Fi Zilal al-Quran — آل عمران 3:67 – آل عمران 3:163
Contents
- آل عمران 3:67
- آل عمران 3:68
- آل عمران 3:69
- آل عمران 3:70
- آل عمران 3:71
- آل عمران 3:72
- آل عمران 3:73
- آل عمران 3:74
- آل عمران 3:75
- آل عمران 3:76
- آل عمران 3:77
- آل عمران 3:78
- آل عمران 3:79
- آل عمران 3:80
- آل عمران 3:81
- آل عمران 3:82
- آل عمران 3:83
- آل عمران 3:84
- آل عمران 3:85
- آل عمران 3:86
- آل عمران 3:87
- آل عمران 3:88
- آل عمران 3:89
- آل عمران 3:90
- آل عمران 3:91
- آل عمران 3:92
- آل عمران 3:93
- آل عمران 3:94
- آل عمران 3:95
- آل عمران 3:96
- آل عمران 3:97
- آل عمران 3:98
- آل عمران 3:99
- آل عمران 3:100
- آل عمران 3:101
- آل عمران 3:102
- آل عمران 3:103
- آل عمران 3:104
- آل عمران 3:105
- آل عمران 3:106
- آل عمران 3:107
- آل عمران 3:108
- آل عمران 3:109
- آل عمران 3:110
- آل عمران 3:111
- آل عمران 3:112
- آل عمران 3:113
- آل عمران 3:114
- آل عمران 3:115
- آل عمران 3:116
- آل عمران 3:117
- آل عمران 3:118
- آل عمران 3:119
- آل عمران 3:120
- آل عمران 3:121
- آل عمران 3:122
- آل عمران 3:123
- آل عمران 3:124
- آل عمران 3:125
- آل عمران 3:126
- آل عمران 3:127
- آل عمران 3:128
- آل عمران 3:129
- آل عمران 3:130
- آل عمران 3:131
- آل عمران 3:132
- آل عمران 3:133
- آل عمران 3:134
- آل عمران 3:135
- آل عمران 3:136
- آل عمران 3:137
- آل عمران 3:138
- آل عمران 3:139
- آل عمران 3:140
- آل عمران 3:141
- آل عمران 3:142
- آل عمران 3:143
- آل عمران 3:144
- آل عمران 3:145
- آل عمران 3:146
- آل عمران 3:147
- آل عمران 3:148
- آل عمران 3:149
- آل عمران 3:150
- آل عمران 3:151
- آل عمران 3:152
- آل عمران 3:153
- آل عمران 3:154
- آل عمران 3:155
- آل عمران 3:156
- آل عمران 3:157
- آل عمران 3:158
- آل عمران 3:159
- آل عمران 3:160
- آل عمران 3:161
- آل عمران 3:162
- آل عمران 3:163
آل عمران 3:67
ان حضرات کی بحث و تکرار کا پول کھولنے کے بعد اور اس بحث کی حیثیت ختم کردینے کے بعد اور انہیں مکمل طور پر ناقابل اعتبار کردینے کے بعد ‘ اب اللہ تعالیٰ وہ اصل حقیقت بیان فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ۔ کیونکہ تاریخ انسانی میں بہت زیادہ قدیم واقعات کی اصل حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے ۔ نیز حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر جو دین نازل فرمایا گیا تھا ‘ اس کی حقیقت کو بھی اللہ ہی جانتا ہے ۔ اور اللہ کا فیصلہ بہرحال قاطع ہے ۔ اللہ کے فیصلے کے بعد کسی کے لئے کوئی بات کرنے کی گنجائش بھی نہیں ہے ۔ الایہ کہ کوئی ہر صورت میں ‘ بغیر کسی دلیل وبرہان کے ‘ مجادلہ پر اتر آیاہو مَا كَانَ إِبْرَاهِيمُ يَهُودِيًّا وَلا نَصْرَانِيًّا وَلَكِنْ كَانَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
” ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھا ‘ نہ عیسائی بلکہ وہ ایک مسلم یکسو تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔ “ یوں ‘ اس سے پہلے اشارۃً بات کی گئی تھی کہ ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی تھے ‘ اس لئے کہ تورات وانجیل بعد میں نازل ہوئی ۔ یہاں اس کی تصریح کردی گئی ہے کہ وہ یہودی اور نصرانی نہیں تھے بلکہ وہ مسلم حنیف تھے ۔ اور وہ اسلام کے سوا کسی اور ملت کی طرف مائل نہ تھے ۔ اس لئے کہ وہ مسلم تھے ۔ اور مسلم بھی ان معنوں میں تھے ‘ جن کی تفصیل ہم نے اس سے پہلے بیان کردی ہے وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے۔ “ یہ فقرہ سابقہ فقرے کی تاکید مزید ہے کہ وہ مسلم حنیف تھے ۔ اور اس لئے کہ مسلم حنیف جو بھی ہو وہ مشرک نہیں ہوتا۔ اب حنیف مسلم کے بعدیہ کہنا کہ وہ مشرک نہ تھے اس میں چند لطیف اشارے مقصود ہیں ۔
پہلا اشارہ یہ ہے کہ یہود ونصاریٰ جن کے اندر عقائد کا انحراف اس حد تک پہنچ گیا ہے وہ در حقیقت مشرک ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ابراہیم نہ یہودی ہوسکتا ہے اور نہ نصرانی ‘ بلکہ وہ مسلم حنیف ہی ہے۔
دوسرا اشارہ یہ ہے کہ اسلام ایک علیحدہ حقیقت ہے اور شرک بالکل ایک الگ چیز ہے ۔ ان دونوں کا ایک جگہ اکٹھ کبھی نہیں ہوسکتا ۔ اسلام مطلق توحیدکانام ہے اور توحید بھی از ہمہ جہت وباہمہ خصوصیات وباہمہ مقتضیات اس لئے اسلام شرک کے کسی رنگ کے ساتھ لگا نہیں کھاتا۔
اس میں تیسرا اشارہ یہ مطلوب ہے کہ مشرکین قریش اپنے آپ کو حنیفی اور دین ابراہیم (علیہ السلام) کے پیرو سمجھتے تھے ۔ اور وہ خانہ کعبہ کے خادم اور مجاور تھے ۔ ان کو بتایا جارہا ہے کہ وہ تو مسلم حنیف تھے ۔ اور تم مشرکین ہو وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔ “
جب ابراہیم (علیہ السلام) مسلم حنیف تھے اور مشرک نہ تھے تو یہود ونصاریٰ یا مشرکین میں سے کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ان کے وارث ہیں ۔ اور نہ ہی ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ ابراہیم کے دین کے والی ہیں حالانکہ وہ اس دین سے بہت ہی دور جاچکے ہیں ۔ عقیدہ اور نظریہ وہ رابطہ ہے جس پر لوگ اسلام میں باہم جمع ہوتے ہیں ۔ جبکہ ہم نسب ‘ ہم قوم ‘ ہم جنس اور ہم وطن ہوکر بھی لوگ دوسرے سے دور ہوتے ہیں ۔ اگر وہ مسلمان نہ ہوں اور جب اسلامی نظریہ حیات کی اس مضبوط اساس پر اہل ایمان جمع ہوتے ہیں تو پھر ان کی نظر میں انسان وہ ہوتا ہے جو روحانی اعتبار سے انسان ہو۔ یعنی انسان اس وجہ سے ممتاز ہے کہ اس کے جسم میں اللہ نے ایک پاک روح ڈالی ہے ۔ چناچہ اس کا صحیح اکٹھ بھی عقیدے کی اساس ہو سکتا ہے جو اس کی روح کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے ۔ انسان کا اجتماعی نظام ان اساسوں پر قائم نہیں ہوتا جس پر مویشیوں کا اکٹھ ہوتا ہے ۔ مثلاً ای جگہ چرنے والے مویشی ‘ ایک جنس کے مویشی ‘ ایک چراگاہ والے مویشی ایک ہی باڑے میں اور اہل زندان میں روکے ہوئے مویشی باہم مل کر رہتے ہیں ۔ اسلامی نقطہ نظر سے ایک فرد اور دوسرے فرد ‘ ایک گروہ اور دوسرے گروہ ‘ ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان ماسوائے عقیدہ اور نظریہ حیات کے اور کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔ اس میں ایک مومن دوسرے مومن سے محبت کرتا ہے ‘ ایک مسلم گروہ کو دوسرے مسلم گروہ سے محبت ہوتی ہے ۔ ایک اسلامی جماعت کا دوسرے اسلامی جماعت سے تعلق ہوتا ہے اور مسلم نسلوں کا دوسری مسلم نسلوں سے تعلق ہوتا ہے اور اس کی راہ میں زمان ومکان کی حدود حائل نہیں ہوسکتیں۔ اس تعلق کی راہ میں خون اور نسب کے فاصلے حائل نہیں ہوسکتے ۔ قوم اور علاقے کے فاصلے حائل نہیں ہوتے ۔ وہ باہم نظریاتی دوست ہوتے ہیں ۔ صرف نظریہ کی اساس پر اور ان سب کے اوپر پھر ذات باری سب کی دوست ہوتی ہے ۔
آل عمران 3:68
پس وہ لوگ جو حضرت ابراہیم کی زندگی میں ان کے پیرو رہے ‘ اور ان کے نظام اور طریقے پر چلے ‘ اور انہوں نے ان کے احکام کے مطابق فیصلے کیے تو وہی ان کے دوست تھے ۔ پھر یہ نبی ان کے دوست ہیں جو اللہ کی شہادت کے مطابق ان کے دین پر ہیں وہ ان کے دوست ہیں ‘ اس کے بعد وہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوست ہیں جو اس نبی پر ایمان لائے ۔ اور وہ اپنے نظام زندگی اور طریقہ حیات میں ان کے ہم رنگ ہوگئے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ ” اللہ صرف ان کا حامی اور مددگا رہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ “ اس لئے کہ یہی لوگ اللہ کی پارٹی کے ہیں ‘ یہی لوگ اللہ کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں یہی لوگ ہیں جو اللہ سے محبت اور دوستی رکھتے ہیں اور اس کے سوا ان کا کوئی ولی نہیں ہے ۔ یہ لوگ ایک ہی خاندان ہیں ۔ یہ ایک امت ہیں ‘ چاہے صدیاں گزرجائیں ‘ زمانے گزرجائیں ‘ زمین اور وطن کے فاصلے طویل کیوں نہ ہوں ‘ نسل اور قوم مختلف کیوں نہ ہو ‘ خاندان اور قبائل مختلف کیوں نہ ہوں ‘ یہ ایک ہیں ‘ ایک رہیں گے۔
انسانی اجتماع کی یہ سب سے ترقی یافتہ شکل ہے جو حضرت انسان کے لئے موزوں ترین ہے ، اور یہی صورت اسے حیوانوں کے ریوڑ سے ممتاز کرتی ہے۔ دوسری جانب مختلف قسم کی سوسائٹیوں میں سے یہ سوسائٹی سب سے عام اور بلاقید ہے ۔ اس لئے کہ اس اجتماعی نظام کی اساس جس شرط کے ساتھ مشروط ہے وہ شرط اختیار ہے ۔ انسان کے بس میں ہے کہ وہ اس شرط کو پوری کردے ۔ وہ شرط نظریاتی ہے اور ہر شخص کسی بھی نظرئیے کو اپنانے میں آزاد اور مختار ہے ۔ جب کوئی شخص اپنی نسل تبدیل نہیں کرسکتا ۔ اگرچہ ہم اجتماعی نظام کی اساس کسی نسل پر رکھ دیں تو کوئی شخص بہرحال اس نسل میں داخل نہیں ہوسکتا ۔ اگرچہ اجتماعیت کو قومیت کی اساس پر استوار کریں تو پھر کوئی شخص اپنی قومیت تبدیل نہیں کرسکتا ۔ اگر ہم اجتماعی نظام رنگ پر رکھیں تو کوئی بھی شخص اپنا رنگ نہیں بدل سکتا ۔ اسی طرح اگر ہم زبان کی اساس پر اجتماعی نظام استوار کریں تو کوئی شخص اپنی زبان بھی نہیں بدل سکتا ۔ اسی طرح اگر نظام طبقات پر مبنی ہو ‘ تو طبقہ بدلنا بھی آسانی سے ممکن نہیں ہوتا ۔ بلکہ بعض اوقات طبقات بھی ناقابل تبدیل ہوتے ہیں مثلاً ہندوستان میں اچھوت وغیرہ ‘ یہی وجہ ہے تمام دوسری سوسائٹیوں میں بعض طبقات کی راہ میں پردے حائل ہوتے ہیں اور وہ اس سوسائٹی کا ممبر نہیں بن سکتے ۔ صرف نظریاتی اساس پر تشکیل پانے والی سوسائٹی اس عیب سے خالی ہوتی ہے۔ اس لئے کہ نظریاتی سوسائٹی میں کوئی نظریہ اپنانے نہ اپنانے کا معاملہ ایک فرد کے اختیار میں ہوتا ہے ۔ بغیر اس کے اس کی اصلیت بدلے ‘ اس کی زبان بدلے ‘ اس کا طبقہ بدلے ‘ یا وصف بدلے جس کی اساس ‘ اس کا پردہ اس میں شامل ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ اس نظریاتی سوسائٹی میں انسان کے مقام اور اس کے اکرام میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ اور اس کا نظریہ اجتماع ان عناصر کی اساس پر ہوتا ہے جو انسانی عناصر ہیں ۔ ان پر نہیں جو جانوروں کو باہم اکٹھا کرتے ہیں ۔ اب انسان کے لئے صرف دوراستے ہیں ‘ ایک یہ کہ وہ اسلام کے نظریہ اجتماع کے مطابق وہ روحانی اور نظریاتی اساسوں پر جمع ہو اور انسانوں کی طرح رہے اور یا پھر حیوانوں کے ایک ریوڑ اور گلے کی طرح ہم جنس ‘ جو اکٹھے ہوں یا ایسے مویشی اکٹھے ہوں جن کی چراگاہ ایک ہے ۔ اور ان حدود وقیود کے اندر رہیں جو ان مویشیوں کے لئے بنائے گئے ہیں۔
اب امت مسلمہ کو بتایا جاتا ہے کہ اس جدل وجدال اور بحث ومباحثے کے پس منظر میں اہل کتاب کا اصل منصوبہ کیا ہے ؟ اس لئے اہل کتاب کی مکاریوں ‘ ان کی خفیہ تدبیروں اور دین کے ساتھ اس کھیل کا بھانڈا امت مسلمہ کے سامنے بھرے چورا ہے میں پھوڑا جاتا ہے وہ ستر پاش پاش کردیا جاتا ہے جس کے پیچھے چھپ کر یہ لوگ گھناؤنا کھیل کھیلا کرتے تھے اور انہیں جماعت مسلمہ کے سامنے صاف ننگا کرکے شرمندہ کردیا جاتا ہے۔
آل عمران 3:69
اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف جو عداوت دلوں میں چھپائے ہوئے تھے وہ نظریاتی عدوات تھی ، وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ یہ امت کبھی راہ راست پر آئے ۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ امت پوری قوت پورے یقین اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنے نظریات کی طرف لوٹ آئے ۔ اس لئے ان کی تمام جدوجہد اس نکتے پر مرکوز ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات سے اس امت کو ادہر ادہر کردیں اور اسے صراط مستقیم سے پھیر دیں۔ وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ……………” اہل کتاب میں سے ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے۔ “ یہ ان کی نفسانی خواہش ہے ۔ ان کے دلوں کی تہہ میں یہ جذبہ چھپا ہوا ہے ۔ ان کی ہر سازش کے پیچھے ان کی یہ خواہش کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ان کی ہر تدبیر ‘ ہر بحث ‘ ہر مناظرہ اور ہر تلبیس کے پس پشت یہی خواہش کارفرما ہے اور ان لوگوں کی یہ خواہش محض دشمنی ‘ ہوائے نفس اور شرارت پر مبنی ہے ۔ اس لئے وہ صریح گمراہی ہے ۔ اس لئے کہ سچائی ‘ بھلائی اور ہدایت وخیر خواہی کے جذبات کے نتیجے میں اس قسم کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہوتی اور وہ جب بھی اہل اسلام کی گمراہی کے لئے کوئی جدوجہد شروع کرتے ہیں ‘ اسی وقت وہ خود گمراہ ہوجاتے ہیں۔ وَمَا يُضِلُّونَ إِلا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ……………” حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ “ اور مسلمان جب تک اسلام پر قائم رہیں گے وہ اپنے ان دشمنوں کی تدابیر کا اچھی طرح مقابلہ کرسکیں گے ۔ اہل کفر ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ان کو سازشیوں کی سازشوں سے بچانے والا ہے اور جب تک وہ پکے مسلمان ہیں ان کی تدابیر کو اللہ خود ان کے خلاف الٹاتا ہے۔
آل عمران 3:70
اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف جو عداوت دلوں میں چھپائے ہوئے تھے وہ نظریاتی عدوات تھی ، وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ یہ امت کبھی راہ راست پر آئے ۔ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ یہ امت پوری قوت پورے یقین اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنے نظریات کی طرف لوٹ آئے ۔ اس لئے ان کی تمام جدوجہد اس نکتے پر مرکوز ہے کہ وہ اسلامی نظام حیات سے اس امت کو ادہر ادہر کردیں اور اسے صراط مستقیم سے پھیر دیں۔ وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّونَكُمْ……………” اہل کتاب میں سے ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے۔ “ یہ ان کی نفسانی خواہش ہے ۔ ان کے دلوں کی تہہ میں یہ جذبہ چھپا ہوا ہے ۔ ان کی ہر سازش کے پیچھے ان کی یہ خواہش کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ۔ ان کی ہر تدبیر ‘ ہر بحث ‘ ہر مناظرہ اور ہر تلبیس کے پس پشت یہی خواہش کارفرما ہے اور ان لوگوں کی یہ خواہش محض دشمنی ‘ ہوائے نفس اور شرارت پر مبنی ہے ۔ اس لئے وہ صریح گمراہی ہے ۔ اس لئے کہ سچائی ‘ بھلائی اور ہدایت وخیر خواہی کے جذبات کے نتیجے میں اس قسم کی خواہش کبھی پیدا نہیں ہوتی اور وہ جب بھی اہل اسلام کی گمراہی کے لئے کوئی جدوجہد شروع کرتے ہیں ‘ اسی وقت وہ خود گمراہ ہوجاتے ہیں۔ وَمَا يُضِلُّونَ إِلا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ……………” حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ “ اور مسلمان جب تک اسلام پر قائم رہیں گے وہ اپنے ان دشمنوں کی تدابیر کا اچھی طرح مقابلہ کرسکیں گے ۔ اہل کفر ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ ہر وقت ان کو سازشیوں کی سازشوں سے بچانے والا ہے اور جب تک وہ پکے مسلمان ہیں ان کی تدابیر کو اللہ خود ان کے خلاف الٹاتا ہے۔
آل عمران 3:71
اس مقام پر اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو سختی سے جھنجھوڑتا ہے کہ وہ اپنے اس مشکوک اور کمزور موقف پر ذرا نظر ثانی کریں۔
يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُونَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
” اے اہل کتاب ! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کررہے ہو ؟ اے اہل کتاب ! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو ؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو۔ “
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت بھی اور آج بھی اہل کتاب حق اور سچائی کا مشاہدہ کررہے ہیں اور واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ دین ‘ دین حق ہے ۔ ان میں سے بعض تو وہ تھے جو اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کی کتابوں میں رسول آخرالزمان ﷺ کی بابت بشارتیں اور اشارے موجود ہیں ‘ ان میں سے بعض ایسے تھے جو ان اشارات کے بارے میں بالصراحت بتلاتے تھے ۔ اور کچھ لوگ ایسے تھے کہ وہ ان بشارتوں کی بناء پر شہادت حق بھی دیتے تھے لیکن بعض دوسرے ایسے تھے کہ وہ اگرچہ اپنی کتابوں سے کچھ نہ جانتے تھے لیکن رسول اکرم ﷺ اور آپ کے دین کو دیکھ کر واضح طور یقین کئے ہوئے تھے کہ یہ دین ‘ دین حق ہے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ کفر پر کمربستہ تھے ۔ اس لئے نہیں کہ دلیل وبرہان میں کوئی کمی تھی بلکہ محض خواہشات نفسانیہ ‘ ذاتی مصلحتوں اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی خاطر وہ کفر کررہے تھے ۔ قرآن کریم اہل کتاب کہہ کر انہیں کو پکارتا ہے ۔ اس لئے کہ ان کی اس صفت اہل کتاب کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ اللہ کی اس کتاب جدید کو سینہ سے لگائیں۔
ایک بار پھر اللہ انہیں پکارتے ہیں تاکہ انہیں ان کے اس فعل پر اچھا شرمندہ کریں کہ وہ حق پر باطل کا رنگ چڑھاتے ہیں ‘ حق کو چھپاتے ہیں ‘ حق کو ضائع کرتے ہیں ‘ اور وہ یہ سب کچھ جانتے بوجھتے کرتے ہیں اور یہ ان کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے ۔ یہ ان کی نہایت ہی مکروہ اور قبیح حرکت …………اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے اہل کتاب پر جو تنقید فرمائی ہے ‘ اس پر وہ اس وقت سے لے کر آج تک قائم ہیں ۔ پوری اسلامی تاریخ میں ان کا کردار یہی رہا ہے۔ سب سے پہلے اس کا آغاز یہودیوں نے کیا اور یہودیوں کے بعد یہی منصب صلیبیوں نے سنبھال لیا ۔ اور اس پوری تاریخ میں انہوں نے اسلامی علوم میں بعض ایسے افکار شامل کردئیے کہ ان کی تنقیح صرف قرآن کریم کے ذریعہ ہی ممکن ہے ۔ انہوں نے تمام اسلامی علوم میں حق کے ساتھ باطل ملادیا ہے ۔ ہاں ان کی ان خفیہ سازشوں سے صرف قرآن کریم محفوظ رہا ہے اس لئے کہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ ابدالابد تک وہ قرآن کریم کو محفوظ رکھے گا ۔ انہوں نے تاریخ اسلامی میں دسیسہ کاری کی ۔ اسلامی تاریخ کے واقعات میں ملاوٹ کی ۔ انہوں نے ذخیرہ احادیث کے اندر احادیث گھڑ کر جعلی احادیث ملانے کی کوشش کی ۔ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اس نے اس کے مقابلے کے لئے بعض ایسے رجال پیدا کئے جنہوں نے اس میدان میں داد تحقیق دی اور ذخیرہ احادیث کو ان کی جعل سازیوں سے پاک کیا ۔ الا یہ کہ انسان کے محدود جدوجہد کی وجہ سے کوئی چیز بچ گئی ۔ لیکن وہ شاذ اور محدود ہوگئی ۔ انہوں نے قرآن کے ذخیرہ تفاسیر میں بھی ملمع کاری کی اور اسے ایک ایسا صحرائے بےآب وگیا بنادیا جس میں سے انسان کے لئے نشان راہ پانا مشکل ہوگیا ۔ انہوں نے اسلام کے بعض لیڈروں میں اپنے آدمی داخل کئے ۔ سینکڑوں لوگ ایسے تھے جو مسلمان بن کر اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہے ۔ اور آج دیکھئے کہ مستشرقین اور مستشرقین کے شاگردوں کی شکل میں اور بیسیوں ایسے لیڈر ہیں جو یہودیوں اور صلیبیوں نے ہمارے لئے لیڈر بنائے تاکہ وہ اس نام نہاد عالم اسلام میں یہودیوں اور صلیبیوں کے مفادات کا تحفظ کریں ۔ اس لئے کہ اسلام کے یہ دشمن اگر کھل کر آئیں تو وہ یہ مفادات حاصل نہیں کرسکتے۔
یہ سازشیں مسلسل روبعمل ہیں ۔ اور آج بھی اگر ہم ان میں سے کوئی جائے پناہ حاصل کرسکتے ہیں تو وہ صرف قرآن کے دامن میں حاصل کرسکتے ہیں ‘ جو محفوظ ترین کتاب ہے۔ اس قرآن کو اگر ہم اس تاریخی کشمکش میں اپنا مشیر بنالیں تو ہمیں محفوظ پناہ مل سکتی ہے ۔
قرآن کریم یہاں ان لوگوں کی بعض کوششوں کو بھی ریکارڈ پر لاتا ہے جو انہوں نے جماعت مسلمہ کو اپنے دین سے بدراہ کرنے کی خاطر کی تھیں ۔ اور یہ کام وہ حسب عادت نہایت ہی مکارانہ اور ذلیلانہ طریقہ کار کے مطابق کرتے تھے ۔ فرماتے ہیں۔
آل عمران 3:72
کس قدر مکارانہ طریق کار ہے یہ ؟ جیسا کہ ہم نے کہا یہ لوگ ایسے اوچھے ہتھیار بھی استعمال کرتے تھے ۔ اس لئے کہ اسلام لانا اور پھر اسلام سے پھرجانا ‘ اس لئے ممکن تھا کہ بعض کمزور طبع لوگ ‘ کم فہم لوگ ‘ ایسے لوگ جو زیادہ ثابت قدم نہ تھے ۔ اور جنہیں اپنے دین کی حقیقت کا بھی اچھی طرح علم نہ تھا ‘ وہ متاثر ہوسکتے تھے ۔ ان کے دل میں خلجان پیدا ہوسکتا تھا۔ خصوصاً عرب جو امی تھے ۔ اور ان میں یہ بات عام تھی کہ دین اور کتب سماوی کے بارے میں اہل کتاب ان سے زیادہ معلومات رکھتے ہیں ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ایمان لاتے ہیں اور پھر مرتد ہوجاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خفیہ کمزوری یا نقص پکڑلیا ہوگا۔ یا یہ کہ خود مرتد ہونے والے شک میں پڑگئے کہ وہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ وہ کدھر جائیں اور ان کو کسی حال میں ثابت حاصل نہیں ہے ۔ اور اہل کتاب کی جانب سے یہ دھوکہ آج تک جاری ہے ۔ ہاں اس کی شکل و صورت اور طور طریقے حالات زمانہ کے مطابقت سے بدل گئے ہیں ۔
ہاں آج کے دور میں مسلمانوں کے دشمنوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ وہ اب ان پرانی سازشوں پر ملمع کاری کرکے اہل اسلام کو دھوکہ نہیں دے سکتے ۔ اس لئے تمام دشمنوں نے اسی پرانے اسلوب پر کچھ جدید طریقے وضع کئے ہیں اور ان کے ذریعے سے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔ اب ان لوگوں نے عالم اسلام میں اساتذہ ‘ فلاسفہ ‘ محققین اور پی ایچ ڈی کے حاملین کی ایک جرار فوج چھوڑی ہوئی ہے ۔ یہ سب لوگ درپردہ ان دشمنان اسلام کے ایجنٹ ہیں ۔ پھر ان دشمنوں نے ہمارے مصنفین ‘ شعراء ‘ فن کاروں اور صحافیوں کو بھی اپنے جال میں پھنسا رکھا ہے ۔ ان لوگوں کے نام مسلمانوں جیسے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ مسلمانوں کی اولاد ہیں اور بعض تو مسلمانوں کے علماء ہیں ۔
ایجنٹ کی اس فوج کا کام صرف یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے دل و دماغ میں شکوک و شبہات پھیلائے ۔ اور اس کے لئے مختلف اسلوب اختیار کرے ۔ کبھی وہ علم وادب کے دروازے سے کام کرتے ہیں ۔ کبھی وہ صحافی اور فنکار کے روپ میں کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ اسلامی اصول حیات کی قدر و قیمت کم کرنے ‘ اسلامی نظریہ حیات کا مزاح اڑانے ‘ اسلامی اصولوں اور نصوص میں ایسی تاویلیں کرنے میں لگے ہوتے ہیں ‘ جن تاویلوں کے وہ نصوص متحمل ہی نہیں ہوسکتے ۔ یہ مسلسل ڈھول پیٹتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات رجعت پسندی ہے ۔ اور وہ ہر وقت اس تبلیغ میں لگے رہتے ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات کو ترک کردیا جائے ۔ اور اسے انسان کی عملی زندگی سے خارج کردیاجائے ۔ گویا کہ انسانی زندگی کو اس سے خطرہ ہے اور اس کو زندگی سے خطرہ ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے شعور اور طرز عمل میں ایسے تصورات اور ایسی روایات اور ایسے اصول کو رواج دیتے ہیں جو اسلامی تصورات کے متضاد ہوتے ہیں اور جن سے اسلامی طرز عمل اور اسلامی روایات کی خوش شکست وریخت ہوتی ہے ۔ یہ ایجنٹ ان جدیدجاہلی تصورات کو مسلمانوں کے نظریات میں جس قدر جاذب بناتے ہیں ۔ اسی قدر ایمانی روایات کا حلیہ بگاڑتے ہیں ۔ مزید برآں یہ کہ یہ ایجنٹ جنسیت کو ہر قید وبند سے آزاد کرتے ہیں ۔ اور اساسوں کو بنیاد سے اکھاڑ تے ہیں ۔ جن کے اوپر پاکیزہ اخلاق استوار ہوتے ہیں اور معاشرے کو اس گندگی کے اندر گراتے ہیں جسے وہ جگہ جگہ پھیلاتے پھرتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ایجنٹ اسلامی تاریخ کا بعینہ اسی طرح حلیہ بگاڑتے ہیں ‘ جس طرح انہوں نے اپنی کتب سماوی کا حلیہ بگاڑا اور اس میں تحریف کی ۔
لیکن آپ حیران ہوں گے یہ ایجنٹ ان سب کارناموں کے ساتھ پھر بھی مسلمان ہیں ! کیوں مسلمان نہ ہوں ‘ کیا ان کے نام مسلمانوں کی طرح نہیں ؟ اور وہ ان ناموں کے ساتھ ساتھ روز دن چڑھے اپنے اسلام کا اظہار واقرار بھی کرتے ہیں لیکن وہ مذکورہ بالا کارنامے کرکے گویا شام کے وقت وہ اسلام کا انکار کردیتے ہیں ۔ اور اس طرح یہ ایجنٹ وہ کردار ادا کرتے ہیں جو پرانے اہل کتاب کرتے تھے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ دور قدیم اور آج کے ماحول اور طریقہ واردات میں قدرے فرق ہے۔
آل عمران 3:73
اہل کتاب آپس میں طے کرتے تھے کہ تم لوگ دن چڑھے اپنے اسلام کا اظہار کرو اور شام تک اعلان کردو کہ ہم نے اسلام کا اعلان کیا تھا لیکن اب ہم نے اسے ترک کردیا ہے ۔ تاکہ اس طرح مسلمانوں کے دلوں میں شک پیدا ہوجائے اور وہ بھی اسلام سے لوٹ آئیں ۔ لیکن یہ بات راز میں رہے ۔ اس کا افشا بھی نہ کرو اور اپنے دین والوں کے علاوہ کسی اور اس راز سے خبردار بھی نہ کرو ۔ وَلا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ……………” اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات پر اعتماد نہ کرو ۔ “
فعل ” اسلام “ کا فاصلہ اگر لام متعدی ہو تو اس کا مفہوم اعتبار اور اعتماد کرنا ہوتا ہے۔ یعنی اعتمادصرف اس پر کرو جو تمہارے دین کو ماننے والا ہے ۔ مسلمانوں کے مقابلے میں صرف اپنے ہم مذہب لوگوں کے سامنے اپنے بھید کھولو۔ مسلمانوں کو ان باتوں کی خبر نہ ہونے پائے ۔
آج صہیونیت اور صلیبیت کے ساتھیوں کا طرز بھی یہی ہے ۔ یہ لوگ آپس میں ایک بات میں باہم مفاہمت کرلیتے ہیں ۔ وہ یہ کہ اسلامی نظریہ حیات کے بسمل کو موقعہ پاتے ہی قتل کردیا جائے ۔ اس کے لئے ایسے مواقع شاید میسر نہ ہوں ۔ اور ہوسکتا ہے کہ صہیونیوں اور صلیبیوں کے ان ایجنٹوں کے درمیان اس جو مکمل مفاہمت پائی جاتی ہے وہ پھر نہ پائی جائے ۔ لیکن یہ مفاہمت ایک طرف ایک (کلائنٹ ) (Client) کے درمیان ہے اور دوسری جانب اس کے ایجنٹ کے درمیان ہے ۔ اس میں یہ موکلین بعض اوقات پنے ایجنٹ کو اپنے اصل راز بھی بتادیتے ہیں ۔ جبکہ انہیں یقین ہو کہ وہ ان رازوں کو افشاء نہ کریں گے ۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ کو دوسرے روپ میں ظاہر کرتے ہیں اور اس رنگ میں نہیں آتے جس میں انہوں نے ان سازشوں کو تیار کیا ہوتا ہے۔ ان ایجنٹوں کے لئے پہلے سے حالات درست کرکے ماحول کو ان کے لئے سازگار بنادیا جاتا ہے ۔ تمام سہولتیں انہیں مہیا کردی جاتی ہیں ۔ اور جو لوگ اس کرہ ارض پر اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ نظروں سے اوجھل ہیں یا معاشروں میں دھتکارے ہوئے ہیں ۔ اس لئے وہ کہتے ہیں ولا تُؤْمِنُوا إِلا لِمَنْ تَبِعَ دِينَكُمْ…………… اور اپنا راز انہی لوگوں کو بتاؤ جو تمہارے دین کے ماننے والے ہیں ۔ “
یہاں آکر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اس کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ آپ اعلان کردیں کہ ہدایت تو سرف اللہ وحدہ کی ہدایت ہے ۔ اور جو شخص اللہ کی ہدایت کو تسلیم نہیں کرتا وہ کبھی بھی ہدایت پا نہیں سکتا ۔ کسی صورت میں بھی اور کسی طریقے سے بھی قُلْ إِنَّ الْهُدَى هُدَى اللَّهِ ” اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے ۔ “
اور یہ فیصلہ ان کے اس قول کے جواب میں آتا ہے ۔” اہل ایمان پر جو کچھ نازل کیا گیا ہے اس پر صبح ایمان لاؤ ‘ اور شام کے وقت اس کا انکار کردو ‘ امید ہے کہ اس طرح وہ پلٹ آئیں ۔ “ مسلمانوں کو ان کے اس مذموم منصوبے کے روبعمل آنے کے خلاف متنبہ کیا جاتا ہے ۔ اگر ایسا ہوا تو گویا وہ دوبارہ کفر میں داخل ہوجائیں گے ۔ اس لئے ہدایت صرف اللہ کی ہدایت ہے ۔ اور یہ مکار جو تدابیر اختیار کرتے ہیں وہ خالص کفر ہے ۔ اور یہ فیصلہ بیچ میں آتا ہے ۔ یعنی بطور جملہ ” معترضہ “ ابھی تک اہل کتاب کی بات ختم نہیں ہوتی ۔
أَنْ يُؤْتَى أَحَدٌ مِثْلَ مَا أُوتِيتُمْ أَوْ يُحَاجُّوكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْاور یہ کہ کوئی دوسرا اس بات کو جان لے جو تمہیں معلوم ہے اور وہ تمہارے رب کے ہاں تمہارے خلاف حجت پیش کریں۔ “ یہ فقرہ ان کے اس موقف پر دلیل ہے کہ ” اور اپنا راز انہیں لوگوں کو بتاؤ جو تمہارے دین کے ماننے والے ہیں ۔ یہ لوگ اس بغض اور حسد میں مبتلا تھے کہ کسی دوسرے شخص کو بھی اسی طرح نبوت اور کتاب سے سرفراز کیا جائے جس طرح تم نبوت اور کتاب سے سرفراز ہوئے تھے ‘ انہیں یہ خوف دامن گیر تھا کہ اہل اسلام کو دین اور اسلام پر اطمینان نصیب نہ ہوجائے ۔ اور وہ اس حقیقت پر مطلع نہ ہوجائیں جسے اہل کتاب نے چھپارکھا ہے ۔ حالانکہ وہ اسے جانتے ہیں اور نیز قیامت کے دن مسلمان اللہ کے ہاں اسے اہل کتاب کے پاس بطور حجت پیش نہ کردیں ۔ ان لوگوں کا خیال یہ تھا گویا مسلمانوں کی اس قولی شہادت کے سواء اللہ انہیں سزا نہ دے گا۔ یہ ایک ایسا تصو رہے جو اللہ کی ذات وصفات پر صحیح ایمان کے نتیجے میں نہیں پیدا ہوتا ۔ نہ اس قسم کے تصورات ان لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوسکتے ہیں جن کو اللہ کی ذات اور صفات ‘ نبوت اور رسالت اور ایمان پر مبنی افکار وفرائض کا صحیح علم حاصل ہو۔ “
چناچہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور رسول کریم ﷺ کو اس بات کی طرف متوجہ فرماتے ہیں کہ انہیں آگاہ کردیں کہ یہ تو اللہ کا فضل وکرم ہے اور یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ کسی قوم کو کتاب ونبوت سے نواز دے ۔
قُلْ إِنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (73) يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
” اے نبی ان سے کہو کہ ” فضل وشرف اللہ کے اختیار میں ہے ‘ جسے چاہے عطا فرمائے ۔ “ وہ وسیع النظر ہے اور سب کچھ جانتا ہے ‘ اپنی رحمت کے لئے جس کو چاہتا ہے مخصوص کرلیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے۔ “
اللہ کی مشیئت نے اب فیصلہ کرلیا ہے اب نبوت اور رسالت سے اہل کتاب کے سوا دوسرے لوگوں کو سرفرازکردے ‘ خصوصاًجبکہ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے مواعید کی مخالفت کرتے چلے جائیں ‘ جوان کے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو ذمہ داری ان پر ڈالی تھی اسے بھی توڑتے چلے جائیں ‘ جو امانت اللہ نے ان کے سپرد کی تھی اس میں خیانت کرتے چلے جائیں ‘ وہ اپنی کتاب کے احکام اور اپنے دین کے قوانین کو توڑتے چلے جائیں ۔ اور پھر اگر کوئی انہیں دعوت دے کہ آؤ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں تو وہ انکار کردیں ‘ اور ان کے ان سب کارناموں کی وجہ سے انسانوں کی قیادت اور راہنمائی اسلامی نظام زندگی ‘ اسلا می قائدین اور قرآن کریم کی راہنمائی سے آزاد ہوجائے ‘ یہی وہ مقام تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل اور اہل کتاب سے قیادت واپس لے لی اور اس بات امانت کو امت مسلمہ کے سپرد کردیا ۔ اور یہ اس امت پر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل اور احسان تھا ۔ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ………… ” اللہ بڑی وسعت والا اور خبردار ہے۔ “ اور يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ…………” وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کرلیتا ہے۔ “ اس کا فضل وکرم بڑا وسیع ہے ۔ اور اس کا علم بھی بڑا وسیع ہے ‘ اس لئے وہ اس جگہ کو بھی خوب جانتا ہے ہے ۔ جہاں اس کی رحمت نازل ہو۔ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ…………” اس کا فضل بہت بڑا ہے ۔ “ اور کسی قوم کے لئے اس سے بڑا اور فضل کیا ہوسکتا ہے کہ وہ اسے ایک کتاب کی صورت میں ہدایت دے ۔ اور کسی کو وہ اس سے بڑی کیا خیر و برکت عطاء کرے کہ ان کو رسالت عطا کردے اور اس سے بڑی رحمت کا اور کیا مظاہرہ ہوسکتا ہے کہ وہ کسی قوم میں رسول بھیج دے ۔
آل عمران 3:74
جب اہل اسلام نے یہ سنا تو ان کے دل میں اللہ کے فضل وکرم کا احساس پیدا ہوا ۔ انہوں نے یہ جان لیا کہ انہیں ایک عظیم ڈیوٹی کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ اور انہیں مخصوص طور پر یہ اعزاز دیا گیا ہے ۔ تو انہوں نے اپنے اس اعزاز کو بڑی دلچسپی کے ساتھ قائم رکھا۔ بڑی مضبوطی اور عزم سے اسے تھام لیا ۔ بڑی قوت اور ثابت قدمی سے اس کی مدافعت کی ۔ وہ حاسدوں اور مکاروں کی سازشوں کے مقابلے میں چوکنے ہوگئے ۔ قرآن کریم کا یہی انداز تربیت تھا ۔ اس لئے کہ یہ حکیم ودانا کا کلام ہے ۔ اور آج بھی امت مسلمہ کے لئے یہی عنصر موجب اصلاح وتربیت ہوسکتا ہے ۔ ہر زمانے اور ہر نسل میں ۔
آگے بڑھ کر مزیدحالات اہل کتاب کی بابت بیان ہوتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے طرز عمل میں کس قدر تناقص پایا جاتا ہے ۔ اور قطعی طور پر بتادیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا دین یعنی اسلام کن صحیح اور سچے اقدار پر استوار ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب کے اندر باہمی معاملات میں کس قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔
آل عمران 3:75
جو اہل کتاب اس وقت اہل ایمان اور جماعت مسلمہ کے مقابلے میں اترے ہوئے تھے اور بحث و تکرار کررہے تھے ‘ ان کے بارے میں قرآن کریم کا تبصرہ نہایت ہی منصفانہ سچائی پر مبنی ہے ۔ اور ان کے اوصاف بےکم وکاست بیان کئے گئے ہیں ۔ اور جو اوصاف بیان کئے گئے ہیں ‘ آج تک اہل کتاب کا یہی حال ہے ۔ غرض اہل کتاب اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جو دشمنی کررہے تھے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف وہ جس قدر گہری اور مذموم سازشیں کررہے تھے اور جماعت مسلمہ اور دین اسلام کے خلاف وہ جس قدر شدید شر و فساد کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے ۔ ان سب حقائق کے باوجود ان میں سے جو لوگ اچھے تھے نہ ان کے فضائل چھپاتا ہے اور نہ ان کے بیان میں کمی کرتا ہے۔ حالانکہ وہ اس وقت وہ اہل اسلام کے ساتھ مقابلہ ومناظرہ کی حالت میں تھے ۔ اس لئے قرآن مجید کہتا ہے کہ اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے ہیں کہ اگر ان کے ہاتھ میں لوگوں کے عظیم حقوق بھی آجائیں تو وہ انہیں تلف نہیں کرتے ۔
وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ……………” اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کرے گا۔ “ لیکن ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو پرلے درجے کے خائن ‘ لالچی ‘ اور ملمع کار ہیں جو کسی کا حق نہیں لوٹاتے ۔ اگرچہ وہ بہت ہی حقیر کیوں نہ ہوں ‘ ہاں صرف وہ اس صورت میں ادا کریں گے کہ تم ان سے اصرار سے مطالبہ کرو اور ان کے سر پر سوار ہوجاؤ اور یہ حق مارنے کے لئے وہ ایک ایسا فلسفہ بھی گڑھتے ہیں جس میں سوچے سمجھے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔
وَمِنْهُمْ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الأمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ” اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملے میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادانہ کرے گا الا یہ کہ تم اس کے سر پر سوارہوجاؤ ‘ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ” امیوں (غیر یہودیوں کے معاملے میں ) ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ “ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے کوئی ایسی بات نہیں فرمائی۔ “
اور یہ بھی یہودیوں کی ایک خاص صفت ہے ۔ صرف یہودی یہ بات کہتے تھے ۔ ان کے ہاں اخلاق وآداب کے مختلف پیمانے تھے ۔ امانت ودیانت تو صرف ایک یہودی اور دوسری یہودی کے درمیان معاملات کے لئے ہے ۔ رہے غیر یہودی جنہیں وہ امی کہتے تھے ۔ اور ان سے مراد ان کی صرف عربوں ہی سے تھی ۔ تو ان کے اموال تلف کرنے اور ناجائز ہڑپ کرجانے میں وہ کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے ۔ وہ بڑی بےتکلفی کے ساتھ غیر یہود کے ساتھ دھوکہ ‘ فریب ‘ ملمع کاری ‘ استحصال جیسے جرائم کا ارتکاب کرتے تھے ۔ بغیر کسی جھجھک کے وہ ان کے خلاف اوچھے ہتھیار استعمال کرتے اور مذموم حرکات کا ارتکاب کرتے۔
تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ان کا کہنا یہ تھا کہ ان کا خدا اور ان کا دین انہیں اس بات کا حکم دیتا ہے۔ لیکن دراصل وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کسی فحش بات کا حکم نہیں دیتا ۔ مثلاً یہ کہ وہ کسی گروہ کو حکم دے کہ وہ دوسرے گروہ کی دولت ناجائز اور ظالمانہ طور پرکھائے ۔ اور اس کے ساتھ اپنے کئے ہوئے معاہدوں کی پابندی نہ کرے ۔ اور اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرے ۔ اور ان کو بغیر کسی کراہیت اور حرج کے نقصان پہنچاتا چلاجائے ۔ لیکن وہ یہودی تھے ۔ وہ یہودی جنہوں نے انسانوں کے ساتھ عداوت اور دشمنی کو اپنا دین بنارکھا ہے۔ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ……………” وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ‘ جانتے ہوئے۔ “
آل عمران 3:76
اس مقام پر قرآن کریم انسانوں کے لئے اپنا واحد اخلاقی اصول طے کردیتا ہے ۔ یہ اس کا واحد اخلاقی معیار ہے ۔ اور وہ اپنے اخلاقی نقطہ نظر کو خدا اور خدا خوفی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔
غرض یہ ایک اخلاقی اصول ہے ‘ جس نے اس کا لحاظ رکھا ‘ اللہ کے عہد کا پاس کرتے ہوئے اللہ خوفی کا شعور رکھتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ محبت رکھے گا ‘ اسے اعزاز اور اکرام نصیب ہوگا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد کو دنیا کے ثمن قلیل کی وجہ سے توڑا ‘ چاہے اسے یہ پوری دنیا کیوں نہ مل رہی ہو ‘ تو اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ یہ پوری دنیا بھی آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل ہے ۔ اللہ کے ہاں ایسا شخص ہرگز مقبول نہ ہوگا اور ایسے شخص کے لئے کوئی نرمی نہ ہوگی ۔ نہ وہ صاف ہوگا اور نہ پاک ‘ اس کی یہ حالت ہوگی وہ عذاب الیم میں مبتلا ہوگا۔
یہاں اشارتاً یہ کہا گیا ہے کہ وفائے عہد کا تعلق اللہ خوفی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے وفائے عہد میں کسی حالت میں بھی فرق نہیں آنا چاہئے ۔ وہ دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ ہو ۔ وفائے عہد مصلحتوں پر موقوف نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ وفائے عہد کا معاملہ اللہ کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔ اس کا ربط اور تعلق اس شخص کے ساتھ نہیں ہوتا جس کے ساتھ عہد کیا گیا ہو۔
یہ ہے اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر ‘ ایفائے عہد میں بھی اور عمومی اجتماعی اخلاق میں بھی ۔ یہ کہ اجتماعی معاملات میں سب سے پہلا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ایک مسلمان سب سے پہلے ذات باری کو پیش نظر رکھتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے ۔ اور اس کی رضامندی کا طلب گار ہوتا ہے۔ اسلام میں اخلاقیات کی تہہ میں محرک مصلحت نہیں ہوتی ‘ نہ اس کا سبب اجتماعی عادت ہوتی ہے اور نہ اخلاقیات سوسائٹی کے دباؤ کی وجہ سے رائج ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ سوسائٹی کبھی راہ راست پر ہوتی ہے اور کبھی گمراہ ہوتی ہے ۔ اور اس میں گمراہ کن اقدار اور پیمانے رائج ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا اخلاقیات کے لئے ایسے ناقابل تغیر پیمانے وضع ہونا ضروری ہیں جن کے مطابق ایک فرد بھی اپنے اخلاق کو ناپے اور ایک سوسائٹی بھی ان کے معیار کو سمجھے ۔ اور ناقابل تغیر ہونے اور مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ ان اخلاقی پیمانوں کا تعلق عالم بالا سے بھی ہو ‘ جہاں سے پیمانے لئے جائیں ۔ یہ پیمانے اور ان کا ماخذ انسانی اصطلاحات اور انسانی ضروریات سے بالاہو ‘ اس لئے کہ انسانی ضروریات اور مصلحتیں روز بدلتی رہتی ہیں ۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ یہ اصول اور پیمانے ذات باری سے اخذ کئے جائیں اور وہ اس طرح کہ سب سے پہلے معلوم کیا جائے کہ اللہ کی رضا کیا ہے ۔ اس کی رضامندی پیش نظر ہو ‘ اس کا خوف دل میں ہو ‘ یوں اسلام انسانیت کو ایک ایسا اخلاقی نظام دیتا ہے جس کی جڑیں اس دنیا کی بجائے عالم بالا میں ہوتی ہیں اور وہ اسی روشن مستحکم اور سربلند سرچشمے سے اپنے اخلاقی پیمانے اور اخلاقی اصول اخذ کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ وعدہ خلافی کرتے ہیں اور امانت میں بددیانتی کرتے ہیں ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ۔ لہٰذا عہد و پیمان کا پہلا تعلق اللہ اور بندے کے درمیان ہے اور بعد میں اس کا تعلق ایک انسان اور دوسرے انسان کے ساتھ ہے ۔ لہٰذا جہاں تک اللہ کا تعلق ہے ایسے عہد شکن لوگوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ہاں اگر وہ اس عہد شکنی اور قسم توڑنے کے عوض کوئی دنیاوی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ مصالح دنیا آخرت کے مقابلے میں کوئی قیمت نہیں رکھتے ۔ اس لئے ان کی اس عہد شکنی کی وجہ سے روز آخرت میں ان کے لئے کوئی جزا نہ ہوگی اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کے ساتھ جو عہد کیا تھا وہ اللہ کے ساتھ بھی عہد تھا۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ فنی اعتبار سے قرآن کریم کا اسلوب تعبیر نہایت ہی مصورانہ ہے ۔ یہاں اس حقیقت کہ اللہ ان پر کوئی توجہ نہ کرے گا اور ان کی کوئی رو رعایت نہ ہوگی ۔ یوں ادا کیا گیا ہے کہ اللہ نہ ان کے ساتھ بات کرے گا ‘ نہ ان کی طرف نظر اٹھاکر دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا ۔ یہ وہ انداز ہے جو بالعموم نظر انداز کرنے کے لئے عام لوگوں کے درمیان متعارف ہے ۔ قرآن کریم نے اس تصویری انداز بیان کو اس لئے اختیار کیا ہے تاکہ قیامت کے دن ان کی رسوائی کی ایک زندہ اور وجدانی تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے ۔ یہ زندہ اور وجدانی پیرایہ اظہار محض تجریدی انداز بیان سے زیادہ دلنشین ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا پیرایہ اظہار ‘ بہت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل ۔
ذرا آگے بڑھئے اور دیکھئے اہل کتاب کے کچھ اور نمونے ‘ ایک نمونہ ان گمراہ کنندگان کا ہے جو خود کتاب اللہ کو لوگوں کی گمراہی کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ وہ اپنی زبان کو موڑ کر چالاکی سے بات کرتے ہیں اور مراد کچھ سے کچھ بن جاتی ہے ۔ وہ آیات کتاب میں ایسی توڑپھوڑ کرتے ہیں جس سے مراد اور مفہوم ان کی متعینہ خواہشات کے مطابق ہوجاتا ہے اور اس توڑ اور پھوڑ کے بدلے میں ایک حقیر فیس وصول کرتے ہیں ۔ اور اس فیس کا تعلق اس دنیا کے حقیر مقاصد کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ جو تحریفات اور تاویلات کرتے تھے منجملہ ان میں سے وہ عقائد تھے ‘ جو انہوں نے حضرت مسیح اور حضرت مریم کے بارے میں گھڑرکھے تھے ۔ اور وہ عقائد اہل کنیسا اور حکام وقت کے مفید مطلب تھے ۔
آل عمران 3:77
اس مقام پر قرآن کریم انسانوں کے لئے اپنا واحد اخلاقی اصول طے کردیتا ہے ۔ یہ اس کا واحد اخلاقی معیار ہے ۔ اور وہ اپنے اخلاقی نقطہ نظر کو خدا اور خدا خوفی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے۔
غرض یہ ایک اخلاقی اصول ہے ‘ جس نے اس کا لحاظ رکھا ‘ اللہ کے عہد کا پاس کرتے ہوئے اللہ خوفی کا شعور رکھتے ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ محبت رکھے گا ‘ اسے اعزاز اور اکرام نصیب ہوگا۔ اور جس نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے ‘ اس عہد کو دنیا کے ثمن قلیل کی وجہ سے توڑا ‘ چاہے اسے یہ پوری دنیا کیوں نہ مل رہی ہو ‘ تو اس کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ یہ پوری دنیا بھی آخرت کے مقابلے میں متاع قلیل ہے ۔ اللہ کے ہاں ایسا شخص ہرگز مقبول نہ ہوگا اور ایسے شخص کے لئے کوئی نرمی نہ ہوگی ۔ نہ وہ صاف ہوگا اور نہ پاک ‘ اس کی یہ حالت ہوگی وہ عذاب الیم میں مبتلا ہوگا۔
یہاں اشارتاً یہ کہا گیا ہے کہ وفائے عہد کا تعلق اللہ خوفی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے وفائے عہد میں کسی حالت میں بھی فرق نہیں آنا چاہئے ۔ وہ دوست کے ساتھ ہو یا دشمن کے ساتھ ہو ۔ وفائے عہد مصلحتوں پر موقوف نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ وفائے عہد کا معاملہ اللہ کے ساتھ مربوط ہوتا ہے۔ اس کا ربط اور تعلق اس شخص کے ساتھ نہیں ہوتا جس کے ساتھ عہد کیا گیا ہو۔
یہ ہے اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر ‘ ایفائے عہد میں بھی اور عمومی اجتماعی اخلاق میں بھی ۔ یہ کہ اجتماعی معاملات میں سب سے پہلا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے ۔ ایک مسلمان سب سے پہلے ذات باری کو پیش نظر رکھتا ہے۔ وہ سب سے پہلے اللہ کے غضب سے ڈرتا ہے ۔ اور اس کی رضامندی کا طلب گار ہوتا ہے۔ اسلام میں اخلاقیات کی تہہ میں محرک مصلحت نہیں ہوتی ‘ نہ اس کا سبب اجتماعی عادت ہوتی ہے اور نہ اخلاقیات سوسائٹی کے دباؤ کی وجہ سے رائج ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ سوسائٹی کبھی راہ راست پر ہوتی ہے اور کبھی گمراہ ہوتی ہے ۔ اور اس میں گمراہ کن اقدار اور پیمانے رائج ہوجاتے ہیں ۔ لہٰذا اخلاقیات کے لئے ایسے ناقابل تغیر پیمانے وضع ہونا ضروری ہیں جن کے مطابق ایک فرد بھی اپنے اخلاق کو ناپے اور ایک سوسائٹی بھی ان کے معیار کو سمجھے ۔ اور ناقابل تغیر ہونے اور مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ ان اخلاقی پیمانوں کا تعلق عالم بالا سے بھی ہو ‘ جہاں سے پیمانے لئے جائیں ۔ یہ پیمانے اور ان کا ماخذ انسانی اصطلاحات اور انسانی ضروریات سے بالاہو ‘ اس لئے کہ انسانی ضروریات اور مصلحتیں روز بدلتی رہتی ہیں ۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ یہ اصول اور پیمانے ذات باری سے اخذ کئے جائیں اور وہ اس طرح کہ سب سے پہلے معلوم کیا جائے کہ اللہ کی رضا کیا ہے ۔ اس کی رضامندی پیش نظر ہو ‘ اس کا خوف دل میں ہو ‘ یوں اسلام انسانیت کو ایک ایسا اخلاقی نظام دیتا ہے جس کی جڑیں اس دنیا کی بجائے عالم بالا میں ہوتی ہیں اور وہ اسی روشن مستحکم اور سربلند سرچشمے سے اپنے اخلاقی پیمانے اور اخلاقی اصول اخذ کرتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جو لوگ وعدہ خلافی کرتے ہیں اور امانت میں بددیانتی کرتے ہیں ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ۔ لہٰذا عہد و پیمان کا پہلا تعلق اللہ اور بندے کے درمیان ہے اور بعد میں اس کا تعلق ایک انسان اور دوسرے انسان کے ساتھ ہے ۔ لہٰذا جہاں تک اللہ کا تعلق ہے ایسے عہد شکن لوگوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ ہاں اگر وہ اس عہد شکنی اور قسم توڑنے کے عوض کوئی دنیاوی مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ مصالح دنیا آخرت کے مقابلے میں کوئی قیمت نہیں رکھتے ۔ اس لئے ان کی اس عہد شکنی کی وجہ سے روز آخرت میں ان کے لئے کوئی جزا نہ ہوگی اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کے ساتھ جو عہد کیا تھا وہ اللہ کے ساتھ بھی عہد تھا۔
یہاں اس بات کی وضاحت بھی ہوتی ہے کہ فنی اعتبار سے قرآن کریم کا اسلوب تعبیر نہایت ہی مصورانہ ہے ۔ یہاں اس حقیقت کہ اللہ ان پر کوئی توجہ نہ کرے گا اور ان کی کوئی رو رعایت نہ ہوگی ۔ یوں ادا کیا گیا ہے کہ اللہ نہ ان کے ساتھ بات کرے گا ‘ نہ ان کی طرف نظر اٹھاکر دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا ۔ یہ وہ انداز ہے جو بالعموم نظر انداز کرنے کے لئے عام لوگوں کے درمیان متعارف ہے ۔ قرآن کریم نے اس تصویری انداز بیان کو اس لئے اختیار کیا ہے تاکہ قیامت کے دن ان کی رسوائی کی ایک زندہ اور وجدانی تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے ۔ یہ زندہ اور وجدانی پیرایہ اظہار محض تجریدی انداز بیان سے زیادہ دلنشین ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا پیرایہ اظہار ‘ بہت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل ۔
ذرا آگے بڑھئے اور دیکھئے اہل کتاب کے کچھ اور نمونے ‘ ایک نمونہ ان گمراہ کنندگان کا ہے جو خود کتاب اللہ کو لوگوں کی گمراہی کے لئے بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں ۔ وہ اپنی زبان کو موڑ کر چالاکی سے بات کرتے ہیں اور مراد کچھ سے کچھ بن جاتی ہے ۔ وہ آیات کتاب میں ایسی توڑپھوڑ کرتے ہیں جس سے مراد اور مفہوم ان کی متعینہ خواہشات کے مطابق ہوجاتا ہے اور اس توڑ اور پھوڑ کے بدلے میں ایک حقیر فیس وصول کرتے ہیں ۔ اور اس فیس کا تعلق اس دنیا کے حقیر مقاصد کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ جو تحریفات اور تاویلات کرتے تھے منجملہ ان میں سے وہ عقائد تھے ‘ جو انہوں نے حضرت مسیح اور حضرت مریم کے بارے میں گھڑرکھے تھے ۔ اور وہ عقائد اہل کنیسا اور حکام وقت کے مفید مطلب تھے ۔
آل عمران 3:78
جب اہل دین اخلاقی فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو وہ دینی حقائق میں ملاوٹ کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ کام وہ علمائے دین کے لباس میں کرتے ہیں ۔ قرآن کریم یہاں اہل کتاب میں ایک گروہ کے جو حالات بیان کررہا ہے ‘ ان سے ہم اپنے زمانے میں اچھی طرح واقف ہیں ‘ اہل کتاب نصوص کتاب میں تاویلات کرتے تھے ۔ زبان کے ہیر پھیر سے مفہوم تبدیل کرتے تھے ۔ اور اس طرح وہ طے شدہ نتائج اخذ کرتے تھے ۔ اور ان کا یقین یہ ہوتا تھا کہ کتاب اللہ کا مفہوم یہی ہے ۔ اور یہی مفہوم ارادہ الٰہی کا اظہار ہے ۔ حالانکہ جو نتائج وہ اخذ کرتے تھے وہ اصول دین سے متصادم تھے ۔ ان کو یہ اعتماد تھا اکثر سامعین ان پڑھ اور بےعلم ہیں اور وہ ان کے خودساختہ نتائج اور آیات کے حقیقی مفہوم کے درمیان کوئی فرق اور امتیاز نہیں کرسکتے ۔ حالانکہ ان کے نتائج جعلی اور جھوٹے تھے اور ان نتائج تک وہ آیات کو زبردستی کھینچ کر لاتے تھے ۔
اہل کتاب کا یہ نمونہ ہمارے دور میں بعض دینی راہنماؤں میں پوری طرح پایا جاتا ہے ‘ جو بطور ظلم اپنے آپ کو دین کے حوالے سے پیش کرتے ہیں ۔ جو دین میں تحریف کرتے ہیں ۔ اور جو اپنی خواہشات نفسانیہ میں سے مزاح بناتے ہیں ۔ وہ اپنے کاندھوں پر آیات الٰہی کو اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں اور جہاں بھی انہیں کوئی مفاد نظرآئے اسی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں ‘ جہاں بھی اس دنیا کے مفادات میں سے کوئی بھی مفاد ملتا ہے ۔ ان آیات کے ذریعہ وہ اسے حاصل کرتے ہیں ۔ غرض آیات الٰہی کو اٹھائے یہ لوگ اغراض دنیاوی کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں ۔ اور پھر ان آیات کی گردن توڑ کر اور انہیں خوب مروڑ کر ان مفادات پر فٹ کرتے ہیں ۔ وہ الفاظ کے مفہوم میں ایسی تبدیلی کرتے ہیں کہ وہ ان کے مقاصد اور رجحانات سے موافق ہوجائیں ۔ اگرچہ یہ رجحانات دین کے اساسی تصورات اور اصول دین کے ساتھ متصادم ہوں ۔ وہ اس میدان میں سہ گانہ جدوجہد کرتے ہیں اور ہر قسم کی بہتان تراشی کا ارتکاب کرتے ہیں اور ہر وقت اسی گھات میں بیٹھے رہتے ہیں کہ کسی طرح قرآن مجید کے کسی لفظ کا وہ مفہوم نکال لیں جو ان کی خواہشات نفسانیہ کے مطابق ہو ‘ اور جس سے یہ رائج اور صاید خواہشات ثابت ہوجائیں ۔
وَیَقُولُونَ ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَمَا ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ وَھُم یَعلَمُونَ
” وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا ‘ وہ جان بوجھ کر بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ “
قرآن کریم نے اہل کتاب کے ایک گروہ کا جو حال بیان کیا ہے ‘ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو اہل کتاب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ اس میں ہر وہ قوم مبتلا ہوجاتی ہے جو دین کا کام ایسے لوگوں کے سپرد کردیتی ہے جو نام نہاد دیندار ہوتے ہیں اور جن کے نزدیک دین اس قدر ارزاں ہوجاتا ہے کہ اس کی قدر و قیمت ان کی اغراض دنیاوی میں سے ادنی کے غرض کے برابر بھی نہیں ہوتی ۔ اور ان کی ذمہ داری کی حس اس قدر مانگ پڑجاتی ہے کہ ان کا دل اللہ پر جھوٹ باندھنے سے بھی نہیں چوکتا۔ وہ لوگوں اور بندوں کی چاپلوسی کی خاطر آیات الٰہی میں تبدیلی کرتے ہیں ۔ اور اپنی غیر صحت مندخواہشات کو پورا کرنے کے لئے وہ اللہ کے دین میں تحریف کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ گویا اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو اس خطرناک مقام سے آگاہ کرتے ہیں جہاں قدم پھسل جاتے ہیں اور جس کی وجہ سے بنی اسرائیل نے اپنے مقام قیادت کو کھودیا۔
ان آیات کے مجموعی تاثر کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کا یہ گروہ کتاب اللہ میں سے مجازی تعبیرات پر مشتمل بعض جملے تلاش کرلیتا تھا اور پھر ان آیات کو توڑ مروڑ کر ان سے ایسے معانی نکال لیتا تھا ‘ جن کی متحمل وہ آیات نہ تھیں ۔ یوں وہ اپنی تاویلات کے ذریعہ عجیب معانی نکالتے اور ان پڑھ لوگوں کو یہ تاثر دیتے کہ یہ مفاہم کتاب اللہ کے مدلولات ہیں ۔ حالانکہ وہ خود ان کے ایجاد کردہ تھے ۔ وہ لوگوں سے کہتے یہ ہے وہ بات جو اللہ نے کہی ہے ۔ حالانکہ اللہ نے تعالیٰ نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ہوتی ۔ ان تاویلات کا مقصد اور ہدف یہ تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت ثابت کردیں ‘۔ یعنی تین اقنوم باپ ‘ بیٹا اور روح القدس ‘ تین بھی اور ایک بھی اور وہ ایک اللہ ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کے تصور سے پاک ہے ۔ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ایسے کلمات روایت کرتے تھے جو ان کے مزعومات کی تائید کرتے تھے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ان تحریفات اور تاویلات کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ اپنے بندے کو نبوت کے لئے چن لے اور اس کو یہ عظیم منصب عطاکردے اور وہ بندہ لوگوں کو حکم دے کہ وہ اسے الٰہ بنالیں ۔ فرشتوں کو الٰہ بنالیں ۔ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے ۔
آل عمران 3:79
حضرت نبی ﷺ یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ عبد ہیں اور اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک رب ہے اور تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں ۔ اس لئے اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے مقام ربوبیت کو مخصوص کریں ۔ کیونکہ مقام الوہیت کا تو پھر تقاضایہ ہے لوگ عبادت بھی نبی کی کریں ۔ اس لئے کوئی نبی لوگوں کو یہ نہیں کہہ سکتا کُونُوا عِبَادًا لِّی مِن دُونِ اللّٰہِ……………” تم اللہ کے سوا میرے بندے بن جاؤ۔ “ نبی کی دعوت تو یہ ہوتی ہے کہ کُونُوا رَبَّانِینَ……………” تم سب ربانی بن جاؤ۔ “ اس لئے کہ جس کتاب کا تم نے علم حاصل کیا ہے ۔ اس کی تعلیمات یہی ہیں ۔ اور جس کی تم تدریس کرتے ہو اس کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ اس لئے علم کتاب اور تدریس کا یہ تقاضا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی ہو ‘ پس نبی کیسے لوگوں کو یہ حکم دے سکتا ہے کہ وہ نبیوں اور فرشتوں کو اللہ کے علاوہ رب بنالیں ۔ اس لئے کہ نبی اسلام لانے کے بعد لوگوں کو کفر کا حکم کیسے دے سکتا ہے ۔ حالانکہ اس کا مقام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت دے ۔ یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پانے کے بعد گمراہ کردے ۔ وہ اسلام کی طرف ان کا قائد ہے ‘ اسلام سے نکالنے کے لئے ان کا قائد نہیں ہے۔
اس فارمولے کے مطابق وہ بات محال ہوجاتی ہے ۔ جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ نیز ان کا یہ جھوٹ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ تمام آیات وروایات جو وہ پڑھتے ہیں اللہ اور رسول کی طرف سے ہوسکتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ جو بات کہتے ہیں اس کی حیثیت ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ اور وہ دعویٰ بےاعتبار ہوجاتا ہے جسے وہ بابار اسلامی صفوف میں شبہات اور خلجان پیدا کرنے کے لئے دہراتے ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن کریم نے انہیں اچھی طرح ننگا کرکے رکھ دیا ہے ۔ اور وہ جماعت مسلمہ کے سامنے کھلے میدان میں ننگے ہوگئے ہیں ۔
ان لوگوں کی مثال بھی بعینہ ان اہل کتاب جیسی ہے جو علم دین کے مدعی ہیں جیسا کہ ہم اس سے پہلے بالتفصیل بیان کر آئے ہیں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ قرآن کریم کی یہ آیات ان کے سامنے پیش کی جائیں ۔ کیونکہ یہ لوگ بھی قرآنی نصوص کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور انہوں نے بھی اللہ کے سوا کئی ارباب قائم کر رکھے ہیں اور وہ ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ آیات کو توڑ موڑ کر ان سے وہ مفاہیم نکالیں جو خود انہوں نے گھڑرکھے ہیں ۔
وَیَقُولُونَ ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَمَا ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ وَھُم یَعلَمُونَ
” وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا ‘ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ “ اس کے بعد تمام رسولوں اور رسالتوں کے قافلہ ایمانی کے درمیان ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کے حوالے سے ‘ ایک مضبوط رابطے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق وہ تمام لوگ اس عہد کو توڑنے والے اور فاسق قرار پاتے ہیں جو نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ اللہ سے کئے ہوئے عہد سے منحرف ہوتے ہیں ‘ بلکہ وہ اس پوری کائنات کے ناموس اعظم سے بھی خارج ہوجاتے ہیں۔
آل عمران 3:80
حضرت نبی ﷺ یہ یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ عبد ہیں اور اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک رب ہے اور تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں ۔ اس لئے اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے مقام ربوبیت کو مخصوص کریں ۔ کیونکہ مقام الوہیت کا تو پھر تقاضایہ ہے لوگ عبادت بھی نبی کی کریں ۔ اس لئے کوئی نبی لوگوں کو یہ نہیں کہہ سکتا کُونُوا عِبَادًا لِّی مِن دُونِ اللّٰہِ……………” تم اللہ کے سوا میرے بندے بن جاؤ۔ “ نبی کی دعوت تو یہ ہوتی ہے کہ کُونُوا رَبَّانِینَ……………” تم سب ربانی بن جاؤ۔ “ اس لئے کہ جس کتاب کا تم نے علم حاصل کیا ہے ۔ اس کی تعلیمات یہی ہیں ۔ اور جس کی تم تدریس کرتے ہو اس کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ اس لئے علم کتاب اور تدریس کا یہ تقاضا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی ہو ‘ پس نبی کیسے لوگوں کو یہ حکم دے سکتا ہے کہ وہ نبیوں اور فرشتوں کو اللہ کے علاوہ رب بنالیں ۔ اس لئے کہ نبی اسلام لانے کے بعد لوگوں کو کفر کا حکم کیسے دے سکتا ہے ۔ حالانکہ اس کا مقام یہ ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت دے ۔ یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو ہدایت پانے کے بعد گمراہ کردے ۔ وہ اسلام کی طرف ان کا قائد ہے ‘ اسلام سے نکالنے کے لئے ان کا قائد نہیں ہے۔
اس فارمولے کے مطابق وہ بات محال ہوجاتی ہے ۔ جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ نیز ان کا یہ جھوٹ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ تمام آیات وروایات جو وہ پڑھتے ہیں اللہ اور رسول کی طرف سے ہوسکتے ہیں۔ اس لئے یہ لوگ جو بات کہتے ہیں اس کی حیثیت ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ اور وہ دعویٰ بےاعتبار ہوجاتا ہے جسے وہ بابار اسلامی صفوف میں شبہات اور خلجان پیدا کرنے کے لئے دہراتے ہیں ۔ اس لئے کہ قرآن کریم نے انہیں اچھی طرح ننگا کرکے رکھ دیا ہے ۔ اور وہ جماعت مسلمہ کے سامنے کھلے میدان میں ننگے ہوگئے ہیں ۔
ان لوگوں کی مثال بھی بعینہ ان اہل کتاب جیسی ہے جو علم دین کے مدعی ہیں جیسا کہ ہم اس سے پہلے بالتفصیل بیان کر آئے ہیں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ قرآن کریم کی یہ آیات ان کے سامنے پیش کی جائیں ۔ کیونکہ یہ لوگ بھی قرآنی نصوص کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں اور انہوں نے بھی اللہ کے سوا کئی ارباب قائم کر رکھے ہیں اور وہ ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ آیات کو توڑ موڑ کر ان سے وہ مفاہیم نکالیں جو خود انہوں نے گھڑرکھے ہیں ۔
وَیَقُولُونَ ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَمَا ھُوَ مِن عِندِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الکَذِبَ وَھُم یَعلَمُونَ
” وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا ‘ وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں ۔ “ اس کے بعد تمام رسولوں اور رسالتوں کے قافلہ ایمانی کے درمیان ‘ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کے حوالے سے ‘ ایک مضبوط رابطے کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے مطابق وہ تمام لوگ اس عہد کو توڑنے والے اور فاسق قرار پاتے ہیں جو نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہیں لاتے ۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ اللہ سے کئے ہوئے عہد سے منحرف ہوتے ہیں ‘ بلکہ وہ اس پوری کائنات کے ناموس اعظم سے بھی خارج ہوجاتے ہیں۔
آل عمران 3:81
اللہ تعالیٰ نے ایک نہایت ہی خوفناک اور پختہ معاہدہ لیا ‘ اور اس معاہدے پر وہ خود گواہ بن گیا اور اپنے تمام نبیوں کو اس پر گواہ بنایا یہ معاہدہ تمام رسولوں سے لیا گیا تھا ۔ مضمون یہ تھا کہ جس رسول کو بھی کتاب و حکمت دی جائے اس کا فرض یہ ہوگا کہ وہ اس کے بعد آنیوالے رسول کی تائید کردے اگر بعد میں آنے والا رسول خود اس کی تعلیمات کی توثیق وتائید کررہا ہو ۔ تائید کے ساتھ سابقہ رسول کا یہ بھی فرض ہے کہ اس کی نصرت کرے اور اس کی شریعت کی اطاعت کرے ۔ یہ معاہدہ اللہ اور ہر رسول کے مابین طے پایا تھا۔
قران کریم نے تاریخ انسانی کے طویل ترین دفتر کو لپیٹ کر تمام رسولوں کو ایک جگہ جمع کردیا ۔ وہ ایک ہی منظر میں سب جمع ہیں ۔ اللہ جل شانہ ان کو ایک ساتھ خطاب فرما رہے ہیں تو کیا انہوں نے اس معاہدے کا اقرار کرلیا اور اللہ کی بھاری ذمہ داری کو قبول کرلیا ۔ اللہ تعالیٰ سوال فرماتے ہیں قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي……………” کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو ؟ “ وہ سب جواب دیتے ہیں ۔ قَالُوا أَقْرَرْنَا……………” ہم اقرار کرتے ہیں۔ “…………پس رب ذوالجلال اس معاہدے پر خود بھی گواہ بن جاتے ہیں اور ان کو بھی گواہ بناتے ہیں ۔ قَالَ فَاشْهَدُوا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشَّاهِدِينَ……………” فرمایا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔ “
یہ ایک عظیم اور دہشت انگیز منظر ‘ جس کی تصویر کشی قرآن کرتا ہے ‘ اسے دیکھ کر دل کانپ اٹھتے ہیں ‘ اس منظر میں تمام انبیاء ورسل جناب باری میں کھڑے نظر آتے ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ معززین ارض کا یہ قافلہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ‘ ایک دوسرے پر تکیہ لگائے کھڑا ہے اور سب کے سب لوگ عالم بالا کی ربانی ہدایت کے منتظر ہیں ۔ یہ سب اسی حقیقت اور سچائی کی نمائندگی کرتے ہیں جو ایک ہے اور جس کے بارے میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ پوری انسانیت کی تعمیر اس کی اساس پر کی جائے جس میں کوئی انحراف نہ ہو ‘ کوئی دوئی نہ ہو ‘ کوئی تعارض نہ ہو اور کوئی تصادم نہ ہو ‘ اس سچائی کے نمائندے وہ لوگ ہیں جو لوگوں میں سے برگزیدہ ہیں ۔ ان میں سے ہر برگزیدہ اس سچائی کو دوسرے برگزیدہ کی طرف منتقل کرتا چلاآیا ہے ۔ اس طرح وہ اپنی ذات کو بھی آنیوالے مختار کی طرف منتقل کرتا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ نبی کی ذات اس کی اپنی نہیں ہوتی ہے ۔ نہ اس مہم میں اس کا کوئی ذاتی مقصد یاخواہش ہوتی ہے ‘ نہ نبی ذاتی اور شخصی عزت و تکریم کے لئے کام کرتا ہے وہ تو بندہ مختار ہوتا ہے اور ایک ذمہ دار مبلغ ہوتا ہے۔ یہ ذات باری ہی ہے جو مختلف ادوار میں مختلف نسلوں کی طرف دعوت اسلامی کو منتقل کرتا چلا آتا ہے اور مختاران رسل اسے جس طرح چاہتے ہیں چلاتے ہیں ۔
دین کے اس تصور اور اللہ کے ساتھ اس سلسلے میں طے ہونے والے اس عہد کے نتیجے میں اللہ کا دین خالص ہوجاتا ہے ۔ اس میں کوئی ذاتی عصبیت نہیں داخل ہوتی ۔ یعنی رسول کی ذات بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی ۔ رسول کی قوم کا اس دین پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اس کے پیروکاروں اور ان کے خاندانوں کے مخفی اثرات سے بھی یہ دین پاک وصاف ہوتا ہے۔ اسی طرح متبعین کی ذات اور ان کی قوم قبیلے کی شخصیت کا بھی اس پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔ دین اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں ہر معاملہ اللہ کے اختیار میں ہوتا ہے ‘ دین بھی ایک اور اللہ بھی ایک ‘ اور اسی ایک دین کو لیکر انسانیے کی تاریخ میں قافلہ رسل بھی ایک ‘ جو نہایت ہی معزز اور ممتاز قافلہ ہے ۔
اس حقیقت کے سائے میں ہمارے سامنے اب وہ لوگ کھل کر آجاتے ہیں جو اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہیں ۔ یہ لوگ نبی آخرالزمان پر ایمان نہیں لاتے ۔ اور پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ان کا کہنایہ ہے کہ وہ اپنے دین کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے ‘ حالانکہ خود ان کے دین کا تقاضا یہ ہے کہ وہ نبی آخرالزماں پر ایمان لائیں اور اس کی نصرت اور تائید کے لئے اٹھیں ۔ لیکن یہ لوگ محض تعصب کی وجہ سے یہ ایمان نہیں لاتے ۔ اس لئے کہ یہ دین ان تک جن رسولوں نے پہنچایا ہے ان سے تو اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی پختہ عہد لیا ہے اور انہوں نے اپنے رب کے ساتھ یہ عہد باندھا ہے اور یہ عہد برسرعام اور اجلاس میں طے پایا کہ وہ نبی آخرالزمان کی نصرت کریں گے ۔ اس لئے جو لوگ نبی آخرالزمان پر ایمان نہیں لاتے وہ درحقیقت فاسق اور بدکار ہیں ۔ وہ عہد شکن ہیں ۔ وہ اس کائنات کے اسی نظام کو توڑنے والے ہیں ۔ جو اپنے رب کا فرماں بردار ہے ‘ جو ناموس قدرت کا مطیع فرمان ہے ۔ اس لئے کہ یہی ناموس اس پوری کائنات کا مدبر ہے ۔ اور یہ پوری کائنات اس کی مشیئت پر چل رہی ہے ۔
آل عمران 3:82
حقیقت یہ ہے کہ نبی آخر الزمان کی اطاعت سے صرف فاسق ہی منہ موڑسکتا ہے اور اللہ کے اس دین سے وہی شخص منہ موڑ سکتا ہے جو شاذ اور مردود ہو ‘ وہ اس کائنات کے پورے طبیعی نظام میں شاذ ہوگا اور مردود ہوگا اور اس پوری تابع فرمان کائنات میں بھی فساد کنندہ ‘ اور شر انگیز ہوگا۔
اللہ کا دین ایک ہے ‘ سب رسول ایک دین لے کر آئے ‘ سب نے اس پر پختہ معاہدہ کیا ۔ اللہ کا عہد بھی ایک ہے ‘ جس کے فریق تمام رسول ہیں ۔ لہٰذا اس دین پر ایمان لانا ‘ اس رسول پر ایمان لانا اور اتباع کرنا ‘ اس رسول کی نصرت کرنا اور اسلامی نظام قائم کرنا اور تمام دوسرے نظاموں کا مقابلہ کرنا دراصل اس عہد کی وفاداری ہے ۔ اس لئے جس شخص نے بھی دین اسلام سے روگردانی کی گویا اس نے اللہ کے تمام ادیان سے منہ موڑا ۔ اور اس نے اللہ کے عام عہدوں کو توڑا…………اس لئے کہ وہ اسلام جس سے اس کرہ ارض پے اسلامی نظام کا قیام مطلوب ہو ‘ اس کا اتباع اور اس کے ساتھ خلوص کا مظاہرہ ‘ دراصل اس پوری کائنات کا اسلام اور ناموس قدرت ہے ۔ یہ اسلام اس کائنات کے ہر زندہ چرند پرند کا اسلام ہے ۔
آل عمران 3:83
