Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — النساء 4:109 – النساء 4:162

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. النساء 4:109
  2. النساء 4:110
  3. النساء 4:111
  4. النساء 4:112
  5. النساء 4:113
  6. النساء 4:114
  7. النساء 4:115
  8. النساء 4:116
  9. النساء 4:117
  10. النساء 4:118
  11. النساء 4:119
  12. النساء 4:120
  13. النساء 4:121
  14. النساء 4:122
  15. النساء 4:123
  16. النساء 4:124
  17. النساء 4:125
  18. النساء 4:126
  19. النساء 4:127
  20. النساء 4:128
  21. النساء 4:129
  22. النساء 4:130
  23. النساء 4:131
  24. النساء 4:132
  25. النساء 4:133
  26. النساء 4:134
  27. النساء 4:135
  28. النساء 4:136
  29. النساء 4:137
  30. النساء 4:138
  31. النساء 4:139
  32. النساء 4:140
  33. النساء 4:141
  34. النساء 4:142
  35. النساء 4:143
  36. النساء 4:144
  37. النساء 4:145
  38. النساء 4:146
  39. النساء 4:147
  40. النساء 4:148
  41. النساء 4:149
  42. النساء 4:150
  43. النساء 4:151
  44. النساء 4:152
  45. النساء 4:153
  46. النساء 4:154
  47. النساء 4:155
  48. النساء 4:156
  49. النساء 4:157
  50. النساء 4:158
  51. النساء 4:159
  52. النساء 4:160
  53. النساء 4:161
  54. النساء 4:162

النساء 4:109

درس نمبر 39 ایک نظر میں : ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور ﷺ کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔ ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ ﷺ کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ ﷺ کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔ رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔ وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور ﷺ کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور ﷺ کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو اس نے جلدی سے یہ زرہ ایک یہودی زید ابن سمین کے گھر پھینک دی اور اپنے خاندان کے بعض لوگوں سے کہا کہ میں نے زرہ غائب کردی ہے اور فلاں کے گھر میں پھینک دی ہے اور یہ جلد ہی اس کے گھر سے برآمد ہوگی ۔ تم رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور یہ کہو کہ ہمارے بھائی تو بےگناہ ہیں اور فلاں شخص چور ہے اور ہم نے ۔۔۔۔ اس سلسلے میں معلومات جمع کرلی ہیں ۔ آپ برسرعام ہمارے آدمی کی برات فرمائیں اور اس کی صفائی فرمائی دیں اس لئے کہ اگر اسے آپ کے ذریعے اللہ نے باعزت طور پر بری نہ کیا تو اس کی عزت خاک میں مل جائے گی ۔ جب حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ فی الواقعہ زرہ یہودی کے گھر سے برآمد ہوگئی ہے تو آپ نے مجمع میں اعلان کردیا کہ ابن ابیرق بےگناہ ہے ‘ اس لئے کہ اس کے خاندان نے حضور ﷺ سے درخواست کی تھی کہ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچا ہمارے ایک مسلمان خاندان کے گھر آئے اور اسے چوری کا ملزم بنا دیا اور یہ کام انہوں نے بغیر کسی ثبوت اور شہادت کے کیا ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ۔ میں نے آپ ﷺ سے بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا : ” تم نے جان بوجھ کر ایک ایسے خاندان کے خلاف چوری کا الزام عائد کردیا جن کا اسلام اور نیکی مشہور ومعروف ہیں اور بغیر ثبوت کے “۔ میں واپس ہوگیا ‘ لیکن میری حالت یہ تھی کہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر میری تمام دولت چلی جاتی اور میں حضور ﷺ سے بات نہ کرتا تو کہتا اچھا ہوتا ۔ اس پر میرے چچا رعافہ آئے تو مجھے کہا بھتیجے ! یہ تو نے کیا کیا ؟ تو میں نے اسے یہ بات بتائی جو حضور ﷺ نے کہی تھی تو رفاعہ نے کہا اللہ ہی مددگار ہے ۔ اس پر زیادہ وقت نہ گزرا کہ یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما “۔ (4 : 105) ” یعنی آپ بنی ابیرق کے لئے وکیل صفائی نہ بنیں ۔ ” خصیم “ کے معنی وکیل ‘ دفاع کرنے والے اور کسی کی جانب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے والے کے ہوتے ہیں ۔ آپ نے قتادہ ؓ کو جو کہا اس سے اللہ کی مغفرت طلب کریں ‘ بیشک اللہ غفور الرحیم ہے ۔ مزید یہ آیات ۔ (ولاتجادل) سے (رحیما) تک ۔۔۔۔۔ اگر وہ معافی چاہتے تو اللہ ان کو معاف کردیتا ۔۔۔۔۔ اسی طرح (ومن یکسب) سے (اثما مبینا) تک اور (ولو لا فضل اللہ) سے (اجرا عظیما) تک ۔۔۔۔۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور ﷺ زرہ لے کر آئے اور رفاعہ کو دے دی ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب میرے چچا کے پاس زرہ پہنچی ۔ وہ بوڑھے تھے اور جاہلیت ہی میں ان کی نظر ختم ہوگئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ مجبور ہو کر مسلمان ہوگئے ہیں ۔ جب میں نے ان کو زرہ دی تو انہوں نے یہ اللہ کی راہ میں ہوگئی ۔ یہاں سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ صحیح طرح مسلمان تھے ۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر (چور) مشرکین کے ساتھ مل گیا ۔ اس پر مزید آیات کا نزول ہوا۔ (آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (115) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (116) (4 : 115۔ 116) مسئلہ : صرف یہ نہ تھا کہ ایک بےگناہ بری کردیا گیا جس پر سازش کی وجہ سے الزام لگایا تھا اگرچہ اللہ کے ہاں کسی بےگناہ کا بری کرنا بھی ایک عظیم مسئلہ ہے ‘ مسئلہ تو اس سے بھی بڑا اور اہم تھا ۔ یعنی انصاف کی ترازو کو بالکل برابر کرنا مطلوب تھا کہ ہو کسی ایک طرف جھک نہ جائے ۔ نہ نفسانی خواہشات کی طرف اور نہ عصبیت کی وجہ سے ۔ نہ دوستی اور دشمنی کی وجہ سے ‘ میزان عدل میں کسی بھی طرح جھکاؤ نہ آجائے ۔ غرض جو حالات بھی ہوں ‘ انصاف ہو اور بےلاگ ہو۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس جدید معاشرے کو تمام آلائشوں سے پاک کردیا جائے اور اس کے اندر سے جاہلیت اور عصبیت کے باقی ماندہ آثار کو بھی مٹا دیا جائے چاہے یہ آثار جس شکل و صورت میں بھی ہوں ۔ خصوصا جبکہ ان کا تعلق عوام الناس کے مسئلہ عدل سے ہو ۔ اس کے بعد ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جانی تھی جو بالکل منفرد ہو اور پوری تاریخ انسانی میں بےمثال ہو ۔ یہ بنیاد بالکل پاک وصاف اور مستحکم اصولوں پر رکھنی تھی ۔ جن میں تعصب ‘ ذاتی رجحان ‘ وقتی مصلحتوں اور ذاتی خواہشات کا کوئی دخل نہ ہو ۔ اس مقدمے میں بیشمار اسباب موجود تھے جن کی وجہ سے مجرموں کے ساتھ نرمی کی جاسکتی تھی یا کم ازکم انکے بارے میں یہ آیات نازل نہ ہوتیں اور ان پر تنقید نہ کی جاتی ۔ ان کو اس طرح سرعام رسوا نہ کیا جاتا یا ان کی سرعام پردہ دری نہ کی جاتی ۔ پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی تھی کہ اس مقدمے میں پہلا ملزم یہودی تھا اور یہودی وہ لوگ تھے کہ ان کے ترکش کا ہر تیر اسلام کے خلاف استعمال ہوتا تھا ۔ یہودی وہ لوگ تھے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کو ان کی جانب سے تلخ ترین اذیتیں دی جاتی تھیں اور خدا کا کرنا ایسا ہے کہ ہر دور میں وہ مسلمانوں کے خلاف نیش زنی کرتے رہتے ہیں ۔ پھر یہودیوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہو نہ کسی کا حق تسلیم کرتے تھے ‘ نہ کسی کے ساتھ عدل و انصاف کرتے تھے ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے ہاں کوئی اخلاقی قدر بھی نہ تھی اور مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تو وہ کسی اخلاقی اصول کے قائل ہی نہ تھے ۔ ایک سبب یہ بھی تھا کہ اصل ملزم انصاری تھے اور انصار وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور کو پناہ دی اور آپ کی نصرت کی ۔ پھر انصار کے بعض گھرانوں کے درمیان جاہلیت سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں اور جس طرح الزام اور تفتیش کا رخ یہودیوں کی طرف مڑ گیا تھا اس وقت ان تحقیقات کو یہاں سے ڈراپ کر کے اہل اسلام کی صفوں کے درمیان انتشار سے بچا جاسکتا تھا ۔ ایک تیسرا جواز یہ بھی تھا کہ اس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں انصار کو ورغلانے کی خاطر ایک نیا ہتھیار آرہا تھا ۔ یہ کہ انصار اور مسلمان ایک دوسرے کی بھی چوریاں کرتے ہیں اور پھر یہودیوں پر الزام دھرتے ہیں ۔ یہودی اس واقعہ کو بھی اسلام کے خلاف استعمال کرسکتے تھے ۔ لیکن یہ معاملہ ان معمولی باتوں کی نسبت بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا ‘ ان تمام خدشات اور اعتبارات سے یہ معاملہ بہت اہم اور بلند تھا ۔ یہ باتیں اسلامی نقطہ نظر سے اہمیت نہ رکھتی تھیں ۔ اسلام کے پیش نظر یہ مقصد تھا کہ اس جماعت کو اس قدر تربیت دی جائے کہ وہ نظام خلافت ارضی اور منصب قیادت بشری کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ امت پوری انسانیت کی قیادت اور پورے کرہ ارض پر خلافت کے لئے اس وقت تک تیار نہیں ہو سکتی تھی جب تک اس کی تربیت نہایت ہی مستحکم اور برتر اصولوں پر نہ کی جائے جب تک اسلامی نظام زندگی کے اصول اس کی زندگی کا جزء نہ بن جائیں اس کے وجود کو پوری طرح دھو کر اور نچوڑ کر پاک وصاف نہ کردیا جائے اور اسے ہر قسم کی انسانی کمزوریوں سے پاک نہ کردیا جائے ‘ جو جاہلیت کے دور سے اس کی شخصیت کا جزء تھیں ۔ نیز جب تک خود اس امت کے درمیان پختہ نظام عدل قائم نہ کردیا جائے تاکہ وہ اس کے مطابق تمام لوگوں کے درمیان انصاف کریں ۔ اور ان کا یہ انصاف اور ان کی یہ عدالت تمام انسانی کمزوریوں سے پاک ہو اور وہ تمام ظاہری مصلحتوں سے صرف نظر کرنے کے قابل ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں اور اس مشکل ترین مرحلے میں ایک یہودی کے واقعہ کے ذریعے امت مسلمہ کو عدل و انصاف کے راستے پر ڈالا ایسے حالات میں کہ اس دور میں مسلمان یہودیوں کی جانب سے بیشمار ریشہ دوانیوں کا شکار تھے اور وہ پورے عالم عرب میں مسلمانوں کے خلاف محاذ بنانے میں بھی مصروف تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے بھی معاون و مددگار تھے ‘ اور وہ دین اسلام کے خلاف اپنے ترکش کا ہر تیر استعمال کر رہے تھے اور اس کے خلاف ہر سازش کر رہے تھے ۔ مسلمانان مدینہ کے لئے مدینہ میں نہایت ہی خطرناک حالات تھے جہاں وہ دشمنیوں اور سازشوں میں گھرے ہوئے تھے اور یہ سب سازشیں یہودیوں کی طرف سے تھیں ۔ اللہ نے ان حالات میں اپنے بندوں کو ہدایت دینے اور نشان راہ متعین کرنے کے لئے ایک یہودی کو چنا ۔ ان حالات میں ایک یہودی کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ کہ اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ سمجھا سکے کہ عدل کا معیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس امت کو جو سکھانا چاہتے تھے وہ سکھائے ۔ لہذا اس معاملے میں اللہ کی پالیسی میں کوئی سیاست ‘ کوئی نام نہاد دانشوری اور کوئی زبانی ہیر پھیر نہ تھا ۔ اور لیپاپوتی اور واقعات کو چھپانے کی مہارت سے بھی کام نہ لیا گیا اور صاف صاف بات کی گئی ۔ اس مقدمے کے فیصلے میں تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا اور تمام ظروف واحوال سے صرف نظر کیا گیا ۔ معاملہ نہایت ہی حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ تھا ۔ اس میں کسی قسم کی ملمع کاری اور لیپاپوتی نہ تھی ۔ حقیقت پسندی اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور اس امت کے اوصاف میں سے یہ ایک اہم وصف ہے ۔ یہ اس امت کے مقاصد میں شامل ہے کہ وہ لوگوں عدل پھیلائے اور عدل کو اس معیار پر پہنچا دے جہاں تک کبھی انسانیت نہ پہنچی اور صرف اللہ کی جانب سے وحی اور ہدایت ہی کے نتیجے میں یہ امت یہاں تک پہنچی ۔ جب انسان اس مقام بلند تک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ تاریخ کے تمام ازمنہ اور ادوار میں انسانی پستیوں کے گہرے گڑھے میں پڑے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ اس مقام بلند تک پہنچنے کی راہ میں نہایت ہی گہری گھائیاں ہیں ۔ اس راہ میں جگہ جگہ چالاکیاں ‘ ظاہر داریاں ‘ سیاست ‘ عیاری ‘ بلاغت ‘ مہارت ‘ حکومت کی مصلحت ‘ ملک کی مصلحت اور پارٹی کی مصلحت وغیرہ کی بےپناہ رکاوٹیں ہیں جو مختلف ناموں اور مختلف عنوانوں کے ساتھ عدل و انصاف کی راہ روکے کھڑی ہیں ۔ اور اگر اس بلندی سے انسان تمام نظامہائے زندگی کو دقت نظر سے دیکھے تو اسے دنیا میں گندگی ہی گندگی نظر آئے ۔ اس بلندی سے انسان جب نگاہ ڈالتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ امت مسلمہ اس میدان میں یکہ و تنہا نظر آتی ہے ۔ جو زندگی کی ان غلاظتوں سے بلند ہو کر اس پاکیزہ مقام تک پہنچی ہے اور صرف امت مسلمہ کے لینڈ مارک شاہراہ تاریخ میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور عدل و انصاف کی اس بلند چوٹی تک پہنچنے کے لئے صرف امت مسلمہ نے راہیں متعین کی ہیں اور وہ اس میدان میں منفرد ہے ۔ رہی وہ گندگی اور وہ تعفن جسے جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ میں عدالت کا نام دیا جاتا ہے تو مناسب یہی ہے کہ ہم اس گندگی کو دبی رہنے دیں کیونکہ اس پاکیزہ ماحول کو اس کا تعفن گندہ کر دے گا اور ہر طرف بدبو پھیل جائے گی ۔ مناسب ہے کہ اب ہم آیات پر ذرا تفصیل سے بات کریں۔ درس نمبر 39 تشریح آیات : 105۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 113۔ (آیت) ” نمبر 105 تا 113۔ A) بات نہات ہی سختی سے کہی جارہی ہے ‘ یوں نظر آتا ہے کہ سچائی کے حق میں غیض وغضب سے کام لیا جا رہا ہے اور عدل قائم کرنے کے لئے سخت غیرت کا اظہار کیا جارہا ہے اور جذبات ‘ بات کے ماحول اور فضا سے ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اس کا اظہار اس بات سے بھی ہو رہا ہے کہ حضور ﷺ کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ نازل کی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اللہ کی اس کتاب کے مطابق فیصلے کریں ۔ آپ کو سختی سے منع کیا گیا کہ آپ خائن لوگوں کے طرفدار نہ ہوجائیں اور نہ ان کی جانب سے دفاع کریں اور آپ نے جو مجادلہ ان خائن لوگوں کی طرف سے کیا ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما (105) واستغفر اللہ ان اللہ کان غفورا رحیما (106) (4 : 105۔ 106) (اے نبی ﷺ ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے ‘ تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ‘ تم بدیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو ‘ ۔ اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو ‘ وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ A اس کے بعد اس ممانعت کو دوبارہ مکرر بیان کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے آپ نے خصومت کی وہ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ خائن ہیں اور اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (آیت) ” ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما (4 : 107) (جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہی تم ان کی حمایت نہ کرو ‘ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو ۔ ) بظاہر تو انہوں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ خیانت کی تھی لیکن درحقیقت وہ اپنے ساتھ خیانت کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی جماعت اور پنے نظام کے خلاف خیانت کی ۔ اپنے اصولوں اور انکی ممتاز حیثیت کے خلاف خیانت کی ‘ انہوں نے اس امت کے خلاف خیانت کی جس کے وہ بھی افراد تھے ۔۔۔۔۔ پھر ایک دوسرے پہلو سے بھی وہ اپنے نفس کے خلاف خیانت کر رہے تھے ۔ وہ اپنے نفوس کو ایسے جرم میں ملوث کر رہے تھے جس کی سزا بہت ہی سخت تھی ۔ جہاں اللہ انہیں مجبور کرے گا اور پکڑ کر سزا دے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنے نفس کے خلاف بھی خیانت ہے ۔ ایک تیسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو جھوٹ کہہ کر اور جرم کر کے خیانت میں ملوث کر رہے تھے ۔ (آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما “۔ (4 : 107) (اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو) اور اللہ کی ناپسندیدگی تمام سزاؤں میں سے بڑی سزا ہے ۔ اس کے اندر ایک دوسرا اشارہ بھی ہے ‘ کہ جو لوگ اللہ کے محبوب نہیں ‘ چاہئے کہ کوئی ان کی حمایت نہ کرے ۔ کوئی ان کی وکالت نہ کرے ‘ اس لئے کہ ارتکاب جرم کرنے کی وجہ سے اللہ نے انہیں ناپسند کرلیا ہے ۔ ان لوگوں کو خیانت کار اور معصیت پیشہ کہنے کے بعد اب ان کی تصویر کشی اس طرح کی جاتی ہے اور ان کا پردہ یوں چاک ہوتا ہے : (آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ وھو معھم اذیبیتون مالا یرضی من القول ۔۔۔۔۔ “۔ (4 : 108) (یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے ‘ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں ) انکی یہ تصویر نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ اس پر انسان کو بےاختیار ہنسی آتی ہے ۔ اس میں ان کی کمزوری اور سازش صاف صاف نظر آتی ہے ۔ یہ راتوں کو جمع ہوتے اور اپنا جرم چھپانے کی سازشیں کرتے ہیں اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ لوگوں سے یہ اپنا جرم چھپا سکتے مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے ۔ لوگوں سے چھپنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ لوگ تو انہیں نفع ونقصان سے نہی بچا سکتے ۔ اور جو ذات نفع ونقصان کی مالک ہے اس سے وہ چھپ نہیں سکتے ۔ وہ تو ان کے ساتھ ہوتی ہے جب وہ سازشیں کرتے ہیں ۔ وہ ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ وہ ملمع کاری کرتے ہیں اور اللہ کی مرضی کے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔ ان کا موقف کیسا بودا ہے کہ جس سے چھپاتے ہیں اس سے تو چھپ نہیں سکتے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ (آیت) ” وکان اللہ بما یعملون محیطا “۔ (4 : 108) (ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے) اگر اللہ مطلقا تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو وہ جو رات کو خفیہ سازشیں کرتے ہیں ان کا کیا فائدہ ہوگا ۔ اللہ تو اس مجلس میں ان کے ساتھ ہوتا ہے ہر چیز اس کی نظر میں ہے اور اس کے قبضے میں ہے ۔ اور یہ غضبناک حملہ ابھی جاری ہے اور اس کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو خائن لوگوں اور مجرموں کی طرف سے مجادلہ کرتے ہیں ۔ (آیت) ” ھانتم ھولآء جدلتم عنھم فی الحیوۃ الدنیا فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیمۃ ام من یکون علیھم وکیلا “۔ (4 : 109) (ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا ‘ مگر قیامت کے روز ان کے لئے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا ؟ آخر وہاں کون ان کا وکیل ہوگا ؟ اس بھاری دن سے تو وہ ہر گزنہ بچ سکیں گے ۔ ) خائنوں اور معصیت پیشہ لوگوں پر اس حملے کے بعد اور ان کے حامیوں ‘ مجادلوں اور وکیلوں کی مذمت کرنے کے بعد اب اس برے فعل کے بارے میں اور اس کے نتائج کے بارے میں اصولی بات کی جاتی ہے ۔ اس کا حساب و کتاب آخرت میں کیا ہوگا اور اس کی عمومی سزا کیا ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں اور پھر یہ کہ جو معاملہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم بھی مجرموں اور ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھو اور اللہ کے بتائے ہوئے اخلاق اپناؤ خصوصا عدل و انصاف کے معاملے میں ۔

النساء 4:110

(آیت) ” نمبر 110 تا 113۔ یہ تین آیات وہ قواعد کلیہ وضع کرتی ہیں جن کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا ۔ اور لوگ بھی اگر چاہیں تو وہ اس کے مطابق سلوک کرکے اچھا معاشرہ تعمیر کرسکتے ہیں اور انہی قواعد کے مطابق وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کر کے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔ پہلی آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ۔ اگر لوگ توبہ کرلیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کی معافی کا دروازہ کھلا پائیں گے ۔ ہر گناہ گار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے ۔ (آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 110) (اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا) اللہ تعالیٰ موجود ہے اور اس کی مغفرت اور رحمت موجود ہے بشرطیکہ کوئی معافی مانگنے والا ہو ‘ کوئی رحمت کا طلب گار ہو جو باز آرہا ہو۔ جو شخص برائی کرتا ہے ‘ کبھی غیر پر ظلم کرتا ہے اور کبھی اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے (نفس پر ظلم اس وقت ہوتا ہے جب اس کی برائی دوسرے تک متعدی نہ ہو ‘ اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہو) بہرحال ظالموں کے لئے معافی کا دروازہ کھلا ہے ۔ اگر وہ استغفار کریں ۔ اگر وہ توبہ کرکے واپس آئیں تو وہ انہیں معاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر رحمت بھی کرتا ہے اس کا دروازہ کھلا ہے ‘ اس پر کوئی دربان نہیں ہے ‘ اور اس کا یہ اعلان ‘ اعلان عام ہے ۔ بےقید اور بےشرط ہے۔ جب بھی وہ توبہ کرکے لوٹ آئیں تو اللہ غفور ورحیم ہے ۔ دوسری آیت میں یہ اصول طے ہوا ہے کہ مسئولیت انفرادی ہے سزا میں اسلامی نظام زندگی کا یہ اساسی اصول ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے اور اس اصول سے ہر شخص کے دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے اور اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے ۔ خوف اس لئے کہ وہ اپنے اعمال اور اپنے کاموں کو درست کرے گا اور اطمینان اس لئے ہوگا کہ دوسرے کے معاملات اور بدکاریوں کا وہ ذمہ دار نہ ہوگا ۔ (آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “۔ (4 : 112) (مگر جو برائی کمائے تو اس کی یہ کمائی اسی کے لئے وبال ہوگی ‘ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم ودانا ہے) اس اصول کے مطابق جرائم میں اصول وراثت نہیں چلتا ۔ جس طرح اہل کنیسہ موروثی جرم کی بات کرتے ہیں ۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ کسی جرم کی سزا کوئی اور بھگتے گا یا کفارہ کوئی اور دے گا ۔ اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اس تصور کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کے بارے میں محتاط ہوگا ۔ اور وہ اس بات سے مطمئن ہوگا کہ دوسروں کے جرائم میں اسے نہ پکڑا جائے گا ۔ یہ ایک عجیب متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن تصور حیات ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے یہ ایک اہم عنصر ہے (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی) اس تصور پر فطرت مطمئن ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا بےقید عدل نافذ ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس اصول جرم وسزا کو دنیا میں اپنائے۔ تیسری آیت اس بارے میں بات کرتی ہے کہ خود جرم کرکے دوسرے انسان پر تھوپنا بہت ہی بڑا جرم ہے اور قصہ زیر بحث میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “ (4 : 112) (پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا) ۔ بہتان کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاک دامن شخص پر الزام تھوپ دیا جائے اور گناہ وہ ہے جس کا اس نے ارتکاب کرنے کے بعد اسے بری الذمہ شخص کے سرتھوپ دیا۔ گویا اس شخص نے ان دونوں کو اپنے سر پر اٹھالیا ہے ۔ گویا کہ ایک بوجھ ہے جسے یہ شخص اٹھا رہا ہے اور یہ قرآن کریم کا انداز کلام ہے کہ وہ حقائق اور مفاہیم کو مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن کا معجزانہ انداز بیان ہے ۔ (دیکھئے التصویر الغنی فی القرآن) اسلام ان تین اصولوں کے مطابق اپنا نظام عدل استوار کرتا ہے اور انہی کے مطابق مجرمین کو سزا دیتا ہے ۔ وہ کسی بھی مجرم کو معاف نہیں کرتا اگر اس جرم کی زد میں کوئی غیر شخص آئے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام مغفرت اور توبہ کا دروازہ بھی کھلا چھوڑتا ہے ۔ اور یہ طے کرتا ہے کہ طلب مغفرت کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کے لئے ہر وقت یہ دروازہ کھلا رکھا جائے ۔ جب بھی وہ چاہئیں اسے کھٹکھٹائیں بلکہ اگر وہ اللہ کی درگاہ میں بلا اجازت ہی داخل ہوجائیں اور پناہ لے لیں تو بھی مغفرت اور رحمت ان کو ڈھانپ لے گی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر احسان مندی کا اظہار فرماتے ہیں کہ اگر اللہ نہ بچاتا تو آپ سازشیوں کی سازش کا شکار ہوتے اور کوئی غلط فیصلہ کردیتے لیکن اللہ نے وہ سازش طشت ازبام کردی ‘ جسے وہ لوگوں سے چھپانا چاہتے تھے ۔ اسے وہ اللہ سے تو نہ چھپا سکتے تھے اس لئے کہ روات کے وقت بھی جب وہ ناپسندیدہ باتیں کرتے تھے اللہ ان کے ساتھ تھا ۔ اس کے بعد اللہ بطور احسان یاد دہانی کراتے ہیں کہ اللہ نے آپ پر احسان کیا کہ اس نے آپ پر حکمت اتاری اور وہ تعلیم دی جو آپ کے علم میں نہ تھی اور پھر یہ احسان پوری انسانیت پر تھا اور اس احسان کو آپ کی ذات مکرم میں مجسم کردیا جبکہ آپ کی ذات باری تعالیٰ سے ہر وقت قربت رکھتی تھی ۔

