Fi Zilal al-Quran — النساء 4:24 – النساء 4:60
Contents
- النساء 4:24
- النساء 4:25
- النساء 4:26
- النساء 4:27
- النساء 4:28
- النساء 4:29
- النساء 4:30
- النساء 4:31
- النساء 4:32
- النساء 4:33
- النساء 4:34
- النساء 4:35
- النساء 4:36
- النساء 4:37
- النساء 4:38
- النساء 4:39
- النساء 4:40
- النساء 4:41
- النساء 4:42
- النساء 4:43
- النساء 4:44
- النساء 4:45
- النساء 4:46
- النساء 4:47
- النساء 4:48
- النساء 4:49
- النساء 4:50
- النساء 4:51
- النساء 4:52
- النساء 4:53
- النساء 4:54
- النساء 4:55
- النساء 4:56
- النساء 4:57
- النساء 4:58
- النساء 4:59
- النساء 4:60
النساء 4:24
پارہ نمبر 5 ایک نظر میں :
پارہ پنجم میں بھی ہم سورة نساء کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس پارے میں سورة نساء کے اہم موضوعا اور اہداف زیر بحث ہیں ‘ جن کی طرف اجمالی اشارہ پارہ چہارم کے آغاز میں کیا گیا تھا پارئہ پنجم میں بھی یہی اساسی مقاصد ہیں ۔ ان عقائد ومقاصد کے ضمن میں پھر متعدد موضوعات پر بحث چلی ہے ۔
اس پارے کے پہلے سبق میں خاندانی معاملات کی تنظیم کے باقی ماندہ امور لئے گئے ہیں اور ان تمام معاملات میں خاندان کی تنظیم ، نظام فطرت کے رجحانات اور تقاضوں کے مطابق کی گئی ہے ۔ خاندانی زندگی میں جو عارضی مشکلات ہوجایا کرتی ہیں ان میں خاندان اور عائلی زندگی کو بچانے کی تدابیر اختیار کی گئی ہیں ۔ اس طرح خاندانی نظام کو بچانے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی انتظام کیا گیا ہے کہ معاشرے میں فحاشی اور بےحیائی نہ پھیلے اور خاندانی نظام کو اور عائلی تعلقات کے تقدس کو ہر مضر اثر سے بچایا جائے ۔۔۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سبق میں بعض اجتماعی اور اقتصادی امور کی ضابطہ بندی بھی کی گئی ہے ۔ مثلا بعض مالی اور تجارتی امور پر بحث اور نظام وراچت کی ضابطہ بندی جس میں حقوق کا تعلق ایک خاندان پر منحصر ہوتا ہے ۔ نیز مرد اور عورت کے لئے عائلی زندگی کے دوران میں اپنے اپنے حقوق ملکیت محفوظ کئے گئے ہیں۔
یہ تمام امور اور موضوعات ‘ جس طرح کہ ہم پہلے کہہ آئے ‘ وہ انتظامات ہیں ‘ جن کے ذریعے سے اسلامی معاشرے کو تجارتی اور اقتصادی میدان میں نظام جاہلیت سے نکال کر اسلامی نظام حیات کے اندر لانا مطلوب ہے ۔ نیز بتدریج جاہلی معاشرے کے رہے سہے نشانات کو مٹانا بھی مطلوب ہے ‘ جو ابھی تک باقی تھے اور ان کی جگہ اسلامی معاشرے کے خدوخال کو اجاگر کر کے جماعت مسلمہ کو عمومی طور پر اس مقام مرتفع تک پہنچانا مقصود ہے جس میں وہ پورے عالم میں ممتاز نظر آئے ۔ چناچہ اسلامی نظام اس امت کو جاہلیت کی سطح سے بلند کرتا ہے اور اسے مزید بلندیوں پر اٹھاتا چلا جاتا ہے ۔
دوسرے سبق میں دوبارہ اسلامی تصور حیات کے اصول طے کئے گئے ہیں ۔ ان میں ایمان کی تعریف اور ایمان کی شرائط بیان کی گئی ہیں اور ایمان کے ان اصول کو دوبارہ اس لئے بیان کیا گیا ہے تاکہ جماعت مسلمہ کے اندر ‘ اجتماعی کفالت کے بعض دوسرے ضابطے وضع کئے جائیں ۔ اجتماعی کفالت کا یہ نظام پہلے خاندان کے محدود دائرے سے شروع ہوتا ہے اور پھر اس کی حدود پوری جماعت مسلمہ تک وسیع ہوجاتی ہیں ۔ اس اجتماعی کفالت اور انفاق کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ بخل اور کنجوسی کی مذمت بھی کی گئی ہے ۔ نیز دولت پر گھمنڈ کرنے ‘ اللہ کی نعمت کو چھپانے اور انفاق فی سبیل اللہ کے مقابلے میں ریاکاری کی مذمت کی گئی ہے ۔ نیز اس سبق میں عبادت الہی کے ذریعے تہذیب نفس کا طریقہ بھی سکھایا گیا ہے ‘ عبادت گزاری کے وقت جسمانی پاکیزگی کے احکام اور اسی طرح یہ حکم کہ عبادت کے وقت مسکرات سے مکمل پرہیز کی ضرورت ہے اس لئے کہ شراب نوشی اور عبادت میں تضاد ہے ۔ شراب نوشی کے متعلق یہ ابتدائی حکم تھا ‘ بعد میں شراب نوشنی پر مکمل پابندی عائد کردی گئی اور یہ قرآن مجید کا خاص منہاج ہے جو وہ اصلاح کے لئے اختیار کرتا ہے یعنی تدریجی اصلاح کا طریقہ ۔
تیسرے سبق میں بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب کی نسبت تمہارا موقف کیا ہونا چاہئے ۔ یہ بھی اس سورة کے اہم موضوعات میں سے ایک ہے ‘ جس میں مسلمانوں کے حوالے سے ان کی نیت کے کھوٹ اور ان کے برے منصوبوں کو طشت ازبام کیا گیا ہے ۔ ان کے اس طرز عمل پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مکاری اور کینہ پروری کو واضح کیا گیا ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں اور انہیں خبردار کیا گیا ہے کہ انجام کار وہ درد ناک عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔
چوتھے سبق میں اسلام کی تعریف ‘ دین کا مفہوم اور ایمان کی شرائط کو بیان کیا گیا ہے اور یہ بات نہایت ہی فیصلہ کن اور حتمی الفاظ میں بیان کی گئی ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا مزاج کیا ہے ‘ اس نظام میں کس طرح مسلمان صرف اللہ وحدہ کی اطاعت ‘ صرف اسی کی عبادت اور صرف اسی سے ہدایت اخذ کرتے ہیں اور اپنی زندگی کے تمام تنازعات کے فیصلے بھی اللہ کی کتاب اور رسول خدا کے احکام کے مطابق کرتے ہیں ‘ نیز اس سبق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ امانت ‘ اس کے حقداروں تک پہنچائیں اور اگر انصاف کا مسئلہ درپیش ہو تو عدل کے ساتھ حکم دیں اور لوگوں کی زندگیوں میں اسلامی منہاج کو رائج کریں ‘ یہ مضامین اس انداز میں بیان کئے گئے ہیں کہ گویا یہ ایمان کی شرائط ہیں اور ساتھ ساتھ اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو ایمان کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن وہ ایمان کی شرط اول بھی پوری نہیں کرتے یعنی اپنی پوری زندگی کے تنازعات کا فیصلہ مکمل تسلیم ورضا کے ساتھ خدا اور رسول کے احکام کے مطابق نہیں کراتے ۔ پھر بار بار تاکید سے بتایا جاتا ہے کہ اگر اس شرط کو پورا نہیں کیا جاتا تو ایمان نہیں ہے ‘ چاہے جس قدر دعوائے ایمان زبانی طور پر کیا جائے اس لئے کہ یہ صریح طور پر شرط ایمان کی خلاف ورزی ہے ۔
چناچہ درس پنجم میں اسلامی جماعت کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کی جماعت میں جہاد بالقتال کے لئے تیار ہوجائے اور ان لوگوں پر سخت تنقید کی گئی ہے جو منافق ہیں اور جہاد کے خلاف رکاوٹیں ڈالتے ہیں یا مومن ہیں اور جہاد سے سستی کرتے ہیں اور اس سبق میں جہاد و قتال کا اصل مقصد اور اس کی ضرورت کا بیان کرتے ہوئے قلوب اہل ایمان کو جوش دلایا جاتا ہے کہ جہاد اور قتال اس لئے ضروری ہے کہ ضعیف اہل اسلام اور ان کے بال بچوں کو دار الکفر سے نجات دلا کر دارالاسلام میں داخل کیا جائے اور اس ارفع واعلی اسلامی نظام زندگی کے زیر سایہ لا کر انہیں زندگی کی خوشیاں عطا کی جائیں ۔ اس سبق میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ انسان کے لئے ایک دن مقرر ہے جس میں اس نے دنیا کو چھوڑنا ہے ‘ اس لئے اسے چاہئے کہ مشکل حالات ومعاملات میں خوف نہ کھائے ۔ سبق کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ جہاد شروع کردیں ‘ اگرچہ اکیلے ہوں اس لئے کہ اس دین کو غالب کرنے اور اسلامی نظام زندگی کو مستحکم اور متمکن کرنے کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں ہے ۔
مضمون جہاد فی سبیل اللہ کی مناسبت سے پھر چھٹے سبق میں بیشمار بین الاقوامی ضوابط کا ذکر بھی کیا گیا ہے یعنی اک طرف اسلامی کیمپ ہے اور دوسری جانب اس کا دشمن کیمپ ہے ‘ تیسری طرف غیر جانبدار کیمپ ہے ‘ یا وہ لوگ ہیں جن سے اسلامی کیمپ کے معاہدے ہیں ۔ معاملہ صرف طاقت ‘ غلبے اور پکڑ دھکڑ کا ہی نہیں ہے بلکہ واقعیت پسندی کے ساتھ ‘ قانون واخلاق کی حدود کے اندر ‘ انسانی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مختلف الخیال بین الاقوامی کیمپوں کے رجحانات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے عمل جہاد کو جاری رکھنا ہے ۔
جہاد فی سبیل اللہ کے مضمون کے ساتھ ‘ جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کی اقسام کو بھی بیان کیا گیا ہے ۔ یہ ساتواں سبق ہے اور اس میں ان لوگوں پر سخت تنقید کی گئی ہے جو دارالکفر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہجرت کرکے معرکہ حق و باطل میں شریک نہیں ہوتے حالانکہ دارالکفر میں ان کا دین محفوظ نہیں ہے ‘ جبکہ دارالاسلام قائم ہوگیا ہے اور اس میں اسلامی جھنڈے بڑی عزت اور عدل سے لہرا رہے ہیں ۔ اس سبق کے آخر میں مسلمانوں کو قتال فی سبیل اللہ پر ابھارا جاتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ دشمن کا پیچھا کرو اور دشمن کے تتبع اور تلاش میں ذرہ بھر سستی نہ کرو اور آخر میں واضح کردیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کا موقف کیا ہے اور دشمنان اسلام کا موقف کیا ہے ؟ اہل ایمان کا انجام کیا ہونے والا ہے اور اہل کفر کس خوفناک انجام سے دو چار ہونے والے ہیں ۔
اٹھویں سبق میں ہم اسلامی نظام عدل کی معراج تک پہنچ جاتے ہیں ۔ ہوتا یوں ہے کہ ایک یہودی پر ناجائز الزام لگایا جاتا ہے ‘ شہادت اس کے خلاف آجاتی ہے ‘ ملاء اعلی سے قرآن کریم نازل ہوتا ہے اور اس یہودی کو بری کردیا جاتا ہے ۔ یہ انصاف ایسے حالات میں کیا جاتا ہے جبکہ ہر طرف سے یہودی اہل اسلام کے خلاف رات اور دن سازشوں میں مصروف ہیں ۔ لیکن اسلامی نظام عدل میں انصاف نہ کسی کی دوستی سے متاثر ہوتا ہے اور نہ کسی کی دشمنی اسے انصاف سے محروم کرسکتی ہے ۔ یہ عدل و انصاف کا وہ معیار ہے جس پر انسانیت کبھی پوری نہیں اتر سکی ۔ ہاں انسانیت اس مقام تک صرف اسلام کے ارفع اور بےمثال نظام زندگی کے سایہ ہی میں پہنچ سکی ۔
اب نواں سبق آتا ہے جس میں شرک اور مشرکین کے ساتھ پنجہ آزمائی کی جاتی ہے ۔ شرکیہ خرافات اور ان کے اثرات ‘ گمراہ کن شعائر دینی اور کھوٹے اور اذکار رفتہ شرکیہ تصورات پر بحث ہوتی ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے نظام عدل کے بارے میں ‘ نفسانی خواہشات اور کھوٹے خیالات اور ادہام کی تصحیح کی جاتی ہے ۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے ہاں جزا وسزا اعمال پر ہے ‘ ادہام اور اچھی خواہشات پر نہیں ہے ۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اسلام واحد مقبول دین ہے اور یہی ملت ابراہیمی ہے ۔
نویں سبق میں پھر عورتوں کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ ان کے حقوق خصوصا یتامی اور ضعفاء کے حقوق سے بحث کی جاتی ہے بالخصوص بچوں کے بارے میں ۔ اس سورة کا آغاز بھی اسی مضمون سے ہوا تھا ۔ یہ بیان کیا گیا کہ خاوند کی طرف سے بیوی کے بائیکاٹ اور بیوی کی جانب سے نافرمانی کے موقعہ پر کیا انتظامات اور کارروائیاں ہوں گی ۔ عورتوں کے ساتھ عادلانہ معاشرت کے احکام ‘ جس کے بغیر عائلی نظام درست ہی نہیں ہو سکتا اور اگر اصلاح نہ ہو سکے تو بہتر یہ ہوتا ہے کہ فریقین کے درمیان جدائی ہوجائے ۔
خاندان کے متعلق جو احکام آئے ہیں ‘ ان کا اختتامیہ یوں آتا ہے کہ عائلی احکام اور معاشرے کے اندر عدل و انصاف کے قیام کے مقصد کو اللہ کی ذات سے مربوط کردیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ زمین اور آسمانوں کا مالک ہے ۔ وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ تمام موجود مخلوق کو ختم کر دے اور ان کی جگہ بالکل ایک نئی مخلوق پیدا کر دے ۔ لہذا اللہ کے احکام وہدایات پر عمل کا حکم کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔ اور ان احکام کا تعلق ذات باری کے ساتھ ہے ‘ جو ایک عظیم ذات ہے ۔ چناچہ قدرتی طور پر دلوں میں خدا کا خوف پیدا ہوجاتا ہے اور وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں ان کے لئے اپنے معاملات میں عدل و انصاف کرنا ضروری ہوجاتا ہے اور اپنے پورے معاملات میں خدا کا خوف ان پر غالب ہوتا ہے ۔ جس طرح قرآن کریم کا انداز ہے کہ وہ ایک مخصوص و محدود موضوع کو بھی عام اور وسیع تر دائے کے اندر لا کر بیان کرتا ہے ۔
اب اس پارے کا آخری سبق آتا ہے جو تقریبا نفاق اور منافقین پر تنقید تک محدود ہے ۔ اہل ایمان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ سچے مسلم ہوجائیں اور صراط مستقیم پر گامزن ہوں ۔ انہیں اس بات پر متنبہ کیا جاتا ہے کہ وہ جماعت مسلمہ اور اس کی قیادت کے سوا کسی اور حلقے سے دوستانہ روابط قائم نہ کریں اور نہ منافقین اور دشمنان دین کی وجہ سے اور اجتماعی تعلقات اور ذاتی مصلحتوں کی خاطر دین کے معاملے میں سستی یا نرمی کریں ۔ کیونکہ ایسا کرنا بھی درحقیقت نفاق ہوگا ۔ اور منافقین قیامت میں جہنم کی نچلی تہوں میں ہوں گے اور منافقین درحققت کافروں کے دوست ہیں ۔ اس سبق کا خاتمہ صفات الہی کے بیان سے ہوتا ہے اور یہ کہ اللہ کا اس کے بندوں کے ساتھ تعلق کیا ہے اور یہ کہ گمراہی اور انحراف کرنے والوں کو سزا دینے میں حکمت کیا ہے ؟ اگر وہ ایمان لے آئیں اور شکر گزار ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ کو خواہ مخواہ عذاب دہی میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔
(آیت) ” مایفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم وکان اللہ شاکرا علیما “۔ (4 : 147)
(آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے ‘ اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روش پر چلو ۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے)
یہ عجیب انداز کلام ہے ۔ دل پر رحمت کی بارش ہوجاتی ہے ۔ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ سزا دے ۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے بشرطیکہ لوگ سیدھی راہ پر آجائیں ۔ اللہ تو شاکر ہے یعنی قدر دان ہے ۔ وہ اپنے فضل اور احسان کی بارش کرتا ہے بشرطیکہ وہ شکر گزار بنیں ۔ لیکن غلطی خود ان کی ہے کہ وہ اللہ کا عذاب خود خریدتے ہیں ۔ اپنے کفر اور انکار کی وجہ سے اور اس فساد فی الارض کی وجہ سے جو زمین پر اور نفس انسانی اور حیات انسانی کے اندر ان کے اس کفر اور انکار کی وجہ سے برپا ہوتا ہے ۔
یوں اس پارے نے اپنے پر پھیلا کر بیشمار مقاصد اور موضوعات کو اپنے اندر چھپا رکھا ہے ۔ غرض بڑی طویل و عریض بحثیں ہیں ۔ یہاں اس تبصرے میں صرف مجمل اشارات مطلوب ہیں ۔ انشاء اللہ ان موضوعات کو ہم جلد ہی تفصیل کے ساتھ لیں گے ۔
درس نمبر 32 ایک نظر میں :
یہ سبق ان مضا میں کا تکملہ ہے ‘ جو عائلی زندگی کی تنظیم اور قواعد فطرت کے مطابق اس کی تشکیل کے سلسلے میں اس سورت میں بیان ہوے تھے ۔ اور اس سبق کے بعد اس اہم موضوع پر صرف دو جگہ تکمیلی بحث ہوگی ۔ یہ موضوع اسلام کی نظر میں اہم اس لئے ہے کہ اس کی درستی پر پوری انسانی زندگی کی درستی اور استواری موقوف ہے ۔ کسی معاشرے میں اگر یہ درست ہوجائے تو پوری انسانی زندگی بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ جاری رہتی ہے اور اس کی تعمیر صحت مند بنیادوں پر ہوتی ہے ۔ اور اگر عائلی زندگی تباہ ہوجائے اور صراط مستقیم سے ہٹ جائے تو اس سے اس کرہ ارض پر ایک عظیم اور ہمہ جہت فساد رونما ہوجاتا ہے ۔
اس سبق میں عورتوں کی وہ تکمیلی فہرست دی جارہی ہے ‘ جن سے نکاح حرام ہے ۔ اس کے بعد وہ منہاج وضع کیا جاتا ہے جس کی اساس پر ایک پاک خاندان کی صورت میں ‘ عورت اور مرد کا اجتماع جائز کیا گیا ہے ۔ اور یہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس منہاج کی پابندی سے پاکیزگی اور طہارت کے علاوہ ‘ لوگوں کے لئے بڑی آسانیاں اور سہولتیں پیدا ہوتی ہیں اور پھر وہ تنظیمی قواعد وضع کئے جاتے ہیں جن کی اساس پر ادارئہ خاندان کی عمارت استوار ہوتی ہے ‘ اور اس ادارے میں زوجین کے کاندھوں پر جو ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں یا انہیں جو حقوق دیئے گئے ہیں ان کی توضیح ہے ۔ خاندان کی اس تنظیم کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے میں بعض مالی حقوق کے بارے میں احکام دیئے جاتے ہیں ‘ چاہے ان کا تعلق حقوق مکتبہ سے ہو یا حقوق موروثی سے ہو ۔ ان حقوق کا تعلق اجتماعی تعلقات سے بھی ہے اور ایک خاندان میں مرد اور عورتوں کے حقوق وراثت سے بھی ہے اسی طرح وہ مسائل بھی بیان ہوئے ہیں جن کا تعلق قرابت کے علاوہ بطور ولایت موروثی حقوق سے ہے ۔
یہ بات عمومی طور قابل لحاظ ہے کہ ان تمام ضابطہ بندیوں اور احکام کے درمیان ایک لطیف ربط پایا جاتا ہے ۔ اور یہ ربط دراصل وہ پہلا اصول ہے کہ یہ تمام احکام اور ضابطہ بندیاں اللہ جل شانہ ‘ کی طرف سے صادر ہوئی ہیں اور یہ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کا ذاتی مقتضاء ہیں کیونکہ اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ترین صفات میں سے ایک صفت اس کی حاکمیت ہے اور اس حاکمیت کا مظہر انسان کے لئے قانون سازی ہے ۔ اور وہ اجتماعی نظام ہے ‘ جس کی اساس پر وہ اپنی زندگی کو استوار کریں گے اور اپنے اجتماعی تعلقات قائم کریں گے ۔
اس لطیف ربط کا سیاق کلام میں بار بار ذکر کیا جاتا ہے اور بار بار اللہ کی اس ذاتی خصوصیت کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ ان تمام احکام کا نزول اور صدور ذات باری کی طرف سے ہو رہا ہے جو علیم و حکیم ہے ۔ یہ اشارہ ایک حکیمانہ اور معانی سے پر اشارہ ہے اس لئے کہ اسلامی نظام زندگی میں ‘ جس ذات کی طرف سے اوامروانواہی صادر ہوتے ہیں ‘ وہ علم کامل اور علم شامل رکھنے والی ذات کی طرف سے ہوتے ہیں ‘ وہ ایسی ذات ہے جو حکمت و دانائی کی حامل ہے یہ وہ خدائی خصوصیات ہیں جو انسان میں نہیں پائی جاتیں ‘ اس لئے کہ انسان اس بات کی صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ انسانی زندگی کے لئے کوئی ضابطہ خود وضع کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انسان علیم وخبیر خدا کے بنائے ہوئے ضابطے سے منحرف ہوا ‘ اس پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور وہ بےآب وگیاہ میدان میں گم گشتہ راہ ہوگیا اور بلا کسی مرشد وہادی کے سرگردان رہا ۔ لیکن اپنی جہالت اور اپنی ہٹ دھرمی اور اپنی نفسانی خواہشات کی وجہ سے یہی سمجھتا رہا کہ وہ اس دشت کو عبور کرلے گا اور اپنے لئے اور اپنی نجات کے لئے اس راہ سے اچھی راہ تلاش کرلے گا ‘ جس کی طرف سے اللہ بلا رہا ہے ۔
سیاق کلام سے جس دوسری حقیقت کی طرف بار بار اشارہ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی منہاج حیات انسان کے لئے نہایت ہی سہل ‘ نہایت ہی حقیقت پسندانہ اور فطری رجحانات کے عین مطابق ہے ‘ بمقابلہ ان نظامہائے زندگی کے جو انسان خود اپنے لئے بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اس کے لئے آسان ہیں حالانکہ انسان کی ناتوانی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی نظام اللہ کی عین رحمت اور مہربانی ہے کہ اس نے انسان کے لئے یہ نظام اور منہاج وضع کیا جو ایسا معتدل ہے کہ اس سے ذرہ بھر ادھر ادھر ہونے سے توازن اور اعتدال ختم ہوجاتا ہے اور انسان پر عذاب الہی نازل ہوتا ہے اور وہ ایسی مشقت اور سختی میں مبتلا ہوجاتا ہے جسے جھیلنے کی اس میں قوت ہی نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں اس خود ساختہ نظام کی وجہ سے انسان اپنے انسانی مقام کو کھو دیتا ہے اور گندگی کے گڑھے میں اوندھے منہ جا گرتا ہے ۔
جب ہم نصوص قرآن پر آئندہ صفحات میں تفصیلی بحث کریں گے تو موقعہ بموقعہ انسان کے تاریخی مراحل کی روشنی میں ‘ اس حقیقت کے مصداق کی طرف اشارہ کریں گے اس لئے کہ یہ ایک تاریخی سچائی ہے ۔ ہاں جب جاہلیت دلوں پر پڑدے ڈال دیتی ہے اور آنکھوں کو اندھا کردیتی ہے تو پھر آنکھوں کی روشنی ختم ہوجاتی ہے اور دل بےنور ہوجاتے ہیں اور انسان کسی بھی حقیقت کا ادراک نہیں کرسکتا چاہے وہ بہت ہی روشن کیوں نہ ہو ۔
اس سے قبل پارہ چہارم کے آخر میں ان عورتوں کی فہرست دی گئی تھی جو ابدی اور ذاتی حرمت کی بنا پر حرام قرار دی گئی تھیں ۔ یہاں مناسب ہے کہ وہ فہرست دوبارہ پیش نظر رکھی جائے ۔
(آیت) ” ولا تنکحوا مانکح ابآؤکم من النسآء الا ما قد سلف ، انہ کان فاحشۃ ومقتا وسآء سبیلا “۔ (22) حرمت علیکم امھتکم وبنتکم واخوتکم وعمتکم وخلتکم وبنت الاخ وبنت الاخت وامھتکم التی ارضعنکم واخوتکم من الرضاعۃ وامھت نسآئکم وربآئبکم التی فی حجورکم من نسآئکم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم وحلآئل ابنائکم الذین من اصلابکم وان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف ، ان اللہ کان غفورا رحیما (23) (4 : 22۔ 23)
اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں ان سے ہر گز نکاح نہ کرو ‘ مگر جو پہلے ہوچکا ہوچکا ‘ درحقیقت یہ ایک بےحیائی کا فعل ہے ۔ ناپسندیدہ ہے اور برا چلن ہے تم پر حرام کردی گئیں ہیں تمہاری مائیں ‘ بیٹیاں ‘ بہنیں ‘ پھوپھیاں ‘ خالائیں ‘ بھتجیاں ‘ بھنجیاں ‘ اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایاہو ‘ اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں ‘ اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پڑورش پائی ہے۔ ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن وشو قائم ہوچکا ہو ورنہ اگر تعلق زن وشو نہ ہوا تو (انہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیاں سے نکاح کرلینے میں) تم پر کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صلب سے ہوں اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو ‘ مگر جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا ۔ اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
غرض پارہ پنجم کی یہ آیات پارہ چہارم کی آخری آیات کا تکملہ ہیں ۔ (والمحصنت من النسآئ) ” وہ عورتیں جو دوسروں کے نکاح میں ہوں “۔
ان کو محرمات میں اس لئے شامل کیا گیا ہے کہ یہ دوسرے مردوں کے حصار نکاح میں ہیں ‘ اس لئے وہ اپنے خاوندوں کے علاوہ دوسروں پر حرام ہیں اور ان کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہے ۔ اسلام کے اجتماع نظام کی اساس چونکہ خاندان پر رکھی گئی ہے ‘ اس لئے نکاح اور نکاح کی حرمت اسلامی نظام کی تعمیر میں خشت اول کا درجہ رکھتی ہے ۔ گویا اسلامی نظام میں خاندان پہلی اکائی ہے اور خاندان کو ہر قسم کے اختلاط خصوصا نسب کے اختلاط سے محفوظ رکھنا ضروری ہے ‘ جو عموما بےقید جنسی تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ‘ جس سے فحاشی پھیلتی ہے اور پورا معاشرہ اس میں ملوث ہوجاتا ہے ۔
اسلامی معاشرے کی اکائی سے جو خاندان بنتا ہے ‘ وہ اعلانیہ نکاح پر استوار ہوتا ہے ‘ جس میں ایک عورت ایک مرد کے لئے مخصوص ہوجاتی ہے ۔ اس طرح وہ اس مرد کے حصار میں آجاتی ہے اور محصن ہوجاتی ہے یعنی محفوظ اور مامون ۔ اور یہ نظام وہ مکمل ترین نظام ہے ‘ جو انسانی فطرت اور انسان کی حقیقی ضروریات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے ‘ وہ حاجات و ضروریات جو انسان کے لئے بحیثیت انسان ضروری ہیں ، یہ بات یہاں نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ انسانی زندگی کے بعض ایسے مقاصد ہیں جو اس کے حیوانی مقاصد سے زیادہ اہم بڑے اور واسیع ہیں ۔ اگرچہ ان کے ضمن میں حیوانی مقاصد بھی پورے ہوجاتے ہیں ۔ غرض اسلام کا معاشرتی نظام انسانی سوسائٹی کے مقاصد عالیہ کو بطور اتم پورا کرتا ہے اور وہ اس معاشرے کے لئے امن و اطمینان کے پورے اسباب فراہم کرتا ہے ۔ انسانی نفس اور ضمیر کا امن انسانی گھرانے اور ان کے ذریعے انسانی سوسائٹی کا امن و سکون ۔
یہ بات ایک کھلا مشاہدہ ہے کہ انسان کے بچے کو کسی بھی اور حیوان کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور طفولیت کے بعد اس کی علمی اور اخلاقی تربیت کے لئے پھر مزید طویل عرصہ درکار ہوتا ہے تاکہ وہ انسان کی اجتماعی زندگی کے مقتضیات کا ایسا ادراک کرسکے جس کی وجہ سے انسان اور حیوان کے درمیان امتیاز کیا جاسکے ۔
حیوانات کے درمیان جب جنسی اتصال ہوتا ہے اور توالد وتکاثر کا مقصد پورا ہوجاتا ہے تو ان کے جنسی مقاصد پورے ہوجاتے ہیں ‘ لیکن انسان کا کیس یہ ہے کہ اس کے مقاصد صرف ان امور کے پورہونے سے پورے نہیں ہوجاتے ‘ اس کے مقاصد اس سے آگے ہیں ۔ ان میں مرد اور عورت کا دائمی ہم سفر ہونے اور میاں بیوی کے درمیان ایک دائمی رشتے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ پیدا ہونے والے بچے کو حفظ ذات ‘ حفظ حیات انسانی ‘ اور اس کی ضروریات خوردونوش کی فراہمی کے لئے تربیت دی جائے اور تیار کیا جائے ۔ اس کے علاوہ سب سے اہم مقصدیہ ہوتا ہے کہ اس وقت تک انسانیت نے اس دنیا میں علم اور ٹیکنا لوجی کے میدان میں جو تجربات کئے ہوتے ہیں ‘ انہیں بھی اس کی طرف منتقل کیا جائے تاکہ وہ انسانی معاشرے میں بھرپور حصہ لے سکے اور انسانی ترقی کے اس مسلسل عمل میں ‘ جو صدیوں سے جاری ہے خود اپنے دور میں جس میں یہ بچہ پیدا ہوا اپنا فریضہ ادا کرسکے ۔
یہی وجہ ہے کہ جہاں تک جنس انسانی کا تعلق ہے ‘ اس کے معاملے میں جنسی لذت کا مقام ایک مرد اور عورت کے باہمی تعلقات میں بہت نیچے آتا ہے ۔ جنسی لذت قدرت الہی نے مرد اور عورت میں محض اس لئے ودیعت فرمائی ہے تاکہ وہ خوشی اور دلچسپی سے باہم ملیں اور اس طرح بقائے بنی نوع انسان کے فریضہ کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کریں ۔ مرد اور عورت کے باہمی میل کی تہہ میں صرف جنسی لذتیت عامل اول نہیں ہے بلکہ اس میں اصل فیکٹر فرائض نوع کی ادائیگی ہے ‘ یعنی اس ناتواں آنے والی نسل کی دیکھ بھال جو اس جنسی ملاپ کی وجہ سے وجود میں لائی جاتی ہے ۔ نیز اس سوسائٹی کے حقوق کی ادائیگی جس پر اس موجود نسل کی تربیت کی ذمہ داری ہوتی ہے ‘ تاکہ یہ نسل اپنے انسانی اور اجتماعی فرائض ادا کرسکے اور یوں وہ انسانی وجود کے اصلی مقاصد پورے کرسکے ۔
یہ تمام مقاصد یوں پورے ہوتے ہیں کہ جنسی تعلق کو ایک خاندان کی صورت میں منظم کیا جائے اور یہی وہ طریق کار ہے جو انسانی تجربات کے نتیجے میں صحیح ثابت ہوا ہے ۔ اس طریق کار میں ایک عورت ایک مرد کے لئے مخصوص کردی جاتی ہے اور یوں یہ تعلق دائما مستحکم بنیادوں پر استوار ہوتا ہے ۔ خاندان کی تشکیل میں صرف جنسی لذت ہی اصل فیکٹر نہیں اور نہ صرف جنسی بےراہ روی ہی اصل اور فیصلہ کن عنصر ہوتا ہے ‘ نہ اس تعلق کے برقرار رہنے میں اس کے قیام اور دوام میں پیش آنے والی مشکلات کے حل میں صرف یہی عامل کام کرتا ہے اور نہ ہی خاندان کے توڑنے کے عمل کی پشت پر صرف یہی جنسی عمل کام کرتا ہے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ خاندان کے مقدس نظام کی اس سے زیادہ اور کوئی توہین نہیں ہو سکتی کہ اسے ادائے فرض کے مقدس عامل کے بجائے صرف شہوت رانی عارضی جنسی خواہشات کی تسکین اور محض لذتیت کی اساس پر منظم کیا جائے ‘ جبکہ یہ سب عوامل بہت ہی عارضی ہوتے ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ ایسا تصور پیش کرنا انسان اور انسانیت کے خلاف ایک مجرمانہ کوشش ہے ۔ اس لئے کہ اس طرح معاشرے میں فحاشی ‘ طوائف الملوکی ‘ معاشرتی بےراہ روی ‘ اور معاشرتی شتر بےمہاری جیسی خرابیاں طوفان کی طرح پھیل جاتی ہیں اور اس طرح پورا معاشرہ منہدم ہوجاتا ہے اور اس کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔
اس وقت دنیا میں بعض اہل قلم خاندانی نظام کے خلاف لکھ رہے ہیں ۔ ایک وسیع میڈیا اس کے خلاف لگا دیا گیا ہے ‘ جو نکاح اور خاندانی نظام کے خلاف مسلسل نشرواشاعت میں مصروف ہے اور ان تعلقات کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جو صرف جنسی لذتیت اور خوش وقتی پر مبنی ہوتے ہیں ‘ جبکہ مستقل خاندانی نظام کی تحقیر کی جاتی ہے ۔ اس بحث سے اچھی طرح معلوم ہوگا کہ ان خطوط پر کام کرنے والے اہل قلم انسانیت کے خلاف کس قدر عظیم جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔ ان حضرات کی کوششوں سے خاندانی نظام کی شکل بگڑ گئی ہے اور اس کی اہمیت ختم ہوگئی ہے ۔
اس موضوع پر حضرت عمر ابن خطاب ؓ کے ایک قول میں بڑی گہرائی پائی جاتی ہے ۔ ایک شخص اپنی بیوی کو محض اس لئے طلاق دینا چاہتا تھا کہ اب اسے اس کے ساتھ کوئی محبت نہیں رہی ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ! ” کیا خاندان کی اساس صرف محبت پر ہے ؟ اگر یہی ہے تو پھر بچوں کی پرورش کا کیا بنے گا اور پھر ذمہ داریاں کون سنبھالے گا ۔ “ اور حضرت عمر ؓ نے یہ نظریہ زندگی قرآن کریم کی ہدایت اور تربیت سے اخذ کیا تھا ۔ قرآن کریم نے اللہ کے ان مختار بندوں کی تربیت یوں کی تھی ۔
(آیت) ” وعاشروھن بالمعروف ، فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔ (4 : 19)
” ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو ۔ “
اور یہ حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ ممکن حد تک ایک گھرانے کو قائم رکھ جائے ‘ اور قلبی جذبات اور میلانات کا مقابلہ کیا جائے اور ان کو کنٹرول میں رکھا جائے اور مرد وزن کے اس مقدس تعلق کو اس وقت تک نہ توڑا جائے جب تک اسے قائم رکھنے کی آخری کوششیں فیل نہ ہوجائیں ۔ یہ کوشش اسلامی نظام نے اس لئے کی ہے کہ اس خاندان میں پیدا ہونے والے چھوٹے بچوں کا مستقبل تباہ نہ ہوجائے ۔ وہ آنے والے طوفان کے تھپیڑوں اور سرکش جذبات کی رد ‘ اور خواہشات نفسانیہ کی آندھیوں کی زد میں نہ آجائیں ۔
اس بلند اور گہرے نقطہ نظر کی روشنی میں اس یا وہ گوئی کی سطحیت از خود ظاہر ہوجاتی ہے جو خاندانی نظام کے سلسلے میں آبرو باختہ لوگ کرتے ہیں ۔ یہ لوگ مرد وزن کے ہر اس تعلق کے خلاف ہیں جو زوجین پر کچھ فرائض اور حقوق عائد کرتا ہو ‘ جن کا تعلق انسانیت کی قیمتی جنس یعنی نوخیز نسل سے ہو یا اس نوخیز نسل کی ایسی تربیت سے ہو جس میں اس کو جدید ترقی یافتہ زندگی میں اپنے انسانی فرائض سرانجام دینے کے فطری وظیفہ سے ہو اور جس میں تمام نسلوں کے مفادات کو پیش نظر رکھا گیا ہو ‘ جبکہ یہ لوگ ہر اس تعلق کی تعریف اور تمجید کرتے ہیں جس کی اساس وقتی جذبات اور زائل ہونے والی لذتیت پر ہو اور جسے یہ لوگ ترقی کی علامت سمجھتے ہیں ۔
آج کے اس دور میں گندی اور سستی فلمیں اور گندے گم کردہ راہ میڈیا کے ذرائع ‘ ہر منکوحہ عورت کو یہ تعلیم دیتے ہیں کہ جب بھی اس کا دل خاوند سے اچاٹ ہوجائے وہ فورا اپنے لئے دوست تلاش کرلے اور یہ ذرائع ابلاغ ایسی عورت کے فعل کو ایک مقدس فعل تصور کرتے ہیں ‘ جبکہ اپنے حقیقی خاوند کے تعلق کو وہ ” معاہدہ بیع جسم “ کہتے ہیں ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ بیان محرمات کے سلسلے میں فرماتے ہیں ۔ (والمحصنت من النسآئ) ” وہ عورتیں جو حصار نکاح میں بند ہیں “ اور انہیں حصار نکاح میں بند ہونے کی وجہ سے دوسرے مردوں کیلئے حرام قرار دیتے ہیں ۔ یہ تو ہے اللہ کا فرمان اور وہ ہے فرمان ان آبرو باختہ لوگوں کا جنہیں اس مقدس حصار کے توڑنے کے لئے دشمنان اسلام نے قابو کرلیا ہے اور وہ حصار نکاح کو توڑ کر اسلامی معاشرے میں فحاشی پھیلانا چاہتے ہیں ۔
(آیت) ” واللہ یقول الحق وھو یھدی السبیل “۔ ” اللہ ہی حق کہتا ہے اور صرف وہی سیدھا راستہ بتلاتا ہے “
اس دنیا میں نہایت ہی منظم کوششیں اس لئے صرف کی جارہی ہیں کہ اللہ جل شانہ کی مرضی کے خلاف اقدار حیات ‘ اخلاقی پیمانے اور تصورات ایجاد کئے جائیں اور انسانی زندگی میں ایسے اجتماعی روابط اور ایسی عمرانی بنیادیں رکھی جائیں جو ان روابط اور بنیادوں سے مختلف ہوں جنہیں اللہ نے رائج کیا ۔ اور جو حضرات ان مساعی نامشکور میں رات دن مصروف ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مقصد صرف اسلامی ممالک کے اندر اسلامی معاشرے کی بنیادیں منہدم کرنے تک محدود ہے تاکہ وہ اسلامی ممالک میں اجتماعی زندگی کے نظام کو درہم برہم کر کے ان تمام رکاوٹوں کو ختم کردیں جو ان ممالک میں ان کے مخصوص مقاصد کی راہ میں حائل ہوں ان اہداف کے تحت وہ مسلمانوں کے عقائد انکے اخلاق اور ان کے اجتماعی نظام کو تباہ کر رہے ہیں لیکن وہ سوچتے نہیں کہ انکی ان غلط مساعی کے نقصانات خود ان کے حق میں کس قدر دور رس ہیں ۔ وہ فقط اسلامی نظام معاشرت ہی کو تباہ نہیں کر رہے بلکہ وہ دراصل پورے عالم انسانیت کی اقدار کو تباہ کر رہے ہیں ‘ وہ اقدار جن پر پوری انسانیت کی اعلی اجتماعی قدریں استادہ ہیں ۔ ان لوگوں نے اپنی اس پالیسی کی وجہ سے پوری انسانیت کو ان عناصر سے محروم کردیا ہے جن کی وجہ سے انسانیت نے اپنے کاندھوں پر امانت کبری کا بوجھ اٹھا رکھا تھا ۔ یعنی اس کرہ ارض پر بہترین اور ترقی یافتہ نسل کو پروان چڑھانا ان لوگوں کی اس پالیسی کی وجہ سے انسانیت تربیت یافتہ بچوں کی دولت سے محروم ہوگئی ہے جنہوں نے ماں کی گود میں تربیت پائی ہو یاد رہے کہ بچے کے لئے ماں کی گود ہی نرم مطمئن اور پرامن گہوارہ ہوتی ہے اور اس تربیت میں بچہ بےلگام شہوانی جذبات سے مامون ہوتا ہے ۔ نیز وہ بدلتے ہوئے میلانات اور خواہشات کا شکار نہیں ہوتا اور نہ وہ ایسی خواہشات کا کھلونا بنتا ہے جو ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ رخ بدلتی رہتی ہیں ۔ ماں کی گود میں تربیت یافتہ بچہ میں بنی نوع انسان کی اجتماعی ذمہ داریوں سے عہدہ برآہو سکتا ہے اور یہ اہداف محض شہوت رانی کی خاطر دو افراد کے ملاپ اور محصوص نسل کشی کی کافر نرسریوں میں بچوں کی پرورش کے اہداف سے بالکل جدا اور مقدس ہیں اور یہ اہداف مستقل پرسکون اور دور رس انسانی فرائض پر مبنی ہیں ۔
اس صورت حال میں پوری انسانی نسل لعنت اور ملامت کی مستحق ہوجاتی ہے ‘ اس لئے انسانیت کا ایک عضو ‘ دوسرے اعضاء کو تباہ کر رہا ہے اور جس میں موجودہ نسل انسانی ‘ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو تباہ وبرباد کر رہی ہے ‘ محض اس لئے کہ خود اس کی ذات کا بھلا ہوجائے ‘ اس کی ذاتی اور موجود خواہشات کما حقہ پوری کردی جائیں چاہے مستقبل میں آنے والی نسلوں کی قسمت میں تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہ رہے ۔ اور اللہ کا عذاب ان نسلوں کے لئے قضائے مجرم بن جائے جو اللہ کے احکام کی نافرمان ہو رہی ہیں ‘ جو اس کی تخلیق کردہ فطرت کے خلاف روش رکھتی ہیں اور جو اس کی صریح ہدایت کے خلاف جا رہی ہیں ۔ اور جن کی وجہ سے پورا بنی نوع انسان ان مصائب میں گرفتار ہے ۔ ہاں اس وبال اور عذاب الہی سے وہ مٹھی بھر مومن ضرور محفوظ رہیں گے جو اللہ کے احکام کا اقرار کرتے ہیں ‘ جو اس زمین پر اللہ کی مملکت کے قیام کے لئے کوشاں ہیں اور لوگوں کو پکڑ پکڑ کر اس کی دعوت دے رہے ہیں اور ان کو اس مٹا دینے والے فساد سے بچانا چاہتے ہیں ‘ جسے انسانیت خود اپنے لئے تیار کر رہی ہے اور وہ یہ سمجھتی ہے کہ یہ سازش وہ صرف اسلامی ممالک کے خلاف کر رہی ہے تاکہ وہ رکاوٹیں دور ہوں جو ان کی راہ میں حائل ہیں ۔ اور جس کے لئے انہوں نے خود عالم اسلام کے اصحاب قلم اور میڈیا میں کام کرنے والوں کو لگا رکھا ہے اور وہ اپنی ان مساعی کو صرف عالم اسلام کے اندر محدود تصور کرتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔
(آیت) ” والمحصنت من النسآء الا ملکت ایمانکم “۔ اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام کردی گئیں ہیں جو دوسروں کے حصار نکاح میں ہوں ‘ البتہ ایسی عورتیں ایسی عورتیں اس سے مستثنی ہیں جو جنگ میں تمہارے ہاتھ آئیں ۔ “ اس فقرے میں استثناء ان قیدی عورتوں کے بارے میں ہے جو اسلامی جنگوں میں گرفتار ہو کر آتی تھیں ‘ لیکن وہ دارالحرب اور دارالکفر میں دوسرے لوگوں کے نکاح میں ہوتی تھیں ۔ اس صورت میں ان کا تعلق نکاح ‘ ان کے سابقہ خاوندوں کے ساتھ منقطع ہوجاتا تھا ‘ کیونکہ دارالکفر سے دارالاسلام میں آجانے کی وجہ سے ان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے ‘ لہذا اس تبدیلی سے وہ محصنات نہیں رہتیں ۔ اور دارالاسلام میں ان کا کوئی خاوند ہوتا نہیں اور ایک حیض کے آنے ہی سے ان کا رحم سابقہ خاوند کے آثار سے پاک تصور ہوگا ۔ یعنی یہ نتیجہ اخذ کر لیاجائے گا کہ ان کا رحم حمل سے پاک ہے ۔ اگر اب وہ اسلام میں داخل ہوتی ہیں تو ان کے ساتھ نکاح جائز ہوگا ‘ یا جس شخص کے حصے میں وہ آجائیں ‘ اس کے لئے بھی ان کے ساتھ مباشرت جائز ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اس کی مملوکہ ہوجاتی ہیں ۔ اس صورت میں چاہے وہ اسلام لائیں یا نہ لائیں مباشرت جائز ہوگی ۔
ظلال القرآن کے پارہ دوئم میں ہم تفصیل کے ساتھ مسئلہ غلامی کے بارے میں اسلام کے موقف پر بحث کر آئے ہیں اس طرح اس سلسلے میں ایک تفصیلی بحث سورة محمد کی آیت ۔ ” (حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منا بعد واما فدآء حتی تضع الحرب اوزارھا “۔ (47 : 4)
” یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ‘ اس کے بعد تمہیں اختیار ہے ‘ احسان کردیا فدیے کا معاملہ کرو ‘ تاآنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے ۔ “ کے تحت کی گئی ہے ۔ وہاں ملاحظہ ہو۔
یہاں اس قدر کافی ہے کہ اسلامی کیمپ اس وقت غلامی کے معاملے میں اپنے مخالف کیمپ کے ساتھ وہی معاملہ کر رہا تھا ‘ جو خود وہ کیمپ اس کے ساتھ کر رہا تھا ۔ جبکہ اسلامی کیمپ بمقابلہ مخالفین کے غلاموں کے ساتھ اچھا سلوک کر رہا تھا ۔ اسلامی کیمپ کا سلوک انسانی اخلاق کریمانہ پر مبنی تھا ۔ اور اس کے سوا اسلامی کیمپ کے پاس کوئی چارہ کار بھی نہ تھا اس لئے کہ غلام سازی کا قانون ایک بین الاقوامی مروجہ قانون تھا ‘ اور اسلام کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ یکطرفہ طور پر اس قانون کو ختم کردینے کا اعلان کرتا ۔ اگر ایسا کیا جاتا تو مسلمانوں میں سے جو لوگ غلام ہوتے وہ ہمیشہ کے لئے غلام رہ جاتے اور اہل کفر میں سے جو غلام ہوتے وہ آزاد ہوجاتے ۔ یوں دشمن کے کیمپ کا پلڑا اسلامی کیمپ کے مقابلے میں بھاری ہوجاتا اور مخالف کیمپ کے حوصلے اسلامی کیمپ پر حملہ آور ہونے کے لئے بڑھ جاتے کیونکہ وہ ان حملوں کے نتائج سے ہر طرح مطمئن ہوجاتے بلکہ مخالف کیمپ کو ہر حال میں فائدہ ہوتا ۔
اب یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلام کے لئے امر مجبور کافر غلام عورتوں کو اپنے معاشرے میں رکھنا ضروری ہوگیا تھا ‘ تو پھر ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ۔ ان عورتوں کے لئے محض کھانے پینے کے انتظام پر اکتفاء نہ کیا جاسکتا تھا ‘ اس لئے کہ اس کے علاوہ ان کے ساتھ ایک دوسری فطری ضرورت بھی لگی ہوئی تھی ۔ اس ضرورت کا سامان کرنا بھی ضروری تھا ‘ اگر یہ سامان نہ کیا جاتا اور یہ گندگی پھیل جاتی ۔ پھر حالت شرک میں ہونے کی وجہ سے اہل اسلام کے لئے انکے ساتھ نکاح جائز نہ تھا ‘ نہ زبردستی انہیں اسلام میں داخل کرنا جائز تھا ‘ اس لئے یہی ایک صورت رہ جاتی تھی کہ وہ جن لوگوں کی مملوکہ ہوں ان کے لئے ان کے ساتھ حالت شرک میں بھی مجامعت کرنا جائز ہو ‘ جب تک ہو مشرکہ ہوں بشرطیکہ ان میں سے جو دارالحرب میں منکوحہ تھیں ان کے رحم کی پاکیزگی کی شرط کو پورا کیا جائے اور دارالکفر میں ان کے خاوندوں کے ساتھ ان کے تعلق کو ختم کردیا جائے ۔
ان محرمات کے بعد ‘ دوسری محرمات کے بیان سے پہلے اور باقی تمام عورتوں کی حالت کے اعلان سے پہلے یہاں یاد دہائی کرنا ضروری ہے کہ اسلامی نظام حیات میں حرام قرار دینے اور حلال قرار دینے کے اختیارات صرف اللہ کے لئے ہیں ۔ اللہ کے سوا یہ اختیارات اور کسی کے پاس نہیں ہیں ۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ انسانوں کے لئے ان کی زندگی کے امور کے بارے میں قانون سازی کرے ۔
(آیت) ” کتب اللہ علیکم “ ” یہ اللہ کا قانون ہے ‘ جس کی پابندی تم پر لازم کی گئی ہے ۔ “ یہ تمہارے ساتھ اللہ کا عہد اور میثاق ہے جو اس کے اور تمہارے درمیان پختہ طور پر طے ہوا ہے ‘ اور اس پر یہ اس کا فرمان ہے ۔ معاملہ محض کسی خواہش کا نہیں ہے کہ اس کے پیچھے دوڑیں ‘ نہ یہ کسی رسم و رواج کا معاملہ ہے جس کا اتباع کیا جاتا ہو اور نہ یہ خاندانی رواج کا معاملہ ہے جس پر عمل پیرا ہونا ضروری ہو بلکہ یہ اللہ کے میثاق ‘ اس کے عہد اور اس کی کتاب کا تقاضا ہے اور یہی وہ سرچشمہ ہے جس سے اہل ایمان قوانین حلت اور حرمت اخذ کرتے ہیں ‘ اور جو کچھ وہ فرض کر دے اس پر عمل ضروری ہے ‘ وہ جو لکھ دے وہ حرف آخر ہے ‘ اور اس کے بعد یہ کہ اس نے جو کچھ لکھ دیا ہے اس پر تم سے مواخذہ بھی ہوگا اور عمل پیرا ہونے کا مطالبہ بھی ہوگا ۔
یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم نے جن عورتوں کو محرمات کی فہرست میں داخل کیا ہے ‘ ان میں سے اکثریت ایام میں بھی حرام تھی ‘ اور ان میں سے ایام جاہلیت میں صرف باپ کی منکوحہ حرام نہ تھی ‘ نیز دو بہنوں کے درمیان بیک وقت نکاح جائز تھا ‘ البتہ ” منکوحہ اب “ کے ساتھ نکاح کو بھی ناپسند ہی کیا جاتا تھا۔ اس نکاح کو ان کے عرف میں نکاح ” مقیت “ کہتے تھے یعنی برا فعل ۔ اسلام نے تقریبا انہی محرمات کو حرام قرار دیا جو جاہلیت میں حرام تھیں ۔ اسلام نے علت تحریم یہ نہ بتائی کہ ایام جاہلیت میں بھی یہ حرام تھیں بلکہ قرآن کریم نے بصراحت یہ حکم دیا کہ ” یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر واجب ہے ۔ “
اس مقام پر ہمیں قدرے توقف کرکے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اسلام میں تصورات اور عقائد اور افکار ونظریات کی اساس کیا ہے ‘ نیز اسلام میں فقہ و قانون کے مصادر اور مآخذ کیا ہیں ؟ یہ غور وفکر کرتے ہوئے اللہ کا یہ بیان ہمارے لئے بہت سے امور میں مفید ہے ۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
النساء 4:25
(آیت) ” ومن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المومنت فمن ما ملکت ایمانکم من فتیتکم المومنت واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض فانکحوھن باذن اھلھن واتوھن اجورھن بالمعروف محصنت غیر مسفحت ولا متخذت اخدان فاذا احصن فان اتین بفاحشۃ فعلیھن نصف ما علی المحصنت من العذاب ذالک لم خشی العنت منکم وان تصبروا خیرلکم واللہ غفور رحیم “۔ (4 : 25)
” اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات) سے نکاح کرسکے ‘ اسے چاہیے کہ تمہاری ان لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں ۔ اللہ تمہارے ایمان کا حال خوب جانتا ہے ‘ تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو ‘ لہذا ان کے سرپرستوں کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کرلو اور معروف طریقے سے ان کے مہر ادا کر دو ‘ تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں ‘ نہ آزاد شہوت رانی کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں ، پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہوجائیں اور اس کے بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو ان عورتوں (محصنات) کے لئے مقرر ہے ۔ یہ سہولت تم میں سے ان لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بند تقوی کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو ۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “۔
اسلامی نظام زندگی ‘ انسان کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتا ہے ‘ جو اس کے فطری حدود کے اندر ہو ‘ اس کی وسعت اور طاقت کے مطابق ہو ‘ اس کی واقعی صورت حال کے متناسب ہو ‘ اور اس کی حقیقی ضروریات اور حاجات سے ہم آہنگ ہو ۔ اسلام کسی گمراہ انسان کو ہاتھ سے پکڑ کر گمراہی کے گڑھوں سے نکالتا ہے اور اسے اسلامی نظام حیات کی رفعت اور بلندی عطا کرتا ہے اور اس پورے عمل میں وہ اس کی فطرت اس کی قوت اس کے واقعی حالات ‘ اور اس کی حقیقی ضروریات کو ہر حال میں پیش نظر رکھتا ہے ۔ بلکہ وہ ان تمام دواعی کے تقاضے بھی پورے کرتا ہے اور اسے تدریج کے ساتھ ساتھ مقام بلند تک بھی لے جاتا ہے ۔ البتہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ اسلام جاہلیت کی صورت کو کسی حالت میں بھی ایسی صورت حال تسلیم نہیں کرتا جس کے سوا چارہ کار ہی نہ ہو ‘ اس لئے کہ جاہلیت تو نام ہی گراوٹ کا ہے اور یہ انسان کو بھی گراتی ہے جبکہ اسلام کا مقصد وجود ہی یہ ہے کہ وہ اس گراوٹ سے انسانیت کو اٹھا کر مقام بلند تک لے جائے ۔ ہاں اسلام انسان کی فطرت اور حقیقت کا اعتبار کرتے ہوئے واقعیت پسند ضرور ہے ۔ اور حقیقت واقعہ یہ ہے کہ انسان بلندی اور برتری کے مقام تک چڑھنے کی قدرت بھی رکھتا ہے اور فطری داعیہ بھی ۔ واقعیت پسندی کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر انسان جاہلیت کی گندگی کے اندر لت پت ہے تو اسے ایسا ہی رہنے دیا جائے ۔ (چاہے وہ کوئی جاہلیت بھی ہو) بلکہ واقعیت یہ ہے کہ انسان کی قدرت ووسعت میں یہ بات ہے کہ سربلندی حاصل کرے اور ترقی کرے اور اس کا فطری داعیہ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ انسان کے واقعات سے اچھی طرح باخبر ہے کیونکہ وہ انسان کا خالق ہے ‘ اور اس کی حقیقت کو اچھی طرح جانتا ہے ۔
اللہ ہی وہ ذات ہے جو ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو انسانوں کے دلوں میں کھٹکتی ہیں ۔ (آیت) ” الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر “۔ (67 : 14) ” کیا وہ ذات نہیں جانتی جس نے پیدا کیا اور حال یہ ہے کہ وہ نہایت ہی باریک بین اور خبردار ہے ۔ “
اسلام کے ابتدائی معاشرے میں غلام موجود تھے ‘ یہ غلام مسلمانوں اور کافروں کے درمیان ہونے والی لڑائیوں کے نتیجے میں پیدا ہوتے تھے اور اس وقت تک غلام رہتے تھے جب تک ان کی غلامی کا معاملہ بین الاقوامی طور پر طے نہ ہوجائے یعنی یا ان جنگی قیدیوں کو بطور احسان مفت رہا کردیا جائے ‘ یا ان کا تبادلہ مسلمان قیدیوں کے ساتھ ہوجائے یا مالی تاوان حاصل کرکے جنگی قیدیوں کو رہا کر دیاجائے یعنی جس طرح کے حالات اہل اسلام اور ان کے مقابل دشمن قوت کے مابین پائے جائیں ۔ جب تک قیدیوں اور غلاموں کا مستقل فیصلہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک اسلام ان غلاموں کا مسئلہ یوں حل کرتا ہے کہ وہ قیدی اور غلام عورت کے ساتھ اس کے مالک کی مباشرت کو جائز قرار دیتا ہے ۔ جس کی تشریح ہم سابقہ آیت میں کر آئے ہیں تاکہ مملوکہ عورتوں کے فطری تقاضوں کو ایک ضابطے کے مطابق پورا کیا جائے ‘ اور دوسری صورت یہ ہے کہ ان غلام عورتوں کو کسی مومن کے نکاح میں دے دیا جائے بشرطیکہ وہ اسلام قبول کرچکی ہوں اور ان دونوں صورتوں میں ان کے ساتھ مجامعت دارالحرب سے دارالاسلام تک منتقل ہونے کے بعد ‘ ایک حیض آنے کے بعد ان کے رحم کی پاکی کی پوری تحقیق کے بعد ہو سکے گی ۔ لیکن ان لونڈیوں کے مالکان کے سوا دوسرے لوگوں کے لئے ان کے ساتھ مباشرت کی صرف ایک ہی صورت ہے ‘ وہ یہ کہ ان کے ساتھ نکاح کرلیا جائے ۔ اس کے علاوہ ان کے لئے اس بات کا جواز نہیں ہے کہ معاشرے میں جسم فروشی کریں اور اجرت لیں ۔ اور نہ ان کے لئے یہ جائز ہے کہ مالکان ان کو آزاد کردیں اور وہ ان مالکان کے لئے جسم فروشی کرتی پھریں ۔ اس آیت میں ایسی عورتوں کے ساتھ نکاح کا یہ طریقہ وضع کیا گیا ہے ۔
ّ (آیت) ” ومن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المؤمنت فمن ماملکت ایمانکم من فتیتکم المؤمنت (4 : 25)
” اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات) سے نکاح کرسکے اسے چاہئے کہ تمہاری ان لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرے جو تمہارے قبضے میں ہوں اور مومنہ ہوں “۔
اسلام اس بات کو ترجیح دیتا ہے کہ نکاح آزاد عورت کے ساتھ کیا جائے ‘ بشرطیکہ کسی شریف زادی سے نکاح کرنے کی استطاعت ہو ‘ اس آزاد عورت کو محصنہ اس لئے کہا گیا کہ وہ حصار آزادی میں محفوظ ہوتی ہے ۔ حیرت اور آزادی اسے یہ آداب سکھاتی ہے کہ وہ اپنی عفت اور پاکدامنی کی حفاظت کس طرح کرے گی ۔ نیز آزادی شرافت اسے یہ بھی سکھاتی ہے کہ خاوند کی عزت کی حفاظت کیسے کی جائے گی ۔ اس لئے یہاں شریف زادیوں اور آزاد عورتوں کے لئے محصنات کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ، یہاں محصنات سے مراد وہ عورتیں نہیں جو شادی شدہ ہوں اور کسی کے حصار نکاح میں ہوں ۔ اس سے قبل بتایا جا چکا ہے کہ دوسروں کی بیویاں یعنی محصنات سب مردوں پر حرام ہیں ۔ اور یہاں آزاد عورتوں کے لئے محصنات اس لئے استعمال کیا گیا کہ وہ حصار آزادی میں بند ہوتی ہے ۔ آزادی اور شرافت کی وجہ سے انسانی ضمیر اور شعور میں عزت نفس کا احساس ہوتا ہے اور زندگی میں آزاد عورتوں کو کچھ حقوق حاصل ہوتے ہیں ۔ آزاد عورت کا ایک خاندان ہوتا ہے ایک فیملی ہوتی ہے ‘ اس کی شہرت ہوتی ہے ‘ اس کے محافظ ہوتے ہیں اور وہ بھی اپنے خاندان کی عزت کا خیال رکھتی ہے ۔ پھر اس کی عزت نفس بھی اسے گھٹیا حرکات سے روکتی ہے ۔ اس لئے وہ بدکاری اور زناکاری سے اجتناب کرتی ہے اور یہ موانع اور رکاوٹیں عام بازاری عورتوں یا غلام عورتوں کے لئے نہیں ہوتیں ‘ یہی وجہ ہے کہ وہ محصنہ نہیں ہوتیں ۔ اگر وہ نکاح بھی کریں تب بھی غلامی کے زمانے کے آثار ان کے اندر پائے جاتے ہیں ‘ لہذا ایک آزاد عورت کی طرح اس کے کردار میں عزت نفس ‘ عفت اور خود داری نہیں ہوتی ۔ اس کے علاوہ اس کے دل و دماغ پر خاندانی شرافت کا بھی کوئی احساس چھایا ہوا نہیں ہوتا ‘ جس کے داغدار ہونے کا اسے کوئی خوف ہو علاوہ ازیں اس میں آنے والی نسل کے جذبات کا بھی خیال رکھا گیا ہے اس لئے کہ غلام عورت کی اولاد کو ایک آزاد اور شریف زادی کی اولاد کے مقابلے میں فروتر سمجھا جاتا تھا ، اس طرح غلامی کا داغ ان کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں لگا رہتا تھا اور یہ تصورات عرب معاشرے میں بالعموم موجود تھے ‘ جس میں قرآن کریم نازل ہو رہا تھا ۔ یہ تھے وہ اسباب جن کی وجہ سے اسلام نے اس بات کو ترجیح دی کہ جہاں تک ہو سکے مسلمان آزاد اور شریف زادیوں کے ساتھ نکاح کریں ۔ اور غیر محصنہ عورتوں یعنی لونڈیوں سے شادی کی اجازت اس شرط پر دی کہ جب حرہ اور آزاد عورت سے نکاح ممکن نہ ہو یا اس کی طاقت نہ ہو یا اس کے لئے انتظار کی جانکاہ گھڑیاں گزارنا پڑ رہی ہوں اور مزید انتظار نہ کیا جاسکتا ہو۔
جب یہ مشکلات بھی ہوں اور ایک مرد کے لئے بےراہ روی کا بھی خطرہ ہو اور مرد کے لئے انتظار مشکل ہو تو اسلام اس کی راہ نہیں روکتا بلکہ اجازت دیتا ہے کہ آسانی ‘ اطمینان اور آرام سے لونڈیوں سے نکاح کرلے اور نکاح کی اجازت بہرحال ان غلام عورتوں سے ہے جو ایمان لا چکی ہوں اور جو کسی دوسرے کی ملکیت میں ہوں ۔ ایمان کی شکل کو یہاں بھی متعین طور پر ثبت کیا گیا ہے جس طرح اس سے قبل آزاد اور محصنہ عورتوں کے ساتھ نکاح میں ایمان کو شرط قرار دیا گیا تھا اسی طرح کسی کافرہ لونڈی سے بھی کسی طور نکاح جائز نہیں ہے ۔ اس لئے پہلے یہ لازمی شرط لگائی جاتی ہے کہ وہ مومنات ہوں ۔ (آیت) ” فمن ماملکت ایمانکم من فتیتکم المؤمنت “۔ (4 : 25) ” جو تمہارے قبضے میں ہوں اور مومنہ عورتیں ہوں “۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ انہیں ان کے مہر ادا کئے جائیں جو فرض ہیں اور ان کی وصولی کا حق ان کے مالکان کو نہیں ہے ۔ یہ ان کا اپنا خالص حق ہے ۔ (آیت) ” واتوھن اجورھن “۔ (4 : 25) ” پس دو انہیں ان کے مہر “ تیسری شرط یہ ہے کہ ان کا معاوضہ بطور مہر ہو ‘ اور ان سے لطف اندوزی بطور نکاح ہو نہ کہ بطور دوستی یا بطور زن بازاری ، مخادنہ کا مفہوم ہے ایک مرد یا عورت سے دوستی اور سفاح کے معنی ہیں زن بازاری کا پیشہ جو ہر کسی کے لئے کھلا ہوتا ہے ۔ (آیت) ” محصنت غیر مسفحت ولا متخذت اخدان “۔ (4 : 25) ” تاکہ وہ حصار نکاح میں محصور ہو کر رہیں اور آزادنہ شہوت رانی یاچوری چھپے آشنائیاں نہ کرتی پھریں “۔
جب اسلام آیا تو عرب معاشرے میں آزاد عورتوں کے اندر بھی اس قسم کی بےراہ روی متعارف تھی جیسا کہ اس سے پہلے بیان کردہ حدیث عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔ نیز اس دور میں غلام عورتوں میں جسم فروشی کا رواج بھی عام تھا اس وقت کے رؤساء اپنی لونڈیوں کو بازاروں میں چھوڑ دیتے تھے اور وہ ان کے لئے روپیہ کما کر لاتی تھیں ۔ عبداللہ بن ابی ابن سلول رئیس المنافقین نے مدینہ طیبہ میں اس مقصد کے لئے چار لونڈیاں رکھی ہوئی تھیں ‘ حالانکہ وہ اپنی قوم کا رئیس تھا ‘ اور وہ پیشہ کر کے اس کے لئے روپیہ کماتی تھیں ۔ جاہلیت کی گندگی کے یہ آثار مدینہ تک میں باقی تھے ۔ اسلام نے عربوں پر احسان کرکے اس رسم کی بیخ کنی کردی ‘ عربوں کا مقام بلند کردیا انہیں اس گندگی سے پاک وصاف کردیا اور عربوں کے بعد تمام انسانیت کو اس نجاست سے پاک کیا ۔
اسلام نے مردوں اور ان نوجوان مومنہ عورتوں کے درمیان مباشرت کا صرف ایک ہی طریقہ جائز قرار دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک عورت کے لئے ایک مرد مخصوص کیا جائے یعنی طریقہ نکاح اور اس طرح ایک خاندان پر مشتمل دو افراد زندگی بسر کریں ۔ اور یہ صورت نہ ہو کہ اس میں جانوروں کی طرح محض شہوت رانی ہو ۔ چونکہ دولت مردوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لئے عورت کے لئے مہر مقرر فرمایا ہے جو از روائے شریعت فرض ہے تاکہ مرد وزن کا یہ تعلق محض دوستی اور پیشہ ورانہ اجرت پر مبنی نہ ہو ۔ اسی طرح غلاموں کی دنیا میں بھی اسلام نے اس تعلق کو جاہلیت کی گندگیوں سے پاک کیا ۔ انسان نے جب بھی جاہلیت کو اپنایا وہ اس گندگی میں مبتلا ہوا۔ آج اس دور جدید میں انسان چونکہ جاہلیت کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہے ‘ اور اس نے اسلام کو چھوڑ دیا ہے اس لئے وہ اس گندگی میں پوری طرح لت پت ہے ۔
اس آیت کے تحت اس موضوع پر بحث ختم کرنے سے پہلے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ قرآن کریم کے اس انداز تعبیر پر بھی ذرا غور کریں جس میں قرآن کریم نے غلاموں اور آزاد لوگوں کے درمیان ‘ اسلامی معاشرے میں انسانی تعلقات کے قیام کی نسبت سے بات کی ہے ۔ قرآن کریم غلام عورتوں کے لئے رفیقات ‘ جواری اور امہ کا لفظ استعمال نہیں کرتا جو اس وقت مروج تھے ‘ اسلام ان کے لئے ” فتیات “ کا لفظ استعمال کرتا ہے ۔ (آیت) ” فمن ماملکت ایمانکم من فتیتکم المؤمنت “۔ (4 : 25) ” جو تمہارے قبضے میں ہوں اور مومنہ جوان عورتیں ہوں “۔
اسلام آزاد عورتوں اور غلام عورتوں کے درمیان ایسا فرق نہیں کرتا جس سے وہ الگ الگ فرقے تصور ہوں حالانکہ اس وقت جو تصورات رائج تھے ‘ ان کے مطابق غلام لوگوں کی ایک الگ دنیا تھی اور وہ دوسرے درجے کے شہری تصور ہوتے تھے ۔ اسلام سب انسانوں کو ایک اصل ونسل کا حامل تصور کرتا ہے ۔ جن کے درمیان ایک رابطہ ہے یعنی انسانیت اور ایمان کا رابطہ جو اجتماعی تعلقات کے لئے اسلام میں اساس بنتا ہے ۔ (آیت) ” واللہ اعلم بایمانکم بعضکم من بعض (4 : 25) ” اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے ‘ تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو۔ “
اسی طرح اسلام ان کے مالکان کے لئے لفظ سید یا مالک استعمال نہیں کرتا بلکہ ان کے لئے ” اہل “ کا لفظ استعمال کرتا ہے ۔
(آیت) ” فانکحوھن باذن اھلھن “۔ (4 : 25) ” لہذا ان کے سرپرستوں کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کرو “۔ اور اس کے بعد پھر اسلام مہر کا حقدار انکے مالکوں کو قرار نہیں دیتا بلکہ مہر صرف عورت کا حق ہوتا ہے لہذا مہر اس قاعدہ کلیہ سے خارج ہوجاتا ہے جس کے مطابق غلاموں کی ہر قسم کی کمائی ان کے مالکوں کی ملکیت ہوتی تھی ‘ اس لئے کہ مہر کی رقم کمائی کی تعریف میں نہیں آتی بلکہ مہر تو مرد وزن کے رابطے کا ایک مقدس فریضہ ہے ۔ (آیت) ” واتوھن اجورھن بالمعروف (4 : 25) ”” پس معروف طریقے سے ان کے مہر ادا کرو ‘۔ “
اسلام غلام عورتوں کو یہ اعزاز دیتا ہے کہ وہ عام طور پر جسم فروشی نہ کرتی پھریں اور معروف طریقے کے مطابق نکاح کر کے جنسی تعلقات قائم کریں ۔ (آیت) ” محصنت غیر مسفحت ولا متخذت اخدان (4 : 25) ” تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ ہو کر رہیں ‘ آزاد شہوات رانی نہ کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں ۔ “
یہ تمام خدوخال اور تمام پہلو ان غلام نوجوان عورتوں کے لئے شان اعزاز ارکرامت لئے ہوئے ہیں ‘ اور جس طرح وقت کا تقاضا تھا ‘ ان کے اصل مقام انسانیت میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی گئی ۔
اس اعزاز اور عزت افزائی کا موازنہ اگر نزول قرآن کے وقت رائج اور مروج حالات کے ساتھ کیا جائے جن میں غلاموں کو بری نظروں سے دیکھا جاتا تھا اور جس طرح انہیں اعلی انسانی شرف سے محروم کیا جاتا تھا اور اس انسانی شرف کی بنا پر ملنے والے تمام انسانی حقوق سے محروم کیا جاتا تھا ‘ تو معلوم ہوگا کہ اسلام نے اس سلسلے میں کس قدر دور رس تبدیلی کی ۔ اسلام نے ان عورتوں کو انسانی شرافت سے مشرف کیا ‘ ہر حال میں ان کے مقام انسانیت کا لحاظ رکھا ‘ قطع نظر اس سے کہ یہ مخلوق عارضی طور پر قید غلامی میں مقید ہے جسے اسلام محض ایک عارضی اور عبوری صورت حال تصور کرتا تھا ۔
آج کے جدید اور مہذب دور میں بھی فاتح افواج مفتوح اقوام کی عورتوں اور لڑکیوں کے ساتھ جو سلوک کرتی ہیں ‘ اگر اس کا مطالعہ کیا جائے اور اس کا تقابل اسلام کے اس پروقار سلوک کے ساتھ کیا جائے جو اس نے اس وقت کے حالات میں غلام عورتوں کے ساتھ کیا تو اس سے معلوم ہوگا کہ اس وقت اسلام نے غلامی کے عارضی طور پر موجود ادارے کے اندر کسی قدر دور رس اصلاحات کیں ۔ ہمیں جدید دور کی فاتح افواج کے ” جنسی ملاپ “ اور اس کے گندگی کے قصے اور رپورٹیں اچھی طرح معلوم ہیں جن میں جاہلیت جدیدہ کے یہ فرزند ہر اس جگہ ملوث ہوئے جہاں بھی انہوں نے فتح حاصل کی ۔ اور جب یہ مفتوحہ علاقوں کو چھوڑ کر گئے تو انہوں نے اپنے پیچھے اس قدر گندگی چھوڑی جس سے وہ علاقے سالہا سال تک عہد بر آنہ ہوسکے ۔
اس طرح ان نوجوان عورتوں کی جانب سے اس نکاح کے بعد اگر کسی فحاشی اور بدکاری کا ارتکاب ہو تو ان پر آزاد اور شریف زادیوں کے مقابلے میں خفیف سزا تجویز کی گئی ہے اس لئے کہ ان غلام عورتوں کے حالات اور واقعات ایسے ہوتے ہیں جن میں ان کے لئے فحاشی اور بدکاری کے ارتکاب کے زیادہ مواقع ہوتے ہیں اور یہ عورتیں آزاد عورتوں کے مقابلے میں کم قوت دفاع رکھتی ہیں اس لئے کہ غلامی میں ایک شخص کا ضمیر بدل جاتا ہے اور اسے عزت نفس کا حکم احساس ہوتا ہے ۔ اسے کسی خاندان کی عزت وآبرو برباد ہونے کا احساس بھی نہیں ہوتا ‘ اس لئے کہ ذاتی عزت وآبرو اور خاندانی عزت وآبرو کا احساس ہی آزاد عورتوں کے اندر اپنے ناموس کی حفاطت کا جذبہ بیدار رکھتا ہے ۔ نیز ایک شخص کا معاشرتی مقام اور اس کی اقتصادی حالت بھی فحاشی وبدکاری میں مبتلا ہونے یا نہ ہونے کے معاملے میں ایک اہم فیکٹر ہوتا ہے اور آزاد عورت کے مقابلے میں غلام عورت کا سوشل سٹیٹس اور اقتصادی حالت بہرحال کم ہوتی ہے ۔ اس وجہ سے غلام عورت اس معاملے میں بہرحال بڑی آسانی سے ورغلائی جاسکتی ہے ۔ یعنی مال اور نسب کی کمی کی وجہ سے ۔ ان وجوہات اور اسباب کی بنا پر اسلام نے غلام عورتوں کے لئے سزائے حد ‘ جبکہ وہ شادی شدہ ہوں ‘ ان آزاد عورتوں کی حد کے نصف کے برابر رکھی جبکہ ان کی شادی ابھی نہیں ہوئی ہوتی ہے ۔ فرماتے ہیں :
(آیت) ” فاذا احصن فان اتین بفاحشۃ فعلیھن نصف ما علی المحصنت من العذاب (4 : 25) ” پھر اگر وہ حصار نکاح میں محفوظ ہوجائیں اور اس کی بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی نسبت آدھی سزا ہے جو آزاد عورتوں کیلئے مقرر ہے ۔ “
اس کا مفہوم یہ ہے کہ آزاد عورتوں کی اس سزا کا نصف جو تقسیم ہو سکتی ہو ‘ اور وہ کوڑوں کی سزا ہے اور رجم کی سزا میں تقسیم ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے اس سزا سے مراد رجم کی سزا نہ ہوگی ‘ لہذا مطلب یہ ہوا کہ جب کوئی شادی شدہ لونڈی زنا کا ارتکاب کرے تو اس پر آزاد عورت ‘ (جوشادی شدہ نہ ہو) کی سزا کا نصف حصہ لازم ہوگا ۔ رہی اس لونڈی کی سزا جو شادی شدہ نہ ہو ‘ تو اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا اس پر یہی حد جاری ہوگی یعنی غیر شادی شدہ آزاد عورت کی نصف سزا یا اسے محض تادیبی سزا دی جائے گی اور یہ تادیب صرف اس کا مالک کرے گا اور نصف حد نہ ہوگی ۔ اس اختلاف کی تفصیلات کتب فقہ سے معلوم کی جاسکتی ہیں ۔
ہم یہاں فی ظلال القرآن میں ‘ صرف یہ نکتہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ اسلامی نظام زندگی لوگوں کے حالات اور ظروف واحوال کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور اس طرح ان کے حقیقی حالات میں ترقی اور پاکیزگی کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ وہ لوگوں کو بےکسی کی اس گری ہوئی حالت میں یہ فرض کرکے نہیں چھوڑتا کہ ان کے جو ظروف واحوال ہیں یہ ان کی تقدیر ہے اور وہ اس میں ہمیشہ کے لئے گم گشتہ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کو خوب جانتا تھا کہ اسلام کے دور اول میں غلام لوگ کن برے حالات سے گزر رہے ہیں ‘ ان پر کیا کیا دباؤ ہیں اور ان حالات میں ایک لونڈی کو کس سہولت کے ساتھ بدکاری اور فحاشی کے لئے آمادہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس لئے اسلام نے ان ظروف واحوال کو نظر انداز نہ کیا اور ان لونڈیوں کے لئے وہ سزا تجویز نہ کی جو اس نے آزاد عورتوں کے لئے تجویز کی تھی ‘ اور نہ ہی اسلام نے اس حقیقی اور واقعی صورت حال کو تسلیم کیا بایں معنی کہ ان حالات میں غلام عورتوں کے لئے سرے سے کوئی تادیبی سزا ہی نہ مقرر کی جائے غرض اسلام نے نصف سزا رکھ کر ان حالات کا لحاظ بھی رکھا جو اس وقت اہم فیکٹر تھے ۔ سزا بھی تجویز کی اور یوں ایک عادلانہ طریق اختیار کیا۔
ہاں یہ بات بھی ملاحظہ ہو کہ اسلام نے غلاموں کو کم درجہ سمجھ کر ان کی سزا میں سختی بھی روا نہیں رکھی ۔ جس طرح اسلام سے قبل دور جاہلیت میں مروجہ قوانین ان طبقات کے لئے بہت سخت ہوتے تھے جو مرتبہ ومقام کے اعتبار سے گڑے پڑے ہوں ‘ اور جو طبقات ترقی یافتہ ہوں ‘ ان کے لئے یہ جاہلی قوانین نہایت ہی نرم ہوتے تھے جبکہ اسلامی قوانین ضعفاء اور کمزوروں کے لئے نرم اور شرفائے لئے سخت ہوتے ہیں ۔
روم کے قوانین میں یہ رویہ اختیار کیا گیا تھا کہ جس قدر ملزم گرے ہوئے اور کم تر درجے کے طبقات سے ہوتا ‘ اسی قدر سزا میں شدت کی جاتی ۔ یہقانون کہتا ہے : ” اگر کوئی شخص کسی پاک دامن بیوہ یا کسی کنواری کی ساتھ بدکاری کا ارتکاب کرے گا ‘ اگر وہ شخص کسی معزز خاندان کا فرد ہے تو اس کی نصف جائیداد ضبط ہوگی اور اگر وہ گھٹیا خاندان سے تعلق رکھتا ہو تو اس کی سزا کوڑے اور جلاوطنی ہوگی ۔ (دیکھے مدونہ جتینائن ترجمہ عبدالعزیز فہمی) منونے جو قانون ہند میں پاس کیا تھا ‘ جسے منو شاستر کہا جاتا ہے اس میں یہ درج ہے کہ اگر کوئی برہمن واجب القتل ہوجائے تو اسے قتل نہ کیا جائے گا ‘ حاکم صرف اس قدر سزا دے سکے گا کہ اس کا سر منڈوا دے ۔ ہاں اگر واجب القتل شخص برہمنوں کے علاوہ کوئی ہو ‘ تو اسے قتل کیا جائے گا ۔ معمولی اور گرے ہوئے طبقات میں سے کوئی اگر برہمن پر ہاتھ اٹھائے گا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا ۔ “ (ماذا احر العالم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ندوی) اور یہودیوں کا قانون یہ تھا کہ ان میں سے کوئی شریف چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کم درجے کا انسان چوری کرتا تو وہ اس پر حد جاری کرتے ۔
ان حالات میں اسلامی نظام نازل ہوا ‘ اس نے سچائی کو اپنی جگہ پر کھڑا کیا ۔ اس نے مجرم پر سزا نافذ کی لیکن نفاذ سزا میں اس نے حالات جرم کو مد نظر رکھا ۔ اس نے شادی شدہ لونڈی کی سزا اس شریف زادی کی سزا کے نصف کے برابر رکھی جس کی ابھی تک شادی نہ ہوئی ہو ۔ اس نے اسے بالکل معاف بھی نہیں کیا کہ اس کے ارادہ گناہ کا کوئی لحاظ ہی نہ رکھا جائے اور اسے حالات سے مجبور تصور کیا جائے اس لئے کہ اگر ایسا ہوتا تو یہ بالکل خلاف واقعہ اور خلاف حقیقت ہوتا ۔ اور نہ اس کے حالات جرم کو نظر انداز کرتے ہوئے ‘ اس کے لئے آزاد اور شریف زادی عورتوں کے مساوی سزا تجویز کی ۔ جبکہ اس کے حالات جرم شریف زادی کے حالات جرم سے بالکل مختلف تھے ۔ اور نہ اسلام نے وہ جاہلانہ قوانین جاری رکھے جن میں اشراف کو تو معاف کردیا جتا تھا اور کم تردرجے کے لوگوں پر سزائے حد جاری ہوتی تھی ۔
امریکہ ‘ جنوبی افریقہ اور ان جیسے دوسرے ممالک میں آج تک یہ طبقاتی امتیاز مجرمین کے ساتھ ‘ اس ترقی یافتہ دور میں بھی روا رکھا جاتا ہے جہاں سفید فام اشراف کو معاف کردیا جتا ہے جبکہ رنگ دار ضعیف اور ناتواں لوگوں کے لئے کوئی معافی نہیں ہوتی ۔ یہ ہے جاہلیت اور جاہلیت جہاں بھی ہو اور جب بھی ہو اور جیسے بھی ہو وہ جاہلیت ہی ہے ۔
لونڈیوں کے ساتھ آزاد لوگوں کا نکاح محض رخصت ہے ‘ اس شخص کے لئے جو فتنے میں پڑنے سے ڈرتا ہو ‘ یا جسے بہت زیادہ مشقت اٹھانی پڑ رہی ہو ۔ جو شخص بغیر کسی مشقت یا بغیر کسی بدکاری میں پڑنے کے احتمال کے صبر کرسکتا ہو تو اس کے لئے یہ بہتر ہے اس لئے کہ غلام عورتوں کے ساتھ نکاح کرنے سے بہرحال خاندان کا ماحول خراب ہو سکتا ہے ۔
(آیت) ” لمن خشی العنت منکم وان تصبروا خیرلکم واللہ غفور رحیم “۔ (4 : 25) ” یہ سہولت ان لوگوں کے لئے پیدا کیا گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بند تقوی ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو ‘ لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔ اور اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ “ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر حد سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ‘ نہ انہیں مشقت میں ڈالتا ہے ‘ اور نہ انہیں فتنے میں ڈالتا ہے ۔ بیشک اللہ کا وہ نظام زندگی جو اس نے ان لوگوں کے لئے پسند کیا ہے ، ان لوگوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ ترقی کریں ‘ بلند ہوں اور عالی شان ہوں ‘ مگر وہ سب تقاضے انسان کے فطری حدود وقیود کے اندر کرتا ہے ۔ یہ تقاضے ان کی حدود استطاعت کے اندر ہوتے ہیں اور ان کی حقیقی ضروریات کے دائرے کے اندر ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی ایک سہل نظام زندگی ہے ۔ وہ انسانی فطرت کو پیش نظر رکھتا ہے ‘ وہ انسان کی حقیقی ضروریات سے بھی باخبر ہے ‘ اور وہ انسانی ضرورت کی مقدار سے بھی اچھی طرح واقف ہے ۔ ہاں اسلام یہ طرز عمل بہرحال اختیار نہیں کرتا کہ وہ ان لوگوں کی حوصلہ افزائی کرے اور وہ گندگیوں میں گرتے چلے جائیں اور یہ بھی وہ برداشت نہیں کرتا کہ اس کے سامنے لوگ گندگی میں لت پت پڑے ہوں اور وہ اس گندگی پر ان کی تعریف کرے یا مبارکباد دے اور حوصلہ افزائی کرے ۔ بلکہ وہ ان پر یہ فریضہ عائد کرتا ہے کہ وہ اس گندگی سے نکلنے کی سعی کریں اور سربلند ہونے کی کوشش کریں ‘ یا وہ ان نتائج سے بری الزمہ ہوں جن تک وہ اس گراوٹ اور دھوکے خوری کا مقابلہ نہ کرنے کی وجہ سے پہنچے ہوں ۔
یہاں مسلمانوں کو یہ تلقین بھی کی جارہی ہے کہ وہ صبر کریں یہاں تک کہ انہیں آزاد عورتوں کے ساتھ نکاح پر قدرت حاصل ہوجائے ۔ اس لئے کہ حصن نکاح میں آزاد عورتوں کو لانا ان کا پہلا حق ہے ۔ وہ اس بات کی حقدار ہیں کہ خاندان کی تعمیر شریف زادیوں پر ہو ‘ اور وہ شریف زادوں کو جنم دیں اور نوخیز نسلوں کے ساتھ یہ شریف زادیاں احسان کریں ‘ اور اپنے خاوندوں کی عزت محفوظ رکھیں ۔ ہاں اگر کسی کو یہ خطرہ ہو کہ وہ بدکاری میں مبتلا ہوجائے گا اور مقابلہ نہ کرسکے گا اور یہ کہ وہ صبر وانتظار کی مشقت برداشت نہیں کرسکتا تو اس کے لئے رخصت ہے کہ وہ لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرے اور اس رخصت میں بھی یہ کوشش کی گئی ہے کہ لونڈیوں کی حیثیت کو اونچا کیا جائے ۔ اور ان کو پھر یہ اعزاز بخشا گیا ہے کہ وہ تمہاری جوان عورتیں ہیں اور تم ہی ان کے اہل ہو اور تم ایک ہی گروہ ہو ‘ اور تمہارے درمینا ایمان کا مضبوط رشتہ موجود ہے اور اللہ تعالیٰ کو ان کی ایمانی حالت کا اچھی طرح علم ہے ‘ اور یہ کہ ان لونڈیوں کے لئے پھر مہر لازم اور فرض ہے اور لونڈیوں کے ساتھ بھی تمہیں نکاح ہی کرنا ہوگا ‘ نہ آزاد شہوت رانی ہوگی اور نہ ہی خفیہ دوستی اور اگر نکاح کے بعد یہ لونڈیاں بدکاری کا ارتکاب کریں تو وہ بھی مسئول ہوں گی ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ انکی سزا ان کے ظروف واحوال کے لحاظ سے ذرا ہلکی ہوگی اس لئے کہ (آیت) ” واللہ غفور رحیم “ (4 : 25) ” اللہ بخشنے والا اور رحم والا ہے ۔ “ یعنی وہ غفور ورحیم ہے کہ اس نے تمہیں مجبوری کی حالت میں غلام عورتوں کے ساتھ نکاح کی اجازت دے دی اور پھر وہ رحیم ہے کہ اس نے لونڈیوں کی سزا میں ان کے ظروف واحوال کی وجہ سے تخفیف کی جہاد بھی کسی غلطی کے ارتکاب کا ذکر ہو ‘ جہاں بھی انسان کی ذاتی کمزوری اور مجبوری کے کسی امر کا تذکرہ ہو وہاں آخر میں غفور ورحیم کی تعقیب آتی ہے ۔
اس کے بعد ان تمام مباحث اور احکام پر ایک جامع اختتامیہ آتا ہے یعنی وہ تمام احکام جو اللہ تعالیٰ نے اسلامی حیات میں ایک خاندان کی تنظیم سے متعلق صادر کئے تاکہ وہ اس نوخیز اسلامی سوسائٹی کو جاہلیت کے نشیب سے نکال کر بلند کردے ‘ اس کی نفسیاتی اخلاقی اور اجتماعی سطح کو بلند کرکے ایک روشن پاک اور ممتاز مقام تک پہنچا دے ۔ تو اب یہ جامع اختتامیہ آتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کے لئے اسلامی نظام زندگی میں ان احکام کے ذریعے کیا چاہتے ہیں ‘ وہ اس کی تنظیم اور ضابطہ بندی کیوں کرتے ہیں اور اس کے مقابلے میں جو لوگ آزاد شہوات رانی (Free Sex) کے داعی ہیں ان کے مقاصد کیا ہیں ؟
النساء 4:26
(آیت) ” یرید اللہ لیبین لکم ویھدیکم سنن الذین من قبلکم ویتوب علیکم واللہ علیم حکیم (26) واللہ یرید ان یتوب علیکم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما (27) یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “۔ (28)
” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی ۔ ہاں ‘ اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ ، اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔ “
اللہ جل شانہ اپنے بندوں کے ساتھ بہت ہی نرمی برتتے ہیں ‘ اس لئے وہ ان کے سامنے اپنی حکمت قانون سازی بھی کھول کر بیان فرماتے ہیں ۔ وہ ان کو بتاتے ہیں کہ اپنے بندوں کے لئے وہ جو نظام زندگی تجویز کرتے ہیں اس میں ان کے لئے خیر ہی خیر ہے اور سہولت ہی سہولت ہے ۔ وہ ان کو اس ممتاز اور بلند مقام پر فائز کرکے ان کی عزت افزائی کر رہے ہیں ‘ وہ بلند مقام جس میں وہ خود ان سے ہمکلام ہوتے ہیں ‘ اور وہ ان کو اپنی حکمت تشریعی بتاتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں کہ وہ ان کے سامنے اظہار خیال کرتے ہیں (آیت ) ” یرید اللہ لیبین “۔ (4 : 26) ” اللہ چاہتا ہے کہ تم پر ان طریقوں کو واضح کرے “ اس کا ارادہ ہے کہ وہ تم پر اپنی حکمت و دانائی کا انکشاف کرے ۔ وہ چاہتا ہے کہ تم اس حکمت کو بچشم سر دیکھو ‘ اس پر غور کرو ‘ اور اسے اس حال میں قبول کرو کہ تمہاری آنکھیں کھلی ہوں ‘ تمہارے دل آمادہ ہوں اور تمہاری عقل انہیں تسلیم کر رہی ہو ‘ اس لئے کہ اسلامی نظام حیات کے احکام معموں اور پہیلیوں پر مبنی نہیں ہیں ۔ وہ محض آمرانہ احکام نہیں جن کی نہ حکمت ہو اور نہ ہی ان کے کچھ مقاصد ہوں ۔ تم تو ان احکام کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہو تم اس حکمت اور فلسفے کو بھی پاسکتے ہو جو ان احکام کی تہہ میں کار فرما ہے ۔ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ اللہ حکیم ہے ‘ یہ انسان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے اور اس کی حقیقت کو وہی شخص جانتا ہے جو حقیقت الوہیت اور حقیقت بندگی کو اچھی طرح جان سکتا ہو ‘ غرض جو شخص یہ ادراک رکھتا ہو ‘ وہی اللہ کی اس شان کریمی اور مقام لطف وکرم کو سمجھ سکتا ہے ۔
(آیت) ” ویھدیکم سنن الذین من قبلکم “۔ (4 : 26) ” اور انہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے ۔ “ تو گویا یہی وہ منہاج حیات ہے جسے اللہ نے تمام مومنین کے لئے جاری کیا ہے ۔ وہ ایک ایسا منہاج ہے جس کی بنیادیں بہت ہی مستحکم ہیں جس کے اصول ایک ہیں ‘ جس کے مقاصد اور اہداف ہم آہنگ ہیں ‘ اور یہی منہاج جماعت مومنہ کا نظام زندگی ہے ‘ زمانہ ماضی میں بھی اور زمانہ مستقبل میں بھی ‘ اور یہی امت مسلمہ کا منہاج ہے جو صدیوں سے ایک امت چلی آرہی ہے ۔
