Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — آل عمران 3:164 – النساء 4:23

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. آل عمران 3:164
  2. آل عمران 3:165
  3. آل عمران 3:166
  4. آل عمران 3:167
  5. آل عمران 3:168
  6. آل عمران 3:169
  7. آل عمران 3:170
  8. آل عمران 3:171
  9. آل عمران 3:172
  10. آل عمران 3:173
  11. آل عمران 3:174
  12. آل عمران 3:175
  13. آل عمران 3:176
  14. آل عمران 3:177
  15. آل عمران 3:178
  16. آل عمران 3:179
  17. آل عمران 3:180
  18. آل عمران 3:181
  19. آل عمران 3:182
  20. آل عمران 3:183
  21. آل عمران 3:184
  22. آل عمران 3:185
  23. آل عمران 3:186
  24. آل عمران 3:187
  25. آل عمران 3:188
  26. آل عمران 3:189
  27. آل عمران 3:190
  28. آل عمران 3:191
  29. آل عمران 3:192
  30. آل عمران 3:193
  31. آل عمران 3:194
  32. آل عمران 3:195
  33. آل عمران 3:196
  34. آل عمران 3:197
  35. آل عمران 3:198
  36. آل عمران 3:199
  37. آل عمران 3:200
  38. النساء 4:1
  39. النساء 4:2
  40. النساء 4:3
  41. النساء 4:4
  42. النساء 4:5
  43. النساء 4:6
  44. النساء 4:7
  45. النساء 4:8
  46. النساء 4:9
  47. النساء 4:10
  48. النساء 4:11
  49. النساء 4:12
  50. النساء 4:13
  51. النساء 4:14
  52. النساء 4:15
  53. النساء 4:16
  54. النساء 4:17
  55. النساء 4:18
  56. النساء 4:19
  57. النساء 4:20
  58. النساء 4:21
  59. النساء 4:22
  60. النساء 4:23

آل عمران 3:164

اب یہ پیراگراف اپنے اصل موضوع کی طرف آتا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کی شخصیت کی طرف۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ کو رسول بناکر دراصل اللہ تعالیٰ نے مکہ مدینہ اور پوری دنیا کے اہل ایمان پر ایک عظیم احسان کیا ہے ۔ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ رسالت کی اس اسکیم پر غور کریں۔ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولا مِنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ ” درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے ‘ ان کی زندگیوں کو سنوراتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے ‘ حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے ۔ “ اس پیراگراف کا اختتام حقیقت نبوت محمدیہ پر کرنا ‘ اور آپ کی ذاتی حیثیت ومقام کو یہاں بیان کرنا اور اسے ایک عظیم احسان جتانا ‘ اور آپ اور آپ کی نبوت کا اس امت کی تعمیر وتشکیل میں اہم کردار جتلانا اور اس امت کی تعلیم وتربیت اور اس کی قائدانہ صلاحیت اور کھلی گمراہی سے نکل کر اس کا علم و حکمت اور تزکیہ اور طہارت کے اعلیٰ مقام تک پہنچ جانے کا تذکرہ ان سب امور کے اندر متنوع اور عمیق قرآنی احساسات ہیں جن پر غور ضروری ہے ۔ یہ آیات ابتداً مال غنیمت پر بطور تبصرہ آئی ہیں کہ مال غنیمت کا لالچ ‘ اس سے کسی چیز کے چوری ہونے ‘ اور اس معمولی کام کے اندر بہت زیادہ مشغول ہونے کی وجہ سے تم نے احد کی جیتی ہوئی جنگ ہاری ۔ اور تمہاری فتح شکست میں بدل گئی ۔ اور اس کی وجہ سے مسلمان ملت کے ساتھ وہ کچھ ہوا جو تم نے دیکھ لیا ۔ اس ریفرنس میں رسالت کے عظیم منصب کے تذکرے اور اس عظیم احسان کے تذکرے جو احساس دلانا مقصود ہے وہ بہت ہی گہرا ہے ۔ اور اس سے قرآن اپنے مخصوص انداز کے ساتھ امت کی تربیت کرنا چاہتا ہے ۔ اس عظیم منصب کے ذکر اور یہ سمجھانے سے کہ یہ کس قدرعظیم احسان ہے تمہارے لئے یہ تاثر اور احساس دینا مطلوب ہے کہ تمام زمین کے اموال غنیمت ‘ تمام کرہ ارض سے چھینا ہوامال اور تمام دنیا کے سامان واسباب ‘ اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں اور ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور یہ قابل ذکر ہی نہیں ہیں ۔ اس عظیم منصب ونعمت کے ہوتے ہوئے ان حقیر چیزوں کے تذکرے سے بھی ایک مسلمان کو حیا آتی ہے بلکہ اس کے بارے میں سوچنا بھی شرمندگی ہے ۔ چہ جائیکہ مسلمانوں میں سے کوئی اس کے اندر دلچسپی لے ۔ پھر یہ فکر انگیز اشارہ اس وقت دیا گیا کہ مسلمانوں کو شکست ہوچکی تھی ‘ وہ رنج والم میں مبتلا تھے اور اس معرکے میں مسلمانوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی تھیں ۔ ایسے حالات میں نبوت کے عظیم منصب کے عظیم کام کو سامنے لاکر یہ فکر دلانا مقصود ہے کہ اس نبوت کے ذریعہ تم پر جو احسانات ہوئے ذرا ان پر بھی تو غور کرو ۔ یہ وہ عظیم احسان ہے جو کو دنیا کے تمام دوسرے امور پر ترجیح دی جاسکتی ہے ۔ “ پھر بتایا جاتا ہے کہ اس احسان عظیم کے نتیجے میں ‘ تمہارے اندر جو تبدیلی آئی اس پر بھی ذرا غور کرو ۔ تمہارے اندر اللہ کی آیات پڑھی جارہی ہیں ‘ تمہاری زندگیوں کو سنوارا جارہا ہے ‘ تمہیں کتاب سکھائی جارہی ہے اور پھر دانائی اور حکمت اور ٹیکنالوجی سے آگاہ کیا جارہا ہے ۔ اگرچہ اس سے قبل تم صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے ۔ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ ” اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ایک حال سے بذریعہ انقلاب دوسری حالت میں منتقل کردیا گیا تھا ‘ ایک صورت حال تبدیل ہوگئی تھی اور ایک بالکل نئی صورت حال پیدا ہوگئی تھی ۔ ایک دور گزر گیا تھا اور ایک نیا دور آگیا تھا ۔ اس لئے امت کو یہ شعور دیا جارہا ہے کہ یہ ایک عظیم انقلاب ہے جو اس امت کے اندر محض اللہ کی قدرت ‘ مشیئت اور فضل و احسان کے ذریعہ برپا کیا جارہا ہے ۔ اور پھر اس امت کے ذریعہ پوری انسانی زندگی کے اندر اس عظیم انقلاب کے برپا کرنے کا آغاز بعث رسالت محمدیہ کے ساتھ ہوا ہے جس نے اس امت کو برپا کیا اور تربیت دی ۔ اس لئے اس عظیم انقلابی قوت کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اموال غنیمت جیسی حقیر چیز کو پیش نظر رکھ کر کوئی فیصلہ کرے ۔ یا وہ معمولی قربانیوں اور رنج والم اور شکست وریخت پر کوئی جزع وفزع کرے ۔ اس لئے کہ اس عظیم انقلاب کی راہ میں یہ چیزیں کچھ بھی نہیں ہیں ۔ جنگ بدر کے واقعات کے بیان کے دوران رسالت محمدیہ کی اہمیت اور عظمت کے بیان میں یہ چند اشارات تھے جسے ہم نے اختصار کے ساتھ یہاں بیان کرتے ہیں ۔ اس کے بعد مناسب ہے کہ ہم اس آیت قرآنی پر تفصیل سے روشنی ڈالیں جو حکمت و دانائی کے اشارات سے بھری ہوئی ہے ۔ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولا مِنْ أَنْفُسِهِمْ……………” درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نے بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے پیغمبر اٹھایا۔ “……یہ اللہ کا عظیم احسان تھا کہ ان میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا ۔ پھر یہ دوسرا احسان تھا کہ رسول کریم بھی عربی تھے ۔ خود ان میں سے تھے ‘ اللہ کی جانب سے کسی قوم میں رسول مبعوث کرنا دراصل اس قوم پر اللہ کا محض فضل وکرم ہوتا ہے ۔ یہ خالص احسان اس لئے ہوتا ہے کہ بعثت رسول کے لئے خود اس قوم میں کوئی استحقاق کی بات نہیں ہوتی ۔ اگر ان کا کوئی استحقاق ہوتا تو اس کے لئے کوئی قابل ذکر لوگ ہوتے ‘ لوگوں کے اندر کوئی ایسا گروہ نہیں ہے جس پر یہ عنایت ہورہی ہو ۔ یہ تو محض اللہ کا فضل وکرم ہے کہ ان میں رسول آگیا ‘ جو ان پر آیات الٰہی کی تلاوت کرتا ہے ‘ اللہ کے کلمات سناتا ہے ‘ اور اس کرم عظیم کے لئے ان کے ہاں کوئی سبب یا استحقاق نہ تھا ‘ یہ صرف اور صرف احسان الٰہی ہے۔ اور یہ احسان پھر اس پہلو سے اور زیادہ اور گہرا ہوجاتا ہے کہ یہ رسول خود ان میں سے ان کا ہی بھائی ہے ۔” خود ان میں سے ایک رسول “ کے الفاظ کے اندر نہایت گہرے اشارے ہیں ۔ مومنین اور رسول کے درمیان رابطہ ایک نفس کا ایک نفس کے ساتھ رابطہ ہے ۔ یہ رابطے نہیں ہے کہ ایک فرد ایک قوم کے ساتھ مربوط ہو۔ صرف بات یہ نہ تھی کہ وہ ان میں سے ایک ہے ‘ بلکہ اس سے زیادہ گہرا اور اس سے زیادہ ارفع مفہوم مطلوب ہے ۔ ایمان کی وجہ سے وہ بلند ہوکر رسول سے مربوط ہوجاتے ہیں اور صرف ایمان کی وجہ سے وہ شرف وسربلندی کے اس اونچے مقام تک پہنچ جاتے ہیں اور بیشک اہل ایمان پر یہ عظیم احسان ہے ۔ اس طرح یہ احسان دوچند ہوجاتا ہے ۔ ایک تو یہ کہ رسول بھیجا گیا اور دوسرا یہ کہ یہ رسول تمہارے اندر موجود ہے اور وہ اس رسول کے پاس موجود ہیں اور دونوں کے درمیان یہ محبوب رابطہ قائم ہے۔ اس کے بعد اس احسان کے عملی آثار ظاہر ہوتے ہیں ۔ ان کی شخصیت میں ‘ ان کی زندگی میں اور پھر ان کی تاریخ میں يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ……………” جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے ‘ ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے ‘ اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے ۔ “ اب اس احسان کا ظہور بڑے وسیع اور عملی میدان میں ہوتا ہے ۔ ایک یہ کہ ان کی عزت افزائی کی شکل میں یہ احسان عظیم ظاہر ہوتا ہے کہ خود اس نے اپنی جانب سے ‘ اپنے پروگرام کے مطابق رسول بھیجا جو ان سے اللہ کے کلام کے ذریعہ مخاطب ہے اور انہیں اللہ کی آیات سناتا ہے ۔ اگر انسان اللہ کے صرف اسی ایک احسان پر اچھی طرح غور کرے تو وہ اللہ کے خوف سے مدہوش ہوجائے ‘ کانپ اٹھے اور اس کے لئے یہ ممکن بھی نہ رہے کہ وہ اللہ کے سامنے کھڑا ہوسکے اور فوراً سجدہ شکر بجالائے ۔ اگر وہ یہ سوچے کہ اس پر اللہ کرم کررہا ہے ‘ اس کے ساتھ بات کررہا ہے ‘ اس کو اپنی ذات وصفات کے بارے میں متعارف کر ارہا ہے تاکہ انسان اس کی الوہیت کی ماہیت اور اس کے خصائص کو جان لے ۔ اس کے بعد وہ ذات باری اس سے مخاطب ہورہا ہے اور مخاطب بھی اس انسان اور اللہ کے اس حقیر بندے سے اور خطاب بھی اس بندے کی زندگی کے بارے میں ہو ‘ اس کے دلی سوالات کے جواب دے رہی ہو ‘ اس کی حرکات و سکنات پر بحث ہورہی ہو ‘ اور بات اس پروگرام کی ہورہی ہو جس میں اس حقیر انسان کی زندگی جاوید کا پروگرام مضمر ہے اور اس کی ہدایت کی بات ہورہی ہو ‘ اور یہ ہدایت بھی اس دستور کی طرف دی جارہی ہو جس میں اس کے دل کی پاکیزگی ہے اور اس کے احوال کی بہتری ہے ۔ اور اس کے بعد پھر اسے خوشخبری دی جارہی ہے کہ اگر وہ اس پروگرام پر چلے گا تو وسیع تر جنت میں جگہ پائے گا ‘ کیا اس سے اور کوئی عظیم احسان ہوسکتا ہے ‘ بلکہ یہ خالص فیضان جودوکرم ہے ‘ اور خالص فضل وعطا ہے ۔ اللہ تو غنی بادشاہ ہے ‘ اور انسان کمزور اور محتاج ہے ۔ لیکن یہ غنی بادشاہ اس کمزور اور محتاج سے ہمکلام ہے ۔ وہ اس پر عنایات کی بارش کررہا ہے ‘ اسے دعوت دے رہا ہے ‘ یہ غنی بادشاہ باربار ان فقراء کو پکار رہا ہے اور اپنے جودوکرم کی مسلسل دعوت دے رہا ہے ۔ یہ عظیم کرم ہے ‘ عظیم احسان ہے ‘ عظیم فضل اور عطا ہے جو بےلوث ہے اور اس کے بالمقابل اس کا پورا شکر ادا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کے احسان کی وفاداری ممکن ہے ۔ وَيُزَكِّيهِمْ…………” ان کی زندگیاں سنوراتا ہے “ پاک کرتا ہے ‘ بلند کرتا ہے ‘ منقح کرتا ہے اور ان کے دلوں ‘ ان کے تصورات ‘ اور ان کے شعور کو پاک کرتا ہے ۔ وہ ان کے گھرانوں کو پاک کرتا ہے ۔ ان کی عزتوں کو پاک کرتا ہے ‘ اور ان کے باہم روابط کو پاک کرتا ہے ۔ ان کی انفرادی زندگی کو پاک کرتا ہے ‘ ان کے معاشرے کو پاک کرتا ہے اور ان کے ارادوں کو پاک کرتا ہے ۔ ان کو شرک بت پرستی کی گندیوں سے پاک کرتا ہے ۔ ان کو خرافات اور وہم پرستی سے پاک کرتا ہے اور ان کی وجہ سے زندگی کے اندر جو رسم و رواج پاتے ہیں ‘ جو غلط بندگیاں ہوتی ہیں ان سے پاک کرتا ہے ۔ اور شرف انسانیت سے فروتر گھٹیا درجے کی جو حرکات ہوتی ہیں ان سے انسانوں کو پاک کرتا ہے ۔ ان کو جاہلیت کی زندگی کی تمام گندگیوں سے پاک کرتا ہے ۔ نیز ان چیزوں سے پاک کرتا ہے جن سے انسانی شعور اور قومی شعائر ملوث ہوجاتے ہیں اور جن سے زندگی کے معانی ‘ اقدار اور روایات گندی ہوتی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جاہلیت اپنے ماحول میں کچھ ناپاکیاں پھیلادیتی ہے ۔ اسی طرح عرب جاہلیت نے بھی بعض گندگیاں پھیلادی تھیں اور ان سب سے اسلام انہیں پاک کررہا تھا۔ اور جاہلیت کی گندگیوں میں سے بعض کا تذکرہ حضرت جعفر بن ابی طالب نے کیا ہے ‘ جب وہ نجاشی کے سامنے اسلام کا تعارف کرا رہے تھے ۔ اور یہ تعارف وہ قریش کے نمائندوں کے سامنے کررہے تھے ۔ جوان مہاجرین کے خلاف مہم پر آئے ہوئے تھے ۔ مطالبہ یہ تھا کہ وہ ان مہاجرین کو ان کے حوالے کردے ۔ حضرت جعفر ؓ فرماتے ہیں : ” شاہ محترم ! ہم جاہلیت میں ڈوبی ہوئی قوم تھے ۔ بتوں کی پوجا کرتے تھے ‘ مردار کھاتے تھے ۔ فحاشی کی تمام حرکات کرتے تھے ۔ صلہ رحمی کے تمام تعلقات کو کاٹتے تھے ۔ پردیسی سے براسلوک کرتے تھے ۔ ہم میں سے طاقتور ضعیفوں کو کھائے جارہا تھا۔ ہماری یہی حالت تھی کہ اللہ نے ہم ہی میں سے ہمارے پاس ایک رسول بھیجا ۔ ہم اس کے شجرہ نسب کو خوب جانتے ہیں ‘ اس کی سچائی ‘ اس کی امانت ودیانت سے بھی خوب واقف ہیں اور اس کی عفت مآبی بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس نے ہمیں ایک اللہ کی طرف بلایا کہ ہم اسے ایک ہی جانیں ‘ صرف اسی کی بندگی کریں ۔ اور اس کے علاوہ ہم اور ہمارے آباء و اجداد جن پتھروں اور بتوں کی پوجا کرتے تھے ان کو جوأ اپنے گلے سے اتار دیں۔ اس نے ہمیں حکم دیا کہ سچی بات کرو ‘ امانت میں خیانت نہ کرو ‘ صلہ رحمی کرو ‘ پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھو ‘ حرام امور کا ارتکاب نہ کرو ‘ قتل نہ کرو ‘ فحاشی سے اس نے ہمیں منع کیا ‘ جھوٹی بات سے منع کیا ‘ یتیم کا مال کھانے سے منع کیا ‘ پاکدامن عورتوں پر بہتان لگانے سے منع کیا اور اس نے حکم دیا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ‘ نماز قائم کرو ‘ زکوٰۃ ادا کرو اور روزے رکھو۔ “ اور ان گندگیوں میں سے ایک گندگی وہ تھی جس کا تذکرہ حضرت عائشہ ؓ عنہانے کیا ہے ۔ وہ جاہلیت کے زمانے میں مرد وزن کے تعلق جنسیت کا نقشہ روایت بخاری کے مطابق یوں کھینچتی ہیں :” جاہلیت میں نکاح کی چار اقسام مروج تھیں ۔ ایک تو وہ نکاح تھا ‘ جو آج کل ہمارے درمیان مروج ہے کہ ایک شخص دوسرے کی لڑکی کا پیغام دیتا ‘ مہر مقرر ہوتا اور پھر نکاح ہوجاتا۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ جب کسی شخص کی عورت ایام ماہواری سے پاک ہوجاتی تو وہ کہتا فلاں کے پاس جاؤ اور اس کے ساتھ تعلقات زن وشو قائم کرو ۔ اور وہ اپنی بیوی کے ساتھ اس وقت تک مباشرت نہ کرتا جب تک اس کا حمل واضح نہ ہوجاتا ۔ یعنی جس شخص کے پاس اس نے اسے بھیجا تھا اس کے نطفے سے ۔ اور جب حمل واضح ہوجاتا تو پھر خاوند اس کے ساتھ تعلقات جنسیت قائم کرلیتا اگر چاہتا ۔ یہ اس لئے کیا جاتا تھا کہ اس شخص سے اچھی نسل پیدا ہو۔ اسے نکاح استبضاع کہا جاتا تھا۔ دوسرا طریقہ یہ تھا کہ کہ دس افراد سے کم لوگ جمع ہوتے اور وہ ایک ہی عورت کے ساتھ تعلقات قائم کرلیتے ۔ ہر ایک اس کے پاس جاتا ‘ جب حمل ہوجاتا اور بچہ پیدا ہوجاتا اور کچھ شب وروز گزرجاتے تو وہ ان سب کو بلاتی ۔ ہر ایک کو لازماً آنا پڑتا ۔ وہ آتے اور اس کے ہاں اجتماع ہوتا ۔ وہ کہتی تمہیں تو بات کا پتہ ہی ہے ۔ اب بچہ پیدا ہوگیا ہے ۔ اے فلاں یہ بچہ تمہارا ہے اور وہ جس کے نام سے چاہتی اس کا نام رکھ دیتی ۔ تو یہ اس کا بچہ ہوجاتا۔ اور وہ شخص انکار نہ کرسکتا۔ چوتھانکاح ہوں ہوتا کہ بہت سے لوگ ایک عورت کے پاس جاتے ۔ یہ عورت کسی کو بھی منع نہ کرتی ‘ جو بھی چاہتا اس کے پاس جاتا ۔ ان میں سے اگر کوئی حاملہ ہوجاتی اور حمل وضع ہوجاتا تو یہ سب لوگ اس کے ہاں جمع ہوتے ۔ قیافہ دانوں کو بلایا جاتا۔ یہ قیافہ دان جس کے بارے میں چاہتے ‘ بچے کو اس کے ساتھ ملادیتے ۔ وہ اسے لیتا ‘ اس کا وہ بیٹا تصور ہوتا اور ازروئے قانون وہ اس کا انکار نہ کرسکتا ۔ “ اب ذرا غورکیجئے کہ اس بہیمانہ گرے ہوئے جنسی ضوابط پر کیا کسی مزید تبصرے کی ضرورت ہے ۔ یہ کافی ہے کہ ہم ایک ایسے شخص کے بارے میں سوچیں کہ وہ اپنی بیوی کو کسی کے پاس ایک اچھا بچہ پیدا کرنے کے لئے بھیجتا ہے ۔ جس طرح اونٹنی ‘ ایک گھوڑی اور ایک مادہ مویشی کو اچھا بچہ لانے کے لئے بھیجا جاتا ہے تاکہ بہترین نسل کشی ہو۔ رہی جسم فروشی کی چوتھی صورت تو وہ جسم فروشی کی ایک ایسی صورت ہے جس میں بچے کو کسی کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ اس میں وہ عار محسوس نہیں کرتے اور نہ اس سے رکتے ہیں ۔ اور تیسری صورت بھی ویسی ہی ہے جس سے عربوں کو اسلام نے پاک کیا اور اگر اسلام نہ آتا تو وہ کانوں تک اس گندگی میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ جنسی تعلقات میں یہ گندگی عربوں میں محض اس لئے پھیلی ہوئی تھی کہ ان کا نقطہ نظر عورت کے بارے میں نہایت ہی گرا ہوا تھا ‘ ابوالحسن علی ندوی اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : ” جاہلیت کے دور میں عورتوں پر بےحد ظلم ہوتا تھا۔ اور ان کے حقوق مارے جاتے تھے ۔ اس کی دولت لوٹی جاتی تھی۔ اسے میراث سے محروم کردیا جاتا تھا۔ اور اگر اسے طلاق ہوجاتی یا اس کا خاوند فوت ہوجاتا تو اسے اپنی مرضی سے نکاح کرنے کی اجازت نہ ہوتی تھی ۔ اور وہ اسی طرح میراث میں ملا کرتی تھی جس طرح مویشی اور سامان میراث کے طور پر ملا کرتے تھے ۔ حضرت ابن عباس سے روایت ہے ۔ اگر کسی کا باپ فوت ہوجاتا تو وہ اس کی منکوحہ کا سب سے پہلامستحق ہوجاتا ‘ وہ اگر چاہتا تو اسے اپنے نکاح میں لے لیتا ‘ چاہتا تو اسے اس وقت تک بند رکھتا جب تک وہ اسے فدیہ نہ دلاتی یا مر نہ جاتی تاکہ یہ اس کی تمام مملوکات پر قابض ہوجاتا۔ عطا ابن رباح کہتے ہیں اہل جاہلیت کا رواج یہ تھا کہ جب کوئی مرد فوت ہوجاتا اور اس کی بیوی رہ جاتی تو اسے روک لیا جاتا یہاں تک کہ کوئی بچہ بالغ ہوتا اور یہ اس کے حوالے کردی جاتی ۔ سدی نے کہا کہ جاہلیت میں جب باپ اور بھائی فوت ہوجاتے یا لڑکا فوت ہوتا اور اس کے پیچھے بیوہ رہ جاتی تو اگر کوئی وارث جلدی سے اس بیوہ پر کپڑا ڈال دیتا تو وہ اس کی ہوجاتی اور وہ اسی سابقہ مہر کے عوض اس کے ساتھ نکاح کرلیتا یا وہ اسے کسی کے نکاح میں دے دیتا لیکن اس کے مہر کا حق دار وہ شخص ہوتا ۔ اور اگر بیوی خاوند کے مرتے ہی اپنے میکے بھاگ جاتی تو آزاد تصور ہوتی ۔ جاہلیت میں عورت کے ساتھ اس کے حقوق کے بارے میں سخت عدم توازن تھا۔ خاوند اس کے حقوق تلف کرسکتا تھا ‘ جبکہ وہ خاوند کی حق تلفی کرنے پر قادر نہ تھی ۔ اس کا مہر اس سے چھین لیا جاتا۔ اور اسے نقصان پہنچانے کے لئے روکے رکھا جاتا۔ خاوند تو اس کے ساتھ براسلوک کرتا ‘ اس سے اعراض بھی کرتا اور بعض اوقات اسے معلق کرکے چھوڑ دیا جاتا۔ کھانے پینے کی چیزوں سے بعض چیزیں مردوں کے لئے مخصوص تھیں اور عورتوں پر وہ حرام تھیں ۔ مرد کے لئے اجازت تھی کہ وہ جس قدر عورتوں سے نکاح کرتا ‘ نکاح کرسکتا تھا۔ لڑکیوں کو اس قدربرا سمجھا جاتا کہ انہیں زندہ درگور کردیا جاتا ۔ ہشیم ابن عدی نے المیدانی کی روایت کے مطابق لکھا ہے کہ تمام قبائل عرب میں زندہ درگور کرنے کا رواج تھا ‘ ہاں ایک شخص اگر اس پر عمل نہ کرتا تو دس نہ کرتے ۔ اسلام آیا تو اس وقت عربوں کے اندر زندہ درگور کرنے کے بارے میں مختلف آراء اور طریقے پائے جاتے تھے ۔ بعض لوگ بہت غیرت مند ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کو زندہ درگور کرتے ۔ اور ان کی وجہ سے وہ اپنی شرمندگی چھپاتے ۔ بعض لوگ ایسے تھے جو سبز آنکھوں والی لڑکیوں کو دفن کرتے یا سیاہ فام کو زندہ درگور کردیتے یا برص زدہ کو دفن کردیتے یالنگڑی کو دفن کردیتے ۔ اس لئے کہ یہ لوگ ان صفات کو بہت ہی بدشگون سمجھتے تھے اور بعض ایسے بھی تھے جو فقر وفاقہ کے خطرات کی وجہ سے اولاد کو قتل کرتے ۔ بعض اوقات وہ اپنی لڑکیوں کو بڑی سنگدلی کے ساتھ قتل کرتے یا زندہ درگور کرتے ۔ مثلاً کبھی ایسا ہوتا کہ والد موجود نہ ہوتا ‘ سفر میں ہوتا ‘ یا کوئی اور مصروفیات ہوتیں تولڑ کی کو زندہ درگور کرنے کا موقعہ نہ ملتا ‘ وہ بڑی ہوجاتی وہ سمجھتی کہ اسے قتل کیا جاتا ہے ۔ بعض لوگوں نے خود اپنی کہانیاں بیان کی ہیں جو خون کے آنسو رلاتی ہیں ۔ بعض لوگ لڑکیوں کو پہاڑ کی چوٹی سے گرادیتے ۔ ان گندگیوں میں سے ایک گندگی ‘ اور سب سے بڑی گندگی ‘ شرک تھی ۔ پھر شرک کی بھی گری ہوئی شکل یعنی بت پرستی عربوں میں عام تھی ۔ استاد ندوی اس کا خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں :” عرب بت پرستی اور بتوں کی پوجا کی بدترین صورتوں میں مبتلا تھے ۔ ہر قبیلہ بلکہ ہر درے کا ایک بت ہوا کرتا تھا ۔ بلکہ ہر خاندان کا ایک بت ہوا کرتا تھا ۔ کلبی کہتے ہیں ۔ مکہ کے ہر گھرانے کا اپنا بت ہوتا تھا جسے وہ پوجتے تھے ۔ جب کوئی سفر پر جاتا تو جانے سے پہلے آخری کام یہ کرتا کہ وہ اس سے تبرک حاصل کرتا۔ اور جب گھر لوٹتا تو سب سے پہلے اس کی پوجا کرتا۔ عرب بتوں کی پوجا کے اندر اس قدر غلو کرگئے تھے ۔ بعض نے اپنے بت خانے بنارکھے تھے ۔ بعض کا اپنا علیحدہ ایک ہی بت ہوتا تھا۔ اگر کوئی بت خانہ نہ بناسکتا تھا اور اپنا بت بھی نہ بناسکتا تو وہ خانہ کعبہ کے سامنے ایک پتھر کھڑا کردیتایا کسی اور جگہ کھڑا کردیتا ‘ اس کا طواف کرتاجس طرح وہ خانہ کعبہ کا طواف کرتا تھا۔ اور ایسے بتوں کو وہ انصاب کہتے تھے ۔ خانہ کعبہ کے اندر ‘ حالانکہ کعبہ صرف اللہ کی عبادت کے لئے تعمیر ہوا تھا ‘ اس کے صحن کے اندر تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے ۔ بتوں کی پوجا سے آگے بڑھ کر انہوں نے بتدریج پتھروں کی پوجاشروع کردی تھی ۔ امام بخاری نے ابورجاء عطاردی سے روایت کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم پتھروں کی عبادت کیا کرتے تھے ۔ اگر ہمیں کوئی اچھا پتھر ملتا تو پہلے پتھر کو چھوڑ کر دوسرا لے لیتے ۔ اگر پتھر نہ ملتا تو ہم مٹی کا ایک ڈھیلا لے لیتے اس بکری کو دوہتے۔ اس کے بعد اس کا طواف کرتے ۔ کلبی کہتے ہیں۔ اگر کوئی سفر کرتا اور کسی جگہ اترتا تو چار پتھر لیتا ۔ ان میں سے دیکھتا کہ سب سے اچھا کون سا ہے تو اسے اپنا رب بنالیتا اور بقیہ تین کو چولہے کے تین پتھر بنالیتا ۔ اور جب وہ اپنی منزل چھوڑتا تو اس پتھر کو بھی چھوڑدیتا۔ عرب بھی دوسری قوموں کی طرح ‘ ملائکہ اور جنوں کی پوجا کرتے ۔ اسی طرح وہ ستاروں کی پوجا بھی کرتے ۔ چناچہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے اور انہیں اللہ کے ہاں سفارشی بناتے۔ ان کی عبادت بھی کرتے اور ان کے وسیلہ سے اللہ کے ہاں اپروچ (تقرب حاصل) کرتے ۔ اسی طرح انہوں نے جنوں کو بھی شریک خدا کیا ہوا تھا۔ ان کی قدرت اور تاثیر کے وہ قائل تھے ‘ بلکہ ان کی عبادت بھی کیا کرتے تھے ۔ کلبی کہتا ہے قبیلہ خزاعہ کا بنوملیح قبیلہ جنوں کی پوجا کرتا تھا ۔ صاعد کہتے ہیں کہ حمیر سورج کی پوجا کرتے تھے ۔ کنانہ چاند کے پجاری تھے ۔ “ (دیکھئے ماذاحرالمسلمون۔ ندوی ص 34) بت پرستی کے اس ابتدائی تصور کے ملاحظہ سے بسہولت معلوم ہوجاتا ہے کہ اس بت پرستی کی وجہ سے عربوں کے دل و دماغ اور ان کے تصورات اور ان کی عملی زندگی کے اندر کس قدر وسیع گندگی پھیلی ہوئی تھی ۔ اور یہ بھی معلوم ہوجاتا کہ کس قدر عظیم انقلاب تھا جو اسلام نے عرب معاشرے کے اندر برپا کیا ۔ ان کی زندگی کو کس قدر پاک کیا گیا ‘ ان کے تصورات کی کس قدر تطہیر کی گئی ۔ اور ان کو اخلاقی اور اجتماعی گندگیوں سے کس قدر پاک کیا گیا ‘ حالانکہ یہ تصورات اور یہ انفرادی اور اجتماعی گندگیاں ان کے لئے ایک قسم کے مفاخر تھے اور وہ اپنے اشعار اور اپنے میلوں اور بازاروں میں ان پر لمبی لمبی فخریہ تقریریں کیا کرتے تھے ۔ مثلاً شراب نوشی ‘ قمار بازی ‘ قبائل کے اندر چھوٹے چھوٹے انتقام ‘ ان کے نزدیک عظیم فضائل اخلاق تھے ۔ اور یہ لوگ ان کے دائرے سے باہر قدم نہ رکھ سکتے تھے ۔ رہی جنگ تو وہ ان کے لئے نہایت ہی معمولی بات تھی ۔ خونریزی ان کے لئے روز مرہ کا کام تھا۔ ایک معمولی حادثہ بھی خونریزی کا باعث بن جاتا ۔ قبیلہ بکر اور تغلب کے درمیان جنگ ہوئی اور چالیس سال تک ہوتی رہی ۔ اس جنگ میں عظیم خونریزی ہوئی ۔ جنگ یوں شروع ہوئی کہ کلیب رئیس معد نے تیر مارا اور بسوس بنت منقذ کی اونٹنی کے تھنوں میں لگا۔ خون اور دودھ مل گئے ۔ جس اس ابن مرہ نے کلیب کو قتل کردیا ۔ اس بکر اور تغلب قبائل کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔ اور جس طرح مہلہل برادر کلیب نے کہا ہے ” اس جنگ نے زندگی کو فنا کردیا۔ ماؤں کو رلادیا۔ بچوں کو یتیم کردیا۔ اس قدر آنسوب ہے کہ رکنے کا نام نہ لیا اور اس قدر لوگ مارے گئے کہ دفن نہ ہوسکے ۔ اور جنگ داحس کا بھی حال ایسا ہی تھا ۔ قیس ابن زہیر کے گھوڑے کا نام داحس تھا ۔ قیس ابن زہیر اور حذیفہ ابن بدر کے درمیان ہونے والے شرطیہ مقابلے میں داحس آگے تھا ۔ ایک شخص جو اسد قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اس نے اس کے آگے رکاوٹ ڈالی اور حذیفہ آگے نکل گیا ۔ اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا اور اس طرح اسے الجھادیا ۔ اور دوسرے گھوڑے آگے نکل گئے ۔ اس کے بعد مقاتلہ شروع ہوگیا ‘ پھر بدلے پر بدلہ لیا جاتا رہا ۔ قبیلوں نے اپنے افراد کی نصرت کی ۔ اس میں لوگ مارے گئے ‘ قید ہوئے اور ہزاروں افراد کام آئے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کی زندگی میں ‘ عظیم اور بلند مقاصد کی کوئی اہمیت نہ تھی ‘ اگر ان کے ہاں کوئی بلند نصب العین ہوتا تو وہ ان گھٹیا سرگرمیوں میں مشغول ہونے کا وقت ہی نہ پاتے ۔ ان کی زندگی کا کوئی پیغام نہ تھا ‘ انسانوں کی بھلائی کا کوئی منصوبہ ان کے پیش نظر نہ تھا ۔ اس دنیا میں ان کے پاس کوئی بلند انسانی پروگرام نہ تھا کہ وہ زندگی کی ان بےقیمت اور گھٹیا سرگرمیوں میں مشغول نہ ہوتے۔ نیز ان کے پاس کوئی ایسا نظریہ حیات بھی نہ تھا جو انہیں ان اجتماعی مذموم گندگیوں سے باز رکھتا ۔ اگر لوگوں تک الٰہی نظریہ حیات نہ پہنچاہو تو پھر ان کی ترجیحات کیا ہوتی ہیں ؟ ان کا تصور حیات کیا ہوتا ہے ؟ اور ان کے اخلاق کیا ہوتے ہیں ؟ جاہلیت بہرحال جاہلیت ہوتی ہے ۔ اور ہر جاہلیت کی گندگیاں اور غلط کاریاں الگ ہوتی ہیں۔ ہر زمان ومکان میں ان کے لئے الگ مواقع رہے ہیں ۔ جب لوگوں کے دل الٰہی نظریہ ٔ حیات سے خالی ہوجائیں اور ان پر خدائی فکر کی حکمرانی نہ رہے ‘ جب لوگ الٰہی شریعت سے آزاد ہوجائیں تو خدائی نظریہ حیات پر مبنی ہوتی ہے ‘ تو ان کی زندگی پر جاہلیت کی حکمرانی ہوتی ہے اور وہ جاہلیت کی مختلف صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں داخل ہوجاتے ہیں ۔ آج ہمارے دور میں جس جاہلیت نے انسانیت کو کانوں تک گندگی میں ڈبودیا ہے وہ اپنے مزاج کے اعتبار سے زمانہ قدیم کی عرب جاہلیت سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے ۔ اور نہ ان جاہلیتوں سے مختلف ہے جو اس وقت اس دنیا کے اطراف واکناف میں مروج تھیں اور جن سے انسانیت کو اسلام نے نجات دی تھی ۔ آج دنیا ایک عظیم گندگی میں زندگی بسر کررہی ہے اس کی صحافت کو دیکھیں ‘ اس کی فلموں کو دیکھیں ‘ اس کے لباس کی نمائشوں کو دیکھیں ‘ اس کے مقابلہائے حسن کو دیکھیں ‘ اس کی رقص گاہوں کو دیکھیں ‘ اس کے حماموں کو دیکھیں ‘ اس کے نشر و اشاعت کے اداروں کو دیکھیں ‘ پھر ننگے گوشت اور ہیجان انگیز طور طریقوں کو دیکھیں ‘ ادب وفن میں اس کی بیماررمزیت کو دیکھیں اور ذرائع اشاعت کے اندر اس کے گھٹیا اشاروں کو دیکھیں تو یقین ہوجاتا ہے کہ وہ گندگی کی دلدل میں گرفتار اور بیمار ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ معیشت پر ظالمانہ سودی نظام کی گرفت ہے ۔ افرط زر اور دولت جمع کرنے اور اسے بڑھانے کے لئے غیر اخلاقی ذرائع کا استعمال عام ہے ۔ اور قانون کے سایہ اور لباس کے اندر عوام کو لوٹا جارہا ہے ۔ اس کے ساتھ اخلاقی بےراہ روی اس قدر عام ہوگئی ہے جس کی لپیٹ میں ہر شخص اور ہر خاندان اور ہر نظام آرہا ہے بلکہ ہر انسانی سوسائٹی پر اس کے اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ ان تمام امور پر غور کرنے سے یہ فیصلہ کرنا بہت ہی سہل ہوجاتا ہے کہ اس جدید جاہلیت کے زیر سایہ انسانیت ہلاکت خیز بیماری کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ انسان انسانیت کو کھائے جارہا ہے ۔ اس کی آدمیت تحلیل ہورہی ہے ‘ وہ حیوان کے پیچھے بھاگ رہی ہے ۔ سانس پھولا ہوا ہے ۔ وہ ایسی چیزوں کی دلدادہ ہوگئی ہے جو حیوانیت کو جگارہی ہیں ۔ اور انسان عالم حیوانات کی طرف اتررہا ہے لیکن حیوان کو دیکھیں تو وہ اس انسان سے زیادہ پاکیزہ ہے ۔ کیونکہ وہ ضابطہ فطرت کے اندر جکڑا ہوا ہے اور ضابطہ اس قدر مضبوط ہے کہ کبھی ڈھیلا نہیں پڑتا۔ نہ اس قدر گندہ ہوتا ہے جس طرح انسان اس وقت گندہ ہوجاتا ہے جب وہ عقیدے اور نظریہ اور نظریاتی نظام کے بندھنوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اور پھر سے اس جاہلیت میں داخل ہوجاتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اسے نجات دی ہے ۔ اور جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اس آیت میں اشارہ کرتے ہوئے اسے اپنا خصوصی انعام قرار دیتے ہیں ۔ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ……………” ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے ۔ “ اس آیت میں جن لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے وہ ان پڑھ اور جاہل تھے ۔ وہ لکھنا نہ جانتے تھے ۔ عقل اور سمجھ بوجھ کے اعتبار سے بھی امی اور جاہل تھے ۔ ابواب علم میں سے کسی باب میں بھی ‘ اس وقت کے عالمی معیار علم و ثقافت کے مطابق کچھ درک نہ رکھتے تھے ‘ نہ ان کی زندگی کے کچھ بلند مقاصد تھے ‘ جو زندگی کے مختلف شعبوں میں سے کسی بھی شعبے میں عالمی وقعت رکھتے ہوں ‘ لیکن اچانک اسلامی نظریہ حیات آتا ہے ‘ وہ دنیا کے استاد بن جاتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ دنیا کے حکیم بن گئے ۔ وہ ایک نظریاتی نظام زندگی کے حامل بن گئے ‘ جس کے اندر نظام فکر ، نظام اجتماع اور زندگی کی تنظیم کا پورانظام موجود تھا۔ اور جس نے اپنے دور میں پوری انسانیت کو اس وقت کی جاہلیت سے نجات دی۔ اور اب ہمارے دور میں بھی جدید جاہلیت سے اس جدید بشریت کو ‘ انشاء اللہ وہی نجات دے گی ۔ اس لئے کہ ہماری اس جدید جاہلیت میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جن سے جاہلیت قدیمہ مرکب تھی ۔ اخلاقی اعتبار سے بھی ‘ اجتماعی اعتبار سے بھی ‘ انسانی زندگی کے اہداف کے اعتبار سے بھی اور اعلیٰ مقاصد کے اعتبار سے بھی ۔ اس کے باوجود کہ جدید انسانیت نے علم ومعرفت کے میدان میں بڑی بڑی پیش قدمیاں کی ہیں اور صنعتی میدان میں اس نے ریکارڈ پیداوار دکھائی ہے ۔ اور زندگی کی بہترین سہولیات فراہم کی ہیں لیکن یہ انسانیت بدستور جاہلیت میں ڈوبی ہوئی ہے ۔ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ……………” اگرچہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے ۔ “ اعتقادات و تصورات کے اعتبار سے گمراہی میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ زندگی کے مفاہیم اور قدروں کے اعتبار سے بھی ڈوبے ہوئے تھے اور مقاصد اور زندگی کی سمت کے اعتبار سے بھی راہ گم کئے ہوئے تھے ۔ اپنی عادات واطوار کے اعتبار سے بھی ‘ اپنے نظم ونسق کے اعتبار سے بھی ‘ اپنے اجتماعی نظام اور اپنے اخلاقی نظام کے اعتبار سے بھی گمراہ تھے ۔ وہ عرب جو اس آیت کے مخاطبین اولین تھے ‘ وہ اچھی طرح ‘ بغیر کسی شک وشبہ کے اپنے ماضی اور حال ماضی کے رنگ ڈھنگ سے واقف تھے ‘ یہ ماضی انہیں خوب یاد تھا۔ اور وہ انقلاب جو اسلام کی وجہ سے ان کی زندگیوں میں نمودار ہوگیا تھا وہ ان کی نظروں کے سامنے برپا ہوا تھا ‘ اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اسلامی نظریہ حیات کے بغیر ان کی زندگی میں اس قدر عظیم انقلاب برپانہ ہوسکتا تھا ‘ جس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی ۔ وہ یہ جانتے تھے کہ یہ اسلام اور صرف اسلام تھا جس نے انہیں قبائلی طور طریقوں سے نکالا ‘ قبائلی ترجیحات ان کے ذہن سے نکال دیں ‘ قبائلی انتقام کے دلدل سے انہیں نکالا ‘ صرف اس لئے نہیں کہ بس وہ ایک عظیم قوم بن جائیں بلکہ وہ اچانک بغیر کسی ابتدائی تیاریوں کے ‘ بغیر کسی طویل زمانی منصوبے کے اچانک ‘ ایسی قوم کی شکل اختیار کرلیں جو انسانیت کی قیادت کررہی ہو ‘ وہ انسانیت کے لئے نقشہ حیات تیار کررہی ہو ‘ اس کے لئے زندگی کا منہاج تیار کررہی ہو ‘ اس کی اجتماعی نظم بندی کررہی ہو ‘ ایسی صورت میں کہ اس کی کوئی سابقہ مثال ان کے سامنے نہ ہو اور پوری انسانی تاریخ میں بھی جس کی کوئی مثال نہ ہو۔ وہ علی وجہ البصیرت اس حقیقت کا ادراک رکھتے تھے کہ اسلام اور صرف اسلام نے انہیں قومی تشخص بخشا ہے ۔ انہیں ایک سیاسی وجود بخشا ہے اور ایک بین الاقوامی حیثیت دی ہے ۔ اور سب سے پہلے اور سب سے اہم یہ کہ انہیں ایک انسانی حیثیت عطا کی ہے ‘ جس نے ان کی انسانیت ‘ ان کی آدمیت اور اکرام انسانیت کو بلند کیا بلکہ ان کے پورے نظام حیات کو شرف انسانیت کی اساس پر منظم کیا ۔ اور یہ تکریم ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے بطور ہدیہ اور بطور احسان عطا ہوئی ۔ اور اس کے بعد انہوں نے اس تکریم انسانیت کی بارش پوری انسانیت پر کردی ۔ انہوں نے پوری انسانیت کو سکھایا کہ انسان کا اکرام کس طرح کیا جاتا ہے ؟ کس طرح اسے اللہ کی تکریم کے ساتھ اشرف المخلوقات قراردیا جاتا ہے ۔ اور انسان کو یہ شرف عطا کرنے میں ان کے سامنے نہ جزیرۃ العرب میں کوئی مثال تھی اور نہ ہی دنیا کے کسی دوسرے خطے میں کوئی مثال تھی ۔ اس سے پہلے اصول شوریٰ پر ہم جو بحث کر آئے ہیں ‘ وہ اس نظام اور شرافت انسانیت کے پہلوؤں میں سے ایک پہلو تھا ‘ جس کے اندر وہ محسوس کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ ان پر غیر معمولی انعام تھا۔ وہ اس بات کا اچھی طرح ادراک کئے ہوئے تھے کہ یہ اسلام اور صرف اسلام ہے جس نے انہیں ایک پیغام عطا کیا اور اب وہ اس پیغام کو تمام دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں ‘ وہ انسانیت کو ایک نظریہ حیات دے رہے ہیں ۔ وہ انسانی زندگی کے لئے انہیں ایک راہ دکھا رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ انسانی برادری کے اس وسیع کھیت میں اگر کوئی قوم زندہ رہ سکتی ہے تو وہ وہی قوم ہوگی جس کے پاس کوئی پیغام ہو ‘ جس کے پاس زندگی گزارنے کا کوئی طریقہ حیات ہو اور وہ اس کے ذریعہ انسانیت کو آگے بڑھارہی ہو۔ یہ اسلام تھا ‘ اس کا تصور کائنات تھا ‘ زندگی کے بارے میں اس کی آراء تھیں ‘ معاشرے کے لئے اس کا اجتماعی اور قانونی نظام تھا ‘ حیات انسانی کے لئے اس کی مخصوص تنظیم تھی اور اس کا مثالی مثبت اور واقعیت پسند نظام زندگی تھا جس کے زیر سایہ انسان کو خوشحالی نصیب ہوئی ۔ اسلام اپنی ان خصوصیات کے ساتھ ایک شخصی راہداری تھی جس کے ذریعہ وہ آگے بڑھے اور انہیں انسانیت نے پہچانا ‘ ان کا احترام کیا اور انہیں انسانیت کی قیادت سپرد کی ۔ آج ہو یا کل ان کے پاس یہی راہداری ہے ۔ اس کے سوا اقوام عالم میں ان کی کوئی اور شناخت ہی نہیں ہے ۔ ان کے لئے اب صرف یہی راستہ ہے انسانیت انہیں پہچانے اور ان کی عزت کرے یا پھر وہ اس پیغام کو چھوڑدیں اور دوبارہ مہمل زندگی بسر کریں۔ جس طرح کہ وہ اسلام سے پہلے تھے ‘ کوئی انہیں جانتا ہی نہ تھا اور نہ انہیں کوئی مانتا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر وہ انسانیت کو اسلامی نظام زندگی کا پیغام نہیں دینا چاہتے تو اور وہ کون ساپیغام ہے جو دنیا کو دینا چاہتے ہیں ۔ کیا وہ دنیا کو فنون ‘ آداب اور سائنس میں کچھ دینا چاہتے ہیں ؟ ان میدانوں میں تو دنیا ان سے کہیں آگے نکل گئی ہے ۔ ان فروعی علوم وثقافتوں کے میدان کے اندر انسانیت پہلے سے مالامال ہوگئی ہے ۔ نہ اسے کسی مزید چیز کی ضرورت ہے اور نہ اسے انتظار ہے کہ اس میدان میں عرب اسے کچھ دیں گے۔ کیا عرب دنیا کو صنعتی میدان میں کچھ اعجوبہ دینا چاہتے ہیں ؟ حالانکہ اقوام عالم کے ہاں صنعت نے اس قدر ترقی کرلی ہے کہ اس کے مقابلے میں بڑے بڑے گردن فراز جھک گئے ہیں ‘ انہوں نے صنعتی مصنوعات کے بازار بھر دیئے ہیں اور ہمارے ہاں جو صنعتی پیداوار ہوتی ہے اسے زیرسایہ (OverShade) کردیا ہے ۔ عرب کے مقابلے میں بےزمار قومیں آگے ہیں ‘ اس میدان میں ۔ اور اس میدان میں ان کے ہاتھ میں زمام قیادت پہلے سے موجود ہے ۔ کیا عرب دنیا کو اجتماعی مذہب کا کوئی فلسفہ دینا چاہتے ہیں ؟ یا وہ دنیا کو کوئی ایسا اقتصادی اور تنظیمی نظام دینا چاہتے ہیں جو انہوں نے ایجاد کیا ہے ۔ جو ان کی اپنی فکری کاوش کا نتیجہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ہماری دنیا ان دنیاوی فلسفوں ‘ مذاہب اور نظریات سے بھری پڑی ہے اور یہی دنیاوی نظریات ہیں جن کے تحت انسانیت نہایت ہی بدحالی کا وقت گزار رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ عرب اس انسانیت اور اقوام عالم کے سامنے کیا تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں ‘ جس کی وجہ سے برادری اقوام میں ان کا تعارف ہو ‘ انہیں امتیاز حاصل ہو اور اس میدان میں وہ برتر تصور ہوں ؟ میں کہتا ہوں کہ ان کے پاس پیغام اسلام کے سوا کوئی اور پیغام نہیں ہے ۔ یہی واحد نظام زندگی ہے جس کا پیغام وہ اس دنیا کو دے سکتے ہیں ۔ ان کے پاس اللہ کے اس احسان کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے جس کا احسان انہوں نے مسلمانوں پر کیا ۔ اور اس کے ساتھ انہیں اعزاز بخشا ‘ اور ایک دن اسی پیغام کے ذریعہ انہوں نے پوری انسانیت کو نجات دی تھی ‘ اور آج انسانیت سب سے زیادہ جس میدان میں مفلس ہے ‘ سب سے زیادہ جس کی طرف محتاج ہے وہ یہی پیغام ہے ۔ وہ جہنم کے گڑھے میں گرنے والی ہے ۔ وہ حیرت ‘ قلق اور بےاطمینانی کا شکار ہے ۔ یہ وہ واحد پیغام تھا جسے انہوں نے کبھی انسانیت کو دیا تھا اور اس کے سامنے پوری انسانیت نے سر جھکالیا تھا۔ آج یہی پیغام ہے جو عرب انسانیت کو دے سکتے ہیں اور اس میں انسانیت کی نجات مضمر ہے اور اسی میں اس کی کامیابی کا راز ہے ۔ ہر قوم کے پاس کوئی نہ کوئی پیغام ہوتا ہے ۔ تمام بڑی اقوام میں سے ہر قوم کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا ہے ‘ سب سے بڑی قوم وہ ہوتی ہے جس کا پیغام بڑا ہوتا ہے ‘ بڑی قوم وہ ہوتی ہے جو سب سے بڑانظام دے ۔ اور پھر دنیا میں اس نظام زندگی کے ساتھ منفرد تصور ہوتی ہے اور وہ نظام اس کی شناخت ہوتا ہے۔ عربوں کے پاس یہ پیغام موجود ہے ۔ یہ ہے بھی ان کا اصلی پیغام ۔ دوسری اقوام تو پیغام اسلام میں ان کی شریک حیات ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا شیطان ہے جو انہیں اس عظیم اور قیمتی سرمائے سے محروم کررہا ہے ۔ کون ہے وہ شیطان اسے پہچانو۔ اللہ کا عظیم اور عظیم احسان تھا ‘ اس امت پر ‘ اس پیغام کی وجہ سے ‘ اس رسول کی وجہ سے اور اس کی رسالت کی وجہ سے ہے ۔ اس عظیم احسان سے انہیں صرف شیطان ہی پھیر کر گمراہ کرسکتا ہے حالانکہ ان کو اللہ نے حکم دیا ہے کہ اس شیطان کو دھتکاریں اور اس پر سنگ باری کریں۔ اس کے بعد معرکہ احد کے واقعات کے بیان میں بات ایک قدم اور آگے بڑھتی ہے ۔ اور اس پر مزید تبصرہ ہوتا ہے اور نتائج اخذ کئے جاتے ہیں ۔ ان کے تعجب کو پیش کیا جاتا ہے جس کا اظہار وہ ان نتائج کو دیکھ کر کرتے تھے ‘ جو احد میں برآمد ہوئے ۔ وہ ان واقعات کو انہونی تصور کرتے تھے ۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ وہ مسلمان ہیں پھر بھی انہیں شکست ہوئی ۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ اسلام کے بارے میں ان کا تصور ابھی بہت ہی ابتدائی ہے ۔ ابھی وہ تجربات سے گزر کر فکری اعتبار سے پختہ نہ ہوئے تھے ۔ وہ عملی تربیت سے ابھی نہ گزرے تھے تاکہ وہ اصل صورت حال کے ساتھ اور حقیقی واقعات کے ساتھ وہ برتاؤ کریں اور اس دنیا کے تکوینی قوانین فطرت کا ادراک کریں جن کے مطابق یہاں ہر شخص نے اپنی عملی زندگی بسر کرنی ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انہیں کھلے میدانوں میں کھڑاکرکے انہیں صاف صاف بتادیا کہ انہیں جو کچھ درپیش ہوا ‘ وہ خودان کے اپنے افعال کا لازمی نتیجہ تھا ۔ انہوں جو تصرفات اور اقدامات کئے ان کے یہی فطری اور سنت الٰہی کے مطابق نتائج تھے ۔ لیکن قرآن کریم انہیں صرف اس نکتہ پر ہی نہیں چھوڑ دیتا ‘ اس لئے کہ یہ نکتہ اگرچہ حقیقت ہے لیکن یہ انتہائی حقیقت نہیں ہے بلکہ ان اسباب اور اسباب کے قدرتی نتائج کی پشت پر تقدیر الٰہی بھی کام کرتی ہے ۔ قرآن انہیں اس کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے نیز اس سنن الٰہیہ اور قوانین فطریہ کی پشت مشیئت الٰہیہ بھی کام کرتی ہے ۔ یوں قرآن انہیں ان واقعات کی حکمت بتاتا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ نے ان واقعات کی اس تدبیر کی پشت پر ان کے لئے بھلائی کا ارادہ کیا تھا۔ اس میں ان کے لئے خیر تھی ۔ اس دعوت کے لئے بہتری تھی جس کی خاطر وہ جدوجہد کررہے ہیں ۔ مقصودیہ تھا کہ وہ اس تجربے سے انہیں زمانہ مابعد کے لئے تیار کرے ۔ ان کے دلوں کو صاف کردے۔ ان کی صفوں کی تطہیر کردے ۔ ان منافقین کو علیحدہ کردیاجائے ‘ جو ان واقعات کے نتیجے میں ننگے ہوگئے ۔ آخر کار تمام امور بہرحال اللہ کی مشیئت کے مطابق ہی سر انجام پاتے ہیں ۔ اس کی تقدیر اور تدبیر کے مطابق ہی ظہور پاتے ہیں ۔ یوں اس تبصرے سے ان کا تصور اور ان کا شعور مکمل ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کریم کے نہایت ہی گہرے عمیق اور لطیف بیان واقعات پر ذرا نظر ڈالیں :

آل عمران 3:165

اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ لکھ دیا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا ‘ جو اس کا جھنڈا اٹھانے والے ہوں اور جو اس پر پختہ ایمان اور عقیدہ رکھنے والے ہوں ۔ لیکن اس نے اس وعدے کو ایک شرط سے مشروط کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی نصرت کے مستحق وہ اس وقت ہوں گے جب ان کے دلوں میں حقیقت ایمان اچھی طرح جاگزیں اور مستحکم ہوجائے ۔ اور وہ اپنی تنظیم اور طرزعمل میں ایمان کے تقاضے پورے کررہے ہوں ۔ اور ان کی وسعت اور طاقت کے اندر جو کچھ ہو وہ انہوں نے تیار کیا ہو۔ ان کی طاقت میں جس قدر ممکن ہو وہ جدوجہد کررہے ہوں ۔ یہ ہے سنت الٰہیہ اور سنت الٰہیہ کی کسی کے ساتھ خاص دوستی نہیں ہوتی نہ وہ کسی کی رورعایت کرتی ہے ۔ جب اللہ والے ان امور میں سے کسی میں بھی قصور اور کمی رکھتے ہوں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی تقصیرات کے نتائج بھی قبول کریں ۔ اس لئے کہ صرف مومن ہونے سے ان کے لئے ضابطہ سنن الٰہیہ معطل نہ کردیا جائے گا۔ نہ ناموس اعلیٰ باطل ہوجائے گا ۔ وہ تو مسلم ہی تب ہوں گے جب وہ اپنی زندگی کے اندر سنن الٰہیہ کو جاری وساری کردیں ۔ اور اپنی فطرت کو ناموس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ کردیں ۔ لیکن ان کا نفس مسلمان ہونا بھی بیکار نہیں جاتا۔ نہ وہ بےاثر ہوتا ہے۔ ان کا اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردینا ‘ اس کے جھنڈے اٹھانا ‘ اس کی اطاعت کا عزم کرلینا اور اس کے نظام حیات کا التزام کرنا وغیرہ ان امور کا یہ اثر ضرور ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان تقصیرات اور ان غلطیوں میں سے خیر اور برکت کا پہلو نکال دے ۔ اگرچہ ان غلطیوں کی وجہ سے وہ چوٹیں کھائیں ‘ قربانیاں دیں اور وقتی طور پر شکست کھالیں ۔ وہ ان غلطیوں سے ان کے تجربے میں اضافہ کرے گا ۔ اس طرح ان کا عقیدہ صاف ہوجائے گا ۔ ان کے دل صاف ہوں گے ۔ ان کی صفوں کی تطہیر ہوگی اور اس طرح آخر کار وہ اس نصرت کے حق دار ہوجائیں گے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے ۔ آخری انجام خیر و برکت پر ہوگا ‘ مسلمان اللہ کی بارگاہ سے ‘ اس کی رحمت و عنایت سے دھتکارے نہیں جاتے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید زاد راہ سے نوازتا ہے۔ اگرچہ اثنائے راہ میں انہیں تکالیف پہنچیں ‘ مشکلات کا سامنا ہو اور رنج والم سے دوچار ہوں۔ اس وضاحت کے ساتھ اور فیصلہ کن انداز میں اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ سے خطاب فرماتے ہیں ۔ ان کے اس سوالیہ انداز میں اور جو واقعات پیش آئے ‘ ان پر ان کی حیرانی اور پریشانی کا جواب دیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان واقعات کا قریبی سبب کیا تھا ؟ نیز یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس میں تقدیر الٰہی کے اندر دوررس حکمت کیا پوشیدہ تھی ؟ اور منافقین کو بتایا جاتا ہے کہ موت کا ایک حق راستہ ہے ۔ ڈر سے موت ٹلتی نہیں اور نہ ہی جہاد میں شرکت نہ کرنے سے موت موخر ہوجاتی ہے ۔ ” اور تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت آپڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی ؟ حالانکہ اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں ان پر پڑچکی ہے ۔ اے نبی ان سے کہو ‘ یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے ۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “ جنگ احد میں مسلمانوں پر جو مصائب آئے وہ سب کے سامنے ہیں ۔ ستر آدمی شہید ہوئے اور زخمی اور مزید مصائب ان کے علاوہ تھے ۔ بہت ہی کڑوادن تھا یہ ان کے لئے ۔ ان پر یہ مصائب نہایت ہی شاق تھے اور ناقابل برداشت تھے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ وہ مسلمان ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کررہے ہیں ‘ اور ان کے مخالفین اللہ کے دشمن ہیں اور مشرک ہیں اور مسلمان جو اس مصیبت میں مبتلا ہوئے ‘ اس سے پہلے وہ ان دشمنان اسلام کو دوگنا نقصان پہنچاچکے تھے ۔ یہ اشارہ ہے بدر کی طرف وہاں انہوں نے کفار کو نقصان پہنچایا تھا جبکہ وہ اللہ کے حکم پر درست کھڑے تھے ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے احکام پر عمل پیرا تھے ۔ اس سے قبل کہ وہ مال غنیمت کو دیکھ کر بےراہ ہوجائیں ۔ اور اس سے قبل کہ ان کے دلوں میں ایسے خیالات پیدا ہوں جو ایمان کے ساتھ لگا نہیں کھاتے ۔ اللہ انہیں یہ سب باتیں یاد دلاتے ہیں اور ان کے اس حیرانی سے بھرے ہوئے سوال کا جواب یوں دیتے ہیں کہ اس کا براہ راست سبب تو خود ان کے افعال تھے ۔ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ……………” اے نبی ان سے کہو یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے ۔ “ یہ خود تمہارے نفوس تھے ‘ جن میں خلل آگیا ‘ تم متفرق ہوگئے اور باہم تنازعہ کرنے لگے اور یہ تم ہی تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی شرائط پر عمل نہ کیا ۔ یہ تمہارے ہی نفوس تھے جن میں طمع اور لالچ داخل ہوگئی ‘ اور یہ تم ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی اور آپ کے جنگی منصوبے کو سبوتاژ کیا ۔ پس یہ نتائج جن سے تم دوچار ہوئے اور جنہیں تم انہونی قرار دیتے ہو ‘ اور تم کہتے ہو کہ یہ حالات کیسے پیش آگئے ؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ تمہاری اپنی وجہ سے ہوا۔ تم پر تو اللہ تعالیٰ کی سنت الٰہیہ کا انطباق ہوا ہے ۔ جب تم نے اپنے آپ کو اس سنت کے سامنے پیش کیا ۔ انسان جب اپنے آپ کو سنت الٰہیہ کے سامنے پیش کرتا ہے تو وہ سنت اس پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے ۔ یہ شخص مسلم ہو یا مشرک ہو ‘ اس سلسلے میں کسی رورعایت نہ ہوگی ۔ لہٰذا کسی کے اسلام کا کمال یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی سنت کے مطابق ڈھال لے اور وہ یہ کام پہلے ہی کرلے۔ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ……………” اللہ ہر چز پر قادر ہے ۔ “ اور اس کی قدرت کا ہی یہ تقاضا ہے کہ وہ اپنی سنت کو نافذ فرماتا ہے ۔ وہ اس کائنات میں اپنے ناموس کی کارفرمائی قائم کراتا ہے ۔ اور تمام کام اس کی قدرت اور ارادے کے مطابق چلتے ہیں ۔ اور یہ بھی اس کی قدرت کا تقاضا ہے کہ اس کی سنت معطل نہ ہو ‘ جس پر اس نے اس کائنات اس زندگی اور زندگی کے ان واقعات کو چلایا ہے ۔

آل عمران 3:166

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات پیش نظر رہے کہ تمام واقعات کی پشت پر اللہ کی تقدیر ہوتی ہے اور اس میں کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ‘ جس کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ ہر معاملہ جو پیش آتا اور ہر حادثہ جو واقعہ ہوتا ہے اس کی پشت پر اللہ کی تقدیر ہوتی ہے ۔ ہر حرکت اور ہر سکوں کے پیچھے دست تقدیر ہوتا ہے اور اس کائنات میں جو وقوعہ بھی پیش آتا ہوتا ہے اس کی پشت پر تقدیر ہوتی ہے ۔ وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ……………” جو نقصان لڑائی کے دن جب دو گروہ متقابل ہوئے ‘ تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا ۔ “ یہ نقصان محض اتفاق سے یا سوئے اتفاق سے ازخود پیش نہیں آیا۔ نہ وہ خوامخواہ بطور عبث پیش آیا۔ اس لئے کہ اس کائنات کے اندر ہونے والی ہر حرکت منصوبے اور دست قدرت کے مطابق ہوتی ہے اور مجموعی لحاظ سے ان واقعات کے پیچھے حکمت پوشیدہ ہوتی ہے اور مجموعی لحاظ سے یہ واقعات اس پوری کائنات کی اسکیم کے مطابق ہوتے ہیں ۔ اور اس کے باوجود وہ اس کائنات کے اندر جاری سنن الٰہیہ اور ان اٹل قوانین کے مطابق ہوتے ہیں جن کا کبھی بھی نہ تخلف ہوتا ‘ نہ ان میں کوئی تعطل ہوتا ہے اور نہ ہی وہ قوانین کسی کے ساتھ رورعایت کرتے ہیں۔ تقدیر کے مسئلے میں اسلامی تصور حیات اس قدر کامل ‘ شامل اور متوازن ہے ‘ جس کا مقابلہ آغاز انسانیت سے لے کر آج تک کوئی تصور حیات نہیں کرسکتا۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق اس کائنات کا ایک اٹل قانون ہے اور بعض ناقابل تعطل سنن الٰہیہ ہیں ۔ ان اٹل قوانین فطرت اور ناقابل انحراف سنن الٰہیہ کے پیچھے اللہ کا ارادہ کام کرتا ہے اور اللہ کی آزاد مشیئت ہے ‘ جو کسی قید میں مقید نہیں ہے ۔ اور ان سب یعنی سنن الٰہیہ اور مشیئت الٰہیہ کی پشت پر پھر اللہ کی حکمت مدبرہ ہے ۔ اور یہ تمام پھر اللہ کی حکمت مدبرہ کے موافق چلتے ہیں ۔ ناموس کی حکمرانی ہے اور سنن الٰہیہ میں ہر چیز جاری ہیں ، انسان بھی ان ان کا تابع و محکوم ہے ۔ انسان ان سنن الٰہیہ کے دائرے میں اپنے فعل ارادی کے ساتھ اپنے دائرہ اختیار کے اندر کام کرتا ہے ۔ اور وہ اپنی سوچ اور اپنی تدابیر کے مطابق جو کام کرتا ہے ‘ یہ سنن ان افعال پر بھی منطبق ہوتی ہیں اور اس پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ اللہ کی تقدیر اور مشیئت کے مطابق ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس میں اللہ کی کوئی حکمت اور تدبیر بھی کام کرتی ہے ۔ اس نظام میں انسان کا ارادہ ‘ اس کی حرکت ‘ اس کی سوچ ‘ اس کی قوت عمل یہ سب کچھ سنن الٰہیہ کا ایک حصہ ہیں ۔ وہ ناموس کائنات کا حصہ ہیں ۔ ان انسانی افعال کے ساتھ بھی اللہ اپنا کام کرتے ہیں ‘ ان کو بھی وہ موثر بناتے ہیں اور یہ سب کچھ پھر بھی اس کے دائرہ قدرت کے اندرہوتا ہے ۔ ان میں سے کوئی چیز نوامیس فطرت اور سنن الٰہیہ کے دائرے سے خارج نہیں ہوتی ۔ اور نہ انسان کی کوئی حرکت اور سوچ ان سنن کے ساتھ متضاد ہوتی ہے یا ان کے بالمقابل ہوتی ہے۔ بعض لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ وہ ترازو کے ایک پلڑے میں اللہ کے ارادے کے بالمقابل ہو۔ یہ صورت حال بالکل ممکن نہیں ہے ۔ اسلامی تصورحیات ایسا نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان اس کا شریک بالمقابل نہیں ہے۔ نہ انسان اللہ کا دشمن ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو اس کا وجود ‘ اس کی فکر ‘ اس کا ارادہ بخشا تھا ‘ اس کی تقدیر ‘ اس کی تدبیر اور زمین کے اندر اس کی فاعلیت اسے عطاکی تھی تو اس نے اس وقت ان انسانی قوتوں اور سنن الٰہیہ کے درمیان کوئی تضاد نہ رکھا تھا اور نہ ان کے درمیان کوئی مقابلہ رکھا تھا۔ نہ یہ چیزیں مشیئت الٰہیہ کے خلاف تھیں ۔ نہ اللہ کے نزدیک یہ سب امور اللہ کی گہری حکمت سے باہر تھے ۔ جو اللہ کی تقدیر کی پشت پر کارفرما ہے۔ اللہ کی سنت اور اللہ کی تقدیر کے اندر یہ بات رکھی گئی تھی کہ انسان اپنی تدبیر سے کام لے ۔ وہ متحرک ہو اور اس کائنات میں مؤثر ہو ۔ وہ سنن الٰہیہ کے بالمقابل کھڑا ہو اور وہ اس پر منطبق ہوں اور اللہ کی سنن کے تحت اس دنیا میں اسے لذت والم ‘ آرام وبے آرامی ‘ سعادت و شقاوت سے دوچار ہونا پڑے اور پھر اس کی ان تمام سرگرمیوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر کام کرے جس کے احاطے میں یہ پوری کائنات ہے ‘ نہایت ہی توازن اور تناسق کے ساتھ ۔ یہ واقعات جو احد میں وقوع پذیر ہوئے ‘ وہ اسلامی تصور حیات کی مثال تھے ‘ یعنی تقدیر کے حوالے سے جو ہم بات کر آئے ہیں ۔ ان واقعات کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو سکھایا کہ فتح وشکست کے بارے میں اس کی سنت کیا ہے ۔ انہوں نے اللہ کی سنت اور اس شرط کی خلاف ورزی کی جو اس نے فتح کے لئے رکھی ہوئی تھی تو اس نے انہیں ان آلام اور ان مصائب سے دوچار کیا جو احد میں انہیں پیش آئے۔ لیکن بات یہاں آکر ختم نہیں ہوگئی ۔ اس مخالفت اور رنج والم کے پیچھے یہ تقدیر کام کررہی تھی کہ ان کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اسلامی صفوں میں منافقین کو چھانٹ کر علیحدہ کردے۔ اہل ایمان کے دلوں کو صاف کردے اور ان کے تصورات کے اندر جو ملاوٹ اور میل تھی اسے دور کردے یا ان کے کردار میں جو ضعف اور کمزوری تھی وہ دورہوجائے۔ بظاہر وہ رنج والم سے دوچار ہوئے ‘ لیکن اپنی جگہ اہل ایمان کے حق میں مستقبل کے اعتبار سے یہ خیر تھا ۔ اگرچہ یہ رنج والم بھی سنت الٰہی کے عین مطابق تھا ‘ اللہ کے سنن میں سے ایک سنت یہ بھی ہے جو مسلمان اسلامی نظام حیات کو قبول کرکے اس کے آگے سرتسلیم خم کریں گے اور عموماً اسلامی نظام کی اطاعت کریں گے ‘ اللہ ان کی حمایت ورعایت کرے گا اور ان کی غلطیاں بھی ‘ اپنی انتہاء پر جاکر وسیلہ ظفر اور ذریعہ خیر ہوں گی ۔ اگرچہ وہ رنج والم سے دوچار ہوں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ رنج والم اور مصائب وشدائد کے ذریعہ تربیت ہوتی ہے ‘ اسلامی صفوں سے کھوٹ دور ہوتا ہے اور آئندہ مرحلے کی خوب تیاری ہوتی ہے ۔ اس مضبوط اور کھلے موقف پر مسلمانوں کے قدم جم جائیں گے ‘ ان کے دل مطمئن ہوں گے ‘ ان میں کوئی تزلزل نہ ہوگا ‘ کوئی حیرانی نہ ہوگی اور کوئی پریشانی نہ ہوگی ۔ اس طرح وہ اللہ کی تقدیر کو انگیز کریں گے ‘ اس کائنات میں سنن الٰہیہ کے مطابق اپنے معاملات سر انجام دیں گے ۔ انہیں یقین ہوگا کہ اللہ ان کی ذات اور ان کے ماحول میں فعال لمایرید ہے اور یہ کہ وہ تقدیر الٰہی کے آلات اور ذریعہ کا رہیں ۔ اللہ جس طرح چاہے اپنے آلات کار کو استعمال کرسکتا ہے ‘ یہ کہ ان کے درست فیصلے ‘ ان کے صائب فیصلے اور درست فیصلوں کے اثرات اور غلط فیصلوں کے نتائج سب کے سب اللہ کی تقدیر کے پردے سے ظاہر ہوتے ہیں ۔ ان میں اس کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوتی ہے اور جب تک وہ اس راہ انقلاب پر گامزن رہیں گے ‘ ان کے لئے ہر مرحلہ خیر ہی خیر ہوگا۔

آل عمران 3:167

اس آیت میں عبداللہ ابن ابی ابن السلول اور اس کے ساتھیوں کے موقف کی طرف اشارہ ہے ۔ انہیں جو خطاب دیا گیا ہے وہ الَّذِينَ نَافَقُوا ………(وہ لوگ جنہوں نے نفاق کیا ) کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر ان کا پردہ فاش کردیا۔ اور اسلامی صفوں سے انہیں جدا کردیا ۔ اور ان کے اس دن کے موقف پر یہ تبصرہ کیا هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلإيمَانِ …………… (اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے ) یہ کہ وہ اپنے اس احتجاج میں سچے نہ تھے کہ آج مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ نہیں ہورہی ہے ۔ اس لئے وہ واپس ہورہے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کی واپسی کا فی الحقیقت یہ سبب نہ تھا۔ بلکہ وہ ” جو کچھ اپنے منہ سے کہہ رہے تھے وہ بات ان کے دل میں نہ تھی ۔ “ ان کے دلوں میں تو نفاق کی بیماری تھی ۔ اور یہ نفاق انہیں نظریہ ٔ حیات کے تابع نہ کرتا تھا بلکہ وہ ان کی شخصیات اور ان کی ذاتی حیثیات کو نظریہ حیات سے زیادہ اہمیت دیتا تھا۔ ان لوگوں کے رئیس عبداللہ ابن ابی ابن السلول نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کی دن اس کی رائے کو قبول نہیں کیا ۔ اور اس واقعہ سے پہلے کے اسباب یہ تھے کہ جب رسول اکرم ﷺ اپنی رسالت کے پیغام کو لے کر مدینہ طیبہ پہنچے تو اس وقت عبداللہ ابن ابی کی سربراہی میں ایک ریاست کی تشکیل کی تیاریاں ہورہی تھیں ۔ اس کے لئے تاج بن رہا تھا ۔ آپ ﷺ کی آمد کے نتیجے میں ریاست کا مقام حاملین اسلام نے حاصل کرلیا ۔ یہ بات ان کے دل میں تیر کی طرح پیوست تھی ۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ احد کے دن واپس ہوگئے تھے ۔ چونکہ دشمن مدینہ کے دروازے پر تھے ‘ اس لئے یہ لوگ واپس ہوگئے اور مومن صادق کی یہ بات انہوں نے رد کردی ۔ یہ مومن صادق عبداللہ بن عمرو ابن حزام تھے ۔ وہ انہیں پکار رہے تھے تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا……………”(آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا دفاع ہی کرو) اس کے جواب ان کا احتجاج و استدلال یہ تھا کہ ان کے خیال میں کوئی جنگ نہیں ہے ۔ اگر کوئی بات ہوتی وہ ضرور جاتے ۔ اور ان کے موقف کی تردید یوں کی گئی وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ……………” اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے ۔ “ یوں وہ اپنے تخلف اور پلٹنے کو حکمت اور مفید قرار دیتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو نقصان اور ضرر رساں قرار دیتے ہیں ۔ اور اس سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ اسلام کے صاف اور ستھرے تصور حیات کو خراب کرتے ہیں ‘ کیونکہ اسلامی تصور حیات کے مطابق ہر شخص کی موت کا وقت مقرر ہوتا ہے ۔ موت وحیات کی حقیقت یہ ہے کہ ان کا تعلق تقدیر الٰہی کے ساتھ ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ یہاں ان کے ان غلط تصورات کی تردید ضروری سمجھتے ہیں ۔ فوراً ان کے اس تصور کی واضح تردید کردی جاتی ہے ‘ جس سے ایک طرف ان کی تیار کی ہوئی سازش کے تار وپور بکھر جاتے ہیں اور دوسری جانب سے اسلامی تصور حیات ہر قسم کے اجمال اور دھندلے پن سے پاک وصاف ہوجاتا ہے ۔ فرماتے ہیں قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ……………” ان سے کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے تو اسے ٹال کر دکھادینا ۔ “ موت تو جس طرح مجاہد کو آتی ہے اسی طرح جو لوگ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں ‘ انہیں بھی آتی ہے ‘ بہادر کو بھی آتی ہے اور بزدل کو بھی آتی ہے۔ نہ کوئی محافظ اسے ٹال سکتا ہے اور نہ کوئی احتیاطی تدبیر ۔ نہ بزدلی اور جہاد سے غیر حاضری سے وہ ٹل سکتی ہے۔ اور یہ صورت حال ایسی ہے ‘ جو خود اپنی دلیل آپ ہے اور اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہی حقیقی صورت حال ہے جس کو قرآن مجید خود ان کے خلاف پیش کرتا ہے ۔ یوں ان کی مکروہ سازش کو رد کردیا جاتا ہے ۔ سچائی کو اپنی جگہ رکھ کر مستحکم کردیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے دل مطمئن اور مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ انہیں اطمینان ‘ آرام اور ذوق یقین سے سیراب کردیا جاتا ہے۔ واقعات احد کے بیان کے اس انداز کی طرف ذہن انسانی ملتفت ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس بیان میں اس واقعہ یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کی روگردانی کو بہت ہی موخر کرکے لایا گیا ہے ۔ حالانکہ یہ واقعہ اس معرکے کے ابتدائی دور میں ہوا تھا اور معرکے کے آغاز ہی سے وہ واپس ہوگیا تھا۔ اسے اول میں بیان کرنے کے بجائے آخر میں لایا گیا یہ کیوں ؟ یہ تاخیر اس لئے کی گئی کہ اس میں بھی قرآن کریم کے انداز تربیت میں سے ایک خاص انداز کا اظہار کیا گیا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ اس حادثہ پر تبصرے سے قبل وہ تمام اساسی تصورات بیان کردئیے جو اسلامی نظام زندگی کے بنیادی قواعد میں شمار ہوتے ہیں اور جب مسلمانوں کے ذہن میں وہ تمام احساسات جاگزیں ہوگئے ‘ اور مسلمانوں کی اقدار کے لئے حقیقی پیمانے وضع ہوگئے تو آخر میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کردیا گیا جنہوں نے نفاق اختیار کیا تھا۔ ان کے کردار اور ان کی سرگرمیوں کو بےنقاب کیا گیا۔ ایسے موقعہ پر ان لوگوں کے خلاف تنقید آئی جب مسلمانوں کے ذہن اس کے لئے تیار تھے اور اس قابل ہوگئے تھے کہ معلوم کرسکیں کہ ان کے افکار و تصورات کے اندر کیا کیا انحراف ہے اور کیا کیا کمزوریاں ہیں ؟ اور یہ کہ ان کے پیمانے کس قدر غلط ہیں ؟ اور یہ کہ ایک مومن کے دل و دماغ کے اندر افکار اور تصورات اور حسن وقبح کے پیمانے ایسے ہونے چاہئیں اور کسی فرد اور قوم کے اعمال کا جائزہ ان پیمانوں کے مطابق ہونا چاہئے اور اس کے بعد جب مومن پر اعمال اور افراد کو پیش کیا جاتا ہے تو وہ ایک روشن مزاج اور ایمانی احساس اور ایمانی سرمایہ حکمت کی روشنی میں ان پر فوراً حکم لگاتا ہے کہ کیا کمتر ہے اور کیا بہتر ہے ۔ کون صالح ہے اور کون برا ہے۔ یہ قرآنی انداز بیان کا ایک خاص رنگ ہے ۔ عبداللہ ابن ابی اس وقت تک اپنی قوم کا سرکردہ لیڈر تھا جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے ۔ وہ اس لئے سوج گیا کہ رسول اکرم ﷺ نے اس کی رائے کو قبول نہ کیا تھا۔ اس لئے کہ نبی ﷺ نے اصول مشورہ کو رائج کرنا تھا۔ پھر جو بات طے ہوجائے اس کو نافذ کرنا تھا ‘ چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو کیونکہ دوسری رائے کے سلسلے میں لوگوں کو رجحان ظاہرہوگیا تھا ۔ اس شخص کی اس روگردانی کی وجہ سے اسلامی صفوں کے اندر بڑی افراتفری پیدا ہوگئی تھی ۔ ان کے افکار میں تزلزل پیدا ہوگیا تھا۔ پھر اس کی رائے کی اہمیت اور بھی واضح ہوگئی جب شکست ہوئی اور لوگوں کو حسرت اور افسوس ہونے لگا۔ اور دلوں میں یہ بات آئی کہ اسی کے کہنے پر عمل کرلیا ہوتا ۔ اسلامی منہاج کے لئے یہ ضروری تھا کہ اس کی رائے اور اس کے اس فعل کو قدرے نظر انداز کرکے اور غیر اہم کرکے پیش کیا جائے اور جنگ کے واقعات کا آغاز اس واقعہ سے نہ کیا جائے ۔ حالانکہ یہ حادثہ پہلے درپیش ہوا تھا۔ اس واقعہ کو اس قدر موخر کرنے اور پھر اسے بیان کرکے اس گروہ پر نفاق کا لیبل چسپاں کردینے اور پھر ان کے لئے غائب اور مجہول صیغے کا استعمال اور اس گروہ کے سرغنے کا ذکر نہ کرنے سے اور انہیں الَّذِينَ نَافَقُوا……………کہہ کر پکارنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ ان کی اہمیت کو کم کیا جائے اور یہ بات اصولاًان تمام لوگوں پر چسپاں ہو ‘ جو ایسی حرکات کرتے ہیں اور بات اس طرح اصولی رنگ اختیار کرے جس طرح آغاز کلام میں اسے اصولی رکھا گیا تھا۔

آل عمران 3:168

اہل اسلام کے دلوں کے اندر سکون پیدا کرنے ‘ ان کے دلوں اور ان کے ضمیر کو ‘ ان سنن الٰہیہ پر مطمئن کرنے کے بعد جو اس کائنات میں جاری اور ساری ہیں ‘ انہیں یہ بتانے کے بعد کہ تمام کام اللہ کی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں ‘ اور یہ سمجھانے کے بعد کہ اللہ کی تقدیر کے پیچھے اللہ کی حکمت اور تدبیر کام کررہی ہوتی ہے ۔ اور یہ بات ذہن نشین کرنے کے بعد کہ موت کے لئے وقت مقرر ہے ‘ اس کا وقت پہلے سے طے شدہ ہے اور جنگ میں شریک نہ ہونا اسے موخر نہیں کرسکتا اور جنگ میں شرکت سے موت پہلے نہیں آسکتی اور یہ سمجھانے کے بعد کوئی محافظ موت سے حفاظت نہیں دے سکتا اور کوئی تدبیر موت کو روک نہیں سکتی ‘ غرض ان تمام امور کے بعد اب سیاق کلام میں ایک دوسری حقیقت کو لیا جاتا ہے۔ یہ حقیقت اپنی ذات میں بھی عظیم ہے اور اس کے اثرات بھی نہایت ہی عظیم ہیں۔ یہ حقیقت کیا ہے ؟ یہ کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں وہ مردہ نہیں ہوتے ‘ وہ تو زندہ ہوتے ہیں ۔ وہ اپنے رب کے ہاں مہمان خصوصی ہوتے ہیں ۔ ان کی زندگی ‘ مرنے کے بعد ‘ اسلامی جماعت کی زندگی سے منقطع نہیں ہوتی ‘ وہ بعد کے واقعات سے لاتعلق نہیں ہوتے ‘ وہ ان واقعات سے خود بھی متاثر ہوتے ہیں اور واقعات میں ایک موثر فیکٹر بھی ہوتے ہیں اور زندگی عبارت کس چیز سے ہے ؟ تاثیر اور تاثر ہی تو زندگی ہے ۔ یہاں معرکہ احد کے شہداء کی زندگی اور ان واقعات اور حادثات کے درمیان رابطہ قائم کردیا جاتا ہے جو ان کی شہادت کے بعد پیش آئے ۔ اس کے بعد گروہ مومن کی بات متصلاً بیان کردی جاتی ہے ‘ جس نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی پکار پر لبیک کہا۔ درآنحالیکہ وہ زخموں سے چور چور تھے ۔ وہ نکلے ‘ انہوں نے قریش کا تعاقب کیا ‘ یہ قریش اگرچہ جاچکے تھے لیکن یہ خطرہ موجود تھا کہ وہ دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہوجائیں ۔ اس گروہ نے لوگوں کے اس ڈرامے کی کوئی پرواہ نہ کی کہ قریش پھر سے جمع ہورہے ہیں ۔ ذات باری پر توکل کی اور انہوں نے اس کارنامے کی وجہ سے اپنے ایمان کو حقیقت کا روپ دیا۔