النساء 4:111

(آیت) ” نمبر 110 تا 113۔ یہ تین آیات وہ قواعد کلیہ وضع کرتی ہیں جن کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا ۔ اور لوگ بھی اگر چاہیں تو وہ اس کے مطابق سلوک کرکے اچھا معاشرہ تعمیر کرسکتے ہیں اور انہی قواعد کے مطابق وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کر کے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔ پہلی آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ۔ اگر لوگ توبہ کرلیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کی معافی کا دروازہ کھلا پائیں گے ۔ ہر گناہ گار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے ۔ (آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 110) (اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا) اللہ تعالیٰ موجود ہے اور اس کی مغفرت اور رحمت موجود ہے بشرطیکہ کوئی معافی مانگنے والا ہو ‘ کوئی رحمت کا طلب گار ہو جو باز آرہا ہو۔ جو شخص برائی کرتا ہے ‘ کبھی غیر پر ظلم کرتا ہے اور کبھی اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے (نفس پر ظلم اس وقت ہوتا ہے جب اس کی برائی دوسرے تک متعدی نہ ہو ‘ اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہو) بہرحال ظالموں کے لئے معافی کا دروازہ کھلا ہے ۔ اگر وہ استغفار کریں ۔ اگر وہ توبہ کرکے واپس آئیں تو وہ انہیں معاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر رحمت بھی کرتا ہے اس کا دروازہ کھلا ہے ‘ اس پر کوئی دربان نہیں ہے ‘ اور اس کا یہ اعلان ‘ اعلان عام ہے ۔ بےقید اور بےشرط ہے۔ جب بھی وہ توبہ کرکے لوٹ آئیں تو اللہ غفور ورحیم ہے ۔ دوسری آیت میں یہ اصول طے ہوا ہے کہ مسئولیت انفرادی ہے سزا میں اسلامی نظام زندگی کا یہ اساسی اصول ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے اور اس اصول سے ہر شخص کے دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے اور اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے ۔ خوف اس لئے کہ وہ اپنے اعمال اور اپنے کاموں کو درست کرے گا اور اطمینان اس لئے ہوگا کہ دوسرے کے معاملات اور بدکاریوں کا وہ ذمہ دار نہ ہوگا ۔ (آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “۔ (4 : 112) (مگر جو برائی کمائے تو اس کی یہ کمائی اسی کے لئے وبال ہوگی ‘ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم ودانا ہے) اس اصول کے مطابق جرائم میں اصول وراثت نہیں چلتا ۔ جس طرح اہل کنیسہ موروثی جرم کی بات کرتے ہیں ۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ کسی جرم کی سزا کوئی اور بھگتے گا یا کفارہ کوئی اور دے گا ۔ اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اس تصور کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کے بارے میں محتاط ہوگا ۔ اور وہ اس بات سے مطمئن ہوگا کہ دوسروں کے جرائم میں اسے نہ پکڑا جائے گا ۔ یہ ایک عجیب متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن تصور حیات ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے یہ ایک اہم عنصر ہے (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی) اس تصور پر فطرت مطمئن ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا بےقید عدل نافذ ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس اصول جرم وسزا کو دنیا میں اپنائے۔ تیسری آیت اس بارے میں بات کرتی ہے کہ خود جرم کرکے دوسرے انسان پر تھوپنا بہت ہی بڑا جرم ہے اور قصہ زیر بحث میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “ (4 : 112) (پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا) ۔ بہتان کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاک دامن شخص پر الزام تھوپ دیا جائے اور گناہ وہ ہے جس کا اس نے ارتکاب کرنے کے بعد اسے بری الذمہ شخص کے سرتھوپ دیا۔ گویا اس شخص نے ان دونوں کو اپنے سر پر اٹھالیا ہے ۔ گویا کہ ایک بوجھ ہے جسے یہ شخص اٹھا رہا ہے اور یہ قرآن کریم کا انداز کلام ہے کہ وہ حقائق اور مفاہیم کو مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن کا معجزانہ انداز بیان ہے ۔ (دیکھئے التصویر الغنی فی القرآن) اسلام ان تین اصولوں کے مطابق اپنا نظام عدل استوار کرتا ہے اور انہی کے مطابق مجرمین کو سزا دیتا ہے ۔ وہ کسی بھی مجرم کو معاف نہیں کرتا اگر اس جرم کی زد میں کوئی غیر شخص آئے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام مغفرت اور توبہ کا دروازہ بھی کھلا چھوڑتا ہے ۔ اور یہ طے کرتا ہے کہ طلب مغفرت کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کے لئے ہر وقت یہ دروازہ کھلا رکھا جائے ۔ جب بھی وہ چاہئیں اسے کھٹکھٹائیں بلکہ اگر وہ اللہ کی درگاہ میں بلا اجازت ہی داخل ہوجائیں اور پناہ لے لیں تو بھی مغفرت اور رحمت ان کو ڈھانپ لے گی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر احسان مندی کا اظہار فرماتے ہیں کہ اگر اللہ نہ بچاتا تو آپ سازشیوں کی سازش کا شکار ہوتے اور کوئی غلط فیصلہ کردیتے لیکن اللہ نے وہ سازش طشت ازبام کردی ‘ جسے وہ لوگوں سے چھپانا چاہتے تھے ۔ اسے وہ اللہ سے تو نہ چھپا سکتے تھے اس لئے کہ روات کے وقت بھی جب وہ ناپسندیدہ باتیں کرتے تھے اللہ ان کے ساتھ تھا ۔ اس کے بعد اللہ بطور احسان یاد دہانی کراتے ہیں کہ اللہ نے آپ پر احسان کیا کہ اس نے آپ پر حکمت اتاری اور وہ تعلیم دی جو آپ کے علم میں نہ تھی اور پھر یہ احسان پوری انسانیت پر تھا اور اس احسان کو آپ کی ذات مکرم میں مجسم کردیا جبکہ آپ کی ذات باری تعالیٰ سے ہر وقت قربت رکھتی تھی ۔

النساء 4:112

(آیت) ” نمبر 110 تا 113۔ یہ تین آیات وہ قواعد کلیہ وضع کرتی ہیں جن کے مطابق اللہ اپنے بندوں کے ساتھ سلوک و انصاف کرے گا ۔ اور لوگ بھی اگر چاہیں تو وہ اس کے مطابق سلوک کرکے اچھا معاشرہ تعمیر کرسکتے ہیں اور انہی قواعد کے مطابق وہ اللہ کے ساتھ معاملہ کر کے اپنے آپ کو بچا سکتے ہیں ۔ پہلی آیت میں معافی کا دروازہ چوپٹ کھلا رکھا گیا ۔ اگر لوگ توبہ کرلیں ۔ تو اللہ تعالیٰ کی معافی کا دروازہ کھلا پائیں گے ۔ ہر گناہ گار تائب کو معافی کی امید دلائی گئی ہے ۔ (آیت) ” ومن یعمل سوءا اویظلم نفسہ ثم یستغفر اللہ یجد اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 110) (اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا) اللہ تعالیٰ موجود ہے اور اس کی مغفرت اور رحمت موجود ہے بشرطیکہ کوئی معافی مانگنے والا ہو ‘ کوئی رحمت کا طلب گار ہو جو باز آرہا ہو۔ جو شخص برائی کرتا ہے ‘ کبھی غیر پر ظلم کرتا ہے اور کبھی اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے (نفس پر ظلم اس وقت ہوتا ہے جب اس کی برائی دوسرے تک متعدی نہ ہو ‘ اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود ہو) بہرحال ظالموں کے لئے معافی کا دروازہ کھلا ہے ۔ اگر وہ استغفار کریں ۔ اگر وہ توبہ کرکے واپس آئیں تو وہ انہیں معاف کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر رحمت بھی کرتا ہے اس کا دروازہ کھلا ہے ‘ اس پر کوئی دربان نہیں ہے ‘ اور اس کا یہ اعلان ‘ اعلان عام ہے ۔ بےقید اور بےشرط ہے۔ جب بھی وہ توبہ کرکے لوٹ آئیں تو اللہ غفور ورحیم ہے ۔ دوسری آیت میں یہ اصول طے ہوا ہے کہ مسئولیت انفرادی ہے سزا میں اسلامی نظام زندگی کا یہ اساسی اصول ہے کہ ہر کوئی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے اور اس اصول سے ہر شخص کے دل میں خوف بھی پیدا ہوتا ہے اور اطمینان بھی پیدا ہوتا ہے ۔ خوف اس لئے کہ وہ اپنے اعمال اور اپنے کاموں کو درست کرے گا اور اطمینان اس لئے ہوگا کہ دوسرے کے معاملات اور بدکاریوں کا وہ ذمہ دار نہ ہوگا ۔ (آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “۔ (4 : 112) (مگر جو برائی کمائے تو اس کی یہ کمائی اسی کے لئے وبال ہوگی ‘ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم ودانا ہے) اس اصول کے مطابق جرائم میں اصول وراثت نہیں چلتا ۔ جس طرح اہل کنیسہ موروثی جرم کی بات کرتے ہیں ۔ اسلام میں یہ تصور نہیں ہے کہ کسی جرم کی سزا کوئی اور بھگتے گا یا کفارہ کوئی اور دے گا ۔ اسلام میں ہر شخص اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے ۔ اس تصور کے مطابق ہر شخص اپنے اعمال کے بارے میں محتاط ہوگا ۔ اور وہ اس بات سے مطمئن ہوگا کہ دوسروں کے جرائم میں اسے نہ پکڑا جائے گا ۔ یہ ایک عجیب متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن قانون اور نہایت ہی متوازن تصور حیات ہے ۔ اسلامی تصور حیات کے اساسی عناصر میں سے یہ ایک اہم عنصر ہے (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی) اس تصور پر فطرت مطمئن ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا بےقید عدل نافذ ہوتا ہے اور انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس اصول جرم وسزا کو دنیا میں اپنائے۔ تیسری آیت اس بارے میں بات کرتی ہے کہ خود جرم کرکے دوسرے انسان پر تھوپنا بہت ہی بڑا جرم ہے اور قصہ زیر بحث میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ومن یکسب خطیئۃ اواثما ثم یرم بہ بریا فقد احتمل بھتانا واثما مبینا “ (4 : 112) (پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بےگناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ لیا) ۔ بہتان کے معنی یہ ہیں کہ ایک پاک دامن شخص پر الزام تھوپ دیا جائے اور گناہ وہ ہے جس کا اس نے ارتکاب کرنے کے بعد اسے بری الذمہ شخص کے سرتھوپ دیا۔ گویا اس شخص نے ان دونوں کو اپنے سر پر اٹھالیا ہے ۔ گویا کہ ایک بوجھ ہے جسے یہ شخص اٹھا رہا ہے اور یہ قرآن کریم کا انداز کلام ہے کہ وہ حقائق اور مفاہیم کو مجسم شکل میں پیش کرتا ہے اور یہ قرآن کا معجزانہ انداز بیان ہے ۔ (دیکھئے التصویر الغنی فی القرآن) اسلام ان تین اصولوں کے مطابق اپنا نظام عدل استوار کرتا ہے اور انہی کے مطابق مجرمین کو سزا دیتا ہے ۔ وہ کسی بھی مجرم کو معاف نہیں کرتا اگر اس جرم کی زد میں کوئی غیر شخص آئے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلام مغفرت اور توبہ کا دروازہ بھی کھلا چھوڑتا ہے ۔ اور یہ طے کرتا ہے کہ طلب مغفرت کرنے والوں اور توبہ کرنے والوں کے لئے ہر وقت یہ دروازہ کھلا رکھا جائے ۔ جب بھی وہ چاہئیں اسے کھٹکھٹائیں بلکہ اگر وہ اللہ کی درگاہ میں بلا اجازت ہی داخل ہوجائیں اور پناہ لے لیں تو بھی مغفرت اور رحمت ان کو ڈھانپ لے گی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر احسان مندی کا اظہار فرماتے ہیں کہ اگر اللہ نہ بچاتا تو آپ سازشیوں کی سازش کا شکار ہوتے اور کوئی غلط فیصلہ کردیتے لیکن اللہ نے وہ سازش طشت ازبام کردی ‘ جسے وہ لوگوں سے چھپانا چاہتے تھے ۔ اسے وہ اللہ سے تو نہ چھپا سکتے تھے اس لئے کہ روات کے وقت بھی جب وہ ناپسندیدہ باتیں کرتے تھے اللہ ان کے ساتھ تھا ۔ اس کے بعد اللہ بطور احسان یاد دہانی کراتے ہیں کہ اللہ نے آپ پر احسان کیا کہ اس نے آپ پر حکمت اتاری اور وہ تعلیم دی جو آپ کے علم میں نہ تھی اور پھر یہ احسان پوری انسانیت پر تھا اور اس احسان کو آپ کی ذات مکرم میں مجسم کردیا جبکہ آپ کی ذات باری تعالیٰ سے ہر وقت قربت رکھتی تھی ۔

النساء 4:113

(آیت) ” نمبر 113۔ یہ کوشش ان مختلف النوع کوششوں میں سے ایک ہے جو رسول اللہ ﷺ کے دشمن اسلام کے خلاف کر رہے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ کو سچائی انصاف اور صراط مستقیم سے بدراہ کردیں لیکن اللہ کا فضل وکرم ہمیشہ آپ کے شامل حال رہتا اور آپ کو اللہ بچا لیتے اور جو لوگ سازشیں کرتے وہ خود سازش کا شکار ہوجاتے اور خود ہی گمراہ ہوتے ۔ اور سیرت الرسول ﷺ میں اس قسم کے بیشمار واقعات موجود ہیں کہ سازشوں نے سازش کی اور اللہ نے ان کی سازش کو ناکام بنا دیا اور ان کی کوششیں ناکام ہوگئیں ۔ اللہ تعالیٰ یہاں حضور کو اطمینان دلاتے ہیں کہ اس کا فضل اور رحمت رسول اللہ کے شامل حال رہے گی اور وہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے ۔ اس مناسبت میں کہ اللہ تعالیٰ نے سازشیں کرنے والوں کی سازش سے آپ کو محفوظ رکھا اور آپ اس سے بچ گئے کہ آپ کے احکام کی وجہ سے ظالم بچ جائے اور بےگناہ کو سزا ہوجائے اللہ تعالیٰ اپنے ایک عظیم فضل کو یاد دلاتے ہیں ۔ وہ یہ کہ اللہ نے آپ کو تاج رسالت پہنایا ۔ (آیت) ” وانزل اللہ علیک الکتب والحکمۃ واعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما “۔ (4 : 113) (اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو کو وہ کچھ بتایا ہے جو تمہیں معلوم نہ تھا ‘ اور اس کا فضل تم پر بہت ہے) یہ احسان دراصل جنس انسان پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری رسالت انسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجی ۔ یہ کوئی معمولی احسان نہ تھا بلکہ یہ انسان کے لئے ایک نیا جنم تھا اور اس سے انسانیت کو ایسی زندگی ملی جس طرح کوئی انسان پہلی مرتبہ انسانیت اور روح پاتا ہے ۔ یہ احسان جس کی وجہ سے انسان کو جاہلیت کی پستیوں سے اٹھایا گیا اور اسے اسلامی نظام حیات کے ذریعے دنیا میں برتری اور ترقی دے کر نہایت ہی اونچے مقام تک پہنچایا گیا اسے اللہ تعالیٰ نے فضل عظیم سے تعبیر کیا۔ اسلامی نظام زندگی کے احسان اور بھلائی کا صحیح طرح اندازہ صرف وہی شخص کرسکتا ہے جس نے اسلام اور جاہلیت کا تقابلی مطالعہ کیا ہو ۔ ماضی اور حال کو دیکھا ہو اور جس نے اسلام کی طرح جاہلیت کو بھی چکھا ہو۔ اس احسان کا تذکرہ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا اس لئے کہ سب سے پہلے اسلام کو حضور اکرم ﷺ نے پایا سب سے پہلے اس کا مزہ چکھا اور سب سے پہلے آپ ﷺ نے جانا اور آپ سب سے زیادہ اسلام کے جاننے والے اور اسے چکھنے والے تھے ۔ (آیت) ” وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اللہ علیک عظیما (4 : 113) (تم کو وہ کچھ بتایا جو تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا فضل تم پر بہت بڑا ہے)

النساء 4:114

درس نمبر 40 ایک نظر میں : یہ سبق درس سابق کے ساتھ مربوط ہے اور ان دونوں کے درمیان کئی ربط ہیں ۔ اس میں بعض آیات تو درس سابق کے واقعہ کی باز گشت ہیں ۔ اس واقعہ اور وحی الہی کے بعد بشر ابن ابیرق جو چوری میں ملوث تھا ‘ مرتد ہوگیا تھا اور رسول اللہ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگیا تھا ۔ اور اسلام کے بعد دوبارہ جاہلیت میں چلا گیا تھا ۔ چناچہ اس حوالے سے اس سبق میں جاہلیت کی بات کی گئی ہے ۔ جاہلی خیالات ‘ تصورات اور اس نظام میں شیطان کی کارستانیاں وغیرہ ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام اور جاہلیت کے درمیان سرحد شرکیہ عقاید ہیں ۔ اللہ کے نظام میں شرک کی معافی نہیں ہے ۔ اس کے سوا سب کچھ قابل معافی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سبق میں راتوں کو خفیہ سازشوں سے بھی منع کیا گیا ہے اور جو کام بھی خفیہ ہوتے ہیں ان میں زیادہ تر اچھے نہیں ہوتے ۔ مثلا درس سابق میں چوری کے واقعہ میں جو نجوی ہوا ۔ نجوی کی ممانعت کے بعد اس میں بھلائی معروف مشورے اور لوگوں کے درمیان اصلاح وغیرہ کی اسکیموں کو اس سے مستثنی کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہ تو کارثواب ہے ۔ پھر آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں جزا اس کے اپنے اصولوں کے مطابق ہوتی ہے اور اس میں کسی کی ذاتی چاہت کا کوئی دخل نہیں ہوتا ۔ نہ مسلمانوں اور نہ ہی اہل کتاب کی چاہت کا اس میں داخل ہوگا ۔ سب کام اللہ کے بےقید انصاف کے مطابق ہوگی ۔ اور سچائی کے مطابق ہوں گے اور اگر سچائی لوگوں کی چاہتوں کے پیچھے چلے تو زمین و آسمان کا تمام نظام فاسد ہوجائے ۔ غرض یہ سبق اپنے موضوع اور اپنے رخ کے اعتبار سے ۔ سابق کے ساتھ پوری طرح مربوط ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے علاوہ امت مسلمہ کی تربیت کی ایک نئی کڑی ہے جسے پوری انسانیت کی قیادت کے لئے تیار کرنا پیش نظر تھا ۔ اس طرح کہ وہ تنظیم میں فوقیت رکھتی ہو اور اسکی نظر میں ہو کہ اس کی صفوں میں کہاں کہاں کمزوریاں ہیں اور کہاں کہاں ابھی تک آثار جاہلیت باقی ہیں تاکہ وہ انکی اصلاح کرسکے ۔ یہ وہ مقصد ہے کہ اس پوری سورة میں اس کو پیش نظر رکھا گیا ہے ۔ اس سے متعلق کئی موضوع زیر بحث آئے اور پورے قرآن کریم کے مقاصد میں سے بھی یہ ایک اہم موضوع ہے ۔ درس 40 تشریح آیات : 114۔۔۔۔۔۔۔ تا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 126 (آیت) ” نمبر 114۔ قرآن کریم میں نجوی کی بار بار ممانعت کی گئی ہے ۔ نجوی یہ ہے کہ کوئی گروہ اسلامی جماعت سے علیحدہ اور اسلامی قیادت سے علیحدہ کوئی بات سوچے اور اس کیلئے جمع ہو ۔ اسلامی تربیت کا طریق کار یہ تھا کہ لوگ اپنی تمام مشکلات اور مسائل کو لے کر اسلامی قیادت کے پاس آتے اور اگر بات ذاتی ہوتی تو وہ تنہائی میں پیش کرتے تاکہ عوام الناس میں بات پھیل نہ جائے اور اگر بات کی نوعیت عمومی ہوتی تو اسے علانیہ پوچھتے یعنی اگر بات کا خصوصا پوچھنے والے سے تعلق نہ ہوتا ۔ اس پالیسی میں حکمت یہ تھی کہ اس کی وجہ سے جماعت مسلمہ کے اندر کوئی بلاک یا گروہ نہ بن سکتے تھے اور نہ ہی یہ ہو سکتا تھا کہ جماعت کے کچھ حصے اپنے تصورات اور اپنی مشکلات کو لے کر الگ ہوجائیں یا وہ اپنے رجحانات اور اپنے افکار کے مطابق اپنی راہ لیں ۔ یہ صورت حال بھی نہ ہو کہ جماعت کے کچھ لوگ رات کو مشورہ کرکے ایک بات کا فیصلہ کرلیں اور دن کے وقت جماعت کے اندر بطور ایک فیصلہ شدہ امر پیش کردیں ۔ اگرچہ حضور ﷺ کے دور میں تو کوئی بات مخفی نہ رہ سکتی تھی ‘ وہ جو کچھ مشورہ کرتے اللہ انکے ساتھ ہوتا اور بوقت ضرورت حضور اکرم ﷺ کو اطلاع دے دیتا ۔ مسجد نبوی جماعت مسلمہ کی پارلیمنٹ تھی ۔ وہاں لوگ باہم ملتے تھے ۔ نماز پڑھتے تھے اور زندگی کے تمام معاملات وہاں ہی طے ہوا کرتے تھے ۔ پھر اسلامی معاشرہ ایک کھلا معاشرہ (Open Society) تھا اس میں وہ تمام معاملات پیش ہوتے تھے جو جماعت کے جنگی اسرار و رموز سے متعلق نہ ہوتے یا ایسے مسائل نہ ہوتے جن کا تعلق لوگوں کی ذات اور خاندانوں سے ہو اور وہ پسند نہ کرتے ہوں کہ لوگوں کے علم میں آئیں ۔ اسلامی سوسائٹی چونکہ ایک کھلی سوسائٹی تھی اس لئے وہ آزاد اور پاک وصاف سوسائٹی تھی اور اس سوسائٹی میں علیحدہ جنبہ بنا راتوں کو مشورہ وہی لوگ کرتے تھے جو اس کے خلاف سازش کرتے تھے یا اس کے اصولوں میں سے کسی اصول کے خلاف جمع ہوتے تھے اور یہ لوگ عموما منافقین ہوا کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی نجوی ہوا ‘ اس میں منافقین شریک رہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے لئے بہت ہی مفید ہے ۔ اسلامی معاشرہ میں اس سے پاک وصاف ہونا چاہئے اس میں جن لوگوں کو کسی چیز کے بارے میں کوئی بھی خلجان ہو ‘ اسے چاہیے کہ وہ اسے قیادت عامہ کے سامنے پیش کرے ۔ یا اگر کوئی مشکل پیش آئے یا کوئی تجویز انکے سامنے ہو یا کوئی رجحان نظر آئے تو ان معاملات میں اسے قیادت کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔ یہاں قرآن مجید نے نجوی کی ایک قسم کو جائز رکھا ہے ۔ دراصل وہ نجوی ہی نہیں ہے اگرچہ شکل نجوی کی ہے ۔ (آیت) ” الا من ابر بصدقۃ اومعروف او اصلاح بین الناس (4 : 114) (ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لئے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لئے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے) مثلا دو اچھے اور نیک آدمی جمع ہوں اور ایک دوسرے کے ساتھ مشورہ کریں کہ کیا فلاں شخص کی مدد کے لئے یا فلاں کام میں روپیہ خرچ کرنا چاہئے اس لئے کہ اس شخص کو ضرورت ہے اور مجھے اس کی ضرورت کا علم ہے یا یہ کہ فلاں کام میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے ‘ آئیے یہ کام کریں ۔ یا یہ کہ فلاں اور فلاں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں ‘ آئیے ان کے درمیان مصالحت کرا دیں ۔ ایسے لوگوں کی کوئی انجمن یا سوسائٹی بھی بن سکتی ہے جو مشورہ کرکے کسی نیک کام میں باہم تعاون کرسکتی ہے بشرطیکہ یہ کام نہ نجوی ہوں اور نہ اسلامی نظام کے خلاف کوئی سازش ۔ اگرچہ ظاہری شکل میں یہ نجوی بھی ہوگا لیکن قرآن نے اسے ” امر “ کے لفظ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ اس قسم کی محدود ساسائٹی بعض اوقات اپنے امور رات کو تنہائی میں طے کرتی ہے اور ان کا مقصد معروف اور بھلائی کا کام ہوتا ہے ۔ لیکن اس قسم کی سوسائٹی کے لئے بھی ضروری ہے کہ اس کی تشکیل اور سرگرمی کی رضا مندی کے حصول کے لئے ہو۔ (آیت) ” ومن یفعل ذلک ابتغآء مرضات اللہ فسوف نوتیہ اجرا عظیما (4 : 114) (اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لئے ایسا کرے گا تو اسے ہم بڑا اجر عطا کریں گے) یعنی کسی شخص پر صدقہ کرنے اور فلاں اور فلاں کے درمیان اصلاح حال کرنے کا مقصد یہ نہ ہو کہ یہ کام کرنے والے لوگ اس طرح مشہور ہوجائیں کہ لوگ کہیں کہ خدا کی قسم یہ بہت ہی اچھے لوگ ہیں کہ صدقہ و خیرات کے لئے لوگوں کو آمادہ کرتے ہیں اور لوگوں کے درمیان اصلاح کا کام کرتے ہیں ۔ غرض اس کام میں انکے پیش نظر رضائے الہی کے حصول کے سوا اور کوئی مقصد نہ ہو ۔ یہ ہے وہ فرق و امتیاز جو محض رضائے الہی اور اجر اخروی کے لئے کئے جانے والے کام اور اس کام کے درمیان ہوتا ہے ‘ جو کسی اور غرض کے لئے کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ بظاہر دونوں کام ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن ایک کا اندراج بھلائی کے رجسٹر میں ہوتا ہے اور دوسرے کا اندراج برائیوں کے رجسٹر میں ہوتا ہے ۔