یوں وہ تمام لوگ ‘ قرآن کریم کی نظروں میں ایک ہیں ‘ جنہوں نے راہ ہدایت کو پایا چاہے وہ جس دور میں ہوں اور جس جگہ ہوں اور پھر قرآن کریم یہ قرار دیتا ہے کہ ہر دور میں اور ہر جگہ اسلامی نظام زندگی بھی ایک رہا ہے ۔ اسی طرح زندگی کی طویل شاہراہ پر وہ قافلہ ایمان بھی ایک ہی ہے جو مسلسل حرکت میں ہے ۔ یہ وہ جھلک ہے ‘ جو ایک مسلمان کو یہ شعور عطا کرتی ہے کہ اس کی اصلیت کیا ہے ‘ اس کی امت اور پارٹی کیا ہے اس کا منہاج اور طریقہ زندگی کیا ہے ؟ ایک مومن یہ شعور پاتا ہے کہ وہ اس امت کا فرد ہے جو مومن باللہ ہے ‘ اس امت کا باہم رابطہ ” الہی منہاج “ زندگی ہے ۔ زمان ومکان کے بڑے اختلاف کے باوجود یہ رابطہ قائم رہتا ہے ‘ رنگوں اور ملکوں کے اختلاف اور دوری کے باوجود یہ تعلق قائم ودائم رہتا ہے اور ہر قوم اور ہر قبیلے کے مومنین کے درمیان یہ سنت الہی ایک مستحکم رابطے کا کام کرتی ہے ۔
(آیت) ” ویتوب علیکم “ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ “ وہ اللہ جل شانہ تمہیں ہر بات کی تفصیلات بتاتے ہیں ‘ ان اچھے راستوں کی نشاندہی کرتے ہیں ‘ جن پر تم جیسے پہلے لوگ چل چکے ہیں ۔ یہ کام وہ اس لئے کرتا ہے کہ وہ رحیم ہے اس لئے کرتا ہے کہ تم واپس آجاؤ تم راہ معصیت کو ترک کردو ‘ اور زندگی کی اس کھلی شاہراہ پر آجاؤ جو اس نے تمہارے لئے خوبصورتی کے ساتھ تیار کی ہے ‘ اور اس راہ پر چلانے کے لئے وہ تمہارا معاون بھی ہے ۔
(آیت) ” واللہ علیم حکیم “۔ (4 : 26) ” وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی “۔ اس لئے وہ تمہارے لئے جو قانون سازی کر رہا ہے وہعلم و حکمت پر مبنی ہے ‘ وہ جو ہدایات دے رہا ہے ‘ وہ علم و حکمت پر مبنی ہیں ۔ وہ تمہاری نفسیات سے بھی آگاہ ہے اور تمہارے حالات بھی اس کی نظر میں ہیں ۔ وہ ان تدابیر سے بھی باخبر ہے جن کے ذریعے تمہاری اصلاح بھی ہو سکتی ہے اور وہ تمہارے لئے مفید بھی ہیں ۔ وہ اسلامی نظام کے مزاج سے بھی واقف ہے اور اسے اس کے نفاذ کا طریقہ کار بھی اچھی طرح معلوم ہے ۔
النساء 4:27
(آیت) ” واللہ یرید ان یتوب علیم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما “۔ (4 : 27) ” اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ ۔ “
اس مختصر اور ایک ہی آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے لئے کیا چاہتے ہیں اور کیسے نظام کے ذریعے چاہتے ہیں کس طریقے سے چاہتے ہیں ؟ اور جو لوگ نظام زندگی کو صرف جنسی تعلقات (Sex) پر استوار کرنا چاہتے ہیں اور جو انسانوں کو اسلامی نظام زندگی سے ہٹانا چاہتے ہیں وہ انسان کے ساتھ کیا کر رہے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ بھی اسلامی منہاج سے ہٹ کر کسی دوسرے منہاج کو اختیار کرتے ہیں ان کا نظام شہوات پر مبنی ہوتا ہے ۔ صرف ایک اسلامی نظام زندگی ہی ہے جو سنجیدگی ‘ سچائی راستی اور احساس ذمہ داری پر مبنی ہے۔ باقی جس قدر نظام ہیں وہ اتباع نفس ‘ اطاعت شہوت اور فسق وفجور اور کج روی وگمراہی پر مبنی ہیں ۔
اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنے منہاج سے اچھی طرح آگاہ کر رہا ہے اپنے طریقے تشریح کے ساتھ بیان کرتا ہے تو اس سے اس کی غرض کیا ہے ؟ صرف یہ کہ وہ انسانوں پر رحمت اور شفقت کرنے کا ارادہ کرتا ہے ۔ وہ تمہیں راہ راست کی نشاندہی کرتا ہے ۔ وہ تمہیں آگاہ کرتا ہے کہ زندگی کی راہوں میں فلاں مقامات ہیں جہاں پھسلنے کا خطرہ ہے ۔ وہ سربلندی اور ترقی میں تمہاری امداد کرنا چاہتا ہے تاکہ تم بلندی کی انتہاؤں کو چھو سکو۔ اس کے مقابلے میں جو لوگ اپنے نظاموں کو صرف شہوات کی تلاش پر رکھتے ہیں اور وہ لوگوں کے لئے شہوت پر مبنی نظامہائے زندگی تجویز کرتے ہیں اور انہیں خوب سجاتے ہیں جن کی اسلامی نظام حیات کی رو سے کوئی گجائش نہیں ہے ۔ اللہ نے ان کی اجازت دی ہے نہ اسے جائز قرار دیا ہے ۔ یہ لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان راہ راست سے ہٹ کر دور تک گمراہی کی راہوں پر نکل جائیں اور اسلامی نظام زندگی اور اس کی انتہائی بلندیوں سے محروم ہوجائیں۔
زندگی کے اس شعبے میں جس کی سابقہ آیات میں ہدایات دی گئیں ‘ یعنی خاندان کی شیرازہ بندی ‘ سوسائٹی کی طہارت ‘ مرد وزن کے باہمی تعلقات کے لئے واحد پاک وصاف طریقہ کار کے تعین اور اس کے سوا تمام طریقوں کے ساتھ جنسی ملاپ کی حرمت ‘ ان کی مذمت اور مسلمانوں کی فکر ونظر میں ان کی گراوٹ و قباحت کا شعور پیدا کرنے کے لئے اس شعبے میں اللہ تعالیٰ کا منصوبہ کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور ان لوگوں کا منصوبہ کیا ہے جو صرف شہوت رانی پر انسانی سوسائٹی کو استوار کرنا چاہتے ہیں ؟
اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا جو منصوبہ ہے ‘ اس کا بیان تو سابقہ آیات میں تفصیل کے ساتھ کردیا گیا ‘ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرد وزن کے اس تعلق کو منظم کرنا چاہتے ہیں ۔ اس تعلق کو پاک وصاف اور مقدس بنانا چاہتے ہیں اور اسے اس طرح استوار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ جماعت مسلمہ کے لئے ہر حال میں خیر ہی خیر ہو۔
رہے وہ لوگ جو صرف شہوت رانی چاہتے ہیں تو وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ یہ فطری میلانات ہر طرح سے بےقید ہوجائیں ۔ ان پر نہ کوئی دینی پابندی ہو ‘ نہ اخلاقی پابندی ہو اور نہ کوئی اجتماعی پابندی ہو ۔ وہ چاہتے ہیں کہ شہوت کی یہ بھٹی بلاروک وٹوک گرم سے گرم تر ہوتی چلی جائے اس پر کسی قسم کا قدغن نہ ہو ‘ اور وہ اس قدر گرم ہو کہ ہر دل بےقرار ہوجائے ‘ اعصاب پر کوئی کنٹرول نہ رہے اور اس طرح کوئی گھر مطمئن نہ ہو ۔ کسی کی عزت محفوظ نہ رہے ‘ کسی خاندان کا وجود باقی نہ رہے اور انسانوں کی حالت یہ ہوجائے کہ ہو جانووں کا گلہ بن جائیں اور پھر ان کے نر (MAle) جانور مادہ (FemAle) جانوروں کو دیکھتے ہی ان پر ٹوٹ پڑیں ان کے لئے قوت ‘ وسائل اور تدبیر کے سوا کوئی ضابطہ نہ ہو ‘ یوں پورا معاشرہ ہل جائے ۔ ہر طرف فساد ہی فساد ہو ‘ آزادی کے نام پر ہر طرف شر و فساد برپا ہو آزادی کا اگر صرف یہ ہی مفہوم ہے تو وہ صرف آزادی شہوات ہے اور اس پر مبنی نظام صرف شہوانی نظام ہے ۔
یہ ہے وہ گمراہی اور کج روی جس سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ڈراتا ہے ‘ وہ انہیں متنبہ کرتا ہے کہ اس شہوانی نظام حیات کے داعی انہٰں کس چیز کی طرف بلا رہے ہیں شہوانی نظام کے داعی اس وقت یہ جدوجہد کر رہے تھے کہ نوخیز اسلامی معاشرے کو پلٹا کر دوبارہ اخلاقی بےراہ روی کے نظام کی طرف لے جائیں جس میں وہ بہت دور جا نکلے تھے ‘ اور اسلام کے پاک وصاف اور مستحکم معاشرتی نظام کی وجہ سے وہ اس میں اکیلے رہ گئے تھے ‘ اور یہی وہ ہدف ہے جس کی طرف آج کے یہ بےراہ قلمکار اور ادیب دعوت دے رہے ہیں اور جس میں آج کے تمام ذرائع ابلاغ و تفریح رات دن مصروف ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ آج اسلامی معاشرے میں ‘ حیوانی شہوت رانی کی راہ میں جو تھوڑی بہت رکاوٹیں ہیں انہیں بھی ختم کردیں ، یہ حقیقت ہے کہ اس حیوانیت سے انسان کو صرف اسلامی نظام زندگی ہی نجات دے سکتا ہے جب اسلام کی انقلابی قوتیں اگر اللہ نے چاہا اس نظام کو دنیا میں نافذ کردیں گی ۔
اس اختتامیہ کی آخری جھلک میں یہ دکھایا گیا ہے کہ انسان ایک ضعیف مخلوق ہے اور اس کی ان کمزوریوں ہی کی وجہ سے اللہ کو اس پر رحم آتا ہے ۔ اس لئے اللہ اس کے لئے جو منہاج حیات وضع کرتا ہے اور جو قانون بناتا ہے اس میں وہ ضعف کو ملحوظ رکھتا ہے اس لئے ہلکے پھلکے احکام نازل کرتا ہے ‘ اس کے لئے مشکلات پیدا کرنے کے بجائے اس کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔ حرج مشقت مضرت سے بچاتا ہے ۔
النساء 4:28
(آیت) ” یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا “۔ (4 : 28) ” اللہ تم پر عائد شدہ پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔ “
گزشتہ آیات میں خاندانی نظام کے بارے میں جو احکام دیئے گئے ہیں اور قانون سازی کی گئی ہے اور جو ہدایات دی گئی ہیں ان میں تو تخفیف بالکل واضح نظر آتی ہے ۔ مثلا انسان کے فطری میلانات اور جنسی خواہش کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ صرف اس جذبے کو منظم کر کے اس اک رخ تعمیری خطوط کیطرف موڑ دیا گیا ہے جس کے استعمال کے لئے پاک وصاف دائرہ کار مقرر کردیا گیا ہے ۔ اس کے لئے پاک وصاف اور بہترین ماحول بنایا گیا ہے ‘ اور یہ حکم نہیں دیا گیا کہ انسان اپنی اس فطری خواہش کو دبائے یا اس کا قلع قمع کر دے یا اسے اس طرح آزاد چھوڑ دے کہ وہ حیوانی سطح تک گر جائے اور اس کے لئے کوئی حد اور قید نہ ہو ۔
خاندانی زندگی کے علاوہ اسلامی نظام زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی قانون سازی کے سلسلے میں تخفیف اور آسانی ہر جگہ صاف نظر آتی ہے ۔ انسانی فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے ۔ انسان کی طاقت اور وسعت کو پیش نظر رکھا گیا ہے انسانی حاجات اور ضروریات کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور انسان کی تمام تعمیری قوتوں کو آزاد چھوڑا گیا ہے ۔ تاہم ان کے استعمال کے لئے ایسے حدود وقیود رکھے ہیں جن کی وجہ سے ان کے غلط استعمال کی نوبت ہی نہیں آتی ۔
بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ مردوزن کے جنسی تعلقات پر اسلام نے جو قیود عائد کی ہیں ان کی پابندی بہت ہی دشوار ہے اور جو لوگ آزاد شہوت رانی کے اصول پر چلتے ہیں ان کے ساتھ چلنا آسان اور فرحت بخش ہے ۔ یہ ایک عظیم غلط فہمی ہے اس لئے کہ جنسی تعلق کو بالکل آزاد چھوڑنا ‘ مرد وزن کے تعلق میں صرف لذت اندوزی کو اختیار کرنا ‘ اور عالم انسانیت میں جنسی ملاپ کو اس سطح تک لے آنا جس طرح حیوانوں میں جنسی ملاپ ہوتا ہے ‘ اور اس طرح ان تمام فرائض اور واجبات اور اجتماعی ذمہ داریوں کو ختم کردینا اور مرد وزن کے اس تعلق کو ہر قسم کے قید وبند سے آزاد کردیتا خواہ وہ اخلاقی قید ہو یا اجتماعی ‘ یہ تمام باتیں بظاہر تو بہت آسان ‘ پرکیف اور خوش کن تصور کی جائیں گی لیکن اپنے حقیقی نتائج کی روشنی میں وہ بہت ہی بھاری جان توڑ اور تباہ کن ہیں اور ایک فرد اور ایک معاشرے پر اس کے جو برے اثرات پڑتے ہیں ان کے نتائج سخت اذیت ناک مہلک اور تباہ کن ہوتے ہیں ۔ وہ معاشرے ‘ جنہوں نے جنسی آزادی کی اس بےراہ روی کو اپنایا ہے اور دینی اخلاق اور شرم وحیا کے قیود سے آزادہو گئے ہیں ‘ ان کے حالات پر ایک سرسری نظرڈالنے سے دل کانپ اٹھتا ہے بشرطیکہ دل میں زندگی کی رمق باقی ہو ۔
دنیا میں جو جو قدیم تہذیبیں نیست ونابود ہوئیں ‘ ان کی بربادی کا عامل اساسی ان کی جنسی بےراہ روی ہی تھی ۔ خواہ یہ تہذیب یونانی تہذیب ہو ‘ رومی تہذیب ہو یا قدیم ایرانی تہذیب ہو ‘ ان سب کے زوال کا اساسی سبب انکی جنسی بےراہ روی ہی تھی ۔ آج ہمارے دور میں مغربی تہذیب میں جو شکست وریخت ہورہی ہے وہ بھی اسی جنسی انارکی کی وجہ سے ہے ۔ خصوصا آج کے فرانسیسی معاشرے کی تباہی کے آثار تو بالکل ظاہر ہیں ‘ جس نے اس جنسی انار کی کو سب سے پہلے اپنایا ۔ تہذیب جدید کے دیگر ممالک ‘ امریکہ ‘ سویڈن ‘ برطانیہ ‘ اور دوسری نام نہاد ترقی یافتہ مغربی سوسائیٹوں میں اس شکست وریخت کے آثار نمودار ہوگئے ہیں فرانس میں اس جنسی انار کی کے آثار بہت پہلے نمودار ہوئے تھے ۔ 1870 کے بعد فرانس نے جس قدر جنگوں میں بھی حصہ لیا ‘ ان میں اسے دشمن کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے ۔ تمام آثار و شواہد اس بات کی طرف اشارہ کررہے ہیں فرنچ سوسائٹی مکمل طور پر تباہی کے کنارے کھڑی ہے اور پہلی عالمی جنگ کے بعد یہ آثار اچھی طرح کھل کر سامنے آگئے ہیں ۔ مولانا مودودی (رح) لکھتے ہیں :
” شہوانیت کے اس تسلط کا اولین نتیجہ یہ ہے کہ فرانسیسیوں کی جسمانی قوت رفتہ رفتہ جواب دیتی چالی جارہی ہے ، دائمی جنسی ہیجانات نے ان کے اعصاب کمزور کردیئے ہیں ۔ خواہشات کی بندگی نے ان میں ضبط اور برداشت کی طاقت کم ہی باقی چھوڑی ہے ۔ امراض خبیثہ کی کثرت نے ان کی صحت پر نہایت مہلک اثر ڈالا ہے ۔ بیسویں صدی کے آغاز سے یہ کیفیت ہے کہ فرانس کے فوجی حکام کو مجبورا ہرچند سال کے بعد نئے رنگروٹوں کے لئے جسمانی اہلیت کے معیار کو گھٹا دینا پڑتا ہے کیونکہ اہلیت کا جو معیار پہلے تھا اب اس معیار کے نوجوان قوم کم سے کم تر ہوتے جارہے ہیں ۔ یہ ایک معتبر پیمانہ ہے جو تھرمامیڑ کی طرح قریب قریب یقینی صحت کے ساتھ بتاتا ہے کہ فرنچ قوم کی جسمانی قوتیں کتنی تیزی کے ساتھ بتدریج گھٹ رہی ہیں ۔ امراض خبیثہ اس تنزل کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہیں جنگ عظیم اول کے ابتدائی دو سالوں میں جن سپاہیوں کو محض آتشک کی وجہ سے رخصت دے کر ہسپتالوں میں میں بھیجنا پڑا ان کی تعداد 75000 تھی ۔ صرف ایک متوسط درجے کی فوجی چھاونی میں بیک وقت دو سوبیالیس سپاہی اس مرض میں مبتلا ہوئے ، ایک طرف اس وقت کی نزاکت کو دیکھئے کہ فرانسیسی قوم کی موت وحیات کا فیصلہ درپیش تھا اور اس کے وجود وبقا کے لئے ایک ایک سپاہی کی جانفشانی درکار تھی ۔ ایک ایک فرانک بیش قیمت تھا ‘ اور وقت ‘ قوت ‘ وسائل ‘ ہر چیز کی زیادہ سے زیادہ مقدار دفاع میں خرچ ہونے کی ضرورت تھی ‘ دوسری طرف اس قوم کے جوانوں کو دیکھئے کہ کتنے ہزار افراد عیاشی کی بدولت نہ صرف خود کئی کئی مہینوں کے لئے بیکار ہوئے بلکہ انہوں نے اپنی قوم کی دولت اور وسائل کو بھی اس آڑے وقت میں اپنے علاج پر ضائع کرایا ۔
ایک فرانسیسی ماہر فن لیریڈ کا بیان ہے کہ فرانس میں ہر سال آتشک اور اس کی پیدا کردہ امراض کی وجہ سے تیس ہزار جانیں ضائع ہوتی ہیں اور دق کے بعد یہ مرض سب سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث ہوتا ہے ۔ یہ صرف ایک مرض خبیث کا حال ہے ۔ اور امراض خبیثہ کی فہرست صرف اسی ایک مرض پر مشتمل نہیں ہے ۔ “
” فرانس میں سالانہ صرف سات آٹھ فی ہزار کا اوسط ان مردوں اور عورتوں کا ہے جو ازدواج کے رشتے میں منسلک ہوتے ہیں ۔ یہ اوسط خود اتنا کم ہے کہ اسے دیکھ کر آسانی کے ساتھ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آبادی کا کتنا کثیر حصہ غیر شادی شدہ ہے ۔ پھر اتنی قلیل تعداد جو نکاح کرتی ہے ‘ ان میں بھی بہت کم لوگ ایسے ہیں جو باعصمت رہتے ہیں اور پاک اخلاقی زندگی بسر کرنے کی نیت سے نکاح کرتے ہیں ۔ اس ایک مقصد کے سوا ہر دوسرا ممکن مقصد ان کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ حتی کہ عامۃ الورود مقاصد میں ایک یہ بھی ہے کہ نکاح سے پہلے ایک عورت نے جو بچہ ناجائز طور پر جنا ہے نکاح کر کے اس مولود کو جائز بنا دیا جائے ۔ چناچہ پول بیورو لکھتا ہے کہ فرانس کے کام پیشہ لوگوں (Working ClAss) کا یہ عام دستور ہے کہ نکاح سے پہلے عورت اپنے ہونے والے شوہر سے اس بات کا وعدہ لے لیتی ہے کہ وہ اس کے بچہ کو اپنا بچہ تسلیم کرے گا ۔ 1917 میں سین (Seine) کی عدالت دیوانی کے سامنے ایک عورت نے بیان دیا کہ میں نے شادی کے وقت ہی اپنے شوہر کو اس بات سے آگاہ کردیا تھا کہ اس شادی سے میرا مقصد صرف یہ ہے کہ ہمارے قبل از نکاح آزادانہ تعلقات سے جو بچے پیدا ہوئے ہیں ان کو ” حلالی “ بنا دیا جائے ۔ باقی رہی یہ بات کہ میں اس کے ساتھ بیوی بن کر زندگی گزاروں تو یہ بات نہ اس وقت میرے ذہن میں تھی نہ اب ہے ۔ اس بناء پر جس روز شادی ہوئی اسی روز ساڑھے پانچ بجے میں اپنے شوہر سے الگ ہوگئی اور آج تک میں اس سے نہیں ملی کیونکہ میں فرائض زوجیت ادا کرنے کی کوئی نیت نہ رکھتی تھی ۔ “
” پیرس کے ایک مشہور کالج کے پر نسپل نے پول بیورو سے بیان کیا کہ عموما نوجوان نکاح میں صرف یہ مقصد پیش نظر رکھتے ہیں کہ گھر رکھتے ہیں کہ گھر پر بھی ایک داشتہ کی خدمات حاصل کرلیں ، دس بارہ سال تک وہ ہر طرف آزادانہ مزے چکھتے پھرتے ہیں پھر ایک وقت آتا ہے کہ اس قسم کی بےضابطہ آوارہ زندگی سے تھک کر وہ ایک عورت سے شادی کرلیتے ہیں تاکہ گھر کی آسائش بھی کسی حد تک بہم پہنچے اور آزادنہ ذواقی کا لطف بھی حاصل کیا جاتا رہے ۔ “ (دیکھئے الحجاب مولانا سید ابو الاعلی مودودی (رح) امیر جماعت اسلامی پاکستان ص 113۔ 114 (سید قطب (رح)) ‘ دیکھے پردہ طبع اسلامک پبلیکیشنز لاہور ۔ طبع 27 ص 91 تا 95 لاہور جون 1985) یوں فرانس تباہ ہوا اور اس کے نتیجے میں فرانس نے ہر اس جنگ میں ہزیمت اٹھائی جس میں وہ شریک ہوا ۔ اور اب اس کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ تہذیب و تمدن کے اسٹیج سے آہستہ آہستہ غائب ہو رہا ہے اور کسی بھی وقت اپنے وجود ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور یہ سنت الہیہ کا ظہور نہایت ہی دھیمی رفتار سے ہوتا ہے ۔ اور انسان اگرچہ ہر معاملے میں جلد بازی سے کام لیتا ہے لیکن سنت الہیہ کی اپنی رفتار ہوتی ہے ۔
رہے وہ ممالک جو ابھی تک پرشوکت نظر آتے ہیں یا ان میں تباہی اور ہلاکت کے آثار ابھی تک ظاہر ہو کر سامنے نہیں ہیں تو ان کے نمونے یہ ہیں :
اس صحافی جنہوں نے حال ہی میں سوئٹزرلینڈ کا دورہ کیا ہے ۔ وہ اس ملک کے اشتراکی معاشرے ‘ اس کی اجتماعی سہولتوں اور اس کی مادی ترقیات اور خوشحالیوں سے بحث کرتے ہوئے اس میں آزادی محبت کا اظہار یوں کرتے ہیں ۔
” اگر ہمارے خواب یہی ہوں کہ ہم اپنی قوم کے لئے وہی ممتاز اقتصادی مقام چاہتے ہیں جو ان مغربی ممالک میں ہے ‘ اور ان کامیاب اشتراکی رجحانات کے مطابق معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان امتیازات کو ختم کردیں اور ہم اپنے اس ملک مصر کے ہر شہری کی راہ سے وہ تمام مشکلات حیات ختم کردیں جن کے ختم کرنے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ‘ اگر ہم اپنے اس خوش کن خواب تک پہنچ جائیں جس کے حقیقت بنانے میں ہم اپنی پوری قوت اور پوری امکانیت کو ختم کر رہے ہیں ‘ تو پھر یہ اہم سوال پیدا ہوگا کہ ہم اس مادی ترقی کے تمام دوسرے نتائج کو بھی اپنے ہاں قبول کرلیں گے کی اہم اس مثالی معاشرے کے تاریک پہلو کو بھی قبول کرنیکے لئے تیار ہوں گے ۔ کی اہم آزادانہ تعلق مرد وزن کو قبول کرلیں گے اور خاندانی نظام پر پڑنے والے اس کے برے اثرات کو بھی قبول کرلیں گے ۔ “
” آئیے ذرا اعداد و شمار کی زبان میں بات کریں ۔ زندگی کے اندر قرار و سکون پیدا کرنے کی موجودہ حوصلہ افزائیوں اور تشکیل خاندان کی حالیہ مساعی کے باوجود ‘ سویڈن کی آبادی گراف مسلسل گر رہا ہے ۔ باوجود اس کے کہ موجودہ حکومت عورت کو شادی کرنے کے لئے بہت امداد د ہے رہی ہے ۔ پھر عورت کے بچے کی مفت کفالت کی جاتی ہے ۔ ‘ یہاں تک کہ وہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوجائے ۔ ان سہولیات کے باوجود سویڈن کا ہر خاندان بچے پیدا کرنے سے مکمل احتراز کر رہا ہے ۔
” اس کے برعکس صورت حال یہ ہے کہ شادی کرنے والوں کی تعداد میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے اور ناجائز بچوں کی پیدائش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے بیس فیصدی بالغ لڑکے اور لڑکیاں سرے سے شادی ہی نہیں کرتے ۔ سویڈن میں صنعتی دور ۔ 1870 میں شروع ہوتا ہے اور اسی کے ساتھ اشتراکی دور بھی 1870 ء میں شروع ہوتا ہے ۔ 1870 ء میں غیر شادی شدہ ماؤں کی تعداد سات فیصدی تھی ‘ جبکہ 1920 میں یہ تعداد سولہ فیصدی ہوگئی ۔ اس کے بعد کے اعداد و شمار مجھے نہیں مل سکے ‘ البتہ ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔ علمی اداروں نے جو اعداد و شمار شائع گئے ہیں ‘ اس کے مطابق معلوم ہوتا ہے کہ مرد اٹھارہ سال کی عمر میں جنسی تعلقات قائم کرلیتے ہیں اور عورت پندرہ سال کی عمر میں جنسی تعلقات قائم کرلیتی ہے ۔ اور اکیس سال کی عمر میں پچانوے فیصد نوجوانوں کے جنسی تعلقات قائم ہوچکے ہوتے ہیں ۔ مزید تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ 7 فیصدی تعلقات ان لڑکیوں سے ہوتے ہیں جن کی منگنی ہوچکی ہوتی ہے ‘ پینتیس فیصدی دوستوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور اٹھاون فیصدی ایسی عورتوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو وقتی طور پر شناسا ہوتی ہیں ۔ اب ذرا عورتوں کے تعلقات جنسی کے اعداد و شمار ملاحظہ فرمائیں ۔ صرف تین فیصدی عورتوں کے تعلقات اپنے خاوند سے ہوتے ہیں ‘ اٹھائیس فیصدی عورتوں کے تعلقات اپنے منگیتر سے ہوتے ہیں اور چونسٹھ فیصد عورتوں کے تعلقات صرف چالو دوستوں سے ہوتے ہیں مزید بتایا جاتا ہے کہ اسی فیصد عورتیں شادی سے قبل جنسی تعلقات قائم کرلیتی ہیں اور بیس فیصدی ایسی ہیں جو شادی کا تکلف ہی نہیں کرتیں ۔ “ ” ان حالات کا نتیجہ یہ ہے کہ اس جنسی آزادی کی وجہ سے بالعموم شادی بہت ہی لیٹ کی جاتی ہے ‘ اور منگنی ہوجائے تو اس میں شادی کی معیاد بہت ہی طویل ہوتی ہے اور اس کے ساتھ غیر قانونی بچوں کی تعداد بڑھتی ہی جاتی ہے “۔
ان سب حالات کے نتیجے میں خاندانی نظام کے بندھن ٹوٹ گئے ۔ سویڈن کے باشندے محبت کی آزادی کے حق میں درج ذیل دلائل پیش کرتے ہیں : یہ کہ سویڈن کا معاشرہ شادی کے بعد تمام دوسرے متمدن معاشروں کی نسبت خیانت کو بہت ہی بری نظروں سے دیکھتا ہے اور یہ بات درست ہے اور ہم اس کا انکار نہیں کرتے لیکن وہ اس بات کا کوئی جواب نہیں دے سکتے اور اس جنسی بےراہ روی کی وجہ سے نسلی تنزل اور طلاق کے اعداد و شمار میں بےحد اضافے کا کوئی تشفی بخش سبب نہیں بتا سکتے ۔
اس وقت سویڈن میں طلاق کی شرح پوری دنیا میں سب سے زیادہ ہے ۔ چھ سات شادیوں میں سے ایک طلاق پر منتج ہوتی ہے ۔ اور یہ اعداد و شمار سویڈن کی اجتماعی امور کی وزارت کے شائع کردہ ریکارڈ سے لئے گئے ہیں ۔ یہ نسبت ابتداء میں کم تھی مگر آہستہ آہستہ بڑھ گئی اور 1996 میں صورت حال یہ تھی کہ ایک ہزار شادیوں میں سے چھبیس طلاق پر منتج ہوئی تھیں ۔ 1952 میں یہ تعداد ایک سو چار ہوگئی ۔ 1954 میں ایک سو چودہ ہوگئی ۔ ان واقعات کا سبب یہ ہے کہ 30 فیصدی شادیاں محض ضرورت کے تحت مجبور کے حالات میں ہوتی ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسی شادیاں اصلی شادیوں کی طرح طویل المیعاد نہیں ہوتیں اور مجبوری یہ ہوتی ہے کہ ایک نوجوان عورت حاملہ ہوجاتی ہے ۔ عموما ایسی شادیوں میں بعد میں طلاق ہوجاتی ہے ‘ اس لئے کہ سویڈن کے قانون میں طلاق کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ جب بھی زوجین درخواست کریں کہ وہ طلاق پر راضی ہیں تو قانون طلاق کی اجازت دے دیتا ہے اور اگر زوجین میں سے کوئی ایک فریق ہی طلاق کی درخواست کرے تو ایک معمولی بہانے پر طلاق ہوجاتی ہے ۔ “
” سویڈن میں ایک تو جنسی بےراہ روی کی پوری پوری آزادی ہے ‘ لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ایک دوسری آزادی بھی حاصل ہے ۔ وہ یہ کہ ہر شخص کو دہری ہونے کی آزادی ہے ۔ سویڈن کے باشندوں کی اکثریت منکر خدا ہے ۔ سویڈن میں ایک وسیع تحریک چل رہی ہے اور لوگ کنیسہ سے پوری پوری آزادی حاصل کر رہے ہیں ۔ ناروے اور ڈنمارک میں بھی انکار خدا عام ہے ۔ مدارس اور یونیورسٹیوں میں انکار خدا کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔ اور نوجوانوں میں انکار خدا کے عقائد ایک منصوبے سے پھیلائے جاتے ہیں ۔ “
” سویڈن اور سکنڈے نیویا کے دوسرے ممالک کے لوگ پوری طرح اخلاق باختہ ہوچکے ہیں ‘ یہ لوگ اپنے عقیدہ انکار خدا اور خدا کا خوف نہ رکھنے کی وجہ سے ہر قسم کی اخلاقی قید وبند سے آزاد ہوگئے ہیں اور آخر کار یہاں کے نوجوان شراب نوشی اور دوسری تباہ کن منشیات کے عادی ہوگئے ہیں ۔ ایسے بچوں کی تعداد 175 ہزار ہے جن کے والدین منشیات کا استعمال کرتے ہیں اور یہ تعداد خاندانی بچوں کا دس فیصد بنتی ہے ۔ مراھق بچوں کی تعداد اس کے علاوہ ہے جو خود نشہ کرتے ہیں ۔ جن نوجوانوں کو شدید نشہ کی حالت میں گرفتار کیا جاتا ہے ان کی تعداد گزشتہ پندرہ سالوں میں تین گنا زیادہ ہوگئی ہے اور پندرہ سے سترہ سال کی عمر کے نوجوانوں کے اندر شراب نوشی کی عادت بد سے بدتر ہی جارہی ہے اور اس کے بہت برے نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ “
” سویڈن میں بالغ ہونے والوں میں ہر دسواں بچہ دماغی اور نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوتا ہے ۔ سویڈن کے ڈاکٹروں کا یہ کہنا ہے کہ ان نفسیاتی بیماروں کا پچاس فیصد وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی دماغی بیماری ‘ ان کی جسمانی بیماری کا نتیجہ ہوتی ہے ظاہر ہے کہ انکار خدا کی آزادی اور اخلاقی قیود سے آزادی کا یہی نتیجہ ہو سکتا ہے کہ آبادی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو اور خاندان نظام کی چولیں ڈھیلی پڑجائیں اور اس کے نتیجے میں گھٹیا درجے کی نسل وجود میں آئے ۔ “
یہ تو حال تھا سویڈن کا لیکن امریکہ کا بھی یہی حال ہے ۔ اور برائی کے آثار خطرناک طور پر ظاہر ہو رہے ہیں ‘ لیکن امریکی قوم کو اس طرف التفات ہی نہیں ہے ۔ امریکی قوم کے وجود میں تباہی کے آثار در آئے ہیں ‘ اگرچہ بظاہر وہ تروتازہ ہے۔ ظاہری قوت اور توانائی کے مظاہر کے باوجود یہ قوم بھی جسمانی اور اخلاقی انحطاط کی طرف جارہی ہے اور اس کے آثار نمودار ہو رہے ہیں ۔ امریکہ میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو اپنے ملک کے حساس فوجی راز اپنے دشمنوں کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں ‘ اس لئے نہیں کہ انہیں روپے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ محض اس لئے کہ وہ جنسی بےراہ روی میں مبتلا ہوتے ہیں اور ان کی یہ بےراہ روی اس عام جنسی آزادی اور بےراہ روی کا نتیجہ ہوتی ہے جو ان کے ملک میں رائج ہے ۔ امریکہ میں بعض ریاستوں میں ازروئے قانون طلاق کے لئے یہ شرط ہے کہ خاوند یا بیوی میں سے کوئی زنا کی حالت میں پکڑا جائے ۔ اس غرض کے لئے بعض وکلاء اور ڈاکٹروں نے ایک تنظیم بنائی تھی کہ جو ایسے مقدمات می مرد یا عورت کو زنا کاری میں پھانسے کی کوشش کرتے ہیں ۔ حال ہی میں امریکی پویس نے ایک ایسی تنظیم کا پتہ چلایا جس کے شعبے کئی شہروں میں تھے ۔ حالانکہ وکلاء اور ڈاکٹر مہذب ترین لوگ ہوتے ہیں کئی جوڑے جو طلاق چاہتے تھے ‘ پہلے ایسے ادارون کی خدمات حاصل کرکے اپنے شریک حیات کو زنا کاری میں پھانستے اور پھر مقدمہ دائر کردیتے ۔ امریکہ میں ایسے دفتر عام ہیں جو بھاگی ہوئی عورتوں اور بھاگے ہوئے خاوندوں کی تلاش میں تعاون فراہم کرتے ہیں اس لئے کہ کسی خاوند کو یہ یقین نہیں ہوتا کہ جب وہ شام کو گھر آئے گا تو اس کی بیوی موجود ہوگی اور اپنے کسی محبوب کے ساتھ چلی نہ گئی ہوگی نیز بیوی کو بھی یہ یقین نہیں ہوتا کہ اس کا خاوند شام کو واپس آئے گا یا اس سے زیادہ جاذبیت رکھنے والی کسی دوشیزہ نے اسے سنبھال لیا ہوگا ۔ ایسے معاشرے میں جن میں خاندانوں کی حالت یہ ہو ‘ ان میں کسی کے اعصاب کیسے مضبوط اور درست رہ سکتے ہیں ۔ اور ایسے حالات میں امریکہ کے ایک صدر اعلان کرتے ہیں کہ ہر سات نوجوانوں میں سے چھ فوجی خدمات کے لئے نااہل ہوچکے ہیں اس لئے کہ یہ سب جنسی بےراہ روی میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ مولانا مودودی (رح) لکھتے ہیں ۔
” ایک امریکی رسالے میں ان اسباب کو جن کی وجہ سے وہاں بداخلاقی کی غیر معمولی اشاعت ہو رہی ہے ‘ اس طرح بیان کیا گیا ہے ۔ تین شیطانی قوتیں ہیں جن کی تثلیث آج ہماری دنیا پر چھا گئی ہے اور یہ تینوں ایک جہنم تیار کرنے میں مشغول ہیں ۔ فحش لٹریچر جو جنگ عظیم کے بعد حیرت انگیز رفتار کے ساتھ اپنی بےشرمی اور کثرت اشاعت میں بڑھتا چلا جا رہا ہے ۔ متحرک تصویریں جو شہوانی محبت کے جذبات کو نہ صرف بھڑکا رہی ہیں بلکہ عملی سبق بھی دیتی ہیں ۔ عورتوں کا گرا ہوا اخلاقی معیار جو ان کے لباس اور بسا اوقات ان کی برہنگی اور سگریٹ کے روز افزوں استعمال اور مردوں کے ساتھ ان کے ہر قید وبند سے ناآشنا اختلاط کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے ۔ یہ تین چیزیں ہمارے ہاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور ان کا نتیجہ مسیحی تہذیب ومعاشرے کا زوال اور آخر کار تباہی ہے ۔ اگر ان کو نہ روکا گیا تو ہماری تاریخ بھی روم اور ان دوسری قوموں کے مماثل ہوگی جن کو یہی نفس پرستی اور شہوانیت ان کی شراب اور عورتوں اور ناچ رنگ سمیت فنا کے گھاٹ اتار چکی ہے ۔ “
(الحجاب سید ابو الاعلی مودودی (رح) ‘ ص 129۔ 13۔۔۔۔۔ اردو ایڈیشن صفحات 105۔ 106 طبع 27 جون 1985 اسلامی بپلیکیشنز لاہور)
لیکن واقعات کی دنیا میں جو کچھ ہوا ‘ وہ یہ ہے کہ امریکہ اس مثلث کے سیلاب سے نہ بچ سکا بلکہ اس نے اس کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ۔ وہ اسی راہ پر چل نکلا ہے جس پر روم چلا ، ایک دوسرے صحافی امریکہ ‘ برطانیہ اور فرانس کے نوجوانوں میں جنسی بےراہ روی کے سیلاب کے بارے میں لکھتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے ہاں نوجوانوں کی بےراہ روی ان ممالک کی طرح شدید نہیں ہے ۔
” امریکہ کے نوخیز لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان بےراہ روی کا ایک سیلاب آیا ہوا ہے ۔ نیویارک کے گورنر نے اعلام کیا کہ اس بےراہ روی کا علاج ‘ اس ریاست میں ‘ عنقریب قومی اصلاح کے مسائل میں سرفہرست آجائے گا ۔ گورنر نے مشورہ دیا ہے کہ اصلاحی نرسریاں اور تہذیب اخلاق کی مجالس اور جسمانی تربیت کے اداروں کا قیام از بس ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ اس نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء اور طالبات کے درمیان منشیات یعنی چرس اور کو کین کے رواج کو ختم کرنا ان کے پروگرام میں شامل نہیں ہے اور یہ معاملہ ہم محکمہ صحت عامہ کے حوالے کر رہے ہیں۔ “
” آخری دو سالوں کی رپورٹ کے مطابق انگلستان میں عورتوں اور نوجوان ، چھوٹی نابالغ خواتین پر دست درازی کے واقعات میں بےحد اضافہ ہوا ہے خصوصا دیہاتی راستوں میں اکثر واقعات میں دست درازی کرنے والے مراھق یا نوجوان تھے اور ان واقعات میں سے بعض واقعات میں بچی یالڑ کی کا گلاگھونٹ کا اسے قتل بھی کردیا گیا تھا اور اسے ٹھنڈی اور منجمد لاش کی شکل میں چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ بدکرداری کا راز فاش نہ ہو یا یہ کہ شناخت پریڈ کے وقت شناخت نہ ہو سکے “۔
” دو ماہ کا عرصہ ہوا ہے کہ ایک بوڑھا شخص اپنے گاؤں جارہا تھا ۔ اس نے راہ گزر پر ایک درخت کے نیچے ایک نوجوان کو ایک لڑکی کے ساتھ مباشرت کرتے ہوئے دیکھا ۔ یہ بوڑھا ان کے قریب گیا ۔ اس نے لڑکے کو اپنے عصا سے مارا ۔ اور زجر وتوبیخ کی اور اسے کہا کہ جس فعل کا وہ ارتکاب کررہا ہے وہ سرعام جائز نہیں ہے ۔ لڑکا اٹھا اور اس نے بوڑھے کے پیٹ میں ایک لات رسید کی ۔ بوڑھا گرا ۔ اس کے بعد وہ اپنے بوٹوں کے ساتھ اسے سر پر مارتا رہا یہاں تک کہ اس کا سر پھوڑ دیا ۔ اس لڑکے کی عمر صرف پندرہ سال تھی ۔ اور لڑکی کی عمر صرف تیرہ سال تھی ۔ “
امریکہ کی ” انجمن چہاردہ “ جو ملک کی اخلاقی صورت حال کی نگراں ہے ‘ نے بتایا ہے کہ امریکہ کی نوے فیصد آبادی مہلک خفیہ جنسی امراض کا شکار ہے اور یہ صورت حال اس وقت تھی جبکہ جدید جراثیم کش ادویہ بنسلین اور سٹریپٹو مائیسین ایجاد نہیں ہوئی تھیں ۔
ڈنفر کے ایک جج لکھتے ہیں کہ ہر دو نکاحوں میں سے ایک طلاق پر منتج ہوتا ہے اور مشہور عالمی ڈاکٹر الکسیس کاریل اپنی مشہور کتاب ” انسان نامعلوم “ میں لکھتے ہیں : ۔
” ہم بچوں کے اسہال ‘ سل ‘ دق اور ٹائی فائیڈ جیسی بیماریوں کی بیخ کنی کے تو بالکل قریب جاپہنچے ہیں لیکن ان بیماریوں کی جگہ اخلاقی بےراہ روی اور اخلاقی بگاڑ کی بیماریوں نے لے لی ہے جس کے نتیجے میں اعصابی اور دماغی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں امریکہ کی بعض ریاستوں میں عام مریضوں کے مقابلے میں دماغی مریضوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے ۔ جنون کے علاوہ اعصابی اور جسمانی ناتوانی کی بیماریوں میں بھی بےحد اضافہ ہو رہا ہے ۔ ان کے نتیجے میں ہر فرد مصیبت زدہ ہوگیا ہے ۔ اور خاندانی نظام قریب الاختتام ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے کہ متعدی بیماریوں کے مقابلے میں امریکی تہذیب کے لئے عقلی انحطاط زیادہ مضر ثابت ہو رہا ہے ۔ جبکہ ماہرین طب نے اپنی سرگرمیاں ان متعدی بیماریوں کے انسداد تک محدود کر رکھی ہیں ۔
یہ ان مصائب اور تکلیفات کی معمولی سی جھلک ہے جو اس گمراہ انسانیت نے اپنے اوپر اس لئے لاولئے ہیں کہ اس نے ان لوگوں کی پیروی شروع کردی جو صرف شہوت کے پیروکار بن گئے تھے انہوں نے خدا کے بنائے ہوئے طریقہ زندگی کی پیروی ترک کر کے جدید جاہلیت کو اپنا لیا تھا ۔ حالانکہ اسلامی نظام زندگی وہ منہاج تھا جس میں انسان کے ضعف اور کمزوری کو ملحوظ رکھ کر قانون سازی کی گئی تھی ‘ اور اس نظام میں اسے اپنی خواہشات نفس اور شہوانی میلانات کی بندگی سے بچا کر ایک ایسے راستے کی طرف ہدایت دی گئی تھی جو پرامن بھی تھا اور اس پر چل کر انسان کے گناہوں سے رجوع آسان ہوجاتا تھا اور وہ راہ طہارت اختیار کرسکتا تھا ۔
(آیت) ” واللہ یرید ان یتوب علیکم ویرید الذین یتبعون الشھوت ان تمیلوا میلا عظیما (27) یرید اللہ ان یخفف عنکم وخلق الانسان ضعیفا (28)
“ ہاں ‘ اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دور نکل جاؤ ،۔ اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے
اس کا سبق کا دوسرا حصہ اسلامی معاشرے کے مابین بعض مالی معاملات پر بحث کرتا ہے تاکہ باہم معاملات کے طریقے طے کردیئے جائیں اور اسلامی معاشرے کے ممبران کے درمیان باہمی معاملات پاک وصاف رہیں ۔ نیز اس میں مالی حقوق عورتوں کو بھی ویسے ہی دیئے جائیں جس طرح مردون کو دیئے گئے ہیں ۔ ہر شخص کو اس کا مقرر کردہ حصہ ملے ۔ نیز وہ مالی حقوق جو ولایت پر مبنی تھے اور جو دور جاہلیت میں عام طور پر مروج رہے ‘ اور اسلام کے آنے کے بعد بھی ابتدائی دنوں میں وہ مروج تھے ‘ ان کو ختم کردیا جائے تاکہ اس سابقہ نظام کا تصفیہ کردیا جائے اور اسلامی نظام میراث کے لئے راہ ہموار ہوجائے جس میں میراث صرف قریبی رشتہ داروں کا حق بنتی ہے اور آئندہ کے لئے قدیم موروثی ولایت کے نظام کو ختم کردیا جائے ۔
النساء 4:29
آیات کا یہ سلسلہ اسلامی معاشرے کی تربیت کے ساتھ بھی متعلق ہے اور اسلامی نظام کے شعبہ قانون سے بھی اس کا تعلق ہے ۔ اسلامی نظام زندگی میں تربیت ‘ اصلاح اور قانون ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں ‘ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تکمیلی حیثیت رکھتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ۔ ایک کے سوا دوسرا مکمل نہیں ہو سکتا قانون سازی سے غرض یہ ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے کی تربیت اور اصلاح کی جائے اور لوگوں کی زندگی کے معاملات کو ایک ضابطے کے تحت لایا جائے ۔ قانون سازی کے اندر ایسی ہدایات بھی دی جاتی ہیں جن میں انسانی ضمیر کی تربیت مطلوب ہوتی ہے ۔ پھر اس قانون سازی میں اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے کہ قانون کا نفاذ بھی اچھی طرح ہو سکے اور خود اسلامی معاشرے کا شعور قانون کے نفاذ کے لئے تیار ہو اور معاشرہ یہ سمجھتا ہو کہ اس قانون کے توڑنے میں نہیں بلکہ اس کے نفاذ میں ہماری مصلحت ہے۔ اسی لئے اسلامی نظام حیات میں قانون سازی اور اصلاح وہدایت ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ دلوں کو اللہ سے جوڑا جاتا ہے ۔ اور ان میں یہ بات ڈالی جاتی ہے کہ یہ ضابطہ اور یہ قانون اسی رب ذوالجلال کی طرف سے ہے جو ہمیں ہدایت دے رہا ہے ۔ یہ صرف اسلامی نظام زندگی کا خاصہ ہے کہ اس میں اجتماعی نظام کی اطاعت از خود کی جاتی ہے ۔ اور اسلامی نظام کی یہ جامعیت انسان کی واقعی اور عملی زندگی کے لئے نہایت ہی مفید ہے ۔ اس سے انسانی ضمیر کی اصلاح بھی ہوتی رہتی ہے اور قانون پر عمل بھی ۔
آیات کے اس حصے میں ہمیں حکم دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان آپس میں ایک دوسرے کے مال ناجائز طور پر نہ کھائیں اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ دوسروں کا مال باہم رضا مندی سے تجارتی لین دین کے ذریعے ہی لیا جاسکتا ہے اور دوسروں کے مال کو ناجائز طور پر کھانے کے فعل کو انسان کے قتل سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ یہ بتایا گیا ہے کہ یہ فعل ہلاکت اور تباہی ہے ۔ اس کے ساتھ لوگوں کو عذاب آخرت سے بھی ڈرایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جو شخص ظالمانہ طور پر دوسروں کا مال کھائے گا وہ آگ کو ضرور چھوئے گا ۔ اس وعید کے ساتھ ہی امید کی کرن بھی چمکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نرمی اور عفو و درگزر کا وعدہ بھی فرماتے ہیں اور انسان کی کمزوری اور اس کی تقصیرات کو معاف کرنے کی راہ میں بھی بتلاتے ہیں ۔ نیز دنیا میں احساس محرومی کو کم کرنے کے لئے خودی کا سبق دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر معاشرے میں کچھ لوگ خوش حال ہیں تو ان کی طرف للچائی ہوئی نظروں کے ساتھ نہ دیکھو ۔ ذات باری کو ہدف نظر بناؤ اس لئے کہ وہی تو ہے جو ان کو دینے والا ہے ۔ اس لئے تمہیں بھی جو کچھ مانگنا ہے اسی سے مانگو ۔ یہاں یہ بات بھی صاف کی جاتی ہے کہ اللہ سے مرد و عورت دونوں مانگ سکتے ہیں ۔ مردوں نے جو کچھ کمایا تو وہ انہی کا ہوگا اور عورتوں نے جو کچھ کمایا وہ انہی کا ہوگا ۔ اور مردوں اور عورتوں دونوں کی کمائی کے بارے میں اللہ کو خوب علم ہے ۔ اسی طرح اگر لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ” ولایت ارث “ کے معاہدے کر رکھے ہیں تو ان معاہدوں پر اچھی طرح عمل کیا جائے اس لئے کہ دوسرے گواہوں کے ساتھ ان پر اللہ بذات خود بھی گواہ ہے ۔ یہ ہیں موثر وجدانی اشارے اور جھلکیاں جن کے اندر قانون سازی بھی موجود ہے یہ ہیں وہ ہدایات جو انسان کی تربیت کے لئے اللہ علیم وخبیر نے بھیجی ہیں جو انسان کی جسمانی تخلیق سے بھی باخبر ہے ۔ اور اس کے نفسیاتی میلانات سے بھی اچھی طرح واقف ہے ۔ جو انسان کی ذہنی راہوں اور نشیب و فراز سے بھی اچھی طرح واقف ہے ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما (29) ومن یفعل ذالک عدوانا وظلما فسوف نصلیہ نارا وکان ذلک علی اللہ یسیرا (30)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ ‘ اپنے آپ کو قتل نہ کرو ‘ یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے ۔ جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔
یہ پکار اہل ایمان کے لئے ہے ‘ انہی کو منع کیا گیا ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھائیں ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “۔ ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے مت کھاؤ ‘ (4 : 29)
اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلامی معاشرے کو جاہلیت کی باقی ماندہ گراوٹوں سے پاک وصاف کیا جارہا ہے ۔ اور ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو “ کے الفاظ میں خطاب کر کے اہل اسلام کے ضمیر کو جگایا جاتا ہے اور انہیں جوش دلایا جاتا ہے کہ وہ جاہلیت کے تمام کاموں کو چھوڑ دیں ، یوں ایمانی تقاضوں کو بیدار کیا جاتا ہے ‘ ان تقاضوں کو جو ان کے لقب ” اہل ایمان “ کے تقاضے ہیں تاکہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے اموال ناجائز طریقوں سے نہ کھائیں ۔
باطل طور پر ایک دوسرے کے اموال کھانے میں وہ تمام طریقے شامل ہیں جن کے ذریعے دولت ایک دوسرے کی طرف منتقل ہوتی ہے اور جن کے استعمال کی اجازت اللہ کی جانب سے نہ ہو یا یہ کہ اللہ نے بصراحت اس سے منع کیا ہو مثلا دوسرے کا مال دبانا ‘ رشوت لینا ‘ قمار بازی کے ذریعے مال کھانا ‘ ضروریات زندگی کا ذخیرہ کرنا تاکہ مہنگے داموں پر انہیں بیچا جائے اور خرید وفروخت کے وہ تمام طریقے استعمال کرنا جو ممنوع ہیں اور ربا ان سب میں سر فہرست ہے ۔ ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ آیت تحریم ربا سے پہلے نازل ہوئی ہے یا بعد میں ۔ اگر یہ پہلے نازل ہوئی تو یہ تحریم ربا کے لئے بطور تمہید ہوگی ‘ اس لئے کہ سود خواری باطل طریقوں میں سرفہرست ہے ۔ اور اگر یہ آیت تحریم ربا کے بعد نازل ہوئی ہے تو اس میں ربا بھی شامل ہے اور ربا کے علاوہ دوسرے وہ تمام طریقے بھی شامل ہیں جن سے دوسروں کی دولت ناجائز طور پر حاصل کرلی جاتی ہے ۔
ہاں یہاں یہ بتانا بھی ضروری سمجھا گیا کہ باہم رضا مندی سے جو تجارتی لین دین ہوتا ہے ‘ اس میں اگر دوسرے کی دولت بطور منافع آجائے تو وہ جائز ہے ۔
(آیت) ” الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم “۔ (4 : 29) ” الا یہ کہ باہم رضا مندی سے تجارتی لین دین ہو۔ “
یہ استثناء منقطع ہے ۔ مفہوم یہ ہے کہ اگر معاملہ رضا مندی پر مبنی لین دین کا ہو تو وہ صورت سابق آیت میں داخل نہیں ہے ۔ یہاں تجارت کو استثنائی شکل میں اس لئے لایا گیا ہے کہ تجارت کے لین دین اور باقی باطل طریقوں کے لین دین میں بظاہر مماثلت پائی جاتی ہے ۔ جو طریقے شریعت کے قانون میں ممنوع ہیں ان کے ذریعہ جو مال لیا جاتا ہے وہ باطل طریقے سے کھایا جاتا ہے ۔ یہ مشاکلت اس وقت ظاہر ہوجاتی ہے جب سورة بقرہ میں آیت الرباء کا مطالعہ کیا جاتا ہے جہاں سود خواروں کا یہ اعتراض نقل کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” انما البیع مثل الربوا “۔ (2 : 275) ” بیشک بیع اور ربا ایک ہی جیسے ہیں “۔ اور انکے اس اشکال کو یوں رد کیا گیا تھا ۔ (آیت) ” واحل اللہ البیع وحرم الربوا “۔ (2 : 257) ” اللہ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے اور ربا کو حرام قرار دیا ہے ۔ “ سود خوار یہ مغالطہ ڈالتے تھے ‘ اور اپنے زیر رواج سودی کاروبار کا دفاع یوں کرتے تھے کہ بیع بھی تجارت ہے اور اس میں انسان کی دولت میں بذریعہ منافع اضافہ ہوتا ہے جبکہ ربا میں مال میں بذریعہ منافع اضافہ ہوتا ہے ‘ اس لئے اس کا کوئی خاص سبب سامنے نہیں آتا کہ تجارت کو جائز کیا جائے اور سود کو حرام قرار دیا جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ تجارتی لین دین اور سودی کاروبار میں بہت بڑا فرق ہے ۔ وہ بدترین نتائج بھی ہمارے سامنے ہیں جو سودی کاروبار کی وجہ سے تجارت وصنعت اور عوام کو درپیش ہوتے ہیں اور وہ خوشگوار اثرات بھی جو صاف ستھری تجارت اور صنعت کی وجہ سے عوام الناس پر مرتب ہوتے ہیں ۔
تجارت میں ایک تاجر ایک ضرور تمند اور خریدار اور ایک صنعت کار کے درمیان ایک ایسا واسطہ ہوتا ہے جو دونوں کے لئے مفید ہوتا ہے ۔ تاجر اشیائے صرف کے لئے مارکیٹ تلاش کرتا ہے اور مصنوعات کو رواج دیتا ہے ۔ وہ ان کو خوبصورتی کے ساتھ اہل ضرورت کے لئے مہیا کرتا ہے اور ان کے لئے سہولت فراہم کرتا ہے ۔ یوں گویا وہ دونوں فریقوں کے لئے مفید ہوتا ہے اور اپنی خدمات کا صلہ لیتا ہے ۔ اور اس کا صلہ اپنی جدوجہد اور اس کی مہارت کا بھی عوض ہوتا ہے ۔ پھر تاجر ہر وقت نفع اور نقصان دونوں کے لئے تیار رہتا ہے جبکہ سود خواری کا نظام اس صورت حال سے بالکل مختلف اور متضاد نظام ہے اس لئے کہ اس نظام میں مصنوعات پر اصل اخراجات کے علاوہ سودی واجبات کا اضافہ کیا جتا ہے اور یہ اضافہ پھر تاجر اور خریدار ‘ ضرورتمند سے وصول کیا جاتا ہے ۔ یوں پورے معاشی نظام پر بوجھ پڑجاتا ہے ۔ اور جس طرح مغربی صنعتی ممالک میں عملا یہ نتائج نکلے ‘ یہ منحوس نظام آخر کار نہ تو بذات خود صنعت کے لئے مفید ہوتا ہے اور نہ خریداروں (Customers) کے لئے مفید ہوتا ہے اور نہ وہ ان دونوں کے مفادات کو پیش نظر رکھتا ہے بلکہ اس کا ہدف صرف یہ ہوتا ہے کہ صنعتی قرضوں پر زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کیا جائے اور سرمایہ کار کو فائدہ دیا جائے ۔ جمہور عوام کو ضروریات زندگی دستیاب ہوں یا نہ ہوں لیکن سامان تعیش کی فراوانی ہو ان چیزوں کی پیداوار میں اضافہ کردیا جائے جو انسانی جذبات کو مشتعل کرنے والی ہوں ‘ خواہ یہ انسانی جسم اور صحت کے لئے مضر ہوں ۔ نیز یہ کہ سرمایہ کے لئے دائما منافع متعین کردینا اور سرمایہ دار کے لئے کسی صورت میں بھی خسارہ میں شریک نہ ہونا ‘ جیسا کہ تجارت میں ہوتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں انسانی جدوجد پر اعتماد نہ کرنا ‘ جو تجارتی نظام کی جان ہوتی ہے ۔ یہ اور اس طرح کے دوسری وہ وجوہات جو اس سودی نظام کے کھاتے میں آتی ہیں اس بات کے لئے کافی ہیں کہ اس نظام کو ختم ہونا چاہئے جس طرح اسلام نے اسے ختم کیا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے فی ضلال القرآن ج سوئم صفحات ۔۔۔۔۔۔ نیز تفصیلات کے لئے دیکھئے مولانا ابو الاعلی مودودی (رح) امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کتاب ” الربا “ (سیدقطب)
نظام ربا اور نظام تجارت میں بعض پہلوؤں سے چونکہ یک رنگی نظر آتی تھی اس لئے قرآن کریم کو بطور استدراک یہ نوٹ دینا پڑا (آیت) ” الا تکون تجارۃ عن تراض منکم “۔ (4 : 29) ” الا یہ کہ تمہارے درمیان باہم رضا مندی سے تجارتی لین دین ہو۔ “ لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھانے کی ممانعت کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو قتل نہ کرو ‘ اگرچہ نحویوں کی رائے کے مطابق یہ استثنائے منقطع ہے ۔ (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ (4 : 29) ” اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے ۔ “
یہ فقرہ ایک دوسرے کے اموال ناجائز طور پر کھانے کی ممانعت کے بعد آتا ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر تم ایک دوسرے کے اموال باطل طریقوں سے کھاتے ہو تو گویا تم ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہو ‘ اور سودی نظام کے آثار تباہ کن ہوں گے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس سودی نظام کی ممانعت کر کے تم پر ظلم نہیں کر رہا ہے بلکہ یہ نہایت ہی رحیمانہ حکم ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ یہ اللہ کی جانب سے انسانیت پر بہت بڑا رحم ہے ۔
جس سوسائٹی میں بھی ان امور کا رواج ہوجائے ‘ مثلا سود خواری ‘ چور بازاری ‘ قمار بازی ‘ ذخیرہ اندوزی ‘ دھوکہ بازی ‘ چوری ‘ چھینا چھپٹی ‘ سرقہ ‘ رشوت ‘ ناقابل فروخت اشیاء کی فروخت ‘ مثلا عزت وناموس ‘ ضمیر واخلاق ‘ ذمہ داری اور فرض منصبی ‘ اور مذہب اور دین وغیرہ جیسا کہ یہ چیزیں قدیم جاہلی سوسائٹی میں بھی جاری تھیں اور آج کے جدید جاہلیت میں بھی یہ کام جاری ہیں۔ غرض یہ امور جس سوسائٹی میں بھی پائے جائیں گے ‘ وہ خود اس کی جانب سے خود کشی کے مترادف ہوں گے اور وہ سوسائٹی اپنے آپ کو ہلاکت کے گڑھے میں جانتے بوجھتے گرا رہی ہوگی ۔
اور اللہ کا منشاء یہ ہے کہ وہ اس تباہ کن خود کشی سے اہل ایمان کو بچائے اور ان پر رحم کرے ۔ یہ بھی دراصل اللہ کی جانب سے انسانیت پر ایک تخفیف ہے اور اس کے لئے ایک رعایت ہے انسان کی ضعیفی کا ایک علاج ہے اس لئے کہ انسان اپنی اس کمزوری کی وجہ سے اللہ کی ہدایات سے نکل کر ان لوگوں کی راہنمائی میں آجاتا ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں ۔
عذاب آخرت کی دھمکی کے بعد ‘ اب ان لوگوں کو دھمکی دی جارہی ہے جو لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھاتے ہیں۔ جو حدود سے تجاوز کرتے ہیں اور دوسروں کے حقوق مارتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو عذاب آخرت کی دھمکی ہے ۔ یعنی نہ صرف یہ کہ دنیا میں دوسروں کا مال کھانے سے ایک سو سائٹی تباہ وبرباد ہوگی بلکہ آخرت میں بھی ایسے ظالموں کو عذاب سے دوچار ہونا ہوگا ۔ دنیا میں جو تباہی ہے ‘ وہ تمام لوگوں پر آئے گی ‘ جو ظالم ہے اس پر تو اس لئے کہ اس نے ظلم کیا اور مظلوم پر اس لئے کہ اس نے ظلم کے خلاف کام نہ کیا اس لئے کہ دنیا میں انسان برائی کے نتائج کے لئے اجتماعی طور پر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس لئے جس سوسائٹی میں دوسرے کے حقوق مارے جاتے ہیں وہ سوسائٹی دنیا وآخرت دونوں میں برے نتائج بھگتے گی ۔ یہی سنت الہی ہے اور یہی اللہ کا فیصلہ ہے ۔
النساء 4:30
(آیت) ” ومن یفعل ذلک عدوانا وظلما فسوف نصلیہ نارا وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 30) ”
” جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “
اسلامی نظام حیات نفس انسانی کو اس کے ایک وسیع دائرے تک لے جاتا ہے یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی دونوں جہانوں کو پیش نظر رکھ کر اس کے لئے ضابطہ بندی کی جاتی ہے اور اسے ہدایات دی جاتی ہیں ۔ نفس انسانی کے اندر ایک بیدار اور محتاط چوکیدار بٹھایا جاتا ہے جو ہر ہدایت کو بسروچشم قبول کرتا ہے اور ہر اسلامی قانون کو بطیب خاطر نافذ کرتا ہے ۔ پھر اسلامی سوسائٹی میں بھی ہر شخص کو دوسرے کے لئے نگران بنایا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اجتماعی طور پر بھی مسئول ہیں ۔ اگر ظلم ہوگا تو سوسائٹی کے تمام افراد گویا قتل ہوں گے اور ان پر تباہی آئے گی ، یعنی اس دنیا میں اور آخرت میں تمام ان لوگوں سے محاسبہ ہوگا جنہوں نے اپنی سوسائٹی کو ظالمانہ روش پر رہنے دیا اور اس کے باطل طور طریقوں کے بدلنے کے لئے جدوجہد نہ کی ۔ (آیت) ” وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 30) ”
” اور یہ اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے “۔ اسے دنیاوی تباہی لانے اور آخری محاسبہ کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ نہ اس کی راہ میں کوئی حائل ہو سکتا ہے اور جب تباہی کے اسباب مہیا ہوجائیں تو اللہ کی سنت یہی ہے کہ پھر وہ آکر رہتی ہے ۔
لیکن اگر تم لوگ ممنوعات میں سے بڑی بڑی ممنوعہ چیزوں سے اجتناب کرو ‘ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کے اموال کو ظالمانہ طریقے سے کھانا اور ان کا استحصال کرنا چھوڑ دو ‘ تو اس کے نتیجے میں اللہ کی رحمت تمہارے شامل حال رہے گی ۔ تمہارے ساتھ نرم سلوک کیا جائے گا تمہارے دلوں کے اطمینان کے لئے اور آگ سے تمہیں بچانے کے لئے تمہارے وہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے جو کبائر نہیں ہیں بشرطیکہ تم ارتکاب ظلم اور ارتکاب فواحش سے اجتناب کرو۔
النساء 4:31
(آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما “۔ (4 : 31) ”
” اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کردیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے ۔
ذرا دیکھئے تو سہی ! کس قدر فیاض ہے یہ دین اور اس نظام میں کس قدر سہولتیں دی گئی ہیں ۔ ببانگ دہل دعوت دی جارہی ہے کہ انسانو ! آؤ بلندیوں کی طرف ‘ علو شان کی طرف پاکیزگی کی طرف اور ڈسپلن کی طرف ۔ یاد رکھو کہ تم پر جو فرائض عائد کئے جاتے ہیں ‘ تمہارے لئے جو حدود بھی مقرر ہوتے ہیں ‘ اور اوامر ونواہی کے جو جو احکام دیئے جاتے ہیں ‘ ان سب کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس جہان میں پاک وصاف نفوس پیدا کئے جائیں اور پھر ان نفوس طیبہ سے ایک پاک وصاف معاشرہ وجود میں لایا جائے ۔
لیکن یہ دعوت دیتے وقت اور یہ حدود وقیود عائد کرتے وقت انسان کی ضعیفی اور اس کی فطری کو تاہیاں بھی پیش نظر رکھی گئی ہیں ۔ یہ فرائض وواجبات اس کی فطری طاقت کے دائرے کے اندر اندر ہیں۔ ان میں اس کی فطرت ‘ اس کی طاقت کے حدود اور اس کے رجحانات کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ نیز انسانی زندگی کی راہوں کے نشیب و فراز کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی میں ‘ فرائض وواجبات عائد کرتے وقت ان فرائض اور انسانی مقدرت کے اندر ایک حسین امتزاج اور توازن رکھا گیا ہے ۔ انسانی ضروریات اور انسانی خواہشات کے درمیان بھی توازن موجود ہے ۔ میلانات اور رکاوٹوں کے درمیان بھی توازن ہے ‘ اوامر اور نواہی کے درمیان بھی توازن ہے ۔ ترغیب اور ترہیب کے درمیان توازن ہے ‘ اور اسی طرح ایک طرف عذاب الہی سے سخت ڈراوا ہے ۔ اگر معصیت کا ارتکاب کیا گیا اور دوسری جانب اگر کوئی پیشمان ہوجائے اور واپس لوٹنا چاہئے تو اس کے لئے بھی معافی کا دروازہ بند نہیں کیا گیا ۔
دین اسلام کا حقیقی مطلوب ومقصود صرف یہی ہے کہ وہ نفس انسانی کا قبلہ درست کرکے اس کا رخ اللہ کی طرف موڑ دے ‘ اور اس قبلہ رخی میں اسے مخلص ہونا چاہئے ۔ وہ حتی المقدور اپنے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے ۔ اس کے بعد اللہ کی رحمت کی سرحد شروع ہوجاتی ہے ۔ اللہ کی رحمت ضعیف وناتواں سب کے شامل حال رہتی ہے ‘ وہ تقصیرات درگزر کرتی ہے ‘ وہ توبہ قبول کرتی ہے ‘ کمزوریوں سے صرف نظر کرتی ہے ‘ گناہ معاف کرتی ہے اور واپس آنے والوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیتی ہے اور بڑے انس و محبت سے آنے والوں کا استقبال کرتی ہے ۔
اس آیت میں حکم یہ دیا گیا ہے کہ تم کبائرے اجتناب کرو۔ گناہ کبیرہ ہمیشہ واضح ‘ کھلے اور عظیم ہوتے ہیں ‘ اس لئے کوئی شخص یہ عذر نہیں کرسکتا کہ اس نے ان گناہوں کا ارتکاب کیا جن کا اسے علم نہ تھا کہ یہ گناہ ہیں ‘ یا وہ سمجھا ہی نہیں ہے اور گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہے ‘ اس لئے کہ جو شخص ان گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے ‘ وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے گناہ سے بچنے اور اجتناب کرنے کی سعی کی ہے ‘ یا اس نے اس کے ارتکاب کے خلاف پورا مقابلہ کیا ہے لیکن ان گناہوں کے ارتکاب کے بعد بھی اگر ایک شخص صحیح طرح پورے اخلاص کے ساتھ توبہ کرے تو بھی اللہ کے ہاں معافی ہو سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ بھی فرمایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
(آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون “۔ (3 : 135) ”
” اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معا اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ دیدہ و دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ ایسے لوگوں کی جزاء ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کے گناہ معاف کر دے گا ۔ “ اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے متقیوں میں شمار فرمایا ہے ۔
یہاں کبائر سے توبہ کی بحث نہیں ‘ یہاں مدعا یہ ہے کہ اگر کوئی کبائر سے اجتناب کرے تو اس کے چھوٹے گناہ براہ راست اللہ تعالیٰ معاف فرماتے ہیں ‘ یہاں اسی کا وعدہ کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کو خوشخبری دی جا رہی ہے ۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کبائر کیا ہیں جن کے ارتکاب سے بچنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے ‘ احادیث میں ان کا ذکر ہوا ہے ‘ لیکن کسی حدیث میں ان کی پوری تعداد کا ذکر نہیں ہوا ‘ بلکہ موقعہ ومحل کے اعتبار سے جن گناہوں سے ممانعت کی زیادہ ضرورت تھی ان کا ذکر کردیا گیا ‘ اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کسی حدیث میں کبائر کی پوری فہرست دے دی گئی ہے ۔ ہاں مختلف احادیث میں مختلف نوعیت اور مختلف تعداد کو کبائر کہا گیا ہے اور یہ جرائم مختلف معاشروں اور مختلف سوسائٹیون میں مختلف ہو سکتے ہیں ۔
یہاں ہم حضرت عمر بن خطاب ؓ کا واقع نقل کرنا مناسب سمجھتے ہیں ‘ حضرت عمر ؓ معصیت کے معاملے میں بےحد حساس اور متشدد تھے اور وہ معاصی سے سخت اجتناب فرماتے تھے ، اس واقعے سے معلوم ہوگا کہ اسلام نے ان کے اس تیز احساس کو کس طرح سیدھے راستے پر ڈال دیا تھا ‘ اور ان کے ہاتھ میں یہ ترازو ‘ حساس ہونے کے باوجود کس قدر اعتدال پر تھا ‘ خصوصا جبکہ ان کا واسطہ اجتماعی امور اور انسان کے نفسیاتی معاملات سے پڑا کرتا تھا ۔
ابن جریر نے یعقوب ابن ابراہیم ، ابن علی ‘ ابن عون اور ۔۔۔۔۔۔۔ کے واسطے سے نقل کیا ہے کہ مصر میں بعض لوگوں نے عبداللہ ابن عمرو سے پوچھا کہ ہم اللہ جل شانہ کی کتاب میں بعض احکام پاتے ہیں کہ ان کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ ان پر عمل کیا جائے ‘ لیکن ان پر عمل نہیں کیا جاتا ‘ اس لئے ہم نے ارادہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں امیر المومنین سے ملیں ۔ چناچہ عبداللہ بن عمرو مدینہ آئے اور وہ لوگ بھی ان کے ساتھ آئے اور حضرت عمر ؓ سے ملے ۔ انہوں نے پوچھا تم کب آئے ہو ؟ انہوں نے کہا میں فلاں فلاں تاریخ کو آیا ہوں ‘ حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ کیا تم اجازت لے کر آئے ہو ؟ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ اس سوال کا حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ نے کیا جواب دیا ۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ امیر المومنین ! مجھے مصر میں بعض لوگ ملے تھے ‘ انہوں نے سوال کیا تھا کہ ہم قرآن کریم میں بعض احکام پاتے ہیں کہ ان پر عمل کیا جائے مگر ان پر عمل نہیں کیا جاتا ‘ تو ان لوگوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ اس سلسلے میں آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : آپ ان لوگوں کو میرے لئے جمع کریں ۔ انہوں نے ان لوگوں کو جمع کیا ۔ ابو عون نے کہا : ” میرا خیال ہے کہ اس نے کہا بیٹھک میں جمع کیا ۔ اس پر انہوں نے ان میں سے ادنی تر آدمی سے بات کی اور کہا : میں خدا کو حاضر وناظر جان کر اور اسلام کا آپ پر جو حق اس کو مدنظر رکھتے ہوئے تم سے پوچھتا ہوں : ” کیا تم نے پور کے قرآن مجید کو پڑھ لیا ہے ؟ “ اس نے جواب دیا : ” ہاں “ اس پر انہوں نے فرمایا : ” کیا وہ پورا تمہارے ذہن میں ہے ؟ ‘ اس نے جواب دیا : ” خدا جانتا ہے نہیں ۔ “ اگر یہ شخص کہتا ہاں سب قرآن میرے ذہن میں ہے تو حضرت عمر یہیں سے اس کے ساتھ مباحثہ شروع کردیتے ۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے کہا : ” کیا سب قرآن تمہارے پیش نظر ہے ؟ “ کیا سب قرآن لفظ ” تمہیں یاد ہے ؟ کیا سب قرآن پر تم عمل پیرا ہو ؟ غرض ایسے ہی سوالات انہوں نے سب سے کئے اور آخری شخص تک وہ سب سے یہ سوالات کرتے چلے گئے ، اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ” تمہیں تمہاری ماں روئے : کیا تم عبداللہ بن عمرو کو اس بات کا مکلف بناتے ہو کہ وہ لوگوں کو مکمل طور پر قرآن کریم کے مطابق استوار کردے ۔ ہمارے اللہ کو یہ معلوم تھا کہ ہم میں گناہ گار بھی ہوں گے ۔ “ اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ۔
(آیت) ” ان تجتنبوا کبآئر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم “۔ (4 : 31) ”
” اگر تم کبائر سے اجتناب کرو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے ۔ “
اس کے بعد حضرت عمر ؓ نے فرمایا : ” کیا اہل مدینہ جانتے ہیں ۔ “ یا فرمایا : ” کیا کسی ایک شخص کو معلوم ہے کہ تم یہاں کس لئے آئے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا : ” نہیں۔ “ تو فرمایا اگر اہل مدینہ کو علم ہوتا تو میں تمہیں ضرور وعظ کرتا ۔ “ (لفظ احصیۃ فی اثرک کا مفہوم یہ ہے کہ کیا تم نے اپنی پوری زندگی میں قرآن کو نافذ کردیا ہے ۔ اور ابن کثیر نے اسے نقل کیا ہے اور کہا ہے : ” اسناد صحیح ہے ‘ متن حسن ہے ۔ اگرچہ یہ عمر سے حسن نے روایت کی ۔ اس میں لقطاع ہے ۔ بہرحال یہ مشہور ہے اور مشہور ہونے کی وجہ سے ہم اسے نقل کر رہے ہیں ۔ )
حضرت عمر ؓ جیسے حساس اور سخت گیر شخص بھی اس حکمت کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کر رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے شعور کو قرآن کریم نے استوار کردیا تھا ‘ اور ان کو گہری حکمت و دانائی عطا کردی تھی ۔ انہوں نے کیا خوب کہا ‘ ” ہمارے اللہ کو پیشگی علم تھا کہ ہم سے گناہوں کا صدور ہوگا “۔ اور ہم ظاہر ہے کہ اللہ کے علم کے خلاف تو ہو نہیں سکتے ‘ اس لئے مدار فیصلہ اس پر ہوگا کہ ہم نے کیا ارادہ کیا ؟ ہم نے کس قدر اپنے آپ کو درست کرنے کی نیت کی ‘ کس قدر کوشش کی کس قدر خواہشمند رہے ‘ کس قدر ہم نے پابندی شریعت کرنے کی سعی کی ‘ کس قدر جدوجہد اور وفاداری کرنے کی کوشش کی ؟ یہ ہے اسلامی نظام زندگی کا توازن ‘ سنجیدگی ‘ اعتدال اور ہر معاملے میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش ۔
النساء 4:32
(آیت) ” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنسآء نصیب مما اکتسبن واسئلوا اللہ من فضلہ ان اللہ کان بکل شیء علیما (32) ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدن والا قربون والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا (33) (4 : 32۔ 33)
” اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی نسبت تمنا نہ کرو ‘ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ‘ اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو ‘ یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ اور ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں ‘ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ‘ یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے ۔ “
اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو جو فضیلت دی ہے اس کی تمنا کرنے سے اہل اسلام کو منع کیا گیا ہے اور یہ نص اس بارے میں عام ہے کہ یہ فضیلت کیسی بھی ہو ۔ مثلا عہدہ و مرتبہ میں فضیلت ‘ صلاحیت و قابلیت میں فضیلت ‘ مال واسباب میں فضیلت ‘ غرض اس زندگی میں نصیبہ کے اعتبار سے جو بھی فرق و امتیاز موجود ہو ‘ اس بارے میں دوسروں کے مقابلے میں تمنائیں نہیں کرنی چاہئیں ۔ جو کچھ مانگنا ہے ‘ اللہ سے مانگا جائے اور ہر امر کی طلب براہ راست اللہ سے ہونی چاہئے اور یہ نہ ہونا چاہئے کہ دوسروں کی فضیلتون پر خواہ مخواہ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ کر دل کی حسرتوں کی آماجگاہ بنا لے ‘ اور اس کے بعد اس غلط تمنا کے ساتھ حسد وکینہ اور بغض وانتقام کے برے جذبات اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ انسانوں پر حملہ آور ہوں ‘ یا ان کے اندر محرومیت ‘ ہلاکت اور تباہی کے جذبات اور مہلک احسانات پیدا ہوں ۔ ان جذبات کے بعد پھر ہر کسی کے خلاف بدظنی پیدا ہو ‘ اور پھر خدا اور مخلوق دونوں سے یہ شکایت پیدا ہو کہ انہیں کم دیا گیا ہے ۔ یہ صورت حال اس قدر تباہ کن ہوگی کہ معاشرے میں امن و سکون کا نام ونشان نہ رہے گا ‘ ہر شخص ذہنی پریشانی اور قلق کا شکار ہوگا ‘ انسانی قوتیں غلط رجحانات اور بدی کی راہوں میں صرف ہو کر ضائع ہوں گی جبکہ اس کے مقابلے میں یہ رجحان کہ سب کچھ عطا کرنے والا اللہ ہے ‘ وہی فضل وکرم اور داد ودہش کا منبع ہے کیا خوب ہے ۔ اور یہ عقیدہ کہ عطا اور داد ودہش سے اس کے خزانوں میں کوئی کمی پیدا نہیں ہوتی ، اور اس کی درگاہ اس قدر وسیع ہے کہ اگر تمام کائنات کے سوالی اس پر اژدہام کرلیں تب بھی اس میں تنگی نہیں آتی ‘ امن و اطمینان بھی اس کی درگاہ سے ملتا ہے ‘ امید وآسرا بھی وہیں سے دستیاب ہے ۔ اسباب کی تلاش اور جدوجہد میں وہی مثبت راہ بتلاتا ہے ‘ جس راستے میں ایک دوسرے کے خلاف عداوت ‘ جلن ‘ اختلاف اور دشمنی بھی پیدا نہیں ہوتی ۔
ایک عام ہدایت دیتے ہوئے یہ آیت اپنے مفہوم میں عام ہے لیکن سیاق کلام میں اس کا مفہوم خاص ہوجاتا ہے اور اس کے اسباب نزول کے سلسلے میں بعض روایات بھی وارد ہیں جن کی وجہ سے آیت کا مفہوم عموم کسی قدر خاص ہو کر اس میں فرق آجاتا ہے اور بعض امور کی فضیلت متعین ہوجاتی ہے ۔ یہ آیت انہیں امور کو متعین کرتی ہے ۔ مثلا مردوں اور عورتوں کے حصے میں فرق ہے ۔ مردوں کا حصہ میراث میں زیادہ متعین ہوا ہے ‘ جس کا اظہار اس آیت سے بھی ہوتا ہے اور سیاق کلام سے بھی ہوتا ہے اور سیاق کلام سے بھی ہوتا ہے ۔ لیکن یہ پہلو یعنی بعض امور میں مرد وزن کے درمیان مقام و مرتبہ میں خصوصی تفاوت اس آیت کی عمومیت پر اثر انداز نہیں ہوتی اس لئے کہ مرد و زن کے تعلقات کی درستی اور ان کے درمیان باہم مکمل تعاون اور تکافل اور اسلامی معاشرے میں ایک خاندان کی تشکیل اور افراد معاشرہ کی باہم رضا مندی اور پورے معاشرے کی درمیان نظم کے قیام کے لئے اس تفاوت کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس لئے کہ اس تفاوت اور فرق مراتب کی وجہ سے فریقین کے فرائض اور ذمہ داریاں متعین ہوجاتی ہیں لیکن اس خصوصی تفاوت کے باوجود آیت کی عمومیت متاثر نہیں ہوتی ‘ اس لئے روایات میں جو خاص اسباب نزول بیان ہوئے ہیں وہ آیت کے عمومی مفہوم کو متاثر نہیں کرتے ۔
امام احمد نے سفیان ‘ ابو نجیح ‘ مجاہد کی سند کے ساتھ حضرت ام سلمہ ؓ سے یہ روایت کی ہے کہ ام سلمہ ؓ نے حضور ﷺ کے سامنے یہ عرض کی کہ حضور ! مرد جہاد کرتے ہیں لیکن ہم عورتیں جہاد میں شریک نہیں ہوتیں ‘ اور میراث میں بھی ہمارا حصہ نصف ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ” اور جو اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسرے کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو ۔ “
امام ابو حاتم ‘ ابن جریر ‘ ابن مردویہ اور حاکم نے مستدرک میں امام ثوری کی حدیث بروایت ابن جیح ‘ مجاہد حضرت ام سلمہ ؓ سے یوں روایت کی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے کہا کہ ہم عورتیں جنگ میں حصہ نہیں لیتیں تاکہ ہم شہید ہوں اور میراث میں بھی ہمارا پورا حصہ نہیں ہے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” انی لا اضیع عمل عامل منکم من ذکر اواثنی) ” میں تم میں کسی کام کرنے والے کے کام کو ضائع نہیں کرتا ‘ مرد ہو یا عورت۔ “
حضرت سدی اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے یہ کہا تھا کہ ہمارے لئے عورتوں کے ثواب کے مقابلے میں دوگنا ثواب ہونا چاہئے اس لئے کہ ازروئے فطرت ہم جنگ نہیں لڑ سکتیں لیکن اگر اللہ نے ہم پر جہاد فرض کیا ہوتا تو ہم جنگ میں حصہ لیتیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان خیالات کی تردید فرمائی اور حکم دیا کہ وہ میرے فضل کے بارے میں دعا کریں ‘ اور یہ فضل دنیا جیسا عارضی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ایسی ہی روایت قتادہ سے بھی مروی ہے ۔ بعض دوسری روایات بھی ہیں جو اس آیت کے مفہوم کی عمومیت کو ظاہر کرتی ہیں ۔
علی ابن ابو طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : ” کوئی شخص یہ تمنا نہ کرے کہ فلاں شخص کا مال اور اس کی عورت اسے ملیں ۔ اللہ نے اس سے منع کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ وہ اللہ کے فضل کے طلبگار ہوں ۔ حسن ‘ محمد بن سیرین ‘ عطاء اور ضحاک سے بھی ایسی ہی تفسیر مروی ہے ۔
مرد وزن کے درمیان زمانہ جاہلیت میں جو تعلقات پائے جاتے تھے ‘ ان کے حوالے سے دیکھا جائے تو محولہ بالا پہلے اقوال میں آثار جاہلیت کا پر تو نظر آتا ہے جبکہ دوسری جانب مرد وزن کے درمیان جذبہ مسابقت اور تنافس اس بات کا نتیجہ ہے کہ اسلام نے عورتوں کو جو حقوق عطا کئے اور جو آزادیاں عنایت کیں اس کے نتیجے میں اس قسم کے تنافس کا پیدا ہونا ایک قدری امر تھا ‘ اس لئے کہ اسلام نے عورت کو جو حقوق عطا کئے وہ اصول کرامت انسانی اور ہر جنس اور ہر گروہ کے ساتھ منصفانہ سلوک پر مبنی تھے ۔ اور یہ منصفانہ رویہ ہر شخص کو یوں سکھایا گیا کہ اس نے خود اپنی ذات کے ساتھ بھی انصاف کرنا تھا ۔
اسلام کے اہداف یہ ہیں کہ وہ اپنے متکافل اور معاون نظام زندگی کو ۔۔۔۔۔۔۔ نافذ کرنا چاہتا ہے ۔ اس کا مقصد نہ مردوں کی حمایت ہے اور نہ عورتوں کی حمایت کرنا ہے ۔ بلکہ اس کے پیش نظر انسان من حیث الانسان ہے ۔ اور اسلامی معاشرہ کی تخلیق ہے ۔ اسلام علی الاطلاق اور علی العموم انسانیت کی اصلاح اور بھلائی کے لئے کام کرتا ہے ۔ وہ اس دنیا میں عمومی اور بےقید عادلانہ نظام چاہتا ہے ‘ جو ہمہ جہت اور ہمہ پہلو عادلانہ اسباب پر مبنی ہو ۔
اسلامی نظام زندگی ‘ فرائض وواجبات کے تعین میں راہ فطرت پر چلتا ہے ۔ اسی طرح وہ مرد وزن کے حصہ رسدی کے تعین میں بھی دونوں کی فطری صلاحیتوں کو پیش نظر رکھتا ہے ۔ اور فطرت نے ابتدائے تخلیق سے مرد کو مرد عورت کو عورت قرار دیا ۔ ان میں سے ہر ایک کے اندر متعین صلاحیتیں پیدا کیں ۔ اور ان خاص صلاحیتوں کے مطابق ان کے فرائض متعین کئے ۔ ان فرائض کے تعین میں کسی مخصوص مقصد کو سامنے نہیں رکھا گیا ‘ نہ کسی ایک جنس کو دوسری پر ترجیح دی گئی ہے ۔ بلکہ انسان کی پوری زندگی کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ جس کا قیام اور تنظیم اور جس کی خصوصیات کی تکمیل اور جس کے مقاصد کی تکمیل اسی صورت میں ممکن ہے کہ مرد وزن کے درمیان فرق و امتیاز ہو ‘ اور یہ فرق و امتیاز ان دونوں کی خصوصیات اور صلاحیتوں اور فرائض وواجبات کے درمیان فرق و امتیاز کے مطابق ہو تاکہ وہ خلافت فی الارض اور اللہ کی بندگی کے اعلی مقاصد پورے کرسکیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حیات انسانی کے عظیم ادارے کی تنظیم اور تکمیل کے لئے مرد و زن کے درمیان تنوع پیدا کیا ۔ ان کو مختلف صلاحیتیں دیں ۔ ان کے لئے مختلف فرائض منصبی مقرر کئے ۔ اور ان کے لئے مختلف حقوق متعین کئے اور جدا جدا دائرہ کار کا تعین کیا ۔ تاکہ کاروان زندگی صحیح سمت پر سفر جاری رکھ سکے ۔
انسان جب غیر جانبداری سے مکمل اسلامی نظام زندگی کا مطالعہ کرے ‘ خصوصا اس نظام میں مرد وزن کے باہمی تعلقات کی نوعیت کا گہرا جائزہ لے تو نہ اس نزاع کا کوئی موقعہ رہتا ہے جو قدیم روایات میں پایا جاتا ہے اور نہ ان جدید مجادلات اور نزاعات کی کوئی حقیقت رہتی ہے ‘ جو آج کل کے دور میں مردوں اور عورتوں کے درمیان بےفائدہ ہوجاتے ہیں اور جس کا شور وغوغا کبھی اس قدر بلند ہوجاتا ہے جس میں سنجیدہ مردوں اور عورتوں کی آواز دب کر رہ جاتی ہے ۔
یہ ایک عبث کوشش ہوگی کہ ہم صورت حال کی تصویر کشی یوں کریں کہ گویا مرد اور عورت کے درمیان ایک معرکہ کار زار گرم ہے ۔ اس میں ہر شخص اپنا اپنا موقف بیان کر رہا ہے ۔ ہر شخص جنگ کو جیتنے کی سعی میں لگا ہوا ہے ۔ کچھ سنجیدہ اہل قلم بھی بعض اوقات ایسا موقف اختیار کرتے ہیں کہ وہ عورت کی ذات میں نقائص نکالتے ہیں ‘ اس سے کمالات کی نفی کرتے ہیں اور اس کی طرف ہر عیب کی نسبت کرتے ہیں ۔ یہ کام وہ علمی بحث و مباحثہ کے طور پر کریں یا اسلامی نقطہ نظر سے کریں ۔ دونوں صورتیں حقیقت نفس الامری سے دور ہیں ۔ مسئلہ دراصل دونوں فریقوں کے درمیان معرکہ آرائی کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ دونوں اصناف کی نوعیت اور تقسیم کار کا ہے ۔ ایک دوسرے کے ساتھ تکافل اور تعاون کا ہے اور اسلامی نظام زندگی کے مطابق ان کے درمیان قیام عدل کا ہے ۔
یہ ممکن ہے کہ جاہلی معاشروں کے اندر مرد وزن کے درمیان کوئی معرکہ آرائی ہو ۔ اس لئے کہ جاہلی معاشرت اپنے لئے نظام حیات از خود تجویز کرتے ہیں ۔ ان جاہلی معاشروں کا نظام خالص ذاتی اور نبوی اغراض ومقاصد پر مبنی ہوتا ہے یا ان نظاموں میں بعض غالب طبقات کے مفادات کو مدنظر رکھا گیا ہوتا ہے یا بعض خاندانوں اور بعض افراد کے مفادات کی حفاظت مطلوب ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان جاہلی نظاموں میں انسان کی اصلیت اور جاہلیت کی نسبت جہالت کی وجہ سے عورتوں کے حقوق کو غصب کیا گیا ہوتا ہے یا ان میں مرد و زن کے فرائض طبیعی کو نظر انداز کرکے ان کے حقوق وفرائض متعین کئے ہوتے ہیں یا ان میں کام کرنے والی عورت کے حقوق اس ہی جیسے کام کرنے والے مرد کے حقوق کے مقابلے میں کم رکھے گئے ہوتے ہیں ۔ اور یہ کمی محض اقتصادی وجوہات سے ہوتی ہے یا مثلا تقسیم میراث کے میدان اور مالی تصرفات کے شعبے میں عورتوں کے حقوق کم رکھے گئے ہوتے ہیں جس طرح جدید جاہلی معاشروں میں بھی صورت حال ایسی ہی ہے ۔
