھے ایک فرمان کی خوشخبری دیتا ہے ۔ اس کا نام مسیح بن مریم ہوگا۔ دنیا وآخرت میں معزز ہوگا ‘ اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا ۔ لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی اور وہ ایک مرد صالح ہوگا۔ “ اس آیت میں بات پوری طرح کھول کر انہیں بشارت دی گئی ہے ۔ یہ بشارت اللہ کے کلام (فرمان) سے متعلق ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا۔ نحو کے اعتبار سے لفظ مسیح کلمہ کا بدل یعنی کلمہ مسیح ابن مریم ہیں ۔ اب اس تعبیر کلام کے بعد کوئی بات ہی نہیں رہتی ………یہ اور اس قسم کے دوسرے بیشمار امور ‘ اصل غیبی امور ہیں اور ان کی ماہیت تک رسائی پوری طرح ممکن نہیں ہوتی ۔ اور ہوسکتا ہے کہ یہ امور ان متشابہات میں سے ہوں ‘ جن کے بارے میں اس سورت کے آغاز میں کہا گیا : هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ ” وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے ۔ اس کتاب میں دوطرح کی آیات درج ہیں ‘ ایک محکمات ‘ جو کتاب کی اصل بنیادیں ہیں اور دوسری متشابہات ‘ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ‘ وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں ۔ اور ان کو معنی پہنانے کی توثیق کرتے ہیں ۔ “………لیکن اس معاملے کا سمجھنا بہت ہی آسان ہے اگر ہم اسے اللہ ترسی کے ساتھ سمجھنا چاہیں ۔ اور اللہ کی کاریگری اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہمارے ذہن میں ہوں اور ہمیں یہ معلوم ہو کہ اللہ کی مشیئت اور حدود وقیود سے آزد ہے جو اس نے اس جہاں رانی کے لئے خود وضع کئے ہیں ۔ اللہ نے جب چاہا تو اس نے مٹی سے آدم کو پیدا کیا ‘ اب تخلیق آدم براہ راست مٹی سے ہوئی اور مٹی میں نفخ روح ہواہو یا ابتدائی جرثومہ پیدا کیا گیا ہو اور وہ وجود آدم پر منتج ہوا۔ میں یہاں اس بحث میں نہیں پڑتا کہ تخلیق آدم مجسمے سے ہوئی یا جرثومے سے ۔ اس لئے کہ ان دونوں صورتوں میں وہ راز راز ہی رہتا ہے ۔ جسے ہم رازحیات کہتے ہیں ۔ وہ راز جس نے پہلی مخلوق کو حیات عطا کی ۔ یا جس طرح آدم کے پہلے مجسمے میں روح ڈالی گئی یا جرثومے میں ڈالی دونوں صورتوں میں یہ ایک عظیم اعجاز اور معجزہ ہے ۔ اس لئے کہ جرثومہ زندہ ہو یا پورے انسان کی زندگی میں یکدم روح ڈال دی جائے ۔ دونوں صورتیں معجزہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ زندگی کہاں سے آئی ؟ کیسے آئی ؟ بہرحال ہم یہ بات قطعیت کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ زندگی مٹی اور ان تمام مردہ عناصر سے علیحدہ کوئی چیز ہے ۔ یہ ایک زائد چیز ہے ۔ یہ عناصر سے علیحدہ ایک حقیقت ہے ۔ اس کے کچھ آثار ہیں ۔ اس کی کچھ علامات ہیں جو مٹی یا دوسرے عناصر کے اندر موجود نہیں ہیں ۔ نہ دوسرے مردہ مادیات میں موجود ہوتی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ راز یعنی حیات کی اصلیت کیا ہے ؟ یہ بات کافی نہیں ہے کہ اس حقیقت کا انکار کرنے کے لئے ہم صرف یہ کہہ دیں کہ ہم نہیں جانتے ۔ جیسا کہ آج کل مادہ پرست عاجز آکر یہ کہہ جاتے ہیں لیکن ان کی اس بات کو نہ کوئی عقلمند آدمی اہمیت دیتا ہے نہ کوئی عالم اسے تسلیم کرتا ہے۔ اس راز کو ہم اس حقیقت کے باوجود نہیں جانتے کہ ہم نے راز حیات کے پانے کے سلسلے میں آج تک انتہائی کوششیں کیں لیکن وہ راز ہم نہ پاسکے ۔ اس لئے کہ ہم نے اس راز کو معروف مادی ذرائع سے پانے کی کوششیں کیں ۔ اور وہ اکارت گئیں ۔ ہم نے زندگی کو موت کے جنگل سے چھڑانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے ۔………ہم نہیں جانتے لیکن اللہ جس نے موت وحیات کی تخلیق کی وہ تو جانتا ہے ۔ وہ کہتا ہے ” اس نے اپنی روح اس میں پھونک دی “ اور اس کا اظہار اس نے لفظ کُن فَیَکُونُ سے کیا ۔ یعنی ” ہوجا “ پس ہوگیا۔ اب یہ نفخ روح کیا ہے ؟ کس طرح حالت موت پر یہ نفخ روح ہوتی ہے اور وہ حالت حیات میں بدل جاتی ہے اور یہ راز لطیف راز فہم سے باہر رہتا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کی کیفیت کیا ہے ؟ یہ وہ ماہیت وکیفیت ہے جس کا ادراک عقل بشری کے دائرہ قدرت سے باہر ہے ۔ کیونکہ یہ اس کی شان اور مقام سے باہر ہے ۔ اسے یہ قدرت ہی نہیں دی گئی کہ وہ اس کا ادراک کرسکے ۔ اس کے کاسہ سر میں یہ سمندروں جیسی حقیقت سماہی نہیں سکتی ؟ اس لئے انسان کا ایک اپنا مقصد تخلیق ہے ۔ اس کے یہاں کچھ فرائض ہیں ۔ یعنی فریضہ خلافت فی الارض اس کے لئے اسے اس راز سے آگاہی ضروری نہیں ہے ۔ وہ یہاں حیات وموت کے کاروبار کے لئے نہیں پیدا کیا گیا تاکہ اسے حیات کی ماہیت بنائی جائے ۔ اسے نفخ روح کی کیفیت سے آگاہ کیا جائے اور زندگی کی یہ پہلی سیڑھی پر اس زندگی کا اتصال ذات آدم سے کیسے ہوا ؟ جب ان میں زندگی کاست ڈالا گیا۔ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ جب انہوں نے حضرت آدم میں اپنی روح پھونکی تو اس کی وجہ سے حضرت آدم کو یہ اعزاز حاصل ہوا یہاں تک کہ ان کو ملائکہ پر بھی فوقیت دی گئی ۔ لہٰذا ضروری ہے کہ یہ اعزاز اور یہ حیات جرثومے اور میکر بادت کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے ۔ یہی وہ نفخ روح ہے جس کی وجہ سے ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس کرہ ارض پر انسان ایک ایسی جنس ہے ۔ اس کی تخلیق خاص طور پر علیحدہ ہوئی ہے ۔ اور اس کائنات میں اس کا معتبر اور مکرم مقام ہے ۔ جو دوسری زندہ چیزوں کو حاصل نہیں ہے۔ بہرحال یہاں ہمارا موضوع تخلیق انسان نہیں ہے ۔ سیاق کلام میں کچھ دیر کے لئے ہم نے اسی نکتے پر اس لئے روشنی ڈالی ہے کہ بعض اوقات ایک قاری کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے۔ کہ انسان کی پیدائش اس طریقے پر کیسے ممکن ہے ۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں راز حیات سے ہمیں آگاہ فرماتے ہیں ۔ اگرچہ ہم اس کی ماہیت نہیں پاسکتے ۔ اگرچہ ہم مردہ میں نفخ روح کی کیفیت کا ادراک نہیں کرسکتے لیکن راز حیات کو تو سمجھ سکتے ہیں …………حضرت آدم (علیہ السلام) کو براہ راست پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے پھر پیدائش انسانیت کے لئے ایک طبعی راہ متعین کردی ۔ یعنی میاں بیوی کے ملاپ کے نتیجے میں قافلہ انسانیت رواں دواں ہوا۔ یعنی بیوی کے پیدا کردے انڈے کے ساتھ مرد کے جرثومے کے ملاپ یوں گود ہری ہوئیں ‘ نسلیں چلیں جس طرح یہ انڈہ زندہ ہے ۔ اس طرح یہ جرثومہ بھی زندہ ہے ۔ دونوں متحرک ہیں۔ قافلہ حیات اس شاہراہ پر چل پڑا اور لوگ اس کے عادی ہوگئے ۔ اب ایک مقام ایسا آگیا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیش پا افتادہ راستے کو بدل دیا ۔ مروجہ اصل ایک محدود وقت کے لئے معطل کردیا گیا۔ ایک فرد کے بارے میں اس قاعدے کو معطل کردیا اور ایک مثال ایسی پیدا کردی گئی جو آدم (علیہ السلام) کی شکل میں ہو۔ اگرچہ بتمامہ اس جیسی نہ ہو ۔ یہاں اب صرف عورت سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ وہی روح اس عورت میں پھونک دی جاتی ہے جس کی ابتدائی تخلیق ہوئی ۔ اور اس عورت کے رحم میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے ۔ یہاں لاہوتی سوالات پیدا ہوئے ۔ کیا یہ نفخ کلمہ ہے ؟ کیا کلمہ ارادے کے متوجہ ہونے کا نام ہے ؟ کیا کلمہ کن ہے ؟ جو کبھی حقیقت ہوتا ہے اور کبھی محض توجہ ارادہ سے کنایہ ہوتا ہے۔ کیا کلمہ خود حضرت عیسیٰ ہیں یاکلمہ وہ ہے جس سے وہ وجود میں آئے ؟…………یہ تمام مباحث ایسے ہیں جن سے شبہات ہی حاصل ہوسکتے ہیں ۔ ان مباحث کے نتیجے میں یقین حاصل نہیں ہوتا ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ایک زندگی ایسی وجود میں لانی تھی جس کی کوئی مثال نہ ہو۔ اس نے اپنے بےقید ارادے کے ذریعے اسے وجود بخشا ۔ اس زندگی میں اپنی جانب سے ایک روح پیدا کی ۔ ہمیں اس روح کے آثار تو نظر آتے ہیں لیکن ہم اس کی ماہیت اور کیفیت ادراک سے قاصر ہیں ۔ ہم پر فرض ہے کہ ہم اس سے قاصر رہیں ۔ اس لئے کہ اس ادراک کی وجہ سے ہماری اس قوت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا جو ہمیں اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے ۔ یہ معاملہ ‘ اس صورت میں بہت سہولت کے ساتھ سمجھاجاسکتا ہے اور اس صورت میں اس کے وقوع پذیر ہونے میں کوئی شبہ بھی پیدا نہیں ہوتا…………غرض ملائکہ نے حضرت مریم کو بشارت دی ۔ اس بشارت میں اللہ کی جانب سے فرمان آنا تھا ‘ اس فرمان کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم بتایا گیا۔ ان کی نوع ‘ ونسب کا بھی ذکر کردیا گیا ۔ نسب نامہ مان کی طرف راجع ہوا۔ بشارت میں ان کی صفات اور اللہ کے ہاں ان کے لئے رتبہ بلند کا ذکر کیا گیا ۔ دنیا وآخرت میں ان کی وجاہت کا ذکر بھی ہوا اور یہ اعلان بھی ہوا کہ وہ اللہ کے مقرب بندوں میں سے ہوگا۔ اور یہ ذکر بھی ہوا کہ پیدا ہوتے ہی اس سے معجزات کا ظہور شروع ہوگا۔” گہوارے “ ہی میں لوگوں سے باتیں شروع کردے گا ۔ یعنی جوانی میں بھی بات کرے گا ۔ اور اس کی صفات میں سے اہم صفت یہ ہوگی کہ وہ قافلہ صالحین میں سے ہوگا۔

آل عمران 3:47

مریم کنواری تھیں ‘ اس کی زندگی پاکیزہ تھی ‘ اس کی سوچ بابت ولادت ایسی ہی تھی جس طرح ماحول میں وہ دیکھ رہی تھی ‘ اس نے اس بشارت کو اسی طرح لیاجس طرح ایک جوان لڑکی اسے سمجھ سکتی ہے ‘ وہ فوراً اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئیں ‘ استدعا کی کہ یہ معملہ ان کے فہم کے لئے ناقابل حل ہے ۔ اس کی عقل حیران ہے ۔ قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ……………” میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا ‘ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا ۔ “………اس کا انہیں فوراً جواب دیا گیا ‘ اس جواب میں انہیں ایک سادہ سی حقیقت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ جسے انسان روز مرہ زندگی میں سلسلہ اسباب ومسببات کے ساتھ عادی ہوجانے کی وجہ ‘ بھول چکا ہے ۔ اس لئے کہ اس کے ذرائع علم قلیل ہیں ۔ اور وہ اپنے محدود دائرے عادت کے اندر بند رہتا ہے۔ قَالَ كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ……………” وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے۔ “ جب اللہ تعالیٰ ‘ اس معاملے کو ابتدائے آفرینش کی حقیقت سے وابستہ کرتے ہیں تو تعجب ختم ہوجاتا ہے ۔ حیرانی جاتی رہتی ہے۔ دل مطمئن ہوجاتا ہے ۔ اور انسان خود اپنے آپ سے تعجب کے ساتھ پوچھنے لگتا ہے کہ تمہیں اس قدر سادہ اور صاف بات پر تعجب کیسے ہوگیا۔ جو نہایت فطری اور قریب الفہم ہے ۔ اس طرح قرآن کریم ‘ اسلامی تصور ‘ کو اس قدر سادگی اور فطری انداز میں ‘ ایسے عظیم حقائق تک بھی پھیلا دیتا ہے۔ فطری انداز میں ‘ قریب الفہم انداز میں اور وہ شبہات جنہیں فلسفیانہ جذبات مزید الجھاتے تھے ۔ اسلام انہیں صاف کر کرے دلوں میں بٹھا دیتا ہے ۔ اور وہ عقل کے بھی قریب آجاتے ہیں۔