آل عمران 3:169

مومنین کے دل و دماغ میں تقدیر اور موت کے مقررہ وقت کے بارے میں صحیح تصورات بٹھانے کے بعد اور منافقین اسلامی صفوں کے اندر جو بےچینی ‘ شکوک اور حسرتیں پیدا کرتے تھے ان کی تردید کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ مناسب سمجھا کہ اہل ایمان کے دلوں کے اندر مزید سکون اور پورا اطمینان پیدا کیا جائے ۔ اس لئے منافقین مسلسل یہ پروپیگنڈا کررہے تھے کہ اگر تم اتنے ہی باتدبیر ہو تو خود اپنی موت کو روک لینا جب وہ آئے ۔ لیکن سابقہ آیات میں پیدا کردہ ایمان وایقان اور اس مسکت جواب کے بعد اللہ نے چاہا کہ ان کے دلوں میں شہداء کے مستقبل کے بارے میں مزید اطمینان پیدا کردیاجائے ۔ وہ شہداء جو اللہ کی راہ میں قتل ہوئے (اور شہداء ہوتے ہی وہ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتل ہوں) اور ان کے پیش نظر یہی مقاصد ہوں ۔ اور ان مقاصد کے ساتھ کوئی اور مقصد شریک نہ ہو۔ تو ایسے شہداء جو فی سبیل اللہ قتل ہوئے وہ فی الحقیقت زندہ جاوید ہیں ۔ ان کو ایسے خصائص حاصل ہیں جو زندہ لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں ۔ مثلاً یہ کہ انہیں ان کے رب کے ہاں کھانے دیے جاتے ہیں اور کھانے کے علاوہ ان پر فضل خداوندی ہے اور اس فضل پر وہ بہت خوش ہیں ‘ اور ان کو پھر اہل ایمان کے معاملات کی رپورٹ دی جاتی ہے جن معاملات کے لئے انہوں نے اپنی جان دی ۔ وہ پورے واقعات ان کو سنائے جاتے ہیں۔ ان کے بعد بھائیوں کے ساتھ جو واقعات پیش آتے ہیں وہ اس کے سامنے پیش ہوتے ہیں ۔ اور یہ سب خواص وہ ہیں جو زندہ لوگوں کو حاصل ہوتے ہیں مثلاً سازوسامان ‘ خوشخبری ‘ اہتمام اور تاثر اور تاثیر ۔ یہ سب زندہ لوگوں کی صفات ہیں ۔ لہٰذا ان کی جدائی وفات حسرت آیات نہیں ہے ۔ وہ زندہ ہیں ‘ ان کا رابطہ زندوں کے ساتھ قائم ہے اور اس کے علاوہ مزید فضل یہ کہ وہ فضل الٰہی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ فضل ان کے رزق اور مرتبے ومقام سے علیحدہ ہے ۔ اس لئے لوگ شہداء اور ان کے بعد رہنے والے بھائیوں کے درمیان جو فرق کرتے ہیں وہ درحقیقت کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔ اس لئے لوگوں کے ذہنوں میں عالم الحیاۃ اور عالم مابعد الممات کے اندر جو فرق ہے وہ شہداء کے حوالے سے کچھ نہیں ہے ۔ مومنین کے نقطہ نظر سے کوئی فرق نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ان کا معاملہ یہاں بھی اللہ سے ہے اور وہاں بھی اللہ سے ہے۔ اس حقیقت کو ذہن میں بٹھانے کے بعد اس دنیا کے واقعات پر سوچنے کے انداز بدل جاتے ہیں ۔ یہ حقیقت انسان کی سوچ بدل دیتی ہے ۔ اس کائنات کے بارے میں ایک مومن کے اندر ایک بالکل نئی سوچ پیدا ہوجاتی ہے ۔ کائنات کی یہ حرکت ایک مومن کے نقطہ نظر سے اپنے اندر تسلسل رکھتی ہے۔ وہ کبھی منقطع نہیں ہوتی ۔ یوں ایک انسان جب مرجاتا ہے تو اس کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتا بلکہ موت وجہ سے قبل الممات اور بعد الممات زندگی میں ایک پردہ ساحائل ہوجاتا ہے۔ یہ موت وحیات کے لئے ایک نیا نقطہ نظر ہے ۔ اس سے ایک مسلمان کے شعور میں عظیم انقلاب برپا ہوتا ہے ۔ مسلمان کی زندگی اور موت دو کا استقبال ایک مخصوص نقطہ نظر کے ساتھ کرتے ہیں۔ وَلا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ……………” اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انہیں مردہ نہ سمجھو ‘ وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں ‘ اپنے رب کے پاس رزق پا رہے ہیں ۔ “ یہ آیت اس بارے میں نص قطعی ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ‘ جنہوں نے زندگی قربان کردی ‘ اور لوگوں کی نظروں سے غائب ہوگئے انہیں مردہ کہنا یا سمجھنا ممنوع ہے ۔ اور یہ آیت اس امر میں بھی قطعی ہے کہ وہ زندہ ہیں ۔ اپنے رب کے ہاں رزق پا رہے ہیں ۔ اور اس نہی اور اثبات کے بعد ‘ اس آیت میں ان خصائص حیات کا ذکر ہوتا ہے اور ان کے رزق دئیے جانے کا ذکر ہے۔ ہم اس جہاں فانی میں ‘ شہداء کی زندگی سے صحیح معرفت نہیں پاتے ۔ ہاں ان شہداء کی زندگی کے بعض اوصاف بعض احادیث میں ذکر ہوئے ہیں ‘ لیکن اللہ جل شانہ کی طرف سے بذریعہ وحی آئی ہوئی یہ آیت ہمارے لئے اس ضمن میں کافی وشافی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ علیم وخبیر ہے اور صرف اللہ ہی اس بات کا ضامن ہے کہ وہ موت وحیات کے بارے میں تصورات کو بدل دے ۔ یہ کہ ان کے درمیان کس حد تک دوئی اور جدائی ہے اور کس قدر اتحاد واتصال ہے ۔ اور یہ بات اللہ ہی بتاسکتا ہے کہ معاملات بعینہ ایسے نہیں ہیں جس طرح بظاہر ہمیں ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں یا جس طرح ہم ان کا ادراک کرسکتے ہیں ۔ اور ہم جب بےقید اور مطلق حقائق کے معانی اپنے اذہان میں مقرر کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ یہ مفاہیم آخری مفہومات ہیں اور یہ کہ ہم نے حقائق بعد الممات کا کماحقہ ادراک کرلیا ہے ۔ لہٰذا ہمارے لئے یہ بہتر ہے کہ ہم صرف ذات باری تعالیٰ کے بیان کا انتظار کریں کہ اللہ نے کیا کہا ہے ‘ اور اس پر اکتفاء کریں۔ شہداء وہ لوگ ہیں جو بظاہر قتل ہوجاتے ہیں ۔ بظاہر ان کی زندگی ان سے جدا ہوجاتی ہے اور وہ بھی زندگی سے جدا ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح ہمیں نظرآتا ہے لیکن چونکہ وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوتے ہیں ‘ اور تمام دنیاوی اغراض کو ترک کرکے قتل ہوتے ہیں ‘ دنیا کی چھوٹی چھوٹی اغراض کو وہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ ان کی روحیں اللہ سے مل جاتی ہیں ‘ اس لئے وہ اپنی روحوں کو اللہ کی راہ میں قربان کردیتے ہیں۔ اور وہ اسی طرح بظاہر قتل ہوتے نظر آتے ہیں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ جو مخبر صادق ہے ہمیں اطلاع دیتے ہیں کہ وہ مردہ نہیں اور ہمیں منع کرتے ہیں کہ انہیں زبان سے بھی مردہ نہ کہو ۔ اور بتاکید مزید فرماتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں ۔ انہیں باقاعدہ رزق دیا جاتا ہے اور وہ اللہ کا رزق اس طرح حاصل کرتے ہیں جس طرح زندہ لوگ حاصل کرتے ہیں ۔ اور اسی طرح اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی بعض دوسری خصوصیات کی بھی اطلاع دیتے ہیں ‘ مثلاً

آل عمران 3:170

فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ……………” جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اس پر خوش اور خرم ہیں ۔ “ یعنی وہ اللہ کے ہاں سے آیا ہوا رزق بڑی فرحت کے ساتھ حاصل کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں اچھی طرح ادراک ہوچکا ہوتا ہے کہ یہ تو اللہ کا فضل خاص ہے ۔ یہ فضل خاص ان کے لئے ثبوت ہے اللہ کی رضامندی کا ‘ اس لئے کہ وہ اس کی راہ میں قتل ہوئے ۔ پس اس سے زیادہ ان کے لئے اور کیا چیز سامان فرحت ہوسکتی ہے کہ انہیں اللہ کا رزق اس احساس کے ساتھ ملے کہ وہ ان سے راضی بھی ہوچکا ہے۔

آل عمران 3:171

اس کے بعد یہ خصوصیت کہ ان کے دل ان لوگوں کے حالات کے اندر مشغول ہیں اور دلچسپی لے رہے ہیں جو اس دنیا میں زندہ رہ رہے ہیں اور ان کے زندہ رہنے والوں کے انجام کے بارے میں بہت ہی مطمئن ہیں ۔ اس لئے کہ انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ ان سے بھی اللہ تعالیٰ راضی ہے ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُؤْمِنِينَ ” اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ‘ ان کے لئے بھی کسی رنج وخوف کا موقعہ نہیں ہے ۔ وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل پر شاداں اور فرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔ “ وہ اپنے بھائیوں سے منقطع نہیں ہوگئے ‘ جو ابھی وہاں نہیں پہنچے اور ان سے جدا ہوگئے ہیں ۔ وہ زندہ ہیں ‘ ان کے ساتھ ہیں اور دنیا اور آخرت میں پیچھے آنے والوں سے جو کچھ ملنے والا ہے ‘ اس پر وہ بہت ہی خوش ہیں اور وہ اس لئے شاداں وفرحاں ہیں کہ ان آنے والوں کے لئے بھی کسی رنج اور خوف کا موقعہ نہیں ہے ۔ وہ اپنے رب کے ہاں جو اعلیٰ درجے کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ اس سے انہیں معلوم ہوگیا ہے کہ آنے والوں کے بھی مزے ہیں ۔ اس لئے کہ ان پر بےبہا فضل وکرم ہورہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا مومنین صادقین کے ساتھ یہی تعلق ہوتا ہے کہ وہ ان کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ زندگی کے خصائص میں سے کون ساوہ خاصہ ہے جو ان شہداء فی سبیل اللہ کو حاصل نہیں ہے ؟ اور وہ کیا چیز ہے جو آنے والے مومنین سے ان کو ممتاز کرتی ہے اور یہ کہ ان کے اس انتقال کی وجہ سے پھر حسرت ‘ فقدان اور وحشت اور افسوس کا کیا موقعہ ہے ؟ یعنی پسماندگان کے لئے افسوس کا کیا موقع ہے کہ وہ افسوس کرتے ہیں ۔ یہ تو نہایت خوشی کا موقعہ ہے ۔ یہ تو رضامندی اور محبت کا موقعہ ہے کہ ایک شخص ہم سے جدا ہوکر اللہ کے ہاں پہنچ گیا۔ اور اس انتقال کے ساتھ ساتھ ہم سے ملحق بھی ہے ۔ اگر موت فی سبیل اللہ ہے ‘ تو وہ موت نہیں ہے اور خود مجاہدین کے اپنے شعور کے مطابق بھی وہ موت نہیں ہے ۔ ان لوگوں کے لئے بھی موت نہیں ہے جو پیچھے رہ گئے ہیں بلکہ یہ زندگی کے میدان کی وسعت ہے ۔ اس کے شعور کی وسعت ہے ‘ اس کی صورتوں کی وسعت ہے ۔ یہ حیات ‘ شہید کی حیات ‘ زندگی کی سرحدوں کے آگے چلی جاتی ہے ۔ اسی طرح اس زندگی کے مظاہر بدل جاتے ہیں۔ یہ زندگی دنیا کی تنگ دامانی سے نکل کر ایک وسیع میدان میں داخل ہوجاتی ہے ۔ اس کے سامنے وہ پردے اور رکاوٹیں نہیں ہوتیں جو ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں ۔ گویا زندگی اپنی شکل و صورت سے منتقل ہوکر دوسری شکل و صورت میں داخل ہوجاتی ہے ۔ ایک زندگی ختم ہوتی اور دوسری شروع ہوتی ہے ۔ اس آیت نے زندگی کو جو نیا مفہوم دیا ہے ‘ یا قرآن کریم کی اس جیسی دوسری آیات شہداء کی زندگی کو جو مفہوم عطا کرتی ہیں ‘ اس کے اثرات یہ ہوئے کہ مجاہدین کرام کے قدم طلب شہادت میں ہر وقت رواں دواں رہے ۔ اور ان کی ایک مثال وہ نمونے ہیں جو ہم نے جنگ احد کے بیان کے آغاز میں دئیے ہیں ۔ اس حقیقت اور عظیم حقیقت کے بیان کے بعد کہ اہل ایمان کے لئے جو کچھ اللہ کے ہاں تیار کیا ہوا ہے ‘ اس پر شہداء خوشیاں منا رہے ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ یہاں وضاحت فرماتے ہیں کہ وہ اہل ایمان ہیں ‘ کون ہیں اور ان کا ان کے رب کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟

آل عمران 3:172

یہ وہ لوگ تھے جنہیں جنگ احد کی دوسری صبح رسول اللہ ﷺ نے پکارا نکلو کہ ابھی تلخ معرکہ ختم نہیں ہے اور ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے زخموں سے ابھی تک خون جاری ہے ۔ اور وہ کل ہی جان لڑا کر موت کے منہ سے نکلے تھے ۔ اور ابھی تک انہوں نے کل کے معرکہ کی ہولناکیوں کو بھولانہ تھا۔ ہزیمت کی تلخی ان کے منہ میں باقی تھی ‘ درد کی شدت میں ابھی تک کمی نہ آئی تھی ۔ مزید یہ کہ انہوں نے اعزہ و اقارب کی قیمتی جانوں کا نذرانہ کل ہی تو پیش کیا تھا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کی اکثریت بری طرح زخمی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں پکارا تھا اور صرف انہیں پکارا تھا اور یہ دعوت اور اس کے نتیجے میں لوگوں کی طرف سے لبیک کہنا ‘ ایک ایسافعل تھا جس کے اندر گہرے اشارات پائے جاتے ہیں ۔ اور یہ بڑے حقائق پر مشتمل ہے ۔ اور اس میں گہری حکمت پوشیدہ تھی ۔ ممکن ہے رسول اللہ ﷺ یہ چاہتے ہوں کہ اس معرکے میں اہل ایمان کی آخری بات اور ان کا آخری شعور یہ نہ ہو کہ انہیں ہزیمت ہوئی ہے ۔ اور وہ شکست کھاچکے ہیں اور اس زخموں کی حالت میں کراہ رہے ہیں ۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ کپڑے جھاڑیں اور قریش کا تعاقب کریں ۔ ان کا پیچھا کریں تاکہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ یہ تو ایک ابتلاتھی ‘ ایک تجربہ تھا اور یہ اس معرکے کا کوئی آخری فیصلہ نہ تھا ۔ اور اس کے بعد بھی مسلمانوں کی قوت اپنی جگہ موجود ہے ۔ اور یہ کہ دشمن ابھی تک ضعیف ہیں ۔ یہ تو ایک بار تھی جس میں اچانک شکست ہوگئی ۔ اور ہم اس کا بدلہ لیں گے ۔ اگر ہم نے کمزوری اور بےاتفاقی کو دور کردیا اور اللہ اور رسول کے حکم کو تسلیم کیا۔ یہ بھی ممکن تھا کہ رسول اللہ قریش کے ذہنوں سے یہ بات نکالنا چاہتے ہوں کہ وہ فتح کے پھریرے اڑاتے ہوئے مکہ میں داخل ہورہے ہیں۔ اس لئے آپ نے اس معرکے میں شریک ہونے والوں کی معیت میں ان کا تعاقب کیا۔ اور اس سے قریش کو یہ جتلانا مقصود تھا کہ انہوں نے ابھی تک مسلمانوں کی قوت کو توڑا نہیں ہے ۔ اور یہ کہ ابھی تک ان میں تعاقب یا دوسری جنگ کی قوت باقی ہے ۔ جس طرح سیرت کی روایات میں آتا ہے اس تعاقب سے یہ دونوں مقاصد پورے ہوگئے۔ شاید رسول اکرم ﷺ مسلمانوں اور پوری دنیا کو یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ اس دنیا میں ایک نئی حقیقت کا ظہور ہوچکا ہے اور وہ نئی حقیقت جو اپنے ظہور کے بعد اب قائم ہوچکی ہے وہ یہ ہے کہ اس نئی تحریک کا اصل سرمایہ اس کا عقیدہ ہے ۔ یہی اس کا نصب العین ہے اور اس کے سوا اس کا کوئی مقصد حیات نہیں ہے اور اس کے سوا اس کو زندگی میں کوئی اور ترجیح نہیں ہے ۔ مسلمان اس نظریہ حیات ہی کے لئے زندہ ہیں ‘ اس لئے اس نظریہ حیات کے بعد ان کے نفوس کی کوئی اور تمنا نہیں ہے ۔ اور وہ اس کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ اس وقت اس کرہ ارض پر یہ ایک بالکل نئی بات تھی ۔ لہٰذا یہ بات ضروری تھی کہ پوری دنیا کو معلوم ہوجائے اور خود مسلمانوں کو بھی اس کا شعور ہوجائے ‘ کہ یہ جدید نظریہ اب قائم ہوچکا ہے اور اب یہ اس کرہ ارض پر ایک انمٹ حقیقت ہے ۔ اور اس حقیقت کا اس سے بڑا اظہار نہ ہوسکتا تھا کہ احد میں اس قدر زخم کھانے کے بعد فدایان اسلام اپنے رستے زخموں کے ساتھ ایک غالب قوت کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوں ۔ ان کی جانب سے یہ اقدام ایک واضح روشن اور بالکل ایک خوفناک اقدام تھا ۔ اس میں توکل علی اللہ کی روشن مثال پائی جاتی تھی ۔ اور لوگ ان جانبازوں کو جو ڈرا رہے تھے کہ قریش پھر سے جمع ہورہے ہیں ‘ جس طرح ابوسفیان کے نمائندوں نے انہیں یہ بات پہنچائی تھی اور منافقین نے بھی قریش کے اس منصوبے کو خوفناک انداز میں پیش کیا کہ وہ ایسا کرنے والے ہیں ۔ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ……………” جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں ان سے ڈرو ‘ تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا۔ اور انہوں نے جواب دیا ‘ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہتر کارساز ہے ۔ “ اس خوفناک صورت حال میں یہ تعاقب دراصل یہ اعلان تھا کہ اس کرہ ارض پر اب انقلاب اور یہ عظیم انقلاب اب حقیقت بن چکا ہے ۔ غرض یہ تھے وہ بعض پہلو جو رسول ﷺ کے اس حکیمانہ اقدام سے واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ سیرت کی بعض روایات سے ان لوگوں کے حالات کا پتہ چلتا ہے جنہوں نے زخموں کے اندر چکنا چور ہونے کے باوجود رسول ﷺ کی کال (پکار) پر لبیک کہا۔

آل عمران 3:173

محمد بن اسحاق نے عبداللہ ابن جارحہ ‘ ابوالسائب سے روایت کی ہے کہ رسول ﷺ کے ساتھیوں میں سے ایک صاحب جو بنو عبدالاشہل سے تعلق رکھتے تھے ‘ وہ احد میں شریک تھے ۔ اس نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احد میں شریک ہوئے تھے ۔ میں تھا ‘ میرا بھائی تھا ‘ ہم لوٹے دونوں زخمی تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کے موذن نے اعلان کیا کہ نکلو ‘ دشمن کا تعاقب کرنا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا یا بھائی نے مجھ سے کہا کیا اب ہم سے رسول اللہ ﷺ کی یہ جنگ رہ جائے گی ۔ ہمارے پاس کوئی سواری نہیں ہے اور ہم دونوں شدید زخمی بھی ہیں ۔ ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکل پڑے ۔ میرا زخم بھائی سے ذرا کم تھا۔ جب اس کی طبیعت خراب ہوتی تو میں اسے پیچھے سے تھامتا ‘ یہاں تک کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچ گئے ۔ محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ احد کی جنگ بروز ہفتہ 15 شوال کو ہوئی تھی ۔ دوسرے دن 16 شوال کو رسول ﷺ کے موذن نے اذان دی ۔ اور حکم دیا کہ دشمن کا تعاقب کرنا ہے ۔ اور موذن نے یہ اعلان بھی کیا کہ ہمارے ساتھ صرف وہ لوگ جائیں گے جو کل کے معرکے میں شریک ہوئے تھے ۔ آپ کے ساتھی جابر ابن عبدللہ ابن عمرو ابن حرام نے کہا کہ میرے باپ نے مجھے اپنی بہنوں کی نگرانی کے لئے چھوڑدیا تھا۔ میری سات بہنیں تھیں ۔ میرے باپ نے مجھ سے کہا کہ ” برخوردار نہ یہ میرے لئے مناسب ہے اور نہ آپ کے لئے مناسب ہے کہ آپ ان سات عورتوں کو چھوڑ کر جہاد کے لئے نکلیں ۔ “ اور میرے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کا شرف تمہیں دے دوں۔ اس لئے تم بہنوں کے پاس رہو ۔ صرف ان کو رسول ﷺ نے اجازت دے دی اور وہ آپ کے ساتھ نکلے ۔ جب اس عظیم حقیقت کا اعلان ہوا ‘ تو اس قسم کے عظیم اور بےمثال واقعات ظہور پذیر ہوئے ۔ لوگوں کی ذہنی دنیا میں انقلاب آیا۔ ایسے تربیت یافتہ نفوس قدسیہ تیار ہوئے جو صرف اللہ کو اپنا وکیل و مددگار سمجھتے تھے۔ وہ صرف ذات باری پر راضی تھے ‘ ذات باری ہی کو کافی سمجھتے تھے ۔ وہ ذات باری ہی کو یاد کرتے تھے اور جب سخت سے سخت حالات پیش آتے تو ان کا ایمان اور پختہ ہوجاتا اور جب لوگ انہیں مشکلات سے ڈراتے تو ان کا جواب یہ ہوتا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ” ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔ “

آل عمران 3:174

اور پھر انجام کیا ہوگا ؟ وہی جو اللہ نے متوکلین کے لئے لکھ دیا ہے جو اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں اور جن کے لئے بس اللہ ہی کافی ہوتا ہے۔ فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ ” آخرکار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ‘ ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضاپر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہوگیا ‘ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “ وہ مشکلات سے بچ کر بغیر کسی تکلیف کے واپس ہوگئے ۔ اللہ کی رضامندی کے ساتھ واپس ہوئے اور کامیابی اور خوشی سے واپس ہوئے ۔ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ……………” اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ ۔ “ اللہ تعالیٰ یہاں پھر ان کی توجہ جود اور بخشش کے سبب اول کی طرف مبذول کراتے ہیں ‘ کہ سبب اول اللہ کی نعمت اور اس کا فضل ہوا کرتا ہے ۔ اور اس میں یہ اشارہ بھی مقصود ہے کہ صحابہ کرام کا موقف قابل تعریف تھا۔ کیونکہ ان کا یہ موقف تھا کہ وہ صرف اللہ کا فضل اور اس کی نعمت کی تلاش میں تھے ۔ تمام نعمتوں کا سرچشمہ یہی ہے کہ اللہ کا فضل ہوجائے اور ان کا موقف بھی ایسا تھا جہاں فضل خداوندی کی بارش تھی ۔ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ……………” اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔ “ اس طرح ‘ اللہ اپنی ابدی کتاب میں یہ ثبت کردیتے ہیں اور اپنے کلام میں ان کی یہ تصویر کھینچتے ہیں ‘ ان کا یہ موقف پیش فرماتے ہیں اور اللہ کا کلام وہ کلام ہے جس کے ساتھ یہ پوری کائنات ہم آہنگ ہے ۔ غرض ان کا موقف نہایت ہی شریفانہ ہے اور ان کی یہ تصویر بھی نہایت ہی خوبصورت ہے ۔ جب انسان کے اس موقف اور ان کے اس نظارے پر غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوجاتا ہے کہ صرف ایک ہی رات میں ان لوگوں کا نقطہ نظر یکسر بدل گیا ہے ‘ وہ پختہ کار ہوگئے ‘ باہم متناسق ہوگئے ‘ وہ جہاں کھڑے تھے وہاں مطمئن ہوکر جم گئے ۔ ان کے خیالات سے تمام دھند اور میل دور ہوگئی اور ان کی صورت حال بالکل نئی ہوگئی ۔ کل ان کے تصورات میں اور ان کی صفوں کے اندر جو خلجان اور جو تذبذب پایا جاتا تھا ‘ آج اس کا نام ونشان نہیں ہے ۔ صرف ایک رات ہی گزری تھی کہ ان کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہوگیا ۔ عظیم فرق اور میلوں کی مسافت ایک لحظہ میں طے ہوگئی۔ اس تلخ تجربے نے ان کے نفوس کے اندر اپنا کام کردکھایا ۔ اس حادثہ نے انہیں خوب جھنجھوڑا جس کی وجہ سے ان کے تصورات سے ہر قسم کے غبار چھٹ گئے ‘ ان کے دل از سر نو جاگ اٹھے ‘ ان کے قدم جم گئے اور ان کے دل از سر نو عزم صمیم سے مالا مال ہوگئے ۔ بالکل درست ہے یہ کہنا کہ اس ابتلا میں بھی اللہ فضل پوشیدہ تھا۔ اس پیراگراف کے آخر میں اس وقت کے موجودہ جزع وفزع اور خوف وہراس کی علت بھی بتادی گئی ۔ بتایا گیا کہ یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں کا ڈر اور رعب تمہارے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کو رعب وبدبہ کے لباس میں پیش کرتا ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو شیطان کی اس چال سے خوب خبردار رہنا چاہئے ۔ اور اس کے اس مکر کو بےاثر بنانے کی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ۔ اس لئے وہ اہل قریش سے نہ ڈریں کیونکہ وہ اس وقت شیطان کے ساتھی ہیں ۔ وہ شیطان ہے دوستوں سے خائف ہونے کے بجائے اللہ سے ڈریں کیونکہ صرف وہی قوی قادر مطلق اور جبار ہے اور وہی اس بات کا مستحق کہ اس سے خوف کیا جائے۔ ” اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا ‘ جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہا تھا لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا ‘ مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں ایمان لانے والے ہو۔ “ شیطان اپنے دوستوں کو بہت بڑا کرکے اور پھولا کر پیش کرتا ہے ۔ وہ انہیں ایسے لباس میں پیش کرتا ہے جس میں وہ قوی اور طاقتور نظر آئیں ۔ وہ دلوں میں یہ رعب بٹھاتا ہے کہ شیطان کے ساتھی سب کچھ اپنے حق میں پھیر سکتے ہیں اور ان کے ہاتھ لمبے ہیں ۔ وہ نفع بھی دے سکتے ہیں اور ضرر بھی دے سکتے ہیں تاکہ شیطان اس ذریعہ سے اپنی ضروریات اور اغراض پوری کرتا رہے ۔ اور ان دوستوں کے ذریعہ دنیا میں شر اور فساد پھیلائے ۔ اور لوگوں کو اپنے دوستوں کے سامنے اس قدر جھکادے کہ وہ ان کی اطاعت غیر مشروط طور پر کریں ۔ کوئی ان کے سامنے کسی بات کا انکار نہ کرسکے ۔ کوئی شخص ان پر تنقید نہ کرسکے اور ان شر و فساد سے روکنے کی جرأت ہی نہ کرسکے ۔ شیطان کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ باطل کو خوب پھولاکر اور موٹا کرکے پیش کرے ۔ اس طرح کہ وہ قوی ‘ صاحب قدرت ‘ قہار اور جبار اور سخت گرفت کا مالک نظر آئے ۔ اس کی کوئی پوزیشن نہ ہو ۔ اس کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس پر غالب آسکتی ہو ۔ شیطان کی مصلحت یہ ہے کہ وہ صورت حال کو اس طرح قائم رکھے ۔ خوف اور رعب کے پردے میں اور تخویف اور پکڑ کی فضا میں شیطان کے دوست دنیا میں سب کاروائیاں کرتے ہیں ۔ وہ معروف کو منکر بناتے ہیں اور منکر کو معروف بناتے ہیں۔ شر ‘ فساد اور گمراہی پھیلاتے ہیں ۔ سچائی ‘ ہدایت اور عدل کی آواز کو دھیما کرتے ہیں ‘ بغیر اس کے کہ کوئی ان کو چیلنج کرے یا ان کے سامنے کھڑا ہو ‘ یا قیادت کے مقام سے انہیں ہٹاسکے ۔ غرض وہ باطل جس کی ترویج کرتے ہیں ان پر تنقید کی جرأت ہی اہل حق کو نہ ہو اور جس حق کو وہ مٹانا چاہتے ہیں اس کی وضاحت کرنے اور اسے غالب کرنے کی بھی کسی جرأت نہ ہوسکے ۔ شیطان سخت مکار ‘ دغاباز اور غدار ہے ۔ وہ اپنے دوستوں کے لباس میں آتا ہے۔ اور جو لوگ شیطانی وساوس کے مقابلے میں احتیاط نہیں کرتے ‘ وہ ان دوستوں سے انہیں خوب ڈراتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں اسے خوب ننگا کرتے ہیں ۔ اور وہ یوں ننگا ہوجاتا ہے کہ اس کے جسم پر اس کے مکروفریب کا کوئی لباس ہی نہیں رہتا ۔ اہل ایمان شیطان کی حقیقت کو اچھی طرح جان لیتے ہیں ۔ اس کے وسوسوں اور اس کے مکر و فریب کی حقیقت کو پالیتے ہیں تاکہ وہ اس سے محتاط ہوجائیں ۔ اس کے دوستوں سے نہ ڈریں اور نہ ان سے خائف ہوں۔ جو مومن ذات باری پر مکمل بھروسہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے مقابلے میں شیطان بہت ہی کمزور ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی قوت کا سرچشمہ اللہ ہوتا ہے ۔ وہ واحد قوت جس سے کسی انسان کو ڈرنا چاہئے وہ صرف وہی قوت ہوتی ہے جو نفع اور نقصان پہنچانے پر قادر ہو اور نفع اور نقصان دینے والی قوت صرف اللہ کی قوت ہے ۔ اور ایک مومن صرف اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے۔ اور جب تمام اہل ایمان صرف اللہ سے ڈرنے والے بن جائیں تو وہ سب قوتوں کے مقابلے میں قوی تر ہوجاتے ہیں ۔ پھر ان کے مقابلے میں دنیا کی کوئی قوت ٹھہر نہیں سکتی ۔ نہ شیطانی قوت اور نہ شیطان کے دوستوں کی قوت تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ……………” پس تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو ‘ اگر تم مومن ہو۔ “ اب اس سلسلے میں آخری نتیجہ اور آخری نچوڑ پیش کیا جاتا ہے ۔ روئے سخن رسول اکرم ﷺ کی طرف کرکے بطور تسلی اور دلجوئی کہا جاتا ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں ‘ اور آپ اس بات کا غم نہ کھائیں کہ یہ اہل کفر والحاد کی جانب بہت تیزی سے جارہے ہیں ۔ اور وہ اس کفر میں اس قدر تیز ہیں کہ گویا وہ کسی دوڑ کے مقابلے میں ہیں ‘ کہا جاتا ہے کہ ذرا ان کی اس حرکت پر غور کرو کہ اس سے اللہ تعالیٰ کو نقصان کیا ہے ؟ یہ تو خود ان کے لئے ایک مصیبت ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مصیبت ان کی قسمت میں لکھ دی ۔ اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ کیا کریں گے اور کیا کیا کفر کرنے والے ہیں ؟ اس لئے اس سے پہلے ہی یہ فیصلہ کردیا کہ اچھا تو آخرت میں محروم ہوگے ۔ اس لئے انہیں اس نے ان کے حال ہی پر چھوڑدیا اور وہ ہدف کفر ہی کی طرف بڑی مسارعت سے بڑھتے رہے ۔ ان کے سامنے راہ ہدایت بھی واضح تھی ‘ لیکن انہوں نے اپنے اختیار تمیزی کو استعمال کرتے ہوئے کفر کی راہ کو اپنایا ۔ اس لئے انہیں ان کے حال ہی پر چھوڑ دیا گیا ۔ اور ان کو مزید مہلت دی گئی کہ وہ خوب گناہ سمیٹ لیں زیادہ سے زیادہ ۔ یہ مہلت ان کو وقت کے لحاظ سے بھی دی گئی اور خوشحالی کی صورت میں بھی دی گئی ۔ لہٰذا یہ مہلت اور خوشحالی ان کے لئے گویا بطور انعام کار ایک وبال اور مصیبت ہے ۔ یہ حصہ آیات اس پر ختم ہوتا ہے کہ ان تمام واقعات کی پشت پر کیا حکمت تھی ؟ یہ کہ مومنین کو کیوں ابتلا میں ڈالا گیا ‘ اہل کفر کو کیوں اس قدر مہلت دی جارہی ہے ۔ یہ اس لئے پاک لوگ گندے لوگوں سے الگ چھٹ کر رہ جائیں ۔ اور یہ پاکیزگی اور تطہیر کا عمل آزمائش اور ابتلا ہی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ رسول کی بات بذریعہ آزمائش ہی معلوم ہوسکتی ہے ۔ وہ تو غیب ہے اور غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ لوگوں کو اس کا پتہ نہیں ہوتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ مناسب سمجھا کہ ایک مناسب طریقہ کار کے مطابق غیب کا اظہار اہل ایمان پر ہوجائے ‘ اہل ایمان کو دلوں کا حال معلوم ہوجائے ‘ پاک لوگ گندے عناصر سے الگ ہوجائیں اور اللہ پر ایمان لانے والے ‘ قطعی اور یقینی طور پر میدان میں آجائیں۔

آل عمران 3:175

اور پھر انجام کیا ہوگا ؟ وہی جو اللہ نے متوکلین کے لئے لکھ دیا ہے جو اللہ کے لئے خالص ہوجاتے ہیں اور جن کے لئے بس اللہ ہی کافی ہوتا ہے۔ فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ وَاتَّبَعُوا رِضْوَانَ اللَّهِ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ ” آخرکار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے ‘ ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضاپر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہوگیا ‘ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ “ وہ مشکلات سے بچ کر بغیر کسی تکلیف کے واپس ہوگئے ۔ اللہ کی رضامندی کے ساتھ واپس ہوئے اور کامیابی اور خوشی سے واپس ہوئے ۔ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ……………” اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ ۔ “ اللہ تعالیٰ یہاں پھر ان کی توجہ جود اور بخشش کے سبب اول کی طرف مبذول کراتے ہیں ‘ کہ سبب اول اللہ کی نعمت اور اس کا فضل ہوا کرتا ہے ۔ اور اس میں یہ اشارہ بھی مقصود ہے کہ صحابہ کرام کا موقف قابل تعریف تھا۔ کیونکہ ان کا یہ موقف تھا کہ وہ صرف اللہ کا فضل اور اس کی نعمت کی تلاش میں تھے ۔ تمام نعمتوں کا سرچشمہ یہی ہے کہ اللہ کا فضل ہوجائے اور ان کا موقف بھی ایسا تھا جہاں فضل خداوندی کی بارش تھی ۔ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَظِيمٍ……………” اور اللہ فضل عظیم کا مالک ہے۔ “ اس طرح ‘ اللہ اپنی ابدی کتاب میں یہ ثبت کردیتے ہیں اور اپنے کلام میں ان کی یہ تصویر کھینچتے ہیں ‘ ان کا یہ موقف پیش فرماتے ہیں اور اللہ کا کلام وہ کلام ہے جس کے ساتھ یہ پوری کائنات ہم آہنگ ہے ۔ غرض ان کا موقف نہایت ہی شریفانہ ہے اور ان کی یہ تصویر بھی نہایت ہی خوبصورت ہے ۔ جب انسان کے اس موقف اور ان کے اس نظارے پر غور کرتا ہے تو اسے احساس ہوجاتا ہے کہ صرف ایک ہی رات میں ان لوگوں کا نقطہ نظر یکسر بدل گیا ہے ‘ وہ پختہ کار ہوگئے ‘ باہم متناسق ہوگئے ‘ وہ جہاں کھڑے تھے وہاں مطمئن ہوکر جم گئے ۔ ان کے خیالات سے تمام دھند اور میل دور ہوگئی اور ان کی صورت حال بالکل نئی ہوگئی ۔ کل ان کے تصورات میں اور ان کی صفوں کے اندر جو خلجان اور جو تذبذب پایا جاتا تھا ‘ آج اس کا نام ونشان نہیں ہے ۔ صرف ایک رات ہی گزری تھی کہ ان کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہوگیا ۔ عظیم فرق اور میلوں کی مسافت ایک لحظہ میں طے ہوگئی۔ اس تلخ تجربے نے ان کے نفوس کے اندر اپنا کام کردکھایا ۔ اس حادثہ نے انہیں خوب جھنجھوڑا جس کی وجہ سے ان کے تصورات سے ہر قسم کے غبار چھٹ گئے ‘ ان کے دل از سر نو جاگ اٹھے ‘ ان کے قدم جم گئے اور ان کے دل از سر نو عزم صمیم سے مالا مال ہوگئے ۔ بالکل درست ہے یہ کہنا کہ اس ابتلا میں بھی اللہ فضل پوشیدہ تھا۔ اس پیراگراف کے آخر میں اس وقت کے موجودہ جزع وفزع اور خوف وہراس کی علت بھی بتادی گئی ۔ بتایا گیا کہ یہ تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں کا ڈر اور رعب تمہارے دلوں میں بٹھاتا ہے۔ وہ اپنے دوستوں کو رعب وبدبہ کے لباس میں پیش کرتا ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو شیطان کی اس چال سے خوب خبردار رہنا چاہئے ۔ اور اس کے اس مکر کو بےاثر بنانے کی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ۔ اس لئے وہ اہل قریش سے نہ ڈریں کیونکہ وہ اس وقت شیطان کے ساتھی ہیں ۔ وہ شیطان ہے دوستوں سے خائف ہونے کے بجائے اللہ سے ڈریں کیونکہ صرف وہی قوی قادر مطلق اور جبار ہے اور وہی اس بات کا مستحق کہ اس سے خوف کیا جائے۔ ” اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا ‘ جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہا تھا لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا ‘ مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں ایمان لانے والے ہو۔ “ شیطان اپنے دوستوں کو بہت بڑا کرکے اور پھولا کر پیش کرتا ہے ۔ وہ انہیں ایسے لباس میں پیش کرتا ہے جس میں وہ قوی اور طاقتور نظر آئیں ۔ وہ دلوں میں یہ رعب بٹھاتا ہے کہ شیطان کے ساتھی سب کچھ اپنے حق میں پھیر سکتے ہیں اور ان کے ہاتھ لمبے ہیں ۔ وہ نفع بھی دے سکتے ہیں اور ضرر بھی دے سکتے ہیں تاکہ شیطان اس ذریعہ سے اپنی ضروریات اور اغراض پوری کرتا رہے ۔ اور ان دوستوں کے ذریعہ دنیا میں شر اور فساد پھیلائے ۔ اور لوگوں کو اپنے دوستوں کے سامنے اس قدر جھکادے کہ وہ ان کی اطاعت غیر مشروط طور پر کریں ۔ کوئی ان کے سامنے کسی بات کا انکار نہ کرسکے ۔ کوئی شخص ان پر تنقید نہ کرسکے اور ان شر و فساد سے روکنے کی جرأت ہی نہ کرسکے ۔ شیطان کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ باطل کو خوب پھولاکر اور موٹا کرکے پیش کرے ۔ اس طرح کہ وہ قوی ‘ صاحب قدرت ‘ قہار اور جبار اور سخت گرفت کا مالک نظر آئے ۔ اس کی کوئی پوزیشن نہ ہو ۔ اس کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ ہو اور کوئی قوت ایسی نہ ہو جو اس پر غالب آسکتی ہو ۔ شیطان کی مصلحت یہ ہے کہ وہ صورت حال کو اس طرح قائم رکھے ۔ خوف اور رعب کے پردے میں اور تخویف اور پکڑ کی فضا میں شیطان کے دوست دنیا میں سب کاروائیاں کرتے ہیں ۔ وہ معروف کو منکر بناتے ہیں اور منکر کو معروف بناتے ہیں۔ شر ‘ فساد اور گمراہی پھیلاتے ہیں ۔ سچائی ‘ ہدایت اور عدل کی آواز کو دھیما کرتے ہیں ‘ بغیر اس کے کہ کوئی ان کو چیلنج کرے یا ان کے سامنے کھڑا ہو ‘ یا قیادت کے مقام سے انہیں ہٹاسکے ۔ غرض وہ باطل جس کی ترویج کرتے ہیں ان پر تنقید کی جرأت ہی اہل حق کو نہ ہو اور جس حق کو وہ مٹانا چاہتے ہیں اس کی وضاحت کرنے اور اسے غالب کرنے کی بھی کسی جرأت نہ ہوسکے ۔ شیطان سخت مکار ‘ دغاباز اور غدار ہے ۔ وہ اپنے دوستوں کے لباس میں آتا ہے۔ اور جو لوگ شیطانی وساوس کے مقابلے میں احتیاط نہیں کرتے ‘ وہ ان دوستوں سے انہیں خوب ڈراتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں اسے خوب ننگا کرتے ہیں ۔ اور وہ یوں ننگا ہوجاتا ہے کہ اس کے جسم پر اس کے مکروفریب کا کوئی لباس ہی نہیں رہتا ۔ اہل ایمان شیطان کی حقیقت کو اچھی طرح جان لیتے ہیں ۔ اس کے وسوسوں اور اس کے مکر و فریب کی حقیقت کو پالیتے ہیں تاکہ وہ اس سے محتاط ہوجائیں ۔ اس کے دوستوں سے نہ ڈریں اور نہ ان سے خائف ہوں۔ جو مومن ذات باری پر مکمل بھروسہ کئے ہوئے ہے۔ اس کے مقابلے میں شیطان بہت ہی کمزور ہوتا ہے اس لئے کہ اس کی قوت کا سرچشمہ اللہ ہوتا ہے ۔ وہ واحد قوت جس سے کسی انسان کو ڈرنا چاہئے وہ صرف وہی قوت ہوتی ہے جو نفع اور نقصان پہنچانے پر قادر ہو اور نفع اور نقصان دینے والی قوت صرف اللہ کی قوت ہے ۔ اور ایک مومن صرف اللہ سے ڈرنے والا ہوتا ہے۔ اور جب تمام اہل ایمان صرف اللہ سے ڈرنے والے بن جائیں تو وہ سب قوتوں کے مقابلے میں قوی تر ہوجاتے ہیں ۔ پھر ان کے مقابلے میں دنیا کی کوئی قوت ٹھہر نہیں سکتی ۔ نہ شیطانی قوت اور نہ شیطان کے دوستوں کی قوت تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ……………” پس تم ان سے نہ ڈرو اور مجھ ہی سے ڈرو ‘ اگر تم مومن ہو۔ “ اب اس سلسلے میں آخری نتیجہ اور آخری نچوڑ پیش کیا جاتا ہے ۔ روئے سخن رسول اکرم ﷺ کی طرف کرکے بطور تسلی اور دلجوئی کہا جاتا ہے کہ آپ پریشان نہ ہوں ‘ اور آپ اس بات کا غم نہ کھائیں کہ یہ اہل کفر والحاد کی جانب بہت تیزی سے جارہے ہیں ۔ اور وہ اس کفر میں اس قدر تیز ہیں کہ گویا وہ کسی دوڑ کے مقابلے میں ہیں ‘ کہا جاتا ہے کہ ذرا ان کی اس حرکت پر غور کرو کہ اس سے اللہ تعالیٰ کو نقصان کیا ہے ؟ یہ تو خود ان کے لئے ایک مصیبت ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مصیبت ان کی قسمت میں لکھ دی ۔ اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح علم تھا کہ وہ کیا کریں گے اور کیا کیا کفر کرنے والے ہیں ؟ اس لئے اس سے پہلے ہی یہ فیصلہ کردیا کہ اچھا تو آخرت میں محروم ہوگے ۔ اس لئے انہیں اس نے ان کے حال ہی پر چھوڑدیا اور وہ ہدف کفر ہی کی طرف بڑی مسارعت سے بڑھتے رہے ۔ ان کے سامنے راہ ہدایت بھی واضح تھی ‘ لیکن انہوں نے اپنے اختیار تمیزی کو استعمال کرتے ہوئے کفر کی راہ کو اپنایا ۔ اس لئے انہیں ان کے حال ہی پر چھوڑ دیا گیا ۔ اور ان کو مزید مہلت دی گئی کہ وہ خوب گناہ سمیٹ لیں زیادہ سے زیادہ ۔ یہ مہلت ان کو وقت کے لحاظ سے بھی دی گئی اور خوشحالی کی صورت میں بھی دی گئی ۔ لہٰذا یہ مہلت اور خوشحالی ان کے لئے گویا بطور انعام کار ایک وبال اور مصیبت ہے ۔ یہ حصہ آیات اس پر ختم ہوتا ہے کہ ان تمام واقعات کی پشت پر کیا حکمت تھی ؟ یہ کہ مومنین کو کیوں ابتلا میں ڈالا گیا ‘ اہل کفر کو کیوں اس قدر مہلت دی جارہی ہے ۔ یہ اس لئے پاک لوگ گندے لوگوں سے الگ چھٹ کر رہ جائیں ۔ اور یہ پاکیزگی اور تطہیر کا عمل آزمائش اور ابتلا ہی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ رسول کی بات بذریعہ آزمائش ہی معلوم ہوسکتی ہے ۔ وہ تو غیب ہے اور غیب کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ لوگوں کو اس کا پتہ نہیں ہوتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ مناسب سمجھا کہ ایک مناسب طریقہ کار کے مطابق غیب کا اظہار اہل ایمان پر ہوجائے ‘ اہل ایمان کو دلوں کا حال معلوم ہوجائے ‘ پاک لوگ گندے عناصر سے الگ ہوجائیں اور اللہ پر ایمان لانے والے ‘ قطعی اور یقینی طور پر میدان میں آجائیں۔

آل عمران 3:176

غزوہ احد کے واقعات کا یہ بہترین اختتامیہ ہے ۔ اس لئے کہ اس غزوہ میں مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے تھے اور اس جنگ میں کفار کو فتح اور غلبہ نصیب ہوا تھا ۔ حق و باطل کی کشمکش میں ہمیشہ یہ شبہ پیدا ہوجاتا ہے اور اہل حق کے دلوں میں یہ بات ہمیشہ کھٹکتی ہے یا بعض اوقات کامیابی کی خواہش دلوں میں ابھرتی رہتی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں حق کو کامیاب ہی ہونا چاہئے اور اگر کسی جگہ حق کو شکست ہو جس طرح احد میں اور کفر و باطل کو فتح وظفر نصیب ہو تو یہ کیوں ہوتی ہے ؟ یہ جھوٹا شبہ ہوتا ہے اور ہمیشہ دلوں میں اٹھتا رہتا ہے۔ اور انسان کی خواہش کامیابی اسے مسلسل دبارہی ہوتی ہے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اے رب ! حق کو شکست اور باطل کو فتح کیوں ہوتی ہے ؟ اہل حق مصائب میں مبتلاہو رہے ہیں اور اہل باطل نجات پا رہے ہیں اور کامیاب ہورہے ہیں اور اس طرح کیوں نہیں ہوتا کہ جب بھی حق و باطل کی باہم کشمکش ہو تو حق کو فتح نصیب ہو اور وہ غلبہ اور غنیمت لے کر واپس ہو ؟ کیا حق اور سچائی اس بات کی مستحق نہیں ہے کہ اسے فتح نصیب ہو اور باطل کے لئے یہ قوت اور یہ رعب کیوں ہے کہ حق کے ساتھ ٹکراؤ میں اسے ایسی کامیابیاں ہوتی ہیں جس سے اہل حق کے دلوں میں فتنے پیدا ہوتے ہیں اور ان کے دل متزلزل ہوجاتے ہیں۔ اور یہ سوالات عملاً اس وقت سامنے آئے جب احد کے دن اہل ایمان نے نہایت ہی تعجب اور سراسیمگی میں یہ سوال کیا کہ اَنّٰی ھٰذَا ؟…………… ” یہ کیسے ہوگیا “………لہٰذا اس آخری اختتامیہ میں اس کا آخری جواب دیا جاتا ہے ۔ آخری اور فیصلہ کن بات کردی جاتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ پریشان دلوں کو سکون فراہم فرمادیتے ہیں اور اس پہلو سے جو بڑا وسوسہ بھی دلوں کے اندر راہ پاتا ہے ‘ اسے صاف کردیا جاتا ہے ۔ اللہ کی سنت کا بیان ہوتا ہے ۔ اللہ کی سنت کے تحت اس کی تقدیروں کا بیان ہوتا ہے اور پھر ان تمام سنن اور تقدیروں کے پیچھے جو اس کی وسیع تر تدبیر اور حکمت کارفرماہوتی ہے ‘ وہ بھی بتادی جاتی ہے اور یہ حکمت کل بھی تھی ‘ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی۔ اور ہر اس جگہ ہوگی جہاں حق و باطل کی کشمکش ہو اور احد جیسے نتائج نکلیں۔ دنیا کے کسی معرکے سے باطل کا فتح مندی کے ساتھ نکل کر چلاجانا اور ایک وقت کے لئے اس کا پھول جانا اور طاقتور نظر آنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ بس اللہ تعالیٰ نے اسے کھلی چھٹی دے دی ہے ۔ یا یہ کہ وہ اس قدر طاقتور ہوگیا ہے کہ اس پر اب غلبہ نہیں پایا جاسکے گا یا یہ کہ باطل ہمیشہ کے لئے حق کے لئے مضر ہی رہے گا ۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کسی معرکے میں سچائی کا شکست اور مصائب میں مبتلا ہوکر نکلنا یا سچائی کا کسی دور میں ضعف کا شکار ہوجانا ‘ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کوئی انصاف فرما رہے ہیں یا اللہ نے حق کو بھلادیا یا اس نے باطل کو آزاد چھوڑدیا کہ وہ سچائی کو بیخ وبن سے اکھاڑکر تباہ کردے۔ یوں ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ یہ تو اللہ کی گہری حکمت اور تدبیر ہوتی ہے جو ہر جگہ اپنا کام کررہی ہوتی ہے ۔ کبھی حکمت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ باطل کو مہلت دی جائے اور وہ اپنی آخری سرحد تک پہنچ جائیں ۔ وہ اپنے تمام برے نتائج ظاہر کریں ‘ وہ لوگوں پر ناقابل برداشت بوجھ ڈال دیں اور آخر کار وہ اس بات کے مستحق ہوجائیں کہ ان پر سخت سے سخت حملہ کیا جائے اور پھر حق کو آزمائش میں اس لئے ڈالا جاتا ہے کہ حق و باطل کے درمیان فرق ہوجائے ۔ طیب اور خبیث کے اندر امتیاز ہوجائے ‘ اور ان آزمائشوں میں جو لوگ ثابت قدم رہیں انہیں عظیم اجر ملے اور وہ ممتاز مقام کے مستحق ہوجائیں ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ صورت حال سچائی کے لئے کمائی ہے اور باطل کے لئے خسارہ ہے ۔ ادہر یہ کمائی زیادہ سے زیادہ ہورہی ہو تو ادہر خسارہ زیادہ سے زیادہ ہورہا ہے۔ وَلا ﻳَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لأنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ” اے پیغمبر جو لوگ کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کررہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں۔ یہ اللہ کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے ۔ اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے ‘ اور بالآخر ان کو سخت سزاملنے والی ہے۔ “ یہ نبی ﷺ کے لئے تسلی ہے ‘ اس کے ذریعہ آپ کے غبار خاطر کو دور کیا جارہا ہے جو آپ کے دل پر ان واقعات کی وجہ سے تھا۔ آپ اس سے بےحد دلگیر تھے کہ جو لوگ کفر میں غلامی کررہے ہیں وہ کفر میں سرپٹ بھاگے جارہے ہیں ۔ وہ نہایت سرعت کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔ گویا ان کے لئے کوئی ہدف مقرر ہے اور انہوں نے اسے حاصل کرنا ہے۔ یہ ایسے الفاظ ہیں اور ایسی تعبیر ہے ‘ جن کے ذریعہ ان کی حقیقی نفسیاتی حالت کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ اکثر اوقات نظرآتا ہے کہ بعض لوگ کفر میں متشدد ہوتے ہیں ۔ وہ باطل ‘ شر اور اللہ کی نافرمانی کو اپنا نصب العین بنالیتے ہیں ۔ اس طرح کہ گویا انہوں نے اس کے مقابلے میں گول تک پہنچنا ہے ۔ اس لئے ایسے لوگ نہایت قوت ‘ نہایت جرأت اور نہایت ہی تیزی سے آگے بڑھتے ہیں ‘ بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید پیچھے سے انہیں کوئی دھکیل رہا ہے کہ آگے بڑھو یا آگے سے کوئی انہیں پکار رہا ہے کہ جلدی پہنچو یہ ہے تمہارا انعام ۔ آپ کا یہ غبار خاطر اور رنج وغم اللہ کی اس مخلوق کے لئے تھا ۔ آپ حسرت سے انہیں دیکھتے تھے کہ یہ لوگ آستین چڑھائے آگ کی طرف تیزی سے گامزن ہیں اور آپ وہ قوت نہیں پا رہے کہ انہیں بزور بازو روک دیں ۔ یہ لوگ اللہ کی طرف سے بار بار کے ڈراوے کی طرف بھی کان نہیں دھرتے ۔ پھر آپ اس سے بھی پریشان ہوتے ہیں کہ یہ لوگ جو آستین چڑھائے جہنم کی طرف سرپٹ دوڑ رہے ہیں ‘ وہ صرف اپنے آپ ہی کو مصیبت میں مبتلا نہیں کررہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اہل اسلام کے لئے بھی رنج والم اور درد ودکھ کا باعث بن رہے ہیں ۔ یہ لوگ دعوت اسلامی کو بھی دکھ دے رہے ہیں اور جمہور کے اندر اس کے پھلاؤ کو بھی روک رہے ہیں ۔ اس لئے کہ جمہور عربب یہ دیکھ رہے تھے کہ مدینہ اور مکہ کی معرکہ آرائی کا انجام کیا ہوتا ہے تاکہ وہ بھی اس صف میں شامل ہوجائیں جس کا مستقبل روشن ہو۔ جب قریش مسلمان ہوگئے اور انہوں نے سرتسلیم خم کرلیا تو تمام لوگ اللہ کے دین میں فوج درفوج داخل ہوگئے ۔ اور اس بات میں شک نہیں کہ اس صورت حال کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے دل پر اثرات تھے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ ﷺ کو مطمئن کرنے کی ضرورت پیش آئی ۔ آپ کو تسلی دی گئی اور آپ کے غبار خاطر کو دور کیا گیا۔ وَلا يَحْزُنْكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا ” اے پیغمبر جو لوگ آج کفر کی راہ میں دوڑ دھوپ کررہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں۔ یہ اللہ کا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔ “……یہ کمزور بندے اس جو گے نہیں ہوسکتے کہ وہ اللہ کو کوئی نقصان پہنچائیں۔ اور یہ بات محتاج بیان ہی نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ نظریاتی جنگ نظریاتی رہے اور مشرکین کے ساتھ معرکہ اپنی جگہہ رہے ۔ اور یہ خود اس کی جنگ اور اس کا معرکہ رہے ۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ کے کندھوں سے اس ذمہ داری کو اٹھالیا جاتا ہے ۔ اسی طرح مسلمانوں کی بھی یہ ذمہ داری نہیں رہتی کہ وہ لوگوں کے نظریات تبدیل کرنے کے پابند ہوں ۔ جو لوگ کفر کے اندر تیزی دکھا رہے ہیں وہ درحقیقت اللہ کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اور اللہ کے ساتھ اس جنگ میں انہیں ہرگز کامیابی نہیں ہوسکتی ‘ اس لئے کہ وہ اس ذات باری کے مقابلے میں بہت ہی ضعیف ہیں ۔ لہٰذا وہ دعوت اسلامی کو مآل کار کوئی ضرر نہیں پہنچاسکتے ۔ اور اس سے نتیجہ خود بخود نکل آتا ہے کہ وہ ان حاملین دعوت اسلامی کو بھی نقصان نہیں پہنچاسکتے ہیں جنہیں وہ اس وقت شکست خوردہ سمجھتے ہیں ۔ چاہے جس قدر بھی وہ سرعت دکھائیں اور جس قدر بھی وہ اہل دعوت کو اذیتیں دے دیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے انہیں یہ کھلی چھٹی کیوں دے رکھی ہے کہ وہ کامیابی کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جائیں اور اپنے غلبہ کی وجہ سے پھولے نہ سمائیں ۔ حالانکہ وہ اللہ کے براہ راست دشمن ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ نے ان کے لئے نہایت ہی برا اور نہایت ہی رسواکن انجام تیار کررکھا ہے۔ يُرِيدُ اللَّهُ أَلا يَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِي الآخِرَةِ……………” اللہ کا ارادہ یہ ہے کہ ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے ۔ “ اللہ یہ چاہتا ہے کہ وہ اپناتمام سرمایہ یہاں ہی ختم کردیں اور اپنے تمام گناہوں کو اٹھائے ہوئے ہوں اور آخرت میں تمام عذاب کے سزاوار ہوجائیں اور یہ کفر کی راہ میں تیزی سے آگے بڑھ کر اپنی آخری منزل تک پہنچ جائیں ۔ اس لئے کہ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ……………” ان کے لئے بڑا عظیم عذاب ہے ۔ “ اور ان لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس شرمناک انجام کا ارادہ کیوں کرلیا ہے ؟ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنی مرضی سے ایمان کے بدلے میں کفر خرید کر اپنے آپ کو اس کا مستحق بنالیا ہے ۔

آل عمران 3:177

إِنَّ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالإيمَانِ لَنْ يَضُرُّوا اللَّهَ شَيْئًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ……………” جو لوگ ایمان چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی نقصان نہیں کررہے ہیں ۔ ان کے لئے دردناک عذاب تیار ہے ۔ “ ایمان تک ان کے ہاتھ پہنچ سکتے تھے ۔ ایمان کے دلائل اس پوری کائنات میں بکھرے پڑے ہیں ۔ خود انسانی فطرت اور نفس کے اندر دلائل ایمان موجود ہیں ۔ خود انسان کے عجیب و غریب جسم کے منصوبے کے اندر ‘ اس میں باہم مکمل ہم آہنگی کے اندر ‘ اس میں ودیعت کردہ فطرت انسانی کے اندر ‘ پھر انسانی فطرت اور اس کے اس طبیعی وجود میں پائی جانے والی ہم آہنگی کے اندر ‘ پھر اس میں اس کے خالق اور صانع کے وجود کا فطری شعور ودیعت کئے جانے کے اندر اور پھر اس شعور کی بہترین نفسیاتی اور طبیعی مزاج کے اندر دلائل ہی دلائل ہیں ۔ اور ان دلائل کے علاوہ رسولوں کی دعوت بھی تو موجود رہی ہے اور ہے ۔ یہ دعوت اپنی اس فطری حالت میں موجود ہے جسے انسانی فطرت قبول کرتی ہے ۔ اور اس فطرت اور اس دعوت رسل کے اندر پھر حسین ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور یہ دعوت لوگوں کی ضروریات اور ان کی زندگی کے لئے مکمل صلاحیت رکھتی ہے ۔ ہاں ‘ ایمان ان کے سامنے مکمل طور پر موجود تھا ‘ ان کی دسترست میں تھا ‘ انہوں نے اور انہوں ہی نے راہ ایمان کو چھوڑ کر کفر کی راہ خرید لی ۔ اور یہ کام انہوں نے اچھی طرح جانتے بوجھتے کیا۔ اس لئے وہ اس بات کے مستحق ہوگئے کہ اللہ انہیں اس حال میں چھوڑ دے کہ وہ کفر کی راہ پر سرپٹ دوڑیں تاکہ وہ اپنا پورا سرمایہ حیات اس راہ میں لگادیں اور ان کے لئے ثواب آخرت میں کوئی حصہ نہ رہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ وہ اللہ کو کوئی نقصان دے سکیں ۔ اس لئے کہ وہ مکمل طور پر گمراہ ہوگئے ہیں اور ان کے پاس سچائی کی معمولی مقدار بھی نہیں رہی ہے ۔ اور گمراہی کے حق میں اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل اور کوئی طاقت نازل ہی نہیں کی ہے ۔ اس لئے اپنی حقیقت کے اعتبار سے باطل کے پاس کوئی قوت نہیں ہوتی ۔ لہٰذا وہ اہل حق اور دعوت اسلامی کو کبھی کوئی مضرت نہیں پہنچاسکتے ۔ کیونکہ ان کے پاس اگر کوئی قوت ہے بھی تو وہ بہت ہی کمزور اور نحیف ہے ۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو پھولاکر دکھائے ‘ اور وقتی طور پر مسلمانوں کو کسی شکست کی وجہ سے رنج والم پہنچ جائے۔ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ…………” ان کے لئے درناک عذاب ہے ۔ “ یہ اس قدر المناک ہوگا جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور اس قدر رنج والم وہ اس دنیا میں اہل اسلام کو نہیں دے سکتے ۔

آل عمران 3:178

وَلا ﻳَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لأنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا وَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ ” جو ڈھیل ہم انہیں دے رہے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں ‘ ہم تو انہیں اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بار گناہ سمیٹ لیں پھر ان کے لئے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے ۔ “ یہاں آکر اب بات اس عقدے پر پہنچ جاتی ہے جو بعض دلوں میں خلجان کا باعث بنا ہوا تھا۔ بعض دلوں میں یہ سوال پیدا ہورہا تھا اور وہ خلجان جسے بعض لوگوں کی روح محسوس کررہی تھی ‘ وہ دیکھ رہے تھے کہ بعض اللہ کے دشمن اور بعض سچائی کے دشمن مہلت پا رہے ہیں اور وہ عذاب الٰہی کی گرفت میں نہیں آرہے ہیں۔ بظاہر خوب کھاتے پیتے ہیں ‘ قوت ‘ حکومت اور مال و مرتبے سے بہرہ ور ہیں اور خود بھی فتنے میں مبتلاہو رہے ہیں ۔ اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی دنیا میں بھی فتنہ سامانیاں کررہے ہیں اور وہ اہل ایمان جن کے ایمان ضعیف ہیں ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں زمانہ جاہلیت کی طرح غیر مناسب تصورات اور خیالات رکھتے ہیں ۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاید اللہ تعالیٰ باطل ‘ شر ‘ انکارحق ‘ کفر اور طغیان پر خوش ہوتا ہے ‘ نعوذباللہ ۔ اس لئے وہ اسے مہلت دیتا ہے اور ان کے لئے رسی ڈھیلی چھوڑتا ہے۔ وہ یہ بھی گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ معرکہ حق و باطل میں کوئی مداخلت نہیں کرتے ‘ اس لئے وہ باطل کو اس کے لئے آزاد چھوڑتے ہیں کہ وہ حق کا سرچھوڑدے اور اللہ اس کی نصرت وامداد کے لئے کچھ نہ کریں ‘ یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید باطل ہی حق ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ اسے پنپنے ‘ بڑھنے اور غالب ہونے نہ دیتے ۔ یا وہ سمجھتے تھے کہ باطل کا حق یہ ہے کہ وہ حق پر غالب آجائے اور جزیرۃ العرب کی پوزیشن یہی رہے ۔ اور سچائی کے حق میں غلبہ نہیں ہے ورنہ کیوں اللہ اہل باطل ‘ ظالموں ‘ باغیوں اور مفسدوں کو یوں چھوڑ دے کہ وہ باطل میں سرگرم رہیں ‘ کفر کی طرف شتابی سے بڑھیں ‘ طغیان میں سرگرداں رہیں اور یہ سمجھیں کہ وہ مستحکم ہوگئے ہیں اور اب کوئی قوت ان کے سامنے کھڑی نہیں ہوسکتی ۔ یہ سب افکار باطلہ تھے ۔ اللہ کے حق میں سوچ بری تھی ۔ معاملہ ایسا نہ تھا اس لئے خود اللہ تعالیٰ اہل کفر کو متنبہ کرتے ہیں کہ ایسا ہرگز گمان نہ کرو ۔ یہ جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ تمہیں گھیرتی نہیں ہے حالانکہ وہ کفر میں تیزی دکھا رہے ہیں ‘ اور یہ کہ انہیں جو اس دنیا میں حظ وافر دیا جارہا ہے جس سے وہ لطف اندوز ہورہے ہیں اور گمراہی میں آگے بڑھ رہے ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے لئے مزیدفتنہ ہے ۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی مضبوط اسکیم ہے اور یہ ان کے لئے سخت آزمائش ہے کہ ان کی رسی ڈھیلی چھوڑی ہوئی ہے ۔ وَلا ﻳَﺤۡﺴَﺒَﻦَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لأنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا……………” یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیئے جاتے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں ‘ ہم تو انہیں اس لئے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بار گناہ سمیٹ لیں ۔ پھر ان کے لئے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے ۔ “ اگر وہ اس بات کے مستحق ہوتے کہ اللہ انہیں ان انعامات سے نکالے ‘ انہیں ایسی ابتلا میں ڈالے جو ان کی آنکھیں کھولنے والی ہو تو ضرور اللہ انہیں ایسی ابتلا میں ڈال دیتے ‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ ان کے لئے کوئی بھلائی نہیں چاہتے ۔ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر خرید لیا ہے ۔ پھر وہ کفر کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اس میں جدوجہد کررہے ہیں ۔ اس لئے اب وہ اس بات کے مستحق ہی نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں اس غفلت اور خواب خرگوش سے جگائے اور ابتلا میں ڈالے ۔ یہ انعامات الٰہی اور سلطنت وقوت کے غرے میں ڈوبے ہوئے ہی بہتر ہیں ۔ اس لئے لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ……………” ان کے لئے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے ۔ “ اہانت آمیز عذاب ہے اور اس کے مقابلے میں اہل ایمان کے لئے بلند مقام ‘ مرتبہ اور انعامات ہوں گے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتلا بھی اللہ کی جانب سے ایک انعام ہوتا ہے اور یہ انعام بھی صرف اس شخص پر ہوتا ہے جس کے لئے اللہ نے خیر و فلاح کا ارادہ کیا ہو۔ اگر ابتلا اللہ کے دوستوں پر ہو تو اس میں ان کی کوئی بھلائی پوشیدہ ہوتی ہے ۔ اگرچہ اللہ کے ان دوستوں کی تصرفات کی وجہ ابتلا ابتداءً آئی ہو اور ان کے اپنے اعمال کے نتیجے میں آئی ہو ۔ بہرحال اس میں کوئی خفیہ حکمت کارفرما ہوتی ہے ‘ کوئی نہایت ہی لطیف تدبیر ہوتی ہے اور اپنے دوستوں پر اللہ کا فضل وکرم مقصود ہوتا ہے۔ یوں دل اپنی جگہ ٹھہر جاتے ہیں ‘ نفس انسانی مطمئن ہوجاتا ہے اور اسلام کے واضح اور سیدھے حقائق مسلمانوں کے تصور کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ اللہ کی حکمت کا یہ تقاضا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ اللہ کی ایک بڑی بھلائی تھی کہ اس نے انہیں چھانٹ کر ان منافقین سے علیحدہ کردیا جو ان کی صفوں میں گھسے ہوئے تھے اور ان کے آنے کے مختلف اسباب تھے ۔ وہ اس لئے نہیں آئے تھے کہ انہیں اسلام کے ساتھ کوئی محبت یا دلچسپی تھی بلکہ وہ مختلف حالات کی وجہ سے اسلامی صفوں میں گھس آئے تھے ۔ اس لئے اللہ نے مسلمانوں کو احد میں ابتلا میں ڈالا اور یہ ابتلا بھی خود ان کی اپنی سوچ اور ان کے بعض کاموں کی وجہ سے ان پر آئی ‘ لیکن اس میں حکمت یہ تھی کہ مجاہدین راہ حق کی صفوں میں سے خبیث اور طیب کے درمیان تمیز ہوجائے ۔