رہا اسلامی نظام زندگی تو اس میں کہیں بھی ایسی صورت حال نہیں ہے ۔ اس میں اولا مرد وزن کے درمیان کوئی معرکہ برپا نہیں ہوتا ۔ اس میں دنیاوی مفادات کی بنا پر ایک دوسرے کے مقابلے میں کوئی دشمنی نہیں ہوتی ۔ اس میں نہ مرد عورت کے مفادات پر حملہ آور ہو کر اسے لوٹتا ہے اور نہ عورت مرد کے مفادات پر حملہ آور ہو کر اسے لوٹتی ہے ۔ نہ وہ ایک دوسرے کی کمزوریوں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں اور انہیں اجاگر کرتے ہیں ۔ اسلامی نظام میں اس قسم کے افکار کی بھی گنجائش نہیں ہے ۔ مرد وزن کے درمیان طبیعی خصائص میں اس بین فرق و امتیاز کے باوجود مرد وزن کے درمیان فرائض اور واجبات کا کوئی فرق نہیں ہے اور یہ کہ ان فرائض واجبات وجہ سے مرد وزن کے منصب اور حیثیت پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے ۔ اس قسم کے افکار غلط فہمی پر مبنی ہیں ‘ اور اپنی جگہ از کار رفتہ بھی ہیں ۔ اسلامی نظام کے بارے میں یہ افکار جہالت پر مبنی ہیں ‘ اور مرد وزن کی فطری ساخت اور طبیعی وظائف کے بارے میں گہری لاعلمی کی وجہ سے وجود میں آئے ہیں ۔
ذرا جہاد کے معاملے پر غور فرمائیے ! جہاد اور شہادت فی سبیل اللہ ‘ اس میں عورت کی شرکت اور حصول ثواب کے مسائل کے معاملے میں دور اول کی صالح عورتوں کے دل میں تشویش تھی ۔ ان صالح عورتوں کی تشویش کا تعلق صرف آخروی نقطہ نظر سے تھا ۔ اس کا تعلق اس دنیا میں حیثیت یا برتری سے ہر گز نہ تھا ۔ بعض اوقات اس فرق و امتیاز کا تعلق دنیاوی امور سے بھی تھا مثلا وراثت میں مرد کا حصہ عورت کے مقابلے میں زیادہ رکھا گیا تھا ‘ زمانہ قدیم سے مردوں اور عورتوں کے دلوں میں اس امتیاز کے بارے میں تشویش تھی ۔ آج کے دور جدید میں بھی یہ اور اس قسم کے دوسرے مسائل دلوں میں کھٹکتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فعل جہاد نہ عورت پر فرض کیا ہے اور نہ ہی اس کے لئے جہاد میں شرکت کو حرام قرار دیا ہے ۔ نیز اگر فریضہ جہاد میں عورت کی ضرورت ہو اور مرد آبادی اس کے لئے کفایت نہ کرتی ہو تو عورت کو اس سے منع بھی نہیں کیا گیا ۔ نیز تاریخ اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض عورتیں جہاد میں شریک بھی ہوئیں ۔ انہوں نے تیمار داری اور باربرداری کے علاوہ جہاد میں بھی حصہ لیا لیکن ایسے واقعات قلیل اور نادر ہیں اور انتہائی ضرورت کے اوقات میں پیش آئے ، عمومی اصول اور معمول یہ نہ تھا ۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مردوں پر جہاد فرض قرار دیا ‘ اس طرح عورتوں پر اسے فرض نہیں کیا گیا ۔
عورتوں پر جہاد اس لئے نہیں فرض کیا گیا کہ وہ مجاہدین کو پیدا کرنے کا ذریعہ (Producer) ہیں ۔ عورت کی تخلیق ہی اس لئے ہوئی ہے کہ وہ مردوں کو پیدا کرے ۔ اس کی عضویاتی ساخت اور نفسیاتی میلان ہی اس طرف ہے کہ وہ مجاہدین پیدا کرے اور انہیں جہاد فی سبیل اللہ کے لئے تیار کرے ‘ انہیں اچھی زندگی بسر کرنے کے لئے تیار کرے۔ اس میدان میں عورت زیادہ قوت اور خوش اسلوبی سے کام کرسکتی ہے کہ اس کی عضویاتی اور نفسیاتی تشکیل ہی اس مقصد کے لئے ہوئی ہے ۔ یہ بات صرف عورت کی عضویاتی ساخت کی بنا پر ہی نہیں کہی جارہی بلکہ علی الخصوص اس کے اندرونی نظام میں خلیات کی پیوند کاری یعنی ۔ یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے مرد ہے یا عورت ہے عورت پیدائش کے وقت سے ہی اس فریضہ کے لئے واحد ذمہ دار ہے ۔ (دیکھئے فصل المراۃ وعلاقہ الجنین ۔ جو کتاب الاسلام ومشکلات الحصارہ کا حصہ ہے)
ظاہری اعظاء کے افعال تو بعد میں یکے بعد دیگرے کام کرتے ہیں اور اس عرصہ کے بعد عظیم نفسیاتی اثرات حاملہ عورت پر مرتب ہوتے ہیں لہذا اس کی جانب سے امت مسلمہ کے لئے جہاد میں شرک کے مقالبے میں یہ عظیم فریضہ سرانجام دینا زیادہ نفع بخش ہے ۔ اس لئے کہ جب جنگ کا طوفان بڑی تعداد میں مردون کو فنا کردیتا ہے تو عورت مزید آبادی کی پیداوار کے ذریعے کے طور پر اپنا فرض ادا کرتی ہے ۔ اور وہ مزید مرد پیدا کرکے خلا کو پر کرتی ہے ۔ لیکن اگر جنگ کا بھوت مرد اور عورت دونوں ہی کو کھالے یا وہ مردوں کو چھوڑ کر صرف عورتوں کو اچک لے اور مردوں کو باقی رکھے تو یہ صورت باقی نہیں رہتی ۔ اس لئے کہ اسلامی نظام زندگی میں اگر ایک مرد ہے اور وہ پوری رخصت کو کام میں لائے تو وہ بیک وقت چار عورتوں سے شادی کرسکتا ہے ۔ اور بیک وقت وہ چار عورتیں آبادی میں اضافہ کرسکتی ہیں ۔ اور یوں وہ کمی پوری ہو سکتی ہے ۔ (اگرچہ ایک عرصہ بعد) جو جہاد و قتال کی وجہ سے واقع ہوا کرتی ہے ۔ لیکن اگر ایک ہزار افراد بھی ایک عورت کے ساتھ ہمبستری کریں تو بھی وہ عورت اسی مقدار میں بچے دے سکتی ہے جو ایک مرد کی ہمبستری سے دے سکتی ہے ۔ عورتوں کی کمی کی صورت میں آبادی کی کمی ہر گز پوری نہ ہو سکے گی ۔ اور یہ تو اللہ تعالیٰ کی بےپناہ حکمتوں میں سے ایک ہی نکتہ ہے جو اس حکم کی تہہ میں پوشیدہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو جہاد سے معاف رکھا ۔ اس حکم کے بیشمار منافع ہیں۔ مثلا اسلامی معاشرہ میں اخلاقی پاکیزگی کا اہتمام ‘ اسلامی معاشرے کے مزاج کو مدنظر رکھنا انسان کے دونوں اصناف کے لئے علیحدہ علیحدہ دائرہ کار کی نشاندہی وغیرہ جن کے بارے میں تفصیلات بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس نکتے پر خاص اور طویل بحث کی ضرورت ہے ۔ (دیکھئے کتاب ” نحو مجتمع اسلامی “ کی فصل ” نظام عائلی “ )
رہا معاملہ اجر وثواب کا تو اللہ تعالیٰ نے مرد و عورت دونوں کو اس کی پوری پوری یقین دہانی کرائی ہے ‘ بشرطیکہ وہ اپنے فرائض وواجبات کو خدا کوفی سے بحسن و خوبی سرانجام دیں اور ان میں وہ درجہ احسان تک پہنچ جائیں ۔
رہا مسئلہ حصص میراث کا تو بادی النظر میں ” مرد کے لئے دو عورتوں کے برابر حصہ ہوگا “ کے اصول سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ عورت پر مرد کو ترجیح دی گئی ہے ۔ لیکن مرد اور عورت کے پورے فرائض اور واجبات پر اگر ایک نظر دوڑائی جائے تو بہت جلد اس رائے کی سطحیت آشکارا ہوجاتی ہے ۔ آمدن اور حصص کا تعین ذمہ داریوں کو دیکھ کر کیا گیا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کا یہ ایک مستقل اصول ہے کہ اس میں مفادات کا تعین ذمہ داریوں کی نسبت سے کیا جاتا ہے ۔ مرد پر یہ بات فرض کی گئی ہے کہ وہ عورت کو مہر ادا کرے جبکہ اگر کوئی امیر سے امیر عورت بھی ہو تو اس پر مرد کے لئے مہر واجب نہیں کیا گیا ۔ پھر مرد پر عورت اور اس کی اولاد دونوں کے اخراجات عائد کئے گئے ہیں جبکہ عورت پر یہ ذمہ داری عائد نہیں کی گئی اگرچہ وہ مالدار ہو ۔ مرد اگر ان فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو اسے سزائے قید دی جاسکتی ہے ۔ پھر مرد پر مختلف قسم کی دیات اور تاوان بھی عائد ہوتے ہیں (یعنی رخموں کے تاوان) اور یہ تاوان اسے اجتماعی طور پر خاندان کا فرد ہونے کی حیثیت سے ادا کرنے ہوتے ہیں جبکہ دیات اور ارش کے تاوانوں سے عورت کو معاف رکھا گیا ہے ۔ مرد پر اپنے خاندان کے ناداروں اور مساکین کا نفقہ بھی واجب ہے خواہ مرد ہوں یا عورتیں ہوں بشرطیکہ ہو کمانے پر قادر نہ ہوں ۔ یہ فریضہ قریب سے قریب رشتہ داروں سے شروع ہوتا ہے اور عورت اس قسم کے عام خاندانی فرائض سے مستثنی ہے ۔ یہاں تک کہ جس خاوند سے اس کی اولاد پیدا ہوتی ہے ‘ اس کے ساتھ بھی اگر اس کا معاشی اشتراک نہ ہو یا طلاق ہوگئی ہو تو بچے کی پرورش کے انتظامات بھی اس مرد پر عائد ہوتے ہیں اور وہ خود اس عورت کے اخراجات کے ساتھ اسے ادا کرنے کا پابند ہے ۔ غرض اسلامی نظام ایک مکمل اور جامع نظام ہے اور اس میں تقسیم میراث کے وقت مرد و عورت کی مالی ذمہ داریوں کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ شریعت نے ذمہ داریوں کا جو بھاری بوجھ مرد پر ڈالا ہے ‘ اس کی نسبت سے میراث میں مرد کا حصہ کوئی زیادہ نہیں ہے ۔ ان تمام امور میں مرد کی معاشی سرگرمیوں کی زیادہ قدرت اور مہارت کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ اور عورت کے زیادہ سے زیادہ آرام اور اطمینان کو پیش نظر رکھا گیا ہے تاکہ وہ دل جمعی کے ساتھ انسان کے قیمتی سرمائے یعنی بچوں کی نگہداشت کرسکے ‘ جو ہر قسم کے مال ‘ ہر قسم کے سازوسامان اور ہر قسم کی مفید عام ہنر مندی سے زیادہ قیمتی ہے ۔
اس غور و فکر کے نتیجے میں معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی ‘ جس کی تشکیل ایک حکیم وعلیم ذات نے فرمائی ہے ۔ اس میں وسیع توازن اور گہری حکمت پوشیدہ ہے اور اسلام نے اس آیت میں عورت کو انفرادی ملکیت کا حق ان الفاظ میں دیا ہے ۔
(آیت) ” للرجال نصیب مما اکتسبوا وللنساء نصیب مما اکتسبن “۔ (4 : 32) ” جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے ۔ “ ۔۔۔۔۔ اور یہ وہ حق ہے جو عربی جاہلیت تمام دوسری جاہلیتوں کی طرح ‘ عورت کو عطا کرنے میں ہمیشہ ہچکچاتی رہی ہے اور کبھی بھی عورت کے اس حق کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا گیا ۔ شاذو نادر ہی کبھی عورت کو یہ حق دیا گیا اور آج بھی عورت کے اس حق کو مارنے کے حیلے کئے جاتے ہیں جبکہ خود عورت ذات کو اسی طرح وراثت میں پکڑا جاتا ہے اور میراث کی طرح تقسیم کیا جاتا ہے ۔
یہ وہ حق ہے جو جاہلیت جدیدہ آج بھی عورت کو دینے میں ہچکچا رہی ہے ‘ حالانکہ اس کا دعوی یہ ہے کہ اس نے عورت کو وہ حقوق عطا کئے جو اس کو کبھی عطا نہ کئے گئے تھے ۔ جاہلیت جدیدہ میں بعض قوانین ایسے ہیں کہ سب سے بڑے مرد وارث کو تمام میراث کا حقدار سمجھتے ہیں اور بعض قوانین یہ لازم کرتے ہیں کہ عورت جو مالی معاہدہ بھی کرے اس کی منظوری ولی کی طرف سے از روئے قانون ضروری ہے ۔ اور یہ قوانین بیوی کی جانب سے خاص اپنی جائیداد کے بارے میں بھی کسی قسم کا تصرف صرف اس وقت جائز کرتے ہیں جب خاوند اس کی منظوری دے ۔ اور یہ ناقص حقوق جاہلیت جدیدہ نے اسے تب دئیے جب اس نے ان کے حصول کے لئے تحریکات چلائیں عظیم انقلابات برپا کئے اور اس کے نتجیے میں عورت کی زندگی کا نظم برباد ہوا ‘ خاندانی نظام ختم ہوگیا اور عام اخلاقی حالت ناگفتہ بہ ہوگئی ۔
لیکن اسلام نے ابتداء ہی سے عورت کو یہ حقوق از خود دے دئیے بغیر اس کے کہ وہ ان کے حصول کے کوئی چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کرے ۔ قبل اس کے کہ وہ بغاوت پر اتر آئے قبل اس کے کہ وہ ان کے حصول کے لئے عورتوں کی تنظمیں قائم کرے اور قبل اس کے کہ وہ پارلیمنٹ کی ممبری تک پہنچ کر ان کا مطالبہ کرے ۔ یہ حقوق اسلام نے اسے محض انسانیت کے احترام میں عطاکئے یہ اسے محض اس لئے دیئے گئے کہ نفس انسانی کے دو اصناف ہیں مرد اور عورت اور اس لئے دیئے گئے کہ اسلام نے اپنے اجتماعی نظام کی اکائی ایک خاندان کو قرار دیا ہے ۔ اور اس خاندانی نظام کو باہم محبت ‘ باہم الفت کے ساتھ مرد و عورت کے درمیان مساوات کے اصول پر مربوط کردیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کسب وکمائی اور ملکیت کے نقطہ نظر سے اسلام نے مرد اور عورت دونوں کو از روئے اصول مکمل طور پر مساوی حقوق دیئے ہیں ۔
ڈاکٹر عبدالواحد وانی اپنی کتاب ” انسانی حقوق “ میں اسلام اور جدید مغربی ممالک میں عورت کے حقوق کے بارے میں تقابلی مطالعہ یوں پیش کرتے ہیں ” اسلام نے مرد اور عورت کو قانون کے نقطہ نظر سے مساوی حقوق دیئے ‘ اور تمام شہری حقوق میں مرد اور عورت کو برابر قرار دیا ‘ اور اس سلسلے میں شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے درمیان کوئی فرق امتیاز نہیں برتا گیا ۔ اسلام اور پوری مسیحی دنیا کے درمیان شادی کی نوعیت میں بہت بڑا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اسلامی قانون کے مطابق شادی کی وجہ سے نہ عورت کا نام ختم ہوتا ہے نہ اس کی شخصیت ختم ہوتی ہے ‘ نہ اس کے معاملات طے کرنے کی حیثیت میں کوئی فرق آتا ہے ‘ اور نہ اس کا حق ملکیت محدود ہوتا ہے بلکہ ایک مسلمان عورت کا شادی کے بعد نام بھی وہی رہتا ہے ‘ اس کی قانونی اور شہری حیثیت بھی اپنی جگہ بحال رہتی ہے اور تمام قانونی حقوق اسے حاصل رہتے ہیں ۔ اس پر وہ تمام ذمہ داریاں عائد رہتی ہیں جو پہلے اس پر عائد تھیں ۔ وہ اپنے معاملات میں ہر قسم کے فیصلے اور معاہدے کرسکتی ہے ۔ مثلا خرید وفروخت ‘ رہن ‘ ہبہ اور وصیت وغیرہ ۔ وہ جن چیزوں کی مالک ہوتی ہے ‘ نکاح کی وجہ سے اس کے حق ملکیت پر کوئی قید عائد نہیں ہوتی ۔ غرض اسلام میں شادی کے بعد بھی عورت کو مستقل قانونی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور وہ مستقل شخصیت کی مالک ہوتی ہے ‘ اس کی جائیداد اس کے شوہر کی جائیداد سے علیحدہ خود اس کی ملکیت ہوتی ہے ۔ خاوند کو کوئی قانونی اختیار نہیں ہوتا کہ وہ کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر حاصل کرے خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ہو ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
(آیت) ” وان اردتم استبدال زوج مکان زوج واتیتم احدھن قنطارا فلا تاخذوا منہ شیئا اتاخذونہ بھتانا واثما مبینا (20) وکیف تاخذونہ وقد افضی بعضکم الی بعض واخذن منکم میثاقا غلیظا “۔ (21) (4 : 20۔ 21)
” اور اگر تم بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو ‘ اس میں سے کچھ واپس نہ لینا ‘ کیا تم اسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کر کے واپس لوگے ؟ اور آخر تم اسے کس طرح لے لوگے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو ۔ اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔ “ اگر کسی خاوند کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی مطلقہ بیوی سے وہ دولت واپس لے جو اس نے خود اسے عطا کی تھی تو اس کے لئے خود اس عورت کی مملوکہ دولت کا ہڑپ کرلینا بطریق اولی جائز نہیں ہے الا یہ کہ یہ سب کچھ اس کی مرضی سے ہو ‘ اور وہ کوئی چیز اپنی خوشی سے عطا کر رہی ہو اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے ۔
(آیت) ” واتوالنساء صدقتھن نحلۃ فان طبن لکم عن شیء منہ نفسا فکلوہ ھنیئا مریئا (4 : 4)
” اور عورتوں کو ان کے مہر خوشدلی کے ساتھ ادا کرو ‘ البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصہ تمہیں معاف کردیں تو اسے تم مزے سے کھا سکتے ہو “۔
اور مرد اپنی بیوی کی دولت میں کسی قسم کا تصرف بھی نہیں کرسکتا ‘ الا یہ کہ وہ اسے اس کی اجازت دے دے یا اس نے اپنے خاوند کو کسی قسم کے تصرف اور معاہدے کی اجازت دے دی ہو ۔ لیکن ایسے حالات میں بھی اس کو اجازت ہے کہ وہ اپنے دیئے ہوئے ان اختیارات کو واپس لے لے اور جس دوسرے شخص کو چاہے وہ اختیارات دے دے ۔ “
” یہ وہ مقام بلند ہے جس تک عورت آج کے جدید دور جمہوریت میں ان ممالک میں بھی نہیں پہنچ سکی جو اس کرہ ارض پر انتہائی ترقی یافتہ ممالک ہیں ۔ فرانس میں ماضی قریب تک عورتوں کی حالت یہ تھی کہ گویا وہ باندیاں لونڈیاں ہیں بلکہ ابھی تک یہ صورت حال موجود ہے ۔ قانون نے کئی شہری معاملات میں اس کے حقوق سلب کئے ہوئے ہیں ۔ مثلا فرانس کے سول کوڈ کی دفعہ 217 میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ ” شادی شدہ عورت ‘ چاہے نکاح کی شرائط میں یہ طے کردیا گیا ہو کہ عورت اور مرد کی ملکیت علیحدہ علیحدہ ہوگی اس کے باوجود وہ اپنی جائیداد ہبہ نہیں کرسکتی نہ اس کی ملکیت منتقل کرسکتی ہے ‘ نہ رہن کرسکتی ہے ‘ نہ وہ بالعوض یا بلاعوض تملیک کرسکتی ہے ‘ الا یہ کہ اس کا شوہر کسی معاہدے میں اس کے ساتھ شریک ہو ‘ یا یہ کہ وہ تحریری طور پر ان امور میں سے کسی امر کی اجازت دے دے ۔ “
” بعد کے ادوار میں اس دفعہ میں متعدد ترمیمیں اور تبدیلیاں کی گئیں لیکن اس قانون کے کافی آثار ابھی تک باقی ہیں اور فرانسیسی عورت پر قانونی پابندی عائد کرتا ہے کہ عورت شادی ہوتے ہی اپنا اور اپنے خاندان کا نام کھو دیتی ہے ‘ اس کے بعد اس کا نام فلاں بنت فلاں نہیں لیا جاتا بلکہ اسے بیگم فلاں سے پکارا جاتا ہے یا اس کے نام کے ساتھ اس کے خاوند کا نام لگ جاتا ہے ۔ لیکن اس کے نام کے ساتھ اس کے باپ اور اس کے خاندان کا نام نہیں لیا جاتا ۔ اس طرح عورت کا نام ختم ہونے سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ عورت کے بعد عورت کی شہری اور قانون حیثیت ختم ہوگئی ہے اور وہ اپنے خاوند کی شخصیت میں گم ہوگئی ہے ۔ “
” مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے اکثر خواتین ان مغربی خواتین کے ساتھ یک جہتی کے طور پر اپنے لئے بھی اس کم تر اور ثانوی حیثیت کو قبول کر لینی ہیں اور اپنا نام لینے کے بجائے اپنے آپ کو بیگم فلاں ظاہر کرتی ہیں یا اپنے نام کے ساتھ اپنے خاوند اور اس کے خاندان کا نام چسپاں کرلیتی ہیں اور اپنے نام کے ساتھ اپنے باپ اور اپنے خاندان کا نام لینا پسند نہیں کرتیں ‘ جیسا کہ اسلامی نظام زندگی کی خواہش اور مزاج ہے ۔ اس کو کہتے ہیں بھونڈی نقل یا اندھی تقلید ۔ لیکن تعجب یہ ہے کہ جو خواتین مغربی عورت کی غلامی کی بھی نقالی کرتی ہیں ‘ ہمارے ہاں وہ عورت کی آزادی اور حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں ‘ اور عورتوں کو مردوں کے ساتھ تشبہ کرنے پر ابھارتی اور حقوق کا مطالبہ کرتی ہیں ‘ حالانکہ درحقیقت وہ ان بہترین حقوق سے دستبردار ہو رہی ہوتی ہیں جو اسلام نے انہیں عطا کئے تھے حالانکہ اسلام نے ان کی قدر ومنزلت میں اضافہ کیا تھا اور ان حقوق میں انہیں مردوں کے برابر حیثیت دی تھی ۔ “ (صفحات 59 تا 61)
اب ہم اس سبق کی آخری آیت کی طرف آتے ہیں ۔ اس میں ان معاہدوں کے احکام بتائے گئے ہیں جو احکام میراث کے آنے سے پہلے ہوئے تھے ۔ اسلام کے نظام وراثت کو رشتہ داری اور قرابت کے اساس پر مرتب کیا گیا جبکہ دوستی اور ولایت کے یہ معاہدے قرابت داری کے دائرے سے باہر بھی ہوا کرتے تھے جیسا کہ تفصیلات آرہی ہیں۔
النساء 4:33
(آیت) ” ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدن والا قربون والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا (4 : 33)
” اور ہم نے ہر اس ترکے کے حقدار مقرر کردیئے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں ‘ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ‘ یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے ۔ “
اس کلیہ کے بعد کہ مردوں نے جو کمایا ان کا ہے اور عورتوں نے جو کمایا ان کا ہے اور اس حوالے کے بعد کہ قانون میراث کے مطابق مردوں اور عورتوں کے حصص بھی مقرر ہوچکے ہیں اب فرماتے ہیں کہ ہر شخص کے رشتہ داروں میں سے ہم نے اس کے وارث مقرر کردیئے ہیں ‘ جو اس کی میراث پائیں گے اور یہ وارث اس شخص کے اس ترکے کے حقدار ہوں گے جو اسے اپنے والدین اور اقرباء سے ملا ۔ یہ مال اس نظام میراث کے مطابق نسلا بعد نسل منتقل ہوتا رہے گا ۔ وراثت پانے والے پائیں گے پھر وہ اپنے اس موروثی مال میں مزید اپنی کمائی جمع کریں گے ۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں دولت کی گردش کس طرح عمل میں آتی ہے ۔ یہ گردش کسی نسل میں نہیں رکتی اور نہ یہ دولت کسی ایک گھرانے اور ایک فرد کے پاس جمع اور مرتکز ہوتی ہے بلکہ نظام میراث ہمیشہ اپنا کام کرتا رہتا ہے ۔ ایک مسلسل تقسیم ہے جو جاری وساری ہے ۔ اموال کے مالک اس میں کوئی ترمیم نہیں کرسکتے ۔ نہ وارثوں کے حصص میں کمی بیشی کی جاسکتی ہے ۔ وقفے وقفے کے بعد تقسیم کا یہ خود کار عمل جاری رہتا ہے ۔
اس کے بعد ان سابقہ معاہدوں کی بات ہوئی جن کو شریعت اسلامیہ نے برقرار رکھا ہے اور جن کے مطابق میراث کے حقدار کبھی کبھار غیر اقرباء بھی ہوجاتے تھے ۔ ان معاہدوں کو عقود موالات کہا جاتا تھا ۔ جب اسلامی معاشرے کا آغاز ہوا تو اس میں ان میں سے بعض پائے جاتے تھے مثلا :
(1) معاہدہ موالات عتق ‘ جو شخص غلام کو آزاد کو آزاد کرتا وہ اس کی جانب سے دیت بھی ادا کرتا ‘ اگر کسی وقت اس پر عائد ہوجائے یعنی جب وہ کوئی جرم کرتا جیسا کہ اپنے اہل نسب کے درمیان دیت کی ادائیگی ہوا کرتی تھی ۔ اور اگر کوئی شخص مر جاتا تو اگر اس کے عصبات نہ ہوتے تو پھر یہ مالک اس کی میراث کا بھی حقدار ہوتا ۔
(2) دوسرا عقد موالات ‘ وہ یوں کہ ایک غیر عربی کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرلیتا جبکہ اس کے اقرباء عرب میں نہ ہوتے ‘ اس معاہدے کے نتیجے میں یہ غیر عربی کسی بھی عرب خاندان کسی بھی عرب خاندان کا ایک فرد ہوجاتا ۔ ولی بھی اس کی جانب سے دیت ادا کرتا اگر اس سے کوئی جرم سرزد ہوجاتا اور یہ شخص جب مرجاتا تو اس کی میراث کا حقدار وہ ولی ہوتا ۔
(3) وہ معاہدہ جو ابتدائے ہجرت کے ایام میں حضور ﷺ نے انصار ومہاجرین کے درمیان کرایا تھا ۔ اس طرح مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے وارث بھی ہوتے ‘ اگر انصار کے اہل مسلمان ہوتے ورنہ ان کے درمیان وارثت نہ ہوتی ۔
(4) ایسے معاہدے جاہلیت میں ہوتے تھے کہ دو شخص ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کرتے کہ ہم ایک دوسرے کی وارثت کے حقدار ہوں گے ۔
اسلام نے ان تمام معاہدوں کو کالعدم کردیا ‘ خصوصا تیسرے اور چھو تھے معاہدے کو اور یہ قرار دیا کہ وراثت کے اندر حقیقی عامل قرابت اور صرف قرابت ہے لیکن اسلام نے اول الذکر دو معاہدوں کو بحال رکھا اور یہ حکم دیا کہ آئندہ ایسے معاہدے نہ کئے جائیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” والذین عقدت ایمانکم فاتوھم نصیبھم “۔ (4 : 33) (وہ لوگ جن سے تمہارے عہد و پیمان ہوں ان کا حصہ انہیں دو ) اور اس بارے میں سخت تاکید بھی کی گئی اور ان معاہدوں اور ان کے تصرفات کے بارے اپنی شہادت تحریر فرمائی ۔ (آیت) ” ان اللہ کان علی کل شیء شھیدا “۔ (4 : 33)
(یقینا اللہ ہر چیز پر نگران ہے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لا حلف فی الاسلام ایما حلف فی الجاھلیۃ لم یزدہ الاسلام الاشدہ “ (اسلام میں کوئی معاہدہ ولا نہ ہوگا لیکن جو معاہدے جاہلیت کے دور میں ہوئے ہیں اسلام ان کو مزید پختہ کرتا ہے ۔ احمد ومسلم)
اسلام نے ان معاہدوں کے خاتمہ میں وہی پالیسی اختیار فرمائی جو وہ تمام مالی قوانین کے سلسلے میں ہمیشہ اپناتا ہے ۔ جب بھی وہ کوئی قانون مالی اصلاحات کے طور پر نافذ کرتا ہے ‘ اسلام کی پالیسی وہی ہوتی ہے یعنی اسلام مالی اصلاحات کا کوئی قانون موثر بماضی (Retropective) نافذ نہیں کرتا ۔ مثلا جب حرمت ربا کا قانون نافذ ہوا تو اس کا نفاذ اس تاریخ سے ہوا ‘ جس تاریخ کو حکم آیت کے اندر نازل ہوا ۔ اور اس سے پہلے جو سود لیا جا چکا تھا ‘ اسے نہ چھیڑا گیا ۔ اور یہ حکم نہ دیا کہ جن لوگوں نے منافع لئے ہیں وہ واپس کریں ۔ اگرچہ سابقہ معاہدے بھی منسوخ کردیئے البتہ جنھوں نے معاہدوں کے مطابق قرض وصول کر لئے تھے وہ ان کے پاس رہنے دیئے تھے ۔ یہاں ولایت کے معاملے میں معاہدوں کو منسوخ نہیں کیا گیا ‘ البتہ یہ حکم دیا گیا کہ جدید معاہدے نہ کئے جائیں اس لئے کہ ان معاہدوں کی رو سے مالی ذمہ داریوں کے علاوہ معاہدہ کرنے والے اجنبی افراد اس خاندان کے فرد بن جاتے تھے ۔ اور ان کے درمیان مختلف قسم کے پیچیدہ روابط قائم ہوجاتے تھے جن کا کاٹنا مناسب نہ تھا ۔ البتہ جدید معاہدے کرنے سے منع کردیا گیا اور سابقہ معاہدوں کے بارے میں حکم دیا کہ نافذ کیا جائے ۔ جدید معاہدوں کو اس لئے منع کردیا گیا تاکہ ان کی وجہ سے ایسے آثار اور مسائل پیدا نہ ہوں جن کا حل ضروری ہوجائے ۔
اس فیصلے کی وجہ سے ایک لوگوں کو ایک سہولت دی گئی دوسرے یہ کہ اس کے اندر ان مسائل کا حل پایا جاتا ہے جو اس وقت اس معاشرے کے لئے اہم تھے ۔ اور یہ حل زیادہ گہرائی حکمت اور پورے حالات کے تقاضے پر مبنی تھا خصوصا ان حالات میں جن میں اسلام جدید اسلامی معاشرے کے خدوخال وضع کر رہا تھا ‘ اور سابق جاہلی معاشرے کے نشانات ایک ایک کرکے مٹائے جارہے تھے اور ہر قانون سازی کے عمل میں یہ کام ذرا اور آگے بڑھتا تھا ۔ (حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تشریح میں یہ بات منقول ہے کہ وہ وراثت کو قانون وراثت کے مطابق دیتے ‘ البتہ جن لوگوں کے ساتھ معاہدے تھے ان کی امداد ‘ اعانت اور ان کے ساتھ ہمدری کا حکم دیتے تھے ۔ )
اس سبق کا آخری موضوع اسلام کے نظام خاندان کی تنظیم اور اس کے امور اور معاملات کی ضابطہ بندی ہے ۔ خاندان کے اندر کس کی کیا حیثیت ہوگی اور یہ کہ خاندان کے اندر کس کی کیا ڈیوٹی ہوگی ۔ اور وہ انتظامات جن کے ذریعے اس اہم ادارے کے امور کی بندی کی گئی ہے ۔ اور یہ کہ اس ادارے کو اختلافات اور ذاتی خواہشات کے جھٹکوں سے کس طرح محفوظ کرنا ہے ۔ نیز اسے ان عناصر سے کس طرح بچانا ہے جو اس کو منہدم کرنے اور اس کی جڑیں اکھاڑنے کا باعث بنتے ہیں ۔ اس سلسلے میں پوری پوری کوشش کی گئی ہے ۔
النساء 4:34
ان قرآنی نصوص کی تفسیر اور تشریح شروع کرنے پہلے اور ان کی نفسیاتی اور اجتماعی اغراض کے بیان سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ خاندان کے بارے میں اسلام کا اجمالی نقطہ نظر بیان کردیا جائے اور یہ بتا دیا جائے کہ اسلام خاندان کی تعمیر کس منہاج پر کرتا ہے اور پھر اس کے بچاؤ کے لئے کیا تدابیر اختیار کرتا ہے ۔ اور پھر یہ کہ اس انتظام سے اسلام کے پیش نظر کیا اہداف اور مقاصد ہیں ۔ یہ بیان ہم حتی الوسع اجمالی طور پر کریں گے ‘ اس لئے کہ اس موضوع پر مفصل بحث کے لئے زیادہ صفحات درکار ہوں گے ۔
جس ذات نے انسان کو پیدا کیا اس نے اس کے اندر وہی ازدواجی فطرت ودیعت کی جو اس نے تمام چیزون کے اندر رکھی ہے جو اس نے پیدا کیں۔
(آیت) ” ومن کل شیء خلقلنا زوجین لعلکم تذکرون) (اور جو چیزیں ہم نے پیدا کیں ان کے ہم نے جوڑے بنائے تاکہ تم نصیحت پکڑو) انسان کے اندر بھی اللہ تعالیٰ نے جوڑا پیدا کیا لیکن اس جوڑے کو ایک ہی نفس سے پیدا کیا ۔
(آیت) ” یایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا “۔ (4 : 1) ” لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا “۔ اس جوڑے کے ملاب کے اندر اللہ تعالیٰ نے زندگی کے تمام راز رکھ دیئے ہیں ۔ اس ملاپ کے اندر نفسیاتی سکون ‘ اعصابی ٹھہراؤ ‘ روحانی اطمینان اور جسمانی راحت اور آرام کا انتظام کیا ۔ پھر اس ملاپ کے اندر دونوں کا پردہ ‘ عفت مابی اور گناہوں سے بچاؤ کا سامان رکھا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ ملاپ نسل کے لئے کھیت کا کام بھی دیتا ہے ۔ اور اس کے ذریعے زندگی کے اندر تسلسل قائم ہوتا ہے اور اس کے بعد طریقہ ہائے زندگی کی ترقی کا راز بھی اسی میں ہے لیکن اسلام نے اس پورے نظام کو ایک تربیت گاہ ایک نرسری ‘ ایک باپردہ اور پرسکوں خاندان کی شکل میں بنایا جس کی ابتداء زوجین سے ہوتی ہے ۔
(آیت) ” ومن ایتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودۃ وراحمۃ ان فی ذلک لایت لقوم یتفکرون “۔ (30 : 31)
” اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تمہارے جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کی ۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو غور وفکر کرتے ہیں) (آیت) ” ھن لباس لکم وانتم لباس لھن “ (وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو)
(آیت) ” نساء کم حرث لکم فاتوا حرثکم انی شئتم وقدموا لانفسکم واتقوا اللہ) ” تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو ‘ جاؤ اور اپنے مستقبل کا بھی سروسامان کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو)
(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا وقودھا الناس والحجارۃ) ” اے لوگو ‘ جو ایمان لائے ہو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ۔ “
(آیت) ” والذین امنوا واتبعتھم ذریتھم بایمان الحقنا بھم ذریتھم وما التنھم من عملھم من شیئ) (اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کرتی رہی ان کی اس اولاد کو بھی ہم ان کے ساتھ ملا دیں گے اور ہم ان کے اعمال کے صلے میں سے کچھ کم نہ کریں گے)
نفس انسانی کے دونوں اطراف مرد وزن کا مقام اللہ کے ہاں کیا ہے ؟ انسانیت میں وہ دونوں برابر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے نفس انسان کو مکرم بنایا جس میں عورت میں شامل ہے اور مرد بھی اللہ تعالیٰ مرد و عورت دونوں کا اپنے اپنے اعمال پر پوری جزاء دے گا ۔ اللہ کے قانون میں جس طرح مرد ملکیت رکھ سکتا ہے ‘ اسی طرح عورت بھی ملکیت رکھ سکتی ہے ۔
مرد حق میراث رکھتا ہے تو عورت بھی حق میراث رکھتی ہے ۔ مرد ایک قانونی شخصیت ہے تو عورت علیحدہ قانونی شخصیت ہے اور ان تمام نکات پر بحث ہم اس سبق میں اس سے پہلے کر آئے ہیں ۔
چونکہ ادارہ خاندان کو وجود میں لانے کے لئے نفس انسانی کے دونوں اجزاء کا باہم ملاپ ضروری تھا اور اس کے نتیجے میں فرائض اور واجبات پیدا ہوتے تھے ‘ اس لئے شریعت نے اس ادارے کے معاملات کے ہر جزء کے بارے میں تفصیلی ہدایات دیں ۔ مقصد یہ تھا کہ مرد وزن کو سکون ’ اطمینان ‘ پردہ پوشی اور برائی اور فحاشی سے بچنے کے لئے مواقع حاصل ہوں۔ دوسرے یہ کہ اس خاندانی نظام کے ذریعے زندگی کو تسلسل حاصل ہو اور وہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو ۔ اس سورة کے بڑے حصے میں خاندان کی شیرازہ بندی کی گئی ہے جس کا ایک حصہ ہم نے اس پارے کی ابتداء میں دیا تھا اور پارہ چہارم میں بھی اس کے تکمیلی احکام دیئے گئے تھے ۔ اسی طرح سورة بقرہ میں بھی یہ احکام بیان ہوئے تھے جس کی تشریح ہم نے دوسرے پارے میں پیش کی تھی ۔ قرآن کریم کی کئی دوسری سورتوں میں بھی خاندانی نظام کے بارے میں تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں ۔ مثلا اٹھارہویں پارے میں سورة نور اور سورة احزاب (پارہ 21۔ 22) سورة طلاق ‘ سورة تحریم (پارہ 28) اور بعض دوسری سورتوں کے متفرق مقامات پر ۔ ان تمام مقامات پر جو مباحث کئے گئے ہیں ان میں اسلام کے خاندانی نظام کا ایک مکمل دستور موجود ہے۔ اس طویل و عریض مباحث اور متنوع اور مفصل احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام انسانی زندگی کی تعمیر ایک خاندانی نظام کے مطابق کرتا ہے ۔ اسی وجہ سے ان سورتوں میں خاندانی زندگی کے ایک ایک گوشے کو لیا گیا ہے ۔
A ہمیں امید ہے کہ اس صفحے کے پڑھنے والے ان تمام تفصیلات کو ذہن میں رکھیں گے جو ہم نے اس سلسلے میں پیش کی ہیں ۔ مثلا انسان کے بچوں کا طویل بچپن ‘ اس کے دوران بچوں کی طویل پرورش اور نگہداشت کی ضرورت ‘ اور پھر ان بچوں کے لئے ایک خاندان کی ضرورت تاکہ بچہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو کر ‘ زندگی کی معاشی جدوجہد میں داخل ہو سکے اس معاشی جدوجہد سے بھی زیادہ اہم بچے کی وہ تربیت ہے جو اسے اجتماعی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے تیار کرتی ہے اور معاشرے کا ایک اچھا فرد بننے کے اہل بناتی ہے تاکہ وہ انسانی ترقی کی رفتار میں اپنے فرائض سرانجام دے سکے ۔ اور جب وہ اس معاشرے کو چھوڑے تو اس حالت سے بہتر کر کے چھوڑے جس میں اس نے اسے پایا تھا ۔ غرض خاندانی نظام کے صحیح فہم کے لئے مذکورہ بالانکات پر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے ۔ نیز خاندان کے مقاصد ‘ خاندان کے فرائض ‘ خاندان کے بچاؤ اور تباہی اور بربادی کے ہر اثر سے اسے محفوظ اور مامون رکھنے نیز خاندان کی نشوونما کے سلسلے میں اسلامی نظام زندگی کے موقف اور پالیسی کو سمجھنے کے لئے یہ امور نہایت ہی اہم ہیں ۔
اسلام کی نظر میں خاندان کی جو اہمیت ہے اور جس کے بارے میں ہم نے اوپر تفصیلی اشارات دیئے ہیں ان سے معلوم ہوجاتا ہے کہ ایک خاندانی نظام کے قیام ‘ اس کے استحکام اور اس کے اندر سکون اور ٹھہراؤ پیدا کرنیکے لئے اسلام نے جتنا زور دیا ہے اس کا تصور بھی دوسرے نظاموں میں نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے علاوہ اسلام نے عورت کو بھی پہلی مرتبہ ایک باعزت مقام اور باعزت شخصیت عطا کی ۔ عورت کو جو حقوق اسلام نے دنیا میں پہلی بار عطا کئے ‘ یہ وہ حقوق نہیں جن کے ذریعے وہ صرف محبت اور لذت حاصل کرے بلکہ وہ حقوق ہیں جن کے ذریعے عورت حیات انسانی کے حوالے سے اپنے بلند ترین فرائض سرانجام دے ۔
ان تمام حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم اب اس سبق کی آخری آیت پر کلام کرتے ہیں جو اس سلسلے کی بہت سی اہم آیت ہے اور اسی وجہ سے اس کی تشریح سے پہلے ہم نے درج بالا تمہیدی اشارات دیئے ہیں ۔
یہ آیت زوجین کے درمیان قائم ادارے کی تنظیم اور اس ادارے کے افراد کے درمیان اختیارات کی وضاحت کرتی ہے اور افراد خاندان کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کو دور کرنے کی خاطر ان کو ہدایات دیتی ہے کہ تمام مسلمان خواہشات نفسانیہ اور ذاتی تاثرات ومیلانات کے تابع ہونے کے بجائے اللہ جل شانہ کے احکام کی اطاعت کریں اور اللہ کا حکم یہ ہے کہ خاندان کے اندر قوام اور سربراہ مرد ہوگا اور یہ کہ مرد کو سربراہ بنانے کے اسباب یہ ہیں کہ ایک تو مرد کو اللہ نے فضیلت دی ہے اور اس کے اندر وہ تنظیمی صلاحیتیں زیادہ رکھی گئی ہیں ‘ جن صلاحیتوں پر خاندانی نظام کا چلنا موقوف ہے ۔ دوسرا سبب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد پر یہ ڈیوٹی عائد کی ہے کہ وہ خاندان کی معاشی ضروریات کا کفیل ہوگا ۔ چونکہ خاندان کا قیم مرد کو بنایا گیا ہے ‘ اس لئے مرد کو وہ خصوصی اختیارات بھی دیئے گئے ہیں جن سے وہ اس ادارے کو بچا سکے اور محض عارضی جذبات اور شہوات نفسانیہ اسے تباہ نہ کرسکیں اور یہ بھی بتایا گیا کہ ان وقتی شہوات سے بچاؤ کی تدابیر کیا ہوتی ہیں ۔ علاج کی حدود بھی متعین کردی گئی ہیں اور اگر داخلی علاج نہ ہو سکے تو پھر خارجی علاج بھی بتایا گیا ہے خصوصا ان حالات میں جبکہ اس ادارے کو شدید خطرات لاحق ہوں اور نہ صرف یہ خطرہ ہو کہ اس کے دو اہم اطراف اور فریق ایک دوسرے سے جدا ہورہے ہیں بلکہ ان کی جدائی کے نتیجے میں معصوم بچوں اور نوخیز نسل کی تربیت کو بھی خطرات درپیش ہوں بلکہ ان کے وجود تک کو خطرہ لاحق ہوگیا ہو۔ ذرا غور سے دیکھئے کہ ہر اقدام اور تدبیر کی پشت پر کس قدر گہری حکمت ہے ۔ اور اس کی کس قدر ضرورت ہے ۔
(آیت) ” الرجال قومون علی النساء بما فضل اللہ بعضھم علی بعض وبما انفقوا من اموالھم “۔ (4 : 34) (مرد عورتوں پر قوام ہیں ‘ اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک دو دوسرے پر فضیلت دی ہے اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں)
جیسا کہ ہم نے کہا خاندان انسانی زندگی کا ابتدائی ادارہ اس طرح کہ یہ ایک نکتہ آغاز ہے جو انسانی کی پوری زندگی پر اثرا نداز ہوتا ہے ۔ اس لحاظ سے بھی یہ نکتہ آغاز ہے کہ خاندان ہی سے آئندہ زندگی کے عناصر پیدا ہوتے ہیں اور اسلامی نقطہ نظر سے انسان اس کائنات کا اہم ترین عنصر ہے ۔
دنیا میں خاندان کے ادارے کے مقابلے میں کم اہم اداروں کی ادارت اور انتظام (MAnAgement) اہل ترین افراد کے سپرد کیا جاتا ہے مثلا مالی ادارے بینک وغیرہ ‘ صنعتی ادارے اور کارخانے اور دوسرے تجارتی ادارے اور کمپنیاں ۔ ان اداروں کا انتظام وانصرام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں دیا جاتا ہے جو اپنے شعبے میں اچھی مہارت رکھتے ہوں اور انہوں نے اس شعبے میں وافر معلومات حاصل کر رکھی ہوں اور ان کے اندر تجربہ اور صلاحیت موجود ہو۔
یہ تو ہے رواج ان اداروں کے انتظام کا جن کا مقام و مرتبہ اور اہمیت انسانی ادارے سے بہت ہی کم تر ہے ۔ اس لئے مناسب یہ ہے کہ خاندان کا انتظام اور انصرام سپرد کرنے میں بھی اسی اصول کو مد نظر رکھا جائے اس لئے کہ خاندان کا ادارہ اس کائنات کی اہم ترین پیداوار یعنی نسل انسانی کی افزائش کا ذمہ دار ہے ۔ ظاہر ہے کہ انسان کے نقطہ نظر سے انسان اہم ترین پیداوار ہے ۔
اسلامی نظام حیات اس اصول کو مدنظر رکھتا ہے ۔ وہ انسان کی فطرت کو بھی مدنظر رکھتا ہے اور پھر خاندان کے اجزاء یعنی مرد وزن دونوں کی صلاحیتوں کو بھی مدنظر رکھتا ہے ۔ وہ ان فرائض وواجبات پر بھی نظر رکھتا ہے جو مرد اور عورت پر از روئے فطرت عائد کئے گئے ہیں ۔ اسلامی نظام نے مرد وزن دونوں پر فرائض عائد کرتے وقت دونوں کے ساتھ عدل و انصاف کو بھی ملحوظ رکھا ہے اور یہ عدل یعنی تقسیم وظائف ‘ مرد وزن کی فطرت کو دیکھ کر کی گئی ہے ۔ یہ بات تو ناقابل انکار ہے کہ مرد اور عورت دونوں ہی اللہ کی مخلوق ہیں اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات میں سے کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔ جبکہ وہ ہر ایک کو اس کی مخصوص فطری ڈیوٹی کے لئے تیار کرتا ہے اور اسے اس کی ڈیوٹی کے لائق استعداد بھی عطا کرتا ہے ۔ یہ امور نہایت ہی بدیہی اور مسلم ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو مرد اور عورت کی شکل میں پیدا کیا اور پھر ان کا جوڑا بنایا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کو جوڑے جوڑے بنایا ہے ۔ یعنی اس کائنات کے اندر جمادات تک میں جوڑے ہیں ۔ اب عورت کا فطری فریضہ یہ ہے کہ وہ حاملہ بنے ‘ پھر وضع حمل ہو ‘ پھر وہ بچے کو دودھ پلائے اور مرد اور عورت کے ملاپ کا جو ثمرہ نکلے اس کی پوری طرح وہ ذمہ دار ہو ۔ اس فطری نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائے تو عورت پر یہ ایک عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے جو ایک نہایت ہی اہم ذمہ داری ہے ۔ یہ کوئی معمولی اور آسان ذمہ داری نہیں ہے ۔ اور یہ ذمہ داری بغیر جسمانی ‘ نفسیاتی ‘ اور گہری عقلی تیاری اور استعداد کے ادا بھی نہیں کی جاسکتی ۔ یہ سب خوبیاں عورت کی ذات کے اندر پائی جانی ضروری ہیں۔ اس لئے یہ بات عین ترین انصاف تھی کہ اس شراکت کے دوسرے ساتھی کے ذمہ بھی ایک اہم ڈیوٹی لگائی جائے اور وہ یہ کہ خاندان کی تمام ضروریات کا کفیل وہی ہو اور اس طرح وہ والدہ اور بچے دونوں کی حمایت اور بچاؤ کا بھی ذمہ دار ہو تاکہ عورت اپنی نہایت ہی اہم اور قیمتی ڈیوٹی کے لئے من کل الوجوہ فارغ ہو ۔ اس پر یہ زیادتی نہ ہو کہ وہ حمل بھی برداشت کرے ‘ وضع حمل کی تکلیفات بھی برداشت کرے ‘ اور بچے کی رضاعت اور کفالت بھی کرے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ مزدوری اور محنت بھی کرے اور اپنے بچے کے لئے اور اپنی ذاتی ضروریات کیلئے جاگتی بھی رہے ۔ بیک وقت دونوں ڈیوٹیاں اس پر عائد کردی جائیں ۔ اس لئے یہ نہایت ہی منصفانہ تقسیم کار تھی کہ عورت کے لئے اس کی جسمانی اور فطری صلاحیتوں کے مطابق میدان کار وضع کیا جائے اور مرد کے لئے اس کے جسمانی ‘ نفسیاتی اور فطری صلاحیتوں کے مطابق میدان کار تجویز کیا جائے اور اسلام نے عملا یہی کچھ کیا ، اس لئے کہ اسلام کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔ رب ذوالجلال کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کرتا ۔
یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کو جو صلاحیتیں دی ہیں ان میں نرمی ‘ مہربانی ‘ جلدی متاثر ہوجانا ‘ جلدی جواب دینا ‘ اور بچوں کی فوری ضروریات کے لئے تمام ضروری صفات فطرت نے ماں میں ودیعت کردیں اور یہ ایسی صفات ہیں جو عورت کے اندر تعلیم وتربیت کے ذریعے پیدا نہیں کی گئیں بلکہ ان افعال کا ارتکاب عورت بےسوچے سمجھے کرتی ہے ۔ اس لئے کہ انسان کی اہم ضروریات یہاں تک کہ ایک فرد واحد کی اہم ضروریات کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس بات پر موقوف نہیں رکھا کہ کوئی سوچے ‘ غور کرے اور وقت گزارنے کے بعد فطری ضروریات کو پورا کرے ۔ جبکہ فطری ضروریات کا مطالبہ بھی غیر ارادی ہوتا ہے اور انہیں پورا بھی غیر ارادی طور پر کیا جاتا ہے تاکہ مطالبہ ہوتے ہی ان ضروریات کو پورا کر دیاجائے بلکہ بعض حالات میں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان فطری مطالبات کے پورا کرنے کا نظام کوئی جبری نظام ہے ۔ ہاں اگر اس میں جبر کا کوئی عنصر ہے تو وہ داخلی عنصر ہے ‘ خارج سے کوئی جبر نہیں ہے ۔ بعض اوقات تو یہ مطالبہ مستحب اور لذیذ ہوتا ہے تاکہ انسان جلدی اس مطالبہ فطرت کے پورا کرنے کے لئے آمادہ ہوجائے ۔ وہ انسان کے لئے فرحت بخش ہو ‘ اگرچہ اس میں طویل مشقت اور بےبہا قربانی ہو ۔ یہ اللہ کی ساخت ہے جس نے ہر چیز کو بہت ہی اچھا کر کے بنایا ہے ۔
فطرت انسانی کے اندر ان خصوصیات کا پایا جانا کوئی سطحی چیز نہیں ہے ۔ فطرت کے یہ دواعی عورت کے عضویاتی ‘ اعصابی ‘ شعوری اور نفسیاتی ساخت کے اندر نہایت ہی عمق کے ساتھ ودیعت کیے گئے ہیں ۔ اس بارے میں ماہرین فن کا یہ کہنا ہے کہ یہ اوصاف اس خلیے کے اندر موجود ہوتے ہیں جن سے انسان پیدا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے خلیے کی گہرائیوں کے اندر ان خصوصیات کو پیدا کردیا تھا اور اس خلیے کی تقسیم اور بڑھوتری سے پھر بچہ نشوونما پاتا ہے اور اس کے اندر وہ تمام اساسی خصائص موجود ہوتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں مرد کو جو خصوصیات دی گئیں ان میں سے اہم ترین خصوصیت مرد کی سخت جاتی اور مضبوطی ہے ۔ مرد جلدی متاثر نہیں ہوتا اور کسی بھی صورت حال کو جلد قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔ وہ ہر کام سوچ سمجھ کر کرتا ہے اور کوئی اقدام کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر بھی غور کرتا ہے ۔ کیونکہ آغاز حیات میں اس کی زندگی کا فریضہ یہ تھا کہ وہ شکار کرکے لائے اور اپنے بچوں اور بیوی کے بچاؤ کے لئے مرنے مارنے پر اتر آئے بیوی بچوں کی معیشت کا انتظام کرے اور زندگی کے تمام فرائض سرانجام دے ۔ اس کے تمام فرائض اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہر اقدام سے پہلے اچھی طرح سوچا جائے ۔ غور وفکر سے کام لیاجائے اور اگر کوئی کسی بات کی دعوت دے تو اسے بہت سوچ سمجھ کر قبول کیا جائے ۔ یہ سب خصوصیات مرد کی شخصیت کی ساخت کے اندر پائی جاتی ہیں جس طرح عورت کی خصوصیات اس کی شخصیت کی ساخت کے اندر موجود ہوتی ہیں ۔
مرد کی یہ فطری خصوصیات اسے اس بات کا مستحق بنا دیتی ہیں کہ وہ گھرانے کا نگراں ہو اور مرتبے کے اعتبار سے خاندان میں سینئر ہو ۔ مزید یہ کہ چونکہ پورے خاندان کے اخراجات کا ذمہ دار بھی مرد ہی ہوتا ہے اس لئے اس کی نگرانی ضروری ہے کیونکہ وہی ہے جو پورے خاندانی ادارے کی معاشی ضروریات کا کفیل ہے ۔ چونکہ وہی خرچ کرنے والا ہے اس لئے ضروری ہے کہ وہی مدیرہو ۔ یہی دو خصوصیات ہیں جن کو قرآن کریم کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے اور انہی کی بنا پر اسلامی معاشرے میں مرد کو قوام بنایا گیا ہے ۔
مرد کی نگرانی کے بعض اسباب تکوینی اسباب ہیں یعنی صلاحیت کے اعتبار سے اور بعض اسباب ذمہ داریوں کے حوالے سے ہیں ۔ نیز ذمہ داریوں کی تقسیم میں انصاف اور عدل کے حوالے سے بھی مرد نگران بن جاتا ہے اور پھر شریعت نے مرد اور عورت پر ذمہ داریاں ڈالتے وقت اس امر کو بھی ملحوظ رکھا ہے کہ کس کے لئے کیا ذمہ داری باعث سہولت ہے اور کس کی فطرت کیا ذمہ داری چاہتی ہے اور کس ذمہ داری کے لئے معاون ہے ۔
عورت کے مقابلے میں نگرانی کیلئے مرد کی افضلیت کے اپنے اسباب ہیں ‘ جو صلاحیت اور تجربے کے حوالے سے ہیں اور نگرانی کے ان تمام اسباب کو لے کر ذمہ داریاں ادا ہوں گی ۔ اس لئے کہ کوئی ادارہ بھی منیجر اور نگران کے بغیر نہیں چل سکتا یعنی وہ تمام ادارے جو خاندان کے ادارے کے مقابلے میں بہت کم اہم اور بہت کم قدر و قیمت کے حامل ہیں پھر مزید یہ کہ انسانیت کا ایک حصہ بعض خاص ڈیوٹیوں کے لئے تیار کیا گیا ہے ۔ از روئے فطرت ان ڈیوٹیوں کی ادائیگی اس کے لئے سہل ہے اسی لئے یہ ڈیوٹیاں اس پر عائد کی گئی ہیں۔ اور انسانیت کا دوسرا حصہ از روئے فطرت ان کے لئے تیار نہیں کیا گیا ۔ ان ڈیوٹیوں کی ادائیگی اس کے لئے سہل نہیں ہے اور اگر اس پر وہ ڈیوٹیاں عائد کردی جائیں تو یہ اس پر صریح ظلم ہوگا ۔ لیکن اگر اسے ان فرائض کی ادائیگی کے لئے تیار بھی کیا جائے اسے ان کی ٹریننگ بھی دی جائے ‘ علمی اور عملی تربیت بھی دی جائے پھر وہ انہیں سرانجام بھی دے پائے تو اس سے اس کی وہ صلاحیت بری طرح متاثر ہوگی جسکے لئے اسے پیدا اور تیار کیا گیا ہے ۔ مثلا عورت کے حوالے اس کے مادرانہ ذمہ داریاں ۔ یعنی اگر عورت پر دوسری تمدنی ذمہ داریاں عائد کردی جائیں تو وہ مادرانہ فرائض کی ادائیگی کے قابل نہ رہے گی جو اس کی فطرت کا تقاضا ہیں اور جس کی اصل استعداد ہے سرعت انفعال اور سرعت قبولیت ۔ یہ عورت کی فطرت کے اندر مرکوز ہیں ۔ اس پر مزید یہ کہ عورت کی عضویاتی اور اعصابی ساخت کے اندر مادرانہ صلاحیتیں رکھی گئی ہیں اور ان کے اثرات عورت کے طرز عمل اور اس کی طرف سے بچے کی ضروریات کے لئے تڑپ رکھنے کا جذبہ وغیرہ ۔
یہ نہایت ہی اہم مسائل ہیں اس قدر اہم کہ ان کے بارے میں ٹھوس فیصلہ صرف انسانی خواہشات کے زوایے سے نہیں کیا جاسکتا اور یہ اس قدر خطرناک ہیں کہ ان کے جوابات محض تیر تکے چلانے سے نہیں دیئے جاسکتے ۔ جب قدیم اور جدید جاہلیتوں نے ان اہم مسائل کے فیصلے انسان کی گھٹیا خواہشات کے زاویے سے کئے تو انہوں نے انسان کے وجود تک کو خطرے میں ڈال دیا ۔ انسان کے اندر انسانی خصائص کا باقی رہنا مشکل ہوگیا ‘ جن انسانی خصائص پر انسان کی زندگی قائم ہے اور جن سے اسے امتیازی شان ملی ہے ۔
اس پر ایک دلیل تو یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ لوگ اس حقیقت کا انکار کردیں اسے ترک کردیں اور اسے بالکل انوکھا سمجھنے لگیں ‘ انسان کے وجود کے اندر ان قوانین فطرت کو مکمل کنڑول حاصل ہے اور انسانی فطرت اس کی طرف واضح اشارات کرتی ہے ۔
پھر یہ بھی ایک دلیل ہے کہ جب بھی انسانیت نے اس اصول کی خلاف ورزی کی ہے ‘ اس کی وجہ سے انسانی زندگی کے اندر بےچینی ‘ فساد اور اخلاقی گراوٹ پیدا ہوئی ہے اور انسانی زندگی سخت خلفشار سے دو چار ہوئی ہے ۔ خاندان کے اندر نظم ونسق تباہ ہوا ہے ۔ انسانی زندگی کے نشانات اور امتیازات ختم ہوگئے ہیں اور وہ اپنے فطری اور اصلی مقام سے ہٹ گئی ہے ۔
اس پر ایک دلیل یہ بھی ہے کہ خود عورت کی یہ نفسیاتی خواہش ہوتی ہے کہ اس کے اوپر کوئی مرد قوام اور حکمران ہو اس لئے کہ خاندان کے اندر مرد کی حاکمیت اور برتری ایک فطری امر ہے ۔ اگر عورت کو مرد کی سرپرستی حاصل نہ ہو تو وہ اپنے آپ کو محروم ‘ ناقص اور بدحال سمجھتی ہے ۔ یہ صورت حال اس وقت مشاہدے میں آتی ہے جب وہ کسی ایسے مرد کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہو جس کے اندر سرپرستی اور قوام ہونے کی صلاحیت نہ ہو اور وہ یہ حیثیت عورت کے سپرد کر دے ۔ دور جدید کی گم کردہ راہ اور بےراہ رو عورتیں بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہیں کہ عورت کی فطرت میں ہے کہ اس کا کوئی سرپرست اور حاکم ہو ۔
مزید یہ دلیل بھی ہے کہ ایسا خاندانی ادارہ جس میں باپ کی قوامیت نہ ہو ‘ اس خاندان کے اندر بچوں کی پرورش صحیح نہیں ہوتی ۔ مثلا اس صورت میں کہ مرد کی شخصیت کمزور ہو اور بچوں پر والدہ کی شخصیت چھا جائے ۔ یا ایسی صورتوں میں جہاں باپ موجود ہی نہ ہو ‘ فوت ہوچکا ہو یا ایسے خاندان جن میں اولاد کا کوئی قانونی سرپرست اور باپ ہوتا ہی نہیں ۔ ایسے خاندانوں میں بچے بداخلاق اور ناقص شخصیت کے مالک ہوتے ہیں اور کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ انحراف اور بےراہ روی سے بچ نکلیں ۔ نیز ایسے بچے اعصابی اور نفسیاتی اعتبار سے اور اخلاقی اور عملی اعتبار سے کامل شخصیت کے مالک ہر گز نہیں ہوتے ۔
مرد کی نگرانی اور سرپرستی کے جواز پر یہ بعض اہم دلائل ہیں جن کی طرف خود انسانی فطرت ہماری رہنمائی کرتی ہے ۔ مرد کی فطرت کے اندر یہ سرپرستی موجود ہوتی ہے اور انسان کے اندر اس کے اصول وقواعد پوری قوت کے ساتھ جاری ہیں ۔ اگرچہ لوگ انکار کریں ‘ اسے ترک کردیں اور اسے انوکھا سمجھیں ۔
اس سے زیادہ مرد کی قوامیت پر یہاں بحث ممکن نہیں ہے ۔ یہاں مرد کی سرپرستی ‘ نگرانی اس کے جواز اور اس کی معاشرتی ضرورت اور فطری تقاضوں پر اتنی ہی بحث کافی ہے ۔ لیکن یہاں ہمارے لئے اس قدر کہنا مناسب ہے کہ مرد کی اس قوامیت اور نگرانی کا معنی یہ نہیں ہیں کہ کسی خاندان یا معاشرے کے اندر عورت کی شخصیت کی نفی کردی جائے ۔ نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت کی شہری حیثیت کو ختم کیا جا رہا ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم کہہ آئے ہیں بلکہ مرد کی یہ نگرانی خاندانی نظام کے اندر اس کی ایک ذمہ داری ہے ‘ جو اس اہم ادارے کے چلانے اس کی حفاظت اور اس کے بچاؤ کے لئے اس پر عائد کی گئی ہے ۔ یہ بات عقل میں آنے والی ہے کہ کسی ادارے کا نگران مقرر کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ اس ادارے کے وجود کو ختم نہ کرے گا ۔ اس کے کسی رکن کی شخصیت کو ختم نہ کرے گا ‘ نہ اس ادارے کے شرکاء کے حقوق تلف کرے گا اور نہ اس ادارے میں کام کرنے والوں کے فرائض کو ختم کرے گا ۔ دوسرے مقامات پر اسلام نے مرد کی نگرانی کی حدودوقیود کو اچھی طرح بیان کیا ہے ۔ اس پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ نہایت ہی نرمی اور نہایت ہی شفقت اور رحمت کے ساتھ اس فرض کر ادا کرے گا ۔ نیز دوسرے مقامات پر مرد کے مالی اور جانی فرائض بھی بیان کئے گئے ہیں اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بیوی اور بچوں کے ساتھ مرد کا طرز عمل کیا ہونا چاہئے ؟ (اس موضوع پر مزید وضاحت کے لئے درج ذیل مراجع زیر نظر رہیں ۔ نحو مجتمع اسلامی کی فصل معاشرہ اور خاندان ۔۔۔۔۔ فصل ” عورت اور زوجین کے باہم تعلقات “ از کتاب اسلام اور مشکلات تہذیب ‘ کتاب پردہ از مولانا مودودی (رح) کتاب ” خاندان اور معاشرہ “ اور کتاب حق الانسان از عبد الواحد وافی ۔ انسان ‘ مادیت اور اسلام کے درمیان ۔ مصنفہ محمد قطب وغیرہ)
مرد کے حقوق اور فرائض کے بیان کے بعد اور اس عام نگرانی کے حوالے سے اس پر عائد شدہ پابندیوں اور اس کے فرائض کے بیان کے بعد ‘ اب صالح اور مومن عورت کی صفات کا بیان ہوتا ہے اور خاندان کے دائرے کے اندر اس کے طرز عمل خصوصا اس کے ایمانی طرز عمل کا بیان شروع ہوتا ہے ۔
(آیت) ” فالصلحت قنتت حفظت للغیب بما حفظ اللہ (4 : 34) (پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت اور نگرانی میں ‘ ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں)
مومنہ اور صالحہ عورت کا فطری مزاج اور اس کی لازمی خصلت یہ ہونی چاہیے کہ وہ اطاعت شعار ہو ‘ مطیع فرمان ہو اور یہ اس کے صاحب ایمان اور اس کے صالح ہونے کا عین تقاضا ہوتا ہے ۔ القنوت کے معنی ہوتے ہیں توجہ ‘ ارادہ ‘ رغبت اور دلی چاہت سے اطاعت کرنا ، جس میں کوئی جبر نہ ہو ‘ کوئی دباؤ نہ ہو ‘ اور جس میں کمزوری اور سستی نہ ہو ۔ اس لئے قرآن کریم نے قانتات کہا اور طائعات نہیں کہا ۔ اس لئے کہ پہلے لفظ کا مفہوم نفسیاتی ہے اور اس کے اوپر نرمی اور تازگی کا پر تو موجود ہے ۔ یہ لفظ میاں بیوی کے محبت بھرے پرائیویٹ اور پرسکون تعلق کے عین مناسب ہے ۔ ایک ایسے گہوارے کیلئے جس میں بچوں نے پرورش پانی ہے اور جس کی فضا جس کے سائے ‘ جس کے سانس اور جس کی تمام حرکات بچے کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں ۔
ایک صالح اور مومن عورت کا یہ بھی مزاج ہوتا ہے اور یہ بھی اس کی لازمی صفت ہوتی ہے کہ وہ اپنے خاوند کی عزت اور اس کے حقوق کی محافظ ہوتی ہے ۔ خاوند کی عدم موجودگی میں اس کے مقدس گھرانے کی حفاظت کرتی ہے اور یہ صفات بھی اس کے ایمان اور اس کی ذاتی اصلاح کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ جب ایک مومنہ عورت صالحہ مرد کی عدم موجودگی میں اس کی عزت کی محافظ ہوتی ہے تو اس کی موجودگی میں وہ بطریق اولی اس کی عزت کی محافظ ہوگی ۔ اس طرح وہ اپنی ذات کو کسی کی نظروں کا شکار ہونے بھی نہیں دیتی اور نہ ہی وہ اپنی عصمت اور عزت کو مٹاتی ہے ‘ جو کچھ بھی شوہر کے علاوہ کسی دوسرے کے لئے جائز نہ ہو اس لئے کہ مرد و عورت دونوں ہی ایک ذات ہیں اور ایک ہی نفس سے دونوں کو پیدا کیا گیا ہے ۔
اور جو چیزیں شوہر کے سوا دوسروں کے لئے حرام ہیں ‘ اس کا فیصلہ نہ عورت کرسکتی ہے اور نہ مرد کرسکتا ہے ‘ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ۔ (آیت) ” بما حفظ اللہ “ (4 : 34) (اس چیز کی جس کی اللہ نے حفاظت کی ہے) یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے کہ مرد عورت کو اس کی ذات کے بارے میں کسی فعل کے ارتکاب کی اجازت دیتا ہے یا نہیں اس کی موجودگی میں یا اس کی پس پشت ۔ ایسے افعال جس پر مرد برا نہیں مناتا یا کوئی معاشرہ ایسے افعال کے ارتکاب کے لئے اس مرد یا اس عورت کو آمادہ کرتا ہے ۔ ایسے حالات میں جب معاشرہ اخلاقی انحطاط کا شکار ہو اور اسلامی نظام سے دور ہوچکا ہو۔
اس حفظ کے میدان میں ایک ہی حکم ہے ‘ وہ یہ کہ عورت پر فرض ہے کہ وہ اللہ کے حفظ کی حدود میں اپنی حفاظت کرے ۔ یہاں عورت کے حفظ ذات کے لئے قرآن کریم نے امر کا صیغہ استعمال نہیں کیا بلکہ ایسا انداز بیان اختیار کیا ہے جو صیغہ امر سے بھی زیادہ موکد ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ حفاظت ان ذرائع کے ساتھ ہے جنکے ساتھ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور یہ انداز حفاظت صالحات کے مزاج اور صلاح وتقوی کا عین تقاضا ہے ۔
یہاں آکر ذہنی طور پر شکست خوردہ مسلمان مردوں اور خواتین کے تمام حیلے اور بہانے کافور ہوجاتے ہیں ‘ جنہوں نے جدید بےراہ معاشرے کے دباؤ کے مقابلے میں اپنے آپ کو ڈال دیا ہے ۔ اور معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صالحات کے لئے حفظ ذات کی کیا حدود وقیود مقرر کی ہیں یعنی یہ کہ وہ نہایت ہی اطاعت شعاری اور دلی آمادگی سے مطیع فرماں ہوتی ہیں ۔
رہیں وہ عورتیں جو صالحات نہیں ہیں تو وہ سرکش ہیں ۔ (ناشزات کے معنی یہ ہیں کہ کوئی ” نشز “ پر کھڑا ہو ‘ یعنی اونچے مقام پر جو ہر طرف سے نظر آتا ہو) اس لفظ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے نفسیاتی صورت حال کی حسی تعبیر کی ہے ۔ ناشز دراصل اپنی نافرمانی کو جائز سمجھتا ہے ‘ علی الاعلان گناہ کا ارتکاب کرتا ہے ‘ اور سرکشی اختیار کرتا ہے ۔
اسلامی نظام زندگی اس وقت تک انتظار نہیں کرتا کہ عملا سرکشی کا ارتکاب ہوجائے ‘ نافرمانی اور بغاوت کے علم بلند ہوجائیں ‘ مرد کی نگرانی کا رعب اور ڈر ختم ہوجائے اور خاندان دو کیمپوں میں تقسیم ہوجائے ‘ اس لئے کہ اگر حالات اس مقام تک آپہنچیں تو پھر علاج کا کوئی فائدہ ہی نہیں رہتا ۔ لہذا اس بات کی ضرورت ہے کہ سرکشی کا خطرہ محسوس ہوتے ہی اور اس کے خطرناک حد تک بڑھ جانے سے پہلے ہی اس کا تدارک کیا جائے ‘ کیونکہ سرکشی کے انجام میں اس اہم ادارے کی ٹوٹ وپھوٹ ہوتی ہے جس کے بعد معاشرے کا امن اور سکون تباہ ہوتا ہے پھر اس ادارے کے ختم ہونے کے ساتھ ہی نئی نسل کی تربیت اور تیاری کا کام بھی ختم ہوجاتا ہے کیونکہ خاندان ہی نئی نسل کے لئے ایک بہترین گہوارہ ہوتا ہے ۔ اس ادارے کے باہر اگر کسی نسل کی تربیت ہوگی تو وہ نسل نفسیاتی امراض ‘ اعصابی امراض اور دوسرے جسمانی امراض کا شکار ہوگی اور نتیجتا ایک اخلاق باختہ نسل تیار ہوگی ۔
چناچہ خاندان کے بچاؤ کا معاملہ چونکہ بہت ہی اہم معاملہ ہے ‘ لہذا اس سلسلے میں جلد از جلد اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ سرکشی کے آثار نمودار ہوتے ہی ان پر حملہ کیا جائے اسی لئے اس ادارے کو شر و فساد سے بچانے کی خاطر یا اسے بالکل تباہ ہونے سے بچانے کی خاطر اس ادارے کے ڈائریکٹر کو اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ بعض تادیبی اقدامات کرسکے جو اکثر اوقات نہایت ہی مفید ثابت ہوتے ہیں۔ یہ اقدامات محض انتقام ‘ توہین یا جسمانی اذیت کے لئے نہیں روا رکھے گئے بلکہ یہ اصلاح اقدامات ہیں اور ابتدائی مراحل میں اصلاح کے لئے اور سرکشی کو ختم کرنے کے لئے ہیں۔
(آیت) ” والتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن فان اطعنکم فلا تبغوا علیھن سبیلا ان اللہ کان علیا کبیرا “۔ (4 : 34)
” اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو تو انہیں سمجھاؤ خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو ‘ پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لئے بہانے تلاش نہ کرو ‘ یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے ۔
جیسا کہ اس سے قبل ہم کہہ آئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مکرم بنایا ہے اور اس میں مرد وزن دونوں شامل ہیں عورت کو وہی انسان حقوق دیئے جو اس کی صفت انسانیت کے حوالے سے تھے اور ایک مسلمان عورت کو وہ تمام شہری اور قانون حقوق دیئے جو مرد کو دیئے گئے تھے ۔ نیز اگرچہ مرد کو اس کا نگران بنایا گیا ہے لیکن مرد کی نگرانی عورت کو اپنے شوہر کے انتخاب کے حق سے محروم نہیں کرتی ۔ اس سلسلے میں وہ مکمل طور پر خود مختار ہے ۔ نیز وہ اپنے مال اور دولت میں بھی ہر قسم کا تصرف کرسکتی ہے ۔ وہ تمام دوسرے اختیارات جو اسلامی نظام زندگی میں بنیادی عناصر ہیں اور بنیادی حقوق ہیں ‘ اسے حاصل ہیں۔
اگر یہ سب امور ہمارے ذہن نشنین رہیں اور پھر وہ بحث بھی ذہن میں مستحضر رہے جو ہم نے ادارہ خاندان کی اہمیت کے سلسلے میں سابقہ صفحات میں کی ہے ‘ تو ہمارے لئے یہ سمجھنا کوئی مشکل امر نہیں ہے کہ شریعت نے عورت کی تادیب اور خاندان کے بچاؤ کے لئے یہ اقدامات کیوں جائز رکھے ہیں اور وہ طریق کار کیوں تجویز کیا ہے جس کے مطابق یہ تادیب کی جائے گی ‘ بشرطیکہ ہمارے دل خواہشات نفسانیہ کی پیروی میں فاسد نہ ہوگئے ہوں اور ہمارے دماغ کبر و غرور سے پھر نہ گئے ہوں ۔
یہ حقیقت ہے کہ شریعت اسلامی نے یہ اقدامات محض انسدادی تدابیر کے طور پر کئے ہیں ۔ یہ اقدامات اس لئے گئے جاتے ہیں کہ اداراہ خاندان کے اندر انتظامیہ کو امن وامان کا مسئلہ در پیش ہوتا ہے اور انتظامیہ پہلے ہی نفوس کی اصلاح کر کے حالات کو درست کردیتی ہے تاکہ دلوں کا یہ فساد خطرناک صورت اختیار نہ کرلے اور میاں بیوی کے درمیان بغض اور نفرت زیادہ نہ ہوجائے اور دل ہی دل میں میاں بیوی کا تعلق ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر ختم نہ ہوجائے ۔
خاندان کے اندر صرف مرد اور عورت کے درمیان معرکہ ہی نہیں ہوتا اور ان اقدامات سے یہ مقصود نہیں ہے کہ مرد اٹھے اور عورت کو کچل کر رکھ دے ‘ جب بھی وہ عورت کی جانب سے نافرمانی کا خطرہ محسوس کرے اسے خوب پیٹے اور اسے بھی واپس لاکر ایک کتے کی طرح زنجیر سے جکڑ دے ۔
اسلام میں ایسے طرز عمل کی اجازت ہر گز نہیں دی گئی ۔ اگرچہ انسانوں میں بعض خاندانوں کے اندر ایسی عادات پائی جاتی ہیں لیکن مرد و زن کے مابین ایسا سلوک اور ایسا تعلق محض اس لئے پیدا ہوا کہ پوری انسانیت نے اپنے اصل مقام کو چھوڑ دیا ۔ یہ اس لئے نہ تھا کہ مرد زن میں سے کوئی ایک غلطی پر تھا ۔ لیکن جب اسلامی معاشرہ صحیح طرح قائم ہوگا تو اس میں صورت حال بالکل مختلف ہوگی اور اس میں تادیب کے اغراض ومقاصد بھی مختلف ہوں گے ۔
(آیت) ” والتی تخافون نشوزھن) (4 : 34) ” اور عورتیں جن سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ “ اسلام میں یہ پہلا اقدام ہے کہ ایسی عورت کو سمجھانے کی کوشش کی جائے گی ۔ کسی خاندان کے سربراہ اور ڈائریکٹر کا یہ پہلا فریضہ ہے کہ وہ سمجھائے ۔ ہر حالت میں اس سے توقع یہ ہے کہ وہ نہایت ہی مہذب انداز میں بیوی کو سمجھائے گا ۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا وقودھا الناس والحجارۃ “ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ۔ “
اپنے بچوں اور اہل و عیال کو بچانا تو ہر حال میں مطلوب ہے لیکن ایسے حالات میں جہاں نشوز کا خطرہ ہو وہاں اہل و عیال کو ایک متعین بیماری یعنی سرکشی سے بچانا مطلوب ہوتا ہے ‘ قبل اس کے کہ وہ حد سے تجاوز کرجائے ۔
لیکن بعض اوقات صرف وعظ بھی مفید نہیں ہوتا کبھی عورت پر ہوائے نفس غالب ہوتی ہے اور وہ خود سرتاثرات کی زد میں ہوتی ہے کبھی یوں ہوتا ہے کہ اسے اپنی خوبصورتی پر نازل ہوتا ہے کبھی اپنی دولتمندی کا گھمنڈ ہوتا ہے کبھی اپنے خاندانی مرتبہ کی وجہ سے وہ خاوند کو خاطر میں نہیں لاتی یا بعض دوسری اقدار واوصاف کی وجہ سے وہ تعلی کا شکار ہوجاتی ہے۔ اور وہ اس بات کو بھول جاتی ہے کہ وہ ایک ادارے میں مرد کے ساتھ برابر کی ذمہ دار ہے ۔ وہ مرد کے مقابلے میں اس کے مقابل قوت آزمائی کے لئے نہیں آئی ہے اور نہ یہاں کوئی موقعہ افتخار اور تعلی کا ہے اس لئے یہاں اس کے خلاف ایک دوسرا اقدام تجویز ہوتا ہے ۔ وہ یہ کہ مرد عورت کی جاذبیت ‘ اس کی خوبصورتی اور تمام دوسری چیزوں کو جن پر وہ تعلی کرتی ہے ‘ روندتا چلا جائے اور نفسیاتی طور پر ثابت کر دے کہ وہ اس عورت سے برتر ہے ۔ اور یہ کہ وہ اس ادارے کا مدیر اور ڈائریکٹر ہے۔ حکم ہوتا ہے کہ (آیت) ” واھجروھن فی المضاجع “۔ (4 : 34) (خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو) خواب گاہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں عورت اپنی فطری کشش کی وجہ سے مرد کو دھوکہ دیتی ہے ‘ جہاں عورت انتہائی علو شان کے ساتھ اپنا حکم منواتی ہے ۔ جب ایک مرد اپنی خواہشات پر قابو پا کر عورت کی اس فطری کشش کا مقابلہ کرلے تو وہ عورت کے موثر ترین ہتھیار کو کند کردیتا ہے جو ہتھیار وہ مرد کے خلاف استعمال کرتی ہے ۔ جب مرد اپنے اس موقف میں ڈٹ جاتا ہے اور اپنی شخصیت کی قوت کا اظہار کرتا ہے تو اکثر اوقات عورت ہتھیار ڈال دیتی ہے ‘ البتہ عورتوں کو خواب گاہ سے علیحدہ کرنے کے اپنے مخصوص قواعد اور آداب ہیں ۔ وہ یہ کہ خوابگاہ کے علاوہ عورت کے ساتھ دوسرے تعلقات بحال رہیں ۔ مرد صرف خوابگاہ میں اس سے علیحدہ رہے ۔ نیز بچوں پر میاں بیوی کے درمیان ہونے والی یہ کشیدگی ظاہر نہ ہو تاکہ ان پر نفسیاتی طور پر برے اثرات نہ پڑیں ۔ نیز غیر لوگوں کے سامنے کوئی جدائی یا کشیدگی نہ ہو ‘ جس کے نتیجے میں عورت کی تذلیل ہو یا اس کی عزت نفس مجروح ہو اور وہ زیادہ سرکشی اختیار کرے کیونکہ مقصد تو یہ ہے کہ وہ سرکشی سے باز آجائے ۔ اصل مقصد عورت کی تذلیل نہیں ہے اور نہ بچوں کو خلجان کا شکار کر کے انہیں خراب کرنا مطلوب ہے ۔ اس دوسرے اقدام میں ان دونوں امور کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔
لیکن بعض اوقات یہ دوسرا اقدام بھی کامیاب نہیں رہتا ۔ تو پھر کی اب ادارہ خاندان کی تحلیل کردی جائے ۔ نہیں ایک کوشش مزید بھی ہے ۔ اگرچہ یہ آخری تدبیر قدرے سخت ہے لیکن ایک خاندان کی تحلیل اور بربادی کے مقابلے میں وہ بہت ہی آسان اور معمولی ہے ۔
(آیت) ” واضربوھن “ ” اور انہیں مارو “ اس سے پہلے ہم نے جو مطالب بیان کئے ہیں اور ان اقدامات کے جو اہداف سامنے رکھے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مار سے مقصود عورت کو سزا دینا نہیں ہے اور نہ اس سے انتقام لینا مطلوب ہے ‘ نہ محض غصے کو ٹھنڈا کرنا مطلوب ہے ‘ اور نہ اس بات کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ یہ مار محض تذلیل ‘ توہین اور تحقیر کیلئے ہو ۔ اور نہ اس سے مقصود یہ ہے کہ عورت کو ایک ایسے خاندان میں زندہ رہنے پر مجبور کیا جائے جس پر وہ کسی صورت میں بھی راضی نہیں ہے ۔ بلکہ یہ مار محض اصلاح کی خاطر ہو اور اس مار کے اندر بھی مرد کی جانب سے ہمدردی اور محبت ہو ۔ مثلا جس طرح باپ اپنی اولاد کو مارتا ہے ‘ یا جس طرح استاد اپنے شاگردوں کو سزا دیتا ہے ۔
اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ اگر ادارہ خاندان کے دونوں فریقوں کے درمیان مکمل یک جہتی ہو تو پھر اس مار کی ضرورت ہی کیا ہو سکتی ہے ۔ البتہ ان اقدامات کی ضرورت اس وقت لاحق ہو سکتی ہے جب خاندان کے اندر فساد اور توڑ پھوڑ کا خطرہ ہو اور یہ تب ہی ہوتا ہے جب کسی نہ کسی خرابی کا آغاز ہوگیا ہو اور اسے ان اقدامات کے ذریعے دور کرنا مطلوب ہو ۔
جب وعظ ونصیحت بھی کام نہ دے اور خواب گاہوں کے اندر تفریق بھی مفید نہ رہے تو معلوم ہوجائے گا کہ یہ انحراف اور فساد خطرناک نوعیت اختیار کر گیا ہے اور خطرناک سطح تک پہنچ گیا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایسے حالات میں وسیلہ ضرب تادیبی کامیاب ہوجائے ۔
بعض عملی واقعات اور بعض نفسیاتی کیسوں سے معلوم ہوتا ہے اور ماہرین نفسیات اس بات کو مانتے ہیں کہ بعض اوقات عورت کی سرکشی کے لئے اسے تادیبی مار دینا ہی اس کے لئے مفید ہوتا ہے ۔ اس سے عورت کا نفسیاتی علاج ہوتا ہے اور وہ فورا راہ راست پر آجاتی ہے ۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عورت کو سرکشی کی ایک نفسیاتی بیماری لاحق ہوتی ہے اور علمائے نفسیات اسے ایک نام بھی دیتے ہیں ۔ لیکن علم النفس نے جو نتائج اب تک پیش کئے ہیں وہ علمی اور سائنسی نتائج نہیں ہیں کہ انہیں علمی لحاظ سے ثابت شدہ حتمی نتائج کہا جاسکے ‘ جیسا کہ ڈاکٹر الیکنیس کہتے ہیں ۔ البتہ اکثر اوقات ایسا ضرور ہوتا ہے کہ بعض عورتیں مرد کی قوت کی محسوس نہیں کرتیں جبکہ ان کا نفس یہ چاہتا ہے کہ جو مردان کا نگران اور خاوند ہو وہ قوی تر ہو اور وہ اسے تب تسلیم کرتی ہیں جب مرد جسمانی طور پر ایسی عورت کو قابو میں رکھے ۔ لیکن ہر عورت کا نہ یہ مزاج ہوتا ہے اور نہ ہی نفسیاتی خواہش ہوتی ہے ۔ البتہ عورتوں میں سے بعض ایسی ضرور ہوتی ہیں جو خاوند کی طرف سے جبر اور قہر کی طالب ہوتی ہیں اور یہ ضرب کا اقدام ایسے ہی کیسوں کے لئے تجویز کیا گیا ہے تاکہ خاندان جیسا اہم ادارہ صحیح طرح استواری کے ساتھ کام کرسکے ‘ امن و سکون کے ساتھ ۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
النساء 4:35
(آیت) ” نمبر 35
اسلام یہ مشورہ نہیں دیتا کہ عورت کی جانب سے سرکشی شروع ہوتے ہی تم اس سرکشی اور نفرت کے سامنے ہتھیار ڈال دو اور نہ اسلام یہ مشورہ دیتا ہے کہ بس فورا معاہدہ نکاح کو ختم کر دو اور خاندان کی ہنڈیا ان لوگوں کے سر پر لا کر پھوڑ دو جن کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں ہے ‘ اس لئے اسلام اس کی اہمیت کی خاطر اسے از سر نو جدید اینٹوں کی مدد سے تعمیر کرتا ہے تاکہ وہ دوبارہ نشوونما حاصل کرسکے ۔
اب اسلامی نظام ادارہ نکاح کے ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوتے ہیں اپنی آخری کوشش شروع کردیتا ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ ایک ثالث مرد کی مرضی کا مقرر ہو اور ایک ثالث عورت کی مرضی کا مقرر ہو اور وہ دونوں ان کے درمیان مصالحت کرانے کی سعی کریں ۔ یہ لوگ نہایت ہی ٹھنڈے ماحول میں جمع ہوں ۔ وہ اپنے ذاتی میلانات کو سامنے نہ رکھیں ‘ اپنے شعور اور احساس کے بوجھ سے الگ ہوجائیں اور معاشی حالات ومفادات کو نظر انداز کردیں ‘ جن کی وجہ سے زوجین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ۔ یہ حکم ان حالات سے ہٹ کر سوچیں جن کی وجہ سے زندگی کے ماحول میں کدورت پیدا ہوئی یا جن کی وجہ سے فریقین کے درمیان پیچیدگی پیدا ہوئی اور جن کی وجہ سے زوجین کے درمیان مشترکہ زندگی کے اچھے عوامل غیر موثر ہوگئے ۔ ان ثالثوں کو کوشش کرنا چائیے کہ وہ زوجین کے دونوں خاندانوں کی شہرت اور عزت کا بھی خیال رکھیں اور زوجین کے چھوٹے بچے ہوں تو ان کے مستقبل کا بھی خیال رکھیں اور وہ اپنے دل سے یہ خواہش نکال دیں کہ ان میں سے کوئی فریق کامیاب رہتا ہے یا ناکام ۔ کیونکہ ایسے حالات میں زوجین میں سے ہر ایک اپنی بات منوانا اپنے لئے باعث عزت سمجھتا ہے ۔ بلکہ ان ثالثوں کو زوجین کے مفادات ‘ ان کے بچوں کے مفادات اور اس ادارے کے مفادات کا خیال رکھنا چاہئے جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ زوجین کے رازوں کے بھی امین ہوں گے کیونکہ یہ دونوں حکم ‘ دونوں خاندانوں اور زوجین کے نمائندے ہوں گے ۔ فریقین کو یہ خوف نہ ہوگا کہ ان سے ان کے راز افشا ہوں گے اور نہ ہونا چاہئیں کیونکہ رازوں کی تشہیر میں دونوں کی مصلحت نہیں ہوتی بلکہ دونوں کی مصلحت تو اس میں ہوتی ہے کہ ان کے راز پس پردہ ہی رہیں۔
ان ثالثوں کا اجتماع زوجین کے درمیان اصلاح کی خاطر ہوگا بشرطیکہ زوجین کے درمیان اصلاح احوال کی حقیقی خواہش ہو اور یہ خواہش اصلاح محض غصے کے نیچے دب گئی ہو ۔ اگر ثالثوں کے دلوں میں حقیقی خواہش ہو اور وہ مخلص ہوں تو اللہ تعالیٰ زوجین کو اصلاح احوال کی توفیق دے دے گا ۔
(آیت) ” ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما “ (4 : 35) ” اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا “۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ وہ صدق دل سے اصلاح چاہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبولیت بخشتا ہے اور اصلاح کی توفیق دیتا ہے ۔
یہ ہے لوگوں کی سعی اور انکے دلوں کا رابطہ اللہ کی تقدیر اور اس کی مشیت کے ساتھ ۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی قضا ہی لوگوں کی زندگیوں میں موثر ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ کی تقدیر نے لوگوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ ہو کوشش کریں اور اصلاح احوال کی سعی کریں ۔ ان کی اس کوشش کے جو نتائج نکلیں گے وہ اللہ کی تقدیر کے مطابق ہی ہوں گے ۔
جو نتائج بھی نکلیں گے وہ گہرے علم اور دور اندیشانہ مصلحت پر مبنی ہوں گے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان علیما خبیرا “ (4 : 35) ” (اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے)
غرض اس سبق میں یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اسلام زوجین کے درمیان اس تعلق کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ادارہ خاندان کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے ۔ ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام انسانی زندگی کے اس پہلو کی تنظیم پر کس قدر زور دیتا ہے ۔ پھر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ابتدائی دور کی تحریک اسلامی میں زندگی کے اس پہلو کو بہتر سے بہتر کرنے میں کس قدر کوششیں کیں اور تحریک اسلامی کا ہاتھ پکڑ کر اسے جاہلیت کی گندگیوں سے نکالا ۔ اسے راہ ترقی پر ڈال کر بتدریج بلند ترین مقام اور مرتبہ تک اللہ کی ہدایات کے مطابق پہنچایا اس لئے کہ اللہ کی ہدایت کے سوا کوئی اور ہدایت انسان کے مفید مطلب نہیں ہے ۔
درس 33 ایک نظر میں :
اس سبق کے ابتدائی حصے اور پوری سورت کے موضوع ومضامنین کے درمیان کئی ربط ہیں۔ نیز اس سبق اور سابق درس کے مضامین کے درمیان بھی ربط پایا جاتا ہے ۔
اس سبق کے ذریعے اس مہم کا آغاز ہوا جس کو پیش نظر رکھ کر ‘ اسلامی معاشرے کی اجتماعی زندگی کی تنظیم کی گئی تھی اور اسے جاہلیت کی تمام آلائشوں سے پاک کرکے اس کے اندر جدید اسلامی خدوخال کو واضح اور مستحکم کرنے کا بیڑا اٹھایا گیا تھا ۔ اس مہم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کو ان اہل کتاب کی سازشوں سے خبردار رکھا جائے جو یہودیوں کی صورت میں مدینہ کے اردگرد اپنے پورے شر اور سازشوں کے ساتھ پھیلے ہوئے تھے ‘ اور وہ ہر وقت اسلامی معاشرے کے خلاف اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھے ۔ وہ رات دن اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ اس معاشرے کی تشکیل وتکمیل کی راہ میں ممکن حد تک رکاوٹیں پیدا کریں ۔ خصوصا وہ مسلمانوں کی اخلاقی قدروں سے بہت ہی خائف تھے اور ان کی سعی تھی کہ وہ اخلاقی کمال حاصل نہ کریں ۔ نیز وہ مسلمانوں کے اتحاد واتفاق اور باہم تعاون وتکافل سے بھی خائف تھے ‘ اس لئے کہ اخلاقی اقدار اور معاشرتی اتحاد وتکافل ہی کی سوسائٹی کی اصل قوت ہوا کرتے ہیں۔
یہ نیا سبق ‘ دراصل ایک نہی مہم ہے اور اس کا آغاز اس اساسی اصول سے ہوا ہے جس کے اوپر اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی گئی ہے ‘ اور جس سے اسلامی نظام زندگی تشکیل پاتا ہے ۔ وہ اصول ہے خالص نظریہ توحید ۔ اسی اصول پر اسلامی نظام زندگی مبنی ہے ۔ اسلامی زندگی کا ہر پہلو اور اس کا ہر رخ اسی اصول سے پھوٹنے والی شاخ ہے ۔
اس سبق سے پہلے عائلی زندگی کی تنظیم پر متعدد پہلوؤں سے بات ہوچکی ہے ۔ اور اسی طرح اجتماعی زندگی کے معاملات بھی زیر بحث آچکے ہیں ۔ اس سے پہلے گزرنے والے سبق میں خاندانی زندگی ‘ اس کی تنظیم اور اس کے بچاؤ کی تدابیر کو زیر بحث لایا گیا تھا ۔ اور ان روابط سے بحث کی گئی تھی جو خاندان کو مستحکم اور مضبوط بناتے ہیں ۔ اب اس سے ذرا آگے بڑھ کر اس سبق میں پورے انسانی تعلقات اور روابط سے بحث کی گئی ہے ۔ یعنی وہ تعلقات جو اسلامی معاشرے میں خاندان کے محدود دائرے سے ذرا آگے بڑھ کر انسانی بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں ۔ لیکن ان کا خاندانی نظام سے بھی تعلق ہوتا ہے ۔ مثلا آغاز ہوتا ہے والدین کے متعلق ہدایات سے جس کا تعلق خاندان سے بھی ہے ۔ والدین کے علاوہ پھر مزید روابط کو بیان کیا گیا ہے اور یہ روابط اس پاکیزہ محبت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں جو خاندان کے اندر پائی جاتی ہے اور جس کے اثرات دوسرے انسانی روابط تک وسیع ہوجاتے ہیں ان خوشگوار روابط کا لطف انسان کو سب سے پہلے خود اپنے خاندان کے اندر آتا ہے ۔ یہاں وہ اچھے تعلقات رکھنا سیکھتا ہے ۔ یوں اس کے لئے یہ تعلقات ایک محدود خاندان سے وسیع انسانی خاندان تک پھیل جاتے ہیں جبکہ پہلے ان خوشگوار تعلقات کو خاندان کے اندر بویا جاتا ہے ۔