آل عمران 3:48

اس کے بعد اس بشارت کی مزید تفاصیل بتائی جاتی ہیں ‘ جس کی پیدائش کے لئے حضرت مریم کو منتخب کیا گیا اور جو بےمثال طریقے سے روبعمل آرہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس نئے آنے والے کی سیرت اور کردار کیا ہوگا۔ حضرت عیسیٰ کی آئندہ تاریخ بتائی جاتی ہے ۔ اب بشارت اور تاریخ مستقل ساتھ ساتھ جاری ہیں تو یا بشارت بھی ہورہی اور ساتھ ہی تاریخ بھی چلتی پھرتی ہے۔ یہ قرآن کریم کا اپنا اسلوب کلام ہے ۔ وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالإنْجِيلَ……………” اور اللہ اسے کتاب و حکمت کی تعلیم دے گا اور تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا۔ اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا۔ “ کتاب سے کبھی مراد کتابت بھی ہوتی ہے اور کبھی اس سے مرد تورات اور انجیل بھی ہوتی ہے ۔ اس صورت میں تورات اور انجیل کا عطف کتاب پر عطف بیان ہوگا۔ حکمت انسان کے ذہن میں ایسے ملکہ کا نام ہے جس کے ذریعہ وہ ہر چیز کو اپنے مقام پر رکھتا ہے۔ جس کلے ذریعہ انسان صحیح اور برے کی تمیز کرسکتا ہے ۔ اور صحیح کا اتباع کرسکتا ہے ۔ اور یہ حکمت اور ملکہ دراصل خیر کثیر ہے ۔ تورات بھی حضرت عیسیٰ کی کتاب تھی جس طرح انجیل ان کی کتاب تھی ‘ تورات اس دین کی اساس تھی جو وہ لیکر آئے تھے ۔ انجیل دراصل اسی دین کا ایک تکملہ تھا ‘ اس کے ذریعہ تورات کی اصل روح کا احیاء مطلوب تھا ‘ وہ روح جو یہودیوں سے ختم ہوگئی تھی ۔ ان کے دل اس روح سے خالی ہوگئے تھے ۔ وہ لوگ جو مسیحیت پر بحث کرتے ہیں ‘ ان میں سے اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ بات نہیں ہوتی کہ حضرت مسیح کے دین کی اصل تورات ہے ۔ اس میں وہ نظام شریعت ہے جس پر معاشرے کا نظام قائم ہے ۔ انجیل نے اس میں بہت سی کمی بیشی کی ہے ۔ وہی انجیل بذات خود تو وہ صرف احیائے دین کی ایک جدوجہد تھی ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد یہ تھا کہ ظاہری نصوص سے پیچھے جاکر انسان کے ضمیر اور اس کی روح کو پاک کیا جائے ۔ اور وہ تحریک احیائے روح کیا تھی جس کی وجہ سے معاشرے نے آپ کے خلاف سازش کی تھی ۔ وہ اور جس کے لئے آپ جدوجہد کرتے رہے تھے وہ یہ تھی :

آل عمران 3:49

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کی رسالت صرف بنی اسرائیل کے لئے تھی ۔ اس لئے کہ آپ انبیائے بنی اسرائیل میں سے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ تورات جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی ‘ اور جس میں بنی سرائیل کی زندگی کی تنظیم کے لئے شریعت موجود تھی ۔ اور جس میں باہم معاملات اور اجتماعی تنظیم کے امور طے ہوئے تھے ۔ وہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب بھی تھی ‘ ہاں اس پر انجیل کا اضافہ کیا گیا تھا ۔ اور مقصد یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں روحانی پاکیزگی پیدا کی جائے اور ان کا ضمیر جاگ اٹھے اور قلب روشن ہو۔ اور وہ معجزہ جس کی بابت اللہ نے ان کی والدہ حضرت مریم کو بشارت دی تھی کہ وہ معجزہ ان کے پاس ہوگا ۔ اور جس کے ساتھ اس نے بنی اسرائیل سے عملاً مباحثہ کیا وہ بھی یہی معجزہ احیاء تھا۔ یعنی مردہ چیز میں پھونک مار کر روح ڈال دینا ‘ اور کسی چیز کا زندہ ہوجانا ‘ اور مردہ انسانوں کو از سر نو زندہ کرنا اور مادر زاد اندھوں کو نظر عطا کیا جانا۔ اور کوڑھی کا تندرست ہونا اور غیب کی خبریں دینا مثلاً یہ کہ بنی اسرائیل نے کیا کھایا ہے اور کیا گھروں میں ذخیرہ کیا ہے ۔ جیسا کہ یہ اشیاء نظروں سے اوجھل ہوں………یہاں آیت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی جن معجزات کا اظہار ہوا ہے۔ اور جن کی بشارت حضرت مریم کو دی گئی تھی اور جن کا اظہار پھر بعد میں حضرت عیسیٰ کی زبان سے بھی ہوا۔ یہاں آیت میں باربار اس بات کی تاکید کی جاتی ہے کہ یہ سب معجزات کا جو اظہار ہوا ‘ اور جو عملاً بنی اسرائیل کے سامنے پیش بھی ہوئے ۔ یہ سب معجزات اللہ کی جانب سے تھے اور اللہ کے اذن سے تھے ۔ ہر معجزے کے بعد اذن اللہ کی تاکید کی گئی ہے۔ یہ محض اس احتیاط کی خاطر کوئی انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذاتی کمال نہ سمجھے ۔ ان تمام معجزات کا تعلق یا تو زندگی کی تخلیق سے ہے اور یا جس مخلوق سے زندگی نکل جائے ۔ اس میں دوبارہ زندگی لوٹانے سے ہے ۔ یا انسانی صحت کے ساتھ ان کا تعلق ہے جو کہ خود بقائے حیات کا ایک ذریعہ ہے ۔ یا پھر ان معاملات کو دیکھنے سے جو بظاہر نظروں سے اوجھل ہوں ۔ ان تمام معجزات کا تعلق اپنی حقیقت کے اعتبار سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے غیر معمولی تولد کے معجزے سے ہے ۔ اللہ نے حضرت عیسیٰ کو اس طریقے سے وجود بخشا جس کی کوئی مثال ماسوائے حضرت آدم کے اور نہ تھی ۔ اگر اللہ اپنی مخلوقات میں سے ایک مخلوق کے ہاتھ پر اس قسم کے معجزات کا اظہار فرماسکتے ہیں تو وہ بذات خود اس طریقے پر معجزے کے طور پر خود حضرت عیسیٰ کو کیوں پیدا نہیں کرسکتے ۔ اس لئے نہ ان شبہات کا کوئی جواز ہے جو حضرت عیسیٰ کے بارے میں پھیلائے گئے ‘ نہ ان کہانیوں کی ضرورت ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے بارے میں خود عیسائیوں نے تصنیف کیں۔ اس لئے کہ جب معاملہ اللہ کی مشئیت کا ہوجائے تو پھر کوئی استحالہ نہیں رہتا ۔ اور خود انسانی عادت اللہ پر کوئی پابندی عائد نہیں کرسکتی ۔

آل عمران 3:50

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا یہ خاتمہ ہے ۔ یعنی یہ تھی وہ دعوت جو آپ نے بنی اسرائیل کو دی ۔ اس میں انہی بنیادی نکات کی وضاحت کی گئی ہے جو ہمیشہ اللہ کے دین کے اصل نکات رہے ہیں ۔ اور جن کی طرف تمام رسول دعوت دیتے رہے ہیں ۔ اور یہ وہ حقائق ہیں جن کی بہت ہی اہمیت ہے ۔ خصوصاًجبکہ ان حقائق کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے دہرایا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ ان کی ولادت ہی وجہ نزاع تھی اور یہ نزاعات اس لئے پیدا ہوگئے تھے کہ لوگوں نے دین اور رسولوں کی حقیقت پر غور نہ کیا ۔ یعنی یہ کہ رسول بھی ایک ہیں اور ان کا دین بھی ایک ہے ۔ اس لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلأحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ……………” اور میں اس کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوں جو تورات میں سے میرے سامنے موجود ہیں ۔ اور اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان چیزوں کو حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں۔ “ یہاں وہ سچا مذہب بیان کیا جاتا ہے جو مسیحیت کا اصل مذہب تھا ۔ پس تو راقت جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی تھی اس میں وہ دین برحق پوری طرح موجود تھا ۔ اور اس میں وہ پوری شریعت موجود تھی جو اجتماعی زندگی کو بہترین طور پر منظم کرتی تھی ۔ یعنی اس دور کی ضروریات کے مطابق اور اس وقت بنی اسرائیل کے جو حالات تھے ۔ ان کی نسبت سے اور اس نقطہ نظر سے کہ اس وقت وہ انسانوں کے ایک خاص گروہ کے لئے ایک خاص نظام زندگی تھا ۔ اور حضرت مسیح اپنی رسالت میں اسی تورات پر اعتماد فرماتے تھے ۔ آپ نے تورات کی تصدیق کی ۔ ہاں اس میں بعض حرام چیزوں کو حلال کردیا گیا اور وہ چیزیں ان پر حرام بھی بطور سزا دی گئی تھیں ‘ اس لئے کہ انہوں نے بعض گناہوں اور بعض بداعمالیوں کا ارتکاب کیا تھا۔ اور ان کی تربیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو بھی حرام کردیا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بذریعہ عیسیٰ (علیہ السلام) ان پر رحم فرمایا اور وہ بعض اشیاء جو حرام کردی گئی تھیں انہوں دوبارہ حلال کردیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دین کا یہ حقیقی مزاج ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی زندگی بذریعہ قانون سازی منظم کرتا ہے ۔ دین کا مزاج صرف تہذیب اخلاق نہیں ہوتا ۔ نہ دین انسان کے تصورات اور اس کے وجدان و شعور کو درست کرنے پر اکتفا کرتا ہے ۔ نہ دین کا صرف یہ کام ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے کچھ عبادات تجویز کردے اور وہ ان مراسم عبودیت کے عابد بن کر بیٹھ جائیں ۔ ایسے جزوی مسائل ہی پر اکتفاء کرنے والا دین ‘ اپنے اصل معنوں میں دین نہیں ہوتا ۔ دین تو صرف وہ ہوتا ہے جو پوری زندگی کا نظام ہو ‘ وہ اللہ تعالیٰ کا تجویز کردہ ہو ۔ اور جو انسانوں کی زندگی کو اللہ کی منہاج کے مطابق استوار کرے ۔ اور یہ بات بھی درست ہے کہ ایمانی عقائد ‘ مراسم عبودیت ‘ اخلاقی قدریں اگر دین سے علیحدہ کردی جائیں تو اس صورت میں دین صرف فقہ بن جاتا ہے ۔ اور پھر وہ انسانی زندگی میں صحیح طرح کام نہیں کرتا ۔ پھر یہ بات دینی مزاج کے خلاف ہوجاتی ہے ۔ یہی وہ حادثہ ہے جو مسیحیت کے ساتھ پیش آیا کہ بعض تاریخی اسباب کی وجہ سے ‘ اور پھر اس وجہ سے بھی کہ وہ ایک محدود وقت کے لئے نازل ہوئی تھی ‘ اور وہ حضرت محمد ﷺ کی آخری نبوت کے لئے بطور تمہید آئی تھی ۔ مسیحیت کی روحانی تعلیمات سے نظام شریعت علیحدہ ہوگیا ۔ وہ تاریخی اسباب یہ تھے کہ یہودیوں اور مسیح (علیہ السلام) کے درمیان سخت عداوت پیدا ہوگئی ۔ آپ کے بعد آپ کے انصار اور یہودیوں کے درمیان بھی سخت عداوت رہی ۔ جس کی وجہ سے یہ شریعت تورات بھی ایک محدود قوم اور محدود وقت کے لئے تھی اور حضرت عیسیٰ کی اخلاقی تعلیمات بھی ۔ تاکہ اللہ کے نظام قدرت میں طے شدہ منصوبے کے مطابق حضرت محمد ﷺ کی آخری اور جامع شریعت نازل ہو اور ہمیشہ کے لئے پوری انسانیت کے لئے شریعت ہو۔ بہرحال صورتحال یہ ہوگئی کہ مسیحیت ایک ایسا تناور درخت بن گئی جن میں نظام شریعت نہ تھا۔ اس لئے وہ ہمیشہ ان اقوام کی اجتماعی زندگی کنٹرول کرنے سے عاجز رہی جن اقوام نے کبھی اسے قبول کیا ۔ اس لئے کہ اجتماعی زندگی کی راہنمائی کے لئے ایک ایسا تصور حیات ضروری ہے جو زندگی کے ہر شعبے کی وضاحت کرتا ہو ‘ وہ یہ بتاتا ہو کہ اس پوری کائنات میں انسان کی قدر و قیمت کیا ہے ۔ اس کے اندر ایک مضبوط نظام عبادت ہو ‘ اور ایک اچھا اخلاقی اور روحانی نظام بھی رکھتا ہو ‘ اور اس کے بعد اس کے پاس ایک بہترین اجتماعی قانونی نظام ہو اور یہ اخلاقی اور قانونی نظام اس کے اصل تصور حیات سے ماخوذ ہو۔ اگر دین ان عناصر ترکیبی سے مرکب ہو تب وہ اجتماعی زندگی کو منظم کرسکتا ہے۔ اس وقت انسان کو حکمت دین بھی سمجھ میں آتی ہے اور وہ پھر انسانی نظام کی ضمانت دیتا ہے۔ غرض جب مسیحیت کی اخلاقی تعلیمات شریعت سے جدا ہوگئیں تو پھر مسیحیت اس قابل نہ رہی کہ وہ مکمل نظام حیات بن جائے۔ اس لئے لوگوں کی زندگی میں اخلاقی قدروں اور اجتماعی قدروں کے درمیان مکمل جدائی واقع ہوگئی ۔ اور ان کے اخلاق اور ان کے اعمال کے درمیان اتحاد نہ رہا ۔ اس طرح ان کا اجتماعی نظام ایک فطری نظام نہ رہا جو ان کی اخلاقی قدروں سے ہم آہنگ ہو ۔ اس لئے عیسائیوں کا اجتماعی نظام ہمیشہ یا تو ہوا میں معلق رہا ‘ روحانی دنیا اس کا کوئی تعلق نہ رہا اگر وہ چلا بھی تو وہ ایک لولا لنگڑا نظام تھا۔ تاریخ انسانی کے اندر جب انسانیت اس صورت حال سے دوچار ہوئی تو یہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ ایک عظیم حادثہ تھا ۔ یہ بہت ہی تباہ کن حادثہ تھا ۔ یہ ایک ایسا عظیم واقعہ تھا جس کی وجہ سے انسانیت کے لئے بدبختی کے چشمے پھوٹے ۔ انسانی حیرانی اور پریشانی کا شکار ہوئے ۔ ان پر اخلاقی بےراہ روی کا سیلاب آیا۔ اور ایسی ایسی مصیبتیں آئیں جن میں لادین مادی اجتماعی نظام آج تک گرفتار ہے اور آج یورپ اس کی مثال ہے ۔ چاہے اب یہ نظام ان ممالک میں ہو ‘ جن کا مسیحیت کے ساتھ ابھی تک تعلق ہو ۔ اس لئے کہ مسیحیت میں سرے سے کوئی اجتماعی نظام ہی نہیں ہے ۔ یا ان ممالک میں ہو جہاں سے مسیحیت ختم ہوگئی ہے ۔ بہر حال دونوں ممالک کے درمیان کوئی زیادہ امتیاز نہیں ہے۔ اس لئے کہ مسیحیت جس طرح اسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کیا تھا ‘ اور جس طرح ہر وہ نظام جس پر دین کا اطلاق ہوتا ہے ‘ ایک ایسا نظام تھا جس میں زندگی کے لئے ایک مکمل شریعت اور نظام و قانون موجود تھا ۔ جو عقیدہ توحید پر مبنی تھا ۔ اور جو ان اخلاقی تصورات پر قائم تھا جو اس عقیدے سے ماخوذ تھے ۔ اس لئے موجودہ مسیحیت کو اس لئے مسیحیت نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں وہ پورا نظام زندگی موجود نہیں ہے جو حضرت مسیح نے پیش کیا ۔ بلکہ مسیحیت سرے سے دین ہی نہ ہوگی ۔ غرض ان عناصر ترکیبی کے سوا زندگی کے مسائل کے حل کے لئے کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہوسکتا جو مکمل بھی ہو ‘ جو نفس انسانی کی پوری ضروریات کے لئے بھی کافی ہو ‘ جو انسان کی عملی زندگی کے مسائل کے حل کرتا ہو اور جو حیات انسانی کا وثیق رابطہ اپنے رب کے ساتھ قائم کردے ۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اس قول کی تفسیروں اور مفہومات میں سے ایک مفہوم ہے ‘ آپ فرماتے ہیں : وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلأحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ……………” میں تصدیق کرتا ہوں تورات کے اس حصے کی جو میرے سامنے موجود ہے اور تمہارے لئے بعض ان چیزوں کو حلال قرار دیتا ہوں جو تم پر حرام قرار دی گئی ہیں ۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے اس منصب کے اظہار کا استدلال توحید الٰہی سے کرتے ہیں جو اسلام میں پہلی عظیم حقیقت ہے ‘ فرماتے ہیں وَجِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (50)إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ ” دیکھو ‘ میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔ اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارے بھی ‘ لہٰذا تم اس کی بندگی اختیار کرو ‘ یہی سیدھا راستہ ہے۔ “ یہاں آپ اس نظریاتی تصور حیات کو پیش فرماتے ہیں جس پر اللہ کا دین قائم ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے جو معجزات پیش کئے ہیں وہ میں نے اپنی طرف سے نہیں پیش کئے ۔ بذات خودتو وہ ایک بشر ہیں وہ ایسے معجزات کیسے صادر کرسکتے ہیں ۔ یہ اللہ کے معجزات ہیں اور میری دعوت خدا خوفی اور اطاعت کے اساسی اصولوں پر قائم ہے ۔ اس کے بعد وہ فرماتے ہیں کہ اللہ جس طرح میرا رب ہے اسی طرح تمہارا رب ہے ۔ اور یہ کہ وہ بذات خود رب نہیں ہیں بلکہ عبد ہیں ۔ اس لئے بندگی اور عبادت رب واحد کی کی جائے کیونکہ عبادت اس کے سوا کسی کی نہیں ہوسکتی ۔ اس کے بعد ان تمام باتوں کا اظہار یعنی یہ کہ رب واحد ہے ۔ اسی کی بندگی ہوگی ‘ رسول اور اس کے لائے ہوئے نظام حیات کی اطاعت ہوگی ۔ یہ تو ہے صراط مستقیم اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ بےراہی ‘ گمراہی اور انحراف ہے۔ ملائکہ کی جانب سے حضرت مریم کو بشارت ‘ پھر آنے والے نبی کی صفات ‘ اس کی رسالت ‘ اس کے معجزات اور کلمات کے تذکرے کے بعد اب اس قصے میں اچانک وہ منظر آتا ہے جب حضرت عیسیٰ محسوس کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل کفر اور انکار پر تک گئے ہیں ‘ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے اللہ کے دین کی نشر و اشاعت اور اس کے قیام کے لئے ایک عام اپیل کی جاتی ہے۔