آل عمران 3:179

یہاں یہ آیت قطعی طور پر فیصلہ کردیتی ہے کہ اللہ کی شان یہ نہیں ہے ‘ اس کی الوہیت کا تقاضا یہ نہیں ہے اور اس کی کائنات میں مروجہ سنت یہ نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کی صفوں میں منافقین کو اسی طرح چھپے ہوئے چھوڑدے ۔ حالت یہ ہے کہ منافقین بس دعوائے ایمان کریں ‘ اسلام کا اظہار کریں اور اسلامی صفوں میں چھپے رہیں حالانکہ ان کے دل ایمان کی تروتازگی سے خالی ہوں ‘ اور ان میں اسلام کی روح سرے سے نہ ہو۔ اس امت کو اللہ نے اس لئے برپا کیا ہے کہ وہ اس کائنات میں ایک عظیم کردار ادا کرے ۔ ایک عظیم نظام زندگی کا علم لے کر اٹھے ‘ اس زمین پر ایک منفرد صورت حال پیدا کردے ۔ ایک جدید نظام وجود میں آجائے ۔ اس مشن اور عظیم نصب العین کا تقاضایہ تھا کہ وہ پوری یکسوئی ‘ پوری صفائی اور پوری تمیز کے ساتھ اس نصب العین کو پختہ طریقے سے پکڑے اور یہ تقاضا بھی تھا کہ اس کی صفوں کے اندر کوئی خلل اور کوئی کمزوری نہ ہو ‘ اس کی بنیادوں میں کوئی کمزوری نہ ہو اور مختصر الفاظ میں یوں کہ ان مقاصد کا تقاضا تھا کہ یہ امت اس قدر عظیم ہو جس قدر اس کا یہ نصب العین عظیم ہے ۔ جس نصب العین اور جس ٹارگٹ تک اسے اس کائنات میں پہنچنا ہے ۔ اور آخرت کا بلند مقام و مرتبہ تو بہرحال ان کے لئے اللہ نے تیار کیا ہوا ہے ۔ ان سب باتوں کا تقاضا یہ ہے کہ اسلامی صف ہر وقت جاگتی رہے تاکہ اس سے خبیث عناصر نکل جائیں ۔ وہ کارکنوں پر اس قدر دباؤ رکھے کہ جو اینٹ کچی ہو ‘ وہ پہلے دن ہی بیٹھ جائے ۔ اور ان پر ہر وقت روشنی پڑتی رہے تاکہ اندرونی کمزوریاں اور ضمیر کے اندر برے خیالات کی تطہیر ہوتی رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے بھی ان کی صفوں کو صاف کرنے کے لئے ان کی امداد فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ کی شان کے یہ لائق نہ تھا کہ وہ اپنے دوستوں کی صفوں میں ایسے ناپاک لوگوں کو رہنے دے ۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ بھی نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو غائبانہ باتوں کا براہ راست علم دے دے ۔ اس لئے کہ غیب کا علم تو صرف اللہ کے شایان شان ہے ۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے جس پر انہیں پیدا کیا گیا ہے ‘ اس بات کے اہل نہیں ہیں کہ وہ غیبی اطلاعات کا ادراک کرسکیں ۔ انسانی جسم کی مشینری جو ان کے اندر تخلیق ہوئی ہے وہ اس اسکیم کے مطابق تیار ہی نہیں کی گئی کہ وہ غائبانہ امور کا ادراک کرسکے ۔ الا یہ کہ کوئی خاص مقدار اللہ کسی کو دے دے ۔ اور یہ بھی خصوصی حکمت کے تحت ہوا کرتا ہے یعنی اس قدر جس قدر اس دنیا میں ان کی خلافت فی الارض کے مقاصد کے لئے ضروری ہو۔ اور اس مقصد یعنی انسان کے وظیفہ خلافت فی الارض کے لئے علم غیب کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ انسان کی اس موجودہ مشینری پر علم غیب کے دروازے کھول دے تو یہ مشینری ختم ہوکر رہ جائے ‘ اس لئے کہ وہ علوم غیب کے اخذ کے لئے سرے سے تیار ہی نہیں ہے ۔ صرف اس قدر غیب کا علم اسے درکار ہوتا ہے جس میں اس کی روح کاملاپ اس کے خالق کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کا وجود ‘ وجود کائنات سے مل جاتا ہے ۔ علم غیب پر اطلاع پانے کا کم سے کم نقصان تو یہ ہوگا وہ ہاتھ پاؤں ہلانا چھوڑدے گا ‘ ہر وقت ان نتائج کے بارے میں سوچتا رہے گا جو واقع ہونے والے ہیں ‘ اور وہ اس زمین میں کسی قسم کی ترقی کے لئے سوچ بھی نہ سکے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات اللہ کی شایان شان نہ تھی کہ وہ لوگوں کو علم غیب کی اطلاع دے دے اور نہ یہ اس حکمت اور اسکیم کے مطابق تھی جس کے مطابق وہ اس زمین کو چلارہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پس اللہ خبیث کو طیب سے کیسے جدا کرتا ہے ؟ اور اس کی سنت اور اس کی شان اس تطہیر کے عمل میں کس طرح کام کرتی ہے ؟ اور کس طرح اسے چھانٹ کر رکھ دیتی ہے ؟ وہ کس طرح غبار اور دھند کو دور کرتا ہے ؟ کس طرح منافقین کو الگ کرکے اسلامی صفوں کو پاک کرتا ہے تاکہ مسلمان اس کرہ ارض پر اپنا کردار ادا کرسکیں جس کے لئے مسلمانوں کو بطور امت برپا کیا گیا ہے ۔ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِنْ رُسُلِهِ مَنْ يَشَاءُ…………” اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے۔ “ اللہ تعالیٰ کھرے کو کھوٹے سے اس طرح جدا کرتا ہے کہ اس نے رسولوں کو بھیجا ‘ کوئی ان پر ایمان لایا اور کسی نے ان سے انکار کیا ۔ اور رسالت کے تقاضے پورے کرنے کے لئے سلسلہ جہاد فرض کیا گیا۔ اور جہاد کے اندر لوگوں کو آزمائشوں میں ڈال کر آزمایا گیا ‘ ان تمام اقدامات سے شان الٰہی ظہور میں آتی ہے ۔ یوں اللہ کی سنت کام کرتی ہے اور یوں کھراکھوٹے سے الگ ہوجاتا ہے ۔ دلوں کی تطہیر ہوجاتی ہے ‘ نفوس پاک ہوجاتے ہیں اور اللہ کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ ظاہر ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ کی حکمت کے ایک حصے سے پردہ اٹھتا ہے ۔ یہ حکمت زندگی میں حقیقت بن کر ظاہر ہوتی ہے ۔ اور یہ حکمت ایک مضبوط بنیاد پر ‘ کھلے بندوں ‘ روشن ستارے کی طرح زمین پر استقرار حاصل کرتی ہے……اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے جو روشن ہوتی ہے ‘ جو واضح ہوتی ہے ‘ جو سادہ اور قابل فہم ہوتی ہے ‘ اب اللہ تعالیٰ اہل ایمان کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ذات کے اندر حقیقی ایمان پیدا کریں اور پھر اس حقیقی ایمان کے تقاضے پورے کریں اور انہیں بتایا جاتا ہے کہ آخرت میں ایک فضل عظیم ہے جوان کا منتظر ہے۔ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ……………” اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اگر تم ایمان لاؤ اور خدا ترسی کی روش پر چلو تو تم کو بڑا اجر ملے گا۔ “……واقعات احد کے بیان اور اس کے بعد ان واقعات پر تبصروں اور تنقیدوں کے بیان کے بعد یہ بہترین ہدایت اور مشورہ ہے جو اہل ایمان کو دیا گیا ہے ۔ جنگ احد کے بارے میں قرآن کریم نے جو تبصرہ کیا ہے ‘ اس میں بعض نہایت ہی اہم اور عظیم حقائق کی نشان دہی کی گئی ہے ۔ یہ تو ممکن نہیں ہے کہ ان تمام حقائق کو گنوادیا جائے اور یہاں ان کے بارے میں پوری تفصیلات دی جاسکیں ‘ لیکن مناسب ہے کہ ان حقائق میں سے جو زیادہ عمومی اور شامل اور زیادہ ظاہر ہیں ان کی طرف اشارہ کردیاجائے تاکہ ان اشارات پر وہ تمام واقعات قیاس کرلئے جائیں جو اس غزوہ میں پیش ہوئے ‘ جیسا کہ قرآن کریم نے انہیں عبرت کے طور پیش کیا ہے۔ 1۔ اس معرکے اور اس پر ہونے والے اس طویل تبصرے نے ایک بنیادی حقیقت کا بالکل کھول کر بیان کردیا ہے کہ یہ دین جو درحقیقت انسانوں کے لئے ایک نظام زندگی ہے ‘ اس کا اصل مزاج کیا ہے اور وہ انسانوں کی زندگیوں کے اندر کس طرح کام کرتا ہے ۔ یہ نہایت ہی اساسی اور سادہ اور قابل فہم حقیقت ہے لیکن بسا اوقات اسے بالکل نظر انداز کردیا جاتا ہے یا ابتداءً ہی اس کا ادراک نہیں کیا جاتا اور اس کے بھول جانے اور اس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے اس دین کی فہم میں فاش غلطیاں کی جاتی ہیں۔ نہ صرف یہ کہ اس دین کی حقیقت کے سمجھنے میں بھی غلطی کی جاتی ہے بلکہ اس تاریخ کو سمجھنے میں غلطی کی جاتی ہے اور انسانی زندگی میں اس نے جو کردار ادا کیا یا کرتا ہے یا آئندہ کرے گا اس کے سمجھنے میں بھی نہایت ہی فاش غلطی ہوتی ہے۔ ہم میں بعض لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ دین اسلام جو انسانی زندگی کے لئے اللہ کا تجویز کردہ نظام ہے ‘ اسے معجزانہ طور پر کام کرنا چاہئے ۔ اس میں اس کے انسانی مزاج ‘ اس کی فطری قوت اور کسی وقت میں موجود مادی صورت حال کا کوئی لحاظ نہ رکھاجائے ‘ چاہے انسان ترقی کے کسی درجے میں ہوں ‘ اور جس معاشرے اور ماحول میں بھی ہوں۔ جب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ اسلام اس معجزانہ اور ساحرانہ انداز میں کام نہیں کرتا بلکہ اسلام لوگوں کی بشری طاقت کے مطابق کام کرتا ہے اور یہ انسانی محدود قوت اور انسان کی اصل بنیادی صورت حال باہم دگر مل کر کام کرتے ہیں ۔ بعض اوقات انسان اور اس وقت کی موجود صورت حالات اسلامی نظام سے واضح طور پر متاثر ہوجاتے ہیں ‘ اور یا یہ دونوں مل کر لوگوں کی جانب سے اسلام کی جانب ردعمل کو متاثر کرتے ہیں ۔ بعض اوقات ان دونوں کے اثرات اسلام کے خلاف ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے لوگ کیچڑ کی طرح بھاری ہوکر بیٹھ جاتے ہیں ۔ ان کی نظروں میں لالچ ‘ لذت اور شہوت اس قدر اہم ہوجاتی ہے کہ وہ اسلام کے پیغام کو قبول کرنے کی راہ میں حائل ہوجاتی ہے اور لوگ اسلامی سمت میں نہیں چلتے ۔ جب یہ لوگ ایسی صورت حال دیکھتے ہیں تو وہ مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں اور یہ صورتحال ایسے لوگوں کی توقعات کے خلاف ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ دین اللہ کی جانب سے ہوتا ہے……اور بعض اوقات وہ اس بات میں شبہ کرنے لگتے ہیں کہ آیا یہ دین فی الواقعہ لوگوں کے لئے کوئی مکمل نظام حیات ہے بھی اور اس سے بھی آگے بڑھ کر بعض لوگ سرے سے اس دین کی حقانیت پر شک کرنے لگتے ہیں۔ فکر وعمل کی ان غلطیوں کی بنیاد صرف ایک غلطی پر ہے ۔ وہ یہ کہ ایسے لوگوں نے اس دین کے مزاج ہی کو نہیں سمجھا ۔ اس کے طریقہ کار ہی کو نہیں سمجھا ‘ یا وہ اس حقیقت کو سمجھ کر بھول گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین انسانی زندگی کے لئے ایک منہاج ہے۔ اور اس کا انسانی زندگی کے اندر قیام خالص انسانی جدوجہد پر موقوف کیا گیا ہے ۔ اور اس جدوجہد کو انسانی طاقت کے اندر محدود کیا گیا ہے۔ اور اس دین پر عمل پیرا ہونے کا آغاز وہاں سے کیا جاتا ہے جہاں انسان اپنی مادی زندگی کی ترقی کے مدارج میں سے جد درجے میں موجود ہو ‘ یہ دین انہیں جہاں پاتا ہے وہاں سے لے کر آگے چلتا ہے ۔ اور انہیں اپنے آخری انجام تک پہنچاتا ہے ۔ اور یہ سب کام انسان کی طاقت اور وسعت کے حدود میں کیا جاتا ہے ۔ اور وہاں تک وہ انہیں آگے بڑھاتا ہے جس قدر ان کے اندر طاقت اور وسعت ہو اور جہاں تک وہ پہنچ سکتے ہوں اور پہنچنے کی صلاحیت اپنے اندررکھتے ہوں ۔ اس کام میں اس کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک لحظہ بھی اس کام سے غفلت نہیں کرتا۔ کسی منصوبے میں غفلت نہیں کرتا ۔ کسی اقدام میں غفلت نہیں کرتا ۔ اور فطرت انسانی کے مطابق کام کرتا ہے ‘ انسانی طاقت کے حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کرتا ہے ۔ انسان مادی اعتبار سے جہاں تک ترقی یافتہ ہو اس کے مطابق کام کرتا ہے ‘ اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اسے اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں تک وہ ابھی تک نہیں پہنچ پایا تھا اور تاریخ انسانی میں انسان کے وضع کردہ تمام نظامہائے زندگی کے ادوار میں سے کسی دور میں بھی نہیں پہنچ پایا تھا۔ اسلام نے اپنے یہ کمالات عملاً اس وقت دکھائے جب کبھی بھی ایک مختصر وقت کے لئے اسے نافذ کیا گیا اور آئندہ بھی وہ ایسا ہی کرکے دکھائے گا بشرطیکہ کوشش اس کے نفاذ کی ‘ کی جائے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ غلطی کا آغاز اس دین کے مزاج کو نہ سمجھنے یا سمجھ کر اسے بھلادینے کی وجہ سے ہوا جس طرح ہم نے کیا ۔ اور ہم نے نفاذ دین کے لئے معجزانہ اور ساحرانہ انقلاب کا انتظار شروع کردیا ‘ جو انسانی صورت حال کے مناسب نہیں ہے ‘ جس سے فطرت انسانی بدل جاتی ہے ‘ اور جس سے اسلام کا مزاج بدل جاتا ہے ۔ اور یہ طریقہ کار اس کی فطرت حقیقی سے لگا نہیں کھاتا ۔ اس کی استعداد اور اس کے رجحانات کے بھی خلاف ہے اور جو انسان کے مادی حالات کے بھی خلاف ہیں۔ کیا اسلام من جانب اللہ نہیں ہے ؟ کیا وہ ایسی قوت قادرہ کی طرف سے ارسال کردہ نہیں ہے جسے کوئی قوت عاجز نہیں کرسکتی ؟ تو پھر اسلام کے نفاذ کو کیوں انسانی طاقت کے حدود پر موقوف کردیا گیا اور کیوں اسے انسانی جدوجہد کا محتاج کیا گیا ہے ؟ پھر کیوں ایسا نہیں ہوتا کہ انسان اس کے لئے کام کریں اور وہ ہمیشہ غالب ہی ہوں ؟ کیوں اسلامی لوگ ہمیشہ کامیاب نہیں رہتے ؟ انسان کی خواہشات نفسانیہ ‘ اس کا مزاج اور اس کی مادی صورت حال کیوں اس پر غالب آجاتی ہیں اور کبھی ایسا کیوں ہوتا ہے کہ اہل حق شکست فاش کھاتے ہیں حالانکہ وہ اہل حق ہوتے ہیں ؟ یہ تمام سوالات جیسا کہ ہم نے بیان کیا حقیقی سوالات ہیں اور یہ اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم نے اس دین کے اصل مزاج ہی کو نہیں سمجھا ہے باوجود اس کے کہ اس دین کا مزاج اور اس کا طریق کار نہایت ہی سادہ ہیں یا ہم نے انہیں سمجھتے ہوئے بھلادیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور وہ انسانی فطرت کو بھی تبدیل کرسکتا ہے ۔ چاہے وہ فطرت انسانی کو اس دین کے ذریعہ بدلے یا اس کے لئے کوئی اور طریق کار اختیار کرے اور وہ اس بات پر بھی قادر تھا کہ ابتدائے آفرینش سے انسان کو کسی دوسری فطرت پر پیدا کرتا ۔ لیکن اس کی مشیئت یہ تھی کہ وہ انسان کو اس کی موجودہ فطرت پر ہی پیدا کرے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے پسند کیا کہ انسان کو ذی ارادہ بنائے اور اس کے اندر ہدایت وضلالت قبول کرنے کی صلاحیت ہو۔ اور اس کی مشیئت یہ بھی تھی کہ ہدایت کو ‘ انسان کی جدوجہد اور اس کی جانب سے طلب ہدایت اور اس کی استعداد قبولیت پر موقوف کردیا جائے ۔ پھر اللہ کی مشیئت نے چاہا کہ انسانی فطرت ہمیشہ کام کرتی رہے اور اسے کسی صورت میں مٹایانہ جاسکے ‘ نہ تبدیل کیا جاسکے اور نہ معطل کیا جاسکے اور اس کی مشیئت یہ بھی تھی کہ اسلامی نظام زندگی کو اس کرہ ارض پر بذریعہ انسانی جدوجہد قائم کیا جائے اور انسانی طاقت اور وسعت کے حدود کے اندر قائم کیا جائے ۔ اور یہ بھی مشیئت الٰہی کا ایک حصہ تھا کہ انسان کو وہی کچھ ملے جس قدر وہ اپنی وسعت کے مطابق جدوجہد کرے ۔ اس کی زندگی کے شب وروز کے مطابق اور جو صورت حال فی الواقعہ موجود ہو اس کے دائرے میں۔ انسانوں میں سے کسی کے لئے یہ حق نہیں ہے کہ وہ پوچھے اللہ نے ایسا کیوں چاہا ۔ جب تک انسان بندہ اور خدا الٰہ ہے اس لئے کہ انسان کے پاس اس کائنات کے نظام کا کلی علم نہیں ہے اور نہ اس علم تک کبھی انسان کے پہنچنے کا امکان ہے ۔ نہ انسان کو یہ علم دستیاب ہو سکتا کہ اس کائنات کے ہر موجود کے حوالے سے نظام کائنات کے تقاضے کیا ہیں اور یہ کہ انسان کی موجودہ فطرت کی منصوبہ بندی اور تشکیل کے پیچھے کیا کیا حکمت کارفرما ہے ۔ اس لئے ایسے مقامات پر ایک سچا مسلمان یہ سوال کر ہی نہیں سکتا کہ کیوں ؟ میں سمجھتا ہوں کہ ایک سنجیدہ ملحد بھی یہ سوال نہیں کرسکتا کیوں ؟ مومن تو اس لئے نہیں کرسکتا کہ اسے بارگاہ الٰہ میں بڑا باادب ہونا چاہئے اس لئے کہ اس کا دل ذات باری کی حقیقت اور اس کی صفات سے واقف ہوتا ہے اور اسے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ انسانی ادراک کا یہ میدان عمل ہی نہیں ہے ۔ اور کافر اس لئے یہ سوال نہیں کرتا کہ وہ سرے سے خدا کو تسلیم ہی نہیں کرتا ۔ اگر سے ذات باری کی معرفت ہوتی تو وہ اس کی ذات وصفات کا اعتراف کرلیتا ۔ الوہیت کے تقاضوں کو جانتا۔ ہاں بعض ایسے لوگ جو سنجیدہ نہیں ہوتے اور اخلاقی لحاظ سے گرے ہوئے ہوتے ہیں وہ ایسے سوالات کرتے ہیں ۔ وہ نہ سنجیدہ اور سچے مسلم ہوتے ہیں اور نہ ہی سنجیدہ اور سچے کافر ہوتے ہیں ۔ اس لئے اس سوال میں زیادہ دلچسپی لینا ضروری نہیں ہے اور نہ ہی اسے سنجیدگی کے ساتھ لینا چاہئے ۔ کبھی یوں ہوتا ہے کہ ایک جاہل شخص ذات باری کے متعلق سوال کرتا ہے ۔ اس لئے کہ ایسے جاہل کے سوال کا جواب براہ راست نہ دینا چاہئے ۔ اسے صرف اللہ کی الوہیت کی حقیقت بتادینا چاہئے ‘ تو اگر وہ اسے پالے تو مومن ہے اور اگر نہ پاسکے تو کافر ہے ۔ بس ایسے جاہل کے ساتھ بات یہاں ختم ہوجاتی ہے ۔ ورنہ یہ شخص بحث برائے بحث کررہا ہوگا۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں سے کسی کو یہ سوال اٹھانے کا حق ہی نہیں ہے کہ اللہ نے حضرت انسان کو اس کی اس موجودیہ فطرت کے مطابق کیوں پیدا کیا ؟ کیوں اس کی یہ فطرت کام کرتی رہتی ہے ‘ اسے مٹایا نہیں جاسکتا ۔ اس میں تبدیلی نہیں لائی جاسکتی ۔ اسے معطل نہیں کیا جاسکتا اور پھر کیوں اللہ نے اسلامی نظام زندگی کے قیام کو انسانی جدوجہد پر موقوف کیا اور انسانی طاقت کے اندر جدوجہد کو ضروری قراردیا۔ ہر انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے ۔ وہ دیکھے کہ انسانی فطرت انسانی ماحول کے اندر کس طرح کام کرتی ہے۔ پھر وہ انسانی تاریخ کا مطالعہ اس فطری انداز میں کرے ۔ اس طرح ایک تو وہ تاریخی واقعات کے حقیقی اسباب کو سمجھے گا اور دوسرے یہ کہ اسے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ تاریخ کا رخ کس طرح موڑا جاسکتا ہے ۔ یہ نظام زندگی جسے ہم اسلام کہتے ہیں ‘ جس طرح اسے حضرت محمد ﷺ نے پیش فرمایا ‘ اس زمین پر ‘ ان لوگوں کی دنیا میں ‘ صرف اس بناپر جاری وساری اور قائم نہیں ہوسکتا کہ بس وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے ۔ اور یہ صرف مجرد ” تبلیغ “ اور ” بیان “ سے بھی نافذ نہیں ہوسکتا ۔ اور یہ اس طرح بھی نافذ نہیں ہوسکتا کہ اسے اللہ تعالیٰ ناموس فطرت اور قوانین قدرت کی طرح نافذ کردے ‘ جو اس نے آسمانوں کی گردش ‘ ستاروں کی رفتار اور طبیعی اسباب پر طبیعی نتائج مرتب کئے جانے والے کے سلسلے میں جاری کئے ہوئے ہیں ۔ بلکہ اس کے لئے یہ منہاج رکھا گیا ہے کہ اسے ایک انسانی جماعت لے کر اٹھے ‘ جو سب سے پہلے اس پر اچھی طرح ایمان رکھتی ہو ‘ پھر خود اس پر پوری طرح عمل پیرا ہو اور اپنی طاقت کے مطابق اسے زندگی کا وظیفہ اور نصب العین قرار دے ۔ پھر دوسروں کے دلوں میں اس ایمان کی منتقلی اور ان کی زندگیوں میں اس نظام کے قیام کے لئے یہ جماعت جدوجہد کرتی ہو ‘ اور اس قدر جدوجہد کرے کہ اس سلسلے میں وہ اپنی پوری طاقت لگادے ۔ وہ انسانی کمزوریوں کے خلاف جہاد کرے وہ انسانی خواہشات کے خلاف جہاد کرے اور وہ اپنے نفس کی جہالت اور دوسرے نفوس کی جہالت کے خلاف جہاد کرے ۔ وہ ان لوگوں کے ساتھ جہاد کرے جو انسانی کمزوریوں ‘ خواہشات نفسانیہ اور جہالت کی وجہ سے اس نظام زندگی کی راہ روکے کھڑے ہیں اور اس نظام زندگی کو اس حد تک قائم کردے جس حد تک انسانی مزاج اور طاقت اسے برداشت کرسکتے ہیں اور وہ انسانوں کو اس مقام سے پکڑے جس مقام پر وہ درجہ ترقی کے حوالے سے عملاً موجود ہوں۔ وہ ان انسانوں کے حقیقی حالات زندگی کو نظر انداز نہ کرے ۔ نیز وہ لوگوں کے حقیقی حالات کے تقاضوں کو بھی نظر انداز نہ کرے اور ان حالات اور تقاضوں کے مطابق اس نظام کو چلائے ۔ لوگوں کی یہ جماعت پہلے خود اپنے نفس پر فتح حاصل کرے ‘ اور پھر کبھی وہ اپنے ماحول کے لوگوں پر فتح حاصل کرے اور کبھی یوں ہو کہ وہ اپنے نفس اور اپنے ماحول کے لوگوں سے شکست کھاجائے ۔ یہ بات اس کی جدوجہد کے عین مطابق ہو۔ ان عملی طریقہ ہائے کار کے عین مطابق ہو ‘ جو اس جماعت نے اختیار کئے یا جس قدر اسے اختیار کرنے کی توفیق ہوئی ۔ پھر اس جماعت کے لئے ہر چیز سے پہلے ‘ ہر جدوجہد سے پہلے اور ہر وسیلہ واسلوب سے پہلے ایک دوسرا بنیادی عنصر بھی ضروری ہے ‘ وہ یہ کہ یہ جماعت اس نصب العین کے ساتھ کس قدر مخلص ہے اور وہ کس قدر اپنی ذات کے اندر اسے نافذ کررہی ہے ۔ اور یہ کہ اس نظام کے نازل کرنے والے اللہ کے ساتھ اس کا تعلق کس قدر ہے ؟ اسے اس پر کس قدر اعتماد ہے اور اسے اس پر کس قدر توکل اور بھروسہ ہے ؟ یہ ہے اس دین کی اصل حقیقت اور یہ ہے اس کا طریق نفاذ اور یہ ہے اس کی تحریک کا منصوبہ ۔ اور یہی وہ بات ہے جسے اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو اچھی طرح سمجھانا چاہتے ہیں ۔ واقعہ جنگ احد کے تمام واقعات کے بیان ‘ ان واقعات پر آنے والے تبصروں کا پورا ماحصل یہی ہے ۔ اب یہ کہ احد کے موقعہ پر اسلامی جماعت نے جب مکمل اسلام کو ‘ جس میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے احکام شامل تھے ‘ اپنے نفسوں میں عملی شکل پیش کرنے میں قدرے قصور کیا ‘ اور بعض مواقف پر اس نے بعض عملی اقدامات کرنے میں کوتاہی کی ‘ اور جب اس نے اس مذکورہ بالا عظیم اساسی حقیقت کو سمجھنے میں کوتاہی کی اور اس نے یہ خیال کیا کہ ہم تو بہرحال کامیاب ہوں گے ‘ اس لئے کہ یہ دین اور یہ نظام اللہ کی طرف سے ہے اور اس بنا پر اس نے اپنے تصرفات اور تدابیر کو نظر انداز کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ہزیمت سے دوچار کردیا تاکہ وہ ذرا تلخ تجربات کا مزہ بھی چکھ لے ۔ چناچہ اس تجربے کے بعد قرآن مجید نے ان کی اس غلط فہمی کو اپنے تبصرے کے ذریعہ دور کرنے کی کوشش کی۔ أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّى هَذَا قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ” اور جب تم پر وہ مصیبت آئی جس کے دوگنا تمہارے ہاتھوں سے ان پر آئی تھی تو تم نے کہا یہ کیسے ؟ اے پیغمبر کہہ دو کہ یہ خود تمہارے اپنے نفوس کی وجہ سے ہے ۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ “ جیسا کہ اس سے قبل سیاق کلام میں کہہ آئے ہیں ‘ اللہ اہل ایمان کو اس مقام پر چھوڑ نہیں دیتے بلکہ انہیں اللہ کی تقدیر کے ساتھ پیوستہ فرماتے ہیں جو ان اسباب اور نتائج کی پشت پر کام کررہے ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انہیں بتاتے ہیں کہ اس ابتلا کی پشت پر اللہ کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کے لئے بھلائی چاہتے ہیں ‘ رہی ابتلا تو یہ تو ان پر ان کے اپنے تصرفات اور اسباب ظاہری کی وجہ سے آتی ہے۔ یہ فیصلہ کہ اسلامی نظام زندگی کا قیام ‘ انسانی جدوجہد پر چھوڑدیا گیا ہے اور اس پر ان انسانی اقدامات کا اثر ہوتا ہے جو وہ اس کے حوالے سے کرتے ہیں ۔ اس میں انسان کے لئے بہت بڑی بھلائی ہے ۔ اس لئے کہ اسلامی نظام زندگی میں فساد کے بجائے اصلاح چاہتا ہے ۔ اسے معطل کرنا نہیں چاہتا ۔ وہ انسانی فطرت کی اصلاح اس طرح چاہتا ہے کہ وہ اسے بیدار کرتا ہے اور اسے اعتدال پر لاتا ہے ۔ یہ اس لئے کہ کسی دل میں ایمان اس وقت تک مکمل اور پورا نہیں ہوسکتا جب تک یہ شخص اسلام کے حوالے سے لوگوں کا مقابلہ نہیں کرتا۔ یہ جہاد وہ سب سے پہلے تبلیغ اور بیان کے ذریعہ کرے گا ۔ اس کے بعد وہ مجاہدہ ہاتھ سے کرے گا جب کہ مخالف اسلام قوت زبردستی راہ ہدایت کو مسدود کررہی ہے۔ اس سلسلے میں اس مومن پر ابتلا کا دور بھی آسکتا ہے جس میں اسے صبر سے کام لینا ہوگا ‘ تکالیف برداشت کرنا ہوں گی ‘ ہزیمت اٹھانی ہوگی اور اس پر صبر کرنا ہوگا۔ اگر فتح نصیب ہو تو سنجیدہ رہنا ہوگا۔ اس لئے کہ فتح کے وقت صبر اور سنجیدگی بہ نسبت شکست کے زیادہ مشکل ہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ دل صاف ہوجائے ‘ صفوف کے اندر سے کچا عنصر چھٹ جائے ‘ جماعت اپنی صحیح راہ پر گامزن ہوجائے اور اپنی سیدھی راہ پر اوپر کی طرف چڑھتی جائے اور اس تمام سرگرمی میں متوکل علی اللہ ہو۔ اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ جب تک قلب مسلم ایمان کے معاملے میں لوگوں کے مقابلے میں مجاہدہ اور جہاد نہیں کرے گا ان کے دلوں میں حقیقت ایمان کا بیٹھنا نہایت ہی مشکل ہے ۔ اس لئے کہ لوگوں کے ساتھ مقابلہ اور مجاہدہ سے قبل اس نے اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ کرلیا ہوگا۔ اور اس جہاد کے بعد اس کے سامنے ایمان کے وہ آفاق کھلیں گے جو اس کے سامنے کبھی نہیں کھل سکتے جب تک وہ بیٹھا ہواہو ‘ پرامن زندگی گزارنے کا عادی ہو اور ہر کسی کے ساتھ مسالمت کررہا ہو اور ہر حال میں نباہ رہا ہو۔ جب وہ جہاد شروع کرے گا تو اسے لوگوں کے اندر حقائق نظر آئیں گے ‘ زندگی کے اندر کچھ حقائق اس پر روشن ہوں گے جو ہرگز اس پر روشن نہیں ہوسکتے تھے جب تک وہ مجاہدہ فی سبیل اللہ نہیں شروع کرتا ۔ اس جہاد فی سبیل اللہ ہی کے نتیجے میں اس کا نفس ‘ اس کا شعور ‘ اس کے تصورات ‘ اس کی عادات ‘ اس کا مزاج ‘ اس کے تاثرات اور اس کی قوت قبولیت حق اس مقام تک پہنچ جائیں گے جہاں تک اس کے بغیر وہ ہرگز نہ پہنچ سکتا تھا۔ غرض جہاد کا یہ شاق اور تلخ تجربہ انسان کو کندن بنا دیتا ہے۔ اسی طرح کسی جماعت مسلمہ کے اندر بھی ایمان کی حقیقت اس وقت تک مکمل اور مضبوط نہیں ہوسکتی جب تک وہ تجربہ ‘ امتحان اور ابتلا میں نہ پڑے ۔ اور جب تک اس کا ہر فرد اپنی قوت کی حقیقت سے واقف نہ ہو۔ جب تک اس فرد کو اپنے نصب العین کا پتہ نہ ہو ۔ اسی طرح اس جماعت کو بھی اپنی تمام اینٹوں کا پتہ نہ ہو جن سے وہ بنی ہے ۔ یوں کہ ہر اینٹ کس قدر بوجھ سہار سکتی ہے اور یہ کہ مشکل اور ٹکر کے وقت وہ اینٹیں ایک دوسرے کے ساتھ کس قدر پیوست ہیں ۔ یہ تھی وہ حکمت جس کو اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو سمجھانا چاہتے تھے ‘ اور یہ حکمت اس کو تربیت کے اس کورس میں اسے سمجھائی گئی جو میدان احد میں اسے دیا گیا۔ اور اس کے بعد پھر واقعات احد پر اس سورت میں جو تبصرہ کیا گیا ‘ اس میں بھی اسی حکمت کو اسے سمجھایا گیا۔ جبکہ ظاہری اسباب شکست کے بیان کے بعد اللہ نے فرمایا :” جو نقصان لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا ‘ اور اس لئے تھا کہ اللہ دیکھ لے تم میں سے مومن کون ہیں اور منافق کون ہیں ۔ “ اور دوسری جگہ فرمایا ” اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم لوگ اس وقت پائے جاتے ہو۔ وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کرکے رہے گا ۔ “ اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں اللہ کی حکمت اور تقدیر کی طرف حوالے کرتا ہے ‘ یعنی ان اسباب کی پشت پر جو تقدیر اور حکمت تھی ۔ چناچہ انہیں ایمان کی اس عظیم حقیقت اور سچائی کی طرف موڑتا ہے جو اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک وہ نفس انسانی کے اندر بیٹھ نہیں جاتی ۔ فرماتے :” اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے فریق مخالف کو بھی لگ چکی ہے۔ یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں ۔ تم پر یہ وقت اس لئے لایا گیا ہے کہ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم میں سچے مومن کون ہیں اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی راستی کے گواہ ہیں کیونکہ اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ۔ اور وہ آزمائش کے ذریعہ مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کرنا چاہتا تھا۔ “ تو گویا یہ اب اللہ کی تقدیر ہے ‘ اس کی تدبیر ہے اور اس کی حکمت ہے ‘ جو ان اسباب کی پس پشت کام کررہی ہے ‘ ان واقعات کے پیچھے کام کررہی ہے ۔ اور ان تمام اشخاص اور ان کی تمام حرکات کے پیچھے حقیقی موثر ہے ۔ اور یہی اسلام کا کامل اور شامل اور جامع تصور ہے ۔ اور یہ تصور ان واقعات کے نتیجے میں انسانی ذہن میں بیٹھ جاتا ہے ۔ اور پھر ان واقعات پر جو تبصرہ کیا گیا ہے ‘ اس میں بھی اس کی طرف واضح اشارات موجود ہیں ۔ 2۔ اس معرکے کے واقعات اور ان تبصروں کے ذریعہ ایک دوسری حقیقت واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے ۔ یعنی نفس انسانی ‘ فطرت انسانی ‘ انسانی جدوجہد کے مزاج ‘ اور ان تمام امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان میں فریضہ اقامت دین کے حصول کے امکانات ……حقیقت یہ ہے کہ نفس انسانی کامل نہیں ہے اور یہ اپنی حقیقت واقعیہ کے اعتبار سے کامل نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ ارتقاء اور ترقی کے اہل بھی ہے اور وہ اس میدان میں ترقی و کمال کی انتہاؤں کو چھوسکتا ہے ‘ جو انتہاء اور حد اس کے لئے مقرر کردی گئی ہے ۔ دیکھئے ہم انسانی جماعتوں میں سے ایک جماعت کا مطالعہ کرتے ہیں ‘ اور یہ جماعت اپنی حقیقی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔ یہ جماعت گروہ صحابہ کی صورت میں ہے ‘ جس کے بارے میں قرآن کریم کہتا ہے كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ……………(تم سب سے بہترین امت ہو ‘ جسے لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے ) اور یہ خیر امت رسول اکرم ﷺ کے صحابہ تھے ۔ یہ تمام انسانیت کی روح اور زمین کا نمک تھے۔ لیکن اس جماعت صحابہ کا جو مطالعہ اس سورت میں پیش کیا گیا ہے ” تم میں سے جو لوگ مقابلے کے دن پیٹھ پھیر گئے ان کی لغزش کا سبب یہ ہے کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگادیئے تھے ۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ “ اور بعض دوسرے صحابہ کے بارے میں ہے ” مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور کام میں باہم اختلاف کیا ‘ اور جو نہی کہ وہ چیز تمہیں دکھائی دی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے تو تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کربیٹھے ۔ اس لئے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے ۔ “ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ……………” اور دراصل تمہاری اس لغزش کو اللہ نے معاف کردیا۔ “……انہی کے بارے میں قرآن کہتا ہے ” جب تم میں دوگروہوں نے یہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ کمزوری دکھائیں اور اللہ تو ان کا مددگار تھا ‘ اللہ ہی پر اہل ایمان کو توکل کرنا چاہئے ۔ “ انہی حضرات میں سے بعض لوگ شکست کھاتے ہیں اور وہ کھل کر سامنے آجاتے ہیں اور ان کی ہزیمت کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے ‘ کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا۔ اور رسول تمہارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا ۔ اس وقت تمہاری ‘ اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیئے تاکہ آئندہ کے لئے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اس پر ملول نہ ہو۔ “ جنگ بدر کے شرکاء سب کے سب مومن اور مسلم تھے ۔ لیکن یہ اسلام کا ابتدائی دور تھا ۔ اس وقت جماعت کی تربیت اور تشکیل ہورہی تھی ۔ لیکن وہ اسلامی نظریہ حیات اپنانے میں سنجیدہ اور سچے تھے ۔ انہوں نے اپنا تمام معاملہ اللہ کے سپرد کردیا تھا۔ اللہ کی راہنمائی پر راضی ہوگئے تھے ۔ انہوں نے اس نظام زندگی کے آگے سرتسلیم خم کرلیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انہیں اپنے جوار رحمت سے دھتکار نہ دیا ۔ ان پر رحم فرمایا اور انہیں معاف کردیا ۔ اور رسول اللہ ﷺ کو بھی حکم دیا کہ وہ انہیں معاف کردیں ۔ اور ان کے لئے مغفرت طلب کریں ۔ اور اللہ نے رسول ﷺ کو یہ حکم بھی دیا کہ آپ ﷺ ان سے مشورہ بھی لازماً کریں ۔ باوجود اس کے کہ ان سے غلطیاں ہوئیں ‘ باوجود اس کے کہ مشورے کے نتیجے میں ‘ احد میں نقصان ہوا۔ اللہ نے انہیں اپنے معاملات اور تصرفات کے نتائج کا مزہ چکھنے دیا۔ اور انہیں ایسے سخت اور تلخ ابتلا میں ڈالا ۔ لیکن ان غلطیوں کے باوجود انہیں اسلامی صفوں سے باہر نکال کر نہیں پھینک دیا ۔ اور یہ حکم صادر نہیں کیا :” جاؤ تم اس کام کے لئے فٹ نہیں ہو ‘ کیونکہ تجربے نے ثابت کردیا ہے کہ تم سے کمزوریاں سرزد ہوئیں اور تم نے غلطیاں کیں۔ “ بلکہ اسلام نے ان کی غلطیوں اور کمزوریوں کو قبول کرلیا ۔ اس ابتلا میں ڈال کر ان کی تربیت کی ۔ اس کے بعد ان کی غلطیوں پر مزید تبصرہ کرکے مزید تربیت کی ۔ اور اس کے بعد نصیحت کرکے اور ہدایات دے کر مزید تربیت کی ۔ اور یہ نصیحت اور یہ وعظ بھی نہایت ہی مشفقانہ انداز میں عفو و درگزر کے ساتھ کیا ۔ جس طرح ایک بزرگ اپنے بچوں کی تربیت کرتا ہے ۔ وہ آگ سے جلائے جاتے ہیں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ آگ جلاتی ہے اور تاکہ وہ ہوشیار ہوجائیں ۔ اللہ نے ان کے ضعف کو ان پر آشکارا کیا اور ان کے دلوں کی خفیہ سوچوں سے بھی انہیں آگاہ کردیا ۔ اس لئے نہیں کہ انہیں شرمندہ کیا جائے ‘ یا ذلیل کیا جائے ‘ یا حقیر سمجھاجائے یا یہ کہ انہیں مجبور کیا جائے اور ان پر وہ بوجھ ڈالا جائے جس کے وہ متحمل نہیں ہوسکتے ‘ بلکہ اس لئے کہ ان کے ہاتھ پکڑے جائیں ‘ انہیں ہدایت دی جائے ۔ ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کی جائے اور وہ اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھیں اور کبھی بھی مایوس نہ ہوں جب تک وہ اللہ کی مضبوط رسی کو تھامے ہوئے ہیں ۔ اس تربیت کے بعد وہ اپنے اصل مقام پر آگئے ۔ اپنی آخری منزل تک پہنچ گئے اور ان کے اندر وہ رنگ پیدا ہوگیا جو احد کے معرکہ کے آغاز میں تھا ۔ آج ہزیمت اور چوٹ لگنے پر ایک ہی رات گزری ہے ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تعاقب کے لئے نکل رہے ہیں ۔ آج نہ ان کے دل میں ڈر تھا نہ تردد تھا۔ آج وہ ڈرانے والوں کی باتوں کو خاطر ہی میں نہ لارہے تھے ‘ جو انہیں ان الفاظ میں ڈرا رہے تھے : الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ ” جن سے لوگوں نے کہا کہ تمہارے خلاف فوجیں جمع ہوئی ہیں ‘ ان سے ڈرو ۔ تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کارساز ہے ۔ “ اور اس کے بعد جب افراد جماعت بڑے اور بالغ ہوتے گئے تو ان کا معاملہ بھی بدلتا گیا اور ان کا محاسبہ اس طرح کیا جانے لگا جس طرح بڑے اور بالغ افراد کا کیا جاتا ہے ۔ لیکن ابتداء میں ان کی تربیت اسی طرح تھی جس طرح بچوں کی تربیت کی جاتی ہے ۔ جو شخص غزوہ تبوک کے حالات پڑھے گا (سورت برأت میں) چند افراد اس غزوے سے پیچھے رہ گئے تھے ۔ رسول ﷺ نے ان کا سخت محاسبہ کیا ۔ یہ بہت ہی سخت محاسبہ تھا ۔ اس سے احد اور تبوک کی پالیسی کے درمیان واضح فرق نظرآئے گا اس لئے کہ اب جماعت تربیتی لحاظ سے بہت ہی آگے جاچکی تھی ۔ لیکن جب یہی لوگ احد میں تھے ‘ تو ان سے نرمی کی گئی ۔ اس لئے کہ اب تبوک کے معاملے میں وہ تربیت کے آخری مرحلے میں تھے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ تھے تو انسان ۔ پھر بھی ان میں انسانی کمزوری تھی ‘ غلطی ہوگئی ‘ لیکن ان کے اندر غلطی کا اعتراف اور توبہ کا داعیہ موجود تھا ‘ آخرکار معافی ہوئی ۔ غرض اسلامی زندگی کے اندر انسان کی بششریت کو ہمیشہ پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اسے تبدیل نہیں کیا جاتا ‘ اسے معطل نہیں کیا جاتا اس پر اس قدر بوجھ نہیں ڈالا جاتا کہ اس کی طاقت سے باہر ہو۔ اگرچہ اسلامی نظام زندگی اسے اس دنیا میں اس مقام بلند تک پہنچاتا ہے جو اس کے لئے مقدر ہو۔ اسلام کا یہ طرز عمل اس نقطہ نظر سے بہت ہی اہم ہے کہ وہ انسان کو ہمیشہ امید کی کرن سے نوازتا ہے تاکہ وہ سعی برائے کمال جاری رکھے اور آگے بڑھے ۔ لیکن اسلامی نظام زندگی کے سایے میں ‘ یہ جماعت جس مقام بلند تک پہنچی وہ اس گرے ہوئے مقام سے اپنے سفر کا آغاز کرکے پہنچی جس میں وہ اس وقت پڑی تھی ‘ جب اسلام آیا راستے میں اس سے لغزشیں ہوتی رہیں ‘ اس لئے کہ راستہ دشوار گزار تھا ‘ اور وہ جماعت بہرحال ایک انسانی جماعت تھی اور ایک نہایت ہی پسماندہ سوسائٹی سے اٹھی تھی جو جاہلیت میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ ہر لحاظ سے پسماندہ تھی جب کہ ہم نے اس کے نمونے تشریح آیات کے وقت پیش کئے ۔ اسلام کی اس پالیسی کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ انسانیت کو اس مقام بلندتک پہنچنے کی امید سے مالا مال کردیتا ہے ۔ اگرچہ کسی معاشرے کے موجودہ حالات بد سے بدتر ہوں ۔ پھر اس پسماندہ سوسائٹی سے امت کو اٹھاکر اسلام اس قدر ترقی دیتا ہے کہ اس کی مثال آج تک پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ ابھی تک اس مثال کو دہرایا نہیں جاسکا حالانکہ یہ کوئی معجزانہ انقلاب نہ تھا ‘ جواب ناقابل اعادہ ہے بلکہ یہ ایک ایسا انقلاب تھا جو اسلامی زندگی کے تحت رونما ہوا ‘ جو انسانی جدوجہد کے نتیجے میں رونما ہوا۔ انسانی طاقت کے حدود کے اندر رونما ہوا ۔ آج بھی یہ انقلاب اسی انسانی طاقت کے بل بوتے پر برپا کیا جاسکتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ انقلاب ممکن ہے ۔ غرض اسلامی زندگی پر سوسائٹی کو وہاں لیتا ہے جہاں وہ موجود ہوتی ہے اور جہاں تک وہ مادی ترقی کرچکی ہوتی ہے ۔ اس کے بعد وہ اسے مزید ترقی دیتا ہے جب کہ اس نے عربوں کی جاہلیت زدہ پسماندہ سوسائٹی کے ساتھ کیا جو نہایت ہی ابتدائی مدارج پہ تھی ۔ نہایت گری ہوئی اور اس سوسائٹی کو اسلام نے نہایت ہی ایک مختصر عرصے میں جو ربع صدی سے بھی کم تھا ‘ اوج کمال تک پہنچایا۔ لیکن اس کے لئے واحد شرط ضروری ہے ۔ وہ یہ کہ کوئی انسانی سوسائٹی اپنی نکیل اس نظام کے ہاتھ میں دے دے ۔ اس پر ایمان لائے ‘ اس کے آگے سرتسلیم خم کردے ۔ وہ اسے اصول حیات بنادے ‘ وہ اسے اپنی تحریک کا شعار بنادے ‘ اور اس طویل اور دشوار گزار سفر میں اس کے ساتھ ہم قدم ہوجائے ۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

آل عمران 3:180

درس 28 ایک نظر میں یہاں تک معرکہ احد کا بیان ختم ہوجاتا ہے لیکن جماعت مسلمہ اور اس کے اردگرد نواح میں پھیلے ہوئے دشمنان اسلام کے ساتھ معرکہ آرائی ابھی ختم نہ ہوئی تھی ۔ خصوصاً یہودیوں نے مباحثے اور مجادلے شروع کر رکھے تھے ‘ تشکیک اور بےچینی پیدا کرنا ‘ سازشیں اور کینہ پروری اور گھات میں بیٹھ کر وار کرنے کے مواقع تلاش کرنا ۔ اس معرکے کے اردگرد یہ اس سورت کے اکثر مباحث پھیلے ہوئے ہیں اور گھومتے ہیں ۔ رسول اکرم ﷺ نے قبیلہ بنی قینقاع کو مدینہ کے قرب و جوار سے جلاوطن کردیا تھا کیونکہ غزوہ بدر کے بعد وہ سخت بوکھلا گئے تھے اور انہوں نے سازشیں شروع کردی تھیں ۔ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردی تھی اور جو عہد و پیمان ان کے ساتھ ہوئے تھے ان کو وہ کھلے بندوں توڑتے تھے ۔ یہ عہد ان کے ساتھ رسول ﷺ کے مدینہ طیبہ میں ہجرت کرنے کے متصلاً بعد ہوئے تھے ۔ اور اس وقت ہوئے تھے کہ اوس وکذرج کی اکثریت اسلام میں داخل ہونے کی وجہ سے مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوگئی تھی ۔ لیکن مدینہ کے اردگرد بنی النضیر ‘ بنوقریظہ ابھی موجود تھے ۔ اس کے علاوہ خیبر کے یہودی اور ان کے علاوہ جزیرۃ العرب کے دوسرے یہودی بھی موجود تھے ۔ یہ سب لوگ باہم مراسلت کرتے تھے ‘ فوجیں جمع کررہے تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے ساتھ رابطے قائم کررہے تھے اور مدینہ اور مدینہ کے اردگرد کے کفار کے ساتھ اور مکہ کے مشرکین کے ساتھ کے روابط قائم تھے ۔ اور مسلمانوں کے خلاف انہوں نے نہ ختم ہونے والی سازشوں کا سلسلہ شروع کررکھا تھا۔ قُلْ لِلَّذِينَ كَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَى جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمِهَادُ (12) قَدْ كَانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ الْتَقَتَا فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأُخْرَى كَافِرَةٌ يَرَوْنَهُمْ مِثْلَيْهِمْ رَأْيَ الْعَيْنِ وَاللَّهُ يُؤَيِّدُ بِنَصْرِهِ مَنْ يَشَاءُ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَعِبْرَةً لأولِي الأبْصَارِ (13) ” تمہارے لئے ان دوگروہوں میں نشان عبرت تھا ‘ جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبردآزما ہوئے ۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا تھا اور دوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشم سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دوچند ہے ۔ (مگر نتیجے نے ثابت کردیا کہ ) اللہ اپنی فتح ونصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے۔ دیدہ بینا رکھنے والوں کے لئے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے ۔ “ جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو اللہ کی جانب سے آیا ہوایہ ڈراوا پہنچایا ‘ جو اس لئے نازل ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں تھیں وہ تمام سرگرمیاں جو وہ ان دنوں دکھا رہے تھے اور جس غصے کا اظہار ان کی جانب سے ہورہا ہے اور بدر کے بعد تو وہ مسلسل سازشوں میں لگے ہوئے تھے تو انہوں نے اس ڈراوے کو بہت ہی برے اور حقارت آمیز طریقے سے رد کردیا ۔ انہوں نے کہا :” محمد ! اپنے آپ کو غرور میں نہ ڈالو ‘ تم نے بیشک قریش کے بعض لوگوں کو قتل کردیا ۔ یہ لوگ ناتجربہ کار تھے ۔ انہیں کیا پتہ تھا کہ جنگ کس طرح لڑی جاتی ہے ۔ اللہ کی قسم ! اگر تم نے کبھی ہم سے جنگ لڑی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم لوگ کچھ ہیں ۔ یقیناً تم ہم جیسے لوگ نہ پاؤگے ۔ “ اس جواب کے بعد وہ سازشوں میں شریک ہوگئے ۔ اس سورت میں ان کی سازشوں کے کچھ رنگ نقل کئے گئے ہیں ۔ یہاں تک کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے جو عہد و پیمان کیا تھا ‘ اسے انہوں نے توڑدیا ۔ رسول ﷺ نے ان کا محاصرہ کرلیا ۔ چناچہ وہ رسول ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈالنے کے لئے آمادہ ہوگئے ۔ رسول ﷺ نے انہیں مدینہ سے جلاوطن کرکے ” اذرعات “ بھیج دیا ۔ یہودیوں کے مدینہ میں صرف دو گروہ رہ گئے بنوقریظہ اور بنو النضیر جو عہد کی پابندی بظاہر کررہے تھے لیکن خفیہ طور پر یہ بھی سازشوں ‘ مکاریوں ‘ دھوکہ بازی ‘ فتنہ بازی اور افواہیں پھیلانے میں مصروف تھے ۔ غرض یہ لوگ وہ تمام کام کرنے لگے جو یہود اپنی پوری تاریخ میں بڑی مہارت سے کرتے آئے ہیں ۔ اور کتاب اللہ میں اسے بالکل تفصیلات کے ساتھ ریکارڈ کیا گیا ہے اور پوری کرہ ارض کی آبادی کو ان سے خبردار کیا گیا ہے کہ اس زمین پر یہ ایک ملعون قوم ہے ۔ اس سبق میں بنی اسرائیل کے بعض اقوال وافعال کو لیا گیا ہے ۔ نظر آتا ہے کہ وہ بارگاہ رب العزت میں بھی بےادبی کرنے پر اتر آئے تھے ۔ مسلمانوں کے ساتھ برا رویہ تو ان کے لئے کوئی بات ہی نہ تھی ۔ یہ لوگ میثاق مدینہ کے مطابق اپنی مالی ذمہ داریاں ادا کرنے سے پہلو تہی کرتے تھے جو معاہدہ انہوں نے خود نبی ﷺ کے ساتھ کیا تھا ‘ وہ کہتے تھے اِنَّ اللّٰہَ فَقِیرٌوَّنَحنُ اَغنَیَآءُ……………” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ “ اس سبق میں یہودیوں کے وہ واہی دلائل بھی ملیں گے جو وہ دعوت اسلامی کے خلاف پیش کیا کرتے تھے ‘ جب بھی یہ دعوت انہیں دی جاتی ۔ یہ دلائل سب کے سب جھوٹے ہوتے اور تاریخی اعتبار سے بھی ان کی کوئی اصل نہ ہوتی ۔ مثلاً یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کی بھی خلاف ورزی کررہے تھے ۔ وہ عہد یہ تھا کہ وہ اللہ کے احکام اور سچائی کو بیان کریں گے اور کبھی نہیں چھپائیں گے ۔ انہوں نے اس عہد کو توڑ دیا تھا ‘ پس پشت ڈال دیا تھا اور اس کے بدلے انہوں نے مالی فوائد حاصل کئے ۔ اپنے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ‘ حالانکہ یہ پیغمبر ان کے پاس خارق عادت معجزات حسب الطلب ظاہر کرچکے تھے ۔ نیز وہ پیغمبر واضح دلائل کے ساتھ آئے تھے مگر ان یہودیوں نے ان کو مسترد کردیا۔ یہودیوں کے ان شرمناک اقوال وافعال کے ذکر کی وجہ سے ‘ انبیاء کے ساتھ ان کے برتاؤ اور بارگاہ باری تعالیٰ میں ان کی گستاخیوں کے اظہار بیان کی وجہ سے ‘ مدینہ کے ارد گرد بسنے والے یہودی اس نوخیز جماعت مسلمہ کے دشمن ہوگئے تھے ۔ نیز اس سبق میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ یہودیوں اور مشرکین کی سازشوں اور ایذا رسانیوں سے مسلمانوں کو کس قدر تکلیف ہورہی ہے ۔ ان امور کا ذکر جماعت مسلمہ کی تربیت کے لئے یہاں نہایت ہی ضروری تھا ۔ تاکہ وہ اپنے ماحول سے علی وجہ البصیرت خبردار ہوں کہ ان کے اردگرد جو لوگ رہ رہے ہیں وہ کون ہیں۔ تاکہ اہل ایمان کو اس سرزمین کے حالات اچھی طرح معلوم ہوجائیں جس میں وہ کام کررہے ہیں ۔ نیز یہ کہ ان کی راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں ‘ کہاں کہاں ان کے لئے دام زیر زمین بچھے ہیں ۔ اور اس راہ میں ان کے لئے کیا کیا مصائب تیار ہیں ۔ مدینہ طیبہ میں یہودی مسلمانوں کے خلاف جو سازشیں کررہے تھے ‘ وہ ان عداوتوں سے کم خطرناک تھیں جو مکہ کے مشرکین مسلمانوں کے ساتھ روا رکھتے تھے۔ غالباً مسلمانوں کے خلاف پوری تاریخ اسلام میں جو سازشیں ہوتی ہیں وہ یہودی کرتے رہے ہیں ۔ ہمیشہ یہ لوگ مسلمانوں کے لئے خطرناک رہے ہیں ۔ اس اثر آفریں سبق میں پے درپے اس سلسلے میں ہدایات دی گئی ہیں ۔ مسلمانوں کو بتایا جاتا ہے کہ کون سی اقدار ہیں جو دائمی ہیں اور کون سی اقدار زائل ہونے والی ہیں ۔ اس لئے کہ اس دنیا میں زندگی کی ایک محدود وقت کے لئے ہے ۔ ہر نفس ایک دن موت سے ہمکنار ہونے والا ہے ۔ اصل جزء تو آخرت میں ملے گی ۔ اصل کمائی اور خسارے کا پتہ تو وہاں لگے گا ۔ وہاں جو شخص آگ سے بچالیا گیا اور جنت میں داخل ہوگیا تو گویا وہ کامیاب رہا۔ اور دنیا تو ایسے ساز و سامان سے اٹی پڑی ہے جو ہر وقت دھوکے میں ڈال سکتا ہے ۔ اور یہ ہمارے اموال ‘ ہماری جانیں ہمارے پاس اللہ کی امانت ہیں ۔ اہل کتاب اور مشرکین کی جانب سے اذیت تمہیں پہنچتی رہے گی۔ صرف صبر ‘ اللہ خوفی اور اسلام پر پختگی سے عمل ہی تمہیں آگ سے بچاسکتا ہے اور یوں ان سازشوں سے بھی بچاجاسکتا ہے۔ مدینہ کی پہلی جماعت کو جو ہدایات دی گئی ہیں ‘ وہ آج بھی ہمارے لئے تازہ ہدایات ہیں ۔ کل بھی ہمارے لئے یہی ہدایات ہیں ۔ جو لوگ اسلام کو ازسر نو قائم کرنا چاہتے ہیں اور جو لوگ اسلامی زندگی کا قیام چاہتے ہیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ ان کے دشمنوں کا وہی مزاج ہے جو مدینہ کے دشمنوں کا تھا۔ یہ دشمن وہی مشرکین اور اہل کتاب کے ملحدین ہیں ۔ آج یہودی عالمین صہیونیت کی شکل میں آئے ہیں ۔ عیسائی عالمی صلیب کی شکل میں ہیں ۔ اور عالمی کمیونزم کی شکل میں ہیں ۔ آج بھی تحریک اسلامی کو بتایا جاتا ہے کہ اس کی راہ میں جو مشکلات ہیں ‘ جو دام رکھے ہوئے ہیں ‘ ان کے وہی قربانیاں ہیں ‘ وہی اذیتیں ہیں اور وہی ابتلاء ہیں ۔ لیکن تم اپنی نظر آخرت پر رکھو ۔ مالی اور جانی نقصانات برداشت کرنے پڑیں گے ۔ لیکن تمہیں پہلی جماعت اسلامی کی طرح آج بھی وہی سبق یاد کرنا ہوگا۔” آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے ۔ اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو ‘ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے ۔ رہی یہ دنیا ‘ تو یہ محض ایک ظاہر فریب دینے والی چیز ہے ……مسلمانو ! تمہیں مال اور جان دونوں آزمائشیں پیش آکر رہیں گی ‘ اور تم ابھی اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے ۔ اگر ان سب حالات میں صبر اور اللہ ترسی کی روش قائم ہوئے تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔ “ غرض قرآن وہی قرآن ہے جو تھا ‘ اس کی حیثیت وہی ہے کہ یہ اس امت کے لئے دائمی ہدایات پر مشتمل کتاب ہے ۔ یہ اس امت کا حدی خواں اور رہبر ورہنما ہے۔ یہ اس کے لئے قابل اعتمادقائد ہے……لیکن اس کے دشمن بھی وہی دشمن ہیں ‘ جو تھے اور انقلاب کی راہ بھی وہی ہے جو تھی ۔ اس مجموعہ آیات میں پہلی آیت کے بارے میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے کہ اس میں بخیلوں سے مراد کون لوگ ہیں اور یہ کہ بخل کے فعل مذموم سے کن لوگوں کو ڈرایا گیا ہے ؟ اور یہ کہ قیامت میں ان کا انجام یہ ہوگا لیکن جس مقام پر یہ آیت ہے ‘ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق بعد میں آنے والی آیات سے ہے جو یہودیوں کے بارے میں وارد ہیں ‘ اس لئے کہ یہ یہودی ہی تھے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ اور یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ نے ہم سے یہ وعدہ کیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول کو نہ مانیں جب تک وہ ایسی قربانی نہ لے آئیں جسے آگ جلادے ۔ “ اصل بات یہ ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں ہے جنہیں اس وقت یہ دعوت دی جارہی تھی کہ وہ میثاق مدینہ کے مطابق جن مالی ذمہ داریوں کے پابند ہیں ‘ انہیں وہ ادا کریں ۔ اور یہ دعوت بھی انہیں دی گئی تھی کہ وہ نبی آخرالزمان کی دعوت کو قبول کرلیں اور اللہ کی راہ میں انفاق کریں۔ چناچہ یہ تہدید آمیز ڈراوا نازل ہوا ‘ اور اس کے بعد یہودیوں کی ان کٹ حجتی دلائل کو رد کیا گیا جو وہ رسول اللہ ﷺ پر ایمان نہ لانے کے لئے پیش کرتے تھے ۔ ان دلائل میں نہایت ہی گستاخانہ طرز ادب اختیار کرتے تھے اور یہ بےادبی دراصل وہ اپنے رب کی کرتے تھے ۔ یہودیوں کو تہدید آمیز تنبیہ کے رسول اکرم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے ‘ کہ ٹھیک ہے کہ یہ یہود آپ کی تکذیب کررہے ہیں لیکن آپ سے قبل جو رسول گزرے ہیں اس کے ساتھ بہ نسبت آپ کے سخت رویہ ان کی اقوام نے اختیار کیا تھا۔ ان رسولوں میں سے انبیاء بنی اسرائیل بھی تھے جو ان کے پاس باقاعدہ دلائل لے کر آئے تھے ‘ انہوں نے حسب طلب معجزات بھی پیش کئے جیسا کہ تاریخ بنی اسرائیل میں مشہو رہے۔ اس آیت کا مفہوم عام ہے ۔ اس سے یہودی بھی مراد ہوسکتے ہیں جو میثاق مدینہ کے تحت عائد ہونے والی مالی ذمہ داریوں میں بخل سے کام لیتے تھے اور دوسرے لوگ بھی اس کے مدلول میں شامل ہیں جو اپنے دئیے سے خرچ نہیں کرتے اور بخل سے کام لیتے ہیں ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بخل ان کے لئے خیر ہے کہ ان کے مال اس سے محفوظ ہوتے ہیں اور انفاق کی وجہ سے یہ اموال جاتے ہیں۔ یہ آیت انہیں اس قسم کے جھوٹے حساب و کتاب سے منع کرتی ہے ‘ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ وہ جو کچھ جمع کرتے ہیں قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا اور یہ طوق آگے سے بنے گا ۔ یہ ایک نہایت خوفناک تہدید ہے ۔ انداز تعبیر اس طرح ہے کہ اس میں بخل کو زیادہ بدشکل کرکے پیش کرتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور وہ پھر بھی بخل کرتے ہیں ۔ وہ اپنے ذاتی مال میں بخل نہیں کررہے بلکہ اللہ کے دئیے میں بخل کرتے ہیں ۔ وہ جب اس دنیا میں آئے تھے تو ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا ۔ نہ ان کے ہم قبیلہ لوگوں کے پاس کچھ تھا ۔ تو اللہ نے ان پر اپنا فضل کیا اور ان کو سب کچھ دے دیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ خود اس کے دئیے میں سے اسے کچھ دیں تو انہوں نے اللہ کے فضل وکرم کو یاد نہ کیا اور تھوڑا سا واپس دینے میں بھی بخیلی کی ۔ وہ یہ گمان کرنے لگے کہ یہ ذخیرہ اندوزی ان کے لئے مفید ہوگی حالانکہ یہ ان کے لئے سخت مضر ہے بلکہ شرمناک قسم کی مضرت ہے ۔ اس لئے کہ وہ بہرحال اس جہاں سے جانے والے ہیں ۔ اس مال اور دولت کو چھوڑنے والے ہیں ۔ بعد کے لوگوں کے لئے اور آخرکار اللہ ہی وارث ہوگا۔ اس لئے کہ ” اللہ ہی کے لئے میراث ہے آسمانوں اور زمین کی ۔ “ تو پھر یہ سونا اور جمع شدہ دولت تو نہایت ہی تھوڑے عرصے کے لئے رہتی ہے ۔ اس کے بعد سب کی سب اللہ کی طرف لوٹتی ہے ۔ اور ان کے کھاتے میں تو وہی کچھ ہے جو انہوں نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا ۔ اللہ کی رضا کے لئے خرچ کیا ۔ اس کا اجر ان کو پورا پورا ملے گا اور صرف اس صورت میں وہ آگ سے طوق سے بچ سکتے جب وہ اپنی زائد دولت اللہ راہ مین خرچ کردیں۔ اس کے بعد یہودیوں پر سخت تنقید کی جاتی ہے ۔ جن کے ہاتھوں میں دولت تھی ۔ یہ دولت انہیں اللہ نے دی تھی۔ اور یہ سمجھنے لگے اپنے آپ کو غنی اور اللہ سے مستغنی کہ انہیں اللہ کی جانب سے کسی اجر اور صلے کی حاجت نہیں ہے ۔ اور نہ انہیں دوچند سہ چند ثواب کی ضرورت ہے جو اللہ ان لوگوں کو دیتا ہے جو اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور جسے اللہ اپنا فضل کہتا ہے اور ان لوگوں کی جانب سے قرضہ سے تعبیر کرتا ہے ۔ لیکن ان لوگوں نے ایک ذلیل شخص کی حیثیت سے یہ جواب دیا کہ اللہ کو کیا ضرورت ہے کہ وہ ہم سے ہمارا مال قرض مانگتے ہیں اور پھر ہمیں دوگنا کردیتے ہیں ‘ حالانکہ خود اللہ تعالیٰ ربا سے منع کرتے ہیں اور اضعاف مضاعفہ کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ ان کی یہ بات الفاظ کا کھیل ہے ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی رذیل اور بےادب اور گستاخ لوگ ہیں۔

آل عمران 3:181

اللہ کی ذات کے بارے میں بدترین خیالات یہودیوں کی تحریف شدہ کتب کے اندر بھی درج ہیں ۔ لیکن قرآن نے ان کا جو قول نقل کیا ہے یہ ان کا ذات باری کے متعلق نہایت گھٹیا تصور ہے……………” وہ جو کچھ کہتے ہیں ہم اسے لکھ لیں گے ۔ “ تاکہ ان کا محاسبہ کیا جاسکے ۔ ان کی یہ بات یونہی ہوا میں تحلیل نہ ہوجائے گی اور نہ ہی اسے مہمل اور لغو بات سمجھ کر چھوڑدیاجائے گا ۔ ان کی اس گستاخی کے بیان کے ساتھ ساتھ ان کے سابق کرتوتوں کا ایک حصہ بھی یہاں ذکر کردیا جاتا ہے ۔ یہ وہ گناہ ہیں جو ان کے ہم قوم ماضی میں کرتے رہے ہیں ۔ یہ سابقہ گناہ ان کے کھاتے میں اس لئے ڈالے جاتے ہیں کہ ان کی فطرت بدستور وہی ہے ۔ وہ اسی طرح نافرمان اور خطاکار تھے ۔ وَقَتْلَهُمُ الأنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ……………” وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں ۔ “……بنی اسرائیل کی تاریخ نے قتل انبیاء کے اس مکروہ کام کے واقعات کو محفوظ رکھا ہے اور ان کا آخری کارنامہ وہ تھا جس میں انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش کی ۔ وہ تو اب بھی بہرحال یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو پھانسی دلوادی تھی اور اس عظیم جرم پر وہ فخر کرتے ہیں۔ وَنَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ……………” ہم ان سے کہیں گے کہ چکھو آگ میں جلنے کا عذاب۔ “ لفظ حریق یعنی جلنا اس لئے استعمال ہوا ہے کہ اس عذاب کی خوفناکی نظروں میں آجائے ۔ اور یہ بات ذہن میں آجائے کہ یہ عذاب پاتے وقت آگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہوں گے ‘ اور وہ اپنا کام ہولناک انداز میں کررہے ہوں گے ۔ آگ میں خوفناک جوش ہوگا۔ یہ اس لئے کہ ان کا یہ فعل بھی اسی قدر مکروہ ہے ۔ انبیاء کو قتل کردینا اور بغیر کسی جواز کے قتل کردینا اور پھر وہ جو بات کررہے ہیں وہ بھی بہت ہی گھٹیا ہے کہ اللہ فقیر ہے اور وہ غنی ہیں۔

آل عمران 3:182

ذَلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيكُمْ……………” یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے ۔ “ پوری جزاء جس میں نہ ظلم ہے اور نہ ہی کوئی سنگدلی ہے۔ وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِظَلامٍ لِلْعَبِيدِ……………” اللہ اپنے بندوں کے لئے ظالم نہیں ہے ۔ “ یہاں بندوں کے لئے عبید کا لفظ استعمال کرنے سے انسان کی اصل حیثیت بتادی گئی ہے کہ وہ اللہ کے مقابلے میں غلاموں کا غلام ہے ۔ اور پھر بھی اگر وہ اللہ کی بارگاہ میں اس قدر بےادبی کرتا ہے اور بندہ اور غلام ہوکر وہ کہتا ہے کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں تو یہ کس قدر گستاخی ہے اور پھر اس کے ساتھ ساتھ انبیاء کے قتل جیسا شنیع کام ۔ یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں پھر یہی قاتلین انبیاء بھی ہیں ۔ ان کا مزید کارنامہ دیکھو کہ یہ کہتے ہیں کہ ہم محمد ﷺ پر اس لئے ایمان نہیں رکھتے کہ ہمیں خود اللہ نے یہ کہا ہے کہ وہ اس وقت تک کسی نبی پر ایمان نہ لائیں جب تک وہ ایسی قربانی نہ کرے جسے عالم غیب سے آگ آکر معجزانہ طور اسے کھانہ لے ۔ جس طرح انبیاء بنی اسرائیل میں سے بعض کے ہاتھوں اس قسم کے معجزے کا اظہار ہوا تھا ۔ اور جب تک محمد ﷺ کوئی اس قسم کا معجزہ نہ دکھائیں گے وہ چونکہ اللہ کے ساتھ عہد کرچکے ہیں اس لئے وہ ایمان نہیں لاسکتے ۔

آل عمران 3:183

یہاں قرآن کریم ان کی اس بات کا تاریخی حوالوں سے جواب دیتا ہے کہ انہوں نے جن انبیاء کو قتل کیا تھا ‘ انہوں نے تو ایسے معجزات دکھادیئے تھے ‘ جو خود انہوں نے طلب کئے تھے ۔ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ عَهِدَ إِلَيْنَا أَلا نُؤْمِنَ لِرَسُولٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَأْكُلُهُ النَّارُ قُلْ قَدْ جَاءَكُمْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِي بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالَّذِي قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوهُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ” جو لوگ کہتے ہیں ” اللہ نے ہم کو ہدایت کردی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے (غیب سے آکر) آگ کھالے ۔ “ تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا ذکر تم کرتے ہو ‘ پھر اگر (ایمان لانے کے لئے یہ شرط پیش کرنے میں ) تم سچے ہو تو ان رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا ؟ یہ نہایت ہی قوی الزامی جواب تھا ۔ جس سے ظاہر ہوگیا کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور بات توڑ موڑ کر بیان کرتے ہیں اور کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ اور مزید یہ کہ سخت تکبر کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اور اللہ پر اختراء باندھتے ہیں ۔ یہاں آکر اب بات کا رخ رسول اللہ ﷺ کی طرف مڑجاتا ہے ‘ آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کی دلجوئی کی جاتی ہے اور آپ کے لئے ان مخالفین کے رویے کو قابل برداشت بنایا جارہا ہے کہ یہ لوگ ایسا ہی سلوک اپنی تاریخ میں بیشمار رسولوں کے ساتھ کرتے آئے ہیں۔

آل عمران 3:184

فَإِنْ كَذَّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ جَاءُوا بِالْبَيِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَالْكِتَابِ الْمُنِيرِ……………” یہ لوگ اگر تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے جاچکے ہیں جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں ساتھ لائے تھے ۔ “ گویا نبی ﷺ پہلے رسول نہیں جن کو اہل کتاب یہودیوں نے جھٹلایاہو ‘ بنی اسرائیل اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ رسولوں کی تکذیب کرتے آئے ہیں ۔ حالانکہ وہ رسول ان کے پاس صحیح دلائل لے کر آئے تھے ۔ انہوں نے معجزات پیش کئے تھے ۔ انہوں نے ایسے صحائف پیش کئے جن میں الٰہی ہدایات موجود تھیں ۔ یعنی زبور……اور انہوں نے کتاب منیر بھی پیش کی تھی مثلاتورات اور انجیل ۔ غرض یہ رسولوں اور ان کی رسالتوں کا طریقہ کاررہا ہے ۔ اور اس راہ میں مشقت اور مصائب ہیں اور یہ واحد طریق کار ہے۔

آل عمران 3:185

اس حقیقت کا نفس انسانی کے اندر پوری طرح بیٹھ جانا ضروری ہے کہ اس دنیا کی زندگی بہرحال محدود ‘ وقتی اور ایک متعین تاریخ تک ہے ۔ اور اس کا خاتمہ لازمی ہے ‘ یہاں اچھے لوگ بھی مرتے ہیں اور برے بھی رحلت کرتے ہیں ۔ یہاں جہاد میں حصہ لینے والے بھی مرتے ہیں اور جو لوگ گھر میں بیٹھے رہتے ہیں وہ بھی مرتے ہیں ۔ جو لوگ اپنے نظریات کی وجہ سے سربلند ہوتے ہیں وہ بھی مرتے ہیں جو کبھی ذلت برداشت نہیں کرتے اور وہ بزدل بھی مرتے ہیں جو ہر قیمت پر زندہ رہنا چاہتے ہیں ۔ وہ لوگ بھی رحلت کرتے ہیں جن کے عزائم بلند ہوتے ہیں اور جن کے مقاصد پاکیزہ ہوتے ہیں اور وہ مفاد پرست بھی مرتے ہیں جن کے پیش نظر دنیا کی حقیر چیزیں ہوتی ہیں ۔ سب مرتے ہیں۔ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ……………” ہر نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے۔ “ یہ جام ہر کسی نے منہ سے لگانا ہے ۔ ایک دن اسے اس زندگی کو خیر آباد کہنا ہے ۔ اس سلسلے میں کسی ایک شخص اور ایک شخص کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے ۔ جام اجل باری باری ہر ایک کے سامنے آتا ہے اور ہر شخص اس کے ساتھ منہ لگاتا ہے ۔ فرق اگر ہے تو ایک دوسرے زاویے سے ہے ۔ فرق صرف اقدار میں ہے اور فرق انجام میں ہے ۔ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ……………” اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے ۔ “ یہ ہے ایک موت اور موت کے درمیان فرق ۔ یہ انجام ہے جس کے ذریعے فلاں اور فلاں کے درمیان فرق ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے وہ قیمت جو باقی رہتی ہے اور جس کے لئے سعی اور جدوجہد ضروری ہے ۔ اور وہ برا انجام جس سے بچنے کے لئے رات اور دن فکر کرنا چاہئے۔ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ……………” جو آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے تو وہ کامیاب ہے ۔ “ زحزح کا لفظ اپنے زمزمہ ہی سے اپنے مفہوم کو ظاہر کردیتا ہے ۔ وہ ایک صورت حال کا نقشہ نظروں کے سامنے لاتا ہے۔ اس کا ایک خاص پرتو ہے ۔ گویا آگ کے اندر کشش ہے ‘ جو بھی اس کے قریب پھٹکے وہ اس میں داخل ہوجاتا ہے ۔ اس کے دائرے میں آجاتا ہے ۔ اس لئے اس کو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی اسے اس جاذبیت سے آہستہ آہستہ چھڑائے تاکہ وہ اس کشش کے دائرے سے باہر آجائے ۔ اس لئے جس کے لئے یہ ممکن ہو کہ اسے اس دائرے سے کھینچ کر دور کردیا گیا اور اس آگ کے دائرہ جاذبیت سے ہٹادیا گیا اور وہ جنت میں داخل ہوگیا تو گویا وہ کامیاب ہوگیا۔ یہ ایک واضح تصویر کشی ہے ‘ ایک زندہ منظر ہے ۔ اس میں حرکت ہے اور کھینچاتانی ہے ۔ اور حقیقت کے اعتبار سے بھی صورت حال یہی ہوتی ہے ۔ آگ میں جاذبیت ہوتی ہے ؟ کیا گناہ میں جاذبیت اور لذت نہیں ہوتی ؟ کیا نفس انسانی کسی ایسے راہنما کا محتاج نہیں ہے جو اسے آہستہ آہستہ آگ کے دائرے جاذبیت سے دو رکردے ۔ ہاں ضرور ہے اور یہ اسے آگ سے بچاتا ہے۔ کیا انسان ‘ مسلسل کوششوں کے باوجود ‘ ہمیشہ عمل میں قصور وار نہیں رہتا ۔ الا یہ کہ اس پر اللہ کا فضل وکرم ہو۔ ہاں یہ فضل باری تعالیٰ ہی ہے جو اسے آگ سے دور کردیتا ہے ۔ فضل خداوندی اسے آہستہ آہستہ آگ کے دائرے سے کھینچ لیتا ہے۔ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلا مَتَاعُ الْغُرُورِ……………” اس دنیا کا متاع تو ایک ظاہر فریب چیز ہے ۔ “ دنیا کا سامان تو بہرحال سامان ہی ہے ۔ لیکن یہ حقیقی سامان نہیں ہے ۔ یہ حالت بیداری اور ہوشیاری کا سامان نہیں ۔ یہ دھوکے میں ڈالنے والا سامان ہے ۔ انسان اس کے فریب میں آکر متاع سمجھتا ہے۔ یہ ایسا سامان ہے جو فریب اور دھوکہ پیدا کرتا ہے ۔ رہاوہ سامان جو سچائی پر مبنی ہے اور حقیقی سامان ہے ‘ اور جس کے لئے حقیقتاً جدوجہد کرنا چاہئے ‘ وہ آخرت کا سامان ہے اور آخرت کی کامیابی ہے یہ ہے کہ انسان دوزخ سے ہٹادیاجائے۔

آل عمران 3:186

جب یہ حقیقت انسان کے اندر جگہ پکڑلیتی ہے اور جب نفس انسانی اپنے حساب و کتاب سے زندہ رہنے کی تڑپ نکال دیتا ہے ‘ کیونکہ ہر نفس نے بہرحال ایک دن مرنا ہے اور اسی طرح جب اس نے اپنی فہرست ترجیحات سے دنیا کے نظر فریب سامان کو بھی نکال دیا تو اس وقت پھر اللہ اہل ایمان سے بات کرتے ہیں کہ ان کے لئے مالی اور جانی آزمائشیں آنے والی ہیں ۔ اور اسی وقت پھر وہ ان قربانیوں کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأمُورِ ” مسلمانو ‘ تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی ‘ اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے ۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور اللہ ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے ۔ “ عقائد اور نظریات اور دعوت اور تحریک کی سنت یہ ہے کہ ان میں ابتلا ‘ جان کی ابتلا ‘ مال کی ابتلا ضروری ہوتی ہے اور نفس انسانی کو اس میں ثابت قدمی ‘ صبر اور عزم سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ یہ جنت کی راہ ہے اور جنت تو تب ملتی ہے جب ناپسندیدہ کاموں سے اجتناب کیا جائتے اور جنت ان کے اندرگھیری ہوئی ہے اور دوزخ شہوات نفس کے درمیان ہے ۔ یہی ایک صورت ہے جس میں کسی دعوت کو لے کر اٹھنے والی جماعت کو برپا کیا جاسکتا ہے ۔ اسی صورت میں دعوتی فرائض ادا کئے جاسکتے ہیں ۔ یہی طریقہ ہے ‘ ایسی جماعت کی تربیت کا ۔ اور صرف اسی طریقے سے اس کی خفیہ قوتوں ‘ بھلائی کی قوتوں ‘ صبر وثبات کی قوتوں کو جگایا جاسکتا ہے ۔ یہ طریقہ کہ فرائض کو عملاً ادا کیا جائے اور لوگوں کی حقیقی حیثیت کو جانا جائے اور زندگی کی اصلیت بھی ذہن میں ہو کہ اس کی کیا حقیقت ہے ؟ یہی ایک طریقہ ہے کہ دعوت کے اردگرد مضبوط لوگ جمع ہوجاتے ہیں ۔ ایسے ہی لوگ کسی دعوت کو لے کر چلتے ہیں اور اسی کی راہ میں آنے والی مشکلات پر صبر کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ۔ کسی بھی دعوت کی قدر ایسے ہی لوگوں کے پاس ہوتی ہے اور وہ اسے اہم سمجھتے ہیں اور اس دعوت کی راہ میں وہ جس قدر مشکلات برداشت کریں گے ‘ اس قدروہ انہیں عزیز ہوگی ۔ اس لئے وہ اس کو کبھی بھی نظر انداز نہ کریں گے ‘ خواہ جیسے حالات بھی ہوں۔ آزمائش کو ہر دعوت کی سنت اس لئے قرا ردیا گیا ہے کہ اس سے داعی اور دعوت دونوں مضبوط ہوجاتے ہیں ۔ مقابلہ ہی انسان کے اندر سے اس کی خفیہ قوتوں کو جگاتا ہے ۔ ان کو نشوونما دیتا ہے ‘ ان کو مجتمع کرتا ہے اور پھر ان کو ایک راہ پر لگاتا ہے ۔ کسی بھی جدید دعوت کو چاہئے کہ وہ ان خفیہ قوتوں سے کام لے ‘ انہیں جگائے تاکہ اس کی جڑیں مضبوط ہوں اور وہ معاشرے کے اندر گہری جڑیں رکھتی ہو۔ پھر نظریاتی اعتبار سے اسے چاہئے کہ وہ تروتازہ ‘ اور انسانی فطرت کے اندر رچی بسی ہو۔ حاملین دعوت کو اپنے نفوس کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہو ‘ اور وہ جہاد فی سبیل اللہ اور اس کی زندگی کو ساتھ ساتھ لے کر چلتے ہوں ۔ انہیں معلوم ہو کہ نفس انسانی کی حقیقت کیا ہے اور اس کے اندر کیا کیا خفیہ قوتیں ہیں۔ انہیں معلوم ہو کہ ایک جماعت اور ایک معاشرے کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے ۔ انہیں معلوم ہو کہ ان کی دعوت کے اصول اور ان کی نفسانی خواہشات کے درمیان کہاں کہاں اور کس کس طرح جنگ ہوگی اور پھر تمام لوگوں کے ساتھ اس دعوت کی جنگ کس طرح ہوگی ۔ پھر انہیں معلوم ہو کہ شیطان کن کن دروازوں سے نفس انسانی کے اندر داخل ہوجاتا ہے ‘ راستے میں کہاں کہاں پھسلن ہے اور کہاں کہاں گمراہی کی دلدل ہے ۔ اس جہد مسلسل کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس پر اس کے مخالفین بھی غور کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ وہ سوچتے ہیں کہ جو اس قدر قربانیاں دیتے ہیں لازماً اس میں کوئی خیر ہوگی کوئی راز تو اس میں ہوگا۔ یہ لوگ اس راہ میں اس قدر مشکلات برداشت کرتے ہیں اور وہ پر عزم طور پر اپنے موقف پر جمے ہوئے ہیں ۔ ایک مقام ایسا ضرور آتا ہے کہ مخالفین کے دل پگھل جاتے ہیں ‘ وہ ٹوٹ جاتے ہیں اور آخرکار فوج درفوج تحریک میں داخل ہوتے ہیں۔ غرض دعوت کی یہ سنت ہے ۔ اس دعوت کی راہ میں جو پُر مشقت حالات پیش آتے ہیں ‘ ایسے حالات آتے ہیں جن حالات کے اندر تلخ کھینچاتانی قائم رہتی ہے اور اس راہ میں دشمنوں کے عملوں کا مقابلہ ہوتا ہے اور اس راہ میں ہر وقت مشکلات برداشت کرکے اللہ کی رحمت کی امید قائم رکھنا ہوتی ہے اور یہ سب کام صرف وہی لوگ کرسکتے ہیں جو نہایت ٹھوس لوگ ہوں اور جو نہایت ہی الوالعزم ہوں۔ وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الأمُورِ……………” اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ ان لوگوں کے کاموں میں سے ہوگا جو اولوالعزم ہیں ۔ “ مدینہ کی اسلامی جماعت اس بات کی توقع کرتی تھی کہ اس کی راہ میں اسے بےپناہ مشکلات پیش آنے والی ہیں ۔ وہ اذیت ‘ مصیبت اور مشکلات کی توقع کررہی تھی ۔ چاہے یہ مشکلات جانی ہوں یا مالی ۔ یہ ان اہل کتاب کی طرف سے ہوں جو مدینہ کے اردگرد بستے تھے یا ان دشمن مشرکین کی طرف سے ہوں جو مکہ میں تھے ۔ لیکن یہ مشکلات ضرور ان کی راہ میں آئیں گی ۔ وہ کبھی بھی شکست تسلیم نہ کرے گی……………اس جماعت کو یہ بھی یقین تھا کہ اس نے ایک دن ضرور مرنا ہے ۔ اور یہ کہ اصل اجر تو وہ ہوگا جو آخرت میں ملے گا اور یہ کہ کامیاب وہی ہوگا جو آگے سے ہٹایا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا اور یہ کہ دنیا کی زندگی تو متاع غرور ہے۔ مدینہ کی یہ جماعت اس قدر مضبوط بنیادوں پر کھلی زمین پر کھڑی تھی اور وہ اسی شاہرہ پر گامزن تھی جو یقیناً منزل مقصود کو جاتی تھی ۔ اور یہ پختہ اور مضبوط زمین اب بھی حاملین دعوت اسلامی کے لئے موجود ہے ۔ اور یہ کھلی اور سیدھی شاہراہ ہر انسان کے سامنے ہے ۔ اس کے دعوت کے وہی پرانے دشمن آج بھی اس کے دشمن ہیں ۔ صدیوں وقت گزرنے کے باجود یہ دشمن نہیں بدل ۔ وہ آج تک اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ‘ حالانکہ صدیاں بیت گئیں اور قرآن وہی قرآن ہے اور وہی اس کا پیغام ہے جو تھا۔ ہاں ‘ یہ درست ہے کہ فتنہ وابتلا کے اسٹائل ہر دور میں بدل جاتے اور اس تحریک کے خلاف پروپیگنڈے کے نئے نئے وسائل سامنے آجاتے ہیں ۔ اس کو ایذا دینے کے طریقے بھی نئے آتے رہتے ہیں ۔ اس کی شہرت کو خراب کیا جاتا ہے ‘ اس کے تصورات کے بنیادی عناصر کو خراب کیا جاتا ہے ۔ ان کی اہمیت کو ختم کیا جاتا ہے اور دعوت کے مقاصد کے بارے میں غلط تاثرات دیئے جاتے ہیں ‘ لیکن اس سلسلے میں واحداصول یہ ہے : لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ” اے مسلمانو ‘ تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے۔ “ اس سورت میں اہل کتاب کی سازشوں کے ایک بڑے حصے کو بےنقاب کیا گیا ہے ۔ یہ ان کے پروپیگنڈے اور شکوک و شبہات پھیلانے کیے نمونوں سے بھری پڑی ہے ۔ کبھی شکوک و شبہات اصل دعوت اور اس کے اصول کے اندر پیش کئے جاتے ہیں ۔ کبھی اس دعوت کے حاملین اور کارکنوں کے خلاف شبہات پھیلائے جاتے ہیں ۔ اور اس کام کا اسٹائل اور شکل و صورت ہر دور میں بدل جاتی ہے۔ اور جدید وسائل ‘ نشر و اشاعت کے بعد اس کے رنگ ڈھنگ بہت ہی بدل گئے ہیں ۔ اور یہ تمام کام اسلام کے نظریاتی کام کے خلاف مسلسل ہورہا ہے ۔ نیز اس کا اول ٹارگٹ اسلامی جماعت اور اس کی قیادت ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مذکور بالا آیت میں جو فریم ورک دیا ہے یہ کام آج بھی بہرحال اسی کے اندر ہورہا اور جس مزاج کا اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اس مزاج سے ہورہا ہے ۔ اور دشمنوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو نشاندہی کی ہے اس کے رنگ ڈھنگ آج بھی وہی ہیں ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت دی ہے وہ ہر دور میں جماعت اسلامی اور تحریک اسلامی کے لئے ایک سرمایہ ہے ‘ جب بھی وہ اس دعوت کو لے کر اٹھے اور جب بھی وہ اس زمین کے کسی حصے میں اسلامی نظام کے قیام کا نصب العین لے کر اٹھے ۔ جب بھی یہ کام شروع ہوگا تو اس کے خلاف فتنہ اور سازشوں کے وسائل حرکت میں آنا شروع ہوں گے ‘ جدید سے جدید پروپیگنڈے کے وسائل کے دروازے کھل جائیں گے ۔ اس کے مقاصد کو غلط رنگ میں توڑ موڑ کر پیش کیا جائے گا ۔ اور اس کی صفوں کو منتشر کرنے کی سعی کی جائے گی اور قرآن کی جانب سے تحریک اسلامی کی ہدایت اور اس کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہ آیت سامنے آجائے گی ۔ وہ اس تحریک کے مزاج سے داعیوں کو خبردار کرے گی ‘ اس کا طریق کار سمجھائے گی ۔ اور اس کے مخالفین کا مزاج بھی تحریک کے سامنے رکھ دے گی جو راستے میں تحریک کی راہ پکڑے ہوئے ہیں اور یہ آیت تحریک اسلامی کے دل کو اطمینان سے بھردے گی ۔ اور اس راہ میں اسے جو مشکلات پیش آئیں انہیں انگیز کرے گی اور جب یہ بھیڑیے ہر طرف سے اس کا گوشت نوچیں گے اور جب اس کے چاروں طرف نشر و اشاعت کے وسائل بھونکنے لگیں گے اور جب اس پر ہر طرف سے ابتلا آئے گی اور اسے فتنہ سامانیوں کا سامنا ہوگا تو یہ تحریک مطمئن ہوکر اپنی راہ پر گامزن رہے گی اور اسے یہ تمام نشانات راہ صاف صاف نظر آئیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ابتلا ‘ اذیت ‘ فتنے اور باطل پروپیگنڈے سے پہلے ہی خبردار کردیا گیا ۔ بتادیا گیا کہ وہ اس دعوت کی وجہ سے بہت کچھ سنے گی اور یہ اس لئے بتادیا گیا کہ اس تحریک کو اس بات پر پہلے سے پختہ یقین ہے کہ صبر وتقویٰ ہی زاد راہ ہیں ۔ اور ان کے ذریعے تمام سازشیں ‘ تمام پروپیگنڈے ختم ہوجاتے ہیں ‘ ان کے ہوتے ہوئے اذیت وابتلا کی اہمیت اور شدت ہی ختم ہوجاتی ہے اور تحریک اپنے ٹارگٹ کی طرف جاتی ہے ‘ رواں دواں ہوتی ہے ‘ نہایت پر امید ہوکر ‘ نہایت عزم کے ساتھ اور صبر وتقویٰ کے زاد راہ کے ساتھ۔ اس کے بعد روئے سخن اہل کتاب پر تنقید کی جانب ہوجاتا ہے ۔ ان کے غلط موقف کی قلعی کھولی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ جب ان کو کتاب دی گئی تھی تو ان سے تو عہد لیا گیا تھا کہ تم یہ یہ کروگے ۔ مگر انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور جس بات کو ان کے پاس بطور امانت رکھا گیا تھا ‘ اس میں انہوں نے خیانت کی ۔ ان سے پوچھا جاتا ہے :

آل عمران 3:187

اس سورت میں اہل کتاب کے بہت سے اقوال وافعال کو لیا گیا ہے خصوصا ! یہودیوں کے ۔ ان میں سے ممتاز ترین کرداران کا یہ بیان ہوا ہے کہ ان لوگوں کی یہ عادت رہی ہے کہ یہ حق کو چھپاتے ہیں حالانکہ ان کو اچھی طرح یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ حق ہے ۔ پھر یہ اس حق کو باطل کے ساتھ ملاتے ہیں اور اس طرح اپنے پروپیگنڈے کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ دین کے مفہوم میں شکوک و شبہات پھیلاتے ہیں ۔ وہ اسلام کی صحت پر اعتراضات کرتے ہیں ۔ وہ اس بات کا بھی انکار کرتے ہیں کہ اسلام اور ادیان سابقہ کے اندر بنیادیں مشترک ہیں ۔ اسلام ادیان سابقہ کی تصدیق کرتا ہے اور دین اسلام کی تصدیق کرتے ہیں ۔ ان کے پاس تورات موجود تھی جس میں حضرت محمد ﷺ کی سچائی ثبت تھی اور وہ جانتے تھے ۔ اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن مجید بھی اسی منبع سے آیا ہے جس سے تورات اتری ہے۔ اب وہ جو یہ موقف اختیار کررہے ہیں وہ ان کے لئے نہایت ہی نامناسب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ کتاب کی تبلیغ کریں گے اور اس میں جو کچھ ہے اسے چھپائیں گے نہیں وہ اسے بیان کریں گے اور تمام لوگوں کے سامنے بیان کریں گے ۔ نہ چھپائیں گے اور نہ خفیہ رکھیں گے ۔ لیکن انہوں نے اللہ کے اس عہد صریح کو پس پشت ڈال دیا ۔ اس آیت کا انداز تعبیر نہایت ہی موثر ہے ۔ اس کے اندر دینی فعل کے علاوہ ظاہری حرکت بھی ہے یعنی کسی چیز کو پس پشت پھینک دینا۔ فَنَبَذُوهُ وَرَاءَ ظُهُورِهِمْ……………(انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا ) اور یہ حیا سوز کام انہوں نے کیا ‘ کیوں ؟ وَاشْتَرَوْا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا……………(انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر اسے بیچ ڈالا) یہ کام انہوں نے اس دنیا کے مفادات کے لئے کیا ۔ یہ یہودیوں کے مذہبی راہنماؤں کے ذاتی مفادات اور ان کی قومیت کے بچاؤ کے لئے انہوں نے یہ کام کیا ۔ اور یہ سب کچھ ثمن قلیل ہی ہیں۔ اگرچہ وہ تمام عرصے کے لئے تمام دنیا پر قابض ہوجائیں۔ یہ بھی اللہ کے عہد کے مقابلے میں ثمن قلیل ہوگا۔ اور اگر اللہ کے ہاں ان کے لئے جو اجر تھا وہ اسے نظروں میں رکھتے تو یہ انہیں واقعی ثمن قلیل نظر آتا فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُونَ……………(کتنا براکاروبار ہے جو یہ کررہے ہیں) ۔

آل عمران 3:188

بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے یہودیوں سے کوئی بات پوچھی ۔ انہوں نے اسے چھپادیا اور انہوں نے غلط جواب دیا ۔ وہ چلے گئے ۔ وہ یہ تاثر دیتے ہوئے گئے کہ انہوں نے رسول ﷺ کو وہ بات بتادی جو انہوں نے پوچھی تھی اور اس پر وہ اپنی جگہ خوش تھے کہ ان کو رسول ﷺ کے ہاں تعریف کا مستحق قراردیا گیا لیکن خوش اس لئے بھی تھے کہ انہوں نے اصل بات چھپادی تھی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : لا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ” تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انہیں حاصل ہو جو فی الواقعہ انہوں نے نہیں کئے ۔ حقیقت میں ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ “ ایک دوسری روایت میں امام بخاری نے ابوسعید الخدری سے نقل کیا ہے کہ منافقین میں سے لوگ ایسے تھے کہ جب رسول اللہ ﷺ جہاد کے لئے نکلتے تو وہ ہمیشہ پیچھے رہ جاتے اور وہ یوں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے بہت ہی خوش ہوتے کیونکہ یہ رسول اللہ کی مرضی کے خلاف ہوتا۔ جب رسول اللہ ﷺ واپس آتے تو یہ لوگ عذرات پیش کرتے اور قسمیں اٹھاتے ۔ اور وہ اس بات کو پسند کرتے کہ انہوں نے جو نہیں کئے اس پر ان کی تعریف کی جائے ۔ اس پر یہ آیت نازل لا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی آیت کس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ؟ یہ کوئی قطعی بات نہیں ہے ۔ ایسی روایات بعض اوقات ایسی صورتحال کو بیان کرتی ہیں جن میں کسی آیت سے کوئی دلیل رسول ﷺ نے پیش کی ہوتی ہے ۔ راوی کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ شاید یہ آیت ابھی نازل ہوئی ہے یا اگر کسی واقعہ پر کوئی آیت منطبق ہوتی ہے تو راوی کہتا ہے کہ یہ آیت اس کا مصداق ہے ۔ اور یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ اس لئے ان دوروایتوں کے بارے میں بھی قطعی بات نہیں کی جاسکتی ۔ رہی پہلی روایت تو اس میں سیاق کلام کے ساتھ ہم آہنگی ہے اس لئے کہ بات اہل کتاب کی ہورہی ہے ۔ اہل کتاب کے اس دعویٰ کا ذکر ہے کہ ان کو جو کتاب دی گئی ہے اور اس میں جو ان کے پاس امانت ہے وہ اسے چھپائیں گے نہیں ۔ لوگوں کے سامنے بیان کریں گے ۔ وہ چھپا رہے ہیں اور جھوٹ اور فریب کاری کے طور پر کچھ اور بتاتے ہیں اور پھر یہ توقع بھی کرتے ہیں کہ ان کے اس جھوٹ اور اختراء پر ان کی تعریف ہوگی ۔ اگر دوسری روایت درست ہے تو پھر بھی سیاق کلام میں منافقین کی بات موجود ہے اور یہ آیت بھی انہیں آیات کے ساتھ ملحق ہے ۔ غرض یہ ان لوگوں کے نمونے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں پائے جاتے تھے ۔ ایسے لوگ آج بھی ہر تحریک میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے نظریات کے تقاضے اور ان کے فرائض پورے نہیں کرسکتے اور نہ ہی نتائج برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی نظریہ کی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں ۔ جدوجہد سے پیچھے بیٹھے رہتے ہیں ۔ اگر جدوجہد کرنے والے ناکام ہوجائیں اور انہیں ہزیمت ہو تو یہ لوگ سر اٹھاتے ہیں اور ناک میں شکن ڈال کر اور ناک کھینچ کر بات کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ بہت ہی عقلمند ہیں اور موقع شناس ہیں اور خوددار ہیں ۔ اور اگر مجاہدین کو فتح حاصل ہوجائے اور انہیں مفادات ملیں تو ہمارے ایسے ساتھی آگے بڑھتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے اس منصوبے کے مؤید تھے اور یہ کہ اس فتح میں ہمارا بھی ہاتھ ہے ۔ اور یہ لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ان کی مدح سرائی ان کاموں پر بھی ہو جو انہوں نے نہیں کئے۔ انسانیت میں سے یہ ان لوگوں کانمونہ ہے جو ڈرپوک ہوتے ہیں اور بلند وبانگ دعویٰ کرتے ہیں ۔ قرآن کریم ان لوگوں کی پینٹنگ چند لکیروں کے اندر کردیتا ہے اور ان کے خدوخال بہت ہی واضح طور پر نظرآنے لگتے ہیں ۔ پھر ان الفاظ کا جامہ پہناکر قرآن کریم ان خدوخال کو دائمی ریکارڈ کے طور پر محفوظ کرلیتا ہے تاکہ اس آئینے میں آنے والے اپنے چہرہ دیکھیں ۔ یہ ہے اسلوب قرآن کریم کا ۔ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ رسول ﷺ کو بتاکید بتاتے ہیں کہ ان کے لئے نجات اخروی کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ (تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو) وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ……………(بےشک ان کے لئے دردناک عذاب ہے ) اور عذاب الیم کی یہ وعید اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ جو مالک السمٰوٰت والارض ہے ۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ تو پھر بچنے کی صورت ہی کیا رہتی ہے ۔ اور نجات کب مل سکتی ہے ؟ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (اور زمین وآسمانوں کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے)

آل عمران 3:189

بخاری شریف میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے ۔ فرماتے ہیں کہ رسول ﷺ نے یہودیوں سے کوئی بات پوچھی ۔ انہوں نے اسے چھپادیا اور انہوں نے غلط جواب دیا ۔ وہ چلے گئے ۔ وہ یہ تاثر دیتے ہوئے گئے کہ انہوں نے رسول ﷺ کو وہ بات بتادی جو انہوں نے پوچھی تھی اور اس پر وہ اپنی جگہ خوش تھے کہ ان کو رسول ﷺ کے ہاں تعریف کا مستحق قراردیا گیا لیکن خوش اس لئے بھی تھے کہ انہوں نے اصل بات چھپادی تھی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : لا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ” تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انہیں حاصل ہو جو فی الواقعہ انہوں نے نہیں کئے ۔ حقیقت میں ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ “ ایک دوسری روایت میں امام بخاری نے ابوسعید الخدری سے نقل کیا ہے کہ منافقین میں سے لوگ ایسے تھے کہ جب رسول اللہ ﷺ جہاد کے لئے نکلتے تو وہ ہمیشہ پیچھے رہ جاتے اور وہ یوں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے بہت ہی خوش ہوتے کیونکہ یہ رسول اللہ کی مرضی کے خلاف ہوتا۔ جب رسول اللہ ﷺ واپس آتے تو یہ لوگ عذرات پیش کرتے اور قسمیں اٹھاتے ۔ اور وہ اس بات کو پسند کرتے کہ انہوں نے جو نہیں کئے اس پر ان کی تعریف کی جائے ۔ اس پر یہ آیت نازل لا ﺗَﺤۡﺴَﺒَﻦ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا اصل حقیقت یہ ہے کہ کوئی آیت کس واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ؟ یہ کوئی قطعی بات نہیں ہے ۔ ایسی روایات بعض اوقات ایسی صورتحال کو بیان کرتی ہیں جن میں کسی آیت سے کوئی دلیل رسول ﷺ نے پیش کی ہوتی ہے ۔ راوی کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ شاید یہ آیت ابھی نازل ہوئی ہے یا اگر کسی واقعہ پر کوئی آیت منطبق ہوتی ہے تو راوی کہتا ہے کہ یہ آیت اس کا مصداق ہے ۔ اور یہ آیت اس بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ اس لئے ان دوروایتوں کے بارے میں بھی قطعی بات نہیں کی جاسکتی ۔ رہی پہلی روایت تو اس میں سیاق کلام کے ساتھ ہم آہنگی ہے اس لئے کہ بات اہل کتاب کی ہورہی ہے ۔ اہل کتاب کے اس دعویٰ کا ذکر ہے کہ ان کو جو کتاب دی گئی ہے اور اس میں جو ان کے پاس امانت ہے وہ اسے چھپائیں گے نہیں ۔ لوگوں کے سامنے بیان کریں گے ۔ وہ چھپا رہے ہیں اور جھوٹ اور فریب کاری کے طور پر کچھ اور بتاتے ہیں اور پھر یہ توقع بھی کرتے ہیں کہ ان کے اس جھوٹ اور اختراء پر ان کی تعریف ہوگی ۔ اگر دوسری روایت درست ہے تو پھر بھی سیاق کلام میں منافقین کی بات موجود ہے اور یہ آیت بھی انہیں آیات کے ساتھ ملحق ہے ۔ غرض یہ ان لوگوں کے نمونے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے عہد میں پائے جاتے تھے ۔ ایسے لوگ آج بھی ہر تحریک میں پائے جاتے ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے نظریات کے تقاضے اور ان کے فرائض پورے نہیں کرسکتے اور نہ ہی نتائج برداشت کرسکتے ہیں اور نہ ہی نظریہ کی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں ۔ جدوجہد سے پیچھے بیٹھے رہتے ہیں ۔ اگر جدوجہد کرنے والے ناکام ہوجائیں اور انہیں ہزیمت ہو تو یہ لوگ سر اٹھاتے ہیں اور ناک میں شکن ڈال کر اور ناک کھینچ کر بات کرتے ہیں اور یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ بہت ہی عقلمند ہیں اور موقع شناس ہیں اور خوددار ہیں ۔ اور اگر مجاہدین کو فتح حاصل ہوجائے اور انہیں مفادات ملیں تو ہمارے ایسے ساتھی آگے بڑھتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے اس منصوبے کے مؤید تھے اور یہ کہ اس فتح میں ہمارا بھی ہاتھ ہے ۔ اور یہ لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ان کی مدح سرائی ان کاموں پر بھی ہو جو انہوں نے نہیں کئے۔ انسانیت میں سے یہ ان لوگوں کانمونہ ہے جو ڈرپوک ہوتے ہیں اور بلند وبانگ دعویٰ کرتے ہیں ۔ قرآن کریم ان لوگوں کی پینٹنگ چند لکیروں کے اندر کردیتا ہے اور ان کے خدوخال بہت ہی واضح طور پر نظرآنے لگتے ہیں ۔ پھر ان الفاظ کا جامہ پہناکر قرآن کریم ان خدوخال کو دائمی ریکارڈ کے طور پر محفوظ کرلیتا ہے تاکہ اس آئینے میں آنے والے اپنے چہرہ دیکھیں ۔ یہ ہے اسلوب قرآن کریم کا ۔ اس قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ رسول ﷺ کو بتاکید بتاتے ہیں کہ ان کے لئے نجات اخروی کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ فَلا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ (تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو) وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ……………(بےشک ان کے لئے دردناک عذاب ہے ) اور عذاب الیم کی یہ وعید اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ جو مالک السمٰوٰت والارض ہے ۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ تو پھر بچنے کی صورت ہی کیا رہتی ہے ۔ اور نجات کب مل سکتی ہے ؟ وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (اور زمین وآسمانوں کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے)