زیر بحث سبق میں بعض ہدایات تو محدود عائلی خاندان کے بارے میں ہیں اور بعض ہدایات ایک وسیع تر انسانی خاندان کے بارے میں ہیں ۔ اس زاوے سے اقدار اور پیمانوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔ یعنی خرچ کرنے والوں کے کیا مراتب ہیں اور کنجوسوں کے کیا مراتب ہیں ؟ درس کا آغاز اس اساسی قاعدے سے ہوا جس پر تمام اقدار اور پیامنے مبنی ہیں جس طرح زندگی کی تمام تفصیلی ہدایات بھی اسی اساسی اصولی پر مبنی ہیں ۔ یعنی عقیدہ توحید ۔ مسلمانوں کی ہر حرکت اور ہر سرگرمی ‘ ان کا ہر تصور اور ہر تاثر عقیدہ توحید پر مبنی ہوتا ہے اور یہی اللہ کی بندگی ہے ۔ اس کا مقصود اللہ کی پرستش ہے ۔ انسان کی تمام سرگرمیوں کا منتہائے مقصود اللہ کی اطاعت اور بندگی ہے اور یک مسلم اپنے عقیدے اور عمل کے اعتبار سے اللہ کا بندہ ہوتا ہے ۔
چونکہ ہم نے اپنی پوری زندگی میں اللہ کی بندگی اور عبادت کرنی ہے ‘ اس نسبت سے اللہ کی مخصوص پرستش اور عبادت یعنی نماز اور طہارت کے سلسلے میں بعض احکام بھی بیان کئے گئے ۔ اور نماز چونکہ ایک مرحلہ تھی جس میں شراب کو حرام قرار دیا گیا تھا ‘ اس سے قبل نماز کی حالت میں بھی یہ ممکن تھا کہ کوئی شراب پئے ہوئے ہو ۔ اس لحاظ سے حکم دیا گیا کہ مدہوشی کی حالت میں نماز میں شریک نہ ہوا کرو ۔ یہ اسلام کے ہمہ گیر تربیتی اقدامات میں سے ایک اقدام تھا جو نماز کی مناسبت سے دیا گیا ۔ غرض اس سبق کی تمام کڑیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ۔ درس سابق سے بھی تمام مضامین مناسبت رکھتے ہیں اور پھر اس سورة کے پورے محور کے ساتھ بھی متناسب ہیں۔
النساء 4:36
(آیت) ” نمبر 36 تا 43۔
یہ پیرا گراف اس حکم سے شروع ہوتا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ حکم واؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو حرف عطف ہے ۔ حرف عطف اس امر اور نہی کو سابقہ احکام کے ساتھ مربوط کردیتا ہے جو ادارہ خاندان کی تنظیم اور شیرازہ بندی سے متعلق ہیں اور جن کا ذکر سابقہ سبق کے آخر تک ہوا ۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کا ایک ہی کلیہ اور اصول ہے اور وہی تمام امور کے درمیان رابطہ ہے یعنی پوری زندگی میں بندگی صرف اللہ کی کی جانی چاہئے اور یہ کہ اسلام صرف عقیدے اور چند نظریات کا نام نہیں ہے جو کسی انسان کے ضمیر میں پختہ طور پر بیٹھے ہوں نہ اسلام چند مراسم عبودیت کا نام ہے جو مسجد میں سرانجام دیئے جاتے ہوں اور نہ اسلام صرف دنیوی کاروبار کا نام ہے جس کا تعلق عقیدے اور رسوم پرستش سے بالکل نہ ہو ‘ بلکہ وہ ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر یہ سب چیزیں موجود ہیں پھر اس کے تمام اجزاء بھی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور پھر یہ سب اجزاء اپنے اصل الاصول یعنی نظریہ توحید کے ساتھ مربوط ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ سے ہدایت حاصل کرنا اور اس کے سوا کسی سے کوئی ہدایت نہ لینا یعنی مراسم عبادت میں اللہ کو الہ و معبود سمجھنا اور اسی طرح حاکمیت اور قانون سازی میں بھی اسے الہ وحاکم سمجھنا یہ دونوں چیزیں نظریہ توحید میں شامل ہیں ۔ ان دونوں میں توحید اسلام کا جزء ہے اور یہی خدا کا دین ہے ۔
توحید کے حکم اور شرک کی نفی کے ساتھ ہی حکم دیا جاتا ہے کہ احسان کرو اور یہ حکم ایک خاندان کو بھی دیا جاتا ہے ۔ اور پورے انسانی خاندان یعنی معاشرے کو بھی دیا جاتا ہے ۔ بخل فخر اور تکبر کی مذمت کی جاتی ہے ‘ نیز لوگوں کو بخل پر آمادہ کرنے کی بھی مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ کے فضل کو چھپانا بھی ایک مذموم حرکت ہے۔ اللہ کا فضل عام ہے ‘ چاہے مالی فضل ہو یا اخلاقی اور دینی فضل ہو ۔ پھر شیطان کی اطاعت سے ڈرایا جاتا ہے ۔ اب روئے سخن آخرت کی طرف پھرجاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دن نہایت ہی شرمندہ کرنے والا اور توہین آمیز ہوگا ۔ ان سب امور کو عقیدہ توحید سے مربوط کردیا جاتا ہے اور وہ مصدر ومنبع متعین کردیا جاتا ہے جس سے ان لوگوں نے ہدایت لینی ہے جو اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور وہ مصدر ہے بھی یکتا اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ ہدایت لینے کا ذریعہ بھی وہ ہے اور قانون ساز بھی وہ ہے ۔ اس کی حاکمیت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے اور اس کی بندگی اور عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے ۔
(آیت) ” واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربی والیتمی والمسکین والجار ذی القربی والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم (4 : 36)
” اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ‘ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ‘ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ‘ اور پڑوسی رشتہ دار سے ‘ اجنبی ہمسایہ سے ‘ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں ‘۔
اسلامی نظام حیات میں پرستش کے بارے میں ہدایات اور قانون سازی کے بارے میں ہدایات ایک ہی مرجع Sonrce سے اخذ ہوتی ہیں اور وہ ایک ہی محور کے اردگرد گھومتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں ایمان باللہ سے اخذ ہوتی ہیں اور ایمان باللہ کا ارتکاز نقطہ توحید پر ہے اس لئے اسلام میں تمام ہدایات اور تمام تشریعات Law Making باہم جڑی ہوئی اور ہم آہنگ ہیں۔ اسلامی نظام میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے ایک جزء کو دوسرے سے علیحدہ کردیا جائے ۔ اور اگر کوئی شخص اسلام کے کسی جزء کو اس کے نقطہ ارتکاز یعنی عقیدہ توحید سے علیحدہ کرکے سمجھنے کی سعی کرے گا تو اس کی سمجھ ناقص ہوگی ۔ اسی طرح عملی میدان میں بھی اسلام کے ایک جزئیہ پر عمل کرنے اور دوسری جزئیات کو ترک کرنے سے بھی اسلام پوری طرح نافذ اور قائم نہیں ہو سکتا اور نہ انسانی زندگی میں اس طرح کے جزئی اسلام کے ثمرات نکل سکتے ہیں ۔
اس کائنات ‘ زندگی اور انسانی تعلقات کے اساسی تصورات صرف ایمان باللہ کے سرچشمے سے پھوٹتے ہیں اور ان تصورات کے اوپر پھر طریقہ ہائے کار ‘ اقتصادی نظام ‘ سیاسی نظام ‘ اخلاقی نظام ‘ قانونی نظام اور عالمی روابط پر بھی اثر ہوتا ہے اور یہ تصورات ایک فرد کے ضمیر اور ایک معاشرے کی واقعی صورت حال کی کیفیات کا تعین بھی کرتے ہیں ۔ یہ تصورات معاملات دنیا کو عبادت میں منتقل کردیتے ہیں ۔ اگر یہ معاملات خدا و رسول کی اطاعت کرتے ہوئے سرانجام دیئے جائیں تو یہ عبادات کو معاملات کی اساس قرار دیتے ہوئے ان میں ضمیر کی پاکیزگی اور عمل کی صفائی پیدا کرتے ہیں اور آخر کار یہ تصورات زندگی کو ایک اکائی بنا دیتے ہیں جو اسلامی نظام حیات سے پھوٹتی ہے۔ اس میں ہدایات صرف رب واحد سے لی جاتی ہیں اور پوری زندگی دنیا اور آخرت میں اللہ کی طرف ہی لوٹتی ہے ۔
اسلامی نظریہ حیات اسلامی نظام حیات اور اللہ کے صحیح دین کی یہ خصوصیت کس بات سے معلوم ہوتی ہے ؟ یہ اس اصول سے معلوم ہوتی ہے کہ اس آیت میں والدین کے ساتھ احسان ‘ رشتہ داروں کے ساتھ احسان اور تمام لوگوں کے ساتھ احسان کرنے کے احکام سے پہلے یہ کہا گیا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو ۔ اس کے بعد والدین کی رشتہ داری اور دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات کو ایک ہی لڑی میں پرویا گیا ہے اور دونوں امور کو اللہ کی توحید اور بندگی کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جبکہ اس سے ماقبل درس کے خاتمے پر نظریہ توحید اور اللہ کی بندگی کو خاندان کے اندر باہم تعلقات کے لئے دستور بنایا گیا تھا ۔ اس درس میں نظریہ توحید اور اللہ کی بندگی کو تمام انسانوں کے درمیان تعلقات کے لئے اساس بنایا گیا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے تاکہ ان تمام امور میں یہ نظریہ مستحکم ہو اور رابطہ بن جائے اور تمام معاشرتی روابط اور قانون سازی کا مصدر ایک ہوجائے ۔
(واعبدواللہ ولا تشرکوا بہ شیئا ) (4 : 36) ’ ؓ اجمعین اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو “۔۔۔۔ ۔۔ پہلا حکم یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کرو اور دوسرا حکم یہ ہے کہ اللہ کی بندگی میں اللہ کے سوا کسی اور کو شریک نہ کرو ۔ یہ قطعی اور عمومی ممانعت ہے اور اس کا اطلاق ان تمام معبودوں پر ہوتا ہے جو انسانی تاریخ میں ریکارڈ ہیں ۔ (اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ) کسی بھی چیز کو ‘ چاہے وہ مادہ اور جمادات سے ہو ‘ حیوان ہو ‘ انسان ہو ‘ فرشتہ ہو اور یا شیطان ہو ۔ یہ تمام چیزیں (شئی) کے مفہوم میں داخل ہیں ۔ جب اس کا استعمال اس طرز پر ہو ۔
اس کے بعد حکم دیا جاتا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرو ۔ والدین کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے اور اقرباء کا ذکر عموما کیا گیا ہے ۔ زیادہ احکام اس بارے میں ہیں کہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ اگرچہ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ چھوٹے بچوں پر ہر حال میں ان کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم فرمانے والے ہیں ۔ اولاد اس بات کی زیادہ محتاج ہے کہ اسے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے ہدایت کی جائے ‘ اس لئے کہ والدین اس دنیا سے جانے والے ہیں۔ ایک ایسی نسل سے ان کا تعلق ہوتا ہے جو پس پشت اور پس کی منظر میں جارہی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اولاد بالعموم اپنی شخصیت ‘ اپنے جذبات ‘ اپنے رجحانات اور اپنے اہتمامات کے اعتبار سے ان بچوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو ان کے بعد میں آنے والے ہوتے ہیں ۔ وہ اس نسل کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو اس سے قبل گزر رہی ہے ۔ زندگی کی دوڑ میں ان لوگوں کا رخ آگے کی طرف ہوتا ہے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے میں وہ غفلت کرتے ہیں ۔ اس لئے اس اللہ رحمن ورحیم سے انہیں یہ ہدایات ملتی ہیں جو والدین کو بھی ہدایات دیتے ہیں اور بچوں کے لئے بھی ہدایات دیتے ہیں ۔ نہ اولاد کو بھلاتے ہیں اور نہ والدین کو بھلاتے ہیں اور جو اپنے بندوں کو یہ ہدایت دیتا ہیں کہ وہ آپس میں نہایت ہی مہربانی سے پیش آئیں خواہ والدین ہوں یا اولاد ہوں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ دوسری متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نیکی کے سلسلے میں یوں ہدایات دیتا ہے کہ نیکی کا آغاز اپنے خاص اور عام رشتہ داروں سے کیا جائے اور اس کے بعد اس کا دائرہ بتدریج وسیع کیا جائے اور اسے ان تمام محتاجوں تک پھیلایا جائے جن کا تعلق وسیع تر انسانی خاندان کے ساتھ ہے ۔ یہ حکم انسانی فطرت کے مطابق اور انسانی فطرت کی سمت پرچلنے والا حکم ہے ۔ اس لئے کہ رحم ‘ دکھ اور درد میں شرکت کے جذبات سب سے پہلے گھر سے شروع ہوتے ہیں ‘ جو ایک چھوٹا خاندان ہوتا ہے ۔ جس شخص نے گھر کے اندر نیکی ‘ رحم اور محبت نہیں سیکھی یا اس کا تجربہ نہیں کیا اس سے ایسے جذبات کی توقع کسی غیر کے حق میں ہر گز نہیں کی جاسکتی ۔ طبیعت اور فطرت کے اعتبار سے بھی نفس انسانی اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ اس جذبے میں کوئی برائی اور حرج نہیں ہے بشرطیکہ یہ جذبہ خیر خاندان کے محدود دائرے اور متعین نقطے سے آگے بھی بڑھے اس کے بعد پھر یہ منہاج اسلام کی اجتماعی تنظیم کے ساتھ متفق ہے کہ باہم تعاون اور کفالت کا نظام گھر سے شروع کیا جائے اور پھر اسے جماعت اور سوسائٹی کے دائرے تک پھیلایا جائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اپنے سوشل سیکورٹی کے نظام کو حکومت کے وسیع نظام کے ہاتھ میں دینا نہیں چاہتا ‘ الا یہ کہ گھر یا گاؤں کے لوگ ناکام ہوجائیں اس لئے کہ مقامی انتظام زیادہ موثر ہو سکتا ہے ۔ مقامی انجمن بہ نسبت حکومت کے غریبوں کے بارے میں سہولت کے ساتھ تحقیقات کرسکتی ہے اور بروقت امداد نہایت سہولت اور آسانی کے ساتھ مستحقین تک پہنچا سکتی ہے ۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے اندر محبت اور باہم رابطہ بھی پیدا ہوتا ہے جو ایک انسانی سوسائٹی کے لئے ضروری ہے ۔
یہاں بات کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرو ‘ اس کے بعد اسے رشتہ داروں تک وسعت دی گئی ہے ۔ اس کے بعد پھر یتیموں اور مسکینوں کا ذکر ہے چاہے یہ یتیم اور مساکین دور رہتے ہیں اس لئے کہ انکی ضرورت بھی زیادہ اہم ہوتی ہے اور ان کا خیال رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ اس کے بعد قریبی پڑوسی ‘ پھر اجنبی پڑوسی ‘ اس کے بعد پہلو میں رہنے والے ساتھی ‘ اس لئے کہ قرابت دار پڑوسی ہمیشہ ملتا ہے جبکہ پہلو میں رہنے والے ساتھی کبھی کبھار ملتے ہیں ۔ صاحب بالجنب کی تفسیر میں آیا ہے کہ اس سے مراد وہ دوست اور ہمنشین ہے جو ساتھ رہتا ہو۔ حضر اور سفر دونوں میں۔ پھر وہ مسافر جو اپنے اہل و عیال سے دور ہو اور پھر ان غلاموں کا حق ہے جنہیں حالات نے غلام بنا دیا ہے لیکن ہیں تو وہ بہرحال انسان ۔
احسان کے حکم کے بعد ‘ دوسرا حکم یہ آتا ہے ۔ فخر و غرور بری خصلت ہے ۔ بخل اور دعوت بخل اور اللہ کی نعمت اور فضل کو چھپانا یہ بری خصلتیں ہیں ۔ اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ میں ریاکاری کی بھی ممانعت کی گئی اور بتایا گیا کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں درحقیقت انکا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں ہوتا ۔ اور وہ شیطان کے مطیع اور ہمنشین ہیں ۔
(آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا (36) الذین یبخلون ویامرون بالبخل ویکتمون ما اتھم اللہ من فضلہ واعتدنا للکفرین عذابا مھینا (37) والذین ینفقون اموالھم رئاء الناس ولا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ومن یکن الشیطن لہ قرینا فسآء قرینا (38) (4 : 36 تا 38)
” یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ۔ ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ‘ ایسے کافر نعمت لوگوں کے لئے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔ اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر ‘ سچ تو یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا اسے بہت ہی بری رفاقت میسر آئی ۔ “
یہاں آکر دوبارہ اسلامی نظام حیات کی یہ خصوصیت ظاہر ہوجاتی ہے کہ اس میں تمام معاملات ‘ تمام طرز ہائے عمل ‘ عقل و شعور کے تمام رجحانات اور سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے تمام تعلقات کا ربط عقیدے اور تصور حیات کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جب انسان صرف اللہ کا بندہ بن جاتا ہے اور تمام ہدایات اللہ سے لیتا ہے تو وہ لوگوں پر احسان کرنا خود بخود شروع کردیتا ہے ‘ اللہ کی رضا کے حصول اور آخرت کے اجر کی امیدواری کے لئے ۔ وہ یہ کام نہایت ہی عاجزی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ کرتا ہے اور یہ مانتے ہوئے کرتا ہے کہ وہ جو کچھ دے رہا ہے وہ اللہ ہی کے دیئے سے عاجزی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ کرتا ہے اور یہ مانتے ہوئے کرتا ہے کہ وہ جو کچھ دے رہا ہے وہ اللہ ہی کے دیئے سے دے رہا ہے وہ کود اپنے رزق اور مال و دولت کا خالق نہیں ہے ۔ اسے تو اللہ کے ہاں سے سب کچھ ملتا ہے ۔ اور اللہ کے انکار اور یوم آخرت سے انکار کے نتیجے میں فخر اور غرور پیدا ہوتا ہے اور بخل اور دعوت بخل پیدا ہوتے ہیں ۔ اور اللہ کے فضل کو چھپایا جاتا ہے کہ اس کے آثار بصورت داد ودہش ظاہر نہ ہوں اور اگر انفاق ہو بھی تو وہ ریاکاری کے لئے ہوتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کے سامنے فخر ومباہات کا اظہار ہوتا ہے اس لئے کہ ایسے شخص کے سامنے نہ رضائے الہی ہوتی ہے اور نہ جزائے آخر کی امیدواری پس لوگوں کے سامنے فخر اور غرور کا اظہار مطلوب ہوتا ہے ۔
اس طرح ایمانی اخلاقیات اور کفر کی اخلاقیات کے حدود کا تعین بسہولت ہوجاتا ہے ۔ مومنین کے نزدیک اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کا باعث ایمان باللہ اور جزائے آخرت ہوتے ہی ۔ اور اللہ کی رضا مندی کے حصول پر آنکھیں لگی ہوتی ہیں اور یہ ایک ایسا بلند داعیہ ہوتا ہے کہ انفاق کرنے والا لوگوں سے کسی بدلے کا منتظر نہیں ہوتا ‘ اور نہ وہ عمل لوگوں کے عرف و رواج سے سیکھتا ہے ۔ اگر کسی کے دل میں ایک خدا کا یقین نہ ہو جس کی رضا مندی وہ چاہتا ہو اور اس رضا مندی کے حصول کے لئے وہ جدوجہد کر رہا ہو اور اسی طرح یوم آخرت کا عقیدہ اور جزائے آخرت کا کوئی لالچ نہ ہو ‘ تو ایسے لوگ اگر نیکی کا کوئی کام کرتے بھی ہیں تو وہ رسم و رواج کے مطابق دنیاوی اقدار کے لئے کرتے ہیں ۔ ایسے شخص کے لئے پھر کسی نسل میں بھی کوئی ایک ضابطہ نہیں ہوتا چہ جائیکہ اس کے لئے ہر زمان ومکان میں کوئی ناقابل تغیر ضابطہ ہو ‘ اس کے لئے پھر نیکی کرنے کا داعیہ وہی باتیں ہوں گی جن کا ذکر ہوا یعنی فخر ومباہات اور یہ داعیہ بھی ہمیشہ غیر مستقل اور غیر یقینی ہوگا اور لوگوں کی اقدار اور ان کی اغراض کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوگا اور ہمیشہ یہ مذموم صفات انفاق کے ساتھ پیوسہ رہیں گی ۔ فخر ‘ غرور ‘ بخل اور بخل کی دعوت لوگوں کو دکھاوا کبھی بھی انفاق فی سبیل اللہ اخلاص اور بےلوثی سے نہ ہوگا ۔
قرآن کریم کہتا ہے اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کراہیت اور محبت کے انفعالات سے پاک ہے اس لئے ان الفاظ سے مراد یہاں کراہیت اور محبت کے اثرات ہیں ۔ یعنی اللہ ان کو دھتکارے گا ‘ اذیت دے گا اور انہیں ان کاموں پر سزا دی جائے گی ۔ (آیت) ” واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (4 : 38) (اور ایسے کافروں کے لئے اللہ تعالیٰ نے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے) یہاں فخر و غرور پر ان کے لئے رسوا کن عذاب دیئے جانے کا ذکر ہے جو ان اوصاف بد کے مقابل ہے ۔ قرآن کریم کا انداز تعبیر ایسا ہے کہ وہ معنائے مقصود کے علاوہ بھی اپنا پر تو ڈالتا ہے۔ اور قرآن کے یہ اشارات بھی بذات خود مقصود ومطلوب ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے زیر بحث اوصاف بد اور افعال مکروہیہ کے خلاف کراہیت اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ کر انسان ان سے دور رہتا ہے ۔ خصوصا اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ نے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس قسم کے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں اور جن لوگوں کا ساتھی شیطان ہوجائے تو سمجھ لیں کہ وہ بہت ہی برا ساتھی ہے ۔ (آیت) ” ومن یکن الشیطن لہ قرینا فسآء قرینا “۔ (4 : 38) بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ آیات مدینہ کے بعض یہودیوں کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کیونکہ ان میں جو صفات مذکورہ ہیں وہ یہودیوں پر پوری طرح منطبق ہوتی ہیں ‘ جیسا کہ وہ منافقین پر منطبق ہوتی ہیں ۔ جس دور میں یہ آیات نازل ہوئیں اس دور میں اللہ نے ان پر جو فضل وکرم کیا تھا ‘ وہ اسے چھپاتے تھے ۔ نیز اس سے مراد یہ بھی ‘ ہو سکتا ہے کہ وہ سچائی ہو جو انہیں دی گئی تھی انہوں نے اسے چھپا لیا تھا ۔ یعنی حضور اکرم ﷺ کی رسالت اور دین اسلام کے بارے میں جو پیشن گوئیاں ان کے ہاں تھیں ۔ لیکن آیت کی عبارت عام ہے اور بات یہاں مال اور فعل کے ذریعے احسان کی ہو رہی ہے ‘ لہذا مناسب ہے کہ آیت کے مفہوم کو عام ہی رہنے دیا جائے کیونکہ سیاق کلام کے ساتھ اس آیت کا عام مفہوم ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔
جب ان لوگوں کے نفوس کا سرچاک ہوا ‘ جب ان لوگوں کے عمل کی فضیحت ظاہر ہوگئی اور ان کے اسباب یعنی انکار خدا ‘ انکار آخرت اور شیطان کی ہم نشینی اور اس کا اتباع بھی بیان کردیئے گئے اور اس کے بعد یہ بھی بتا دیا گیا کہ ان برائیوں کی سزا توہین آمیز عذاب ہے ‘ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ استفہام انکاری کے انداز پوچھتے ہین۔
النساء 4:37
(آیت) ” نمبر 36 تا 43۔
یہ پیرا گراف اس حکم سے شروع ہوتا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ حکم واؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو حرف عطف ہے ۔ حرف عطف اس امر اور نہی کو سابقہ احکام کے ساتھ مربوط کردیتا ہے جو ادارہ خاندان کی تنظیم اور شیرازہ بندی سے متعلق ہیں اور جن کا ذکر سابقہ سبق کے آخر تک ہوا ۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کا ایک ہی کلیہ اور اصول ہے اور وہی تمام امور کے درمیان رابطہ ہے یعنی پوری زندگی میں بندگی صرف اللہ کی کی جانی چاہئے اور یہ کہ اسلام صرف عقیدے اور چند نظریات کا نام نہیں ہے جو کسی انسان کے ضمیر میں پختہ طور پر بیٹھے ہوں نہ اسلام چند مراسم عبودیت کا نام ہے جو مسجد میں سرانجام دیئے جاتے ہوں اور نہ اسلام صرف دنیوی کاروبار کا نام ہے جس کا تعلق عقیدے اور رسوم پرستش سے بالکل نہ ہو ‘ بلکہ وہ ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر یہ سب چیزیں موجود ہیں پھر اس کے تمام اجزاء بھی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور پھر یہ سب اجزاء اپنے اصل الاصول یعنی نظریہ توحید کے ساتھ مربوط ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ سے ہدایت حاصل کرنا اور اس کے سوا کسی سے کوئی ہدایت نہ لینا یعنی مراسم عبادت میں اللہ کو الہ و معبود سمجھنا اور اسی طرح حاکمیت اور قانون سازی میں بھی اسے الہ وحاکم سمجھنا یہ دونوں چیزیں نظریہ توحید میں شامل ہیں ۔ ان دونوں میں توحید اسلام کا جزء ہے اور یہی خدا کا دین ہے ۔
توحید کے حکم اور شرک کی نفی کے ساتھ ہی حکم دیا جاتا ہے کہ احسان کرو اور یہ حکم ایک خاندان کو بھی دیا جاتا ہے ۔ اور پورے انسانی خاندان یعنی معاشرے کو بھی دیا جاتا ہے ۔ بخل فخر اور تکبر کی مذمت کی جاتی ہے ‘ نیز لوگوں کو بخل پر آمادہ کرنے کی بھی مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ کے فضل کو چھپانا بھی ایک مذموم حرکت ہے۔ اللہ کا فضل عام ہے ‘ چاہے مالی فضل ہو یا اخلاقی اور دینی فضل ہو ۔ پھر شیطان کی اطاعت سے ڈرایا جاتا ہے ۔ اب روئے سخن آخرت کی طرف پھرجاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دن نہایت ہی شرمندہ کرنے والا اور توہین آمیز ہوگا ۔ ان سب امور کو عقیدہ توحید سے مربوط کردیا جاتا ہے اور وہ مصدر ومنبع متعین کردیا جاتا ہے جس سے ان لوگوں نے ہدایت لینی ہے جو اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور وہ مصدر ہے بھی یکتا اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ ہدایت لینے کا ذریعہ بھی وہ ہے اور قانون ساز بھی وہ ہے ۔ اس کی حاکمیت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے اور اس کی بندگی اور عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے ۔
(آیت) ” واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربی والیتمی والمسکین والجار ذی القربی والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم (4 : 36)
” اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ‘ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ‘ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ‘ اور پڑوسی رشتہ دار سے ‘ اجنبی ہمسایہ سے ‘ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں ‘۔
اسلامی نظام حیات میں پرستش کے بارے میں ہدایات اور قانون سازی کے بارے میں ہدایات ایک ہی مرجع Sonrce سے اخذ ہوتی ہیں اور وہ ایک ہی محور کے اردگرد گھومتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں ایمان باللہ سے اخذ ہوتی ہیں اور ایمان باللہ کا ارتکاز نقطہ توحید پر ہے اس لئے اسلام میں تمام ہدایات اور تمام تشریعات Law Making باہم جڑی ہوئی اور ہم آہنگ ہیں۔ اسلامی نظام میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے ایک جزء کو دوسرے سے علیحدہ کردیا جائے ۔ اور اگر کوئی شخص اسلام کے کسی جزء کو اس کے نقطہ ارتکاز یعنی عقیدہ توحید سے علیحدہ کرکے سمجھنے کی سعی کرے گا تو اس کی سمجھ ناقص ہوگی ۔ اسی طرح عملی میدان میں بھی اسلام کے ایک جزئیہ پر عمل کرنے اور دوسری جزئیات کو ترک کرنے سے بھی اسلام پوری طرح نافذ اور قائم نہیں ہو سکتا اور نہ انسانی زندگی میں اس طرح کے جزئی اسلام کے ثمرات نکل سکتے ہیں ۔
اس کائنات ‘ زندگی اور انسانی تعلقات کے اساسی تصورات صرف ایمان باللہ کے سرچشمے سے پھوٹتے ہیں اور ان تصورات کے اوپر پھر طریقہ ہائے کار ‘ اقتصادی نظام ‘ سیاسی نظام ‘ اخلاقی نظام ‘ قانونی نظام اور عالمی روابط پر بھی اثر ہوتا ہے اور یہ تصورات ایک فرد کے ضمیر اور ایک معاشرے کی واقعی صورت حال کی کیفیات کا تعین بھی کرتے ہیں ۔ یہ تصورات معاملات دنیا کو عبادت میں منتقل کردیتے ہیں ۔ اگر یہ معاملات خدا و رسول کی اطاعت کرتے ہوئے سرانجام دیئے جائیں تو یہ عبادات کو معاملات کی اساس قرار دیتے ہوئے ان میں ضمیر کی پاکیزگی اور عمل کی صفائی پیدا کرتے ہیں اور آخر کار یہ تصورات زندگی کو ایک اکائی بنا دیتے ہیں جو اسلامی نظام حیات سے پھوٹتی ہے۔ اس میں ہدایات صرف رب واحد سے لی جاتی ہیں اور پوری زندگی دنیا اور آخرت میں اللہ کی طرف ہی لوٹتی ہے ۔
اسلامی نظریہ حیات اسلامی نظام حیات اور اللہ کے صحیح دین کی یہ خصوصیت کس بات سے معلوم ہوتی ہے ؟ یہ اس اصول سے معلوم ہوتی ہے کہ اس آیت میں والدین کے ساتھ احسان ‘ رشتہ داروں کے ساتھ احسان اور تمام لوگوں کے ساتھ احسان کرنے کے احکام سے پہلے یہ کہا گیا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو ۔ اس کے بعد والدین کی رشتہ داری اور دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات کو ایک ہی لڑی میں پرویا گیا ہے اور دونوں امور کو اللہ کی توحید اور بندگی کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جبکہ اس سے ماقبل درس کے خاتمے پر نظریہ توحید اور اللہ کی بندگی کو خاندان کے اندر باہم تعلقات کے لئے دستور بنایا گیا تھا ۔ اس درس میں نظریہ توحید اور اللہ کی بندگی کو تمام انسانوں کے درمیان تعلقات کے لئے اساس بنایا گیا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے تاکہ ان تمام امور میں یہ نظریہ مستحکم ہو اور رابطہ بن جائے اور تمام معاشرتی روابط اور قانون سازی کا مصدر ایک ہوجائے ۔
(واعبدواللہ ولا تشرکوا بہ شیئا ) (4 : 36) ’ ؓ اجمعین اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو “۔۔۔۔ ۔۔ پہلا حکم یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کرو اور دوسرا حکم یہ ہے کہ اللہ کی بندگی میں اللہ کے سوا کسی اور کو شریک نہ کرو ۔ یہ قطعی اور عمومی ممانعت ہے اور اس کا اطلاق ان تمام معبودوں پر ہوتا ہے جو انسانی تاریخ میں ریکارڈ ہیں ۔ (اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ) کسی بھی چیز کو ‘ چاہے وہ مادہ اور جمادات سے ہو ‘ حیوان ہو ‘ انسان ہو ‘ فرشتہ ہو اور یا شیطان ہو ۔ یہ تمام چیزیں (شئی) کے مفہوم میں داخل ہیں ۔ جب اس کا استعمال اس طرز پر ہو ۔
اس کے بعد حکم دیا جاتا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرو ۔ والدین کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے اور اقرباء کا ذکر عموما کیا گیا ہے ۔ زیادہ احکام اس بارے میں ہیں کہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ اگرچہ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ چھوٹے بچوں پر ہر حال میں ان کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم فرمانے والے ہیں ۔ اولاد اس بات کی زیادہ محتاج ہے کہ اسے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے ہدایت کی جائے ‘ اس لئے کہ والدین اس دنیا سے جانے والے ہیں۔ ایک ایسی نسل سے ان کا تعلق ہوتا ہے جو پس پشت اور پس کی منظر میں جارہی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اولاد بالعموم اپنی شخصیت ‘ اپنے جذبات ‘ اپنے رجحانات اور اپنے اہتمامات کے اعتبار سے ان بچوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو ان کے بعد میں آنے والے ہوتے ہیں ۔ وہ اس نسل کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو اس سے قبل گزر رہی ہے ۔ زندگی کی دوڑ میں ان لوگوں کا رخ آگے کی طرف ہوتا ہے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے میں وہ غفلت کرتے ہیں ۔ اس لئے اس اللہ رحمن ورحیم سے انہیں یہ ہدایات ملتی ہیں جو والدین کو بھی ہدایات دیتے ہیں اور بچوں کے لئے بھی ہدایات دیتے ہیں ۔ نہ اولاد کو بھلاتے ہیں اور نہ والدین کو بھلاتے ہیں اور جو اپنے بندوں کو یہ ہدایت دیتا ہیں کہ وہ آپس میں نہایت ہی مہربانی سے پیش آئیں خواہ والدین ہوں یا اولاد ہوں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ دوسری متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نیکی کے سلسلے میں یوں ہدایات دیتا ہے کہ نیکی کا آغاز اپنے خاص اور عام رشتہ داروں سے کیا جائے اور اس کے بعد اس کا دائرہ بتدریج وسیع کیا جائے اور اسے ان تمام محتاجوں تک پھیلایا جائے جن کا تعلق وسیع تر انسانی خاندان کے ساتھ ہے ۔ یہ حکم انسانی فطرت کے مطابق اور انسانی فطرت کی سمت پرچلنے والا حکم ہے ۔ اس لئے کہ رحم ‘ دکھ اور درد میں شرکت کے جذبات سب سے پہلے گھر سے شروع ہوتے ہیں ‘ جو ایک چھوٹا خاندان ہوتا ہے ۔ جس شخص نے گھر کے اندر نیکی ‘ رحم اور محبت نہیں سیکھی یا اس کا تجربہ نہیں کیا اس سے ایسے جذبات کی توقع کسی غیر کے حق میں ہر گز نہیں کی جاسکتی ۔ طبیعت اور فطرت کے اعتبار سے بھی نفس انسانی اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ اس جذبے میں کوئی برائی اور حرج نہیں ہے بشرطیکہ یہ جذبہ خیر خاندان کے محدود دائرے اور متعین نقطے سے آگے بھی بڑھے اس کے بعد پھر یہ منہاج اسلام کی اجتماعی تنظیم کے ساتھ متفق ہے کہ باہم تعاون اور کفالت کا نظام گھر سے شروع کیا جائے اور پھر اسے جماعت اور سوسائٹی کے دائرے تک پھیلایا جائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اپنے سوشل سیکورٹی کے نظام کو حکومت کے وسیع نظام کے ہاتھ میں دینا نہیں چاہتا ‘ الا یہ کہ گھر یا گاؤں کے لوگ ناکام ہوجائیں اس لئے کہ مقامی انتظام زیادہ موثر ہو سکتا ہے ۔ مقامی انجمن بہ نسبت حکومت کے غریبوں کے بارے میں سہولت کے ساتھ تحقیقات کرسکتی ہے اور بروقت امداد نہایت سہولت اور آسانی کے ساتھ مستحقین تک پہنچا سکتی ہے ۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے اندر محبت اور باہم رابطہ بھی پیدا ہوتا ہے جو ایک انسانی سوسائٹی کے لئے ضروری ہے ۔
یہاں بات کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرو ‘ اس کے بعد اسے رشتہ داروں تک وسعت دی گئی ہے ۔ اس کے بعد پھر یتیموں اور مسکینوں کا ذکر ہے چاہے یہ یتیم اور مساکین دور رہتے ہیں اس لئے کہ انکی ضرورت بھی زیادہ اہم ہوتی ہے اور ان کا خیال رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ اس کے بعد قریبی پڑوسی ‘ پھر اجنبی پڑوسی ‘ اس کے بعد پہلو میں رہنے والے ساتھی ‘ اس لئے کہ قرابت دار پڑوسی ہمیشہ ملتا ہے جبکہ پہلو میں رہنے والے ساتھی کبھی کبھار ملتے ہیں ۔ صاحب بالجنب کی تفسیر میں آیا ہے کہ اس سے مراد وہ دوست اور ہمنشین ہے جو ساتھ رہتا ہو۔ حضر اور سفر دونوں میں۔ پھر وہ مسافر جو اپنے اہل و عیال سے دور ہو اور پھر ان غلاموں کا حق ہے جنہیں حالات نے غلام بنا دیا ہے لیکن ہیں تو وہ بہرحال انسان ۔
احسان کے حکم کے بعد ‘ دوسرا حکم یہ آتا ہے ۔ فخر و غرور بری خصلت ہے ۔ بخل اور دعوت بخل اور اللہ کی نعمت اور فضل کو چھپانا یہ بری خصلتیں ہیں ۔ اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ میں ریاکاری کی بھی ممانعت کی گئی اور بتایا گیا کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں درحقیقت انکا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں ہوتا ۔ اور وہ شیطان کے مطیع اور ہمنشین ہیں ۔
(آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا (36) الذین یبخلون ویامرون بالبخل ویکتمون ما اتھم اللہ من فضلہ واعتدنا للکفرین عذابا مھینا (37) والذین ینفقون اموالھم رئاء الناس ولا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ومن یکن الشیطن لہ قرینا فسآء قرینا (38) (4 : 36 تا 38)
” یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ۔ ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ‘ ایسے کافر نعمت لوگوں کے لئے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔ اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر ‘ سچ تو یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا اسے بہت ہی بری رفاقت میسر آئی ۔ “
یہاں آکر دوبارہ اسلامی نظام حیات کی یہ خصوصیت ظاہر ہوجاتی ہے کہ اس میں تمام معاملات ‘ تمام طرز ہائے عمل ‘ عقل و شعور کے تمام رجحانات اور سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے تمام تعلقات کا ربط عقیدے اور تصور حیات کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جب انسان صرف اللہ کا بندہ بن جاتا ہے اور تمام ہدایات اللہ سے لیتا ہے تو وہ لوگوں پر احسان کرنا خود بخود شروع کردیتا ہے ‘ اللہ کی رضا کے حصول اور آخرت کے اجر کی امیدواری کے لئے ۔ وہ یہ کام نہایت ہی عاجزی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ کرتا ہے اور یہ مانتے ہوئے کرتا ہے کہ وہ جو کچھ دے رہا ہے وہ اللہ ہی کے دیئے سے عاجزی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ کرتا ہے اور یہ مانتے ہوئے کرتا ہے کہ وہ جو کچھ دے رہا ہے وہ اللہ ہی کے دیئے سے دے رہا ہے وہ کود اپنے رزق اور مال و دولت کا خالق نہیں ہے ۔ اسے تو اللہ کے ہاں سے سب کچھ ملتا ہے ۔ اور اللہ کے انکار اور یوم آخرت سے انکار کے نتیجے میں فخر اور غرور پیدا ہوتا ہے اور بخل اور دعوت بخل پیدا ہوتے ہیں ۔ اور اللہ کے فضل کو چھپایا جاتا ہے کہ اس کے آثار بصورت داد ودہش ظاہر نہ ہوں اور اگر انفاق ہو بھی تو وہ ریاکاری کے لئے ہوتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کے سامنے فخر ومباہات کا اظہار ہوتا ہے اس لئے کہ ایسے شخص کے سامنے نہ رضائے الہی ہوتی ہے اور نہ جزائے آخر کی امیدواری پس لوگوں کے سامنے فخر اور غرور کا اظہار مطلوب ہوتا ہے ۔
اس طرح ایمانی اخلاقیات اور کفر کی اخلاقیات کے حدود کا تعین بسہولت ہوجاتا ہے ۔ مومنین کے نزدیک اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کا باعث ایمان باللہ اور جزائے آخرت ہوتے ہی ۔ اور اللہ کی رضا مندی کے حصول پر آنکھیں لگی ہوتی ہیں اور یہ ایک ایسا بلند داعیہ ہوتا ہے کہ انفاق کرنے والا لوگوں سے کسی بدلے کا منتظر نہیں ہوتا ‘ اور نہ وہ عمل لوگوں کے عرف و رواج سے سیکھتا ہے ۔ اگر کسی کے دل میں ایک خدا کا یقین نہ ہو جس کی رضا مندی وہ چاہتا ہو اور اس رضا مندی کے حصول کے لئے وہ جدوجہد کر رہا ہو اور اسی طرح یوم آخرت کا عقیدہ اور جزائے آخرت کا کوئی لالچ نہ ہو ‘ تو ایسے لوگ اگر نیکی کا کوئی کام کرتے بھی ہیں تو وہ رسم و رواج کے مطابق دنیاوی اقدار کے لئے کرتے ہیں ۔ ایسے شخص کے لئے پھر کسی نسل میں بھی کوئی ایک ضابطہ نہیں ہوتا چہ جائیکہ اس کے لئے ہر زمان ومکان میں کوئی ناقابل تغیر ضابطہ ہو ‘ اس کے لئے پھر نیکی کرنے کا داعیہ وہی باتیں ہوں گی جن کا ذکر ہوا یعنی فخر ومباہات اور یہ داعیہ بھی ہمیشہ غیر مستقل اور غیر یقینی ہوگا اور لوگوں کی اقدار اور ان کی اغراض کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوگا اور ہمیشہ یہ مذموم صفات انفاق کے ساتھ پیوسہ رہیں گی ۔ فخر ‘ غرور ‘ بخل اور بخل کی دعوت لوگوں کو دکھاوا کبھی بھی انفاق فی سبیل اللہ اخلاص اور بےلوثی سے نہ ہوگا ۔
قرآن کریم کہتا ہے اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کراہیت اور محبت کے انفعالات سے پاک ہے اس لئے ان الفاظ سے مراد یہاں کراہیت اور محبت کے اثرات ہیں ۔ یعنی اللہ ان کو دھتکارے گا ‘ اذیت دے گا اور انہیں ان کاموں پر سزا دی جائے گی ۔ (آیت) ” واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (4 : 38) (اور ایسے کافروں کے لئے اللہ تعالیٰ نے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے) یہاں فخر و غرور پر ان کے لئے رسوا کن عذاب دیئے جانے کا ذکر ہے جو ان اوصاف بد کے مقابل ہے ۔ قرآن کریم کا انداز تعبیر ایسا ہے کہ وہ معنائے مقصود کے علاوہ بھی اپنا پر تو ڈالتا ہے۔ اور قرآن کے یہ اشارات بھی بذات خود مقصود ومطلوب ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے زیر بحث اوصاف بد اور افعال مکروہیہ کے خلاف کراہیت اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ کر انسان ان سے دور رہتا ہے ۔ خصوصا اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ نے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس قسم کے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں اور جن لوگوں کا ساتھی شیطان ہوجائے تو سمجھ لیں کہ وہ بہت ہی برا ساتھی ہے ۔ (آیت) ” ومن یکن الشیطن لہ قرینا فسآء قرینا “۔ (4 : 38) بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ آیات مدینہ کے بعض یہودیوں کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کیونکہ ان میں جو صفات مذکورہ ہیں وہ یہودیوں پر پوری طرح منطبق ہوتی ہیں ‘ جیسا کہ وہ منافقین پر منطبق ہوتی ہیں ۔ جس دور میں یہ آیات نازل ہوئیں اس دور میں اللہ نے ان پر جو فضل وکرم کیا تھا ‘ وہ اسے چھپاتے تھے ۔ نیز اس سے مراد یہ بھی ‘ ہو سکتا ہے کہ وہ سچائی ہو جو انہیں دی گئی تھی انہوں نے اسے چھپا لیا تھا ۔ یعنی حضور اکرم ﷺ کی رسالت اور دین اسلام کے بارے میں جو پیشن گوئیاں ان کے ہاں تھیں ۔ لیکن آیت کی عبارت عام ہے اور بات یہاں مال اور فعل کے ذریعے احسان کی ہو رہی ہے ‘ لہذا مناسب ہے کہ آیت کے مفہوم کو عام ہی رہنے دیا جائے کیونکہ سیاق کلام کے ساتھ اس آیت کا عام مفہوم ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔
جب ان لوگوں کے نفوس کا سرچاک ہوا ‘ جب ان لوگوں کے عمل کی فضیحت ظاہر ہوگئی اور ان کے اسباب یعنی انکار خدا ‘ انکار آخرت اور شیطان کی ہم نشینی اور اس کا اتباع بھی بیان کردیئے گئے اور اس کے بعد یہ بھی بتا دیا گیا کہ ان برائیوں کی سزا توہین آمیز عذاب ہے ‘ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ استفہام انکاری کے انداز پوچھتے ہین۔
النساء 4:38
(آیت) ” نمبر 36 تا 43۔
یہ پیرا گراف اس حکم سے شروع ہوتا ہے کہ صرف اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور یہ حکم واؤ کے ساتھ شروع ہوتا ہے جو حرف عطف ہے ۔ حرف عطف اس امر اور نہی کو سابقہ احکام کے ساتھ مربوط کردیتا ہے جو ادارہ خاندان کی تنظیم اور شیرازہ بندی سے متعلق ہیں اور جن کا ذکر سابقہ سبق کے آخر تک ہوا ۔ واؤ عطف سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دین کا ایک ہی کلیہ اور اصول ہے اور وہی تمام امور کے درمیان رابطہ ہے یعنی پوری زندگی میں بندگی صرف اللہ کی کی جانی چاہئے اور یہ کہ اسلام صرف عقیدے اور چند نظریات کا نام نہیں ہے جو کسی انسان کے ضمیر میں پختہ طور پر بیٹھے ہوں نہ اسلام چند مراسم عبودیت کا نام ہے جو مسجد میں سرانجام دیئے جاتے ہوں اور نہ اسلام صرف دنیوی کاروبار کا نام ہے جس کا تعلق عقیدے اور رسوم پرستش سے بالکل نہ ہو ‘ بلکہ وہ ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر یہ سب چیزیں موجود ہیں پھر اس کے تمام اجزاء بھی ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں اور پھر یہ سب اجزاء اپنے اصل الاصول یعنی نظریہ توحید کے ساتھ مربوط ہیں۔ ان تمام سرگرمیوں میں صرف اللہ سے ہدایت حاصل کرنا اور اس کے سوا کسی سے کوئی ہدایت نہ لینا یعنی مراسم عبادت میں اللہ کو الہ و معبود سمجھنا اور اسی طرح حاکمیت اور قانون سازی میں بھی اسے الہ وحاکم سمجھنا یہ دونوں چیزیں نظریہ توحید میں شامل ہیں ۔ ان دونوں میں توحید اسلام کا جزء ہے اور یہی خدا کا دین ہے ۔
توحید کے حکم اور شرک کی نفی کے ساتھ ہی حکم دیا جاتا ہے کہ احسان کرو اور یہ حکم ایک خاندان کو بھی دیا جاتا ہے ۔ اور پورے انسانی خاندان یعنی معاشرے کو بھی دیا جاتا ہے ۔ بخل فخر اور تکبر کی مذمت کی جاتی ہے ‘ نیز لوگوں کو بخل پر آمادہ کرنے کی بھی مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اللہ کے فضل کو چھپانا بھی ایک مذموم حرکت ہے۔ اللہ کا فضل عام ہے ‘ چاہے مالی فضل ہو یا اخلاقی اور دینی فضل ہو ۔ پھر شیطان کی اطاعت سے ڈرایا جاتا ہے ۔ اب روئے سخن آخرت کی طرف پھرجاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ دن نہایت ہی شرمندہ کرنے والا اور توہین آمیز ہوگا ۔ ان سب امور کو عقیدہ توحید سے مربوط کردیا جاتا ہے اور وہ مصدر ومنبع متعین کردیا جاتا ہے جس سے ان لوگوں نے ہدایت لینی ہے جو اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور وہ مصدر ہے بھی یکتا اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ ہدایت لینے کا ذریعہ بھی وہ ہے اور قانون ساز بھی وہ ہے ۔ اس کی حاکمیت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے اور اس کی بندگی اور عبادت میں بھی کوئی شریک نہیں ہے ۔
(آیت) ” واعبدوا اللہ ولا تشرکوا بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربی والیتمی والمسکین والجار ذی القربی والجار الجنب والصاحب بالجنب وابن السبیل وما ملکت ایمانکم (4 : 36)
” اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ‘ ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرو ‘ قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ ‘ اور پڑوسی رشتہ دار سے ‘ اجنبی ہمسایہ سے ‘ پہلو کے ساتھی اور مسافر سے اور ان لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضے میں ہوں ‘۔
اسلامی نظام حیات میں پرستش کے بارے میں ہدایات اور قانون سازی کے بارے میں ہدایات ایک ہی مرجع Sonrce سے اخذ ہوتی ہیں اور وہ ایک ہی محور کے اردگرد گھومتی ہیں ۔ یہ سب چیزیں ایمان باللہ سے اخذ ہوتی ہیں اور ایمان باللہ کا ارتکاز نقطہ توحید پر ہے اس لئے اسلام میں تمام ہدایات اور تمام تشریعات Law Making باہم جڑی ہوئی اور ہم آہنگ ہیں۔ اسلامی نظام میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس کے ایک جزء کو دوسرے سے علیحدہ کردیا جائے ۔ اور اگر کوئی شخص اسلام کے کسی جزء کو اس کے نقطہ ارتکاز یعنی عقیدہ توحید سے علیحدہ کرکے سمجھنے کی سعی کرے گا تو اس کی سمجھ ناقص ہوگی ۔ اسی طرح عملی میدان میں بھی اسلام کے ایک جزئیہ پر عمل کرنے اور دوسری جزئیات کو ترک کرنے سے بھی اسلام پوری طرح نافذ اور قائم نہیں ہو سکتا اور نہ انسانی زندگی میں اس طرح کے جزئی اسلام کے ثمرات نکل سکتے ہیں ۔
اس کائنات ‘ زندگی اور انسانی تعلقات کے اساسی تصورات صرف ایمان باللہ کے سرچشمے سے پھوٹتے ہیں اور ان تصورات کے اوپر پھر طریقہ ہائے کار ‘ اقتصادی نظام ‘ سیاسی نظام ‘ اخلاقی نظام ‘ قانونی نظام اور عالمی روابط پر بھی اثر ہوتا ہے اور یہ تصورات ایک فرد کے ضمیر اور ایک معاشرے کی واقعی صورت حال کی کیفیات کا تعین بھی کرتے ہیں ۔ یہ تصورات معاملات دنیا کو عبادت میں منتقل کردیتے ہیں ۔ اگر یہ معاملات خدا و رسول کی اطاعت کرتے ہوئے سرانجام دیئے جائیں تو یہ عبادات کو معاملات کی اساس قرار دیتے ہوئے ان میں ضمیر کی پاکیزگی اور عمل کی صفائی پیدا کرتے ہیں اور آخر کار یہ تصورات زندگی کو ایک اکائی بنا دیتے ہیں جو اسلامی نظام حیات سے پھوٹتی ہے۔ اس میں ہدایات صرف رب واحد سے لی جاتی ہیں اور پوری زندگی دنیا اور آخرت میں اللہ کی طرف ہی لوٹتی ہے ۔
اسلامی نظریہ حیات اسلامی نظام حیات اور اللہ کے صحیح دین کی یہ خصوصیت کس بات سے معلوم ہوتی ہے ؟ یہ اس اصول سے معلوم ہوتی ہے کہ اس آیت میں والدین کے ساتھ احسان ‘ رشتہ داروں کے ساتھ احسان اور تمام لوگوں کے ساتھ احسان کرنے کے احکام سے پہلے یہ کہا گیا ہے کہ صرف اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو ۔ اس کے بعد والدین کی رشتہ داری اور دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات کو ایک ہی لڑی میں پرویا گیا ہے اور دونوں امور کو اللہ کی توحید اور بندگی کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جبکہ اس سے ماقبل درس کے خاتمے پر نظریہ توحید اور اللہ کی بندگی کو خاندان کے اندر باہم تعلقات کے لئے دستور بنایا گیا تھا ۔ اس درس میں نظریہ توحید اور اللہ کی بندگی کو تمام انسانوں کے درمیان تعلقات کے لئے اساس بنایا گیا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے تاکہ ان تمام امور میں یہ نظریہ مستحکم ہو اور رابطہ بن جائے اور تمام معاشرتی روابط اور قانون سازی کا مصدر ایک ہوجائے ۔
(واعبدواللہ ولا تشرکوا بہ شیئا ) (4 : 36) ’ ؓ اجمعین اللہ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو “۔۔۔۔ ۔۔ پہلا حکم یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کرو اور دوسرا حکم یہ ہے کہ اللہ کی بندگی میں اللہ کے سوا کسی اور کو شریک نہ کرو ۔ یہ قطعی اور عمومی ممانعت ہے اور اس کا اطلاق ان تمام معبودوں پر ہوتا ہے جو انسانی تاریخ میں ریکارڈ ہیں ۔ (اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ) کسی بھی چیز کو ‘ چاہے وہ مادہ اور جمادات سے ہو ‘ حیوان ہو ‘ انسان ہو ‘ فرشتہ ہو اور یا شیطان ہو ۔ یہ تمام چیزیں (شئی) کے مفہوم میں داخل ہیں ۔ جب اس کا استعمال اس طرز پر ہو ۔
اس کے بعد حکم دیا جاتا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرو ۔ والدین کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا گیا ہے اور اقرباء کا ذکر عموما کیا گیا ہے ۔ زیادہ احکام اس بارے میں ہیں کہ اولاد اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ اگرچہ والدین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا خیال رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ چھوٹے بچوں پر ہر حال میں ان کے ماں باپ سے بھی زیادہ رحم فرمانے والے ہیں ۔ اولاد اس بات کی زیادہ محتاج ہے کہ اسے والدین کے ساتھ بھلائی کرنے ہدایت کی جائے ‘ اس لئے کہ والدین اس دنیا سے جانے والے ہیں۔ ایک ایسی نسل سے ان کا تعلق ہوتا ہے جو پس پشت اور پس کی منظر میں جارہی ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اولاد بالعموم اپنی شخصیت ‘ اپنے جذبات ‘ اپنے رجحانات اور اپنے اہتمامات کے اعتبار سے ان بچوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو ان کے بعد میں آنے والے ہوتے ہیں ۔ وہ اس نسل کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جو اس سے قبل گزر رہی ہے ۔ زندگی کی دوڑ میں ان لوگوں کا رخ آگے کی طرف ہوتا ہے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے میں وہ غفلت کرتے ہیں ۔ اس لئے اس اللہ رحمن ورحیم سے انہیں یہ ہدایات ملتی ہیں جو والدین کو بھی ہدایات دیتے ہیں اور بچوں کے لئے بھی ہدایات دیتے ہیں ۔ نہ اولاد کو بھلاتے ہیں اور نہ والدین کو بھلاتے ہیں اور جو اپنے بندوں کو یہ ہدایت دیتا ہیں کہ وہ آپس میں نہایت ہی مہربانی سے پیش آئیں خواہ والدین ہوں یا اولاد ہوں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ دوسری متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نیکی کے سلسلے میں یوں ہدایات دیتا ہے کہ نیکی کا آغاز اپنے خاص اور عام رشتہ داروں سے کیا جائے اور اس کے بعد اس کا دائرہ بتدریج وسیع کیا جائے اور اسے ان تمام محتاجوں تک پھیلایا جائے جن کا تعلق وسیع تر انسانی خاندان کے ساتھ ہے ۔ یہ حکم انسانی فطرت کے مطابق اور انسانی فطرت کی سمت پرچلنے والا حکم ہے ۔ اس لئے کہ رحم ‘ دکھ اور درد میں شرکت کے جذبات سب سے پہلے گھر سے شروع ہوتے ہیں ‘ جو ایک چھوٹا خاندان ہوتا ہے ۔ جس شخص نے گھر کے اندر نیکی ‘ رحم اور محبت نہیں سیکھی یا اس کا تجربہ نہیں کیا اس سے ایسے جذبات کی توقع کسی غیر کے حق میں ہر گز نہیں کی جاسکتی ۔ طبیعت اور فطرت کے اعتبار سے بھی نفس انسانی اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور بھلائی کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ اس جذبے میں کوئی برائی اور حرج نہیں ہے بشرطیکہ یہ جذبہ خیر خاندان کے محدود دائرے اور متعین نقطے سے آگے بھی بڑھے اس کے بعد پھر یہ منہاج اسلام کی اجتماعی تنظیم کے ساتھ متفق ہے کہ باہم تعاون اور کفالت کا نظام گھر سے شروع کیا جائے اور پھر اسے جماعت اور سوسائٹی کے دائرے تک پھیلایا جائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام اپنے سوشل سیکورٹی کے نظام کو حکومت کے وسیع نظام کے ہاتھ میں دینا نہیں چاہتا ‘ الا یہ کہ گھر یا گاؤں کے لوگ ناکام ہوجائیں اس لئے کہ مقامی انتظام زیادہ موثر ہو سکتا ہے ۔ مقامی انجمن بہ نسبت حکومت کے غریبوں کے بارے میں سہولت کے ساتھ تحقیقات کرسکتی ہے اور بروقت امداد نہایت سہولت اور آسانی کے ساتھ مستحقین تک پہنچا سکتی ہے ۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے اندر محبت اور باہم رابطہ بھی پیدا ہوتا ہے جو ایک انسانی سوسائٹی کے لئے ضروری ہے ۔
یہاں بات کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ والدین کے ساتھ احسان کرو ‘ اس کے بعد اسے رشتہ داروں تک وسعت دی گئی ہے ۔ اس کے بعد پھر یتیموں اور مسکینوں کا ذکر ہے چاہے یہ یتیم اور مساکین دور رہتے ہیں اس لئے کہ انکی ضرورت بھی زیادہ اہم ہوتی ہے اور ان کا خیال رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہے ۔ اس کے بعد قریبی پڑوسی ‘ پھر اجنبی پڑوسی ‘ اس کے بعد پہلو میں رہنے والے ساتھی ‘ اس لئے کہ قرابت دار پڑوسی ہمیشہ ملتا ہے جبکہ پہلو میں رہنے والے ساتھی کبھی کبھار ملتے ہیں ۔ صاحب بالجنب کی تفسیر میں آیا ہے کہ اس سے مراد وہ دوست اور ہمنشین ہے جو ساتھ رہتا ہو۔ حضر اور سفر دونوں میں۔ پھر وہ مسافر جو اپنے اہل و عیال سے دور ہو اور پھر ان غلاموں کا حق ہے جنہیں حالات نے غلام بنا دیا ہے لیکن ہیں تو وہ بہرحال انسان ۔
احسان کے حکم کے بعد ‘ دوسرا حکم یہ آتا ہے ۔ فخر و غرور بری خصلت ہے ۔ بخل اور دعوت بخل اور اللہ کی نعمت اور فضل کو چھپانا یہ بری خصلتیں ہیں ۔ اسی طرح انفاق فی سبیل اللہ میں ریاکاری کی بھی ممانعت کی گئی اور بتایا گیا کہ جو لوگ یہ کام کرتے ہیں درحقیقت انکا اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں ہوتا ۔ اور وہ شیطان کے مطیع اور ہمنشین ہیں ۔
(آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان مختالا فخورا (36) الذین یبخلون ویامرون بالبخل ویکتمون ما اتھم اللہ من فضلہ واعتدنا للکفرین عذابا مھینا (37) والذین ینفقون اموالھم رئاء الناس ولا یومنون باللہ ولا بالیوم الاخر ومن یکن الشیطن لہ قرینا فسآء قرینا (38) (4 : 36 تا 38)
” یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے ۔ ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اسے چھپاتے ہیں ‘ ایسے کافر نعمت لوگوں کے لئے ہم نے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔ اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر ‘ سچ تو یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوا اسے بہت ہی بری رفاقت میسر آئی ۔ “
یہاں آکر دوبارہ اسلامی نظام حیات کی یہ خصوصیت ظاہر ہوجاتی ہے کہ اس میں تمام معاملات ‘ تمام طرز ہائے عمل ‘ عقل و شعور کے تمام رجحانات اور سوسائٹی کے اندر پائے جانے والے تمام تعلقات کا ربط عقیدے اور تصور حیات کے ساتھ ہوتا ہے ۔ جب انسان صرف اللہ کا بندہ بن جاتا ہے اور تمام ہدایات اللہ سے لیتا ہے تو وہ لوگوں پر احسان کرنا خود بخود شروع کردیتا ہے ‘ اللہ کی رضا کے حصول اور آخرت کے اجر کی امیدواری کے لئے ۔ وہ یہ کام نہایت ہی عاجزی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ کرتا ہے اور یہ مانتے ہوئے کرتا ہے کہ وہ جو کچھ دے رہا ہے وہ اللہ ہی کے دیئے سے عاجزی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ کرتا ہے اور یہ مانتے ہوئے کرتا ہے کہ وہ جو کچھ دے رہا ہے وہ اللہ ہی کے دیئے سے دے رہا ہے وہ کود اپنے رزق اور مال و دولت کا خالق نہیں ہے ۔ اسے تو اللہ کے ہاں سے سب کچھ ملتا ہے ۔ اور اللہ کے انکار اور یوم آخرت سے انکار کے نتیجے میں فخر اور غرور پیدا ہوتا ہے اور بخل اور دعوت بخل پیدا ہوتے ہیں ۔ اور اللہ کے فضل کو چھپایا جاتا ہے کہ اس کے آثار بصورت داد ودہش ظاہر نہ ہوں اور اگر انفاق ہو بھی تو وہ ریاکاری کے لئے ہوتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کے سامنے فخر ومباہات کا اظہار ہوتا ہے اس لئے کہ ایسے شخص کے سامنے نہ رضائے الہی ہوتی ہے اور نہ جزائے آخر کی امیدواری پس لوگوں کے سامنے فخر اور غرور کا اظہار مطلوب ہوتا ہے ۔
اس طرح ایمانی اخلاقیات اور کفر کی اخلاقیات کے حدود کا تعین بسہولت ہوجاتا ہے ۔ مومنین کے نزدیک اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کا باعث ایمان باللہ اور جزائے آخرت ہوتے ہی ۔ اور اللہ کی رضا مندی کے حصول پر آنکھیں لگی ہوتی ہیں اور یہ ایک ایسا بلند داعیہ ہوتا ہے کہ انفاق کرنے والا لوگوں سے کسی بدلے کا منتظر نہیں ہوتا ‘ اور نہ وہ عمل لوگوں کے عرف و رواج سے سیکھتا ہے ۔ اگر کسی کے دل میں ایک خدا کا یقین نہ ہو جس کی رضا مندی وہ چاہتا ہو اور اس رضا مندی کے حصول کے لئے وہ جدوجہد کر رہا ہو اور اسی طرح یوم آخرت کا عقیدہ اور جزائے آخرت کا کوئی لالچ نہ ہو ‘ تو ایسے لوگ اگر نیکی کا کوئی کام کرتے بھی ہیں تو وہ رسم و رواج کے مطابق دنیاوی اقدار کے لئے کرتے ہیں ۔ ایسے شخص کے لئے پھر کسی نسل میں بھی کوئی ایک ضابطہ نہیں ہوتا چہ جائیکہ اس کے لئے ہر زمان ومکان میں کوئی ناقابل تغیر ضابطہ ہو ‘ اس کے لئے پھر نیکی کرنے کا داعیہ وہی باتیں ہوں گی جن کا ذکر ہوا یعنی فخر ومباہات اور یہ داعیہ بھی ہمیشہ غیر مستقل اور غیر یقینی ہوگا اور لوگوں کی اقدار اور ان کی اغراض کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوگا اور ہمیشہ یہ مذموم صفات انفاق کے ساتھ پیوسہ رہیں گی ۔ فخر ‘ غرور ‘ بخل اور بخل کی دعوت لوگوں کو دکھاوا کبھی بھی انفاق فی سبیل اللہ اخلاص اور بےلوثی سے نہ ہوگا ۔
قرآن کریم کہتا ہے اللہ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کراہیت اور محبت کے انفعالات سے پاک ہے اس لئے ان الفاظ سے مراد یہاں کراہیت اور محبت کے اثرات ہیں ۔ یعنی اللہ ان کو دھتکارے گا ‘ اذیت دے گا اور انہیں ان کاموں پر سزا دی جائے گی ۔ (آیت) ” واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (4 : 38) (اور ایسے کافروں کے لئے اللہ تعالیٰ نے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے) یہاں فخر و غرور پر ان کے لئے رسوا کن عذاب دیئے جانے کا ذکر ہے جو ان اوصاف بد کے مقابل ہے ۔ قرآن کریم کا انداز تعبیر ایسا ہے کہ وہ معنائے مقصود کے علاوہ بھی اپنا پر تو ڈالتا ہے۔ اور قرآن کے یہ اشارات بھی بذات خود مقصود ومطلوب ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے زیر بحث اوصاف بد اور افعال مکروہیہ کے خلاف کراہیت اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں ان چیزوں کو حقیر سمجھ کر انسان ان سے دور رہتا ہے ۔ خصوصا اس صورت میں کہ اللہ تعالیٰ نے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس قسم کے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں اور جن لوگوں کا ساتھی شیطان ہوجائے تو سمجھ لیں کہ وہ بہت ہی برا ساتھی ہے ۔ (آیت) ” ومن یکن الشیطن لہ قرینا فسآء قرینا “۔ (4 : 38) بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ آیات مدینہ کے بعض یہودیوں کے بارے میں وارد ہوئی ہیں کیونکہ ان میں جو صفات مذکورہ ہیں وہ یہودیوں پر پوری طرح منطبق ہوتی ہیں ‘ جیسا کہ وہ منافقین پر منطبق ہوتی ہیں ۔ جس دور میں یہ آیات نازل ہوئیں اس دور میں اللہ نے ان پر جو فضل وکرم کیا تھا ‘ وہ اسے چھپاتے تھے ۔ نیز اس سے مراد یہ بھی ‘ ہو سکتا ہے کہ وہ سچائی ہو جو انہیں دی گئی تھی انہوں نے اسے چھپا لیا تھا ۔ یعنی حضور اکرم ﷺ کی رسالت اور دین اسلام کے بارے میں جو پیشن گوئیاں ان کے ہاں تھیں ۔ لیکن آیت کی عبارت عام ہے اور بات یہاں مال اور فعل کے ذریعے احسان کی ہو رہی ہے ‘ لہذا مناسب ہے کہ آیت کے مفہوم کو عام ہی رہنے دیا جائے کیونکہ سیاق کلام کے ساتھ اس آیت کا عام مفہوم ہی زیادہ مناسبت رکھتا ہے ۔
جب ان لوگوں کے نفوس کا سرچاک ہوا ‘ جب ان لوگوں کے عمل کی فضیحت ظاہر ہوگئی اور ان کے اسباب یعنی انکار خدا ‘ انکار آخرت اور شیطان کی ہم نشینی اور اس کا اتباع بھی بیان کردیئے گئے اور اس کے بعد یہ بھی بتا دیا گیا کہ ان برائیوں کی سزا توہین آمیز عذاب ہے ‘ تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ استفہام انکاری کے انداز پوچھتے ہین۔
النساء 4:39
(آیت) ” وما ذا علیھم لو امنوا باللہ والیوم الاخر وانفقوا مما رزقھم اللہ وکان اللہ بھم علیما (39) ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضعفھا ویوت من لدنہ اجرا عظیما (40) (4 (39۔ 40)
” آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا ۔ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ‘ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اسے دوچند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے ۔
ہاں ‘ انہیں کیا ہوجاتا ۔ وہ کیا نقصان ہے ‘ جس کی بابت وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے سے ڈرتے ہیں ۔ جس کی بابت وہ انفاق کرنے سے ڈرتے ہیں ‘ یعنی اللہ کا دیا ہوا ‘ اللہ کے راستے میں ‘ اللہ تو اس چیز کو بھی جانتا ہے جو وہ خرچ کرتے ہیں اور ان اسباب اور دواعی سے بھی باخبر ہے جن کی وجہ سے وہ خرچ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو ذرہ برابر کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔ اس لئے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ اللہ کو ان کے ایمان اور ان کے انفاق کے بارے میں علم نہ ہو سکے گا ۔ اس لئے اللہ انہیں جو جزاء دے گا اس میں ظلم نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اس میں خاص اضافہ فرمائے گا ۔ نیکیاں زیادہ کردی جائیں گی اور اللہ اپنی جانب سے بلاحساب دے گا ۔
ایمان کا راستہ ہر صورت میں محفوظ اور مفید ہے ۔ یعنی مادی مفادات ونقصانات کے نقطہ نظر سے بھی ۔ اگر خالص مادی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو ایمان پھر بھی مفید اور محفوظ راستہ ہے ۔ اس لئے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں کیا نقصان ہوگا اگر وہ اللہ پر ایمان لائیں اور یوم آخرت پر یقین رکھیں اور انہیں اللہ نے جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کریں ۔ اس لئے کہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں ‘ اس میں سے کوئی چیز انکی پیدا کردہ نہیں ہے ۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ بطور برواحسان خرچ کرنے والوں کو کئی گنا اجر دیتا ہے اور اس پر اس کا فضل وکرم مستزاد ہوگا حالانکہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں وہ اللہ کے دیئے ہوئے سے خرچ کر رہے ہیں ۔ کیا ہی عظیم ہے اللہ کا فضل وکرم ۔ کیا ہی بہترین سودا ہے یہ ۔ اس سے تو کوئی جاہل ہی باز رہ سکتا ہے ۔
آخر میں اوامر اونوہی اور ترغیب اور تحریک کا خاتمہ مشاہد قیامت میں سے ایک منظر پر ہوتا ہے ۔ یہاں ان کے موقف کو مجسم شکل میں اور حرکت کرتے ہوئے زندہ کرداروں میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس طرح قرآن کریم ہمیشہ مشاہدات قیامت کو زندہ اور متحرک شکل میں پیش کرتا ہے ۔
النساء 4:40
(آیت) ” وما ذا علیھم لو امنوا باللہ والیوم الاخر وانفقوا مما رزقھم اللہ وکان اللہ بھم علیما (39) ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضعفھا ویوت من لدنہ اجرا عظیما (40) (4 (39۔ 40)
” آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا ۔ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ‘ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اسے دوچند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے ۔
ہاں ‘ انہیں کیا ہوجاتا ۔ وہ کیا نقصان ہے ‘ جس کی بابت وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے سے ڈرتے ہیں ۔ جس کی بابت وہ انفاق کرنے سے ڈرتے ہیں ‘ یعنی اللہ کا دیا ہوا ‘ اللہ کے راستے میں ‘ اللہ تو اس چیز کو بھی جانتا ہے جو وہ خرچ کرتے ہیں اور ان اسباب اور دواعی سے بھی باخبر ہے جن کی وجہ سے وہ خرچ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو ذرہ برابر کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔ اس لئے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ اللہ کو ان کے ایمان اور ان کے انفاق کے بارے میں علم نہ ہو سکے گا ۔ اس لئے اللہ انہیں جو جزاء دے گا اس میں ظلم نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اس میں خاص اضافہ فرمائے گا ۔ نیکیاں زیادہ کردی جائیں گی اور اللہ اپنی جانب سے بلاحساب دے گا ۔
ایمان کا راستہ ہر صورت میں محفوظ اور مفید ہے ۔ یعنی مادی مفادات ونقصانات کے نقطہ نظر سے بھی ۔ اگر خالص مادی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو ایمان پھر بھی مفید اور محفوظ راستہ ہے ۔ اس لئے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں کیا نقصان ہوگا اگر وہ اللہ پر ایمان لائیں اور یوم آخرت پر یقین رکھیں اور انہیں اللہ نے جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کریں ۔ اس لئے کہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں ‘ اس میں سے کوئی چیز انکی پیدا کردہ نہیں ہے ۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ بطور برواحسان خرچ کرنے والوں کو کئی گنا اجر دیتا ہے اور اس پر اس کا فضل وکرم مستزاد ہوگا حالانکہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں وہ اللہ کے دیئے ہوئے سے خرچ کر رہے ہیں ۔ کیا ہی عظیم ہے اللہ کا فضل وکرم ۔ کیا ہی بہترین سودا ہے یہ ۔ اس سے تو کوئی جاہل ہی باز رہ سکتا ہے ۔
آخر میں اوامر اونوہی اور ترغیب اور تحریک کا خاتمہ مشاہد قیامت میں سے ایک منظر پر ہوتا ہے ۔ یہاں ان کے موقف کو مجسم شکل میں اور حرکت کرتے ہوئے زندہ کرداروں میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس طرح قرآن کریم ہمیشہ مشاہدات قیامت کو زندہ اور متحرک شکل میں پیش کرتا ہے ۔
النساء 4:41
(آیت) ” فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشھید وجئنا بک علی ھولاء شھیدا (41) یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا “۔ (42) (4 : 41۔ 42)
” پھر سوچو کہ اس وقت یہ لوگ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں (یعنی آپ کو اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے ۔ اس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے ‘ تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے ۔
پہلی آیت میں بطور تمہید کہا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ‘ اس لئے قیامت میں مکمل عدالت ہوگی اور اللہ کے ترازو میں بال برابر بھی کھوٹ نہ ہوگا ۔ اور یہ کہ اللہ حسنات کو کئی گنا کر دے گا اور اس پر مستزاد اللہ کی جانب سے اہل ایمان پر فضل وکرم ہوگا ۔ اللہ کی رحمت ہوگی مگر ان لوگوں پر جو رحمت کے مستحق ہوں گے اور وہاں اللہ کا فضل بھی ہوگا مگر صرف ان لوگوں پر ہوگا جو اپنے ایمان کے ذریعے اللہ کے فضل کے امیدوار ہوں گے ۔
مگر ان دوسرے لوگوں کا حال کیا ہوگا جنہوں نے ایمان کی پونجی پیش نہیں کی اور انہوں نے عمل کا سرمایہ جمع نہیں کیا ۔ انہوں کفر اور بداعمالیاں جمع کیں ۔ اس دن پھر ان کا حال کیا ہوگا ؟ اس وقت جب ہم ہر قوم سے اس قوم کے خلاف ایک گواہ لائیں گے اور اسے محمد ﷺ تمہیں امت مسلمہ پر گواہ لائیں گے ۔
یہاں آکر قیامت کا منظر صاف صاف آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے ۔ یہ ایک وسیع میدان ہے ۔ تمام امتیں جگہ جگہ موجود ہیں اور ہر امت کے اعمال پر ایک گواہ پیش ہوگا ۔ یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ‘ فخر کیا ‘ غرور کیا ‘ بخل کیا ‘ بخل کے داعی رہے ۔ اللہ کے فضل کو چھپاتے رہے اور دکھاوا کرتے رہے اور کوئی کام رضائے الہی کے لئے نہ کرتے تھے ۔ یہ منظر کشی ایسی ہے کہ الفاظ کے اندر سے قریب سے قریب ہے کہ ہم انہیں دیکھ لیں ۔ وہ میدان میں کھڑے ہیں ‘ ہر امت کے رسول کو شہادت کے لئے بلایا جاتا ہے اور ہمارے رسول ﷺ کو بھی بلایا جاتا ہے اور یہ لوگ اپنے پورے کفر کے ساتھ ‘ اپنے تمام پوشیدہ اور ظاہری اعمال کے ساتھ ‘ اپنے پورے تکبر اور غرور کے ساتھ ‘ اپنی پوری کنجوسی اور دعوت بخل کے ساتھ اپنے خالق کی درگاہ میں کھڑے ہوں گے ۔ اس رازق کی عدالت میں ہوں گے جس کے فضل کو انہوں نے چھپایا اور اس کے دیئے ہوئے سے خرچ نہ کیا ۔ اب ان کے سامنے وہ دن (قیامت) ہے جس پر ان کا یقین نہ تھا ۔ پھر اسی رسول کی موجودگی میں انصاف ہوگا جس کا انہوں نے انکار کیا تھا ‘ پھر ان کا کیا حال ہوگا ؟
بیشک یہ لوگ عظیم شرمندگی اور ذلت سے دو چار ہوں گے ۔ شرمندگی اور ندامت سے انکے سرجھکے ہوں گے وہ اپنے گناہوں کا اعتراف کریں گے کیونکہ انکار سے انہیں فائدہ ہی کیا ہوگا ۔
قرآن کریم کی عبارت ان مضامین کو محض ظاہری انداز میں بیان نہیں کرتی بلکہ اسے ایک نفسیاتی تصویر کشی کے انداز میں بیان کیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے اوپر شرمندگی ‘ ذلت اور ندامت کے سائے صاف نظر آرہے ہیں ۔ ذرا الفاظ ملاحظہ کریں ۔
النساء 4:42
(آیت) ” یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا (4 : 42) ” اس وقت جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے ‘ تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے۔
اس زندہ اور متحرک انداز تعبیر کی جھلکیوں کے درمیان سے ہم ان تمام معانی کو پاتے ہیں اور یہ سب تاثرات کو چشم تصور سے دیکھ لیتے ہیں جو حشر میں کھڑے ان لوگوں کے چہروں سے عیاں ہوں گے ۔ یہ تاثرات ہم نہایت ہی گہرے ادراک کے ساتھ زندہ اور متحرک پاتے ہیں۔ دنیا کے تمام ادب پاروں کو کھنگال لیجئے ! آپ کو کسی بھی بیانیہ کلام یا تجزیہ نگاری میں یہ تاثر نہ ملے گا قیامت کے مناظر بیان کرتے ہوئے قرآن بطور خاص یہ انداز اختیار کرتا ہے اور قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی اس کے نمونے ملتے ہیں ۔
اس درس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ اللہ کی بندگی اور عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کرو ‘ نماز چونکہ اللہ کی بندگی اور عبادت کی محسوس ترین شکل ہے ‘ اس لئے اگلی آیت میں نماز کے بعض احکام کو بیان کیا جاتا ہے ۔ نیز نماز کی تیاری کے لئے طہارت کے بعض احکام بھی بیان ہوتے ہیں۔
النساء 4:43
یہ بھی جماعت مسلمہ کی تربیت کی ایک اہل کڑی ہے جسے اسلامی نظام حیات نے جاہلیت کی پستیوں سے سربلند کیا ۔ شراب نوشی جاہلی معاشرے کی ایک عام اور بنیادی عادت تھی بلکہ قدیم اور جدید جاہلیتوں کی یہ امتیازی خصوصیت رہی ہے ۔ رومی معاشرہ جب اپنی ترقی کے انتہائی عروج پر تھا تو شراب نوشی اس کی ممتاز ترین خصوصیات میں سے ایک تھی ، اسی طرح فارس کے جاہلی معاشرے کی اہم خصوصیات میں سے شراب نوشی ایک اہم خصوصیت تھی ۔ آج امریکی اور یورپین تہذیب اور جاہلیت اپنے عروج پر ہیں اور شراب نوشی انکی ممتاز ترین صفت ہے ۔ افریقہ میں جو ترقی یافتہ معاشرے گزرے ہیں ان کی خصوصیات میں بھی یہ اہم خصوصیت رہی ہے ۔
سویڈن آج کے ترقی یافتہ جاہلی ممالک میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہے گزشتہ صدی کے نصف آخر میں اس کا حال یہ تھا کہ اس کا ہر خاندان اپنے لئے مخصوص شراب استعمال کرتا تھا ۔ اور ان میں سے ہر فرد اوسطا بیس لیٹر شراب پیتا تھا ۔ حکومت سویڈن کو ان اعداد سے تشویش لاحق ہوئی کیونکہ اس کی وجہ سے لوگ نشے کے خطرناک حد تک عادی بنتے جارہے تھے ۔ حکومت نے یہ پالیسی اختیار کی کہ شراب خرید کر اسے سٹور کیا جائے ۔ اور انفرادی استعمال کے اعداد و شمار کی حد کو کم کرنے کی سعی کی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے عام مقامات پر شراب نوشی کی ممانعت کردی ۔ لیکن حکومت نے جلدی اپنے اقدامات سے رجوع کرلیا ہے اور عائد شدہ پابندیوں میں تخفیف کردی گئی ۔ ہوٹلوں میں شراب نوشی کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اگر کوئی کھانا کھائے تو شراب پی سکتا ہے ۔ اس کے بعد پبلک مقامات میں سے بعض مقامات پر اجازت دے دی گئی اور یہ اجازت بھی نصف رات تک دی گئی ۔ نصف رات کے بعد نبیذ اور بیر کے استعمال کی اجازت دی گئی لیکن نوجوانوں کے اندر شراب نوشی کی عادت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔
امریکہ میں ایک دفعہ حکومت نے اس بری عادت کو ختم کرنے کا ارادہ کیا ۔ 1919 ء میں اس نے قانون تحریم شراب نوشی پاس کیا ۔ اس قانون کو خشکی کا قانون کہا گیا ۔ اس لئے کہ اس نے شراب نوشی کے ذریعے آبپاشی کو منع کردیا ۔ یہ قانون صرف 14 سال تک چل سکا اور حکومت نے اسے 1923 ء میں منسوخ کردیا ۔ اس قانون کی حمایت میں حکومت امریکہ نے ریڈیو ‘ سینما ‘ تقاریر اور نشرواشاعت اور پروپیگنڈے کے جدید ترین وسائل استعمال کئے ۔ صرف شراب نوشی کے خلاف نشرواشاعت پر حکومت نے اس وقت 60 ملین ڈالر خرچ کئے اور جو کتابیں ‘ رسالے اور پمفلٹ شائع کئے گئے وہ دسیوں بلین صفحات پر مشتمل تھے ۔ اس قانون کے پاس کرنے کی وجہ سے حکومت کو 250 بلین پونڈ کے اخراجات بشکل تاوان دینے پڑے ۔ تین سو افراد لقمہ اجل بنے ۔ 335 ‘ 32 ‘ 5 افراد قید ہوئے ‘ 61 ملین پونڈ جرمانے ہوئے ‘ چار بلین اور 400 ملین پونڈ مالیت کی جائیدادیں ضبط ہوئیں ۔ لیکن ان اقدامات کے باوجود حکومت اس قانون کو منسوخ کرنے پر مجبور ہوئی اور اس نے پسپائی اختیار کی ۔
جاہلیت میں شراب نوشی ایک عادت تھی لیکن اسلام نے چند آیات نازل کر کے اس کا خاتمہ کردیا ۔ یہ ہے وہ فرق نفس انسانی اور انسانی معاشرے کے ساتھ اسلامی طرز عمل اور جاہلی طرز عمل اور طریقہ تربیت کا ۔ اور قدیم زمانے میں بھی یہ فرق تھا اور آج بھی یہ فرق اپنی جگہ قائم ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اسلام سے قبل دور جاہلیت میں شراب نوشی کا کیا حال تھا ؟ اس کی حقیقی صورت حال اس شخص کو معلوم ہوگا جو دور جاہلیت کے اشعار کا قدرے گہرا مطالعہ کرے گا ۔ ادبی موضوعات میں سے شراب اہم ترین موضوع رہا ہے جیسا کہ جاہلی زندگی میں یہ ایک اہم خصوصیت تھی ، شراب اس قدر فروخت ہوتی تھی کہ تجارت کا لفظ عام تجارت کے بجائے شراب کی فروخت کے ساتھ مخصوص ہوگیا ۔ مشہور شاعر ولید کہتا ہے۔
قد بت سامرھا وغایۃ تاجر
وافیت اذ رفعت رعز مدامھا :