آل عمران 3:51

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا یہ خاتمہ ہے ۔ یعنی یہ تھی وہ دعوت جو آپ نے بنی اسرائیل کو دی ۔ اس میں انہی بنیادی نکات کی وضاحت کی گئی ہے جو ہمیشہ اللہ کے دین کے اصل نکات رہے ہیں ۔ اور جن کی طرف تمام رسول دعوت دیتے رہے ہیں ۔ اور یہ وہ حقائق ہیں جن کی بہت ہی اہمیت ہے ۔ خصوصاًجبکہ ان حقائق کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے دہرایا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ ان کی ولادت ہی وجہ نزاع تھی اور یہ نزاعات اس لئے پیدا ہوگئے تھے کہ لوگوں نے دین اور رسولوں کی حقیقت پر غور نہ کیا ۔ یعنی یہ کہ رسول بھی ایک ہیں اور ان کا دین بھی ایک ہے ۔ اس لئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلأحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ……………” اور میں اس کی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوں جو تورات میں سے میرے سامنے موجود ہیں ۔ اور اس لئے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان چیزوں کو حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں۔ “ یہاں وہ سچا مذہب بیان کیا جاتا ہے جو مسیحیت کا اصل مذہب تھا ۔ پس تو راقت جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی تھی اس میں وہ دین برحق پوری طرح موجود تھا ۔ اور اس میں وہ پوری شریعت موجود تھی جو اجتماعی زندگی کو بہترین طور پر منظم کرتی تھی ۔ یعنی اس دور کی ضروریات کے مطابق اور اس وقت بنی اسرائیل کے جو حالات تھے ۔ ان کی نسبت سے اور اس نقطہ نظر سے کہ اس وقت وہ انسانوں کے ایک خاص گروہ کے لئے ایک خاص نظام زندگی تھا ۔ اور حضرت مسیح اپنی رسالت میں اسی تورات پر اعتماد فرماتے تھے ۔ آپ نے تورات کی تصدیق کی ۔ ہاں اس میں بعض حرام چیزوں کو حلال کردیا گیا اور وہ چیزیں ان پر حرام بھی بطور سزا دی گئی تھیں ‘ اس لئے کہ انہوں نے بعض گناہوں اور بعض بداعمالیوں کا ارتکاب کیا تھا۔ اور ان کی تربیت کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کو بھی حرام کردیا ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بذریعہ عیسیٰ (علیہ السلام) ان پر رحم فرمایا اور وہ بعض اشیاء جو حرام کردی گئی تھیں انہوں دوبارہ حلال کردیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر دین کا یہ حقیقی مزاج ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کی زندگی بذریعہ قانون سازی منظم کرتا ہے ۔ دین کا مزاج صرف تہذیب اخلاق نہیں ہوتا ۔ نہ دین انسان کے تصورات اور اس کے وجدان و شعور کو درست کرنے پر اکتفا کرتا ہے ۔ نہ دین کا صرف یہ کام ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے کچھ عبادات تجویز کردے اور وہ ان مراسم عبودیت کے عابد بن کر بیٹھ جائیں ۔ ایسے جزوی مسائل ہی پر اکتفاء کرنے والا دین ‘ اپنے اصل معنوں میں دین نہیں ہوتا ۔ دین تو صرف وہ ہوتا ہے جو پوری زندگی کا نظام ہو ‘ وہ اللہ تعالیٰ کا تجویز کردہ ہو ۔ اور جو انسانوں کی زندگی کو اللہ کی منہاج کے مطابق استوار کرے ۔ اور یہ بات بھی درست ہے کہ ایمانی عقائد ‘ مراسم عبودیت ‘ اخلاقی قدریں اگر دین سے علیحدہ کردی جائیں تو اس صورت میں دین صرف فقہ بن جاتا ہے ۔ اور پھر وہ انسانی زندگی میں صحیح طرح کام نہیں کرتا ۔ پھر یہ بات دینی مزاج کے خلاف ہوجاتی ہے ۔ یہی وہ حادثہ ہے جو مسیحیت کے ساتھ پیش آیا کہ بعض تاریخی اسباب کی وجہ سے ‘ اور پھر اس وجہ سے بھی کہ وہ ایک محدود وقت کے لئے نازل ہوئی تھی ‘ اور وہ حضرت محمد ﷺ کی آخری نبوت کے لئے بطور تمہید آئی تھی ۔ مسیحیت کی روحانی تعلیمات سے نظام شریعت علیحدہ ہوگیا ۔ وہ تاریخی اسباب یہ تھے کہ یہودیوں اور مسیح (علیہ السلام) کے درمیان سخت عداوت پیدا ہوگئی ۔ آپ کے بعد آپ کے انصار اور یہودیوں کے درمیان بھی سخت عداوت رہی ۔ جس کی وجہ سے یہ شریعت تورات بھی ایک محدود قوم اور محدود وقت کے لئے تھی اور حضرت عیسیٰ کی اخلاقی تعلیمات بھی ۔ تاکہ اللہ کے نظام قدرت میں طے شدہ منصوبے کے مطابق حضرت محمد ﷺ کی آخری اور جامع شریعت نازل ہو اور ہمیشہ کے لئے پوری انسانیت کے لئے شریعت ہو۔ بہرحال صورتحال یہ ہوگئی کہ مسیحیت ایک ایسا تناور درخت بن گئی جن میں نظام شریعت نہ تھا۔ اس لئے وہ ہمیشہ ان اقوام کی اجتماعی زندگی کنٹرول کرنے سے عاجز رہی جن اقوام نے کبھی اسے قبول کیا ۔ اس لئے کہ اجتماعی زندگی کی راہنمائی کے لئے ایک ایسا تصور حیات ضروری ہے جو زندگی کے ہر شعبے کی وضاحت کرتا ہو ‘ وہ یہ بتاتا ہو کہ اس پوری کائنات میں انسان کی قدر و قیمت کیا ہے ۔ اس کے اندر ایک مضبوط نظام عبادت ہو ‘ اور ایک اچھا اخلاقی اور روحانی نظام بھی رکھتا ہو ‘ اور اس کے بعد اس کے پاس ایک بہترین اجتماعی قانونی نظام ہو اور یہ اخلاقی اور قانونی نظام اس کے اصل تصور حیات سے ماخوذ ہو۔ اگر دین ان عناصر ترکیبی سے مرکب ہو تب وہ اجتماعی زندگی کو منظم کرسکتا ہے۔ اس وقت انسان کو حکمت دین بھی سمجھ میں آتی ہے اور وہ پھر انسانی نظام کی ضمانت دیتا ہے۔ غرض جب مسیحیت کی اخلاقی تعلیمات شریعت سے جدا ہوگئیں تو پھر مسیحیت اس قابل نہ رہی کہ وہ مکمل نظام حیات بن جائے۔ اس لئے لوگوں کی زندگی میں اخلاقی قدروں اور اجتماعی قدروں کے درمیان مکمل جدائی واقع ہوگئی ۔ اور ان کے اخلاق اور ان کے اعمال کے درمیان اتحاد نہ رہا ۔ اس طرح ان کا اجتماعی نظام ایک فطری نظام نہ رہا جو ان کی اخلاقی قدروں سے ہم آہنگ ہو ۔ اس لئے عیسائیوں کا اجتماعی نظام ہمیشہ یا تو ہوا میں معلق رہا ‘ روحانی دنیا اس کا کوئی تعلق نہ رہا اگر وہ چلا بھی تو وہ ایک لولا لنگڑا نظام تھا۔ تاریخ انسانی کے اندر جب انسانیت اس صورت حال سے دوچار ہوئی تو یہ کوئی معمولی واقعہ نہ تھا بلکہ ایک عظیم حادثہ تھا ۔ یہ بہت ہی تباہ کن حادثہ تھا ۔ یہ ایک ایسا عظیم واقعہ تھا جس کی وجہ سے انسانیت کے لئے بدبختی کے چشمے پھوٹے ۔ انسانی حیرانی اور پریشانی کا شکار ہوئے ۔ ان پر اخلاقی بےراہ روی کا سیلاب آیا۔ اور ایسی ایسی مصیبتیں آئیں جن میں لادین مادی اجتماعی نظام آج تک گرفتار ہے اور آج یورپ اس کی مثال ہے ۔ چاہے اب یہ نظام ان ممالک میں ہو ‘ جن کا مسیحیت کے ساتھ ابھی تک تعلق ہو ۔ اس لئے کہ مسیحیت میں سرے سے کوئی اجتماعی نظام ہی نہیں ہے ۔ یا ان ممالک میں ہو جہاں سے مسیحیت ختم ہوگئی ہے ۔ بہر حال دونوں ممالک کے درمیان کوئی زیادہ امتیاز نہیں ہے۔ اس لئے کہ مسیحیت جس طرح اسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کیا تھا ‘ اور جس طرح ہر وہ نظام جس پر دین کا اطلاق ہوتا ہے ‘ ایک ایسا نظام تھا جس میں زندگی کے لئے ایک مکمل شریعت اور نظام و قانون موجود تھا ۔ جو عقیدہ توحید پر مبنی تھا ۔ اور جو ان اخلاقی تصورات پر قائم تھا جو اس عقیدے سے ماخوذ تھے ۔ اس لئے موجودہ مسیحیت کو اس لئے مسیحیت نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں وہ پورا نظام زندگی موجود نہیں ہے جو حضرت مسیح نے پیش کیا ۔ بلکہ مسیحیت سرے سے دین ہی نہ ہوگی ۔ غرض ان عناصر ترکیبی کے سوا زندگی کے مسائل کے حل کے لئے کوئی اجتماعی نظام قائم نہیں ہوسکتا جو مکمل بھی ہو ‘ جو نفس انسانی کی پوری ضروریات کے لئے بھی کافی ہو ‘ جو انسان کی عملی زندگی کے مسائل کے حل کرتا ہو اور جو حیات انسانی کا وثیق رابطہ اپنے رب کے ساتھ قائم کردے ۔ اور یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اس قول کی تفسیروں اور مفہومات میں سے ایک مفہوم ہے ‘ آپ فرماتے ہیں : وَمُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلأحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ……………” میں تصدیق کرتا ہوں تورات کے اس حصے کی جو میرے سامنے موجود ہے اور تمہارے لئے بعض ان چیزوں کو حلال قرار دیتا ہوں جو تم پر حرام قرار دی گئی ہیں ۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے اس منصب کے اظہار کا استدلال توحید الٰہی سے کرتے ہیں جو اسلام میں پہلی عظیم حقیقت ہے ‘ فرماتے ہیں وَجِئْتُكُمْ بِآيَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (50)إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ ” دیکھو ‘ میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔ اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارے بھی ‘ لہٰذا تم اس کی بندگی اختیار کرو ‘ یہی سیدھا راستہ ہے۔ “ یہاں آپ اس نظریاتی تصور حیات کو پیش فرماتے ہیں جس پر اللہ کا دین قائم ہوتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے جو معجزات پیش کئے ہیں وہ میں نے اپنی طرف سے نہیں پیش کئے ۔ بذات خودتو وہ ایک بشر ہیں وہ ایسے معجزات کیسے صادر کرسکتے ہیں ۔ یہ اللہ کے معجزات ہیں اور میری دعوت خدا خوفی اور اطاعت کے اساسی اصولوں پر قائم ہے ۔ اس کے بعد وہ فرماتے ہیں کہ اللہ جس طرح میرا رب ہے اسی طرح تمہارا رب ہے ۔ اور یہ کہ وہ بذات خود رب نہیں ہیں بلکہ عبد ہیں ۔ اس لئے بندگی اور عبادت رب واحد کی کی جائے کیونکہ عبادت اس کے سوا کسی کی نہیں ہوسکتی ۔ اس کے بعد ان تمام باتوں کا اظہار یعنی یہ کہ رب واحد ہے ۔ اسی کی بندگی ہوگی ‘ رسول اور اس کے لائے ہوئے نظام حیات کی اطاعت ہوگی ۔ یہ تو ہے صراط مستقیم اور اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ بےراہی ‘ گمراہی اور انحراف ہے۔ ملائکہ کی جانب سے حضرت مریم کو بشارت ‘ پھر آنے والے نبی کی صفات ‘ اس کی رسالت ‘ اس کے معجزات اور کلمات کے تذکرے کے بعد اب اس قصے میں اچانک وہ منظر آتا ہے جب حضرت عیسیٰ محسوس کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل کفر اور انکار پر تک گئے ہیں ‘ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے اللہ کے دین کی نشر و اشاعت اور اس کے قیام کے لئے ایک عام اپیل کی جاتی ہے۔

