Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — النساء 4:61 – النساء 4:108

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. النساء 4:61
  2. النساء 4:62
  3. النساء 4:63
  4. النساء 4:64
  5. النساء 4:65
  6. النساء 4:66
  7. النساء 4:67
  8. النساء 4:68
  9. النساء 4:69
  10. النساء 4:70
  11. النساء 4:71
  12. النساء 4:72
  13. النساء 4:73
  14. النساء 4:74
  15. النساء 4:75
  16. النساء 4:76
  17. النساء 4:77
  18. النساء 4:78
  19. النساء 4:79
  20. النساء 4:80
  21. النساء 4:81
  22. النساء 4:82
  23. النساء 4:83
  24. النساء 4:84
  25. النساء 4:85
  26. النساء 4:86
  27. النساء 4:87
  28. النساء 4:88
  29. النساء 4:89
  30. النساء 4:90
  31. النساء 4:91
  32. النساء 4:92
  33. النساء 4:93
  34. النساء 4:94
  35. النساء 4:95
  36. النساء 4:96
  37. النساء 4:97
  38. النساء 4:98
  39. النساء 4:99
  40. النساء 4:100
  41. النساء 4:101
  42. النساء 4:102
  43. النساء 4:103
  44. النساء 4:104
  45. النساء 4:105
  46. النساء 4:106
  47. النساء 4:107
  48. النساء 4:108

النساء 4:61

(آیت) ” نمبر 60 تا 65۔ بعض لوگوں کی یہ تصویر جو ان آیات میں کھینچی گئی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات ہجرت کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی تھیں ۔ اس دور میں جس میں نفاق کا بہت زور تھا اور یہودی منافقین کے ساھت ملک کر ایک زور آور قوت تھے۔ یہ لوگ جو یہ ارادہ رکھتے تھے کہ قانونی فیصلے طاغوت کے مطابق ہوں ‘ یہ لوگ منافقین تھے جیسا کہ آیات کے اس مجموعے کی دوسری آیت میں اس کی تصریح بھی کردی گئی ہے ۔ ان سے مراد یہودی بھی ہو سکتے ہیں اس لئے کہ جب ان کو یہ دعوت دی جاتی تھی کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کرانا تسلیم کریں تو وہ انکار کردیتے تھے اور اس بات کی خواہش رکھتے تھے کہ اس قانون کے مطابق فیصلے کرائیں جو دور جاہلیت میں رائج تھا ۔ (اس لئے کہ یہودیوں کے آپس کے فیصلے تورات کے مطابق ہوتے تھے ۔ یہاں کتاب سے تورات مراد ہوگا اور بعض اوقات یہودیوں کے فیصلے بھی رسول اللہ ﷺ کرتے جیسا کہ بعض فیصلوں سے معلوم ہوتا ہے) لیکن یہاں صرف پہلی صورت ہی مراد ہے یعنی کتاب اللہ سے مراد قرآن کریم ہے کیونکہ آیت ۔ ” یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک (4 : 60) (جن کا زعم یہ ہے کہ وہ ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور اس پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی ہے) لہذا یہاں مراد منافقین ہی ہو سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہودیوں نے کبھی اپنے اس زعم کا اظہار نہیں کیا کہ وہ رسول خدا ﷺ پر نازل کردہ کلام کو مانتے ہیں ۔ یہ اظہار منافقین ہی کرتے تھے کہ وہ نبی ﷺ اور آپ سے پہلے نازل ہوئے والی تمام کتابوں پر ایمان لائے ہیں ۔ یعنی ایسا ایمان جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہم رسل پر ایمان لاتے ہیں ۔ اور یہ بات صرف ہجرت کے ابتدائی ایام ہی میں ہو سکتی ہے ۔ اس سے پہلے کہ بنی قریظہ اور خیبر میں یہودیوں کی قوت کو توڑ دیا جائے اور قبل اس کے کہ یہودیوں کی قوت توڑنے سے خود منافقین کی قوت بھی ٹوٹ جائے ۔ بہرحال ان آیات میں ہمیں شرائط ایمان کی ایک قطعی ‘ مکمل اور جامع مانع شرط اور اسلام کی مکمل تعریف مل جاتی ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ شہادت مل جاتی ہے کہ جو لوگ طاغوت کے مطابق فیصلہ کرنے کا ارادہ بھی کریں ‘ وہ مومن نہیں ہیں ‘ اس لئے کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں ۔ (آیت) ” (وقد امروا ان یکفروا بہ) اس کے علاوہ اللہ کی جانب سے اس مجموعہ آیات میں ہمیں ایک خلفیہ بیان ملتا ہے اور ذات بار خود اپنی ذات کی قسم کھاتے ہیں کہ یہ لوگ اس وقت تک ایمان میں داخل نہیں ہو سکتے اور اس وقت تک مومن شمار نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے مقدمات کے اندر حکم نہ بنائیں اور پھر آپ ﷺ کے حکم کی اطاعت نہ کریں آپ کے فیصلے کو نافذ نہ کریں اور یہ اطاعت کامل تسلیم ورضا کے ساتھ نہ ہو اور دل کی خوشی کے ساتھ نہ ہو یعنی ایسی حالت میں تسلیم کرنا کہ اس میں عجز واضطرار نہ ہو بلکہ مکمل اطمینان ورضا ہو۔ (آیت) ” الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یرویدن ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یظلھم ضللا بعیدا “۔ (4 : 60) ” اے نبی تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعوی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ‘ اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ‘ مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لئے طاغوت کی طرف رجوع کریں ۔ حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ شیطان تمہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے) کیا آپ نے ایسی عجیب و غریب قوم کے لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مومن ہیں اور پھر وہ آن واحد میں اپنے اس زعم کو باطل قرار دیتے ہیں ۔ یہ لوگ (آیت) ” یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک (4 : 60) (یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو تیری طرف نازل ہوئی ہے اور اس پر بھی جو تجھ سے پہلے نازل ہوئی ہے ۔ اس دعوی ایمان کے بعد وہ اپنے فیصلے اس کتاب کے مطابق نہیں کراتے جو آپ پر نازل ہوئی ہے ‘ نہ وہ اس کتاب کے مطابق فیصلے کراتے ہیں جو تم سے پہلے نازل ہوئی اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی اور چیز کے مطابق فیصلے کرائیں ‘ کسی اور نظام کے مطابق فیصلے کرائیں ۔ کسی اور حکم کے مطابق فیصلے کرائیں ۔ بلکہ وہ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ طاغوت کے مطابق فیصلے کرائیں اور طاغوت وہ ہے جو اس کتاب سے ماخوذ نہ ہو جو آپ کی طرف نازل ہوئی یا اس کتاب سے ماخوذ نہ ہو جو آپ سے پہلے نازل ہوئی اور اس کا ضابطہ اور معیار تم پر نازل کردہ کتاب یا کتب سابقہ سے اخذ نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ طاغوت ‘ طاغوت ہے اور طاغوت اس لئے ہے کہ وہ اللہ کی خاصہ حاکمیت اور تشریع کا دعوی کرتا ہے اور وہ طاغوت اس لئے ہے کہ وہ کسی مستقل میعار پر قائم نہیں ہے ۔ یہ لوگ محض جہالت کی وجہ سے یہ حرکت نہیں کرتے نہ کسی شبہ کی بنا پر کرتے ہیں ۔ وہ اچھی طرح جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں حالانکہ اس طاغوت کے پاس اپنے فیصلے لے جانا حرام ہے ۔ (آیت) ” وقد امروا ان یکفروا بہ “۔ (4 : 60) ان کو حکم تو یہ دیا گیا ہے کہ وہ اس کا انکار کردیں ۔ یہ لوگ جہالت یا شبہ کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے ۔ بلکہ یہ لوگ قصدا ایسا کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گمان درست نہیں ہے ‘ یہ زعم درست نہیں ہے کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں اور آپ سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں پر بھی ایمان لائے ہیں یہ تو شیطان ہے جو ان کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس طرح کہ وہ اس سے باز نہ آسکیں ۔ (آیت) ” ویرید الشیطن ان یضلھم ضللا بعیدا “۔ (4 : 60) (اور شیطان انہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے) یہ وہ خفیہ سبب ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ طاغوت کے مطابق فیصلہ کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہی وہ داعیہ ہے جو ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایمان کی حدود اور ایمان کی شرائط سے نکل جائیں اور ارادہ کرلیں کہ وہ طاغوت کے مطابق فیصلے کرائیں گے ۔ یہی وہ سبب ہے جس کا اللہ تعالیٰ انکشاف فرماتے ہیں تاکہ وہ اپنے اس ارادے سے باز آجائیں ۔ اور جماعت مسلمہ کو بھی بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی پشت پر کون ہے ؟ اور اس کا اصل محرک کیا ہے ؟ اب آگے کے مضمون میں وہ حالات بتائے جاتے ہیں جب ایسے لوگوں کو اس طرف بلایا جاتا ہے کہ آؤ اس قانون کی طرف جو اللہ نے حضرت محمد ﷺ کی طرف نازل کیا ہے یا اس قانون کی طرف جو آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوا ہے ‘ تو یہ لوگ جو زعم ایمان رکھتے ہیں ‘ کہتے ہیں ۔ (آیت) ” واذا قیل لھم تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول رایت المنفقین یصدون عنک صدودا “۔ (4 : 61) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں ۔ “ سبحان اللہ ‘ نفاق خود اپنے آپ کو آشکارا کر رہا ہے ۔ وہ اس بات پر تلا ہوا ہے کہ فطری سوچ کی واضح ترین باتوں کا بھی انکار کر دے ۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ نفاق کی صورت حال نہ ہوتی ۔ ایمان کا فطری اور واضح تقاضا یہ ہوتا ہے کہ انسان اس قانون کے مطابق اپنے فیصلے کرے جس پر اس کا ایمان ہے اور اپنے فیصلے اس عدالت میں لے جائے جس پر وہ ایمان لایا ہو۔ اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لایا ہے اور جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر بھی ایمان لایا ہے ‘ رسول پر ایمان لایا ہے اور جو کچھ اس پر نازل ہوا ہے اس پر بھی ایمان لایا ہے ‘ پھر ایسے شخص کو اگر بلایا جاتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے اس حکم اور قانون کے مطابق کرائے جس پر وہ ایمان لایا ہے تو اس دعوت کا بدیہی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اس کو تسلیم کرے اور یہی تقاضائے فطرت ہے ۔ لیکن اگر وہ انکار کرتا ہے اور اس راہ پر آنے سے لوگوں کو روکتا ہے تو وہ بالکل ایک واضح فطری اور بدیہی امر سے انکار کرتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ منافق ہے اور اس نے جو دعوائے ایمان کیا ہے ‘ وہ جھوٹا ہے ۔ یہی وہ فطری اور بدیہی صورت حال ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ چناچہ یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں ہے جو دعوائے ایمان کرتے ہیں اور پھر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے بلکہ ان کو کوئی بلائے بھی تو اس طرح فیصلے کرانے سے کتراتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے طرز عمل سے ایک اور منافقانہ چال کو ظاہر کیا جاتا ہے ‘ کہ جب ایسے لوگ کسی مشکل میں پڑتے ہیں یا ان کی غلط پالیسی کی وجہ سے کوئی حادثہ ہوجاتا ہے (اور یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی حاکمیت کی طرف نہیں آتے یا اس وجہ سے کہ وہ طاغوت کے مطابق کوئی فیصلہ کرانا چاہتے ہیں اور اس وجہ سے ان کی پوزیشن خراب ہوجاتی ہے) تو پھر یہ لوگ اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لئے عذر ہائے لنگ سے کام لیتے ہیں ۔ (آیت) ” فکیف اذا اصابتھم مصیبتۃ بما قدمت ایدیھم ثم جاء وک یحلفون باللہ ان اردنا الا احسانا وتوفیقا “۔ (4 : 62) ” پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوئی مصیبت ان پر آپڑتی ہے ؟ اس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے ۔ یہ لوگ مصیبت میں یوں پڑجاتے تھے کہ بہت سے لوگوں کے مجمع میں انکا راز کھل جاتا تھا ۔ اور اسلامی معاشرہ میں ان کا مقاطعہ ہوجاتا تھا ‘ یا اسلامی معاشرے میں ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ۔ اس طرح یہ لوگ بڑی مشکل میں پھنس جاتے تھے اس لئے کہ اسلامی معاشرہ ایسے لوگوں کو دیکھ ہی نہ سکتا تھا جو دعوی تو یہ کرتے ہوں کہ وہ اللہ اور اس کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ اور اس پر نازل شدہ کلام پر ایمان لائے ہیں اور پھر وہ اللہ کے قانون کے سوا کسی اور قانون پر فیصلے کراتے ہوں ۔ ایسے لوگوں کو ان معاشروں میں قبولیت حاصل ہوتی ہے جو نہ مومن ہوتے ہیں اور نہ مسلم ۔ اور جو اس قسم کے لوگوں کی طرح نام نہاد مسلمان ہوتے ہیں اور ان کا اسلام اور ایمان صرف دعوے اور نام تک محدود ہوتا ہے ۔ بعض اوقات وہ مصیبت میں یوں پڑتے ہیں کہ وہ طاغوتی عدالت میں جاتے ہیں اور ان پر ظلم ہوجاتا ہے اس لئے کہ وہاں اللہ کے قانون کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلے کردیئے جاتے ہیں ۔ اب انہیں شرمندگی ہوتی ہے اور افسوس کے ساتھ لوٹتے ہیں کہ کیوں وہ طاغوت کی عدالت میں گئے اور ان پر ظلم ہوا ۔ اگر وہ اپنا مقدمہ اسلامی عدالت میں لاتے تو انصاف ہوتا ۔ بعض اوقات ان پر یہ مصیبت اللہ کی جانب سے بطور ابتلاء آتی ہے تاکہ وہ غور وفکر کرکے ہدایت قبول کرلیں ۔ بہرحال جو صورت بھی ہو ‘ قرآن کریم استفہام انکاری کی صورت میں سوال کرتا ہے کہ اس وقت ان کا حال کیا ہوتا ہے کہ یہ لوگ پھر لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے ہیں۔ (آیت) ” یحلفون باللہ ان اردنا الا احسانا وتوفیقا “۔ (4 : 62) ” خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے ۔ “ یہ نہایت ہی شرمناک صورت حال ہے ۔ وہ لوٹتے ہیں اور ان کو شعور ہوتا ہے کہ انہوں نے بہت ہی برا راستہ اختیار کیا ۔ ان کی حالت شرمندگی سے ایسی ہوتی ہے کہ حضور ﷺ کا سامنا نہیں کرسکتے ۔ لیکن قسمیں کھا کر اپنے اندرونی جھوٹے ارادوں کو چھپاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ درحقیقت طاغوت کی عدلت میں تو جانا نہیں چاہتے تھے مگر رواج کے مطابق فیصلے کرا کے فریقین کے درمیان صلح صفائی چاہتے تھے ۔ یہ ان تمام لوگوں کا دعوی ہوتا ہے جو اسلامی نظام حیات سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگ کہتے ہیں کہ وہ مشکلات سے بچنا چاہتے ہیں ۔ اگر شریعت کے قانون کو نافذ کردیا گیا تو ایک مصیبت آجائے گی ۔ لوگوں کے درمیان مخالفت پیدا ہوجائے گی حالانکہ یہ لوگ تمام طبقات کے درمیان توازن چاہتے ہیں۔ یہ حیلے بہانے ان لوگوں کے ہوتے ہیں جو دعوائے ایمان تو کرتے ہیں لیکن مومن نہیں ہوتے ۔ اس قسم کے دلائل تو منافقین کے ہوتے ہیں اور ہر دور میں منافقین نے یہی کہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے اوپر سے ان کو چھپانے والی اس چادر کو اتار پھینکتے ہیں اور حضرت نبی کریم ﷺ کو اطلاع فرماتے ہیں کہ اللہ ان جیسے لوگوں کی حقیقت قلبی اور انکے اندرون سے واقف ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ کا حکم یہی ہے کہ ان جیسے لوگوں کے ساتھ سختی نہ برتی جائے بلکہ ان کو نصیحت کی جائے کہ وہ اس قسم کے ہیر پھیر سے باز آجائیں ۔

النساء 4:62

(آیت) ” نمبر 60 تا 65۔ بعض لوگوں کی یہ تصویر جو ان آیات میں کھینچی گئی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات ہجرت کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی تھیں ۔ اس دور میں جس میں نفاق کا بہت زور تھا اور یہودی منافقین کے ساھت ملک کر ایک زور آور قوت تھے۔ یہ لوگ جو یہ ارادہ رکھتے تھے کہ قانونی فیصلے طاغوت کے مطابق ہوں ‘ یہ لوگ منافقین تھے جیسا کہ آیات کے اس مجموعے کی دوسری آیت میں اس کی تصریح بھی کردی گئی ہے ۔ ان سے مراد یہودی بھی ہو سکتے ہیں اس لئے کہ جب ان کو یہ دعوت دی جاتی تھی کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلے کرانا تسلیم کریں تو وہ انکار کردیتے تھے اور اس بات کی خواہش رکھتے تھے کہ اس قانون کے مطابق فیصلے کرائیں جو دور جاہلیت میں رائج تھا ۔ (اس لئے کہ یہودیوں کے آپس کے فیصلے تورات کے مطابق ہوتے تھے ۔ یہاں کتاب سے تورات مراد ہوگا اور بعض اوقات یہودیوں کے فیصلے بھی رسول اللہ ﷺ کرتے جیسا کہ بعض فیصلوں سے معلوم ہوتا ہے) لیکن یہاں صرف پہلی صورت ہی مراد ہے یعنی کتاب اللہ سے مراد قرآن کریم ہے کیونکہ آیت ۔ ” یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک (4 : 60) (جن کا زعم یہ ہے کہ وہ ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور اس پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی ہے) لہذا یہاں مراد منافقین ہی ہو سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہودیوں نے کبھی اپنے اس زعم کا اظہار نہیں کیا کہ وہ رسول خدا ﷺ پر نازل کردہ کلام کو مانتے ہیں ۔ یہ اظہار منافقین ہی کرتے تھے کہ وہ نبی ﷺ اور آپ سے پہلے نازل ہوئے والی تمام کتابوں پر ایمان لائے ہیں ۔ یعنی ایسا ایمان جیسا کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہم رسل پر ایمان لاتے ہیں ۔ اور یہ بات صرف ہجرت کے ابتدائی ایام ہی میں ہو سکتی ہے ۔ اس سے پہلے کہ بنی قریظہ اور خیبر میں یہودیوں کی قوت کو توڑ دیا جائے اور قبل اس کے کہ یہودیوں کی قوت توڑنے سے خود منافقین کی قوت بھی ٹوٹ جائے ۔ بہرحال ان آیات میں ہمیں شرائط ایمان کی ایک قطعی ‘ مکمل اور جامع مانع شرط اور اسلام کی مکمل تعریف مل جاتی ہے اور ہمیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ شہادت مل جاتی ہے کہ جو لوگ طاغوت کے مطابق فیصلہ کرنے کا ارادہ بھی کریں ‘ وہ مومن نہیں ہیں ‘ اس لئے کہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں ۔ (آیت) ” (وقد امروا ان یکفروا بہ) اس کے علاوہ اللہ کی جانب سے اس مجموعہ آیات میں ہمیں ایک خلفیہ بیان ملتا ہے اور ذات بار خود اپنی ذات کی قسم کھاتے ہیں کہ یہ لوگ اس وقت تک ایمان میں داخل نہیں ہو سکتے اور اس وقت تک مومن شمار نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو اپنے مقدمات کے اندر حکم نہ بنائیں اور پھر آپ ﷺ کے حکم کی اطاعت نہ کریں آپ کے فیصلے کو نافذ نہ کریں اور یہ اطاعت کامل تسلیم ورضا کے ساتھ نہ ہو اور دل کی خوشی کے ساتھ نہ ہو یعنی ایسی حالت میں تسلیم کرنا کہ اس میں عجز واضطرار نہ ہو بلکہ مکمل اطمینان ورضا ہو۔ (آیت) ” الم ترالی الذین یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یرویدن ان یتحاکموا الی الطاغوت وقد امروا ان یکفروا بہ ویرید الشیطن ان یظلھم ضللا بعیدا “۔ (4 : 60) ” اے نبی تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جو دعوی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں ‘ اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ‘ مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لئے طاغوت کی طرف رجوع کریں ۔ حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا ۔ شیطان تمہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے) کیا آپ نے ایسی عجیب و غریب قوم کے لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مومن ہیں اور پھر وہ آن واحد میں اپنے اس زعم کو باطل قرار دیتے ہیں ۔ یہ لوگ (آیت) ” یزعمون انھم امنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک (4 : 60) (یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں جو تیری طرف نازل ہوئی ہے اور اس پر بھی جو تجھ سے پہلے نازل ہوئی ہے ۔ اس دعوی ایمان کے بعد وہ اپنے فیصلے اس کتاب کے مطابق نہیں کراتے جو آپ پر نازل ہوئی ہے ‘ نہ وہ اس کتاب کے مطابق فیصلے کراتے ہیں جو تم سے پہلے نازل ہوئی اور وہ چاہتے ہیں کہ کسی اور چیز کے مطابق فیصلے کرائیں ‘ کسی اور نظام کے مطابق فیصلے کرائیں ۔ کسی اور حکم کے مطابق فیصلے کرائیں ۔ بلکہ وہ یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ طاغوت کے مطابق فیصلے کرائیں اور طاغوت وہ ہے جو اس کتاب سے ماخوذ نہ ہو جو آپ کی طرف نازل ہوئی یا اس کتاب سے ماخوذ نہ ہو جو آپ سے پہلے نازل ہوئی اور اس کا ضابطہ اور معیار تم پر نازل کردہ کتاب یا کتب سابقہ سے اخذ نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ طاغوت ‘ طاغوت ہے اور طاغوت اس لئے ہے کہ وہ اللہ کی خاصہ حاکمیت اور تشریع کا دعوی کرتا ہے اور وہ طاغوت اس لئے ہے کہ وہ کسی مستقل میعار پر قائم نہیں ہے ۔ یہ لوگ محض جہالت کی وجہ سے یہ حرکت نہیں کرتے نہ کسی شبہ کی بنا پر کرتے ہیں ۔ وہ اچھی طرح جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں حالانکہ اس طاغوت کے پاس اپنے فیصلے لے جانا حرام ہے ۔ (آیت) ” وقد امروا ان یکفروا بہ “۔ (4 : 60) ان کو حکم تو یہ دیا گیا ہے کہ وہ اس کا انکار کردیں ۔ یہ لوگ جہالت یا شبہ کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے ۔ بلکہ یہ لوگ قصدا ایسا کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گمان درست نہیں ہے ‘ یہ زعم درست نہیں ہے کہ وہ اس کتاب پر بھی ایمان لائے ہیں اور آپ سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں پر بھی ایمان لائے ہیں یہ تو شیطان ہے جو ان کو گمراہ کرنا چاہتا ہے ۔ اس طرح کہ وہ اس سے باز نہ آسکیں ۔ (آیت) ” ویرید الشیطن ان یضلھم ضللا بعیدا “۔ (4 : 60) (اور شیطان انہیں بھٹکا کر راہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے) یہ وہ خفیہ سبب ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ طاغوت کے مطابق فیصلہ کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور یہی وہ داعیہ ہے جو ان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ایمان کی حدود اور ایمان کی شرائط سے نکل جائیں اور ارادہ کرلیں کہ وہ طاغوت کے مطابق فیصلے کرائیں گے ۔ یہی وہ سبب ہے جس کا اللہ تعالیٰ انکشاف فرماتے ہیں تاکہ وہ اپنے اس ارادے سے باز آجائیں ۔ اور جماعت مسلمہ کو بھی بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی پشت پر کون ہے ؟ اور اس کا اصل محرک کیا ہے ؟ اب آگے کے مضمون میں وہ حالات بتائے جاتے ہیں جب ایسے لوگوں کو اس طرف بلایا جاتا ہے کہ آؤ اس قانون کی طرف جو اللہ نے حضرت محمد ﷺ کی طرف نازل کیا ہے یا اس قانون کی طرف جو آپ ﷺ سے پہلے نازل ہوا ہے ‘ تو یہ لوگ جو زعم ایمان رکھتے ہیں ‘ کہتے ہیں ۔ (آیت) ” واذا قیل لھم تعالوا الی ما انزل اللہ والی الرسول رایت المنفقین یصدون عنک صدودا “۔ (4 : 61) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آؤ رسول کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں ۔ “ سبحان اللہ ‘ نفاق خود اپنے آپ کو آشکارا کر رہا ہے ۔ وہ اس بات پر تلا ہوا ہے کہ فطری سوچ کی واضح ترین باتوں کا بھی انکار کر دے ۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ نفاق کی صورت حال نہ ہوتی ۔ ایمان کا فطری اور واضح تقاضا یہ ہوتا ہے کہ انسان اس قانون کے مطابق اپنے فیصلے کرے جس پر اس کا ایمان ہے اور اپنے فیصلے اس عدالت میں لے جائے جس پر وہ ایمان لایا ہو۔ اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لایا ہے اور جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر بھی ایمان لایا ہے ‘ رسول پر ایمان لایا ہے اور جو کچھ اس پر نازل ہوا ہے اس پر بھی ایمان لایا ہے ‘ پھر ایسے شخص کو اگر بلایا جاتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے اس حکم اور قانون کے مطابق کرائے جس پر وہ ایمان لایا ہے تو اس دعوت کا بدیہی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اس کو تسلیم کرے اور یہی تقاضائے فطرت ہے ۔ لیکن اگر وہ انکار کرتا ہے اور اس راہ پر آنے سے لوگوں کو روکتا ہے تو وہ بالکل ایک واضح فطری اور بدیہی امر سے انکار کرتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ منافق ہے اور اس نے جو دعوائے ایمان کیا ہے ‘ وہ جھوٹا ہے ۔ یہی وہ فطری اور بدیہی صورت حال ہے جس کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ چناچہ یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں ہے جو دعوائے ایمان کرتے ہیں اور پھر اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے بلکہ ان کو کوئی بلائے بھی تو اس طرح فیصلے کرانے سے کتراتے ہیں۔ اس کے بعد ان کے طرز عمل سے ایک اور منافقانہ چال کو ظاہر کیا جاتا ہے ‘ کہ جب ایسے لوگ کسی مشکل میں پڑتے ہیں یا ان کی غلط پالیسی کی وجہ سے کوئی حادثہ ہوجاتا ہے (اور یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی حاکمیت کی طرف نہیں آتے یا اس وجہ سے کہ وہ طاغوت کے مطابق کوئی فیصلہ کرانا چاہتے ہیں اور اس وجہ سے ان کی پوزیشن خراب ہوجاتی ہے) تو پھر یہ لوگ اپنی پوزیشن صاف کرنے کے لئے عذر ہائے لنگ سے کام لیتے ہیں ۔ (آیت) ” فکیف اذا اصابتھم مصیبتۃ بما قدمت ایدیھم ثم جاء وک یحلفون باللہ ان اردنا الا احسانا وتوفیقا “۔ (4 : 62) ” پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوئی مصیبت ان پر آپڑتی ہے ؟ اس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے ۔ یہ لوگ مصیبت میں یوں پڑجاتے تھے کہ بہت سے لوگوں کے مجمع میں انکا راز کھل جاتا تھا ۔ اور اسلامی معاشرہ میں ان کا مقاطعہ ہوجاتا تھا ‘ یا اسلامی معاشرے میں ان کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا ۔ اس طرح یہ لوگ بڑی مشکل میں پھنس جاتے تھے اس لئے کہ اسلامی معاشرہ ایسے لوگوں کو دیکھ ہی نہ سکتا تھا جو دعوی تو یہ کرتے ہوں کہ وہ اللہ اور اس کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ اور اس پر نازل شدہ کلام پر ایمان لائے ہیں اور پھر وہ اللہ کے قانون کے سوا کسی اور قانون پر فیصلے کراتے ہوں ۔ ایسے لوگوں کو ان معاشروں میں قبولیت حاصل ہوتی ہے جو نہ مومن ہوتے ہیں اور نہ مسلم ۔ اور جو اس قسم کے لوگوں کی طرح نام نہاد مسلمان ہوتے ہیں اور ان کا اسلام اور ایمان صرف دعوے اور نام تک محدود ہوتا ہے ۔ بعض اوقات وہ مصیبت میں یوں پڑتے ہیں کہ وہ طاغوتی عدالت میں جاتے ہیں اور ان پر ظلم ہوجاتا ہے اس لئے کہ وہاں اللہ کے قانون کے سوا کسی دوسرے قانون کے مطابق فیصلے کردیئے جاتے ہیں ۔ اب انہیں شرمندگی ہوتی ہے اور افسوس کے ساتھ لوٹتے ہیں کہ کیوں وہ طاغوت کی عدالت میں گئے اور ان پر ظلم ہوا ۔ اگر وہ اپنا مقدمہ اسلامی عدالت میں لاتے تو انصاف ہوتا ۔ بعض اوقات ان پر یہ مصیبت اللہ کی جانب سے بطور ابتلاء آتی ہے تاکہ وہ غور وفکر کرکے ہدایت قبول کرلیں ۔ بہرحال جو صورت بھی ہو ‘ قرآن کریم استفہام انکاری کی صورت میں سوال کرتا ہے کہ اس وقت ان کا حال کیا ہوتا ہے کہ یہ لوگ پھر لوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے ہیں۔ (آیت) ” یحلفون باللہ ان اردنا الا احسانا وتوفیقا “۔ (4 : 62) ” خدا کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے ۔ “ یہ نہایت ہی شرمناک صورت حال ہے ۔ وہ لوٹتے ہیں اور ان کو شعور ہوتا ہے کہ انہوں نے بہت ہی برا راستہ اختیار کیا ۔ ان کی حالت شرمندگی سے ایسی ہوتی ہے کہ حضور ﷺ کا سامنا نہیں کرسکتے ۔ لیکن قسمیں کھا کر اپنے اندرونی جھوٹے ارادوں کو چھپاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ درحقیقت طاغوت کی عدلت میں تو جانا نہیں چاہتے تھے مگر رواج کے مطابق فیصلے کرا کے فریقین کے درمیان صلح صفائی چاہتے تھے ۔ یہ ان تمام لوگوں کا دعوی ہوتا ہے جو اسلامی نظام حیات سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگ کہتے ہیں کہ وہ مشکلات سے بچنا چاہتے ہیں ۔ اگر شریعت کے قانون کو نافذ کردیا گیا تو ایک مصیبت آجائے گی ۔ لوگوں کے درمیان مخالفت پیدا ہوجائے گی حالانکہ یہ لوگ تمام طبقات کے درمیان توازن چاہتے ہیں۔ یہ حیلے بہانے ان لوگوں کے ہوتے ہیں جو دعوائے ایمان تو کرتے ہیں لیکن مومن نہیں ہوتے ۔ اس قسم کے دلائل تو منافقین کے ہوتے ہیں اور ہر دور میں منافقین نے یہی کہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کے اوپر سے ان کو چھپانے والی اس چادر کو اتار پھینکتے ہیں اور حضرت نبی کریم ﷺ کو اطلاع فرماتے ہیں کہ اللہ ان جیسے لوگوں کی حقیقت قلبی اور انکے اندرون سے واقف ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ کا حکم یہی ہے کہ ان جیسے لوگوں کے ساتھ سختی نہ برتی جائے بلکہ ان کو نصیحت کی جائے کہ وہ اس قسم کے ہیر پھیر سے باز آجائیں ۔

النساء 4:63

(آیت) ” اولئک الذین یعلم اللہ مافی قلوبھم فاعرض عنھم وعظھم وقل لھم فی انفسھم قولا بلیغا “۔ (4 : 63) ”۔ اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے ، ان سے تعرض مت کرو انہیں سمجھاؤ اور ایسی نصیحت کرو جو ان کے دلوں میں اتر جائے ۔ “ یہ لوگ وہ ہیں جو اپنی نیتوں اور اپنے اندرونی ارادوں کو چھپانا چاہتے ہیں اور جھوٹے دلائل اور غلط عذر پیش کرتے ہیں لیکن اللہ ان کے دلوں کی پوشیدہ باتوں سے بھی واقف ہے اور ان کے ضمیر کے اندرونی حالات سے بھی باخبر ہیں ۔ لیکن جو پالیسی اسی وقت طے شدہ تھی وہ یہ تھی کہ منافقین سے چشم پوشی کی جائے ‘ ان کے ساتھ نرمی برتی جائے اور وعظ ونصیحت اور تعلیم وتربیت سے کام لیا جائے ۔۔۔۔ اس مقصد کے لئے عجیب انداز کلام اختیار کیا گیا ہے ۔ وقل لھم فی انفسھم قولا بلیغا “۔ (4 : 63) ” اور ان کو اس قدر بلیغانہ انداز میں سمجھاؤ کہ بات ان کے دل میں اتر جائے “۔ یہ نہایت ہی مصورانہ انداز تعبیر ہے ۔ گویا بات براہ راست ان کے دل میں رکھی جا رہی ہے اور وہ بات وہاں بیٹھتی جا رہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبہ کی طرف مائل کرتے ہیں تاکہ وہ سیدھی راہ پر آجائیں اور اللہ اور رسول کی پناہ میں امن و سکون کی زندگی بسر کریں ۔ اگرچہ انہوں نے یہ کوشش کی کہ وہ طاغوت کی عدالت سے فیصلے کرائیں اور یہ بات ان سے ظاہر بھی ہوگئی ۔ انہوں نے حضور سے فیصلہ کرانے سے پہلوتہی اختیار کی حالانکہ ان کو اس کی جانب بلایا گیا تھا ۔ لیکن ان سب کوتاہیوں کے باوجود توبہ کا دروازہ کھلا ہے ‘ اور واپسی کا وقت ختم نہیں ہوا ہے اور وہ اب بھی اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے معافی طلب کرسکتے ہیں ۔ رسول اللہ کی جانب سے انکے لئے استغفار قابل قبول ہے لیکن یہ استغفار تب قابل قبول ہوگی جب اصولی بات مان لی جائے اور وہ بات یہ ہے کہ رسولوں کو محض اس لئے بھیجا جاتا ہے کہ لوگ ان کی اطاعت کریں ورنہ پھر رسالت کا مطلب کیا ہوا ۔ نیز یہ کہ رسول محض واعظ نہیں ہوتا اور نہ محض مرشد ہوتا ہے ۔

النساء 4:64

(آیت) ” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جائوک فاستغفروا اللہ واستغفرلھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما “۔ ” (انہیں بتاؤ کہ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لئے بھیجا ہے کہ اذن خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے ۔ اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب وہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لئے معافی کی درخواست کرتا ‘ تویقینا اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے ۔ (4 : 64) یہ ایک وزن دار حقیقت ہے ۔ رسول محض واعظ نہیں ہوتا کہ وہ ایک تقریر کرے اور چلا جائے اور اس کی تقریر ہوا میں تحلیل ہوجائے ۔ اس کی بات کے اندر اور اس کی پشت پر کوئی قوت نافذہ نہ ہو جیسا کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں جو اس دین کے مزاج اور رسالت کے مزاج کو دھوکے سے بدلنا چاہتے ہیں یا جس طرح ان لوگوں کی رائے ہے جو سرے سے الدین کے لفظ کا مفہوم تک ہی نہیں جانتے ۔ بیشک دین نظام حیات کا نام ہے ‘ واقعی اور عملی نظام حیات کا نام جس کی اپنی انتظامی عملی اور قانونی ہیئت ہوتی ہے اور جس کے اپنے انداز اور اپنی اقدار ہوتی ہیں ۔ اس کے اپنے اخلاق وآداب ہوتے ہیں اور اس کے اندر مراسم عبودیت اور دینی شعائر ہوتے ہیں ۔ یہ تمام باتیں یہ تقاضا کرتی ہیں کہ رسالت کے ساتھ حاکمیت بھی ہو ۔ ایک نظام مملکت بھی ہو جو اس نظام اور دین کو نافذ کرے اور عوام الناس اس حکومت کے مطیع فرمان ہوں جن کے اندر یہ نظام نافذ ہو۔ یہ اللہ کا وہ نظام اور دین کو نافذ کرے اور عوام الناس اس حکومت کے مطیع فرماں ہوں جن کے اندر یہ نظام نافذ ہو ۔ یہ اللہ کا وہ نظام ہے جس کے تصرف میں اللہ نے پوری زندگی دینے کا ارادہ کیا ہے اس لئے کہ اللہ نے جتنے رسول بھی بھیجے ہیں صرف اس لئے بھیجے ہیں کہ اللہ کے حکم سے ان کی اطاعت کی جائے پس ان کی اطاعت اللہ کی اطاعت شمار ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو اس لئے نہیں بھیجا کہ لوگ ان سے کچھ وجدانی تاثرات لیں اور بعض امور کا عقیدہ رکھیں یا ان سے کچھ مراسم عبودیت سیکھ لیں اور بس ، فہم دین کے بارے میں یہ ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔ دین کا یہ فہم اس حکمت کے مطابق نہیں ہے جس کے مطابق اللہ نے رسولوں کو بھیجا ہے اور وہ حکمت اور مقصد صرف یہ ہے کہ واقعی اور عملی زندگی کے اندر اسلامی نظام نافذ کیا جائے ۔ ورنہ وہ ” دین “ تو کس قدر آسان دین ہے جس میں رسولوں کے فرائض صرف اس قدر ہوں کہ وہ اسٹیج پر کھڑے ہو کر تقریر کریں اور چلے جائیں ۔ جس سے مذاق کرنے والے مذاق کریں اور حقیر سمجھنے والے حقارت کی نظر سے دیکھیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ اس حکمت کا مظہر رہی ہے ۔ اس میں دعوت وتبلیغ تھی ‘ وہ نظام زندگی اور اسلامی حکومت تھی ‘ اور رسول اللہ ﷺ کے بعد تاریخ خلافت تھی ۔ یہ خلافت شریعت کی قوت اور نظام کے بل بوتے پر قائم تھی اور اس نظام کا قیام مقصد اصلی تھا اور شریعت کا نفاذ اس خلافت کا مقصد تھا تاکہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت دائما ہوتی رہے اور اللہ کا وہ ارادہ پورا ہو جس کے لئے اس نے رسول مبعوث فرمائے ۔ اس کے سوا کوئی اور صورت حال نہیں ہے جسے ہم اسلام کہہ سکیں یا اسے ہم دین کہہ سکیں ۔ اگر اسلام اور دین ہوگا تو اس میں رسول کی اطاعت بشکل نظام زندگی ہوگی ‘ چاہے اس اطاعت کی صورتیں قدرے مختلف کیوں نہ ہوجائیں لیکن اصلیت ایک ہونا چاہئے ۔ اس کے بغیر اسلام اور دین کی حقیقت نہیں بائی جاسکتی ۔ اسلامی نظام کی اطاعت رسول اللہ ﷺ کے نظام کو بروئے کار لانے ‘ اللہ کی شریعت کے مطابق عدالت کرنے اور رسول اللہ نے اللہ کی جانب سے جس چیز کی تبلیغ کی اس کی اطاعت کرنے اور صرف اللہ وحدہ کو حکم سمجھنے مطابق مفہوم ۔ (لا الہ الا اللہ) اللہ کے سوا کسی اور کو حاکمیت میں اللہ کا شریک نہ کرنے میں ہے جس میں قانون سازی کا حق اہم ترین حق ہے ۔ پھر طاغوت کی عدالت میں مقدمات نہ لے جانا چائیں خواہ معمولی مقدمہ ہو یا بڑا ہو ‘ اور جن مسائل میں کوئی نقص نہ ہو ‘ ان میں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف رجوع کرنا ۔ خصوصا ایسے حالات میں جو دور جدید میں نئے نئے درپیش ہوں اور ان میں اختلاف رائے ہو ۔ جن لوگوں نے طاغوت کے پاس جا کر اپنے مقدمات کے فیصلے کرانے کی سعی کی ہے اور اسلامی منہاج سے دور ہوگئے ہیں ‘ ان کیلئے اب بھی موقع ہے کہ وہ واپس آجائیں جس طرح حضور اکرم ﷺ کے دور میں منافقین کے لئے موقع تھا اور ان کو اللہ تعالیٰ ترغیب دے رہے تھے ۔ (آیت) ” ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جآء وک فاستغفروا اللہ واستغفرلھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما (4 : 64) ” اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب وہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسول بھی ان کے لئے معافی کی درخواست کرتا ‘ تو یقینا اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے ۔ “ کوئی جس وقت بھی توبہ کرے اللہ بخشنے والا ہے ‘ کوئی کسی وقت بھی لوٹے اللہ رحیم وکریم ہے ۔ یہ صفات اللہ تعالیٰ اپنے لئے ذکر کرتے ہیں ‘ جو لوگ اس کی بارگاہ تک واپس آجاتے ہیں ‘ اس سے معافی مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرتے ہیں اور ان پر رحمت فرماتے ہیں ۔ ابتداء میں اس آیت کا اطلاق جن لوگوں پر تھا ‘ ان کو رسول خدا ﷺ کی طرف سے طلب مغفرت کے مواقع حاصل تھے ۔ اگرچہ اب یہ مواقع نہیں ہیں لیکن اللہ کی جانب سے توبہ ومغفرت کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ اللہ کا وعدہ قائم ہے ۔ اللہ کبھی اپنے وعدے کو نہیں توڑتے ۔ پس جس شخص کا ارادہ ہو وہ آگے بڑھے ‘ جس کا عزم ہے وہ آگے آئے ۔ اب آخری اور فیصلہ کن انداز کی بات آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ قسم اٹھاتے ہیں ‘ اپنی ذات کی قسم کہ کوئی مومن اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا جب تک وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنے مقدمات فیصلے کے لئے نہیں لے جاتا ۔ اس کے بعد جب رسول فیصلہ کر دے تو وہ اس فیصلے کو تسلیم کر کے اس پر دل سے راضی نہیں ہوجاتا اور اس کی حالت یہ نہیں ہوجاتی کہ اس کے دل میں نہ تو کوئی تلخی ہے اور نہ اس کے دل میں کوئی تردد ہے ۔

النساء 4:65

(آیت) ” فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما “۔ (4 : 65) ” نہیں اے محمد ﷺ تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں ‘ بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔ “ ایک بار پھر ہم شرط ایمان کے سامنے کھڑے ہیں ‘ ایمان کی حدود ہمارے سامنے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود فیصلہ فرماتے ہیں اور اس فیصلے پر اپنی ذات پاک کا حلف اٹھاتے ہیں ‘ اس کے بعد اب کسی کے لئے کالم کی کیا گنجائش رہ جاتی ہیں ۔ اسلام کی شرط اور ایمان کی حدود کی نشاندہی کردی جاتی ہے ۔ اور اس کے جن الفاظ میں یہ نشاندہی کی گئی ہے ان میں کسی قسم کی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ہاں اگر کوئی خواہ مخواہ جھگڑا کرے تو اور بات ہے ۔ اس کی بات میں کوئی وزن نہ ہوگا اور وہ بات یہ ہو سکتی ہے کہ یہ حکم حضور ﷺ کے زمانے کے لئے تھا ۔ اور صرف صحابہ کرام ؓ اجمعین کے لئے تھا ۔۔۔۔۔ اگر کوئی یہ تاویل کرتا ہے تو معلوم ہوگا کہ اس شخص کو اسلام کا کوئی پتہ نہیں ہے اور وہ قرآن کے انداز کلام سے واقف نہیں ہے ‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے ۔ جسے حلفیہ بیان کے ساتھ بتاکید مزید لایا گیا ہے ‘ جس کے اندر زمان ومکان کی کوئی تحدید نہیں ہے ۔ نہ اس واہمہ کے لئے کوئی گنجائش ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلوں سے مراد آپ کی شریعت کے فیصلے ہیں ۔ اگر یہی مفہوم لے لیا جائے تو حضور ﷺ کے بعد آپ کی سنت اور آپ کی شریعت کا کوئی مقام نہ رہے گا ۔ اور یہ قول تو ان لوگوں کا تھا جو عہد ابوبکر ؓ میں مرتد ہوگئے تھے ۔ اور حضرت ابوبکر ؓ نے ان سے اس طرح جہاد کیا جس طرح مرتدین سے کیا جاتا ہے ۔ بلکہ ان کے ساتھ مرتدین سے بھی سخت رویہ اختیار کیا گیا اس لئے کہ انہوں نے صرف زکوۃ کے معاملے میں انکار کیا تھا اور آپ کی وفات کے بعد زکوۃ کی ادائیگی بند کردی تھی ۔ اگر اسلام کے لئے یہ کافی ہے کہ لوگ اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کرائیں تو ایمان کے لئے اس سے بھی زیادہ شرائط ہیں مثلا یہ کہ وہ ان فیصلوں پر دل سے راضی ہوں اور دل سے انہیں قبول کریں اور خوشی اور اطمینان سے ان پر راضی ہوں۔ یہ ہے اسلام اور یہ ہے ایمان ۔ ہر کسی کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ اسلام سے کس قدر دور ہے اور اس کے ایمان کا کیا حال ہے اور اس کے بعد وہ اسلام اور ایمان کا دعوی کرے ۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ رسول اللہ ﷺ سے اپنے فیصلے کرانے ‘ اور پھر آپ جو فیصلہ فرمائیں اس کو بطیب خاطر قبول کرنے کے بعد اب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نظام جس کی طرف تمہیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ اور یہ شریعت جس کے مطابق تمہیں اپنے فیصلے کرانے کا حکم دیا جاتا ہے (اور اس کے سوا کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کی اجازت نہیں ہے) اور یہ فیصلے جس پر راضی برضا ہونا ضروری ہے ‘ یہ نظام دراصل نہایت ہی آسان ‘ سیدھا اور منصفانہ اور رحیمانہ نظام ہے ۔ یہ نظام تمہیں تمہاری طاقت سے زیادہ کسی چیز کا حکم نہیں دیتا ‘ اور نہ تم پر کوئی ایسی مصیبت لاتا ہے جو تمہارے لئے ناقابل برداشت ہو ‘ اور نہ تم سے کسی ایسی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے جو تم سے نہ دی جاسکے ۔ اس لئے کہ انسان کی ضعیفی اللہ کی نظر میں ہے ۔ وہ ان کی کمزوری کی وجہ سے ان پر بہت ہی رحم فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر انسانوں پر بھاری فرائض عائد کئے گئے تو وہ انہیں ادا نہ کرسکیں گے ۔ اس لئے اللہ نے یہ ارادہ ہی نہیں کیا کہ انسانوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالے اور نہ اللہ کا ارادہ تھا کہ لوگ معصیت کا ارتکاب کریں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے بھاری احکام ان پر فرض ہی نہیں کئے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ زیادہ لوگ معصیت پر اتر آئیں ۔ اگر لوگ ان آسان فرائض پر عمل پیرا ہوتے جو اللہ نے ان پر فرض کئے تھے ‘ اور اس نصیحت سے فائدہ اٹھاتے جو اللہ تعالیٰ ان کے لئے نازل کر رہے ہیں تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں عظیم بھلائی جمع کرلیتے ۔ اللہ تعالیٰ راہ ہدایت پر آنے میں ان کی امداد فرماتے ‘ اور یہ اللہ کی سنت ہے کہ جو شخص بھی اپنے عمل ‘ ارادہ اور عزم بالجزم سے اللہ کی راہ میں سعی کرے اپنی طاقت کے حدود کے اندر ‘ تو اللہ اس کی پوری پوری معاونت کرتا ہے ۔

النساء 4:66

(آیت) ” نمبر 66 تا 68۔ اسلام ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر ہر وہ شخص عمل کرسکتا ہے جو مستقیم اور سلیم الفطرت ہو ‘ اس پر عمل کرنے کے لئے کسی خارق العادت عزم اور کسی بڑے اولو العزم شخص کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسے لوگ تو دنیا میں چند ایک ہوتے ہیں اور اسلامی نظام حیات ان چند لوگوں کے لئے نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے ‘ اور دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں جو مختلف درجات کے ہوتے ہیں ۔ بعض کی طاقتیں اور صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بعض کی کم ۔ یہ دین لوگوں کی اوسط تعداد کو مد نظر رکھ کا بھیجا گیا ہے ‘ جو احکام پر عمل کرسکتے ہیں اور معاصی سے رک سکتے ہیں۔ قتل نفس اور جلاوطن دو ایسے احکام ہیں جو نہایت ہی شاق ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر یہ چیزیں بطور احکام وفرائض عائد کردیتا تو ان احکام پر لوگوں کے لئے عمل کرنا مشکل ہوجاتا ۔ لیکن اللہ نے یہ احکام اس لئے عائد نہیں کئے گئے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو شکست دینا نہیں چاہتا تھا اور یہ بھی نہ چاہتا تھا کہ لوگ ان احکام سے انکار کردیں بلکہ مقصد یہ تھا کہ سب لوگ احکام الہی پر عمل کریں ۔ احکام ایسے ہوں جو سب کے دائرہ قدرت میں ہوں ۔ قافلہ ایمان کے اندر تمام اوسط درجے کے لوگ بھی شامل ہوں اور یہ کہ اسلامی سوسائٹی میں مختلف طبقات کے لوگ ‘ مختلف ہمتوں کے لوگ ‘ مختلف استعدادوں اور صلاحیتوں کے لوگ شامل ہوں ۔ یہ سب لوگ مل کر اسلامی سوسائٹی کو ترقی دیں ۔ اور ایک ایسے کثیر التعداد قافلے کی شکل میں جو طویل و عریض ہو ۔ ابن جریج ‘ اسحاق ابو الازھر ‘ اسماعیل ‘ ابو اسحاق کی سند سے ابو الحاق کہتے ہیں ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (4 : 66) تو ایک شخص نے کہا اگر اللہ حکم دیتا تو ہم ضرور ایسا کرتے لیکن اللہ کی بڑی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں معاف کردیا ۔ یہ بات حضرت نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں ایسے لوگ ہیں کہ ان کے دل میں ایمان ان پہاڑوں سے بھی زیادہ بیٹھا ہوا ہے جو نہایت ہی اونچے ہیں ۔ “ ایک دوسری روایت ابن ابو حاتم نے حضرت مصعب ؓ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے اپنے چچا عامر بن عبید ابن زبیر ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم او اخرجوا من دیارکم ما فعلوہ الا قلیل منھم (4 : 66) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہ حکم نازل ہوتا تو ابن ام عبدان میں سے ہوتا ۔ “ انہوں نے ایک روایت شریح ابن عبید سے نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں ‘ جب حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (4 : 66) تو رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ ابن رواحہ ؓ کی طرف اشارہ فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ یہ فرائض عائد کرتا تو یہ ان قلیل لوگوں میں سے ہوتے ۔ “ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کو نہایت ہی گہرائی سے اور نہایت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کے خصائص اور صلاحیتیں آپ ﷺ کی نظر میں اس قدر درست تھیں کہ وہ خود بھی اپنے بارے میں اس قدر نہ جانتے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ کی سیرت میں ایسے بیشمار واقعات ہیں جن سے حضور اکرم ﷺ کی یہ صلاحیت اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کے بارے میں گہری معلومات رکھتے تھے ۔ نیز حضور کو ان قبائل کی صلاحیتوں کا بھی علم تھا جن سے آپ برسر پیکار تھے ۔ آپ ایک بصیرت افروز قائد کی طرح اپنے ماحول سے اچھی طرح واقف تھے اور بعض اوقات یہ معلومات نہایت ہی معجزانہ ہوتی تھیں ۔ کیونکہ یہ لدنی علم پر مبنی تھیں ۔ اس جگہ ہمارا یہ موضوع نہیں ہے ‘ یہاں ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو معلوم تھا کہ آپ کے ساتھیوں میں اور آپ کی امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو ناقابل برداشت مشکلات کو برداشت کریں گے ۔ اگر یہ مشکلات ان پر فرض کردی جائیں لیکن آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ آپ صرف ان چند ممتاز لوگوں کی طرف رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیدا کئے ہوئے انسان کی فطرت کے بارے میں اچھی طرح علم تھا ‘ اس کی محدود طاقت کا بھی اسے علم تھا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس دین کے احکام میں وہی کچھ فرض کیا جس پر سب لوگ عمل کرسکتے تھے ‘ اس لئے کہ یہ دین سب کے لئے آیا تھا ‘ بشرطیکہ کسی کے اندر عزم ہو ‘ اس کی فطرت معتدل ہو ‘ اور اس کے اندر اطاعت کا داعیہ ہو اور وہ اس دین کو مذاق اور غیر ضروری نہ سمجھتا ہو ۔ اس حقیقت کا ذہن نشین کرنا بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ خصوصا ان تخریبی تحریکات کے حوالے سے جن کی دعوت یہ ہے کہ انسان مرتبہ حیوانیت تک اتر آئے اور وہ نفسانیت کے کیچڑ میں کیڑے کی طرح لت پت ہو ۔ اس کے لئے یہ لوگ دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہی انسان کی حقیقی صورت حالات ہے اور یہی اس کی طبیعت ‘ فطرت اور اس کی طاقت ہے اور یہ کہ دین تو اس مقام کی طرف دعوت دیتا ہے جو ایک مثالی مقام ہے ‘ جس کا اس کرہ ارض پر حقیقت کا روپ اختیار کرنا نہایت ہی مشکل ہے ۔ اگر کوئی ایک فرد دین کے فرائض پر عمل پیرا ہو بھی جائے تو سو عمل پیرا نہیں ہو سکتے ۔ یہ نہایت ہی جھوٹا دعوی ہے ۔ یہفریب پر مبنی ہے ۔ یہ جہالت پر مبنی ہے ۔ اس لئے کہ یہ مدعی انسان کو اس طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح اس کو خالق رب العالمین سمجھتا ہے ۔ جس نے اس کے لئے دینی فرائض مقرر کئے ۔ وہ ذات خالق یہ جانتی ہے کہ یہ احکام اس کے دائرہ خدمت میں ہیں ۔ اس لئے کہ دین چند ممتاز لوگوں کے لئے تو نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تو صرف عزم کی بات ہے ‘ ایک عام آدمی کی عزیمت ‘ اخلاص نیت اور کام کے آغاز کی بات ہے اور جب عزم نیت اور آغاز ہوجائے تو ۔ (آیت) ” ولو انھم فعلوا ما یوعظون بہ لکان خیرا لھم واشد تثبیتا (66) واذا لاتینھم من لدنا اجرا عظیما (67) ولھدینھم صراطا مستقیما (68) ” حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لئے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا ۔ اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے ۔ اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے ۔ “ صرف کام کے آغاز ہی سے اللہ کی طرف سے امداد شروع ہوجاتی ہے اور اس راہ پر گامزن ہونے لئے ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے جس کے بعد اجر عظیم نصیب ہوتا ہے ۔ اس کے بعد صحیح راستے کی طرف راہنمائی نصیب ہوتی ہے ۔ (صدق اللہ العظیم) کیا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دھوکہ دے رہے ہیں ؟ کیا وہ ان سے وہ وعدہ کر رہے ہیں جو پورا نہ ہو ؟ بلکہ اللہ تو ان سے بہت ہی سچی بات فرماتے ہیں ۔ (ومن اصدق من اللہ حدیثا) ” (اللہ سے زیادہ سچا اور کون ہے) اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس دین میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو چھوٹ دے دی جائے ۔ یہ دین ایسا نہیں ہے کہ اس میں ہر طرف سے چھوٹ دی جاتی رہے اور پھر بھی وہ نظام حیات ہو ۔ اس میں عزیمت بھی ہے اور رخصت بھی ہے ۔ عزیمت تو اصل دین ہے اور رخصت بعض عارضی حالات کی وجہ سے ہے ۔ ہمارے بعض مخلص لوگ جو اس دین کی طرف بلاتے ہیں وہ ان کے سامنے رخصتیں پیش کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایک رخصت تلاش کرتے اور اسے لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہے دین اور پھر وہ لوگوں کو کہتے ہیں دیکھو اس دین میں یہ یہ سہولتیں ہیں ۔ بعض لوگ شیطان کی خواہشات یا عوام الناس کی خواہشات پوری کرنا چاہتے ہیں ‘ وہ ایک سوراخ تلاش کرتے ہیں جہاں سے نکلا جاسکے اور پھر وہ کہتے ہیں کہ یہ ہے یدن ۔ یہ دین درحقیقت نہ رخصتوں کا نام ہے اور نہ ہی عزیمتوں کا نام ہے ۔ اس میں مجموعی طور پر دونوں چیزیں موجود ہیں اور یہ دین ایسا ہے کہ اگر ایک عام انسان اس پر عمل کے لئے عزم کرلے تو وہ اس پر عمل کرسکتا ہے ۔ وہ اپنی حدود بشریت کے اندر رہتے ہوئے اس کے اندر ذاتی کمال حاصل کرسکتا ہے ۔ جیسے ایک ہی باغ میں وہ انگور ‘ شہتوت ‘ انجیر خربوزہ ‘ تربوز اور دوسرے پھل پیدا ہوتے ہیں اور سب کے ذائقے جدا ہوتے ہیں کسی کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ پختہ نہیں ہے ۔ بشرطیکہ ہو پک گیا ہو ‘ اگرچہ ایک کا ذائقہ دوسرے سے کم درجے کا ہو۔ اس دین کے باغ میں ساگ ‘ ترکاری اور کھیرے ککڑی پیدا ہوتے ہیں ۔ کینو اور انار پیدا ہوتے ہیں ۔ سیب اور اخروٹ بھی پیدا ہوتے ہیں۔ انگور اور انجیر پیدا ہوتے ہیں اور سب کے سب پکتے ہیں ۔ سب کے ذائقے مختلف ہوتے ہیں اور سب پختہ ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے درجے میں کمال کو پہنچ جاتے ہیں ۔ دنیا اللہ کا کھیت ہے ۔ اس میں انسان اللہ کی تربیت میں اللہ کی نگرانی میں سہولت کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ اب آخر میں ‘ اس سبق کے خاتمے پر دی جاتی ہے ‘ دلوں کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے اور لوگوں کو محبوب مال ومتاع کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ یہ دولت نبیوں ‘ صدیقین ‘ صالحین اور شہداء کے ساتھ ہم نشیبی کی متاع ہے ۔

النساء 4:67

(آیت) ” نمبر 66 تا 68۔ اسلام ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر ہر وہ شخص عمل کرسکتا ہے جو مستقیم اور سلیم الفطرت ہو ‘ اس پر عمل کرنے کے لئے کسی خارق العادت عزم اور کسی بڑے اولو العزم شخص کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسے لوگ تو دنیا میں چند ایک ہوتے ہیں اور اسلامی نظام حیات ان چند لوگوں کے لئے نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے ‘ اور دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں جو مختلف درجات کے ہوتے ہیں ۔ بعض کی طاقتیں اور صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بعض کی کم ۔ یہ دین لوگوں کی اوسط تعداد کو مد نظر رکھ کا بھیجا گیا ہے ‘ جو احکام پر عمل کرسکتے ہیں اور معاصی سے رک سکتے ہیں۔ قتل نفس اور جلاوطن دو ایسے احکام ہیں جو نہایت ہی شاق ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر یہ چیزیں بطور احکام وفرائض عائد کردیتا تو ان احکام پر لوگوں کے لئے عمل کرنا مشکل ہوجاتا ۔ لیکن اللہ نے یہ احکام اس لئے عائد نہیں کئے گئے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو شکست دینا نہیں چاہتا تھا اور یہ بھی نہ چاہتا تھا کہ لوگ ان احکام سے انکار کردیں بلکہ مقصد یہ تھا کہ سب لوگ احکام الہی پر عمل کریں ۔ احکام ایسے ہوں جو سب کے دائرہ قدرت میں ہوں ۔ قافلہ ایمان کے اندر تمام اوسط درجے کے لوگ بھی شامل ہوں اور یہ کہ اسلامی سوسائٹی میں مختلف طبقات کے لوگ ‘ مختلف ہمتوں کے لوگ ‘ مختلف استعدادوں اور صلاحیتوں کے لوگ شامل ہوں ۔ یہ سب لوگ مل کر اسلامی سوسائٹی کو ترقی دیں ۔ اور ایک ایسے کثیر التعداد قافلے کی شکل میں جو طویل و عریض ہو ۔ ابن جریج ‘ اسحاق ابو الازھر ‘ اسماعیل ‘ ابو اسحاق کی سند سے ابو الحاق کہتے ہیں ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (4 : 66) تو ایک شخص نے کہا اگر اللہ حکم دیتا تو ہم ضرور ایسا کرتے لیکن اللہ کی بڑی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں معاف کردیا ۔ یہ بات حضرت نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں ایسے لوگ ہیں کہ ان کے دل میں ایمان ان پہاڑوں سے بھی زیادہ بیٹھا ہوا ہے جو نہایت ہی اونچے ہیں ۔ “ ایک دوسری روایت ابن ابو حاتم نے حضرت مصعب ؓ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے اپنے چچا عامر بن عبید ابن زبیر ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم او اخرجوا من دیارکم ما فعلوہ الا قلیل منھم (4 : 66) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہ حکم نازل ہوتا تو ابن ام عبدان میں سے ہوتا ۔ “ انہوں نے ایک روایت شریح ابن عبید سے نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں ‘ جب حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (4 : 66) تو رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ ابن رواحہ ؓ کی طرف اشارہ فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ یہ فرائض عائد کرتا تو یہ ان قلیل لوگوں میں سے ہوتے ۔ “ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کو نہایت ہی گہرائی سے اور نہایت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کے خصائص اور صلاحیتیں آپ ﷺ کی نظر میں اس قدر درست تھیں کہ وہ خود بھی اپنے بارے میں اس قدر نہ جانتے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ کی سیرت میں ایسے بیشمار واقعات ہیں جن سے حضور اکرم ﷺ کی یہ صلاحیت اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کے بارے میں گہری معلومات رکھتے تھے ۔ نیز حضور کو ان قبائل کی صلاحیتوں کا بھی علم تھا جن سے آپ برسر پیکار تھے ۔ آپ ایک بصیرت افروز قائد کی طرح اپنے ماحول سے اچھی طرح واقف تھے اور بعض اوقات یہ معلومات نہایت ہی معجزانہ ہوتی تھیں ۔ کیونکہ یہ لدنی علم پر مبنی تھیں ۔ اس جگہ ہمارا یہ موضوع نہیں ہے ‘ یہاں ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو معلوم تھا کہ آپ کے ساتھیوں میں اور آپ کی امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو ناقابل برداشت مشکلات کو برداشت کریں گے ۔ اگر یہ مشکلات ان پر فرض کردی جائیں لیکن آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ آپ صرف ان چند ممتاز لوگوں کی طرف رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیدا کئے ہوئے انسان کی فطرت کے بارے میں اچھی طرح علم تھا ‘ اس کی محدود طاقت کا بھی اسے علم تھا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس دین کے احکام میں وہی کچھ فرض کیا جس پر سب لوگ عمل کرسکتے تھے ‘ اس لئے کہ یہ دین سب کے لئے آیا تھا ‘ بشرطیکہ کسی کے اندر عزم ہو ‘ اس کی فطرت معتدل ہو ‘ اور اس کے اندر اطاعت کا داعیہ ہو اور وہ اس دین کو مذاق اور غیر ضروری نہ سمجھتا ہو ۔ اس حقیقت کا ذہن نشین کرنا بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ خصوصا ان تخریبی تحریکات کے حوالے سے جن کی دعوت یہ ہے کہ انسان مرتبہ حیوانیت تک اتر آئے اور وہ نفسانیت کے کیچڑ میں کیڑے کی طرح لت پت ہو ۔ اس کے لئے یہ لوگ دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہی انسان کی حقیقی صورت حالات ہے اور یہی اس کی طبیعت ‘ فطرت اور اس کی طاقت ہے اور یہ کہ دین تو اس مقام کی طرف دعوت دیتا ہے جو ایک مثالی مقام ہے ‘ جس کا اس کرہ ارض پر حقیقت کا روپ اختیار کرنا نہایت ہی مشکل ہے ۔ اگر کوئی ایک فرد دین کے فرائض پر عمل پیرا ہو بھی جائے تو سو عمل پیرا نہیں ہو سکتے ۔ یہ نہایت ہی جھوٹا دعوی ہے ۔ یہفریب پر مبنی ہے ۔ یہ جہالت پر مبنی ہے ۔ اس لئے کہ یہ مدعی انسان کو اس طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح اس کو خالق رب العالمین سمجھتا ہے ۔ جس نے اس کے لئے دینی فرائض مقرر کئے ۔ وہ ذات خالق یہ جانتی ہے کہ یہ احکام اس کے دائرہ خدمت میں ہیں ۔ اس لئے کہ دین چند ممتاز لوگوں کے لئے تو نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تو صرف عزم کی بات ہے ‘ ایک عام آدمی کی عزیمت ‘ اخلاص نیت اور کام کے آغاز کی بات ہے اور جب عزم نیت اور آغاز ہوجائے تو ۔ (آیت) ” ولو انھم فعلوا ما یوعظون بہ لکان خیرا لھم واشد تثبیتا (66) واذا لاتینھم من لدنا اجرا عظیما (67) ولھدینھم صراطا مستقیما (68) ” حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لئے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا ۔ اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے ۔ اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے ۔ “ صرف کام کے آغاز ہی سے اللہ کی طرف سے امداد شروع ہوجاتی ہے اور اس راہ پر گامزن ہونے لئے ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے جس کے بعد اجر عظیم نصیب ہوتا ہے ۔ اس کے بعد صحیح راستے کی طرف راہنمائی نصیب ہوتی ہے ۔ (صدق اللہ العظیم) کیا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دھوکہ دے رہے ہیں ؟ کیا وہ ان سے وہ وعدہ کر رہے ہیں جو پورا نہ ہو ؟ بلکہ اللہ تو ان سے بہت ہی سچی بات فرماتے ہیں ۔ (ومن اصدق من اللہ حدیثا) ” (اللہ سے زیادہ سچا اور کون ہے) اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس دین میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو چھوٹ دے دی جائے ۔ یہ دین ایسا نہیں ہے کہ اس میں ہر طرف سے چھوٹ دی جاتی رہے اور پھر بھی وہ نظام حیات ہو ۔ اس میں عزیمت بھی ہے اور رخصت بھی ہے ۔ عزیمت تو اصل دین ہے اور رخصت بعض عارضی حالات کی وجہ سے ہے ۔ ہمارے بعض مخلص لوگ جو اس دین کی طرف بلاتے ہیں وہ ان کے سامنے رخصتیں پیش کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایک رخصت تلاش کرتے اور اسے لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہے دین اور پھر وہ لوگوں کو کہتے ہیں دیکھو اس دین میں یہ یہ سہولتیں ہیں ۔ بعض لوگ شیطان کی خواہشات یا عوام الناس کی خواہشات پوری کرنا چاہتے ہیں ‘ وہ ایک سوراخ تلاش کرتے ہیں جہاں سے نکلا جاسکے اور پھر وہ کہتے ہیں کہ یہ ہے یدن ۔ یہ دین درحقیقت نہ رخصتوں کا نام ہے اور نہ ہی عزیمتوں کا نام ہے ۔ اس میں مجموعی طور پر دونوں چیزیں موجود ہیں اور یہ دین ایسا ہے کہ اگر ایک عام انسان اس پر عمل کے لئے عزم کرلے تو وہ اس پر عمل کرسکتا ہے ۔ وہ اپنی حدود بشریت کے اندر رہتے ہوئے اس کے اندر ذاتی کمال حاصل کرسکتا ہے ۔ جیسے ایک ہی باغ میں وہ انگور ‘ شہتوت ‘ انجیر خربوزہ ‘ تربوز اور دوسرے پھل پیدا ہوتے ہیں اور سب کے ذائقے جدا ہوتے ہیں کسی کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ پختہ نہیں ہے ۔ بشرطیکہ ہو پک گیا ہو ‘ اگرچہ ایک کا ذائقہ دوسرے سے کم درجے کا ہو۔ اس دین کے باغ میں ساگ ‘ ترکاری اور کھیرے ککڑی پیدا ہوتے ہیں ۔ کینو اور انار پیدا ہوتے ہیں ۔ سیب اور اخروٹ بھی پیدا ہوتے ہیں۔ انگور اور انجیر پیدا ہوتے ہیں اور سب کے سب پکتے ہیں ۔ سب کے ذائقے مختلف ہوتے ہیں اور سب پختہ ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے درجے میں کمال کو پہنچ جاتے ہیں ۔ دنیا اللہ کا کھیت ہے ۔ اس میں انسان اللہ کی تربیت میں اللہ کی نگرانی میں سہولت کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ اب آخر میں ‘ اس سبق کے خاتمے پر دی جاتی ہے ‘ دلوں کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے اور لوگوں کو محبوب مال ومتاع کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ یہ دولت نبیوں ‘ صدیقین ‘ صالحین اور شہداء کے ساتھ ہم نشیبی کی متاع ہے ۔

النساء 4:68

(آیت) ” نمبر 66 تا 68۔ اسلام ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر ہر وہ شخص عمل کرسکتا ہے جو مستقیم اور سلیم الفطرت ہو ‘ اس پر عمل کرنے کے لئے کسی خارق العادت عزم اور کسی بڑے اولو العزم شخص کی ضرورت نہیں ہے ۔ ایسے لوگ تو دنیا میں چند ایک ہوتے ہیں اور اسلامی نظام حیات ان چند لوگوں کے لئے نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تمام دنیا کے انسانوں کے لئے بھیجا گیا ہے ‘ اور دنیا میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں جو مختلف درجات کے ہوتے ہیں ۔ بعض کی طاقتیں اور صلاحتیں زیادہ ہوتی ہیں اور بعض کی کم ۔ یہ دین لوگوں کی اوسط تعداد کو مد نظر رکھ کا بھیجا گیا ہے ‘ جو احکام پر عمل کرسکتے ہیں اور معاصی سے رک سکتے ہیں۔ قتل نفس اور جلاوطن دو ایسے احکام ہیں جو نہایت ہی شاق ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر یہ چیزیں بطور احکام وفرائض عائد کردیتا تو ان احکام پر لوگوں کے لئے عمل کرنا مشکل ہوجاتا ۔ لیکن اللہ نے یہ احکام اس لئے عائد نہیں کئے گئے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو شکست دینا نہیں چاہتا تھا اور یہ بھی نہ چاہتا تھا کہ لوگ ان احکام سے انکار کردیں بلکہ مقصد یہ تھا کہ سب لوگ احکام الہی پر عمل کریں ۔ احکام ایسے ہوں جو سب کے دائرہ قدرت میں ہوں ۔ قافلہ ایمان کے اندر تمام اوسط درجے کے لوگ بھی شامل ہوں اور یہ کہ اسلامی سوسائٹی میں مختلف طبقات کے لوگ ‘ مختلف ہمتوں کے لوگ ‘ مختلف استعدادوں اور صلاحیتوں کے لوگ شامل ہوں ۔ یہ سب لوگ مل کر اسلامی سوسائٹی کو ترقی دیں ۔ اور ایک ایسے کثیر التعداد قافلے کی شکل میں جو طویل و عریض ہو ۔ ابن جریج ‘ اسحاق ابو الازھر ‘ اسماعیل ‘ ابو اسحاق کی سند سے ابو الحاق کہتے ہیں ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (4 : 66) تو ایک شخص نے کہا اگر اللہ حکم دیتا تو ہم ضرور ایسا کرتے لیکن اللہ کی بڑی مہربانی ہے کہ اس نے ہمیں معاف کردیا ۔ یہ بات حضرت نبی اکرم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” میری امت میں ایسے لوگ ہیں کہ ان کے دل میں ایمان ان پہاڑوں سے بھی زیادہ بیٹھا ہوا ہے جو نہایت ہی اونچے ہیں ۔ “ ایک دوسری روایت ابن ابو حاتم نے حضرت مصعب ؓ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے اپنے چچا عامر بن عبید ابن زبیر ؓ سے روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم او اخرجوا من دیارکم ما فعلوہ الا قلیل منھم (4 : 66) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اگر یہ حکم نازل ہوتا تو ابن ام عبدان میں سے ہوتا ۔ “ انہوں نے ایک روایت شریح ابن عبید سے نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں ‘ جب حضور ﷺ نے یہ آیت پڑھی ۔ (آیت) ” ولو انا کتبنا علیھم ان اقتلوانفسکم (4 : 66) تو رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ ابن رواحہ ؓ کی طرف اشارہ فرمایا : ” اگر اللہ تعالیٰ یہ فرائض عائد کرتا تو یہ ان قلیل لوگوں میں سے ہوتے ۔ “ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں کو نہایت ہی گہرائی سے اور نہایت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ ان کے خصائص اور صلاحیتیں آپ ﷺ کی نظر میں اس قدر درست تھیں کہ وہ خود بھی اپنے بارے میں اس قدر نہ جانتے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ کی سیرت میں ایسے بیشمار واقعات ہیں جن سے حضور اکرم ﷺ کی یہ صلاحیت اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ آپ اپنے ساتھیوں کے بارے میں گہری معلومات رکھتے تھے ۔ نیز حضور کو ان قبائل کی صلاحیتوں کا بھی علم تھا جن سے آپ برسر پیکار تھے ۔ آپ ایک بصیرت افروز قائد کی طرح اپنے ماحول سے اچھی طرح واقف تھے اور بعض اوقات یہ معلومات نہایت ہی معجزانہ ہوتی تھیں ۔ کیونکہ یہ لدنی علم پر مبنی تھیں ۔ اس جگہ ہمارا یہ موضوع نہیں ہے ‘ یہاں ہم جو کہنا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو معلوم تھا کہ آپ کے ساتھیوں میں اور آپ کی امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو ناقابل برداشت مشکلات کو برداشت کریں گے ۔ اگر یہ مشکلات ان پر فرض کردی جائیں لیکن آپ کو یہ بھی معلوم تھا کہ آپ صرف ان چند ممتاز لوگوں کی طرف رسول بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیدا کئے ہوئے انسان کی فطرت کے بارے میں اچھی طرح علم تھا ‘ اس کی محدود طاقت کا بھی اسے علم تھا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس دین کے احکام میں وہی کچھ فرض کیا جس پر سب لوگ عمل کرسکتے تھے ‘ اس لئے کہ یہ دین سب کے لئے آیا تھا ‘ بشرطیکہ کسی کے اندر عزم ہو ‘ اس کی فطرت معتدل ہو ‘ اور اس کے اندر اطاعت کا داعیہ ہو اور وہ اس دین کو مذاق اور غیر ضروری نہ سمجھتا ہو ۔ اس حقیقت کا ذہن نشین کرنا بہت بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ خصوصا ان تخریبی تحریکات کے حوالے سے جن کی دعوت یہ ہے کہ انسان مرتبہ حیوانیت تک اتر آئے اور وہ نفسانیت کے کیچڑ میں کیڑے کی طرح لت پت ہو ۔ اس کے لئے یہ لوگ دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہی انسان کی حقیقی صورت حالات ہے اور یہی اس کی طبیعت ‘ فطرت اور اس کی طاقت ہے اور یہ کہ دین تو اس مقام کی طرف دعوت دیتا ہے جو ایک مثالی مقام ہے ‘ جس کا اس کرہ ارض پر حقیقت کا روپ اختیار کرنا نہایت ہی مشکل ہے ۔ اگر کوئی ایک فرد دین کے فرائض پر عمل پیرا ہو بھی جائے تو سو عمل پیرا نہیں ہو سکتے ۔ یہ نہایت ہی جھوٹا دعوی ہے ۔ یہفریب پر مبنی ہے ۔ یہ جہالت پر مبنی ہے ۔ اس لئے کہ یہ مدعی انسان کو اس طرح نہیں سمجھ سکتا جس طرح اس کو خالق رب العالمین سمجھتا ہے ۔ جس نے اس کے لئے دینی فرائض مقرر کئے ۔ وہ ذات خالق یہ جانتی ہے کہ یہ احکام اس کے دائرہ خدمت میں ہیں ۔ اس لئے کہ دین چند ممتاز لوگوں کے لئے تو نہیں بھیجا گیا ۔ یہ تو صرف عزم کی بات ہے ‘ ایک عام آدمی کی عزیمت ‘ اخلاص نیت اور کام کے آغاز کی بات ہے اور جب عزم نیت اور آغاز ہوجائے تو ۔ (آیت) ” ولو انھم فعلوا ما یوعظون بہ لکان خیرا لھم واشد تثبیتا (66) واذا لاتینھم من لدنا اجرا عظیما (67) ولھدینھم صراطا مستقیما (68) ” حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لئے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا ۔ اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے ۔ اور انہیں سیدھا راستہ دکھا دیتے ۔ “ صرف کام کے آغاز ہی سے اللہ کی طرف سے امداد شروع ہوجاتی ہے اور اس راہ پر گامزن ہونے لئے ثابت قدمی نصیب ہوتی ہے جس کے بعد اجر عظیم نصیب ہوتا ہے ۔ اس کے بعد صحیح راستے کی طرف راہنمائی نصیب ہوتی ہے ۔ (صدق اللہ العظیم) کیا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دھوکہ دے رہے ہیں ؟ کیا وہ ان سے وہ وعدہ کر رہے ہیں جو پورا نہ ہو ؟ بلکہ اللہ تو ان سے بہت ہی سچی بات فرماتے ہیں ۔ (ومن اصدق من اللہ حدیثا) ” (اللہ سے زیادہ سچا اور کون ہے) اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس دین میں آسانی کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو چھوٹ دے دی جائے ۔ یہ دین ایسا نہیں ہے کہ اس میں ہر طرف سے چھوٹ دی جاتی رہے اور پھر بھی وہ نظام حیات ہو ۔ اس میں عزیمت بھی ہے اور رخصت بھی ہے ۔ عزیمت تو اصل دین ہے اور رخصت بعض عارضی حالات کی وجہ سے ہے ۔ ہمارے بعض مخلص لوگ جو اس دین کی طرف بلاتے ہیں وہ ان کے سامنے رخصتیں پیش کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایک رخصت تلاش کرتے اور اسے لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہے دین اور پھر وہ لوگوں کو کہتے ہیں دیکھو اس دین میں یہ یہ سہولتیں ہیں ۔ بعض لوگ شیطان کی خواہشات یا عوام الناس کی خواہشات پوری کرنا چاہتے ہیں ‘ وہ ایک سوراخ تلاش کرتے ہیں جہاں سے نکلا جاسکے اور پھر وہ کہتے ہیں کہ یہ ہے یدن ۔ یہ دین درحقیقت نہ رخصتوں کا نام ہے اور نہ ہی عزیمتوں کا نام ہے ۔ اس میں مجموعی طور پر دونوں چیزیں موجود ہیں اور یہ دین ایسا ہے کہ اگر ایک عام انسان اس پر عمل کے لئے عزم کرلے تو وہ اس پر عمل کرسکتا ہے ۔ وہ اپنی حدود بشریت کے اندر رہتے ہوئے اس کے اندر ذاتی کمال حاصل کرسکتا ہے ۔ جیسے ایک ہی باغ میں وہ انگور ‘ شہتوت ‘ انجیر خربوزہ ‘ تربوز اور دوسرے پھل پیدا ہوتے ہیں اور سب کے ذائقے جدا ہوتے ہیں کسی کے بارے میں بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ پختہ نہیں ہے ۔ بشرطیکہ ہو پک گیا ہو ‘ اگرچہ ایک کا ذائقہ دوسرے سے کم درجے کا ہو۔ اس دین کے باغ میں ساگ ‘ ترکاری اور کھیرے ککڑی پیدا ہوتے ہیں ۔ کینو اور انار پیدا ہوتے ہیں ۔ سیب اور اخروٹ بھی پیدا ہوتے ہیں۔ انگور اور انجیر پیدا ہوتے ہیں اور سب کے سب پکتے ہیں ۔ سب کے ذائقے مختلف ہوتے ہیں اور سب پختہ ہوتے ہیں۔ اپنے اپنے درجے میں کمال کو پہنچ جاتے ہیں ۔ دنیا اللہ کا کھیت ہے ۔ اس میں انسان اللہ کی تربیت میں اللہ کی نگرانی میں سہولت کے ساتھ آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ اب آخر میں ‘ اس سبق کے خاتمے پر دی جاتی ہے ‘ دلوں کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے اور لوگوں کو محبوب مال ومتاع کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ یہ دولت نبیوں ‘ صدیقین ‘ صالحین اور شہداء کے ساتھ ہم نشیبی کی متاع ہے ۔