النساء 4:115

(آیت) ” 115 تا 116۔ ان آیات کے نزول کے سلسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ بشیر ابن ابیرق مرتد ہوگیا اور جاکر مشرکین مکہ کے ساتھ مل گیا حالانکہ اس پر راست واضح ہوچکی تھی ۔ پہلے وہ اسلامی صفوں میں تھا لیکن اس نے اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ کو اپنا لیا۔ لیکن یہ آیت مضمون اور اطلاق کے اعتبار سے عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر اس حالت پر ہوگا جس میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جارہی ہو ۔ جس میں آپ کی مخالفت میں کفر ‘ شرک اور ارتداد اختیار کیا گیا ہو اور اس طرح کے قدیم وجدید تمام واقعات پر اس کا اطلاق ہوگا ۔ (المشاقہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص ایک ٹکڑا لے اور دوسرا اس کے مقابلے میں دوسرا ٹکڑا لے لے ۔ اور جو شخص رسول اللہ کے ساتھ شقاق کرتا ہے وہ رسول کے بالمقابل جنبہ بالمقابل صف ‘ اور بالمقابل پارٹی کو اختیار کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے جن بےپارٹی اور محاذ کی مخالفت کرتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نافذ کردہ نظام زندگی کے بالمقابل نظام حیات لے کر آئین تھے جس کے اندر عقیدے اور نظریات بھی شامل تھے ‘ جس کے اندر مراسم عبودیت بھی تھے ۔ جس کے اندر نظام قانون اور نظام حکومت بھی تھا اور یہ نظام زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی تھا۔ اور یہ تمام امور اسلامی نظام کے مجموعی جسم کے اعضاء تھے ۔ اور اصول یہ ہے کہ اگر ان اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو نظام قائم نہیں رہ سکتا ۔ اس کی روح نکل جائے گی ۔ جو شخص رسول کے ساتھ شقاق کرتا ہے یہ وہی شخص ہے جو یا تو اسلامی نظام حیات کو مکمل طور پر رد کرتا ہے اور یا بعض حصوں کو مانتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے ۔ یعنی ایک حصہ لیتا ہے اور دوسرا چھوڑتا ہے ۔ اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ کہیں ان پر حجت تمام نہ ہوجائے اور وہ برے ٹھکانے جہنم کے مستحق نہ ہوجائیں اس لئے اللہ نے انکی جانب رسول بھیجے ۔ رسولوں نے لوگوں کے سامنے سچائی بیان کی انہوں نے لوگوں پر راہ ہدایت کو بالکل واضح کردیا ۔ پھر اگر وہ انکار کریں گے تو گمراہی کو اختیار کریں گے ۔ یہ اللہ کی وسیع رحمت تھی کہ اللہ نے اس ضعیف مخلوق کے لئے صراط مستقیم پرچلنے کا یہ اہتمام کیا۔ پھر جب کسی پہ راہ حق واضح ہوجائے اور رسول موجود ہو اور پھر بھی وہ رسول کی راہ کے مقابلے میں دوسری راہ اختیار کرے اور آپ پر ایمان نہ لائے اور آپ کی اطاعت نہ کرے اور اسلامی نظام اور نظام مصطفیٰ ﷺ پر راضی نہ ہو ‘ تو اب حجت تمام ہوتی ہے اور اللہ ان کے حق میں گمراہی لکھ دیتے ہیں اور پھر اسی طرف اسے موڑ دیتے ہیں جس طرف وہ مڑ جاتا ہے ۔ پھر اسے اللہ کفار کے حوالے کردیتا ہے۔ وہ مشرکین کا ساتھی ہوجاتا ہے اور اب اس پر وہ عذاب حق بن جاتا ہے جس کا اللہ نے اعلان کیا ۔ (آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (4 : 115) ترجمہ :” مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روشن پر چلے ‘ درآنحالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اس طرف چلائیں گے جدھر خود وہ پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ اس برے انجام کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اللہ کی مغفرت ہر گناہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے مگر شرک ایسا گناہ ہے جس کے لئے ہر گز معافی نہیں ہے ۔ (آیت) ”۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (4 : 116) ” اللہ کے ہاں بس شرک کی بخشش نہیں ہے ۔ اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہئے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا ۔ “ جیسا کہ ہم اس سے قبل اسی مضمون کی آیت کی تفسیر میں کہہ آئے ہیں کہ شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کیا جائے جس عرب دور جاہلیت میں کیا کرتے تھے اور جس طرح عربوں کے علاوہ دوسری قدیم جاہلیتیں کرتی تھیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے خصائص الوہیت خصوصا صفت حاکمیت میں بھی کسی اور کو شریک کرنے کے سے شرک کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ مثلا کسی انسان کو حکم سمجھا جائے ۔ جس طرح یہود ونصاری کے شرک کے بارے میں قرآن کریم نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا الہ بنا رکھا ہے ۔ یہ لوگ احبارو رہبان کی عبادت اس طرح نہ کرتے تھے جس طرح وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے بلکہ وہ ان احبار اور رہبان کو حق قانون سازی دیتے تھے ۔ یہ لوگ ان کے لئے حلال و حرام کے حدود بھی متعین کرتے تھے اور یہود ونصاری اس کام میں ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ اس طرح وہ ان لوگوں کو خصائص الوہیت میں سے ایک حصہ عطا کردیتے تھے اس لئے وہ مشرک قرار پائے ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے توحید کے سلسلے میں اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کر ڈالی تھی ‘ حالانکہ اللہ کی طرف سے انہیں حکم صرف یہ تھا کہ وہ صرف الہی واحد کی بندگی کریں ‘ صرف اللہ وحدہ کے مراسم عبودیت ادا کریں اور اوامر ونواہی کے ساتھ ساتھ قانون کا ماخذ حکم الہی کو قرار دیں ۔ اللہ کے صریح احکام واعلانات کے مطاق گناہ شرک کے لئے کوئی معافی نہیں ہے بشرطیکہ کوئی حالت شرک میں مر جائے شرک کے سوا تمام گناہوں کے معافی ہو سکتی ہے اگر اللہ راضی ہوجائے ۔ سوال یہ ہے کہ شرک کو اس قدر عظیم جرم کیوں قرار دیا گیا ہے کہ وہ ناقابل معافی ہے ؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے وہ خیر اور بھلائی کے دائرے ہی سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اور اس کی فطرت ہی بگڑ جاتی ہے اور اس کی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی ۔ (آیت) ” ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا (4 : 116) (جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا) ۔۔۔۔۔ اگر ایسے شخص کی فطرت کے تار وپود میں سے کوئی ایک دھا کہ بھی باقی ہوتا تو وہ اسے اللہ کے نظریہ وحدانت کے ساتھ جوڑے رکھت الیکن اس نے تمام رشتے توڑ دیئے ۔ اگر شرک سین کوئی تائب ہوجائے اور موت سے چند منٹ پہلے تائب ہوجائے تو بھی نجات پالے گا ہاں اگر حالت نزع طاری ہو اور وہ مشرک ہو تو اب اس کا انجام یہ ہوگا کہ (آیت) ” ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا “ (4 : 115) (ہم اسے واصل جہنم کریں گے اور یہ بہت ہی برا انجام ہے) ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جاہلیت کے بعض ادہام و خرافات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ عربی جاہلیت کے اندر جو شرکیہ خرافات جاری تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ یہ لوگ شیطان کی بھی پوجا کرتے تھے ‘ جس طرح انہوں نے ملائکہ کے بت بنا رکھے تھے ‘ پھر ان کے اندر ایسی رسوم بھی تھیں کہ جو جانور وہ نذر کرتے تھے ان کے کان کاٹ دیتے تھے یا پھاڑ دیتے تھے ۔ یہ ان کے الہوں کی نذر ہوتے تھے اور اس طرح وہ اللہ کی پیدائش اور تخلیق کو متغیر کرتے تھے ۔ اور اس طرح شرک کرتے تھے حالانکہ شرک کرنے کا معنی یہ ہے کہ جس طرح انسان فطرت کو بگاڑ دے ۔

النساء 4:116

(آیت) ” 115 تا 116۔ ان آیات کے نزول کے سلسلے میں یہ کہا گیا ہے کہ بشیر ابن ابیرق مرتد ہوگیا اور جاکر مشرکین مکہ کے ساتھ مل گیا حالانکہ اس پر راست واضح ہوچکی تھی ۔ پہلے وہ اسلامی صفوں میں تھا لیکن اس نے اہل ایمان کی راہ کو چھوڑ کر دوسری راہ کو اپنا لیا۔ لیکن یہ آیت مضمون اور اطلاق کے اعتبار سے عام ہے ۔ اس کا اطلاق ہر اس حالت پر ہوگا جس میں رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی جارہی ہو ۔ جس میں آپ کی مخالفت میں کفر ‘ شرک اور ارتداد اختیار کیا گیا ہو اور اس طرح کے قدیم وجدید تمام واقعات پر اس کا اطلاق ہوگا ۔ (المشاقہ) کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص ایک ٹکڑا لے اور دوسرا اس کے مقابلے میں دوسرا ٹکڑا لے لے ۔ اور جو شخص رسول اللہ کے ساتھ شقاق کرتا ہے وہ رسول کے بالمقابل جنبہ بالمقابل صف ‘ اور بالمقابل پارٹی کو اختیار کرتا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے جن بےپارٹی اور محاذ کی مخالفت کرتا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے نافذ کردہ نظام زندگی کے بالمقابل نظام حیات لے کر آئین تھے جس کے اندر عقیدے اور نظریات بھی شامل تھے ‘ جس کے اندر مراسم عبودیت بھی تھے ۔ جس کے اندر نظام قانون اور نظام حکومت بھی تھا اور یہ نظام زندگی کے تمام شعبوں پر حاوی تھا۔ اور یہ تمام امور اسلامی نظام کے مجموعی جسم کے اعضاء تھے ۔ اور اصول یہ ہے کہ اگر ان اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے تو نظام قائم نہیں رہ سکتا ۔ اس کی روح نکل جائے گی ۔ جو شخص رسول کے ساتھ شقاق کرتا ہے یہ وہی شخص ہے جو یا تو اسلامی نظام حیات کو مکمل طور پر رد کرتا ہے اور یا بعض حصوں کو مانتا ہے اور بعض کا انکار کرتا ہے ۔ یعنی ایک حصہ لیتا ہے اور دوسرا چھوڑتا ہے ۔ اللہ کی رحمت کا تقاضا یہ ہوا کہ کہیں ان پر حجت تمام نہ ہوجائے اور وہ برے ٹھکانے جہنم کے مستحق نہ ہوجائیں اس لئے اللہ نے انکی جانب رسول بھیجے ۔ رسولوں نے لوگوں کے سامنے سچائی بیان کی انہوں نے لوگوں پر راہ ہدایت کو بالکل واضح کردیا ۔ پھر اگر وہ انکار کریں گے تو گمراہی کو اختیار کریں گے ۔ یہ اللہ کی وسیع رحمت تھی کہ اللہ نے اس ضعیف مخلوق کے لئے صراط مستقیم پرچلنے کا یہ اہتمام کیا۔ پھر جب کسی پہ راہ حق واضح ہوجائے اور رسول موجود ہو اور پھر بھی وہ رسول کی راہ کے مقابلے میں دوسری راہ اختیار کرے اور آپ پر ایمان نہ لائے اور آپ کی اطاعت نہ کرے اور اسلامی نظام اور نظام مصطفیٰ ﷺ پر راضی نہ ہو ‘ تو اب حجت تمام ہوتی ہے اور اللہ ان کے حق میں گمراہی لکھ دیتے ہیں اور پھر اسی طرف اسے موڑ دیتے ہیں جس طرف وہ مڑ جاتا ہے ۔ پھر اسے اللہ کفار کے حوالے کردیتا ہے۔ وہ مشرکین کا ساتھی ہوجاتا ہے اور اب اس پر وہ عذاب حق بن جاتا ہے جس کا اللہ نے اعلان کیا ۔ (آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (4 : 115) ترجمہ :” مگر جو شخص رسول کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روشن پر چلے ‘ درآنحالیکہ اس پر راہ راست واضح ہوچکی ہو تو اس کو ہم اس طرف چلائیں گے جدھر خود وہ پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے ۔ اس برے انجام کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اللہ کی مغفرت ہر گناہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے مگر شرک ایسا گناہ ہے جس کے لئے ہر گز معافی نہیں ہے ۔ (آیت) ”۔ ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (4 : 116) ” اللہ کے ہاں بس شرک کی بخشش نہیں ہے ۔ اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہئے جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا ۔ “ جیسا کہ ہم اس سے قبل اسی مضمون کی آیت کی تفسیر میں کہہ آئے ہیں کہ شرک کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کیا جائے جس عرب دور جاہلیت میں کیا کرتے تھے اور جس طرح عربوں کے علاوہ دوسری قدیم جاہلیتیں کرتی تھیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے خصائص الوہیت خصوصا صفت حاکمیت میں بھی کسی اور کو شریک کرنے کے سے شرک کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ مثلا کسی انسان کو حکم سمجھا جائے ۔ جس طرح یہود ونصاری کے شرک کے بارے میں قرآن کریم نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا الہ بنا رکھا ہے ۔ یہ لوگ احبارو رہبان کی عبادت اس طرح نہ کرتے تھے جس طرح وہ اللہ کی عبادت کرتے تھے بلکہ وہ ان احبار اور رہبان کو حق قانون سازی دیتے تھے ۔ یہ لوگ ان کے لئے حلال و حرام کے حدود بھی متعین کرتے تھے اور یہود ونصاری اس کام میں ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ اس طرح وہ ان لوگوں کو خصائص الوہیت میں سے ایک حصہ عطا کردیتے تھے اس لئے وہ مشرک قرار پائے ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے توحید کے سلسلے میں اللہ کی ہدایات کی خلاف ورزی کر ڈالی تھی ‘ حالانکہ اللہ کی طرف سے انہیں حکم صرف یہ تھا کہ وہ صرف الہی واحد کی بندگی کریں ‘ صرف اللہ وحدہ کے مراسم عبودیت ادا کریں اور اوامر ونواہی کے ساتھ ساتھ قانون کا ماخذ حکم الہی کو قرار دیں ۔ اللہ کے صریح احکام واعلانات کے مطاق گناہ شرک کے لئے کوئی معافی نہیں ہے بشرطیکہ کوئی حالت شرک میں مر جائے شرک کے سوا تمام گناہوں کے معافی ہو سکتی ہے اگر اللہ راضی ہوجائے ۔ سوال یہ ہے کہ شرک کو اس قدر عظیم جرم کیوں قرار دیا گیا ہے کہ وہ ناقابل معافی ہے ؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ جو شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے وہ خیر اور بھلائی کے دائرے ہی سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اور اس کی فطرت ہی بگڑ جاتی ہے اور اس کی اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی ۔ (آیت) ” ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا (4 : 116) (جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ گمراہی میں بہت دور نکل گیا) ۔۔۔۔۔ اگر ایسے شخص کی فطرت کے تار وپود میں سے کوئی ایک دھا کہ بھی باقی ہوتا تو وہ اسے اللہ کے نظریہ وحدانت کے ساتھ جوڑے رکھت الیکن اس نے تمام رشتے توڑ دیئے ۔ اگر شرک سین کوئی تائب ہوجائے اور موت سے چند منٹ پہلے تائب ہوجائے تو بھی نجات پالے گا ہاں اگر حالت نزع طاری ہو اور وہ مشرک ہو تو اب اس کا انجام یہ ہوگا کہ (آیت) ” ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا “ (4 : 115) (ہم اسے واصل جہنم کریں گے اور یہ بہت ہی برا انجام ہے) ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ جاہلیت کے بعض ادہام و خرافات کا تذکرہ کرتا ہے ۔ عربی جاہلیت کے اندر جو شرکیہ خرافات جاری تھیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ وہ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے ۔ یہ لوگ شیطان کی بھی پوجا کرتے تھے ‘ جس طرح انہوں نے ملائکہ کے بت بنا رکھے تھے ‘ پھر ان کے اندر ایسی رسوم بھی تھیں کہ جو جانور وہ نذر کرتے تھے ان کے کان کاٹ دیتے تھے یا پھاڑ دیتے تھے ۔ یہ ان کے الہوں کی نذر ہوتے تھے اور اس طرح وہ اللہ کی پیدائش اور تخلیق کو متغیر کرتے تھے ۔ اور اس طرح شرک کرتے تھے حالانکہ شرک کرنے کا معنی یہ ہے کہ جس طرح انسان فطرت کو بگاڑ دے ۔

النساء 4:117

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ، دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔ ان میں سے بعض بذات خود شیطان کے بھی پجاری تھے ۔ یہ آیت اس بارے میں نص ہے ۔ کلبی کہتے ہیں کہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ لیکن اس آیت کا مفہوم بڑا وسیع ہے ‘ اس طرح کہ وہ اپنے شرک میں شیطان کو پکارتے تھے اور اس سے امداد طلب کرتے تھے اور شیطان کا قصہ ان کے دادا آدم کے ساتھ مشہور تھا جسے اللہ نے ملعون قرار دیا تھا ۔ اس لئے کہ اس نے انسان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ کیا تو اسے انسان پر بہت غصہ آگیا اور وہ اس کا سخت دشمن بن گیا اس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ وہ اسے موقعہ دے کہ جو اللہ کے محفوظ قلعے میں پناہ نہیں لیتا وہ اسے گمراہ کرسکے ۔ (آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا وان یدعون الا شیطان مریدا۔ (117) لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا (118) ولاضلنھم ولا منینھم ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم بلیغیرن خلق اللہ “۔ (119) (4 : 117 تا 119) (وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔ میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔ یہ لوگ شیطان کو پکارتے ہیں جو ان کا قدیمی دشمن ہے ۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اس گمراہی میں اس سے امداد لیتے ہیں ‘ حالانکہ یہ شیطان وہ ذات ہے جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح کردی ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ بنی آدم کے ایک بڑے حصے کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ انہیں جھوٹی تمناؤں اور جھوٹی خواہشات کا گرویدہ بنا دے گا ۔ وہ جھوٹی لذتوں ‘ موہوم کامیابیوں اور آخرت کی خوش آئندہ امیدوں میں گم رہیں گے ۔ نیز وہ شیطان جس نے اعلانیہ اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان انسانوں سے نہایت ہی قبیح اور احمقانہ حرکات کا صدور کرائے گا ۔ وہ نہایت ہی بودے تصورات کے قائل ہوں گے اور محض قصے کہانیوں پر دین کا فیصلہ کریں گے ۔ مثلا یہ کہ وہ بعض جانوروں کے کان پھاڑ کر کہیں گے کہ اب اس پر سواری حرام ہے یا ان کا گوشت کھانا حرام ہے حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا نیز وہ فطرت انسانی اور خلق الہی میں بےجا تغیرات کریں گے مثلا جسم کے بعض اجزاء کاٹیں گے ۔ انسانوں اور حیوانوں کی شکلیں بدلیں گے مثلا غلاموں کو خصی کریں گے اور ان کے چمڑے پر نشانات بنائیں گے ۔ غرض یہ اور تمام دوسرے غیر فطری افعال وحرکات جس کی اجازت فطرت سلیمہ اور اسلام دونوں نہیں دیتے ۔ انسان کا یہ شعور کہ اس کا قدیم دشمن شیطان ہی شرک اور شرکیہ نظریات کا داعی ہے اور ہی ہے جو بت پرستی کی طرف لوگوں کو آمادہ کرتا ہے ‘ انسان کو کم ازکم ان کی کانا پھوسی سے محتاج کردیتا ہے جو دشمن کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسلام نے زندگی کی اس جنگ کو انسان اور شیطان کے درمیان ایک معرکہ قرار دیا ہے ۔ اور انسان کی پوری قوتوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس جنگاہ میں شیطان اور اس کرہ ارض پر اس کی پیدا کردہ تمام شرارتوں کے خلاف جدوجہد کریں ۔ وہ اللہ اور حزب اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں کیونکہ انسان اور شیطان کے درمیان برپا یہ معرکہ ایک دائمی جنگ کا اعلان کیا تو وہ اس جنگ میں تھکتا ہی نہیں ہے ۔ مومن بھی اس سے غافل نہیں ہوتا ‘ نہ مومن اس جنگ سے باہر آسکتا ہے ‘ اس لئے کہ اسے معلوم ہے کہ اس جنگ میں یا تو وہ اللہ کا وہی ہوگا یا وہ شیطان کا دوست ہوگا ۔ اس کے درمیان کوئی تیسرا موقف سرے سے ہے ہی نہیں ۔ شیطان کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ انسان کے دلوں میں شہوت اور لذت اور عیش وطرب پیدا کرتا ہے ۔ پھر یہ اپنا کام مشرکین اور شرپسندوں اور عیاشوں کے روپ میں کرتا ہے ۔ ایک مسلمان اپنی ذات اور اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اس کے مقابلے میں آتا ہے اور پوری زندگی کے اندر یہ طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رہتی ہے ۔ جو شخص اپنا مددگار اللہ کو بنا لے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور جو شخص شیطان کا ساتھی اور مددگار بن جاتا ہے اور شیطان اس کی امداد کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے ۔ (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (4 : 119) (شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا) قرآن کریم شیطان کے اس کردار کی بھی تصویر کشی کرتا ہے جو وہ اپنے ساتھیوں کے حوالے سے ادا کرتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے کہ گمراہ کرنے میں اس کا طریقہ واردات کیا ہے ؟ (آیت) ” یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ ) شیطان کا طریقہ گمراہی یہ ہے کہ وہ انسان کے برے اعمال کو اس کی نظروں میں بہت ہی خوشنما بنا دیتا ہے ۔ یہ کام وہ نہایت ہی فریب کاری سے کرتا ہے ۔ وہ یہ باور کراتا ہے کہ طریق معصیت میں ہی اس کا فائدہ اور دنیوی اور اخروی کامیابی ہے اس طرح انسان شیطان کے ساتھ رفاقت اختیار کرلیتا ہے ۔ وہ اسے باور کراتا ہے کہ ان اعمال کے نتیجے میں اس کو نجات حاصل ہوگی اور یوں انسان خوشی خوشی ہلاکت کی طرف بڑھتا ہے ۔ حالانکہ (آیت) ” ( وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (شیطان کا وعدہ محض فریب ہوتا ہے ۔ جب شیطان کا طریقہ واردات کی اس قدر واضح انداز میں تصویر کشی کے باوجود یہ ازلی دشمن اپنے پھندے پھیلاتا ہے اور جال بچھاتا ہے اور شکار کو آہستہ آہستہ اس کی طرف ہانکتا ہے ‘ تو اس کے جال اور پھندے میں وہی لوگ پھنستے ہیں جن کی فطرت بدل چکی ہو اور ان کے نفس سے صلاح کے تمام آثار مٹائے جاچکے ہوں ۔ ایسے ہی لوگ مدہوش اور خفتہ ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں سوچتے کہ انہیں کس راہ پر چلایا جارہا ہے اور کس فریب میں ان کو پھنسایا جارہا ہے ۔ اہل ہدایت کو بیدار کرنے کے لئے جو ٹچ دیا جا رہا تھا ‘ وہ کام ہی کر رہا تھا اور را ہوار خیال اس معرکے کی نوعیت کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ہی ان لوگوں کا انجام سامنے آجاتا ہے جن کو شیطان نے اپنے پھندے میں پھنسا لیا ہوتا ہے اور جن کو اس نے اپنے منصوبے کے بارے میں پختہ یقین دہانی کرائی ہوتی ہے اور جن پر اس کا اعلان کردہ جادو چل چکا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا انجام بھی اسکرین پر آتا ہے جو شیطان کے پھندے سے نکل گئے ‘ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر صحیح طرح ایمان لا چکے تھے ۔ اور جن لوگوں کا ایمان پختہ ہوتا ہے وہ شیطان کے پھندے سے محفوظ ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ شیطان کو اللہ نے ملعون قرار دیا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اسے لوگوں کے اغوا کرنے اور گمراہ کرنے کا موقعہ دیا تھا تو اس وقت ہی اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ دیا تھا کہ میرے مخلص بندوں کا تم کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔ چناچہ وہ ہمیشہ اللہ کے مخلص بندوں کے معاملے میں کمزور رہا ۔ جب تک انہوں نے اللہ کی راسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا ۔ ذرا غور فرمائیے ! (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (119) یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 119۔ 120) ( ” جس نے شیطان کو جس نے اللہ کے سوا الہ بنا لیا وہ صریح گھاٹے میں رہا ، وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ )

النساء 4:118

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ، دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔ ان میں سے بعض بذات خود شیطان کے بھی پجاری تھے ۔ یہ آیت اس بارے میں نص ہے ۔ کلبی کہتے ہیں کہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ لیکن اس آیت کا مفہوم بڑا وسیع ہے ‘ اس طرح کہ وہ اپنے شرک میں شیطان کو پکارتے تھے اور اس سے امداد طلب کرتے تھے اور شیطان کا قصہ ان کے دادا آدم کے ساتھ مشہور تھا جسے اللہ نے ملعون قرار دیا تھا ۔ اس لئے کہ اس نے انسان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ کیا تو اسے انسان پر بہت غصہ آگیا اور وہ اس کا سخت دشمن بن گیا اس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ وہ اسے موقعہ دے کہ جو اللہ کے محفوظ قلعے میں پناہ نہیں لیتا وہ اسے گمراہ کرسکے ۔ (آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا وان یدعون الا شیطان مریدا۔ (117) لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا (118) ولاضلنھم ولا منینھم ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم بلیغیرن خلق اللہ “۔ (119) (4 : 117 تا 119) (وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔ میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔ یہ لوگ شیطان کو پکارتے ہیں جو ان کا قدیمی دشمن ہے ۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اس گمراہی میں اس سے امداد لیتے ہیں ‘ حالانکہ یہ شیطان وہ ذات ہے جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح کردی ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ بنی آدم کے ایک بڑے حصے کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ انہیں جھوٹی تمناؤں اور جھوٹی خواہشات کا گرویدہ بنا دے گا ۔ وہ جھوٹی لذتوں ‘ موہوم کامیابیوں اور آخرت کی خوش آئندہ امیدوں میں گم رہیں گے ۔ نیز وہ شیطان جس نے اعلانیہ اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان انسانوں سے نہایت ہی قبیح اور احمقانہ حرکات کا صدور کرائے گا ۔ وہ نہایت ہی بودے تصورات کے قائل ہوں گے اور محض قصے کہانیوں پر دین کا فیصلہ کریں گے ۔ مثلا یہ کہ وہ بعض جانوروں کے کان پھاڑ کر کہیں گے کہ اب اس پر سواری حرام ہے یا ان کا گوشت کھانا حرام ہے حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا نیز وہ فطرت انسانی اور خلق الہی میں بےجا تغیرات کریں گے مثلا جسم کے بعض اجزاء کاٹیں گے ۔ انسانوں اور حیوانوں کی شکلیں بدلیں گے مثلا غلاموں کو خصی کریں گے اور ان کے چمڑے پر نشانات بنائیں گے ۔ غرض یہ اور تمام دوسرے غیر فطری افعال وحرکات جس کی اجازت فطرت سلیمہ اور اسلام دونوں نہیں دیتے ۔ انسان کا یہ شعور کہ اس کا قدیم دشمن شیطان ہی شرک اور شرکیہ نظریات کا داعی ہے اور ہی ہے جو بت پرستی کی طرف لوگوں کو آمادہ کرتا ہے ‘ انسان کو کم ازکم ان کی کانا پھوسی سے محتاج کردیتا ہے جو دشمن کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسلام نے زندگی کی اس جنگ کو انسان اور شیطان کے درمیان ایک معرکہ قرار دیا ہے ۔ اور انسان کی پوری قوتوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس جنگاہ میں شیطان اور اس کرہ ارض پر اس کی پیدا کردہ تمام شرارتوں کے خلاف جدوجہد کریں ۔ وہ اللہ اور حزب اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں کیونکہ انسان اور شیطان کے درمیان برپا یہ معرکہ ایک دائمی جنگ کا اعلان کیا تو وہ اس جنگ میں تھکتا ہی نہیں ہے ۔ مومن بھی اس سے غافل نہیں ہوتا ‘ نہ مومن اس جنگ سے باہر آسکتا ہے ‘ اس لئے کہ اسے معلوم ہے کہ اس جنگ میں یا تو وہ اللہ کا وہی ہوگا یا وہ شیطان کا دوست ہوگا ۔ اس کے درمیان کوئی تیسرا موقف سرے سے ہے ہی نہیں ۔ شیطان کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ انسان کے دلوں میں شہوت اور لذت اور عیش وطرب پیدا کرتا ہے ۔ پھر یہ اپنا کام مشرکین اور شرپسندوں اور عیاشوں کے روپ میں کرتا ہے ۔ ایک مسلمان اپنی ذات اور اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اس کے مقابلے میں آتا ہے اور پوری زندگی کے اندر یہ طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رہتی ہے ۔ جو شخص اپنا مددگار اللہ کو بنا لے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور جو شخص شیطان کا ساتھی اور مددگار بن جاتا ہے اور شیطان اس کی امداد کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے ۔ (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (4 : 119) (شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا) قرآن کریم شیطان کے اس کردار کی بھی تصویر کشی کرتا ہے جو وہ اپنے ساتھیوں کے حوالے سے ادا کرتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے کہ گمراہ کرنے میں اس کا طریقہ واردات کیا ہے ؟ (آیت) ” یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ ) شیطان کا طریقہ گمراہی یہ ہے کہ وہ انسان کے برے اعمال کو اس کی نظروں میں بہت ہی خوشنما بنا دیتا ہے ۔ یہ کام وہ نہایت ہی فریب کاری سے کرتا ہے ۔ وہ یہ باور کراتا ہے کہ طریق معصیت میں ہی اس کا فائدہ اور دنیوی اور اخروی کامیابی ہے اس طرح انسان شیطان کے ساتھ رفاقت اختیار کرلیتا ہے ۔ وہ اسے باور کراتا ہے کہ ان اعمال کے نتیجے میں اس کو نجات حاصل ہوگی اور یوں انسان خوشی خوشی ہلاکت کی طرف بڑھتا ہے ۔ حالانکہ (آیت) ” ( وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (شیطان کا وعدہ محض فریب ہوتا ہے ۔ جب شیطان کا طریقہ واردات کی اس قدر واضح انداز میں تصویر کشی کے باوجود یہ ازلی دشمن اپنے پھندے پھیلاتا ہے اور جال بچھاتا ہے اور شکار کو آہستہ آہستہ اس کی طرف ہانکتا ہے ‘ تو اس کے جال اور پھندے میں وہی لوگ پھنستے ہیں جن کی فطرت بدل چکی ہو اور ان کے نفس سے صلاح کے تمام آثار مٹائے جاچکے ہوں ۔ ایسے ہی لوگ مدہوش اور خفتہ ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں سوچتے کہ انہیں کس راہ پر چلایا جارہا ہے اور کس فریب میں ان کو پھنسایا جارہا ہے ۔ اہل ہدایت کو بیدار کرنے کے لئے جو ٹچ دیا جا رہا تھا ‘ وہ کام ہی کر رہا تھا اور را ہوار خیال اس معرکے کی نوعیت کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ہی ان لوگوں کا انجام سامنے آجاتا ہے جن کو شیطان نے اپنے پھندے میں پھنسا لیا ہوتا ہے اور جن کو اس نے اپنے منصوبے کے بارے میں پختہ یقین دہانی کرائی ہوتی ہے اور جن پر اس کا اعلان کردہ جادو چل چکا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا انجام بھی اسکرین پر آتا ہے جو شیطان کے پھندے سے نکل گئے ‘ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر صحیح طرح ایمان لا چکے تھے ۔ اور جن لوگوں کا ایمان پختہ ہوتا ہے وہ شیطان کے پھندے سے محفوظ ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ شیطان کو اللہ نے ملعون قرار دیا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اسے لوگوں کے اغوا کرنے اور گمراہ کرنے کا موقعہ دیا تھا تو اس وقت ہی اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ دیا تھا کہ میرے مخلص بندوں کا تم کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔ چناچہ وہ ہمیشہ اللہ کے مخلص بندوں کے معاملے میں کمزور رہا ۔ جب تک انہوں نے اللہ کی راسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا ۔ ذرا غور فرمائیے ! (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (119) یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 119۔ 120) ( ” جس نے شیطان کو جس نے اللہ کے سوا الہ بنا لیا وہ صریح گھاٹے میں رہا ، وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ )

النساء 4:119

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ، دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔ ان میں سے بعض بذات خود شیطان کے بھی پجاری تھے ۔ یہ آیت اس بارے میں نص ہے ۔ کلبی کہتے ہیں کہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ لیکن اس آیت کا مفہوم بڑا وسیع ہے ‘ اس طرح کہ وہ اپنے شرک میں شیطان کو پکارتے تھے اور اس سے امداد طلب کرتے تھے اور شیطان کا قصہ ان کے دادا آدم کے ساتھ مشہور تھا جسے اللہ نے ملعون قرار دیا تھا ۔ اس لئے کہ اس نے انسان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ کیا تو اسے انسان پر بہت غصہ آگیا اور وہ اس کا سخت دشمن بن گیا اس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ وہ اسے موقعہ دے کہ جو اللہ کے محفوظ قلعے میں پناہ نہیں لیتا وہ اسے گمراہ کرسکے ۔ (آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا وان یدعون الا شیطان مریدا۔ (117) لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا (118) ولاضلنھم ولا منینھم ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم بلیغیرن خلق اللہ “۔ (119) (4 : 117 تا 119) (وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔ میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔ یہ لوگ شیطان کو پکارتے ہیں جو ان کا قدیمی دشمن ہے ۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اس گمراہی میں اس سے امداد لیتے ہیں ‘ حالانکہ یہ شیطان وہ ذات ہے جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح کردی ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ بنی آدم کے ایک بڑے حصے کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ انہیں جھوٹی تمناؤں اور جھوٹی خواہشات کا گرویدہ بنا دے گا ۔ وہ جھوٹی لذتوں ‘ موہوم کامیابیوں اور آخرت کی خوش آئندہ امیدوں میں گم رہیں گے ۔ نیز وہ شیطان جس نے اعلانیہ اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان انسانوں سے نہایت ہی قبیح اور احمقانہ حرکات کا صدور کرائے گا ۔ وہ نہایت ہی بودے تصورات کے قائل ہوں گے اور محض قصے کہانیوں پر دین کا فیصلہ کریں گے ۔ مثلا یہ کہ وہ بعض جانوروں کے کان پھاڑ کر کہیں گے کہ اب اس پر سواری حرام ہے یا ان کا گوشت کھانا حرام ہے حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا نیز وہ فطرت انسانی اور خلق الہی میں بےجا تغیرات کریں گے مثلا جسم کے بعض اجزاء کاٹیں گے ۔ انسانوں اور حیوانوں کی شکلیں بدلیں گے مثلا غلاموں کو خصی کریں گے اور ان کے چمڑے پر نشانات بنائیں گے ۔ غرض یہ اور تمام دوسرے غیر فطری افعال وحرکات جس کی اجازت فطرت سلیمہ اور اسلام دونوں نہیں دیتے ۔ انسان کا یہ شعور کہ اس کا قدیم دشمن شیطان ہی شرک اور شرکیہ نظریات کا داعی ہے اور ہی ہے جو بت پرستی کی طرف لوگوں کو آمادہ کرتا ہے ‘ انسان کو کم ازکم ان کی کانا پھوسی سے محتاج کردیتا ہے جو دشمن کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسلام نے زندگی کی اس جنگ کو انسان اور شیطان کے درمیان ایک معرکہ قرار دیا ہے ۔ اور انسان کی پوری قوتوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس جنگاہ میں شیطان اور اس کرہ ارض پر اس کی پیدا کردہ تمام شرارتوں کے خلاف جدوجہد کریں ۔ وہ اللہ اور حزب اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں کیونکہ انسان اور شیطان کے درمیان برپا یہ معرکہ ایک دائمی جنگ کا اعلان کیا تو وہ اس جنگ میں تھکتا ہی نہیں ہے ۔ مومن بھی اس سے غافل نہیں ہوتا ‘ نہ مومن اس جنگ سے باہر آسکتا ہے ‘ اس لئے کہ اسے معلوم ہے کہ اس جنگ میں یا تو وہ اللہ کا وہی ہوگا یا وہ شیطان کا دوست ہوگا ۔ اس کے درمیان کوئی تیسرا موقف سرے سے ہے ہی نہیں ۔ شیطان کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ انسان کے دلوں میں شہوت اور لذت اور عیش وطرب پیدا کرتا ہے ۔ پھر یہ اپنا کام مشرکین اور شرپسندوں اور عیاشوں کے روپ میں کرتا ہے ۔ ایک مسلمان اپنی ذات اور اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اس کے مقابلے میں آتا ہے اور پوری زندگی کے اندر یہ طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رہتی ہے ۔ جو شخص اپنا مددگار اللہ کو بنا لے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور جو شخص شیطان کا ساتھی اور مددگار بن جاتا ہے اور شیطان اس کی امداد کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے ۔ (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (4 : 119) (شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا) قرآن کریم شیطان کے اس کردار کی بھی تصویر کشی کرتا ہے جو وہ اپنے ساتھیوں کے حوالے سے ادا کرتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے کہ گمراہ کرنے میں اس کا طریقہ واردات کیا ہے ؟ (آیت) ” یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ ) شیطان کا طریقہ گمراہی یہ ہے کہ وہ انسان کے برے اعمال کو اس کی نظروں میں بہت ہی خوشنما بنا دیتا ہے ۔ یہ کام وہ نہایت ہی فریب کاری سے کرتا ہے ۔ وہ یہ باور کراتا ہے کہ طریق معصیت میں ہی اس کا فائدہ اور دنیوی اور اخروی کامیابی ہے اس طرح انسان شیطان کے ساتھ رفاقت اختیار کرلیتا ہے ۔ وہ اسے باور کراتا ہے کہ ان اعمال کے نتیجے میں اس کو نجات حاصل ہوگی اور یوں انسان خوشی خوشی ہلاکت کی طرف بڑھتا ہے ۔ حالانکہ (آیت) ” ( وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (شیطان کا وعدہ محض فریب ہوتا ہے ۔ جب شیطان کا طریقہ واردات کی اس قدر واضح انداز میں تصویر کشی کے باوجود یہ ازلی دشمن اپنے پھندے پھیلاتا ہے اور جال بچھاتا ہے اور شکار کو آہستہ آہستہ اس کی طرف ہانکتا ہے ‘ تو اس کے جال اور پھندے میں وہی لوگ پھنستے ہیں جن کی فطرت بدل چکی ہو اور ان کے نفس سے صلاح کے تمام آثار مٹائے جاچکے ہوں ۔ ایسے ہی لوگ مدہوش اور خفتہ ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں سوچتے کہ انہیں کس راہ پر چلایا جارہا ہے اور کس فریب میں ان کو پھنسایا جارہا ہے ۔ اہل ہدایت کو بیدار کرنے کے لئے جو ٹچ دیا جا رہا تھا ‘ وہ کام ہی کر رہا تھا اور را ہوار خیال اس معرکے کی نوعیت کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ہی ان لوگوں کا انجام سامنے آجاتا ہے جن کو شیطان نے اپنے پھندے میں پھنسا لیا ہوتا ہے اور جن کو اس نے اپنے منصوبے کے بارے میں پختہ یقین دہانی کرائی ہوتی ہے اور جن پر اس کا اعلان کردہ جادو چل چکا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا انجام بھی اسکرین پر آتا ہے جو شیطان کے پھندے سے نکل گئے ‘ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر صحیح طرح ایمان لا چکے تھے ۔ اور جن لوگوں کا ایمان پختہ ہوتا ہے وہ شیطان کے پھندے سے محفوظ ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ شیطان کو اللہ نے ملعون قرار دیا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اسے لوگوں کے اغوا کرنے اور گمراہ کرنے کا موقعہ دیا تھا تو اس وقت ہی اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ دیا تھا کہ میرے مخلص بندوں کا تم کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔ چناچہ وہ ہمیشہ اللہ کے مخلص بندوں کے معاملے میں کمزور رہا ۔ جب تک انہوں نے اللہ کی راسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا ۔ ذرا غور فرمائیے ! (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (119) یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 119۔ 120) ( ” جس نے شیطان کو جس نے اللہ کے سوا الہ بنا لیا وہ صریح گھاٹے میں رہا ، وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ )

النساء 4:120

(آیت) ” نمبر 117 تا 120 ، دور جاہلیت میں عرب یہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ پھر وہ ان فرشتوں کی مورتیاں بنانے اور ان کے نام عورتوں کے ناموں سے رکھتے ۔ لات ‘ عزی اور منات وغیرہ ۔ پھر وہ ان بتوں کو پوجتے تھے اور پوجتے اس لئے تھے کہ یہ اللہ کی بیٹیوں کے بت ہیں ۔ یوں وہ بارگاہ الہی میں ان کو تقرب کا ذریعہ بناتے تھے ۔ ابتداء میں اس طرح انہوں نے شرک کا آغاز کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے اس کہانی کیا اصلیت کو بھلا دیا اور ان بتوں کی پوجا بذاتہ کرنے لگے ۔ اس کے بعد جب مزید آگے بڑھے تو مطلق پتھروں کی پوجا شروع کردی۔ پارہ چہارم میں ہم نے اس کی کچھ تفصیلات دی ہیں۔ ان میں سے بعض بذات خود شیطان کے بھی پجاری تھے ۔ یہ آیت اس بارے میں نص ہے ۔ کلبی کہتے ہیں کہ خزاعہ کی شاخ بنو ملیح جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ لیکن اس آیت کا مفہوم بڑا وسیع ہے ‘ اس طرح کہ وہ اپنے شرک میں شیطان کو پکارتے تھے اور اس سے امداد طلب کرتے تھے اور شیطان کا قصہ ان کے دادا آدم کے ساتھ مشہور تھا جسے اللہ نے ملعون قرار دیا تھا ۔ اس لئے کہ اس نے انسان کے ساتھ اپنی دشمنی کا اعلان کردیا تھا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے اسے راندہ درگاہ کیا تو اسے انسان پر بہت غصہ آگیا اور وہ اس کا سخت دشمن بن گیا اس نے اللہ سے مہلت مانگی کہ وہ اسے موقعہ دے کہ جو اللہ کے محفوظ قلعے میں پناہ نہیں لیتا وہ اسے گمراہ کرسکے ۔ (آیت) ” ان یدعون من دونہ الا انثا وان یدعون الا شیطان مریدا۔ (117) لعنہ اللہ وقال لاتخذن من عبادک نصیبا مفروضا (118) ولاضلنھم ولا منینھم ولامرنھم فلیبتکن اذان الانعام ولامرنھم بلیغیرن خلق اللہ “۔ (119) (4 : 117 تا 119) (وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں ۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے ۔ (وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ لے کر رہوں گا ۔ میں انہیں بہکاؤں گا ‘ میں انہیں آرزوؤں میں الجھاؤں گا ‘ میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے ۔ یہ لوگ شیطان کو پکارتے ہیں جو ان کا قدیمی دشمن ہے ۔ وہ ہدایات لیتے ہیں اور اس گمراہی میں اس سے امداد لیتے ہیں ‘ حالانکہ یہ شیطان وہ ذات ہے جس پر اللہ نے لعنت بھیجی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تصریح کردی ہے کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ بنی آدم کے ایک بڑے حصے کو گمراہ کر کے رہے گا ۔ انہیں جھوٹی تمناؤں اور جھوٹی خواہشات کا گرویدہ بنا دے گا ۔ وہ جھوٹی لذتوں ‘ موہوم کامیابیوں اور آخرت کی خوش آئندہ امیدوں میں گم رہیں گے ۔ نیز وہ شیطان جس نے اعلانیہ اپنے اس ارادے کا اظہار کیا تھا کہ وہ ان انسانوں سے نہایت ہی قبیح اور احمقانہ حرکات کا صدور کرائے گا ۔ وہ نہایت ہی بودے تصورات کے قائل ہوں گے اور محض قصے کہانیوں پر دین کا فیصلہ کریں گے ۔ مثلا یہ کہ وہ بعض جانوروں کے کان پھاڑ کر کہیں گے کہ اب اس پر سواری حرام ہے یا ان کا گوشت کھانا حرام ہے حالانکہ اللہ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا نیز وہ فطرت انسانی اور خلق الہی میں بےجا تغیرات کریں گے مثلا جسم کے بعض اجزاء کاٹیں گے ۔ انسانوں اور حیوانوں کی شکلیں بدلیں گے مثلا غلاموں کو خصی کریں گے اور ان کے چمڑے پر نشانات بنائیں گے ۔ غرض یہ اور تمام دوسرے غیر فطری افعال وحرکات جس کی اجازت فطرت سلیمہ اور اسلام دونوں نہیں دیتے ۔ انسان کا یہ شعور کہ اس کا قدیم دشمن شیطان ہی شرک اور شرکیہ نظریات کا داعی ہے اور ہی ہے جو بت پرستی کی طرف لوگوں کو آمادہ کرتا ہے ‘ انسان کو کم ازکم ان کی کانا پھوسی سے محتاج کردیتا ہے جو دشمن کی طرف سے ہوتی ہے ۔ اسلام نے زندگی کی اس جنگ کو انسان اور شیطان کے درمیان ایک معرکہ قرار دیا ہے ۔ اور انسان کی پوری قوتوں کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس جنگاہ میں شیطان اور اس کرہ ارض پر اس کی پیدا کردہ تمام شرارتوں کے خلاف جدوجہد کریں ۔ وہ اللہ اور حزب اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں کیونکہ انسان اور شیطان کے درمیان برپا یہ معرکہ ایک دائمی جنگ کا اعلان کیا تو وہ اس جنگ میں تھکتا ہی نہیں ہے ۔ مومن بھی اس سے غافل نہیں ہوتا ‘ نہ مومن اس جنگ سے باہر آسکتا ہے ‘ اس لئے کہ اسے معلوم ہے کہ اس جنگ میں یا تو وہ اللہ کا وہی ہوگا یا وہ شیطان کا دوست ہوگا ۔ اس کے درمیان کوئی تیسرا موقف سرے سے ہے ہی نہیں ۔ شیطان کی ٹیکنیک یہ ہے کہ وہ انسان کے دلوں میں شہوت اور لذت اور عیش وطرب پیدا کرتا ہے ۔ پھر یہ اپنا کام مشرکین اور شرپسندوں اور عیاشوں کے روپ میں کرتا ہے ۔ ایک مسلمان اپنی ذات اور اپنے ہمراہیوں کے ساتھ اس کے مقابلے میں آتا ہے اور پوری زندگی کے اندر یہ طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ جاری رہتی ہے ۔ جو شخص اپنا مددگار اللہ کو بنا لے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور جو شخص شیطان کا ساتھی اور مددگار بن جاتا ہے اور شیطان اس کی امداد کرتا ہے تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے ۔ (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (4 : 119) (شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنا لیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا) قرآن کریم شیطان کے اس کردار کی بھی تصویر کشی کرتا ہے جو وہ اپنے ساتھیوں کے حوالے سے ادا کرتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے کہ گمراہ کرنے میں اس کا طریقہ واردات کیا ہے ؟ (آیت) ” یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ ) شیطان کا طریقہ گمراہی یہ ہے کہ وہ انسان کے برے اعمال کو اس کی نظروں میں بہت ہی خوشنما بنا دیتا ہے ۔ یہ کام وہ نہایت ہی فریب کاری سے کرتا ہے ۔ وہ یہ باور کراتا ہے کہ طریق معصیت میں ہی اس کا فائدہ اور دنیوی اور اخروی کامیابی ہے اس طرح انسان شیطان کے ساتھ رفاقت اختیار کرلیتا ہے ۔ وہ اسے باور کراتا ہے کہ ان اعمال کے نتیجے میں اس کو نجات حاصل ہوگی اور یوں انسان خوشی خوشی ہلاکت کی طرف بڑھتا ہے ۔ حالانکہ (آیت) ” ( وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 120) (شیطان کا وعدہ محض فریب ہوتا ہے ۔ جب شیطان کا طریقہ واردات کی اس قدر واضح انداز میں تصویر کشی کے باوجود یہ ازلی دشمن اپنے پھندے پھیلاتا ہے اور جال بچھاتا ہے اور شکار کو آہستہ آہستہ اس کی طرف ہانکتا ہے ‘ تو اس کے جال اور پھندے میں وہی لوگ پھنستے ہیں جن کی فطرت بدل چکی ہو اور ان کے نفس سے صلاح کے تمام آثار مٹائے جاچکے ہوں ۔ ایسے ہی لوگ مدہوش اور خفتہ ہوتے ہیں اور یہ بات نہیں سوچتے کہ انہیں کس راہ پر چلایا جارہا ہے اور کس فریب میں ان کو پھنسایا جارہا ہے ۔ اہل ہدایت کو بیدار کرنے کے لئے جو ٹچ دیا جا رہا تھا ‘ وہ کام ہی کر رہا تھا اور را ہوار خیال اس معرکے کی نوعیت کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک ہی ان لوگوں کا انجام سامنے آجاتا ہے جن کو شیطان نے اپنے پھندے میں پھنسا لیا ہوتا ہے اور جن کو اس نے اپنے منصوبے کے بارے میں پختہ یقین دہانی کرائی ہوتی ہے اور جن پر اس کا اعلان کردہ جادو چل چکا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا انجام بھی اسکرین پر آتا ہے جو شیطان کے پھندے سے نکل گئے ‘ اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر صحیح طرح ایمان لا چکے تھے ۔ اور جن لوگوں کا ایمان پختہ ہوتا ہے وہ شیطان کے پھندے سے محفوظ ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ شیطان کو اللہ نے ملعون قرار دیا ہے اور اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے جب اسے لوگوں کے اغوا کرنے اور گمراہ کرنے کا موقعہ دیا تھا تو اس وقت ہی اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ دیا تھا کہ میرے مخلص بندوں کا تم کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔ چناچہ وہ ہمیشہ اللہ کے مخلص بندوں کے معاملے میں کمزور رہا ۔ جب تک انہوں نے اللہ کی راسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھا ۔ ذرا غور فرمائیے ! (آیت) ” ومن یتخذ الشیطن ولیا من دون اللہ فقد خسر خسرانا مبینا “۔ (119) یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطن الا غرورا (4 : 119۔ 120) ( ” جس نے شیطان کو جس نے اللہ کے سوا الہ بنا لیا وہ صریح گھاٹے میں رہا ، وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ‘ مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں ۔ )