آل عمران 3:52

یہاں سیاق قصہ میں ایک بہت بڑا خلا ہے ۔ یہاں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی ۔ نہ یہ مذکور ہے کہ ان کی ماں ان کے ساتھ قوم کے سامنے آئی اور اس نے گہوارے میں ان سے باتیں کیں ‘ یہ بات مذکور نہیں ہے کہ جوان ہوکر انہوں نے تبلیغ رسالت شروع کی ‘ نہ یہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ کی والدہ کو جن معجزات کے بارے میں بشارت دی گئی تھی وہ ان کے ہاتھ دکھائے گئے (جب کہ یہ سورت مریم میں مذکور ہے۔ ) اس قسم کے گیپ قرآنی قصوں میں بار بار آتے ہیں ‘ اس کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ تکرار نہ ہو ‘ دوسری یہ کہ قرآن کریم میں قصص کے صرف وہی حصے دیئے جاتے ہیں جن کا تعلق اس سورت موضوع کلام سے ہوتا ہے باقی کڑیاں ترک کردی جاتی ہیں ۔ غرض ‘ معجزات پیش کرنے اور تبلیغ شروع کرنے کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کرلیا کہ یہ لوگ مان کردینے والے نہیں ہیں ‘ حالانکہ ایسے معجزات کا صدور کسی انسان سے ممکن نہ تھا ۔ اور جن سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ ان معجزات کے پس منظر میں صرف اللہ کی ذات کام کررہی ہے ۔ اللہ کی قوتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مؤید ہیں ۔ اور پھر ان امور کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی حقیقت تھی کہ حضرت مسیح اس لئے بھی تشریف لائے تھے کہ بنی اسرائیل پر ان کی نادانیوں کی وجہ سے ‘ جو چیزیں بطور سزا حرام کردی گئیں تھیں انہیں حلال کردیں ‘ تاکہ ان پر تخفیف ہوجائے اور قیود اور بوجھ اتر جائیں۔ تو ایسے موقع پر آپ نے فرمایا قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ ” کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہے ۔ “ یعنی کون ہے جو دعوت دین ‘ اور اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں میری معاونت کرتا ہے ۔ کون ہے جو میرے ساتھ اللہ تک پہنچنے کے سلسلے میں مددگار ہوتا ہے تاکہ میں اپنے فرئض اچھی طرح ادا کرسکوں …………یہ تحریک دعوت دین کا طریق کار ہا ہے ۔ کہ ہر داعی کے لئے انصار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اس کا ساتھ دیتے ہیں ۔ جو اس کی دعوت کے علم اٹھاکر چلتے ہیں ‘ جو اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس دعوت کو مسلسل پھیلاتے ہیں اور پھر اس صاحب دعوت کی وفات یا چلے جانے کے بعد اسے لیکر اٹھتے ہیں تو قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ” حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ کے مددگار ہیں ‘ ہم اللہ پر ایمان لائے ۔ گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں۔ “ حواریوں نے اسلام کا ذکر ان معنوں میں کیا ‘ جن کا تعلق دین کی حقیقت سے ہے ۔ اور انہوں نے پھر اپنے اسلام پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گواہ بنایا اور اللہ کی مدد کے لئے تیار ہوگئے ۔ یعنی اللہ کے رسول کی نصرت ‘ دین اسلام کی نصرت اور اسلامی نظام حیات کی نصرت کے لئے وہ تیار ہوئے اور اس کے بعد وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور وہ اس معاملے میں براہ راست اللہ سے بھی اپنا رابطہ قائم کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کے لئے تیار ہوگئے ۔ اس لئے آپ بھی اس بات کے گواہ رہیں ۔

آل عمران 3:53

یہ جو انہوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ فرمائی ‘ اور اللہ کے ساتھ بھی یہ وعدہ کیا ‘ اس میں ایک اہم نکتہ پوشیدہ ہے ۔ مومن کا ابتدائی عہد صرف اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جب ایک رسول کسی پیغام کو اہل ایمان تک پہنچا دیتا ہے تو پھر اس کی ڈیوٹی ختم ہوجاتی ہے اور اب مومن کی بیعت اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوجاتی ہے ۔ اور جب رسول اس دنیا سے چلاجائے تب بھی یہ فریضہ اور یہ ذمہ داری مومن کے گلے میں پڑی رہتی ہے ۔ اور اس بیعت میں ‘ معاہدہ ذمہ داری میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے ۔ اس لئے ایمان صرف عقیدے کا نام نہیں ہے جو انسان کے ضمیر میں ہوتا ہے بلکہ اتباع کا نام ہے اور رسول کے نظام کی اطاعت بھی ضروری ہے اور یہی وہ مفہوم ہے جس کے ارد گرد اس پوری سورت کے مضامین گھوم رہے ہیں ۔ اس سورت میں اس مضمون کو مختلف طریقوں سے مکرر بیان کیا گیا ہے۔ یہاں حواریوں کے کلام میں ایک اہم جملہ ہے فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ……………” آپ ہمارے نام گواہی دینے والوں میں لکھ دیں۔ “ سوال یہ ہے کہ وہ کیا شہادت دیتے ہیں اور کس بات کے وہ گواہ ہیں ؟ درحقیقت ایک شخص جو ایمان لاکر مسلم بن جاتا ہے اور اللہ کے دین کے سامنے سرتسلیم خم کرتا ہے تو اس کے بعد اس کا فرض ہے کہ وہ اس دین کے بارے میں شہادت دے ۔ وہ گواہی دے کہ اس دین کا یہ حق ہے کہ یہ قائم ودوائم رہے ۔ وہ ایسی شہادت دے کہ اس دین میں انسانوں کی جو بھلائی ہے وہ اس کی شہادت ہے ۔ اور یہ مومن اس وقت تک شہادت نہیں دے سکتا جب تک وہ اپنے نفس اپنے اخلاق اور اپنی پوری زندگی کو اس دین کی جیتی جاگتی تصویر نہ بنالے ۔ وہ ایسی تصویر بنائے کہ لوگ اسے دیکھتے ہی ایک مثال سمجھیں اور اس بات کی شہادت دیں کہ واقعی اگر دین کی یہ صورت ہے تو یہ دین اس بات کا مستحق ہے ۔ کہ وہ زندہ رہے۔ اور یہ کہ یہ دین اس پوری کائنات میں تمام نظاموں اور طریقوں اور سوسائٹیوں کے مقابلے میں افضل اور بہتر ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی شخص یہ شہادت اس وقت تک نہیں دے سکتا جب تک وہ اس دین کو اپنے لئے ضابطہ ٔ حیات نہ بنالے ۔ جب تک وہ اسے اجتماعی نظام نہ بنالے ۔ اور جب تک وہ اسے اپنے اور اپنی قوم کے لئے نظام قانون نہ بنالے ۔ اور جب تک اس کے گرد ایسا معاشرہ قائم نہ ہوجائے جو اس نظام حیات کے مطابق اپنی زندگی کے معاملات کو چلاتا ہو ۔ جو ایک خدائی نظام اور مضبوط نظام ہے ۔ نیز یہ شہادت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک وہ مومن اس نظام حیات کے قائم کرنے کے لئے جہاد شروع نہیں کرتا ۔ اور جب تک وہ اس جہاد میں زندگی پر موت کو ترجیح نہیں دیتا یعنی اس معاشرے کے خلاف جس میں انسانی زندگیوں پر اسلامی نظام رائج نہ ہو اور یہ اس بات کی شہادت ہوگی کہ اقامت دین کا فریضہ خود اس کی زندگی سے بھی عزیز تر ہے ۔ حالانکہ زندگی کی وہ تمام چیزوں کے لئے ایک عزیز متاع ہوتی ہے ۔ اس لئے اس کو شہید کہا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ شہادت دیتا ہے ۔ یہاں ان حواریوں نے دعا کی کہ اللہ ہمیں ایسے گواہوں میں لکھ دے ‘ ہم دین کے لئے شہادت دیں گے ۔ یعنی وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ایسی توفیق دے کہ ہماری زندگی دین مسیحی کا زندہ نمونہ بن جائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم ایک ایسے معاشرے کو وجود میں لانے کے لئے جہاد کریں جس میں یہ دین قائم ہو ۔ اگر انہوں نے اس کا حق ادا کردیا تو گویا انہوں نے اس دین کے حق کی شہادت دیدی کہ یہ دین سچا دین ہے ۔ میں یہاں یہ بات کہوں گا کہ آج جو شخص بھی اپنے لئے ایمان اور اسلام کا دعویدار ہے وہ ذرا اس دعا پر غور کرے ۔ یہ ہے اصلی اسلام ‘ جس طرح حواریوں نے اسے سمجھا ۔ جس طرح حقیقی مسلمانوں کے دل میں بھی یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھی ہوئی ہے ۔ اور جو شخص دین کے لئے شہادت نہ دے گا اور اسے چھپا کر رکھے گا تو اس کا دل گناہ گار ہے ۔ یاد رہے کہ جو شخص اسلام کا دعویٰ کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی میں اسلام کے خلاف روش اختیار کرتا ہے ‘ جو شخص اسلام پر یقین رکھتا ہے لیکن اسلامی فرائض علی الاعلان ادا نہیں کرتا ‘ اور اسلامی نظام حیات کو عملاً قائم کرنے کے لئے جدوجہد نہیں کرتا ۔ وہ یہ کام یا اپنی پرامن زندگی کے لئے کرتا ہے یا اپنی زندگی کو دین اسلام کی زندگی پر فوقیت دیتا ہے تو اس نے یقیناً شہادت حق دینے میں سخت کوتاہی کی یا اس نے اسلام کے خلاف دوسرے نظاموں کے حق میں شہادت دی ۔ یہ ایسی شہادت ہے جو دوسروں کو بھی اسلام کی طرف آنے سے روکتی ہے اس لئے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ اہل اسلام اسلام کے حق میں نہیں بلکہ اسلام کے خلاف شہادت دے رہے ہیں ۔ اور اس شخص کا انجام عظیم بربادی ہے جو اپنے اس دعوے کی بناپر کہ وہ مسلم ہے تمام لوگوں کو اسلام سے روکتا ہے ۔ حالانکہ وہ دین کا مومن نہیں ہوتا بلکہ دین سے روکنے والا ہوتا ہے (اس موضوع پر استاد مودودی نے اپنی کتاب شہادت حق میں جو قیمتی بحث کی ہے اسے ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ سید قطب) ۔ اب بنی اسرائیل کے ساتھ قصہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا آخری حصہ آتا ہے۔

آل عمران 3:54

وہ مکاری جو یہودیوں نے اپنے رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کی وہ عظیم مکاری تھی ‘ اس کا تانا بانا بہت طویل و عریض تھا۔ جس طرح اناجیل میں مذکور ہے کہ انہوں نے اس پر الزام لگایا کہ اس نے اپنے منگیتر یوسف نجار کے ساتھ تعلقات قائم کئے تھے ۔ حالانکہ وہ پاک دامن تھیں اور ابھی یوسف کے ساتھ ان کی شادی نہ ہوئی تھی ۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ۔ شغز اور اس کے بعد انہوں نے رومی حکمران بیلاطس کے پاس ان کے خلاف شکایات کیں اور کہا کہ وہ لوگوں کو رومی حکومت کے خلاف بغاوت پر ابھارتا ہے۔ اور یہ کہ وہ گمراہ ہوگیا ہے اور عوام الناس کے عقائد خراب کررہا ہے ۔ چناچہ بیلاطس نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا کہ وہ خود اسے جو سزا دینا چاہیں دیدیں ‘ اس لئے کہ وہ اگرچہ ایک بت پرست تھا مگر یہ جانتا تھا کہ ایک ایسے شخص کو کس طرح سزا دے جس پر اس کا کوئی شک وشبہ نہیں ہے ۔ یہ تھیں ان کی سازشیں بلکہ یہ ان سازشوں کا ایک حصہ تھا۔ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ……………” وہ اس کے خلاف خفیہ تدبیریں کرنے لگے اور اللہ نے ان کے خلاف خفیہ تدبیر کی ‘ اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے ۔ “ اللہ کی تدبیر اور یہودیوں کی تدبیر کے درمیان صرف ایک مشاکلت لفظی ہے ورنہ حقیقت کے اعتبار سے یہودیوں کی تدبیر مکر ہے اور اللہ کا جواب تدبیر ہے اور مکر کا مفہوم بھی تدبیر کرنا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہاں لفظ مکر اپنے لئے اس لئے استعمال کیا ہے کہ اس سے اللہ ان کے مکر کی حقارت کا اظہار فرمائیں ۔ اس لئے کہ ان کا مقابلہ اللہ سے کیسے ہوسکتا ہے ۔ وہ کہاں اور اللہ کہاں ان کا مکر کیا اور اس کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر دونوں میں کیا مقابلہ ہے ۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنا یا سولی چڑھانا چاہتے تھے ۔ لیکن اللہ نے انہیں صحیح سلامت اپنے ہاں بلالیا ‘ اور انہیں ان کفار اور ان کے گندے ماحول سے پاک کرلیا ۔ یعنی دور کردیا ‘ اور اس کے بعد انہیں یہ عزت دی گئی کہ وہ لوگ ان کے ماننے والے ہیں قیامت تک ان لوگوں کے مقابلے میں برتر رہیں گے جو ان کی تعلیمات کے ساتھ کفر کرتے ہیں ۔ اور جس طرح اللہ نے چاہا ایسا ہی ہوا ۔ اور اللہ نے مکاروں کے مکر کے بخئیے ادھیڑ دیئے۔