النساء 4:69

(آیت) ” نمبر 69۔ 70 : یہ ایک ایسا سچ ہے جس سے تمام قلبی احساسات جاگ اٹھتے ہیں بشرطیکہ کسی دل میں بھلائی کا کوئی ذرہ موجود ہو ‘ بشرطیکہ نیکی کا کوئی بیج موجود ہو بشرطیکہ اس میں کسی باعزت مقام اور اللہ کے جوار رحمت میں داخل ہونے اور اللہ کی شان کریمی کی تلاش کا کوئی داعیہ ہو ۔ یہ مجلس ایسے ہی اولوالعزم اور بلندیوں کے متلاشیوں کے لئے ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم کے مقام تک کوئی شخص صرف اپنی اطاعت شعاری اور اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا ۔ بلکہ یہ تو صرف اللہ کا وسیع اور عمیق اور بھر پور فضل وکرم ہوتا ہے اور اس کا عمومی فیضان ہوتا ہے اور جس کی قسمت ہو اسے ڈھانپ لیتا ہے ۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم چند لمحے نبی ﷺ کے صحابہ کی محفل میں گزاریں ۔ یہ لوگ دنیا وآخرت میں دونوں میں حضور ﷺ کی محفل کے مشتاق تھے ۔ ان حضرات میں سے بعض تو ایسے تھے کہ وہ آپ کی جدائی کے تصور ہی سے پریشان ہوجاتے تھے ۔ حالانکہ آپ ﷺ اس وقت ان کے درمیان موجود تھے ۔ اسی لئے یہ آیات نازل ہوئیں ‘ جس سے ان کی محبت تروتازہ ہوگئی اور ان کا پاکیزہ جذبہ جوش میں آگیا ۔ اور ان کی پاک و شفاف محبت اور پاک ہوگئی ۔ ابن جریر نے حضرت سعید ابن جبیر سے روایت کی ہے ۔ انصار میں سے ایک شخص آیا جو بہت ہی پریشان تھا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ ” اے فلاں تم پریشان کیوں ہو ؟ اس نے جواب دیا اللہ کے نبی میں ایک معاملے میں سوچ رہا تھا ۔ آپ نے دریافت کیا کہ کیا تھا وہ ؟ اس نے کہا وہ یہ تھا کہ ہم صبح وشام آپ سے آکر ملتے ہیں آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھتے ہیں ۔ کل آپ نبیوں کے ہاں چلے جائیں گے تو ہم آپ سے ملاقات نہ کرسکیں گے ۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اتنے میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر آئے ۔ (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین “۔ (4 : 69) نبی ﷺ نے اس شخص کے لئے پیغام بھیجا اور اسے خوشخبری دی ۔ حضرت ابوبکر ؓ ابن مردیہ نے حضرت عائشہ ؓ سے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا حضور آپ میرے لئے میری جان سے زیادہ محبوب ہیں ‘ آپ میرے لئے میرے اہل خاندان سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ میرے لئے میری بیٹیوں سے زیاہد محبوب ہیں اور جب میں گھر پہ ہوتا ہوں تو میں آپ کو یاد کرتا ہوں اور اٹھ کر آجاتا ہوں اور آپ کو دیکھ لیتا ہوں ‘ صبر نہیں کرسکتا ۔ جب میں اپنی موت اور آپ کی موت کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ آپ جنت میں داخل ہو کر نبیوں کے گروہ میں داخل ہوجائیں گے اور میں اگر جنت میں چلا بھی جاؤں تو شاید آپ کو دیکھ نہ سکوں۔ اس شخص کے ان خدشات کا آپ نے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین وحسن اولئک رفیقا “۔ (4 : 69) ” جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں ۔ “ صحیح مسلم نے ربیعہ کی حدیث نقل کی ہے ‘ فرماتے ہیں میں ایک رات نبی کریم ﷺ کے پاس تھا ۔ میں نے آپ کو وضو کے لئے پانی اور دوسری ضروریات فراہم کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا : مانگو جو مانگتے ہو تو میں نے کہا کہ اے رسول خدا ﷺ میں تو جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا اس کے سوا کچھ اور ؟ تو اس نے کہا بس صرف یہی ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا آپ کثرت سجود کے ذریعے اپنے نفس کے خلاف میری معاونت کریں ۔ بخاری شریف میں متعدد طریقوں سے یہ روایت آئی ہے کہ ایک شخص ایک گروہ کو پسند کرتا ہے مگر ان سے ملاقات نہیں ہوتی تو اس کا کیا حال ہوگا ؟ آپ نے فرمایا آدمی انہیں لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کو وہ محبوب سمجھتا ہے ۔ یہی بات تھی ‘ جس میں ان کے دل و دماغ ہر وقت مشغول تھے ۔ محبت رسول اور آخرت میں صحبت رسول ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے دنیا میں بھی صحبت رسول کا مزہ چکھا ہوا تھا ۔ اور آج اس کا مزہ صرف وہی دل چکھ سکتا ہے جس کے اندر محبت رسول موجود ہو اور ہم لوگوں کے لئے اس آخری حدیث میں روشنی کی کرن ‘ اطمینان کا سامان اور امید کی شمع نظر آتی ہے ۔ درس 36 ایک نظر میں : میں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ اس سبق میں آیات کا جو مجموعہ دیا گیا ہے ‘ وہ مدینہ کے ابتدائی دور میں غزوہ احد کے بعد اور غزوہ خندق سے پہلے نازل ہوا ہوگا کیونکہ اس میں اسلامی سوسائٹی کی جو تصویر کشی کی گئی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابھی تک پختگی کے مقام تک نہ پہنچی تھی ۔ اس سوسائٹی میں مختلف قسم کے گروہ موجود تھے ‘ جن میں بعض ناپختہ تھے اور بعض ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ایمان ہی نہ لائے تھے اور محض منافقت کر رہے تھے ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی کو اپنی تعلیم و تربیت کی مزید ضرورت تھی اور اس سلسلے میں عظیم جدوجہد اور گہری توجہ کی ضرورت تھی ۔ اسے اس عظیم مقصد کے لئے تیار کرنے اور وہ بوجھ اٹھانے کا اہل بنانے کی ضرورت تھی جو اسلام نے اس کے کاندھوں پر ڈال دیا گیا تھا ‘ نیز اسلامی انقلاب کے لئے جس سطح کے لوگوں کی ضرورت تھی ‘ اس سطح تک اس سوسائٹی کو بلند کرنا ضروری تھا ۔ چاہے یہ تربیت اور اصلاح عقائد و تصورات کے میدان میں ہو ‘ یا مخالف کیمپوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے میدان میں ہو۔ اور یہ جو ہم کہہ رہے ہیں کہ بعض لوگ ناپختہ تھے ‘ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سوسائٹی میں نہایت ہی بلند معیار کے لوگوں کی کمی تھی ۔ یہاں ہم اس وقت کی اسلامی سوسائٹی کو مجموعی طور پر لے رہے ہیں ۔ اس سوسائٹی میں مختلف عناصر موجود تھے ‘ لیکن سب ایک جیسے نہیں تھے ۔ لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ اس سوسائٹی کے تمام عناصر کو بلند سطح تک لانے کی سعی کی جائے تاکہ اس کے افراد کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا ہو ۔ اس بات کا اظہار ان آیات وہدایات سے اچھی طرح ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ ان ہدایات کے گہرے مطالعے سے ہمیں اس وقت کی مسلم سوسائٹی کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے اور جماعت مسلمہ کے ایسے خدوخال سامنے آتے ہیں جن میں یہ سوسائٹی ایک انسانی سوسائٹی نظر آتی ہے ۔ اس کا یہ پہلو ہم اکثر اوقات نظر انداز کردیتے ہیں ۔ اس سوسائٹی میں ہمیں اعلیٰ معیار کی تربیت اور قوت بھی نظر آتی ہے اور اس میں بعض کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں ۔ یہ بھی نظر آتا ہے کہ قرآن کریم انسانی کمزوریوں ‘ جاہلیت کے باقی ماندہ آثار اور اسلام کے مخالف کیمپ کے ساتھ کس طرح معرکہ آرائی کرتا ہے اور یہ سب کام بیک وقت ہوتا ہے ۔ ہم قرآن کریم کے انداز تربیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو قرآن عالم واقعہ میں زندہ انسانوں کے ساتھ معامل کرتا دکھائی دیتا ہے اور یہ بھی نظر آتا ہے کہ تربیت کے میدان میں قرآن کریم نے کس قد کامیاب جدوجہد کرکے ایک ایسی سوسائٹی تخلیق کی جس کو جاہلیت کے معاشرہ سے لیا گیا تھا ‘ جس میں مختلف درجات اور مختلف طبقات کے لوگ موجود تھے اور جس میں مختلف خصوصیات کے لوگ موجود تھے قرآن نے انہیں اس قدر ہم آہنگ ‘ اس قدر بلند ‘ اس قدر متحد بنا دیا جس کا کامل رنگ حضور کے آخری دور میں صاف نظر آتا ہے اور یہ اس قدر بلند اور کامل ومکمل سوسائٹی تھی جس سے آگے جانا انسانوں کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ کسی انسانی سوسائٹی کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسانی نفس کے اندر کیا کیا صلاحیتیں ہیں ‘ اور دنیا کی بہترین جماعت اور سوسائٹی میں ان کا ظہور کس شکل میں ہوتا ہے ۔ وہ جماعت جس کی تربیت خود حضور ﷺ نے فرمایا تھی اور یہ تربیت تھی بھی قرآنی منہاج کے مطابق ۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا منہاج تربیت کیا تھا اور یہ کہ قرآن کریم انسانی نفوس کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا تھا ۔ اس کا رویہ اس کے ساتھ کس قدر پر لطف تھا اور جماعت کے اندر مختلف سطح کے لوگوں کو اس نے کس طرح باہم متحد اور منسلک کردیا تھا ۔ ہم قرآن کریم کا مجاز تربیت دیکھتے ہیں اور ہمیں عالم واقعہ میں انسانی طبیعت کے مطابق یہ تربیتی نظام کام کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس سے ایک فائدہ ہمیں یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ ہم اپنے حالات اور دوسری انسانی سوسائٹیوں کے حالات کا مقابلہ اس انسانی جماعت سے کریں جو اللہ نے برپا کی ہے اس کے بعد ان سوسائٹیوں کی انسانی اعتبار سے جو اصل صورت حال تھی اس کا مطالعہ کریں تاکہ اپنی کوتاہیوں کو دیکھ کر دور جدید میں اصلاح حال سے مایوس نہ ہوجائیں اور اپنی اصلاح کے لئے کوشش کرنا ترک نہ کردیں ۔ یہ بھی نہ ہو کہ اسلام کی یہ پہلی سوسائٹی ہمارے تصورات میں کہیں محض خیالی سو سائٹی ہی نہ بن جائے اور ہم کہیں یہ سعی ترک نہ کردیں کہ اس جماعت کے نقش قدم پر ہمیں چلنا ہے اور دور جدید میں ان جدید سوسائٹیوں کو موجودہ گراوٹ سے اونچا کرکے مقام بلند تک پہنچاتا ہے ۔ یہ عبرتوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے ۔ اور ظلال القرآن میں زندگی بسر کرکے جب ہم یہ ذخیرہ اخذ کریں گے تو یہ ہمارے لئے بھلائی کا ایک عظیم سامان ہوگا ۔ اس سبق میں دی گئی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی صفوں میں اس وقت درج ذیل قسم کے لوگ موجود تھے ۔ (الف) ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے آپ کو جہاد میں پیچھے رکھتے تھے اس سے دوسروے لوگوں میں بھی سستی پیدا ہوتی تھی اور اگر وہ جہاد کو نہ جاتے اور گھروں میں صحیح وسالم رہتے تو اسے اپنے لئے کامیابی سمجھتے تھے جبکہ جہاد میں شریک ہونے والے مسلمانوں کو اس جہاد میں مشکلات اور تکالیف پیش آتیں ۔ اسی طرح یہ لوگ اگر جہاد میں نہ جاتے اور مسلمانوں کو مال غنیمت مل جاتا تو ایسے لوگ محسوس کرتے کہ ان کو خسارہ ہوگیا کہ مال غنیمت میں سے ان کو حصہ نہ ملا ۔ اس طرح یہ لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو خریدتے تھے ۔ (ب) ان لوگوں میں بعض مہاجرین بھی تھے جب یہ لوگ مکہ میں تھے اور ان پر مظالم ہوتے تھے تو وہ جوش دفاع اور بہادری کے جذبے سے یہ کہتے تھے کہ کاش انہیں جہاد کرنے اور جنگ کرنے کی اجازت ہوتی لیکن وہاں ان کے لئے جنگ کرنا بالکل بند کردیا گیا تھا ۔ اب مدینہ طیبہ میں جب جہاد کا حکم آگیا اور یہ کہا گیا کہ کفار کے ساتھ جنگ شروع کر دو تو یہ لوگ تمنا کرنے لگے کہ کاش ابھی اور مہلت ملتی اور جنگ کا حکم نہ آیا ہوتا ۔ (ج) ان میں ایسے لوگ بھی تھے کہ اگر کوئی بھلائی نصیب ہوتی تو کہتے کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور مصیبت آتی تو کہتے کہ یہ مصیبت نبی ﷺ کی ذات کی وجہ سے ہے ۔ یہ بات وہ اس لئے نہ کہتے تھے کہ ان کا خدا تعالیٰ کی ذات پر پختہ ایمان اور بھروسہ تھا بلکہ وہ یہ باتیں اسلامی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کرتے تھے ۔ (د) بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ جو حضور ﷺ کے سامنے اپنے آپ کو نہایت مطیع فرمان ظاہر کرتے مگر جب آپ کے پاس سے چلے جاتے تو مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے اور اپنے ہم نشینوں کے ساتھ کوئی اور بات کرتے ۔ (ھ) بعض ایسے لوگ تھے جو افواہوں پر کان دھرتے تھے اور اسلامی صفوں میں انہیں پھیلاتے تھے ۔ اس طرح وہ اسلامی محاذ میں بےچینی پیدا کردیتے تھے حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ بات کو ثبوت تک پہنچاتے یا خود اسلامی قیادت کی طرف رجوع کرتے ۔ (ر) بعض لوگ ایسے بھی تھے جن کو اس بارے میں شک تھا کہ آیا ان ہدایات کا مصدر اور منبع اللہ کی ذات ہے یا نہیں ‘ وہ یہ سمجھتے تھے کہ بعض باتیں نبی ﷺ اپنی جانب سے کرتے ہیں ۔ (ز) بعض ایسے تھے جو منافقین کی جانب سے مدافعت کیا کرتے تھے جیسا کہ اگلے سبق کے شروع میں بعض نمونے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی کہ منافقین کے بارے میں جماعت مسلمہ دوگروہوں میں بٹ جائے ۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کے اسلامی تصور اور تنظیم میں ابھی تک مکمل ہم آہنگی نہ تھی اور یہ لوگ قیادت کے فرائض اور ایسے معاملات میں قیادت کے ساتھ رابطے کی ضرورت کو اچھی طرح نہ سمجھتے تھے ۔ یہ تمام عناصر جو اسلامی صفوں میں موجود تھے یہ منافقین کے گروہ تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ہی گروہ سے متعلق ہوں ‘ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مدینہ کی سوسائٹی میں یہ لوگ منافقین کے کئی گروہوں سے تعلق رکھتے ہوں یا ان لوگوں میں بعض ضعیف الایمان مسلمان بھی ہوں جن کی ایمانی حالت ابھی پختہ نہ ہوئی ہو ۔ ان میں سے کچھ لوگ مہاجریں بھی ہو سکتے ہیں ۔ بہرحال ایسے کئی گروپ اسلامی جماعت کے اندر موجود تھے اور یہ جماعت اس وقت مدینہ کے یہودیوں میں گھری ہوئی تھی جبکہ مکہ میں وہ مشرکین کے نرغے میں تھی اور پورے جزیرۃ العرب میں یہ جماعت متربصین کے نرغے میں تھی جو انتظار کر رہے تھے کہ اس تحریک کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ جماعت مسلسل مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی پیدا کر رہی تھی ۔ لہذا اندرونی صفوں میں تربیت وتطہیر کی ضرورت تھی اور لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کی ضرورت تھی ۔ ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے یہ داخلی جہاد اور تربیت کس نہج پر کی ۔ قرآن نے مسلمانوں کی صفوں سے مایوسی کو دور کیا اور جماعت کے ہر فرد کو مطمئن کردیا ۔ نہایت ہی گہرائی دقت اور صبر کے ساتھ اور اس تحریک کے قائد حضرت محمد ﷺ نہایت ہی صبر آزما حالات میں یہ تربیت فرما رہے تھے ۔ ذرا اس کے نمونے ملاحظہ فرمائیں ۔ (الف) حکم دیا جاتا ہے کہ ہر وقت محتاط رہو ۔ مجاہدین اور مومنین اکیلے نہ پھریں اور مہمات اور سرایا میں اکھٹے جائیں ۔ یعنی سرایا اور دستوں کی شکل میں یا سب کے سب فوج کی شکل میں نکلیں ۔ اس لئے کہ ان کے اردگرد کے علاقے میں مختلف قسم کی دشمنیاں ہیں اور دشمن گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں جن کے اندر منافقین ہیں یا ایسے دشمن ہیں جن کو منافقین پناہ دے رہے ہیں ۔ نیز یہودی بھی پورے جزیرۃ العرب کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جو موقع کے انتظار میں ہیں۔ (ب) بعض لوگ جو جہاد میں پیچھے رہ جاتے تھے ان کی بھی یہاں ایک قابل نفرت تصویر نظر آتی ہے ۔ ان کی ہمت جواب دے گئی ہے وہ مفاد پرست ہیں اور نہایت ہی متلون مزاج ہیں اور حالات کے ساتھ بہت جلد یہ لوگ بدل جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے حال پر تعجب ہوتا ہے کہ مکہ میں تو بہت ہی پرجوش تھے مگر اب جبکہ مدینہ میں جہاد فرض ہوگیا ہے تو وہ جزع وفزع کرتے ہیں ۔ (ج) یہاں اللہ کی راہ میں مقاتلین کے لئے اللہ کی جانب سے وعدہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ اللہ انہیں اجر عظیم عطا کرے گا اور انہیں دو اچھے انجاموں میں سے ایک ضرور ملے گا ۔ یعنی ” اور جو شخص اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے اور مارا جاتا ہے ‘ یا غالب ہوجاتا ہے تو دونوں صورتوں میں اللہ اسے اجر عظیم دے گا “۔ (د) قرآن کریم مقاصد کی بلندی ‘ اہداف کی پاکیزگی ‘ اور کامرانی کے مقاصد کی نشاندہی بھی کرتا ہے جس کی وجہ سے جہاد و قتال فرض کیا گیا ہے کہ یہ ” اللہ کے راستے میں ’ ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کی حمایت میں ہے ‘ جو ہر وقت یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس گاؤں سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی جانب سے کوئی ولی مقرر کر اور اپنی جانب سے ہمارے لئے کوئی مدد گار بنا ۔ “ (ھ) پھر قرآن مجید ان مقاصد کی سچائی کو بھی ریکارڈ پر لاتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ ان کی پشت پر سند قوی ہے اور ان مقاصد کا برسرباطل ہونا بھی بتاتا ہے جن کے لئے کافر لڑتے ہیں اور ان کی سند بھی ضعیف ہے ۔ ” وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ‘ پس تم شیطان کے دوستوں کے ساتھ لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے ۔ “ ّ (و) ان آیات میں قرآن کریم ان تصورات فاسدہ کا علاج بھی کرتا ہے جن کی وجہ سے دل و دماغ میں فاسد احساسات اور کردار میں فاسد اور ضعیف طرز عمل جنم لیتا ہے ۔ اور یہ کام وہ غلط عقائد کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے ذریعے کرتا ہے ۔ ایک تو حقیقت دنیا اور حقیقت آخرت کے بیان کے ذریعے کرتا ہے ۔ ” کہہ دیجئے دنیا کا سامان بہت قلیل ہے ۔ اور آخرت ان لوگوں کے بہت ہی خیر ہے جو متقی ہیں اور تم پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا ۔ “ اور دوسری حقیقت موت اور مقررہ وقت کے اٹل ہونے کے بارے میں کہ انسان جس قدر بھی احتیاط کرے اور جس قدر بھی جہاد سے دور بھاگے ‘ موت بہرحال اپنے وقت پر آپہنچتی ہے ۔ ” جہاں بھی تم ہوگے ‘ موت تمہیں پالے گی اگرچہ تم پختہ محلات میں بیٹھے ہو۔ “ پھر ان کے تصورات مسئلہ تقدیر کے بارے میں درست کئے جاتے ہیں کہ انسان کے عمل اور قضا وقدر کا تعلق کیا ہے ۔ ” اگر انکو کوئی بھلائی نصیب ہو تو کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچے تو وہ کہتے ہیں یہ تمہاری جانب سے ہے ۔ کہو سب کچھ اللہ کی جانب سے آتا ہے ۔ لیکن ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ بات کو سمجھنے والے نہیں ۔ اگر تمہیں کوئی بھلائی ملے تو یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اگر کوئی برائی تمہیں ملے تو یہ تمہارے نفس کی وجہ سے ہے ۔ “ (ز) قرآن کریم اللہ اور رسول ﷺ کے درمیان گہرے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ کہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت تصور ہوتی ہے ۔ پورے کا پورا قرآن مجید اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اس کے اندر پائی جانے والی مکمل وحدت فکر پہ غور کرو ‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن ایک ہی منبع سے آیا ہے ۔ “ ” جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ قرآن کریم پر غور نہیں کرتے ‘ اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کی جانب سے آتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف فکرپاتے ۔ “ (ح) ان آیات میں ہم دیکھتے ہیں کہ مدینہ میں افواہیں پھیلانے والوں کو صحیح طریق کار اپنانے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔ وہ طریق کار کسی بھی صحت مند جماعت کی قیادت اور تنظیم کے لئے مناسب ہے اور وہ یہ ہے کہ ” اگر وہ کسی واقعہ کو رسول اللہ ﷺ اور ان لوگوں کے پاس لاتے جن کے ہاتھ میں امور مملکت تھے تو جو لوگ اس سے صحیح نتائج اخذ کرسکتے تھے وہ ان کے علم میں آجاتا۔ “ (ط) ان آیات میں اس غلط طریق کار سے انہیں ڈرایا جاتا ہے اور ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ نے اپنا کرم کیا کہ ان کو ہدایت سے نوازا ” اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم لوگ شیطان کے متبع ہوتے مگر کم لوگ ۔ مدینہ کی اسلامی جماعت اور سوسائٹی کے جو حالات ان آیات ان آیات میں بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انکی وجہ سے اس جماعت کے اندر کس قدر انتشار اور بےچینی پیدا کردی گئی تھی ۔ ان حالات میں جب نبی کریم ﷺ کو جہاد و قتال کا حکم ہوا تو آپ کو کس قدر ہمہ جہت اور مختلف قسم کی جدوجہد کرنا پڑی ہوگی ۔ جب ہم یہ سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ سے کہتے کہ وہ جہاد کریں اگرچہ وہ اکیلے ہوں اور یہ کہ اہل ایمان کو جہاد پر اکسائیں ۔ آپ اپنی ذات ہی سے مسئول ہوں گے اور اللہ خود ہی معرکے میں حصہ لے گا ۔ ” پس اے نبی ﷺ تم اللہ کی راہ میں لڑو ‘ تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے ذمہ دار نہیں ہو ۔ البتہ اہل ایمان کو لڑنے کے لئے اکساؤ ‘ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے ۔ اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے ۔ “ اس انداز گفتگو سے اہل ایمان کے اندر بہت ہی زیادہ جوش پیدا ہوتا ‘ اور ان کی ہمتیں بلند ہوجاتیں کیونکہ اس میں فتح ونصرت کی پوری امید بھی تھی ‘ اور اللہ کی تائید اور اس کی قوت پر پورا یقین بھی ۔ قرآن کریم اس جماعت کو لے کر متعدد میدانوں میں برسرپیکار تھا ۔ پہلا معرکہ نفس انسانی کے اندر برپا تھا ۔ یہ معرکہ وساوس ‘ خواہشات نفسانی ‘ بدظنی ‘ غلط افکار ‘ جاہلی تصورات اور انسانی اخلاق کی کمزوریوں کے خلاف تھا۔ اگرچہ یہ کمزورریاں نفاق کی وجہ سے نہ ہوں بلکہ بشری کمزوریاں ہوں ۔ قرآن کریم اس جماعت کو ایسی پالیسی کے ساتھ چلا رہا تھا کہ وہ قوت اور شوکت کے مقام تک پہنچ جائے ۔ پھر اس کے اندر ہر قسم کی ہم آہنگی اور یک جہتی پیدا ہوجائے ۔ اور یہ نہایت ہی دور رس اغراض ومقاصد تھے ۔ اس لئے کہ اگر کسی جماعت کے اندر زور آور لوگ بھی ہوں تو بھی اسے بےفکر نہ ہونا چاہئے ۔ اگر اس کی صفوں میں کمزور لوگ موجود ہوں ۔ تو جماعت کے اندر مختلف سطح کے لوگوں کے اندر مکمل تناسق اور مکمل یک جہتی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خصوصا جب اسے مختلف قسم کے معرکوں سے سابقہ درپیش ہو۔ اس تبصرہ کے بعد اب مناسب یہ ہے کہ ہم اس سبق کی آیات پر تفصیلی بات چیت کریں ۔

النساء 4:70

(آیت) ” نمبر 69۔ 70 : یہ ایک ایسا سچ ہے جس سے تمام قلبی احساسات جاگ اٹھتے ہیں بشرطیکہ کسی دل میں بھلائی کا کوئی ذرہ موجود ہو ‘ بشرطیکہ نیکی کا کوئی بیج موجود ہو بشرطیکہ اس میں کسی باعزت مقام اور اللہ کے جوار رحمت میں داخل ہونے اور اللہ کی شان کریمی کی تلاش کا کوئی داعیہ ہو ۔ یہ مجلس ایسے ہی اولوالعزم اور بلندیوں کے متلاشیوں کے لئے ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم کے مقام تک کوئی شخص صرف اپنی اطاعت شعاری اور اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا ۔ بلکہ یہ تو صرف اللہ کا وسیع اور عمیق اور بھر پور فضل وکرم ہوتا ہے اور اس کا عمومی فیضان ہوتا ہے اور جس کی قسمت ہو اسے ڈھانپ لیتا ہے ۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم چند لمحے نبی ﷺ کے صحابہ کی محفل میں گزاریں ۔ یہ لوگ دنیا وآخرت میں دونوں میں حضور ﷺ کی محفل کے مشتاق تھے ۔ ان حضرات میں سے بعض تو ایسے تھے کہ وہ آپ کی جدائی کے تصور ہی سے پریشان ہوجاتے تھے ۔ حالانکہ آپ ﷺ اس وقت ان کے درمیان موجود تھے ۔ اسی لئے یہ آیات نازل ہوئیں ‘ جس سے ان کی محبت تروتازہ ہوگئی اور ان کا پاکیزہ جذبہ جوش میں آگیا ۔ اور ان کی پاک و شفاف محبت اور پاک ہوگئی ۔ ابن جریر نے حضرت سعید ابن جبیر سے روایت کی ہے ۔ انصار میں سے ایک شخص آیا جو بہت ہی پریشان تھا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ ” اے فلاں تم پریشان کیوں ہو ؟ اس نے جواب دیا اللہ کے نبی میں ایک معاملے میں سوچ رہا تھا ۔ آپ نے دریافت کیا کہ کیا تھا وہ ؟ اس نے کہا وہ یہ تھا کہ ہم صبح وشام آپ سے آکر ملتے ہیں آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھتے ہیں ۔ کل آپ نبیوں کے ہاں چلے جائیں گے تو ہم آپ سے ملاقات نہ کرسکیں گے ۔ حضرت نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اتنے میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر آئے ۔ (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین “۔ (4 : 69) نبی ﷺ نے اس شخص کے لئے پیغام بھیجا اور اسے خوشخبری دی ۔ حضرت ابوبکر ؓ ابن مردیہ نے حضرت عائشہ ؓ سے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا حضور آپ میرے لئے میری جان سے زیادہ محبوب ہیں ‘ آپ میرے لئے میرے اہل خاندان سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ میرے لئے میری بیٹیوں سے زیاہد محبوب ہیں اور جب میں گھر پہ ہوتا ہوں تو میں آپ کو یاد کرتا ہوں اور اٹھ کر آجاتا ہوں اور آپ کو دیکھ لیتا ہوں ‘ صبر نہیں کرسکتا ۔ جب میں اپنی موت اور آپ کی موت کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ آپ جنت میں داخل ہو کر نبیوں کے گروہ میں داخل ہوجائیں گے اور میں اگر جنت میں چلا بھی جاؤں تو شاید آپ کو دیکھ نہ سکوں۔ اس شخص کے ان خدشات کا آپ نے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین وحسن اولئک رفیقا “۔ (4 : 69) ” جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں ۔ “ صحیح مسلم نے ربیعہ کی حدیث نقل کی ہے ‘ فرماتے ہیں میں ایک رات نبی کریم ﷺ کے پاس تھا ۔ میں نے آپ کو وضو کے لئے پانی اور دوسری ضروریات فراہم کیں تو حضور ﷺ نے فرمایا : مانگو جو مانگتے ہو تو میں نے کہا کہ اے رسول خدا ﷺ میں تو جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا اس کے سوا کچھ اور ؟ تو اس نے کہا بس صرف یہی ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا آپ کثرت سجود کے ذریعے اپنے نفس کے خلاف میری معاونت کریں ۔ بخاری شریف میں متعدد طریقوں سے یہ روایت آئی ہے کہ ایک شخص ایک گروہ کو پسند کرتا ہے مگر ان سے ملاقات نہیں ہوتی تو اس کا کیا حال ہوگا ؟ آپ نے فرمایا آدمی انہیں لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کو وہ محبوب سمجھتا ہے ۔ یہی بات تھی ‘ جس میں ان کے دل و دماغ ہر وقت مشغول تھے ۔ محبت رسول اور آخرت میں صحبت رسول ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے دنیا میں بھی صحبت رسول کا مزہ چکھا ہوا تھا ۔ اور آج اس کا مزہ صرف وہی دل چکھ سکتا ہے جس کے اندر محبت رسول موجود ہو اور ہم لوگوں کے لئے اس آخری حدیث میں روشنی کی کرن ‘ اطمینان کا سامان اور امید کی شمع نظر آتی ہے ۔ درس 36 ایک نظر میں : میں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ اس سبق میں آیات کا جو مجموعہ دیا گیا ہے ‘ وہ مدینہ کے ابتدائی دور میں غزوہ احد کے بعد اور غزوہ خندق سے پہلے نازل ہوا ہوگا کیونکہ اس میں اسلامی سوسائٹی کی جو تصویر کشی کی گئی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابھی تک پختگی کے مقام تک نہ پہنچی تھی ۔ اس سوسائٹی میں مختلف قسم کے گروہ موجود تھے ‘ جن میں بعض ناپختہ تھے اور بعض ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ایمان ہی نہ لائے تھے اور محض منافقت کر رہے تھے ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی کو اپنی تعلیم و تربیت کی مزید ضرورت تھی اور اس سلسلے میں عظیم جدوجہد اور گہری توجہ کی ضرورت تھی ۔ اسے اس عظیم مقصد کے لئے تیار کرنے اور وہ بوجھ اٹھانے کا اہل بنانے کی ضرورت تھی جو اسلام نے اس کے کاندھوں پر ڈال دیا گیا تھا ‘ نیز اسلامی انقلاب کے لئے جس سطح کے لوگوں کی ضرورت تھی ‘ اس سطح تک اس سوسائٹی کو بلند کرنا ضروری تھا ۔ چاہے یہ تربیت اور اصلاح عقائد و تصورات کے میدان میں ہو ‘ یا مخالف کیمپوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے میدان میں ہو۔ اور یہ جو ہم کہہ رہے ہیں کہ بعض لوگ ناپختہ تھے ‘ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سوسائٹی میں نہایت ہی بلند معیار کے لوگوں کی کمی تھی ۔ یہاں ہم اس وقت کی اسلامی سوسائٹی کو مجموعی طور پر لے رہے ہیں ۔ اس سوسائٹی میں مختلف عناصر موجود تھے ‘ لیکن سب ایک جیسے نہیں تھے ۔ لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ اس سوسائٹی کے تمام عناصر کو بلند سطح تک لانے کی سعی کی جائے تاکہ اس کے افراد کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا ہو ۔ اس بات کا اظہار ان آیات وہدایات سے اچھی طرح ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ ان ہدایات کے گہرے مطالعے سے ہمیں اس وقت کی مسلم سوسائٹی کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے اور جماعت مسلمہ کے ایسے خدوخال سامنے آتے ہیں جن میں یہ سوسائٹی ایک انسانی سوسائٹی نظر آتی ہے ۔ اس کا یہ پہلو ہم اکثر اوقات نظر انداز کردیتے ہیں ۔ اس سوسائٹی میں ہمیں اعلیٰ معیار کی تربیت اور قوت بھی نظر آتی ہے اور اس میں بعض کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں ۔ یہ بھی نظر آتا ہے کہ قرآن کریم انسانی کمزوریوں ‘ جاہلیت کے باقی ماندہ آثار اور اسلام کے مخالف کیمپ کے ساتھ کس طرح معرکہ آرائی کرتا ہے اور یہ سب کام بیک وقت ہوتا ہے ۔ ہم قرآن کریم کے انداز تربیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو قرآن عالم واقعہ میں زندہ انسانوں کے ساتھ معامل کرتا دکھائی دیتا ہے اور یہ بھی نظر آتا ہے کہ تربیت کے میدان میں قرآن کریم نے کس قد کامیاب جدوجہد کرکے ایک ایسی سوسائٹی تخلیق کی جس کو جاہلیت کے معاشرہ سے لیا گیا تھا ‘ جس میں مختلف درجات اور مختلف طبقات کے لوگ موجود تھے اور جس میں مختلف خصوصیات کے لوگ موجود تھے قرآن نے انہیں اس قدر ہم آہنگ ‘ اس قدر بلند ‘ اس قدر متحد بنا دیا جس کا کامل رنگ حضور کے آخری دور میں صاف نظر آتا ہے اور یہ اس قدر بلند اور کامل ومکمل سوسائٹی تھی جس سے آگے جانا انسانوں کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ کسی انسانی سوسائٹی کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسانی نفس کے اندر کیا کیا صلاحیتیں ہیں ‘ اور دنیا کی بہترین جماعت اور سوسائٹی میں ان کا ظہور کس شکل میں ہوتا ہے ۔ وہ جماعت جس کی تربیت خود حضور ﷺ نے فرمایا تھی اور یہ تربیت تھی بھی قرآنی منہاج کے مطابق ۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا منہاج تربیت کیا تھا اور یہ کہ قرآن کریم انسانی نفوس کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا تھا ۔ اس کا رویہ اس کے ساتھ کس قدر پر لطف تھا اور جماعت کے اندر مختلف سطح کے لوگوں کو اس نے کس طرح باہم متحد اور منسلک کردیا تھا ۔ ہم قرآن کریم کا مجاز تربیت دیکھتے ہیں اور ہمیں عالم واقعہ میں انسانی طبیعت کے مطابق یہ تربیتی نظام کام کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس سے ایک فائدہ ہمیں یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ ہم اپنے حالات اور دوسری انسانی سوسائٹیوں کے حالات کا مقابلہ اس انسانی جماعت سے کریں جو اللہ نے برپا کی ہے اس کے بعد ان سوسائٹیوں کی انسانی اعتبار سے جو اصل صورت حال تھی اس کا مطالعہ کریں تاکہ اپنی کوتاہیوں کو دیکھ کر دور جدید میں اصلاح حال سے مایوس نہ ہوجائیں اور اپنی اصلاح کے لئے کوشش کرنا ترک نہ کردیں ۔ یہ بھی نہ ہو کہ اسلام کی یہ پہلی سوسائٹی ہمارے تصورات میں کہیں محض خیالی سو سائٹی ہی نہ بن جائے اور ہم کہیں یہ سعی ترک نہ کردیں کہ اس جماعت کے نقش قدم پر ہمیں چلنا ہے اور دور جدید میں ان جدید سوسائٹیوں کو موجودہ گراوٹ سے اونچا کرکے مقام بلند تک پہنچاتا ہے ۔ یہ عبرتوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے ۔ اور ظلال القرآن میں زندگی بسر کرکے جب ہم یہ ذخیرہ اخذ کریں گے تو یہ ہمارے لئے بھلائی کا ایک عظیم سامان ہوگا ۔ اس سبق میں دی گئی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی صفوں میں اس وقت درج ذیل قسم کے لوگ موجود تھے ۔ (الف) ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے آپ کو جہاد میں پیچھے رکھتے تھے اس سے دوسروے لوگوں میں بھی سستی پیدا ہوتی تھی اور اگر وہ جہاد کو نہ جاتے اور گھروں میں صحیح وسالم رہتے تو اسے اپنے لئے کامیابی سمجھتے تھے جبکہ جہاد میں شریک ہونے والے مسلمانوں کو اس جہاد میں مشکلات اور تکالیف پیش آتیں ۔ اسی طرح یہ لوگ اگر جہاد میں نہ جاتے اور مسلمانوں کو مال غنیمت مل جاتا تو ایسے لوگ محسوس کرتے کہ ان کو خسارہ ہوگیا کہ مال غنیمت میں سے ان کو حصہ نہ ملا ۔ اس طرح یہ لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو خریدتے تھے ۔ (ب) ان لوگوں میں بعض مہاجرین بھی تھے جب یہ لوگ مکہ میں تھے اور ان پر مظالم ہوتے تھے تو وہ جوش دفاع اور بہادری کے جذبے سے یہ کہتے تھے کہ کاش انہیں جہاد کرنے اور جنگ کرنے کی اجازت ہوتی لیکن وہاں ان کے لئے جنگ کرنا بالکل بند کردیا گیا تھا ۔ اب مدینہ طیبہ میں جب جہاد کا حکم آگیا اور یہ کہا گیا کہ کفار کے ساتھ جنگ شروع کر دو تو یہ لوگ تمنا کرنے لگے کہ کاش ابھی اور مہلت ملتی اور جنگ کا حکم نہ آیا ہوتا ۔ (ج) ان میں ایسے لوگ بھی تھے کہ اگر کوئی بھلائی نصیب ہوتی تو کہتے کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور مصیبت آتی تو کہتے کہ یہ مصیبت نبی ﷺ کی ذات کی وجہ سے ہے ۔ یہ بات وہ اس لئے نہ کہتے تھے کہ ان کا خدا تعالیٰ کی ذات پر پختہ ایمان اور بھروسہ تھا بلکہ وہ یہ باتیں اسلامی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کرتے تھے ۔ (د) بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ جو حضور ﷺ کے سامنے اپنے آپ کو نہایت مطیع فرمان ظاہر کرتے مگر جب آپ کے پاس سے چلے جاتے تو مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے اور اپنے ہم نشینوں کے ساتھ کوئی اور بات کرتے ۔ (ھ) بعض ایسے لوگ تھے جو افواہوں پر کان دھرتے تھے اور اسلامی صفوں میں انہیں پھیلاتے تھے ۔ اس طرح وہ اسلامی محاذ میں بےچینی پیدا کردیتے تھے حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ بات کو ثبوت تک پہنچاتے یا خود اسلامی قیادت کی طرف رجوع کرتے ۔ (ر) بعض لوگ ایسے بھی تھے جن کو اس بارے میں شک تھا کہ آیا ان ہدایات کا مصدر اور منبع اللہ کی ذات ہے یا نہیں ‘ وہ یہ سمجھتے تھے کہ بعض باتیں نبی ﷺ اپنی جانب سے کرتے ہیں ۔ (ز) بعض ایسے تھے جو منافقین کی جانب سے مدافعت کیا کرتے تھے جیسا کہ اگلے سبق کے شروع میں بعض نمونے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی کہ منافقین کے بارے میں جماعت مسلمہ دوگروہوں میں بٹ جائے ۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کے اسلامی تصور اور تنظیم میں ابھی تک مکمل ہم آہنگی نہ تھی اور یہ لوگ قیادت کے فرائض اور ایسے معاملات میں قیادت کے ساتھ رابطے کی ضرورت کو اچھی طرح نہ سمجھتے تھے ۔ یہ تمام عناصر جو اسلامی صفوں میں موجود تھے یہ منافقین کے گروہ تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ہی گروہ سے متعلق ہوں ‘ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مدینہ کی سوسائٹی میں یہ لوگ منافقین کے کئی گروہوں سے تعلق رکھتے ہوں یا ان لوگوں میں بعض ضعیف الایمان مسلمان بھی ہوں جن کی ایمانی حالت ابھی پختہ نہ ہوئی ہو ۔ ان میں سے کچھ لوگ مہاجریں بھی ہو سکتے ہیں ۔ بہرحال ایسے کئی گروپ اسلامی جماعت کے اندر موجود تھے اور یہ جماعت اس وقت مدینہ کے یہودیوں میں گھری ہوئی تھی جبکہ مکہ میں وہ مشرکین کے نرغے میں تھی اور پورے جزیرۃ العرب میں یہ جماعت متربصین کے نرغے میں تھی جو انتظار کر رہے تھے کہ اس تحریک کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ جماعت مسلسل مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی پیدا کر رہی تھی ۔ لہذا اندرونی صفوں میں تربیت وتطہیر کی ضرورت تھی اور لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کی ضرورت تھی ۔ ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے یہ داخلی جہاد اور تربیت کس نہج پر کی ۔ قرآن نے مسلمانوں کی صفوں سے مایوسی کو دور کیا اور جماعت کے ہر فرد کو مطمئن کردیا ۔ نہایت ہی گہرائی دقت اور صبر کے ساتھ اور اس تحریک کے قائد حضرت محمد ﷺ نہایت ہی صبر آزما حالات میں یہ تربیت فرما رہے تھے ۔ ذرا اس کے نمونے ملاحظہ فرمائیں ۔ (الف) حکم دیا جاتا ہے کہ ہر وقت محتاط رہو ۔ مجاہدین اور مومنین اکیلے نہ پھریں اور مہمات اور سرایا میں اکھٹے جائیں ۔ یعنی سرایا اور دستوں کی شکل میں یا سب کے سب فوج کی شکل میں نکلیں ۔ اس لئے کہ ان کے اردگرد کے علاقے میں مختلف قسم کی دشمنیاں ہیں اور دشمن گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں جن کے اندر منافقین ہیں یا ایسے دشمن ہیں جن کو منافقین پناہ دے رہے ہیں ۔ نیز یہودی بھی پورے جزیرۃ العرب کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جو موقع کے انتظار میں ہیں۔ (ب) بعض لوگ جو جہاد میں پیچھے رہ جاتے تھے ان کی بھی یہاں ایک قابل نفرت تصویر نظر آتی ہے ۔ ان کی ہمت جواب دے گئی ہے وہ مفاد پرست ہیں اور نہایت ہی متلون مزاج ہیں اور حالات کے ساتھ بہت جلد یہ لوگ بدل جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے حال پر تعجب ہوتا ہے کہ مکہ میں تو بہت ہی پرجوش تھے مگر اب جبکہ مدینہ میں جہاد فرض ہوگیا ہے تو وہ جزع وفزع کرتے ہیں ۔ (ج) یہاں اللہ کی راہ میں مقاتلین کے لئے اللہ کی جانب سے وعدہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ اللہ انہیں اجر عظیم عطا کرے گا اور انہیں دو اچھے انجاموں میں سے ایک ضرور ملے گا ۔ یعنی ” اور جو شخص اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے اور مارا جاتا ہے ‘ یا غالب ہوجاتا ہے تو دونوں صورتوں میں اللہ اسے اجر عظیم دے گا “۔ (د) قرآن کریم مقاصد کی بلندی ‘ اہداف کی پاکیزگی ‘ اور کامرانی کے مقاصد کی نشاندہی بھی کرتا ہے جس کی وجہ سے جہاد و قتال فرض کیا گیا ہے کہ یہ ” اللہ کے راستے میں ’ ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کی حمایت میں ہے ‘ جو ہر وقت یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس گاؤں سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی جانب سے کوئی ولی مقرر کر اور اپنی جانب سے ہمارے لئے کوئی مدد گار بنا ۔ “ (ھ) پھر قرآن مجید ان مقاصد کی سچائی کو بھی ریکارڈ پر لاتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ ان کی پشت پر سند قوی ہے اور ان مقاصد کا برسرباطل ہونا بھی بتاتا ہے جن کے لئے کافر لڑتے ہیں اور ان کی سند بھی ضعیف ہے ۔ ” وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ‘ پس تم شیطان کے دوستوں کے ساتھ لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے ۔ “ ّ (و) ان آیات میں قرآن کریم ان تصورات فاسدہ کا علاج بھی کرتا ہے جن کی وجہ سے دل و دماغ میں فاسد احساسات اور کردار میں فاسد اور ضعیف طرز عمل جنم لیتا ہے ۔ اور یہ کام وہ غلط عقائد کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے ذریعے کرتا ہے ۔ ایک تو حقیقت دنیا اور حقیقت آخرت کے بیان کے ذریعے کرتا ہے ۔ ” کہہ دیجئے دنیا کا سامان بہت قلیل ہے ۔ اور آخرت ان لوگوں کے بہت ہی خیر ہے جو متقی ہیں اور تم پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا ۔ “ اور دوسری حقیقت موت اور مقررہ وقت کے اٹل ہونے کے بارے میں کہ انسان جس قدر بھی احتیاط کرے اور جس قدر بھی جہاد سے دور بھاگے ‘ موت بہرحال اپنے وقت پر آپہنچتی ہے ۔ ” جہاں بھی تم ہوگے ‘ موت تمہیں پالے گی اگرچہ تم پختہ محلات میں بیٹھے ہو۔ “ پھر ان کے تصورات مسئلہ تقدیر کے بارے میں درست کئے جاتے ہیں کہ انسان کے عمل اور قضا وقدر کا تعلق کیا ہے ۔ ” اگر انکو کوئی بھلائی نصیب ہو تو کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچے تو وہ کہتے ہیں یہ تمہاری جانب سے ہے ۔ کہو سب کچھ اللہ کی جانب سے آتا ہے ۔ لیکن ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ بات کو سمجھنے والے نہیں ۔ اگر تمہیں کوئی بھلائی ملے تو یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اگر کوئی برائی تمہیں ملے تو یہ تمہارے نفس کی وجہ سے ہے ۔ “ (ز) قرآن کریم اللہ اور رسول ﷺ کے درمیان گہرے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ کہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت تصور ہوتی ہے ۔ پورے کا پورا قرآن مجید اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اس کے اندر پائی جانے والی مکمل وحدت فکر پہ غور کرو ‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن ایک ہی منبع سے آیا ہے ۔ “ ” جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ قرآن کریم پر غور نہیں کرتے ‘ اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کی جانب سے آتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف فکرپاتے ۔ “ (ح) ان آیات میں ہم دیکھتے ہیں کہ مدینہ میں افواہیں پھیلانے والوں کو صحیح طریق کار اپنانے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔ وہ طریق کار کسی بھی صحت مند جماعت کی قیادت اور تنظیم کے لئے مناسب ہے اور وہ یہ ہے کہ ” اگر وہ کسی واقعہ کو رسول اللہ ﷺ اور ان لوگوں کے پاس لاتے جن کے ہاتھ میں امور مملکت تھے تو جو لوگ اس سے صحیح نتائج اخذ کرسکتے تھے وہ ان کے علم میں آجاتا۔ “ (ط) ان آیات میں اس غلط طریق کار سے انہیں ڈرایا جاتا ہے اور ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ نے اپنا کرم کیا کہ ان کو ہدایت سے نوازا ” اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم لوگ شیطان کے متبع ہوتے مگر کم لوگ ۔ مدینہ کی اسلامی جماعت اور سوسائٹی کے جو حالات ان آیات ان آیات میں بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انکی وجہ سے اس جماعت کے اندر کس قدر انتشار اور بےچینی پیدا کردی گئی تھی ۔ ان حالات میں جب نبی کریم ﷺ کو جہاد و قتال کا حکم ہوا تو آپ کو کس قدر ہمہ جہت اور مختلف قسم کی جدوجہد کرنا پڑی ہوگی ۔ جب ہم یہ سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبی ﷺ سے کہتے کہ وہ جہاد کریں اگرچہ وہ اکیلے ہوں اور یہ کہ اہل ایمان کو جہاد پر اکسائیں ۔ آپ اپنی ذات ہی سے مسئول ہوں گے اور اللہ خود ہی معرکے میں حصہ لے گا ۔ ” پس اے نبی ﷺ تم اللہ کی راہ میں لڑو ‘ تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے ذمہ دار نہیں ہو ۔ البتہ اہل ایمان کو لڑنے کے لئے اکساؤ ‘ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے ۔ اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے ۔ “ اس انداز گفتگو سے اہل ایمان کے اندر بہت ہی زیادہ جوش پیدا ہوتا ‘ اور ان کی ہمتیں بلند ہوجاتیں کیونکہ اس میں فتح ونصرت کی پوری امید بھی تھی ‘ اور اللہ کی تائید اور اس کی قوت پر پورا یقین بھی ۔ قرآن کریم اس جماعت کو لے کر متعدد میدانوں میں برسرپیکار تھا ۔ پہلا معرکہ نفس انسانی کے اندر برپا تھا ۔ یہ معرکہ وساوس ‘ خواہشات نفسانی ‘ بدظنی ‘ غلط افکار ‘ جاہلی تصورات اور انسانی اخلاق کی کمزوریوں کے خلاف تھا۔ اگرچہ یہ کمزورریاں نفاق کی وجہ سے نہ ہوں بلکہ بشری کمزوریاں ہوں ۔ قرآن کریم اس جماعت کو ایسی پالیسی کے ساتھ چلا رہا تھا کہ وہ قوت اور شوکت کے مقام تک پہنچ جائے ۔ پھر اس کے اندر ہر قسم کی ہم آہنگی اور یک جہتی پیدا ہوجائے ۔ اور یہ نہایت ہی دور رس اغراض ومقاصد تھے ۔ اس لئے کہ اگر کسی جماعت کے اندر زور آور لوگ بھی ہوں تو بھی اسے بےفکر نہ ہونا چاہئے ۔ اگر اس کی صفوں میں کمزور لوگ موجود ہوں ۔ تو جماعت کے اندر مختلف سطح کے لوگوں کے اندر مکمل تناسق اور مکمل یک جہتی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خصوصا جب اسے مختلف قسم کے معرکوں سے سابقہ درپیش ہو۔ اس تبصرہ کے بعد اب مناسب یہ ہے کہ ہم اس سبق کی آیات پر تفصیلی بات چیت کریں ۔

النساء 4:71

(آیت) ” 71 تا 74۔ یہ اہل ایمان کو نصیحت ہے ۔ یہ عالم بالا کی قیادت سے ان کے لئے ہدایات ہیں ‘ جن کے اندر ان کے لئے منہاج عمل درج کیا گیا ہے ، مستقبل کا راستہ متعین کیا گیا ہے ۔ جب انسان قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے ‘ تو اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کتاب اہل ایمان کے لئے معرکہ جہاد کی عمومی اسکیم بھی تیار کرتی ہے ۔ جنگ کی اسٹریٹیجی بھی قرآن میں درج کی جا رہی ہے ۔ ایک دوسری آیت میں ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا قاتلو الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو کفار میں سے تمہارے قریب ہیں ۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں ۔ “ اسلامی تحریک کے لئے یہ عام منصوبہ ہے ۔ اس آیت میں اہل ایمان کو کہا جاتا ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔ یہ عملی اقدام کی اسکیم کا ایک حصہ ہے جسے ٹیکٹکس کہتے ہیں ۔ اور سورة انفال میں بھی بعض ایسی ہدایات دی گئی ہیں جو میدان جنگ کے بارے میں ہیں ۔ (آیت) ” فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبھم من خلفھم لعلھم یذکرون) ” پس اگر تم انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں ان کو بھاگتے دیکھ کر خود بھی بھاگ کھڑے ہوں اور شاید وہ بدعہدی کے انجام سے عبرت پکڑیں ۔ “ یہ ہے قرآن مجید ‘ اس میں مسلمانوں کو صرف عبادات اور مراسم عبودیت ہی نہیں سکھائے گئے اور نہ اس میں صرف انفرادی اسلامی آداب اور اخلاق ہی سکھائے گئے ہیں ۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا اس دین کے بارے میں ایسا فقیرانہ تصور ہے بلکہ یہ قرآن کریم لوگوں کی زندگی کو پورے طور پر (As A Whole) لیتا ہے ۔ یہ زندگی کے عملی واقعات میں سے ہر ایک واقعہ پر اپنا فیصلہ دیتا ہے ۔ اور پوری زندگی کے لئے مکمل ہدایات دیتا ہے ۔ یہ کتاب ایک مسلمان فرد اور ایک مسلمان معاشرے سے ‘ اس سے کم کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتی کہ انکی پوری پوری زندگی اس کتاب کے مطابق بسر ہو ۔ اس کتاب کے تصرف میں ہو ‘ اس کی ہدایات کے مطابق بسر ہو ۔ خصوصا یہ کتاب کسی مسلمان فرد اور سوسائٹی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی زندگی کے لئے متعدد نظام اختیار کرلیں جن کے اصول مختلف ہوں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ذاتی نظام ‘ عبادات اور اخلاق وآداب کا نظام تو وہ کتاب اللہ سے لے لیں ‘ اور اقتصادی ‘ اجتماعی ‘ سیاسی اور بین الاقوامی معاملات میں ہدایات کسی دوسری کتاب یا کسی انسان کے دیئے ہوئے تصورات سے اخذ کرلیں۔ اس کتاب کے مطابق انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی فکر اور تصورات اس کتاب اور اس کے منہاج سے اخذ کرے اور اپنی زندگی کے لئے تفصیلی احکام اس کتاب سے لے کر زندگی کے واقعات پر ان کا انطباق کرے ۔ اس لئے کہ زندگی کے اندر مسلسل نئے نئے مسائل اور حالات پیش آتے رہتے ہیں اور یہ احکام وہ اس طرح مستنبط کرے جس طرح اس سبق سے پہلے سبق میں اس کی تفصیلات خود اس کتاب نے دی ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ اس کتاب نے کھلا نہیں چھوڑا ورنہ ‘ نہ ایمان ہوگا اور نہ اسلام ۔ سرے سے اسلام اور ایمان ہوگا ہی نہیں اس لئے کہ جو لوگ اس کتاب کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کرتے وہ ایمان اور اسلام میں داخل ہی نہیں ہوتے اور گویا انہوں نے ارکان اسلام کا اعتراف ہی نہیں کیا ہے ۔ ان ارکان میں سے پہلا کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی شارع نہیں ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم جو اس معرکے میں مسلمانوں کے لئے میدان جنگ کا منصوبہ بناتا ہے جو اس وقت ان کے موقف کے ساتھ شامل تھا ‘ اور جو ان کے وجود کے لئے ضروری تھا کیونکہ ان کے اردگرد ہر طرف بیشمار مخالفتیں تھیں ‘ جن میں وہ گھرے ہوئے تھے ۔ اسلامی مملکت کے اندر یہودی اور منافقین مسلمانوں کے خلاف گہری سازشیں کر رہے تھے ۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ مومنین کو خبردار کرتے ہیں۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔ ثبات ثبت کی جمع ہے ‘ یعنی مجموعہ ‘ حکم یہ ہے کہ جہاد کے لئے اکیلے نکلنا جائز نہیں ہے ۔ جہاد کے لئے یا تو چھوٹے چھوٹے دستوں کی شکل میں نکلو یا بڑے لشکر اور فوج کی شکل میں نکلو ‘ جس طرح کا معرکہ درپیش ہو ‘ اس لئے کہ افراد کو دشمن سہولت سے پکڑ سکتا ہے ‘ اور اس وقت دشمن ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ اس وقت بالخصوص یہ حکم تھا ‘ اس لئے کہ اس دور میں دشمن اسلام کے مرکز میں پھیلے ہوئے تھے ۔ اور مدینہ میں یہودیوں اور منافقین کی صورت میں کھلے پھرتے تھے ۔ (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن فان اصابتکم مصیبۃ قال قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شیھدا (72) ولئن اصابکم فضل من اللہ لیقولن کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ یلیتنی کنت معھم فافوز فوزا عظیما “۔ (73) (4 : 72۔ 73) ” ہاں ‘ تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے ۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا ۔ اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا ۔ “ منظم دستوں کی شکل میں نکلو یا سب کے سب نکلو ‘ یہ نہ ہو کہ تم میں بعض لوگ تو نکلیں اور بعض لوگ سستی کریں ۔ جیسا کہ بعض لوگ سستی کر رہے ہیں ‘ اور ہر وقت تیار ہو ۔ صرف خارجی دشمن کے مقابلے میں نہیں بلکہ ان اندرونی دشمنوں کے مقابلے میں بھی ‘ ان لوگوں کے مقابلے میں بھی تیار رہو جو پہلو تہی کرتے ہیں ‘ لڑائی سے جی چراتے ہیں اور جو شکست خوردہ ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو جہاد سے روکتے اور سستی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی جنگ سے روکتے ہیں شکست خوردہ ذہنیت کے لوگوں کی عادت بالعموم ایسی ہی ہوتی ہے ۔ (لیبطئن) کا لفظ جو یہاں استعمال ہوا ہے اس کے اندر ایک قسم کا بھاری پن اور پھسلن پائی جاتی ہے ۔ اس کے حروف کی ادائیگی اور صوتی حرکت کے اندر بھی ایک قسم کی پھسلن پائی جاتی ہے ۔ اور جب زبان اس کے آخری اور مشدد حرف کو ادا کرتی ہے تو اس میں بھی کھچاؤ ہے ۔ ایک لفظ کے ساتھ اس پوری نفسیاتی کشمکش کو ادا کردیا گیا جو ایسے لوگوں کے ذہن میں ہوتی تھی اور خود لفظ جو اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا گیا ہے پوری کشمکش اپنے اندر رکھتا ہے ۔ جس طرح مفہوم بھاری ہے اس طرح لفظ بھی بھاری استعمال کیا گیا ہے اور یہ وہ کمال درجے کا اسلوب ادا ہے جو صرف قرآن کا خاصہ ہے ۔ (دیکھئے التصویر الفئی فی القرآن ‘ فصل تناسق) اس لفظ کے بعد پھر (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن “۔ (4 : 72) کے پورے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوری طرح سست روی کا شکار ہیں ‘ یہ لوگ معدودے چند ہیں اور ان کو اس پہلو تہی پر پوری طرح اصرار ہے ۔ وہ اس میں سخت کوشاں ہیں اور یہ بات ان تاکیدی حروف سے معلوم ہوتی ہے جو اس فقرے میں استعمال ہوئے ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ اپنے رویے پر مصر ہے اور اسلامی محاذ پر اس کا اثر پڑ رہا ہے اور بہت برا اثر ہو رہا ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ قرآن کریم ان کے بارے میں تفصیلی وضاحتیں کرتا ہے ۔ ان کے دلوں کے اندر پوشیدہ رازوں کا انکشاف کرتا ہے ۔ ان کی قابل نفرت حقیقت کی خوب تصویر کشی کرتا ہے اور یہ قرآن کریم کا عجیب معجزانہ انداز ہے ۔ یہ لو یہ لوگ تمہارے سامنے ہیں ‘ اپنے پورے ارادوں کے ساتھ ‘ اپنے مکمل مزاج اور اپنے اقوال وافعال کے ساتھ ‘ بالکل سامنے ‘ آنکھوں کے سامنے بالکل ننگے کھڑے ہیں ۔ گویا انہیں مائیکرو اسکوپ کے نیچے کھڑا کردیا گیا ہے ۔ اور یہ اندرونی مائیکرواسکوپ انکے دلی رازوں کا افشا کر رہا ہے اور ان کے تمام اغراض ومقاصد اس سے واضح ہو رہے ہیں ۔ دیکھو یہ لوگ ہیں ‘ جو عہد رسول اللہ ﷺ میں نظر آتے ہیں اور آپ کے عہد کے بعد ہر زمان ومکان میں یہ قسم یوں ہی باقی رہے گی ۔ یہ کیا ہیں ؟ کمزور ‘ منافق اور آئے دن بدلنے والے ‘ جن کے مقاصد نہایت ہی چھوٹے ہیں ‘ نہایت پیش پا افتادہ ‘ جو اپنے ذاتی مفادات اور شخصی فائدے سے اعلی کسی اور فائدے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔ وہ اپنی شخصیت سے اونچے افق کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ‘ یہ لوگ پوری دنیا کو ایک ہی محور کے گرد گھماتے ہیں اور یہ محور ان کی ذات اور ذاتی مفادات کا محور ہے ‘ اسے وہ کبھی نہیں بھولتے ۔ یہ لوگ سست اور ڈھیلے ہیں اور آگے بڑھنے والے نہیں ہیں کہ اپنے اصل مقام پر جا کھڑے ہوں ‘ اور نفع ونقصان کے بارے میں ان کا جو تصور ہے وہ گھٹیا درجے کے منافقین کے لائق ہے ۔ یہ لوگ معرکہ جہاد سے پیچھے رہنے والے ہیں ‘ اگر مجاہدین پر مصیبتیں آجائیں اور وہ مبتلائے مشکلات ہوجائیں جس طرح اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے تو یہ پسماندہ لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ جہاد سے ان کا فرار اور مشکلات سے ان کا بچ نکلنا ان کے لئے مفید ہے ۔ (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن فان اصابتکم مصیبۃ قال قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شیھدا (4 : 72۔ ) ” ہاں ‘ تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے ۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا ۔ ایسے لوگوں کو اس بات سے شرم نہیں آتی کہ وہ بزدلی کی اس زندگی کو اللہ کی نعمت تصور کرتے ہیں اور پھر وہ اسے اس اللہ کا فضل کہتے ہیں جس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ لوگ پیچھے بیٹھ گئے ہیں ایسے حالات میں اگر کوئی بچ بھی نکلے تو وہ کبھی نعمت خداوندی نہیں پا سکتا کیونکہ اللہ کی نعمت اللہ کے حکم کی خلاف ورزیاں کرکے نہیں ملتی اگرچہ بظاہر وہ صاحب نجات نظر آئیں یہ بیشک ایک نعمت ہوگی مگر ان لوگوں کے نزدیک جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ نہیں کرتے ۔ یہ ان لوگوں کے نزدک بچنا ہے جو یہ نہیں سمجھتے کہ ان کا مقصد تخلیق کیا ہے ؟ اور وہ اطاعت کرکے اور جہاد کرکے اللہ کی غلامی نہیں کرتے تاکہ وہ اسلامی نظام حیات کو دنیا میں قائم کریں ۔ یہ ان لوگوں کے نزدیک نعمت ہے جن کی نظریں اپنے قدموں کے آگے بلند آفاق پر نہیں پڑ سکتیں ۔ یہ چیونٹیوں کی طرح کے لوگ ہیں ‘ یہ نجات ان لوگوں کے نزدیک نعمت ہے جو اس بات کا احساس نہیں رکھتے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کی مشکلات برداشت کرنا اسلامی نظام کے قیام کے لئے اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور یہ اللہ کا خصوصی انتخاب ہے جس کے ذریعے وہ جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے منتخب کرلیتا ہے تاکہ وہ دنیا کی اس زندگی میں بشری کمزوریوں پر قابو پائیں ۔ اس طرح وہ انہیں دنیا کی قید سے رہائی دلاتا ہے ۔ وہ ایک برگزیدہ زندگی پر فائز ہوجاتے ہیں ‘ وہ زندگی کے مالک ہوجاتے ہیں اور زندگی ان کی مالک نہیں ہوتی ۔ تاکہ یہ آزادی اور یہ سربلندی ان کو ان بلندیوں تک لے جائے جو آخرت میں شہداء کے لئے مقرر ہیں ۔ بیشک سب لوگ مرتے ہیں لیکن اللہ کی راہ میں جان دینے والے ہی شہید ہوتے ہیں اور یہ اللہ کا فضل عظیم ہے۔ اگر صورت حال دوسری پیش آجائے اور مجاہدین کامیاب ہوجائیں ‘ وہ جو یہ تیاری کرکے نکلے تھے کہ اللہ کی راہ میں انہیں جو پیش آتا ہے ‘ آئے اور انہیں اللہ کا فضل نصیب ہوجائے ‘ فتح اور غنیمت کی صورت میں تو یہ پیچھے رہنے والے لوگ سخت نادم ہوتے ہیں کہ وہ کیوں نہ اس نفع بخش معرکے میں شریک ہوئے ۔ اس فائدے میں ان کے نزدیک نہایت ہی گھٹیا معیار ہوتا ہے ‘ خالص دنیاوی معیار ۔ (آیت) ” ولئن اصابکم فضل من اللہ لیقولن کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ یلیتنی کنت معھم فافوز فوزا عظیما “۔ (4 : 73) ” اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا۔ یہ نہایت ہی گھٹیا خواہش ہے محض مال غنیمت کی خواہش اور اسے یہ شخص فوز عظیم سے تعبیر کرتا ہے ۔ مومن بھی مال غنیمت کے ساتھ واپسی کو برا تو نہیں سمجھتا بلکہ اس سے توقع تو یہی ہے کہ وہ بھی اللہ سے ایسی کامیابی مانگے ۔ اور مومن سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ مشکلات کی طلب کرے بلکہ مطلوب تو یہ ہے کہ وہ عافیت کی دعا کرے ۔ مومن کا مجموعی تصور ان متخلفین کے تصور سے بالکل جدا ہوتا ہے ۔ اس لئے ان لوگوں کے تصور کو قرآن کریم نہایت ہی مکروہ صورت میں پیش کرتا ہے جو قابل نفرت ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن بھی مشکلات اور مصائب کی تمنا نہیں کرتا بلکہ عافیت کا طلبگار ہوتا ہے لیکن اسے جب جہاد کی طرف بلایا جائے تو وہ بوجھل قدموں کے ساتھ آگے نہیں بڑھتا ۔ جب وہ نکلتا ہے تو وہ دو اچھے انجاموں میں سے ایک کا طالب ہوتا ہے یا نصرت و کامرانی کا یاشہادت فی سبیل اللہ کا اور یہ دونوں ہی اللہ کے فضل میں سے ہیں اور دونوں ہی فوز عظیم ہیں ۔ اہل ایمان کی قسمت میں یا تو شہادت آجاتی ہے تو پھر بھی وہ راضی برضا ہوتے ہیں اور اس گروہ میں جاتے ہیں جو شہادت کے مقام پر فائز ہوا ۔ یا وہ زندہ مال غنیمت کے ساتھ واپس آتا ہے تو اس صورت میں وہ اللہ کے فضل پر شکر گزار ہوتا ہے اور اس کی جانب سے آئی ہوئی فتح پر خوش ہوتا ہے مگر یہ خوشی محض زندہ بچ جانے کی وجہ سے نہیں ہوتی ۔ یہ ہے وہ اعلی افق جس کے بارے میں اللہ کا ارادہ ہے کہ اہل ایمان اپنی نظریں اس پر رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ ان اہل ایمان میں سے اس فریق کی تصویر ان کے سامنے کھینچتے ہیں اور یہ انکشاف فرماتے ہیں کہ تمہاری صفوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو جہاد سے پہلو تہی کرنے والے ہیں اور یہ انکشاف اس لئے کیا جاتا ہے کہ اہل ایمان ان سے چوکنے رہیں جس طرح وہ ظاہری دشمنوں سے چوکنے رہتے ہیں۔ اس طرح متنبہ کرنے اور اس دور میں جماعت مسلمہ کو مواقع عبرت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم ایک ایسے انسانی ماڈل کا ایک عام نمونہ یہاں منقش کرتا ہے ‘ جو ہر دور اور ہر جگہ بار بار سامنے آتا رہتا ہے اور یہ تصویر کشی قرآن مجید چند الفاظ کے اندر کرتا ہے ۔ یہ حقیقت جماعت مسلمہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہئے اس لئے کہ اسلامی حلقوں کے اندر ہمیشہ ایسے لوگ پائے جاسکتے ہیں ۔ جماعت کو ایسے لوگوں کی حرکات سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنی تیاری کو ہر حال میں مکمل رکھنا اور آگے بڑھنا چاہئے ۔ ہر وقت تربیت ہدایت اور جہد مسلسل کے لئے تیار رہنا چاہئے تاکہ جماعت تمام نقائص سے پاک ہو۔ اپنی کمزوریوں کا مداوا ہر وقت ہوتا رہے اور جماعت کے عملی اقدامات ‘ اس کے نظریات اور اس کی تمام حرکات کے درمیان باہم ربط ہو۔ اب اگلی آیت میں یہ سعی کی جاتی ہے کہ یہ سست رو ‘ پہلو تہی کرنے والوں اور دنیاوی گندگیوں میں آلودہ لوگوں کو قدرے اٹھایا جائے اور ان کے حس و شعور میں اس دنیا سے آگے آخرت کا شعور پیدا کیا جائے ۔ ان کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ دنیا کو فروخت کرکے آخرت کو خریدنے والے بنیں ‘ اور اس کام میں انہیں دو اچھے انجاموں میں سے ایک ضرور نصیب ہوگا یا تو فتح ونصرت سے ہمکنار ہوں گے یا شہادت ان کو نصیب ہوگی ۔

النساء 4:72

(آیت) ” 71 تا 74۔ یہ اہل ایمان کو نصیحت ہے ۔ یہ عالم بالا کی قیادت سے ان کے لئے ہدایات ہیں ‘ جن کے اندر ان کے لئے منہاج عمل درج کیا گیا ہے ، مستقبل کا راستہ متعین کیا گیا ہے ۔ جب انسان قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے ‘ تو اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کتاب اہل ایمان کے لئے معرکہ جہاد کی عمومی اسکیم بھی تیار کرتی ہے ۔ جنگ کی اسٹریٹیجی بھی قرآن میں درج کی جا رہی ہے ۔ ایک دوسری آیت میں ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا قاتلو الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو کفار میں سے تمہارے قریب ہیں ۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں ۔ “ اسلامی تحریک کے لئے یہ عام منصوبہ ہے ۔ اس آیت میں اہل ایمان کو کہا جاتا ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔ یہ عملی اقدام کی اسکیم کا ایک حصہ ہے جسے ٹیکٹکس کہتے ہیں ۔ اور سورة انفال میں بھی بعض ایسی ہدایات دی گئی ہیں جو میدان جنگ کے بارے میں ہیں ۔ (آیت) ” فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبھم من خلفھم لعلھم یذکرون) ” پس اگر تم انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں ان کو بھاگتے دیکھ کر خود بھی بھاگ کھڑے ہوں اور شاید وہ بدعہدی کے انجام سے عبرت پکڑیں ۔ “ یہ ہے قرآن مجید ‘ اس میں مسلمانوں کو صرف عبادات اور مراسم عبودیت ہی نہیں سکھائے گئے اور نہ اس میں صرف انفرادی اسلامی آداب اور اخلاق ہی سکھائے گئے ہیں ۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا اس دین کے بارے میں ایسا فقیرانہ تصور ہے بلکہ یہ قرآن کریم لوگوں کی زندگی کو پورے طور پر (As A Whole) لیتا ہے ۔ یہ زندگی کے عملی واقعات میں سے ہر ایک واقعہ پر اپنا فیصلہ دیتا ہے ۔ اور پوری زندگی کے لئے مکمل ہدایات دیتا ہے ۔ یہ کتاب ایک مسلمان فرد اور ایک مسلمان معاشرے سے ‘ اس سے کم کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتی کہ انکی پوری پوری زندگی اس کتاب کے مطابق بسر ہو ۔ اس کتاب کے تصرف میں ہو ‘ اس کی ہدایات کے مطابق بسر ہو ۔ خصوصا یہ کتاب کسی مسلمان فرد اور سوسائٹی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی زندگی کے لئے متعدد نظام اختیار کرلیں جن کے اصول مختلف ہوں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ذاتی نظام ‘ عبادات اور اخلاق وآداب کا نظام تو وہ کتاب اللہ سے لے لیں ‘ اور اقتصادی ‘ اجتماعی ‘ سیاسی اور بین الاقوامی معاملات میں ہدایات کسی دوسری کتاب یا کسی انسان کے دیئے ہوئے تصورات سے اخذ کرلیں۔ اس کتاب کے مطابق انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی فکر اور تصورات اس کتاب اور اس کے منہاج سے اخذ کرے اور اپنی زندگی کے لئے تفصیلی احکام اس کتاب سے لے کر زندگی کے واقعات پر ان کا انطباق کرے ۔ اس لئے کہ زندگی کے اندر مسلسل نئے نئے مسائل اور حالات پیش آتے رہتے ہیں اور یہ احکام وہ اس طرح مستنبط کرے جس طرح اس سبق سے پہلے سبق میں اس کی تفصیلات خود اس کتاب نے دی ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ اس کتاب نے کھلا نہیں چھوڑا ورنہ ‘ نہ ایمان ہوگا اور نہ اسلام ۔ سرے سے اسلام اور ایمان ہوگا ہی نہیں اس لئے کہ جو لوگ اس کتاب کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کرتے وہ ایمان اور اسلام میں داخل ہی نہیں ہوتے اور گویا انہوں نے ارکان اسلام کا اعتراف ہی نہیں کیا ہے ۔ ان ارکان میں سے پہلا کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی شارع نہیں ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم جو اس معرکے میں مسلمانوں کے لئے میدان جنگ کا منصوبہ بناتا ہے جو اس وقت ان کے موقف کے ساتھ شامل تھا ‘ اور جو ان کے وجود کے لئے ضروری تھا کیونکہ ان کے اردگرد ہر طرف بیشمار مخالفتیں تھیں ‘ جن میں وہ گھرے ہوئے تھے ۔ اسلامی مملکت کے اندر یہودی اور منافقین مسلمانوں کے خلاف گہری سازشیں کر رہے تھے ۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ مومنین کو خبردار کرتے ہیں۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔ ثبات ثبت کی جمع ہے ‘ یعنی مجموعہ ‘ حکم یہ ہے کہ جہاد کے لئے اکیلے نکلنا جائز نہیں ہے ۔ جہاد کے لئے یا تو چھوٹے چھوٹے دستوں کی شکل میں نکلو یا بڑے لشکر اور فوج کی شکل میں نکلو ‘ جس طرح کا معرکہ درپیش ہو ‘ اس لئے کہ افراد کو دشمن سہولت سے پکڑ سکتا ہے ‘ اور اس وقت دشمن ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ اس وقت بالخصوص یہ حکم تھا ‘ اس لئے کہ اس دور میں دشمن اسلام کے مرکز میں پھیلے ہوئے تھے ۔ اور مدینہ میں یہودیوں اور منافقین کی صورت میں کھلے پھرتے تھے ۔ (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن فان اصابتکم مصیبۃ قال قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شیھدا (72) ولئن اصابکم فضل من اللہ لیقولن کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ یلیتنی کنت معھم فافوز فوزا عظیما “۔ (73) (4 : 72۔ 73) ” ہاں ‘ تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے ۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا ۔ اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا ۔ “ منظم دستوں کی شکل میں نکلو یا سب کے سب نکلو ‘ یہ نہ ہو کہ تم میں بعض لوگ تو نکلیں اور بعض لوگ سستی کریں ۔ جیسا کہ بعض لوگ سستی کر رہے ہیں ‘ اور ہر وقت تیار ہو ۔ صرف خارجی دشمن کے مقابلے میں نہیں بلکہ ان اندرونی دشمنوں کے مقابلے میں بھی ‘ ان لوگوں کے مقابلے میں بھی تیار رہو جو پہلو تہی کرتے ہیں ‘ لڑائی سے جی چراتے ہیں اور جو شکست خوردہ ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو جہاد سے روکتے اور سستی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی جنگ سے روکتے ہیں شکست خوردہ ذہنیت کے لوگوں کی عادت بالعموم ایسی ہی ہوتی ہے ۔ (لیبطئن) کا لفظ جو یہاں استعمال ہوا ہے اس کے اندر ایک قسم کا بھاری پن اور پھسلن پائی جاتی ہے ۔ اس کے حروف کی ادائیگی اور صوتی حرکت کے اندر بھی ایک قسم کی پھسلن پائی جاتی ہے ۔ اور جب زبان اس کے آخری اور مشدد حرف کو ادا کرتی ہے تو اس میں بھی کھچاؤ ہے ۔ ایک لفظ کے ساتھ اس پوری نفسیاتی کشمکش کو ادا کردیا گیا جو ایسے لوگوں کے ذہن میں ہوتی تھی اور خود لفظ جو اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا گیا ہے پوری کشمکش اپنے اندر رکھتا ہے ۔ جس طرح مفہوم بھاری ہے اس طرح لفظ بھی بھاری استعمال کیا گیا ہے اور یہ وہ کمال درجے کا اسلوب ادا ہے جو صرف قرآن کا خاصہ ہے ۔ (دیکھئے التصویر الفئی فی القرآن ‘ فصل تناسق) اس لفظ کے بعد پھر (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن “۔ (4 : 72) کے پورے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوری طرح سست روی کا شکار ہیں ‘ یہ لوگ معدودے چند ہیں اور ان کو اس پہلو تہی پر پوری طرح اصرار ہے ۔ وہ اس میں سخت کوشاں ہیں اور یہ بات ان تاکیدی حروف سے معلوم ہوتی ہے جو اس فقرے میں استعمال ہوئے ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ اپنے رویے پر مصر ہے اور اسلامی محاذ پر اس کا اثر پڑ رہا ہے اور بہت برا اثر ہو رہا ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ قرآن کریم ان کے بارے میں تفصیلی وضاحتیں کرتا ہے ۔ ان کے دلوں کے اندر پوشیدہ رازوں کا انکشاف کرتا ہے ۔ ان کی قابل نفرت حقیقت کی خوب تصویر کشی کرتا ہے اور یہ قرآن کریم کا عجیب معجزانہ انداز ہے ۔ یہ لو یہ لوگ تمہارے سامنے ہیں ‘ اپنے پورے ارادوں کے ساتھ ‘ اپنے مکمل مزاج اور اپنے اقوال وافعال کے ساتھ ‘ بالکل سامنے ‘ آنکھوں کے سامنے بالکل ننگے کھڑے ہیں ۔ گویا انہیں مائیکرو اسکوپ کے نیچے کھڑا کردیا گیا ہے ۔ اور یہ اندرونی مائیکرواسکوپ انکے دلی رازوں کا افشا کر رہا ہے اور ان کے تمام اغراض ومقاصد اس سے واضح ہو رہے ہیں ۔ دیکھو یہ لوگ ہیں ‘ جو عہد رسول اللہ ﷺ میں نظر آتے ہیں اور آپ کے عہد کے بعد ہر زمان ومکان میں یہ قسم یوں ہی باقی رہے گی ۔ یہ کیا ہیں ؟ کمزور ‘ منافق اور آئے دن بدلنے والے ‘ جن کے مقاصد نہایت ہی چھوٹے ہیں ‘ نہایت پیش پا افتادہ ‘ جو اپنے ذاتی مفادات اور شخصی فائدے سے اعلی کسی اور فائدے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔ وہ اپنی شخصیت سے اونچے افق کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ‘ یہ لوگ پوری دنیا کو ایک ہی محور کے گرد گھماتے ہیں اور یہ محور ان کی ذات اور ذاتی مفادات کا محور ہے ‘ اسے وہ کبھی نہیں بھولتے ۔ یہ لوگ سست اور ڈھیلے ہیں اور آگے بڑھنے والے نہیں ہیں کہ اپنے اصل مقام پر جا کھڑے ہوں ‘ اور نفع ونقصان کے بارے میں ان کا جو تصور ہے وہ گھٹیا درجے کے منافقین کے لائق ہے ۔ یہ لوگ معرکہ جہاد سے پیچھے رہنے والے ہیں ‘ اگر مجاہدین پر مصیبتیں آجائیں اور وہ مبتلائے مشکلات ہوجائیں جس طرح اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے تو یہ پسماندہ لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ جہاد سے ان کا فرار اور مشکلات سے ان کا بچ نکلنا ان کے لئے مفید ہے ۔ (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن فان اصابتکم مصیبۃ قال قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شیھدا (4 : 72۔ ) ” ہاں ‘ تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے ۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا ۔ ایسے لوگوں کو اس بات سے شرم نہیں آتی کہ وہ بزدلی کی اس زندگی کو اللہ کی نعمت تصور کرتے ہیں اور پھر وہ اسے اس اللہ کا فضل کہتے ہیں جس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ لوگ پیچھے بیٹھ گئے ہیں ایسے حالات میں اگر کوئی بچ بھی نکلے تو وہ کبھی نعمت خداوندی نہیں پا سکتا کیونکہ اللہ کی نعمت اللہ کے حکم کی خلاف ورزیاں کرکے نہیں ملتی اگرچہ بظاہر وہ صاحب نجات نظر آئیں یہ بیشک ایک نعمت ہوگی مگر ان لوگوں کے نزدیک جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ نہیں کرتے ۔ یہ ان لوگوں کے نزدک بچنا ہے جو یہ نہیں سمجھتے کہ ان کا مقصد تخلیق کیا ہے ؟ اور وہ اطاعت کرکے اور جہاد کرکے اللہ کی غلامی نہیں کرتے تاکہ وہ اسلامی نظام حیات کو دنیا میں قائم کریں ۔ یہ ان لوگوں کے نزدیک نعمت ہے جن کی نظریں اپنے قدموں کے آگے بلند آفاق پر نہیں پڑ سکتیں ۔ یہ چیونٹیوں کی طرح کے لوگ ہیں ‘ یہ نجات ان لوگوں کے نزدیک نعمت ہے جو اس بات کا احساس نہیں رکھتے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کی مشکلات برداشت کرنا اسلامی نظام کے قیام کے لئے اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور یہ اللہ کا خصوصی انتخاب ہے جس کے ذریعے وہ جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے منتخب کرلیتا ہے تاکہ وہ دنیا کی اس زندگی میں بشری کمزوریوں پر قابو پائیں ۔ اس طرح وہ انہیں دنیا کی قید سے رہائی دلاتا ہے ۔ وہ ایک برگزیدہ زندگی پر فائز ہوجاتے ہیں ‘ وہ زندگی کے مالک ہوجاتے ہیں اور زندگی ان کی مالک نہیں ہوتی ۔ تاکہ یہ آزادی اور یہ سربلندی ان کو ان بلندیوں تک لے جائے جو آخرت میں شہداء کے لئے مقرر ہیں ۔ بیشک سب لوگ مرتے ہیں لیکن اللہ کی راہ میں جان دینے والے ہی شہید ہوتے ہیں اور یہ اللہ کا فضل عظیم ہے۔ اگر صورت حال دوسری پیش آجائے اور مجاہدین کامیاب ہوجائیں ‘ وہ جو یہ تیاری کرکے نکلے تھے کہ اللہ کی راہ میں انہیں جو پیش آتا ہے ‘ آئے اور انہیں اللہ کا فضل نصیب ہوجائے ‘ فتح اور غنیمت کی صورت میں تو یہ پیچھے رہنے والے لوگ سخت نادم ہوتے ہیں کہ وہ کیوں نہ اس نفع بخش معرکے میں شریک ہوئے ۔ اس فائدے میں ان کے نزدیک نہایت ہی گھٹیا معیار ہوتا ہے ‘ خالص دنیاوی معیار ۔ (آیت) ” ولئن اصابکم فضل من اللہ لیقولن کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ یلیتنی کنت معھم فافوز فوزا عظیما “۔ (4 : 73) ” اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا۔ یہ نہایت ہی گھٹیا خواہش ہے محض مال غنیمت کی خواہش اور اسے یہ شخص فوز عظیم سے تعبیر کرتا ہے ۔ مومن بھی مال غنیمت کے ساتھ واپسی کو برا تو نہیں سمجھتا بلکہ اس سے توقع تو یہی ہے کہ وہ بھی اللہ سے ایسی کامیابی مانگے ۔ اور مومن سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ مشکلات کی طلب کرے بلکہ مطلوب تو یہ ہے کہ وہ عافیت کی دعا کرے ۔ مومن کا مجموعی تصور ان متخلفین کے تصور سے بالکل جدا ہوتا ہے ۔ اس لئے ان لوگوں کے تصور کو قرآن کریم نہایت ہی مکروہ صورت میں پیش کرتا ہے جو قابل نفرت ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن بھی مشکلات اور مصائب کی تمنا نہیں کرتا بلکہ عافیت کا طلبگار ہوتا ہے لیکن اسے جب جہاد کی طرف بلایا جائے تو وہ بوجھل قدموں کے ساتھ آگے نہیں بڑھتا ۔ جب وہ نکلتا ہے تو وہ دو اچھے انجاموں میں سے ایک کا طالب ہوتا ہے یا نصرت و کامرانی کا یاشہادت فی سبیل اللہ کا اور یہ دونوں ہی اللہ کے فضل میں سے ہیں اور دونوں ہی فوز عظیم ہیں ۔ اہل ایمان کی قسمت میں یا تو شہادت آجاتی ہے تو پھر بھی وہ راضی برضا ہوتے ہیں اور اس گروہ میں جاتے ہیں جو شہادت کے مقام پر فائز ہوا ۔ یا وہ زندہ مال غنیمت کے ساتھ واپس آتا ہے تو اس صورت میں وہ اللہ کے فضل پر شکر گزار ہوتا ہے اور اس کی جانب سے آئی ہوئی فتح پر خوش ہوتا ہے مگر یہ خوشی محض زندہ بچ جانے کی وجہ سے نہیں ہوتی ۔ یہ ہے وہ اعلی افق جس کے بارے میں اللہ کا ارادہ ہے کہ اہل ایمان اپنی نظریں اس پر رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ ان اہل ایمان میں سے اس فریق کی تصویر ان کے سامنے کھینچتے ہیں اور یہ انکشاف فرماتے ہیں کہ تمہاری صفوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو جہاد سے پہلو تہی کرنے والے ہیں اور یہ انکشاف اس لئے کیا جاتا ہے کہ اہل ایمان ان سے چوکنے رہیں جس طرح وہ ظاہری دشمنوں سے چوکنے رہتے ہیں۔ اس طرح متنبہ کرنے اور اس دور میں جماعت مسلمہ کو مواقع عبرت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم ایک ایسے انسانی ماڈل کا ایک عام نمونہ یہاں منقش کرتا ہے ‘ جو ہر دور اور ہر جگہ بار بار سامنے آتا رہتا ہے اور یہ تصویر کشی قرآن مجید چند الفاظ کے اندر کرتا ہے ۔ یہ حقیقت جماعت مسلمہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہئے اس لئے کہ اسلامی حلقوں کے اندر ہمیشہ ایسے لوگ پائے جاسکتے ہیں ۔ جماعت کو ایسے لوگوں کی حرکات سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنی تیاری کو ہر حال میں مکمل رکھنا اور آگے بڑھنا چاہئے ۔ ہر وقت تربیت ہدایت اور جہد مسلسل کے لئے تیار رہنا چاہئے تاکہ جماعت تمام نقائص سے پاک ہو۔ اپنی کمزوریوں کا مداوا ہر وقت ہوتا رہے اور جماعت کے عملی اقدامات ‘ اس کے نظریات اور اس کی تمام حرکات کے درمیان باہم ربط ہو۔ اب اگلی آیت میں یہ سعی کی جاتی ہے کہ یہ سست رو ‘ پہلو تہی کرنے والوں اور دنیاوی گندگیوں میں آلودہ لوگوں کو قدرے اٹھایا جائے اور ان کے حس و شعور میں اس دنیا سے آگے آخرت کا شعور پیدا کیا جائے ۔ ان کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ دنیا کو فروخت کرکے آخرت کو خریدنے والے بنیں ‘ اور اس کام میں انہیں دو اچھے انجاموں میں سے ایک ضرور نصیب ہوگا یا تو فتح ونصرت سے ہمکنار ہوں گے یا شہادت ان کو نصیب ہوگی ۔