النساء 4:121

(آیت) ” نمبر 121 تا 122۔ اور وہ جہنم جس سے اولیاء الشیطان کو بھی چھٹکارا نہ ہوگا ۔ دوسری جانب جنت ہے جس میں خدا دوست ہمیشہ رہیں گے (۔۔۔۔ ومن اصدق من اللہ قیلا (4 : 122) (اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہوگی) اللہ کی بات مطلقا سچی ہوتی ہے جس کے مقابلے میں شیطان کی بات فریب اور جھوٹ ہوتی ہے اور جو لوگ شیطان کے جھوٹے وعدوں میں آجاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے سچے وعدے پر یقین کرتے ہیں ان دونوں کے موقف میں بہت ہی بڑا فرق ہے ۔ اس کے بعد قرآن کریم عمل اور جزائے عمل کے بارے میں اللہ کے عظیم اور ناقابل تغیر اصول کو بیان کرتا ہے کہ ثواب و عقاب کا دارومدار محض خواہشات نفس اور تمناؤں پر نہیں ہوتا ۔ ثواب و عقاب ایک مستقل سنت اور دائمی اصول پر مبنی ہوتا ہے اور وہ ایک نہایت ہی مثبت قانون ہے ۔ اس قانون کا اطلاق تمام امتوں میں رہا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کا نہ نسب ملتا ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ اللہ کی رشتہ داری ہے اور دنیا میں کوئی نہیں ہے کہ اس کے لئے اس اصول میں کوئی نرمی کی جائے یا اس کیوجہ سے سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی یا تخلف ہوگا ۔ یا اس کے مفاد میں قانون بدل جائے گا ۔ جو برا کرے گا وہ جزائے بد سے دو چار ہوگا اور جو اچھائی کرے گا وہ جزائے خیر پائے گا ‘ غرض جیسا کرو گے ویسا بھرو گے اس میں نہ دوستی ہے اور نہ لحاظ ۔

النساء 4:122

(آیت) ” نمبر 121 تا 122۔ اور وہ جہنم جس سے اولیاء الشیطان کو بھی چھٹکارا نہ ہوگا ۔ دوسری جانب جنت ہے جس میں خدا دوست ہمیشہ رہیں گے (۔۔۔۔ ومن اصدق من اللہ قیلا (4 : 122) (اور اللہ سے بڑھ کر سچی بات کس کی ہوگی) اللہ کی بات مطلقا سچی ہوتی ہے جس کے مقابلے میں شیطان کی بات فریب اور جھوٹ ہوتی ہے اور جو لوگ شیطان کے جھوٹے وعدوں میں آجاتے ہیں اور جو لوگ اللہ کے سچے وعدے پر یقین کرتے ہیں ان دونوں کے موقف میں بہت ہی بڑا فرق ہے ۔ اس کے بعد قرآن کریم عمل اور جزائے عمل کے بارے میں اللہ کے عظیم اور ناقابل تغیر اصول کو بیان کرتا ہے کہ ثواب و عقاب کا دارومدار محض خواہشات نفس اور تمناؤں پر نہیں ہوتا ۔ ثواب و عقاب ایک مستقل سنت اور دائمی اصول پر مبنی ہوتا ہے اور وہ ایک نہایت ہی مثبت قانون ہے ۔ اس قانون کا اطلاق تمام امتوں میں رہا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کا نہ نسب ملتا ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ اللہ کی رشتہ داری ہے اور دنیا میں کوئی نہیں ہے کہ اس کے لئے اس اصول میں کوئی نرمی کی جائے یا اس کیوجہ سے سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی یا تخلف ہوگا ۔ یا اس کے مفاد میں قانون بدل جائے گا ۔ جو برا کرے گا وہ جزائے بد سے دو چار ہوگا اور جو اچھائی کرے گا وہ جزائے خیر پائے گا ‘ غرض جیسا کرو گے ویسا بھرو گے اس میں نہ دوستی ہے اور نہ لحاظ ۔

النساء 4:123

(آیت) ” 123 تا 125۔ یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام لوگوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ سب کے سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر سر تسلیم خم کریں ‘ نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور ملت ابراہیمی کے اصولوں کا اتباع کریں جو عین اسلام ہے ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا ۔ بہترین دین ‘ دین ملت ابراہیمی ہے اور بہترین عمل ‘ عمل احسان ہے ۔ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ اسلام نے ہر معاملے میں احسان کو مد نظر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ذبیحہ کے لئے بھی احسان تجویز کیا ہے کہ آلہ ذبح تیز ہوتا کہ ذبح کے وقت جانور کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔ اس آیت میں انسان کے دو اصناف کے درمیان بھی اعمال اور جزائے اعمال کے بارے میں مکمل مساوات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا (3 : 123) (اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی) یہ نص صریح ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان اعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار سے کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ اور یہ نص اس بات میں بھی صریح ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور یہ کہ اللہ کے نزدیک کسی ایسے عمل کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے جو ایمان پر مبنی نہ ہو یا جس کے ساتھ ایمان نہ ہو اور یہ بات نہایت ہی منطقی اور فطری ہے ۔ اس لئے کہ صرف ایمان ہی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ عمل کرنے والا کس نظریے اور کس نیت سے یہ عمل کر رہا ہے اور صرف ایمان ہی کسی عمل کو دائمی اور فطری بنا سکتا ہے ورنہ عمل محض ذاتی اور شخصی جوش ہوگا ۔ یہ صریح الفاظ اس رائے کے بالکل خلاف ہیں جس کا اظہار محترم مفتی محمد عبدہ نے تفسیر پارہ عم میں کیا ہے آیت (من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “۔ کے تحت انہوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں ۔ یہ اور تمام دوسری آیات اس کے خلاف ہیں ۔ اس طرح استاد مراغی کی رائے بھی درست نہیں ہے جس پر ہم نے تیسویں پارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزرا تھا ۔ (آیت) ’‘’ (من یعمل سوءا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا) (4 : 123) وہ انسانی مزاج کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ انسان سے برائیوں کا ارتکاب ہوگا چاہے کوئی کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے اور ڈھیر سی نیکیاں کیوں نہ کرے ۔ دور اول کے لوگ نفس انسانی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالتے تھے اور اپنے آپ سے کچھ بھی نہ چھپاتے تھے ۔ وہ اس سے بھی چشم پوشی نہ کرتے تھے کہ بعض اوقات ان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اس لئے وہ اپنی کوتاہیوں کا نہ انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کو چھپاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو سن کر وہ کانپ اٹھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر برے عمل کی انہیں سزا ملے گی وہ اس طرح کانپ گئے جس گویا وہ میدان حشر میں ہیں ۔ وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں ۔ یہی صحابہ کرام کی امتیازی خصوصیت تھی کہ وہ آخرت کو اس طرح محسوس کرتے تھے جس طرح ہم عام محسوسات کو کرتے ہیں ۔ وہ تصور آخرت اور فکر آخرت میں اس طرح زندہ رہتے تھے جس طرح ہم اس دنیا میں رہتے ہیں محض اس وجہ سے کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اس طرح کہ گویا برپا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس آیت کو سنتے ہی کانپنے لگے تھے ۔ امام احمد فرماتے ہیں : ” حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ اس آیت کے بعد فلاح کس طرح ہوگی ؟ اللہ فرماتے ہیں (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب من یعمل سوء یجزبہ “ (4 : 123) (ہم نے جو برائیاں کی ہیں ان پر ہمیں سزا ہوگی) اس پر نبی ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر اللہ تمہیں معاف کر دے کیا تم بیمار نہیں ہوتے ‘ کیا تم تھکتے نہیں ہو ‘ کیا تم پریشان نہیں ہوتے ‘ کیا تم آہیں نہیں بھرتے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا ‘ ہاں ! آپ نے فرمایا تو ان چیزوں پر بھی تمہیں جزا دی جائے گی ۔ (روایت حاکم بواسطہ سفیان ثوری) ابوبکر ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو میں حضور ﷺ کے پاس تھا (آیت) ” (من یعمل سوء ایجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا “۔ (4 : 123) (جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں اپنے لئے کوئی حامی و مددگار نہ پاسکے گا) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر تمہیں بتاؤں کہ ابھی کیا آیت اتری ہے ؟ تو ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور ﷺ بتائیے حضور ﷺ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو معلوم نہیں میں نے اس طرح محسوس کیا کہ میری پیٹھ میں کچھ ٹوٹ گیا اور میں سیدھا ہوگیا۔ اس پر رسول خدا ﷺ نے پوچھا : ” ابوبکر تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ “ میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ ہم میں سے کس نے برا کام نہیں کیا ہے اور آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمیں تمام برے کاموں کی سزا دی جائے گی اس پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر تم اور اہل ایمان کو اس دنیا میں جزا دی جائے گی یہاں تک کہ تم اللہ کو اس حال میں ملو گے کہ تمہارا ایک گناہ بھی نہ ہوگا ‘ رہے دوسرے لوگ تو ان کی سیاہ کاریاں جمع ہوگی اور قیامت کے دن انہیں اس کی جزا دی جائے گی ۔ “ (روایت ترمذی) حضرت عائشہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : حضور ﷺ مجھے قرآن کی سخت ترین آیت معلوم ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کون سی ؟ تو میں نے کہا ۔ (من یعمل سواء یجزبہ) (4 : 123) تو آپ نے فرمایا : کہ بندہ مومن پر مصائب آتے ہیں ۔ “ (روایت ابن جریر) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (من یعمل سواء یجزبہ) (4 : 123) (جس نے بھی برائی کی اسے اس کی جزا دی جائے گی) تو یہ بات مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری اس پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا : ” درمیانی فاصلے بند کرو اور ایک دوسرے کے قریب ہوجاؤ ‘ اس لئے کہ مسلمان کو جو مصیبت بھی آتی ہے اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو مصیبت بھی اس پر آئے یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی اسے چبھے ۔ “ (مسلم ‘ ترمذی ‘ نسائی) بہرحال یہ آیت اسلامی تصورات اور ایمانی طرز فکر کی درستی کے لئے ایک اہم کڑی تھی ۔ اس کی وجہ سے ایک تو اہل دین کی سوچ درست ہوئی اور دوسری جانب ان کا عمل درست ہوا ۔ اس آیت نے ان کو خوب جھنجوڑا اور ان کے دل کانپ اٹھے ‘ اس لئے کہ وہ تو ہر حکم کو نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ لیتے تھے ۔ وہ اللہ کے وعدے کی سچائی اور اس کے اوپر عمل کئے جانے کے بارے میں بہت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ زندگی ان وعدوں کے اندر رہ کر گزارتے تھے اور وہ آخرت میں بستے تھے حالانکہ وہ لوگ ابھی اس دنیا میں تھے ۔ اور آخر میں اختتامیہ آتا ہے ‘ یعنی ایمان وشرک اور اعمال جزائے اعمال کے بعد کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس دنیا اور آخرت دونوں میں تمام چیزوں پر محیط ہے ۔

النساء 4:124

(آیت) ” 123 تا 125۔ یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام لوگوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ سب کے سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر سر تسلیم خم کریں ‘ نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور ملت ابراہیمی کے اصولوں کا اتباع کریں جو عین اسلام ہے ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا ۔ بہترین دین ‘ دین ملت ابراہیمی ہے اور بہترین عمل ‘ عمل احسان ہے ۔ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ اسلام نے ہر معاملے میں احسان کو مد نظر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ذبیحہ کے لئے بھی احسان تجویز کیا ہے کہ آلہ ذبح تیز ہوتا کہ ذبح کے وقت جانور کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔ اس آیت میں انسان کے دو اصناف کے درمیان بھی اعمال اور جزائے اعمال کے بارے میں مکمل مساوات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا (3 : 123) (اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی) یہ نص صریح ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان اعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار سے کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ اور یہ نص اس بات میں بھی صریح ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور یہ کہ اللہ کے نزدیک کسی ایسے عمل کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے جو ایمان پر مبنی نہ ہو یا جس کے ساتھ ایمان نہ ہو اور یہ بات نہایت ہی منطقی اور فطری ہے ۔ اس لئے کہ صرف ایمان ہی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ عمل کرنے والا کس نظریے اور کس نیت سے یہ عمل کر رہا ہے اور صرف ایمان ہی کسی عمل کو دائمی اور فطری بنا سکتا ہے ورنہ عمل محض ذاتی اور شخصی جوش ہوگا ۔ یہ صریح الفاظ اس رائے کے بالکل خلاف ہیں جس کا اظہار محترم مفتی محمد عبدہ نے تفسیر پارہ عم میں کیا ہے آیت (من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “۔ کے تحت انہوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں ۔ یہ اور تمام دوسری آیات اس کے خلاف ہیں ۔ اس طرح استاد مراغی کی رائے بھی درست نہیں ہے جس پر ہم نے تیسویں پارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزرا تھا ۔ (آیت) ’‘’ (من یعمل سوءا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا) (4 : 123) وہ انسانی مزاج کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ انسان سے برائیوں کا ارتکاب ہوگا چاہے کوئی کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے اور ڈھیر سی نیکیاں کیوں نہ کرے ۔ دور اول کے لوگ نفس انسانی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالتے تھے اور اپنے آپ سے کچھ بھی نہ چھپاتے تھے ۔ وہ اس سے بھی چشم پوشی نہ کرتے تھے کہ بعض اوقات ان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اس لئے وہ اپنی کوتاہیوں کا نہ انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کو چھپاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو سن کر وہ کانپ اٹھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر برے عمل کی انہیں سزا ملے گی وہ اس طرح کانپ گئے جس گویا وہ میدان حشر میں ہیں ۔ وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں ۔ یہی صحابہ کرام کی امتیازی خصوصیت تھی کہ وہ آخرت کو اس طرح محسوس کرتے تھے جس طرح ہم عام محسوسات کو کرتے ہیں ۔ وہ تصور آخرت اور فکر آخرت میں اس طرح زندہ رہتے تھے جس طرح ہم اس دنیا میں رہتے ہیں محض اس وجہ سے کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اس طرح کہ گویا برپا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس آیت کو سنتے ہی کانپنے لگے تھے ۔ امام احمد فرماتے ہیں : ” حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ اس آیت کے بعد فلاح کس طرح ہوگی ؟ اللہ فرماتے ہیں (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب من یعمل سوء یجزبہ “ (4 : 123) (ہم نے جو برائیاں کی ہیں ان پر ہمیں سزا ہوگی) اس پر نبی ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر اللہ تمہیں معاف کر دے کیا تم بیمار نہیں ہوتے ‘ کیا تم تھکتے نہیں ہو ‘ کیا تم پریشان نہیں ہوتے ‘ کیا تم آہیں نہیں بھرتے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا ‘ ہاں ! آپ نے فرمایا تو ان چیزوں پر بھی تمہیں جزا دی جائے گی ۔ (روایت حاکم بواسطہ سفیان ثوری) ابوبکر ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو میں حضور ﷺ کے پاس تھا (آیت) ” (من یعمل سوء ایجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا “۔ (4 : 123) (جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں اپنے لئے کوئی حامی و مددگار نہ پاسکے گا) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر تمہیں بتاؤں کہ ابھی کیا آیت اتری ہے ؟ تو ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور ﷺ بتائیے حضور ﷺ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو معلوم نہیں میں نے اس طرح محسوس کیا کہ میری پیٹھ میں کچھ ٹوٹ گیا اور میں سیدھا ہوگیا۔ اس پر رسول خدا ﷺ نے پوچھا : ” ابوبکر تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ “ میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ ہم میں سے کس نے برا کام نہیں کیا ہے اور آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمیں تمام برے کاموں کی سزا دی جائے گی اس پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر تم اور اہل ایمان کو اس دنیا میں جزا دی جائے گی یہاں تک کہ تم اللہ کو اس حال میں ملو گے کہ تمہارا ایک گناہ بھی نہ ہوگا ‘ رہے دوسرے لوگ تو ان کی سیاہ کاریاں جمع ہوگی اور قیامت کے دن انہیں اس کی جزا دی جائے گی ۔ “ (روایت ترمذی) حضرت عائشہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : حضور ﷺ مجھے قرآن کی سخت ترین آیت معلوم ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کون سی ؟ تو میں نے کہا ۔ (من یعمل سواء یجزبہ) (4 : 123) تو آپ نے فرمایا : کہ بندہ مومن پر مصائب آتے ہیں ۔ “ (روایت ابن جریر) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (من یعمل سواء یجزبہ) (4 : 123) (جس نے بھی برائی کی اسے اس کی جزا دی جائے گی) تو یہ بات مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری اس پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا : ” درمیانی فاصلے بند کرو اور ایک دوسرے کے قریب ہوجاؤ ‘ اس لئے کہ مسلمان کو جو مصیبت بھی آتی ہے اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو مصیبت بھی اس پر آئے یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی اسے چبھے ۔ “ (مسلم ‘ ترمذی ‘ نسائی) بہرحال یہ آیت اسلامی تصورات اور ایمانی طرز فکر کی درستی کے لئے ایک اہم کڑی تھی ۔ اس کی وجہ سے ایک تو اہل دین کی سوچ درست ہوئی اور دوسری جانب ان کا عمل درست ہوا ۔ اس آیت نے ان کو خوب جھنجوڑا اور ان کے دل کانپ اٹھے ‘ اس لئے کہ وہ تو ہر حکم کو نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ لیتے تھے ۔ وہ اللہ کے وعدے کی سچائی اور اس کے اوپر عمل کئے جانے کے بارے میں بہت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ زندگی ان وعدوں کے اندر رہ کر گزارتے تھے اور وہ آخرت میں بستے تھے حالانکہ وہ لوگ ابھی اس دنیا میں تھے ۔ اور آخر میں اختتامیہ آتا ہے ‘ یعنی ایمان وشرک اور اعمال جزائے اعمال کے بعد کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس دنیا اور آخرت دونوں میں تمام چیزوں پر محیط ہے ۔