آل عمران 3:55

آپ کی وفات کیسے تھی ‘ آپ کا آسمانوں پر اٹھایاجانا کیسے تھا ۔ یہ غیبی امور ہیں اور یہ متشابہات میں داخل ہیں ۔ جن کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے۔ اس لئے اس بارے میں بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ نہ عقیدہ میں فائدہ ہے اور نہ شریعت میں فائدہ ہے ۔ جو لوگ اس کے پیچھے پڑتے ہیں اور اسے بحث ومجادلہ کا موضوع بناتے ہیں تو وہ آخر کار ایسے حالات تک پہنچتے ہیں جو ظاہری اور سطحی باتیں ہوتی ہیں۔ مزید التباس اور پیچیدگی میں پھنس جاتے ہیں اور وہ کوئی قطعی حقیقت سامنے نہیں لاسکتے ۔ نہ دل کو کوئی تسلی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ ایسا امر ہے جس کی تاویل اللہ ہی جانتاہے……………رہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو قیامت تک ان لوگوں سے برتر کردیا ہے جنہوں نے ان کا انکار کیا ہے ۔ تو اس کا مفہوم بہت ہی سہل ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح دین کو ماننے والے ہیں اور وہ اسلام ہے ۔ اور اسلام وہ دین ہے جس کی حقیقت ہر نبی کے علم میں تھی ۔ اور ہر رسول نے اسلام ہی کی تبلیغ کی ۔ اور جب بھی کسی نے دین حقہ پر ایمان لایا تو وہ اسلام ہی تھا ‘ جب وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ۔ ان لوگوں کے مقابلے میں آتے ہیں جو ان کا انکار کرتے ہیں تو اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے وہ لوگ جو ایمان لائے برتر ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ حضرت عیسیٰ کے متبعین ہیں ۔ اللہ کا دین ایک ہے ۔ اسی دین کو لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آئے تھے ۔ جس طرح ان سے پہلے اور ان کے رسول سب کے سب اسی دین کو لے کر آئے اور جو لوگ حضرت محمد ﷺ کا اتباع کرتے ہیں وہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد نبی آخرالزمان تک تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں …………یہی عام مفہوم ہے جو اس سورت کے سیاق وسابق سے منطبق ہے ۔ اور یہی مفہوم حقیقت دین اور حقیقت ایمان کے ساتھ مطابق ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل کفر کا انجام کار یہی ہے کہ وہ سب اللہ کے سامنے جائیں گے ۔ اس آیت میں اس بات کا فیصلہ کردیا گیا ہے کہ ہر کسی کو کئے کی جزاء ملے گی اور اس قدر انصاف ہوگا کہ بال برابر بےانصافی بھی نہ ہوگی ۔ اس سلسلے میں لوگوں کی تمنائیں جو بھی ہوں یا انہوں نے جو افتراء باندھا ہو …………اللہ کی طرف لوٹنا اٹل ہے ۔ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں اور دنیا وآخرت میں اہل کفر کے لئے عذاب طے ہوچکا ہے ‘ کوئی نہیں ہے کہ اسے رد کرسکے ۔ اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اس کے بعدنیک کام کئے انہیں پورا پورا اجرملنا ہے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی ممکن ہی نہیں اور اللہ کبھی ظلم نہیں کرے گا اور وہ کیسے کرے گا جب وہ خود ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور اہل کتاب کا یہ گمان کہ وہ محض چنددن ہی آگ میں داخل ہوں گے اور اپنے اس گمان پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے بارے میں جو صغریٰ کبریٰ ملایا وہ سب ان کی نفسانی خواہشات ہیں وہ فاسد ہیں ‘ وہ باطل ہیں اور ان کی کوئی اصل و اساس نہیں ہے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے ‘ جس کے بارے میں اس وقت تک رسول ﷺ کا ان لوگوں کے ساتھ مناظرہ ہورہا تھا تو اس کے بعد اس قصے پر ایک اختتامیہ آجاتا ہے اور اس اختتامیہ میں وہ تمام حقائق کھول دیئے جاتے ہیں جو اس قصے کے واقعات سے اخذ ہوتے ہیں ۔ اور اب رسول اللہ ﷺ کو وہ بات بتادی جاتی ہے جسے اب اہل کتاب کے سامنے اس مباحثے کو ختم کرنے کے لئے پیش کردیں ‘ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے جس کے ذریعہ یہ تمام مباحثہ اور مذاکرہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اور اس میں وہ حقیقت بھی آجاتی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں ۔ جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں اور یہ نتیجہ مکمل یقین اور مکمل وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔

آل عمران 3:56

آپ کی وفات کیسے تھی ‘ آپ کا آسمانوں پر اٹھایاجانا کیسے تھا ۔ یہ غیبی امور ہیں اور یہ متشابہات میں داخل ہیں ۔ جن کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے۔ اس لئے اس بارے میں بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ نہ عقیدہ میں فائدہ ہے اور نہ شریعت میں فائدہ ہے ۔ جو لوگ اس کے پیچھے پڑتے ہیں اور اسے بحث ومجادلہ کا موضوع بناتے ہیں تو وہ آخر کار ایسے حالات تک پہنچتے ہیں جو ظاہری اور سطحی باتیں ہوتی ہیں۔ مزید التباس اور پیچیدگی میں پھنس جاتے ہیں اور وہ کوئی قطعی حقیقت سامنے نہیں لاسکتے ۔ نہ دل کو کوئی تسلی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ ایسا امر ہے جس کی تاویل اللہ ہی جانتاہے……………رہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو قیامت تک ان لوگوں سے برتر کردیا ہے جنہوں نے ان کا انکار کیا ہے ۔ تو اس کا مفہوم بہت ہی سہل ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح دین کو ماننے والے ہیں اور وہ اسلام ہے ۔ اور اسلام وہ دین ہے جس کی حقیقت ہر نبی کے علم میں تھی ۔ اور ہر رسول نے اسلام ہی کی تبلیغ کی ۔ اور جب بھی کسی نے دین حقہ پر ایمان لایا تو وہ اسلام ہی تھا ‘ جب وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ۔ ان لوگوں کے مقابلے میں آتے ہیں جو ان کا انکار کرتے ہیں تو اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے وہ لوگ جو ایمان لائے برتر ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ حضرت عیسیٰ کے متبعین ہیں ۔ اللہ کا دین ایک ہے ۔ اسی دین کو لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آئے تھے ۔ جس طرح ان سے پہلے اور ان کے رسول سب کے سب اسی دین کو لے کر آئے اور جو لوگ حضرت محمد ﷺ کا اتباع کرتے ہیں وہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد نبی آخرالزمان تک تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں …………یہی عام مفہوم ہے جو اس سورت کے سیاق وسابق سے منطبق ہے ۔ اور یہی مفہوم حقیقت دین اور حقیقت ایمان کے ساتھ مطابق ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل کفر کا انجام کار یہی ہے کہ وہ سب اللہ کے سامنے جائیں گے ۔ اس آیت میں اس بات کا فیصلہ کردیا گیا ہے کہ ہر کسی کو کئے کی جزاء ملے گی اور اس قدر انصاف ہوگا کہ بال برابر بےانصافی بھی نہ ہوگی ۔ اس سلسلے میں لوگوں کی تمنائیں جو بھی ہوں یا انہوں نے جو افتراء باندھا ہو …………اللہ کی طرف لوٹنا اٹل ہے ۔ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں اور دنیا وآخرت میں اہل کفر کے لئے عذاب طے ہوچکا ہے ‘ کوئی نہیں ہے کہ اسے رد کرسکے ۔ اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اس کے بعدنیک کام کئے انہیں پورا پورا اجرملنا ہے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی ممکن ہی نہیں اور اللہ کبھی ظلم نہیں کرے گا اور وہ کیسے کرے گا جب وہ خود ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور اہل کتاب کا یہ گمان کہ وہ محض چنددن ہی آگ میں داخل ہوں گے اور اپنے اس گمان پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے بارے میں جو صغریٰ کبریٰ ملایا وہ سب ان کی نفسانی خواہشات ہیں وہ فاسد ہیں ‘ وہ باطل ہیں اور ان کی کوئی اصل و اساس نہیں ہے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے ‘ جس کے بارے میں اس وقت تک رسول ﷺ کا ان لوگوں کے ساتھ مناظرہ ہورہا تھا تو اس کے بعد اس قصے پر ایک اختتامیہ آجاتا ہے اور اس اختتامیہ میں وہ تمام حقائق کھول دیئے جاتے ہیں جو اس قصے کے واقعات سے اخذ ہوتے ہیں ۔ اور اب رسول اللہ ﷺ کو وہ بات بتادی جاتی ہے جسے اب اہل کتاب کے سامنے اس مباحثے کو ختم کرنے کے لئے پیش کردیں ‘ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے جس کے ذریعہ یہ تمام مباحثہ اور مذاکرہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اور اس میں وہ حقیقت بھی آجاتی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں ۔ جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں اور یہ نتیجہ مکمل یقین اور مکمل وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔

آل عمران 3:57

آپ کی وفات کیسے تھی ‘ آپ کا آسمانوں پر اٹھایاجانا کیسے تھا ۔ یہ غیبی امور ہیں اور یہ متشابہات میں داخل ہیں ۔ جن کی تاویل صرف اللہ جانتا ہے۔ اس لئے اس بارے میں بحث سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ نہ عقیدہ میں فائدہ ہے اور نہ شریعت میں فائدہ ہے ۔ جو لوگ اس کے پیچھے پڑتے ہیں اور اسے بحث ومجادلہ کا موضوع بناتے ہیں تو وہ آخر کار ایسے حالات تک پہنچتے ہیں جو ظاہری اور سطحی باتیں ہوتی ہیں۔ مزید التباس اور پیچیدگی میں پھنس جاتے ہیں اور وہ کوئی قطعی حقیقت سامنے نہیں لاسکتے ۔ نہ دل کو کوئی تسلی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ ایسا امر ہے جس کی تاویل اللہ ہی جانتاہے……………رہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو قیامت تک ان لوگوں سے برتر کردیا ہے جنہوں نے ان کا انکار کیا ہے ۔ تو اس کا مفہوم بہت ہی سہل ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متبعین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے صحیح دین کو ماننے والے ہیں اور وہ اسلام ہے ۔ اور اسلام وہ دین ہے جس کی حقیقت ہر نبی کے علم میں تھی ۔ اور ہر رسول نے اسلام ہی کی تبلیغ کی ۔ اور جب بھی کسی نے دین حقہ پر ایمان لایا تو وہ اسلام ہی تھا ‘ جب وہ لوگ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے ۔ ان لوگوں کے مقابلے میں آتے ہیں جو ان کا انکار کرتے ہیں تو اپنی ایمانی قوت کی وجہ سے وہ لوگ جو ایمان لائے برتر ثابت ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ حضرت عیسیٰ کے متبعین ہیں ۔ اللہ کا دین ایک ہے ۔ اسی دین کو لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) آئے تھے ۔ جس طرح ان سے پہلے اور ان کے رسول سب کے سب اسی دین کو لے کر آئے اور جو لوگ حضرت محمد ﷺ کا اتباع کرتے ہیں وہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد نبی آخرالزمان تک تمام رسولوں پر ایمان لاتے ہیں …………یہی عام مفہوم ہے جو اس سورت کے سیاق وسابق سے منطبق ہے ۔ اور یہی مفہوم حقیقت دین اور حقیقت ایمان کے ساتھ مطابق ہے ۔ اور اہل ایمان اور اہل کفر کا انجام کار یہی ہے کہ وہ سب اللہ کے سامنے جائیں گے ۔ اس آیت میں اس بات کا فیصلہ کردیا گیا ہے کہ ہر کسی کو کئے کی جزاء ملے گی اور اس قدر انصاف ہوگا کہ بال برابر بےانصافی بھی نہ ہوگی ۔ اس سلسلے میں لوگوں کی تمنائیں جو بھی ہوں یا انہوں نے جو افتراء باندھا ہو …………اللہ کی طرف لوٹنا اٹل ہے ۔ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں اور دنیا وآخرت میں اہل کفر کے لئے عذاب طے ہوچکا ہے ‘ کوئی نہیں ہے کہ اسے رد کرسکے ۔ اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اس کے بعدنیک کام کئے انہیں پورا پورا اجرملنا ہے ۔ اس میں کوئی کمی بیشی ممکن ہی نہیں اور اللہ کبھی ظلم نہیں کرے گا اور وہ کیسے کرے گا جب وہ خود ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور اہل کتاب کا یہ گمان کہ وہ محض چنددن ہی آگ میں داخل ہوں گے اور اپنے اس گمان پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کے بارے میں جو صغریٰ کبریٰ ملایا وہ سب ان کی نفسانی خواہشات ہیں وہ فاسد ہیں ‘ وہ باطل ہیں اور ان کی کوئی اصل و اساس نہیں ہے۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قصہ اس مقام تک پہنچ جاتا ہے ‘ جس کے بارے میں اس وقت تک رسول ﷺ کا ان لوگوں کے ساتھ مناظرہ ہورہا تھا تو اس کے بعد اس قصے پر ایک اختتامیہ آجاتا ہے اور اس اختتامیہ میں وہ تمام حقائق کھول دیئے جاتے ہیں جو اس قصے کے واقعات سے اخذ ہوتے ہیں ۔ اور اب رسول اللہ ﷺ کو وہ بات بتادی جاتی ہے جسے اب اہل کتاب کے سامنے اس مباحثے کو ختم کرنے کے لئے پیش کردیں ‘ یہ ایک فیصلہ کن بات ہے جس کے ذریعہ یہ تمام مباحثہ اور مذاکرہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اور اس میں وہ حقیقت بھی آجاتی ہے جسے لے کر آپ آئے ہیں ۔ جس کی طرف آپ دعوت دیتے ہیں اور یہ نتیجہ مکمل یقین اور مکمل وضاحت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔

آل عمران 3:58

اس اختتامیہ میں سے پہلے تو یہ کہا گیا کہ رسول ﷺ پر جو وحی نازل ہوئی ہے وہ حق ہے ۔ ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَليْكَ مِنَ الآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ……………” یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہارے سنا رہے ہیں ۔ “ یہ قصے اور قرآنی ہدایات ‘ سب کی سب اللہ کی وحی پر مبنی ہیں اور خود اللہ انہیں پڑھ کر نبی ﷺ کو حکمت و دانائی کی آیات پرھ کر سناتے ہیں ۔ انداز بیان ایسا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا قرب اور خوشنودی حاصل ہے ۔ جب خود اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو حکمت و دانائی کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں ۔ اللہ دانا و حکیم ہیں انسانی زندگی اور نفس کے حوالے سے اونچے حقائق اس کے پاس ہیں ۔ اور وہ اس نے ایک خاص طریقے اور خاص اسلوب کے ساتھ وہاں ودیعت کئے ہیں ۔ وہی بتاسکتا ہے کہ فطرت کے ساتھ ہمکلامی کا طریقہ کیا ہے ۔ اور فطرت انسانی تک رسائی کا اسلوب کیا ہے۔ اور یہ حکمت اس انداز میں بتائی جاتی ہے جس کی کوئی سابق نظیر نہیں ہے ۔ یعنی اس تمام انسانی حکمت کے ریکارڈ میں جس کا مصدر اور منبع اللہ نہ ہو ۔