(حیش و عشرت کی کئی ایسی راتیں میں نے قصہ گوئی میں بسر کیں اور ان میں شراب ایسے تاجروں کے پاس پہنچی جنہوں نے اپنی کالونی پر نئے نئے جھنڈے لگائے تھے اور پرانی شراب کے دام بہت ہی چڑھ گئے) عمرو ابن قمیہ کہتا ہے ۔
اذا اسحب الربط والمروط الی
ادنی تجاری وانفض اللمما :
ّ (اس جوانی کے وقت کو یاد کرو جب ریشم کے قیمتی کپڑے پہن کر اپنے قریب ترین شراب فروش کے پاس پہنچ جاتا تھا اور اپنے سر کے لمبے لمبے بالوں کو سر کی حرکت کی وجہ سے جھاڑتا تھا نشہ ‘ شراب اور غرور کی وجہ سے)
مجالس شراب نوشی کا بیان اور شراب نوشی پر فخر کے مضامین سے جاہلیت کے اشعار بھرین ہوئے اور یہ ان کی اہم ترین خصوصیات میں سے ایک ہے ۔ امراء القیس کہتے ہیں ۔
1۔ واصحبت ودعت الصباغیر اننی اراقب حلالت من العیش اربعا :
2۔ فمنھن قولی للندامی ترفقوا بداجون نشاجا من الخمر مترعا :
3۔ ومنھن رکض الخیل ترجم بالقنا یبادرون معربا امنا ان یفزعا :
(1) صبح ہوئی اور اس نے شراب کو الواداع کہہ دیا ‘ لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو زندگی کی چار صفات کو بہت پسند کرتا ہوں ۔
(2) پہلی یہ کہ اپنے ہم پیالہ می خواروں کو یہ
(3) ان میں سے ایک یہ کہ میں گھوڑا ایڑھی لگاؤں اور تیر پھینکتے ہوئے نیل گایوں کے ایسے گلے پر جھپٹ کر خوفزدہ کر دون جو نہایت ہی امن و سکون سے چر رہا تھا ۔
اور طرفہ ابن العبد کہتے ہیں :
فلولا ثلاث ھن من عیسۃ الفتی
وجدک لم احفل متی قام عودی :
اگر تین چیزیں نہ ہوتیں جو ایک نوجوان کے لئے سامان عیش ہیں تو تیرے سر کی قسم میں اپنی پوری زندگی میں کسی محفل میں شریک نہ ہوتا ۔
فمنھن سبق العاذلات بشربۃ
کمیت متی ماتعل بالماتزبد :
ان میں سے ایک یہ ہے کہ شرمسار کنندہ عورتوں سے بھی آگے بڑھ کر کلیجی رنگ کا جام اٹھا لیتا ہوں جس میں اگر پانی ڈالا جائے تو کف آجائے ۔
وما زال تشرب الخمور ولذتی
وبذنی وانفاقی طریفی وتالدی :
میں ہمیشہ شراب نوشی اور لذت نوشی کا عادی ہو اور مسلسل اپنی جدت دولت اور تازہ جمع کردہ مال کو خرچ کرتا رہتا ہوں ۔
الی ان تحامثنی العشیرہ کلھا
یہاں تک کہ ہر قبیلہ میری دشمنی پر اتر آیا اور میں اس طرح اکیلا ہوگیا ہوں جس طرح خارش زدہ اونٹ علیحدہ کردیا جاتا ہے ۔
اور اغشی کہتے ہیں :
فقد شرب الراح تعلمین
یوم المقام دیوما لظعن :
(میں شراب پیتا ہوں اور تمہیں خوب خبر ہے قیام کے دن بھی اور سفر کے دن بھی ۔
واشرب بالریف حی یقا
لی قد طال بالریف ما قد دجن :
اور میں سرسبزی اور شادابی میں بہت پیتا ہوں یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ اب کے موسم بہار کی بارشوں میں بہت عوانت ہوگئی ہے ۔
مخسل لیثکری کہتے ہیں ۔
(1) لقد شربت من المدامۃ بالصغیر وبالکبیر :
(2) فاذا سکرت فانی رب الخورنق والسدیر :
(3) واذا اصحوت فاننی رب الشویۃ والبعیر :
(1) میں ہمیشہ شراب نوشی کرتا ہوں ‘ چھوٹوں کے ساتھ بھی اور بڑوں کے ساتھ بھی ۔ (یعنی ہر محفل میں)
(2) اگر میں بےہوش ہوجاؤں تو حورنق اور سدیر نامی قلعوں کا مالک ہوں ۔ (یعنی ان قلعوں میں دادعیش دیتا ہوں اور اپنے آپ کو بادشاہ سمجھتا ہوں)
(3) اور اگر میں ہوش میں ہوا تو پھر میں بکریوں اور اونٹوں کا مالک ہوں ۔ (یعنی بکریاں اور اونٹ ذبح کرتا ہوں اور چراتا ہوں) ۔
تحریم شراب کے مختلف مراحل میں جو واقعات پیش آئے اور ان واقعات کا تعلق جن لوگوں سے ہے ‘ مثلا حضرت عمر ؓ علی ؓ حمزہ ؓ عبدالرحمن ؓ ابن عوف اور ان جیسے دوسرے مشہور صحابہ ؓ اجمعین ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریم شراب سے قبل اس کا رواج کس قدر زیادہ تھا ‘ خصوصا دور جاہلیت میں بعض واقعات مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر کافی ہیں ۔
حضرت عمر ؓ اپنے قصہ اسلام میں بیان کرتے فرماتے ہیں : ” میں جاہلیت میں شراب نوشی کا عادی تھا میں نے سوچا کہ فلاں شراب فروش کے پاس جاؤں اور شراب پی لوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “ اسلام میں بھی حضرت عمر ؓ شراب استعمال کرتے رہے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی :
(آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” لوگ آپ سے جوئے اور شراب کے بارے میں سوال کرتے ہیں ؟ کہہ دیں ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں اور ان کا گناہ انکے نفع سے بڑا ہے ۔ “ تو حضرت عمر ؓ نے دعا کی : ” اے اللہ ہمارے لئے شراب کے بارے میں کافی وشافی بیان نازل فرما دے ۔ “ اور آپ نے شراب نوشی کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ شراب کی حرمت کا صریح حکم نازل ہوا :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون (90) انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون “۔ (91) (5 : 90۔ 91) (شراب جوا اور آستانے اور پانسے شیطان کے ناپاک اعمال ہیں ‘ لہذا ان سے اجتناب کرو ‘ امید ہے کہ تم فلاح پالو گے ‘ بیشک شیطان صرف یہ چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے ذریعے بغض وعداوت پیدا کردے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے ۔ کیا تم اس سے باز آؤگے ؟ ) اس پر حضرت عمر ؓ نے کہا ہاں ہم باز آگئے باز آگئے اور اس کے بعد شراب نوشی سے رک گئے اور آیت (یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری “۔ (4 : 43) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اس وقت تک نماز کے قریب مت جاؤ جب تک تم نشے کی حالت میں ہو) کے بارے میں دو روایات وارد ہیں جن میں مہاجرین میں سے حضرت علی ؓ اور عبدالرحمن بن عوف اور انصار میں سے سعد بن معاذ شریک واقعہ ہیں ۔
ابن ابی حاتم ‘ یونس ابن حبیب ‘ ابو داؤد ‘ مصعب ابن سعد وہ اپنے والد سعد سے روایت کرتے ہیں کہ میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں ۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ ایک انصاری نے دعوت طعام تیار کی ۔ اس نے کچھ لوگ مہاجرین کے اور کچھ انصار کے بلائے ۔ ہم نے کھایا پیا یہاں تک کہ ہم مدہوش ہوگئے ‘ پھر اپنے اپنے بارے میں مفاخر بیان کرتے لگے ایک شخص نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی لی اور سعد کی ناک پر دے ماری ۔ چناچہ سعد مغروزالانف تھے ۔ یہ واقعہ شراب نوشی کی حرمت سے پہلے کا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (یایھا الذین امنوا لا تقربوا الصلوۃ وانتم سکری (4 : 43) یہ ایک طویل حدیث ہے جو امام مسلم نے شعبہ سے نقل کی ہے ۔
ابن ابی حاتم ‘ ابن عمار عبدالرحمن ابن عبداللہ دشت کی ابو جعفر ‘ عطاء ابو عبدالرحمن ؓ اجمعین کی سند سے حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ عبدالرحمن ابن عوف ؓ نے ہمارے لئے کھانا تیار کیا ۔ اس نے ہمیں دعوت دی اور شراب پلائی ‘ شراب نے ہمیں لے لیا ‘ اور نماز کا وقت ہوگیا ۔ لوگوں نے فلاں کو آگے کیا ۔ اس نے پڑھا ۔ (یایھا الکافرون ما اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون) اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی ۔ (یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (4 : 43) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اس وقت تک نماز کے قریب مت جاؤ جب تک تم نشے کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم جو کچھ پڑ تھے ہو اسے سمجھو “۔ ) میں سمجھتا ہوں کہ دور جاہلیت میں شراب نوشی کی کثرت اور وسیع استعمال کے ثبوت کے لئے اس سے زیادہ روایات کے بیان کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ روایات کافی ہیں ۔ شراب نوشی اور جوئے بازی کا رواج نہایت ہی وسیع تھا اور دور جاہلیت کی عادات وتقالید میں سے یہ دونوں عادتیں نہایت ہی ممتاز تھیں ۔
سوال یہ ہے کہ ربانی نظام حیات نے اس ممتاز اور نہایت ہی گہری صفت اور عادت کا علاج کس طرح کیا اور اس مصیبت کا دفعیہ کس طرح ہوگیا جس کے ہوتے ہوئے کوئی سنجیدہ استوار ‘ صالح اور دانشمند معاشرہ اٹھ ہی نہیں سکتا تھا ۔ اس قدیم اور بری لت کو اسلام نے کس طرح یکلخت ختم کردیا جس کے بعد پہلو قومی اجتماعی عادات سے وابستہ تھے اور حض پہلو قومی وذاتی اقتصادیات سے وابستہ تھے ۔
قرآن کریم نے اس بری عادت کو صرف چند آیات کے ذریعے جڑ سے اکھاڑ پھینکا ۔ نہایت نرمی ‘ نہایت ہمدردی کے ساتھ اور نہایت ہی تدریج کے ساتھ ۔ بغیر اس کے کہ کوئی جنگ لڑی جائے ‘ بغیر اس کے کہ اس کے لئے کوئی معرکہ آرائی کرنا پڑے اور بغیر اس کے کہ اس کے لئے کوئی معرکہ آرائی کرنا پڑے اور بغیر اس کے کہ اس کے لئے کوئی بڑی قربانی دی جائے یا خونریزی کی جائے ۔ اس سلسلے میں اگر کوئی قربانی دی گئی تو صرف یہ تھی کہ شراب کے مٹکے اور جام وسبو ٹوٹ گئے یا شراب کے وہ گھونٹ جو پینے والوں کے منہ میں تھے اور انہوں نے تھوک دیئے تھے اور کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ۔ یاد رہے کہ بعض لوگوں نے جب آیت تحریم شراب کے بارے میں سنا اور وہ شراب پی رہے تھے انہوں نے وہ گھونٹ بھی نہ پیا جو ان کے منہ میں تھا ۔ تفصیلات آگے آرہی ہیں ۔
مکہ جہاں اسلامی حکومت نہ تھی ‘ اور نہ مسلمانوں کو اقتدار حاصل تھا ‘ وہاں شراب کے بارے میں اسلامی نقطہ نظر کی طرف ایک سرسری اشارہ کیا گیا تھا ۔ یہ اشارہ سیاق کلام کے اندر ضمنی طور پر کیا گیا تھا لیکن صرف اشارہ ہی تھا مثلا سورت نحل میں آیا تھا ۔
(آیت) ” ومن ثمرت النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا “۔ (16 : 76) ” اور پھلوں میں سے کھجوریں اور انگور جس سے تم شراب اور رزق حسن حاصل کرتے ہو ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے شراب کو ‘ جو وہ کھجوروں اور انگوروں سے بناتے تھے ‘ رزق حسن کے بالمقابل بیان کیا ۔ گویا شراب رزق حسن نہ تھی ‘ یا رزق حسن سے کوئی علیحدہ شے تھی ۔ یہ دور سے ایک اشارہ تھا ۔ اور اس کے ذریعہ ایک بات ایک نوخیز مسلمان کے شعور کے اندر غیر محسوس طور پر بٹھا دی گئی ۔ لیکن شراب نوشی کی عادت ایک انفرادی بدعملی نہ تھی بلکہ یہ تو اس سے زیادہ برا اور گہرا معاشرتی جرم تھا اور عادت بد تھی جبکہ اس کا تعلق اقتصادی امور سے بھی تھا ۔ اس لئے اس کا قلع قمع ایسے بالواسطہ اشارات کے ذریعے نہ کیا جاسکتا تھا ۔
مدینہ طیبہ میں جہاں ایک اسلامی حکومت قائم ہوگئی تھی اور اسلام کی پشت پر اقتدار بھی تھا تب بھی اسلام نے شراب کی حرمت کے احکام محض قانون کے ڈنڈے کے ذریعے بشکل فرمان حکومت نافذ نہیں کیے ۔ اس میں سب سے زیادہ کام قرآن کی قوت تاثیر نے کیا یہ کاروائی نہایت ہی نرمی اور محبت کے انداز میں شروع کی گئی اور انسانی نفسیات کے گہرے مطالعے کی اساس پر شروع کی گئی ۔ نیز اجتماعی امور کے بعد بصیرت افروز حقیقی تقاضوں کے مطابق کی گئی ۔ سب سے پہلے اس سلسلے میں سورة بقرہ کی یہ آیت آتی ہے :
(آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ کہہ دیں ان میں بہت بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے منافع ہیں لیکن ان کا گناہ انکے نفع سے بہت بڑا ہے) یہ ایک سوال کا جواب تھا جس کے ذریعے شراب اور جوئے کے خلاف مسلمانوں کے ضمیر اور شعور کو بیدار کرنا شروع کیا گیا ۔
یہ پہلی گھنٹی تھی جو اسلامی معاشرے میں شراب نوشی کے خلاف سنی گئی ۔ اسلامی احساس اور اسلامی شعور کے اندر ایک ارتعاش پیدا ہوا ۔ اور اسلامی فہم اور ادراک کو شراب نوشی اور جوئے کے خلاف بیدار کیا گیا ۔ یہ بتایا گیا کہ اسلام میں حلت اور حرمت کا مدار گناہ اور ثواب پر ہے ۔ اگر اس کے منافع کے مقابلے میں نقصان بہت زیادہ ہے اور گناہ بہت بڑا ہے تو اب راستہ یہی ہے کہ اسے حرام ہونا چاہئے ۔
لیکن یہ معاملہ نہایت ہی گہرا تھا ‘ حضرت عمر ؓ جیسے لوگ شراب کے عادی تھے ‘ اس آیت کے نزول پر آپ نے دعا کی : ” اے اللہ شراب کے بارے میں ہمیں کافی اور شافی بیان دے دے ۔ “ یہ دعا حضرت عمر ؓ کی طرف سے تھی اور اس سے اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے کہ شراب نوشی عربوں کے رگ وپے میں کس قدر سرایت کرگئی تھی ۔ اس کے بعد وہ واقعات پیش آئے جن کا ذکر ہم نے اوپر کردیا ہے اور اس نے بعد میں یہ آیت آئی ۔
(یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری “۔ (4 : 43) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اس وقت تک نماز کے قریب مت جاؤ جب تک تم نشے کی حالت میں ہو) اور یہ بصیرت افروز اور حکیمانہ نظام زندگی اپنا کام کرتا رہا ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ ۔ یہ ایک درمیانی مرحلہ تھا ‘ پہلے تو اس فعل شنیع کے خلاف نفرت پیدا کی گئی کہ یہ ایک گناہ اور ناپاک عمل ہے ‘ لیکن اب ایک محدود پابندی عائد کردی گی اور نشے کے اوقات کے اندر تحدید کردی گئی ۔ اس لئے کہ نماز کے اوقات ایک دوسرے کے بہت ہی قریب ہوتے ہیں ۔ اور یہ پورے دن پر پھیلے ہوئے ہیں اور دو نمازوں کے درمیان اس قدر طویل وقفہ نہیں ہوتا کہ کوئی شراب پئے اور اس کا نشہ ٹوٹ جائے اور وہ نماز باجماعت پڑھ سکے اور اس حال میں واپس آجائے کہ وہ نماز میں جو کچھ پڑھے اسے اس کا اچھی طرح علم و شعور ہو ۔ جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ شراب نوشی کے لئے خاص اوقات ہوتے ہیں یعنی صبح وشام ۔ صبح ہوتے ہی نماز کا وقت ہوتا ہے اور شام کے وقت بھی تین نمازوں کے اوقات جمع ہوتے ہیں ۔ اس لئے ایک مسلمان کے ضمیر کو یہ فیصلہ کرنا ہوتا تھا کہ وہ شراب پئے یا نماز پڑھے ۔ اور نماز چونکہ ان کے نزدیک دین کا مرکزی ستون بن چکی تھی ‘ اس لئے وہ نماز کے حق میں ہی فیصلہ کرتے تھے لیکن اس کے باوجود حضرت عمر ؓ نے شافی و کافی بیان کی ضرورت محسوس کی ۔
وقت اسی طرح آگے بڑھتا رہا ۔ کچھ مزید واقعات در پیش ہوئے اور وقت آگیا کہ شراب نوشی کو قطعا حرام کردیا جائے ۔ یہ قرآنی نظام حیات کے عین مطابق کیا گیا اور نہایت ہی موزوں موقعہ پر شراب نوشی کی عادت پر یہ فیصلہ کن وار کیا گیا ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون (90) انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون “۔ (91) (5 : 90۔ 91) (بےشک شراب اور جوا اور آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے اجتناب کرو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ‘ شیطان صرف تو چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روک دے ۔ کیا تم اس سے باز رہو گے ؟ )
(آیت) ” وعد اللہ الذین امنوا وعملوا الصلحت لھم مغفرۃ واجر عظیم “۔ (5 : 9) ” تمام مسلمان اس چیزوں سے باز آگئے ۔ شراب کے مشکزے انڈیل دیئے گئے اور ہر جگہ شراب کے خم توڑ دیئے گئے ۔ یہ کام صرف آیت سنتے ہی عمل میں لایا گیا اور جن لوگوں کے منہ میں شراب کے گھونٹ تھے وہ بھی انہوں نے تھوک دیئے ‘ عین اس وقت جب وہ شراب پی رہے تھے اور ان کے منہ کے ساتھ پیالہ تھا ۔ یہ تھی قرآن کریم کی فتح و کامرانی اور اسلامی نظام زندگی کی کامیابی ۔ نہ کوئی جبر ہوا اور نہ کوئی تشدد۔
لیکن یہ کام کیونکر ہوگیا ؟ یہ معجزہ کس طرح رونما ہوا ‘ جس کی کوئی نظیر انسانی تاریخ کے اندر نہیں ملتی ۔ قانون سازی ‘ ضابطہ بندی اور حکومت کے اقدامات کے اندر اس کی کوئی مثال نہیں ہے ۔ کسی زمانے میں بھی اور کسی دور میں بھی ۔ بہرحال یہ معجزہ رونما ہوا ‘ اس لئے کہ ربانی نظام حیات نے انسانی نفس کا علاج کیا ‘ اپنے مخصوص انداز میں ‘ نفس انسانی پر ربانی اقتدار نافذ کیا ۔ اس پر خدا ترسی کا نگران بٹھایا اور اللہ کا خوف ایک ایسا خوف ہوتا ہے کہ جس کے دل میں بیٹھ گیا وہ کسی وقت کسی جگہ ایک لمحے کے لئے بھی اس سے غافل نہیں ہوسکتا ۔ یہ ربانی نظام تربیت انسان کو بحیثیت مجموعی لیتا ہے اور اس کی تربیت نہایت ہی فطری انداز میں کرتا ہے ۔
شراب نوشی کی حرمت کی وجہ سے ان کی اجتماعی زندگی کے اندر جو خلا پیدا ہوگیا تھا ‘ اسلام نے اس خلا کو بعض اونچے مقاصد عطا کر کے پر کردیا اور ان کو اپنے خالی اوقات میں شراب کی مدہوشی اور جاہلانہ فخر ومباہات کے اظہار کے مواقع ہی نہ چھوڑے اور محافل میں کبر و غرور کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہنے دی ۔
وہ بلند مقاصد کیا تھے ؟ مثلا یہ کہ اسلام نے اس گم کردہ راہ اور دھتکاری ہوئی انسانیت کو جاہلیت کے بےآب وگیاہ صحراء اور اس کی تپتی ہوئی دوپہر اور اس کے تاریک ترین اندھیروں اور اس کی حقارت آمیز غلامی اور تنگ راہوں کی گھٹن سے نکالا اور اسے اسلام کے تروتازہ گلستان ‘ اس کی گھنی چھاؤں اس کے روشن دنوں ‘ اور اس کی عزت مآب آزادیوں اور دنیا اور آخرت کی وسعتوں کے اندر داخل کردیا ۔
اسلام نے عربوں کی زندگی کے اس خلاء کو تروتازہ ایمان سے بھر دیا ۔ عربوں کے دل میں ایک تازہ اور نوخیز شعور پیدا ہوا جو انکے لئے نہایت ہی پیارا تھا ۔ اس سے انہیں شراب نوشی کی آغوش میں پناہ لینے کی ضرورت ہی نہ رہی کہ وہ جھوٹے تخیلات میں گم ہو کر سکون پائیں ‘ ان کے قلوب مشعل ایمان کے ساتھ ملاء اعلی کی روشن دنیا کی طرف محو پرواز ہوں اور اللہ جل شانہ کے نور میں اور اللہ کے وصال اور اس کی معرفت میں زندگی بسر کر رہے ہوں ۔ وصال باری تعالیٰ سے لذت آشنا ہوں اور اس لذت کی وجہ سے وہ اپنے منہ کے اندر موجود جرعہ شراب کو بھی زمین پر پھینک رہے ہوں ۔ اور اس کے نشے اور مزے کو نظر انداز کر رہے ہوں ‘ اور آخر کار اس کے جوش اور اس کے سکون دونوں سے نفرت کر رہے ہوں۔
اسلام نے ایک مسلمان کی شخصیت کو جاہلیت کی دبیز تہوں سے نکال دیا ۔ اس کے لئے ایسی راہیں کھول دیں جو اسلام کی کنجی کے بغیر کھل ہی نہ سکتی تھیں ۔ وہ اس کے میلانات اور رجحانات کے ساتھ چلا اور اسلام کے طریقوں اور راہوں پر چل کر پسندیدہ روشن اختیار کی ۔ نور پھیلاتے ہوئے ‘ حیات نو عطا کرتے ہوئے ‘ نظافت اور پاکیزگی پھیلاتے ہوئے ‘ ہمت اور بیداری پیدا کرتے ہوئے ‘ بھلائی کے لئے آگے بڑھتے ہوئے اور اللہ کے ساتھ عہد اور شرائط ایمان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ۔
شراب جوئے کی طرح ہے اور یہ دونوں لہو ولعب کے جدید مظاہر ومشاہد کی طرح ہیں ۔ مثلا جمناسٹک کے جنونی طور طریقے ‘ اور ان کے سٹیڈیم اور دوسرے اخراجات ‘ دوڑوں کے مقابلے ‘ سینما اور مرد وزن کے درمیان اختلاط ‘ بیلوں کے مقابلے اور لہو ولعب کے وہ تمام نئے انداز جو جدید جاہلیت کے لوازمات ہیں ۔ جسے صنعتی جاہلیت کہنا زیادہ مناسب ہے ۔
یہ تمام مظاہر دراصل روحانی خلا کے مظاہر ہیں ۔ یہ ایمان کی کمی کو پورا کرنے کی سعی لاحاصل ہے ۔ بلند مقاصد اور بلند نصب العین کو پیش نظر نہ رکھنے کا نتیجہ ہے ۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ تہذیب جدید ایک مفلس اور تہی دامن تہذیب ہے اور اس جدید کلچر کے اندر انسان کی تمام ضروریات کا سازوسامان موجود نہیں ہے اور یہ روحانی خلا اور یہ بلند مقاصد کی تہی دامنی ہی ہے جس کی وجہ سے لوگ جوئے اور شراب کی گود میں پناہ لیتے ہیں ۔ اس خلا کو جوئے ‘ شراب اور دوسرے لہو ولعب سے بھرنے کی سعی کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ مغربی کلچر اس خلا کو ہر قسم کے لہو ولعب اور غیر فطری سرگرمیوں سے بھر رہا ہے ۔ جیسا کہ اوپر ہم نے تفصیلا بتایا ۔ یہ دو امور ایسے ہیں جن کی وجہ سے انسان بیشمار نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوتا ہے اور اخلاقی بےراہ روی اختیار کرتا ہے ۔
یہ چند الفاظ تھے جن کے نتیجے میں شراب کے قلع قمع کرنے کا معجزہ صادر ہوا ۔ یہ تو ایک نظام حیات تھا ‘ یہ ایک منہاج تھا اور یہ منہاج ان کلمات کے اندر بیان ہوا تھا اور یہ منہاج اللہ رب العالمین کا بنایا ہوا تھا ۔ یہ انسانوں کا بنایا ہوا نہ تھا اور یہ وہ نکتہ امتیاز ہے ۔ ان نظامہائے زندگی کے درمیان جو لوگوں کے بنائے ہوئے ہوتے ہیں اور اس نظام کے درمیان جو اللہ کا بنایا ہوا ہے ۔ ظاہر ہے کہ انسانی نظام کامیاب نہیں ہوتے ۔
یہ محض کلام اور طریقہ اظہار مقصد کا مسئلہ نہیں ہے ۔ اظہار مافی الضمیر کے لئے تو بیشمار اسلوب ہیں ۔ بعض فلاسفہ بہت ہی اچھا لکھتے ہیں ٗ شعرا میں سے فلاں بہت ہی اچھا شعر کہتا ہے یا مفکرین میں سے فلاں بہت ہی اعلی درجے کا قلمکار ہے ۔ یہ فلاں بادشاہ ادب ہے اور ایسا لکھتا ہے کہ وہ صاحب طرز ہے ‘ صاحب نظریات ہے اور فلسفے کی ایک نئی شاخ کا بانی ہے ۔ لیکن لوگوں کے ضمیر پر اس کے الفاظ کا اثر نہیں ہوتا اس لئے کہ اس کلام پر اللہ کی جانب سے کوئی قوت القا نہیں ہوتی ۔ (آیت ) ” ما انزل اللہ بہ من سلطن “۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر بات کے پیچھے ایک مقصد ہوتا ہے جو اسے قوت اور گرفت عطا کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر انسانی منہاج حیات ضعیف ‘ جہالت پر مبنی ‘ نقائص سے بھرپور اور بنانے والے انسان کی ذاتی خواہشات پر مبنی ہوتا ہے ۔
معلوم نہیں کہ اس حقیقت کو وہ لوگ کب پاسکیں گے جو لوگوں کی زندگیوں کے لئے خود نظام تجویز کرتے ہیں جو اللہ علیم وخبیر کے نظام سے بالکل علیحدہ ہوتا ہے ۔ اور وہ ایسے قوانین بناتے ہیں جو حکیم وخبیر نے نہیں بنائے اور وہ لوگوں کے لئے ایسے نشانات نصب کرتے ہیں جو خالق ارض وسما نے نصب نہیں کئے ۔
معلوم نہیں کب یہ لوگ عقل کے ناخن لیں گے ۔ وہ اپنے اس کبر و غرور سے کب باز آئیں گے ؟ اب ہم اس آیت کریمہ کے متن کی طرف آتے ہیں :
(آیت) ”۔ یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون ولا جنبا الا عابری حتی تغتسلوا “۔ (4 : 43)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ ۔ نماز اس وقت پڑھنی چاہئے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو ‘ اور اسی طرح جنابت کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک غسل نہ کرلو ‘ الا یہ کہ راستے سے گزرتے ہو “۔
آیت میں اہل ایمان کو جس طرح شراب نوشی کی حالت میں نماز سے روکا گیا ہے ‘ اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی نماز سے روکا گیا ہے الا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو ۔ جنابت کی حالت میں غسل ضروری ہے ۔ لفظ (عابری سبیل) کے مفہوم میں مختلف اقوال ہیں ۔ اسی طرح نماز کے قریب مت جاؤ کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے ۔
ایک قول یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں مسجد میں نہیں جانا چاہئے نہ مسجد میں ٹھہرنا چاہئے یہاں تک کہ ایک شخص غسل کرے ۔ الا یہ کہ کوئی مسجد سے محض گزر رہا ہو ۔ بعض لوگوں کے دروازے مسجد نبوی میں کھلتے تھے ‘ اور ان کے گھر کے آنے اور جانے کا راستہ مسجد ہی سے ہو کر گزرتا تھا ‘ ایسے لوگوں کو مسجد سے حالت جنابت میں صرف گزرنے کی اجازت دے دی گئی تھی مگر ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نماز تو بہرحال ممنوع تھی ‘ جب تک غسل نہ کرتے ۔
ایک قول کے مطابق مفہوم یہ ہے کہ اس سے مراد نماز ہے ۔ یعنی یہ ممانعت کی گئی ہے کہ حالت جنابت میں نماز کے قریب نہ جاؤ جب تک غسل نہ کرلو ‘ ہاں اگر تم مسافر ہو تو پھر بغیر غسل کے تم مسجد میں جا کر نماز ادا کرسکتے ہو مگر تیمم کے بعد ‘ جو غسل کے قائم مقام ہوگا جس طرح پانی نہ ہونے کی شکل میں وضو کی جگہ تیمم جائز ہوتا ہے ۔
پہلا قول زیادہ ظاہر اور قریب الفہم ہے۔ اس لئے کہ دوسرے قول کے مطابق جو تفسیر بیان ہوئی اس میں بیان شدہ صورت کو خود اگلی آیت میں واضح کیا گیا ہے ۔ اگر (عابری سبیل) کی تفسیر یہ کی جائے کہ اس سے مراد مسافر ہیں تو اس صورت میں تکرار لازم ہوگا اور ایک ہی آیت میں تکرار بلاضرورت ہوگا ۔
(آیت) ” وان کنتم مرضی او علی سفر او جآء احد منکم من الغائط اولمستم النسآء فلم تجدوا مآء فتیمموا صعیدا طیبا فامسحوا بوجوھکم وایدیکم ان اللہ کان عفوا غفورا (4 : 43)
” اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو ‘ یا سفر میں ہو ‘ یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے ‘ یا تم نے عورتوں سے لمس کیا ہو ‘ اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو ‘ بیشک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے ۔ ‘
اس آیت میں مسافر کی حالت کے بارے میں احکام بیان ہوئے ہیں کہ جب کسی کو حاجت غسل لاحق ہوجائے ‘ یا وضو کی ضرورت لاحق ہوجائے ‘ اور وہ نماز ادا کرنا چاہتا ہو ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح کوئی مریض ہو ‘ اور اسے وضو کی یا غسل کی ضرورت پیش آجائے یا کوئی قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آیا ہو اور اسے وضو کی ضرورت ہو ‘ یا اس نے عورتوں سے لمس کیا ہو ۔۔۔۔۔ ان سب صورتوں میں اگر پانی نہ ملے تو وہ پاک مٹی سے تیمم کرکے نماز پڑھے ۔
الغائط کا مفہوم ہے ۔ ‘ نشیبی جگہ ۔ چونکہ دیہاتی لوگ قضائے حاجت کے لئے نشیبی جگہ کو جاتے ہیں ‘ اس لئے فعل قضائے حاجت کی تعبیر مکان فعل سے کردی گئی ۔ اور (آیت) ” لمستم النسآئ “۔ کی تفسیر میں بھی کئی اقوال ہیں : ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد مباشرت ہے ‘ جس کی وجہ سے غسل واجب ہوتا ہے ۔ دوسرا قولیہ ہے کہ اس سے حقیقی لمس مراد ہے یعنی چھونا ۔ یعنی مرد کے جسم کا کوئی حصہ عورت کے جسم سے مس کرے ۔ بعض فقہی مذاہب کے مطابق اس سے وضو لازم آتا ہے ۔ لیکن بعض کے نزدیک یہ ناقض وضو نہیں ہے ‘ اس کی تفصیلات تو کتب فقہ میں پائی جاتی ہیں ۔ ہم یہاں اجمالا بعض نتائج کا ذکر کرتے ہیں ۔
(الف) لمس سے مطلقا وضو واجب ہے ۔
ّ (ب) لمس سے اس وقت وضو واجب ہوگا جس لامس کے جسم میں اشتہاء پیدا ہوجائے اور اس طرح یہ بھی شرط ہے کہ جس عورت کے ساتھ لمس ہو وہ بھی شہوت انگیزی کے قابل ہو۔
(ج) لمس سے وضو اس وقت واجب ہوگا جب لامس یہ محسوس کرے کہ اس لمس کی وجہ سے اس کا نفس متحرک ہوگیا ہے ۔
(د) لمس سے مطلقا وضو واجب نہیں ہے اور نہ ہی بیوی سے معانقہ کرنے یا بوسہ لینے سے وضو واجب ہوگا ۔
ان اقوال میں سے ہر قول کے قائلین نے نبی ﷺ کے اقوال اور افعال سے استدلال کیا ہے جس طرح فقہی مسائل کے استدلال میں بالعموم کیا جاتا ہے ۔ میرے خیال میں (آیت) ” لمستم النسآء “۔ سے بطور کنایہ وہ فعل مراد ہے جس سے غسل لازم آتا ہے اس لئے ان اختلاف کے ذکر کی ضرورت ہی نہیں ہے جو وضو کے سلسلے میں کتب فقہ میں مذکور ہیں ۔
ان تمام حالات میں ‘ چاہے غسل واجب ہو یا وضو واجب ہو اور پانی دستیاب ہو یا پانی دستیاب نہ ہو لیکن اس کا استعمال موجب مضرت ہو اور انسان کے لئے اس کا استعمال ممکن نہ ہو تو وضو کرنے یا غسل کرنے کے بجائے انسان کے لئے تیمم جائز ہے ۔ اور تیمم کا ذکر آیت کے الفاظ (آیت) ” فتیمموا صعیدا طیبا “۔ (4 : 43) (پس پاک مٹی سے تیمم کرو) میں آتا ہے ۔ تیمم کے لفظی معنی قصد کرنے کے ہیں یعنی پاک مٹی کا ارادہ کرلو ۔ صعید ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو مٹی کی قسم سے ہو مثلا مٹی ، پتھر ‘ دیوار ‘ اگرچہ مٹی سواری کی پشت پر ہو ‘ یا فرش اور دوسری چیزوں پر جن پر غبار ہو اور جب ہاتھ مارا جائے تو غبار اڑ رہا ہو۔
تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھوں سے پاک مٹی کو تھپکی دے ‘ پھر ہاتھوں کو جھاڑ دے اور چہرے پر مل دے ۔ پھر دوسری تھپکی دے ‘ ہاتھوں کو جھاڑ دے اور ان کو دونوں ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کر دے ۔ اور یا صرف ایک ہی تھپکی سے چہرے اور دونوں ہاتھوں کو مسح کر دے ۔ (مطابق اختلاف فقہائ) اس سے زیادہ مزید فقہی اختلافات کے لئے یہاں گنجائش نہیں ہے ۔ اس لئے کہ تیمم شروع ہی لوگوں کی آسانی کے لئے ہوا ہے اور یہ آسانی پیدا کرنے کی واضح مثال ہے ۔
(آیت) ” ان اللہ کان عفوا غفورا “۔ (4 : 43) (بےشک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور معاف کرنے والا ہے) اس اختتامیہ سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ نرمی کرنے والا ہے ۔ وہ ضعیف پر رحمدلی فرماتا ہے ‘ قصوروں کو معاف فرماتا ہے ‘ اور کوتاہیوں کو بخش دیتا ہے ۔
اس سے پہلے کہ ہم اس آیت پر کلام ختم کریں یہاں چند امور پر نظر دوڑانا ضروری ہے ۔ آیت نہایت ہی مختصر ہے لیکن اس پر غور ضروری ہے ۔ مثلا تیمم کی حکمت پر غور ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دین میں کس قدر نرمی فرمائی ہے ۔
بعض لوگ اسلامی شریعت کی حکمت اور اسلامی عبادات کے اسرار پر جب کلام کرتے ہیں تو وہ اس قدر آگے چلے جاتے ہیں اور احکام کے علل اور حکم بیان کرتے وقت یہ تاثر دیتے ہی کہ گویا انہوں نے شریعت کے تمام رازوں کا استقصا کرلیا ہے اور اب ان احکام اور عبادات کے پیچھے مزید کسی حکمت کی تلاش کی ضرورت نہیں ہے ۔ قرآنی آیات ‘ شرعی احکام اور اسلامی عبادات پر کلام کرنے کا یہ انداز نہایت ہی غیر صحت مندانہ ہے ۔ ہاں یہ اور بات کہ کسی شرعی حکم کی علت اور حکمت خود منصوص ہو اور اس کی صراحت خود شارع نے کردی ہو ۔ مناسب یہ ہے کہ ہم کہیں کہ یہ ہے وہ بات جسے ہم بطور حکمت حکم یا بطور علت حکم سمجھ سکے ہیں ۔ ایسے مزید اسرار بھی ہو سکتے ہیں کہ ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ہم پر ان کو منکشف نہ کیا ۔ صرف اسی طرح ہم عقل انسانی کو اپنے صحیح مقام تک محدود رکھ سکتے ہیں شرعی نصوص کے حوالے سے بغیر افراط اور تفریط کے اور اپنے دائرے اور حدود کے اندر رہتے ہوئے ۔
میں یہ کہوں گا کہ بعض اہل اسلام لوگوں کے سامنے آیات و احادیث پیش کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کی متعین حکمت بھی بیان کرتے ہیں ‘ ان لوگوں میں بعض مخلصین بھی شامل ہیں یہ حکمت انسانی علم یا دور جدید کے سائنسی اکتشافات پر مبنی ہوتی ہے ۔ یہ بات بذات خود کوئی بری بات نہیں ہے لیکن اس حکمت کو اپنے حدود کے اندر رہنا چاہئے ۔ وہ حدود یہ ہیں جس کی طرف گزشتہ سطور میں ہم نے اشارہ کیا ہے ۔
اکثر اوقات اس بات کا ذکر کیا جاتا ہے کہ نماز سے پہلے وضو اس لئے فرض کیا گیا ہے کہ یہ صفائی کا ایک ذریعہ ہے ۔ یہ مقصد بھی پیش نظر ہو سکتا ہے لیکن یہ کہنا کہ وضو سے مقصود صرف صفائی ہی ہے اور کچھ نہیں تو یہ نہج کلام غیر صحت مندانہ ہوگا اور ویسے بھی یہ کوئی صحیح طرز استدلال نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اب ایسا وقت بھی آگیا ہے کہ بعض نام نہاد دانشور یہ کہنے لگے ہیں کہ صفائی حاصل کرنے کا یہ نہایت ہی ابتدائی تصور اور طریقہ تھا ‘ اب اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ آج کل صحت وصفائی کے دوسرے ذرائع بہت ہی عام ہیں ۔ آج لوگ صفائی وصحت کو اپنے روز مرہ کے پر ورگرام کا حصہ بنا رہے ہیں ۔ اگر وضو کا مقصد صرف حصول صفائی ہے تو اب وضو کی ضرورت کیا ہے بلکہ اب تو نماز کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔
اکثر لوگ نماز کی حکمت کے سلسلے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ ورزش کی حرکات ہیں جس سے پورا جسم حرکت کرتا ہے بعض لوگوں نے یہ لکھا ہے کہ نماز کی وجہ سے انسان کی زندگی منظم ہوجاتی ہے اور وہ ایک منظم زندگی گزارنے کا عادی ہوجاتا ہے کیوں کہ نماز مقررہ وقت پر ادا ہوتی ہے اور اس کے اندر مقررہ انداز میں رکوع اور سجود ہوتے ہیں ۔ اس میں صفیں اور امامت ہوتی ہے ۔ یہ حکمت بھی ہوتی ہے کہ نماز کے ذریعے انسان خدا تک پہنچتا ہے اور اللہ کے ساتھ راز ونیاز کی باتیں ہوتی ہیں ۔ یہ تمام حکمتیں مقصود ہو سکتی ہیں لیکن ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ ان میں سے کونسی حکمت مراد ہے یا یہی حکمت مقصود ہے ؟ اگر ہم کوئی بات متعین کرکے کہیں تو یہ انداز غیر صحت مندانہ ہوگا اس لئے کہ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ بعض لوگوں نے یہ کہا کہ نماز کی ورزشی حرکات کی اب کیا ضرورت ہے ۔ اب تو ورزش ایک فن بن چکی ہے اور ہر شخص اس پر عمل کرسکتا ہے ۔
اسی طرح یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اب محض زندگی کو منظم کرنے کے لئے ہمیں نماز کی ضرورت نہیں ہے اس لئے کہ نماز سے بھی زیادہ فوجی نظام کے ذریعے زندگی کو منظم اور باقاعدہ بنایا جاسکتا ہے ۔
بعض لوگ تو ایسے پیدا ہوگئے جنہوں نے یہ قرار دیا ہے کہ تعلق باللہ کے لئے بھی نماز کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اتصال باللہ بذریعہ تنہائی اور مراقبہ بھی ممکن ہے اور اب نماز جیسی ورزشی حرکات کی ضرورت نہیں ہے ‘ اس لئے کہ جسمانی حرکات بعض اوقات روحانی تصور اور مراقبے کی راہ میں حائل ہوتی ہیں ۔
ان خطوط پر اگر ہم ہر عبادت اور ہر حکم کے اسرار و رموز متعین کرتے جائیں اور ہر حکم کی علت اپنے فہم وادراک سے متعین کرنے لگیں یا جدید سائنسی اکتشافات کے اندر حکمتوں کی تلاش کریں اور پھر یہ اعلان کریں کہ یہی وہ حکمت ہے جو اس حکم کے اندر پنہاں ہے یا اس حکم کا یہی سبب اور علت ہے تو یقینا ہم صحت مند لائن سے ہٹ جائیں گے اور ان لوگوں کے لئے راہ کھول دیں گے جو نام نہاد دانشور ہیں ‘ اور پھر خود ہماری یہ قرار دادیں اور فیصلے ‘ ضروری نہیں ہے کہ درست ہوں ۔ ان میں غلطی بھی ممکن ہے خصوصا جب ہم ان حکمتوں کو سائنسی اکتشافات سے مربوط کردیں ‘ اس لئے کہ سائنسی علوم ونظریات آئے دن بدلتے رہتے ہیں اور ہر وقت یہ نظریات تصحیح اور تبدیلی کے قابل ہوتے ہیں اور ان میں ترمیم وتنسیخ کا یہ عمل مسلسل جاری رہتا ہے ۔
یہاں زیر بحث موضوع تیمم ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو اور غسل کی حکمت صرف نظافت ہی نہیں ہے ۔ اگر یہی بات ہوتی تو ان دونوں کی جگہ تیمم نہ لیتا ۔ کیونکہ اس سے کوئی صفائی حاصل نہیں ہوتی ۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم نظافت کے علاوہ بھی وضو اور غسل کی کوئی حکمت تلاش کریں جو وضو اور غسل کی طرح تیمم میں بھی ہو۔
ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہم خود اس غلطی کا ارتکاب کریں جس کی نشاندہی ہم خود کر رہے ہیں ۔ لیکن ہم یہ کہیں گے کہ ہو سکتا ہے کہ حکمت یہ ہو کہ انسان اپنے آپ کو نفسیاتی اعتبار سے نماز کے لئے تیار سمجھے ۔ اور یہ تیاری کسی سنگل پر مبنی ہو اور اس سگنل کے ذریعہ انسان اپنی روز مرہ کی حرکات و سکنات کو ترک کرکے اللہ کے دربار میں حاضری اور ملاقات کی فضا میں داخل ہوجائے اور وضو ‘ غسل اور تیمم اس داخلہ کے لئے سگنل ہوں اور اگر وضو اور غسل نہ ہو تو تیمم ہی سگنل ہوجائے ۔
اصل حقیقت تو اللہ تعالیٰ کے کامل اور ہر چیز پر حاوی علم ہی میں ہے ‘ جو انسان کی اندورنی پوشیدہ باتوں پر بھی محیط ہے ۔ انسان کے طور طریقوں اور خفیہ راہوں سے وہی باخبر ہے ‘ جو لطیف وخبیر ہے ۔ ہمارا فرض تو یہ ہے کہ ہم اللہ کے احکام کی اطاعت نہایت ہی ادب واحترام سے کریں جو نہایت ہی برتر اور بالا ہے اور عظیم اور بزرگ ہے ۔
یہاں ہمارے لئے دوسرا لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اسلامی نظام میں نماز کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ اسلام ہر قسم کے عذر اور رکاوٹ کو دور کرنے کی سعی کرتا ہے ۔ تیمم اس سلسلے کی ایک واضح مثال ہے کہ وضو اور غسل کی جگہ اس کی اجازت دی گئی جبکہ مشکلات ہوں ۔ یہ ایک واضح مثال ہے جس سے معلوم ہوتا کہ اسلام کہ ہر معاملے میں آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔ مثلا اگر پانی نہ ہو یا بیماری ہو یا پانی کم ہو اور پینے کی ضروریات سے زیادہ نہ ہو ۔ سفر میں بعض اقوال کے مطابق پانی موجود ہونے کے باوجود تیمم جائز ہے ۔
یہ باتیں ذہن میں رکھتے ہوئے اور اسی سورت میں صلوۃ الخوف کی کیفیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ‘ خصوصا میدان جنگ میں ‘ یہ بات بڑی سہولت سے معلوم ہوجاتی ہے کہ اسلامی نظام حیات نماز کو کس قدر اہمیت دیتا ہے ۔ مسلمان نماز سے کسی صورت میں بھی اور کسی وجہ سے بھی جدا نہیں ہو سکتا ۔ مرض میں بھی نماز کی ادائیگی کے لئے یہ سہولت پیدا کی گئی ہے کہ بیٹھ کر پڑھا جائے ۔ بصورت معذوری ایک پہلو پر لیٹ کر بھی پڑھی جاسکتی ہے اور اگر حرکت ممکن ہی نہ ہو تو آنکھوں کے اشارے سے بھی نماز ادا ہو سکتی ہے ۔
یہ خدا اور بندے کے درمیان ایک رابطہ ہے ۔ ایک ایسا رابطہ کہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتے کہ کسی طرح بھی ایک مومن کا خدا کے ساتھ یہ رابطہ ٹوٹ جائے اس لئے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ خود بندے کو اس رابطے کی ضرورت ہے ۔ اللہ تو دونوں جہانوں سے مستغنی ہے ۔ لوگوں کی نماز و عبادت سے اس کو کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ فائدہ اگر ہے تو بندے کا ہے کہ وہ نماز سے سلجھ جاتا ہے ۔ یہ بھی بندوں کا فائدہ ہے کہ وہ اللہ سے رابطہ قائم کرلیں اور اپنی مشکلات میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کریں ۔ ان کو دلی خوشی نصیب ہو ‘ ان کے جسم اور شخصیت میں نورانیت پیدا ہو ‘ ان کو یہ شعور اور احساس ہو کہ وہ اللہ کی حفاظت میں ہیں ‘ اس کے قریب ہیں ‘ اس کی نگہبانی میں ہیں اور وہ ایسی راہ پر ہیں جو ان کی فطرت کے عین مطابق ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی فطرت کا سبب سے زیادہ علم ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ بھی علم ہے کہ ان کے لئے اور ان کی فطرت کے لئے کیا کیا مفید ہے اور کیا کیا غیر مفید ہے ؟ اس لئے کہ وہ خالق اور صانع ہے اور اپنی مصنوعات اور مخلوقات سے وہ اور لوگوں کے مقابلے میں زیادہ خبر دار ہے ۔ وہ نہایت ہی باریک بین اور بصیر ہے ۔
اس آیت کی بعض دیگر تعبیرات میں بھی ہمارے لئے ایک سبق ہے ۔ اگرچہ یہ نہایت ہی مختصر آیت ہے لیکن اس میں بہترین انداز تعبیر کے ساتھ معانی کا سیل رواں نظر آتا ہے قضائے حاجت کے عمل کے لئے (آیت) ” او جآء احدمنکم من الغائط “۔ (4 : 43) (تم میں سے کوئی نشیبی جگہ سے آیا ہو) کے الفاظ آئے ہیں ۔ یہ نہ کہا کہ تم نے یہ فعل کیا ہو ‘ صرف یہ کہا کہ تم نشیبی جگہ سے واپس آئے ہو ۔ اشارہ وکنایہ اس طرف ہے کہ تم قضائے حاجت سے آئے ہو ۔ اس میں بھی مخاطبوں سے نہیں کہا کہ تم آئے ہو بلکہ تم میں سے کوئی شخص آیا ہو (آیت) ” او جآء احدمنکم من الغائط “۔ (4 : 43) کہا ہے ۔ یہ نہیں کہا (جئتم من الغآئط) قرآن کے الفاظ زیادہ ادیبانہ اور مہذبانہ ہیں اور ان میں کنایہ لطیف ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ انسانوں کو اپنے درمیان اسی طرح کی سلجھی ہوئی گفتگو کرنا چاہئے ۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
النساء 4:44
درس نمبر 43 تشریح آیات :
44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57
مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے پھر اگلے سبق میں جماعت مسلمہ کو خبردار کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ ‘ اپنی صورت حالات کی درستی اور اپنے وجود کو بچانے کے اقدامات کرے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے منافق دشمن اس کے خلاف خفیہ سازشوں میں مصروف ہیں۔ جماعت مسلمہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کی طرف بھی متوجہ ہو اور ان دفاعی اقدامات پر بھی غور کرے جو اسے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے دشمن کیمپوں کے مقابلے میں کرنے ہیں۔ اس میں قانون بین الاقوام کے سلسلے میں بعض ہدایات بھی ہیں ۔ اس کے اگلے سبق میں ایک یہودی کا معاملہ آتا ہے جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں تمام دشمنیوں سے بلند ہو کر معاملہ کی گیا ۔ اس سے اگلے سبق میں شرک اور مشرکین کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے گئے ہیں اور ان بنیادوں کو حقارت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ۔ جن کے اوپر مشرک معاشرہ قائم تھا ۔ اس معرکے کے درمیاں بعض ہدایات داخلی تنظیم کے بارے میں بھی دی گئی ہیں ۔ جن کا تعلق ‘ ابتدائے سورة کے مضامین بابت خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ اب اس پارے کا آخری سبق آتا ہیں جو نفاق اور منافقین کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ سبق فیصلہ کرتا ہے کہ منافقین آگ میں سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔
ان سرسری اشارات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو داخلی اور خارجی محاذوں پر کس قدر ہمہ جہت لڑائی کا سامنا تھا ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کو کس طرح بیک وقت داخلی اور خارجی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا تھا ۔ اس لئے کہ داخلی محاذ اور خارجی محاذ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور پیوستہ تھے ۔ اور یہی معرکہ آج بھی عالمی تحریک اسلامی کو درپیش ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ اس لئے کہ اسلامی تحریک کی اساس اور حقیقت ایک ہے ۔
(آیت) ” نمبر 44 تا 46۔
(سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا) اور (واسمع وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو انکی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں “۔
اس سورة میں جن متعدد جگہ تعجب کا اظہار کیا گیا ان میں سے پہلی جائے تعجب تو یہ ہے کہ اس کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں جبکہ مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو انوکھا اور تعجب خیز ہو ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ (44) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو ۔
چونکہ انکو کتاب دی گئی تھی اس لئے ان کے شایان شان تو یہ تھا کہ وہ فورا ہدایت قبول کرتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے بڑے پیغمبر تھے اللہ نے انہیں تورات دی تھی ۔ تاکہ انہیں وہ ان کی ضلالت سے نکالے اور ان کے لئے نور اور ہدایت ہو ۔ لیکن وہ اپنی اس قسمت سے انکاری ہیں اور ہدایت چھوڑ کر ضلالت کے خریدار بن گئے ہیں ۔ خریداری سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ضلالت لینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے ‘ ان کی نیت ہی یہ ہے اسی لئے انہوں نے ہدایت کو ترک کرکے گمراہی کو پسند کیا ہے ۔ ہدایت ان کے ہاتھوں میں ہے لیکن وہ اسے چھوڑ کر گمراہی اخذ کررہے ہیں ۔ گویا وہ قصد و ارادہ سے یہ سودا کر رہے ہیں ‘ جہل اور خطا سے ایسا نہیں کررہے ۔ اس لئے ایک عقلمند آدمی سے ایسی حرکت تعجب خیز اور بالکل انوکھی ہے اور قابل استکراہ ہے ۔
لیکن اس قابل تعجب صورت حال میں ہوتے ہوئے بھی وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نگران بنے ہوئے ہیں ‘ حالانکہ الٹا وہ اس سعی میں لگے ہوئے ہیں کہ ہدایت یافتہ لوگ گمراہ ہوجائیں ‘ اہل اسلام میں جو صحیح راہ پر ہیں ان کو وہ گمراہ کردیں ۔ وہ اسی مقصد کے لئے متعدد ذرائع اور وسائل اختیار کر رہے ہیں ‘ جن کی تفصیلات سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں گزر چکی ہیں ۔ اور ان کے کچھ نمونے اس سورة میں بھی آگے آرہے ہیں۔ انہوں نے خود جو گمراہی خریدی ہوئی ہے وہ اس پر اکتفا نہیں کر رہے بلکہ ان کے اردگرد جو شمع ہدایت روشن ہوچکی ہے وہ اسے بھی بجھانا چاہتے ہیں اور اس کے آثار تک مٹانے کے درپے ہیں کہ نہ ہدایت رہے اور نہ ہدایت پانے والے ۔
اس پہلی اور دوسری جھلکی میں اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو متنبہ کیا ہے کہ یہودی تمہارے خلاف کیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور یہ کہ اسلام کے خلاف وہ کیا کیا تدابیر اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا ہی اچھی تدبیر ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے خلاف اہل ایمان کے دلوں میں نفرت بٹھانا چاہتے ہیں ‘ جو مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے ۔ اس وقت مسلمان اس ہدایت پر فخر کرتے تھے اور وہ ان لوگوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے جو ان کو اس قابل فخر وعزت پوزیشن سے لوٹا کر پھر جاہلیت کی طرف لے جانا چاہتے تھے ‘ جس کو وہ خوب جانتے تھے اور اسلام بھی اس جاہلیت سے اچھی طرح واقف تھا اور جو شخص بھی انہیں جاہلیت کی طرف لوٹا رہا تھا ‘ وہ اسے بہت ہی برا سمجھتے تھے ۔ اس دور میں قرآن ان لوگوں سے مخاطب تھا ‘ اللہ کے علم کے مطابق نازل ہو رہا تھا ۔ اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی وقعت اور اہمیت تھی ۔
اس لئے اس کے بعد قرآن صراحتا بتاتا ہے کہ یہودیوں کی یہ سازش ہے اور تصریح کردی جاتی ہے کہ یہ یہودی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اہل ایمان کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی اس مذموم کوشش کے مقابلے میں اللہ کی ہدایت اور نصرت پر ہی بھروسہ کریں ۔
(آیت) ” واللہ اعلم باعدآء کم وکفی باللہ ولیا وکفی باللہ نصیرا “۔ (45)
اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت ومددگاری کے لئے اللہ ہی کافی ہے کہتے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ “
یوں صراحت کے ساتھ اعلان کردیا جاتا ہے کہ مدینہ میں جماعت مسلمہ اور یہودیوں کے درمیان دشمنی ہے ۔ اور ان کے درمیان متوازی خطوط متعین ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگرچہ تعجب کا اظہار تمام اہل کتاب کے بارے میں ہیں لیکن اس آیت میں مدینہ کے یہودی ہی مراد ہیں ۔
کلام الہی نے فقط اشارہ پر اکتفا نہ کیا بلکہ یہودیون کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا اور اس کے بعد ان کی سرگرمیوں اور سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ان کی گستاخیوں کا تفصیلا ذکر کیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات ہجرت کے ابتدائی دور کے تھے اور ابھی تک مدینہ طیبہ میں اسلام کو اس قدر شوکت اور غلبہ نصیب نہ ہوا تھا ۔
(آیت) ” من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ویقویون سمعنا وعصینا واسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتھم وطعنا فی الدین (4 : 46)
” جن لوگوں نے یہودیت کا طریقہ اختیار کیا ہے ان میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرکے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں ۔ (سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) کلام الہی کے اندر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے وہ حد سے گزر گئے تھے ۔ وہ اللہ کی شان میں بھی گستاخی کرتے تھے اور اس طرح وہ کلامی الہی کا سیدھا مفہوم کچھ سے کچھ بنا دیتے تھے ۔ اس آیت کے مفہوم میں راجح بات یہ ہے کہ وہ تورات کی عبارتوں کو اس طرح بدلتے تھے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم بدل جاتا ۔ اور اس تحریف کا بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی رسالت کے بارے میں تورات میں جو دلائل تھے ‘ ان کو تبدیل کردیں اور ان احکام اور قوانین کو بدل دیں جن کو اسلامی شریعت نے بحال رکھا اور جن سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ جس منبع سے تورات نازل ہوئی ہے ‘ اسی سے قرآن کریم نازل ہو رہا ہے اور نتیجتہ یہ بات ثابت ہو رہی تھی کہ نبی اکرم ﷺ کی رسالت برھق ہے ۔ اور وہ ان باتوں کو اپنے مدلول سے اس طرح بدل دیتے کہ ان کی خواہشات کے مطابق مفہوم بن جاتا اور یہ صفت ان تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے جو اپنے دین سے منحرف ہوجاتے ہیں اور ایسی تحریفات کرتے ہیں کہ جس سے اقتدار پر قابض لوگوں کو خوش کریں ‘ یا ان عوام الناس کو خوش کریں جو دین سے اپنے آپ کو چھڑانا چاہتے ہیں ۔ یہودی ہمیشہ اس کام میں ماہر رہے ہیں اگرچہ ہمارے دور میں مسلمانوں کے اندر بھی بعض لوگوں نے یہ کام شروع کردیا ہے اور یہ لوگ اس خصلت میں یہودیوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔
پھر یہ لوگ رسول خدا ﷺ کی خدمت میں گستاخی کرتے ہوئے اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ وہ کہتے ” ہم نے سنا اور نافرمانی کی “ اس لئے ہم نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ اتباع کرتے ہیں اور نہ اطاعت کرتے ہیں ۔ اس سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ آیات مدینہ کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئیں جہاں یہودیوں کو حضور ﷺ کے مقابلے میں اس قدر بےباکانہ جرات ہو سکتی تھی ۔ اس ظاہری انکار کے بعد وہ نہایت ہی بےادبی ‘ نہایت ہی بداخلاقی پر اتر آئے اور حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے لگے ۔
بظاہر کہتے ہیں ۔ (اسمع) (سنئے) (غیر مسمع) آپ کوئی یہ حکم نہیں دے سکتا کہ آپ (سنئے) بظاہر تو یہ کلمہ تادیب تھا اور (راعنا) کا مفہوم یہ تھا کہ آپ ہماری رعایت کریں ‘ ہمارے حال کو مدنظر رکھیں ۔ یعنی یہ کہ وہ اہل کتاب ہیں اور انکو اسلام کی طرف اس طرح دعوت نہیں دی جانی چاہئے جس طرح عام مشرکین کو دی جاتی ہے ۔ ان اصل معنوں کو وہ زبان کے ہیر پھیر سے اس طرح بگاڑتے کہ (غیر مسمع) کا معنی یوں بن جاتا کہ آپ کی بات کوئی نہ سنے اور نہ آپ سن سکیں ۔ (اللہ انکو ذلیل کرے) اور (راعنا) کے لفظ کا اشقاق وہ رعونت سے کرتے ۔ یہ تھی انکی بےشرمی اور بےحیائی اور بےادبی اور ہیر پھیر اور مداہنت اور بات کا مفہوم بدلنا اور لفظ کا محل بدلنا وغیرہ ۔
قرآن کریم یہودیوں کی ان کمزوریوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ بتاتا ہے کہ یہودی چونکہ اہل کتاب اور اہل ثقافت ہیں اور ان کا فرض یہ تھا کہ ان کا رویہ شریفانہ ہوتا اور تہذیب کے دائرے کے اندر وہ بات کرتے اس لئے کہ جن لوگوں کو کتاب کا حصہ ملا ہے ‘ ان کو غیر اہل کتاب کے مقابلے میں نہایت ہی سلجھا ہوا ہونا چاہئے ۔ یہ کہنے کے بعد ان کو یہ امید دلائی جاتی ہے کہ وہ ہدایت پاکر کر اچھی جزاء ‘ اللہ کی جانب سے بھلائی اور فضل وکرم کے مستحق ہوں گے بشرطیکہ وہ سیدھے راستے پر آجائیں ۔ لیکن ان کا مزاج ہی ایسا نہیں رہا ہے اور ان پر اللہ کی لعنت ہوگئی ہے اور ان کی حالت یہ ہے ۔
(آیت) ” ولوانھم قالوا سمعنا واطعنا واسطمع وانظرنا لکان خیرالھم واقوم ولکن لعنھم اللہ بکفرھم فلا یمومنون الا قلیلا “۔ (4 : 46)
” حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا ) اور (واسمع) اور (وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور زیادہ راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ “
لیکن وہ سچائی کے مقابلے میں صاف اور قطعی بات نہیں کرتے اور اگر وہ صفائی کے ساتھ اس سچائی کو قبول کرتے اور صاف صاف بات کرتے اور کہتے ” ہم نے سنا اور اطاعت کی “ یا کہتے ” سنئے اور ذرا ہمارا انتظار کیجئے “ تو انکے لئے یہ بہتر ہوتا اور ان کے مزاج اور ان کی نفسیات اور حالات کے زیادہ مطابق ہوتا ۔ لیکن وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہدایت سے دور بھاگتے ہیں کم لوگ ان میں ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔
اللہ کی بات بہت ہی سچی ہے ۔ اسلامی نظام حیات کو یہودیوں میں سے بہت ہی کم لوگوں نے قبول کیا اور اسلام کی طویل تاریخ اس پر گواہ ہے اور یہ قیل تعداد بھی وہ تھی جس کی قسمت میں اللہ نے یہ بھلائی لکھ دی تھی ‘ اور یہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ راہ ہدایت پالیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے سچائی تک پہنچنے کے لئے جدوجہد کی ۔ انہوں نے ہدایت پانے کے لئے سعی کی ۔ رہا یہودی فرقہ تو وہ چودہ سو سال سے اسلام کے خلاف برسرجنگ ہے ۔ جب سے مدینہ میں ‘ ان کے پڑوس میں اسلام نازل ہوا ہے ‘ اس وقت سے لے کر آج تک اسلام کے خلاف ان کی سازشیں غیر منقطع ہیں اور اسلام کے ساتھ انہیں جو بغض ہے وہ آج تک ختم نہیں ہوا ۔ ہاں اس کی شکل ‘ اس کا رنگ اور اس کا فنی انداز بدلتا رہا ہے ۔ اور آج تک اسلام کے خلاف جو سازشیں بھی کی گئیں جس میں صیلبی جنگیں اور جدید استعماریت بھی شامل ہے ‘ اس کے پیچھے یہودیوں ہی کا ہاتھ رہا ہے ‘ اور یہ سازشیں مختلف شکلوں میں رہی ہیں۔ اگر براہ راست نہیں تو اس میں یہودیوں کا حصہ اور ہاتھ ضرور رہا ہے ۔
اس کے بعد خطاب اہل کتاب یہودیوں سے ہے ۔ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس کتاب کو قبول کرلیں جو اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمہارے ہاں موجود ہے ۔ انہیں سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر بلاوجہ وہ قبول حق سے رودگردانی کریں گے تو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ انہیں مسخ کر کے انکے چہرے پھیر دے گا اور ان پر اسی طرح لعنت ہوگی جس طرح سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ہوئی تھی ۔ ارتکاب شرک سے انہیں منع کیا جاتا ہے اور خالص توحید کو قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے جس کی اساس پر خود ان کا دین بھی استوار ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتے جبکہ اس کے علاوہ تمام گناہ معاف ہوسکتے ہیں ‘ شرک بہرحال گناہ عظیم ہے ۔
النساء 4:45
درس نمبر 43 تشریح آیات :
44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57
مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے پھر اگلے سبق میں جماعت مسلمہ کو خبردار کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ ‘ اپنی صورت حالات کی درستی اور اپنے وجود کو بچانے کے اقدامات کرے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے منافق دشمن اس کے خلاف خفیہ سازشوں میں مصروف ہیں۔ جماعت مسلمہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کی طرف بھی متوجہ ہو اور ان دفاعی اقدامات پر بھی غور کرے جو اسے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے دشمن کیمپوں کے مقابلے میں کرنے ہیں۔ اس میں قانون بین الاقوام کے سلسلے میں بعض ہدایات بھی ہیں ۔ اس کے اگلے سبق میں ایک یہودی کا معاملہ آتا ہے جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں تمام دشمنیوں سے بلند ہو کر معاملہ کی گیا ۔ اس سے اگلے سبق میں شرک اور مشرکین کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے گئے ہیں اور ان بنیادوں کو حقارت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ۔ جن کے اوپر مشرک معاشرہ قائم تھا ۔ اس معرکے کے درمیاں بعض ہدایات داخلی تنظیم کے بارے میں بھی دی گئی ہیں ۔ جن کا تعلق ‘ ابتدائے سورة کے مضامین بابت خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ اب اس پارے کا آخری سبق آتا ہیں جو نفاق اور منافقین کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ سبق فیصلہ کرتا ہے کہ منافقین آگ میں سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔
ان سرسری اشارات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو داخلی اور خارجی محاذوں پر کس قدر ہمہ جہت لڑائی کا سامنا تھا ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کو کس طرح بیک وقت داخلی اور خارجی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا تھا ۔ اس لئے کہ داخلی محاذ اور خارجی محاذ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور پیوستہ تھے ۔ اور یہی معرکہ آج بھی عالمی تحریک اسلامی کو درپیش ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ اس لئے کہ اسلامی تحریک کی اساس اور حقیقت ایک ہے ۔
(آیت) ” نمبر 44 تا 46۔
(سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا) اور (واسمع وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو انکی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں “۔
اس سورة میں جن متعدد جگہ تعجب کا اظہار کیا گیا ان میں سے پہلی جائے تعجب تو یہ ہے کہ اس کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں جبکہ مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو انوکھا اور تعجب خیز ہو ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ (44) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو ۔
چونکہ انکو کتاب دی گئی تھی اس لئے ان کے شایان شان تو یہ تھا کہ وہ فورا ہدایت قبول کرتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے بڑے پیغمبر تھے اللہ نے انہیں تورات دی تھی ۔ تاکہ انہیں وہ ان کی ضلالت سے نکالے اور ان کے لئے نور اور ہدایت ہو ۔ لیکن وہ اپنی اس قسمت سے انکاری ہیں اور ہدایت چھوڑ کر ضلالت کے خریدار بن گئے ہیں ۔ خریداری سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ضلالت لینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے ‘ ان کی نیت ہی یہ ہے اسی لئے انہوں نے ہدایت کو ترک کرکے گمراہی کو پسند کیا ہے ۔ ہدایت ان کے ہاتھوں میں ہے لیکن وہ اسے چھوڑ کر گمراہی اخذ کررہے ہیں ۔ گویا وہ قصد و ارادہ سے یہ سودا کر رہے ہیں ‘ جہل اور خطا سے ایسا نہیں کررہے ۔ اس لئے ایک عقلمند آدمی سے ایسی حرکت تعجب خیز اور بالکل انوکھی ہے اور قابل استکراہ ہے ۔
لیکن اس قابل تعجب صورت حال میں ہوتے ہوئے بھی وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نگران بنے ہوئے ہیں ‘ حالانکہ الٹا وہ اس سعی میں لگے ہوئے ہیں کہ ہدایت یافتہ لوگ گمراہ ہوجائیں ‘ اہل اسلام میں جو صحیح راہ پر ہیں ان کو وہ گمراہ کردیں ۔ وہ اسی مقصد کے لئے متعدد ذرائع اور وسائل اختیار کر رہے ہیں ‘ جن کی تفصیلات سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں گزر چکی ہیں ۔ اور ان کے کچھ نمونے اس سورة میں بھی آگے آرہے ہیں۔ انہوں نے خود جو گمراہی خریدی ہوئی ہے وہ اس پر اکتفا نہیں کر رہے بلکہ ان کے اردگرد جو شمع ہدایت روشن ہوچکی ہے وہ اسے بھی بجھانا چاہتے ہیں اور اس کے آثار تک مٹانے کے درپے ہیں کہ نہ ہدایت رہے اور نہ ہدایت پانے والے ۔
اس پہلی اور دوسری جھلکی میں اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو متنبہ کیا ہے کہ یہودی تمہارے خلاف کیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور یہ کہ اسلام کے خلاف وہ کیا کیا تدابیر اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا ہی اچھی تدبیر ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے خلاف اہل ایمان کے دلوں میں نفرت بٹھانا چاہتے ہیں ‘ جو مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے ۔ اس وقت مسلمان اس ہدایت پر فخر کرتے تھے اور وہ ان لوگوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے جو ان کو اس قابل فخر وعزت پوزیشن سے لوٹا کر پھر جاہلیت کی طرف لے جانا چاہتے تھے ‘ جس کو وہ خوب جانتے تھے اور اسلام بھی اس جاہلیت سے اچھی طرح واقف تھا اور جو شخص بھی انہیں جاہلیت کی طرف لوٹا رہا تھا ‘ وہ اسے بہت ہی برا سمجھتے تھے ۔ اس دور میں قرآن ان لوگوں سے مخاطب تھا ‘ اللہ کے علم کے مطابق نازل ہو رہا تھا ۔ اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی وقعت اور اہمیت تھی ۔
اس لئے اس کے بعد قرآن صراحتا بتاتا ہے کہ یہودیوں کی یہ سازش ہے اور تصریح کردی جاتی ہے کہ یہ یہودی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اہل ایمان کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی اس مذموم کوشش کے مقابلے میں اللہ کی ہدایت اور نصرت پر ہی بھروسہ کریں ۔
(آیت) ” واللہ اعلم باعدآء کم وکفی باللہ ولیا وکفی باللہ نصیرا “۔ (45)
اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت ومددگاری کے لئے اللہ ہی کافی ہے کہتے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ “
یوں صراحت کے ساتھ اعلان کردیا جاتا ہے کہ مدینہ میں جماعت مسلمہ اور یہودیوں کے درمیان دشمنی ہے ۔ اور ان کے درمیان متوازی خطوط متعین ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگرچہ تعجب کا اظہار تمام اہل کتاب کے بارے میں ہیں لیکن اس آیت میں مدینہ کے یہودی ہی مراد ہیں ۔
کلام الہی نے فقط اشارہ پر اکتفا نہ کیا بلکہ یہودیون کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا اور اس کے بعد ان کی سرگرمیوں اور سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ان کی گستاخیوں کا تفصیلا ذکر کیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات ہجرت کے ابتدائی دور کے تھے اور ابھی تک مدینہ طیبہ میں اسلام کو اس قدر شوکت اور غلبہ نصیب نہ ہوا تھا ۔
(آیت) ” من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ویقویون سمعنا وعصینا واسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتھم وطعنا فی الدین (4 : 46)
” جن لوگوں نے یہودیت کا طریقہ اختیار کیا ہے ان میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرکے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں ۔ (سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) کلام الہی کے اندر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے وہ حد سے گزر گئے تھے ۔ وہ اللہ کی شان میں بھی گستاخی کرتے تھے اور اس طرح وہ کلامی الہی کا سیدھا مفہوم کچھ سے کچھ بنا دیتے تھے ۔ اس آیت کے مفہوم میں راجح بات یہ ہے کہ وہ تورات کی عبارتوں کو اس طرح بدلتے تھے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم بدل جاتا ۔ اور اس تحریف کا بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی رسالت کے بارے میں تورات میں جو دلائل تھے ‘ ان کو تبدیل کردیں اور ان احکام اور قوانین کو بدل دیں جن کو اسلامی شریعت نے بحال رکھا اور جن سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ جس منبع سے تورات نازل ہوئی ہے ‘ اسی سے قرآن کریم نازل ہو رہا ہے اور نتیجتہ یہ بات ثابت ہو رہی تھی کہ نبی اکرم ﷺ کی رسالت برھق ہے ۔ اور وہ ان باتوں کو اپنے مدلول سے اس طرح بدل دیتے کہ ان کی خواہشات کے مطابق مفہوم بن جاتا اور یہ صفت ان تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے جو اپنے دین سے منحرف ہوجاتے ہیں اور ایسی تحریفات کرتے ہیں کہ جس سے اقتدار پر قابض لوگوں کو خوش کریں ‘ یا ان عوام الناس کو خوش کریں جو دین سے اپنے آپ کو چھڑانا چاہتے ہیں ۔ یہودی ہمیشہ اس کام میں ماہر رہے ہیں اگرچہ ہمارے دور میں مسلمانوں کے اندر بھی بعض لوگوں نے یہ کام شروع کردیا ہے اور یہ لوگ اس خصلت میں یہودیوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔
پھر یہ لوگ رسول خدا ﷺ کی خدمت میں گستاخی کرتے ہوئے اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ وہ کہتے ” ہم نے سنا اور نافرمانی کی “ اس لئے ہم نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ اتباع کرتے ہیں اور نہ اطاعت کرتے ہیں ۔ اس سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ آیات مدینہ کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئیں جہاں یہودیوں کو حضور ﷺ کے مقابلے میں اس قدر بےباکانہ جرات ہو سکتی تھی ۔ اس ظاہری انکار کے بعد وہ نہایت ہی بےادبی ‘ نہایت ہی بداخلاقی پر اتر آئے اور حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے لگے ۔
بظاہر کہتے ہیں ۔ (اسمع) (سنئے) (غیر مسمع) آپ کوئی یہ حکم نہیں دے سکتا کہ آپ (سنئے) بظاہر تو یہ کلمہ تادیب تھا اور (راعنا) کا مفہوم یہ تھا کہ آپ ہماری رعایت کریں ‘ ہمارے حال کو مدنظر رکھیں ۔ یعنی یہ کہ وہ اہل کتاب ہیں اور انکو اسلام کی طرف اس طرح دعوت نہیں دی جانی چاہئے جس طرح عام مشرکین کو دی جاتی ہے ۔ ان اصل معنوں کو وہ زبان کے ہیر پھیر سے اس طرح بگاڑتے کہ (غیر مسمع) کا معنی یوں بن جاتا کہ آپ کی بات کوئی نہ سنے اور نہ آپ سن سکیں ۔ (اللہ انکو ذلیل کرے) اور (راعنا) کے لفظ کا اشقاق وہ رعونت سے کرتے ۔ یہ تھی انکی بےشرمی اور بےحیائی اور بےادبی اور ہیر پھیر اور مداہنت اور بات کا مفہوم بدلنا اور لفظ کا محل بدلنا وغیرہ ۔
قرآن کریم یہودیوں کی ان کمزوریوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ بتاتا ہے کہ یہودی چونکہ اہل کتاب اور اہل ثقافت ہیں اور ان کا فرض یہ تھا کہ ان کا رویہ شریفانہ ہوتا اور تہذیب کے دائرے کے اندر وہ بات کرتے اس لئے کہ جن لوگوں کو کتاب کا حصہ ملا ہے ‘ ان کو غیر اہل کتاب کے مقابلے میں نہایت ہی سلجھا ہوا ہونا چاہئے ۔ یہ کہنے کے بعد ان کو یہ امید دلائی جاتی ہے کہ وہ ہدایت پاکر کر اچھی جزاء ‘ اللہ کی جانب سے بھلائی اور فضل وکرم کے مستحق ہوں گے بشرطیکہ وہ سیدھے راستے پر آجائیں ۔ لیکن ان کا مزاج ہی ایسا نہیں رہا ہے اور ان پر اللہ کی لعنت ہوگئی ہے اور ان کی حالت یہ ہے ۔
(آیت) ” ولوانھم قالوا سمعنا واطعنا واسطمع وانظرنا لکان خیرالھم واقوم ولکن لعنھم اللہ بکفرھم فلا یمومنون الا قلیلا “۔ (4 : 46)
” حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا ) اور (واسمع) اور (وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور زیادہ راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ “
لیکن وہ سچائی کے مقابلے میں صاف اور قطعی بات نہیں کرتے اور اگر وہ صفائی کے ساتھ اس سچائی کو قبول کرتے اور صاف صاف بات کرتے اور کہتے ” ہم نے سنا اور اطاعت کی “ یا کہتے ” سنئے اور ذرا ہمارا انتظار کیجئے “ تو انکے لئے یہ بہتر ہوتا اور ان کے مزاج اور ان کی نفسیات اور حالات کے زیادہ مطابق ہوتا ۔ لیکن وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہدایت سے دور بھاگتے ہیں کم لوگ ان میں ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔
اللہ کی بات بہت ہی سچی ہے ۔ اسلامی نظام حیات کو یہودیوں میں سے بہت ہی کم لوگوں نے قبول کیا اور اسلام کی طویل تاریخ اس پر گواہ ہے اور یہ قیل تعداد بھی وہ تھی جس کی قسمت میں اللہ نے یہ بھلائی لکھ دی تھی ‘ اور یہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ راہ ہدایت پالیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے سچائی تک پہنچنے کے لئے جدوجہد کی ۔ انہوں نے ہدایت پانے کے لئے سعی کی ۔ رہا یہودی فرقہ تو وہ چودہ سو سال سے اسلام کے خلاف برسرجنگ ہے ۔ جب سے مدینہ میں ‘ ان کے پڑوس میں اسلام نازل ہوا ہے ‘ اس وقت سے لے کر آج تک اسلام کے خلاف ان کی سازشیں غیر منقطع ہیں اور اسلام کے ساتھ انہیں جو بغض ہے وہ آج تک ختم نہیں ہوا ۔ ہاں اس کی شکل ‘ اس کا رنگ اور اس کا فنی انداز بدلتا رہا ہے ۔ اور آج تک اسلام کے خلاف جو سازشیں بھی کی گئیں جس میں صیلبی جنگیں اور جدید استعماریت بھی شامل ہے ‘ اس کے پیچھے یہودیوں ہی کا ہاتھ رہا ہے ‘ اور یہ سازشیں مختلف شکلوں میں رہی ہیں۔ اگر براہ راست نہیں تو اس میں یہودیوں کا حصہ اور ہاتھ ضرور رہا ہے ۔
اس کے بعد خطاب اہل کتاب یہودیوں سے ہے ۔ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس کتاب کو قبول کرلیں جو اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمہارے ہاں موجود ہے ۔ انہیں سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر بلاوجہ وہ قبول حق سے رودگردانی کریں گے تو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ انہیں مسخ کر کے انکے چہرے پھیر دے گا اور ان پر اسی طرح لعنت ہوگی جس طرح سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ہوئی تھی ۔ ارتکاب شرک سے انہیں منع کیا جاتا ہے اور خالص توحید کو قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے جس کی اساس پر خود ان کا دین بھی استوار ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتے جبکہ اس کے علاوہ تمام گناہ معاف ہوسکتے ہیں ‘ شرک بہرحال گناہ عظیم ہے ۔
النساء 4:46
درس نمبر 43 تشریح آیات :
44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57
مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے پھر اگلے سبق میں جماعت مسلمہ کو خبردار کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ ‘ اپنی صورت حالات کی درستی اور اپنے وجود کو بچانے کے اقدامات کرے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے منافق دشمن اس کے خلاف خفیہ سازشوں میں مصروف ہیں۔ جماعت مسلمہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کی طرف بھی متوجہ ہو اور ان دفاعی اقدامات پر بھی غور کرے جو اسے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے دشمن کیمپوں کے مقابلے میں کرنے ہیں۔ اس میں قانون بین الاقوام کے سلسلے میں بعض ہدایات بھی ہیں ۔ اس کے اگلے سبق میں ایک یہودی کا معاملہ آتا ہے جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں تمام دشمنیوں سے بلند ہو کر معاملہ کی گیا ۔ اس سے اگلے سبق میں شرک اور مشرکین کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے گئے ہیں اور ان بنیادوں کو حقارت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ۔ جن کے اوپر مشرک معاشرہ قائم تھا ۔ اس معرکے کے درمیاں بعض ہدایات داخلی تنظیم کے بارے میں بھی دی گئی ہیں ۔ جن کا تعلق ‘ ابتدائے سورة کے مضامین بابت خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ اب اس پارے کا آخری سبق آتا ہیں جو نفاق اور منافقین کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ سبق فیصلہ کرتا ہے کہ منافقین آگ میں سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔
ان سرسری اشارات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو داخلی اور خارجی محاذوں پر کس قدر ہمہ جہت لڑائی کا سامنا تھا ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کو کس طرح بیک وقت داخلی اور خارجی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا تھا ۔ اس لئے کہ داخلی محاذ اور خارجی محاذ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور پیوستہ تھے ۔ اور یہی معرکہ آج بھی عالمی تحریک اسلامی کو درپیش ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ اس لئے کہ اسلامی تحریک کی اساس اور حقیقت ایک ہے ۔
(آیت) ” نمبر 44 تا 46۔
(سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا) اور (واسمع وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو انکی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں “۔
اس سورة میں جن متعدد جگہ تعجب کا اظہار کیا گیا ان میں سے پہلی جائے تعجب تو یہ ہے کہ اس کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں جبکہ مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو انوکھا اور تعجب خیز ہو ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ (44) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو ۔
چونکہ انکو کتاب دی گئی تھی اس لئے ان کے شایان شان تو یہ تھا کہ وہ فورا ہدایت قبول کرتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے بڑے پیغمبر تھے اللہ نے انہیں تورات دی تھی ۔ تاکہ انہیں وہ ان کی ضلالت سے نکالے اور ان کے لئے نور اور ہدایت ہو ۔ لیکن وہ اپنی اس قسمت سے انکاری ہیں اور ہدایت چھوڑ کر ضلالت کے خریدار بن گئے ہیں ۔ خریداری سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ضلالت لینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے ‘ ان کی نیت ہی یہ ہے اسی لئے انہوں نے ہدایت کو ترک کرکے گمراہی کو پسند کیا ہے ۔ ہدایت ان کے ہاتھوں میں ہے لیکن وہ اسے چھوڑ کر گمراہی اخذ کررہے ہیں ۔ گویا وہ قصد و ارادہ سے یہ سودا کر رہے ہیں ‘ جہل اور خطا سے ایسا نہیں کررہے ۔ اس لئے ایک عقلمند آدمی سے ایسی حرکت تعجب خیز اور بالکل انوکھی ہے اور قابل استکراہ ہے ۔
لیکن اس قابل تعجب صورت حال میں ہوتے ہوئے بھی وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نگران بنے ہوئے ہیں ‘ حالانکہ الٹا وہ اس سعی میں لگے ہوئے ہیں کہ ہدایت یافتہ لوگ گمراہ ہوجائیں ‘ اہل اسلام میں جو صحیح راہ پر ہیں ان کو وہ گمراہ کردیں ۔ وہ اسی مقصد کے لئے متعدد ذرائع اور وسائل اختیار کر رہے ہیں ‘ جن کی تفصیلات سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں گزر چکی ہیں ۔ اور ان کے کچھ نمونے اس سورة میں بھی آگے آرہے ہیں۔ انہوں نے خود جو گمراہی خریدی ہوئی ہے وہ اس پر اکتفا نہیں کر رہے بلکہ ان کے اردگرد جو شمع ہدایت روشن ہوچکی ہے وہ اسے بھی بجھانا چاہتے ہیں اور اس کے آثار تک مٹانے کے درپے ہیں کہ نہ ہدایت رہے اور نہ ہدایت پانے والے ۔