النساء 4:73

(آیت) ” 71 تا 74۔ یہ اہل ایمان کو نصیحت ہے ۔ یہ عالم بالا کی قیادت سے ان کے لئے ہدایات ہیں ‘ جن کے اندر ان کے لئے منہاج عمل درج کیا گیا ہے ، مستقبل کا راستہ متعین کیا گیا ہے ۔ جب انسان قرآن مجید کا مطالعہ کرتا ہے ‘ تو اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کتاب اہل ایمان کے لئے معرکہ جہاد کی عمومی اسکیم بھی تیار کرتی ہے ۔ جنگ کی اسٹریٹیجی بھی قرآن میں درج کی جا رہی ہے ۔ ایک دوسری آیت میں ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا قاتلو الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظۃ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ان لوگوں کے ساتھ قتال کرو جو کفار میں سے تمہارے قریب ہیں ۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی پائیں ۔ “ اسلامی تحریک کے لئے یہ عام منصوبہ ہے ۔ اس آیت میں اہل ایمان کو کہا جاتا ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔ یہ عملی اقدام کی اسکیم کا ایک حصہ ہے جسے ٹیکٹکس کہتے ہیں ۔ اور سورة انفال میں بھی بعض ایسی ہدایات دی گئی ہیں جو میدان جنگ کے بارے میں ہیں ۔ (آیت) ” فاما تثقفنھم فی الحرب فشردبھم من خلفھم لعلھم یذکرون) ” پس اگر تم انہیں لڑائی میں پاؤ تو انہیں ایسی سزا دو کہ جو لوگ ان کے پس پشت ہیں ان کو بھاگتے دیکھ کر خود بھی بھاگ کھڑے ہوں اور شاید وہ بدعہدی کے انجام سے عبرت پکڑیں ۔ “ یہ ہے قرآن مجید ‘ اس میں مسلمانوں کو صرف عبادات اور مراسم عبودیت ہی نہیں سکھائے گئے اور نہ اس میں صرف انفرادی اسلامی آداب اور اخلاق ہی سکھائے گئے ہیں ۔ جیسا کہ بعض لوگوں کا اس دین کے بارے میں ایسا فقیرانہ تصور ہے بلکہ یہ قرآن کریم لوگوں کی زندگی کو پورے طور پر (As A Whole) لیتا ہے ۔ یہ زندگی کے عملی واقعات میں سے ہر ایک واقعہ پر اپنا فیصلہ دیتا ہے ۔ اور پوری زندگی کے لئے مکمل ہدایات دیتا ہے ۔ یہ کتاب ایک مسلمان فرد اور ایک مسلمان معاشرے سے ‘ اس سے کم کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرتی کہ انکی پوری پوری زندگی اس کتاب کے مطابق بسر ہو ۔ اس کتاب کے تصرف میں ہو ‘ اس کی ہدایات کے مطابق بسر ہو ۔ خصوصا یہ کتاب کسی مسلمان فرد اور سوسائٹی کو یہ اجازت نہیں دیتی کہ وہ اپنی زندگی کے لئے متعدد نظام اختیار کرلیں جن کے اصول مختلف ہوں ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ ذاتی نظام ‘ عبادات اور اخلاق وآداب کا نظام تو وہ کتاب اللہ سے لے لیں ‘ اور اقتصادی ‘ اجتماعی ‘ سیاسی اور بین الاقوامی معاملات میں ہدایات کسی دوسری کتاب یا کسی انسان کے دیئے ہوئے تصورات سے اخذ کرلیں۔ اس کتاب کے مطابق انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی فکر اور تصورات اس کتاب اور اس کے منہاج سے اخذ کرے اور اپنی زندگی کے لئے تفصیلی احکام اس کتاب سے لے کر زندگی کے واقعات پر ان کا انطباق کرے ۔ اس لئے کہ زندگی کے اندر مسلسل نئے نئے مسائل اور حالات پیش آتے رہتے ہیں اور یہ احکام وہ اس طرح مستنبط کرے جس طرح اس سبق سے پہلے سبق میں اس کی تفصیلات خود اس کتاب نے دی ہیں۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ اس کتاب نے کھلا نہیں چھوڑا ورنہ ‘ نہ ایمان ہوگا اور نہ اسلام ۔ سرے سے اسلام اور ایمان ہوگا ہی نہیں اس لئے کہ جو لوگ اس کتاب کا یہ مطالبہ تسلیم نہیں کرتے وہ ایمان اور اسلام میں داخل ہی نہیں ہوتے اور گویا انہوں نے ارکان اسلام کا اعتراف ہی نہیں کیا ہے ۔ ان ارکان میں سے پہلا کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے اور اللہ کے سوا کوئی شارع نہیں ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم جو اس معرکے میں مسلمانوں کے لئے میدان جنگ کا منصوبہ بناتا ہے جو اس وقت ان کے موقف کے ساتھ شامل تھا ‘ اور جو ان کے وجود کے لئے ضروری تھا کیونکہ ان کے اردگرد ہر طرف بیشمار مخالفتیں تھیں ‘ جن میں وہ گھرے ہوئے تھے ۔ اسلامی مملکت کے اندر یہودی اور منافقین مسلمانوں کے خلاف گہری سازشیں کر رہے تھے ۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ مومنین کو خبردار کرتے ہیں۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا خذوا حذرکم فانفروا اثبات اوانفروا جمیعا “۔ (4 : 71) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو ‘ پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلو یا اکٹھے ہو کر “۔ ثبات ثبت کی جمع ہے ‘ یعنی مجموعہ ‘ حکم یہ ہے کہ جہاد کے لئے اکیلے نکلنا جائز نہیں ہے ۔ جہاد کے لئے یا تو چھوٹے چھوٹے دستوں کی شکل میں نکلو یا بڑے لشکر اور فوج کی شکل میں نکلو ‘ جس طرح کا معرکہ درپیش ہو ‘ اس لئے کہ افراد کو دشمن سہولت سے پکڑ سکتا ہے ‘ اور اس وقت دشمن ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ اس وقت بالخصوص یہ حکم تھا ‘ اس لئے کہ اس دور میں دشمن اسلام کے مرکز میں پھیلے ہوئے تھے ۔ اور مدینہ میں یہودیوں اور منافقین کی صورت میں کھلے پھرتے تھے ۔ (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن فان اصابتکم مصیبۃ قال قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شیھدا (72) ولئن اصابکم فضل من اللہ لیقولن کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ یلیتنی کنت معھم فافوز فوزا عظیما “۔ (73) (4 : 72۔ 73) ” ہاں ‘ تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے ۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا ۔ اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا ۔ “ منظم دستوں کی شکل میں نکلو یا سب کے سب نکلو ‘ یہ نہ ہو کہ تم میں بعض لوگ تو نکلیں اور بعض لوگ سستی کریں ۔ جیسا کہ بعض لوگ سستی کر رہے ہیں ‘ اور ہر وقت تیار ہو ۔ صرف خارجی دشمن کے مقابلے میں نہیں بلکہ ان اندرونی دشمنوں کے مقابلے میں بھی ‘ ان لوگوں کے مقابلے میں بھی تیار رہو جو پہلو تہی کرتے ہیں ‘ لڑائی سے جی چراتے ہیں اور جو شکست خوردہ ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو جہاد سے روکتے اور سستی کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی جنگ سے روکتے ہیں شکست خوردہ ذہنیت کے لوگوں کی عادت بالعموم ایسی ہی ہوتی ہے ۔ (لیبطئن) کا لفظ جو یہاں استعمال ہوا ہے اس کے اندر ایک قسم کا بھاری پن اور پھسلن پائی جاتی ہے ۔ اس کے حروف کی ادائیگی اور صوتی حرکت کے اندر بھی ایک قسم کی پھسلن پائی جاتی ہے ۔ اور جب زبان اس کے آخری اور مشدد حرف کو ادا کرتی ہے تو اس میں بھی کھچاؤ ہے ۔ ایک لفظ کے ساتھ اس پوری نفسیاتی کشمکش کو ادا کردیا گیا جو ایسے لوگوں کے ذہن میں ہوتی تھی اور خود لفظ جو اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا گیا ہے پوری کشمکش اپنے اندر رکھتا ہے ۔ جس طرح مفہوم بھاری ہے اس طرح لفظ بھی بھاری استعمال کیا گیا ہے اور یہ وہ کمال درجے کا اسلوب ادا ہے جو صرف قرآن کا خاصہ ہے ۔ (دیکھئے التصویر الفئی فی القرآن ‘ فصل تناسق) اس لفظ کے بعد پھر (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن “۔ (4 : 72) کے پورے جملے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پوری طرح سست روی کا شکار ہیں ‘ یہ لوگ معدودے چند ہیں اور ان کو اس پہلو تہی پر پوری طرح اصرار ہے ۔ وہ اس میں سخت کوشاں ہیں اور یہ بات ان تاکیدی حروف سے معلوم ہوتی ہے جو اس فقرے میں استعمال ہوئے ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ اپنے رویے پر مصر ہے اور اسلامی محاذ پر اس کا اثر پڑ رہا ہے اور بہت برا اثر ہو رہا ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ قرآن کریم ان کے بارے میں تفصیلی وضاحتیں کرتا ہے ۔ ان کے دلوں کے اندر پوشیدہ رازوں کا انکشاف کرتا ہے ۔ ان کی قابل نفرت حقیقت کی خوب تصویر کشی کرتا ہے اور یہ قرآن کریم کا عجیب معجزانہ انداز ہے ۔ یہ لو یہ لوگ تمہارے سامنے ہیں ‘ اپنے پورے ارادوں کے ساتھ ‘ اپنے مکمل مزاج اور اپنے اقوال وافعال کے ساتھ ‘ بالکل سامنے ‘ آنکھوں کے سامنے بالکل ننگے کھڑے ہیں ۔ گویا انہیں مائیکرو اسکوپ کے نیچے کھڑا کردیا گیا ہے ۔ اور یہ اندرونی مائیکرواسکوپ انکے دلی رازوں کا افشا کر رہا ہے اور ان کے تمام اغراض ومقاصد اس سے واضح ہو رہے ہیں ۔ دیکھو یہ لوگ ہیں ‘ جو عہد رسول اللہ ﷺ میں نظر آتے ہیں اور آپ کے عہد کے بعد ہر زمان ومکان میں یہ قسم یوں ہی باقی رہے گی ۔ یہ کیا ہیں ؟ کمزور ‘ منافق اور آئے دن بدلنے والے ‘ جن کے مقاصد نہایت ہی چھوٹے ہیں ‘ نہایت پیش پا افتادہ ‘ جو اپنے ذاتی مفادات اور شخصی فائدے سے اعلی کسی اور فائدے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ۔ وہ اپنی شخصیت سے اونچے افق کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے ‘ یہ لوگ پوری دنیا کو ایک ہی محور کے گرد گھماتے ہیں اور یہ محور ان کی ذات اور ذاتی مفادات کا محور ہے ‘ اسے وہ کبھی نہیں بھولتے ۔ یہ لوگ سست اور ڈھیلے ہیں اور آگے بڑھنے والے نہیں ہیں کہ اپنے اصل مقام پر جا کھڑے ہوں ‘ اور نفع ونقصان کے بارے میں ان کا جو تصور ہے وہ گھٹیا درجے کے منافقین کے لائق ہے ۔ یہ لوگ معرکہ جہاد سے پیچھے رہنے والے ہیں ‘ اگر مجاہدین پر مصیبتیں آجائیں اور وہ مبتلائے مشکلات ہوجائیں جس طرح اکثر اوقات ایسا ہوتا ہے تو یہ پسماندہ لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ جہاد سے ان کا فرار اور مشکلات سے ان کا بچ نکلنا ان کے لئے مفید ہے ۔ (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن فان اصابتکم مصیبۃ قال قد انعم اللہ علی اذلم اکن معھم شیھدا (4 : 72۔ ) ” ہاں ‘ تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے ۔ اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا ۔ ایسے لوگوں کو اس بات سے شرم نہیں آتی کہ وہ بزدلی کی اس زندگی کو اللہ کی نعمت تصور کرتے ہیں اور پھر وہ اسے اس اللہ کا فضل کہتے ہیں جس کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ لوگ پیچھے بیٹھ گئے ہیں ایسے حالات میں اگر کوئی بچ بھی نکلے تو وہ کبھی نعمت خداوندی نہیں پا سکتا کیونکہ اللہ کی نعمت اللہ کے حکم کی خلاف ورزیاں کرکے نہیں ملتی اگرچہ بظاہر وہ صاحب نجات نظر آئیں یہ بیشک ایک نعمت ہوگی مگر ان لوگوں کے نزدیک جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ نہیں کرتے ۔ یہ ان لوگوں کے نزدک بچنا ہے جو یہ نہیں سمجھتے کہ ان کا مقصد تخلیق کیا ہے ؟ اور وہ اطاعت کرکے اور جہاد کرکے اللہ کی غلامی نہیں کرتے تاکہ وہ اسلامی نظام حیات کو دنیا میں قائم کریں ۔ یہ ان لوگوں کے نزدیک نعمت ہے جن کی نظریں اپنے قدموں کے آگے بلند آفاق پر نہیں پڑ سکتیں ۔ یہ چیونٹیوں کی طرح کے لوگ ہیں ‘ یہ نجات ان لوگوں کے نزدیک نعمت ہے جو اس بات کا احساس نہیں رکھتے کہ اللہ کے راستے میں جہاد کی مشکلات برداشت کرنا اسلامی نظام کے قیام کے لئے اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور یہ اللہ کا خصوصی انتخاب ہے جس کے ذریعے وہ جسے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے منتخب کرلیتا ہے تاکہ وہ دنیا کی اس زندگی میں بشری کمزوریوں پر قابو پائیں ۔ اس طرح وہ انہیں دنیا کی قید سے رہائی دلاتا ہے ۔ وہ ایک برگزیدہ زندگی پر فائز ہوجاتے ہیں ‘ وہ زندگی کے مالک ہوجاتے ہیں اور زندگی ان کی مالک نہیں ہوتی ۔ تاکہ یہ آزادی اور یہ سربلندی ان کو ان بلندیوں تک لے جائے جو آخرت میں شہداء کے لئے مقرر ہیں ۔ بیشک سب لوگ مرتے ہیں لیکن اللہ کی راہ میں جان دینے والے ہی شہید ہوتے ہیں اور یہ اللہ کا فضل عظیم ہے۔ اگر صورت حال دوسری پیش آجائے اور مجاہدین کامیاب ہوجائیں ‘ وہ جو یہ تیاری کرکے نکلے تھے کہ اللہ کی راہ میں انہیں جو پیش آتا ہے ‘ آئے اور انہیں اللہ کا فضل نصیب ہوجائے ‘ فتح اور غنیمت کی صورت میں تو یہ پیچھے رہنے والے لوگ سخت نادم ہوتے ہیں کہ وہ کیوں نہ اس نفع بخش معرکے میں شریک ہوئے ۔ اس فائدے میں ان کے نزدیک نہایت ہی گھٹیا معیار ہوتا ہے ‘ خالص دنیاوی معیار ۔ (آیت) ” ولئن اصابکم فضل من اللہ لیقولن کان لم تکن بینکم وبینہ مودۃ یلیتنی کنت معھم فافوز فوزا عظیما “۔ (4 : 73) ” اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں ۔۔۔۔۔ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا۔ یہ نہایت ہی گھٹیا خواہش ہے محض مال غنیمت کی خواہش اور اسے یہ شخص فوز عظیم سے تعبیر کرتا ہے ۔ مومن بھی مال غنیمت کے ساتھ واپسی کو برا تو نہیں سمجھتا بلکہ اس سے توقع تو یہی ہے کہ وہ بھی اللہ سے ایسی کامیابی مانگے ۔ اور مومن سے یہ توقع نہیں کی جاتی کہ وہ مشکلات کی طلب کرے بلکہ مطلوب تو یہ ہے کہ وہ عافیت کی دعا کرے ۔ مومن کا مجموعی تصور ان متخلفین کے تصور سے بالکل جدا ہوتا ہے ۔ اس لئے ان لوگوں کے تصور کو قرآن کریم نہایت ہی مکروہ صورت میں پیش کرتا ہے جو قابل نفرت ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مومن بھی مشکلات اور مصائب کی تمنا نہیں کرتا بلکہ عافیت کا طلبگار ہوتا ہے لیکن اسے جب جہاد کی طرف بلایا جائے تو وہ بوجھل قدموں کے ساتھ آگے نہیں بڑھتا ۔ جب وہ نکلتا ہے تو وہ دو اچھے انجاموں میں سے ایک کا طالب ہوتا ہے یا نصرت و کامرانی کا یاشہادت فی سبیل اللہ کا اور یہ دونوں ہی اللہ کے فضل میں سے ہیں اور دونوں ہی فوز عظیم ہیں ۔ اہل ایمان کی قسمت میں یا تو شہادت آجاتی ہے تو پھر بھی وہ راضی برضا ہوتے ہیں اور اس گروہ میں جاتے ہیں جو شہادت کے مقام پر فائز ہوا ۔ یا وہ زندہ مال غنیمت کے ساتھ واپس آتا ہے تو اس صورت میں وہ اللہ کے فضل پر شکر گزار ہوتا ہے اور اس کی جانب سے آئی ہوئی فتح پر خوش ہوتا ہے مگر یہ خوشی محض زندہ بچ جانے کی وجہ سے نہیں ہوتی ۔ یہ ہے وہ اعلی افق جس کے بارے میں اللہ کا ارادہ ہے کہ اہل ایمان اپنی نظریں اس پر رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ ان اہل ایمان میں سے اس فریق کی تصویر ان کے سامنے کھینچتے ہیں اور یہ انکشاف فرماتے ہیں کہ تمہاری صفوں میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو جہاد سے پہلو تہی کرنے والے ہیں اور یہ انکشاف اس لئے کیا جاتا ہے کہ اہل ایمان ان سے چوکنے رہیں جس طرح وہ ظاہری دشمنوں سے چوکنے رہتے ہیں۔ اس طرح متنبہ کرنے اور اس دور میں جماعت مسلمہ کو مواقع عبرت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم ایک ایسے انسانی ماڈل کا ایک عام نمونہ یہاں منقش کرتا ہے ‘ جو ہر دور اور ہر جگہ بار بار سامنے آتا رہتا ہے اور یہ تصویر کشی قرآن مجید چند الفاظ کے اندر کرتا ہے ۔ یہ حقیقت جماعت مسلمہ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنی چاہئے اس لئے کہ اسلامی حلقوں کے اندر ہمیشہ ایسے لوگ پائے جاسکتے ہیں ۔ جماعت کو ایسے لوگوں کی حرکات سے مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنی تیاری کو ہر حال میں مکمل رکھنا اور آگے بڑھنا چاہئے ۔ ہر وقت تربیت ہدایت اور جہد مسلسل کے لئے تیار رہنا چاہئے تاکہ جماعت تمام نقائص سے پاک ہو۔ اپنی کمزوریوں کا مداوا ہر وقت ہوتا رہے اور جماعت کے عملی اقدامات ‘ اس کے نظریات اور اس کی تمام حرکات کے درمیان باہم ربط ہو۔ اب اگلی آیت میں یہ سعی کی جاتی ہے کہ یہ سست رو ‘ پہلو تہی کرنے والوں اور دنیاوی گندگیوں میں آلودہ لوگوں کو قدرے اٹھایا جائے اور ان کے حس و شعور میں اس دنیا سے آگے آخرت کا شعور پیدا کیا جائے ۔ ان کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ دنیا کو فروخت کرکے آخرت کو خریدنے والے بنیں ‘ اور اس کام میں انہیں دو اچھے انجاموں میں سے ایک ضرور نصیب ہوگا یا تو فتح ونصرت سے ہمکنار ہوں گے یا شہادت ان کو نصیب ہوگی ۔

النساء 4:74

(آیت) ” فلیقاتل فی سبیل اللہ الذین یشرون الحیوۃ الدینا بالاخرۃ ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل اویغلب فسوف نوتیہ اجرا عظیما (4 : 74) (ایسے لوگوں کو معلوم ہو کہ) اللہ راہ میں لڑنا چاہئے ان لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کردیں ‘ پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے ۔ “ اس لئے مومنین کو اللہ کی راہ میں لڑنا چاہئے ‘ اسلام ماسوائے اس کے کہ اللہ کی راہ میں جنگ کی جائے ‘ کسی اور جنگ کا قائم ہی نہیں ہے ۔ اس لئے جنگ نہ کی جائے کہ مصنوعات کے لئے خام مال فراہم کیا جائے ‘ نہ اسلام غنیمت کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ نہ اقتدار کے حصول کے لئے اجازت دیتا ہے ‘ نہ وہ ذاتی اور قومی برتری کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ نہ ملکوں کو فتح کرنے کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ نہ لوگوں کو غلام بنانے کے لئے اجازت دیتا ہے ‘ اور نہ اسلام کسی ایسی جنگ کی اجازت دیتا ہے جو منڈیوں کے حصول کے لئے لڑی جائے ‘ اور نہ اسلام کی جنگ اس بات کے لئے کہ نو آبادیاتی علاقوں میں سرمایہ لگا کر مفادات حاصل کئے جائیں ۔ اسلام ذاتی برتری کے لئے جنگ کی اجازت نہیں دیتا اور نہ کسی خاندان کی برتری کے لئے جنگ کی اجازت دیتا ہے ۔ نہ کسی طبقے اور کسی حکومت کی برتری کے لئے اسلام جنگ کی اجازت دیتا ہے نہ کسی قوم اور نہ کسی نسل کی برتری کے لئے اسلام لڑتا ہے ۔ اسلام صرف اللہ کی راہ میں جنگ کی اجازت دیتا ہے ‘ اور زمین پر اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے اسلام کی اجازت اجازت دیتا ہے اور یہ اس لئے کہ اس کرہ ارض پر تمام انسانوں کے درمیان بےقید عدل و انصاف جاری کرے لیکن اس نظام کے تحت ہر شخص کو عقیدے اور نظریے کی مکمل آزادی ہو ۔ یوں اس ربانی انسانی اور عالمی نظام حیات کے تحت لوگ زندہ رہیں۔ جب ایک مسلمان اللہ کے راستے میں لڑنے کے لئے نکلتا ہے ‘ اور یہ لڑائی وہ صرف اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے کرتا ہے اور زندگی میں اسلامی نظام حیات کی حکمرانی کے لئے لڑتا ہے اور پھر وہ قتل ہوجاتا ہے تو وہ شہید ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کے نزدیک مقام شہداء پر فائز ہوتا ہے اور اگر وہ اس مقصد کے سوا کسی اور مقصد کی خاطر لڑتا ہے تو وہ کسی صورت میں بھی شہید نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے کوئی اجر اور صلہ نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا صلہ ان مقاصد کے زعماء کے پاس ہوتا ہے جو لوگ ایسے لوگوں کو شہداء کہتے ہیں وہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو اس چیز کے ساتھ تقدس دیتے ہیں جس کی ساتھ اللہ کسی کو مقدس نہیں بناتا ۔ یہ اللہ پر افتراء کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ لہذا اللہ کے راستے میں صرف اس ایک مقصد کے لئے لڑنا جائز ہے ۔ اور یہ لڑائی وہ لوگ کرتے ہیں جو دنیا فروخت کرکے آخرت خریدتے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا فضل عظیم انتظار میں ہے ۔ دونوں حالتوں میں ان پر فضل ہے ۔ اگر وہ اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں تو بھی فضل ہے اور اگر وہ اللہ کی راہ میں غالب ہوجائیں تو بھی اللہ کا فضل ہے ۔ (آیت) ” ومن یقاتل فی سبیل اللہ فیقتل اویغلب فسوف نوتیہ اجرا عظیما (4 : 74) ‘ پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے ۔ “ اس طرح قرآنی نظام حیات ان نفوس قدسیہ کو بلند کرتا ہے اور وہ دونوں حالتوں میں اللہ کے عظیم فضل کے امیدوار ہوجاتے ہیں ۔ ان پر اللہ کی راہ میں موت اور جان دینا آسان ہوجاتا ہے ۔ وہ اس دنیا کے مال غنیمت کے حصول کی امید سے بھی بالا ہوجاتے ہیں ۔ اس لئے کہ پوری کی پوری زندگی اور مال غنیمت کے بڑے بڑے ڈھیر بھی اللہ کے فضل عظیم کے مقابلے میں کچھ نہیں ہیں ۔ اسی طرح یہ مختصر ٹچ ‘ انسان کے دلوں میں اس سودے کے خلاف نفرت پیدا کردیتا ہے جس میں کوئی شخص آخرت کے مقابلے میں دنیا کو خریدتا ہے ۔ لفظ یشرون متضاد الفاظ میں سے ہے جو خرید کے معنی میں بھی آتا ہے اور فروخت کے معنی میں بھی آتا ہے لیکن زیادہ تر یہ فروخت کے معنی میں آتا ہے ‘ تو یہ سودا نہایت ہی خسارے کا ہوگا چاہے انہیں دنیا میں مال غنیمت ملے یا نہ ملے اس لئے کہ دنیا کا آخرت سے کیا مقابلہ ہے اور مال غنیمت کے حقیر مال کا اللہ کے فضل عظیم کے ساتھ کیا مقابلہ ہے ۔ اللہ کے فضل میں مال بھی شامل ہے اور مال کے علاوہ دوسرے اکرام اور انعام بھی شامل ہیں ۔ اب روئے سخن مسلمانوں کی طرف پھرجاتا ہے ۔ جنگ سے پہلو تہی کرنے والوں اور جی چرانے والوں کی تصویر کشی کے انداز کو اب چھوڑ کر مسلمانوں سے خطاب کیا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کی مروت اور جوانمردی کو ابھارا جاتا ہے ۔ ان کے دلوں کے اندر احساس فرض پیدا کیا جاتا ہے ۔ اس دنیا اور جزیرۃ العرب میں زیردست لوگوں کے حالات پر غور کرو۔ مرد ‘ عورتیں اور بچے جو مکہ مکرمہ میں مشرکین کے ہاتھوں مظالم سہ رہے ہیں اورا ن کے اندر اس قدر قوت بھی نہیں ہے کہ وہ دارالاسلام کی طرف ہجرت کر آئیں اور فرار اختیار کر کے اپنے دین اور نظریات کو بچا لیں ۔ وہ آزادی کی آس لئے ہوئے ہیں اور ہر وقت دست بدعاء رہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمیں اس گاؤں سے نکال جہاں کے رہنے والے ظالم ہیں۔ اس صورت حال کی طرف مسلمانوں کو متوجہ کرکے انہیں بتاتا ہے کہ تمہاری جنگ بلند مقاصد کے لئے ہے تمہارے اہداف بلند ہیں ‘ اور یہ جنگ جس کے لئے تمہیں نکلنے کا حکم دیا جارہا ہے اس کے مقاصد نہایت ہی اونچے مقاصد ہیں۔ اس لئے انہیں اس کی طرف بوجھل قدموں سے نہ نکلنا چاہئے ، یہ پکار نہایت ہی تاکیدی ار برانگیختہ کرنے کے انداز میں ہے ۔ اور سستی اور پیچھے رہنے کو بہت ہی برا سمجھا گیا ہے ۔

النساء 4:75

(آیت) ” نمبر 75۔ قتال فی سبیل اللہ میں سستی کرنے کا تمہارے لئے کیا موقعہ ہے جب کہ ان مجبور اور ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کا آزاد کرانا تمہارے فرائض میں سے ہے ۔ یہ لوگ جو قابل رحم حالت میں ہیں اور جن کی تصویر کشی قرآن کریم نہایت ہی اچر آفریں الفاظ میں کرتا ہے جس پر مسلمانوں کی حمیت جوش میں آتی ہے ۔ مسلمانوں کی عزت نفس جوش میں آتی ہے اور انسانی رحم اور ہمدردی کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں ‘ اس لئے کہ یہ لوگ شدید سے شدید تر مظالم کے شکار ہو رہے ہیں ۔ اس لئے بھی کہ ان پر یہ مظالم محض ان کے نظریات کی وجہ سے ہو رہے ہیں ۔ ان کے دین کی وجہ سے انہیں مبتلائے مصیبت کیا جارہا ہے ۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی جرم نہیں ہے ۔ غرض نظریات اور دین کی وجہ سے جو مصائب آتے ہیں وہ جان ومال کی وجہ سے آنے والے مصائب سے زیادہ شدید اور سخت ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ مصائب انسان پر انسانی خصوصیات کی وجہ سے آتے ہیں ۔ اور انسان کی عزت نفس اس کی عزت اور اس کے حق ملکیت وغیرہ کے حوالے سے مصائب کا درجہ اس کے بعد آتا ہے ۔ ایسی عورت کی تصویر جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو ‘ ایسے بچوں کی مناظر جو نحیف وناتواں ہوں ‘ ایک ایسا منظر ہے جو جذبات کے اندر تلاطم پیدا کردیتا ہے ۔ خصوصا وہ ضعیف لوگ اور بوڑھے جو اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے اور خصوصا ایسے حالات میں جب اس دفاع کا تعلق دین اور عقیدے سے ہو ۔ یہ منظر ایسے وقت میں دکھایا جاتا ہے ۔ جس میں جہاد کی طرف دعوت دی جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں جہاد کے لئے نہ اٹھنا نہایت ہی مکروہ فعل ہوگا ‘ جبکہ مظلوموں کی یہ چیخ و پکار سنی جا رہی ہو۔ یہ ایک ایسا اسلوب بیان ہے جو دلوں کو پگھلا دیتا ہے اور انسانی شعور اور احساس کے اندر گہرائی تک اتر جاتا ہے ۔ لہذا ایک نظر اس پہلو پر بھی ڈالیں کہ اسلامی تصور کے مطابق ملک ووطن کی حیثیت کیا ہے ۔ یہاں ملک اور بلدہ کی تعریف یوں کی جاتی ہے ۔ (الظالم اھلھا) جس کے لوگ ظالم ہیں ‘ یہ اسلام کے نزدیک دارالحرب ہے ۔ اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس ملک کے ساتھ کمزور مسلمانوں اور ان کے بیوی بچوں کو چھڑانے کے لئے جنگ کریں اور یہ وطن مکہ ہے جو مہاجرین کا اصلی وطن تھا اور ان مہاجرین کو پرجوش دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس مالک کے خلاف جنگ کریں اور ضعیف مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ موقعہ پاتے ہی اس ظالم ملک سے نکل آئیں ۔ یہاں اس علاقے اور ملک کا مہاجرین کا وطن اصلی ہونا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس وجہ سے اسلامی نقطہ نظر سے اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی جب کہ اس میں اللہ کی شریعت بھی نافذ نہیں ہے ۔ وہ اسلامی نظام حیات کے تحت نہیں ہے جس میں مومنین کو ان کے ایمان کی وجہ سے فتنوں اور مصیبتوں میں ڈالا جاتا ہے اور ان پر محض ان کے عقیدے کی وجہ سے مظالم ڈھائے جاتے ہیں بلکہ خود ان اصلی باشندوں کے نقطہ نظر سے یہ ملک دارالحرب بن گیا ہے ۔ وہ اپنے اس اصل وطن کی مدافعت نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ خود اپنے اصل ملک کے خلاف اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ وہاں سے اپنے مومن بھائیوں کو نکال لیں ۔ غرض مسلمان کا جھنڈا وہ ہوتا ہے جو اس کے عقیدے کا جھنڈا ہوتا ہے اور ایک مسلمان صرف ایک جھنڈے کی حمایت کرتا ہے ۔ اس کا وطن جس کے لئے ہو لڑتا ہے وہ وطن ہے جس میں اسلامی نظام تربیت نافذ ہو ‘ اور اس کی وہ سرزمین جس کا وہ دفاع کرے گا وہ سرزمین ہے جو دارالاسلام ہے اور جس میں اسلامی شریعت اور اسلامی نظام جاری وساری ہو۔ اس کے علاوہ کسی وطن کے بارے میں جس قدر تصورات ہیں وہ غیر اسلامی اور جاہلی تصورات میں اور اسلام ان تصورات کو ہر گز نہیں پہچانتا ۔ اس ایک دوسرا ٹچ اس موضوع کو دیا جاتا ہے ہمتوں کو تازہ کرنے کا ایک اور موقع ہے ‘ عزائم میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوتا ہے ۔ ایک نئی راہ میں روشنی کے قمقمے چمک اٹھتے ہیں ۔ مقاصد ‘ مفادات اور اقدار حیات کی ایک نئی تعریف (Definition) سامنے آتی ہے ۔ ہر ایک گروہ اپنی اقدار کے لئے کام کرتا ہوا نظر آتا ہے

النساء 4:76

“ اچانک تمام انسان ایک دورا ہے پر آکھڑے ہوتے ہیں ‘ اہداف ومقاصد متعین ہوجاتے ہیں ‘ خطوط واضح ہوجاتے ہیں اور لوگ دو گروہوں میں بٹ جاتے ہیں ‘ دو ممتاز جھنڈوں کے نیچے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ (آیت) ” الذین امنوا یقاتلون فی سبیل اللہ “۔ (4 : 76) ” جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے ‘ وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ “ (آیت) ” والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت “۔ (4 : 76) ” اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ۔ “ اہل ایمان کی صف آرائی اللہ کی راہ میں ہے اور وہ اللہ کا نظام حیات نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اللہ کی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں ‘ وہ اللہ کے نام پر لوگوں کے درمیان قیام عدل چاہتے ہیں ‘ وہ اللہ کے سوال کسی اور نام اور عنوان سے بات نہیں کرتے ۔ وہ اس بات کا اعتراف کرچکے ہوتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے اس لئے وہی حاکم ہے ۔ اور اہل کفر طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ‘ یہ مختلف قسم کے طاغوتی نظامہائے زندگی کے دلدادہ ہیں۔ اور یہ تمام طاغوتی نظام خدائی نظام زندگی کے متضاد ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ قانونی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں جو شریعت کے خلاف ہو ۔ وہ ایسی اقدار کو رائم کرنا چاہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے جائز نہ ہو ۔ وہ ایسے پیمانوں سے اقدار حیات کو ناپتے ہیں جو اللہ کی میزان میں کوئی وزن نہیں پاتے ۔ وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں وہ اللہ کی حمایت اور رعایت اور نگہبانی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ طاغوت سے مدد لیتے ہیں ۔ ان کا مددگار شیطان ہوتا ہے اور شیطان کے جھنڈے مختلف ہوتے ہیں ‘ طریقے مختلف ہوتے ہیں ۔ قوانین مختلف ہوتے ہیں ‘ اقدار اور پیمانے مختلف ہوتے ہیں ‘ ۔ یہ سب لوگ شیطان کے ساتھی ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” فقاتلوا اولیاء الشیطن ان کیدا لشیطن کان ضعیفا “۔ (4 : 76) ”‘ پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں۔ “ یوں مسلمانوں کا موقف ایک پختہ جگہ پر ہوتا ہے اور ان کا تکیہ بھ مضبوط ہوتا ہے ۔ وہ مضبوط اساس پر کھڑے ہوتے ہیں اور ایک مضبوط سہارا لئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ان کا وجدان اور شعور پختہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں لڑ رہے ہیں ۔ وہ صرف اللہ کی جنگ ہے اور اس میں ان کا ذات کا کوئی حصہ بھی نہیں ہے ۔ نہ اس میں ان کا کوئی ذاتی مفاد مضمر ہے ۔ نہ اس میں ان کی قوم ‘ ان کی نسل ‘ ان کے رشتہ داروں اور ان کے خاندان کا کوئی مفاد ہے ۔ یہ صرف اللہ کے لئے ہے ‘ اس کے نظام کے لئے ہے اور اس کی شریعت کے لئے ہے ۔ پھر ان کا یہ شعور بھی پختہ ہوتا ہے ۔ کہ ان کا مقابلہ اہل باطل سے ہے ‘ اور ان کے مقابل باطل کو حق پر غالب کرنا چاہتے ہیں ‘ اس لئے کہ وہ انسانوں کے جاہلی معاشروں کے لئے لڑ ہے ہیں ۔ اور یہ کہ تمام انسانی نظام جاہلی نظام ہوتے ہیں ۔ صرف اللہ کی شریعت برحق نظام ہے ۔ جبکہ وہ شریعت کو مغلوب کرکے انسانی قانونی نظام رائج کرتے ہیں اور انسانی قانون کے مطابق فیصلے کرانا چاہتے ہیں ۔ ہر وہ فیصلہ ظلم ہے جو انسانی قانون کے مطابق ہو ۔ یہ اللہ کے قانون کے ساتھ ظلم ہے ‘ کیونکہ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ فیصلے اس کی شریعت کے مطابق ہوں ۔ یہ اہل ایمان جب میدان جنگ میں اترتے ہیں تو اس یقین کے ساتھ اترتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا ساتھی اور مددگار رہے ۔ وہ یہ شعور رکھتے ہیں کہ وہ ایک ایسی قوت سے لڑنے جارہے ہیں جس کا مددگار شیطان ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ شیطان کی تمام چالیں بمقابلہ رحمان ضعیف ہوتی ہیں ۔ یہاں آکر ایک مومن کے احساس اور شعور میں اس معرکے کا فیصلہ ہوجاتا ہے اور اس کا انجام متعین ہوجاتا ہے تو اس کے بعد ایک مومن اس معرکے میں قدم رکھتا ہے ۔ اب اگر مومن اس معرکے میں شہید ہوجاتے ہے تو اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا نتیجہ اچھا رہے گا اور اگر وہ نصرت پاتا ہے اور اس معرکے میں اسے غلبہ نصیب ہوتا ہے تو اسے پختہ یقین ہوتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے گا ۔ اس مسئلے کے اس حقیقی فہم وادراک ہی کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام کی جماعت کے ہاتھوں دو معجزات سرزد ہوئے جو اسلامی تاریخ کا حصہ ہیں اور صحابہ کرام کے بعد بھی مختلف نسلوں میں جابجا اس کے نمونے نظر آتے ہیں ۔ یہاں اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ ہم ان کے کچھ نمونے پیش کریں ‘ کیونکہ یہ تو بہت ہی مشہور ہیں ۔ یہی تصور تھا جس کے نتیجے میں اسلام کو وہ حیران کن پھیلاؤ نصیب ہوا ‘ اور یہ پھیلاؤ تاریخ کے مختصر ترین عرصے کے اندر واقعہ ہوا ۔ یہ تصور اس برتری کا ایک پہلو تھا ‘ جو اسلامی نظام حیات کی وجہ سے امت مسلمہ کو نصیب ہوئی اور یہ برتری اسے اس وقت کے برسر پیکار دونوں بلاکوں کے مقابلے میں نصیب ہوئی اور اس برتری کی طرف ہم اس سے قبل اشارہ کرچکے ہیں ۔ اس تصور اور ادراک کی نشوونما اس مہم کا ایک حصہ تھا جو قرآن کریم کے پیش نظر تھی ۔ یہ مہم اہل ایمان کی نفسیاتی دنیا میں بھی جاری تھی اور ان دشمنوں کے ساتھ میدان جنگ میں بھی جاری تھی ‘ جس میں اہل ایمان ‘ اپنے مقابلے میں آنے والی فوجوں کی تعداد اور سازوسامان کے حوالے سے بہت ہی زیادہ قوت کے ساتھ برسرپیکار تھے ۔ دشمن کو اس عظیم تعداد اور سازوسامان کے باوجود شکست ہوئی ۔ اس لئے کہ وہ تصور حیات کے لحاظ سے تہی دامن تھا ۔ ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ قرآن کریم نے اس تصور کی نشوونما اور اس کی پختگی کے لئے کس قدر جدوجہد کی ۔ یہ کام کوئی آسان کام نہ تھا ۔ یہ صرف ایک بات نہ تھی جو زبانی طور پر کہہ دی جاتی ۔ یہ توجہد مسلسل تھی ۔ اس میں انسان کی ذاتی تنگ دلی ‘ ہر قیمت پر زندی رہنے کی حرص اور نفع ونقصان کے بارے میں غلط تصورات کے خلاف مسلسل جدوجہد کی گئی ۔ اس سبق میں اس جہد مسلسل کے کچھ نمونے بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ اس کے بعد سیاق کلام میں ‘ مسلمانوں کے کئی طبقات کے طرز عمل پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے ۔ (کہا گیا ہے کہ ان میں سے بعض لوگ مہاجرین تھے) یہ لوگ جب مکہ میں تھے تو وہ کفار کے مقابلے کے لئے اپنے اندر جوش و خروش رکھتے تھے ‘ اس لئے کہ مکہ میں ان پر ناقابل برداشت مظالم ہو رہے تھے ۔ اس جوش و خروش کے نتیجے میں وہ مکہ میں جہاد و قتال کی اجازت چاہتے تھے ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجازت نہ تھی ۔ لیکن جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی اور ان پر جہاد و قتال من جانب اللہ فرض ہوگیا اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ اب ان کے لئے جہاد و قتال میں نہایت خیروبرکت ہے تو اب ان کی تصویر کشی قرآن نے ان الفاظ میں کی ” تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ تھا کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا کہ خدا سے ڈرنا چاہئے یا کچھ اس سے بڑھ کر ‘ کہتے ہیں خدایا یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا ؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی ؟ “ اور یہ لوگ وہ تھے کہ اگر ان کی کوئی بھلائی نصیب ہوتی تو کہتے یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اگر کوئی مصیبت درپیش ہوتی تو رسول اللہ ﷺ سے کہتے کہ یہ آپ کی جانب سے ہے ۔ اور ان میں سے ایسے بھی تھے کہ جب رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہوتے تو جی ہاں کہتے ‘ لیکن جب آپ سے علیحدہ ہوتے تو یہ لوگ اپنی مجلسوں میں کچھ اور باتیں کرتے ۔ اور بعض ایسے تھے کہ اگر کوئی اطمینان بخش یا خوفناک بات سنتے تو اسے فورا پھیلا دیتے ۔ قرآن کریم ایسے لوگوں کے طرز عمل پر تعجب کا اظہار کرتا ہے اور یہ قرآن کریم کا اپنا مخصوص اسلوب اظہار ہے ‘ جس کے اندر انسان کی لطیف نفسیات کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ ان اندرونی نفسیات کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ گویا چلتی پھرتی تصویریں نظر آتی ہیں ۔ ایسے لوگوں کی سوچ میں موت وحیات ‘ فضا وقدر ‘ خیر وشر ‘ نفع وضرر ‘ فائدے اور خسارے اقدار وپیمانوں کی حقیقت اور ماہیت کے بارے میں جو غلطی اور کجی تھی اسے درست کیا گیا ۔ اور قرآن کے مخصوص اور نہایت ہی موثر اور اشاراتی انداز اور اسلوب میں اسے بیان کیا گیا ۔ ذرا ملاحظہ ہو ۔

النساء 4:77

(آیت) ” نمبر 77 تا 83۔ آیات کے ان چار پیروں میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں نشاندہی کی گئی ہے اور ممکن ہے کہ یہ وہی لوگ ہوں جن کے بارے میں اس سبق کے سابقہ پیراگراف میں یہ کہا گیا تھا ۔ (آیت) ” وان منکم لمن لیبطئن “۔ (4 : 72) اور یہ لوگ مناق تھے اور ممکن ہے کہ یہ تمام ریمارکس ان منافقین کے بارے میں ہوں ‘ جن سے یہ افعال سرزد ہوتے تھے اور وہ ایسی باتیں بھی کیا کرتے تھے ۔ ہم اسی تفسیر کو ترجیح دیتے ہیں ‘ اس لئے کہ ان آیات میں جن لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ ان میں نفاق کے خدوخال زیادہ نظر آتے ہیں ۔ مسلمانوں کی صفوں میں منافق موجود تھے اور ایسے افعال اور اس قسم کے اقوال صرف منافقین ہی سے صادر ہونا تو قریب الفہم ہے جو انکے مزاج اور سابقہ کردار کے مطابق ہے ۔ اگرچہ ان پیراگرافوں کے انداز بیان باہم دگر گڈمڈ ہے ۔۔۔۔۔ تاہم ان میں سے پہلا پیرا گراف جس میں کہا گیا ہے ۔ (آیت) ” قیل لھم کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فلما کتب علیھم القتال “۔ (4 : 77) ہمیں تردد میں ڈال دیتا ہے کہ آیا یہ تمام پیرا گراف صرف منافقین کے بارے میں ہیں ۔ اگرچہ منافقین کے اندر بھی یہ صفات موجود تھیں اور اس کے باوجود کہ یہ آیات دوسری آیات سے ملی جلی ہیں اور طرز ادا بھی ایک ہی نظر آتا ہے ۔ تاہم میرا میلان اس طرف ہے کہ یہ پیراگراف مہاجرین کے ایک ایسے گروہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو منافق تو نہ تھا مگر ضعیف الایمان تھا ۔ اور ضعف ایمانی کا آخری درجہ بہرحال نفاق کے قریب ہوجاتا ہے ۔ رہے دوسرے تین پیراگراف تو غالب یہی ہے کہ ان میں منافقین کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ اسلامی صفوں کے اندر گھسے ہوئے تھے ‘ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ یہ تمام پیراگراف منافقین ہی کے بارے میں ہوں جو ایسے کام اور ایسی باتیں کیا کرتے تھے ۔ ہم نے یہ موقف کیوں اختیار کیا ہے کہ ان آیات کے پہلے پیراگراف سے مراد یا تو ضعیف الایمان مہاجرین ہیں اور یا ایسے لوگ ہیں جو ایمان کے اعتبار سے پختہ کار نہ تھے اور انکے دلوں کے اندر ایمان کے نشانات اچھی طرح واضح اور پختہ نہ ہوئے تھے ؟ اور ان کی ایمانی فکر مضبوط نہ ہوئی تھی ؟ اس موقف کی وجہ یہ ہے کہ مہاجرین کے بعض گروہ مکہ مکرمہ میں لڑنے کے لئے نہایت ہی پر جوش تھے اور اس وقت لڑائی کی اجازت نہ تھی اور حکم یہ تھا ۔ (آیت) ” کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ “۔ (4 : 77) بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر جن 27 افرد نے حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی ۔ انہوں نے حضور ﷺ کو پیش کش کردی تھی کہ اگر آپ چاہیں تو ہم آج میں منی میں موجود کفار پر ٹوٹ پڑیں ۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے ان کی جواب دیا تھا کہ : ” مجھے ابھی تک جنگ کی اجازت نہیں دی گئی ۔ “ اس واقعہ کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو پھر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ پہلے پیراگراف سے جو لوگ مراد ہیں وہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں اگلے تین پیرا گراف آتے ہیں یعنی منافقین ۔ کیا یہ بیت عقبہ ثانیہ والے لوگ ضعیف الاایمان ہو سکتے ہیں ‘ جیسا کہ پہلا پیرا بیان کر رہا ہے ؟ ہر گز نہیں اس لئے کہ ان سابقین انصار سے بھی اسلامی تاریخ میں کسی کمزوری کا صدور منقول نہیں ہے ۔ نہ کمزوری ‘ نہ نفاق اس لئے کہ اللہ ان سے راضی ہوگیا تھا ۔ اس لئے اقرب الی الذہن یہی ہے کہ اس پہلے مجموعہ سے مراد ضعیف مہاجرین ہی ہیں ۔ یہ لوگ مدینہ جا کر پرامن زندگی کے خوگر ہوگئے تھے ۔ ان سے مشکلات دور ہوگئی تھیں اور جب جہاد و قتال فرض ہوگئے تو وہ ان مشکلات کے برداشت میں کمزوری دکھانے لگے ۔ اور یہ بات بھی اقرب الی لذہن ہے کہ دوسرے تین پیراگرافوں کے اندر بیان کردہ اوصاف ان کمزور اہل ایمان مہاجرین کے نہ ہوں بلکہ وہ منافقین کے اوصاف ہوں ۔ اس لئے کہ اگرچہ انسان بشری کمزوریوں سے پاک نہیں ہوتا پھر بھی ہمارے لئے یہ مشکل ہے کہ ہم کسی مہاجر مومن کی طرف یہ بات منسوب کریں کہ وہ اگر مشکلات سے دو چار ہوں تو ان کو حضرت نبی اکرم ﷺ کی جانب منسوب کرے اور بھلائی آپ ﷺ کی طرف منسوب نہ کرے اور یہ کہ کوئی مہاجر مومن منہ پر حضور ﷺ کی اطاعت کا دم بھرے اور گھر جاکر سازشیں کرے ۔ ہاں اگرچہ یہ ممکن تھا کہ کوئی نافہمی کی وجہ سے اچھی اور بری خبر کو پھیلا دے لیکن اس سے بھی اس بات کا اظہار ہوگا کہ یہ لوگ نظام جماعت کو اچھی طرح نہیں سمجھے ‘ لیکن اشاعت پر بھی کسی کو منافق نہیں کہا جاسکتا ۔ بہرحال ان آیات پر غور کرنے سے حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل معلوم ہوتا ہے کیونکہ ان آیات کی تفسیر میں جو روایات وارد ہیں ان میں بھی کوئی حتمی بات نہیں کہی گئی حتی کہ پہلے پیراگراف کے بارے میں بھی کوئی حتمی رائے وارد نہیں ہے ۔ بعض روایات میں ہے کہ اس سے مہاجرین کا ایک گروہ مراد ہے ۔ اور بعض میں ہے کہ اس سے مراد بھی منافقین تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ان کے بارے میں محتاط موقف اختیار کرتے ہیں اس لئے کہ ہم مہاجرین کو جنگ میں پہلو تہی کرنے اور مسلمانوں کو پہنچنے والے مصائب سے دامن بچانے کے اوصاف سے متصف نہیں کرسکتے جس طرح ان پیراگرافوں سے سابق آیات میں آیا ہے ۔ نیزہم ان پر یہ الزام بھی عائد نہیں کرسکتے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف برائی کی نسبت کرسکتے ہیں ‘ اور بھلائی کی نسبت وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اور یہ کہ وہ رات کو حضور ﷺ کے خلاف کوئی مشورہ کرسکتے ہیں ‘ اگرچہ سیاق کلام اور قرآن کریم کے عمومی انداز بیان سے کسی واقف شخص کے لئے ان پیراگرافوں کا انداز سے تجزیہ کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ یہ تجزیہ وہی شخص کرسکتا ہے جس کے ایک عرصے تک قرآن کریم پر غور وخوص کیا ہو ۔ اور قرآن کریم کے اسلوب بیان سے خوب واقف ہو۔ (آیت) ” الم ترالی الذین قیل لھم کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ فلما کتب علیھم القتال اذا فریق منھم یخشون الناس کخشیۃ اللہ اواشد خشیۃ وقالوا ربنا لم کتبت علینا القتال لولا اخرتنا الی اجل قریب قل متاع الدنیا قلیل والاخرۃ خیر لمن اتقی ولا تظلمون فتیلا (77) این ما تکونوا یدرککم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدۃ (4 : 77۔ 78) ” تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ دو ؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہئے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر ‘ کہتے ہیں خدایا ‘ یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا ؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی ؟ ان سے کہو ‘ دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے ‘ اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لئے زیادہ بہتر ہے ‘ اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا ۔ رہی موت تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو۔ “ ان لوگوں کے حال پر اللہ تعالیٰ تعجب کا اظہار فرماتے ہیں ۔ یہ لوگ جب مکہ میں تھے تو لڑنے کے لئے پرجوش تھے ‘ وہ بہت جلد جہاد شروع کرنے والے تھے ۔ اس وقت مشرکین کی طرف سے ان کے خلاف مظالم ڈھائے جا رہے تھے ‘ وہ فتنوں میں گھرے ہوئے تھے اور اس وقت اللہ تعالیٰ نے انکو انکی مصلحت کی خاطر جہاد کی اجازت نہ دی تھی ۔ لیکن جب مناسب وقت آگیا ‘ جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقرر کیا ہوا تھا اور حالات سازگار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر جہاد فرض کردیا ۔ (اور جہ جہاد فی سبیل اللہ تھا) تو ان میں سے ایک فریق جزع وفزع کرنے لگا اور یہ فریق ان لوگوں سے ڈرنے لگا جن کے ساتھ انہیں لڑنے کا حکم دیا گیا تھا ‘ حالانکہ وہ لوگ بھی انہی جیسے انسان تھے اور یہ ڈر اس قدر شدید تھا جس طرح اللہ تعالیٰ کا ڈر شدید ہوتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ شدید ڈر تھا ‘ حالانکہ اللہ جیسا شدید عذاب کوئی نہیں دے سکتا ۔ اور نہ اللہ کی پکڑ جیسی اور کسی کی پکڑ ہو سکتی ہے ۔ ایسے لوگ نہایت ہی حسرت آمیز الفاظ میں اور سخت جزع وفزع کی حالت میں یہ کہتے ہیں ۔ (آیت) ” ربنا لم کتبت علینا القتال “۔ (4 : 77) (اے ہمارے رب تو نے ہم پر قتال کیوں فرض کردیا ؟ ) ایک مومن کی جانب سے یہ سوال عجیب و غریب لگ رہا ہے ۔ اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فریق کے نقطہ نظر میں اس دین کے فرائض وواجبات کی نوعیت پوری طرح واضح نہ تھی اور یہ فریق اس سوال کے بعد جس خواہش کا اظہار کرتا ہے وہ نہایت ہی حقیر اور فقیرانہ خواہش ہے ۔ (آیت) ” لولا اخرتنا الی اجل قریب “۔ (4 : 77) (کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی) ہمیں تھوڑا سا وقت اور مل جاتا ۔ اور ہم اس خوفناک اور بھاری فریضہ سے دوچار نہ ہوتے ۔ بعض اوقات اس طرح ہوتا ہے کہ بہادری اور تہور اور تیزی سے کسی معاملے کے اندر گھس جانے والے لوگ نہایت تیزی سے جزع وفزع اور خوف وہراس میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ ان کی یہ حالت اس وقت ہوجاتی ہے جب وہ واقعات کے اندر گھس جاتے ہیں اور معاملہ اپنی حقیقی شکل میں سامنے آتا ہے بلکہ یہ صورت حال عموما قاعدہ کلیہ کی شکل میں پیش آتی رہتی ہے ۔ اور یہ اس وجہ سے کہ یہ جوش اور جرات اور تہور اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ ایسے شخص نے مصیبتوں اور مشکلات کا حقیقی اندازہ نہیں لگایا ہوتا ۔ یہ جوش و خروش حقیقی بہادری ‘ مشکلات کے انگیز کرنے اور ثابت قدمی کی وجہ سے نہیں ہوتا ۔ کبھی یہ اس وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ مشکلات تنگی اور تکالیف کے واقع ہونے کے احتمالات کم ہوتے ہیں اور ایسے شخص کو شکست اور ہزیمت نظر نہیں آتی ۔ اس وجہ سے ایسے لوگوں کے اندر جوش و خروش زیادہ ہوجاتا ہے اور وہ آگے بڑھتے ہیں ‘ جلدی حرکت میں آتے ہیں اور ہر قیمت پر فتح حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنی اس حرکت ‘ اقدام اور فتح کی راہ میں حائل مشکلات کا اچھی طرح اندازہ نہیں لگایا ہوتا ۔ چناچہ جب ان کا سامنا ان تکالیف سے ہوتا ہے تو وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ ان کے اندازوں سے زیادہ مشکل ہیں۔ وہ ان کے تصور سے زیادہ شدید ہوتی ہیں تو وہ الٹے پاؤں پھر نے والوں اور جزع وفزع کرنے والوں کی پہلی صف میں ہوتے ہیں وہ ان مشکلات کے لئے قبل از وقت تیاری کرتے ہیں ۔ حرکت اور اقدام کی مشکلات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ ان کے نفوس ان مشکلات کو کہاں تک برداشت کرسکتے ہیں ۔ یہ لوگ صبر وثبات سے کام لیتے ہیں اور کسی معرکے میں تیاری کے بعد کودتے ہیں یہ پرجوش ‘ سرتیز اور آگے بڑھنے والے ایسے لوگوں کو کمزور سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کی سنجیدگی اور متوازن شخصیت ان کو متاثر نہیں کرتی لیکن حقیقی معرکے کے وقت یہ بات نظر آتی ہے کہ ان میں سے کون زیادہ مشکلات کو انگیز کرسکتا ہے اور کون ہے جس کی نظر دور رس ہے ۔ میرا خیال یہ ہے کہ ان آیات میں جس کا فریق کا ذکر ہے ‘ وہ اس قسم لوگوں پر مشتمل تھا ‘ کہ جن کو مکہ میں مشکلات اور اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ یہ لوگ ان مشکلات پر صبر نہ کرسکتے تھے اور یہ لوگ اپنی توہین بھی برداشت نہ کرسکتے تھے ‘ اس لئے کہ یہ شریف لوگ تھے ‘ اس وجہ سے وہاں یہ لوگ جوش میں آکر حضور ﷺ سے یہ اجازت طلب کرتے تھے کہ آپ ان کو ان اذیتوں پر مدافعت کرنے کی اجازت دیں تاکہ وہ اپنی عزت وآبرو کے بچانے کے لئے کوئی اقدام کریں ۔ اور حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ان لوگوں کو مشورہ دیتے تھے کہ وہ ذرا انتظار کریں ‘ ہر کام اپنے وقت پر ہوگا ۔ ہر کام کے لئے تربیت اور تیاری کی ضرورت ہوتی ہے اور ہر اقدام وقت پر کیا جاتا ہے اور وقت آنے کا انتظار کیا جاتا ہے ۔ اس قسم کے لوگ مدینہ میں امن وامان سے رہنے لگے ‘ نہ وہاں ان کی تذلیل ہوتی اور نہ ہی وہاں اذیت ہوتی اور یہ حالت ان ذاتی اور شخصی نیش زینوں کے بعد انہیں نصیب ہوئی تھی جو مکہ میں معمول تھا ‘ اس لئے ایسے لوگ جنگ میں دلچسپی نہ رکھتے تھے اور نہ ہی اس کے لئے کوئی جواز پاتے تھے ‘ یا کم از کم یہ لوگ چاہتے تھے کہ اس بارے میں کسی شتابی کی ضرورت نہیں ہے ۔ (آیت) ” فلما کتب علیھم القتال اذا فریق منھم یخشون الناس کخشیۃ اللہ اواشد خشیۃ وقالوا ربنا لم کتبت علینا القتال لولا اخرتنا الی اجل قریب “۔ (4 : 77) ” اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہئے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر ‘ کہتے ہیں خدایا ‘ یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا ؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی ؟ ۔ یہ فریق غالبا مومنین تھے ۔ اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ یہ لوگ نہایت ہی عاجزی سے اور غمگین انداز میں اللہ کی طرف رجوع کر رہے ہیں ۔ ان کی اس عاجزی اور غم اندوز لہجے کو ہمیں مدنظر رکھنا چاہئے ۔ لیکن ان لوگوں کا ایمان ابھی پختہ معلوم نہیں ہوتا ۔ اور ان کے تصور حیات کے نشانات ابھی تک واضح نہ تھے ۔ یہ مقاصد چند لوگوں کی ذات کو بچانے یا کسی قوم کو بچانے اور یا کسی وطن کو بچانے سے زیادہ بڑے اور اونچے تھے ۔ اسلامی نظام حیات کے مقاصد کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اس پورے کرہ ارض پر اسلامی نظام حیات کو قائم اور غالب کیا جائے اس کا بنیادی مقصد اس پورے کرہ ارض پر ایک عادلانہ نظام کا قیام اور ایک ایسی سلطنت کا قیام ہے جو پوری قوت سے ان رکاوٹوں کو دور کرسکتی ہو ‘ جو دعوت اسلامی کے پھیلاؤ کی را ہمیں کھڑی ہیں اور جو لوگوں کو اس بات سے روکتی ہیں کہ دعوت اسلامی کی طرف کان دھریں ۔ یہ حکومت اپنے اندر اتنی طاقت بھی رکھتی ہو کہ دنیا میں اگر کوئی اپنی خوشی اور اپنے اختیار سے کوئی عقیدہ اپنا لے تو ہو اسے ہر قسم کے تشدد اور دباؤ سے بچا سکے ۔ چاہے یہ تشدد کسی قسم کا بھی ہو ۔ مثلا یہ کہ کسی کو محنت و مزدوری سے نہ محروم کیا جائے اور معاشرے کے اندر اپنی مرضی کی تگ ودو سے محروم نہ کیا جائے ۔ غرض یہ وہ اونچے مقاصد ہیں جو کسی کو ذاتی اور شخصی طور پر اذیت پہنچانے یا نہ پہنچانے کے مقابلے میں بہت زیادہ اہم ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ میں نصیب ہونے والا امن و سکون (اگر فرض کرلیا جائے کہ وہ کسی وقت تھا) اس قدر اہم نہ تھا کہ مسلمانوں کو اس مہم اور تحریک جہاد سے مزید کچھ عرصے کے لئے محروم رکھا جاتا ۔ ابھی تک اس فریق کا ایمان اس قدر پختہ نہ ہوا تھا کہ وہ اپنی ذات کو بیچ میں سے نکال دیں ۔ وہ اللہ کے احکام کو سنیں اور انہی احکام کو علت ومعلول اور اسباب واثرات قرار دیں ۔ ان کو قول فیصل قرار دیں ‘ چاہے کوئی اور گہری حکمت ان کی سمجھ میں نہ آئے ‘ لیکن ابھی تک اس فریق کا تصور دین اس قدر پختہ نہ ہوا تھا کہ یہ لوگ اس دین کی اصل مہم اور مقصد کو سمجھ سکتے ۔ مومن بحیثیت مومن اللہ کا دست قدرت ہے اور اللہ تعالیٰ اس دنیا کے انسانوں کی زندگی میں اس کے ذریعے جو رسم و رواج چاہتا ہے ‘ نافذ کرا دیتا ہے ۔ چناچہ سیاق کلام سے ایسے لوگوں کے موقف کی تصویر کشی کی جاتی ہے اور ان کے اس موقف پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے اور اسے ناپسند کیا جاتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ میں اہل اسلام کو ‘ ان پر ہونے والے مظالم کے انتقام کی اجازت کیوں نہ دی ؟ انہوں نے اس دست درازی کو کیوں برداشت کیا اور قوت کے استعمال کی وجہ سے انہوں نے ان نیش زنیوں کا علاج کیوں نہ کیا حالانکہ مسلمانوں میں سے اکثر لوگ ایسا کرسکتے تھے ۔ کیونکہ تمام لوگ نہ تو کمزور تھے اور نہ بزدل ۔ وہ تو اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے تھے اور نہ مسلمان مکہ میں قلت قلیلہ تھے ۔ وہ اس انتقام سے باز رہنے اور صرف اقامت صلوۃ ‘ ادائیگی زکوۃ اور صبر و برداشت پر اکتفاء کیوں کرتے تھے ۔ حالانکہ بعض مسلمانوں پر ایسا تشدد ہو رہا تھا جو ناقابل برداشت تھا ۔ بعض ایسے تھے جو برداشت نہ کرسکنے کی وجہ سے اپنے دین کے بارے میں فتنے میں پڑجاتے تھے ۔ اور بعض ایسے بھی تھے جو ان تکالیف کی وجہ سے جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تھے ۔ اس کی کیا حکمت تھی ؟ تو حقیقت یہ ہے کہ اس سلسلے میں ہم کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ جو حکمت ہم بیان کریں گے اسے گویا ہم اللہ کی طرف منسوب کریں گے جبکہ اللہ نے خود وہ حکمت بیان نہیں کی ۔ اس طرح ہم اللہ کے احکام وفرائض کے وہ اسباب وعلل بھی بیان کرسکتے ہیں جو درحقیقت ان احکام کے اسباب نہیں ہیں ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے بیان کردہ اسباب بھی وہی ہوں لیکن ان کے علاوہ اور اسباب اور حکمتیں بھی ہوں ‘ جن کا علم اللہ تعالیٰ نے ہمیں نہیں دیا ۔ اسی میں ہمارے لئے خیر اور بھلائی تھی کہ ہمیں اس کا علم نہ ہو ۔ یہ ہے ایک مومنانہ موقف جو کوئی اللہ کے احکام اور شریعت کے قوانین کے سامنے اختیار کرسکتا ہے ‘ جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے متعین اور مخصوص حکمت اور علت خود حتمی طور پر بیان نہیں کی ‘ چاہے ہمارے ہمارے ذہن میں اس کی جو علت بھی آئے اور جو حکمت بھی ظاہری طور پر نظر آئے ۔ چاہے کسی حکم کی جو کیفیت تنقیذ بھی ہمارے ذہن میں آئے یا اس فرض کی ادائیگی کا جو طریقہ بھی ہمارے فہم میں آئے جہاں تک عقل اس کا ادراک کرسکتی ہو ‘ لیکن اچھا موقف یہی ہے کہ انسان مختلف احتمالات میں سے اسے ایک احتمال ہی سمجھے اور بالجزم یہ نہ کہے کہ یہی ہے وہ حکمت جو اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھی اور اس کے سوا کوئی اور حکمت نہیں ہے ۔ اگرچہ کسی کو اپنے علم و خرد پر پورا پورا اعتماد ہو اور اگرچہ اس نے احکام الہی میں نہایت ہی گہرا غور وخوض کیا ہو ‘ اس لئے کہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے پیش نظر ہونے والی حکمتوں کا احاطہ کرلیا ہے ۔ یہ محتاط انداز جس کو ہم تجویز کر رہے ہیں بارگاہ ایزدی کے آداب سے زیادہ قریب ہے ۔ اور احتیاط کا بھی تقاضا ہے کہ اللہ کے علم اور انسان کے علم کے درمیان طبیعت اور حقیقت کا امتیاز رہے ۔ بارگاہ ایزدی کے ان آداب کا خیال رکھتے ہوئے ‘ میں اس موضوع پر اب بات کرتا ہوں کہ مکہ مکرمہ میں جہاد کیوں فرض نہ ہوا اور مدینہ میں جا کر کیوں فرض ہوا ؟ اس موضوع پر میں وہ باتیں بیان کروں گا جو ہمیں نظر آتی ہیں کہ شاید یہی سبب اور حکمت ہو ‘ لیکن یہ سبب و حکمت دونوں بطور احتمال بیان کئے جارہے ہیں اور اصل حقیقت کیا ہے اسے ہم اللہ پر چھوڑتے ہیں ۔ ہم اپنی جانب سے اللہ کی احکام کے لئے اسباب اور حکمتیں فرض نہیں کرتے ۔ اصل حقیقت کا علم صرف اللہ جل شانہ کو ہے اور اس نے نص صریح کے ذریعے اس کی اطلاع ہمیں نہیں دی ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اسباب جو ہم بیان کر رہے ہیں محض اجتہادی ہیں ‘ ان میں صحت کا بھی احتمال ہے ‘ اور غلطی کا بھی ۔ زیادہ بھی ہو سکتے ہیں اور ان میں کمی بھی ہو سکتی ہے ۔ یہاں ان اسباب کے ذکر سے صرف یہ مقصد ہے کہ ہم اللہ کی آیات میں تدبر کریں اور یہ سمجھیں کہ ہمارے دور میں غور وفکر کے بعد ہم پر یہ اسباب واضح ہوئے ۔ (الف) یہ سبب بھی ہو سکتا ہے کہ مکہ زمانہ تربیت اور تیاری کا زمانہ تھا ۔ یہ تیاری ایک متعین خاندان میں ‘ ایک مخصوص قوم میں اور متعین ظروف واحوال میں ہو رہی تھی ۔ اس تربیت اور تیاری کے اہداف یہ تھے کہ ایک عرب کی شخصیت کو ایسے حالات میں صبر کرنے پر تیار کیا جائے جن میں وہ کبھی صبر نہ کرسکتا تھا ۔ مثلا یہ کہ اس کی ذات یا اس کے زیر کفالت لوگوں پر زد پڑے اور وہ اس پر صبر کرے ۔ تاکہ وہ عرب شخصیت اپنی قبائلی شناخت اور اپنی ـذات کو بھول جائے اور اس کی زندگی کا محور اس کی ذات اور اس کے زیر کفالت لوگ ہی نہ ہوں اور وہ اپنی زندگی صرف اپنی ذات کے لئے متحرک نہ کرے ۔ نیز ایک عرب مزاج کو یہ تربیت دینا مقصود تھا کہ وہ اپنے اعصاب پر قابو پاسکے ۔ یہ نہ ہو کہ پہلے تاثر پر ہی وہ جوش میں آجائے اور پہلی ہیجان انگیز حرکت پر ہی آپے سے باہر نہ ہوجائے اس کی حرکت اور اس کے مزاج کے اندر اعتدال پیدا ہوجائے ۔ اس کو یہ تربیت بھی دینا مقصود تھا کہ وہ ایک منظم سوسائٹی کا فرد ہو اور اس کی ایک قیادت ہو جس کی طرف وہ اپنی زندگی کے تمام امور میں رجوع کرنے کا عادی ہوجائے اور وہ کوئی کام بھی نہ کرے مگر اس قیادت کے اشارے کے مطابق اگرچہ یہ اوامر اس کی عادی زندگی کے خلاف اور متضاد ہوں ۔ ایک عرب شخصیت کی تربیت کے باب میں یہ نہایت ہی بنیادی باتیں تھیں ۔ اس سے ایک اسلامی سوسائٹی کی تشکیل مقصود تھی جو ایک قیادت کے تابع ہو جو ترقی پذیر اور مہذب سوسائٹی ہو اور قبائلی اور غیر مہذب (BArbAriAn) سوسائٹی نہ ہو ۔ (ب) اس کا سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قریش کے ماحول میں پرامن دعوت زیادہ موثر ہو سکتی تھی ‘ اس لئے کہ یہ سوسائٹی شرفاء کی سوسائٹی تھی اور اگر سوسائٹی کے اندر مسلمان جنگ شروع کردیتے تو اس کی وجہ سے یہ لوگ بغض وعناد میں اور تیز ہوجاتے ۔ ایسے حالات میں جو مکہ میں اس وقت تھے ‘ خونریز لڑائیاں شروع ہوجاتیں اور جنگ داحس ‘ جنگ بسوس ‘ اور جنگ غبراء کی طرح قتل ومقاتلے کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوجاتا ۔ یہ جنگیں عربوں کی مشہور جنگیں تھیں اور سالہا سال تک مسلسل لڑی جاتی رہی ۔ اس جدید جنگ کا تعلق اسلام سے ہوتا اور تمام واقعات اسلام کے حوالے سے یاد کئے جاتے ۔ ان جنگوں کا کبھی خاتمہ نہ ہوتا اور اسلام بجائے اس کے کہ ایک دعوت ہوتی ‘ وہ جنگ وجدال کی طویل داستان ہوتا اور ان داستانوں کے نتیجے میں اسلام کی اصل دعوت پس منظر میں چلی جاتی ۔ اس دعوت کا یہ حال ابتدائی مرحلے ہی میں ہوجاتا اور کچھ عرصے کے بعد یہ ختم ہی ہوجاتی ۔ (ج) یہ اس لئے بھی تھا کہ اگر مکہ میں جہاد کی اجازت دی جاتی تو گھر گھر میں جنگ شروع ہوجاتی ۔ اس لئے کہ مکہ مکرمہ کے اندر کوئی باقاعدہ حکومت نہ تھی جو لوگوں پر کنٹرول کرسکتی ۔ نیز وہاں کوئی ایسی حکومت نہ تھی جو مسلمانوں کو تکلیفات دیتی تھی ‘ بلکہ مسلمانوں کو جو اذیتیں دی جاتی تھیں وہ ہر مسلمان کے اپنے رشتہ داروں ہی کے ذریعے دی جاتی تھیں ، خود رشتہ دار ہی مسلمان ہونے والے لوگوں پر تشدد کرتے ‘ انہیں اذیت دیتے اور اپنے خیال کے مطابق ان کی تربیت کرتے ۔ اگر مکہ میں جنگ کی اجازت دے دی جاتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ گھر گھر میں جنگ شروع ہوجاتی اور لوگ کہتے دیکھو یہ ہے اسلام ‘ حالانکہ اسلام پر فتنہ ڈالنے کا الزام اس وقت بھی لگایا گیا تھا جب مسلمانوں کو حکم یہ تھا کہ ہاتھ روکے رکھو ۔ لیکن قریش حج اور عمرہ کے لئے آنے والوں اور تجارتی بازاروں کے اندر اسلام کے خلاف یہی پروپیگنڈا تو کرتے رہتے تھے ۔ وہ کہتے کہ محمد باپ بیٹے کے درمیان اور ایک شخص اور اس کے قبیلے کے درمیان عداوت ڈال دیتے ہیں ۔ اگر اسلام لڑکوں اور غلاموں کو یہ اجازت دے دیتا کہ وہ والدین کو اور اپنے آقاؤں اور اپنے سرپرستوں کو قتل کردیں اور ہر گھر اور محلہ میں یہ جنگ شروع ہوجاتی تو قریش کے پروپیگنڈے کا عالم کیا ہوتا ؟ (د) اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جو لوگ اپنی اولاد پر بوجہ اسلام مظالم ڈھا رہے تھے ‘ جو لوگ اپنے غلاموں کو اذیت دیتے تھے اور جو لوگ اپنے زیر سرپرستی لوگوں پر تشدد کرتے تھے ‘ اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ یہ لوگ آگے جاکر اسلام کے حق میں عظیم خدمات سرانجام دینے والے ہیں ‘ یہ اسلام کے سپاہی ہوں گے ‘ مخلصین اور قائدین بنیں گے ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ حضرت عمر ؓ بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے ۔ (ھ) ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ عربوں کی خودداری اور شرافت کا تقاضہ تھا کہ یہ لوگ ہمیشہ مظلوم کے حق میں آواز اٹھاتے تھے ۔ ایسا مظلوم جس پر ناحق تشدد کیا جا رہا ہو لیکن وہ اپنی بات کا اس قدر پکا ہو کہ وہ کسی قیمت پر بھی باز نہ آرہا ہو ۔ خصوصا اس صورت میں جبکہ نہایت ہی شریف لوگوں تشدد ہو رہا ہو اور ایسے کئی واقعات ہوئے جن سے اس نظریے کی صحت کا ثبوت ملتا ہیں ۔ ابن الدغنہ اس کے لئے تیار نہ ہوئے کہ وہ حضرت ابوبکر ؓ کا ساتھ چھوڑ دیں اور وہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کریں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات عربوں کے لئے نہایت ہی شرم کی بات ہے ۔ انہوں نے حضرت ابوبکر ؓ کو پیشکش کی کہ وہ ان کی حمایت کریں گے ۔ اس کی ایک دوسری مثال شعب ابی طالب میں بنی ہاشم کا محاصرہ ہے ۔ یہ محاصرہ اس قدر طویل ہوگیا کہ لوگ بھوک سے مرنے لگے اور ان پر سخت مصائب ٹوٹ پڑے ۔ اگر قدیم زمانوں کی اور سوسائٹیوں میں یہ واقعہ ہوا ہوتا تو لوگ مظلوموں کو حقیر سمجھتے اور ان کے ساتھ مذاق کرتے اور ظالموں کو عزت اور وقار کی نظروں سے دیکھا جاتا (لیکن وہاں جو کچھ ہو اوہ تاریخ عرب کی زریں مثال ہے) (و) اس کا ایک سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مکہ میں مسلمانوں کی تعداد بہت ہی کم تھی ‘ اور وہ مکہ مکرمہ ہی میں زندہ رہ سکتے تھے ۔ اس لئے کہ جزیرۃ العرب کے دوسرے علاقوں تک دعوت پہنچی ہی نہ تھی ۔ اگر پہنچی تھی تو اس کے بارے میں کچی پکی خبریں ہی جا بجا پہنچی تھیں ۔ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ تحریک اسلامی اور قریش کے اندر بعض لوگوں کے درمیان داخلی اختلافات ہیں اور اگر جنگ شروع ہوگئی ہوتی تو وہ غیر جانبدار ہوتے اور دیکھتے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ۔ ایسے حالات میں ممکن تھا کہ یہ معرکہ مسلمانوں کی اس قلیل تعداد کے مارے جانے کے بعد ختم ہی ہوجاتا ۔ اگرچہ یہ قلیل تعداد اپنے مقابلے میں دوگنا کفار کو قتل کردیتی ‘ لیکن ان کے ختم ہونے کے بعد شرک اپنی جگہ مزید مضبوط ہوجاتا اور اسلام کی یہ مختصر فوج صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ۔ اسلامی نظام حیات دنیا میں حقیقی روپ اختیار نہ کرسکتا حالانکہ اسلام ایک ایسا دین تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ وہ دنیا میں بطور نظام زندگی قائم ہو اور عملا لوگوں کی زندگیوں میں نافذ ہو۔ (ز) ان تمام امور کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مکی دور میں اس بات کی حقیقی ضرورت تھی ہی نہیں کہ مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی جائے کہ وہ مقاتلہ کرکے تشدد کی مدافعت کریں ۔ اس لئے کہ دعوت اسلامی کا بنیادی کام ہو رہا تھا اور دعوت مسلسل جارہی تھی ۔ حضرت محمد ﷺ کی ذات بابرکات موجود تھی اور بنی ہاشم کی تلواریں آپ کی حفاظت کے لئے ہر وقت بےنیام تھیں اگر کوئی شخص آپ پر ہاتھ اٹھاتا تو اسے یہ خطرہ لاحق تھا کہ اس کا ہاتھ کٹ جائے گا اور اس وقت کا قبائلی نظام موجود تھا جس میں ہر قبیلہ اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں وہ خواہ مخواہ بنی ہاشم کے ساتھ لڑائی میں الجھ نہ جائے اور یہ خطرہ ہر اس صورت میں بالکل موجود تھا اگر کسی قبیلے کا کوئی فرد حضور ﷺ پر ہاتھ اٹھاتا ۔ چونکہ داعی کی شخصیت محفوظ تھی اور اس کی حفاظت ہو رہی تھی ‘ اور داعی بنی ہاشم کی امداد سے اور اس وقت کے موجودہ قبائلی نظام کے رسم و رواج کے مطابق شب وروز دعوت دے رہا تھا ۔ داعی نہ دعوت کو خفیہ رکھ رہا تھا اور نہ اپنی بات کسی سے چھپاتا تھا مکہ میں کسی شخص میں یہ جرات نہ تھی کہ وہ آپ کی دعوت پھیلانے سے روک سکے ۔ آپ قریش کی مجالس میں ‘ خانہ کعبہ میں ‘ جبل صفا پر اور عمومی اجتماعات میں دعوت اسلامی کا کام کر رہے تھے اور کسی شخص کی یہ جرات نہ تھی کہ وہ آپ ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ سکے ۔ کوئی شخص یہ جرات نہ کرسکتا تھا کہ آپ کو اغواء کرسکے ‘ آپ کو قید کرسکے ‘ اور آپ کو قتل کرسکے ‘ اور کوئی آپ کو اس کی مرضی کی بات کہنے پر مجبور نہ کرسکتا تھا کہ آپ اپنے دین کی بعض باتیں کہہ سکتے اور بعض باتوں پر خاموش رہتے ۔ ایک بار جب انہوں نے آپ کو یہ پیشکش کی کہ وہ ان کے خداؤں اور الہوں کو برا بھلا نہ کہیں اور ان کی بدگوئی نہ کریں تو آپ نے انکی اس پیشکش کو مسترد کردیا ۔ نیز جب انہوں نے یہ پیشکش کی کہ کچھ نرمی وہ کریں اور کچھ نرمی قریش کریں گے تو آپ نے اس کو بھی رد کردیا ۔ یعنی کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اپنانے سے انکار کردیا ۔ پیشکش یہ تھی کہ بعض باتیں حضور ﷺ ان کی مان لیں اور بعض باتیں وہ اسلام کی مان لیں گے تو حضور ﷺ نے اس کا بھی انکار کردیا ۔ غرض دولت اسلامی کا وجود قائم تھا ۔ حضور اکرم ﷺ موجود تھے اور بنی ہاشم بطور محافظ کام کر رہے تھے اور حضور ﷺ ہر شکل و صورت میں اور تمام ذرائع سے اپنی دعوت پھیلانے میں آزاد تھے ۔ ایسے حالات میں جنگ اور جہاد کی فلا الواقعہ کوئی حقیقی ضرورت بھی نہ تھی کہ قبل از وقت جہاد و قتال شروع کردیا جائے اور سب سے اہم وجہ یہی تھی کہ قریش کا خاندان اس دعوت کے لئے ساز گار تھا اور اس کے اچھے نتائج نکلنے والے تھے ۔ یہ تمام پہلو ‘ جہاں تک ہم سمجھتے ہیں ‘ اس حکمت کے بعض پہلو ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے مکہ میں جہاد و قتال کا آغاز نہ ہوا اور وہاں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ ہاتھ روکے رکھیں ‘ نماز قائم کریں ‘ زکوۃ ادا کریں ۔ ان کاموں کی وجہ سے ان کی تیاری اور تربیت مکمل ہوجائے گی اور دعوت اسلامی کا مکہ منصوبہ بھی اپنے اختتام تک پہنچ جائے گا ۔ مسلمان اپنی قیادت کے احکام کا انتظار کریں گے اور جب وقت آئے گا تو اپنے آپ کو اس فریضہ سے عہدہ برآ کرسکیں گے اس لئے کہ اس فرض کی ادائیگی میں اب ان کی کوئی ذاتی غرض وغایت نہ ہوگی اور ان کا جہاد و قتال اب صرف اللہ کے لئے ہوگا فی سبیل اللہ ہوگا اور فی الوقت دعوت اپنی رفتار سے بہرحال جاری تھی ‘ اس کی حمایت ہو رہی تھی ۔ اور اس سے محبت کرنے والے موجود تھے اور نگہبان تھے ۔ اس منصوبے کی جو حکمت بھی ہو بہرحال اس وقت ایسے پرجوش لوگ موجود تھے جو بظاہر اس گھڑی کا بڑی شدت سے انتظار کر رہے تھے کہ انہیں جنگ کی اجازت دی جائے ۔ (آیت) ” فلما کتب علیھم القتال اذا فریق منھم یخشون الناس کخشیۃ اللہ اواشد خشیۃ وقالوا ربنا لم کتبت علینا القتال لولا اخرتنا الی اجل قریب “۔ (4 : 77) ” اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہئے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر ‘ کہتے ہیں خدایا ‘ یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا ؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی ؟ ۔ اسلامی صفوں میں ایک ایسے گروہ کی موجودگی جو جہاد و قتال سے کتراتا ہو ‘ ایک قسم کی بےچینی پیدا کرتی تھی اس طرح اسلامی صفوف میں ایک طرف یہ گروہ تھا جو جزع وفزع کرتا تھا ۔ دوسری طرف سچے اور کامل مومنین تھے جو پورے طور پر ثابت قدم تھے اور اپنے نصب العین پر مطمئن تھے اور راہ حق میں آنے والی بےچینیوں کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے تھے اور اس راہ کی مشقتوں کو برداشت کرتے تھے ۔ ظاہر ہے کہ ان دو گروہوں کے اندر ہم آہنگی پیدا نہ ہو سکتی تھی ۔ اس فریق مومن کے اندر بھی سچائی کے لئے جوش و خروش پایا جاتا تھا ‘ یہ عزم اور ارادے والے تھے ‘ انہیں یقین وثبات حاصل تھا ‘ مگر یہ لوگ ہر جذبے کا اظہار اپنی جگہ کیا کرتے تھے ۔ اس لئے کہ جب جنگ شروع ہی نہ ہوئی ہو اور اس کے احکامات ہی نہ دیئے گئے ہو تو وہ محض تہور اور خالی نعرہ بازی ہوگی اور جب حقیقی خطرکا سامنا ہو تو یہ بخار ہوا میں تحلیل ہوجاتا ہے ۔ ایسی صورت حال کا علاج قرآن کریم نے اپنے انداز میں کیا : (آیت) ” قل متاع الدنیا قلیل والاخرۃ خیر لمن اتقی ولا تظلمون فتیلا (77) این ما تکونوا یدرککم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدۃ (78) (4 : 77۔ 78) ” کہو دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے ‘ اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لئے زیادہ بہتر ہے ‘ اور تم پر ظلم ایک شمہ برابر بھی نہ کیا جائے گا ۔ رہی موت تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو۔ یہ لوگ موت سے ڈرتے ہیں ‘ اور زندگی چاہتے ہیں اور نہایت ہی عاجزانہ حسرت کے انداز میں تمنا کرتے ہیں کہ انہیں کچھ مزید مہلت مل جاتی اور ان کے سرمایہ میں کچھ مزید اضافہ ہوجاتا ۔ قرآن کریم کا کمال یہ ہے کہ ایسے جذبات جہاں سے پیدا ہوتے ہیں ‘ وہیں سے ان کی جڑ کاٹ دیتا ہے اور موت اور زندگی کی حقیقت واضح کردیتا ہے ۔ (آیت) ” قل متاع الدنیا قلیل “۔ (4 : 77) (کہہ دو زندگی کا سرمایہ تو بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے) زندگی کا تمام سروسامان ‘ بلکہ پوری زندگی کی حقیقت کیا ہے ‘ چند دن ‘ چند ہفتے ‘ چند مہینے یا چند سال ؟ اگر قدرے مہلت مل بھی جائے تو اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اگر پوری زندگی ہی ایک مختصر وقت ہے تو اس مختصر وقت میں وہ کیا سازوسامان جمع کریں گے ۔ اس لئے کہ زندگی تو دونوں ‘ ہفتوں اور مہینوں اور سالوں ہی کے اندر محدود ہے ۔ اس لئے اس مختصر زندگی کا طول بھی مختصر ہے ۔ (آیت) ” والاخرۃ خیرلمن اتقی “۔ (4 : 77) (اور آخرت ہی ایک خدا ترس انسان کے لئے بہتر ہے) ایک تو اس لئے کہ معاملہ دنیا ہی میں ختم نہیں ہوجاتا ۔ یہ دنیا اس انسانی سفر کی آخری منزل نہیں ہے ۔ یہ تو ایک مرحلہ ہے اس مرحلے کے بعد آخرت ہے اور سرمایہ وہی ہے جو آخرت کے لئے جمع ہو ۔ پھر یہ کہ آخرت کا دور طویل ہے اور لاانتہا ہے ‘ اور اس کا سرمایہ خیر ہے اور بہتر ہے ۔ جو لوگ خدا ترس ہوں وہ اسے بہتر سمجھتے ہیں ۔ یہاں بات خوف اور ڈر کی ہو رہی تھی ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے تقوی کا ذکر کیا جو اگرچہ ڈر ہی ہے لیکن خدا کا ڈر ۔ یعنی اگر کوئی ڈرتا ہے تو اسے اللہ سے ڈرنا چاہئے ‘ انسان سے کیا ڈرنا ؟ لیکن ایک گروہ مسلمانوں کے اندر ایسا موجود ہے جو لوگوں سے اس طرح ڈرتا ہے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے ۔ ہاں جو خدا سے ڈرتا ہے تو پھر وہ لوگوں سے نہیں ڈرتا ۔ جس کے دل میں خوف خدا بس جائے پھر اس دل میں کسی اور کے خوف کے لئے جگہ ہی نہیں رہتی ۔ اس لئے کہ اگر اللہ نہ چاہے تو اس کا کوئی بھی کچھ بگاڑ ہی نہیں سکتا ۔ (آیت) ” ولا تظلمون فتیلا “۔ (4 : 77) (اور تم پر شمہ برابر بھی ظلم نہ کیا جائے گا) تمہارے اجر میں کوئی غبن نہ ہوگا ‘ کوئی نقصان نہ ہوگا اور کوئی کمی نہ کی جائے گی ۔ اگر دنیا میں ان سے کوئی چیز رہ گئی تو دار آخرت تو آنے ہی والا ہے وہاں وہ کمی پوری کردی جائے گی جہاں کوئی ظلم نہ ہوگا اور حساب و کتاب میں کوئی کمی نہ ہوگی اور دنیا وآخرت کا فائنل بل مل جائے گا ۔ اس حقائق کے باوجود بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے نفوس کے اندر یہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ ان کو اسی زمین پر کچھ دن اور مہلت مل جائے اس کے باوجود کہ یہ لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور آخرت میں جزائے خیر کے بھی امیداوار ہیں ‘ تاہم وہ ایسی خواہش دل میں رکھتے ہیں ‘ خصاصا وہ لوگ جو ایمان کے ایسے درجے میں ہوں جس میں یہ فریق زیر بحث تھا ۔ یہاں اب بات کو ایک آخری جھلکی میں دوبارہ پیش کیا جاتا ہے اور ایک ہی فقرے میں غلط تصور اور غلط سوچ کو درست کردیا جاتا ہے ۔ موت وحیات اور تقدیر اور اجل کے بارے میں سوچ کر درست کردیا جاتا ہے ، نیز جہاد و قتال کے زوایے سے موت وحیات کو ایک ٹچ دیا جاتا ہے ۔ اس فریق کا یہ جزع وفزع اسی لئے تو تھا کہ یہ سمجھتے تھے کہ موت قتال کے نتیجے میں آتی ہے حالانکہ (آیت) ” این ما تکونوا یدرککم الموت ولو کنتم فی بروج مشیدۃ (4 : 78) (موت تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو) ۔ موت تو ایک مقرر وقت پر آتی ہے ۔ اس کا تعلق قتال اور امن سے نہیں ہے ۔ اس کا تعلق جائے رہائش کی پختگی اور ناپختگی سے بھی نہیں ہے ۔ نیز کوئی فریضہ جنگ سے پہلو تہی کرے تو بھی موت مؤخر نہیں ہو سکتی اور نہ فرائض جنگ اور جہاد کی وجہ سے موت وقت سے پہلے آتی ہے ۔ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور یہ معاملات اس سے بالکل جدا ہیں ۔ ان کے درمیان کوئی تعلق سبب ومسبب نہیں ہے ۔ بلکہ موت کا ایک وقت مقرر ہے اور جب وہ وقت پہنچ جائے تو سبب کوئی بھی فراہم ہوجاتا ہے ۔ وقت کے سوا اور کوئی سبب مرگ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ یہ کہ یہ تمنا کرنا کہ قتال کا فرض ہونا اگر قدرے مؤخر ہوجاتا ایک لغو تمنا ہے ۔ نیز قتال اور غیر قتال کے حالات میں اللہ کے سوا کسی اور سے ڈرنے کے بھی کچھ معانی نہیں ہیں ۔ قرآن کریم ایک لطیف ٹچ کے ساتھ دل کی بدل دیتا ہے ۔ موت وحیات کے بارے میں ایک انسان کی سوچ ہی بدل جاتی ہے ۔ اور انسان کی سوچ اور شعور میں جو خوف وہراس ہوتا ہے وہ یک لخت دور ہوجاتا ہے ۔ لیکن اس کے معنی یہ بھی نہیں ہیں کہ انسان احتیاطی تدابیر اختیار ہی نہ کرے اور اس کے دائرہ اختیار میں بچاؤ اور نگہداشت کے لئے جو تدابیر ہیں ۔ انہیں کام میں نہ لائے ۔ ابھی ابھی یہ بات گزری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ۔ (آیت) ” خذوا حذرکم “۔ تم بہت ہی محتاط رہو ۔ اور صلوۃ الخوف کے مسائل کے بیان کے موقعہ پر بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ایک دوسری جگہ (آیت) ” واعدوا “۔ کا حکم دیا گیا کہ خوب تیاریاں کرو۔ یہ تمام احکام اپنی جگہ درست ہیں ‘ البتہ ان تیاریوں کے ساتھ موت وحیات کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ احتیاطی تدابیر اور جنگی سازوسامان کی فراہمی کی اپنی جگہ پر ایک حکمت ہے اور ان احکام کی پیروی ضروری ہے ۔ یہ اللہ کی تدابیر ہیں جن کا اللہ نے حکم دیا ہے ۔ لیکن موت بہرحال اپنے مقررہ وقت پر آتی ہے اور یہ بالکل ایک دوسرا عقیدہ اور حکم ہے اور اس پر یقین رکھنا بھی فرض ہے ۔ اگرچہ احتیاطی تدابیر بھی فرض ہیں اور جنگی تیاریوں کی بھی ظاہری اور باطنی حکمتیں ہیں لہذا دونوں احکام کی پیروی ضروری ہے ‘ پورے توازن اور پورے اعتدال کے ساتھ ۔ تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔۔۔۔۔۔ یہ ہیں اسلام کی ہدایات اور صحیح اسلامی پالیسیاں ۔ افراد اور جماعت کی تربیت کا یہ اسلامی منہاج ہے ۔ غالبا یہاں آکر مہاجرین کے اس گروہ کی بات ختم ہوجاتی ہے اور اب اسلامی صفوں میں پھیلے ہوئے ایک دوسرے عنصر کی بات شروع ہوتی ہے ۔ اس دور میں اسلامی سوسائٹی کا دوسرا عناصر کے ساتھ یہ بھی ایک موجود عنصر ترکیبی تھا ۔ اگرچہ سابقہ بات کے اندر انقطاع اور نئی بات کا آغاز یہاں نظر نہیں آتا نہ کوئی فصل ہے ‘ نہ کوئی وقف ہے ‘ جس سے یہ معلوم ہو سکے کہ آنے والی بات ایک دوسرے عنصر کے بارے میں ہے ۔ الا یہ کہ پہلے فریق کی بات ختم ہوگئی ہے لیکن اس بارے میں اس سے قبل ہم جو نکات بیان کر آئے ہیں اور ہمارے پیش نظر ہیں ۔