یہ ہے کہ اسلام اور سرتسلیم خم کرنے کی ایک گہری شکل ‘ ایک ایسی شکل و صورت جو تکوینی ہے جو انسان کے شعور پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جس سے انسانی ضمیر میں اللہ خوفی پیدا ہوتی ہے ۔ ایک عظیم قانون قدرت کی صورت جو قہاروجبار ہے ۔ جو تمام کائنات کی مردہ اور زندہ چیزوں کو ایک ہی سنت الٰہیہ اور شریعت الٰہیہ کے تابع فرمان بناتی ہے ۔ اور جس کے مطابق دونوں کا مال اور انجام ایک ہے ۔ یہ ہے اسلام وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ……………” اور سب نے اسی کی طرف پلٹ کرجانا ہے ۔ “…………لہٰذا یہ سب چیزیں آخرکار لازماً اسی اللہ کو پلٹ کرجائیں گی جو سب کو گھیرے ہوئے ہیں ‘ سب کا مدبر ہے اور نہایت ہی جلال و عظمت کا مالک ہے اور اس انجام سے کوئی راہ فرار نہیں ہے ۔
اگر انسان اپنی کامیابی اور سعادت چاہتا ہے ‘ اگر وہ راحت اور اطمینان چاہتا ہے ‘ اگر وہ اطمینان قلب اور صلاح حال چاہتا ہے تو اس کے لئے ماسوائے اس کے کوئی اور راہ نہیں ہے کہ اسلامی نظام زندگی کی طرف رجوع کرے ۔ اپنی ذات میں بھی ‘ اپنے نظام زندگی میں بھی اور اپنے اجتماعی نظام میں بھی تاکہ اسکی زندگی اس پوری کائنات کے نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے ۔ اور اس فطرت کائنات کے برخلاف اپنے لئے کوئی علیحدہ نظام زندگی وضع کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔ اس لئے کہ اس کا یہ خود ساختہ نظام ‘ نظام کائنات کے ساتھ متضاد ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہے ۔ اور یہ انسان طوعاً وکرہاً اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کا پابند ہے ۔ وہ نظام جو اس کے تصور اور شعور میں ہے ‘ جو اس کی عملی زندگی اور اس کے باہمی تعلقات میں ہے ‘ جو اس کی تمام جدوجہد اور سرگرمیوں میں ہے ۔ جب اس کائناتی نظام کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے گا ‘ تو یہ ہم آہنگی اس کے اور اس پوری کائنات کی عظیم قوتوں کے درمیان ایک تعاون پیدا کردے گی ۔ اور ان کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائے گا ‘ تو یہ ہم آہنگی اس کے اور اس پوری کائنات کی عظیم قوتوں کے درمیان ایک تعاون پیدا کردے گی ۔ اور ان کے درمیان کوئی تصادم نہ ہوگا۔ اس لئے کہ جب انسان کائناتی قوتوں کے ساتھ تصادم کی راہ لیتا ہے تو وہ پاش پاش ہوجاتا ہے اور ختم ہوجاتا ہے۔ اور اگر اس کا وجود نہیں مٹتا تو وہ کم ازکم فریضہ خلافت کی ادائیگی کے قابل نہیں رہتا ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے تیار کیا ہے ۔ اور اگر وہ قوانین قدرت اور کائناتی اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ ہوجاتا ‘ جو خود اسے اور اس کے گرد پھیلی ہوئی پوری کائنات کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ خواہ زندہ ہوں یا غیر زندہ تو اس صورت میں وہ تمام اسراکائنات کا رازدان ہوگا ‘ وہ اس کی قوتوں کو مسخر کردے گا ان سے مفاد حاصل کرے گا اور اسی طرح وہ راحت ‘ آرام اور سکون حاصل کرے گا ۔ اور بےچینی ‘ قلق اور خوف سے نجات ملے گی ۔ مثلاکائنات کا مفاد یوں ہوگا کہ ایک کائناتی قوت کو جلانے اور تخریب کے لئے استعمال کرنے کے بجائے وہ کھانے پکانے ‘ گرمی حاصل کرنے کے لئے استعمال کرے گا ۔ اور اس سے روشنی حاصل کرے گا۔
انسانی مزاج اپنی اصلیت کے اعتبار سے ان کائناتی قوتوں اور نوامیس کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ انسان کا وجدان اسی طرح اپنے رب کی اطاعت چاہتا ہے جس طرح اس کائنات کی پوری زندہ اور غیر زندہ اشیاء اس کے سامنے سربسجود ہیں ۔ جب ایک انسان قوانین فطرت کے خلاف راہ اختیار کرتا ہے۔ تو وہ صرف نظام فطرت کے خلاف ہی نہیں جاتا بلکہ وہ خود ان نوامیس طبیعت کے بھی خلاف جاتا ہے جو اس کے نفس کے اندر موجود جاری وساری ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر وقت پریشان ‘ شکستہ حیران اور بےچین نظرآتا ہے ۔ اور اس کی زندگی اسی طرح برباد ہوجاتی ہے جس طرح آج کا ایک گمراہ ‘ بےراہ رو انسان کی زندگی ہوتی ہے ۔ اور جسے ہم ہر طرف دیکھ رہے ہیں ۔ حالانکہ آج کے انسان نے علمی میدان میں بڑی بڑی فتوحات حاصل کی ہیں اور وہ مادی ترقی کے بام عروج پر ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت انسانیت ایک انتہائی تلخ روحانی خلا میں مبتلا ہے ۔ اور یہ ایک ایسا خلا ہے جسے فطرت انسان بھول نہیں سکتی ۔ یعنی انسانیت ذوق یقین سے محروم ہے ۔ اس کی زندگی اسلامی نظام سے محروم ہے ‘ اس لئے کہ یہی نظام زندگی ‘ ان مادی ترقیات اور قوانین فطرت کے درمیان توازن پیدا کرسکتا ہے جس میں انسان کی تگ ودو اور قوانین فطرت کی رفتار ایک سمت میں ہوجاتی ہے ۔
انسانیت اس وقت جھلس دینے والی تپتی دھوپ میں سرگردان ہے اور وہ اسلامی نظام زندگی کی گھنی چھاؤں سے محروم ہے جس میں کو خوشگوار زندگی بسر کرسکے ۔ اور شر و فساد سے اسے نجات ملے جس میں وہ محض اس لئے گرفتار ہے کہ وہ اسلام کے شاہراہ مستقیم اور جادہ مانوس سے ہٹ گئی ہے ۔ اس دشوار گزار راستے اور حیرانی و پریشانی ‘ قلق وبے چینی اور اضطراب وگمراہی کے سوا کچھ نہیں ملتا ۔ وہ ہر وقت بھوک ‘ افلاس اور روحانی خلا اور محرومیت کے احساس کا شکار ہے ۔ اور اسی صورت حال سے اس نے فرار کا یہی ایک راستہ پایا ہے ۔ کہ حشیش ‘ چرس اور ہیروئن جیسی منکرات اور تباہ کن ذرائع اختیار کئے ہوئے ہے ۔ یہ جنونی سرعت ‘ احمقانہ حرکات ‘ اخلاقی بےراہ روی سے اس خلاکو بھرنا چاہتی ہے ۔ لیکن ناکام ہے ۔ اور یہ صورت حال باوجود اس بےپناہ مادی ترقی ‘ بےحد و حساب پیداوار اور ساری زندگی کی بےپناہ سہولیات کے باوجود جوں کی توں ہے ۔ بلکہ اس قلق اور اس حیرانی اور ان پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ اور اسی نسبت سے ہورہا ہے جس نسبت سے مادی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے اور دنیاوی سہولیات اور آسائشوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔
یہ خوفناک اور تلخ خلا ‘ انسانیت کو ایک خوفناک بھوت کی طرف بھگارہا ہے ۔ لیکن بھاگتے بھاگتے وہ جس مقام تک بھی پہنچتی ہے ‘ ہر جگہ یہ بھوت اس کے پیچھے کھڑا نظرآتا ہے ‘ آج جو شخص بھی مغرب کے مالدار اور ترقی یافتہ دور میں جاتا ہے اس کے احساسات میں پہلا تاثر یہ بیٹھتا ہے کہ یہ سب لوگ بھاگ رہے ہیں ۔ کوئی بھوت ہے جو انہیں بھگارہا ہے اور اس سے بھاگ رہے ہیں ‘ بلکہ وہ خود اپنی ذات اور اپنے سائے سے بھاگ رہے ہیں ۔ اس شخص پر بہت جلد یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ ان مادی ترقیات نے اور حسی لذتیت نے ان لوگوں کو گندے کیچڑ میں لت پت کردیا ہے ۔ وہ بیشمار نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوگئے ہیں ۔ ان کے اعصاب شل ہوگئے ۔ وہ بےراہ روی کے ہیجان میں مبتلا ہیں اور اپنی اس روحانی کمی کو منکرات ‘ منشیات اور دوسری مہلک اشیاء کے استعمال سے پورا کرتے ہیں ۔ اس لئے وہ جنوں کی حد تک جرائم پیشہ ہوگئے ہیں اور ان کی زندگی ہر قسم کے شریفانہ تصور سے خالی ہے ۔
ان لوگوں نے اپنی شخصیت ہی کو گم کردیا ہے ‘ اس لئے کہ انہوں نے اپنے وجود کا اصل مقصد ہی بھلادیا ہے ۔ وہ روحانی سعادت سے محروم ہوگئے ہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے اسلامی زندگی کو کم کردیا ہے ۔ جو انسان کی روحانی اور جسمانی زندگی کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرکے اسے ان روحانی امراض سے نجات دیتا ہے جس میں مبتلا ہیں ۔ اور وہ اس خلجان میں مبتلا اس لئے ہیں کہ وہ معرفت خداوندی سے محروم ہیں جس کی طرف انہوں نے لوٹنا ہے۔
صرف تاریخی اور جغرافیائی اعتبار سے ہی نہیں ‘ بلکہ حقیقی نفس الامری کے اعتبار سے امت مسلمہ ہی وہ امت ہے جس نے اس عہد کو اچھی طرح اپنالیا ہے ‘ جو اللہ اور اس کے نبیوں کے درمیان طے پایا تھا ‘ صرف اس امت نے اس حقیقت کا ادراک کیا ہے کہ اللہ کا دین ایک ہے اور اس کا نازل کردہ نظام زندگی بھی ایک ہے ۔ اور وہ قافلہ انبیائے کرام بھی ایک ہے جنہوں نے تاریخ میں ہمیشہ اسی واحد دین کو پیش کیا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نبی آخرالزماں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ اس حقیقت کبریٰ کا اعلان کرے یعنی یہ کہ یہ امت تمام نبیوں پر ایمان لاتی ہے ‘ وہ تمام رسل کا احترام کرتی ہے ۔ وہ دین اسلام کے مزاج سے اچھی طرح واقف ہے ۔ وہ دین جس کے سوا کوئی دوسرا دین اللہ کے ہاں قبول نہ ہوگا۔
آل عمران 3:84
یہ ہے اسلامی تصور حیات ‘ جو بہت وسیع ہے اور اس میں تمام سابقہ رسالتیں شامل ہیں اور اسلامی نظام کے جھنڈے تلے وہ تمام رسول جمع ہیں جنہوں نے کبھی بھی رسالت خداوندی کا فریضہ سر انجام دیا ۔ اسلامی نظام کی اساس عقیدہ توحید پر ہے اور اس کے تصور کے مطابق تمام انبیاء کا منبع ہدایت ایک ہے یعنی ذات باری اور ذات باری ‘ اور تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے ۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ پہلی آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اللہ کی ذات پر ایمان لانے کا حکم ہے ۔ پھر اس کتاب پر ایمان لانے کا حکم ہے جو مسلمانوں پر نازل ہوئی اور پھر ان کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے جو مسلمانوں سے قبل دوسرے انبیاء پر نازل ہوئیں ۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ…………… ” اور ہم اس کے مسلم ہیں۔ “ ان الفاظ سے اسلام کا ان الفاظ میں اقرار کرنا اپنے اندر ایک خاص مفہوم رکھتا ہے ۔ پہلے یہ کہا گیا کہ اسلام کا مفہوم سر تسلیم خم کرنا ‘ اطاعت کرنا ہے اور خشوع و خضوع ہے۔ حکم کا اتباع ہے اور اسلامی نظام ‘ اسلامی طریقہ کار اور اسلامی ناموس کی اطاعت ہے ۔ اور یہ مفہومات پہلی آیت أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ” اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ (دین اللہ ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ آسمان و زمین کی سازی چیزیں چار وناچار اللہ ہی کے تابع فرمان ہیں ۔ (مسلم ہیں) اور اس کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔ “ سے اخذ ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ اس کائنات کی تکوینی اشیاء کے اسلام کا صرف یہی مفہوم ہوسکتا ہے ۔ کہ وہ مطیع فرمان ہوتی ہیں ‘ وہ نظام کائناتی کے تابع ہوتی ہیں اور ضابطہ تکوینی کے اندر جکڑی ہوئی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مناسب موقعہ پر اسلام کے اس خاص مفہوم کو واضح فرماتے ہیں کہ اسلام عملی نظام کا نام ہے تاکہ لوگوں کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اسلام صرف زبانی اقرار یا صرف تصدیق کا نام ہے جو دلوں میں بیٹھ جاتی ہے اور اس کے بعد اس ایمان وتصدیق کے عملی اثرات کا وجود میں آناضروری نہیں ہے مثلاً اسلامی نظام زندگی کی اطاعت اور انسانی زندگی میں اس نظام کے قیام کے عملی جدوجہد ………غرض آنے والی عمومی توضیح اور بیان سے پہلے یہ نہایت ہی اہم نکتہ ہے جس پر قدرے غور ضروری ہے اور جس میں بتاکید کہا گیا ہے۔ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ……………” جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور طریقہ بطور دین اسلام اختیار کرے گا ‘ اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام ونامراد رہے گا ۔ “
ان آیات کے بعد ‘ جو مسلسل لفظ اسلام کے مفہوم کی توضیح کرتی ہیں ‘ اب اسلام کے مفہوم میں کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ ان آیات میں تحریف کی جاسکتی ہے نہ توڑ پھوڑ کیا جاسکتا ہے نہ اسلام کا اب کوئی اور مفہوم بیان کیا جاسکتا ہے ۔ جس کا علم قرآن کو نہ ہو ۔ اسلام بہرحال وہی اسلام ہے جس کی اطاعت یہ پوری کائنات کررہی ہے اس نظام کی صورت میں جو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا ہے۔
یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اسلام صرف شہادتین کے اقرار تک محدود ہوجائے اور شہادتین کے تلفظ واقرار کے بعد اس پر وہ مفہوم اور وہ حقیقت منتج نہ ہو ‘ جو اسلام کے مفہوم میں داخل ہے ۔ یعنی ذات باری وحدہ لاشرک ہے اور ذات باری وحدہ قیوم ہے ‘ نظام کائنات کو تھامے ہوئے ہے ۔ ہم نے اس کی بندگی کرنی ہے اور اس سے ہدایت اخذ کرنی ہے ۔ اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ہم نے ان کی اطاعت کرنا ہے ۔ اس نظام کو قبول کرنا ہے جسے وہ لے کر آئے ہیں ۔ اس شریعت کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہے ۔ جسے وہ لے کر آئے ہیں اور اپنے تمام فیصلے اس کتاب کے مطابق کرنے ہیں جسے وہ لے کر آئے ہیں۔
اسی طرح اسلام اس حد تک بھی محدود نہیں ہے کہ ایک انسان دل میں تصدیق کرلے کہ اللہ ایک ہے وہ غیب پر بھی ایمان لائے ‘ قیامت کو بھی مانے ‘ الہ کی کتابوں اور رسول کو بھی برحق تسلیم کرے ‘ بغیر اس کے کہ اس تصدیق کے بعد کوئی عملی مفہوم بھی زندگی میں ظاہر ہو ۔ اور وہ حقیقت نفس الامری وجود میں آئے جیسا کہ اوپر ہم نے تفصیل بیان کی ۔
پھر اسلام محض عبادات اور شعائر بندگی تک بھی محدود نہ ہوگا ‘ نہ مراقبے اور ذکر اذکار تک محدود ہوگا ‘ یا محض اخلاقی اور روحانی اصلاح کے کسی نظام تک بھی محدود نہ ہوگا۔ بغیر اس کے یہ تمام امور ایک منظم نظام حیات کی عملی شکل میں ظاہر نہ ہوں ‘ جس کی اساس خدائی تعلیمات پر ہو ‘ جس میں دل بھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں ‘ مراسم عبودیت اور شعائر بھی اللہ اکیلے کے لئے ہوں ‘ تصور اور ذکر و اذکار بھی اللہ کے لئے ہوں ‘ اس میں خدا خوفی کے ذریعہ اصلاح قلوب ہو اور لوگوں کو رشد وہدایت دی جاتی ہو ‘ اس لئے کہ جب تک ایک پاک وصاف اور چمکتا دمکتا اجتماعی نظام قائم نہ ہوگا اس وقت تک ان تمام امور کے کوئی اچھے اثرات مرتب نہ ہوں گے ۔
یہ ہے اسلام جیسا کہ اللہ کو مطلوب ہے ‘ اسلام کا مفہوم وہ نہیں جسے لوگوں کی مختلف نسلوں میں سے ایک تہی دامن نسل اپنی خواہشات نفسانیہ کے دباؤ کے تحت چاہتی ہے ۔ اور نہ اسلام کا مفہوم وہ ہے ‘ جو اسلام کے دشمن اسے پہنانا چاہتے ہیں۔ جو اسلام کے خلاف مورچہ زن ہیں اور مسلمانوں میں انہوں نے ان تحریفات کے لئے اپنے ایجنٹ چھوڑے ہوئے ہیں جو جگہ جگہ کام کررہے ہیں ۔
بس اب جبکہ لوگوں پر اسلام کا مفہوم واضح ہوگیا ‘ پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسلام کو اس مفہوم میں قبول کرنا نہیں چاہتے جس طرح اللہ چاہتے ہیں ‘ محض اس لئے کہ جانتے ہوئے وہ محض اپنی خواہشات نفسانیہ کے تحت ایسا کرتے ہیں تو یقیناً ایسے لوگ آخرت میں سخت گھاٹے میں ہوں گے ۔ اللہ نہ انہیں راہ راست پر لائے گا اور نہ ہی عذاب سے نجات دے گا۔
آل عمران 3:85
یہ ہے اسلامی تصور حیات ‘ جو بہت وسیع ہے اور اس میں تمام سابقہ رسالتیں شامل ہیں اور اسلامی نظام کے جھنڈے تلے وہ تمام رسول جمع ہیں جنہوں نے کبھی بھی رسالت خداوندی کا فریضہ سر انجام دیا ۔ اسلامی نظام کی اساس عقیدہ توحید پر ہے اور اس کے تصور کے مطابق تمام انبیاء کا منبع ہدایت ایک ہے یعنی ذات باری اور ذات باری ‘ اور تمام انبیاء پر ایمان لانا ضروری ہے ۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ پہلی آیت میں یہ کہا گیا ہے کہ اللہ کی ذات پر ایمان لانے کا حکم ہے ۔ پھر اس کتاب پر ایمان لانے کا حکم ہے جو مسلمانوں پر نازل ہوئی اور پھر ان کتابوں پر ایمان لانے کا ذکر ہے جو مسلمانوں سے قبل دوسرے انبیاء پر نازل ہوئیں ۔ اور اس کے بعد یہ فقرہ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ…………… ” اور ہم اس کے مسلم ہیں۔ “ ان الفاظ سے اسلام کا ان الفاظ میں اقرار کرنا اپنے اندر ایک خاص مفہوم رکھتا ہے ۔ پہلے یہ کہا گیا کہ اسلام کا مفہوم سر تسلیم خم کرنا ‘ اطاعت کرنا ہے اور خشوع و خضوع ہے۔ حکم کا اتباع ہے اور اسلامی نظام ‘ اسلامی طریقہ کار اور اسلامی ناموس کی اطاعت ہے ۔ اور یہ مفہومات پہلی آیت أَفَغَيْرَ دِينِ اللَّهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُونَ ” اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ (دین اللہ ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ آسمان و زمین کی سازی چیزیں چار وناچار اللہ ہی کے تابع فرمان ہیں ۔ (مسلم ہیں) اور اس کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔ “ سے اخذ ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ اس کائنات کی تکوینی اشیاء کے اسلام کا صرف یہی مفہوم ہوسکتا ہے ۔ کہ وہ مطیع فرمان ہوتی ہیں ‘ وہ نظام کائناتی کے تابع ہوتی ہیں اور ضابطہ تکوینی کے اندر جکڑی ہوئی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مناسب موقعہ پر اسلام کے اس خاص مفہوم کو واضح فرماتے ہیں کہ اسلام عملی نظام کا نام ہے تاکہ لوگوں کے دل میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اسلام صرف زبانی اقرار یا صرف تصدیق کا نام ہے جو دلوں میں بیٹھ جاتی ہے اور اس کے بعد اس ایمان وتصدیق کے عملی اثرات کا وجود میں آناضروری نہیں ہے مثلاً اسلامی نظام زندگی کی اطاعت اور انسانی زندگی میں اس نظام کے قیام کے عملی جدوجہد ………غرض آنے والی عمومی توضیح اور بیان سے پہلے یہ نہایت ہی اہم نکتہ ہے جس پر قدرے غور ضروری ہے اور جس میں بتاکید کہا گیا ہے۔ وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الإسْلامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ……………” جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور طریقہ بطور دین اسلام اختیار کرے گا ‘ اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام ونامراد رہے گا ۔ “
ان آیات کے بعد ‘ جو مسلسل لفظ اسلام کے مفہوم کی توضیح کرتی ہیں ‘ اب اسلام کے مفہوم میں کوئی تاویل نہیں کی جاسکتی ۔ اور نہ ان آیات میں تحریف کی جاسکتی ہے نہ توڑ پھوڑ کیا جاسکتا ہے نہ اسلام کا اب کوئی اور مفہوم بیان کیا جاسکتا ہے ۔ جس کا علم قرآن کو نہ ہو ۔ اسلام بہرحال وہی اسلام ہے جس کی اطاعت یہ پوری کائنات کررہی ہے اس نظام کی صورت میں جو اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے وضع کیا ہے۔
یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اسلام صرف شہادتین کے اقرار تک محدود ہوجائے اور شہادتین کے تلفظ واقرار کے بعد اس پر وہ مفہوم اور وہ حقیقت منتج نہ ہو ‘ جو اسلام کے مفہوم میں داخل ہے ۔ یعنی ذات باری وحدہ لاشرک ہے اور ذات باری وحدہ قیوم ہے ‘ نظام کائنات کو تھامے ہوئے ہے ۔ ہم نے اس کی بندگی کرنی ہے اور اس سے ہدایت اخذ کرنی ہے ۔ اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور ہم نے ان کی اطاعت کرنا ہے ۔ اس نظام کو قبول کرنا ہے جسے وہ لے کر آئے ہیں ۔ اس شریعت کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہے ۔ جسے وہ لے کر آئے ہیں اور اپنے تمام فیصلے اس کتاب کے مطابق کرنے ہیں جسے وہ لے کر آئے ہیں۔
اسی طرح اسلام اس حد تک بھی محدود نہیں ہے کہ ایک انسان دل میں تصدیق کرلے کہ اللہ ایک ہے وہ غیب پر بھی ایمان لائے ‘ قیامت کو بھی مانے ‘ الہ کی کتابوں اور رسول کو بھی برحق تسلیم کرے ‘ بغیر اس کے کہ اس تصدیق کے بعد کوئی عملی مفہوم بھی زندگی میں ظاہر ہو ۔ اور وہ حقیقت نفس الامری وجود میں آئے جیسا کہ اوپر ہم نے تفصیل بیان کی ۔
پھر اسلام محض عبادات اور شعائر بندگی تک بھی محدود نہ ہوگا ‘ نہ مراقبے اور ذکر اذکار تک محدود ہوگا ‘ یا محض اخلاقی اور روحانی اصلاح کے کسی نظام تک بھی محدود نہ ہوگا۔ بغیر اس کے یہ تمام امور ایک منظم نظام حیات کی عملی شکل میں ظاہر نہ ہوں ‘ جس کی اساس خدائی تعلیمات پر ہو ‘ جس میں دل بھی اللہ کی طرف متوجہ ہوں ‘ مراسم عبودیت اور شعائر بھی اللہ اکیلے کے لئے ہوں ‘ تصور اور ذکر و اذکار بھی اللہ کے لئے ہوں ‘ اس میں خدا خوفی کے ذریعہ اصلاح قلوب ہو اور لوگوں کو رشد وہدایت دی جاتی ہو ‘ اس لئے کہ جب تک ایک پاک وصاف اور چمکتا دمکتا اجتماعی نظام قائم نہ ہوگا اس وقت تک ان تمام امور کے کوئی اچھے اثرات مرتب نہ ہوں گے ۔
یہ ہے اسلام جیسا کہ اللہ کو مطلوب ہے ‘ اسلام کا مفہوم وہ نہیں جسے لوگوں کی مختلف نسلوں میں سے ایک تہی دامن نسل اپنی خواہشات نفسانیہ کے دباؤ کے تحت چاہتی ہے ۔ اور نہ اسلام کا مفہوم وہ ہے ‘ جو اسلام کے دشمن اسے پہنانا چاہتے ہیں۔ جو اسلام کے خلاف مورچہ زن ہیں اور مسلمانوں میں انہوں نے ان تحریفات کے لئے اپنے ایجنٹ چھوڑے ہوئے ہیں جو جگہ جگہ کام کررہے ہیں ۔
بس اب جبکہ لوگوں پر اسلام کا مفہوم واضح ہوگیا ‘ پھر بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسلام کو اس مفہوم میں قبول کرنا نہیں چاہتے جس طرح اللہ چاہتے ہیں ‘ محض اس لئے کہ جانتے ہوئے وہ محض اپنی خواہشات نفسانیہ کے تحت ایسا کرتے ہیں تو یقیناً ایسے لوگ آخرت میں سخت گھاٹے میں ہوں گے ۔ اللہ نہ انہیں راہ راست پر لائے گا اور نہ ہی عذاب سے نجات دے گا۔
آل عمران 3:86
یہ خوفناک دہمکی دیکھ کر ‘ ہر وہ دل جس میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ کانپ اٹھتا ہے اور جن کے دل میں دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں ذمہ داری کا احساس ہو اور یہی مناسب سزا ہے اس شخص کی جسے نجات کا خوبصورت موقعہ ملے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ اس سے اعراض برتے ۔
لیکن اس کفر واعراض کے باوجود اسلام تو بہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے ۔ اسلام کسی گمراہ کے لئے واپسی کے دروازے بند نہیں کرتا ‘ لیکن اسے ہدایت کی طرف آنے پر مجبور بھی کر تاکہ وہ دروازہ ہدایت پر خود دستک دے ۔ بلکہ اسلام اس کے قریب ہوتا ہے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہونے دیتا ۔ اور یہاں تک کہ وہ اس پرامن محفوظ مقام تک آجائے اور عمل صالح شروع کردے تاکہ معلوم ہو کہ اس نے توبہ صحیح طرح کرلی ہے۔
آل عمران 3:87
یہ خوفناک دہمکی دیکھ کر ‘ ہر وہ دل جس میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ کانپ اٹھتا ہے اور جن کے دل میں دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں ذمہ داری کا احساس ہو اور یہی مناسب سزا ہے اس شخص کی جسے نجات کا خوبصورت موقعہ ملے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ اس سے اعراض برتے ۔
لیکن اس کفر واعراض کے باوجود اسلام تو بہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے ۔ اسلام کسی گمراہ کے لئے واپسی کے دروازے بند نہیں کرتا ‘ لیکن اسے ہدایت کی طرف آنے پر مجبور بھی کر تاکہ وہ دروازہ ہدایت پر خود دستک دے ۔ بلکہ اسلام اس کے قریب ہوتا ہے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہونے دیتا ۔ اور یہاں تک کہ وہ اس پرامن محفوظ مقام تک آجائے اور عمل صالح شروع کردے تاکہ معلوم ہو کہ اس نے توبہ صحیح طرح کرلی ہے۔
آل عمران 3:88
یہ خوفناک دہمکی دیکھ کر ‘ ہر وہ دل جس میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو وہ کانپ اٹھتا ہے اور جن کے دل میں دنیا وآخرت دونوں کے بارے میں ذمہ داری کا احساس ہو اور یہی مناسب سزا ہے اس شخص کی جسے نجات کا خوبصورت موقعہ ملے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ اس سے اعراض برتے ۔
لیکن اس کفر واعراض کے باوجود اسلام تو بہ کے دروازے کھلے رکھتا ہے ۔ اسلام کسی گمراہ کے لئے واپسی کے دروازے بند نہیں کرتا ‘ لیکن اسے ہدایت کی طرف آنے پر مجبور بھی کر تاکہ وہ دروازہ ہدایت پر خود دستک دے ۔ بلکہ اسلام اس کے قریب ہوتا ہے اور اس کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہونے دیتا ۔ اور یہاں تک کہ وہ اس پرامن محفوظ مقام تک آجائے اور عمل صالح شروع کردے تاکہ معلوم ہو کہ اس نے توبہ صحیح طرح کرلی ہے۔
آل عمران 3:89
رہے وہ لوگ جو توبہ نہیں کرتے اور نہ باز آتے ہیں وہ لوگ جو اپنے کفریہ رویے پر اصرار کرتے ہیں اور کفر میں آگے ہی بڑھتے ہی اور جو لوگ کفر ہی کی پناہ میں رہتے یہاں تک کہ وقت دیا ہوا ختم ہوجائے اور اختیار اور رد و قبول کی میعاد چلی جائے اور وہ وقت آپہنچے جس میں جزا اور سزا کا عمل شروع ہوجائے تو اس قسم کے لوگوں کے لئے نہ رجوع کا کوئی مقام ہے اور نہ توبہ کرنے کا وقت ہے نہ انہیں نجات ملے گی ۔ انہیں ان کا کوئی عمل فائدہ نہ دے گا اگرچہ انہوں نے دنیا میں اس قدر سونا خرچ کیا ہو جس سے دنیا بھر جاتی ہو۔ اگرچہ یہ عمل انہوں نے خیر و برکت سمجھ کر کیا ہو ‘ جب تک یہ عمل اللہ کے حوالے سے نہ کیا گیا ہو ۔ اس لئے ایسے اعمال اللہ کے ہاں نہ پہنچیں گے اور نہ وہ اعمال اللہ کے لئے ہوں گے ۔ وقت ختم ہونے کے بعد اگر وہ پوری دنیا بھر کر کفارہ ادا کریں تب بھی وہ قبول نہ ہوگا۔ وہ عذاب قیامت سے نہ بچ سکیں گے ۔ اس لئے کہ میعاد ختم اور دروازے بند ہوچکتے ہیں۔
آل عمران 3:90
یوں سیاق کلام میں اس مسئلے کا فیصلہ کن تصفیہ کردیا جاتا ہے اور اسے تاکیدی الفاظ میں کردیا جاتا ہے جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں رہنے دیا جاتا۔
اللہ کے اصولوں کے خلاف انفاق ‘ اور اللہ کے راستے میں نہ خرچ کئے جانے والے اموال کے غیر موثر قرار دینے کے بعد اور یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ دارالعمل کے ختم ہونے کے بعد اگر روئے زمین کو بھر کر بھی انفاق کرے وہ قبول نہ ہوگا ‘ یہاں اللہ تعالیٰ بیان فرمادیتے ہیں کہ وہ کون سا انفاق ہے جو اللہ کو پسند ہے ۔
آل عمران 3:91
یوں سیاق کلام میں اس مسئلے کا فیصلہ کن تصفیہ کردیا جاتا ہے اور اسے تاکیدی الفاظ میں کردیا جاتا ہے جس میں کوئی شک اور شبہ نہیں رہنے دیا جاتا۔
اللہ کے اصولوں کے خلاف انفاق ‘ اور اللہ کے راستے میں نہ خرچ کئے جانے والے اموال کے غیر موثر قرار دینے کے بعد اور یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ دارالعمل کے ختم ہونے کے بعد اگر روئے زمین کو بھر کر بھی انفاق کرے وہ قبول نہ ہوگا ‘ یہاں اللہ تعالیٰ بیان فرمادیتے ہیں کہ وہ کون سا انفاق ہے جو اللہ کو پسند ہے ۔
آل عمران 3:92
امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ ابواسحاق ابن عبداللہ ابن ابی طلحہ سے روایت کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں انہوں نے انس بن مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا انصار مدینہ میں ابوطلحہ بہت ہی مالدار تھے ۔ اور ان کو ان کی دولت سے محبوب ترین ایک کنواں تھا جسے ” حاء “ کہتے تھے ۔ یہ مسجد نبوی کے بالمقابل تھا ۔ رسول ﷺ اس کنویں پر جایا کرتے تھے ۔ اور اس کا پاک وصاف پانی پیا کرتے تھے ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ……………” تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں کو خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ “ تو ابوطلحہ نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک تم ان چیزوں کو خرچ نہ کرو جنہیں تم پسند کرتے ہو۔ “ اور میرا محبوب مال تو ” حاء “ کنواں ہے ۔ اور وہ میری طرف سے صدقہ ہے ۔ میں اس کا ثواب اور عنداللہ اس کی جزاء چاہتا ہوں ۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : واہ واہ ! یہ تو بڑا نفع بخش اور قیمتی مال ہے۔ یہ تو نفع بخش مال ہے۔ میں نے سن لیا لیکن میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ اسے اقرباء کے درمیان تقسیم کردیں تو ابوطلحہ نے کہا : تو اللہ کے رسول ﷺ آپ ایسا ہی کردیں۔ تو رسول ﷺ نے اسے اس کے قرباء اور چچازادوں کے درمیان تقسیم کردیا ۔ (روایت مسلم و بخاری)
مسلم بخاری نے ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت عمر نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ خیبر میں مجھے جو حصہ ملا ہے ‘ اس سے اچھی جائیداد مجھے کبھی نہیں ملی تو اس کے بارے میں آپ کیا مشورہ دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : اصل جائیداد اپنے پاس رہنے دو پیداوار سبیل اللہ کردو۔ “
اسی راستے پر صحابہ کرام ؓ میں سے اکثر ایک دوسرے سے آگے بڑھے ‘ یوں وہ اپنے رب سے بھلائی کی تلاش میں اس آیت پر لبیک کہتے رہے ۔ اس دور میں جب اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام کی طرف ہدایت دی ۔ اللہ کی آواز پر لبیک کہہ کر انہوں نے مال اور دولت کی غلامی سے اپنے آپ کو رہائی دلائی ۔ دلی بخل اور کنجوسی سے نجات پائی اور ذاتی لالچ سے پاک ہوئے ۔ اور یوں اس مقام بلند تک جاپہنچے جو نہایت بلند ‘ نہایت ہی روشن ‘ چمکدار تھا ‘ آزاد ‘ ہلکے پھلے ہر قید وبند سے نکلے ہوئے۔
پارہ چہارم ایک نظر میں
یہ پارہ سورة آل عمران کے آخری حصہ اور سورة نساء کے ابتدائی حصہ پر مشتمل ہے ۔ یعنی آیت وَالمُحصَنَاتُ مِنَ النِّسَآءِ……………تک سورة آل عمران کا آخری حصہ چار اجزاء پر مشتمل ہے ‘ جو سورت کے موضوع اور مضمون کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں ‘ جن کے بارے میں ہم سورة آل عمران پر تبصرہ کرتے وقت بحث کر آئے ہیں ۔ یعنی پارہ سوئم میں ۔ یہاں اس بحث کے اعادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہاں تبصرہ دیکھا جاسکتا ہے۔
یہاں مختصراً یہ جان لینا چاہئے کہ سورة آل عمران کے ان چار اجزاء میں پہلا ان مکالمات پر مشتمل ہے جو مدینہ طیبہ کے ابتدائی دور میں ‘ اہل کتاب اور اہل ایمان کے درمیان ہوئے ۔ یہ مکالمات اس تاریخی پس منظر میں ہوئے جس کے بارے میں ہم آغاز صورت میں وقت کا تعین کرچکے ہیں ۔ یہ مکالمات رمضان 2 ھ کے بعد ماہ شوال 3 ھ کے بعد تک کے دور میں ہوئے ۔ اس سے پہلے سورة آل عمران ‘ تقریباً اس عظیم الشان معرکہ پر تبصرہ ہے ۔ ان تبصروں کے ذریعہ اسلامی تصور حیات کی ماہیت ‘ دین کی حقیقت ‘ اسلام کی حقیقت اور اس نظام کی حقیقت بیان کی گئی ہے جو اسلام نے پیش کیا ‘ اور اسلام سے قبل تمام رسولوں نے اس نظام کو پیش کیا ۔ ان تبصروں میں اہل کتاب کی حقیقت اور ان کے موقف کو بھی واضح کیا گیا ‘ جو رسول اکرم ﷺ کے ساتھ دینی امور میں مجادلہ کیا کرتے تھے ‘ اور آپ کے صحابہ کرام کے ساتھ بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے ۔ یہ واضح کیا گیا کہ اہل کتاب دین اسلام سے کس قدر دور جاچکے ہیں ‘ اور یہ کہ مدینہ میں وہ جماعت مسلمہ کے خلاف جو سازشیں کررہے تھے ‘ اس سورت میں اس کا بھی انکشاف کیا گیا ‘ اور یہ بتایا گیا کہ ان کی ان سازشوں کے پس پردہ کیا کیا خفیہ محرکات کام کررہے ہیں ۔ ان تمام امور پر روشنی ڈال کر اسلامی جماعت کو ان سب معاملات کے بارے میں خبردار کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک عظیم خطرے سے دوچار ہے ۔ اسے غفلت نہ کرنا چاہئے اور ان امور میں دشمن کی کوئی بات تسلیم نہیں کرنا چاہئے ۔
آیات کا دوسرا ٹکڑا جو اس سورت کے ایک بڑے حصے پر مشتمل ہے ‘ وہ ایک دوسرے معرکے پر محیط ہے ۔ یہ معرکہ صرف مکر و فریب اور زبانی جدل و مباحثہ پر ہی موقوف نہیں بلکہ یہ معرکہ تیر وسنان ہے اور ضرب وحرب پر مشتمل ہے ۔ یعنی غزوہ احد ‘ اس کے واقعات ‘ اس میں پیش آنے والے واقعات کے اسباب ونتائج ‘ غزوہ احد پر یہ تبصرہ اس مخصوص اسلوب میں ہے جو قرآن مجید کا شاہکار اور اس کا اعجاز ہے ‘ یہ آیات اس معرکہ کے اختتام پر نازل ہوئیں ‘ اس لئے ان میں بھی اسلامی تصور حیات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اور اس معرکے کے حوادث کے حوالے سے اسلامی جماعت کی تربیت کا سامان فراہم کیا گیا ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے نقطہ نظرت سے اس معرکے میں جو غلطیاں ہوئیں یعنی اسلامی صفوں میں جو انتشار پیدا ہوا اور بعض وہ اقدامات جو اضطراب اور پریشانی کا باعث ہوئے ۔ ان واقعات کی وجہ سے ان حالات میں قرآن کریم نے جماعت مسلمہ کو ہدایت دی کہ وہ اپنی راہ پر گامزن رہے ‘ اور اس راہ میں جو مشکلات پیش آئیں انہیں انگیز کرے اور وہ مقام اور مرتبہ حاصل کرے جو اس امانت عظمیٰ کے شایان شان ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کے سپرد کی ہے اور اللہ نے اس امت کو یہ نظام دے کر جس اعزاز پر فائز کیا ہے اور جس عظیم فریضہ کے سر انجام دینے کے لئے منتخب کیا ہے ‘ اس پر وہ اللہ کا شکر بجالائے۔
تیسرے حصے میں روئے سخن پھر اہل کتاب کی طرف پھرجاتا ہے ۔ اور اہل کتاب کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ معاہدات کو ایک ایک کرکے توڑ رہے ہیں ‘ جو رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ مدینہ طیبہ میں تشریف لاتے ہی طے کئے تھے ۔ ان کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ انہوں نے صحیح اسلامی تصور حیات سے انحراف کرلیا ہے اور یہ کہ انہوں نے ‘ اپنی پوری تاریخ میں ‘ مختلف اوقات میں اپنے انبیاء کے مقابلے میں مسلسل جرائم کا ارتکاب کیا ہے ۔ اس کے بعد امت مسلمہ کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے فکر وعمل میں اہل کتاب کی پیروی نہ کریں اور راہ حق میں انہیں جو جانی اور مالی نقصانات پیش آرہے ہیں ‘ ان پر صبر کریں اور ہر حال میں اپنے دشمنوں سے ہرگز متاثر نہ ہوں ۔
حصہ چہارم میں بتایا گیا ہے کہ صحیح اہل ایمان کے نزدیک اپنے رب کے ساتھ تعلق کی کیا نوعیت ہوتی ہے ‘ جب وہ اس کائنات میں باری تعالیٰ کی آیات ونشانات پر غور کرتے ہیں تو ان کے دلوں میں ایمان باللہ راسخ ہوجاتا ہے ۔ وہ اپنے رب اور رب کائنات کی طرف بڑے خشوع اور خضوع کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں ۔ اور ان کا رب ان کی ایسی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور ان کے گناہوں کو معاف کرکے انہیں اجر عظیم عطا کرتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں اہل کفر کے حالات یہ ہیں کہ انہیں صرف اس دنیا کا متاع قلیل دیا گیا ۔ یعنی اس کرہ ارض پر اور یہ کہ آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جو ان کے لئے تیار ہے اور نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔ اس سورت کا خاتمہ اس پکار پر ہوتا ہے ‘ جس میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو صبر کرنے ‘ مشکلات برداشت کرنے ‘ باہم متحد ہوکر دشمنوں کے مقابلے میں چوکنا ہونے ‘ اور ہر وقت اللہ کا خوف دل میں رکھنے کی دعوت دیتے ہیں ۔ تاکہ وہ اس دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں۔
یہ چار اسباق جو باہم مربوط ہیں اور ایک ہی سلسلہ کلام میں پارہ سوئم میں بیان کئے ہوئے ہیں مضامین کا تکملہ ہیں اور انہی خطوط پر آگے بڑھ رہے ہیں جن کے بارے میں ہم پارہ سوئم کے آغاز ہی میں تفصیلاً بحث کر آئے ہیں اور مزید تفصیلات اس وقت بیان ہوں گی جب ہم ان پر تفصیلاً بحث کریں گے اور آیات کی تفسیر بیان کریں گے ۔
اس پارے کا دوسرا حصہ سورة نساء کے ابتدائی حصہ پر مشتمل ہے ۔ اس پر بحث سورٔ نساء کے ابتدائیہ میں ہوگی ‘ انشاء اللہ اور اللہ ہی ہے جو توفیق اور ہمت دینے والا ہے۔
سبق 26 ایک نظر میں
اس سبق میں ‘ اہل کتاب کے ساتھ ‘ جدل ومناظرے کا یہ معرکہ اپنی انتہاؤں کو پہنچ جاتا ہے۔ اگرچہ یہ آیات وفد اہل نجران کے مباحثے کے ضمن میں نہیں آتیں جیسا کہ روایات میں بھی ذکر آتا ہے ‘ لیکن پنے مضمون اور مفہوم کے اعتبار سے یہ ان آیات کے ساتھ ملتی جلتی ہیں اور انہی کا تکملہ ہیں جو وفد نجران کے بارے میں نازل ہوئیں ۔ موضوع وہی ہے ‘ اگرچہ روئے سخن خاص یہودیوں کی طرف ہے۔ اور بتادیا گیا کہ وہ مدینہ کے اہل ایمان کے خلاف کیا کیا خفیہ سازشیں ‘ کس کس طرح کررہے ہیں ۔ یہ مجادلہ مکمل بائیکاٹ اور مکمل علیحدگی پر منتہی ہوتا ہے اور پھر روئے سخن ‘ اس سبق میں تھوڑی دیر ہی میں اہل اسلام کی طرف پھرجاتا ہے اور صرف انہیں مخاطب کیا جاتا ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ امت مسلمہ کی حقیقت کیا ہے ‘ اس کا نظام زندگی کیا ہے ‘ اس کے فرائض کیا ہیں ‘ بعینہ اس طرح جس طرح سورة بقرہ میں بنی اسرائیل کے ساتھ مکالمہ ختم کرنے کے بعد امت مسلمہ کو مخاطب کیا گیا تھا ۔ اس لحاظ سے ان دونوں سورتوں میں مکمل مماثلت پائی جاتی ہے ۔
اس سبق کا آغاز اس سے ہوتا ہے کہ نبی اسرائیل پہ کھانے پینے کی ہر چیز حلال تھی ۔ ہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بعض اشیاء سے پرہیز کرتے ہوئے ‘ انہیں اپنے لئے ممنوع قرار دیا تھا ۔ یہ اس سے بہت پہلے کی بات ہے کہ جب توراۃ نازل ہوئی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں کے ہاں محرمات طعام کی جو فہرست مروج تھی ‘ اسلام نے ان اشیاء میں سے بعض کا استعمال چونکہ جائز قرار دے دیا تھا ‘ اس لئے یہودیوں کو اس پر سخت اعتراض تھا ۔ حالانکہ یہ اشیاء صرف یہودیوں کے لئے حرام قرار دی گئی تھیں اور یہ بھی اس لئے کہ وہ نافرمانیاں کا ارتکاب کرتے تھے اور ان پر یہ چیزیں حرام کرکے انہیں سزا دی گئی تھی ۔
اس کے بعد تحویل قبلہ پر وہ جو اعتراضات کرتے تھے ‘ اس کا بھی جواب دیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے سورة بقرہ میں ایک طویل بحث ہوچکی تھی ۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ خانہ کعبہ بیت ابراہیم (علیہ السلام) ہے ۔ اور یہ پہلا گھر ہے جو اس کرہ ارض پر صرف اللہ کی عبادت اور بندگی کے لئے بنایا گیا ۔ اس لئے جو لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہونے کے مدعی ہیں ‘ ان کی جانب سے بیت ابراہیم (علیہ السلام) کو قبلہ قرار دینے کی مخالفت ناقابل فہم ہے۔
اس کے بعد اہل کتاب کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ آیات الٰہی کا انکار کرتے ہیں ‘ اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ اختیار کرنے سے روکتے ہیں ۔ وہ صحیح اور صراط مستقیم چھوڑ کر ٹیڑھے راستوں پر بھٹک رہے ہیں ۔ اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ گمراہی اسلامی نظام زندگی پر بھی چھاجائے ‘ حالانکہ وہ حق کو اچھی طرح پہچان چکے ہیں ‘ اور وہ بیخبر نہیں ہیں ۔
ایسے حالات میں قرآن کریم اچانک اہل کتاب کو چھوڑ کر امت مسلمہ کو مخاطب کرتا ہے اور انہیں زور دار الفاظ میں متنبہ کرتا ہے کہ وہ اہل کتاب کی اطاعت نہ کریں کیونکہ ان کی اطاعت عین کفر ہے۔ اور اہل ایمان کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ عین اسی وقت کفر اختیار کریں جب نبی ان کے سامنے اللہ کی کتاب پیش کررہا ہو ‘ اور رسول اللہ ان میں موجود ہوں اور انہیں اس کتاب کی تعلیم بنفس نفیس دے رہے ہوں ‘ وہ ان کا تزکیہ کرتے ہوئے انہیں اللہ خوفی کی تعلیم دے رہے ہوں ‘ اور انہیں یہ تلقین کررہے ہوں کہ وہ اسلام پر اپنی زندگی میں جمے رہیں اور اسی حالت میں اسلام میں اپنے خالق حقیقی سے جاملیں ۔ رسول اللہ اور کتاب اللہ انہیں یاد دلارہی ہے کہ کسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو جوڑا ‘ یہ اس کی بڑی نعمت تھی کہ اس نے ‘ اسلام کے جھنڈے تلے ‘ ان کی صفوں کو یکجا کیا ۔ حالانکہ اس سے قبل ان کی حالت یہ تھی کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے تھے ‘ اور باہم برسر پیکار تھے ۔ بلکہ وہ آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تھے اور اس میں گرنے ہی والے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے بچایا اور یہ نجات انہیں اسلامی نظام زندگی کے سبب ملی۔ پھر یہ کتاب تمہیں کتاب تمہیں حکم دیتی ہے کہ تم ایک ایسی امت کی شکل اختیار کرو جس کا مشن اس دنیا میں نیکی اور بھلائی کی طرف بلانا اور برائی سے منع کرنا ہو ‘ اور نصب العین کے محافظ رہیں کہ تم نے اسلامی نظام زندگی کو بروئے کار لانا ہے ۔ پھر تمہیں ڈرایا جارہا ہے کہ تم اہل کتاب کی وسوسہ اندازیوں اور دسیسہ کاریوں پر کان ہی نہ دھرو کیونکہ یہ لوگ تمہاری صفوں کے اندر ہیں ‘ وہ تمہارے اندر اختلافات ڈال کر تمہیں بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں ۔ جس طرح وہ خود ان ہی کے اختلافات کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں تباہی سے دوچار ہوئے ۔ روایات میں قرآن کریم کے اس انتباہ کا پس منظر بیان کیا گیا ہے کہ اوس اور خزرج کے درمیان یہودیوں نے اختلاف پیدا کرکے ایک عظیم فتنے کے بیج بودئیے تھے ۔
اس کے بعد قرآن کریم امت مسلمہ کو یاد دلاتا ہے کہ اس کرہ ارض پر اس کا مقام ومنصب کیا ہے ؟ حضرت انسان کی زندگی کے ڈرامے میں امت مسلمہ نے کیا کردار ادا کرنا ہے۔
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
” تم تو وہ خیر امت ہو جسے تمام لوگوں کی خاطر برپا کیا گیا ہے ‘ تمہارا فرض یہ ہے کہ تم بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو اور اللہ پر ایمان لاؤ۔ “ یوں اللہ تعالیٰ تمہاری رہنمائی کرتا ہے کہ تمہارا مشن کیا ہے ؟ اور تمہاری سوسائٹی کا رنگ ڈھنگ کیا ہونا چاہئے۔
اس کے بعد مسلمانوں کے دشمن کی ذرا خبر لی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ اہل اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتے ‘ نہ ہی وہ مسلمانوں پر غلبہ پاسکتے ہیں ‘ ایسا غلبہ جو مکمل بھی ہو اور دائمی بھی ہو ‘ ہاں وہ یہ کرسکتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کی جدوجہد کے دوران انہیں اذیت دے سکتے ہیں ‘ البتہ مسلمان اگر اسلامی نظام زندگی اور اپنے منہاج پر قائم رہے تو اللہ کی نصرت انہیں حاصل رہے گی ۔ ان دشمنان خدا پر اللہ تعالیٰ نے ذلت مسلط کردی ہے ۔ وہ ہمیشہ حالت مسکینی میں رہیں گے ۔ اللہ کا غضب ان کو گھیرے رہے گا ۔ اور یہ سب کچھ محض اس لئے ہوگا کہ انہوں نے اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ معاصی کا ارتکاب کیا ۔ ناحق اپنے نبیوں تک کو قتل کیا ۔ اہل کتاب میں سے بہر حال ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ۔ ایمان لے آئے اور انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے سلسلے میں اہل اسلام کا منہاج اپنایا۔ اور نیکی اور بھلائی کے پھیلانے کا مشن ان کا نصب العین بن گیا۔ ایسے لوگ بہرحال صالحین میں سے ہیں ۔ ہاں جن لوگوں نے کفر کا راستہ اپنایا ‘ اسلام کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا ‘ تو وہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے ماخوذ ہوں گے ‘ ان کی دولت انہیں کوئی نفع نہ دے گی ‘ ان کی اولاد انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گی ۔ اور انجام کار انہیں ایک عظیم تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس سبق کا خاتمہ اہل ایمان کو اس بات کا خوف دلانے پر ہوتا ہے کہ وہ ایمانداروں کے مقابلے میں دوسرے لوگوں کے ساتھ کوئی خفیہ دوستی قائم نہ کریں۔ اس لئے کہ یہ دوسرے لوگ اپنے دلوں کے اندر مسلمانوں کے خلاف بغض وعداوت چھپائے ہوئے ہیں ۔ ان کی باتوں سے اہل اسلام کے خلاف بغض وعداوت ٹپکتی ہے ۔ اور ان کے دلوں کے اندر اہل اسلام کے خلاف جو لاوا پک رہا ہے وہ نہایت ہی خوفناک ہے ۔ انتہائی غصے اور نفرت کی وجہ سے وہ اپنی انگلیاں کاٹتے ہیں اور اہل اسلام پر اگر کوئی آفت ومصیبت آتی ہے تو یہ نہایت ہی خوش ہوتے ہیں اور اگر اہل اسلام کے لئے کوئی کامیابی ظہور پذیر ہوتی ہے تو وہ بہت کبیدہ خاطر ہوجاتے ہیں ۔ ان توضیحات کے آخر میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے ساتھ یہ وعدہ کرتے ہیں کہ وہ ان کانگہبان اور محافظ ہے ۔ اگر وہ صبر سے کام لیں اور اللہ خوفی کا رویہ اختیار کریں تو اللہ ان کے دشمنوں کے تمام ہتھکنڈوں کو ناکام کردے گا ۔ اِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعمَلُونَ مُحِیطٌ……………” جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس پر حاوی ہے۔ “
یہ طویل توضیحات اور متنوع اشارے ‘ اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ اس دور میں جماعت مسلمہ اور اہل ایمان کی صفوں میں اہل کتاب کس طرح گھسے ہوئے تھے اور کیا کیا سازشیں کررہے تھے ۔ اور بےچینیاں پھیلا رہے تھے ۔ اور یہ کہ اس سبق نے اس وقت بحرانی کیفیت پیدا کردی تھی ۔ نیز یہاں اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو کس قدر مضبوط راہنمائی کی ضرورت تھی ‘ تاکہ وہ اپنے اور جاہلیت کے کامریڈوں کے درمیان پائے جانے والے تعلقات وروابط کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیں اور اسلامی نظریہ حیات اور جاہلیت کے درمیان ایک قطعی امتیاز پیدا کردیا جائے ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کے بعد آئندہ نسلوں کے لئے بھی یہ ہدایت اور توضیح کام آئے ۔ اور آنے والی نسلوں کو متنبہ کردیا جائے کہ ان کے موروثی دشمن کون ہیں ؟ یہ ایسے دشمن ہیں کہ وہ نئے نئے روپ اور نئے نئے وسائل لے کر میدان میں آتے ہیں لیکن ہیں وہ ایک ہی۔
آل عمران 3:93
یہودیوں کا یہ طریقہ تھا کہ وہ ہر قسم ‘ شبہ اور ہر دلیل ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتے تھے ‘ اور ہر طرح کا حیلہ اور مکر و فریب کام میں لاتے تھے تاکہ وہ رسالت محمدیہ کی صحت میں کوئی شبہ پیدا کردیں۔ تحریک اسلامی میں فکری بحران پیدا کردیں اور لوگوں کے دلوں میں اضطراب پیدا کردیں ۔ چناچہ یہ لوگ ہر وقت شکوک و شبہات پھیلاتے پھرتے تھے ۔ جب قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ توراۃ کی تصدیق کرتا ہے تو انہیں یہ اعتراض کرنے کا موقعہ ملا اگر قرآن کریم توراۃ کا مصداق ہے تو پھر اس کا جواز کیا ہے کہ وہ بعض چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے جو بنی اسرائیل کے لئے حرام تھیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں اونٹوں کا گوشت اور دودھ کی مثال پیش کی ۔ کیونکہ چیزیں بنی اسرائیل پر حرام تھیں ۔ اگرچہ اونٹ اور اس کے دودھ کے علاوہ بھی بعض ایسی چیزیں تھیں جو بنی اسرائیل کے لئے حرام تھیں مگر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے حلال کردیا تھا۔
یہاں قرآن کریم ان کی توجہ اس تاریخی حقیقت کی طرف مبذول کراتا ہے جسے وہ جان بوجھ کر نظر انداز کررہے تھے ۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ قرآن کریم کے اس دعویٰ میں تشکیک پیدا کریں کہ وہ توراۃ کا مصدق ہے ۔ دلیل یہ دیتے کہ بعض ایسی چیزوں کو حلال قرار دیا جو نبی اسرائیل پر حرام تھیں ‘ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ کھانے کی وہ ساری چیزیں جو شریعت محمدیہ میں حلال ہیں ‘ وہ بنی اسرائیل کے لئے بھی حلال تھیں ‘ البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں توراۃ کے نازل کئے جانے سے پہلے بنی اسرائیل نے خود اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ یہ اسرائیل حضرت یعقوب ہیں ۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ ایک شدید مرض میں مبتلا ہوئے تھے ‘ اور انہوں نے یہ منت مانی تھی کہ اگر وہ تندرست ہوگئے تو وہ بطور نفل اونٹ کا گوشت کھانا ترک کردیں گے ۔ اونٹ کا دودھ نہ پئیں گے اور یہ دونوں چیزیں انہیں بہت پسند تھیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی منت اور نذر کو قبول فرمایا اور بنی اسرائیل میں یہ سنت یعقوبی چل پڑی اور انہوں نے بھی ان چیزوں کو حرام کرلیا جو ان کے باپ نے حرام کی تھیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بعض دوسری چیزیں بطور سزا بھی حرام کردی تھیں ‘ اس لئے کہ انہوں نے بعض جرائم کا ارتکاب کیا تھا ۔ ان محرمات کی طرف سورت انعام کی آیات (146) میں اشارہ کیا گیا ہے۔
وَعَلَى الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِي ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ شُحُومَهُمَا إِلا مَا حَمَلَتْ ظُهُورُهُمَا أَوِ الْحَوَايَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِبَغْيِهِمْ وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے ‘ اور گائے اور بکری کی چربی بھی ‘ بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ یہ ہم نے اس کی سرکشی کی سزا نہیں دی تھی اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں ۔ “ جبکہ اس تحریم سے قبل یہ چیزیں ان کے لئے حلال تھیں ۔
ان کی تردید کرکے اللہ تعالیٰ انہیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ کھانے پینے کی چیزوں میں اصل الاصول یہ ہے کہ وہ جائز ہیں ‘ اور بنی اسرائیل پر بعض چیزیں ان کے مخصوص حالات کے پیش نظر حرام کی گئی ہیں ‘ اس لئے اگر ان میں سے بعض چیزوں کے استعمال کو مسلمانوں کے لئے حلال قرار دے دیا گیا تو یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے وہ حلال تھیں ۔ اس لئے اس حلت سے قرآن کریم اور شریعت الٰہیہ کی صحت میں شک نہیں کیا جاسکتا۔
اس موقعہ پر قرآن کریم انہیں چیلنج دیتا ہے کہ لائیں وہ توراۃ اور اسے پڑھیں اور بچشم خود دیکھ لیں کہ ان چیزوں کی حرمت کے اسباب صرف ان کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ یہ اسباب عام نوعیت کے نہیں ہیں ۔ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ……………” کہہ دو کہ اگر تم سچے ہو تو توراۃ لے آؤ ‘ پرھ کر بتاؤ۔ “
اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں متنبہ کرتے ہیں کہ ان میں سے جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں وہ ظالم ہیں ۔ وہ نہ سچائی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ‘ نہ خود اپنے آپ کے ساتھ انصاف کرتے ہیں اور نہ انسانیت کے ساتھ انصاف کرتے ہیں ۔ اور ظالموں کی سزا بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ اس لئے یہاں قرآن کریم اس پر اکتفاء کرتا ہے کہ انہیں ظالم کہہ دے کیونکہ ظلم کے ساتھ ہی ان کے ظالم کا انجام متعین ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ افتراء اللہ تعالیٰ پر باندھ رہے ہیں حالانکہ وہ خود اللہ کے دربار میں حاضر ہونے والے ہیں ۔ وہاں وہ کیا جواب دیں گے ؟
آل عمران 3:94
اہل کتاب کے اعتراضات میں سے ایک اعتراض تحویل قبلہ پر بھی تھا ‘ یہ اعتراض بھی وہ بار بار دہراتے تھے ۔ یہ اعتراض اس لئے پیدا ہوا تھا کہ رسول ﷺ نے ہجرت فرمائی تو مدینہ طیبہ میں آپ سولہ ‘ سترہ یا اٹھارہ مہینوں تک نماز بیت المقدس کی طرف منہ کرکے پڑھتے رہے تھے ۔ باوجود اس کے کہ اس سے پہلے ‘ سورة بقرہ میں ‘ اس موضوع پر تفصیلی بحث کی گئی تھی ‘ اور یہ بتایا گیا تھا کہ خانہ کعبہ دراصل حقیقی اور اصلی قبلہ تھا ‘ اور بیت المقدس کو عارضی طور پر ‘ بعض مصلحتوں کے تحت ‘ قبلہ قراردیا گیا تھا ‘ جس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اپنی جگہ کردی تھی ‘ لیکن اس اظہار حقیقت کے باوجود یہودی باربار اسی اعتراض کو دہراتے رہتے تھے ۔ یہ کام وہ اس لئے کرتے تھے کہ اہل ایمان کے دلوں میں فکری انتشار اور تشکیک پیدا کی جائے اور ایک واضح حقیقت کے اندر التباس پیدا کیا جائے ۔ یہ کام آج ہمارے دور میں بھی ‘ اسلامی نظریہ حیات کے ہر موضوع کے بارے میں دشمنان دین کی جانب سے بڑے منظم طریقے سے کیا جاتا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ از سر نو ان کے شبہات اور تلبیسات کی تردید فرماتے ہیں ۔
آل عمران 3:95
یہ الفاظ کہ ” اللہ نے جو کچھ کہا سچ کہا “ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جو وضاحت کردی ہے وہ درست ہے یعنی یہ کہ خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس لئے تعمیر فرمایا تھا کہ یہ لوگوں کے لئے زیارت گاہ ہو اور جائے امن وسلامتی ہو ‘ اور اہل ایمان کے قبلہ اور جائے عبادت ہو ۔ اسی لئے یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ تم حضرت ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اور نظریہ حیات ہمہ جہت توحیدی نظریہ تھا ‘ جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” پس ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا ۔ “ یہودیوں کا زعم یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم انہیں بتاتا ہے کہ یہ ہے دین ابراہیمی کی حقیقت ۔ اور وہ دین یہ ہے کہ ہر قسم کے شرک سے نفرت کی جائے ۔ اور یہاں اس حقیقت کا اظہار دومرتبہ کیا گیا ہے ۔ ایک مرتبہ یہ کہہ کر کہ وہ حنیف تھے ۔ اور دوسری مرتبہ یہ کہہ کر کہ وہ مشرکین میں سے نہ تھے ۔ اور یہود کا حال یہ ہے کہ وہ مشرک ہیں ۔
اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ روب قبلہ ہونا دین کے اصولوں میں سے ہے۔ اس لئے کہ اس کرہ ارض پر یہ پہلا گھر ہے جو اللہ کی پرستش کے لئے تعمیر کیا گیا ہے ۔ اور اسے ابتدائے تعمیر سے صرف اس مقصد کے لئے مخصوص کیا گیا ہے کہ وہ طواف کرنے والوں ‘ عبادت کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے مخصوص رہے ۔ نیز یہ ایک متبرک مقام ہے ‘ اور وہ اس مفہوم میں جائے ہدایت ہے کہ یہاں ملت ابراہیمی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ اور اس میں وہ واضح علامات ہیں کہ یہ ابراہیم کی جائے قیام ہے ۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ تاریخی پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے ہوکر خانہ کعبہ کی تعمیر فرماتے تھے ۔ یہ خانہ کعبہ کے ساتھ متصل تھا۔ مگر خلیفہ راشد حضرت عمر ؓ نے اسے قدرے ہٹایا ‘ تاکہ طواف کرنے والوں کی وجہ سے ان لوگوں کو تکلیف نہ ہو جو اس کے پاس نفل ادا کرتے ہیں ۔ اس لئے اہل اسلام کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس کے پاس نماز پڑھیں وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى…………… ” اور حضرت ابراہیم کے مقام کو جائے نماز بناؤ۔ “
اس گھر کے فضائل میں سے ایک بات یہاں بتائی جاتی ہے کہ اس گھر میں جو شخص داخل ہوا وہ پر امن رہے گا ۔ اس لئے یہ گھر ہر اس شخص کے لئے امن کی جگہ ہے جو یہاں داخل ہوجائے ۔ اور یہ حیثیت اس کرہ ارض پر کسی دوسرے مقام کو حاصل نہیں ہے ۔ اور اس کی یہ حیثیت اس وقت سے چلی آرہی ہے جب اسے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے تعمیر کیا ۔ یہاں عربوں کے دور جاہلیت میں بھی اسے یہ حیثیت حاصل رہی ہے جبکہ وہ بالعموم دی ابراہیمی سے منحرف ہوگئے تھے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح خالص موحد نہ رہے تھے ۔ حضرت حسن بصری کے قول کے مطابق اس برے دور میں بھی یہ احترام ومقام اسے حاصل تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ” ایک شخص اگر دوسرے کو قتل کردیتا تو تو ایک اونی کپڑا اپنی گردن کے اردگرد لپیٹ لیتا ۔ اس حالت میں اسے اگر مقتول کا وارث بھی ملتا تو وہ اسے خانہ کعبہ میں کچھ نہ کہتا اور اس کے نکلنے کا انتظار کرتا ۔ “ غرض اس بیت اللہ کو اس وقت بھی یہ اعزاز حاصل تھا جب اس کے ارد گرد کے لوگ جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اہل عرب پر اپنے احسانات جتلاتے ہوئے فرماتے ہیںأَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ……………” ہم نے ایک پرامن حرم بنادیا حالانکہ ان کے گردوپیش لوگ اچک لے جاتے ہیں ۔ “ (6729 :)
اور بھی خانہ کعبہ کے احترام کی ایک وجہ ہے کہ کے حدود کے اندر شکار کرنا حرام ہے اور وہاں پرندوں کو ان کے گھونسلوں سے نکالنا بھی ممنوع ہے ۔ نیز وہاں کے درختوں کو کاٹنا بھی ممنوع ہے ۔ صحیحین نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے (الفاظ مسلم کے ہیں ) کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا ” اس شہر کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ اس وقت سے جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آئی ہوئی حرمت کی وجہ سے یہ تاروز قیامت حرام ہے ۔ اس میں مجھ سے پہلے کسی کے لئے جنگ کرنا جائز قرار نہیں دیا گیا ۔ میرے لئے بھی صرف دن کے ایک تھوڑے سے وقت کے لئے جائز کیا گیا ۔ لہٰذا وہ اللہ کی جانب سے آئی ہوئی اس حرمت کی وجہ سے تا روز قیامت حرام ہوگا۔ اس کی جھاڑیوں کو نہ کاٹاجائے گا ‘ اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا ‘ وہاں کسی گم شدہ چیز کو نہ اٹھایا جائے ‘ الایہ کہ معلوم ہو کہ کس کی ہے ‘ اور اس کی گھاس کو نہ کاٹا جائے گا ……“
یہ ہے وہ خانہ خدا جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے چنا ہے ۔ اور یہ اس کا وہ گھر ہے ‘ جسے اس نے یہ شرافت عطا کی ۔ اس کرہ ارض پر یہ وہ پہلا گھر ہے جو صرف عبادت کے لئے بنایا گیا ہے ۔ یہ ان کے باپ حضرت ابراہیم کا گھر ہے اور اس کے اندر ایسی علامات اور شواہد موجود ہیں جو اس بات پر گواہ ہیں کہ اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمایا۔ اسلام بھی ملت ابراہیمی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا تعمیر کردہ بیت اللہ ‘ سب سے زیادہ اس بات کا مستحق ہے کہ مسلمان اس کی طرف متوجہ ہوں ‘ جو زمین میں جائے امن ہے ‘ اس میں لوگوں کے لئے سامان ہدایت ہے اور دین اسلام کا یہ ایک مرکز ہے۔
چناچہ یہاں طے کردیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض کردیا ہے ۔ بشرطیکہ کسی کی استطاعت ہو اور اگر استطاعت کے باوجود کوئی حج نہ کرے تو گویا وہ کفر کا ارتکاب کرے گا۔
آل عمران 3:96
یہ الفاظ کہ ” اللہ نے جو کچھ کہا سچ کہا “ اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے جو وضاحت کردی ہے وہ درست ہے یعنی یہ کہ خانہ کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) نے اس لئے تعمیر فرمایا تھا کہ یہ لوگوں کے لئے زیارت گاہ ہو اور جائے امن وسلامتی ہو ‘ اور اہل ایمان کے قبلہ اور جائے عبادت ہو ۔ اسی لئے یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ تم حضرت ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ اور نظریہ حیات ہمہ جہت توحیدی نظریہ تھا ‘ جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ……………” پس ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا ۔ “ یہودیوں کا زعم یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم انہیں بتاتا ہے کہ یہ ہے دین ابراہیمی کی حقیقت ۔ اور وہ دین یہ ہے کہ ہر قسم کے شرک سے نفرت کی جائے ۔ اور یہاں اس حقیقت کا اظہار دومرتبہ کیا گیا ہے ۔ ایک مرتبہ یہ کہہ کر کہ وہ حنیف تھے ۔ اور دوسری مرتبہ یہ کہہ کر کہ وہ مشرکین میں سے نہ تھے ۔ اور یہود کا حال یہ ہے کہ وہ مشرک ہیں ۔
اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ روب قبلہ ہونا دین کے اصولوں میں سے ہے۔ اس لئے کہ اس کرہ ارض پر یہ پہلا گھر ہے جو اللہ کی پرستش کے لئے تعمیر کیا گیا ہے ۔ اور اسے ابتدائے تعمیر سے صرف اس مقصد کے لئے مخصوص کیا گیا ہے کہ وہ طواف کرنے والوں ‘ عبادت کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لئے مخصوص رہے ۔ نیز یہ ایک متبرک مقام ہے ‘ اور وہ اس مفہوم میں جائے ہدایت ہے کہ یہاں ملت ابراہیمی کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ اور اس میں وہ واضح علامات ہیں کہ یہ ابراہیم کی جائے قیام ہے ۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ اس سے مراد وہ تاریخی پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے ہوکر خانہ کعبہ کی تعمیر فرماتے تھے ۔ یہ خانہ کعبہ کے ساتھ متصل تھا۔ مگر خلیفہ راشد حضرت عمر ؓ نے اسے قدرے ہٹایا ‘ تاکہ طواف کرنے والوں کی وجہ سے ان لوگوں کو تکلیف نہ ہو جو اس کے پاس نفل ادا کرتے ہیں ۔ اس لئے اہل اسلام کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس کے پاس نماز پڑھیں وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى…………… ” اور حضرت ابراہیم کے مقام کو جائے نماز بناؤ۔ “
اس گھر کے فضائل میں سے ایک بات یہاں بتائی جاتی ہے کہ اس گھر میں جو شخص داخل ہوا وہ پر امن رہے گا ۔ اس لئے یہ گھر ہر اس شخص کے لئے امن کی جگہ ہے جو یہاں داخل ہوجائے ۔ اور یہ حیثیت اس کرہ ارض پر کسی دوسرے مقام کو حاصل نہیں ہے ۔ اور اس کی یہ حیثیت اس وقت سے چلی آرہی ہے جب اسے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے تعمیر کیا ۔ یہاں عربوں کے دور جاہلیت میں بھی اسے یہ حیثیت حاصل رہی ہے جبکہ وہ بالعموم دی ابراہیمی سے منحرف ہوگئے تھے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح خالص موحد نہ رہے تھے ۔ حضرت حسن بصری کے قول کے مطابق اس برے دور میں بھی یہ احترام ومقام اسے حاصل تھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ ” ایک شخص اگر دوسرے کو قتل کردیتا تو تو ایک اونی کپڑا اپنی گردن کے اردگرد لپیٹ لیتا ۔ اس حالت میں اسے اگر مقتول کا وارث بھی ملتا تو وہ اسے خانہ کعبہ میں کچھ نہ کہتا اور اس کے نکلنے کا انتظار کرتا ۔ “ غرض اس بیت اللہ کو اس وقت بھی یہ اعزاز حاصل تھا جب اس کے ارد گرد کے لوگ جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ اہل عرب پر اپنے احسانات جتلاتے ہوئے فرماتے ہیںأَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ……………” ہم نے ایک پرامن حرم بنادیا حالانکہ ان کے گردوپیش لوگ اچک لے جاتے ہیں ۔ “ (6729 :)
اور بھی خانہ کعبہ کے احترام کی ایک وجہ ہے کہ کے حدود کے اندر شکار کرنا حرام ہے اور وہاں پرندوں کو ان کے گھونسلوں سے نکالنا بھی ممنوع ہے ۔ نیز وہاں کے درختوں کو کاٹنا بھی ممنوع ہے ۔ صحیحین نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے (الفاظ مسلم کے ہیں ) کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا ” اس شہر کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ اس وقت سے جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ۔ تو وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آئی ہوئی حرمت کی وجہ سے یہ تاروز قیامت حرام ہے ۔ اس میں مجھ سے پہلے کسی کے لئے جنگ کرنا جائز قرار نہیں دیا گیا ۔ میرے لئے بھی صرف دن کے ایک تھوڑے سے وقت کے لئے جائز کیا گیا ۔ لہٰذا وہ اللہ کی جانب سے آئی ہوئی اس حرمت کی وجہ سے تا روز قیامت حرام ہوگا۔ اس کی جھاڑیوں کو نہ کاٹاجائے گا ‘ اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا ‘ وہاں کسی گم شدہ چیز کو نہ اٹھایا جائے ‘ الایہ کہ معلوم ہو کہ کس کی ہے ‘ اور اس کی گھاس کو نہ کاٹا جائے گا ……“
یہ ہے وہ خانہ خدا جسے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے چنا ہے ۔ اور یہ اس کا وہ گھر ہے ‘ جسے اس نے یہ شرافت عطا کی ۔ اس کرہ ارض پر یہ وہ پہلا گھر ہے جو صرف عبادت کے لئے بنایا گیا ہے ۔ یہ ان کے باپ حضرت ابراہیم کا گھر ہے اور اس کے اندر ایسی علامات اور شواہد موجود ہیں جو اس بات پر گواہ ہیں کہ اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمایا۔ اسلام بھی ملت ابراہیمی کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لئے حضرت ابراہیم کا تعمیر کردہ بیت اللہ ‘ سب سے زیادہ اس بات کا مستحق ہے کہ مسلمان اس کی طرف متوجہ ہوں ‘ جو زمین میں جائے امن ہے ‘ اس میں لوگوں کے لئے سامان ہدایت ہے اور دین اسلام کا یہ ایک مرکز ہے۔
چناچہ یہاں طے کردیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض کردیا ہے ۔ بشرطیکہ کسی کی استطاعت ہو اور اگر استطاعت کے باوجود کوئی حج نہ کرے تو گویا وہ کفر کا ارتکاب کرے گا۔
آل عمران 3:97
یہاں انداز تعبیر قابل توجہ ہے ‘ فرضیت حج نہایت ہی عموم اور شمول پر مشتمل ہے ۔ اس کے لئے علی الناس ” تمام لوگوں پر “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ‘ اس میں پہلا اشارہ تو یہ ہے کہ یہ حج ان یہودیوں پر بھی فرض کیا گیا ہے جو اس وقت رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مناظرہ اور محاربہ کررہے ہیں کہ کیوں مسلمانوں نے اس کی طرف منہ کرکے عبادت کرنا شروع کردیا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے خود اہل کتاب سے بھی یہی مطالبہ کیا ہے کہ وہ گھر کا حج کریں ۔ اس کی طرف متوجہ ہوں ‘ کیونکہ یہ ان کے باپ ابراہیم کا تعمیر کردہ ہے اور پھر اس کرہ ارض پر یہ پہلا گھر ہے اللہ کا اور جو صرف اس کی عبادت کے لئے تعمیر کیا گیا ہے ۔ اس لئے اعتراض کرنے والے یہودی اپنے فرائض سے انحراف کررہے ہیں ‘ یہ تقصیر ہیں اور اللہ کی معصیت کررہے ہیں ۔ اور اس عمومیت میں دوسرا اشارہ اس طرف ہے کہ تمام لوگوں سے مطالبہ یہ ہے کہ اس دین کا اقرار کرلیں اور اس دین کے فرائض اور شعائر ادا کریں ۔ اور وہ بھی خانہ کعبہ کی طرف متوجہ ہوں اور حج کریں جس طرح اہل ایمان کررہے ہیں ۔ اور اگر یہ سب لوگ ایسا نہ کریں گے تو گویا وہ کفر کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ اگرچہ وہ زبانی طور پر یہ دعویٰ کریں کہ وہ اس دین پر ہیں اور اللہ تمام جہان والوں سے بےنیاز ہے ‘ اسے قطعاً اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ سب لوگ ایمان لائیں یا سب لوگ حج کے لئے جائیں ۔ حج میں تو ان کے لئے مصلحت ہے ‘ صرف ان کی فلاح ہے ۔ انہیں چاہئے کہ وہ ایمان لائیں اور اللہ کی عبادت کریں۔
حج پوری عمر میں ایک بار فرض ہے اور یہ فرض اس وقت عائد ہوجاتا ہے جب انسان کو اس کی استطاعت ہوجائے ‘ جس میں ذاتی صحت ‘ سفر کا امکان اور راستوں کا امن وامان شامل ہے ۔ اس کی فرضیت کے وقت میں اختلاف ہے ۔ وہ لوگ جن کا خیال ہے کہ یہ آیات 9 ہجری میں نازل ہوئیں جسے عام الوفود کہا جاتا ہے ‘ اور اس سلسلے میں بعض روایات بھی وارد ہیں یا ان کی رائے یہ ہے کہ 9 ہجری میں حج فرض ہوا ہے ۔ اس کا استدلال اس سے بھی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے 9 ہجری کے بعد ہی حج فرمایا ۔ اس سے قبل جلد دوئم میں تحویل قبلہ فیصلہ سے بحث کرتے ہوئے ہم نے یہ کہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی جانب سے حج کی تاخیر اس بات کی دلیل نہیں ہوسکتی کہ حج کی فرضیت ہی بعد میں ہوئی ۔ ہوسکتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے بعض مصروفیات اور مخصوص حالات کی وجہ سے حج مؤخر فرمایا ہو۔ مثلاً یہ کہ مشرکین حج کے موقعہ ننگے ہوکر حج کرتے تھے ‘ اور یہ حرکت وہ فتح مکہ کے بعد تک کرتے رہے ۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے لوگوں کے ساتھ اختلاط کو ناپسند فرمایا ہو اور جب 9 ہجری میں سورت براءۃ نازل ہوئی اور مشرکین کے لئے طواف کعبہ حرام قرار دے دیا گیا تو اس کے اگلے سال بعد رسول ﷺ نے خود حج ادا فرمایا۔ اس لئے یہ ممکن ہے کہ حج اس سے پہلے فرض ہوچکا ہو۔ اور یہ سورت ہجرت کے ابتدائی زمانہ میں نازل ہوئی ہو مثلاً غزوہ احد کے قریب۔
بہرحال جس وقت بھی حج فرض ہوا ہو ‘ اس کی فرضیت اسی نص قاطع کے ذریعے ہوئی ہے ۔ یعنی حج ان تمام لوگوں پر فرض ہے جو راستے کی استطاعت رکھتے ہوں ۔ حج مسلمانوں کا ایک سالانہ اجتماع ہے ‘ وہ اس گھر کے پاس جمع ہوتے ہیں ‘ جہاں سے دعوت اسلامی کا آغاز ہوا ‘ جہاں سے ان کے باپ حضرت ابراہیم کی ملت کا بھی آغاز ہوا ‘ اور جسے حضرت ابراہیم نے اللہ کی عبادت کے لئے پہلا گھر قرار دیا ۔ اس لئے حج ایک نہایت ہی بامقصد اجتماع ہے ‘ اس کی کچھ خاص یادیں ہیں اور ان تمام یادوں کا محور یہ بات ہے کہ انسان کا اپنے رب کے ساتھ رابطہ خاص پیدا ہوا ‘ انسان کی روح اللہ کی پکار پر لبیک کہے ‘ اس لئے کہ اس روح کی وجہ سے انسان ، انسان بنا ہے ۔ یہ ایک ایسا مقصد ہے جس پر تمام انسانوں کو جمع ہونا چاہئے اور وہ ہر سال اس گھر میں جمع ہوں جہاں سے کبھی خالص ” انسانی روحانی اجتماع “ کی دعوت کا آغاز ہوا تھا اور یہ دعوت خالص انسانی بنیادوں پر تھی ۔
آل عمران 3:98
یہ تہدید اور اس قسم کا ڈراوا اس سورت میں اور ایسی ہی دوسری سورتوں میں باربار آیا ہے ۔ اس کا پہلا اثر یہ مرتب ہوتا ہے کہ اہل کتاب کو اپنے موقف کی اصلیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کی اصل حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا مومن اور بڑا دیندار ظاہر کرتے ہیں ‘ جبکہ فی الحقیقت وہ اہل کفر میں سے ہیں ‘ کیونکہ وہ اللہ کی نازل کردہ آیات قرآنی کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے جو شخص اللہ کے کسی بھی جزء کا انکار کرے گا ‘ گویا وہ سب کتاب کا انکار کرے گا ۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اگر وہ خود ان کے پاس محفوظ کتاب پر ایمان لائے ہوتے تو وہ لازماً ہر آنے والے رسول پر نازل ہونے والی ہدایات پر ایمان لائے ہوتے ۔ اس لئے کہ دین کی حقیقت ایک ہے ۔ جو شخص بھی اس حقیقت کو پالے وہ ان تمام رسولوں پر ایمان لائے گا جو بعد میں آئیں اور ان سے بیعت لیں ۔ یہ ایک ایسی خوفناک حقیقت ہے جس سے چاہئے کہ وہ کانپ اٹھیں اور انہیں ان کی عاقبت کے بارے میں شک لاحق ہوجائے اور وہ اپنے انجام کی فکر کریں ۔