اس پہلی اور دوسری جھلکی میں اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو متنبہ کیا ہے کہ یہودی تمہارے خلاف کیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور یہ کہ اسلام کے خلاف وہ کیا کیا تدابیر اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا ہی اچھی تدبیر ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے خلاف اہل ایمان کے دلوں میں نفرت بٹھانا چاہتے ہیں ‘ جو مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے ۔ اس وقت مسلمان اس ہدایت پر فخر کرتے تھے اور وہ ان لوگوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے جو ان کو اس قابل فخر وعزت پوزیشن سے لوٹا کر پھر جاہلیت کی طرف لے جانا چاہتے تھے ‘ جس کو وہ خوب جانتے تھے اور اسلام بھی اس جاہلیت سے اچھی طرح واقف تھا اور جو شخص بھی انہیں جاہلیت کی طرف لوٹا رہا تھا ‘ وہ اسے بہت ہی برا سمجھتے تھے ۔ اس دور میں قرآن ان لوگوں سے مخاطب تھا ‘ اللہ کے علم کے مطابق نازل ہو رہا تھا ۔ اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی وقعت اور اہمیت تھی ۔
اس لئے اس کے بعد قرآن صراحتا بتاتا ہے کہ یہودیوں کی یہ سازش ہے اور تصریح کردی جاتی ہے کہ یہ یہودی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اہل ایمان کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی اس مذموم کوشش کے مقابلے میں اللہ کی ہدایت اور نصرت پر ہی بھروسہ کریں ۔
(آیت) ” واللہ اعلم باعدآء کم وکفی باللہ ولیا وکفی باللہ نصیرا “۔ (45)
اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت ومددگاری کے لئے اللہ ہی کافی ہے کہتے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ “
یوں صراحت کے ساتھ اعلان کردیا جاتا ہے کہ مدینہ میں جماعت مسلمہ اور یہودیوں کے درمیان دشمنی ہے ۔ اور ان کے درمیان متوازی خطوط متعین ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگرچہ تعجب کا اظہار تمام اہل کتاب کے بارے میں ہیں لیکن اس آیت میں مدینہ کے یہودی ہی مراد ہیں ۔
کلام الہی نے فقط اشارہ پر اکتفا نہ کیا بلکہ یہودیون کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا اور اس کے بعد ان کی سرگرمیوں اور سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ان کی گستاخیوں کا تفصیلا ذکر کیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات ہجرت کے ابتدائی دور کے تھے اور ابھی تک مدینہ طیبہ میں اسلام کو اس قدر شوکت اور غلبہ نصیب نہ ہوا تھا ۔
(آیت) ” من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ویقویون سمعنا وعصینا واسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتھم وطعنا فی الدین (4 : 46)
” جن لوگوں نے یہودیت کا طریقہ اختیار کیا ہے ان میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرکے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں ۔ (سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) کلام الہی کے اندر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے وہ حد سے گزر گئے تھے ۔ وہ اللہ کی شان میں بھی گستاخی کرتے تھے اور اس طرح وہ کلامی الہی کا سیدھا مفہوم کچھ سے کچھ بنا دیتے تھے ۔ اس آیت کے مفہوم میں راجح بات یہ ہے کہ وہ تورات کی عبارتوں کو اس طرح بدلتے تھے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم بدل جاتا ۔ اور اس تحریف کا بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی رسالت کے بارے میں تورات میں جو دلائل تھے ‘ ان کو تبدیل کردیں اور ان احکام اور قوانین کو بدل دیں جن کو اسلامی شریعت نے بحال رکھا اور جن سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ جس منبع سے تورات نازل ہوئی ہے ‘ اسی سے قرآن کریم نازل ہو رہا ہے اور نتیجتہ یہ بات ثابت ہو رہی تھی کہ نبی اکرم ﷺ کی رسالت برھق ہے ۔ اور وہ ان باتوں کو اپنے مدلول سے اس طرح بدل دیتے کہ ان کی خواہشات کے مطابق مفہوم بن جاتا اور یہ صفت ان تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے جو اپنے دین سے منحرف ہوجاتے ہیں اور ایسی تحریفات کرتے ہیں کہ جس سے اقتدار پر قابض لوگوں کو خوش کریں ‘ یا ان عوام الناس کو خوش کریں جو دین سے اپنے آپ کو چھڑانا چاہتے ہیں ۔ یہودی ہمیشہ اس کام میں ماہر رہے ہیں اگرچہ ہمارے دور میں مسلمانوں کے اندر بھی بعض لوگوں نے یہ کام شروع کردیا ہے اور یہ لوگ اس خصلت میں یہودیوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔
پھر یہ لوگ رسول خدا ﷺ کی خدمت میں گستاخی کرتے ہوئے اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ وہ کہتے ” ہم نے سنا اور نافرمانی کی “ اس لئے ہم نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ اتباع کرتے ہیں اور نہ اطاعت کرتے ہیں ۔ اس سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ آیات مدینہ کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئیں جہاں یہودیوں کو حضور ﷺ کے مقابلے میں اس قدر بےباکانہ جرات ہو سکتی تھی ۔ اس ظاہری انکار کے بعد وہ نہایت ہی بےادبی ‘ نہایت ہی بداخلاقی پر اتر آئے اور حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے لگے ۔
بظاہر کہتے ہیں ۔ (اسمع) (سنئے) (غیر مسمع) آپ کوئی یہ حکم نہیں دے سکتا کہ آپ (سنئے) بظاہر تو یہ کلمہ تادیب تھا اور (راعنا) کا مفہوم یہ تھا کہ آپ ہماری رعایت کریں ‘ ہمارے حال کو مدنظر رکھیں ۔ یعنی یہ کہ وہ اہل کتاب ہیں اور انکو اسلام کی طرف اس طرح دعوت نہیں دی جانی چاہئے جس طرح عام مشرکین کو دی جاتی ہے ۔ ان اصل معنوں کو وہ زبان کے ہیر پھیر سے اس طرح بگاڑتے کہ (غیر مسمع) کا معنی یوں بن جاتا کہ آپ کی بات کوئی نہ سنے اور نہ آپ سن سکیں ۔ (اللہ انکو ذلیل کرے) اور (راعنا) کے لفظ کا اشقاق وہ رعونت سے کرتے ۔ یہ تھی انکی بےشرمی اور بےحیائی اور بےادبی اور ہیر پھیر اور مداہنت اور بات کا مفہوم بدلنا اور لفظ کا محل بدلنا وغیرہ ۔
قرآن کریم یہودیوں کی ان کمزوریوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ بتاتا ہے کہ یہودی چونکہ اہل کتاب اور اہل ثقافت ہیں اور ان کا فرض یہ تھا کہ ان کا رویہ شریفانہ ہوتا اور تہذیب کے دائرے کے اندر وہ بات کرتے اس لئے کہ جن لوگوں کو کتاب کا حصہ ملا ہے ‘ ان کو غیر اہل کتاب کے مقابلے میں نہایت ہی سلجھا ہوا ہونا چاہئے ۔ یہ کہنے کے بعد ان کو یہ امید دلائی جاتی ہے کہ وہ ہدایت پاکر کر اچھی جزاء ‘ اللہ کی جانب سے بھلائی اور فضل وکرم کے مستحق ہوں گے بشرطیکہ وہ سیدھے راستے پر آجائیں ۔ لیکن ان کا مزاج ہی ایسا نہیں رہا ہے اور ان پر اللہ کی لعنت ہوگئی ہے اور ان کی حالت یہ ہے ۔
(آیت) ” ولوانھم قالوا سمعنا واطعنا واسطمع وانظرنا لکان خیرالھم واقوم ولکن لعنھم اللہ بکفرھم فلا یمومنون الا قلیلا “۔ (4 : 46)
” حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا ) اور (واسمع) اور (وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور زیادہ راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ “
لیکن وہ سچائی کے مقابلے میں صاف اور قطعی بات نہیں کرتے اور اگر وہ صفائی کے ساتھ اس سچائی کو قبول کرتے اور صاف صاف بات کرتے اور کہتے ” ہم نے سنا اور اطاعت کی “ یا کہتے ” سنئے اور ذرا ہمارا انتظار کیجئے “ تو انکے لئے یہ بہتر ہوتا اور ان کے مزاج اور ان کی نفسیات اور حالات کے زیادہ مطابق ہوتا ۔ لیکن وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہدایت سے دور بھاگتے ہیں کم لوگ ان میں ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔
اللہ کی بات بہت ہی سچی ہے ۔ اسلامی نظام حیات کو یہودیوں میں سے بہت ہی کم لوگوں نے قبول کیا اور اسلام کی طویل تاریخ اس پر گواہ ہے اور یہ قیل تعداد بھی وہ تھی جس کی قسمت میں اللہ نے یہ بھلائی لکھ دی تھی ‘ اور یہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ راہ ہدایت پالیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے سچائی تک پہنچنے کے لئے جدوجہد کی ۔ انہوں نے ہدایت پانے کے لئے سعی کی ۔ رہا یہودی فرقہ تو وہ چودہ سو سال سے اسلام کے خلاف برسرجنگ ہے ۔ جب سے مدینہ میں ‘ ان کے پڑوس میں اسلام نازل ہوا ہے ‘ اس وقت سے لے کر آج تک اسلام کے خلاف ان کی سازشیں غیر منقطع ہیں اور اسلام کے ساتھ انہیں جو بغض ہے وہ آج تک ختم نہیں ہوا ۔ ہاں اس کی شکل ‘ اس کا رنگ اور اس کا فنی انداز بدلتا رہا ہے ۔ اور آج تک اسلام کے خلاف جو سازشیں بھی کی گئیں جس میں صیلبی جنگیں اور جدید استعماریت بھی شامل ہے ‘ اس کے پیچھے یہودیوں ہی کا ہاتھ رہا ہے ‘ اور یہ سازشیں مختلف شکلوں میں رہی ہیں۔ اگر براہ راست نہیں تو اس میں یہودیوں کا حصہ اور ہاتھ ضرور رہا ہے ۔
اس کے بعد خطاب اہل کتاب یہودیوں سے ہے ۔ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس کتاب کو قبول کرلیں جو اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمہارے ہاں موجود ہے ۔ انہیں سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر بلاوجہ وہ قبول حق سے رودگردانی کریں گے تو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ انہیں مسخ کر کے انکے چہرے پھیر دے گا اور ان پر اسی طرح لعنت ہوگی جس طرح سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ہوئی تھی ۔ ارتکاب شرک سے انہیں منع کیا جاتا ہے اور خالص توحید کو قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے جس کی اساس پر خود ان کا دین بھی استوار ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتے جبکہ اس کے علاوہ تمام گناہ معاف ہوسکتے ہیں ‘ شرک بہرحال گناہ عظیم ہے ۔
النساء 4:47
درس نمبر 43 تشریح آیات :
44۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 57
مدینہ کی نوخیز تحریک اسلامی کا جو گھیراؤ مخالف اسلام کیمپوں نے کر رکھا تھا ‘ اس سبق کے ساتھ ان کیمپوں کے خلاف یہاں معرکہ آرائی شروع ہو رہی ہے ۔ اس سبق کے اندر اس بات پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے کہ مدینہ کے یہودی اس دین جدید اور جامعت مسلمہ کے خلاف کیا کیا اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ اس سے اگلے سبق میں بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کے فرائض کیا ہیں اور یہ کہ اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے ‘ اسلام کی تعریف کیا ہے اور ایمان کی شرائط کیا ہیں جس کی وجہ سے اسلامی زندگی اور اسلامی نظام حیات دوسرے لوگوں کی زندگی اور نظام سے متمیز ہوتا ہے ۔ اس سے پھر اگلے سبق میں جماعت مسلمہ کو خبردار کیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ ‘ اپنی صورت حالات کی درستی اور اپنے وجود کو بچانے کے اقدامات کرے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اس کے منافق دشمن اس کے خلاف خفیہ سازشوں میں مصروف ہیں۔ جماعت مسلمہ کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کی طرف بھی متوجہ ہو اور ان دفاعی اقدامات پر بھی غور کرے جو اسے اپنے اردگرد پھیلے ہوئے دشمن کیمپوں کے مقابلے میں کرنے ہیں۔ اس میں قانون بین الاقوام کے سلسلے میں بعض ہدایات بھی ہیں ۔ اس کے اگلے سبق میں ایک یہودی کا معاملہ آتا ہے جس کے ساتھ اسلامی معاشرے میں تمام دشمنیوں سے بلند ہو کر معاملہ کی گیا ۔ اس سے اگلے سبق میں شرک اور مشرکین کے ساتھ دو دو ہاتھ کئے گئے ہیں اور ان بنیادوں کو حقارت آمیز انداز میں بیان کیا گیا ۔ جن کے اوپر مشرک معاشرہ قائم تھا ۔ اس معرکے کے درمیاں بعض ہدایات داخلی تنظیم کے بارے میں بھی دی گئی ہیں ۔ جن کا تعلق ‘ ابتدائے سورة کے مضامین بابت خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ اب اس پارے کا آخری سبق آتا ہیں جو نفاق اور منافقین کے ساتھ خاص ہے ۔ یہ سبق فیصلہ کرتا ہے کہ منافقین آگ میں سب سے نیچے درجے میں ہوں گے ۔
ان سرسری اشارات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت تحریک اسلامی کو داخلی اور خارجی محاذوں پر کس قدر ہمہ جہت لڑائی کا سامنا تھا ۔ اور پہلی تحریک اسلامی کو کس طرح بیک وقت داخلی اور خارجی محاذوں پر کام کرنا پڑ رہا تھا ۔ اس لئے کہ داخلی محاذ اور خارجی محاذ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک اور پیوستہ تھے ۔ اور یہی معرکہ آج بھی عالمی تحریک اسلامی کو درپیش ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا ۔ اس لئے کہ اسلامی تحریک کی اساس اور حقیقت ایک ہے ۔
(آیت) ” نمبر 44 تا 46۔
(سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا) اور (واسمع وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو انکی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں “۔
اس سورة میں جن متعدد جگہ تعجب کا اظہار کیا گیا ان میں سے پہلی جائے تعجب تو یہ ہے کہ اس کا خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور اہل کتاب سے مراد یہودی ہیں جبکہ مفہوم میں وہ سب لوگ شامل ہیں جو ایسا موقف اختیار کرتے ہیں جو انوکھا اور تعجب خیز ہو ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب یشترون الضللۃ ویریدون ان تضلوا السبیل “۔ (44) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کر دو ۔
چونکہ انکو کتاب دی گئی تھی اس لئے ان کے شایان شان تو یہ تھا کہ وہ فورا ہدایت قبول کرتے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے بڑے پیغمبر تھے اللہ نے انہیں تورات دی تھی ۔ تاکہ انہیں وہ ان کی ضلالت سے نکالے اور ان کے لئے نور اور ہدایت ہو ۔ لیکن وہ اپنی اس قسمت سے انکاری ہیں اور ہدایت چھوڑ کر ضلالت کے خریدار بن گئے ہیں ۔ خریداری سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے ضلالت لینے کا پختہ ارادہ کرلیا ہے ‘ ان کی نیت ہی یہ ہے اسی لئے انہوں نے ہدایت کو ترک کرکے گمراہی کو پسند کیا ہے ۔ ہدایت ان کے ہاتھوں میں ہے لیکن وہ اسے چھوڑ کر گمراہی اخذ کررہے ہیں ۔ گویا وہ قصد و ارادہ سے یہ سودا کر رہے ہیں ‘ جہل اور خطا سے ایسا نہیں کررہے ۔ اس لئے ایک عقلمند آدمی سے ایسی حرکت تعجب خیز اور بالکل انوکھی ہے اور قابل استکراہ ہے ۔
لیکن اس قابل تعجب صورت حال میں ہوتے ہوئے بھی وہ سمجھتے ہیں کہ وہ نگران بنے ہوئے ہیں ‘ حالانکہ الٹا وہ اس سعی میں لگے ہوئے ہیں کہ ہدایت یافتہ لوگ گمراہ ہوجائیں ‘ اہل اسلام میں جو صحیح راہ پر ہیں ان کو وہ گمراہ کردیں ۔ وہ اسی مقصد کے لئے متعدد ذرائع اور وسائل اختیار کر رہے ہیں ‘ جن کی تفصیلات سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں گزر چکی ہیں ۔ اور ان کے کچھ نمونے اس سورة میں بھی آگے آرہے ہیں۔ انہوں نے خود جو گمراہی خریدی ہوئی ہے وہ اس پر اکتفا نہیں کر رہے بلکہ ان کے اردگرد جو شمع ہدایت روشن ہوچکی ہے وہ اسے بھی بجھانا چاہتے ہیں اور اس کے آثار تک مٹانے کے درپے ہیں کہ نہ ہدایت رہے اور نہ ہدایت پانے والے ۔
اس پہلی اور دوسری جھلکی میں اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کو متنبہ کیا ہے کہ یہودی تمہارے خلاف کیا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور یہ کہ اسلام کے خلاف وہ کیا کیا تدابیر اختیار کرنا چاہتے ہیں ۔ کیا ہی اچھی تدبیر ہے یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے خلاف اہل ایمان کے دلوں میں نفرت بٹھانا چاہتے ہیں ‘ جو مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے تھے ۔ اس وقت مسلمان اس ہدایت پر فخر کرتے تھے اور وہ ان لوگوں کو اپنا دشمن سمجھتے تھے جو ان کو اس قابل فخر وعزت پوزیشن سے لوٹا کر پھر جاہلیت کی طرف لے جانا چاہتے تھے ‘ جس کو وہ خوب جانتے تھے اور اسلام بھی اس جاہلیت سے اچھی طرح واقف تھا اور جو شخص بھی انہیں جاہلیت کی طرف لوٹا رہا تھا ‘ وہ اسے بہت ہی برا سمجھتے تھے ۔ اس دور میں قرآن ان لوگوں سے مخاطب تھا ‘ اللہ کے علم کے مطابق نازل ہو رہا تھا ۔ اور مسلمانوں کے دلوں میں اس کی وقعت اور اہمیت تھی ۔
اس لئے اس کے بعد قرآن صراحتا بتاتا ہے کہ یہودیوں کی یہ سازش ہے اور تصریح کردی جاتی ہے کہ یہ یہودی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔ اہل ایمان کو یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ان کی اس مذموم کوشش کے مقابلے میں اللہ کی ہدایت اور نصرت پر ہی بھروسہ کریں ۔
(آیت) ” واللہ اعلم باعدآء کم وکفی باللہ ولیا وکفی باللہ نصیرا “۔ (45)
اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت ومددگاری کے لئے اللہ ہی کافی ہے کہتے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ “
یوں صراحت کے ساتھ اعلان کردیا جاتا ہے کہ مدینہ میں جماعت مسلمہ اور یہودیوں کے درمیان دشمنی ہے ۔ اور ان کے درمیان متوازی خطوط متعین ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگرچہ تعجب کا اظہار تمام اہل کتاب کے بارے میں ہیں لیکن اس آیت میں مدینہ کے یہودی ہی مراد ہیں ۔
کلام الہی نے فقط اشارہ پر اکتفا نہ کیا بلکہ یہودیون کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا اور اس کے بعد ان کی سرگرمیوں اور سازشوں اور رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ان کی گستاخیوں کا تفصیلا ذکر کیا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات ہجرت کے ابتدائی دور کے تھے اور ابھی تک مدینہ طیبہ میں اسلام کو اس قدر شوکت اور غلبہ نصیب نہ ہوا تھا ۔
(آیت) ” من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ویقویون سمعنا وعصینا واسمع غیر مسمع وراعنا لیا بالسنتھم وطعنا فی الدین (4 : 46)
” جن لوگوں نے یہودیت کا طریقہ اختیار کیا ہے ان میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرکے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں ۔ (سمعنا وعصینا) اور (واسمع غیر مسمع) اور (راعنا) کلام الہی کے اندر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے وہ حد سے گزر گئے تھے ۔ وہ اللہ کی شان میں بھی گستاخی کرتے تھے اور اس طرح وہ کلامی الہی کا سیدھا مفہوم کچھ سے کچھ بنا دیتے تھے ۔ اس آیت کے مفہوم میں راجح بات یہ ہے کہ وہ تورات کی عبارتوں کو اس طرح بدلتے تھے کہ اس کے الفاظ کا مفہوم بدل جاتا ۔ اور اس تحریف کا بڑا مقصد یہ تھا کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی رسالت کے بارے میں تورات میں جو دلائل تھے ‘ ان کو تبدیل کردیں اور ان احکام اور قوانین کو بدل دیں جن کو اسلامی شریعت نے بحال رکھا اور جن سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ جس منبع سے تورات نازل ہوئی ہے ‘ اسی سے قرآن کریم نازل ہو رہا ہے اور نتیجتہ یہ بات ثابت ہو رہی تھی کہ نبی اکرم ﷺ کی رسالت برھق ہے ۔ اور وہ ان باتوں کو اپنے مدلول سے اس طرح بدل دیتے کہ ان کی خواہشات کے مطابق مفہوم بن جاتا اور یہ صفت ان تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے جو اپنے دین سے منحرف ہوجاتے ہیں اور ایسی تحریفات کرتے ہیں کہ جس سے اقتدار پر قابض لوگوں کو خوش کریں ‘ یا ان عوام الناس کو خوش کریں جو دین سے اپنے آپ کو چھڑانا چاہتے ہیں ۔ یہودی ہمیشہ اس کام میں ماہر رہے ہیں اگرچہ ہمارے دور میں مسلمانوں کے اندر بھی بعض لوگوں نے یہ کام شروع کردیا ہے اور یہ لوگ اس خصلت میں یہودیوں سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔
پھر یہ لوگ رسول خدا ﷺ کی خدمت میں گستاخی کرتے ہوئے اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ وہ کہتے ” ہم نے سنا اور نافرمانی کی “ اس لئے ہم نہ ایمان لاتے ہیں اور نہ اتباع کرتے ہیں اور نہ اطاعت کرتے ہیں ۔ اس سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ آیات مدینہ کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئیں جہاں یہودیوں کو حضور ﷺ کے مقابلے میں اس قدر بےباکانہ جرات ہو سکتی تھی ۔ اس ظاہری انکار کے بعد وہ نہایت ہی بےادبی ‘ نہایت ہی بداخلاقی پر اتر آئے اور حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے لگے ۔
بظاہر کہتے ہیں ۔ (اسمع) (سنئے) (غیر مسمع) آپ کوئی یہ حکم نہیں دے سکتا کہ آپ (سنئے) بظاہر تو یہ کلمہ تادیب تھا اور (راعنا) کا مفہوم یہ تھا کہ آپ ہماری رعایت کریں ‘ ہمارے حال کو مدنظر رکھیں ۔ یعنی یہ کہ وہ اہل کتاب ہیں اور انکو اسلام کی طرف اس طرح دعوت نہیں دی جانی چاہئے جس طرح عام مشرکین کو دی جاتی ہے ۔ ان اصل معنوں کو وہ زبان کے ہیر پھیر سے اس طرح بگاڑتے کہ (غیر مسمع) کا معنی یوں بن جاتا کہ آپ کی بات کوئی نہ سنے اور نہ آپ سن سکیں ۔ (اللہ انکو ذلیل کرے) اور (راعنا) کے لفظ کا اشقاق وہ رعونت سے کرتے ۔ یہ تھی انکی بےشرمی اور بےحیائی اور بےادبی اور ہیر پھیر اور مداہنت اور بات کا مفہوم بدلنا اور لفظ کا محل بدلنا وغیرہ ۔
قرآن کریم یہودیوں کی ان کمزوریوں کا ذکر کرنے کے بعد یہ بتاتا ہے کہ یہودی چونکہ اہل کتاب اور اہل ثقافت ہیں اور ان کا فرض یہ تھا کہ ان کا رویہ شریفانہ ہوتا اور تہذیب کے دائرے کے اندر وہ بات کرتے اس لئے کہ جن لوگوں کو کتاب کا حصہ ملا ہے ‘ ان کو غیر اہل کتاب کے مقابلے میں نہایت ہی سلجھا ہوا ہونا چاہئے ۔ یہ کہنے کے بعد ان کو یہ امید دلائی جاتی ہے کہ وہ ہدایت پاکر کر اچھی جزاء ‘ اللہ کی جانب سے بھلائی اور فضل وکرم کے مستحق ہوں گے بشرطیکہ وہ سیدھے راستے پر آجائیں ۔ لیکن ان کا مزاج ہی ایسا نہیں رہا ہے اور ان پر اللہ کی لعنت ہوگئی ہے اور ان کی حالت یہ ہے ۔
(آیت) ” ولوانھم قالوا سمعنا واطعنا واسطمع وانظرنا لکان خیرالھم واقوم ولکن لعنھم اللہ بکفرھم فلا یمومنون الا قلیلا “۔ (4 : 46)
” حالانکہ اگر وہ کہتے ۔ (سمعنا واطعنا ) اور (واسمع) اور (وانظرنا) تو یہ انہی کے لئے بہتر تھا اور زیادہ راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پھٹکار پڑی ہوئی ہے اس لئے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ “
لیکن وہ سچائی کے مقابلے میں صاف اور قطعی بات نہیں کرتے اور اگر وہ صفائی کے ساتھ اس سچائی کو قبول کرتے اور صاف صاف بات کرتے اور کہتے ” ہم نے سنا اور اطاعت کی “ یا کہتے ” سنئے اور ذرا ہمارا انتظار کیجئے “ تو انکے لئے یہ بہتر ہوتا اور ان کے مزاج اور ان کی نفسیات اور حالات کے زیادہ مطابق ہوتا ۔ لیکن وہ اپنے کفر کی وجہ سے ہدایت سے دور بھاگتے ہیں کم لوگ ان میں ایسے ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔
اللہ کی بات بہت ہی سچی ہے ۔ اسلامی نظام حیات کو یہودیوں میں سے بہت ہی کم لوگوں نے قبول کیا اور اسلام کی طویل تاریخ اس پر گواہ ہے اور یہ قیل تعداد بھی وہ تھی جس کی قسمت میں اللہ نے یہ بھلائی لکھ دی تھی ‘ اور یہ ارادہ کرلیا تھا کہ وہ راہ ہدایت پالیں ۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے سچائی تک پہنچنے کے لئے جدوجہد کی ۔ انہوں نے ہدایت پانے کے لئے سعی کی ۔ رہا یہودی فرقہ تو وہ چودہ سو سال سے اسلام کے خلاف برسرجنگ ہے ۔ جب سے مدینہ میں ‘ ان کے پڑوس میں اسلام نازل ہوا ہے ‘ اس وقت سے لے کر آج تک اسلام کے خلاف ان کی سازشیں غیر منقطع ہیں اور اسلام کے ساتھ انہیں جو بغض ہے وہ آج تک ختم نہیں ہوا ۔ ہاں اس کی شکل ‘ اس کا رنگ اور اس کا فنی انداز بدلتا رہا ہے ۔ اور آج تک اسلام کے خلاف جو سازشیں بھی کی گئیں جس میں صیلبی جنگیں اور جدید استعماریت بھی شامل ہے ‘ اس کے پیچھے یہودیوں ہی کا ہاتھ رہا ہے ‘ اور یہ سازشیں مختلف شکلوں میں رہی ہیں۔ اگر براہ راست نہیں تو اس میں یہودیوں کا حصہ اور ہاتھ ضرور رہا ہے ۔
اس کے بعد خطاب اہل کتاب یہودیوں سے ہے ۔ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس کتاب کو قبول کرلیں جو اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو تمہارے ہاں موجود ہے ۔ انہیں سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر بلاوجہ وہ قبول حق سے رودگردانی کریں گے تو ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ انہیں مسخ کر کے انکے چہرے پھیر دے گا اور ان پر اسی طرح لعنت ہوگی جس طرح سبت کی خلاف ورزی کرنے والوں پر ہوئی تھی ۔ ارتکاب شرک سے انہیں منع کیا جاتا ہے اور خالص توحید کو قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے جس کی اساس پر خود ان کا دین بھی استوار ہوا ہے ۔ اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں فرماتے جبکہ اس کے علاوہ تمام گناہ معاف ہوسکتے ہیں ‘ شرک بہرحال گناہ عظیم ہے ۔
النساء 4:48
(آیت) ” نمبر : 47 تا 48۔
اہل کتاب کو ان کی صفت اہل کتاب سے پکارا گیا ‘ اس لئے کہ اس صفت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ سب سے پہلے دعوت اسلامی کو قبول کرتے اور سب سے پہلے مسلمان بن جاتے ۔
(آیت) ” یایھا الذین اوتوالکتب امنوا بما نزلنا مصدقالما معکم “۔ (4 : 47)
” اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی “۔
چونکہ ان کو کتاب دی گئی ہے ‘ اس لئے انکے لئے ہدایت قبول کرنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے اس لئے کہ جس اللہ نے انہیں کتاب دی ہے وہی اب انہیں دعوت ایمان دے رہا ہے کہ اس کتاب پر بھی ایمان لاؤ جو تمہارے پاس موجود کتاب کی تصدیق کر رہی ہے ۔ یہ ان کے لئے تو کوئی انوکھی بات نہیں ‘ جبکہ یہ کتاب ان کی کتابوں کی مصدق بھی ہے ۔
اگر ایمان دلائل پر موقوف ہوتا ‘ یا ظاہری اسباب پر موقوف ہوتا تو یہودی سب سے پہلے مومنین میں سے ہوتے ۔ لیکن یہودی اپنے مخصوص مفادات اور مصلحتوں کا شکار ہوگئے ۔ نیز وہ کینہ اور عناد کی وجہ سے ایمان نہ لا سکے ۔ یہ لوگ اپنے مزاج کے اعتبار سے بھی نہ ماننے والے تھے ۔ مزاج میں اکڑ تھی ۔ تورات نے ان کے لئے ” اکڑی ہوئی گردن رکھنے والی قوم “ کے الفاظ استعمال کئے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہ لائے ۔ اللہ کی طرف سے بھی ان کے حق میں سخت اور خوفناک تہدید آئی ۔
(آیت) ” من قبل ان نطمس وجوھا فنردھا علی ادبارھا اونلعنھم کما لعنا اصحب السبت وکان امر اللہ مفعولا “۔ (4 : 47)
” اس پر ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہم چہرے بگاڑ کر پیچھے پھیر دیں یا ان کو اسی طرح لعنت زدہ کردیں جس طرح سبت والوں کے ساتھ ہم نے کیا تھا ‘ اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے ۔
طمس الوجوہ ‘ کا مفہوم یہ ہے کہ چہرے کے وہ خدوخال مٹا دیئے جائیں ‘ جن کی وجہ سے انسان انسان بنتا ہے اور چہروں کو بگاڑ کر پیچھے کی طرف موڑ دیا جانا ‘ اس طرح کہ وہ پیچھے کی طرف چلے ۔ اس سے مراد انہیں خوفناک عذاب سے ڈرانا ہے جس میں ان کے چہروں کو پیٹھ کی طرف موڑ کر پیچھے کی طرف چلنے پر مجبور کرنا شامل ہے ۔ اس عذاب میں وہ لعنت بھی شامل ہے جو اصحاب السبت پر وارد ہوئی ۔ (یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے سبت کے دن شکار کرنے کی کوشش کی حالانکہ ان کی شریعت کے مطابق ان پر یہ شکار حرام تھا) اس جرم پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو عملا بندر اور خنزیر بنادیا تھا ۔ نیز اس سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے تصورات اور دل و دماغ سے ہدایت اور بصیرت کے آثار مٹا دے اور ان کو دوبارہ کفر اور جاہلیت کی طرف لوٹا دے ۔ یعنی اس حالت کی طرف جب ان کے پاس کوئی کتاب ہدایت نہ تھی اور پھر یہ ایمان کے بعد کفر کی حالت میں چلے جائیں ۔ ایمان کے بعد دوبارہ کفر میں چلا جانا ‘ ہدایت کے بعد گمراہی میں چلا جانا ہی دراصل چہروں کا بگاڑ دینا ہے ۔ اور انسان کا الٹے پاؤں پھرنا ہر قسم کے ارتداد سے برا ہے۔
چاہے یہ مفہوم ہو یا وہ مفہوم ہو بہرحال یہ ایک خوفناک تہدید اور ڈراوا ہے جو یہودیوں کے کرخت اور متکبرانہ مزاج کے لئے مناسب سزا ہے ۔ اسی طرح ان کے برے اور خبیث اعمال کے لئے بھی یہی مناسب سزا ہے ۔
اس تہدید سے ڈر کر کعب الاحبار مسلمان ہوگئے تھے ۔ ابن ابی حاتم نے روایت نقل کی ہے اپنے والد ‘ ابن نفیل ‘ عمر ابن واقد ‘ یونس ابن جلیس ‘ ابو ادریس ‘ عائذ الخولانی کی سند سے ۔ انہوں نے کہا کہ ابو مسلم خلیلی کعب کے استاد تھے اور وہ انہیں رسول خدا ﷺ سے ملنے میں دیر کرنے پر ملامت کرتے تھے ۔ کہتے ہیں ابو مسلم نے کعب کو بھیجا کہ وہ حضور کو دیکھیں کہ آیا حضرت محمد ﷺ وہی ہیں “ کعب کہتے ہیں میں نے سواری کی اور مدینہ پہنچ گیا ۔ اچانک میں نے ایک تلاوت کرنے والے کو یہ تلاوت کرتے سنا ۔
(آیت) ” یایھا الذین اوتوالکتب امنوا بما نزلنا مصدقالما معکم من قبل ان نطمس وجوھا فنردھا علی ادبارھا “۔ (4 : 47)
” اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی اس پر ایمان لے آؤ قبل اس کے کہ ہم چہرے بگاڑ کر پیچھے پھیر دیں “۔
میں بھاگا اور پانی سے غسل کیا اور میں نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر دیکھا کہ کہیں میرا چہرہ مسخ تو نہیں ہوگیا ہے ‘ اس کے بعد میں مسلمان ہوگیا ۔
اور اس تہدید پر آخری وعید (آیت) ” وکان امر اللہ مفعولا “۔ (اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہوکر رہتا ہے) ہے ۔ یہ مکرر تہدید اور ڈراوا ہے اور یہودیوں کے مزاج کے عین مطابق ہے۔
اس کے بعد ایک اور تہدید آمیز اختتامیہ آتا ہے اور یہ آخرت کے متعلق ہے اور تنبیہ اور ڈراوا اس مقصد کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ شرک کے جرم کو کبھی معاف نہیں کرتا ‘ جبکہ اس کے سوا جس قدر اور جس قسم کے جرائم ہیں ان کی مغفرت کا دروازہ کھلا ہے ‘ بشرطیکہ اللہ کی مشیت ہو ،
(آیت) ” ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیما “۔ (48)
” اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا ‘ اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے ‘ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا ‘ اس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی ۔ “
سیاق کلام سے یہ بات ضمنا ثابت ہوتی ہے کہ یہودی بھی شرک میں مبتلا تھے اس لئے ان کو بھی دعوت دی جاتی ہے ۔ کہ وہ توحید خالص کو اپنائیں اور شرک کا ارتکاب نہ کریں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کے کسی شرکیہ قول یافعل کا ذکر نہیں کیا ۔ البتہ قرآن کریم کے دوسرے مواقع پر بعض تفصیلات موجود ہیں ۔ قرآن کریم نے ان کے اس عقیدے کا ذکر کیا ہے کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں جیسا کہ نصاری مسیح کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ شرک ہے ۔ اسی طرح قرآن کریم نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ دونوں طبقے یہود ونصاری ” کہ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا رب بنا رکھا ہے “ یہ لوگ احبار اور رہبان کو قانون سازی کا حق دیتے تھے ۔ انکو حلال و حرام کے اختیارات بھی دیتے تھے ‘ حالانکہ یہ حقوق ایسے ہیں کہ یہ اللہ کے مخصوص حقوق ہیں اور یہ اللہ کی حاکمیت کا مخصوص ترین دائرہ ہے یہ وجہ ہے کہ اہل کتاب کو بھی قرآن نے مشرکین تصور کیا ۔ اس نقطہ نظر کو اسلامی تصور حیات میں بہت اہمیت حاصل ہے کیونکہ ایمان کی تعریف اور اس کی شرائط کی اس سے وضاحت ہوتی ہے جیسا کہ اس سورة میں اس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں ۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ حضور ﷺ کے دور میں جو یہودی جزیرۃ العرب میں رہتے تھے ‘ ان کے نظریات میں کئی پہلوؤں سے بت پرستی داخل ہوچکی تھی اور ان کے اعمال بت پرستی سے بھرے پڑے تھے ۔ یہ لوگ توحید سے منحرف ہوگئے تھے اس لئے یہاں ان کو سختی سے ڈرایا جاتا ہے کہ اللہ شرک کو ہر گز معاف نہیں کرتا اگرچہ شرک سے کم تردرجے کے ہر قسم کے گناہ وہ معاف کرتا ہے ۔ ایسے شخص کے لئے معافی کی کوئی صورت نہیں ہے جس نے دنیا میں شرک کیا ہو اور پھر توبہ کے بغیر مر گیا ہو ۔
شرک اس لئے جرم عظیم ہے کہ اس کی وجہ سے اللہ اور بندے کے درمیان ربط ٹوٹ جاتا ہے ۔ اور مشرک کو یہ امید نہیں ہوتی کہ اللہ اسے معاف کر دے گا ۔ اگر ایسے لوگ اس دنیا سے اس حال میں جائیں کہ وہ مشرک ہوں اور ان کا اللہ تعالیٰ کی ذات سے کوئی رابطہ نہ ہو ۔ ان کی مغفرت نہیں ہوسکتی ۔ جو شخص بھی شرک کرے اور اسی شرکیہ حالت میں دنیا سے چلا جائے ‘ جبکہ اس کے سامنے دلائل توحید مظاہر کائنات اور رسولوں کی تعلیمات میں موجود ہوں تو وہ جہنمی ہوگا ۔ اگر اس میں بھلائی کا ذرہ برابر عنصر بھی موجود ہوتا تو وہ ایسا ہر گز نہ کرتا ۔ اس جرم کی وہ فطرت سلیمہ تلف ہوچکی ہوتی ہے جو اللہ نے اسے دی تھی ۔ اور وہ شخص سب سے نچلے درجے میں چلا گیا ہے اور اس نے اپنے آپ کو گویا جہنم کی آگ کے لئے تیار کرلیا ہے ۔
رہے وہ جرائم جو اس واضح ‘ ظاہر ‘ عظیم ‘ گندے اور کھلے ظلم سے کم درجے کے ہیں تو یہ تمام گناہ اگرچہ وہ کبائر ہی کیوں نہ ہوں ان کی مغفرت کا دروازہ اللہ کے ہاں کھلا ہے بشرطیکہ اللہ کی مشیت ہو ۔ یہ جرائم حدود مغفرت کے اندر داخل ہیں۔ چاہے اس نے توبہ کی ہو اور اللہ معاف کر دے یا بغیر توبہ کے قیامت میں معاف ہوں ۔ جس طرح بعض روایات میں آیا ہے ‘ بشرطیکہ بندہ اللہ کے فضل کا شعور اپنے اندر پاتا ہو۔ وہ اللہ کی مغفرت کا امیدوار ہو اور اسے یقین ہو کہ اللہ مغفرت کرسکتا ہے اور یہ کہ اللہ کی مغفرت اس کے گناہوں سے بہت زیادہ ہے ۔ یہ ہے کہ امیدواری اللہ کی رحمت کے بارے میں ‘ جو ختم نہیں ہوتی اور نہ محدود ہوتی ہے ۔ وہ ایسی رحمت ہے جس کے آگے دروازے بند نہیں ہوتے اور نہ ہی ان دروازوں پر دربان ہوتے ہیں ۔
امام بخاری اور امام مسلم دونوں نے قتیبہ ‘ جریر ابن عبدالحمید ‘ عبدالعزیز ابن رفیع ‘ زید ابن وہب کی سند کے ذریعے حضرت ابوذر ؓ سے نقل کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں : میں ایک رات نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضور ﷺ اکیلے جارہے ہیں اور آپ کے ساتھ کوئی انسان نہیں ہے ۔ کہتے ہیں کہ میں نے یہ سوچا کہ شاید حضور ﷺ یہ پسند نہیں کرتے کہ ان کے ساتھ کوئی جائے ۔ تاہم میں چاند کے سائے میں چلتا رہا ۔ آپ نے میری طرف مڑ کر دیکھا اور مجھے دیکھ لیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” کون ہو تم “ میں نے عرض کیا ” ابوذر۔ “ مجھے اللہ آپ پر فدا کرے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” ابوذر آؤ ۔ “ کہتے ہیں میں آپ کے ساتھ کچھ دیر کے لئے دیا اور وہ اسے دائیں بائیں ‘ سامنے اور پیچھے پھیلاتے رہے اور اس میں اچھا تصرف کیا ۔ “ اس کے بعد مزید کچھ دیر میں ان کے ساتھ چلا ۔ اس کے بعد آپ ﷺ مجھ سے کہا ! ادھر بیٹھ جاؤ ۔ “ مجھے اس کھلی جگہ بٹھایا جس کے اردگرد پتھر تھے ۔ مجھ سے کہا ” تم ادھر بیٹھ جاؤ یہاں تک کہ میں لوٹ آؤں ۔ “ اس کے بعد آپ وادی میں آگے چلے گئے یہاں تک کہ آپ مجھے نظر نہ آرہے تھے ۔ آپ کافی دیر تک نہ آئے یہاں تک کہ انتظار طویل ہوگیا ۔ اس کے بعد مجھے آپ کے آنے کی آواز آئی اور آپ یہ فرما رہے تھے ! ” اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور اگرچہ اس نے چوری کی ہو ۔ “ جب آپ ﷺ واپس آگئے تو میں پوچھے بغیر نہ رہ سکا : ” اے رسول ﷺ مجھے اللہ آپ پر قربان کردے ‘ آپ اس وادی میں کس کے ساتھ باتیں کر رہے تھے ؟ “ میں نے تو کسی کو سنا کہ وہ آپ کے ساتھ بات کر رہا تھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ! یہ جبریل تھے ‘ یہ وادی کی طرف مجھے ملے اور مجھ سے کہا ” آپ اپنی امت کو خوشخبری دے دیں کہ اس میں سے کوئی بھی اس حال میں مرا کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر رہا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ میں نے کہا کہ ” اے جبریل اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی ہو ۔ تو انہوں نے کہا (ہاں) میں نے پھر کہا کہ اگرچہ اس نے چوری کی ہو اور زنا کیا ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا : ” اگرچہ اس نے چوری کی ہو ‘ زنا کیا ہو اور شراب پی ہو۔ “
ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے روایت کی ہے : حضور نے فرمایا : جو شخص بھی مر جائے اس حال میں کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک نہ کر رہا ہو تو اس کے لئے مغفرت جائز ہوجائے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا تو اسے عذاب دے گا اور اگر اللہ نے چاہا تو اسے بخش دے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر ہرگز مغفرت نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے ۔ اس کے سوا جسے چاہے گا بخش دے گا ۔
ابن ابو حاتم (رح) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : ” ہم اصحاب رسول ﷺ زندہ جان کے قاتل ‘ یتیم کا مال کھانے والے ‘ بےگناہ عورتوں پر تہمت لگانے والے ‘ جھوٹی شہادت دینے والے میں شک نہ کرتے تھے (کہ وہ جہنمی ہیں) یہاں تکہ یہ آیت نازل ہوئی ۔ ” اللہ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس کے سوا وہ جس کی چاہے مغفرت کر دے گا “۔ اس کے بعد اصحاب رسول ﷺ نے شہادت دینا چھوڑ دیا ۔
طبرانی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عکرمہ ؓ ‘ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے کہا ہے ‘ جو شخص یہ جانتا ہو کہ میں گناہوں کی مغفرت کرنے پر قادر ہوں تو میں اس کے گناہ معاف کر دوں گا ۔ اور میں کوئی پرواہ نہیں کرتا جب تک وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر دے ۔ “
اور اس آخری حدیث میں ہمارے لئے ایک بصیرت افروز لمحہ فکریہ ہے ۔ اصل اہمیت اس بات کو حاصل ہے کہ بھلائی ‘ امید ‘ خوف اور حیا کے پاس پردہ دل کے اندر اللہ کا حقیقی شعور ہونا چاہئے ۔ اگر انسان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے اتو اس کا یہ شعور اور اس پر مبنی بھلائی کا جذبہ ‘ امید ‘ خوف اور حیاء انسان کے اندر خدا ترسی پیدا کرتے ہیں اور انسان مغفرت کا اہل ہوجاتا ہے ۔
اب قرآن مجید ذرا آگے بڑھتا ہے اور جماعت مسلمہ کو یہودیوں پر مزید آگے بڑھا کر حملہ آور کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ان لوگوں کا ایک اور تعجب خیز پہلو سامنے لاتا ہے ۔ یہ کہ یہ یہودی لوگ اپنے آپ کو اب بھی اللہ کی برگزیدہ قوم سمجھتے ہیں ‘ اپنی تعریفیں کرتے ہیں اپنی پاکی واماں کی حکایتیں سناتے ہیں ‘ جبکہ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ بات کو اپنے اصل مفہوم و مراد سے بدل دیتے ہیں اور اللہ اور رسول کے مقابلے میں گستاخی کرتے ہیں ‘ جبکہ وہ خود جبت (ہر قسم کے وہمیات) اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں جیسا کہ آگے آتا ہے اور اپنی پاکی بیان کرکے اور اپنے آپ کو اللہ کا مقرب کہہ کر اگرچہ وہ بدعمل ہوں ‘ اللہ پر افتراء باندھتے ہیں ۔
النساء 4:49
(آیت) ” نمبر 49 تا 50۔
یہودیوں کا یہ قدیمی دعوی ہے کہ وہ اللہ کے مختار اور برگزیدہ لوگ ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس امانت کے اٹھانے اور فرائض رسالت اور دعوت کے لئے چنا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خاطر فرعون اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا ۔ بنی اسرائیل کو ارض مقدس کا وارث بنایا تھا ‘ لیکن اس کے بعد آنے والے ادوار میں انہوں نے سرے سے اسلامی نظام ہی کو ترک کردیا ۔ اور انہوں نے اس کرہ ارض پر عظیم نافرمانیوں اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب شروع کردیا ۔ ان گناہوں سے زمین بھی کانپنے لگی ۔ ان کے لئے ان کے احبار ‘ علماء نے ان چیزوں کو حلال کردیا جسے اللہ نے حرام کیا تھا ‘ اور ان پر ان چیزوں کو حرام کردیا جو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھیں ۔ انہوں نے ان غلط کاموں میں ان احبار کی پیروی شروع کردی تھی اور ان احبار نے اس طرح جو خدائی کا دعوی کیا تھا ‘ اس کا انہوں نے انکار نہ کیا حالانکہ حلال و حرام کا تعین تو اللہ کا کام تھا ۔ ان احبار نے اللہ کی شریعت میں تبدیلیاں کردیں تاکہ بادشاہوں اور شرفاء کو خوش کریں اور جمہور عوام کے رجحانات اور میلانات کی پیروی وچاپلوسی کریں ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے گویا ان کو اپنا رب بنا لیا تھا ۔ پھر انہوں نے سود کھانا شروع کردیا ۔ ان کا تعلق اپنے دین اور اپنے رب کے ساتھ کمزور ہوگیا ‘ ان جرائم اور ان کے ساتھ بیشمار دوسرے جرائم کے باوجود وہ بدستور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں ‘ اور یہ کہ ان کو آگ فقط چند دن تک چھوئے گی اور یہ کہ اللہ کے نزدیک صرف یہودی ہی نجات کے مستحق ہیں ۔ گویا دین صرف رشتہ داری تک محدود ہوگیا ہے یا دین میں بھی ذاتی تعلقات اور دوستیاں کام کرتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ بہت ہی بلند ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کو اپنے بندوں میں سے کسی کے ساتھ نہ قرابت داری ہے اور نہ نسبت ہے۔ اللہ کے بندوں کا تعلق صرف درست عقائد کی وجہ سے قائم رہ سکتا ہے ۔ عمل صالح کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے اور اسلامی نظام حیات پر ثابت قدمی سے رہ سکتا ہے ۔ جس شخص نے اس تعلق میں خلل ڈالا ‘ اس پر اللہ کا غضب نازل ہوا ۔ اور اللہ کا غضب اس وقت بہت ہی جوش میں آتا ہے جب اللہ ایک گمراہ قوم کو ہدایت بخشے مگر وہ قوم ہدایت کے مقابلے میں انحراف کی راہ اختیار کرلے ۔ ان یہودیوں کے حالات آج کے نام نہاد مسلمانوں سے مختلف نہیں ہیں ۔ ‘ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امت محمدیہ میں سے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ لازما ان کی مدد کرے گا اور یہودیوں کو ان کی سرزمین سے نکالے گا ‘ جبکہ وہ مکمل طور پر اسلام سے نکل گئے ہیں ‘ حالانکہ اسلام ان کا دین اور نظام زندگی ہے ۔ لیکن انہوں نے اسے اپنی زندگیوں سے نکال دیا ہے اور وہ اللہ کی کتاب کے مطابق کوئی فیصلہ نہیں کرتے ۔ نہ اپنے مقدمات میں نہ اپنے اقتصادی مسائل میں ۔ نہ اپنے اجتماعی معاملات میں اور نہ اپنے آداب و عادات میں ۔ ان کا اسلام صرف مسلمانوں جیسے نام رکھنے تک محدود رہ گیا ہے ۔ اور یہ کہ وہ مسلمانوں کے ملک میں پیدا ہوئے ہیں جس میں وہ کبھی زندہ رہ رہے تھے اور کبھی انہوں نے اس میں دین اسلام قائم کیا تھا اور اسلامی نظام کے مطابق تمام فیصلے کیا کرتے تھے ۔
اللہ تعالیٰ رسول خدا ﷺ کے سامنے تعجب کا اظہار فرما رہے ہیں کہ یہ یہودی بھی عجیب ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بہت ہی پاک قوم سمجھتے ہیں ۔ لیکن آج کے مسلمانوں کا معاملہ تو اس تعجب انگیز صورت حالات سے بھی زیادہ تعجب انگیز ہے کیوں کہ ان کی اخلاقی حالت اس زمانے کے یہودیوں سے بھی زیادہ پست ہوچکی ہے ۔
یہ لوگوں کا کام نہیں ہے کہ وہ میاں مٹھو بن کر اپنی پاک دامنی کا ڈھنڈورا پیٹیں اور یہ شہادت کود اپنے حق میں دیں کہ وہ نیک ہیں ‘ اللہ کے قریبی ہیں اور شعب مختار ہیں ۔ بلکہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ فیصلہ دے کہ اللہ کے نزدیک پاک اور برگزیدہ کون ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں اور عملوں کو خوب جانتا ہے اور لوگوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ۔ اگر وہ اللہ کی طرف صحیح معنوں میں متوجہ ہوجائیں نیک عمل کریں اور یہ تیر تکے چلانا چھوڑ دیں ۔ اگر وہ ادعاء چھوڑ دیں اور عمل کرتے ہیں نہایت ہی ادب اور حیاء کے ساتھ اور بغیر پاکی دامن کے پروپیگنڈے کے اور بغیر فخر و غرور کے تو اللہ کے ہاں ان کے کسی عمل کا غبن نہ ہوگا ‘ کوئی عمل بھول چوک کی وجہ سے حساب سے ساقط نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حق مارا جائے گا ۔
اللہ تعالیٰ خود یہودیوں کے خلاف شہادت دیتے ہیں کہ وہ جو دعوے کر رہے ہیں کہ وہ برگزیدہ لوگ ہیں اور ان سے اللہ بہرحال راضی ہے تو یہ لوگ اللہ پر بہت بڑا افتراء باندھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اس دعوائے باطل کی مذمت کرتے ہوئے اس طرح اسے لوگوں کی نظروں میں ساقط گردانتے ہیں ۔
(آیت) ” انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب وکفی بہ اثما مبینا (4 : 50)
” دیکھو تو سہی ‘ یہ اللہ پر بھی جھوٹے افتراء گھڑنے سے نہیں چوکتے اور ان کے صریحا گناہ گار ہونے کے لئے یہی ایک گناہ کافی ہے ۔
ذرا سوچئے تو سہی ‘ ہم لوگ جو اسلام کا دعوی کرتے ہیں ‘ اس لئے کہ ہمارے نام مسلمانوں جیسے ہیں اور ہم ایسی سرزمینوں میں بستے ہیں جہاں کبھی مسلمان بسا کرتے تھے تو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے ۔ ہم لوگ اسلام کو اپنی زندگی کے کسی بھی شعبے میں نافذ نہیں کرتے لیکن اسلام کا دعوی کرتے ہیں ۔ اپنی سیرت اور صورت میں ہم اسلام کی شکل کو مسخ کررہے ہیں اور اپنی عملی زندگی سے اسلام کے خلاف شہادت دے رہے ہیں اور پھر بھی ہم دعوی کرتے ہیں کہ ہم برگزیدہ لوگ ہیں اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہیں اگرچہ ہم نے اپنی عملی زندگی سے اسلام کو مکمل طور پر بےدخل کردیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری صورت حال بھی اس صورت حالات سے مختلف نہیں ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تعجب کے ساتھ متوجہ فرماتے ہیں اور ایسے دعوے کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتے ہیں اور ایک عظیم گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں نعوذ باللہ ۔
یاد رکھئے کہ اللہ کا دین ایک نظام حیات ہے ۔ اور اللہ کی اطاعت کے معنی یہ ہیں کہ پوری زندگی میں اس نظام کی حکمرانی قائم کی جائے ۔ اللہ کا قرب اس وقت نصیب ہوگا جب اللہ کی اطاعت کی جائے ۔ ذرا غور کیجئے کہ ہم اللہ ‘ اس کے دین اور اس کے نظام زندگی سے کس قدر دور ہیں ۔ پھر یہ بھی غور کیجئے کہ ہمارا اور یہودیوں کا حال بالکل ایک جیسا ہے جن کے حال پر اللہ اور رسول تعجب کرتے ہیں ۔ ان کے بےبنیاد دعوے کو اللہ پر افتراء سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس لئے یہودیوں کے خلاف ضابطہ ہمارے خلاف ضابطہ ہوگا ۔ ان کا حال اور ہمارا حال ایک جیسا ہوگا ۔ اور یاد رکھئے کہ اللہ کی کسی کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ کسی کے ساتھ دوستی ہے ۔
سلسلہ کلام بدستور انہی لوگوں کے بارے میں جاری ہے جو لوگ اپنے آپ کو برگزیدہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ حق کے مقابلے میں باطل پر ایمان لاتے ہیں ۔ ایسے احکام کو تسلیم کرتے ہیں جو از روئے شریعت مستند نہیں ہیں اور ان احکام کے لئے کوئی ایسا ضابطہ نہیں ہے جو ان کو ظلم اور زیادتی سے باز رکھ سکے ۔ یہ ہے ایمان بالجبت والطاغوت جبکہ وہ شرک اور مشرکین کے حق میں یہ گواہی بھی دے رہے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اللہ کی کتاب اللہ کی شریعت اور اس کے نظام حیات پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کے حال پر اس تعجب خیزی اور ان کی ذلالتوں کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر شدید تنقید فرماتے ہیں اور ان کو ذلیل و خوار دیتے ہیں ۔ ان کے مزاج کے خفیہ گوشے کھولتے ہیں کہ وہ سخت حاسد اور بخیل ہیں ۔ ان کے طرف سے دین ابراہیمی سے منحرف ہو کر موجودہ موقف اپنانے کے اسباب بتائے جاتے ہیں ‘ حالانکہ وہ دین ابراہیمی پر بےحد فخر کرتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنے شجرہ نسب ختم ہونے پر بھی وہ نہایت ہی فخر کرتے تھے ۔ یہ تنقید اسی حتمی فیصلے پر اختتام پذیر ہوتی ہے کہ ان کے لئے جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کافی ہے ۔
النساء 4:50
(آیت) ” نمبر 49 تا 50۔
یہودیوں کا یہ قدیمی دعوی ہے کہ وہ اللہ کے مختار اور برگزیدہ لوگ ہیں ۔ ایک وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اس امانت کے اٹھانے اور فرائض رسالت اور دعوت کے لئے چنا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی خاطر فرعون اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کیا تھا ۔ بنی اسرائیل کو ارض مقدس کا وارث بنایا تھا ‘ لیکن اس کے بعد آنے والے ادوار میں انہوں نے سرے سے اسلامی نظام ہی کو ترک کردیا ۔ اور انہوں نے اس کرہ ارض پر عظیم نافرمانیوں اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب شروع کردیا ۔ ان گناہوں سے زمین بھی کانپنے لگی ۔ ان کے لئے ان کے احبار ‘ علماء نے ان چیزوں کو حلال کردیا جسے اللہ نے حرام کیا تھا ‘ اور ان پر ان چیزوں کو حرام کردیا جو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا تھیں ۔ انہوں نے ان غلط کاموں میں ان احبار کی پیروی شروع کردی تھی اور ان احبار نے اس طرح جو خدائی کا دعوی کیا تھا ‘ اس کا انہوں نے انکار نہ کیا حالانکہ حلال و حرام کا تعین تو اللہ کا کام تھا ۔ ان احبار نے اللہ کی شریعت میں تبدیلیاں کردیں تاکہ بادشاہوں اور شرفاء کو خوش کریں اور جمہور عوام کے رجحانات اور میلانات کی پیروی وچاپلوسی کریں ۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے گویا ان کو اپنا رب بنا لیا تھا ۔ پھر انہوں نے سود کھانا شروع کردیا ۔ ان کا تعلق اپنے دین اور اپنے رب کے ساتھ کمزور ہوگیا ‘ ان جرائم اور ان کے ساتھ بیشمار دوسرے جرائم کے باوجود وہ بدستور اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں ‘ اور یہ کہ ان کو آگ فقط چند دن تک چھوئے گی اور یہ کہ اللہ کے نزدیک صرف یہودی ہی نجات کے مستحق ہیں ۔ گویا دین صرف رشتہ داری تک محدود ہوگیا ہے یا دین میں بھی ذاتی تعلقات اور دوستیاں کام کرتی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ بہت ہی بلند ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کو اپنے بندوں میں سے کسی کے ساتھ نہ قرابت داری ہے اور نہ نسبت ہے۔ اللہ کے بندوں کا تعلق صرف درست عقائد کی وجہ سے قائم رہ سکتا ہے ۔ عمل صالح کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے اور اسلامی نظام حیات پر ثابت قدمی سے رہ سکتا ہے ۔ جس شخص نے اس تعلق میں خلل ڈالا ‘ اس پر اللہ کا غضب نازل ہوا ۔ اور اللہ کا غضب اس وقت بہت ہی جوش میں آتا ہے جب اللہ ایک گمراہ قوم کو ہدایت بخشے مگر وہ قوم ہدایت کے مقابلے میں انحراف کی راہ اختیار کرلے ۔ ان یہودیوں کے حالات آج کے نام نہاد مسلمانوں سے مختلف نہیں ہیں ۔ ‘ جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ امت محمدیہ میں سے ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ لازما ان کی مدد کرے گا اور یہودیوں کو ان کی سرزمین سے نکالے گا ‘ جبکہ وہ مکمل طور پر اسلام سے نکل گئے ہیں ‘ حالانکہ اسلام ان کا دین اور نظام زندگی ہے ۔ لیکن انہوں نے اسے اپنی زندگیوں سے نکال دیا ہے اور وہ اللہ کی کتاب کے مطابق کوئی فیصلہ نہیں کرتے ۔ نہ اپنے مقدمات میں نہ اپنے اقتصادی مسائل میں ۔ نہ اپنے اجتماعی معاملات میں اور نہ اپنے آداب و عادات میں ۔ ان کا اسلام صرف مسلمانوں جیسے نام رکھنے تک محدود رہ گیا ہے ۔ اور یہ کہ وہ مسلمانوں کے ملک میں پیدا ہوئے ہیں جس میں وہ کبھی زندہ رہ رہے تھے اور کبھی انہوں نے اس میں دین اسلام قائم کیا تھا اور اسلامی نظام کے مطابق تمام فیصلے کیا کرتے تھے ۔
اللہ تعالیٰ رسول خدا ﷺ کے سامنے تعجب کا اظہار فرما رہے ہیں کہ یہ یہودی بھی عجیب ہیں کہ وہ اپنے آپ کو بہت ہی پاک قوم سمجھتے ہیں ۔ لیکن آج کے مسلمانوں کا معاملہ تو اس تعجب انگیز صورت حالات سے بھی زیادہ تعجب انگیز ہے کیوں کہ ان کی اخلاقی حالت اس زمانے کے یہودیوں سے بھی زیادہ پست ہوچکی ہے ۔
یہ لوگوں کا کام نہیں ہے کہ وہ میاں مٹھو بن کر اپنی پاک دامنی کا ڈھنڈورا پیٹیں اور یہ شہادت کود اپنے حق میں دیں کہ وہ نیک ہیں ‘ اللہ کے قریبی ہیں اور شعب مختار ہیں ۔ بلکہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ فیصلہ دے کہ اللہ کے نزدیک پاک اور برگزیدہ کون ہے ۔ اس لئے کہ وہ دلوں اور عملوں کو خوب جانتا ہے اور لوگوں پر ذرہ برابر ظلم نہیں کرتا ۔ اگر وہ اللہ کی طرف صحیح معنوں میں متوجہ ہوجائیں نیک عمل کریں اور یہ تیر تکے چلانا چھوڑ دیں ۔ اگر وہ ادعاء چھوڑ دیں اور عمل کرتے ہیں نہایت ہی ادب اور حیاء کے ساتھ اور بغیر پاکی دامن کے پروپیگنڈے کے اور بغیر فخر و غرور کے تو اللہ کے ہاں ان کے کسی عمل کا غبن نہ ہوگا ‘ کوئی عمل بھول چوک کی وجہ سے حساب سے ساقط نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حق مارا جائے گا ۔
اللہ تعالیٰ خود یہودیوں کے خلاف شہادت دیتے ہیں کہ وہ جو دعوے کر رہے ہیں کہ وہ برگزیدہ لوگ ہیں اور ان سے اللہ بہرحال راضی ہے تو یہ لوگ اللہ پر بہت بڑا افتراء باندھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے اس دعوائے باطل کی مذمت کرتے ہوئے اس طرح اسے لوگوں کی نظروں میں ساقط گردانتے ہیں ۔
(آیت) ” انظر کیف یفترون علی اللہ الکذب وکفی بہ اثما مبینا (4 : 50)
” دیکھو تو سہی ‘ یہ اللہ پر بھی جھوٹے افتراء گھڑنے سے نہیں چوکتے اور ان کے صریحا گناہ گار ہونے کے لئے یہی ایک گناہ کافی ہے ۔
ذرا سوچئے تو سہی ‘ ہم لوگ جو اسلام کا دعوی کرتے ہیں ‘ اس لئے کہ ہمارے نام مسلمانوں جیسے ہیں اور ہم ایسی سرزمینوں میں بستے ہیں جہاں کبھی مسلمان بسا کرتے تھے تو یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے ۔ ہم لوگ اسلام کو اپنی زندگی کے کسی بھی شعبے میں نافذ نہیں کرتے لیکن اسلام کا دعوی کرتے ہیں ۔ اپنی سیرت اور صورت میں ہم اسلام کی شکل کو مسخ کررہے ہیں اور اپنی عملی زندگی سے اسلام کے خلاف شہادت دے رہے ہیں اور پھر بھی ہم دعوی کرتے ہیں کہ ہم برگزیدہ لوگ ہیں اور نبی کریم ﷺ کے امتی ہیں اگرچہ ہم نے اپنی عملی زندگی سے اسلام کو مکمل طور پر بےدخل کردیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری صورت حال بھی اس صورت حالات سے مختلف نہیں ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو تعجب کے ساتھ متوجہ فرماتے ہیں اور ایسے دعوے کرنے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتے ہیں اور ایک عظیم گناہ کا ارتکاب کر رہے ہیں نعوذ باللہ ۔
یاد رکھئے کہ اللہ کا دین ایک نظام حیات ہے ۔ اور اللہ کی اطاعت کے معنی یہ ہیں کہ پوری زندگی میں اس نظام کی حکمرانی قائم کی جائے ۔ اللہ کا قرب اس وقت نصیب ہوگا جب اللہ کی اطاعت کی جائے ۔ ذرا غور کیجئے کہ ہم اللہ ‘ اس کے دین اور اس کے نظام زندگی سے کس قدر دور ہیں ۔ پھر یہ بھی غور کیجئے کہ ہمارا اور یہودیوں کا حال بالکل ایک جیسا ہے جن کے حال پر اللہ اور رسول تعجب کرتے ہیں ۔ ان کے بےبنیاد دعوے کو اللہ پر افتراء سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس لئے یہودیوں کے خلاف ضابطہ ہمارے خلاف ضابطہ ہوگا ۔ ان کا حال اور ہمارا حال ایک جیسا ہوگا ۔ اور یاد رکھئے کہ اللہ کی کسی کے ساتھ کوئی رشتہ داری نہیں ہے اور نہ کسی کے ساتھ دوستی ہے ۔
سلسلہ کلام بدستور انہی لوگوں کے بارے میں جاری ہے جو لوگ اپنے آپ کو برگزیدہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہ حق کے مقابلے میں باطل پر ایمان لاتے ہیں ۔ ایسے احکام کو تسلیم کرتے ہیں جو از روئے شریعت مستند نہیں ہیں اور ان احکام کے لئے کوئی ایسا ضابطہ نہیں ہے جو ان کو ظلم اور زیادتی سے باز رکھ سکے ۔ یہ ہے ایمان بالجبت والطاغوت جبکہ وہ شرک اور مشرکین کے حق میں یہ گواہی بھی دے رہے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں حالانکہ اہل ایمان اللہ کی کتاب اللہ کی شریعت اور اس کے نظام حیات پر یقین رکھتے ہیں ۔ ان کے حال پر اس تعجب خیزی اور ان کی ذلالتوں کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر شدید تنقید فرماتے ہیں اور ان کو ذلیل و خوار دیتے ہیں ۔ ان کے مزاج کے خفیہ گوشے کھولتے ہیں کہ وہ سخت حاسد اور بخیل ہیں ۔ ان کے طرف سے دین ابراہیمی سے منحرف ہو کر موجودہ موقف اپنانے کے اسباب بتائے جاتے ہیں ‘ حالانکہ وہ دین ابراہیمی پر بےحد فخر کرتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اپنے شجرہ نسب ختم ہونے پر بھی وہ نہایت ہی فخر کرتے تھے ۔ یہ تنقید اسی حتمی فیصلے پر اختتام پذیر ہوتی ہے کہ ان کے لئے جہنم کی دہکتی ہوئی آگ کافی ہے ۔
النساء 4:51
(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے احبار کی اطاعت کرتے تھے جو ان کے لئے ایسے قوانین بناتے تھے جن پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہ ہوتی تھی ۔ وہ طاغوت پر ایمان لاتے تھے (طاغوت وہ نظام حکومت اور قانونی نظام ہے جو شریعت پر مبنی نہ ہو ) اسے طاغوت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں طغیان اور دست درازی پائی جاتی ہے ۔ مثلا کوئی انسان اپنے لئے ان خصوصیات کا مدعی ہوجاتا ہے جو اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی اہم خصوصیات ہیں اور یہ انسان اپنے آپ کو شریعت کے ضابطے کی اطاعت سے باہر نکال لیتا ہے ‘ جس کے مطابق عدل کرنا اس پر لازمی تھا ۔ یہ عمل ہے طغیان کا اور ایسا شخص طاغوت ہے اور اس طاغوت کے مطیع اور اس پر ایمان لانے والے مشرک ہیں یا کافر ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں کہ وہ یہ فعل مکروہ اس کے باوجود کرتے ہیں کہ ان کو اس سے قبل کتاب دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اس کتاب کی پیروی نہ کی ۔
جبت (ہرقسم کی وہمیات) اور طاغوت پر ایمان لانے پر مزید انہوں نے یہ کیا کہ کفار اور مشرکین کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور ان مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوگئے جن کو اللہ نے کتاب دی ہے ۔
(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولآء اھدی من الذین امنوا سبیلا (4 : 51) ” اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں ۔ “
ابن اسحاق نے بواسطہ محمد ابن ابی محمد ‘ عکرمہ اور سعید ابن جبیر ‘ حضرت ابن عباس ؓ اجمعین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش ‘ غطفان ‘ بنی قریظہ کے جن لوگوں نے جنگ احزاب میں تمام پارٹیوں اور احزاب کو جمع کیا تھا ان میں حیی ابن اخطب ‘ سلام ابن الحقیق ‘ ابو رافع ‘ ربیع ابن الحقیق ‘ ابو عامر ‘ وحوح ابن عامر اور ہوذہ ابن قیس تھے ۔ جب یہ لوگ قریش کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : ” یہ لوگ یہودیوں کے احبار اور علماء ہٰں اور یہ لوگ پہلی کتاب کے ماہرین علماء ہیں آپ لوگ ان سے جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں کہ تمہارا دین اچھا ہے یا محمد ﷺ کا دین اچھا ہے ۔ قریش نے ان سے پوچھا انہوں نے جواب دیا : تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے اور جو لوگ محمد کے تابع ہوگئے ہیں تم ان سے زیادہ ہدایت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب) سے لے کر (واتینھم ملکا عظیما) (4 : 54) اور یہ ان لوگوں پر لعن طعن ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا ‘ یہ لوگ اب مشرکین سے امداد چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مشرکین کو زیادہ ہدایت یافتہ اس لئے کہا تاکہ ان کو اپنی امداد کے لئے مائل کرلیں ۔ چناچہ انہوں نے انکی دعوت قبول کرلی اور یوم الاحزاب میں یہ لوگ لشکر لے کر آگئے ۔ اس جنگ میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین نے مدینہ کے اردگر خندق کھودی اور ان لوگوں کے اس عظیم شرکا دفعیہ صرف اللہ نے کیا اور (اللہ نے ان لوگوں کو بھاری غم واندوہ کے ساتھ لوٹا دیا جنہوں نے کفر کیا تھا ‘ اور وہ کچھ خیر نہ پاسکے اور اللہ تعالیٰ مومنین کی مدد کے لئے کافی تھا ۔ وہ تو بہت قوی اور غالب تھا) ۔
یہ بات تعجب انگیز تھی کہ یہودی یہ کہنے پر اتر آئیں کہ مشرکین کا دین ‘ دین محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے دین سے بہتر ہے ۔ اور مشرکین ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں لیکن یہودیوں کی جانب سے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ حق و باطل کے درمیان انہوں نے ہمیشہ باطل کو ترجیح دی اور اہل حق اور اہل باطل میں سے ان کو ہمیشہ اہل باطل اچھے لگتے ہیں ۔ یہ اس قدر لالچی ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ وہ اس قدر نفسانیت میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ان کے مزاج میں اعتدال کا آنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ان کے سینے بغض سے بھرے ہوئے ہیں جو کبھی صاف نہیں ہو سکتے ۔ وہ اہل حق کے ہاں ‘ اپنی ٰخواہشات ‘ اپنے لالچ اور اپنے کین سے کا سامان نہیں پاتے ۔ انہیں اگر کچھ ملتا ہے تو ہمیشہ اہل باطل سے ملتا ہے ۔ اس لئے وہ ہمیشہ شہادت حق کے مقابلہ میں شہادت زور کے عادی ہیں اور اہل حق کے مقابلے میں اہل باطل کے لئے شہادت دیتے ہیں ۔
یہ ان کے دائمی حالات و عادات ہیں۔ ان حالات کی پشت پر جو اسباب تھے وہ اب بھی قائم ہیں اس لئے کہ یہ فعل ان کا طبیع اور منطقی فعل تھا کہ وہ کافروں کے متعلق یہ شہادت دیں کہ وہ اہل ایمان مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت پر ہیں۔
آج یہودی برملا کہتے ہیں کہ وہ اپنی اس قوت سے جو میڈیا کے حوالے سے ان کے قبضے میں ہے ‘ اس کرہ ارض پر کامیاب ہونے والی ہر تحریک کو باکام کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اہل باطل کے ساتھ پوری پوری معاونت کرتے ہیں تاکہ وہ تحریک اسلامی کو بدنام اور نیست ونابود کر دے ۔ اور یہ راز داری وہ اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اگر یہ کھل کر سامنے آتے ہیں تو دور جدید میں ان کے فریب کا پردہ چاک ہوتا ہے اور ان کے ایجنٹ عوام الناس میں بدنام ہوتے ہیں ‘ جو درحقیقت ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں اور ہر جگہ اسلامی تحریکات کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے رات دن کام کرتے ہیں ۔
بلکہ بعض اوقات ان کیمکاری اور ہشیاری اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ بظاہر اپنے ایجنٹوں کے ساتھ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ لڑتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ ان لوگوں کے مددگار ہوتے جو اسلامی تحریکات کا قلع قمع کرنے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں اور سچائی کو مٹا رہے ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات وہ اپنے ان ایجنٹوں کے ساتھ جھوٹی لڑائی شروع کردیتے ہیں جو صرف زبان و کلام کے لئے کام کرکے انکے دور رس مقاصد پورے کرتے رہیں ۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شکل بگاڑنے کے کام کو کبھی نہیں چھوڑتے اس لئے کہ انہیں اصل بغض تو اسلامی نظریہ حیات سے ہے اور ان کی اصل دشمنی احیائے اسلام کی ہر اس تحریک کے ساتھ ہے جو انہیں دور سے نظر آئے اور وہ اسے دھوکے میں نہ ڈال سکتے ہوں۔
یہ ایک ہی فطرت ہے ‘ ایک ہی منصوبہ ہے اور یک ہی مقصد ہے یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ کی جانب سے مردود اور ملعون ہونے کا اعلان ہوتا ہے ۔ ان کو راندہ درگاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ ان کے لئے کوئی نصرت نہ ہوگی اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا ۔
(آیت) ” اولئک الذین لعنھم اللہ ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیرا “۔ (4 : 52)
”۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اس کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے ۔ “
آج یہ بات ہمیں ہولناک نظر آتی ہے کہ تمام مغربی ممالک یہودیوں کے ناصر و مددگار ہیں۔ اس لئے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ کا یہ وعدہ کہاں گیا کہ اللہ نے یہودیوں پر لعنت کی اور جس کو اللہ نے ملعون قرار دے دیا ‘ اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا ؟
حقیقت یہ ہے کہ حقیقی مددگار صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ حقیقی مددگار لوگ نہیں ہیں اور نہ حکومتیں ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہوں اور میزائل ہوں۔ حقیقی ناصر اللہ ہے اور وہ اپنے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول والا ہے اور بم اور میزائل ان لوگوں کے پاس ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اللہ ہی حقیقی مددگار ہے ان لوگوں کا جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ (آیت) ” (وینصرون اللہ من ینصرہ) اور اللہ صرف ان لوگوں کی معاونت کرتا ہے جو اللہ پر اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح ایمان لانے کا حق ہے اور وہ اس کے نظام کی اس طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح اطاعت کا حق ہوتا ہے اور جو تسلیم ورضا کے ساتھ اپنے تمام فیصلے اسلامی منہاج اور اسلامی شریعت کے مطابق کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے ایک ایسی امت کو خطاب کیا تھا جو صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لا چکی تھی ۔ وہ اسلامی نظام زندگی کی مطیع تھی ۔ وہ اپنے تمام فیصلے شریعت کے مطابق کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس مومن امت کے مقابلے میں اس کے دشمنوں یعنی یہودیوں کو کمزور بنایا تھا اور اس وقت اہل ایمان کو یہودیوں پہ نصرت ملتی تھی اور فتح حاصل ہوتی تھی اس لئے کہ ان کا مددگار کوئی نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو عملی شکل دے دی تھی اور اللہ کا وعدہ عملی شکل صرف ان لوگوں کے ذریعے اختیار کرتا ہے جو صحیح معنوں میں مومن ہوں ۔
ہمیں اس وقت تمام ملحدین ‘ مشرکین اور اہل صلیب کی جانب سے بالاتفاق یہودیوں کی پشت پناہی سے خائف نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ وہ تو ہر دور میں اسلام کے خلاف یہودیوں کے ناصر و مددگار رہے ہیں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ہمیں یہ بات دھوکے میں بھی نہ ڈال دے ۔ نصرت کا وعدہ صرف مومنین کے ساتھ ہے ۔ جب بھی ہم مومن بن جائیں گے فتح ہمارے قدم چومے گی ۔
اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ تجربہ کرلیں ‘ ایک بار تجربہ کریں کہ وہ صحیح مسلمان بن جائیں پھر دیکھیں کہ آیا یہودیوں کے لئے کوئی مددگار اس دنیا رہتا ہے اور کیا یہودیوں کو ان مشرکین اور اہل صلیب کی نصرت کوئی فائدہ دیتی ہے ؟
اہل کتاب کے حالات ان کے موقف اور ان کی باتوں پر تعجب کا اظہار کرنے اور ان کو ذلیل اور ملعون قرار دینے کے بعد ‘ اس بات پر نکیر کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کا موقف حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں قابل مواخذہ ہے ۔ نیز یہ کہ وہ اس بات پر سیخ پا ہیں کہ اللہ نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانون پر یہ احسان کیوں فرمایا کہ ان کو دین ‘ نصرت اور فتح سے ہمکنار کیا اور پھر اللہ نے ان پر فضل وکرم کی جو بارش کی اس پر بھی وہ جل بھن گئے ۔ حالانکہ اہل اسلام کو کوئی خیر یا بھلائی ان سے چھین کر نہ دی گئی تھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر سخت مزاج اور کس قدر لالچی تھے ۔ وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے علاوہ بھی کسی کو کچھ ملے ۔ حالانکہ اللہ نے ان پر بھی فیضان رحمت فرمایا ۔ ان کے آباء پر بھی احسان کیا اور ان کو فیاضی اور رواداری سے منع نہ کیا تھا اور نہ ان کو یہ بغض اور حسد سکھایا تھا ۔
(آیت) ” ام لھم نصیب من الملک فاذا لا یوتون الناس نقیرا (53) ام یحسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیما (54) (4 : 53۔ 54)
” کیا حکومت میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے ۔ پھر کیا یہ دوسروں سے اس لئے حسد کرتے ہیں اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا ؟ اگر یہ بات ہے تو انہوں معلوم ہو کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ۔ “
یہ نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے کہ یہ لوگ یہ برداشت ہی نہیں کرسکتے کہ اللہ اپنے خزانوں سے کسی اور پر فضل وکرم کرے ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے ساتھ اس کے نہ ختم ہونے والے خزانوں میں شریک ہیں ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے اقتدار میں اس کے شریک ہیں ۔ یہ تو اللہ ہی ہے جو داتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ اپنی کنجوسی اور سختی کی وجہ سے کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتے نقیر سے مراد وہ جھلی ہے جو گٹھلی کی پشت پر ہوتی ہے ۔ اور یہودیوں کی کنجوسی اور ان کا بخل اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اتنا بھی کسی کو دے دیں اگر اللہ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہوتا ۔ یہ خدا کا شکر ہے کہ خدائی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو اگر تمام لوگ بھی بھوک سے ہلاک ہوجاتے تو وہ کسی کو گٹھلی کا چھلکا تک نہ دیتے ۔
شاید انہیں رسول خدا ﷺ سے اس بات پر حسد ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا ہے کہ انکو یہ دین دیا جس سے ان عربوں کو جدید جنم نصیب ہوا اور وہ از سر نو ترقی کرنے لگے اور ان جاہل عربوں کو صاحب امتیاز قوم اور انسان بنا دیا ان کو روشنی یقین ‘ اطمینان اور اعتماد عطا کیا ۔ انکو پاکیزگی اور صفائی اور دنیا کے اندر اقتدار عطا کیا یقینا یہ صورت حال ان یہودیوں کے حسد کی وجہ ہے ۔ وہ اس بات پر مر گئے تھے کہ جاہل ‘ متفرق ‘ باہم متصادم عربوں پر ان کی ادبی اور ثقافتی اور اقتصادی برتری اب ختم ہونے والی ہے ۔ یہ برتری اس وقت قائم تھی جب ان کے پاس کوئی دینی پیغام نہ تھا ۔
یہ لوگ اس بات پر کیوں حسد کرتے ہیں کہ اللہ کسی قوم کو نبوت اور زمین پر اقتدار اعلی عطا فرمائے حالانکہ ان پر تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے ہی یہ فضل وکرم ہوتا رہا ہے جن کو اللہ نے کتاب اور حکمت (نبوت) عطا کی تھی ۔ ان کی آل واولاد میں نبوت جاری رہی تھی اور ان کو حکومت اور اقتدار اعلی بھی دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس فضل وکرم کی کچھ قدر نہ کی ۔ نہ اس نعمت کو سنبھالا ‘ نہ انہوں نے اس عہد قدیم کا پاس رکھا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا بلکہ ان میں سے کئی لوگ تو سرے سے مومن ہی نہ تھے ۔ جن لوگوں پر اس قدر فضل عظیم کیا گیا ہو ‘ ان کے لئے یہ تو مناسب نہیں ہے کہ ان میں منکر اور کافر پیدا ہوں ۔
(آیت) ” فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیم (54) فمنھم من امن بہ ومنھم من صد عنہ وکفی بجھنم سعیرا “۔ (55) (4 : 54۔ 55)
” ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ‘ ۔ مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا ‘ اور منہ موڑنے والوں کے لئے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے “۔
حسد کا درد کس کے حصے میں آتا ہے ۔ اگر کوئی نادار شخص کسی مالدار صاحب نعمت سے حسد کرے تو یہ حسد بھی فعل بد ہے ۔ لیکن اگر کوئی مالدار صاحب نعمت کسی پر حسد کرنے لگے تو یہ رذالت سے بھی آگے نہایت گہرا شر ہے اور اس قسم کا شر و فساد صرف یہودیوں کا حصہ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ انکو جہنم کی آگ کی دھمکی دی گئی ہے ‘ جو اس رذالت کے لئے نہایت ہی مناسب جزاء ہے ۔ (آیت) ” وکفی بجھنم سعیرا “۔ (4 : 55) (ان کیلئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے) ۔
جب بات یہاں تک پہنچی کہ آل ابراہیم میں سے بعض لوگ مومن ہوئے اور بعض نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا تو اس کے بعد ضروری ہوگیا کہ اہل ایمان کا انجام بھی بتا دیا جائے اور ان لوگوں کا انجام بھی بتا دیا جائے جو راہ ایمان سے روکتے ہیں ۔ یہ سزا وجزاء ہر دین میں ہمیشہ ایس طرح رہی ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں نہایت ہی شدید اور خوفناک مناظر قیامت کی صورت میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔
النساء 4:52