النساء 4:78

(آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (78) ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80) ” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے ‘ اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب وعمل کی بدولت ہے ‘ ۔ اے محمد ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی ‘ اور جو منہ موڑ گیا ‘ تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔ جن لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں جو بھلائی پیش آتی ہے اس کی نسبت وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اور جو برائی انہیں درپیش ہوتی ہے ‘ اس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرتے ہیں ان کے اس فعل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ ہو سکتی ۔ اگر خشک سالی ہوجائے ‘ اگر مویشی نسل کشی نہ کریں یا اگر کسی موقعہ پر ان پر مصیبت آجائے تو وہ ان چیزوں کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرتے ۔ اور اگر انہیں کوئی بھلائی اور کامیابی ہوتی تو کہتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر نبی ﷺ کی قیادت پر الزام تراشی کرتے تھے ۔ اور یہ کام وہ اس لئے کرتے تھے کہ حضور ﷺ ان پر جو فرائض عائد فرماتے تھے ‘ ان سے گلو خلاصی کرالیں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قتال فی سبیل اللہ کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوں ۔ تو بجائے اس کے کہ وہ صاف صاف کہہ دیتے کہ بھائی ہم تو ضعیف ہیں اور بزدل ہیں اور جنگ سے ڈرتے ہیں ‘ انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حضور کی قیادت پر جرح وقدح کرنے لگے ۔ اور اگر بھلائی نصیب ہو تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اگر برائی نصیب ہو تو اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرتے ہیں یا حضور ﷺ کے احکام کی طرف کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے ان احکامات کی وجہ سے یہ مصیبت پڑی اور خیر سے ان کی مراد اس دنیا کی بھلائی ہوتی ہے اور شر سے مراد ان کی اس دنیا کا نقصان ہوتا ہے ۔ تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس دنیا میں اللہ کی مشیت کے مطابق لوگوں کو جو حادثات اور واقعات پیش آتے ہیں اس کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بہت ہی غلط ہے ۔ نیز ان کا رسول اللہ اور خدا تعالیٰ کے درمیان پائے جانے والے تعلق کے بارے میں بھی بہت ہی گھٹیا تصور ہے ۔ اگر یہ تیسری وجہ ہو تو یہ ان مہاجرین کی طرف سے ہو سکتی ہے جن کا موت وحیات کے بارے میں ابھی عقیدہ صاف نہ ہوا تھا اور اپنے اس تصور موت وحیات کی وجہ سے یہ لوگوں سے اس طرح ڈرتے تھے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے ۔ اور یہ لوگ کہتے تھے ۔ (آیت) ” ربنا لم کتبت علینا القتال لولا اخرتنا الی اجل قریب (4 : 77) (اے ہمارے رب تو نے ہم پر قتال کو کیوں فرض کردیا ‘ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تو اسے قریب وقت تک مؤخر کردیتا) لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس آیت سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد کچھ دوسرے لوگ ہیں جن میں ان چہروں کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل تھے ۔ یہ مسئلہ جو اس آیت میں لیا گیا ہے ۔ یہ ایک عظیم اور مشکل مسئلہ کا ایک پہلو ہے اور وہ مسئلہ تاریخ ادیان اور تاریخ فلسفہ کا نہایت ہی مشکل مسئلہ ہے ۔ یعنی مسئلہ جبر وقدر اور مسئلہ تقدیر ۔ یہ مسئلہ یہاں بعض لوگوں کے حالات کے بیان میں ضمنا آگیا ہے ۔ ان لوگوں کے غلط تصورات کا رد یہاں کیا گیا ہے ۔ قرآن کریم نے اس فریق زیر بحث کی فکری غلطی کو درست کرتے ہوئے اس مسئلے کو نہایت ہی سادگی اور بغیر کسی پیچیدگی کے بیان کردیا ۔ ذرا قرآن کریم کے الفاظ میں سنئے ۔ (آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (4 : 78) ” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی “۔ بیشک اللہ ہی فاعل حقیقی اور فاعل اول ہے ۔ وہی فاعل ہے جو کچھ اس کائنات میں وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اسی سے ہے ۔ لوگوں کے لئے جو کچھ ہوتا ہے یا لوگوں سے جو کچھ ہوتا ہے یہ سب کچھ اللہ سے ہے ۔ لوگوں کا اختیار صرف اس قدر ہے کہ وہ توجہ کریں اور سعی کریں لیکن کسی فعل کا تحقق صرف اللہ کے ارادے اور تقدیر سے ہی ہو سکتا ہے ۔ اس لئے کہ نیکی کی نسبت یا برائی کو وجود میں لانے کی نسبت اور برائی کو کسی کے اوپر لے آنے کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرنا ‘ حالانکہ آپ ایک انسان اور مخلوق ہیں اور ہم جیسے ہیں ‘ یہ ایک غیر حقیقی نسبت ہے ۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس موضوع پر بات کو سمجھتے ہی نہیں ۔ کبھی یہ ہوتا ہے کہ انسان ایک کام کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنے لئے بھلائی سمیٹنے کی سعی کرتا ہے ۔ اسے اللہ تعالیٰ نے وسائل خیر کو استعمال کرنے کا جو فہم دیا ہے وہ اسے استعمال کرتا ہے لیکن اس کے باوجود کسی کو اگر بھلائی نصیب ہوتی ہے تو وہ ارادہ الہی سے ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کی تقدیر کے علاوہ کوئی اور تقدیر تو ہے نہیں جو اشیاء ‘ حادثات اور اس کائنات کے اندر وقوع پذیر ہونے والے حوادث کو پیدا کرسکتی ہو۔ اب بھلائی بھی اگر کسی کو نصیب ہوتی ہے تو ان وسائل کی مدد سے نصیب ہوتی ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ نے اس بھلائی کے لئے مقرر کئے ہیں ۔ اس لئے عملا یہی تصور ہوگا کہ یہ بھلائی اللہ ہی کی وجہ سے نصیب ہوئی اور اسی کی تقدیر کا نتیجہ ہے ۔ بعض اوقات انسان ایک برائی کے ارتکاب کی طرف متوجہ ہوتا ہے یا وہ کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس کے نتیجے میں برائی وجود میں آتی ہے ۔ لیکن عملا برائی کا وارد ہونا اور وجود میں آنا محض اللہ کی قضا وقدر کے تحت ہوتا ہے ‘ اس لئے کہ اس کائنات میں اشیاء کے پیدا کرنے اور حادثات کو وقوع پذیر کرنے کی طاقت اللہ کے سوا کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ دونوں صورتوں میں خیر وشر میں کسی چیز کا وقوع پذیر ہونا من جانب اللہ ہوتا ہے اور اس آیت میں اسی حقیقت کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ رہی دوسری آیت یعنی (آیت) ” ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک (4 : 79) “ ” تمہیں جو بھلائی نصیب ہوتی ہے اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور تمہیں جو برائی نصیب ہوتی ہے وہ تمہارے نفس کی طرف سے ہوتی ہے ‘ ۔ تو اس میں ایک دوسری حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اس کا پہلی آیت میں بیان کردہ حقیقت سے نہ تعلق ہے اور نہ وہ اس سابقہ حقیقت قضا وقدر میں داخل ہے ۔ لہذا اس کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق ایک منہاج کار وضع کیا ہے اور اس نے ہر کام کے لئے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو شر کے بارے میں اچھی طرح متنبہ کیا ہے ۔ جب انسان اس منہاج پر کاربند ہوتا ہے اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلتا ہے ‘ بھلائی کے لئے کوشاں ہوتا ہے اور شر سے لرزاں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ راہ ہدایت پر چلنے کے لئے اس کی مدد کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا) (جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں تو ہم ان کی راہنمائی اپنی راہوں کی طرف کردیتے ہیں) تب انسان بھلائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ بظاہر ایک شخص کسب اور محنت کرتے ہوئے نظر آتا ہے لیکن اس انسانی کسب وعمل کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ کسب وعمل کا منہاج تو خود اللہ نے متعین کیا ہے اس لئے انسان کی سعی میں ہی بھلائی ہوتی ہے ‘ وہ اللہ کی ترازو میں ہوتی ہے اور اللہ کی جانب سے ہوتی ہے اس لئے کہ بھلائی کا طریق کار وضع کرنے والا اور منہاج عمل متعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔ اسی نے تو بھلائی کی طرف راہنمائی فرمائی اور وہی تو ہے جس نے بھلائی کی توفیق دی اور برائی سے ڈرایا ۔ کوئی انسان جب اس منہاج پر نہیں چلتا جو اللہ نے متعین کیا ہے اور اس راہ کو نہیں اپناتا جسے اللہ نے مشروع قرار دیا ‘ وہ بھلائی کے لئے سعی نہیں کرتا اور جس برائی سے اسے ڈرایا گیا ہے اس سے نہیں ڈرتا ‘ تو یقینا اسے برائی سے دو چار ہونا پڑے گا اور یہ ایک حقیقی برائی ہوگی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور یہ برائی خود اس کے نفس کی کمائی ہوگی اس لئے کہ وہ اپنے اختیار سے اللہ کے پسندیدہ منہاج عمل سے نکل گیا ۔ (یہ ہے اس کا کسب) یہ مفہوم پہلے مفہوم سے مختلف ہے اور دونوں کا دائرہ بھی الگ الگ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نکتہ اب واضح ہوگیا ہے۔ اس دوسرے مفہوم کے اعتبار سے نظریہ پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اچھائی اور برائی دونوں کا تعلق اللہ کی مرضی اور تقدیر سے ہے ۔ اللہ ہی تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے ۔ ہر حادث کا پیدا کرنے والا وہی ہے ۔ ہر ہونے والے واقعے کا موجد وہی ہے ‘ چاہے اس بارے میں انسان کا ارادہ اور عمل جو ہو ‘ سو ہو اور ہونے والے جیسے حالات میں بھی ہو۔ وہ اصل مسئلہ کیا ہے جو ان نصوص میں بیان کیا گیا ہے یا اس کا ایک پہلو لیا گیا ہے ۔ وہ مسئلہ جبر واختیار ہے ۔ یہ کہ انسان سے جن افعال کا صدور ہوتا ہے ‘ اس میں اس کے اپنے ارادے کا کس قدر دخل ہے یا اس کے لئے جو فائدے یہاں واقع ہوتے ہیں ان میں اس کے لئے اپنے ارادے کا کس قدر دخل ہے اور یہ کہ اس کے افعال ارادی پر جزا وسزا کس طرح مرتب ہوگی جبکہ ہم کہتے ہیں کہ تمام افعال کا اصل خالق اللہ تعالیٰ ہے ۔ خود انسان کے ارادے انسان کی توجہ انسان کے عمل اور تمام دوسرے محدثات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ اور اس قسم کے تمام سوالات جن کا تعلق مسئلہ جبر وقدر کے ساتھ ہے ۔ قرآنی آیات اس بات کی تصریح کرتی ہیں کہ ہر حادث اللہ کے ارادے سے حادث بنتا ہے ۔ قرآن کریم سب کا سب اللہ کا کلام ہے اور قرآن کریم کی آیات ایک دوسرے کے ساتھ متعارض نہیں ہو سکتیں ۔ اس لئے ان دونوں امور کے درمیان ایک نقطہ اتصال ضروری ہے ۔ انسان کے ارادے اور عمل کا ایک دائرہ ایسا ہے جس کے اندر وہ ذمہ دار ہے اور مسئول ہے اور اسے سزا وجزاء کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اس دائرہ اختیار کا تعارض بھی تقدیر الی اور ارادہ ربانی کے دائرے کے ساتھ نہ ہو تو یہ دائرے کس طرح متعین ہوں گے ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا بیان اور توضیح ممکن نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اللہ کا ارادہ اور اس کی قدرت کس طرح کام کرتی ہے اس کی کیفیات کا ادراک انسان کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ بہرحال اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے دائرہ کار اور حدود ذمہ داری کی وضاحت کرتا ہے ۔ یہ کہ آپ لوگوں کے حوالے سے کیا موقف اختیار کریں گے اور لوگوں کا تعلق آپ کے ساتھ کس طرح ہوگا ۔ اور تمام معاملہ انجام کار اللہ کی طرف لوٹ جائے گا ۔ ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80) ” اے محمد ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی ‘ اور جو منہ موڑ گیا ‘ تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔ رسول کا فریضہ یہ ہے کہ وہ رسالت کی ذمہ داری ادا کرے ۔ اس کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ خیر پیدا کرے یا کوئی شر پیدا کرے یہ تخلیق کا کام تو صرف اللہ تعالیٰ کا ہے ۔ اور اللہ اس پر گواہ ہے کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کو محض ادائے فریضہ رسالت کے لئے بھیجا ہے ۔ (وکفی باللہ شھیدا) (اور خدا کی گواہی کافی ہے) اور لوگوں کا معاملہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہ ہے کہ جس شخص نے آپ کی اطاعت کی تو گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ لہذا اطاعت کے معاملے میں اللہ اور رسول کے درمیان کوئی جدائی نہیں ہے ۔ نہ اللہ کے قول اور رسول اللہ کے قول کے درمیان کوئی فرق و امتیاز ہے ۔ پس جو شخص منہ پھیرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتا ہے تو اس کا حساب و کتاب اور اس کی سزا وجزا کا کام اللہ کے سپرد ہے ۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس لئے نہیں بھیجا کہ آپ لوگوں کو ہدایت پر مجبور کردیں یا انہیں دین کے اندر داخل ہونے پر مجبور کردیں ۔ نہ رسولوں کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ لوگوں کی اس طرح حفاظت کریں کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہ ہوں ۔ نہ یہ بات رسولوں کی قدرت میں دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کی اس طرح حفاظت کریں کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہ ہوں ۔ نہ یہ بات رسولوں کی قدرت میں دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے پاسبان بن جائیں ۔ اس بیان کے ذریعے ان کے تصورات اور خیالات کو اس بارے میں درست کیا جاتا ہے کہ جو واقعات انہیں پیش آتے ہیں ان کا تعلق اور وجود اللہ کے ارادے سے ہے اور اللہ کی تقدیر کے عین مطابق ہے اور انہیں جو بھلائی اور برائی پیش آتی ہے ‘ چاہے بھلائی اور برائی کو کسی معنی میں بھی لیا جائے ‘ ‘ چاہے ظاہری بھلائی ہو یا حقیقی بھلائی ہو ‘ یہ سب کچھ اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی کسی چیز کو پیدا کرسکتا ہے ‘ نہ اسے وجود میں لا سکتا ہے ‘ نہ اسے باقی رکھ سکتا ہے اور نہ کسی چیز کو صنعت میں لا سکتا ہے ۔ اللہ کے ہاں جو حقیقی بھلائی ہے وہ اللہ ہی سے ہے اور جو حقیقی برائی انہیں نصیب ہوتی ہے اس میں ان کے نفوس کا دخل ہوتا ہے ۔ یہ برائی انہیں اس لئے نصیب ہوتی ہے کہ یہ لوگ اسلامی نظام زندگی سے منہ موڑتے ہیں اور اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ رسول کی پہلی اور آخری ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ رسول ہے ۔ وہ نہ منشی ہے ‘ نہ خالق ہے اور نہ کسی حادثہ کو لا سکتا ہے ۔ یہ اللہ کی خصوصیات ہیں اور ان میں رسول ‘ اللہ کے ساتھ شریک نہیں ہوتا ۔ وہ بس اللہ کے احکام پہنچانے والا ہے ‘ تب اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے ۔ اللہ کی اطاعت کے لئے ماسوائے رسول اللہ کی اطاعت کے اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے ۔ رسول اس بات کا مکلف نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان کرے جو اعراض کرنے والے ہیں اور نہ رسول انہیں اعراض اور نافرمانی سے روک سکتا ہے ۔ وہ البلاغ اور بیان کے بعد اور کچھ نہیں کرسکتا ۔ یہ ہیں فیصلہ کن اور تسلی بخش حقائق ۔ واضح اور صریح حقائق ۔ ان سے تصورات کی تعمیر اور شعور کی پختگی ہوتی ہے ۔ اور یہ حقائق جماعت مسلمہ کو عظیم منصب اور ڈیوٹی کے لئے تیار کرنے کی جدوجہد کا ایک حصہ ہیں ۔ اس کے بعد سیاق کلام ایک دوسرے گروہ کی طرف مڑ جاتا ہے ۔ یہ گروہ صفوف کے اندر گھسا ہوا ہے اور شاید یہ منافقین کا کوئی گروہ ہے ۔ قرآن کریم ان کے کردار کو علیحدہ اور نئے عنوان کے ساتھ ذکر کرتا ہے لیکن انداز بیان کے اندر اس کردار سے نفرت بھی جھلکتی ہے ۔ اس نفرت کے ساتھ ساتھ جماعت مسلمہ کی تعلیم ‘ رہنمائی بھی کی گئی ہے ۔

النساء 4:79

(آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (78) ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80) ” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے ‘ اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب وعمل کی بدولت ہے ‘ ۔ اے محمد ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی ‘ اور جو منہ موڑ گیا ‘ تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔ جن لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں جو بھلائی پیش آتی ہے اس کی نسبت وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اور جو برائی انہیں درپیش ہوتی ہے ‘ اس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرتے ہیں ان کے اس فعل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ ہو سکتی ۔ اگر خشک سالی ہوجائے ‘ اگر مویشی نسل کشی نہ کریں یا اگر کسی موقعہ پر ان پر مصیبت آجائے تو وہ ان چیزوں کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرتے ۔ اور اگر انہیں کوئی بھلائی اور کامیابی ہوتی تو کہتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر نبی ﷺ کی قیادت پر الزام تراشی کرتے تھے ۔ اور یہ کام وہ اس لئے کرتے تھے کہ حضور ﷺ ان پر جو فرائض عائد فرماتے تھے ‘ ان سے گلو خلاصی کرالیں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قتال فی سبیل اللہ کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوں ۔ تو بجائے اس کے کہ وہ صاف صاف کہہ دیتے کہ بھائی ہم تو ضعیف ہیں اور بزدل ہیں اور جنگ سے ڈرتے ہیں ‘ انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حضور کی قیادت پر جرح وقدح کرنے لگے ۔ اور اگر بھلائی نصیب ہو تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اگر برائی نصیب ہو تو اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرتے ہیں یا حضور ﷺ کے احکام کی طرف کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے ان احکامات کی وجہ سے یہ مصیبت پڑی اور خیر سے ان کی مراد اس دنیا کی بھلائی ہوتی ہے اور شر سے مراد ان کی اس دنیا کا نقصان ہوتا ہے ۔ تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس دنیا میں اللہ کی مشیت کے مطابق لوگوں کو جو حادثات اور واقعات پیش آتے ہیں اس کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بہت ہی غلط ہے ۔ نیز ان کا رسول اللہ اور خدا تعالیٰ کے درمیان پائے جانے والے تعلق کے بارے میں بھی بہت ہی گھٹیا تصور ہے ۔ اگر یہ تیسری وجہ ہو تو یہ ان مہاجرین کی طرف سے ہو سکتی ہے جن کا موت وحیات کے بارے میں ابھی عقیدہ صاف نہ ہوا تھا اور اپنے اس تصور موت وحیات کی وجہ سے یہ لوگوں سے اس طرح ڈرتے تھے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے ۔ اور یہ لوگ کہتے تھے ۔ (آیت) ” ربنا لم کتبت علینا القتال لولا اخرتنا الی اجل قریب (4 : 77) (اے ہمارے رب تو نے ہم پر قتال کو کیوں فرض کردیا ‘ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تو اسے قریب وقت تک مؤخر کردیتا) لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس آیت سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد کچھ دوسرے لوگ ہیں جن میں ان چہروں کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل تھے ۔ یہ مسئلہ جو اس آیت میں لیا گیا ہے ۔ یہ ایک عظیم اور مشکل مسئلہ کا ایک پہلو ہے اور وہ مسئلہ تاریخ ادیان اور تاریخ فلسفہ کا نہایت ہی مشکل مسئلہ ہے ۔ یعنی مسئلہ جبر وقدر اور مسئلہ تقدیر ۔ یہ مسئلہ یہاں بعض لوگوں کے حالات کے بیان میں ضمنا آگیا ہے ۔ ان لوگوں کے غلط تصورات کا رد یہاں کیا گیا ہے ۔ قرآن کریم نے اس فریق زیر بحث کی فکری غلطی کو درست کرتے ہوئے اس مسئلے کو نہایت ہی سادگی اور بغیر کسی پیچیدگی کے بیان کردیا ۔ ذرا قرآن کریم کے الفاظ میں سنئے ۔ (آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (4 : 78) ” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی “۔ بیشک اللہ ہی فاعل حقیقی اور فاعل اول ہے ۔ وہی فاعل ہے جو کچھ اس کائنات میں وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اسی سے ہے ۔ لوگوں کے لئے جو کچھ ہوتا ہے یا لوگوں سے جو کچھ ہوتا ہے یہ سب کچھ اللہ سے ہے ۔ لوگوں کا اختیار صرف اس قدر ہے کہ وہ توجہ کریں اور سعی کریں لیکن کسی فعل کا تحقق صرف اللہ کے ارادے اور تقدیر سے ہی ہو سکتا ہے ۔ اس لئے کہ نیکی کی نسبت یا برائی کو وجود میں لانے کی نسبت اور برائی کو کسی کے اوپر لے آنے کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرنا ‘ حالانکہ آپ ایک انسان اور مخلوق ہیں اور ہم جیسے ہیں ‘ یہ ایک غیر حقیقی نسبت ہے ۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس موضوع پر بات کو سمجھتے ہی نہیں ۔ کبھی یہ ہوتا ہے کہ انسان ایک کام کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنے لئے بھلائی سمیٹنے کی سعی کرتا ہے ۔ اسے اللہ تعالیٰ نے وسائل خیر کو استعمال کرنے کا جو فہم دیا ہے وہ اسے استعمال کرتا ہے لیکن اس کے باوجود کسی کو اگر بھلائی نصیب ہوتی ہے تو وہ ارادہ الہی سے ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کی تقدیر کے علاوہ کوئی اور تقدیر تو ہے نہیں جو اشیاء ‘ حادثات اور اس کائنات کے اندر وقوع پذیر ہونے والے حوادث کو پیدا کرسکتی ہو۔ اب بھلائی بھی اگر کسی کو نصیب ہوتی ہے تو ان وسائل کی مدد سے نصیب ہوتی ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ نے اس بھلائی کے لئے مقرر کئے ہیں ۔ اس لئے عملا یہی تصور ہوگا کہ یہ بھلائی اللہ ہی کی وجہ سے نصیب ہوئی اور اسی کی تقدیر کا نتیجہ ہے ۔ بعض اوقات انسان ایک برائی کے ارتکاب کی طرف متوجہ ہوتا ہے یا وہ کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس کے نتیجے میں برائی وجود میں آتی ہے ۔ لیکن عملا برائی کا وارد ہونا اور وجود میں آنا محض اللہ کی قضا وقدر کے تحت ہوتا ہے ‘ اس لئے کہ اس کائنات میں اشیاء کے پیدا کرنے اور حادثات کو وقوع پذیر کرنے کی طاقت اللہ کے سوا کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ دونوں صورتوں میں خیر وشر میں کسی چیز کا وقوع پذیر ہونا من جانب اللہ ہوتا ہے اور اس آیت میں اسی حقیقت کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ رہی دوسری آیت یعنی (آیت) ” ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک (4 : 79) “ ” تمہیں جو بھلائی نصیب ہوتی ہے اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور تمہیں جو برائی نصیب ہوتی ہے وہ تمہارے نفس کی طرف سے ہوتی ہے ‘ ۔ تو اس میں ایک دوسری حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اس کا پہلی آیت میں بیان کردہ حقیقت سے نہ تعلق ہے اور نہ وہ اس سابقہ حقیقت قضا وقدر میں داخل ہے ۔ لہذا اس کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق ایک منہاج کار وضع کیا ہے اور اس نے ہر کام کے لئے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو شر کے بارے میں اچھی طرح متنبہ کیا ہے ۔ جب انسان اس منہاج پر کاربند ہوتا ہے اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلتا ہے ‘ بھلائی کے لئے کوشاں ہوتا ہے اور شر سے لرزاں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ راہ ہدایت پر چلنے کے لئے اس کی مدد کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا) (جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں تو ہم ان کی راہنمائی اپنی راہوں کی طرف کردیتے ہیں) تب انسان بھلائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ بظاہر ایک شخص کسب اور محنت کرتے ہوئے نظر آتا ہے لیکن اس انسانی کسب وعمل کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ کسب وعمل کا منہاج تو خود اللہ نے متعین کیا ہے اس لئے انسان کی سعی میں ہی بھلائی ہوتی ہے ‘ وہ اللہ کی ترازو میں ہوتی ہے اور اللہ کی جانب سے ہوتی ہے اس لئے کہ بھلائی کا طریق کار وضع کرنے والا اور منہاج عمل متعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔ اسی نے تو بھلائی کی طرف راہنمائی فرمائی اور وہی تو ہے جس نے بھلائی کی توفیق دی اور برائی سے ڈرایا ۔ کوئی انسان جب اس منہاج پر نہیں چلتا جو اللہ نے متعین کیا ہے اور اس راہ کو نہیں اپناتا جسے اللہ نے مشروع قرار دیا ‘ وہ بھلائی کے لئے سعی نہیں کرتا اور جس برائی سے اسے ڈرایا گیا ہے اس سے نہیں ڈرتا ‘ تو یقینا اسے برائی سے دو چار ہونا پڑے گا اور یہ ایک حقیقی برائی ہوگی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور یہ برائی خود اس کے نفس کی کمائی ہوگی اس لئے کہ وہ اپنے اختیار سے اللہ کے پسندیدہ منہاج عمل سے نکل گیا ۔ (یہ ہے اس کا کسب) یہ مفہوم پہلے مفہوم سے مختلف ہے اور دونوں کا دائرہ بھی الگ الگ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نکتہ اب واضح ہوگیا ہے۔ اس دوسرے مفہوم کے اعتبار سے نظریہ پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اچھائی اور برائی دونوں کا تعلق اللہ کی مرضی اور تقدیر سے ہے ۔ اللہ ہی تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے ۔ ہر حادث کا پیدا کرنے والا وہی ہے ۔ ہر ہونے والے واقعے کا موجد وہی ہے ‘ چاہے اس بارے میں انسان کا ارادہ اور عمل جو ہو ‘ سو ہو اور ہونے والے جیسے حالات میں بھی ہو۔ وہ اصل مسئلہ کیا ہے جو ان نصوص میں بیان کیا گیا ہے یا اس کا ایک پہلو لیا گیا ہے ۔ وہ مسئلہ جبر واختیار ہے ۔ یہ کہ انسان سے جن افعال کا صدور ہوتا ہے ‘ اس میں اس کے اپنے ارادے کا کس قدر دخل ہے یا اس کے لئے جو فائدے یہاں واقع ہوتے ہیں ان میں اس کے لئے اپنے ارادے کا کس قدر دخل ہے اور یہ کہ اس کے افعال ارادی پر جزا وسزا کس طرح مرتب ہوگی جبکہ ہم کہتے ہیں کہ تمام افعال کا اصل خالق اللہ تعالیٰ ہے ۔ خود انسان کے ارادے انسان کی توجہ انسان کے عمل اور تمام دوسرے محدثات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ اور اس قسم کے تمام سوالات جن کا تعلق مسئلہ جبر وقدر کے ساتھ ہے ۔ قرآنی آیات اس بات کی تصریح کرتی ہیں کہ ہر حادث اللہ کے ارادے سے حادث بنتا ہے ۔ قرآن کریم سب کا سب اللہ کا کلام ہے اور قرآن کریم کی آیات ایک دوسرے کے ساتھ متعارض نہیں ہو سکتیں ۔ اس لئے ان دونوں امور کے درمیان ایک نقطہ اتصال ضروری ہے ۔ انسان کے ارادے اور عمل کا ایک دائرہ ایسا ہے جس کے اندر وہ ذمہ دار ہے اور مسئول ہے اور اسے سزا وجزاء کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اس دائرہ اختیار کا تعارض بھی تقدیر الی اور ارادہ ربانی کے دائرے کے ساتھ نہ ہو تو یہ دائرے کس طرح متعین ہوں گے ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا بیان اور توضیح ممکن نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اللہ کا ارادہ اور اس کی قدرت کس طرح کام کرتی ہے اس کی کیفیات کا ادراک انسان کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ بہرحال اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے دائرہ کار اور حدود ذمہ داری کی وضاحت کرتا ہے ۔ یہ کہ آپ لوگوں کے حوالے سے کیا موقف اختیار کریں گے اور لوگوں کا تعلق آپ کے ساتھ کس طرح ہوگا ۔ اور تمام معاملہ انجام کار اللہ کی طرف لوٹ جائے گا ۔ ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80) ” اے محمد ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی ‘ اور جو منہ موڑ گیا ‘ تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔ رسول کا فریضہ یہ ہے کہ وہ رسالت کی ذمہ داری ادا کرے ۔ اس کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ خیر پیدا کرے یا کوئی شر پیدا کرے یہ تخلیق کا کام تو صرف اللہ تعالیٰ کا ہے ۔ اور اللہ اس پر گواہ ہے کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کو محض ادائے فریضہ رسالت کے لئے بھیجا ہے ۔ (وکفی باللہ شھیدا) (اور خدا کی گواہی کافی ہے) اور لوگوں کا معاملہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہ ہے کہ جس شخص نے آپ کی اطاعت کی تو گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ لہذا اطاعت کے معاملے میں اللہ اور رسول کے درمیان کوئی جدائی نہیں ہے ۔ نہ اللہ کے قول اور رسول اللہ کے قول کے درمیان کوئی فرق و امتیاز ہے ۔ پس جو شخص منہ پھیرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتا ہے تو اس کا حساب و کتاب اور اس کی سزا وجزا کا کام اللہ کے سپرد ہے ۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس لئے نہیں بھیجا کہ آپ لوگوں کو ہدایت پر مجبور کردیں یا انہیں دین کے اندر داخل ہونے پر مجبور کردیں ۔ نہ رسولوں کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ لوگوں کی اس طرح حفاظت کریں کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہ ہوں ۔ نہ یہ بات رسولوں کی قدرت میں دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کی اس طرح حفاظت کریں کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہ ہوں ۔ نہ یہ بات رسولوں کی قدرت میں دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے پاسبان بن جائیں ۔ اس بیان کے ذریعے ان کے تصورات اور خیالات کو اس بارے میں درست کیا جاتا ہے کہ جو واقعات انہیں پیش آتے ہیں ان کا تعلق اور وجود اللہ کے ارادے سے ہے اور اللہ کی تقدیر کے عین مطابق ہے اور انہیں جو بھلائی اور برائی پیش آتی ہے ‘ چاہے بھلائی اور برائی کو کسی معنی میں بھی لیا جائے ‘ ‘ چاہے ظاہری بھلائی ہو یا حقیقی بھلائی ہو ‘ یہ سب کچھ اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی کسی چیز کو پیدا کرسکتا ہے ‘ نہ اسے وجود میں لا سکتا ہے ‘ نہ اسے باقی رکھ سکتا ہے اور نہ کسی چیز کو صنعت میں لا سکتا ہے ۔ اللہ کے ہاں جو حقیقی بھلائی ہے وہ اللہ ہی سے ہے اور جو حقیقی برائی انہیں نصیب ہوتی ہے اس میں ان کے نفوس کا دخل ہوتا ہے ۔ یہ برائی انہیں اس لئے نصیب ہوتی ہے کہ یہ لوگ اسلامی نظام زندگی سے منہ موڑتے ہیں اور اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ رسول کی پہلی اور آخری ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ رسول ہے ۔ وہ نہ منشی ہے ‘ نہ خالق ہے اور نہ کسی حادثہ کو لا سکتا ہے ۔ یہ اللہ کی خصوصیات ہیں اور ان میں رسول ‘ اللہ کے ساتھ شریک نہیں ہوتا ۔ وہ بس اللہ کے احکام پہنچانے والا ہے ‘ تب اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے ۔ اللہ کی اطاعت کے لئے ماسوائے رسول اللہ کی اطاعت کے اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے ۔ رسول اس بات کا مکلف نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان کرے جو اعراض کرنے والے ہیں اور نہ رسول انہیں اعراض اور نافرمانی سے روک سکتا ہے ۔ وہ البلاغ اور بیان کے بعد اور کچھ نہیں کرسکتا ۔ یہ ہیں فیصلہ کن اور تسلی بخش حقائق ۔ واضح اور صریح حقائق ۔ ان سے تصورات کی تعمیر اور شعور کی پختگی ہوتی ہے ۔ اور یہ حقائق جماعت مسلمہ کو عظیم منصب اور ڈیوٹی کے لئے تیار کرنے کی جدوجہد کا ایک حصہ ہیں ۔ اس کے بعد سیاق کلام ایک دوسرے گروہ کی طرف مڑ جاتا ہے ۔ یہ گروہ صفوف کے اندر گھسا ہوا ہے اور شاید یہ منافقین کا کوئی گروہ ہے ۔ قرآن کریم ان کے کردار کو علیحدہ اور نئے عنوان کے ساتھ ذکر کرتا ہے لیکن انداز بیان کے اندر اس کردار سے نفرت بھی جھلکتی ہے ۔ اس نفرت کے ساتھ ساتھ جماعت مسلمہ کی تعلیم ‘ رہنمائی بھی کی گئی ہے ۔

النساء 4:80

(آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (78) ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80) ” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ اے انسان تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے ‘ اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب وعمل کی بدولت ہے ‘ ۔ اے محمد ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی ‘ اور جو منہ موڑ گیا ‘ تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔ جن لوگوں کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ انہیں جو بھلائی پیش آتی ہے اس کی نسبت وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اور جو برائی انہیں درپیش ہوتی ہے ‘ اس کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرتے ہیں ان کے اس فعل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ پہلی وجہ یہ ہو سکتی ۔ اگر خشک سالی ہوجائے ‘ اگر مویشی نسل کشی نہ کریں یا اگر کسی موقعہ پر ان پر مصیبت آجائے تو وہ ان چیزوں کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرتے ۔ اور اگر انہیں کوئی بھلائی اور کامیابی ہوتی تو کہتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر نبی ﷺ کی قیادت پر الزام تراشی کرتے تھے ۔ اور یہ کام وہ اس لئے کرتے تھے کہ حضور ﷺ ان پر جو فرائض عائد فرماتے تھے ‘ ان سے گلو خلاصی کرالیں ۔ ہو سکتا ہے کہ یہ قتال فی سبیل اللہ کی ذمہ داری سے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوں ۔ تو بجائے اس کے کہ وہ صاف صاف کہہ دیتے کہ بھائی ہم تو ضعیف ہیں اور بزدل ہیں اور جنگ سے ڈرتے ہیں ‘ انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حضور کی قیادت پر جرح وقدح کرنے لگے ۔ اور اگر بھلائی نصیب ہو تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور اگر برائی نصیب ہو تو اس کی نسبت نبی ﷺ کی طرف کرتے ہیں یا حضور ﷺ کے احکام کی طرف کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کے ان احکامات کی وجہ سے یہ مصیبت پڑی اور خیر سے ان کی مراد اس دنیا کی بھلائی ہوتی ہے اور شر سے مراد ان کی اس دنیا کا نقصان ہوتا ہے ۔ تیسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس دنیا میں اللہ کی مشیت کے مطابق لوگوں کو جو حادثات اور واقعات پیش آتے ہیں اس کے بارے میں ان کا نقطہ نظر بہت ہی غلط ہے ۔ نیز ان کا رسول اللہ اور خدا تعالیٰ کے درمیان پائے جانے والے تعلق کے بارے میں بھی بہت ہی گھٹیا تصور ہے ۔ اگر یہ تیسری وجہ ہو تو یہ ان مہاجرین کی طرف سے ہو سکتی ہے جن کا موت وحیات کے بارے میں ابھی عقیدہ صاف نہ ہوا تھا اور اپنے اس تصور موت وحیات کی وجہ سے یہ لوگوں سے اس طرح ڈرتے تھے جس طرح اللہ سے ڈرنا چاہئے ۔ اور یہ لوگ کہتے تھے ۔ (آیت) ” ربنا لم کتبت علینا القتال لولا اخرتنا الی اجل قریب (4 : 77) (اے ہمارے رب تو نے ہم پر قتال کو کیوں فرض کردیا ‘ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تو اسے قریب وقت تک مؤخر کردیتا) لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اس آیت سے مراد وہ لوگ نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد کچھ دوسرے لوگ ہیں جن میں ان چہروں کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی شامل تھے ۔ یہ مسئلہ جو اس آیت میں لیا گیا ہے ۔ یہ ایک عظیم اور مشکل مسئلہ کا ایک پہلو ہے اور وہ مسئلہ تاریخ ادیان اور تاریخ فلسفہ کا نہایت ہی مشکل مسئلہ ہے ۔ یعنی مسئلہ جبر وقدر اور مسئلہ تقدیر ۔ یہ مسئلہ یہاں بعض لوگوں کے حالات کے بیان میں ضمنا آگیا ہے ۔ ان لوگوں کے غلط تصورات کا رد یہاں کیا گیا ہے ۔ قرآن کریم نے اس فریق زیر بحث کی فکری غلطی کو درست کرتے ہوئے اس مسئلے کو نہایت ہی سادگی اور بغیر کسی پیچیدگی کے بیان کردیا ۔ ذرا قرآن کریم کے الفاظ میں سنئے ۔ (آیت) ” وان تصبھم سیئۃ یقولوا ھذہ من عندک قل کل من عند اللہ فمال ھولآء القوم لا یکادون یفقھون حدیثا (4 : 78) ” اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے ‘ کہو سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے ‘ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی “۔ بیشک اللہ ہی فاعل حقیقی اور فاعل اول ہے ۔ وہی فاعل ہے جو کچھ اس کائنات میں وقوع پذیر ہوتا ہے وہ اسی سے ہے ۔ لوگوں کے لئے جو کچھ ہوتا ہے یا لوگوں سے جو کچھ ہوتا ہے یہ سب کچھ اللہ سے ہے ۔ لوگوں کا اختیار صرف اس قدر ہے کہ وہ توجہ کریں اور سعی کریں لیکن کسی فعل کا تحقق صرف اللہ کے ارادے اور تقدیر سے ہی ہو سکتا ہے ۔ اس لئے کہ نیکی کی نسبت یا برائی کو وجود میں لانے کی نسبت اور برائی کو کسی کے اوپر لے آنے کی نسبت حضور ﷺ کی طرف کرنا ‘ حالانکہ آپ ایک انسان اور مخلوق ہیں اور ہم جیسے ہیں ‘ یہ ایک غیر حقیقی نسبت ہے ۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس موضوع پر بات کو سمجھتے ہی نہیں ۔ کبھی یہ ہوتا ہے کہ انسان ایک کام کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنے لئے بھلائی سمیٹنے کی سعی کرتا ہے ۔ اسے اللہ تعالیٰ نے وسائل خیر کو استعمال کرنے کا جو فہم دیا ہے وہ اسے استعمال کرتا ہے لیکن اس کے باوجود کسی کو اگر بھلائی نصیب ہوتی ہے تو وہ ارادہ الہی سے ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کی تقدیر کے علاوہ کوئی اور تقدیر تو ہے نہیں جو اشیاء ‘ حادثات اور اس کائنات کے اندر وقوع پذیر ہونے والے حوادث کو پیدا کرسکتی ہو۔ اب بھلائی بھی اگر کسی کو نصیب ہوتی ہے تو ان وسائل کی مدد سے نصیب ہوتی ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ نے اس بھلائی کے لئے مقرر کئے ہیں ۔ اس لئے عملا یہی تصور ہوگا کہ یہ بھلائی اللہ ہی کی وجہ سے نصیب ہوئی اور اسی کی تقدیر کا نتیجہ ہے ۔ بعض اوقات انسان ایک برائی کے ارتکاب کی طرف متوجہ ہوتا ہے یا وہ کوئی ایسا عمل کرتا ہے جس کے نتیجے میں برائی وجود میں آتی ہے ۔ لیکن عملا برائی کا وارد ہونا اور وجود میں آنا محض اللہ کی قضا وقدر کے تحت ہوتا ہے ‘ اس لئے کہ اس کائنات میں اشیاء کے پیدا کرنے اور حادثات کو وقوع پذیر کرنے کی طاقت اللہ کے سوا کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ دونوں صورتوں میں خیر وشر میں کسی چیز کا وقوع پذیر ہونا من جانب اللہ ہوتا ہے اور اس آیت میں اسی حقیقت کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ رہی دوسری آیت یعنی (آیت) ” ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک (4 : 79) “ ” تمہیں جو بھلائی نصیب ہوتی ہے اللہ کی طرف سے ہے ‘ اور تمہیں جو برائی نصیب ہوتی ہے وہ تمہارے نفس کی طرف سے ہوتی ہے ‘ ۔ تو اس میں ایک دوسری حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اس کا پہلی آیت میں بیان کردہ حقیقت سے نہ تعلق ہے اور نہ وہ اس سابقہ حقیقت قضا وقدر میں داخل ہے ۔ لہذا اس کو ایک دوسرے زاویے سے دیکھنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے مطابق ایک منہاج کار وضع کیا ہے اور اس نے ہر کام کے لئے ایک طریقہ کار وضع کیا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو شر کے بارے میں اچھی طرح متنبہ کیا ہے ۔ جب انسان اس منہاج پر کاربند ہوتا ہے اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلتا ہے ‘ بھلائی کے لئے کوشاں ہوتا ہے اور شر سے لرزاں ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ راہ ہدایت پر چلنے کے لئے اس کی مدد کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا) (جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں تو ہم ان کی راہنمائی اپنی راہوں کی طرف کردیتے ہیں) تب انسان بھلائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے ۔ بظاہر ایک شخص کسب اور محنت کرتے ہوئے نظر آتا ہے لیکن اس انسانی کسب وعمل کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ کسب وعمل کا منہاج تو خود اللہ نے متعین کیا ہے اس لئے انسان کی سعی میں ہی بھلائی ہوتی ہے ‘ وہ اللہ کی ترازو میں ہوتی ہے اور اللہ کی جانب سے ہوتی ہے اس لئے کہ بھلائی کا طریق کار وضع کرنے والا اور منہاج عمل متعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔ اسی نے تو بھلائی کی طرف راہنمائی فرمائی اور وہی تو ہے جس نے بھلائی کی توفیق دی اور برائی سے ڈرایا ۔ کوئی انسان جب اس منہاج پر نہیں چلتا جو اللہ نے متعین کیا ہے اور اس راہ کو نہیں اپناتا جسے اللہ نے مشروع قرار دیا ‘ وہ بھلائی کے لئے سعی نہیں کرتا اور جس برائی سے اسے ڈرایا گیا ہے اس سے نہیں ڈرتا ‘ تو یقینا اسے برائی سے دو چار ہونا پڑے گا اور یہ ایک حقیقی برائی ہوگی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور یہ برائی خود اس کے نفس کی کمائی ہوگی اس لئے کہ وہ اپنے اختیار سے اللہ کے پسندیدہ منہاج عمل سے نکل گیا ۔ (یہ ہے اس کا کسب) یہ مفہوم پہلے مفہوم سے مختلف ہے اور دونوں کا دائرہ بھی الگ الگ ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نکتہ اب واضح ہوگیا ہے۔ اس دوسرے مفہوم کے اعتبار سے نظریہ پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ اچھائی اور برائی دونوں کا تعلق اللہ کی مرضی اور تقدیر سے ہے ۔ اللہ ہی تمام مخلوقات کا پیدا کرنے والا ہے ۔ ہر حادث کا پیدا کرنے والا وہی ہے ۔ ہر ہونے والے واقعے کا موجد وہی ہے ‘ چاہے اس بارے میں انسان کا ارادہ اور عمل جو ہو ‘ سو ہو اور ہونے والے جیسے حالات میں بھی ہو۔ وہ اصل مسئلہ کیا ہے جو ان نصوص میں بیان کیا گیا ہے یا اس کا ایک پہلو لیا گیا ہے ۔ وہ مسئلہ جبر واختیار ہے ۔ یہ کہ انسان سے جن افعال کا صدور ہوتا ہے ‘ اس میں اس کے اپنے ارادے کا کس قدر دخل ہے یا اس کے لئے جو فائدے یہاں واقع ہوتے ہیں ان میں اس کے لئے اپنے ارادے کا کس قدر دخل ہے اور یہ کہ اس کے افعال ارادی پر جزا وسزا کس طرح مرتب ہوگی جبکہ ہم کہتے ہیں کہ تمام افعال کا اصل خالق اللہ تعالیٰ ہے ۔ خود انسان کے ارادے انسان کی توجہ انسان کے عمل اور تمام دوسرے محدثات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ اور اس قسم کے تمام سوالات جن کا تعلق مسئلہ جبر وقدر کے ساتھ ہے ۔ قرآنی آیات اس بات کی تصریح کرتی ہیں کہ ہر حادث اللہ کے ارادے سے حادث بنتا ہے ۔ قرآن کریم سب کا سب اللہ کا کلام ہے اور قرآن کریم کی آیات ایک دوسرے کے ساتھ متعارض نہیں ہو سکتیں ۔ اس لئے ان دونوں امور کے درمیان ایک نقطہ اتصال ضروری ہے ۔ انسان کے ارادے اور عمل کا ایک دائرہ ایسا ہے جس کے اندر وہ ذمہ دار ہے اور مسئول ہے اور اسے سزا وجزاء کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اس دائرہ اختیار کا تعارض بھی تقدیر الی اور ارادہ ربانی کے دائرے کے ساتھ نہ ہو تو یہ دائرے کس طرح متعین ہوں گے ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کا بیان اور توضیح ممکن نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اللہ کا ارادہ اور اس کی قدرت کس طرح کام کرتی ہے اس کی کیفیات کا ادراک انسان کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ بہرحال اس کے بعد اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے دائرہ کار اور حدود ذمہ داری کی وضاحت کرتا ہے ۔ یہ کہ آپ لوگوں کے حوالے سے کیا موقف اختیار کریں گے اور لوگوں کا تعلق آپ کے ساتھ کس طرح ہوگا ۔ اور تمام معاملہ انجام کار اللہ کی طرف لوٹ جائے گا ۔ ما اصابک من حسنۃ فمن اللہ وما اصابک من سیئۃ فمن نفسک وارسلنک للناس رسولا رسولا وکفی باللہ شھیدا (79) من یطع الرسول فقد اطاع اللہ ومن تولی فما ارسلنک علیھم حفیظا “۔ (80) (4 : 78 تا 80) ” اے محمد ﷺ ہم نے تم کو لوگوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے ۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی ‘ اور جو منہ موڑ گیا ‘ تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بنا کر تو نہیں بھیجا ہے ۔ رسول کا فریضہ یہ ہے کہ وہ رسالت کی ذمہ داری ادا کرے ۔ اس کی ذمہ داری یہ نہیں ہے کہ وہ خیر پیدا کرے یا کوئی شر پیدا کرے یہ تخلیق کا کام تو صرف اللہ تعالیٰ کا ہے ۔ اور اللہ اس پر گواہ ہے کہ اس نے حضرت محمد ﷺ کو محض ادائے فریضہ رسالت کے لئے بھیجا ہے ۔ (وکفی باللہ شھیدا) (اور خدا کی گواہی کافی ہے) اور لوگوں کا معاملہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ یہ ہے کہ جس شخص نے آپ کی اطاعت کی تو گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ لہذا اطاعت کے معاملے میں اللہ اور رسول کے درمیان کوئی جدائی نہیں ہے ۔ نہ اللہ کے قول اور رسول اللہ کے قول کے درمیان کوئی فرق و امتیاز ہے ۔ پس جو شخص منہ پھیرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کرتا ہے تو اس کا حساب و کتاب اور اس کی سزا وجزا کا کام اللہ کے سپرد ہے ۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اس لئے نہیں بھیجا کہ آپ لوگوں کو ہدایت پر مجبور کردیں یا انہیں دین کے اندر داخل ہونے پر مجبور کردیں ۔ نہ رسولوں کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ لوگوں کی اس طرح حفاظت کریں کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہ ہوں ۔ نہ یہ بات رسولوں کی قدرت میں دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کی اس طرح حفاظت کریں کہ وہ گناہوں میں مبتلا نہ ہوں ۔ نہ یہ بات رسولوں کی قدرت میں دی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے پاسبان بن جائیں ۔ اس بیان کے ذریعے ان کے تصورات اور خیالات کو اس بارے میں درست کیا جاتا ہے کہ جو واقعات انہیں پیش آتے ہیں ان کا تعلق اور وجود اللہ کے ارادے سے ہے اور اللہ کی تقدیر کے عین مطابق ہے اور انہیں جو بھلائی اور برائی پیش آتی ہے ‘ چاہے بھلائی اور برائی کو کسی معنی میں بھی لیا جائے ‘ ‘ چاہے ظاہری بھلائی ہو یا حقیقی بھلائی ہو ‘ یہ سب کچھ اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی کسی چیز کو پیدا کرسکتا ہے ‘ نہ اسے وجود میں لا سکتا ہے ‘ نہ اسے باقی رکھ سکتا ہے اور نہ کسی چیز کو صنعت میں لا سکتا ہے ۔ اللہ کے ہاں جو حقیقی بھلائی ہے وہ اللہ ہی سے ہے اور جو حقیقی برائی انہیں نصیب ہوتی ہے اس میں ان کے نفوس کا دخل ہوتا ہے ۔ یہ برائی انہیں اس لئے نصیب ہوتی ہے کہ یہ لوگ اسلامی نظام زندگی سے منہ موڑتے ہیں اور اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہیں ۔ رسول کی پہلی اور آخری ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ رسول ہے ۔ وہ نہ منشی ہے ‘ نہ خالق ہے اور نہ کسی حادثہ کو لا سکتا ہے ۔ یہ اللہ کی خصوصیات ہیں اور ان میں رسول ‘ اللہ کے ساتھ شریک نہیں ہوتا ۔ وہ بس اللہ کے احکام پہنچانے والا ہے ‘ تب اس کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے ۔ اللہ کی اطاعت کے لئے ماسوائے رسول اللہ کی اطاعت کے اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے ۔ رسول اس بات کا مکلف نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان کرے جو اعراض کرنے والے ہیں اور نہ رسول انہیں اعراض اور نافرمانی سے روک سکتا ہے ۔ وہ البلاغ اور بیان کے بعد اور کچھ نہیں کرسکتا ۔ یہ ہیں فیصلہ کن اور تسلی بخش حقائق ۔ واضح اور صریح حقائق ۔ ان سے تصورات کی تعمیر اور شعور کی پختگی ہوتی ہے ۔ اور یہ حقائق جماعت مسلمہ کو عظیم منصب اور ڈیوٹی کے لئے تیار کرنے کی جدوجہد کا ایک حصہ ہیں ۔ اس کے بعد سیاق کلام ایک دوسرے گروہ کی طرف مڑ جاتا ہے ۔ یہ گروہ صفوف کے اندر گھسا ہوا ہے اور شاید یہ منافقین کا کوئی گروہ ہے ۔ قرآن کریم ان کے کردار کو علیحدہ اور نئے عنوان کے ساتھ ذکر کرتا ہے لیکن انداز بیان کے اندر اس کردار سے نفرت بھی جھلکتی ہے ۔ اس نفرت کے ساتھ ساتھ جماعت مسلمہ کی تعلیم ‘ رہنمائی بھی کی گئی ہے ۔

النساء 4:81

(آیت) ” ویقولون طاعۃ فاذا برزوا من عندک بیت طائفۃ منھم غیر الذی تقول واللہ یکتب ما یبیتون فاعرض عنھم و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا (81) افلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (82) (4 : 81۔ 82) ” وہ منہ پر کہتے ہیں ہم مطیع فرمان ہیں مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے ‘ اللہ انکی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے ‘ تم انکی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو ‘ وہی بھروسہ کے لئے کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کی سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی ۔ یہ گروہ ایسا تھا کہ جب یہ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود ہوتا اور آپ سے قرآن سنتا اور قرآنی فرائض کو سمجھتا تو کہتا کہ ہم مطیع فرمان ہیں ‘ وہ اس طرح جامع اور مانع اطاعت کا اعلان کرتے ‘ بےقید اطاعت کا اقرار کرتے ۔ اس میں نہ ہو کوئی اعتراض کرتے ‘ نہ کسی قسم کی توضیحات طلب کرتے ‘ نہ کوئی استثناء رکھتے ‘ لیکن جونہی وہ حضور کی مجلس سے اٹھتے ‘ ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہو کر آپ کی باتوں کے خلاف مشورے کرنے لگ جاتا ۔ اور یہ فیصلہ کرتا کہ حضور نے جو کچھ فرمایا ہے اس پر عمل نہ کیا جائے اور کوئی ایسا منصوبہ اپنایا جائے کہ اس پر عمل نہ ہو اور گلو خلاصی ہوجائے ۔ اس کا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی جماعت من حیث الجماعت تو یہ کہتی ہے کہ ہم اطاعت کریں گے لیکن ان میں سے ایک گروہ رات کے وقت نکل کر وہ سازش کرتا ہے جو جماعت مسلمہ کے قول کے خلاف ہوتی ہے ۔ اور اس گروہ منافقین کا مقصد اس جماعت کے اندر افراتفری اور بےچینی پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ بہرحال دونوں صورتوں میں یہ گروہ منافقین سازش کر رہا ہوتا ہے ۔ ان کی سرگرمیاں اسلامی صفوں کے اندر بےچینی پیدا کرتی ہیں جبکہ جماعت مسلمہ ان سازشوں کے خلاف ہر میدان میں معرکہ آرا ہوتی ہے اور اپنی پوری قوت ان کے مقابلے میں صرف کرتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور حضور نبی کریم ﷺ کو یہ اطمینان دلاتے ہیں کہ اللہ کی نظروں سے یہ سازشی ٹولہ اوجھل نہیں ہے اور اس کی مکاری سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے ۔ یہ شعور اور احساس کہ ان سازشیوں کی سازشوں سے اللہ اچھی طرح خبردار ہے اہل ایمان کے دلوں کے اندر اطمینان اور قوت پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے ۔ ان کے اندر یہ سکون پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کی نظر ہوتے ہوئے یہ سازشیں ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتیں ۔ دوسری جانب سے ان سازشیوں کو بھی یہ سخت تنبیہ ہے کہ وہ ان سازشوں میں ہر گز کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ (آیت) ” واللہ یکتب ما یبیتون “۔ (اور اللہ ان کی یہ تمام سرگوشیاں لکھ رہا ہے) اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو منافقین کے ساتھ معاملہ کرنے کا جو منصوبہ دیا تھا وہ یہ تھا کہ آپ ان کے ساتھ ان کی ظاہری حالت کے مطابق معاملہ کریں گے اور ان کے ساتھ ان کی نیتوں کے مطابق سلوک نہ ہوگا ۔ انکی خفیہ سازشوں سے اغماض برتا جائے گا اور اعراض کیا جائے گا ۔ یہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس کے مطابق آخر کار وہ منتشر ہوگئے کمزور ہوگئے اور ان میں سے جو باقی رہ گئے تھے وہ تتربتر ہوگئے اور چھپ گئے ۔ اس منصوبے کا ایک حصہ یہ تھا۔ (آیت) ” فاعرض عنھم “ (آپ ان کی پرواہ نہ کریں) ان سے چشم پوشی کرنے کے ساتھ ساتھ رسول کو مطمئن کیا جاتا ہے کہ اللہ کی حفاظت اور پاسبانی پر مکمل بھروسہ رکھو۔ (آیت) ” و توکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا “۔ (اور اللہ پر بھروسہ رکھو ‘ اللہ بھروسے کے لئے کافی ہے) بالکل درست اللہ بھروسے کے لئے کافی ہے ‘ جس کا وکیل اللہ ہو اسے کوئی بھی گزند نہیں پہنچا سکتا ۔ نہ اسے کوئی سازش گزند پہنچا سکتی ہے ‘ نہ خفیہ سازش ان کے خلاف چل سکتی ہے ۔ ‘ اور نہ ظاہری سازش ۔ سوال یہ ہے کہ یہ گروہ حضور ﷺ کے سامنے اقرار اطاعت کرتا اور واپس ہو کر رات کو سازش کرنے میں لگ جاتا ۔ وہ ایسا کیوں کرتا تو دراصل یہ گروہ یہ رویہ اس لئے اختیار کرتا تھا کہ اسے اس بات میں شبہ تھا کہ آیا حضور اکرم ﷺ جو کلام پیش کرتے ہیں وہ اللہ کی جانب سے ہے یا نہیں ۔ جب ایک لمحہ کے لئے اس قسم کا شک پیدا ہوجائے تو بات کی قوت اور شوکت ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن اور کلام رسول کی اندر قوت اور شوکت اسی شعور سے پیدا ہوتی ہے کہ یہ کلام باری تعالیٰ کی طرف سے آرہا ہے اگر عبداللہ کے حلقوم سے سنا جار ہا ہے ۔ اور یہ کہ آپ ہوائی باتیں نہیں کررہے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو توکل علی اللہ کرنے کے بارے میں دو ٹوک حکم دیا گیا اور مکرر تاکید مزید کی گئی ۔ یہاں اللہ تعالیٰ ان کے سامنے ایک نکتہ پیش فرماتے ہیں ۔ اور یہ نکتہ عزت وشرف کی وہ انتہا ہے جس تک قرآن کریم انسان کو پہنچانا چاہتا ہے کہ وہ عقل سے کام لے اور یہ سمجھ لے کہ وہ ایک ذی شرف مخلوق ہے ۔ وہ صاحب عقل وادراک ہے ‘ اور یہ عقل وادراک اللہ ہی نے انسان کو عطا کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن کے بارے میں فیصلہ ان کے شعور اور ان کی عقل وادراک پر چھوڑتا ہے ۔ اللہ ان کے لئے بصارت وبصیرت کا ایک منہاج متعین فرماتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ اس منہاج کے مطابق معاملات پر غور کریں تو وہ کبھی بھی ٹھوکر نہ کھائیں گے ۔ یہ منہاج فہم وادراک قرآن میں نہایت ہی واضح طور پر متعین کیا گیا ہے ۔ اور خود انسانی فہم وادراک بھی اس منہاج تک پہنچ سکتا ہے ۔ اور اس طرح انسان اس نتیجے تک پہنچ سکتا ہے کہ قرآن کریم اللہ کی جانب سے ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔

النساء 4:82

(آیت) ” افلا یتدبرون القران ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا (4 : 82) ” کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کی سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی ۔ اس بیان اور ہدایت کے اندر انسانیت کے لئے انتہائی عزوشرف کا مقام پوشیدہ ہے ۔ اس میں انسان کے ادراک پر مکمل بھروسہ کیا گیا ہے ۔ اور اس کی شخصیت کو بہت ہی اہمیت دی گئی ہے ۔ نیز اس میں عدالت عقل میں فیصلہ لے جانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور یہ بھی ایک ایسے مظہر میں جس کا سمجھنا انسانی عقل کے لئے زیادہ دشوار نہیں ہے ۔ قرآن کے اندر پائی جانے والی مکمل ‘ جامع اور بےقید ہم آہنگی ایک ایسا مظہر ہے جو اس شخص کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکتا جو اس کتاب پر تدبر کرے ۔ اس مظہر کی سطح اور اس کا دائرہ مختلف لوگوں کی فہم کے مطابق وسیع اور تنگ ہو سکتا ہے ۔ مختلف نسلوں اور مختلف قسم کے ذہین لوگوں کے نتائج فکر مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ہر عقل اور ہر نسل اور ہر دور کے لوگوں کو اپنی بساط کے مطابق اس سے کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا ہے اور یہ کمی بیشی لوگوں کے فہم ان کی عقل اور ان کے علم و ثقافت کے اعتبار سے ہو سکتی ہے ۔ اس سلسلے میں مختلف لوگوں کا نتیجہ فکر ان کے تجربے صلاحیت اور تقوی کے مطابق محدود یا لامحدود ہو سکتا ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ ہر شخص اس آیت کا مخاطب ہے ‘ ہر نسل اس کی مخاطب ہے ‘ اور درست منہاج فکر و تدبر کے مطابق وہ اس مظہر کا ادراک کرسکتا ہے ۔ یعنی یہ وصف کہ قرآن کے اندر خلاف بیانی نہیں ہے اور اس کے اندر مکمل ہم آہنگی اور تناسق پایا جاتا ہے ۔ البتہ جس طرح ہم نے کہا یہ فہم انسان کی صلاحیت اس کے علمی مقام تجربے اور تقوی کے حدود کے اندر رہتا ہے ۔ یہ گروہ ‘ جسے اس وقت کی موجودہ نسل کی صورت میں مخاطب کیا گیا تھا ‘ ایک ایسے کلام سے مخاطب کیا جارہا تھا جسے وہ خوب سمجھتا تھا ۔ اور اپنے فہم وادراک کے ذریعے وہ اسے عمل میں لاتا تھا ‘ جس قدر اس کی طاقت کے حدود میں ہوتا تھا ۔ یہ مظہر اور یہ صفت یعنی مکمل اتحاد فکر اور ہم آہنگی کی صفت کا اظہار سب سے پہلے قرآن کریم کے انداز تعبیر میں ہوتا ہے ۔ قرآن کی طرز ادا اور فنی طریقہ اظہار مدعا کے اندر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ انسانی کلام ہمارے سامنے ہیں ‘ بڑے سے بڑے ادب پاروں میں نشیب و فراز بھی ہوتے ہیں ‘ ہم آہنگی بھی ہوتی ہے اور لغزش کلام بھی ہوتی ہے ۔ ایک حصہ اگر پر زور ہوتا ہے تو دوسرے میں جھول ہوتی ہے ۔ ایک میں اگر فکری تخلیق ہے تو دوسرے حصہ میں پیش پا افتادہ ہوتا ہے ‘ ایک حصہ اگر رواں ہوتا ہے تو دوسرا نہایت ہی گنجلک ہوتا ہے ۔ ایک اگر نہایت ہی روشن ہے تو دوسرا حصہ تاریک ہے غرض کلام کی فصاحت وبلاغت اور نقص کے سلسلے میں جو اوصاف ہوتے ہیں ان کے اعتبار سے انسانی کلام میں نشیب و فراز ہوتا ہے ۔ نقائص کلام میں سے اہم نقص کلام کے اندر روانی اور ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے جس میں بات جلدی جلدی ایک معیار سے گرتی ہے یا گرے ہوئے معیار سے اوپر کو اٹھتی ہے ۔ ہر انسانی کلام کے اندر یہ مظہر قدم قدم پر سامنے آتا ہے ‘ کسی ایک ادیب کے اگر ادبی کردار کو لیں ‘ یا اس کے انکار کو لیں ‘ یا کسی ایک ہی ادیب کے فن پاروں کو لیں یا کسی ایک سیاست دان کی پالیسیوں کو لیں یا کسی ایک جرنیل کی جنگی چالوں ‘ یا کسی ایک شخص کی صنعت کاری کو لیں ‘ اس میں معیار کا یہ تفاوت قدم قدم پر نظر آئے گا ۔ معیار تعبیر کے اندر زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا ۔ قرآن کریم کے اندر یہ صفت نہایت ہی واضح ہیں اور پوری طرح منعکس ہے ‘ یعنی کلام میں پختگی اور ہم آہنگی ۔ پورے قرآن کے اندر یہ صفت ملحوظ رکھی گئی ہے ۔ ہم یہاں جو بات کر رہے ہیں وہ صرف لفظی اور تعبیر کی ہم آہنگی کے ذاویے سے ہے ۔ اس پوری کتاب کے اندر کلام اور اسلوب اظہار کا ایک ہی میعار ہے ‘ اسی وجہ سے یہ کتاب معجزانہ شان لئے ہوئے ہے ۔ یہ کتاب جن موضوعات پر کلام کرتی ہے ‘ مضمون کے اعتبار سے اس کے رنگ مختلف ضرور ہوتے ہیں لیکن فصاحت وبلاغت کے اعتبار سے اس کا معیار ایک ہی رہتا ہے ۔ اسلوب ادا میں اس کا کمال قائم رہتا ہے ۔ اور کسی جگہ کلام اپنی معیاری سطح سے گرنے نہیں پاتا ۔ کسی جگہ اس کی حالت ایسی نہیں ہوتی جس طرح انسانی کلام کی حالت ہوتی ہے کہ کبھی میعار کچھ ہوتا ہے اور کبھی کچھ ۔ یہ کتاب اللہ کی شان کاریگری لئے ہوئے ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بات کے کہنے والا متغیر نہیں ہے اور وہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف متغیر نہیں ہوتا ۔ اور نہ اس پر ایک حال کے بعد دوسرا حال طاری ہوتا ہے ۔ (دیکھئے ‘ التصویر الفنی فی القرآن) اس کے فنی اسلوب کے بعد پھر یہ عدم اختلاف کی صفت اور مکمل ہم آہنگی اور عام وحدت فکر اس نظام کے اندر بھی پائی جاتی ہے جس کا اظہار وبیان قرآن کریم کی ان عبارات کے اندر کیا گیا ہے اور جس کا مفہوم ان ہم آہنگ عبارتوں کی اندر بیان ہوا ہے ۔ یعنی وہ نظام فکر جس کی اوپر نفس انسانی کی تربیت کی گئی ہے یا انسانی معاشرے کی تربیت کی گئی ہے ۔ نیز اس نظام زندگی کے تمام اجزاء اور اس کے تمام پہلوؤں کے اندر مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ اسی طرح ایک فرد کی زندگی کی تمام سرگرمیوں اور پھر ایک معاشرے کے اندر فرد کی تمام سرگرمیوں اور نسلا بعد نسل ایک فرد اور معاشرے کی زندگی کے اندر جو تغیر وتبدل ہوتا ہے اس کے تمام پہلوؤں کے اندر مکمل توافق اور توازن پایا جاتا ہے ۔ پھر انسان کی قوت مدرکہ کے لئے ایک منہاج اور تقویم ہے ‘ جس کے کئی پہلو ہیں اور انسان کے فہم وادراک کی کئی قوتیں اور عمل ادراک میں کام آنے والی مختلف قوتیں ۔ پھر خود حضرت انسان کی ذات اور اس کے تمام معاشروں ‘ تمام نسلوں اور تمام سطحوں کے اندر بھی ایک مکمل ہم آہنگی رکھی گئی ہے ۔ انسان اور اس کائنات کے اندر بھی مکمل آہنگی ہے جس کے اندر یہ انسان زندگی بسر کرتا ہے ۔ پھر انسان کی دنیاوی زندگی اور آخروی زندگی کے اندر بھی مکمل توافق اور ہم آہنگی ہے ۔ پھر اس کتاب نے اس انسان اور اس پوری کائنات کے اندر اس کی زندگی بسر کرنے میں بھی پوری ہم آہنگی رکھی ہے ۔ جب ایک انسان اور اللہ کی کاریگری کے اندر باعتبار اسلوب کلام اور لفظی تعبیر فرق ہے تو فکری نظریاتی اور قانون سازی کی میدانوں میں بھی ‘ ظاہر ہے کہ انسانی کام اور ربانی کام کے اندر نہایت ہی واضح فرق و امتیاز ہوگا ۔ تمام انسانی نظریات ‘ تمام انسانی مذاہب ومکاتب کے اوپر انسانی چھاپ بالکل واضح نظر آتی ہے ۔ اور نقطہ نظر کے اندر جزئی اور انفرادی پن واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ ان تمام پہلوؤں کے اندر وقتی حالات اور مشکلات سے انسان متاثر نظر آتا ہے ۔ اور انسان اس بات کا ادراک نہیں کرسکتا کہ اس کے نظریے ‘ اس کے مذھب ومکتب کے اندر اور اس کے منصوبوں کے اندر کوئی نہ کوئی تناقض موجود ہوتا ہے جو اس نظام فکر وعمل کے اندر کشمکش شروع کردیتا ہے اور یہ کشمکش یا تو بہت جلد شروع ہوجاتی ہے یا کچھ عرصے کے بعد شروع ہوتی ہے ۔ پھر یہ انسانی مکاتب فکر وعمل انسان کی بعض خصوصیات کو بالکل دبا دیتے ہیں جبکہ خود انسان کو ان کا نہ علم ہوتا ہے اور نہ انسان انہیں پیش نظر رکھ سکتا ہے ۔ یہ پھر بعض شخصیات کے اندر ایسے اوصاف ہوتے ہیں جن کے بارے میں انسان سوچ ہی نہیں سکتا ۔ خود انسانی ادراک کے اندر ہزاروں کمزوریاں اپنی جگہ ہوتی ہیں اور جس کا دائرہ عمل نہایت ہی محدود ہوتا ہے ۔ چونکہ انسانی ادراک کا دائرہ محدود ہوتا ہے اس لئے وہ اپنے بنائے ہوئے منصوبے سے آگے نہیں دیکھ سکتا بلکہ وہ خود اپنے موجود منصوبے کے (مالہ وما علیہ) سے بھی اچھی طرح واقف نہیں ہوتا ۔ اس کے برعکس قرآنی منصوبہ چونکہ علیم وخبیر کا بنایا ہوا ہوتا ہے اس لئے قرآنی مندرجات ومفہومات ان تمام نقائص سے پاک ہوتے ہیں ۔ یہ مفہومات اور منصوبے مستقل ہوتے ہیں اور پوری کائنات کے اندر مروج نوامیس فطرت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہوتے ہیں ۔ یہ نوامیس فطرت مستقل اور ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ مسلسل حرکت میں بھی ہوتے ہیں ۔ اسی طرح قرآنی نظریات بیک وقت متحرک بھی ہوتے ہیں ۔ اور ثابت بھی ہوتے ہیں۔ ان آفاق وحدود کے اندر قرآن کریم کی اس صفت پر غور وفکر سے بعض اوقات انسانی ادراک اس کے پورے آفاق کو نہیں پا سکتا اور نہ ہی بعض اوقات ایک پوری نسل اس کا مکمل ادراک کرسکتی ہے بلکہ تمام نسلوں کے ادراک میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوگا ۔ اس لئے کہ قرآن کریم سے ہر نسل اپنا حصہ پاتی ہے اور آنے والی ترقی یافتہ نسلوں کے لئے بھی کچھ نہ کچھ آفاق رہتے ہیں ۔ بہر حال اس صفت کے ادراک میں مختلف درجات کے اعلی انسانوں سے کچھ نہ کچھ ضرور باقی رہ جاتا ہے جس طرح دوسری چیزوں کے اندر کسی نہ کسی حد تک اختلاف موجود ہوتا ہے ۔ اور اس باقی آفاق سے اگلی نسلیں بھی اپنا حصہ حاصل کرتی رہتی ہیں اس لئے کہ اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں اور انسان کی بنائی ہوئی چیزوں میں فرق ہے ۔ اور اللہ کی بنائی ہوئی چیز میں نہ کوئی اختلاف ہوتا ہے اور نہ تفاوت اور فرق ۔ اس میں مکمل اتحاد اور تناسق ہوتا ہے ۔ ہاں لوگوں کی فہم وادراک کے حدود میں ضرور فرق ہوتا ہے اور بعض لوگ اس تناسق کو بہت ہی اچھی طرح سمجھتے ہیں اور بعض ذرا کم سمجھتے ہیں ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے التصور الاسلامی خصائصہ ومقوماتہ ۔ نحو مجتمع اسلامی ‘ الاسلام ومشکلات الحضارہ اور ھذ الدین وغیرہ) لیکن جس قدر ایک عام انسان سمجھ سکتا ہے یا ایک گروہ سمجھ سکتا ہے یا ایک متعین نسل سمجھ سکتی ہے ‘ اللہ تعالیٰ لوگوں کے فہم وادراک کے سامنے ‘ جس قدر ان کو حاصل ہے ‘ قرآن کریم کو پیش کرتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سوچیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اور اگر غیر اللہ کا کلام ہوتا تو لوگ اس میں بہت کچھ اختلافات پاتے ۔ یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم ایک مختصر سا توقف کریں اور یہ متعین کرلیں کہ اس مخصوص معاملے میں یا پورے دین کے معاملے میں انسانی ادراک کی حدود کار کیا ہیں ؟ کوئی انسان اس بات سے غرے میں مبتلا نہ ہوجائے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ معاملہ خود انسانی ادراک کے سامنے فیصلے کے لئے پیش کیا ہے اس لئے گویا انسانی ادراک کوئی بہت ہی بڑی شئی ہے ۔ انسانی غور وفکر اور ادراک کو بھی اپنی محفوظ حدود کے اندر رہنا چاہئے کہیں وہ اپنے محدود محفوظ دائرے سے باہر بھول بھلیاں میں پھنس نہ جائے ۔ قرآن کریم کی ان ہدایات کو اچھی طرح نہیں سمجھا گیا اور نہ ہی ان کی حدود کو اچھی طرح سمجھا گیا ہے ۔ از منہ قدیمہ اور دور جدید دونوں میں ایسے اسلامی اہل فکر رہے ہیں جنہوں نے عقل و قیاس کو شریعت کے مساوی درجہ دیا ہے بلکہ یہ لوگ عقل وادراک کو شریعت کا پاسبان بناتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیکن حقیقت ایسی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ فہم وادراک کا یہ آلہ بہرحال انسانی قوت مدرکہ ہے اگرچہ اپنی جگہ یہ نہایت ہی اہم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کے مسئلے کو بارگاہ عقل و تدبر میں پیش کیا ہے لیکن عقل کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک کرے کہ یہ قرآن اور اس کے اندر وضع کردہ پورے کا پورا دین من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ قرآن کے اندر ایسے اوصاف ومظاہر ہیں جنہیں عقل بشری بڑی سہولت سے سمجھ سکتی ہے ۔ اور وہ مظاہر اور علامات اس بات کے ادراک کے لئے کافی ہیں کہ یہ دین من جانب اللہ ہے ۔ جب یہ بات تسلیم کرلی جائے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے تو اس ادراک کا منطقی نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ اد دین کے اندر جو احکام ہیں انہیں انسان تسلیم کرے چاہے ان کی حکمت انسان کی سمجھ میں آرہی ہو یا نہ آرہی ہو ‘ اس لئے کہ جب ہم نے یہ بات تسلیم کرلی کہ یہ دین اور قرآن من جانب اللہ ہے تو یہ بات ازخود تسلیم ہوجاتی ہے کہ اس کے اندر حکمت موجود ہے پھر یہ بات اہم نہیں رہتی کہ حالات حاضرہ کے اندر لوگوں کی مصلحت اس دین سے پوری ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ۔ جب دین اللہ کی طرف سے ہے تو گویا مصلحت اس کے اندر موجود اور متحقق ہے ۔ ا نسانی عقل شریعت کے مساوی نہیں ہوتی چہ جائیکہ کہ وہ شریعت پر حاکم اور مقتدر ہوجائے ۔ اس لئے کہ خود شریعت کی حکمتوں کا ادراک ہر عقل نہایت ہی محدود پیمانے پر کر پاتی ہے ۔ اور یہ بات محال ہے کہ عقل شریعت کے تمام زاویوں اور تمام مصلحتوں کا احاطہ کرسکے ۔ نہ ایک لحظہ میں نہ پوری انسانی تاریخ میں ۔ جبکہ اللہ کی شریعت کی نظر ایک ایک لمحے کی مصلحتوں پر بھی ہوتی ہے اور زمان ومکان کے مصالح پر بھی ہوتی ہے ۔ اس لئے یہ بات مناسب نہیں ہے کہ شریعت کا کوئی ثابت شدہ حکم صرف انسانی عقل و قیاس کے حوالے کردیا جائے ۔ اس سلسلے میں عقل انسانی کا کام صرف یہ ہے کہ وہ نصوص شرعیہ کے ادراک اور ان نصوص کی دلالت اور مفہومات کے اخذ پر غور کرے ۔ یہ اجازت عقل کو نہیں دی جاسکتی کہ وہ احکام کی مصلحتوں پر بھی کلام کرے ۔ اس لئے کہ جب اللہ کی جانب سے کوئی آیت نازل ہوتی ہے تو اس میں لازما کوئی مصلحت ہوتی ہے تب ہی تو وہ آتی ہے ۔ عقل کا کام تو ان مسائل میں ہوتا ہے جن میں کوئی نص نہ ہو ‘ جدید مسائل ہوں ۔ ایسے مسائل کے بارے میں جو طریقہ کار اختیار کیا جائے گا اس کے بارے میں ہم اس سے پہلے کہہ آئے ہیں کہ ایسے مسائل کو اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹا دیا جائے گا ۔ اور یہی وہ دائرہ کار ہے جو حقیقی اجتہاد کے لئے کھلا چھوڑا گیا ہے جبکہ نصوص قرآنی کا فہم وادراک بہر حال ہر وقت عقل ہی کے ذریعے ہوگا ۔ جب کسی نص کا مفہوم سمجھ لیا جائے تو بس اب وہاں توقف ہی بہتر ہوتا ہے اور عقل کو اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ فیصلہ دے کہ آیا اس مفہوم میں مصلحت ہے یا نہیں ہے ۔ عقل انسانی کا اصل دائرہ کار کائنات کے قوانین قدرت ہیں اور یہ نہایت ہی وسیع دائرہ کار ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم عقل انسانی کو اسی قدر مقام ومنزلت دیں جو اسے اللہ نے دیا ہے اور جو اس کے لئے مناسب ہے اور اس دائرے کے اندر اسے رکھا جائے جو اللہ نے عقل کے لئے رکھا ہے ۔ اس دائرے کے حدود سے تجاوز نہ کیا جائے تاکہ وہ بھول بھلیاں میں جا کر پھنس نہ جائے اور اسے کوئی رہبر کامل نہ ملے ۔ اور اگر کوئی رہبر ملے بھی تو وہ ایسے راستوں پر پڑجائے جن کا اسے خود علم نہ ہو ۔ یہ صورت حال ایک ایسے انسان کے لئے زیادہ خطرناک ہے جو صراط مستقیم کا متلاشی ہو۔

النساء 4:83

اب سیاق کلام ذرا آگے بڑھتا ہے اور ایک دوسرے گروہ کو لیا جاتا ہے جو اسلامی معاشرے میں پایا جاتا ہے ۔ (آیت) ” واذا جاء ھم امر من الامن اوالخوف اذا عوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطن الا قلیلا (83) ” یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں ‘ حالانکہ اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں ‘ تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے ۔ “ یہاں جس گروہ کے بارے میں کہا گیا ہے یہ بھی اسلامی کیمپ میں موجود ایک گروہ ہے لیکن یہ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو ابھی تک اسلامی نظام کے راہ ورسم سے اچھی طرح واقف نہیں ہے ۔ اور اس گروہ کو ابھی تک اس بات کی سمجھ نہ تھی کہ اسلامی کیمپ میں بےچینی پھیلنے کے نتائج کس قدر خطرناک اور کس قدر تباہ کن ہو سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ افواہیں افواہیں ہوتی ہیں ‘ واقعات نہیں ہوتے ۔ حالات بعض اوقات ایسے سنجیدہ ہوتے ہیں کہ ایک سرسری بات کے خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ کسی ایک شخص کے بارے میں ‘ کسی گروہ یا جماعت کے بارے میں بعض ایسے نتائج رونما ہوتے ہیں کہ سرسری ریمارک پاس کرنیو الا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ اگر یہ واقعات ونتائج برآمد ہوجائیں تو پھر ان کا تدارک اور تلافی کسی صورت میں بھی نہیں کی جاسکتی اور یہ لوگ یہ باتیں اس لئے کرتے ہیں کہ اسلامی کیمپ کے افراد کے اندر پیدا ہونے والی اخوت اور بھائی چارے کا تصور ابھی تک ان کے ذہن میں واضح نہ تھا ۔ یہ لوگ اس بات کو اہمیت نہ دیتے تھے کہ آخر کار ایسی غیر ذمہ دارانہ گفتگوؤں کے کیا نتائج نکلنے والے ہیں اور ایسی باتوں کی اشاعت سے نقصان کیا ہوتا ہے کہ جب یہ باتیں ایک منہ سے دوسرے منہ میں چلتی رہتی ہیں ‘ چاہے یہ باتیں امن کے حالات سے متعلق ہوں یا بےچینی اور خوف کے حالات سے متعلق ہوں ۔ دونوں حالات کے اندر بعض خبروں کا پھیل جانا نہایت ہی مہلک اور فساد انگیز ہوتا ہے ۔ مثلا ایک چوکنے ‘ تیار اور محتاط کیمپ کے اندر دشمن کی سرگرمیوں کو کم کرکے دکھانا غفلت کا باعث ہو سکتا ہے اور اس میں دشمن متحرک ہوسکتا ہے ۔ ایسے حالات میں امن کے بارے میں لوگوں کو مطمئن کردینا لوگوں کو غافل اور سست بنا سکتا ہے اگرچہ متعلقہ ذمہ داران کی طرف سے بار بار احتیاط کی تنبیہ کی جاتی رہے ۔ اس لئے کہ اگر خطرہ سروں پر ہو تو ایک انسان کا دشمن کے مقابلے میں چوکنا ہوجانا ‘ ایسی صورت حال سے بالکل مختلف ہوتا ہے کہ محض ذمہ داران کے احکام کی اساس پر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں ۔ اس قسم کی سستی اور لاپرواہی بعض اوقات معاملے کا حتمی فیصلہ کردیتی ہے ۔ اسی طرح اگر ایک کیمپ اپنی قوت پر مطمئن ہو اور اپنے اطمینان کی وجہ سے ثابت قدم ہو اس کے اندر خوف پھیلایا جائے ‘ تو ایسے کیمپ میں خوفناک خبروں کی اشاعت سے بےچینی افراتفری پیدا ہوتی ہے اور لوگ ایسی حرکات کرتے ہیں جن کی ضرورت نہیں ہوتی اور جن کی وجہ سے لوگوں میں خواہ مخواہ خوف وہراس پیدا ہوتا ہے اور بعض اوقات ایسی چیزیں نہایت ہی برے نتائج پیدا کردیتی ہیں ۔ بہرحال یہ ایک ایسے کیمپ کی خصوصیت ہے جس کا نظم ونسق ابھی تک مکمل نہیں ہوا یا اس کیمپ کے افراد کے اندر اپنی قیادت کے ساتھ وفاداری ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ‘ یا یہ دونوں کمزوریاں پائی جاتی ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اسلامی معاشرے میں یہ دونون باتیں پائی جاتی تھیں اس لئے کہ اس ابتدائی دور میں اسلامی معاشرے میں ایمان کے اعتبار سے مختلف سطح کے لوگ موجود تھے ۔ مختلف فہم وادراک کے حامل لوگ موجود تھے اور محبت ووفاداری میں بھی یہ لوگ مختلف سطحوں اور درجوں کے تھے ۔ غرض اس قسم کی افراتفری اور بےچینی کو قرآن کریم اپنے خالص ربانی منہاج کے مطابق دور کر رہا تھا ۔ (آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم “ (4 : 83) (اگر یہ اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کریں) یعنی اگر یہ لوگ امن اور خوف کی خبریں رسول اللہ ﷺ کے گوش گزار کرتے ‘ اس دور میں جب حضور موجود تھے ‘ یا اہل ایمان میں سے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے ‘ جبکہ حضور موجود نہ تھے ‘ تو ان خبروں کی حقیقت یہ لوگ معلوم کرلیتے کیونکہ یہ ایسی چیزوں کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ان متضاد خبروں کے درمیان سے وہ حقیقت کو اخذ کرلیتے ہیں یا مختلف قسم کے حالات سے وہ بات سمجھ لیتے ہیں ۔ ایک مسلم سپاہی کا فریضہ یہ ہے کہ اگر وہ کوئی ایسی خبر سنے تو وہ اسے اپنے افسر تک پہنچا دے بشرطیکہ وہ بھی صحیح افسر ہو ‘ وہ اس خبر کو اپنی نبی تک پہنچائے اگر وہ موجود ہے اور اگر نبی کا دور ختم ہے تو اپنے اوپر تک پہنچائے ۔ یہ رویہ درست نہ ہوگا کہ وہ یہ خبر صرف اپنے ساتھیوں کے اندر پھیلاتا پھرے یا ایسے لوگوں کے درمیان پھیلائے جن پر اسلامی جماعت کی ذمہ داری نہیں ہے اس لئے کہ اسلامی قیادت ہوتی ہی وہ ہے جو حقیقت کو سمجھ سکے ۔ اور کسی خبر کی نشر کرنے کے صحیح موقع کو بھی سمجھے ۔ یہاں تک کہ اگر ثابت بھی ہوجائے تو بھی بعض اوقات کسی خبر کا نشر کرنا مناسب نہیں ہوتا اور اس کا نشر نہ کرنا ہی اچھا ہوتا ہے ۔ یہ تھی قرآن کی تربیت ‘ قرآن کریم مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی پختگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی قیادت کے ساتھ وفاداری بھی پیدا کر رہا تھا ۔ قرآن نے صرف ایک آیت میں اسلامی فوجی نظام کے تمام اصول جمع کردیئے بلکہ آیت کے بھی صرف ایک ٹکڑے میں ۔ یہ آیت یہ سکھلاتی ہے کہ ایک فوجی مسلسل امن اور خطرے کی خبریں لیتا ہے اور اپنے افسران بالا تک پہنچاتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے ۔ اس ایک آیت کی ابتداء میں ایک ایسے فوجی کی تصویر کشی کی گئی ہے جو خبریں لیتا ہے ‘ امن کی بھی اور خوف کی بھی ‘ اور وہ اسے مسلسل شائع کر رہا ہے بغیر سنجیدگی کے اور بغیر کسی تحقیق کے اور بغیر اس کے کہ اپنی قیادت کے سامنے پیش کرکے ہدایات لے لے ۔ آیت کے وسطی حصے میں ایک فوجی کو یہ ہدایت دی جاتی ہے اور آخری حصے میں فوجیوں کے دلی تعلق کو اللہ سے جوڑ دیا جاتا ہے ۔ اللہ کے فضل کا ذکر کیا جاتا ہے اور اسے آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ کا شکر بجا لائے ۔ اسے شیطان کی اطاعت سے ڈرایا جاتا ہے ‘ جو گھات میں بیٹھا ہوا ہے اور اگر اللہ کا فضل وکرم نہ ہو تو وہ فورا دلوں کے اندر فساد پیدا کر دے ۔ (آیت) ” ولو لا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطن الا قلیلا (4 : 83) (اگر تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے) یہ ایک آیت ہے اور اس کے اندر علم ومعرفت کی وافر مقدار ثبت کردی گئی ہے ۔ اس قضیہ کے تمام پہلوؤں کا ذکر کردیا گیا ‘ یہ آیت ضمیر کے خفیہ ترین گوشوں تک اتر گئی اور دلوں کے اندر ہدایت اور علم بھر دیا گیا ۔ یہ اس لئے کہ یہ کتاب اللہ کی جانب سے ہے ۔ اور اگر یہ اللہ کی جانب سے نہ ہوتی ۔ (آیت) ” لوجدوافیہ اختلافا کثیرا “۔ (یہ لوگ اس میں بہت کچھ خلاف بیانیاں پاتے) جب بات یہاں تک پہنچ جاتی ہے تو اسلامی صفوں کی کمزوریوں کی نشاندہی کردی جاتی ہے ‘ ایسی کمزوریاں جو اسلامی معاشرے کی زندگی پر اور عمل جہاد پر اثر انداز ہو سکتی ہیں یہ غلطیاں اور ان کی درستی کا کام اس سبق کے آغاز ہی سے چل رہا ہے ۔ اب مسلمانوں کو جہاد و قتال پر ابھارا جاتا ہے جس کا ذکر اس سبق میں ہوتا رہا ہے ۔ یہاں آکر حضور اکرم ﷺ کو ذاتی طور پر قتال فی سبیل اللہ کا مکلف بنایا جاتا ہے ۔ اب اس ذاتی ذمہ داری کے بعد کوئی شخص اس سے پیچھے نہیں رہ سکتا ۔ نہ اسلامی جماعت میں پائے جانے والے کسی خلل اور نقص کی وجہ سے نہ راستے کی مشکلات کی وجہ سے ۔ اس لئے کہ خطاب صرف ذات رسول ﷺ کو ہے کہ آپ اٹھیں اور لڑیں اگرچہ اکیلے ہوں اس لئے کہ جہاد ہر شخص پر ذاتی طور پر فرض ہے ۔ آپ بھی اپنی ذات کے ذمہ دار ہیں ‘ ہاں اپنی ذات کے ساتھ آپ ﷺ اہل ایمان کو بھی قتال پر ابھاریں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں اہل ایمان اور آپ ﷺ کو فتح ونصرت کی امید دلاتے ہیں اس لئے کہ یہ معرکہ خود اللہ کا معرکہ ہے اور اللہ تعالیٰ بہت ہی زبردست ہے ۔

النساء 4:84

(آیت) ” نمبر 84۔ اس آیت اور اس سے ماقبل کی آیت کے اندر ہمیں اس وقت کی موجودہ جماعت مسلمہ کے خدوخال اچھی طرح نظر آتے ہیں جس طرح ہر دور میں پائے جانے والے انسانی نفوس کے خدوخال نظر آتے ہیں ۔ (الف) ان آیات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت اسلامی صفوں کے اندر سخت بےچینی پائی جاتی تھی اور مکمل اتحاد نہ تھا جنگ سے پہلو تہی ‘ اس کی راہ میں رکاوٹیں اور جنگ سے پیچھے رہنے کی کمزوریاں ابھی تک اسلامی صفوں میں موجود تھیں ۔ یہاں تک کہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے اور جوش دلانے کی خاطر یہاں نبی ﷺ کی ذات مبارک کو حکم دیا گیا کہ آپ جہاد کریں اگرچہ آپ اکیلے ہوں ۔ آپ خود اپنے نفس کے ذمہ دار ہیں ۔ ہاں اس کے ساتھ ساتھ آپ مسلمانوں کو بھی ابھاریں لیکن آپ کی ذات کی طرف سے جہاد میں شرک اس پر موقوف نہیں ہے کہ دوسرے لوگ اس کام کے لئے اٹھتے ہیں یا نہیں۔ اگرچہ عملا یہ ممکن نہ تھا کہ اہل ایمان نبی ﷺ کی پکار کو سب کے سب رد کردیتے لیکن یہاں اس انداز میں کلام کرنے کا مقصد یہ تھا کہ فریضہ بنیادی طور پر آپ پر عائد ہوتا ہے ‘ جس طرح اسلامی تصور حیات کا یہ ایک اساسی اصول ہے کہ ہر شخص اپنی ذات کا ذمہ دار ہے کسی ایک کی ذمہ داری کسی دوسرے پر نہ ہوگی ۔ ہاں دوسروں کو جنگ کے لئے ابھارنا اپنی جگہ پر ہے ۔ (ب) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مشرکین کے ساتھ جنگ چھیڑنے میں لوگ کس قدر خطرات محسوس کرتے تھے اور اس راہ میں کس قدر مشکلات تھیں ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ خود مسلمانوں کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ کافروں کا زور توڑ دے گا اور اس طرح مسلمان خود اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تحفظ کے زیر سایہ ہوں گے ساتھ ساتھ یہ یقین بھی دلایا جاتا ہے کہ اللہ زبردست قوت والا ہے اور جب وہ کسی کو سزا دیتا ہے تو اس کی سزا بہت ہی سخت ہوتی ہے ۔ یہ الفاظ کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے گا ‘ اس بات کا مظہر ہیں کہ اس وقت اہل کفر زور آور تھے ۔ ان کی قوت کی وجہ سے اسلامی صفوں میں خوف محسوس کیا جاتا تھا اور یہ حالات احد اور خندق کے درمیانی دور سے تعلق رکھتے ہیں ۔ احد سے لے کر خندق تک کا دور وہ دور ہے جس میں مدینہ طیبہ کے اندر مسلمان نہایت ہی مشکلات اور خطرات سے دو چار تھے ۔ ان کے اندر منافقین گھسے ہوئے تھے ‘ ان کے اردگرد یہودی پھیلے ہوئے تھے اور ہر وقت مشرکین کو فساد پر آمادہ کرتے رہتے تھے ۔ اور اسلامی صفوں کے اندر اسلامی تصور حیات ابھی تک جاگزیں اور واضح نہ تھا ۔ (ج) اس سے ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب انسان کو مشکلات میں قدم رکھنا ہوتا ہے تو اس کا سہارا صرف ذات باری ہوتی ہے اور اللہ کا سایہ عاطفت ہی باعث اطمینان ہوتا ہے ۔ اس وقت صرف اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور اللہ ہی پر بھروسہ کام دیتا ہے ۔ جب خطرات اپنی آخری انتہاؤں کو چھوتے ہیں اور تمام وسائل کام نہیں کرتے تو پھر ذات باری ہی کام دیتی ہے اور یہ تمام حقائق ایسے ہیں جن کو اسلامی نظام پیش نظر رکھتا ہے ۔ اس لئے کہ نفس انسانی کا خالق اللہ ہے اور اللہ اپنے پیدا کردہ نفس انسانی کو اچھی طرح جانتا ہے کہ سک طرح اس کی تربیت کی جائے گی اور کس طرح اسے بچایا جائے گا اور کس طرح اسے جوش دلایا جائے گا اور کس طرح وہ مشکلات کو انگیز کرنے کے لئے تیار ہوگا ۔ اس سبق کے آخر میں حضور ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ آپ اہل ایمان کو جنگ پر ابھاریں جنگ سے پہلو تہی کرنے والوں اور پیچھے رہنے والوں کا ذکر بھی ہوا تھا ۔ اب یہاں ایک عام اصول بتا دیا جاتا ہے کہ ہر شخص نیکی اور بھلائی کے کام کے لئے سفارش کرے اور لوگوں کو نصیحت کرے لوگوں کو بھلائی کی ہدایات دے ‘ نصیحت کرے اور بھلائی پر تعاون کی تلقین کرے ۔

النساء 4:85

(آیت) ” نمبر 85۔ اب جو شخص لوگوں کو قتال پر ابھارتا ہے ‘ اس مقصد کے لئے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور دعوت جہاد دیتا ہے ‘ اسے اس دعوت اور اس کے نتیجے میں ہونے والے کام کا پورا پورا اجر ملے گا ۔ اور جو شخص پہلو تہی کرتا ہے اور پیچھے رہتا ہے اور اس کے اگر برے نتائج نکلتے ہیں تو یہ شخص بھی ذمہ دار ہے ۔ ” کف “ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیچھے رہنے والا نتائج بد کا ذمہ دار ہوگا ۔ اسی اصول کا اطلاق ہر اچھی سفارش پر ہوگا اور بری سفارش پر بھی یہی اصول منطبق ہوگا ۔ اگرچہ یہ اصول خاص حالات کے اندر ذکر ہوا ہے لیکن یہ قرآن کریم کا انداز بیان ہے کہ وہ ایک مخصوص واقعہ کے ضمن میں ایک کلی قاعدہ بیان کردیتا ہے اور اس جزئی واقعہ کو بھی اس قاعدہ کلیہ کے ایک جزو کے طور پر پیش کرتا ہے اور پھر تمام امور کو ذات باری سے مربوط کردیتا ہے جو ہر چیز کا نگہبان اور رازق ہے ۔ جو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور لفظ (مقیت) میں یہ مفاہیم داخل ہیں ۔ (آیت) ” وکان اللہ علی کل شییء مقیتا “۔ (4 : 85) (اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے) اچھے کاموں کی سفارش کے بعد یہ کہا جاتا ہے اگر کوئی تمہیں سلام کرے تو یا تو اس سلام جیسا جواب دو یا اس سے اچھا جواب دو ۔ کسی بھی معاشرے میں سلام ایک ایسا فعل ہے جس سے زندگی کی گاڑی نہایت ہی سکون اور سہولت کے ساتھ چلتی ہے اگر آداب سلام کو اچھی طرح ملحوظ رکھا جائے ، سلام اور اچھائی کی سفارش کے درمیان گہرا ربط پایا جاتا ہے ۔ اگر کسی معاشرے میں دو فرد ایک دوسرے کو سلام نہیں کرتے تو وہ ایک دوسرے کو مزید کیا ہدایت دیں گے ۔

النساء 4:86

(آیت) ” نمبر 86۔ اسلام نے اپنا ایک خاص سلام اسلامی معاشرے کو دیا ۔ جس سے ایک مسلمان اور مسلمان معاشرہ غیر مسلم اور غیر مسلم معاشروں سے ممتاز ہوگیا ۔ یہ سلام کو بالکل منفرد اور متمیز بنا دیتا ہے ‘ وہ اپنی روز مرہ کی زندگی میں ممتاز صفات کا مالک بن جاتا ہے اور وہ اس کی وجہ سے دوسرے معاشروں میں مدغم اور گھل مل نہیں جاتا ‘ نہ کان نمک میں نمک بن جاتا ہے ۔ اسلام نے تین الفاظ دیئے ہیں۔ السلام علیکم ‘ السلام علیکم ورحمتۃ اللہ اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ اور جواب سلام یا تو ویسا ہوگا یا اس سے زیادہ ہوگا ماسوائے تیسرے لفظ کے ۔ مثلا السلام علیکم ‘ کا جواب یا تو وعلیکم السلام ہے یا اس سے بہتر وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ ۔ دوسرے لفظ پر وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ہوگا ۔ اور تیسرے کا جواب ویسا ہی ہوگا ۔ اس لئے کہ اس میں الفاظ پورے استعمال ہوگئے۔ اس لئے تیسرے کا جواب ویسا ہی ہوگا ۔ حضور ﷺ سے ایسی ہی روایت ہے ۔ اس میں ایک تو وہ انفرادیت ہے ‘ جو اسلامی معاشرے کا خاص رنگ ہے ۔ اسلام چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والوں کے خاص خدوخال ہوں ‘ ان کی خاص عادات ہوں ‘ جس طرح اسلام نے ایک مخصوص قانونی تنظیمی نظام دیا ہے ۔ اس موضوع پر ہم تحویل قبلہ کے موقعے پر بات کر آئے ہیں کہ اسلام نے اس امت کو جس طرح ایک نظریہ حیات دیا ہے ‘ اسی طرح اسے ایک مخصوص قبلہ بھی دیا ہے ۔ (دیکھئے سورت بقرہ پارہ دوئم) دوسری یہ کہ اسلام نے امت مسلمہ کے افراد کے اندر نہایت پختہ محبت اور بھائی چارہ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ مثلا سلام کا عام کرنا ‘ اور سلام کا جواب سلام سے زیادہ اچھا ہو اور دوسرے تعلقات جن کی وجہ سے اسلامی سوسائٹی کے اندر نہایت ہی پختہ روابط اخوت ومودت پیدا ہوئے ۔ حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل اچھا ہے ؟ تو آپ ﷺ نے جواب دیا ” یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور چاہے جاننے والا ہو یا نہ جاننے والا ہو ‘ اسے سلام کرو۔ “ یہ تو حکم ہے کہ جماعت مسلمہ کے اندر سلام کرو ‘ اور یہ سنت ہے ‘ رہا سلام کا جواب تو وہ اس آیت کی رو سے فرض ہے ۔ اسلامی معاشرے میں سلام کرنے کی عادت کے اثرات کا اندازہ عملا اس وقت ہوتا ہے جب سلام کے ذریعے غیر متعارف لوگ باہم متعارف ہو کر ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور جو لوگ ایک دوسرے کو علیک سلیک کرتے رہتے ہیں ان کے باہم روابط قائم ہوجاتے ہیں ۔ یہ ایک ایسی صفت ہے جو ہر اس شخص پر ظاہر ہوجاتی ہے جو اس عادت کے آثار کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کے نتائج پر غور کرتا ہے ۔ تیسرے یہ کہ آیات قتال کے درمیان میں باہم دوستانہ تعلقات کے لئے یہ آیت بادنسیم ہے اور اس میں اسلام کے اصل الاصول کی طرف اشارہ کردیا گیا کہ اسلام کا اصل الاصول یہ ہے کہ ملک کے اندر امن وامان قائم ہو ‘ اس لئے کہ اسلام دین امن ہے ۔ اسلام کی جنگ بھی دراصل امن کے لئے ہے یعنی کرہ ارض پرامن قائم کرنا اور یہ امن وسیع معنوں میں مطلوب ہے ۔ ایسا امن جو اسلامی نظام حیات پر مبنی ہو ۔ درس نمبر 37 ایک نظر میں : اس سبق میں اسلامی تصورحیات کے ایک نبی ادی اصول کا تذکرہ کیا گیا ہے یعنی عقیدہ توحید اور اللہ تعالیٰ کو اس کی حاکمیت میں وحدہ لاشریک سمجھنا ۔ پھر اس اصول کے مطابق اسلامی سوسائٹی اور اسلامی معاشرے کے تعلقات دوسرے کیمپوں کے ساتھ متعین کئے گئے ہیں لیکن دوسرے معاشروں کے ساتھ اسلامی معاشرے کے تعلق کی نوعیت کے تعین سے بھی پہلے اس سبق میں خود مسلمانوں پر سخت تنقید کی گئی ہے کہ وہ منافقین کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ گروہ منافقین مدینہ میں رہنے والے منافقین سے کوئی علیحدہ گروہ تھا ۔ یہ احکام اسلام کے اصل الاصول پر قائم ہیں اور یہ تنقید بھی اسی اصول کے مطابق ہے جس پر اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام قائم ہے ۔ اس اصول کا ذکر ہر وقت ہوتا رہتا ہے جب بھی اسلامی نظام کوئی ہدایت دیتا ہے یا کوئی قانون سازی کی جاتی ہے ۔ یہ احکام مختلف کیمپوں کے بارے میں ہیں اور یہ احکام ان اصول وقوانین کا حصہ ہیں جسے انسانی تاریخ میں سب سے پہلے اسلام نے متعارف کرایا ۔ ان قوانین کا تعلق قانون بین الاقوام سے ہے ۔ اسلام نے سب سے پہلے بین الاقوامی معاملات میں تلوار کے فیصلے سے ہٹ کر کچھ قواعد بنائے قوت کی دلیل اور جنگل کے قانون پر مشتمل بین الاقوامی رولز میں اسلام نے سب سے پہلے مہذب ضابطے پیش کئے ۔ یورپ کے اندر قانون بین الاقوام کا آغاز صرف ستروہویں صدی عیسوی (مطابق گیارھویں صدی ہجری) میں ہوا لیکن یہ قانون ماسوائے کاغذ اور سیاہی کے اور کچھ حیثیت نہ رکھتا تھا اور جو بین الاقوامی ادارے تشکیل دیئے گئے تھے وہ محض بین الاقوامی استعماری قوتوں کے خفیہ مقاصد کو قانونی مشکل دینے کے آلہ کار تھے ۔ نیز یہ ادارے سرد جنگ کے لئے میدان کارزار تھے۔ ان کا یہ مقصد ہر گز نہ تھا کہ حق حقدار تک پہنچے ۔ نہ یہ ادارے صحیح معنوں میں انصاف کرتے تھے ۔ یہ ادارے وجود میں محض اس لئے لائے گئے تھے کہ اس دنیا میں بعض بڑے اور طاقت کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ہم پلہ ممالک کے درمیان کچھ جھگڑے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور جونہی ان ممالک کے مابین طاقت کا توازن ختم ہوا تو نہ ان بین الاقوامی قوانین کی کوئی حیثیت رہی اور نہ ہی ان بین الاقوامی اداروں کی کوئی قیمت رہی ۔ جب اسلام آیا ‘ جو انسانوں کے لئے رب ذوالجلال کا نظام زندگی ہے تو اس نے ساتویں صدی عیسوی میں بین الاقوامی معاملات کے اندر قانون سازی کی یعنی پہلی صدی ہجری میں ، یہ قانون اسلام نے از خود وضع کیا اور اس قانون کے بنانے کے لئے کی ہم پلہ حکومت کی طرف سے کوئی دباؤ نہ تھا ۔ یہ قانون اسلام نے از خود بنایا اور از خود اس پر عمل کیا تاکہ اسلامی معاشرہ اس کی بنیاد پر دوسرے کیمپوں کے ساتھ اپنے تعلقات قائم کرے ‘ انسانیت کے لئے انصاف کے جھنڈے بلند کرے اور اس کے لئے نشانات راہ متعین کرے ۔ اگرچہ اس دور کے جاہلی دشمن کیمپ مسلمانوں کے ساتھ ان اسلامی بین الاقوامی قوانین کو سامنے رکھتے ہوئے معاملہ نہ کرتے تھے اس لئے کہ یہ اصول اور قوانین اسلام نے پہلی مرتبہ متعارف کرائے تھے ۔ یہ بین القوامی قرآن کریم کی مختلف سورتوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان کو یکجا کیا جائے تو بین الاقوامی قانون کا ایک مکمل ضابطہ سامنے آتا ہے ۔ اس کے اندر ان تمام حالات کا حل موجود ہے جو کسی بھی وقت اسلامی مملکت اور دوسرے ممالک کو پیش آسکتے تھے ۔ چاہے یہ ممالک برسرجنگ اور محارب ہوں ‘ پرامن ہوں ‘ مخالف ہوں ‘ غیر جانبدار ہوں ‘ محارب کے حلیف ہوں ‘ پرامن معاہد کے حلیف یا مخالف اور غیر جانبدار کے حلیف ہوں۔ یہاں ان اصولوں اور احکام کی تفصیلات کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس قسم کی تفصیلی بحث توبین الاقوامی قوانین کے ماہرین کا کام ہے ۔ البتہ ان آیات کے اندر جو اصول آئے ہیں ہم ان کا خلاصہ پیش کرتے ہیں ۔ اس سبق میں درج ذیل لوگوں کے ساتھ معاملہ کیا گیا ہے ۔ (الف) وہ منافقین جو مدینہ میں مقیم نہ تھے ۔ (ب) وہ لوگ جو ایسی قوم سے متعلق ہیں ‘ جس کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی میثاق ہے ۔ (ج) وہ غیر جانبدار لوگ جو مسلمانوں کے ساھ ملکر لڑنا بھی پسند نہیں کرتے اور خود اپنی قوم کے ساتھ مل کر بھی لڑنا پسند نہیں کرتے لیکن وہ ہیں اپنے سابق دین پر ۔ (د) وہ لوگ جو اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ کھیلتے ہیں ۔ جب مدینہ آتے ہیں تو اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں اور جب مکہ کو جاتے ہیں تو کفر کا اعلان کرتے ہیں ۔ (ہ) مسلمانوں کے اندر قتل خطا اور مختلف لوگوں یعنی مختلف شہریت کے مالک لوگوں کے مابین قتل عمد کے واقعات میں ضابطہ ۔ ان تمام حالات میں ہمیں واضح احکام ملتے ہیں جو اپنے موضوع پر بالکل صریح ہیں ۔ اور تمام حالات پر ان کا انطباق ہوتا ہے ۔ اور یہ اصول بین الاقوامی معاملات کی ضابطہ بندی کا ایک حصہ ہیں اور ان کا حکم وہی ہے جو اس موضوع پر دوسرے احکام بین الاقوام کا ہے ۔

النساء 4:87

درس نمبر 37 تشریح آیات : 87۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 94۔ اس سبق کا آغاز اس اصول سے ہوتا ہے جس کے اوپر اسلامی نظام کی عمارت استوار ہے اور اس کے تمام پہلو اس اصول سے ماخوذ ہیں ۔ (آیت) ” نمبر 87۔ اسلامی نظام زندگی کا پہلا قدم عقیدہ توحید ہے اور عقیدہ توحید کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ وحدہ حاکم ہے ۔ اس اسلامی قونون وضع کریں ‘ یا اسلامی انتظامیہ قائم کریں ۔ قانون نظام کا تعلق اسلامی معاشرے کے داخلی امور سے ہو یا بین الاقوامی قانون سے ہو جس کے مطابق اسلامی سوسائٹی دوسری سوسائٹیوں کے ساتھ برتاؤ کرتی ہے ۔ چناچہ زیر بحث آیت بعض داخلی اور بین الاقوامی قوانین کا افتتاحیہ ہے۔ نفس انسانی کی تربیت کا سفر اس عقیدے سے شروع ہوتا ہے کہ تمام بندوں کو ایک دن اللہ میدان حشر میں اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس دنیا میں اس نے انسانوں کو جو اختیارات دیئے تھے ان کے صحیح استعمال کے سلسلے میں باز پرس کرے گا ۔ وہاں اس بات کی پرسش بھی ہوگی کہ اللہ کی ہدایات اور اس کے قوانین پر تم نے کس حد تک عمل کیا اور دنیا میں اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے معاملات کے اندر کس حد تک تم نے اسلامی ضوابط کی پابندی کی کو ین کہ تمہیں بہرحال وہاں اسی آزمائش اور امتحان کے لئے تو بھیجا گیا تھا ۔ آخرت میں صغیر وکبیر ہر معاملے کا حساب و کتاب ہوگا ۔ حساب و کتاب اور جواب دہی کا یہی اخروی تصو رہے جو شریعت کے انتظامی اور قانونی ضابطوں پر عمل پیرا ہونے کا ضامن ہے اس لئے کہ ہر شخص کے ضمیر کے اندر ایک جیتا جاگتا چوکیدار بیٹھا ہوا ہوتا ہے اور اس وقت بھی نگران ونگہبان ہوتا ہے جب حکومت کے چوکیدار سو جاتے ہیں۔ اور یہ بات اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) ” ومن اصدق من اللہ حدیثا (4 : 87) (اور اللہ سے زیادہ سچی کس کی بات ہے) اور یہ آپ کا وعدہ ہے جس کے خلاف نہیں ہوسکتا ۔ مسلمانوں کے دلوں کو یہ احساس دینے کے بعد اب اصل بات شروع ہوتی ہے ۔ یہ احساس دلانا اسلامی منہاج تربیت کا ایک عام طریق کار ہے اور اس سے یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کی پوری نظریاتی اور عملی عمارت اس عقیدے پر قائم ہے ۔ غرض یہ احساس دلانے کے بعد اب اس بات پر تعجب کا اظہار کیا جارہا کہ مسلمان نفاق اور منافقین کے بارے میں یکسو نہیں ہیں اور ان کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے فیصلہ کن انداز اختیار نہیں کرتے حالانکہ حالات کا تقاضا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ فیصلہ کن اور دو ٹوک بات کی جائیں ۔ یکسوئی تو اور بات ہے مسلمان ان کے بارے میں واضح طور پر دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں اور ہر ایک کی اپنی رائے ہے ۔ یہ اختلاف رائے مدینہ سے باہر بسنے والے بعض منافقین کے بارے میں پیدا ہوگیا تھا ۔ جس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں ۔ استفہام انکاری کا صیغہ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان معاملات کے بارے میں فکری ہم آہنگی کیوں نہیں ہے ۔ اس سے اس بات کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ معاملات کے اندر فیصلہ کن اور دو ٹوک موقف اختیار کیا جائے اور منافقین کے ساتھ تعلق اور ان کی نسبت نقطہ نظر رکھنے میں یکسوئی اختیار کی جائے اور ان کے ظاہری امور کو دیکھ کر ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے بشرطیکہ کوئی منصوبہ طے شدہ ہو اور اس کے ساتھ نرمی کی ضرورت ہو۔

النساء 4:88

(آیت) ” نمبر 88 تا 89۔ یہ لوگ کون تھے ان کے بارے میں کئی روایات آتی ہیں جن میں سے دو روایتیں اہم ہیں ۔ امام احمد (رح) نے بہز ‘ شعبہ ‘ عدی ابن ثابت ‘ عبداللہ ابن زید ؓ کی سند سے زید ابن ثابت ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ احد کی طرف نکلے ‘ کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے وہ واپس ہوگئے ‘ ان کے بارے میں حضور ﷺ کے ساتھی دو گروہوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کردیا جانا چاہئے اور ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ قتل تو جائز نہیں ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” یہ پاک ہے اور یہ ناپاک لوگوں کو اس طرح نکال پھینکے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے ۔ (صحیحین نے اسے شعبہ سے روایت کیا ہے) ۔ عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بظاہر مسلمان ہوگئے تھے اور مکہ میں مشرکین کی امداد بھی کرتے تھے ۔ یہ لوگ مکہ سے اپنی کسی ضرورت کے لئے نکلے ۔ وہ دل میں کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں حضرت محمد ﷺ کے ساتھی مل گئے تو ہمیں ان کا کوئی ڈر نہ ہوگا ‘ جب مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ یہ لوگ سفر پر ہیں تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے یہ کہا کہ نکلو اور ان بزدلوں کو قتل کر دو اس لئے کہ یہ لوگ ہمارے دشمن مشرکین کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کے ایک دوسرے گروہ نے کہا : سبحان اللہ “ (یا جس طرح انہوں نے کہا) کیا تم ایسے گروہ کو قتل کرتے ہو کہ انہوں نے وہ الفاظ ادا کئے جو تم نے ادا کئے ہیں ؟ محض اس لئجے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے وطن کو نہیں چھوڑا ہم ان کی جان ومال کو حلال کرلیں ۔ اس طرح اس مسئلے پر مسلمانوں کے دو فریق بن گئے ۔ حضور ﷺ موجود تھے ۔ آپ نے دونوں میں سے کسی کی رائے کی تردید نہ کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) (روایت ابن ابو حاتم) اب سلمہ ‘ عکرمہ ‘ مجاہد اور ضحاک ؓ اجمعین وغیرہ سے ایسی ہی روایات منقول ہیں ۔ اگرچہ سند اور روایت کے اعتبار سے پہلی روایت زیادہ قوی ہے ‘ لیکن ہم دوسری روایت کے مضمون کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ منافقین مدینہ کے خلاف کسی وقت بھی قتال کا حکم صادر نہیں ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے نہ ان کے ساتھ جنگ کی ہے اور نہ انہیں قتل فرمایا ہے ۔ ان کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک دوسرا منصوبہ تھا ۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کی جائے اور خود مدینہ کی اسلامی سوسائٹی کو یہ موقعہ دیا جائے کہ وہ ان کو اگل کر رکھ دے ۔ حضور ﷺ جو کچھ کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ مدینہ کے اردگرد منافقین کے جو رابطے تھے انہیں کاٹ دیں ۔ مثلا یہودی جو ان منافقین کو ورغلاتے تھے اور ان کے حامی تھے ان کو مدینہ اور پھر پورے جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا جائے ۔ رہی آیت زیر بحث تو اس میں تو حکم دیا جارہا ہے کہ زیر بحث منافقین کو قید کیا جائے جہاں ملیں انہیں قتل کردیا جائے ‘ لہذا یہ مناقین مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے علاوہ کوئی اور گروہ ہوگا ۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کی پکڑ دھکڑ کا ہجرت تک موقوف ومشروط ہے کیونکہ آیت میں ہے ۔ (آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم “۔ (4 : 89) ” لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ ہجرت سے منہ موڑیں تو ان کو پکڑو اور جہاں بھی ان کو پاؤ قتل کرو “۔ یہ تہدید ان لوگوں کے حق میں اس لئے آئی تاکہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے حالات سے نکل آئے ہوں ‘ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں یہ حکم نافذ نہیں فرمایا تھا لیکن (یھاجروا) کے لفظ سے یہ بات تو قطعا ثابت ہوجاتی ہے کہ زیر بحث منافقین اہل مدینہ سے نہ تھے ۔ مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ مدینہ کو ہجرت کر کے آجائیں ۔ یہ واقعہ لازما فتح مکہ سے پہلے کا ہوگا اور ہجرت تھی بھی فتح مکہ سے پہلے کیونکہ ہجرت کی تعریف یہ ہے کہ دارالکفر سے داراسلام کی طرف ہجرت کی جائے ۔ لوگ تحریک اسلامی سے آکر ملتے رہیں اور اسلامی نظام کے تحت آتے رہیں ۔ ورنہ ان کی زندگی یا تو کفر گزرے گی یا نفاق میں ۔ اسی سورت میں اس سبق کے بعد دوسرے سبق میں ایسے لوگوں پر سخت تقید وارد ہے جو ابھی تک مکہ کے دارالکفر میں مقیم تھے بغیر کسی عذر یا ضعف کے اور تھے مسلمان ۔ اس وقت ان کے لئے مکہ دارالکفر اور دارالحرب تھا اگرچہ وہ ان کا اصلی وطن تھا اور وہ اس میں مقیم تھے ۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بنا پر ہم دوسری روایت کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ کہ منافقین کا گروہ زیر بحث مکہ میں مقیم تھا ‘ یا مکہ کے اردگرد کسی آبادی میں تھا ۔ یہ لوگ اپنے منہ سے تو اسلام کا اقرار کرتے تھے اور اپنے عمل سے کافروں کی حمایت کرتے تھے ۔ غرض آیت زیر بحث کو ایک بار پھر پڑھئے : (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین واللہ ارکسھم بما کسبوا اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (88) ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ (89) (4 : 88۔ 89) ” پھر تم کو کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو رہے ہیں ‘ اور اللہ نے تو ان کو ان کے اعمال کے سبب الٹ دیا ہے ‘ کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے اور جس کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے ‘ ۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ‘ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ ‘ لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرلیں ‘ پھر اگر یہ اس شرط کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو ‘ مار ڈالو ‘ جہاں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ “ ” ان آیات میں اس بات پر سخت نکیر ہے کہ منافقین کے بارے میں اختلاف رائے واقعہ کیوں ہوا اور ان کے بارے میں یہ حیرت انگیز موقف ہر فریق نے کیوں اپنایا ؟ اس لئے کہ اس موقف میں ایک فریق کی جانب سے بہت نرمی تھی اور اس بات کا اظہار ہو رہا تھا کہ ابھی مسلمانوں کا شعور اسلام کے بارے میں پختہ نہیں ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے یہ کہا کہ تم ایسے لوگوں کو قتل کرتے ہو جنہوں نے وہی الفاظ ادا کئے ہیں جو تم نے ادا کئے ہیں اور محض اس لئے کہ انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت نہیں کی ؟ کیا یہی بات ان کی مال وجان کو مباح کرنے کے لئے کافی ہے ؟ ان لوگوں کا تصور اسلام پختہ اس لئے نہ تھا کہ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھ رہے تھے کہ منافقین زیر بحث نے بھی اسی طرح کلمہ پڑھا ہے جس طرح ہم نے پڑھا ہے حالانکہ اس گروہ منافقین کے خلاف شواہد موجود تھے ۔ ایک تو ان کا اپنا قول کہ محمد ﷺ کے ساتھی ہمیں کچھ بھی نہ کہیں گے ‘ دوسرے یہ کہ اہل ایمان کے ایک گروہ نے بھی ان کے بارے میں یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے دشمنوں کی امداد کرتے ہیں ۔ ان شواہد کے باوجود ان لوگوں کا موقف ان منافقین کے بارے میں کمزور موقف تھا حالانکہ انہیں فیصلہ کن اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہئے تھا اس لئے کہ زبانی طور پر کلمہ شہادت پڑھنا اور عملا کفار کی امداد کرنا منافقت کی بین دلیل تھی ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ کسی نرمی اور چشم پوشی کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ یہ معمولی غلطی نہ تھی بلکہ اس سے تصور اسلام میں کمزوری کا اظہار ہو رہا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے اندر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا اور سخت تنبیہ کی گئی ۔ رہے مدینہ کے منافقین تو ان کے بارے میں مسلمان فکری طور پر بالکل یکسو تھے کہ یہ منافق ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ چشم پوشی اس لئے اختیار کی گئی تھی کہ ایک خاص منصوبے کے تحت ایسا ہو رہا تھا ‘ وہ یہ کہ ان کے ظاہری حالات پر ہی ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے اور ایک وقت ایک انہیں مہلت دی جائے ۔ لیکن یہ ایک دوسری صورت حال تھی کہ اہل اسلام میں سے ایک گروہ ان کی طرف سے اس لئے مدافعت کر رہا تھا کہ انہوں نی بھی وہی کلمہ پڑھا ہے جو ہم نے پڑھا ہے اور زبان سے انہوں نے بھی شہادت دی ہے کہ اللہ ایک ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ ہیں حالانکہ یہ لوگ مسلمہ طور پر دشمنان اسلام کے امداد کندہ تھے ۔ مسلمانوں کی اس فکری کمزوری کی وجہ سے اور ان کے درمیان اختلاف رائے کی وجہ سے (جبکہ منافقین کا نفاق بالکل واضح تھا) اس آیت میں شدید تنبیہ کی گئی ۔ اور پھر تنبیہ کے بعد اس بات کی وضاحت بھی کردی گئی کہ ۔ (واللہ ارکسھم بما کسبوا) (اللہ نے ان کو ان کے اعمال کی وجہ سے الٹ دیا ہے) تم ان کے بارے میں جھگڑتے ہو اور اللہ نے انکی بداعمالیوں اور ان کی بدنیتی کی وجہ سے انہیں ایسے حالات میں ڈال دیا ہے جن میں وہ الٹے نظر آرہے ہیں ۔ اللہ کی جانب سے انکے خلاف یہ گواہی ہے کہ وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کی وجہ سے ناقابل رشک صورت حال میں پڑے ہیں۔ اس تنبیہ کے بعد ایک دوسری تنبیہ یہ کہ گئی ۔ (آیت) ” اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ ) (کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے) یعنی مسلمانوں میں سے جو فریق ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رہا ہے اس کی منشا یہ تھی کہ انہیں راہ راست پر آجانے کا موقعہ دیا جائے تاکہ یہ منافقانہ رویہ اختیار کرنا چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے موقف کو نامناسب سمجھا اور منافقین کو ایسے حالات میں ان کے اعمال اور برے ارادوں کی وجہ سے ڈال دیا ہے لہذا ان کے ہدایت پانے کی امید فضول ہے ۔ (آیت) ” ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ ” جن کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے “۔ اور اللہ لوگوں کو گمراہ اس لئے کردیتا ہے کہ وہ اپنی نیت و ارادے سے گمراہی کی راہ اپناتے ہیں ۔ پھر وہ گمراہی کے لئے سعی کرتے ہیں اور اس راستے میں بہت ہی دور چلے جاتے ہیں ۔ اتنے دور کہ ان کے لئے راہ ہدایت بند ہوجاتی ہے کیونکہ انہوں نے الٹ راہ اختیار کی ہوتی ہے اور ہدایت کے لئے اللہ کی امداد کے وہ طالب ہی نہیں رہے اور انہوں نے نشانات راہ کو گم کردیا ۔ اب ایک قدم آگے چلئے ! ان منافقین کے اصل موقف کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ خود گمراہ ہوگئے ہیں اور اپنی نیت اور عمل کی وجہ سے وہ اس پوزیش کے مستحق ہوگئے ہیں جس میں وہ پڑے ہیں بلکہ وہ تو خود اہل اسلام کے بارے میں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ بھی کفر ہی کا راستہ اختیار کرلیتے تو اچھا ہوتا ۔ (آیت) ” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآئ “۔ (وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ۔ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ) بیشک انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا ہے اگرچہ انہوں نے بھی وہی کلمہ پڑھا ہے جو مسلمان پڑھتے ہیں اور انہوں نے دونوں باتوں کی شہادت دے دی ہے لیکن ان شہادت کو انکا عمل جھٹلاتا ہے جس کے ذریعے یہ لوگ دشمنان اسلام کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن وہ اس حد پر بھی بس نہیں کرتے اس لئے کہ جو شخص کفر کو اپناتا ہے وہ کسی حد پر نہیں رکتا ۔ وہ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھتا جب تک اس پورے کرہ ارض پر سے اسلام اور مسلمان مٹ نہیں جاتے ۔ اس مذموم مقصد کو لئے وہ سعی مسلسل میں مصروف رہتا ہے ۔ وہ اس مقصد کے لئے جدوجہد کرتا ہے ‘ سازشیں کرتا ہے تاکہ موجودہ اہل اسلام بھی لوٹ کر کافر ہوجائیں اور اس طرح تمام لوگ برابر ہوجائیں ۔ زیر تبصرہ منافقین کے اس موقف کی یہ پہلی وضاحت ہے اور یہ وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ اس سے ان کے بارے میں اہل اسلام کی سوچ سے ہر قسم کی جھول دور ہوجاتی ہے ۔ یہ سوچ ان کے قول وعمل کی واضح شہادت پر قائم ہوجاتی ہے اور اب یہ سوچ تضاد سے خالی ہوتی ہے ۔ زبانی اظہار اسلام کی حقیقت کچھ نہیں رہتی جب تمام قرائن یہ بتاتے ہوں کہ ان لوگوں کا موقف منافقانہ ہے ۔ قرآن کریم مسلمانوں کے شعور کو ایک چٹکی بھرتا ہے جس سے ان کے شعور میں ایک خوفناک احساس ابھرتا ہے اور یہ احساس قرآن کے ان الفاظ سے ابھرتا ہے۔ (آیت) ” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآئ “۔ (وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ۔ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ) ‘ ۔ یہ خوف اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ اہل اسلام نے حال ہی میں کفر کو ترک کر کے اسلام کا مزہ چکھا تھا ‘ اور ابھی تک انہیں اس بات کا شعور تھا کہ ان کی زندگی میں کس قدر عظیم تبدیلی پیدا ہوئی ہے ۔ ان کا شعور کس قدر بلند ہوا ‘ ان کی عام سطح کس قدر بلند ہوئی اور جاہلیت کے مقابلے میں ان کی سوسائٹی کو اسلام میں کس قدر سربلندی نصیب ہوئی ۔ یہ فرق و امتیاز ‘ انکے شعور میں بھی تھا اور حقیقت واقعہ میں بھی ‘ اور یہ اشارہ ہی کافی تھا کہ وہ اس شخص کے دشمن بن جائیں جو انہیں دوبارہ ان سابقہ پستیوں کی طرف لے جانے کی تدابیر کر رہا تھا ۔ یعنی اس جاہلیت کی پستیوں کی طرف جس سے انہیں اسلام نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا تھا ۔ پھر انہیں ایک عام سطح پر ہی نہ چھوڑ دیا تھا بلکہ انہیں عمومی ترقی کے ذریعے بلند ترین چوٹی پر پہنچا دیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی نظام تربیت اس حقیقت کا سہارا لے کر خطرناک حالات کے مقابلے میں اور آگے بڑھنے کے حالات میں مسلمانوں کو دشمن سے اس طرح خبردار کر کے سخت تاکیدی احکام دیتا ہے ۔ (آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ (89) (4 : 89) ”‘ لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرلیں ‘ پھر اگر یہ اس شرط کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو ‘ مار ڈالو ‘ جہاں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ “ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو یہ کہا کہ ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ ‘ تو اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان خاندانی ‘ قبائلی روابط اور تعلقات باقی تھے ‘ اور مسلمانوں کے دلوں میں ان روابط کی وقعت تھی اور ہوسکتا ہے کہ یہ روابط ابھی تک بعض اقتصادی مفادات کی خاطر بھی ہوں ۔ اسلام کا یہ طریقہ تربیت جاہلیت کے تمام رہے سہے آثار وروابط کو بھی پوری طرح جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا ۔ اور جس طرح قرآن کریم تطہیر افکار کر رہا تھا اسی طرح امت مسلمہ کے لئے بین الاقوامی روابط کے اصول بھی طے کر رہا تھا ۔ قرآن کریم امت کو بتا رہا تھا کہ کوئی امت کبھی بھی صرف خاندانی اور قبائلی روابط پر وجود میں نہیں آسکتی اور خون اور رشتے کے روابط ‘ ایک ہی ملک اور علاقے میں رہائش کے روابط ‘ تجارتی اور دوسرے اقتصادی مفادات کے روابط کی اساس پر کوئی امت وجود میں آسکتی ہے ۔ امت ہمیشہ ایک مخصوص نظریہ حیات اور اس نظریہ حیات کی اساس پر اٹھنے والی سوسائٹی اور اجتماعی نظام کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ داراسلام کے باشندوں اور دارالحرب کے باشندوں کے درمیان دوستی اور ولایت کے تعلقات قائم نہیں رہ سکتے ۔ اس وقت درالحرب مکہ تھا جو مہاجرین کا وطن اصلی تھا اس لئے مکہ کے لوگوں حتی کہ زبانی طور پر اسلام کا اقرار کرنے والوں اور مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان بھی دوستی اس وقت تک نہ ہو سکتی تھی جب تک وہ ہجرت نہ کرتے جو صرف اللہ کے لئے اور اللہ کی راہ میں ہو اور اس کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لئے نہ ہو ‘ یعنی صرف ایسے معاشرے کے قیام کے لئے ہو جو اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی گزار رہا ہو اور اس کے سوا کوئی غرض نہ ہو ۔ نہایت ہی پاک ‘ نہایت ہی فیصلہ کن اور نہایت ہی متعین مقصد کے ساتھ ‘ جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو ‘ کوئی خلط ملط نہ ہو ‘ اسلامی نظام حیات کے سوا کوئی ہدف نہ ہو اور نہ کوئی اور مصلحت ہو ۔ اگر یہ زبانی طور پر کلمہ اسلام پڑھنے والے پر شرط پوری کردیں ‘ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ دیں ‘ اپنے ملک اور مصلحتوں کو خیر باد کہہ دیں اور دارالاسلام کی طرف ہجرت کر آئیں تاکہ یہاں وہ اسلامی نظام کے تحت زندگی بسر کریں ‘ جو اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہے ‘ جس کے اندر اسلامی شریعت جاری ہے تو پھر وہ اسلامی معاشرے کے ممبر بن جائیں گے ۔ وہ امت مسلمہ کے ہم وطن ہوں گے ۔ اگر وہ یہ شرط تسلیم نہ کریں ‘ ہجرت کا انکار کردیں تو پھر انہوں نے زبانی طور پر جو کلمہ پڑھا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ اگر وہ یہ شرط قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (فخذوھم) انہیں پکڑ کر قید کر دو اور جہاں بھی تمہیں ملیں انہیں ۔ (واقتلوھم) قتل کر دو اور ان میں سے کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ مددگار ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ دو احکام جو دیئے ہیں ‘ یہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ لوگ مدینہ کے منافقین نہ تھے ‘ اس لئے کہ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اسلامی انقلاب نے بالکل مختلف پالیسی اختیار کی تھی ۔ اسلام کی یہ پالیسی ہے کہ وہ اسلام کے مخالف عقائد رکھنے والے لوگوں کے ساتھ نہایت ہی فیاضانہ پالیسی اختیار کرتا ہے ۔ اسلام مخالف اسلام لوگوں کو ہر گز اس امر پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیں بلکہ اسلام مخالف اسلام مذاہب کے پیروکاروں کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے عقائد کا اظہار کریں ‘ اسلام کے بارے میں اپنے مخالفانہ نظریات کا بھی اظہار کریں اور خود دارالاسلام میں ایسا کریں ۔ ہاں ان کو یہ اجازت نہ ہوگی کہ وہ مسلمانوں کے اندر اپنے نظریات پھیلائیں یا اسلام کو برا بھلا کہیں ۔ اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ مسلمان اہل کتاب کو برا بھلا نہ کہیں ۔ لہذا یہ بات شک وشبہ سے بالا ہے کہ اسلام خود دارالاسلام کے اندر موجود اقلیتوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ خود اسلام کے بارے میں لعن طعن کریں ۔ اگرچہ ہمارے دور کے بعض لوگوں نے اس قدر توسع اور ڈھیل سے کام لیا ہے کہ وہ مخالف اسلام لوگوں کو دارالاسلام میں اسلام پر لعن طعن کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں ۔ بہرحال اسلام کی یہ بھی بڑی فیاضی ہے کہ وہ انہیں اسلامی نظریہ حیات قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا اور دارالاسلام میں ان کو جان ومال اور آبرو کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے ۔ انہیں اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ عمومی نظام (Civil code) کے علاوہ اپنے مخصوص معاملات میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلے بھی کریں۔ اسلام اپنے مخالفین کو کھلے بندوں اپنے نظریات پر قائم رہنے کی اجازت دیتا ہے ‘ لیکن اسلام یہ رعایت منافقین کو نہیں دیتا جو زبانی طور پر تو اظہار اسلام کرتے ہیں لیکن ان کا عمل اسلام کے مخالف ہوتا ہے ۔ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتتا جو اللہ کی توحید کے قائل تو ہیں ‘ اور کلمہ شہادت پڑھتے ہیں ‘ لیکن ان کے بعد اللہ کی خاص صفت ‘ صفت حاکمیت میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتے ہیں ‘ مثلا عوام کو حق قانون سازی دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے احبارو رہبان اور حضرت مسیح کو اللہ کے سوا رب بنایا ہے اس لئے نہیں کہ وہ ان لوگوں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ان کو حلال و حرام مقرر کرنے کے اختیارات دے رکھے ہیں اور یہ اہل کتاب اس معاملے میں ان کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ۔ نیز اسلام منافقین کے اس گروہ کے ساتھ بھی رواداری نہیں برتتا جو یہ شہادت دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے ‘ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس کے بعد وہ دارالکفر اور دارالحرب میں مقیم ہیں اور مسلمانوں کے دشمنوں کی امداد بھی کرتے ہیں ۔ یہ بات رواداری نہ ہوگی بلکہ یہ بدکرداری ہوگی ۔ اسلامی نظریہ حیات راواداری کا نظریہ ہے لیکن وہ بدکرداری اور عدم حمیت کا نظریہ نہیں ہے ۔ یہ ایک سنجیدہ تصور حیات اور ایک سنجیدہ نظام حیات ہے اور سنجیدگی اور حقیقت پسندی اور رواداری میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ البتہ حقیقت پسندی اور بدکرداری کے درمیان تضاد ضرور ہے ۔ یہ نکتے پہلی تحریک اسلامی کے لئے بھی قابل توجہ اور قابل غور تھے اور آج بھی ان میں تحریک اسلامی کے لئے اہم پیغام ہے ۔

النساء 4:89

(آیت) ” نمبر 88 تا 89۔ یہ لوگ کون تھے ان کے بارے میں کئی روایات آتی ہیں جن میں سے دو روایتیں اہم ہیں ۔ امام احمد (رح) نے بہز ‘ شعبہ ‘ عدی ابن ثابت ‘ عبداللہ ابن زید ؓ کی سند سے زید ابن ثابت ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ احد کی طرف نکلے ‘ کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے وہ واپس ہوگئے ‘ ان کے بارے میں حضور ﷺ کے ساتھی دو گروہوں میں بٹ گئے تھے ۔ ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ ان لوگوں کو قتل کردیا جانا چاہئے اور ایک گروہ یہ کہتا تھا کہ قتل تو جائز نہیں ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” یہ پاک ہے اور یہ ناپاک لوگوں کو اس طرح نکال پھینکے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو نکال دیتی ہے ۔ (صحیحین نے اسے شعبہ سے روایت کیا ہے) ۔ عوفی نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو بظاہر مسلمان ہوگئے تھے اور مکہ میں مشرکین کی امداد بھی کرتے تھے ۔ یہ لوگ مکہ سے اپنی کسی ضرورت کے لئے نکلے ۔ وہ دل میں کہہ رہے تھے کہ اگر ہمیں حضرت محمد ﷺ کے ساتھی مل گئے تو ہمیں ان کا کوئی ڈر نہ ہوگا ‘ جب مسلمانوں کو اس بات کی اطلاع ہوئی کہ یہ لوگ سفر پر ہیں تو مسلمانوں کے ایک گروہ نے یہ کہا کہ نکلو اور ان بزدلوں کو قتل کر دو اس لئے کہ یہ لوگ ہمارے دشمن مشرکین کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن مسلمانوں کے ایک دوسرے گروہ نے کہا : سبحان اللہ “ (یا جس طرح انہوں نے کہا) کیا تم ایسے گروہ کو قتل کرتے ہو کہ انہوں نے وہ الفاظ ادا کئے جو تم نے ادا کئے ہیں ؟ محض اس لئجے کہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اور اپنے وطن کو نہیں چھوڑا ہم ان کی جان ومال کو حلال کرلیں ۔ اس طرح اس مسئلے پر مسلمانوں کے دو فریق بن گئے ۔ حضور ﷺ موجود تھے ۔ آپ نے دونوں میں سے کسی کی رائے کی تردید نہ کی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین “۔ (4 : 88) (روایت ابن ابو حاتم) اب سلمہ ‘ عکرمہ ‘ مجاہد اور ضحاک ؓ اجمعین وغیرہ سے ایسی ہی روایات منقول ہیں ۔ اگرچہ سند اور روایت کے اعتبار سے پہلی روایت زیادہ قوی ہے ‘ لیکن ہم دوسری روایت کے مضمون کو ترجیح دیتے ہیں اس لئے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ منافقین مدینہ کے خلاف کسی وقت بھی قتال کا حکم صادر نہیں ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ نے نہ ان کے ساتھ جنگ کی ہے اور نہ انہیں قتل فرمایا ہے ۔ ان کے ساتھ معاملہ کرنے کا ایک دوسرا منصوبہ تھا ۔ وہ منصوبہ یہ تھا کہ ان کی سرگرمیوں سے چشم پوشی کی جائے اور خود مدینہ کی اسلامی سوسائٹی کو یہ موقعہ دیا جائے کہ وہ ان کو اگل کر رکھ دے ۔ حضور ﷺ جو کچھ کر رہے تھے وہ یہ تھا کہ مدینہ کے اردگرد منافقین کے جو رابطے تھے انہیں کاٹ دیں ۔ مثلا یہودی جو ان منافقین کو ورغلاتے تھے اور ان کے حامی تھے ان کو مدینہ اور پھر پورے جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا جائے ۔ رہی آیت زیر بحث تو اس میں تو حکم دیا جارہا ہے کہ زیر بحث منافقین کو قید کیا جائے جہاں ملیں انہیں قتل کردیا جائے ‘ لہذا یہ مناقین مدینہ کے اندر رہنے والے منافقین کے علاوہ کوئی اور گروہ ہوگا ۔ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کی پکڑ دھکڑ کا ہجرت تک موقوف ومشروط ہے کیونکہ آیت میں ہے ۔ (آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم “۔ (4 : 89) ” لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ ہجرت سے منہ موڑیں تو ان کو پکڑو اور جہاں بھی ان کو پاؤ قتل کرو “۔ یہ تہدید ان لوگوں کے حق میں اس لئے آئی تاکہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ ایسے حالات سے نکل آئے ہوں ‘ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں یہ حکم نافذ نہیں فرمایا تھا لیکن (یھاجروا) کے لفظ سے یہ بات تو قطعا ثابت ہوجاتی ہے کہ زیر بحث منافقین اہل مدینہ سے نہ تھے ۔ مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ مدینہ کو ہجرت کر کے آجائیں ۔ یہ واقعہ لازما فتح مکہ سے پہلے کا ہوگا اور ہجرت تھی بھی فتح مکہ سے پہلے کیونکہ ہجرت کی تعریف یہ ہے کہ دارالکفر سے داراسلام کی طرف ہجرت کی جائے ۔ لوگ تحریک اسلامی سے آکر ملتے رہیں اور اسلامی نظام کے تحت آتے رہیں ۔ ورنہ ان کی زندگی یا تو کفر گزرے گی یا نفاق میں ۔ اسی سورت میں اس سبق کے بعد دوسرے سبق میں ایسے لوگوں پر سخت تقید وارد ہے جو ابھی تک مکہ کے دارالکفر میں مقیم تھے بغیر کسی عذر یا ضعف کے اور تھے مسلمان ۔ اس وقت ان کے لئے مکہ دارالکفر اور دارالحرب تھا اگرچہ وہ ان کا اصلی وطن تھا اور وہ اس میں مقیم تھے ۔ یہ ہیں وہ وجوہات جن کی بنا پر ہم دوسری روایت کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ کہ منافقین کا گروہ زیر بحث مکہ میں مقیم تھا ‘ یا مکہ کے اردگرد کسی آبادی میں تھا ۔ یہ لوگ اپنے منہ سے تو اسلام کا اقرار کرتے تھے اور اپنے عمل سے کافروں کی حمایت کرتے تھے ۔ غرض آیت زیر بحث کو ایک بار پھر پڑھئے : (آیت) ” فمالکم فی المنفقین فئتین واللہ ارکسھم بما کسبوا اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (88) ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآء فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ (89) (4 : 88۔ 89) ” پھر تم کو کیا ہوا کہ منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو رہے ہیں ‘ اور اللہ نے تو ان کو ان کے اعمال کے سبب الٹ دیا ہے ‘ کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے اور جس کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے ‘ ۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ‘ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ ‘ لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرلیں ‘ پھر اگر یہ اس شرط کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو ‘ مار ڈالو ‘ جہاں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ “ ” ان آیات میں اس بات پر سخت نکیر ہے کہ منافقین کے بارے میں اختلاف رائے واقعہ کیوں ہوا اور ان کے بارے میں یہ حیرت انگیز موقف ہر فریق نے کیوں اپنایا ؟ اس لئے کہ اس موقف میں ایک فریق کی جانب سے بہت نرمی تھی اور اس بات کا اظہار ہو رہا تھا کہ ابھی مسلمانوں کا شعور اسلام کے بارے میں پختہ نہیں ہے ۔ ان میں سے بعض لوگوں نے یہ کہا کہ تم ایسے لوگوں کو قتل کرتے ہو جنہوں نے وہی الفاظ ادا کئے ہیں جو تم نے ادا کئے ہیں اور محض اس لئے کہ انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر ہجرت نہیں کی ؟ کیا یہی بات ان کی مال وجان کو مباح کرنے کے لئے کافی ہے ؟ ان لوگوں کا تصور اسلام پختہ اس لئے نہ تھا کہ وہ صرف یہ بات پیش نظر رکھ رہے تھے کہ منافقین زیر بحث نے بھی اسی طرح کلمہ پڑھا ہے جس طرح ہم نے پڑھا ہے حالانکہ اس گروہ منافقین کے خلاف شواہد موجود تھے ۔ ایک تو ان کا اپنا قول کہ محمد ﷺ کے ساتھی ہمیں کچھ بھی نہ کہیں گے ‘ دوسرے یہ کہ اہل ایمان کے ایک گروہ نے بھی ان کے بارے میں یہ انکشاف کیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے دشمنوں کی امداد کرتے ہیں ۔ ان شواہد کے باوجود ان لوگوں کا موقف ان منافقین کے بارے میں کمزور موقف تھا حالانکہ انہیں فیصلہ کن اور دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہئے تھا اس لئے کہ زبانی طور پر کلمہ شہادت پڑھنا اور عملا کفار کی امداد کرنا منافقت کی بین دلیل تھی ۔ ایسے لوگوں کے ساتھ کسی نرمی اور چشم پوشی کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ یہ معمولی غلطی نہ تھی بلکہ اس سے تصور اسلام میں کمزوری کا اظہار ہو رہا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے اندر سخت تعجب کا اظہار کیا گیا اور سخت تنبیہ کی گئی ۔ رہے مدینہ کے منافقین تو ان کے بارے میں مسلمان فکری طور پر بالکل یکسو تھے کہ یہ منافق ہیں۔ لیکن ان کے ساتھ چشم پوشی اس لئے اختیار کی گئی تھی کہ ایک خاص منصوبے کے تحت ایسا ہو رہا تھا ‘ وہ یہ کہ ان کے ظاہری حالات پر ہی ان کے ساتھ معاملہ کیا جائے اور ایک وقت ایک انہیں مہلت دی جائے ۔ لیکن یہ ایک دوسری صورت حال تھی کہ اہل اسلام میں سے ایک گروہ ان کی طرف سے اس لئے مدافعت کر رہا تھا کہ انہوں نی بھی وہی کلمہ پڑھا ہے جو ہم نے پڑھا ہے اور زبان سے انہوں نے بھی شہادت دی ہے کہ اللہ ایک ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ ہیں حالانکہ یہ لوگ مسلمہ طور پر دشمنان اسلام کے امداد کندہ تھے ۔ مسلمانوں کی اس فکری کمزوری کی وجہ سے اور ان کے درمیان اختلاف رائے کی وجہ سے (جبکہ منافقین کا نفاق بالکل واضح تھا) اس آیت میں شدید تنبیہ کی گئی ۔ اور پھر تنبیہ کے بعد اس بات کی وضاحت بھی کردی گئی کہ ۔ (واللہ ارکسھم بما کسبوا) (اللہ نے ان کو ان کے اعمال کی وجہ سے الٹ دیا ہے) تم ان کے بارے میں جھگڑتے ہو اور اللہ نے انکی بداعمالیوں اور ان کی بدنیتی کی وجہ سے انہیں ایسے حالات میں ڈال دیا ہے جن میں وہ الٹے نظر آرہے ہیں ۔ اللہ کی جانب سے انکے خلاف یہ گواہی ہے کہ وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کی وجہ سے ناقابل رشک صورت حال میں پڑے ہیں۔ اس تنبیہ کے بعد ایک دوسری تنبیہ یہ کہ گئی ۔ (آیت) ” اتریدون ان تھدوا من اضل اللہ ) (کیا تم ان لوگوں کو راہ پر لانا چاہتے ہو جن کو اللہ نے گمراہ کردیا ہے) یعنی مسلمانوں میں سے جو فریق ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رہا ہے اس کی منشا یہ تھی کہ انہیں راہ راست پر آجانے کا موقعہ دیا جائے تاکہ یہ منافقانہ رویہ اختیار کرنا چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے موقف کو نامناسب سمجھا اور منافقین کو ایسے حالات میں ان کے اعمال اور برے ارادوں کی وجہ سے ڈال دیا ہے لہذا ان کے ہدایت پانے کی امید فضول ہے ۔ (آیت) ” ومن یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ ” جن کو اللہ نے گمراہ کیا تم اس کے لئے کوئی راہ نہ پاؤ گے “۔ اور اللہ لوگوں کو گمراہ اس لئے کردیتا ہے کہ وہ اپنی نیت و ارادے سے گمراہی کی راہ اپناتے ہیں ۔ پھر وہ گمراہی کے لئے سعی کرتے ہیں اور اس راستے میں بہت ہی دور چلے جاتے ہیں ۔ اتنے دور کہ ان کے لئے راہ ہدایت بند ہوجاتی ہے کیونکہ انہوں نے الٹ راہ اختیار کی ہوتی ہے اور ہدایت کے لئے اللہ کی امداد کے وہ طالب ہی نہیں رہے اور انہوں نے نشانات راہ کو گم کردیا ۔ اب ایک قدم آگے چلئے ! ان منافقین کے اصل موقف کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ وہ خود گمراہ ہوگئے ہیں اور اپنی نیت اور عمل کی وجہ سے وہ اس پوزیش کے مستحق ہوگئے ہیں جس میں وہ پڑے ہیں بلکہ وہ تو خود اہل اسلام کے بارے میں یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ بھی کفر ہی کا راستہ اختیار کرلیتے تو اچھا ہوتا ۔ (آیت) ” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآئ “۔ (وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ۔ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ) بیشک انہوں نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا ہے اگرچہ انہوں نے بھی وہی کلمہ پڑھا ہے جو مسلمان پڑھتے ہیں اور انہوں نے دونوں باتوں کی شہادت دے دی ہے لیکن ان شہادت کو انکا عمل جھٹلاتا ہے جس کے ذریعے یہ لوگ دشمنان اسلام کی امداد کرتے ہیں ۔ لیکن وہ اس حد پر بھی بس نہیں کرتے اس لئے کہ جو شخص کفر کو اپناتا ہے وہ کسی حد پر نہیں رکتا ۔ وہ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھتا جب تک اس پورے کرہ ارض پر سے اسلام اور مسلمان مٹ نہیں جاتے ۔ اس مذموم مقصد کو لئے وہ سعی مسلسل میں مصروف رہتا ہے ۔ وہ اس مقصد کے لئے جدوجہد کرتا ہے ‘ سازشیں کرتا ہے تاکہ موجودہ اہل اسلام بھی لوٹ کر کافر ہوجائیں اور اس طرح تمام لوگ برابر ہوجائیں ۔ زیر تبصرہ منافقین کے اس موقف کی یہ پہلی وضاحت ہے اور یہ وضاحت اس طرح کی گئی ہے کہ اس سے ان کے بارے میں اہل اسلام کی سوچ سے ہر قسم کی جھول دور ہوجاتی ہے ۔ یہ سوچ ان کے قول وعمل کی واضح شہادت پر قائم ہوجاتی ہے اور اب یہ سوچ تضاد سے خالی ہوتی ہے ۔ زبانی اظہار اسلام کی حقیقت کچھ نہیں رہتی جب تمام قرائن یہ بتاتے ہوں کہ ان لوگوں کا موقف منافقانہ ہے ۔ قرآن کریم مسلمانوں کے شعور کو ایک چٹکی بھرتا ہے جس سے ان کے شعور میں ایک خوفناک احساس ابھرتا ہے اور یہ احساس قرآن کے ان الفاظ سے ابھرتا ہے۔ (آیت) ” ودوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سوآئ “۔ (وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح کافر ہوجاؤ جس طرح وہ کافر ہوئے ہیں ۔ اس طرح تم سب برابر ہوجاؤ) ‘ ۔ یہ خوف اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ اہل اسلام نے حال ہی میں کفر کو ترک کر کے اسلام کا مزہ چکھا تھا ‘ اور ابھی تک انہیں اس بات کا شعور تھا کہ ان کی زندگی میں کس قدر عظیم تبدیلی پیدا ہوئی ہے ۔ ان کا شعور کس قدر بلند ہوا ‘ ان کی عام سطح کس قدر بلند ہوئی اور جاہلیت کے مقابلے میں ان کی سوسائٹی کو اسلام میں کس قدر سربلندی نصیب ہوئی ۔ یہ فرق و امتیاز ‘ انکے شعور میں بھی تھا اور حقیقت واقعہ میں بھی ‘ اور یہ اشارہ ہی کافی تھا کہ وہ اس شخص کے دشمن بن جائیں جو انہیں دوبارہ ان سابقہ پستیوں کی طرف لے جانے کی تدابیر کر رہا تھا ۔ یعنی اس جاہلیت کی پستیوں کی طرف جس سے انہیں اسلام نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا تھا ۔ پھر انہیں ایک عام سطح پر ہی نہ چھوڑ دیا تھا بلکہ انہیں عمومی ترقی کے ذریعے بلند ترین چوٹی پر پہنچا دیا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنی نظام تربیت اس حقیقت کا سہارا لے کر خطرناک حالات کے مقابلے میں اور آگے بڑھنے کے حالات میں مسلمانوں کو دشمن سے اس طرح خبردار کر کے سخت تاکیدی احکام دیتا ہے ۔ (آیت) ” فلا تتخذوا منھم اولیاء حتی یھاجروا فی سبیل اللہ فان تولوا فخذوھم واقتلوھم حیث وجدتموھم ولا تتخذوا منھم ولیا ولا نصیرا “۔ (89) (4 : 89) ”‘ لہذا تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ یہاں تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرلیں ‘ پھر اگر یہ اس شرط کو قبول نہ کریں تو ان کو پکڑو ‘ مار ڈالو ‘ جہاں بھی پاؤ اور ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ۔ “ اللہ تعالیٰ نے یہاں جو یہ کہا کہ ان میں سے کسی کو دوست اور مددگار نہ بناؤ ‘ تو اس سے محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان خاندانی ‘ قبائلی روابط اور تعلقات باقی تھے ‘ اور مسلمانوں کے دلوں میں ان روابط کی وقعت تھی اور ہوسکتا ہے کہ یہ روابط ابھی تک بعض اقتصادی مفادات کی خاطر بھی ہوں ۔ اسلام کا یہ طریقہ تربیت جاہلیت کے تمام رہے سہے آثار وروابط کو بھی پوری طرح جڑ سے اکھاڑ کر پھینک رہا تھا ۔ اور جس طرح قرآن کریم تطہیر افکار کر رہا تھا اسی طرح امت مسلمہ کے لئے بین الاقوامی روابط کے اصول بھی طے کر رہا تھا ۔ قرآن کریم امت کو بتا رہا تھا کہ کوئی امت کبھی بھی صرف خاندانی اور قبائلی روابط پر وجود میں نہیں آسکتی اور خون اور رشتے کے روابط ‘ ایک ہی ملک اور علاقے میں رہائش کے روابط ‘ تجارتی اور دوسرے اقتصادی مفادات کے روابط کی اساس پر کوئی امت وجود میں آسکتی ہے ۔ امت ہمیشہ ایک مخصوص نظریہ حیات اور اس نظریہ حیات کی اساس پر اٹھنے والی سوسائٹی اور اجتماعی نظام کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ داراسلام کے باشندوں اور دارالحرب کے باشندوں کے درمیان دوستی اور ولایت کے تعلقات قائم نہیں رہ سکتے ۔ اس وقت درالحرب مکہ تھا جو مہاجرین کا وطن اصلی تھا اس لئے مکہ کے لوگوں حتی کہ زبانی طور پر اسلام کا اقرار کرنے والوں اور مدینہ کے مسلمانوں کے درمیان بھی دوستی اس وقت تک نہ ہو سکتی تھی جب تک وہ ہجرت نہ کرتے جو صرف اللہ کے لئے اور اللہ کی راہ میں ہو اور اس کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لئے نہ ہو ‘ یعنی صرف ایسے معاشرے کے قیام کے لئے ہو جو اسلامی نظام حیات کے مطابق زندگی گزار رہا ہو اور اس کے سوا کوئی غرض نہ ہو ۔ نہایت ہی پاک ‘ نہایت ہی فیصلہ کن اور نہایت ہی متعین مقصد کے ساتھ ‘ جس میں کوئی ملاوٹ نہ ہو ‘ کوئی خلط ملط نہ ہو ‘ اسلامی نظام حیات کے سوا کوئی ہدف نہ ہو اور نہ کوئی اور مصلحت ہو ۔ اگر یہ زبانی طور پر کلمہ اسلام پڑھنے والے پر شرط پوری کردیں ‘ اپنے اہل و عیال کو چھوڑ دیں ‘ اپنے ملک اور مصلحتوں کو خیر باد کہہ دیں اور دارالاسلام کی طرف ہجرت کر آئیں تاکہ یہاں وہ اسلامی نظام کے تحت زندگی بسر کریں ‘ جو اسلامی نظریہ حیات پر مبنی ہے ‘ جس کے اندر اسلامی شریعت جاری ہے تو پھر وہ اسلامی معاشرے کے ممبر بن جائیں گے ۔ وہ امت مسلمہ کے ہم وطن ہوں گے ۔ اگر وہ یہ شرط تسلیم نہ کریں ‘ ہجرت کا انکار کردیں تو پھر انہوں نے زبانی طور پر جو کلمہ پڑھا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ اگر وہ یہ شرط قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (فخذوھم) انہیں پکڑ کر قید کر دو اور جہاں بھی تمہیں ملیں انہیں ۔ (واقتلوھم) قتل کر دو اور ان میں سے کسی کو نہ دوست بناؤ اور نہ مددگار ۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ دو احکام جو دیئے ہیں ‘ یہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ لوگ مدینہ کے منافقین نہ تھے ‘ اس لئے کہ مدینہ کے منافقین کے ساتھ اسلامی انقلاب نے بالکل مختلف پالیسی اختیار کی تھی ۔ اسلام کی یہ پالیسی ہے کہ وہ اسلام کے مخالف عقائد رکھنے والے لوگوں کے ساتھ نہایت ہی فیاضانہ پالیسی اختیار کرتا ہے ۔ اسلام مخالف اسلام لوگوں کو ہر گز اس امر پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیں بلکہ اسلام مخالف اسلام مذاہب کے پیروکاروں کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ اپنے عقائد کا اظہار کریں ‘ اسلام کے بارے میں اپنے مخالفانہ نظریات کا بھی اظہار کریں اور خود دارالاسلام میں ایسا کریں ۔ ہاں ان کو یہ اجازت نہ ہوگی کہ وہ مسلمانوں کے اندر اپنے نظریات پھیلائیں یا اسلام کو برا بھلا کہیں ۔ اسلام کی ہدایت یہ ہے کہ مسلمان اہل کتاب کو برا بھلا نہ کہیں ۔ لہذا یہ بات شک وشبہ سے بالا ہے کہ اسلام خود دارالاسلام کے اندر موجود اقلیتوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ خود اسلام کے بارے میں لعن طعن کریں ۔ اگرچہ ہمارے دور کے بعض لوگوں نے اس قدر توسع اور ڈھیل سے کام لیا ہے کہ وہ مخالف اسلام لوگوں کو دارالاسلام میں اسلام پر لعن طعن کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں ۔ بہرحال اسلام کی یہ بھی بڑی فیاضی ہے کہ وہ انہیں اسلامی نظریہ حیات قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا اور دارالاسلام میں ان کو جان ومال اور آبرو کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے ۔ انہیں اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ عمومی نظام (Civil code) کے علاوہ اپنے مخصوص معاملات میں اپنی شریعت کے مطابق فیصلے بھی کریں۔ اسلام اپنے مخالفین کو کھلے بندوں اپنے نظریات پر قائم رہنے کی اجازت دیتا ہے ‘ لیکن اسلام یہ رعایت منافقین کو نہیں دیتا جو زبانی طور پر تو اظہار اسلام کرتے ہیں لیکن ان کا عمل اسلام کے مخالف ہوتا ہے ۔ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتتا جو اللہ کی توحید کے قائل تو ہیں ‘ اور کلمہ شہادت پڑھتے ہیں ‘ لیکن ان کے بعد اللہ کی خاص صفت ‘ صفت حاکمیت میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتے ہیں ‘ مثلا عوام کو حق قانون سازی دیتے ہیں کیونکہ انہوں نے احبارو رہبان اور حضرت مسیح کو اللہ کے سوا رب بنایا ہے اس لئے نہیں کہ وہ ان لوگوں کی عبادت کرتے ہیں بلکہ اس لئے کہ انہوں نے ان کو حلال و حرام مقرر کرنے کے اختیارات دے رکھے ہیں اور یہ اہل کتاب اس معاملے میں ان کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ۔ نیز اسلام منافقین کے اس گروہ کے ساتھ بھی رواداری نہیں برتتا جو یہ شہادت دیتے ہیں کہ اللہ ایک ہے ‘ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس کے بعد وہ دارالکفر اور دارالحرب میں مقیم ہیں اور مسلمانوں کے دشمنوں کی امداد بھی کرتے ہیں ۔ یہ بات رواداری نہ ہوگی بلکہ یہ بدکرداری ہوگی ۔ اسلامی نظریہ حیات راواداری کا نظریہ ہے لیکن وہ بدکرداری اور عدم حمیت کا نظریہ نہیں ہے ۔ یہ ایک سنجیدہ تصور حیات اور ایک سنجیدہ نظام حیات ہے اور سنجیدگی اور حقیقت پسندی اور رواداری میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ البتہ حقیقت پسندی اور بدکرداری کے درمیان تضاد ضرور ہے ۔ یہ نکتے پہلی تحریک اسلامی کے لئے بھی قابل توجہ اور قابل غور تھے اور آج بھی ان میں تحریک اسلامی کے لئے اہم پیغام ہے ۔