اس کا دوسرا اثر یہ ہے کہ جماعت مسلمہ میں سے بعض لوگ جو اہل کتاب سے ان کے اہل کتاب ہونے کی وجہ سے دھوکہ کھاتے تھے ‘ ان کی آنکھیں بھی کھل جاتی ہیں کہ اللہ خود اہل کتاب کی حقیقت ان کے سامنے کھول کر بیان فرماتے ہیں اور ان پر صریحاً کفر کا فتویٰ دیتے ہیں ‘ اس لئے اس کے بعد کسی کے لئے کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہتی کہ اہل کتاب غلط ہیں اور اہل اسلام سچے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان کو اس قدر شدید الفاظ میں ڈراتے ہیں جن سے دل دہل جاتے ہیں۔ وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا تَعْمَلُونَ……………” اللہ ان تمام حرکتوں پر نظر رکھے ہوئے ہے جو تم کررہے ہو۔ “ اور وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ……………” تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے۔ “ یہ ایک خوفناک تنبیہ ہے ۔ جب ایک انسان اس بات کو محسوس کرلے کہ اس کے اعمال پر اللہ گواہ ہے اور یہ کہ وہ اس کے اعمال سے غافل نہیں ہے اور عمل بھی کیسا ؟ خالص کفر ‘ خالص دھوکہ ‘ خالص فساد اور خالص گمراہ کرنا تو اس کے دل میں خوف کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے۔
اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو ریکارڈ پر لاتے ہیں کہ وہ جس حق کا انکار کرتے ہیں درحقیقت وہ جانتے بوجھتے ایسا کرتے ہیں ۔ اور سمجھتے ہوئے لوگوں کو اس ھق سے دور روکتے ہیں ۔ جبکہ وہ وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ……… ” حالانکہ تم اس پر گواہ ہو ۔ “ یعنی انہیں اس بات پر پورا یقین تھا کہ وہ جس حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں وہ حق ہے اور وہ جس بات سے عوام الناس کو روکتے ہیں اس میں ان کی بھلائی ہے ۔ اور ان کا یہ رویہ انتہائی قابل نفرت ہے ۔ اس لئے ایسے کردار والے کسی شخص پر نہ تو کوئی اعتماد کرنا مناسب ہے اور نہ ایسے شخص کا ہمنشین ہونا مناسب ہے ۔ ایسے شخص کا صحیح علاج یہ ہے کہ اس کے ساتھ پوری طرح نفرت کا مظاہرہ کیا جائے اور اس پر بھرپور تنقید کی جائے۔
آل عمران 3:99
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا تعارف ان الفاظ میں کیا ہے ۔ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا……………” یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے تم اللہ کے راستے سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے ۔ “ یہ ایک بامعنی جائزہ ہے ۔ اور اس میں بہت بڑا راز ہے ۔ یعنی اللہ کا راستہ تو بالکل سیدھا راستہ ہے اور اس کے علاوہ جو راستے ہیں وہ سب ٹیڑھے راستے ہیں ۔ اور جب لوگوں کو سیدھے راستے سے روکا گیا اور جب ابھی ایمان کو اسلامی نظام حیات سے محروم کیا گی تو تمام انسانی امور میں اتقامت اور سیدھ ختم ہوجائے گی اور حسن وقبح کے پیمانے صحیح و سلامت نہ رہیں گے ۔ اور اس زمین کے نظام کا ہر شعبہ ٹیڑھا ہوجائے گا ۔ یہ ایک عظیم فساد ہوگا ‘ نظام فطرت میں فساد برپا ہوگا کیونکہ نظام فطرت کے خلاف ورزی ہوگی ‘ انسانی زندگی میں فساد اس لئے ہوگا کہ یہ زندگی ٹیڑھ پر قائم ہوگی ‘ اور یہ عظیم فساد اس لئے رونما ہوگا کہ لوگوں کو اسلامی ظام حیات سے روک دیا گیا ہوگا۔ پھر یہ فساد انسانی تصورات میں بھی برپا ہوگا ‘ انسانی ضمیر میں بھی فساد ہوگا ‘ انسانی اخلاق میں بھی فساد ہوگا ‘ انسانی طرزعمل میں فساد ہوگا ‘ انسانی روابط میں فساد ہوگا ‘ انسانی معاملات میں فساد ہوگا۔ غرض ان تمام روابط میں فساد ہوگا جو ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان پیدا ہوں گے ۔ نیز یہ فساد ان کے اور اس نظام کائنات میں بھی برپا ہوگا جس کائنات میں انسان رہتے ہیں ۔ پس لوگ یا تو اسلامی نظام زندگی کے تحت زندگی بسر کریں گے تو اس صورت میں وہ صراط مستقیم اور حالت صالحہ میں ہوں گے اور ان کے لئے بھلائی ہوگی یا پھر وہ ٹیڑھے اور منحنی راہوں پرچلیں گے ‘ تو اس صورت میں وہ ٹیڑھ ‘ فساد اور شر میں مبتلا ہوں گے ۔ دنیا میں یہی دوراستے ہیں اور یہی دوحالات ہیں جو بنی نوع انسان کی زندگی پر آسکتے ہیں ۔ ایک حالت یہ ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کی شاہراہ پر گامزن ہوں گے تو پھر ان کے لئے خیر اور بہتری ہے اور یا وہ اس شاہراہ پر گامزن ہوں تو پھر ان کے لئے خیر اور بہتری ہے اور یا وہ اس شاہراہ سے منحرف ہوں گے تو اس صورت حال میں شر اور فساد ہی ان کا مقدر ہوگا۔
یہاں آکر اہل کتاب کے ساتھ اب مناظرہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اب انہیں بھلادیا جاتا ہے اور اب خطاب جماعت مسلمہ سے ہورہا ہے ۔ اب امت مسلمہ کو ہدایات دی جارہی ہیں ۔ انہیں تنبیہ کی جاتی ہے او دشمن کی چالوں سے ڈرایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے خصائص کیا ہیں ‘ اس کا تصور حیات اور اس کا نظام زندگی کیا ہے ‘ اور وہ کیا ذرائع ہیں جنہیں کام میں لاکر اس نظام زندگی کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے ؟
آل عمران 3:100
اس کرہ ارض پر اس امت کو اس لئے اٹھایا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر صرف اسلامی نظام زندگی کے برپا کرنے کے لئے اپنے لئے راہ متعین کرے ۔ یہ ایک منفرد ‘ ممتاز اور نمایاں امت ہے ۔ اس کا وجود اسلامی نظام زندگی سے پھوٹا ہے ‘ تاکہ وہ حیات انسانی کے اندر وہ رول ادا کرے جو اس کے سوا کوئی نہیں ادا کرتا ۔ یہ امت اس لئے برپا کی گئی ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کا اقرار کرے اور اسے عملی طور پر نافذ کرے ‘ اور اس نظام کا نشان منزل نظر آرہا ہو ۔ اس میں قرآن وسنت کی نصوص اور احکام عملاً زندگیوں میں چلتے پھرتے نظر آئیں ‘ اسلامی نصوص انسانی شعور ‘ انسانی اخلاق اور انسانی طرز عمل اور انسانی روابط عملاً نظر آئیں۔
امت مسلمہ کے برپا کرنے کا مقصد اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا ‘ اس کی راہ اس وقت تک متعین نہیں ہوسکتی اور وہ انسانی زندگی میں یہ چمکدار اور خوبصورت اور ممتاز عملی زندگی اس وقت تک وجود میں نہیں لاسکتی جب تک وہ تمام ہدایات اللہ جل شانہٗ سے اخذ نہ کرے اور انسانی قیادت اپنے تمام معاملات میں اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے اصول تسلیم نہ کرے ۔ تمام انسانوں کی راہنمائی کا انکار نہ کردے ‘ تمام انسانی اطاعتوں کو ترک نہ کردے اور تمام انسانوں کی پیروی ترک نہ کردے ۔ اسے یا تو یہ تمام امور سرانجام دینے ہوں گے اور یا پھر اسے کفر ‘ گمراہی اور راہ راست سے انحراف قبول کرنا ہوگا۔
یہ وہ اصول ہے جس کی تاکید قرآن مجید بتکرار کرتا ہے ‘ اور مختلف مواقع پر کرتا ہے ۔ اور یہی وہ اصول ہے جس پر جماعت مسلمہ کا شعور ‘ اس کی سوچ ‘ اس کے اخلاق پروان چڑھے ہیں جہاں بھی اسے موقعہ ملے ۔ اب مواقع میں سے ایک موقعہ یہ تھا ‘ جس میں اہل کتاب رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مباحثہ کررہے تھے اور تحریک اسلامی کو مدینہ میں اہل کتاب کے مکروفریب ‘ خفیہ سازشوں اور عداوتوں کا مقابلہ کرنا پڑرہا تھا ۔ ہاں یہ ہدایات بہر حال مدینہ طیبہ کے ان مخصوص حالات کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں ۔ یہ ہدایات امت مسلمہ کے لئے دائمی ہدایات ہیں ۔ ہر زمانے اور ہر دور اور ہرنسل کے لئے یہی ہدایات ہیں ۔ ہر زمانے اور ہر دور اور ہر نسل کے لئے یہی ہدایات ہیں ۔ اس لئے کہ امت مسلمہ کا یہ اصول حیات ہے اور یہی اس کا مقصد وجود ہے ۔
اس امت کو اس لئے برپا کیا گیا ہے کہ وہ پوری انسانیت کی قیادت کرے ۔ اب یہ کس منطق کی رو سے جائز ہے کہ وہ جاہلیت کی پیروی کرے حالانکہ اس کا مقصد وجود ہی یہ ہے کہ وہ جاہلیت کا قلع قمع کرے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکے اور انسانوں کا رشتہ اللہ سے جوڑے ۔ انسانوں کی قیادت اسلامی نظام زندگی کے مطابق کرے ۔ اور جب یہ امت مسلمہ قیادت کے مقام سے گرجائے تو متصور ہوگا کہ امت مسلمہ کا وجود نہیں ہے ۔ اور اگر اس کا کوئی وجود ہے تو وہ بھی بےمقصد وجود ہے ۔ اسے تو اس لئے برپا کیا گیا تھا کہ وہ ایک صحیح تصورحیات کے مطابق انسانیت کی قیادت کرے ۔ اس کا عقیدہ بالکل درست ہو ‘ اس کا شعور استوار ہو ‘ اس کے اخلاق معیاری ہوں ‘ اس کا نظام مستحکم ہو اور اس کی تنظیم مضبوط ہو ۔ صرف ایسے حالات ہی میں انسانی عقل نشو ونما پاسکتی ہے اور اس کے لئے مزید راہیں میسر ہوسکتی ہیں ۔ اور وہ اس پوری کائنات سے اچھی طرح متعارف ہوسکتی ہے ۔ وہ اس کائنات کے بھیدوں سے آگاہ ہوسکتی ہے اور وہ اس کائنات کی بھلائی کے لئے استعمال میں لانے کا حکم دیتی ہے ۔ وہ ان قوتوں ‘ اس کے ذخیروں کو مسخر کرسکتی ہے ۔ لیکن امت کی قیادت عالیہ جو تسخیر کائنات کا حکم دیتی ہے ‘ وہ ان تمام قوتوں کو انسانیت کی بھلائی کے لئے استعمال میں لانے کا حکم دیتی ہے ۔ وہ ان قوتوں کو مسخر کرکے انہیں اس کائنات کی تباہی اور اس کائنات کی بربادی کے لئے کام میں نہیں لاتی ۔ اور نہ وہ ان قدرتی قوتوں کو اس سے دریافت کرتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کرے اور شہوات حیوانیہ میں گم ہوجائے ۔ تسخیر کائنات کا مقصد صرف یہ ہے کہ امت اپنے ایمان باللہ کو مضبوط کرے ‘ یہ تمسخر اللہ کی ہدایات کے مطابق ہو ‘ اور اس معاملے میں وہ اللہ کے سوا کسی اور منبع سے ہدایات نہ لے ۔
اس سبق میں اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو اس بات سے ڈراتے ہیں کہ وہ غیر اللہ کی اتباع کرے ۔ اور یہ بتاتے ہیں کہ وہ کس طرح صحیح حالات پیدا کرسکتی ہے ۔ اور کس طرح اپنے آپ کو بچاسکتی ہے ۔ چناچہ پہلا حکم یہ دیا جاتا ہے کہ امت مسلمہ اہل کتاب کی پیروی اور اطاعت نہ کرے ‘ اگر وہ ایسا کرے گی تو اہل کتاب اسے کفر کی طرف لے جائیں گے اور اس کے سوا کوئی دوسری بات نہ ہوگی ۔
اہل کتاب کی اطاعت کرنا ‘ اور ان سے ہدایات اخذ کرنا ‘ ان کے اوضاع واطوار کا نقل کرنا ‘ اس بات کا ثبوت ہے کہ امت مسلمہ نے داخلی طور پر شکست قبول کرلی ہے اور اس نے اپنے اس مقام قیادت سے دست برداری کرلی ہے ۔ نیز اس سے اسلامی زندگی کی یہ صلاحیت بھی مشکوک ہوجاتی ہے کہ وہ ہمارے دور میں زندگی کی راہنمائی ‘ اس کی تنظیم ‘ اس کی ترقی اور نشوونما کی اہلیت رکھتا ہے ۔ اور یہ بات دراصل کفر ‘ خفی ہے جو نفس انسانی کے اندر سرایت کرجاتا ہے ۔ یہ کفر غیر شعوری ہوتا ہے اور انسان اس کا خطرہ بھی محسوس نہیں کرتا ۔ یہ اسلام کے نقطہ نظر سے بات تھی ‘ رہی یہ بات کہ اہل کتاب کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ تو وہ دنیا میں سب سے زیادہ جس امر کے حریص ہیں وہ یہ ہے کہ وہ امت مسلمہ کو اپنے عقیدے سے پھیر دیں ۔ اس لئے امت مسلمہ کے لئے یہ عقیدہ صخرہ نجات ہے ۔ وہ اس کے لئے ایک دفاعی لائن ہے اور اس کی قوت اور شوکت کا اصل منبع ہے ۔ اور اس امت کے دشمنوں کو اس راز کا بخوبی علم ہے ۔ اس سے قبل بھی انہیں اس کا علم تھا اور آج بھی انہیں اس کا علم ہے ۔ اور وہ اس امت کو اپنے عقائد ونظریات سے دور کرنے کے لئے ہر مکر اور ہر حیلہ کام میں لاتے ہیں ۔ وہ اس کام میں اپنی پوری توانائی اور اپنی پوری قوت صرف کرتے ہیں ۔ اور جب وہ اس امت کا مقابلہ علی الاعلان نہیں کرسکتے تو وہ اس کے خلاف خفیہ مکر و فریب کام میں لاتے ہیں اور جب یہ لوگ تنہا اس کام کو سرانجام دینے کے اہل نہیں رہتے تو پھر وہ اس کام میں منافقین سے امداد لیتے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اسلام کا اظہار کرتے ہیں لیکن وہ اپنی افواج منظم کرکے اسلامی قلعے کی دیواروں میں اندر سے نقب لگاتے ہیں اور لوگوں کو اسلام سے دور کرتے ہیں ۔ اور ان کی نظروں میں ان نظامہائے زندگی کو حسین بناتے ہیں جو اسلامی نظام کے خلاف ہیں ۔ ان کے لئے ایسے طریقے ایجاد کرتے ہیں جو اسلام کے خلاف ہیں اور اس امت پر ایسی قیادت مسلط کرتے ہیں جو اسلامی قیادت نہیں ہوتی۔
جب اہل کتاب دیکھتے ہیں کہ اہل اسلام میں سے انہیں ایسے افرادمل رہے ہیں جو ان کے تابع ‘ ان کے پیروکار اور ان کی بات پر اچھی طرح کان دھرنے والے ہیں تو وہ ان لوگوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں اور انہیں ان مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں جن کے حصول کے لئے ان کی نیندیں حرام ہیں تو وہ ان کو مقام قیادت دیں گے اور لوگوں کو ان کے پیچھے لگادیں گے تاکہ یہ ایجنٹ پوری امت کو کفر و ضلال کے راستے پر ڈال دیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ کن اور دوتوک بات آتی ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا فَرِيقًا مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ يَرُدُّوكُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ كَافِرِينَ
” اے ایمان لانے والو ! اگر تم نے ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیر لے جائیں گے۔ “
رسول اکرم ﷺ کے دور میں اہل اسلام اس امر سے زیادہ کسی اور چیز سے نہ گھبراتے تھے کہ وہ اسلام سے پلٹ کر پھر کفر کی طرف چلے جائیں ۔ اور جنت کے مستحق ہوکر پھر جہنم کی طرف چلے جائیں ۔ اور یہی صفت ہر سچے مومن کی ہوتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس صورت میں یہ ڈراوا ایسا تازیانہ ہے جس سے ضمیر گرم ہوگا۔ اس سے ڈرانے والے کی مشفق آواز سننے کے لئے سامع اچھی طرح آمادہ ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈراوا اور یاد دہانی کے مضامین مسلسل جاری ہیں ۔ کیا برامنکر حق ہے وہ شخص جو اہل ایمان کو ایمان لانے کے بعد بدراہ کرتا ہے ۔ ایسے حالات میں کہ ان پر آیات الٰہی مسلسل پڑھی جارہی ہیں اور رسول اللہ ان میں موجود ہیں اور وہ تمام محرکات موجود ہیں جو ایمان لانے کے باعث ہیں اور دعوت اسلامی مسلسل دی جارہی ہو اور کفر و ایمان کے دورا ہے پر نور ایمان چھایا ہوا ہے۔
آل عمران 3:101
ہاں ‘ ایسے حالات میں ‘ ایمان لانے کے بعد کسی مومن کا کافر ہوجانا بیشک ایک عظیم امر ہے ‘ اور جب رسول اللہ ﷺ نے اپنا وقت پورا کرلیا اور اپنے رفیق الاعلیٰ کے ساتھ جاملے تو اس صورت میں بھی آیات الٰہی موجود ہیں ۔ اور سنت رسول ﷺ باقی ہے ۔ آج ہم بھی ان آیات کے اسی طرح مخاطب ہیں جس طرح قرون اولیٰ کے لوگ مخاطب تھے ۔ اور آج بھی کامیابی کی راہ واضح ہے اور کامیابی کے جھنڈے بلند ہیں ۔ وَمَنْ يَعْتَصِمْ بِاللَّهِ فَقَدْ هُدِيَ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ……………” اور جو اللہ کا دامن مضبوطی سے تھامے گا وہ ضرور راہ راست پالے گا۔ “
ہاں ‘ اللہ کا دامن تھام لینے میں ہی نجات ہے۔ اللہ جل شانہٗ موجود ہیں ۔ وہ زندہ اور قیوم ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام پر ‘ اسلامی نظریہ حیات اسلامی عقائد اور اسلامی نظام زندگی کے سلسلے میں بہت زیادہ سختی فرماتے تھے ۔ جبکہ زندگی کے خالص عملی اور تجربی امور میں آپ انہیں کھلا چھوڑتے تھے ، یعنی ان امور میں جن میں حقیقت کا دارومدار تجربے پر موقوف ہوتا ہے مثلاً طریقہائے زراعت ، طریقہائے جنگ و قتال اور ایسے ہی دوسرے امور جن کا تعلق خالص علمی اور تجرباتی امور سے ہوتا ہے اور جس میدان میں اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ یا جن کا تعلق اسلامی نظام زندگی کے ساتھ نہیں ہوتا اور نہ ان کا تعلق ایک علیحدہ چیز ہے اور خالص علوم ‘ تجرباتی امور اور دوسرے انطباقی معاملات ایک دوسری چیز ہے ۔ اسلام کے نزول کا مقصد یہ ہے کہ انسانی زندگی کو اسلامی نظام کے مطابق چلایا جائے ۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے عقل انسانی کو ایسے کام میں لگایا اگر وہ علم معرفت کی قوت سے نئی نئی مادی ایجادات سامنے لائیں اور یہ کام اسلامی نظام زندگی کے دائرے کے اندر اندر کیا جائے ۔
امام احمد بن حنبل (رح) ایک حدیث نقل کرتے ہیں ۔ بروایت سفیان ‘ جابر ‘ شعبی عبداللہ بن ثابت رحمہم اللہ ۔ وہ فرماتے ہیں حضرت عمر ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فرمایا ! رسول اللہ ‘ میں نے بنی قریظہ میں سے اپنے ایک یہودی بھائی کو کہا اور اس نے مجھے تورات سے بعض جامع چیزیں لکھ دیں ‘ کیا میں وہ آپ کی خدمت میں پیش نہ کردوں ؟ فرماتے ہیں کہ یہ سنتے ہی رسول اللہ ﷺ کا چہرہ متغیر ہوگیا ۔ عبداللہ بن ثابت ؓ کہتے ہیں میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھ نہیں رہے کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر کیا آثار ہیں ؟ عمر نے کہا میں اس پر راضی ہوں کہ اللہ میرا رب ہے ‘ اسلام میرا دین ہے اور محمد میرے رسول ہیں ۔ کہتے ہیں کہ اس پر رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے آثار غضب کے آثار غائب ہوگئے اور آپ نے فرمایا ” خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اگر آج تم میں موسیٰ (علیہ السلام) آجائے اور تم اس کی اطاعت کرو مجھے چھوڑ دو تو یقینا ً تم گمراہ ہوجاؤگے ۔ تمام امتوں میں سے تم میرا حصہ ہو اور میں تمام نبیوں میں سے تمہارا حصہ ہوں۔ “
حافظ ابویعلیٰ نے حماد ‘ شعبی کی روایت سے حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اہل کتاب سے کوئی مسئلہ دریافت نہ کرو ‘ اس لئے کہ جب وہ خود گمراہ ہوگئے تو تمہیں کیسے ہدایت دے سکتے ہیں ۔ اگر تم نے ان سے کوئی بات دریافت کی ‘ تو پھر یا تو تم کسی غلط بات کی تصدیق کروگے اور یا پھر کسی صحیح بات کی تکذیب کروگے ۔ اور اللہ کی قسم آج اگر تمہارے درمیان موسیٰ (علیہ السلام) بھی ہوتے تو ان کے لئے میری اتباع کے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہوتا اور بعض روایات میں ہے ” اگر موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) زندہ ہوتے ‘ تو ان دونوں کے لئے میرے اتباع کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہ ہوتا۔ “
یہ لوگ ہیں اہل کتاب اور یہ ہیں رسول اللہ ﷺ کے احکام اس امر کے بارے میں کہ ان تمام امور میں جن کا تعلق عقائد ونظریات سے ہے یا جن کا تعلق نظام زندگی اور اسلامی قانون سے ہے ‘ ان میں اہل کتاب سے مکمل اجتناب کرنا ہے ۔ ہاں جن امور کا تعلق محض سائنسی علوم سے ہے تو ان میں اسلام کی روح اور اس کی واضح ہدایات کے مطابق تمام اقوام وملل سے استفادہ جائز ہے ‘ لیکن ان علوم کو بھی ایمانی نظام زندگی کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے ۔ اس شعور کے ساتھ کے کہ وہ ذات باری ہی ہے جس نے انسان کو اس فطرت کی تسخیر کی قوت دی ہے۔ اس نے فطرت کا رخ تبدیل کیا اور انسانیت کی بھلائی کے لئے اسے استعمال کیا اور انسانیت کے لئے امن و سکون اور سہولیات کا انتظام کیا ۔ لہٰذا وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ان کائناتی قوتوں کو مسخر کرنے کی طاقت ہمیں عنایت فرمائی اور شکر کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ہر معاملے میں اس کی بندگی کی جائے اور پھر اس علم ومعرفت اور تسخیر کائنات کو انسانیت کی بھلائی کے لئے استعمال کیا جائے۔
رہا ایمانی تصور حیات کا موضوع ‘ اس کائنات کی تخلیق کی بابت نظریات ‘ وجود انسانی کے مقاصد انسانی نظام زندگی اور اس کی تنظیمات اور قوانین ‘ انسان کا اخلاقی نظام اور اس کا طرز عمل تو ان تمام موضوعات میں کسی غیر اسلامی منبع فکر سے کوئی بات اخذ کرنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ‘ جس کی وجہ سے رسول اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک متغیر ہوا تھا ۔ حالانکہ وہ معمولی بات تھی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو اس سے بڑی سختی سے ڈرایا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو یہ واضح کفر کا ارتکاب ہوگا۔
یہ ہے اللہ کی ہدایت اور یہ ہے اسوہ رسول اللہ ﷺ ۔ رہے ہم لوگ جو دعوائے اسلام کرتے چلے جارہے ہیں تو ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اپنے علم کے اصول یعنی قرآن و حدیث کی تعلیم بھی مستشرقین سے حاصل کرتے ہیں یا مستشرقین کے شاگردوں سے حاصل کرتے ہیں اور ذرا غور کیجئے کہ ہم اپنے لئے فلسفہ حیات اور وجود انسانی اور حیات انسانی کے آغاز کے نظریات بھی ان لوگوں سے اخذ کرتے ہیں یا پھر یونانی ‘ رومی اور یورپین اور ماری کی فلاسفہ سے یہ نظریات اخذ کرتے ہیں اور پھر ذرا ملاحظہ کیجئے کہ ہم اپنا نظام حیات ‘ اپنے ضوابط اور قوانین بھی ان جعلی مصادر سے اخذ کرتے ہیں ۔ ہم اپنا طرز عمل ‘ اپنے اخلاق اور اپنے آداب بھی اس گندے تالاب سے اخذ کرتے ہیں جو نہایت ہی گندہ ہے اور جس میں جدید مادی تہذیب کی گند جمع ہوچکی ہے ‘ جوہر قسم کے دینی تصورات سے عاری ہے ۔ چاہے وہ اسلام کے سوا کوئی اور دین ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے باوجود ہم اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ۔ یہ ایک ایسا زعم ہے جس کا گناہ کفر صریح کے گناہ سے زیادہ ہے ۔ اس لئے کہ ایسا زعم باطل رکھ کر گویا ہم یہ اقرار کرتے ہیں کہ آج کے دور میں اسلامی نظام زندگی کامیاب نہیں ہے یا اگر کامیاب ہے تو گویا ہم نے اسلام کی شکل مسخ کرکے موجودہ طرز عمل کو اسلام سمجھ رکھا ہے ۔ اور ہم ان امور کی گواہی دے رہے ہیں جبکہ وہ لوگ جو اس زعم میں مبتلا نہیں ہیں وہ دراصل ایسی شہادت نہیں دے رہے ۔
حقیقت یہ ہے اور اسے گرہ میں باندھنا چاہئے کہ اسلام ایک ضابطہ حیات ہے ۔ وہ چند ممتاز خوصیات کا حامل نظام ہے ۔ اعتقادی تصورات کے اعتبار سے بھی نظام زندگی اور نظام قانون کے اعتبار سے بھی اور اپنے اخلاقی قواعد و اصول کے اعتبار سے بھی ‘ جس پر ہمارے اجتماعی روابط قائم ہوتے ہیں اور یہ دین انہیں ترک نہیں کرنا چاہئے ۔ یہ روابط سیاسی ہوں ‘ اقتصادی ہوں یا اجتماعی ہوں ۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ نظام پوری انسانیت کی قیادت کے منصب کا بھی مدعی ہے ۔ لہٰذا اس کا ضروری منطقی اور لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس کرہ ارض پر ایک ایسی انقلابی جماعت ہو ‘ جو اس نظام کے جھنڈے اٹھائے اور انسانیت کی راہنمائی کرے ۔ اور جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا اسلامی نظام کے اس قائدانہ دعویٰ کے مزاج کے ساتھ یہ امر مطابقت نہیں رکھتا کہ مسلمان دوسری ملل سے کوئی استفادہ کریں یا ان سے ہدایات لیں ۔
پھر یہ حقیقت بھی بروقت نظروں کے سامنے رہے کہ جب یہ دین آیا تھا تو یہ پوری انسانیت کی بھلائی کے لئے آیا تھا۔ اور آج جو لوگ اس نظام کی حکمرانی کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ بھی پوری انسانیت کی بھلائی کے لئے دے رہے ہیں ۔ کل بھی جو شخص اس دعوت کا حامل ہو وہ بھی اسی مقصد کے لئے ہوگا۔ بلکہ انسانیت جن ظالمانہ نظامہائے زندگی کے نیچے پس رہی ہے ‘ اور جسے ہم چشم سر سے دیکھ رہے ہیں اسے اسلام کے عادلانہ زندگی کی اشد ضرورت ہے۔ اس الٰہی نظام زندگی کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے جس پر انسانیت کو نجات ملے ۔ لہٰذا اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اسلامی نظام زندگی اپنی تمام خصوصیات کو محفوظ اور زندہ رکھے ۔ اور پوری انسانیت کے اندر قائدانہ مقام حاصل کرے اور اسے ایک بار پھر اس دنیا میں مصائب اور مشکلات سے نجات دے ۔
اس وقت انسانیت نے تسخیر کائنات کے سلسلے میں جو جدوجہد کی ہے اور مختلف میدانوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ اور طب اور صنعت کے میدان میں جو حقائق فراہم کئے ہیں وہ ماضی کے مقابلے میں معجزانہ ہیں اور انسانیت ان میدانوں میں مسلسل پیش قدمی کررہی ہے۔ اور نئی نئی فتوحات حاصل کررہی ہے لیکن ان سب فتوحات کا اس کی زندگی پر کیا اثر ہے ؟ اس کی نفیساتی دنیا کا حال کیا ہے ؟ کیا اس میدان میں بھی وہ خوشحال ہے ؟ کیا اسے اطمینان قلب حاصل ہے ؟ کیا اس کی زندگی پر امن ہے ؟ ہرگز نہیں ۔ وہ اس وقت ہمہ گیر بدبختی ‘ بےچینی اور خوف کا شکار ہے ۔ وہ اعصابی اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہے ۔ وہ بےراہ روی اور جرائم کی وسیع دلدل میں پھنسی ہوئی ہے ۔ لیکن اس نے انسانیت ‘ حیات انسانی کے مقصد وجود اور انسان کے مقصد تخلیق کے میدان میں کوئی ترقی نہیں کی۔ اس لئے آج جب ہم جدید تہذیب کے فرزند کی ذہنی دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں اور معلوم کرتے ہیں کہ اس کے نزدیک تخلیق انسان کا مقصد کیا ہے تو وہ اسلامی تصور حیات کے مقابلے میں اس میدان میں بالکل مفلس اور پسماندہ اور بونا نظر آتا ہے ۔ بلکہ اس میدان میں یوں نظر آتا ہے کہ اسے ایک لعنت گھیرے ہوئے ہے ‘ جس میں انسان خود اپنی ذات ‘ اس کائنات میں اپنے مقام کو گراتا چلا جاتا ہے ۔ اور اس گراوٹ کے نتیجے میں انسان کی ترجیحات اور اس کی دلچسپیاں بھی گرجاتی ہیں ………یوں انسان اپنی زندگی میں ایک خلاء محسوس کرتا ہے اور یہ خلاء اس تھکے ہوئے انسان کے دل کو کھا جاتا ہے ۔ حیرانی و پریشانی میں اس کی روح ہلاک ہورہی ہے ۔ یہ محض اس لئے کہ اس کی روح میں تصور الٰہ نہیں ہے اور تصور الٰہ سے شدید معاشی حالات نے اسے دور کردیا ہے ۔ اور غلط علمی تصورات نے اسے گمراہ کردیا ہے ۔ یہی علم اگر اسلامی نظام حیات کے رنگ میں ترقی کرتا ‘ تو اس کی ہر کامرانی انسان کو قدر کے قریب تر کردیتی ‘ لیکن جدید انسانیت کا حال یہ ہے کہ وہ جس قدر علمی میدان میں آگے بڑھتی ہے ‘ وہ اپنی بجھی ہوئی اور شکست خوردہ روح کی وجہ معرفت خدا سے اور دور ہوتی جاتی ہے ۔ وہ اس نور سے محروم ہے جس میں اسے اپنا حقیقی مقصدوجود نظر آئے ‘ اور وہ اس مقصد کی طرف اپنی علمی قوت کے ساتھ آگے بڑھے ‘ جو اسے خود اللہ نے عطا فرمایا ہے ۔ اور جس استعداد کی وجہ سے وہ یہ علمی ترقی کررہا ہے وہ بھی اسے اللہ کی عطاکردہ ہی تو ہے ۔ چناچہ انسانیت اس نظام حیات کو نہیں پا رہی ہے جو اس کی حرکت اور اس کائنات کی حرکت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے ‘ اس کی فطرت اور اس کائنات کی فطرت کے درمیان تطابق پیدا کرے ‘ اس کے قوانین اور قوانین قدرت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے ‘ ایسانظام جو اس کی قوتوں اور صلاحیتوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرے ‘ جو اس کی دنیا اور آخرت کے درمیان جوڑ پیدا کرے ‘ جو ایک فرد اور ایک جماعت کے حقوق کے اندر ‘ توازن پیدا کرے ‘ جو اس کے فرائض اور واجبات کے درمیان عدل پیدا کرے اور یہ سب کام نہایت ہی ترتیب کے ساتھ قدرتی طور پر ‘ جامعیت کے ساتھ خوشگوار انداز میں سر انجام پائیں۔
ہمارے دور میں بعض لوگ اسلامی نظام زندگی سے محروم ہوکر کام کرتے ہیں اور جو لوگ اس دور میں اسلامی نظام زندگی کی بات کرتے ہیں اور پرامید نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہیں ‘ انہیں یہ لوگ رجعت پسندی کا طعنہ دیتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات کی بات کرنے والے دراصل تاریخ اسلامی کے گزشتہ ایک مختصر سنہری دور کی محض آرزو اپنے دلوں کے اندر بسائے ہوئے ہیں ‘ لیکن وہ اسلامی نظام کے حوالے سے ‘ اپنی جہالت کی وجہ سے یا اپنی بدنیتی کی وجہ سے انسانیت کو اسلامی نظام زندگی کی قیادت سے محروم کئے ہوئے ہیں جو ان کی راہنمائی بڑی خوبی ‘ امن وسلامتی اور سکون و اطمینان کی طرف کرسکتا ہے ۔ جو ان کی راہنمائی دنیاوی ترقی اور خوشحالی کی طرف کرسکتا ہے۔
ہم جو اسلامی نظام زندگی کی طرف دعوت دیتے ہیں اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم کس چیز کی طرف انسانیت کو بلا رہے ہیں ۔ ہم اس انسانیت کو اس کی حقیقی تلخیوں میں دیکھ رہے ہیں ۔ ہم اس گندے تالاب کا متعفن رائحہ محسوس کررہے ہیں ‘ جس میں انسانیت لت پت ہے لیکن دور بلند افق پر نجات کے جھنڈے لہرا رہے ہیں جو صحراء کی تپش کی جھلسنے والی تھکی ماندی انسانیت کو نجات کی چمک دکھا رہے ہیں اور یہ پاک وصاف اور روشن چوٹی ‘ اس گندے تالاب میں انسانیت کو اپنی طرف بلارہی ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر انسانیت کے قائدین نے اس نظام زندگی کو قبول نہ کیا تو انسانیت پوری انسانی تاریخ میں توہین آمیز مصیبت کا شکار ہوگی اور یہ پوری انسانی تاریخ میں بدترین مصیبت ہوگی اور ہر مفہوم کے اعتبار سے بدی ہوگی ۔
اس راہ میں پہلا اقدام یہ ہونا چاہئے کہ یہ نظام زندگی ممتاز اور منفرد ہو اور اس کے حاملین ‘ اس کے ارد گرد پھیلی جاہلیت سے کوئی راہنمائی حاصل نہ کریں اور یہ نظام مسلسل پاک اور صاف موجود رہے ۔ یہاں تک کہ اللہ کے اذن سے دوبارہ پوریہ انسانیت کی قیادت سنبھالے ۔ اللہ بڑا رحیم وکریم ہے اور وہ انسانوں کو ہمیشہ کے لئے انسان کے دشمنوں کے لئے رحم وکرم پر نہ چھوڑے گا ‘ جو جگہ جگہ انسانیت کو جاہلیت کی طرف بلاتے ہیں ۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کی تلقین اللہ تعالیٰ ‘ پہلی جماعت مسلمہ کو اپنی کتاب میں کررہے ہیں اور رسول اکرم ﷺ نے بھی اپنی تعلیمات میں اس نکتے کی بار بار تلقین فرمائی ۔
اس تنبیہ اور خبرداری کے بعد کہ اہل کتاب سے کوئی ہدایت اخذ نہ کی جائے ‘ ان کی اطاعت اور اتباع نہ کیا جائے ‘ اب جماعت مسلمہ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ اس کی زندگی اور اس کی زندگی کا نظام حیات دواساسی قواعد پر مبنی ہے ۔ یہ ایسے قواعد ہیں جن کو مد نظر رکھنا اس کے لئے اس بار امانت کی اٹھانے کے لئے ضروری ہے ‘ جس کی ذمہ داری اللہ نے اس کے سپرد کی ہے اور جس کی خاطر اللہ تعالیٰ اس امت کو وجود میں لایا ہے ۔ یہ دونوں اساسی قواعد ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں یعنی اخوت اور ایمان ۔ یعنی اللہ پر ایمان لانا ‘ اس سے ڈرنا اور تمام امور حیات میں ہر وقت اور ہر لحظہ اسے یاد رکھنا ۔ اور ان تمام لوگوں کے ساتھ اخوت رکھنا جو اس مفہوم میں مومن باللہ ہوں ۔ وہ اخوت جس کی وجہ سے جماعت مسلمہ زندہ ‘ قوی اور مستحکم بنیاد بن جاتی ہے اور یوں وہ اس عظیم کردار کے ادا کرنے کے قابل ہوجاتی ہے جو اسے انسانی زندگی اور انسانی تاریخ میں ادا کرنا ہے یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اور اس دنیا کے نظام حیات کو معروف پر قائم کرنا اور منکر کی آلودگی سے اسے پاک کرنا ۔ فرماتے ہیں :
آل عمران 3:102
یہ دومرکزی ستون ہیں جن پر جماعت مسلمہ کا ڈھانچہ قائم ہے ۔ اور ان دونوں کے ساتھ وہ اپنا گراں اور عظیم رول ادا کررہی ہے ۔ اگر ان دونوں میں ایک پلر (Pillar) بھی گرجائے تو جماعت مسلمہ کا ڈھانچہ گرجائے گا اور اس کے بعد اس جہاں میں اس کا کوئی کردار نہ رہے گا۔
پہلا ستون ایمان اور تقویٰ کا ستون ہے ۔ وہ تقویٰ اور خدا خوفی جو اللہ جل شانہ ‘ کے حقوق کی ادائیگی کا موجب بنے ۔ دائمی اور بیدار خدا خوفی ‘ جس میں کوئی غفلت نہ ہو ‘ جس میں کوئی وقفہ نہ ہو اور وہ پوری عمر میں تسلسل کے ساتھ قائم رہے ۔ یہاں تک کہ انسان پر موت آجائے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ……………” اے ایمان لانے والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ “ اللہ سے ڈرو ‘ جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ اس خدا خوفی کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ‘ یہ ڈرنے والے دل کا کام ہے کہ وہ خدا خوفی میں کس مقام تک جاپہنچتا ہے ‘ جس قدر وہ تصور کرسکتا ہے ۔ جس قدر اس کی طاقت ہو ۔ قلب مومن اس میدان میں جس قدر آگے بڑھے گا ‘ اس کے سامنے نئے نئے آفاق کھلیں گے اور اس کا را ہوار شوق اور مہمیز پائے گا ۔ اور وہ اپنی خدا خوفی سے جس قدر بھی اللہ کا قرب حاصل کر گا ‘ تو اس کا شوق اس سے بھی اونچے مقام کی طرف متوجہ ہوگا۔ اور جس مقام پر وہ ہوگا اس سے اونچے مقامات کا طالب ہوجائے گا اور آخر کار وہ ایسے مقام تک پہنچ جاتا ہے جس میں اس کا دل مدام بیدار ہوجاتا ہے اور پھر وہ کبھی نہیں سوتا۔
وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ……………” تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔ “ موت ایک ایسی خفیہ اور غائبانہ گھڑی ہے جس کا علم انسان سے مخفی رکھا گیا ہے ۔ پس جو شخص یہ ارادہ کرلے کہ وہ صرف اس حال میں مرنا چاہتا ہے کہ وہ صحیح مسلم ہو ‘ تو اس کی طرف ایک ہی سبیل ہے کہ وہ فوراً مسلم بن جائے ۔ اور ہر لحظہ وہ مسلم رہے۔ تقویٰ اور خدا خوفی کے بعد اسلام کے ذکر سے ایک وسیع حکمت اور مفہوم کی طرف اشارہ مطلوب ہے۔ یعنی مکمل طور پر سرتسلیم خم کرنا ۔ مکمل انقیاد صرف اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ۔ اس کی اطاعت کرنا ‘ اس کے نظام زندگی کی پیروی کرنا ۔ اس کی کتاب کے مطابق فیصلے کرنا ۔ اور یہ وہ مفہوم ہے جسے اس سورت میں باربار دہرایا گیا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر کہا ہے ۔ یہ تو ہے وہ پہلا ستون جس پر جماعت مسلمہ قائم ہے تاکہ وہ اپنے وجود کو ثابت کرے ‘ اور اس کائنات میں جو اہم رول اسے سپرد کیا گیا ہے اسے ادا کرے ۔ اس لئے کہ اس ستون اور اس کی اساس کے بغیر انسانوں کا ہر اکٹھ جاہلی اکٹھ تصور ہوگا ۔ اس صورت میں پھر وہ اکٹھ اسلامی منہاج پر اکٹھ نہ ہوگا ‘ جسے امت مسلمہ کا اجتماع کہا جاسکے ۔ پس جاہلیت پر مبنی سوسائٹیاں ہوں گی جن میں ہدایت یافتہ قیادت نہ ہوگی ‘ جو صحیح معنوں میں انسانیت کی راہبر ہو ‘ بلکہ جاہلی قیادتیں اٹھیں گی۔
آل عمران 3:103
دوسری اساس جس پر اسلامی سوسائٹی کی عمارت اٹھتی ہے وہ اخوت اسلامی کی اساس ہے ۔ صرف اللہ کے نام پر برادری ‘ اسلامی نظام زندگی کی رفاقت ‘ اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے جدوجہد کرنے کی رفاقت ۔
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ
” سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو ‘ اور تفرقہ میں نہ پڑو ‘ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ‘ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ‘ اس نے تمہارے دل جوڑ دیئے اور اس کے فضل وکرم سے تم بھائی بھائی بن گئے ۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے ‘ اللہ نے تم کو بچالیا ۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ تم ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا رستہ نظر آجائے ۔ “
یہ اخوت گویا خدا خوفی اور ایمان سے پھوٹتی ہے ‘ یعنی اسلام کی اساس اول ہے ۔ اور اخوت کی بنیاد اللہ کی رسی ہے ۔ یعنی اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی اساس پر ‘ اس کے دین کی اساس پر اور اس کے منہاج کی اساس پر ۔ اس اخوت کی اساس جاہلیت کی اکٹھ کی اساس پر نہیں ہے ‘ نہ جاہلیت کے کسی دوسرے مقصد کی اساس پر ہے ‘ نہ کسی اور رسی پر جو اللہ کی رسی کے علاوہ ہو۔ صرف اللہ کی رسی پر َاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلا تَفَرَّقُوا……………” سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ “
یہ اخوت جس کی اساس اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے پر ہے ‘ اللہ تعالیٰ پہلی جماعت اسلامی پر اپنا احسان عظیم بتاتے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ یہ وہ نعمت ہے ‘ جس سے اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کو سرفراز فرماتے ہیں جن سے اللہ کو محبت ہوتی ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ انہیں اپنے اس انعام کو یاد دلاتے ہیں ۔ فرماتے ہیں ذرا اس حالت کو ذہن میں لائیں جس پر وہ جاہلیت کے دور میں تھے ۔ یعنی وہ ” اعداء “ تھے۔ ایک ایک کا دشمن تھا ۔ دیکھو مدینہ میں اوس اور خزرج کی طرح دشمنی کا نمونہ اور کوئی پیش کرسکتا ہے ۔ یہ یثرب کے دوقبیلے تھے ‘ یہ قبیلے یہودیوں کے پڑوس میں رہتے تھے اور یہ یہودی ان کے درمیان عداوت کی آگ سلگائے رکھتے تھے ‘ وہ ہر وقت پھونکیں مارتے تھے ‘ اور اس آگ کو اس قدر تازہ رکھتے کہ وہ ان کے درمیان ہر قسم کے تعلقات کو جلاکر بھسم کردیتی ۔ یہودیوں کے لئے یہ ایک اچھا میدان کار تھا ۔ اور وہ اسی میں رات اور دن کام کرتے رہے تھے ۔ اور اسی کے ساتھ زندہ رہتے تھے ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان دو عربی قبیلوں کی تالیف قلب کا سامان کردیا اور یہ اسلام تھا ‘ یہ صرف اسلام ہی تھا جس نے ان نفرت کرنے والے قبائل کے دلوں کو جوڑا۔ اور یہ صرف اللہ کی رسی ہی تھی جسے سب نے مضبوطی سے پکڑرکھا تھا اور وہ اللہ کے اس احسان کی وجہ سے بھائی بھائی بن گئے تھے ۔ یہ صرف اسلامی اخوت ہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں اتحاد پیدا ہوسکتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے اپنی تاریخی دشمنیاں بھول سکتے ہیں ‘ یا اپنے قبائلی انتقام معاف کرسکتے ہیں ‘ یا لوگ اپنے ذاتی مفادات اور فرقہ وارانہ روایات کو ترک کرسکتے ہیں اور پھر تمام لوگ اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر کے سامنے ایک ہی صف میں کھڑے ہوجاتے ہیں ۔
وَاذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا
” اور تم ایک دوسرے کے دشمن تھے ‘ اس نے تمہارے دل جوڑ دئیے اور اس کے فضل وکرم سے تم بھائی بھائی بن گئے ۔ “
پھر اللہ تعالیٰ انہیں اپنا وہ احسان جتلاتے ہیں کہ وہ آگ سے بھرے ہوئے گڑھے کے کنارے پر تھے اور قریب تھا کہ وہ اس میں گرجائیں لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے بچالیا۔ اور وہ اس سے اس طرح بچے کہ انہوں نے اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلیا اور ایمان لے آئے ۔ یہ تھی اسلام کی پہلی اساس ۔ اور پھر ان کے دلوں میں محبت ڈال دی اور وہ بھائی بھائی بن گئے اور یہ محبت اور رفاقت اسلام کے اجتماعی نظام کی دوسری اساس تھی ۔ اس لئے فرمایا وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا……………” اور تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے تھے ‘ اس نے تم کو اس سے بچالیا۔ “
آیت میں ” تمہارے دل جوڑ دیئے “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ دل کا لفظ اس لئے استعمال ہوا ہے کہ باہم انسانی رابطے اور شعور دلوں کی ایک گٹھڑی میں باہم ملاکر ‘ جوڑ دیا گیا ‘ اور وہ اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد اور میثاق کی رسی کے ساتھ باندھ دیا گیا ۔ اس طرح اس آیت میں مسلمانوں کی اس وقت کی تصویر کو جامہ الفاظ پہنایا گیا ہے بلکہ ان کی صورتحال ایک زندہ اور متحرک منظر میں نظر آرہی ہے کہ وہ وَكُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ……………” اور تم آگے سے بھرے ہوئے گڑھے کے کنارے پر تھے ۔ “ اور صورت حال یوں تھی کہ تم گرنے ہی والے تھے اچانک اللہ کے دست قدرت نے تمہیں بچالیا ۔ گویا اللہ کا ہاتھ محسوس اور شاہد ہے ۔ اللہ کی رسی محسوس طور پر نظر آتی ہے ۔ اور انتہائی خطرے کی صورت حال سے قوم بال بال بچ جاتی ہے ۔ یہ ایک زندہ ‘ متحرک نظارہ ہے ۔ اس منظر کو دیکھنے والوں کے دل دھڑک رہے ہیں اور خطرہ سامنے موجود ہے ۔ صدیوں اور نسلوں کے بعد گویا آنکھیں دیکھ رہی ہیں ۔
محمد بن اسحاق نے اپنی سیرت میں اس کا تذکرہ کیا ہے کہ یہ آیت اوس اور خزرج کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ہوا یوں کہ ایک یہودی ایک ایسی محفل کے پاس سے گزرا جس میں اوس اور خرزج کے لوگ بھائیوں کی طرح بیٹھے ہوئے تھے ‘ اسے یہ بات بہت ہی شاق گزری ۔ اس پر اس نے ایک شخص بھیجا اور اسے کہا کہ جنگ بعاث میں ان کے درمیان جو واقعات ہوئے تھے ذرا اس محفل میں ان کا تذکرہ کرے اور یہ شخص اور ان کی محفلوں میں ان واقعات کا اپنے انداز میں تذکرہ کرتارہا ۔ اس طرح لوگ ایک دوسرے کے خلاف گرم ہوگئے ۔ ایک دوسرے کو غضبناک نظروں سے دیکھنے لگے ۔ ایک دوسرے کے اندر انہوں نے جذبہ انتقام بھڑکایا ۔ اپنے اپنے جھنڈے اٹھالئے ‘ اسلحہ طلب ہوگیا اور مقام ” حرہ “ دوبارہ جنگ کے لئے تقریباً طے ہوگیا ۔ اس بات کی اطلاع رسول ﷺ ہو ہوگئی ۔ رسول ﷺ ان کے پاس آئے ‘ انہیں ٹھنڈا کیا اور فرمایا :” کیا تم دوبارہ جاہلیت کی طرف دعوت دیتے ہو اور میں تمہارے درمیان ہوں۔ “ اس کے بعد آپ نے ان پر اس آیت کی تلاوت فرمائی ۔ اس پر انہیں سخت ندامت ہوئی ۔ فوراً ان کے درمیان صلح ہوگئی ۔ انہوں نے باہم معانقہ کیا اور اسلحے پھینک دئیے ‘ اللہ ان سے راضی ہو۔
جب اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے حقیقت واضح فرمائی تو وہ راہ ہدایت پر آگئے ۔ اور ان کے بارے میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بات سچی ہوگئی ۔ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ……………” اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تم پر روشن کرتا ہے تاکہ ان نشانیوں میں سے تمہاری فلاح کا سیدھا راستہ نظرآئے ۔ “
مسلمان ایک دو سے سے محبت کرتے تھے ‘ اللہ کے نظام پر قائم تھے اور تمام انسانیت کی قیادت کرنے کی راہ پر گامزن تھے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے اور یہودی یہ سعی کررہے تھے کہ اس رسی کو کاٹ دیں ۔ یہودیوں کی ان مسلسل سازشوں کا یہ ایک نمونہ ہے ‘ جو وہ مسلسل جماعت مسلمہ کے خلاف کرتے رہے رہتے ہیں ۔ اور یہ سازشیں وہ ہمیشہ اس وقت کرنے لگتے ہیں جب مسلمان اللہ کی رسی کو پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسلامی نظام زندگی کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور ان کی یہ کوششیں کامیاب ہی اس لئے ہوتی ہیں کہ مسلمان اہل کتاب کی پیروی شروع کردیتے ہیں اور ان کی یہ ریشہ دوانیاں اس قدر گہری چال پر مبنی ہوتی ہیں کہ قریب تھا کہ وہ دور اول کے مسلمانوں کو بھی باہم دست گریباں کردیں اور انہیں اسلام سے پھیر کر دوبارہ کفر کے حالات میں داخل کردیں۔ اور ان کے درمیان رابطہ پیدا کرنے والی اللہ کی مضبوط رسی کو کاٹ دیں ‘ جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے بھائی ہوگئے تھے اور متفق اور مجتمع ہوگئے تھے ۔ آیت کا یہ ٹکڑا اس آیت اور اس سے قبل کی آیات کے درمیان ربط کو بھی ظاہر کرتا ہے ۔
یہاں یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہ ہو یا نہ ہو ‘ آیت بہرحال اس واقعہ کے مقابلہ میں ایک عام صورت حال کو بیان کررہی ہے ۔ کیونکہ اس کے سیاق اور سباق یہ بتا رہے ہیں کہ اس وقت یہودیوں کی طرف سے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ لڑانے اور ان کے اندر تفریق پیدا کرنے میں ایک زبردست تحریک مسلسل چل رہی تھی ۔ وہ اپنے تمام وسائل کو کام میں لاکر اسلامی صفوں میں فتنہ انگیزیاں اور تفرقہ برپا کرنے کی کوشش میں ہر وقت لگے رہتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم مسلمانوں کو بار بار تنبیہ کرتا ہے کہ یہودیوں اور اہل کتاب کی سازشوں کے مقابلے میں ہوشیار رہیں ‘ وہ ان کے درمیان شکوک و شبہات اور نفاق کے بیج بو رہے ہیں اور ان کے اندر فکری انتشار کے لئے ہر وقت کوشاں ہیں ۔ ہر دور میں یہودیوں کا مسلمانوں کے حوالے سے یہی طرزعمل ہے ۔ آج بھی وہ یہی کچھ کررہے ہیں اور کل بھی ان کا رویہ یہی ہوگا ‘ ہر اسلامی سوسائٹی اور ہر زمانے میں ۔
آل عمران 3:104
سوال یہ ہے کہ ان یہودی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان دوآسامیوں (Bases) پر استوار ہوکر پھر امت مسلمہ کا منشور اور ہدف کیا ہے ؟ اس کا فریضہ ‘ فریضہ اقامت دین ہے ۔ اس کرہ ارض پر اسلامی نظام زندگی کا قیام ہے ۔ حق کو باطل پر غالب کرنا ہے ‘ معروف کو منکر پر غالب کرنا ہے ‘ خیر کو پھیلانا ہے اور شر کو روکنا ہے ۔ یہ ہے وہ نصب العین جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ہاتھوں سے ‘ اپنی نظروں کے سامنے ‘ اپنے خاص منہاج کے مطابق اس امت کو برپا کیا ہے ۔ اس نصب العین کا تعین ان الفاظ میں کیا جاتا ہے۔
وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
” تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرور رہنے چاہئیں جو نیکی کی طرف بلائیں ‘ بھلائی کا حکم دیں ‘ اور برائیوں سے روکیں اور جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے ۔ “ بس یہ ضروری ہوا کہ ایسی جماعت ہر وقت موجود ہو جو بھلائی کی طرف دعوت دے ‘ معروف کا حکم دے اور منکر سے منع کرے ۔ ان کے اندر ایک ایسا اقتدار ‘ ایک ایسی قوت ضرور ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے ۔ یہ بات کہ ایک ایسا اقتدار یا ایسا مقتدر اعلیٰ ضروری ہے جو یہ کام کرے ‘ اس پر یہ آیت بصراحت دلالت کرتی ہے ۔ یعنی دعوت الی الخیر ہر وقت ہو اور یہ بات ہر کوئی کرسکتا ہے ‘ لیکن یہاں تو ساتھ ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے الفاظ بھی وارد ہیں ۔ اگر دعوت اسلامی بغیر اقتدار اعلیٰ کے ممکن العمل بھی ہے تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بغیر اقتدار اعلیٰ کے حصول کے ممکن نہیں ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے صحیح اسلامی تصور حیات یہی ہے کہ ایسا قتدار اعلیٰ ضروری ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے ۔ یہ اقتدار اعلیٰ دعوت الی الخیر کے نصب العین پر قائم ہوگا ۔ اور اس کا مقصد دفعیہ شر ہوگا ۔ یہ اقتدار اعلیٰ ایسا ہوگا جو مکمل اتحاد واتفاق کے نتیجے میں حاصل ہوگا ‘ یہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کے نتیجے میں اور اخوت اسلامی کے قیام کے بعد ہوگا ۔ یعنی یہ اقتدار اعلیٰ ‘ یا مملکت یا سلطنت ان دوبنیادوں پر قائم ہوگی یعنی اتحاد اور اخوت اور اس کا نصب العین انسانی زندگی میں اسلامی نظام حیات کا قیام ہوگا۔ اور اس اقتدار اعلیٰ کا قیام اس طرح ہوگا کہ اس نظام کی طرف جو خیر ہی خیر ہے ‘ عام لوگوں کو دعوت دی جائے گی ۔ لوگوں کو اس سے متعارف کرایا جائے گا کہ اس کی نظام کی حقیقت کیا ہے ۔ انہیں یہ بتایا جائے گا کہ اسلامی نظام اقتدار اعلیٰ کا خواہاں ہے تاکہ وہ معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے ۔ اور لوگ اس کی اطاعت کریں یا وہ اپنی اطاعت کروائے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَمَا اَرسَلنَا مِن رَّسُولٍ اِلّا لِیُطَاعَ بِاِذنِ اللّٰہِ……………” ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ‘ وہ صرف اس لئے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔ “ اس لئے یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کرہ ارض پر اسلامی نظام زندگی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ صرف وعظ و ارشاد اور تبلیغ بیان جاری ہو ۔ یہ تو اسلامی نظام کا ایک حصہ اور جزء ہے ۔ اس کا دوسرا اہم جزء یہ ہے کہ ایک ایسا اقتدار اعلیٰ قائم کیا جائے جو امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو ادا کرے ۔ اور انسانی زندگی میں معروف کو رائج کرے ۔ اور منکر کا قلع قمع کرے ۔ اور اس ” جماعت ممتازہ “ کو بھی بچائے رکھے کہ ہر کس وناکس اس امت کو اپنی خواہشات ‘ اپنی مرغوبات اور شہوات کے بھینٹ نہ چڑھاسکے ۔ اور اسے اپنی ذاتی مصلحتوں کی خاطر استعمال نہ کرسکے ۔ اور معاشرہ کے اندر نیکی اور بھلائی پر مبنی اخلاق کو کوئی اپنی خاص رائے اور اپنے مخصوص تصورات کے تحت تباہ نہ کرسکے ‘ اگرچہ وہ سمجھتا ہو کہ وہ جو کچھ کررہا ہے وہ معروف اور درست ہے۔
یہی وجہ ہے دعوت الی الخیر ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ کوئی آسان اور سہل کام نہیں ہے ۔ خصوصاً جب اس کے مزاج پر غور کریں اور دیکھیں کہ وہ لوگوں کی خواہشات اور میلانات کے ساتھ متصادم ہے ۔ وہ بعض لوگوں کی ذاتی مصلحتوں اور مفادات کے ساتھ ٹکراتا ہے ‘ بعض لوگوں کے غرور اور کبریائی پر اس کی زد پڑتی ہے ‘ بعض غاصب جابروں اور زبردستی مسلط ہونے والے حکام بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں ‘ بعض گرے ہوئے طبقات جن میں ترقی اور بلندی کا داعیہ ہی نہیں ہے ‘ وہ اسے مصیبت سمجھتے ہیں ‘ بعض اس قدر کامل ہوں کہ اس کی مشقتیں برداشت کرنے کی ہمت نہ رکھتے ہوں ‘ بعض ظالم طبقات ہوں جس کے ساتھ عدل لگانہ کھاتا ہو۔ بعض ایسے گم کردہ راہ اور کجرو ہوں کہ انہیں صراط مستقیم اچھا ہی نہ لگتا ہو ‘ اور ان میں سے بعض ایسے بھی موجود ہوں جو منکر کو پسند کرتے ہوں اور معروف کے دشمن ہوں……حالانکہ انسانیت اور امت مسلمہ صرف اس وقت فلاح پاسکتی ہے کہ اس میں خیر غالب ہو ‘ معروف ہو معروف سمجھا جاتا ہو ‘ منکر کو منکر سمجھا جاتا ہو ‘ اور ان تمام امور کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا اقتدار اعلیٰ ہو جس میں خیر غالب ہو اور وہ نہی عن المنکر اور امر بالمعروف کا فریضہ ادا کرتاہو ۔ اور پھر اپنے اوامر اور نواہی کو منوانے کی قوت بھی رکھتا ہو۔
لہٰذا ایک ایسی جماعت کا قیام ازحد ضروری ہے جس کی بنیاد پر ان دو ستونوں پر ہو ‘ اللہ پر ایمان اور اخوت اسلامی تاکہ وہ اپنی قوت ایمانی ‘ قوت خدا خوفی اور باہم الفت اور محبت اور اتفاق و اتحاد کی قوت کے بل بوتے پر وہ فریضہ ادا کرسکے جس کے لئے اسے اٹھایا گیا ہو ‘ اس لئے کہ جماعت مسلمہ کو جو نصب العین دیا گیا ہے اور جو فریضہ اس پر عائد کیا گیا ہے کہ وہ ان دوخصوصیات کے بغیر اس میں عہدہ برآ نہیں ہوسکتی اور نہ کامیاب وکامران ہوسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ……………” یہی لوگ فلاح پائیں گے ۔ “
غرض اس قسم کی جماعت کا قیام اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لئے ایک بنیادی ضرورت ہے ۔ یہ اسلامی نظام کی ذاتی ضرورت ہے ۔ یہ جماعت وہ ماحول فراہم کرے گی جس کے اندر اسلامی نظام سانس لے گا ‘ زندہ ہوگا اور ایک حقیقت کے روپ میں نمودار ہوگا ۔ یہ ماحول بھلائی کا ماحول ہوگا ‘ باہم متعاون ومتکافل ہوگا ‘ اور اس میں دعوت الی الخیر کا چرچا ہوگا۔ اس میں بھلائی ‘ نیکی ‘ سچائی ‘ انصاف معروف ہوں گے ۔ شر ‘ رذالت ‘ باطل اور ظلم اس میں منکر تصور ہوں گے ۔ اس ماحول میں بھلائی آسان ہوگی اور برائی کا ارتکاب مشکل ہوگا۔ اس میں بھلائی پر عمل پیرا ہونے میں اس قدر مشقت نہ کرنا ہوگی جس قدر برائی پر مشقت ہوگی ۔ اس میں حق باطل کے مقابلے میں طاقتور ہوگا۔ اس میں ظلم کے مقابلے میں عدل سے زیادہ نفع ہوگا ‘ اس میں بھلائی کرنے والے کو معاونین بسہولت دستیاب ہوں گے ۔ اور اس میں برائی کا ارتکاب کرنے والے مزاحمت اور مخالفت کا سامنا کرنا ہوگا ‘ یہی وجہ ہے کہ ایسی سوسائٹی کا قیام ضروری ہے ‘ جس میں سچائی اور بھلائی بلاجدوجہد نشوونما پاسکے ۔ اس کے لئے اس کا پورا ماحول اور اس کا ہر فرد اس میں معاون ہوگا اور جس میں باطل اور شر کی نشو ونما کی راہ میں بےحد مشکلات اور رکاوٹیں ہوں گی ‘ اس لئے کہ پورا ماحول اس کے لئے ساز گار نہ ہوگا۔
اسلام کا تصور کائنات ، اس کا تصور حیات ‘ اس کا تصور اقتدار ‘ اس کا تصور اعمال ‘ اس کا تصور واقعات ‘ اس کا تصور اشیاء اور افراد تمام دوسرے جاہلی تصورات سے ‘ اپنی اساس اور نوعیت کے اعتبار سے بالکل مختلف ہے۔ اس لئے اسلام کے اس وسیع تصور حیات کے لئے ضروری ہے کہ اس کے لئے ایک ماحول ہو ‘ جس میں یہ تصور حیات پھلے پھولے اور اس میں اس کی اپنی اقدار حیات پروان چڑھیں ۔ لہٰذا اسلام کے جاہلی ماحول سے جدا ایک عمدہ ماحول کی ضرورت ہے اور اسے ایک جاہلی معاشرے کے سوا اس کا اپنا معاشرہ درکا رہے ۔
یہ ماحول اور یہ معاشرہ اسلامی تصور حیات کے لئے ہو جس میں یہ تصور زندہ رہے اور یہ ماحول بھی اس کے لئے زندہ ہو ‘ اس ماحول میں یہ تصور پھلے پھولے ‘ اور آزادی کے ساتھ وہ اس ماحول میں سانس لے سکے ‘ اس میں ذاتی ترقی کرسکے ‘ اور اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ‘ نہ داخلی رکاوٹیں جو اس کی راہ میں مشکلات پیدا کریں اور نہ خارجی رکاوٹیں جو مزاحمت کریں ۔ اور اگر ایسی رکاوٹیں کسی وقت وجود میں آجائیں تو دعوت اسلامی ان کا مقابلہ کرے ‘ اس لئے کہ یہ دعوت الی الخیر ہے ‘ دعوت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے ۔ اور جب اس قسم کی کوئی قاہرانہ قوت دعوت اسلامی کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے تو اس معاشرے میں اس کی مدافعت کرنے والے موجود ہوں اور یہ لوگ اسلامی نظام کے محافظین ہوں۔
یہ ماحول اسلامی جماعت کی صورت میں فراہم ہوتا ہے اور یہ جماعت دوبنیادوں پر قائم ہوتی ہے ۔ ایمان باللہ اور اخوت اسلامی ۔ ایمان باللہ اس لئے ضروری ہے تاکہ اس کا تصور کائنات ، تصور حیات ‘ اس کی اقدار ‘ تصور اعمال اور تصور اشخاص واشیاء میں مطابقت ہو۔ یہ تمام تصورات ایک ہی پیمانے کے مطابق ہوں اور ایک ہی منبع سے ماخوذ ہوں ‘ انہی کے مطابق زندگی کے تمام مسائل حل کئے جائیں اور پوری زندگی کے فیصلے اللہ کی طرف سے آئی ہوئی شریعت کے مطابق ہوں ۔ اور وہ جماعت محبت کے ساتھ اس قیادت کی پیروی کرے جو اسلامی نظام حیات کے مطابق قائم ہو ۔ وہ اسلامی اخوت پر قائم ہو۔ اس کی تشکیل محبت اور باہم تعاون وتکافل کے اصولوں پر ہو ‘ یہ ایسے اصول ہیں جن کے سایہ میں خود غرضی اور لالچ ختم ہوجاتی ہے اور ایثار اور قربانی کے جذبات دوچند ہوجاتے ہیں ‘ لوگ بڑی سہولت اور آزادی سے اور بڑی گرمجوشی سے ایثار کرتے ہیں اور نہایت ہی اطمینان ‘ خوشی اور اعتماد کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔
غرض مدینہ طیبہ میں پہلی اسلامی جماعت انہی دواصولوں پر قائم ہوئی تھی ‘ اس کا ایمان باللہ نہایت ہی پختہ تھا جو معرفت الٰہی پر مبنی تھا۔ معرفت الٰہی کی وجہ سے صفات باری کا پرتو ان کے ضمیروں پر پڑگیا ‘ خدا خوفی ‘ خدا کی نگرانی کا شعور ‘ مسلسل بیداری ‘ ذات باری کا احساس اس جماعت کے اندر اس ھد تک پہنچا ہوا تھا کہ جس کی نظیر تاریخ انسانی میں بڑی نادر ہے ۔ اور معرفت کردگار کے ساتھ ساتھ خوبصورت اور میٹھی محبت کے پیکر تھے ۔ معاشی لحاظ سے باہم معاون متکافل اور گہری اور سچی ہمدردی رکھتے تھے ۔ اور وہ اس میدان میں اس قدر اونچے مقام تک پہنچے ہوئے تھے کہ اگر انہوں نے یہ معیار عملاً پیش نہ کیا ہوتا تو وہ محض خواب ہی خواب ہوتا ۔ غرض مہاجرین اور انصار کے درمیان برادری اور مواخات کا قصہ تو ایک حقیقت تھا ‘ لیکن وہ اس قدر ممتاز اور بلند معیار کا تھا کہ آج بھی وہ محض افسانہ نظر آتا ہے ‘ حالانکہ وہ حقیقت تھی ۔ اور وہ قصہ اس سرزمین پر بطور واقعہ پیش آیا تھا۔ اگرچہ وہ محیر العقول اور افسانہ نظر آتا تھا ۔ غرض اس قسم کے ایمان اور اس قسم کی اخوت اور بھائی چارے پر ہر دور میں اسلامی نظام قائم ہوگا۔
یہی وجہ ہے کہ سیاق کلام میں مکرر ‘ جماعت مسلمہ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ تفرقے اور بےجا اختلاف سے باز رہیں ۔ ان سے پہلے جن لوگوں کو اس امانت کے اٹھانے کے لئے منتخب کیا گیا تھا ‘ اور جنہوں نے تفرقہ بازی کی تھی اور انجام کار وہ جس طرح تباہ وبرباد ہوئے تھے ‘ اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ اعزاز چھین لیا تھا اور جماعت مسلمہ کے سپرد کردیا تھا ‘ اس لئے وہ باہم جڑے ہوئے تھے ۔ نیز ان لوگوں کا جو برا انجام قیامت میں ہونے والا ہے وہ مستزاد ہے ‘ کہ جس دن کچھ چہرے سیاہ ہوں گے اور کچھ سفید ہوں گے اور یہ لوگ سیاہ چہروں والے ہوں گے ۔
آل عمران 3:105
یہاں سیاق کلام میں ‘ قرآن اپنے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کرتا ہے ‘ جو زندگی متحرک مناظر سے بھرپور ہے ، ہم ایک ہولناک منظر کے سامنے ہیں ‘ یہ اس قدر خوفناک ہے کہ جس کی نقشہ کشی بذریعہ الفاظ ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس کے خدوخال الفاظ میں بیان ہوسکتے ہیں ۔
ہمارے سامنے دوقسم کے انسان کھڑے ہیں ‘ یہ زندہ انسان ہیں ‘ ان کے چہرے ہیں اور خدوخال ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جن کے چہرے نورانی ہیں ‘ خوشی ان سے ٹپک رہی ہے ‘ اور ہشاش وبشاش ہیں اور خوشی ومسرت سے چہرے سرخ وسفید ہوگئے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں بعض دوسرے چہرے ہیں جو رنج والم کی وجہ سے بجھے بجھے ہیں ‘ ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ‘ تھکان کی وجہ سے سیاہ ہوگئے ہیں ‘ لیکن اس حالت میں بھی وہ معاف نہیں ہیں ۔ اپنے حال پر چھوڑ نہیں دیئے گئے ‘ بلکہ انہیں مزید رلایا جاتا ہے اور ملامت کی جاتی ہے۔
” نعمت ایمان پانے کے بعد تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا ؟ اچھا تو اب اس کفران نعمت کے صلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔ “
” رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو ان کو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے ۔ “
یوں جماعت مسلمہ کے ضمیر کی گہرائیوں میں تفرقہ اور اختلاف کے برے نتائج کا خوف بیٹھ جاتا ہے ۔ اور وہ جان لیتے ہیں کہ ایمان اور محبت والفت اللہ کا کس قدر عظیم انعام واکرام ہے۔ اور اس منظر میں جماعت مسلمہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے کہ اہل کتاب جنہوں نے تفرقہ کیا وہ کس قدر بھیانک انجام سے دوچار ہوئے ‘ جن کی اطاعت سے جماعت مسلمہ کو ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ بھی اسی بھیانک انجام سے دوچار ہوکر عذاب الیم میں گرفتار نہ ہوجائے ‘ جس دن بعض چہرے سفید اور ہشاش بشاش ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ وکبیدہ خاطر ہوں گے ۔
اور اب ان دونوں فریقوں کی تصویر کشی اور انجام بتادینے کے بعد قرآن کریم اس پوری بحث پر اپنے مخصوص انداز میں اختتامی کلمات کہتا ہے ۔ یہ کلمات انہی خطوط پر ہیں جن پر اس سورت کے مضامین جارہے ہیں ۔ یعنی یہ کہ وحی الٰہی سچائی اور دانائی پر مبنی ہیں اور یہ کہ قیامت کے دن جزاء و سزاء ایک سنجیدہ امر ہے ‘ اللہ کے احکام دنیا وآخرت میں عدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی ہیں ۔ اور یہ کہ جو کچھ زمین میں ہے اور آسمان میں ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے ۔ اور تمام امور کا فیصلہ آخر کار اس کے سامنے ہونے والا ہے۔
آل عمران 3:106
یہاں سیاق کلام میں ‘ قرآن اپنے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کرتا ہے ‘ جو زندگی متحرک مناظر سے بھرپور ہے ، ہم ایک ہولناک منظر کے سامنے ہیں ‘ یہ اس قدر خوفناک ہے کہ جس کی نقشہ کشی بذریعہ الفاظ ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس کے خدوخال الفاظ میں بیان ہوسکتے ہیں ۔
ہمارے سامنے دوقسم کے انسان کھڑے ہیں ‘ یہ زندہ انسان ہیں ‘ ان کے چہرے ہیں اور خدوخال ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جن کے چہرے نورانی ہیں ‘ خوشی ان سے ٹپک رہی ہے ‘ اور ہشاش وبشاش ہیں اور خوشی ومسرت سے چہرے سرخ وسفید ہوگئے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں بعض دوسرے چہرے ہیں جو رنج والم کی وجہ سے بجھے بجھے ہیں ‘ ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ‘ تھکان کی وجہ سے سیاہ ہوگئے ہیں ‘ لیکن اس حالت میں بھی وہ معاف نہیں ہیں ۔ اپنے حال پر چھوڑ نہیں دیئے گئے ‘ بلکہ انہیں مزید رلایا جاتا ہے اور ملامت کی جاتی ہے۔
” نعمت ایمان پانے کے بعد تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا ؟ اچھا تو اب اس کفران نعمت کے صلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔ “
” رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو ان کو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے ۔ “
یوں جماعت مسلمہ کے ضمیر کی گہرائیوں میں تفرقہ اور اختلاف کے برے نتائج کا خوف بیٹھ جاتا ہے ۔ اور وہ جان لیتے ہیں کہ ایمان اور محبت والفت اللہ کا کس قدر عظیم انعام واکرام ہے۔ اور اس منظر میں جماعت مسلمہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے کہ اہل کتاب جنہوں نے تفرقہ کیا وہ کس قدر بھیانک انجام سے دوچار ہوئے ‘ جن کی اطاعت سے جماعت مسلمہ کو ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ بھی اسی بھیانک انجام سے دوچار ہوکر عذاب الیم میں گرفتار نہ ہوجائے ‘ جس دن بعض چہرے سفید اور ہشاش بشاش ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ وکبیدہ خاطر ہوں گے ۔
اور اب ان دونوں فریقوں کی تصویر کشی اور انجام بتادینے کے بعد قرآن کریم اس پوری بحث پر اپنے مخصوص انداز میں اختتامی کلمات کہتا ہے ۔ یہ کلمات انہی خطوط پر ہیں جن پر اس سورت کے مضامین جارہے ہیں ۔ یعنی یہ کہ وحی الٰہی سچائی اور دانائی پر مبنی ہیں اور یہ کہ قیامت کے دن جزاء و سزاء ایک سنجیدہ امر ہے ‘ اللہ کے احکام دنیا وآخرت میں عدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی ہیں ۔ اور یہ کہ جو کچھ زمین میں ہے اور آسمان میں ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے ۔ اور تمام امور کا فیصلہ آخر کار اس کے سامنے ہونے والا ہے۔
آل عمران 3:107
یہاں سیاق کلام میں ‘ قرآن اپنے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کرتا ہے ‘ جو زندگی متحرک مناظر سے بھرپور ہے ، ہم ایک ہولناک منظر کے سامنے ہیں ‘ یہ اس قدر خوفناک ہے کہ جس کی نقشہ کشی بذریعہ الفاظ ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس کے خدوخال الفاظ میں بیان ہوسکتے ہیں ۔
ہمارے سامنے دوقسم کے انسان کھڑے ہیں ‘ یہ زندہ انسان ہیں ‘ ان کے چہرے ہیں اور خدوخال ہیں ۔ کچھ لوگ ہیں جن کے چہرے نورانی ہیں ‘ خوشی ان سے ٹپک رہی ہے ‘ اور ہشاش وبشاش ہیں اور خوشی ومسرت سے چہرے سرخ وسفید ہوگئے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں بعض دوسرے چہرے ہیں جو رنج والم کی وجہ سے بجھے بجھے ہیں ‘ ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں ‘ تھکان کی وجہ سے سیاہ ہوگئے ہیں ‘ لیکن اس حالت میں بھی وہ معاف نہیں ہیں ۔ اپنے حال پر چھوڑ نہیں دیئے گئے ‘ بلکہ انہیں مزید رلایا جاتا ہے اور ملامت کی جاتی ہے۔
” نعمت ایمان پانے کے بعد تم نے کافرانہ رویہ اختیار کیا ؟ اچھا تو اب اس کفران نعمت کے صلے میں عذاب کا مزہ چکھو۔ “
” رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو ان کو اللہ کے دامن رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ اسی حالت میں رہیں گے ۔ “
یوں جماعت مسلمہ کے ضمیر کی گہرائیوں میں تفرقہ اور اختلاف کے برے نتائج کا خوف بیٹھ جاتا ہے ۔ اور وہ جان لیتے ہیں کہ ایمان اور محبت والفت اللہ کا کس قدر عظیم انعام واکرام ہے۔ اور اس منظر میں جماعت مسلمہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتی ہے کہ اہل کتاب جنہوں نے تفرقہ کیا وہ کس قدر بھیانک انجام سے دوچار ہوئے ‘ جن کی اطاعت سے جماعت مسلمہ کو ڈرایا جاتا ہے تاکہ وہ بھی اسی بھیانک انجام سے دوچار ہوکر عذاب الیم میں گرفتار نہ ہوجائے ‘ جس دن بعض چہرے سفید اور ہشاش بشاش ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ وکبیدہ خاطر ہوں گے ۔
اور اب ان دونوں فریقوں کی تصویر کشی اور انجام بتادینے کے بعد قرآن کریم اس پوری بحث پر اپنے مخصوص انداز میں اختتامی کلمات کہتا ہے ۔ یہ کلمات انہی خطوط پر ہیں جن پر اس سورت کے مضامین جارہے ہیں ۔ یعنی یہ کہ وحی الٰہی سچائی اور دانائی پر مبنی ہیں اور یہ کہ قیامت کے دن جزاء و سزاء ایک سنجیدہ امر ہے ‘ اللہ کے احکام دنیا وآخرت میں عدل و انصاف کے اصولوں پر مبنی ہیں ۔ اور یہ کہ جو کچھ زمین میں ہے اور آسمان میں ہے وہ سب اللہ کی ملکیت ہے ۔ اور تمام امور کا فیصلہ آخر کار اس کے سامنے ہونے والا ہے۔
آل عمران 3:108
یہ صورتیں ‘ یہ حقائق اور یہ نتائج اللہ کی یہ آیات اور اس کے یہ دلائل وبراہین ‘ یہ سب آپ پر سچائی اور صداقت کے ساتھ پڑھی جارہی ہیں ‘ یہ آیات جو اصول اور جو اقدار طے کررہی ہیں وہ حق ہیں اور اعمال کے جو نتائج اور جو جزاء وسزا یہ طے کررہی ہیں وہ بھی حق ہیں اور پیش آنے والے ہیں ۔ یہ آیات سچائی کے ساتھ اس ذات کی طرف سے نازل ہورہی ہیں ۔ وہ ذات اس نزول کی سزاوار ہے ۔ اور ہی اس بات کی مالک ہے کہ قدار کا تعین کرے ‘ وہی مستحق ہے کہ نتائج تک پہنچائے اور وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اعمال پر جزاء دے ۔ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں پر ظلم کا ارادہ نہیں کرتا ‘ اس لئے کہ وہ حاکم عادل وہ امور سماوات اور امور ارض کا مالک ہے اور وہ آسمانوں اور زمینوں کے اندر جو کچھ ہے ‘ اس کا بھی مالک ہے ‘ اور تمام امور کا آخری فیصلہ اسی کے ہاں ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے عمل پر جزاء وسزا کا تعین اس لئے کیا ہے تاکہ سچ کا بول بالا ہو اور نظام عدل جاری ہو اور معاملات اس نہج پر چلیں جو شان جلالت کے لائق ہوں اور یہ بات نہیں ہے جیسا کہ اہل کتاب کو زعم ہے کہ انہیں تو صرف معدودے چند دنوں تک آگ کی سزا دی جائے گی پھر وہ نکل آئیں گے ۔
اس کے بعد امت مسلمہ کے اوصاف کا بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت ‘ اپنی قدر و قیمت اور اپنی حقیقت سے شناسا ہوسکے ۔ اس کے بعد امت مسلمہ کے سامنے اہل کتاب کا تعارف کرایا جاتا ہے ۔ اہل کتاب کے رتبہ کو کم نہیں کیا جاتا ‘ ان کی حقیقت بیان کرکے انہیں یہ امیددلائی جاتی ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کے لئے مفید ہوگا ‘ لہٰذا اہل ایمان کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ ان کے دشمن انہیں کوئی نقصان نہیں دے سکتے ‘ وہ ان کے مکر و فریب اور ان کے قتال کے باوجود مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں دے سکتے ‘ نہ مسلمانوں پر فتح یاب ہوسکتے ‘ اہل کفر آخرت میں دوزخ میں رہیں گے اور اس دنیا میں ایمان وتقویٰ کے بغیر انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ آخرت میں انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔
آل عمران 3:109
یہ صورتیں ‘ یہ حقائق اور یہ نتائج اللہ کی یہ آیات اور اس کے یہ دلائل وبراہین ‘ یہ سب آپ پر سچائی اور صداقت کے ساتھ پڑھی جارہی ہیں ‘ یہ آیات جو اصول اور جو اقدار طے کررہی ہیں وہ حق ہیں اور اعمال کے جو نتائج اور جو جزاء وسزا یہ طے کررہی ہیں وہ بھی حق ہیں اور پیش آنے والے ہیں ۔ یہ آیات سچائی کے ساتھ اس ذات کی طرف سے نازل ہورہی ہیں ۔ وہ ذات اس نزول کی سزاوار ہے ۔ اور ہی اس بات کی مالک ہے کہ قدار کا تعین کرے ‘ وہی مستحق ہے کہ نتائج تک پہنچائے اور وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اعمال پر جزاء دے ۔ اللہ تعالیٰ کبھی اپنے بندوں پر ظلم کا ارادہ نہیں کرتا ‘ اس لئے کہ وہ حاکم عادل وہ امور سماوات اور امور ارض کا مالک ہے اور وہ آسمانوں اور زمینوں کے اندر جو کچھ ہے ‘ اس کا بھی مالک ہے ‘ اور تمام امور کا آخری فیصلہ اسی کے ہاں ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے عمل پر جزاء وسزا کا تعین اس لئے کیا ہے تاکہ سچ کا بول بالا ہو اور نظام عدل جاری ہو اور معاملات اس نہج پر چلیں جو شان جلالت کے لائق ہوں اور یہ بات نہیں ہے جیسا کہ اہل کتاب کو زعم ہے کہ انہیں تو صرف معدودے چند دنوں تک آگ کی سزا دی جائے گی پھر وہ نکل آئیں گے ۔
اس کے بعد امت مسلمہ کے اوصاف کا بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی حیثیت ‘ اپنی قدر و قیمت اور اپنی حقیقت سے شناسا ہوسکے ۔ اس کے بعد امت مسلمہ کے سامنے اہل کتاب کا تعارف کرایا جاتا ہے ۔ اہل کتاب کے رتبہ کو کم نہیں کیا جاتا ‘ ان کی حقیقت بیان کرکے انہیں یہ امیددلائی جاتی ہے کہ اگر وہ ایمان لے آئیں تو وہ ان کے لئے مفید ہوگا ‘ لہٰذا اہل ایمان کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ ان کے دشمن انہیں کوئی نقصان نہیں دے سکتے ‘ وہ ان کے مکر و فریب اور ان کے قتال کے باوجود مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں دے سکتے ‘ نہ مسلمانوں پر فتح یاب ہوسکتے ‘ اہل کفر آخرت میں دوزخ میں رہیں گے اور اس دنیا میں ایمان وتقویٰ کے بغیر انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ آخرت میں انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا۔
آل عمران 3:110