آل عمران 3:190

درس نمبر 29 ایک نظر میں یہ سورت جس قدر سبقوں اور دروس پر مشتمل تھی یہ ان میں سے آخری درس ہے ۔ اس سورت میں اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں اہم عناصر کی ایک بڑی تعداد کا ذکر ہوا ہے ۔ اور ان عناصر کو ہر قسم کے اجمال ‘ اشتباہ اور اہل کتاب کے ساتھ مجادلوں اور مشرکین کے ساتھ مباحثے کرکے ان اساسی عناصر کو منقطع کیا گیا ہے۔ اس پوری سورت میں اسلامی نظام زندگی کی نوعیت اور جان ومال کے حوالے سے اس کے تقاضوں کا بیان ہوا ہے ۔ جماعت مسلمہ کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ان فرائض کو کس طرح ادا کرے گی ۔ اور مشکل حالات کے ابتلا میں اس کا رویہ کیا ہوگا اور خوشحالی کے حالات میں وہ ابتلا سے کس طرح عہدہ برآہوگی اور وہ اسلامی نظریہ حیات اور اس کے عظیم فرائض اور ڈیوٹیوں کو کس طرح سرانجام دے گی ‘ جو نفس کے حوالے سے بھی ہیں اور مال کے حوالے سے بھی ہیں ۔ یہی وہ مضامین تھے جو اس پوری سورت کا محور تھے اور جنہیں ہم نے پارہ سوئم اور چہارم کی تفسیر فی ظلال القرآن میں بیان کیا۔ اب یہ آخری درس ایک طرح کی آخری ضرب یا ضربات ہیں ۔ یہ آخری ضربات اس سورت میں موضوع کے ساتھ نہایت ہی متناسب ہیں ۔ اور یہ آخری ضرب بھی اپنے موضوع کے اعتبار سے اور طرز ادا کے اعتبار سے سابقہ ضربات سے بالکل ہم آہنگ ہے ۔ اس کے اندر ایک نہایت ہی گہری حقیقت کا بیان ہوا ہے ۔ یہ کہ یہ کائنات ایک کھلی کتاب ہے ۔ اس کے اندر ایمان ویقین کے بیشمار دلائل اور علامات موجود ہیں ۔ اس کائنات سے اس ذات کا اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے جو اسے بڑی حکمت کے ساتھ چلارہی ہے ۔ اس سے اظہارہوتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی سے وراء ایک اخروی زندگی ہے ۔ اس زندگی کا حساب و کتاب اور مکافات عمل وہاں ہوگا ۔ ان دلائل کو کون پڑھ سکتا ہے ‘ اس آیات واشارات کو کون پاسکتا ہے ‘ اس حکمت کا ادراک کون کرسکتا ہے ؟ اور اس کائنات کی آواز کون سن سکتا ہے ؟ یہ صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جو اولوالالباب ہیں ‘ جو اصحاب دانش وبنیش ہیں ۔ وہ لوگ جو اس کتاب مفتوح پر سے یونہی نہیں گزرجاتے اور وہ ان ظاہر و باہر آیات اور نشانیوں سے آنکھیں بند نہیں کرلیتے ۔ یہ حقیقت اس کائنات کے حوالے سے اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے ایک عنصر ہے ۔ اور اس کے اور انسانی فطرت کے درمیان ایک عمیق ربط ہے ۔ اور فطرت انسانی اور فطرت کائنات کے درمیان گہری داخلی مفاہمت اور ہم آہنگی ہے ۔ یہ کائنات ایک جہت سے اپنے خالق کے وجود پر دلالت کرتی ہے ۔ اور دوسری جہت سے اس سے وہ ناموس اکبر معلوم ہوتا ہے ۔ جو مقصدیت ‘ گہری حکمت اور قصد و ارادے آپ کے حوالے سے اس کائنات کے اندرکارفرما ہے ۔ اور اس کا روح رواں ہے ۔ اور اس ناموس اکبر کا فہم و ادراک اس نقطہ نظر سے بہت ہی اہم ہے کہ اس کائنات ‘ اس کے خالق الٰہ العالمین کے بارے میں انسان کیا موقف اختیار کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کائنات اس موجودہ دنیا کے بارے میں اسلامی افکار کا اہم خزانہ اور منبع ہے ۔ اس کے بعد اس درس میں ‘ صاحبان عقل و دانش اور عالمان علم کائنات کی اس خشوع دعا کی قبولیت کا ذکر ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کائنات کی اس کتاب مفتوح کا مطالعہ کرتے رہتے ہیں اور یہ کائنات جن دلائل کو پیش کرتی ہے یہ ان پر غور کرتے ہیں ۔ اور یہ کائنات جو مقاصد بتاتی ہے ۔ یہ اس پر بھی تامل کرتے ہیں ۔ اور دعا کی قبولیت کے ساتھ ساتھ ہدایات کیا دی جاتی ہیں ؟ یہ کہ عمل پیہم ‘ جہاد مسلسل ‘ صبر و محبت اور ایمان تقاضوں کی بجاآوری ہی دراصل وہ تحفے ہیں جو ان لوگوں کو ملتے ہیں ۔ جو اس کائنات کی کتاب مفتوح کو اللہ ترسی کے ساتھ پڑھتے ہیں ۔ اور پھر آخر میں اہل کفر کی پوزیشن کو حقیر بنایا گیا ہے ۔ اگرچہ ان کے پاس اس دنیا کا سازوسامان زیادہ ہے۔ یہ کچھ بھی نہیں ہے ‘ اصل دولت تو وہ ہے جو آخرت میں ملے گی مومنین کو اس کی بات کرنی چاہئے۔ اس سورت میں اہل کتاب اور مسلمانوں کے خلاف ان کے موقف کے بارے میں تفصیلی بات کی گئی تھی ۔ اس آخری سبق میں اہل کتاب میں سے بعض اچھے لوگوں کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ۔ اور آخرت میں ان کی جزا اور صفت خشوع کا ذکر خصوصی طور پر کیا گیا۔ اس نسبت سے کہ اہل ایمان میں سے ان لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا جو اس کائنات کی کتاب مفتوح کا مطالعہ کرتے تھے اور ان کے اندر بھی صفت خشوع اور انابت سے دعا کی تھی ۔ اور انہوں نے اس امر کو نہایت ہی شرمناک سمجھا کہ اللہ کی آیات کو معمولی دام کے عوض فروخت کیا جائے ۔ جیسا کہ بعض اہل کتاب یہ کام کرتے تھے اور جن کا ذکر اس سورت میں ہوچکا ہے ۔ اس کے بعد پوری سورت کا خاتمہ آتا ہے اور اس میں اس پوری سورت کی ہدایت کا خلاصہ دیا گیا ہے ۔ اور جماعت مسلمہ کو یہ کہا گیا ہے کہ یہ ان کی زندگی کا خلاصہ ہے۔ یہ ان کے فرائض اور پروگرام کا خلاصہ ہے ۔ اور اسی میں ان کی فلاح مضمر ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ” اے ایمان والو ! صبر سے کام لو ‘ پرستوں کے مقابلے میں پامردی دکھاؤ ‘ حق کی خدمت کے لئے کمربستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ امید ہے فلاح پاؤگے۔ “

آل عمران 3:191

زمین و آسمان کی تخلیق میں ‘ اور رات اور دن کی گردش میں وہ کیا آیات اور نشانیاں ہیں ‘ اور جب یہ اولوالالباب آسمان اور زمین میں تفکر کرتے ہیں تو وہ کیا نشانیاں ہیں ؟ جب وہ رات اور ان کی گردش میں غور کرتے ہیں تو انہیں کیا نظر آتا ہے ؟ جبکہ پھر وہ اللہ کو یاد کرنے لگتے ہیں کھڑے ہوکر بھی ‘ بیٹھ کر بھی اور کروٹ لیتے ہوئے بھی ۔ اور پھر سوال یہ ہے کہ ان کے نتیجہ فکر کا تعلق اللہ کے ذکر کے ساتھ کیسے مربوط ہوجاتا ہے کہ وہ فوراً کھڑے ‘ بیٹھے اور کروٹ لیتے اللہ کو یاد کرتے ہیں ۔ اور پھر وہ اس ذکر کو اس پر خشوع و خضوع اور پر سوز دعا پر کیسے ختم کرتے ہیں ؟ وہ کہتے ہیں ۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ……………(پروردگار ! یہ سب کچھ تونے فضول اور بےمقصد نہیں بنایا تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے پس اے رب ہمیں دوزخ کی آگ سے بچالے۔ ) قرآن کریم یہاں ان لوگوں کی ایک زندہ اور متحرک تصویر کشی کرتا ہے جو اس کائنات کے اندر صحت مند غور کرتے ہیں اور ان کو اس کائنات کے مثرات کا ادراک ہوتا ہے ۔ اور وہ پھر ان مدرکات اور موثرات کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ‘ اور ان کی آنکھوں کے سامنے رات دن اس پوری کائنات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ اس کی طرف لبیک کہتے ہیں ۔ قرآن کریم انسانی فکر ونظر میں باربار دعوت نظارہ دیتا ہے اور بڑی تاکید سے حکم دیتا ہے کہ وہ اس کھلی کتاب کا مطالعہ کریں ۔ جس کے صفحات رات اور دن خود الٹتے پلٹتے رہتے ہیں ۔ ہر صفحے پر صانع قدرت کے نشانات میں سے ایک نشان نظر آتا ہے ۔ اور وہ فطعرت سلیمہ کے اندر ایک ایسی سچائی کے پہچاننے کا بےحد جوش پیدا کردیتا ہے ‘ جو سچائی اس کتاب کے صفحات کے اندر جمی ہوئی ہے ۔ اس کائنات کی اساس میں وہ سچائی موجود ہے ۔ اس کائنات کے خالق کے مطالبات کے تسلیم کرنے کی طرف یہ سچائی مائل کرتی ہے ۔ اور جس خالق نے اس کائنات میں یہ ناموس ودیعت کیا ہے ۔ اس کی طرف رجوع کی دعوت دی جاتی ہے ۔ دل میں خالق کی محبت بھی پیدا ہوتی ہے ‘ اس کے ساتھ ساتھ اس کا خوف اور خشیت بھی پیدا ہوتی ہے …………پھر یہ اولوالالباب کون لوگ ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو صحیح الفکر ہیں ۔ جو آنکھیں کھول کر کتاب کائنات کی آیات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ وہ آنکھوں پر پردے نہیں ڈالتے ۔ وہ اپنے غور وفکر اور تدبر کے دریچے بند نہیں کرتے ۔ اور اس طرح وہ اپنے دل کے حوالے سے ‘ اپنے قیام میں ‘ اپنے قعود میں اور کروٹ لیتے ہوئے اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ یوں کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کے ذرائع ادراک کھل جاتے ہیں اور وہ اس ناموس اکبر اور حقیقت کائنات کا ادراک کرلیتے ہیں جو اللہ نے اس کائنات میں ودیعت کی ہے ۔ وہ اس کائنات کے مقصد وجود کو پالیتے ہیں ۔ اس ایجاد کرنے کے اصل اسباب ان کے علم میں آجاتے ہیں اور وہ کائنات کے فطرت کے اجزائے ترکیبی اور نظام قیام سے واقف ہوتے ہیں ۔ یہ تمام راز وہ اس الہام کے ذریعہ پاتے ہیں جو فطرت کے ان نوامیس اور انسانی دل کے درمیان رابطے کے ذریعے ہوتا ہے۔ زمین و آسمان کا مشہد ‘ رات اور دن کی تبدیلی کا منظر اور سیاروں کی گردش کے مناظر ایسے مناظر ہیں کہ اگر ہم اپنی آنکھیں کھول کردیکھیں ‘ ہمارے دل کام کررہے ہوں اور ہمارا ادراک اچھی طرح کام کرتا ہو اور ان کو اس نظر سے دیکھیں جس طرح ایک انسان کسی مشہد اور منظر کو پہلی مرتبہ دیکھتا ہے اور اگر ہم اپنے احساس سے ان مناظر کے عادی ہونے کے تصور کو دور کردیں ‘ اور اس تکرار کے اثرات سے اپنی حس کو پاک کردیں تو ہمارے احساس کے لئے یہ قابل ارتعاش ہوں ‘ ہمارے شعور کے اندر زلزلہ آجائے اور ہمیں اچھی طرح احساس ہوجائے کہ اس نظام کے اندر جس قدر دقت نظر سے ہم آہنگی پیدا کی گئی ہے وہ کسی حکیمانہ ہاتھ کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے ۔ اس نظام کے پیچھے ایک مدبر عقل کام کررہی ہے ۔ اس نظام کے پیچھے ایک ناموس کام کررہا ہے ۔ جس کی خلاف ورزی ممکن نہیں ہے ۔ اور یہ سب کچھ دھوکہ اور فریب نہیں ہوسکتا ۔ نہ یہ کوئی بخت واتفاق ہوسکتا ہے اور نہ یہ نظام محض فریب نظر ہوسکتا ہے۔ اور یہ بات بھی ہمارے شعور کے لئے کوئی کم زلزلہ خیز نہیں ہے کہ یہ زمین سورج کے اردگرد اور اپنے محور پر گردش کررہی ہے ۔ اور اس سے رات اور دن کے دومناظر پیدا ہورہے ہیں ۔ یہ کہ ان اجرام فلکی کے اندر کشش کام آرہی ہے ۔ اور اس نے ہر ایک جرم کو اپنی جگہ ٹھہرایا ہوا ہے ۔ یا کوئی اور نظام ہے ۔ یہ تو ہمارے مقرر کردہ اصول موضوعہ میں کبھی درست ہوں گے کبھی غلط ہوں گے ۔ جو صورت بھی ہو لیکن ہر صورت میں کائنات کا یہ عجوبہ ‘ عجوبہ ہی رہتا ہے ۔ اور نظر آتا ہے کہ ایک عظیم نظام ہے جس نے ان دیوہیکل سیاروں اور اجرام کو تھام رکھا ہے ۔ نہایت دقت سے ‘ نہ ٹوٹتے ہیں نہ باہم متصادم ہوتے ہیں ‘ بنی نوع انسان میں ماہرین فلکیات چاہے اس کا جو بھی نام رکھیں ‘ بہرحال یہ نظام قدرت کا نشان ہے ‘ یہ سچائی کی برہان ہے ‘ اور سچائی گردش ایام اور دوران فلک سے عیاں ہے۔ قرآن کریم نے یہاں جو صاف منظر کشی کی ہے ‘ اسی میں آسمانوں اور اجرام فلکی کی گردش اور رات اور دن کے پیہم تبدیلی کے مناظر اولوالالباب اور صاحبان عقل و دانش کے شعور اور فکر پر جو اثرات چھوڑتے ہیں ‘ ان اثرات کے ایک ایک جزء کو بڑی دقت کے ساتھ قلم بند کردیا ہے ۔ یہ ایک قسم کی اثر انگیز تصویر ہے ۔ اسے دیکھ کر دل اس کائنات کے ساتھ باہم معاملہ کرتے وقت بہت ہی صحیح نظام اور طریقہ کا اختیار کرتا ہے ۔ یہ مناظر اپنی زبان میں بات کرتے ہیں اور یہ دل کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرتے ہیں ‘ اس کی حقیقت کے یکجا ہوجاتے ہیں ۔ اور کائنات کے اشارات اور اثرات کو قبول کرتے ہیں ۔ اس طرح کائنات کی یہ کتاب ایک مومن اور واصل باللہ انسان کے لئے کتاب علم ومعرفت بن جاتی ہے ۔ جسے اللہ نے تصنیف کیا ہے ۔ اس مطالعہ کائنات کا انسانی شعور پر پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی یاد اور اس کی عبادت کی طرف متوجہ ہوتا ہے ۔ جو لوگ مطالعہ کرتے ہیں وہ کھڑے ہوکر ‘ بیٹھتے ہوئے اور کروٹ بدلتے ہوئے ہی اللہ کو یاد کرتے ہیں ۔ جبکہ وہ زمین اور آسمانوں کی تخلیق پر غور کرتے ہیں اور جبکہ وہ رات اور دن کے اختلاف کا مطالعہ بھی کررہے ہوتے ہیں ۔ یہ غوروفکر پھر عبادت بن جاتے ہیں ۔ اور یوں یہ مشاہدات مشاہدات ذکر الٰہی بن جاتے ہیں ۔ اس طرح ‘ اس تصور انسان اور تصور کائنات کے مطابق دوحقائق ثابت ہوجاتے ہیں۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی تخلیق میں تدبر اور مشاہدہ کرنا اور اللہ کی اس کھلی کتاب کا مطالعہ کرنا اور اللہ کے تخلیقی ہاتھ کا مطالعہ کرنا بھی حرکت کائنات کا مطالعہ اور اس کائنات کے صفحات کو الٹنا پلٹنا ‘ درحقیقت اصلی اور بنیادی عبادت ہے ۔ اور یہ ایک ذکر الٰہی ہے جو نہایت ہی حقیقی ذکر الٰہی ہے ۔ اگر کائناتی علوم ‘ جن میں اس کائنات کی تنظیم اور تشکیل سے بحث ہوتی ہے ۔ اور اس کائنات کے اندر جاری وساری نوامیس وسنن کا مطالعہ اور ان قوتوں اور ذخائر کا مطالعہ جو اس کائنات کے اندر جمع شدہ ہیں اور اس کائنات کے اسرار و رموز کے علوم کو اگر اس کائنات کے خالق کے ذکر اور اس کی یاد کے ساتھ یکجا کردیا جائے اور اس مطالعے سے اللہ کی جلالت قدر کا شعور پیدا کیا جائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم کا احساس اجاگر کیا جائے تو یہ تمام عمل اس کائنات کے خالق کی عبادت بن جاتا ہے ۔ اور نماز کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ اور ان علوم کے ذریعہ زندگی درست ہوکر راہ مستقیم پر استوار ہوسکتی ہے ۔ پوری انسانی آبادی اللہ کی طرف متوجہ ہوسکتی ہے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے مادی اور کافرانہ رجحان نے اس کائنات اور خالق کائنات کے درمیان تصوراتی بعد پیدا کردیا ہے ۔ انہوں نے تکوینی قوانین اور ازلی ابدی حقیقت کے درمیان تضاد پیدا کردیا ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ علم جو انسان کے لئے اللہ تعالیٰ کا خوبصورت ترین تحفہ تھا وہ خود انسان کے لئے ایک ایسی لعنت بن گیا ہے۔ جو انسان کا پیچھا کررہا ہے ۔ اور انسان کی زندگی کو جہنم میں تبدیل کررہا ہے ۔ اس کی زندگی قلق ‘ روحانی خلا ‘ اور عدم اطمینان کی صورت میں اس طرح بسر ہورہی ہے جس طرح انسان کا ایک قہار وجبار بھوت پیچھا کررہا ہے۔ اور دوسری حقیقت یہ ہے اس کائنات میں جو آیات الٰہی ہیں ‘ وہ اپنی الہامی صورت میں اسی شخص پر ظاہر ہوتی ہیں جس کا دل ذکر الٰہی اور عبادت الٰہیہ میں مشغول ہو ۔ اور جو لوگ اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوکر ‘ بیٹھ کر اور کروٹ لیتے ہوئے ‘ درحقیقت وہی لوگ ہیں جو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور کرتے ہیں اور رات اور دن کے پیہم آنے پر غور وفکر کرتے ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جن پر عظیم حقائق کھلتے ہیں ۔ جو آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق کے اندر اور اختلاف لیل ونہار کے نظام میں لپٹے ہوئے ہیں ۔ ان رازوں کے رازدان ہونے والے ہی پھر اسلامی زندگی تک پہنچتے ہیں جو نجات اخروی ‘ فلاح دنیوی اور خیر وصلاح کا ضامن ہے ۔ رہے وہ لوگ جو صرف ظاہری دنیا کی زندگی ہی پر بس کرتے ہیں اور وہ اس کائنات کی بعض تکوینی چیزوں کو دریافت کرلیتے ہیں اور ان لوگوں کا کوئی ربط اسلامی نظام حیات سے نہیں ہوتا تو یہ لوگ تو پوری زندگی کی بربادی کی فکر کرتے ہیں ۔ وہ اپنی زندگی کو شکست وریخت سے دوچار کرتے ہیں اور ان تکوینی اسرار و رموز کو بربادی کے لئے استعمال میں لاتے ہیں ۔ اس طرح وہ اپنی زندگی کو ایک ناقابل برداشت جہنم بنا رہے ہیں ‘ وہ زندگی کے ایسے قلق سے دوچار کرتے ہیں جس میں سانس گھٹتی ہے ۔ اور آخرت میں وہ اللہ کے غضب اور اس کے عذاب کی طرف لوٹیں گے ۔ غرض یہ دونوں حقائق ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں ‘ ان دونوں کو اس سورت نے موضوع بحث بنایا ‘ جو اصحاب دانش کے لئے ان کے مطالعہ کائنات کے وقت اور تعلق باللہ کے قیام کی خاطر یہاں بیان کئے گئے ہیں ۔ اور یہ ذکر وفکر کا وہ وقت ہوتا ہے ‘ جس میں دلی صفائی حاصل ہوتی ہے ‘ روح شفاف ہوجاتی ہے اور ادراک کے دروازے کھلتے ہیں ‘ ہدایت اخذ کرنے کی استعداد بڑھ جاتی ہے ‘ اور اس میں انسان قبولیت ‘ تاثر اور اخذ کے لئے تیار ہوتا ہے۔ مطالعہ کائنات کا یہ وقت عبادت الٰہی کا وقت ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے یہ اللہ کی جانب سے استقبال اور بندے کی جانب سے اتصال کا وقت ہوتا ہے ۔ اس لئے اس وقت ادراک کائنات اور آیات کونیہ کی استعداد بھی زیادہ ہوتی ہے ۔ اس وقت اس کائنات میں محض غور وفکر اور اس کے نظام گردش لیل ونہار اور نظام ارض وسما ہی انسان کے ذہن میں القا کرتا ہے کہ اس کائنات کے اندر ایک عظیم حقیقت پوشیدہ ہے اور یہ کہ یہ کائنات عبث نہیں ہے ۔ نہ یہ محض فریب نظر ہے ‘ یہی وقت اللہ کے ساتھ وصال کا وقت ہوتا ہے۔ اور براہ راست معرفت الٰہی کا رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا سُبْحَانَكَ……………” پروردگار ! یہ سب کچھ تونے فضول اور بےمقصد نہیں بنایا ‘ تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے ۔ “ تونے اس کائنات کو فضول پیدا نہیں کیا ۔ بلکہ اس کو اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ حق ہو ‘ سچائی اس کے قیام کا سامان ہو ‘ سچائی اس کا قانون ہو ‘ سچائی میں اصل ہو۔ سچ یہ ہے کہ اس کائنات کی ایک حقیقت ہے وہ ” عدم “ نہیں ہے جس طرح بعض فلسفے یہ کہتے ہیں کہ یہ عدم محض ہے۔ یہ حقیقت ہونے کے بعد ایک ناموس کے مطابق چلتی ہے لہٰذا یہ انارکی کے مطابق نہیں چل رہی ہے ۔ وہ ایک مقصد کی طرف بڑھ رہی ہے اس لئے وہ بخت واتفاق کے مطابق نہیں چلتی ۔ غرض وہ اپنے وجود ‘ اپنی حرکت اور اپنے مقاصد کے حوالے سے ایک عظیم سچائی کے کنٹرول میں چلتی ہے ۔ اور اس کے ساتھ کوئی باطل ملاوٹ نہیں کرسکتا۔ یہ پہلا ڈچ ہے ‘ جو اصحاب علم و دانش کے دلوں کو اس وقت دیا جاتا ہے ہے جب وہ نظام تخلیق ارض وسما اور نظام گردش لیل ونہار پر غور کرتے ہیں اور اس ڈچ سے انہیں عبادت الٰہی ‘ ذکر الٰہی اور اتصال ذات کا احساس دلایا جاتا ہے ۔ اس ڈچ سے ان کے پردہ احساس پر حقیقی سچائی کا ایک نقش پڑجاتا ہے جو اس کائنات کی نقشہ سازی میں کارفرما ہے ۔ جب یہ اصحاب دانش اس سچائی تک پہنچ جاتے ہیں تو معاً وہ اللہ کی تسبیح اور تنزیہہ کرنے لگتے ہیں اور ان کی اس تاویل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا…………… ” اے ہمارے رب ‘ تونے اس کائنات کو عبث نہیں پیدا کیا ۔ “ اس کے بعد یہ نفسیاتی سوچ ذرا اور آگے بڑھتی ہے ۔ کچھ مزید تکوینی احساسات اور الہامات سامنے آتے ہیں فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (191) رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ……………” ہمیں دوزخ کی آگ سے بچالے ‘ تونے جسے دوزخ میں ڈالاا سے درحقیقت بڑی ذلت اور رسوائی میں ڈال دیا ۔ اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ “………سوال یہ ہے کہ زمین و آسمان کے اندر جو سچائی ہے اور اختلاف گردش لیل ونہار کے اندر جو سچائی ہے ‘ اس کے ادراک اور اس دعائیہ ارتعاش شعور کے درمیان کیا منطقی ربط ہے ‘ کہ صاحب ادراک نہایت ہی اللہ ترسی ‘ نہایت ہی عاجزی اور نہایت ہی یکسوئی سے دعا کرنے لگتا ہے ؟ جب اصحاب دانش اس سچائی کا ادراک کرلیتے ہیں ‘ جو اس کائنات کی تہہ میں کام کرتی ہے تو ان کے نزدیک اس ادراک کا مفہوم یہ ہوتا کہ اس کائنات کے اندر ایک تقدیر ہے ‘ ایک تدبیر ہے ‘ اس کے اندر ایک حکمت کام کررہی ہے اور اس کا ایک مقصد تخلیق ہے ۔ یہ کہ لوگوں کی زندگی کے پس پشت ‘ ان ستاروں میں ایک سچائی اور عدل کام کررہا ہے ۔ اس لئے لوگ یہاں جو کچھ اعمال وافعال کرتے ہیں ‘ ان کا کسی دن حساب و کتاب ضروری ہے ۔ مکافات عمل ہونا چاہئے ‘ اور مکافات عمل کی بنیاد پر عدالت اور انصاف کے لئے لازماً ایک دوسراجہاں ہونا چاہئے ۔ جس میں سچائی ‘ عدل اور جزاوسزا متحقق ہو۔ غرض اصحاب دانش کی دعا کے اندر جو حقائق سامنے آئے وہ فطرت کی بدیہی منطق ہے۔ جس کی کڑیاں اس طرح سرعت کے ساتھ ایک دوسرے سے ملتی چلی جاتی ہیں ۔ اور ان کا شعور ایک ہی جمپ میں آگ اور جہنم کا شعور حاصل کرلیتا ہے۔ اور معاً دست بدعا ہوتے ہیں کہ اللہ ! ہمیں اس سے بچا ‘ یہ وہ پہلی بات ہوتی ہے جوان کے دلوں میں آتی ہے ۔ اور یہ آمد اس ادراک کا منطقی نتیجہ ہے جو اس کائنات کے اندر پنہاں سچائی کے حوالے سے وہ کرلیتے ہیں ۔ کیفیت کے اعتبار سے یہ دعا نہایت ہی طویل ‘ خشوع و خضوع سے پر ‘ نہایت ہی مضطرب دل کے ساتھ نہایت ہی کانپتے ہوئے جسم کے ساتھ اور پوری یکسوئی کے ساتھ ‘ دل مومن سے اٹھتی ہے اور الفاظ کے اعتبار سے وہ ایک میٹھانغمہ ہے ۔ جس کی ضربات ہم آہنگ اور نغموں کی پرسوز حرارت اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ خوبصورت الفاظ میں ہے۔

آل عمران 3:192

ذرا آپ ان صاحبان عل و دانش کی ذہنی دنیا کا پہلا زلزلہ دیکھیں ۔ وہ اس میں اپنے رب کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاتے ہیں تاکہ وہ انہیں آگ کے عذاب سے بچائیں ذرا غور فرمائیں رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ……………” تونے جسے دوزخ میں ڈالا اسے درحقیقت بڑی ذلت اور رسوائی میں ڈال دیا۔ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ……………” پھر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ “ اس دعا سے اظہار ہوتا ہے کہ ان کا خوف آگ کے عذاب سے تھا ‘ اور اس سے بھی زیادہ ان کا خوف اس رسوائی سے تھا جو اہل دوزخ کو ہوا کرتی ہے ۔ ان کی ذہنی دنیا میں یہ ارتعاش اس شرمندگی اور رسوائی کی وجہ سے آیا جو اہل دوزخ کی ہوگی ۔ اس لئے یہ خوف انہیں محض اس سبب سے دامن گیر ہو کہ انہیں اللہ سے حیا لاحق ہوگئی ۔ اس طرح وہ آگ سے داغے جانے کے مقابلے میں اللہ سے حیاء کرنے میں زیادہ حساس ہیں ۔ اور یہ خوف اور کپکپی ان کے اس شعور کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کے مقابلے میں کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا ‘ اس لئے کسی ظالم کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا۔

آل عمران 3:193

اب یہ پر خشوع دعا ذرا آگے بڑھتی ہے : رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلإيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الأبْرَارِ ” مالک ! ہم نے ایک پکارنے والے کوسنا ‘ جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کی مانو ‘ ہم نے اس کی دعوت قبول کرلی ‘ پس اے ہمارے آقا جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزرفرما ‘ جو برائیاں ہم میں ہیں انہیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر ۔ “ اہل دانش کھلے دل لئے ہوئے ہیں ‘ ان پر جو القاء ہوتا ہے وہ لبیک کہتے ہیں ۔ ان کا احساس مزید تیز ہوجاتا ہے ‘ اب ان کی نظریں اپنی تقصیروں ‘ کوتاہیوں ‘ گناہوں اور نافرمانیوں پر لگ جاتی ہیں ۔ وہ فوراً اپنے رب سے اپنے گناہوں کی مغفرت کے طلبگار ہوتے ہیں ‘ وہ اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کے لئے تیار ہوجاتے اور اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی موت نیک لوگوں کے زمرے میں ہو۔ اس فقرے میں اس دعا کا جو پرتو ہے وہ اس پوری سورت کے مضامین کے شیڈ کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ تمام سورت مضامین تطہیر اخلاق ‘ اللہ اور رسول ﷺ کی معصیت اور نافرمانی سے استغفار کا رنگ لئے ہوئے ہیں ۔ اس پوری سورت میں شہوات نفسانیہ اور ذنوب وخطیئات کے خلاف ایک بھرپور جنگ کا سماں ہے ۔ اور یہ وہ جنگ ہے کہ ہر میدانی معرکہ میں کس بھی فتح مندی کا دارومدار اس جنگ میں کامرانی اور فتح مندی پر ہے ۔ جب تک اس اخلاقی تطہیر کی جنگ میں فتح نصیب نہ ہو ۔ اس وقت تک اللہ کے دشمنوں اور ایمان کے دشمنوں کے خلاف کوئی میدانی جنگ نہیں جیتی جاسکتی ۔ اور اس پوری سورت میں یہی مضامین دیئے گئے ہیں جو باہم وابستہ ‘ ہم آہنگ ‘ متکامل ‘ ہمسایہ اور ایک جیسے اثرات کے حامل ہیں۔

آل عمران 3:194

اس دعا کا خاتمہ توجہ الی اللہ اور فضل خداوندی کی امیدواری سے ہوتا ہے ۔ اس بات پر اعتماد اور یقین کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر وعدے کی وفا ہوتی ہے ۔ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَى رُسُلِكَ وَلا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّكَ لا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ” خداوند ! جو وعدے تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال ‘ بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے ۔ “ یہاں اب دعائیہ انداز میں یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ رسولوں نے آپ کے جو وعدے ہم پہنچائے ہیں ‘ اور ہمیں تو یقین ہے کہ آپ کے ہاں وعدہ خلافی نہیں ہوتی ‘ وہ وعدے پورے کردے ۔ یہ لوگ امید کرتے ہیں کہ قیامت کے دن وہ شرمندہ نہ ہوں گے ۔ یہ ان کے افکار کی دنیا میں پہلے جھٹکے کے نتیجے میں ان کے دین کی حالت ہے کہ وہ امید سے دامن بھرے ہوئے ہیں کہ وہ رسوا نہ ہوں گے ۔ اور اسے وہ دعا کی ابتدا میں بھی لاتے ہیں اور آخر میں بھی لاتے ہیں ۔ جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اصحاب دانش کس قدر حساس ہوگئے ہیں ۔ ان کے دل کس قدر نرم ہوگئے ہیں ۔ وہ کس قدر صاف ہوگئے ہیں ۔ اللہ کا ڈر اور معصیت کے شرم سے ان کے دل بھرے ہیں ۔ اپنے مجموعی مضمون کے اعتبار سے ‘ یہ دعا ‘ ان اہل دانش کی جانب سے مطالعہ فطرت کے نتیجے میں مکمل قبولیت مکمل آمادگی کا اظہار ہے جو ان کے دل پر نظام کائنات کے مطالعہ سے القاء ہوئی ۔ مناسب ہے کہ ہم اس دعا پر ایک بار پھر غور کریں ‘ اس کی فنی خوبصورتی اور اس کی مناسب طرزادا پر نگاہ ڈالنا بھی ضروری ہے ۔ قرآن کریم کی ہر سورت میں ‘ اس کی آیات کے لئے ایک متعین قافیہ اپنایا گیا ہے ۔ اور قرآن مجید کے اندر قافیہ اور فواصل کا وہ طریقہ نہیں اپنایا گیا جو اشعار میں ہوتا ہے ۔ کہ حرف سے حرف ملے ۔ لیکن ان کا نغمہ اور زیروبم باہم متشابہ ہوتے ہیں ۔ مثلاً الفاظ بصیر ‘ حکیم ‘ مبین اور مریب ایک جیسے صوتی اثرات رکھتے ہیں۔ یا مثلاً الباب ‘ ابصار ‘ النار اور قرار جیسے الفاظ کے صوتی اثرات یکساں ہیں یا مثلاً خفیا ‘ شقیا ‘ شرقیاجی سے الفاظ اگرچہ شعری قافیہ نہیں لیکن ان کا صوتی ایقاع ایک جیسا ہے ۔ ان میں سے پہلا قافیہ اکثر پر زور تقریر جیسے مواقع پر ہوتا ہے ۔ جہاں انداز بیانیہ ہوتا ہے………دوسرا قسم کا قافیہ دعاؤں کے مواقع پر ہوتا ہے اور تیسری قسم کو حکایات اور بیان واقعات کے لئے لایا جاتا ہے۔ سورة آل عمران میں پہلی قسم کا قافیہ ہے ‘ صرف دوجگہ اس سے انحراف ہوا ہے ۔ ابتداء میں جہاں دعاتھی ‘ پھر ان آخری آیات میں جہاں پھر دعا ہے ۔ یہ انداز بالکل ایک نیا اور انوکھا انداز ہے جو قرآن نے مخصوص تعبیرات کے لئے اختیار کیا ہے ۔ دعا کے لئے جو انداز اختیار کیا گیا وہ دعا کو نرم آواز اور پر سو زلہجہ دیتا ہے ۔ الفاظ کے اندر مٹھاس پایا جاتا ہے ۔ جو عاجزی کے ساتھ عرض مدعا کے لئے نہایت ہی موزوں ہے ۔ ایک دوسری فنی خصوصیت بھی ان آیات میں پائی جاتی ہے ۔ کائنات میں تخلیق ارض وسما کا منظر اور گردش لیل ونہار کے جو مناظر انسان کے غور وفکر کے لئے پیش کئے گئے تھے ‘ ان کے ساتھ مناسب یہ تھا کہ دعا ایسی ہو جس میں خشوع و خضوع خوش آوازی کے ساتھ ہو ۔ اس کے نغمات طویل ہوں ‘ اس کے آواز کے زیروبم نہایت ہی گہرے ہوں ۔ اس طرح اس منظر کے الہامات ‘ اثرات طویل ہوں اور اعصاب سماعت اور خیال پر اس کے گہرے اثرات ہوں اور پھر یہ تاثر وجدان پر منتقل ہوجائے ۔ کیونکہ ان کلمات کے صوتی حرکات کے اندر بھی نہایت خشوع ‘ خوش ‘ خوش گواری ‘ توجہ اور اللہ ترسی ہے ۔ اس منظر کی جس طرح عبارت طویل ہے اس طرح نغمات بھی طویل ہیں ۔ جس سے قرآن کریم کی تعبیرات کی اصل غرض وغایت پوری ہوتی ہے اور اس کے ساتھ قرآن کریم کی اصل نئی خوبیاں بھی سامنے آتی ہیں ۔ جس طرح یہ دعا طویل ہے ۔ اسی جواب دعا بھی طویل ہے :

آل عمران 3:195

یہ ایک مفصل جواب دعا ہے ۔ طرز ادا بھی طویل ہے ۔ اور یہ قرآن کریم کے طرز ادا کے عین مطابق ہے ۔ تقاضائے حال اور فریقین کے موقف کے عین مطابق نفیساتی اور شعوری دونوں زاویوں سے ۔ اب ہم اللہ کی جانب سے آنیوالے جواب دعا اور قبولیت دعا کے مضامین کی طرف آتے ہیں ۔ یہ جواب اسلامی نظام زندگی کے کن امور کو ظاہر کرتا ہے اور یہ کہ اس نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں اور یہ نظام انسان کی تربیت کے لئے کیا منہاج اختیار کرتا اور اس کی خصوصیات کیا ہیں ؟ یہ اصحاب دانش جنہوں نے تخلیق ارض وسما میں غور کیا ‘ جنہوں نے گردش لیل ونہار میں تدبیر کیا اور جنہوں نے اس کائنات کی کتاب مفتوح سے دلائل وآیات اخذ کئے اور ان کی فطرت نے ان دلائل وآیات حق کو قبول کیا اور اس کے بعد وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوئے ۔ انہوں نے خشوع و خضوع سے بھرپور ‘ سوز وساز میں ڈوبی ہوئی طویل دعا کی ۔ اور اس کے بعد ان کے رب رحیم وکریم کی طرف سے فوراً جواب دعا آیا کیونکہ ان کی دعا نہایت ہی پر خلوص تھی وہ محبت سے بھری تھی ………اب دیکھئے جواب دعا کیا ہے ؟ یہ جواب دعا قبولیت دعاپر مشتمل ہے ‘ اور اس میں اسلامی منہاج حیات کے اصل عناصر ترکیبی کی طرف ہدایت کی گئی ہے ۔ اور اس کے فرائض بتائے گئے ہیں فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ……………جواب میں ان کے رب نے فرمایا۔” میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔ “ تم لوگوں کی جانب سے صرف تدبر اور تفکر ہی کافی نہیں ہے ۔ خشوع اور خضوع اور پرسوزدعا ہی کافی نہیں ہے۔ صرف اللہ کی طرف متوجہ ہوکر گناہوں کی معافی مانگنا ہی کافی نہیں ہے اور صرف نجات اخروی کی طلب ہی کافی نہیں ہے ۔ بلکہ عمل ضروری ہے ۔ مثبت عمل کی ضرورت ہے ۔ اور یہ مثبت عمل نتیجہ ہے ۔ اس غوروفکر اور توجہ الی اللہ کا ‘ اس آمادگی اور اس احساس جس کا اظہار اس پر سوز دعا میں ہوگا۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان مثبت عمل پر آمادہ ہو ‘ وہ عمل جسے اسلام اسی طرح عبادت تصور کرتا ہے جس طرح اسلام تفکر اور تدبر کو عبادت سمجھتا ہے ۔ جس طرح اسلام ذکر وفکر ‘ خوف و استغفار اور پر امید توجہ الی اللہ کو عبادت سمجھتا ہے ۔ وہ عمل جسے اسلام تمام عبادات کا ثمرہ قرار دیتا ہے ۔ اور یہ ثمرہ سب کی جانب سے قبول ہوگا ۔ مرد یہ عمل کریں یا عورتیں یہ عمل کریں ۔ اس عمل کے مقابلے میں جنس وصنف کی کوئی شرط نہیں ہے ۔ اس لئے کہ مرد اور عورت انسانیت میں بالکل مساوی ہیں ۔ وہ ایک دوسرے کے اجزاء اور آباء و اجداد ہیں اور قیامت کے ترازو میں برابر ہیں ۔ اس کے بعد ان اعمال کی تفصیل دی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام کے نظریہ حیات جان ومال کے ساتھ تعلق رکھنے والی کیا ڈیوٹیاں ہیں ۔ نیز ان اعمال کے ذکر سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس نظام زندگی کا مزاج کیا ہے ؟ اور وہ کیا گراؤنڈ ہے جس کے اوپر یہ نظام تعمیر ہوتا ہے۔ اور اس کے طریق کار کا مزاج کیا ہے اور اس میں کیا کیا رکاوٹیں اور کیا کیا کانٹے ہیں ۔ اور یہ کہ ان مشکلات پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔ ان کانٹوں کو ایک ایک کرکے چننے کی ضرورت ہے اور اس زمین میں پاک درخت لگانے کے لئے کس کس تیاری کی ضرورت ہے ۔ پھر اسے اس زمین پر تمکنت دینے کے لئے کن کن اقدامات کی ضرورت ہے ، چاہے جس قدر قربانیاں دینی پڑیں ۔ چاہے جس قدر مشکلات کو انگیز کرنا پڑے۔ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لأكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلأدْخِلَنَّهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ ثَوَابًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ ” لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے ‘ اور میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے ‘ اور میرے لئے لڑے اور مارے گئے ان سب کے قصور معاف کردوں گا اور انہیں باغوں میں داخل کردوں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزا اللہ کے پاس ہے ۔ “ اس قرآن نے سب سے پہلے جن لوگوں کو خطاب کیا اور دعوت فکر دی ‘ ان کے یہی خدوخال تھے ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے مکہ سے ہجرت کی ‘ یہی لوگ تھے جن کو محض اپنے نظریہ حیات کی وجہ سے اپنے گھروں سے نکالا گیا۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی قصور نہ تھا ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے اس نظریہ کی خاطر قتال کیا اور مارے گئے ۔ لیکن یہ خدوخال ان تمام لوگوں کے ہونے چاہئیں جو دعوت اسلامی کو لے کر اٹھتے ہیں ۔ جب بھی کوئی اٹھے اور جہاں بھی کوئی اٹھے ۔ یہی خدوخال ہوں گے ان لوگوں کے جو جاہلیت کے اندر پل رہے ہوں ‘ جو جاہلیت بھی ہو وہ ……جو دشمن کی سر زمین پر پل رہے ہوں جو دشمن بھی ہو وہ اور جو سرزمین بھی ہو وہ ……جو دشمن اقوام کے اندر ہوں ۔ جو قوم بھی ہو وہ اور ان لوگوں کا پیمانہ صبر لبریز ہوجائے۔ دشمنوں کی نیش رینوی اور ان کی لالچ اور ان کی خواہشات نفسانیہ ان کے آڑے آرہی ہوں ۔ اور جب وہ قلیل تعداد میں ہوں تو انہیں اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہو اور یہ حالات نہایت ہی ابتدائی دور میں تھے جبکہ وہ مستضعفین تھے۔ اس کے بعد اس پاک پودے نے ذرا قوت پکڑی اور ہر جگہ پر یوں ہی قوت پکڑتا ہے اور باوجود ان اذیتوں کے پکڑتا ہے۔ باوجود ہجرت اور جلاوطنی کے پکڑتا ہے ۔ اس کے بعد یہ قوت اپنے پاؤں پر کھڑی ہوجاتی ہے ۔ اس کے اندر مقابلے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے اور پھر وہ اپنا دفاع کرسکتی ہے ۔ اس مرحلے پر پھر قتال ومقاتلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ یہ دشوار ‘ تلخ اور مشکل جدوجہد ہی دراصل گناہوں کا کفارہ بنتی ہے اور یہ اجزاء اور ثواب دنیا وآخرت کا سبب بھی بنتی ہے ۔ یہ ہے طریق کار ‘ یہ ربانی منہاج کار ہے ۔ جس منہاج زندگی کے لئے اللہ نے یہ طریق کار وضع کیا ہے کہ اسے انسانوں کی زندگی میں عملاً نافذ کرنے کے لئے انسانی جدوجہد کے ذرائع کو استعمال کیا جائے گا ۔ اسی طریق کے مطابق اور اسی مقدارجہاد کے مطابق جو مومنین اور مجاہدین فی سبیل اللہ ‘ اللہ کی راہ میں خالص اس کی رضاجوئی کے لئے کرتے ہیں۔ یہ ہے مزاج اس نظام حیات کا ‘ یہ ہیں اس کے عناصر ترکیبی اور یہ ہیں اس کے فرائض ‘ یہ ہے اس منہاج کا طریق تربیت ‘ یہ ہے اس کا طریقہ ہدایت و ارشاد کہ وہ اس کائنات میں غور وفکر کے وجدانی مرحلے سے گزر کر انسان کو مثبت عمل کی طرف منتقل کرتا ہے ۔ اور یہ عمل اس نظریاتی تاثرات کے مطابق ہوتا ہے اور اسی طرح یہ نظام زندگی قائم ہوتا ہے۔ اس کے بعد یہ جواب دعا میں ارض کفار کے اندر سازوسامان کے بھرے ہوئے بازاروں کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے جو اسلامی نظام زندگی کے دشمن اور نافرمان ہیں۔ متوجہ کیا جاتا ہے کہ ایک مسلمان اس سازوسامان کو وہی وزن دیتا ہے جو فی الحقیقت اس کا اس دنیا کیلئے ہے ۔ اور اسے اپنے لئے فتنہ نہیں بناتا ہے ۔ اور نہ اسے اہل ایمان کے لئے فتنہ بننے کا موقعہ دیتا ہے ۔ کیونکہ ‘ اس لئے کہ اہل ایمان بہت بڑی قربانیاں دے رہے ہیں ۔ انہیں ہدایت دی جارہی ہے۔ انہیں اپنے گھروں سے نکالا جارہا ہے اور انہیں قتل کیا جارہا ہے اس لئے دنیا کا سازوسامان ان کے لئے فتنہ نہ ہوجائے ۔

آل عمران 3:196

” اے نبی ! دنیا کے ملکوں کی اللہ کے نافرمانوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے ‘ یہ صرف چند روزہ زندگی کا تھوڑاسا لطف ہے ‘ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے پاس سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ‘ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لئے وہی سب سے بہتر ہے۔ “ لوگوں کا ممالک میں چلنا پھرنا ‘ سیاحتیں کرنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دولتمند ہیں اور ان کے پاس کچھ ہے ۔ نیز یہ ان کے مرتبے اور سیاسی قوت کی بھی علامت ہے ۔ یہ ایسے مظاہر ہیں جو اہل ایمان کو کھٹک سکتے ہیں ۔ وہ دل میں کسک محسوس کرسکتے ہیں ۔ عام لوگ ایسا احساس بہرحال رکھتے ہیں جیسا کہ وہ مشکل معاشی حالات اور محرومیت کا شکار ہوں ۔ انہیں اذیت دی جارہی ہو اور وہ جہد مسلسل کررہے ہوں انہیں جلاوطن کیا گیا ہو اور وہ بہتری کے لئے جہاد کررہے ہوں ۔ ان پر ہر قسم کی تکالیف اور خوفناک حالات آرہے ہوں اور دشمنان اسلام اور باطل پرست ناز ونعم میں پل رہے ہوں ۔ یہ صورت حال ایک طرف تو غفلت کا شکار جمہور عوام کو قلبی اذیت میں مبتلا کرتی ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ سچائی اور اہل حق مشکلات میں ہیں اور باطل اور اہل باطل کامیاب ہیں بلکہ عیش میں ہیں ۔ اور خود ان گمراہوں اور اہل باطل کے دلوں میں بھی یہ صورتحال غرور اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور وہ مزید گمراہ ہوتے ہیں ۔ اور شر و فساد میں اور سرکش اور گمراہی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اس لئے یہاں یہ آیت آئی کہ ” اے نبی ! دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے ۔ یہ چند روزہ زندگی کا تھوڑا سالطف ہے ‘ اور پھر یہ جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ “………متاع قلیل ہے۔ ختم ہونے والا اور جانے والا ہے ۔ اور دائمی ٹھکانہ ان کا جہنم ہے ۔ جو بہت بری جگہ ہے ۔ اور اس تھوڑے سے جانیوالے اور ختم ہونے والے متاع قلیل کے مقابلے میں کیا ہے ؟ باغات ہیں ‘ ان میں دائمی زندگی ہے اور اللہ کی طرف سے عزت افزائی ہے۔” ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ “………” ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “……یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ۔ “………جو اللہ کے ہاں مزید ہے وہ نیکوکاروں کے لئے بہت بہتر ہے۔ “ اس میں شک نہیں کہ اگر اس حصے کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسرے حصے کو دوسرے میں تو جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ اور یہ شک کسی دل میں نہ ہوگا کہ جو لوگ اپنی زندگی میں تقویٰ کی راہ اختیار کرتے یہیں ان کا پلڑان لوگوں سے بھاری ہوگا جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ۔ اور اسی طرح کوئی ذی عقل انسان اس معاملے میں تردد نہ کرے گا کہ اسے وہی حصہ اختیار کرنا چاہئے جو دانشور اپنے لئے اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں تعلیم وتربیت کے میدان میں اور اسلامی تصور حیات کی اساسی قدروں کے قیام میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں فرماتے کہ وہ ان کی نصرت فرمائیں گے ۔ یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہارے دشمنوں کو میں مقہور ومغلوب کرکے تمہیں دوں گا اور یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہیں زمین کے اند تمکین اور استقرار نصیب کیا جائے گا اور نہ وہ اس دنیا کی زندگی کی چیزوں میں سے کی دوسری چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ۔ جیسا کہ بعض دوسرے مقامات پر اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہ جو اللہ تعالیٰ اپنے اوپر یہ فرض کرتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا بمقابلہ دشمنان اسلام ۔ یہاں اللہ تعالیٰ صرف ایک چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ‘ وہ جو اللہ کے ہاں ہے۔ دعوت اسلامی میں اصل اجر یہی ہے ۔ اور یہی ہے اس دعوت کا نقطہ امتیاز ۔ ہر ہدف اور ہر مقصد سے بےنیازی ‘ ہر مطمح نظر سے استغنا۔ یہاں تک کہ وہ اس خواہش سے بھی بےنیاز ہوجائے کہ اس کا نظریہ حیات غالب ہو۔ اللہ کا حکم بلند ہو اور اللہ کے دشمن مقہور اور مغلوب ہوں۔ غرض اللہ کی مرضی یہ ہے کہ اہل ایمان اس غرض سے بھی بےنیاز ہوجائیں اور اپنے امور اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں ۔ اور ان کے دل اس سے بھی پاک ہوجائیں کہ یہ مقاصد ان کے لئے پسندیدہ ہوں ‘ اگرچہ یہ صرف ان کی ہی خواہش نہیں ہوتی ۔ یہ عقیدہ کہ جان دینی ہے ‘ وفاداری کرنی ہے اور ادائیگی فرض بجالانا ہے اور بس بغیر کسی دنیاوی غرض اور لالچ کے ۔ بغیر اس طلب کے کہ دنیا میں نصرت ‘ غلبہ تمکن فی الارض اور سربلندی حاصل ہو۔ اور ہر چیز کا انتظار دار آخرت میں ہو۔ اور اس کے بعد نصرت بھی آتی ہے ۔ تمکن فی الارض بھی نصیب ہوتا ہے اور دنیا میں اسلام کو سربلندی بھی نصیب ہوتی ہے۔ لیکن یہ تمام امور بیعت میں داخل نہیں ہیں ۔ یہ امور سودے میں شامل نہیں ۔ اس سودے میں مومنین نے قیمت کا کوئی حصہ اس دنیا میں وصول نہیں کرنا ۔ یہاں تو صرف ادائیگی فرض ‘ وفائے عہد اور جان دینا ہے اور مشکلات کو برداشت کرنا ہے۔ مکہ مکرمہ میں دعوت اور دعوت کے لئے بیعت اسی اصول پر جاری تھی ۔ یہی سودا وہاں ہورہا تھا ۔ لیکن اللہ نے مسلمانوں کو نصرت ‘ غلبہ اور سربلندی نصیب نہ کی تھی ۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین کے اندر اقتدار کی چابیاں سپرد نہ کی تھیں ۔ نہ انسانیت کی قیادت کا منصب ان کے حوالے کردیا تھا۔ ہاں جب وہ اس معیار کے مطابق مخلص ہوگئے اور اس معیار کے مطابق وفائے عہد کرنے لگے تو انہیں سب کچھ ملا۔ محمد ابن کعب القرظی فرماتے ہیں عبداللہ ابن رواحہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عقبہ کی رات کے موقعہ پر (اوس اور خزرج کے نمائندوں کے کے اسی رات بیعت کی اور فیصلہ ہوا کہ آپ ﷺ مدینہ کو ہجرت فرمائیں گے ۔ ) عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ آپ اپنے رب کے لئے اور اپنے لئے جو شرائط چاہیں عائد کردیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں رب کے لئے تو یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروگے ۔ اور اپنے لئے میں یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم لوگ میری حفاظت اسی طرح کروگے جس طرح تم اپنی جان ومال کی حفاظت کرتے ہو ۔ “ اس پر انہوں نے کہا تو پھر ہمیں کیا ملے گا ؟ تو آپ ﷺ نے وسلم نے جواب دیا صرف ” الجنۃ “۔ اس پر انہوں نے ‘ سب کہا اس سودے میں ہم بہت ہی نفع میں رہے ۔ نہ ہم خود اس سودے کو واپس کرتے ہیں اور نہ فریق دوئم سے اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ “ یہ تھی بات الجنۃ ‘ فقط جنت اس میں ان سے یہ وعدہ نہ تھا کہ انہیں نصرت ‘ عزت ‘ اتحاد ‘ قوت ‘ تمکن فی الارض ‘ قیادت ‘ مال اور دولت یا کوئی اور چیز ملے گی ۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں انہیں دی گئیں ۔ لیکن یہ چیزیں سودے سے خارج تھیں …………اس کے باوجود ان کا خیال یہ تھا کہ وہ اس سودے میں کامیاب رہے ۔ اور یہ کہ نہ افاقہ کرتے ہیں اور نہ دوسرے فریق سے اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں ۔ انہوں واضح سودا کیا۔ دو بیعت کرنیوالوں کے درمیان یہ سودا ہوا۔ معاملہ ختم ہوا۔ معاہدہ ہوگیا اور اس کے بعد اس میں کوئی سودا بازی نہیں ہوئی ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کی تربیت کی جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ اس کرہ ارض پر اقتدار کی چابیاں اس کے سپرد ہونی ہیں ۔ زمام اقتدار اس کے ہاتھ میں ہوگی اور اسے یہ قیادت اس وقت سپرد ہوئی جب وہ ہر قسم کے لالچ سے پاک ہوگئے ‘ ہر قسم کی خواہشات کو انہوں نے لات ماردی ‘ ہر قسم کی خواہشات نفس پر انہوں نے ضبط کیا ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اسلامی انقلاب کے حوالے سے بھی اپنی فطری خواہشات کو ترک کردیا ۔ اسلامی نظام کے قیام کی خواہش کو بھی انہوں نے دبادیا ۔ اور انہوں نے نظریہ حیات کی کامیابی کے لئے سوچنا بند کردیا ۔ جس کے لئے وہ جانیں دے رہے تھے ۔ اس لئے کہ اس عظیم قیادت کی ذمہ داریاں اٹھانے کا اہل کوئی ایسا شخص یا جماعت نہیں ہوسکتی جس کے نفس کے اندر کوئی خواہش ہو یا اس کے نفس کے اندر کوئی نفسانیت ہو اور وہ پورا پورا اسلام میں داخل نہ ہوگیا ہو۔

آل عمران 3:197

” اے نبی ! دنیا کے ملکوں کی اللہ کے نافرمانوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے ‘ یہ صرف چند روزہ زندگی کا تھوڑاسا لطف ہے ‘ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے پاس سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ‘ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لئے وہی سب سے بہتر ہے۔ “ لوگوں کا ممالک میں چلنا پھرنا ‘ سیاحتیں کرنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دولتمند ہیں اور ان کے پاس کچھ ہے ۔ نیز یہ ان کے مرتبے اور سیاسی قوت کی بھی علامت ہے ۔ یہ ایسے مظاہر ہیں جو اہل ایمان کو کھٹک سکتے ہیں ۔ وہ دل میں کسک محسوس کرسکتے ہیں ۔ عام لوگ ایسا احساس بہرحال رکھتے ہیں جیسا کہ وہ مشکل معاشی حالات اور محرومیت کا شکار ہوں ۔ انہیں اذیت دی جارہی ہو اور وہ جہد مسلسل کررہے ہوں انہیں جلاوطن کیا گیا ہو اور وہ بہتری کے لئے جہاد کررہے ہوں ۔ ان پر ہر قسم کی تکالیف اور خوفناک حالات آرہے ہوں اور دشمنان اسلام اور باطل پرست ناز ونعم میں پل رہے ہوں ۔ یہ صورت حال ایک طرف تو غفلت کا شکار جمہور عوام کو قلبی اذیت میں مبتلا کرتی ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ سچائی اور اہل حق مشکلات میں ہیں اور باطل اور اہل باطل کامیاب ہیں بلکہ عیش میں ہیں ۔ اور خود ان گمراہوں اور اہل باطل کے دلوں میں بھی یہ صورتحال غرور اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور وہ مزید گمراہ ہوتے ہیں ۔ اور شر و فساد میں اور سرکش اور گمراہی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اس لئے یہاں یہ آیت آئی کہ ” اے نبی ! دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے ۔ یہ چند روزہ زندگی کا تھوڑا سالطف ہے ‘ اور پھر یہ جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ “………متاع قلیل ہے۔ ختم ہونے والا اور جانے والا ہے ۔ اور دائمی ٹھکانہ ان کا جہنم ہے ۔ جو بہت بری جگہ ہے ۔ اور اس تھوڑے سے جانیوالے اور ختم ہونے والے متاع قلیل کے مقابلے میں کیا ہے ؟ باغات ہیں ‘ ان میں دائمی زندگی ہے اور اللہ کی طرف سے عزت افزائی ہے۔” ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ “………” ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “……یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ۔ “………جو اللہ کے ہاں مزید ہے وہ نیکوکاروں کے لئے بہت بہتر ہے۔ “ اس میں شک نہیں کہ اگر اس حصے کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسرے حصے کو دوسرے میں تو جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ اور یہ شک کسی دل میں نہ ہوگا کہ جو لوگ اپنی زندگی میں تقویٰ کی راہ اختیار کرتے یہیں ان کا پلڑان لوگوں سے بھاری ہوگا جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ۔ اور اسی طرح کوئی ذی عقل انسان اس معاملے میں تردد نہ کرے گا کہ اسے وہی حصہ اختیار کرنا چاہئے جو دانشور اپنے لئے اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں تعلیم وتربیت کے میدان میں اور اسلامی تصور حیات کی اساسی قدروں کے قیام میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں فرماتے کہ وہ ان کی نصرت فرمائیں گے ۔ یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہارے دشمنوں کو میں مقہور ومغلوب کرکے تمہیں دوں گا اور یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہیں زمین کے اند تمکین اور استقرار نصیب کیا جائے گا اور نہ وہ اس دنیا کی زندگی کی چیزوں میں سے کی دوسری چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ۔ جیسا کہ بعض دوسرے مقامات پر اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہ جو اللہ تعالیٰ اپنے اوپر یہ فرض کرتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا بمقابلہ دشمنان اسلام ۔ یہاں اللہ تعالیٰ صرف ایک چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ‘ وہ جو اللہ کے ہاں ہے۔ دعوت اسلامی میں اصل اجر یہی ہے ۔ اور یہی ہے اس دعوت کا نقطہ امتیاز ۔ ہر ہدف اور ہر مقصد سے بےنیازی ‘ ہر مطمح نظر سے استغنا۔ یہاں تک کہ وہ اس خواہش سے بھی بےنیاز ہوجائے کہ اس کا نظریہ حیات غالب ہو۔ اللہ کا حکم بلند ہو اور اللہ کے دشمن مقہور اور مغلوب ہوں۔ غرض اللہ کی مرضی یہ ہے کہ اہل ایمان اس غرض سے بھی بےنیاز ہوجائیں اور اپنے امور اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں ۔ اور ان کے دل اس سے بھی پاک ہوجائیں کہ یہ مقاصد ان کے لئے پسندیدہ ہوں ‘ اگرچہ یہ صرف ان کی ہی خواہش نہیں ہوتی ۔ یہ عقیدہ کہ جان دینی ہے ‘ وفاداری کرنی ہے اور ادائیگی فرض بجالانا ہے اور بس بغیر کسی دنیاوی غرض اور لالچ کے ۔ بغیر اس طلب کے کہ دنیا میں نصرت ‘ غلبہ تمکن فی الارض اور سربلندی حاصل ہو۔ اور ہر چیز کا انتظار دار آخرت میں ہو۔ اور اس کے بعد نصرت بھی آتی ہے ۔ تمکن فی الارض بھی نصیب ہوتا ہے اور دنیا میں اسلام کو سربلندی بھی نصیب ہوتی ہے۔ لیکن یہ تمام امور بیعت میں داخل نہیں ہیں ۔ یہ امور سودے میں شامل نہیں ۔ اس سودے میں مومنین نے قیمت کا کوئی حصہ اس دنیا میں وصول نہیں کرنا ۔ یہاں تو صرف ادائیگی فرض ‘ وفائے عہد اور جان دینا ہے اور مشکلات کو برداشت کرنا ہے۔ مکہ مکرمہ میں دعوت اور دعوت کے لئے بیعت اسی اصول پر جاری تھی ۔ یہی سودا وہاں ہورہا تھا ۔ لیکن اللہ نے مسلمانوں کو نصرت ‘ غلبہ اور سربلندی نصیب نہ کی تھی ۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین کے اندر اقتدار کی چابیاں سپرد نہ کی تھیں ۔ نہ انسانیت کی قیادت کا منصب ان کے حوالے کردیا تھا۔ ہاں جب وہ اس معیار کے مطابق مخلص ہوگئے اور اس معیار کے مطابق وفائے عہد کرنے لگے تو انہیں سب کچھ ملا۔ محمد ابن کعب القرظی فرماتے ہیں عبداللہ ابن رواحہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عقبہ کی رات کے موقعہ پر (اوس اور خزرج کے نمائندوں کے کے اسی رات بیعت کی اور فیصلہ ہوا کہ آپ ﷺ مدینہ کو ہجرت فرمائیں گے ۔ ) عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ آپ اپنے رب کے لئے اور اپنے لئے جو شرائط چاہیں عائد کردیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں رب کے لئے تو یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروگے ۔ اور اپنے لئے میں یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم لوگ میری حفاظت اسی طرح کروگے جس طرح تم اپنی جان ومال کی حفاظت کرتے ہو ۔ “ اس پر انہوں نے کہا تو پھر ہمیں کیا ملے گا ؟ تو آپ ﷺ نے وسلم نے جواب دیا صرف ” الجنۃ “۔ اس پر انہوں نے ‘ سب کہا اس سودے میں ہم بہت ہی نفع میں رہے ۔ نہ ہم خود اس سودے کو واپس کرتے ہیں اور نہ فریق دوئم سے اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ “ یہ تھی بات الجنۃ ‘ فقط جنت اس میں ان سے یہ وعدہ نہ تھا کہ انہیں نصرت ‘ عزت ‘ اتحاد ‘ قوت ‘ تمکن فی الارض ‘ قیادت ‘ مال اور دولت یا کوئی اور چیز ملے گی ۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں انہیں دی گئیں ۔ لیکن یہ چیزیں سودے سے خارج تھیں …………اس کے باوجود ان کا خیال یہ تھا کہ وہ اس سودے میں کامیاب رہے ۔ اور یہ کہ نہ افاقہ کرتے ہیں اور نہ دوسرے فریق سے اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں ۔ انہوں واضح سودا کیا۔ دو بیعت کرنیوالوں کے درمیان یہ سودا ہوا۔ معاملہ ختم ہوا۔ معاہدہ ہوگیا اور اس کے بعد اس میں کوئی سودا بازی نہیں ہوئی ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کی تربیت کی جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ اس کرہ ارض پر اقتدار کی چابیاں اس کے سپرد ہونی ہیں ۔ زمام اقتدار اس کے ہاتھ میں ہوگی اور اسے یہ قیادت اس وقت سپرد ہوئی جب وہ ہر قسم کے لالچ سے پاک ہوگئے ‘ ہر قسم کی خواہشات کو انہوں نے لات ماردی ‘ ہر قسم کی خواہشات نفس پر انہوں نے ضبط کیا ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اسلامی انقلاب کے حوالے سے بھی اپنی فطری خواہشات کو ترک کردیا ۔ اسلامی نظام کے قیام کی خواہش کو بھی انہوں نے دبادیا ۔ اور انہوں نے نظریہ حیات کی کامیابی کے لئے سوچنا بند کردیا ۔ جس کے لئے وہ جانیں دے رہے تھے ۔ اس لئے کہ اس عظیم قیادت کی ذمہ داریاں اٹھانے کا اہل کوئی ایسا شخص یا جماعت نہیں ہوسکتی جس کے نفس کے اندر کوئی خواہش ہو یا اس کے نفس کے اندر کوئی نفسانیت ہو اور وہ پورا پورا اسلام میں داخل نہ ہوگیا ہو۔

آل عمران 3:198

” اے نبی ! دنیا کے ملکوں کی اللہ کے نافرمانوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے ‘ یہ صرف چند روزہ زندگی کا تھوڑاسا لطف ہے ‘ پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ برعکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ‘ ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے پاس سے یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ‘ اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لئے وہی سب سے بہتر ہے۔ “ لوگوں کا ممالک میں چلنا پھرنا ‘ سیاحتیں کرنا یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ دولتمند ہیں اور ان کے پاس کچھ ہے ۔ نیز یہ ان کے مرتبے اور سیاسی قوت کی بھی علامت ہے ۔ یہ ایسے مظاہر ہیں جو اہل ایمان کو کھٹک سکتے ہیں ۔ وہ دل میں کسک محسوس کرسکتے ہیں ۔ عام لوگ ایسا احساس بہرحال رکھتے ہیں جیسا کہ وہ مشکل معاشی حالات اور محرومیت کا شکار ہوں ۔ انہیں اذیت دی جارہی ہو اور وہ جہد مسلسل کررہے ہوں انہیں جلاوطن کیا گیا ہو اور وہ بہتری کے لئے جہاد کررہے ہوں ۔ ان پر ہر قسم کی تکالیف اور خوفناک حالات آرہے ہوں اور دشمنان اسلام اور باطل پرست ناز ونعم میں پل رہے ہوں ۔ یہ صورت حال ایک طرف تو غفلت کا شکار جمہور عوام کو قلبی اذیت میں مبتلا کرتی ہے کہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ سچائی اور اہل حق مشکلات میں ہیں اور باطل اور اہل باطل کامیاب ہیں بلکہ عیش میں ہیں ۔ اور خود ان گمراہوں اور اہل باطل کے دلوں میں بھی یہ صورتحال غرور اور خود اعتمادی پیدا کرتی ہے اور وہ مزید گمراہ ہوتے ہیں ۔ اور شر و فساد میں اور سرکش اور گمراہی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اس لئے یہاں یہ آیت آئی کہ ” اے نبی ! دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے ۔ یہ چند روزہ زندگی کا تھوڑا سالطف ہے ‘ اور پھر یہ جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ “………متاع قلیل ہے۔ ختم ہونے والا اور جانے والا ہے ۔ اور دائمی ٹھکانہ ان کا جہنم ہے ۔ جو بہت بری جگہ ہے ۔ اور اس تھوڑے سے جانیوالے اور ختم ہونے والے متاع قلیل کے مقابلے میں کیا ہے ؟ باغات ہیں ‘ ان میں دائمی زندگی ہے اور اللہ کی طرف سے عزت افزائی ہے۔” ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ۔ “………” ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “……یہ سامان ضیافت ہے ان کے لئے ۔ “………جو اللہ کے ہاں مزید ہے وہ نیکوکاروں کے لئے بہت بہتر ہے۔ “ اس میں شک نہیں کہ اگر اس حصے کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور دوسرے حصے کو دوسرے میں تو جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ نیک لوگوں کے لئے بہت ہی بہتر ہے۔ اور یہ شک کسی دل میں نہ ہوگا کہ جو لوگ اپنی زندگی میں تقویٰ کی راہ اختیار کرتے یہیں ان کا پلڑان لوگوں سے بھاری ہوگا جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ۔ اور اسی طرح کوئی ذی عقل انسان اس معاملے میں تردد نہ کرے گا کہ اسے وہی حصہ اختیار کرنا چاہئے جو دانشور اپنے لئے اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں تعلیم وتربیت کے میدان میں اور اسلامی تصور حیات کی اساسی قدروں کے قیام میں مسلمانوں کے ساتھ کوئی وعدہ نہیں فرماتے کہ وہ ان کی نصرت فرمائیں گے ۔ یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہارے دشمنوں کو میں مقہور ومغلوب کرکے تمہیں دوں گا اور یہ وعدہ بھی نہیں فرماتے کہ تمہیں زمین کے اند تمکین اور استقرار نصیب کیا جائے گا اور نہ وہ اس دنیا کی زندگی کی چیزوں میں سے کی دوسری چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ۔ جیسا کہ بعض دوسرے مقامات پر اللہ نے وعدہ فرمایا ہے وہ جو اللہ تعالیٰ اپنے اوپر یہ فرض کرتا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا بمقابلہ دشمنان اسلام ۔ یہاں اللہ تعالیٰ صرف ایک چیز کا وعدہ فرماتے ہیں ‘ وہ جو اللہ کے ہاں ہے۔ دعوت اسلامی میں اصل اجر یہی ہے ۔ اور یہی ہے اس دعوت کا نقطہ امتیاز ۔ ہر ہدف اور ہر مقصد سے بےنیازی ‘ ہر مطمح نظر سے استغنا۔ یہاں تک کہ وہ اس خواہش سے بھی بےنیاز ہوجائے کہ اس کا نظریہ حیات غالب ہو۔ اللہ کا حکم بلند ہو اور اللہ کے دشمن مقہور اور مغلوب ہوں۔ غرض اللہ کی مرضی یہ ہے کہ اہل ایمان اس غرض سے بھی بےنیاز ہوجائیں اور اپنے امور اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیں ۔ اور ان کے دل اس سے بھی پاک ہوجائیں کہ یہ مقاصد ان کے لئے پسندیدہ ہوں ‘ اگرچہ یہ صرف ان کی ہی خواہش نہیں ہوتی ۔ یہ عقیدہ کہ جان دینی ہے ‘ وفاداری کرنی ہے اور ادائیگی فرض بجالانا ہے اور بس بغیر کسی دنیاوی غرض اور لالچ کے ۔ بغیر اس طلب کے کہ دنیا میں نصرت ‘ غلبہ تمکن فی الارض اور سربلندی حاصل ہو۔ اور ہر چیز کا انتظار دار آخرت میں ہو۔ اور اس کے بعد نصرت بھی آتی ہے ۔ تمکن فی الارض بھی نصیب ہوتا ہے اور دنیا میں اسلام کو سربلندی بھی نصیب ہوتی ہے۔ لیکن یہ تمام امور بیعت میں داخل نہیں ہیں ۔ یہ امور سودے میں شامل نہیں ۔ اس سودے میں مومنین نے قیمت کا کوئی حصہ اس دنیا میں وصول نہیں کرنا ۔ یہاں تو صرف ادائیگی فرض ‘ وفائے عہد اور جان دینا ہے اور مشکلات کو برداشت کرنا ہے۔ مکہ مکرمہ میں دعوت اور دعوت کے لئے بیعت اسی اصول پر جاری تھی ۔ یہی سودا وہاں ہورہا تھا ۔ لیکن اللہ نے مسلمانوں کو نصرت ‘ غلبہ اور سربلندی نصیب نہ کی تھی ۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین کے اندر اقتدار کی چابیاں سپرد نہ کی تھیں ۔ نہ انسانیت کی قیادت کا منصب ان کے حوالے کردیا تھا۔ ہاں جب وہ اس معیار کے مطابق مخلص ہوگئے اور اس معیار کے مطابق وفائے عہد کرنے لگے تو انہیں سب کچھ ملا۔ محمد ابن کعب القرظی فرماتے ہیں عبداللہ ابن رواحہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عقبہ کی رات کے موقعہ پر (اوس اور خزرج کے نمائندوں کے کے اسی رات بیعت کی اور فیصلہ ہوا کہ آپ ﷺ مدینہ کو ہجرت فرمائیں گے ۔ ) عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ آپ اپنے رب کے لئے اور اپنے لئے جو شرائط چاہیں عائد کردیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : میں رب کے لئے تو یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروگے ۔ اور اپنے لئے میں یہ شرط لگاتا ہوں کہ تم لوگ میری حفاظت اسی طرح کروگے جس طرح تم اپنی جان ومال کی حفاظت کرتے ہو ۔ “ اس پر انہوں نے کہا تو پھر ہمیں کیا ملے گا ؟ تو آپ ﷺ نے وسلم نے جواب دیا صرف ” الجنۃ “۔ اس پر انہوں نے ‘ سب کہا اس سودے میں ہم بہت ہی نفع میں رہے ۔ نہ ہم خود اس سودے کو واپس کرتے ہیں اور نہ فریق دوئم سے اس کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ “ یہ تھی بات الجنۃ ‘ فقط جنت اس میں ان سے یہ وعدہ نہ تھا کہ انہیں نصرت ‘ عزت ‘ اتحاد ‘ قوت ‘ تمکن فی الارض ‘ قیادت ‘ مال اور دولت یا کوئی اور چیز ملے گی ۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں انہیں دی گئیں ۔ لیکن یہ چیزیں سودے سے خارج تھیں …………اس کے باوجود ان کا خیال یہ تھا کہ وہ اس سودے میں کامیاب رہے ۔ اور یہ کہ نہ افاقہ کرتے ہیں اور نہ دوسرے فریق سے اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں ۔ انہوں واضح سودا کیا۔ دو بیعت کرنیوالوں کے درمیان یہ سودا ہوا۔ معاملہ ختم ہوا۔ معاہدہ ہوگیا اور اس کے بعد اس میں کوئی سودا بازی نہیں ہوئی ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کی تربیت کی جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ اس کرہ ارض پر اقتدار کی چابیاں اس کے سپرد ہونی ہیں ۔ زمام اقتدار اس کے ہاتھ میں ہوگی اور اسے یہ قیادت اس وقت سپرد ہوئی جب وہ ہر قسم کے لالچ سے پاک ہوگئے ‘ ہر قسم کی خواہشات کو انہوں نے لات ماردی ‘ ہر قسم کی خواہشات نفس پر انہوں نے ضبط کیا ۔ یہاں تک کہ انہوں نے اسلامی انقلاب کے حوالے سے بھی اپنی فطری خواہشات کو ترک کردیا ۔ اسلامی نظام کے قیام کی خواہش کو بھی انہوں نے دبادیا ۔ اور انہوں نے نظریہ حیات کی کامیابی کے لئے سوچنا بند کردیا ۔ جس کے لئے وہ جانیں دے رہے تھے ۔ اس لئے کہ اس عظیم قیادت کی ذمہ داریاں اٹھانے کا اہل کوئی ایسا شخص یا جماعت نہیں ہوسکتی جس کے نفس کے اندر کوئی خواہش ہو یا اس کے نفس کے اندر کوئی نفسانیت ہو اور وہ پورا پورا اسلام میں داخل نہ ہوگیا ہو۔

آل عمران 3:199

سورت کے مضامین ختم ہونے سے قبل روئے سخن پھر اہل کتاب کی طرف مڑجاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اہل کتاب میں بعض لوگ ایسے ہیں جو مومنین کی طرح صحیح العقیدہ ہیں ۔ اور یہ لوگ قافلہ ایمان میں شامل ہوگئے ہیں ۔ وہ اسی کے ساتھ جارہے ہیں ۔ اس لئے ان کی جزا بھی وہی ہوگی جو اہل ایمان کی ہوگی ۔ یہ اہل کتاب کے ساتھ اختتامی خطاب ہے ۔ اس سے قبل اہل کتاب کے فرقوں اور ان کے مختلف مواقف کے بارے میں اس سورت کے ایک بڑے حصے میں بات ہوئی تھی ۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ ایمان کے اعلیٰ نمونوں کی اس نمائش گاہ اور دعا اور قبولیت دعا کے اس منظر میں اہل کتاب میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کے نمونے اس نمائش میں رکھنے کے قابل ہیں ۔ اس لئے کہ اہل کتاب میں سے بعض لوگ صحیح راستے پر گامزن ہوگئے ہیں ۔ وہ صحیح انجام تک آپہنچے ہیں ۔ وہ تمام کتب پر ایمان لے آئے ہیں ۔ (موجودہ اور سابق) وہ اللہ اور اس کے درمیان بلحاظ اطاعت فرق بھی نہیں کرتے ۔ وہ اللہ کے رسولوں میں سے بھی کسی میں فرق نہیں کرتے ۔ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لائے جو ان کی طرف نازل ہوئی اور اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو مسلمانوں پر نازل ہوئی ہے ۔ اور یہی اسلامی نظریہ حیات کی خصوصیت ہے کہ وہ قافلہ ایمانی کی طرف قرب و محبت کی نظروں کے ساتھ دیکھتا ہے۔ اس کا نقطہ نظر یہ ہے کہ وہ نظریہ کی ایک ہی لائن ہے جو ذات باری کے ساتھ موصول ہے ۔ وہ اسلامی نظریہ حیات کو ایک وحدت سمجھتا ہے ۔ اسے کلی نقطہ نظر سے دیکھتا ہے۔ یہاں اہل کتاب مومنین کی خصوصیات میں سے جس اہم خصوصیت کو ظاہر کیا جارہا ہے وہ ان کی صفت خشوع و خضوع ہے اور ان کی یہ صفت کہ وہ اللہ کی آیات کے بدلے اس دنیا کے ثمن قلیل کو قبول نہیں کرتے ۔ یہ صفات اس لئے ذکر کی گئیں کہ انہیں دوسرے اہل کتاب کی صفوں سے چھانٹ کر الگ کردیا جائے جن میں یہ دونوں کمزوریاں موجود تھیں ۔ یعنی متکبر بھی تھے اور بےحیا بھی تھے ۔ آیات کو چھپاتے بھی تھے اور ان میں تحریف بھی کرتے تھے ۔ اور یہ کام وہ نہایت ہی گھٹیا مقصد کے لئے کرتے تھے ۔ اور ان کے ساتھ وہی وعدہ اجر کیا جاتا ہے جو اہل ایمان کے ساتھ ہے اور یہ اجر دستی طور پر ادا ہوگا کوئی ٹال مٹول نہ ہوگی۔ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ……………(اللہ تعالیٰ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا ۔ )

آل عمران 3:200

اب آخری ضرب ہے ۔ اللہ کی جانب سے ان لوگوں کو پکار دی جاتی ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ اس میں اس راہ کی مشکلات کا مختصر ترین نچوڑ اور خلاصہ پیش کیا جاتا ہے اور راستے کی ذمہ داریوں اور شرائط کا ذکر کیا جاتا ہے۔ عالم بالا سے یہ پکار ‘ اہل ایمان کے لئے ہے ۔ اور اس صفتی نام سے یہ پکار ہے جس صفت نے انہیں ذات باری سے مربوط کیا ہے ۔ وہ ذات جوان مومنین پر یہ ذمہ داریاں ڈال رہی ہے ۔ جو انہیں اس پکار کے اہل بناتی اور جو انہیں ذمہ داریاں اٹھانے کی تربیت دیتی ہے ۔ اور انہیں اس زمین پر بھی اسی طرح مکرم بناتی ہے جس طرح انہیں آسمان پر مکرم بنایا گیا ہے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا……………(اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ ) اور پکار کس لئے ہے ۔ صبر سے کام لو ‘ جرات دکھاؤ ‘ ہر وقت دشمن کے مقابلے کے لئے تیار رہو ‘ اور ہر وقت خوف اللہ کو پیش نظر رکھو………اس پوری سورت میں صبر اور تقویٰ کی باربار تلقین کی گئی ہے ۔ ان کا تذکرہ الگ الگ بھی ہوا ہے اور یکجا بھی ہوا ہے ۔ نیز اس پوری سورت میں یہ دعوت دی گئی ہے کہ راہ حق میں مشکلات برداشت کرو ‘ مجاہدہ کرو ‘ سازشوں کا مقابلہ کرو اور جو لوگ شکست کی طرف بلاتے ہیں اور ہمت شکنی کی باتیں کرتے ہیں ان کی طرف توجہ نہ کرو اور یہاں اس سورت کے آخر میں اس مضمون کو دہرا کر صبر اور مصابرت کی دعوت دی جاتی ہے ۔ اللہ کی راہ میں ہر وقت تیار رہنے اور اللہ خوفی کو اختیار کرنے کی تلقین یہاں بہترین خاتمہ ہے ۔ صبر اس راہ کا بہترین سامان ہے ‘ راہ دعوت اسلامی کا ‘ اس لئے کہ یہ طویل اور پر مشقت راستہ ہے ۔ یہ مشکلات سے پر اور کانٹوں سے اٹاپڑا ہے ۔ جگہ جگہ ابتلاوآزمائش ہے ۔ ہر وقت چوٹ لگنے اور جان کی قربانی کے مواقع ہیں ۔ اور ہر موقع ایسا ہے جس میں صبر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انسانی خواہشات پر صبر ‘ نفس کے مرغوبات پر صبر ‘ ہر قسم کے لالچوں اور آرزؤں پر صبر ‘ اپنے ضعف اور نقص پر صبر ‘ ان کے مزاج کے انحراف پر صبر ‘ نفس کی جلد بازی اور افسردگی پر صبر ‘ لوگوں کی خواہشات پر صبر ‘ لوگوں کے ضعف اور کمزوری پر صبر ‘ لوگوں کے جہل اور بری سوچ پر صبر ‘ ان کے مزاج کے انحراف پر صبر ان کی نخوت اور غرور پر صبر ‘ ان کی چالبازیوں پر صبر ‘ باطل کے غرور پر صبر ‘ کفر کی گندگی پر صبر ‘ شر کے پھیلنے پھولنے پر صبر ‘ شہوت کے غلبے پر صبر ‘ غرور اور کبر کی آگ پر صبر ‘ مددگاروں کی قلت پر صبر ‘ اعانت کننددگان کی قلت پر صبر ‘ راستے کی طوالت پر صبر ‘ کرب اور بےچینی کے اوقات میں شیطانی وسوسوں پر صبر ‘ اور جہاد کی تلخی پر صبر اور ان تمام نفسیاتی تاثرات اور متنوع انفعالات پر صبر………مثلا رنج والم ‘ غیض وغضب ‘ دلی تنگی اور گھٹن ‘ بعض اوقات بھلائی پر بےاعتمادی اور انسانی فطرت کی اصلاح کی ناامیدی وغیرہ………بعض اوقات رنج وملال اور تھکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے اور انسان پر مایوسی کا غبار چھا جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں صبر ہی کام دیتا ہے ۔ پھر جب غلبہ نصیب ہوتا ہے تو انسان کو انتقام پر قدرت حاصل ہوجاتی ہے ۔ اور اس وقت پھر صبر کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ پھر بعض اوقات مادی سہولیات ملتی ہیں تو ان پر تواضع اور سنجیدگی کرنا ہوتی ہے ۔ بغیر تکبر اور بغیر میلان انتقام اور بغیر اس کے کہ قصاص میں حد سے گزرجائیں………پھر خوشحالی اور بدحالی دونوں میں اللہ سے لولگائے رکھنا ‘ اس کے فیصلوں کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ‘ اور نہایت ہی اطمینان ‘ نہایت ہی اعتماد اور منکسرالمزاجی کے ساتھ اپنے تمام امور اس کے حوالے کردینا۔ ان سب امور میں صبر کرنا اور ان جیسے دوسرے امور میں صبر کرنا ‘ ایسے امور ہیں جو مسالک راہ حق کو ‘ اس کے اس طویل سفر میں پیش آتے رہتے ہیں ۔ ایسی مشکلات اور ایسے حالات پیش آتے رہتے ہیں ۔ جن کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ ان مشکلات کا اظہار الفاظ میں ممکن نہیں ۔ ان مشقتوں کا مفہوم کلمات کے جامہ میں نہیں سماتا ۔ اس مفہوم کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جس پر وہ معانی گزرے ہوں اور جس نے اس راہ کی مشقتوں کو انگیز کیا ہو۔ اس نے ان تاثرات کو چکھا ہو اور وہ ان تلخ تجربوں سے خود گزرا ہو۔ وہ لوگ جو ایمان لائے تھے ‘ انہوں نے ان مذکورہ بالا مشکلات کے اکثر پہلوؤں کی تلخی کو خود چکھ لیا تھا۔ اس لئے انہوں نے اس پکار کو اچھی طرح سمجھ لیا ۔ وہ صبر کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے جس کے بارے میں انہیں تلقین کی جارہی ہے کہ وہ اسی پر گامزن ہوں ۔ اب صبر کے بعد مصابرہ کیا ہے ؟ یہ صبر کا باب مفاعلہ ہے ۔ یعنی صبر میں باہم مقابلہ کرو۔ ان تمام امور میں جن کا ذکر اوپر ہوا ۔ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ مصابرت جو اہل ایمان کے صبر کو اپنی تلوار سے کاٹنا چاہتے ہیں ۔ یعنی مذکورہ بالاجذبات کے ساتھ مصابرت یا دشمنوں کے ساتھ مصابرت ‘ پس جہاد کے اس طویل سفر میں ان کا صبر ختم نہ ہونے پائے ۔ بلکہ انہیں آخر دم تک اپنے اعداء سے زیادہ صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔ ان دشمنوں سے انہیں زیادہ صبر والا ہونا چاہئے جو دلوں کے اندر چھپے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح شرپسند دشمنوں کے مقابلے میں بھی ۔ گویا اہل ایمان اور ان کے دشمنوں کے درمیان مصابرت کا مقابلہ ہے کہ اس میدان میں کون آگے نکلتا ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے ہے کہ صبر کا مقابلہ صبر سے کرو ‘ مدافعت کا مقابلہ مدافعت سے کرو ‘ جدوجہد کا مقابلہ جدوجہد سے کرو ‘ اصرارکا مقابلہ اصرار سے کرو ‘ اور آخری مقابلہ یہ ہوگا کہ اہل ایمان مقابلے میں سب سے آگے ہوں گے ۔ اگر باطل اپنے نظریے پر اصرار کرتا ہے صبر کرتا ہے ‘ اور اپنی راہ پر گامزن ہے تو حق اس بات کا زیادہ مستحق ہے کہ زیادہ مصر ہو ‘ زیادہ صبرناک ہو اور اپنی راہ میں زیادہ جدوجہد کرنے والا ہو۔ اور رابط کیا ہے ۔ جہاد کے مقامات پر مورچے لگانا۔ مورچہ زن ہونا۔ دشمنوں کے حملوں کے خطرناک مقامات پر چوکیاں قائم کرنا ‘ اور اسلامی جماعت ہر وقت دشمن پر نظر رکھتی تھی ۔ کبھی وہ سوتی نہ تھی ‘ اس لئے کہ اس کے ساتھ اس کے دشمنوں نے کبھی مصالحت نہیں کی تھی۔ جب سے اس نے دعوت اسلامی کا بوجھ اٹھانے کا اعلان کیا ۔ اور لوگوں پر اس دعوت کو پیش کیا ‘ تو وہ میدان جنگ اور حالت جنگ میں رہی ہے ۔ کسی جگہ بھی اور کسی دور میں بھی وہ رابطہ جہاد سے مستغنی نہیں رہی ہے ‘ اور آخرالزمان اور قیامت تک یہ پوزیشن ایسی رہے گی۔ دعوت اسلامی لوگوں کے سامنے ایک حقیقت پسندانہ نظام زندگی پیش کرتی ہے ۔ ایسانظام جو ان کے ضمیر کے اندر بھی قائم ہوتا ہے ‘ جو ان کے مال پر بھی حکمران ہوتا ہے ‘ جوان کی زندگی کے تمام امور پر حکمران ہوتا ہے ‘ جو ان کی معیشت پر بھی حکمران ہوتا ہے اور جو ایک منصفانہ اور سیدھا نظام ہوتا ہے ۔ لیکن دنیا کا قانون ہے کہ شر ایسے منصفانہ ‘ عادلانہ اور خیر پر مشتمل سیدھے نظام کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرتا ۔ کوئی باطل خیر ‘ عدل اور استواری کو محبوب نہیں رکھتا ‘ اور کوئی ظلم عدل ‘ مساوات اور شرافت کو برداشت نہیں کرتا ۔ اس لئے دعوت اسلامی کی مخالفت میں اصحاب شر ‘ اصحاب باطل اور ظالم کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ اسلام کے خلاف تمام گندے اور مفاد پرست اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ تاکہ وہ لوگوں کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے رہیں ۔ ظالم اور متکبر بھی اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ ظلم اور استکبار سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ اور اس کے مقابلے میں تمام بداخلاق اور بےراہ روی اختیار کرنے والے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ اپنی اخلاقی بےراہ روی اور شہوت رانی کو ترک نہیں کرسکتے ۔ اس لئے ان سب کے ساتھ مسلسل جہاد بہت ضروری ہے ۔ اور ان کے مقابلے میں صبر اور مصابرت فرض عین ہے۔ اس لئے مسلسل چوکیداری اور اسلامی کو سٹ گارڈز کی ضرورت ہے تاکہ یہ نہ ہو کہ امت مسلمہ کے خلاف کوئی قوت اچانک حملہ آور ہوجائے ‘ جبکہ ایسی قوتیں ہر سرزمین اور ہر نسل میں اس کے خلاف تاک لگائے ہوتی ہیں ۔ یہ ہے اس دعوت کا مزاج ‘ اس کا طریق کار اس کی پالیسی یہ نہیں ہوتی کہ وہ حد سے تجاوز کرے لیکن اس کی یہ پالیسی ضرور ہوتی ہے کہ وہ اس کرہ ارض پر ایک مستحکم نظام زندگی اور ایک صحت مند منہاج قائم کرے ۔ لیکن دعوت اسلامی کے مقابلے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی قوت اٹھ کھڑی ہوتی ہے جو اس منہاج اور اس نظام کو ناپسند کرتی ہے ۔ اور پھر یہ قوت اس کی راہ میں اپنی پوری قوت لاکر کھڑی ہوجاتی ہے اور ہر قسم کی مکاری کرتی پھرتی ہے ۔ وہ دعوت اسلامی کی ہر برائی پر خوش ہوتی ہے ‘ جو ہاتھ ‘ دل اور زبان سے دعوت اسلامی کے خلاف مسلسل جدوجہد کراتی ہے ۔ اس لئے تحریک اسلامی کا بھی فرض ہے کہ وہ اس معرکے میں اپنے پورے فرائض اور واجبات کے ساتھ کودے ۔ اور اس کا فرض ہے کہ وہ ہر وقت بیدار رہے اور کسی وقت بھی غافل نہ ہو۔ لیکن ان تمام کاموں میں اللہ ترسی کا ہتھیار اس نے لازماً اپنی کمر کے ساتھ باندھا ہوا ہو۔ کیونکہ تقویٰ ایک بیدار چوکیدار ہے جو دل کے دروازے پر بیٹھا ہوتا ہے ۔ وہ اسے غافل نہیں ہونے دیتا ۔ وہ اسے ضعیف نہیں ہونے دیتا ۔ اور وہ اسے حدود سے گزرنے بھی نہیں دیتا ۔ اور وہ اسے راہ راست سے بھٹکنے بھی نہیں دیتا۔ اور تقویٰ کے اس بیدار چوکیدار کی ضرورت کا احساس صرف اس شخص ہی کو ہوسکتا ہے جس نے اس راستے کی مشقتوں کو دیکھا ہوتا ہے۔ جس نے متضاد میلانات اور بکثرت اور پے درپے تاثرات کے دباؤ کا مقابلہ کیا ہو۔ مختلف حالات اور مختلف لحظات میں ۔ اس سورت میں تار رباب پر یہ آخری ضرب تھی ۔ جس میں اس قسم کے بیشمار مضراب استعمال کئے گئے ۔ اور یہ ضربات سب کی سب ان تاروں پر لگائی گئیں ہیں جن کا تعلق دعوت اسلامی کی راہ میں عائد ہونے والے فرائض اور واجبات سے تھا ۔ اور یہی وجہ ہے کہ آخر میں یہ فیصلہ دیا جاتا ہے کہ اگر تم ہمہ گیر فلاح چاہتے ہو اور مکمل انقلاب چاہتے ہو تو ان فرائض کا بطریق احسن پورا کرنا ضروری ہے ۔ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ……………(امید ہے کہ تم فلاح پاؤگے۔ )