النساء 4:90

(آیت) ” نمبر 90۔ ایسے لوگوں کو قید کرنے اور انہیں قتل کرنے کے حکم میں ایک استثنائی صورت بھی ہے ۔ اگر یہ منافقین جو دشمنان اسلام کی معاونت کرتے ہیں اگر کسی ایسی مملکت یا ایسی سرزمین کے اندر رہائش پذیر ہیں جن کا اسلامی تحریک یا اسلامی حکومت کے ساتھ عہد و پیمان ہوچکا ہے ‘ چاہے یہ عہد معاہدہ امن ہو یا معاہدہ تخالف ہو ‘ تو اس صورت میں ان کے ساتھ وہی معاملہ ہوگا جو ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے عہد طے پاچکا ہے ۔ (آیت) ” الا الذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق “۔ (البتہ وہ منافق اس سے مستثنی ہیں جو کسی ایسی قوم سے جاملیں جن کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے) اس حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر امن کے مواقع ہوں اور کوئی معاہدہ امن اسلام کے اساسی نظریات کے ساتھ متعارض نہ ہو ‘ اس کی وجہ سے اسلام کو قبول کرنے کی آزادی اور اسلام کی تبلیغ کی آزادی سلب نہ ہو رہی ہو اور دعوت اسلامی کی راہ میں بذریعہ قوت رکاوٹیں کھڑی نہ کی جاتی ہوں ‘ اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو امن نصیب ہو رہا ہو اور وہ فتنوں اور مشکلات سے بچ رہے ہوں اور دعوت اسلامی کو جمود کا خطرہ بھی نہ ہو تو ایسی صورتوں میں اسلام معاہدہ امن کرسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو دشمن بھی کسی ایسی قوم کے ساتھ مل جائے جس کے ساتھ معاہدہ امن ہے یا معاہدہ دوستی ہے تو ایسی صورت میں ان معاہدات کا اطلاق اس شخص پر بھی ہوگا ان کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہوگا اور وہ لوگ ویسے ہی امن میں رہیں گے ۔ ایسے احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر امن اور سلامتی اور صلح کی روح نہایت ہی واضح ہے ۔ اسی طرح قیدی بنائے جانے اور قتل کردیئے جانے کے حکم سے وہ منافق لوگ بھی مستثنی ہیں جن کا تعلق ایسے لوگوں ایسے قبائل اور ایسے گرہوں کے ساتھ ہے جو اسلامی مملکت کے بارے میں غیر جانبدار ہیں ۔ وہ نہ مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے ساتھ محار بے کے وقت اپنی اقوام کی امداد کرتے ہیں یعنی یہ لوگ اپنی قوم کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑنا بھی مناسب نہیں سمجھتے ۔ یہ لوگ دونوں فریقوں کے ساتھ بھی نہیں ملتے ۔ نہ ان کے ساتھ اور نہ ان کے ساتھ ۔ (آیت) ” اوجاء وکم حصرت صدورھم ان یقاتلوکم اویقاتلوا قومھم “۔ (اسی طرح وہ منافق بھی مستثنی ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے) اس حکم سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اسلام ہر صورت میں قتل ومقاتلے سے اجتناب چاہتا ہے بشرطیکہ دوسرے لوگ لڑنا نہ چاہیں ‘ دعوت اسلامی کے راستے میں روڑے نہ اٹکائیں اور تحریک اسلامی اور اس کے مخالفین کے درمیان غیر جانبدار ہوجائیں ۔ ایسے لوگ جو نہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے اور نہ ہی اپنی قوم کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے ‘ جزیرۃ العرب میں اس وقت موجود تھے بلکہ خود قریش کے اندر بھی موجود تھے اور نہ ہی اپنی قوم کے ساتھ مل کر لڑنا چاہتے تھے ‘ جزیرۃ العرب میں اس وقت موجود تھے بلکہ خود قریش کے اندر بھی موجود تھے ۔ ایسے لوگوں پر اسلام نے یہ پابندی عائد نہیں کہ کہ وہ اسلامی کیمپ کے ساتھ مل کر لڑیں یا مخالف کیمپ کے ساتھ مل کر لڑیں ۔ اسلام کے لئے یہ بات بھی کافی تھی کہ وہ اسلام کے خلاف جنگ نہ کریں ۔ (فتح مکہ کے بعد جب سورة توبہ نازل ہوئی تو عملی تجربے نے یہ ثابت کردیا کہ مرکز اسلام جزیرۃ العرب میں اسلام کے مقابلے میں کسی دوسرے دین کا موجود رہنا درست نہیں ہے ۔ اس لئے ان احکام کے اندر معمولی تبدیلی کی گئی تھی) نیز یہ توقع تھی کہ اگر مشکلات دور ہوجائیں تو یہ لوگ اسلامی کیمپ میں آجائیں گے جیسا کہ بعد میں عملا ایسا ہی ہوا ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتے ہیں کہ ان غیر جانبدار لوگوں کے ساتھ یہ معاملہ تمہارے لئے بہت ہی مفید ہے ۔ اگر یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے تو وہ فرض کرلیں کہ اس سے بہتر دوسری صورت کیا ہو سکتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ دوسری صورت یہی ہو سکتی ہے کہ ہو مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار دشمنوں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے ‘ مسلمانوں کے خلاف عملا جنگ شروع کردیں ‘ جو کسی صورت میں بھی مسلمانوں کے لئے بہتر نہیں ہے ‘ تو ایسے لوگوں کو اللہ نے جو غیر جانبدار بنا دیا ہے تو یہ تمہارے مفاد میں ہے لہذا وہ جس حال میں ہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑنا ہی بہتر ہے ۔ (آیت) ” الا الذین یصلون الی قوم بینکم وبینھم میثاق “ اوجآء وکم حصرت صدورھم ان یقاتلوکم اویقاتلوا قومھم ولو شآء اللہ لسلطھم علیکم فلقتلوکم فان اعتزلوکم فلم یقاتلوکم والقوا الیکم السلم فما جعل اللہ لکم علیھم سبیلا “۔ (90) ” اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے ۔ لہذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح وآشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لئے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے ۔ اس طرح قرآن مجید کا حکیمانہ منہاج تربیت پرجوش مسلمانوں کو بڑی حکمت سے ایسے منافقین کے بارے میں غیر جانبداری اختیار کرنے پر مائل کردیتا ہے حالانکہ وہ اس موقف کو بسہولت قبول نہ کرسکتے تھے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھاتے ہیں کہ اس میں تمہاری بہتری ہے ۔ یہ اللہ کا تم پر فضل ہے کہ کچھ لوگ تمہارے بارے میں غیر جانبدار ہوگئے ہیں۔ اگر وہ غیر جانبدار نہ ہوتے تو مسلمانوں پر عائد ہونے والی جنگی ذمہ داریوں میں کچھ اور اضافہ ہوجاتا ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ کہ اگر تمہیں کسی جانب سے کوئی خیر آتی ہے تو اس کو مسترد نہ کریں اور اگر کوئی شر تم سے پہلوتہی کر کے گزرتا ہے تو خواہ مخواہ اسے نہ چھیڑیں ۔ ان لوگوں کی غیر جانبداری کا کوئی اثر تمہارے دین پر نہیں پڑا ۔ تمہارے نظریہ حیات کے اندر اس کے ذریعے کوئی کمزوری پیدا نہیں ہوتی ‘ اور نہ ہی تم کوئی بھاری قیمت دے کر امن حاصل کرتے ہو۔ بیشک اللہ نے مسلمانوں کو بھاری قیمت ادا کرکے امن کے حصول سے منع فرمایا ہے اس لئے کہ مقاصد اسلام میں سے کوئی مقصد ترک کے کرکے امن خریدنے کی اجازت ہر گز نہیں ہے ۔ اسلام جو امن چاہتا ہے وہ ایسا امن ہے جس سے دعوت اسلامی کے حقوق میں سے کوئی حق ضائع نہ ہو ‘ نہ مسلمانوں کے حقوق میں سے کوئی حق ضائع ہو ‘ (مسلمانوں کے ذاتی اور شخصی حق نہیں) بلکہ مسلمانوں کے وہ حقوق جن کا تعلق ان کے منہاج حیات سے ہے اور جس کی وجہ سے وہ مسلمان کہلاتے ہیں ۔ اسلام کا حق یہ ہے کہ اس کے راستے سے تمام رکاوٹوں کو دور کردیا جائے ‘ جو دعوت وتبلیغ کی راہ میں حائل ہیں کیونکہ دعوت وتبلیغ کی راہ میں اسلام اس کرہ ارض پر کسی بھی جگہ میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کرتا ۔ اسلام میں اس بات کا بھی قائل ہے کہ دنیا میں اسلام کی پشت پر ایسی سیاسی قوت موجود ہو جس سے وہ تمام قوتیں خائف ہوں جو دعوت اسلامی کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہیں ‘ چاہے وہ اس کے لئے جو صورت بھی اختیار کریں ‘ یا جو اسلام کو قبول کرنے والوں کو کسی نہ کسی طرح نقصان پہنچاتی ہیں ۔ اگر ایسی باتیں نہ ہوں تو پھر امن وسلامتی اسلام کی متاع گم گشتہ ہے ۔ لیکن حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہمارے پیش نظر رہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔ اب ایک دوسرا گروہ سامنے آتا ہے اور اس کے ساتھ اسلام اس قسم کی رواداری کا رویہ اختیار نہیں کرتا جو مکمل طور پر غیر جانبدار لوگوں کے ساتھ اختیار کرتا ہے اس لئے کہ یہ اصل منافقین کا گروہ ہے اور نفاق کے ساتھ ساتھ شریر بھی ہے ۔ اور یہ فریق نہ کسی ایسی قوم سے ملا ہوا ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کا عہد ہے اور نہ کسی حلیف قبیلے کے ساتھ ملحق ہے اس گروہ کے بارے میں اسلامی مملکت پر کوئی پابندی نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اصل منافقین کے ساتھ ہوگا ۔

النساء 4:91

(آیت) ” نمبر 91۔ ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ یہ آیت اہل مکہ میں سے ایک قوم کے بارے میں نازل ہوئی ہے ‘ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے پاس آتے تھے اور ریاکاری کے طور پر مسلمان ہوجاتے تھے اور پھر قریش کے پاس واپس ہوتے تو الٹے پاؤں پھر کر دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردیتے تھے ۔ ان کا مقصد اس پالیسی کے اختیار کرنے سے یہ تھا کہ ادھر بھی امن سے رہیں اور ادھر بھی امن سے رہیں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اگر وہ اپنی یہ پالیسی چھوڑ کر اصلاح پذیر نہیں ہوتے تو انہیں قتل کردیا جائے ۔ اس طرح اللہ کا یہ فرمان کہ اگر وہ تمہارے مقابلے سے باز نہ آئیں اور تمہارے سامنے مکمل صلح وسلامتی پیش نہ کریں اور تمہارے ساتھ جنگ سے ہاتھ نہ روکیں تو تمہیں اختیار ہے کہ تم انہیں پکڑ کر قید کر دو ‘ اور جہاں بھی تمہیں ملیں وہاں پر انہیں قتل کر دو ‘ اس لئے کہ ان پر حجت تمام ہوگئی ہے ۔ یہ اسلام کا ایک حقیقت پسندانہ اور دوٹوک پہلو ہے ‘ جبکہ اس سے قبل کی دفعہ میں رواداری اور چشم پوشی سے کام لینے کی تلقین کی گئی تھی ۔ ہر پالیسی اپنی جگہ پر مناسب اور ضروری تھی ۔ واقعات اور حالات کے تقاضوں کے مطابق مختلف موقف اور پالیسیاں اختیار کی گئیں ۔ اس انداز میں اسلام کی بین الاقوامی پالیسی کے ان دو صفحات کے مطالعے سے ایک مسلم کے شعور میں بہت ہی اچھی طرح توازن پیدا ہوتا ہے ۔ نیز اس سے اسلامی نظام زندگی کے اندر بھی توازن پیدا ہوتا ہے اور یہ توازن اور ہم آہنگی اسلامی نظام زندگی کی اساسی اور امتیازی صفت ہے ۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں ایک طرف سخت متشدد اور پر جوش لوگ ہیں جو ہر وقت مرو اور مارو کے لئے تیار رہتے ہیں حالانکہ یہ اسلام کی پالیسی نہیں ہے ۔ دوسری جانب نہایت ہی کمزور کردار کے پگھلنے والے لوگ ہیں جو سرے سے اسلام میں جہاد ہی کے قائل نہیں ۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں اس انداز سے بات کرتے ہیں گویا اسلام ایک ملزم ہے جو مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا ہے اور یہ لوگ اس خطرناک ملزم کا مقدمہ لڑ رہے ہیں ۔ یہ لوگ اسلام میں صرف رواداری ‘ امن چشم پوشی اور عفو و درگزر ہی پاتے ہیں اگر اسلام میں کوئی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ ہوئی ہے تو یہ لوگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جنگ اسلامی حکومت اور اسلامی تحریک کے لئے ایک دفاعی جنگ تھی اور یہ اس مقصد کے لئے نہ تھی کہ دعوت اسلامی کی راہ سے رکاوٹیں دور ہوں اور اس کی تبلیغ دنیا کے چپے چپے پر بلا روک ٹوک کی جاسکے ۔ ان لوگوں کے نزدیک یہ مقصد بھی نہ تھا کہ اس کرہ ارض کے کونے کونے پر وہ تمام لوگ پرامن زندگی بسر کریں ‘ جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرلیا ہے ۔ نیز ان لوگوں کے نزدیک اس پالیسی کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ دنیا کے اندر ایک ایسا نظام مملکت ہو اور ایک ایسا قانونی اور دستوری نظام ہو جس کے تحت لوگ مکمل نظریاتی آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرسکیں ‘ جو عقیدہ چاہیں اختیار کرسکیں ‘ حالانکہ ایسے لوگوں کی سوچ ہر گز اسلامی سوچ نہیں ہے اور نہ یہ اسلام کی حقیقی پالیسی ہے اسلام نے جو درج بالا بین الاقوامی اصول دیئے ہیں ان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام کی حقیقی پالیسی کیا ہے ؟ یہ تو تھے مسلمانوں کے تعلقات دوسرے بیان الاقوامی ممالک اور کیمپوں کے ساتھ ۔ رہے مسلمانوں کے باہم تعلقات امت مسلمہ کے اندر ‘ تو اگرچہ وہ بالکل مختلف ممالک کے باشندے ہوں اور اس وقت صورت حال ایسی تھی کہ مسلمان مختلف ممالک میں رہتے تھے جس طرح آج وہ مختلف ممالک میں رہتے ہیں ‘ تو ان کے درمیان قتل ومقاتلہ قطعا حرام ہے ۔ کسی مسلمان کو صرف حد یا قصاص ہی میں قتل کیا جاسکتا ہے اس لئے دنیا میں ایسی کوئی چیز یا سبب نہیں ہے جو مسلمانوں کے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے عقیدے اور نظریے سے زیادہ اہم ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مسلمان کو کسی صورت میں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ دوسرے مسلم کو ناحق کو قتل کرے اس لئے کہ ان کے درمیان نظریہ حیات اور عقیدے کے اتحاد کا زبردست تعلق پایا جاتا ہے ۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کسی مسلم کے ہاتھوں دوسرے مسلمان کا قتل خطا کے طور پر ہوجائے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں قتل خطا کے بارے میں قانون سازی کو ضروری سمجھا گیا ۔ رہا قتل عمد تو اس کا کوئی کفارہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اسلام مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کے ناحق قتل کا تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ یہ فعل حدود اسلام سے باہر کا فعل ہے ۔

النساء 4:92

(آیت) ” نمبر 92 تا 93۔ ان احکام کا تعلق چار قسم کے حالات سے ہے تین کا تعلق جرم قتل خطا سے ہے ۔ یہ قتل دارالاسلام کے اندر بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی ایسے افراد کے درمیان ہو سکتا ہے جو مختلف ممالک کے شہری ہوں ۔ چھوتی حالت کا تعلق قتل عمد بین المسلمین سے ہے جسے اسلام بالکل بعید الوقوع سمجھتا ہے ۔ اسلام مسلمانوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ یہ جرم واقع ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ اگر پوری دنیا کے مفادات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسری جانب ایک بےگناہ مسلم کا خون رکھا جائے تو دم مسلم کا پلڑا بھاری ہوگا ۔ اسلام اس دنیا میں کسی ایک حالت کا تصور نہیں کرتا جس میں ایک مسلمان کی جانب سے مسلمان کے قتل کا جواز پیدا ہوتا ہو۔ اسلام ایک مسلمان اور دوسرے مسلمان کے درمیان اس قدر سنجیدہ ‘ اس قدر گہرے اس قدر عظیم اس قدر قیمتی اس قدر عزت واحترام کے تعلقات پیدا کرتا ہے کہ وہ یہ فرض ہی نہیں کرتا کہ ان کے درمیان تعلقات اس قدر خراب بھی ہو سکتے ہیں کہ نوبت قتل مقاتلے تک پہنچ جائے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید سب سے پہلے قتل خطا سے بات شروع کرتا ہے ۔ (آیت) ” وما کان لمومن ان یقتل مومنا الا خطا “۔ (4 : 92) ”(مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ دوسرے مومن کو قتل کرے الا یہ کہ اس سے چوک ہوجائے “ ) ۔ اسلامی شعور میں صرف اس صورت کا تصور آسکتا ہے کہ بھول چوک سے یہ جرم واقع ہو سکتا ہے ۔ یہی حقیقی احتمال ہے ‘ اس لئے کہ کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان کے پڑوس میں رہنا ایک عظیم بات ہے ۔ یہ ایک عظیم نعمت ہے ‘ بہت ہی عظیم ۔ لہذا اسلامی شعور اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کوئی مسلم دوسرے مسلم کو اپنے پڑوس سے علیحدہ کر دے اور یہ تو بہت ہی بری بات ہوگی کہ وہ قصدا وارادتا ایک مسلمان کے خلاف قتل اٹھائے اس لئے کہ یہ اس کرہ ارض پر ایک مسلمان کے لئے ایک نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ اس قیمتی سرمائے کے بارے میں صرف مسلمان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس کی قدر و قیمت کو جانے ، اس لئے اسلامی اخلاقیات میں یہ بات بہی ہی مشکل ہے کہ ایک مسلم ‘ مسلم کو قتل کر دے ، یہ وہ معاملہ ہے جسے صرف اہل اسلام اور اسلام دوست ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ وہ اپنے نفس اور اپنے شعور کے اندر اس کا احساس رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی بھائی چارے کے ذریعے اہل اسلام کو یہ اخوت سکھائی ہے ۔ یہی وہ برادری ہے جس کی وجہ سے وہ سب رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ نظریہ ان کو اللہ کے نام پر جمع اور متحد رکھتا ہے ۔ ان کے درمیان اسلامی اخوت اور محبت پیدا ہوتی ہے اور یہ سب کچھ زبانی ہدایات کی وجہ سے ہے ۔ اگر قتل خدا واقعہ ہوجائے تو اس کی تین حالتیں ہیں اور تینوں کے احکام یہاں بیان ہوگئے ہیں۔ پہلی حالت یہ ہے کہ کسی مومن کے ہاتھوں غلطی سے دار الاسلام کے اندر دوسرا مومن قتل ہوجائے اور اس کا خاندان بھی مسلمان ہو ۔ اس صورت میں اسے ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا اور پوری دیت اس مسلمان کے خاندان کو ادا کرنی ہوگی ۔ ایک مومن غلام کو آزاد کرنے کا تاوان گویا اسلامی معاشرے کو اس کے نقصان کی تلافی کے طور پر ادا کرے گا ۔ اس لئے غلام کو آزاد کرکے اس نے ایک مردہ انسان کو آزادی دلا کر زندہ کردیا ۔ اس طرح گویا یہ کئی غلاموں کو آزاد کر دے گا ۔ رہی دیت تو اس کی وجہ سے متقول کے ورثا کے جذبات ٹھنڈے ہوں گے ۔ لیکن اس معاوضے کے فرض کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام متقول کے خاندان کو یہ اشارہ بھی دیتا ہے کہ اگر وہ دیت معاف کردیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ ان کے دل برضا اس کے لئے تیار ہوں ۔ اسلامی معاشرے اور اسلامی اخوت کے لئے عفو و درگزر نہایت ہی مفید عمل ہے حکم ہوتا ہے ۔ (آیت) ” ومن قتل مومنا خطا فتحریر رقبۃ مومنۃ ودیۃ مسلمۃ الی اھلہ الا ان یصدقوا (4 : 92) (اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کر دے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے الا یہ کہ وہ خون بہا معاف کردیں) دوسری صورت یہ ہے کہ قتل خطا کا جرم ایک مومن پر واقع ہو اور اس کے وارث دارالاسلام کے ساتھ محارب ہوں اس حالت میں دارالاسلام کے نقصان کا معاوضہ یہ ہوگا کہ قاتل کو ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا لیکن اس کے محارب خاندان کو دیت ادا نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں وہ اس دیت کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں گے اور یہاں یہ صورت بھی نہیں ہے کہ مقتول کے اہل و عیال کی دلجوئی مطلوب ہے یا ان کے ساتھ محبت کے رشتوں کی بحالی مطلوب ہے اس لئے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں اور ان سے برسرپیکار ہیں۔ تیسری حالت یہ ہے کہ مقتول کے وارث معاہد ہوں ‘ ان کے ساتھ معاہدہ امن ہو یا معاہدہ دوستی ہو ‘ ایسے حالات میں قرآن کریم نے مقتول کے مومن ہونے کی شرط عائد نہیں کی ۔ اس لئے بعض فقہاء اور مفسرین نے اس حالت میں آیت کے حکم کو مطلق رکھا ہے اور حکم دیا ہے کہ ایسے حالات میں بھی قاتل کو ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا اور مقتول کے وارثوں کو دیت ادا کرنی ہوگی اگرچہ یہ مقتول مومن نہ ہو ‘ اس لئے کہ مومنین کے ساتھ معاہدہ کرنے کی وجہ سے ان کے جان ومال کو بھی مومنین کی جان ومال کے ساتھ مساوی درجہ ہوگا ۔ لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ آغاز کلام سے بات ایک مومن کے قتل کے بارے میں چلی ہے۔ آیت ہے ” مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ مومن کو قتل کرے ‘ الا یہ کہ اس سے چوک ہوجائے ۔ “ اس کے بعد وہ حالات بیان ہوئے ہیں جن میں مقتول مومن ہو اور دوسری حالت میں جب مقتول کا تذکرہ ہوا پھر کہا گیا (آیت) ’ (فان کان من قوم عدولکم وھو مومن) (اگر وہ ایسی قوم کا فرد ہو جو تمہاری دشمن ہے لیکن ہو مومن) یہاں (آیت) ” (وھو مومن) اس لئے کہا گیا کہ اس سے پہلے (آیت) ” من قوم عدو “۔ کے الفاظ آئے تھے ۔ اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ تیسری حالت کی دیت میں بھی (آیت) رقبہ مومنۃ “ کی شرط ہے ۔ اگر مقتول میں مومن شرط نہ ہوتی تو رقبہ میں بھی مومن شرط نہ ہوتی صرف تحریر رقبہ کا لفظ ہوتا ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول یہاں بھی مومن ہے ‘ ورنہ کفارہ میں بھی ایمان کی شرط نہ ہوتی ۔ روایات میں آتا ہے کہ اہل معاہدہ میں بعض لوگوں کی دیت حضور اکرم ﷺ نے ادا فرمائی مگر آپ نے یہ حکم نہیں دیا کہ مومن غلاموں کو آزاد کیا جائے (ایسی کوئی روایت نہیں ہے) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مقتول معاہد مومن نہ ہو تو صرف دیت واجب ہے اور یہ دیت اس آیت کی رد سے ثابت نہیں بلکہ حضور ﷺ کے عمل سے ثابت ہے ۔ اور اس آیت میں جن تین صورتوں کا ذکر ہوا ہے وہ تمام صورتوں قتل مومن سے متعلق ہیں چاہے وہ مومن دارالاسلام کا باشندہ ہو یا کسی محارب قوم کا باشندہ ہو اور دارالحرب میں ہو یا ان کے درمیان معاہدہ ہو۔ چاہے امن کا معاہدہ ہو یا حلیف ہونے کا معاہدہ ہو ۔ یہ تفسیر سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ۔ یہ تو تھا حکم قتل خطا کا ‘ رہا قتل عمد تو یہ قتل اس قدر بڑا گناہ ہے کہ ایمان کے ساتھ اس کے ارتکاب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اس کا کفارہ نہ دیت سے ہوتا ہے اور نہ غلام آزاد کرنے سے یہ گناہ معاف ہو سکتا ہے ۔ اس شخص کی سزا یہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب کے حوالے ہوگا ۔ (آیت) ” ومن یقتل مومنا متعمدا فجزآوہ جھنم خلدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذابا عظیما “۔ (4 : 93) (وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے) یہ جرم قتل ہے ‘ لیکن صرف کسی جان کے خلاف ہی نہیں بلکہ یہ ایک عظیم ‘ مکرم ‘ محبوب ‘ ترین اور عزیز ترین اخوت اسلامی کا بھی قتل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے ایک مومن اور دوسرے مومن کے درمیان پیدا کیا تھا ۔ یہ ناحق ‘ ہی نہیں نظریہ حیات اور ایمان کی بھی نفی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے کئی مقامات کے اندر اسے شرک کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ اور بعض سلف نے یہ رائے اختیار کی ہے کہ یہ توبہ کے ذریعے بھی معاف نہ ہوگا ۔ حضرت ابن عباس کی رائے یہی ہے ۔ البتہ بعض دوسرے علماء کی رائے یہ ہے کہ معافی ہو سکتی ہے اور انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے ۔ (آیت) ” (ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآئ) (اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں کرتے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے سوا وہ جسے چاہے بخشتا ہے) اس لئے قاتل اگر توبہ کرے تو اس کی مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے ۔ ایسے لوگوں نے خلود کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ اس سے مراد طویل زمانہ ہے ۔ وہ لوگ جنہوں نے پہلے اسلامی مدرسہ میں تربیت پائی تھی وہ اپنے آباواجداد ‘ بیٹوں اور بھائیوں کے ان قاتلوں کو بچشم سر دیکھ رہے تھے ، جنہوں نے یہ قتل اسلام سے پہلے کئے تھے اور اب اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ ان میں سے بعض کے دلوں میں وہ تلخیاں دوبارہ تازہ ہوجاتی تھیں ۔ لیکن وہ ان لوگوں سے انتقام لینے کے بارے میں سوچتے بھی نہ تھے ۔ وہ کبھی بھی انتقام کے بارے میں نہ سوچتے تھے اور نہایت ہی سخت حالات اور سخت چبھن کے وقت بھی ان کے دل میں قتل کا خیال تک نہ آتا تھا بلکہ ایسے لوگوں کو اسلام نے جو حقوق دیئے تھے ‘ وہ ان میں سے کسی حق کو بھی مارنے کی کوشش نہ کرتے تھے ۔ کسی مومن کے قتل سے بچنے کی خاطر اگرچہ چوک سے ہو ‘ اور مسلمانوں کے دلوں کو تمام خواہشات سے پاک کرنے کی خاطر اور ان کے سامنے صرف فی سبیل اللہ جہاد کرنے کے مقصد کو اچھی طرح اجاگر کرنے کی خاطر مسلمانوں کو اب حکم دیا جاتا ہے کہ اگر وہ جہاد و قتال کے لئے نکلیں تو جنگ شروع کرنے سے پہلے یہ بات معلوم کرلیں کہ آیا لوگ مسلمان ہیں یا نہیں اور اگر کوئی بظاہر اظہار اسلام کر دے اور السلام علیکم کہہ دے تو حملہ نہ کریں ۔ اس لئے کہ جنگ کے حالات میں وہ تفتیش نہیں کرسکتے کہ آیا یہ اظہار اسلام حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں۔

النساء 4:93

(آیت) ” نمبر 92 تا 93۔ ان احکام کا تعلق چار قسم کے حالات سے ہے تین کا تعلق جرم قتل خطا سے ہے ۔ یہ قتل دارالاسلام کے اندر بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے اور بین الاقوامی طور پر بھی ایسے افراد کے درمیان ہو سکتا ہے جو مختلف ممالک کے شہری ہوں ۔ چھوتی حالت کا تعلق قتل عمد بین المسلمین سے ہے جسے اسلام بالکل بعید الوقوع سمجھتا ہے ۔ اسلام مسلمانوں سے یہ توقع کرتا ہے کہ یہ جرم واقع ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ اگر پوری دنیا کے مفادات کو ایک پلڑے میں رکھا جائے اور دوسری جانب ایک بےگناہ مسلم کا خون رکھا جائے تو دم مسلم کا پلڑا بھاری ہوگا ۔ اسلام اس دنیا میں کسی ایک حالت کا تصور نہیں کرتا جس میں ایک مسلمان کی جانب سے مسلمان کے قتل کا جواز پیدا ہوتا ہو۔ اسلام ایک مسلمان اور دوسرے مسلمان کے درمیان اس قدر سنجیدہ ‘ اس قدر گہرے اس قدر عظیم اس قدر قیمتی اس قدر عزت واحترام کے تعلقات پیدا کرتا ہے کہ وہ یہ فرض ہی نہیں کرتا کہ ان کے درمیان تعلقات اس قدر خراب بھی ہو سکتے ہیں کہ نوبت قتل مقاتلے تک پہنچ جائے ، یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید سب سے پہلے قتل خطا سے بات شروع کرتا ہے ۔ (آیت) ” وما کان لمومن ان یقتل مومنا الا خطا “۔ (4 : 92) ”(مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ دوسرے مومن کو قتل کرے الا یہ کہ اس سے چوک ہوجائے “ ) ۔ اسلامی شعور میں صرف اس صورت کا تصور آسکتا ہے کہ بھول چوک سے یہ جرم واقع ہو سکتا ہے ۔ یہی حقیقی احتمال ہے ‘ اس لئے کہ کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان کے پڑوس میں رہنا ایک عظیم بات ہے ۔ یہ ایک عظیم نعمت ہے ‘ بہت ہی عظیم ۔ لہذا اسلامی شعور اس بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ کوئی مسلم دوسرے مسلم کو اپنے پڑوس سے علیحدہ کر دے اور یہ تو بہت ہی بری بات ہوگی کہ وہ قصدا وارادتا ایک مسلمان کے خلاف قتل اٹھائے اس لئے کہ یہ اس کرہ ارض پر ایک مسلمان کے لئے ایک نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ اس قیمتی سرمائے کے بارے میں صرف مسلمان سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس کی قدر و قیمت کو جانے ، اس لئے اسلامی اخلاقیات میں یہ بات بہی ہی مشکل ہے کہ ایک مسلم ‘ مسلم کو قتل کر دے ، یہ وہ معاملہ ہے جسے صرف اہل اسلام اور اسلام دوست ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ وہ اپنے نفس اور اپنے شعور کے اندر اس کا احساس رکھتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی بھائی چارے کے ذریعے اہل اسلام کو یہ اخوت سکھائی ہے ۔ یہی وہ برادری ہے جس کی وجہ سے وہ سب رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ نظریہ ان کو اللہ کے نام پر جمع اور متحد رکھتا ہے ۔ ان کے درمیان اسلامی اخوت اور محبت پیدا ہوتی ہے اور یہ سب کچھ زبانی ہدایات کی وجہ سے ہے ۔ اگر قتل خدا واقعہ ہوجائے تو اس کی تین حالتیں ہیں اور تینوں کے احکام یہاں بیان ہوگئے ہیں۔ پہلی حالت یہ ہے کہ کسی مومن کے ہاتھوں غلطی سے دار الاسلام کے اندر دوسرا مومن قتل ہوجائے اور اس کا خاندان بھی مسلمان ہو ۔ اس صورت میں اسے ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا اور پوری دیت اس مسلمان کے خاندان کو ادا کرنی ہوگی ۔ ایک مومن غلام کو آزاد کرنے کا تاوان گویا اسلامی معاشرے کو اس کے نقصان کی تلافی کے طور پر ادا کرے گا ۔ اس لئے غلام کو آزاد کرکے اس نے ایک مردہ انسان کو آزادی دلا کر زندہ کردیا ۔ اس طرح گویا یہ کئی غلاموں کو آزاد کر دے گا ۔ رہی دیت تو اس کی وجہ سے متقول کے ورثا کے جذبات ٹھنڈے ہوں گے ۔ لیکن اس معاوضے کے فرض کرنے کے ساتھ ساتھ اسلام متقول کے خاندان کو یہ اشارہ بھی دیتا ہے کہ اگر وہ دیت معاف کردیں تو یہ ان کے حق میں اچھا ہے بشرطیکہ ان کے دل برضا اس کے لئے تیار ہوں ۔ اسلامی معاشرے اور اسلامی اخوت کے لئے عفو و درگزر نہایت ہی مفید عمل ہے حکم ہوتا ہے ۔ (آیت) ” ومن قتل مومنا خطا فتحریر رقبۃ مومنۃ ودیۃ مسلمۃ الی اھلہ الا ان یصدقوا (4 : 92) (اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کر دے اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے الا یہ کہ وہ خون بہا معاف کردیں) دوسری صورت یہ ہے کہ قتل خطا کا جرم ایک مومن پر واقع ہو اور اس کے وارث دارالاسلام کے ساتھ محارب ہوں اس حالت میں دارالاسلام کے نقصان کا معاوضہ یہ ہوگا کہ قاتل کو ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا لیکن اس کے محارب خاندان کو دیت ادا نہ ہوگی کیونکہ اس صورت میں وہ اس دیت کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کریں گے اور یہاں یہ صورت بھی نہیں ہے کہ مقتول کے اہل و عیال کی دلجوئی مطلوب ہے یا ان کے ساتھ محبت کے رشتوں کی بحالی مطلوب ہے اس لئے کہ وہ مسلمانوں کے دشمن ہیں اور ان سے برسرپیکار ہیں۔ تیسری حالت یہ ہے کہ مقتول کے وارث معاہد ہوں ‘ ان کے ساتھ معاہدہ امن ہو یا معاہدہ دوستی ہو ‘ ایسے حالات میں قرآن کریم نے مقتول کے مومن ہونے کی شرط عائد نہیں کی ۔ اس لئے بعض فقہاء اور مفسرین نے اس حالت میں آیت کے حکم کو مطلق رکھا ہے اور حکم دیا ہے کہ ایسے حالات میں بھی قاتل کو ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا اور مقتول کے وارثوں کو دیت ادا کرنی ہوگی اگرچہ یہ مقتول مومن نہ ہو ‘ اس لئے کہ مومنین کے ساتھ معاہدہ کرنے کی وجہ سے ان کے جان ومال کو بھی مومنین کی جان ومال کے ساتھ مساوی درجہ ہوگا ۔ لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ آغاز کلام سے بات ایک مومن کے قتل کے بارے میں چلی ہے۔ آیت ہے ” مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ مومن کو قتل کرے ‘ الا یہ کہ اس سے چوک ہوجائے ۔ “ اس کے بعد وہ حالات بیان ہوئے ہیں جن میں مقتول مومن ہو اور دوسری حالت میں جب مقتول کا تذکرہ ہوا پھر کہا گیا (آیت) ’ (فان کان من قوم عدولکم وھو مومن) (اگر وہ ایسی قوم کا فرد ہو جو تمہاری دشمن ہے لیکن ہو مومن) یہاں (آیت) ” (وھو مومن) اس لئے کہا گیا کہ اس سے پہلے (آیت) ” من قوم عدو “۔ کے الفاظ آئے تھے ۔ اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ تیسری حالت کی دیت میں بھی (آیت) رقبہ مومنۃ “ کی شرط ہے ۔ اگر مقتول میں مومن شرط نہ ہوتی تو رقبہ میں بھی مومن شرط نہ ہوتی صرف تحریر رقبہ کا لفظ ہوتا ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول یہاں بھی مومن ہے ‘ ورنہ کفارہ میں بھی ایمان کی شرط نہ ہوتی ۔ روایات میں آتا ہے کہ اہل معاہدہ میں بعض لوگوں کی دیت حضور اکرم ﷺ نے ادا فرمائی مگر آپ نے یہ حکم نہیں دیا کہ مومن غلاموں کو آزاد کیا جائے (ایسی کوئی روایت نہیں ہے) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مقتول معاہد مومن نہ ہو تو صرف دیت واجب ہے اور یہ دیت اس آیت کی رد سے ثابت نہیں بلکہ حضور ﷺ کے عمل سے ثابت ہے ۔ اور اس آیت میں جن تین صورتوں کا ذکر ہوا ہے وہ تمام صورتوں قتل مومن سے متعلق ہیں چاہے وہ مومن دارالاسلام کا باشندہ ہو یا کسی محارب قوم کا باشندہ ہو اور دارالحرب میں ہو یا ان کے درمیان معاہدہ ہو۔ چاہے امن کا معاہدہ ہو یا حلیف ہونے کا معاہدہ ہو ۔ یہ تفسیر سیاق کلام کے ساتھ زیادہ مناسب ہے ۔ یہ تو تھا حکم قتل خطا کا ‘ رہا قتل عمد تو یہ قتل اس قدر بڑا گناہ ہے کہ ایمان کے ساتھ اس کے ارتکاب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اس کا کفارہ نہ دیت سے ہوتا ہے اور نہ غلام آزاد کرنے سے یہ گناہ معاف ہو سکتا ہے ۔ اس شخص کی سزا یہ ہے کہ وہ اللہ کے عذاب کے حوالے ہوگا ۔ (آیت) ” ومن یقتل مومنا متعمدا فجزآوہ جھنم خلدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذابا عظیما “۔ (4 : 93) (وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے) یہ جرم قتل ہے ‘ لیکن صرف کسی جان کے خلاف ہی نہیں بلکہ یہ ایک عظیم ‘ مکرم ‘ محبوب ‘ ترین اور عزیز ترین اخوت اسلامی کا بھی قتل ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے ایک مومن اور دوسرے مومن کے درمیان پیدا کیا تھا ۔ یہ ناحق ‘ ہی نہیں نظریہ حیات اور ایمان کی بھی نفی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے کئی مقامات کے اندر اسے شرک کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔ اور بعض سلف نے یہ رائے اختیار کی ہے کہ یہ توبہ کے ذریعے بھی معاف نہ ہوگا ۔ حضرت ابن عباس کی رائے یہی ہے ۔ البتہ بعض دوسرے علماء کی رائے یہ ہے کہ معافی ہو سکتی ہے اور انہوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے ۔ (آیت) ” (ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآئ) (اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں کرتے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے اور اس کے سوا وہ جسے چاہے بخشتا ہے) اس لئے قاتل اگر توبہ کرے تو اس کی مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے ۔ ایسے لوگوں نے خلود کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ اس سے مراد طویل زمانہ ہے ۔ وہ لوگ جنہوں نے پہلے اسلامی مدرسہ میں تربیت پائی تھی وہ اپنے آباواجداد ‘ بیٹوں اور بھائیوں کے ان قاتلوں کو بچشم سر دیکھ رہے تھے ، جنہوں نے یہ قتل اسلام سے پہلے کئے تھے اور اب اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ ان میں سے بعض کے دلوں میں وہ تلخیاں دوبارہ تازہ ہوجاتی تھیں ۔ لیکن وہ ان لوگوں سے انتقام لینے کے بارے میں سوچتے بھی نہ تھے ۔ وہ کبھی بھی انتقام کے بارے میں نہ سوچتے تھے اور نہایت ہی سخت حالات اور سخت چبھن کے وقت بھی ان کے دل میں قتل کا خیال تک نہ آتا تھا بلکہ ایسے لوگوں کو اسلام نے جو حقوق دیئے تھے ‘ وہ ان میں سے کسی حق کو بھی مارنے کی کوشش نہ کرتے تھے ۔ کسی مومن کے قتل سے بچنے کی خاطر اگرچہ چوک سے ہو ‘ اور مسلمانوں کے دلوں کو تمام خواہشات سے پاک کرنے کی خاطر اور ان کے سامنے صرف فی سبیل اللہ جہاد کرنے کے مقصد کو اچھی طرح اجاگر کرنے کی خاطر مسلمانوں کو اب حکم دیا جاتا ہے کہ اگر وہ جہاد و قتال کے لئے نکلیں تو جنگ شروع کرنے سے پہلے یہ بات معلوم کرلیں کہ آیا لوگ مسلمان ہیں یا نہیں اور اگر کوئی بظاہر اظہار اسلام کر دے اور السلام علیکم کہہ دے تو حملہ نہ کریں ۔ اس لئے کہ جنگ کے حالات میں وہ تفتیش نہیں کرسکتے کہ آیا یہ اظہار اسلام حقیقت پر مبنی ہے یا نہیں۔

النساء 4:94

(آیت) ” نمبر 94۔ اس آیت کے نزول کے بارے میں کئی روایات وارد ہوئی ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے گشتی دستے کو ایک شخص ملا جس کے ساتھ اس کی بکریاں بھی تھیں ۔ اس شخص نے اس فوجی دستے کو السلام علیکم کہا ۔ مقصد یہ تھا کہ میں مسلمان ہوں ۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ اس نے السلام علیکم محض اپنے آپ کو بچانے کے لئے کہا ہے ۔ اس لئے انہوں نے اسے قتل کردیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اس طرح نہ کریں ۔ یوں ان کے دلوں سے تمام مفادات کا تصور ہی نکال دیا ۔ ان کو یہ تاثر دیا گیا کہ وہ کسی فیصلے میں جلد بازی نہ کریں ۔ اسلام ان دونوں باتوں کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ دور اور وہ زمانہ دور تو نہیں ہے کہ تم بھی اسی جاہلیت کے اندھیروں میں تھے جس میں تمہارے فیصلے نہایت ہی جلد بازی اور سرکشی پر مبنی ہوتے تھے ‘ تم صرف دولت کے متلاشی تھے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جتلاتے ہیں کہ یہ اسی کا احسان تھا کہ اس نے تمہارے دلوں کو پاک کردیا اور تمہارے نصب العین بلند ہوگیا ۔ اور اب وہ جاہلیت کی طرح دنیاوی مفادات کے لئے جہاد نہیں کررہے اور یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے قانونی حدود اور جابطے مقرر کئے اور اب یہ صورت نہیں ہے کہ پہلا اشتغال ہی آخری فیصلے صادر کر دے جس طرح جاہلیت میں ہوا کرتا تھا ۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ دیکھو ایک وقت تھا کہ تم خود اپنی قوم سے اپنے ایمان کو چھپاتے تھے اس لئے کہ تم کمزور تھے اور خوفزدہ تھے ۔ صرف مسلمانوں کو پتہ ہوتا تھا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں ۔ یہ مقتول اپنی قوم سے اسلام کو چھپا رہا تھا اور جب وہ مسلمانوں سے ملا تو اس نے اپنا اسلام ظاہر کردیا اور السلام علیکم کہا ۔ (آیت) ” (کذالک کنتم من قبل فمن اللہ علیکم فتبینوا ان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ (4 : 94) (اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو ‘ پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ‘ لہذا تحقیق سے کام لو ‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے) یوں اسلام دل کی دنیا کو جھنجوڑتا ہے تاکہ دل زندہ ہوں ‘ محتاط ہوں اور اللہ کی نعمت عظیمہ کا احساس کریں ۔ اور اس احساس ‘ خدا ترسی کے سائے میں اللہ کے احکام وقوانین کو نافذ کریں اور حالات کی اچھی طرح چھان بین کرنے کے بعد فیصلے کریں ۔ آپ نے دیکھا کہ اس سبق میں بعض مقامی اور بین الاقوامی معاملات کو کس قدر شرح وبسط اور تفصیل سے لیا گیا ہے اور بالکل نئے میدان میں یہ قانون سازی کی گئی ہے ۔ کس قدر پاکیزہ جذبے اور پاکیزہ اہداف کے ساتھ اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے یہ کام ہوا تھا جبکہ دنیا میں قانون بین الاقوام کا وجود ہی نہ تھا ۔

النساء 4:95

درس نمبر 38 ایک نظر میں : یہ سبق درس سابق اور اس سین بھی پہلے ایک سبق کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا ہے اور اسی کے ساتھ پیوستہ ہے ۔ گویا یہ ان دونوں اسباق کا تکملہ ہے ۔ اگر بین الاقوامی معاملات اور قانون بین الاقوام کا پہلو پیش نظر نہ ہوتا ‘ جس طرح اسلام نے پہلی بار اس شعبے میں قانون سازی کی تو ہم ان تینوں درسوں کو ایک درس شمار کرتے ۔ کیونکہ ان کا موضوع اور مضمون ایک ہی ہے ۔ اس سبق کا اساسی مضمون یہ ہے کہ تمام مسلمان ہجرت کرکے دارالاسلام میں جمع ہوجائیں ۔ ابھی تک جو لوگ دارالحرب اور دارالکفر میں رہ گئے ہیں وہ فورا ہجرت کریں اور دارالاسلام میں پہنچ کر جان ومال سے جہاد کریں اور مکہ میں انہیں نسبتا جو آرام ہے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ رہتے ہیں اور وہاں انہیں جو سہولتیں حاصل ہیں ‘ انہیں چھوڑ دیں ۔ اور یہی مقصد اس سبق کے افتتاحی کلمات میں ہے جن میں کہا گیا ہے : (آیت) ” (لایستوی القعدون من المومنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم فضل اللہ المجھدین باموالھم وانفسھم علی القعدین درجۃ وکلا وعداللہ الحسنی وفضل المجھدین علی القعدین اجرا عظیما “۔ (95) (مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی را ہمیں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے ۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جاہد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے ‘ اگرچہ ہر ایک کے لئے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرمایا ہے ‘ مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے) مدینہ میں تو کوئی بیٹھنے والا نہ تھا ۔ مدینہ میں جہاد سے رکھنے والے یا تو منافقین تھے یا وہ لوگ تھے جو روڑے اٹکاتے تھے اور دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے درس سابق میں بات کی ہے ۔ ہاں اس آیت کے متصلا بعد دوسری آیت میں ان لوگوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے جو ابھی تک دارالکفر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ ہجرت کرکے مدینہ منتقل ہونے کی پوری پوری قدرت رکھتے ہیں اور ایسے ہی حالات میں وہ فوت ہوجاتے ہیں ۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بہت ہی بری جگہ ہے ۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ضمانت دیتا ہے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں اور یہ اسی وقت سے شروع ہوجاتی ہے جب وہ گھر سے نکل پڑتے ہیں بشرطیکہ وہ یہ ہجرت خالصۃ اللہ کے لئے کرتے ہوں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے انکے وہ تمام خدشات دور کردیئے ہیں جو یہ اقدام کرنے سے پہلے انکو لاحق ہوتے ہیں ‘ نیز اس وقت جو خطرات درپیش تھے اور جو خوفناک حالات تھے ان حالات میں ہمت کرنا مشکل اور تشویش کا باعث تھا ۔ ہجرت اور جہاد پر بات مزید آگے بڑھتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دارالہجرت میں مسلمانوں کا باہم معاملہ کیا ہوگا اور دارالہجرت سے باہر دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا تعلق ہوگا ۔ خصوصا ان مسلمانوں کا انجام کیا ہوگا جو ہجرت نہیں کرتے ۔ اس سبق میں حالت خوف میں نماز کی کیفیات کا بھی ذکر ہے ۔ مثلاہجرت کے سفر کے دوران نماز اور میدان جنگ میں نماز ‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی اسلام میں کس قدر اہمیت ہے کہ ایسے خطرناک حالات میں بھی اس کی معافی نہیں ہے ۔ نیز مسلمانوں کے اندر ایسی حالت پیدا کی جاتی ہے کہ وہ ذہنی طور پر ہر وقت جنگ کے لئے تیار رہیں کیونکہ حالات ایسے ہیں کہ معمولی غفلت اور لاپرواہی سے دشمن سخت فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ آخر میں یہ سبق نہایت ہی موثر ٹچ دیتا ہے اور مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے ابھارتا ہے کہ ٹھیک ہے کہ تم کو نہایت ہی المناک مصائب کا سامنا ہے لیکن دشمنوں کی حالت بھی کوئی اچھی نہیں ہے اور ان کے نصب العین اور تمہارے نصب العین اور ان کی امیدوں اور تمہاری امیدوں میں فرق ہے ۔ (آیت) ” (ولا تھنوا فی ابتغاء القوم ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون وترجون من اللہ مالا یرجون “۔ (4 : 104) (اس گروہ کے تعاقب میں کمزورینہ دکھاؤ اگر تم تکلیف اٹھا رہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھا رہے ہیں اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں) اس تصویر کشی کے ساتھ ہی دونوں گروہوں کے راستے علیحدہ ہوجاتے ہیں ۔ دونوں کے منہاج علیحدہ ہوجاتے ہیں ۔ ہر دکھ اور ہر تکلیف مسلمانوں کے لئے آسان ہوجاتی ہے ۔ مسلمانوں کے دلوں سے سستی اور تھکاوٹ کا احساس ہی ختم ہوجاتا ہے اس لئے کہ آخر مخالف کیمپ کو بھی تو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ ان کو اللہ کی جانب سے وہ امید نہیں ہے جو مسلمانوں کو ہے ۔ اس سبق میں جن موضوعات پر بات ہوئی ہے اور جو اسلوب تربیت اپنایا گیا ہے اس کے اندر یہ بتایا گیا ہے کہ جماعت مسلمہ کی تکوین وتشکیل کے اندر جو تغیرات ہو رہے تھے اور جماعت کی عملی تشکیل میں جو مشکلات پیش آرہی تھیں اور جو نظریاتی اور عملی رکاوٹیں تھیں ان سے تحریک اسلامی کس طرح نمٹ رہی تھی ۔ لوگوں کے ذہنوں میں جو خدشات پیدا ہو رہے تھے اور جس طرح وہ کمزوری کا باعث بن رہے تھے یا سوسائٹی اور افراد جماعت کے نفوس کے اندر جاہلیت کے جو آثار باقی تھے اور وہ جس طرح مشکلات کا باعث بن رہے تھے نیز تحریک اسلامی کی راہ میں آنے والی نئی نئی مشکلات اور مصیبتوں کے باعث ذات انسانی کے قدرتی طور پر متاثر ہوجانے کی وجہ سے جو مسائل پیدا ہو رہے تھے اور ان مشکلات کے باوجود جو لوگ وفاداری بشرط استواری پر اپنے آپ کو قائم رکھے ہوئے تھے ‘ ایسے تمام مناظر ومشاہد کی تصویر کشی اس سبق میں کی گئی ہے ۔ ان تمام مسائل کو قرآن کے حکیمانہ منہاج نے لیا ہے اور انسانی ضمیر کو آمادہ کیا ہے اور جوش دلایا ہے کہ وہ ان مشکلات سے عہدہ بر آ ہو ۔ یہ تمام باتیں اصل صورت حال کا صحیح نقشہ کھینچ کر بتائی گئی ہیں اور ان کا اظہار حوصلہ افزائی اور جوش دلانے کے موثر انداز سے بھی ہوتا ہے اور اس علاج سے بھی ہوتا ہے جو فطری خدشات اور عملی مشکلات کے حل کے طور پر تجویز کیا گیا ہے ۔ نیز عین میدان کار زار میں نماز پر جم جانے کے عمل سے بھی اس کا اندازہ اچھی طرح ہوجاتا ہے جبکہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عین نماز کے وقت بھی وہ دشمن پر نظررکھیں پھر مہاجرین کو ثواب دراین کی ضمانت دی گئی ہے اور جو لوگ اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں ان کیلئے اجر اور کافروں کے لئے سخت درد ناک عذاب کے اعلان کے ذریعے ان تمام آلام ومشکلات کی تصویر سامنے آتی ہے ۔ اس سبق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانی نفس کے ساتھ اس کی کمزوری کی حالت میں اور اس کی قوت کی حالت میں سک طرح برتاؤ فرماتا ہے ۔ نیز ایک انسانی جماعت کی تشکیل اور تربیت کس طرح کی جاتی ہے اور اس اسٹیج پر اس کے ساتھ معاملہ کس طرح کیا جاتا ہے ، اس سلسلے میں ایک ہی آیت میں متعدد خطوط سامنے آتے ہیں ۔ چند لفظوں میں جماعت کے دلوں کے اندر اس کی قوت اور برتری کا احساس اور شعور بھر دیا جاتا ہے اور اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے اپنا دشمن حقیر نظر آنے لگتا ہے اور ساتھ ساتھ اسے خطرے کے مقابلے میں احتیاط ‘ بیداری اور ہر وقت تیاری کا حکم بھی دیا جاتا ہے جبکہ اسی آیت میں ان مقامات کی نشاندہی بھی کردی جاتی ہے جہاں کمزوری ہے ۔ اور مقامات کمزوری کے بارے میں شدید اور نہایت ہی سخت ہدایات بھی دی جاتی ہیں ۔ یہ ایک عجیب منہاج ہے ‘ نہایت ہی مکمل اور انسانی نفسیات کے عین مناسب ۔ نفس انسانی کی لوح پر نئے خطوط کھینچے جاتے ہیں اور مختلف نقاط کے درمیان نئے وتر قائم ہوتے ہیں اور یہ تمام تاریں زمزمہ آرا ہیں اور ہر تارمضراب ربانی کی ضرب پر فورا حرکت میں آتی ہے ۔ واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ تمام موجودہ سوسائٹیوں سے مدینہ کی اسلامی سوسائٹی اپنے منہاج تربیت کے اعتبار سے اور اپنی اجتماعی تنظیم کے اعتبار سے بہت بڑی فوقیت رکھتی ہے اور اس تفوق کا مشاہدہ اس وقت کی پوری انسانیت بچشم سر کر رہی تھی اور یہ دیکھ رہی تھی کہ یہ نوخیز سوسائٹی ان مشکل حالات میں ایک طرف تو اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں کا علاج کر رہی ہے اور دوسری جانب اپنے اردگرپھیلی ہوئی جاہلی سوسائٹیوں کو کھاتی چلی جاتی ہے ۔ وہ بتدریج ان پر غالب ہوتی جارہی ہے اور یہ غلبہ محض جنگی غلبہ نہیں بلکہ یہ ایک تہذیبی غلبہ ہے جس طرح جو ان تہذیب بوڑھی اور ازکار رفتہ تہذیبوں کو کھاتی چلی جاتی ہے ۔ ایک نیا نظام ہے جو پرانے نظاموں پر غالب ہو رہا ہے ۔ زندگی کا ایک نیا ماڈل دنیا کے سامنے شو روم میں سجایا گیا ہے ایک جدید دور اور ایک جدید انسان پیدا ہو رہا ہے ۔ اس قدر تبصرے کے بعد اب آیات ونصوص کا سامنا کریں۔

النساء 4:96

(آیت) ” نمبر 95 تا 104۔ اس آیت میں اسلامی معاشرے کی ایک خاص صورت حال پر بحث کی گئی ہے ۔ اس وقت مسلمانوں کی صفوں میں بعض لوگوں کی طرف سے سستی پیدا ہو رہی تھی ۔ وہ اسلامی انقلاب کی راہ میں جان اور مال کی قربانی نہ دے رہے تھے ۔ یہ لوگ وہ تھے جو مکہ میں اپنی دولت بچانے کے لئے ہجرت میں تاخیر کر رہے تھے ‘ اس لئے کہ اہل مکہ کسی مہاجر کو اپنے ساتھ کوئی چیز لے جانے کی اجازت نہ دے رہے تھے ۔ یہ سستی اس وجہ سے بھی پیدا ہو رہی تھی کہ ہجرت کی راہ میں سخت مشکلات ‘ مصائب اور خطرات تھے ‘ اس لئے کہ مشرکین کمزور لوگوں کو سرے سے ہجرت کی اجازت ہی نہ دیتے تھے ۔ وہ انہیں پکڑ کر قید کردیتے ‘ ازیت دیتے یا اگر پہلے سے اذیت دی جارہی ہوتی تھی تو جس کے بارے میں انہیں شبہ ہوجاتا کہ یہ بھاگنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے مزید سخت اذیت دی جاتی چاہے ان آیات کا مدلول وہ لوگ ہوں جو دارالاسلام کو ہجرت کر کے منتقل نہ ہو رہے تھے ۔ (میں اسی رائے کو ترجیح دیتا ہوں) یا اس سے مراد خود دارالاسلام کے اندر موجود بعض لوگ ہو سکتے ہیں جو مالی اور جانی جہاد میں زیادہ پرجوش نہ تھے ۔ یہ لوگ ان لوگوں سے علیحدہ تھے جو جہاد کے معاملے میں سست رو اور پہلو تہی کرنے والے تھے اور جن کا ذکر سابقہ سبق میں ہوچکا ہے ۔ ہو سکتا ہے ان آیات کے معنی میں وہ سب لوگ شامل ہوں جو دارالاسلام مین تھے اور جہاد سے پہلوتہی کر رہے تھے اور منافق تھے ‘ یا مسلمان تھے مگر سست تھے یا وہ تھے جو سرے سے ہجرت ہی نہ کر رہے تھے کہ جہاد کریں ۔ بہرحال بعض حلقے ایسے تھے جو سستی کر رہے تھے اور یہ آیت ایسی ہی صورت حال سے بحث کر رہی ہے ۔ البتہ قرآن اس آیت میں مراد لوگوں کی تخصیص نہ کرتے ہوئے ایک عام قاعدے کے طور پر اصولی بات کرتا ہے ‘ جس کو زمان ومکان اور کسی ایک خاندان کی قید کے اندر مقید نہیں کیا جاتا اور بتاتا ہے کہ یہ اصول ہے کہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ اس کا اطلاق اہل اسلام پر کرے گا ‘ کہ جو لوگ بغیر عذر بیماری اور لاچاری کے جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ نہیں لیتے چاہے مالی جہاد ہو یا جانی اور اس کے لئے اگر ہجرت کی ضرورت ہو تو ہجرت نہیں کرتے اور اس کے مقابلے میں جو لوگ ہجرت کرتے ہیں اور جانی اور مالی قربانی دیتے ہیں وہ اللہ کے نزدیک ایک ہی مقام و مرتبہ کے نہیں ہو سکتے ۔ یہ ایک عام قاعدہ اور عام اصول ہے اور ہر زمان ومکان میں اس کا اطلاق ہوگا ۔ (آیت) ” (لایستوی القعدون من المومنین غیر اولی الضرر والمجھدون فی سبیل اللہ باموالھم وانفسھم (4 : 95) (مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے) اللہ تعالیٰ بات کو یہاں مجمل اور مبہم نہیں چھوڑتے بلکہ اسکی بھرپور وضاحت فرماتے ہیں اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ جانی اور مالی جہاد کرنے والوں کا درجہ بہت ہی بڑا ہے ۔ (آیت) ” (فضل اللہ المجھدین باموالھم وانفسھم علی القعدین درجۃ) (4 : 95) (اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان ومال سے جاہد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے) مجاہدین کا جو درجہ اس آیت میں بیان ہوا ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے جنت میں ان کے مقام کی تفصیلات کو بتا کر واضح کیا ہے ۔ صحیحین میں ابو سعید الخدری ؓ کی حدیث میں ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے لئے تیار فرمائے ہیں اور ہر ایک درجے کے درمیان اس قدر مسافت ہے کہ جس طرح زمین اور آسمانوں کے درمیان فاصلہ ہے ۔ اعمش نے عمرو ابن مرہ سے روایت کی ‘ جنہوں نے ابو عبیدہ کے واسطے سے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ایک تیر مارا اسے ایک درجے کا اجر ملے گا ۔ تو ایک شخص نے پوچھا کہ حضور ایک درجہ کس قدر ہوگا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہاری ماں کے چوکھٹ یا سیڑھی کے مقدار کے برابر بہرحال نہ ہوگا ۔ دو درجوں کے درمیان سو سال کے سفر کا فاصلہ ہوگا ۔ حضور ﷺ نے جس مسافت کا ذکر کیا ہے ‘ آج کے دور جدید میں ہم اس کا تصور بڑی سہولت سے کرسکتے ہیں ۔ اس لئے کہ اس کائنات کے اندر ہمارا علم بڑی دوری تک جا پہنچا ہے ۔ ایک سیارے سے دوسرے سیارے تک روشنی کی رفتار سے بھی فاصلہ کئی نوری سالوں میں طے ہوتا ہے ۔ جو لوگ رسول خدا ﷺ کی بات اس وقت سنتے تھے وہ تو (امنا وصدقنا) کہتے تھے لیکن ہم دور جدید کے لوگ تو ان فاصلوں کو ناپ چکے ہیں اور اس کائنات کے دور دراز فاصلوں کو قریب لا چکے ہیں اور عجیب و غریب معلومات سامنے آگئی ہیں ۔ البتہ قرآن مجید میں مجاہدین فی سبیل اللہ کے درجات بلند کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ یہ بھی بتاتے ہیں کہ بغیر کسی عذر ومجبوری کے بیٹھنے والوں کے مقابلے میں اگرچہ مال وجان کے ساتھ جہاد کرنے والوں کے درجے بلند ہیں لیکن (آیت) ” (وکلا وعد اللہ الحسنی) (ہر ایک کے لئے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے) محروم کوئی بھی نہیں ہے۔ بہرحال ایمان کا اپنی جگہ ایک بنیادی درجہ ہے ۔ ایمان کے تقاضے پورے کرنے والوں کے درجات حسب جدوجہد اور جہاد زیادہ ہیں۔ خصوصا جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کرنے والوں کے درجات سب سے بلند ہیں۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ درج بالا آیات میں بیٹھنے والوں سے مراد وہ منافقین نہیں ہیں جو جہاد سے پہلو تہی کرتے تھے یعنی (لمبطئین) البتہ یہ کچھ دوسرے لوگ تھے جو نہایت ہی صالح اور مخلص تھے لیکن جہاد فی المال اور جہاد فی النفس کے پہلو میں کمزور تھے قرآن کریم کی ان آیات میں روئے سخن انہی لوگوں کی جانب ہے ۔ ان کو جوش دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنی ان کوتاہیوں کی تلافی کریں ۔ چونکہ ان لوگوں میں بھلائی کا مادہ موجود ہے اس لئے ان سے لبیک کہنے کی امید کی جاسکتی ہے ۔ یہ نوٹ اب ختم ہوتا ہے اور پہلے اصولی قاعدے کو اب پھر دہرایا جاتا ہے ۔ بہت ہی تاکید کے ساتھ ذرا مزید کھول کر اسے بیان کیا جاتا ہے تاکہ اس کے بدلے میں جو عظیم اجر ہے لوگ اس کے لوٹنے کے لئے دوڑیں ۔ (آیت) ”(وفضل المجھدین علی القعدین اجرا عظیما “۔ (95) درجت منہ ومغفرۃ ورحمۃ وکان اللہ غفور رحیما “۔ (96) (4 : 95۔ 96) ” مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے) یہ عظیم تاکید ‘ یہ خوبصورت وعدے ‘ مجاہدین کی یہ عظیم قدردانی اور بیٹھنے والوں کے مقابلے میں برتری درجات اور اجر عظیم کے اعلی مراتب کا ذکر جن کے لئے قلوب مومنین مشتاق رہتے ہیں ۔ پھر اللہ کی جانب سے تقصیرات اور گناہوں کی معافی کا یہ اعلان عام ‘ غرض ان تمام باتوں سے دو امور کا اظہار ہوتا ہے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ آیات ایسے حالات میں نازل ہوئیں جو اس وقت اسلامی معاشرے میں عملا موجود تھے اور یہ آیات ان کا مداوا کر رہی تھیں ، اس میں ہمیں ایک عمدہ سبق ملتا ہے وہ یہ کہ ہم انسانی فطرت کا صحیح طرح ادراک کرلیتے ہیں اور ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ انسانی جماعتوں کا مزاج کیا ہوتا ہے ۔ کوئی انسانی جماعت ایمان وعمل میں ‘ تقوی و برتری کے جس مقام پر بھی جاپہنچی ہو بہرحال اس پر ضعف ‘ حرص ‘ بخل اور کمزوریوں کے جو حالات بھی طاری ہوں اور فرائض اور خصوصا جہاد کے فریضے میں اس سے جہاں بھی کوتاہی صادر ہو خواہ یہ کوتاہی جہاد بالمال کی ہو ‘ جہاد بالنفس کی ہو یا فی سبیل اللہ جہاد میں خلوص کی کمی ہو تو ان کوتاہیوں کے ظہور کے وقت اسے تربیت اور اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اسے ضعف ‘ حرص ‘ بخل اور تقصیرات سے پاک کرنے کیلئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ پالیسی مناسب نہیں ہے کہ ہم مایوس ہو کر اصلاح کے کام کو چھوڑ دیں اور سوسائٹی اپنی موجودہ گراوٹ سے مزید پستی میں گرتی چلی جائے ۔ اور ہم یہ کہہ دیں کہ سوسائٹی کی یہ واقعی صورت حال ہے اور ہمیں چاہئے کہ اسے قبول کرلیں اور معاشرے کے اندر جو ضعف ‘ حرص ‘ لالچ اور کو تاہیاں ہیں انہیں جوں کا توں چھوڑ دیں ۔ اور یہ نعرہ لگائیں کہ یہ تو معاشرے کے اندر موجود صورت حال ہے ۔ معاشرہ گرا ہوا ہے اور اسے اسی حالت میں رکھ کر اس کے ساتھ معاملہ کرنا چاہئے اصل بات یہ ہے کہ ہم معاشرے کے اندر اصلاح کی دعوت جاری رکھیں اور قرآنی منہاج کے مطابق معاشرے کو بلند سے بلند تر کرنے کی سعی کریں ۔ دوسری جو بات ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے ہاں جہاد بالمال اور جہاد بالنفس کی کیا قدر و قیمت ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام زندگی کے مزاج کے اندر جہاد فی سبیل اللہ کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ اقامت دین کے طریقوں میں جہاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ ہر دور میں دین کے مخالفین کا مقابلہ جہاد ہی کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے سوا اور کوئی کامیاب طریقہ نہیں ہے ۔ جہاد فی سبیل اللہ حضور اکرم ﷺ کے دور تک ہی محدود نہیں ہے ۔ جس میں دور میں بھی دعوت اسلامی کا کام شروع ہوگا ‘ جہاد ضروری ہوگا ۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا نہایت ہی غلط ہے کہ آغاز اسلام کے وقت دنیا میں دو بڑی شہنشاہتیں تھیں ‘ اس لئے اس وقت اہل اسلام نے اپنے ماحول سے متاثر ہو کر یہ سوچا کہ ان کے زندہ رہنے کے لئے قوت قاہرہ کی ضرورت ہے تاکہ طاقت کا توازن قائم ہو۔ جو لوگ یہ خیالات رکھتے ہیں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اسلام کو اچھی طرح نہیں سمجھا ہے اور ان کے یہ خیالات محض ظن وتخمین پر مبنی ہیں ۔ لیکن اگر اسلام میں فریضہ جہاد اسی طرح عارضی حالات کی وجہ سے ہوتا تو کتاب اللہ میں اس کا اس انداز سے بار بار ذکر نہ کیا جاتا اور سنت رسول اللہ ﷺ میں اس کی بار بار تاکید نہ کی جاتی ۔ اگر جہاد اسی طرح ایک وقتی بات تھی تو حضور اکرم ﷺ یہ نہ فرماتے کہ ” جو شخص مر جائے اور غزانہ کرے اور اس کے دل میں قتال فی سبیل اللہ کی خواہش بھی پیدا نہ ہو تو یہ شخص نفاق کی مختلف حالتوں پر سے ایک حالت میں مرے گا ۔ “ حضور ﷺ کا یہ فرمان نہایت ہی عام اور کامل و شامل ہے۔ جامع اور مانع ہے ۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے بعض انفرادی حالات میں بعض لوگوں کو جہاد کی اجازت نہیں دی اور وہ بھی محض ان کے مخصوص خاندانی حالات کی وجہ سے ۔ صحیحین میں یہ حدیث موجود ہے کہ ایک شخص جہاد میں شمولیت کی غرض سے آیا تو حضور اکرم ﷺ نے سوال کیا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں تو اس نے کہا : ہاں ۔ تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تم ان دونوں میں جہاد کرو۔ “ یہ ایک شخص کے لئے اس کے انفرادی حالات کے مطابق فیصلہ تھا اس سے عام قاعدہ مخصوص نہیں ہوتا ۔ پھر لاتعداد مجاہدین کے ہوتے ہوئے ایک شخص کی بعض اوقات ضرورت نہیں ہوتی ۔ ایک فرد سے قلت پیدا نہیں ہوتی ۔ نیز حضور اکرم ﷺ ایک ایک شخص کے حالات سے باخبر رہتے تھے ۔ ہوسکتا ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو معلوم ہوا ہو کہ اس شخص کے والدین کو سہارے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اس لئے آپ ﷺ نے اسے یہ ہدایت فرمائی ۔ لہذا اس ایک شخص کی وجہ سے یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ جہاد ایک وقتی عمل تھا ۔ اور حضور ﷺ کے دور کے ظروف واحوال کے مطابق ضروری تھا اور اب حالات بدل گئے ہیں اس لئے اب جہاد کی ضرورت نہیں ہے جہاد اس لئے فرض نہیں کیا گیا کہ اسلام کی پالیسی ہی یہ ہے کہ ننگی تلوار لے کر نکلو اور کفار سامنے آئیں ان کے سر گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے جاؤ ۔ لیکن لوگوں کی عملی زندگی اور اس دعوت اور تحریک کا مزاج یہی ہے تلوار ہمارے ہاتھ میں ہو اور ہم ہر وقت جہاد کے لئے تیار اور محتاط رہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ اسلامی حکومت ایک ایسا نصب العین ہے جسے بادشاہ لوگ پسند نہیں کرتے ۔ اللہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ برسراقتدار لوگ ہمیشہ اسلام کی راہ روکیں گے اس لئے کہ اسلام ان کے طریق زندگی اور ان کے نظام زندگی کے خلاف ہے ۔ یہ بات صرف کل تک محدود نہیں ہے ۔ کل بھی اقتدار پر براجمان لوگ اسلامی نظام کو پسند نہ کرتے اور کل بھی اسے پسند نہیں کریں گے ۔ ہر زمان اور ہر مکان میں ایسا ہی ہوگا اور ایسا ہی ہو رہا ہے ۔ اللہ کو علم تھا شر اور بدی ہمیشہ خود سر اور بےحیا ہوتی ہے ۔ بدی کبھی منصف نہیں ہوتی ۔ بدی کا مزاج یہ ہے کہ وہ خیر اور نیکی کو پنپنے نہیں دیتی چاہے نیکی انتہائی پرامن اور دوستانہ طریقہ کار کیوں نہ استعمال کرے اس لئے کہ بھلائی کا پھیلنا ہمیشہ شرک کے لئے خطرناک ہوتا ہے ۔ حق کا وجود ہی باطل کے لئے خطرہ ہوتا ہے اور شر دست درازی کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا ۔ لہذا باطل کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ سچائی کا گلا گھونٹ دے اور اسے قوت کے بل بوتے پر ختم کر دے ۔ یہ شر کی فطرت ہے اور شر پر یہ حالت عارضی طور پر طاری نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ شر کی حقیقی فطرت اور طبیعت ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد فرض کیا گیا ہے ۔ ہر حالت میں جہاد فرض ہے ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جہاد انسان سب سے پہلے نفس کے خلاف شروع کرے ۔ اس کے بعد اس کا میدان جنگ وسیع ہو اور اس ظاہری دنیا کے واقعات و حالات کے اندر عملا بھی جہاد جاری ہو اور نظر آئے ۔ یاد رہے کہ مسلح شر کے مقابلے میں مسلح خیر کی ضرورت ہے اور اگر باطل کے پاس دفاعی قوت ہے تو حق کو بھی مکمل طور پر تیار ہونا ضروری ہے ۔ اگر باطل کے مقابلے میں تیاری نہ ہوگی تو سچائی خود کشی کرے گی اور اگر خود کشی نہ ہوگی تو محض گپ شپ ہوگی جو مومنین کے شایان شان نہیں ہے ۔ اسلام کی راہ میں جان ومال کی قربانی ضروری ہے ۔ یہی اللہ کا مطالبہ ہے ‘ اور اللہ نیت واہل ایمان کے مال اور جان کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے ۔ یا تو وہ غالب رہیں گے یا درجہ شہادت پائیں گے ۔ یہ ہے ٍٍٍٍٍٍٍاللہ کا حکم اور اسی میں حکمت پوشیدہ ہے ۔ رہے اہل ایمان تو ان کے لئے ان کے رب کے پاس دو اچھے انجام ہیں ۔ لوگ سب کے سب مرتے ہیں جب وقت پورا ہوتا ہے ‘ لیکن شہادت حق وہی ادا کرتے ہیں جو شہید ہوتے ہیں ۔ اس نظریہ حیات میں ایک مرکزی نکتہ ہے ‘ اور اسی نکتے کے اوپر اس کا عملی نظام قائم ہے ‘ اور یہ عملی نظام اپنے مقررہ خطوط پر آگے بڑھتا ہے ۔ اس خط اور مومن کا ایک مزاج ہے اور اس کی دو ٹوک فطرت ہے اور اس کے اندر ظروف واحوال کے لحاظ سے اور زمان ومکان کے اعتبار سے کوئی تغیر نہیں ہوتا ۔ یہ وہ نکتے ہیں جنہیں ایک حقیقی مومن کے تصور کے اندر روشن رہنا چاہئے چاہے حالات جیسے بھی ہوں ۔ انہیں بنیادی نکتوں سے جہاد کا عمل شروع ہوتا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات کہی ہے کہ یہ جہاد صرف اللہ کی راہ میں ہے ‘ صرف اللہ کے جھنڈے تلے ہے ‘ اس جہاد کے عمل میں جو مارے جاتے ہیں وہ شہداء ہوتے ہیں اور عالم بالا میں ان کا جنازہ بڑے دھوم سے اٹھتا ہے۔ اب جہاد کے عمل کے مقابلے میں بیٹھ جانے والوں میں سے ایک دوسرے فریق کو اسکرین پر لایا جاتا ہے ۔ یہ لوگ ابھی تک مکہ کے دارالکفر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہجرت نہیں کرتے ۔ ان کے کچھ مالی مفادات ہیں ‘ کچھ مصلحتیں ہیں ‘ یا ان کی فطری کمزوری انہیں بٹھائے ہوئے ہے ۔ یہ ہجرت کی مشکلات اور راستے کی تکالیف کے مقابلے کی ہمت اپنے اندر نہیں پاتے ۔ اگر وہ قربانی اور مشکلات کو برداشت کرنے کا عزم کرلیں تو وہ ہجرت کرسکتے ہیں ۔ اسکرین پر یہ مکہ ‘ دارالحرب مکہ ‘ کی جگہوں میں یونہی پھرتے ہیں کہ حضرت عزرائیل آگر ان سے ان کا متاع عزیز چھین لیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی حالت قرآن مجید کے اسکرین پر نہایت ہی خستہ حالت ہے ‘ نہایت ہی قابل نفرت ہے ‘ ہر وہ شخص جو جہاد سے دور بیٹھا ہے ۔ وہ یہ چاہے گا کہ وہ اپنے دین ‘ اپنے نظریہ حیات اور اللہ کے ہاں انجام بد کی اس صورت حال سے دور بھاگے اور اس نہایت ہی کریہہ منظر میں وہ ہر گز کھڑا نظرنہ آئے ۔