ان آیات کے ابتدائی حصہ میں ‘ جماعت مسلمہ کے کاندھوں پر ایک بھاری بوجھ ڈالا گیا ہے اور یہ بوجھ اس لئے ڈالا گیا ہے کہ اللہ نے اس جماعت کو مکرم اور معزز بنایا ہے اور اسے ایسا مقام و مرتبہ دیا گیا ہے ‘ جس پر آج تک کوئی دوسری جماعت فائز نہیں ہوسکی۔
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
” اب دنیا میں وہ بہتر گروہ تم ہو ‘ انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے ۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ‘ بدی سے روکتے ہو ‘ اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ “
یہاں اخرجت صیغہ ماضی مجہول لایا گیا ہے ۔ اور یہ ایک خاص تعبیر ہے اور قابل توجہ ہے ۔ اس سے اللہ جل کے لطیف دست قدرت کا اظہار ہوتا ہے ۔ جو اس امت کو باہر نکال رہا ہے اور غیب کے اندھیروں میں سے ‘ اس جماعت کو دھکیل دھکیل کر منصہ شہود پر لایا جارہا ہے ۔ اور اسے اس پردے کے پیچھے سے ظاہر کیا جارہا ہے جس کے پیچھے جھانکنا کسی انسان کا کام نہیں ہے اور نہ انسان اس پردہ غیب کے پیچھے کچھ جانتا ہے ۔ اخرجت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک خفیہ اور نامعلوم قوت انہیں آہستہ آہستہ اور غیر محسوس طور پر متحرک کررہی ہے ۔ یہ عمل یوں ہوتا ہے کہ اچانک اس کائنات کے اسٹیج پر ایک امت نمودار ہوجاتی ہے ۔ اور اس نے ایک اسٹیج پر ایک خاص رول ادا کرنا ہوتا ہے ۔ یہ رول نہایت اہم ہے ۔ اور اس کائنات میں اس کا ایک خاص مقام متعین ہوجاتا ہے ۔
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ……………” اب دنیا میں بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت اور اصلاح کے لئے نکالا گیا ہے ۔ “ یہ ہے وہ بات جس کا ادراک امت مسلمہ کو اچھی طرح کرلینا چاہئے تاکہ اسے اپنی حقیقی قدر و قیمت کا احساس ہوجائے کہ اسے تو تمام انسانوں کی اصلاح کے لئے نکالا گیا ہے تاکہ وہ ہر اول دستے کا کام دے اور اس کو اس کائنات میں قیادت کا مقام حاصل ہو ۔ اس لئے کہ صرف امت ہی نہیں بلکہ وہ بہترین امت ہے ۔ اور اللہ کی مرضی یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر خیر کی قیادت ہو ‘ شر کی قیادت نہ ہو ‘ یہی وجہ ہے کہ یہ بات اس کی شان قیادت سے فروتر قرار دی گئی ہے کہ وہ دوسری جاہلی امتوں سے ہدایت لے ۔ اس کا فرض تو یہ ہے کہ دوسری جاہلی اقوام کو اپنے خزانہ علم واخلاق سے عطیات دے ۔ اور اس کے ذخائر میں ہمیشہ ایسی اجناس موجود ہونی چاہئیں جنہیں وہ دوسری محروم اقوام وملل کو عطا کرتی رہے ۔ وہ ان اقوام وملل کو صحیح عقائد و تصورات دے ‘ صحیح فکر دے ‘ صحیح نظام حیات دے ‘ صحیح اخلاق دے ‘ صحیح علم ومعرفت عطاکرے ۔ یہ وہ فریضہ ہے جو اس کی اعلیٰ حیثیت کی وجہ سے اس پر عائد ہوتا ہے اور اس پر یہ فریضہ اس کے مقصد وجود کی وجہ سے فرض ہوجاتا ہے ۔ یہ بات اس کے فرائض منصبی میں داخل ہے کہ وہ ہر میدان میں دوسری امم کے لئے ہر اول دستہ رہے ۔ وہ ہمیشہ قیادت کے مقام ومنصب پر رہے اور ہمیشہ مرکز امم ہو۔ لہٰذا اس کے اس منصب کے کچھ آثار ونتائج ہیں ۔ وہ منصب محض دعویٰ سے حاصل نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس امت کے سپرد کیا جاتا ہے جو اس کی اہل ہوا کرتی ہے ‘ وہ اپنے تصورات و افکار کی وجہ سے اور اپنے اعلیٰ نظام حیات کی وجہ سے جب اس کے اہل ہوتی ہے ‘ تب ہی یہ اسے دیا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ امت کو علمی میدان میں بھی سب امم سے آگے ہونا چاہئے اور ترقی وتعمیر کے اعتبار سے بھی اسے اقوام وملل سے آگے ہونا چاہئے ‘ تاکہ وہ مقام خلافت فی الارض پر فائز ہو اور اپنے آپ کو اس کے لئے اہل ثابت کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ جس نظام حیات کی داعی ہوگی وہ نظام اس سے بہت کچھ کمالات کا مطالبہ کرتا ہے ‘ اور اس سے اس کا اولین مطالبہ یہ ہے کہ وہ ہر میدان میں سب سے آگے رہے اگر وہ اس منصب پر بدستور فائز رہنا چاہتی ہو اور اس کے تقاضوں اور اس کے فرائض کو پورا کرتی ہو ۔
اس امت کے منصب اور مقام کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ وہ اس زندگی کو شر اور فساد سے پاک کردے اور اس کے پاس اس قدر قوت ہونا چاہئے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دے سکے ۔ اس لئے کہ وہ ایک بہترین امت ہے اور لوگوں کی اصلاح کے لئے نکالا گیا ہے ۔ اور وہ خیر امت محض اللہ کی جانب سے کسی مجاملت یا خصوصی تعلق محبوبیت کی وجہ سے نہیں بنی ‘ نہ ہی اسے خیر امت اتفاقاً بلا مقصد و ارادہ بنادیا گیا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور اس سے ایسے کام کی توقع نہیں کی جاسکتی ‘ اللہ کے ہاں اعزاز اور شرف ان خام خیالیوں کی بنا پر نہیں ملتا ‘ جن میں یہ اہل کتاب مبتلا ہوگئے تھے اور کہتے تھے نَحنُ اَبنَآءُ اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤہٗ ” ہم اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں ۔ “ ہرگز نہیں ‘ یہ ایک مثبت عمل تھا ‘ منصوبے کے مطابق انسانیت کو برائی سے بچانامقصود تھا ‘ اسے معروف قائم کرنا مطلوب تھا ‘ اور ایمانی تصور حیات کے ساتھ جو دنیا میں معروف ومنکر کی حدوں کو واضح کردے۔
تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ……………” نیکی کا حکم دیتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ “
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دراصل اس بہترین امت کے فرائض ہیں ‘ جن کو لے کر اسے اٹھنا ہے چاہے وہ ان فرائض کی ادائیگی میں تکالیف اٹھانی پڑیں ‘ اس لئے کہ یہ ایک خاردار راستہ ہے ۔ اس میں شر کو چیلنج کرنا ہے ‘ لوگوں کو بھلائی کی طرف بلانا ہے اور معاشرے کو شروفساد کے عوامل واسباب سے بچانا ہے اور یہ سب کام تھکادینے والے کام ہیں ‘ لیکن یہ سب کام ایک صالح معاشرے کے قیام اور بچاؤ کے لئے ضروری ہیں نیز اس کے سوا وہ نقوش جم نہیں سکتے جن کے مطابق اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کو استوار کرنا چاہتے ہیں ۔ “
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ساتھ ساتھ پکا مومن ہونا بھی ضروری ہے ‘ اس لئے اسلامی معاشرے میں حسن وقبح کے پیمانے ایمان ہی کے ترازو کے ساتھ قائم ہوتے ہیں اور معروف اور منکر کی صحیح پہچان ہوسکے ۔ اس لئے کہ کسی ایک گروہ کا صالح ہوجانا ہی کافی نہیں ‘ بعض اوقات شر و فساد اس قدر پھیل جاتا ہے کہ معاشرے کی اجتماعی اقدار بدل جاتی ہیں اور ان میں خلل پڑجاتا ہے ۔ اس لئے خیر وشر کے لئے ایک مستحکم تصور کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس میں فضائل اعمال اور رذائل صفات کے اندر اچھی طرح جدائی ہو ‘ معروف منکر سے جدا ہو ‘ اور یہ تصور حیات اصلاح کی کسی مخصوص اسکیم سے علیحدہ ایک دائمی اصول و مبادی پر مبنی ہو۔
اور ظاہر ہے کہ یہ مقاصد صرف ایمان کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوسکتے ہیں ‘ یعنی اس کائنات میں صحیح تصور اور اس کائنات کے خالق کے ساتھ اس کا تعلق کے بارے میں صحیح تصور ‘ انسان اور اس کے مقصد وجود کے بارے میں صحیح تصور اور اس کائنات کے اندر انسان کے مقام اور اس کی حیثیت کے بارے میں صحیح تصور ۔ پھر ان صحیح تصورات کے نتیجے میں صحیح اخلاقی اصول وجود میں آتے ہیں ‘ جو خدا خوفی اور اس کی رحمت ورضا کی امیدپر مبنی ہوتے ہیں ‘ اور ان اصولوں کی وجہ سے لوگ ان اخلاقی اصولوں کے قیام پر بخوشی مائل ہوتے ہیں ‘ ان کے دلوں پر اللہ کی حکمرانی ہوتی ہے اور ان کے معاشرے پر اللہ کی شریعت کی حکمرانی ہوتی ہے اور یوں ان اصول وقواعد کی نگہبانی بھی ہوتی رہتی ہے۔
پھر ایمان اس لئے بھی ضروری ہے کہ داعیان خیر ‘ امر کنندگان معروف اور مانعان منکر اس راہ پرخار پر ‘ مشقتیں برداشت کرتے ہوئے ثابت قدمی سے ‘ اس قوت ایمانی کے بل بوتے پر گامزن ہوسکیں ۔ خصوصاً جبکہ ان کا مقابلہ شر کے طاغوتوں سوے ہو اور یہ طاغوت نوجوان بھی ہو اور تنومند بھی ہو ‘ جبکہ وہ خواہشات نفس کے طاغوت کا مقابلہ کررہے ہوں اور یہ خواہش اپنی شدت میں ہو اور خوب جوان ہو ‘ جبکہ وہ گری ہوئی ارواح کا مقابلہ کررہے ہوں جن کے عزائم کند ہوچکے ہوں جن کی شمع امید بجھ چکی ہو اور ایسے حالات میں ان کا زاد راہ صرف ایمانی قوت ہو ‘ ان کا سامان جنگ صرف ایمان ہو اور ان کا تکیہ صرف اللہ پر ہو ‘ ان کی حالت یہ ہو کہ ایمان کے زادراہ کے سواتمام توشے ختم ہوچکے ہوں اور ایمان کے سازوسامان کے سوا تمام سازوسامان ختم ہوچکے ہیں ۔ اور اللہ کے سوا تمام سہارے ایک ایک کرکے گرچکے ہوں ۔
اس سے پہلے یہ حکم دیا گیا تھا کہ اے امت مسلمہ تم میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو سر انجام دے ۔ وہاں تو امت پر فریضہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر عائد کیا گیا تھا ۔ اب یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ تم خیر امت ہو ‘ تمہاری صفت و خاصیت یہ ہے کہ تم امربالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہو ‘ اس میں امت کو یہ اشارہ ہے کہ اگر تمہارے اندر یہ صفت نہ پائی گئی ‘ یا کسی وقت نہ پائی جاتی ہو تو گویا تمہارا حقیقی وجود ہی نہ ہوگا۔ اس لئے کہ انسانی معاشرے میں یہ تمہاری پہچان ہے ۔ تم اگر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ لے اٹھو گے ‘ تو تم موجود تصور ہوگے اور اگر تم یہ فریضہ ترک کردوگے تو تم معدوم تصور ہوگے ‘ اور گویا صفت ایمان اور اسلام معدوم تصور ہوگی۔
قرآن کریم میں متعدد مقامات پر امت مسلمہ کے اس فریضے کی طرف صراحت اور اشارات کے ساتھ وضاحت کی گئی ہے ‘ جس پر بحث ہم ان مقامات پر کریں گے ۔ مگر رسول اللہ ﷺ کی سنت میں بھی بار بار اس فریضہ منصبی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ چیدہ چیدہ احادیث یہاں پیش کروں :
حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے سنا :” تم میں سے جو بھی منکر کو دیکھے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے اپنے ہاتھ سے زائل کردے ‘ اگر ایسا نہ کرسکے تو اپنی زبان کے ساتھ ‘ اور اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنے دل کے ساتھ ۔ اور یہ ضعیف ایمان ہے۔ “
حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑگئے ‘ تو انہیں ان کے علماء نے روکا ‘ اور وہ نہ رکے ‘ تو ان کے علماء نے ان سے ہم نشینی کی ‘ ان کے ساتھ کھاتے پیتے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے دلوں کو دوسروں کے دلوں کے ساتھ مارا ‘ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) ‘ حضرت سلیمان (علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہما السلام) کی زبان سے ان پر لعنت کی۔ “ اس کے بعد آپ ﷺ بیٹھ گئے (اور آپ ﷺ تکیہ لگائے تھے ) اور پھر فرمایا :” ہرگز نہیں ! اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ یہاں تک کہ تم انہیں واپس حق کی طرف اچھی طرح پلٹا کر نہ لے آؤ۔ “ لفظ تامروا تعطفوا (موڑو) اور تردوا (یعنی واپس لاؤ) ہے۔ (ابوداؤد ۔ ترمذی)
حضرت حذیفہ ؓ کہتے ہیں ‘ فرمایا ‘ رسول اللہ ﷺ نے ” اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تمہیں معروف کا حکم دینا ہوگا اور تمہیں منکر سے روکنا ہوگا ورنہ قریب ہے کہ اللہ ‘ اپنی جانب سے تم پر کوئی عذاب بھیج دے اور پھر صورت حال یہ ہوجائے کہ تم اسے پکارو گے اور وہ تمہاری پکار کا کوئی جواب تمہیں نہ دے۔ “ (ترمذی)
اور حضرت عرس بن عمیر کندی ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” جب زمین میں کوئی برائی ہورہی ہو ‘ تو جو شخص اس وقت اسے دیکھ رہا ہو ‘ اور اس پر نکیر کررہا ہو تو ایسا ہوگا ‘ جس طرح وہ اس سے غائب ہو ‘ اور جو شخص اس سے غائب ہو لیکن اس پر راضی ہو تو وہ ایسا ہوگا جیسا کہ وہ اسے دیکھ رہاہو۔ (ابوداؤد)
حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں کہ فرمایا ‘ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حمزہ شہداء کے سردار ہیں اور وہ شخص شہداء کا سردار ہے جو ظالم بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوگیا اسے امر بالمعروف کیا اور اسے منکر سے روکا ٹوکا ‘ اور اس وجہ سے اس نے اس شخص کو قتل کردیا ۔ “ (روایت حاکم)
یہ اور اس کے علاوہ دوسری بیشمار احادیث اسلامی سوسائٹی کی اس خصوصیت کو بیان کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ اسلامی معاشرے میں یہ فریضہ اور اس کی ادائیگی اشد ضروری ہے ۔ اس صفت کی وجہ سے معاشرے کی راہنمائی اور تربیت کا انتظام ہوتا رہتا ہے ‘ اور قرآنی ہدایت کے حکم ہونے کے علاوہ یہ ایک ایسا توشہ ہے جس کی افادیت سے اور اس کی قدر و قیمت سے ہم بالکل غافل ہیں ۔ اس کے بعد اب ہم پہلی آیت کے حصہ آخر کی طرف آتے ہیں ۔
وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ……………” یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو اس کے حق میں بہتر ہوتا اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایماندار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں ۔ “
ان فقروں میں اہل کتاب کو ترغیب دی گئی ہے کہ وہ ایمان لے آئیں ۔ ایمان ان کے لئے بہتر ہوگا ‘ اس کی وجہ سے ان کو اس تفرقہ بازی اور ہلاکت سے نجات ملے گی جس میں پڑے ہوئے ہیں ‘ وہ اعتقادی تصورات میں بھی فرقہ واریت میں مبتلا تھے اور ان کی شخصیت مجتمع نہ تھی ‘ اس لئے ان کے اعتقادی تصورات کے اندر اس قدر صلاحیت نہ تھی کہ وہ کسی اجتماعی نظام زندگی کی اساس بن سکیں ۔ اس وجہ سے کہ ان کے اجتماعی نظام ‘ ان کے اپنے عقائد کے علاوہ دوسرے تصورات پر قائم تھے ۔ چناچہ ان کا اجتماعی نظام ہمیشہ لنگڑا ‘ لولا اور ہوا کے اندر معلق نظام رہا۔ اس کی جڑیں کھبی بھی ان معاشرے کے اندر نہ پھیلیں ‘ جس طرح دنیا کے وہ نظام ہوا میں معلق رہتے ہیں جو کسی مکمل اعتقادی اور نظریاتی اساس پر قائم نہیں ہوتے ‘ جن کی تعمیر ایسے نظریہ حیات پر نہیں ہوتی جو اس کائنات کے معمہ کا مکمل حل پیش کرتا ہو ‘ جو وجود انسانی کے مقاصد نہ متعین کرتا ہو ‘ جو اس کائنات میں انسان کا مقام نہ متعین کرتا ہو ‘ اور ایمان لانا ان کے لئے آخرت میں بھی مفید ہے ۔ اس لئے کہ آخرت میں غیر اہل اسلام کا جو برا انجام ہونے والا ہے ‘ اس سے وہ بچ جائیں گے ۔
اس آیت میں صاف صاف اعتراف کیا جاتا ہے کہ ان اہل کتاب میں سے بعض لوگ صالح بھی ہیں ۔ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ……………” ان میں سے بعض اگرچہ مومن ہیں مگر اکثر فاسق ہیں۔ “
اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایمان لائے تھے ‘ اور وہ بہت ہی اچھے مسلمان تھے ۔ مثلا عبداللہ بن سلام ‘ ثعلبہ بن شعبہ اور کعب بن مالک وغیرہ ۔ انہی لوگوں کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے ۔ اگرچہ اس آیت میں اجمالی اشارہ ہے اور دوسری آیت میں تفصیلی اشارہ ہے ۔ لیکن ان کی اکثریت دین اسلام سے منکر رہی ۔ اس لئے انہوں نے اللہ کے اس عہد کو توڑا جو اللہ نے نبیوں سے لیا تھا کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے نبی پر ایمان لائے گا ‘ جو اس کے بعد مبعوث ہوگا ‘ اور اس کی نصرت کرے گا ۔ وہ دین اسلام کے نافرمان اس طرح قرار پائے کہ انہوں نے نبی آخرالزمان کے بھیجنے کے سلسلے میں اللہ کے ارادہ اور حکم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کیا ‘ محض اس لئے کہ یہ رسول بنی اسرائیل کے قبیلے سے نہ تھا ‘ اور انہوں نے اس رسول کی اطاعت کرتے ہوئے اللہ کی آخری شریعت کے مطابق اپنی زندگی کے فیصلے کرانے کے اعزاز سے بھی اپنے آپ کو محروم رکھا ‘ حالانکہ اللہ کا ارادہ اور فرمان یہ تھا کہ تمام انسانیت اس شریعت کے مطابق زندگی بسر کرے ۔
اہل ایمان میں سے بعض لوگ چونکہ بدستور مدینہ کے اہل یہود کے ساتھ روابط قائم کئے ہوئے تھے اور اس وقت تک مدینہ طیبہ میں یہودی ایک برتر قوت تھے ‘ وہ ایک عسکری قوت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اقتصادی قوت بھی تھے اور اہل اسلام میں بعض لوگ ان کی اس حیثیت کو تسلیم بھی کرتے تھے ‘ اس لئے قرآن کریم نے یہ ضروری سمجھا کہ ان نافرمانوں کو اس حیثیت پر تنقید کرکے مسلمانوں کو ان کی مرعوبیت سے نکالاجائے اور ان کے کفر ‘ نافرمانی اور ان کے جرائم کی وجہ سے ان کی حیثیت میں جو کمی واقع ہوئی ہے ‘ اس کا اظہار کیا جائے ۔ نیز جس طرح وہ فرقوں میں بٹے ہوئے تھے اور جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر ذلت اور خواری مسلط کردی تھی یہاں اسے واضح طور پر ریکارڈ کردیا گیا ۔
آل عمران 3:111
ان آیات میں اللہ مومنین کو فتح ونصرت کی ضمانت دیتے ہیں ‘ اور آخرکار ان کی سلامتی کی بھی صریح ضمانت دیتے ہیں ‘ جب بھی وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ میدان جنگ میں آمنا سامنا کریں گے یہ ضمانت ان کے لئے موجود ہوگی بشرطیکہ وہ اپنے دین کی رسی کو مضبوطی سے پکڑیں اور اپنے رب پر یقین کریں۔
لَنْ يَضُرُّوكُمْ إِلا أَذًى وَإِنْ يُقَاتِلُوكُمْ يُوَلُّوكُمُ الأدْبَارَ ثُمَّ لا يُنْصَرُونَ……………” یہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے زیادہ سے زیادہ بس ستاسکتے ہیں ‘ اگر یہ تم سے لڑیں تو مقابلہ میں پیٹھ دکھائیں گے ‘ پھر ایسے بےبس ہوں گے کہ کہیں سے ان کو مدد نہ ملے گی ۔ “
اس لئے وہ دعوت اسلامی کو کوئی حقیقی ضرر نہیں پہنچاسکتے ‘ نہ وہ جماعت مسلمہ کی تشکیل میں کوئی اثر اندازی کرسکتے ہیں اور نہ وہ دعوت اسلامی کو اس کرہ ارض سے ختم کرسکتے ہیں ۔ ہاں جماعت مسلمہ کے ساتھ جب ان کا تصادم ہوتا ہے تو وہ اذیت دے سکتے ہیں ‘ وہ اس قسم کے عارضی دکھ دے سکتے ہیں جو مرور زمانہ کے ساتھ ختم ہوجاتے ہیں ۔ لیکن جب وہ مسلمانوں کے ساتھ میدان جنگ میں مقابل ہوں گے تو ان کے لئے شکست لکھی ہوئی ہے اور آخر کار وہ شکست کھائیں گے ‘ ان کی قسمت میں مسلمانوں کے برخلاف کوئی نصرت نہیں ہے ۔ ان کو مسلمانوں کے مقابلے میں کوئی مددگار ملے گا اور نہ وہ مسلمانوں کی زد سے بچ سکیں گے ۔ اور یہ اس لئے ہے کہ ان پر ذلت کی زد پڑگئی ہے اور اس کا یہ انجام بد لکھ دیا گیا ہے ‘ اس لئے وہ جس سرزمین میں بھی ہوں گے وہ ذلیل ہوکر رہیں گے ‘ وہ یا تو اللہ کی ذمہ داری میں رہیں گے اور یا مسلمانوں کی ذمہ داری میں رہیں گے ۔ جب وہ مسلمانوں کی ذمہ داری میں داخل ہوں گے تو ان کا مال اور ان کی جان محفوظ ہوگی ماسوائے اس کے کہ ان کے خلاف کوئی حق ثابت ہوچکا ہو ‘ یوں انہیں امن اور اطمینان نصیب ہوگا۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہودیوں کو صحیح امن مسلمانوں کی ذمہ داری کے اندر نصیب ہوا ہے۔ لیکن یہود اس قدر نمک حرام ہیں کہ وہ اس کرہ ارض پر مسلمانوں سے زیادہ اور کسی کے ساتھ دشمنی نہیں رکھتے ۔” وہ اللہ کا غضب لے کر لوئے ہیں ۔ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ یعنی گویا وہ دربدر ہوئے ‘ مارے مارے پھرتے رہے اور آخر کار اللہ کے غضب کا سامان سروں پر اٹھائے ہوئے لوٹے۔ “ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ……………” ان پر محتاجی مسلط کردی گئی ۔ “ ان کے ضمیر اور شعور میں محتاجی کا احساس رچ بس گیا ہے ۔
ان آیات کے نزول کے بعد یہ تمام واقعات یہودیوں کی تاریخ میں انہیں پیش آئے ‘ اہل کتاب اور مسلمانوں کے درمیان جو معرکے پیش ہوئے ان میں اللہ نے مسلمانوں کو فتح ونصرت سے سرفراز کیا ‘ جب تک مسلمانوں نے اپنے دین اور اپنے نظام حیات اور اپنے نظریہ حیات کو اپنے سینے سے لگائے رکھا ‘ اور اپنی زندگیوں میں اسلامی نظام حیات قائم رکھا ‘ تو ان کے اعداء کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے ذلت اور خواری کو لکھ دیا۔ الا یہ کہ مسلمانوں کے عہد وذمہ داری کی وجہ سے انہیں چین نصیب ہوا یا یہ کہ خود مسلمانوں نے اسلامی نظام حیات کو ترک کردیا اور اپنے دین کو چھوڑ دیا۔
آل عمران 3:112
قرآن کریم اس بات کا بھی انکشاف کرتا ہے کہ ان لوگوں کی قسمت میں ذلت اور خواری کیوں لکھ دی گئی ؟ اس کا سبب کیا ہے ؟ تو سبب دراصل ایک عام سبب ہے ‘ جس کے آثارونتائج ہر قوم پر منطبق ہوسکتے ہیں ۔ چاہے وہ دین کے معاملے میں جس قدر اونچے دعوے کرتی ہو۔ ان کی ذلت و خواری کا سبب اللہ کی نافرمانی اور ظلم تھا۔
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الأنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ
” اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام تھا۔ “
لہٰذا اللہ کی آیات کا سرے سے انکار کردینا اپنی زندگیوں میں انہیں نافذنہ کرنا اور ان کے مطابق اپنا نظام عدالت نہ چلانا اور انبیاء کو ناحق قتل کرنا ‘ اور ان لوگوں کو قتل کرنا جو لوگوں میں داعیان عدل ہوں جیسا کہ اس سورت کی دوسری آیت میں وارد ہے ۔ یعنی صرف نافرمانی اور ظلم کی وجہ سے وہ اللہ کے غضب کے مستحق ہوئے اور شکست ‘ ذلت اور خواری ان کے مقدر میں لکھ دی گئی ۔ اور یہی وہ اسباب ہیں جو آج کل اس کرہ ارض پر مسلمانوں کی بگڑی ہوئی منحرف نسل کے اندر مکمل طور پر پائے جاتے ہیں ‘ وہ نسل جو اپنے اوپر لفظ اسلام کا اطلاق غلط طور پر کررہی ہے ‘ اور یہی اسباب آج وہ اللہ کے سامنے اپنے کردار کے آئینہ میں ‘ پیش کررہے ہیں ‘ اس لئے اللہ کی جانب سے بھی آج ان کے ساتھ بعینہ وہی سلوک کیا جارہا ہے جو اللہ نے ان ہی اسباب کی وجہ سے یہودیوں کے ساتھ کبھی کیا تھا ‘ یعنی آج شکست ‘ ذلت اور خواری ان کا مقدر بن چکی ہے ۔ جب آج ان میں سے کوئی پوچھتا کہ ہم اس کرہ ارض پر غالب کیوں نہیں ہورہے ‘ حالانکہ ہم مسلمان ہیں ؟ تو یہ سوال کرنے سے پہلے اسے معلوم ہونا چاہئے تھا کہ اسلام ہے کیا ؟ اور مسلمان ہوتے کون ہیں ؟ پھر وہ یہ سوال کرے ۔
بہرحال رسول ﷺ کے وقت اہل کتاب میں کچھ اچھے لوگ بھی تھے ۔ اگرچہ تھوڑے تھے ‘ یہ ضروری تھا کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جاتا ۔ اس لئے آیت بالا کے بیان کردہ کلیہ میں استثناء کی گئی ۔ بتایا گیا کہ وہ سب ایک جیسے نہیں ہیں ‘ ان میں سے اچھے مومن بھی پیدا ہوئے ہیں ۔ اور ان کا تعلق باللہ بعینہ ایک اچھے مسلمان اور صادق مسلمان کی طرح ہے۔ اس لئے جو اس جزا کے مستحق ہوں گے ‘ جس کے سچے اہل ایمان مستحق ہوئے ۔
آل عمران 3:113
یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھے ۔ اس لئے عالم بالا سے ان کے حق میں یہ شہادت نازل ہوئی کہ یہ لوگ یقیناً صالحین میں ہیں ۔ اور ان کے ساتھ یہ سچا وعدہ کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی حق نہ مارا جائے گا ۔ نہ ہی ان کا کوئی حق روکا جائے گا۔ اور یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اللہ کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ متقین میں سے ہیں ۔
یہ ایک تصویر ہے جو یہاں اس لئے دکھائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے حق میں یہ شہادت قلمبند کرالیں وہ اسے اس روشن افق پر دیکھیں اور اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں ۔
یہ تو ایک محاذ ہے ‘ دوسری جانب کافر ہیں ‘ وہ کافر جنہیں ان کی دولت کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہے ۔ جن کے لئے ان کی اولاد بھی مفید نہیں ہے ۔ پھر دنیا میں انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ قیامت کے دن اس انفاق کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ انفاق بھلائی کے اس خط مستقیم کے ساتھ جڑا ہو انہیں ہے ‘ جو اللہ نے کھینچا ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو ایمان اور اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ جس کا تصور واضح ہو ‘ جس کا ہدف مستقل ہو اور جن کی راہ اللہ تک جاری ہو ‘ ورنہ پھر بھلائی کا ایک عارضی جذبہ کبھی کبھار پیدا ہوجائے گا مگر وہ مستقل نہ ہوگا ‘ اور وہ ایک ایسا جھکاؤ ہوگا جس کے رخ کو معمولی آندھی پھیرسکے گی ۔ وہ کسی واضح ‘ قابل فہم اور ٹھوس بنیاد پر نہ ہوگا نہ اس کا کسی مکمل اور جامع اور سیدھے نظام حیات سے ربط ہوگا۔
آل عمران 3:114
یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھے ۔ اس لئے عالم بالا سے ان کے حق میں یہ شہادت نازل ہوئی کہ یہ لوگ یقیناً صالحین میں ہیں ۔ اور ان کے ساتھ یہ سچا وعدہ کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی حق نہ مارا جائے گا ۔ نہ ہی ان کا کوئی حق روکا جائے گا۔ اور یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اللہ کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ متقین میں سے ہیں ۔
یہ ایک تصویر ہے جو یہاں اس لئے دکھائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے حق میں یہ شہادت قلمبند کرالیں وہ اسے اس روشن افق پر دیکھیں اور اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں ۔
یہ تو ایک محاذ ہے ‘ دوسری جانب کافر ہیں ‘ وہ کافر جنہیں ان کی دولت کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہے ۔ جن کے لئے ان کی اولاد بھی مفید نہیں ہے ۔ پھر دنیا میں انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ قیامت کے دن اس انفاق کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ انفاق بھلائی کے اس خط مستقیم کے ساتھ جڑا ہو انہیں ہے ‘ جو اللہ نے کھینچا ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو ایمان اور اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ جس کا تصور واضح ہو ‘ جس کا ہدف مستقل ہو اور جن کی راہ اللہ تک جاری ہو ‘ ورنہ پھر بھلائی کا ایک عارضی جذبہ کبھی کبھار پیدا ہوجائے گا مگر وہ مستقل نہ ہوگا ‘ اور وہ ایک ایسا جھکاؤ ہوگا جس کے رخ کو معمولی آندھی پھیرسکے گی ۔ وہ کسی واضح ‘ قابل فہم اور ٹھوس بنیاد پر نہ ہوگا نہ اس کا کسی مکمل اور جامع اور سیدھے نظام حیات سے ربط ہوگا۔
آل عمران 3:115
یہ اہل کتاب مومنین کی ایک روشن تصویر ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے سچائی کے ساتھ ایمان قبول کیا اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گہرائی تک اتر گیا ۔ پھر یہ ایمان پوری طرح کامل اور شامل تھا ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں میں شامل ہوگئے اور دین اسلام کے محافظ بن گئے ۔ اللہ اور روز قیامت پر ایمان لے آئے ۔ انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کئے ‘ اور جس امت کا وہ جزء بن گئے تھے ‘ اس کی اساسی خصوصیت کے مطابق کام شروع کردیا ‘ یعنی یہ خصوصیت کہ وہ خیر امت ہے ۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے پر کاربند ہوگئے ‘ اس سے پہلے بھھی ان کے نفوس خیر طلب تھے ‘ انہوں نے بھلائی کے میدان میں ایک دوسرے کی مسابقت کی ۔ ایک دوسرے سے آگے بڑھے ۔ اس لئے عالم بالا سے ان کے حق میں یہ شہادت نازل ہوئی کہ یہ لوگ یقیناً صالحین میں ہیں ۔ اور ان کے ساتھ یہ سچا وعدہ کیا جاتا ہے کہ ان کا کوئی حق نہ مارا جائے گا ۔ نہ ہی ان کا کوئی حق روکا جائے گا۔ اور یہ بھی کہہ دیا گیا کہ اللہ کو اچھی طرح علم ہے کہ وہ متقین میں سے ہیں ۔
یہ ایک تصویر ہے جو یہاں اس لئے دکھائی جارہی ہے کہ جن لوگوں کی یہ خواہش ہو کہ وہ اپنے حق میں یہ شہادت قلمبند کرالیں وہ اسے اس روشن افق پر دیکھیں اور اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کریں ۔
یہ تو ایک محاذ ہے ‘ دوسری جانب کافر ہیں ‘ وہ کافر جنہیں ان کی دولت کچھ فائدہ نہیں دے رہی ہے ۔ جن کے لئے ان کی اولاد بھی مفید نہیں ہے ۔ پھر دنیا میں انہوں نے جو کچھ بھی خرچ کیا وہ ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ قیامت کے دن اس انفاق کا انہیں کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ انفاق بھلائی کے اس خط مستقیم کے ساتھ جڑا ہو انہیں ہے ‘ جو اللہ نے کھینچا ہے ۔ یعنی وہ بھلائی جو ایمان اور اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ جس کا تصور واضح ہو ‘ جس کا ہدف مستقل ہو اور جن کی راہ اللہ تک جاری ہو ‘ ورنہ پھر بھلائی کا ایک عارضی جذبہ کبھی کبھار پیدا ہوجائے گا مگر وہ مستقل نہ ہوگا ‘ اور وہ ایک ایسا جھکاؤ ہوگا جس کے رخ کو معمولی آندھی پھیرسکے گی ۔ وہ کسی واضح ‘ قابل فہم اور ٹھوس بنیاد پر نہ ہوگا نہ اس کا کسی مکمل اور جامع اور سیدھے نظام حیات سے ربط ہوگا۔
آل عمران 3:116
یوں اس حقیقت کو ایک ایسے منظر کی صورت میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس میں حرکت ہی حرکت ہے ۔ اور یہ حرکت زندگی سے بھرپور ہے اور یہ قرآن کا حسین و جمیل طرز تعبیر ہے ‘ جس میں ایک نظری حقیقت بھی متحرک نظر آتی ہے ۔ “
ان کفار کے اموال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آئے گی ‘ وہ اپنے جرائم کا جرم ادا نہ کرسکیں گے ‘ اس لئے کہ وہاں نہ زور چلے گا اور نہ زر۔ یہ لوگ جہنمی ہیں اور وہ دنیا میں جو مال بھی خرچ کرتے ہیں وہ اکارت ہوجائے گا اور بےاثر ہوگا۔ اگرچہ انہوں نے جن کاموں میں مال خرچ کیا وہ اسے کار خیر سمجھتے ہیں ۔ اس لئے کہ خیر وہی ہوتی ہے جس کی کونپلیں شاخ ایمان سے پھوٹیں اور جن کا تعلق ایمان سے ہو ‘ لیکن قرآن کریم اس کی تعبیر اس طرح نہیں کرتا جس طرح ہم کرتے ہیں ۔ وہ اس حقیقت کو ایک زندہ اور متحرک منظر کی صورت میں پیش کرتا ہے ‘ جو نبض کی طرح متحرک ہو ۔
آل عمران 3:117
ہم ایک ایسے مقام پر کھڑے ہیں جس کے سامنے ایک ہر ابھرا کھیت ہے ‘ اس کی فصل کٹائی کے لئے تیار ہے ۔ کھیت لہلہارہا ہے ۔ اچانک تیز ہوا چلتی ہے ‘ یہ نہایت سرد برفانی ہوا ہے ‘ شدید سردی کی وجہ سے تیار فصل جل جاتی ہے ‘ یہ دیکھا گیا ہے کہ شدت برودت کی وجہ سے فصل جھلس جاتی ہے ۔ الفاظ اسی طرح استعمال ہوئے ہیں کہ گویا اس کھیت پر بڑی تیزی اور قوت کے ساتھ سنگ باری ہوتی ہے اور پورے پورے کھیت کو برباد اور خراب کردیا جاتا ہے ۔
چشم زدن میں یہ پورا عمل سر انجام پاتا ہے ۔ آناً فاناً کھیت ملیا میٹ اور خراب ہوجاتا ہے ۔ یہی مثال اس دنیا میں ان لوگوں کے انفاق کی ہے جو کافر ہیں ‘ اگرچہ وہ بظاہر کارخیر اور اچھے مقاصد میں خرچ کرتے ہیں نیز ان لوگوں کے اموال اور اولاد بھی کچھ کام نہ دیں گے ۔ قیامت میں سب کے سب بےکار ہوں گے ۔ وہ وہاں نہ کوئی حقیقی دولت ہوں گے اور نہ ان پر کوئی جزاء ہوگی اور نہ مفید بن سکیں گے ۔
وَمَا ظَلَمَهُمُ اللَّهُ وَلَكِنْ أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ……………” اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ‘ وہ خود اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں ۔ “ خود انہوں نے اس نظام زندگی سے روگردانی کی جو تمام انفرادی بھلائیوں اور اچھائیوں کو جمع کرنے والا ہے ‘ ان کو ایک خط مستقیم پر لاتا ہے اور مستحکم کرکے ایک مرکزتک پہنچاتا ہے ۔ جس کا ایک مقرر ہدف ہے ‘ ایک قابل فہم داعیہ ہے ‘ اس میں نیکی کا ایک خاص طریق کار ہے ‘ اس میں نیکی کو کسی عارضی جذبے یا کسی پوشیدہ خواہش اور یا کسی بےربط عمل کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جاتا بلکہ اس میں نیکی اور بھلائی ایک مستقل دائمی منہاج کے مطابق سر انجام دی جاتی ہے ۔
ان لوگوں نے خود اپنے لئے گمراہی اور نافرمانی کا راستہ اختیار کیا ‘ انہوں نے اللہ کی رسی کی حفاظت سے منہ موڑا ‘ جس کی وجہ سے ان کے تمام اعمال اکارت گئے ‘ یہاں تک کہ جو مال انہوں نے بظاہر کارخیر میں صرف کئے وہ بھی ضائع ہوئے ۔ جب ان کا کھیت بھی تباہ ہوگیا ‘ تو پھر ان کا مال ان کے کس کام اور ان کی اولاد ان کے کس کام ؟ یہ ظلم انہوں نے خود اپنے آپ پر کیا ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے خود نافرمانی اور روگردانی کا راستہ اپنے لئے اختیار کیا ۔
غرض یہ فیصلہ کن بات ہے کہ کوئی انفاق فی سبیل اللہ اور کوئی عمل صالح اس وقت تک مفید نہیں ہے جب اس کا رابطہ ایمانی منہاج سے نہ ہو ‘ جب تک وہ ایمانی داعیہ پر مبنی نہ ہو ۔ یہ فیصلہ اللہ کا ہے ‘ یہ اللہ کا کہنا ہے لہٰذا اس میں انسان کے لئے کچھ کہنے کا کوئی موقعہ باقی ہی نہیں رہتا ۔ اس فیصلے کو وہی لوگ چیلنج کرسکتے ہیں جو اللہ کی آیات کو چیلنج کرتے ہیں ‘ لیکن ان کا یہ چیلنج علم و دانش پر مبنی نہیں ہوتا ۔ وہ ہدایت پر مبنی ہوتا ہے ‘ نہ کتاب الٰہی کے روشن دلائل پر۔
یہ سبق جس کا آغاز اہل کتاب کے طرز عمل میں انحراف اور بگاڑ سے ہوا تھا ‘ جس میں بتایا گیا تھا کہ اہل کتاب کے جدال ومناظرے میں کیا کیا مغالطے ہیں ‘ جس میں تفصیلاًبتایا گیا کہ یہ اہل کتاب مسلمانوں کے خلاف کیا کیا سازشیں کررہے ہیں ‘ جس میں جماعت مسلمہ کو بتایا گیا تھا ‘ کہ اس کرہ ارض پر اس کے فرائض اور ذمہ داریاں کیا ہیں ‘ قطع نظر اس سے کہ یہ فاسق ‘ بگڑے ہوئے لوگ جو محاربہ کررہے ہیں وہ کیا کہتے ہیں ۔ اس سبق کے آخر میں جو اس پوری سورت میں طویل سبق ہے ‘ جماعت مسلمہ کو بڑی سختی سے ڈرایا جاتا ہے کہ وہ ہرگز ان لوگوں کے ساتھ خفیہ دوستی نہ رکھے جو اس کے قدرتی دشمن ہیں ۔ اس کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ ان دشمنوں کو اپنا راز دان بنائے یا ان پر بھروسہ کرے ‘ جبکہ وہ ان تمام لوگوں کے بھی پکے دشمن ہیں جو ایمان لائے ہیں ۔ اللہ کی جانب سے آئی ہوئی یہ تنبیہ اور تخویف ایک دائمی اصول ثبت ہوتی ہے اور ہم اس کا مصداق آج بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک ایسی شکل ہے جسے قرآن کریم نے ایک زندہ جاوید صورت میں قلم بند کیا ہے لیکن قرآن کے حاملین آج اس سے غافل ہیں ۔ چناچہ ان کی اس غفلت کی وجہ سے ان پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں اور آئندہ بھی وہ یقیناً شر و فساد سے دوچار ہوں گے اور ان سے توہین آمیز سلوک کیا جائے گا ‘ اگر وہ نہ سمجھے۔
آل عمران 3:118
یہ ایک مکمل تصویر ہے ‘ جو نفس انسانی کی اندرونی کیفیات کی مظہر ہے۔ جو انسان کے ظاہری خدوخال کو بھی پیش کرتی ہے اور اس کی باطنی کیفیات کو اچھی طرح دکھاتی ہے اور انسان کے ظاہری تاثرات کو بھی دکھاتی ہے اور انسان کی آنے اور جانے والی حرکات کا اظہار بھی اس سے ہوتا ہے ۔ اس تصویر میں ایک ایسے انسان کا نمونہ پیش کیا جاتا ہے جو آئے دن ہر جگہ اور ہر زمانے میں ہماری نظروں کے سامنے آتا رہتا ہے اور جماعت مسلمہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے دشمنوں میں کل بھی یہ نمونے نظر آتے تھے اور آج بھی نظر آتے ہیں ۔ یہ ایسے نمونے ہیں کہ جب مسلمانوں کا غلبہ نصیب ہو تو وہ ان کے دوست بن جاتے ہیں لیکن ان کے دل کی ہر دھڑکن ان کی تکذیب کرتی ہے اور ان کا ہر عضو ان کو جھٹلاتا ہے لیکن مسلمان ان سے دھوکہ کھاتے ہیں اور وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور ان پر اعتماد کرتے ہیں لیکن اس کے مقابلے میں وہ لوگ مسلمانوں کے لئے صرف بےچینی اور ناکامی ہی کو پسند کرتے ہیں اور وہ مسلمانوں کو نافرمان بنانے اور ان کے راستوں میں کانٹے بچھانے میں کو فروگذاشت نہیں کرتے ۔ وہ ہر وقت ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں جب بھی انہیں فرصت ملے چاہے رات کو ملے یا دن کو ملے۔
یہ تصویر جس کے عجیب خدوخال قرآن کریم نے بتائے ہیں ‘ اور جس کا اطلاق سب سے پہلے ان اہل کتاب پر ہوتا تھا جو مدینہ میں مسلمانوں کے پڑوس میں رہتے تھے ۔ یہ ایسی تصویر ہے جو اپنے فیچرز سے اس بات کا اظہار کررہی ہے کہ یہ لوگ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف جو پے پناہ کینہ اپنے دلوں میں رکھتے تھے وہ اسے چھپا رہے تھے ۔ یہ رات دن مسلمانوں کے خلاف سازشیں تیار کررہے تھے ‘ اور مسلمانوں کی نسبت ان کی نیت میں ہر وقت کھوٹ پایا جاتا تھا ۔ اور ان کے ان پوشیدہ جذبات میں ہر وقت ابال آتا رہتا تھا ‘ اس کے برخلاف سادہ دل مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ ابھی تک ان میں سے بعض لوگوں کو ان کے بارے میں غلط فہمی تھی ‘ بعض لوگ ابھی تک ان کے لئے اپنے دل میں محبت رکھتے تھے ‘ اور ابھی تک ان کو یہ اطمینان تھا کہ اگر ہم ان کو کوئی راز بتادیں تو وہ انہیں بطور امانت محفوظ رکھیں گے ۔ اس لئے انہوں نے ان اہل کتاب میں سے بعض لوگوں کو جگری دوست ‘ ساتھی اور رازدان بنالیا تھا اور وہ جماعت کے اندرونی راز تک انہیں بتانے سے نہ چوکتے تھے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں یہ روشنی دی گئی جس میں جماعت مسلمہ نے ان کے اندروں کو دیکھ لیا اور حقیقت سے آگاہ ہوگئے ۔ اور اس روشنی کے ساتھ انہیں یہ سخت تنبیہ کی گئی اور انہیں اپنے ان قدرتی دشمنوں کے خفیہ منصوبوں اور سازشوں سے آگاہ کیا گیا ‘ اور یہ بتایا گیا کہ وہ ایسے دشمن ہیں جو کبھی ان کے لئے مخلص نہیں ہوسکتے ‘ مسلمانوں کی جانب سے محبت اور ہم نشینی ان کے اس دلی بغض کو صاف نہیں کرسکتی ‘ یہ تبصرہ اور یہ تنبیہ اسلامی تاریخ کے کسی خاص دور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ‘ بلکہ یہ ایک دائمی حقیقت ہے ‘ یہ ایک دائمی صورت حال کا مقابلہ ہے اور اس کا مصداق ہم اپنے موجودہ دور میں ایک کھلے مشاہدے کے بطور پر اپنے سامنے پاتے ہیں۔
آج مسلمان اپنے رب کریم کے اس حکم سے غافل ہیں ‘ اس نے حکم دیا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی کے ساتھ دوستی نہ رکھیں خصوصاً ایسے لوگوں کے ساتھ جو ان کے مقابلے میں اپنی اصلیت کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں ‘ نظام زندگی کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں اور اپنے وسائل کے اعتبار سے بھی کم تر ہیں ۔ اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ ان پر اعتماد نہ کریں ‘ ان کو راز دان نہ بنائیں اور ان سے کوئی مشورہ نہ لیں ۔ لیکن مسلمانوں کی غفلت کی انتہاء ہے کہ وہ اپنے رب حکیم کا یہ مشورہ بھول چکے ہیں اور ایسے لوگوں کو انہوں نے اپنے لئے ہر معاملے میں مشیر اور مرجع بنایا ہوا ہے ۔ ہر معاملے میں ‘ ہر موضوع پر اور ہر مسئلے کے بارے میں ‘ ہر سوچ میں ‘ ہر فکر میں ‘ ہر منہاج میں اور ہر طریقہ کار میں انہوں نے ان لوگوں کو اپنا استاد ومرشد بنارکھا ہے ۔
اللہ کی اس سخت تنبیہ و تخویف سے آج مسلمان غافل ہیں ‘ وہ ان لوگوں سے دوستی کررہے ہیں جو اللہ اور رسول کے دشمن ہیں ‘ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دریچے ان دشمنوں کے لئے وا کردیئے ہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ پہلی جماعت مسلمہ سے بھی کہتے ہیں اور آج کی جماعت مسلمہ کو بھی کہتے ہیں اور ہر دور کی جماعت مسلمہ کو بھی کہتے ہیں اور آگاہ کرتے ہیں۔
وَدُّوا مَا عَنِتُّمْ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَاءُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ
” تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے ۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے ۔ “
آل عمران 3:119
اور اللہ تعالیٰ مزید فرماتے ہیں :
هَا أَنْتُمْ أُولاءِ تُحِبُّونَهُمْ وَلا يُحِبُّونَكُمْ وَتُؤْمِنُونَ بِالْكِتَابِ كُلِّهِ وَإِذَا لَقُوكُمْ قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا عَضُّوا عَلَيْكُمُ الأنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ
” اور تم ان سے محبت رکھتے ہو ؟ مگر وہ تو تم سے محبت نہیں رکھتے ‘ حالانکہ تم تمام کتب سماوی کو مانتے ہو ‘ جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی مان لیا ہے ‘ مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ وغضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں ۔
آل عمران 3:120
اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
إِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَفْرَحُوا بِهَا……………تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے اور اگر تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں۔ “
بارہا ہم تجربات کے تھپیڑے کھاتے ہیں ‘ مگر ہمیں ہوش نہیں آتی ‘ باربار ہم پر سازشوں اور تخریب کاریوں کا انکشاف ہوتا ہے ‘ جو مختلف بھیس بدل کر کی جاتی ہیں ‘ مگر ہم عبرت حاصل نہیں کرتے ‘ باربار ان دشمنوں کی زبان پر ایسی باتیں آجاتی ہیں جن سے ان کے دلی کینہ کا اظہار ہوتا ہے ‘ جسے مسلمانوں کی مسلسل محبت اور دوستی کے مساعی زائل نہ کرسکیں اور جسے مسلمانوں کی دینی رواداری بھی صاف نہ کرسکی ‘ لیکن ہم پھر بھی وہی کچھ کرتے ہیں اور ان کے لئے اپنے دل کھول دیتے ہیں ‘ ان میں سے دوست چن لیتے ہیں اپنی زندگی میں بھی اور اپنے نظام زندگی میں بھی ۔ اور ان لوگوں کے ساتھ ہماری رواداری اس حد تک پہنچ جاتی ہے یا ہماری روحانی شکست کا یہ حال ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے نظریہ حیات میں بھی ان کے ساتھ مجاملت اور مداہنت کرتے ہیں اور اس رواداری یا روحانی شکست کی وجہ سے ان کے سامنے اپنے نظریہ حیات کے ذکر سے بھی ڈرتے ہیں ‘ ان کے ساتھ ہم اپنے نظام حیات میں بھی رواداری کرتے ہیں اور اسلامی نظریہ حیات کی اساس پر استوار نہیں کرتے ‘ ان کی خاطر ہم اپنی تاریخ میں بھی تحریف کرتے ہیں ‘ اپنے نشانات راہ ان کی خاطر مٹاتے ہیں تاکہ اس تاریخ کے بیان میں ان معرکوں کا ذکر نہ آجائے جن میں ہمارے اسلاف نے ان کے خلاف کامیابیاں حاصل کیں ۔ یہی ذہنی شکست ہے جس کی وجہ سے ہم پر وہ عذاب نازل ہوتا ہے ‘ جو ہر اس قوم پر نازل ہوتا ہے جو اللہ کے امر سے سرتابی کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ذلیل و خوار ہوتے ہیں ‘ ہم ضعیف وناتواں ہوتے ہیں اور ہم شرمندہ اور نامراد ہوتے ہیں اور ہمیں وہ نقصان پہنچ جاتا ہے جس پر ہمارے دشمن خوش ہوتے ہیں اور ہم اس ناکامی اور خرابی سے دوچار ہوتے ہیں ‘ جس کی سازش وہ ہماری صفوں کے اندر کرتے ہیں ۔
لیکن دیکھو ‘ ہماری یہ کتاب ہمیں وہ طریقہ بتاتی ہے کہ کس طرح ہم ان دشمنوں سے جان بچائیں ‘ جس طرح اس کتاب نے یہ سبق پہلی جماعت اسلامی کو بھی سکھایا تھا ‘ کس طرح ہم ان ایذا رسانیوں سے بچیں گے ‘ کس طرح ہم اس کینہ سے محفوظ ہوں گے جو ہمارے خلاف ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے اور کبھی کبھار اس کی چنگاری ان کے منہ سے نکل جاتی ہے۔
وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطٌ……………” مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ‘ جو کچھ یہ کررہے ہیں اللہ ان پر حاوی ہے ۔ “
تو وہ طریقہ صبر اور عزم کا طریقہ ہے اور ان کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا طریقہ ہے ۔ (اگرچہ وہ بہت ہی طاقتور ہوں) اور ان کی مکاری اور سازشوں کے مقابلے میں جم جانے کا طریقہ ہے ۔ اگر وہ سازشوں اور خفیہ ریشہ دوانیوں کا طریقہ اپنائیں تو ہمارا طریقہ صبر اور اپنے نظریہ حیات پر پختگی سے جم جانے کا طریقہ ہوگا۔ بہہ جانے ‘ ختم ہوجانے اور دوسروں کے مقابلے میں ذلیل ہونے کا طریقہ نہیں ہوگا۔ نہ یہ کوئی صحیح پالیسی ہے کہ دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے یا ان کے متوقع شر و فساد کی وجہ سے ہم اپنے تمام نظریات یا بعض نظریات کو ترک کردیں ۔
دشمنان اسلام کے مقابلے میں وہ دوسرا طریق کار خدا خوفی کا طریق کار ہے ۔ صرف ایک اللہ سے ڈرنا اور صرف اس کی نگرانی کا احساس رکھنا ‘ تقویٰ اور اللہ خوفی ہی وہ ذریعہ ہے جس سے انسانی دل اپنے رب سے مربوط ہوجاتے ہیں ‘ ان کا تعلق صرف ان لوگوں سے ہوتا ہے جو اس اللہ کے نظام میں داخل ہوتے ہیں اور وہ صرف اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے ہوئے ہوتے ہیں ۔ جب ایک دل ذات باری کی معرفت حاصل کرلیتا ہے تو پھر اس کے اندر سے اللہ کے سوا تمام دوسری قوتوں کا خوف دور ہوجاتا ہے اور جس قدر عزم پختہ ہوجاتا ہے اسی قدر اللہ سے یہ رابطہ مضبوط ہوتا جاتا ہے ۔ اس لئے وہ کسی کے سامنے نہیں جھکتا ۔ اور نہ ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں ۔ محض اپنی جان بچانے کے لئے یا دنیاوی عزت وناموس کمانے کے لئے ۔
مسلمانوں کے لئے یہی ایک راستہ ہے ‘ صبر وتقویٰ کا راستہ اور اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لینے کا راستہ اور اسلامی تاریخ میں مسلمانوں نے جب بھی تاریخ اسلام میں صرف ایک اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا اور اپنی پوری زندگیوں میں اسلامی نظام حیات اختیار کیا ‘ تو انہوں نے عزت ووقار کا مقام پایا ‘ وہ کامران رہے ‘ اور اللہ نے انہیں دشمنوں کی سازشوں سے بچایا ‘ ان کا کلمہ بلند ہوا ‘ اور اپنی تاریخ میں مسلمانوں نے جب بھی اپنے قدرتی اعداء کی رسی کو تھاما ‘ وہ اعداء جو ان کے نظریہ حیات کے مقابلے میں خفیہ اور اعلانیہ طور پر باغیانہ جدوجہد میں مصروف ہیں ‘ اور جب کبھی مسلمانوں نے ان اعداء کے مشوروں پر کان دھرا اور انہوں نے خفیہ طور پر یا ظاہری طور پر دوست بنایا اور انہیں اپنا معاون ‘ مشیر اور ماہر فن بنایا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے مسلمانوں کی تقدیر میں شکست لکھ دی ‘ ان کے دشمنوں کو ان کی سرزمین میں قوت دی ‘ ایسے مسلمانوں کو ان کے مقابلے میں ذلیل کیا اور وہ نہایت ہی برے انجام تک پہنچتے رہے ۔ اسلامی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ اصول اٹل ہے ۔ یہ اس کی ایسی سنت ہے جس میں کوئی تغیر ممکن نہیں ہے ‘ اور جو شخص اس کرہ ارض پر اللہ کی اس باربار دہرائے جانے والی سنت کا مشاہدہ نہیں کرتا تو اس کی آنکھیں صرف ذلت ‘ کمزوری اور توہین اور ناتوانی کے آثار ہی کا مشاہدہ کرسکیں گی ۔ اس جملے پر یہ سبق اختتام پذیر ہوتا ہے اور اس سورت کا حصہ اول بھی یہاں اختتام پذیر ہوجاتا ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ معرکہ یہاں زوروں پر ہے اور اہل اسلام اور اہل کفر کے کیمپ یہاں آکر مکمل طور پر ایک دوسرے سے جدا ہوگئے ہیں ۔
اس سبق کو ختم کرنے سے پہلے ایک دوسری حقیقت بھی نوٹ کرلینے کے قابل ہے ۔ وہ یہ کہ اسلام اپنے خالص اور کھلے دشمنوں کے ساتھ بھی پوری رواداری برتتا ہے وہ ابھی اہل اسلام کو صرف یہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ اہل کفر کے ساتھ خفیہ دوستی نہ رکھیں لیکن وہ اہل اسلام کو یہ حکم نہیں دیتا کہ وہ کفار کے ساتھ دھوکہ کریں ‘ ان کے ساتھ کینہ رکھیں ‘ یا ان سے نفرت کریں یا ان کے خلاف مکاری اور سازشوں کا اسلوب اختیار کریں ۔ اسلام صرف انہیں یہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچائیں اور اسلامی اتحاد کا دفاع کریں اور اسلامی تشخص کو قائم رکھنے کی تدبیریں کریں یعنی اسلام نے صرف انہیں خطرے سے آگاہ کیا ‘ اپنے دفاع کی طرف انہیں متوجہ کیا اور وہ خطرہ انہیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے تھا ۔ اور اس میں ان کے تمام دشمن شریک تھے ۔
رہے اہل اسلام تو وہ اسلامی رواداری کے مطابق دوسرے لوگوں کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں ‘ لوگوں کے ساتھ ان کا رویہ پاکیزگی اور صفائی پر مبنی ہوتا ہے ‘ وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی سے اور محبت کرتے ہوئے ملتے ہیں ‘ وہ اپنے آپ کو سازشوں سے بچاتے ہیں مگر خود کسی کے خلاف سازشیں نہیں کرتے ‘ وہ دوسروں کے کینہ سے اپنے آپ کو بچاتے ہیں لیکن خود ان کے دل میں کسی کے ساتھ کینہ نہیں ہوتا ‘ الا یہ کہ دوسرے ان کے دین اور نظام حیات کے خلاف بغاوت اور دشمنی کررہے ہوں ‘ وہ ان کے نظریہ حیات میں فتنہ انگیزی کررہے ہوں ‘ اور لوگوں کو اللہ کے صراط مستقیم پر آنے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتے ہوں ‘ اگر ایسے حالات ہوں تو پھر مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ ایسے جنگجو دشمنوں کے ساتھ برسرپیکار ہوں ‘ تاکہ فتنے کو روکا جائے اور ان رکاوٹوں کو دور کیا جائے جو راہ خدا میں کھڑی کردی گئی ہوں ۔ اور اسلامی نظام کے قیام کے لئے سد راہ ہوں ‘ ہاں ایسے لوگوں کے ساتھ جہاد بھی جہاد فی سبیل اللہ ہوگا ۔ صرف ذاتی مقاصد یا ذاتی انتقام کے لئے نہ ہوگا ‘ یہ جہاد پوری انسانیت کی بھلائی کے لئے ہوگا ‘ صرف ان لوگوں کی ذات کے خلاف نہ ہوگا ‘ جنہوں نے اسلام کی راہ کو روکا ۔ اور یہ اس لئے ہوگا کہ اسلامی نظام زندگی کا پیغام جو خیر ہے لوگوں تک بےروک ٹوک پہنچ سکے ۔ اس لئے جہاد و قتال نہ ہوگا کہ مجاہدین دنیا میں تغلب حاصل کریں ‘ انہیں اس کرہ ارض پر سر بلندی نصیب ہو اور وہ لوگوں کا استحصال کریں ‘ بلکہ مقصد صرف یہ ہوگا کہ اسلام کا نظام زندگی قائم کیا جائے جس کے عادلانہ سایہ تلے سب لوگ انصاف کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں ‘ یہ جہاد کسی قوم کا علم بلند کرنے کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی دنیا میں امپریلزم کے قیام کے لئے شروع کیا جاتا ہے۔
یہ وہ حقیقت ہے جس کی تائید قرآن وسنت کی متعدد نصوص سے ہوتی ہے ‘ پہلی جماعت اسلامی کی تاریخ اس کی ترجمان ہے ۔ اور یہ جماعت تو بہرحال اس دنیا میں ان نصوص کے مطابق زندگی گزاررہی تھی ۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلامی نظام زندگی ‘ بھلائی ہی بھلائی ہے ۔ جو لوگ اسلامی نظام کی راہ روکتے ہیں وہ پوری انسانیت کے دشمن ہیں ‘ اور اسلامی نظام کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کا پیچھا کرے اور ایسے لوگوں سے انسانیت قیادت چھین لے ‘ اور یہی وہ فریضہ ہے جس کے لئے اسلامی جماعت اور خیر امت کو اٹھایا گیا ہے۔
آل عمران 3:121
درس 27 ایک نظر میں
اس سے پہلے اس سورت میں ہم مناظرہ اور مباحثہ کے میدان میں تھے ‘ بیانات اور تبصرے ہورہے تھے ‘ ہدایات اور تنبیہات کا ذکر تھا ‘ لیکن اس دوسرے سبق میں ہم کلام وبیان کے میدان سے نکل کر اب سیف وسنان کے میدان جا اترے ہیں ۔ سیف وسنان کا یہ معرکہ ٔ احد کے نام سے مشہور ہے۔
غزوہ احد صرف میدان جنگ میں ہی نہیں لڑا گیا اس معرکے کا میدان بہت ہی وسیع تھا ‘ یہ انسانی ضمیر اور عقائد کے اندر بھی برپا ہوا تھا ‘ میدان جنگ تو اس کے وسیع کارزار کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا ۔ یہ معرکہ نفس انسانی کی گہرائیوں میں ‘ انسان کے تصورات اور اس کے شعور میں ‘ انسانی خواہشات اور اس کے میلانات میں اور اس کے اقدامات اور اس کی رکاوٹوں میں برپا تھا۔ اس معرکہ کے اندر قرآن کریم نے نفس انسانی کی تربیت نہایت ہی لطیف ‘ گہرے ‘ موثر اور جامع طریقہ تربیت کے مطابق کی اور اس پر قرآن نے ان دشمنوں پر زیادہ توجہ دی جو میدان معرکہ میں اسلام کے خلاف برسر پیکار تھے ۔
اس معرکہ میں داخل ہوتے ہیں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی لیکن انجام کار یہ فتح شکست میں بدل گئی۔ آغاز فتح مبین سے ہوا اور انجام ہزیمت اور شکست وریخت سے ہوا ‘ لیکن اس شکست وریخت کے نتیجے میں مسلمانوں کو علم ومعرفت واقفیت اور تجربے کے میدان میں واضح فتح نصیب ہوئی ‘ ان کی آنکھیں کھل گئیں ‘ انہوں نے اپنی آنکھوں سے وہ حقائق دیکھ لئے جنہیں قرآن نے بار بار بیان کیا تھا۔ ان کا شعور ان حقائق کے حوالے سے یقین کی حد تک پختہ ہوگیا ‘ ان کے نفوس پاک ہوگئے ‘ ان کی صفوں میں گندے عناصر چھٹ کر الگ ہوگئے ‘ اور جماعت مسلمہ آگے بڑھنے لگی ۔ وہ ان لوگوں کے بوجھ سے آزاد ہوگئی جن کے نظریات صاف ستھرے نہ تھے ‘ جن کی اقدار حیات ناپختہ تھیں ‘ جن کی فکر ڈانواڈول تھی ۔ یہ مسئلہ یوں حل ہوا کہ اسلامی صفوں سے منافقین کی اکثریت چھٹ کر الگ ہوگئی ‘ نفاق کی علامات واضح ہو کر سامنے آگئیں اور سچائی کے اوصاف نکھر کر واضح ہوگئے ۔ اقوال میں بھی اور افعال میں بھی ۔ شعور میں بھی اور طرز عمل میں بھی اس معرکے کے نتیجے میں یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ایمان کے تقاضے کیا ہیں ‘ دعوت ایمانی کے تقاضے کیا ہیں ‘ اور تحریک ایمانی کو لے کر اٹھنے کے تقاضے کیا ہیں ۔ نیز اس تحریک کو لے کر چلنے کے لئے کس قدر علمی استعداد کی ضرورت ہے ‘ کس قدر یکسو ہوکر تیاری کی ضرورت ہے ‘ اور کس قدر مستحکم تنظیم کی ضرورت ہے ۔ اور اس تنظیم وانتظامات کے بعد کس قدر سنگین سمع و اطاعت کی ضرورت ہے ۔ اور تنظیم اور سمع و اطاعت کے بعد کس قدرتوکل علی اللہ کی ضرورت ہے ۔ اس راہ کے ہر قدم پر اللہ پر مکمل بھروسے کی ضرورت ہے اور پوری جدوجہد کرکے بھی نتیجہ ‘ نصرت کی شکل میں ہو یا شکست کی صورت میں ‘ اللہ پر چھوڑدینا ہے۔ زندہ رہ کر غازی ہونا یا مر کر شہید ہونا ہے ‘ کیا کرنا ہے اور کدھر جانا ہے یہ سب امور اللہ کے ہاتھ میں دے دینا ہے۔
ان واقعات کے نتیجے میں جماعت مسلمہ کے جو بیلنس شیٹ بنی اور ان واقعات کے بعد جماعت کو قرآن کریم نے جو ہدایات دیں ‘ اپنی قدر و قیمت کے اعتبار سے وہ اس مال غنیمت کے مقابلے میں بہت زیادہ اہم تھیں جو فتح مبین کی صورت میں مسلمانوں کو حاصل ہوتا ‘ اس صورت میں کہ مسلمان احد کے میدان سے فتح ونصرت لے کر واپس ہوتے ۔ اس لئے کہ اس دور میں مسلمانوں کو ان تجربات کی ضرورت ہزار درجے زیادہ تھی بہ نسبت اس کے کہ وہ میدان سے فتح ونصرت اور مال غنیمت لے کر لوٹتے ۔ اس طرح جماعت مسلمہ کے بعد آنے والی امت کے لئے تجربات کا جو سرمایہ چھوڑا گیا وہ زیادہ اہم اور باقی رہنے والا تھا ‘ بہ نسبت اس فتح اور مال غنیمت کے جو فتح کی صورت میں مسلمان حاصل کرتے ۔ اس شکست کے پس منظر میں عالم بالاکا منصوبہ یہ تھا کہ اس واقعہ کے ذریعہ وہ نقائص ظاہر کردئیے جائیں جو مسلمانوں کی صفوں میں پائے جاتے تھے مثلاً ان کی جسمانی کمزوریاں ‘ اخلاقی کمزوریاں اور فکری ژولیدگی ۔ اور ظاہر ہے کہ صرف شکست کھانے کی صورت ہی میں یہ کمزوریاں ظاہر ہوسکتی تھیں ۔ عالم بالاکا منصوبہ یہ تھا کہ اس وقت ‘ اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ‘ ٹھیک قدرتی طور پر اور سلسلہ اسباب کے اندر ‘ مسلمانوں کو شکست ہو ‘ اور اس وقت مسلمانوں کے لئے یہ شکست زیادہ مفید تھی ‘ تاکہ جماعت مسلمہ ان تجربات سے دوچار ہو اور اسے عبرت حاصل ہو اور اس طرح اس کی عملی تربیت ہو ‘ اس کی سوچ پختہ ہوجائے اور وہ واقعات کو اپنے فطری انداز میں سمجھے ‘ نیز اس کی صفوں میں کھرے اور کھوٹے کا امتیاز ہوجائے ۔ اس کی تنظیم اور تربیت میں جو جھول پائی جاتی تھی وہ دور ہوجائے اور پھر آنے والی امت کے لئے تجربات اور واقعات کا ایک عظیم سرمایہ ریکارڈ پر آجائے ‘ جو اس قدر قیمتی ہو کہ جس کی قیمت نہ چکائی جاسکتی ہو ‘ یعنی اس معرکے میں فتح ونصرت سے بھی اس کی قیمت زیادہ ہو ۔
یہ معرکہ میدان کارزار میں ختم ہوا اور اب قرآن کریم کے صفحات میں اسے لیا گیا ‘ جو میدان جنگ سے بڑا میدان ہے ‘ پھر یہ معرکہ نفس انسانی کے میدان میں شروع ہوا اور آخر کار وہ جماعت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کے میدان میں شروع ہوا ‘ یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت سے اس جماعت کو بنایا ‘ علم و حکمت کی اساس پر اور تجزیہ وبصیرت کی روشنی میں اور پھر جس طرح اللہ تعالیٰ کی مرضی تھی اس کے مطابق یہ جماعت تیار ہوئی ۔ اسی میں اس جماعت کی بھلائی تھی کہ اسے ضرر پہنچے ‘ اسے اذیتیں دی جائیں ‘ اسے مبتلائے مصیبت کیا جائے ‘ اور اسے رنج والم سے دوچار کیا جائے ۔
اس معرکہ کے واقعات پر یہاں جو اختتامیہ دیا گیا ہے اور جو تبصرہ کیا گیا ہے اس میں جو چیز قابل التفات اور قابل تعجب ہے وہ یہ ہے کہ اس میں معرکہ کے مناظر اور واقعات کے بیان کے ساتھ ساتھ ان واقعات کے بارے میں ہدایات بھی ساتھ ساتھ موقعہ پر دی گئی ہیں اور ان ہدایات کے ساتھ ایسی ہدایات بھی دی گئیں ہیں جن سے تزکیہ نفس اور تطہیر قلب ونظر کا سامان کیا گیا ہے ۔ مسلمانوں کے افکار کو گرد و غبار سے صاف کیا گیا ہے ۔ ان کے افکار و تصورات کو خواہشات نفسانیہ کے قیود سے آزاد کیا گیا ہے ‘ مسلمانوں کے کردار سے طمع و لالچ ‘ بغض وکینہ ‘ حرص اور بخل ‘ پوشیدہ خواہشات اور فسق وفجور کو بڑی حکمت کے ساتھ پاک کیا گیا ہے ۔
اور ان تعقیبات اور تبصروں میں خصوصاً معرکہ کارزار کے واقعات کے اندر سودی کاروبار سے بھی بحث کی گئی ہے اور سود خوری سے روکا گیا ہے جو بظاہر بےجوڑ نظر آتی ہے اور اس کے بعد یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر اہم معاملے میں مشورہ ضرور کیا جائے ‘ اور اس پر عمل کیا جائے ‘ اس کے باوجود جنگ احد کے بارے میں جو شوریٰ ہوئی اور فیصلے ہوئے ‘ اس کے نتائج بظاہر اچھے نہ نکلے تھے اور جنگ میں شکست ہوگئی تھی ۔ یہ بات بھی قابل تعجب ہے (تفصیلی بحث بعد میں آتی ہے)
پھر اس کے بعد قرآن کریم ‘ اس موقعہ پر انسانی نفسیات پر بھی بحث کرتا ہے ‘ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو لے لیتا ہے ۔ اس زندگی کے مختلف پہلوؤں اور مختلف حرکات کے مباحث کو ایک دوسرے کے اندر ملادیا جاتا ہے ۔ یہ مختلف النوع مباحث ایک دوسرے کے ساتھ متکامل نظر آتے ہیں اور بعض اوقات یہ عجیب نظر آتے ہیں۔
لیکن جو لوگ اس ربانی طریقہ کار سے واقف ہیں انہیں وسیع اور مختلف النوع مباحث کی ملاوٹ اور ایک دوسرے کے ساتھ گذ مڈ کرنے پر کوئی تعجب نہیں ہوتا ‘ اس لئے تحریک اسلامی جس معرکہ میں کو دی ہے ‘ وہ صرف میدان کارزار ہی کا معرکہ نہیں ہے جس میں صرف اسلحہ ‘ گھوڑے اور افراد کار سازوسامان درکار ہوتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ جنگی تدابیر اور جنگی چالیں کام میں لائی جاتی ہیں ۔ بلکہ یہ ایک وسیع اور ہمہ گیر معرکہ ہوتا ہے اور میدانی جنگ اس کا ایک حصہ یا شعبہ ہوتا ہے ۔ اصل معرکہ وہ عظیم کشمکش ہے اور تھی جو انسانی ضمیر کی دنیا میں برپا ہوتی ہے ‘ یہ کشمکش اس وقت جماعت کی اجتماعی تنظیم کے اندر برپا تھی ‘ اس معرکہ کا تعلق انسانی ضمیر کی پاکیزگی سے تھا ‘ انسانی ضمیر کو خالص اور خالی کرنا مقصود تھا ‘ اور اسے ان تمام آلودگیوں سے پاک کرنا مطلوب تھا ‘ جن سے اس کی صفائی اور پاکیزگی متاثر ہوتی تھی ۔ اور انسانی ضمیر قرب الٰہی سے دور بیٹھ جاتا تھا ۔ نیز اس معرکے کا تعلق ان تنظیمی امور سے بھی تھا جن پر جماعت مسلمہ کی زندگی کا دارومدار تھا ‘ اسلامی نظام زندگی کے مطابق ‘ یعنی وہ شورائی نظام جس پر پوری اجتماعی زندگی کی عمارت اٹھائی گئی تھی ‘ یعنی صرف نظام حکومت میں ہی نہیں بلکہ پورے اسلامی نظام حیات میں جو باہم تعاون کے اصول پر قائم ہے اور جس میں سود خوری جیسا ظالمانہ نظام ممنوع ہے اس لئے کہ سود خوری اور باہم تعاون دو متضاد اصول ہیں۔
اسلام ‘ جماعت مسلمہ کی تربیت صرف ایک میدانی جنگ کے بعد نقطہ نظر سے نہ کررہا تا ‘ بلکہ وہ اس کی تربیت اس عظیم کشمکش کے حوالے سے کررہا تھا جو وسیع تر میدان میں برپا تھی ‘ انسانی نفس کے میدان میں انسان کی عملی زندگی کے میدان میں اسلام نے ربا کی طرف توجہ کی تو اسے حرام قرار دیا ‘ وہ انفاق کی طرف متوجہ ہوا تو وہ خوشحالی ہو یا بدحالی اس پر لوگوں کو ابھارا۔ اس نے اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کو اللہ کی رحمت کے لئے ضروری قرار دیا ۔ اس نے غصہ پینے اور عفو و درگزر کا حکم دیا ‘ اس نے احسان اور استغفار کا حکم دیا۔ گناہ پر اصرار کرنے سے منع کیا اور توبہ کا حکم دیا ۔ اور ان سب امور کو اللہ کی رضامندی کے اسباب قراردیا ۔ انہیں بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کو تمہارے لئے رحم دل کرکے بھیجا گیا۔ اس نے حکم دیا کہ مشکل سے مشکل اوقات میں شوریٰ کے اصول کو قائم رکھاجائے شوریٰ کے اصول کو قائم رکھا جائے ‘ اس نے حکم دیا کہ معاملات میں راستی کو اختیار کیا جائے اور بددیانتی نہ کی جائے ۔ دولت کو خرچ کیا جائے اور بخل وکنجوسی سے اجتناب کیا جائے ۔ غرض یہ اور دوسری ہدایات غزوہ احد پر تبصرے کے دوران فرمائی گئیں ۔
اسلام نے ان سب احکام کی طرف توجہ دی اس لئے کہ یہ وہ عناصر ہیں جن کے ذریعے جماعت مسلمہ کو وسیع تر معرکہ اور کشمکش کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔ جس میں میدان جنگ میں قتال بھی شامل تھا مگر یہ معرکہ صرف قتال تک محدود نہ تھا بلکہ یہ وسیع تر ذمہ داریوں کا معرکہ تھا تاکہ اس کے نتیجے میں ایک عظیم انقلابی فتح حاصل کی جائے ۔ یہ عظیم اور مکمل فتح اپنی لپیٹ میں نفس انسانی ‘ اس کی تمام خواہشات ‘ اور اس کی ہر قسم کی حرص و لالچ ‘ اس کی تمام کینہ پروری کو لے لے ۔ نیز پر امن حالات میں بھی یہ جماعت مسلمہ کے لئے اقدار واطوار کے میدان میں فتح عظیم پر مشتمل ہو۔
اسلام نے ان تمام امور پر پوری توجہ کرکے یہ فیصلہ کیا کہ پوری انسانیت کی تکوین اور اس کی تشکیل اور اس کی سرگرمیوں کا جائزہ اسلامی نظریہ حیات کے نقطہ نظر کے مطابق لیا جائے اور پوری انسانیت کو ایک ہی محور کے گرد گھمایا جائے ‘ وہ محور کیا تھا ؟ یہ کے بندگی صرف اللہ کی ہوگی ‘ پرستش صرف اللہ کی ہوگی ‘ انسان پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ اللہ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے ‘ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں ‘ اور اللہ کا منہاج زندگی اس پوری کائنات پر چھاجائے اور پوری انسانیت اپنے حالات میں سے ہر حال میں اسی منہاج کے مطابق زندگی بسر کرے ۔ اور انسانی زندگی کے مختلف حالات اسلامی نظام زندگی کے رابطے مربوط ہوں اور انسانی تگ ودو کے تمام نتائج بھی اسلامی منہاج کے نتائج کے مطابق ہوں اور نفس انسانی کی تمام حرکات اور تمام تنظیمات اور انسانی نظم ونسق کی تمام جزئیات ان آخری نتائج کے برآمد ممد اور مؤثر ثابت ہوں۔
اس لئے جنگ احد پر تبصرے کے درمیان کئی دوسرے مباحث پر بھی گفتگو کی گئی جو اس معرکے کے ساتھ بےجوڑ ہرگز نہیں ہیں ‘ اس لئے کہ نفس انسانی جب تک اپنے شعور وادراک اور اپنی عادات اور اخلاق میں فاتح نہ ہوگا وہ معرکہ قتال میں کبھی فاتح نہیں ہوسکتا ۔ اور وہ لوگ جو مقابلے کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگادئیے تھے ۔ (155) اور جو لوگ نظریاتی جنگوں میں ‘ اپنے انبیاء کی قیادت میں سرخرو ہوئے تھے ‘ وہ اس لئے سرخرو ہوئے تھے کہ وہ ان معرکوں میں کودنے سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرچکے تھے اور وہ اللہ تعالیٰ سے کامیابی کی التجا کے ساتھ آگے بڑھے تھے اور اللہ کے مضبوط سہارے پر بھروسہ کرتے ہوئے میدان کارزار میں کودے تھے ۔ اس لئے گناہوں سے پاکیزگی ‘ اللہ کے ساتھ جڑنا ‘ اللہ پر بھروسہ رکھنا دراصل وہ سازوسامان ہے جس کے نتیجے میں نصرت اور فتح نصیب ہوا کرتی ہے ۔ اس لئے ان عوامل کو میدان جنگ سے دور نہیں کیا جاسکتا ‘ لہٰذا سودی نظام معیشت کو ختم کرکے باہم تعاون (Co-operation) کے نظام کو قائم کرنا بھی گویا فتح مندی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے ۔ سودی معاشرے کے مقابلے میں باہمی تعاون وتکافل کا معاشرہ فتح مندی سے زیادہ قریب ہے ۔ اس طرح غصے کو پی جانا اور غلطیوں کو معاف کردینا بھی سامان جنگ میں سے اہم ہتھیار ہے ‘ اپنے نفس امارہ کو قابو میں رکھنا بھی ایک قسم کی جنگی تربیت ہے ۔ معاشرہ کا معاشی لحاظ سے باہم کفیل ہونا ‘ باہم انس اور محبت رکھنا ‘ ایک دوسرے کی کو تاہیاں معاف کرنا وغیرہ بھی ایک ایسی فعال قوت عامل ہے جو فتح کی ضامن ہے ۔
ان عوامل کے ساتھ کچھ مزید حقائق بھی تھے جن پر اس سبق میں شروع سے آخر تک بھروسہ کیا گیا ہے ‘ مثلاً تقدیر الٰہی کی اہمیت اور یہ کہ اللہ نے جن باتوں کا فیصلہ کیا ہوا ہے انہوں نے وقوع پذیر ہونا ہی ہے ‘ اس لئے جو غلطی ہوگئی ‘ اس سلسلے میں اپنے تصورحیات اور اپنے خیالات کو قطعیت کے ساتھ درست کرلیا جائے کہ جو کچھ ہوا وہ سنت الٰہی ہے مطابق ہوا ‘ انسانی سرگرمیوں اور اس کی مساعی ‘ انسان کے درست طرزعمل اور اس کی غلطیوں ‘ انسان کی اطاعت امر اور اس کی معصیت ‘ اسلامی منہاج کو مضبوطی سے پکڑلینا اور اس میں کوتاہی کرنا ‘ ان سب کے نتائج سنت الٰہی کے مطابق مرتب ہوتے ہیں اور سنت الٰہی کے یہ سب مظاہر پردہ تقدیر کے پیچھے سے ٹھیک ٹھیک نمودار ہوتے ہیں اور یہ سب مشیئت الٰہی کے نمونے ہوتے ہیں اور جو کچھ واقع ہوجائے وہ اللہ کے طے شدہ فیصلے ہوتے ہیں ‘ اس لئے ان پر کوئی تأسف کرنے کی ضرورت نہیں۔
اسی نکتے کو آخر میں ‘ جماعت مسلمہ کو خطاب کرتے ہوئے یوں بیان کیا جاتا ہے کہ اگر تمہیں فتح نصیب ہو تو اتراؤ نہیں ‘ اس میں تمہارا کچھ بھی نہیں ہے ‘ تم اللہ کی تدبیر اور اس کی تقدیر کے آلات ہو اور یوں تمہیں جہاد کے میدان میں لاکر اللہ اپنی قدرت کے نمونے دکھارہا ہے ۔ اس لئے اس تمام جدوجہد کا اجر اللہ پر ہی ہے ‘ اس لئے کہ تم اللہ کا کام کررہے ہو ‘ تمہارے لئے بطور استحقاق اس دنیا میں فتح مندی کے ثمرات میں کوئی ثمرہ لازمی نہیں ہے اور نہ فتح لازم ہے ۔ یہ تو اللہ ہے کہ جسے چاہے فتح دے اور وہ یہ فتح دنیاوی مقاصد کے لئے کبھی عطا نہیں کرتا ‘ بلکہ وہ ان مقاصد عالیہ کے لئے عطا کرتا ہے ‘ جو اس کو مطلوب ہیں ‘ اسی طرح شکست بھی جب کسی کے حصے میں آتی ہے تو وہ بھی سنت الٰہیہ کے مطابق واقعہ ہوتی ہے ‘ اور اس کے حقیقی اسباب کود جماعت مسلمہ کے اندر کمزوریوں اور کمیوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں اور شکست میں بھی ‘ اللہ کے علم کے مطابق کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ‘ مثلاً جماعت مسلمہ کا تزکیہ نفس ‘ اس کی صفوں سے غلط لوگوں کا چھانٹ کر الگ کرنا ‘ حقائق اور تلخ حقائق کا اظہار ‘ اعلیٰ قدروں کا استحکام اور حسن وقبح کے پیمانوں کا قیام اور آئندہ آنے والوں کے لئے عبرت اور نصیحت آموزی کے لئے نمونوں اور مثالوں کا قیام ۔
اسلام کی نظر میں عسکری کامیابی ‘ سیاسی کامیابی یا اقتصادی کامیابی کی اس وقت تک کوئی قدر و قیمت نہیں ہے ‘ جب تک یہ کامیابی ربانی نظام حیات کی اساس پر نہ ہو ‘ اور اس سچائی کو غلبہ نصیب نہ ہو جسے اللہ تعالیٰ لوگوں کی زندگیوں میں قائم کرنا چاہتے ہیں ‘ تاکہ ہر فتح اللہ کی فتح ہو اور اسلامی نظام زندگی کے لئے ہو۔ اگر یہ صورت حال نہ ہو تو پھر جو بھی فتح ہوگی وہ جاہلیت کی فتح ہوگی کسی دوسری جاہلیت کے مقابلے میں ہوگی ‘ فتح کے نتیجے میں نہ زندگی کو کوئی فائدہ ہوگا نہ انسانیت کا کوئی بھلا ہوگا۔ بھلائی تو یہ ہوگی کہ بھلائی کے جھنڈے محض سچائی کے لئے بلند ہوں اور سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہے ‘ اس میں تعدد ممکن نہیں ہے اور وہ اسلامی اور الٰہی منہج حیات ہے ‘ جس کے علاوہ کسی اور منہاج کے لئے زندہ رہنے کیا کوئی حق نہیں ہے ۔ اور اسلامی نظام حیات کی فتح اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک یہ فتح سب سے پہلے نفس انسانی کے میدان میں واقع نہ ہو ‘ اس کے بعد انسان کی عملی زندگی میں حق کو یہ فتح نصیب نہ ہو۔ جب نفس انسانی اپنی ذات میں اپنی خودی کو گم کردے ‘ اپنی ذات سے لالچ اور خواہش نفس کو ختم کردے ‘ اسے گندگیوں اور کینہ پروری سے پاک کردے ‘ وہ پوری طرح نفسانی بندھن توڑ دے اور اس کی نظریں صرف ذات باری کی طرف اٹھ رہی ہوں اور وہ ان تمام بوجھوں اور بندھنوں سے آزاد ہوجائے جن میں وہ جکڑا ہوا ہے ‘ غرض جب وہ پوری جدوجہد کرکے اور پوری تگ ودو کے بعد اپنی ظاہری مادی قوت ‘ اپنے مادی وسائل ‘ اپنے ظاہری اسباب سے آزاد ہوکر صرف اللہ کی ذات پر بھروسہ کرنے لگے ‘ اور جب وہ اپنی پوری زندگی کے معاملات میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے کرے اور اللہ کی اس حاکمیت کے قیام کو اپنی تمام جدوجہد اور فتح ونصرت کا مقصد اعلیٰ سمجھے ‘ غرض جب وہ یہ تمام امور اچھی طرح مکمل کرلے توتب میدان کارزار میں اس کی عسکری کامیابی ‘ کسی ملک میں اس کی سیاسی کامیابی اور اقتصادی کامیابی صحیح فتح تصور ہوگی ‘ اور تب جاکر اس کی فتح اللہ کے نزدیک فتح ہوگی ورنہ وہ در اصل وہ ایک جاہلیت کی دوسری جاہلیت پر فتح تصور ہوگی ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس قسم کی فتح کی نہ کوئی قیمت اور نہ کوئی وزن ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ معرکہ بدر پر تبصرہ کے درمیان درج بالا امور پر بھی بحث کی گئی ہے جو بظاہر بےجوڑ نظر آتی ہے ۔ متنوع امور کو اکٹھا کیا گیا ہے اور اس معرکہ پر اختتامیہ اور تبصرہ میں ان تمام امورکو شامل کیا گیا ہے ‘ اور ان امور کو اس وسیع میدان جنگ میں لایا گیا ہے ‘ جس کا ایک حصہ میدان بدر ہے ‘ جس کے بہت سے پہلوؤں میں سے احد ایک پہلو ہے ۔
........ ٭ ٭ ٭ ........