آل عمران 3:59

اس کے بعد یہ اختتامیہ حقیقت مسیح کا فیصلہ کردیتا ہے ‘ فیصلہ کن انداز میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا ارادہ ہی ہر چیز کا خالق ہے ۔ جس طرح اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا ۔ اللہ کے ہاں تخلیق کا عمل صرف یہ ہے ۔ إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ……………” اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے بنایا اور حکم دیا کہ ہوجا اور وہ ہوگیا۔ “ حضرت عیسیٰ کی ولادت اس اعتبار سے کہ وہ پیدائش انسانی کے عام ڈگر سے ہٹ کر ہے ضرور تعجب انگیز ہے ۔ لیکن جب اسے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے حوالے سے دیکھاجائے ‘ تو اس میں کوئی انوکھی چیز نظر نہیں آتی ۔ پیدائش مسیح کے معاملے میں اہل کتاب کے درمیان جو بحث ومناظرہ اور جدل وجدال جاری تھا ۔ اور اس سلسلے میں وہ عجیب و غریب قصے کہانیاں گھڑ رہے تھے ۔ طلسماتی ماحول پیدا کررہے تھے کہ وہ ایک عجیب بات ہے ۔ محض اس لئے کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ۔ یہی اہل کتاب اپنی کتابوں میں صبح وشام یہ تلاوت کرتے تھے کہ حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا گیا اور اس ڈھانچے میں پھر اللہ نے روح پھونکی اور اس سے بطور انسان آدم زندہ ہوگیا ۔ اور وہ حضرت آدم کے بارے میں اس قسم کے قصے کہانیاں نہ گھڑتے تھے ۔ اور نہ ہی بحث و مباحثہ کرتے تھے ۔ وہ آدم (علیہ السلام) کے بارے میں یہ سوچتے تھے کہ ان کی بھی ایک لاہوتی طبیعت ہے ۔ اس لئے کہ جس عناصر سے آدم انسان بن کر آئے وہی عناصر ہیں جن سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بن باپ پیدا ہوکر آئے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) میں اپنی روح پھونکی ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) میں بھی روح ڈالی ۔ اور اس کا طریقہ کار ایک کلمہ کن سے مکمل ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے کن کہا اور جو اس نے پیدا کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ فیکون ہوگیا۔ یہ حقیقت کس قدر سادہ ہے حقیقت آدم بھی یہ ہے اور حقیقت بھی یہی ہے ۔ بلکہ تمام مخلوقات کی تخلیق کی بس یہی حقیقت ہے ۔ اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جو ذہن انسانی میں بسہولت اور بوضاحت آجاتی ہے ۔ تعجب تو اس پر ہے کہ ان واقعات کے بارے میں یہ طویل مجادلہ اور مباحثہ کیوں ہوتا رہا ۔ حالانکہ یہ واقعہ اللہ کی سنت کبریٰ کے مطابق تھا ۔ جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے ۔ یعنی تخلیق کرنا اور دوبارہ اٹھانا۔ دراصل یہ ہے انداز اس ذکر حکیم کا ‘ یہ ذکر فطرت انسانی کو فطری منطق سے خطاب کرتا ہے ۔ جو واقعی عملی ‘ سادہ ہوتی ہے ۔ اس حکیمانہ انداز کلام کی وجہ سے دنیا کے پیچیدہ ترین مشکل ترین فلسفی مسائل بھی اسے سہل نظر آتے ہیں جیسے روز مرہ کے معمولات۔ سیاق کلام جب اس واضح فیصلے تک پہنچ جاتا ہے ۔ تو روئے سخن اب رسول اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ آپ اپنے سچے موقف پر قائم رہیں ۔ جس کی تلاوت آپ کے سامنے کی جارہی ہے اور جسے آپ کے حس و شعور میں بٹھایا جارہا ہے جس طرح اہل ایمان کے حس و شعور میں اسے مضبوط طرح جاگزیں کیا جارہا ہے اس لئے کہ اہل ایمان میں سے بعض افراد پر اہل کتاب کے شبہات اثر ڈال رہے تھے اور عجیب انداز میں تلبیس کرکے اہل ایمان کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے تھے ۔

آل عمران 3:60

فرماتے ہیں : الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ……………” تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو ‘ جو اس میں شک کرتے ہیں “…………رسول ﷺ نہ تو شک کرتے تھے اور نہ ہی ان کے دل میں کوئی خلجان تھا۔ ان پر جو کلام نازل ہوتا تھا وہ اسے من جانب اللہ سمجھتے تھے ۔ ایک لحظہ کے لئے بھی شک ان کے قریب نہیں آیا۔ یہاں مقصود یہ ہے کہ آپ اس ہدایت پر جم جائیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے دشمنوں نے اس دور میں اہل ایمان کے خلاف سازشوں کا جال پھیلا رکھا تھا ‘ اور وہ اس سازش میں امت مسلمہ کے بعض افراد کو پھانس رہے تھے ۔ امت مسلمہ کے خلاف یہ سازشیں آج بھی ہورہی ہیں اور ہر دور میں ہوتی رہتی ہیں ۔ اور اس بات کی ضرورت ہے کہ امت مسلمہ ان دھوکہ بازوں اور جھوٹوں کے مقابلے میں محتاط رہے۔ اس لئے کہ امت کے اس قسم کے دشمن ہر دور میں نیاجال لے کر آتے ہیں ۔ غرض پیدائش مسیح کا مسئلہ حل ہوگیا۔ حقیقت واضح ہوگئی ‘ اب اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ وہ اب ان لوگوں کے ساتھ یہ مجادلہ اور مناظرہ ختم کردیں اس لئے کہ مسئلہ واضح ہوگیا ‘ سچائی واضح طور پر سامنے آگئی ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ اب آخری بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو مباہلے کی دعوت دی جائے

آل عمران 3:61

اس کے بعد اس موضوع پر رسول اللہ کے ساتھ جو لوگ مباحثہ کرتے تھے ‘ رسول ﷺ نے بھرے مجمعے میں انہیں دعوت مباہلہ دی ۔ یعنی سب آجائیں اور اللہ سے دست بدعا ہوں کہ اللہ جھوٹوں پر لعنت کرے ۔ اس چیلنج کے انجام سے وہ لوگ ڈر گئے اور انہوں نے مباہلہ کرنے سے انکار کردیا۔ جس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول اللہ ﷺ کا موقف سچا ہے ۔ لیکن جس طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ اسلام اس لئے قبول نہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنے معاشرے میں ایک بلند مقام حاصل تھا ۔ نیز یہ لوگ ان کے مذہبی پیشواؤں میں سے تھے اور اس دور میں اہل کنیسہ کو اپنی سوسائٹی میں مکمل اقتدار حاصل تھا اور اس کے ساتھ ان کے بڑے مفادات وابستہ تھے ۔ اس سوسائٹی میں وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہے تھے ۔ یہ بات نہ تھی کہ جو لوگ دین اسلام سے اعراض کررہے تھے ان کے سامنے کوئی دلیل نہ پیش کی گئی تھی بلکہ ان کے بعض مفادات ایسے تھے جنہیں وہ نہ چھوڑ سکتے تھے ‘ کچھ ایسی نفسیاتی خواہشات میں وہ گھرے ہوئے تھے جن پر وہ یہ نہ کرسکتے تھے ۔ حالانکہ سچائی واضح ہوگئی تھی اور اس میں کوئی شک وشبہ نہ رہا تھا۔ دعوت مباہلہ کے بعد اب اس اختتامیہ میں حقیقت وحی ‘ حکمت قصص فی القرآن ‘ اور حقیقت توحید کا بیان کیا جاتا ہے۔ شاید یہ آیات دعوت مباہلہ سے مجادلین کے انکار کے بعد اتری ہوں ۔ اور ان لوگوں کو سخت دہمکی دی جاتی ہے جو اللہ کی اس زمین پر محض برائے فی سبیل اللہ فسادیہ مجادلے کرتے ہیں ۔

آل عمران 3:62

ان آیات میں جن حقائق کا بیان ہوا اس سے قبل ان کا بیان ہوگیا ہے۔ یہاں دعوت مباہلہ اور وفد کی جانب سے اس کے انکار کے بعد بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس آیت میں البتہ نئی بات یہ ہے کہ جو اس سچائی کو قبول نہیں کرتے وہ درحقیقت مفسد ہیں اور خبردار کیا جاتا ہے کہ تم اللہ سے پوشیدہ نہیں ہو ‘ وہ انداز قد سے پہچانتا ہے۔ اور وہ فساد جو منکرین توحید ‘ توحید کا انکار کرکے پھیلاتے تھے وہ اللہ کے نزدیک ایک عظیم فساد تھا ۔ اور دنیا میں جس قدر فسادات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں وہ سب کے سب عقیدہ توحید سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور عقیدہ توحید کا اعتراف بھی محض زبانی اعتراف کافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ محض زبانی اعتراف کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ۔ نہ ہی ایسا دینی اعتراف جو خالص منفی اعتراف ہو ‘ اس لئے کہ محض قلبی اور زبانی اعتراف کے نتیجے میں وہ آثار ظاہر نہیں ہوتے جو انسانوں کی عملی زندگی میں نمودار ہونے ضروری ہیں ۔ دراصل دنیا نے عقیدہ توحید کے لازمی آثار ونتائج سے انکار کردیا ہے اور انسانی زندگی کے عقیدہ توحید کے آثار کو ختم کردیا ہے ۔ عقیدہ توحید کا پہلا لازمہ تو یہ ہے کہ ہمارا رب بھی ایک ہو ‘ پھر اس رب کی غلامی اور بندگی بھی ایک ہو ‘ اس لئے کہ بندگی صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے پھر اسی ایک رب کی اطاعت ہو ‘ پھر تمام ہدایات بھی اسی ایک رب سے اخذ کی جائیں یعنی اس کے سوا عبودیت نہ ہو ۔ اللہ کے سوا اطاعت نہ ہو اور اللہ کے سوا کوئی مرجع ہدایت نہ ہو ۔ ہدایات چاہے قانون سازی میں ہوں ‘ چاہے اقدار حیات اور فلسفہ حیات میں ہوں ‘ چاہے اخلاق وآداب میں ہوں ‘ غرض ان تمام امور میں جو اس کرہ ارض پر حیات انسانی سے تعلق رکھتے ہیں صرف اللہ سے ہدایت لی جائیں …………اگر ایسی صورت حال نہیں تو پھر شرک اور کفر کے سوا کوئی بات نہیں ہے ۔ چاہے زبان سے جو کچھ کہتے جائیں ۔ چ ہے قلب شعور میں مجرد عقائد جو بھی ہوں ۔ الا یہ کہ لوگوں کی روز مرہ زندگی میں ‘ تسلیم ورضا ‘ اطاعت و فرمانبرداری ‘ امر ونہی کی قبولیت کی فضا قائم ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پوری کائنات کا نظام اس وقت تک درست طور پر چل ہی نہیں سکتا جب تک یہ تسلیم نہ کرلیاجائے کہ اس کا اللہ ایک ہی ہے ۔ جو اس کے تمام معاملات کی تدبیر اور انتظام کرتا ہے ۔ وَلَوکَانَ فِیھِمَا اٰلِھَةٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا……………” اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کئی الٰہ ہوتے تو وہ بگڑجاتے ۔ “ اور انسان کے حوالے سے اللہ کی خدائی کا ممتاز ترین مظہر یہ ہے کہ تمام بندے اس کی بندگی کریں ۔ اور اللہ ان کے لئے نظام حیات تجویز کرے ‘ ان کے لئے حسن وقبح کے پیمانے وضع کرے ۔ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ ان اشیاء میں سے کوئی چیز بھی اس کے لئے ہے ۔ تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے مخصوص ترین حقوق پر دست درازی کرتا ہے اور اس معنی میں آپ کو لوگوں کے الٰہ اور رب قرار دیتا ہے۔ اور اس معنی میں جب اس کرہ ارض پر بہت سے الٰہ پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ کی یہ زمین فتنہ و فساد سے بھر جاتی ہے ۔ اور لوگ پھر لوگوں کی بندگی اور غلامی شروع کردیتے ۔ اس کے بعد پھر بندوں میں سے بعض بندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ دوسرے لوگ ان کی ذاتی اطاعت کریں ۔ اور یہ کہ انہیں بذات خود لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حق حاصل ہے ۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کے بھلے برے کا فیصلہ از خود کرسکتا ہے ۔ یہ تمام دعوے دراصل الوہیت کے دعوے ہیں ۔ اگر ایسے لوگ فرعون کی طرح زبانی طور پر یہ نہ کہیں ۔ اَنَا رَبُّکُمُ الاَعلٰی……………” میں تمہارا بڑ ارب ہوں۔ “ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے ایسے حقوق کا اقرار کرنا شرک اور کفر کا اقرار کرنا ہے ۔ اور یہ دنیا میں بدترین فتنہ اور فساد ہے۔