النساء 4:97

(آیت) ” نمبر 97۔ 99۔ یہ آیت جزیرۃ العرب میں بطور واقعہ موجود صورت حال سے بحث کرتی ہے اور یہ صورت حال مکہ وغیرہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد عملا موجود تھی ‘ جبکہ مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تھی ۔ ابھی تک مکہ میں ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے ہجرت نہ کی تھی ۔ یہ لوگ وہاں اپنی کچھ مصلحتوں اور اپنی جائیداد کی وجہ سے رہ گئے تھے ۔ حالات ایسے تھے کہ مشرکین مکہ کسی ایسے شخص کو جو ہجرت کر رہا ہوتا ‘ اپنے ساتھ کچھ لے جانے نہیں دیتے تھے ‘ یا یہ لوگ ہجرت کی تکالیف کی وجہ سے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس لئے کہ جو بھی ہجرت کرتا تھا اہل مکہ اس کی راہ روکتے اور اسے منع کرتے ۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقتا ہجرت کرنے پر قادر ہی نہ تھے ۔ بعض بوڑھے تھے بعض عورتیں تھیں اور بعض بچے تھے ۔ ان لوگوں کے لئے ہجرت کرنے اور بھاگنے کی کوئی راہ سرے سے نہ تھی ۔ مسلمانوں میں جو لوگ مکہ میں رہ گئے تھے ان پر مکہ والوں نے بڑی سختیاں شروع کردی تھیں کیونکہ وہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ میں حکومت قائم کرکے قریش کے قافلوں کو تنگ کرنا شروع کردیا تھا اور پھر جنگ بدر میں مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھا رہے تھے ‘ ان کو مختلف قسم کی اذیتوں میں مبتلا کر رہے تھے ‘ اور سخت بوکھلاہٹ میں ظلم کررہے تھے ۔ بعض لوگوں کو انہوں نے عملا تشدد کرکے دین اسلام سے پھیر دیا تھا۔ بعض لوگ تقیہ کر کے کفر کا اظہار کر رہے تھے اور مشرکین کے ساتھ شرکیہ عبادات میں بظاہر شریک ہوتے تھے ، یہ تقیہ اس وقت ان کے لئے جائز تھا جب اسلامی حکومت نہ تھی اور ہجرت کرنے کے مواقع نہ تھے ۔ لیکن جب اسلامی مملکت کا قیام مدینہ طیبہ میں ہوگیا تو پھر انکا اس طرح فتنوں کے اندر قیام کرنا یا اپنے آپ کو تقیہ پر مجبور کرنا جائز اور معقول نہ تھا جبکہ وہ ہجرت بھی کرسکتے تھے اور دارالاسلام میں امن کی زندگی بھی بسر کرسکتے تھے ۔ ان حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ یہ لوگ محض دولت اور مصلحت کی وجہ سے ہجرت نہ کر رہے تھے ‘ یا وہ ہجرت کی تکالیف ومشکلات کی وجہ سے مکہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایسے حالات میں اگر انکی موت واقعہ ہوگئی تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ظالم کا نام دیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے اس لئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو دارالاسلام کی آزادانہ زندگی سے محروم رکھا ‘ جہاں وہ پاک وصاف اور شریفانہ اور اپنی مرضی کی زندگی بسر کرسکتے تھے ۔ جبکہ دارالکفر میں وہ ذلیل و خوار ‘ کمزور اور مظلوم ہو کر زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اور ان پر مظالم ہو رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جہنم میں رہیں گے جو بہت برا ٹھکانا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لئے وعید ہے جنہوں نے فی الواقعہ ڈر کر کفر اختیار کرلیا تھا ۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعبیر قرآن مجید نہایت ہی زندہ اور متحرک انداز میں کرتا ہے ۔ ان کے اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہو رہا ہے اور یہ مکالمہ گویا زندہ افراد کے درمیان ایک اسٹیج پر ہو رہا ہے ۔ (آیت) ” (ان الذین توفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا (4 : 97) ٍ (جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور ومجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا ‘ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ ) قرآن انسانوں کی تربیت کر رہا تھا ‘ اس لئے اس کے پیش نظریہ ہدف تھا کہ وہ ان کے بھلائی اور عزت وشرف کے جذبے کو جوش میں لائے اور ان کے اندر ضعف ‘ بخل ‘ حرص اور سستی کے پائے جانے والے اوصاف کو ختم کرنے کی سعی کرے ۔ چناچہ اس منظر کی تصویر کشی میں قرآن کریم نے نہایت ہی حقیقی صورت حال کو پیش کیا ہے ۔ لیکن قرآن کریم اس تصویر کشی کو لوگوں کی اصلاح کے لئے استعمال کرتا ہے اور اس کے ذریعے نفوس انسانی کی اصلاح کی جاتی ہے ۔ موت کا وقت ہر انسان کے لئے خوفناک ہوتا ہے ۔ حالت نزع میں جو کچھ پیش آتا ہے انسان کے ذہن میں وہ تمام حالات بہت ہی تیزی کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور پھر اس منظر میں فرشتوں کا اسٹیج پر آنا مزید خوفناک صورت حال پیدا کردیتا ہے اور انسان کے حواس بڑی تیزی سے کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ مکہ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور نظر آتا ہے کہ یہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں فرشتے آ پہنچتے ہیں اور ان کی روح قبض کرنے لگتے ہیں ۔ چونکہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں ‘ اس صورت حال سے ہر زندہ شخص متاثر ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ ایسے مظلومانہ حالات میں بیٹھے ہوئے ہیں اور فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہیں ۔ اب ان کے لئے کوئی موقعہ نہیں رہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ہجرت کرلیں کیونکہ زندگی کا موقعہ تو ایک ہی بار آتا ہے ۔ اور یہ فرشتے ان کی روح کو خاموشی کے ساتھ قبض نہیں کرتے بلکہ وہ ان کے ماضی کو بھی سامنے لاتے ہیں اور نہایت ہی ناپسندیدہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ تم نے اپنی زندگی کے قیمتی ایام کن کاموں میں ضائع کئے ؟ دنیا میں ان کا شغل کیا تھا ‘ وہ کیا بلند مقاصد تھے جن کے لئے وہ دوڑ دھوپ کر رہے تھے ؟ (آیت) ” (قالوا فیم کنتم (4 : 97) (تم کن حالات میں رہے) کیونکہ یہ لوگ جن حالات میں رہے تھے ایسا تو نقصان ہی نقصان تھا۔ یعنی ان کے لئے وقت ضائع کرنے کے سوا کوئی اور مشغلہ ہی نہ تھا اور یہ لوگ جن پر حالت نزع طاری تھی حالت نزع میں جواب دیتے ہیں اور نہایت ہی ناپسندیدہ صورت حالات میں نہایت ہی ذلت کے ساتھ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ ان کے لئے معذرت ہو حالانکہ وہ ذلت ہے ۔ (آیت) ” (قالوا کنا مستضعفین فی الارض (4 : 97) (ہم تو زمین میں کمزور لوگ تھے) ہم کمزور تھے ‘ طاقتور لوگوں نے ہمیں دبا رکھا تھا ۔ ہم ذلیل و خوار تھے ۔ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہ تھا ۔ ہر شخص اس بات سے نفرت کرے گا کہ حالت نزع میں اس کے ساتھ یہ مکالمہ پیش آئے اس لئے کہ اس سے ان لوگوں کی انتہائی بےبسی کا اظہار ہوتا ہے اور یہ کہ وہ پوری زندگی اس طرح بےبس ہو کر گزار گئے اور پھر بھی ملائکہ نے انہیں نہ چھوڑا جب وہ حالت نزع سے دوچار ہوئے تو ان کو یہ کہا گیا کہ تم نے موقعہ سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ (آیت) ” (الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا “۔ (4 : 97) (کیا اللہ کی زمین بہت وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے) حقیقت یہ ہے کہ اس ذلت ‘ مسکنت ‘ فتنے اور کمزوری میں اپنے آپ کو وہ اس لئے مبتلا نہ کر رہے تھے کہ وہ فی الواقعہ ایسے حالات میں تھے اور لاچار تھے بلکہ کچھ اور اسباب تھے جن کی وجہ سے انہوں نے اس ذلت کو قبول کر رکھا تھا ۔ وہ لالچی تھے ۔ اور دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے وہ ہجرت نہ کر رہے تھے اور اسی وجہ سے وہ دارالکفر میں جمے ہوئے تھے جبکہ دارالاسلام موجود تھے ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو تنگی میں رکھ رہے تھے حالانکہ اللہ کی سرزمین وسیع تھی ۔ ہجرت وہ کرسکتے تھے اور مشکلات کو وہ برداشت کرسکتے تھے ۔ (آیت) ” فاولئک فاوھم جھنم وسآءت مصیرا “۔ (4 : 97) (یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے) اس کے بعد مذکورہ بالانجام سے ان لوگوں کو مستثنی کیا جاتا ہے جو فی الواقعہ مجبور ہیں اور ان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور دارالاسلام تک پہنچ جائیں ۔ یہ لوگ بچوں ‘ ضعیف بوڑھوں اور عورتوں پر مشتمل ہیں ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے کیسوں پر غور کیا جاسکتا ہے شاید یہ معاف ہوجائیں کیونکہ بظاہر ان کا عذر معقول ہے اور وہ مکہ سے مدینہ منتقل نہیں ہو سکتے ۔ (آیت) ” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان لا یستطیعون حیلۃ ولا یھتدون سبیلا (98) فاولئک عسی اللہ ان یعفو عنھم وکان اللہ عفوا غفورا “۔ (99) (4 : 98۔ 99) (ہاں جو مرد ‘ عورتیں اور بچے واقعی بےبس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے ‘ بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے ۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے) یہ حکم ابدالاباد تک رہے گا ۔ یہ احکام ان حالات تک ہی محدود نہیں ہیں جو اس وقت ایک متعین سوسائٹی میں مکہ مکرمہ میں پائے جاتے تھے بلکہ یہ عام احکام ہیں ۔ جس ملک میں بھی کوئی مسلمان اپنے دین کے معاملے میں مشکلات میں مبتلا ہو اور محض اپنی دولت اور جائیداد کی وجہ سے یا رشتہ داروں اور دوستوں کی وجہ سے وہ رہ رہا ہو اور محض اس ڈر سے رہ رہا ہو کہ اگر وہ اس ملک سے نقل مکانی کرے گا تو اسے مشکلات پیش آئیں گی بشرطیکہ دنیا کے کسی حصے میں دارالاسلام قائم ہو۔ اس میں لوگ امن سے رہ رہے ہوں اور اس ملک میں ایسا شخص اپنے عقیدے کا اظہار کھلے بندوں کرسکتا ہو ‘ وہاں وہ اللہ کے احکام اچھی طرح بجا لا سکتا ہو اور اسلامی شریعت کے مطابق پاک زندگی بسر کرسکتا ہو اور شریفانہ اور معزز زندگی گزار سکتا ہو ورنہ وہ مجبور تصور ہوگا۔ سیاق کلام انسانی نفوس کی تربیت کرتے ہوئے مزید آگے بڑھتا ہے ۔ وہ لوگ جو ہجرت کی مشکلات سے ڈرتے ہیں اور اس وجہ سے ہجرت کی ہمت نہیں کرتے ایسے لوگوں کے بارے میں آیات سابقہ میں تو ایک نہایت ہی موثر اور خوفناک منظر پیش کیا گیا تھا اور مسلمانوں کو اس صورت حال سے متنفر کیا گیا تھا ۔ اگلی آیات میں امید کی کرن دکھائی جاتی ہے ۔ کوئی ہجرت کرے چاہے دارالاسلام تک پہنچے یا راستے میں مر جائے اور حالت ہجرت میں اس کی موت واقعہ ہوجائے تو فرماتے ہیں کہ گھر سے نکلتے ہی ‘ اس کا اجر اس کا حق بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اسے بڑی وسعت نصیب ہوگی وہ آزادی سے زندگی بسر کرے گا اور اسے تنگی اور ترشی سے نجات ملے گی ۔

النساء 4:98

(آیت) ” نمبر 97۔ 99۔ یہ آیت جزیرۃ العرب میں بطور واقعہ موجود صورت حال سے بحث کرتی ہے اور یہ صورت حال مکہ وغیرہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد عملا موجود تھی ‘ جبکہ مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تھی ۔ ابھی تک مکہ میں ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے ہجرت نہ کی تھی ۔ یہ لوگ وہاں اپنی کچھ مصلحتوں اور اپنی جائیداد کی وجہ سے رہ گئے تھے ۔ حالات ایسے تھے کہ مشرکین مکہ کسی ایسے شخص کو جو ہجرت کر رہا ہوتا ‘ اپنے ساتھ کچھ لے جانے نہیں دیتے تھے ‘ یا یہ لوگ ہجرت کی تکالیف کی وجہ سے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس لئے کہ جو بھی ہجرت کرتا تھا اہل مکہ اس کی راہ روکتے اور اسے منع کرتے ۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقتا ہجرت کرنے پر قادر ہی نہ تھے ۔ بعض بوڑھے تھے بعض عورتیں تھیں اور بعض بچے تھے ۔ ان لوگوں کے لئے ہجرت کرنے اور بھاگنے کی کوئی راہ سرے سے نہ تھی ۔ مسلمانوں میں جو لوگ مکہ میں رہ گئے تھے ان پر مکہ والوں نے بڑی سختیاں شروع کردی تھیں کیونکہ وہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ میں حکومت قائم کرکے قریش کے قافلوں کو تنگ کرنا شروع کردیا تھا اور پھر جنگ بدر میں مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھا رہے تھے ‘ ان کو مختلف قسم کی اذیتوں میں مبتلا کر رہے تھے ‘ اور سخت بوکھلاہٹ میں ظلم کررہے تھے ۔ بعض لوگوں کو انہوں نے عملا تشدد کرکے دین اسلام سے پھیر دیا تھا۔ بعض لوگ تقیہ کر کے کفر کا اظہار کر رہے تھے اور مشرکین کے ساتھ شرکیہ عبادات میں بظاہر شریک ہوتے تھے ، یہ تقیہ اس وقت ان کے لئے جائز تھا جب اسلامی حکومت نہ تھی اور ہجرت کرنے کے مواقع نہ تھے ۔ لیکن جب اسلامی مملکت کا قیام مدینہ طیبہ میں ہوگیا تو پھر انکا اس طرح فتنوں کے اندر قیام کرنا یا اپنے آپ کو تقیہ پر مجبور کرنا جائز اور معقول نہ تھا جبکہ وہ ہجرت بھی کرسکتے تھے اور دارالاسلام میں امن کی زندگی بھی بسر کرسکتے تھے ۔ ان حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ یہ لوگ محض دولت اور مصلحت کی وجہ سے ہجرت نہ کر رہے تھے ‘ یا وہ ہجرت کی تکالیف ومشکلات کی وجہ سے مکہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایسے حالات میں اگر انکی موت واقعہ ہوگئی تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ظالم کا نام دیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے اس لئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو دارالاسلام کی آزادانہ زندگی سے محروم رکھا ‘ جہاں وہ پاک وصاف اور شریفانہ اور اپنی مرضی کی زندگی بسر کرسکتے تھے ۔ جبکہ دارالکفر میں وہ ذلیل و خوار ‘ کمزور اور مظلوم ہو کر زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اور ان پر مظالم ہو رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جہنم میں رہیں گے جو بہت برا ٹھکانا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لئے وعید ہے جنہوں نے فی الواقعہ ڈر کر کفر اختیار کرلیا تھا ۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعبیر قرآن مجید نہایت ہی زندہ اور متحرک انداز میں کرتا ہے ۔ ان کے اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہو رہا ہے اور یہ مکالمہ گویا زندہ افراد کے درمیان ایک اسٹیج پر ہو رہا ہے ۔ (آیت) ” (ان الذین توفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا (4 : 97) ٍ (جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور ومجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا ‘ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ ) قرآن انسانوں کی تربیت کر رہا تھا ‘ اس لئے اس کے پیش نظریہ ہدف تھا کہ وہ ان کے بھلائی اور عزت وشرف کے جذبے کو جوش میں لائے اور ان کے اندر ضعف ‘ بخل ‘ حرص اور سستی کے پائے جانے والے اوصاف کو ختم کرنے کی سعی کرے ۔ چناچہ اس منظر کی تصویر کشی میں قرآن کریم نے نہایت ہی حقیقی صورت حال کو پیش کیا ہے ۔ لیکن قرآن کریم اس تصویر کشی کو لوگوں کی اصلاح کے لئے استعمال کرتا ہے اور اس کے ذریعے نفوس انسانی کی اصلاح کی جاتی ہے ۔ موت کا وقت ہر انسان کے لئے خوفناک ہوتا ہے ۔ حالت نزع میں جو کچھ پیش آتا ہے انسان کے ذہن میں وہ تمام حالات بہت ہی تیزی کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور پھر اس منظر میں فرشتوں کا اسٹیج پر آنا مزید خوفناک صورت حال پیدا کردیتا ہے اور انسان کے حواس بڑی تیزی سے کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ مکہ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور نظر آتا ہے کہ یہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں فرشتے آ پہنچتے ہیں اور ان کی روح قبض کرنے لگتے ہیں ۔ چونکہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں ‘ اس صورت حال سے ہر زندہ شخص متاثر ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ ایسے مظلومانہ حالات میں بیٹھے ہوئے ہیں اور فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہیں ۔ اب ان کے لئے کوئی موقعہ نہیں رہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ہجرت کرلیں کیونکہ زندگی کا موقعہ تو ایک ہی بار آتا ہے ۔ اور یہ فرشتے ان کی روح کو خاموشی کے ساتھ قبض نہیں کرتے بلکہ وہ ان کے ماضی کو بھی سامنے لاتے ہیں اور نہایت ہی ناپسندیدہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ تم نے اپنی زندگی کے قیمتی ایام کن کاموں میں ضائع کئے ؟ دنیا میں ان کا شغل کیا تھا ‘ وہ کیا بلند مقاصد تھے جن کے لئے وہ دوڑ دھوپ کر رہے تھے ؟ (آیت) ” (قالوا فیم کنتم (4 : 97) (تم کن حالات میں رہے) کیونکہ یہ لوگ جن حالات میں رہے تھے ایسا تو نقصان ہی نقصان تھا۔ یعنی ان کے لئے وقت ضائع کرنے کے سوا کوئی اور مشغلہ ہی نہ تھا اور یہ لوگ جن پر حالت نزع طاری تھی حالت نزع میں جواب دیتے ہیں اور نہایت ہی ناپسندیدہ صورت حالات میں نہایت ہی ذلت کے ساتھ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ ان کے لئے معذرت ہو حالانکہ وہ ذلت ہے ۔ (آیت) ” (قالوا کنا مستضعفین فی الارض (4 : 97) (ہم تو زمین میں کمزور لوگ تھے) ہم کمزور تھے ‘ طاقتور لوگوں نے ہمیں دبا رکھا تھا ۔ ہم ذلیل و خوار تھے ۔ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہ تھا ۔ ہر شخص اس بات سے نفرت کرے گا کہ حالت نزع میں اس کے ساتھ یہ مکالمہ پیش آئے اس لئے کہ اس سے ان لوگوں کی انتہائی بےبسی کا اظہار ہوتا ہے اور یہ کہ وہ پوری زندگی اس طرح بےبس ہو کر گزار گئے اور پھر بھی ملائکہ نے انہیں نہ چھوڑا جب وہ حالت نزع سے دوچار ہوئے تو ان کو یہ کہا گیا کہ تم نے موقعہ سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ (آیت) ” (الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا “۔ (4 : 97) (کیا اللہ کی زمین بہت وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے) حقیقت یہ ہے کہ اس ذلت ‘ مسکنت ‘ فتنے اور کمزوری میں اپنے آپ کو وہ اس لئے مبتلا نہ کر رہے تھے کہ وہ فی الواقعہ ایسے حالات میں تھے اور لاچار تھے بلکہ کچھ اور اسباب تھے جن کی وجہ سے انہوں نے اس ذلت کو قبول کر رکھا تھا ۔ وہ لالچی تھے ۔ اور دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے وہ ہجرت نہ کر رہے تھے اور اسی وجہ سے وہ دارالکفر میں جمے ہوئے تھے جبکہ دارالاسلام موجود تھے ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو تنگی میں رکھ رہے تھے حالانکہ اللہ کی سرزمین وسیع تھی ۔ ہجرت وہ کرسکتے تھے اور مشکلات کو وہ برداشت کرسکتے تھے ۔ (آیت) ” فاولئک فاوھم جھنم وسآءت مصیرا “۔ (4 : 97) (یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے) اس کے بعد مذکورہ بالانجام سے ان لوگوں کو مستثنی کیا جاتا ہے جو فی الواقعہ مجبور ہیں اور ان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور دارالاسلام تک پہنچ جائیں ۔ یہ لوگ بچوں ‘ ضعیف بوڑھوں اور عورتوں پر مشتمل ہیں ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے کیسوں پر غور کیا جاسکتا ہے شاید یہ معاف ہوجائیں کیونکہ بظاہر ان کا عذر معقول ہے اور وہ مکہ سے مدینہ منتقل نہیں ہو سکتے ۔ (آیت) ” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان لا یستطیعون حیلۃ ولا یھتدون سبیلا (98) فاولئک عسی اللہ ان یعفو عنھم وکان اللہ عفوا غفورا “۔ (99) (4 : 98۔ 99) (ہاں جو مرد ‘ عورتیں اور بچے واقعی بےبس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے ‘ بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے ۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے) یہ حکم ابدالاباد تک رہے گا ۔ یہ احکام ان حالات تک ہی محدود نہیں ہیں جو اس وقت ایک متعین سوسائٹی میں مکہ مکرمہ میں پائے جاتے تھے بلکہ یہ عام احکام ہیں ۔ جس ملک میں بھی کوئی مسلمان اپنے دین کے معاملے میں مشکلات میں مبتلا ہو اور محض اپنی دولت اور جائیداد کی وجہ سے یا رشتہ داروں اور دوستوں کی وجہ سے وہ رہ رہا ہو اور محض اس ڈر سے رہ رہا ہو کہ اگر وہ اس ملک سے نقل مکانی کرے گا تو اسے مشکلات پیش آئیں گی بشرطیکہ دنیا کے کسی حصے میں دارالاسلام قائم ہو۔ اس میں لوگ امن سے رہ رہے ہوں اور اس ملک میں ایسا شخص اپنے عقیدے کا اظہار کھلے بندوں کرسکتا ہو ‘ وہاں وہ اللہ کے احکام اچھی طرح بجا لا سکتا ہو اور اسلامی شریعت کے مطابق پاک زندگی بسر کرسکتا ہو اور شریفانہ اور معزز زندگی گزار سکتا ہو ورنہ وہ مجبور تصور ہوگا۔ سیاق کلام انسانی نفوس کی تربیت کرتے ہوئے مزید آگے بڑھتا ہے ۔ وہ لوگ جو ہجرت کی مشکلات سے ڈرتے ہیں اور اس وجہ سے ہجرت کی ہمت نہیں کرتے ایسے لوگوں کے بارے میں آیات سابقہ میں تو ایک نہایت ہی موثر اور خوفناک منظر پیش کیا گیا تھا اور مسلمانوں کو اس صورت حال سے متنفر کیا گیا تھا ۔ اگلی آیات میں امید کی کرن دکھائی جاتی ہے ۔ کوئی ہجرت کرے چاہے دارالاسلام تک پہنچے یا راستے میں مر جائے اور حالت ہجرت میں اس کی موت واقعہ ہوجائے تو فرماتے ہیں کہ گھر سے نکلتے ہی ‘ اس کا اجر اس کا حق بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اسے بڑی وسعت نصیب ہوگی وہ آزادی سے زندگی بسر کرے گا اور اسے تنگی اور ترشی سے نجات ملے گی ۔

النساء 4:99

(آیت) ” نمبر 97۔ 99۔ یہ آیت جزیرۃ العرب میں بطور واقعہ موجود صورت حال سے بحث کرتی ہے اور یہ صورت حال مکہ وغیرہ میں حضور اکرم ﷺ کی ہجرت کے بعد عملا موجود تھی ‘ جبکہ مدینہ میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تھی ۔ ابھی تک مکہ میں ایسے مسلمان موجود تھے جنہوں نے ہجرت نہ کی تھی ۔ یہ لوگ وہاں اپنی کچھ مصلحتوں اور اپنی جائیداد کی وجہ سے رہ گئے تھے ۔ حالات ایسے تھے کہ مشرکین مکہ کسی ایسے شخص کو جو ہجرت کر رہا ہوتا ‘ اپنے ساتھ کچھ لے جانے نہیں دیتے تھے ‘ یا یہ لوگ ہجرت کی تکالیف کی وجہ سے بیٹھے ہوئے تھے ‘ اس لئے کہ جو بھی ہجرت کرتا تھا اہل مکہ اس کی راہ روکتے اور اسے منع کرتے ۔ بعض لوگ ایسے بھی تھے جو حقیقتا ہجرت کرنے پر قادر ہی نہ تھے ۔ بعض بوڑھے تھے بعض عورتیں تھیں اور بعض بچے تھے ۔ ان لوگوں کے لئے ہجرت کرنے اور بھاگنے کی کوئی راہ سرے سے نہ تھی ۔ مسلمانوں میں جو لوگ مکہ میں رہ گئے تھے ان پر مکہ والوں نے بڑی سختیاں شروع کردی تھیں کیونکہ وہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئے تھے ۔ حضور اکرم ﷺ نے مدینہ میں حکومت قائم کرکے قریش کے قافلوں کو تنگ کرنا شروع کردیا تھا اور پھر جنگ بدر میں مسلمانوں پر سخت مظالم ڈھا رہے تھے ‘ ان کو مختلف قسم کی اذیتوں میں مبتلا کر رہے تھے ‘ اور سخت بوکھلاہٹ میں ظلم کررہے تھے ۔ بعض لوگوں کو انہوں نے عملا تشدد کرکے دین اسلام سے پھیر دیا تھا۔ بعض لوگ تقیہ کر کے کفر کا اظہار کر رہے تھے اور مشرکین کے ساتھ شرکیہ عبادات میں بظاہر شریک ہوتے تھے ، یہ تقیہ اس وقت ان کے لئے جائز تھا جب اسلامی حکومت نہ تھی اور ہجرت کرنے کے مواقع نہ تھے ۔ لیکن جب اسلامی مملکت کا قیام مدینہ طیبہ میں ہوگیا تو پھر انکا اس طرح فتنوں کے اندر قیام کرنا یا اپنے آپ کو تقیہ پر مجبور کرنا جائز اور معقول نہ تھا جبکہ وہ ہجرت بھی کرسکتے تھے اور دارالاسلام میں امن کی زندگی بھی بسر کرسکتے تھے ۔ ان حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ یہ لوگ محض دولت اور مصلحت کی وجہ سے ہجرت نہ کر رہے تھے ‘ یا وہ ہجرت کی تکالیف ومشکلات کی وجہ سے مکہ میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایسے حالات میں اگر انکی موت واقعہ ہوگئی تو ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ظالم کا نام دیتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے تھے اس لئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو دارالاسلام کی آزادانہ زندگی سے محروم رکھا ‘ جہاں وہ پاک وصاف اور شریفانہ اور اپنی مرضی کی زندگی بسر کرسکتے تھے ۔ جبکہ دارالکفر میں وہ ذلیل و خوار ‘ کمزور اور مظلوم ہو کر زندگی بسر کر رہے تھے ۔ اور ان پر مظالم ہو رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جہنم میں رہیں گے جو بہت برا ٹھکانا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان لوگوں کے لئے وعید ہے جنہوں نے فی الواقعہ ڈر کر کفر اختیار کرلیا تھا ۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعبیر قرآن مجید نہایت ہی زندہ اور متحرک انداز میں کرتا ہے ۔ ان کے اور فرشتوں کے درمیان مکالمہ ہو رہا ہے اور یہ مکالمہ گویا زندہ افراد کے درمیان ایک اسٹیج پر ہو رہا ہے ۔ (آیت) ” (ان الذین توفھم الملئکۃ ظالمی انفسھم قالوا فیم کنتم قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا (4 : 97) ٍ (جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے ان کی روحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور ومجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا ‘ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ ) قرآن انسانوں کی تربیت کر رہا تھا ‘ اس لئے اس کے پیش نظریہ ہدف تھا کہ وہ ان کے بھلائی اور عزت وشرف کے جذبے کو جوش میں لائے اور ان کے اندر ضعف ‘ بخل ‘ حرص اور سستی کے پائے جانے والے اوصاف کو ختم کرنے کی سعی کرے ۔ چناچہ اس منظر کی تصویر کشی میں قرآن کریم نے نہایت ہی حقیقی صورت حال کو پیش کیا ہے ۔ لیکن قرآن کریم اس تصویر کشی کو لوگوں کی اصلاح کے لئے استعمال کرتا ہے اور اس کے ذریعے نفوس انسانی کی اصلاح کی جاتی ہے ۔ موت کا وقت ہر انسان کے لئے خوفناک ہوتا ہے ۔ حالت نزع میں جو کچھ پیش آتا ہے انسان کے ذہن میں وہ تمام حالات بہت ہی تیزی کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں اور پھر اس منظر میں فرشتوں کا اسٹیج پر آنا مزید خوفناک صورت حال پیدا کردیتا ہے اور انسان کے حواس بڑی تیزی سے کام کرتے ہیں ۔ یہ لوگ مکہ میں بیٹھے ہوئے ہیں اور نظر آتا ہے کہ یہ لوگ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں اور ایسے ہی حالات میں فرشتے آ پہنچتے ہیں اور ان کی روح قبض کرنے لگتے ہیں ۔ چونکہ یہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کر رہے ہیں ‘ اس صورت حال سے ہر زندہ شخص متاثر ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ ایسے مظلومانہ حالات میں بیٹھے ہوئے ہیں اور فرشتے ان کی روح قبض کر رہے ہیں ۔ اب ان کے لئے کوئی موقعہ نہیں رہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ انصاف کرتے ہوئے ہجرت کرلیں کیونکہ زندگی کا موقعہ تو ایک ہی بار آتا ہے ۔ اور یہ فرشتے ان کی روح کو خاموشی کے ساتھ قبض نہیں کرتے بلکہ وہ ان کے ماضی کو بھی سامنے لاتے ہیں اور نہایت ہی ناپسندیدہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ تم نے اپنی زندگی کے قیمتی ایام کن کاموں میں ضائع کئے ؟ دنیا میں ان کا شغل کیا تھا ‘ وہ کیا بلند مقاصد تھے جن کے لئے وہ دوڑ دھوپ کر رہے تھے ؟ (آیت) ” (قالوا فیم کنتم (4 : 97) (تم کن حالات میں رہے) کیونکہ یہ لوگ جن حالات میں رہے تھے ایسا تو نقصان ہی نقصان تھا۔ یعنی ان کے لئے وقت ضائع کرنے کے سوا کوئی اور مشغلہ ہی نہ تھا اور یہ لوگ جن پر حالت نزع طاری تھی حالت نزع میں جواب دیتے ہیں اور نہایت ہی ناپسندیدہ صورت حالات میں نہایت ہی ذلت کے ساتھ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ ان کے لئے معذرت ہو حالانکہ وہ ذلت ہے ۔ (آیت) ” (قالوا کنا مستضعفین فی الارض (4 : 97) (ہم تو زمین میں کمزور لوگ تھے) ہم کمزور تھے ‘ طاقتور لوگوں نے ہمیں دبا رکھا تھا ۔ ہم ذلیل و خوار تھے ۔ ہمارے ہاتھ میں کچھ نہ تھا ۔ ہر شخص اس بات سے نفرت کرے گا کہ حالت نزع میں اس کے ساتھ یہ مکالمہ پیش آئے اس لئے کہ اس سے ان لوگوں کی انتہائی بےبسی کا اظہار ہوتا ہے اور یہ کہ وہ پوری زندگی اس طرح بےبس ہو کر گزار گئے اور پھر بھی ملائکہ نے انہیں نہ چھوڑا جب وہ حالت نزع سے دوچار ہوئے تو ان کو یہ کہا گیا کہ تم نے موقعہ سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ (آیت) ” (الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا “۔ (4 : 97) (کیا اللہ کی زمین بہت وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے) حقیقت یہ ہے کہ اس ذلت ‘ مسکنت ‘ فتنے اور کمزوری میں اپنے آپ کو وہ اس لئے مبتلا نہ کر رہے تھے کہ وہ فی الواقعہ ایسے حالات میں تھے اور لاچار تھے بلکہ کچھ اور اسباب تھے جن کی وجہ سے انہوں نے اس ذلت کو قبول کر رکھا تھا ۔ وہ لالچی تھے ۔ اور دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے وہ ہجرت نہ کر رہے تھے اور اسی وجہ سے وہ دارالکفر میں جمے ہوئے تھے جبکہ دارالاسلام موجود تھے ۔ یہ لوگ اپنے آپ کو تنگی میں رکھ رہے تھے حالانکہ اللہ کی سرزمین وسیع تھی ۔ ہجرت وہ کرسکتے تھے اور مشکلات کو وہ برداشت کرسکتے تھے ۔ (آیت) ” فاولئک فاوھم جھنم وسآءت مصیرا “۔ (4 : 97) (یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانا ہے) اس کے بعد مذکورہ بالانجام سے ان لوگوں کو مستثنی کیا جاتا ہے جو فی الواقعہ مجبور ہیں اور ان کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ وہ اس صورت حال سے نکل آئیں اور دارالاسلام تک پہنچ جائیں ۔ یہ لوگ بچوں ‘ ضعیف بوڑھوں اور عورتوں پر مشتمل ہیں ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے کیسوں پر غور کیا جاسکتا ہے شاید یہ معاف ہوجائیں کیونکہ بظاہر ان کا عذر معقول ہے اور وہ مکہ سے مدینہ منتقل نہیں ہو سکتے ۔ (آیت) ” الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان لا یستطیعون حیلۃ ولا یھتدون سبیلا (98) فاولئک عسی اللہ ان یعفو عنھم وکان اللہ عفوا غفورا “۔ (99) (4 : 98۔ 99) (ہاں جو مرد ‘ عورتیں اور بچے واقعی بےبس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے ‘ بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے ۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے) یہ حکم ابدالاباد تک رہے گا ۔ یہ احکام ان حالات تک ہی محدود نہیں ہیں جو اس وقت ایک متعین سوسائٹی میں مکہ مکرمہ میں پائے جاتے تھے بلکہ یہ عام احکام ہیں ۔ جس ملک میں بھی کوئی مسلمان اپنے دین کے معاملے میں مشکلات میں مبتلا ہو اور محض اپنی دولت اور جائیداد کی وجہ سے یا رشتہ داروں اور دوستوں کی وجہ سے وہ رہ رہا ہو اور محض اس ڈر سے رہ رہا ہو کہ اگر وہ اس ملک سے نقل مکانی کرے گا تو اسے مشکلات پیش آئیں گی بشرطیکہ دنیا کے کسی حصے میں دارالاسلام قائم ہو۔ اس میں لوگ امن سے رہ رہے ہوں اور اس ملک میں ایسا شخص اپنے عقیدے کا اظہار کھلے بندوں کرسکتا ہو ‘ وہاں وہ اللہ کے احکام اچھی طرح بجا لا سکتا ہو اور اسلامی شریعت کے مطابق پاک زندگی بسر کرسکتا ہو اور شریفانہ اور معزز زندگی گزار سکتا ہو ورنہ وہ مجبور تصور ہوگا۔ سیاق کلام انسانی نفوس کی تربیت کرتے ہوئے مزید آگے بڑھتا ہے ۔ وہ لوگ جو ہجرت کی مشکلات سے ڈرتے ہیں اور اس وجہ سے ہجرت کی ہمت نہیں کرتے ایسے لوگوں کے بارے میں آیات سابقہ میں تو ایک نہایت ہی موثر اور خوفناک منظر پیش کیا گیا تھا اور مسلمانوں کو اس صورت حال سے متنفر کیا گیا تھا ۔ اگلی آیات میں امید کی کرن دکھائی جاتی ہے ۔ کوئی ہجرت کرے چاہے دارالاسلام تک پہنچے یا راستے میں مر جائے اور حالت ہجرت میں اس کی موت واقعہ ہوجائے تو فرماتے ہیں کہ گھر سے نکلتے ہی ‘ اس کا اجر اس کا حق بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اسے بڑی وسعت نصیب ہوگی وہ آزادی سے زندگی بسر کرے گا اور اسے تنگی اور ترشی سے نجات ملے گی ۔

النساء 4:100

(آیت) ” نمبر 100۔ اس آیت میں قرآن کریم حیات نفس انسانی کے اندر پیدا ہونے والے متنوع وسوسوں کا مداوا کرتا ہے ۔ اس وقت کے موجود حالات میں ہجرت کرنے میں مشکلات نظر آتی تھیں اور ایسے ہی وسوسے ہر وقت لوگوں کے سامنے آتے رہتے ہیں جب بھی کوئی شخص اللہ کی خاطر نکلتا مصائب کا شکار ہوجاتا ۔ قرآن کریم ایسے نفوس کی تربیت ہی واضح طور پر کرتا ہے ۔ ان کو صاف صاف بتایا جاتا ہے اور کوئی بات چھپائی نہیں جاتی ۔ یہ نہیں کیا جاتا کہ اگر کوئی اقدام کرے تو اس سے پیش آنے والے خطرات کو چھپایا جائے بلکہ سب کچھ بتا دیا جاتا ہے ‘ جن میں موت اور جان تک قربان کرنے کے خطرات شامل ہیں ‘ لیکن قرآن کریم بعض دوسرے حقائق کے ذریعے اہل ایمان کو مطمئن بھی کرتا ہے اور ان حقائق کی ضمانت اللہ تعالیٰ خود دیتے ہیں ۔ یہاں کہا جاتا ہے کہ یہ ہجرت فی سبیل اللہ ہے اور اس کے علاوہ کسی اور غرض کے لئے نہیں ہے اور اسلام میں یہی ہجرت معتبر ہے ۔ یہ دولت کے لئے نہیں ہے ‘ یہ مشکلات سے بھاگنے کے لئے نہیں ہے یہ لذات وشہوات حاصل کرنے کے لئے بھی نہیں ہے ۔ غرض یہ دنیاوی مقاصد میں سے کسی مقصد کے لئے نہیں ہے اور جو شخص بھی اللہ کی راہ میں اور صرف اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا ‘ اسے دنیا میں بہت بڑی کشادگی ملے گی زمین اس پر تنگ نہ ہوگی ۔ رزق کی فراہمی کے معاملے میں بھی اس کے وسائل اور ذرائع محدود نہ ہوں گے اور ایمان اور اخروی نجات تو بہرحال حاصل ہوگی ۔ (آیت) ” ومن یھاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارض مراغما کثیرا وسعۃ (4 : 100) (جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لئے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لئے بڑی گنجائش پائے گا) یہ محض نفس انسانی کی کمزوری ‘ اس کا لالچ اور بخل ہے جو اس کے ذہن میں یہ وسوسہ پیدا کرتا ہے کہ وسائل رزق دنیا کی کسی ایک جگہ کے اندر محدود ہیں اور بعض حالات تک محدود ہیں ۔ اگر ان حالات اور ظروف سے کوئی نکل گیا تو اس کا رزق بند ہوجائے گا ۔ یہ دراصل رزق اور وسائل حیات کے سلسلے میں ایک نہایت ہی جھوٹا تصور ہے ۔ یہی وہ سوچ ہے جس کی وجہ سے انسان ذلت ‘ زیردستی اور دین اور ایمان کے فتنے کو قبول کرتا ہے اور پھر اس کا وہ انجام ‘ وہ برا انجام ہوتا ہے جو ان آیات میں مذکور ہے کہ ملائکہ ایسے لوگوں کی جان لے لیتے ہیں اور وہ اس حال میں ہوتے ہیں کہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہوتے ہیں ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لئے جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرتے ہیں اچھے انجام کی یقین دہانی کراتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو آزادی ملے گی اور وہ اللہ کی اس دنیا میں بہت ہی وسعت پائیں گے ۔ وہ یقینا دیکھ لیں گے کہ وہ جہاں بھی جائیں گے اللہ انہیں زندہ رکھے گا ‘ رزق دے گا اور آخرت میں نجات دے گا ۔ لیکن یہ بھی ہوتا ہے کہ بعض لوگ دوران ہجرت ہی داعی اجل کو لبیک کہتے ہیں۔ موت تو ایک برحق واقعہ ہے اور اس کا تعلق اسباب ظاہرہ سے نہیں ہے ۔ جب مقررہ وقت آتا ہے تو موت حتما آتی ہے چاہے کوئی قیام کرے یا ہجرت کرے ۔ وہ نہ مقدم ہوتی ہے اور مؤخر ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ انسانی سوچ ظاہری ظروف واحوال کے اندر ہی رہتی ہے ۔ اس کی نظر میں موت کے ظاہری اسباب ہوتے ہیں اسلامی نظام ان کو بھی سامنے رکھ کر بات کرتا ہے چناچہ کہا جاتا ہے کہ راہ خدا میں گھر سے نکلتے ہی اللہ پر اجر لازم ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کو مکمل ثواب ملے گا ۔ (آیت) ” ومن یخرج من بیتہ مھاجرا الی اللہ ورسولہ ثم یدرکہ الموت فقد وقع اجرہ علی اللہ “۔ (4 : 100) (اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کے لئے نکلے ‘ پھر راستہ ہی میں اسے موت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوگیا) ایسے شخص کو پوری تنخواہ ملے گی ‘ ہجرت کا اجر سفر کا اجر دارالاسلام میں پہنچنے اور تمام مشکلات جو وہاں تھیں ان سب کا اجر اسے ملے گا ۔ اس اجر اسے ملے گا ۔ اس کا ضامن اللہ ہے لیکن اس اجر کی ایسی ضمانت کے ساتھ یہ اشارہ بھی دیا جاتا ہے کہ اس کے گناہ بھی بطور پنشن اور الاؤنس معاف ہو سکتے ہیں اور مزید انعامات بھی مل سکتے ہیں ۔ یہ تمام مراعات اصل تنخواہ کے علاوہ ہیں ۔ (آیت) ” وکان اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 100) (اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحیم ہے) بیشک یہ نہایت ہی نفع بخش سودا ہے ۔ اس میں ایک مہاجر فی سبیل اللہ پوری قیمت وصول کرلیتا ہے ۔ جونہی وہ قدم رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں نکلتا ہے اسے اجر ملتا ہے ۔ موت تو موت ہے اس کا جب وقت آتا ہے تو اس میں تقدیم وتاخیر نہیں ہوتی ۔ ہجرت کرنے اور کسی جگہ جمے رہنے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اگر کوئی شخص ایک ہی جگہ جم جائے تو بھی موت آئے گی اور سودے میں اسے نقصان ہوگا ۔ اسے کوئی اجر اور بخشش نہ ملے گی ‘ بلکہ ملائکہ اسے ظالم سمجھتے ہوئے اس کی روح قبض کرلیں گے ۔۔۔۔۔۔ دونوں حالتوں اور دونوں سودوں کے درمیان کس قدر فرق ہے ؟ـاور دونوں کا انجام کس قدر مختلف ہے ۔ اس پورے سبق سے نتائج کیا نکلتے ہیں ؟ اس سے ہمیں مختلف نتائج حاصل ہوتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ اس سبق کے دوسرے موضوعات پہ کلام ہو ذرا ان نتائج پر غور وفکرمکمل کرلیا جائے تو اچھا ہے ۔ (1) اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام جہاد فی سبیل اللہ میں شرکت نہ کرنے کو بہت ہی برا سمجھتا ہے ۔ نیز اسلام اسلامی جماعت سے علیحدہ اور دور رہنے کو بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتا ‘ الا یہ کہ کوئی عذر ہو اور عذر یہ ہو کہ کوئی ہجرت کے سفر پر قادر نہ ہو یا اس کے لئے کوئی راستہ نہ ہو ۔ (2) اس سبق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کے اندر جہاد فی سبیل اللہ کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ اور اسلامی نظام کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ عمل جہاد کو جاری رکھے ۔ شیعہ مکتب فکر تو جہاد کو ارکان اسلام میں سے ایک رکن شمار کرتا ہے کیونکہ اس کے حق میں بڑے قومی قرآنی دلائل ہیں ‘ جس سے ان کے مسلک کی توضیح اور تفسیر ہوتی ہے ۔ اگر یہ حدیث نہ ہوتی جس کا مضمون ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے تو ان کا مسلک درست ہوتا ۔ اس کے خلاف کوئی دلیل نہ ہوتی لیکن اسلام میں جہاد پر بہت زور دیا گیا ہے ۔ اسلامی زندگی کے خطرات کے وقت اس کی اہمیت اپنی جگہ مسلمہ ہے ۔ ہر دور اور ہر جگہ اس کی ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کی ضرورت اسلام کا نہایت ہی فطری تقاضا ہے ۔ محض وقتی حالات کی وجہ سے نہیں ہے اس لئے کہ تمام دلائل و شواہد یہ بتاتے ہیں کہ اسلام میں جہاد ایک اساسی اور بنیادی فریضہ ہے ۔ (3) اس سبق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان بہرحال انسان ہی ہوتا ہے ۔ نفس انسانی کے سامنے بعض اوقات مشکلات کا ہجوم ہوجاتا ہے ۔ کبھی انسان خطرات سے ڈر جاتا ہے ‘ کبھی وہ مشکلات کو دیکھ کر سست ہوجاتا ہے اور یہ کمزوریاں انسان سے نہایت ہی صالح ترین سوسائٹیوں اور خیر الاقروں میں بھی صادر ہوتی رہی ہیں ۔ لہذا کمزوریوں کا مداوا کرنے کے معاملے میں کبھی بھی ہمیں مایوسی کا شکار نہی ہونا چاہئے بلکہ اس معاملے میں جہد مسلسل جاری رہنی چاہئے ۔ لوگوں کو آمادہ کرنا چاہئے ۔ ان کو انجام کار کامیابی کے امکاناب بھی دکھانے چاہئیں ۔ وعظ و ارشاد ہر وقت جاری رہنا چاہئے اور یہ کام قرآن کے حکیمانہ اسلوب کے مطابق ہونا چاہئے ۔ (4) سب سے آخر میں اس سبق سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اس زندگی کی اصلاح کے لئے کس طرح جدوجہد کر رہا تھا ۔ اور اس کے سامنے کس قدر واقعی مشکلات تھیں اور ان مشکلات میں قرآن نے اسلامی معاشرے کی قیادت کس طرح کی ۔ قرآن کو جس معرکے کا سامنا تھا وہ ہر میدان میں جاری تھا ۔ پہلا میدان نفس انسانی تھا ۔ اس کی فطرت اس کا مزاج اور اس کے اندر موجود جاہلی دور کی کمزوریاں وغیرہ تو ہمیں یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ ہم قرآن کا مطالعہ کس اسلوب کے ساتھ کریں اور جب ہم انسانی نفس اور زندگی کے واقعی حالات ومشکلات کے اندر دعوت الی اللہ دیں تو کس طرح دیں ۔ اس کے بعد مہاجرین اور دوسرے مسافروں کے لئے نماز کے اندر قصر کرنے کی اجازت کا بیان آتا ہے ۔ سفر چاہے جہاد کے لئے ہوں یا تجارتی سرگرمیوں کے لئے ہوں ‘ نیز حالت خوف میں بھی قصر کی اجازت ہے ‘ یعنی ایسے حالات میں دشمن حملہ کر کے انہیں قید نہ کرلے اور اس طرح وہ فتنے میں مبتلا نہ ہوجائیں ۔ یہ قصر اس قصر سے علیحدہ ہے جو محض سفر کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ یہ خاص قصر ہے اور حالت خوف سے متعلق ہے ۔

النساء 4:101

(آیت) ” نمبر 101۔ جو شخص مسافر ہو ‘ اسے اپنے رب کے ساتھ دائمی تعلق کی ضرورت ہے ‘ تاکہ اللہ اس پر سفر کی مشکلات میں آسانیاں پیدا کر دے ۔ اس کی تیاریوں میں اس کی مداد ہو ‘ سامان سفر فراہم ہو اور راستے کی مشکلات اللہ اس کے لئے آسان کر دے ۔ نماز تعلق باللہ کا موثر ترین ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں کو یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشکلات اور تکالیف میں نماز سے امداد حاصل کریں ۔ جب خوف کا مقام ہو اور جب زندگی کی مشقتوں کا سامنا ہو تو حکم ہے کہ نماز سے معاونت حاصل کرو۔ (آیت) ” واستعنوا بالصبر والصلوۃ) (نماز اور صبر کے ذریعے اللہ کی امداد طلب کرو) یہی وجہ ہے کہ سفر و جہاد کے اس موضوع کے متصلا بعد اللہ تعالیٰ نے نماز کا ذکر کیا ۔ ایسے حالات میں نماز ایک مومن کا نہایت ضروری ہتھیار ہوتی ہے ۔ اگر کسی کو راستے میں خوف اور خطرے کے حالات درپیش ہوں تو ایسے حالات میں اسے صرف اللہ کی یاد سے اطمینان ہوتا ہے ۔ جو شخص اپنے ملک کو چھوڑتا ہے اس کے لئے اللہ کی درگاہ میں پہنچ جانا ہی باعث اطمینان ہوتا ہے ۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ ہے کہ کامل نماز اور پورے رکوع اور سجود کے ساتھ نماز کی وجہ سے کبھی ہو سکتا ہے کہ ایک مومن پر دشمن حملہ آور ہوجائیں جو کہیں قریب ہی چھپے ہوں ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دشمن اسے پہچان لیں ۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ طویل رکوع اور سجود میں اسے پکڑ لیں ‘ چناچہ جو لوگ جہاد کے لئے نکلیں ان کے لئے جائز ہے کہ وہ خوف کے وقت نماز کو مختصر کردیں ۔ یہاں قصر کے مفہوم اور تفسیر میں ہم اسی بات کو ترجیح دیتے ہیں جسے جصاص نے لیا ہے کہ اس قصر سے مراد رکعات میں قصر نہیں ہے اس لئے کہ یہ تو مطلق مسافر کے لئے جائز ہے خواہ حالت خوف ہو یا نہ ہو ‘ بلکہ سفر میں تو قصر لازمی ہے ۔ جس طرح حضور اکرم ﷺ نے قصر فرمائی اور ہر سفر میں فرمائی اس لئے کہ سفر میں راجح اقوال کے مطابق پوری رکعات پڑھنا جائز ہی نہیں ہے ۔ لہذا یہاں حالت خوف میں قصر سے مراد بالکل دوسری ہوگی اور یہ قصر مسافر کی قصر سے مختلف ہوگی ۔ یہ قصر نماز کی کیفیت میں ہوگی مثلا رکوع ‘ سجود اور قیام میں نہایت ہی سکون سے یہ ارکان سرانجام دینے میں قصر ہوگی ۔ یوں حالت خوف میں مسافر کے لئے چلتے ہوئے ‘ سواری کی حالت میں اور صرف اشارے سے بھی نماز جائز ہوگی اور اس طرح وہ اپنے رب کے ساتھ جڑا ہوا رہے گا ۔ حالت خوف اور حالت فتنہ میں بھی وہ اس ضروری ہتھیار سے مسلح ہوگا اور دشمن کے مقابلے میں محتاج بھی ہوگا اس لئے کہ (آیت) ” ان الکفرین کانوا لکم عدوامبینا “۔ (4 : 101) (بےشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں) مسافر اور مجاہد کی نماز میں حالت خوف میں قصر کے حکم کے بعد اور اسی مناسبت سے معرکہ کارزار میں اب صلوۃ الخوف کا حکم بھی یہاں دیا جاتا ہے ۔ اس خالص فقہی حکم کے اندر بھی نفسیاتی اور تربیتی اشارات کا وافر ذخیرہ دستیاب اور موجود ہے ۔

النساء 4:102

(آیت) ” نمبر 102 تا 103۔ جو شخص قرآن کے اسرار و رموز پر غور کرتا ہے اور جو شخص ربانی منہاج تربیت میں فکر کرتا ہے خصوصا اس سبق پر تو اس پر عجیب اسرار و رموز کا انکشاف ہوتا ہے ۔ اس سبق کے اندر ایسے لمحات فکر واحساس آتے ہیں جن کا اثر انسان کی روح کی گہرائیوں تک جا اترتا ہے ۔ ذرا میدان معرکہ کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں : قرآن کریم کی یہ آیت محض ایک فقہی اور قانونی مسئلہ نہیں بیان کرتی کہ صلوۃ الخوف اس طرح ہوگی اس کے اندر تعلیم وتربیت کا بیشمار سامان ہے جس کے ذریعے ایک انقلابی جماعت کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اسے انقلابی عمل سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے ۔ آیت سے جو پہلی بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام میں نماز کی اس قدر اہمیت ہے کہ میدان کارزار کے اندر بھی نماز کو نہیں چھوڑا جاتا اور یہ بات ایمانی نقطہ نظر سے بالکل واضح ہے کہ نماز میدان کار زار کے اندر ایک بہترین ہتھیار ہے بلکہ یہ سب ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہے اور ہر معرکے کے اندر اس ہتھیار سے فائدہ اٹھانا بہت ہی ضروری ہے ۔ اس معرکے کے مزاج اور اس کی فضا کے ساتھ نماز کا گہرا تعلق ہے ۔ یہ ابتدائی دور کے اسلامی دستے جن کی تربیت ربانی اور قرآنی منہاج کے ساتھ کی گئی تھی ‘ وہ اپنے دشمن کا مقابلہ اس اسلحہ کے ساتھ کرتے تھے جس میں وہ دشمن پر فوقیت رکھتے تھے ۔ وہ اپنے دشمنوں پر یہ فوقیت رکھتے تھے کہ وہ صرف ایک الہ وحدہ لاشریک کو مانتے تھے ۔ انہوں نے اپنے رب کو اچھی طرح پہچان لیا تھا اور ان کو یہ احساس پوری طرح حاصل ہوتا تھا کہ ان کا وہ الہ پوری طرح ان کے ساتھ شریک جنگ ہے ۔ وہ مقصدیت کے اعتبار سے بھی دشمن پر فوقیت رکھتے تھے ۔ ان کا نصب العین بلند تھا اور وہ بھی اسے سب سے اونچا ہدف سمجھتے تھے ۔ ان کا تصور کائنات ‘ تصور حیات اور تصور غایت وجود انسانی ہر دشمن کے مقابلے میں بلند تھا ۔ اس برتر نظام زندگی کے تحت ان کی جو تنظیم وجود میں آئی تھی اس میں بھی وہ دشمن کے مقابلے میں برتر تھے ۔ میدان جگن میں نماز ان تمام برتریوں کا اشارہ تھی اور ہر وقت ان کو یہ سبق اور شعور یاد دلاتی تھی کہ وہ برتر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نماز میدان کار زار میں ان کے لئے ایک اعلی ترین اسلحہ تھی بلکہ ان کا انحصار ہی اس اسلحہ پر تھا ۔ دوسری بات جو ان آیات کے ضمن میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اہل ایمان روحانی طور پر تیار اور بیدار ہیں اور دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ دشمن بھی گھات میں بیٹھا ہے اور اہل ایمان کی طرف سے غفلت کی ایک مختصر سی گھڑی کے انتظار میں ہے کہ ذرا وہ غافل ہو اور وہ ان کا اسلحہ اور سازو سامان سب پر قبضہ کر کے اچانک حملہ آور ہوجائے ۔ اس تنبیہ ڈراوے اور ثابت قدمی اور اطمینان کی تلقین کے ساتھ ہی بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک توہین آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ایک طرف سے سخت حکم ہے کہ حالت بیداری اور تیاری میں رہو اور دوسری طرف یہ یقین دہانی ہے کہ مطمئن رہو ‘ ایک طرف سخت حساس اور چوکنا رہنے کی ہدایت اور دوسری جانب سے پورا اطمینان ۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تربیت دیتے ہیں اس لئے کہ دشمن سخت مکار ہے اور وہ اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرسکتا ہے ۔ صلوۃ الخوف کی کیفیت میں فقہاء کا اختلاف ہے ۔ یہ مسائل انہوں نے اسی آیت سے لئے ہیں ۔ ہم صرف عام کیفیت بیان کریں گے اور فقہی تفصیلات میں نہیں جائیں گے ۔ (آیت) ” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ فلتقم طائفۃ منھم معک ولیاخذوا اسلحتھم فاذا سجدوا فلیکونوا من ورآء کم ولیات طائفۃ اخری لم یصلوا فلیصلوا معک ولیاخذوا حذرھم اسلحتھم “۔ (4 : 102) (اور اے نبی ‘ جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور (حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہو تو چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اپنے اسلحہ لئے رہے ‘ پھر جب وہ سجدہ کرلے تو پیچھے چلا جائے اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آکر تمہارے ساتھ نماز پڑھے اور وہ بھی چوکنا رہے اور اپنے اسلحہ لئے رہے) مطلب یہ ہے کہ آپ موجود ہوں اور ان کے لئے امامت کر رہے ہوں تو ان میں سے ایک فریق آپ کے پیچھے پہلی رکعت پڑھ لے اور دوسرا فریق اسلحہ لے کر چوکیداری کرے اور جب پہلا فریق رکعت پڑھ لے تو پھر وہ چلا جائے اور چوکیداری پر بمعہ اسلحہ کھڑا ہوجائے اور دوسرا آجائے اور وہ آپ کے پیچھے ایک رکعت پڑھ لے ۔ اس طرح آپ کی نماز تمام ہوجائے گی اور آپ سلام پھیر لیں گے ۔ اس کے بعد پہلا فریق آئے گا اور اس کی جو ایک رکعت رہتی ہے وہ پڑھ لے گا اور چلا جائے گا ۔ یہ ایک رکعت اکیلی ہوگی ‘ پھر یہ فریق جائے ‘ چوکیداری پر کھڑا ہو اور دوسرا فریق آئے اور اس کی جو ایک رکعت رہ گئی ہو پڑھے جبکہ پہلا فریق چوکیداری کرے ۔ اس طرح دونوں فریق امام کے ساتھ نماز پڑھ لیں گے ‘ رسول اللہ ﷺ کی امامت میں اور آپ کے بعد جو خلفاء اور امراء آئیں گے ان کیلئے بھی یہی حکم ہے ۔ (آیت) ” ود الذین کفروا لوتغفلون عن اسلحتکم وامتعتکم فیملون علیکم میلۃ واحدۃ (4 : 102) (کیونکہ کفار اس تاک میں ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان کی طرف سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں) کفار کی جانب سے مومنوں کے خلاف یہ ایسی خواہش ہے جو ہمیشہ ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے ۔ ماہ وسال گزر رہے ہیں ‘ صدیاں بیت گئی ہیں اور آج بھی کفار کی خواہش یہی ہے ‘ یہ ہے وہ حقیقت جو اللہ تعالیٰ نے پہلی جماعت مومنہ کے دل میں بٹھائی تھی اور آج بھی اسی کی تاکید ہو رہی ہے ۔ یہ درست ہے کہ اللہ اس وقت ان لوگوں کے لئے جنگی اسکیم تیار فرماتا تھا لیکن صلوۃ الخوف میں ‘ جس طرح کہ ہم نے سمجھا ‘ ہمارے لئے بھی جنگی اسکیم موجود ہے ۔ یہ احتیاط اور یہ نفساتی تیاری اور یہ مسلسل ہتھیار بند رہنا ہر وقت لازمی نہیں ہے ‘ نہ مناسب ہے کہ مسلمانوں کو محض مشقت میں ڈالنے کے لئے دائمی حکم دیا جائے لیکن جس قدر ان سے ہو سکے وہ ایسا کریں ۔ (آیت) ” ولا جناح علیکم ان کان بکم اذی من مطر او کنتم مرضی ان تضعوا اسلحتکم “۔ (4 : 102) (البتہ اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرو یا بیمار ہو تو اسلحہ رکھ دینے میں مضائقہ نہیں) ایسے حالات میں اسلحہ اٹھانا مشکل ہوتا ہے ‘ اور مفید بھی نہیں ہوتا ۔ محض احتیاط ہی کافی ہوتی ہے ۔ اور اللہ کی مدد پر بھرپور اعتماد۔ (آیت) ” وخذوا حذرکم ان اللہ اعد للکفرین عذابا مھینا) (4 : 102) (مگر پھر بھی چوکنے رہو یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے) ممکن ہے کہ یہی احتیاط یہی بیداری اور یہی پاسداری اہل کفر کے عذاب کا وسیلہ بن جائے ‘ جو اللہ نے ان کے لئے تیار کیا ہے اور سخت توہین آمیز ہے اس طرح اہل ایمان اللہ کی قدرت کا ذریعہ بن جائیں اور اللہ کی مشیت ان کے ذریعے پوری ہو ۔ مذکورہ بالا احتیاط کے ساتھ ساتھ یہ اہل ایمان کے لئے مژدہ اطمینان ہے ۔ اس لئے کہ اہل ایمان کو پورا یقین تھا کہ دشمنان اسلام کے خلاف اللہ ان کا مددگار ہے اور دشمنان اسلام کے لئے توہین آمیز عذاب مقدر ہے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہی دست قدرت ہوں ۔ (آیت) ” فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبکم فاذا اطماننتم فاقیموا الصلوۃ ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتبا موقاتا “۔ (4 : 103) (پھر جب نماز سے فارغ ہوجاؤ تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو اور جب اطمینان نصیب ہوجائے تو پوری نماز پڑھو ۔ نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ ایمان پر لازم کیا گیا ہے) حکم دیا جاتا ہے کہ ہر حال میں دلوں کو اللہ کے ساتھ جوڑے رکھو ‘ نماز میں بھی اور نماز کے باہر رہتے ہوئے بھی اس لئے کہ تعلق باللہ سب سے بڑی جنگی تیاری ہے اور وہ ہتھیار ہے جو کبھی زنگ آلود نہیں ہوتا۔ اطمینان اور امن کے وقت حکم یہ ہے کہ نماز پوری کی پوری بمع جملہ ارکان اطمینان کے ساتھ ادا کرو اور اس میں قصر نہ کرو جیسا کہ کہا گیا اس لئے کہ قصر کی رخصت کچھ حالات کے تحت تھی ۔ اس لئے کہ نماز ایک ایسا فریضہ ہے جسے مقررہ وقت پر ادا کرنا لازمی ہے اور جب حالت خوف نہ رہے تو اس کی ادائیگی اسی طرح ہوگی جس طرح عام طور پر ہوتی ہے ۔ ” نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے “ کے الفاظ سے ظاہریہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر نماز قضا ہوجائے تو پھر اس کی ادائیگی نہیں ہوسکتی ۔ اس نے نزدیک قضا نماز پڑھنے سے فرض ادا نہیں ہوتا ۔ وہ کہتے ہیں فرض نماز وقت مقررہ کے بعد نہیں ہوتی ۔ اگر وقت چلا جائے تو پھر نماز پڑھنے اور ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ البتہ جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ ادا ہوجاتی ہے ۔ ہاں قضا کی ادائیگی بہت جلدی ہونا چاہئے اور خواہ مخواہ تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ مزید فروعی اختلافا میں ہم داخل اندازی نہیں کرتے ۔ اب اس سبق کا خاتمہ قریب ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ جہاد کا عمل جاری رکھو ‘ اگرچہ تمہیں رنج والم کا سامنا کرنا پڑے اور وہ تمہارے لئے مشقت اور تھکاوٹ کا باعث ہو ۔ ایک ایسا تیز احساس دلایا جاتا ہے اور اس قدر تیز جھٹکا دیا جاتا ہے کہ یہ احساس دلوں تک اتر جاتا ہے اور یہ احساس دلوں کی گہرائیوں تک اتر کر انسانی ضمیر کو روشن کرتا ہے اور اسی روشنی میں مقاصد اور رجحانات اور نصب العین متعین ہوتے ہیں ۔

النساء 4:103

(آیت) ” نمبر 102 تا 103۔ جو شخص قرآن کے اسرار و رموز پر غور کرتا ہے اور جو شخص ربانی منہاج تربیت میں فکر کرتا ہے خصوصا اس سبق پر تو اس پر عجیب اسرار و رموز کا انکشاف ہوتا ہے ۔ اس سبق کے اندر ایسے لمحات فکر واحساس آتے ہیں جن کا اثر انسان کی روح کی گہرائیوں تک جا اترتا ہے ۔ ذرا میدان معرکہ کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں : قرآن کریم کی یہ آیت محض ایک فقہی اور قانونی مسئلہ نہیں بیان کرتی کہ صلوۃ الخوف اس طرح ہوگی اس کے اندر تعلیم وتربیت کا بیشمار سامان ہے جس کے ذریعے ایک انقلابی جماعت کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے اور ساتھ ساتھ اسے انقلابی عمل سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے ۔ آیت سے جو پہلی بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اسلام میں نماز کی اس قدر اہمیت ہے کہ میدان کارزار کے اندر بھی نماز کو نہیں چھوڑا جاتا اور یہ بات ایمانی نقطہ نظر سے بالکل واضح ہے کہ نماز میدان کار زار کے اندر ایک بہترین ہتھیار ہے بلکہ یہ سب ہتھیاروں سے زیادہ اہم ہے اور ہر معرکے کے اندر اس ہتھیار سے فائدہ اٹھانا بہت ہی ضروری ہے ۔ اس معرکے کے مزاج اور اس کی فضا کے ساتھ نماز کا گہرا تعلق ہے ۔ یہ ابتدائی دور کے اسلامی دستے جن کی تربیت ربانی اور قرآنی منہاج کے ساتھ کی گئی تھی ‘ وہ اپنے دشمن کا مقابلہ اس اسلحہ کے ساتھ کرتے تھے جس میں وہ دشمن پر فوقیت رکھتے تھے ۔ وہ اپنے دشمنوں پر یہ فوقیت رکھتے تھے کہ وہ صرف ایک الہ وحدہ لاشریک کو مانتے تھے ۔ انہوں نے اپنے رب کو اچھی طرح پہچان لیا تھا اور ان کو یہ احساس پوری طرح حاصل ہوتا تھا کہ ان کا وہ الہ پوری طرح ان کے ساتھ شریک جنگ ہے ۔ وہ مقصدیت کے اعتبار سے بھی دشمن پر فوقیت رکھتے تھے ۔ ان کا نصب العین بلند تھا اور وہ بھی اسے سب سے اونچا ہدف سمجھتے تھے ۔ ان کا تصور کائنات ‘ تصور حیات اور تصور غایت وجود انسانی ہر دشمن کے مقابلے میں بلند تھا ۔ اس برتر نظام زندگی کے تحت ان کی جو تنظیم وجود میں آئی تھی اس میں بھی وہ دشمن کے مقابلے میں برتر تھے ۔ میدان جگن میں نماز ان تمام برتریوں کا اشارہ تھی اور ہر وقت ان کو یہ سبق اور شعور یاد دلاتی تھی کہ وہ برتر ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نماز میدان کار زار میں ان کے لئے ایک اعلی ترین اسلحہ تھی بلکہ ان کا انحصار ہی اس اسلحہ پر تھا ۔ دوسری بات جو ان آیات کے ضمن میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ اہل ایمان روحانی طور پر تیار اور بیدار ہیں اور دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہیں۔ دشمن بھی گھات میں بیٹھا ہے اور اہل ایمان کی طرف سے غفلت کی ایک مختصر سی گھڑی کے انتظار میں ہے کہ ذرا وہ غافل ہو اور وہ ان کا اسلحہ اور سازو سامان سب پر قبضہ کر کے اچانک حملہ آور ہوجائے ۔ اس تنبیہ ڈراوے اور ثابت قدمی اور اطمینان کی تلقین کے ساتھ ہی بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں سے تمہارا مقابلہ ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک توہین آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ایک طرف سے سخت حکم ہے کہ حالت بیداری اور تیاری میں رہو اور دوسری طرف یہ یقین دہانی ہے کہ مطمئن رہو ‘ ایک طرف سخت حساس اور چوکنا رہنے کی ہدایت اور دوسری جانب سے پورا اطمینان ۔ یہ ہے وہ منہاج جس کے مطابق اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تربیت دیتے ہیں اس لئے کہ دشمن سخت مکار ہے اور وہ اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرسکتا ہے ۔ صلوۃ الخوف کی کیفیت میں فقہاء کا اختلاف ہے ۔ یہ مسائل انہوں نے اسی آیت سے لئے ہیں ۔ ہم صرف عام کیفیت بیان کریں گے اور فقہی تفصیلات میں نہیں جائیں گے ۔ (آیت) ” واذا کنت فیھم فاقمت لھم الصلوۃ فلتقم طائفۃ منھم معک ولیاخذوا اسلحتھم فاذا سجدوا فلیکونوا من ورآء کم ولیات طائفۃ اخری لم یصلوا فلیصلوا معک ولیاخذوا حذرھم اسلحتھم “۔ (4 : 102) (اور اے نبی ‘ جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور (حالت جنگ میں) انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہو تو چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اپنے اسلحہ لئے رہے ‘ پھر جب وہ سجدہ کرلے تو پیچھے چلا جائے اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آکر تمہارے ساتھ نماز پڑھے اور وہ بھی چوکنا رہے اور اپنے اسلحہ لئے رہے) مطلب یہ ہے کہ آپ موجود ہوں اور ان کے لئے امامت کر رہے ہوں تو ان میں سے ایک فریق آپ کے پیچھے پہلی رکعت پڑھ لے اور دوسرا فریق اسلحہ لے کر چوکیداری کرے اور جب پہلا فریق رکعت پڑھ لے تو پھر وہ چلا جائے اور چوکیداری پر بمعہ اسلحہ کھڑا ہوجائے اور دوسرا آجائے اور وہ آپ کے پیچھے ایک رکعت پڑھ لے ۔ اس طرح آپ کی نماز تمام ہوجائے گی اور آپ سلام پھیر لیں گے ۔ اس کے بعد پہلا فریق آئے گا اور اس کی جو ایک رکعت رہتی ہے وہ پڑھ لے گا اور چلا جائے گا ۔ یہ ایک رکعت اکیلی ہوگی ‘ پھر یہ فریق جائے ‘ چوکیداری پر کھڑا ہو اور دوسرا فریق آئے اور اس کی جو ایک رکعت رہ گئی ہو پڑھے جبکہ پہلا فریق چوکیداری کرے ۔ اس طرح دونوں فریق امام کے ساتھ نماز پڑھ لیں گے ‘ رسول اللہ ﷺ کی امامت میں اور آپ کے بعد جو خلفاء اور امراء آئیں گے ان کیلئے بھی یہی حکم ہے ۔ (آیت) ” ود الذین کفروا لوتغفلون عن اسلحتکم وامتعتکم فیملون علیکم میلۃ واحدۃ (4 : 102) (کیونکہ کفار اس تاک میں ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان کی طرف سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر یکبارگی ٹوٹ پڑیں) کفار کی جانب سے مومنوں کے خلاف یہ ایسی خواہش ہے جو ہمیشہ ان کے دلوں میں پائی جاتی ہے ۔ ماہ وسال گزر رہے ہیں ‘ صدیاں بیت گئی ہیں اور آج بھی کفار کی خواہش یہی ہے ‘ یہ ہے وہ حقیقت جو اللہ تعالیٰ نے پہلی جماعت مومنہ کے دل میں بٹھائی تھی اور آج بھی اسی کی تاکید ہو رہی ہے ۔ یہ درست ہے کہ اللہ اس وقت ان لوگوں کے لئے جنگی اسکیم تیار فرماتا تھا لیکن صلوۃ الخوف میں ‘ جس طرح کہ ہم نے سمجھا ‘ ہمارے لئے بھی جنگی اسکیم موجود ہے ۔ یہ احتیاط اور یہ نفساتی تیاری اور یہ مسلسل ہتھیار بند رہنا ہر وقت لازمی نہیں ہے ‘ نہ مناسب ہے کہ مسلمانوں کو محض مشقت میں ڈالنے کے لئے دائمی حکم دیا جائے لیکن جس قدر ان سے ہو سکے وہ ایسا کریں ۔ (آیت) ” ولا جناح علیکم ان کان بکم اذی من مطر او کنتم مرضی ان تضعوا اسلحتکم “۔ (4 : 102) (البتہ اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرو یا بیمار ہو تو اسلحہ رکھ دینے میں مضائقہ نہیں) ایسے حالات میں اسلحہ اٹھانا مشکل ہوتا ہے ‘ اور مفید بھی نہیں ہوتا ۔ محض احتیاط ہی کافی ہوتی ہے ۔ اور اللہ کی مدد پر بھرپور اعتماد۔ (آیت) ” وخذوا حذرکم ان اللہ اعد للکفرین عذابا مھینا) (4 : 102) (مگر پھر بھی چوکنے رہو یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے) ممکن ہے کہ یہی احتیاط یہی بیداری اور یہی پاسداری اہل کفر کے عذاب کا وسیلہ بن جائے ‘ جو اللہ نے ان کے لئے تیار کیا ہے اور سخت توہین آمیز ہے اس طرح اہل ایمان اللہ کی قدرت کا ذریعہ بن جائیں اور اللہ کی مشیت ان کے ذریعے پوری ہو ۔ مذکورہ بالا احتیاط کے ساتھ ساتھ یہ اہل ایمان کے لئے مژدہ اطمینان ہے ۔ اس لئے کہ اہل ایمان کو پورا یقین تھا کہ دشمنان اسلام کے خلاف اللہ ان کا مددگار ہے اور دشمنان اسلام کے لئے توہین آمیز عذاب مقدر ہے ۔ اور ہو سکتا ہے کہ وہی دست قدرت ہوں ۔ (آیت) ” فاذا قضیتم الصلوۃ فاذکروا اللہ قیما وقعودا وعلی جنوبکم فاذا اطماننتم فاقیموا الصلوۃ ان الصلوۃ کانت علی المومنین کتبا موقاتا “۔ (4 : 103) (پھر جب نماز سے فارغ ہوجاؤ تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو اور جب اطمینان نصیب ہوجائے تو پوری نماز پڑھو ۔ نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ ایمان پر لازم کیا گیا ہے) حکم دیا جاتا ہے کہ ہر حال میں دلوں کو اللہ کے ساتھ جوڑے رکھو ‘ نماز میں بھی اور نماز کے باہر رہتے ہوئے بھی اس لئے کہ تعلق باللہ سب سے بڑی جنگی تیاری ہے اور وہ ہتھیار ہے جو کبھی زنگ آلود نہیں ہوتا۔ اطمینان اور امن کے وقت حکم یہ ہے کہ نماز پوری کی پوری بمع جملہ ارکان اطمینان کے ساتھ ادا کرو اور اس میں قصر نہ کرو جیسا کہ کہا گیا اس لئے کہ قصر کی رخصت کچھ حالات کے تحت تھی ۔ اس لئے کہ نماز ایک ایسا فریضہ ہے جسے مقررہ وقت پر ادا کرنا لازمی ہے اور جب حالت خوف نہ رہے تو اس کی ادائیگی اسی طرح ہوگی جس طرح عام طور پر ہوتی ہے ۔ ” نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندی وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے “ کے الفاظ سے ظاہریہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر نماز قضا ہوجائے تو پھر اس کی ادائیگی نہیں ہوسکتی ۔ اس نے نزدیک قضا نماز پڑھنے سے فرض ادا نہیں ہوتا ۔ وہ کہتے ہیں فرض نماز وقت مقررہ کے بعد نہیں ہوتی ۔ اگر وقت چلا جائے تو پھر نماز پڑھنے اور ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ البتہ جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ ادا ہوجاتی ہے ۔ ہاں قضا کی ادائیگی بہت جلدی ہونا چاہئے اور خواہ مخواہ تاخیر کرنا مناسب نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ مزید فروعی اختلافا میں ہم داخل اندازی نہیں کرتے ۔ اب اس سبق کا خاتمہ قریب ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ جہاد کا عمل جاری رکھو ‘ اگرچہ تمہیں رنج والم کا سامنا کرنا پڑے اور وہ تمہارے لئے مشقت اور تھکاوٹ کا باعث ہو ۔ ایک ایسا تیز احساس دلایا جاتا ہے اور اس قدر تیز جھٹکا دیا جاتا ہے کہ یہ احساس دلوں تک اتر جاتا ہے اور یہ احساس دلوں کی گہرائیوں تک اتر کر انسانی ضمیر کو روشن کرتا ہے اور اسی روشنی میں مقاصد اور رجحانات اور نصب العین متعین ہوتے ہیں ۔