النساء 4:1

درس 03 ایک نظر میں : سورت کا یہ پہلا پیراگراف اپنی افتتاحی آیت کے ساتھ ‘ لوگوں کو صرف رب واحد اور خالق واحد کی طرف رجوع کرنے کی دعوت سے شروع ہوتا ہے ۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ تمام لوگوں کو ایک ہی ماں باپ سے پیدا کیا گیا ہے ۔ وہ ایک ہی خاندان سے بکھرے ہیں ‘ انسانی نفس ہی دراصل اصل انسانیت ہے ۔ اور انسانی خاندان ہی دراصل انسانی معاشرے کی اکائی ہے ۔ اس لئے نفس انسانی کے اندر خدا خوفی کے جذبات کو جوش میں لایا جاتا ہے اور خاندانی نظام کو جذبہ صلہ رحمی سے مستحکم کیا جاتا ہے تاکہ اس مستحکم اساس پر ایک خاندان کے اندر باہم تکافل (Social Security) اور باہم محبت کے فرائض پر وان چڑھیں ۔ اس کے بعد پوری انسانیت کے اندر باہم محبت اور باہم پشتیبانی کے اصول رائج کئے جاسکیں ۔ غرض اس سورت کے اندر کی جانے والی تمام قانون سازی اور انسانیت کی تمام شیرازہ بندی اسی اصول پر کی گئی ہے ۔ آیات کا یہ حصہ درج بالا اصول وقوانین کے ساتھ ساتھ کسی معاشرے یا کسی خاندان کے اندر پائے جانے والے یتیموں کے بارے میں معاشرتی اور اجتماعی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی ہدایات دیتا ہے ۔ یتیموں کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں کہ ان کی نگرانی کس طرح کی جائے ، ان کے مال کی نگہداشت کس طرح ہو ‘ نیز افراد خاندان کے درمیان میراث کی تقسیم کے اصول بھی وضع کئے گئے ہیں ، جن میں مختلف اطراف کے رشتہ داروں کے حصص کا تعین بھی کیا گیا ہے ۔ مختلف حالات میں حصص کا فرق بھی بتایا گیا ہے ۔ اور یہ سب کچھ اس ہمی گیر انسانی اصول کی روشنی میں کیا گیا ہے جس کا ذکر آیت افتتاحیہ میں بیان ہوا ہے ۔ یہ ہمی گیر انسانی اصول بعض آیات کی ابتدا میں بعض کے در میان میں اور بعض آیات کے خامتہ پر اس سبق میں بار بار دہرایا گیا ہے ۔ اور اس حقیقت کی توثیق کی گئی ہے کہ ان تمام ہدایت اور قانون سازی اس کا خصوصی حق ربوبیت ہے ۔ اسلامی نظام میں ہر قسم کی قانون سازی اللہ جل شانہ کی اس شان ربوبیت کا اظہار ہے ۔ موجودہ آیت کی تفسیر۔ ترجمہ : ” لوگو ! اپنے سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے ، اسی خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو ۔ اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے ۔ “ یہ خطاب تماما نسانیت سے ہے ۔ بحیثیت انسان ان سے خطاب ہے تاکہ وہ سب کے سب رب واحد کی طرف لوٹ آئیں ۔ وہی تو ہے جس نے ان کی تخلیق کی ہے اور پھر اس نے ان سب انسانوں کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے ۔ پھر اس جان سے اس کیلئے جوڑا تخلیق کیا اور پھر ان دونوں سلسلہ نسب چلا کر بہت سے مرد اور عورتوں کو پوری دنیا میں پھیلا دیا ۔ بظاہر تو یہ باتیں بہت سادہ اور ابتدائی معلوم ہوتی ہیں لیکن درحقیقت یہ عظیم حقائق ہیں ۔ یہ بہت ہی بھاری باتیں ہیں اور انسانی زندگی پر ان کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اگر یہ ” لوگ “ ان باتوں پر کان دھریں ‘ اور انہیں سمجھنے کی کوشش کریں تو ان باتوں سے اس کرہ ارض پر حیات انسانی کے اندر عظیم تغیر واقعہ ہوجائے اور لوگ جاہلیت یا مختلف جاہلیتوں سے نکل کر ایمانی زندگی ‘ ہدایت یافتہ زندگی اور انسانیت کے لائق مہذب زندگی کی جانب بسہولت منتقل ہوجائیں ‘ یہ مہذب زندگی نفس انسانی کے حسب حال ہوگی اور اس کے خالق اور رب کی مرضی کے مطابق بھی ہوگی ۔ اس آیت میں وہ ابتدائی حقائق بیان ہوئے ہیں ‘ وہ قلب ونظر کیلئے درج ذیل میدان فراہم کرتے ہیں : (1): ۔ اس میں پوری انسانیت کو یہ بتایا ہے کہ اس کی اصل کیا ہے ؟ اور اسے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اس خالق کی طرف رجوع کرے جس نے اسے پیدا کرکے اس زمین پر بسایا ہے ۔ یہ آیات بتاتی ہے کہ ” انسانیت “ نے چونکہ اپنی اس اصلیت کو فراموش کردیا ہے ۔ اس لئے وہ سب کچھ بھول گئی ہے اور اس کا کوئی کام درست نہیں رہا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ اس کرہ ارض پر تشریف لائے ‘ جبکہ پہلے وہ اس پر نہ تھے ۔ سوال یہ ہے کہ اس جہاں میں انہیں کون لایا ہے ؟ یہاں وارد ہونے میں ان کے اپنے ارادے کا دخل نہیں ہے ۔ اس لئے کہ یہاں آنے سے قبل وہ معدوم تھے اور کسی معدوم کیلئے ارادے کا تصور ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے کہ معدوم تو اس جہاں میں آنے اور نہ آنے کا کوئی فیصلہ کر ہی نہیں سکتا ۔ اس لئے لازما انسان کے علاوہ کسی اور ذات نے انسانوں کو یہاں لا کر بسایا ۔ یہ ارادہ ذات انسان سے علیحدہ ارادہ تھا ۔ ایک بالا ارادہ تھا جس نے تخلیق انسانیت کا فیصلہ کیا ۔ اور یہ ” خالق ارادہ “ انسانی ارادہ نہ تھا ۔ اس بالائی ارادہ نے انسانیت کیلئے یہاں جینے اور زندگی بسر کرنے کے خطوط وضع کئے اسی دوسرے ارادہ نے انسان کو وجود بخشا ‘ انسان کو انسانی خواص عطا کئے ، انسان کو اس کے خواص اور صلاحیتیں دیں ۔ انسان کو وہ قوانین عطا کیے کہ وہ انہیں کام میں لا کر اس کائنات کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرے ۔ اس لئے کہ وہ اس کائنات میں نووارد تھا اور وہ جہاں سے آیا ‘ اس کے بارے میں بھی انسان کو کچھ علم نہ تھا ۔ نہ انسان کے اندر ان کے علاوہ صلاحیتیں تھیں جو اس ارادہ بالا نے انسان کو عطا کیں۔ یہ ہے وہ حقیقت کہ اگر موجودہ انسان اسے ذہن نشین کرلے تو وہ پہلے دن سے راہ راست پالے ۔ جبکہ یہ حقیقت ہے بھی بالکل واضح لیکن افسوس یہ ہے کہ انسان اس بدیہی حقیقت کبری سے مکمل طور پر غافل ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ برتر اور عظیم ارادہ الہیہ جو انسان کو یہاں لایا ‘ یہاں اس نے انسان کو زندگی گزارنے کے خطوط دیئے اور اس کائنات میں زندگی بسر کرنے کی قدرت اور صلاحیت اسے عطا کی ۔ یہی عظیم ارادہ انسان کی پوری کائنات کا مالک ہے ۔ یہی ہے جو انسانی امور میں ہر قسم کا تصرف کر رہا ہے ۔ اور یہی وہ ارادہ ہے جو انسانیت کیلئے ہر قسم کی تدبیر یہاں کرتا ہے ۔ اس لئے یہی ارادہ الہیہ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ انسان کیلئے نظام زندگی کے خطوط متعین کرے ۔ انسان کیلئے ضابطے اور قوانین وضع کرے ۔ اس کیلئے اقدار حیات اور حسن وقبح کے اصوال وضع کرے ۔ یہی ارادہ ہے جس کی طرف انسان کو رجوع کرنا چاہئے یہی وہ ارادہ ہے کہ جس کے حسن وقبح کے پیمانوں اور جس کے قوانین کی طرف رجوع کرنا فرض ہے ۔ اس وقت جب کہ اس امر کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف واقعہ ہوجائے ۔ اس لئے کہ وہ ارادہ رب العالمین ہے جو وحدہ لا شریک ہے ۔ (2) :۔ یہ حائق جو اس آیت میں بیان ہوئے ہیں اس بات کا مظہر ہیں کہ یہ بشریت ایک ہی ارادے کے نتیجے میں عالم وجود میں آئی ہے ۔ تمام انسان ایک ہی رحم مادر سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ان کے درمیان ایک ہی رشتہ ہے ۔ وہ ایک ہی جڑ سے پھیلے ہوئے ہیں اور یہ کہ ان کا نسب نامہ بھی ایک ہے ۔ (آیت) ” یایھا الناس اتقوا ترجمہ : ” لوگو ! اپنے سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دیئے ۔ “ اگر لوگ اس ایک حقیقت کو ہی اچھی طرح ذہن نشین کرلیں تو بیشتر فرقہ بندیاں جو ان کے افکار پر چھائی ہوئی ہیں ختم ہو کر رہ جائیں ، جو ان بعد کے ادوار میں انسانوں کی عملی زندگی میں پیدا ہوگئی ہیں ‘ جنہوں نے ایک ہی جان سے پیدا ہونے والے عوام الناس کے اندر فرقے فرقے پیدا کردیئے ہیں ۔ اور ایک ہی ماں سے پیدا ہونے والوں کو ٹکڑے ٹکرے کر کے رکھ دیا ہے ۔ جبکہ انسانوں کے اوپر یہ حالات بعد میں طاری ہوئے اور مناسب نہ تھا کہ یہ حالات انسانوں کے درمیان رحم و محبت کے حقیقی جذبات کو ختم کردیں ، حالانکہ اس رحم و محبت کا پاس ضروری تھا ، ایک جان کی اولاد ہونے کے ناطے باہم انسانی محبت ضروری تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے رب اور خالق کے ساتھ رابطہ اور اس کے حقوق کا لحاظ اور اس کا ڈر اور تقوی دل میں رکھنا ضروری تھا ۔ اگر صرف اسی حقیقت کو مستحکم کر دیاجائے تو تمام فرقہ وارانہ کشیدگیاں ختم ہوجائیں ۔ اس وقت پوری انسانیت فرقہ وارانہ کشیدگی کی تباہ کاریوں کا مزہ اچھی طرح چکھ چکی ہے ۔ اس کرہ ارض پر فرقہ وارانہ کشیدگیاں قائم ہیں اور رنگ ونسل کی اساس پر قومتیں قائم ہیں اور لوگوں کے اپنا انسانی شجرہ نسب پوری طرح بھلا دیا ہے ۔ اور پھر اپنے رب کے ساتھ تعلق ربوبیت کو بھی پس پست ڈال دیا ہے ۔ اگر اس حقیقت کو انسان قبول کرلیں اور اچھی طرح اپنے نظریات میں مستحکم کردیں تو ہندوستان میں جو طبقاتی غلامی کا نظام رائج ہے وہ اس دنیا سے فی الفور مٹ جائے ۔ اسی طرح مشرق کے سوشلسٹ ممالک کے اندر طبقاتی جنگوں میں جو خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے وہ ختم ہوجائے اور قومیت کا وہ فتنہ بھی ختم ہوجائے جو جاہلیت جدیدہ کے فکری تصورات اور فلسفوں کا فائدہ اساسی ہے ۔ اور یہ دنیا سے طبقاتی کشمکش کے خاتمے کا نقطہ آغاز بن جائے جن میں ہمیشہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی ایک طبقے کو دوسرے طبقات پر قیادت وسیادت کا مقام حاصل ہوجائے ۔ اور جس میں اس حقیقت کو فراموش کردیا جاتا ہے کہ انسان تو سب کے سب دراصل ایک ہی جان سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کا پیدا کرنے والا رب ذوالجلال بھی ایک ہی ہے ۔ (3):۔ تیسری حقیقت جس کی طرف یہاں اشارہ کیا گیا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ انسانیت نفس واحد سے تخلیق ہوئی ہے ۔ اور اس نفس سے پھر اس کیلئے جوڑا پیدا کیا گیا ‘ اگر انسانیت اس پر غور کرے اور اس کی حقیقت کو پالے تو وہ ہمت کر کے ان غلطیوں اور اذیت ناک تصورات کی تلافی کرلے گی جن میں وہ صنف نازک کے بارے میں مختلف اوقات میں مبتلا رہی ہے ۔ انسانیت نے عورت کے ساتھ عجیب و غریب تصورات وابستہ کئے ۔ اسے گندگی اور گناہ کا منبع سمجھا گیا ۔ اسے ہر مصیبت اور ہر شر کا سبب گردانا گیا ۔ حالانکہ وہ اپنی فطرت اور اپنے مزاج کے اعتبار سے نفس اول یعنی آدم کا جزء تھی ۔ اور اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی اس لئے کیا تھا کہ وہ اس کی ہم نشین وہمدم ہو اور اس کے ذریعہ سے انسان کی نسل کشی کی جائے ۔ اسی لئے مرد و عورت کی فطرت میں فرق نہیں ہے بلکہ ان کی استعداد اور ان کی صنفی فرائض میں فرق ہے ۔ اس معاملہ میں ‘ انسانیت ایک عرصہ تک بادیہ پیمائی کرتی رہی اور گمراہ ہوتی رہی ۔ اس نے عورت کو تمام انسانی حقوق سے محروم رکھا اور اس کی خاصیت انسانی سے بھی انکار کیا ۔ ایک عرصہ تک بچاری پر مظالم ہوتے رہے ۔ اور یہ محض ان غلط خیالات و تصورات کی وجہ سے جن کی کوئی حقیقت نہ تھی لیکن جب ان غلط خیالات کی تصحیح کی گئی تو ترازو کے دوسرے پلڑے کو بہت ہی بھاری کردیا گیا ۔ عورت کو شتر بےمہار بنا دیا گیا ۔ وہ اپنی اس حیثیت کو بھول گئی کہ بیشک وہ انسان ہے لیکن اسے دوسرے انسانوں کیلئے پیدا کیا گیا ہے ۔ وہ ایک جان ہے لیکن اسے دوسری جان کے لئے پیدا کیا گیا ہے ۔ وہ انسانیت کا ایک حصہ ہے لیکن وہ دوسرے حصے کیلئے تکمیلی ہے ۔ مرد اور عورت دونوں علیحدہ مکمل شخصیات نہیں ہیں بلکہ وہ جوڑا ہیں اور ایک دوسرے کیلئے تکمیلی حیثیت کے حامل ہیں ۔ اس عظیم اور طویل گمراہی کے بعد اسلامی نظام زندگی نے انسانیت کو واپس لا کر اصل شاہراہ پر ڈالا اور اسے صحیح تصورات دیئے ۔ (4):۔ اس آیت میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ زندگی کا ابتدائی سیل (Cell) خاندان ہے ۔ دنیا میں منشائے الہی یہ ہے کہ یہ انسانی پودا ایک خاندان میں پھلے پھولے ‘ اس لئے ابتداء ایک جان پیدا کی گئی اس کے بعد اس جان ہی سے اس کیلئے جوڑا پیدا کیا گیا ۔ اس طرح یہ ابتدائی خاندان دو افراد پر مشتمل تھا ۔ اور اس کے بعد ” ان دو سے بہت سے مرد اور عورتیں پیدا کی گئیں ۔ “ اگر اللہ کی مرضی ہوتی تو وہ پہلے سے بہت سے مرد اور بہت سی عورتیں پیدا فرما دیتا اور اس کے بعد انہیں بہت سے جوڑوں کی شکل دیدی جاتی ۔ اور ابتداء ہی میں بہت سے خاندان وجود میں آجاتے ۔ اور ابتداء ہی سے ان کے درمیان رحم مادر کا رشتہ نہ ہوتا اور ان کے درمیان صرف یہ رابطہ ہوتا کہ انہیں ایک ہی صانع کی مخلوق کی پہلی کھیپ ہونے کا مشترکہ تعلق حاصل ہے اور بس ۔ اور صرف یہی ان کے درمیان پہلا تعلق اور ربط ہوتا ، لیکن اللہ تعالیٰ علیم وخبیر تھا ‘ اس کے پیش نظر ایک حکمت تھی ‘ اللہ تعالیٰ انسانوں کے درمیان پختہ رابطے قائم کرنا چاہتے تھے ۔ پہلا رابطہ یہ تھا کہ ان کا رب ایک ہی تھا اور یہی تمام انسانی رابطوں کا سرچشمہ تھا اور ہے ۔ اس کے بعد باہم صلہ رحمی کا رشتہ آتا ہے ‘ جس کی وجہ سے ایک خاندان وجود میں آتا ہے ۔ جو ایک مرد اور ایک عورت سے شروع ہوتا ہے ۔ یہ دونوں ایک ہی نفس سے پیدا ہوئے ‘ ان کی طبیعت بھی ایک ہے ۔ فطرت بھی ایک ہے ابتدائی خاندان بھی ایک جس سے پھر بہت سے مرد اور عورت پھیلے ۔ ان تمام افراد کے درمیان پہلا رابطہ وحدانیت ربوبیت ‘ اس کے بعد ان کے درمیان وحدت خاندان کا رابطہ ہے ۔ اور خاندان وہ ابتدائی سیل ہے ‘ جس کے اوپر انسانی معاشرے کی بنیاد رکھی جاتی ہے ۔ لیکن عقیدہ اور نظریہ اس خاندانی رابطے سے بھی پہلے نمبر پر آتا ہے ۔ یہ حکمت ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں خاندانی نظام کو بڑی اہمیت دی جاتی ہے ۔ اور خاندان کی شیرازہ بندی اور پختگی کیلئے تمام تدابیر اختیار کی جاتی ہیں ۔ اس کی اساس کو مستحکم کیا جاتا ہے اور اسے ان تمام عوامل اور موثرات سے بچایا جاتا ہے ‘ جو کسی بھی طرح اس کی کمزوری کا باعث ہوں ، خاندانی نظام کی تباہی میں سب سے پہلا موثر عامل یہ ہوتا ہے کہ انسان فطری روش کے خلاف طریق کار اختیار کرے ۔ اور مرد کی صلاحیتوں اور عورت کی صلاحیتوں کا اچھی طرح ادراک نہ کرے نیز مرد اور عورت دونوں کی صلاحیتوں کے اندر توازن پیدا نہ کیا جائے اور ان قوتوں کو مرد اور عورت پر مشتمل ایک خاندان کی تشکیل اور تعمیر میں استعمال نہ کیا جائے ۔ اس سورت میں اور اس کے علاوہ دوسری سورتوں میں بھی اسلامی نظام میں خاندان کی تشکیل اور تقویت کے سلسلے میں بیشمار تدابیر اختیار کی گئی ہیں ۔ لیکن خاندانی نظام کو اچھی طرح مضبوط بنیادوں پر اس وقت تک استوار نہ کیا جاسکتا تھا ‘ جب تک عورت ذات کے ساتھ دور جاہلیت کا ظالمانہ سلوک روا رکھا جاتا ۔ چاہے یہ جاہلیت قدیمہ ہو یا جدیدہ ہو ‘ اور جب تک عورت کے بارے میں ان توہین آمیز افکار وخیالات کا قلع قمع نہ کردیا جاتا جو دور جاہلیت میں اس سے وابستہ تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے سب سے پہلے عورت پر ہونے والے مظالم کو ختم کیا اور اس کے بعد قرآن نے اسے انسانی معاشرہ میں ایک معزز مقام دیکر اس کے بارے میں فرسودہ تصورات کو دفع کیا ۔ (1) (دیکھئے میری کتاب ” اسلام اور عالم امن “ کا باب ” گھر کی سلامتی “۔ (5): ۔ سب سے آخر میں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ ایک ہی جان اور ایک ہی خاندان میں پیدا کرنے کے بعد تمام افراد بنی نوع انسانی کے اندر اشکال اور صلاحیتوں کا یہ عظیم فرق ‘ جس میں کوئی دو فرد ‘ تاریخ انسانی کے پورے عرصے میں ‘ کبھی بھی باہم کلی طور پر مماثل نہیں ہوئے ‘ جبکہ گزشتہ تاریخی ادوار میں آنے اور جانے والے افراد کی تعداد کا بھی علم نہیں ہے ‘ یہ شکلوں کا اختلاف ‘ خدوخال کا تباین ‘ طبیعت اور مزاج کا اختلاف شعور اور اخلاق کا اختلاف استعداد اور صلاحتیوں کا اختلاف ‘ رجحانات اور دلچسپیوں کا اختلاف غرج یہ ہمہ گیر اور ہمہ پہلو اختلاف اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بےمثال خالق اور موجد ہے ۔ وہ حکیم وعلیم ہے اور اس کے اس پیدا کردہ انسانی باغ میں رنگا رنگ پھولوں میں قلب ونظر کا غیر مختتم سامان ہے ۔ ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے وہ ایک نئی شخصیت لئے ہوئے ہے ۔ اور اپنی مثال آپ ہے ‘ اور یہ کام صرف قادر مطلق ہی کا ہے ‘ اور یہ کاریگری ذات باری تعالیٰ کے سوا کسی اور کے حیطہ قدرت میں نہیں ہے ۔ وہ ذات ہے جس کا ارادہ بےقید ہے ۔ اور وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے ۔ وہ کن فیکون ہے اور عظیم ہے اور لاتعداد انسانی شخصیت کے اندر یہ کلی امتیاز وتباین صرف وہی قائم کرسکتا ہے ۔ جبکہ تمام انسان صرف ایک ہی باپ آدم سے پھیلے ہیں ۔ اس نہج پر انسانی شخصیات وافراد پر غور وفکر اس بات کیلئے ضامن ہے کہ تقوی اور ایمان کے اساسی توشہ پر قلب مومن کو انس و محبت کا مزید سامان عطا کرے ۔ یہ غور وفکر نفع کے اوپر مزید نفع ہے اور خیالات کی بلندی پر مزید سربلندی ہے ۔ خیالات و افکار کے اس جم غفیر کے بعد اس آیت افتتاح کے خاتمے پر لوگوں کو خدا خوفی کی دعوت دی جاتی ہے ۔ اس خدا کی خشیت کی طرف لوگوں کو بلایا جاتا ہے جس کے نام پر وہ ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں ۔ اور اس کے نام کا واسطہ دیتے ہیں ‘ نیز لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ باہم تعلقات میں صلہ رحمی کا خیال رکھیں ‘ اس لئے کہ تم سب لوگوں کی اصل تو بہر حال ایک ہی ہے ۔ ” اس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو۔ “ اس خدا سے ڈرو ‘ جس کے نام پر تم ایک دوسرے کے ساتھ معاہدے کرتے ہو ‘ ایک دوسرے کے ساتھ عقد کرتے ہو اور تم میں سے بعض لوگ بعض دوسروں سے اپنے حقوق اور وفاداری کا مطالبہ اس کے نام کے ساتھ کرتے ہیں ‘ تم اس کے نام کے ساتھ قسمیں کھاتے ہو ‘ غرض آپس کے روابط ‘ تعلقات ‘ رشتہ داریوں اور باہمی معاملات میں خدا خوفی کا طرز عمل اختیار کرو ۔ قرآن کریم میں تقوی اور خدا خوفی کا مفہوم واضح ہے ‘ اس لئے کہ قرآن کریم میں بار بار اس کا ذکر ہوا ہے رہی یہ بات کہ رشتہ و قرابت کے تعلقات سے ڈرو ‘ یہ ایک عجیب قسم کا انداز کلام ہے جس کا شعوری سایہ نفس پر سایہ فگن ہوتا ہے ۔ اور اس شعوری پر تو کا نفس انسانی خود بخود مفہوم نکال لیتا ہے یعنی رشتہ قرابت سے ڈرو ‘ ان تعلقات کے بارے میں اپنے احساس کو تیز کرو ‘ ان کے حقوق کا احساس کرو ‘ ان حقوق کی پامالی اور ان میں ظلم سے بچو ‘ ان کو چھونے اور خراش لگانے سے بچو ‘ رشتہ میں اذیت نہ دو ‘ رشتہ داروں کے جذبات مجروح نہ کرو اور ان کے حقوق تلف نہ کرو ‘ غرض رشتہ کے معاملے میں احساس کو تیز رکھو ‘ احترام کرو اور رشتہ کو محبت دو اور محبت کے سایہ میں رہو۔ اختتام اللہ کی نگرانی میں ہوتا ہے ۔ ” یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کر رہا ہے “ اور اس کی نگرانی کس قدر ہولناک ہوتی ہے ‘ جب ذات باری خود نگران ہو ! وہ رب ہے ‘ خالق ہے اور اپنی تمام مخلوق کی بابت اچھی طرح باخبر ہے ‘ وہ ایسا علیم وخبیر ہے جس پر کوئی بات مخفی نہیں رہتی ۔ نہ ظاہری افعال اس سے پوشیدہ ہیں اور نہ خفیہ افکار اس سے پوشیدہ ہیں۔ اس پر شوکت اور موثر افتتاحی اور اس کے اندر بیان ہونے والے سادہ فطری حقائق اور پوری انسانیت کیلئے عظیم اساسی اصول کے بیان کے بعد ایسی بنیادی باتوں کا تذکرہ شروع کیا جاتا ہے جن پر کسی معاشرے کا اجتماعی نظام اور اجتماعی زندگی استوار ہوتی ہے ۔ مثلا خاندان اور جماعت کا باہم معاشی تعاون وتکافل ‘ معاشرہ میں ضعیفوں کے حقوق کا تحفظ ‘ معاشرہ میں عورت کے حقوق کا تحفظ اور اس کیلئے مقام شرافت کا تعین ‘ معاشرہ کی عمومی دولت کا تحفظ ‘ میراث اور ترکہ کی ایسی تقسیم جو عدل و انصاف کی کفیل ہو اور جس میں تمام افراد معاشرے کی بھلائی ہو ۔ سب سے پہلے ان لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے جو یتیموں کے اموال کے نگران مقرر ہوئے ہیں کہ جب وہ یتیم سن رشد کو پہنچ جائیں تو ان کی پوری دولت انہیں لوٹا دی جائے اور یہ کہ یہ اولیاء ان یتیم لڑکیوں کے ساتھ محض اس لئے نکاح نہ کریں کہ ان کی دولت انکے قبضے میں آجائے ، ہاں یتیموں میں سے ایسے لوگ جن کے بارے میں یہ خوف ہو کہ اگر ان کی دولت ان کے حوالے کردی گئی تو وہ اسے تلف کردیں گے تو اس بات کی اجازت ہے کہ ان کی دولت انہیں نہ دی جائے اس لئے کہ ہر شخص کی دولت دراصل معاشرے کی اجتماعی دولت ہوتی ہے ۔ اس میں معاشرے کی اجتماعی مصلحت ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ مال ایسے شخص کے حوالے نہیں کیا جاسکتا جو اسے برباد کر دے ۔ اگرچہ وہ مالک ہو ‘ اور یہ کہ عورتوں کے ساتھ حسن معاشرت عدل و انصاف کے اصولوں کے مطابق کی جائے ۔

النساء 4:2

اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو ‘ تین تین ‘ چار چار سے نکاح کرلو لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا ان عورتوں کو زوجیت میں لاو جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں ۔ بےانصافی سے بچنے کیلئے یہ زیادہ قرین ثواب ہے ۔ اور عورتوں کے مہر خوشدلی کے ساتھ ادا کرو ‘ البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کردیں تو اسے تم مزے سے کھا سکتے ہو ۔ اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے ‘ نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو البتہ انہیں کھانے اور پہننے کیلئے دو اور انہیں نیک ہدایات کرو ۔ اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو ‘ یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پاو تو ان کے مال ان کے حوالے کر دو ‘ ایسا بھی نہ کرنا کہ حد انصاف سے تجاوز کر کے اس خوف سے ان کے مال ہی جلدی جلدی کھا جاو کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے ۔ یتیم کا جو سرپرست مالدار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے پھر جب ان کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بناو اور حساب لینے کے لئے اللہ کافی ہے ۔ “ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا درج بالا موکد ہدایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے جاہلی معاشرے میں عورتوں اور بچوں اور ضعفاء کو بری طرح پامال کیا جاتا تھا ، مدینہ طیبہ کے اسلامی معاشرے میں دور جاہلیت کے یہ آثار ابھی تک باقی تھے ‘ اس لئے کہ مدینہ کا اسلامی معاشرہ اصلا عرب کے جاہلی معاشرے سے کٹ کر وجود میں آیا تھا اور قرآن مجید اس کی تہذیت وتربیت کر رہا تھا ‘ اور اسلامی جماعت کو نئی اقدار اور نئے تصورات سے مزین کیا جارہا تھا ‘ مسلمانوں کو نیا شعور دیا جارہا تھا ‘ ان کے اندر نئے خدوخال پیدا کئے جارہے تھے اور جدید رسم و رواج پیدا کئے جارہے تھے ۔ (آیت) ” واتوا الیتمی اموالھم ولا تتبدلوا الخبیث بالطیب ولا تاکلوا اموالھم الی اموالکم ، انہ کان حوبا کبیرا “۔ (2) ترجمہ : ” یتیموں کے مال ان کو واپس دو ‘ اچھے کو برے مال سے نہ بدل لو ‘ ان کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاو ‘ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔ “ یتیموں کو وہ مال دیدو جو تمہارے تصرف میں ہیں ‘ اور یہ نہ کرو کہ یتیموں کو مال دیتے وقت ردی اموال ان کو دیدو اور قیمتی اپنے پاس رکھ لو ۔ مثلا یہ کہ ان کی اچھی اراضی خود لے لو اور اپنی کم درجے کی اراضی انہیں دیدو ‘ اسی طرح اچھے مویشی خود لے لو اور انہیں بےکار مویشی دیدو ‘ یا تقسیم کرکے وہ انہیں گھٹیا حصہ دیدو ‘ یا نقد مال میں انہیں کھوٹے سکے دیدو کیونکہ نقد میں قیمتی اور کھوٹے دونوں سکے ہوتے ہیں ۔ نیز ان کی دولت کو اپنی دولت کے اندر ملا کر بھی نہ کھاو ۔ سب کا سب یا اس کا کوئی حصہ ۔ اللہ کے نزدیک یہ گناہ کبیرہ ہے ۔ اللہ تمہیں اس گناہ کبیرہ سے متنبہ کرتا ہے ۔ یہ سب واقعات اس وقت سوسائٹی میں بالعموم ہوا کرتے تھے جب اسلام آیا اور لوگوں کو ان ہدایات سے خطاب کیا گیا ۔ اس خطاب ہی سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ مخاطبین کے اندر ایسے لوگ موجود تھے ‘ جن سے اس قسم کی غلطیاں سرزد ہوا کرتی تھیں ۔ اور یہ امور جاہلیت کے آثار باقیہ میں سے تھے ۔ ہر جاہلی نظام میں ایسے ہی امور بالعموم پائے جاتے ہیں ۔ آج ہم گاؤں اور شہروں میں جاہلیت جدیدہ کے نظاموں میں روز ان امور کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ آج بھی مختلف طریقوں سے یتیموں کے مال کھائے جاتے ہیں ‘ اور اس کیلئے مختلف حیلے اور بہانے تراشے جاتے ہیں ۔ آج کل مفصل قانونی تدابیر اور افسران حکومت کی جانب سے یتیموں کے اموال کی کڑی نگرانی کے باوجود اولیاء زیر کفالت لوگوں کے مال و جائیداد میں خرد برد کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں جو مشکلات ہیں انہیں قانون سازی اور حکومتی نگرانی کے ذریعہ سے حل نہیں کیا جاسکتا ‘ اس مسئلہ میں یہ چیزیں کبھی بھی کامیاب نہیں سکتیں اس لیے اس کا کوئی حل ہے تو وہ صرف تقوی اور خدا خوفی میں ہے ۔ یہ تقوی ہی ہے جو دل اور ضمیر کے اندر ایک چوکیدار بٹھا دیتا ہے ۔ اور اس کے بعد ہی قانون سازی اور عمال حکومت کی نگرانی موثر ہو سکتی ہے ۔ یہ تقوی ہی تھا جس کی وجہ سے اس آیت کے نزول کے بعد حیران کن واقعات وجود میں آئے ۔ یتیموں کے اولیاء نے اس قدر احتیاط شروع کردی کہ یتیموں کے اموال کو اپنے مالوں سے علیحدہ کردیا گیا ‘ ان کا کھانا پینا جدا کردیا گیا ‘ تاکہ صحابہ کرام اس گناہ کبیرہ میں مبتلا ہونے سے پوری طرح بچ نکلیں ۔ جس کی بابت اللہ تعالیٰ نے ڈراتے ہوئے فرمایا ” یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔ “ اس کرہ ارض پر صرف قانون سازی اور اجتماعی تنظیم کے ذریعہ کوئی اصلاحی اسکیم کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ قانون سازی اور تنظیم سے پہلے دلوں کے اندر خدا خوفی اور تقوی کا چوکیدار بٹھانا ضروری ہے ۔ جس کا دل پر قبضہ ہو اور ضمیر خود نظم قائم کرنے اور قانون پر عمل کرنے پر آمادہ ہو ‘ اور یہ تقوی اس وقت تک کسی نظم اور قانون کے بارے میں پر جوش نہیں ہوسکتا ۔ جب تک یہ قانون ایسے منبع سے صادر نہ ہو جو تمام انسانی خفیہ رازوں سے واقف نہ ہو ‘ وہ منبع ضمیر پر بھی حکمران نہ ہو ‘ صرف ایسے حالات ہی میں ایک فرد کے دل کے اندر شدید احساس پیدا ہوتا ہے کہ ہو قانون کا احترام کرے ۔ وہ اللہ جل شانہ سے خیانت نہ کرے وہ اس کے حکم اور اس کے ارادے کے ساتھ تصادم کا رویہ اختیار نہ کرے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس فرد کی نیت اور اس کے اعمال دونوں سے اچھی طرح باخبر ہوتا ہے ۔ اس احساس کے دباو میں ارتکاب گناہ کے معاملے میں اس کے قدم متزلزل ہوجاتے ہیں ۔ وہ ڈر کی وجہ سے کانپنے لگتا ہے اور اس کے جذبہ خدا خوفی میں جوش آجاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب جانتا ہے اور ان کی فطرت سے اچھی طرح واقف ہے ۔ وہ خود انسان کے نفس اور اس کے اعصاب کا خالق ہے ۔ اور اسی نے ان کی تخلیق کی مناسبت سے ان کے لئے اپنے قانون کو قانون قرار دیا ہے ۔ اپنی شریعت قرار دیا ہے ۔ اس کیلئے اپنے نظام زندگی کو نظام قرار دیا ہے ۔ اور اس کے نفاذ کیلئے خود اپنا منہاج اور طریق کار دیا ہے ۔ تاکہ لوگوں کے دلوں میں ان چیزوں کا وزن ہو ۔ اور وہ اس قانون اور منہاج کی خلاف ورزی کی جرات نہ کریں ۔ اور اللہ سے ڈریں ۔ اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح علم تھا کہ دنیا میں کوئی بھی قانونی نظام اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک اس کی نسبت ذات باری کی طرف نہ ہو ‘ اس لئے کہ لوگوں کے دلوں میں ذات باری کا خوف اور اس کی رحمت کی امید ہوتی ہے ۔ نیز انہیں پورا یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دل کی خفیہ باتوں سے واقف ہیں اور وہ دلی بھیدوں کے جاننے والے ہیں ۔ نیز انسان کا بنایا ہوا قانون اس وقت تک چلتا ہے اور اس پر عمل ہوتا ہے جب تک پکڑ دھکڑ کا خوف قائم رہتا ہے اور سخت ترین ظاہری نگرانی اپنا کام کر رہی ہوتی ہے ۔ جس کا دخل اور اثر لوگوں کے دلوں پر نہیں ہوتا لیکن جونہی یہ ظاہری نگرانی کمزور ہوتی ہے لوگ اس قانون کی خلاف ورزی شروع کردیتے ہیں یا جب بھی انہیں حیلے اور بہانے کا موقعہ ملتا ہے ‘ باوجود اس کے کہ انہیں پتہ ہو سکتا ہے کہ اگر وہ پکڑے گئے اور ان کی سخت سرزنش ہوگی اور جانی اور مالی نقصان ہوگا ۔

النساء 4:3

(آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم من النسآء مثنی ثلث وربع ، فان خفتم الا تعدلوا فواحدة او ماملکت ایمانکم ، ذالک ادنی الا تعولوا “۔ حضرت عروہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے دریافت فرمایا کہ آیت ” اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو “۔ کا مفہوم کیا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا بھانجے ! یہ یتیم بچی وہ تھی جو اپنے ولی کی تحویل میں ہوتی تھی ۔ یہ ولی کے ساتھ مال میں شریک ہوتی تھی ‘ اسے اس کے مال اور اس کی خوبصورتی میں دلچسپی ہوتی تھی ، اس طرح اس کا ولی یہ چاہتا تھا کہ اس کے ساتھ نکاح کرلے بغیر اس کے کہ اسے مہر ادا کرے ‘ اور اسے وہ حقوق دے جو اسے دوسرے دلچسپی رکھنے والے دینے کیلئے تیار ہوتے تھے ۔ چناچہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان اولیاء کو یہ حکم دیا کہ ان کے زیر کفالت یتیموں سے صرف اس صورت ہی ہی میں نکاح کرسکتے ہیں جب ان کے ساتھ عدل کرسکیں ، ان کو ان کے معیار کے مطابق مہر ادا کرسکیں ۔ اگر وہ نہیں کرسکتے تو وہ دوسری عورتوں سے نکاح کرلیں۔ “ عروہ فرماتے ہیں ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ” اس آیت کے نزول کے بعد لوگوں نے حضور ﷺ سے فتوی دریافت کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ “ ” لوگ عورتوں کے بارے میں تم سے فتوی پوچھتے ہیں ‘ کہو اللہ تمہیں ان کے معاملے میں فتوی دیتا ہے ‘ اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں ۔ یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں ‘ جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو ۔ “ (4 : 731) حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جو کہا ہے ۔ ” اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو ۔ “ یہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ اس کے پاس نہ پیسے ہوں اور نہ خوبصورتی ہو ‘ اس لئے انہیں صاحب مال و جمال یتیمہ سے بھی نکاح کرنے سے منع کردیا گیا ‘ الا یہ کہ اس کے ساتھ عدل و انصاف کیا جائے ، اس لئے کہ مال و جمال نہ ہونے کی صورت مین تو وہ ایسی یتیموں سے نکاح نہ کرتے تھے ۔ “ (بخاری) حضرت عائشہ ؓ کی مذکورہ بالا حدیث سے ایام جاہلیت کی مروجہ رسومات میں سے بعض رسموں کی یہاں تصویر کشی کی گئی ہے اور یہ رسوم جاہلیت کے زمانہ سے اسلامی معاشرے میں بھی ابھی تک موجود تھیں ، اس لئے قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں اور ان کی ممانعت کرکے انکی جڑ کاٹ دی گئی ، غرض یہ رفیع الشان ہدایات دیکر معاملے ، کو پھر انسان کے ضمیر اور اس کے دلی تقوی کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ اور کہا جاتا ہے کہ (آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا ” (اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو) اس معاملے کا تعلق محض انسان کے قلب وضمیر کے ساتھ ہے اور اس کے شعور خدا خوفی سے ہے ۔ اگر ولی کو یہ خطرہ ہو کہ وہ عدل نہ کرسکے گا تو اسے چاہئے کہ وہ اس قسم کے نکاح سے اجتناب کرے ۔ لیکن آیت کی عبارت عام ہے ‘ حکم اور ہدایت یہی ہے کہ عدل کے ہر مقام پر عدل کا برتاو کیا جائے ۔ چاہے اس کا تعلق مہر کے معاملے سے ہو یا اس کے علاوہ زندگی کے دوسرے نشیب و فراز سے ہو ‘ مثلا یہ کہ وہ صرف مال کیلئے یہ نکاح کر رہا ہو اور عورت کی ذات سے اسے دلچسپی نہ ہو ‘ یا اسے اس کے ساتھ حسن معاشرے کے سلسلے میں کوئی رغبت نہ ہو ‘ یا یہ کہ مرد اور عورت کی عمر میں بہت زیادہ فرق ہو اور نباہ ممکن نہ ہو ‘ اور نہ نکاح کے معاملے میں مرد سنجیدہ ہو اور بعض اوقات صورت حال یہ ہوتی ہے کہ لڑکی شرم وحیاء کے وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتی یا اسے یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اگر اس کا نکاح باہر ہوا تو اس کا مال جاتا رہے گا وغیرہ وغیرہ ‘ جن حالات میں عدل ممکن نہیں ہوتا ، قرآن کریم کا یہ طریق کار یہ ہے وہ ضمیر کے اندر چوکیدار بتھاتا ہے ۔ اور تقوی کی نگرانی قائم کرتا ہے ۔ اس کی پہلی آیت کا خاتمہ ان الفاظ پر ہوا تھا (آیت) ” ان اللہ کان علیکم رقیبا “ (1) (اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے) اگر اولیاء ان یتیم عورتوں کے ساتھ انصاف کرنے کی قدرت اپنے اندر نہیں پاتے تو ان کے علاوہ دوسری عورتیں بہت ہیں ‘ اس لئے بدگمانی اور شبہات سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے موزوں یہی ہے کہ وہ دوسری عورتوں سے نکاح کرلیں ۔ (آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتمی فانکحوا ما طاب لکم من النسآء مثنی ثلث وربع ، فان خفتم الا تعدلوا فواحدة او ماملکت ایمانکم ، ذالک ادنی الا تعولوا “۔ ترجمہ : ” اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسندآئیں ان میں سے دو ‘ تین تین ‘ چار چار سے نکاح کرلو ۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ انکے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا ان عورتوں کو زوجیت میں لاو جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں ‘ بےانصافی سے بچنے کیلئے یہ زیادہ قرین صواب ہے ۔ تعداد ازواج کی یہ رخصت مشروط ہے ۔ یہ کہ اگر تمہیں بےانصافی کا خوف تو نہ کرو صرف ایک کرو ‘ یا اپنی مملوکہ عورتوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلو ۔ مناسب یہ ہے کہ ان تحفظات کے ساتھ تعدد ازواج کی رخصت کی حکمت اور مصلحت پر یہاں کچھ کہہ دیا جائے ، خصوصا ہمارے اس دور میں ‘ جس میں لوگ اپنے آپ کو اپنے رب کے مقابلے میں زیادہ عالم سمجھتے ہیں ‘ وہ رب جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ انسانی زندگی ‘ انسانی فطرت اور انسانی مصلحتوں کی بابت خالق تعالیٰ کے مقابلے میں زیادہ بصیرت کے مالک ہیں ۔ اور وہ ان معاملات میں محض اپنی ذاتی آراء اور خواہشات نفسانیہ کے تحت کلام کرتے ہیں اور جہالت اور تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں ۔ گویا آج کے جدید حالات اور ضروریات کو خود انہوں نے پیدا کیا ہے وہ انہیں اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ان حالات کا مقابلہ خود ہی کرسکتے ہیں اور گویا یہ حالات اللہ میاں کے پیش نظر نہ تھے ، نہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں اس وقت کوئی فیصلہ کیا ہے جس وقت وہ انسانوں کیلئے قانون سازی کر رہا تھا ۔ اس معاملے میں ایسے حضرات کا دعوی اور ان کے فیصلے جہالت اور کور چشمی پر مبنی ہیں جبکہ ایک پہلو سے یہ ان کی جانب سے نہایت ہی کبرو غرور اور بارگاہ الہی میں کھلی گستاخی ہے ۔ اور اپنے معنوی اعتبار سے یہ گمراہی اور بےراہ روی ہے اور ایک قسم کا کفر ہے ۔ لیکن اس کے باوجود لوگ ایسی باتیں کئے چلے جاتے ہیں اور کوئی نہیں ہے جو ان جاہلوں کور چشموں ‘ متکبرین ‘ بےراہ و کفار کو چیلنج کرے ، حالانکہ وہ اللہ اور اس کی شریعت کے مقابلے میں ایسی جسارت کر رہے ہیں جو ناقابل برداشت ہے ۔ وہ اللہ اور اس کی جلالت شان پر ہاتھ ڈال رہے ہیں ۔ اور اللہ کی ذات اور اس کے تجویز کردہ نظام حیات کے خلاف یہ قبیح حرکت کر رہے ہیں ۔ اور بڑے امن و سکون اور کامیابی اور عافیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور ان لوگوں کو ان حلقوں سے برملا امداد مل رہی ہے جن کی دلچسپی ہے کہ مسلمانوں اور ان کے دین کے خلاف یہ کام ہوتا رہے ۔ یہ مسئلہ یعنی مسئلہ تعدد ازواج جسے اسلام نے ان تحفظات اور شرائط کے ساتھ جائز رکھا ہے ‘ مناسب ہے کہ اسے بڑی سادگی ‘ وضاحت اور فیصلہ کن انداز میں لیاجائے ۔ اور ان حالات اور واقعات کو پیش نظر رکھا جائے جو کسی معاشرے میں عملا موجود ہوتے ہیں اور اس وقت بھی موجود تھے ۔ امام بخاری رحمة اللہ علیہ نے اپنی مسند کے ساتھ یہ روایت کی ہے کہ غیلان ابن سلمہ ثقفی اسلام لائے ۔ اس وقت اس کی دس بیویاں تھیں ۔ اسے حضور ﷺ نے حکم دیا : ” ان میں سے چار کو چن لیں ۔ “ امام ابو داود نے روایت فرمائی ہے کہ عمیر اسدی نے فرمایا : جس وقت میں نے اسلام قبول کیا ‘ میری آٹھ بیویاں تھیں ، میں نے اس کا تذکرہ رسول خدا ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ان میں سے چار کو چن لو “۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ نے اپنی مسند میں فرمایا مجھے ایک شخص نے یہ اطلاع دی جس نے یہ بات ابو الزیاد سے سنی تھی انہیں عبدالمجید نے بتایا تھا ‘ انہیں سہیل ابن عبدالرحمن نے بتایا ‘ انہوں نے عوف ابن الحارث سے نقل کیا ‘ انہیں نوفل ابن معاویہ دیلمی سے انہوں کہا ۔ ” جس وقت میں اسلام لایا میرے ہاں پانچ بیویاں تھیں ، مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا : ” ان میں سے چار چن لو ‘ جو بھی تمہیں پسند ہوں اور جس ایک کو چاہو علیحدہ کر دو ۔ “ جس وقت اسلام آیا ‘ اس وقت لوگوں کے ہاں دس یا دس سے بھی زیادہ بیویاں ہوا کرتی تھیں ۔ اور بیویوں کی تعداد پر کوئی قید وبند نہ تھا ۔ ان حالات میں اسلام نے تعداد پر یہ پابندی عائد کردی اور حکم دیا کہ کوئی مسلمان اس حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ یعنی وہ صرف چار کی حد تک جاسکتا ہے ۔ اس کے ساتھ اسلام نے مزید ایک اور پابندی عائد کردی ۔ وہ یہ کہ اگر تعداد زیادہ ہو تو ان کے درمیان مکمل عدل اور انصاف کا قائم کرنا بھی فرض ہے ۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ انصاف نہ کرسکے گا تو اس پر لازم ہے کہ وہ ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے ۔ یا ان عورتوں پر اکتفا کرے جو کسی کی مملوکہ ہیں۔ اس پس منظر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے تعدد ازواج کی اجازت بالکل نہیں دی ۔ اسلام نے زیادہ بیویوں کی تعداد کی تحدید کردی ۔ وہ یہ کہ اگر تعداد زیادہ ہو تو ان کے درمیان مکمل عدل اور انصاف کا قائم کرنا بھی فرض ہے ۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ انصاف نہ کرسکے گا تو اس پر لازم ہے کہ وہ ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے ۔ یا ان عورتوں پر اکتفا کرے جو کسی کی مملوکہ ہیں۔ اس پس منظر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے تعدد ازواج کی اجازت بالکل نہیں دی ۔ اسلام نے زیادہ بیویوں کی تعداد کی تحدید کردی اسلام نے اس معاملے کو مرد کی خواہش نفس ہی پر نہیں چھوڑ دیا بلکہ اسے عدل و انصاف کی شرط کے ساتھ مشروط کردیا ۔ اگر عدل نہ ہوگا تو تعدد ازواج کی اجازت نہ ہوگی ۔ اب سوال یہ ہے کہ اسلام نے تعدد ازواج کی رخصت اور اجازت ہی کیوں دی ؟ اسلامی نظام زندگی انسانوں کیلئے وضع کیا گیا ہے ۔ وہ ایک مثبت اور عملی نظام ہے ۔ وہ انسان کی فطرت اور اس کے وجود کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ وہ انسان کے حالات اور انسان کی ضروریات کے مطابق وضع کیا گیا ہے وہ مختلف حالات ‘ مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں میں انسان کے تغیر پذیر شب وروز کو سامنے رکھ کر وضع کیا گیا ہے ۔ وہ فی الواقعہ ایک مثبت اور حقیقت پسندانہ نظام ہے ۔ وہ انسان کو یوں لیتا ہے جس طرح کسی دور میں انسان فی الواقعہ ہوتا ہے ۔ اسنان جہاں کھڑا ہوتا ہے یہ نظام اسی مقام سے اس کے سفر کا آغاز کرتا ہے ۔ اور اسے وہاں سے لیکر ترقیوں کے اعلی مدارج تک بلند کرتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اسے بام عروج تک پہنچا دیتا ہے وہ انسان کی فطرت حقیقی کا نہ انکار کرتا ہے نہ اسے کراہیت کی نظر سے دیکھتا ہے ۔ وہ انسان کے حقیقی واقعات سے نہ صرف نظر کرتا ہے اور نہ ان سے لاپرواہی برتتا ہے ۔ وہ اس کی رفتار اصلاح و ترقی میں نہ تو تشدد کرتا ہے اور نہ بےاعتدالی کرتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی خالی خوالی ڈھینگ نہیں ہے نہ وہ سوقیانہ گپ شب ہے ‘ نہ وہ خالی اور غیر واقعی مثالی تصور ہے ۔ اور نہ ہی وہ محض تصورات اور امیدوں پر مبنی ہے ۔ جن کا فطرت انسانی کے ساتھ تصادم ہو ‘ جن کا انسان کے واقعات اور حالات کے ساتھ کوئی جوڑ نہ ہو اور جو اس طرح ہو جس طرح بخارات ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں بلکہ وہ ایک ایسا نظام ہے جو انسان کی تخلیق کو مدنظر رکھتا ہے وہ انسانی معاشرہ میں پاکیزگی کا داعی ہے ‘ اس لئے وہ انسانی معاشرہ میں صرف مادیت کو رواج نہیں دیتا ۔ ایسی مادیت جو انسان کے چہرے بشرے کو خراب کر دے ۔ جو انسانی معاشرے کو آلودہ کر دے اور یہ سب کچھ ان نام نہاد ضرورت کے پھندوں کی صورت میں جو حقائق سے متصادم بلکہ اسلام یہ ہدایت کرتا ہے کہ ایسی صورت حال پیدا کی جائے جس میں تخلیق انسانیت محفوظ ہو ‘ جس میں معاشرہ پاکیزہ ہو ‘ اور یہ سب کچھ بسہولت اور نہایت ہی قلیل جدوجہد سے حاصل کیا جائے اور اس کے لئے فرد اور معاشرے کو کم سے کم جدوجہد کرنا پڑے ۔ اسلامی نظام زندگی کے ان اساسی تصورات کو جب ہم پیش نظر رکھیں اور پھر مسئلہ تعدد ازواج پر غور کریں تو جو نتائج ہمارے سامنے آتے ہیں وہ یہ ہیں : (1) : سب سے پہلے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اکثر معاشروں میں ایسے حالات پائے جاتے ہیں جن میں شادی کے قابل عورتوں کی تعداد اور شادی کے قابل مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے ۔ یہ واقعات گزشتہ تاریخی معاشروں میں بھی رہے ہیں اور دور حاضر کے معاشروں میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ نیز عورتوں کی زیادتی کی نسبت 1 : 4 سے کبھی بھی زیادہ نہیں رہی ہے ۔ یہ کمی بیشی ہمیشہ ایک اور چار کے درمیان ہی رہی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم ایسی صورت حال کا کیا حل کریں گے ، کیونکہ ایسے حالات بار بار پیش آتے ہی رہتے ہیں ۔ اگرچہ ان میں مرد اور عورت کے درمیان نسبت میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے ۔ یہ ایسی صورت حال کا علاج ممکن ہے ؟ کیا محض شانے ہلانے سے اس صورت حال کا علاج ممکن ہے ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ہم ایسی صورت حال سے لاتعلق ہوجائیں اور اسے یونہی چھوڑ دیں ؟ اور جس طرح ممکن ہو حالات اپنا رخ خود متعین کریں اور جو صورت حال پیدا ہو اسے قبول کرتے چلے جائیں ۔ محض شانے ہلانے سے مسائل حل نہیں ہوا کرتے اور کسی معقول انسان کیلئے یہ حل قابل قبول ہے کہ حالات جو بھی رخ اختیار کریں اسے قبول کر کیا جائے ۔ کسی خود دار انسان اور کسی سنجیدہ شخص کے نزدیک یہ موقف قابل قبول نہ ہوگا جو نسل انسانی کو محترم سمجھتا ہو ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ کوئی نظم اور ضابطہ موجود ہو اور اس مسئلے کے حل کیلئے کوئی عملی قدم اٹھایا جائے ۔ غور وخوض کرنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس مسئلے کے صرف تین حل ممکن ہیں : (1) یہ کہ ہر شخص جو شادی کے قابل ہے وہ شادی کی ایک قابل عورت کے ساتھ شادی کرے ۔ اور اس کے علاوہ ایک یا دو دو عورتیں رہتی ہیں ان کو بغیر خاوند کے یونہی چھوڑ دیا جائے اور انہیں ان کی پوری زندگی میں خاوند نہ ملے ۔ (2) یہ کہ ہر وہ شخص جو شادی کے قابل ہے ایک شادی کی قابل عورت کے ساتھ قانونی نکاح کرے اور اس کے ساتھ وہ جائز تعلقات قائم کرے لیکن دوسری عورتوں کے ساتھ وہ دوستی اور حرام اور ناجائز تعلقات قائم کرے یعنی ان عورتوں کے ساتھ جن کے خاوند نہیں ہیں ۔ اس طرح ان کے تعلقات ناجائز تعلقات ہوں اور وہ تاریکی میں زندگی بسر کریں ۔ (3) تیسری صورت یہ ہے کہ شادی کے قابل لوگ ایک سے زیادہ شادی کے قابل عورتوں کے ساتھ شادی کریں ۔ اور اسی طرح ایک مرد ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ جائز تعلقات قائم کرے اور اس کی بیوی ہو اور کھلے طور پر وہ روشنی اور دائرہ قانون کے اندر اس کے ساتھ زندگی بسر کرے اور چوری اور حرام کاری کا ارتکاب نہ ہو ۔ ذرا غور فرمائیے پہلی صورت خلاف فطرت ہے ۔ اور ایک عورت کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ پوری زندگی تنہائی میں بسر کرے ۔ اور کسی مرد کے ساتھ تعلق قائم نہ کرے ۔ اس حقیقت کو ان لوگوں کے دعاوی سے رد نہیں کیا جاسکتا ہے جو منہ پھٹ ہیں جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ عورت محنت اور مزدوری کرکے مردوں سے مستغنی ہو سکتی ہے ۔ اس لئے کہ ایسے سطحی غیر سنجیدہ اور جاہل گپیں ہانکنے والوں کے فہم وادراک سے یہ مسئلہ بہت ہی اونچا ہے ۔ اس لئے کہ یہ لوگ فطرت انسانی سے بیخبر ہیں ۔ عورت کی ہزار محنت اور اس کی ہزار ملازمتیں بھی اسے اپنی فطری احتیاج اور اپنے فطری تقاضے سے مستغنی نہیں کرسکتیں ۔ چاہے یہ تقاضے اس کے جسمانی تقاضے ہوں یا اس کی عقل اور روح کے تقاضے ہوں ۔ وہ یہ کہ عورت امن و سکون کے ساتھ اپنے خاندان کے اندر رہے اور مرد کسب معاش کیلئے جدوجہد کرے ، اسی طرح مرد بھی اپنی معاشی جدوجہد اور معاشی سرگرمیوں کے بعد اس بات کی ضرورت محسوس کرتا ہے کہ وہ ایک خاندان کی طرف لوٹے ۔ اس معاملے میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں ۔ اس لئے کہ وہ ایک ہی جان سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کی ایک ہی فطرت ہے ۔ دوسری صورت اسلام کے پاکیزہ رجحانات کے بالکل متضاد ہے ۔ اور اسلام کے پاکیزہ معاشرتی نظام سے بھی لگا نہیں کھاتا ۔ نیز یہ صورت حال عورت کی اسلامی شرافت کے بھی خلاف ہے ۔ جو لوگ معاشرہ میں عریانی اور فحاشی کے پھیلاو کے خلاف نہیں ہیں ‘ وہ وہی لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنے آپہ کو زیادہ عالم سمجھتے ہیں اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شریعت پر دست درازی کرتے ہیں اور اس فعل کا ارتکاب یہ لوگ محض اس لئے کرتے ہیں کہ اس فعل قبیح سے ان کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہیں ہے ۔ بلکہ اس قسم کے لوگ شریعت اسلامیہ کے دشمنوں کی جانب سے ہر قسم کی حوصلہ افزائی پاتے ہیں ۔ اب رہ گئی صرف تیسری صورت حال اور اسلام نے اسے اختیار کیا ہے ۔ اسلام نے صرف تعدد ازواج کی اجازت دی ہے اور اس پر کئی حدود وقیود وعائد کی ہیں اور یہ اجازت اسلام نے اس حقیقی صورت حال کے حل کرنے کیلئے دی ہے جس میں محض شانے ہلانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور نہ ایسے حقیقی حالات اور مشکلات کا حل محض متفلسفانہ ادعاء سے ممکن ہوتا ہے اور اس تیسری صورت کو اسلام نے اس لئے اختیار کیا ہے کہ یہی اس واقعی صورت حال کا مثبت حل ہے ۔ اور ایک مثبت طرز عمل ہے یعنی یہ کہ انسان کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے ۔ جس طرح انسان ہے ۔ اپنی موجودہ فطرت اور اپنے موجودہ حالات کے ساتھ ۔ نیز پاکیزہ اخلاق اور ایک صاف اور ستھرے معاشرے کے مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ۔ نیز انسان کو بدکاری اور گندگی کے دلدل سے نکالنے کیلئے اسلام نے جو منہاج تجویز کیا ہے اس کے عین مطابق یعنی نہایت ہی نرمی اور محبت کے ساتھ انسان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بام عروج تک پہنچانے کا طریقہ کار۔ یہ تو تھا ایک پہلو ‘ اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ انسانی معاشروں میں چاہے وہ قدیم ہوں یاجدید ‘ آج کے ہوں یا کل کے ‘ ان میں ایک دوسری حقیقت نظر آتی ہے ۔ نہ اس سے انکار کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔ وہ یہ کہ مرد میں بچے پیدا کرنے کی قدرت اور صلاحیت ستر سال یا اس کے بھی آگے کی عمر تک طویل ہوتی ہے ۔ جبکہ عورت میں یہ صلاحیت 05 سال کے لگ بھگ ختم ہوجاتی ہے ۔ اس طرح بیس سال ایسے آجاتے ہیں جن میں مرد تو بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں عورت بچے پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔ اور یہ حقیقت بھی بالکل واضح ہے کہ مرد اور عورت کو الگ پیدا کرکے ان کے درمیان ملاپ کی زندگی اور نسل انسانی کو جاری رکھنے کا ذریعہ بنایا گیا ہے ۔ اس کرہ ارض کی آبادی کا انتظام انسان کی آبادی میں کثرت اور پھیلاو¿ کے ذریعہ کیا گیا ہے ۔ اس لئے یہ امر خلاف فطرت انسانی ہوگا کہ ہم کوئی ایسی رسم ڈالیں جس سے ایک مرد بیس سال تک اپنے فطری وظائف پورے کرنے کا اہل ہی نہ رہے جبکہ اسلام نے جو قانون بنایا ہے وہ ہر دور کے حالات میں ہر قسم کے معاشروں کیلئے موزوں ہے اور فطری تقاضوں کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ جبکہ یہ قانون بھی محض اجازت کی شکل میں ہے ۔ یہ بات لازم نہیں کی گئی کہ ہر شخص لازما چار شادیاں کرے ۔ بلکہ ایک عام اباحت دی گئی ہے اور لوگوں کے لئے ایک قسم کی وسعت پیدا کی گئی ہے کہ اگر ان کو ضرورت پڑے تو وہ حالت ضرورت میں اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ یہ وہ ہم آہنگی ہے جو خدائی قانون اور انسانی فطرت کے اندر ہمیشہ پائی جاتی ہے ۔ جبکہ اس تناسق اور ہم آہنگی کا خیال انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں بالعموم نہیں رکھا جاتا ، اس لئے کہ انسان کا معاملہ ہمیشہ محدود ہوتا ہے اور وہ دور رس انفرادی حالات اور جزئیات کا مطالعہ کرنے سے اکثر قاصر رہتا ہے ۔ اس سے کئی گوشے پوشیدہ رہ جاتے ہیں اور زندگی کے کئی حالات و احتمالات اس کے دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں ۔ اس مذکورہ بالا حقیقت کے حوالے سے بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ مرد زیادہ بچے پیدا کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے جبکہ عورت کو مزید بچے پیدا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ یہ عدم دلچسپی بعض اوقات کبرسن کی وجہ سے ہوتی ہے اور بعض اوقات بیماری کی وجہ سے ہوتی ہے اور ان حالات میں فریقین کی دلی خواہش بھی ہوتی ہے کہ وہ رشتہ زوجیت میں بندھے رہیں اور ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار نہ کریں ۔ اب ایسے حالات میں ہم کیا حل پیش کریں گے ۔ کیا محض شانے اچکانے سے یہ مسائل حل ہوجائیں گے ؟ یا اس طرح مسئلہ حل ہوگا کہ زوجین میں سے کوئی فریق اپنے سر کو دیوار سے پھوڑ دے یا ان وسائل اور حقیقی سوالات کا جواب ہم محض گپ شپ میں ٹال دیں اور ظریفانہ بذلہ سنجیاں کرتے ہوئے آگے بڑھ جائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ بذلہ سنجیوں اور محض شانے اچکانے سے کبھی حقیقی مسائل حل نہیں ہوا کرتے ۔ زندگی اور اس کے فطری حقائق سنجیدہ امور ہیں ۔ زندگی کی مشکلات حقیقی ہوتی ہیں اور ان کا حل بھی حقیقت پسندی سے ممکن ہے ۔ اس سوال کا حل بھی صرف تین طریقوں سے ممکن ہے ۔ (1) یہ کہ ہم مرد پر یہ پابندی عائد کردیں کہ وہ پچاس سال کے بعد فطری وظائف کی ادائیگی بند کر دے اور ہم اسے کہہ دیں کہ اسے مرد ‘ اب یہ بات تمہارے ساتھ نہیں جڑتی ، نیز آپ کے نکاح میں جو عورت موجود ہے اس کی کرامت و شرافت اور عزت واحترام اور حقوق کے یہ بات منافی ہے ۔ (2) دوسری صورت یہ ہے کہ ہم ایسے شخص کو آزاد چھوڑ دیں اور وہ جس عورت سے چاہے دوستیاں گانٹھتا پھرے ۔ (3) تیسری صورت یہ ہے کہ ہم اسے اجازت دیدیں کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکے ۔ اپنے حالات اور اپنی ضروریات کے مطابق اور ہم پہلی بیوی کو طلاق دلوانے سے بھی بچ جائیں ۔ جہاں تک پہلی صورت کا تعلق ہے وہ انسانی فطرت کے خلاف ہے ۔ یہ تجرد انسانی نفس برداشت ہی نہیں کرسکتا ۔ انسانی اعصاب اور انسانی نفس اس پابندی کو برداشت نہیں کرسکتا ۔ اور اگر ہم بذریعہ قانون اور قوت یہ پابندی عائد کردیں کہ اس صورت میں تو معاشرے کیلئے عائلی زندگی عذاب جہنم بن جائے گی اور ہر شخص عائلی زندگی کو ان مشکلات ومصائب کی وجہ سے پسند نہیں کرے گا اور اس کے خوفناک نتائج نکلیں گے ، اور یہ سب امور وہ ہیں جنہیں اسلام کسی معاشرے کیلئے پسند نہیں کرتا ‘ اس لئے کہ اسلام کی پالیسی تو یہ ہے کہ وہ ایک گھر کو پرسکون بنادے اور مرد کیلئے اس کی بیوی کو محبوبہ اور لباس بنا دے ۔ دوسری صورت اسلام کے اخلاقی رجحانات کے خلاف ہے ۔ اور انسانی زندگی کی ترقی جس نہج پر اسلام چاہتا ہے وہ اس کے بھی خلاف ہے ۔ نیز انسانی معاشرے کی تطہیر اور پاکیزگی کیلئے اسلام نے جو منہاج اپنایا ہے ‘ یہ اس کے بھی خلاف ہے ۔ اس لئے کہ اسلام انسانی معاشرے کو اس لائق بناتا ہے جو ایک حیوانی مقام سے اس کو انسان کے اشرف مقام تک بلند کر دے ۔ اب صرف تیسری صورت رہ جاتی ہے جو انسان کی واقعی فطری ضروریات کو بھی پوا کرتی ہے ۔ وہ اسلام کے اخلاقی نقطہ نظر سے بھی ہم آہنگ ہے ، یہ صورت پہلی بیوی کے حقوق زوجیت کو بھی مدنظر رکھتی ہے اور اس صورت میں بھی یہ ممکن ہے کہ زوجین اپنی خواہش کے مطابق اپنی ازدواجی زندگی جاری رکھ سکیں ۔ اور ان کی ایک دوسرے کے ساتھ جو یادیں وابستہ ہیں وہ بھی اپنی جگہ قائم رہیں ۔ اور انسان کیلئے یہ ممکن اور آسان ہوجائے کہ وہ نرمی ‘ سہولت اور حقیقت پسندی کے ساتھ اپنی زندگی کو ترقی کی جانب گامزن رکھے ۔ اور یہی صورت حال اس وقت درپیش آجاتی ہے جب کسی کی بیوی بانج ہوتی ہے ۔ اور مرد کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد ہو ‘ ایسے حالات میں بھی صرف دو صورتیں ہوتی ہیں کوئی تیسری صورت نہیں ہوتی ۔ (1) یہ کہ اسے خاوند طلاق دیدے اور دوسری بیوی لا کر اس کے ذریعہ وہ حصول اولاد کی فطری خواہش کو پورا کرے ۔ (2) یہ کہ وہ دوسری بیوی بھی کرے لیکن پہلی کو بھی اپنی زوجیت میں رکھے اور اس کے حقوق ادا کرے ۔ ہمارے دور میں بعض مرد اور عورتیں اپنے آپ کو دانشور ظاہر کر کے ایسے بکواس کرتے ہیں کہ تعدد ازواج کے مقابلے میں پہلی صورت بہتر ہے لیکن کم از کم 99 عورتیں ایسی ہوں گی جو طلاق کے مقابلے میں ایسے حالات میں تعدد ازواج کو ترجیح دیتی ہیں ۔ اور اگر انکو کوئی یہ مشورہ دے کہ وہ طلاق لے لیں تو وہ اس کے منہ پر تھوکیں گی اور ان مشیران کرام پر لعنت بھیجیں گی جو ان کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ بستے گھر خراب ہوں اور اس خرابی کے عوض انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آئے ۔ اس لئے کہ اگر کسی عورت کا بانجھ پن ظاہر ہوچکا ہو اور وہ طلاق لے لے تو کون ہے جو اسے نکاح میں لینے کیلئے تیار ہوگا ؟ اس کے مقابلے میں اکثر یوں ہوتا ہے کہ ایک بانجھ عورت پر جب خاوند دوسری شادی کرتا ہے تو دوسری عورت کے جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان کے ساتھ سابق بیوی کو بہت ہی انس و محبت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ کسی گھر میں بچے تو پھول کی طرح ہوتے ہیں اور جب اس قدر انتظار کے بعد وہ کسی گھر میں آتے ہیں تو اس سے احساس محرومی ختم ہوجاتا ہے اور گھر میں چہل پہل پیدا ہوجاتی ہے ۔ غرض ہم جہاں بھی جائیں اور انسانی زندگی کا حقیقت پسندانہ عملی مطالعہ کریں ‘ تو یہ حالات تعدد زوجات کے خلاف کسی بکواس کی تائید نہیں کرتے ‘ نہ ان نام نہاد دانشوروں کی آراء کی کہیں سے تائید حاصل ہوتی ہے ۔ زندگی کے واقعات وحقائق ان دانشوروں کی سطحی گپ شب اور بےراہ روی اور آزادی فکر وعمل کی تائید نہیں کرتے اس لئے کہ یہ موضوع نہایت ہی سنجیدہ ہوتا ہے اور اس میں گپ کے بجائے قطعی اور فیصلہ کن موقف کی ضرورت ہوتی ہے غرض زندگی کے حقائق پر گہرے غور وفکر کے نتیجے ہی میں باری تعالیٰ کی وہ گہری حکمت واضح ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس نے تعدد زوجات کو قرآن کے عائد کردہ حدود و شرائط کے ساتھ جائز قرار دیا ہے ۔ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” فانکحوا ما طاب لکم من النسآء مثنی وثلث وربع فان خفتم الا تعدلوا فواحدة “۔ ترجمہ : ” جو عورتیں تم کو پسندآئیں ان میں سے دو ‘ تین تین ‘ چار چار سے نکاح کرلو ۔ لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ انکے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو۔ “ تعدد زوجات کی یہ رخصت اور اجازت زندگی کے عملی حقائق اور تقاضائے فطرت کے پیش نظر دی گئی ہے ۔ اس کے ذریعہ شریعت نے انسانی معاشرے کو بتقاضائے فطرت اور زندگی کے حقائق کے دباو میں بےراہ روی اور نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہونے سے بچا لیا ہے اور اس اجازت کو جس شرط سے مشروط کیا گیا ہے ‘ اس کے ذریعہ عائلی زندگی کو انارکی ‘ افراتفری سے بچایا گیا ہے ۔ نیز بیوی کو بھی خانگی ظلم وستم سے بچایا گیا ہے ۔ نیز اس کی وجہ سے عورت کی عزت کو بھی محفوظ کردیا گیا ہے ۔ اور غیر ضروری طور پر توہین آمیز سلوک سے محفوظ کردیا گیا ہے ۔ اور احتیاط کامل کے ساتھ عورت کو ایسے مواقع سے بچا لیا گیا کہ جن میں اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جائے ۔ اور ضروری حالات اور زندگی کے تلخ حقائق کے پیش نظر تعدد زوجات کی اجازت کے ساتھ ساتھ عورت کیلئے مکمل عدل و انصاف کی ضمانت دی گئی ہے ۔ جو شخص اسلام کی روح اور اس کی پالیسی کا ادراک رکھتا ہو ‘ وہ ہر گز یہ نہیں کہہ سکتا کہ تعدد ازواج اسلام میں بذاتہ مطلوب ہے اور بغیر فطری اور اجتماعی معاشرتی ضروریات کے جائز ہے ۔ اور اس کیلئے محض حوانی لذتیت اور ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری اختیار کرلینا ہی وجہ جواز ہے ۔ جس طرح ایک شخص ایک دوست کو چھوڑ کر دوسرے دوست کو اختیار کرلیتا ہے ۔ بلکہ اسے ایک حقیقی صورت میں جائز کیا گیا ہے ۔ بعض معاشرتی مشکلات پر قابو پانے کیلئے اسے جائز کیا گیا ہے ۔ اور ایسی مشکلات ہر معاشرے میں زندگی کا لازمہ ہوتی ہیں ۔ اب اگر انسانی تاریخ کے کسی دور میں بعض لوگوں نے اس اسلامی اجازت اور رخصت سے غلط فائدہ اٹھایا اور انہوں نے اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر عائلی زندگی کو حیوانی لذتیت کیلئے ایک اسٹیج بنادیا اور انہوں نے بیویوں کو اس طرح بدلنا شروع کردیا جس طرح دوستوں میں تبدیلی آجاتی ہے تو اس صورت حال کا اسلام ذمہ دار نہیں ہے ۔ اور نہ اس قسم کے عیاش لوگ اسلام کے نمائندے ہو سکتے ہیں ۔ اس قسم کے لوگ پستی کے ایسے گہرے گڑھے میں محض اس لئے گر گئے ہیں کہ وہ اسلام سے دور ہوگئے تھے ۔ اور اسلام کی پاک وصاف اور شریفانہ روح کا وہ ادراک نہ کرسکے ۔ پھر اسے لوگ ایسے معاشروں میں رہ رہے تھے ‘ جن پر اسلام کی حکمرانی نہ تھی ان میں اسلام کا نظام قانون ‘ اسلامی شریعت نافذ نہ تھی ‘ ان معاشروں پر اسلامی قوانین غالب نہ تھے ، تاکہ وہ اسلامی پالیسی اور اسلامی شریعت کے مطیع فرمان ہوتے ‘ لوگ اسلام کی تعلیمات اور اسلام کی شریعت پر عمل پیرا ہوتے اور اسلام آداب اور اسلامی روایات کا لحاظ رکھتے ۔ اسلام کی عائلی زندگی میں گزشتہ اسلامی تاریخ کے دوران جو نقائص پیدا ہوئے ان کے ذمہ دار وہ معاشرے ہیں جو اسلام کے دشمن تھے جنہوں نے اپنے آپ کو اسلامی شریعت اور اسلامی قانون سے آزاد کرلیا تھا ‘ یہی معاشرے ان ” محلات “ اور ان ” حریموں “ کے ذمہ دار تھے جو انتہائی گھٹیا انداز میں وجود میں آئے اور یہی معاشرے اس امر کے ذمہ دار تھے جنہوں نے عائلی زندگی کو حیوانی لذت کوشی کا اسٹیج ڈراما بنایا ۔ اس لئے جو لوگ عائلی زندگی سے ان عیوب کو دور کرنا چاہتے ہیں اور اسے صحت مند اصولوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ لوگوں کو اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کی حکمرانی کی طرف لوٹائیں ۔ انہیں چاہئے کہ وہ معاشرے کو پاکیزگی طہارت ‘ استقامت اور اعتدال کی اساس پر از سر نو استوار کرنے کی جدوجہد کریں جو بھی مصلح ہے اور اصلاح چاہتا ہے ۔ اسے چاہئے کہ بس لوگوں کو اسلامی نظام حیات کی طرف لوٹائے ۔ اگر کوئی صرف اس ایک عائلی پہلو میں اصلاح چاہتا ہے تو یہ ممکن نہیں ہے ، پورے نظام حیات کے اندر انقلاب ضروری ہے ۔ اس لئے کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور وہ صرف اس صورت میں ہی قائم ہو سکتا ہے کہ اسے پورے طور پر اور ہر پہلو سے قائم کیا جائے ۔ یہاں جس عدل کا ذکر کیا ہے اور جو مطلوب ہے ‘ وہ ہمہ گیر عدل ہے ۔ معاملات میں عدل ‘ خرچ میں عدل ‘ حسن معاشرت میں بیویوں کے درمیان عدل ‘ ہم بستری میں سب کے ساتھ عدل ‘ رہی یہ بات کی دلی احساسات میں عدل اور نفس انسانی میں پائے جانے والے گہرے میلان کے اندر عدل تو اسلام اس کا مطالبہ کسی انسان سے نہیں کرتا۔ اس لئے کہ گہرے نفسیاتی میلانات ورجحانات انسان کے دائرہ ضبط و ارادہ سے خارج ہوتے ہیں ۔ اس عدل سے مراد وہ عدل ہے جس کی تشریح اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں دوسری جگہ خود کردی ہے ۔ ” اور تم ہر گز عورتوں کے درمیان مکمل عدل نہیں کرسکتے ہو ‘ اگرچہ تم بہت چاہو ‘ ‘ اس لئے پوری طرح ایک ہی طرف مائل نہ ہو جاو جس کا نتیجہ یہ ہو کہ دوسری عورت معلق ہو کر رہ جائے “۔ بعض تجدد پسندوں نے اس آیت سے یہ معانی نکالے ہیں کہ چونکہ مکمل عدل ممکن نہیں ہے ‘ اس لئے تعدد ازواج نتیجتا حرام ہوگیا ۔ حالانکہ مفہوم یہ نہیں ہے ۔ اسلامی شریعت ایک نہایت ہی سنجیدہ قانون ہے ‘ اس میں اس قسم کا مزاح نہیں کیا جاتا کہ وہ ایک آیت میں ایک بات کو جائز قرار دیدے اور ساتھ ہی دوسری آیت میں بالواسطہ اس اجازت کو واپس لے لے ۔ مثلا دائیں ہاتھ سے کوئی کسی کو کچھ دے اور بائیں ہاتھ سے چھین لے ۔ اس لئے پہلی آیت میں جس عدل کا ذکر ہے اور ہدایت دی گئی ہے کہ اگر تم ایسا عدل نہیں کرسکتے تو صرف ایک ہی بیوی پر اکتفاء کرو ‘ اس سے مراد معاملات زندگی نفقات ازواج ‘ معاشرتی سلوک ‘ اور مباشرت میں عدل ہے ۔ نیز ان چیزوں کے علاوہ زندگی کے تمام مظاہر میں عدل و مساوات ہے ۔ اسی طرح کے بظاہر کسی ایک بیوی کی حیثیت دوسری سے کم نہ نظر آئے ۔ کسی ایک کو دوسری بیویوں پر ترجیح نہ دی جائے جس طرح حضور اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ باوجود اس کے کہ آپ ﷺ افضل البشر تھے ۔ اور آپ کے تمام ساتھیوں اور پڑوسیوں کو یہ معلوم تھا کہ آپ کو حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ زیادہ محبت تھی اور آپ کے قلبی جذبات میں عائشہ ؓ کی جگہ زیادہ تھی ۔ اور اس مقام میں اس کے ساتھ آپ ﷺ کی دوسری ازواج مطہرات میں سے کوئی شریک نہ تھا ۔ اس لئے کہ کسی شخص کو اپنے دل پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا ۔ دل تو اللہ میاں کی دو انگلیوں کی گرفت میں ہیں اور یہ اللہ میاں کی مرضی ہوتی ہے کہ قلوب کو جس طرح پھیر دے ۔ حضور اکرم ﷺ اپنے دین سے بھی اچھی طرح باخبر تھے ۔ اور اپنے دلی جذبات سے بھی وہ اچھی طرح واقف تھے ۔ آپ فرمایا کرتے تھے ۔ ” اللہ ! یہ تو وہ تقسیم ہے جو میرے کنڑول میں ہے ‘ اور میں نے کردی ہے ۔ پس آپ مجھے اس معاملے میں ملامت نہ کیجیو جس پر مجھے کنٹرول نہیں ہے ‘ جو تیرے ہاتھ میں ہے ۔ “۔ (1) (ابو داود ‘ ترمذی اور نسائی) اس موضوع پر بات ختم کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم دوبارہ اس نکتے کی وضاحت کردیں ۔ اس دنیا میں اسلامی نظام حیات نے تعدد زوجات کے اصول کو رائج (Introkluce) نہیں کیا ۔ بلکہ موجودہ نظام لاتعداد تعدد زوجات میں چار کی حد تک تحریر کردی ، نیز اسلام نے یہ حکم نہیں دیا کہ تم خواہ مخواہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھو بلکہ اسلام نے اس کی اجازت دی اور اس اجازت کو شرط وقیود میں مقید کیا ۔ اور اجازت بھی اس لئے دی کہ انسانی زندگی کے حقیقی مسائل اور مشکلات کا حل نکالا جائے ۔ اور بعض حالات میں انسانی فطرت کے تقاضوں کی ضرورت کو پورا کیا جائے ۔ یہ فطری تقاضے اور حقیقی ضروریات زندگی جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے ‘ وہ جن میں سے کچھ کا معمولی ادراک ابھی تک نہیں ہوا ہے ‘ لیکن ان میں سے بعض حالات زندگی بھی ہوں گے جن کا وقوع مستقبل میں ہوگا ۔ جن میں یہ رخصت کام آئے گی ، جس طرح اسلامی نظام زندگی کی ہدایات اور اسلامی شریعت کی حکمتوں کا ظہور آئے دن ہوتا رہتا ہے ۔ کیونکہ یہ ربانی نظام زندگی ہے اور انسان کا فہم وادراک اپنی گزشتہ تاریک میں اس کی تمام حکمتوں اور مصلحتوں کے احاطے سے قاصر رہا ہے ۔ اس لئے کہ ہر اسلامی قانون سازی میں مصلحت اور حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔ چاہے انسانی فہم اس کا ادراک کرسکے یہ نہ کرسکے یا اس کا ادراک انسانی تاریخ میں فہم انسانی کو پہلے حاصل ہو یا کچھ عرصہ بعد میں حاصل ہو ‘ اس لئے کہ یہ فہم نہایت ہی محدود ہے ۔ اب ہم اس انتظام پر بحث کرتے ہیں جو مکمل عدل و انصاف نہ کرسکنے کی ضرورت میں اسلام نے کیا ہے ۔ (آیت) ”۔ فان خفتم الا تعدلوا فواحدة او ماملکت ایمانکم ، “ ترجمہ : ” لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ انکے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو یا ان عورتوں کو زوجیت میں لاو جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں ۔ یعنی اگر عدل قائم نہ رکھ سکنے کا اندیشہ ہو تو پھر یہ صورت متعین ہوجاتی ہے کہ ایک ہی بیوی پر اکتفاء کرو ۔ اس صورت میں ایک سے زیادہ کی اجازت ختم ہوجاتی ہے یا ان عورتوں کو جو تمہارے قبضے میں ہیں ۔ “ بطور لونڈی استعمال کرو یازوجیت میں لو ‘ اس لئے کہ آیت کے الفاظ نے کسی صورت کی تحدید نہیں کی ہے ۔ فی ظلال القرآن کے پارہ دوئم کی تفسیر میں ہم نے غلامی کے مسئلے پر ایک مختصر بحث کی تھی ۔ یہاں مناسب ہے کہ غلام عورتوں کے ساتھ مباشرت کرنے کے مسئلے پر قدرے بحث ہوجائے ۔ مملوکہ عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے سے ان کا اعتماد ‘ ان کی شرافت اور انسانی عزت نفس بحال ہوجاتی ہے ۔ اس نکاح کی وجہ سے انہیں آزادی حاصل ہوجاتی ہے ۔ اور اس کے ساتھ ہی اس عورت کی اولاد بھی آزاد ہوجاتی ہے ۔ اگر نکاح کے وقت اسے خاوند آزادی نہ بھی دے تو بھی بچہ پیدا ہونے کے بعد وہ ام ولد کہلاتی ہے ۔ اس کا مالک اسے اب فروخت نہیں کرسکتا ۔ مالک کی وفات کے بعد وہ آزاد ہوجاتی ہے ۔ اس سے قبل اس کی اولاد پیدا ہوتے ہیں آزاد ہوتی ہے ۔ اور اگر کوئی مالک نکاح کے بغیر ہی اپنی مملوکہ کے ساتھ مباشرت کرے تو بھی جب وہ بچہ دیدے ” ام ولد “ بن جاتی ہے ۔ اب اس کی فروخت ممنوع ہوجاتی ہے ۔ اور مالک کی وفات کے بعد وہ آزاد ہوجاتی ہے ۔ نیز اگر مالک اپنی لونڈی کے بچے کے نسب کا اعتراف کرلے تو وہ بھی آزاد تصور ہوتا ہے ۔ اور یہ اعتراف بالعموم لوگ کرتے ہیں ۔ لہذا غلام عورتوں کی آزادی کیلئے اسلام نے جو مختلف تدابیر (Devices) وضع کی ہیں ‘ انمیں سے اپنی لونڈی کے ساتھ نکاح اور ہم بستری بھی ان کی آزادی کا ایک طریقہ ہے ۔ البتہ بعض اوقات بغیر نکاح کے مملوکہ کے ساتھ ہم بستری کا فعل دل کو کھٹکتا ہے ۔ لیکن ہمیں یہ حقیقت پیش نظررکھنا چاہئے کہ غلامی کا مسئلہ ایک اجتماعی ضرورت تھی اور اب بھی ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اس سے قبل بیان کیا کہ اسلامی حکومت کا ایک سربراہ ‘ جو شریعت کا نافذ کرنے والا ہو اور اگر اعلان جنگ کردیتا ہے تو اس صورت میں قید میں آنیوالی عورتوں کا غلام ہونا جس طرح ایک اجتماعی اور بین الاقوامی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ان عورتوں کے ساتھ ہم بستری کرنا بھی ایک اجتماعی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اسلامی کیمپ سے آزاد عورتیں جو دشمن کی غلامی میں جاتی تھیں ان کا انجام ان عورتوں سے برا ہوتا تھا جو کفار کے کیمپ سے گرفتار ہو کر اسلامی کیمپ میں آتی تھیں ۔ پھر یہ بات بھی ہمارے پیش نظررہنی چاہئے کہ ان گرفتار ہونیوالی عورتوں کے بھی تو کچھ فطری مطالبات اور خواہشات ہوا کرتی ہیں ۔ اور ان خواہشات اور میلانات کا مدنظر رکھنا بھی ضروری ہے ۔ اور اسلام جیسا پسند نظام زندگی ان حقیقی فطری جذبات کو ہر گز نظر انداز نہیں کرسکتا ۔ اس لئے کہ یہ نظام ہی بذات خود فطری اصولوں پر استوار ہے ۔ اب عورت اسیر عورت کے ان فطری خواہشات کو پورے کرنے کے طریقے یا تو یہ ہو سکتے ہیں کہ ان کو مالک یا غیر مالک کے نکاح میں دیدیا جائے یا مالک کو اگر ضرورت ہو تو وہ مملوکہ کے ساتھ ہم بستری کرے ۔ جب تک غلامی کا نظام قائم ہو یا ان کو آزادانہ اجازت دیدی جائے کہ وہ جہاں چاہیں جنسی خواہش پوری کریں ۔ اس آخری صورت میں پورے اسلامی معاشرے میں جنسی انار کی اور جنسی بےراہ روی کے پھیلنے اور عام ہونے کا خطرہ لازما موجود ہوگا اور اس صورت میں جنسی تعلقات پر کوئی ضابطہ نافذ نہیں ہو سکے گا ۔ اس لئے کہ اس طرح انہیں جسم فروشی اور جنسی دوستی کی مکمل آزادی ہوگی ۔ اور یہ صورت حال دور جاہلیت میں ’ اسلام سے قبل عملا موجود تھی ۔ قرن اول کے بعد اسلامی تاریخ کے بعض ادوار میں لونڈیوں کی جو کثرت رہی ۔ لونڈی کی یہ فوج خریداری ‘ بردہ فروشی اور اغوا کے ذریعہ پیدا کی گئی ، انہیں بڑے بڑے محلات میں جمع کیا گیا ، اور انہیں حیوانی جنسی تلذذ کا ذریعہ بنایا گیا ۔ اور ان لونڈیوں کے غولوں میں رنگیں راتیں بسر ہوتی رہیں ‘ رقص و سرود اور ناو ونوش کے بازار گرم رہے اور اسلامی تاریخ میں بعض لوگوں نے اس کی حقیقت پسندانہ تصویر کشی کی اور بعض نے اس میدان میں مبالغہ آرائی سے کام لیا تو یہ سب کچھ اسلام نہ تھا ‘ نہ یہ اسلام کا کوئی کارنامہ تھا ‘ نہ اسلام نے کسی کو ایسی کوئی ہدایات دی تھی ۔ اور نہ یہ بات درست ہوگی کہ اس قسم کے واقعات کو اسلام کے کھاتے میں ڈالا جائے ، اور نہ اس بات کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ ان واقعات کو اسلام کی حقیقی تاریخ کا حصہ قرار دیا جائے ۔ اسلامی تاریخ کا حصہ وہ واقعات ہوں گے جو اسلامی نظریہ حیات اسلامی تصور زندگی اور اسلامی اقدار اور پیمانوں کے مطابق رد بعمل لائے جائیں ۔ رہے وہ واقعات جو ان معاشروں میں رد بعمل لائے گئے جو اپنی نسبت اسلام کی طرف کرتے رہے ہیں اور جو اسلامی اصول و مبادی کے مطابق نہیں تھے ‘ تو یہ بات بالکل قرین انصاف نہ ہوگی کہ ان واقعات کو اسلام کے کھاتے میں ڈالا جائے ، اس لئے کہ یہ واقعات تو درپیش اس لئے ہوئے کہ لوگوں نے اسلامی نظام زندگی سے انحراف کیا ۔ حقیقت یہ ہے اسلام مسلمانوں کی زندگی سے باہر اپنا ایک ڈھانچہ رکھتا ہے ۔ اور ہر دور میں اسلام کا اپنا ڈھانچہ رہا ہے ۔ اس لئے کہ مسلمانوں نے اسلامی نقشہ یا ڈھانچہ تیار نہیں کیا بلکہ یہ اسلامی نظام زندگی کا نقشہ ہے جس نے دنیا میں مسلمان تیار کئے ہیں اور مسلمانوں کی ایک سوسائٹی وجود میں آئی ہے ۔ اسلام اصل ہے اور مسلمان اس کیلئے فرع کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اسلام کے پیدا کرنے سے مسلمان پیدا ہوئے ہیں ، اس لئے اسلام وہ نہیں ہے جسے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اسلام ہے نہ اسلام وہ افعال و اعمال ہیں جن کا ارتکاب اہل اسلام کرتے ہیں بلکہ لوگوں کے وہی افعال واطوار اسلام ہوں گے جو اسلامی اصول حیات اور اسلام تصور حیات کے مطابق ہوں گے اور اصل ڈھانچہ اصولی اسلام ہے جس کے مطابق ہم لوگوں کی علمی زندگی کو پرکھیں گے کہ وہ کس قدر اسلام کے مطابق ہے اور کس قدر اسلام کے خلاف ہے ۔ لیکن دنیا میں چلنے والے دو نظامہائے زندگی جو انسانوں کے اپنے نظریات کی اساس پر بنائے جاتے ہیں یا ان کی اساس خود انسان کے بنائے ہوئے مذاہب پر ہوتی ہے ان کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔ اس لئے کہ جب یہ لوگ اسلام کو چھوڑ کر از سر نو جاہلیت میں داخل ہوجاتے ہیں تو یہ لوگ گویا اللہ کا انکار کردیتے ہیں اگرچہ انکادعوی یہ ہو کہ وہ اللہ کے ماننے والے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ پر ایمان لانے کا پہلا مظاہرہ یہ ہوتا ہے کہ ایک مومن اپنا نظام اسلامی منہاج سے اخذ کرے اسے اسلامی شریعت پر استوار کرے ۔ اس عظیم اصولی قاعدے کے بغیر ایمان کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ یہ اس لئے کہ اس صورت میں لوگوں کے نزدیک تغیر پذیر مفاہیم اور بدلتے زندگیوں میں نافذ کرتے ہیں ۔ رہی صورت حال اسلامی نظام حیات کی تو اسلامی نظام کو لوگوں نے خود اپنے لئے وضع نہیں کیا ہے اس کی تشکیل اور تشریح رب الناس نے ان کیلئے کی ہے جو ان کا خالق بھی ہے ‘ مالک بھی ہے اور رازق بھی ہے ۔ تو اس نظام میں لوگ یا تو اس کی اطاعت کریں گے اور اوضاع واطوار کو اس کے مطابق استوار کریں گے تو ان لوگوں کے شب و روز اسلامی تاریخ کے شب وروز ہوں گے ۔ یا صورت حال یہ ہوگی کہ وہ اس سے انحراف کریں گے یا ” کلینا “ اسے ترک کریں گے تو اس صورت میں ان کے شب وروز اسلامی تاریخ کا حصہ تصور نہ ہوں گے ۔ اسے اسلامی تاریخ سے انحراف تصور کیا جائے گا ۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے اسی نقطہ نظر کا لحاظ رکھنا اشد ضروری ہے ۔ اسی نقطہ نظر سے اسلام کے تاریخی تصور کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ اسلام کا تاریخی تصور تمام دوسرے تاریخی تصورات سے مختلف ہے ۔ اس لئے کہ دوسری سوسائٹیوں کے نظریات میں ان سوسائٹیوں کی عملی صورت حال کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے ۔ اور اسے کسی نظریہ اور مذہب کی عملی تعبیر تصور کیا جاتا ہے ۔ اس عملی مظہر کے مطابق پھر اس مذہب یا نظریہ کے اندر نرمی اور تبدیلی پر بحث کی جاتی ہے ۔ یعنی نظریہ پر بحث اس سوسائٹی کو پیش نظر رکھ کر کی جاتی ہے ۔ جو سوسائٹی اس نظریہ ایمان رکھنے کا دعوی کرتی ہے ۔ اور اس سوسائٹی کے اندر اس نظریہ کی بابت جو فکری تغیرات ہوتے ہیں اس پر بحث کی جاتی ہے ۔ اس کے بعد یہ لوگ اس منہاج بحث کو اسلامی نظام کے مطالعہ پر بھی منطبق کرتے ہیں حالانکہ اسلام کی اپنی منفرد نوعیت کی وجہ سے یہ منہاج بحث اس پر چسپاں نہیں ہوتا ، اس لئے اس منہاج پر اسلام کا مطالعہ کرنے والے اسلام کے حقیقی مفہوم کے تعین میں خطرناک غلطیاں کرتے ہیں ۔ اخر میں اس آیت میں ان تمام انتظامات کی حکمت عملی کی وضاحت کردی جاتی ہے کہ یہ تمام انتظامات اس لئے کئے جارہے ہیں کہ تم ظلم و زیادتی کے ارتکاب سے بچ سکو (آیت) ” ذلک ادنی الا تعولوا “۔ ” بےانصافی سے بچنے کیلئے یہ زیادہ قرین صواب ہے ۔ “ یعنی یہ کہ اگر تم انصاف نہیں کرسکتے تو ان یتیم بچیوں کو اپنے نکاح میں لینے سے باز رہو اور دوسری عورتوں سے نکاح کرلو ۔ دو دو ‘ تین تین ‘ اور چار چار ‘ اور اگر عدل ممکن نہ ہو تو فقط ایک پر اکتفا کرو۔ یا اپنی مملوکہ عورتوں پر اکتفاء کرو ۔ یہی صورت اس کے قریب ہے کہ تم بےانصافی سے بچو اور ظلم نہ کرسکو ۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر معاملے میں عدل و انصاف کی تلاش اسلامی نظام زندگی کا نصب العین ہے اور اسلام کی جزئیات میں سے ہر جزء میں عدل مطلوب ہے ۔ اور ایک خاندان جس کے اندر اس کے تمام افراد رہائش پذیر ہوتے ہیں ‘ اس کے اندر عدل و انصاف کا قیام دوسرے مقامات کے مقابلے میں زیادہ ضروری ہے ۔ اس لئے کہ کسی سوسائٹی کی تعمیر اور کسی اجتماعی نظام کی تشکیل میں خاندان خشیت اول کی حیثیت رکھتا ہے ۔ خاندان اجتماعی زندگی کا نقطہ آغاز ہے ۔ قوموں کی تربیت خاندان کے قالب میں ہوتی ہے ۔ یہاں انسانوں کی شخصیات کی تشکیل ہوتی ہے اور اسی میں رنگ بھرا جاتا ہے ۔ اگر خاندانی نظام کی بنیاد عدل و انصاف اور اخوت و محبت پر نہ ہو تو پھر پورے معاشرے میں عدل و انصاف قائم نہ ہو سکے گا ۔ (1) (دیکھئے میری کتاب ” السلام العالمی والاسلام “ کی فصل ” سلام البیت “۔ ) اسی مناسبت سے یہاں عورتوں کے بعض دوسرے حقوق بیان کر دئیے جاتے ہیں ۔ اس لئے کہ اس سورت کے آغاز میں ان کا ذکر خصوصیت سے ہوا تھا ‘ اس سورت کا نام بھی نساء رکھا گیا تھا ۔ اس لئے یتیم عورتوں کی بابت بات ختم کرنے سے پہلے بعض حقوق کا بیان مناسب تھا ۔