آل عمران 3:63

ان آیات میں جن حقائق کا بیان ہوا اس سے قبل ان کا بیان ہوگیا ہے۔ یہاں دعوت مباہلہ اور وفد کی جانب سے اس کے انکار کے بعد بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا جاتا ہے ۔ اس آیت میں البتہ نئی بات یہ ہے کہ جو اس سچائی کو قبول نہیں کرتے وہ درحقیقت مفسد ہیں اور خبردار کیا جاتا ہے کہ تم اللہ سے پوشیدہ نہیں ہو ‘ وہ انداز قد سے پہچانتا ہے۔ اور وہ فساد جو منکرین توحید ‘ توحید کا انکار کرکے پھیلاتے تھے وہ اللہ کے نزدیک ایک عظیم فساد تھا ۔ اور دنیا میں جس قدر فسادات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں وہ سب کے سب عقیدہ توحید سے انحراف کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اور عقیدہ توحید کا اعتراف بھی محض زبانی اعتراف کافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ محض زبانی اعتراف کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی ۔ نہ ہی ایسا دینی اعتراف جو خالص منفی اعتراف ہو ‘ اس لئے کہ محض قلبی اور زبانی اعتراف کے نتیجے میں وہ آثار ظاہر نہیں ہوتے جو انسانوں کی عملی زندگی میں نمودار ہونے ضروری ہیں ۔ دراصل دنیا نے عقیدہ توحید کے لازمی آثار ونتائج سے انکار کردیا ہے اور انسانی زندگی کے عقیدہ توحید کے آثار کو ختم کردیا ہے ۔ عقیدہ توحید کا پہلا لازمہ تو یہ ہے کہ ہمارا رب بھی ایک ہو ‘ پھر اس رب کی غلامی اور بندگی بھی ایک ہو ‘ اس لئے کہ بندگی صرف اللہ کے لیے مخصوص ہے پھر اسی ایک رب کی اطاعت ہو ‘ پھر تمام ہدایات بھی اسی ایک رب سے اخذ کی جائیں یعنی اس کے سوا عبودیت نہ ہو ۔ اللہ کے سوا اطاعت نہ ہو اور اللہ کے سوا کوئی مرجع ہدایت نہ ہو ۔ ہدایات چاہے قانون سازی میں ہوں ‘ چاہے اقدار حیات اور فلسفہ حیات میں ہوں ‘ چاہے اخلاق وآداب میں ہوں ‘ غرض ان تمام امور میں جو اس کرہ ارض پر حیات انسانی سے تعلق رکھتے ہیں صرف اللہ سے ہدایت لی جائیں …………اگر ایسی صورت حال نہیں تو پھر شرک اور کفر کے سوا کوئی بات نہیں ہے ۔ چاہے زبان سے جو کچھ کہتے جائیں ۔ چ ہے قلب شعور میں مجرد عقائد جو بھی ہوں ۔ الا یہ کہ لوگوں کی روز مرہ زندگی میں ‘ تسلیم ورضا ‘ اطاعت و فرمانبرداری ‘ امر ونہی کی قبولیت کی فضا قائم ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پوری کائنات کا نظام اس وقت تک درست طور پر چل ہی نہیں سکتا جب تک یہ تسلیم نہ کرلیاجائے کہ اس کا اللہ ایک ہی ہے ۔ جو اس کے تمام معاملات کی تدبیر اور انتظام کرتا ہے ۔ وَلَوکَانَ فِیھِمَا اٰلِھَةٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا……………” اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا کئی الٰہ ہوتے تو وہ بگڑجاتے ۔ “ اور انسان کے حوالے سے اللہ کی خدائی کا ممتاز ترین مظہر یہ ہے کہ تمام بندے اس کی بندگی کریں ۔ اور اللہ ان کے لئے نظام حیات تجویز کرے ‘ ان کے لئے حسن وقبح کے پیمانے وضع کرے ۔ لہٰذا جو شخص بھی یہ دعویٰ کرے کہ ان اشیاء میں سے کوئی چیز بھی اس کے لئے ہے ۔ تو وہ گویا اللہ تعالیٰ کے مخصوص ترین حقوق پر دست درازی کرتا ہے اور اس معنی میں آپ کو لوگوں کے الٰہ اور رب قرار دیتا ہے۔ اور اس معنی میں جب اس کرہ ارض پر بہت سے الٰہ پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ کی یہ زمین فتنہ و فساد سے بھر جاتی ہے ۔ اور لوگ پھر لوگوں کی بندگی اور غلامی شروع کردیتے ۔ اس کے بعد پھر بندوں میں سے بعض بندے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں یہ حق حاصل ہے کہ دوسرے لوگ ان کی ذاتی اطاعت کریں ۔ اور یہ کہ انہیں بذات خود لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حق حاصل ہے ۔ اور یہ کہ وہ لوگوں کے بھلے برے کا فیصلہ از خود کرسکتا ہے ۔ یہ تمام دعوے دراصل الوہیت کے دعوے ہیں ۔ اگر ایسے لوگ فرعون کی طرح زبانی طور پر یہ نہ کہیں ۔ اَنَا رَبُّکُمُ الاَعلٰی……………” میں تمہارا بڑ ارب ہوں۔ “ اس لئے ایسے لوگوں کے لئے ایسے حقوق کا اقرار کرنا شرک اور کفر کا اقرار کرنا ہے ۔ اور یہ دنیا میں بدترین فتنہ اور فساد ہے۔

آل عمران 3:64

یہی وجہ ہے کہ اس تہدید اور توبیخ کے بعد سیاق کلام میں اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ایسے نظریے کی طرف اٹھ آئیں جو فریقین کے درمیان یکساں ہے ۔ یعنی صرف اللہ کی بندگی ‘ اس کے ساتھ شرک نہ کرنا ۔ اور ایک دوسرے کو رب نہ بنانا ۔ اگر وہ یہ صورت نہیں اپناتے تو پھر ہماری راہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوگئیں ۔ اس کے بعد نہ ملاپ ہوسکتا ہے اور نہ مکالمہ ۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ” کہو اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے ۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے ۔ “ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ہم تو مسلم ہیں ۔ “ اس میں شک نہیں ہے کہ یہ ایک منصفانہ دعوت ہے ۔ ایسی دعوت ہے جس میں رسول ﷺ ان پر کسی قسم کی کوئی فضیلت و برتری حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ اور نہ اہل اسلام اس میں کسی قسم کی برتری چاہتے ہیں ۔ ایک یکساں موقف جس کے سامنے سب کے سب برابری کی پوزیشن میں کھڑے ہوں گے ۔ کوئی کسی پر برتری نہ چاہے گا ۔ کوئی کسی دوسرے کو اپنا غلام نہ بنائے گا ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے جس سے صرف بدفطرت اور مفسد ہی انکار کرسکتا ہے ۔ جو یہ نہیں چاہتا کہ حق کے سامنے جھک جائے ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے کہ وہ صرف اللہ کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں ۔ نہ کسی بشر کو ‘ نہ کسی پتھر کو ‘ اللہ کی طرف ایسی دعوت کہ جس میں کوئی انسان کسی دوسرے انسان کا غلام نہ ہو ۔ نہ نبی کا غلام ہو ‘ نہ رسول کا غلام ہو ‘ بلکہ سب اللہ کے بندے اور غلام ہوں ۔ نبی اور رسول تو وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے تبلیغ دین کے لئے چن لیا ہوتا ہے۔ اس لئے نہیں منتخب کیا ہوتا کہ وہ اللہ کے ساتھ الوہیت یا ربوبیت میں شریک بن جائیں۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ……………” اگر وہ منہ موڑیں تو پھر صاف کہہ دو کہ ہم تو مسلم ہیں۔ “ یعنی اگر وہ اس بات سے انکار کردیں کہ وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے اور اس بات سے انکار کردیں کہ بندگی صرف اللہ کے لئے ہے ۔ بغیر کسی شرک کے ۔ یہ دو ایسے مظاہر ہیں جن سے اللہ کی نسبت سے بندے کے موقف کا اظہار ہوتا ہے ۔ تو اگر اس نظریئے سے وہ منہ موڑیں تو تم اس کے مطابق اپنے اسلام کا اعلان کردو ۔ یہاں مسلمانوں اور ان لوگوں کو جو اللہ کے سوا ایک دوسرے کو رب مانتے ہیں ‘ ایک دوسرے کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے ‘ جس سے اس بات کی فیصلہ کن وضاحت ہوجاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک ” المُسْلِمُونَ “ کون ہیں ‘ مسلمون وہ ہیں جو صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں اور صرف اللہ کی عبادت کریں اور ساتھ ساتھ باہم ایک دوسرے کو بھی اپنا رب بنائیں ۔ یہ ہے مسلمانوں کی خصوصیت جو انہیں تمام ملتوں اور تمام مکاتب فکر سے جدا کرتی ہے ۔ اور ان کے نظام زندگی کو تمام نظامہائے زندگی سے جدا اور ممتاز کرتی ہے ۔ اب اگر ان میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے تو وہ مسلمان ہیں اور اگر ان میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی تو وہ مسلمان نہیں چاہے جس قدر وہ دعویٰ کریں اپنے مسلمان ہونے کا ۔ اسلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان بندے کی غلامی سے مطلقاً آزاد ہوجائے اور اسلامی زندگی وہ واحد نظام زندگی ہے جو کسی انسان کو اس ہمہ گیر آزادی کی ضمانت دیتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کرہ ارض میں جس قدر نظام ہائے حیات رائج ہیں ان میں بعض دوسرے لوگوں کو اپنا رب تسلیم کئے ہوئے ہیں ۔ دنیا کی بہترین سے بہترین جمہوریتوں میں بدترین سے بدترین آمریتوں میں یہ صورت حال ہے ۔ ربوبیت کا پہلا خاصہ یہ ہے کہ لوگ اس رب کی بندگی کریں ۔ اور وہ رب لوگوں کے لئے اجتماعی نظم ‘ طرز زندگی ‘ ضابطے ‘ قوانین اور نیک وبد کے پیمانے وضع کرے ۔ اور اس وقت دنیا میں جس قدر نظامہائے زندگی رائج ہیں ان میں یہ حق بعض افراد کو حاصل ہوتا ہے ۔ بعض صورتوں میں یہ حق لوگوں کے کسی مجموعے کو حاصل ہوتا ہے ۔ لوگوں کا یہ گروہ جو دوسروں کے لئے قوانین وضع کرتا ‘ نیک وبد کے پیمانے وضع کرتا ہے اور ان کے لئے فکر اور فلسفہ وضع کرتا ہے یہی وہ گروہ ہے جو اپنے آپ کو اس زمین پر رب بناتا ہے ۔ یہی مفہوم ہے اس آیت کا تم میں سے بعض بعض کو رب نہ بناؤ۔ ان لوگوں کے متبعین ان کو ربوبیت اور الوہیت کا مقام عطا کرتے ہیں اور پھر اللہ کے سوا ان کی بندگی کرتے ہیں ۔ اگرچہ وہ ان کے سامنے رکوع و سجود نہ کرتے ہوں ‘ اس لئے بندگی ایک عبادت ہے اور یہ صرف اللہ کے لئے مخصوص ہے ۔ صرف اسلامی نظام وہ نظام ہے ‘ جس میں انسان کے گلے سے غیر اللہ کی غلامی کا یہ جوأ اترتا ہے ۔ اور وہ مکمل طور پر آزاد ہوجاتا ہے ۔ وہ اس قدر آزاد ہوتا ہے کہ وہ اپنے لئے تصور حیات ‘ اپنے لئے اجتماعی نظم ونسق ‘ اپنے لئے نظام زندگی اور طریقہ حیات اور اپنے نیک وبد کے پیمانے صرف اللہ سے اخذ کرتا ہے ۔ اور اس کی حیثیت بعینہ وہی ہوتی ہے جو اس کرہ ارض پر کسی بھی دوسرے انسان کی ہوتی ہے ۔ پس زید دنیا کے تمام انسانوں کے ساتھ من کل الوجوہ مساوی ہوجاتا ہے ۔ تمام لوگ ایک سطح پر کھڑے ہوتے ہیں ۔ تمام لوگوں کی نظریں ایک ہی مالک کی طرف اٹھی ہوئی ہوتی ہیں ۔ اور ان میں کوئی بھی ایک دوسرے کا مالک نہیں ہوتا ۔ اسی اور فقط اسی معنی میں اسلام اللہ کا دین ہے ۔ اور یہی دین ہے جسے تمام رسل لے کر آئے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو اسی مفہوم میں مبعوث فرمایا کہ وہ لوگوں کو انسانوں کی بندگی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں داخل کریں۔ اور لوگوں کے ظلم سے انہیں نکال کر اللہ کے انصاف کے اندر داخل کریں ۔ پس اگر کوئی اس مفہوم کے مطابق اسلام سے منہ پھیرے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کی شہادت کے مطابق مسلم نہیں رہتا ۔ چاہے تاویل کرنے والے کس قدر تاویلیں کرلیں ۔ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کے والے جس قدر گمراہ کریں بات یہی ہے ۔ اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّٰہِ الاِسلامُ……………” اللہ کے نزدیک معتبر دین صرف اسلام ہے۔ “