اس سے پہلے کہ ہم معرکہ احد کے واقعات پر قرآنی تبصرہ پیش کریں ‘ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ احد کے واقعات کو اس ترتیب کے ساتھ پیش کردیا جائے جس کے ساتھ وہ کتب سیرۃ میں بیان ہوئے ہیں ۔ تاکہ ہم ان مقامات کو اچھی طرح سمجھ سکیں جن پر اللہ کی جانب سے تبصرہ ہو اور ہم اس بات کا ادراک کرسکیں کہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ تربیت کیا ہے ‘ جو اللہ نے قرآن کریم میں ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے اختیار کیا ہے ؟
حالات یہ تھے کہ مسلمانوں کو بدر میں مکمل فتح نصیب ہوئی تھی ۔ اور یہ ایک ایسا واقعہ تھا اور جن ظروف واحوال میں یہ پیش آیا تھا ‘ ان میں یہ ایک بہت بڑا معجزہ نظر آتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کے ہاتھوں کفر کے علم برداروں اور بڑے بڑے سرداروں کے سر قلم کروائے ۔ جو لوگ قتل ہوئے وہ قریش کے سردار تھے ۔
اس کے بعد ابوسفیان بن حرب قریش کا سردار مقرر ہوا۔ سردار مقررہوتے ہی اس نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لئے تیاریاں شروع کردیں ‘ ابوسفیان کا قافلہ بدر میں مسلمانوں کا ٹارگٹ تھا ‘ جس کے پاس قریش کا کافی تجارتی مال تھا۔ اس قافلے میں وہ بچ نکلا تھا ‘ بدر کے بعد مشرکین نے یہ فیصلہ کیا کہ اس قافلے کا تمام تجارتی سامان بطور ابتدائی سرمایہ مسلمانوں کے خلاف جنگ میں استعمال کیا جائے۔
ابوسفیان نے تین ہزار افراد پر مشتمل ایک فوج تیار کی جو قریش ‘ اس کے حلیفوں اور حبشیوں پر مشتمل تھی ۔ ماہ شوال 3 ہجری میں وہ فوج لے کر نکلا ۔ یہ لوگ اپنے ساتھ اپنی عورتیں بھی لے کر آئے تاکہ ان کے بچاؤ کے جوش میں وہ بھاگنے کی کوشش نہ کریں ۔۔ اس نے مدینہ کا رخ کیا اور جبل احد کے قریب اس نے ڈیرے ڈالے ۔
اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشورہ کیا ۔ سوال یہ تھا کہ آپ باہر جاکر مقابلہ کریں یا مدینہ میں ٹھہر جائیں ۔ خود رسول اکرم ﷺ کی رائے یہ تھی کہ مسلمان باہر نہ نکلیں بلکہ مدینہ کے اندر قلعہ بند ہوجائیں ۔ مرد تنگ گلیوں اور مقامات جنگ پر لڑیں اور عورتیں مکانوں کی چھتوں سے جنگ میں حصہ لیں ۔ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ اس رائے میں رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی بھی موافق اور ہم رائے تھا۔ اس پر صحابہ کرام ؓ کی ایک بڑی تعداد آگے بڑھی اور ان میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جو جوان تھے اور جو بدر کی جنگ میں حصہ نہ لے سکے تھے ۔ ان لوگوں نے مشورہ دیا کہ ہمیں باہر جاکر میدان جنگ میں لڑنا چاہئے ۔ انہوں نے اپنے مشورے پر کافی اصرار بھی کیا ۔ یہ بات ظاہر ہوگئی کہ جماعت میں اکثریت کی رائے یہی ہے ۔ آپ اٹھے اور آپ اپنے مکان ‘ حجرہ عائشہ ؓ میں داخل ہوئے اور اپنی زرہ پہن کر واپس تشریف لائے ۔ اتنی دیر میں ان لوگوں کی رائے بدل چکی تھی ۔ انہوں نے سوچا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو باہر جاکر لڑنے پر خوامخواہ مجبور کردیا۔ اب انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! اگر آپ مدینہ کے اندر رہنے کو پسند فرماتے ہیں تو ایسا کرلیں ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کیونکہ نبی جب اپنی ذرہ پہن لیتا ہے تو وہ اسے اس وقت تک نہیں اتارتا جب تک اس کے اور دشمن کے درمیان اللہ کوئی فیصلہ نہ کردے ۔ “ یوں رسول اللہ ﷺ نے انہیں پیغمبرانہ سبق دیا اور وہ سبق یہ تھا کہ شوریٰ کا ایک مقررہ وقت ہوتا ہے ‘ اور جب شوریٰ کا وقت ختم ہوجائے اور عزم و ارادہ کا وقت آجائے اور طے شدہ فیصلے پر عمل کا وقت آجائے تو اس وقت صرف اللہ پر توکل کیا جاتا ہے ۔ اس کے بعد پھر تردد کا کوئی موقعہ نہیں ہوتا۔ نہ دوبارہ شوریٰ کا انعقاد ہوتا ہے اور نہ آراء کے بارے میں دوبارہ سوچا جاتا ہے ۔ شوریٰ کے بعد تو معاملات اپنے انتہاء کو پہنچ جاتے ہیں اور اب فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو وہ چاہے ظاہر کردیتا ہے۔
اور رسول اللہ ﷺ نے خواب دیکھاتھاق کہ آپ کی تلوار ایک جگہ سے ٹوٹ کر کند ہوگئی ہے اور ایک گائے ذبح ہورہی ہے ‘ اور یہ کہ انہوں نے اپنا ہاتھ ایک مضبوط زرہ میں ڈالا ہے ۔ آپ نے اس خواب کی تعبیر یوں کی ‘ تلوار کند پڑنے کے معنی یہ ہیں کہ میرے خاندان میں سے کوئی شخص فوت ہوگا ‘ گائے ذبح ہونے کی تعبیر آپ نے یہ فرمائی کہ آپ کے کچھ رفقاء قتل ہوں گے اور زرہ کا مفہوم آپ نے مدینہ سے لیا۔ اس لئے اس خواب کے بعد معرکہ احد کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے ‘ لیکن اس کے باوجود آپ نے شوریٰ کے طریقہ کار اور فیصلے پر عمل فرمایا ‘ نیز شوریٰ کے بعد اپنی تگ ودو کے ذریعہ فیصلوں پر عمل کیا ۔ یہ اس لئے کہ آپ ایک امت کی تربیت فرما رہے تھے ‘ اور اقوام کی تربیت وقعات و حوادث سے ہوا کرتی ہے ۔ اور تجربات کا ایک طویل سلسلہ ہوتا ہے جس کانچوڑ چند واقعات کی شکل میں نکلتا ہے ۔ مزید برآں یہ کہ آپ کے فیصلوں کے ذریعہ تقدیر الٰہی کا اظہار ہونا تھا ‘ وہ فیصلے جن پر آپ کا شعور پختہ تھا ‘ جن پر آپ کا دل مطمئن تھا ۔ اس لئے آپ تقدیر الٰہی کے مطابق کام کررہے تھے ۔ لیکن اس کے باوجود آپ کا دل ان واقعات کو محسوس کررہا تھا ۔
بہر حال رسول اکرم ﷺ ایک ہزار صحابہ کرام کو لے کر نکلے ‘ مدینہ میں جو لوگ رہ گئے تھے ‘ ان کو نماز پڑھانے کے لئے آپ نے ابن ام مکتوم کو مقرر فرمایا ۔ جب آپ مدینہ اور احد پہاڑ کے درمیان پہنچے تو رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی اس لشکر سے ایک تہائی حصہ کو لے کر واپس ہوگیا ‘ اس نے یہ کہا کہ وہ میری مخالفت کرتے ہیں اور نوجوانوں کی بات سنتے ہیں ۔ حضرت جابر کے والد عبداللہ عمروبن حرام ‘ نے ان کا پیچھا کیا ‘ انہیں سخت وسست کہا اور باصرار انہیں آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ لوٹ آئیں ۔ اس نے انہیں پکارا ” آؤ اور اللہ کی راہ میں لڑو ‘ یا کم ازکم مدافعت کرو۔ “ انہوں نے جواب دیا :” اگر ہمیں یقین ہوتا کہ آپ لڑتے ہیں تو ہم واپس نہ ہوتے ۔ “ اس پر حضرت عبداللہ انہیں خوب گالیاں دے کر واپس ہوگئے۔
اس کے بعد انصار میں سے بعض لوگوں نے یہ تجویز پیش کی ۔ اس موقعہ پر یہود سے مدد لی جائے جو ہمارے حلیف ہیں ۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس تجویز کو بھی رد کردیا ۔ اس لئے کہ یہ معرکہ دراصل کفر اور ایمان کا معرکہ تھا ‘ یہودیوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہ تھی ‘ اور فتح ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے ۔ اور یہ فتح تب آتی ہے جب اللہ پر توکل کیا جائے اور قلوب اللہ کے لئے خالص ہوجائیں۔ آپ نے فرمایا :” کون لوگ ہیں جو ہمارے ساتھ ان لوگوں کے مقابلے کے لئے ریگستان میں اتریں ۔ “ اس پر آپ کے ساتھ انصار میں سے کچھ لوگ نکلے تو آپ وادی کے آخری حصہ میں اترے ‘ آپ نے اپنی پیٹھ احد پہاڑ کی طرف کی اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس وقت تک جنگ شروع نہ کریں جب تک آپ حکم نہ دیں۔
جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نے سات سو افراد پر مشتمل فوج کو جنگ کے لئے ترتیب دیا ۔ ان میں صرف پچاس گھوڑ سوار تھے ‘ آپ نے پچاس تیر اندازوں پر عبداللہ بن جبیر کو کمانڈر مقرر فرمایا اور ان لوگوں کو حکم دیا کہ آپ گھاٹی میں جہاں ان کی ڈیوٹی لگا رہے ہیں وہ وہاں جمے رہیں اور اس پوسٹ کو کسی حال میں خالی نہ چھوڑیں ‘ اگرچہ وہ دیکھیں کہ پرندے لشکر اسلام کا گوشت نوچ رہے ہوں ‘ یہ لوگ فوج کی پشت پر پہاڑ میں تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ مشرکین پر تیروں کی بارش کردیں تاکہ وہ پشت پر مسلمانوں پر حملہ آور نہ ہوجائیں ۔
ابن عمیر کو جھنڈا دیا اور آپ ﷺ نے فوج کے ایک طرف زبیر بن العوام کو مقرر فرمایا اور دوسری طرف آپ ﷺ نے مصعب ابن عمیر کو مقرر فرمایا۔ احد کے دن نوجوانوں نے اپنے آپ کو جنگ کے لئے پیش کیا ۔ آپ نے ان کا معائنہ فرمایا اور جن کو جنگ میں حصہ لینے کے ناقابل پایا انہیں مسترد کردیا ۔ ان عبداللہ ابن عمرو ‘ اسامہ بن زید ‘ اسید بن ظہیر ‘ براء بن عازب ‘ زید بن ارقم وزید بن ثابت ‘ عرابہ ابن اوس اور عمرابن حزام تھے ۔ اور جن لوگوں کو قابل قراردیا گیا وہ سمرہ ابن جندب اور رافع بن خدیج تھے ۔ یہ پندرہ سال کے تھے ۔
قریش نے تین ہزار فوجیوں کو جنگ کے لئے تیار کیا ۔ ان میں سے دوصد گھوڑ سوار تھے ‘ انہوں نے میمنہ پر خالد ابن الولید اور میسرہ پر عکرمہ ابن ابی جہل کو مقرر کیا ۔
آج رسول اللہ ﷺ نے اپنی تلوار ابودجانہ سماک ابن حرب کو عطا فرمائی اور وہ ایک ایسے بہادر سورما تھے جو جنگ کے وقت نہایت شوکت اور تعلی کا مظاہرہ کیا کرتے تھے ۔
مشرکین میں سے پہلے جو شخص نمودار ہوا وہ ابوعامر فاسق تھا۔ یہ ابوعامر رایب کے لقب سے مشہور تھا ‘ مگر رسول اللہ ﷺ نے اس کا نام ابو عامر فاسق رکھ دیا ۔ یہ شخص دورجاہلیت میں قبیلہ اوس کا سردار تھا ۔ جب اسلام آیا تو وہ اسلام کے خلاف ہوگیا اور اس نے علی الاعلان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عداوت شروع کردی ۔ اس نے مدینہ چھوڑ دیا اور قریش سے جاملا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف جمع کرتا رہا اور انہیں رسول اللہ ﷺ کے خلاف جنگ پر آمادہ کرتا رہا ۔ وہ انہیں یقین دلاتا کہ اس کی قوم جب اسے دیکھے گی تو وہ اس کی بات مان کر رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ دے گی ۔ یہ سب سے پہلے مسلمانوں کے سامنے آیا۔ اس نے اپنی قوم کو پکارا ‘ اور اس نے اپنا تعارف کرایا تو انہوں نے جواب دیا : اے فاسق اللہ آپ کو آنکھیں نہ دے ۔ اس پر اس نے جواب دیا کہ میرے بعد میری قوم تباہ ہوگئی ہے ۔ اس کے بعد اس نے مسلمانوں کے ساتھ شدید جنگ کی ۔
اور جب لڑائی شروع ہوئی تو ابودجانہ نے داد شجاعت دی ۔ ان کے ساتھ ابوطلحہ ابن عبداللہ ‘ حمزہ ابن عبدالمطلب ‘ علی ابن ابی طالب ‘ نضر بن انس اور سعد ابن زبیر نے کارہائے نمایاں سر انجام دئیے ۔ دن چڑھتے ہی مسلمانوں نے کفار کو شکست دے دی ۔ ان میں سے انہوں نے ستر بہادر اور معتبر افراد کو قتل کردیا اور باقی دشمنان خدا ہزیمت اٹھاکر بھاگ گئے ‘ وہ کیمپ میں عورتوں کے پاس پہنچ گئے ۔ عورتوں نے اپنے کپڑے سمیٹ لئے اور بھاگنے لگیں۔
تیراندازوں نے جب دیکھا کہ کفار کو شکست ہوگئی ہے اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے ہیں تو انہوں نے اپنے مقامات خالی کردیئے جہاں انہیں رسول اللہ ﷺ نے مامور فرمایا تھا اور حکم دیا تھا کہ وہ انہیں ہرگز نہ چھوڑیں ۔ ان لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا کہ مال غینمت لٹ رہی ہے یارو ! ان کے امیر نے انہیں رسول اکرم ﷺ کا حکم یاددلایا مگر انہوں نے ایک نہ سنی ۔ ان کا خیال تھا کہ مشرکین اب لوٹیں گے نہیں چناچہ یہ لوگ بھی مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور گھاٹی کو انہوں نے خالی کردیا۔
خالد بن ولید کو یہ معلوم ہوا کہ گھاٹی کو تیراندازوں نے کردیا ہے ‘ اس لئے وہ مشرکین کے گھوڑ سواروں کو لے کر گھاٹی کے راستے حملہ آور ہوئے ‘ انہوں نے دیکھا کہ راستہ خالی ہے ‘ یوں خالد کی جنگی چال کامیاب ہوئی اور وہ مسلمانوں پر پشت کی جانب سے ٹوٹ پڑا اور جس وقت مشرکین اور شکست خوردہ لشکر نے دیکھا کہ خالد مسلمانوں پر چڑھ دوڑا ہے تو انہوں نے آگے کی طرف سے انہیں گھیرے میں لے لیا ۔
اب اس معرکے کی صورت حال مکمل طور پر تبدیل ہوگئی ‘ میدان جنگ مسلمانوں کے خلاف ہوگیا۔ مسلمانوں کی صفوں میں افراتفری مچ گئی ۔ لوگوں کے اندر اضطراب پھیل گیا اور وہ سخت خائف ہوگئے ۔ اس لئے کہ خالد کا حملہ اس قدر ہولناک اور اس قدر اچانک تھا کہ کسی کو بھی اس کی توقع نہ تھی ۔ بہت سے لوگ مارے گئے اور مسلمانوں میں سے جس کی قسمت میں شہادت لکھی ہوئی تھی وہ شہید ہوا۔ اب مشرکین کو رسول اللہ ﷺ تک راہ پانے کا موقعہ مل گیا ۔ آپ تنہاء رہ گئے تھے ‘ آپ کی حفاظت کے لئے اس قدر تھوڑے افرد رہ گئے تھے کہ انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا اور شہید ہوگئے ۔ رسول اکرم ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوگیا ‘ آپ کے نچلے جبڑے اور دانت مبارک زخمی ہوا اور آپ کے سر پر خود ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ‘ مشرکین نے آپ کو پتھروں سے مارا ‘ یہاں تک کہ آپ ایک پہلو پر گرگئے ۔
اس کے بعد آپ ایک گڑھے میں گرگئے جو ابو عامر فاسق نے کھودا تھا اور اوپر سے ڈھانپ دیا تھا کہ مسلمان اس میں گرجائیں اور زرہ کے حلقے آپ کے چہرہ مبارک میں گھس گئے تھے ۔ اس خوفناک صورتحال کے عین درمیان کسی نے یہ آواز دی کہ حضرت محمد ﷺ شہید ہوگئے ہیں ۔ چناچہ اس خوفناک آواز نے ان کی رہی سہی قوت بھی ختم کردی ۔ چانچہ بچے کچھے مسلمان بھاگ کھڑے ہوئے اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کی خبر سن کر وہ اس قدر مایوس ہوئے اور اس قدر کبیدہ خاطر ہوئے کہ ان کی قوت نے جواب دے دیا ۔ اب انہوں نے جنگ کا خیال ہی دل سے نکال دیا۔
تمام لوگ بھاگ کھڑے ہوئے مگر انس بن نضر نہیں بھاگے ۔ وہ حضرت عمر ابن الخطاب ، طلحہ ابن عبداللہ کے پاس پہنچے جو بعض مہاجرین اور انصار کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ انہوں نے ہاتھ لٹکائے ہوئے تھے ‘ تو انہوں نے کہا : تم لوگ کیوں بیٹھے ہوئے ہو ‘ انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ شہید ہوگئے ہیں ۔ تو انہوں نے کہا :” تو رسول اللہ ﷺ کے بعد زندہ رہ کر تم لوگ کیا کروگے ؟ “ اٹھو اور جس مقصد کے لئے رسول اکرم ﷺ نے جان دے دی اس کے لئے جان دے دو ۔ “ اس کے بعد انس ابن نضر کفار پر ٹوٹ پڑے ‘ اس وقت انہیں سعد ابن معاذ ملے اور انہوں نے انہیں پکار کر کہا :” سعد میں جنت کی ہوا احد کے اس پار سے محسوس کررہا ہوں۔ “ اس کے بعد انہوں نے سخت لڑائی کی یہاں تک کہ شہید ہوگئے ۔ ان کے جسم پر ستر سے کچھ اوپر زخم آئے تھے ‘ انہیں کوئی پہچان بھی نہ سکا ۔ آخر کار ان کی لاش کو ان کی بہن نے ان کی انگلیوں سے پہچان لیا۔
اب رسول اللہ ﷺ مسلمانوں کی طرف متوجہ ہوئے ۔ سب سے پہلے انہیں خود کے نیچے سعید بن مالک نے پہچانا ۔ انہوں نے باآواز بلند چیخ لگائی ۔ اے گروہ مسلماناں ! مبارک مبارک ‘ رسول اللہ ﷺ یہ ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ کیا ” خاموش رہو “ مسلمان آپ کے پاس جمع ہوگئے ۔ آپ کے ساتھ گھاٹی پر چڑھ گئے ۔ ان میں حضرت ابوبکر ۔ عمر ابن الحارث ‘ ابن صمہ انصاری وغیرہ تھے ۔ جب وہ پہاڑ پر کافی اوپر چڑھ گئے تو رسول اللہ ﷺ کو ابی ابن خلف ملا ۔ وہ اپنے عود نامی گھوڑے پر سوار تھا ۔ وہ اس گھوڑے کو مکہ میں چارہ دیتے وقت کہتا :” اس پر میں محمد کو قتل کروں گا۔ “ جب رسول اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا :” ان شاء اللہ میں اسے قتل کروں گا ‘ جب رسول ﷺ نے اسے پایا تو حارث نیزہ لیا اور اس سے اللہ کے دشمن کے سینے کی بالائی ہڈی (Collar Bon) پر وار کیا ۔ وہ اس طرح شور کرتے ہوئے بھاگا جس طرح بیل ۔ اسے یقین ہوگیا کہ وہ مارا گیا ہے ۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ نے پیشین گوئی کی تھی ۔ واپس ہونے سے پہلے وہ راستے ہی میں مرگیا۔
اس موقعہ پر ابوسفیان پہاڑ کے اوپر آیا اور آواز دی :” کیا تم میں محمد ہیں ؟ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے جواب نہ دو ۔ پھر اس نے کہا : کیا تم میں ابوصدیق ہیں ؟ پھر بھی مسلمانوں نے جواب نہ دیا۔” کیا تم میں عمر ابن الخطاب ہیں ؟ پھر بھی اسے کوئی جواب نہ دیا گیا ۔ اس نے صرف ان تینوں کے بارے میں پوچھا ۔ اس پر اس نے اپنی قوم سے کہا ” جہاں تک ان تین افراد کا تعلق ہے ان کا کام تم نے تمام کردیا ہے ۔ اس موقعہ پر حضرت عمر ؓ ضبط نہ کرسکے اور کہا :” اے اللہ کے دشمن ! جن کا ذکر تم نے کیا ہے وہ سب زندہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان لوگوں کو باقی رکھا ہے جنہیں تم پسند نہ کروگے ۔ اس کے بعد اس نے کہا بعض لوگوں نے شہداء کی لاشوں کو مثلہ بنایا ہے ۔ میں نے تو ان کو اس بات کا حکم نہ دیا تھا ‘ مگر ان کی اس حرکت پر میں نے برا بھی نہیں منایا ۔ (اس میں اس کا اشارہ اس واقعہ کی طرف تھا جس میں اس کی بیوی ہند نے حضرت حمزہ کی لاش کے ساتھ کیا تھا ۔ حبشی نے جب اسے قتل کیا ‘ ہند نے ان کا پیٹ پھاڑا ‘ ان کا کلیجہ نکالا ‘ اس نے اسے چبایا اور پھر پھینک دیا ۔ )
اس کے بعد اس نے نعرہ لگایا اُعلُ ہُبُل………(ہبل سربلند ہو) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اسے جواب نہیں دے رہے ‘ صحابہ نے کہا ہم کیا جواب دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم کہو اللّٰہُ اَعلٰی وَاَجَلّ……………(اللہ سربلند ہے اور جلیل القدر ہے) پھر اس نے کہا لَنَا عُزّٰی وَلَا لَکُم……………(ہمار امعبود عزیٰ ہے اور تمہارا کوئی عزیٰ نہیں) اس پر پھر رسول ﷺ نے فرمایا تم لوگ اسے جواب نہیں دے رہے ۔ صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا جواب دیں ؟ آپ نے فرمایا تم کہو اَللّٰہُ مَولَانَا وَلَامَولَالَکُم……………(اللہ ہمارا مالک ہے اور تمہارا مالک کوئی نہیں ہے) اس پر ابوسفیان نے کہا :” آج کا دن بدر کے بدلے میں ہے ۔ “ اور جنگ میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے ۔ اس پر حضرت عمر ؓ نے فرمایا :” بالکل برابری نہیں ہے ‘ ہمارے مقتول جنت میں ہیں اور تمہارے مقتول دوزخ میں ہیں ۔ “
جب یہ معرکہ ختم ہوا تو مشرکین لوٹے ۔ اس مسلمانوں کو شک گزرا کہ شاید وہ مدینہ میں جاکر عورتوں کو غلام بنائیں گے اور لوٹ مار کریں گے ۔ یہ بات ان پر بہت ہی بھاری گزری ۔ اس رسول اکرم ﷺ نے فرمایا :” علی ! تم نکلو ‘ ان کے پیچھے پیچھے جاؤ ‘ دیکھو وہ کیا کرتے ہیں ؟ ان کا ارادہ کیا ہے ؟ اگر انہوں نے گھوڑوں کو ایک طرف چھوڑا اور سامان اونٹوں پر لادا تو وہ مکہ کی طرف جارہے ہوں گے اور اگر انہوں نے اونٹوں کو چلایا اور گھوڑوں پر سوار ہوئے تو سمجھو کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کا ارادہ کررہے ہیں۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ اگر انہوں نے مدینہ کا ارادہ کیا تو میں ان کی طرف ضرور چلوں گا اور مدینہ میں ان سے لڑوں گا۔
حضرت علی فرماتے ہیں میں نکلا ‘ ان کے پیچھے چلا ‘ دیکھوں وہ کیا کرتے ہیں ؟ انہوں نے گھوڑوں کو چھوڑدیا اور اونٹوں پر سوار ہوگئے ۔ جب وہ کچھ راستہ طے کرکے آگے نکلے تو انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی ۔ انہوں نے کہا تم نے کچھ بھی نہ کیا ۔ تم نے ان کی قوت کو تو ختم کردیا مگر تم نے ان کو چھوڑدیا ۔ اور ان میں سے بعض سردار ایسے رہ گئے جو تمہارے لے پھر جمع ہوں گے ۔ اس لئے یہیں سے لوٹ جاؤ اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکو ۔ یہ بات رسول اکرم ﷺ تک پہنچی ۔ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں اعلان کیا اور حکم دیا کہ نکلیں اور دشمن کو راستے ہی میں جالیں ۔” اب ہمارے ساتھ وہی شخص جاسکتا ہے جو احد میں حاضر ہوا تھا۔ “ رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن ابی نے درخواست کی کہ ” میں تمہارے ساتھ جاتا ہوں۔ “ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں۔ “ مسلمانوں نے اس قدر خوفناک صورت حال میں بھی آپ کی پکار پر لبیک کہا حالانکہ وہ زخموں سے چور چور تھے ۔ انہوں نے کہا :” ہم نے سنا اور مانا۔ “ حضرت جابرابن عبداللہ نے اجازت چاہی اور کہا اللہ کے رسول میں ہر مقام پر آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں مگر احد کے دن میرے والد نے مجھے روک لیا کہ میں اپنی بہنوں کی حفاظت کے لئے رہوں ۔ اس پر آپ ﷺ نے اسے اپنے ساتھ چلنے کی خصوصی اجازت دی ۔ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان مدینہ سے نکلے ۔ حمراء الاسد تک جاپہنچے ۔ یہاں آپ کو معبد ابن ابومعبد خزاعی آکر ملے ۔ یہ مسلمان ہوگئے تھے لیکن ابوسفیان کو ان کے اسلام کے بارے میں علم نہ تھا۔ رسول ﷺ نے ان سے کہا کہ وہ ابوسفیان سے ملیں اور انہیں ڈرائیں ۔ وہ مقام روحاء میں اسے ملے ۔ ابوسفیان کو اس کے مسلمان ہونے کا علم نہ تھا ۔” معبد تمہارے پیچھے کون آرہا ہے ؟ اس سے ابوسفیان نے پوچھا ۔ اس نے جواب دیا :” محمد اور اس کے ساتھی آرہے ہیں ۔ تم سے وہ جلے ہوئے ہیں اور وہ اس قدر جمعیت کے ساتھ آرہے ہیں ‘ جس قدر جمعیت ان کے ساتھ کبھی نہ نکلی تھی ۔ محمد کے جو ساتھی اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے وہ نادم ہوگئے ہیں۔ “ اس پر ابوسفیان نے کہا :” تمہاری رائے کیا ہے ؟ “ اس نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب تک تم کوچ کرتے ہو ‘ وہ لشکر اس پہاڑی کے پیچھے سے نمودار نہ ہوجائے ۔ “ اس پر ابوسفیان نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اس سے ایک بار پھر پنجہ آزمائی کریں اور ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔ اس پر معبد نے کہا :” ایسا ہرگز نہ کرو ‘ میں تمہارا ناصح مشفق ہوں ۔ اس پر وہ مکہ کی طرف واپس لوٹے ۔
راستے میں ابوسفیان کو بعض مشرکین ملے جو مدینہ جارہے تھے ۔ ابوسفیان نے کہا کیا تم محمد کو میرا یہ پیغام پہنچا دوگے ؟ اگر تم نے ایسا کیا تو میں تمہیں اور تمہارے گھوڑوں کو اپنے ہاں ٹھہراؤں گا جب تم مکہ آؤ۔ تو ان جانے والوں نے کہاں ہاں ہم پیغام دیں گے ۔ اس پر ابوسفیان نے کہا محمد کو یہ پیغام دے دو کہ ہم نے ایک بار دوبارہ جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے تاکہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔ حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا حَسبُنَا اللّٰہَ وَنِعمَ الوَکِیلُ……………(ہمیں اللہ کا فی ہے اور وہ بہترین وکیل ہے ) اور اس پیغام سے ان پر کوئی اثر نہ ہوا ‘ مسلمان تین دن تک وہاں ٹھہرے اور ابوسفیان کا انتظار کرتے رہے ‘ اس کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ مشرکین اپنی راہ پر بہت دور جاچکے ہیں تو مسلمان مدینہ کو لوٹ آئے۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
آل عمران 3:122
یہ دو گروہ کون تھے ؟ صحیحین میں اس بارے میں سفیان بن عیینہ کی حدیث نقل ہے ۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلیم تھے ۔ وہ عبداللہ بن ابی کی دغابازانہ حرکت سے متاثر ہوگئے تھے ‘ اس لئے اس حرکت نے اسلامی صفوں میں پہلے ہی قدم پر اضطراب پیدا کردیا تھا ‘ قریب تھا کہ یہ دو گروہ بزدلی دکھاتے اور کمزور ہوکر بیٹھ جاتے لیکن اللہ کی مدد آپہنچی اور اللہ نے ان کے قدم مضبوط کردئیے ۔ جس طرح اس آیت میں صراحت ہے وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا……………” اور اللہ ان کا مددگار تھا۔ “
حضرت عمر فرماتے ہیں میں نے جابر بن عبداللہ سے سنا ‘ وہ کہتے تھے یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی ہے ۔” یاد کرو جب دو گروہ تم سے بزدلی دکھانے پر آمادہ ہوگئے تھے ۔ “ انہوں نے کہا یہ دو گروہ ہم تھے ‘ بنو حارثہ اور بنو سلیم اور میں ایسا نہیں چاہتا (یا مجھے یہ بات اچھی نہیں آتی ) کہ آیت نازل نہ ہوتی ‘ اس لئے کہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا…………… یعنی اللہ ان کا دوست اور مددگار ہے۔ “ (بخاری ومسلم)
یوں دلوں کی گہرائیوں میں خفیہ اور پوشیدہ بات کو ظاہر کردیا جاتا ہے اور اس بات کا علم صرف اللہ ہی کو تھا کہ یہ قبائل بزدلی پر آمادہ ہیں۔ اس لئے کہ یہ کمزوری ان کے دل میں ایک لحظہ کے لئے در آئی تھی اور فوراً ہی اللہ نے انہیں گرنے سے بچالیا ۔ ان کے دل سے اس کمزوری کو دور کردیا ‘ اور اللہ نے اپنی دوستی کی وجہ سے ان کی تائید فرمائی ۔ اور وہ پیچھے لوٹنے کے بجائے آگے بڑھے ۔ اس معرکہ کے واقعات کو بیان کرنے کے دوران اللہ نے اس کو دہرایا تاکہ اس معرکے کے واقعات اور مناظر کو زندہ وتابندہ صورت میں پیش کیا جائے ۔ اور نفوس انسانی کے دلوں میں جو بات کھٹکتی ہے اسے ریکارڈ پر لایا جائے ‘ اور لوگوں کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے ۔ تمہارے دلوں کی باتوں سے خبردار ہے ‘ اسی لئے اللہ نے فرمایا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ……………” اللہ سننے والا ہے اور خبردار ہے ۔ “ تاکہ ان کے دلوں میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جائے اور انہیں بتایا جائے کہ نجات کی راہ کیا ہے اور ان کے احساس میں یہ بات بٹھائی جائے کہ اللہ ان کا مددگار ہے ‘ معاون ہے اور ان کا دوست ہے اور کسی بھی کمزوری میں ان کا ہاتھ پکڑنے والا ہے ۔ جب وہ گرنے کے قریب ہوں تو وہ ان کا دستگیر ہے ۔ یہ اس لئے کہا کہ انہیں معلوم ہوجائے کہ کمزوری اور ضعیفی کے وقت انہوں نے کہاں سے نصرت طلب کرنی ہے اور کہاں انہوں نے پناہ لینا ہے ؟ اس لئے انہیں اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ جس جہت کے سوا مسلمانوں کے لئے اور کوئی جہت نہیں ہے ۔
وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ……………” اور اہل ایمان کو صرف اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے۔ “
غرض یہ کہ پہلے ہی منظر کی یہ دونوں جھلکیاں نہایت ہی باموقع دکھائی گئی ہیں اور نہایت ہی موزوں فضا میں ‘ جھلکیاں اپنی موسیقی کے زیروبم کو یکجا کرتی ہیں اور نہایت ہی مناسب موقعہ پر اپنے رمزیہ شان کے ساتھ نظروں کے سامنے آتی ہیں ۔ ایسے ماحول میں کہ لوگوں کے دل لبیک کہنے ‘ اثر لینے اور ان حقائق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ان دوتمہیدی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم دلوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے ‘ ان کی تربیت کرتا ہے اور انہیں صحیح سمت پر لگاتا ہے اور اثر اندازی ایسے واقعات کے بطور تبصرہ کی جاتی ہے کہ وہ ابھی تازہ ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ فرق معلوم ہوجاتا ہے جو روایت قصص اور بیان واقعات میں قرآن کریم اختیار کرتا ہے ‘ اور جو طریق بیان عام انسانی مصادر تاریخ میں اختیار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ انسانی مصادر میں واقعات کی بڑی تفصیل ہوتی ہے ۔ لیکن تفصیلات کے باوجود وہ واقعات دلوں میں نہیں اترتے ۔ نہ ان کا انسانی زندگی سے کوئی تعلق ہوتا ہے ‘ نہ ان سے دلوں کو زندہ کرنا ‘ انہیں گرمی عطا کرنا مقصود ہوتا ہے اور نہ انسانوں کی ہدایت وتربیت مطلوب ہوتی ہے جیسا کہ قرآن مجید اپنے بیان قصص میں ان امور کو پیش نظر رکھتا ہے اور نہایت ہی مستحکم اسلوب بیان ہے ۔
یوں اس معرکے کے بیان کا آغاز ہوتا ہے جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب نہ ہوئی اگرچہ وہ فتح ونصرت کے قریب پہنچ گئے تھے ۔ اس معرکے کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ ایک شخص (عبداللہ بن ابی ) اپنے نظریہ حیات کے مقابلے میں اپنی ذات اور شخصیت کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی اتباع میں وہ سب لوگ اس کے پیچھے چلے جاتے ہیں جن کے ذاتی اعتبارات ان کے عقیدے کے مقابلے میں زیادہ اہم تھے ۔ پھر آغاز ہی میں دو گروہ بھی حالات سے قدرے متاثر ہوجاتے ہیں حالانکہ یہ صالح تھے اور اس معرکے کا انجام یوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی فوجی ڈیوٹی کو چھوڑ کر مال غنیمت کے لالچ میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور ان کی وجہ سے ان لوگوں کو بھی ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے جنہوں نے اس معرکے میں قربانی کے اعلیٰ نمونے پیش کئے ۔ محض اس لئے کہ بعض لوگوں نے نظم کی خلاف ورزی کی یا ان کے نظریہ ٔ حیات میں ابھی تک کچھ کمزوریاں موجود تھیں۔
اس سے پہلے کہ اس معرکے کی تفصیلات بیان کی جائیں اور ان پر تبصرہ کیا جائے ‘ جس میں مسلمانوں کو شکست کھانی پڑی ‘ اس معرکے کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی یعنی غزوہ بدر تاکہ اس شکست کے ساتھ اس فتح ونصرت کو بھی وہ پیش نظر رکھیں ۔ اور دونوں کا موازنہ کرکے فتح وشکست کے اسباب پر غور کریں ۔ اور یہ بھی یقین سے جان لیں کہ فتح ونصرت کو بھی وہ پیش نظر رکھیں ۔ اور دونوں کا موازنہ کرکے فتح وشکست کے اسباب پر غور کریں ۔ اور یہ بھی یقین سے جان لیں کہ فتح ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہی کچھ پیش آتا ہے جو اللہ کے ہاں مقرر ہوتا ہے۔ اور تقدیر الٰہی جس طرح نصرت میں کارفرماہوتی ہے ‘ اسی طرح شکست بھی مقدر ہوتی ہے ۔ فتح کی تہہ میں حکمت ہوتی ہے اور شکست کے پس پشت بھی اللہ کی حکمت کار فرماہوتی ہے ۔ اور دونوں حالات میں نتیجہ کار اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے ‘ ہر حال میں وہی ہے جو مسبب الاسباب ہے۔
آل عمران 3:123
بدر میں مسلمانوں کو جو فتح نصیب ہوئی تھی وہ معجزانہ تھی ‘ جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں ۔ یہ فتح مادی اسباب کی نایابی کے باوجود حاصل ہوئی تھی ۔ اس وقت مسلمانوں کے پاس معروف مادی اسباب نہ تھے ۔ اس جنگ میں ترازو کے دوپلڑے یعنی مومنین اور مشرکین متوازن نہ تھے ‘ نہ ہی ان کی حالت ایسی تھی کہ وہ توازن کے قریب ہوں ۔ مشرک ایک ہزار کی تعداد میں تھے ‘ اور وہ جنگ کی خاطر بطور عام لام بندی نکلے تھے ‘ اس لئے کہ ان سے ابوسفیان نے مددچاہی تھی ‘ اور ان کا ہدف بھی متعین تھا وہ یہ کہ ابوسفیان کے قافلے کو بچایا جائے اور یہ ہزار آدمی ہر قسم کے ساز و سامان سے لیس تھے ۔ وہ اپنی دولت کے بچاؤ کے لئے نکلے تھے ۔ نیز اپنی عزت اور شرف کو بھی انہوں نے بچانا تھا۔ اس کے مقابلے میں مسلمان صرف تین فی صد تھے اور وہ اس لئے نہ نکلے تھے ‘ سازوسامان سے لیس اس قدر عظیم فوج سے ‘ ان کا مقابلہ ہوگا وہ ایک ہلکے پھلکے پروگرام کے لئے نکلے تھے ‘ وہ ایک غیر مسلح قفلے پر ہاتھ ڈالنے کے لئے نکلے تھے ‘ اور اس پر ہاتھ ڈالنا چاہتے تھے ‘ قلیل تعداد میں ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے پاس سازوسامان نہ بھی تھا ‘ اور ان کے پیچھے مدینہ میں ابھی تک مشرکین بھی موجود تھے اور وہ بھی اپنی جگہ پر قوت تھے ۔ اس طرح مدینہ میں منافقین کا بھی ایک بڑ طبقہ موجود تھا اور وہ مدینہ کے معاشرے میں اونچامقام رکھتے تھے ۔ اس کے علاوہ مدینہ میں یہودی بھی تھے جو ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے تھے کہ مدینہ میں مسلمانوں پر وار کریں ۔ علاوہ ازیں وہ قلیل تعداد میں مسلمانوں کا ایک گروہ تھے جو جزیرۃ العرب کفر وشرک کی ایک عظیم قوت کے درمیان گھرے ہوئے تھے اور ان سب اسباب کے علاوہ ابھی وہ مظلوم پناہ گزیں تھے ‘ جنہیں مکہ سے نکال دیا گیا تھا ‘ کچھ انصار تھے جنہوں نے ان مہاجرین کو پناہ دی ہوئی تھی ‘ بہرحال اس معاشرے میں ان کی حیثیت ایک نوخیز پودے کی تھی ۔
ان حالات کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ بتاتے ہیں کہ ایسے حالات میں اس قدر عظیم فتح کا حقیقی سبب صرف اللہ تعالیٰ کی نصرت ہی ہے۔
وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ……………” اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرچکا تھا ‘ حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے ‘ لہٰذا تم کو چاہئے کہ اللہ کی ناشکری سے بچو ۔ امید ہے کہ اب تم شکرگزار بنوگے۔ “
صرف اللہ ہی نے انہیں نصرت بخشی اور انہیں اس وجہ سے نصرت بخشی جس کی حکمت کو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ ناصر و مددگار نہ وہ خود تھے نہ کوئی اور تھا ‘ اس لئے اگر انہوں نے کسی سے ڈرنا ہے اور کسی سے خائف ہونا ہے تو چاہئے کہ صرف اللہ سے ڈریں اور اس کا خوف اپنے اندر پیدا کریں ۔ اس لئے کہ فتح وشکست اس کے ہاتھ میں ہے ۔ وہی اللہ ہے جو اقتدار وقوت کا سرچشمہ ہے ۔ اللہ خوفی ہی انہیں شکر پر آمادہ کرسکتی ہے ۔ ہر حال میں ان پر اللہ کا جو انعام واکرام ہورہا ہے ‘ اس پر ان کا فرج ہے کہ وہ اللہ کا پورا پورا شکر ادا کریں ‘ جو ان انعامات واکرامات کے لائق ہو۔
آل عمران 3:124
یہ ایک جھلکی ہے ‘ جس میں انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ بدر میں انہیں کیونکر فتح نصیب ہوئی ‘ اس کے بعد ‘ وہ مناظر پیش کئے جاتے ہیں جو میدان بدر میں وقوع پذیر ہوئے ‘ ان مناظر کو ان کے پردہ دماغ پر ازسر نو اس طرح یاد کیا جاتا ہے کہ گویا وہ ابھی پیش آئے ۔ ذرا دیکھئے
إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ……………” یاد کرو جب تم مومنین سے کہہ رہے تھے ‘ کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ؟ “ بیشک اگر تم صبر کرو ‘ اور اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو ‘ تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئیں گے اسی آن تمہارا رب (تین ہزار نہیں ) پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا ۔ “
یہ کلمات بدر کے دن رسول ﷺ نے ادا کئے تھے ‘ اور ان مٹھی بھر اہل ایمان سے کہے تھے جو آپ کے ساتھ نکلے تھے ‘ جنہوں نے مشرکین کی فوج کو دیکھ لیا تھا ‘ یہ مٹھی بھر مسلمان صرف قافلے کو پکڑنے کے لئے نکلے تھے ‘ جن کے پاس سامان تجارت تھا ‘ ان کے گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ ایک ایسی فوج کے ساتھ آمنا سامنا کریں گے جو سازوسان سے لیس تھی اور اس دن انہیں رسول اللہ ﷺ نے ان امور سے مطلع کردیا تھا ‘ جن امور سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو آگاہ کردیا تھا ‘ تاکہ ان کے دل مضبوط ہوں اور وہ ثابت قدم رہیں ۔ وہ بہرحال انسان تھے ‘ اور انہیں ایسی امداد کی ضرورت تھی جو ان کے تصورات اور ان کے شعور کے قریب الفہم ہو ‘ اور ایک ایسی صورت میں ہو ‘ جس صورت میں وہ کسی معاونت کے عادی تھے ‘ اور انہیں یہ بھی بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ خصوصی امداد دو شرائط کے ساتھ مشروط ہے ‘ ایک یہ کہ تم صبر سے کام لو اور پرہیزگاری کا رویہ اختیار کرو ‘ صبر اس لئے ضروری ہے کہ جب حملہ ہوتا ہے تو اس وقت حملے کے صدمات پر صبر کی ضرورت ہوتی ہے ‘ اور تقویٰ وہ چیز ہے جو انسان کا رابطہ اللہ سے قائم کردیتی ہے۔ چاہے فتح ہو یا ہزیمت ہو۔
آل عمران 3:125
یہاں قرآن کریم انہیں سکھاتا ہے کہ آخر کار تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹتے ہیں ‘ اور تمام اشیاء ار واقعات میں اصل فیکٹر اللہ کی ذات ہے ‘ فرشتوں کا اتارا جانا تو اہل ایمان کے لئے خوشخبری ہے تاکہ ان کے دل خوش ہوں ‘ ثابت قدم ہوں اور انہیں اطمینان و سکون نصیب ہو ۔ رہی نصرت تو وہ براہ راست اللہ کی جانب سے ہے ‘ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے ارادے سے ہے ‘ بغیر کسی واسطہ ‘ بغیر کسی وسیلہ اور بغیر کسی سبب کے ۔
آل عمران 3:126
قرآن کریم نے اسلامی تصور حیات میں مشیئت الٰہی کی کارفرمائی پر بہت زور دیا ہے ۔ اور اسے ہر شک وشبہ سے پاک کرنے کی کوشش کی ہے اور اس بات کا باربار ذکر کیا ہے کہ دنیاوی اسباب کسی صورت میں موثر نہیں ہوتے ۔ اللہ کی قدرت اور مومن کے دل و دماغ کے درمیان ایک خاص رابطہ ہوجاتا ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان حائل پردے اٹھ جاتے ہیں ۔ اللہ اور بندے کے درمیان براہ راست تعلق قائم ہوجاتا ہے اور اس میں کبھی کوئی رکاوٹ قائم نہیں ہوتی ۔ جس طرح عالم موجودات میں اور عالم حقائق میں ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں اس قسم کی ہدایات بار بار دہرائی جاتی ہیں ‘ مختلف اسالیب میں ان کی تاکید کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے دل میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے ‘ وہ اس حقیقت کا ایک عجیب گہرا ‘ روشن اور سنجیدہ شعور رکھتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ وحدہ ہی اس کائنات کے تمام امور میں فاعل اور مؤثر ہے ‘ انہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مامور ہیں کہ وہ اسباب ووسائل فراہم کریں ‘ جدوجہد کریں اور ہر کام کے سلسلے میں اپنی سی کوشش کریں ‘ لیکن اس حقیقت کا بھی انہیں پختہ شعور ہو کہ ہوگا وہی جو اللہ کی مشیئت چاہے لیکن اس پختہ یقین کے ساتھ ساتھ وہ اطاعت کرتے ہیں اور شعوری توازن کے ساتھ ہر وقت وہ متحرک رہتے ہیں ۔ اس کے باوجود قرآن کریم نے یہ شعور ایک عرصہ کے بعد مسلمانوں کی فکر میں بٹھایا ۔ کچھ واقعات پیش آئے ‘ ان واقعات نے مسلمانوں کی تربیت کی ‘ ان واقعات سے نتائج اخذ کئے گئے اور اس سورت میں ایسی تربیت کی کئی مثالیں موجود ہیں۔
ان آیات میں بدر کا منظر نظروں کے سامنے ہے ۔ اس منظر میں رسول اکرم ﷺ اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی جانب سے خصوصی امداد نازل ہوگی بشرطیکہ وہ صبر وثبات سے کام لیں اور معرکے میں انسانوں سے ڈرنے کے بجائے صرف تقویٰ اور اللہ خوفی کی راہ اختیار کریں ۔ عین اس وقت جب ان کا کفار کے ساتھ آمنا سامنا ہو ‘ اس کے بعد یہاں قرآن کریم نزول ملائکہ کے بھی پس منظر میں جاکر یہ باور کراتا ہے کہ اصل قوت فاعلہ ذات باری ہے ۔ تمام امور اس کے ہاتھ میں ہیں اور اس کے ارادے کے تابع ہیں اور صرف اس کے اذن اور اس کے ارادے سے فتح ونصرت نصیب ہوگی ۔ وَللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ……………” اور اللہ ہی بڑی قوت والا اور بینا ہے۔ “ وہ بڑی قوت والا ہے ‘ صاحب اقتدار ہے اور اس بات پر قادر ہے کہ نصرت اور فتح عطاکرے اور اس کے ساتھ وہ حکیم بھی ہے اور اس کی قدرت دانائی کے مطابق جاری وساری ہے ۔ اور وہ فتح اس لئے عطا کرتا ہے کہ اس میں اس کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔
آل عمران 3:127
اس کے بعد اس نصرت کی حکمت بھی یہاں بیان کردی جاتی ہے ‘ کیسی فتح ؟ وہ فتح جس کے مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی انسان کی ذات سے وابستہ نہیں ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ فتح اللہ کی جانب سے آتی ہے ۔ وہ اللہ کی تقدیر کو ظاہر کرتی ہے ۔ کسی رسول اور اس کے ساتھیوں کو فتح کی صورت میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ملتا ۔ نہ اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض ہوتی ہے۔ نیز حصول فتح میں نہ رسول کا دخل ہوتا ہے نہ اس کے ساتھ اس میں دخیل ہوتے ہیں ۔ وہ تو تقدیر الٰہی کے ظہور کے لئے ایک مظہر ہوتے ہیں ۔ قدرت انہیں جس طرح چاہتی ہے ‘ استعمال کرتی ہے ۔ وہ اس فتح ونصرت کا نہ سبب حقیقی ہوتے ہیں نہ اس کے صانع ہوتے ہیں ۔ وہ نہ فاتح ہوتے ہیں اور نہ ہی اس فتح کے نتیجے میں مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ دست قدرت اپنے بعض اشخاص کو حرکت میں لاتا ہے ۔ پھر خود ان کی تائید کرتا ہے تاکہ اللہ کے پیش نظر جو حکمتیں ہوں ان کا ظہور ہو اور جو مقاصد ہوں وہ بروئے کار لائے جائیں ۔
لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا……………” تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے۔ “ وہ قتل ہوں اور ان کی افرادی قوت کم ہو ‘ ان کی اراضی ان ہاتھوں سے نکلے اور ان کا رقبہ کم ہوتا جائے۔ یا ان کی جابرانہ حکومت کا دائرہ تنگ ہوجائے۔ ان کی دولت میں بوجہ مال غنیمت کمی آجائے اور ہزیمت اور شکست کے نتیجے میں ان کی سرگرمیوں میں کمی آجائے۔
أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَائِبِينَ……………” یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہوجائیں ۔ “ یعنی ذلیل ہوکر ہزیمت اٹھائیں اور اپنے مقاصد میں ناکام ہوکر لوٹیں جبکہ وہ دبے ہوئے ہوں۔
آل عمران 3:128
أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ……………” یا انہیں معاف کردے۔ “ اس لئے کہ بعض اوقات اہل اسلام کی فتح کے نتیجے میں کفار کو عبرت حاصل ہوتی ہے اور وہ سبق حاصل کرلیتے ہیں اور اس فتح کے نتیجے میں وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں ‘ نتیجتاً اللہ انہیں معاف کردیتا ہے ۔ ان سے صفت کفر چلی جاتی ہے اور وہ راہ ہدایت پاکر اسلام پر جم جاتے ہیں۔
أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ……………” چاہے انہیں سزادے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ “ عذاب کی ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ اہل اسلام ان پر غالب آجاتے ہیں ‘ دوسری صورت قید ہونے کی
صورت میں وہ عذاب پاتے ہیں یا ان کا خاتمہ کفر پر ہوجاتا ہے اور انجام کار وہ سزائے جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ یہ سزا ان کو اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ کفر کرکے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں ‘ مسلمانوں کو فتنے میں ڈالتے ہیں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ نیز وہ اس اصلاحی نظام حیات کے مقابلے میں اتر کر ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں جو اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کی صورت میں دنیا میں نافذ ہونے کے لئے آیا ہے ۔ غرض وہ سب مظالم اس میں شامل ہیں جو کفر کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور جن کی وجہ سے اللہ کی راہ کو مسدود کیا جاتا ہے ۔
بہرحال یہ سب پروگرام حکمت الٰہی کے تحت ہوتا ہے اور اس میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس آیت کی رو سے خود رسول اللہ ﷺ کی ذات کو بھی اس پروگرام میں دخل انداز ہونے سے خارج کیا جاتا ہے ۔ اور ان امور میں فیصلے کا اختیار صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ ایسے فیصلے ذات باری کے شایان شان ہیں ۔ ان میں ذات باری منفرد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔
یوں اہل ایمان کی ذات فتح و کامرانی کے ساتھ اس منظر سے باہر آجاتی ہے ۔ وہ خود فتح و کامرانی کے اسباب کے دائرے سے نکل جاتے ہیں اور اس کے نتائج میں ان کا کوئی دخل نہیں رہتا ۔ یوں وہ اس کبر و غرور سے محفوظ رہتے ہیں جو فاتحین کے دلوں میں بالعموم پیدا ہوجاتا ہے ‘ نیز وہ سخت گیری ‘ غرور اور احساس برتری سے بھی مامون ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے اکثر فاتحین پھولے نہیں سماتے اور ان کے روح اور طرز عمل غیر متوازن ہوتے ہیں ۔ چناچہ اہل ایمان محسوس کرتے ہیں کہ فیصلے کے اختیارات ان کے پاس نہیں ہیں ۔ اختیارات تو سب کے سب اللہ کے پاس ہیں ۔
غرض لوگ مطیع فرمان ہوں یا نافرمان ہوں ان سب کے امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ کہ لوگوں کی قسمت کے فیصلے ‘ خواہ وہ اچھے لوگ ہوں یا برے ‘ اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں ۔ یہ ہے تحریک اسلامی کی حقیقت اور یہ ہے اس میں لوگوں کا مقام چاہے وہ اچھے ہوں یا برے ہوں۔ اس میدان میں خود رسول اکرم ﷺ اور اہل ایمان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اچھے طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دیں ۔ اور نتائج اللہ پر چھوڑدیں ۔ وہ اپنے کئے پر صرف اللہ سے اجر کے طلب گار ہوں ‘ وہ انہیں پورا پورا اجردے گا اور ان کا والی اور مددگار ہوگا۔
یہ آیت کہ ” فیصلے کے اختیارات میں تمہارا کوئی دخل نہیں ہے “ اس لئے بھی یہاں لائی گئی ہے کہ آنے والی آیت میں بعض لوگوں کی یہ بات نقل ہونے والی ہے ۔ هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ……………” اس کام کو چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ “ (154 : 3) اور یہ کہ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَا هُنَا……………” اگر اختیارات میں ہمارا کوئی حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ۔ “ (157 : 3) اور یہ آیت دراصل ان مزعومات کا پیشگی جواب ہے کہ جی ہاں اختیارات الٰہیہ میں کوئی شریک نہیں ہے ‘ نہ فتح کسی کے اختیار میں ہے نہ شکست ۔ تمہارا کام صرف اطاعت امر ہے ‘ ادائے فرض ہے اور مکمل وفاداری ہے ۔ یہی امور تم سے مطلوب ہیں ۔ ان کے بعد نتائج کیا نکلتے ہیں تو بس یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔ ان میں کسی کا دخل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا بھی دخل نہیں ہے ۔ یہ وہ اصلی حقیقت جو اسلامی تصور حیات کے پیش نظر ہے اور اسے نفس انسانی کی گہرائیوں میں جاگزیں ہونا چاہئے اور اسے واقعات ‘ حالات اور افراد کار سے بھی برتر اور بلند ہونا چاہئے ۔
واقعہ بدر کی یہ یاد دہانی اور اسلامی تصور حیات کے ان اساسی حقائق کا اختتامیہ اس عام حقیقت کے اظہار سے ہوتا ہے کہ آخر کار فتح وہزیمت دونوں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکیمانہ پالیسی کے تابع ہوتی ہیں اور یہاں آکر اس بیان کے خاتمہ پر ‘ اس سے بھی زیادہ عمومی حقیقت کو سامنے لایا جاتا ہے کہ اس پوری کائنات میں اللہ کا امر جاری وساری ہے ۔ اس لئے جسے وہ چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب میں مبتلا کردیتا ہے ۔
آل عمران 3:129
غرض یہ امور اللہ کی مشیئت کے تابع ہیں جو بےقید ہے اور جو اس کی بےقید شہنشاہیت کے ساتھ وابستہ ہے ۔ وہ اپنے بندوں کے معاملات میں بےقید متصرف ہے ۔ جس طرح کہ وہ آسمانوں اور زمینوں کا مالک لاشریک ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ ان میں سے کسی کی جانب داری کرتا ہے نہ مغفرت میں اور نہ سزادہی میں ۔ بندوں کے درمیان وہ فیصلے حکمت اور عدل کے ساتھ کرتا ہے اور حکمت اور عدالت کے ساتھ ساتھ اس کی صفات رحمت اور عفو بھی اپنا کام کرتی ہیں ‘ اس لئے کہ عفو و درگزر ہی اس کے شایان شان ہے ۔
وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ……………” وہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔ “ بندوں کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں ‘ وہ ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت سے فیض یاب ہوسکتے ہیں ‘ ہر وقت لوٹ سکتے ہیں ‘ باز آسکتے ہیں ‘ اس لئے کہ تمام معاملات اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ فرائض جو اس نے عائد کئے ہیں ان کی ادائیگی اور فرائض سے آگے کے معاملات کو ترک کرنا ‘ یہ اس کی حکمت اور مشیئت کی وجہ سے ہے ‘ جس پر کوئی قید وبند نہیں ہے۔ اور اس کی حکمت اور مشیئت اسباب ووسائل کے پیچھے کام کرتی ہے۔
اس سے قبل کہ سیاق کلام معرکہ احد کے مرکزی واقعات کے بیان کا آغاز کرے ‘ ان واقعات کے نتائج ریکارڈ کرے ‘ اور واقعات کی تفصیلات کا ذکر کرے ۔ یہاں اس عظیم معرکہ کے بارے میں ہدایات دی جارہی ہیں ‘ جس کا ذکر ہم نے اس بحث کے آغاز میں کیا ہے ۔ وہ عظیم معرکہ وہ ہے جو انسانی نفیسات کے میدان میں برپا تھا اور ہے جو پوری انسانی زندگی کی سطح پر جاری وساری ہے ۔ اس سلسلے میں یہاں سودخوری اور سودی کاروبار کے بارے میں بات کی جاتی ہے ۔ یہاں اللہ خوفی ‘ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے متعلق بات کی جاتی ہے ۔ یہ حکم دیا جاتا ہے کہ سہولت اور مشکلات کے ہر دور میں انفاق فی سبیل اللہ پر عمل کیا جائے ۔ اسلامی نظام معیشت کے کریمانہ نظام معاونت اور اس کے مقابلے میں سود کی ملعون نظام معیشت کا ذکر ‘ غصہ پی جانا ‘ لوگوں سے عفو و درگزر کرنا اور جماعت مسلمہ کے اندر بھلائی کی اشاعت ‘ گناہوں سے معافی کی طلب گاری اور غلطیوں اور کوتاہیوں پر عدم اصرار کے مباحث کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔
آل عمران 3:130
یہ تمام ہدایات یہاں عین اس وقت جاری ہیں کہ سیاق کلام میں جنگی معرکہ پر بحث شروع ہونے والی ہے ۔ اور ان سے یہاں اسلامی نظریہ حیات کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت کی طرف اشارہ مطلوب ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات انسانی شخصیت اور اس کی سرگرمیوں کو ایک جامع نقطہ نظر سے دیکھتا ہے ۔ اور انسان اور اس کی تگ ودو کو ایک ہی محور کے گرد گھماتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی پوری زندگی میں اللہ وحدہٗ لاشریک کی اطاعت اور پرستش کرنی ہے ۔ ہر معاملے میں صرف اس کی طرف متوجہ ہونا ہے ۔ اور صرف اسلامی نظام حیات ہی پوری زندگی پر حاوی کرنا ہے اور انسانی شخصیت کے تمام احوال اور تمام حالات پر اسلامی نظام حیات کو غالب کرنا ہے اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں میں اسے رائج کرنا ہے۔ اس کے بعد یہ ہدایات انسانی زندگی کی بوقلمونیوں کے درمیان اس ربط کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور سعی انسانی کے آخری نتائج میں اس ربط کے اثرات بھی بیان کئے جاتے ہیں ‘ جیسا کہ اس سے قبل ہم بیان کر آئے ہیں ۔
اسلامی نظام زندگی نفس انسانی کے ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لیتا ہے ‘ وہ جماعت مسلمہ کی زندگی کو پوری طرح منظم کرتا ہے ۔ وہ اس کے درمیان بخرے بخرے کرکے کوئی فیصلہ نہیں کرتا ۔ اس لئے وہ میدان کارزر کے لئے سازوسامان بھی تیار کرتا ہے اور افراد کار کے اندر صلاحیت جنگ بھی پیدا کرتا ہے ۔ وہ اہل ایمان کے دلوں کو بھی پاک کرتا ہے ۔ ان کے ذہنوں کی تطہیر کرتا ہے ‘ انسان کے اندر ایسی اخلاقی قوت پیدا کرتا ہے کہ وہ ہوائے نفس اور جسمانی خواہشات پر قابو پاسکیں ۔ جماعت مسلمہ کے اندر محبت ‘ ملنساری پیدا کی جاتی ہے اور یہ تمام اوصاف ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ۔ جب ہم ان تمام خصوصیات پر تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے اور ان ہدایات میں سے ہر ایک کی تفسیر کریں گے تو معلوم ہوگا کہ تمام اوصاف وہدایات کا جماعت مسلمہ کی عملی زندگی کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اور یہ اوصاف میدان جنگ اور میدان حیات دونوں میں جماعت مسلمہ کی تقدیر کے ساتھ مربوط ہیں ۔
سود اور سودی نظام معیشت پر بحث فی ظلال القرآن پارہ سوئم میں تفصیل کے بیان ہوچکی ہے ۔ اس لئے یہاں ہم اس پوری بحث کو دہرانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ لیکن یہاں اضعاف مضاعفہ کے الفاظ پر غور کرنا مناسب ہوگا۔ اس لئے کہ ہمارے زمانے کے بعض لوگ ان الفاظ کی آڑ لے کر یہ مفہوم بیان کرتے ہیں کہ جو چیز حرام کی گئی ہے وہ اضعاف مضاعفہ ہے ۔ رہا وہ سود جو چار فیصد ہو ‘ پانچ فیصد ہو ‘ سات فی صد ہو ‘ نوفی صد ہو تو وہ اضعاف مضاعفہ نہیں ہے ‘ لہٰذا وہ حرام نہیں ہے ۔
اس کی تردید میں صرف یہی کہنا کافی ہے کہ اضعاف مضاعفہ کی قید دراصل نزول قرآن کے وقت موجود واقعی صورتحال کا اظہار کرتی ہے ‘ یہ قید اس حکم کو محدود اور مشروط نہیں کرتی ۔ سورة بقرہ میں جو آیت وارد ہے وہ قطعی ہے ۔ اور ربا کی ہر صورت کو حرام قرار دیتی ہے ۔ اس لئے اس میں کوئی قید وحد نہیں ہے ۔ وہاں یہ الفاظ نہیں وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا……………” سود میں سے جو کچھ باقی ہے اسے چھوڑدو۔ “ چاہے وہ سود جس شرح سے بھی ہو۔ “
اس اصولی بحث کے بعد اب ہم بتائیں گے کہ ربا کے ساتھ اس صفت اضعاف مضاعفہ کی قید کیوں عائد کی گئی ہے ؟ صرف یہ کہ یہ صفت سودی نظام کی تاریخ کی طرف اشارہ کررہی ہے جس میں سودی کاروبار دوچند چہار چند شرح سے کیا جاتا تھا۔ بلکہ یہ بتاتی ہے کہ سود کی شرح جو بھی ہو سود کے تباہ کن نظام کے ساتھ یہ صفت اضعاف مضاعفہ ایک لازم صفت ہے ۔
سودی نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی سوسائٹی میں پوری دولت کی گردش اس نظام کے مطابق شروع ہوتی ہے ‘ اس لئے سودی کاروبار میں سرگرمیاں سود مفرد کی طرح سادہ سرگرمیاں نہیں ہوتیں۔ اس گردش کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نظام میں مال کی منتقلی بار بار ہوتی رہتی ‘ اس لئے وہ سود مرکب میں تبدیل ہوجاتا ہے ‘ اس لئے بار بار سودی چارج کی وجہ سے بالآخر سود کی رقم کئی گنا ہوجاتی ہے ۔ اور وہ بلاجدال اضعافاً مضاعفہ بن جاتی ہے ۔ اس لئے اپنے مزاج کے اعتبار سے سودی نظام میں دولت دوگنی چوگنی بنتی جاتی ہے۔ اس لئے اضعاف مضاعفہ کا اطلاق اس صورت حال کے اندر منحصر نہ ہوگا جو نزول قرآن کے وقت عرب سوسائٹی میں مروج تھی بلکہ ہر دور میں ہر قسم کے سودی نظام کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ دوگنا چوگنا ہوتا رہتا ہے۔
اور جیسا کہ ہم نے تیسرے پارے میں تفصیلات دی ہیں ‘ اس نظام کی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ لوگوں کی نفسیات اور اخلاق پوری طرح بگاڑ دیتا ہے ۔ نیز یہ نظام ملک کی اقتصادی اور سیاسی صورت حال کو بھی پوری طرح خراب کردیتا ہے ۔ اس لئے اس سودی نظام کے اثرات امت کی اجتماعی زندگی پر پڑتے ہیں اور امت کے انجام پر اس کے اثرات ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے تیسرے پارے میں ذکر کیا ہے۔
اسلام جس وقت امت مسلمہ کی تخلیق کررہا تھا ‘ وہ اس امت کے لئے ایک اخلاقی اور نفسیاتی نظام حیات کی بنیاد بھی رکھ رہا تھا ‘ وہ اس نئی امت کی سیاسی اور اقتصادی زندگی کو بھی صحت مندانہ اصولوں پر استوار کررہا تھا ‘ اس سلسلے میں اس نئی امت کو معرکے درپیش ہوئے اور ان کے جو اثرات مرتب ہوئے وہ تاریخ اسلام کے معروف ومشہور واقعات ہیں ‘ اس لئے جنگی واقعات کے درمیان میں اچانک حرمت ربا کا ذکر بھی قابل فہم ہے اس لئے کہ اسلامی نظام حیات ایک جامع اور حکیمانہ نظام ہے ۔ نیز ربا کی ممانعت کے بعد یہ کہنا کہ اللہ سے ڈرو اور یہ امید رکھو کہ تم پر رحم کیا جائے گا اور پھر یہ کہنا کہ اس آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ‘ یہ دونوں باتیں بھی اس نقطہ نظر سے قابل فہم ہوجاتی ہیں ۔
مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ سے ڈرتا ہو اور اس کے دل میں اللہ کا خوف ہو وہ ہرگز سود نہیں کھاسکتا ‘ نیز جس شخص کے دل میں عذاب جہنم کا خوف ہو ‘ وہ بھی ہر گز سود خور نہیں ہوسکتا ۔ بالفاظ دیگر جو شخص بھی ایمان رکھتا ہو اور اپنے آپ کو کافروں کی لائن سے نکالنا پسند کرتا ہو وہ کبھی سود خور نہیں ہوسکتا ۔ ایمان صرف خالی خولی باتوں کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اسلامی نظام حیات کے قیام اور پوری زندگی کو اسلام کے رنگ میں رنگنے کے لئے ایمان کو ہر اول دستہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بات محال ہے کہ ایمان اور سودی نظام ایک جگہ جمع ہوجائیں جہاں سودی نظام قائم ہوگا ‘ وہ سوسائٹی پوری کی پوری دین اسلام سے خارج تصور ہوگی اور اس کا انجام اس آگ میں ہوگا جسے فی الحقیقت کافروں کے لئے تیار کیا گیا ہے ۔ اس مسئلے میں جو بھی بحث کی جائے وہ غیر ضروری بحث ہوگی ‘ اس لئے کہ اس آیت میں پہلے سودی کاروبار کی ممانعت کی گئی ہے ۔ اس کے بعد اہل ایمان کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کا خوف کریں اور اس حکم پر عمل کریں اور اس آگ سے بچیں جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ یہ مضمون اس نہج پر بےمقصد نہیں لایا گیا نہ اتفاقیہ طور پر اس طرح بیان کردیا گیا ہے ۔ یہ سب ہدایات بامقصد ہیں ‘ بطور تاکید لائی گئی ہیں اور مسلمانوں کے ذہن میں اس حقیقت کو اسی مفہوم میں بٹھانا مقصود ہے ۔
انہیں یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر وہ سودی کاروبار ترک کردیں گے تو وہ امید کرسکتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوں گے ‘ اس لئے کہ کامیابی صرف اللہ کے تقویٰ کے نتیجے میں مل سکتی ہے ۔ تقویٰ کا طبعی انجام فلاح ہے۔ اور فلاح اس لئے کہ انسانوں کی زندگی میں اسلامی نظام قائم کیا جائے ۔ پارہ سوئم میں ہم تفصیل سے بیان کر آئے ہیں کہ اس منحوس سودی نظام نے انسانی معاشروں کو کس طرح تباہ کیا ہے ۔ اور پوری انسانیت کو اس نظام نے کن کن مصائب میں مبتلا کئے رکھا ہے ۔ مناسب ہے کہ پارہ سوئم میں دی گئی مباحث کو ایک بار پھر ذہن نشین کرلیاجائے تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ اسلامی نقطہ نظر سے فلاح کا تصور کیا ہے اور یہ کہ کس طرح فلاح اس بات پر موقوف ہے کہ ہم اس خبیث سودی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔
آل عمران 3:131
یہ تمام ہدایات یہاں عین اس وقت جاری ہیں کہ سیاق کلام میں جنگی معرکہ پر بحث شروع ہونے والی ہے ۔ اور ان سے یہاں اسلامی نظریہ حیات کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت کی طرف اشارہ مطلوب ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات انسانی شخصیت اور اس کی سرگرمیوں کو ایک جامع نقطہ نظر سے دیکھتا ہے ۔ اور انسان اور اس کی تگ ودو کو ایک ہی محور کے گرد گھماتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی پوری زندگی میں اللہ وحدہٗ لاشریک کی اطاعت اور پرستش کرنی ہے ۔ ہر معاملے میں صرف اس کی طرف متوجہ ہونا ہے ۔ اور صرف اسلامی نظام حیات ہی پوری زندگی پر حاوی کرنا ہے اور انسانی شخصیت کے تمام احوال اور تمام حالات پر اسلامی نظام حیات کو غالب کرنا ہے اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں میں اسے رائج کرنا ہے۔ اس کے بعد یہ ہدایات انسانی زندگی کی بوقلمونیوں کے درمیان اس ربط کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور سعی انسانی کے آخری نتائج میں اس ربط کے اثرات بھی بیان کئے جاتے ہیں ‘ جیسا کہ اس سے قبل ہم بیان کر آئے ہیں ۔
اسلامی نظام زندگی نفس انسانی کے ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لیتا ہے ‘ وہ جماعت مسلمہ کی زندگی کو پوری طرح منظم کرتا ہے ۔ وہ اس کے درمیان بخرے بخرے کرکے کوئی فیصلہ نہیں کرتا ۔ اس لئے وہ میدان کارزر کے لئے سازوسامان بھی تیار کرتا ہے اور افراد کار کے اندر صلاحیت جنگ بھی پیدا کرتا ہے ۔ وہ اہل ایمان کے دلوں کو بھی پاک کرتا ہے ۔ ان کے ذہنوں کی تطہیر کرتا ہے ‘ انسان کے اندر ایسی اخلاقی قوت پیدا کرتا ہے کہ وہ ہوائے نفس اور جسمانی خواہشات پر قابو پاسکیں ۔ جماعت مسلمہ کے اندر محبت ‘ ملنساری پیدا کی جاتی ہے اور یہ تمام اوصاف ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ۔ جب ہم ان تمام خصوصیات پر تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے اور ان ہدایات میں سے ہر ایک کی تفسیر کریں گے تو معلوم ہوگا کہ تمام اوصاف وہدایات کا جماعت مسلمہ کی عملی زندگی کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اور یہ اوصاف میدان جنگ اور میدان حیات دونوں میں جماعت مسلمہ کی تقدیر کے ساتھ مربوط ہیں ۔
سود اور سودی نظام معیشت پر بحث فی ظلال القرآن پارہ سوئم میں تفصیل کے بیان ہوچکی ہے ۔ اس لئے یہاں ہم اس پوری بحث کو دہرانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ لیکن یہاں اضعاف مضاعفہ کے الفاظ پر غور کرنا مناسب ہوگا۔ اس لئے کہ ہمارے زمانے کے بعض لوگ ان الفاظ کی آڑ لے کر یہ مفہوم بیان کرتے ہیں کہ جو چیز حرام کی گئی ہے وہ اضعاف مضاعفہ ہے ۔ رہا وہ سود جو چار فیصد ہو ‘ پانچ فیصد ہو ‘ سات فی صد ہو ‘ نوفی صد ہو تو وہ اضعاف مضاعفہ نہیں ہے ‘ لہٰذا وہ حرام نہیں ہے ۔
اس کی تردید میں صرف یہی کہنا کافی ہے کہ اضعاف مضاعفہ کی قید دراصل نزول قرآن کے وقت موجود واقعی صورتحال کا اظہار کرتی ہے ‘ یہ قید اس حکم کو محدود اور مشروط نہیں کرتی ۔ سورة بقرہ میں جو آیت وارد ہے وہ قطعی ہے ۔ اور ربا کی ہر صورت کو حرام قرار دیتی ہے ۔ اس لئے اس میں کوئی قید وحد نہیں ہے ۔ وہاں یہ الفاظ نہیں وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا……………” سود میں سے جو کچھ باقی ہے اسے چھوڑدو۔ “ چاہے وہ سود جس شرح سے بھی ہو۔ “
اس اصولی بحث کے بعد اب ہم بتائیں گے کہ ربا کے ساتھ اس صفت اضعاف مضاعفہ کی قید کیوں عائد کی گئی ہے ؟ صرف یہ کہ یہ صفت سودی نظام کی تاریخ کی طرف اشارہ کررہی ہے جس میں سودی کاروبار دوچند چہار چند شرح سے کیا جاتا تھا۔ بلکہ یہ بتاتی ہے کہ سود کی شرح جو بھی ہو سود کے تباہ کن نظام کے ساتھ یہ صفت اضعاف مضاعفہ ایک لازم صفت ہے ۔
سودی نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی سوسائٹی میں پوری دولت کی گردش اس نظام کے مطابق شروع ہوتی ہے ‘ اس لئے سودی کاروبار میں سرگرمیاں سود مفرد کی طرح سادہ سرگرمیاں نہیں ہوتیں۔ اس گردش کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نظام میں مال کی منتقلی بار بار ہوتی رہتی ‘ اس لئے وہ سود مرکب میں تبدیل ہوجاتا ہے ‘ اس لئے بار بار سودی چارج کی وجہ سے بالآخر سود کی رقم کئی گنا ہوجاتی ہے ۔ اور وہ بلاجدال اضعافاً مضاعفہ بن جاتی ہے ۔ اس لئے اپنے مزاج کے اعتبار سے سودی نظام میں دولت دوگنی چوگنی بنتی جاتی ہے۔ اس لئے اضعاف مضاعفہ کا اطلاق اس صورت حال کے اندر منحصر نہ ہوگا جو نزول قرآن کے وقت عرب سوسائٹی میں مروج تھی بلکہ ہر دور میں ہر قسم کے سودی نظام کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ دوگنا چوگنا ہوتا رہتا ہے۔
اور جیسا کہ ہم نے تیسرے پارے میں تفصیلات دی ہیں ‘ اس نظام کی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ لوگوں کی نفسیات اور اخلاق پوری طرح بگاڑ دیتا ہے ۔ نیز یہ نظام ملک کی اقتصادی اور سیاسی صورت حال کو بھی پوری طرح خراب کردیتا ہے ۔ اس لئے اس سودی نظام کے اثرات امت کی اجتماعی زندگی پر پڑتے ہیں اور امت کے انجام پر اس کے اثرات ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے تیسرے پارے میں ذکر کیا ہے۔
اسلام جس وقت امت مسلمہ کی تخلیق کررہا تھا ‘ وہ اس امت کے لئے ایک اخلاقی اور نفسیاتی نظام حیات کی بنیاد بھی رکھ رہا تھا ‘ وہ اس نئی امت کی سیاسی اور اقتصادی زندگی کو بھی صحت مندانہ اصولوں پر استوار کررہا تھا ‘ اس سلسلے میں اس نئی امت کو معرکے درپیش ہوئے اور ان کے جو اثرات مرتب ہوئے وہ تاریخ اسلام کے معروف ومشہور واقعات ہیں ‘ اس لئے جنگی واقعات کے درمیان میں اچانک حرمت ربا کا ذکر بھی قابل فہم ہے اس لئے کہ اسلامی نظام حیات ایک جامع اور حکیمانہ نظام ہے ۔ نیز ربا کی ممانعت کے بعد یہ کہنا کہ اللہ سے ڈرو اور یہ امید رکھو کہ تم پر رحم کیا جائے گا اور پھر یہ کہنا کہ اس آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ‘ یہ دونوں باتیں بھی اس نقطہ نظر سے قابل فہم ہوجاتی ہیں ۔
مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ سے ڈرتا ہو اور اس کے دل میں اللہ کا خوف ہو وہ ہرگز سود نہیں کھاسکتا ‘ نیز جس شخص کے دل میں عذاب جہنم کا خوف ہو ‘ وہ بھی ہر گز سود خور نہیں ہوسکتا ۔ بالفاظ دیگر جو شخص بھی ایمان رکھتا ہو اور اپنے آپ کو کافروں کی لائن سے نکالنا پسند کرتا ہو وہ کبھی سود خور نہیں ہوسکتا ۔ ایمان صرف خالی خولی باتوں کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اسلامی نظام حیات کے قیام اور پوری زندگی کو اسلام کے رنگ میں رنگنے کے لئے ایمان کو ہر اول دستہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ بات محال ہے کہ ایمان اور سودی نظام ایک جگہ جمع ہوجائیں جہاں سودی نظام قائم ہوگا ‘ وہ سوسائٹی پوری کی پوری دین اسلام سے خارج تصور ہوگی اور اس کا انجام اس آگ میں ہوگا جسے فی الحقیقت کافروں کے لئے تیار کیا گیا ہے ۔ اس مسئلے میں جو بھی بحث کی جائے وہ غیر ضروری بحث ہوگی ‘ اس لئے کہ اس آیت میں پہلے سودی کاروبار کی ممانعت کی گئی ہے ۔ اس کے بعد اہل ایمان کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کا خوف کریں اور اس حکم پر عمل کریں اور اس آگ سے بچیں جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ یہ مضمون اس نہج پر بےمقصد نہیں لایا گیا نہ اتفاقیہ طور پر اس طرح بیان کردیا گیا ہے ۔ یہ سب ہدایات بامقصد ہیں ‘ بطور تاکید لائی گئی ہیں اور مسلمانوں کے ذہن میں اس حقیقت کو اسی مفہوم میں بٹھانا مقصود ہے ۔
انہیں یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر وہ سودی کاروبار ترک کردیں گے تو وہ امید کرسکتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوں گے ‘ اس لئے کہ کامیابی صرف اللہ کے تقویٰ کے نتیجے میں مل سکتی ہے ۔ تقویٰ کا طبعی انجام فلاح ہے۔ اور فلاح اس لئے کہ انسانوں کی زندگی میں اسلامی نظام قائم کیا جائے ۔ پارہ سوئم میں ہم تفصیل سے بیان کر آئے ہیں کہ اس منحوس سودی نظام نے انسانی معاشروں کو کس طرح تباہ کیا ہے ۔ اور پوری انسانیت کو اس نظام نے کن کن مصائب میں مبتلا کئے رکھا ہے ۔ مناسب ہے کہ پارہ سوئم میں دی گئی مباحث کو ایک بار پھر ذہن نشین کرلیاجائے تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ اسلامی نقطہ نظر سے فلاح کا تصور کیا ہے اور یہ کہ کس طرح فلاح اس بات پر موقوف ہے کہ ہم اس خبیث سودی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔
آل عمران 3:132
اس کے بعد یہ آخری تاکید کی جاتی ہے وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ……………” اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کی امید ہوسکے ۔ “ یہ اللہ اور رسول کی اطاعت کا عام حکم ہے ‘ اور اس طاعت عامہ پر اللہ کے رحم کو موقوف کیا گیا ہے لیکن سودی کاروبار کی ممانعت کے بعد بطور نتیجہ اس رحمت خداوندی کا ذکر خالی از حکمت نہیں ہے۔ اس میں ایک خاص مفہوم اور اشارہ بھی مطلوب ہے ۔ وہ یہ ہے کہ کسی ایسے معاشرے میں جس کی اقتصادیات سودی نظام پر استوار ہوں قطعاً اللہ اور رسول کی اطاعت ممکن نہیں رہتی ۔ نیز اس دل میں اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول کا جذبہ ہی نہیں رہتا جو سود کھاتا ہو ‘ چاہے وہ کسی بھی شکل اور کسی بھی صورت میں ہو ‘ اس طرح نہی عن الربا کا یہ نتیجہ اور تعقیب بھی ایک طرح کی مزید تاکید مزید ہے کہ اس منحوس نظام کو ختم کردیاجائے۔
یہاں اطاعت اللہ اور اطاعت رسول ﷺ کی اس تاکید کا تعلق کاروبار ربا کے علاوہ جنگ احد کے ان واقعات کے ساتھ بھی ہے جن میں رسول ﷺ کے واضح احکام کی خلاف ورزی کی گئی تھی ۔ اشارہ یہ مقصود ہے کہ فلاح صرف اس صورت میں نصیب ہوسکتی ہے کہ تم لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ‘ صرف یہی جائے امید ہے اور یہی راہ نجات ہے ۔
اس سے قبل سورة بقرہ پارہ سوئم میں جہاں ہم نے سودی نظام پر بحث کی تھی ہم نے بتایا تھا کہ ذکر ربا کے ساتھ ساتھ وہ انفاق فی سبیل اللہ اور فضیلت صدقہ کا بیان اس لئے کیا گیا ہے کہ اجتماعی نظام میں یہ دونوں باہم مقابل سمتیں ہیں ‘ جن سے دو علیحدہ علیحدہ نظام ہائے اقتصاد کی طرف اشارہ مطلوب ہے ۔ ایک سودی اقتصادی نظام ہے اور دوسرا باہم تعاون پر مبنی نظام اقتصاد ہے ۔ چناچہ یہاں بھی جب ربا سے بحث کی گئی تو اس کے ساتھ ہی ہر حال میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب بھی دی گئی ۔ چناچہ ربا کی ممانعت اور اس آگ سے ڈرانے کے بعد جو اہل کفر کے لئے تیار کی گئی ہے اور لوگوں کو اللہ خوفی کی دعوت دینے اور انہیں ہر وقت رحمت خداوندی کے امیدوار رہنے کے ساتھ ساتھ انہیں دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑ کر چلیں ۔ وہ بھاگے بھاگے ان جنتوں میں داخل ہوں جو آسمانوں اور زمینوں کی وسعتوں سے بھی زیادہ وسیع ہیں اور جنہیں اہل تقویٰ کے لئے تیار کیا گیا ہے اور متقین کے اوصاف میں سے پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ……………” وہ لوگ جو خوشحالی اور بدحالی دونوں حالتوں میں مال خرچ کرتے ہیں ۔ “ اس لئے یہ لوگ ان لوگوں کے فریق مخالف ہیں جو سودی نظام کھاتے ہیں اور اس کے ذریعہ دوچند چہار چند رقم بٹورتے ہیں ۔ اس کے بعد پھر متقین کی اور صفات بیان کی جاتی ہیں ۔ پوری آیت یہ ہے :
وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (134) وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ (135)
” دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف لے جاتی ہے جس کی وسعت زمین وآسمانوں جیسی ہے ‘ اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لئے مہیا کی گئی ہے جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوشحال جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں ۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں ۔ اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کربیٹھتے ہیں تو معاًاللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں …………کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہے ………… اور وہ دیدہ دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ “
آل عمران 3:133
اس آیت کا انداز تعبیر ایسا ہے کہ اس میں ان عبادات کو بالکل محسوس طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ گویا کچھ لوگ ہیں جو کسی انعامی مقابلے میں ایک مقررہ ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ……………” دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی مغفرت کی طرف جاتی ہے ‘ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ……………” دوڑ کر چلو اس جنت کی طرف جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے ۔ “ دوڑو ! وہ ہے جنت وہاں ہے مغفرت ! أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ……………” جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ سے ڈرتے ہیں۔ “
اس کے بعد متقین کی صفات بیان کی جاتی ہیں الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ……………” وہ لوگ جو بدحالی اور خوشحالی دونوں میں خرچ کرتے ہیں ۔ “
یعنی وہ انفاق پر ہر وقت ثابت قدمی سے عمل پیرا ہیں ‘ وہ اپنی روش پر رواں دواں ہیں ‘ نہ خوشحالی میں آپے سے باہر ہوتے ہیں اور نہ بدحالی میں نہج سے پیچھے ہٹتے ہیں ۔ خوشحالی انہیں مغرور کرکے غافل نہیں بنادیتی اور بدحالی ان کی گوشمالی کرکے انہیں ان کا نصب العین بھلا نہیں دیتی ۔ انہیں اپنی ذمہ داریوں کا شعور ہر وقت دامن گیر رہتا ہے۔ وہ حرص وہ آذ سے آزاد ہوچکے ہوتے ہیں ۔ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگرانی کا شعور رکھتے ہیں اور ان کے دل میں اللہ کا خوف ہر وقت زندہ رہتا ہے ۔ نفس انسانی جو اپنے مزاج کے اعتبار سے بخیل ہوتا ہے اور جس کے اندر دولت کی طبعی محبت ہوتی ہے ‘ اسے ہر وقت انفاق فی سبیل اللہ پر قائم رکھنے کے لئے ایک قوی تر جذبے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ جذبہ مال کی محبت سے قوی تر ہونا چاہئے ۔ تاکہ وہ حرص وآز کے فطری بندھن کو توڑ سکے ۔ اور یہ جذبہ صرف اللہ خوف کا جذبہ ہی ہوسکتا ہے ۔ اور یہ کیا ہوتا ہے ؟ یہ ایک نہایت ہی لطیف اور گہرا شعور ہوتا جس کے ساتھ روح اونچی پرواز کرتی ہے ۔ وہ خالص ہوجاتی ہے اور قید وبند سے آزاد ہوجاتی ہے ۔
آل عمران 3:134
معرکہ حق و باطل کی اس فضا میں اس صفت کی طرف یہاں اشارہ ایک خاص مناسبت سے کیا گیا ہے ۔ اس معرکے کے دوران بار بار انفاق فی سبیل اللہ کی تاکید کی جاتی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان سرمایہ داروں پر بھی تنقید کی جاتی ہے جو انفاق فی سبیل اللہ سے کنی کتراتے ہیں ۔ اس نکتہ کی تفصیلات نصوص کی تفسیر کے دوران بیان ہوں گی۔ معرکہ حق و باطل کی اس فضا میں انفاق کی ایک خاص اہمیت ہے ۔ اور یہاں اس کا بار بار ذکر اس لئے ہوا کہ انفاق فی سبیل اللہ کے سلسلے میں دعوت اسلامی کے بعض کارکنوں کا موقف اس کا متقاضی تھا۔
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ……………” جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔ “ غرض اللہ خوفی اس میدان میں بھی اپنے ثرات دکھاتی ہے۔ بعینہ وہی اسباب اور وہی اثرات جو انفاق کے لئے تھے ‘ غصہ ایک ایسا بطعی انفعال ہے جس کے انسانی خون میں گرمی پیدا ہوجاتی ہے ۔ گویا وہ انسان کے عام فطری رد عمل کی ایک قسم ہے بلکہ وہ انسان کی ایک طبعی ضرورت ہے ۔ اور اس فطری ردعمل کو انسان صرف اس روحانی قوت کے ذریعہ ہی قابو میں لاسکتا ہے جو نور تقویٰ کے نتیجے میں انسان کو حاصل ہوتی ہے ۔ یہ قوت غضبی اس وقت رام ہوتی ہے جب انسان روحانی قوت سے مسلح ہو اور اس کی نظریں ذاتی ضروریات اور ذاتی دفاع سے بلند ہوکر ایک اعلیٰ انسانی افق پر مرکوز ہوں۔
ہاں غصہ پی جانا تو پہلا مرحلہ ہے اور یہ کافی نہیں ہے ۔ بلکہ بعض اوقات انسان غصہ تو پی جاتا ہے لیکن اس کے بعد اس کے دل میں کینہ پیدا ہوجاتا ہے اور اس کے دل میں جوش انتقام ولولہ پیدا کرتا ہے ۔ ظاہری غصہ ٹھنڈ اہو کر خفیہ حسد کو جنم لیتا ہے ۔ اور گہری دشمنی پیدا ہوجاتی ہے اور اس صورت میں یہ غیض وغضب جو ظاہری ردعمل ہوتے ہیں ‘ بمقابلہ کینہ اور بغض نسبتاً زیادہ اچھے ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعد میں فرماتے ہیں کہ غیظ وغضب کے نتیجے میں حس اور بغض پیدا نہ ہونا چاہئے بلکہ اس کے بعد عفو و درگزر سے کام لینا چاہئے اور غلطیوں کو معاف کردینا چاہئے ۔ غصہ کو اگر دل میں چھپالیا جائے تو اس سے دلوں میں پردے پڑجاتے ہیں بلکہ دلوں کے اندرکینہ کی آگ سلگنے لگتی ہے ۔ انسانی ضمیر دخان آلود ہوجاتا ہے ۔ جب انسان دل وجان سے معاف کردیتا ہے اور درگزر کردیتا ہے تو یہ پردہ دلوں سے ہٹ جاتا ہے اور انسان کی روح نور کی فضاؤں میں پرواز کرتی ہے ۔ دل ٹھنڈک محسوس کرتے ہیں اور انسانی ضمیر کو امن و سکون نصیب ہوتا ہے ۔
وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ……………” ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں ۔ “ کیسے نیک لوگ ‘ وہ جو بدحالی اور خوشحالی میں اپنی دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ‘ وہ نیک ہیں ۔ جو لوگ غصہ پی جانے کے بعد لوگوں کو معف کردیتے اور درگزر کرتے ہیں وہ نیک لوگ ہیں ۔ ایسے لوگوں کو اللہ محبوب رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لئے لفظ محبت کا استعمال نہایت ہی خوبصورت ‘ دل لگتا اور ضوپاش ہے ۔ اور اس شریفانہ اور منور ماحول کے ساتھ خوب ہم آہنگ ہے ۔