(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے احبار کی اطاعت کرتے تھے جو ان کے لئے ایسے قوانین بناتے تھے جن پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہ ہوتی تھی ۔ وہ طاغوت پر ایمان لاتے تھے (طاغوت وہ نظام حکومت اور قانونی نظام ہے جو شریعت پر مبنی نہ ہو ) اسے طاغوت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں طغیان اور دست درازی پائی جاتی ہے ۔ مثلا کوئی انسان اپنے لئے ان خصوصیات کا مدعی ہوجاتا ہے جو اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی اہم خصوصیات ہیں اور یہ انسان اپنے آپ کو شریعت کے ضابطے کی اطاعت سے باہر نکال لیتا ہے ‘ جس کے مطابق عدل کرنا اس پر لازمی تھا ۔ یہ عمل ہے طغیان کا اور ایسا شخص طاغوت ہے اور اس طاغوت کے مطیع اور اس پر ایمان لانے والے مشرک ہیں یا کافر ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں کہ وہ یہ فعل مکروہ اس کے باوجود کرتے ہیں کہ ان کو اس سے قبل کتاب دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اس کتاب کی پیروی نہ کی ۔
جبت (ہرقسم کی وہمیات) اور طاغوت پر ایمان لانے پر مزید انہوں نے یہ کیا کہ کفار اور مشرکین کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور ان مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوگئے جن کو اللہ نے کتاب دی ہے ۔
(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولآء اھدی من الذین امنوا سبیلا (4 : 51) ” اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں ۔ “
ابن اسحاق نے بواسطہ محمد ابن ابی محمد ‘ عکرمہ اور سعید ابن جبیر ‘ حضرت ابن عباس ؓ اجمعین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش ‘ غطفان ‘ بنی قریظہ کے جن لوگوں نے جنگ احزاب میں تمام پارٹیوں اور احزاب کو جمع کیا تھا ان میں حیی ابن اخطب ‘ سلام ابن الحقیق ‘ ابو رافع ‘ ربیع ابن الحقیق ‘ ابو عامر ‘ وحوح ابن عامر اور ہوذہ ابن قیس تھے ۔ جب یہ لوگ قریش کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : ” یہ لوگ یہودیوں کے احبار اور علماء ہٰں اور یہ لوگ پہلی کتاب کے ماہرین علماء ہیں آپ لوگ ان سے جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں کہ تمہارا دین اچھا ہے یا محمد ﷺ کا دین اچھا ہے ۔ قریش نے ان سے پوچھا انہوں نے جواب دیا : تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے اور جو لوگ محمد کے تابع ہوگئے ہیں تم ان سے زیادہ ہدایت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب) سے لے کر (واتینھم ملکا عظیما) (4 : 54) اور یہ ان لوگوں پر لعن طعن ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا ‘ یہ لوگ اب مشرکین سے امداد چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مشرکین کو زیادہ ہدایت یافتہ اس لئے کہا تاکہ ان کو اپنی امداد کے لئے مائل کرلیں ۔ چناچہ انہوں نے انکی دعوت قبول کرلی اور یوم الاحزاب میں یہ لوگ لشکر لے کر آگئے ۔ اس جنگ میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین نے مدینہ کے اردگر خندق کھودی اور ان لوگوں کے اس عظیم شرکا دفعیہ صرف اللہ نے کیا اور (اللہ نے ان لوگوں کو بھاری غم واندوہ کے ساتھ لوٹا دیا جنہوں نے کفر کیا تھا ‘ اور وہ کچھ خیر نہ پاسکے اور اللہ تعالیٰ مومنین کی مدد کے لئے کافی تھا ۔ وہ تو بہت قوی اور غالب تھا) ۔
یہ بات تعجب انگیز تھی کہ یہودی یہ کہنے پر اتر آئیں کہ مشرکین کا دین ‘ دین محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے دین سے بہتر ہے ۔ اور مشرکین ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں لیکن یہودیوں کی جانب سے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ حق و باطل کے درمیان انہوں نے ہمیشہ باطل کو ترجیح دی اور اہل حق اور اہل باطل میں سے ان کو ہمیشہ اہل باطل اچھے لگتے ہیں ۔ یہ اس قدر لالچی ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ وہ اس قدر نفسانیت میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ان کے مزاج میں اعتدال کا آنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ان کے سینے بغض سے بھرے ہوئے ہیں جو کبھی صاف نہیں ہو سکتے ۔ وہ اہل حق کے ہاں ‘ اپنی ٰخواہشات ‘ اپنے لالچ اور اپنے کین سے کا سامان نہیں پاتے ۔ انہیں اگر کچھ ملتا ہے تو ہمیشہ اہل باطل سے ملتا ہے ۔ اس لئے وہ ہمیشہ شہادت حق کے مقابلہ میں شہادت زور کے عادی ہیں اور اہل حق کے مقابلے میں اہل باطل کے لئے شہادت دیتے ہیں ۔
یہ ان کے دائمی حالات و عادات ہیں۔ ان حالات کی پشت پر جو اسباب تھے وہ اب بھی قائم ہیں اس لئے کہ یہ فعل ان کا طبیع اور منطقی فعل تھا کہ وہ کافروں کے متعلق یہ شہادت دیں کہ وہ اہل ایمان مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت پر ہیں۔
آج یہودی برملا کہتے ہیں کہ وہ اپنی اس قوت سے جو میڈیا کے حوالے سے ان کے قبضے میں ہے ‘ اس کرہ ارض پر کامیاب ہونے والی ہر تحریک کو باکام کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اہل باطل کے ساتھ پوری پوری معاونت کرتے ہیں تاکہ وہ تحریک اسلامی کو بدنام اور نیست ونابود کر دے ۔ اور یہ راز داری وہ اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اگر یہ کھل کر سامنے آتے ہیں تو دور جدید میں ان کے فریب کا پردہ چاک ہوتا ہے اور ان کے ایجنٹ عوام الناس میں بدنام ہوتے ہیں ‘ جو درحقیقت ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں اور ہر جگہ اسلامی تحریکات کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے رات دن کام کرتے ہیں ۔
بلکہ بعض اوقات ان کیمکاری اور ہشیاری اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ بظاہر اپنے ایجنٹوں کے ساتھ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ لڑتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ ان لوگوں کے مددگار ہوتے جو اسلامی تحریکات کا قلع قمع کرنے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں اور سچائی کو مٹا رہے ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات وہ اپنے ان ایجنٹوں کے ساتھ جھوٹی لڑائی شروع کردیتے ہیں جو صرف زبان و کلام کے لئے کام کرکے انکے دور رس مقاصد پورے کرتے رہیں ۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شکل بگاڑنے کے کام کو کبھی نہیں چھوڑتے اس لئے کہ انہیں اصل بغض تو اسلامی نظریہ حیات سے ہے اور ان کی اصل دشمنی احیائے اسلام کی ہر اس تحریک کے ساتھ ہے جو انہیں دور سے نظر آئے اور وہ اسے دھوکے میں نہ ڈال سکتے ہوں۔
یہ ایک ہی فطرت ہے ‘ ایک ہی منصوبہ ہے اور یک ہی مقصد ہے یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ کی جانب سے مردود اور ملعون ہونے کا اعلان ہوتا ہے ۔ ان کو راندہ درگاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ ان کے لئے کوئی نصرت نہ ہوگی اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا ۔
(آیت) ” اولئک الذین لعنھم اللہ ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیرا “۔ (4 : 52)
”۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اس کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے ۔ “
آج یہ بات ہمیں ہولناک نظر آتی ہے کہ تمام مغربی ممالک یہودیوں کے ناصر و مددگار ہیں۔ اس لئے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ کا یہ وعدہ کہاں گیا کہ اللہ نے یہودیوں پر لعنت کی اور جس کو اللہ نے ملعون قرار دے دیا ‘ اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا ؟
حقیقت یہ ہے کہ حقیقی مددگار صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ حقیقی مددگار لوگ نہیں ہیں اور نہ حکومتیں ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہوں اور میزائل ہوں۔ حقیقی ناصر اللہ ہے اور وہ اپنے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول والا ہے اور بم اور میزائل ان لوگوں کے پاس ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اللہ ہی حقیقی مددگار ہے ان لوگوں کا جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ (آیت) ” (وینصرون اللہ من ینصرہ) اور اللہ صرف ان لوگوں کی معاونت کرتا ہے جو اللہ پر اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح ایمان لانے کا حق ہے اور وہ اس کے نظام کی اس طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح اطاعت کا حق ہوتا ہے اور جو تسلیم ورضا کے ساتھ اپنے تمام فیصلے اسلامی منہاج اور اسلامی شریعت کے مطابق کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے ایک ایسی امت کو خطاب کیا تھا جو صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لا چکی تھی ۔ وہ اسلامی نظام زندگی کی مطیع تھی ۔ وہ اپنے تمام فیصلے شریعت کے مطابق کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس مومن امت کے مقابلے میں اس کے دشمنوں یعنی یہودیوں کو کمزور بنایا تھا اور اس وقت اہل ایمان کو یہودیوں پہ نصرت ملتی تھی اور فتح حاصل ہوتی تھی اس لئے کہ ان کا مددگار کوئی نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو عملی شکل دے دی تھی اور اللہ کا وعدہ عملی شکل صرف ان لوگوں کے ذریعے اختیار کرتا ہے جو صحیح معنوں میں مومن ہوں ۔
ہمیں اس وقت تمام ملحدین ‘ مشرکین اور اہل صلیب کی جانب سے بالاتفاق یہودیوں کی پشت پناہی سے خائف نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ وہ تو ہر دور میں اسلام کے خلاف یہودیوں کے ناصر و مددگار رہے ہیں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ہمیں یہ بات دھوکے میں بھی نہ ڈال دے ۔ نصرت کا وعدہ صرف مومنین کے ساتھ ہے ۔ جب بھی ہم مومن بن جائیں گے فتح ہمارے قدم چومے گی ۔
اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ تجربہ کرلیں ‘ ایک بار تجربہ کریں کہ وہ صحیح مسلمان بن جائیں پھر دیکھیں کہ آیا یہودیوں کے لئے کوئی مددگار اس دنیا رہتا ہے اور کیا یہودیوں کو ان مشرکین اور اہل صلیب کی نصرت کوئی فائدہ دیتی ہے ؟
اہل کتاب کے حالات ان کے موقف اور ان کی باتوں پر تعجب کا اظہار کرنے اور ان کو ذلیل اور ملعون قرار دینے کے بعد ‘ اس بات پر نکیر کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کا موقف حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں قابل مواخذہ ہے ۔ نیز یہ کہ وہ اس بات پر سیخ پا ہیں کہ اللہ نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانون پر یہ احسان کیوں فرمایا کہ ان کو دین ‘ نصرت اور فتح سے ہمکنار کیا اور پھر اللہ نے ان پر فضل وکرم کی جو بارش کی اس پر بھی وہ جل بھن گئے ۔ حالانکہ اہل اسلام کو کوئی خیر یا بھلائی ان سے چھین کر نہ دی گئی تھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر سخت مزاج اور کس قدر لالچی تھے ۔ وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے علاوہ بھی کسی کو کچھ ملے ۔ حالانکہ اللہ نے ان پر بھی فیضان رحمت فرمایا ۔ ان کے آباء پر بھی احسان کیا اور ان کو فیاضی اور رواداری سے منع نہ کیا تھا اور نہ ان کو یہ بغض اور حسد سکھایا تھا ۔
(آیت) ” ام لھم نصیب من الملک فاذا لا یوتون الناس نقیرا (53) ام یحسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیما (54) (4 : 53۔ 54)
” کیا حکومت میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے ۔ پھر کیا یہ دوسروں سے اس لئے حسد کرتے ہیں اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا ؟ اگر یہ بات ہے تو انہوں معلوم ہو کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ۔ “
یہ نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے کہ یہ لوگ یہ برداشت ہی نہیں کرسکتے کہ اللہ اپنے خزانوں سے کسی اور پر فضل وکرم کرے ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے ساتھ اس کے نہ ختم ہونے والے خزانوں میں شریک ہیں ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے اقتدار میں اس کے شریک ہیں ۔ یہ تو اللہ ہی ہے جو داتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ اپنی کنجوسی اور سختی کی وجہ سے کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتے نقیر سے مراد وہ جھلی ہے جو گٹھلی کی پشت پر ہوتی ہے ۔ اور یہودیوں کی کنجوسی اور ان کا بخل اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اتنا بھی کسی کو دے دیں اگر اللہ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہوتا ۔ یہ خدا کا شکر ہے کہ خدائی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو اگر تمام لوگ بھی بھوک سے ہلاک ہوجاتے تو وہ کسی کو گٹھلی کا چھلکا تک نہ دیتے ۔
شاید انہیں رسول خدا ﷺ سے اس بات پر حسد ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا ہے کہ انکو یہ دین دیا جس سے ان عربوں کو جدید جنم نصیب ہوا اور وہ از سر نو ترقی کرنے لگے اور ان جاہل عربوں کو صاحب امتیاز قوم اور انسان بنا دیا ان کو روشنی یقین ‘ اطمینان اور اعتماد عطا کیا ۔ انکو پاکیزگی اور صفائی اور دنیا کے اندر اقتدار عطا کیا یقینا یہ صورت حال ان یہودیوں کے حسد کی وجہ ہے ۔ وہ اس بات پر مر گئے تھے کہ جاہل ‘ متفرق ‘ باہم متصادم عربوں پر ان کی ادبی اور ثقافتی اور اقتصادی برتری اب ختم ہونے والی ہے ۔ یہ برتری اس وقت قائم تھی جب ان کے پاس کوئی دینی پیغام نہ تھا ۔
یہ لوگ اس بات پر کیوں حسد کرتے ہیں کہ اللہ کسی قوم کو نبوت اور زمین پر اقتدار اعلی عطا فرمائے حالانکہ ان پر تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے ہی یہ فضل وکرم ہوتا رہا ہے جن کو اللہ نے کتاب اور حکمت (نبوت) عطا کی تھی ۔ ان کی آل واولاد میں نبوت جاری رہی تھی اور ان کو حکومت اور اقتدار اعلی بھی دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس فضل وکرم کی کچھ قدر نہ کی ۔ نہ اس نعمت کو سنبھالا ‘ نہ انہوں نے اس عہد قدیم کا پاس رکھا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا بلکہ ان میں سے کئی لوگ تو سرے سے مومن ہی نہ تھے ۔ جن لوگوں پر اس قدر فضل عظیم کیا گیا ہو ‘ ان کے لئے یہ تو مناسب نہیں ہے کہ ان میں منکر اور کافر پیدا ہوں ۔
(آیت) ” فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیم (54) فمنھم من امن بہ ومنھم من صد عنہ وکفی بجھنم سعیرا “۔ (55) (4 : 54۔ 55)
” ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ‘ ۔ مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا ‘ اور منہ موڑنے والوں کے لئے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے “۔
حسد کا درد کس کے حصے میں آتا ہے ۔ اگر کوئی نادار شخص کسی مالدار صاحب نعمت سے حسد کرے تو یہ حسد بھی فعل بد ہے ۔ لیکن اگر کوئی مالدار صاحب نعمت کسی پر حسد کرنے لگے تو یہ رذالت سے بھی آگے نہایت گہرا شر ہے اور اس قسم کا شر و فساد صرف یہودیوں کا حصہ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ انکو جہنم کی آگ کی دھمکی دی گئی ہے ‘ جو اس رذالت کے لئے نہایت ہی مناسب جزاء ہے ۔ (آیت) ” وکفی بجھنم سعیرا “۔ (4 : 55) (ان کیلئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے) ۔
جب بات یہاں تک پہنچی کہ آل ابراہیم میں سے بعض لوگ مومن ہوئے اور بعض نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا تو اس کے بعد ضروری ہوگیا کہ اہل ایمان کا انجام بھی بتا دیا جائے اور ان لوگوں کا انجام بھی بتا دیا جائے جو راہ ایمان سے روکتے ہیں ۔ یہ سزا وجزاء ہر دین میں ہمیشہ ایس طرح رہی ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں نہایت ہی شدید اور خوفناک مناظر قیامت کی صورت میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔
النساء 4:53
(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے احبار کی اطاعت کرتے تھے جو ان کے لئے ایسے قوانین بناتے تھے جن پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہ ہوتی تھی ۔ وہ طاغوت پر ایمان لاتے تھے (طاغوت وہ نظام حکومت اور قانونی نظام ہے جو شریعت پر مبنی نہ ہو ) اسے طاغوت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں طغیان اور دست درازی پائی جاتی ہے ۔ مثلا کوئی انسان اپنے لئے ان خصوصیات کا مدعی ہوجاتا ہے جو اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی اہم خصوصیات ہیں اور یہ انسان اپنے آپ کو شریعت کے ضابطے کی اطاعت سے باہر نکال لیتا ہے ‘ جس کے مطابق عدل کرنا اس پر لازمی تھا ۔ یہ عمل ہے طغیان کا اور ایسا شخص طاغوت ہے اور اس طاغوت کے مطیع اور اس پر ایمان لانے والے مشرک ہیں یا کافر ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں کہ وہ یہ فعل مکروہ اس کے باوجود کرتے ہیں کہ ان کو اس سے قبل کتاب دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اس کتاب کی پیروی نہ کی ۔
جبت (ہرقسم کی وہمیات) اور طاغوت پر ایمان لانے پر مزید انہوں نے یہ کیا کہ کفار اور مشرکین کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور ان مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوگئے جن کو اللہ نے کتاب دی ہے ۔
(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولآء اھدی من الذین امنوا سبیلا (4 : 51) ” اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں ۔ “
ابن اسحاق نے بواسطہ محمد ابن ابی محمد ‘ عکرمہ اور سعید ابن جبیر ‘ حضرت ابن عباس ؓ اجمعین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش ‘ غطفان ‘ بنی قریظہ کے جن لوگوں نے جنگ احزاب میں تمام پارٹیوں اور احزاب کو جمع کیا تھا ان میں حیی ابن اخطب ‘ سلام ابن الحقیق ‘ ابو رافع ‘ ربیع ابن الحقیق ‘ ابو عامر ‘ وحوح ابن عامر اور ہوذہ ابن قیس تھے ۔ جب یہ لوگ قریش کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : ” یہ لوگ یہودیوں کے احبار اور علماء ہٰں اور یہ لوگ پہلی کتاب کے ماہرین علماء ہیں آپ لوگ ان سے جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں کہ تمہارا دین اچھا ہے یا محمد ﷺ کا دین اچھا ہے ۔ قریش نے ان سے پوچھا انہوں نے جواب دیا : تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے اور جو لوگ محمد کے تابع ہوگئے ہیں تم ان سے زیادہ ہدایت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب) سے لے کر (واتینھم ملکا عظیما) (4 : 54) اور یہ ان لوگوں پر لعن طعن ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا ‘ یہ لوگ اب مشرکین سے امداد چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مشرکین کو زیادہ ہدایت یافتہ اس لئے کہا تاکہ ان کو اپنی امداد کے لئے مائل کرلیں ۔ چناچہ انہوں نے انکی دعوت قبول کرلی اور یوم الاحزاب میں یہ لوگ لشکر لے کر آگئے ۔ اس جنگ میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین نے مدینہ کے اردگر خندق کھودی اور ان لوگوں کے اس عظیم شرکا دفعیہ صرف اللہ نے کیا اور (اللہ نے ان لوگوں کو بھاری غم واندوہ کے ساتھ لوٹا دیا جنہوں نے کفر کیا تھا ‘ اور وہ کچھ خیر نہ پاسکے اور اللہ تعالیٰ مومنین کی مدد کے لئے کافی تھا ۔ وہ تو بہت قوی اور غالب تھا) ۔
یہ بات تعجب انگیز تھی کہ یہودی یہ کہنے پر اتر آئیں کہ مشرکین کا دین ‘ دین محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے دین سے بہتر ہے ۔ اور مشرکین ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں لیکن یہودیوں کی جانب سے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ حق و باطل کے درمیان انہوں نے ہمیشہ باطل کو ترجیح دی اور اہل حق اور اہل باطل میں سے ان کو ہمیشہ اہل باطل اچھے لگتے ہیں ۔ یہ اس قدر لالچی ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ وہ اس قدر نفسانیت میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ان کے مزاج میں اعتدال کا آنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ان کے سینے بغض سے بھرے ہوئے ہیں جو کبھی صاف نہیں ہو سکتے ۔ وہ اہل حق کے ہاں ‘ اپنی ٰخواہشات ‘ اپنے لالچ اور اپنے کین سے کا سامان نہیں پاتے ۔ انہیں اگر کچھ ملتا ہے تو ہمیشہ اہل باطل سے ملتا ہے ۔ اس لئے وہ ہمیشہ شہادت حق کے مقابلہ میں شہادت زور کے عادی ہیں اور اہل حق کے مقابلے میں اہل باطل کے لئے شہادت دیتے ہیں ۔
یہ ان کے دائمی حالات و عادات ہیں۔ ان حالات کی پشت پر جو اسباب تھے وہ اب بھی قائم ہیں اس لئے کہ یہ فعل ان کا طبیع اور منطقی فعل تھا کہ وہ کافروں کے متعلق یہ شہادت دیں کہ وہ اہل ایمان مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت پر ہیں۔
آج یہودی برملا کہتے ہیں کہ وہ اپنی اس قوت سے جو میڈیا کے حوالے سے ان کے قبضے میں ہے ‘ اس کرہ ارض پر کامیاب ہونے والی ہر تحریک کو باکام کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اہل باطل کے ساتھ پوری پوری معاونت کرتے ہیں تاکہ وہ تحریک اسلامی کو بدنام اور نیست ونابود کر دے ۔ اور یہ راز داری وہ اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اگر یہ کھل کر سامنے آتے ہیں تو دور جدید میں ان کے فریب کا پردہ چاک ہوتا ہے اور ان کے ایجنٹ عوام الناس میں بدنام ہوتے ہیں ‘ جو درحقیقت ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں اور ہر جگہ اسلامی تحریکات کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے رات دن کام کرتے ہیں ۔
بلکہ بعض اوقات ان کیمکاری اور ہشیاری اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ بظاہر اپنے ایجنٹوں کے ساتھ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ لڑتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ ان لوگوں کے مددگار ہوتے جو اسلامی تحریکات کا قلع قمع کرنے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں اور سچائی کو مٹا رہے ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات وہ اپنے ان ایجنٹوں کے ساتھ جھوٹی لڑائی شروع کردیتے ہیں جو صرف زبان و کلام کے لئے کام کرکے انکے دور رس مقاصد پورے کرتے رہیں ۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شکل بگاڑنے کے کام کو کبھی نہیں چھوڑتے اس لئے کہ انہیں اصل بغض تو اسلامی نظریہ حیات سے ہے اور ان کی اصل دشمنی احیائے اسلام کی ہر اس تحریک کے ساتھ ہے جو انہیں دور سے نظر آئے اور وہ اسے دھوکے میں نہ ڈال سکتے ہوں۔
یہ ایک ہی فطرت ہے ‘ ایک ہی منصوبہ ہے اور یک ہی مقصد ہے یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ کی جانب سے مردود اور ملعون ہونے کا اعلان ہوتا ہے ۔ ان کو راندہ درگاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ ان کے لئے کوئی نصرت نہ ہوگی اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا ۔
(آیت) ” اولئک الذین لعنھم اللہ ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیرا “۔ (4 : 52)
”۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اس کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے ۔ “
آج یہ بات ہمیں ہولناک نظر آتی ہے کہ تمام مغربی ممالک یہودیوں کے ناصر و مددگار ہیں۔ اس لئے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ کا یہ وعدہ کہاں گیا کہ اللہ نے یہودیوں پر لعنت کی اور جس کو اللہ نے ملعون قرار دے دیا ‘ اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا ؟
حقیقت یہ ہے کہ حقیقی مددگار صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ حقیقی مددگار لوگ نہیں ہیں اور نہ حکومتیں ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہوں اور میزائل ہوں۔ حقیقی ناصر اللہ ہے اور وہ اپنے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول والا ہے اور بم اور میزائل ان لوگوں کے پاس ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اللہ ہی حقیقی مددگار ہے ان لوگوں کا جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ (آیت) ” (وینصرون اللہ من ینصرہ) اور اللہ صرف ان لوگوں کی معاونت کرتا ہے جو اللہ پر اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح ایمان لانے کا حق ہے اور وہ اس کے نظام کی اس طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح اطاعت کا حق ہوتا ہے اور جو تسلیم ورضا کے ساتھ اپنے تمام فیصلے اسلامی منہاج اور اسلامی شریعت کے مطابق کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے ایک ایسی امت کو خطاب کیا تھا جو صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لا چکی تھی ۔ وہ اسلامی نظام زندگی کی مطیع تھی ۔ وہ اپنے تمام فیصلے شریعت کے مطابق کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس مومن امت کے مقابلے میں اس کے دشمنوں یعنی یہودیوں کو کمزور بنایا تھا اور اس وقت اہل ایمان کو یہودیوں پہ نصرت ملتی تھی اور فتح حاصل ہوتی تھی اس لئے کہ ان کا مددگار کوئی نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو عملی شکل دے دی تھی اور اللہ کا وعدہ عملی شکل صرف ان لوگوں کے ذریعے اختیار کرتا ہے جو صحیح معنوں میں مومن ہوں ۔
ہمیں اس وقت تمام ملحدین ‘ مشرکین اور اہل صلیب کی جانب سے بالاتفاق یہودیوں کی پشت پناہی سے خائف نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ وہ تو ہر دور میں اسلام کے خلاف یہودیوں کے ناصر و مددگار رہے ہیں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ہمیں یہ بات دھوکے میں بھی نہ ڈال دے ۔ نصرت کا وعدہ صرف مومنین کے ساتھ ہے ۔ جب بھی ہم مومن بن جائیں گے فتح ہمارے قدم چومے گی ۔
اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ تجربہ کرلیں ‘ ایک بار تجربہ کریں کہ وہ صحیح مسلمان بن جائیں پھر دیکھیں کہ آیا یہودیوں کے لئے کوئی مددگار اس دنیا رہتا ہے اور کیا یہودیوں کو ان مشرکین اور اہل صلیب کی نصرت کوئی فائدہ دیتی ہے ؟
اہل کتاب کے حالات ان کے موقف اور ان کی باتوں پر تعجب کا اظہار کرنے اور ان کو ذلیل اور ملعون قرار دینے کے بعد ‘ اس بات پر نکیر کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کا موقف حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں قابل مواخذہ ہے ۔ نیز یہ کہ وہ اس بات پر سیخ پا ہیں کہ اللہ نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانون پر یہ احسان کیوں فرمایا کہ ان کو دین ‘ نصرت اور فتح سے ہمکنار کیا اور پھر اللہ نے ان پر فضل وکرم کی جو بارش کی اس پر بھی وہ جل بھن گئے ۔ حالانکہ اہل اسلام کو کوئی خیر یا بھلائی ان سے چھین کر نہ دی گئی تھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر سخت مزاج اور کس قدر لالچی تھے ۔ وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے علاوہ بھی کسی کو کچھ ملے ۔ حالانکہ اللہ نے ان پر بھی فیضان رحمت فرمایا ۔ ان کے آباء پر بھی احسان کیا اور ان کو فیاضی اور رواداری سے منع نہ کیا تھا اور نہ ان کو یہ بغض اور حسد سکھایا تھا ۔
(آیت) ” ام لھم نصیب من الملک فاذا لا یوتون الناس نقیرا (53) ام یحسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیما (54) (4 : 53۔ 54)
” کیا حکومت میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے ۔ پھر کیا یہ دوسروں سے اس لئے حسد کرتے ہیں اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا ؟ اگر یہ بات ہے تو انہوں معلوم ہو کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ۔ “
یہ نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے کہ یہ لوگ یہ برداشت ہی نہیں کرسکتے کہ اللہ اپنے خزانوں سے کسی اور پر فضل وکرم کرے ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے ساتھ اس کے نہ ختم ہونے والے خزانوں میں شریک ہیں ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے اقتدار میں اس کے شریک ہیں ۔ یہ تو اللہ ہی ہے جو داتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ اپنی کنجوسی اور سختی کی وجہ سے کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتے نقیر سے مراد وہ جھلی ہے جو گٹھلی کی پشت پر ہوتی ہے ۔ اور یہودیوں کی کنجوسی اور ان کا بخل اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اتنا بھی کسی کو دے دیں اگر اللہ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہوتا ۔ یہ خدا کا شکر ہے کہ خدائی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو اگر تمام لوگ بھی بھوک سے ہلاک ہوجاتے تو وہ کسی کو گٹھلی کا چھلکا تک نہ دیتے ۔
شاید انہیں رسول خدا ﷺ سے اس بات پر حسد ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا ہے کہ انکو یہ دین دیا جس سے ان عربوں کو جدید جنم نصیب ہوا اور وہ از سر نو ترقی کرنے لگے اور ان جاہل عربوں کو صاحب امتیاز قوم اور انسان بنا دیا ان کو روشنی یقین ‘ اطمینان اور اعتماد عطا کیا ۔ انکو پاکیزگی اور صفائی اور دنیا کے اندر اقتدار عطا کیا یقینا یہ صورت حال ان یہودیوں کے حسد کی وجہ ہے ۔ وہ اس بات پر مر گئے تھے کہ جاہل ‘ متفرق ‘ باہم متصادم عربوں پر ان کی ادبی اور ثقافتی اور اقتصادی برتری اب ختم ہونے والی ہے ۔ یہ برتری اس وقت قائم تھی جب ان کے پاس کوئی دینی پیغام نہ تھا ۔
یہ لوگ اس بات پر کیوں حسد کرتے ہیں کہ اللہ کسی قوم کو نبوت اور زمین پر اقتدار اعلی عطا فرمائے حالانکہ ان پر تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے ہی یہ فضل وکرم ہوتا رہا ہے جن کو اللہ نے کتاب اور حکمت (نبوت) عطا کی تھی ۔ ان کی آل واولاد میں نبوت جاری رہی تھی اور ان کو حکومت اور اقتدار اعلی بھی دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس فضل وکرم کی کچھ قدر نہ کی ۔ نہ اس نعمت کو سنبھالا ‘ نہ انہوں نے اس عہد قدیم کا پاس رکھا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا بلکہ ان میں سے کئی لوگ تو سرے سے مومن ہی نہ تھے ۔ جن لوگوں پر اس قدر فضل عظیم کیا گیا ہو ‘ ان کے لئے یہ تو مناسب نہیں ہے کہ ان میں منکر اور کافر پیدا ہوں ۔
(آیت) ” فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیم (54) فمنھم من امن بہ ومنھم من صد عنہ وکفی بجھنم سعیرا “۔ (55) (4 : 54۔ 55)
” ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ‘ ۔ مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا ‘ اور منہ موڑنے والوں کے لئے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے “۔
حسد کا درد کس کے حصے میں آتا ہے ۔ اگر کوئی نادار شخص کسی مالدار صاحب نعمت سے حسد کرے تو یہ حسد بھی فعل بد ہے ۔ لیکن اگر کوئی مالدار صاحب نعمت کسی پر حسد کرنے لگے تو یہ رذالت سے بھی آگے نہایت گہرا شر ہے اور اس قسم کا شر و فساد صرف یہودیوں کا حصہ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ انکو جہنم کی آگ کی دھمکی دی گئی ہے ‘ جو اس رذالت کے لئے نہایت ہی مناسب جزاء ہے ۔ (آیت) ” وکفی بجھنم سعیرا “۔ (4 : 55) (ان کیلئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے) ۔
جب بات یہاں تک پہنچی کہ آل ابراہیم میں سے بعض لوگ مومن ہوئے اور بعض نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا تو اس کے بعد ضروری ہوگیا کہ اہل ایمان کا انجام بھی بتا دیا جائے اور ان لوگوں کا انجام بھی بتا دیا جائے جو راہ ایمان سے روکتے ہیں ۔ یہ سزا وجزاء ہر دین میں ہمیشہ ایس طرح رہی ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں نہایت ہی شدید اور خوفناک مناظر قیامت کی صورت میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔
النساء 4:54
(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے احبار کی اطاعت کرتے تھے جو ان کے لئے ایسے قوانین بناتے تھے جن پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہ ہوتی تھی ۔ وہ طاغوت پر ایمان لاتے تھے (طاغوت وہ نظام حکومت اور قانونی نظام ہے جو شریعت پر مبنی نہ ہو ) اسے طاغوت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں طغیان اور دست درازی پائی جاتی ہے ۔ مثلا کوئی انسان اپنے لئے ان خصوصیات کا مدعی ہوجاتا ہے جو اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی اہم خصوصیات ہیں اور یہ انسان اپنے آپ کو شریعت کے ضابطے کی اطاعت سے باہر نکال لیتا ہے ‘ جس کے مطابق عدل کرنا اس پر لازمی تھا ۔ یہ عمل ہے طغیان کا اور ایسا شخص طاغوت ہے اور اس طاغوت کے مطیع اور اس پر ایمان لانے والے مشرک ہیں یا کافر ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں کہ وہ یہ فعل مکروہ اس کے باوجود کرتے ہیں کہ ان کو اس سے قبل کتاب دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اس کتاب کی پیروی نہ کی ۔
جبت (ہرقسم کی وہمیات) اور طاغوت پر ایمان لانے پر مزید انہوں نے یہ کیا کہ کفار اور مشرکین کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور ان مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوگئے جن کو اللہ نے کتاب دی ہے ۔
(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولآء اھدی من الذین امنوا سبیلا (4 : 51) ” اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں ۔ “
ابن اسحاق نے بواسطہ محمد ابن ابی محمد ‘ عکرمہ اور سعید ابن جبیر ‘ حضرت ابن عباس ؓ اجمعین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش ‘ غطفان ‘ بنی قریظہ کے جن لوگوں نے جنگ احزاب میں تمام پارٹیوں اور احزاب کو جمع کیا تھا ان میں حیی ابن اخطب ‘ سلام ابن الحقیق ‘ ابو رافع ‘ ربیع ابن الحقیق ‘ ابو عامر ‘ وحوح ابن عامر اور ہوذہ ابن قیس تھے ۔ جب یہ لوگ قریش کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : ” یہ لوگ یہودیوں کے احبار اور علماء ہٰں اور یہ لوگ پہلی کتاب کے ماہرین علماء ہیں آپ لوگ ان سے جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں کہ تمہارا دین اچھا ہے یا محمد ﷺ کا دین اچھا ہے ۔ قریش نے ان سے پوچھا انہوں نے جواب دیا : تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے اور جو لوگ محمد کے تابع ہوگئے ہیں تم ان سے زیادہ ہدایت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب) سے لے کر (واتینھم ملکا عظیما) (4 : 54) اور یہ ان لوگوں پر لعن طعن ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا ‘ یہ لوگ اب مشرکین سے امداد چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مشرکین کو زیادہ ہدایت یافتہ اس لئے کہا تاکہ ان کو اپنی امداد کے لئے مائل کرلیں ۔ چناچہ انہوں نے انکی دعوت قبول کرلی اور یوم الاحزاب میں یہ لوگ لشکر لے کر آگئے ۔ اس جنگ میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین نے مدینہ کے اردگر خندق کھودی اور ان لوگوں کے اس عظیم شرکا دفعیہ صرف اللہ نے کیا اور (اللہ نے ان لوگوں کو بھاری غم واندوہ کے ساتھ لوٹا دیا جنہوں نے کفر کیا تھا ‘ اور وہ کچھ خیر نہ پاسکے اور اللہ تعالیٰ مومنین کی مدد کے لئے کافی تھا ۔ وہ تو بہت قوی اور غالب تھا) ۔
یہ بات تعجب انگیز تھی کہ یہودی یہ کہنے پر اتر آئیں کہ مشرکین کا دین ‘ دین محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے دین سے بہتر ہے ۔ اور مشرکین ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں لیکن یہودیوں کی جانب سے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ حق و باطل کے درمیان انہوں نے ہمیشہ باطل کو ترجیح دی اور اہل حق اور اہل باطل میں سے ان کو ہمیشہ اہل باطل اچھے لگتے ہیں ۔ یہ اس قدر لالچی ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ وہ اس قدر نفسانیت میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ان کے مزاج میں اعتدال کا آنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ان کے سینے بغض سے بھرے ہوئے ہیں جو کبھی صاف نہیں ہو سکتے ۔ وہ اہل حق کے ہاں ‘ اپنی ٰخواہشات ‘ اپنے لالچ اور اپنے کین سے کا سامان نہیں پاتے ۔ انہیں اگر کچھ ملتا ہے تو ہمیشہ اہل باطل سے ملتا ہے ۔ اس لئے وہ ہمیشہ شہادت حق کے مقابلہ میں شہادت زور کے عادی ہیں اور اہل حق کے مقابلے میں اہل باطل کے لئے شہادت دیتے ہیں ۔
یہ ان کے دائمی حالات و عادات ہیں۔ ان حالات کی پشت پر جو اسباب تھے وہ اب بھی قائم ہیں اس لئے کہ یہ فعل ان کا طبیع اور منطقی فعل تھا کہ وہ کافروں کے متعلق یہ شہادت دیں کہ وہ اہل ایمان مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت پر ہیں۔
آج یہودی برملا کہتے ہیں کہ وہ اپنی اس قوت سے جو میڈیا کے حوالے سے ان کے قبضے میں ہے ‘ اس کرہ ارض پر کامیاب ہونے والی ہر تحریک کو باکام کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اہل باطل کے ساتھ پوری پوری معاونت کرتے ہیں تاکہ وہ تحریک اسلامی کو بدنام اور نیست ونابود کر دے ۔ اور یہ راز داری وہ اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اگر یہ کھل کر سامنے آتے ہیں تو دور جدید میں ان کے فریب کا پردہ چاک ہوتا ہے اور ان کے ایجنٹ عوام الناس میں بدنام ہوتے ہیں ‘ جو درحقیقت ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں اور ہر جگہ اسلامی تحریکات کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے رات دن کام کرتے ہیں ۔
بلکہ بعض اوقات ان کیمکاری اور ہشیاری اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ بظاہر اپنے ایجنٹوں کے ساتھ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ لڑتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ ان لوگوں کے مددگار ہوتے جو اسلامی تحریکات کا قلع قمع کرنے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں اور سچائی کو مٹا رہے ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات وہ اپنے ان ایجنٹوں کے ساتھ جھوٹی لڑائی شروع کردیتے ہیں جو صرف زبان و کلام کے لئے کام کرکے انکے دور رس مقاصد پورے کرتے رہیں ۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شکل بگاڑنے کے کام کو کبھی نہیں چھوڑتے اس لئے کہ انہیں اصل بغض تو اسلامی نظریہ حیات سے ہے اور ان کی اصل دشمنی احیائے اسلام کی ہر اس تحریک کے ساتھ ہے جو انہیں دور سے نظر آئے اور وہ اسے دھوکے میں نہ ڈال سکتے ہوں۔
یہ ایک ہی فطرت ہے ‘ ایک ہی منصوبہ ہے اور یک ہی مقصد ہے یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ کی جانب سے مردود اور ملعون ہونے کا اعلان ہوتا ہے ۔ ان کو راندہ درگاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ ان کے لئے کوئی نصرت نہ ہوگی اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا ۔
(آیت) ” اولئک الذین لعنھم اللہ ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیرا “۔ (4 : 52)
”۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اس کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے ۔ “
آج یہ بات ہمیں ہولناک نظر آتی ہے کہ تمام مغربی ممالک یہودیوں کے ناصر و مددگار ہیں۔ اس لئے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ کا یہ وعدہ کہاں گیا کہ اللہ نے یہودیوں پر لعنت کی اور جس کو اللہ نے ملعون قرار دے دیا ‘ اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا ؟
حقیقت یہ ہے کہ حقیقی مددگار صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ حقیقی مددگار لوگ نہیں ہیں اور نہ حکومتیں ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہوں اور میزائل ہوں۔ حقیقی ناصر اللہ ہے اور وہ اپنے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول والا ہے اور بم اور میزائل ان لوگوں کے پاس ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اللہ ہی حقیقی مددگار ہے ان لوگوں کا جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ (آیت) ” (وینصرون اللہ من ینصرہ) اور اللہ صرف ان لوگوں کی معاونت کرتا ہے جو اللہ پر اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح ایمان لانے کا حق ہے اور وہ اس کے نظام کی اس طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح اطاعت کا حق ہوتا ہے اور جو تسلیم ورضا کے ساتھ اپنے تمام فیصلے اسلامی منہاج اور اسلامی شریعت کے مطابق کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے ایک ایسی امت کو خطاب کیا تھا جو صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لا چکی تھی ۔ وہ اسلامی نظام زندگی کی مطیع تھی ۔ وہ اپنے تمام فیصلے شریعت کے مطابق کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس مومن امت کے مقابلے میں اس کے دشمنوں یعنی یہودیوں کو کمزور بنایا تھا اور اس وقت اہل ایمان کو یہودیوں پہ نصرت ملتی تھی اور فتح حاصل ہوتی تھی اس لئے کہ ان کا مددگار کوئی نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو عملی شکل دے دی تھی اور اللہ کا وعدہ عملی شکل صرف ان لوگوں کے ذریعے اختیار کرتا ہے جو صحیح معنوں میں مومن ہوں ۔
ہمیں اس وقت تمام ملحدین ‘ مشرکین اور اہل صلیب کی جانب سے بالاتفاق یہودیوں کی پشت پناہی سے خائف نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ وہ تو ہر دور میں اسلام کے خلاف یہودیوں کے ناصر و مددگار رہے ہیں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ہمیں یہ بات دھوکے میں بھی نہ ڈال دے ۔ نصرت کا وعدہ صرف مومنین کے ساتھ ہے ۔ جب بھی ہم مومن بن جائیں گے فتح ہمارے قدم چومے گی ۔
اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ تجربہ کرلیں ‘ ایک بار تجربہ کریں کہ وہ صحیح مسلمان بن جائیں پھر دیکھیں کہ آیا یہودیوں کے لئے کوئی مددگار اس دنیا رہتا ہے اور کیا یہودیوں کو ان مشرکین اور اہل صلیب کی نصرت کوئی فائدہ دیتی ہے ؟
اہل کتاب کے حالات ان کے موقف اور ان کی باتوں پر تعجب کا اظہار کرنے اور ان کو ذلیل اور ملعون قرار دینے کے بعد ‘ اس بات پر نکیر کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کا موقف حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں قابل مواخذہ ہے ۔ نیز یہ کہ وہ اس بات پر سیخ پا ہیں کہ اللہ نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانون پر یہ احسان کیوں فرمایا کہ ان کو دین ‘ نصرت اور فتح سے ہمکنار کیا اور پھر اللہ نے ان پر فضل وکرم کی جو بارش کی اس پر بھی وہ جل بھن گئے ۔ حالانکہ اہل اسلام کو کوئی خیر یا بھلائی ان سے چھین کر نہ دی گئی تھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر سخت مزاج اور کس قدر لالچی تھے ۔ وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے علاوہ بھی کسی کو کچھ ملے ۔ حالانکہ اللہ نے ان پر بھی فیضان رحمت فرمایا ۔ ان کے آباء پر بھی احسان کیا اور ان کو فیاضی اور رواداری سے منع نہ کیا تھا اور نہ ان کو یہ بغض اور حسد سکھایا تھا ۔
(آیت) ” ام لھم نصیب من الملک فاذا لا یوتون الناس نقیرا (53) ام یحسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیما (54) (4 : 53۔ 54)
” کیا حکومت میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے ۔ پھر کیا یہ دوسروں سے اس لئے حسد کرتے ہیں اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا ؟ اگر یہ بات ہے تو انہوں معلوم ہو کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ۔ “
یہ نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے کہ یہ لوگ یہ برداشت ہی نہیں کرسکتے کہ اللہ اپنے خزانوں سے کسی اور پر فضل وکرم کرے ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے ساتھ اس کے نہ ختم ہونے والے خزانوں میں شریک ہیں ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے اقتدار میں اس کے شریک ہیں ۔ یہ تو اللہ ہی ہے جو داتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ اپنی کنجوسی اور سختی کی وجہ سے کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتے نقیر سے مراد وہ جھلی ہے جو گٹھلی کی پشت پر ہوتی ہے ۔ اور یہودیوں کی کنجوسی اور ان کا بخل اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اتنا بھی کسی کو دے دیں اگر اللہ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہوتا ۔ یہ خدا کا شکر ہے کہ خدائی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو اگر تمام لوگ بھی بھوک سے ہلاک ہوجاتے تو وہ کسی کو گٹھلی کا چھلکا تک نہ دیتے ۔
شاید انہیں رسول خدا ﷺ سے اس بات پر حسد ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا ہے کہ انکو یہ دین دیا جس سے ان عربوں کو جدید جنم نصیب ہوا اور وہ از سر نو ترقی کرنے لگے اور ان جاہل عربوں کو صاحب امتیاز قوم اور انسان بنا دیا ان کو روشنی یقین ‘ اطمینان اور اعتماد عطا کیا ۔ انکو پاکیزگی اور صفائی اور دنیا کے اندر اقتدار عطا کیا یقینا یہ صورت حال ان یہودیوں کے حسد کی وجہ ہے ۔ وہ اس بات پر مر گئے تھے کہ جاہل ‘ متفرق ‘ باہم متصادم عربوں پر ان کی ادبی اور ثقافتی اور اقتصادی برتری اب ختم ہونے والی ہے ۔ یہ برتری اس وقت قائم تھی جب ان کے پاس کوئی دینی پیغام نہ تھا ۔
یہ لوگ اس بات پر کیوں حسد کرتے ہیں کہ اللہ کسی قوم کو نبوت اور زمین پر اقتدار اعلی عطا فرمائے حالانکہ ان پر تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے ہی یہ فضل وکرم ہوتا رہا ہے جن کو اللہ نے کتاب اور حکمت (نبوت) عطا کی تھی ۔ ان کی آل واولاد میں نبوت جاری رہی تھی اور ان کو حکومت اور اقتدار اعلی بھی دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس فضل وکرم کی کچھ قدر نہ کی ۔ نہ اس نعمت کو سنبھالا ‘ نہ انہوں نے اس عہد قدیم کا پاس رکھا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا بلکہ ان میں سے کئی لوگ تو سرے سے مومن ہی نہ تھے ۔ جن لوگوں پر اس قدر فضل عظیم کیا گیا ہو ‘ ان کے لئے یہ تو مناسب نہیں ہے کہ ان میں منکر اور کافر پیدا ہوں ۔
(آیت) ” فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیم (54) فمنھم من امن بہ ومنھم من صد عنہ وکفی بجھنم سعیرا “۔ (55) (4 : 54۔ 55)
” ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ‘ ۔ مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا ‘ اور منہ موڑنے والوں کے لئے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے “۔
حسد کا درد کس کے حصے میں آتا ہے ۔ اگر کوئی نادار شخص کسی مالدار صاحب نعمت سے حسد کرے تو یہ حسد بھی فعل بد ہے ۔ لیکن اگر کوئی مالدار صاحب نعمت کسی پر حسد کرنے لگے تو یہ رذالت سے بھی آگے نہایت گہرا شر ہے اور اس قسم کا شر و فساد صرف یہودیوں کا حصہ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ انکو جہنم کی آگ کی دھمکی دی گئی ہے ‘ جو اس رذالت کے لئے نہایت ہی مناسب جزاء ہے ۔ (آیت) ” وکفی بجھنم سعیرا “۔ (4 : 55) (ان کیلئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے) ۔
جب بات یہاں تک پہنچی کہ آل ابراہیم میں سے بعض لوگ مومن ہوئے اور بعض نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا تو اس کے بعد ضروری ہوگیا کہ اہل ایمان کا انجام بھی بتا دیا جائے اور ان لوگوں کا انجام بھی بتا دیا جائے جو راہ ایمان سے روکتے ہیں ۔ یہ سزا وجزاء ہر دین میں ہمیشہ ایس طرح رہی ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں نہایت ہی شدید اور خوفناک مناظر قیامت کی صورت میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔
النساء 4:55
(آیت) ” نمبر 51 تا 55۔
جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی وہ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اس آخری کتاب قرآن پر ایمان لے آئیں اور شرک سے باز آجائیں جو ان لوگوں کا شیوہ ہے جن کو اللہ کی طرف سے کوئی کتاب ہدایت نہیں ملی ۔ وہ اپنی زندگیوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کریں اور طاغوت کی اطاعت نہ کریں (طاغوت ہر وہ قانون ہے ‘ جو اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور ہر وہ حکم ہے جس کی پشت پر کوئی شرعی سند نہیں ہے) لیکن یہودی جو ہر وقت پاکی دامان کے قصہ خواں تھے اور اس امر پر فخر کرتے تھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندے ہیں ‘ ان دعاوی کے ساتھ ساتھ وہ باطل اور شرک کے پیروکار تھے ۔ وہ کاہنوں کی تابع داری کرتے تھے اور اپنے احبار کی اطاعت کرتے تھے جو ان کے لئے ایسے قوانین بناتے تھے جن پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہ ہوتی تھی ۔ وہ طاغوت پر ایمان لاتے تھے (طاغوت وہ نظام حکومت اور قانونی نظام ہے جو شریعت پر مبنی نہ ہو ) اسے طاغوت اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس میں طغیان اور دست درازی پائی جاتی ہے ۔ مثلا کوئی انسان اپنے لئے ان خصوصیات کا مدعی ہوجاتا ہے جو اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کی اہم خصوصیات ہیں اور یہ انسان اپنے آپ کو شریعت کے ضابطے کی اطاعت سے باہر نکال لیتا ہے ‘ جس کے مطابق عدل کرنا اس پر لازمی تھا ۔ یہ عمل ہے طغیان کا اور ایسا شخص طاغوت ہے اور اس طاغوت کے مطیع اور اس پر ایمان لانے والے مشرک ہیں یا کافر ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں کہ وہ یہ فعل مکروہ اس کے باوجود کرتے ہیں کہ ان کو اس سے قبل کتاب دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اس کتاب کی پیروی نہ کی ۔
جبت (ہرقسم کی وہمیات) اور طاغوت پر ایمان لانے پر مزید انہوں نے یہ کیا کہ کفار اور مشرکین کی صف میں جا کھڑے ہوئے اور ان مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوگئے جن کو اللہ نے کتاب دی ہے ۔
(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولآء اھدی من الذین امنوا سبیلا (4 : 51) ” اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں ۔ “
ابن اسحاق نے بواسطہ محمد ابن ابی محمد ‘ عکرمہ اور سعید ابن جبیر ‘ حضرت ابن عباس ؓ اجمعین سے یہ روایت نقل کی ہے کہ قریش ‘ غطفان ‘ بنی قریظہ کے جن لوگوں نے جنگ احزاب میں تمام پارٹیوں اور احزاب کو جمع کیا تھا ان میں حیی ابن اخطب ‘ سلام ابن الحقیق ‘ ابو رافع ‘ ربیع ابن الحقیق ‘ ابو عامر ‘ وحوح ابن عامر اور ہوذہ ابن قیس تھے ۔ جب یہ لوگ قریش کے پاس آئے تو انہوں نے کہا : ” یہ لوگ یہودیوں کے احبار اور علماء ہٰں اور یہ لوگ پہلی کتاب کے ماہرین علماء ہیں آپ لوگ ان سے جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں کہ تمہارا دین اچھا ہے یا محمد ﷺ کا دین اچھا ہے ۔ قریش نے ان سے پوچھا انہوں نے جواب دیا : تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے اور جو لوگ محمد کے تابع ہوگئے ہیں تم ان سے زیادہ ہدایت پر ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” الم تر الی الذین اوتوا نصیبا من الکتب) سے لے کر (واتینھم ملکا عظیما) (4 : 54) اور یہ ان لوگوں پر لعن طعن ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ دنیا اور آخرت دونوں میں ان کا کوئی ناصر اور مددگار نہ ہوگا ‘ یہ لوگ اب مشرکین سے امداد چاہتے ہیں ۔ انہوں نے مشرکین کو زیادہ ہدایت یافتہ اس لئے کہا تاکہ ان کو اپنی امداد کے لئے مائل کرلیں ۔ چناچہ انہوں نے انکی دعوت قبول کرلی اور یوم الاحزاب میں یہ لوگ لشکر لے کر آگئے ۔ اس جنگ میں حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین نے مدینہ کے اردگر خندق کھودی اور ان لوگوں کے اس عظیم شرکا دفعیہ صرف اللہ نے کیا اور (اللہ نے ان لوگوں کو بھاری غم واندوہ کے ساتھ لوٹا دیا جنہوں نے کفر کیا تھا ‘ اور وہ کچھ خیر نہ پاسکے اور اللہ تعالیٰ مومنین کی مدد کے لئے کافی تھا ۔ وہ تو بہت قوی اور غالب تھا) ۔
یہ بات تعجب انگیز تھی کہ یہودی یہ کہنے پر اتر آئیں کہ مشرکین کا دین ‘ دین محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے دین سے بہتر ہے ۔ اور مشرکین ان لوگوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہیں جو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ہیں لیکن یہودیوں کی جانب سے یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ حق و باطل کے درمیان انہوں نے ہمیشہ باطل کو ترجیح دی اور اہل حق اور اہل باطل میں سے ان کو ہمیشہ اہل باطل اچھے لگتے ہیں ۔ یہ اس قدر لالچی ہیں جس کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ وہ اس قدر نفسانیت میں مبتلا ہوگئے ہیں کہ ان کے مزاج میں اعتدال کا آنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ان کے سینے بغض سے بھرے ہوئے ہیں جو کبھی صاف نہیں ہو سکتے ۔ وہ اہل حق کے ہاں ‘ اپنی ٰخواہشات ‘ اپنے لالچ اور اپنے کین سے کا سامان نہیں پاتے ۔ انہیں اگر کچھ ملتا ہے تو ہمیشہ اہل باطل سے ملتا ہے ۔ اس لئے وہ ہمیشہ شہادت حق کے مقابلہ میں شہادت زور کے عادی ہیں اور اہل حق کے مقابلے میں اہل باطل کے لئے شہادت دیتے ہیں ۔
یہ ان کے دائمی حالات و عادات ہیں۔ ان حالات کی پشت پر جو اسباب تھے وہ اب بھی قائم ہیں اس لئے کہ یہ فعل ان کا طبیع اور منطقی فعل تھا کہ وہ کافروں کے متعلق یہ شہادت دیں کہ وہ اہل ایمان مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت پر ہیں۔
آج یہودی برملا کہتے ہیں کہ وہ اپنی اس قوت سے جو میڈیا کے حوالے سے ان کے قبضے میں ہے ‘ اس کرہ ارض پر کامیاب ہونے والی ہر تحریک کو باکام کرسکتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ اہل باطل کے ساتھ پوری پوری معاونت کرتے ہیں تاکہ وہ تحریک اسلامی کو بدنام اور نیست ونابود کر دے ۔ اور یہ راز داری وہ اس لئے اختیار کرتے ہیں کہ اگر یہ کھل کر سامنے آتے ہیں تو دور جدید میں ان کے فریب کا پردہ چاک ہوتا ہے اور ان کے ایجنٹ عوام الناس میں بدنام ہوتے ہیں ‘ جو درحقیقت ان کے اشاروں پر کام کرتے ہیں اور ہر جگہ اسلامی تحریکات کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے رات دن کام کرتے ہیں ۔
بلکہ بعض اوقات ان کیمکاری اور ہشیاری اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ وہ بظاہر اپنے ایجنٹوں کے ساتھ اپنی دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ لڑتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل وہ ان لوگوں کے مددگار ہوتے جو اسلامی تحریکات کا قلع قمع کرنے میں لگے ہوئے ہوتے ہیں اور سچائی کو مٹا رہے ہوتے ہیں ۔ بعض اوقات وہ اپنے ان ایجنٹوں کے ساتھ جھوٹی لڑائی شروع کردیتے ہیں جو صرف زبان و کلام کے لئے کام کرکے انکے دور رس مقاصد پورے کرتے رہیں ۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کی شکل بگاڑنے کے کام کو کبھی نہیں چھوڑتے اس لئے کہ انہیں اصل بغض تو اسلامی نظریہ حیات سے ہے اور ان کی اصل دشمنی احیائے اسلام کی ہر اس تحریک کے ساتھ ہے جو انہیں دور سے نظر آئے اور وہ اسے دھوکے میں نہ ڈال سکتے ہوں۔
یہ ایک ہی فطرت ہے ‘ ایک ہی منصوبہ ہے اور یک ہی مقصد ہے یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں کو اللہ کی جانب سے مردود اور ملعون ہونے کا اعلان ہوتا ہے ۔ ان کو راندہ درگاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ ان کے لئے کوئی نصرت نہ ہوگی اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا ۔
(آیت) ” اولئک الذین لعنھم اللہ ومن یلعن اللہ فلن تجدلہ نصیرا “۔ (4 : 52)
”۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کر دے پھر تم اس کا کوئی مددگار نہیں پاؤ گے ۔ “
آج یہ بات ہمیں ہولناک نظر آتی ہے کہ تمام مغربی ممالک یہودیوں کے ناصر و مددگار ہیں۔ اس لئے یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اللہ کا یہ وعدہ کہاں گیا کہ اللہ نے یہودیوں پر لعنت کی اور جس کو اللہ نے ملعون قرار دے دیا ‘ اس کا کوئی مددگار نہ ہوگا ؟
حقیقت یہ ہے کہ حقیقی مددگار صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ حقیقی مددگار لوگ نہیں ہیں اور نہ حکومتیں ہیں۔ اگرچہ ان کے پاس ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم ہوں اور میزائل ہوں۔ حقیقی ناصر اللہ ہے اور وہ اپنے تمام بندوں کے اوپر کنٹرول والا ہے اور بم اور میزائل ان لوگوں کے پاس ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اللہ ہی حقیقی مددگار ہے ان لوگوں کا جو اس کی مدد کرتے ہیں۔ (آیت) ” (وینصرون اللہ من ینصرہ) اور اللہ صرف ان لوگوں کی معاونت کرتا ہے جو اللہ پر اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح ایمان لانے کا حق ہے اور وہ اس کے نظام کی اس طرح اطاعت کرتے ہیں جس طرح اطاعت کا حق ہوتا ہے اور جو تسلیم ورضا کے ساتھ اپنے تمام فیصلے اسلامی منہاج اور اسلامی شریعت کے مطابق کرتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے ایک ایسی امت کو خطاب کیا تھا جو صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لا چکی تھی ۔ وہ اسلامی نظام زندگی کی مطیع تھی ۔ وہ اپنے تمام فیصلے شریعت کے مطابق کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس مومن امت کے مقابلے میں اس کے دشمنوں یعنی یہودیوں کو کمزور بنایا تھا اور اس وقت اہل ایمان کو یہودیوں پہ نصرت ملتی تھی اور فتح حاصل ہوتی تھی اس لئے کہ ان کا مددگار کوئی نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو عملی شکل دے دی تھی اور اللہ کا وعدہ عملی شکل صرف ان لوگوں کے ذریعے اختیار کرتا ہے جو صحیح معنوں میں مومن ہوں ۔
ہمیں اس وقت تمام ملحدین ‘ مشرکین اور اہل صلیب کی جانب سے بالاتفاق یہودیوں کی پشت پناہی سے خائف نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ وہ تو ہر دور میں اسلام کے خلاف یہودیوں کے ناصر و مددگار رہے ہیں ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن ہمیں یہ بات دھوکے میں بھی نہ ڈال دے ۔ نصرت کا وعدہ صرف مومنین کے ساتھ ہے ۔ جب بھی ہم مومن بن جائیں گے فتح ہمارے قدم چومے گی ۔
اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ تجربہ کرلیں ‘ ایک بار تجربہ کریں کہ وہ صحیح مسلمان بن جائیں پھر دیکھیں کہ آیا یہودیوں کے لئے کوئی مددگار اس دنیا رہتا ہے اور کیا یہودیوں کو ان مشرکین اور اہل صلیب کی نصرت کوئی فائدہ دیتی ہے ؟
اہل کتاب کے حالات ان کے موقف اور ان کی باتوں پر تعجب کا اظہار کرنے اور ان کو ذلیل اور ملعون قرار دینے کے بعد ‘ اس بات پر نکیر کی جاتی ہے کہ ان لوگوں کا موقف حضرت محمد ﷺ اور مسلمانوں کے بارے میں قابل مواخذہ ہے ۔ نیز یہ کہ وہ اس بات پر سیخ پا ہیں کہ اللہ نے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانون پر یہ احسان کیوں فرمایا کہ ان کو دین ‘ نصرت اور فتح سے ہمکنار کیا اور پھر اللہ نے ان پر فضل وکرم کی جو بارش کی اس پر بھی وہ جل بھن گئے ۔ حالانکہ اہل اسلام کو کوئی خیر یا بھلائی ان سے چھین کر نہ دی گئی تھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر سخت مزاج اور کس قدر لالچی تھے ۔ وہ برداشت نہیں کرسکتے تھے کہ ان کے علاوہ بھی کسی کو کچھ ملے ۔ حالانکہ اللہ نے ان پر بھی فیضان رحمت فرمایا ۔ ان کے آباء پر بھی احسان کیا اور ان کو فیاضی اور رواداری سے منع نہ کیا تھا اور نہ ان کو یہ بغض اور حسد سکھایا تھا ۔
(آیت) ” ام لھم نصیب من الملک فاذا لا یوتون الناس نقیرا (53) ام یحسدون الناس علی ما اتھم اللہ من فضلہ فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیما (54) (4 : 53۔ 54)
” کیا حکومت میں ان کا کوئی حصہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے ۔ پھر کیا یہ دوسروں سے اس لئے حسد کرتے ہیں اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا ؟ اگر یہ بات ہے تو انہوں معلوم ہو کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ۔ “
یہ نہایت ہی تعجب انگیز بات ہے کہ یہ لوگ یہ برداشت ہی نہیں کرسکتے کہ اللہ اپنے خزانوں سے کسی اور پر فضل وکرم کرے ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے ساتھ اس کے نہ ختم ہونے والے خزانوں میں شریک ہیں ۔ کیا یہ لوگ اللہ کے اقتدار میں اس کے شریک ہیں ۔ یہ تو اللہ ہی ہے جو داتا ہے اور وہی ہے جو روکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگ اپنی کنجوسی اور سختی کی وجہ سے کسی کو پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتے نقیر سے مراد وہ جھلی ہے جو گٹھلی کی پشت پر ہوتی ہے ۔ اور یہودیوں کی کنجوسی اور ان کا بخل اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اتنا بھی کسی کو دے دیں اگر اللہ کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہوتا ۔ یہ خدا کا شکر ہے کہ خدائی میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو اگر تمام لوگ بھی بھوک سے ہلاک ہوجاتے تو وہ کسی کو گٹھلی کا چھلکا تک نہ دیتے ۔
شاید انہیں رسول خدا ﷺ سے اس بات پر حسد ہے کہ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے نوازا ہے کہ انکو یہ دین دیا جس سے ان عربوں کو جدید جنم نصیب ہوا اور وہ از سر نو ترقی کرنے لگے اور ان جاہل عربوں کو صاحب امتیاز قوم اور انسان بنا دیا ان کو روشنی یقین ‘ اطمینان اور اعتماد عطا کیا ۔ انکو پاکیزگی اور صفائی اور دنیا کے اندر اقتدار عطا کیا یقینا یہ صورت حال ان یہودیوں کے حسد کی وجہ ہے ۔ وہ اس بات پر مر گئے تھے کہ جاہل ‘ متفرق ‘ باہم متصادم عربوں پر ان کی ادبی اور ثقافتی اور اقتصادی برتری اب ختم ہونے والی ہے ۔ یہ برتری اس وقت قائم تھی جب ان کے پاس کوئی دینی پیغام نہ تھا ۔
یہ لوگ اس بات پر کیوں حسد کرتے ہیں کہ اللہ کسی قوم کو نبوت اور زمین پر اقتدار اعلی عطا فرمائے حالانکہ ان پر تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے سے ہی یہ فضل وکرم ہوتا رہا ہے جن کو اللہ نے کتاب اور حکمت (نبوت) عطا کی تھی ۔ ان کی آل واولاد میں نبوت جاری رہی تھی اور ان کو حکومت اور اقتدار اعلی بھی دیا گیا تھا لیکن انہوں نے اس فضل وکرم کی کچھ قدر نہ کی ۔ نہ اس نعمت کو سنبھالا ‘ نہ انہوں نے اس عہد قدیم کا پاس رکھا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا بلکہ ان میں سے کئی لوگ تو سرے سے مومن ہی نہ تھے ۔ جن لوگوں پر اس قدر فضل عظیم کیا گیا ہو ‘ ان کے لئے یہ تو مناسب نہیں ہے کہ ان میں منکر اور کافر پیدا ہوں ۔
(آیت) ” فقد اتینا ال ابرھیم الکتب والحکمۃ واتینھم ملکا عظیم (54) فمنھم من امن بہ ومنھم من صد عنہ وکفی بجھنم سعیرا “۔ (55) (4 : 54۔ 55)
” ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا ‘ ۔ مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا ‘ اور منہ موڑنے والوں کے لئے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے “۔
حسد کا درد کس کے حصے میں آتا ہے ۔ اگر کوئی نادار شخص کسی مالدار صاحب نعمت سے حسد کرے تو یہ حسد بھی فعل بد ہے ۔ لیکن اگر کوئی مالدار صاحب نعمت کسی پر حسد کرنے لگے تو یہ رذالت سے بھی آگے نہایت گہرا شر ہے اور اس قسم کا شر و فساد صرف یہودیوں کا حصہ ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ انکو جہنم کی آگ کی دھمکی دی گئی ہے ‘ جو اس رذالت کے لئے نہایت ہی مناسب جزاء ہے ۔ (آیت) ” وکفی بجھنم سعیرا “۔ (4 : 55) (ان کیلئے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے) ۔
جب بات یہاں تک پہنچی کہ آل ابراہیم میں سے بعض لوگ مومن ہوئے اور بعض نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا تو اس کے بعد ضروری ہوگیا کہ اہل ایمان کا انجام بھی بتا دیا جائے اور ان لوگوں کا انجام بھی بتا دیا جائے جو راہ ایمان سے روکتے ہیں ۔ یہ سزا وجزاء ہر دین میں ہمیشہ ایس طرح رہی ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں نہایت ہی شدید اور خوفناک مناظر قیامت کی صورت میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔
النساء 4:56
(آیت) ” نمبر 56 تا 57۔
(آیت) ” نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا “۔ (4 : 56) ” اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ‘۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جو مسلسل چلتا ہے ۔ ایک ایسا منظر جو نظروں کے سامنے ہے اور بار بار دہرایا جارہا ہے نظریں اس کے اوپر جم جاتی ہیں ۔ خیال ایک جگہ مرکوز ہوجاتا ہے ۔ اور اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا ۔ یہ یقینا ایک خوفناک منظر ہے ‘ اس کی خوفناکی فکر ونظر کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے ۔ اس مسلسل اور خوفناک منظر کو صرف ایک لفظ اسکرین پر لاتا ہے یہ لفظ (کلما) ہے ۔ اور یہ منظر صرف فقرے کے ایک حصے کے ذریعہ خوفناک اور ہولناک بن جاتا ہے ۔ (کلما نضجت جلودھم ) اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی ۔ “ اس کے بعد جملے کے دوسرے حصے میں اس عمل کو خارق عادت عمل اور تعجب انگیز کردیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” بدلنھم جلودا غیرھا “۔ ” تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ۔ “ اور یہ تمام ہولناک مناظر اور خوفناک عمل اور عجیب اور معجزانہ منظر صرف ایک جملہ شرطیہ کے اندر تمام ہوتا ہے صرف ایک جملہ میں ۔
یہ کفار کے لئے مناسب اور منصفانہ جزاء ہے ” تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں ۔ “ (آیت) ” لیذوقوا العذاب “۔ اللہ تعالیٰ ہر سزا دینے پر قادر ہے اور سزا سنانے میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان عزیزا حکیما “۔ اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے ۔
کفار کے لئے اس بھڑکتی ہوئی خوفناک جہنم کے مقابلے میں مومنوں کا انعام کیا ہے ۔ ان جلتی ہوئی کھالوں ‘ بھونی جانے والی کھالوں کے مقابلے میں کہ جب وہ گل جائیں تو بدل جائیں اور از سر نو جلنے لگیں اور از سر نو تعذیب شروع ہو ۔ اس خوفناک منظر اور اس کربناک مشاہدے کے مقابلے میں مومنوں کا انعام واکرام کیا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں۔
(آیت) ” والذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کئے “ وہ تروتازہ باغات میں ہوں گے ۔ (آیت) ” جنت تجری من تحتھا الانھر “ ۔ ’‘’ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ “ اور یہ منظر نہایت پرسکون ‘ دائمی اور اطمینان بخش ہوگا ۔ (آیت) ” خلدین فیھا ابدا “۔ ” جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ ۔۔۔۔۔ ان باغات مین ان کو پاکیزہ بیویاں میسر ہوں گی ۔ (آیت) ” ازواج مطھرۃ “۔ اور ان باغات میں گھنی چھاؤں نظر آتی ہے نہایت ہی خوشگوار (آیت) ” وندخلھم ظلا ظلیلا “۔ ” اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں رکھیں گے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک پہلے تھا جزاء کا منظر ‘ ایک یہ جزاء کا منظر ہے ۔ اور یہ منظر مشاہدات میں بھی ‘ تصاویر میں بھی اور اثرات میں بھی پہلے منظر کا عین مقابل ہے ۔ مناظر قیامت کے بیان میں قرآن کا یہی انداز ہوتا ہے کہ اس میں گہرے اشارے ہوتے ہیں اور موثر اور گہرے اثرات ہوتے ہیں ‘ جو ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔
درس 35 ایک نظر میں :
یہ سبق نہایت ہی اہم موضوع پر مشتمل ہے اور یہ موضوع امت مسلمہ کی زندگی کا اساسی موضوع ہے ۔ اس میں ایمان کی شرائط اور ایمان کی تعریف بیان کی گئی ہے وہ ایمان جو اس امت کے نظام اساسی کی صورت میں ظاہر ہو ‘ اس موضوع کی اہمیت ایک تو اس کے نفس مضمون کی وجہ سے ہے اور دوسرے نظام اساسی کے ساتھ اپنے طریقہ ارتباط اور امتزاج کی وجہ سے بھی یہ اہم ہے ۔
قرآن کریم نے اس امت کو وجود بخشا اور اس کی تربیت کی ۔ اس امت کو پوشیدگی سے نکالا گیا ‘ یا عدم سے وجود کی طرف نکالا گیا اور قرآن کریم نے اس کے لئے نہایت ہی جامع انداز تعبیر استعمال کیا ۔ (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ (3 : 11) ” تم خیر امت تھے اور تمہیں لوگوں کے لئے نکالا گیا ۔ “
غرض قرآن نے اس مت کو وجود بخشا ‘ اس لئے کہ وہ قرآن سے پہلے موجود نہ تھی ۔ پھر اس نے اس کی تربیت کی تاکہ وہ تاریخ انسانیت میں بےمثال امت بن جائے ۔ اور خیر امت ہو اور (آیت) ” اخرجت اللناس “۔ ” اسے لوگوں کیلئے نکالا گیا ۔ “ بات آگے بڑھانے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اس حقیقت کی ذرا وضاحت کردیں کہ قرآن نے اس امت کو کس طرح پیدا کیا اور کیسے تربیت دی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس امت کا پیدا کیا جانا اور پھر اس کو تربیت دیا جانا ‘ اس کیلئے ایک نیاجنم تھا۔ بلکہ یہ پوری انسانیت کے لئے ایک نیا جنم تھا ۔ اس امت کے آنے کے بعد ‘ انسانیت بالکل ایک نئی شکل میں سامنے آئی ۔ یہ امت ترقی کی راہ میں ایک مرحلہ نہ تھی ‘ نہ ارتقاء کی منازل میں سے ایک منزل تھی ۔ نہ یہ ترقیاتی عمل میں ایک لانگ جمپ تھی بلکہ یہ امت دراصل امت عربیہ اور پھر پوری انسانیت کے لئے ایک نیا جنم تھی ۔
جب ہم جاہلیت کے دور کے اشعار پر نظر ڈالتے ہیں اور جاہلیت کے دور کے اکا دکا آثار کا مطالعہ کرتے ہیں جو درحقیقت عربوں کا دیوان ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں عربوں کا نظریہ حیات ‘ ان کا نظریہ کائنات ‘ انکا نظریہ اخلاق اور سماجی طرز عمل ریکارڈ ہوا ہے ۔ اور یہ ان کے دائمی اور بنیادی تصورات ہیں۔ ان اشعار میں انکی زندگی کے نشانات ‘ ان کے قومی جذبات اور انکے تصورات کا کل اثاثہ موجود ہے ۔ ان کی تہذیب و تمدن کا خلاصہ بھی ان کے اندر ریکارڈ شدہ ہے ۔ غرض عربوں کی مکمل شخصیت ان جاہلی اشعار اور دوسرے اکا دکا آثار میں موجود ہے ۔
ہم عربوں کے اس دیوان میں ان کے تصورات اور انکے علم و ثقافت کا مجموعہ دیکھتے ہیں اور ان کے اس دیوان میں موجود انکی اقدار کا جائزہ قرآن کریم کی روشنی میں لیتے ہیں ‘ پھر ہم ‘ وجود ‘ زندگی ‘ کائنات اور انسان کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو دیکھتے ہیں اور ان کے نظام معاشرت اور وجود انسانی کے مقاصد کے بارے میں ان کے تصورات ‘ اور ان تصورات کی اساس پر ان کی عملی تنظیم کو دیکھتے ہیں ‘ پھر ہم عربوں کی عملی صورت حال کا جائزہ قبل از اسلام اور بعد از اسلام لیتے ہیں اور یہ تقابلی جائزہ ان تصورات کی روشنی میں لیتے ہیں جو ان کے اس دیوان کے اندر پائے جاتے ہیں اور پھر اس کا تقابل ان حالات سے کرتے ہیں جو قرآنی تصورات کے تحت عربی معاشرے میں پیدا ہوئے تو ہمیں نہایت ہی قطعیت کے ساتھ معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ قرآنی تصورات کے تحت یہ جدید معاشرہ عربوں کیلئے ایک جدید جنم تھا ۔ یہ ترقی نہ تھی ‘ نہ ترقی کا کوئی مرحلہ تھا ‘ نہ یہ کوئی برق رفتار ترقی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی صنعت کاری سے اس قوم کا ظہور ہوا ‘ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے جنم دیا گیا ۔ قرآن کریم نے اس کے لئے (آیت) ” (اخرجت) کا لفظ بالکل صحیح استعمال کیا ہے ۔ اور یہ نشاۃ جدیدہ نہایت ہی حیران کن اور تعجب انگیز تھی اس لئے کہ یہ اس قوم کا پہلا اور آخری ظہور تھا ۔ اور دنیا میں یہ واحد مثال ہے کہ ایک کتاب کے دونوں وقایوں کے درمیان سے ایک قوم جنم لیتی ہے ۔ ایک امت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور ایک کتاب کے الفاظ سے اسے زندگی ملتی ہے لیکن یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ کلمات اللہ کے احکامات ہیں۔
اس نکتے پر اگر کوئی ہم سے بحث و مباحثہ کرتا ہے تو بتائے کہ تاریخ کے جس موڑ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعے اس امت کو برپا کیا ‘ اس سے پہلے یہ امت کہاں تھی ۔ جب قرآن کریم نے اسے پیدا کیا اور یہ نکالی گئی تو یہ کہاں تھی ؟