النساء 4:4

(آیت) ” واتوالنساء صدقتھن نحلة فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریئا (4) یہ آیت عورت کے لئے ایک واضح حق (Right) کی بنیاد رکھتی ہے جو اس کا ذاتی حق ہے ۔ یعنی اس کا مہر ‘ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ دور جاہلیت میں عورت کے اس حق کو مختلف حیلوں بہانوں سے مارا جاتا تھا ، ایک صورت یہ تھی کہ عورت کا ولی اس مہر کو لے لیتا اور پھر اسے وہ خود استعمال کرتا ، اسی طرح جس طرح ایک شخص کوئی چیز فروخت کرکے زر ثمن وصول کرتا ہے ۔ ایک صورت اس حق کو مارنے کی نکاح شغار کی صورت میں تھی ۔ کہ ایک ولی الامر اپنی زیر تولیت لڑکی دوسرے شخص کو نکاح کر کے دیتا ہے ۔ اور اس کے مقابلے میں دوسرا ولی الامر اپنی تولیت میں پائی جانے والی کسی لڑکی کا نکاح پہلے ولی کا کسی رشتہ دار سے کردیتا ۔ یعنی لڑکی کے مقابلے میں لڑکی آجاتی ، یہ سودا دو اولیاء کے درمیان ہوتا اور اس سے ان دو لڑکیوں کو کچھ نہ ملتا ۔ جس طرح دو مویشیوں کو آپس میں تبادلہ کردیا جاتا ہے ۔ اسلام نے نکاح شغار کو بالکل منع کردیا ۔ اور یہ حکم دیا کہ نکاح صرف اسی صورت میں ہو کہ دونوں فریق براہ راست اس پر رضا مند ہوں اور اپنے اختیار سے معاملہ کریں ۔ اور یہ کہ مہر صرف عورت کا حق ہے ۔ وہ خود اسے وصول کرے گی ۔ اس کے ولی کو وصول کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اسلام نے مہر کے تعین کو لازمی قرار دیا ہے تاکہ عورت اسے اپنے قبضہ میں لے سکے ۔ کیونکہ یہ اس کیلئے ایک فریضہ ہے ۔ یہ ایک لازمی اور واجبی حق ہے جو کسی طرح بھی منسوخ یا معطل نہیں ہو سکتا ۔ یہ لازمی کیا گیا کہ مرد اس حق کو خوشدلی کے ساتھ ادا کرے ۔ اور اسے اس طرح دلی آمادگی سے ادا کرے جس طرح شخص ھبہ صرف اپنی دلی رضامندی سے دیتا ہے یعنی ہے تو فرض لیکن اسے اس طرح طیب نفس اور خوشی سے ادا کیا جائے کہ گویا فرض نہیں ہے بہ ہے ۔ ہاں ادائیگی کے بعد اگر عورت اپنی مکمل رضا مندی اور خوشدلی کے ساتھ یہ پورا مہر یا اس کا کوئی حصہ اپنے شوہر کو لوٹادیتی ہے تو وہ اس معاملے میں پوری طرح آزاد ہے ۔ وہ بھی جو واپس کرے وہ بھی مکمل آزادی اور طیب خاطر کے ساتھ ہو ‘ کوئی جبر نہ ہو ۔ اس صورت میں مرد کیلئے بھی اس مہر کا کھانا حلال ہے ۔ بلکہ وہ اسے مزے سے کھا سکتا ہے بغیر کسی قلبی خلجان کے ۔ غرض زوجین کے درمیان تعلقات مکمل رضا مندی کے ساتھ ہونے چاہئیں ۔ فریقین مکمل طور پر مختار خود ہوں ‘ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جو معاملہ کریں دلی خوشی اور آزادی کے ساتھ کریں ، اور محبت تو چیز ہی ایسی ہے جس میں کسی جہت سے بھی کدورت نہیں ہونی چاہئے ۔ اس طرح اسلامی نظام حیات نے آثار جاہلیت میں سے ایک اور اثر کو ختم کردیا ، جو عورت کے مہر کے بارے میں عرب معاشرہ میں مروج تھا ۔ اور عورت کیلئے اس کی ذات اور اس کے مہر و مال کے بارے میں مکمل حقوق (Rights) بحال کردیئے گئے ۔ اس طرح اس کی عزت وقار کو بحال کیا گیا ۔ لیکن ان قانونی حقوق کی بحالی کے ساتھ ساتھ زن وشو کے باہمی تعلقات کو خشک قانونی پیمانوں کے حوالے بھی نہیں کردیا گیا ۔ اور اس سلسلے میں رضا مندی ‘ محبت اور باہم فیاضی کے راستے بھی کھلے رکھے گئے ہیں ۔ اس لئے کہ میاں بیوی نے مشترکہ طور پر زندگی گزارنی ہے ۔ اور اس بات کی ضرورت ہے کہ ان تعلقات کو خشک قانونی فضا سے نکال کر باہم محبت اور برواحسان کی شبنم سے تروتازہ رکھا جائے ۔ جب یہ موضوع یہاں ختم ہوتا ہے تو بات سے بات نکلتی چلی جاتی ہے ، چونکہ اس بات کی ضرورت محسوس کی گئی تھی کہ یتیم عورتوں کے ساتھ عام عورتوں کی بات بھی ہوجائے ۔ اب یہاں یتیموں کے مالی حقوق کا ذکر بھی مناسب تھا ۔ مفصلا حکم دیا جاتا ہے کہ ان کی دولت ان کو لوٹا کردی جائے جبکہ اس سے پہلے آیت نمبر 2 میں کہ ان کی دولت انہیں دی جائے ۔ دولت چاہے یہ ییتموں کی ہو یا بالغ مرد عورتوں کی ہو ‘ یہ ان لوگوں کی انفرادی ملکیت ہونے سے بھی پہلے یہ پوری سوسائٹی کی دولت ہوتی ہے ۔ اور کسی سوسائٹی کو جو دولت دی گئی ہوتی ہے ‘ اس دولت پر اس پوری سوسائٹی کا قیام ہوتا ہے ۔ اور اس دولت سے جو اس سوسائٹی میں گردش کرتی ہے ‘ پوری سوسائٹی استفادہ کرتی ہے ۔ اور یہ استفادہ اس کے حسن انتظام سے ہوتا ہے ۔ گویا تمام دولت کا ابتدائی مالک عام معاشرہ ہوتا ہے اور یتیم اور دوسرے وارث اس کے مالک محض اس لئے بنائے جاتے ہیں کہ وہ اس دولت کو مزید ترقی دیں ، اور یہ ترقی اجتماعی نظام کی اجازت سے ہو ‘ وہ خود بھی اس سے استفادہ کریں اور سوسائٹی بھی اس سے مستفید ہو ۔ یہ ان پرائیویٹ ہاتھوں میں اس وقت تک رہے گی جب تک وہ اسے بڑھانے اور اس میں اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ، اور اسی دولت میں تصرف کرنے اور اس کا انتظام کرنے میں وہ صحیح طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہوں ۔ اس اجتماعی دائرے کے اندر انفرادی حقوق ملکیت قائم رہیں گے (1) (تفصیلات کیلئے دیکھئے میری کتاب العہد الا الاجتماعیہ کی فصل ” مالی پالیسی “ ) رہے وہ نادان یتیم جو مالدار ہیں لیکن اپنے مالی انتظامات سے قاصر ہیں اور اسے ترقی نہیں دے سکتے تو انکے کنٹرول میں ان کی دولت نہ دی جائے گی ۔ ان کو ان کے اموال میں تصرف اور اپنے ہاتھ میں بسنے اور اپنی نگرانی میں چلانے کے حق سے محروم کردیا جائے گا ۔ اگرچہ ان کی انفرادی ملکیت کا حق ان اموال پر باقی رہتا ہے ۔ یہ دولت ان سے چھین لینے کی اجازت نہیں ہے ۔ صرف اسی دولت کو سوسائٹی کے ان افراد کی تحویل میں دیدیا جائے گا جو ان میں اچھا تصرف کرسکتے ہوں ۔ ہاں اس سلسلے میں ان لوگوں کو ترجیح دی جائے گی جو یتیم کے ساتھ قرابت اور رشتہ داری رکھتے ہوں ۔ تاکہ خاندانی کفالت کا انتظام بھی ساتھ ساتھ چلتا رہے ۔ اس لئے کہ خاندان کے کفالتی نظام ہی کے ذریعہ سوسائٹی کے بڑے خاندان کا کفالتی نظام قائم ہوتا ہے ۔ ہاں نادان لوگوں کیلئے ان کے اخراجات اور اچھی طرح گزر بسر کا انتظام ہوگا ۔

النساء 4:5

(آیت) ” ولا توتوا السفہآء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیما وارزقوھم فیھا واکسوھم وقولوا لھم قولا معروفا “۔ (5) نادانی اور دانائی کا پتہ بلوغ کے بعد چل جاتا ہے ۔ بالعموم نادان اور دانا کے درمیان ہو ہی جاتی ہے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت نہیں ہوتی کہ قانون کے اندر اس کیلئے کوئی فارمولا وضع کردیا جائے ، ہر خاندان اس بات کی تمیز اچھی طرح کرلیتا ہے کہ اس کے اندر نادان کون ہے اور دانا کون ہے ۔ اسے اچھی طرح تجربہ ہوتا ہے کہ یہ راشد ہے اور یہ سفیہ ہے نیز سوسائٹی سے بھی کسی شخص کے معاملات اور تصرفات پوشیدہ نہیں ہوتے ۔ لہذا جانچ پڑتال اس بات کی ہوگی کہ یتیم بالغ ہوگیا ہے یا نہیں ۔ یہاں آیت میں اس بلوغ کی تعبیر لفظ نکاح سے کی گئی ہے کیونکہ بلوغ میں سے نکاح ایک اہم اثر ہوتا ہے ۔

النساء 4:6

(آیت) ” وابتلوا الیتمی حتی اذا بلغوا النکاح فان انستم منھم رشدا فادفعوا الیھم اموالھم ولا تاکلوھا اسرافا وبدارا ان یکبروا ومن کان غنیا فلیستعفف ومن کان فقیرا فلیاکل بالمعروف فاذا دفعتم الیھم اموالھم فاشھدوا علیھم وکفی باللہ حسیبا “۔ (6) اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے یتیموں کو ان کی دولت حوالے کرنے کے سلسلے میں شریعت نے کس قدر سخت کاروائی کی ہے ۔ جب وہ بالغ ہوجائیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ شریعت بلوغ اور سیانے ہونے کے بعد جلد از جلد ان کی دولت انکے حوالے کرنے کیلئے کاروائی کرنے پر زور دیتی ہے ۔ یعنی جونہی وہ بالغ ہوں ‘ ان کی دولت ان کے حوالے کی جائے ۔ اور یہ دولت پوری کی پوری صحیح سالم ان کے حوالے کی جائے ۔ اور جب تک ولی کی حفاظت میں ہو اس کی حفاظت ایمانداری کے ساتھ کی جائے اور اسے بےدردی کے ساتھ خرچ نہ کیا جائے ۔ اس ڈر سے کہ یتیم بالغ ہونے والے ہیں اور یہ دولت انہیں لوٹانی ہوگی ۔ نیز شریعت کی پالیسی یہ ہے کہ اگر محافظ مالدار ہو تو وہ اس نگرانی اور حفاظت کا کوئی معاوضہ نہ لے اور اگر وہ نادار ہو تو اسے چاہئے کہ معروف طریقے کے مطابق کم سے کم ضرورت کی حد تک کھائے ۔ اور شریعت یہ بھی لازمی قرار دیتی ہے کہ جب کسی یتیم کو اس کا مال حوالے کیا جا رہا ہو تو اس پر شہادت ضرور قائم کی جائے ۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ کی شہادت تو ہر وقوعہ پر قائم ہے اور اللہ کے سامنے جو حساب ہوگا وہ آخری حساب ہوگا ۔ (آیت) ” وکفی باللہ حسیبا “۔ (6) ”’ اور حساب لینے کیلئے اللہ کافی ہے ۔ “ یہ تمام تشدید وتاکید اور تمام تفصیلات وتشریحات اور یہ تمام تنبیہات وتذکیرات اس حقیقت کی مظہر ہیں کہ جس معاشرے میں اسلامی نظام نافذ ہوا ۔ اس میں ہر طرف ییتموں کی حق تلفی ہو رہی تھی ۔ یتیموں کے علاوہ دوسرے کمزوروں کے مال بھی کھائے جاتے تھے ۔ اس لئے کہ اس رسم و رواج کو ختم کرنے کیلئے اس قدر تاکید وتشدید کی ضرورت پیش آئی ۔ اور جزوی تفصیلات کو قرآن کریم کے اندر قلم بند کرنے کی ضرورت لاحق ہوئی ۔ تاکہ آئندہ لوگ قانونی حیلوں اور بہانوں سے کام لیکر قانون شکنی نہ کرسکیں اور قانون سے بچنے کی کوئی راہ کھلی نہ رہے ۔ اس طرح نظام حیات مسلمانوں کی فکری اور عملی دنیا سے جاہلیت کے ایک ایک نشان مٹاتا رہا اور اس کی جگہ اسلامی جھنڈے گاڑتا رہا ۔ جاہلیت کے آثار مٹائے جاتے رہے اور معاشرے کے چہرے کو ان بدنما داغوں سے صاف کیا جاتا رہا ۔ اور ان کی جگہ اسلام کے خوبصورت خدوخال ظاہر ہوتے رہے ۔ اور یوں ایک جدید معاشرہ ڈھلتا رہا ۔ جدید معاشرے کی رسوم اور روایات قائم ہوتی چلی گئیں ۔ اس کے اصول و ضوابط اور قوانین و احکام نازل ہوتے رہے ۔ اور یہ سب کچھ خدا خوفی کی فضا میں اور اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوتا رہا ۔ اور اسلامی قانون اور اسلامی احکام کی آخری گارنٹی ذات باری کے خوف اور رضا مندی کو قرار دیا جاتا رہا حقیقت یہ ہے کہ خدا خوفی ‘ خدا کی رضا مندی اور اللہ کی نگرانی کے تصور کے سوا ‘ اس دنیا میں کسی بھی قانونی نظام کی استواری اور چلت کی کوئی گارنٹی نہیں ہے ۔ اصل مدار اس پر ہے کہ (آیت) ” وکفی باللہ حسبیا “۔ ” اور حساب لینے کیلئے اللہ کافی ہے ۔ “ جاہلیت کی رسم یہ تھی کہ وہ لڑکیوں اور بچوں کو وراثت نہ دیتے تھے ۔ عام رواج یہی تھا ۔ البتہ بعض جگہوں پر اس کے خلاف بھی تھا مگر شاذ ۔ اس کی وجہ ان کے نزدیک یہ تھی کہ یہ لوگ گھوڑے پر سوار نہیں ہوتے تھے ۔ دشمن کے مقابلے میں شریک نہ ہوتے تھے ۔ گویا اصل مدار جنگ پر تھا ۔ اسلامی نظام قانون نے میراث کو قرابت کے اصول پر استوار کیا ۔ جو تقسیم میراث کا حقیقی سبب تھا ۔ ہاں جس طرح قرابت کے مختلف درجے ہوتے ہیں ۔ اسی طرح اقرباء کے حصص اور فرائض میں بھی فرق ہے ۔ جیسا کہ بعد میں تفصیلات آرہی ہیں ۔ نظام میراث کو اسلام نے نظام قرابت پر اس لئے استوار کیا کہ اسلام اجتماعی تکافل کے نظام کی اکائی ایک خاندان کو قرار دیتا ہے ۔ وہ سب سے پہلے ایک خاندان کے افراد کے درمیان باہم کفالت کا نظام قائم کرتا ہے ۔ اور یہ خاندانی نظام بھی اجتماعی کفالتی نظام کے فریم ورک کے اندر ہوتا ہے ۔ نیز اس اصول کے تحت کہ حقوق ذمہ داریوں کی نسبت سے متعین ہوتے ہیں تو اس طرح قریبی رشتہ داروں پر خاندان کے کسی غریب فرد کی بابت اس کی قرابت کے اعتبار سے ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ۔ مثلا قتل میں دیت کی ادائیگی بھی قرابت اور رشتہ داری کے اصول پر ہوتی ہے ۔ نیز زخموں کی مرہم پٹی کی ادائیگی بھی قرابت کے اصول پر ہوا کرتی ہے ۔ اس لئے پھر انصاف کا تقاضا ہے کہ اگر کوئی رشتہ دار فوت ہوجائے اور اس کا ترکہ رہ جائے تو اسے اصول قرابت پر تقسیم کیا جائے ، کیونکہ اسلامی نظام زندگی ایک مکمل اور باہم متناسق نظام ہے ۔ اور اس کی یہ ہمہ گیری اور ہم آہنگی اس وقت اچھی طرح ظاہر ہوتی ہے جب اس کے اندر حقوق وفرائض متعین ہوتے ہیں ۔ غرض میراث کی تقسیم میں شریعت نے عموما ان قریبی ذمہ داریون کو ملحوظ رکھا ہے ۔ بعض لوگ اس قانون کے اصول تقسیم پر نکتہ جہنیاں کرتے ہیں ‘ یہ حرکت وہ اس لئے کرتے ہیں کہ درحقیقت ذات باری کی شان میں گستاخی کیلئے تیار ہیں ۔ حالانکہ خود ان کا حال یہ ہے کہ وہ کود ات انسانی سے بھی اچھی طرح واقف نہیں ہیں۔ اور نہ وہ انسانی زندگی کے مختلف احوال کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے نظام میراث کی اساس جن اصولوں پر رکھی گئی ہے اگر یہ لوگ ان کا اچھی طرح ادراک کرلیں تو یہ ہر گز یہ جسارت نہ کریں۔ اسلامی نظام میراث کا اصل الاصول سوشل سیکورٹی ہے ۔ اس کفالتی نظام کو شریعت نے ان اصولوں پر استوار کیا ہے ۔ جو نہایت ہی مستحکم ہیں اور ان اصولوں کو وضع کرتے وقت اسلام نے نفس انسانی کے فطری رجحانات کو بھی مد نظر رکھا ہے ۔ اور یہ وہ رجحانات ہیں جن کا خالق اللہ ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی کے اندر ان رجحانات کو عبث طور پر پیدا نہیں کیا ہے ۔ یہ فطری میلانات انسانی زندگی کے ارتقاء وبقا میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ ایک خاندان کے اندر قریبی یا دور کے رشتوں کے جو رابطے ہوتے ہیں ‘ وہ چونکہ فطری روابط ہوتے ہیں اور نہایت ہی حقیقی روابط ہوتے ہیں اور وہ ایسے رابطے ہوتے ہیں ‘ جن کی تخلیق کسی ایک نسل یا سوسائٹی نے نہیں کی ہے ۔ اور نہ ہی ان رابطوں کی تخلیق میں پوری انسانی نسلوں کے اتفاق کا کوئی دخل ہے ۔ اس لئے ان رابطوں کی حقیقت پسندی ‘ ان کی گہرائی انسانی زندگی کے بچاو اس کی ترقی اور اس کی سربلندی میں ان رابطوں کی اہمیت کا کوئی انکار نہیں کرسکتا ۔ اور اگر کوئی ان حقیقی رابطوں کی اہمیت کا انکار کرتا ہے تو ان کلیہ انکار نظر انداز کرنے کا مستحق ہے ۔ اس لئے اسلام نے اپنے کفالتی نظام کی اکائی ایک خاندان کے کفالتی نظام کو قرار دیا ہے ۔ اور اس کفالتی یونٹ کو پھر اپنے اجتماعی اور ملکی کفالتی نظام کا سنگ میل قرار دیا ہے ۔ اسلام نے نظام میراث کو اس خاندانی کفالتی نظام کا ایک مظہر اور علامت قرار دیا ہے ۔ جبکہ اقتصادی اور اجتماعی نظام معیشت وسیاست میں اس کے اور مفید اثرات بھی اپنی جگہ مسلم ہیں ۔ اگر کسی شخص کے تکافل میں یہ پہلا قدم کامیاب نہیں ہوتا اور خاندان کسی شخص کی کفالت میں ناکام ہوجاتے ہے تو پھر مقامی مسلم سوسائٹی سامنے آتی ہے اور وہ اس شخص کی کفالت کرتی ہے ۔ اور اگر محلہ اور مقامی سوسائٹی بھی ناکام رہیں تو اس کے بعد اسلامی حکومت ان تمام لوگوں کی کفالت کی ذمہ دار ہے جو خود اپنا انتظام نہیں کرسکتے ۔ اس انتظام کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ تمام نادار لوگوں کا انتظام کرنا صرف حکومت کے نظم ونسق کے کاندھوں پر یکدم نہیں پڑتا ۔ یہ انتظام اس لئے کیا گیا ہے کہ ایک خاندان اور ایک محدود سوسائٹی کے اندر باہم تکافل کے انتظام کے نتیجے میں افراد معاشرہ کے دلوں میں باہم دگر محبت ‘ لطف وکرم اور رحم اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور ان جذبات کی وجہ سے لوگوں کے درمیان باہم تعاون اور ہمدردی کے فطری فضائل اخلاق پروان چڑھتے ہیں اور یہ بالکل حقیقی ہوتے ہیں ان میں کوئی بناوٹ نہیں ہوتی ۔ اس خاندانی کفالت کے علاوہ بھی رشتہ داروں کی امداد اور ہمدردی کے جذبات رکھنا ایک ایسا انسانی فعل ہے جسے ایک بدفطرت اور گٹھیا درجے کا خبیث شخص ہی نظر انداز کرسکتا ہے ۔ ایک خاندان کے اندر کفالت کرنا تو ایک ایسا فعل ہے جس کے انسانی فطرت اور مزاج پر بہت ہی مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ جو عین فطرت کے مطابق ہوتے ہیں ۔ ایک شخص کا یہ شعور کہ اس کی شخصی جدوجہد اس کے تمام رشتہ داروں کیلئے مفید عمل ہے ۔ خصوصا اس کی اپنی اولاد کیلئے تو اس شعور کی وجہ سے اس کی قوت عمل دو چند ہوجاتی ہے اسی طرح ایک شخص جدوجہد بالواسطہ پورے معاشرے کیلئے مفید ثابت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اسلامی نظام حیات میں فرد اور جماعت کے درمیان فاصلے نہیں رکھے جاتے ۔ (1) (تفصیلات کیلئے دیکھئے فصل ” فرد اور معاشرہ “ کتاب الانسان بین المادیتہ والسلام۔ مصنفہ محمد قطب اور مصنف کی کتاب العدالتہ الاجتماعیہ فی اسلام ‘ فصل اجتماعی تکافل اور مالی پالیسی اور میری کتاب ” دراسات اسلامیہ ۔ “ اس لئے کہ فرد کی تمام ملکیت بھی دراصل پورے معاشرے کی ملکیت ہوتی ہے ۔ اگر معاشرے کو اس کی ضرورت پڑے ۔ اس آخری اصول کی روشنی میں اسلامی نظام وراثت پر کئے جانے والے وہ تمام اعتراضات زائل ہوجاتے ہیں ‘ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ نظام ان لوگوں کو بھی وارثت منتقل کردیتا ہے جنہوں نے اس کیلئے کوئی جدوجہد نہیں کی ہوتی ۔ اس لئے کہ یہ وارث درحقیقت موروث منہ کا تسلسل ہوتا ہے اور اگر یہی موروث منہ محتاج ہوتا اور یہ وارث مالدار ہوتا تو اپنے اسلامی اور معاشرتی فرائض کے تحت وہ اس کی کفالت کرتا ، اور ان امور کے بعد یہ قاعدہ اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہ دولت جس کے پاس بھی ہو اور جس طرح بھی تقسیم ہو یہ پورے معاشرے کی اجتماعی دولت ہے اور اسے اجتماعی ضروریات کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ (2) (تفصیلات کیلئے دیکھئے فصل ” فرد اور معاشرہ “ کتاب الانسان بین المادیتہ والسلام۔ مصنفہ محمد قطب اور مصنف کی کتاب العدالتہ الاجتماعیہ فی اسلام ‘ فصل اجتماعی تکافل اور مالی پالیسی اور میری کتاب ” دراسات اسلامیہ ۔ “ ان امور کے علاوہ وارث اور مورث کے درمیان جو رابطہ ہوتا ہے خصوصا مورث اور اس کی اولاد کے درمیان وہ صرف مالی رابطہ نہیں ہوتا ۔ اگر ہم وارث اور مورث کے درمیان مالی مفادات کو از روئے قانون کاٹ بھی دیں تو بھی ان کے درمیان جو خونی رشتے موجود ہیں اور جو دوسرے رشتے موجود ہیں وہ کاٹنے سے نہیں کٹتے ۔ آباو اجداد اور دوسرے رشتہ دار اپنے بچوں ‘ پوتوں اور رشتہ داروں کو صرف مالی وراثت ہی منتقل نہیں کرتے ‘ بلکہ وہ اپنی اچھی صلاحیتیں اچھی عادات ‘ بری عادات اور کمزوریاں بھی منتقل کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ اپنے بچوں اور پوتوں کی طرف بعض موروثی بیماریاں بھی منتقل کرتے ہیں اور اگر وہ صحت مند ہیں تو اپنی صحت مندی بھی وارثت میں دیتے ہیں ۔ اسی طرح ایک شخص کے حسن اخلاق وبداخلاقی اس کی اچھائیاں اور برائیاں اور زکاوت اور غبی ہونا بھی وراثتا ‘ منتقل ہوتا ہے ۔ اور یہ تمام صفات وارثوں کی طرف منتقل ہو کر ہمیشہ کیلئے ان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔ اور ان کے نتائج ان وارثوں کو بھگتنے پڑتے ہیں ۔ اس لئے انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ مورث کا مال اگر کوئی ہے تو وہ بھی وارثوں کی طرف منتقل ہو ۔ اس لئے کہ اگر ہم کسی شخص کا مال اس کے وارثوں کو نہیں دیتے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم وارثوں کو موروثی بیماریوں ‘ اخلاقی کمزوریوں ‘ بدعملی اور ذہنی اور جسمانی کمزوریوں سے بھی نجات دلائیں اور یہ اس وقت بھی ممکن نہیں جب ہم اپنے پورے وسائل اس کام میں لگا دیں ۔ انسانی زندگی کے ان فطری اور واقعاتی حقائق کی وجہ سے اور ان تمام دوسری حکمتوں کی وجہ سے جو شریعت الہیہ میں پوشیدہ ہوتی ہیں ، اللہ تعالیٰ نے میراث کی تقسیم کا یہ موجودہ نظام وضع فرمایا ہے ۔ (3) (تفصیلات کیلئے دیکھئے فصل ” فرد اور معاشرہ “ کتاب الانسان بین المادیتہ والسلام۔ مصنفہ محمد قطب اور مصنف کی کتاب العدالتہ الاجتماعیہ فی اسلام ‘ فصل اجتماعی تکافل اور مالی پالیسی اور میری کتاب ” دراسات اسلامیہ ۔ “ فرماتے ہیں ۔

النساء 4:7

(آیت) ”۔ للرجال نصیب مما ترک الوالدن والاقربون وللنسآء نصیب مما ترک الوالدن والاقربون مما قل منہ اوکثر نصیبا مفروضا “۔ (7) یہ وہ عام اصول ہے جس کی رو سے اسلام نے آج سے پورے چودہ سو سال قبل عورتوں کو وہ حقوق دیئے جو اس وقت مردوں کو حاصل تھے ۔ یہ فیصلہ اصولی فیصلہ تھا ۔ جس طرح یتیموں کے حقوق کا تحفظ کیا گیا تھا ‘ جبکہ اس وقت کے معاشرے میں عموما چھوٹوں اور یتیموں کے حقوق مارے جاتے تھے ۔ اور یہ حقوق اس لئے مارے جاتے تھے کہ ایام جاہلیت میں انسانوں کی قدروقیمت کا تعین انسانی لحاظ سے نہیں بلکہ اس کا تعین اس لحاظ سے کیا جاتا تھا کہ پیداواری عمل میں وہ کس قدر کام آتے ہیں اور پھر جنگ میں وہ کس قدر وہ کام آتے ہیں ۔ ان حالات میں اسلام نے ایک ربانی نظام پیش کیا ‘ جس نے سب سے پہلے انسان کو بحیثیت انسان دیکھا ۔ اس لئے کہ انسان کو انسانی حیثیت اس سے کسی حال میں بھی علیحدہ نہیں کی جاسکتی ۔ انسانی حیثیت بنیادی حیثیت ہوتی ہے ۔ اور ایک خاندان کے اندر یا ایک سوسائٹی کے اندر تمام دوسری حیثیات کا لحاظ اس کے بعد آتا ہے ۔ جیسا کہ بعد میں تفصیلات ناظرین کے سامنے آرہی ہیں ‘ اسلام کے قانون میراث میں بعض رشتہ داروں کی موجودگی سے بعض دوسرے وارث محروم ہوجاتے ہیں ۔ وہ رشتہ دار تو ہوتے ہیں لیکن ان کو وراثت میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ اس لئے کہ ان کے مقابلے میں زیادہ قریبی رشتہ دار ان سے پہلے ہی حق لے لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو محجوب کہتے ہیں ۔ اس لئے یہاں تقسیم میراث کے وقت ایسے لوگوں کیلئے غیر متعین حق رکھا جاتا ہے ۔ جب وہ تقسیم میراث کے وقت موجود بھی ہوں اور مستحق بھی ہوں ۔ یہ حق ایسے لوگوں کی دلجوئی کیلئے رکھا گیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ وہ دیکھیں گے کہ مال تقسیم ہو رہا ہے اور وہ محروم ہیں ۔ اس لئے ان کی دلجوئی مطلوب ہے ۔ نیز اس سے خاندانی رشتے دار اور رابطے بھی مضبوط ہوں گے اور دلی محبت میں اضافہ ہوگا ۔ اسی طرح دوسرے یتیموں ، مسکینوں کے بارے میں بھی یہاں مشورہ دیا جاتا ہے کہ تقسیم کنندگان انہیں بھی کچھ ضرور دیں ۔

النساء 4:8

(آیت) ”۔ واذا حضر القسمة اولوالقربی والیتمی والمسکین فارزقوھم منہ وقولولھم قولا معروفا “۔ (8) اس آیت کے بارے میں علماء سے بہت سے اقوال نقل ہوئے ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے ۔ اور اسے آیت میراث نے منسوخ کردیا ہے جس میں تمام لوگوں کے حصص مقرر ہوچکے ہیں ۔ بعض نے اسے منسوخ اور قائم کہا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کا مفہوم اور مدلول پر عمل کرنا فرض اور واجب ہے ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ اس پر عمل کرنا مستحب ہے ۔ یہ وارثوں کی مرضی ہے کہ وہ اس پر عمل کریں یا نہ کریں ، میرے خیال میں اس کے منسوخ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ بلکہ یہ آیات محکمات میں سے ہیں اور اس پر عمل کرنا واجب ہے ۔ اس لئے کہ ایک تو بظاہریہ مطلق ہے ۔ دوسرے یہ کہ اسلامی نظام حیات میں عام کفالت اور برواحسان کو بہت ہی پسند کیا جاتا ہے ۔ بہرحال یہ ایک مستقل مد ہے اور ان حصص کے علاوہ ہے جو آنے والی آیات کے اندر متعین کردیئے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ وارثان کے حصص کا بیان شروع ہو ‘ ایک بار پھر تاکید کی جاتی ہے کہ یتیموں کا مال کھانا بہت ہی خطرناک جرم ہے ‘ یہ دوبارہ تاکید اس لئے کی جاتی ہے کہ اہل ایمان کے دلوں کو ایک دو شدید چٹکیاں بھریں ۔ پہلی چٹکی سے ان کے دل کے اندر پوشیدہ پدری شفقت کو جگانا مطلوب ہے ۔ بچوں کے ساتھ ہر باپ کو فطری محبت ہوتی ہے ۔ خصوصا جبکہ وہ بہت ہی ضعیف اور ناتوانی کی حالت میں ہوں اور یہ کہ خدا خوفی کا جذبہ ہی بہترین محاسب اور نگران ہوتا ہے اور دوسری چٹکی سے ان کے دلوں میں جذبات خوف اور انجام بد کے ڈر کو جگایا جاتا ہے ۔ جہنم کی آگ کا خوف اور یہ یہاں ایک محسوس ‘ مشاہد اور خوفناک انداز میں پیش کیا جاتا ہے ۔

النساء 4:9

(آیت) ”۔ ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریة ضعفا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولا سدیدا (9) ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا ، وسیصلون سعیرا “۔ (01) یہ پہلی چٹکی دل کے پردے کو ٹچ کرتی ہے ۔ ایک حساس محبت سے بھر آنے والے باپ کے دل کو اپنے چھوٹے اور کمزور بچوں کی نسبت سے یہ تصور دیا جاتا ہے کہ ذرا سوچیں تو سہی تمہارے چھوٹے بچے ہوں ‘ ناتوان ہوں اور ان پر کوئی ترس کھانے والا نہ ہو اور نہ کوئی ان کا محافظ ونگران ہو۔ جو ان کے سرپر رحم کا ہاتھ پھیرے ۔ یہی حالت ان یتیموں کی ہے ‘ جن کی تقدیر تمہارے سپرد ہے ۔ انکے باپوں کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ چکا ہے ۔ انہیں کیا معلوم ہے کہ کل تم نہ رہو تو خود تمہارے بچے دوسرے زندہ اولیاء کی تولیت میں ہوں جس طرح یہ موجود بچے تمہاری ولایت میں ہیں ۔ اس ٹچ کے بعد انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ اس تصور کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے بارے میں خدا کا خوف ہر وقت دل میں ان کو اور اس کا بدلہ یہ ہوگا کہ کل تمہارے بچوں کا انتظام بھی اللہ ایسے ہی خدا ترس اولیاء کے ذریعے کرانے کا انتظام کرے گا ۔ جو خدا خوفی ‘ احتیاط اور محبت سے یہ ڈیوٹی سرانجام دیں گے ۔ پھر یہ نصیحت بھی کی جاتی ہے کہ وہ ان یتیموں کے بارے میں سیدھی سیدھی بات کریں ۔ یعنی اس تربیت اور نگرانی اور اس کے متاع واموال کی دیکھ بھال کے دوران ۔ اور یہ دوسرا ٹچ کیا ہے ؟ نہایت ہی خوفناک کچھ لوگ ہیں جو دھکتے انگاروں کو اس طرح کھائے جا رہے ہیں جس طرح لقمہ رزق ‘ کیا خوفناک تصویر ہے یہ ’ آخر کار جہنم میں اور پیٹ میں بھی جہنم ‘ یہ دولت جسے وہ کھا رہے ہیں ۔ یتیموں کا مال ‘ گویا وہ آگ کے دھکتے انگارے کھا رہے ہیں ۔ مال کار وہ جہنم رسید ہوں گے ۔ وہ ان کے ان معدوں اور ان کی کھال کو بھسم کر کے رکھ دے گی ۔ ظاہر میں بھی آگ اور باطن میں آگ ، مجسمہ آگ جسے پیٹ اور کھال دونوں محسوس کرتے ہیں ۔ اس تصویر کو آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور اس میں پیٹ اور جسم اور کھال سب جل رہے ہیں ۔ قرآن کریم کے اس موثر انداز تعبیر نے صحابہ کرام اور مسلمانوں کے دل و دماغ پر خوب اثر کیا ۔ ان نصوص کے موثر اشارات نے اہل ایمان کے دل و دماغ سے جاہلیت کی میل کچیل دھو کر رکھ دی ۔ ان کے دلوں کو اس قدر جھنجوڑا کہ جاہلیت کے ہر قسم کے گرد و غبار کو جھاڑ کر رکھ دیا ۔ اور اس جگہ ان مومن دلوں کے اندر خدا ترسی ‘ خدا خوفی اور احتیاط واحتساب کے جذبات پیدا کردیئے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ انہوں نے یتیموں کے مال کو اچھوت تصور کیا وہ دیکھ رہے تھے کہ اس مال کے اندر آگ ہے اور یہ تصور ان کے دلوں میں ان آیات پر تاثیرات نے پیدا کردیا تھا ۔ انکی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اموال یتامی کو چھونا تک گوارا نہ کرتے تھے ۔ اور ان اموال سے اس طرح دور بھاگتے تھے جسے لومڑی ڈر کے مارے بھاگتی ہے ۔ عطاء ابن سائب کے واسطہ سے سعید ابن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ ” تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے ، انہوں نے ان کھانا پکانا جدا کردیا ۔ ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا گیا ، بعض اوقات ان کے کھانے پینے سے کچھ چیز بچ جاتی تھی تو وہ ان کیلئے چھوڑ دی جاتی تھی کہ یا تو وہ دوسرے وقت کھائیں یا وہ چیز خراب ہوجاتی ۔ یہ معاملہ ان کیلئے تکلیف کا باعث بن گیا اس بات کی شکایت حضور ﷺ کے سامنے ہوئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ویسئلونک عن الیتمی ، قل اصلاح لھم خیر ، وان تخالطوھم فاخوانکم ، واللہ یعلم المفسد من المصلح ، ولو شآء اللہ لاعنتکم “۔ ترجمہ : ” پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہو جس طرز عمل میں ان کیلئے بھلائی ہو ‘ وہی اختیار کرنا بہتر ہے ۔ اگر تم اپنا اور انکا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو ‘ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں ۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے ۔ اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا ، “ اس کے بعد صحابہ ؓ اجمعین نے یتیموں کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شامل کیا اور ان کا پینا اپنے پینے کے ساتھ ۔ یوں قرآنی انداز تربیت نے ان لوگوں کے ایمان وضمیر کو بلند کردیا اور وہ انسانیت کے افق کا روشن ستارہ بن گئے ۔ اور ان کے دل و دماغ کو جاہلیت کی تمام آلودگیوں سے پاک وصاف کردیا اور یہ پاکی اور تطہیر اس معاشرے میں تعجب انگیز تھی ۔ اب بات نظام وراثت تک آپہنچتی ہے ۔ آغاز کلام اس طرح ہوتا ہے کہ اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے اس وصیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم ‘ بہت ہی بھلائی کرنے والے اور بہت ہی عادل ہیں ۔ اور وہ والدین سے بھی زیادہ رحیم وشفیق ہیں ۔ اور ان انداز خطاب میں یہ اشارہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس پورے نظام کا مرجع ومآل آخر کار اللہ میاں کی ذات مبارک ہے ۔ اور اللہ کی ذات ہی ہے جو ایک والد اور اس کی اولاد کے درمیان بھی فیصلہ کرنے والی ہے ۔ وہ رشتہ داروں کے درمیان بھی حقوق طے کرنے والی ہے اور لوگوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اللہ سے سیکھیں اور اخذ کریں اور اس کے احکام ووصیت کو نافذ کریں ، یہی معنی دین کے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے آغاز سورت پر کلام کے وقت یہ نکتہ بیان کیا تھا کہ اس سورت کے موضوعات میں سے ایک اہم موضوع اور محور دین کے مفہوم کی وضاحت ہے ۔ چناچہ نظام میراث پر کلام کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔

النساء 4:10

(آیت) ”۔ ولیخش الذین لو ترکوا من خلفھم ذریة ضعفا خافوا علیھم فلیتقوا اللہ ولیقولوا قولا سدیدا (9) ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا ، وسیصلون سعیرا “۔ (01) یہ پہلی چٹکی دل کے پردے کو ٹچ کرتی ہے ۔ ایک حساس محبت سے بھر آنے والے باپ کے دل کو اپنے چھوٹے اور کمزور بچوں کی نسبت سے یہ تصور دیا جاتا ہے کہ ذرا سوچیں تو سہی تمہارے چھوٹے بچے ہوں ‘ ناتوان ہوں اور ان پر کوئی ترس کھانے والا نہ ہو اور نہ کوئی ان کا محافظ ونگران ہو۔ جو ان کے سرپر رحم کا ہاتھ پھیرے ۔ یہی حالت ان یتیموں کی ہے ‘ جن کی تقدیر تمہارے سپرد ہے ۔ انکے باپوں کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ چکا ہے ۔ انہیں کیا معلوم ہے کہ کل تم نہ رہو تو خود تمہارے بچے دوسرے زندہ اولیاء کی تولیت میں ہوں جس طرح یہ موجود بچے تمہاری ولایت میں ہیں ۔ اس ٹچ کے بعد انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ اس تصور کے ساتھ ساتھ ان بچوں کے بارے میں خدا کا خوف ہر وقت دل میں ان کو اور اس کا بدلہ یہ ہوگا کہ کل تمہارے بچوں کا انتظام بھی اللہ ایسے ہی خدا ترس اولیاء کے ذریعے کرانے کا انتظام کرے گا ۔ جو خدا خوفی ‘ احتیاط اور محبت سے یہ ڈیوٹی سرانجام دیں گے ۔ پھر یہ نصیحت بھی کی جاتی ہے کہ وہ ان یتیموں کے بارے میں سیدھی سیدھی بات کریں ۔ یعنی اس تربیت اور نگرانی اور اس کے متاع واموال کی دیکھ بھال کے دوران ۔ اور یہ دوسرا ٹچ کیا ہے ؟ نہایت ہی خوفناک کچھ لوگ ہیں جو دھکتے انگاروں کو اس طرح کھائے جا رہے ہیں جس طرح لقمہ رزق ‘ کیا خوفناک تصویر ہے یہ ’ آخر کار جہنم میں اور پیٹ میں بھی جہنم ‘ یہ دولت جسے وہ کھا رہے ہیں ۔ یتیموں کا مال ‘ گویا وہ آگ کے دھکتے انگارے کھا رہے ہیں ۔ مال کار وہ جہنم رسید ہوں گے ۔ وہ ان کے ان معدوں اور ان کی کھال کو بھسم کر کے رکھ دے گی ۔ ظاہر میں بھی آگ اور باطن میں آگ ، مجسمہ آگ جسے پیٹ اور کھال دونوں محسوس کرتے ہیں ۔ اس تصویر کو آنکھیں دیکھ رہی ہیں اور اس میں پیٹ اور جسم اور کھال سب جل رہے ہیں ۔ قرآن کریم کے اس موثر انداز تعبیر نے صحابہ کرام اور مسلمانوں کے دل و دماغ پر خوب اثر کیا ۔ ان نصوص کے موثر اشارات نے اہل ایمان کے دل و دماغ سے جاہلیت کی میل کچیل دھو کر رکھ دی ۔ ان کے دلوں کو اس قدر جھنجوڑا کہ جاہلیت کے ہر قسم کے گرد و غبار کو جھاڑ کر رکھ دیا ۔ اور اس جگہ ان مومن دلوں کے اندر خدا ترسی ‘ خدا خوفی اور احتیاط واحتساب کے جذبات پیدا کردیئے اور ان کی حالت یہ ہوگی کہ انہوں نے یتیموں کے مال کو اچھوت تصور کیا وہ دیکھ رہے تھے کہ اس مال کے اندر آگ ہے اور یہ تصور ان کے دلوں میں ان آیات پر تاثیرات نے پیدا کردیا تھا ۔ انکی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اموال یتامی کو چھونا تک گوارا نہ کرتے تھے ۔ اور ان اموال سے اس طرح دور بھاگتے تھے جسے لومڑی ڈر کے مارے بھاگتی ہے ۔ عطاء ابن سائب کے واسطہ سے سعید ابن جبیر ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ان الذین یاکلون اموال الیتمی ظلما “۔ ” تو جن لوگوں کے پاس یتیم تھے ، انہوں نے ان کھانا پکانا جدا کردیا ۔ ان کا کھانا پینا علیحدہ کردیا گیا ، بعض اوقات ان کے کھانے پینے سے کچھ چیز بچ جاتی تھی تو وہ ان کیلئے چھوڑ دی جاتی تھی کہ یا تو وہ دوسرے وقت کھائیں یا وہ چیز خراب ہوجاتی ۔ یہ معاملہ ان کیلئے تکلیف کا باعث بن گیا اس بات کی شکایت حضور ﷺ کے سامنے ہوئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ویسئلونک عن الیتمی ، قل اصلاح لھم خیر ، وان تخالطوھم فاخوانکم ، واللہ یعلم المفسد من المصلح ، ولو شآء اللہ لاعنتکم “۔ ترجمہ : ” پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہو جس طرز عمل میں ان کیلئے بھلائی ہو ‘ وہی اختیار کرنا بہتر ہے ۔ اگر تم اپنا اور انکا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو ‘ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں ۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے ۔ اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا ، “ اس کے بعد صحابہ ؓ اجمعین نے یتیموں کا کھانا اپنے کھانے کے ساتھ شامل کیا اور ان کا پینا اپنے پینے کے ساتھ ۔ یوں قرآنی انداز تربیت نے ان لوگوں کے ایمان وضمیر کو بلند کردیا اور وہ انسانیت کے افق کا روشن ستارہ بن گئے ۔ اور ان کے دل و دماغ کو جاہلیت کی تمام آلودگیوں سے پاک وصاف کردیا اور یہ پاکی اور تطہیر اس معاشرے میں تعجب انگیز تھی ۔ اب بات نظام وراثت تک آپہنچتی ہے ۔ آغاز کلام اس طرح ہوتا ہے کہ اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں وصیت کرتا ہے اس وصیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی رحیم ‘ بہت ہی بھلائی کرنے والے اور بہت ہی عادل ہیں ۔ اور وہ والدین سے بھی زیادہ رحیم وشفیق ہیں ۔ اور ان انداز خطاب میں یہ اشارہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس پورے نظام کا مرجع ومآل آخر کار اللہ میاں کی ذات مبارک ہے ۔ اور اللہ کی ذات ہی ہے جو ایک والد اور اس کی اولاد کے درمیان بھی فیصلہ کرنے والی ہے ۔ وہ رشتہ داروں کے درمیان بھی حقوق طے کرنے والی ہے اور لوگوں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اللہ سے سیکھیں اور اخذ کریں اور اس کے احکام ووصیت کو نافذ کریں ، یہی معنی دین کے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے آغاز سورت پر کلام کے وقت یہ نکتہ بیان کیا تھا کہ اس سورت کے موضوعات میں سے ایک اہم موضوع اور محور دین کے مفہوم کی وضاحت ہے ۔ چناچہ نظام میراث پر کلام کا آغاز یوں ہوتا ہے ۔

النساء 4:11

(آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “ اور اس فقرے کے بعد پھر تمام وارثوں کے حصص کا بیان ہوتا ہے ۔ اور یہ تقسیم اور تقرری اس عمومی اصول کے تحت ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہدایت اور وصیت ہے ۔ اس کی تفصیلات دو طویل آیات میں دی گئی ہیں ۔ پہلی آیت میں اصول اور فروع کے درمیان تقسیم میراث ہے ۔ یعنی آیا اور اولاد کے درمیان ‘ اور دوسری آیت میں ازدواجی رشتہ اور کلالہ کے حصص میراث کا بیان ہے ۔ اور پھر بعض تتمہ احکام اس سورت کے آخر میں کلالہ کے بارے میں آتے ہیں (تفصیلات آرہی ہیں ۔ ) (آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین فان کن نسآء فوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک وان کانت واحدة فلھا النصف ولابویہ لکل واحد منھما السدس مما ترک ان کان لہ ولد ، فان لم یکن لہ ولد وورثہ ابوہ فلامہ الثلث فان کان لہ اخوة فلامہ السدس من بعد وصیة یوصی بھا او دین ابآوکم وابنآوکم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعا فریضة من اللہ ان اللہ کان علیما حکیما (11) ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھا اودین ، ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن لکم ولد ، فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون بھا دین ، وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ او اخت فلکل واحد منھما السدس فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضآر وصیة من اللہ ، واللہ علیم حلیم “۔ (21) ترجمہ :” تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت اور اللہ دانا وبینا اور نرم خو ہے “۔ یہ دو آیات اور اس سورت کی تیسری آیت میں علم میراث کے اصولی قواعد کو منضبط کیا گیا ہے ، اس سورت کی تیسری آیت یہ ہے ۔ (آیت) ” یستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکللة ان امرو¿ا ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت فلھا نصف ما ترک وھو یرثھا ان لم یکن لھا ولد فان کانتا اثنتین فلھما الثلثن مما ترک وان کانوا اخوة رجالا ونسآء فللذکر مثل حظ الانثیین ، یبین اللہ لکم ان تضلوا ، واللہ بکل شیء علیم (671) ترجمہ : ” لوگ تم سے کلالہ کے معاملے میں فتوی پوچھتے ہیں ‘ کہو اللہ تمہیں فتوی دیتا ہے ‘ اگر کوئی شخص بےاولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی اور اگر بہن بےاولاد مر جائے تو بھائی اس کا وارث ہوگا ۔ اگر میت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی اور اگر بھائی اور بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا دوہرا حصہ ہوگا ۔ اللہ تمہارے لئے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ “ ان تین آیات میں علم میراث کے اصولوں کو منضبط کردیا گیا ہے ۔ ان اصولوں کے مزید فروعی مسائل کی وضاحت سنت رسول ﷺ میں اور اقوال صحابہ میں کی گئی ہے ۔ اور اس کے بعد ان اصول و فروع سے فقہائے کرام نے اجتہاد کر کے تفصیلی مسائل بیان کئے ہیں ۔ ان فروعی مسائل کی تفصیلات کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے ۔ تفصیلات کا مطالعہ کتب فقہ میں کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں فی ضلال القرآن میں ہم فقط ان آیات کی تشریح کریں گے ۔ نیز ان آیات کے آخر میں جو تعقیبات ہیں اور ان میں اسلامی نظام زندگی کے جو اصولی نظریات بیان ہوئے ہیں ہم انکی تشریح کریں گے ۔ (آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “۔ ” تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں اللہ وصیت کرتا ہے کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا ۔ “ اس افتتاحی آیت سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں کہ علم میراث کا یہ اصل الاصول ہے ۔ اور یہ کہ اس علم کا منبع کیا ہے ۔ اور یہ کہ یہ علم کس مصدر سے نکلا ہے ۔ اور اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ وادین سے بھی زیادہ رحیم اور شفیق ہے ۔ اور اس نے ان کیلئے جو حصص تجویز کئے ہیں تو یہی ان کے مفاد میں ہیں ۔ اور اس قسم کی تقسیم خود والدین بھی نہیں کرسکتے ۔ یہ دونوں مفہوم ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں ۔ اللہ ہی ہے جو وصیت کرتا ہے ۔ وہی حصص مقرر کرتا ہے اور اور وہی لوگوں کے درمیان میراث تقسیم بھی کرتا ہے بعینہ اسی طرح وہ ہر معاملے میں وصیت بھی کرتا ہے ۔ اور فرائض وواجبات بھی مقرر کرتا ہے اور اسی طرح وہ اس کائنات کے اندر مخلوقات کی روزی بھی تقسیم کرتا ہے ۔ اور یہ تمام ضابطے اور شرائع وقوانین بھی اسی کی جانب سے آتے ہیں ۔ یہ اللہ ہی ہے جس سے لوگ ان کے تمام حالات زندگی میں ضابطے اخذ کرتے ہیں ۔ اور ان میں سے ایک حال لوگوں کے درمیان ترکے کی تقسیم بھی ہے ۔ خود ان کی اولاد کے درمیان اور یہی دین اسلام ہے ۔ اور اگر لوگ اپنی زندگی کے تمام حالات میں اللہ تعالیٰ کی وصیت اور ضابطوں کو قبول نہیں کرتے تو یہ دین نہ ہوگا ۔ اور یہ حالت اسلامی حالت نہ ہوگی کہ وہ اپنے امور حیات میں ‘ چاہے وہ بڑے امور ہوں یا چھوٹے امور ہوں ‘ کسی دوسرے ماخذ سے ضابطے اخذ کریں ۔ یہ صورت حال یا شرک ہوگی یا کفر صریح ہوگی ، اور یہ پھر وہی جاہلیت ہوگی جس کی جڑیں عوام الناس کی زندگیوں سے اکھاڑنے کیلئے اس دنیا میں اسلام آیا تھا ۔ یہاں اللہ جس چیز کی وصیت فرما رہے ہیں جسے فرض فرما رہے ہیں اور حکم دے رہے ہیں کہ لوگوں کی زندگیوں میں اس کے مطابق حکم چلے ‘ وہ تمام احکام لوگوں کیلئے نہایت نفع بخش اور مفید ہیں ۔ خصوصا وہ چیزیں جو ان کی مخصوص شخص امور کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں مثلا ان کی دولت کی تقسیم اور اس میں ان کی اولاد کے حصص وغیرہ اور یہ تقسیم ان تقسیمات سے زیادہ مفید ہے جو وہ آپس میں خود کر رہے ہیں ۔ اور جن چیزوں کو وہ اپنی اولاد کیلئے پسند کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ لوگوں کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ یہ کہیں کہ ہم اپنے لئے خود جو چاہیں اختیار کریں گے اور یہ کہ ہم خوب جانتے ہیں کہ ہمارے لئے کیا مفید ہے اور کیا غیر مفید ہے ۔ اس لئے کہ یہ بات علاوہ اس کے کہ فی نفسہ باطل ہے ‘ یہ بےجا جسارت ہے ‘ خود سری ہے اور اللہ جل شانہ کے مقابلے میں زیادہ علم کا دعوی ہے ۔ اور یہ ایک ایسا ” ادعاء “ ہے جو نہایت بےباک اور جاہل شخص ہی کرسکتا ہے ۔ عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے (آیت) ” یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین “ کے بارے میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب احکام میراث نازل ہوئے اور ان میں اللہ تعالیٰ نے جو حصص مقرر کئے وہ کردیئے ، بیٹے کا حصہ ‘ بیٹی کا حصہ اور والدین کا حصہ تو لوگوں نے اسے بہت ہی برا مانا ۔ یا بعض لوگوں نے اسے ناپسند کیا ۔ ان کا اعتراض یہ تھا کہ عورت کو چہارم اور ہشتم دیا جاتا ہے اور بیٹی کو نصف دیا جاتا ہے ، اور چھوٹے بچے کا حصہ بھی مقرر ہوگیا حالانکہ ان لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو لڑائی کے وقت کام آتا ہو اور کوئی بھی نہیں ہے جو لڑائی کے بعد مال غنیمت ہتھیا سکتا ہو ، ان احکام کے بارے میں بالکل خاموش ہو جاو شاید رسول اللہ ﷺ ان احکام کو بھول جائیں یا ہم ان کے بارے میں آپ ﷺ سے سفارش کریں اور آپ ان میں تبدیلی کردیں ۔ چناچہ انہوں نے کہا : اے رسول خدا ! ﷺ آپ ایک لڑکی کو باپ کے ترکے میں سے نصف دیتے ہیں ‘ حالانکہ وہ گھوڑے پر سوار نہیں ہوتی اور نہ وہ جنگ میں حصہ لیتی ہے ۔ پھر ایک نابالغ بچے کو میراث دی جارہی ہے اور وہ ہمارے لئے کچھ بھی نہیں کرسکتا ۔ اور جاہلیت میں تو وہ اس طرح کرتے تھے کہ وہ میراث صرف ان لوگوں کو دیتے تھے جو جنگ میں حصہ لیتا تھا اور وہ تقسیم میں سب سے بڑے کو اس کے بعد جس کا نمبر ہو اس کو دیتے تھے ۔ (روایت ابن ابی حاتم وابن جریر) غرض عربی جاہلیت کی منطق یہ تھی ‘ اس لئے قانون میراث کے احکامات ان میں سے بعض لوگوں کو کھٹکتے تھے ۔ یہ لوگ اللہ کے فرائض اور اس کی عادلانہ تقسیم کے مقابلے میں آگئے حالانکہ یہ تقسیم نہایت حکیمانہ تھی ۔ اور آج کی جاہلیت جدیدہ کی بھی یہی منطق ہے جو بعض لوگوں کے دل میں خلجان پیدا کرتی ہے ۔ اس لئے یہ منطق بھی اللہ کے فرائض اور تقسیم کے مقابلے میں سامنے آتی ہے ۔ اگرچہ جاہلیت جدیدہ بعض پہلووں سے جاہلیت عربیہ سے مختلف نوعیت رکھتی ہے ۔ آج کی جاہلیت کی منطق یہ ہے کہ ہم ترکہ ان لوگوں کو تقسیم کرکے کیوں دیں جنہوں نے اس ترکے کی کمائی میں کوئی محنت ومشقت نہیں کی ، اور نہ اس میں کوئی تکلیف برداشت کی ۔ اور یہ ذہنیت بھی ایسی ہے ‘ جس نے حکمت الہیہ کو نہیں پایا ۔ نیز یہ منطق بھی دراصل سخت گستاخی اپنے اندر لئے ہوئے اور گستاخی اور جسارت میں جاہلیت قدیمہ اور جدیدہ دونوں برابر ہیں ۔ (آیت) ” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ ” مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہوگا ۔ یعنی اگر مرد کی وارث صرف اس کی اولاد ہو بیٹے اور بیٹیاں تو سب ترکہ انہیں ملے گا اور مرد کا حصہ عورتوں کے حصے میں دوگنا ہوگا ۔ یعنی لڑکی کا ایک حصہ اور لڑکے کے دو حصے ۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ ان دونوں کے حصوں میں یہ فرق و امتیاز اس لئے نہیں کیا گیا کہ کسی صنف کو دوسرے پر فضیلت ہے بلکہ حصص کا یہ فرق اس لئے روا رکھا گیا ہے کہ اسلامی نظام نے عائلی زندگی میں مرد اور عورت پر جو ڈیوٹیاں رکھی ہیں یہ فرق حصص ان کے مطابق نہایت ہی متوازن اور عادلانہ ہے ۔ عائلی زندگی سے آگے اسلامی معاشرے کے اجتماعی امور میں بھی عورت کے مقابلے میں مرد پر زیادہ فرائض عائد کئے گئے ہیں ۔ ایک مرد عورت کے ساتھ نکاح کرتا ہے اور وہ اس کا نفقہ بھی دیتا ہے ۔ اس کی اولاد کا نفقہ بھی دیتا ہے ۔ اور یہ ذمہ داریاں اس وقت بھی اس کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہیں ۔ جب یہ مرد اس عورت کو طلاق بھی دے دیتا ہے ۔ رہی عورت تو وہ یا تو خود اپنی ضروریات کی ذمہ دار ہوتی اور یا یہ صورت ہوتی ہے کہ شادی سے پہلے بھی اور شادی کے بعد بھی اس کے نفقے کا ذمہ دار مرد ہی ہوتا ہے ۔ اور وہ خاوند اور اپنی اولاد کے نفقات کی کسی صورت میں بھی ذمہ دار نہیں ہوتی ۔ اب صورت یہ ہے کہ مرد عورت کے مقابلے میں خاندان کی ضروریات کے دو حصے کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ اسی طرح اجتماعی معاملات میں بھی مرد کی ذمہ داریاں عورت کے مقابلے میں دو گنا ہیں ۔ اس لئے اللہ کے مقرر کردہ یہ حصص ایک طرف عادلانہ بھی ہیں اور دوسری جانب بمصداق حصہ بقدر جسہ یہ تقسیم منصفانہ بن جاتی ہے ۔ اور اس تقسیم پر ہر اعتراض یا تو جہالت پر مبنی ہے اور یا یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بےجا جسارت اور گستاخی کی وجہ سے وارد کیا گیا ہے ، نیز اس سے مقصد یہ ہے کہ اسلام کے اجتماعی اور خاندانی نظام کی بنیادوں کو اکھیڑ دیا جائے اور پرسکون زندگی کے اندر افراتفری پیدا کردی جائے ۔ تقسیم کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ باپ دادا کی میراث اولاد پر کس طرح تقسیم ہوگی فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” فان کن نسآء فوق اثنتین فلھن ثلثا ما ترک وان کانت واحدة فلھا النصف “۔ ترجمہ : ” اگر میت کی وارث دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے ۔ “ یعنی اگر صرف دو یا دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں اور لڑکے نہ ہوں تو انہیں دو تہائی دیا جائے گا ۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو اور لڑکا نہ ہو تو پھر نصف اس کا ہوگا بقایا عصبات کو ملے گا ۔ قریب ترین عصبہ کو ۔ عصبات یہ لوگ ہیں باپ ‘ دادا ‘ بھائی حقیقی باپ شریک بھائی ‘ چچا اور پھر باپ داد کی اولاد ‘ اس آیت کی عبارت یہ ہے کہ ” اگر وارث دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو ان کے دو تہائی ہے ۔ “ سوال یہ ہے کہ اگر دو ہوں تو ان کیلئے حکم کیا ہے ۔ ان کا حصہ بھی دو تہائی ہے ‘ جو حدیث سے ثابت ہے ۔ نیز وہ ان دو بہنوں کے حصے پر قیاس کر کے بھی ثابت ہوتا جس کا ذکر اس سورت کی آخری آیت میں مسئلہ کلالہ میں ذکر ہوا ۔ ابو داود ‘ ترمذی اور ابن ماجہ نے عبداللہ ابن محمد ابن عقیل کی روایت حضرت جابر سے نقل کی ہے ۔ کہتے ہیں حضور ﷺ کے پاس سعد ابن ربیع کی بیوی آئی اور عرض کیا حضور ﷺ یہ سعد ابن ربیع کی دو لڑکیاں ہیں ۔ وہ آپ کے ساتھ احد میں شہید ہوگئے ہیں ۔ ان کے چچا نے سب مال لے لیا ہے ‘ اگر ان کے پاس مال نہ ہوگا تو ان کے ساتھ شادی کون کرے گا ؟ آپ نے فرمایا ” اللہ اس کے بارے میں ضرور کوئی فیصلہ کرے گا ۔ “ اس موقعہ پر آیت میراث نازل ہوئی ۔ حضور ﷺ نے ان کے چچا کو بلا بھیجا اور حکم دیا سعد کی دو بیٹیوں کو دو تہائی دیدو اور بیوی کو آٹھواں دیدو اور باقی تمہارا ہے ۔ یہ خود حضور ﷺ کی تقسیم ہے ۔ آپ ﷺ نے دو لڑکیوں کو دو تہائی دیا ۔ اس لئے اگر دو یا دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو ان کو دو ثلث ملیں گے ۔ رہا سورت کی آخری آیت پر قیاس تو اس میں بہنوں کے بارے میں ہے ۔ (آیت) ” فان کانتا اثنتین فلھما الثلثن مما ترک “ ترجمہ ” اور اگر وہ بہنیں دو ہیں تو انہیں ترکے میں سے دو تہائی ملے گا ۔ “ لہذا کسی باپ کی اگر دو لڑکیاں ہو تو انہیں بطریق اولی دو تہائی ملے گا ۔ دو بہنوں پر قیاس کرتے ہوئے ۔ اس لئے کہ اگر ایک لڑکی ہے تو بھی نصف حصہ ہے ۔ اور اگر ایک بہن (کلالہ میں) تو بھی نصف حصہ ہے ۔ اور دو لڑکیوں کا حصہ بھی وہی ہوگا جو دو بہنوں کا ہوگا ۔ اولاد کے حصہ کے بیان کے بعد اب والدین کے حصص کا ذکر شروع ہوتا ہے ۔ بشرطیکہ وہ موجود ہوں ۔ یہ حصص اولاد میت کی موجودگی اور عدم موجودگی کی صورت میں مختلف ہیں ۔ ” اگر میت صاحب اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہئے اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو مال کا تیسرا حصہ دیا جائے گا ۔ “ میراث میں والدین کے حالات متعدد ہوتے ہیں پہلا حال یہ ہوتا ہے کہ والدین بھی ہوں اور میت کی اولاد بھی ہو۔ اس صورت میں دونوں کو چھٹا چھٹا حصہ ملے گا ۔ بقیہ میت کے لڑکے یا لڑکے لڑکیوں میں حسب حصص تقسیم ہوگا ۔ مرد کا حصہ عورت کے مقابلے میں دو گنا ہوگا ۔ اب اگر میت کی اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو اسے بقیہ کا نصف ملے گا اور والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا ملے گا ۔ اب بقیہ (61) والد کو بطور عصبہ مل جائے گا اس صورت میں اولاد بطور ذوالفروض بھی حصہ پائے گا اور بطور عصبہ بھی حصہ پائے گا ۔ ہاں اگر میت کی دو یا دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں تو وہ تو انہیں دو ثلث اور والدین میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ میت کی اولاد ‘ بھائی بہن اور خاوند بیوی نہ ہوں ‘ اس صورت میں والدہ بطور ذوالفروض ثلث کی حقدار ہوگی اور باقی سب والد کو بطور عصبہ ملے گا ۔ اس صورت میں والد کا حصہ والدہ سے دو گناہ ہوجائے گا ۔ اب اگر والدین کے علاوہ خاوند بھی ہو یا بیوی بھی ہو ‘ تو خاوند کا نصف ہوگا ‘ اور اگر بیوی ہو تو اس کا چہارم ہوگا اور والدہ کا ثلث ہوگا ۔ (یا تو تمام ترکہ کا ثلث ہوگا یا بقیہ ترکہ یعنی خاوند یا بیوی کا حصہ نکال کر بقیہ کا ثلث ہوگا ‘ جیسا کہ فقہا کے دو اقوال ہیں) اور ماں کے بعد جو بچے گا وہ والد کا ہوگا بطور عصبہ بشرطیکہ کہ والد کا حصہ والدہ سے کم نہ ہوگا ۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ ماں باپ اور میت کے بھائی بہنوں کے ساتھ پائے جائیں ۔ یہ بھائی ماں اور باپ دونوں میں شریک ہوں یا باپ میں شریک یا صرف ماں میں شریک ہوں ۔ اس صورت میں باپ کی موجودگی میں ان بھائیوں کو کچھ نہ ملے گا اور یہ محروم ہوں گے ۔ اس لئے کہ لڑکے کے بعد میت کیلئے والد قریب ترعصبہ ہیں اور قریب کی موجودگی میں دور کو نہیں ملتا ۔ لیکن محروم ہونے کے باوجود یہ بھائی میت کی ماں پر اثر انداز ہوں گے اور اس کا حصہ ثلث سے چھٹے تک گھٹ جائے گا ۔ اس صورت میں والدہ کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اور بقیہ سب کچھ والد کو ملے گا ‘ بشرطیکہ کہ میت کا خاوند یا بیوی نہ ہوں ۔ ہاں اگر بھائی فقط ایک ہو تو والدہ کا حصہ ثلث ہی رہے گا ‘ جس طرح اس صورت میں تھا جس میں میت کی اولاد اور بھائی نہ ہوں ۔ لیکن والدین کے یہ حصص قرضے کی ادائیگی اور وصیت پورا کرنے کے بعد ہوں گے ۔ (آیت) ” من بعد وصیة یوصی بھا او دین “۔ ترجمہ : ” یہ سب حصے اس وقت نکالے جائیں گے جبکہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کردی جائے اور جو قرض اس پر ہو ادا کردیا جائے ۔ “ علامہ ابن کثیر نے لکھا ہے ۔ ” علمائے جدید وقدیم نے اس بات پر اجماع کرلیا ہے کہ قرضہ وصیت پر مقدم ہے ۔ ” اور وصیت پر قرضے کو مقدم کرنے کی حکمت بہرحال واضح ہے ۔ اس لئے کہ قرضے میں ایک تیسرے شخص کے حقوق کا سوال ہوتا ہے ‘ اس لئے کہ میت کے مال میں سے اس کی ادائیگی لازمی ہے ‘ کیونکہ خود اس نے قرضہ لیا ہوتا ہے ۔ بشرطیکہ میت کا مال موجود ہو ‘ یہ اس لئے کہ شریعت نے میت کو قرضے کی ذمہ داریوں سے بری الذمہ کرنے کی بہت تاکید کی ہے تاکہ معاشرے کی اجتماعی زندگی میں باہم اعتماد بحال رہے اور سوسائٹی کے اندر باہم اعتماد کی فضا باقی رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کی وفات کے بعد بھی شریعت اس کے ذمہ واجب الادا قرضوں کو موقوف نہیں کردیتی ۔ حضرت ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے ‘ وہ فرماتے ہیں ایک شخص نے کہا : ” حضور بتائیے اگر میں مارا گیا تو میرے سب گناہ معام ہوں گے “ تو حضور ﷺ نے فرمایا : ” ہاں اگر آپ قتل ہوجائیں ‘ جبکہ آپ مشکلات پر صبر کر رہے ہوں ۔ آپ کی نیت ٹھیک ہو اور آپ آگے بڑھ رہے ہوں ‘ بھاگ نہ رہے ہوں ۔ “ اسکے بعد اس شخص نے دو بار پوچھا ‘ آپ ﷺ نے کیا فرمایا تو حضور ﷺ نے دوبارہ اسی بات کو دہرایا اور مزید یہ فرمایا ‘ ” ماسوائے قرضے کے جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے اس کی اطلاع دی ہے “ (روایت مسلم ‘ مالک ‘ ترمذی اور نسائی) ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے ۔ حضور کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ‘ آپ ﷺ نے فرمایا ” اس کا جنازہ تم لوگ پڑھو ‘ اس پر تو قرضہ واجب ہے ۔ “ میں نے اس پر کہا ’ ” حضور ﷺ یہ قرضہ مجھ پر ہوا ۔ “ تو حضور ﷺ نے فرمایا پورا کرو گے ۔ “ میں نے عرض کیا ” میں پورا کروں گا ۔ “ اور وصیت کا پورا کرنا اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ میت کا ارادہ اس کے ساتھ متعلق ہوگیا ہے ۔ وصیت کی گنجائش شریعت نے اس لئے رکھی ہے کہ بعض حالات میں بعض رشتہ دار محروم ہوجاتے ہیں ۔ اور یہ محرومی بعض دوسرے رشتہ داروں کی موجودگی کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ بعض اوقات یہ محروم لوگ معذور اور مستحق ہوتے ہیں یا ان کو کچھ نہ کچھ دینے میں پورے خاندان کی مصلحت ہوتی ہے اور بعض اوقات اس کی وجہ سے حسد ‘ کینہ اور خاندان کے اندر نزاع پیدا ہونے سے رک جاتے ہیں ۔ البتہ یہ اصول مسلم ہے کہ کسی وارث کے حق میں وصیت معتبر نہیں ہے ۔ اور وصیت محدود بھی ترکہ کی ایک تہائی تک ہے ۔ ان دو باتوں کی وجہ سے میت بھی کسی وارث کو محروم نہیں کرسکتا ۔ (آیت) ” ابآوکم وابنآوکم لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعا ، فریضة من اللہ ان اللہ کان علیما حکیما “۔ ترجمہ : ” تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے ۔ یہ حصے اللہ نے مقرر کردیئے ہیں اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف ہے ‘ ساری مصلحتوں کو جاننے والا ہے ۔ اس آیت کے آخر میں مختلف المقاصد ٹچ دیئے گئے ہیں پہلا ٹچ اس مقصد کیلئے ہے جسے محسوس کرکے قرآن کریم کی جانب سے ‘ حصص کے اس الاٹمنٹ سے خوش ہوجائیں اور اسے بطیب خاطر قبول کرلیں ‘ ہو سکتا ہے کہ بعض لوگ محبت کے جذبے سے مغلوب ہو کر باپ کے مقابلے میں اولاد کو ترجیح دیں ، کیونکہ بچوں کی طرف ہر انسان کا فطری رجحان زیادہ ہوتا ہے ۔ اور بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا اپنے والدین کی نسبت اخلاقی اور آداب کا شعور زیادہ پختہ ہوتا اور وہ اولاد کے مقابلے میں والدین کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں ۔ بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو والدین کے پاس ادب اور بچوں کی طرف فطری میلان کے درمیان فیصلہ نہیں کر پاتے ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک خاندان رسم و رواج کی ذہنیت کی وجہ سے ایک متعین لائن اختیار کرلیتا ہے ‘ جس طرح نزول قرآن کے وقت مروج قانون میراث میں صرف خاندانی ذہنیت اس وقت کے رسم و رواج کے تحت کام کر رہی تھی ۔ اس سے پہلے ہم عربوں کے بعض رواجوں کا تذکرہ کرچکے ہیں ۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے مناسب سمجھا کہ اہل ایمان کے دلوں کو تسلیم ورضا اور امن و سکون سے بھر دیں تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ان احکامات کو خوشی خوشی قبول کرتے چلے جائیں ۔ اللہ انہیں یہ شعور دیتے ہیں کہ ہر چیز کا مکمل علم اللہ کی ذات ہی کے پاس ہے ۔ اور یہ کہ انہیں بات کا پورا علم نہیں ہے کہ اقرباء میں سے کون ان کیلئے زیادہ مفید ہے اور کون کم ‘ نہ انہیں اس بات کا علم ہے کہ کونسی تقسیم زیادہ مفید ہے ۔ (آیت) ” ابآوکم وابنآوکم لاتدرون ایھم اقرب لکم نفعا “ ترجمہ : ” تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے ۔ “ دوسرا ٹچ جو اس مضمون کو دیا گیا وہ یہ ہے کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کون تمہارے لئے مفید اور کون مفید تر ہے ۔ اصل مسئلہ دین ‘ نظام قانون اور شریعت کا ہے اور یہ جو حصص مقرر ہو رہے ہیں یہ (آیت) ” فریضة من اللہ “۔ ” یہ حصص تو اللہ نے مقرر کردیئے ہیں ۔ ’ اللہ وہ ذات ہے جس نے ماں باپ کو بھی پیدا کیا اور اولاد کو بھی پیدا کیا ۔ وہی ہے جو مال و دولت دینے والا ہے ۔ وہ فرائض وحصص عائد کرنیوالا ہے اور وہی تقسیم کنندہ ہے ۔ اور وہی ہے جسے قانون بنانے کا حق ہے انسان کو تو یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ اپنے لئے کوئی قانون بنائیں نہ وہ اس میں آزاد ہیں کہ وہ اپنی خواہشات کے مطابق نظام حکومت تجویز کریں ‘ اس لئے کہ وہ نہیں جانتے کہ کس میں ان کی مصلحت ہے یہ تو صرف وہی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان علیما حکیما “۔ ترجمہ : ” جو سب حقیقتوں سے واقف ہے ۔ یہ تیسری ٹچ ہے جو اس تبصرے کے اندر دی گئی ہے ، کہ باوجود اس امر کے یہ قانون ایک خدائی فیصلہ ہے اور ہر حال میں بھی ان کیلئے واجب الاطاعت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ گہری حکمت اور وسیع تر مصلحت پر بھی مبنی ہے ۔ اور اللہ نے یہ حکم اپنے وسیع علم کی بنا پر دیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں انسان کا علم محدود ہے ۔ اس میں اس کی گہری حکمت کار فرما ہے جبکہ انسان محض خواہش نفس کے پیرو ہوا کرتے ہیں ۔ اس قانون سازی کے اندر بار بار تبصرہ ہوتا ہے کہ معاملے کو اپنی اصل مدار کی طرف لوٹانا چاہئے اور اس کی اصل مدار نظریاتی ہے ۔ اور یہ نظریاتی اساس دین کے اس مفہوم پر مبنی ہے کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اپنے تمام فیصلے اللہ سے کرائے جائیں اور اس کی حکمت پر راضی ہو کر فرائض اسی سے اخذ کئے جائیں ۔ ” یہ حصے اللہ نے مقرر کردیئے ہیں اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف ہے اور سب مصلحتوں کا جاننے والا ہے ۔ “