آل عمران 3:65

درس 25 ایک نظر میں سورت کا یہ حصہ بھی انہیں خطوط پر چلتا ہے ‘ جس پر ابتداء ً یہ سورت چلی آرہی ہے ۔ یعنی اہل کتاب اور جماعت مسلمہ کے درمیان برپا معرکہ آرائی ‘ یعنی فریقین کے درمیان نظریاتی جنگ ‘ اور دشمنان دین اور دین اسلام کے خلاف جو حیلہ سازی ومکاری یعنی جو فریب کاری اور دھوکہ بازی ‘ جو کذب وافتراء اور مختلف قسم کی سازشیں اور تدابیر اختیار کرکے حق و باطل میں ہر وقت التباس پیدا کرتے تھے ۔ شکوک و شبہات پھیلاتے تھے ۔ اور جس طرح اس امت کو نقصان پہنچانے کے لئے ہر وقت گھات میں بیٹھے رہتے تھے اور جس طرح وہ بلا ناغہ مسلسل کام کررہے تھے ۔ ان کا ازالہ اور جواب ‘ اور اس حصے میں مسلمانوں کو سمجھایا جارہا تھا کہ وہ اس صورت حال کا مقابلہ اس طرح کریں کہ جس حق پر قائم ہیں اس پر علی وجہ البصیرت قائم ہوں اور یہ یقین پیدا کریں کہ ان کے دشمن باطل موقف پر کھڑے ہیں۔ نیز اس سورت میں متنبہ کیا گیا تھا کہ دشمن تمہارے بارے میں کیا کیا منصوبے بناتے ہیں ۔ آخر میں پھر ان دشمنوں کی تشریح بھی کردی گئی تھی ۔ اور بتایا گیا تھا کہ ان کا مزاج ‘ ان کے اخلاق ‘ ان کے اعمال اور ان کی نیتیں کیسی ہیں ۔ اور یہ باتیں کھول کر جماعت مسلمہ کے سامنے رکھدی گئیں تاکہ وہ اپنے دشمنوں کو اچھی طرح جان لے ۔ اور وہ جس علم ومعرفت کا دعویٰ کرتے تھے ۔ اس کی قلعی بھی کھول دی گئی تھی ۔ اور پھر جن مسلمانوں کو وہ دھوکہ دے رہے ‘ ان کا اعتماد ان پر سے اٹھادیا تھا۔ انہیں ان سے متنفر کیا گیا ۔ اور ان کی مکاریوں کو طشت ازبام کردیا گیا تھا کہ وہ نہ کسی کو دھوکہ دے سکیں اور نہ طمع کاری کرسکیں ۔ یہ تھے مضامین پہلے سبق کے ۔ لیکن اس سبق میں بھی اہل کتاب یعنی یہود نصاری کے ساتھ بحث ہے ‘ لیکن یہاں بتایا گیا ہے کہ خصوصاً ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ان کا موقف اور نظریہ تو بادی النظر میں غلط ہے ۔ یہودی سمجھتے تھے ‘ کہ وہ یہودی تھے ‘ عیسائی یہ سمجھتے تھے کہ وہ عیسائی تھے ۔ حالانکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودیت اور نصرانیت دونوں کے وجود میں آنے سے بھی پہلے دنیا میں تشریف لائے تھے ۔ وہ تورات وانجیل کے نزول سے بھی پہلے تشریف لائے تھے ۔ لہٰذا ان کے بارے میں اس قسم کے دعوے کرنا محض وہم ہے ۔ جس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو دین حنیف پر تھے ۔ جو سیدھے راستے کا نام ہے ۔ اور ان کے دوست اور پیروکار کہلانے کے مستحق وہی لوگ ہیں جو اس طریقے پر ہوں ۔ اور اللہ بھی اہل ایمان کا دوست ہوتا ہے ۔ لہٰذا ان لوگوں کے بارے میں یہ دعوے کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو اور دوست ہیں باطل قرار پاتے ہیں ۔ پھر بتایا جاتا ہے کہ رسولوں کے بارے میں اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ اہل اسلام تمام رسولوں کو برحق تسلیم کرتے ہیں إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ……………” ابراہیم سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور اس کے ماننے والے اس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں ۔ اور اللہ صرف انہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ “ (68 : 3) اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں اہل کتاب یہ مجادلہ کیوں کرتے ہیں ؟ اس میں پردہ راز کیا ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنے دین کے معاملے میں گمراہ کردیں ‘ ان کے عقائد میں شبہات پید اکئے جائیں ۔ چناچہ اس سلسلے میں ان کی گوشمالی کی جاتی ہے ۔ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ (70) يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ ” اے اہل کتاب کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کررہے ہو ‘ اے اہل کتاب ! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو ؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو۔ “ اس کے بعد جماعت مسلمہ کو ان سازشوں کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ جو سازشیں وہ اہل ایمان کے عقائد ‘ ان کے اعتماد اور ان کے اطمینان کے خلاف وہ خفیہ طور پر کرتے تھے ۔ اور نہایت ہی مکاری سے کام لیتے تھے اور وہ اسکیم یہ تھی کہ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت اسلام کا اعلان کریں گے اور شام کو پھر واپس اپنے کفر کی طرف لوٹ جائیں گے ۔ اس کا مقصدیہ تھا کہ اہل اسلام میں سے جو لوگ ثابت قدم نہیں ہیں ان کے دل میں یہ خلجان ڈالدیں کہ اہل کتاب صبح مسلمان ہوئے اور شام کو انہوں نے کفر کیوں اختیار کرلیا ‘ اور ظاہر ہے کہ ہر جماعت کے اندر ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ثابت قدم نہیں ہوتے ۔ خصوصاً جبکہ ان کے نزدیک اہل کتاب کتب اور ادیان کے بارے میں زیادہ علم رکھتے تھے ۔ وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوا بِالَّذِي أُنْزِلَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوا آخِرَهُ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ” اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا اس پر صبح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کردو ‘ شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھرجائیں۔ “ یہ ان کا نہایت ہی مذموم منصوبہ تھا ۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے ‘ اہل کتاب کے اجتماعی اخلاق کیا ہیں اور یہ کہ معاہدات کے بارے میں ان کا نقطہ نظر کیا ہے۔ ان میں سے بعض تو ایسے ہیں جن کی امانت ودیانت مسلم ہے ۔ لیکن ان میں اکثر ایسے ہیں ان میں دیانت نام کو نہیں ہے ۔ اور انہوں نے اپنی اس بددیانتی اور بدعملی سے اپنے مذہبی عقائد میں سے بعض دلائل تلاش کرلئے تھے ۔ حالانکہ اہل کتاب کا اصل دین ایک برحق دین ان باتوں کے ساتھ ان کے دین کا کوئی تعلق نہ تھا۔ وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الأمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے ‘ کہ اگر تم اس کے اعتمادپر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دیدو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا ‘ اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملے میں اس پر بھروسہ کرو وہ ادا نہ کرے گا۔ الا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہوجاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے معاملے میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ “ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ۔ یہاں آکر معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر کیا ہے ۔ یہ کہاں سے اٹھتا ہے اور یہ کہ اس کا تعلق کس طرح اللہ خوفی کے ساتھ ہوتا ہے۔ بَلَى مَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ وَاتَّقَى فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (76)إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لا خلاق لَهُمْ فِي الآخِرَةِ وَلا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ وَلا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ” جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا ۔ وہ اللہ کا محبوب بنے گا ۔ کیونکہ پرہیز گار لوگ اللہ کو پسند ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو اپنے عہد اور قسموں کو تھوڑی قیمت دے کر بیچ ڈالتے ہیں تو ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اللہ قیامت کے روز ان سے بات کرے گا ‘ اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا ۔ بلکہ ان کے لئے تو سخت دردناک سزا ہے۔ “ یہ سبق آگے بڑھتا ہے اور اب اس میں اہل کتاب کی ایک کج روی کو منظر عام پر لایا جاتا ہے ۔ اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دین کے معاملے میں جھوٹ تک بولنے میں کس قدر بیباک ہیں۔ اور یہ کام وہ دنیاوی مفادات اور نہایت ہی کم قیمت مفادات کے لئے کرتے ہیں ۔ وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتَابِ لِتَحْسَبُوهُ مِنَ الْكِتَابِ وَمَا هُوَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَقُولُونَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَمَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” اور ان میں سے کچھ ایسے لوگ ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو کہ ‘ جو کچھ وہ پڑ رھے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے ۔ حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی ۔ وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں ‘ یہ خدا کی طرف سے ہے حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا۔ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ “ اور منجملہ اور امور کے ‘ جو وہ اپنی چالاکی سے کتاب میں داخل کرتے تھے ‘ ایک یہ بات تھی کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) الٰہ ہیں اور یہ کہ روح القدس بھی الٰہ ہیں۔ چناچہ یہاں اللہ تعالیٰ اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نہ کوئی ایسی آیت لے کر آئے ہیں اور نہ ہی انہوں نے ان لوگوں کو ایسے عقائد رکھنے کا کوئی حکم دیا ہے۔ مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُؤْتِيَهُ اللَّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُوا عِبَادًا لِي مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلَكِنْ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ (79) وَلا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْبَابًا أَيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (80) ” کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کی بجائے تم میرے بندے بن جاؤ ‘ وہ تو یہی کہے گا کہہ سچے ربانی ہوجاؤ۔ جیسا کہ اس کتاب کی تعلیم کا تقاضا ہے جسے تم پڑھتے ہو اور پڑھاتے ہو ۔ وہ تم سے ہرگز نہ کہے گا کہ فرشتوں کو اپنا رب بنالو ‘ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جبکہ تم مسلم ہو۔ “ اور اس مضمون کی مناسبت یہاں مسلسل دنیا میں بھیجے جانے والے انبیاء کے باہمی تعلق اور تعاون کے سلسلے میں لیے جانے والے اقرار کو بھی بیان کردیا جاتا ہے کہ ان میں سے ہر سابق نبی یہ میراث آنے والے کے سپرد کرے گا اور اس کی مدد کرے گا۔ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَا آتَيْتُكُمْ مِنْ كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُوا أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ (81) ” اور یاد کرو ‘ اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ ” آج ہم نے تمہیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے ‘ کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے ‘ جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے ۔ تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنا ہوگی۔ “ یہ ارشاد فرماکر اللہ نے پوچھا کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو “ انہوں نے کہا ہاں ‘ ہم اقرار کرتے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا ! اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ “ یہی وجہ ہے اہل کتاب پر یہ بات فرض ہوجاتی ہے کہ وہ نبی آخرالزمان پر ایمان لائیں اور اس کی امداد کریں ۔ لیکن ان کا وطیرہ تو یہ ہے کہ وہ اپنے نہ ان وعدوں کی پابندی کرتے ہیں جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے اور نہ ان معاہدوں کی جو انہوں نے سابقہ رسولوں کے ساتھ کئے ۔ ان مقدمات کا فطری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے دین یعنی دین اسلام کے سوا کوئی اور دین اپنے لئے تلاش کرتا ہے ۔ تو گویا وہ پوری کائنات کے نظام قدرت سے بغاوت کرتا ہے جیسا کہ اللہ نے اس کا ارادہ کیا ہے ۔ أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ” کیا یہ لوگ اللہ کے دین کا طریقہ چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چار وناچار اللہ ہی کے تابع ہیں (مسلم ہیں ) اور اس کی طرف سب کو پلٹنا ہے ۔ “ پس وہ لوگ جو اسلام سے خارج ہوتے ہیں ‘ ان کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے ۔ اسی طرح وہ لوگ جو اسلامی نظام کی مکمل اطاعت نہیں کرتے ‘ ان کا معاملہ بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس قدر نافرمان ہیں اللہ کے اس تکوینی نظام سے بھی خارج ہیں۔ یہاں رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو اللہ وحدہ کے دین پر ثابت قدمی کا اعلان کردیں اور دین ان ہدایات کے اندر ہے جو رسول ﷺ اللہ کی جانب سے لے کر آئے اور آپ سے قبل دوسرے رسول لے کر آئے اور اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ وہ انسانوں کی جانب سے صرف اسی دین کو قبول کرے گا۔ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ……………” اور جو شخص بھی اسلام کے سوا کسی اور دین کی پیروی کرے گا تو یہ اس کی جانب سے قبول نہ کی جائے گی اور آخرت میں وہ خسارہ پانے والوں میں سے ہوگا۔ “ اب جو لوگ اس دین پر ایمان نہیں لاتے تو ان کے لئے ہدایت پانے کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ان کے لئے اللہ کی پکڑ سے بچنے کی کوئی امید ہے ۔ الا یہ کہ وہ توبہ کریں ۔ رہے وہ لوگ جو کفر کی حالت میں اس دنیا سے چلے جائیں تو انہیں وہ تمام مال و دولت کچھ فائدہ نہ دے گی جو انہوں نے بھلائی کی راہ میں خرچ کی ۔ اور اگر وہ اپنے اس کفر کا اس کرہ ارض کو بھر کر سونا ادا کریں تو بھی یہ فدیہ قبول نہ ہوگا۔ اللہ کی راہ میں خرچ اور قربانی کے اس مقام پر اہل اسلام کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ اپنے مال و دولت سے اللہ کی راہ میں وہ چیزیں خرچ کریں جو انہیں پسند ہیں ۔ لَن تَنَالُوا البِرَّ حَتّٰی تُنفِقُوا مِمَّاتُحِبُّونَ وَمَاتُنفِقُوامِن شَیئٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیمٌ……………” تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم اپنی وہ چیز خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو ۔ اور جو کچھ تم خرچ کروگے اللہ اس سے بیخبر نہ ہوگا۔ “ غرض اس مختصر حصے میں ‘ اس قدر عظیم حقائق اور بیشمار ہدایات جمع کردی گئی ہیں ۔ اور یہ اس عظیم معرکہ میں ایک مختصر جملہ ہے جو اس پوری سورت میں برپا ہے ۔ اور اس کے فریق امت مسلمہ اور اس کے دشمنان ہیں۔ اور یہ معرکہ صدیوں سے یونہی برپا ہے ۔ آج بھی امت معرکہ میں اسباب اور وسائل بالکل مختلف استعمال ہورہے ہیں ‘ لیکن لائن آج بھی وہی ہے لیکن آج یہ معرکہ طویل خطوط پر ہے۔ محمد بن اسحاق ‘ محمد سعید بن جبیر ‘ یا عکرمہ اور حضرت ابن عباس ؓ کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا نجران کے نصاریٰ اور یہودیوں کے احبار رسول ﷺ کے پاس جمع ہوئے اور فرمایا آپ سے مباحثہ شروع کردیا ‘ احبار نے کہا ابراہیم یہودی تھا ‘ نصاریٰ نے کہا وہ نصرانی تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ……………” اہل کتاب ! تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو ۔ “ چاہے ان آیات کا شان نزول یہ ہو یا نہ ہو ‘ بہرحال آیات بظاہر اس بات پر شاہد ہیں کہ وہ اہل کتاب کے بےبنیاد دعوؤں کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان کا یہ تنازعہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ تھا یا رسول ﷺ کی موجودگی میں وہ آپس میں جھگڑتے تھے اور ان کے جھگڑے کے پس منظر میں یہ نظریہ کارفرما تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ ان کی اولاد میں نبوت رہے گی تو اس طرح وہ یہ فضیلت اور ہدایت اپنے نام الاٹ کرانا چاہتے تھے ۔ یہ تھا ان اصل مقصد ‘ دوسرے یہ کہ وہ اس طرح رسول ﷺ کے اس دعویٰ کی تکذیب کرنا چاہتے تھے کہ رسول ﷺ اور آپ کی امت دین حنیف کے پیروکار ہیں اور حنفیت اولیٰ کے وارث ہیں ۔ نیز اس طرح وہ مسلمانوں کے دلوں میں شبہات پیدا کرنا چاہتے تھے ۔ یا کم ازکم بعض اہل اسلام میں وہ شک ڈالنا چاہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ ان کی سخت ترین الفاظ میں تردید فرماتے ہیں اور ان کی خوس فہمی کو طشت ازبام کرتے ہیں ‘ جو کسی علمی دلیل پر مبنی نہیں ہے ۔ اس لئے کہ ابراہیم (علیہ السلام) تورات سے بھی پہلے گزرے ہیں اور انجیل سے بھی پہلے گزرے ہیں ۔ پس کس طرح ممکن ہے کہ وہ یہودی ہوں یا نصرانی ہوں ‘ لہٰذا یہ دعویٰ مکمل طور پر خلاف عقل ہے ۔ صرف پیغمبروں کی تاریخ پر اچٹتی نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کا دعویٰ باطل ہے۔ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنْزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالإنْجِيلُ إِلا مِنْ بَعْدِهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ ” اہل کتاب تم ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑتے ہو ؟ تورات اور انجیل تو ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد نازل ہوئی ہیں ۔ پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے ۔ “

آل عمران 3:66

انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں مباحثہ کیا ‘ پھر انہوں نے بعض فقہی موضوعات پر بھی مجادلہ کیا ‘ اور جب انہیں دعوت دی گئی کہ آؤ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں تو انہوں نے روگردانی کی ۔ یہ دونوں موضوعات ایسے تھے ‘ جن کے بارے میں انہیں کچھ علم تھا۔ رہے وہ معاملات جو تمہارے وجود سے پہلے ہیں ‘ تمہاری کتابوں سے پہلے ہیں ۔ تمہارے اس دین سے پہلے ہیں جن پر تمہارا ایمان ہے ۔ تو اس بارے میں تمہارے پاس نہ علم ہے اور نہ سند ہے۔ اگرچہ ہماری سند ہو ‘ لہٰذا ان موضوعات پر تمہارا مباحثہ کرنا صرف بحث برائے بحث ہوگا۔ وہ محض تیر تکے چلانا ہوگا۔ کوئی بامقصد کام نہ ہوگا ۔ بلکہ محض مطلب براری اور نفس پرستی ہوگی ۔ اور جن لوگوں کا حال یہ ہو وہ ہرگز قابل اعتبار نہ ہوں گے بلکہ ایسے لوگوں سے بات نہ کرنا مناسب ہے اور نہ ان کی بات پر کان دھرنا مناسب ہے ۔