النساء 4:125

(آیت) ” 123 تا 125۔ یہود اور نصاری کہتے تھے ۔ (آیت) ” (نحن ابناء اللہ واحباؤہ) ہم اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں ۔ اور یہ بھی کہتے تھے ۔ (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ ) “ ہمیں آگ نہ چھوئے گی مگر چند دنوں کے لئے ۔۔۔۔۔۔ اور یہودی تو آج تک اپنے آپ کو اللہ کی مختار قوم کہتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ بعض مسلمانوں کے دل میں بھی یہ بات آتی ہو کہ وہ ایک ایسی امت ہیں جسے تمام لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے اور اللہ ان کی تمام غلطیوں کو معاف کر دے گا ‘ اس لئے کہ وہ مسلمان ہیں۔ چناچہ یہ آیت ایسے ہی حالات کی تردید کے لئے اتری کہ دونوں فریقوں کے یہ خیالات درست نہیں ہیں ۔ عملوں پر سب کا بیڑا پار ہوگا۔ تمام لوگوں کے لئے ایک ہی معیار ہے ۔ وہ یہ کہ لوگ سب کے سب اللہ کی طرف متوجہ ہو کر سر تسلیم خم کریں ‘ نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں اور ملت ابراہیمی کے اصولوں کا اتباع کریں جو عین اسلام ہے ۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو اللہ نے اپنا دوست بنایا تھا ۔ بہترین دین ‘ دین ملت ابراہیمی ہے اور بہترین عمل ‘ عمل احسان ہے ۔ اور احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی بندگی اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تو تمہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ اسلام نے ہر معاملے میں احسان کو مد نظر رکھا ہے ۔ یہاں تک کہ ذبیحہ کے لئے بھی احسان تجویز کیا ہے کہ آلہ ذبح تیز ہوتا کہ ذبح کے وقت جانور کو تکلیف زیادہ نہ ہو ۔ اس آیت میں انسان کے دو اصناف کے درمیان بھی اعمال اور جزائے اعمال کے بارے میں مکمل مساوات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مومن فاولئک یدخلون الجنۃ ولا یظلمون نقیرا (3 : 123) (اور جو نیک عمل کرے گا ‘ خواہ مرد ہو یا عورت ‘ بشرطیکہ ہو وہ مومن ‘ تو ایسے ہی لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی) یہ نص صریح ہے کہ مرد اور عورتوں کے درمیان اعمال اور جزائے اعمال کے اعتبار سے کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ اور یہ نص اس بات میں بھی صریح ہے کہ ایمان کے بغیر کوئی عمل مقبول نہ ہوگا اور یہ کہ اللہ کے نزدیک کسی ایسے عمل کی کوئی قدرو قیمت نہیں ہے جو ایمان پر مبنی نہ ہو یا جس کے ساتھ ایمان نہ ہو اور یہ بات نہایت ہی منطقی اور فطری ہے ۔ اس لئے کہ صرف ایمان ہی سے اس بات کا تعین ہوتا ہے کہ عمل کرنے والا کس نظریے اور کس نیت سے یہ عمل کر رہا ہے اور صرف ایمان ہی کسی عمل کو دائمی اور فطری بنا سکتا ہے ورنہ عمل محض ذاتی اور شخصی جوش ہوگا ۔ یہ صریح الفاظ اس رائے کے بالکل خلاف ہیں جس کا اظہار محترم مفتی محمد عبدہ نے تفسیر پارہ عم میں کیا ہے آیت (من یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ “۔ کے تحت انہوں نے کہا ہے کہ اس آیت میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل ہیں ۔ یہ اور تمام دوسری آیات اس کے خلاف ہیں ۔ اس طرح استاد مراغی کی رائے بھی درست نہیں ہے جس پر ہم نے تیسویں پارے میں اظہار خیال کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزرا تھا ۔ (آیت) ’‘’ (من یعمل سوءا یجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا) (4 : 123) وہ انسانی مزاج کو اچھی طرح جانتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ انسان سے برائیوں کا ارتکاب ہوگا چاہے کوئی کتنا ہی نیک کیوں نہ بن جائے اور ڈھیر سی نیکیاں کیوں نہ کرے ۔ دور اول کے لوگ نفس انسانی سے اچھی طرح واقف تھے ۔ وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو دھوکے میں نہ ڈالتے تھے اور اپنے آپ سے کچھ بھی نہ چھپاتے تھے ۔ وہ اس سے بھی چشم پوشی نہ کرتے تھے کہ بعض اوقات ان سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں اس لئے وہ اپنی کوتاہیوں کا نہ انکار کرتے تھے اور نہ ہی ان کو چھپاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کو سن کر وہ کانپ اٹھے ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر برے عمل کی انہیں سزا ملے گی وہ اس طرح کانپ گئے جس گویا وہ میدان حشر میں ہیں ۔ وہ اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں ۔ یہی صحابہ کرام کی امتیازی خصوصیت تھی کہ وہ آخرت کو اس طرح محسوس کرتے تھے جس طرح ہم عام محسوسات کو کرتے ہیں ۔ وہ تصور آخرت اور فکر آخرت میں اس طرح زندہ رہتے تھے جس طرح ہم اس دنیا میں رہتے ہیں محض اس وجہ سے کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اس طرح کہ گویا برپا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس آیت کو سنتے ہی کانپنے لگے تھے ۔ امام احمد فرماتے ہیں : ” حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ اس آیت کے بعد فلاح کس طرح ہوگی ؟ اللہ فرماتے ہیں (آیت) ” لیس بامانیکم ولا امانی اھل الکتب من یعمل سوء یجزبہ “ (4 : 123) (ہم نے جو برائیاں کی ہیں ان پر ہمیں سزا ہوگی) اس پر نبی ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر اللہ تمہیں معاف کر دے کیا تم بیمار نہیں ہوتے ‘ کیا تم تھکتے نہیں ہو ‘ کیا تم پریشان نہیں ہوتے ‘ کیا تم آہیں نہیں بھرتے ہو ؟ “ تو انہوں نے کہا ‘ ہاں ! آپ نے فرمایا تو ان چیزوں پر بھی تمہیں جزا دی جائے گی ۔ (روایت حاکم بواسطہ سفیان ثوری) ابوبکر ابن مردویہ کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو میں حضور ﷺ کے پاس تھا (آیت) ” (من یعمل سوء ایجزبہ ولا یجدلہ من دون اللہ ولیا ولا نصیرا “۔ (4 : 123) (جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں اپنے لئے کوئی حامی و مددگار نہ پاسکے گا) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر تمہیں بتاؤں کہ ابھی کیا آیت اتری ہے ؟ تو ابوبکر کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور ﷺ بتائیے حضور ﷺ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی تو معلوم نہیں میں نے اس طرح محسوس کیا کہ میری پیٹھ میں کچھ ٹوٹ گیا اور میں سیدھا ہوگیا۔ اس پر رسول خدا ﷺ نے پوچھا : ” ابوبکر تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟ “ میں نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ‘ ہم میں سے کس نے برا کام نہیں کیا ہے اور آیت کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمیں تمام برے کاموں کی سزا دی جائے گی اس پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا : ” ابوبکر تم اور اہل ایمان کو اس دنیا میں جزا دی جائے گی یہاں تک کہ تم اللہ کو اس حال میں ملو گے کہ تمہارا ایک گناہ بھی نہ ہوگا ‘ رہے دوسرے لوگ تو ان کی سیاہ کاریاں جمع ہوگی اور قیامت کے دن انہیں اس کی جزا دی جائے گی ۔ “ (روایت ترمذی) حضرت عائشہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : حضور ﷺ مجھے قرآن کی سخت ترین آیت معلوم ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کون سی ؟ تو میں نے کہا ۔ (من یعمل سواء یجزبہ) (4 : 123) تو آپ نے فرمایا : کہ بندہ مومن پر مصائب آتے ہیں ۔ “ (روایت ابن جریر) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی (من یعمل سواء یجزبہ) (4 : 123) (جس نے بھی برائی کی اسے اس کی جزا دی جائے گی) تو یہ بات مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری اس پر رسول خدا ﷺ نے فرمایا : ” درمیانی فاصلے بند کرو اور ایک دوسرے کے قریب ہوجاؤ ‘ اس لئے کہ مسلمان کو جو مصیبت بھی آتی ہے اس کی وجہ سے اس کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو مصیبت بھی اس پر آئے یہاں تک کہ ایک کانٹا بھی اسے چبھے ۔ “ (مسلم ‘ ترمذی ‘ نسائی) بہرحال یہ آیت اسلامی تصورات اور ایمانی طرز فکر کی درستی کے لئے ایک اہم کڑی تھی ۔ اس کی وجہ سے ایک تو اہل دین کی سوچ درست ہوئی اور دوسری جانب ان کا عمل درست ہوا ۔ اس آیت نے ان کو خوب جھنجوڑا اور ان کے دل کانپ اٹھے ‘ اس لئے کہ وہ تو ہر حکم کو نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ لیتے تھے ۔ وہ اللہ کے وعدے کی سچائی اور اس کے اوپر عمل کئے جانے کے بارے میں بہت ہی اچھی طرح جانتے تھے ۔ وہ زندگی ان وعدوں کے اندر رہ کر گزارتے تھے اور وہ آخرت میں بستے تھے حالانکہ وہ لوگ ابھی اس دنیا میں تھے ۔ اور آخر میں اختتامیہ آتا ہے ‘ یعنی ایمان وشرک اور اعمال جزائے اعمال کے بعد کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ اس دنیا اور آخرت دونوں میں تمام چیزوں پر محیط ہے ۔

النساء 4:126

(آیت) ” نمبر 126۔ قرآن کریم میں جہاں یہ بات آتی ہے کہ اللہ ایک ہے اور وہی الہ ہے تو اس کے ساتھ یہ بات بھی آتی ہے کہ وہی مالک اور نگہبان بھی ہے ۔ (ملک ۔ مہیمن) یعنی وہی بادشاہ اور کنٹرول کرنے والا ہے ۔ پس اسلام کا نظریہ توحید صرف یہ نہیں ہے کہ ذات میں اللہ وحدہ لا شریک ہے بلکہ وہ مثبت توحید ہے اور اس کائنات میں فاعل اور موثر بھی وہی ہے اور حکومت اور نگہبانی بھی اسی کی ہے ۔ جب نفس انسانی کے اندر یہ شعور پختہ ہوجاتا ہے کہ زمین وآسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اور وہ ہر چیز کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے ۔ کوئی چیز خدا کے علم اور اس کی سلطنت سے باہر نہیں ہے ‘ تو اس طرح ایک انسان اس امر پر بسہولت آمادہ ہوجاتا ہے کہ وہ اللہ کو ایک الہ اور حاکم تسلیم کرے اور صرف اسی کی بندگی کرے اور پھر اللہ کو راضی کرنے کی سعی کرے اور اللہ کے احکام کو تسلیم کرے ۔ اس لئے کہ سب کچھ اس کا ہے ‘ اس کے قبضے میں ہے اور وہ ہر چیز پر محیط ہے ۔ بعض فلسفے ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو واحد مانتے ہیں ‘ لیکن اس عقیدہ توحید کے بعد یہ فلسفے اس گمراہی میں مبتلا ہو اجاتے ہیں کہ اللہ صاحب ارادہ نہیں ہے ۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا علم نہیں ہوتا ۔ بعض اللہ کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ‘ بعض اللہ کی ملکیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ (تفصیلات کیلئے دیکھئے فلاسفہ کے خرافات) چناچہ فلاسفہ کے نزدیک خدا کا تصور ایک منفی تصور ہے ۔ اس تصور میں لوگوں کی زندگی کے ساتھ اللہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نہ ان کے طرز عمل اور انکے اخلاق پر اس کا کوئی تصرف ہے ‘ فلاسفہ کی توحید محض کلام ہی کلام ہے ۔ لیکن اسلام میں ‘ اللہ وہ ذات ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے ‘ لہذا وہ ہر چیز کا مالک ہے اور وہ ہر چیز پر محیط ہے اور وہ نگہبان ہے ۔ لہذا اس تصور کے زیر سایہ ضمیر کی اصلاح ‘ طرز عمل کی اصلاح اور پوری زندگی کی اصلاح کی جاسکتی ہے ۔

النساء 4:127

درس نمبر 41 ایک نظر میں : اس سورة کے آغاز میں اسلام نے جاہلی معاشرے کی اصلاح کے جس کام کا آغاز کیا تھا یہ سبق اسی کا ایک حصہ ہے ۔ اس اصلاح کا تعلق عورتوں کے حقوق اور خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ ایک خاندان کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان میں سے بعض یتیم رہ جاتے ہیں ۔ ان کے مسائل اس میں لے گئے ہیں ۔ اسلامی معاشرے کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ان مسائل کے اندر جاہلیت کے دور کی جو ناہمواریاں رہ گئی ہیں انہیں دور کیا جائے اور ایک گھرانے کو اس اساس پر اٹھایا جائے کہ اس کے اندر مرد اور عورت دونوں کا احترام ہو ‘ دونوں کی مصلحتوں کا خیال رکھا جائے ۔ خاندان کے اندر جو اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ان کی اصلاح کی تدابیر اس سبق کا موضوع ہے ۔ یعنی اگر اختلافات ہوں تو معاملات کے بگاڑ سے پہلے ان کی اصلاح کی جائے تاکہ گھرانے ٹوٹنے نہ پائیں ۔ خصوصا وہ بچے جو ان گھرانوں میں پیدا ہوچکے ہوتے ہیں اور خاندان ان کے لئے نرسری ہوتا ہے ان کی صحیح ترتیب ہو سکے ۔ نیز عام معاشرے کے اندر زیردست لوگوں کی دیکھ بھال کی جائے تاکہ یہ نہ ہو کہ غالب اور زور آور لوگوں کا قانون چلے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا دور دورہ ہو ۔ یہ سبق بعض معاملات کی اصلاح اس طرح کرتا ہے کہ انہیں نظام کائنات کے ساتھ مربوط کرتا ہے ۔ جس سے مخاطب کو یہ تصور دینا مطلوب ہے کہ عورتوں ‘ گھرانوں ‘ خاندانوں اور معاشرے کے اندر کمزوروں کے مسائل معمولی مسائل نہیں ہیں ۔ ان کی بہت بڑی اہمیت ہے جس کی تفصیلات ہم اس پارے میں دے چکے ہیں ۔ پارہ چہارم کے مقدمے میں ‘ ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ اسلام میں خاندانی نظام کو کتنی عظیم اہمیت دی گئی ہے ۔ اور یہ کہ اسلامی نظام نے خاندانی ادارے کو جاہلیت کی رسوم بد سے پاک کرنے کے لئے کس قدر عظیم جدوجہد کی ہے اور کس قدر کوشش کی ہے کہ معاشرے کے اندر لوگوں کی اخلاقی ‘ نفسیاتی اور اجتماعی سطح کو بلند کیا جائے تاکہ اسلامی معاشرہ ان تمام معاشروں پر فوقیت حاصل کرلے جو اس وقت اس کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے ۔ جو دین اسلام کو قبول نہ کرتے تھے اور جن کی تربیت اسلامی منہاج کے مطابق نہ تھی اور جو اسلامی نظام کے زیر حکومت نہ تھے ۔ اب ذرا تفصیلات کے ساتھ زیر بحث آیات کو لیجئے ۔ درس نمبر 41 تشریح آیات : 127۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 134 (آیت) ” نمبر 127۔ سورة نساء کے ابتدا میں جو آیات نازل ہوئی تھیں ان کی وجہ سے کئی سوالات پیدا ہوگئے تھے اور لوگ سوالات کیا کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی جانب سے ’ اسلامی معاشرے کی تشکیل کے ابتدائی دور میں مختلف مسائل کے بارے میں سوالات کرنا ایک عام پریکٹس تھی اور اس کی تہ میں یہ جذبہ کار فرما تھا کہ وہ اسلامی نظام زندگی سے متعلق احکام معلوم کرنا چاہتے تھے اس لئے کہ جاہلیت سے اسلام کی طرف منتقل ہونے کا عمل دراصل ان کی زندگیوں میں ایک گہرا انقلاب تھا ۔ اس کی وجہ سے ان کے شعور میں جاہلیت کے دور میں ہونے والے تمام افعال اور رسول کے بارے میں شک پیدا ہوگیا تھا ۔ وہ ہر وقت یہ محسوس کرتے تھے کہ کسی پیش آمدہ معاملے میں اسلام نے سابق پریکٹس کو منسوخ نہ کردیا ہو ۔ یہ بیداری اور اسلامی احکام کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کا جذبہ ان حضرات کی ایک عام صفت تھی ۔ اس کے باوجود بعض آثار جاہلیت ان کی زندگیوں میں باقی تھے ۔ اصل بات یہ ہے کہ انکے اندر ایک قومی جذبہ موجود تھا ‘ جس کے مطابق وہ اپنی زندگی کے تمام حالات کو اسلام کے مطابق ڈھالتے تھے اور اس روح کے ساتھ وہ بعض احکام کے بارے میں استفسارات کرتے تھے یہ کام وہ محض علم و ثقافت اور محض سوال کی خاطر نہ کرتے تھے جیسا کہ آج کل مفتی حضرات کے پاس اکثر سوالات محض حصول علم و ثقافت کے لئے ہوتے ہیں کوئی عمل کرنے کے لئے نہیں پوچھتا ۔ اس وقت مسلمانوں کو دینی مسائل کے پوچھنے کی حقیقی ضرورت بھی تھی ‘ اس لئے کہ یہ دین ان کے لئے زندگی کا نظام تھا اور وہ اس کے مسائل پوچھنے کے معاملے میں بہت ہی سرگرم تھے ، مقصد یہ تھا کہ ان کی عملی زندگی احکام دین کے مطابق بن جائے ۔ وہ جاہلیت سے نکلنے کے عمل سے گزر رہے تھے اور جاہلیت کی تمام عادات وتقالید اور اوضاع واطوار سے خائف تھے کہ کہیں کوئی بات نظام اسلام کے خلاف نہ ہو ۔ اسلام نے ان کے اندر جو تغیر اور انقلاب برپا کردیا تھا اس کے بارے میں وہ بہت ہی حساس تھے ۔ دوسرے الفاظ میں اسلام نے انہیں ان کے اس سچے عزم اور اسلام کے بارے میں ان کے جوش و خروش کی وجہ سے ملا ۔ وہ اس شکل میں کہ اللہ کی خاص عنایت اور توجہ انکی طرف مبذول ہوئی ذات باری نے خود براہ راست انہیں ان کے اس استفاء کا جواب دیا ۔ (آیت) ” (ویستفتونک فی النسآئ) (4 : 127) (لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتوی پوچھتے ہیں) وہ تو رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے اور اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ سے کہتے تھے : ” کہو اللہ تمہیں فتوی دیتے ہیں ‘ تمہارے سوال اور بقیہ دونوں امور کے بارے میں جن کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ عنایت ہے جس کی قدروقیمت صحابہ کرام ہی جانتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربانی ‘ نہایت ہی عزت افزائی کرتے ہوئے بذات خود جماعت مسلمہ کو فتوی دیتے ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے نیابت یا بندہ پروری اور مہربانی ہے اور بندوں کی جدید زندگی کے لئے ضروری سوالوں کا جواب خود دیا جا رہا ہے ۔ یہ سوال ان عملی حالات کے بارے میں تھا جو جاہلیت میں روز مرہ کا معمول تھے ۔ وہ جاہلیت جس سے پوچھنے والوں کو اللہ اور اللہ کے نظام نے نکالا تھا ۔ دوسرے یہ سوالات ان امور کے بارے میں تھے جن کے ذریعے جدید اسلامی معاشرے کو مزید ترقی دینا مطلوب تھا ۔ (آیت) ” (قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلی علیکم فی الکتب فی یتمی النساء التی لا توتونھن ما کتب لھن وترغبون ان تنکحوھن والمستضعفین من الولدان وان تقوموا للیتمی بالقسط (4 : 127) (کہو اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے معاملے میں فتوی دیتا ہے ‘ اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں ۔ یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو (یا لالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کرلینا چاہتے ہو) اور وہ احکام جو ان بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے ۔ اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو) علی ابن ابو طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کے بارے میں نقل کیا ہے کہ جاہلیت کے دور میں جس کے پاس یتیم لڑکی ہوتی ‘ وہ اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا ‘ جب وہ ایسا کرلیتا تو اس یتیم لڑکی کے ساتھ کوئی شخص بھی کبھی نکاح نہ کرسکتا ۔ اگر وہ خوبصورت ہوتی اور وہ اسے پسند کرتا تو وہ اس کے ساتھ خود نکاح کرلیتا اور اس کا مال کھاتا رہتا ۔ اور اگر بدصورت ہوتی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی اس کا نکاح کرنے کی اجازت نہ دیتا یہاں تک کہ وہ مرجاتی اور یہ اس کے مال کا وارث ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس فعل کا حرام قرار دیا اور آئندہ کے لئے اس سے منع فرمایا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” والمستضعفین من الولدان “۔ (4 : 127) (اور بچوں میں سے کمزور لوگ) کون تھے ؟ جاہلیت میں دراصل کمزور بچوں کو وراثت میں سے حق نہ دیا جاتا تھا اور نہ لڑکیوں کو دیا جاتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ! (آیت) ” لا توتونھن ما کتب لھن “۔ (4 : 127) (تم ان کو وہ حق نہیں دیتے جس اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دے دیا ہے) اللہ نے اس سے بھی روک دیا اور ہر حقدار کا حصہ قرآن میں مقرر کردیا اور کہا کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے خواہ عورتوں چھوٹی ہوں یا بڑی ہوں۔ سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں (آیت) ” (وان تقوموا للیتمی بالقسط “۔ (4 : 127) کی تفسیر یہ ہے کہ اگر یتیم لڑکی مالدار اور خوبصورت ہو تو ولی کہتا کہ میں اسے اپنے لئے چن لیتا ہوں اور اس کے ساتھ نکاح کرلیتا اور اگر صاحب مال و جمال نہ ہوتی تو اسے دوسروں کے نکاح میں دے دیتا ۔ (آیت) ” ویستفتونک فی النسآء قل اللہ یفتیکم فیھن “۔ تاآیت (وترغبون ان تنکحوھن) کے بارے میں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں ۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس یتیم لڑکی ہوتی ۔ وہ اس کا ولی اور وارث ہوتا ۔ وہ اسے اپنے مال میں شریک کرلیتی یہاں تک کہ کھجور کے اس گچھے میں بھی جو کھانے کے لئے توڑ لیا جاتا ۔ وہ اس کے ساتھ نکاح کرنا بھی پسند نہ کرتا تھا اور کسی دوسرے شخص کے نکاح میں بھی نہ دیتا تھا کہ وہ اس کے ساتھ مال میں شریک نہ ہوجائے ۔ اس طرح وہ عورت معطل رہتی ۔ (بخاری مسلم) ابن ابو حاتم (رح) نے عروہ ابن زبیر ؓ سے حضرت عائشہ ؓ کی ایک دوسری روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں : حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا :” اس آیت کے بعد لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کے بعد دوبارہ ان عورتوں کے بارے میں پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ویستفتونک فی النسآء قل اللہ یفتیکم فیھن قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلی علیکم فی الکتب “۔ (4 : 127) حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ اس آیت میں یہ جو کہا گیا ہے کہ جو تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے (یعنی سابقہ احکام) تو اس سے مراد وہ سابقہ آیت ہے یعنی (آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ماطاب لکم من النسائ “۔ یعنی اگر وہ صاحب مال و جمال نہ ہوں اور تم انکے ساتھ نکاح نہ کرنا چاہتے ہو۔ اور اگر وہ صاحب مال و جمال ہوں اور تم ان کے ساتھ نکاح کرنا چاہتے ہو صرف مال کی غرض ہو تو نکاح نہ کرو الا یہ کہ عدل کے ساتھ نکاح کرنا چاہو۔ ان احادیث اور قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیت کے دور میں کیا ہو رہا تھا ۔ خصوصا یتیم نوجوان عورتوں کے ساتھ ۔ یتیم لڑکی کے ساتھ ولی کی طرف سے مال و دولت میں بھی بےایمانی ہوتی اور اس کے مہر میں بھی اس کے ساتھ زیادتی ہوتی ۔ اس کا مال لٹایا جاتا اور اگر وہ بدصورت ہوتی تو اس کا مال بھی ہڑپ ہوتا اور اس کے ساتھ نکاح بھی نہ ہوتا ۔ کسی دوسرے کے نکاح میں بھی نہ دی جاتی کہ کہیں وہ ولی کے ساتھ مال میں شریک نہ ہوجائے کیونکہ مال ولی کے تصرف میں ہوتا ۔ یہی حال چھوٹے بچوں اور لڑکیوں کا ہوتا ۔ ان کو میراث سے محروم کردیا جاتا ۔ اس لئے کہ وہ ضعیف ہوتے تھے اور وہ اس مال کی مدافعت نہ کرسکتے تھے یا وہ جنگ نہ کرسکتے تھے ۔ اس لئے ان کے لئے کوئی حق یا حصہ نہ ہوتا اور یہ قبائلی تصورحیات کے مطابق ہوتا جن کی مطابق قبیلے کے تمام اموال جنگ کرنے والوں کے لئے ہوتے اور ضعیفوں کے لئے کچھ نہ ہوتا ۔ یہ تھے وہ بدوی اور بدنما رسم و رواج جن کو اسلام نے تبدیل کرنا شروع کیا اور ان کی جگہ ترقی یافتہ قرآنی رسم و رواج کی بنیاد ڈالی اور یہ تبدیلی ایسی نہ تھی کہ گویا بہت ہی تیزی سے بطور لانگ جمپ یہ انقلابی تبدیلی کی گئی اور عربی معاشرے کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنا دیا گیا بلکہ یہ عربوں کے لئے ایک نیا جنم تھا ۔ ان کی حقیقت کو بدل کر ایک نئی حقیقت انکو دی گئی ۔ یہاں جو اہم بات ہم ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ نشاۃ جدیدہ کسی منصوبے کے تحت نشاۃ ثانیہ نہ تھی اور نہ اس کے لئے کوئی خاص منصوبہ بنایا گیا تھا اور نہ منصوبے کے لئے کوئی ابتدائی تیاری کی گئی تھی یا یہ ترقی کسی مادی تبدیلی کی وجہ سے ہوئی تھی اور صرف عربوں کی زندگی میں ہوئی تھی ۔ اس لئے کہ حقیقت ملکیت کے جاہلی سبب محاربت کو منسوخ کرکے ‘ اس کی جگہ انسانی اساس پر حق ملکیت کو استوار کرنا ‘ بچے ‘ یتیم اور عورت کو بھی انسانی حقوق عطا کرنا محض اس وجہ سے نہ تھا کہ معاشرے کے اندر تبدیلی آگئی تھی اور اس معاشرے کے اندر جنگی قوت رکھنا یا دفاع کرنا ہی اہم عامل نہ رہا تھا ‘ اس وجہ سے جنگی قوت رکھنے والے افراد خاندان ان کی امتیازی حیثیت کو ختم کردیا گیا ۔ اب خاندان والوں کے لئے جنگی قوت رکھنے والے افراد کی سرے سے ضرورت ہی نہ تھی اور نہ ان کی امتیازی حیثیت کی ضرورت تھی ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اسلامی دور میں بھی جنگی افراد کی افراد کی اہمیت اپنی جگہ قائم تھی ۔ ان کی ضرورت بھی تھی لیکن جو فرق پڑا وہ یہ تھا کہ اسلامی نظام آگیا تھا اور یہ انسان کے لئے ایک جدید جنم تھا ۔ یہ جنم ایک کتاب کے ذریعے ملا تھا ۔ ایک نظام سے انہیں یہ جنم ملا تھا اور جدید معاشرہ اس جدید نظام نے قائم کیا تھا اور اسی سرزمین پر قائم کیا تھا جس پر جاہلیت قائم تھی اور انہی حالات میں جن میں ذرائع پیداوار کے اندر کوئی تبدیلی نہ کی گئی تھی ۔ نہ مادے اور اس کے خواص میں کوئی تبدیلی کی گئی تھی بلکہ تصور حیات اور نظریہ حیات کے اندر انقلاب پیدا ہوگیا تھا ۔ اور یہ انقلاب محض اس نظریہ جدیدہ کی وجہ سے ہوا تھا ۔ یہ بات بھی حقیقت تھی کہ اسلامی نظام نے لوگوں کے ذہنوں اور طرز عمل سے جاہلیت کے آثار کو مٹانے کے لئے طویل ترین جدوجہد کی اور ان کی جگہ اسلامی تصورات اور اسلامی عادات واطوار بٹھانے کیلئے سخت محنت کی ۔ یہ بھی حقیقت تھی کہ جاہلیت کے بعض اطوار ابھی تک اپنے آپ کو بچانے کے لئے کوشاں تھے اور بعض انفرادی حالات میں انکا پھر سے ظہور ہوجاتا تھا ۔ یہ عادات واطوار مختلف شکلوں میں اپنے آپ کو زندہ رکھنا چاہتے تھے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نظام جو آسمانوں سے نازل ہوا اور وہ تصورات جو اس نظام نے عطا کئے یہی تو جاہلیت کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کی سعی میں مصروف تھے اور یہ بات نہ تھی کہ مادی صورت حال یا اس کے اندر موجود تضادات اس تبدیلی میں موثر تھے یا ذرائع پیداوار میں کوئی تبدیلی ہوگئی تھی یا کوئی اور مارکسی فیکٹر تھا جو مادے یا ذرائع پیداوار میں تبدیلی کی وجہ سے معاشرے میں تغیر لا رہا تھا ۔ عرب قوم کی زندگی میں جو نئی چیز تھی وہ دین تھی جو عالم بالا سے ان پر نازل ہوئی تھی ۔ اس پر بعض نفوس نے لبیک کہا اس لئے کہ وہ انسانی فطرت سے ہمکلام تھی اور یہ فطرت ہر انسان کے اندر موجود تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ یہ عظیم انقلاب رونما ہوا بلکہ انسان کو یہ نیا جنم ملا ‘ جس نے زندگی کے تمام خدوخال بدل دیئے ‘ ہر پہلو سے بدل دیئے اور جاہلیت کے تو تمام نشانات مٹا دیئے ۔ معاشرے کے جدید وقدیم خدوخال کے درمیان جس قدر تنازع بھی نظر آئے اور اس تطہیر اور تجدید کی راہ میں جس قدر رنج والم اور قربانیاں بھی دی گئی ہوں ‘ یہ سب کچھ آسمانی رسالت کی وجہ سے ہوا ۔ ایک نظریاتی اور اعتقادی تصور تھا جو اس انقلاب کے لئے پہلا اور آخری فیکٹر تھا ۔ بلکہ اس نئے جنم کے لئے وہی اول وآخر عامل تھا ۔ پھر کیا ہوا ؟ پھر اس انقلاب کا طوفان صرف اسلامی معاشرے تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس نے پوری انسانی اقدار اور تمام انسانی معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل اسلام نے رسول سے تو صرف عورتوں کے بارے میں پوچھا تھا ‘ اور اللہ نے ان عورتوں کے علاوہ یتیم لڑکیوں ‘ چھوٹے بچوں اور ضعیفوں کے حق کے بارے میں بھی جواب دیا تھا ‘ تو اس سوال و جواب کو اللہ تعالیٰ نے اس مصدر کے ساتھ باندھ دیا جس کے ذریعے سے یہ انقلاب آیا تھا ۔ (آیت) ” وما تفعلوا من خیر فان اللہ کان بہ علیما “۔ (4 : 127) (اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی) جو کچھ بھی تم کرو گے وہ نامعلوم نہ رہ جائے گا ‘ ضائع نہ ہوگا ۔ اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوگا اور جو چیز اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوجائے وہ ہر گز ضائع نہ ہوگی ۔ یہ ہے ہو آخری مرجع جس کی طرف ایک مومن اپنے اعمال بھیجتا ہے اور یہی وہ قبلہ ہے جس کی طرف مومن کے فکر وعمل کا رخ ہوتا ہے ۔ اس مرجع کی قوت اور گرفت ہی ان ہدایات اور اس نظام کی قوت اور گرفت ہوتی ہے اور اس کا انسانی نفس اور اس کی عادات واطوار بلکہ پوری زندگی پر اثر ہوتا ہے ۔ یہ بات اہم نہیں ہوتی کہ کوئی بہت سی ہدایات دے یا لکھ دے ‘ یا کوئی نظام حیات تجویز کرے یا کوئی نیا نظم ونسق قائم کرے ۔ اصل حیات اہمیت اس گرفت اور قوت کی ہوتی ہے جو کسی ہدایت ‘ کسی نظام اور کسی تنظیم کی پشت پر ہوتی ہے ۔ وہ گرفت جس سے یہ تمام تصورات اور یہ تمام ادارے قوت نافذہ حاصل کرتے ہیں ۔ ان نظامہائے زندگی اور ان اقدار میں جو ایک انسان اللہ سے لیتا ہے اور ان میں جو ایک انسان اپنے جیسے انسانوں سے لیتا ہے ‘ زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ یہ اس صورت میں جیسے دوسری صفات کے حوالے سے انسانی نظام اور الہی نظام کے درمیان مساوات فرض کرلی جائے اور یہ بات فرض کرلی جائے کہ یہ دونوں نظام نہایت بلند اور ترقی یافتہ ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ایسا فرض کرنا بھی محال اور جنون ہے ۔ الا یہ کہ انسان سوچ لے کہ یہ بات کس کے منہ سے نکلی اور یہ کہ اس کے بارے میں ہماری سوچ کیا ہے اور اس کے بارے میں ہمارے رائے کیا ہے ۔ ایک طرف اللہ العلی العظیم کی بات ہے اور دوسری جانب انسان ابن انسان کی بات ہے ۔ اجتماعی ضابطہ بندی کا ایک قدم اور ۔ یہ بھی خاندان کے دائرے میں اور اس معاشرے میں جسے اسلام نیا جنم دے رہا تھا اور یہ جنم ملاء اعلی سے اسلامی نظام حیات کے ذریعے رہا تھا اور اس کے اندر کسی زمینی فیکٹر یاعامل کا کوئی داخل نہ تھا ۔ مادی ہو یا پیداوار سے متعلق ہو ۔ ملاحظہ ہو۔