النساء 4:12

اس کے بعد باقی حصص یوں متعین ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” ولکم نصف ماترک ازواجکم ان لم یکن لھن ولد فان کان لھن ولد فلکم الربع مما ترکن من بعد وصیة یوصین بھا اودین ولھن الربع مما ترکتم ان لم یکن کم ولد فان کان لکم ولد فلھن الثمن مما ترکتم من بعد وصیة توصون بھا اودین “۔ ترجمہ : ” اگر خاوند بلا اولاد مر جائے تو بیوی کا حصہ چوتھائی ہے ‘ اگر اولاد ہو ‘ لڑکے یا لڑکیاں ایک یا متعدد ‘ اس عورت سے ہو یا کسی اور عورت سے ‘ یا حقیقی بیٹے کے لڑکے ہوں تو ان صورتوں میں بیوی کا حصہ چوتھائی سے آٹھواں ہوجائے گا ۔ قرض کی ادائیگی اور وصیت بہرحال پہلے ہوگی ۔ نیز دو بیویاں ‘ تین بیویاں اور چار بیویاں ایک ہی بیوی شمار ہوں گی ۔ وہ سب کی سب چہارم یا ہشتم میں شریک ہوں گی اور اب حکم میراث کے سلسلے میں آخری حکم ہے جو مسئلہ کلالہ کے نام سے مشہور ہے ۔ (آیت) ” وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ اواخت فلکل واحد منھما السدس ، فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضآر “۔ کلالہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص اپنے جوانب سے میراث کا حقدار ہو ‘ حقدار کا سبب اصول میں سے ہونا یا فروع میں سے ہونا نہ ہو ‘ یعنی تعلق ضعیف ہو ‘ اس قدر قوی نہ ہو جس طرح اصول و فروع کا تعلق قوی ہوتا ہے ۔ کسی نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا تھا تو انہوں نے فرمایا :” میں اس سلسلے میں بات اپنی رائے کے مطابق کروں گا ‘ اگر یہ رائے درست ہو تو اللہ کی جانب سے ہوئی اور اگر غلط ہو تو شیطان کا القاء ہوگا ۔ اور اللہ اور رسول اللہ ﷺ اس کے ذمہ دار نہ ہوں گے ۔ کلالہ وہ ہے جس کی نہ اولاد ہو اور نہ والدین ہوں ۔ “ جو حضرت ابوبکر ؓ کے بعد حضرت عمر ؓ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں حضرت ابوبکر ؓ کی رائے کی مخالفت کروں “۔ (اس روایت کو ابن جریر نے شعبی سے نقل کیا ہے) علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” حضرت علی ؓ ‘ ابن مسعود ؓ ‘ ابن عباس ؓ ’ زید بن ثابت ؓ ‘ سے منقول ہے ۔ شعبی ‘ نخعی ، حسن ؓ ‘ قتادہ ؓ ‘ جابر ؓ ‘ ابن زید ؓ ‘ اور حکم کی رائے بھی یہی ہے ۔ اہل مدینہ ‘ اہل کوفہ اہل بصرہ کی بھی یہی رائے ہے ۔ فقہائے سبعہ کی رائے بھی یہی ہے ۔ ائمہ اربعہ کی رائے بھی یہی ہے ۔ اور متقدمین ومتاخرین سب کا اس پر اتفاق ہے بلکہ بہت سے لوگوں سے منقول ہے کہ اس پر اجماع منعقد ہوگیا ہے ۔ “ (آیت) ” وان کان رجل یورث کللة اوامراة ولہ اخ اواخت فلکل واحد منھما السدس فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکاء فی الثلث “۔ ترجمہ : ” اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم طلب ہے کلالہ ہو (بےاولاد ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں) مگر اس کا ایک بھائی یا بہن موجود ہو تو بھائی بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے ۔ یہاں ” اس کا ایک بھائی اور ایک بہن “ سے مراد وہ بھائی اور بہن ہیں جو میت کے ساتھ صرف ماں کی جانب سے رشتہ رکھتے ہوں یعنی اخیافی بہن بھائی ۔ اگر حقیقی بہن بھائی ہوں یا یہ بہن بھائی صرف والد کی جانب سے ہوں تو ان کی وارثت اس سورت کی آخری آیت کے مطابق ہوگی اور اس میں بھائیوں کا حصہ بہن کے مقابلے میں دوگنا ہوگا اور اس آیت کی طرح نہ ہوگا کہ ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا چاہے مرد ہو یا عورت تو یہ حکم گویا اخیافی بہن بھائیوں کیلئے ہوگا ۔ اس لئے کہ اخیافی بہن بھائی صرف بحیثیت ذوالفروض (Sharer) یعنی ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ میراث پاتے ہیں ‘ بطور عصبہ ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ ذوالعصبات وہ ہوتے ہیں جو تمام ترکہ یا وہ جو ذوالفروض (Sharer) سے بچ جائے کو بطور (Rosiduc) پاتے ہیں ۔ (آیت) ” وان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث ترجمہ : ” اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ میں سے ایک تہائی میں شریک ہوں گے ۔ “ چاہے ان کی تعداد کتنی ہی زیادہ ہو ۔ اور معمول بہ قول یہی ہے کہ وہ بحیثیت شریک مساوی مساوی حصہ پائیں گے ۔ اگرچہ فقہاء میں سے بعض کا یہ قول بھی ہے کہ اس صورت میں وہ مساوی طور پر تقسیم نہ کریں گے بلکہ وہ عام اصول ” ایک مرد دو عورتوں کے برابر حصہ پائے گا ۔ “ کے مطابق تقسیم کریں گے ۔ لیکن پہلا معمول بہ قول ہی زیادہ درست معلوم ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ایک بہن اور بھائی کی صورت میں اس آیت نے جو چھٹا حصہ ہر ایک کیلئے مقرر کیا ہے دوسرا قول اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ اخیافی بھائی جو میت کے ساتھ صرف کے رشتے میں شریک ہوں ‘ دوسرے ورثاء کے مقابلے میں کچھ امتیازی حیثیت رکھتے ہیں ۔ (1) پہلی خصوصیت یہ ہے میراث میں ان کے مراد اور عورتوں کا حصہ برابر ہوتا ہے ۔ (2) انکو صرف اس صورت میں میراث ملتی ہے جب میت کلالہ ہو ‘ اس لئے اگر میت کا والد ‘ دادا ‘ لڑکا اور پوتا موجود ہو تو انہیں میراث میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ (3) یہ کہ ان کے حقوق ثلث سے زیادہ نہیں ہوتے اگرچہ انکی تعداد بہت بڑھ جائے ۔ (آیت) ” من بعد وصیة یوصی بھا اودین غیر مضار “۔ ” جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو ۔ “ اس آیت کے ذریعہ متنبہ کیا گیا ہے کہ وصیت اس لئے نہ کی جائے کہ ورثاء کو نقصان پہنچ جائے ۔ بلکہ انصاف اور مصلحت کے مطابق وصیت ہونا چاہئے ۔ اور وصیت سے بھی پہلے قرض ادا ہو اور تقسیم وراثت سے پہلے بہرحال دونوں طے ہوں ‘ یعنی وصیت اور قرضہ ۔ اب دوسری آیت کے آخر میں بھی وہی اختتامیہ آتا ہے جو پہل آیت کے آخر میں آیا تھا ۔ (آیت) ” وصیة من اللہ ، واللہ علیم حلیم (21) اختتامیہ کا یہ مضمون مکرر اس لئے لایا گیا ہے کہ نظام میراث کے بارے میں تاکید مزید مطلوب ہے ۔ اور احکام میراث کیلئے لفظ وصیت استعمال کیا گیا ہے ۔ اور یہ وصیت اللہ کی جانب سے ہے اور اس کا حساب و کتاب بھی اسی کے سامنے ہوگا ۔ نہ یہ وصیت کسی خواہش نفس کے مطابق ہے اور نہ ہی کسی کی خواہشات نفسانیہ کی پیروی میں ہے ۔ یہ حقیقی علم وآگاہی پر مبنی ہے ۔ اس لئے اس قانون میراث کی اطاعت فرض ہے ۔ کیونکہ اس کا ماخذ وہ ذات ہے جسے حق ہے کہ وہ انسانوں کیلئے قانون سازی اور ضابطہ بندی کرے ۔ اور اس کا نظام اور ضابطے کو انسانوں کی جانب سے قبول کرنا بھی لازمی ہے کیونکہ یہ علیم اور حلیم کی جانب سے ہے ۔ حکیمانہ ہے اور مشفقانہ ہے۔ اسلامی نظریہ حیات کا اصول اساسی یہ ہے کہ اس میں تمام قوانین کا ماخذ ذات باری ہے ۔ اس لئے اس پوری قانون سازی کے عمل کے دوران میں اس حقیقت کی بار بار تاکید کی جار رہی ہے ۔ اگر اس اصولی قاعدے کو تسلیم نہ کیا گیا تو یہ کفر نافرمانی اور دین سے خروج کے مترادف ہوگا آنے والی دونوں آیات اس بارے میں فیصلہ کردیتی ہیں ۔ اور یہ دونوں آیات اس سورت میں دیئے جانے والے پورے نظام میراث کے بارے میں زور دار اختتامیہ ہیں ۔ ان میں بتایا جاتا ہے کہ نظام میراث درحقیقت حدود الہیہ کے زمرے میں آتا ہے ۔

النساء 4:13

یہ نظام میراث اور یہ قانونی شریعت جو تقسیم میراث کیلئے وضع کی گئی ہے اور جسے اللہ نے اپنے علم و حکمت کے مطابق وضع فرمایا ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک خاندان کے اندر خاندانی نظام کو منظم کیا جائے اور معاشرے کے اجتماعی اور اقتصادی تعلقات مستحکم ہوجائیں ۔ ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ “ اور یہ حدیں اس لئے قائم کی گئی ہیں کہ وہ ان عائلی واقتصادی تعلقات میں سنگ میل ہوں اور ترکہ کی تقسیم میں فیصلہ کن ہوں ۔ جو لوگ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت کریں گے وہ ہمیشہ جنگ میں رہیں گے اور یہ ان کی عظیم کامیابی ہے ۔ اور جو لوگ ان حدوں کو توڑیں گے اور اس معاملے میں اللہ اور رسول اللہ کی نافرمانی کریں گے جہنم میں داخل ہوں گے ‘ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور یہ ان کیلئے دردناک اور توہین آمیز عذاب ہوگا ۔ یہ کیوں ہوگا ؟ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت یا اللہ کی معصیت کے نتیجے میں اس قدر عظیم نتائج کیوں مرتب ہوں گے ‘ حالانکہ قانون میراث نظام شریعت کا بہرحال ایک چھوٹا سا حصہ ہی تو ہے ۔ صرف ایک حصہ اور ایک حصے میں اس قدر شدید سزا ؟ بظاہر یہ خوفناک سزا اس جرم سے بہت زیادہ نظر آتی ہے ۔ لیکن یہ اس شخص کو زیادہ نظر آتی ہے جو اس بات کی حقیقت اور گہرائی تک نہیں پہنچ سکا ہے ۔ اس حقیقت کے اظہار کیلئے اس سورت کی بہت سی آیات مسلسل گویا ہیں اور ان کی تشریح و تفسیر آگے آرہی اور اس امر کی جانب ہم نے اس سورت کا تعارف پیش کرتے ہوئے اشارہ کیا تھا ۔ یہ وہ آیات ہیں جن میں لفظ دین کا مفہوم سمجھایا گیا ۔ ایمان کی شرائط بیان ہوئی ہیں اور جن میں اسلام کی تعریف کی گئی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود مناسب ہے کہ ہم اس امر کے بارے میں مختصرا یہاں بھی ایک نوٹ دیدیں جس قدر ان دو آیات کی تشریح و تفہیم کیلئے ضروری ہے جو آیات میراث کا اختتامیہ اور تبصرہ ہیں ۔ اس دین ‘ دین اسلام بلکہ ان تمام ادیان جو اس پوری تاریخ انسانیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ بھیجے ہیں یعنی تمام سماوی ادیان الہیہ کا بنیادی سوال یہی رہا ہے کہ اس کرہ ارض پر حاکمیت کا حق کس کو حاصل ہے ؟ ان لوگوں کا رب کون ہے ؟ ان دو سوالوں کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے اور اس دین کے تمام معاملات ان جوابات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں اور لوگوں کے تمام امور انہیں جوابات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں ۔ اب اس سوال کا کیا جواب ہے ۔ اس کرہ ارض پر حاکمیت اور ربوبیت کا حق کس کو حاصل ہے ؟ صرف اللہ وعدہ کو ‘ اس حق میں اس کے ساتھ ‘ اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہے ۔ یہی عین ایمان ہے ، یہی عین اسلام ہے ۔ اور یہی دین اسلام ہے ۔ اور اگر حاکمیت اور ربوبیت کا یہ حق کسی مخلوق کو دیا جائے اور انہیں اللہ کی ساتھ شریک کیا جائے یا اللہ کے سوا مستقلا میں یہ حق دیا تو یہ صریح شرک اور واضح کفر ہے ۔ حاکمیت اور ربوبیت یا تو صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ہوگی ‘ تو اس صورت میں لوگ صرف اللہ وحدہ کے دین میں داخل ہوں گے اور صرف اللہ وحدہ کی اطاعت میں داخل ہوں گے اور اس کی عملی صورت یہی ہوگی کہ لوگ اسلامی نظام زندگی پر عمل پیرا ہوں ۔ کیونکہ اس صورت میں یہ حق صرف اللہ ہی کو حاصل ہوگا کہ وہ لوگوں کیلئے نظام زندگی تجویز کریں اور یہ صرف اللہ وحدہ ہی ہوگا جو لوگوں کیلئے طور طریقے اور قوانین اور ضابطے وضع کریں ، پھر یہ صرف اللہ ہی ہوگا جو لوگوں کیلئے حسن وقبح کے معیار متعین کرے گا اور ان کی زندگی کے تفصیلی طور طریقے اور تنظیم کرے گا ۔ اور اللہ کے سوا کوئی فرد ہو یا کوئی سوسائٹی ہو اس کیلئے ایسے کچھ حقوق بھی نہ ہوں گے اور ان کیلئے صرف یہی چارہ کار ہوگا کہ وہ شریعت الہیہ کی اطاعت کریں کیونکہ یہ اطاعت اللہ کی الوہیت حاکمیت اور ربوبیت کا منطقی تقاضا ہے اور اس تقاضے کا واحد مظہر اور خاص رنگ نظام شریعت ہے ۔ اور اگر یہ صورت حال نہیں ہے تو پھر دوسری صورت یہی ہے کہ حاکمیت اور ربوبیت کا حق اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو حاصل نہیں ہوگا ۔ یہ حق اللہ کے ساتھ شریک ہو کر ہوگا یا ان لوگوں کو مستقلا حاصل ہوگا ۔ اس صورت میں جو لوگ یہ حق قبول کریں گے وہ ان غیر اللہ کے دین میں داخل تصور ہوں گے ‘ یوں وہ غیر اللہ کی بندگی کریں گے ۔ پھر یہ انسان کی جانب سے غیر اللہ کی اطاعت ہوگی اور اس کی عملی شکل یوں ہوگی کہ یہ لوگ غیر اللہ کے تجویز کردہ منہاج حیات ‘ انکے ضابطوں ‘ ان کے قوانین اور ان کے حسن وقبح کے معیاروں کے پیروکار ہوں گے اور یہ سب چیزیں بعض انسانوں نے وضع کی ہوگی ۔ اس قانون سازی اور ضابطہ بندی میں وہ اللہ کی حاکمیت اور اس کی کتاب کا کوئی حوالہ نہ دے رہے ہوں گے ‘ بلکہ یہ تمام چیزیں بعض دوسرے حوالوں سے تشکیل پائیں گی ، بعض دوسرے مصادر ان کے لئے مصادر قوت ہوں گے ۔ اس لئے یہ صورت حال دین سے خالی ہوگی ‘ ایمان مفقود ہوگا اور اسلام نہ ہوگا جبکہ یہ صورت حال شرک ‘ کفر ‘ فسوق اور معصیت کی صورت حال ہوگی ۔ یہ ہے اس معاملے کی اصل حقیقت ‘ لہذا اس میں اگر کوئی صرف اللہ کی حدود میں سے ایک حد کو توڑتا ہے یا پوری شریعت کی نفی کرتا ہے ‘ اصل حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس لئے کی ایک حد بھی دین ہے اور پوری شریعت بھی دین ہے ‘ لہذا اس میں اصل ٹارگٹ یہ اصول ہوگا کہ لوگ حاکمیت اور ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک قرار دے رہے ہیں یا وہ اس میں کسی کو شریک کر رہے ہیں یا ذات باری کو الگ چھور کر بعض دوسرے لوگوں کی حاکمیت اور ربوبیت قبول کر رہے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ لوگ زبانی طور پر کیا دعوی کر رہے ہیں کہ وہ دین اسلام میں داخل ہیں اور مسلمان ہیں تو اگر یہ بات ان کے عمل میں نہیں تو اسلام نہ ہوگا ۔ یہ ہے وہ عظیم حقیقت جس کی طرف آیات میراث کے اس اختتامیہ میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ نظام میراث میں ورثاء کے حصص کی تقرری کا تعلق براہ راست اللہ کی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے ہے ۔ یا اس معاملے میں اللہ اور رسول کی نافرمانی ہوگی ۔ یا اس کا نتیجہ ایسے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور یا اس کا انجام ایک توہین آمیز عذاب کی شکل میں ہوگا جو جہنم کی آگ میں دائما دیا جائے گا ۔ اور یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کا اظہار اس صورت میں متعدد آیات کے اندر مکرر کیا گیا ہے اور اسے اس قدر واضح اور فیصلہ کن انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اس مین کسی تاویل اور کسی نفاق کیلئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ۔ وہ لوگ جو ابھی تک اپنا تعارف اسلام کے حوالے سے کراتے ہیں میں ان کو یہ دعوت دوں گا کہ وہ اس بارے میں اپنا ذہن صاف کرلیں اور دیکھ لیں کہ وہ اسلامی نظام حیات اور دین اسلام سے کس قدر دور ہوچکے ہیں ۔ اس بحث کے بعد اب اس بات کی ضرورت ہے کہ اسلام کے نظام میراث کے بارے میں چند کلمات عرض کروں اس سے پہلے (آیت) ”۔ للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنسآء نصیب مما اکتسبن “۔ ” مردوں کیلئے وہی کچھ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کیلئے بھی وہی کچھ ہے جو انہوں نے کمایا “ ۔ کے ضمن میں ہم نے یہ عمومی اصول بیان کیا تھا اسی طرح (آیت) ” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ یہ کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہوگا ۔ “ کے ضمن میں بھی ہم نے بحث کی تھی ۔ اسلام کا نظام وراثت ایک نہایت ہی عادلانہ اور فطرت انسانی کے ساتھ نہایت ہی ہم آہنگ نظام ہے ۔ نیز خاندانی زندگی کے عملی حال احوال کے ساتھ نہایت ہی موزوں ہے ۔ اور اس بات کی اچھی طرح وضاحت اس وقت ہوتی ہے جب ہم اس نظام کا تقابلی مطالعہ ان تمام نظاموں سے کرتے ہیں ‘ جو انسانی تاریخ میں کبھی رائج رہے ہیں یا اب ہیں ‘ جاہلیت قدیمہ میں یا جاہلیت جدیدہ میں۔ دنیا کے خطے میں اور کسی بھی قوم وملت میں اس نظام میں خاندان کی اجتماعی کفالت کے تمام مقاصد کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ ہر شخص کا حصہ اور خاندان کے اندر اس کی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر متعین کیا گیا ہے ۔ مثلا والدہ اور والد جو ذی الفروض میں سے ہیں ۔ ان کے بعد اس نظام میں عصبات کو اہمیت دی گئی ہے ۔ اس لئے کہ والدین کے نہ ہونے کی صورت میں کسی یتیم کی کفالت عصبات ہی کے ذمہ ہوتی ہے ۔ یہ عصبات ہی ہیں جو دیت اور دوسرے اجتماعی تاوان ادا کرتے وقت حصہ داریاں اپنے سر لیتے ہیں ۔ اس لئے اسلامی نظام میراث غایت درجہ مناسب اور موزوں ہے ۔ اس نظام کی اساس اس اصول پر ہے کہ یہ خاندانی نظام ایک ہی نفس بشر سے وجود میں آیا ہے ۔ اس لئے نہ اس میں بچے محروم ہوں گے اور نہ عورتیں محروم ہوں گی ۔ محض اس لئے کہ وہ عورتیں ہیں یا نابالغ ہیں ۔ چناچہ اگر یہ نظام عملی ذمہ داریوں میں فرق مراتب کرتا ہے تو نفس انسانیت کی اساس پر کوئی فرق بھی نہیں کرتا ۔ اس لئے اس میں حقوق دیتے وقت اصناف مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جاتا ۔ فرق اگر ہے تو اجتماعی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے جو ذمہ داریاں اجتماعی خاندانی کفالت کے حوالے سے عائد ہوتی ہیں ۔ اس نظام کے اندر عام زندہ چیزوں کی فطرت اور خصوصا انسانی فطرت کو پوری طرح مدنظر رکھا گیا ہے ۔ چناچہ ہر حصص اور حقوق الاٹ کرتے وقت اولاد میت کو سب سے مقدم رکھا گیا ہے ۔ یعنی والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے مقابلے میں اس فطری میلان کے علاوہ آنے والی نوخیز نسل اس لئے بھی زیادہ مستحق ہے کہ اس کرہ ارض پر وہی زندگی کے تسلسل کا ذریعہ ہے ۔ وہی ہے جس کی وجہ سے بنی نوع انسان اس کرہ ارض پر موجود رہ سکتا ہے ۔ لہذا اس نوخیز نسل کا لحاظ ضروری ہے ۔ لیکن اس نوخیز نسل کی رعایت کے ساتھ ساتھ آباء کو بھی محروم نہیں رکھا گیا ۔ اور نہ ہی دوسرے رشتہ داروں کو محروم رکھا گیا ہے ۔ ہر ایک کو حصہ دیا گیا ہے ۔ فطرت کے منطقی تقاضوں کے عین مطابق ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو ہر زندہ چیز اور ہر انسان کے اس فطری تقاضے کے عین مطابق ہے جس کے تحت وہ اپنی نسل کے ساتھ گہرا ربط رکھنا چاہتا ہے اور یہ کہ اس اولاد کے ذریعہ گویا اس کے وجود کو تسلسل مل رہا ہے اس لئے اس نظام میراث کی وجہ سے ایک انسان مطمئن رہتا ہے کہ وہ جو اپنی سعی اور جدوجہد کو بحث کی شکل میں ذخیرہ کرتا رہتا ہے اور یہ اس کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کے عمل کا ثمرہ اس کی اولاد کو ملے ۔ اور یہ کہ اس کی آئندہ نسل اس سے محروم نہ رہے ۔ اور یہ یقین کہ اس کی جدوجہد کا ثمرہ اس کی اولاد کو ملے گا ‘ اس کی جدوجہد کیلئے مہمیز کا کام دے گا ۔ وہ اپنی جہد وسعی میں مزید اضافہ کر دے گا اور یہ بات پوری سوسائٹی کیلئے بھی معاشی لحاظ سے مفید ہوگی ۔ اور اس جہد مسلسل کی وجہ سے معاشرے کی اجتماعی نظام تکافل میں بھی کوئی فرق نہ آئے گا بلکہ اس نظام میں اسے پورا پورا ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اور آخری بات یہ ہے کہ اسلام کا نظام میراث کسی شخص کی جمع کردہ دولت کو اس وقت پاش پاش کردیتا ہے جب وہ انتہاوں کو چھو لیتی ہے ۔ اور اسے از سر نو تقسیم کردیتا ہے ۔ اس لئے یہ نظام دولت کو کسی ایک جگہ جمع ہونے نہیں دیتا ۔ اور نہ ہی چند ہاتھوں میں منجمد کرکے چھوڑتا ہے ۔ مثلا اس نظام کے حوالے سے جس میں پوری وراثت بڑے لڑکے کو مل جاتی ہے یا اسے چند محدود رشتہ داروں کے دائرے کے اندر محدود کردیا جاتا ہے ۔ اس پہلو سے یہ نظام ایک ایسا ذریعہ ہے جو سوسائٹی میں اقتصادی عمل کی کارکردگی کی از سر نو تجدید کرتا ہے اور اسے اعتدال پہ رکھتا ہے ۔ اور اس میں کسی انتظامیہ اور کسی اجتماعی نظام کا بھی کوئی ظاہری دخل نہیں ہوتا ‘ جسے کوئی فرد خوشی سے قبول نہیں کرتا اس لئے کہ انسان کی فطرت میں لالچ اور دولت کی محبت ودیعت کردی گئی ہے ۔ رہی اسلامی نظام میراث کی یہ مسلسل بت شکنی اور بار بار تقسیم جدید تو یہ اپنی جگہ جاری وساری بھی رہتی ہے اور نفس انسانی بھی اسے خوشی خوشی قبول کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ نظام انسان کی فطرت اور اس کی فطری حب مال اور حرص و لالچ کے عین مطابق ہے ۔ اور یہی ہے اصل فرق و امتیاز اس ربانی نظام زندگی اور دوسرے ان نظاموں کے درمیان جو انسان کیلئے انسان نے تجویز کئے ہیں ۔ (1) (تفصیلات کیلئے دیکھئے میری کتاب ” العدالہ الاجتماعیہ فی الاسلام “ کی فصل ” اسلام کی سیاسی پالیسی “۔ درس 13 ایک نظر میں : اس سورت کے پہلے سبق میں ‘ اسلامی معاشرے کے اندر اجتماعی زندگی کی تنظیم پر توجہ دی گئی اور اسے جاہلیت کی تمام آلائشوں سے پاک وصفا کردیا گیا ۔ اس میں معاشرے کے بےسہارا لوگوں ‘ ییتموں کے حقوق اور ان کی جائیداد کی حفاظت کی ضمانت دی گئی اور یہ حفاظت اور تحفظ ان کو ایک خاندان کے فطری فریم ورک کے اندر فراہم کیا گیا ‘ اجتماعی نگرانی کے اندر ۔ اس کے بعد ایک خاندان کے اندر نظام میراث کے اصول بیان کئے گئے اور پھر ان تمام حقوق اور تحفظات کو اس نظریہ حیات کے ساتھ مربوط کردیا گیا کہ اللہ ہی تمام لوگوں کا حاکم اور رب ہے ۔ اور یہ وہی ذات ہے جس نے اپنے حکم و ارادہ سے ایک ہی جان سے اس مخلوق کو پیدا کیا ہے اور یہ کہ اللہ نے بشریت کے اجتماعی نظام کو ایک خاندان کی اکائی سے شروع کیا ہے ۔ اور پھر اس خاندان کے اندر اجتماعی کفالتی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں ۔ اور زندگی کے تمام حالات کی اس ضابطہ بندی کو اللہ کے علم اور حکمت اور اس کے تجویز کردہ حدود وقیود کے ساتھ مربوط کیا گیا اور یہ فیصلہ کردیا گیا کہ اگر وہ اللہ کی اطاعت کریں گے تو انعام جنت کے مستحق ہوں گے اور اگر معصیت کا ارتکاب کریں گے تو سزائے جہنم کے سزا وار ہوں گے ۔ اب اس دوسرے سبق میں اسلامی معاشرے کی اجتماعی زندگی کی تنظیم ایک دوسرے زاویہ سے کی گئی ہے اور ایک دوسرے پہلو سے اسے جاہلیت کی آلودگیوں سے پاک وصاف کیا گیا ہے یعنی اسے جاہلیت کی بےراہ روی اور فحاشی سے پاک کیا گیا ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ان کو سوسائٹی سے علیحدہ کردیا جائے ۔ اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی جائے ۔ الا یہ کہ وہ اپنے رویہ سے باز آجائیں اور سچے دل سے توبہ کرلیں ۔ اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہوں اور اسلامی معاشرے میں پاکیزہ اخلاق وکردار کے ساتھ از سر نو آنے کے لئے تیار ہوں ۔ پھر اس دوسرے حصے میں عورت کو ان مظالم سے نجات دی گئی ہے جن کی چکی میں وہ ایام جاہلیت میں پس رہی تھی ۔ اسے زندہ درگور کردیا جاتا تھا اور اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جاتا تھا اور قسم قسم کے مظالم اس پر ڈھائے جاتے تھے تاکہ اسلامی معاشرہ صحت مند اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے ‘ جس کی عام فضا پاک وصاف ہو اور جس کی عمارت نہایت ہی پختہ اساس پر ہو ۔ اور ایک خاندان اس کی پہلی اینٹ ہو ۔ اور اس حصے کے آخر میں خاندان کے ایک پہلو یعنی دائرہ محرمات کی ضابطہ بندی کی گئی ہے ۔ اس کے لئے شرعی قانون سازی کی گئی ہے ۔ اور اس کا اسلوب یہ اختیار کیا گیا ہے کہ محرمات کا ذکر کردیا گیا ہے اور ان کے علاوہ تمام بنات آدم کو انسان کے لئے جائز قرار دے دیا گیا ہے ۔ ان موضوعات پر یہ سبق بھی ختم ہوجاتا ہے اور قرآن کریم کا یہ پاربہ بھی اپنی انتہا کو پہنچتا ہے ۔

النساء 4:14

یہ نظام میراث اور یہ قانونی شریعت جو تقسیم میراث کیلئے وضع کی گئی ہے اور جسے اللہ نے اپنے علم و حکمت کے مطابق وضع فرمایا ہے ۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ایک خاندان کے اندر خاندانی نظام کو منظم کیا جائے اور معاشرے کے اجتماعی اور اقتصادی تعلقات مستحکم ہوجائیں ۔ ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ “ اور یہ حدیں اس لئے قائم کی گئی ہیں کہ وہ ان عائلی واقتصادی تعلقات میں سنگ میل ہوں اور ترکہ کی تقسیم میں فیصلہ کن ہوں ۔ جو لوگ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت کریں گے وہ ہمیشہ جنگ میں رہیں گے اور یہ ان کی عظیم کامیابی ہے ۔ اور جو لوگ ان حدوں کو توڑیں گے اور اس معاملے میں اللہ اور رسول اللہ کی نافرمانی کریں گے جہنم میں داخل ہوں گے ‘ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور یہ ان کیلئے دردناک اور توہین آمیز عذاب ہوگا ۔ یہ کیوں ہوگا ؟ اس معاملے میں اللہ کی اطاعت یا اللہ کی معصیت کے نتیجے میں اس قدر عظیم نتائج کیوں مرتب ہوں گے ‘ حالانکہ قانون میراث نظام شریعت کا بہرحال ایک چھوٹا سا حصہ ہی تو ہے ۔ صرف ایک حصہ اور ایک حصے میں اس قدر شدید سزا ؟ بظاہر یہ خوفناک سزا اس جرم سے بہت زیادہ نظر آتی ہے ۔ لیکن یہ اس شخص کو زیادہ نظر آتی ہے جو اس بات کی حقیقت اور گہرائی تک نہیں پہنچ سکا ہے ۔ اس حقیقت کے اظہار کیلئے اس سورت کی بہت سی آیات مسلسل گویا ہیں اور ان کی تشریح و تفسیر آگے آرہی اور اس امر کی جانب ہم نے اس سورت کا تعارف پیش کرتے ہوئے اشارہ کیا تھا ۔ یہ وہ آیات ہیں جن میں لفظ دین کا مفہوم سمجھایا گیا ۔ ایمان کی شرائط بیان ہوئی ہیں اور جن میں اسلام کی تعریف کی گئی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود مناسب ہے کہ ہم اس امر کے بارے میں مختصرا یہاں بھی ایک نوٹ دیدیں جس قدر ان دو آیات کی تشریح و تفہیم کیلئے ضروری ہے جو آیات میراث کا اختتامیہ اور تبصرہ ہیں ۔ اس دین ‘ دین اسلام بلکہ ان تمام ادیان جو اس پوری تاریخ انسانیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے ذریعہ بھیجے ہیں یعنی تمام سماوی ادیان الہیہ کا بنیادی سوال یہی رہا ہے کہ اس کرہ ارض پر حاکمیت کا حق کس کو حاصل ہے ؟ ان لوگوں کا رب کون ہے ؟ ان دو سوالوں کا جواب ان آیات میں دیا گیا ہے اور اس دین کے تمام معاملات ان جوابات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں اور لوگوں کے تمام امور انہیں جوابات کی روشنی میں طے ہوتے ہیں ۔ اب اس سوال کا کیا جواب ہے ۔ اس کرہ ارض پر حاکمیت اور ربوبیت کا حق کس کو حاصل ہے ؟ صرف اللہ وعدہ کو ‘ اس حق میں اس کے ساتھ ‘ اس کی مخلوق میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہے ۔ یہی عین ایمان ہے ، یہی عین اسلام ہے ۔ اور یہی دین اسلام ہے ۔ اور اگر حاکمیت اور ربوبیت کا یہ حق کسی مخلوق کو دیا جائے اور انہیں اللہ کی ساتھ شریک کیا جائے یا اللہ کے سوا مستقلا میں یہ حق دیا تو یہ صریح شرک اور واضح کفر ہے ۔ حاکمیت اور ربوبیت یا تو صرف اللہ وحدہ لاشریک کی ہوگی ‘ تو اس صورت میں لوگ صرف اللہ وحدہ کے دین میں داخل ہوں گے اور صرف اللہ وحدہ کی اطاعت میں داخل ہوں گے اور اس کی عملی صورت یہی ہوگی کہ لوگ اسلامی نظام زندگی پر عمل پیرا ہوں ۔ کیونکہ اس صورت میں یہ حق صرف اللہ ہی کو حاصل ہوگا کہ وہ لوگوں کیلئے نظام زندگی تجویز کریں اور یہ صرف اللہ وحدہ ہی ہوگا جو لوگوں کیلئے طور طریقے اور قوانین اور ضابطے وضع کریں ، پھر یہ صرف اللہ ہی ہوگا جو لوگوں کیلئے حسن وقبح کے معیار متعین کرے گا اور ان کی زندگی کے تفصیلی طور طریقے اور تنظیم کرے گا ۔ اور اللہ کے سوا کوئی فرد ہو یا کوئی سوسائٹی ہو اس کیلئے ایسے کچھ حقوق بھی نہ ہوں گے اور ان کیلئے صرف یہی چارہ کار ہوگا کہ وہ شریعت الہیہ کی اطاعت کریں کیونکہ یہ اطاعت اللہ کی الوہیت حاکمیت اور ربوبیت کا منطقی تقاضا ہے اور اس تقاضے کا واحد مظہر اور خاص رنگ نظام شریعت ہے ۔ اور اگر یہ صورت حال نہیں ہے تو پھر دوسری صورت یہی ہے کہ حاکمیت اور ربوبیت کا حق اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو حاصل نہیں ہوگا ۔ یہ حق اللہ کے ساتھ شریک ہو کر ہوگا یا ان لوگوں کو مستقلا حاصل ہوگا ۔ اس صورت میں جو لوگ یہ حق قبول کریں گے وہ ان غیر اللہ کے دین میں داخل تصور ہوں گے ‘ یوں وہ غیر اللہ کی بندگی کریں گے ۔ پھر یہ انسان کی جانب سے غیر اللہ کی اطاعت ہوگی اور اس کی عملی شکل یوں ہوگی کہ یہ لوگ غیر اللہ کے تجویز کردہ منہاج حیات ‘ انکے ضابطوں ‘ ان کے قوانین اور ان کے حسن وقبح کے معیاروں کے پیروکار ہوں گے اور یہ سب چیزیں بعض انسانوں نے وضع کی ہوگی ۔ اس قانون سازی اور ضابطہ بندی میں وہ اللہ کی حاکمیت اور اس کی کتاب کا کوئی حوالہ نہ دے رہے ہوں گے ‘ بلکہ یہ تمام چیزیں بعض دوسرے حوالوں سے تشکیل پائیں گی ، بعض دوسرے مصادر ان کے لئے مصادر قوت ہوں گے ۔ اس لئے یہ صورت حال دین سے خالی ہوگی ‘ ایمان مفقود ہوگا اور اسلام نہ ہوگا جبکہ یہ صورت حال شرک ‘ کفر ‘ فسوق اور معصیت کی صورت حال ہوگی ۔ یہ ہے اس معاملے کی اصل حقیقت ‘ لہذا اس میں اگر کوئی صرف اللہ کی حدود میں سے ایک حد کو توڑتا ہے یا پوری شریعت کی نفی کرتا ہے ‘ اصل حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس لئے کی ایک حد بھی دین ہے اور پوری شریعت بھی دین ہے ‘ لہذا اس میں اصل ٹارگٹ یہ اصول ہوگا کہ لوگ حاکمیت اور ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک قرار دے رہے ہیں یا وہ اس میں کسی کو شریک کر رہے ہیں یا ذات باری کو الگ چھور کر بعض دوسرے لوگوں کی حاکمیت اور ربوبیت قبول کر رہے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ لوگ زبانی طور پر کیا دعوی کر رہے ہیں کہ وہ دین اسلام میں داخل ہیں اور مسلمان ہیں تو اگر یہ بات ان کے عمل میں نہیں تو اسلام نہ ہوگا ۔ یہ ہے وہ عظیم حقیقت جس کی طرف آیات میراث کے اس اختتامیہ میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ نظام میراث میں ورثاء کے حصص کی تقرری کا تعلق براہ راست اللہ کی اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے ہے ۔ یا اس معاملے میں اللہ اور رسول کی نافرمانی ہوگی ۔ یا اس کا نتیجہ ایسے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور یا اس کا انجام ایک توہین آمیز عذاب کی شکل میں ہوگا جو جہنم کی آگ میں دائما دیا جائے گا ۔ اور یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کا اظہار اس صورت میں متعدد آیات کے اندر مکرر کیا گیا ہے اور اسے اس قدر واضح اور فیصلہ کن انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ اس مین کسی تاویل اور کسی نفاق کیلئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ۔ وہ لوگ جو ابھی تک اپنا تعارف اسلام کے حوالے سے کراتے ہیں میں ان کو یہ دعوت دوں گا کہ وہ اس بارے میں اپنا ذہن صاف کرلیں اور دیکھ لیں کہ وہ اسلامی نظام حیات اور دین اسلام سے کس قدر دور ہوچکے ہیں ۔ اس بحث کے بعد اب اس بات کی ضرورت ہے کہ اسلام کے نظام میراث کے بارے میں چند کلمات عرض کروں اس سے پہلے (آیت) ”۔ للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنسآء نصیب مما اکتسبن “۔ ” مردوں کیلئے وہی کچھ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کیلئے بھی وہی کچھ ہے جو انہوں نے کمایا “ ۔ کے ضمن میں ہم نے یہ عمومی اصول بیان کیا تھا اسی طرح (آیت) ” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ یہ کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہوگا ۔ “ کے ضمن میں بھی ہم نے بحث کی تھی ۔ اسلام کا نظام وراثت ایک نہایت ہی عادلانہ اور فطرت انسانی کے ساتھ نہایت ہی ہم آہنگ نظام ہے ۔ نیز خاندانی زندگی کے عملی حال احوال کے ساتھ نہایت ہی موزوں ہے ۔ اور اس بات کی اچھی طرح وضاحت اس وقت ہوتی ہے جب ہم اس نظام کا تقابلی مطالعہ ان تمام نظاموں سے کرتے ہیں ‘ جو انسانی تاریخ میں کبھی رائج رہے ہیں یا اب ہیں ‘ جاہلیت قدیمہ میں یا جاہلیت جدیدہ میں۔ دنیا کے خطے میں اور کسی بھی قوم وملت میں اس نظام میں خاندان کی اجتماعی کفالت کے تمام مقاصد کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ ہر شخص کا حصہ اور خاندان کے اندر اس کی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر متعین کیا گیا ہے ۔ مثلا والدہ اور والد جو ذی الفروض میں سے ہیں ۔ ان کے بعد اس نظام میں عصبات کو اہمیت دی گئی ہے ۔ اس لئے کہ والدین کے نہ ہونے کی صورت میں کسی یتیم کی کفالت عصبات ہی کے ذمہ ہوتی ہے ۔ یہ عصبات ہی ہیں جو دیت اور دوسرے اجتماعی تاوان ادا کرتے وقت حصہ داریاں اپنے سر لیتے ہیں ۔ اس لئے اسلامی نظام میراث غایت درجہ مناسب اور موزوں ہے ۔ اس نظام کی اساس اس اصول پر ہے کہ یہ خاندانی نظام ایک ہی نفس بشر سے وجود میں آیا ہے ۔ اس لئے نہ اس میں بچے محروم ہوں گے اور نہ عورتیں محروم ہوں گی ۔ محض اس لئے کہ وہ عورتیں ہیں یا نابالغ ہیں ۔ چناچہ اگر یہ نظام عملی ذمہ داریوں میں فرق مراتب کرتا ہے تو نفس انسانیت کی اساس پر کوئی فرق بھی نہیں کرتا ۔ اس لئے اس میں حقوق دیتے وقت اصناف مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جاتا ۔ فرق اگر ہے تو اجتماعی ذمہ داریوں کو پیش نظر رکھ کر کیا گیا ہے جو ذمہ داریاں اجتماعی خاندانی کفالت کے حوالے سے عائد ہوتی ہیں ۔ اس نظام کے اندر عام زندہ چیزوں کی فطرت اور خصوصا انسانی فطرت کو پوری طرح مدنظر رکھا گیا ہے ۔ چناچہ ہر حصص اور حقوق الاٹ کرتے وقت اولاد میت کو سب سے مقدم رکھا گیا ہے ۔ یعنی والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے مقابلے میں اس فطری میلان کے علاوہ آنے والی نوخیز نسل اس لئے بھی زیادہ مستحق ہے کہ اس کرہ ارض پر وہی زندگی کے تسلسل کا ذریعہ ہے ۔ وہی ہے جس کی وجہ سے بنی نوع انسان اس کرہ ارض پر موجود رہ سکتا ہے ۔ لہذا اس نوخیز نسل کا لحاظ ضروری ہے ۔ لیکن اس نوخیز نسل کی رعایت کے ساتھ ساتھ آباء کو بھی محروم نہیں رکھا گیا ۔ اور نہ ہی دوسرے رشتہ داروں کو محروم رکھا گیا ہے ۔ ہر ایک کو حصہ دیا گیا ہے ۔ فطرت کے منطقی تقاضوں کے عین مطابق ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو ہر زندہ چیز اور ہر انسان کے اس فطری تقاضے کے عین مطابق ہے جس کے تحت وہ اپنی نسل کے ساتھ گہرا ربط رکھنا چاہتا ہے اور یہ کہ اس اولاد کے ذریعہ گویا اس کے وجود کو تسلسل مل رہا ہے اس لئے اس نظام میراث کی وجہ سے ایک انسان مطمئن رہتا ہے کہ وہ جو اپنی سعی اور جدوجہد کو بحث کی شکل میں ذخیرہ کرتا رہتا ہے اور یہ اس کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ اس کے عمل کا ثمرہ اس کی اولاد کو ملے ۔ اور یہ کہ اس کی آئندہ نسل اس سے محروم نہ رہے ۔ اور یہ یقین کہ اس کی جدوجہد کا ثمرہ اس کی اولاد کو ملے گا ‘ اس کی جدوجہد کیلئے مہمیز کا کام دے گا ۔ وہ اپنی جہد وسعی میں مزید اضافہ کر دے گا اور یہ بات پوری سوسائٹی کیلئے بھی معاشی لحاظ سے مفید ہوگی ۔ اور اس جہد مسلسل کی وجہ سے معاشرے کی اجتماعی نظام تکافل میں بھی کوئی فرق نہ آئے گا بلکہ اس نظام میں اسے پورا پورا ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ اور آخری بات یہ ہے کہ اسلام کا نظام میراث کسی شخص کی جمع کردہ دولت کو اس وقت پاش پاش کردیتا ہے جب وہ انتہاوں کو چھو لیتی ہے ۔ اور اسے از سر نو تقسیم کردیتا ہے ۔ اس لئے یہ نظام دولت کو کسی ایک جگہ جمع ہونے نہیں دیتا ۔ اور نہ ہی چند ہاتھوں میں منجمد کرکے چھوڑتا ہے ۔ مثلا اس نظام کے حوالے سے جس میں پوری وراثت بڑے لڑکے کو مل جاتی ہے یا اسے چند محدود رشتہ داروں کے دائرے کے اندر محدود کردیا جاتا ہے ۔ اس پہلو سے یہ نظام ایک ایسا ذریعہ ہے جو سوسائٹی میں اقتصادی عمل کی کارکردگی کی از سر نو تجدید کرتا ہے اور اسے اعتدال پہ رکھتا ہے ۔ اور اس میں کسی انتظامیہ اور کسی اجتماعی نظام کا بھی کوئی ظاہری دخل نہیں ہوتا ‘ جسے کوئی فرد خوشی سے قبول نہیں کرتا اس لئے کہ انسان کی فطرت میں لالچ اور دولت کی محبت ودیعت کردی گئی ہے ۔ رہی اسلامی نظام میراث کی یہ مسلسل بت شکنی اور بار بار تقسیم جدید تو یہ اپنی جگہ جاری وساری بھی رہتی ہے اور نفس انسانی بھی اسے خوشی خوشی قبول کرتا ہے ۔ کیونکہ یہ نظام انسان کی فطرت اور اس کی فطری حب مال اور حرص و لالچ کے عین مطابق ہے ۔ اور یہی ہے اصل فرق و امتیاز اس ربانی نظام زندگی اور دوسرے ان نظاموں کے درمیان جو انسان کیلئے انسان نے تجویز کئے ہیں ۔ (1) (تفصیلات کیلئے دیکھئے میری کتاب ” العدالہ الاجتماعیہ فی الاسلام “ کی فصل ” اسلام کی سیاسی پالیسی “۔ درس 13 ایک نظر میں : اس سورت کے پہلے سبق میں ‘ اسلامی معاشرے کے اندر اجتماعی زندگی کی تنظیم پر توجہ دی گئی اور اسے جاہلیت کی تمام آلائشوں سے پاک وصفا کردیا گیا ۔ اس میں معاشرے کے بےسہارا لوگوں ‘ ییتموں کے حقوق اور ان کی جائیداد کی حفاظت کی ضمانت دی گئی اور یہ حفاظت اور تحفظ ان کو ایک خاندان کے فطری فریم ورک کے اندر فراہم کیا گیا ‘ اجتماعی نگرانی کے اندر ۔ اس کے بعد ایک خاندان کے اندر نظام میراث کے اصول بیان کئے گئے اور پھر ان تمام حقوق اور تحفظات کو اس نظریہ حیات کے ساتھ مربوط کردیا گیا کہ اللہ ہی تمام لوگوں کا حاکم اور رب ہے ۔ اور یہ وہی ذات ہے جس نے اپنے حکم و ارادہ سے ایک ہی جان سے اس مخلوق کو پیدا کیا ہے اور یہ کہ اللہ نے بشریت کے اجتماعی نظام کو ایک خاندان کی اکائی سے شروع کیا ہے ۔ اور پھر اس خاندان کے اندر اجتماعی کفالتی ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں ۔ اور زندگی کے تمام حالات کی اس ضابطہ بندی کو اللہ کے علم اور حکمت اور اس کے تجویز کردہ حدود وقیود کے ساتھ مربوط کیا گیا اور یہ فیصلہ کردیا گیا کہ اگر وہ اللہ کی اطاعت کریں گے تو انعام جنت کے مستحق ہوں گے اور اگر معصیت کا ارتکاب کریں گے تو سزائے جہنم کے سزا وار ہوں گے ۔ اب اس دوسرے سبق میں اسلامی معاشرے کی اجتماعی زندگی کی تنظیم ایک دوسرے زاویہ سے کی گئی ہے اور ایک دوسرے پہلو سے اسے جاہلیت کی آلودگیوں سے پاک وصاف کیا گیا ہے یعنی اسے جاہلیت کی بےراہ روی اور فحاشی سے پاک کیا گیا ہے ۔ ایسے لوگوں کے لئے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ ان کو سوسائٹی سے علیحدہ کردیا جائے ۔ اور ان کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کی جائے ۔ الا یہ کہ وہ اپنے رویہ سے باز آجائیں اور سچے دل سے توبہ کرلیں ۔ اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے پر آمادہ ہوں اور اسلامی معاشرے میں پاکیزہ اخلاق وکردار کے ساتھ از سر نو آنے کے لئے تیار ہوں ۔ پھر اس دوسرے حصے میں عورت کو ان مظالم سے نجات دی گئی ہے جن کی چکی میں وہ ایام جاہلیت میں پس رہی تھی ۔ اسے زندہ درگور کردیا جاتا تھا اور اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جاتا تھا اور قسم قسم کے مظالم اس پر ڈھائے جاتے تھے تاکہ اسلامی معاشرہ صحت مند اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے ‘ جس کی عام فضا پاک وصاف ہو اور جس کی عمارت نہایت ہی پختہ اساس پر ہو ۔ اور ایک خاندان اس کی پہلی اینٹ ہو ۔ اور اس حصے کے آخر میں خاندان کے ایک پہلو یعنی دائرہ محرمات کی ضابطہ بندی کی گئی ہے ۔ اس کے لئے شرعی قانون سازی کی گئی ہے ۔ اور اس کا اسلوب یہ اختیار کیا گیا ہے کہ محرمات کا ذکر کردیا گیا ہے اور ان کے علاوہ تمام بنات آدم کو انسان کے لئے جائز قرار دے دیا گیا ہے ۔ ان موضوعات پر یہ سبق بھی ختم ہوجاتا ہے اور قرآن کریم کا یہ پاربہ بھی اپنی انتہا کو پہنچتا ہے ۔

النساء 4:15

سبق 13 تشریح آیات : آیت نمبر 51 تا 32 : فحاشی کو روکنے کی خاطر اور اس کی پاکیزگی اور تنظیم کی خاطر بھی اسلام نے اپنا مخصوص انداز اختیار کیا ۔ سب سے پہلے اس نے فاحشہ عورتوں کو نظر بند کرنے اور انہیں معاشرہ سے دور رکھنے کے اقدامات کئے بشرطیکہ ان پر یہ جرم ثابت ہوجائے ۔ اس کے بعد اس نے غیر فطری فعل کا ارتکاب کرنے والے مردوں یعنی لوطیوں کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں ایذا دی جائے لیکن اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی ۔ اور اس کے بعد ان لوگوں کے لئے ایک ہی سزا فرمائی یعنی سزائے حد کی سزا جس کا ذکر سورة نور میں ہوا ۔ یعنی سوکوڑے سزا اور اس کے علاوہ وہ سزائے رجم مقرر کی جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے ۔ ان سب اقدامات کا مقصد وحدی صرف یہ تھا کہ معاشرے کو بدکاری سے پاک کیا جائے اور معاشرے کی پاکی ‘ شرافت اور عفت مالی کی حفاظت کی جائے ۔ لیکن سزا دہی کے تمام حالات میں ‘ شریعت نے ملزموں کے لئے تحفظ کا پورا پورا انتظام کیا ہے ۔ ایسا انتظام کہ جس کے ہوتے ہوئے کسی غلطی ‘ کسی ظلم اور محض ظن و گمان کی اساس پر سزا دہی ممکن ہی نہیں رہتی ۔ خصوصا ان خطرناک جرائم میں جن کے اثرات لوگوں کی رواں دواں زندگی پر پڑے ہیں ۔ (آیت) ”۔ والتی یاتین الفاحشة من نسآئکم فاستشھدوا علیھن اربعة منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت اویجعل اللہ لھن سبیلا ۔ (51) ترجمہ : ” تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو ‘ اور اگر چار آدمی گواہی دیدیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کیلئے کوئی راستہ نکال دے ۔ “ آیت میں نہایت ہی محتاط انداز میں قانون سازی کی گئی ہے ۔ جن عورتوں پر یہ جرم عائد کیا گیا ہے ‘ کی تحدید کردی گئی ہے ۔ (آیت) ” من نسآئکم “ یعنی مسلم عورتیں ۔ اسی طرح ان کے خلاف جو شہادت قائم ہوگی اس کی بھی تحدید کردی گئی ہے ۔ (آیت) ” منکم “ یعنی گواہ بھی مسلمان ہوں ۔ چناچہ جن ملزموں کو سزا دی جائے گی وہ صرف وہ ہوں گے جن کا جرم ثابت ہوجائے اور جن لوگوں کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا ‘ ان کا مسلمان ہونا ضروری ہے ۔ اگر مسلمان عورتوں میں سے کوئی فحاشی کا ارتکاب کرے تو ان کے خلاف غیر مسلمانوں کی شہادت قبول نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ گواہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ تعداد میں بھی چار ہوں ۔ یعنی مسلم معاشرے سے ہوں ‘ اس معاشرے میں بس رہے ہوں ‘ وہ شریعت اسلامی کے تابع ہوں ۔ وہ اسلامی قیادت کے مطیع ہوں ۔ ان کے دلوں میں اسلامی شریعت کا احساس ہو ۔ اور وہ اس معاشرے کے حقوق وذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہوں ۔ اس لئے اس معاملے میں غیر مسلمانوں کی شہادت قبول نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک غیر مسلم ایک مسلمان عورت کو محض مقدمہ میں پھنسانے کے لئے شہادت دے دے ۔ نیز ایک غیر مسلم کی امانت ‘ دیانت خدا خوفی اور مصلحت وغیرہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے کہ ایک غیر مسلم کو اسلامی معاشرے کی پاکیزگی سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ نہ اسے یہ دلچسپی ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے میں نظام عدالت کا میاب ہو ۔ شہادت کے سلسلے میں یہ حدود وقیود بہر حال اس وقت بھی باقی رہیں جب سزا میں تبدیلی ہوگی یعنی بعد میں جب سزا کوڑوں اور رجم میں بدل گئی ۔ (آیت) ” فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت “۔ اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو “۔ وہ معاشرہ میں اختلاط نہ رکھیں ‘ اسے مزید گندہ نہ کریں ‘ اس میں نکاح نہ کریں اور نہ کوئی اور سرگرمی دکھائیں ۔ (آیت) ” حتی یتوفاھن الموت “۔ یہاں تک کہ انہیں موت آجائے ۔ “ وہ اسی طرح قید میں مرجائیں ۔ گھروں میں بند ہوں ۔ (آیت) ” اویجعل اللہ لھن سبیلا “۔ یا اللہ ان کے لئے کوئی راستہ نکال دے “۔ یعنی ان کی حالت میں تبدیلی کر دے یا سزا میں تبدیلی کردے ۔ یا ان کے معاملات میں کوئی اور تبدیلی لے آئے ۔ ان الفاظ سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ یہ حکم انتہائی اور آخری نہ تھا ۔ یہ خاص متعین وقت کے لئے تھا اور بعض خاص حالات کے لئے تھا ۔ اور اس وقت ایسے مجرموں کے لئے آخری حکم آنے کی توقعات تھیں ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ حکم سورة نور میں سو کوڑوں کی شکل میں بدل گیا اور احادیث رسول کے ذریعہ رجم میں بدل گیا لیکن شہادت اور ثبوت جرم کے سلسلے میں ملزموں کو جو ضمانتیں دی گئی تھیں وہ بدستور قائم ہیں ۔ امام احمد رحمة اللہ علیہ نے محمد ابن جعفر رحمة اللہ علیہ سعید رحمة اللہ علیہ ‘ قتادہ ؓ حسن ‘ اور ھطان بن عبداللہ الرقاشی کے واسطوں سے حضرت ابن الصامت ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : ” حضور اکرم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو اس کا آپ پر اثر ہوتا تھا آپ پریشان ہوجاتے تھے ‘ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا تھا ۔ ایک دن آپ ﷺ پر وحی آرہی تھی تو جب حال نزول وحی دور ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : لو مجھ سے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لئے راستہ نکال دیا ۔ شادی شدہ ‘ شادی شدہ کے ساتھ اور کنوارا کنواری کے ساتھ ‘ شادی شدہ کو سو کوڑے اور پھر پتھروں کے ساتھ رجم اور غیر شادی شدہ سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ۔ “ اس روایت کو امام مسلم نے قتادہ ؓ نے حسن ؓ ‘ حطان اور عبادہ ابن الصامت ؓ کے واسطہ سے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے ۔ الفاظ یہ ہیں : ” لو مجھ سے ‘ لو مجھ سے ‘ اللہ تعالیٰ نے راستہ بنا دیا ۔ غیر شادی شدہ ‘ غیر شادی شدہ کے ساتھ سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی اور شادی شدہ ‘ شادی شدہ کے ساتھ سو کوڑے اور پتھروں کے ساتھ رجم ۔ “ ماعز اور غامدیہ کے عملی واقعات جیسا کہ صحیح مسلم میں واقعات نقل ہوئے ہیں کہ حضور ﷺ نے انہیں رجم کی سزا دی لیکن کوڑے نہیں مارے ۔ اسی طرح یہودی اور یہودیہ کے واقعات آپ نے ان کو رجم کرنے کا فیصلہ فرمایا اور انہیں کوڑے نہیں مارے ۔ ان عملی واقعات سے معلوم ہوتا ہے ‘ آخری فیصلہ یہی تھا ۔ (آیت) ”۔ والذن یاتینھا منکم فاذوھما فان تابا واصلحا فاعرضوا عنھما ، ان اللہ کان توابا رحیما “۔ (61) ترجمہ : ” اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں ان دونوں کو تکلیف دو ‘ پھر آکر وہ توبہ کریں اور اپنی صلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ “ صحیح قول یہ ہے کہ اس آیت سے مراد وہ دو مرد ہیں جو بدفعلی کا ارتکاب کریں ۔ یعنی عمل قوم لوط ۔ یہ قول مجاہد کا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ سعید ابن جبیر ؓ وغیرہ نے کہا ہے کہ اذیت یوں دی جائے گی کہ انہیں گالی گلوچ اور برا بھلا کہا جائے گا اور جوتے وغیرہ مارے جائیں گے ۔ (آیت) ” فان تابا واصلح فاعرضوا عنھما “۔ ” پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں تو انہیں چھوڑ دو ۔ “ جس طرح بعد میں آئے گا ۔ توبہ واصلاح سے مراد ان کی زندگی میں مکمل تبدیلی ہے ۔ ان کے نقطہ نظر اور طرز عمل کی سمت کی مکمل تبدیلی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مکمل اور ہمہ جہت اصلاح کے بعد ان کی سزا موقوف ہوجاتی ہے اور سوسائٹی بھی ایسے منحرف اور بےراہ وافراد کی سزا کو جاری رکھنے پر اصرار نہیں کرتی ۔ یہاں ان کو چھوڑ دینے سے مراد یہی ہے ‘ کہ ان کی سزا کو موقوف کردیا جائے ۔ اور اس فقرے میں ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان توابا رحیما “۔ ” اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ “ وہی ہے جس نے یہ سزا تجویز کی اور وہی ہے جو اصلاح احوال کے بعد اس سزا کو جاری رکھنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ اس معاملے میں لوگوں کو نہ اختیار ہے کہ وہ سزا تجویز کریں اس معاملے میں قانون بنائیں اور نہ انہیں یہ اختیار ہے کہ اسے موقوف کریں ، ان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات اور قانون کے نفاذ کی کوشش کریں ۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ اور وہ اصلاح پذیری کرنے والوں پر رحم بھی کرتا ہے ۔ اور اس میں دوسرا اشارہ اس طرف ہے کہ لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ تخلق باخلاق اللہ اختیار کریں ۔ اپنے اندر ربانی اوصاف واخلاق پیدا کریں ۔ اللہ توبہ کرنے والا ہے اور رحم فرمانے والا ہے تو ان کا فرض بھی یہ ہے کہ وہ باہم تعلقات میں معذرت کرنے والے کو معاف کردیں ۔ چشم پوشی سے کام لیں کہ وہ گناہ تھا جو ہوچکا اور گزر گیا ۔ اور اس کے بعد توبہ ہوگئی اور اصلاح ہوگئی ، البتہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ مجرموں کے ساتھ نرمی کی جائے ‘ فحاشی پھیلانے والوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے ۔ ان معاملات میں نرمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ نرمی اور مہربانی صرف ان لوگوں کے ساتھ ہوگی جنہوں نے توبہ کرلی ‘ اصلاح پذیر ہوگئے ‘ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ انہیں معاشرے میں قبول کیا جائے ‘ ان کو ان کے سابقہ گناہ یاد نہ دلائے جائیں ‘ انہیں طعنہ نہ دیا جائے کیونکہ انہوں نے توبہ کرلی ہے اور اصلاح کرلی ہے ۔ اس لئے اصلاح احوال کے اس عمل میں ان کے ساتھ تعاون ہونا چاہئے اور انکی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ان کے جرائم کو بھول جانا چاہئے تاکہ سابقہ یادوں سے ان کو اذیت نہ ہو ‘ اور معاشرے میں آنے ہوئے انہیں کوئی تکلیف نہ ہو ۔ کیونکہ اگر معاشرہ ایسے لوگوں کے ماضی کو بھول نہ جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس جرم میں ‘ اصلاح کی راہ کو چھوڑ کر دوبارہ نہ مبتلا ہوجائیں ۔ اور اس پر اصرار نہ کرنے لگ جائیں اور دنیا وآخرت کے خسارے میں نہ پڑجائیں اور معاشرہ میں فساد پھیلا کر اسے مزید گندہ نہ کریں اور معاشرہ کے لئے مزید مصیبت کا باعث نہ بنیں ۔ یہ سزا بھی زمانہ مابعد میں تبدیل ہوگئی تھی ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوع حدیث اصحاب سنن نے نقل کی ہے ۔ رسول خدا ﷺ نے فمرایا : ” تم جسے لوطیوں کا فعل کرتے ہوئے پاو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ۔ “ ان احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ اپنی اخلاقی پاکیزگی کی خاطر کس قدر جدوجہد کرتا ہے ‘ خصوصا فحاشی سے ۔ چناچہ پہلے اسلامی معاشرہ نے اخلاقی تطہیر کی طرف بہت ہی آغاز میں توجہ شروع کردی تھی ۔ اخلاقی تطہیر کے لئے اسلام نے مدینہ میں اسلام حکومت کے قیام کا انتظار نہیں کیا ‘ کہ حکومت قائم ہوجائے اور پھر یہ حکومت شرعی قوانین کے نفاذ کا کام شروع کر دے ۔ نفاذ قانون سے پہلے سورت اسراء میں جو مکی سورت ہے زنا سے ممانعت کردی گئی تھی (آیت) ” ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشة ، وسآء سبیلا “۔ (23) ” اور زنا کے قریب ہی نہ پھٹکو ‘ یہ بےحیائی ہے اور برا راستہ ہے ۔ “ اور سورة المومنون میں ۔ (آیت) ” قد افلح المومنون الذین ھم فی صلوتھم خاشعون والذین ھم لفروجھم حافظون الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین “۔ ترجمہ : ” کامیاب ہوگئے وہ مومنین جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ‘ مگر بیویوں اور ان عورتوں کے ساتھ جو ان کے قبضے میں آگئی ہیں ۔ کیونکہ ان کے معاملے میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں ۔ “ اور مزید سورت المعارج میں دوبارہ اس کا ذکر ہوا ۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ مکہ میں نہ اسلامی حکومت تھی اور نہ اسلامی انتظامیہ تھی ، اس لئے مکہ میں اسلام نے ان جرائم کی ممانعت کے باوجود ان کے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کی ۔ ہاں جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی اور اسلامی انتظامیہ قائم ہوگئی تو اس وقت جرائم کی بیخ کنی کے لئے پھر صرف وعظ وتبلیغ اور امرونہی پر اکتفاء نہیں کیا گیا ۔ اس لئے کہ اسلام ایک حقیقت پسندانہ دین ہے ۔ اسے معلوم تھا کہ صرف ہدایات ‘ تبلیغ اور امرونہی ہی معاشرے کو گندگی سے بچانے کے لئے کافی نہیں ہیں ۔ اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ دین مملکت اور حکومت کے بغیر قائم ہی نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ کہ دین ایک مکمل منہاج اور پورا نظام زندگی ہے ‘ جس پر لوگوں کی پوری عملی زندگی قائم ہوتی ہے ۔ دین صرف نظریاتی شعور کا نام نہیں ہے جو صرف دین دنیا تک محدود ہوتے ہیں جس کی پشت پر حکومت نہ ہو ‘ جس کا کوئی قانونی نظام نہ ہو ‘ جس کا ایک متعین منہاج نہ ہو اور جس کا معلوم ومعروف دستور نہ ہو ۔ اسلامی نظریہ حیات مکہ مکرمہ کے اندر جونہی بعض برگزیدہ لوگوں کے ذہن میں بیٹھ گیا ‘ اس نظریہ حیات نے ان دلوں کے اندر جاہلیت اور جاہلی تصورات کو چیلنج کیا ۔ اس نظریہ نے ان کی فکری تطہیر شروع کردی ۔ اور جب اسلام مدینہ میں ایک مملکت بن گیا جس کے اندر نظام شریعت نافذ ہوگیا اور اسلامی منہاج زندگی ایک متعین شکل و صورت میں سامنے آگیا تب اسلامی حکومت نے معاشرے سے فحاشی کو مٹانا شروع کیا ۔ اور اس کے لئے سزا کا نظام نافذ کیا گیا ۔ لیکن وعظ و ارشاد کا نظام بھی اپنی جگہ کام کرتا رہا ۔ اس لئے کہ اسلام فقط نظریہ ہی نہیں ہے جو صرف دل کی دنیا میں کام کرتا ہو ‘ بلکہ وہ ایک نظام مملکت بھی ہے جسے لوگوں کی عملی زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے ۔ لہذا نظریہ اور عمل اسلام کے دو پاوں ہیں ‘ وہ کبھی بھی ایک پاوں پر کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ یہ شکل ہر اس دین کی رہی ہے جو اس کرہ ارض پر کبھی بھی اللہ کی جانب سے نازل کیا گیا ہے ۔ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ غلط خیال بیٹھا ہوا ہے کہ بعض دین ایسے بھی رہے ہیں جن کی کوئی شریعت نہ تھی ؟ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ دین ہو ‘ اس کی شریعت نہ ہو ‘ اس کی حکومت نہ ہو ‘ اس لئے کہ دین زندگی کا ایک مکمل نظام ہوتا ہے اور یہ ایک عملی نظام ہوتا ہے ۔ اس میں لوگ صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں صرف اسی کی ذات سے تمام ہدایات اخذ کرتے ہیں ۔ اسی سے تصور حیات لیتے ہیں ‘ اسی سے اخلاقی قدریں لیتے ہیں اور اسی سے قانون اور عملی ہدایات لیتے ہیں اور اسی سے قانون اخذ کرکے اسے حکومت کی قوت سے نافذ کرتے ہیں ۔ جو لوگ اس نظام اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں ‘ انہیں سزا دی جاتی ہے اور اس طرح معاشرے کو جاہلیت کی گندگی سے پاک کیا جاتا ہے ۔ تاکہ دین صرف اللہ کے لئے خالص ہوجائے اور تمام اور پورا دین اللہ کا رائج ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ نہ ہو ۔ کسی شکل میں بھی ۔ یعنی ایسا الہ جو لوگون کا قانون ساز ہو ‘ ان کے لئے حسن وقبح کے پیمانے وضع کرتا ہو اور ان کی زندگی کی تنظیم کرتا ہو اور پھر یہ کہ انسانوں کے لئے قانون سازی کا مقام رکھتا ہو ۔ کیونکہ الہ ہوتا ہی وہ ہے جو یہ سب کام کرتا ہو ۔ انسانوں میں سے جو شخص بھی درج بالا حیثیات میں سے کوئی حیثیت اپنے لئے مخصوص کرتا ہو سمجھ لو کہ اس نے گویا الوہیت کا دعوی کرلیا ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ جو نظام زندگی اللہ کی جانب سے ہو ‘ وہ کسی بھی صورت میں ایسے شخص کو ایسے دعوی کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ ایسا دعوی کرے اور اس پر عمل پیرا بھی ہو ۔ لہذا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو بھی دین آئے گا وہ ایک خالص نظریہ حیات اور بعض وجدانی تصورات اپنے ساتھ لے کر آئے گا ‘ اس کے ساتھ ایک عملی شریعت ہوگی اور اس کے بعد وہ ایک نظام حکومت حاصل کرے گا اور اس میں شریعت کا نفاذ ہوگا ۔ یہی صورت حال تھی ‘ جو مدینہ طیبہ میں اسلام نے پیدا کی ، اس نے ایک مملکت کی بنیاد رکھی ‘ اس کے لئے قانون سازی کی گئی اور جرائم پر سزا دی گئی ، جس طرح اس سورت میں ان قوانیں و احکام کی تصیلات ایک ایک کرکے ہم دیکھ رہے ہیں ان احکام میں وقتا فوقتا “ تبدیلی بھی ہوتی رہی اور یہ احکام وقوانین آخری شکل اختیار کرتے رہے ۔ جس طرح اللہ نے چاہا ‘ ہوتا رہا ۔ اور اس بات میں کوئی انوکھا پن نہیں ہے کہ اسلامی ریاست معاشرہ سے فحاشی کو مٹانے کے لئے اس قدر سخت قوانین وضع کر رہی ہے اور اس کی بیخ کنی کر رہی ہے ۔ قانون سازی ‘ اس کے نفاذ ‘ سزا دہی اور تربیت اور تادیب کے ذریعہ اسلامی معاشرے کو پاک کیا جارہا ہے ۔ اس لئے کہ ہر دور میں جاہلیت کی پہلی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس میں جنسی انار کی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ‘ جیسا کہ ہمارے دور کی جاہلیت جدیدہ میں ہم ہر طرف دیکھ رہے ہیں ۔ انسان کو جنسی لحاظ سے حیوان بنادیا گیا ہے ۔ جنسی تعلق کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق نہیں رہا ہے ‘ کوئی قانون نہیں رہا ہے اور اس جنسی انار کی اور آزادانہ جنسی اختلاط کو شخصی آزادی تصور کیا جاتا ہے اور جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے اسے رجعت پسند کہا جاتا ہے ۔ جاہلیت کے پرستار اپنی تمام آزادیوں کو نظر انداز کرسکتے ہیں لیکن وہ اس حیوانی آزادی سے دستبردار ہونے کے لئے کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہوتے ۔ وہ تمام دوسری آزادیاں تو چھوڑ سکتے ہیں لیکن جو شخص ان کی حیوانی جنسی آزادنی کی ضابطہ بندی کرتا ہے اور اسے پاک کرتا ہے وہ اس کے مقابلے میں آکھڑے ہوتے ہیں ۔ جاہلی معاشرے کی ایک اہم پالیسی یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کے تمام شعبے اخلاقی ضابطوں کی توڑ پھوڑ میں باہم معاون ہوتے ہیں ۔ یہ تمام تنظیمیں نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے تمام فطری ضابطوں کو برباد کرنے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں ‘ یہ لوگ لوگوں کی نظروں میں اس حیوانی جنسی بےراہ روی کو مزین بناتے ہیں اور اسے بڑے ہی خوبصورت اور پاکیزہ عنوانات کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور مختلف طریقوں سے جنسی تعلقات کے اندر ہیجان پیدا کرتے ہیں اور اسے مجبور کرتے ہیں کہ یہ تعلق کسی ضابطے کا پابند نہ رہے ۔ یہ جاہلی نظام ایک نوجوان پر سے خاندان کی طرف سے کنڑول ختم کرتا ہے بلکہ خود خاندانی نظام کو ختم کرتا ہے ‘ اور صحت مند جنسی شعور کو ذلیل ننگی جنسی بےراہ روی میں تبدیل کرتا ہے وہ اسے قابل تعریف قرار دیتا ہے بلکہ اس کی خاطر وہ عریانی کو رواج دیتا ہے اور یہ عریانی بیک وقت جسمانی جذبانی اور انداز تعبیر یعنی ادب میں بھی رواج پاتی ہے ۔ جسم ننگا ‘ جذبات ننگے اور ادب ننگا ہوجاتا ہے ۔ جب اسلام آیا تو اس وقت معاشرہ میں اس گری ہوئی جاہلیت کے تمام خدوخال موجود تھے اور اسلام کے اہداف میں سے ایک ہدف یہ تھا کہ انسان تصورات اور انسانی سوسائٹیوں کو ان گندگیوں سے پاک کر دے اور یہ خدوخال ہر جاہلی نظام میں موجود ہوتے ہیں ۔ جن لوگوں نے عرب جاہلیت کے سرخیل امرء القیس کے اشعار پڑھے ہیں تو بعینہ ویسے ہی نمونے یونانی جاہلیت میں موجود ہیں ۔ ویسے ہی نمونے رومی جاہلیت میں بھی پائے جاتے ہیں اور یہی رخ ہے آج کے تمام جاہلی آداب کا جس میں آج کے عربوں کا جاہلی ادب بھی شامل ہے ۔ اسی طرح کسی ایک جاہلی معاشرے کے رسم و رواج کا اگر مطالعہ کیا جائے تو اس میں عورت کا بازاری پن ‘ عشاق چاک گریبانی ‘ مرد وزن کا بےقید اختلاط پایا جائے گا اور یہی وہ صفات ہیں جو ہر قدیم وجدید جاہلیتوں کے اندر پائی جاتی ہیں ۔ اور یہی ان سب کے درمیان قدر مشترک ہے ۔ اور یہ اوصاف ایک ہی فکر کی پیدا وار ہوتے ہیں اور باہم بالکل مماثل ہوتے ہیں ۔ تاریخ گواہ کہ یہی جنسی بےراہ روی ہے ‘ جس کی وجہ سے تہذیبوں کے اندر توڑ پھوڑ کا عمل پیدا ہوا ‘ جس سے اقوام زوال کے گڑھے میں گریں ‘ یہی صورت حال یونانی تہذیب کو پیش ہوئی ۔ اس کے بعد رومیوں کے ساتھ یہی حادثہ ہوا قدیم فارسی تہذیب کو بھی انہی اسباب نے تباہ کیا اور آج بھی مغربی تہذیب کے یورپی اور امریکی معاشرے اس جنسی بےراہ روی کے ہاتھوں توڑ پھوڑ کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ان معاشروں کا تہذیبی زوال شروع ہوچکا ہے حالانکہ ان کی صنعتی اور تمدنی ترقی اپنے عروج پر ہے ۔ اہل غرب کے دانشمند اور دانشور اس تہذیبی زوال کے آغاز سے سخت پریشان ہیں لیکن جس طرح کہ ان کے اقوال اور تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے وہ اس زوال پذیری کے عمل کے سامنے کسی قسم کا بند باندھنے سے عاجز ہیں ۔ (1) (دیکھئے مولانا سید مودودی رحمة اللہ علیہ امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کتاب ” الحجاب “ اس امر کے باوجود کہ وہ اپنے انجام کو اچھی طرح جان رہے ہوتے ہیں ‘ جاہلیت کے علمبردار ہر دور میں اور ہر جگہ میں اس زوال کی طرف دھکیلے چلے جاتے ہیں ۔ وہ بعض اوقات تمام انسانی آزادیوں سے دستبردار ہوجاتے ہیں ‘ یا اس کے لئے تیار ہوجاتے ہیں لیکن ان کی اس حیوانی آزادی کے سامنے اگر کوئی معمولی سی رکاوٹ آتی ہے تو وہ اس کے لئے ہر گز تیار نہیں ہوتے ۔ وہ مکمل غلامی کے لیے تو تیار ہوجاتے ہیں لیکن اس حیوانی جنسی آزادی کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ کیا یہ آزادی ہے ۔ کیا یہ کوئی حقوق ہیں ‘ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو انسانی مرتبے سے ‘ حیوانی زندگی کی طرف لوٹنا ہے ۔ اور حیوانی تقاضوں کی بدترین غلامی ہے ۔ بلکہ یہ لوگ حیوانوں سے بھی زیادہ گر گئے ہیں ۔ حیوانوں کی حالت تو یہ ہے کہ ان کی جنسی خواہش ایک فطری قید کے اندر مقید ہے ۔ حیوانوں کے لئے اللہ نے ایک موسم مقرر کردیا ہے جس کے اندر نر مادہ دونوں کے اندر جنسی ملاپ کی خواہش پیدا ہوتی ہے ۔ اور یہ جنسی ملاپ بھی محض تلذذ کے لئے نہیں ہوتا بلکہ فطرت کے مقاصد یعنی نسل کشی کے لئے ہوتا ہے ۔ حیوان مادہ نر کو صرف متعین وقت میں قبول کرتی ہے ۔ اور نر بھی اسی وقت آمادہ ہوتا ہے جب مادہ تیار ہو ۔ رہا انسان تو اللہ تعالیٰ نے اس کی جنسی خواہش کو اس کی عقل کے کنڑول میں دے دیا ہے اور اس کی عقل کو اس کے نظریہ کے تابع قرار دیا ہے جب بھی عقل انسانی اس کے نظریہ حیات کے کنٹرول سے باہر نکلتی ہے ۔ انسانی عقل فطری خواہش اور دباو کا مقابلہ نہیں کرسکتی وہ جسمانی تقاضوں کے سامنے کمزور پڑجاتی ہے ۔ اور ایسے حالات میں خواہشات نفسانیہ کا ضبط مشکل پڑجانا ہے اور معاشرے کو اس گندگی سے پاک کرنا محال ہوجاتا ہے ۔ یہ کام صرف نظریہ حیات ہی کرسکتا ہے جو را ہوار نفس کی زمام کی مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے ۔ اس کے بعد اس نظریہ حیات کے بل بوتے پر ایک سیاسی قوت کا وجود ضروری ہوتا ہے جو اس عقیدے اور نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ اور اس قوت کے ہاتھ میں پھر حکومت کا آنا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ یہ حکومت بذریعہ تربیت اور راہنمائی اور سزا دہی منحرفین کی راہ روکے اور انسان کو برے راستوں سے موڑ کر ‘ حیوانی مقام سے بلند کر دے اور وہ انسانیت کو اشراف المخلوقات کے مقام بلند تک پہنچا دے ۔ جب بھی انسان جاہلیت کے دور میں داخل ہوتا ہے ‘ اس کا کوئی نظریہ حیات نہیں ہوتا ۔ اس کے پاس جو اجتماعی حکومت بھی ہوتی ہے اس کا بھی کوئی نظریہ نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عرصہ سے مغربی جاہلیت کے دانشور چیخ رہے ہیں اور کوئی نہیں ہے جو ان کی طرف متوجہ ہو ۔ اس لئے کہ انسان محض ہوائی باتوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتا ۔ جب تک ان باتوں کی پشت پر قوت نافذہ نہ ہو ‘ اسی طرح مغرب میں اہل کنیسا اور مذہبی لوگ مسلسل چیخ رہے ہیں لیکن کوئی نہیں جو ان کی بات سنے ۔ اس لئے کہ لوگ محض نظریات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔ الا یہ کہ ان نظریات کی پشت پر حکومت ہو اور وہ ان کی حامی ہو ۔ وہ ان نظریات کی راہنمائی پر عمل پیرا ہو قوانین و ضوابط کو نافذ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت جہنم کے گڑھے کی طرف رواں دواں ہے وہ اس فطری ضابطے سے بھی آزاد ہے جو حیوان کے لئے قدرت نے خود مقرر کردیا ہے ۔ وہ نظریہ ہے ۔ وہ نظریہ ایمان اور شریعت کے بندھنوں سے بھی آزاد ہے ‘ جو اللہ نے انسان کے لئے نازل کی ہے ۔ اس مغربی تہذیب کی بربادی اور تباہی اٹل ہے ۔ ان سابقہ تاریخی تجربات کی روشنی میں جو تمام جاہلی تہذیبوں کی تاریخ میں پیش آئے چاہے بظاہر وہ پختہ اور سیملٹڈ نظر آئے چاہے بظاہر وہ وسیع الاساس نظر آئے ۔ اس لئے کہ انسان تہذیب سے بڑی اور اہم مخلوق ہے ۔ جب انسان تباہ ہوجائے تو انسانی تہذیب کو محض صنعت اور کثرت پیداوار کے بل بوتے پر نہیں بچایا جاسکتا ۔ یہ ہے اصل حقیقت اور جس وقت ہم اس کی گہرائیوں تک پہنچ گئے ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ اسلام کس قدر عظیم نظام زندگی ہے ۔ اور کیوں اس نے جنسی بےراہ روی کے لئے اس قدر سخت ترین سزائیں تجویز کی ہیں ؟ محض اس لئے کہ ” انسان “ کو ہلاکت سے بچایا جائے ۔ انسانی زندگی کو اصل انسانی بنیادوں پر استوار کیا جائے اور اس سے ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہوجائے گا کہ جو ادارے اور حکومتیں ان انسانی اساسوں کا قلع قمع کر رہی ہیں ‘ وہ انسانیت کے خلاف کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ وہ محض فحاشی پھیلا کر حیوانی شہوت رانی کے جذبات کو جگا کر اور عریانی کے ذریعہ جنسی بےراہ روی کو منظم کر کے ‘ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اس کا نام کبھی وہ فن اور فنکاری رکھتے ہیں ۔ کبھی وہ اسے آزادی کا نام دیتے ہیں ۔ اور کبھی وہ اسے ترقی پسندی کہتے ہیں ۔ لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم انسانیت کی تباہی کی ہر شکل و صورت اور ہر عنوان کے سامنے کھڑے ہوجائیں ، نصیحت وتبلیغ اور جزا وسزا دونوں کے ذریعہ اس کو روکیں یہ وہ کام ہے جسے اس دنیا میں صرف اسلام سرانجام دے رہا ہے اور یہ کام وہ اسلام کے مکمل نظام زندگی کے نفاذ کے ذریعہ کرتا ہے ۔ جو نہایت ہی قوی الاساس ہے ۔ (1) (دیکھے میری کتاب (الاسلام والسلام العالمی) کی فصل گھر کی سلامتی ۔ ہاں جنسی بےراہ روی کے خلاف ان قانونی تدابیر کے باوجود اسلام خطا کاروں کے لئے واپسی کا دروازہ بند نہیں کرتا ۔ اگر وہ توبہ کریں ‘ پاکی کی راہ اپنائیں اور واپس ہونا چاہیں تو توبہ کے دروازے کھلے ہیں بلکہ اسلام ان کی واپسی کے لئے کھلی راہ فراہم کرتا ہے ۔ وہ ان کی واپسی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ جب بھی وہ توبہ کریں اللہ تعالیٰ انکی توبہ قبول کرتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے اوپر مجرموں کے لئے یہ حق لازم کرتا ہے کہ وہ ضرور توبہ قبول کرے گا ۔ صد بار اگر توبہ شکستی باز آ۔ یہ اللہ کا اس قدر عظیم کرم ہے جو انتہا کو پہنچا ہوا ہے اور اب اس میں مزید کوئی اضافہ ممکن ہی نہیں ہے ۔