ہم جانتے ہیں کہ یہ جزیرۃ العرب میں تھی لیکن کیا اس کا کوئی انسانی وجود تھا ؟ انسانی تمدن کے رجسٹر میں اس کا کیا ریکارڈ تھا ۔ عالمی تاریخ میں اس کے بارے میں کتنے اوراق موجود تھے ۔ انسانیت کے عالمی دسترخوان پر اس کا مقام کہاں تھا ۔ اور اس دسترخوان پر اس کی جانب سے کیا تحفہ تھا تاکہ تاریخ یاد کرتی اور یہ ان کی پہچان ہوتی کہ یہ ہے عربوں کا تحفہ ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس امت کی نشوونما صرف اس دین کے ذریعے ہوئی اور اس کی تربیت اسلامی نظام زندگی کے زیر سایہ ہوئی ۔ اس نے اپنے نفس اور اپنی ذات کی قیادت اور پھر پوری انسانیت کی قیادت اس کتاب کے ذریعے سے کی جو اس کے ہاتھ میں تھی اور اس کتاب کے نظام حیات کے مطابق اس کی زندگی پر چھاپ پڑی ۔ صرف قرآن اور صرف قرآن سے وہ وجود میں آئی ۔ اس پر تاریخ گواہ ہے ۔ اور اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ۔ (آیت) ” ولقد انزلنا الیکم کتابا فیہ ذکرکم ۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون “۔ (بےشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل کی جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے ۔ )
غرض اس کرہ ارض پر امت عربیہ کا تذکرہ صرف اس کتاب کی وجہ سے ہوا اور تاریخ میں اس کا اہم کردار رہا ۔ سب سے پہلے اس نے اپنا ایک انسانی وجود قائم کیا ‘ اس کے بعد اس نے ایک عالمی تمدن وتہذیب کو وجود بخشا ۔ لیکن بعض احمق اب یہ چاہتے ہیں کہ وہ امت عربیہ پر اللہ کے اس احسان کا انکار کردیں اور اس بات کی ناشکری کی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے انسانوں کے لئے اپنا آخری کلام عربی زبان میں نازل فرمایا اور عربوں کو اس کے اولین مخاطب قرار دیا ۔ اس کلام کی وجہ سے ان کو ایک انسانی وجود بخشا ‘ ان کو شہرت اور تاریخ اور تمدن عطا کئے ۔ یہ احمق دراصل اس خلعت کا اتارنا چاہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے امت عربیہ کو پہنائی اور وہ اس جھنڈے کو پھاڑنا چاہتے ہیں ‘ جس کی وجہ سے ان کو عزت اور شہرت نصیب ہوئی بلکہ ان کو ایک وجود ملا ‘ جب اللہ نے ان کو بحیثیت امت اٹھایا۔
ہم کہتے ہیں کہ جب اسلام اس امت کی تخلیق کررہا تھا اور اس کی تربیت کر رہا تھا ‘ جماعت مسلمہ کے اندر اسلام کے جدید خدوخال کے خطوط کھینچ کر ان کو مستحکم کر رہا تھا ‘ اسے جاہلیت کی گہری کھائی سے نکال کر اس کے وجود سے جاہلیت کے تمام خدوخال مٹا رہا تھا ‘ اس کی زندگی ‘ ان کے نفوس اور اس کے معاشرے کو پاک کر رہا تھا ‘ اس کو منظم کر رہا تھا ’ اسے از سر نو کھڑا کر کے اسے جدید جنم دے رہا تھا اس جدید جماعت کو ایک معرکہ کار زار میں اتار رہا تھا اور وہ اپنے نفوس ‘ اپنے اوضاع واطوار سے سابقہ معاشرتی آثار جاہلیت مٹا رہا تھا ۔ اور جس وقت قرآن جماعت کے اندر سے اور اس کے ماحول سے مدینہ منورہ کے اندر منافقین ‘ مشرکین اور یہودیوں کی شکل میں پائے جانے والی جاہلیت کو ختم کر رہا تھا جاہلیت کے ساتھ یہ معرکے رات دن جاری تھے ‘ ہر زمان ومکان میں جاری تھے ۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے اس دوران میں قرآن نے سب سے پہلے اس امت کو ایک صحیح تصور حیات دیا ۔ اس کے لئے ایمان کی شرائط وحدود وضع کیں ‘ پھر اس تصور کے مطابق اسلام نے اس کے لئے ایک دستوری نظام تجویز کیا جس کی وجہ سے اس کے وجود اور اس کے اردگرد جاہلیت کے وجود کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیا گیا ان کے لئے وہ خصائص ومقاصد متعین کئے گئے جن کے لئے اسے برپا کیا گیا تھا تاکہ وہ لوگوں کے سامنے ان کی تبلیغ کرے اور ان کو اللہ اور اللہ کے ربانی نظام کی طرف دعوت دے ۔
اس درس میں اس اساسی نظام کا بیان ہے ۔ یہ نظام اس اساسی تصور حیات سے پھوٹتا ہے اور اس پر قائم ہے ۔ اور انہی شرائط ایمان اور حدود اسلام کے مطابق ہے ۔
پھر اس سبق میں وہ تجدید عہد ہے جس سے یہ امت اپنا نظام حیات لیتی ہے ۔ وہ طریقہ بھی بتایا گیا ہے جس کے مطابق وہ اپنا نظام اخذ کرے گی ۔ وہ نظام بھی بتایا گیا ہے جس کے مطابق وہ اس چیز کا ادراک کرے گی جسے وہ اخذ کررہی ہے یا زندگی کے مسائل اور اس کی مشکلات میں اس نظام کی طرف رجوع کرے گی ‘ ان امور میں جن کے بارے میں کوئی نص اور صریح حکم نہیں ہے اور جن میں رائے کا اختلاف ممکن ہے ۔ پھر یہ بھی بتایا گیا کہ وہ انتظامیہ کون سی ہے جس کی اطاعت ہوگی اور اس انتظامیہ کی قوت کا مرجع کونسی چیز ہے اور یہ تمام امور ایمان کی شرائط اور تعریفات ہیں۔
یہاں آکر اس امت کا دستوری نظام اس کے نظریہ حیات کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے ۔ یہ اتحاد پھر تحلیل نہیں ہوتا اور نہ ان کے عناصر ترکیبی ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں ۔
یہ ہے وہ اہم موضوع جس کا حق یہ سبق ادا کرتا ہے اس بارے میں مکمل ہدایات دی جاتی ہیں اور اس سے متعلق تمام سوالوں کا جواب دیا جاتا ہے ۔ اس سبق کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اس قدر واضح اور بدیہی ہے کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس بارے میں کوئی مسلمان کس طرح مجادلہ کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ درس امت کو واضح طور پر بتاتا ہے کہ رسولوں کو بھیجا ہی اس لئے گیا ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور یہ اطاعت اللہ کے حکم سے ہے اور یہ کہ رسولوں کو محض تبلیغ یا لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا کہ وہ لوگوں کو مسکت دلائل سنا دیں بلکہ (آیت) ” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ “۔ (اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے وہ صرف اس لئے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے)
یہ سبق واضح کرتا ہے کہ لوگ مومن ہی نہ ہوں گے اگر وہ اپنے فیصلے اس نظام قانون کے مطابق نہیں کرتے جو اللہ نے اتارا ہے ۔ یہ منہاج رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اور آپ کے احکام میں پایا جاتا ہے اور جو قرآن وسنت کی شکل میں قیامت تک باقی ہے ۔ اور یہ بات بھی کافی نہیں ہے کہ وہ اس قانون کے مطابق اپنے فیصلے کرائیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ دلی رضا مندی سے ان فیصلوں کو قبول بھی کریں ۔
(آیت) ” (فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلموا تسلیما “ (4 : 65)
” نہیں اے محمد ﷺ تمہارے رب کی قسم ‘ یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ‘ پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دل میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں ‘ بلکہ سر تسلیم خم کرلیں)
اس سبق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو لوگ طاغوت کے پاس اپنے فیصلے لے جاتے ہیں یعنی اللہ کی شریعت کے سوا کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کراتے ہیں تو ان سے ان کا یہ دعوی قبول نہ ہوگا کہ وہ اللہ کے کلام اور رسول اللہ ﷺ کے احکام پر ایمان لانے والے ہیں ‘ یا وہ پہلی کتابوں پر ایمان لانے والے ہیں ۔ ان کا یہ دعوی جھوٹا ہے اور اس پر دلیل ان کا یہ فعل ہے کہ وہ اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جاتے ہیں ۔
(آیت) ” الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یرویدن ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یظلھم ضللا بعیدا “۔ (4 : 60)
” اے نبی تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعوی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ‘ اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ‘ مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لئے طاغوت کی طرف رجوع کریں ۔ حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ شیطان تمہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے)
اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نفاق کی علامت یہ ہے کہ لوگوں کو اس قانون کے مطابق فیصلے کرنے روکا جائے جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور جو سنت رسول ﷺ میں ہے ۔
(آیت) ” واذا قیل لھم تعالوا الی ما انزل اللہ ولی الرسول رایت المنفقین یصدون عنک صدودا “۔ (4 : 61) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں)
یہ سبق کہتا ہے کہ ایمانی طریق کار اور اس کا دستور اساسی یہ ہے کہ تم لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کی پیروی کرو اور رسول خدا ﷺ کی سنت کی پیروی کرو اور ان اہل ایمان کی اطاعت کرو جو اولو الامر ہیں۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ اطیعوا الرسول واولی الامر منکم “۔ (4 : 59)
(اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں)
یہ سب بتاتا ہے کہ جہاں نقطہ نظر مختلف ہو ‘ اور مسائل بالکل نئے ہوں اور ان میں منصوص احکام موجود نہ ہوں تو پھر اللہ و رسول کی طرف رجوع کرو اور قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا حل تلاش کرو ۔ (آیت) ” (فان تنازعتم فی شیء فردہ الی اللہ والرسول) (4 : 59) ” اگر تم کسی چیز میں متنازع ہوجاؤ تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ “ اس طریقے سے اسلامی نظام حیات ان مسائل اور حالات کا حل دریافت کرلیتا ہے جو بالکل پہلی مرتبہ نمودار ہوئے ہوں ۔۔۔ اس قاعدے کے ذریعے اسلام ابدی طور پر نئے نئے مسائل کے حل کی تدبیر کرتا ہے ۔ چونکہ اسلام کا دستوری قاعدہ یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے مسائل اسلامی نظام کے مطابق حل نہ کرین اس لئے اسلامی نظام زندگی کی وسعت کے ساتھ ان کے حل کا یہ طریقہ وضع کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ مسائل کو اللہ اور رسول اللہ کی طرف لوٹایا جائے ‘ کیونکہ یہاں اطاعت شرط ایمان ہے ۔ ایمان واضح طور پر مشروط ہے ۔ (آیت) ” (ان کنتم مومنون باللہ والیوم الاخر (4 : 59) ” اگر تم واقعی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو ۔ “
ہمیں اس سے قبل بیان کردہ یہ فرمان الہی نہیں بھولنا چاہئے ۔ (آیت) ” (ان اللہ لا یفغر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء (4 : 48) اللہ اس بات کو تو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا جائے اور اس کے سوا جس گناہ کو چاہے بخش دے ۔ “ یہودیوں کو مشرک قرار دیا گیا ‘ محض اس لئے کہ وہ اپنے احبار کو اللہ کے علاوہ رب قرار دیتے تھے ‘ اس لئے نہیں کہ وہ اپنے ارباب کی عبادت اور بندگی کرتے تھے بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ارباب کو حلال و حرام قرار دینے کے اختیارات دے رکھے تھے ۔ انہوں نے احبار کو حق حاکمیت اور حق قانون سازی دونوں عطا کردیئے اور یہ کام انہوں نے اپنی جانب سے کیا تھا ۔ اس لئے انہوں نے انکو اللہ کا شریک بنا لیا تھا جو ناقابل معافی جرم ہے اور اس کے علاوہ تمام جرائم معاف ہو سکتے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ۔ (وان زنا وان سرق وان شرب الخمر) (اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی اور شراب نوشی کی) ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے عقیدے کی بات کو اس میں منحصر کردیا ہے کہ اللہ کے ساتھ حاکمیت میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس میں وہ منفرد ہے اس لئے کہ الوہیت کی صفات میں سے یہ مخصوص ترین صفت ہے ۔ اس کے اندر رہ کر ہی ایک مومن ‘ مومن اور مسلم ‘ مسلم رہ سکتا ہے اور وہ امید رکھ سکتا ہے کہ اس کے گناہ معاف ہوں ‘ چھوٹے ہوں یا بڑے ۔ اس سے باہر نکل جائیں تو شرک ہے ‘ جسے اللہ کبھی بھی معاف نہیں فرماتے ۔ اس لئے کہ یہ ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف (Definition) ہے ۔ (آیت) ” ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر (4 : 59) (اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہو۔ )
یہ ہے وہ اہم موضوع جو اس سبق میں زیر بحث ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کرہ ارض پر ایک مسلم امت کے فرائض کیا ہیں ۔ مثلا یہ کہ انہوں نے اللہ کے درست نظام زندگی کی مطابق عدل و انصاف قائم کرنا ہے ۔
(آیت) ” (ان اللہ یامرکم ان تودوا الامنت الی اہلھا واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل ان اللہ نعما یعظکم بہ اللہ کان سمیعا بصیرا “۔ (4 : 58)
(مسلمانو ! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ‘ اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے ۔
یہ ہے اس سبق کا اجمالی خاکہ ۔ اب ذرا نصوص پر تفصیلی بحث دیکھئے ۔
النساء 4:57
(آیت) ” نمبر 56 تا 57۔
(آیت) ” نضجت جلودھم بدلنھم جلودا غیرھا “۔ (4 : 56) ” اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ‘۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جو مسلسل چلتا ہے ۔ ایک ایسا منظر جو نظروں کے سامنے ہے اور بار بار دہرایا جارہا ہے نظریں اس کے اوپر جم جاتی ہیں ۔ خیال ایک جگہ مرکوز ہوجاتا ہے ۔ اور اس سے ادھر ادھر نہیں ہوتا ۔ یہ یقینا ایک خوفناک منظر ہے ‘ اس کی خوفناکی فکر ونظر کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے ۔ اس مسلسل اور خوفناک منظر کو صرف ایک لفظ اسکرین پر لاتا ہے یہ لفظ (کلما) ہے ۔ اور یہ منظر صرف فقرے کے ایک حصے کے ذریعہ خوفناک اور ہولناک بن جاتا ہے ۔ (کلما نضجت جلودھم ) اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی ۔ “ اس کے بعد جملے کے دوسرے حصے میں اس عمل کو خارق عادت عمل اور تعجب انگیز کردیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” بدلنھم جلودا غیرھا “۔ ” تو اس کی جگہ دوسری کھال پیدا کردیں گے ۔ “ اور یہ تمام ہولناک مناظر اور خوفناک عمل اور عجیب اور معجزانہ منظر صرف ایک جملہ شرطیہ کے اندر تمام ہوتا ہے صرف ایک جملہ میں ۔
یہ کفار کے لئے مناسب اور منصفانہ جزاء ہے ” تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھیں ۔ “ (آیت) ” لیذوقوا العذاب “۔ اللہ تعالیٰ ہر سزا دینے پر قادر ہے اور سزا سنانے میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان عزیزا حکیما “۔ اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے ۔
کفار کے لئے اس بھڑکتی ہوئی خوفناک جہنم کے مقابلے میں مومنوں کا انعام کیا ہے ۔ ان جلتی ہوئی کھالوں ‘ بھونی جانے والی کھالوں کے مقابلے میں کہ جب وہ گل جائیں تو بدل جائیں اور از سر نو جلنے لگیں اور از سر نو تعذیب شروع ہو ۔ اس خوفناک منظر اور اس کربناک مشاہدے کے مقابلے میں مومنوں کا انعام واکرام کیا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں۔
(آیت) ” والذین امنوا وعملوا الصلحت “۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کئے “ وہ تروتازہ باغات میں ہوں گے ۔ (آیت) ” جنت تجری من تحتھا الانھر “ ۔ ’‘’ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ “ اور یہ منظر نہایت پرسکون ‘ دائمی اور اطمینان بخش ہوگا ۔ (آیت) ” خلدین فیھا ابدا “۔ ” جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ ۔۔۔۔۔ ان باغات مین ان کو پاکیزہ بیویاں میسر ہوں گی ۔ (آیت) ” ازواج مطھرۃ “۔ اور ان باغات میں گھنی چھاؤں نظر آتی ہے نہایت ہی خوشگوار (آیت) ” وندخلھم ظلا ظلیلا “۔ ” اور ہم انہیں گھنی چھاؤں میں رکھیں گے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک پہلے تھا جزاء کا منظر ‘ ایک یہ جزاء کا منظر ہے ۔ اور یہ منظر مشاہدات میں بھی ‘ تصاویر میں بھی اور اثرات میں بھی پہلے منظر کا عین مقابل ہے ۔ مناظر قیامت کے بیان میں قرآن کا یہی انداز ہوتا ہے کہ اس میں گہرے اشارے ہوتے ہیں اور موثر اور گہرے اثرات ہوتے ہیں ‘ جو ذہن کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔
درس 35 ایک نظر میں :
یہ سبق نہایت ہی اہم موضوع پر مشتمل ہے اور یہ موضوع امت مسلمہ کی زندگی کا اساسی موضوع ہے ۔ اس میں ایمان کی شرائط اور ایمان کی تعریف بیان کی گئی ہے وہ ایمان جو اس امت کے نظام اساسی کی صورت میں ظاہر ہو ‘ اس موضوع کی اہمیت ایک تو اس کے نفس مضمون کی وجہ سے ہے اور دوسرے نظام اساسی کے ساتھ اپنے طریقہ ارتباط اور امتزاج کی وجہ سے بھی یہ اہم ہے ۔
قرآن کریم نے اس امت کو وجود بخشا اور اس کی تربیت کی ۔ اس امت کو پوشیدگی سے نکالا گیا ‘ یا عدم سے وجود کی طرف نکالا گیا اور قرآن کریم نے اس کے لئے نہایت ہی جامع انداز تعبیر استعمال کیا ۔ (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس “۔ (3 : 11) ” تم خیر امت تھے اور تمہیں لوگوں کے لئے نکالا گیا ۔ “
غرض قرآن نے اس مت کو وجود بخشا ‘ اس لئے کہ وہ قرآن سے پہلے موجود نہ تھی ۔ پھر اس نے اس کی تربیت کی تاکہ وہ تاریخ انسانیت میں بےمثال امت بن جائے ۔ اور خیر امت ہو اور (آیت) ” اخرجت اللناس “۔ ” اسے لوگوں کیلئے نکالا گیا ۔ “ بات آگے بڑھانے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اس حقیقت کی ذرا وضاحت کردیں کہ قرآن نے اس امت کو کس طرح پیدا کیا اور کیسے تربیت دی ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس امت کا پیدا کیا جانا اور پھر اس کو تربیت دیا جانا ‘ اس کیلئے ایک نیاجنم تھا۔ بلکہ یہ پوری انسانیت کے لئے ایک نیا جنم تھا ۔ اس امت کے آنے کے بعد ‘ انسانیت بالکل ایک نئی شکل میں سامنے آئی ۔ یہ امت ترقی کی راہ میں ایک مرحلہ نہ تھی ‘ نہ ارتقاء کی منازل میں سے ایک منزل تھی ۔ نہ یہ ترقیاتی عمل میں ایک لانگ جمپ تھی بلکہ یہ امت دراصل امت عربیہ اور پھر پوری انسانیت کے لئے ایک نیا جنم تھی ۔
جب ہم جاہلیت کے دور کے اشعار پر نظر ڈالتے ہیں اور جاہلیت کے دور کے اکا دکا آثار کا مطالعہ کرتے ہیں جو درحقیقت عربوں کا دیوان ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں عربوں کا نظریہ حیات ‘ ان کا نظریہ کائنات ‘ انکا نظریہ اخلاق اور سماجی طرز عمل ریکارڈ ہوا ہے ۔ اور یہ ان کے دائمی اور بنیادی تصورات ہیں۔ ان اشعار میں انکی زندگی کے نشانات ‘ ان کے قومی جذبات اور انکے تصورات کا کل اثاثہ موجود ہے ۔ ان کی تہذیب و تمدن کا خلاصہ بھی ان کے اندر ریکارڈ شدہ ہے ۔ غرض عربوں کی مکمل شخصیت ان جاہلی اشعار اور دوسرے اکا دکا آثار میں موجود ہے ۔
ہم عربوں کے اس دیوان میں ان کے تصورات اور انکے علم و ثقافت کا مجموعہ دیکھتے ہیں اور ان کے اس دیوان میں موجود انکی اقدار کا جائزہ قرآن کریم کی روشنی میں لیتے ہیں ‘ پھر ہم ‘ وجود ‘ زندگی ‘ کائنات اور انسان کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کو دیکھتے ہیں اور ان کے نظام معاشرت اور وجود انسانی کے مقاصد کے بارے میں ان کے تصورات ‘ اور ان تصورات کی اساس پر ان کی عملی تنظیم کو دیکھتے ہیں ‘ پھر ہم عربوں کی عملی صورت حال کا جائزہ قبل از اسلام اور بعد از اسلام لیتے ہیں اور یہ تقابلی جائزہ ان تصورات کی روشنی میں لیتے ہیں جو ان کے اس دیوان کے اندر پائے جاتے ہیں اور پھر اس کا تقابل ان حالات سے کرتے ہیں جو قرآنی تصورات کے تحت عربی معاشرے میں پیدا ہوئے تو ہمیں نہایت ہی قطعیت کے ساتھ معلوم ہوجاتا ہے ۔ کہ قرآنی تصورات کے تحت یہ جدید معاشرہ عربوں کیلئے ایک جدید جنم تھا ۔ یہ ترقی نہ تھی ‘ نہ ترقی کا کوئی مرحلہ تھا ‘ نہ یہ کوئی برق رفتار ترقی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ کی صنعت کاری سے اس قوم کا ظہور ہوا ‘ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے جنم دیا گیا ۔ قرآن کریم نے اس کے لئے (آیت) ” (اخرجت) کا لفظ بالکل صحیح استعمال کیا ہے ۔ اور یہ نشاۃ جدیدہ نہایت ہی حیران کن اور تعجب انگیز تھی اس لئے کہ یہ اس قوم کا پہلا اور آخری ظہور تھا ۔ اور دنیا میں یہ واحد مثال ہے کہ ایک کتاب کے دونوں وقایوں کے درمیان سے ایک قوم جنم لیتی ہے ۔ ایک امت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور ایک کتاب کے الفاظ سے اسے زندگی ملتی ہے لیکن یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ کلمات اللہ کے احکامات ہیں۔
اس نکتے پر اگر کوئی ہم سے بحث و مباحثہ کرتا ہے تو بتائے کہ تاریخ کے جس موڑ پر اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعے اس امت کو برپا کیا ‘ اس سے پہلے یہ امت کہاں تھی ۔ جب قرآن کریم نے اسے پیدا کیا اور یہ نکالی گئی تو یہ کہاں تھی ؟
ہم جانتے ہیں کہ یہ جزیرۃ العرب میں تھی لیکن کیا اس کا کوئی انسانی وجود تھا ؟ انسانی تمدن کے رجسٹر میں اس کا کیا ریکارڈ تھا ۔ عالمی تاریخ میں اس کے بارے میں کتنے اوراق موجود تھے ۔ انسانیت کے عالمی دسترخوان پر اس کا مقام کہاں تھا ۔ اور اس دسترخوان پر اس کی جانب سے کیا تحفہ تھا تاکہ تاریخ یاد کرتی اور یہ ان کی پہچان ہوتی کہ یہ ہے عربوں کا تحفہ ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس امت کی نشوونما صرف اس دین کے ذریعے ہوئی اور اس کی تربیت اسلامی نظام زندگی کے زیر سایہ ہوئی ۔ اس نے اپنے نفس اور اپنی ذات کی قیادت اور پھر پوری انسانیت کی قیادت اس کتاب کے ذریعے سے کی جو اس کے ہاتھ میں تھی اور اس کتاب کے نظام حیات کے مطابق اس کی زندگی پر چھاپ پڑی ۔ صرف قرآن اور صرف قرآن سے وہ وجود میں آئی ۔ اس پر تاریخ گواہ ہے ۔ اور اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا ۔ (آیت) ” ولقد انزلنا الیکم کتابا فیہ ذکرکم ۔۔۔۔۔۔ افلا تعقلون “۔ (بےشک ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل کی جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے ۔ )
غرض اس کرہ ارض پر امت عربیہ کا تذکرہ صرف اس کتاب کی وجہ سے ہوا اور تاریخ میں اس کا اہم کردار رہا ۔ سب سے پہلے اس نے اپنا ایک انسانی وجود قائم کیا ‘ اس کے بعد اس نے ایک عالمی تمدن وتہذیب کو وجود بخشا ۔ لیکن بعض احمق اب یہ چاہتے ہیں کہ وہ امت عربیہ پر اللہ کے اس احسان کا انکار کردیں اور اس بات کی ناشکری کی جائے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کے انسانوں کے لئے اپنا آخری کلام عربی زبان میں نازل فرمایا اور عربوں کو اس کے اولین مخاطب قرار دیا ۔ اس کلام کی وجہ سے ان کو ایک انسانی وجود بخشا ‘ ان کو شہرت اور تاریخ اور تمدن عطا کئے ۔ یہ احمق دراصل اس خلعت کا اتارنا چاہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے امت عربیہ کو پہنائی اور وہ اس جھنڈے کو پھاڑنا چاہتے ہیں ‘ جس کی وجہ سے ان کو عزت اور شہرت نصیب ہوئی بلکہ ان کو ایک وجود ملا ‘ جب اللہ نے ان کو بحیثیت امت اٹھایا۔
ہم کہتے ہیں کہ جب اسلام اس امت کی تخلیق کررہا تھا اور اس کی تربیت کر رہا تھا ‘ جماعت مسلمہ کے اندر اسلام کے جدید خدوخال کے خطوط کھینچ کر ان کو مستحکم کر رہا تھا ‘ اسے جاہلیت کی گہری کھائی سے نکال کر اس کے وجود سے جاہلیت کے تمام خدوخال مٹا رہا تھا ‘ اس کی زندگی ‘ ان کے نفوس اور اس کے معاشرے کو پاک کر رہا تھا ‘ اس کو منظم کر رہا تھا ’ اسے از سر نو کھڑا کر کے اسے جدید جنم دے رہا تھا اس جدید جماعت کو ایک معرکہ کار زار میں اتار رہا تھا اور وہ اپنے نفوس ‘ اپنے اوضاع واطوار سے سابقہ معاشرتی آثار جاہلیت مٹا رہا تھا ۔ اور جس وقت قرآن جماعت کے اندر سے اور اس کے ماحول سے مدینہ منورہ کے اندر منافقین ‘ مشرکین اور یہودیوں کی شکل میں پائے جانے والی جاہلیت کو ختم کر رہا تھا جاہلیت کے ساتھ یہ معرکے رات دن جاری تھے ‘ ہر زمان ومکان میں جاری تھے ۔ یہ سب کچھ کرتے ہوئے اس دوران میں قرآن نے سب سے پہلے اس امت کو ایک صحیح تصور حیات دیا ۔ اس کے لئے ایمان کی شرائط وحدود وضع کیں ‘ پھر اس تصور کے مطابق اسلام نے اس کے لئے ایک دستوری نظام تجویز کیا جس کی وجہ سے اس کے وجود اور اس کے اردگرد جاہلیت کے وجود کے درمیان خط امتیاز کھینچ دیا گیا ان کے لئے وہ خصائص ومقاصد متعین کئے گئے جن کے لئے اسے برپا کیا گیا تھا تاکہ وہ لوگوں کے سامنے ان کی تبلیغ کرے اور ان کو اللہ اور اللہ کے ربانی نظام کی طرف دعوت دے ۔
اس درس میں اس اساسی نظام کا بیان ہے ۔ یہ نظام اس اساسی تصور حیات سے پھوٹتا ہے اور اس پر قائم ہے ۔ اور انہی شرائط ایمان اور حدود اسلام کے مطابق ہے ۔
پھر اس سبق میں وہ تجدید عہد ہے جس سے یہ امت اپنا نظام حیات لیتی ہے ۔ وہ طریقہ بھی بتایا گیا ہے جس کے مطابق وہ اپنا نظام اخذ کرے گی ۔ وہ نظام بھی بتایا گیا ہے جس کے مطابق وہ اس چیز کا ادراک کرے گی جسے وہ اخذ کررہی ہے یا زندگی کے مسائل اور اس کی مشکلات میں اس نظام کی طرف رجوع کرے گی ‘ ان امور میں جن کے بارے میں کوئی نص اور صریح حکم نہیں ہے اور جن میں رائے کا اختلاف ممکن ہے ۔ پھر یہ بھی بتایا گیا کہ وہ انتظامیہ کون سی ہے جس کی اطاعت ہوگی اور اس انتظامیہ کی قوت کا مرجع کونسی چیز ہے اور یہ تمام امور ایمان کی شرائط اور تعریفات ہیں۔
یہاں آکر اس امت کا دستوری نظام اس کے نظریہ حیات کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے ۔ یہ اتحاد پھر تحلیل نہیں ہوتا اور نہ ان کے عناصر ترکیبی ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں ۔
یہ ہے وہ اہم موضوع جس کا حق یہ سبق ادا کرتا ہے اس بارے میں مکمل ہدایات دی جاتی ہیں اور اس سے متعلق تمام سوالوں کا جواب دیا جاتا ہے ۔ اس سبق کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ اس قدر واضح اور بدیہی ہے کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس بارے میں کوئی مسلمان کس طرح مجادلہ کرسکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ درس امت کو واضح طور پر بتاتا ہے کہ رسولوں کو بھیجا ہی اس لئے گیا ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور یہ اطاعت اللہ کے حکم سے ہے اور یہ کہ رسولوں کو محض تبلیغ یا لوگوں کو مطمئن کرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا کہ وہ لوگوں کو مسکت دلائل سنا دیں بلکہ (آیت) ” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ “۔ (اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے وہ صرف اس لئے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے)
یہ سبق واضح کرتا ہے کہ لوگ مومن ہی نہ ہوں گے اگر وہ اپنے فیصلے اس نظام قانون کے مطابق نہیں کرتے جو اللہ نے اتارا ہے ۔ یہ منہاج رسول اللہ ﷺ کی عملی زندگی اور آپ کے احکام میں پایا جاتا ہے اور جو قرآن وسنت کی شکل میں قیامت تک باقی ہے ۔ اور یہ بات بھی کافی نہیں ہے کہ وہ اس قانون کے مطابق اپنے فیصلے کرائیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ دلی رضا مندی سے ان فیصلوں کو قبول بھی کریں ۔
(آیت) ” (فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلموا تسلیما “ (4 : 65)
” نہیں اے محمد ﷺ تمہارے رب کی قسم ‘ یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ‘ پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دل میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں ‘ بلکہ سر تسلیم خم کرلیں)
اس سبق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جو لوگ طاغوت کے پاس اپنے فیصلے لے جاتے ہیں یعنی اللہ کی شریعت کے سوا کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کراتے ہیں تو ان سے ان کا یہ دعوی قبول نہ ہوگا کہ وہ اللہ کے کلام اور رسول اللہ ﷺ کے احکام پر ایمان لانے والے ہیں ‘ یا وہ پہلی کتابوں پر ایمان لانے والے ہیں ۔ ان کا یہ دعوی جھوٹا ہے اور اس پر دلیل ان کا یہ فعل ہے کہ وہ اپنے فیصلے طاغوت کے پاس لے جاتے ہیں ۔
(آیت) ” الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یرویدن ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یظلھم ضللا بعیدا “۔ (4 : 60)
” اے نبی تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعوی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ‘ اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ‘ مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لئے طاغوت کی طرف رجوع کریں ۔ حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ شیطان تمہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے)
اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نفاق کی علامت یہ ہے کہ لوگوں کو اس قانون کے مطابق فیصلے کرنے روکا جائے جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اور جو سنت رسول ﷺ میں ہے ۔
(آیت) ” واذا قیل لھم تعالوا الی ما انزل اللہ ولی الرسول رایت المنفقین یصدون عنک صدودا “۔ (4 : 61) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں)
یہ سبق کہتا ہے کہ ایمانی طریق کار اور اس کا دستور اساسی یہ ہے کہ تم لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کی پیروی کرو اور رسول خدا ﷺ کی سنت کی پیروی کرو اور ان اہل ایمان کی اطاعت کرو جو اولو الامر ہیں۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ اطیعوا الرسول واولی الامر منکم “۔ (4 : 59)
(اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں)
یہ سب بتاتا ہے کہ جہاں نقطہ نظر مختلف ہو ‘ اور مسائل بالکل نئے ہوں اور ان میں منصوص احکام موجود نہ ہوں تو پھر اللہ و رسول کی طرف رجوع کرو اور قرآن وسنت کی روشنی میں ان کا حل تلاش کرو ۔ (آیت) ” (فان تنازعتم فی شیء فردہ الی اللہ والرسول) (4 : 59) ” اگر تم کسی چیز میں متنازع ہوجاؤ تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ “ اس طریقے سے اسلامی نظام حیات ان مسائل اور حالات کا حل دریافت کرلیتا ہے جو بالکل پہلی مرتبہ نمودار ہوئے ہوں ۔۔۔ اس قاعدے کے ذریعے اسلام ابدی طور پر نئے نئے مسائل کے حل کی تدبیر کرتا ہے ۔ چونکہ اسلام کا دستوری قاعدہ یہ ہے کہ اس وقت تک کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے مسائل اسلامی نظام کے مطابق حل نہ کرین اس لئے اسلامی نظام زندگی کی وسعت کے ساتھ ان کے حل کا یہ طریقہ وضع کرتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ مسائل کو اللہ اور رسول اللہ کی طرف لوٹایا جائے ‘ کیونکہ یہاں اطاعت شرط ایمان ہے ۔ ایمان واضح طور پر مشروط ہے ۔ (آیت) ” (ان کنتم مومنون باللہ والیوم الاخر (4 : 59) ” اگر تم واقعی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو ۔ “
ہمیں اس سے قبل بیان کردہ یہ فرمان الہی نہیں بھولنا چاہئے ۔ (آیت) ” (ان اللہ لا یفغر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء (4 : 48) اللہ اس بات کو تو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کا ارتکاب کیا جائے اور اس کے سوا جس گناہ کو چاہے بخش دے ۔ “ یہودیوں کو مشرک قرار دیا گیا ‘ محض اس لئے کہ وہ اپنے احبار کو اللہ کے علاوہ رب قرار دیتے تھے ‘ اس لئے نہیں کہ وہ اپنے ارباب کی عبادت اور بندگی کرتے تھے بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ارباب کو حلال و حرام قرار دینے کے اختیارات دے رکھے تھے ۔ انہوں نے احبار کو حق حاکمیت اور حق قانون سازی دونوں عطا کردیئے اور یہ کام انہوں نے اپنی جانب سے کیا تھا ۔ اس لئے انہوں نے انکو اللہ کا شریک بنا لیا تھا جو ناقابل معافی جرم ہے اور اس کے علاوہ تمام جرائم معاف ہو سکتے ہیں۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں ۔ (وان زنا وان سرق وان شرب الخمر) (اگرچہ اس نے زنا کیا اور چوری کی اور شراب نوشی کی) ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے عقیدے کی بات کو اس میں منحصر کردیا ہے کہ اللہ کے ساتھ حاکمیت میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس میں وہ منفرد ہے اس لئے کہ الوہیت کی صفات میں سے یہ مخصوص ترین صفت ہے ۔ اس کے اندر رہ کر ہی ایک مومن ‘ مومن اور مسلم ‘ مسلم رہ سکتا ہے اور وہ امید رکھ سکتا ہے کہ اس کے گناہ معاف ہوں ‘ چھوٹے ہوں یا بڑے ۔ اس سے باہر نکل جائیں تو شرک ہے ‘ جسے اللہ کبھی بھی معاف نہیں فرماتے ۔ اس لئے کہ یہ ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف (Definition) ہے ۔ (آیت) ” ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر (4 : 59) (اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہو۔ )
یہ ہے وہ اہم موضوع جو اس سبق میں زیر بحث ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس کرہ ارض پر ایک مسلم امت کے فرائض کیا ہیں ۔ مثلا یہ کہ انہوں نے اللہ کے درست نظام زندگی کی مطابق عدل و انصاف قائم کرنا ہے ۔
(آیت) ” (ان اللہ یامرکم ان تودوا الامنت الی اہلھا واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل ان اللہ نعما یعظکم بہ اللہ کان سمیعا بصیرا “۔ (4 : 58)
(مسلمانو ! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ‘ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو ‘ اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے ۔
یہ ہے اس سبق کا اجمالی خاکہ ۔ اب ذرا نصوص پر تفصیلی بحث دیکھئے ۔
النساء 4:58
(آیت) ” نمبر 58۔
یہ ہیں امت مسلمہ کے فرائض اور یہ ہے اس کا ضابطہ اخلاق ۔ وہ امانتوں کو ان لوگوں کے سپرد کرتی ہے جو اس کے اہل ہوں ۔ اور اگر وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے تو عدل پر کرے گی اور اس نظام اور قانون کے مطابق کرے گی جو اللہ نے سکھایا ہے ۔
امانتوں کا آغاز امانت کبری سے ہوتا ہے ۔ یہ وہ امانت ہے جس سے فطرت انسان مربوط ہے اور یہ امانت وہی ہیں جس کے اٹھانے سے آسمان ‘ زمین اور پہاڑوں نے معذوری کا اظہار کیا تھا ‘ لیکن اسے انسان نے اٹھا لیا تھا ۔ انسان نے جس بار امانت کو اٹھایا ‘ ” ہدایت ‘ معرفت اور ایمان باللہ کی امانت تھی ۔ یہ ایمان باللہ ‘ بامقصد ‘ باارادہ اور کمال توجہ کے لائق ایمان ہے ۔ یہ امانت انسان کی فطرت کا تقاضا بھی ہے ۔ انسان کے سوا اور جس قدر مخلوق خدا ہے ‘ اس کی جانب سے خدا پر ایمان ‘ ہدایت ‘ معرفت طہارت اور اطاعت بلاقصد و ارادہ اور بلاتوجہ ہوتی ہے ۔ اور وہ طوعا وکرہا ناموس الہی کے فرمان بردار ہوتے ہیں ۔ انسان ” واحد مخلوق ہے کہ اللہ نے اس کی فطرت ‘ اس کی عقل اس کی معرفت ‘ اس کے ارادے اور اس کی توجہ پر ایمان کو موقوف کردیا ہے اور اس پر فرض قرار دیا ہے کہ وہ ایمان کی منزل تک پہنچنے کی جدوجہد کرے ۔ وہ یہ جدوجہد کرے گا تب اللہ اسے راستہ دکھائے گا ۔
(آیت) ” (والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا) (جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کی راہنمائی اپنے راستوں کی طرف کریں گے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے وہ پہلی امانت جسے انسان نے دوسری امانتوں کے ساتھ اٹھانا ہے ۔
اور پھر اس امانت کبری سے دوسری ماتحت امانتیں اور ذمہ داریاں انسان پر عائد ہوتی چلی جاتی ہیں ۔ ان میں سے اہم امانت شہادت حق کی امانت ہے اور یہ شہادت انسان نے اس دین کی سچائی پر دینی ہے ۔ سب سے پہلے مومن کا نفس یہ شہادت دے گا کہ وہ مومن ہے اسے ایمان اور اسلام کا عکاس ہونا چاہئے ۔ ایک مومن اپنے شعور و تصورات اور اپنے سلوک اور عمل میں اسلام اور دین کا ترجمان ہو۔ لوگ دیکھتے ہی یہ کہیں کہ یہ ہے نمونہ اسلام اور دین اسلام کا ۔ دیکھتے ہی لوگ کہیں کہ یہ دین ایمان بہت ہی اچھا دیں و ایمان ہے جس کے پیروکار ایسے اچھے ہیں جس کے ماننے والے اس قدر اخلاق و کمالات کے مالک ہیں ۔ یہ دین کی شہادت حق ہے جس سے تمام دیکھنے والے متاثر ہوں گے اور یہ بھی ایک امانت ہے ۔ دوسری شہادت یہ ہے کہ ایک مومن دین کی دعوت لوگوں کو دے اور لوگوں کے سامنے دین کے فضائل بیان کرے جبکہ خود داعی کے اندر وہ پورے فضائل زندہ موجود ہوں ۔ کسی مومن کی ذاتی پاکیزگی اور طہارت کی شہادت کافی نہیں ہے جب تک وہ لوگوں کو اس طرف دعوت نہ دے ۔ اگر دعوت نہ دے تو اس نے امانت دعوت ادا نہ کی جو بذات خود امانت ہے ۔ اس کے بعد اس دین کی شہادت قیام دین ہے اور اس امانت کی ادائیگی پورے کرہ ارض پر فرض ہے ۔ اس طرح کہ یہ جماعت مومنہ کا بھی منہاج ہو اور تمام بشریت کا بھی منہاج ہو اور اس کام کے لئے ایک مومن انسان کا فرض ہوگا کہ وہ اپنے پورے وسائل اس راہ میں جھونک دے ۔ جماعت مسلمہ کے پاس جس قدر وسائل وذرائع ہوں ‘ وہ اس راہ میں صرف کردے اور اس نظام کو انسانوں کی زندگی میں قیام کے مرحلے تک پہنچائے ۔ اور یہ بھی ایک عظیم امانت ہے جسے ادا کرنا ہے ۔ اور یہ ایک شخص کے ذاتی ایمان کی وسعت ہے اور یہ فریضہ اقامت دین نہ کسی فرد کے لئے معاف ہے اور نہ کسی جماعت کے لئے ۔ یہی وجہ ہے کہ کہا گیا (الجھاد ماض الی یوم القیامۃ) (جہاد قیامت تک جاری رہے گا) اور یہ جہاد بھی امانات میں سے ایک اہم امانت ہے ۔
ان امانات میں سے وہ امانتیں بھی ہیں جو لوگوں کے باہم معاملات میں پیش آتی ہیں ۔ یہ فرض ہے کہ لوگوں کی امانتیں ان کو لوٹائی جائیں ۔ معاملات کی امانت اور وہ مالی امانت جو کسی کے پاس رکھی گئی ہو ‘ حکام اور رعایا کو نصیحت کرنے کی امانت ‘ چھوٹے بچوں کی پرورش کی امانت ‘ جماعت کی عزت کی حفاظت کی امانت ‘ اجتماعی اموال کی امانت اور سرحدوں کی حفاظت کی امانت ۔ غرض وہ تمام مناصب ‘ فرائض اور تمام سروسز امانت ہیں اور یہ ان لوگوں کے سپرد کردی جائیں جو ان کے اہل ہوں ۔ یہ سب امانتیں ہیں اور اس آیت میں ان کا اجمالی تذکرہ کیا گیا ہے ۔
رہا یہ حکم کہ لوگوں عدل کرو ‘ تو یہ عام ہے اور تمام لوگوں کے لئے ہے ۔ یہ حکم نہیں ہے کہ اہل اسلام کے درمیان عدل کرو ۔ یہ حکم بھی نہیں ہے کہ اور لوگوں کو چھوڑ کر صرف اہل کتاب کے ساتھ عدل کرو ۔ انصاف ہر انسان کا حق ہے اور بحیثیت انسان اسے ملنا چاہئے ۔ اسلامی نظام حیات کے اندر عدل کا تعلق اس صفت یعنی صفت الناس کے ساتھ ہوتا ہے اور اسی صفت الناس پر تمام لوگ متحد ہوتے ہیں۔ مومن ہیں تو وہ بھی الناس ہیں ‘ کافر ہیں تو وہ بھی الناس ہیں ۔ دوست ہیں یا دشمن ‘ کالے ہیں یا گورے ‘ عربی ہیں یا عجمی ‘ سب کے سب الناس ہیں اور امت مسلمہ کو یہ نگرانی سپرد کی گئی ہے کہ وہ الناس کے درمیان عدل قائم کرین ۔ جب بھی اسے لوگوں کے امور کے فیصلے کا موقع ملے ۔ یہ انصاف انسانیت کو اس صورت میں صرف اسلام کے ہاتھوں ملا ‘ صرف مسلمانوں کی حکومت میں ملا ‘ صرف اسلامی قیادت کے دور میں ملا ۔ اس دور سے پہلے اور بعد میں انسانیت نے اسے گم پایا ۔ اسے کبھی بھی اس کا چکھنا تک نصیب نہ ہوا ۔ ایسی شریفانہ اور باعزت صورت میں کہ وہ سب انسانوں کے لئے مہیا ہو ‘ اس لئے کہ وہ انسان ہیں ۔ وہ صرف ان طبقات تک محدود نہ ہوں جو الناس کی صفت کے ساتھ کوئی اور صفت بھی رکھتے ہوں ۔
یہ ہے اسلام میں نظام عدالت کی اساس ۔ جس طرح امانت اس کے حقدار تک پہنچانا ‘ اسلامی معاشرے کی اساس اور اس کا اصل الاصول ہے۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے کتاب ” نحو مجتمع اسلامی “ کا فصل ” مجتمع عادل) اور ان دو احکام یعنی امانت اس کے مستحق کو دینا اور لوگوں کے درمیان عدل کرنا ‘ کے بعد جو تعقیب اور تبصرہ آتا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ یاد رکھو کہ یہ اللہ کی جانب سے ایک نصیحت ہے اور یہ اسی کی ہدایات ہیں ‘ اور کیا ہی اچھی نصیحت اور کیا ہی اچھی ہدایات ہیں یہ (آیت) ” ان اللہ نعما یعظکم بہ (4 : 58) (اللہ تم کو نہایت ہی اچھی نصیحت کرتا ہے۔ )
اب ذرا یہاں توقف کیجئے ۔ ذرا دیکھیں کہ اس فقرے کا انداز اور اسلوب کیا ہے ۔ اصل بات اس جملے کی ساخت ہے ۔ ا صل ہے ۔ (آیت) ” انہ نعم ما یعظکم اللہ بہ) لیکن اس فقرے میں لفظ اللہ کو مقدم کرکے اسے ان کا اسم بنا دیا گیا ۔ اور (نعم ما) یعنی (نعما) کو مع متعلقات (Propositions) خبر کی جگہ رکھا گیا اور اصل خبر کی محذوف کردیا گیا ۔ اس طرح طرز ادا سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کی ذات اور اس وعظ ونصیحت کے درمیان ایک مضبوط تعلق ہے ۔
یہ وعظ تو تھا نہیں بلکہ یہ حکم تھا لیکن امر کا اظہار بلفظ وعظ ونصیحت کیا گیا اس لئے کہ نصیحت اور وعظ کے الفاظ کے ساتھ بات کو انسان جلدی اخذ کرتا ہے اور انسانی وجدان اسے جلدی قبول کرلیتا ہے اور اس طرح یہ بات جلدی نافذ ہوتی ہے کیونکہ اس کے نفاذ میں اختیار ‘ رغبت اور حیاء سب شامل ہوتے ہیں ۔
اس کے بعد آیت میں آخری تعقیب اور نتیجہ آتا ہے اور اس میں تمام معاملے کو اللہ کی نگرانی ‘ اس کی خشیت اور اس سے امید کرم کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان سمیعا بصیرا (4 : 58) ” اور یقینا اللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے ۔ “ یہاں مامور بہ یعنی ادائیگی امانات اور قیام عدل بین الناس اور اس بات میں کہ اللہ سمیع وبصیر ہے ایک نہایت ہی لطیف اور واضح مناسبت ہے ۔ اللہ سنتا اور دیکھتا ہے کہ تم امانت صحیح ادا کرتے ہو۔ تم عدل صحیح طرح قائم کرتے ہو ۔ عدالت کے عمل کو بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ اچھی طرح سنا جائے اچھی طرح اندازہ کیا جائے اور حالات اور بادی النظر امور کے پیچھے عمیق اسباب کی تلاش کی جائے اور اس کے بعد فیصلے بصیرت افروز سماعت کے بعد ہوں اور سامع صاحب بصیرت و بصارت ہو ۔
اب ‘ امانت داری اور عدل کا میعار کیا ہے ؟ امانت وعدل کا طریق اور تصور کیا ہے ؟ عدل وامانت کی تعریف کیا ہے اور ان کا نفاذ کیسے ہوگا ؟ یعنی زندگی کی ہر سر گرمی اور ہر معاملے میں ۔۔۔۔ کیا ہم امانت اور عدل کا مفہوم اور ان کے نفاذ و رواج کے طریقے اور وسائل کو عوام الناس میں مروج رسم و رواج اور اصطلاحات پر چھوڑ دیں اور ان کی عقل جو فیصلہ کرے اسے عدل قرار دیں یا ان کی خواہشات پر چھوڑ دیں ۔
بیشک انسانی عقل وخرد کی اپنی قدروقیمت ہے اور انسان کی ہدایت اور علم ومعرفت کے لئے وہ ایک ، مسلم ذریعہ ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے ۔ لیکن یہ انسانی عقل بہرحال افراد اور جماعتوں کی عقل ہوتی ہے اور یہ افراد کسی مخصوص معاشرے کے فرد ہوتے ہیں اور ان پر متعدد چیزیں اثر ڈالتی ہیں ۔ انسانی عقل نام کی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کا کوئی مطلق اور بےقید مفہوم ہو ۔ اصل چیز یہ ہے کہ میری عقل ہوتی ‘ فلاں فلاں کی عقل ہوتی اور پھر ان عقلوں کا مجموعہ انسانی عقل ہوتی ہے اور مجموعہ عقل زمان ومکان کے اندر محدود ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ عقول مختلف موثرات سے تاثر لیتی ہیں اور کبھی اس طرف مائل ہوجاتی ہیں اور کبھی اس طرح مائل ہوجاتی ہیں ۔
لہذا کسی ایسے معیار اور میزان کی ضرورت ہے جو نہ بدلے اور نہ تاثر لے ۔ ان تمام عقول کو اس میزان پر تولا جائے اور اس معیار پر پرکھا جائے اور معلوم کیا جائے کہ ان میں سے کون سی عقل ٹھیک ہے اور کون سی غلط ہے ؟ کون سے احکام ٹھیک اور کون سے غلط ہیں ؟ کون سا تصور ٹھیک اور کون سا غلط ہے ؟ اور ان احکام اور تصورات میں کہاں کہاں غلو ‘ تقصیر ‘ کوتاہی اور انحراف کیا گیا ہے ۔ یہاں عقل کی قدروقیمت یہ ہے کہ وہ انسان کی بھلائی کے لئے ایک آلہ پیدا کیا گیا ہے ۔ تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنے احکام اور تصورات کو اس میزان کے مطابق درست کرتا رہے ۔ اس لئے کہ یہ میزان ایک ایسا میزان ہے جو انسان کی خواہشات نفس سے متاثر نہیں ہوتا اور نہ دنیا کے موثرات اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ۔
رہے وہ اوزان اور پیمانے جو خود انسانوں نے وضع کئے ہیں تو ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ بعض اوقات ان انسانی پیمانوں کے اندر غلطی ہوتی ہے اس لئے ان پیمانوں کے ساتھ ناپی ہوئی اقدار میں بھی غلطی واقع ہوجاتی ہے ۔ یہ غلطی اس وقت تک دہرائی چلی جاتی ہے جب تک لوگ اس اصل معیار اور پیمانے کی طرف واپس نہیں لوٹتے ۔
اللہ تعالیٰ نے یہ میزان انسانوں کے لئے نصب کیا ہے تاکہ اس کے اوپر وہ امانتوں اور نظام عدالت کو استوار کریں اور تمام دوسری اقدار کو بھی اس پر تولیں ۔ اپنے تمام احکام اور تمام حالات زندگی کو اس پر پرکھیں ‘ زندگی کے ہر میدان میں ۔
النساء 4:59
(آیت) ” نمبر 59۔
اس مختصر آیت میں اللہ تعالیٰ ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف بیان کرتے ہیں ‘ اور اس میں امت مسلمہ کا اساسی دستور بھی آجاتا ہے ۔ یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام میں حاکمیت اور اقتدار کا منبع کونسا ہے ۔ یہ سب کام اللہ سے شروع ہوتے ہیں اور اللہ کی ذات پر ہی ان کا اختتام ہوتا ہے ۔ اگر شریعت میں کسی حکم کے بارے میں تفصیلات نہ ہوں تو پھر اہل اسلام اس دستوری اصول کی طرف رجوع کرکے اپنے تمام جزئی مسائل میں جواب حاصل کرسکتے ہیں اور قیامت تک یہ اساسی دستوری اصول قائم ودائم ہے ۔ اس میں لوگوں کی آراء ار ان کی عقلی کاوشوں کے لئے اختلاف کی گنجائش بھی چھوڑی گئی ہے ۔
انسانوں کی زندگی پر حاکمیت کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے ‘ چاہے ظاہری امر ہو یا پوشیدہ ہو ‘ چاہے بڑا معاملہ ہو یا چھوٹا ۔ ان معاملات میں اللہ تعالیٰ نے شریعت کا حکم مقرر فرمایا ہے ۔ اور رسول خدا ﷺ کی سنت اس کے بارے میں موجود ہے اس لئے کہ حضور ﷺ نے محض ہوائی باتیں نہیں کیں ۔ آپ کی تمام باتیں وحی پر مبنی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے جو قانون بنائے وہ بھی اللہ کے قوانین ہیں ۔
اللہ واجب الاطاعت ہے ۔ اللہ کی الوہیت کا اہم خاصہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لئے شریعت بنائے ۔ اس لئے اس کی شریعت واجب النفاذ ہے اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں ۔ اور پھر وہ رسول اللہ کی اطاعت کریں اس لئے کہ رسول جو کچھ کہتا ہے وہ بھی اللہ کے حکم سے کہتا ہے ۔ رسول کی اطاعت میں اللہ کی اطاعت ہے کیونکہ اللہ ہی نے رسول کو یہ شریعت دے کر بھیجا ہے ۔ اس نے اپنی سنت میں شریعت کو لوگوں کے لئے بیان کیا ہے اس لئے آپ کی سنت اور آپ کے فیصلے اس زاویے سے شریعت کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ لوگوں کے ایمان کا تعلق شریعت کے اس نفاذ سے ہے وجودا اور عدما اس لئے کہ اللہ کا حکم ہے کہ (آیت) ” ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر (4 : 59) (اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو)
یہاں (آیت) ” (واولی الامر منکم) (یعنی تم میں جو صاحب امر ہوں) سے مراد بھی متعین کردی جاتی ہے ۔ یعنی وہ تم میں سے ہوں یعنی وہ لوگ جن کے اندر شرط ایمان اور اسلام کی تعریف (Definition) پائی جاتی ہو ۔ یعنی وہ لوگ جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں جو حق قانون سازی اور حق اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کو دیتے ہیں اور ان معاملات میں صرف اللہ تعالیٰ سے ہدایات اخذ کرتے ہوں ۔ ان حالات میں جن میں منصوص ہدایات آگئی ہیں نیز جن معاملات میں انسانوں کے فہم وادراک میں اختلاف رائے ہو اور جن میں کوئی نص وارد نہ ہوئی ہو ان میں بھی وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کریں اور ان مسائل میں ان اصولی احکام کو منطبق کریں جو وارد ہیں اور منصوص ہیں ۔
اس نص میں بطور اصلیت اللہ کی اطاعت کو لازم کیا گیا ہے ‘ نیز اس میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو بھی اصل اطاعت قرار دیا گیا ہے ۔ اس حیثیت سے کہ یہ اللہ کی فرستادہ ہیں (آیت) ” (واولی الامر) کی اطاعت اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کے تابع اطاعت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ (آیت) ” (واولی الامر منکم) کے ساتھ لفظ (آیت) ” (اطیعوا) کو تیسری بار نہیں لایا گیا ۔ جیسا کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لفظ (آیت) ” (اطیعوا) دہرایا گیا ہے ۔ یہ اس لئے کہ (آیت) ” (واولی الامر) کی اطاعت اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے ماخوذ ہے ۔ جبکہ (آیت) ” (واولی الامر) کے ساتھ (منکم) کے لفظ کے مطابق ان کا اہل ایمان میں سے ہونا ضروری ہے ۔ یہ اولی الامر کے لئے شرط ہے ۔
ان تمام تاکیدوں کے ساتھ ساتھ اولی الامر کی اطاعت ان اوامر میں سے ہے جو اللہ کی طرف سے منصوص اور مشروع ہوں اور حدود اللہ کے اندر ہوں اور ان اوامر کے خلاف کوئی نص وارد نہ ہو ۔ نیز یہ اوامر اور احکام اصول شریعت کی روشنی میں بھی شریعت کے خلاف نہ ہوں ۔ حضور ﷺ کی سنت میں علی وجہ الیقین ان حدود وقیود کا تعین کردیا گیا ہے جن کی مطابق اولی الامر کی اطاعت کی جاتی ہے ۔
صحیحین میں حضرت اعمش ؓ کی حدیث میں ہے (انما الطاعۃ فی معروف) (اطاعت صرف معروف طور پر جائز کاموں میں) ۔
صحیحین میں یحییٰ القطان کی حدیث ہے ۔ (السمع والطاعۃ علی المراء المسلم فیما احب اوکرہ مالم یومر معصیۃ واذا بمعصیۃ فلا سمع ولا طاعۃ)
(سمع اور اطاعت ہر مسلم شخص پر لازم ہے ایسے امور میں بھی جو وہ پسند کرے اور ایسے امور میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے ‘ اس وقت تک جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا گیا ہو ۔ اگر اسے معصیت کا حکم دیا گیا تو اس پر نہ سمع لازم ہے اور نہ اطاعت)
مسلم نے ام الحصین کی حدیث نقل کی ہے ۔
(ولو استعمل علیکم عبد یقودکم بکتاب اللہ اسمعوا لہ واطیعوا) (اگر تم پر کوئی غلام مقررکر دیا جائے جو تمہاری قیادت کتاب اللہ کے مطابق کرے تو اس کی بات بھی سنو اور اطاعت بھی کرو)
اس طرح اسلام نے ہر شخص کو اللہ کی شریعت اور سنت رسول اللہ ﷺ پر امین اور نگہبان بنا دیا ہے ۔ اس کے ایمان اور اس کے دین پر اسے نگران مقرر کردیا ہے ۔ اس کے نفس اور اس کی عقل کا اسے نگران مقرر کردیا ہے ۔ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کے معاملات کا اسے نگران مقرر کردیا ہے ۔ اسلام نے انسان کو اس طرح نہیں چھوڑا ہے جس طرح کسی گلے میں ایک جانور ہوتا ہے کہ اسے یہاں سے روکا جائے اور وہاں سے روکا جائے اور وہ سمع و اطاعت نہ کرے اور ہر وقت اسے ہش کہنے کی ضرورت ہو ‘ اس لئے کہ اسلامی نظام واضح ہے ۔ اطاعت کی حدود واضع نصوص وارد نہیں ہیں ‘ اور مشکلات اور مسائل کی وجہ سے کوئی بالکل نیا معاملہ درپیش ہو ‘ بعد میں آنے والے ادوار میں حالات کے اختلاف میں اور سوسائٹیوں کے اختلاف میں اور بدلتے ہوئے حالات ہوں اور ان میں کوئی نص قطعی نہ ہو یا بالکل کوئی نص ہی نہ ہو ‘ جس میں مختلف لوگوں کے آراء اور اندازے مختلف ہوں اور ہر شخص اپنی عقل کے مطابق رائے رکھتا ہو تو ایسے مسائل کو بھی بالکل آزادانہ نہیں چھوڑ دیا گیا ‘ ان کو بھی بغیر کسی اصول اور قاعدے کے نہیں چھوڑا گیا ۔ نہ اس طرح چھوڑ دیا گیا کہ ان میں اجتہاد واستنباط کے لئے کوئی ضابطہ نہیں ہے بلکہ اس مختصر نص میں اس کے لئے ایک شاندار منہاج رکھ دیا گیا ہے اور اس کے لئے بھی حدود مقرر کردیئے گئے ہیں اور یہ آیت وہ اصول بتا دیتی ہے جس کے مطابق اجتہاد ہو سکتا ہے ۔
(آیت) ” فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللہ والرسول (4 : 59) (پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف پھیر دو ) یعنی ان کو ان نصوص کی طرف لوٹا دو ‘ جن پر یہ نصوص ضمنا منطبق ہوتی ہیں ۔ اگر ایسی نصوص نہ ملیں جن کا انطباق ان مسائل پر ہوتا ہو تو اسلامی شریعت میں جو بنیادی اصول اور عام قواعد ہیں ۔ ان کی روشنی میں ان کا حل نکالو ‘ ان مسائل کو افراتفری کے عالم میں بےلگام نہیں چھوڑ دیا گیا ‘ اور نہ یہ مسائل ان نامعلوم امور کی طرح ہیں جن میں انسانی عقول سرگردان رہتی ہیں جیسا کہ بعض دھوکہ باز اس طرح سمجھانے کی سعی کرتے ہیں ۔ اسلامی نظام میں بعض اساسی اور بنیادی اصول ہیں اور یہ اصول بالکل واضح اور منقح ہیں ۔ انسانی زندگی کے ہر پہلو پر حاوی ہیں ۔ یہ اصول زندگی کے لئے ایسی باڑ اور ایسا دائرہ تجویز کرتے ہیں جن کے اندر رہ کر ہر وہ شخص جس کا ضمیر مسلم ہو سچائی تک بڑی سہولت کے ساتھ پہنچ سکتا ہے ۔
(آیت) ” (ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر (4 : 59) (اگر تم واقعی اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو) ۔ یہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے ۔ یہ اولی الامر کی اطاعت ہے جو مومن ہوں اور اللہ کی شریعت پر قائم ہوں اور سنت رسول کے مطابق کام کر رہے ہوں ۔ یہ متنازع امور کا اللہ اور رسول اللہ کی طرف رد کرنا ‘ یہ تمام امور شرائط ایمان باللہ اور یوم آخرت میں سے ہیں اور یہ سب امور ایمان باللہ اور ایمان بالاخرت کا تقاضا بھی ہیں ۔ اگر یہ شرائط مفقود ہوں تو سرے سے ایمان ہی نہ ہوگا اسی طرح ایمان اس صورت میں بھی موجود نہ ہوگا اگر ایمان کے لازمی تقاضے پورے نہ ہوں ۔
جب اس آیت نے اس مسئلے کو اس طرح قانونی انداز میں ہمارے سامنے رکھ دیا تو اس کے بعد پھر اسے بطور وعظ ونصیحت بھی دوبارہ لایا جاتا ہے اور محبت کے انداز میں انہیں آمادہ کیا جاتا ہے ‘ جب طرح امانت اور عدالت کے احکام کے ذکر کے بعد یہی رویہ اختیار کیا گیا تھا ۔
(آیت) ” ذلک خیر واحسن تاویلا (4 : 59) (یہی ایک صحیح طریق کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے) ۔ یہ طریق کار اور دستور العمل تمہارے لئے بہت ہی اچھا ہے ۔ دنیا میں بھی خیر ہے اور آخرت میں بھی خیر ہے ۔ دنیا میں بھی اس کا انجام اچھا ہوگا اور آخرت میں بھی اس کی جزاء اچھی ہوگی ۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ اس دستور العمل پر عمل کرنے کی وجہ سے اللہ راضی ہوگا اور آخرت میں ثواب ملے گا ۔ اگرچہ یہ بھی ایک عظیم اور اہم بات ہے لیکن اس کے علاوہ اس دستور العمل کو اختیار کرنے کی وجہ سے دنیا میں بھی بہتری ہے ۔ ایک فرد کی ‘ ایک سوسائٹی کی اور اس پوری دنیاوی زندگی کی بھی اس میں بہتری ہے ۔
اسلامی نظام حیات ایک ایسا نظام ہے کہ اس کے زیر سایہ جن لوگوں کو زندگی بسر کرنے کا موقعہ ملتا ہے وہ خوش وخرم زندگی بسر کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسا نظام ہے جسے اس اللہ نے بنایا ہے ۔ وہ صانع ‘ حکیم ‘ علیم ‘ خبیر اور بصیر ہے ۔ یہ ایسا نظام ہے جو انسان کی جہالتوں سے پاک ہے ‘ جو انسان کی خواہشات سے پاک ہے ‘ جو انسان کے نقائص سے پاک ہے ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں کسی فرد کے ساتھ کوئی خصوصی برتاؤ نہیں کیا گیا نہ کسی طبقے ‘ نہ کسی قوم نہ کسی نسل اور نہ کسی خاص قبیلے کی رو رعایت اس میں ملحوظ رکھی گئی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کے رب ہیں اور اللہ تعالیٰ کسی کی محبت میں مبتلا نہیں ہوتے کسی طبقے ‘ نہ کسی رنگ ونسل اور نہ کسی قوم قبیلے کی محبت ہیں ۔
یہ ایک ایسا نظام ہے جس کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا بنانے والا پوری کائنات کو بنانے والا ہے جو انسان کی فطرت کی ماہیت سے واقف ہے ۔ وہ انسان کے نفس کے رجحانات ومیلانات سے بھی واقف ہے ۔ انسان کے ذرائع خطاب اور اس کے طریقہ اصلاح سے بھی واقف ہے اس لئے اللہ تعالیٰ سے کسی معاملے میں غلطی صادر نہیں ہو سکتی ۔ نہ اسے یہ ضرورت ہے کہ وہ کسی نظام کا تجربہ کرکے اس کی غلطیوں کو دور کرے اور نہ وہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ لوگوں پر نظاموں کے تجربے کر کے انہیں مشکلات سے دو چار کرے اور وہ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہیں اور پریشان ہوں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانونی اور اخلاقی نظام دے کر مادی ایجادات کا ایک وسیع میدان انکے لئے چھوڑ دیا ہے کہ وہ اس میں تجربے کرتے رہیں ۔ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جو انسانی عقل کی جولانیوں کے لئے بہت ہی کافی ہے ۔ عقل کے لئے بس یہی کافی ہے کہ وہ اس نظام کو نافذ اور مسائل پر منطبق کرنے کا کام جاری رکھے اور اس میں جہاں جہاں قیاس اور اجتہاد کی ضرورت ہے وہاں کام کرتی رہے ۔
پھر اسلامی نظام کی واضع وہی ذات ہے جو اس کائنات کی خالق ہے اس لئے اس نے انسان کو ایک ایسا منہاج دیا ہے جو اس کائنات کے نوامیس فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ یہ نظام فطرت کے ساتھ معرکہ آراء نہیں ہوتا بلکہ وہ فطرت کی ساتھ ہم نوا ہوتا ہے ‘ اس کو مانتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ یہ نظام اس کی راہنمائی بھی کرتا ہے اور اس کو بچاتا بھی ہے ۔
اس نظام کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ انسانیت کی ہدایت اور حمایت کے ساتھ ساتھ یہ اس کا اکرام اور احترام بھی کرتا ہے ۔ اس نظام میں عقل انسانی کے لئے ایک وسیع دائرہ کار رکھا گیا ہے ۔ اور اس میں قرآن و سنت کی نصوص وہدایات کے اندر تشریح و اجتہاد کی گنجائش موجود ہے ۔ پھر وہ معاملات جن میں واضح نصوص وارد نہیں ہیں ان کو اصول عامہ کے مطابق حل کرنے کی سعی کی گنجائش ہے ۔ اس کے علاوہ وہ اصل میدان کار بھی ہے جو اس نظام نے عقل کی بہترین کے لئے کھلا رکھا ہے ‘ جس پر اس کا مکمل کنٹرول ہے یعنی علمی تحقیقات اور سائنس کے میدان میں اکتشافات اور مادی ایجادات ۔ (آیت) ” ذلک خیر واحسن تاویلا (4 : 59) (یہ بہتر ہے اور اچھا طریقہ کار ہے)
اس سبق میں اس قاعدہ کلیہ کے بیان کے بعد ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف کرنے کے بعد ‘ امت کا دستور اساسی (GrundNorm) وسیع کرنے کے بعد ‘ امت کے لئے طریقہ قانون سازی اور اس کی اصل بتانے کے بعد ‘ اب روئے سخن ان لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے جو اس دستوری اساس سے انحراف کرتے ہیں اور پھر بھی وہ یہ زعم رکھتے ہیں کہ وہ مومن ہیں حالانکہ وہ ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف (Definition) کے خلاف جار رہے ہیں وہ اپنی عدالتوں میں فیصلے ایسے قانون کے مطابق کرتے ہیں جو اللہ کی شریعت کے مطابق نہیں ہے ۔ (آیت) ” ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ) (وہ اپنے فیصلے طاغوتی قانون کے مطابق کراتے ہیں حالانکہ ان کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ اس کا انکار کریں۔ )
روئے سخن اس طرف پھیرتے ہی ایسے لوگوں پر سخت تعجب کیا جاتا ہے ‘ ان لوگوں پر سخت تعجب کیا جاتا ہے ‘ ان لوگوں کو سخت ڈرایا جاتا ہے کہ وہ ذرا سوچیں کہ شیطان انہیں کس طرف لے جارہا ہے ۔ یہاں ایسے لوگوں کا حال بتایا جاتا ہے کہ جب انہیں اسلامی قانون کو نافذ کرنے اور اس کے مطابق فیصلے کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ نہایت ہی منافقانہ روش کے مطابق اسے روکنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی روش نفاق بتاتے ہیں ۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ شیطانی قانون کے مطابق فیصلے کرانے کا ارادہ کرتے ہی انسان ایمان سے فارغ ہوجاتا ہے بلکہ یہ لوگ ابتداء ایمان میں داخل ہی تصور نہیں ہوتے یہاں یہ بھی بتادیا جاتا ہے کہ ان کے عذرات کس قدر بورے ہیں اور کس قدر واہیات اور جھوٹے ہیں اور ان کا یہ منصوبہ نہایت ہی قابل نکیر ومذمت ہے اور اس کے نتیجے میں ان پر وبال آنے ہی والا ہے ۔ اس کے باوجود حضور ﷺ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ آپ دعور وموعظت جاری رکھیں پھر بات کو اس پر ختم کیا جاتا ہے کہ رسولوں کو بھیجا ہی اس لئے گیا ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے ۔ اس کے بعد صریح اور قطعی الفاظ میں ‘ ایک بار پھر ایمان کی شرط اور اسلام کی تعریف (Definition) بیان کی جاتی ہے ۔
النساء 4:60
(آیت) ” نمبر 60 تا 65۔
بعض لوگوں کی یہ تصویر جو ان آیات میں کھینچی گئی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات ہجرت کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی تھیں ۔ اس دور میں جس میں نفاق کا بہت زور تھا اور یہودی منافقین کے ساھت ملک کر ایک زور آور قوت تھے۔
یہ لوگ جو یہ ارادہ رکھتے تھے کہ قانونی فیصلے طاغوت کے مطابق ہوں ‘ یہ لوگ منافقین تھے جیسا کہ آیات کے اس مجموعے کی دوسری آیت میں اس کی تصریح بھی کردی گئی ہے ۔ ان سے مراد یہودی بھی ہو سکتے ہیں اس لئے کہ جب ان کو یہ دعوت دی جاتی تھی کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کرانا تسلیم کریں تو وہ انکار کردیتے تھے اور اس بات کی خواہش رکھتے تھے کہ اس قانون کے مطابق فیصلے کرائیں جو دور جاہلیت میں رائج تھا ۔ (اس لئے کہ یہودیوں کے آپس کے فیصلے تورات کے مطابق ہوتے تھے ۔ یہاں کتاب سے تورات مراد ہوگا اور بعض اوقات یہودیوں کے فیصلے بھی رسول اللہ ﷺ کرتے جیسا کہ بعض فیصلوں سے معلوم ہوتا ہے) لیکن یہاں صرف پہلی صورت ہی مراد ہے یعنی کتاب اللہ سے مراد قرآن کریم ہے کیونکہ آیت ۔ ” یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک (4 : 60) (جن کا زعم یہ ہے کہ وہ ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور اس پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی ہے) لہذا یہاں مراد منافقین ہی ہو سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہودیوں نے کبھی اپنے اس زعم کا اظہار نہیں کیا کہ وہ رسول خدا ﷺ پر نازل کردہ کلام کو مانتے ہیں ۔ یہ اظہار منافقین ہی کرتے تھے کہ وہ نبی ﷺ اور آپ سے پہلے نازل ہوئے والی تمام کتابوں پر ایمان لائے ہیں ۔ یعنی ایسا ایمان جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہم رسل پر ایمان لاتے ہیں ۔
اور یہ بات صرف ہجرت کے ابتدائی ایام ہی میں ہو سکتی ہے ۔ اس سے پہلے کہ بنی قریظہ اور خیبر میں یہودیوں کی قوت کو توڑ دیا جائے اور قبل اس کے کہ یہودیوں کی قوت توڑنے سے خود منافقین کی قوت بھی ٹوٹ جائے ۔
بہرحال ان آیات میں ہمیں شرائط ایمان کی ایک قطعی ‘ مکمل اور جامع مانع شرط اور اسلام کی مکمل تعریف مل جاتی ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ شہادت مل جاتی ہے کہ جو لوگ طاغوت کے مطابق فیصلہ کرنے کا ارادہ بھی کریں ‘ وہ مومن نہیں ہیں ‘ اس لئے کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں ۔ (آیت) ” (وقد امروا ان یکفروا بہ) اس کے علاوہ اللہ کی جانب سے اس مجموعہ آیات میں ہمیں ایک خلفیہ بیان ملتا ہے اور ذات بار خود اپنی ذات کی قسم کھاتے ہیں کہ یہ لوگ اس وقت تک ایمان میں داخل نہیں ہو سکتے اور اس وقت تک مومن شمار نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے مقدمات کے اندر حکم نہ بنائیں اور پھر آپ ﷺ کے حکم کی اطاعت نہ کریں آپ کے فیصلے کو نافذ نہ کریں اور یہ اطاعت کامل تسلیم ورضا کے ساتھ نہ ہو اور دل کی خوشی کے ساتھ نہ ہو یعنی ایسی حالت میں تسلیم کرنا کہ اس میں عجز واضطرار نہ ہو بلکہ مکمل اطمینان ورضا ہو۔
(آیت) ” الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یرویدن ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یظلھم ضللا بعیدا “۔ (4 : 60)
” اے نبی تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعوی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ‘ اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ‘ مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لئے طاغوت کی طرف رجوع کریں ۔ حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ شیطان تمہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے)
کیا آپ نے ایسی عجیب و غریب قوم کے لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مومن ہیں اور پھر وہ آن واحد میں اپنے اس زعم کو باطل قرار دیتے ہیں ۔ یہ لوگ (آیت) ” یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک (4 : 60) (یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو تیری طرف نازل ہوئی ہے اور اس پر بھی جو تجھ سے پہلے نازل ہوئی ہے ۔ اس دعوی ایمان کے بعد وہ اپنے فیصلے اس کتاب کے مطابق نہیں کراتے جو آپ پر نازل ہوئی ہے ‘ نہ وہ اس کتاب کے مطابق فیصلے کراتے ہیں جو تم سے پہلے نازل ہوئی اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی اور چیز کے مطابق فیصلے کرائیں ‘ کسی اور نظام کے مطابق فیصلے کرائیں ۔ کسی اور حکم کے مطابق فیصلے کرائیں ۔ بلکہ وہ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ طاغوت کے مطابق فیصلے کرائیں اور طاغوت وہ ہے جو اس کتاب سے ماخوذ نہ ہو جو آپ کی طرف نازل ہوئی یا اس کتاب سے ماخوذ نہ ہو جو آپ سے پہلے نازل ہوئی اور اس کا ضابطہ اور معیار تم پر نازل کردہ کتاب یا کتب سابقہ سے اخذ نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ طاغوت ‘ طاغوت ہے اور طاغوت اس لئے ہے کہ وہ اللہ کی خاصہ حاکمیت اور تشریع کا دعوی کرتا ہے اور وہ طاغوت اس لئے ہے کہ وہ کسی مستقل میعار پر قائم نہیں ہے ۔ یہ لوگ محض جہالت کی وجہ سے یہ حرکت نہیں کرتے نہ کسی شبہ کی بنا پر کرتے ہیں ۔ وہ اچھی طرح جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں حالانکہ اس طاغوت کے پاس اپنے فیصلے لے جانا حرام ہے ۔ (آیت) ” وقد امروا ان یکفروا بہ “۔ (4 : 60)
ان کو حکم تو یہ دیا گیا ہے کہ وہ اس کا انکار کردیں ۔ یہ لوگ جہالت یا شبہ کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے ۔ بلکہ یہ لوگ قصدا ایسا کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گمان درست نہیں ہے ‘ یہ زعم درست نہیں ہے کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں اور آپ سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں پر بھی ایمان لائے ہیں یہ تو شیطان ہے جو ان کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس طرح کہ وہ اس سے باز نہ آسکیں ۔
(آیت) ” ویرید الشیطن ان یضلھم ضللا بعیدا “۔ (4 : 60) (اور شیطان انہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے) یہ وہ خفیہ سبب ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ طاغوت کے مطابق فیصلہ کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہی وہ داعیہ ہے جو ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایمان کی حدود اور ایمان کی شرائط سے نکل جائیں اور ارادہ کرلیں کہ وہ طاغوت کے مطابق فیصلے کرائیں گے ۔ یہی وہ سبب ہے جس کا اللہ تعالیٰ انکشاف فرماتے ہیں تاکہ وہ اپنے اس ارادے سے باز آجائیں ۔ اور جماعت مسلمہ کو بھی بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی پشت پر کون ہے ؟ اور اس کا اصل محرک کیا ہے ؟
اب آگے کے مضمون میں وہ حالات بتائے جاتے ہیں جب ایسے لوگوں کو اس طرف بلایا جاتا ہے کہ آؤ اس قانون کی طرف جو اللہ نے حضرت محمد ﷺ کی طرف نازل کیا ہے یا اس قانون کی طرف جو آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوا ہے ‘ تو یہ لوگ جو زعم ایمان رکھتے ہیں ‘ کہتے ہیں ۔
(آیت) ” واذا قیل لھم تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول رایت المنفقین یصدون عنک صدودا “۔ (4 : 61) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں ۔ “
سبحان اللہ ‘ نفاق خود اپنے آپ کو آشکارا کر رہا ہے ۔ وہ اس بات پر تلا ہوا ہے کہ فطری سوچ کی واضح ترین باتوں کا بھی انکار کر دے ۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ نفاق کی صورت حال نہ ہوتی ۔
ایمان کا فطری اور واضح تقاضا یہ ہوتا ہے کہ انسان اس قانون کے مطابق اپنے فیصلے کرے جس پر اس کا ایمان ہے اور اپنے فیصلے اس عدالت میں لے جائے جس پر وہ ایمان لایا ہو۔ اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لایا ہے اور جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر بھی ایمان لایا ہے ‘ رسول پر ایمان لایا ہے اور جو کچھ اس پر نازل ہوا ہے اس پر بھی ایمان لایا ہے ‘ پھر ایسے شخص کو اگر بلایا جاتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے اس حکم اور قانون کے مطابق کرائے جس پر وہ ایمان لایا ہے تو اس دعوت کا بدیہی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اس کو تسلیم کرے اور یہی تقاضائے فطرت ہے ۔ لیکن اگر وہ انکار کرتا ہے اور اس راہ پر آنے سے لوگوں کو روکتا ہے تو وہ بالکل ایک واضح فطری اور بدیہی امر سے انکار کرتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ منافق ہے اور اس نے جو دعوائے ایمان کیا ہے ‘ وہ جھوٹا ہے ۔
یہی وہ فطری اور بدیہی صورت حال ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ چناچہ یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں ہے جو دعوائے ایمان کرتے ہیں اور پھر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے بلکہ ان کو کوئی بلائے بھی تو اس طرح فیصلے کرانے سے کتراتے ہیں۔
اس کے بعد ان کے طرز عمل سے ایک اور منافقانہ چال کو ظاہر کیا جاتا ہے ‘ کہ جب ایسے لوگ کسی مشکل میں پڑتے ہیں یا ان کی غلط پالیسی کی وجہ سے کوئی حادثہ ہوجاتا ہے (اور یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی حاکمیت کی طرف نہیں آتے یا اس وجہ سے کہ وہ طاغوت کے مطابق کوئی فیصلہ کرانا چاہتے ہیں اور اس وجہ سے ان کی پوزیشن خراب ہوجاتی ہے) تو پھر یہ لوگ اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لئے عذر ہائے لنگ سے کام لیتے ہیں ۔
(آیت) ” فکیف اذا اصابتھم مصیبتۃ بما قدمت ایدیھم ثم جاء وک یحلفون باللہ ان اردنا الا احسانا وتوفیقا “۔ (4 : 62) ” پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوئی مصیبت ان پر آپڑتی ہے ؟ اس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے ۔
یہ لوگ مصیبت میں یوں پڑجاتے تھے کہ بہت سے لوگوں کے مجمع میں انکا راز کھل جاتا تھا ۔ اور اسلامی معاشرہ میں ان کا مقاطعہ ہوجاتا تھا ‘ یا اسلامی معاشرے میں ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ۔ اس طرح یہ لوگ بڑی مشکل میں پھنس جاتے تھے اس لئے کہ اسلامی معاشرہ ایسے لوگوں کو دیکھ ہی نہ سکتا تھا جو دعوی تو یہ کرتے ہوں کہ وہ اللہ اور اس کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ اور اس پر نازل شدہ کلام پر ایمان لائے ہیں اور پھر وہ اللہ کے قانون کے سوا کسی اور قانون پر فیصلے کراتے ہوں ۔ ایسے لوگوں کو ان معاشروں میں قبولیت حاصل ہوتی ہے جو نہ مومن ہوتے ہیں اور نہ مسلم ۔ اور جو اس قسم کے لوگوں کی طرح نام نہاد مسلمان ہوتے ہیں اور ان کا اسلام اور ایمان صرف دعوے اور نام تک محدود ہوتا ہے ۔
بعض اوقات وہ مصیبت میں یوں پڑتے ہیں کہ وہ طاغوتی عدالت میں جاتے ہیں اور ان پر ظلم ہوجاتا ہے اس لئے کہ وہاں اللہ کے قانون کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلے کردیئے جاتے ہیں ۔ اب انہیں شرمندگی ہوتی ہے اور افسوس کے ساتھ لوٹتے ہیں کہ کیوں وہ طاغوت کی عدالت میں گئے اور ان پر ظلم ہوا ۔ اگر وہ اپنا مقدمہ اسلامی عدالت میں لاتے تو انصاف ہوتا ۔
بعض اوقات ان پر یہ مصیبت اللہ کی جانب سے بطور ابتلاء آتی ہے تاکہ وہ غور وفکر کرکے ہدایت قبول کرلیں ۔ بہرحال جو صورت بھی ہو ‘ قرآن کریم استفہام انکاری کی صورت میں سوال کرتا ہے کہ اس وقت ان کا حال کیا ہوتا ہے کہ یہ لوگ پھر لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے ہیں۔
(آیت) ” یحلفون باللہ ان اردنا الا احسانا وتوفیقا “۔ (4 : 62) ” خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے ۔ “
یہ نہایت ہی شرمناک صورت حال ہے ۔ وہ لوٹتے ہیں اور ان کو شعور ہوتا ہے کہ انہوں نے بہت ہی برا راستہ اختیار کیا ۔ ان کی حالت شرمندگی سے ایسی ہوتی ہے کہ حضور ﷺ کا سامنا نہیں کرسکتے ۔ لیکن قسمیں کھا کر اپنے اندرونی جھوٹے ارادوں کو چھپاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ درحقیقت طاغوت کی عدلت میں تو جانا نہیں چاہتے تھے مگر رواج کے مطابق فیصلے کرا کے فریقین کے درمیان صلح صفائی چاہتے تھے ۔ یہ ان تمام لوگوں کا دعوی ہوتا ہے جو اسلامی نظام حیات سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگ کہتے ہیں کہ وہ مشکلات سے بچنا چاہتے ہیں ۔ اگر شریعت کے قانون کو نافذ کردیا گیا تو ایک مصیبت آجائے گی ۔ لوگوں کے درمیان مخالفت پیدا ہوجائے گی حالانکہ یہ لوگ تمام طبقات کے درمیان توازن چاہتے ہیں۔ یہ حیلے بہانے ان لوگوں کے ہوتے ہیں جو دعوائے ایمان تو کرتے ہیں لیکن مومن نہیں ہوتے ۔ اس قسم کے دلائل تو منافقین کے ہوتے ہیں اور ہر دور میں منافقین نے یہی کہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے اوپر سے ان کو چھپانے والی اس چادر کو اتار پھینکتے ہیں اور حضرت نبی کریم ﷺ کو اطلاع فرماتے ہیں کہ اللہ ان جیسے لوگوں کی حقیقت قلبی اور انکے اندرون سے واقف ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ کا حکم یہی ہے کہ ان جیسے لوگوں کے ساتھ سختی نہ برتی جائے بلکہ ان کو نصیحت کی جائے کہ وہ اس قسم کے ہیر پھیر سے باز آجائیں ۔