النساء 4:104

(آیت) ” نمبر 104۔ یہ معدودے چند الفاظ ہیں ‘ جن میں دو ٹوک اور واضح خطوط کھینچ دیے گئے ہیں ‘ یہ بتاتے ہیں کہ ایک مومن کی راہ کس قدر طویل اور پر مشقت ہے ۔ مومنین ہمیشہ چکی کے دو پاٹوں کے درمیان ہوتے ہیں ۔ بیشک اس دائمی معرکے میں وہ رنج والم اور گہرے زخم پاتے ہیں لیکن وہ یہ سوچیں کہ کیا یہ تکالیف صرف ان پر ہی آئی ہیں یا دشمنوں کو بھی انہیں جیس تکالیف سے سابقہ درپیش ہے ۔ دشمن بھی تو رنج والم سے دوچار ہوتے ہیں ۔ انہیں بھی تو زخم آتے ہیں۔ لیکن تم دونوں میں فرق یہ ہے کہ اہل ایمان تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں اور اللہ سے شاندار جزا کے امیدوار ہیں اور ان کے دشمنوں کی حالت یہ ہے کہ وہ بےمقصد اور بےفائدہ جنگ لڑ رہے ہیں ‘ وہ اللہ کے سامنے تو کچھ لے کر جانے والے نہیں ‘ نہ انہیں اس دنیا میں اللہ کی جانب سے کوئی امید ہے اور نہ آخرت میں کوئی توقع ہے ۔۔۔۔۔۔ پس اگر کفار اس معرکے پر مصر ہیں تو مسلمانوں کے لئے تو مناسب ہے کہ وہ اس سے زیادہ اصرار کریں ۔ اگر کفار اس معرکے میں گہرے زخم برداشت کرتے ہیں تو اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ ان سے زیادہ زخم کھاتے جائیں اور صبر کریں ۔ اور ان کو چاہئے کہ وہ ان اہل کفار کا پیچھا کریں ‘ جہاد و قتال جاری رکھیں اور انہیں اس حالت تک پہنچا دیں کہ ان کی قوت ٹوٹ جائے اور وہ کسی مسلمان کے دین اور جان ومال کے لئے فتنہ نہ رہیں ۔ ہر جدوجہد میں نظریہ حیات برتر رہتا ہے بعض ایسے لمحات بھی آتے ہیں کہ مصائب انسان کی قوت برداشت سے بڑھ جاتے ہیں ۔ درد ناقابل برداشت ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں مومن کو خاص زاد وعتاد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس کا فیضان سرچشمہ ایمان اور نظریہ سے ہوتا ہے اور یہ اللہ کی یاد ہوتی ہے جو ہر زخم کے لئے بہتر مرہم ہوتی ہے ۔ یہ ہدایات ‘ اس وقت ایک متوازن اور برابری کی جنگ کے اندر دی جارہی تھیں ۔ اس میں فریقین برسرپیکار تھے دونوں کا رنج والم سے سابقہ تھا اور دونوں اسلحہ بند تھے ۔۔۔۔۔ لیکن اہل ایمان پر ایسا وقت بھی آسکتا ہے جس میں معرکہ متوازن نہ ہو ‘ کھلی جنگ نہ ہو رہی ہو ‘ ایسے حالات میں بھی یہی اصول ہے ۔ باطل اہل اسلام کو کبھی بھی برداشت نہیں کرتا اگرچہ باطل غالب ہو اور اسلامی عقیدہ مغلوب ہو اس لئے کہ باطل کے اندر ایک تضاد پایا جاتا ہے ۔ اس داخلی تضاد کی وجہ سے وہ بےچین ہوتا ہے ۔ وہ خود اپنے اندرون کی کشمکش سے دو چار ہوتا ہے پھر وہ فطرت انسانی اور فطرت اشیاء کے ساتھ بھی برسرپیکار ہوتا ہے ۔ گروہ مومن کی راہ ایسے حالات میں بھی یہی ہے کہ وہ برداشت کرے اور ہمت نہ ہارے ۔ اسے یہ حقیقت پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اگرچہ وہ مصائب کا شکار ہے لیکن اس کا دشمن اندرونی تضاد کے روگ کا بیمار ہے ۔ روگ کی بھی تو قسمیں ہیں دلی چرکے بدن کے زخموں سے زیادہ گہرے ہوتے ہیں اور دشمن کو ایسے زخم آتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتے ۔ (آیت) ” وترجون من اللہ مالا یرجون ‘ (4 : 104) (اور تم اللہ سے اس چیز کے امیدوار ہو جس کے وہ امیدوار نہیں) اور یہ وہ مرہم ہے جو دشمن کو میسر نہیں ہے یہی وہ مقام ہے جہاں سے دونوں فریقوں کی راہیں جدا ہوتی ہیں اور اس بات کو اچھی طرح اللہ جانتا ہے ۔ (آیت) ” وکان اللہ علیما حکیما “۔ (4 : 104) اللہ کو معلوم ہے کہ دلوں اور جذبوں کا مداوا کیا ہے اور ان کے ساتھ ڈیلنگ کس طرح ہوتی ہے اور دلوں کے زخموں کا علاج کیا ہے ‘ روح کی مرہم کیا ہے ؟ جس سے اہل کفر بیخبر اور محروم ہیں۔

النساء 4:105

درس نمبر 39 ایک نظر میں : ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔ ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔ رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔ وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو اس نے جلدی سے یہ زرہ ایک یہودی زید ابن سمین کے گھر پھینک دی اور اپنے خاندان کے بعض لوگوں سے کہا کہ میں نے زرہ غائب کردی ہے اور فلاں کے گھر میں پھینک دی ہے اور یہ جلد ہی اس کے گھر سے برآمد ہوگی ۔ تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور یہ کہو کہ ہمارے بھائی تو بےگناہ ہیں اور فلاں شخص چور ہے اور ہم نے ۔۔۔۔ اس سلسلے میں معلومات جمع کرلی ہیں ۔ آپ برسرعام ہمارے آدمی کی برات فرمائیں اور اس کی صفائی فرمائی دیں اس لئے کہ اگر اسے آپ کے ذریعے اللہ نے باعزت طور پر بری نہ کیا تو اس کی عزت خاک میں مل جائے گی ۔ جب حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ فی الواقعہ زرہ یہودی کے گھر سے برآمد ہوگئی ہے تو آپ نے مجمع میں اعلان کردیا کہ ابن ابیرق بےگناہ ہے ‘ اس لئے کہ اس کے خاندان نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچا ہمارے ایک مسلمان خاندان کے گھر آئے اور اسے چوری کا ملزم بنا دیا اور یہ کام انہوں نے بغیر کسی ثبوت اور شہادت کے کیا ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ۔ میں نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے جان بوجھ کر ایک ایسے خاندان کے خلاف چوری کا الزام عائد کردیا جن کا اسلام اور نیکی مشہور ومعروف ہیں اور بغیر ثبوت کے “۔ میں واپس ہوگیا ‘ لیکن میری حالت یہ تھی کہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر میری تمام دولت چلی جاتی اور میں حضور ﷺ سے بات نہ کرتا تو کہتا اچھا ہوتا ۔ اس پر میرے چچا رعافہ آئے تو مجھے کہا بھتیجے ! یہ تو نے کیا کیا ؟ تو میں نے اسے یہ بات بتائی جو حضور ﷺ نے کہی تھی تو رفاعہ نے کہا اللہ ہی مددگار ہے ۔ اس پر زیادہ وقت نہ گزرا کہ یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما “۔ (4 : 105) ” یعنی آپ بنی ابیرق کے لئے وکیل صفائی نہ بنیں ۔ ” خصیم “ کے معنی وکیل ‘ دفاع کرنے والے اور کسی کی جانب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے والے کے ہوتے ہیں ۔ آپ نے قتادہ ؓ کو جو کہا اس سے اللہ کی مغفرت طلب کریں ‘ بیشک اللہ غفور الرحیم ہے ۔ مزید یہ آیات ۔ (ولاتجادل) سے (رحیما) تک ۔۔۔۔۔ اگر وہ معافی چاہتے تو اللہ ان کو معاف کردیتا ۔۔۔۔۔ اسی طرح (ومن یکسب) سے (اثما مبینا) تک اور (ولو لا فضل اللہ) سے (اجرا عظیما) تک ۔۔۔۔۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ زرہ لے کر آئے اور رفاعہ کو دے دی ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب میرے چچا کے پاس زرہ پہنچی ۔ وہ بوڑھے تھے اور جاہلیت ہی میں ان کی نظر ختم ہوگئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ مجبور ہو کر مسلمان ہوگئے ہیں ۔ جب میں نے ان کو زرہ دی تو انہوں نے یہ اللہ کی راہ میں ہوگئی ۔ یہاں سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ صحیح طرح مسلمان تھے ۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر (چور) مشرکین کے ساتھ مل گیا ۔ اس پر مزید آیات کا نزول ہوا۔ (آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (115) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (116) (4 : 115۔ 116) مسئلہ : صرف یہ نہ تھا کہ ایک بےگناہ بری کردیا گیا جس پر سازش کی وجہ سے الزام لگایا تھا اگرچہ اللہ کے ہاں کسی بےگناہ کا بری کرنا بھی ایک عظیم مسئلہ ہے ‘ مسئلہ تو اس سے بھی بڑا اور اہم تھا ۔ یعنی انصاف کی ترازو کو بالکل برابر کرنا مطلوب تھا کہ ہو کسی ایک طرف جھک نہ جائے ۔ نہ نفسانی خواہشات کی طرف اور نہ عصبیت کی وجہ سے ۔ نہ دوستی اور دشمنی کی وجہ سے ‘ میزان عدل میں کسی بھی طرح جھکاؤ نہ آجائے ۔ غرض جو حالات بھی ہوں ‘ انصاف ہو اور بےلاگ ہو۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس جدید معاشرے کو تمام آلائشوں سے پاک کردیا جائے اور اس کے اندر سے جاہلیت اور عصبیت کے باقی ماندہ آثار کو بھی مٹا دیا جائے چاہے یہ آثار جس شکل و صورت میں بھی ہوں ۔ خصوصا جبکہ ان کا تعلق عوام الناس کے مسئلہ عدل سے ہو ۔ اس کے بعد ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جانی تھی جو بالکل منفرد ہو اور پوری تاریخ انسانی میں بےمثال ہو ۔ یہ بنیاد بالکل پاک وصاف اور مستحکم اصولوں پر رکھنی تھی ۔ جن میں تعصب ‘ ذاتی رجحان ‘ وقتی مصلحتوں اور ذاتی خواہشات کا کوئی دخل نہ ہو ۔ اس مقدمے میں بیشمار اسباب موجود تھے جن کی وجہ سے مجرموں کے ساتھ نرمی کی جاسکتی تھی یا کم ازکم انکے بارے میں یہ آیات نازل نہ ہوتیں اور ان پر تنقید نہ کی جاتی ۔ ان کو اس طرح سرعام رسوا نہ کیا جاتا یا ان کی سرعام پردہ دری نہ کی جاتی ۔ پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی تھی کہ اس مقدمے میں پہلا ملزم یہودی تھا اور یہودی وہ لوگ تھے کہ ان کے ترکش کا ہر تیر اسلام کے خلاف استعمال ہوتا تھا ۔ یہودی وہ لوگ تھے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کو ان کی جانب سے تلخ ترین اذیتیں دی جاتی تھیں اور خدا کا کرنا ایسا ہے کہ ہر دور میں وہ مسلمانوں کے خلاف نیش زنی کرتے رہتے ہیں ۔ پھر یہودیوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہو نہ کسی کا حق تسلیم کرتے تھے ‘ نہ کسی کے ساتھ عدل و انصاف کرتے تھے ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے ہاں کوئی اخلاقی قدر بھی نہ تھی اور مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تو وہ کسی اخلاقی اصول کے قائل ہی نہ تھے ۔ ایک سبب یہ بھی تھا کہ اصل ملزم انصاری تھے اور انصار وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور کو پناہ دی اور آپ کی نصرت کی ۔ پھر انصار کے بعض گھرانوں کے درمیان جاہلیت سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں اور جس طرح الزام اور تفتیش کا رخ یہودیوں کی طرف مڑ گیا تھا اس وقت ان تحقیقات کو یہاں سے ڈراپ کر کے اہل اسلام کی صفوں کے درمیان انتشار سے بچا جاسکتا تھا ۔ ایک تیسرا جواز یہ بھی تھا کہ اس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں انصار کو ورغلانے کی خاطر ایک نیا ہتھیار آرہا تھا ۔ یہ کہ انصار اور مسلمان ایک دوسرے کی بھی چوریاں کرتے ہیں اور پھر یہودیوں پر الزام دھرتے ہیں ۔ یہودی اس واقعہ کو بھی اسلام کے خلاف استعمال کرسکتے تھے ۔ لیکن یہ معاملہ ان معمولی باتوں کی نسبت بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا ‘ ان تمام خدشات اور اعتبارات سے یہ معاملہ بہت اہم اور بلند تھا ۔ یہ باتیں اسلامی نقطہ نظر سے اہمیت نہ رکھتی تھیں ۔ اسلام کے پیش نظر یہ مقصد تھا کہ اس جماعت کو اس قدر تربیت دی جائے کہ وہ نظام خلافت ارضی اور منصب قیادت بشری کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ امت پوری انسانیت کی قیادت اور پورے کرہ ارض پر خلافت کے لئے اس وقت تک تیار نہیں ہو سکتی تھی جب تک اس کی تربیت نہایت ہی مستحکم اور برتر اصولوں پر نہ کی جائے جب تک اسلامی نظام زندگی کے اصول اس کی زندگی کا جزء نہ بن جائیں اس کے وجود کو پوری طرح دھو کر اور نچوڑ کر پاک وصاف نہ کردیا جائے اور اسے ہر قسم کی انسانی کمزوریوں سے پاک نہ کردیا جائے ‘ جو جاہلیت کے دور سے اس کی شخصیت کا جزء تھیں ۔ نیز جب تک خود اس امت کے درمیان پختہ نظام عدل قائم نہ کردیا جائے تاکہ وہ اس کے مطابق تمام لوگوں کے درمیان انصاف کریں ۔ اور ان کا یہ انصاف اور ان کی یہ عدالت تمام انسانی کمزوریوں سے پاک ہو اور وہ تمام ظاہری مصلحتوں سے صرف نظر کرنے کے قابل ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں اور اس مشکل ترین مرحلے میں ایک یہودی کے واقعہ کے ذریعے امت مسلمہ کو عدل و انصاف کے راستے پر ڈالا ایسے حالات میں کہ اس دور میں مسلمان یہودیوں کی جانب سے بیشمار ریشہ دوانیوں کا شکار تھے اور وہ پورے عالم عرب میں مسلمانوں کے خلاف محاذ بنانے میں بھی مصروف تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے بھی معاون و مددگار تھے ‘ اور وہ دین اسلام کے خلاف اپنے ترکش کا ہر تیر استعمال کر رہے تھے اور اس کے خلاف ہر سازش کر رہے تھے ۔ مسلمانان مدینہ کے لئے مدینہ میں نہایت ہی خطرناک حالات تھے جہاں وہ دشمنیوں اور سازشوں میں گھرے ہوئے تھے اور یہ سب سازشیں یہودیوں کی طرف سے تھیں ۔ اللہ نے ان حالات میں اپنے بندوں کو ہدایت دینے اور نشان راہ متعین کرنے کے لئے ایک یہودی کو چنا ۔ ان حالات میں ایک یہودی کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ کہ اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ سمجھا سکے کہ عدل کا معیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس امت کو جو سکھانا چاہتے تھے وہ سکھائے ۔ لہذا اس معاملے میں اللہ کی پالیسی میں کوئی سیاست ‘ کوئی نام نہاد دانشوری اور کوئی زبانی ہیر پھیر نہ تھا ۔ اور لیپاپوتی اور واقعات کو چھپانے کی مہارت سے بھی کام نہ لیا گیا اور صاف صاف بات کی گئی ۔ اس مقدمے کے فیصلے میں تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا اور تمام ظروف واحوال سے صرف نظر کیا گیا ۔ معاملہ نہایت ہی حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ تھا ۔ اس میں کسی قسم کی ملمع کاری اور لیپاپوتی نہ تھی ۔ حقیقت پسندی اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور اس امت کے اوصاف میں سے یہ ایک اہم وصف ہے ۔ یہ اس امت کے مقاصد میں شامل ہے کہ وہ لوگوں عدل پھیلائے اور عدل کو اس معیار پر پہنچا دے جہاں تک کبھی انسانیت نہ پہنچی اور صرف اللہ کی جانب سے وحی اور ہدایت ہی کے نتیجے میں یہ امت یہاں تک پہنچی ۔ جب انسان اس مقام بلند تک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ تاریخ کے تمام ازمنہ اور ادوار میں انسانی پستیوں کے گہرے گڑھے میں پڑے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ اس مقام بلند تک پہنچنے کی راہ میں نہایت ہی گہری گھائیاں ہیں ۔ اس راہ میں جگہ جگہ چالاکیاں ‘ ظاہر داریاں ‘ سیاست ‘ عیاری ‘ بلاغت ‘ مہارت ‘ حکومت کی مصلحت ‘ ملک کی مصلحت اور پارٹی کی مصلحت وغیرہ کی بےپناہ رکاوٹیں ہیں جو مختلف ناموں اور مختلف عنوانوں کے ساتھ عدل و انصاف کی راہ روکے کھڑی ہیں ۔ اور اگر اس بلندی سے انسان تمام نظامہائے زندگی کو دقت نظر سے دیکھے تو اسے دنیا میں گندگی ہی گندگی نظر آئے ۔ اس بلندی سے انسان جب نگاہ ڈالتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ امت مسلمہ اس میدان میں یکہ و تنہا نظر آتی ہے ۔ جو زندگی کی ان غلاظتوں سے بلند ہو کر اس پاکیزہ مقام تک پہنچی ہے اور صرف امت مسلمہ کے لینڈ مارک شاہراہ تاریخ میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور عدل و انصاف کی اس بلند چوٹی تک پہنچنے کے لئے صرف امت مسلمہ نے راہیں متعین کی ہیں اور وہ اس میدان میں منفرد ہے ۔ رہی وہ گندگی اور وہ تعفن جسے جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ میں عدالت کا نام دیا جاتا ہے تو مناسب یہی ہے کہ ہم اس گندگی کو دبی رہنے دیں کیونکہ اس پاکیزہ ماحول کو اس کا تعفن گندہ کر دے گا اور ہر طرف بدبو پھیل جائے گی ۔ مناسب ہے کہ اب ہم آیات پر ذرا تفصیل سے بات کریں۔ درس نمبر 39 تشریح آیات : 105۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 113۔ (آیت) ” نمبر 105 تا 113۔ A) بات نہات ہی سختی سے کہی جارہی ہے ‘ یوں نظر آتا ہے کہ سچائی کے حق میں غیض وغضب سے کام لیا جا رہا ہے اور عدل قائم کرنے کے لئے سخت غیرت کا اظہار کیا جارہا ہے اور جذبات ‘ بات کے ماحول اور فضا سے ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اس کا اظہار اس بات سے بھی ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ نازل کی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اللہ کی اس کتاب کے مطابق فیصلے کریں ۔ آپ کو سختی سے منع کیا گیا کہ آپ خائن لوگوں کے طرفدار نہ ہوجائیں اور نہ ان کی جانب سے دفاع کریں اور آپ نے جو مجادلہ ان خائن لوگوں کی طرف سے کیا ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما (105) واستغفر اللہ ان اللہ کان غفورا رحیما (106) (4 : 105۔ 106) (اے نبی ﷺ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے ‘ تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ‘ تم بدیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو ‘ ۔ اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو ‘ وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ A اس کے بعد اس ممانعت کو دوبارہ مکرر بیان کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے آپ نے خصومت کی وہ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ خائن ہیں اور اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (آیت) ” ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما (4 : 107) (جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہی تم ان کی حمایت نہ کرو ‘ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو ۔ ) بظاہر تو انہوں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ خیانت کی تھی لیکن درحقیقت وہ اپنے ساتھ خیانت کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی جماعت اور پنے نظام کے خلاف خیانت کی ۔ اپنے اصولوں اور انکی ممتاز حیثیت کے خلاف خیانت کی ‘ انہوں نے اس امت کے خلاف خیانت کی جس کے وہ بھی افراد تھے ۔۔۔۔۔ پھر ایک دوسرے پہلو سے بھی وہ اپنے نفس کے خلاف خیانت کر رہے تھے ۔ وہ اپنے نفوس کو ایسے جرم میں ملوث کر رہے تھے جس کی سزا بہت ہی سخت تھی ۔ جہاں اللہ انہیں مجبور کرے گا اور پکڑ کر سزا دے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنے نفس کے خلاف بھی خیانت ہے ۔ ایک تیسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو جھوٹ کہہ کر اور جرم کر کے خیانت میں ملوث کر رہے تھے ۔ (آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما “۔ (4 : 107) (اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو) اور اللہ کی ناپسندیدگی تمام سزاؤں میں سے بڑی سزا ہے ۔ اس کے اندر ایک دوسرا اشارہ بھی ہے ‘ کہ جو لوگ اللہ کے محبوب نہیں ‘ چاہئے کہ کوئی ان کی حمایت نہ کرے ۔ کوئی ان کی وکالت نہ کرے ‘ اس لئے کہ ارتکاب جرم کرنے کی وجہ سے اللہ نے انہیں ناپسند کرلیا ہے ۔ ان لوگوں کو خیانت کار اور معصیت پیشہ کہنے کے بعد اب ان کی تصویر کشی اس طرح کی جاتی ہے اور ان کا پردہ یوں چاک ہوتا ہے : (آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ وھو معھم اذیبیتون مالا یرضی من القول ۔۔۔۔۔ “۔ (4 : 108) (یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے ‘ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں ) انکی یہ تصویر نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ اس پر انسان کو بےاختیار ہنسی آتی ہے ۔ اس میں ان کی کمزوری اور سازش صاف صاف نظر آتی ہے ۔ یہ راتوں کو جمع ہوتے اور اپنا جرم چھپانے کی سازشیں کرتے ہیں اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ لوگوں سے یہ اپنا جرم چھپا سکتے مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے ۔ لوگوں سے چھپنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ لوگ تو انہیں نفع ونقصان سے نہی بچا سکتے ۔ اور جو ذات نفع ونقصان کی مالک ہے اس سے وہ چھپ نہیں سکتے ۔ وہ تو ان کے ساتھ ہوتی ہے جب وہ سازشیں کرتے ہیں ۔ وہ ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ وہ ملمع کاری کرتے ہیں اور اللہ کی مرضی کے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔ ان کا موقف کیسا بودا ہے کہ جس سے چھپاتے ہیں اس سے تو چھپ نہیں سکتے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ (آیت) ” وکان اللہ بما یعملون محیطا “۔ (4 : 108) (ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے) اگر اللہ مطلقا تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو وہ جو رات کو خفیہ سازشیں کرتے ہیں ان کا کیا فائدہ ہوگا ۔ اللہ تو اس مجلس میں ان کے ساتھ ہوتا ہے ہر چیز اس کی نظر میں ہے اور اس کے قبضے میں ہے ۔ اور یہ غضبناک حملہ ابھی جاری ہے اور اس کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو خائن لوگوں اور مجرموں کی طرف سے مجادلہ کرتے ہیں ۔ (آیت) ” ھانتم ھولآء جدلتم عنھم فی الحیوۃ الدنیا فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیمۃ ام من یکون علیھم وکیلا “۔ (4 : 109) (ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا ‘ مگر قیامت کے روز ان کے لئے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا ؟ آخر وہاں کون ان کا وکیل ہوگا ؟ اس بھاری دن سے تو وہ ہر گزنہ بچ سکیں گے ۔ ) خائنوں اور معصیت پیشہ لوگوں پر اس حملے کے بعد اور ان کے حامیوں ‘ مجادلوں اور وکیلوں کی مذمت کرنے کے بعد اب اس برے فعل کے بارے میں اور اس کے نتائج کے بارے میں اصولی بات کی جاتی ہے ۔ اس کا حساب و کتاب آخرت میں کیا ہوگا اور اس کی عمومی سزا کیا ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں اور پھر یہ کہ جو معاملہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم بھی مجرموں اور ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھو اور اللہ کے بتائے ہوئے اخلاق اپناؤ خصوصا عدل و انصاف کے معاملے میں ۔

النساء 4:106

درس نمبر 39 ایک نظر میں : ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔ ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔ رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔ وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو اس نے جلدی سے یہ زرہ ایک یہودی زید ابن سمین کے گھر پھینک دی اور اپنے خاندان کے بعض لوگوں سے کہا کہ میں نے زرہ غائب کردی ہے اور فلاں کے گھر میں پھینک دی ہے اور یہ جلد ہی اس کے گھر سے برآمد ہوگی ۔ تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور یہ کہو کہ ہمارے بھائی تو بےگناہ ہیں اور فلاں شخص چور ہے اور ہم نے ۔۔۔۔ اس سلسلے میں معلومات جمع کرلی ہیں ۔ آپ برسرعام ہمارے آدمی کی برات فرمائیں اور اس کی صفائی فرمائی دیں اس لئے کہ اگر اسے آپ کے ذریعے اللہ نے باعزت طور پر بری نہ کیا تو اس کی عزت خاک میں مل جائے گی ۔ جب حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ فی الواقعہ زرہ یہودی کے گھر سے برآمد ہوگئی ہے تو آپ نے مجمع میں اعلان کردیا کہ ابن ابیرق بےگناہ ہے ‘ اس لئے کہ اس کے خاندان نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچا ہمارے ایک مسلمان خاندان کے گھر آئے اور اسے چوری کا ملزم بنا دیا اور یہ کام انہوں نے بغیر کسی ثبوت اور شہادت کے کیا ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ۔ میں نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے جان بوجھ کر ایک ایسے خاندان کے خلاف چوری کا الزام عائد کردیا جن کا اسلام اور نیکی مشہور ومعروف ہیں اور بغیر ثبوت کے “۔ میں واپس ہوگیا ‘ لیکن میری حالت یہ تھی کہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر میری تمام دولت چلی جاتی اور میں حضور ﷺ سے بات نہ کرتا تو کہتا اچھا ہوتا ۔ اس پر میرے چچا رعافہ آئے تو مجھے کہا بھتیجے ! یہ تو نے کیا کیا ؟ تو میں نے اسے یہ بات بتائی جو حضور ﷺ نے کہی تھی تو رفاعہ نے کہا اللہ ہی مددگار ہے ۔ اس پر زیادہ وقت نہ گزرا کہ یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما “۔ (4 : 105) ” یعنی آپ بنی ابیرق کے لئے وکیل صفائی نہ بنیں ۔ ” خصیم “ کے معنی وکیل ‘ دفاع کرنے والے اور کسی کی جانب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے والے کے ہوتے ہیں ۔ آپ نے قتادہ ؓ کو جو کہا اس سے اللہ کی مغفرت طلب کریں ‘ بیشک اللہ غفور الرحیم ہے ۔ مزید یہ آیات ۔ (ولاتجادل) سے (رحیما) تک ۔۔۔۔۔ اگر وہ معافی چاہتے تو اللہ ان کو معاف کردیتا ۔۔۔۔۔ اسی طرح (ومن یکسب) سے (اثما مبینا) تک اور (ولو لا فضل اللہ) سے (اجرا عظیما) تک ۔۔۔۔۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ زرہ لے کر آئے اور رفاعہ کو دے دی ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب میرے چچا کے پاس زرہ پہنچی ۔ وہ بوڑھے تھے اور جاہلیت ہی میں ان کی نظر ختم ہوگئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ مجبور ہو کر مسلمان ہوگئے ہیں ۔ جب میں نے ان کو زرہ دی تو انہوں نے یہ اللہ کی راہ میں ہوگئی ۔ یہاں سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ صحیح طرح مسلمان تھے ۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر (چور) مشرکین کے ساتھ مل گیا ۔ اس پر مزید آیات کا نزول ہوا۔ (آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (115) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (116) (4 : 115۔ 116) مسئلہ : صرف یہ نہ تھا کہ ایک بےگناہ بری کردیا گیا جس پر سازش کی وجہ سے الزام لگایا تھا اگرچہ اللہ کے ہاں کسی بےگناہ کا بری کرنا بھی ایک عظیم مسئلہ ہے ‘ مسئلہ تو اس سے بھی بڑا اور اہم تھا ۔ یعنی انصاف کی ترازو کو بالکل برابر کرنا مطلوب تھا کہ ہو کسی ایک طرف جھک نہ جائے ۔ نہ نفسانی خواہشات کی طرف اور نہ عصبیت کی وجہ سے ۔ نہ دوستی اور دشمنی کی وجہ سے ‘ میزان عدل میں کسی بھی طرح جھکاؤ نہ آجائے ۔ غرض جو حالات بھی ہوں ‘ انصاف ہو اور بےلاگ ہو۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس جدید معاشرے کو تمام آلائشوں سے پاک کردیا جائے اور اس کے اندر سے جاہلیت اور عصبیت کے باقی ماندہ آثار کو بھی مٹا دیا جائے چاہے یہ آثار جس شکل و صورت میں بھی ہوں ۔ خصوصا جبکہ ان کا تعلق عوام الناس کے مسئلہ عدل سے ہو ۔ اس کے بعد ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جانی تھی جو بالکل منفرد ہو اور پوری تاریخ انسانی میں بےمثال ہو ۔ یہ بنیاد بالکل پاک وصاف اور مستحکم اصولوں پر رکھنی تھی ۔ جن میں تعصب ‘ ذاتی رجحان ‘ وقتی مصلحتوں اور ذاتی خواہشات کا کوئی دخل نہ ہو ۔ اس مقدمے میں بیشمار اسباب موجود تھے جن کی وجہ سے مجرموں کے ساتھ نرمی کی جاسکتی تھی یا کم ازکم انکے بارے میں یہ آیات نازل نہ ہوتیں اور ان پر تنقید نہ کی جاتی ۔ ان کو اس طرح سرعام رسوا نہ کیا جاتا یا ان کی سرعام پردہ دری نہ کی جاتی ۔ پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی تھی کہ اس مقدمے میں پہلا ملزم یہودی تھا اور یہودی وہ لوگ تھے کہ ان کے ترکش کا ہر تیر اسلام کے خلاف استعمال ہوتا تھا ۔ یہودی وہ لوگ تھے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کو ان کی جانب سے تلخ ترین اذیتیں دی جاتی تھیں اور خدا کا کرنا ایسا ہے کہ ہر دور میں وہ مسلمانوں کے خلاف نیش زنی کرتے رہتے ہیں ۔ پھر یہودیوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہو نہ کسی کا حق تسلیم کرتے تھے ‘ نہ کسی کے ساتھ عدل و انصاف کرتے تھے ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے ہاں کوئی اخلاقی قدر بھی نہ تھی اور مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تو وہ کسی اخلاقی اصول کے قائل ہی نہ تھے ۔ ایک سبب یہ بھی تھا کہ اصل ملزم انصاری تھے اور انصار وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور کو پناہ دی اور آپ کی نصرت کی ۔ پھر انصار کے بعض گھرانوں کے درمیان جاہلیت سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں اور جس طرح الزام اور تفتیش کا رخ یہودیوں کی طرف مڑ گیا تھا اس وقت ان تحقیقات کو یہاں سے ڈراپ کر کے اہل اسلام کی صفوں کے درمیان انتشار سے بچا جاسکتا تھا ۔ ایک تیسرا جواز یہ بھی تھا کہ اس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں انصار کو ورغلانے کی خاطر ایک نیا ہتھیار آرہا تھا ۔ یہ کہ انصار اور مسلمان ایک دوسرے کی بھی چوریاں کرتے ہیں اور پھر یہودیوں پر الزام دھرتے ہیں ۔ یہودی اس واقعہ کو بھی اسلام کے خلاف استعمال کرسکتے تھے ۔ لیکن یہ معاملہ ان معمولی باتوں کی نسبت بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا ‘ ان تمام خدشات اور اعتبارات سے یہ معاملہ بہت اہم اور بلند تھا ۔ یہ باتیں اسلامی نقطہ نظر سے اہمیت نہ رکھتی تھیں ۔ اسلام کے پیش نظر یہ مقصد تھا کہ اس جماعت کو اس قدر تربیت دی جائے کہ وہ نظام خلافت ارضی اور منصب قیادت بشری کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ امت پوری انسانیت کی قیادت اور پورے کرہ ارض پر خلافت کے لئے اس وقت تک تیار نہیں ہو سکتی تھی جب تک اس کی تربیت نہایت ہی مستحکم اور برتر اصولوں پر نہ کی جائے جب تک اسلامی نظام زندگی کے اصول اس کی زندگی کا جزء نہ بن جائیں اس کے وجود کو پوری طرح دھو کر اور نچوڑ کر پاک وصاف نہ کردیا جائے اور اسے ہر قسم کی انسانی کمزوریوں سے پاک نہ کردیا جائے ‘ جو جاہلیت کے دور سے اس کی شخصیت کا جزء تھیں ۔ نیز جب تک خود اس امت کے درمیان پختہ نظام عدل قائم نہ کردیا جائے تاکہ وہ اس کے مطابق تمام لوگوں کے درمیان انصاف کریں ۔ اور ان کا یہ انصاف اور ان کی یہ عدالت تمام انسانی کمزوریوں سے پاک ہو اور وہ تمام ظاہری مصلحتوں سے صرف نظر کرنے کے قابل ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں اور اس مشکل ترین مرحلے میں ایک یہودی کے واقعہ کے ذریعے امت مسلمہ کو عدل و انصاف کے راستے پر ڈالا ایسے حالات میں کہ اس دور میں مسلمان یہودیوں کی جانب سے بیشمار ریشہ دوانیوں کا شکار تھے اور وہ پورے عالم عرب میں مسلمانوں کے خلاف محاذ بنانے میں بھی مصروف تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے بھی معاون و مددگار تھے ‘ اور وہ دین اسلام کے خلاف اپنے ترکش کا ہر تیر استعمال کر رہے تھے اور اس کے خلاف ہر سازش کر رہے تھے ۔ مسلمانان مدینہ کے لئے مدینہ میں نہایت ہی خطرناک حالات تھے جہاں وہ دشمنیوں اور سازشوں میں گھرے ہوئے تھے اور یہ سب سازشیں یہودیوں کی طرف سے تھیں ۔ اللہ نے ان حالات میں اپنے بندوں کو ہدایت دینے اور نشان راہ متعین کرنے کے لئے ایک یہودی کو چنا ۔ ان حالات میں ایک یہودی کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ کہ اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ سمجھا سکے کہ عدل کا معیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس امت کو جو سکھانا چاہتے تھے وہ سکھائے ۔ لہذا اس معاملے میں اللہ کی پالیسی میں کوئی سیاست ‘ کوئی نام نہاد دانشوری اور کوئی زبانی ہیر پھیر نہ تھا ۔ اور لیپاپوتی اور واقعات کو چھپانے کی مہارت سے بھی کام نہ لیا گیا اور صاف صاف بات کی گئی ۔ اس مقدمے کے فیصلے میں تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا اور تمام ظروف واحوال سے صرف نظر کیا گیا ۔ معاملہ نہایت ہی حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ تھا ۔ اس میں کسی قسم کی ملمع کاری اور لیپاپوتی نہ تھی ۔ حقیقت پسندی اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور اس امت کے اوصاف میں سے یہ ایک اہم وصف ہے ۔ یہ اس امت کے مقاصد میں شامل ہے کہ وہ لوگوں عدل پھیلائے اور عدل کو اس معیار پر پہنچا دے جہاں تک کبھی انسانیت نہ پہنچی اور صرف اللہ کی جانب سے وحی اور ہدایت ہی کے نتیجے میں یہ امت یہاں تک پہنچی ۔ جب انسان اس مقام بلند تک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ تاریخ کے تمام ازمنہ اور ادوار میں انسانی پستیوں کے گہرے گڑھے میں پڑے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ اس مقام بلند تک پہنچنے کی راہ میں نہایت ہی گہری گھائیاں ہیں ۔ اس راہ میں جگہ جگہ چالاکیاں ‘ ظاہر داریاں ‘ سیاست ‘ عیاری ‘ بلاغت ‘ مہارت ‘ حکومت کی مصلحت ‘ ملک کی مصلحت اور پارٹی کی مصلحت وغیرہ کی بےپناہ رکاوٹیں ہیں جو مختلف ناموں اور مختلف عنوانوں کے ساتھ عدل و انصاف کی راہ روکے کھڑی ہیں ۔ اور اگر اس بلندی سے انسان تمام نظامہائے زندگی کو دقت نظر سے دیکھے تو اسے دنیا میں گندگی ہی گندگی نظر آئے ۔ اس بلندی سے انسان جب نگاہ ڈالتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ امت مسلمہ اس میدان میں یکہ و تنہا نظر آتی ہے ۔ جو زندگی کی ان غلاظتوں سے بلند ہو کر اس پاکیزہ مقام تک پہنچی ہے اور صرف امت مسلمہ کے لینڈ مارک شاہراہ تاریخ میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور عدل و انصاف کی اس بلند چوٹی تک پہنچنے کے لئے صرف امت مسلمہ نے راہیں متعین کی ہیں اور وہ اس میدان میں منفرد ہے ۔ رہی وہ گندگی اور وہ تعفن جسے جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ میں عدالت کا نام دیا جاتا ہے تو مناسب یہی ہے کہ ہم اس گندگی کو دبی رہنے دیں کیونکہ اس پاکیزہ ماحول کو اس کا تعفن گندہ کر دے گا اور ہر طرف بدبو پھیل جائے گی ۔ مناسب ہے کہ اب ہم آیات پر ذرا تفصیل سے بات کریں۔ درس نمبر 39 تشریح آیات : 105۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 113۔ (آیت) ” نمبر 105 تا 113۔ A) بات نہات ہی سختی سے کہی جارہی ہے ‘ یوں نظر آتا ہے کہ سچائی کے حق میں غیض وغضب سے کام لیا جا رہا ہے اور عدل قائم کرنے کے لئے سخت غیرت کا اظہار کیا جارہا ہے اور جذبات ‘ بات کے ماحول اور فضا سے ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اس کا اظہار اس بات سے بھی ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ نازل کی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اللہ کی اس کتاب کے مطابق فیصلے کریں ۔ آپ کو سختی سے منع کیا گیا کہ آپ خائن لوگوں کے طرفدار نہ ہوجائیں اور نہ ان کی جانب سے دفاع کریں اور آپ نے جو مجادلہ ان خائن لوگوں کی طرف سے کیا ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما (105) واستغفر اللہ ان اللہ کان غفورا رحیما (106) (4 : 105۔ 106) (اے نبی ﷺ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے ‘ تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ‘ تم بدیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو ‘ ۔ اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو ‘ وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ A اس کے بعد اس ممانعت کو دوبارہ مکرر بیان کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے آپ نے خصومت کی وہ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ خائن ہیں اور اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (آیت) ” ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما (4 : 107) (جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہی تم ان کی حمایت نہ کرو ‘ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو ۔ ) بظاہر تو انہوں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ خیانت کی تھی لیکن درحقیقت وہ اپنے ساتھ خیانت کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی جماعت اور پنے نظام کے خلاف خیانت کی ۔ اپنے اصولوں اور انکی ممتاز حیثیت کے خلاف خیانت کی ‘ انہوں نے اس امت کے خلاف خیانت کی جس کے وہ بھی افراد تھے ۔۔۔۔۔ پھر ایک دوسرے پہلو سے بھی وہ اپنے نفس کے خلاف خیانت کر رہے تھے ۔ وہ اپنے نفوس کو ایسے جرم میں ملوث کر رہے تھے جس کی سزا بہت ہی سخت تھی ۔ جہاں اللہ انہیں مجبور کرے گا اور پکڑ کر سزا دے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنے نفس کے خلاف بھی خیانت ہے ۔ ایک تیسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو جھوٹ کہہ کر اور جرم کر کے خیانت میں ملوث کر رہے تھے ۔ (آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما “۔ (4 : 107) (اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو) اور اللہ کی ناپسندیدگی تمام سزاؤں میں سے بڑی سزا ہے ۔ اس کے اندر ایک دوسرا اشارہ بھی ہے ‘ کہ جو لوگ اللہ کے محبوب نہیں ‘ چاہئے کہ کوئی ان کی حمایت نہ کرے ۔ کوئی ان کی وکالت نہ کرے ‘ اس لئے کہ ارتکاب جرم کرنے کی وجہ سے اللہ نے انہیں ناپسند کرلیا ہے ۔ ان لوگوں کو خیانت کار اور معصیت پیشہ کہنے کے بعد اب ان کی تصویر کشی اس طرح کی جاتی ہے اور ان کا پردہ یوں چاک ہوتا ہے : (آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ وھو معھم اذیبیتون مالا یرضی من القول ۔۔۔۔۔ “۔ (4 : 108) (یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے ‘ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں ) انکی یہ تصویر نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ اس پر انسان کو بےاختیار ہنسی آتی ہے ۔ اس میں ان کی کمزوری اور سازش صاف صاف نظر آتی ہے ۔ یہ راتوں کو جمع ہوتے اور اپنا جرم چھپانے کی سازشیں کرتے ہیں اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ لوگوں سے یہ اپنا جرم چھپا سکتے مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے ۔ لوگوں سے چھپنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ لوگ تو انہیں نفع ونقصان سے نہی بچا سکتے ۔ اور جو ذات نفع ونقصان کی مالک ہے اس سے وہ چھپ نہیں سکتے ۔ وہ تو ان کے ساتھ ہوتی ہے جب وہ سازشیں کرتے ہیں ۔ وہ ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ وہ ملمع کاری کرتے ہیں اور اللہ کی مرضی کے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔ ان کا موقف کیسا بودا ہے کہ جس سے چھپاتے ہیں اس سے تو چھپ نہیں سکتے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ (آیت) ” وکان اللہ بما یعملون محیطا “۔ (4 : 108) (ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے) اگر اللہ مطلقا تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو وہ جو رات کو خفیہ سازشیں کرتے ہیں ان کا کیا فائدہ ہوگا ۔ اللہ تو اس مجلس میں ان کے ساتھ ہوتا ہے ہر چیز اس کی نظر میں ہے اور اس کے قبضے میں ہے ۔ اور یہ غضبناک حملہ ابھی جاری ہے اور اس کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو خائن لوگوں اور مجرموں کی طرف سے مجادلہ کرتے ہیں ۔ (آیت) ” ھانتم ھولآء جدلتم عنھم فی الحیوۃ الدنیا فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیمۃ ام من یکون علیھم وکیلا “۔ (4 : 109) (ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا ‘ مگر قیامت کے روز ان کے لئے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا ؟ آخر وہاں کون ان کا وکیل ہوگا ؟ اس بھاری دن سے تو وہ ہر گزنہ بچ سکیں گے ۔ ) خائنوں اور معصیت پیشہ لوگوں پر اس حملے کے بعد اور ان کے حامیوں ‘ مجادلوں اور وکیلوں کی مذمت کرنے کے بعد اب اس برے فعل کے بارے میں اور اس کے نتائج کے بارے میں اصولی بات کی جاتی ہے ۔ اس کا حساب و کتاب آخرت میں کیا ہوگا اور اس کی عمومی سزا کیا ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں اور پھر یہ کہ جو معاملہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم بھی مجرموں اور ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھو اور اللہ کے بتائے ہوئے اخلاق اپناؤ خصوصا عدل و انصاف کے معاملے میں ۔

النساء 4:107

درس نمبر 39 ایک نظر میں : ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔ ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔ رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔ وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو اس نے جلدی سے یہ زرہ ایک یہودی زید ابن سمین کے گھر پھینک دی اور اپنے خاندان کے بعض لوگوں سے کہا کہ میں نے زرہ غائب کردی ہے اور فلاں کے گھر میں پھینک دی ہے اور یہ جلد ہی اس کے گھر سے برآمد ہوگی ۔ تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور یہ کہو کہ ہمارے بھائی تو بےگناہ ہیں اور فلاں شخص چور ہے اور ہم نے ۔۔۔۔ اس سلسلے میں معلومات جمع کرلی ہیں ۔ آپ برسرعام ہمارے آدمی کی برات فرمائیں اور اس کی صفائی فرمائی دیں اس لئے کہ اگر اسے آپ کے ذریعے اللہ نے باعزت طور پر بری نہ کیا تو اس کی عزت خاک میں مل جائے گی ۔ جب حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ فی الواقعہ زرہ یہودی کے گھر سے برآمد ہوگئی ہے تو آپ نے مجمع میں اعلان کردیا کہ ابن ابیرق بےگناہ ہے ‘ اس لئے کہ اس کے خاندان نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچا ہمارے ایک مسلمان خاندان کے گھر آئے اور اسے چوری کا ملزم بنا دیا اور یہ کام انہوں نے بغیر کسی ثبوت اور شہادت کے کیا ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ۔ میں نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے جان بوجھ کر ایک ایسے خاندان کے خلاف چوری کا الزام عائد کردیا جن کا اسلام اور نیکی مشہور ومعروف ہیں اور بغیر ثبوت کے “۔ میں واپس ہوگیا ‘ لیکن میری حالت یہ تھی کہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر میری تمام دولت چلی جاتی اور میں حضور ﷺ سے بات نہ کرتا تو کہتا اچھا ہوتا ۔ اس پر میرے چچا رعافہ آئے تو مجھے کہا بھتیجے ! یہ تو نے کیا کیا ؟ تو میں نے اسے یہ بات بتائی جو حضور ﷺ نے کہی تھی تو رفاعہ نے کہا اللہ ہی مددگار ہے ۔ اس پر زیادہ وقت نہ گزرا کہ یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما “۔ (4 : 105) ” یعنی آپ بنی ابیرق کے لئے وکیل صفائی نہ بنیں ۔ ” خصیم “ کے معنی وکیل ‘ دفاع کرنے والے اور کسی کی جانب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے والے کے ہوتے ہیں ۔ آپ نے قتادہ ؓ کو جو کہا اس سے اللہ کی مغفرت طلب کریں ‘ بیشک اللہ غفور الرحیم ہے ۔ مزید یہ آیات ۔ (ولاتجادل) سے (رحیما) تک ۔۔۔۔۔ اگر وہ معافی چاہتے تو اللہ ان کو معاف کردیتا ۔۔۔۔۔ اسی طرح (ومن یکسب) سے (اثما مبینا) تک اور (ولو لا فضل اللہ) سے (اجرا عظیما) تک ۔۔۔۔۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ زرہ لے کر آئے اور رفاعہ کو دے دی ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب میرے چچا کے پاس زرہ پہنچی ۔ وہ بوڑھے تھے اور جاہلیت ہی میں ان کی نظر ختم ہوگئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ مجبور ہو کر مسلمان ہوگئے ہیں ۔ جب میں نے ان کو زرہ دی تو انہوں نے یہ اللہ کی راہ میں ہوگئی ۔ یہاں سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ صحیح طرح مسلمان تھے ۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر (چور) مشرکین کے ساتھ مل گیا ۔ اس پر مزید آیات کا نزول ہوا۔ (آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (115) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (116) (4 : 115۔ 116) مسئلہ : صرف یہ نہ تھا کہ ایک بےگناہ بری کردیا گیا جس پر سازش کی وجہ سے الزام لگایا تھا اگرچہ اللہ کے ہاں کسی بےگناہ کا بری کرنا بھی ایک عظیم مسئلہ ہے ‘ مسئلہ تو اس سے بھی بڑا اور اہم تھا ۔ یعنی انصاف کی ترازو کو بالکل برابر کرنا مطلوب تھا کہ ہو کسی ایک طرف جھک نہ جائے ۔ نہ نفسانی خواہشات کی طرف اور نہ عصبیت کی وجہ سے ۔ نہ دوستی اور دشمنی کی وجہ سے ‘ میزان عدل میں کسی بھی طرح جھکاؤ نہ آجائے ۔ غرض جو حالات بھی ہوں ‘ انصاف ہو اور بےلاگ ہو۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس جدید معاشرے کو تمام آلائشوں سے پاک کردیا جائے اور اس کے اندر سے جاہلیت اور عصبیت کے باقی ماندہ آثار کو بھی مٹا دیا جائے چاہے یہ آثار جس شکل و صورت میں بھی ہوں ۔ خصوصا جبکہ ان کا تعلق عوام الناس کے مسئلہ عدل سے ہو ۔ اس کے بعد ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جانی تھی جو بالکل منفرد ہو اور پوری تاریخ انسانی میں بےمثال ہو ۔ یہ بنیاد بالکل پاک وصاف اور مستحکم اصولوں پر رکھنی تھی ۔ جن میں تعصب ‘ ذاتی رجحان ‘ وقتی مصلحتوں اور ذاتی خواہشات کا کوئی دخل نہ ہو ۔ اس مقدمے میں بیشمار اسباب موجود تھے جن کی وجہ سے مجرموں کے ساتھ نرمی کی جاسکتی تھی یا کم ازکم انکے بارے میں یہ آیات نازل نہ ہوتیں اور ان پر تنقید نہ کی جاتی ۔ ان کو اس طرح سرعام رسوا نہ کیا جاتا یا ان کی سرعام پردہ دری نہ کی جاتی ۔ پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی تھی کہ اس مقدمے میں پہلا ملزم یہودی تھا اور یہودی وہ لوگ تھے کہ ان کے ترکش کا ہر تیر اسلام کے خلاف استعمال ہوتا تھا ۔ یہودی وہ لوگ تھے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کو ان کی جانب سے تلخ ترین اذیتیں دی جاتی تھیں اور خدا کا کرنا ایسا ہے کہ ہر دور میں وہ مسلمانوں کے خلاف نیش زنی کرتے رہتے ہیں ۔ پھر یہودیوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہو نہ کسی کا حق تسلیم کرتے تھے ‘ نہ کسی کے ساتھ عدل و انصاف کرتے تھے ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے ہاں کوئی اخلاقی قدر بھی نہ تھی اور مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تو وہ کسی اخلاقی اصول کے قائل ہی نہ تھے ۔ ایک سبب یہ بھی تھا کہ اصل ملزم انصاری تھے اور انصار وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور کو پناہ دی اور آپ کی نصرت کی ۔ پھر انصار کے بعض گھرانوں کے درمیان جاہلیت سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں اور جس طرح الزام اور تفتیش کا رخ یہودیوں کی طرف مڑ گیا تھا اس وقت ان تحقیقات کو یہاں سے ڈراپ کر کے اہل اسلام کی صفوں کے درمیان انتشار سے بچا جاسکتا تھا ۔ ایک تیسرا جواز یہ بھی تھا کہ اس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں انصار کو ورغلانے کی خاطر ایک نیا ہتھیار آرہا تھا ۔ یہ کہ انصار اور مسلمان ایک دوسرے کی بھی چوریاں کرتے ہیں اور پھر یہودیوں پر الزام دھرتے ہیں ۔ یہودی اس واقعہ کو بھی اسلام کے خلاف استعمال کرسکتے تھے ۔ لیکن یہ معاملہ ان معمولی باتوں کی نسبت بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا ‘ ان تمام خدشات اور اعتبارات سے یہ معاملہ بہت اہم اور بلند تھا ۔ یہ باتیں اسلامی نقطہ نظر سے اہمیت نہ رکھتی تھیں ۔ اسلام کے پیش نظر یہ مقصد تھا کہ اس جماعت کو اس قدر تربیت دی جائے کہ وہ نظام خلافت ارضی اور منصب قیادت بشری کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ امت پوری انسانیت کی قیادت اور پورے کرہ ارض پر خلافت کے لئے اس وقت تک تیار نہیں ہو سکتی تھی جب تک اس کی تربیت نہایت ہی مستحکم اور برتر اصولوں پر نہ کی جائے جب تک اسلامی نظام زندگی کے اصول اس کی زندگی کا جزء نہ بن جائیں اس کے وجود کو پوری طرح دھو کر اور نچوڑ کر پاک وصاف نہ کردیا جائے اور اسے ہر قسم کی انسانی کمزوریوں سے پاک نہ کردیا جائے ‘ جو جاہلیت کے دور سے اس کی شخصیت کا جزء تھیں ۔ نیز جب تک خود اس امت کے درمیان پختہ نظام عدل قائم نہ کردیا جائے تاکہ وہ اس کے مطابق تمام لوگوں کے درمیان انصاف کریں ۔ اور ان کا یہ انصاف اور ان کی یہ عدالت تمام انسانی کمزوریوں سے پاک ہو اور وہ تمام ظاہری مصلحتوں سے صرف نظر کرنے کے قابل ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں اور اس مشکل ترین مرحلے میں ایک یہودی کے واقعہ کے ذریعے امت مسلمہ کو عدل و انصاف کے راستے پر ڈالا ایسے حالات میں کہ اس دور میں مسلمان یہودیوں کی جانب سے بیشمار ریشہ دوانیوں کا شکار تھے اور وہ پورے عالم عرب میں مسلمانوں کے خلاف محاذ بنانے میں بھی مصروف تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے بھی معاون و مددگار تھے ‘ اور وہ دین اسلام کے خلاف اپنے ترکش کا ہر تیر استعمال کر رہے تھے اور اس کے خلاف ہر سازش کر رہے تھے ۔ مسلمانان مدینہ کے لئے مدینہ میں نہایت ہی خطرناک حالات تھے جہاں وہ دشمنیوں اور سازشوں میں گھرے ہوئے تھے اور یہ سب سازشیں یہودیوں کی طرف سے تھیں ۔ اللہ نے ان حالات میں اپنے بندوں کو ہدایت دینے اور نشان راہ متعین کرنے کے لئے ایک یہودی کو چنا ۔ ان حالات میں ایک یہودی کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ کہ اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ سمجھا سکے کہ عدل کا معیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس امت کو جو سکھانا چاہتے تھے وہ سکھائے ۔ لہذا اس معاملے میں اللہ کی پالیسی میں کوئی سیاست ‘ کوئی نام نہاد دانشوری اور کوئی زبانی ہیر پھیر نہ تھا ۔ اور لیپاپوتی اور واقعات کو چھپانے کی مہارت سے بھی کام نہ لیا گیا اور صاف صاف بات کی گئی ۔ اس مقدمے کے فیصلے میں تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا اور تمام ظروف واحوال سے صرف نظر کیا گیا ۔ معاملہ نہایت ہی حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ تھا ۔ اس میں کسی قسم کی ملمع کاری اور لیپاپوتی نہ تھی ۔ حقیقت پسندی اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور اس امت کے اوصاف میں سے یہ ایک اہم وصف ہے ۔ یہ اس امت کے مقاصد میں شامل ہے کہ وہ لوگوں عدل پھیلائے اور عدل کو اس معیار پر پہنچا دے جہاں تک کبھی انسانیت نہ پہنچی اور صرف اللہ کی جانب سے وحی اور ہدایت ہی کے نتیجے میں یہ امت یہاں تک پہنچی ۔ جب انسان اس مقام بلند تک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ تاریخ کے تمام ازمنہ اور ادوار میں انسانی پستیوں کے گہرے گڑھے میں پڑے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ اس مقام بلند تک پہنچنے کی راہ میں نہایت ہی گہری گھائیاں ہیں ۔ اس راہ میں جگہ جگہ چالاکیاں ‘ ظاہر داریاں ‘ سیاست ‘ عیاری ‘ بلاغت ‘ مہارت ‘ حکومت کی مصلحت ‘ ملک کی مصلحت اور پارٹی کی مصلحت وغیرہ کی بےپناہ رکاوٹیں ہیں جو مختلف ناموں اور مختلف عنوانوں کے ساتھ عدل و انصاف کی راہ روکے کھڑی ہیں ۔ اور اگر اس بلندی سے انسان تمام نظامہائے زندگی کو دقت نظر سے دیکھے تو اسے دنیا میں گندگی ہی گندگی نظر آئے ۔ اس بلندی سے انسان جب نگاہ ڈالتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ امت مسلمہ اس میدان میں یکہ و تنہا نظر آتی ہے ۔ جو زندگی کی ان غلاظتوں سے بلند ہو کر اس پاکیزہ مقام تک پہنچی ہے اور صرف امت مسلمہ کے لینڈ مارک شاہراہ تاریخ میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور عدل و انصاف کی اس بلند چوٹی تک پہنچنے کے لئے صرف امت مسلمہ نے راہیں متعین کی ہیں اور وہ اس میدان میں منفرد ہے ۔ رہی وہ گندگی اور وہ تعفن جسے جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ میں عدالت کا نام دیا جاتا ہے تو مناسب یہی ہے کہ ہم اس گندگی کو دبی رہنے دیں کیونکہ اس پاکیزہ ماحول کو اس کا تعفن گندہ کر دے گا اور ہر طرف بدبو پھیل جائے گی ۔ مناسب ہے کہ اب ہم آیات پر ذرا تفصیل سے بات کریں۔ درس نمبر 39 تشریح آیات : 105۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 113۔ (آیت) ” نمبر 105 تا 113۔ A) بات نہات ہی سختی سے کہی جارہی ہے ‘ یوں نظر آتا ہے کہ سچائی کے حق میں غیض وغضب سے کام لیا جا رہا ہے اور عدل قائم کرنے کے لئے سخت غیرت کا اظہار کیا جارہا ہے اور جذبات ‘ بات کے ماحول اور فضا سے ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اس کا اظہار اس بات سے بھی ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ نازل کی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اللہ کی اس کتاب کے مطابق فیصلے کریں ۔ آپ کو سختی سے منع کیا گیا کہ آپ خائن لوگوں کے طرفدار نہ ہوجائیں اور نہ ان کی جانب سے دفاع کریں اور آپ نے جو مجادلہ ان خائن لوگوں کی طرف سے کیا ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما (105) واستغفر اللہ ان اللہ کان غفورا رحیما (106) (4 : 105۔ 106) (اے نبی ﷺ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے ‘ تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ‘ تم بدیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو ‘ ۔ اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو ‘ وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ A اس کے بعد اس ممانعت کو دوبارہ مکرر بیان کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے آپ نے خصومت کی وہ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ خائن ہیں اور اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (آیت) ” ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما (4 : 107) (جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہی تم ان کی حمایت نہ کرو ‘ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو ۔ ) بظاہر تو انہوں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ خیانت کی تھی لیکن درحقیقت وہ اپنے ساتھ خیانت کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی جماعت اور پنے نظام کے خلاف خیانت کی ۔ اپنے اصولوں اور انکی ممتاز حیثیت کے خلاف خیانت کی ‘ انہوں نے اس امت کے خلاف خیانت کی جس کے وہ بھی افراد تھے ۔۔۔۔۔ پھر ایک دوسرے پہلو سے بھی وہ اپنے نفس کے خلاف خیانت کر رہے تھے ۔ وہ اپنے نفوس کو ایسے جرم میں ملوث کر رہے تھے جس کی سزا بہت ہی سخت تھی ۔ جہاں اللہ انہیں مجبور کرے گا اور پکڑ کر سزا دے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنے نفس کے خلاف بھی خیانت ہے ۔ ایک تیسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو جھوٹ کہہ کر اور جرم کر کے خیانت میں ملوث کر رہے تھے ۔ (آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما “۔ (4 : 107) (اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو) اور اللہ کی ناپسندیدگی تمام سزاؤں میں سے بڑی سزا ہے ۔ اس کے اندر ایک دوسرا اشارہ بھی ہے ‘ کہ جو لوگ اللہ کے محبوب نہیں ‘ چاہئے کہ کوئی ان کی حمایت نہ کرے ۔ کوئی ان کی وکالت نہ کرے ‘ اس لئے کہ ارتکاب جرم کرنے کی وجہ سے اللہ نے انہیں ناپسند کرلیا ہے ۔ ان لوگوں کو خیانت کار اور معصیت پیشہ کہنے کے بعد اب ان کی تصویر کشی اس طرح کی جاتی ہے اور ان کا پردہ یوں چاک ہوتا ہے : (آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ وھو معھم اذیبیتون مالا یرضی من القول ۔۔۔۔۔ “۔ (4 : 108) (یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے ‘ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں ) انکی یہ تصویر نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ اس پر انسان کو بےاختیار ہنسی آتی ہے ۔ اس میں ان کی کمزوری اور سازش صاف صاف نظر آتی ہے ۔ یہ راتوں کو جمع ہوتے اور اپنا جرم چھپانے کی سازشیں کرتے ہیں اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ لوگوں سے یہ اپنا جرم چھپا سکتے مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے ۔ لوگوں سے چھپنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ لوگ تو انہیں نفع ونقصان سے نہی بچا سکتے ۔ اور جو ذات نفع ونقصان کی مالک ہے اس سے وہ چھپ نہیں سکتے ۔ وہ تو ان کے ساتھ ہوتی ہے جب وہ سازشیں کرتے ہیں ۔ وہ ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ وہ ملمع کاری کرتے ہیں اور اللہ کی مرضی کے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔ ان کا موقف کیسا بودا ہے کہ جس سے چھپاتے ہیں اس سے تو چھپ نہیں سکتے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ (آیت) ” وکان اللہ بما یعملون محیطا “۔ (4 : 108) (ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے) اگر اللہ مطلقا تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو وہ جو رات کو خفیہ سازشیں کرتے ہیں ان کا کیا فائدہ ہوگا ۔ اللہ تو اس مجلس میں ان کے ساتھ ہوتا ہے ہر چیز اس کی نظر میں ہے اور اس کے قبضے میں ہے ۔ اور یہ غضبناک حملہ ابھی جاری ہے اور اس کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو خائن لوگوں اور مجرموں کی طرف سے مجادلہ کرتے ہیں ۔ (آیت) ” ھانتم ھولآء جدلتم عنھم فی الحیوۃ الدنیا فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیمۃ ام من یکون علیھم وکیلا “۔ (4 : 109) (ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا ‘ مگر قیامت کے روز ان کے لئے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا ؟ آخر وہاں کون ان کا وکیل ہوگا ؟ اس بھاری دن سے تو وہ ہر گزنہ بچ سکیں گے ۔ ) خائنوں اور معصیت پیشہ لوگوں پر اس حملے کے بعد اور ان کے حامیوں ‘ مجادلوں اور وکیلوں کی مذمت کرنے کے بعد اب اس برے فعل کے بارے میں اور اس کے نتائج کے بارے میں اصولی بات کی جاتی ہے ۔ اس کا حساب و کتاب آخرت میں کیا ہوگا اور اس کی عمومی سزا کیا ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں اور پھر یہ کہ جو معاملہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم بھی مجرموں اور ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھو اور اللہ کے بتائے ہوئے اخلاق اپناؤ خصوصا عدل و انصاف کے معاملے میں ۔

النساء 4:108

درس نمبر 39 ایک نظر میں : ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔ ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔ رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔ وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو اس نے جلدی سے یہ زرہ ایک یہودی زید ابن سمین کے گھر پھینک دی اور اپنے خاندان کے بعض لوگوں سے کہا کہ میں نے زرہ غائب کردی ہے اور فلاں کے گھر میں پھینک دی ہے اور یہ جلد ہی اس کے گھر سے برآمد ہوگی ۔ تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور یہ کہو کہ ہمارے بھائی تو بےگناہ ہیں اور فلاں شخص چور ہے اور ہم نے ۔۔۔۔ اس سلسلے میں معلومات جمع کرلی ہیں ۔ آپ برسرعام ہمارے آدمی کی برات فرمائیں اور اس کی صفائی فرمائی دیں اس لئے کہ اگر اسے آپ کے ذریعے اللہ نے باعزت طور پر بری نہ کیا تو اس کی عزت خاک میں مل جائے گی ۔ جب حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ فی الواقعہ زرہ یہودی کے گھر سے برآمد ہوگئی ہے تو آپ نے مجمع میں اعلان کردیا کہ ابن ابیرق بےگناہ ہے ‘ اس لئے کہ اس کے خاندان نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچا ہمارے ایک مسلمان خاندان کے گھر آئے اور اسے چوری کا ملزم بنا دیا اور یہ کام انہوں نے بغیر کسی ثبوت اور شہادت کے کیا ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ۔ میں نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے جان بوجھ کر ایک ایسے خاندان کے خلاف چوری کا الزام عائد کردیا جن کا اسلام اور نیکی مشہور ومعروف ہیں اور بغیر ثبوت کے “۔ میں واپس ہوگیا ‘ لیکن میری حالت یہ تھی کہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر میری تمام دولت چلی جاتی اور میں حضور ﷺ سے بات نہ کرتا تو کہتا اچھا ہوتا ۔ اس پر میرے چچا رعافہ آئے تو مجھے کہا بھتیجے ! یہ تو نے کیا کیا ؟ تو میں نے اسے یہ بات بتائی جو حضور ﷺ نے کہی تھی تو رفاعہ نے کہا اللہ ہی مددگار ہے ۔ اس پر زیادہ وقت نہ گزرا کہ یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما “۔ (4 : 105) ” یعنی آپ بنی ابیرق کے لئے وکیل صفائی نہ بنیں ۔ ” خصیم “ کے معنی وکیل ‘ دفاع کرنے والے اور کسی کی جانب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے والے کے ہوتے ہیں ۔ آپ نے قتادہ ؓ کو جو کہا اس سے اللہ کی مغفرت طلب کریں ‘ بیشک اللہ غفور الرحیم ہے ۔ مزید یہ آیات ۔ (ولاتجادل) سے (رحیما) تک ۔۔۔۔۔ اگر وہ معافی چاہتے تو اللہ ان کو معاف کردیتا ۔۔۔۔۔ اسی طرح (ومن یکسب) سے (اثما مبینا) تک اور (ولو لا فضل اللہ) سے (اجرا عظیما) تک ۔۔۔۔۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ زرہ لے کر آئے اور رفاعہ کو دے دی ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب میرے چچا کے پاس زرہ پہنچی ۔ وہ بوڑھے تھے اور جاہلیت ہی میں ان کی نظر ختم ہوگئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ مجبور ہو کر مسلمان ہوگئے ہیں ۔ جب میں نے ان کو زرہ دی تو انہوں نے یہ اللہ کی راہ میں ہوگئی ۔ یہاں سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ صحیح طرح مسلمان تھے ۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر (چور) مشرکین کے ساتھ مل گیا ۔ اس پر مزید آیات کا نزول ہوا۔ (آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (115) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (116) (4 : 115۔ 116) مسئلہ : صرف یہ نہ تھا کہ ایک بےگناہ بری کردیا گیا جس پر سازش کی وجہ سے الزام لگایا تھا اگرچہ اللہ کے ہاں کسی بےگناہ کا بری کرنا بھی ایک عظیم مسئلہ ہے ‘ مسئلہ تو اس سے بھی بڑا اور اہم تھا ۔ یعنی انصاف کی ترازو کو بالکل برابر کرنا مطلوب تھا کہ ہو کسی ایک طرف جھک نہ جائے ۔ نہ نفسانی خواہشات کی طرف اور نہ عصبیت کی وجہ سے ۔ نہ دوستی اور دشمنی کی وجہ سے ‘ میزان عدل میں کسی بھی طرح جھکاؤ نہ آجائے ۔ غرض جو حالات بھی ہوں ‘ انصاف ہو اور بےلاگ ہو۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس جدید معاشرے کو تمام آلائشوں سے پاک کردیا جائے اور اس کے اندر سے جاہلیت اور عصبیت کے باقی ماندہ آثار کو بھی مٹا دیا جائے چاہے یہ آثار جس شکل و صورت میں بھی ہوں ۔ خصوصا جبکہ ان کا تعلق عوام الناس کے مسئلہ عدل سے ہو ۔ اس کے بعد ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جانی تھی جو بالکل منفرد ہو اور پوری تاریخ انسانی میں بےمثال ہو ۔ یہ بنیاد بالکل پاک وصاف اور مستحکم اصولوں پر رکھنی تھی ۔ جن میں تعصب ‘ ذاتی رجحان ‘ وقتی مصلحتوں اور ذاتی خواہشات کا کوئی دخل نہ ہو ۔ اس مقدمے میں بیشمار اسباب موجود تھے جن کی وجہ سے مجرموں کے ساتھ نرمی کی جاسکتی تھی یا کم ازکم انکے بارے میں یہ آیات نازل نہ ہوتیں اور ان پر تنقید نہ کی جاتی ۔ ان کو اس طرح سرعام رسوا نہ کیا جاتا یا ان کی سرعام پردہ دری نہ کی جاتی ۔ پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی تھی کہ اس مقدمے میں پہلا ملزم یہودی تھا اور یہودی وہ لوگ تھے کہ ان کے ترکش کا ہر تیر اسلام کے خلاف استعمال ہوتا تھا ۔ یہودی وہ لوگ تھے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کو ان کی جانب سے تلخ ترین اذیتیں دی جاتی تھیں اور خدا کا کرنا ایسا ہے کہ ہر دور میں وہ مسلمانوں کے خلاف نیش زنی کرتے رہتے ہیں ۔ پھر یہودیوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہو نہ کسی کا حق تسلیم کرتے تھے ‘ نہ کسی کے ساتھ عدل و انصاف کرتے تھے ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے ہاں کوئی اخلاقی قدر بھی نہ تھی اور مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تو وہ کسی اخلاقی اصول کے قائل ہی نہ تھے ۔ ایک سبب یہ بھی تھا کہ اصل ملزم انصاری تھے اور انصار وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور کو پناہ دی اور آپ کی نصرت کی ۔ پھر انصار کے بعض گھرانوں کے درمیان جاہلیت سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں اور جس طرح الزام اور تفتیش کا رخ یہودیوں کی طرف مڑ گیا تھا اس وقت ان تحقیقات کو یہاں سے ڈراپ کر کے اہل اسلام کی صفوں کے درمیان انتشار سے بچا جاسکتا تھا ۔ ایک تیسرا جواز یہ بھی تھا کہ اس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں انصار کو ورغلانے کی خاطر ایک نیا ہتھیار آرہا تھا ۔ یہ کہ انصار اور مسلمان ایک دوسرے کی بھی چوریاں کرتے ہیں اور پھر یہودیوں پر الزام دھرتے ہیں ۔ یہودی اس واقعہ کو بھی اسلام کے خلاف استعمال کرسکتے تھے ۔ لیکن یہ معاملہ ان معمولی باتوں کی نسبت بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا ‘ ان تمام خدشات اور اعتبارات سے یہ معاملہ بہت اہم اور بلند تھا ۔ یہ باتیں اسلامی نقطہ نظر سے اہمیت نہ رکھتی تھیں ۔ اسلام کے پیش نظر یہ مقصد تھا کہ اس جماعت کو اس قدر تربیت دی جائے کہ وہ نظام خلافت ارضی اور منصب قیادت بشری کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ امت پوری انسانیت کی قیادت اور پورے کرہ ارض پر خلافت کے لئے اس وقت تک تیار نہیں ہو سکتی تھی جب تک اس کی تربیت نہایت ہی مستحکم اور برتر اصولوں پر نہ کی جائے جب تک اسلامی نظام زندگی کے اصول اس کی زندگی کا جزء نہ بن جائیں اس کے وجود کو پوری طرح دھو کر اور نچوڑ کر پاک وصاف نہ کردیا جائے اور اسے ہر قسم کی انسانی کمزوریوں سے پاک نہ کردیا جائے ‘ جو جاہلیت کے دور سے اس کی شخصیت کا جزء تھیں ۔ نیز جب تک خود اس امت کے درمیان پختہ نظام عدل قائم نہ کردیا جائے تاکہ وہ اس کے مطابق تمام لوگوں کے درمیان انصاف کریں ۔ اور ان کا یہ انصاف اور ان کی یہ عدالت تمام انسانی کمزوریوں سے پاک ہو اور وہ تمام ظاہری مصلحتوں سے صرف نظر کرنے کے قابل ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں اور اس مشکل ترین مرحلے میں ایک یہودی کے واقعہ کے ذریعے امت مسلمہ کو عدل و انصاف کے راستے پر ڈالا ایسے حالات میں کہ اس دور میں مسلمان یہودیوں کی جانب سے بیشمار ریشہ دوانیوں کا شکار تھے اور وہ پورے عالم عرب میں مسلمانوں کے خلاف محاذ بنانے میں بھی مصروف تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے بھی معاون و مددگار تھے ‘ اور وہ دین اسلام کے خلاف اپنے ترکش کا ہر تیر استعمال کر رہے تھے اور اس کے خلاف ہر سازش کر رہے تھے ۔ مسلمانان مدینہ کے لئے مدینہ میں نہایت ہی خطرناک حالات تھے جہاں وہ دشمنیوں اور سازشوں میں گھرے ہوئے تھے اور یہ سب سازشیں یہودیوں کی طرف سے تھیں ۔ اللہ نے ان حالات میں اپنے بندوں کو ہدایت دینے اور نشان راہ متعین کرنے کے لئے ایک یہودی کو چنا ۔ ان حالات میں ایک یہودی کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ کہ اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ سمجھا سکے کہ عدل کا معیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس امت کو جو سکھانا چاہتے تھے وہ سکھائے ۔ لہذا اس معاملے میں اللہ کی پالیسی میں کوئی سیاست ‘ کوئی نام نہاد دانشوری اور کوئی زبانی ہیر پھیر نہ تھا ۔ اور لیپاپوتی اور واقعات کو چھپانے کی مہارت سے بھی کام نہ لیا گیا اور صاف صاف بات کی گئی ۔ اس مقدمے کے فیصلے میں تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا اور تمام ظروف واحوال سے صرف نظر کیا گیا ۔ معاملہ نہایت ہی حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ تھا ۔ اس میں کسی قسم کی ملمع کاری اور لیپاپوتی نہ تھی ۔ حقیقت پسندی اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور اس امت کے اوصاف میں سے یہ ایک اہم وصف ہے ۔ یہ اس امت کے مقاصد میں شامل ہے کہ وہ لوگوں عدل پھیلائے اور عدل کو اس معیار پر پہنچا دے جہاں تک کبھی انسانیت نہ پہنچی اور صرف اللہ کی جانب سے وحی اور ہدایت ہی کے نتیجے میں یہ امت یہاں تک پہنچی ۔ جب انسان اس مقام بلند تک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ تاریخ کے تمام ازمنہ اور ادوار میں انسانی پستیوں کے گہرے گڑھے میں پڑے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ اس مقام بلند تک پہنچنے کی راہ میں نہایت ہی گہری گھائیاں ہیں ۔ اس راہ میں جگہ جگہ چالاکیاں ‘ ظاہر داریاں ‘ سیاست ‘ عیاری ‘ بلاغت ‘ مہارت ‘ حکومت کی مصلحت ‘ ملک کی مصلحت اور پارٹی کی مصلحت وغیرہ کی بےپناہ رکاوٹیں ہیں جو مختلف ناموں اور مختلف عنوانوں کے ساتھ عدل و انصاف کی راہ روکے کھڑی ہیں ۔ اور اگر اس بلندی سے انسان تمام نظامہائے زندگی کو دقت نظر سے دیکھے تو اسے دنیا میں گندگی ہی گندگی نظر آئے ۔ اس بلندی سے انسان جب نگاہ ڈالتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ امت مسلمہ اس میدان میں یکہ و تنہا نظر آتی ہے ۔ جو زندگی کی ان غلاظتوں سے بلند ہو کر اس پاکیزہ مقام تک پہنچی ہے اور صرف امت مسلمہ کے لینڈ مارک شاہراہ تاریخ میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور عدل و انصاف کی اس بلند چوٹی تک پہنچنے کے لئے صرف امت مسلمہ نے راہیں متعین کی ہیں اور وہ اس میدان میں منفرد ہے ۔ رہی وہ گندگی اور وہ تعفن جسے جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ میں عدالت کا نام دیا جاتا ہے تو مناسب یہی ہے کہ ہم اس گندگی کو دبی رہنے دیں کیونکہ اس پاکیزہ ماحول کو اس کا تعفن گندہ کر دے گا اور ہر طرف بدبو پھیل جائے گی ۔ مناسب ہے کہ اب ہم آیات پر ذرا تفصیل سے بات کریں۔ درس نمبر 39 تشریح آیات : 105۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 113۔ (آیت) ” نمبر 105 تا 113۔ A) بات نہات ہی سختی سے کہی جارہی ہے ‘ یوں نظر آتا ہے کہ سچائی کے حق میں غیض وغضب سے کام لیا جا رہا ہے اور عدل قائم کرنے کے لئے سخت غیرت کا اظہار کیا جارہا ہے اور جذبات ‘ بات کے ماحول اور فضا سے ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اس کا اظہار اس بات سے بھی ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ نازل کی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اللہ کی اس کتاب کے مطابق فیصلے کریں ۔ آپ کو سختی سے منع کیا گیا کہ آپ خائن لوگوں کے طرفدار نہ ہوجائیں اور نہ ان کی جانب سے دفاع کریں اور آپ نے جو مجادلہ ان خائن لوگوں کی طرف سے کیا ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما (105) واستغفر اللہ ان اللہ کان غفورا رحیما (106) (4 : 105۔ 106) (اے نبی ﷺ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے ‘ تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ‘ تم بدیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو ‘ ۔ اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو ‘ وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ A اس کے بعد اس ممانعت کو دوبارہ مکرر بیان کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے آپ نے خصومت کی وہ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ خائن ہیں اور اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (آیت) ” ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما (4 : 107) (جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہی تم ان کی حمایت نہ کرو ‘ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو ۔ ) بظاہر تو انہوں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ خیانت کی تھی لیکن درحقیقت وہ اپنے ساتھ خیانت کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی جماعت اور پنے نظام کے خلاف خیانت کی ۔ اپنے اصولوں اور انکی ممتاز حیثیت کے خلاف خیانت کی ‘ انہوں نے اس امت کے خلاف خیانت کی جس کے وہ بھی افراد تھے ۔۔۔۔۔ پھر ایک دوسرے پہلو سے بھی وہ اپنے نفس کے خلاف خیانت کر رہے تھے ۔ وہ اپنے نفوس کو ایسے جرم میں ملوث کر رہے تھے جس کی سزا بہت ہی سخت تھی ۔ جہاں اللہ انہیں مجبور کرے گا اور پکڑ کر سزا دے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنے نفس کے خلاف بھی خیانت ہے ۔ ایک تیسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو جھوٹ کہہ کر اور جرم کر کے خیانت میں ملوث کر رہے تھے ۔ (آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما “۔ (4 : 107) (اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو) اور اللہ کی ناپسندیدگی تمام سزاؤں میں سے بڑی سزا ہے ۔ اس کے اندر ایک دوسرا اشارہ بھی ہے ‘ کہ جو لوگ اللہ کے محبوب نہیں ‘ چاہئے کہ کوئی ان کی حمایت نہ کرے ۔ کوئی ان کی وکالت نہ کرے ‘ اس لئے کہ ارتکاب جرم کرنے کی وجہ سے اللہ نے انہیں ناپسند کرلیا ہے ۔ ان لوگوں کو خیانت کار اور معصیت پیشہ کہنے کے بعد اب ان کی تصویر کشی اس طرح کی جاتی ہے اور ان کا پردہ یوں چاک ہوتا ہے : (آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ وھو معھم اذیبیتون مالا یرضی من القول ۔۔۔۔۔ “۔ (4 : 108) (یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے ‘ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں ) انکی یہ تصویر نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ اس پر انسان کو بےاختیار ہنسی آتی ہے ۔ اس میں ان کی کمزوری اور سازش صاف صاف نظر آتی ہے ۔ یہ راتوں کو جمع ہوتے اور اپنا جرم چھپانے کی سازشیں کرتے ہیں اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ لوگوں سے یہ اپنا جرم چھپا سکتے مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے ۔ لوگوں سے چھپنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ لوگ تو انہیں نفع ونقصان سے نہی بچا سکتے ۔ اور جو ذات نفع ونقصان کی مالک ہے اس سے وہ چھپ نہیں سکتے ۔ وہ تو ان کے ساتھ ہوتی ہے جب وہ سازشیں کرتے ہیں ۔ وہ ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ وہ ملمع کاری کرتے ہیں اور اللہ کی مرضی کے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔ ان کا موقف کیسا بودا ہے کہ جس سے چھپاتے ہیں اس سے تو چھپ نہیں سکتے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ (آیت) ” وکان اللہ بما یعملون محیطا “۔ (4 : 108) (ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے) اگر اللہ مطلقا تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو وہ جو رات کو خفیہ سازشیں کرتے ہیں ان کا کیا فائدہ ہوگا ۔ اللہ تو اس مجلس میں ان کے ساتھ ہوتا ہے ہر چیز اس کی نظر میں ہے اور اس کے قبضے میں ہے ۔ اور یہ غضبناک حملہ ابھی جاری ہے اور اس کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو خائن لوگوں اور مجرموں کی طرف سے مجادلہ کرتے ہیں ۔ (آیت) ” ھانتم ھولآء جدلتم عنھم فی الحیوۃ الدنیا فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیمۃ ام من یکون علیھم وکیلا “۔ (4 : 109) (ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا ‘ مگر قیامت کے روز ان کے لئے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا ؟ آخر وہاں کون ان کا وکیل ہوگا ؟ اس بھاری دن سے تو وہ ہر گزنہ بچ سکیں گے ۔ ) خائنوں اور معصیت پیشہ لوگوں پر اس حملے کے بعد اور ان کے حامیوں ‘ مجادلوں اور وکیلوں کی مذمت کرنے کے بعد اب اس برے فعل کے بارے میں اور اس کے نتائج کے بارے میں اصولی بات کی جاتی ہے ۔ اس کا حساب و کتاب آخرت میں کیا ہوگا اور اس کی عمومی سزا کیا ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں اور پھر یہ کہ جو معاملہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم بھی مجرموں اور ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھو اور اللہ کے بتائے ہوئے اخلاق اپناؤ خصوصا عدل و انصاف کے معاملے میں ۔