نیکی اور نیکوکاروں کے ساتھ اس اعلان محبت سے ‘ اہل ایمان کے دلوں میں نیکی سے سرچشمے پھوٹتے ہیں ‘ اور یہ سوتے مومن سے مومن تک منتقل ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان دلوں میں نیکی کے لئے جوش و خروش پیدا ہوجاتا ہے ۔ غرض یہ صرف پرتاثیر ادا ہی نہیں ہے بلکہ یہ زور دار انداز تعبیر اپنے پیچھے ایک عظیم حقیقت بھی رکھتی ہے ۔
وہ جماعت جسے اللہ محبوب رکھتا ہے اور وہ اللہ کو محبوب رکھتی ہے جس کے اندر عفو و درگزر عام ہے۔ جس کے اندر کینہ اور حسد نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی جماعت ہے جو دوسرے سے پیوستہ اور وابستہ ہے۔ اس کے افراد بھائی بھائی ہیں ۔ یہ قوی اور متین جماعت ہے ۔ اس لئے وہ اپنی اندرونی زندگی میں بھی متحد اور یکجا ہے اور میدان کارزار میں بھی بنیان مرصوص ہے ۔ اس لئے عفو و درگزر کا یہ مضمون بعنوان کارزار سے بھی ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔
آل عمران 3:135
اسی مناسبت سے اہل ایمان کی ایک دوسری صفت کو بھی لیا جاتا ہے۔
وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ
” جن کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں …………کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو………اور دیدہ و دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ “
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت کس قدر کشادہ دل ہے ‘ اللہ لوگوں کو صرف اس وقت کشادہ دلی اور باہم برداشت کی دعوت دیتا ہے جب وہ خود ان کے ساتھ نہایت ہی فیاضی کا سلوک کرتا ہے اور اس کی انہیں اطلاع بھی دے دیتا ہے ‘ تاکہ وہ اپنے اندر فیاضی کا ذوق پیدا کریں اور نور خدا سے شمع روشن کریں اور اونچے اخلاق سیکھیں ۔ متقین اہل ایمان میں سے بلند مرتبت لوگ ہوتے ہیں ۔ لیکن دین اسلام کی بےمثال فیاضی ہے یہ دین ان لوگوں کو بھی متقین شمار کرتا ہے ” جن کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی فحش کام سرزد ہوجاتا ہے یا گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کربیٹھتے ہیں تو معاً انہیں اللہ یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں ۔ “ اور گناہوں سے ” فحش “ کام اسلامی نقطہ نظر سے بدترین گناہ اور بڑے گناہوں میں سے ہے لیکن یہ اس دین کی کشادہ دلی اور فیاضی ہے کہ وہ فحاشی جیسے گھناؤنے گناہ کے ارتکاب کرنے والے کو بھی راندہ درگاہ نہیں بناتا ۔ اور اس پر رحمت کے دروازے بند نہیں کئے جاتے ۔ نہ یہ دین ایسے لوگوں کو دوسرے درجے کے مسلمان قرار دیتا ہے ‘ بلکہ ان کو بھی متقین کے اعلیٰ مرتبے پر فائز کرتا ہے ۔ ہاں اس مرتبے پر فائز کرنے کے لئے صرف ایک شرط ان پر عائد کی جاتی ہے اور اس شرط سے بھی اس دین کا مزاج اور اس کا رجحان اچھی طرح معلوم ہوتا ہے ۔ وہ شرط یہ ہے کہ ارتکاب معصیت کے بعد معاً وہ اللہ کو یاد کرلیں اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگ لیں اور یہ کہ وہ اس گاہ پر اصرار نہ کریں حالانکہ وہ جانتے ہوں کہ وہ جو چھ کررہے ہیں وہ ایک معصیت ہے ۔ اور یہ کہ وہ معصیت میں بےشرمی اور بےباکی کے ساتھ غرق نہ ہوجائیں بالفاظ دیگر وہ اللہ کی بندگی کے دائرے کے اندر رہیں اور آخر کار اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہوں ۔ یوں وہ اللہ کی پناہ میں رہیں ۔ وہ اس کے عفو و درگزر اور فضل وکرم کے دائرے کے اندر ہی رہیں ۔
دین اسلام کو معلوم تھا کہ انسان کمزوریوں کا پتلا ہے ‘ بعض اوقات ان بشری کمزوریوں کی وجہ اس سے فحاشی کا ارتکاب بھی ہوجاتا ہے ۔ بعض اوقات گوشت و پوست کے جسمانی میلانات جوش میں آتے ہیں اور وہ حیوانی تقاضوں کے تحت جسمانی خواہشات اور میلانات کی سطح تک اتر آتا ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ جسمانی میلانات ‘ خواہشات اور رجحانات کی گرمی اور دباؤ میں اللہ جل شانہ کے احکامات کی خلاف ورزی پر بھی مجبور ہوجاتا ہے ۔ دین اسلام انسان کی اس فطری کمزوری کو مدنظر رکھتا ہے ‘ اس لئے اس کے ساتھ سخت رویہ اختیار نہیں کرتا ۔ اور جب انسان ان خطاؤں کا ارتکاب کرکے اپنے اوپر ظلم کا ارتکاب کرے تو یہ دین اسے فوراً ہی رحمت خداوندی سے مار نہیں بھگاتا ‘ خصوصاً جبکہ وہ فحاشی کا ارتکاب کرے یا کسی گناہ کبیرہ میں پڑجائے ۔ اس کے دل میں شمع ایمان روشن ہے تو وہ اس کی دستگیری کے لئے کافی ہے ۔ اگر اس کے دل میں ایمان کے سوتے خشک نہیں ہوئے اور اس کا رشتہ تعلق باللہ بالکل کٹ نہیں گیا تو اس کے دل میں یہ احساس زندہ رہتا ہے کہ وہ انسان ہے غلطی کا پتلا ہے اور اس کا رب غفور ورحیم ہے ۔ اس لئے یہ انسان ضعیف اور خطاکار پرامید رہتا ہے اور بخیر و عافیت رہتا ہے اور اس دنیا میں اس کا سفر بند نہیں ہوتا۔ وہ ایک مضبوط رسی تھامے ہوئے ہوتا ہے اور اس کا سرا اس کے ہاتھ سے چھوٹ نہیں جاتا ۔ اس کی انسانی کمزوریاں اسے چاہے کس قدر گرائیں ‘ جب تک شمع ایمان اس کے دل میں روشن ہے ‘ وہ منزل مقصود پالے گا ۔ جب تک وہ اس مضبوط رسی کو تھامے ہوئے ہے وہ راہ راست پر آہی جائے گا ۔ جب تک وہ اللہ کو یاد رکھتا ہے اور اس کے دل میں خوف اللہ پایا جاتا ہے ‘ جب تک وہ اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے اور اللہ کی بندگی کا اقرار کرتا ہے اور اس کی نافرمانی اکڑ کر نہیں کرتا تو وہ راہ راست پر آسکتا ہے۔
یہ دین اس مخلوق کے لئے توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا اگرچہ یہ ضعیف مخلوق وقتی طور پر گمراہی کے گڑھے میں کیوں نہ گرجائے ۔ یہ دین اس خطاؤں کے پتلے انسان کو کسی غیر آباد صحراء میں بےیارومددگار نہیں چھوڑتا ۔ وہ اسے اپنے انجام کے بارے میں مایوس وپریشان بھی نہیں چھوڑتا ۔ اسے ہر وقت مغفرت کی امید دلائی جاتی ہے ۔ اس کی راہنمائی کی جاتی ہے ۔ اس کے کانپتے ہاتھوں کو ہاتھ میں لیا جاتا ہے ۔ اس کے ڈگمگاتے قدم مستحکم اور ثابت ہوجاتے ہیں ۔ اسے شمع امید عطا کی جاتی جس میں وہ اپنی راہ پالیتا ہے اور یوں وہ محفوظ اور ماموں جائے قرار تک پہنچ جاتا ہے ۔ اور پر امن سرحد میں داخل ہوجاتا ہے۔
اس دین کا مطالبہ انسان سے صرف ایک ہے ۔ وہ یہ کہ اس کے قلب سے ایمان کے سوتے خشک نہ ہوگئے ہوں۔ اس کی روحانی دنیا تاریک نہ ہوگئی ہو اور اس نے اپنے خالق حقیقی کو بھلانہ دیا ہو ۔ وہ اللہ کو یاد کررہا ہو اور اس کی روح میں وہ راہنما مینار نور موجود ہو اور اس کے دل میں اس کے ضمیر کی آواز حدی خواں ہو اور اس کی زمین میں ایمان کا نم باقی ہو تو امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے دل میں شمع ایمان دوبارہ روشن ہو ‘ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ دوبارہ امن و سکون کے خطیرہ میں لوٹ آئے اور امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے کشت زار دل میں دوبارہ ایمان کی تخم ریزی ہوسکے۔
ایک واضح مثال آپ کو بھی درپیش ہوگی ۔ تمہارا خطاکار بچہ اگر یہ یقین رکھتا ہو کہ جس غلطی کا ارتکاب اس سے ہوچکا ہے اس پر اب گھر میں ڈنڈے کے سوا اور کچھ نہیں ہے تو وہ پیچھے نہیں دیکھے گا اور بھاگتا ہی رہے گا اور مزید بےراہ روی اختیار کرے گا ۔ اور کبھی گھر کو واپس نہ آئے گا ۔ لیکن اگر ڈنڈے کے ساتھ ساتھ گھر میں اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے والاپر شفقت ہاتھ بھی ہو جو معذرت پر اس کی اس کمزوری سے صرف نظر کرتاہو اور اسے تھپکی دیتا ہو اور جب وہ معافی مانگے تو اس کی معافی قبول ہوتی ہو تو اس صورت میں اس بات کا امکان ہے کہ وہ واپس گھرآجائے۔
اسلام اس ضعیف اور خطاکار انسان کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرتا ہے ۔ خالق کو معلوم ہے کہ انسان کی شخصیت میں اگر ایک طرف ضعف اور کمزوری ہے تو دوسری جانب اس میں کچھ صلاحیت بھی ہے۔ ایک جانب اگر اس پر مادیت کا بوجھ لدا ہوا ہے تو دوسری جانب کے اس کے اندر روحانیت کی سبک رفتاری بھی ہے ۔ ایک طرف اس کی ذات میں اگر نفوس حیوانی کے میلانات ہیں تو دوسری جانب اس کے اندر ربانی رجحانات بھی ودیعت کئے گئے ہیں ۔ اس جب بھی وہ حیوانی گندگیوں میں مبتلا ہوکر نیچے گرتا ہے تو دست قدرت اس کی دستگیری کرتا ہے اور اسے اوپر کی جانب اٹھاتا ہے اور پھسلنے پر اس کو تھپکی دے کر دوبارہ اسے کھڑا کرتا ہے کہ وہ راہ راست پر رواں ہو ‘ بشرطیکہ اس کے دل میں اللہ کی یاد ہو اور وہ اپنے خالق کو بالکل بھول نہ چکا ہو ۔ اور وہ جان بوجھ کر غلطی پر نہ اڑجائے ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ ” جو شخص استغفار کرے تو یہ سمجھا جائے گا کہ وہ غلطی پر مصر نہیں ہے اگرچہ وہ دن میں ستر مرتبہ ایسا کرے۔ (روایت ابوداؤد ‘ ترمذی اور بزار ۔ اس نے اپنی سند میں عثمان ابن واقد کی روایت سے نقل کیا ہے ۔ اگرچہ اس کی سند میں ایک نامعلوم صحابی ہیں لیکن ابن کثیر نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور کہا ہے ” حدیث حسن “ )
ہاں توبہ کو دروازہ کھلا رکھ کر اسلام بہرحال بےراہ روی میں لوگوں کو آزاد نہیں چھوڑتا ۔ اور نہ غلط کار اور گمراہیوں کے گڑھے میں گرنے والوں کو قابل تعریف سمجھتا ہے ۔ اور نہ اس گندگی کو حسن سے تعبیر کرتا ہے ‘ جس طرح نام نہاد ” واقعیت پسندی “ کے پیروکار کرتے ہیں ‘ ہاں اسلام صرف لغزش اور انسان کی فطری کمزوریوں کو تسلیم کرتا ہے تاکہ انسان کے اندر مایوسی پیدا نہ ہو اور شمع امید روشن رہے ۔ اس طرح اسلام شرم وحیاء کے انفعالات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور انسانی کوتاہیوں پر اللہ کی جانب سے مغفرت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کے سوا اور کن ہے جو مغفرت کرسکے ۔ اسلام گناہ کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا البتہ اگر کوئی شرمندہ ہوتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ وہ استغفار کے لئے آمادہ تو کرتا ہے لیکن وہ گناہوں کے ارتکاب میں لاپرواہی کی اجازت بھی نہیں دیتا ۔ نہ مسلسل خطاکاری کرنے اور اسے شعار بنانے کی اجازت دیتا ہے ‘ اس لئے کہ جو لوگ ارتکاب جرم کو اہمیت ہی نہیں دیتے اور مسلسل گناہ پر گناہ کئے جارہے ہیں تو وہ حدود سے نکل گئے ہیں ۔ اس کے سامنے دیواریں حائل ہوگئی ہیں۔
یوں اسلام ‘ اس انسانیت کو پکارتا ہے کہ وہ بلند افق کو نصب العین بنائے ‘ لیکن اس دعوت کی پکار کے ساتھ اس پر رحمت اور شفقت کے لئے بھی ہر وقت تیار رہتا ہے ۔ اس لئے کہ اسلام کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ انسان کی طاقت حدود کیا ہیں ۔ اس لئے اسلام ‘ انسان کے لئے ‘ امید کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھتا ہے ۔ اور انسان کی طاقت جہاں تک ساتھ دیتی ہے وہ اسے آگے بڑھاتا ہے۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتاب ” اسلام اور عالمی سلامتی “ کی فصل ” ضمیر کی سلامتی “ )
آل عمران 3:136
ارتکاب معصیت سے استغفار کرکے وہ محض منفی کام نہیں کررہے ‘ اور نہ وہ خوشحالی اور بدحالی میں انفاق کرکے محض منفی کام کررہے ہیں یا غصہ پی کر اور لوگوں سے عفو و درگزر کرکے وہ محض منفی کام کررہے ہیں ‘ بلکہ وہ مثبت کام بھی کرتے ہیں اور نیک عمل کرنے والے ہیں ‘ اس لئے ان کے لئے ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور وہ ایسے باغات میں رہیں گے جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور مغفرت کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے محبت کا اعزاز بھی حاصل ہوگا ۔ یہاں ان کے نفس کی گہرائیوں میں بھی عمل ہے اور ظاہری زندگی میں بھی عمل ہے ۔ دونوں عمل ہیں ‘ دونوں میں حرکت ہے اور دونوں میں ترقی ہے ۔
یہ تمام صفات جن کا یہاں ذکر ہورہا ہے اور سیاق کلام میں آگے جس معرکہ کارزار کا ذکر ہونے والا ہے ‘ ان دونوں کے درمیان ایک خاص مناسبت ہے ۔ جس طرح سودی معیشت یا باہمی تعاون کے اسلامی نظام معیشت کا تعلق میدان جہاد کے معرکے سے تھا اور اسلامی جماعت کے شب وروز اس سے متاثر ہوئے تھے ‘ اسی طرح ان نفسیاتی خصوصیات اور اجتماعی اوصاف کے اثرات بھی جماعت مسلمہ پر پڑتے تھے ۔ ہم نے اس موضوع پر بات کا آغاز کرتے وقت اس طرف اشارہ کیا ہے ۔ مثلاً کنجوسی پر فتح یاب ہونا ‘ غصے پر قابوپانا ‘ ارتکاب معصیت کے مقابلے میں ضبط کرنا ‘ اللہ کی طرف رجوع کرنا ‘ اس کی جانب مغفرت کا طلب گار ہونا اور اس کی رضامندی کو نصب العین بنالینا ایسی فتوحات ہیں جو معرکہ کارزار میں دشمن پر فتح حاصل کرنے کے لئے اشد ضروری ہیں ۔ یہ لوگ دشمنان اسلام اس لئے تو تھے کیونکہ وہ بخل کے نمائندے تھے ۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیروکار تھے ‘ وہ خطاکار اور بےحیا تھے اور وہ اسلام کے دشمن اس لئے تو تھے کہ وہ بخل کے نمائندے تھے ۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیروکار تھے ‘ وہ خطاکار اور بےحیاء تھے اور وہ اسلام کے دشمن اس لئے تھے کہ وہ اپنی ذات ‘ اپنی خواہشات اور اپنے نظام زندگی میں اللہ تعالیٰ کے احکام ‘ اس کی شریعت اور اس کے پسندیدہ نظام زندگی کے تابع نہ تھے ۔ یہی تو ان کے ساتھ عداوت کی وجہ تھی اور یہی تو میدان کشمکش تھا ۔ اور اسی وجہ سے ان کے خلاف جہاد شروع کیا گیا تھا ۔ ان اسباب کے علاوہ مسلمانوں کی معرکہ آرائی اور عمل جہاد کے کوئی اسباب نہ تھے اور نہ اب ہیں ۔ ایک مسلم کی عداوت بھی اللہ کے لئے ہے ‘ اس کی معرکہ آرائی بھی فی سبیل اللہ ہے ‘ اس کا جہاد بھی اللہ کے لئے ہے ‘ اس کی درج بالا تمام ہدایات اور ان کے بعد آنے والے معرکہ کارزار کے بیان کے درمیان مکمل مناسبت ہے ۔ نیز ان باتوں کا ان حالات سے بھی تعلق تھا جن میں یہ معرکہ درپیش پوا۔ مثلاً یہ کہ رسول اللہ ﷺ کی حکم عدولی ‘ مال غنیمت جمع کرنے کا لالچ ‘ اور اس کی وجہ سے رسول ﷺ کی واضح ہدایات کو نظر انداز کرنا ۔ عبداللہ ابن ابی اور اس کے ساتھیوں کی جانب سے محض انا کی خاطر لشکر اسلام سے علیحدہ ہوجانا ۔ اور جیسا کہ سیاق کلام میں یہ بات واضح ہوگی کہ بعض لوگوں نے بڑی بری غلطیوں کا ارتکاب کیا ۔ نیز ان لوگوں کے نظریات اور تصورات میں بھی جھول اس لئے تھی کہ وہ ہر امر کو اللہ اور رسول کی طرف نہ لوٹاتے تھے اور بعض لوگ مایوس ہوکر یہ سوالات کرتے تھے کہ آیا ہماری اس تحریک کا کوئی نتیجہ برآمد ہوگا ؟ اور بعض لوگوں کے یہ خیالات تھے کہ ہماری کوئی حیثیت ہوتی تو یہاں یوں نہ مارے جاتے وغیرہ۔
قرآن کریم ان تمام حالات سے بحث کرتا ہے ۔ ایک ایک کرکے ‘ بعض امور کی وضاحت کی جاتی ہے ‘ بعض امور کے بارے میں وہ آخری فیصلے کردیتا ہے ۔ ان حقائق کے بارے میں وہ نفس انسانی کو چٹکی بھر کر جگاتا ہے ‘ اس کے اندر جوش پیدا کرتا ہے اور ان حقائق کو حیات انسانی کے اندر زندہ کردیتا ہے ۔ اور یہ کام قرآن کریم اپنے منفرد طریقہ کار کے مطابق کرتا ہے جس کے نمونے سیاق کلام کے اندر جابجا ملیں گے ۔
غرض اس مضمون کے تیسرے فقرے مین اب معرکہ کے واقعات کا آغاز ہوجاتا ہے لیکن ان واقعات کے اندر بھی اسلامی تصور حیات کے بنیادی حقائق ذہن نشین کرائے گئے ہیں ۔ رہے واقعات معرکہ تو انہیں محض محور اور مدار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور یہ حقائق ان واقعات کے اردگرد گھومتے ہیں ۔
اس پیراگراف کے آغاز میں اس طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی ایک سنت جاریہ ہے اور اس سنت کا تعلق ان اقوام سے ہے جو حق کو جھٹلاتی ہیں ۔ اس اصول اور سنت کے ذکر کا مقصد یہ بات مسلمانوں کے گوش گزار کرنا ہے کہ اس معرکے میں انہیں جو شکست ہوگی یہ ایک عارضی بات ہے اور یہ اس کائنات میں اللہ کی مستقل سنت نہیں ہے ۔ یہ عارضی شکست بھی ایک خاص حکمت پر مبنی تھی ۔ اس کے بعد انہیں تلقین کی جاتی ہے کہ وہ صبر سے کام لیں اور اس سرزمین پر بذریعہ قوت ایمان اپنے آپ کو سربلند رکھیں ۔ اگر اس معرکے میں انہیں شکست ہوئی ہے اور انہوں نے زخم کھائے ہیں تو اس سے قبل ایسے معرکے میں اہل شرک نے زخم کھائے تھے اور انہیں شکست ہوئی تھی لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی گہری حکمت کارفرماتھی اور جس کا بیان ان کے سامنے کھل کر آجائے گا ۔ یہ حکمت کہ اہل اسلام کی صفوں میں سے کھوٹے لوگوں کو علیحدہ کردیاجائے ‘ ان کے دلوں سے کھوٹ نکال دیا جائے ‘ اور شہداء اسلام کی ایک ایسی مثال تیار کی جائے جو اپنے نظریہ حیات کے لئے جان دینے والے ہوں اور مسلمان موت کا مقابلہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کریں ۔ جبکہ اس سے قبل وہ راہ حق میں تمنائے موت اپنے دلوں میں لئے ہوئے تھے تاکہ وہ اپنے وعدوں اور اپنی آرزوؤں کو حقیقت کے ترازو میں تول کر دیکھیں ۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ کفر کو صفحہ ہستی سے مٹادیں اور کافروں کے مقابلے میں ایک منظم اسلامی جماعت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں ۔ چناچہ ان پورے واقعات کی تہہ میں ایک بلند حکمت پوشیدہ تھی چاہے یہ واقعات فتح ہوں یا حادثات شکست ہوں ۔ فرماتے ہیں
آل عمران 3:137
اس غزوہ میں مسلمانوں نے سخت چوٹ کھائی تھی ۔ وہ ایک بڑی تعداد میں قتل ہوئے تھے اور انہیں ہزیمت اٹھانی پڑی تھی ۔ انہیں عظیم روحانی اور جسمانی اذیت سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ ان میں سے ستر صحابی قتل ہوگئے تھے ‘ رسول کریم ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوگئے تھے ۔ آپ ﷺ کا چہرہ مبارک زخمی ہوا تھا۔ آپ ﷺ کو مشرکین نے گھیرے میں لے کر تنگ کیا اور صحابہ کرام کو گہرے زخم آئے ۔ اس شکت کی وجہ سے اہل اسلام سخت جھنجھوڑ دیئے گئے ۔ اس لئے یہ ایک ایسا صدمہ تھا جو جنگ بدر کی عجیب فتح کے بعد شاید بالکل ہی غیر متوقع تھا ۔ یہاں تک کہ جب اہل اسلام کو یہ حادثہ پیش آیا تو وہ بےساختہ کہنے لگے ‘ یہ سب کچھ کیسے ہوا ‘ ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی ایسے حالات سے دوچار ہوسکتے ہیں ؟
یہاں قرآن کریم اہل ایمان کو اس کرہ ارض پر سنت الٰہی کی طرف متوجہ کرتا ہے ‘ یہاں انہیں وہ اصول یاد دلایا جاتا ہے جس کے مطابق اس کرہ ارض پر واقعات کے فیصلے ہوتے ہیں ۔ یہ واقعات بالکل انوکھے نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ اس کائنات میں انسانی زندگی کے لئے جو نوامیس فطرت وضع کئے گئے ہیں ‘ یہاں زندگی ان کے مطابق چل رہی ہے ۔ ان سے تخلف بالکل ممکن نہیں ہے اور نہ یہاں واقعات اتفاقیہ بغیر کسی اصول کے وقوع پذیر ہوتے ہیں جبکہ یہ واقعات نوامیس فطرت کے عین مطابق ہوتے ہیں ‘ اگر وہ ان نوامیس فطرت کو پڑھیں ‘ ان کے مغز تک پہنچیں تو انہیں بآسانی وہ حکمت معلوم ہوجائے گی جو ان واقعات کی پش پر تھی ‘ اور پھر انہیں وہ مقاصد بھی واشگاف طور پر نظر آجائیں جو ان واقعات کی تہہ میں پنہاں تھے ۔ انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ وہ نظام کس قدر پختہ ہے جس کے مطابق یہ واقعات واحداث ظہور پذیر ہوتے ہیں ۔ نیز ان کی تہہ میں جو حکمت پوشیدہ تھی اس کے بارے میں بھی انہیں اچھی طرح اطمینان ہوجائے اور وہ اچھی طرح معلوم کرلیں کہ گزشتہ واقعات کی روشنی میں ان کے لئے آئندہ لائن کیا ہے ۔ اب اس روشنی کے آجانے کے بعد وہ یہ توقع کریں گے کہ چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لئے ایسے واقعات ہونے چاہئیں اور انہیں فتح اور نصرت حاصل ہونی چاہئے ۔ بغیر اس کے کہ وہ فتح ونصرت کا سامان مہیا کریں ‘ جن میں سے پہلا سبب اللہ اور رسول اللہ اطاعت امر ہے۔
وہ سنت الٰہیہ کیا ہے جس کی طرف سیاق کلام انہیں یہاں متوجہ کررہا ہے ؟ وہ ان لوگوں کا انجام ہے جنہوں نے پوری انسانی تاریخ میں حق کو جھٹلایا ہے اور یہ کہ دنیا میں لوگوں کے شب وروز بدلتے رہتے ہیں ۔ لوگوں کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تاکہ ان کی روح خالص ہوجائے ۔ ان کی قوت صبر کو آزمایا جاتا ہے اور یہ آزمائش مصائب وشدائد کے پہاڑ توڑ کر کی جاتی ہے ۔ اور یہ کہ جو لوگ صبر سے کام لیتے ہیں آخر کار انہیں فتح نصیب ہوتی ہے اور جو لوگ کفر کا رویہ اختیار کرتے ہیں انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیا جاتا ہے۔
ان آیات میں سنن الٰہیہ کے بیان کے درمیان اہل ایمان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ مشکلات کو انگیز کریں ‘ شدید حالات میں ایک دوسرے کے غم خوار ہوں اور انہیں جو چوٹ لگی ہے ‘ اس پر صبر کریں ‘ اس لئے کہ چوٹ صرف انہیں نہیں آئی بلکہ ان کے دشمنوں نے بھی تو ان کے برابر چوٹ کھائی حالانکہ مومنین ان کے مقابلے میں بلند نظریات کے حاملین ہیں ۔ وہ ان کے مقابلے میں راہ ہدایت پر ہیں اور ان کے مقابلے میں ان کا نظام زندگی زیادہ بہتر ہے ۔ اور ان مشکلات کے بعد انجام کار فتح و کامرانی بھی اہل ایمان کو نصیب ہونے والی ہے ۔
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا فِي الأرْضِ فَانْظُروا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (137) هَذَا بَيَانٌ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ
” تم سے پہلے بہت سے دور گزرچکے ہیں ‘ زمین میں چل پھر کر دیکھ لو ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام وہدایات کو) جھٹلایا ۔ یہ لوگوں کے لئے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہوں ان کے لئے ہدایت ونصیحت ۔ “
قرآن کریم کا انداز یہ ہے کہ وہ انسانیت کے حاضر کو اس کے ماضی کے ساتھ جو ڑدیتا ہے ۔ اور ماضی اور حال کو باہم مربوط کرکے انسانیت کے مستقبل کی فکر کرتا ہے ۔ عرب معاشرہ جو قرآن کے مخاطبین اول تھے ان کی زندگی کوئی زندگی نہ تھی ‘ ان کے ہاں کوئی علمی ذخیرہ نہ تھا اور اسلام سے پہلے ان کے ہاں سرمایہ تجربات بھی نہ تھا ‘ تاکہ تحریک اسلامی ان کے سامنے خود ان کے ذخیرہ ثقافت سے کوئی مکمل نمونہ پیش کرتا ۔ یہ تو اسلام اور اسلام کی کتاب قرآن تھی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا کہ اس نے عربوں کو حیات جدید سے نوازا اور ان کو ایک ایسی امت کی شکل دی جس نے ادوار مابعد میں پوری دنیا کی قیادت کی۔
وہ قبائلی نظام معاشرت جس کے سایہ میں عرب زندگی گزار رہے تھے ‘ یہ اس قابل ہی نہ تھا کہ وہ ان کی فکر کو اس قدر وسعت دے دیتا کہ وہ جزیرۃ العرب کی زندگی کے واقعات کو کوئی منطقی ربط دے دیتے چہ جائیکہ وہ اس کرہ ارض میں بسنے والی تمام انسانیت اور اس کے حادثات اور واقعات کے درمیان کوئی منطقی ربط تلاش کرتے اور پورے کرہ ارض کے اندر پیش آنے والے عالمی واقعات اور اس کائنات کے اندر جاری نوامیس فطرت اور ان کے مطابق جاری وساری انسانی زندگی کے اندر ربط کی تلاش کی بارے میں تو وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے ۔
قرآن کریم اور اسلام کے نتیجے میں عربوں کے اندر جو علمی اور ثقافتی انقلاب رونماہوا ‘ وہ ایک دور رس انقلاب ہے ‘ یہ کوئی ایسا انقلاب نہ تھا کہ کسی معاشرے کے اندر تدریج کے ساتھ علمی وثقافتی ترقی کی وجہ سے رونما ہوا اور نہ یہ انقلاب اس وقت کی رائج اور چلتی ہوئی زندگی کے تقاضوں اور صلاحیتوں کی وجہ سے رونما ہوا۔ بلکہ یہ عظیم انقلاب خالص اسلامی نظریہ حیات کے نتیجے میں رونماہوا بلکہ یہ عقیدہ ان کے لئے یہ تحفہ لایا اور انہیں اٹھاکر اسلامی نظریہ حیات کی سطح تک بلند کیا ۔ اور یہ سب کام اس نظریہ حیات نے صرف ربع صدی کے قلیل عرصہ میں سر انجام دیا ۔ جبکہ عربوں کے ارد گرد بسنے والی ترقی یافتہ اور علمی سرمایہ سے مسلح اقوام افکار عالیہ کے اس مقام تک صدیوں بعد پہنچ پائیں اور کئی نسلیں گزرنے کے بعد ان اقوام نے معلوم کیا کہ اس کائنات کے اندر کچھ قوانین فطرت عمل پیرا ہیں اور یہ ان اٹل فطری نوامیس کے تحت چل رہی ہیں اور جب انہوں نے ان قوانین قدرت اور نوامیس فطرت کو دریافت کرلیا تو وہ اس حقیقت تک پھر بھی نہ پہنچ سکیں کہ ان اٹل قوانین کے اوپر ایک اٹل مشیئت الٰہیہ بھی ہے جو ان قوانین فطرت کی قید میں بھی مقید نہیں ہے ۔ اور قوانین فطرت کے بعد بھی تمام امور کے اندر اختیار اللہ تعالیٰ کا ہے ۔ رہی امت مسلمہ تو اس نے روز اول سے اس کا یقین حاصل کرلیا تھا۔ اس کائنات کے بارے میں اس کا تصور بہت وسیع ہوگیا تھا ‘ اور اس کے احساس اور شعور کے اندر قوانین فطرت کے ثبات اور اللہ تعالیٰ کی بےقید مشیئت کے اندر ایک توازن قائم ہوچکا تھا۔ اس لئے کہ اس کی عملی زندگی تو قوانین فطرت کے اٹل اصولوں پر قائم تھی لیکن اس کے بعد اسے یہ اطمینان بھی حاصل تھا کہ اللہ تعالیٰ کی مشیئت بھی بےقید ہے ۔ فرماتے ہیں :
قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ……………” تم سے پہلے بہت سے دور گزرچکے ہیں “ ان ادوار میں نوامیس فطرت کے مطابق رونما ہوئے تو تمہارے دور میں بھی ایسے ہی واقعات رونما ہوں گے ۔ اس لئے امم سابقہ کی تاریخ میں تمہاری جیسی صورتحال سے جو اقوام دوچار تھیں اور ان کے سامنے کچھ حقائق رونما ہوئے تو ایسے ہی نتائج کے لئے تم بھی تیار رہو۔
فَسِيرُوا فِي الأرْضِ……………” زمین میں چل پھر کر دیکھ لو “ اس لئے کہ پورا کرہ ارض ایک سیارہ ہے ۔ اس سیارے میں انسانی زندگی رواں دواں ہے ۔ یہ کرہ ارض اور اس کے اندر زندگی ایک کھلی کتاب ہے ۔ بصارت اور بصیرت دونوں کے لئے اس میں وافر سامان موجود ہے ۔
فَانْظُروا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ……………” دیکھ لو کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام وہدایات کو ) جھٹلایا۔ “ یہ وہ انجام ہے جس کے آثار کرہ ارض پر ہر جگہ قابل مشاہد ہیں ۔ نیز ان کی تاریخ میں وہ آثار و شواہد بعد میں آنے والوں نے ریکارڈ کردیئے ہیں ۔ قرآن کریم نے ان سنن وسیر کی ایک بڑی تعداد کو اپنے ہاں نقل کیا ہے ۔ قرآن کریم کے متعدد مقامات پر ان کا ذکر ہے اور بعض جگہ واقعات کی جگہ ‘ ان کا زمانہ اور واقعات کے اشخاص اور کرداروں کا تذکرہ بھی تفصیل سے کیا ہے ۔ جبکہ بعض جگہ صرف اشارات سے کام لیا گیا ہے اور زمان ومکان کو چھوڑ دیا گیا ہے ۔ مجملاً واقعہ بیان ہوا ہے ۔ یہاں بھی ایک اجمالی اشارہ اس انسانی تاریخ کی طرف کیا گیا ہے اور اس سے ایک مجمل اور مجرد طریقہ نکالا گیا ہے ‘ وہ یہ کہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں کا جو انجام کل ہوا تھا وہی انجام آج بھی مکذبین کے لئے طے ہوچکا ہے ۔ اور کل بھی ان کا یہی انجام ہوگا۔ یہ اشارہ اس لئے کیا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ اپنے انجام کے بارے میں مطمئن اور یکسو ہوجائے اور اس بات سے متنبہ ہوجائے کہ وہ مکذبین کے ساتھ پھسل نہ جائے ۔ اس لئے کہ اس وقت ایسے حالات موجود تھے جن میں اس یقین دہانی کی ضرورت تھی نیز ایسے حالات بھی موجود تھے جن میں مسلمانوں کو لغزش کھانے سے ہوشیار کرنے کی ضرورت تھی ۔ اور آنے والے سیاق کلام میں ان حالات پر تفصیلاً روشنی ڈالی گئی ہے ۔
آل عمران 3:138
نوامیس فطرت اور انسانی تاریخ میں سنت الٰہیہ کی طرف اشارے کے بعد لوگوں کو پکارا جاتا ہے کہ وہ انسانی تاریخ کے ان واقعات سے عبرت اور نصیحت حاصل کریں۔ هَذَا بَيَانٌ لِلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِلْمُتَّقِينَ……………” یہ لوگوں کے لئے ایک صرف اور صریح تنبیہ ہے ۔ جو اللہ سے ڈرتے ہوں ان کے لئے ہدایت ونصیحت ۔ “ یہ تمام انسانوں کے لئے ایک بیان ہے ۔ پس یہ انسانیت کے لئے ایک دور رس انقلاب ہے اور لوگ اس انقلاب سے اس وقت تک بہرہ ور نہیں ہوسکتے جب تک یہ بیان نہ کیا جائے ۔ لیکن اس بیان سے استفادہ صرف ایک خاص گروہ ہی کرسکے گا ۔ صرف یہی لوگ عبرت ونصیحت حاصل کرسکیں گے ۔ صرف یہی لوگ بہرہ ور ہوں گے ۔ کون المتقون۔
یہ حقیقت ہے کہ کلمہ ہدایت کو شرف قبولیت صرف دل مومن بخشتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ ہدایت کے لئے ہر وقت کھلا ہوتا ہے اور فصیح وبلیغ نصیحت سے استفادہ متقی دل ہی کرسکتا ہے ‘ جو ہر وقت کلمہ ہدایت سنتے ہی دھڑکنے لگتا ہے اور قبولیت کے لئے آمادہ ہوتا ہے ۔ کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ صرف حق و باطل کا علم کسی کو فائدہ دے یا ہدایت وضلالت کا صرف علم مفید ہو۔ سچائی اپنی فطرت کے اعتبار سے اس قدر واضح ہوتی ہے کہ اس کے لئے وہ کسی طویل کلام وبیان کی محتاج ہی نہیں ہوتی ۔ دراصل جس چیز کی کمی ہوتی ہے وہ قبول حق کا داعیہ ہوتا ہے اور لوگوں کو حق کے قبول کرنے کا راستہ معلوم نہیں ہوتا۔ سچائی کی رغبت اور اس کے قبول کرنے کے راستے صرف اس صورت میں مل سکتے ہیں جب کوئی دل ایمان ویقین سے بھرجائے اور ایمان اس وقت محفوظ رہتا ہے جب اس کی پشت پر تقویٰ اور اللہ خوفی موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں بار بار اس قسم کی تاکیدیں کی گئی ہیں کہ اس کتاب میں جو سچائی ‘ جو ہدایت ‘ جو روشنی ‘ جو وعظ اور جو عبرت آموز باتیں بیان کی گئی ہیں وہ مومنین اور متقین ہی کے مفید مطلب ہیں ۔ اس لئے کہ ایمان اور تقویٰ دل کے دریچے ہدایت ‘ روشنی اور عبرت ونصیحت کے لئے کھول دیتے ہیں ۔ صرف ایمان وتقویٰ کے بل بوتے پر ہی ایک انسان راہ حق کی تکالیف برداشت کرسکتا ہے ۔ یہ اصلی بات ہے اور اس مسئلے کی یہی حقیقت ہے ۔ صرف علم اور معلومات کے ساتھ مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ کئی ایسے لوگ دیکھے جاسکتے ہیں کہ وہ حق کے علم ومعرفت کی ایک بڑی تعداد رکھتے ہوئے بھی باطل کے پرستار ہوتے ہیں اور اس میں گم گشتہ ہوتے ہیں ۔ محض اس لئے کہ ان کی نفسانی خواہشات ان پر قابو پائے ہوئے ہوتی ہیں جن کے مقابلے میں علم ومعرفت بےبس ہوتی ہے اور یا اس لئے کہ وہ ان مشکلات کو دیکھ کر گھبراجاتے ہیں جو حاملین حق اور داعیان حق کا ہمیشہ استقبال کرتی ہیں۔
آل عمران 3:139
اس کے بعد روئے سخن مسلمانون کی طرف پھرجاتا ہے ۔ ان کی دلجوئی کی جاتی ہے ‘ تسلی دی جاتی ہے اور ثابت قدمی کی تلقین کی جاتی ہے۔ وَلا تَهِنُوا وَلا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الأعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ…………… ” دل شکستہ نہ ہو ‘ غم نہ کرو ‘ تم ہی غالب رہوگے ‘ اگر تم مومن ہو۔ “ وَلا تَهِنُوا………… یہ لفظ وہن سے نکلا ہے ‘ جس کے معنی ضعیفی کے ہیں اور غم نہ کرو ‘ یعنی ان مصائب پر جو تمہیں پیش آرہے ہیں یا ان مفادات کے لئے جو تم سے چھوٹ گئے ۔ تم غالب اور برتر ہو ‘ اس لئے کہ تمہارا نظریہ حیات برتر ہے ۔ تم صرف اللہ وحدہ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہو اور وہ لوگ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی مخلوق کے سامنے جھکتے ہیں یا کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک کرکے اس کے سامنے جھکتے ہیں ۔ اور تمہارا نظام حیات ان کے نظام حیات کے مقابلے میں افضل و برتر ہے ۔ تم اس نظام کے مطابق زندگی بسر کررہے ہو جسے اللہ نے بنایا ہے ۔ اور وہ اس نظام زندگی کے پیروکار ہیں جو انسانوں نے بنایا ہے ۔ تمہارا رول ان کے مقابلے میں برتر ہے ۔ تم پوری انسانیت کے لئے حاملین وصیت ہو ‘ اس پوری انسانیت کے لئے ہادی اور راہبر ہو جبکہ وہ اللہ کے اس نظام سے دھتکارے ہوئے ہیں ‘ گمراہ ہوچکے ہیں ۔ اس کرہ ارض پر تمہارا مقام بلند مقام ہے ۔ تم اس وراثت کے حاملین میں سے ہو جس کا تمہارے ساتھ اللہ نے عہد کررکھا ہے ۔ اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ عدم اور فنا کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ اس لئے اگر تم سچے مومن بن جاؤ تو تم ہی اس دنیا میں اعلیٰ اور سربلند رہوگے ۔ اور اگر تم سچے مومن ہو تو نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور نہ دل شکستہ ہو ‘ اس لئے کہ یہ اللہ کی سنت ہے کہ کبھی تم پر مصیبت آئے گی اور کبھی تم کامران ہوگے اور جہاد ‘ ابتلا اور کھرے کھوٹے کے درمیان تمیز ہوجانے کے بعد تمہاری عاقبت اچھی ہوگی ۔
” اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے ۔ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا ہے کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے ) کے گواہ ہیں ۔ کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں ۔ اور وہ اس آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کو سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔ “
یہاں اس چوٹ کا ذکر کیا گیا جو اہل اسلام کو لگی اور اس کا بھی ذکر کیا جو جھٹلانے والوں کو لگی تھی ۔ مکذبین کے چوٹ سے مراد غزوہ بدر ہے ۔ اس لئے کہ اس موقعہ پر مشرکین کو چوٹ لگی تھی اور اہل اسلام صحیح وسالم بچ گئے تھے لیکن جھٹلانے والوں کی چوٹ سے مراد غزوہ احد بھی ہوسکتا ہے جس میں ابتداءً گو مسلمانوں کو فتح ہوئی تھی ۔ اہل کفر کو شکست ہوئی تھی اور ان میں سے ستر آدمی قتل ہوگئے تھے ۔ اس کے بعد مشرکین بھاگ نکلے اور مسلمان ان کے تعاقب میں نکلے اور کھوپڑیوں پر ضربات لگاتے رہے ۔ مشرکین کا علم تک گر گیا اور کوئی ایساشخص نہ رہا جو آگے بڑھ کر علم اٹھاتا ۔ آخر کار ایک عورت نے علم اٹھایا۔ اس پر انہیں جرات ہوئی اور اس کے اردگرد جمع ہوگئے ۔ اس کے بعد مشرکین کی باری آئی جب تیراندزوں سے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی ۔ آپس میں اختلاف کیا اور اس معرکے کے آخری دور میں مسلمانوں پر وہ مصیبت آئی جس کا یہاں ذکر ہورہا ہے اور یہ پوری پوری سزا تھی اس بات کی کہ انہوں نے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور آپس میں اختلاف کیا۔ یوں اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ظاہر ہوئی جسے اس نے اس کائنات کے لئے مقدر فرمایا ہے ۔ اس لئے تیر اندازوں کی جانب سے رسول ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی اور مشورہ کے باوجود آپس میں اختلاف اس وجہ سے پیدا ہوئے تھے کہ ان کے دلوں میں مال غنیمت کا لالچ پیدا ہوگیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے جہاد و قتال میں مسلمانوں کے لئے نصرت تو بہرحال لکھ دی ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو صرف جہاد فی سبیل اللہ کرتے ہیں ۔ اور ان کا مطمح نظر اس دنیائے دنی کو کوئی بےوقعت فائدہ نہیں ہوتا۔ اس واقعہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی ایک دوسری سنت کا ظہور بھی ہوا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فتح ونصرت کو لوگوں کے درمیان پھرتے رہتے ہیں ۔ کبھی اہل حق کو فتح ہوتی ہے تو کبھی کبھار اہل باطل کو فتح ہوتی ہے ۔ ان کے اعمال اور ان کی نیتوں کے مطابق ۔ ان ایام کی وجہ سے اہل ایمان اور اہل نفاق کو چھانٹ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ نیز غلطیوں کا ارتکاب ہوتا ہے اور لوگوں کے دلوں سے نظریاتی کھوٹ نکل جاتا ہے۔
آل عمران 3:140
إِنْ يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الأيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا
” اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے ۔ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا تھا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سے سچے مومن کون ہیں۔ “
کشادگی کے بعد سختی اور سختی کے بعد کشادگی ‘ وہ حالات ہیں جو نفس انسانی کی خفیہ صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں ‘ اس سے لوگوں کے مزاج معلوم ہوجاتے ہیں اور یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ کون نظریاتی لحاظ سے پاک ہوچکا ہے اور کس میں نظریاتی میل کچیل موجود ہے ۔ کون ہے جو جلد باز ہے اور کون ہے جو ثابت قدم ہے ۔ کون ہے جو مایوسی کا شکار ہوتا ہے اور کون ہے جسے اللہ پر مکمل بھروسہ ہے ۔ کون ہے جو تن بتقدیر سپرد کرتا ہے اور کون ہے جو راضی برضا ہوتا ہے ‘ یا خود سری اختیار کرتا ہے ؟
یہاں آکر اسلامی جماعت کی تطہیر ہوجاتی ہے اور ظاہر ہوجاتا ہے کہ کون مومن ہے اور کون مناق ہے ۔ دونوں فریقوں کی حقیقت واضح ہوکر سامنے آتی ہے ۔ اور لوگوں کی دلی کیفیات اس دنیا کے لوگوں پر بھی منکشف ہوجاتی ہیں ۔ اس طرح اسلامی صفوں سے ہر قسم کی وہ کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں جو لوگوں کے درمیان اخلاقی اور نظریاتی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہیں جبکہ جمعیت میں مختلف الخیال اور مبہم قسم کے لوگ ہوں۔
اللہ تعالیٰ مومنین کو بھی جانتے ہیں اور منافقین کو بھی جانتے ہیں ۔ اللہ علیم بذات الصدور ہیں ۔ لیکن واقعات زندگی ‘ فتح وشکست کے نتیجے میں چھپے لوگ سامنے آجاتے ہیں ‘ چھپے لوگ سامنے آجاتے ہیں ‘ چھپے ہوئے اوصاف واقعات زندگی کی صورت میں برملا ہوجاتے ہیں ۔ اب ایمان ایک ظاہری عمل کی صورت میں سامنے آجاتا ہے ۔ اور نفاق بھی متشکل اور متجسم ہوجاتا ہے ۔ اس لئے ان امور پر حساب و کتاب ہوگا اور ان پر انعام وسزا بھی ہوگی ۔ اللہ ان امور پر حساب و کتاب نہیں لیتے جنہیں وہ جانتے ہیں بلکہ جزاوسزاکا دارومدار ان امور پر ہوتا ہے جو عمل میں آجاتے ہیں۔
اور زندگی کے نشیب و فراز اور سختی ونرمی کا یکے بعد دیگرے آنا ایک ایسی کسوٹی ہے جس کا نتیجہ غلط نہیں ہوتا ‘ یہ ایک ایسا ترازو ہے جس میں کوئی کمی بیشی نہیں رہتی ۔ اس میزان میں مشکلات اور امن دونوں برابر ہیں ۔ کئی ایسی شخصیات ہوتی ہیں جو مشکلات کا مقابلہ کرتی ہیں ‘ صبر اور مصابرت کرتی ہیں لیکن جب سہولت آتی ہے تو تن آسان ہوجاتی ہیں لیکن اہل ایمان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ مشکلات میں جم جاتے ہیں اور صبر کرتے ہیں لیکن جب عیش و آرام کا وقت آتا ہے تو پھر بھی آپے سے باہر نہیں ہوتے ۔ ان دونوں حالتوں میں ان کی توبہ اللہ کی طرف ہوتی ہے ۔ ان کا یقین اس بات پر پختہ ہوتا ہے ۔ خوشحالی اور بدحالی دونوں میں عمل دخل ذات باری کا ہوتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کی تربیت فرما رہے تھے اور یہ تربیت اس دور میں ہورہی تھی جب جماعت مسلمہ پوری دنیا کی قیادت کا چارج لینے ہی والی تھی تو اللہ تعالیٰ نے بدر کی کامیابی اور خوشحالی کے بعد احد کی ناکامی اور برے حالات سے دوچار کرکے اسے آزمایا اور اس کی تربیت کی ۔ حیرت انگیز کامیابی اور فتح و کامرانی کے بعد اسے اچانک غیر متوقع شکست سے دوچار کرکے اسے آزمایا اور اس کی تربیت کی ۔ حیرت انگیز کامیابی اور فتح و کامرانی کے بعد اسے اچانک غیر متوقع شکست سے دوچار کردیا ۔ اگرچہ یہ دونوں واقعات بےسبب نہ تھے اور دونوں ‘ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی سنت جاریہ کے عین مطابق تحت الاسباب تھے ‘ جو فتح وہزیمت کے اسباب کیا ہوتے ہیں ؟ تاکہ وہ اللہ اور رسول کی اطاعت میں اور پختہ ہوجائے ۔ اللہ پر اس کا توکل اور بھروسہ اور زیادہ ہوجائے ۔ وہ ذات باری کے ساتھ مزید جڑجائے اور اسلامی نظام زندگی کے مزاج اور اس کے فرائض سے حق الیقین کی طرح واقف ہوجائے۔
اب بات ذرا اور آگے بڑھتی ہے ۔ امت مسلمہ کو حکمت الٰہیہ کے کچھ اور پہلو دکھائے جاتے ہیں ۔ یہ حکمتیں اس معرکے کے واقعات کے بیان کے دوران اور زندگی کے نشیب و فراز کے آئینہ میں دکھائی جاتی ہیں یعنی مسلمانوں کی صفوں کی تطہیر اور اہل ایمان کو اہل نفاق سے چھانٹ دینے کے بعد بعض دوسری حکمتیں ؟ وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ ” اور تم میں سے بعض کو شہید کردے۔ “
یہ عجیب طرز ادا ہے جس میں گہرے معانی پوشیدہ ہیں ۔ گویا اللہ تعالیٰ خود شہداء کا انتخاب فرماتے ہیں ۔ مجاہدین میں سے مقام شہادت کے لئے انتخاب ہوتا ہے اور یہ انتخاب اللہ تعالیٰ خود اپنے لئے کرتے ہیں ۔ پس یہ گویا کوئی مصیبت اور خسارہ نہیں ہے کہ کوئی اللہ کے راستے میں شہید ہوجائے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ اپنے لئے اختیار کرلیتے ہیں ‘ چھانٹ لیتے ہیں ۔ یہ گویا ان کے لئے خاص اعزاز ہوتا ہے ۔ ان کو اللہ نے چھانٹ لیا اور ان کو مقام شہادت اور مرتبہ شہادت حق پر فائز کردیا تاکہ وہ خالصتاً اللہ کے ہوجائیں اور اس کی مقرب کابینہ میں شامل ہوجائیں۔ وَیَتَّخِذَ مِنھُم…………” اللہ ان سے چن لے گا۔ “
پھر ایک مفہوم کے مطابق یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے گواہ ہیں اور یہ اپنی جان دے کر اس سچائی پر شہادت دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ پر اتارا ہے ۔ یہ لوگ گواہی دیتے ہیں کہ یہ پیغام ‘ پیغام حق ہے اور یہ شہادت وہ اس انداز میں اور اس اسلوب میں دیتے ہیں کہ پھر اس میں کوئی شبہ نہیں رہتا اور جرح کی ضرورت نہیں رہتی ۔ اور اس کے بعد بات کا فیصلہ ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ یہ شہادت اس مسلسل جدوجہد کے ساتھ دیتے ہیں جس کا انجام جان کا نذرانہ پیش کرنے پر ہوتا ہے اس طرح وہ اپنے خون سے اس سچائی کو تسلیم کرتے ہیں اور دنیا کے سامنے اسے فیصلہ کن شکل میں پیش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان مختار لوگوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یہ شہادت دیں کہ اللہ کی جانب سے جو نظریہ حیات نازل ہوا ہے وہ حق ہے ۔ وہ اس پر ایمان لاچکے ہیں ۔ وہ اس کے لئے خالص ہوگئے ہیں ۔ وہ ان کو اس قدر عزیز ہوگیا ہے کہ عزیز تراز جان ہے اور یہ کہ لوگوں کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی جب تک وہ اس سچائی کے مطابق نہ ہوجائے ۔ یہ کہ وہ اس پر پختہ یقین کرچکے ہیں ۔ اس لئے وہ اس امر میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں سے باطل کو ختم کردیں ‘ نکال دیں اور یہ حق پوری دنیا میں استوار ہوجائے اور لوگوں کے نظام حکومت میں بھی وہ رائج ہوجائے ۔ غرض یہ شہداء ان سب امور کے شہداء ہیں اور ان کی شہادت عبارت ہے جہاد اور موت فی سبیل اللہ سے اور یہ ایک ایسی شہادت ہے جس میں کسی قیل وقال کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
اب ذرا دوسرا پہلو دیکھیں ‘ جب کوئی اپنی زبان سے لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت ادا کرتا ہے ‘ یہ شہادت اس وقت تک شہادت نہیں ہوتی جب تک یہ مقر اس شہادت کے مفہوم اور تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ۔ اور مفہوم یہ ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی کو الٰہ نہ سمجھے ‘ باہمی مفہوم کو وہ اللہ کے سوا کسی اور مأخذ شریعت اور مأخذ قانون نہ بنائے ، اس لئے کہ الٰہ کی خصوصیات میں یہ سے مخصوص ترین خصوصیت یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لئے قانون سازی کرے ۔ اور بندوں کے حوالے سے مخصوص ترین بندگی یہ ہے کہ بندہ اپنانظام حیات اور نظام قانون اللہ تعالیٰ سے اخذ کرے ۔ اور جس کی عملی شکل یہ ہے کہ وہ قانون رسول اللہ ﷺ سے اخذکرے جو اللہ کے رسول اور اس کی جانب سے شارع ہیں ۔ اور ان دومصادر کے علاوہ ان کے نزدیک قانون کا کوئی اور مصدر ماخذ نہ ہو۔
پھر اس کلمہ شہادت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان وہ جدوجہد شروع کردے جس کے نتیجے میں اس کرہ ارض پر الوہیت اور حاکمیت صرف اللہ کی ہوجائے ۔ جس طرح اس کی تبلیغ حضرت محمد ﷺ نے فرمائی ۔ اور یہ شریعت اسلامی نظام حیات بن جائے ۔ یہ نظام غالب ہو اور اس کی پیروی ہونے لگے اور یہ نظام لوگوں کی پوری زندگی میں متصرف ہو اور اس کے تصرف سے زندگی کا کوئی پہلو مستثنیٰ نہ ہو۔
اس مفہوم کے اعتبار سے ‘ اس نظریہ حیات نے یہ تقاضا کیا کہ یہ شخص اس کی راہ میں جان دے دے تو شہید نے جان دے دی ۔ اس لئے وہ ایک ایسا گواہ بن گیا جس سے اللہ نے یہ مطالبہ کیا کہ وہ یہ شہادت ادا کرے ۔ اس لئے کہ اسے اللہ نے گواہی کے مقام پر فائز کیا ہے ۔ اس وجہ سے وہ شہید بن گیا ہے ۔
یہ ہے اس عجیب انداز کلام کا گہرافہم یعنی وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ……………اور یہ لاالٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت کا مفہوم اور مقتضاء ہے ۔ اس شہادت کا وہ مفہوم نہیں ہے ۔ جس کے مطابق یہ شہادت ایک مذاق بن جائے ‘ محض وقت کا ضیاع ہو اور اس سے رخصتیں برآمد ہوتی ہوں۔
وَاللَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ……………” بےشرک ایک عظیم ظلم ہے ۔ “ صحیحین میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں ۔ میں نے سوال کیا کیا رسول اللہ ﷺ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ حالانکہ صرف اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ “
اس سے پہلے سیاق کلام میں جھٹلانے والوں کے بارے میں اللہ کی سنت کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔ اور اب یہ فیصلہ سنایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں سے محبت نہیں رکھتا ۔ اس لئے بالواسطہ اس بات کی تاکید ہے کہ جھٹلانے والے اپنے منطقی انجام کو ضرور پہنچیں گے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ محبت نہیں کرتا۔ اس انداز تعبیر کے یہ اثرات بھی سامنے آتے ہیں کہ ایک مومن ظلم اور ظالم سے نفرت کرنے لگتا ہے ۔ اور ظلم اور ظالمین کے خلاف یہ فضا پیدا کرنا حدیث جہاد اور حصول شہادت کے لئے آمادہ کرنے کے اس موقعہ کے ساتھ گہرا ربط رکھتی ہے ۔ اس لئے مومن اس بات کے خلاف جہاد کرتا ہے جسے اللہ مٹانا چاہتا ہے اور ان لوگوں کے خلاف جہاد کرتا ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہیں ۔ اور یہ شہادت گاہ مومن ہے ۔ اس جگہ وہ نذرانہ جان پیش کرتا ہے اور ایسے ہی لوگوں سے اللہ شہداء کا انتخاب فرماتے ہیں ۔
آل عمران 3:141
اس کے بعد اب مضمون اس طرف جاتا ہے کہاں حادثات فاجعہ کے پس پشت کیا حکمت پوشیدہ ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ ان کے ذریعہ امت کی تربیت مقصود تھی ‘ اسے پاک کرکے اس کے اعلیٰ کردار کے لئے تیار کرنا مقصود تھا ‘ تاکہ وہ اللہ کی تقدیر اور ہتھیار بن کر کافروں کو نیست ونابود کرے اور مکذبین کو سزا دینے کے لئے دست قدرت کے لئے پردہ بن جائے ۔ وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ……………” اور وہ آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔ “ تمحیص علیحدہ اور ممتاز کرنے کے بعد کا درجہ ہے ۔ اور یہ وہ کاروائی ہے جو انسان کے اندر پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے ۔ ضمیر کے اندر اس کی تکمیل ہوتی ہے ۔ یہ ایک ایسا تجربہ ہوتا ہے جس سے شخصیت کے خفیہ گوشے کھل کر سامنے آجائیں ۔ ان خفیہ گوشوں پر لائٹ فوکس ہوجاتی ہے تاکہ ان گوشوں سے میل ‘ کھوٹ اور ملاوٹ دور ہوجائے ۔ وہ واضح اور صاف نظر آجائیں اور یہ شخصیت سچائی پر خوبی کے ساتھ جم جائے ۔
بارہا ایسا ہوتا ہے کہ انسان اپنے نفس اور اپنی شخصیت کے بارے میں صحیح جائزہ نہیں لے سکتا۔ وہ اپنی خفی کمزوریوں اور اپنے نفس کے نشیب و فراز سے واقف نہیں ہوتا ۔ اور یوں اسے نہ اپنی قوت کا صحیح اندازہ ہوتا ہے اور نہ اپنی کمزوریوں کا صحیح پتہ ہوتا ہے۔ اس کی بعض ایسی خفیہ کمزوریاں ہوتی ہیں جن کا اظہار اس وقت ہوتا ہے جب ان کو ابھارا جائے۔
چھانٹی کے اس عمل کا انتظام اللہ جل شانہ نے اپنے ہاتھ میں لیا ہوا تھا ۔ اور یہ چھانٹی اسی طرح کی جارہی تھی کہ مسلمانوں کو زندگی کے نشیب و فراز سے دوچار کیا جائے ‘ انہیں فتح بھی ہو اور شکست بھی ہو ‘ سختی بھی آئے اور اچھے حالات بھی درپیش ہوں۔ انہیں خوب رگڑا دیا جائے ۔ اور اس تلخ رگڑ کے بعد اہل ایمان اپنے بارے میں وہ کچھ جان لیں جو اس سے قبل وہ جانتے تھے ۔ حادثات ‘ تجربے اور مختلف عملی مواقف سے دوچار کرکے ان کی یہ چھانٹی ہوئی۔
بعض اوقات انسان اس غرے میں مبتلا ہوتا ہے کہ وہ قوی وشجاع ہے اور حرص وآزار کے پنجے سے آزاد ہے اور جب وہ عملی تجربات کی کسوٹی پر چڑھتا ہے اور جب وہ واقعی حالات سے دوچار ہوتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی شخصیت میں تو ابھی بڑی بڑی کمزوریاں ہیں ‘ جو ابھی تک دور نہیں ہوسکیں ۔ اور یہ کہ وہ ابھی تک مشکلات کے اس قدر دباؤ کے برداشت کرنے کی قوت نہیں رکھتا اس لئے یہ بات خود اس کے مفاد میں ہوتی ہے کہ اسے قبل از وقت اپنی کمزوریوں کا علم ہوجائے تاکہ وہ اپنی شخصیت کو ازسرنو ڈھالنے کی کوشش کرے ۔ اور وہ ان مشکلات کے برداشت کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کرلے جو اس کی دعوت کی راہ میں لازماً درپیش آنے والی ہیں۔ اور اس نظریہ حیات کی وجہ سے وہ لابدی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ وہ اس پہلی جماعت اسلامی کی اچھی طرح تربیت کردے ۔ جسے اس نے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے تیار کرنا تھا ۔ اس اسکیم کے مطابق اس جماعت نے اس کرہ ارض پر ایک عظیم کا سر انجام دینا تھا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کو اسی طرح چھاٹا اور احد میں اسے ایسے حالات سے دوچار کیا جو غیر متوقع تھے تاکہ یہ جماعت اپنی سطح ذرابلند کرے اور اپنے آپ کو اس رول کے لئے تیار کرے جو اللہ نے طے کردیا تھا کہ اس نے ادا کرنا ہے اور وہ یہ تھا کہوَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ……………” اور تاکہ وہ کافروں کی سرکوبی کرے ۔ “ اور یہ اس لئے کہ حق کے ذریعہ ‘ باطل کی سرکوبی کرنا سنت الٰہیہ میں سے ایک سنت ہے ۔ لیکن یہ سرکوبی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب حق ظاہر ہوجائے اور سخت تربیت اور چھانٹی کے ذریعہ اس کی کمزوریاں دور کردی جائیں ۔
آل عمران 3:142
اب اگلی حکیمانہ بات بصورت استفہام انکاری آتی ہے۔ دعوت اسلامی کے بارے میں مسلمانوں کی سوچ کو درست کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں سنت الٰہی کیا ہے ؟ بتایا جاتا ہے کہ فتح وشکست ‘ اعمال اور انکے نتائج کے بارے میں اللہ کا ایک اٹل قانون ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جنت کی راہ میں تو کانٹے بھی بچھے ہوئے ہوتے ہیں ‘ مشکلات بھی ہوتی ہیں ‘ اور اس راہ میں مشکلات کو صبر وثبات کے ذریعہ حل کیا جاسکتا ہے ۔ محض خالی خولی تمناؤں اور نیک خواہشات کے ذریعہ یہ گھاٹی عبور نہیں کی جاسکتی ۔ تمہیں اس راہ میں مشکلات انگیز کرنی ہوں گی اور اپنی صفوں کو کمزور لوگوں سے صاف کرنا ہوگا۔
أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ (142) وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ
” کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤگے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں وہ کون لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں ۔ تم موت کی تمنائیں کررہے تھے مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ‘ لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی ہے اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا ۔ “
صیغہ استفہام انکاری اس مقام پر استعمال ہوتا ہے جہاں مخاطب کو ایک نہایت ہی خطرناک فکری غلطی پر متنبہ کرنا مطلوب ہوتا ہے ۔ یہاں فکری غلطی یہ تھی کہ لوگوں نے سمجھا کہ بس زبان سے اس قسم کا اعلان ہی کافی ہے کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں اور میں موت کے لئے تیار ہوں ‘ اسلام کی راہ میں مرمٹنے کے لئے۔ صرف اس اعلان ہی سے گویا انہوں نے دعوت اسلامی کی راہ کی تمام مشکلات برداشت کرلیں اور اب وہ اللہ کی رضامندی اور جنت دونوں کے مستحق ہوگئے ہیں۔
یہاں انہیں سختی کے ساتھ بتایا گیا کہ تمہاری یہ سوچ درست نہیں ہے ۔ تمہیں مشکلات کے واقعی تجربے سے گزرنا ہوگا ‘ عملی امتحان ہوگا ، جہاد میں شرکت کرنی ہوگی اور مصائب کو گلے لگانا ہوگا۔ اور اس کے بعد یہ کہ ان مشکلات کی حالت میں جزع وفزع نہیں بلکہ صبر کرنا ہوگا اور ان کو برداشت کرنا ہوگا۔
یہاں اس آیت کے بعض الفاظ چونکادینے والے ہیں وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ …………… ” حالانکہ ابھی یہ تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے ہیں وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ……………” اور کون ہیں جو اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں۔ “
اس لئے اس راہ میں صرف جہاد کرلینا ہی کافی نہیں ہے ‘ بلکہ مشکلات راہ پر صبر کرنا بھی ضروری ہے ۔ یہ مشکلات تو مسلسل ہوتی ہیں ‘ مختلف نوعیت کی ہوا کرتی ہیں اور یہ اس وقت تک ختم نہیں ہوجاتیں جب میدان جنگ میں جہاد ختم ہوجاتا ہے ‘ بلکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ میدان جنگ میں مشکلات جہاد بہت ہی کم ہوتی ہیں بمقابلہ اس کے جو جہاد کے بعد آتی ہیں اور جن کی خاطر صبر کا تقاضا کیا گیا ہے اور جن میں ایمان کی آزمائش ہوتی ہے ۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں نہ ختم ہونے والی مشکلات ہوتی ہیں ‘ افق ایمان پر مسلسل جمے رہنا ‘ شعور اور عمل دونوں میں ایمان کے تقاضے پورے کرتے رہنا ‘ زندگی کی راہوں میں انسانی کمزوریوں پر بذریعہ صبر قابو پاتے رہنا ‘ روز مرہ زندگی میں ان تمام لوگوں کے ساتھ یومیہ معاملات میں اور اپنے نفس کے ساتھ تمام معاملات میں اسلام پر جمے رہنا اور خصوصاً ان مقامات پر صبروثبات کا مظاہرہ کرنا جن میں باطل قوتوں کو بظاہر کامیابی حاصل ہوتی ہے اور وہ یوں نظر آتی ہیں گویا بس فتح اب ان کے لئے مقدر ہے ۔ پھر بعض اوقات جدوجہد طویل ہوتی ہے اور راستہ طویل اور کٹھن نظرآتا ہے اور مشکلات سے پر نظر آتا ہے ‘ ایسے حالات میں صبر کرتے رہنا ‘ جہاد اور مشکلات اور جنگاہ میں آرام طلبی کی تمنا ‘ وسوسے اور نفس کی اکتاہٹ کے مقابلے میں صبر وثبات کا مظاہرہ کرتے چلے جانا ‘ غرض اس راہ میں جو نامعلوم اور پوشیدہ مشکلات ہوتی ہیں ‘ اور ان میں سے میدان جنگ صرف ایک مشکل ہے ‘ ان سب کو انگیز کرنے کا حوصلہ پیدا کرنا وغیرہ یہ سب اس آیت کے تقاضے ہیں اور جنت کی راہ کی مشکلات ہیں ۔ غرض ان مقاصد کا حصول صرف الفاظ اور تمناؤں سے نہیں ہوتا۔
آل عمران 3:143
وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ……………” تم موت کی تمنائیں کررہے تھے ‘ مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ‘ لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی ہے اور تم نے اسے آنکھوں سے دیکھ لیا۔ “
یہاں قرآن مجید ان کو ایک بار پھر موت کے سامنے لاکر کھڑا کردیتا ہے ‘ جس کی وہ تمنائیں کیا کرتے تھے ۔ اور پھر جس کا معائنہ وہ معرکہ احد کے میدان میں کرچکے تھے اور اس منظر کے سامنے انہیں اس لئے کھڑا کیا گیا ہے کہ وہ ذرا ان حقائق کے ساتھ جو عملی میدان میں درپیش آئے ہیں ‘ ان الفاظ وکلمات کا مقابلہ کریں جو ان کی زبان پر ہوتے ہیں اور ان تمناؤں کا موازنہ کریں جو ان کے دلوں میں ہوتی ہیں تاکہ وہ انہیں سکھائے کہ وہ ہر اس کلمے اور لفظ کا جائزہ لیں جو ان کی زبانوں سے نکلتا ہے اور یہ دیکھیں کہ ان کلمات کے پیچھے مفہومات کا کس قدر سرمایہ موجود ہے اور یہ جائزہ وہ ان حقائق کی روشنی میں لیں جو معرکہ احد کے اندر پیش آئے ۔ اس طرح انہیں معلوم ہوگا کہ ان کلمات کی قدر و قیمت کیا ہے ‘ جو وہ اپنے منہ سے ادا کرتے ہیں اور ان تمناؤں کی حیثیت کیا ہے جو وہ اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں اور ان بھاری حقائق کے مقابلے میں ان وعدوں کا کیا مقام ہے جو انہوں نے کئے تھے ۔ پھر انہیں یہاں یہ بھی سکھایا جاتا ہے کہ صرف ہوا میں تحلیل ہونے والے الفاظ یا دل میں ابھرنے والی تمنائیں ہیں انہیں جنت میں داخل نہیں کرسکتیں ‘ بلکہ جب جنت میں وہ تب داخل ہوسکیں گے جب وہ ان کلمات کو حقیقت کا جامہ پہنائیں اور ان تمناؤں کو میدان عمل میں لائیں تاکہ وہ حقیقی جہاد کا روپ دھاریں اور اس راہ کی مشکلات میں وہ صبر کرتے ہوئے نظر آئیں اور اللہ کی راہ میں ان حقائق کو لوگوں کی واقعی اور عملی دنیا میں دیکھ لیں۔
اللہ تعالیٰ کے لئے یہ کام کوئی مشکل نہ تھا کہ وہ مومنین کو مشکلات میں ڈالے بغیر اور تکالیف دئیے بغیر ہی پہلے ہی دن اپنے نبی ‘ اپنے اس پیغام ہدایت اور اپنے اس تجویز کردہ نظام حیات کو کامیابی سے ہمکنار کردیتا۔ وہ اس بات پر قادر تھا کہ وہ فرشتے اتارتا اور وہ ان کے ساتھ لڑتے یا وہ اکیلے ہی مشرکین کو تباہ کردیتے ‘ جس طرح ان فرشتوں نے قوم عاد ‘ قوم ثمود اور قوم لوط (علیہم السلام) کو تباہ کیا تھا۔
لیکن جو اہداف مقرر ہوئے تھے ‘ وہ صرف فتح ونصرت نہ تھے ۔ اہداف میں یہ امر بھی تھا کہ جماعت مسلمہ کی تربیت بھی کی جائے ‘ اس لئے کہ اس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دینا تھا۔ اس وقت انسانیت ضعیف ونحیف تھی ‘ خواہشات نفسانی اور میلانات جسمانی کی غلام تھی ‘ اور وہ عملاً جاہلیت اور فکراً انحراف کا شکار تھی اور اس مقصد کے لئے ایسی قیادت درکار تھی جو ذہین ہو ‘ اور وہ قائدین سے اعلیٰ صلاحیتوں کا تقاضا کرتی ہو ‘ اور ان تقاضوں میں سب سے پہلا تقاضا یہ ہو کہ وہ حق اور صداقت پر پختگی سے جمنے والے ہوں۔ وہ مشکلات پر صبر کرنے والے ہوں اور انہیں معلوم ہو کہ ان کی صفوں میں کہاں کمزوری ہے اور کہاں قوت ہے ۔ اور اسے یہ بھی معلوم ہو کہ انسانی نفس کہاں ٹھوکر کھاتا ہے ‘ کہاں راہ راست سے انحراف کا خطرہ ہوتا ہے اور یہ کہ پھر ان سب کمزوریوں کا علاج کیا ہے ؟ پھر اگر اچھے حالات اور کامرانی ہو تو پھر بھی صبر کرنے والی ہو اور شدیدحالات ہوں تو پھر بھی صبر ہو ‘ اور حقیقت یہ ہے کہ کامیابی کے بعد ناکامی دیکھنا اور اس پر صبر کرنا ان حالات میں بہت ہی کڑوی اور ناخوشگوار صورت حال تھی ۔
جماعت مسلمہ کو عالمی قیادت کے منصب پر فائز کرنے کے احکام دینے سے قبل ‘ اللہ تعالیٰ نے جماعت مسلمہ کو ایسی سخت تربیت سے گزارا۔ یہ اس لئے کہ وہ اس عظیم اور خوفناک کام کرنے کے لئے تیار ہوجائے ‘ جو اس نے کرہ ارض پر سرانجام دینا تھا ۔ اور اللہ تعالیٰ کی مشیئت یہ تھی کہ وہ اس عظیم مشن پر اس انسان کو بھیجے گا جس کے لئے اس نے اسے چھانٹ لیا اور منتخب کرلیا ہے ۔
اور مشیئت الٰہیہ جماعت مسلمہ کی تیاری اور تربیت میں اب مختلف وسائل کو کام میں لاتی ہے ۔ مختلف حالات اور واقعات سے اسے گزارا جاتا ہے ۔ کبھی تو اس جماعت کو ایک فیصلہ کن فتح عطا کی جاتی ہے ‘ تو پھر یہ خوش ہوجاتی ہے ‘ اپنے اوپر اس کا اعتماد بحال ہوجاتا ہے ‘ اور یہ کام اللہ تعالیٰ کی معاونت خاصہ کے ذریعہ ہوتا ہے ۔ اسے فتح و کامرانی کا تجربہ بھی کرایا جاتا ہے ۔ تو وہ کامرانی کے اس نشے میں صبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے ‘ وہ اس میں کبر و غرور بدمستی اور علو کے مقابلے میں بھی کامیاب ہوتی ہے ۔ تواضع اور اللہ کے شکر کا دامن نہیں چھوڑتی ۔ اور بعض اوقات اسے شکست شدت اور درد سے گزارا جاتا ہے ‘ تو وہ اللہ کے جناب میں پناہ لیتی ہے ۔ اسے اپنی ذاقی قوت کا اندازہ ہوجاتا ہے ۔ اور اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ جب وہ اسلامی نظام زندگی سے معمولی انحراف بھی کرے گی تو اس کے لئے اس کے نتائج کس قدر خطرناک ہوں گے ۔ یوں وہ شکست کی کڑواہٹ بھی چکھ لے گی اور اس کے ساتھ وہ باطل پر بھی غالب ہوگی اس لئے کہ وہ حق پر ہے ۔ اسے اپنی صفوں کے اندر کمزوریاں اور نقائص معلوم ہوجائیں گے کہ کہاں سے خواہشات نفس در آتی ہیں ‘ کہاں جاکر قدم پھسلتے ہیں تاکہ اگلے مرحلے میں وہ ان تمام کمزوریوں کو دور کرسکے ۔ اور وہ فتح اور شکست دونوں سے تجربات کا ایک وسیع سرمایہ لے کر آگے بڑھے ۔ یہ تھی سنت الٰہیہ اور اس کے مطابق قضا وقدر کا نظام چل رہی تھا۔ اس میں سرموانحراف ممکن نہ تھا اور نہ اب ہے ۔
یہ معرکہ احد کے حاصلات تجربہ میں سے ایک قلیل زاد راہ تھا ‘ تجربات کا ایک حصہ تھا جسے جماعت مسلمہ کے لئے ‘ ہر اسلامی انقلابی جماعت مسلمہ کے لئے ‘ ہر دور ‘ ہر زمان اور ہر مکان میں اٹھنے والی جماعت کے لئے یہاں آیات قرآنی میں قلم بند کیا گیا ہے ۔
اس کے بعد قرآن کریم اپنی خاص نہج کے مطابق ‘ جماعت اسلامی کی تربیت کے لئے یہاں بعض عظیم اور اہم واقعات کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتی ہیں ملاحظہ ہو :
آل عمران 3:144
اس ٹکڑے کی پہلی آیت ایک متعین واقعہ کی طرف اشارہ کررہی ہے اور یہ واقعہ غزوہ احد میں پیش آیا۔ جب تیراندازوں نے پہاڑ پر اپنا متعین مقام چھوڑدیا ‘ اور مشرکین وہاں سے ان پر چڑھ دوڑے ‘ مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ‘ مسلمانوں کو شکست ہوئی اور رسول ﷺ کے دانت مبارک شہید ہوگئے اور آپ کے چہرے پر زخم آئے اور چہرہ مبارک سے خون بہنے لگا ‘ فریقین باہم گتھم گتھا ہوگئے ‘ مسلمان منتشر ہوگئے ‘ کسی کو کسی کا پتہ نہ رہا۔ ان حالات میں کسی پکارنے والے نے یہ آواز دے دی ۔ لوگو ! محمد ﷺ قتل ہوگئے۔ اس چیخ کا مسلمانوں پر بہت ہی برا اثر ہوا۔ ان میں سے بہت سے لوٹ کر مدینہ آگئے ۔ پہاڑ کے اوپر چڑھ گئے ‘ شکست کھاگئے اور مایوس ہوکر میدان جنگ کو چھوڑ گئے ۔ رسول ﷺ کے پاس چند افراد رہ گئے اور ان حالات میں آپ ﷺ ان چند افراد کے ساتھ جم گئے۔ اور مسلمانوں کو یہ آواز دینے لگے کہ واپس آؤ ‘ چناچہ وہ پھر سے مجتمع ہوئے ۔ ان کے دل تھم گئے ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایک محسوس انداز میں ان پر اونگھ طاری کرکے انہیں طمانیت قلب اور امن و سکون عطا کردیا جب کہ تفصیلات بعد میں آرہی ہیں۔
یہ واقعہ جس نے ان لوگوں کو مکمل طور پر مدہوش کردیا تھا ‘ قرآن کریم اسے نکتہ توجہ بناتا ہے اور اس مناسبت سے وہ یہاں اسلامی تصور حیات کے اہم حقائق کو سامنے لاتا ہے۔ اس کو موضوع بناکر یہاں حقیقت موت وحیات کے بارے میں اہم اشارے دئیے جاتے ہیں اور تاریخ ایمانی اور حالات قافلہ ایمانی پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
” محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور بھی رسول گزرچکے ہیں ‘ پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے یاد رکھو ‘ جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ‘ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “
بیشک محمد ﷺ صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں ‘ یہ سب رسل فوت ہوئے ہیں اور محمد ﷺ بھی اس طرح فوت ہوں گے جس طرح وہ رسول فوت ہوئے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ جب اس معرکہ میں یہ حقیقت (اگرچہ جھوٹی افواہ کے طور پر) تمہارے سامنے آئی تو کیوں تمہاری نظروں سے اوجھل رہی ۔ یہ نہایت ہی حیرت انگیز بات ہے۔
محمد ﷺ اللہ کی طرف سے پیغام لانے والے ہیں ۔ وہ اس لئے آئے ہیں کہ اللہ کا پیغام پہنچادیں ۔ اللہ اپنی جگہ زندہ لایموت ہے ۔ اس کا پیغام زندہ جاوید ہے ۔ اس لئے یہ کس طرح مناسب ہوگا کہ اگر پیغام لانے والے فوت ہوجائیں یا قتل ہوجائیں تو تم اپنے نظریہ حیات کو چھوڑ کر الٹے پاؤں پھر جاؤ۔ یہ بھی ایک واضح حقیقت تھی جو اس معرکہ کی افراتفری میں ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی حالانکہ مناسب تھا کہ یہ اہل ایمان کی نظروں سے اوجھل ہوجائے کیونکہ یہ نہایت ہی سیدھی سادھی بات تھی۔
انسان فانی ہے اور نظریہ حیات باقی ہے ۔ اسلامی نظام زندگی ایک علیحدہ حقیقت ہے جو ان لوگوں سے بالکل مستقل حقیقت رکھتا ہے جو اس کے حاملین ہیں اور جو اسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں ‘ وہ رسول ہوں یا رسولوں کے بعد امت کے داعی اور مبلغین ہوں ۔ وہ مسلمان جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت رکھتا ہے اور یہ محبت ایسی ہے جس کی پوری تاریخ انسانی میں کوئی نظیر نہیں ملتی ‘ اس کا فرض ہے کہ وہ ذات رسول اور اس نظریہ حیات کے اندر فرق و امتیاز کرے جسے اس ذات نے لوگوں تک پھیلایا۔ اس لئے کہ جو نظریہ حیات آپ ﷺ نے دیا وہ حَیٌّ لِایَمُوتُ…………ہے۔ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے جو حَیٌّ لَایَمُوتُ…………ہے۔ یہ فرق کرنا ان کا فرض اس لئے بنتا ہے کہ وہ محب رسول ہیں ۔ یہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ رسول ﷺ کو کانٹا تک بھی چبھے ۔ ابودجانہ کو دیکھو وہ اپنی پیٹھ کے ذریعہ رسول اللہ ﷺ کے ڈھال بنے ہوئے ہیں ۔ ان پر تیروں کی بارش ہورہی ہے اور وہ وہیں ہیں جو جمے ہوئے ہیں اور یہ دیکھو کہ آپ صرف 9 آدمیوں کے ساتھ رہ گئے اور ان سے ایک کے بعد ایک شہید ہورہا ہے ‘ سب ختم ہوجاتے ہیں لیکن آپ ﷺ کو گزند نہ پہنچے نہیں دیتے ۔ اور آج ہر جگہ اور ہر زمانے میں آپ کا نام سنتے ہی لوگ بوجہ محبت وجد میں آجاتے ہیں اور ٹوٹ کر آپ سے محبت کرتے ہیں ‘ اپنے پورتے پورے وجود کے ساتھ اور اپنے پورے جذبات کے ساتھ ۔
اے محبان رسول ! داعی سے دعوت کی قدر و قیمت زیادہ ہے ۔ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ……………” محمد اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں ۔ ان سے پہلے اور رسول بھی گزرچکے ہیں ۔ “ وہ سابق رسول بھی اسی دعوت کے حاملین تھے جس کی جڑیں زمانہ قدیم تک دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ تاریخ کے بڑے بڑے میدانوں میں بارہا یہ دعوت سر سبز ہوتی رہی ہے ۔ اس کا آغاز ‘ آغاز انسانیت کے ساتھ ساتھ ہوا ہے ۔ اور یہ رسول زندگی کی گزرگاہوں میں اس کے حدی خواں رہے ہیں ۔ قائدانہ انداز میں امن وسلامتی کے ساتھ ۔
اس لئے یہ پیغام اور یہ نظام داعی سے بڑا ہے اور داعی سے زیادہ زندہ رہنے والا ہے۔ داعی تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن یہ پیغام زمانوں اور نسلوں سے جاری وساری ہے ۔ اس کے ماننے والے اس کے منبع اول کے ساتھ مربوط اور جڑے رہتے ہیں ۔ وہ منبع اور مصدر جس نے خود ان رسولوں کو بھیجا وہ منبع باقی ہے۔ اس کی طرف مومنین کا رخ ہے ۔ وہ نصب العین ہے اور اہل ایمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ الٹے پاؤں پھریں اور اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر مرتد ہوجائیں حالانکہ اللہ زندہ جاوید ہے۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں ان کے رویے پر سخت نکیر کی گئی ۔ فرماتے ہیں
أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ
” کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤگے ؟ یاد رکھو جو الٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ‘ البتہ جو اللہ کے شکر گزار بن رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “
تعبیر ایسی ہے کہ اس میں ارتداد کی زندہ تصویر سامنے آجاتی ہے۔” تم لوگ الٹے پھر جاؤگے۔ “ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ……………اوروَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ……………” جو الٹاپھرے۔ “ یہ ایک حسی اور دیکھے جانے والی حرکت ہے ‘ ایک زندہ شخص الٹے پاؤں مڑتا ہے۔ یہ انقلاب ارتداد کی ایک مجسم شکل ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات چھوڑنا بعینہ اسی طرح ہے جس طرح ایک شخص اچانک واپس الٹے پاؤں مڑجائے ۔ حالانکہ یہاں اس انقلاب سے مراد یہ حسی حرکت نہیں ہے ‘ بلکہ اس سے مراد وہ نفسیاتی حالت ہے جس میں ایک شخص نظریاتی پسپائی اختیار کرتا ہے ۔ ایک شخص نے یہ آواز دی کہ محمد ﷺ قتل ہوگئے ہیں ‘ یہ سنتے ہی بعض مسلمانوں کے ذہن میں یہ تصور اور یہ سوال آگیا کہ اب مشرکین کے ساتھ جنگ کا فائدیہ کیا ہے ؟ غرض اس طرح ذہنی حرکت اور اس ذہنی انقلاب کا اظہار حسی حرکت سے کیا گیا۔ یعنی ان کے ذہن اس طرح واپس ہوگئے جو طرح وہ معرکہ احد میں جسمانی طور پر پسپائی اختیار کررہے تھے ۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی طرف نضربن انس ؓ نے اشارہ کیا تھا۔ لوگوں نے ہتھیار چھوڑ دئیے اور ان سے کہا گیا کہ رسول اکرم ﷺ تو مارے گئے۔ اس پر انہوں نے ان سے کہا :” پھر محمد ﷺ کے بعد تم زندہ رہ کر کیا کروگے۔ اٹھو اور اس مقصد کے لئے شہیدہوجاؤ جس کے لئے آپ ﷺ شہید ہوئے۔ “
وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلَى عَقِبَيْهِ فَلَنْ يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًا……………” یاد رکھو جو الٹاپھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا۔ “ وہ تو خود خسارہ اٹھائے گا ۔ وہ خود اپنے آپ کو ایذا شدیتا ہے کہ وہ الٹا پھرتا ہے اور اس کے اس انقلاب موقف سے اللہ کو کوئی نقصان نہ ہوگا۔ اللہ تو لوگوں سے بےنیاز ہے ۔ وہ ان کے ایمان کا محتاج نہیں ہے ۔ یہ تو اس کی مہربانی ہے کہ اس نے لوگوں کے لئے یہ نظام تجویز کیا جس میں خود ان کی سعادت اور ان کا فائدہ ہے ۔ اور جو شخص اس نظام سے روگردانی کرے گا وہ خود برے انجام سے اس دنیا میں دوچار ہوگا۔ وہ اپنی ذات میں حیران وپریشان ہوگا اور اپنی سوسائٹی میں بھی ۔ اس کے اس فعل کی وجہ سے یہ نظام خراب ہوگا ‘ حیات انسانی خراب ہوگی اور پوری انسانی آبادی خراب ہوگی ۔ تمام معاملات بےترتیب ہوجائیں گے ‘ لوگ خود اپنے ہاتھوں گرفتار مصیبت ہوں گے ۔ محض اس لئے کہ انہوں نے اس نظام سے روگردانی کی کہ صرف اس کے اندر پوری انسانی نظام زندگی کا نظام درست طور پر چل سکتا ہے ۔ انسان مطمئن ہوسکتا ہے اور صرف اس نظام کے زیرسایہ نفس انسانی اپنی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکتا ہے ۔ اور اس پوری کائنات کے ساتھ چل سکتا ہے جس کے اندر وہ زندہ رہ رہا ہے۔
وَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ……………” اور جو اللہ کے شکر گزاربندے بن کر رہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ “ یہ شکرگزار وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر و قیمت جاتے جو اس نے انہیں اسلامی نظام زندگی دے کر ان پر کی ۔ وہ شکر اس طرح ادا کرتے ہیں کہ وہ اس نظام کی اطاعت کرتے ہیں ‘ وہ اس طرح بھی شکر کرتے ہیں کہ اللہ کی ثناء خوانی کریں ‘ اور اس کو قائم کرکے اس دنیا کی سعادت حاصل کریں اور یہی ان کی جزا اس دنیا میں ہے ۔ ان کی شکر گزاری کی بہترین جزا اور اس کے بعد آخرت میں ان کو جزا دی جائے گی اور یہ اخروی سعادت ہوگی جو اس دنیاوی سعادت مندی سے بہت بڑی ہوگی اور جوابدہی ہوگی۔
گویا اس واقعہ پر اس تبصرے کے ذریعہ ‘ اللہ تعالیٰ ‘ مسلمانوں کی اس ذاتی دلچسپی کو ‘ جو رسول اکرم ﷺ کی ذات کے ساتھ تھی ‘ ہٹاکر اسے براہ راست ذات باری کے ساتھ جوڑتے ہیں جو اس دعوت کا اصل سرچشمہ ہے ۔ اس لئے کہ دعوت اسلامی کا یہ چشمہ صافی رسول ﷺ نے نہیں جاری فرمایا تھا۔ آپ نے تو لوگوں راہنمائی اس طرف فرمائی اور لوگوں کو بلایا کہ وہ اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کے فیض سے فیض یاب ہوں ‘ جس طرح آپ ﷺ سے پہلے دوسرے رسول بھی یہی راہنمائی کرتے رہے تھے ۔ اور وہ مخلوق کے پیاسے قافلوں کو دعوت دیتے رہے کہ اس چشمہ صافی سے سیراب ہوں اور پیاس بجھائیں۔
گویا اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ تھا کہ وہ لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کے ہاتھ میں وہ مضبوط رسی تھمادیں ‘ جسے حضرت محمد ﷺ نے نہیں باندھا ‘ بلکہ آپ تو اس لئے تشریف لائے تھے کہ لوگوں کو اس پختہ رسی میں باندھ دیں۔ ان کو اسی حالت میں چھوڑ دیں اور وہ اس دنیا سے اس حالت میں چلے جائیں کہ لوگ اس رسی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں۔
گویا اللہ تعالیٰ یہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کا رابطہ براہ راست اسلام سے ہوجائے اور ان کا عہد براہ راست اللہ کے ساتھ ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ‘ اس عہد کے بارے میں ان کی شمولیت بلاواسطہ ہوجائے ۔ براہ راست اللہ کے سامنے وہ جوابدہ ہوں تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرسکیں ‘ ایسی ذمہ داریاں جو رسول اکرم ﷺ کے فوت ہونے سے ختم نہیں ہوجاتیں ۔ گویا انہوں نے براہ راست اللہ سے بیعت اور براہ راست اللہ کے سامنے وہ اس کے بارے میں جوابدہ ہیں ۔
گویا اللہ کی مشیئت یہ تھی کہ امت مسلمہ اس صدمے سے دوچار ہوجائے جس سے ایک دن اس نے دوچار ہونا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ جب یہ صدمہ ہوگا تو ان کے لئے ناقابل برداشت ہوگا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر انہیں اس صدمے کی ریہرسل کرادی ۔ وہ انہیں عملاً پہنچادیا یعنی رسول کی وفات کے بارے میں بھی انہیں یہ صدمہ پہنچادیا ‘ قبل اس کے کہ یہ صدمہ جب فی الواقعہ ہو تو انہیں بالکل ہی نڈھال نہ کردے۔
اور جب رسول ﷺ کی وفات کے وقت وہ اس صدمے سے دوچار ہوئے تو وہ فی الوا قعہ اسے برداشت نہ کرسکے ۔ حضرت عمرؓ جیسی تربیت یافتہ شخصیت اٹھ کھڑی ہوئی ‘ تلوار سونت لی اور پکارا کہ کوئی یہ لفظ منہ تک نہ لائے کہ محمد ﷺ فوت ہوگئے ہیں۔
یہ ابوبکرؓ ہی تھے جو فوراً اٹھے ‘ جو خدا رسیدہ تھے ‘ جن کا تعلق تقدیر الٰہی سے براہ راست مضبوط تھا ‘ انہوں اسی آیت کو پڑھا اور ان لوگوں کو یاد دلایا جو نڈھال ہوکر حواس کھوبیٹھے تھے ۔ جب انہوں نے اس خدائی پکار کو سنا تو ان کے حواس بحال ہوئے اور وہ ہوش میں آئے ۔
آل عمران 3:145
اس کے بعد نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے فطری خوف کو ایک ٹچ دیتے ہیں یہ ایک نہایت ہی الہامی مس ہے ۔ وہ یکدم اس خوف کو دور کردیتا ہے اور موت وحیات کے بارے میں ایک اٹل حقیقت بیان کردی جاتی ہے ۔ نیز موت کے بعد لوگوں کے ساتھ اللہ کا سلوک اور جزاء وسزا کا ذکر کردیا جاتا ہے۔
وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ
” کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرسکتا۔ موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے ۔ جو شخص دنیا کے ارادے سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دے دیں گے اور جو ثواب آخرت کے ارادے سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطاکریں گے۔ “
ہر شخص کی موت کے لئے ایک لکھا ہوا وقت مقرر ہے اور کوئی شخص اس لکھے ہوئے وقت تک زندگی گزارنے سے پہلے ہرگز مر نہیں سکتا ۔ اس لئے ڈر ‘ خوف ‘ ہراس اور جزع وفزع ایک پل بھر زندگی کی میعاد کو آگے نہیں بڑھاسکتا ۔ شجاعت ‘ ثابت قدمی ‘ اقدام اور وفاداری سے عمر کم نہیں ہوتی ۔ ناس ہو بزدلی کا ! بزدلوں کی آنکھ نیند کو تر سے ! جس کے لئے جو دن مقرر ہے ‘ اس میں نہ ایک دن کی کمی ہو سکتی ہے اور نہ اضافہ !