النساء 4:128

(آیت) ” نمبر 128 تا 130۔ اسلامی نظام نے اس سے قبل عورت کی طرف سے بدسلوکی اور نافرمانی کے بارے میں قانون سازی کردی تھی ۔ اور وہ تمام انتظامات کردیئے تھے کہ اس پہلو میں نقصان پیدا ہونے کے خلاف تدابیر اختیار کی جائیں گی ۔ (ملاحظہ ہو اس پارہ کی ابتدائی آیات) ۔ یہاں سے بےرخی اور نافرمانی کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ جو خاوند کی طرف سے ہو ‘ اور جس کی وجہ سے عورت کے احترام اور عزت نفس کو خطرہ ہو اور اس کے نتیجے میں خاندان کے تباہ ہونے کا خدشہ ہو اس لئے کہ دل بدل سکتے ہیں اور میلانات اور رجحانات کے اندر تبدیلی آسکتی ہے ۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے جو معاشرتی معاملات کے اندر زندگی کے تمام اجزاء کا احاطہ کرتا ہے اور جو مشکلات اور خطرات پیش آسکتے ہیں ان کو حل کرتا ہے ۔ اسلام ان تمام مسائل کو اپنے رجحانات اور اصول کے مطابق حل کرتا ہے اور اپنی اسکیم کے مطابق تمام اقدامات کرتا ہے ۔ اگر عورت اور مرد کے اند باہم تعلقات میں کشیدگی سی پیدا ہوجائے اور طلاق کا خطرہ ہو ‘ یا یہ خطرہ ہو کہ خاوند بیوی کو معطل اور معلق چھوڑ دے گا ۔ نہ وہ بیوی ہوگی اور نہ وہ مطلقہ ہوگی تو اس صورت میں دونوں کے لئے اس امر میں ممانعت نہیں ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف مالی اور دوسرے حقوق کے اندر کچھ دو کی پالیسی اختیار کرلیں ۔ مثلا یہ کہ عورت اپنے مالی اخراجات میں سے کچھ معاف کر دے یا سب معاف کر دے ۔ یا یہ کہ اگر زیادہ عورتیں ہوں تو بیوی اپنی باری وغیرہ سے دست بردار ہوجائے ۔ مثلا اگر کوئی دوسری بیوی مرد کو زیادہ پسند ہو تو اس کے حق میں کوئی بیوی دست بردار ہوجائے یا مثلا اس صورت میں کہ معاف کرنے والی بیوی کو بعض حقوق کے اندر زیادہ دلچسپی نہ رہی ہو ۔ یہ اس صورت میں کہ عورت تمام احوال اور معاملات کو دیکھ کر ‘ سوچ کر کامل آزادی کے ساتھ یہ فیصلہ کرے کہ اس کے لئے یہ حالت طلاق سے بہتر ہے ۔ (آیت) ” وان امراۃ خافت من بعلھا نشوزا اواعراضا فلا جناح علیھما ان یصلحا بینھما صلحا “۔ (4 : 127) (اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی (کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں) یہ وہی صلح ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا ۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ مقدمہ بازی سے صلح ہر صورت میں بہتر ہوتی ہے ۔ بےرخی ‘ خشک تعلقات اور طلاق ‘ سب حالات کے مقابلے میں صلح خیر ہے ۔ (والصلح خیر (4 : 127) (صلح بہرحال بہتر ہے) صلح کی وجہ سے خشک اور جفا پیشہ دلوں کے اوپر بادنسیم کے ٹھنڈے جھونکے چلنے لگتے ہیں ۔ انس و محبت کی شبنم سے باہم تعلقات کو طراوت نصیب ہوتی ہے اور ازدواجی تعلقات کو باقی رکھنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے اور اگر ختم ہوچکے ہوں تو ازدواجی تعلقات پھر سے استوار ہو سکتے ہیں ۔ اسلام نفس انسانی کے ساتھ حقیقت پسندانہ معاملہ کرتا ہے ۔ وہ تمام ذرائع اور وسائل کو کام میں لا کر نفس انسانی کو ایک ایسی سطح تک سربلند کرتا ہے جس کے لئے اس نے اس کے مزاج اور فطرت کو تیار کیا ہے ۔ لیکن اسلام ان تمام وسائل کو کام میں لاتے ہوئے یہ بھی پیش نظر رکھتا ہے کہ انسانی فطرت کے بھی کچھ حدود وقیود ہوتے ہیں ۔ اسلام فطرت انسانی اور انسانی مزاج کو ایسے کاموں پر مجبور نہیں کرتا جو اس کی قدرت اور وسعت سے باہر ہوں اسلام لوگوں کو یہ حکم نہیں دیتا کہ تم اپنے سروں کو دیواروں سے ٹکڑاؤ اور یہ ہے میرا حکم بس اسلام علیکم ! یہ کرو چاہے قدرت ہے یا نہیں ہے۔ اسلامی نظام نفس انسانی کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ضعیفی کی حالت پر رہے یا تقصیرات پر راضی ہو ۔ وہ یہ بھی نہیں کرتا کہ انسانی گندگی کے دلدل میں کانوں تک ڈوبا ہو ‘ اور وہ اس کی تعریف وتمجید کرے اور اس کے لئے جواز یہ ڈھونڈے کہ انسان بطور حقیقت واقعہ اسی طرح ہے ۔ وہ اس طرح بھی نہیں کرتا کہ اسے عالم بالا کے ساتھ بذریعہ رسی باندھ کر لٹکا دے اور پھر وہ جدھر چاہے جھولتا پھرے کیونکہ اس صورت میں اس کے پاؤں بھی زمین پر نہ ہوں گے اور ہم اس صورت حال کو یہ کہیں کہ یہ رفعت اور سربلندی ہے ۔ اسلام ان انتہاؤں کے درمیان دین وسط ہے ۔ یہ ایسا نظام ہے جس کے اندر حقیقت پسندانہ واقعیت پائی جاتی ہے یا سنجیدہ حقیقت پسندی ہے ۔ یہ نظام انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور انسان کو انسان سمجھ کر معاملہ کرتا ہے ۔ اپنی فطرت کے اعتبار سے انسان ایک عجیب مخلوق ہے ۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کے پاؤں زمین پر ہیں لیکن اس کی روح آسمانوں پر ہے ۔ اس کی روح اس کے جسم میں بھی ہوتی ہے اور آسمانوں پر بھی ہوتی ہے ۔ غرض جسم زمین پر اور روح آسمانوں پر ہوتی ہے ۔ یہ حکم دیتے ہوئے اسلامی نظام ایک انسان کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور اس معاملے میں انسان کی ایک عام خصوصیت کا ذکر کرتا ہے ۔ (آیت) ” (واحضرت الانفس الشح (4 : 128) (نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہوجاتے ہیں) مطلب یہ ہے کہ تنگ دلی دائما نفوس کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ نفس کے اندر تنگ دلی قائم رہتی ہے ۔ تنگ دلی کی کئی اقسام ہیں ۔ مال میں تنگ دلی ۔ جذبات میں تنگ دلی ‘ زوجین کی زندگی میں بعض اوقات ایسے اسباب جمع ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے بخل اور تنگدلی ابھر آتی ہے ۔ ایسے اسباب پیدا ہوجاتے ہیں کہ خاوند عورت کے بارے میں سخت تنگ دل ہوجاتا ہے ۔ اب عورت اگر اپنا بقایا مہر چھوڑ دے یا نفقات معاف کر دے یا مالی تاوان ادا کردے اور نکاح کو باقی رکھوالے تو معاملہ خراب ہونے سے ٹل سکتا ہے ۔ اس لئے کہ کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ عورت اپنے حقوق زنا وشوئی بھی معاف کردیتی ہے مگر طلاق لینا پسند نہیں کرتی ۔ اگر صورت یہ ہو کہ خاوند کی کوئی دوسری زیادہ محبوب بیوی ہو اور پہلی بیوی کے اندر کشش اور تازگی باقی نہ رہی ہو اور عورت خاوند کے جذبات کا احترام کرکے اس کو راضی کرلے اور اس طرح نکاح باقی رہ جائے ۔ غرض ان تمام حالات میں معاملہ بیوی کے اختیار میں دے دیا گیا ہے ۔ وہ مختار ہے کہ اس کی مصلحت جس صورت میں ہو وہ اسے اختیار کرلے ۔ اسلامی نظام اس پر کچھ لازم نہیں کرتا بلکہ اختیار ہے کہ وہ اپنے معاملے میں تدبر کرکے کوئی بہتر فیصلہ اپنے حق میں کرلے ۔ لیکن اسلام معاملے کو بخل کے حوالے ہی نہیں کردیتا بلکہ اسے ایک دوسرے طرز عمل کی طرف بھی بلاتا ہے ‘ اس لئے کہ بخل ہی انسانی فطرت کا خاصہ قائمہ نہیں ہے بلکہ احسان اور خدا ترسی بھی فطرت انسان کے اندر ہیں ۔ (آیت) ” وان تحسنوا وتتقوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ (4 : 127) (لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بیخبر نہ ہوگا) احسان اور تقوی پر ہی آخری دارومدار ہے اور احسان اور تقوی کا کوئی عمل ضائع نہ ہوگا ۔ اس لئے ضائع نہ ہوگا کہ اللہ کا علم سب چیزوں پر محیط ہے ۔ وہ ہر انسان کے عمل سے بھی خبردار ہے اور اس عمل کی تہ میں پائے جانے والی نیت سے بھی خبردار ہے ۔ نفس انسانی کو اس طرف پکارنا کہ تم احسان اور تقوی کو اپنا شعار بناؤ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ تمام اعمال سے خبردار ہے ‘ یہ ایک ایسی پکار ہے جس کا نفس انسانی پر گہرا اثر پڑتا ہے ۔ اس پکار پر ہر انسان لبیک کہتا ہے ۔ بلکہ یہ وہ واحد دعوت وتلقین ہے جس کے لئے ہر نفس بہت جلدی تیار ہوجاتا ہے ۔ ایک بار ہم دیکھتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات انسانی زندگی کے حالات اور اس کی واقعی صورت حال کے ساتھ معاملہ کرتا ہے ۔ یہ معاملہ مثالی طور پر حقیقت پسندانہ ہے یا حقیقت پسندانہ مثالیت ہے ۔ اسلام ان باتوں کا اعتراف کرتا ہے جو فطرت انسانی کا لازمی حصہ ہیں اور ہیں بھی پوشیدہ اور یہ اعتراف نہایت ہی تعجب خیز انداز میں ہے ۔

النساء 4:129

(آیت) ” ولن تستطیعوا ان تعدلوا بین النسآء ولو حرصتم فلا تمیلوا کل المیل فتذروھا کالمعلقۃ وان تصلحوا وتتقوا افان اللہ کان غفورا رحیما (129) وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعا حکیما “۔ (130) بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔ تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے ۔ لہذا (قانون الہی کا منشا پورا کرنیکے لئے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ‘ اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاج سے بےنیاز کر دے گا ۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا وبینا ہے ۔ ) اللہ وہ ذات ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور وہ اپنی پیدا اور وہ اپنی پیدا کردہ مخلوقات کے بارے میں یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کے بعد میلانات ایسے ہیں جن پر اس کے لئے قابو پانا ممکن نہیں ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے انسان کے ہاتھ میں نکیل دے دی کہ وہ ان میلانات کو قابو میں رکھے ‘ ان میلانات کی حرکت کو حدود میں رکھے لیکن انہیں بالکل ختم کرنے کی کوشش بھی نہ کرے ۔ ان میلانات میں سے ایک یہ ہے کہ کوئی انسان اپنی متعدد بیویوں میں سے کسی ایک کی طرف زیادہ مائل ہو ۔ یہ میلان ایسا ہوتا ہے جو انسان کی طاقت سے باہر ہوتا ہے ۔ انسان اسے ختم نہیں کرسکتا تو اس کا حل کیا ہے ؟ اسلام کسی شخص سے اس بات پر مواخذہ نہیں کرتا جو اس کی وسعت سے باہر ہو ۔ نہ اسے گناہ قرار دیتا ہے اور نہ اس پر سزا دیتا ہے ۔ اس بات کو اسلام اس کھاتے میں ڈالتا ہے جو اس کی قدرت سے ہی باہر ہو۔ چناچہ اعلان کردیا جاتا ہے کہ تم اپنی بیویوں کے درمیان ہر گز مکمل عدل نہیں کرسکتے اگرچہ تم ایسا کرنے کی کوشش کرو ۔ اس لئے کہ یہ تمہاری قدرت سے باہر ہے ۔ تمہارے ارادے میں جو چیز داخل ہے وہ یہ ہے کہ تم معاملہ کرنے میں انصاف کرو ‘ تقسیم میں انصاف کرو ‘ خرچہ دینے میں انصاف کرو ‘ حقوق زنا شوئی میں انصاف کرو ‘ یہاں تک کہ مسکرانے میں بھی انصاف کرو ‘ زبانی الفاظ کہنے میں بھی انصاف کرو ۔ یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ یہ ہے وہ نکیل جو ان میلانات کو کنٹرول میں رکھے گی ۔ ضبط مطلوب ہے ‘ میلانات کا قتل مطلوب نہیں ہے ۔ (آیت) ” فلا تمیلوا کل المیل فتذورھا کالمعلقۃ “۔ (4 : 129) (ایک بیوی کی طرف اس طرح مائل نہ ہوجاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو ) یہ ہے وہ بات جس سے کیا گیا ہے ۔ یعنی ظاہری معاملات میں ایک طرف جھک جانا ۔ اس طرح جھکنا کہ دوسری کے حقوق مارے جائیں کہ نہ بیوی ہو اور نہ مطلقہ ۔ اس کے ساتھ ہی اہل ایمان کو ایک نہایت ہی موثر آواز سے پکارا جاتا ہے ۔ (آیت) ” وان تصلحوا وتتقوا فان اللہ کان غفورا رحیما “۔ (4 : 129) (اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے) اسلام انسانی نفس کے ساتھ اس طرح معاملہ کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی ذات ہے جو ایک مٹھی بھرمٹی اور اس میں نفخ روح سے پیدا کی گی ہے اور اس کے اندر جو قوتیں اور صلاحیتیں ہیں ان کے بالکل مطابق ۔ نیز وہ انسان کے ساتھ ایک مثالی حقیقت پسندی یا حقیقی مثالیت کے مطابق اس کے ساتھ ڈیلنگ کرتا ہے کہ وہ ایک انسان ہو ‘ جس کے قدم زمین پر ہوں اور اسے روحانی بلندی حاصل ہو جس میں نہ تو تناقض ہو اور نہ ٹوٹ پھوٹ ہو۔ یہی ہے اسلام ‘ حضور اکرم ﷺ انسانی اعتبار سے اوج کمال پر تھے ۔ آپ کے اندر تمام قوتیں متوازن تھیں ‘ باہم متناسق تھیں اور انسان کی حدود و فطرت کے اندر تھیں ۔ حضور اکرم ﷺ ازواج مطہرات کے درمیان تقسیم اور منصفانہ تقسیم پرتو قادر تھے ایک بیوی کو دوسری بیوی پر ترجیح نہ دیتے تھے ۔ لیکن دلی جذبات پر کنٹرول کسی کی طاقت میں نہیں ہوتا ۔ (الھم ھذا قسمی فیما املک فلا تلمنی فیما لا املک) (اے اللہ یہ ہے میری تقسیم جن معاملات میں میرا اختیار ہے اور آپ مجھے ملامت نہ کریں ان معاملات میں جو میرے اختیار سے باہر ہیں) یعنی دل (ابو داؤد) ہاں جب دل خشک ہوجائیں تعلقات بہت ہوجائیں اور زوجین کے درمیان باہم زندگی گزارنا مشکل ہوجائے تو پھر جدائی ہی بہتر ہے ۔ اسلام زوجین کو رسیوں اور زنجیروں میں باندھ کر اکٹھا رکھنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ نہ قید وبند کے ذریعے زوجین کو اکٹھا رکھا جاسکتا ہے ۔ صرف محبت اور باہم رحم دلی کے جذبات میں فریقین کو باندھا جاسکتا ہے یا پھر ان کو واجبات اور فرائض کی انجام دہی اور حسن سلوک کے ذریعے یکجا رکھا جاسکتا ہے ‘ خصوصا ایسے دلوں کو جن کے درمیان نفرت پیدا ہوچکی ہو۔ اس لئے کہ نفرت کے قلعوں میں دلوں کو بند نہیں کیا جاسکتا ۔ نیز یہ تعلق کہ بظاہر تو باہم تعلق ہو اور اندرونی طور پر مکمل کاٹ ہو ۔

النساء 4:130

(آیت) ” وان یتفرقا یغن اللہ کلا من سعتہ وکان اللہ واسعا حکیما (3 : 130) (اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاج سے بےنیاز کر دے گا ۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا وبینا ہے ۔ ) اللہ تعالیٰ دونوں سے وعدہ فرماتے ہیں کہ وہ اپنے فضل اور رحمت سے دونوں کو غنی بنا دے گا ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت ہی وسعت کرنے والے ہیں اور اپنے حدود و حکمت کے اندر اور بندوں کی مصحت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے لئے کشادگی کی حد مقرر فرماتے ہیں ہر شخص کے حالات کے مطابق ۔ اسلام انسانی شعور اور نفس کے پوشیدہ میلانات کے ساتھ جس طرح برتاؤ کرتا ہے اور جس طرح زندگی کے طور طریقوں کو حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھتا ہے وہ اس قدر حیران کن ہے کہ اگر لوگ رات دن اللہ کا شکر ادا کریں تو بھی ان کے لئے اس کا حق ادا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں انسانی سہولت کا بہت ہی خیال رکھا گیا اور نظر آتا ہے کہ یہ نظام انسانوں کے لئے تجویز ہوا ہے ۔ وہ انسانوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو نہایت ہی گری ہوئی حالت سے اٹھاتا ہے اور انہیں نہایت ہی سربلندی تک لے جاتا ہے اور یہ عمل انسان کی فطرت کے عین مطابق ہوتا ہے ۔ وہ ان کے لئے بلندی اور رفعت کا کوئی ٹارگٹ اس وقت تک تجویز نہیں کرتا جب تک ان کی فطرت میں اس کے حصول کے لئے داعیہ نہ ہو اور ان کے مزاج میں اس کی کوئی نہ کوئی جڑ موجود نہ ہو ۔ اس طرح اسلام ان کو پھر اس بلند مقام تک لے جاتا ہے جہاں تک انہیں کوئی دوسرا نظام نہیں لے جاسکتا ۔ یہ کام وہ اس طرح مثالی واقعیت پسندی یا ایسی واقعیت کے ساتھ کرتا ہے جس کی کوئی مثال نہ ہو اور پھر ایسی صورت میں کہ اس عجیب مخلوق انسانی کی اصل طبیعت اور مزاج کے مطابق ۔ خاندانی نظم کے یہ احکام جن کا تعلق خاص زوجین کی ازدواجی زندگی سے ہے اسلامی نظام حیات کا ایک حصہ ہیں اور اسلامی نظام حیات اس کائنات کے ناموس اکبر کا ایک حصہ ہے جو اللہ نے اس پوری کائنات کے اندر جاری فرمایا ہے ۔ اس لئے اسلامی نظام بھی اس کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہے جب کہ دوسری طرف وہ انسانی فطرت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے۔ اس لئے کہ انسانی بھی اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہے اور یہ اسلامی نظام زندگی کا نہایت ہی گہرا راز ہے اس لئے عائلی اور خاندانی نظام کے مسائل کے متصلا بعد اللہ تعالیٰ کائنات کا ذکر فرماتے ہیں جس سے یہ عائلی احکام پوری کائنات کے نظام فطرت کے ساتھ مربوط ہوجاتے ہیں ۔ گویا جس طرح انسانی زندگی میں اللہ کی حاکمیت ہے ‘ اسی طرح اس کائنات میں بھی وہی حاکم ہے ۔ وہی ہے جو زمین و آسمان کا مالک ہے اور یہ وہی ذات ہے جس نے تمہیں یہ احکام دیئے ہیں ۔ وہی ہے جس نے تم سے پہلی امتوں کو یہ احکام دیئے تھے اور یہ تمام احکام اور وصایا ایک ہیں اور ایک ہی منبع سے ہیں اور اسلامی نظام اس پر قائم ہے کہ اس نے نتیجے میں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی نصیب ہوتی ہے اور یہ وہ اصول ہیں جو سچائی ‘ عدل اور خدا ترسی پر استوار ہیں۔