النساء 4:16

سبق 13 تشریح آیات : آیت نمبر 51 تا 32 : فحاشی کو روکنے کی خاطر اور اس کی پاکیزگی اور تنظیم کی خاطر بھی اسلام نے اپنا مخصوص انداز اختیار کیا ۔ سب سے پہلے اس نے فاحشہ عورتوں کو نظر بند کرنے اور انہیں معاشرہ سے دور رکھنے کے اقدامات کئے بشرطیکہ ان پر یہ جرم ثابت ہوجائے ۔ اس کے بعد اس نے غیر فطری فعل کا ارتکاب کرنے والے مردوں یعنی لوطیوں کے بارے میں حکم دیا کہ انہیں ایذا دی جائے لیکن اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی ۔ اور اس کے بعد ان لوگوں کے لئے ایک ہی سزا فرمائی یعنی سزائے حد کی سزا جس کا ذکر سورة نور میں ہوا ۔ یعنی سوکوڑے سزا اور اس کے علاوہ وہ سزائے رجم مقرر کی جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے ۔ ان سب اقدامات کا مقصد وحدی صرف یہ تھا کہ معاشرے کو بدکاری سے پاک کیا جائے اور معاشرے کی پاکی ‘ شرافت اور عفت مالی کی حفاظت کی جائے ۔ لیکن سزا دہی کے تمام حالات میں ‘ شریعت نے ملزموں کے لئے تحفظ کا پورا پورا انتظام کیا ہے ۔ ایسا انتظام کہ جس کے ہوتے ہوئے کسی غلطی ‘ کسی ظلم اور محض ظن و گمان کی اساس پر سزا دہی ممکن ہی نہیں رہتی ۔ خصوصا ان خطرناک جرائم میں جن کے اثرات لوگوں کی رواں دواں زندگی پر پڑے ہیں ۔ (آیت) ”۔ والتی یاتین الفاحشة من نسآئکم فاستشھدوا علیھن اربعة منکم فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت حتی یتوفھن الموت اویجعل اللہ لھن سبیلا ۔ (51) ترجمہ : ” تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں ان پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو ‘ اور اگر چار آدمی گواہی دیدیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کیلئے کوئی راستہ نکال دے ۔ “ آیت میں نہایت ہی محتاط انداز میں قانون سازی کی گئی ہے ۔ جن عورتوں پر یہ جرم عائد کیا گیا ہے ‘ کی تحدید کردی گئی ہے ۔ (آیت) ” من نسآئکم “ یعنی مسلم عورتیں ۔ اسی طرح ان کے خلاف جو شہادت قائم ہوگی اس کی بھی تحدید کردی گئی ہے ۔ (آیت) ” منکم “ یعنی گواہ بھی مسلمان ہوں ۔ چناچہ جن ملزموں کو سزا دی جائے گی وہ صرف وہ ہوں گے جن کا جرم ثابت ہوجائے اور جن لوگوں کو بطور گواہ پیش کیا جائے گا ‘ ان کا مسلمان ہونا ضروری ہے ۔ اگر مسلمان عورتوں میں سے کوئی فحاشی کا ارتکاب کرے تو ان کے خلاف غیر مسلمانوں کی شہادت قبول نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ گواہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ تعداد میں بھی چار ہوں ۔ یعنی مسلم معاشرے سے ہوں ‘ اس معاشرے میں بس رہے ہوں ‘ وہ شریعت اسلامی کے تابع ہوں ۔ وہ اسلامی قیادت کے مطیع ہوں ۔ ان کے دلوں میں اسلامی شریعت کا احساس ہو ۔ اور وہ اس معاشرے کے حقوق وذمہ داریوں سے بھی آگاہ ہوں ۔ اس لئے اس معاملے میں غیر مسلمانوں کی شہادت قبول نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک غیر مسلم ایک مسلمان عورت کو محض مقدمہ میں پھنسانے کے لئے شہادت دے دے ۔ نیز ایک غیر مسلم کی امانت ‘ دیانت خدا خوفی اور مصلحت وغیرہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ اس لئے کہ ایک غیر مسلم کو اسلامی معاشرے کی پاکیزگی سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ نہ اسے یہ دلچسپی ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے میں نظام عدالت کا میاب ہو ۔ شہادت کے سلسلے میں یہ حدود وقیود بہر حال اس وقت بھی باقی رہیں جب سزا میں تبدیلی ہوگی یعنی بعد میں جب سزا کوڑوں اور رجم میں بدل گئی ۔ (آیت) ” فان شھدوا فامسکوھن فی البیوت “۔ اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو “۔ وہ معاشرہ میں اختلاط نہ رکھیں ‘ اسے مزید گندہ نہ کریں ‘ اس میں نکاح نہ کریں اور نہ کوئی اور سرگرمی دکھائیں ۔ (آیت) ” حتی یتوفاھن الموت “۔ یہاں تک کہ انہیں موت آجائے ۔ “ وہ اسی طرح قید میں مرجائیں ۔ گھروں میں بند ہوں ۔ (آیت) ” اویجعل اللہ لھن سبیلا “۔ یا اللہ ان کے لئے کوئی راستہ نکال دے “۔ یعنی ان کی حالت میں تبدیلی کر دے یا سزا میں تبدیلی کردے ۔ یا ان کے معاملات میں کوئی اور تبدیلی لے آئے ۔ ان الفاظ سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ یہ حکم انتہائی اور آخری نہ تھا ۔ یہ خاص متعین وقت کے لئے تھا اور بعض خاص حالات کے لئے تھا ۔ اور اس وقت ایسے مجرموں کے لئے آخری حکم آنے کی توقعات تھیں ۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ حکم سورة نور میں سو کوڑوں کی شکل میں بدل گیا اور احادیث رسول کے ذریعہ رجم میں بدل گیا لیکن شہادت اور ثبوت جرم کے سلسلے میں ملزموں کو جو ضمانتیں دی گئی تھیں وہ بدستور قائم ہیں ۔ امام احمد رحمة اللہ علیہ نے محمد ابن جعفر رحمة اللہ علیہ سعید رحمة اللہ علیہ ‘ قتادہ ؓ حسن ‘ اور ھطان بن عبداللہ الرقاشی کے واسطوں سے حضرت ابن الصامت ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : ” حضور اکرم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو اس کا آپ پر اثر ہوتا تھا آپ پریشان ہوجاتے تھے ‘ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا تھا ۔ ایک دن آپ ﷺ پر وحی آرہی تھی تو جب حال نزول وحی دور ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : لو مجھ سے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں کے لئے راستہ نکال دیا ۔ شادی شدہ ‘ شادی شدہ کے ساتھ اور کنوارا کنواری کے ساتھ ‘ شادی شدہ کو سو کوڑے اور پھر پتھروں کے ساتھ رجم اور غیر شادی شدہ سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ۔ “ اس روایت کو امام مسلم نے قتادہ ؓ نے حسن ؓ ‘ حطان اور عبادہ ابن الصامت ؓ کے واسطہ سے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ہے ۔ الفاظ یہ ہیں : ” لو مجھ سے ‘ لو مجھ سے ‘ اللہ تعالیٰ نے راستہ بنا دیا ۔ غیر شادی شدہ ‘ غیر شادی شدہ کے ساتھ سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی اور شادی شدہ ‘ شادی شدہ کے ساتھ سو کوڑے اور پتھروں کے ساتھ رجم ۔ “ ماعز اور غامدیہ کے عملی واقعات جیسا کہ صحیح مسلم میں واقعات نقل ہوئے ہیں کہ حضور ﷺ نے انہیں رجم کی سزا دی لیکن کوڑے نہیں مارے ۔ اسی طرح یہودی اور یہودیہ کے واقعات آپ نے ان کو رجم کرنے کا فیصلہ فرمایا اور انہیں کوڑے نہیں مارے ۔ ان عملی واقعات سے معلوم ہوتا ہے ‘ آخری فیصلہ یہی تھا ۔ (آیت) ”۔ والذن یاتینھا منکم فاذوھما فان تابا واصلحا فاعرضوا عنھما ، ان اللہ کان توابا رحیما “۔ (61) ترجمہ : ” اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں ان دونوں کو تکلیف دو ‘ پھر آکر وہ توبہ کریں اور اپنی صلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ “ صحیح قول یہ ہے کہ اس آیت سے مراد وہ دو مرد ہیں جو بدفعلی کا ارتکاب کریں ۔ یعنی عمل قوم لوط ۔ یہ قول مجاہد کا ہے ۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ سعید ابن جبیر ؓ وغیرہ نے کہا ہے کہ اذیت یوں دی جائے گی کہ انہیں گالی گلوچ اور برا بھلا کہا جائے گا اور جوتے وغیرہ مارے جائیں گے ۔ (آیت) ” فان تابا واصلح فاعرضوا عنھما “۔ ” پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کریں تو انہیں چھوڑ دو ۔ “ جس طرح بعد میں آئے گا ۔ توبہ واصلاح سے مراد ان کی زندگی میں مکمل تبدیلی ہے ۔ ان کے نقطہ نظر اور طرز عمل کی سمت کی مکمل تبدیلی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مکمل اور ہمہ جہت اصلاح کے بعد ان کی سزا موقوف ہوجاتی ہے اور سوسائٹی بھی ایسے منحرف اور بےراہ وافراد کی سزا کو جاری رکھنے پر اصرار نہیں کرتی ۔ یہاں ان کو چھوڑ دینے سے مراد یہی ہے ‘ کہ ان کی سزا کو موقوف کردیا جائے ۔ اور اس فقرے میں ایک لطیف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان توابا رحیما “۔ ” اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ “ وہی ہے جس نے یہ سزا تجویز کی اور وہی ہے جو اصلاح احوال کے بعد اس سزا کو جاری رکھنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ اس معاملے میں لوگوں کو نہ اختیار ہے کہ وہ سزا تجویز کریں اس معاملے میں قانون بنائیں اور نہ انہیں یہ اختیار ہے کہ اسے موقوف کریں ، ان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایات اور قانون کے نفاذ کی کوشش کریں ۔ وہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ اور وہ اصلاح پذیری کرنے والوں پر رحم بھی کرتا ہے ۔ اور اس میں دوسرا اشارہ اس طرف ہے کہ لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ تخلق باخلاق اللہ اختیار کریں ۔ اپنے اندر ربانی اوصاف واخلاق پیدا کریں ۔ اللہ توبہ کرنے والا ہے اور رحم فرمانے والا ہے تو ان کا فرض بھی یہ ہے کہ وہ باہم تعلقات میں معذرت کرنے والے کو معاف کردیں ۔ چشم پوشی سے کام لیں کہ وہ گناہ تھا جو ہوچکا اور گزر گیا ۔ اور اس کے بعد توبہ ہوگئی اور اصلاح ہوگئی ، البتہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ مجرموں کے ساتھ نرمی کی جائے ‘ فحاشی پھیلانے والوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کیا جائے ۔ ان معاملات میں نرمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ نرمی اور مہربانی صرف ان لوگوں کے ساتھ ہوگی جنہوں نے توبہ کرلی ‘ اصلاح پذیر ہوگئے ‘ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ انہیں معاشرے میں قبول کیا جائے ‘ ان کو ان کے سابقہ گناہ یاد نہ دلائے جائیں ‘ انہیں طعنہ نہ دیا جائے کیونکہ انہوں نے توبہ کرلی ہے اور اصلاح کرلی ہے ۔ اس لئے اصلاح احوال کے اس عمل میں ان کے ساتھ تعاون ہونا چاہئے اور انکی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے ان کے جرائم کو بھول جانا چاہئے تاکہ سابقہ یادوں سے ان کو اذیت نہ ہو ‘ اور معاشرے میں آنے ہوئے انہیں کوئی تکلیف نہ ہو ۔ کیونکہ اگر معاشرہ ایسے لوگوں کے ماضی کو بھول نہ جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس جرم میں ‘ اصلاح کی راہ کو چھوڑ کر دوبارہ نہ مبتلا ہوجائیں ۔ اور اس پر اصرار نہ کرنے لگ جائیں اور دنیا وآخرت کے خسارے میں نہ پڑجائیں اور معاشرہ میں فساد پھیلا کر اسے مزید گندہ نہ کریں اور معاشرہ کے لئے مزید مصیبت کا باعث نہ بنیں ۔ یہ سزا بھی زمانہ مابعد میں تبدیل ہوگئی تھی ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مرفوع حدیث اصحاب سنن نے نقل کی ہے ۔ رسول خدا ﷺ نے فمرایا : ” تم جسے لوطیوں کا فعل کرتے ہوئے پاو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ۔ “ ان احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ اپنی اخلاقی پاکیزگی کی خاطر کس قدر جدوجہد کرتا ہے ‘ خصوصا فحاشی سے ۔ چناچہ پہلے اسلامی معاشرہ نے اخلاقی تطہیر کی طرف بہت ہی آغاز میں توجہ شروع کردی تھی ۔ اخلاقی تطہیر کے لئے اسلام نے مدینہ میں اسلام حکومت کے قیام کا انتظار نہیں کیا ‘ کہ حکومت قائم ہوجائے اور پھر یہ حکومت شرعی قوانین کے نفاذ کا کام شروع کر دے ۔ نفاذ قانون سے پہلے سورت اسراء میں جو مکی سورت ہے زنا سے ممانعت کردی گئی تھی (آیت) ” ولا تقربوا الزنی انہ کان فاحشة ، وسآء سبیلا “۔ (23) ” اور زنا کے قریب ہی نہ پھٹکو ‘ یہ بےحیائی ہے اور برا راستہ ہے ۔ “ اور سورة المومنون میں ۔ (آیت) ” قد افلح المومنون الذین ھم فی صلوتھم خاشعون والذین ھم لفروجھم حافظون الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین “۔ ترجمہ : ” کامیاب ہوگئے وہ مومنین جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں ‘ مگر بیویوں اور ان عورتوں کے ساتھ جو ان کے قبضے میں آگئی ہیں ۔ کیونکہ ان کے معاملے میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں ۔ “ اور مزید سورت المعارج میں دوبارہ اس کا ذکر ہوا ۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ مکہ میں نہ اسلامی حکومت تھی اور نہ اسلامی انتظامیہ تھی ، اس لئے مکہ میں اسلام نے ان جرائم کی ممانعت کے باوجود ان کے لئے کوئی سزا تجویز نہیں کی ۔ ہاں جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی اور اسلامی انتظامیہ قائم ہوگئی تو اس وقت جرائم کی بیخ کنی کے لئے پھر صرف وعظ وتبلیغ اور امرونہی پر اکتفاء نہیں کیا گیا ۔ اس لئے کہ اسلام ایک حقیقت پسندانہ دین ہے ۔ اسے معلوم تھا کہ صرف ہدایات ‘ تبلیغ اور امرونہی ہی معاشرے کو گندگی سے بچانے کے لئے کافی نہیں ہیں ۔ اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ دین مملکت اور حکومت کے بغیر قائم ہی نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ کہ دین ایک مکمل منہاج اور پورا نظام زندگی ہے ‘ جس پر لوگوں کی پوری عملی زندگی قائم ہوتی ہے ۔ دین صرف نظریاتی شعور کا نام نہیں ہے جو صرف دین دنیا تک محدود ہوتے ہیں جس کی پشت پر حکومت نہ ہو ‘ جس کا کوئی قانونی نظام نہ ہو ‘ جس کا ایک متعین منہاج نہ ہو اور جس کا معلوم ومعروف دستور نہ ہو ۔ اسلامی نظریہ حیات مکہ مکرمہ کے اندر جونہی بعض برگزیدہ لوگوں کے ذہن میں بیٹھ گیا ‘ اس نظریہ حیات نے ان دلوں کے اندر جاہلیت اور جاہلی تصورات کو چیلنج کیا ۔ اس نظریہ نے ان کی فکری تطہیر شروع کردی ۔ اور جب اسلام مدینہ میں ایک مملکت بن گیا جس کے اندر نظام شریعت نافذ ہوگیا اور اسلامی منہاج زندگی ایک متعین شکل و صورت میں سامنے آگیا تب اسلامی حکومت نے معاشرے سے فحاشی کو مٹانا شروع کیا ۔ اور اس کے لئے سزا کا نظام نافذ کیا گیا ۔ لیکن وعظ و ارشاد کا نظام بھی اپنی جگہ کام کرتا رہا ۔ اس لئے کہ اسلام فقط نظریہ ہی نہیں ہے جو صرف دل کی دنیا میں کام کرتا ہو ‘ بلکہ وہ ایک نظام مملکت بھی ہے جسے لوگوں کی عملی زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے ۔ لہذا نظریہ اور عمل اسلام کے دو پاوں ہیں ‘ وہ کبھی بھی ایک پاوں پر کھڑا نہیں ہو سکتا ۔ یہ شکل ہر اس دین کی رہی ہے جو اس کرہ ارض پر کبھی بھی اللہ کی جانب سے نازل کیا گیا ہے ۔ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ غلط خیال بیٹھا ہوا ہے کہ بعض دین ایسے بھی رہے ہیں جن کی کوئی شریعت نہ تھی ؟ ہر گز نہیں ہو سکتا کہ دین ہو ‘ اس کی شریعت نہ ہو ‘ اس کی حکومت نہ ہو ‘ اس لئے کہ دین زندگی کا ایک مکمل نظام ہوتا ہے اور یہ ایک عملی نظام ہوتا ہے ۔ اس میں لوگ صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں صرف اسی کی ذات سے تمام ہدایات اخذ کرتے ہیں ۔ اسی سے تصور حیات لیتے ہیں ‘ اسی سے اخلاقی قدریں لیتے ہیں اور اسی سے قانون اور عملی ہدایات لیتے ہیں اور اسی سے قانون اخذ کرکے اسے حکومت کی قوت سے نافذ کرتے ہیں ۔ جو لوگ اس نظام اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں ‘ انہیں سزا دی جاتی ہے اور اس طرح معاشرے کو جاہلیت کی گندگی سے پاک کیا جاتا ہے ۔ تاکہ دین صرف اللہ کے لئے خالص ہوجائے اور تمام اور پورا دین اللہ کا رائج ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ نہ ہو ۔ کسی شکل میں بھی ۔ یعنی ایسا الہ جو لوگون کا قانون ساز ہو ‘ ان کے لئے حسن وقبح کے پیمانے وضع کرتا ہو اور ان کی زندگی کی تنظیم کرتا ہو اور پھر یہ کہ انسانوں کے لئے قانون سازی کا مقام رکھتا ہو ۔ کیونکہ الہ ہوتا ہی وہ ہے جو یہ سب کام کرتا ہو ۔ انسانوں میں سے جو شخص بھی درج بالا حیثیات میں سے کوئی حیثیت اپنے لئے مخصوص کرتا ہو سمجھ لو کہ اس نے گویا الوہیت کا دعوی کرلیا ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ جو نظام زندگی اللہ کی جانب سے ہو ‘ وہ کسی بھی صورت میں ایسے شخص کو ایسے دعوی کی اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ ایسا دعوی کرے اور اس پر عمل پیرا بھی ہو ۔ لہذا منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو بھی دین آئے گا وہ ایک خالص نظریہ حیات اور بعض وجدانی تصورات اپنے ساتھ لے کر آئے گا ‘ اس کے ساتھ ایک عملی شریعت ہوگی اور اس کے بعد وہ ایک نظام حکومت حاصل کرے گا اور اس میں شریعت کا نفاذ ہوگا ۔ یہی صورت حال تھی ‘ جو مدینہ طیبہ میں اسلام نے پیدا کی ، اس نے ایک مملکت کی بنیاد رکھی ‘ اس کے لئے قانون سازی کی گئی اور جرائم پر سزا دی گئی ، جس طرح اس سورت میں ان قوانیں و احکام کی تصیلات ایک ایک کرکے ہم دیکھ رہے ہیں ان احکام میں وقتا فوقتا “ تبدیلی بھی ہوتی رہی اور یہ احکام وقوانین آخری شکل اختیار کرتے رہے ۔ جس طرح اللہ نے چاہا ‘ ہوتا رہا ۔ اور اس بات میں کوئی انوکھا پن نہیں ہے کہ اسلامی ریاست معاشرہ سے فحاشی کو مٹانے کے لئے اس قدر سخت قوانین وضع کر رہی ہے اور اس کی بیخ کنی کر رہی ہے ۔ قانون سازی ‘ اس کے نفاذ ‘ سزا دہی اور تربیت اور تادیب کے ذریعہ اسلامی معاشرے کو پاک کیا جارہا ہے ۔ اس لئے کہ ہر دور میں جاہلیت کی پہلی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس میں جنسی انار کی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ‘ جیسا کہ ہمارے دور کی جاہلیت جدیدہ میں ہم ہر طرف دیکھ رہے ہیں ۔ انسان کو جنسی لحاظ سے حیوان بنادیا گیا ہے ۔ جنسی تعلق کے لئے کوئی ضابطہ اخلاق نہیں رہا ہے ‘ کوئی قانون نہیں رہا ہے اور اس جنسی انار کی اور آزادانہ جنسی اختلاط کو شخصی آزادی تصور کیا جاتا ہے اور جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے اسے رجعت پسند کہا جاتا ہے ۔ جاہلیت کے پرستار اپنی تمام آزادیوں کو نظر انداز کرسکتے ہیں لیکن وہ اس حیوانی آزادی سے دستبردار ہونے کے لئے کسی صورت میں بھی تیار نہیں ہوتے ۔ وہ تمام دوسری آزادیاں تو چھوڑ سکتے ہیں لیکن جو شخص ان کی حیوانی جنسی آزادنی کی ضابطہ بندی کرتا ہے اور اسے پاک کرتا ہے وہ اس کے مقابلے میں آکھڑے ہوتے ہیں ۔ جاہلی معاشرے کی ایک اہم پالیسی یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کے تمام شعبے اخلاقی ضابطوں کی توڑ پھوڑ میں باہم معاون ہوتے ہیں ۔ یہ تمام تنظیمیں نفس انسانی کے اندر پائے جانے والے تمام فطری ضابطوں کو برباد کرنے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں ‘ یہ لوگ لوگوں کی نظروں میں اس حیوانی جنسی بےراہ روی کو مزین بناتے ہیں اور اسے بڑے ہی خوبصورت اور پاکیزہ عنوانات کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور مختلف طریقوں سے جنسی تعلقات کے اندر ہیجان پیدا کرتے ہیں اور اسے مجبور کرتے ہیں کہ یہ تعلق کسی ضابطے کا پابند نہ رہے ۔ یہ جاہلی نظام ایک نوجوان پر سے خاندان کی طرف سے کنڑول ختم کرتا ہے بلکہ خود خاندانی نظام کو ختم کرتا ہے ‘ اور صحت مند جنسی شعور کو ذلیل ننگی جنسی بےراہ روی میں تبدیل کرتا ہے وہ اسے قابل تعریف قرار دیتا ہے بلکہ اس کی خاطر وہ عریانی کو رواج دیتا ہے اور یہ عریانی بیک وقت جسمانی جذبانی اور انداز تعبیر یعنی ادب میں بھی رواج پاتی ہے ۔ جسم ننگا ‘ جذبات ننگے اور ادب ننگا ہوجاتا ہے ۔ جب اسلام آیا تو اس وقت معاشرہ میں اس گری ہوئی جاہلیت کے تمام خدوخال موجود تھے اور اسلام کے اہداف میں سے ایک ہدف یہ تھا کہ انسان تصورات اور انسانی سوسائٹیوں کو ان گندگیوں سے پاک کر دے اور یہ خدوخال ہر جاہلی نظام میں موجود ہوتے ہیں ۔ جن لوگوں نے عرب جاہلیت کے سرخیل امرء القیس کے اشعار پڑھے ہیں تو بعینہ ویسے ہی نمونے یونانی جاہلیت میں موجود ہیں ۔ ویسے ہی نمونے رومی جاہلیت میں بھی پائے جاتے ہیں اور یہی رخ ہے آج کے تمام جاہلی آداب کا جس میں آج کے عربوں کا جاہلی ادب بھی شامل ہے ۔ اسی طرح کسی ایک جاہلی معاشرے کے رسم و رواج کا اگر مطالعہ کیا جائے تو اس میں عورت کا بازاری پن ‘ عشاق چاک گریبانی ‘ مرد وزن کا بےقید اختلاط پایا جائے گا اور یہی وہ صفات ہیں جو ہر قدیم وجدید جاہلیتوں کے اندر پائی جاتی ہیں ۔ اور یہی ان سب کے درمیان قدر مشترک ہے ۔ اور یہ اوصاف ایک ہی فکر کی پیدا وار ہوتے ہیں اور باہم بالکل مماثل ہوتے ہیں ۔ تاریخ گواہ کہ یہی جنسی بےراہ روی ہے ‘ جس کی وجہ سے تہذیبوں کے اندر توڑ پھوڑ کا عمل پیدا ہوا ‘ جس سے اقوام زوال کے گڑھے میں گریں ‘ یہی صورت حال یونانی تہذیب کو پیش ہوئی ۔ اس کے بعد رومیوں کے ساتھ یہی حادثہ ہوا قدیم فارسی تہذیب کو بھی انہی اسباب نے تباہ کیا اور آج بھی مغربی تہذیب کے یورپی اور امریکی معاشرے اس جنسی بےراہ روی کے ہاتھوں توڑ پھوڑ کا شکار ہو رہے ہیں ۔ ان معاشروں کا تہذیبی زوال شروع ہوچکا ہے حالانکہ ان کی صنعتی اور تمدنی ترقی اپنے عروج پر ہے ۔ اہل غرب کے دانشمند اور دانشور اس تہذیبی زوال کے آغاز سے سخت پریشان ہیں لیکن جس طرح کہ ان کے اقوال اور تجزیوں سے معلوم ہوتا ہے وہ اس زوال پذیری کے عمل کے سامنے کسی قسم کا بند باندھنے سے عاجز ہیں ۔ (1) (دیکھئے مولانا سید مودودی رحمة اللہ علیہ امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کتاب ” الحجاب “ اس امر کے باوجود کہ وہ اپنے انجام کو اچھی طرح جان رہے ہوتے ہیں ‘ جاہلیت کے علمبردار ہر دور میں اور ہر جگہ میں اس زوال کی طرف دھکیلے چلے جاتے ہیں ۔ وہ بعض اوقات تمام انسانی آزادیوں سے دستبردار ہوجاتے ہیں ‘ یا اس کے لئے تیار ہوجاتے ہیں لیکن ان کی اس حیوانی آزادی کے سامنے اگر کوئی معمولی سی رکاوٹ آتی ہے تو وہ اس کے لئے ہر گز تیار نہیں ہوتے ۔ وہ مکمل غلامی کے لیے تو تیار ہوجاتے ہیں لیکن اس حیوانی جنسی آزادی کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ کیا یہ آزادی ہے ۔ کیا یہ کوئی حقوق ہیں ‘ میں سمجھتا ہوں کہ یہ تو انسانی مرتبے سے ‘ حیوانی زندگی کی طرف لوٹنا ہے ۔ اور حیوانی تقاضوں کی بدترین غلامی ہے ۔ بلکہ یہ لوگ حیوانوں سے بھی زیادہ گر گئے ہیں ۔ حیوانوں کی حالت تو یہ ہے کہ ان کی جنسی خواہش ایک فطری قید کے اندر مقید ہے ۔ حیوانوں کے لئے اللہ نے ایک موسم مقرر کردیا ہے جس کے اندر نر مادہ دونوں کے اندر جنسی ملاپ کی خواہش پیدا ہوتی ہے ۔ اور یہ جنسی ملاپ بھی محض تلذذ کے لئے نہیں ہوتا بلکہ فطرت کے مقاصد یعنی نسل کشی کے لئے ہوتا ہے ۔ حیوان مادہ نر کو صرف متعین وقت میں قبول کرتی ہے ۔ اور نر بھی اسی وقت آمادہ ہوتا ہے جب مادہ تیار ہو ۔ رہا انسان تو اللہ تعالیٰ نے اس کی جنسی خواہش کو اس کی عقل کے کنڑول میں دے دیا ہے اور اس کی عقل کو اس کے نظریہ کے تابع قرار دیا ہے جب بھی عقل انسانی اس کے نظریہ حیات کے کنٹرول سے باہر نکلتی ہے ۔ انسانی عقل فطری خواہش اور دباو کا مقابلہ نہیں کرسکتی وہ جسمانی تقاضوں کے سامنے کمزور پڑجاتی ہے ۔ اور ایسے حالات میں خواہشات نفسانیہ کا ضبط مشکل پڑجانا ہے اور معاشرے کو اس گندگی سے پاک کرنا محال ہوجاتا ہے ۔ یہ کام صرف نظریہ حیات ہی کرسکتا ہے جو را ہوار نفس کی زمام کی مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے ۔ اس کے بعد اس نظریہ حیات کے بل بوتے پر ایک سیاسی قوت کا وجود ضروری ہوتا ہے جو اس عقیدے اور نظریہ حیات پر مبنی ہو ‘ اور اس قوت کے ہاتھ میں پھر حکومت کا آنا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ یہ حکومت بذریعہ تربیت اور راہنمائی اور سزا دہی منحرفین کی راہ روکے اور انسان کو برے راستوں سے موڑ کر ‘ حیوانی مقام سے بلند کر دے اور وہ انسانیت کو اشراف المخلوقات کے مقام بلند تک پہنچا دے ۔ جب بھی انسان جاہلیت کے دور میں داخل ہوتا ہے ‘ اس کا کوئی نظریہ حیات نہیں ہوتا ۔ اس کے پاس جو اجتماعی حکومت بھی ہوتی ہے اس کا بھی کوئی نظریہ نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عرصہ سے مغربی جاہلیت کے دانشور چیخ رہے ہیں اور کوئی نہیں ہے جو ان کی طرف متوجہ ہو ۔ اس لئے کہ انسان محض ہوائی باتوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتا ۔ جب تک ان باتوں کی پشت پر قوت نافذہ نہ ہو ‘ اسی طرح مغرب میں اہل کنیسا اور مذہبی لوگ مسلسل چیخ رہے ہیں لیکن کوئی نہیں جو ان کی بات سنے ۔ اس لئے کہ لوگ محض نظریات کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔ الا یہ کہ ان نظریات کی پشت پر حکومت ہو اور وہ ان کی حامی ہو ۔ وہ ان نظریات کی راہنمائی پر عمل پیرا ہو قوانین و ضوابط کو نافذ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانیت جہنم کے گڑھے کی طرف رواں دواں ہے وہ اس فطری ضابطے سے بھی آزاد ہے جو حیوان کے لئے قدرت نے خود مقرر کردیا ہے ۔ وہ نظریہ ہے ۔ وہ نظریہ ایمان اور شریعت کے بندھنوں سے بھی آزاد ہے ‘ جو اللہ نے انسان کے لئے نازل کی ہے ۔ اس مغربی تہذیب کی بربادی اور تباہی اٹل ہے ۔ ان سابقہ تاریخی تجربات کی روشنی میں جو تمام جاہلی تہذیبوں کی تاریخ میں پیش آئے چاہے بظاہر وہ پختہ اور سیملٹڈ نظر آئے چاہے بظاہر وہ وسیع الاساس نظر آئے ۔ اس لئے کہ انسان تہذیب سے بڑی اور اہم مخلوق ہے ۔ جب انسان تباہ ہوجائے تو انسانی تہذیب کو محض صنعت اور کثرت پیداوار کے بل بوتے پر نہیں بچایا جاسکتا ۔ یہ ہے اصل حقیقت اور جس وقت ہم اس کی گہرائیوں تک پہنچ گئے ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ اسلام کس قدر عظیم نظام زندگی ہے ۔ اور کیوں اس نے جنسی بےراہ روی کے لئے اس قدر سخت ترین سزائیں تجویز کی ہیں ؟ محض اس لئے کہ ” انسان “ کو ہلاکت سے بچایا جائے ۔ انسانی زندگی کو اصل انسانی بنیادوں پر استوار کیا جائے اور اس سے ہمیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہوجائے گا کہ جو ادارے اور حکومتیں ان انسانی اساسوں کا قلع قمع کر رہی ہیں ‘ وہ انسانیت کے خلاف کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ وہ محض فحاشی پھیلا کر حیوانی شہوت رانی کے جذبات کو جگا کر اور عریانی کے ذریعہ جنسی بےراہ روی کو منظم کر کے ‘ اس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اس کا نام کبھی وہ فن اور فنکاری رکھتے ہیں ۔ کبھی وہ اسے آزادی کا نام دیتے ہیں ۔ اور کبھی وہ اسے ترقی پسندی کہتے ہیں ۔ لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم انسانیت کی تباہی کی ہر شکل و صورت اور ہر عنوان کے سامنے کھڑے ہوجائیں ، نصیحت وتبلیغ اور جزا وسزا دونوں کے ذریعہ اس کو روکیں یہ وہ کام ہے جسے اس دنیا میں صرف اسلام سرانجام دے رہا ہے اور یہ کام وہ اسلام کے مکمل نظام زندگی کے نفاذ کے ذریعہ کرتا ہے ۔ جو نہایت ہی قوی الاساس ہے ۔ (1) (دیکھے میری کتاب (الاسلام والسلام العالمی) کی فصل گھر کی سلامتی ۔ ہاں جنسی بےراہ روی کے خلاف ان قانونی تدابیر کے باوجود اسلام خطا کاروں کے لئے واپسی کا دروازہ بند نہیں کرتا ۔ اگر وہ توبہ کریں ‘ پاکی کی راہ اپنائیں اور واپس ہونا چاہیں تو توبہ کے دروازے کھلے ہیں بلکہ اسلام ان کی واپسی کے لئے کھلی راہ فراہم کرتا ہے ۔ وہ ان کی واپسی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ جب بھی وہ توبہ کریں اللہ تعالیٰ انکی توبہ قبول کرتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے اوپر مجرموں کے لئے یہ حق لازم کرتا ہے کہ وہ ضرور توبہ قبول کرے گا ۔ صد بار اگر توبہ شکستی باز آ۔ یہ اللہ کا اس قدر عظیم کرم ہے جو انتہا کو پہنچا ہوا ہے اور اب اس میں مزید کوئی اضافہ ممکن ہی نہیں ہے ۔

النساء 4:17

(آیت) ” انما التوبة علی اللہ للذین یعملون السوٓء بجھالة ثم یتوبون من قریب فاولئک یتوب اللہ علیھم ، وکان اللہ علیما حکیما ، (71) ولیست التوبة للذین یعملون السیات ، حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الئن ولا الذین یموتون وھم کفار ، اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما (81) اسی بارے میں ہم فی ضلال القرآن میں سورة آل عمران کی تشریح کرتے ہوئے توبہ پر بات کر آئے ہیں وہاں آیت ”۔ والذین اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم “ ” وہ لوگ جو کوئی فحش فعل کرلیتے ہیں یا اپنے نفسوں کے اوپر ظلم کر گزرتے ہیں ‘ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور فورا اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں “ ۔ وہ پوری بحث اس آیت کی تفسیر میں بھی نقل کی جاسکتی ہے ۔ لیکن یہاں توبہ کے لئے جو انداز کلام اختیار کیا گیا ہے ‘ اس سے پیش نظر کوئی اور مقصد ہے ۔ یہاں زیادہ زور اس پر ہے کہ توبہ کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ توبہ جسے اللہ قبول کرتا ہے اور جس کی قبولیت اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کردی ہے ۔ (از راہ کرم) وہ توبہ وہ ہے جو نفس کی گہرائیوں سے اٹھے جس سے معلوم ہو کہ اس نفس انسانی نے ایک نیا جنم لیا ہے ‘ ندامت نے اسے گہرائیوں تک جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور اسے اس قدر ہلایا ہے کہ وہ اپنی سمت بدل گیا ہے ‘ وہ اللہ کی طرف مڑ گیا ہے توبہ اس معنی میں پوری عمر کے لئے رجوع ہے ‘ ایک نئی امید کی کرن ہے ۔ اس میں پاکیزگی اختیار کرنے کا عزم جدید ہوتا ہے ۔ اور ایک حقیقی نیت پائی جاتی ہے کہ توبہ کرنے والا جدید راہوں پر صدق دل سے چلے گا۔ (آیت) ” انما التوبة علی اللہ للذین یعملون السوٓء بجھالة ثم یتوبون من قریب فاولئک یتوب اللہ علیھم ، وکان اللہ علیما حکیما ، (71) ترجمہ : ” ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق انہی لوگوں کے لئے ہے جو نادانی کی وجہ سے برا فعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظرعنایت سے پھر متوجہ ہوتا ہے ۔ اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے ۔ وہ لوگ نادانی کی وجہ سے کوئی برا فعل کرتے ہیں گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اس بات پر تقریبا اجماع نظر آتا ہے کہ جہالت سے مراد یہاں نظریاتی گمراہی ہے ‘ چاہے طویل ہو یا قصیر عرصے کے لئے ہو ۔ بشرطیکہ مرتکب گناہ اس پر اصرار نہ کر رہا ہو اور یہ کہ حالت نزع نہ شروع ہوگئی ہو اور وہ لوگ جو جلدی توبہ کرلیتے ہیں وہ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو موت نظر یا سکرات الموت کے آغاز سے پہلے لوٹ آئیں ۔ ابھی انہیں موت کی دہلیز نظر نہ آئی ہو ۔ تو یہ توبہ ‘ توبہ ندامت تصور ہوگی ۔ گناہ سے نکل آنا عمل صالح کا عزم کرلینا اور گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا عزم کرلینا ہی حقیقی توبہ ہے اور اس سے نفس انسانی گویا ایک نیا جنم لیتا ہے ۔ اور ضمیر از سر نو جاگ اٹھتا ہے ۔ (آیت) ” فاولئک یتوب اللہ علیھم ” ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظر عنایت سے پھر متوجہ ہوتا ہے ۔ “ اور اللہ ساری باتوں کا خبر رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے ۔ (آیت) ” وکان اللہ علیما حکیما “۔ وہ تمام اقدامات علم و حکمت کی بنیاد پر کرتا ہے اور اپنے ضعیف بندوں کو لوٹ آنے کا موقعہ فراہم کرتا ہے کہ وہ از سر نو پاک صفوں میں آکر کھڑے ہوجائیں اور وہ اس طرح نہیں کرتا کہ گناہ گاروں کو دھتکار دے حالانکہ وہ حقیقتا باز آنے کی نیت رکھتے ہوں ۔ وہ اس کے در رحمت اور بارگاہ امن میں واپس آنا چاہتے ہیں ۔ اللہ رحیم وکریم ہیں ‘ وہ اپنے ضعیف بندوں کو دھتکارتے نہیں ۔ اور نہ ہی ان کا پیچھا کرتے ہیں ۔ اگر وہ باز آنا چاہیں ۔ وہ تو بےنیاز ہے ۔ اگر وہ باز آتے ہیں تو اسے کیا فائدہ ہے ‘ یہ تو خود ان کا فائدہ ہے ‘ یہ تو خود ان کا فائدہ ہے ۔ خود ان کی زندگی ‘ اس سے سلجھتی ہے ‘ وہ معاشرہ اصلاح پذیر ہوتا ہے ‘ جس میں خود وہ رہتے ہیں یہی تو سبب ہے کہ وہ ان کو ان کی واپسی ‘ توبہ اور پاکیزہ رویہ اختیار کرنے کے لئے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے ۔

النساء 4:18

(آیت) ” ولیست التوبة للذین یعملون السیات ، حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الئن ” مگر توبہ ان لوگوں کے لئے نہیں ہے جو برے کام کئے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آجاتا ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ میں نے توبہ کی ۔ “ اس لئے کہ یہ توبہ گویا اب مضطر کی توبہ ہے جو گمراہی میں ڈوب گیا ہے ۔ اور خطا کاری میں وہ گھرا ہوا ہے ۔ یہ اس شخص کی توبہ ہے جس کے لئے اب ارتکاب گناہ کا کوئی موقعہ ہی نہیں رہا ہے۔ نہ اب وہ کسی غلط کاری میں پڑ سکتا ہے ۔ اور اس حالت میں اللہ تعالیٰ کو یہ توبہ قبول نہیں ہے۔ اس لئے کہ اس سے قلبی اصلاح اور زندگی کی عملی اصلاح کا اظہار نہیں ہوتا ۔ اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس شخص کے دل میں کوئی تبدیلی آگئی ہے یا اس کے نقطہ نظر اور سمت میں کوئی بہتر تبدیلی ہوگئی ہے ۔ توبہ اس لئے قبول کی جاتی ہے کہ یہ ایک دروازہ ہے جو ان لوگوں کے لئے کھلا رکھا گیا ہے جو اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں تاکہ وہ واپس آکر اسلام کے حظیرہ امن و سکون میں داخل ہوجائیں ‘ وہ واپس آجائیں ‘ گمراہیوں کی تاریکی ‘ دبیز تاریکی سے واپس آجائیں ۔ انسانیت انہیں شیطان کے جھنڈوں کے زیر سایہ کام کرنے والے گروہ سے نکال کر واپس لے آئے اور وہ صالح زندگی کا آغاز کریں ۔ یہ دوسری بات ہے کہ اس واپسی کے بعد انہیں موقعہ ملتا ہے یا نہیں ۔ کم از کم یہ موقعہ تو ہو کہ وہ یہ اعلان کرسکیں کہ ہدایت نے گمراہی پر فتح پا لی ہے ۔ اگرچہ اس اعلان کے بعد انہیں مزید فرصت نہ ملے اور ان کی زندگی کا اختتام ہوجائے ۔ اس لئے کہ موت کا علم کسی کو بھی نہیں ہے ۔ کہ وہ کب پہنچ آئے ۔ (آیت) ” ولا الذین یموتون وھم کفار۔ “ ” اور اسی طرح توبہ ان لوگوں کے لئے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کافر رہیں ۔ “ کیونکہ ان لوگوں نے اس تعلق ہی کو ختم کردیا جو ان کے اور توبہ کے درمیان تھا ۔ انہوں نے اس مہلت کو ضائع کردیا جو انہیں توبہ اور حصول مغفرت کے لئے دی گئی تھی ۔ (آیت) ” اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما (81) ” ایسے لوگوں کے لئے تو ہم نے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے ۔ “ یہ تیار ہے پوری طرح مہیا کردی گئی ہے ‘ حاضر ہے ‘ موجود ہے ‘ ان کے انتظار میں ہے ۔ تیاری کی ضرورت نہ ہوگی ۔ غرض یہ درست ہے کہ اسلامی نظام نے فحاشی کے لئے سخت ترین سزا تجویز کی ہے لیکن اس نے توبہ کا دراوزہ بھی پوری طرح کھلا چھوڑا ہوا ہے چناچہ اسی طرح سزا کی سختی کے اندر ایک طرح کا توازن پیدا ہوجاتا ہے اور انسانی زندگی میں اس کی وجہ سے ایسے نتائج اور آثار پیدا ہوئے ہیں جو اس کرہ ارض پر کسی بھی قدیم وجدید نظام کی وجہ سے نہیں پیدا ہوئے ۔ اس سبق کا دوسرا موضوع عورت ہے ‘ عورت کی ذات ۔ عربی جاہلیت میں بھی تمام دوسری ان جاہلیتوں کی طرح جو عرب کے ارد گرد پھیلی ہوئی تھیں ‘ عورت کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کیا جاتا تھا ۔ اسے بنیادی انسانی حقوق حاصل نہ تھے ۔ مرد کے مقابلے میں اس کی حیثیت بہت ہی نیچے تھی ، وہ ایک انسان کے بجائے ایک سامان سمجھی جاتی تھی ، اور اس کی یہ حیثیت اس وقت ہے جب مرد اس سے سکون بھی حاصل کرتا ‘ اس سے حیوانی لذت بھی حاصل کرتا ‘ اسے نفس کے لئے فتنہ بھی قرار دیتا اور اسے نیکی اور بھلائی کے اوصاف کے لئے شیطانی فتنہ قرار دیا جاتا ۔ بس شہوت رانی اور ننگی غزلوں کا وہ موضوع ہوتی ایسے حالات میں جب اسلامی نظام زندگی آیا تو اس نے عورت سے ان تمام مظالم کو رفع کردیا ۔ اور اسے خاندان کے اندر ایک حقیقی مقام اور حیثیت دی گئی اور انسانی سوسائٹی میں اسے اپنے اصلی منصب پر فائز کیا گیا ۔ وہ حیثیت جو اس منصب اور مقام کے عین مطابق تھی جس کا ذکر اس سورت کے آغاز میں کیا گیا تھا ” جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد اور عورت دنیا میں پھیلائے “۔ اس کے بعد عائلی زندگی کے اندر انسانی جذبات اور انسانی شعور کا درجہ بلند کیا گیا اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور احترام اور رحم وہمدردی اور حسن سلوک کا حکم دیا گیا تاکہ دونوں کے یہ تعلقات محض حیوانی درجے سے بلند ہو کر انسانی مقام تک آجائیں اور اس قدر پختہ ہوں کہ ایک ہی وار میں ٹوٹ پھوٹ نہ جائیں ۔

النساء 4:19

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا ولا تعضلوھن لتذھبواببعض ما اتیتموھن الا ان یاتین بفاحشة مبینة وعاشروھن بالمعروف ، فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔ (91) وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا ، اتاخذونہ بھتانا واثما مبینا (02) وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا (12) ولا تنکحوا مانکح ابآوکم من النسآء الا ما قد سلف ، انہ کان فاحشة ومقتا وسآء سبیلا “۔ (22) اس سے پہلے کہ اسلام عربوں کو قعر مذلت سے نکال کر عزت و شرافت کی بلند سطح تک پہنچاتا ‘ عربوں کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی فوت ہوجاتا تو اس کے ورثاء اس کی بیوی کے بھی حقدار بن جاتے اور وہ بھی انہیں اسی طرح میراث میں ملتی جس طرح دوسرے مویشی اسے بطور ترکہ ملتے تھے ۔ اب اگر وارث چاہتا تو عورت کے ساتھ بھی نکاح کرلیتا ۔ اور اگر چاہتا تو اسے کسی دوسرے شخص کے نکاح میں دے کر اس کا مہر حاصل کرلیتا ۔ جس طرح مویشی فروخت ہوتے تھے گویا یہ عورت بھی فروخت ہوجاتی ، اور اگر یہ وارث چاہتے تو اسے گھر میں عضو معطل کی طرح رکھ چھوڑتے ۔ نکاح بھی نہ کرتے یونہی رہتی ، یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کا معاوضہ دے کر جان چھڑاتی ۔ بعض جگہ یہ رواج تھا کہ جب خاوند فوت ہوتا تو اس کا ولی دوڑ کر آتا اور اس عورت پر کپڑا ڈال دیتا ۔ اس طرح وہ اسے گویا تمام لوگوں سے روک لیتا اور اس طرح سے اس پر قابض ہوجاتا جس طرح کوئی مال غنیمت پر قابض ہوجاتا ہے ۔ اگر وہ خوبصورت ہوتی تو نکاح میں لے لیتا اور اگر بدصورت ہوتی تو قید رہتی اور موت کے بعد یہ شخص اس کا وارث قرار پاتا یا وہ مال دے کر اپنی گردن آزاد کرلیتی لیکن اگر خاوند فوت ہونے کے بعد وہ فورا اپنے والدین کے گھر چلی جاتی اور وارث اس پر کپڑا نہ ڈال سکتا تو وہ بچ جاتی اور وہ آزاد سمجھی جاتی ۔ بعض جگہ یہ رواج تھا کہ ایک شخص بیوی کو طلاق دے دینا اور یہ شرط عائد کردیتا کہ وہ صرف اس جگہ نکاح کرے گی جس کی اجازت وہ دے گا ۔ یوں وہ اس کو مال دے کر اپنے آپ کو آزاد کراتی ۔ مہر لوٹاتی اور دوسرے ہدایا واپس کردیتی ۔ اگر کسی کی تحویل میں یتیم لڑکی ہوتی تو وہ اسے بند رکھتا تاکہ اس کا نابالغ بچہ بالغ ہوجائے اور وہ اس کے ساتھ نکاح کرے ۔ اس طرح بعض اوقات بیوہ کو بھی ایک چھوٹے بچے کے لئے بند رکھا جاتا ۔ یہ اور اس قسم کے اور رواج تھے ‘ جو مقام شرافت اور عزت کے بالکل خلاف تھے ۔ وہ شرافت اور عزت جو انسان کو اسلام دیتا ہے ۔ حالانکہ عورت مرد کی شفیقہ ہے ایک ہی نفس سے دونوں کو پیدا کیا گیا ہے ۔ اور اس طرز عمل سے جس طرح عورت مقام عزت و شرافت سے گری ہوئی تھی ‘ اسی طرح مرد کے لئے بھی یہ صورت حال باعث شرم تھی ، یوں نظر آتا تھا کہ مرد اور عورت کا تعلق کوئی تجارتی تعلق ہے یا محض حیوانی تعلق ہے ۔ غرض مرد وزن کے تعلق کو اسلام نے ذلت کے اس گہرے گڑھے سے بلند کرکے انسانیت کے باعزت مقام تک پہنچایا ۔ اسے ایسا مقام دیا جو انسانی شرافت کے لائق تھا ۔ اس لئے کہ اسلام کے تصور انسانیت کے مطابق انسان عالمین کے اندر ذی شرف مخلوق ہے ۔ لہذا یہ اسلام ہی تھا ‘ جس نے اسے یہ مقام عالی دیا ‘ اس قدر مقام عالی جو انسان کو صرف اسلام کے مصدر اور ماخذ سے ملا۔ (1) (اسلام کا تصور خدا ’ تصور کائنات تصور زندگی اور تصور انسان “ یہ کتاب عنقریب شائع ہونے والی ہے ۔ اسلام نے عورت کو بطور سامان وراثت دوسرے سامان کے ساتھ حاصل کرنے کے فعل کو حرام قرار دیا ۔ اسی طرح اسے قید کرکے عضو معطل بنانے کی بھی ممانعت کردی ۔ الا یہ کہ اس سے فحاشی کا جرم سرزد ہوجائے ۔ اور یہ بھی اس وقت تھا جب حد زنا کا حکم نازل نہ ہوا تھا ۔ اور اسلام نے ان حالات میں عورت کو یہ حق دیا کہ وہ جس کے ساتھ چاہے نکاح کرے ۔ چاہے یہ ابتدائی شادی ہو یا دوسری شادی ہو ‘ کنواری ہو یا بیوہ ہو ‘ مطلقہ ہو یا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہو ۔ اور اس کے ساتھ معروف طریقے کے مطابق زندگی گزارنا مرد پر لازم کردیا گیا ۔ اگرچہ اس عورت کو مرد پسند نہ کرتا ہو ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اس عورت کے ساتھ اس کی معاشرت ممکن ہی نہ رہے ۔ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ عورت کو پسند نہ کرتا ہو لیکن اس میں اس کے لئے خیر پوشیدہ ہو ۔ اس لئے اسے مناسب نہیں ہے کہ طبیعت کے اندر نفرت آتے ہی وہ اسے طلاق دے دے ۔ اگر وہ بیوی کو رکھے تو آنے والے دور میں اسے اس سے فائدے بھی مل سکتے ہیں ، اس لئے اسے چاہئے کہ امید کا دیا جلائے رکھے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا یحل لکم ان ترثوا النسآء کرھا ولا تعضلوھن لتذھبواببعض ما اتیتموھن الا ان یاتین بفاحشة مبینة وعاشروھن بالمعروف ، فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔ (91) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو ، اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اس مہر کا کچھ حصہ اڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (تو ضرور تنگ کرنے کا حق ہے) ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ۔ “ اس آیت کی یہ آخری فنشنگ ہے ۔ اس میں نفس انسانی اللہ کی ذات سے وابستہ اور مربوط کردیا جاتا ہے ۔ اگر میاں بیوی کے تعلقات کے درمیان غصے اور غضب اور ہیجان کی حالت پیدا ہوجائے تو اسے ٹھنڈا کیا جاتا ہے ۔ اگر بیوی ناپسند ہو تو اس ناپسندیدگی کی حدت کو قدرے نرم کردیا جاتا ہے تاکہ انسانی نفس میں سکون پیدا ہو ‘ اور یہ نہ ہو کہ تعلق زوجیت خشک پتے کی طرح ہوا کہ معمولی جھونکے سے ادھر ادھر ہوجائے ۔ کیونکہ تعلق زوجیت کو تعلق باللہ کی رسی سے مضبوطی سے باندھ دیا جاتا ہے ۔ اس تعلق کو مومن اور اس کے رب کے پاکیزہ اور مضبوط تعلق سے جوڑ دیا جاتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق ‘ ایک گھرانا بحثیت ابتدائی اکائی انسان کے لئے امن و سکون اور محبت ورافت کی جگہ ہونا چاہئے ۔ اس لئے وہ زوجین کے تعلقات کو بھی انس و محبت اور ہمدردی وایثار کی اساس پر قائم کرنا چاہتا ہے ۔ اور یہ تب ہی ہو سکتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان تعلق مطلق رضا مندی اور آزادی کی بنیاد پر قائم ہو تاکہ خاندان کے اندر محبت الفت اور ہمدردی کے جذبات ہر وقت موجود ہوں ۔ اگر کبھی کدورت پیدا ہوجائے تو اسلام کی نصیحت یہ ہے کہ برداشت کرو۔ ” اگر تم بیویوں کو ناپسند بھی کرتے ہو تب بھی اس بات کا امکان ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور اللہ تمہیں اس میں بھلائی دے دے ۔ “ یہ تلقین اس لئے کی جاتی ہے کہ جذبات کے پہلے جھونکے ہی میں رشتہ زوجیت ختم ہو کر نہ رہ جائے ۔ پہلے ہی جھٹکے میں ہی نکاح نہ ٹوٹ جائے اور یہ قیمتی انسانی ادارہ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نہ رہ جائے اور انسان کے بدلتے ہوئے جذبات اور اڑتے ہوئے میلانات کا شکار نہ ہوجائے ۔ حضرت عمر ؓ نے ایک شخص کو کیا خوب نصیحت فرمائی جو اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا تھا اور طلاق کی وجہ صرف یہ تھی کہ اسے اس کے ساتھ محبت نہ تھی ۔ ” تم برباد ہو جاو کیا گھرانہ قائم ہونے کے لئے محبت کے سوا کوئی اور اساس نہیں ہوتی ؟ پرورش اور ذمہ داریوں کا کیا ہوگا ؟ “ آج کل کے نام نہاد دانشور محبت کے نام سے جو بکواس کرتے ہیں ‘ اس سے ان کی مراد بدلتے ہوئے ہیجانی اور وقتی جذبات ہوتے ہیں اور ان وقتی امور کی وجہ سے وہ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے زوجین کے درمیان جدائی کرکے ‘ اس اہم ادارے کو تباہ کردیں ۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر بیوی خاوند سے محبت نہیں کرتی تو اس کے ساتھ اس کی خیانت ہے ۔ اور اگر مرد عورت کے ساتھ محبت نہیں کرتا تو یہ بھی اس کی جانب سے ایک قسم کی خیانت ہے ۔ جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں وہ کم ظرف لوگ ہیں ۔ ان کے دل و دماغ میں بدلتی ہوئی جسمانی خواہشات سے بلند کوئی ارفع اور اعلی مروت ‘ شرافت ‘ حسن سلوک اور برداشت جیسے اوصاف بھی ہو سکتے ہیں ‘ جو ان اوصاف اور میلانات اور گھٹیا سوچ ہی بہت بلند ہیں جن کے یہ منہ پھٹ لوگ غلام ہیں ۔ اور ان کی یہ سوچ اس لئے محدود ہے کہ اس کے اندر اللہ جل شانہ کی کوئی جگہ نہیں ہے اس لئے ان کے شعور میں یہ تصور نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنیں کو دیا جارہا ہے ۔ (آیت) ” فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ۔ “ حقیقت یہ ہے کہ صرف ایمان ہی سے انسان کی حیثیت بلند ہوتی ہے ‘ انسان کی ترجیحات بلند ہوتی ہیں اور انسانی زندگی کے مقاصد بلند ہوجاتے ہیں ۔ انسانی زندگی کا معیار محض حیوانی فطری میلانات سے ذرا اوپر اٹھتا ہے ۔ انسان محض سوداگر نہیں رہتا ۔ نہ وہ خالی اور بےمعنی ڈھانچہ ہوتا ہے ۔ اگر صبر برداشت ‘ حسن سلوک اور اصلاح کی سب امیدیں خاک میں مل جائیں اور زندگی کا خوش اسلوبی سے بسر ہونا ممکن نہ رہے اور جدائی ہر حال میں ضروری ہوجائے اور مرد مجبور ہوجائے کہ بیوی کا بدلنا ضروری ہے تو ایسے حالات میں عورت نے جو مہر لیا ہے اور جو مال اسے ملا ہے وہ اس کا ہوگا اور یہ جائز نہ ہوگا کہ کوئی چیز اس سے واپس لی جائے ۔ اگرچہ وہ مال بڑی مقدار میں ہو ‘ قیمتی ہو ‘ یہ مال اس سے واپس لینا صریح گناہ ہے اور ایک قابل نفرت فعل ہے ۔

النساء 4:20

(آیت) ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا ، اتاخذونہ بھتانا واثما مبینا (02) ” اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو ‘ اس میں سے کچھ واپس نہ لینا ۔ کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے ؟ “۔ یہاں بھی ایک گہرا انسانی اور وجدانی ٹچ دیا جاتا ہے ۔ عائلی زندگی کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ عجیب انداز تعبیر اور اشارات سے بھر پور رموز ہیں ۔

النساء 4:21

(آیت) ” وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا (12) ” اور آخر تم اسے کس طرح واپس لے لوگے جبکہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔ “ یہاں افضی فعل کے مفعول کو متعین نہیں کیا گیا لفظ کو عام چھوڑ دیا گیا ‘ اس سے اس کے ہر قسم کے مدلول کا اظہار ہو سکتا ہے تمام مفاہیم پر اس کا اطلاق ہو سکتا ہے تمام اشارات ذہن میں گردش کرتے ہیں ‘ جسمانی لطف اندوزی بھی ‘ جذبات ومیلانات بھی ‘ احسانات اور تصورات بھی ‘ راز ونیاز بھی اور وہ تمام دلچسپیاں بھی جو میاں بیوی کے درمیان ہو سکتی ہیں ۔ انسانی زندگی کے شب وروز کی ہر شکل و صورت اس لفظ افضی کے مفہوم میں آتی ہے ۔ غرض وہ تمام باتیں پردہ خیال پر آجاتی ہیں جن کا تعلق میاں بیوی کے اس اہم ادارے کی گزشتہ زمان ومکان کے ساتھ وابستہ رہی ہیں ۔ دل کی ہر دھڑکن افضاء ہے ‘ ہر مشتاقانہ نظر افضاء ہے جسم کا ہر لمس افضاء ہے ‘ غم اور امید میں شرکت افضاء ہے ۔ حال ومستقبل کی ہر مشترکہ سوچ افضاء ہے ۔ ہر پچھلی سوچ افضاء ہے اور سب سے اعلی یہ کہ دونوں کی مشراولاد بھی افضاء ہے ۔ تصورات و احساسات کا یہ ڈھیر ہے ‘ جذبات ومیلانات کی یادوں کی اس تازگی کو صرف چند الفاظ میں اسکرین پر لایا گیا ۔ (آیت) ” وقد افضی بعضکم الی بعض ” اور تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو۔ “ ان یادوں کے ہوتے ہوئے اب مرد کے لئے بعض حقیر چیزوں کا مطالبہ کرنا نہایت ہی حقیر نظر آتا ہے اور اب شرم کے مارے وہ اس مفاداتی مطالبے سے باز آجاتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ ماضی قریب کی عملی زندگی کے خوشگوار تصورات کو اسکرین پر دیکھ رہا ہوتا ہے ۔ اب اسے وقت فراق میں یہ یادیں اذیت دیتی ہیں اور وہ یہ احساس کرتا ہے کہ یہ تمام واقعات بادل نخواستہ ہیں ۔ ان یادوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسری بات ‘ ایک دوسرا فیکٹر بھی یاد دلایا جاتا ہے ۔ گویا اسکرین پر ایک دوسری جھلک آتی ہے ۔ ایک دوسرا رنگ نمودار ہوتا ہے ۔ (آیت) ” واخذن منکم میثاقا غلیظا ‘” اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں “۔ میثاق نکاح اللہ کے نام سے اور خطبے کے ساتھ نبی کی سنت کے مطابق ۔ یہ عہد نکاح ایک عظیم عہد جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ ایک مومن کے نزدیک وہ بہت بڑی بات ہے ۔ یہ نکاح اہل ایمان کے مابین ہے اور اہل ایمان اسے ایک عظیم عقد بلکہ میثاق سمجھتے ہیں ۔ اس کا احترام ان پر الازم ہے ۔ آخر میں ایک فعل شفیع کے بارے میں قطعی حرمت آتی ہے ۔ یہ فعل جاہلیت میں مروج تھا ۔ بیٹے باپ کی منکوحہ سے نکاح کرلیا کرتے تھے اور بعض اوقاقت اس حق نکاح کی وجہ سے عورتیں معطل ہوکر رہ جاتی تھیں کہ بچہ بڑا ہو اور اپنے والد کی بیوی سے نکاح کرے اور اگر بڑا ہوتا تو وہ منکوحہ والد کو مال میراث تصور کرتا ، اسلام نے اس فعل کو سخت ترین الفاظ میں حرام قرار دیا ۔

النساء 4:22

(آیت) ” ولا تنکحوا مانکح ابآوکم من النسآء الا ما قد سلف ، انہ کان فاحشة ومقتا وسآء سبیلا “۔ (22) ” اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں ان سے ہر گز نکاح نہ کرو ‘ مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا ، درحقیقت یہ ایک بےحیائی کا فعل ہے ‘ ناپسندیدہ ہے ۔ اور برا چلن ہے ۔ “ اس تحریم کی حکمت کے حوالے سے دو تین باتیں ذہن میں آتی ہیں اگرچہ انسان کے لئے یہ تو ناممکن ہی نہیں ہے کہ وہ شرعی احکام کی تمام حکمتوں اور رازوں کا احاطہ کرسکے ۔ ہمارے لئے تو بس یہی کافی ہے کہ اللہ نے یہ قانون بنایا ہے جو ہمارے لئے بنا دیا ہے ۔ اور ہمیں یقین ہے کہ اس میں ضرور کوئی حکمت اور مصلحت ہوگی بہرحال جو تین چیزیں سمجھ میں آتی ہیں وہ یہ ہیں کہ سوتیلی ماں بھی ماں ہوتی ہے ‘ یہ کہ باپ کی جگہ بیٹے کا آنا سوئے ادب ہے کیونکہ اس شکل میں وہ باپ کا مساوی اور شریک ہوجاتا ہے ۔ فطرة ایک انسان اپنی بیوی کے پہلے خاوند کو ناپسند کرتا ہے ۔ یوں وہ اپنے باپ کو بھی ناپسند کرنے لگے گا ۔ تیسری بات یہ ہے کہ منکوحہ اب کے ساتھ والد کے ترکہ کے تصورات کی وابستگی ہوسکتی ہے جبکہ جاہلیت میں ایسے رواجات بھی تھے ۔ اور یہ ایک ایسا کریہہ تصور ہے جو بیک وقت مرد اور عورت دونوں کے لئے مکروہ ہے ۔ کیونکہ دونوں ایک ہی نفس سے پیدا کیے گئے ہیں اور ایک کی توہین دوسرے کی توہین ہے ۔ یہ ہیں وہ ظاہری وجوہات جن کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس فعل کو مکروہ ناپسندیدہ اور شنیع اور بدچلنی قرار دیا ہے جبکہ ان کے علاوہ بھی بہت سے اسباب اور حکمتیں ہو سکتی ہیں ، ہاں اور جاہلیت میں جو نکاح ہوئے وہ معاف ہیں اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔ اس سبق کے تیسرے پیرے میں عورتوں میں سے محرمات کی فہرست دی گئی ہے ۔ یہ بھی خاندانی نظام کی تشکیل اور تنظیم کے اقدامات میں سے ایک اہم اقدام ہے ۔ خاندان کے بعد اسلامی معاشرے کی ضابطہ بندی ہے ۔

النساء 4:23

(آیت) ” حرمت علیکم امھتکم وبنتکم واخوتکم وعمتکم وخلتکم وبنت الاخ وبنت الاخت وامھتکم التی ارضعنکم واخوتکم من الرضاعة وامھت نسآئکم وربآئبکم التی فی حجورکم من نسآئکم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم وحلآئل ابنائکم الذین من اصلابکم وان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف ، ان اللہ کان غفورا رحیما (32) والمحصنت من النسآء الا ملکت ایمانکم “۔ محرمات ‘ یعنی وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے وہ تمام اقوام اومم میں معروف ہیں ۔ چاہے پسماندہ واقوام ہوں یا ترقی یافتہ اقوام ہوں ۔ تحریم کے اسباب اور تحریم کے درجات مختلف اقوام کے ہاں مختلف رہے ہیں ۔ قدیم پسماندہ اقوام کے اندر یہ دائرہ بہت ہی وسیع رہا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک کے اندر یہ سکڑتا رہا ہے ۔ اسلام میں آیت زیر بحث اور اس سے پہلی آیت میں محرمات کی تحدید کی گئی ہے ۔ بعض محرمات ابدی ہیں ۔ اور بعض وقتی ہیں ۔ بعض بہ سبب نسب ہیں ‘ بعض بوجہ رضاعت ہیں اور بعض بوجہ مصاہرت ہیں ۔ ان محرمات اور اسباب کے علاوہ اسلام نے تمام دوسری پابندیوں کو ختم کردیا ‘ جو دوسرے معاشروں کے اندر مروج تھیں ‘ مثلا وہ پابندیاں جو نسلی وجوہات کی بنا پر رائج تھیں ۔ قومی حد بندیوں کی وجہ سے رائج تھیں یا رنگ کی وجہ سے رائج تھیں یا وہ پابندیاں جو طبقاتی درجات کی وجہ سے رائج تھیں حالانکہ ان میں زوجین ایک نسل ‘ ایک وطن اور ایک علاقے کے باشندے ہوا کرتے تھے ۔ (1) (تفصیلات کے لئے دیکھئے ڈاکٹر عبدالواحد وافی کی کتاب ” خاندان اور معاشرہ “ ص 62 تا 65) قرابت داری کی وجہ سے اسلام میں چار قسم کی عورتیں حرام ہیں ۔ (1) کسی شخص کے اصول جس قدر اوپر چلتے جائیں ‘ مثلا ماں دادیاں ‘ نانی اور یہ سب ” امہات “ کے لفظ میں شامل ہیں ۔ (آیت) ” حرمت علیکم امھتکم ” تم پر تمہاری مائیں حرام ہیں ۔ “ (2) دوسری قسم کسی شخص کے فروع ہیں جس قدر نیچے چلے جائیں ۔ مثلا بیٹیوں اور بیٹیوں کی اولاد سے نکاح حرام ہے اور یہ (آیت) ” وبنتکم “ میں داخل ہیں ۔ (3) ماں اور باپ کے فروع جس قدر نیچے چلتے جائیں ۔ بہن ‘ بھانجی ‘ بھتیجی اور ان کی اولاد یہ (آیت) ” اخواتکم بنات الاخ اور (آیت) ” بنات الاخت “ میں داخل ہیں ۔ (4) نانا دادا کی پھوپھیاں اور خالائیں بھی حرام ہوں گی وغیرہ یہ سب (آیت) ” عمتکم وخلتکم “۔ میں داخل ہیں۔ لیکن اجداد کی وہ اولاد جو براہ راست نہ ہو درمیان واسطہ آجائے تو وہ جائز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چچا زاد بہن ‘ خالہ زاد ‘ پھوپی زاد کے ساتھ نکاح جائز ہے اور ان کی اولاد کے ساتھ بھی ۔ مصاہرت کی بنا پر پانچ قسم کی عورتیں حرام ہیں۔ (1) بیوی کے اصول ‘ جہاں تک اوپر کی طرف چلتے جائیں ۔ چناچہ بیوی کی ماں ‘ بیوی کی دادی ‘ بیوی کی نانی ‘ جہاں تک اوپر چلے جائیں حرام ہیں ۔ اور یہ حرمت نکاح کرتے ہیں قائم ہوجاتی ہے ۔ چاہے دخول ہوا ہو یا نہیں ۔ اور یہ (آیت) ” وامھات نسآئکم “ میں داخل ہیں۔ (2) بیوی کی فروعات جس قدر بھی نیچے جائیں ۔ مثلا بیوی کی لڑکی حرام ہے ‘ اس کی اولاد حرام ہے ‘ مرد ہو یا عورت ۔ لیکن یہ حرمت اس وقت قائم ہوتی ہے جب بیوی کے ساتھ مباشرت ہوگئی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ (آیت) ” وربآئبکم التی فی حجورکم من نسآئکم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم “۔ ”‘ اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پڑورش پائی ہو ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن وشو ہوچکا ہو ورنہ اگر تعلق زن وشو نہ ہوا تو تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے ۔ (3) باپ دادا اور نانا کی بیویاں ‘ جس قدر اوپر چلے جائیں ۔ چناچہ باپ کی بیوی ‘ دادا ‘ اور نانا کی بیوی سے نکاح حرام ہے ۔ (آیت) ” ولا تنکحوا ما نکح ابآء کم من النسآء الا ما قدسلف “ ” اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں ان سے نکاح نہ کرو ۔ مگر جو پہلے ہوچکا ۔ “ یعنی جاہلیت میں جو ہوچکا سو ہوچکا ‘ اس لئے کہ جاہلیت میں یہ جائز تھا ۔ (4) بیٹوں کی بیویاں اور پوتوں کی بیویاں جس قدر نیچے کو چلتے جائیں ۔ اس لئے ایک شخص کے لئے اپنے صلبی بیٹے کی بیوی سے نکاح حرام ہے ۔ اسی طرح صلبی پوتے کی بیوی کے ساتھ نکاح حرام ہے ۔ اسی طرح لڑکی کے لڑکے کی بیوی کے ساتھ نکاح بھی حرام ہوگا ۔ جس قدر نیچے چلتے جائیں ۔ (آیت) ” وحلآئل ابنائکم الذین من اصلابکم “ ” اور ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صلب سے ہوں “۔ اصلابکم کی شرط اس لئے عائد کی گئی ہے کہ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے کی بیوی بھی حرام سمجھی جاتی تھی ‘ اس لئے اس کو صلبی بیٹے پوتے کے ساتھ مخصوص کردیا گیا ۔ اور حکم دیا گیا کہ منہ بولے بیٹوں کو ان کے والدین کی طرف نسبت دو ۔ ( سورة احزاب) (5) بیوی کی بہن بھی حرام ہے لیکن یہ تحریم وقتی ہے ۔ اگر بیوی زندہ ہو اور اس کے نکاح میں ہو ۔ حرام یہ ہے کہ بیک وقت دو بہنوں کو نکاح میں رکھا جائے ۔ (آیت) ” وان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف ” اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو مگر جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا ۔ “ اس پر مواخذہ نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ نظام جاہلیت کے اندر وہ جائز تھا ۔ اسی طرح رضاعت کے ذریعہ بھی وہ تمام عورتیں حرام ہوجاتی ہیں جو نسب اور مصاہرت کی وجہ سے حرام ہوجاتی ہیں اور یہ فہرست تو محرمات پر مشتمل ہے ۔ (1) دودھ پلانے والی ماں اور اس کی دادی نانی جس قدر بھی اوپر چلتے جائیں ۔ (آیت) ” وامھاتکم التی ارضعنکم “۔ ” اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو ۔ “ (2) رضاعی بیٹی اور اس کی بیٹیاں جس قدر بھی نیچے چلتے جائیں ۔ رضاعی بیٹی وہ ہوتی ہے جسے کسی کی بیوی نے دودھ پلایا ہو اور وہ بیوی اس کے نکاح میں ہو ۔ (3) رضاعی بہن اور اس کی بیٹیاں جس قدر نیچے بھی ہوں ۔ (آیت) ” واخواتکم من الرضاعة “۔ ’ اور تمہاری دودھ شریک بہنیں ۔ “۔ (4) رضاعی چچی اور رضاعی خالہ ۔ رضاعی خالہ دودھ پلانے والی کی بہن ہوتی ہے اور رضاعی چچی دودھ پلانے والی کے خاوند کی بہن ہوتی ہے ۔ (5) بیوی کی رضاعی ماں ۔ یہ وہ عورت ہے جس نے بیوی کو بچپن میں دودھ پلایا ۔ اس طرح اس ماں کی اصول یعنی دادی نانی جس قدر بھی اوپر کو جائیں اور یہ تحریم محض نکاح سے قائم ہوجاتی ہے ‘ جس طرح نسب میں ہوتی ہے ۔ (6) بیوی کی رضاعی بیٹی ‘ یعنی وہ لڑکی جس کی بیوی نے اس شخص کے ساتھ نکاح کرنے سے پہلے دودھ پلایا ہو ۔ اسی طرح اس کی تمام پوتیاں جس قدر بھی نیچے چلیں ۔ البتہ یہ تحریم تب جاری ہوگی جب بیوی کی ساتھ مجامعت ہوگئی ہو ۔ (7) یعنی رضاعی باپ اور دادا کی بیوی حرام ہے ۔ رضاعی باپ وہ ہے جس کی بیوی نے دودھ پلایا ہو ‘ اس لئے صرف وہ عورت ہی حرام نہ ہوگی جس نے دودھ پلایا وہ رضاعی ماں ہوگئی بلکہ اس کے رضاعی باپ کی منکوحہ یعنی رضاعی ماں کی سوکن بھی حرام ہوگی ۔ (8) رضاعی بیٹے کی بیوی ‘ جس قدر نیچے چلے جائیں۔ (9) اسی طرح بیوی اور بیوی کی رضاعی بہن بھی حرام ہوگئی ‘ بیوی کی رضاعی چچی اور خالہ بھی حرام ہوگئی یا ہر ہو عورت جو اس کے لئے رضاعت کی وجہ سے حرام ہوئیں ۔ ان محرمات میں سے قسم اول اور قسم ثالث کے بارے میں تو صراحت اس آیت میں آگئی ہے ۔ باقی فہرست حضور اکرم ﷺ کی اس حدیث میں روشنی میں مرتب کی گئی ہے جس میں ہے ۔ ” رضاعت وہی محرمات ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہیں ۔ “ ” یحرم من الرضاعة ما یحرم من النسب (مسلم بخاری) یہ تو ہیں وہ حرام عورتیں جو شریعت نے حرام کی ہیں ۔ آیت میں اس حرمت کے لئے کوئی علت اور حکمت نہیں دی گئی ۔ نہ عام اور نہ کوئی خاص حکمت وعلت جن لوگوں نے مختلف وجوہات واسباب کا ذکر کیا ہے وہ ان کی جانب سے اجتہاد اور غوروفکر پر مبنی رائے ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان تمام محرمات کے لئے ایک ہی علت اور سبب ہو ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعض محرمات کے لئے انکے مخصوص اسباب ہوں ‘ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کئی اقسام کا باہم مشترکہ سبب بھی ہو ۔ مثلا قریبی رشتہ داروں کے اندر شادیوں کی وجہ سے بعض اوقات بچے کمزور ہوتے ہیں اور مرور زمانہ کے ساتھ ایک ضعیف نسل وجود میں آتی ہے یعنی موروثی کمزوریاں نسلا بعد نسل جمع ہوتی رہتی ہیں ۔ اس کے مقابلے میں اگر دور اقوام اور نسلوں میں شادیاں کی جائیں تو ان کے نتیجے میں ایک صحت مند نسل وجود میں آتی ہے اور دونوں کی صلاحیتیں ایک جگہ جمع ہوجاتی ہیں۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بعض محرمات کے ساتھ نہایت ہی محبت ‘ رواداری ‘ احترام اور وقار کے تعلقات مطلوب ہوتے ہیں۔ اس لئے ان روابط کو میاں بیوی کے نازک تعلق سے دور رکھنا ضروری تھا تاکہ طلاق اور جدائی کی صورت میں تلخی پیدا نہ ہو ‘ اور وہ جذبات مجروح نہ ہوں جنہیں شریعت دائما رکھنا چاہتی ہے ۔ مثلا مائیں ، بیٹیاں ، بہنیں ، خالائیں ، پھوپھیاں ، بھانجیاں ، بھتیجیاں ، اور ان کے بالمقابل وہی رشتے رضاعت کی وجہ سے ۔ یہ سب اسی زمرے میں آتی ہیں ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے بعض محرمات مثلا بیوی کی بیٹی ‘ بہنوں کا اجتماع ‘ باپ کی منکوحہ ‘ ان میں اگرچہ رشتے داری کے جذبات اور تعلقات میں کشیدگی کا احتمال نہیں ہے لیکن تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں ۔ مثلا ماں کو یہ خدشہ ہوگا کہ اس کی بیٹی بھی سوکن بن سکتی ہے ۔ بہن اور اس کی بیٹی ایک جگہ اگر سوکن بن جائیں ۔ اسی طرح باپ کے اندر یہ شعور جاگ سکتا ہے کہ اس کے بعد اسکا بیٹا اس کا شریک ہو سکتا ہے یہی بات بہو کے بارے میں ہو سکتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ قریبی رشتہ داروں کے باہم خاندانی تعلقات تو پہلے سے موجود ہوتے ہیں ۔ شریعت کا مقصد یہ ہے کہ دور دراز خاندانوں میں رشتے ناطے ہوں اور یوں خاندانی تعلقات کا دائرہ مزید وسیع ہوجائے اور رشتہ داروں کے اندر صرف اس حد پر جا کر اجازت دی گئی ہے جہاں خاندانی رشتہ کمزور ہوجاتا ہے ۔ (Remote) غرض جو علت بھی ہو ‘ بہرحال ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی قانون بنایا ہے ‘ وہ ہر گز خالی از حکمت نہ ہوگا ۔ اس میں انسانوں کی مصلحت اور بھلائی ہوگی ، رہی ہماری دانست کی بات تو کبھی ہمیں اس کا علم ہوگا اور کبھی نہ ہوگا ۔ ہماری دانش وعلم کا اثر اللہ کی شریعت پر نہیں پڑتا ۔ نہ شریعت کے نفاذ اور اس کی اطاعت پر کوئی فرق پڑتا ہے ۔ ہمیں تسلیم ورضا کے ساتھ شریعت کی اطاعت کرنا ہے ۔ اس لئے کہ ایمان صرف دل ہی میں نہیں ہوتا ۔ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ کی شریعت کی حکمرانی قائم کی جائے اور ہم مکمل طور پر سرتسلیم خم کردیں اور ہمارے دلوں میں شریعت کے احکام کے بارے میں کوئی خلجان نہ ہو ۔ اب آخری بات اور آیات کی تشریح باقی رہ گئی ‘ وہ یہ ہے کہ یہ محرمات دو کو چھوڑ کر سب کی سب جاہلیت کے رواج میں بھی محرمات تھیں ۔ جاہلیت میں ایک منکوحہ اب کے ساتھ نکاح کرلیا جاتا تھا ‘ دوسرے یہ کہ دو بہنوں کو بیک وقت نکاح میں رکھنا جائز سمجھا جاتا تھا ۔ اگرچہ جاہلی معاشرہ میں انہیں مکروہ سمجھتا تھا ۔ لیکن اسلام نے انہیں اس لئے نہیں حرام قرار دیا کہ دور جاہلیت میں ایسا ہوا کرتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس حرمت کو اپنے حق حاکمیت کے حوالے سے پیش فرمایا (آیت) ” حرمت علیکم “ ’ تم پر میری جانب سے حرام کی گئی ہیں ۔ “ یہ معاملہ محض الفاظ کا نہیں ہے ‘ یہ صرف شکل و صورت کا ہے بلکہ یہ پورے دین کا معاملہ ہے ۔ اس کے عقدہ کو حل کرلینے سے پوری دین کی حقیقت سمجھ میں آجاتی ہے ۔ اور وہ اصول ہمارے ہاتھ آجاتا ہے جس پر یہ دین قائم ہے ۔ یعنی حاکمیت صرف اللہ وحدہ کا خاصہ ہے ۔ اس دین کا فیصلہ یہ ہے کہ حرام اور حلال کی حدود کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔ اس لئے کہ حاکمیت الہیہ کی یہ ایک نہایت ہی بنیادی خصوصیت ہے ۔ اس لئے حلال و حرام کے تین کے لئے ضروری ہے کہ اس پر اللہ کی جانب سے کوئی سلطان و ثبوت ہو ۔ یہ وہی ذات ہے جو لوگوں کے لئے بعض چیزوں کو حرام کردیتی ہے اور بعض کو حلال کردیتی ہے اور اس ذات کے سوا کسی اور کو یہ اختیار اس نے نہیں دیا ہے ۔ نہ یہ حق کوئی اپنے لئے مخصوص کرسکتا ہے ۔ اس لئے کہ اگر حاکمیت کے اس حق کا کوئی اپنے لئے مدعی ہوگا تو وہ گویا الوہیت کا دعوی کرے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر جاہلی نظام اپنے لئے حلال و حرام خود مقر کرتا ہے ۔ اور اسلامی نظریہ حیات کے مطابق اس کے مقرر کردہ یہ حلال و حرام ابتداء ہی سے باطل (Void) اور کالعدم ہیں ۔ اس لئے جب اسلام آتا ہے تو وہ جاہلیت کے تمام ضابطوں کو کالعدم کردیتا ہے جس میں حلال بھی شامل ہیں اور حرام بھی ۔ اور ان میں سے کسی چیز کو قائم نہیں رکھتا ۔ اس لئے کہ یہ حلال و حرام اگر درست بھی ہوں ‘ لیکن ان لوگوں نے مقرر کئے تھے جنہیں اس کا اس اختیار (Jurasdiction) نہ تھا ۔ ان میں سے کوئی بھی نہ الہ ہے ۔ اس منسوخی کے بعد اسلام از خود حلال و حرام کا تعین کرتا ہے ۔ اگر جاہلیت میں کوئی چیز حلال قرار دی گئی تھی تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ وہی حلال ہے جسے اسلام حلال کر دے اور وہی حرام ہے جسے اسلام حرام کر دے ۔ از جانب اللہ ۔ اسلام کا یہ نظریہ حلال و حرام اس کائنات کی تمام اشیاء اور ان انسان کے تمام افعال وسرگرمیوں پر حاوی ہے ۔ اس کے دائرہ سے کوئی چیز باہر نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو حلال و حرام کے تعین کا اختیار ہی نہیں ہے ۔ نکاح و طلاق میں ‘ کھانے وپینے میں ‘ لباس و صورت میں ‘ عمل و حرکت میں ‘ تعلقات ومعاملات میں ‘ رسم و رواج میں اور قانون وجوابط میں ‘ غرض تمام معاملات میں مصدر قانون ذات باری ہے ۔ اللہ کے علاوہ جس مصدر اور جس ادارے سے بھی حلال و حرام کا تعین ہوگا وہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے باطل (Void) ہے نہ اس کا اجراء ہوسکتا ہے نہ اس کی تصحیح (Validation) ہوسکتی ہے ۔ کیا اسلامی شریعت نے جاہلیت کے بعض احکام کو جاری رکھا ہے ؟ نہیں یہ سوچ درست نہیں ہے ۔ شریعت نے ہر چیز اپنی طرف سے از سر نو جاری کی ہے ۔ اور اس کا اجراء اللہ کی طرف سے ہوا ہے ۔ یہ سوچ درست نہیں ہے کہ بعض احکام جاہلیت کا تسلسل ہیں بلکہ اس نے از سر نو اپنے احکام جاری کئے تمام رسوم و رواج جاری کئے اور اللہ تعالیٰ کے اختیار حاکمیت کے تحت جاری کئے ۔ قرآن کریم نے اس نظریہ کی بار بار تاکید کی ہے اور اس معاملے میں وہ اہل جاہلیت کے ساتھ بار بار بحث کرتا ہے ۔ وہ بار بار چیلنج کرتا ہے کہ تمہیں کیا اختیار ہے کہ تم حلال و حرام کرتے پھرتے ہو ، کون ہے حرام کرنے والا ؟ (آیت) ” قل من حرم زینة اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبات من الرزق “۔ ” پوچھو کون ہے جس نے اللہ کے سامان زینت کو حرام کیا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے پیدا کیا ہے اور پاکیزہ خوراک کو ۔ (آیت) ” قل تعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم “۔ ” کہہ دو آو میں پڑھ کر سناوں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کیا ہے ۔ “ (آیت) ” قل لا اجد فیما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتة او دما مسفوحا او لحم خنزیر “۔ ” کہہ دو ‘ جو کچھ میری طرف وحی کیا گیا ہے میں تو اس میں کوئی چیز نہیں پاتا ‘ جو کسی کھانے والے پر حرام کی گئی ہو ‘ جو اس چیز کو کھاتا ہے ‘ سوائے اس کے کہ وہ چیز بہا ہوا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو ۔ “ اس بحث و تکرار کے ذریعہ قرآن کریم اہل جاہلیت کو اس اصول کی طرف لوٹا رہا تھا کہ حلال و حرام کے حدود کے تعین کا اعتبار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ اور کسی انسان کو یہ اختیارات حاصل نہیں ہیں ۔ نہ کسی فرد کو ‘ نہ کسی طبقے کو نہ کسی قوم کو اور نہ تمام دنیا کی آبادی کو ۔ یہ اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار حاکمیت کے تحت ہی استعمال ہوسکتا ‘ اس کی شریعت کے مطابق استعمال ہو سکتا ہے ۔ شریعت تو نام ہی اجازت وممانعت کا ہے ۔ یہی تو دین اسلام ہے ‘ اس لئے جو حرام و حلال مقرر کرتا ہے گویا وہ دین کا مالک ہے ۔ اگر یہ حلال و حرام کرنے والا اللہ ہے تو پھر لوگ جو اس کو مانتے ہیں ‘ ہم کہیں گے کہ وہ اللہ کے دین پر ہیں ‘ تو پھر وہ دین اسلام میں داخل ہوں گے ۔ اگر حلال و حرام کی حدیں کسی معاشرے میں کوئی اور مقرر کررہا ہے تو ہم کہیں گے یہ لوگ اس شخص کے دین پر ہیں ۔ تو وہ پھر اس کے دین میں داکل ہوں گے ۔ دین اسلام میں داخل نہ ہوں گے ۔ یہ مسئلہ اپنے اس فریم ورک میں اللہ کی حاکمیت اور الوہیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ دین اور اس کے مفہوم کا مسئلہ ہے ۔ یہ ایمان اور ھدود ایمان کا مسئلہ ہے ۔ میں پورے عالم اسلام میں مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ اس نقطہ نظر سے اپنی پوزیشن متعین کریں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں ، ان کا دین سے تعلق کیا ہے ؟ ان کا اسلام سے کیا تعلق رہا ہے ؟ کیا اس کے باوجود یہ دعوی کرتے ہیں چلے جائیں گے کہ وہ مسلمان ہیں