اس حقیقت کے بیان سے نفس انسانی میں تقدیر اور اجل کی حقیقت بیٹھ جاتی ہے ۔ اس لئے نفس انسانی اس کے بارے میں سوچنا چھوڑدیتا ہے ۔ اس کی کوئی پرواہ ہی نہیں کرتا ۔ اس کی سوچ تمام تر ادائے فرض ‘ وفائے عہد اور ایمانی تقاضوں کو پورا کرنے میں صرف ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ سے وہ حرص اور کنجوسی کے بندھنوں سے بھی آزاد ہوجاتا ہے اور خوف اور جزع وفزع پر بھی قابو پالیتا ہے ۔ اب وہ راہ حق کی تمام مشکلات کو انگیز کرتے ہوئے اور راہ حق کے فرائض پورے کرتے ہوئے بڑے صبر و سکون کے ساتھ اور توکل علی اللہ کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے ۔ کیونکہ اب کی اس نئی سوچ کے مطابق ‘ موت کا وقت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور لکھا ہوا ہے ۔
ذرا ایک قدم اور آگے جائیں ۔ اس بات کا فیصلہ ہوگیا کہ عمر لکھی ہوئی ہے اور موت کا وقت متعین اور مقرر ہے تو بتایا جاتا ہے کہ اصل سوچ یہ ہے کہ تم اپنی کمائی کو دیکھو کہ اس وقت ‘ آنے والے وقت ‘ کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے اور کس مزید کمائی کا ارادہ ہے۔ اس نفس سے پوچھا جاتا ہے کہ تم اپنی کمائی کو دیکھو کہ اس وقت ‘ آنے والے وقت ‘ کے لئے تم نے کیا تیاری کی ہے اور کس مزید کمائی کا ارادہ ہے ۔ اس نفس سے پوچھا جاتا ہے کہ اے نفس ! کیا تم ایمان کے تقاضوں کو پس پشت ڈالنا چاہتے ہو اور کامیابی اور ناکامی کو اسی دنیا کے اندر محدود اور بند کردینا چاہتے ہو اور صرف اس دنیا کے لئے زندہ رہنا چاہتے ہو یا کہ تمہاری نظریں افق اعلیٰ پر بھی ہیں ؟ کیا اس محدود دنیا کے مقابلے میں بہت بڑی دنیا کی فکر بھی تمہیں ہے ۔ اس دنیا کی محدود عمر کے غم اور اہتمام کے ساتھ ساتھ کیا آخرت کا ارادہ بھی ہے ؟
وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا
” جو شخص ثواب دنیا کے ارادے سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں دے دیں گے اور جو شخص آخرت کے ارادے سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا۔ “
اور ان دونوں زندگیوں میں بہت بڑا فرق ہے ۔ اور ان دونوں ارادوں میں بہت بڑا امتیاز ہے جبکہ دونوں صورتوں میں موت کا وقت وہی ہے جو مقرر ہے۔ فرق یہ ہے کہ جو شخص صرف اس دنیا کے لئے زندہ ہے اور صرف اس دنیا کا عوضانہ چاہتا ہے اس کی زندگی اور کیڑوں مکوڑوں اور ڈھورڈنگروں کی زندگیوں میں کیا فرق ہے ۔ دونوں کا وقت مقرر ہے ۔ اور جس شخص کی نظریں دار آخرت پر لگی ہوئی ہیں ‘ وہ انسانوں جیسی شریفانہ اور کریمانہ زندگی بسر کرتا ہے ‘ اسے اللہ تعالیٰ نے چن لیا ہے ۔ وہ اس کرہ ارض پر اللہ کا خلیفہ ہے اور یہ بھی وقت مقرر پر اس دنیا سے رخصت ہوگا۔ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلا……………” کوئی ذی روح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مرکستا۔ موت کا وقت لکھا ہوا ہے ۔ “
وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ……………” اور شکر کرنے والوں کو ہم ان کی جزا ضرور عطاکریں گے ۔ “ یہ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو مقام انسانیت کو پالیتے ہیں اور اللہ نے انسان کو جو شرف عطا کیا ہے اس کی قدر کرتے ہیں ۔ اس لئے وہ اپنے آپ کو حیوانی سطح سے ذرا اوپر رکھتے ہیں ۔ اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس شکریہ کی صورت یہ ہے کہ وہ ایمان کے تقاضے پورے کرتے ہیں ۔
غرض اس انداز میں حیات وممات کی حقیقت ذہن نشین کرنے اور زندگی کے ان مقاصد اور ترجیحات کے حوالے سے اپنے لئے چن لیتے ہیں ‘ قرآن کریم انسانوں کے سامنے دوراستے رکھتا ہے ‘ ان کو دعوت فکر دی جاتی ہے کہ وہ اپنے لئے کون سا راستہ منتخب کرتے ہیں ۔ وہ اپنے لئے محض کیڑے مکوڑوں کی زندگی پسند کرتے ہیں یا انسان مکرم کی زندگی کو پسند کرتے ہیں ۔ یوں نفس انسانی خوف موت اور دنیا کی تکالیف پر جزع وفزع ترک کرکے ایک زیادہ مفید کام کی طرف منتقل ہونا پسند کرتا ہے اور یہ انتخاب وہ اپنے اختیار تمیزی سے کرتا ہے کیونکہ وہ دونوں میں سے ہر راستہ وہ اختیار کرسکتا ہے۔ چاہے تو دنیا کا راستہ اختیار کرے اور چاہے تو آخرت کا راستہ اختیار کرے ۔ جو راہ بھی وہ اختیار کرے ‘ اس کا صلہ پائے گا۔
آل عمران 3:146
اس کے بعد قرآن کریم بطور مثال زمانہ ماقبل کے اہل ایمان کی مثال بیان کرتا ہے۔ اس لئے کہ انسانیت کی طویل تاریخ میں ‘ زندگی کی گزرگاہوں میں قافلہ ایمان ہمیشہ رواں دواں رہا ہے ۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جو اپنے وعدے ایمان پر سچے رہے ۔ انہوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ داد شجاعت دی ۔ جب وہ مصیبت میں مبتلا ہوئے تو جزع وفزع نہیں کی ۔ اور اس مقام جہاد میں انہوں نے ایمانی آداب کی سخت پاسداری کی ۔ وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے رہے ۔ اور ان کے منہ سے اف تک نہ سنی گئی صرف اللہ سے استغفار کرتے رہے وہ اپنی معمولی غلطیوں کو بھی برا قصور تصور کرتے اور اسے ” اسراف “ سے تعبیر کرتے ۔ وہ اپنے رب سے صرف صبر وثبات کے ذریعہ کفار کے مقابلے میں نصرت طلب کرتے ۔ اور ان کا یہی رویہ تھا جس کی وجہ سے وہ ثواب دارین حاصل کرپائے ۔ یہ ثواب انہیں اس لئے دیا گیا کہ وہ نہایت ہی عاجزی سے دست بدعا ہوتے اور جہاد کے مواقف پر احسان اور حسن نیت سے قائم رہتے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے لئے مثال بن گئے۔
احد میں مسلمانوں کو ہزیمت کا جو صدمہ ہوا ‘ وہ اس قسم کا پہلا صدمہ تھا ۔ اس سے قبل بدر میں اللہ نے انہیں فتح مندی عطا کی تھی ‘ حالانکہ وہ مخالفین سے کئی گنا کم تھے ۔ اس فتح کے بعد ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ گویا یہ فتح شاید ان کے حق میں ایک تکوینی سنت الٰہی ہے ‘ لیکن احد کا تجربہ ان کے لئے اچانک تھا۔ وہ غیر متوقع ابتلا سے دوچار ہوگئے۔
یہی وجہ ہے کہ واقعہ احد پر قرآن کریم نے طویل ترین تبصرہ کیا ہے۔ اس میں کبھی تو اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے اور کبھی ان پر سخت نکیر کی گئی ہے ‘ کبھی ان کی بات کی تائید کی گئی اور کسی جگہ انہیں تمثیلات سے سمجھایا گیا ہے ۔ یوں ان کے نفوس کی تربیت کی گئ ہے ‘ ان کے تصورحیات کی تصحیح کی گئی ہے اور انہیں آنے والے معرکوں کے لئے تیار کیا گیا ہے ‘ اس لئے کہ ان کی راہ طویل تھی ‘ اور ان کے سامنے مشکل مراحل تھے ‘ بھاری فرائض ان پر عائد ہوتے تھے اور وہ جس عظیم انقلاب کے نمائندے تھے وہ ایک عظیم الشان امر تھا۔
یہاں ان کی جو مثال پیش کی گئی ہے وہ ایک عام مثال ہے ۔ اس مثال میں کسی ایک نبی کی بات نہیں کی گئی ۔ کسی ایک قوم کی بات بھی نہیں کی گئی ‘ بلکہ قافہ ایمان کی بات کی گئی ہے ۔ آداب مؤمنین کی بات کی گئی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ ابتلا ایک ایسا مرحلہ ہے جو ہر دعوت اور ہر دین میں پیش آتا رہتا ہے ۔ تمام انبیاء کے متبعین تمہارے اسلاف ہیں ۔ اس لئے قافلہ ایمان دراصل ایک ہے اور ایک ہی تسلسل ہے ۔ یہ بات ذہن نشین کرائی جاتی ہے کہ نظریہ ٔ حیات ایک ہی ہے اور یہ سب کے سب ایک ہی ایمانی فوج کے رجمنٹ ہیں۔
وَكَأَيِّنْ مِنْ نَبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ
” اس سے پہلے کتنے ہی نبی گزرے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ پرستوں نے جنگ کی ۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے ‘ انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی اور نہ وہ باطل کے آگے سرنگوں ہوئے۔ “
کتنے ہی نبی گزرچکے ہیں جن کے ساتھ اسلامی جماعتیں لڑچ کی ہیں ۔ انہوں نے توکمزوری نہیں دکھائی ۔ ان پر جو مشکلات پڑیں ‘ جو مصائب وشدائد پیش آئے ‘ وہ جس درد والم میں مبتلا ہوئے وہ تم سے کچھ کم نہ تھا لیکن انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ۔ انہوں نے اس جدوجہد کا سلسلہ ختم نہیں کردیا ۔ نہ وہ ان مشکلات کے سامنے جھکے اور نہ دشمنوں کے سامنے جھکے ۔ مومنین کی شان تو ایسی ہوتی ہے ‘ اس لئے کہ وہ ایمان اور نظریہ حیات کے لئے جدوجہد کررہے ہوتے ہیں۔ وَاللَّهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ …………… ” ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے ۔ “ جن کے نفوس ضعف نہیں دکھاتے ‘ ان کی قوتیں مضحمل نہیں ہوتیں ‘ ان کے عزائم نرم نہیں پڑتے ۔ وہ نہ جھکتے ہیں اور نہ سرنگوں ہوتے ہیں ۔ یہ تعبیر کہ اللہ صابرین کو محبوب رکھتے ہیں نہایت ہی مؤثر تعبیر ہے ۔ اس میں خاص اشارہ پایا جاتا ہے ۔ یہ محبت اور پیغام محبت تمام دردوں اور دکھوں کے لئے مرہم ہے ‘ اس سے تمام زخم مندل ہوجاتے ہیں اور تمام تلخیاں اور تمام تھکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں ۔
یہاں تو ان سابق اہل ایمان کے ظاہری موقف کا ذکر کیا گیا ہے کہ وہ ظاہری مشکلات کے مقابلے میں یہ ثابت قدمی اختیار کرتے ہیں ‘ لیکن آنے والی آیت ان کی داخلی کیفیات اور ان کے ایمان و شعور کی تصویر کسی بھی کرتی ہے ۔ دکھایا جاتا ہے کہ وہ جناب باری میں کتنے مودب ہیں ۔ وہ اس خوف کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں جو ان کے نفس پر طاری ہوتا ہے اور جو مدہوش کرنے والا ہوتا ہے ‘ نہایت ہی دہشت ناک ہوتا ہے اور جو نفس انسانی کو پوری طرح گرفت میں لے لیتا ہے ‘ کیونکہ یہ خطرہ اٹل ہوتا ہے لیکن ایسا خوف وخطر بھی ان اہل ایمان کی توجہ الی اللہ پر اثر انداز نہیں ہوسکتا ‘ وہ ایسے حالات میں بھی اللہ سے لولگائے رکھتے ہیں ۔ اور ایسے حالات میں بادی النظر میں کسی انسان کا یہی مطالبہ ہوسکتا ہے کہ اے اللہ ہمیں فتح نصیب کر لیکن وہ صرف عفو و درگزر کا سوال یوں کرتے ہیں ‘ یوں وہ گویا ادائیگی فرض میں اپنی کوتاہیوں اور خطاکاریوں کا اعتراف کرتے ہیں اور کے بعد وہ ثابت قدمی اور دشمنوں پر فتح مندی کی دعا کرتے ہیں۔
آل عمران 3:147
وَمَا كَانَ قَوْلَهُمْ إِلا أَنْ قَالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (147)
” ان کی دعا بس یہ تھی کہ ” اے ہمارے رب ! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما ‘ ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو تجاوز ہوگیا ہے ‘ اسے معاف کردے ‘ ہمارے قدم جمادے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔ “
ان کا سوال کسی دولت ونعمت کے لئے نہ تھا ‘ بلکہ انہوں نے اجروثواب وجزا کا مطالبہ بھی نہیں کیا نہ انہوں نے ثواب دنیا کا مطالبہ کیا اور نہ ہی ثواب آخرت کا ۔ وہ تو جناب باری میں بڑے ادب سے کھڑے تھے ۔ وہ ذات باری کی طرف متوجہ تھے ‘ حالانکہ وہ حالت قتال میں تھے ‘ انہوں نے اس حال میں بھی صرف اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کی اور صرف ثابت قدمی کی دعا کی ۔ کفار کے مقابلے میں کامیابی کی دعا کی ۔ یہاں تک کہ وہ یہ نصرت و کامرانی بھی اپنے لئے طلب نہیں کرتے ۔ وہ اس میں بھی کفر کی شکست اور کفار کے لئے مناسب سزا کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہ ہے جناب باری تعالیٰ کی درگاہ میں احترام وادب جس کے وہ لائق ہے اور جو اہل ایمان کا شیوہ ہے ۔
آل عمران 3:148
یہ مثال کہ اہل ایمان اپنے لئے کچھ نہیں مانگتے ۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ سب کچھ دے دیا ۔ انہیں وہ کچھ دے دیا جس کی طالب دنیا کبھی تمنا کرسکتا ہے ۔ نیز انہیں وہ سب کچھ بھی دے دیا جس کی تمنا کوئی طالب آخرت کرسکتا ہے ۔ فَآتَاهُمُ اللَّهُ ثَوَابَ الدُّنْيَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الآخِرَةِ …………… ” آخر کار اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اس سے بہتر آخرت کا ثواب بھی دیا۔ “
اب اللہ تعالیٰ شہادت دیتے ہیں کہ یہ لوگ محسنین میں سے تھے ‘ انہوں نے بارگاہ الٰہی میں بہترین ادب کا مظاہرہ کیا اور انہوں نے بہترین مظاہرہ دوران جہاد کیا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اعلان کردیا کہ وہ ان سے محبت کرتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہے جو ہر قسم کے ثواب سے بھی زیادہ قیمتی ہے ۔ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ……………” اللہ کو ایسے ہی نیک لوگ پسند ہیں ۔ “
اس انداز میں پیراگراف ختم ہوتا ہے ‘ جس میں اسلامی تصور حیات کے نہایت ہی اساسی حقائق کو پیش کیا گیا ہے ‘ جن کی وجہ سے پہلی اسلامی جماعت کی بہترین تربیت ہوئی اور جو ہر نسل اور ہر دور میں اٹھنے والی تحریک اور ہر دور کی امت کے لئے سرمایہ بصیرت ہے ۔
اب یہ تبصرہ آگے ایک قدم اور آگے بڑھتا ہے ۔ اس معرکہ کے کچھ اور واقعات سامنے رکھے جاتے ہیں تاکہ ان سے بصیرت افروز نتائج اخذکئے جاسکیں۔ اہل ایمان کی نظریاتی تصحیح ہو ‘ ان کے نفوس کی تربیت ہو انہیں آگاہ کیا جائے کہ اس راہ میں کہاں کہاں پھسلنے کا خطرہ ہے ‘ انہیں بتایا جائے کہ ان کے اردگرد سازشوں کے جال بچھے ہوئے ہیں ‘ اور دشمن گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ احد میں شکست کی وجہ سے مدینہ کے کفار ‘ منافقین اور یہود کو از سر نو سازشیں کرنے کا موقع مل گیا تھا ‘ اس لئے کہ اس وقت تک اہل مدینہ اہل اسلام کے لئے نیک نیت نہ ہوئے تھے ۔ اس شہر میں ابھی تک مسلمان اجنبی تھے ۔ اس اجنبی تحریک اور اس نئے پودے کے اردگرد جنگ بدر نے رعب اور دبدبے کی ایک باڑ قائم کردی تھی ۔ کیونکہ بدر میں اہل اسلام کو نہایت ہی فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی تھی اور جب احد میں شکست ہوئی تو یہ صورت حال بدل گئی ۔ اسلام کے ان خفیہ دشمنوں کو موقع مل گیا کہ وہ اپنے دلی کینہ اور بغض وعناد کا اظہار کرسکیں ۔ اور معاشرے کے اندر زہر آلود پروپیگنڈا کرسکیں ۔ اور جن گھرانوں میں لوگ شہید ہوگئے تھے ‘ یا جن میں لوگ شدید زخمی تھے اور ایک کہرام مچاہوا تھا ان میں اس کے زہر آلودپروپیگنڈے اور سازشوں کے لئے راہ ہموار ہوگئی تھی چناچہ ان لوگوں نے اب کھل کر ریشہ دوانیاں شروع کردی تھیں ۔
آنے والے پیراگرافوں میں اس معرکہ کے اہم واقعات کا نقشہ کھینچا گیا ہے اور اس کے بڑے بڑے واقعات قلم بند کئے گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے مسلمانوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ کافروں کی پیروی مت کرو ‘ تمہیں فتح حاصل ہوگی اور کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب از سر نو پیدا ہوگا ‘ انہیں بتایا جاتا ہے کہ ابتدائے معرکہ میں تو تمہیں فتح ہوئی اور یہ میرے وعدے کے مطابق تھی جسے تم نے کمزوری دکھاکر ضائع کیا ‘ آپس میں نزاع اور خلاف کیا ‘ رسول اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی ‘ اس کے بعد انہیں اس معرکے کے دونوں رخ زندہ اور متحرک صورت میں بتائے جاتے ہیں ۔ ہزیمت کے بعد افراتفری ‘ پھر اہل ایمان کے لئے تسلی و اطمینان کا سامان اور اہل نفاق کے دلوں میں حسرت ویاس ‘ جن کے خیالات اللہ کے بارے میں اچھے نہ تھے ۔ نیز انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس معرکہ میں واقعات کا رخ شکست کی جانب پھیرنے میں بھی اللہ تعالیٰ کی لطیف حکمت کارفرماتھی ‘ نیز یہ کہ موت کا ایک دن متعین ہے اور اس سلسلے میں اہل کفر اپنے گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعہ جو گمراہی پھیلا رہے ہیں ان سے بچ کر رہو اور آخر کار تمہیں بہرحال اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے وہ اپنی موت مریں یا شہید ہوں جانا تو ادہر ہی ہے ۔
آل عمران 3:149
آیات کے اس مجموعے کو اگر گہری نظر سے دیکھاجائے تو یہ اپنے اندر زندگی سے بھرپور مناظر کی ایک بڑی مقدار کو لئے ہوئے ہے اور ان مناظر کے علاوہ انسانی زندگی اور اسلامی تصور حیات دونوں کے نہایت ہی اساسی حقائق اس میں ثبت کئے گئے ہیں ۔ نیز اس میں کائنات کے بعض اٹل اصول بھی بیان کئے گئے ہیں ۔ جہاں تک اس معرکہ کا تعلق ہے ‘ اس کی جھلکیاں زندگی سے بھرپور ‘ بڑی تیزی کے ساتھ اور بڑی گہرائی کے ساتھ پیش کی گئی ہیں ‘ اس معرکے کا کوئی اہم پہلو نہیں چھوڑا گیا اور وہ اس انداز میں فلم بند ہوا ہے کہ اسے پڑھ کر شعور اور جذبات میں ایک طلاطم برپا ہوجاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری طرح زندہ ‘ جزئیات پر مشتمل فضائے جنگ اور اس کے حالات وواقعات ان میں ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ اس کے اندر انسانی ضمیر میں پیدا ہونے والے خلجان اور شعوری اور لاشعوری حرکات کی طرف بھی اشارے کئے گئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے سیرت النبی کی مفصل کتابوں میں بیان کردہ تمام واقعات مستحضر ہوجاتے ہیں اور اس تبصرے کے نتیجے میں اسلامی تصور حیات کے اصلی حقائق ‘ زندہ شکل میں ‘ حرکت کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے لئے صحیح تصور حیات تعمیر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اس میں شک نہیں ہے کہ اس معرکے کے تمام مشاہدات اور پورے حقائق کو الفاظ وفقرات کی اس مختصر مقدار میں ‘ زندگی سے بھرپور انداز میں ‘ حرکات اور اشارات کے اس مخصوص انداز میں ثبت کردینا ‘ کسی انسانی تعبیر کے لئے نہ ممکن ہے اور نہ ہی تاریخ آداب انسانی میں اس کی کوئی مثال ہے اور اس کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جسے اسلوب ادا کے اسرار اور انسان کی قوت ادا کی حدود کا علم ہوتا ہے ‘ خصوصاً وہ لوگ جن کو مشکل تعبیرات سے واسطہ پڑتا ہے اور جو فن تعبیر میں درک رکھتے ہیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ (149) بَلِ اللَّهُ مَوْلاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ
” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے تو تم نامراد ہوجاؤگے ۔ حقیقت یہ ہے اللہ ہی تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے ۔ “
جنگ احد میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی ‘ ایک بڑی تعداد ماری گئی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی ۔ اس سے مدینہ کے کفار ‘ منافقین اور یہودیوں کو یہ موقعہ مل گیا کہ وہ از سر نو اٹھیں اور مسلمانوں کو حضرت محمد ﷺ کا ساتھ دینے کے نتائج سے ڈرائیں ۔ انہیں جنگ کی ہولناکیوں سے آگاہ کریں اور خصوصاً مکہ کے مشرکین اور قریش کے حلفاء کے ساتھ مزید معرکہ آرائی کے نتائج سے انہیں خائف کریں ۔ ظاہر ہے کہ شکست وریخت کی یہ فضاء دلوں و متزلزل کرنے ‘ اسلامی صفوں کو منتشر کرنے اور اسلامی قیادت کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے اور اپنے مقابلے میں زیادہ طاقتور قوتوں کے ساتھ ٹکرانے پر اصرار کرنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کے فوائد کو مشکوک بنانے اور اس پالیسی سے نکل آنے کی افادیت ظاہر کرنے ‘ اور کامیاب ہونے والوں کے ساتھ مصالحت کی احادیث ظاہر کرنے اور اس سلسلے میں انفرادی درد وغم کو برانگیختہ کرنے کے لئے بہت زیادہ موزوں تھی ۔ یہ لوگ چاہتے تھے کہ اس فضا سے فائدہ اٹھاکر اسے جماعت مسلمہ کی بیخ کنی کے لئے استعمال کیا جائے ۔ اس کے بعد اسلامی نظریہ حیات کی بیخ کنی تک اسے پہنچایا جائے اور اہل اسلام کو اس پر آمادہ کرلیا جائے کہ وہ اپنے سے قوی لوگوں کے سامنے جھک جائیں ۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس امر سے سخت الفاظ سے ڈرا کر منع فرمایا کہ وہ پالیسی کے معاملات میں اہل کفر کی اطاعت نہ کریں۔ اس معاملہ میں اگر وہ ان کی پیروی کریں گے تو اس کا نتیجہ لازماً خسارے کی شکل میں سامنے آئے گا ۔ اس میں کوئی نفع اور کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ البتہ یہ ہوگا کہ وہ الٹے پاؤں پھر دوبارہ کفر میں داخل ہوجائیں گے ۔ مومن کے لئے دوہی راستے ہیں ‘ یا تو وہ کفر اور اہل کفر کے ساتھ مسلسل برسر جنگ رہے گا ‘ باطل اور اہل باطل کے ساتھ برسر پیکار رہے گا اور یا پھر الٹے پاؤں پھر کر مرتد ہوجائے گا ۔ نعوذ باللہ منھا۔ ان دونوں راستوں کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے کہ وہ علیحدہ ہو کر غیر جانبدار کھڑا ہوجائے ‘ بین بین رہے اور اپنے موقف پر بھی جما رہے اور اپنے دین کی حفاظت کررہا ہو ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی سوچ میں یہ بات آتی ہو خصوصاً اس معرکے میں شکست کی فضا میں ‘ چوٹ اور زخم کھاکر وہ یہ سوچ رہا ہو کہ مومن کے لئے ممکن ہے کہ وہ غالب قوتوں کے ساتھ اس معرکہ آرائی سے نکل آئے ‘ ان کے ساتھ مصالحت کرے ‘ ان کی پیروی کرے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دین کی حفاظت بھی کرتا ہو ‘ اس کا عقیدہ اپنی جگہ درست ہو ‘ اس کا ایمان قائم ہو ‘ اس کا وجود بھی قائم رہے لیکن یہ سوچ ایک خطرناک واہمہ ہے اس لئے کہ وہ حق و باطل کے اس معرکے میں جو آگے نہیں بڑھتا وہ لازماً پیچھے کو پلٹتا ہے ۔ اور جو شخص کفر ‘ شر ‘ باطل ‘ گمراہی اور نافرمانی کے خلاف جدوجہد نہیں کرتا وہ لازماً ذلیل و خوار ہوگا ‘ الٹے پاؤں پھرے گا اور کفر ‘ شر ‘ گمراہی ‘ باطل اور نافرمانی میں داخل ہوجائے گا ۔ جسے اس کا ایمان نہ بچاسکے گا ‘ اس کا نظریہ حیات نہ بچاسکے گا ‘ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کفار کی پیروی کررہا ہو ‘ ان کی بات سن رہا ہو اور ان پر اعتماد کررہا ہو تو درحقیقت اس شخص نے اپنے ایمان اور نظریہ حیات کا موقف چھوڑ دیا ہے ۔ وہ روحانی طور پر شکست کھاچکا ہے کیونکہ جب ایک نظریاتی شخص اپنے مخالفین کے سامنے جھکتا ہے تو وہ روحانی طور پر ٹوٹ چکا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اب وہ ان کی وسوسہ اندازی سے متاثر ہوتا ہے۔ ان سے ہدایات لیتا ہے ۔ یہی تو ہے شکست ۔ اب کسی بھی وقت دوبارہ عقیدہ کفر کی طرف پلٹ سکتا ہے ۔ اسے اس اخری شکست سے بچانے والا کوئی نہیں ہے ۔ اگرچہ ابتدا میں اسے احساس نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایسی راہ پر پڑگیا ہے جس کا انجام حسرتناک ہوگا۔ صحیح مومن تو وہ ہوتا ہے جو اپنے عقیدے اور اپنی قیادت کی وجہ سے اپنے نظریاتی دشمنوں اور اپنی قیادت کے دشمنوں سے بےنیاز ہوجاتا ہے اور جب بھی وہ ان دشمنوں کی طرف کان دھرے گا گویا اس نے الٹے پاؤں سفر کا آغاز کردیا ہے ۔ یہ ایک فطری حقیقت اور عملی حقیقت ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے اہل ایمان کو آگاہ فرماتے ہیں ‘ متنبہ کرتے ہیں اور پکارتے ہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ……
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے اور تم نامراد ہوجاؤگے ۔ “
اس سے بڑا خسارہ کیا ہوسکتا ہے کہ انسان الٹے پاؤں پھرے اور ایمان کے بعد کفر کی راہ کو از سرنو اختیار کرے ۔ اگر ایمان چلاجائے تو پھر کون فائدہ اس کی کمی کو پورا کرسکتا ہے ؟
سوال یہ ہے کہ تم کفار کی طرف مائل اس لئے ہوسکتے ہو کہ تم ان سے حمایت کی امید رکھتے ہو گے اور یہ کہ ان کو اس وقت فتح حاصل ہے ۔ یہ بہت بڑا وہم ہے جس میں تم مبتلا ہو ‘ اس لئے اس وہم کو رد کرنے کے لئے اچانک روئے سخن اس طرف مڑتا ہے کہ منبع نصرت وحمایت کہاں ہے بَلِ اللَّهُ مَوْلاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ……………” حقیقت یہ ہے کہ تمہارا حامی و مددگار صرف اللہ ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔ “
مسلمانوں کی ولایت کا مرجع اللہ ہے ۔ وہ اسی سے نصرت طلب کرسکتے ہیں اور جس کا مددگار اللہ ہو تو اسے کسی دوسرے مددگار کی ضرورت کیا رہتی ہے ؟ جس کا ناصر اللہ ہو اسے بندوں کی جانب سے کسی نصرت کی ضرورت ہی کیا ہے ؟
آل عمران 3:150
آیات کے اس مجموعے کو اگر گہری نظر سے دیکھاجائے تو یہ اپنے اندر زندگی سے بھرپور مناظر کی ایک بڑی مقدار کو لئے ہوئے ہے اور ان مناظر کے علاوہ انسانی زندگی اور اسلامی تصور حیات دونوں کے نہایت ہی اساسی حقائق اس میں ثبت کئے گئے ہیں ۔ نیز اس میں کائنات کے بعض اٹل اصول بھی بیان کئے گئے ہیں ۔ جہاں تک اس معرکہ کا تعلق ہے ‘ اس کی جھلکیاں زندگی سے بھرپور ‘ بڑی تیزی کے ساتھ اور بڑی گہرائی کے ساتھ پیش کی گئی ہیں ‘ اس معرکے کا کوئی اہم پہلو نہیں چھوڑا گیا اور وہ اس انداز میں فلم بند ہوا ہے کہ اسے پڑھ کر شعور اور جذبات میں ایک طلاطم برپا ہوجاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری طرح زندہ ‘ جزئیات پر مشتمل فضائے جنگ اور اس کے حالات وواقعات ان میں ریکارڈ کئے گئے ہیں ۔ اس کے اندر انسانی ضمیر میں پیدا ہونے والے خلجان اور شعوری اور لاشعوری حرکات کی طرف بھی اشارے کئے گئے ہیں ۔ جن کی وجہ سے سیرت النبی کی مفصل کتابوں میں بیان کردہ تمام واقعات مستحضر ہوجاتے ہیں اور اس تبصرے کے نتیجے میں اسلامی تصور حیات کے اصلی حقائق ‘ زندہ شکل میں ‘ حرکت کرتے ہوئے اور مسلمانوں کے لئے صحیح تصور حیات تعمیر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
اس میں شک نہیں ہے کہ اس معرکے کے تمام مشاہدات اور پورے حقائق کو الفاظ وفقرات کی اس مختصر مقدار میں ‘ زندگی سے بھرپور انداز میں ‘ حرکات اور اشارات کے اس مخصوص انداز میں ثبت کردینا ‘ کسی انسانی تعبیر کے لئے نہ ممکن ہے اور نہ ہی تاریخ آداب انسانی میں اس کی کوئی مثال ہے اور اس کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جسے اسلوب ادا کے اسرار اور انسان کی قوت ادا کی حدود کا علم ہوتا ہے ‘ خصوصاً وہ لوگ جن کو مشکل تعبیرات سے واسطہ پڑتا ہے اور جو فن تعبیر میں درک رکھتے ہیں۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ (149) بَلِ اللَّهُ مَوْلاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ
” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے تو تم نامراد ہوجاؤگے ۔ حقیقت یہ ہے اللہ ہی تمہارا حامی و مددگار ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے ۔ “
جنگ احد میں مسلمانوں کو جو شکست ہوئی ‘ ایک بڑی تعداد ماری گئی ایک بڑی تعداد زخمی ہوئی ۔ اس سے مدینہ کے کفار ‘ منافقین اور یہودیوں کو یہ موقعہ مل گیا کہ وہ از سر نو اٹھیں اور مسلمانوں کو حضرت محمد ﷺ کا ساتھ دینے کے نتائج سے ڈرائیں ۔ انہیں جنگ کی ہولناکیوں سے آگاہ کریں اور خصوصاً مکہ کے مشرکین اور قریش کے حلفاء کے ساتھ مزید معرکہ آرائی کے نتائج سے انہیں خائف کریں ۔ ظاہر ہے کہ شکست وریخت کی یہ فضاء دلوں و متزلزل کرنے ‘ اسلامی صفوں کو منتشر کرنے اور اسلامی قیادت کے خلاف بداعتمادی پیدا کرنے اور اپنے مقابلے میں زیادہ طاقتور قوتوں کے ساتھ ٹکرانے پر اصرار کرنے کی پالیسی کو جاری رکھنے کے فوائد کو مشکوک بنانے اور اس پالیسی سے نکل آنے کی افادیت ظاہر کرنے ‘ اور کامیاب ہونے والوں کے ساتھ مصالحت کی احادیث ظاہر کرنے اور اس سلسلے میں انفرادی درد وغم کو برانگیختہ کرنے کے لئے بہت زیادہ موزوں تھی ۔ یہ لوگ چاہتے تھے کہ اس فضا سے فائدہ اٹھاکر اسے جماعت مسلمہ کی بیخ کنی کے لئے استعمال کیا جائے ۔ اس کے بعد اسلامی نظریہ حیات کی بیخ کنی تک اسے پہنچایا جائے اور اہل اسلام کو اس پر آمادہ کرلیا جائے کہ وہ اپنے سے قوی لوگوں کے سامنے جھک جائیں ۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس امر سے سخت الفاظ سے ڈرا کر منع فرمایا کہ وہ پالیسی کے معاملات میں اہل کفر کی اطاعت نہ کریں۔ اس معاملہ میں اگر وہ ان کی پیروی کریں گے تو اس کا نتیجہ لازماً خسارے کی شکل میں سامنے آئے گا ۔ اس میں کوئی نفع اور کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ البتہ یہ ہوگا کہ وہ الٹے پاؤں پھر دوبارہ کفر میں داخل ہوجائیں گے ۔ مومن کے لئے دوہی راستے ہیں ‘ یا تو وہ کفر اور اہل کفر کے ساتھ مسلسل برسر جنگ رہے گا ‘ باطل اور اہل باطل کے ساتھ برسر پیکار رہے گا اور یا پھر الٹے پاؤں پھر کر مرتد ہوجائے گا ۔ نعوذ باللہ منھا۔ ان دونوں راستوں کے سوا کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے کہ وہ علیحدہ ہو کر غیر جانبدار کھڑا ہوجائے ‘ بین بین رہے اور اپنے موقف پر بھی جما رہے اور اپنے دین کی حفاظت کررہا ہو ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی سوچ میں یہ بات آتی ہو خصوصاً اس معرکے میں شکست کی فضا میں ‘ چوٹ اور زخم کھاکر وہ یہ سوچ رہا ہو کہ مومن کے لئے ممکن ہے کہ وہ غالب قوتوں کے ساتھ اس معرکہ آرائی سے نکل آئے ‘ ان کے ساتھ مصالحت کرے ‘ ان کی پیروی کرے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے دین کی حفاظت بھی کرتا ہو ‘ اس کا عقیدہ اپنی جگہ درست ہو ‘ اس کا ایمان قائم ہو ‘ اس کا وجود بھی قائم رہے لیکن یہ سوچ ایک خطرناک واہمہ ہے اس لئے کہ وہ حق و باطل کے اس معرکے میں جو آگے نہیں بڑھتا وہ لازماً پیچھے کو پلٹتا ہے ۔ اور جو شخص کفر ‘ شر ‘ باطل ‘ گمراہی اور نافرمانی کے خلاف جدوجہد نہیں کرتا وہ لازماً ذلیل و خوار ہوگا ‘ الٹے پاؤں پھرے گا اور کفر ‘ شر ‘ گمراہی ‘ باطل اور نافرمانی میں داخل ہوجائے گا ۔ جسے اس کا ایمان نہ بچاسکے گا ‘ اس کا نظریہ حیات نہ بچاسکے گا ‘ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ کفار کی پیروی کررہا ہو ‘ ان کی بات سن رہا ہو اور ان پر اعتماد کررہا ہو تو درحقیقت اس شخص نے اپنے ایمان اور نظریہ حیات کا موقف چھوڑ دیا ہے ۔ وہ روحانی طور پر شکست کھاچکا ہے کیونکہ جب ایک نظریاتی شخص اپنے مخالفین کے سامنے جھکتا ہے تو وہ روحانی طور پر ٹوٹ چکا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اب وہ ان کی وسوسہ اندازی سے متاثر ہوتا ہے۔ ان سے ہدایات لیتا ہے ۔ یہی تو ہے شکست ۔ اب کسی بھی وقت دوبارہ عقیدہ کفر کی طرف پلٹ سکتا ہے ۔ اسے اس اخری شکست سے بچانے والا کوئی نہیں ہے ۔ اگرچہ ابتدا میں اسے احساس نہیں ہوتا کہ وہ ایک ایسی راہ پر پڑگیا ہے جس کا انجام حسرتناک ہوگا۔ صحیح مومن تو وہ ہوتا ہے جو اپنے عقیدے اور اپنی قیادت کی وجہ سے اپنے نظریاتی دشمنوں اور اپنی قیادت کے دشمنوں سے بےنیاز ہوجاتا ہے اور جب بھی وہ ان دشمنوں کی طرف کان دھرے گا گویا اس نے الٹے پاؤں سفر کا آغاز کردیا ہے ۔ یہ ایک فطری حقیقت اور عملی حقیقت ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے اہل ایمان کو آگاہ فرماتے ہیں ‘ متنبہ کرتے ہیں اور پکارتے ہیں يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تُطِيعُوا الَّذِينَ كَفَرُوا يَرُدُّوكُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوا خَاسِرِينَ……
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلوگے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو الٹا پھیر لے جائیں گے اور تم نامراد ہوجاؤگے ۔ “
اس سے بڑا خسارہ کیا ہوسکتا ہے کہ انسان الٹے پاؤں پھرے اور ایمان کے بعد کفر کی راہ کو از سرنو اختیار کرے ۔ اگر ایمان چلاجائے تو پھر کون فائدہ اس کی کمی کو پورا کرسکتا ہے ؟
سوال یہ ہے کہ تم کفار کی طرف مائل اس لئے ہوسکتے ہو کہ تم ان سے حمایت کی امید رکھتے ہو گے اور یہ کہ ان کو اس وقت فتح حاصل ہے ۔ یہ بہت بڑا وہم ہے جس میں تم مبتلا ہو ‘ اس لئے اس وہم کو رد کرنے کے لئے اچانک روئے سخن اس طرف مڑتا ہے کہ منبع نصرت وحمایت کہاں ہے بَلِ اللَّهُ مَوْلاكُمْ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ……………” حقیقت یہ ہے کہ تمہارا حامی و مددگار صرف اللہ ہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔ “
مسلمانوں کی ولایت کا مرجع اللہ ہے ۔ وہ اسی سے نصرت طلب کرسکتے ہیں اور جس کا مددگار اللہ ہو تو اسے کسی دوسرے مددگار کی ضرورت کیا رہتی ہے ؟ جس کا ناصر اللہ ہو اسے بندوں کی جانب سے کسی نصرت کی ضرورت ہی کیا ہے ؟
آل عمران 3:151
اس کے بعد مومنین کو تسلی دی جاتی ہے اور انہیں یہ خوش خبری دی جاتی ہے کہ جلد ہی وہ کفار کے دلوں میں تحریک اسلامی کا رعب ڈال دیں گے اور یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی ذات میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور یہ نظریہ شرک کی پشت پر اس دنیا میں نہ قوت ہے نہ قوت دلیل ہے اور آخرت میں تو ان کے لئے بہت ہی براٹھکانہ تیار کیا گیا ہے۔
سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ
” عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھادیں گے ‘ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے جس کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو ان ظالموں کو نصیب ہوگی ۔ “
یہ وعدہ اللہ جل شانہ کی جانب سے ہے ‘ جو غالب ہے اور قادر مطلق ہے ۔ وہ اہل کفر کے دلوں میں رعب بٹھاسکتا ہے ۔ وہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اس معرکے کا انجام کیا ہوگا ‘ وہ ضمانت دیتا ہے کہ اس کے دوست فاتح ہوں گے اور اس کے دشمنوں کو شکست ہوگی ۔
اللہ کا یہ وعدہ ہر اس معرکے کے لئے اب بھی قائم ہے جس میں فریقین معرکہ اہل کفر اور اہل ایمان ہوں۔ جب بھی اہل کفر اہل سے دوچار ہوجاتے ہیں ‘ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا رعب بٹھادیتے ہیں ۔ لیکن اہم بات اور اہم شرط یہ ہے کہ اہل ایمان کے دل میں ایمان کی حقیقت موجود ہو۔ ان کو اللہ کی نصرت کا حقیقی شعور ہو ‘ انہیں پورا پورا یقین ہو کہ اللہ ان کا مددگار ہے اور ان کے دل میں ذرہ برابر شک اس بارے میں نہ ہو کہ اللہ کا لشکر ہی غالب رہتا ہے اور یہ کہ اللہ اپنے معاملات پر پورا کنٹرول رکھتے ہی اور یہ کہ اہل کفر اللہ کو شکست نہیں دے سکتے اور نہ وہ اللہ سے آگے بڑھ سکتے ہیں ۔ اور ان کا معاملہ اللہ کے اس وعدے کے ساتھ ہو کہ وہ روبعمل ہوکر رہے گا چاہے ظاہری حالات اس کے خلاف نظر آئیں ‘ اس لئے کہ اللہ کا وعدہ بہرحال سچا ہوتا ہے اگرچہ ہماری آنکھیں الٹ دیکھ رہی ہوں۔
اہل کفر رعب میں اس لئے آجاتے ہیں کہ ان کا تکیہ صحیح نہیں ہے ۔ ان کا بھروسہ نہ قوت پر ہے اور نہ صاحب قوت پر۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ ایسے خداؤں کو شریک کیا ہوا ہے جن کے ہاتھ میں کوئی قوت نہیں ہے کیونکہ اللہ نے ان شریکوں کو کوئی قوت دے کر اپنے ساتھ شریک نہیں کرلیا۔
یہ انداز تعبیر کہ اللہ نے ان پر کوئی ” سلطان “ نہیں اتاری ‘ اپنے اندر گہرامفہوم رکھتی ہے ۔ قرآن میں اس انداز تعبیر کو بار بار اپنایا گیا ہے ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ جھوٹے الہٰوں کے پاس سلطان نہیں ہے ۔ کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ غلط عقائد پر کوئی سلطان نہیں ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ کوئی تصور ‘ کوئی عقیدہ ‘ کوئی نظریہ ‘ کوئی شخصیت اور کوئی بھی تنظیم ‘ اس قدر موثر ہوتی ہے جس قدر اس کے اندر پوشیدہ قوت اور غلبے کا داعیہ ہوتا ہے ۔ اس اندرونی قوت کی مقدار کے مطابق ہی اس کی جدوجہد قائم اور دائم رہتی ہے ۔ اور اس اندرونی قوت کا دارومدار اس کی اس سچائی کی اس مقدار پر ہوتا ہے جو اس کے اندر موجود ہوتی ہے اور یہ کہ اس قوت اور اس قوت کے اندر کی قدر ہم آہنگی ہے جس قوت اور سچائی پر اللہ نے اس پوری کائنات کو قائم کیا ہے ۔ نیز یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس کائنات کے سنن اور نوامیس کے ساتھ اس کی ہم آہنگی کی قدر ہے ۔ کسی شخص یا ادارے کو اللہ اسی قدر قوت اور سلطان دیتا ہے جس قدر وہ ان نوامیس فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے ‘ جو اس کائنات میں مؤثر ہیں اور کارفرما ہیں ۔ اگر یہ ہم آہنگی نہیں ہے تو وہ شخص ‘ نظریہ اور ادارہ ‘ بوگس ‘ کھوٹا اور ضعیف اور ختم ہونے والا ہے ‘ چاہے بظاہر وہ بہت ہی قوی نظر آئے ‘ بظاہر وہ جس قدر مزین کیا گیا ہو اور بظاہر وہ پھولا ہوا نظر آتا ہو۔
مشرکین کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے الٰہوں کو شریک ٹھہراتے ہیں ۔ یہ شرک مختلف الاقسام ہوتی ہے ۔ اس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ لوگ پہلے اللہ کی خصوصیات میں سے کوئی خصوصیت غیر اللہ کو عطا کرتے ہیں ‘ یا اللہ کے مظاہر میں سے کوئی مظہر غیر اللہ کو دیتے ہیں ۔ ان خصائص میں سے اہم خاصہ خدا اس کا حق قانون سازی ہے ‘ جو وہ اپنے بندوں کی زندگی کے مختلف حالات کے لئے کرتا ہے اور ان اقدار کے تعین کا حق ہے جن کے مطابق لوگوں کو اپنی زندگی کے معاملات ‘ انفرادی اور اجتماعی فیصلے کرنے ہوتے ہیں اور یہ کہ بندوں پر حق حکمرانی صرف اللہ کو ہے اور یہ صرف اس کا حق ہے کہ وہ اپنے قوانین اور اپنے طے کئے ہوئے حسن وقبح کے معیارات اور پیمانوں کی اطاعت کرائے ۔ اس کے بعد شرک پھر ان شعائر تعبدیہ کے اندر ہوتا ہے جو اللہ کے لئے مخصوص ہوتے ہیں یعنی عبادات۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ خدا جن کو مشرکین اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں اس کے ہاں اس سچائی کی کیا مقدار ہوتی جس پر اللہ نے اس کائنات کو قائم کیا ہے ؟ یہ صرف اللہ ہے جس نے اس کائنات کو حق پر قائم کیا ہے اور تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے کہ وہ صرف اس کی بندگی کا اقرار کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ اور وہ شریعت اور حسن وقبح کے پیمانے صرف اس سے لیں ۔ اور صرف اس کی عبادت اس طرح کریں جس طرح اس کی عبادت کرنے کا حق ہے ۔ بغیر کسی شرک کے ‘ بغیر کسی شراکت کے ۔ اس لئے جو نظریہ اصول توحید کے خلاف ہو جس پر یہ کائنات اپنی اساس سے قائم ہے وہ کھوٹا ‘ باطل اور حق کے مخالف ہے۔ اور یہی راز ہے کہ اس کے کمزور اور واہیات ہونے کی اور یہی وجہ ہے کہ اس کے اندر نہ قوت ہوتی ہے اور نہ اس کے اندر سلطان ہوتی ہے اور وہ زندگی کے دھارے کو متاثر نہیں کرسکتا ۔ بلکہ اس کے اندر سرے سے زندگی کے بنیادی عناصر (Potentials) نہیں ہوتے ۔
جب تک مشرکین شرک میں مبتلا ہیں (اور شرک ایسا نظریہ ہے جس اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی سلطان نہیں ہے) یہ شرک وہ چاہے الٰہوں کی صورت میں کررہے ہوں یا وہ عقائد و تصورات میں کررہے ہوں ‘ تو وہ گویا کمزوری خلا اور وہم پر بھروسہ کررہے ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ ہمیشہ ذلیل وہ خوار اور ضعیف وناتواں رہیں گے اور وہ ہمیشہ مرعوب رہیں گے ‘ جب بھی ان کا سامنا اہل ایمان کے ساتھ ہوا۔ اس لئے کہ اہل ایمان کا بھروسہ ایسی سچائی پہ ہوتا ہے جو پر شوکت اور پر قوت ہوتی ہے ۔
اس وعدے کا مصداق ہمیں ہر وقت نظر آسکتا ہے جب بھی حق و باطل کا آپس میں ٹکراؤ ہو ‘ بارہا ایسا ہوا ہے کہ باطل زاد وعتاد اور کثر سامان جنگ کے ساتھ حق کے مقابلے میں آیا ہے ‘ جبکہ حق غیر مسلح تھا لیکن اس صورت حال کے باوجود باطل خوفزدہ اور مرعوب ہوکر کانپنے لگتا ہے ۔ وہ ہر حرکت اور ہر نعرہ تکبیر کے مقابلے میں تھرتھر کانپتا رہا ہے حالانکہ اس کے ساتھ عظیم مسلح لشکر رہے ہیں ۔ لیکن جونہی ان عظیم لشکروں پر حق جھپٹا ہے باطل دبک گیا ہے ‘ جزع وفزع کرتے ہوئے منتشر ہوگیا ہے۔ اس کی صفوں میں اضطراب پھیل گیا ہے ۔ اگرچہ وہ تعداد اور زاد وعتاد میں بہت زیادہ تھا اور حق اس کے مقابلے میں قلت قلیلہ تھا۔ یوں اس فرمان کی سچائی باربار ثابت ہوئی ہے ۔ سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا…………… ” عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رعب بٹھادیں گے ‘ اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی میں شریک ٹھہرایا ہے ‘ جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ “
یہ بات تو دنیا سے متعلق تھی ۔ آخرت میں کیا ہوگا ‘ تو وہاں ان کا انجام نہایت ہی پریشان کن اور برا ہوگا اور ان ظالموں کے لائق حال ہوگا وَمَأْوَاهُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَى الظَّالِمِينَ……………” ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو ان ظالموں کے نصیب ہوگی۔ “
یہاں اللہ تعالیٰ انہیں اس اصول کا مصداق خود جنگ احد بتاتے ہیں ۔ اس جنگ کی ابتدائی جھڑپ ہی میں مسلمانوں و فیصلہ کن فتح ہوگئی تھی ۔ مشرکین مارے جارہے ‘ یہاں تک کہ وہ بھاگ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے اپنا مال غنیمت بھی چھوڑدیا ۔ ان کا علم گر گیا اور کوئی اسے اٹھانے و الا نہ رہا ۔ صرف ایک عورت کو ہمت ہوئی اور اس نے اس علم اٹھالیا ۔ یہ فتح شکست میں صرف اس وقت تبدیل ہوئی جبب تیراندازوں کے دلوں میں ضعف پیدا ہوگیا ۔ وہ مال غنیمت سمیٹنے کے لئے چڑھ دوڑے ۔ آپس میں تنازعہ بھی ہوا اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے احکام کی خلاف ورزی کی جو نبی وقت بھی تھے اور ان کے قائد بھی تھے ۔ چناچہ قرآن کریم اس معرکہ کے عروج پر جو واقعات پیش آئے ‘ جو حادثات ہوئے ۔ جن حالات میں ہوئے اور جس طرح ہوتے ہوئے نظرآئے ‘ ان کی توجہ نہایت ہی عجیب اور زندگی اور حرکت سے بھرپور انداز میں ‘ ان واقعات کی طرف مبذول کراتا ہے ذرا غور سے پڑھئے :
آل عمران 3:152
یہاں قرآن مجید نے جنگ کی اسٹیج کے تمام مناظر کو پوری طرح ‘ الفاظ کے ذریعہ منقش کردیا ۔ اس میں فتح اور شکست دونوں کے مناظر دکھائے گئے ہیں ‘ الفاظ کی صورت میں ایک ریل چلتی نظر آتی ہے ‘ جس میں میدان جنگ کے تمام مناظر یکے بعد دیگرے سامنے آتے چلے جاتے ہیں ‘ بلکہ دلی خیانت ‘ جسموں کے انداز اور ضمیر کی کھٹک تک صاف نظرآتے ہیں ۔ عبارات کے معانی کو اس طرح منتقل کرتی ہیں گویا ریل ہے جو مناظر دکھا رہی ہے ۔ ہر حرکت میں جدید تصویر ‘ متحرک اور زندہ نظرآتی ہے خصوصاً وہ منظر جب لوگ پہاڑ پر چڑھتے ہوئے بھاگ رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ انہیں پکار رہے ہیں ‘ لیکن وہ ایک نہیں سنتے ۔ دہشت زدہ ہیں ‘ پریشان ہیں ‘ جنگ چھوڑ کر پیٹھ موڑ کر بھاگنے کے لئے اوپر ہی کی طرف جارہے ہیں ۔ ان تصاویر کے ساتھ ساتھ دلی وساوس ، قلبی کیفیات ‘ تاثرات اور خلجان بھی صاف نظر آتا ہے ۔ اتنی بڑی مقدار میں زندہ ‘ متحرک اور چلتی پھرتی تصاویر اور پھر ان کے اندر کے فیصلے ‘ ہدایات اور بہترین تبصرے اور یہ سب کچھ اسی مختصر سی عبارت میں ۔ یہ ہے قرآن کریم کا منفرد اسلوب بیان اور یہ ہے قرآن کریم کی منفرد طرز تربیت۔
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ…………… ” اللہ نے نصرت کا جو وعدہ تم سے کیا تھا ‘ وہ تو اس نے پورا کردیا۔ ابتداء میں اس کے حکم سے تم انہیں قتل کررہے تھے ۔ “ یہ معرکہ کی ابتدائی تصویر ہے جب مسلمانوں نے مشرکین کو قتل کرنا شروع کردیا تھا۔ تَحُسُّونَهُمْ سے مراد تخمدونَ حِسَّھُم…………(تم اس کے احساس کو بجھا رہے تھے ) یا تم ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینک رہے تھے ۔ اس سے پہلے کہ مال غنیمت کالالچ انہیں بےراہ کردے ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں کہہ دیا تھا ” تمہیں فتح نصیب ہوگی لیکن اس وقت تک جب تک تم نے صبر کیا ۔ “ چناچہ یہی بات سچی نکلی۔
حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الأمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ
مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا اور جونہی وہ چیز تمہیں اللہ نے دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے ‘ تم نے اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کی ۔ اس لئے کہ تم میں سے بعض لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے ۔ “
یہ تیراندازوں کے حالات کا جائزہ ہے ۔ ان میں سے بعض لوگ مال غنیمت کے دھوکے میں آگئے ۔ ان کے اور ان میں سے ان لوگوں کے درمیان نزاع ہوگیا جو رسول اللہ ﷺ کی مکمل اطاعت کرنا چاہتے تھے ۔ بات یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے معصیت اور نافرمانی کا فیصلہ کیا خصوصاً اس وقت جب انہوں نے اپنی آنکھوں سے فتح مندی کے آثار دیکھ لئے ۔ ان میں دو گروہ بن گئے ۔ ایک گروہ نے مال غنیمت کا ارادہ کرلیا اور دوسرے نے ثواب آخرت کو ترجیح دی ۔ ان کے دلوں کے اندر اختلاف پیدا ہوگیا۔ اور اسلامی صفوں میں وحدت نہ رہی۔ اور نہ ہی ہدف ایک رہا۔ لالچ نے اخلاص کو مکدر کردیا حالانکہ نظریاتی جنگوں میں خلوص شرط اول ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ نظریاتی جنگ دوسروں سے مختلف ہوتی ہے ۔ یہ جنگ ایک طرف میدان جنگ میں لڑی جاتی ہے اور دوسری طرف خود انسانی ضمیر کے اندر بھی لڑی جاتی ہے اور جب تک ضمیر کے میدان میں فتح حاصل نہ ہو ‘ جنگ کے میدان میں فتح ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی جنگ ہوتی ہے جو صرف اللہ کے لئے ہوتی ہے ‘ اس لئے اس میں کامیابی سے ہمکنار وہی لوگ ہوتے ہیں جن کے دل اللہ کے لئے خالص ہوجائیں ۔ جب وہ اللہ کا جھنڈا بلند کرتے ہیں تو اللہ انہیں تب ہی نصرت عطا کرتے ہیں ۔ جب اللہ ان کو چھانٹ کر خالص کردیں اور وہ صرف اسی کے معرکوں میں کامیاب رہتے ہیں حالانکہ وہ باطل کے جھنڈے اٹھا رہے ہوتے ہیں ۔ اس میں بھی حکمت ہوتی ہے ‘ جس کا علم اللہ ہی کو ہوتا ہے۔ لیکن جو لوگ حق کا علم بلند کرتے ہیں اور پھر حق کے لئے یکسو نہیں ہوتے ‘ مخلص نہیں ہوتے ‘ تو ایسے لوگوں کو اللہ کبھی بھی نصرت عطا نہیں کرتے ۔ ان کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے ‘ یہاں تک کہ ان کی چھانٹی ہوجاتی ہے اور وہ لوگ بالکل ستھرے ہوجاتے ہیں جو اللہ کے لئے کام کرتے ہیں ۔ یہ ہے وہ بات جسے قرآن مجید جماعت مسلمہ پر ان کے موقف کی روشنی میں واضح کرنا چاہتا ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی تلقین پہلی جماعت اسلامی کو اس وقت کی جارہی ہے جب کہ وہ ہزیمت کے تلخ حقائق سے دوچار تھی ‘ اسے دردناک چوٹ لگی ہوئی تھی اور یہ چوٹ اس کے اپنے ڈانواں ڈول موقف کی وجہ سے لگی تھی ۔ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الآخِرَةَ……………(ابن کثیر ) یوں اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کا حال کھول کر ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں ‘ ان کے دلوں کی بات ظاہر کردی جاتی ہے اور انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ شکست کیوں ہوئی تاکہ آئندہ اس سے بچیں۔
اس کے ساتھ ساتھ اللہ اپنی حکمت اور تدبیر کا ایک پہلو بھی ان پر واضح فرماتے ہیں ۔ یہ کہ انہیں جو تکالیف اٹھانی پڑیں اور یہ واقعات جو بالکل ظاہری اسباب کی وجہ سے پیش آئے لیکن اللہ کی قدرت دیکھئے ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ……………” تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلے میں پسپا کردیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے تمام افعال کی پشت پر تقدیر کارفرما ہوتی ہے ۔ جب انہوں نے کمزوری دکھائی ‘ آپس میں تنازع کیا ‘ حکم عدولی کی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت کو پھیر دیا ‘ ان کی طاقت ختم ہوگئی ‘ وہ مشرکین کی آمد کو معلوم نہ کرسکے ‘ تیراندازوں کو گھاٹی سے ہٹادیا۔ میدان میں لڑنے والوں کو بھی پیچھے ہٹادیا ۔ وہ بھاگنے لگے ‘ یہ سب واقعات اس طرح پیش آئے کہ خود ان کے کئے کا نتیجہ تھے۔ لیکن ان ظاہری واقعات کے پیچھے بھی حکمت وتدبیر تھی ‘ وہ یہ کہ اللہ اہل ایمان کو آزمائش میں ڈالنا چاہتے تھے تاکہ سخت ترین حالات ‘ خوف وہراس ‘ قتل وجراح اور ہزیمت وشکست سے دوچار کرکے انہیں آزمایاجائے ۔ اور ان مشکلات کے نتیجے میں ان دلوں کے خفیہ گوشے بھی سامنے آجائیں۔ دل صاف ہوجائیں اور صفوں سے کمزور لوگ دور ہوجائیں جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا۔ ہوتاتو یہ ہے واقعات بظاہر اپنے ظاہری اسباب کے نیتجے میں سامنے آتے ہیں لیکن ان ظاہری اسباب کے ہوتے ہوئے بھی ان کے پیچھے تدبیر کام کررہی ہوتی ہے ۔ اس لئے ان دونوں کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے ۔ ہر واقعہ کے پیچھے سبب ظاہری بھی ہوتا ہے اور اس سبب ظاہری کے پیچھے اللہ کی حکمت وتدبیر بھی کام کررہی ہوتی ہے اور یہ تدبیر لطیف وخبیر کی طرف سے ہوتی ہے ۔
وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ……………” اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کردیا۔ “ یعنی اللہ نے تمہاری کمزوری ‘ باہم نزاع اور حکم عدولی کو معاف کردیا ۔ اس طرح تم جو بھاگ نکلے ‘ الٹے پاؤں پھرے ۔ یہ سب کچھ اللہ نے معاف کردیا۔ اور یہ معافی صرف اس کا فضل وکرم ہے ۔ تمہاری بشری کمزوریوں کو اس نے معاف کردیا ‘ نظرانداز کردیا کیونکہ تمہاری نیت بری نہ تھی ‘ تم غلطی پر اصرار نہیں کررہے تھے ۔ کیونکہ تمہاری یہ کمزوری اور یہ غلطی دائرہ ایمان کے اندر ہے ۔ تم اللہ کے سامنے بھی جھکتے ہو اور اپنی قیادت کے احکام کے سامنے بھی سرتسلیم خم کرتے ہو۔ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ……………” کیونکہ مومنین پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔ “
اس کا پہلا فضل تو یہ ہے کہ اس نے انہیں معاف کردیا ۔ جب تک وہ اسلامی نظام پر قائم ہیں اس کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کے خصائص الوہیت وحاکمیت کے مدعی خود نہیں ہوتے ۔ وہ اپنے لئے منہاج حیات ‘ نظام قانون ‘ اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانے خود وضع نہیں کرتے بلکہ صرف اللہ سے لیتے ہیں ۔ یہ اصول تسلیم کرتے ہوئے اگر ان سے بتقاضائے بشریت ‘ بوجہ کمزوری ‘ بوجہ عارضی جوش اور عارضی خواہشات کوئی غلطی ہوجائے تو وہ معاف ہوسکتی ہے لیکن غلطیوں پر ابتلا کی سزا ضرور دی جاتی ہے تاکہ وہ کھوٹ دور ہو اور وہ کمزوری دور ہو۔
آل عمران 3:153
اس کے بعد اس شکست کے ایک منظر کو یوں پیش کیا جاتا ہے۔ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلا تَلْوُونَ عَلَى أَحَدٍ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ فِي أُخْرَاكُمْ……………” یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے ‘ کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے کا ہوش تک تمہیں نہ تھا ‘ اور رسول تمہارے پیچھے سے تمہیں پکار رہا تھا ۔ “ یہ اس لئے یاد دلایا جاتا ہے کہ ان کے پردہ احساس پر یہ نقش گہرائی کے ساتھ منقش ہوجائے ۔ وہ اپنی جگہ ‘ شرمندگی ‘ حیاء اور پشیمانی محسوس کریں ۔ اس کے اسباب پر غور کریں جو کمزوری ‘ باہم تنازع اور حکم عدولی کی وجہ سے ان سے سرزد ہوئی ۔
یہ آیت ان کی جسمانی حرکات اور ان کی نفسیاتی کیفیات کی اس قدر مختصر الفاظ میں نقشہ کشی کرتی ہے جس کی نظیر نہیں ملتی ۔ اس تصویر میں صاف نظرآتا ہے کہ وہ پہاڑ پر اوپر کی طرف بھاگتے ہوئے چڑھتے ہیں ‘ مرعوب ہوگئے ہیں ‘ دہشت زدہ ہیں اور سخت اضطراب میں ہیں ۔ کوئی کسی کی طرف دیکھتا ہی نہیں ۔ کوئی کسی کی پکار کا جواب نہیں دیتا ۔ رسول ﷺ پکار رہے ہیں تاکہ انہیں مطمئن کردیں کہ آپ زندہ ہیں لیکن وہ نہیں سنتے ، کیونکہ کسی نے یہ پکار دیا تھا کہ محمد ﷺ قتل ہوگئے ہیں اور اس وجہ سے ان کے دل متزلزل ہوگئے تھے ۔ ان کے قدم اکھڑگئے تھے ۔ غرض ایک مکمل تصویر کشی ہے لیکن چند الفاظ میں ۔
ان کی اس روش کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ سے بھاگ کر اور رسول اللہ ﷺ کو اکیلا چھوڑ کر آپ ﷺ کو جو دکھ دیا ‘ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی بہت دکھ دیئے ۔ وہ اپنے کئے پر پچھتا رہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اکیلا چھوڑدیا۔ آپ ﷺ کو زخم آئے ‘ لیکن پھر بھی آپ ثابت قدم رہے جبکہ وہ بھاگ گئے تھے ‘ تاکہ تم اس چیز پر حسرت نہ کرو جو چلی گئی ہے اور نہ اس اذیت پر حزن وملال کا اظہار کرو جو اس وجہ سے تمہیں پہنچی ۔ کیونکہ یہ تجربہ جس سے وہ گزرے اور یہ ضربات جو نبی ﷺ کو لگیں وہ ان کے لئے ناقابل برداشت تھیں ۔ ان کو دیکھتے ہوئے وہ خود اپنی تکایف بھول گئے ۔ اور وہ مصائب ان کی نظروں میں کم ہوگئے فَأَثَابَكُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَكُمْ وَلا مَا أَصَابَكُمْ……………” اس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دئیے تاکہ آئندہ کے لئے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ “
اور اللہ تو خفیہ باتوں کا بھی علم رکھتا ہے۔ تمہارے اعمال کی حقیقت اسے اچھی طرح معلوم ہے اور تمہاری تمام حرکات کے پیچھے جو داعیہ ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ……………” اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے ۔ “
آل عمران 3:154
جب اس ہزیمت کا خوف وہراس فرو ہوگیا ‘ اس کی افراتفری ختم ہوگئی تو اہل ایمان پر ایک عجیب سکون طاری ہوگیا۔ اہل ایمان جو اپنے رب کی طرف دوبارہ پلٹ آئے اور نبی ﷺ کے اردگرد جمع ہوئے تو ان پر ایک عجیب اونگھ طاری کردی گئی ۔ انہیں ایک ناقابل فہم سکون حاصل ہوگیا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ اس نئی معجزانہ فضائے امن و سکون کی تعبیر نہایت ہی تعجب انگیز ہے ۔ وہ نہایت شفاف ‘ نرم اور خوشگوار فضا ہے اور اس کے زمزمہ اور خوشگوار چھاؤں کی تصویر کشی ان الفاظ میں ہے ۔ ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ……………” اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے ۔ “ یہ ایک ایسی فضاتھی جس سے رحمت الٰہی کا اظہار ہورہا تھا اور اللہ کے خاص مومن بندوں پر یہ خاص رحمت نازل ہوا کرتی ہے ۔ یہ ایک اونگھ تھی اور خوفزدہ اور پریشان حال مجاہدین پر جب اونگھ آجائے ‘ اگرچہ ایک لحظہ کے لئے کیوں نہ ہو تو وہ ان کے جسم کے اندر ساحرانہ اثر کرتی ہے ‘ اونگھ دور ہوتے ہی وہ تروتازگی محسوس کرتے ہیں ‘ گویا وہ ایک نئی مخلوق ہیں ‘ دلوں پر اطمینان کی حالت طاری ہوجاتی ہے ۔ جسم آرام محسوس کرتا ہے ۔ اس اونگھ کی کیا حقیقت ہے ‘ اس کی حقیقت اور ماہیت اور کیفیت کا ادراک ہم نہیں کرسکتے ۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے شدید پریشانی کے عالم میں ایسی حالت کو محسوس کیا ہے ۔ میں نے واضح طور پر محسوس کیا کہ اس میں اللہ اللہ کی رحمت کی شبنم ہے ۔ اور اس قدر معجزانہ کہ ہمارے الفاظ اس کے بیان سے قاصر ہیں ۔
ترمذی ‘ نسائی ‘ حاکم نے حماد ابن سلمہ کے واسطہ سے ثابت کی روایت حضرت انس ؓ نے ابوطلحہ سے نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں ” میں نے احد کے دن اپنا سر اٹھایا اور دیکھنے لگا ‘ ہر شخص کا سر ہودج پر جھکا ہوا ہے ۔ اور ایک دوسری روایت ابوطلحہ سے یہ ہے ” ہم احد کے دن میدان جنگ میں تھے ‘ کہ ہم پر ایک خاص اونگھ طاری ہوگئی ۔ میری تلوار گرتی اور میں اسے اٹھاتا ‘ گرتی اور میں دوبارہ اٹھاتا۔ “
ایک گروہ کا حال تو یہ تھا اور دوسرے گروہ کا حال یہ تھا کہ وہ متزلزل الایمان تھا۔ یہ لوگ تھے جنہیں صرف اپنی جان کی فکر تھی ‘ اسی کو اہمیت دیتے تھے ۔ یہ لوگ ابھی تک جاہلیت کے تصورات سے نکل کر باہر نہیں آئے تھے ۔ نہ انہوں نے پوری طرح اپنے آپ کو اس تحریک کے سپرد کردیا تھا ‘ نہ وہ پوری طرح تن بتقدیر الٰہی ہوگئے تھے ۔ وہ اس بات پر مطمئن نہ تھے کہ انہیں جو چوٹ لگی ہے وہ ان میں چھانٹی کے لئے لگی ہے ‘ آزمائش کے لئے یہ سب کچھ ہوا ہے ۔ یہ اس لئے نہیں ہوا کہ اللہ نے اپنے دوستوں اور حامیوں کو دشمنوں کے حوالے کردیا ہے اور نہ کہیں اللہ نے یہ آخری فیصلہ کردیا ہے کفر ‘ شر اور باطل کو اب آخری غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔ اور انہیں اب پورا کنٹرول حاصل ہوگیا ہے ۔
وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنْفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ
” مگر ایک دوسراگروہ جس کے لئے ساری اہمیت بس اپنے مفاد ہی کی تھی ‘ اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سرا سر خلاف حق تھے ۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ ” اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ “
اسلامی نظریہ حیات ‘ اپنے ماننے والوں کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کی جان میں ان کا کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ تو سب کے سب اللہ کے ہیں اور جب وہ جہاد فی سبیل اللہ کے نکلتے ہیں تو وہ اللہ کے لئے نکلتے ہیں ‘ وہ اللہ کے لئے حرکت میں آتے ہیں اور اللہ ہی کے لئے جنگ کرتے ہیں ۔ جہاد کے اس عمل میں ان کی ذات کے لئے کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ اس میں پھر وہ اپنے آپ کو اللہ کی تقدیر کے سپرد کردیتے ہیں اور اللہ کی تقدیر ان پر جو حالات بھی لاتی ہے وہ اسے قبول کرتے ہیں ‘ مکمل تسلیم ورضا کے ساتھ جو بھی ہو سو ہو۔
رہے وہ لوگ جو اپنی ذات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ان کی سوچ اور ان کے اندازے ان کی اپنی ذات ارد گرد گھومتے ہیں ‘ ان کی سرگرمی اور ان کے تمام اہتمام صرف اپنی ذات کے لئے ہوتے ہیں ‘ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایمان کی حقیقت ابھی تک جاگزیں ہی نہیں ہوتی ۔ یہ دوسرا طائفہ جس کا ذکر یہاں ہورہا ہے وہ ایسے لوگوں پر مشتمل تھا ۔ یہاں قرآن کریم نے ان پر تبصرہ کرنا ضروری سمجھا ۔ اس گروہ کے نزدیک ساری اہمیت ان کی ذات کے لئے تھی ۔ وہ نہایت کرب اور پریشانی میں مبتلا تھے ۔ انہیں یہ احساس کھائے جارہا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنی صلاحتیوں کو ایسے کام میں ضائع کررہے ہیں ‘ جو ان کے ذہن میں واضح نہیں ہے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ وہ بغیر ان کی مرضی کے اس معرکے میں شریک ہونے پر مجبور ہوگئے ‘ انہیں اس میں خواہ مخواہ جھونک دیا گیا اس کے باوجود ان کو یہ تلخ چوٹ لگی اور وہ خوامخواہ اس قدر بھاری قیمت ادا کررہے ہیں ‘ قتل ہورہے ہیں ‘ زخمی ہوگئے ہیں اور پریشان کا تو حال نہ پوچھو ۔ یہ لوگ اللہ کی صحیح معرفت سے محروم ہیں ۔ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسی بدگمانیاں کرتے ہیں جس طرح جاہل لوگ کیا کرتے تھے اور سب سے بڑی بدگمانی یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس معرکہ میں ضائع کررہا ہے ‘ جس کے انتظام میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے بس انہیں تو یہاں دھکیل کر لایا گیا ہے تاکہ وہ مریں ‘ زخمی ہوں ۔ اللہ تو نہ انہیں بچاتا ہے اور نہ ان کی مدد کرتا ہے۔ اللہ نے انہیں دشمنوں کے لئے لقمہ تر بنادیا ہے ۔ وہ پوچھتے ہیں هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ ” اس کام میں ہمارا بھی حصہ ہے ۔ “
ان کے اس اعتراض میں یہ بات بھی شامل تھی کہ اس معرکے کے لئے قیادت نے جو منصوبہ بنایا اس میں ان کی ایک نہ سنی گئی۔ شاید اس گروہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ کے اندر لڑا جائے اور باہر جاکر لڑنے سے پرہیز کیا جائے لیکن اس کے باوجود وہ عبداللہ ابن ابی کے ساتھ لوٹ نہ گئے تھے ۔ لیکن ان کے دل اس منصوبے پر مطمئن نہ تھے ۔
اس سے قبل کہ اس سیاق کلام میں ان کی بدگمانیوں کی بات ختم کی جائے ‘ درمیان میں مختصر سا جواب دیا جاتا ہے اور اس میں ان کے اس اعتراض کو رد کردیا جاتا ہے ۔ قُلْ إِنَّ الأمْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ……………” کہہ دو کہ اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ “ کسی کے لئے کوئی اختیار نہیں ہے ‘ نہ ان کا کوئی اختیار اور کسی کا کوئی اختیار ہے ۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی کو یہ حکم دے دیالیسَ لَکَ مِنَ الاَمرِ شَئٌ……………” اس کام میں کوئی اختیار تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ “ لہٰذا اس دین کے تمام معاملات ‘ اس کی خاطر جہاد ‘ اس کے نظام کا قیام ‘ لوگوں کے دلوں کے اندرہدایت داخل کرنا وغیرہ یہ سب کام اللہ کے لئے ہیں ۔ ان اختیارات میں کوئی انسان شریک نہیں ہے ۔ بشر کا کام تو صرف یہ ہے کہ وہ اپنے فرائض سرانجام دے ۔ وہ اپنے وعدہ ایمان کے تقاضے پورے کرے ۔ یہ اب صرف اللہ کا کام ہے کہ اس جدوجہد کے کیا نتائج نکلتے ہیں ۔ اور وہ کیا نکالتا ہے ۔ اس موقعہ پر اللہ ان کے دل کے اندر ایک چھپی ہوئی کمزوری کو بھی طشت ازبام کردیتے ہیں يُخْفُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ مَا لا يُبْدُونَ لَكَ……………” یہ لوگ اپنے دلوں میں جو بات چھپائے ہوئے ہیں تم پر ظاہر نہیں کرتے ۔ “ ان کا یہ سوال کہ ” کیا ان کے لئے بھی اس معاملے میں کوئی اختیا رہے ؟ “ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ان کے شعور اور لاشعور میں یہ بات تھی کہ انہیں ایک ایسے کام میں ڈال دیا گیا ہے جس میں وہ از خود نہیں آئے ۔ یہ کہ قیادت کی غلطیوں کی وجہ سے وہ قربانی کا بکرابن گئے ہیں ۔ اگر وہ خود اس معرکے کا نقشہ تیار کرتے تو اس کا یہ انجام نہ ہوتا يَقُولُونَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَا هُنَا……………” ان کی اصل بات یہ ہے کہ اگر قیادت کے اختیارات میں ہمارا کوئی حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ۔ “
یہ ایک وسوسہ ہے ‘ جو اس وقت تک دلوں میں پیدا ہوتا ہے ‘ جب تک وہ نظریہ کے لئے خالص اور یکسو نہیں ہوجاتے ۔ جب ایسے لوگوں کو کسی موقعہ پر شکست سے دوچار ہونا پڑتا ہے ‘ جب ان پر مصائب آتے ہیں ‘ جب انہیں ان کے تصور اور توقع سے زیادہ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے ‘ جب انہیں ناقابل تصور ناگوار نتائج کا سامنا ہوتا ہے ‘ جب ان کے دل و دماغ میں وہ نظریہ حیات اچھی طرح جاگزیں نہیں ہوجاتا اور جب یہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ان پر یہ مصائب محض قیادت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ٹوٹ پڑے ہیں اور اگر وہ خود منصوبہ بندی کرتے تو بڑی کامیابی ہوتی ۔ غرض جب لوگوں کی ذہنی صورت حال یہ ہوتی تو اس گدلے تصور کے ہوتے ہوئے ایسا شخص یہ نہیں سوچ سکتا کہ تمام واقعات کے پیچھے حکمت خداوندی کارفرماہوتی ہے ۔ وہ یہ نہیں سوچ سکتا کہ تمام واقعات کے پیچھے حکمت خداوندی کارفرماہوتی ہے ۔ وہ یہ نہیں سوچ سکتے کہ اللہ کی طرف سے یہ آزمائش ہے ۔ ان کے خیال میں ایسی صورت حال میں خسارہ ہی خسارہ ہوتا ہے۔ ہر طرح کا ضیاع ہی ضیاع ہے۔
ایسے تصورات اور وسوسے رکھنے والوں کے خیالات کی درستگی کے لئے اللہ تعالیٰ ایک نہایت ہی گہری سچائی ان کے سامنے رکھتے ہیں ۔ وہ سچائی موت کی سچائی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ابتلا کے اندر جو حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اس کے بارے میں بھی وضاحت ہوتی ہے ۔ فرماتے ہیں :
قُلْ لَوْ كُنْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ إِلَى مَضَاجِعِهِمْ وَلِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (154)
” ان سے کہہ دو اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی ‘ وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے ۔ اور یہ معاملہ جو پیش آیا ‘ یہ تو اس لئے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے ۔ اللہ اسے آزمالے ۔ اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے ‘ اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔ “
اگر تم گھروں میں بھی ہوتے اور اسلامی قیادت کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ‘ اس معرکے میں نہ کود پڑتے ‘ اور تمام معاملات تم خود اپنی مرضی سے طے کرتے ‘ تو تم میں سے بعض لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنے مقتل کی طرف دوڑے آتے ۔ اس لئے کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے ۔ وہ اس سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے نہ پیچھے رہ سکتی ہے ۔ ہر شخص کی موت کے لئے ایک جگہ بھی مقرر ہے اور ہر شخص لازماً اس جگہ کی طرف کھنچا آئے گا اور وہاں دم توڑ دے گا ۔ جب موت کا وقت قریب ہوگا تو وہ شخص اپنے پاؤں پر چل کر وہاں پہنچے گا ۔ دوڑتا ہوا آئے گا ۔ کوئی اسے کھینچ کر نہ لائے گا ۔ نہ کوئی اسے اس طرف دھکیلنے والا ہوگا۔
یہ کیا ہی طرز ادا ہے ؟” اپنی جائے آرام کی طرف “ گویا اس کا مقتل نرم بستر ہے ‘ جس پر اس نے آرام کرنا ہے ۔ اس کے قدم وہاں آرام سے لمبے ہوجائیں گے ۔ تمام لوگ ‘ اس دنیا میں اپنی قتل گاہوں اور اپنی آخری آرام کی جگہ کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں اور وہ ان مقامات کی طرف بعض اوقات ایسے محرکات کی وجہ سے آتے ہیں جو ان کے لئے ناقابل فہم ہوتے ہیں بلکہ یہ محرکات ان کے لئے ناقابل کنٹرول ہوتے ہیں ۔ یہ محرکات صرف اللہ کے کنٹرول میں ہوتے ہیں اور وہی ان کے نتائج کو جانتا ہے ۔ اور اس کا خاص تصرف ہوتا ہے ‘ جس طرح چاہتا ہے وہ سر انجام دیتا ہے ۔ اس لئے اگر ہم اللہ کے مقرر کردہ جائے قرار پر راضی ہوجائیں تو یہ ہمارے لئے روحانی سکون اور نفیساتی اطمینان اور ہمارے ضمیر کے مفاد میں ہوگا۔
یہ اللہ کی تقدیر ہے اور اس کے پس پشت جو حکمت کام کررہی ہے وہ یہ ہے لِيَبْتَلِيَ اللَّهُ مَا فِي صُدُورِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِي قُلُوبِكُمْ……………” اور یہ معاملہ جو پیش آیا ‘ یہ تو اس لئے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے۔ “
اس سے بڑی آزمائش اور کوئی نہیں کہ دلوں کی بات کو ظاہر کردیا جائے ‘ اور جو دلوں کی تہہ میں ہے وہ اوپر آجائے ۔ اس سے کھوٹ اور ریاکاری کو علیحدہ کردیا جائے اور بغیر کسی ملمع کاری اور بغیر کسی کور کے اصل حقیقت سامنے آجائے ۔ یہ بہت بڑی آزمائش ہے ‘ ان باتوں کے لئے جو دل کے خزانے میں پوشیدہ رکھی ہوتی ہیں ۔ حقیقت سامنے آجاتی ہے ۔ یہ ہے تطہیرالقلوب اور تصفیہ القلوب ‘ اس طرح کہ ان میں کوئی ملاوٹ اور کھوٹ نہ رہے ۔ اس طرح نظریات صحیح ہوکر صاف صورت میں سامنے آجاتے ہیں اور ان میں کوئی نقص اور ملاوٹ نہیں رہتی۔
وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ……………” اللہ دلوں کے حال خوب جانتا ہے ۔ “ ذات الصدور سے مراد وہ خفیہ راز ہیں جو دلوں کی تہہ میں ہوتے ہیں اور ہر وقت دل میں ہوتے ہیں جو دل سے جدا نہیں ہوتے اور نہ روشنی میں آتے ہیں ۔ اللہ ان بھیدوں کو بھی خوب جانتا ہے ۔ ان بھیدوں کو اللہ لوگوں پر اس لئے ظاہر کرتا ہے کہ لوگ خود بھی بعض اوقات ان خفیہ باتوں سے بیخبر ہوتے ہیں یعنی یہ ان کے لاشعور میں ہوتے ہیں ‘ بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو انہیں سطح پر لے آتے ہیں ۔
آل عمران 3:155
اللہ کو ان باتوں کا علم ہے جو ذہن کے اندر تھیں ۔ انہوں نے شکست کھائی اور جب اس غزوہ میں انہیں دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے ۔ کمزوری دکھائی ‘ پیٹھ دکھائی ‘ کیوں اس لئے کہ انہوں نے اپنے کمانڈر کی نافرمانی کی تھی ۔ اس کی وجہ سے ان کے نفوس متزلزل ہوگئے ۔ اس راہ سے شیطان ان کے دلوں میں داخل ہوگیا اور انہیں لغزش میں ڈال دیا اور یہ لوگ پھسل پڑے ۔ فرماتے ہیں ۔
إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ
” تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگادئیے تھے ۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔ “
اس سے مراد وہ تیر انداز ہوسکتے ہیں جن کے دل میں مال غنیمت کی لالچ نے جوش مارا تھا ۔ جس طرح ان کے دلوں میں یہ بات بھی آگئی تھی کہ شاید رسول اللہ ﷺ انہیں ان کا حصہ نہ دیں گے۔ یہ وہ بات تھی جو انہوں نے اپنی کمزوریوں کی وجہ سے کمائی تھی ۔ اور اسی وجہ سے شیطان نے انہیں لغزش میں مبتلا کردیا تھا۔
لیکن اپنے عموم کے اعتبار سے وہ نفس انسانی کی اس حالت کی تصویر ہے جب اس سے کسی غلطی کا ظہور اور ارتکاب ہوتا ہے ۔ اسے اپنے اوپر قابو نہیں ہوتا۔ اللہ کے ساتھ اس کا رابطہ کمزور پڑجاتا ہے ۔ اس کی شخصیت کا توازن ختم ہوجاتا ہے ‘ اسے اپنے اوپر کنٹرول نہیں رہتا ۔ اور وہ خلجان اور وسوسوں کا شکار ہوجاتا ہے ۔ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ اس کا تعلق اللہ سے ختم ہوجاتا ہے اور اسے اللہ کی رضامندی کا بھروسہ نہیں رہتا ۔ یہ مقام ہوتا جہاں شیطان حملہ آور ہوتا ہے ۔ وہ انسان کے نفس کے اندر داخل ہوجاتا ہے ۔ اب یہ ایسے شخص کی نکیل اپنے ہاتھ میں لیتا ہے اور اس سے لغزشوں پر لغزشیں کرواتا ہے اور یہ نفس اللہ کی پرامن اور مضبوط بارگاہ سے دور چلا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جن اللہ پرستوں نے نبیوں کے ساتھ مل کر جنگ کی انہوں نے کفار کے مقابلے میں سب سے پہلے جس ہتھیار کی توجہ کی وہ استغفار تھا۔ کیونکہ استغفار کے ذریعہ ان کی توجہ اللہ تعالیٰ کی طرف مڑجاتی تھی ۔ اللہ کے ساتھ ان کا تعلق اس کی وجہ سے مضبوط ہوجاتا ۔ ان کے دلوں میں سے تمام خلجان اور غیر یقینی حالت ختم ہوجاتی ۔ تمام وساوس دور ہوجاتے اور وہ دروازہ بند ہوجاتا جس میں سے شیطان درآتا۔ اور یہ دروازہ ہمیشہ تب کھلتا ہے جب اللہ سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ انسان کی اس کی حمایت اور پناہ گاہ سے باہر نکل آتا ہے اور اس سوراخ سے جب شیطان داخل ہوتا ہے تو وہ ان کے پاؤں کو متزلزل کردیتا ہے ۔ وہ بار بار ڈگمگاتے لگتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ انہیں اللہ کی پناہ گاہ سے بہت دور لے جاکر بےآب وگیاہ صحراء میں سرگرداں کردیتا ہے۔
اللہ بتاتے ہیں کہ میری رحمت ان کے شامل ہوگئی ہے ۔ اس لئے شیطان انہیں مجھ سے کاٹ نہ سکا۔ لہٰذا وہ معاف کردیئے گئے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اپنا ذاتی تعارف بھی کراتے ہیں کہ وہ غفور ہیں ‘ بخشنے والے ہیں اور بردبار ہیں ۔ غلط کاروں کو راندہ درگاہ نہیں کرتے اور نہ ہی سزادہی میں جلدی کرتے ہیں ۔ جب اللہ نے جان لیا کہ ان کے اندر اللہ کی تلاش کا داعیہ موجود ہے اور وہ اس سے جڑنا چاہتے ہیں اور اس نے جان لیا کہ وہ سرکشی نہیں چاہتے اور نہ ہی وہ جان چھڑانا چاہتے ہیں اور نہ ہی اللہ کی غلامی سے فرار چاہتے ہیں تو وہ پھر اپنی مغفرت سے نوازتا ہے۔
آل عمران 3:156
اب اس مضمون کا خاتمہ موت وحیات کی حقیقت کے بیان کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اس بارے میں کفار اور منافقین کے خیالات کس قدر کھوٹے ہیں ۔ اہل ایمان کو پکار کر کہا جاتا ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنا تصور حیات ‘ ان کے تصور حیات سے بالکل جدا کرلیں ۔ آخر میں مشکلات اور قربانیوں کی ایک مختلف قدر و قیمت بتائی جاتی ہے ۔ فرماتے ہیں :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لإخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الأرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَوْ كَانُوا عِنْدَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ وَاللَّهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ(156) وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (157) وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ (158)
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں (اور وہاں کسی حادثہ سے دوچارہوجاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے ) اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں کی حسرت واندوہ کا سبب بنا دیتا ہے ‘ ورنہ دراصل مارنے اور جلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگراں ہے ۔ اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصے میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یامارے جاؤبہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے ۔ “
اس معرکے کے حالات کے بیان کے دوران آیات کی مناسبت ظاہر ہے ۔ یہ منافقین مدینہ کے اقوال تھے ۔ یہ لوگ اس معرکہ کے آغاز ہی میں لشکر اسلام سے جدا ہوگئے تھے ۔ نیز مدینہ کے مشرکین بھی ایسی ہی باتیں کرتے تھے ۔ یہ لوگ ابھی اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے لیکن ان لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان قرابت کے تعلقات قائم تھے ۔ جنگ احد میں جو لوگ مارے گئے ان کے منافق رشتہ داروں اور مشرک رشتہ داروں کے لئے یہ ایک موضوع بن گیا ‘ ان کو اپنے مسلم رشتہ داروں کے دلوں میں حسرت اور مایوسی پیدا کرنے کا موقعہ مل گیا۔ اور اس معرکہ میں ان لوگوں کے چلے جانے اور قتل ہوجانے کو یہ مشرک اور منافق ان کے رشتہ داروں میں از سر نو زخم تازہ کرنے کے لئے بار بار استعمال کرتے تھے ۔ اس بات میں شک نہیں ہے کہ اسلامی صفوں پر اس قسم کی باتوں اور پروپیگنڈے سے بہت گہرے اثرات پڑتے تھے اور ان لوگوں نے اس طرح مایوسی اور ہیجان کی فضا پیدا کردی تھی ۔ چناچہ قرآن کریم کو ان کی غلط باتوں ان کے غلط عقائد اور ان کے غلط تصورات کو درست کرنے کے لئے یہاں ان کی تردید کرنا پڑی۔ اس طرح کہ ان کی وہ باتیں خود ان کے گلے پڑگئیں۔
ایک بات کافر یہ کرتے تھے کہ اگر ہمارے ساتھ رہتے یا واپس آجاتے تو وہ نہ مرتے ۔ ان کی اس بات سے یہ بات اچھی طرح سامنے آجاتی ہے کہ ایک شخص جو کسی نظریے کا علم بردار ہوتا ہے اور وہ شخص جس کا کوئی عقیدہ نہیں ہوتا ان دونوں میں کس قدر فرق ہوتا ہے۔ دونوں کا تصور ‘ ان اصولوں کے بارے میں جن پر زندگی رواں دواں ہے ‘ جس میں مشکلات بھی ہیں اور آسانیاں بھی ہیں ‘ بہت مختلف ہوتا ہے۔ ایک نظریاتی شخص اس کائنات میں اللہ کے تکوینی اصولوں کو اچھی طرح سمجھ سکتا ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی قضا اور قدر پر مطمئن ہوتا ہے ۔ وہ اچھی طرح جانتا اور مانتا ہے کہ اسے وہی کچھ پیش آسکتا ہے جو اللہ نے لکھ دیا ہے ۔ اور یہ کہ جس دکھ نے اسے پہنچنا ہے وہ ٹل نہیں سکتا اور جو مصیبت اس پر نہیں آئی ہے وہ آ نہیں سکتی ۔ اس لئے وہ مصیبت پر جزع وفزع نہیں کرتا اور نہ ہی مسرت اور خوشی میں آپے سے باہر ہوتا ہے ۔ اس کے نفس پر نہ اس کا اثر ہوتا ہے اور نہ اس کا ۔ وہ اس بات پر حسرت نہیں کرتا کہ اس نے یہ نہیں کہا اور وہ نہیں کیا تاکہ وہ فلاں مصیبت سے بچ جاتا یا فلاں فلاں مفاد حاصل کرلیتا ۔ جبکہ کام ہوچکا ہوتا ہے اور وقت چلا گیا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ تدبیر وتقدیر اور تجاویز وآراء کا موقعہ ومحل وہ ہوتا ہے جب کوئی واقعہ ابھی تک وقوع پذیر نہیں ہواہوتا ‘ کوئی اقدام اور کوئی حرکت ابھی ہونا ہوتی ہے ۔ جب تدبیر اور مشورہ کے بعد وہ حرکت میں آجاتا ہے تو اس کے جو نتائج بھی نکلتے ہیں وہ بڑے تسلیم ورضا اور اطمینان کے ساتھ انہیں قبول کرتا ہے ۔ ہاں یہ ضروری ہے کہ اس کی یہ حرکت اللہ تعالیٰ کے اوامر اور مناہی کے مطابق ضروری ہیں ۔ اس کو یقین ہوتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اس کی تدبیر کے مطابق ہوا ہے ۔ عین اس کی حکمت کے مطابق ہوا ہے ۔ اور یہ کہ جس طرح ہوا اسی طرح ہونا تھا۔ اگرچہ اس نے اپنی حرکت اور فعل سے اس کے اسباب فراہم کئے ۔ یوں نظریہ عمل اور اس کے نتائج تسلیم کرنے کے درمیان ایک توازن ہوتا ہے ۔ وہ توکل اور مثبت سوچ کے درمیان بھی توازن پیدا کردیتا ہے ۔ اس کی وجہ سے انسان کا ہر اقدام درست ہوتا ہے اور ضمیر مطمئن ہوتا ہے ۔ رہے وہ لوگ جن کا دل و دماغ نظریہ اور اس نظریہ کے تحت مثبت تصور حیات سے خالی ہوتا ہے تو وہ ہمیشہ ہوا میں ہوتا ہے ‘ ہمیشہ قلق و پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ اس کی زندگی ” اگر مگر “” اے کاش “ اور ” اے افسوس “ جیسے الفاظ میں گزرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ‘ جماعت مسلمہ کی تربیت کرتے ہوئے ‘ واقعات احد کی روشنی میں ‘ جن میں مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے ‘ انہیں اس امر سے شدید الفاظ میں ڈراتے ہیں کہ ان کا رویہ کہیں ان بےعقیدہ اور بےنظریہ کافروں کی طرح نہ ہوجائے ‘ جو ہر وقت حسرتوں کا شکار ہوتے رہتے ہیں ۔ جب بھی ان کا کوئی رشتہ دار ‘ کسی سفر پر برائے تجارت اور کاروبار بن جاتا ہے اور وہاں بقضائے الٰہی فوت ہوجاتا ہے یا کبھی کسی معرکے میں شریک ہوتا ہے اور قتل ہوجاتا ہے تو وہ یہ کہتے ہیں :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَكُونُوا كَالَّذِينَ كَفَرُوا وَقَالُوا لإخْوَانِهِمْ إِذَا ضَرَبُوا فِي الأرْضِ أَوْ كَانُوا غُزًّى لَوْ كَانُوا عِنْدَنَا مَا مَاتُوا وَمَا قُتِلُوا
” اے لوگوجو ایمان لائے ہو ‘ کافروں کی سی باتیں نہ کرو ‘ جن کے عزیز و اقارب اگر سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں (اور وہاں کسی حادثہ سے دوچار ہوجاتے ہیں) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل ہوتے ۔ “ یہ باتیں وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اس کائنات کے بارے میں ان کی سوچ غلط ہے ۔ وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ اس کائنات کے واقعات کے پیچھے دست قدرت کام کررہا ہے ۔ وہ صرف اس قدر دیکھ سکتے ہیں جس قدر ظاہری اسباب نظر آتے ہیں ۔ وہ صرف ان سطحی حالات کو دیکھ سکتے ہیں جن میں کوئی واقعہ رونما ہوا ‘ یہ محض اس لئے کہ ان کا تعلق اللہ کے ساتھ نہیں ہے ‘ اور وہ اس دست قدرت کو نہیں دیکھ سکتے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے ۔
لِيَجْعَلَ اللَّهُ ذَلِكَ حَسْرَةً فِي قُلُوبِهِمْ……………” اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت واندوہ کا سبب بنا دیتا ہے۔ “ ان کا احساس یہ ہے کہ جو شخص تجارتی مقاصد کے لئے نکلتا ہے اور کسی حادثہ کا شکار ہوجاتا ہے یا کسی معرکے کے لئے نکلتا ہے اور وہاں قتل ہوجاتا ہے ‘ اس کا اصلی سبب گویا اس شخص کا خروج ہے اور یہی غلط احساس ہے ۔ جس کی وجہ سے وہ حسرت واندوہ میں ہر وقت ڈوبے رہتے ہیں کہ کیوں نہ انہوں نے انہیں اس سفر ‘ اس معرکے کے لئے نکلنے سے منع کیا ؟ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ اس کی حقیقی علت اور اصلی سبب تو یہ ہے کہ اس شخص کا وقت آپہنچا تھا ‘ اسے اس کی قتل تک جانا تھا ‘ تقدیر اسے بلارہی تھی ‘ موت وحیات کے بارے میں سنت الٰہیہ نے اپنا کام شروع کردیا تھا ‘ تو وہ اس طرح حسرت واندوہ میں نہ ڈوبتے ۔ وہ اس ابتلا میں صبر و سکون سے رہتے ‘ وہ اس میں راضی برضا اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹتے اور کہتے وَاللَّهُ يُحْيِي وَيُمِيتُ……………” اور تمہاری تمام حرکات پر وہ نگراں ہے۔ “
آل عمران 3:157
اب ایک دوسری حقیقت پر غور ہوتا ہے ۔ موت اور قتل سے کیا زندگی ختم ہوجاتی ہے ‘ کیا زندگی اس انعام سے بہتر ہے جو اللہ دے گا ؟ نہیں ۔ کچھ اور اقدار حیات بھی تو ہیں ۔ کچھ پہلو بھی ہیں جو اللہ کے ترازو میں قابل غور ہیں :
وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (157) وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ
” اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤیا مرجاؤ تو اللہ کی رحمت اور بخشش جو تمہارے حصے میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یامارے جاؤ۔ بہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے ۔ “
غرض اللہ کی راہ میں موت اور قتل ہونا ‘ ان شرائط وقیود کے ساتھ ‘ زندگی سے بدرجہا بہتر ہے ۔ ان تمام دنیوی مفادات اور مال و منال سے بہتر ہے جسے رات دن لوگ جمع کررہے ہیں ۔ اس عزت واحترام سے بہتر ہے جس کے لئے لوگ کوشاں ہیں ۔ یہ موت اس لئے بہتر ہے کہ اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور مغفرت نصیب ہوتی ہے ۔ اللہ کے میزان حقیقت نما میں یہ بہتر ہے ‘ ان تمام چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔ یہ مغفرت اور یہ رحمت ہی مطلوب مومن ہوتی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ موت وحیات کے اس مقام میں لوگوں کو شخصی برتری اور انسانی مقاصد اور سربلندیوں کے حوالے نہیں کرتے ‘ بلکہ انہیں وہ کچھ دکھایا جاتا ہے جو اللہ کے ہاں ہے ‘ ان کے دلوں کو رحمت خداوندی سے جوڑا جاتا ہے ، اور رحمت خداوندی کو یونہی دنیا مال ومنال سے زیادہ خیر اور قیمتی قرار دیا جاتا ہے ۔ دنیا کے تمام ممکنہ مقاصد سے ‘ اسے برتر اور قیمتی قراردیا جاتا ہے ۔
سب لوگ لوٹ کر اللہ کی طرف جائیں گے ‘ سب لوگ حشر کے دن اٹھاکر اس کے سامنے حاضر کئے جائیں گے ۔ چاہے وہ اپنے بستر پر مریں ‘ چاہے وہ کرہ ارض پر کسی تجارتی سفر میں مریں اور چاہے وہ جہاد فی سبیل اللہ کے دوران شہید ہوں۔ جانا انہوں نے بہرحال اللہ کی طرف ہے ۔ انجام کار انہوں نے وہاں حاضر ہونا ہے ۔ فرق اگر کوئی ہے تو وہ صرف لوگوں کے نقطہ نظر ‘ ان کے مطمح نظر اور طرزعمل میں ہے ۔ رہا واقعی عملی انجام تو اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ ایک مقررہ وقت میں ‘ ایک مقررہ مقام پر ‘ تحریر شدہ تقدیر کے مطابق جو اٹل ہے ‘ ہر شخص کی موت واقع ہوگی ۔ یوں وہ اللہ کی طرف لوٹ جائے گا ‘ اور پھر ایک مقرر وقت قیامت میں وہ حشر کے میدان میں اٹھے گا ۔ وہاں یا وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت پانے والوں میں ہوگا یا وہ غضب الٰہی اور عذاب الٰہی کے چنگل میں جائے گا۔ اس لئے وہ شخص احمق الحمقاء ہے ‘ جو اپنے لئے برا انجام پسند کرتا ہے ‘ جبکہ اسے ہر حال میں مرنا تو ہے ۔
یوں دلوں میں حقیقت موت وحیات بیٹھ جاتی ہے ۔ اللہ کی تقدیر کا درس دیا جاتا ہے اور یوں قلوب مومنہ تقدیر کے رواں دواں واقعات کو دیکھتے ہوئے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ تقدیر کے پردے کے پیچھے جو حکمت کارفرماہوتی ہے اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ ابتلا میں جو ثواب آخرت ہے اسے پسند کرتے ہیں ۔ اس پر غزوہ احد کے اہم واقعات یہاں ختم ہوجاتے ہیں اور ان کی جو متعلقہ باتیں تھیں ان پر کلام ختم ہوجاتا ہے۔
اب سیاق کلام ایک نئے مضمون کو جنم لیتا ہے ۔ اس مضمون کا موضوع قائد انقلاب کی شخصیت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی ذاتی صفات کے بارے میں ‘ حقیقت نبوت کے بارے میں اور امت مسلمہ کی زندگی ذات نبوی اور حقیقت نبوت کے اہم کردار کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ذات باری تعالیٰ اس امت کے ساتھ کس قدر رحیم وکریم ہیں۔ اس موضوع کے ساتھ کچھ اور تاریں بھی ملی ہوئی ہیں کہ جماعت مسلمہ کی تنظیم کے سلسلے میں ربانی طریق کار کیا ہے۔ اور یہ کہ اس تنظیم کی اساس کیا ہے ۔ یعنی کن نظریات پر اسے قائم کیا گیا ہے اور کن حقائق پر وہ استوار ہے ۔ نیز اس تصور حیات کی اہمیت کیا ہے اور تنظیم کے لئے اس ربانی منہاج کی اہمیت کیا ہے اور پھر اس منہاج کا اثر پوری انسانیت پر کیا ہوگا ؟
آل عمران 3:158
اب ایک دوسری حقیقت پر غور ہوتا ہے ۔ موت اور قتل سے کیا زندگی ختم ہوجاتی ہے ‘ کیا زندگی اس انعام سے بہتر ہے جو اللہ دے گا ؟ نہیں ۔ کچھ اور اقدار حیات بھی تو ہیں ۔ کچھ پہلو بھی ہیں جو اللہ کے ترازو میں قابل غور ہیں :
وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَحْمَةٌ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (157) وَلَئِنْ مُتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإلَى اللَّهِ تُحْشَرُونَ
” اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤیا مرجاؤ تو اللہ کی رحمت اور بخشش جو تمہارے حصے میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں اور خواہ تم مرو یامارے جاؤ۔ بہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے ۔ “
غرض اللہ کی راہ میں موت اور قتل ہونا ‘ ان شرائط وقیود کے ساتھ ‘ زندگی سے بدرجہا بہتر ہے ۔ ان تمام دنیوی مفادات اور مال و منال سے بہتر ہے جسے رات دن لوگ جمع کررہے ہیں ۔ اس عزت واحترام سے بہتر ہے جس کے لئے لوگ کوشاں ہیں ۔ یہ موت اس لئے بہتر ہے کہ اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت اور مغفرت نصیب ہوتی ہے ۔ اللہ کے میزان حقیقت نما میں یہ بہتر ہے ‘ ان تمام چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں ۔ یہ مغفرت اور یہ رحمت ہی مطلوب مومن ہوتی ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ موت وحیات کے اس مقام میں لوگوں کو شخصی برتری اور انسانی مقاصد اور سربلندیوں کے حوالے نہیں کرتے ‘ بلکہ انہیں وہ کچھ دکھایا جاتا ہے جو اللہ کے ہاں ہے ‘ ان کے دلوں کو رحمت خداوندی سے جوڑا جاتا ہے ، اور رحمت خداوندی کو یونہی دنیا مال ومنال سے زیادہ خیر اور قیمتی قرار دیا جاتا ہے ۔ دنیا کے تمام ممکنہ مقاصد سے ‘ اسے برتر اور قیمتی قراردیا جاتا ہے ۔
سب لوگ لوٹ کر اللہ کی طرف جائیں گے ‘ سب لوگ حشر کے دن اٹھاکر اس کے سامنے حاضر کئے جائیں گے ۔ چاہے وہ اپنے بستر پر مریں ‘ چاہے وہ کرہ ارض پر کسی تجارتی سفر میں مریں اور چاہے وہ جہاد فی سبیل اللہ کے دوران شہید ہوں۔ جانا انہوں نے بہرحال اللہ کی طرف ہے ۔ انجام کار انہوں نے وہاں حاضر ہونا ہے ۔ فرق اگر کوئی ہے تو وہ صرف لوگوں کے نقطہ نظر ‘ ان کے مطمح نظر اور طرزعمل میں ہے ۔ رہا واقعی عملی انجام تو اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ ایک مقررہ وقت میں ‘ ایک مقررہ مقام پر ‘ تحریر شدہ تقدیر کے مطابق جو اٹل ہے ‘ ہر شخص کی موت واقع ہوگی ۔ یوں وہ اللہ کی طرف لوٹ جائے گا ‘ اور پھر ایک مقرر وقت قیامت میں وہ حشر کے میدان میں اٹھے گا ۔ وہاں یا وہ اللہ کی رحمت اور مغفرت پانے والوں میں ہوگا یا وہ غضب الٰہی اور عذاب الٰہی کے چنگل میں جائے گا۔ اس لئے وہ شخص احمق الحمقاء ہے ‘ جو اپنے لئے برا انجام پسند کرتا ہے ‘ جبکہ اسے ہر حال میں مرنا تو ہے ۔
یوں دلوں میں حقیقت موت وحیات بیٹھ جاتی ہے ۔ اللہ کی تقدیر کا درس دیا جاتا ہے اور یوں قلوب مومنہ تقدیر کے رواں دواں واقعات کو دیکھتے ہوئے مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ تقدیر کے پردے کے پیچھے جو حکمت کارفرماہوتی ہے اس پر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ ابتلا میں جو ثواب آخرت ہے اسے پسند کرتے ہیں ۔ اس پر غزوہ احد کے اہم واقعات یہاں ختم ہوجاتے ہیں اور ان کی جو متعلقہ باتیں تھیں ان پر کلام ختم ہوجاتا ہے۔
اب سیاق کلام ایک نئے مضمون کو جنم لیتا ہے ۔ اس مضمون کا موضوع قائد انقلاب کی شخصیت ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی ذاتی صفات کے بارے میں ‘ حقیقت نبوت کے بارے میں اور امت مسلمہ کی زندگی ذات نبوی اور حقیقت نبوت کے اہم کردار کے بارے میں بتایا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ذات باری تعالیٰ اس امت کے ساتھ کس قدر رحیم وکریم ہیں۔ اس موضوع کے ساتھ کچھ اور تاریں بھی ملی ہوئی ہیں کہ جماعت مسلمہ کی تنظیم کے سلسلے میں ربانی طریق کار کیا ہے۔ اور یہ کہ اس تنظیم کی اساس کیا ہے ۔ یعنی کن نظریات پر اسے قائم کیا گیا ہے اور کن حقائق پر وہ استوار ہے ۔ نیز اس تصور حیات کی اہمیت کیا ہے اور تنظیم کے لئے اس ربانی منہاج کی اہمیت کیا ہے اور پھر اس منہاج کا اثر پوری انسانیت پر کیا ہوگا ؟
آل عمران 3:159
اس پیراگراف کا موضوع اور محور حقیقت نبوت اور ذات نبوی ہے ۔ اور اس محور کے متعلقہ حقائق کو اس میں لیا گیا ہے ۔ اس میں نظر آتا ہے کہ بڑے بڑے اصول چھوٹی چھوٹی عبارتوں میں بیان کئے گئے ہیں ۔ اللہ کی رحمت کو مجسم کرکے نبی ﷺ کے اخلاق اور طرز عمل کی صورت میں پیش کیا گیا ہے ۔ آپ کی ذات کریمہ نہایت ہی مہربان ‘ نہایت ہی رحم دل ‘ نہایت ہی نرم اور نہایت ہی سہل شکل میں پیش کی گئی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ لوگ پروانوں کی طرح ان کے اردگرد جمع ہوتے ہیں ۔ آپ کے اردگرد ہر وقت ایک بڑی تعداد جمع رہتی ہے ۔ پھر اس محفل میں صاف صاف نظر آتا ہے کہ اس جماعت کا قیام جس کے نظام کے تحت ہے وہ اصول شوریٰ پر قائم ہے ۔
حکم دیا جاتا ہے کہ یہ جماعت باہم مشورہ کرکے فیصلے کرے ‘ اگرچہ اس مشورے کے تحت ہونے والے فیصلوں کے نتائج تلخ ہوں۔ پھر شوریٰ کے اصول کے ساتھ ساتھ یہ بھی نظر آتا ہے کہ دانشمندی اور شوریٰ کے ذریعے فیصلے کئے جائیں اور پھر ان پر عمل کیا جائے ۔ اور یہ عمل فیصلہ کن ہو ۔ اور شوریٰ اور عزم کے بعد پھر توکل کرکے کام کیا جائے ۔ جب منصوبہ تیارہوجائے ‘ اس پر شوریٰ ہوجائے اور پھر اس فیصلہ کن عمل اور اس کا اجراء (Execution) شروع ہوجائے اور اس کے لئے ہر قسم کا انتظام ہوجائے ‘ تو پھر توکل علی اللہ کا مرحلہ آتا ہے اور پھر قدرت الٰہیہ اپنا کام شروع کردیتی ہے ۔ پھر مسلمان اپنا کام اللہ کے سپرد کردیتے ہیں ۔ اس لئے کہ تمام امور میں حقیقی فاعل اور حقیقی متصرف تو صرف اللہ کی ذات ہے ۔ حقیقی تصرف اس کے سوا کوئی اور نہیں کرسکتا ۔ تمام نتائج اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ ان امور کے ساتھ ساتھ پھر یہ حکم بھی دیا جاتا ہے کہ مال غنیمت میں خیانت بہت ہی بڑا جرم ہے ۔ اس سے طمع اور لالچ کا اظہار ہوتا ہے۔ جماعت کے اندر افراتفری پیدا ہوتی ہے ۔ اس پیراگراف میں بتایا جاتا ہے جو شخص اللہ کی رضامندی کے لئے کام کرتا ہے اور جو اللہ کی نافرمانی اور غضب کی راہ پر ہے ان دونوں میں بڑا فرق و امتیاز ہے ۔ دونوں کی اقدار اور ترجیحات میں فرق ہوتا ہے ۔ دونوں کے پیمانہ نفع ونقصان میں فرق ہوتا ہے ۔ آخر میں اہل اسلام اور اہل دنیا کو یہ بتایا جاتا ہے کہ نبی ﷺ کی رسالت تمہارے لئے بڑی نعمت ہے اور تم پر ایک عظیم احسان ہے اور معمولی اموال غنیمت جس کے لئے تم دوڑتے ہو اس قیمتی اثاثہ کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے ۔ نیز اس عظیم خزانے کے حصول کے لئے وہ مصائب کچھ نہیں جو تم پر آئے ہیں ۔ یہ عظیم دولت تو عظیم قربانی کا تقاضا کرتی ہے ۔
ہدایات ومعانی کی یہ فوج ہے جو چند فقروں اور آیات میں دریا کو کوزے میں بند کرکے پیش کردی گئی ہے ۔
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ
” اے پیغمبر یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے بڑے نرم مزاج واقعہ ہوئے ہو۔ ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے ۔ ان کے قصور معاف کردو ‘ ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو۔ اور اہم امور میں ان سے مشورہ کیا کرو ۔ پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو ‘ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔ “
یہاں روئے سخن رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے ۔ لیکن یہ بات رسول کی قوم کی کچھ کمزوریوں کو سامنے رکھ کر کی جارہی ہے کہ پہلے وہ مدینہ سے باہر نکلنے میں بڑے پرجوش تھے ۔ اس کے بعد ان کی صفوں میں انتشار پیدا ہوگیا ۔ پورے لشکر کا ایک تہائی حصہ تو جنگ سے پہلے ہی واپس ہوگیا۔ اس کے بعد تیراندازوں نے رسول ﷺ کے حکم کی مخالفت کی ۔ انہوں نے مال غنیمت دیکھ کر کمزوری کا مظاہرہ کیا ۔ پھر جب رسول ﷺ کے قتل کی جھوٹی خبر عام ہوگئی تو یہ لوگ کمزور پڑگئے اور الٹے پاؤں پھرگئے ۔ اور ہزیمت قبول کرلی ۔ رسول ﷺ ایک قلیل تعداد کے ساتھ جم گئے ‘ زخم پر زخم آتے رہے اور ساتھی چھوڑگئے ۔ پھر آپ نیچے سے پکارتے ہیں لیکن وہ بھاگے چلے جارہے تھے اور کسی کی طرف ان کی توجہ ہی نہ ہورہی تھی ۔ اس صورت حال میں روئے سخن آپ ﷺ کی طرف ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو تسلی دیتا ہے اور مسلمانوں کو یہ شعور واحساس دیا جاتا ہے کہ ان پر اللہ کا کس قدر عظیم انعام ہے ۔ رسول ﷺ اور مسلمانوں دونوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ یہ مجسم خلق کریم اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے کہ وہ اس کے محور کے اردگرد جمع ہورہے ہیں ۔ اس طرح رسول ﷺ کے دل میں پوشیدہ جذبات رحمت کو جوش میں لایا جاتا ہے اور آپ صبر کرکے ان کی وہ تمام لغزشیں معاف فرماتے ہیں اور دوسری طرف ان کو یہ احساس ہوجاتا ہے کہ اس رؤف رحیم نبی کی صورت میں ان پر کس قدر انعام ہوا ہے ۔ اور رسول ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ بھی ان کے لئے عفو و درگزر کا سوال کریں ۔ اور یہ کہ حسب سابق ان کے ساتھ مشورہ کرتے رہیں اور یہ نہ ہو کہ احد میں مشورے کے نتیجے میں جو معرکہ ہوا اور اس میں جو نامطلوب نتائج نکلے ‘ اس کی وجہ سے باہم شوریٰ جیسے اہم کام کو بند کردیں۔
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ……………” اے پیغمبر یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے بہت نرم مزاج واقعہ ہوئے ہو۔ ورنہ اگر تم تنگ خو اور سنگدل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے ۔ “
یہ اللہ کی رحمت تھی جو رسول ﷺ کے بھی شامل حال تھی اور آپ کو ان کے لئے رحیم وشفیق اور نرم خو بنادیا اور خود ان کے لئے بھی رحمت تھی کہ آپ نے بوجہ نرمی مزاج ان سے باز پرس نہ کی ۔ اگر آپ سنگ دل ہوتے ‘ تنگ مزاج ہوتے تو یہ جمعیت منتشر ہوجاتی ‘ لوگوں کے خیالات آپ کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہوتے ۔ عوام الناس کو تو ایک پر شفقت بارگاہ درکار ہوتی ہے ‘ جہاں ان کے ساتھ نہایت رعایتی برتاؤ کیا جاتا ہو ‘ جہاں خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کیا جاتا ہو ‘ جہاں سے انہیں محبت ملتی ہو ‘ جہاں ان کی غلطیوں ‘ کمزوریوں اور نقائص سے درگزر کیا جاتا ہو ۔ جہاں قائد اتنے بڑے دل کا مالک ہو کہ وہ انہیں سب کچھ دے رہا ہو ‘ لیکن ان سے کچھ نہ لے رہا ہو ‘ جہاں قائد اپنے پیروکاروں کی مشکلات اپنے سر لیتا ہو لیکن ان پر زیادہ بوجھ نہ ڈالتاہو ‘ اور جہاں پیروکاروں کو ہمیشہ رعایت ‘ اہمیت ‘ خندہ پیشانی ‘ نرمی اور محبت اور رضامندی ملتی ہو اور رسول اکرم کا دل ایسا ہی دل تھا اور آپ کا برتاؤ لوگوں کے ساتھ بعینہ ایسا تھا۔ کبھی وہ اپنی ذات کے حوالے سے کسی پہ غصہ نہیں ہوئے ‘ کبھی بھی انسانی کمزوری کی وجہ سے آپ نے تنگ دلی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ کبھی آپ نے اس دنیا کے مفادات میں سے کسی مفاد کو ‘ اپنی ذات کے لئے مخصوص نہیں کیا ۔ بلکہ آپ کو جو کچھ بھی ملا آپ نے کھلے ہاتھوں سب کچھ ان پر تقسیم کردیا ۔ غرض آپ کے صبر ‘ حلم ‘ ہمدردی ‘ محبت اور شرافت نے ہمیشہ انہیں ڈھانپے رکھا ۔ اور ان میں سے جس نے بھی رسول ﷺ کے ساتھ یکجا زندگی کے کچھ ایام بسرکئے یا آپ کو محض ایک نظر ہی دیکھ لیا وہ آپ ﷺ کا گرویدہ ہوگیا۔ اس لئے ذات باری نے آپ کو ایک عظیم اور رحیم وکریم شخصیت عطافرمائی تھی ۔ اور یہ سب کچھ آپ ﷺ پر بھی اللہ کی رحمت تھی اور دوسرے پہلو سے آپ کی امت پر بھی کرم تھا۔
اس کرم کو یاد دلاکر اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو وہ اصولی بات بتاتے ہیں جس پر آئندہ جماعت مسلمہ کی تنظیم ہونا مطلوب تھی وہ یہ کہفَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ……………” اور ان کے ساتھ الامر میں مشورہ کرو۔ “ یہ ایک قطعی نص ہے اور تاکیدی ہے ۔” ان کے ساتھ الامر میں مشورہ کرو۔ “ اسلام یہ اصول نظام حکومت میں لازم قرار دیتا ہے ۔ اگرچہ اس نظام حکومت میں ہیڈآف اسٹیٹ محمد ﷺ ہوں۔ یہ قطعی نص اس بارے میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑتی کہ اسلامی نظام مملکت میں شوریٰ ایک اساسی اصول (Principle) ہے۔ اس کے سوا اسلام کا نظام مملکت قائم ہی نہیں ہوسکتا۔ رہی یہ کہ شوریٰ کی شکل و صورت کیا ہو ‘ شوریٰ کا مقصد کس طرح حاصل کیا جائے ‘ تو یہ ایسے امور ہیں جن کی صورت اور شکل مختلف ہوسکتی ہے۔ ہر علاقے کے حالات کے مطابق مختلف شکل و صورت میں شوریٰ قائم کی جاسکتی ہے ۔ ہر وہ شکل و صورت جس کے ذریعہ شوریٰ کے مقاصد پورے ہوسکیں ۔ یہ نہ ہو کہ محض ایک دکھاوا ہو ۔ جس صورت اور جس شکل میں صحیح اغراض پورے ہوں وہی اسلامی ہوگی۔
یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ جب یہ آیت اتری تھی تو اس سے پہلے مجلس شوریٰ کا انعقاد ہوگیا تھا اور شوریٰ کی اکثریت کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے احد کی جنگ لڑی گئی اور جس کے تلخ نتائج برآمد ہوئے ۔ اس شوریٰ کے انعقاد کی وجہ سے پہلا نقصان تو یہ ہوا کہ اسلامی صفوں میں اختلاف پیدا ہوگیا ‘ آراء مختلف ہوئیں۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ مسلمان مدینہ میں پناہ لیتے ہوئے لڑیں ۔ جب دشمن حملہ کرے تو تنگ گلیوں کے اندر اسے آلیاجائے لیکن اس کے مقابلے میں ایک پرجوش گروہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ سے باہر نکل کر میدان میں معرکہ آرائی کی جائے ۔ ان اختلافی آراء ہی کی وجہ سے لشکر اسلام میں تفرقہ ہوگیا اور عبداللہ بن ابی بن السلول کو موقع مل گیا کہ وہ ایک تہائی لشکر کو لے کر واپس ہوجائے ۔ یہ اس وقت ہوا جب دشمن دروازے پر کھڑا تھا۔ یہ ایک بڑا حادثہ تھا ‘ اور اسلامی صفوں میں بظاہر بڑی دراڑ تھی ۔ پھر اس شوریٰ کے نتیجے میں جو فوجی منصوبہ تیار ہوا ‘ وہ عملاً ظاہر ہوگیا کہ وہ کوئی محفوظ جنگی اسکیم نہ تھی ۔ خود جنگی نقطہ نظر سے ۔ اس لئے کہ مدینہ کی دفاعی تاریخ سے یہ منصوبہ مختلف تھا جیسا کہ عبداللہ ابن ابی ابن السلول نے اس مجلس میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے یہ تاریخی حقیقت بتائی تھی کہ وہ جب بھی مدینہ کے اندر لڑے ہیں کامیاب رہے ہیں اور غزوہ احزاب میں خود مسلمانوں نے بھی جنگ احد کی اسکیم کی تصحیح کرتے ہوئے مدینہ کے اندر لڑنے کا فیصلہ کیا اور وہ کامیاب بھی رہے ۔ انہوں نے خندق کھودی ۔ دشمن کے مقابلے میں باہر نہ نکلے ۔ اس لئے کہ جنگ احد میں انہوں نے جو تجربہ حاصل کیا تھا اس کا یہی تقاضا تھا۔
خود رسول اللہ ﷺ کو بھی اس بات کا احساس تھا کہ مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کے نتائج خطرناک ہوں گے ۔ آپ کے پاس رویائے صادقہ کے ذریعے بھی کچھ اشارات آچکے تھے ۔ آپ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آپ کے خواب بالکل سچے ہوتے ہیں ۔ آپ نے اس کی یہ تاویل پہلے سے کردی تھی کہ آپ کے خاندان میں سے کوئی شہید ہونے والا ہے اور آپ کے ساتھی بھی شہادت پانے والے ہیں ۔ نیز آپ کے خوابوں کی تعبیر کرتے ہوئے مدینہ کو محفوظ ڈھال قرار دیا تھا۔ ان حالات میں آپ کو یہ حق حاصل تھا کہ آپ مجلس شوریٰ کے فیصلے کو ویٹو کردیتے لیکن آپ نے بادل ناخواستہ اس فیصلے کو نافذ (Execute) کیا۔ حالانکہ اس کے پیچھے جو مشکلات جو قربانیاں اور جو نقصانات پوشیدہ تھے ‘ انہیں آپ کی پیغمبرانہ بصیرت دیکھ رہی تھی ۔ اس لئے کہ اصول شوریٰ کی بنیاد رکھی جارہی تھی ‘ جماعت کو تعلیم دی جارہی تھی ‘ اور یہ امور ان وقتی خساروں سے زیادہ اہم تھے ۔
حق تو یہ تھا کہ کم ازکم معرکہ احد کے بعد اصول شوریٰ کو ترک کردیا جاتا ۔ کیونکہ اس شوریٰ کی وجہ سے اختلاف ہوئے ‘ اسلامی صفوں میں انتشارپیدا ہوا۔ اور یہ انتشار مشکل حالات میں ہوا۔ اور معرکے کے بعد خوفناک نتائج سامنے آگئے ۔ لیکن اسلام نے ایک امت کو برپا کرنا تھا ‘ اس کی تربیت کرنی تھی ‘ اسے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے تیار کرنا تھا ‘ اور اللہ تعالیٰ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ کسی قوم کی بہترین تربیت اور اس کو ایک ہدایت یافتہ بنانے کے لئے صرف اصول شوریٰ پر تیار کیا جاسکتا ہے۔ اور یہ کہ اسے شوریٰ کے نتائج برداشت کرنے کے لئے بھی تیار کرنا تھا۔ اس سے غلطیاں سرزد کرانی تھیں ‘ چاہے وہ جس قدر عظیم ہوں تاکہ آئندہ وہ اپنے تجربات کی روشنی میں آگے بڑھے ‘ چاہے یہ نتائج کتنے ہی تلخ ہوں ‘ وہ اپنی تصحیح کرسکے ۔ اور اپنی آراء کے نتائج ‘ اچھے یابرے بھگت سکے ۔ اس لئے کہ جب تک اس سے غلطی سرزد نہ ہوگی ‘ وہ درستی کر ہی نہیں سکتی ۔ اگر کسی نقصان کے نتیجے میں ایک ایسی امت وجود میں آتی ہے ‘ جو تجربہ کار ‘ فہیم اور نتائج کو برداشت کرنے والی ہو تو ان نقصانات کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ۔ اور اگر کسی قوم کے نقصانات غلطیوں اور لغزشوں کو محدود کردیا جائے لیکن اسے تجربات سے بھی محروم کردیاجائے تو یہ امت اسی طرح ناتجربہ کار رہے گی جس طرح بچہ ناتجربہ کار رہتا ہے۔ وہ ایک ایک قدم پر نگران کے تحت ہوتا ہے ۔ اس حالت میں بچے کی طرح اس قوم کو مادی نقصانات سے بچایا جاسکتا ہے لیکن اور مادی مفادات بھی اسے دستیاب نہیں ہوسکتے ‘ نفسیاتی لحاظ سے اس قوم کو خسارہ ہوتا ہے ‘ اس کے باوجود کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ اس کی تربیت ناقص ہوتی ہے اور عملی زندگی کا اسے کوئی تجربہ نہیں ہوتا۔ اور اس کی مثال اس بچے کی سی ہوتی ہے جسے کوئی چیز ہاتھ میں نہیں دی جاتی۔
اسلام کی پالیسی یہ تھی کہ وہ ایک ایسی قوم تیار کرے جو ایک تجربہ کار قوم ہو۔ اور اس کا منصوبہ یہ تھا کہ اسے بشریت کی ہدایت یافتہ قیادت کے لئے تیار کیا جائے ۔ اس لئے یہ ضروری تھا کہ یہ امت ایک بالغ امت ہو اور اس کی عملی زندگی میں اسے گرنے پڑنے سے بچانے کے لئے کوئی مددگار نہ دیا جائے تاکہ وہ تجربہ کار ہو۔ اور یہ تجربہ اسے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں حاصل ہو۔ اور آپ کی نگرانی میں ہو۔ اگر ایک بالغ النظر قیادت کی وجہ سے یہ مناسب ہوتاق کہ اب شوریٰ کی ضرورت نہیں ہے ‘ اور امت کی تربیت ضروری نہ ہوتی اور خطرناک واقعات میں اس کے ساتھ مشورے اور اس کی آراء پر چلنے کی ضرورت نہ ہوتی مثلاً معرکہ احد جیسے مراحل میں ‘ کیونکہ یہ ایک فیصلہ کن مرحلہ تھا ‘ اس وقت امت مسلمہ ایک نوخیز امت تھی ‘ ہر طرف سے خطرات میں گھری ہوئی تھی ‘ دشمن چار سوگھات میں تھے ۔ اس لئے ایسے حالات میں اگر مناسب ہوتا کہ بالغ نظر قیادت سب فیصلے خود کرتی اور اسے حق بھی تھا اور ایسے حالات میں شوریٰ کی ضرورت نہ ہوتی کیونکہ حالات خطرناک تھے ‘ اور پھر اس وقت حضرت محمد ﷺ بھی موجود تھے اور وحی بھی آرہی تھی تو ایسے حالات میں امت کو حق شوریٰ سے محروم کیا جاسکتا تھا ۔ اور خصوصاً ان حالات میں جبکہ احد میں تمام ترتلخ واقعات شوریٰ ہی کی وجہ سے ظاہر ہوئے ‘ حالانکہ اس وقت یہ امت نہایت ہی خطرناک اور ہنگامی حالات سے گزررہی تھی لیکن رسول ﷺ کے وجود مبارک کے باوجود ‘ وحی الٰہی کے آنے اور آتے رہنے کے باوجود ‘ اور اس قسم کے تلخ نتائج شوریٰ ظہور پذیر ہونے کے باوجود اور خطرناک اور ہنگامی حالات موجودہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حق شوریٰ کو ختم نہ فرمایا۔ چاہے جس قدر نقصان ہوجائے ‘ چاہے اسلامی افواج میں جس قدر اختلاف وافتراق پیدا ہوجائے ‘ چاہے اس کے جس قدر تلخ نتائج ظہور پذیر کیوں نہ ہوں ‘ چاہے مدینہ کے اردگرد کے حالات اس نوخیز امت کے لئے بہت خطرناک اور ہنگامی کیوں نہ ہوں ۔ اس لئے کہ یہ تمام امور ایک بالغ اور تجربہ کار امت کے بروئے کار لانے کے مقصد عظیم کے مقابلے میں ضروری واقعات ہیں ۔ مقصد یہ تھا کہ عملاً امت تجربہ کار ہو ‘ اچھی یا غلط رائے کے نتائج ہضم کرنے کے اہل ہو ۔ کسی رائے اور عمل کے نتائج کا ادراک کرسکتی ہو۔ یہی وجہ ہے اور یہی وجوہات ہیں کہ ایسے حالات میں یہ آیت نازل ہوئی : فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الأمْرِ……………” ان کے قصور معاف کردو ‘ ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو ‘ ان کو شریک مشورہ رکھو۔ “
فیصلہ یہ کیا گیا کہ خطرناک ترین حالات میں بھی اس اصول ‘ اصول مشورہ کا بحال رکھنا ضروری ہے ۔ اور احد جیسے حالات میں اور ان کے بعد جیسے حالات میں بھی اس پر عمل ضروری ہوگا۔ اور مقصود یہ تھا کہ آئندہ کے لئے کوئی بہانہ نہ بنائے کہ چونکہ مشورہ کے بعد بعض برے نتائج ظاہر ہوسکتے ہیں اس لئے ہم اس اصول کو ساقط کرتے ہیں ۔ مثلاً احد کے حالات اس کی بہترین مثال ہیں ۔ کہ دشمن دروازے پر دستک دے رہا تھا لیکن مشورہ بھی جاری تھا۔ اس لئے ایک بالغ النظر امت تب ہی پیدا ہوسکتی ہے جب اصول مشورہ لازمی ہو ‘ اور پوری قوم کی بالغ النظری وہ قیمتی مقصد ہے جس کے لئے چھوٹے بڑے خسارے برداشت کئے جاسکتے ہیں ۔
لیکن اسلامی نظام کی سیاسی تصویر اور تشکیل اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک ہم اس آیت کے اگلے حصے پر غور نہ کریں۔ یہ بات عیاں ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ مجلس شوریٰ کے نتیجے ہمیشہ قابل ترجیح اور دانشمندانہ فیصلہ ہوجائے ۔ آخرکارفیصلہ یہی ہوگا کہ کسی ایک بات پر توکل علی اللہ کرکے عمل شروع کردیاجائے۔ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ……………” اور جب کوئی آخری فیصلہ ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو ‘ اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اس کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔ “
شوریٰ کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ مختلف آراء سامنے آجائیں اور مجلس میں جو آراء پیش ہوں ان سے ایک کو قبول کرلیا جائے ۔ جب کوئی فیصلہ ہوجائے تو اس وقت شوریٰ کا کام ختم ہوجاتا ہے اور اب فیصلے کے نفاذ (Execution) کا دور شروع ہوجاتا ہے ۔ اور اس تنقیدی مرحلے کے لئے بڑے پختہ عزم اور فیصلہ کن اقدام کی ضرورت ہے ۔ اس مرحلے پر اللہ پر بھروسے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور معاملہ اب اللہ کے ہاں چلا جاتا ہے ۔ اللہ کی تقدیر کے سپرد ہوجاتا ہے ۔ اب یہ اللہ کی مشیئت کا کام ہوتا ہے کہ وہ کیا فیصلہ اور نتائج ظاہر کرتی ہے ۔ جس طرح رسول اکرم ﷺ نے اپنے ربانی انداز میں شوریٰ کا سبق پڑھایا۔ امت کو دکھایا کہ اظہار رائے کا انداز کیا ہوتا ہے اور فیصلے کے بعد اس کے نتائج کو کس طرح برداشت کیا جاتا ہے خصوصاً خطرناک حالات میں ۔ اسی طرح رسول ﷺ نے امت کے فیصلے ‘ کسی شورائی فیصلے کی تنفیذ کے سلسلے میں بھی سبق دیا۔ اور توکل علی اللہ کا انداز بھی سکھایا۔ اور اپنے آپ کو تن بتقدیر اللہ کے حوالے کرنے کا طریقہ بھی سکھایا ۔ حالانکہ واقعات کے رونما ہونے کا آپ کو اچھی طرح اندازہ تھا۔ واقعات کا رخ آپ کے علم میں تھا لیکن آپ نے مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کے فیصلے کی تنفیذ فرمادی ۔ آپ گھر میں داخل ہوئے اور زرہ اور خود زیب تن فرمائی ۔ اور آپ کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ کہاں جارہے ہیں ؟ آپ اور آپ کے صحابہ کو کن مصائب اور مشکلات سے دوچار ہونا ہے ۔ یہاں تک کہ جب باہر لڑنے والے پرجوش لوگوں نے دوبارہ مشورہ دیا اور موقعہ فراہم کردیا کہ فیصلے کو بدل دیاجائے اور نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کو پڑھ کر انہوں نے محسوس کرلیا کہ ان کے جوش و خروش نے رسول ﷺ کو باہر لڑنے پر مجبور کردیا ہے۔ حالانکہ آپ ایسا نہ چاہتے تھے اور انہوں نے دوبارہ اختیار آپ کو دے دیا کہ آپ مدینہ کے اندر لڑیں یا باہرلڑیں تو آپ نے اس پر دوبارہ غور کرنے کے موقع سے فائدہ نہ اٹھایا ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ آپ انہیں ایک سبق دینا چاہتے تھے ۔ آپ شوریٰ (Parliament) کے فیصلوں کی مثال قائم کرنا چاہتے تھے ۔ یہ چاہتے تھے کہ جب فیصلہ پختہ اور آخری ہوجائے تو پھر دوبارہ غور کے بجائے اس کا نفاذ چاہئے ۔ اللہ پر توکل کرنا چاہئے جو ہو ‘ سو ہو۔ آپ یہ بھی دکھانا چاہتے تھے کہ شوریٰ کا ایک ہی وقت ہوتا ہے ۔ فیصلے کے بعد تردد اور ڈانواں ڈول نہیں ہونا چاہئے ۔ دوبارہ غور کرکے از سر نوفیصلہ نہیں ہونا چاہئے ۔ اس لئے کہ اس طرح کوئی بات آخری نہ رہے گی ‘ فیصلے بار بار بدلیں گے اور دوبارہ غور کی اگر مثال قائم ہوجائے تو یہ سلسلہ ختم ہی نہ ہوگا ۔ بس شوریٰ (Parliament) کا فیصلہ ہو اور پھر نفاذ ہو اور توکل علی اللہ ہو اس لئے کہ اسے اللہ پسند کرتا ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ……………” بیشک اللہ تعالیٰ اس پر بھروسہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے ۔ “
اور وہ صفت جسے اللہ پسند کرتے ہیں اور اس صفت سے متصف لوگوں کو محبوب رکھتے ہیں تو اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ صفت ان کے اندر بدرجہ کمال پائی جائے اور وہ اس کے لئے بےحد حریص ہوں بلکہ وہ مومنین کی صفت ممتاز ہونی چاہئے ۔ توکل علی اللہ اور سپردم بتومایہ خویش را ‘ اسلامی تصور حیات اور اسلامی زندگی کا خط توازن ہے ۔ اب معاملہ اس کائنات کی عظیم حقیقت کے سپرد ہوجاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ آخری فیصلہ اللہ کے ہاں ہوگا ‘ اب وہ ہوگا جو وہ چاہے ۔
احد کے عظیم تجربات میں سے ایک عظیم تجربہ اور یہ ایک عظیم سبق تھا۔ یہ سبق امت مسلمہ کے لئے ہر اس دور اور ہر زمانے میں ایک قیمتی سرمایہ ہے ۔ یہ صرف ایک دور ہی کی بات نہیں ہے بلکہ ہر دور کے لئے ہے ۔
آل عمران 3:160
حقیقت توکل کو مزید ذہن نشین کرانے کے لئے اور اس کے اصول کو ثابت اور مستحکم کرنے کے لئے اگلی آیت میں ذرا تفصیل سے واضح کرکے اس حقیقت کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ حقیقی قوت فاعلہ ذات باری ہے ۔ فتح و کامرانی اور شکست اور ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے اگر نصرت چاہتے ہو تو اسی سے چاہو اور اگر شکست سے بچنا چاہتے ہو تو اسی کے آگے گڑگڑاؤ۔ اسی کی طرف متوجہ ہوجاؤ ‘ اسی پر بھروسہ کرو ‘ لیکن پوری تیاری کے بعد ‘ نتائج سے بےفکر ہوجاؤ اور نتائج و عواقب اللہ پر چھوڑ دو ۔
إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ
” اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں ‘ اور وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو ؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “
اس کی وجہ سے ایک مومن کا تصور اس بات سے پاک ہوجاتا ہے کہ کوئی چیز اللہ کے سوا کسی اور سے بھی طلب ہوسکتی ہے ۔ ایک مومن کی سوچ براہ راست اس ذات کے ساتھ پیوست ہوجاتی ہے جو اس کائنات میں حقیقتاً متصرف ہے ۔ اس لئے وہ ان تمام کھوٹے خداؤں اور باطل اسباب سے ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور ان کی حمایت اور نصرت طلب نہیں کرتا ۔ اور وہ اچھے نتائج کے لئے صرف اللہ وحدہٗ پر توکل کرتا ہے ۔ اسی سے توقع کرتا ہے کہ وہ معاملات کو اچھے رخ پر ڈالے گا ‘ اور اپنی حکمت سے درست کرے گا ۔ اس عقیدے کے بعد پھر تقدیر الٰہی کے نتیجے میں جو کچھ بھی وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اسے بڑی فراخ دلی سے قبول کرتا ہے ۔ فکر ونظر کا یہ ‘ وہ توازن ہے جسے انسانی فکر نے ‘ صرف اسلام کے زیر سایہ پایا۔
آل عمران 3:161
اس کے بعد بات نبوت اور خصائص نبوت کی طرف چلی جاتی ہے تاکہ اس موضوع کے بعد امانت ودیانت کے بارے میں کچھ ہدایات دی جائیں ‘ مثلاً یہ کہ مال غنیمت میں کسی قسم کی بددیانتی اور چوری سخت معیوب چیز ہے ۔ اور یہ کہ جو شخص بھی اجتماعی امانتوں میں بددیانتی کرے گا وہ اس کا حساب دے گا۔ اور ہر شخص کا حق اسے پورا پورا دیا جائے گا۔
وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لا يُظْلَمُونَ
” کسی نبی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ خیانت کرجائے ……اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا ‘ پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورابدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ “
احد کی پہاڑی اور گھاٹی سے تیراندازوں نے حکم عدولی کرتے ہوئے اپنی جگہ اس لئے چھوڑ دی تھی کہ انہیں یہ خوف دامن گیر ہوگیا تھا کہ شاید بعد میں رسول اللہ ﷺ انہیں کوئی حصہ نہ دیں۔ اس طرح جنگ بدر کے اموال غنیمت میں بعض منافقین نے یہ پروپیگنڈا کیا تھا کہ غنیمت میں سے کچھ چیزیں غائب ہوگئی ہیں ۔ اور اس سلسلے میں انہیں یہ حیا بھی نہ آئی کہ وہ رسول اللہ ﷺ کا نام لینے سے تو احتراز کریں۔
اس لئے اس آیت میں یہ حکم اور قاطع فیصلہ آگیا کہ حضرت محمد کیا کوئی نبی بھی ہرگز یہ نہیں کرسکتا کہ وہ اموال غنیمت میں سے کوئی چیز ادہر ادہر کردے۔ یعنی مال غنیمت میں سے کوئی چیز علیحدہ رکھ لیں اور یہ کہ وہ بعض فوجیوں کو زیادہ حصہ دیں یا غرض وہ کسی طرح کی کوئی خیانت کریں۔ وَمَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَغُلَّ……………” نبی کا یہ کام نہیں کہ وہ مال غنیمت میں کوئی خیانت کرے۔ “
یہ اس کی شان کے خلاف ہے ۔ وہ اس کے مزاج اور طبیعت نبوت کے خلاف ہے۔ وہ اس کے اخلاق کے خلاف ہے کہ ایسا کرے۔ گویا ذات نبوت سے اس فعل کا وقوع ہی ممکن نہیں ہے ۔ یہاں یہ نفی حلت اور حرمت کی نفی نہیں ہے۔ اس لئے کہ نبی کی امانت دار ‘ منصف مزاج اور پاک طبیعت اور مزاج ہی کے خلاف ہے کہ اس سے اس قسم کی کوئی بات وقوع پذیر ہو۔ بعض قرأتوں لفظ یَغُلَّ ہے۔ یعنی مجہول کا فیصلہ آیا ہے ۔ یعنی یہ بات جائز نہیں کہ نبی کے ساتھ خیانت کا برتاؤ کیا جائے ۔ اور اس کے متبعین اس سے کوئی چیز چھپائیں ۔ اس صورت میں یہاں اس بات کی ممانعت ہوگی کہ رسول ﷺ کے ساتھ اس کے پیروکار خیانت نہ کریں اور یہ قرأت آیت کے آخری حصے کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے ۔ حسن بصری (رح) کی تلاوت ایسی ہی تھی ۔
اس کے بعد ان لوگوں کو سخت تنبیہ کی جاتی ہے کہ جس نے خیانت کی مال غنیمت میں یا اور حکومتی اموال میں تو ان کا انجام یہ ہوگا۔
مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ……………” اور جو خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا ‘ پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا۔ “
امام احمد نے ‘ سفیان ‘ زہری ‘ عروہ ‘ ابواحمد ساعدی کی روایت نقل کی ہے ۔ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک شخص ابن لتبیہ نامی کو زکوٰۃ کا تحصلیدار مقرر فرمایا۔ وہ جب واپس آیا تو کہا یہ مال آپ کا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے ۔ اس پر رسول ﷺ ممبرپر کھڑے ہوئے اور یہ تقریر فرمائی :” ان تحصیلداروں کا کیا حال ہے کہ ہم انہیں کام پر لگاتے ہیں اور واپس آکر وہ کہتا ہے کہ یہ تو تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر بیٹھا اور انتطار کرتا کہ اسے ہدیہ دیا جاتا یا نہیں۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے جو شخص بھی اس مال سے کوئی چیز لے گا ‘ قیامت کے دن وہ اس کے کاندھے پر ہوگی ۔ اونٹ ہوگا اور وہ آواز دے رہا ہوگا ‘ گائے ہوگی اور وہ آواز دے رہی ہوگی اور بکری ہوگی تو بھی وہ ممیا رہی ہوگی ۔ (بخاری مسلم)
اور امام احمد نے اپنی سند کے ذریعہ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ایک دن ہم میں کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے غلول (غنیمت میں سے چوری) کا ذکر کیا ۔ اسے عظیم امر قرار دیا اور اسے بہت ہی بڑا گناہ قراردیا۔ اور فرمایا کہ قیامت کے دن مجھے کوئی ایسا شخص نہ ملے جو آئے اور اس کے کندھوں پر اونٹ ہو اور وہ کہے کہ اے رسول اللہ میری مدد کرو اور میں اسے یہ جواب دوں کہ میں تمہارے لئے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں نے تمہیں پوری طرح پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے ایسے شخص کو بھی نہ ملوں جس کے کندھوں پر گھوڑا ہو ‘ جو ہنہنارہاہو اور وہ شخص مجھ سے کہے رسول اللہ ﷺ میری امداد کرو اور میں اسے جواب دوں میں تمہارے لئے اللہ کے ہاں کچھ نہیں کرسکتا۔ میں تمہیں پوری طرح تبلیغ کردی تھی اور میں تم میں سے ایسے شخص کو بھی نہ ملوں جس کے کندھوں پر کوئی بےزبان جانور ہو اور وہ کہے رسول اللہ میری امداد کرو اور میں اسے بھی یہ جواب دوں کہ میں اللہ کے ہاں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا ۔ میں نے تمہیں پوری طرح تبلیغ کردی تھی ۔ (بخاری مسلم روایت ابوحیان)
امام احمد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عدی ابن عمیرہ الکندی سے روایت کی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اے لوگو ! تم میں سے کوئی شخص ہمارے لئے عامل مقرر ہو اور اس نے اس سے ایک سوئی چرائی یا اس سے زیادہ تو وہ چور ہے اور قیامت کے دن وہ اسے لے کر آئے گا۔ “ اس پر انصار میں سے کالے رنگ کا ایک شخص اٹھا (مجاہد کہتے ہیں کہ وہ سعد ابن عبادہ تھے گویا میں اسے اب بھی دیکھ رہا ہوں ) اور کہا اے اللہ کے رسول ﷺ میں اپنے منصب سے مستعفی ہوتا ہوں آپ اپنا کام سنبھالئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا ہوگیا ہے ؟ تو اس نے رسول ﷺ سے کہا میں نے آپ کو یہ اور یہ کہتے ہوئے سنا ہے اور میں یہ بات اب بھی کہتا ہوں : جسے ہم نے کسی ڈیوٹی پر لگایا تو اس کو چاہئے کہ وہ کم ہو یا زیادہ لے کر آئے ۔ اسے جو کچھ دیا جائے وہ لے لے ۔ اور جو نہ دیا جائے ‘ رک جائے ۔ (مسلم ابوداؤد)
قرآن کریم کی اس آیت اور ان احادیث نے جماعت مسلمہ کی تربیت میں ایک عظیم کردار ادا کیا ۔ یہاں تک کہ اس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ۔ ایک ایسا گروہ تیار ہوا ‘ جو نہایت ہی ایمانتدار ‘ دیانتدار اور اموال حکومت کے بارے میں اس قدر محتاط تھا جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی ۔ اور پوری انسانی تاریخ میں کبھی ایسی جماعت تیار نہیں ہوئی ۔ یوں ہوتا کہ ایک عام مسلمان کے ہاتھ میں مال غنیمت میں سے ایک نہایت ہی قیمتی سامان پڑتا اسے کسی نے دیکھا ہی نہ ہوتا اور وہ اسے لاکر امیر کے حوالے کردیتا۔ اور اس کا نفس اسے ‘ اس کے بارے میں کسی طرح بھی بدراہ نہ کرسکتا تھا ۔ محض اس ڈر سے کہ قیامت کے دن اس کی ملاقات نبی ﷺ سے ہو اور اس کی حالت یہ ہو جس کا اوپر ذکر ہوا۔ اور یہ کہ وہ قیامت کے دن شرمندہ نہ ہو ۔ جس سے اسے نبی ﷺ نے واضح طور پر خبردار کردیا ہے ۔ غرض مسلمانوں کی زندگی یوں تھی کہ فکرآخرت اور خوف آخرت ان کی زندگی کا عملی جزوہوا کرتے تھے ۔ اس کے اس احساس کا حصہ ہوا کرتے تھے اور ان کے تقویٰ ‘ اللہ خوفی اور غایت درجہ احتیاط کا راز ہی یہی تھا ۔ آخرت کا تصور ان کی زندگی میں ایک زندہ تصور تھا ‘ خوابیدہ نہ تھا۔ وہ ایک وعدہ فردانہ تھا۔ وہ ان کے یقین کا حصہ تھا جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہ تھی ۔ وہ یہ یقین کرتے تھے کہ ہر کسی کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کوئی ظلم نہ ہوگا۔
ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ جب مسلمان مدائن میں اترے تو انہوں نے مال غنیمت جمع کیا ۔ ایک شخص آیا اور اس کے پاس کوئی چیز تھی اور اس نے اسے خزانچی کے حوالے کیا۔ اس کے ساتھیوں نے کہا ہم نے اس قدر قیمتی چیز کبھی نہیں دیکھی ۔ ہمارے پاس جو بھی سامان جمع ہوا ‘ وہ اس قدر قیمتی نہیں ہے جس قدر یہ قیمتی چیز ہے ۔ تو انہوں نے سوال کیا کہ کیا تم نے اس سے کچھ لیا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں نے کچھ نہیں لیا ہے اور اللہ کی قسم اگر اللہ نہ ہوتا تو میں یہ تمہیں لاکر نہ دیتا۔ تب مسلمانوں کو معلوم ہوا کہ یہ ایک غیر معمولی شخص ہے ۔ خزانچی کے ساتھیوں نے پوچھا تمہارا تعارف کیا ہے ؟ تو اس نے کہا میں اپنا تعارف اس لئے نہیں کرتا کہ تم میری تعریف کرتے پھروگے اور نہ دوسرے لوگوں کو بتاؤں گا کہ وہ میرے اس عمل کی تعریفیں کرتے پھریں ‘ میں صرف اللہ کی تعریف کروں گا اور اس کے ثواب کا امیدوار رہوں گا ۔ ان لوگوں نے اس کا پیچھا کیا اور جب وہ اپنے ساتھیوں میں پہنچا تو انہوں نے دیانت کہا کہ وہ ثابت بن عبدقیس ہے ۔ (طبری ج 4 ۔ ص 16)
حضرت عمر کے دور میں جب اموال غنیمت لائے گئے ‘ جنگ قادسیہ کے بعد کا واقعہ ہے تو ان میں کسریٰ کا وہ تاج بھی تھا جسے وہ ایوان شاہی میں بیٹھ کر پہنتا تھا ۔ یہ بہت ہی قیمتی تھا ۔ حضرت عمر نے اسے دیکھا اور کہا کہ قابل قدر ہیں وہ فوجی جنہوں نے اسے خزانہ میں جمع کیا اور کہا :” جس قوم نے یہ تاج لاکر اپنے امیر کو دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ حد درجہ کے امین ہیں۔ “
یہ تھی مسلمانوں کی اسلامی تربیت ‘ یہ اس قدر عجیب و غریب معلوم ہوتی ہے کہ اس کی داستانیں افسانے معلوم ہوتے ہیں ۔
اب اموال غنیمت اور اموال غنیمت کے اندر خیانت کی اس بحث کے بعد قرآن کریم اسی مناسبت سے اخلاقی قدروں کا ذکر کرتا ہے۔
” بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضاپر چلنے والا ہو ‘ وہ اس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گھر گیا ہو اور جس کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو ‘ جو بدترین ٹھکانہ ہے ۔ اللہ کے نزدیک دونوں قسم کے آدمیوں میں بدرجہا فرق ہے اور اللہ سب کے اعمال پر نظررکھتا ہے ۔ “
آل عمران 3:162
یہ وہ دوررس تبدیلی ہے جس کے سائے میں ‘ تربیت پانے والوں کی نظروں میں اموال غنیمت کی کوئی حیثیت نہیں ‘ اس دنیا کے بارے میں سوچنا ہی حقیر ہوجاتا ہے اور قرآن منہاج تربیت کے خطوط میں سے ایک خط ہے ۔ یہ عجیب نقوش ہیں جن پر یہ منہاج انسانی دلوں کی تربیت کرتا ہے۔ ان کی ترجیحات ہی بدل جاتی ہیں ‘ ان کے افق ہی بدل جاتے ہیں ۔ اس لئے وہ دوسرے میدانوں کو چھوڑ کر زندگی کے اصل ہدف کی طرف آگے بڑھتے ہیں۔
أَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللَّهِ كَمَنْ بَاءَ بِسَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ……………” بھلایہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضاپر چلنے والا ہو ‘ وہ اس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گھر گیا اور جس کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو ‘ جو بدترین ٹھکانہ ہے ۔ “
یہ ہیں حقیقی اقدار ۔ یہ ہے میدان جس میں امید ہونی چاہئے ۔ یہ ہے وہ میدان جس میں کام ہونا چاہئے اور یہ ہے وہ فیلڈ جس میں کمائی یا خسارے کی بات ہونی چاہئے ۔ اور کس قدر وسیع خلیج ہے اس شخص کے درمیان جو رضامندی باری تعالیٰ کا طلبگار ہو اور اس میں کامیاب بھی ہو اور اس شخص کے درمیان جو راہ غضب پر ہو اور اس میں گھر بھی چکاہو اور جہنم کا مستحق ہوگیا ہو جویقیناً بہت ہی برا ٹھکانہ ہے ۔
آل عمران 3:163
یہ بھی ایک مقام ہے اور وہ بھی ایک مقام ہے اور ان دونوں مقامات کے درمیان ایک وسیع خلیج ہے هُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ اللَّهِ……………” یہ درجے ہیں اللہ کے نزدیک۔ “ ہر شخص اپنے مقام تک استحقاق کی بناپر پہنچتا ہے ۔ اس لئے اس معاملے میں نہ کسی پر کوئی ظلم و زیادتی ہے اور نہ بےجا محبت اور طرفداری ہے ۔ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ……………” اور اللہ اپنے بندوں کے اعمال پر نظر رکھتا ہے ۔ “