النساء 4:131

(آیت) ” 131 تا 134۔ قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی وصیت کی ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور یہ وصیت اس نشاندہی کے بعد کی ہے کہ زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اس لئے وصیت کا حق بھی اللہ کو ہے اور قانون سازی کا حق اللہ کو ہے لہذا اس سے ڈرو ۔ (آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ “۔ (4 : 131) (آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب مت کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو) واقعہ یہ ہے کہ جس کی حقیقی اقدار حاصل ہو لوگ اسی سے ڈرتے ہیں اور خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس سے ” دلوں “ کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے کسی ” نظام “ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کی جزئیات پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی اس ملکیت میں اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتے ان کو اللہ خبردار فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں اس دنیا سے دور کر کے ان کی جگہ دوسری آبادی کو لا کر اپنی ملکیت میں بسا سکتے ہیں ۔ (آیت) ” وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا حمیدا (131) وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا (132) ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا (133) (4 : 131 تا 133) (لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز ہے ‘ ہر تعریف کا مستحق ۔ اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لئے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ ) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ اگر وہ اللہ سے نہ ڈریں تو ان اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اور وہ سب کفر کا رویہ اختیار کرلیں تو بھی اللہ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ہے اس لئے کہ لوگوں کے کفر کی وجہ سے اللہ کی ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔ (آیت) ” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (4 : 131) (اللہ تو مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ) اور وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور کو لا بسائے ۔ وہ جو ان کو وصیت کرتا ہے تو وہ ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہے ۔ اور ان کے حالات کو درست کرنے کے لئے کرتا ہے ۔ اسلام انسان کو جس طرح اس پوری کائنات کا سرتاج قرار دیتا ہے اور انسان کی کرامت کا اعلان کرتا ہے ‘ اور تمام زمین کی مخلوقات سے اسے برتر قرار دیتا ہے ‘ اسی طرح اگر انسان اللہ کا کفر کرلے تو اللہ انسان کو اس کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ سینہ زوری کرکے اللہ کی صفت حاکمیت میں شریک ہو کر اپنے آپ کو یہاں کا حاکم قرار دیتا ہے ۔ اور وہ بغیر کسی استحقاق کے ایسا کرتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات میں یہ دونوں باتیں برابر ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ یہ آیات اس تعقیب پر اختتام کو پہنچتی ہیں کہ جو لوگ صرف دنیاوی مقاصد کے لالچ میں گرفتار ہیں ‘ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کا فضل بہت ہی وسیع ہے ۔ اللہ کے ہاں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی ہے اور جو لوگ دنیا پر ہی نظریں جمائے بیٹھے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اپنی نظریں ذرا اونچی کریں اور دیکھیں کہ اللہ کے ہاں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔ (آیت) ” من کان یرید ثواب الدنیا فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃ وکان اللہ سمیعا بصیرا “۔ (4 : 134) (جو شخص محض ثواب دنیا کا طالب ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے پاس ثواب دنیا بھی ہے اور ثواب آخرت بھی اور اللہ سمیع وبصیر ہے ۔ ) یہ امر ایک واضح حماقت حماقت اور ایک واضح کم ہمتی ہوگی کہ انسان دنیا اور آخرت دونوں کامیابی حاصل کرسکتا ہو اور اسے دنیا اور آخرت آخرت دونوں کا اجر مل سکتا ہو اور اس کامیابی کی ضمانت اسے اسلامی نظام زندگی دے بھی رہا ہو ‘ جو ایک واقعیت پسند عملی اور مثالی نظام ہے ‘ لیکن وہ اس گارنٹی کے باوجود صرف دنیا ہی کی طلب کرے ۔ اپنی پوری ہمت دنیا طلبی ہی میں لگا دے اور بالکل اسی طرح زندگی بسر کرے جس طرح حیوان ‘ چوپائے اور کیڑے مکوڑے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ شخص انسانوں کی طرح بسہولت زندگی بسر کرسکتا ہے اس طرح کہ اس کے قدم زمین پر چلتے ہوں اور اس کی روح آسمانوں میں سیر کرتی اور پھڑپھڑاتی ہو۔ اور اس طرح کہ وہ ایک جاندار موجود کی طرح جو اس کرہ عرض کے اوپر طبیعی قوانین کے مطابق تک ودو بھی کررہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ عالم بالا کے ساتھ بھی اس کی زندگی کا ربط ہو ۔ غرض یہ جزئی اور فروعی احکام پوری طرح اسلامی نظام حیات کے اصولوں کے ساتھ مربوط ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں خاندانی نظام کی بہت ہی اہمیت ہے ‘ اس قدر اہمیت کہ ان احکام کو اس کائنات کے عظیم معاملات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور ان تمام امور پر یہ تعقیب اور تبصرہ کیا گیا ہے کہ اگر تم لوگ اللہ کی ان وصیتوں کو قبول نہیں کرتے تو اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہیں ختم کر دے اور تمہاری جگہ کوئی دوسری مخلوق آباد کر دے ۔ یہ ایک نہایت ہی خطرناک تبصرہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایک خاندان کے نظام کے معاملے میں وارد ہونے والے احکام بھی اسی قدر اہم ہیں جس قدر ادیان کو دی جانے والی عظیم ہدایات کی اہمیت ہے ۔

النساء 4:132

(آیت) ” 131 تا 134۔ قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی وصیت کی ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور یہ وصیت اس نشاندہی کے بعد کی ہے کہ زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اس لئے وصیت کا حق بھی اللہ کو ہے اور قانون سازی کا حق اللہ کو ہے لہذا اس سے ڈرو ۔ (آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ “۔ (4 : 131) (آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب مت کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو) واقعہ یہ ہے کہ جس کی حقیقی اقدار حاصل ہو لوگ اسی سے ڈرتے ہیں اور خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس سے ” دلوں “ کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے کسی ” نظام “ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کی جزئیات پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی اس ملکیت میں اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتے ان کو اللہ خبردار فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں اس دنیا سے دور کر کے ان کی جگہ دوسری آبادی کو لا کر اپنی ملکیت میں بسا سکتے ہیں ۔ (آیت) ” وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا حمیدا (131) وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا (132) ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا (133) (4 : 131 تا 133) (لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز ہے ‘ ہر تعریف کا مستحق ۔ اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لئے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ ) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ اگر وہ اللہ سے نہ ڈریں تو ان اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اور وہ سب کفر کا رویہ اختیار کرلیں تو بھی اللہ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ہے اس لئے کہ لوگوں کے کفر کی وجہ سے اللہ کی ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔ (آیت) ” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (4 : 131) (اللہ تو مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ) اور وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور کو لا بسائے ۔ وہ جو ان کو وصیت کرتا ہے تو وہ ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہے ۔ اور ان کے حالات کو درست کرنے کے لئے کرتا ہے ۔ اسلام انسان کو جس طرح اس پوری کائنات کا سرتاج قرار دیتا ہے اور انسان کی کرامت کا اعلان کرتا ہے ‘ اور تمام زمین کی مخلوقات سے اسے برتر قرار دیتا ہے ‘ اسی طرح اگر انسان اللہ کا کفر کرلے تو اللہ انسان کو اس کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ سینہ زوری کرکے اللہ کی صفت حاکمیت میں شریک ہو کر اپنے آپ کو یہاں کا حاکم قرار دیتا ہے ۔ اور وہ بغیر کسی استحقاق کے ایسا کرتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات میں یہ دونوں باتیں برابر ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ یہ آیات اس تعقیب پر اختتام کو پہنچتی ہیں کہ جو لوگ صرف دنیاوی مقاصد کے لالچ میں گرفتار ہیں ‘ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کا فضل بہت ہی وسیع ہے ۔ اللہ کے ہاں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی ہے اور جو لوگ دنیا پر ہی نظریں جمائے بیٹھے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اپنی نظریں ذرا اونچی کریں اور دیکھیں کہ اللہ کے ہاں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔ (آیت) ” من کان یرید ثواب الدنیا فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃ وکان اللہ سمیعا بصیرا “۔ (4 : 134) (جو شخص محض ثواب دنیا کا طالب ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے پاس ثواب دنیا بھی ہے اور ثواب آخرت بھی اور اللہ سمیع وبصیر ہے ۔ ) یہ امر ایک واضح حماقت حماقت اور ایک واضح کم ہمتی ہوگی کہ انسان دنیا اور آخرت دونوں کامیابی حاصل کرسکتا ہو اور اسے دنیا اور آخرت آخرت دونوں کا اجر مل سکتا ہو اور اس کامیابی کی ضمانت اسے اسلامی نظام زندگی دے بھی رہا ہو ‘ جو ایک واقعیت پسند عملی اور مثالی نظام ہے ‘ لیکن وہ اس گارنٹی کے باوجود صرف دنیا ہی کی طلب کرے ۔ اپنی پوری ہمت دنیا طلبی ہی میں لگا دے اور بالکل اسی طرح زندگی بسر کرے جس طرح حیوان ‘ چوپائے اور کیڑے مکوڑے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ شخص انسانوں کی طرح بسہولت زندگی بسر کرسکتا ہے اس طرح کہ اس کے قدم زمین پر چلتے ہوں اور اس کی روح آسمانوں میں سیر کرتی اور پھڑپھڑاتی ہو۔ اور اس طرح کہ وہ ایک جاندار موجود کی طرح جو اس کرہ عرض کے اوپر طبیعی قوانین کے مطابق تک ودو بھی کررہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ عالم بالا کے ساتھ بھی اس کی زندگی کا ربط ہو ۔ غرض یہ جزئی اور فروعی احکام پوری طرح اسلامی نظام حیات کے اصولوں کے ساتھ مربوط ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں خاندانی نظام کی بہت ہی اہمیت ہے ‘ اس قدر اہمیت کہ ان احکام کو اس کائنات کے عظیم معاملات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور ان تمام امور پر یہ تعقیب اور تبصرہ کیا گیا ہے کہ اگر تم لوگ اللہ کی ان وصیتوں کو قبول نہیں کرتے تو اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہیں ختم کر دے اور تمہاری جگہ کوئی دوسری مخلوق آباد کر دے ۔ یہ ایک نہایت ہی خطرناک تبصرہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایک خاندان کے نظام کے معاملے میں وارد ہونے والے احکام بھی اسی قدر اہم ہیں جس قدر ادیان کو دی جانے والی عظیم ہدایات کی اہمیت ہے ۔

النساء 4:133

(آیت) ” 131 تا 134۔ قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی وصیت کی ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور یہ وصیت اس نشاندہی کے بعد کی ہے کہ زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اس لئے وصیت کا حق بھی اللہ کو ہے اور قانون سازی کا حق اللہ کو ہے لہذا اس سے ڈرو ۔ (آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ “۔ (4 : 131) (آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب مت کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو) واقعہ یہ ہے کہ جس کی حقیقی اقدار حاصل ہو لوگ اسی سے ڈرتے ہیں اور خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس سے ” دلوں “ کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے کسی ” نظام “ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کی جزئیات پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی اس ملکیت میں اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتے ان کو اللہ خبردار فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں اس دنیا سے دور کر کے ان کی جگہ دوسری آبادی کو لا کر اپنی ملکیت میں بسا سکتے ہیں ۔ (آیت) ” وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا حمیدا (131) وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا (132) ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا (133) (4 : 131 تا 133) (لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز ہے ‘ ہر تعریف کا مستحق ۔ اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لئے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ ) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ اگر وہ اللہ سے نہ ڈریں تو ان اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اور وہ سب کفر کا رویہ اختیار کرلیں تو بھی اللہ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ہے اس لئے کہ لوگوں کے کفر کی وجہ سے اللہ کی ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔ (آیت) ” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (4 : 131) (اللہ تو مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ) اور وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور کو لا بسائے ۔ وہ جو ان کو وصیت کرتا ہے تو وہ ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہے ۔ اور ان کے حالات کو درست کرنے کے لئے کرتا ہے ۔ اسلام انسان کو جس طرح اس پوری کائنات کا سرتاج قرار دیتا ہے اور انسان کی کرامت کا اعلان کرتا ہے ‘ اور تمام زمین کی مخلوقات سے اسے برتر قرار دیتا ہے ‘ اسی طرح اگر انسان اللہ کا کفر کرلے تو اللہ انسان کو اس کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ سینہ زوری کرکے اللہ کی صفت حاکمیت میں شریک ہو کر اپنے آپ کو یہاں کا حاکم قرار دیتا ہے ۔ اور وہ بغیر کسی استحقاق کے ایسا کرتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات میں یہ دونوں باتیں برابر ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ یہ آیات اس تعقیب پر اختتام کو پہنچتی ہیں کہ جو لوگ صرف دنیاوی مقاصد کے لالچ میں گرفتار ہیں ‘ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کا فضل بہت ہی وسیع ہے ۔ اللہ کے ہاں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی ہے اور جو لوگ دنیا پر ہی نظریں جمائے بیٹھے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اپنی نظریں ذرا اونچی کریں اور دیکھیں کہ اللہ کے ہاں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔ (آیت) ” من کان یرید ثواب الدنیا فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃ وکان اللہ سمیعا بصیرا “۔ (4 : 134) (جو شخص محض ثواب دنیا کا طالب ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے پاس ثواب دنیا بھی ہے اور ثواب آخرت بھی اور اللہ سمیع وبصیر ہے ۔ ) یہ امر ایک واضح حماقت حماقت اور ایک واضح کم ہمتی ہوگی کہ انسان دنیا اور آخرت دونوں کامیابی حاصل کرسکتا ہو اور اسے دنیا اور آخرت آخرت دونوں کا اجر مل سکتا ہو اور اس کامیابی کی ضمانت اسے اسلامی نظام زندگی دے بھی رہا ہو ‘ جو ایک واقعیت پسند عملی اور مثالی نظام ہے ‘ لیکن وہ اس گارنٹی کے باوجود صرف دنیا ہی کی طلب کرے ۔ اپنی پوری ہمت دنیا طلبی ہی میں لگا دے اور بالکل اسی طرح زندگی بسر کرے جس طرح حیوان ‘ چوپائے اور کیڑے مکوڑے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ شخص انسانوں کی طرح بسہولت زندگی بسر کرسکتا ہے اس طرح کہ اس کے قدم زمین پر چلتے ہوں اور اس کی روح آسمانوں میں سیر کرتی اور پھڑپھڑاتی ہو۔ اور اس طرح کہ وہ ایک جاندار موجود کی طرح جو اس کرہ عرض کے اوپر طبیعی قوانین کے مطابق تک ودو بھی کررہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ عالم بالا کے ساتھ بھی اس کی زندگی کا ربط ہو ۔ غرض یہ جزئی اور فروعی احکام پوری طرح اسلامی نظام حیات کے اصولوں کے ساتھ مربوط ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں خاندانی نظام کی بہت ہی اہمیت ہے ‘ اس قدر اہمیت کہ ان احکام کو اس کائنات کے عظیم معاملات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور ان تمام امور پر یہ تعقیب اور تبصرہ کیا گیا ہے کہ اگر تم لوگ اللہ کی ان وصیتوں کو قبول نہیں کرتے تو اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہیں ختم کر دے اور تمہاری جگہ کوئی دوسری مخلوق آباد کر دے ۔ یہ ایک نہایت ہی خطرناک تبصرہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایک خاندان کے نظام کے معاملے میں وارد ہونے والے احکام بھی اسی قدر اہم ہیں جس قدر ادیان کو دی جانے والی عظیم ہدایات کی اہمیت ہے ۔

النساء 4:134

(آیت) ” 131 تا 134۔ قرآن کریم میں احکام ونواہی کے بیان کے بعد بار بار یہ تعقیب آتی ہے کہ اللہ زمین و آسمان کی تمام چیزوں کا مالک ہے ۔ یا یہ لفظ آتا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ کے لئے ہے ۔ یہ دونوں امور ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ جو بادشاہ اور مالک ہوتا ہے ‘ اپنی مملکت میں امر اور نہی بھی اسی کا چلتا ہے ۔ اس کی مملکت میں جو لوگ بستے ہیں وہ اس کے محکوم ہوں گے اور اس کائنات میں چونکہ اللہ وحدہ مالک ہے تو اس وجہ سے اس دنیا میں صرف اس کا حکم چلے گا اور وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حقدار ہوگا ۔ دونوں امور دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ جن لوگوں پر کتاب اتاری گئی ہے یہاں اللہ تعالیٰ نے ان کی وصیت کی ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور یہ وصیت اس نشاندہی کے بعد کی ہے کہ زمین اور آسمانوں کے اندر جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے اس لئے وصیت کا حق بھی اللہ کو ہے اور قانون سازی کا حق اللہ کو ہے لہذا اس سے ڈرو ۔ (آیت) ” وللہ ما فی السموت وما فی الارض ولقد وصینا الذین اوتوا الکتب من قبلکم وایاکم ان اتقوا اللہ “۔ (4 : 131) (آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب مت کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو) واقعہ یہ ہے کہ جس کی حقیقی اقدار حاصل ہو لوگ اسی سے ڈرتے ہیں اور خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس سے ” دلوں “ کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔ پھر خدا ترسی ہی وہ واحد سبیل ہے جس کے ذریعے کسی ” نظام “ کی اصلاح ہو سکتی ہے اور اس کی جزئیات پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی اس ملکیت میں اپنی حیثیت کو نہیں پہچانتے ان کو اللہ خبردار فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں اس دنیا سے دور کر کے ان کی جگہ دوسری آبادی کو لا کر اپنی ملکیت میں بسا سکتے ہیں ۔ (آیت) ” وان تکفروا فان للہ ما فی السموت وما فی الارض وکان اللہ غنیا حمیدا (131) وللہ ما فی السموت وما فی الارض وکفی باللہ وکیلا (132) ان یشایذھبکم ایھا الناس ویات باخرین وکان اللہ علی ذلک قدیرا (133) (4 : 131 تا 133) (لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو آسمان و زمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بےنیاز ہے ‘ ہر تعریف کا مستحق ۔ اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور کارسازی کے لئے بس وہی کافی ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔ ) اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو وصیت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرو ‘ اگر وہ اللہ سے نہ ڈریں تو ان اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اور وہ سب کفر کا رویہ اختیار کرلیں تو بھی اللہ کا اس میں کچھ نقصان نہیں ہے اس لئے کہ لوگوں کے کفر کی وجہ سے اللہ کی ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں ہوتی ۔ (آیت) ” فان للہ ما فی السموت وما فی الارض “۔ (4 : 131) (اللہ تو مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ) اور وہ اس پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہیں یہاں سے چلتا کرے اور کسی اور کو لا بسائے ۔ وہ جو ان کو وصیت کرتا ہے تو وہ ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہے ۔ اور ان کے حالات کو درست کرنے کے لئے کرتا ہے ۔ اسلام انسان کو جس طرح اس پوری کائنات کا سرتاج قرار دیتا ہے اور انسان کی کرامت کا اعلان کرتا ہے ‘ اور تمام زمین کی مخلوقات سے اسے برتر قرار دیتا ہے ‘ اسی طرح اگر انسان اللہ کا کفر کرلے تو اللہ انسان کو اس کائنات کی بدترین مخلوق قرار دیتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کے حکم سے منہ موڑتا ہے بلکہ وہ سینہ زوری کرکے اللہ کی صفت حاکمیت میں شریک ہو کر اپنے آپ کو یہاں کا حاکم قرار دیتا ہے ۔ اور وہ بغیر کسی استحقاق کے ایسا کرتا ہے ۔ اسلامی تصور حیات میں یہ دونوں باتیں برابر ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ یہ آیات اس تعقیب پر اختتام کو پہنچتی ہیں کہ جو لوگ صرف دنیاوی مقاصد کے لالچ میں گرفتار ہیں ‘ ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کا فضل بہت ہی وسیع ہے ۔ اللہ کے ہاں دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی ہے اور جو لوگ دنیا پر ہی نظریں جمائے بیٹھے ہیں ان کو چاہئے کہ وہ اپنی نظریں ذرا اونچی کریں اور دیکھیں کہ اللہ کے ہاں دنیا و آخرت کی بھلائی ہے ۔ (آیت) ” من کان یرید ثواب الدنیا فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃ وکان اللہ سمیعا بصیرا “۔ (4 : 134) (جو شخص محض ثواب دنیا کا طالب ہو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے پاس ثواب دنیا بھی ہے اور ثواب آخرت بھی اور اللہ سمیع وبصیر ہے ۔ ) یہ امر ایک واضح حماقت حماقت اور ایک واضح کم ہمتی ہوگی کہ انسان دنیا اور آخرت دونوں کامیابی حاصل کرسکتا ہو اور اسے دنیا اور آخرت آخرت دونوں کا اجر مل سکتا ہو اور اس کامیابی کی ضمانت اسے اسلامی نظام زندگی دے بھی رہا ہو ‘ جو ایک واقعیت پسند عملی اور مثالی نظام ہے ‘ لیکن وہ اس گارنٹی کے باوجود صرف دنیا ہی کی طلب کرے ۔ اپنی پوری ہمت دنیا طلبی ہی میں لگا دے اور بالکل اسی طرح زندگی بسر کرے جس طرح حیوان ‘ چوپائے اور کیڑے مکوڑے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ شخص انسانوں کی طرح بسہولت زندگی بسر کرسکتا ہے اس طرح کہ اس کے قدم زمین پر چلتے ہوں اور اس کی روح آسمانوں میں سیر کرتی اور پھڑپھڑاتی ہو۔ اور اس طرح کہ وہ ایک جاندار موجود کی طرح جو اس کرہ عرض کے اوپر طبیعی قوانین کے مطابق تک ودو بھی کررہا ہو اور اس کے ساتھ ساتھ عالم بالا کے ساتھ بھی اس کی زندگی کا ربط ہو ۔ غرض یہ جزئی اور فروعی احکام پوری طرح اسلامی نظام حیات کے اصولوں کے ساتھ مربوط ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں خاندانی نظام کی بہت ہی اہمیت ہے ‘ اس قدر اہمیت کہ ان احکام کو اس کائنات کے عظیم معاملات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور ان تمام امور پر یہ تعقیب اور تبصرہ کیا گیا ہے کہ اگر تم لوگ اللہ کی ان وصیتوں کو قبول نہیں کرتے تو اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہیں ختم کر دے اور تمہاری جگہ کوئی دوسری مخلوق آباد کر دے ۔ یہ ایک نہایت ہی خطرناک تبصرہ ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ایک خاندان کے نظام کے معاملے میں وارد ہونے والے احکام بھی اسی قدر اہم ہیں جس قدر ادیان کو دی جانے والی عظیم ہدایات کی اہمیت ہے ۔

النساء 4:135

درس نمبر 24 ایک نظر میں : یہ سبق بھی امت مسلمہ کے لئے دست قدرت کی تربیت کا ایک نمونہ ہے جس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ یہ ایک اچھی امت ہے اور جسے لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے ۔ یہ سبق بھی اس اسلامی نظام زندگی کی ایک اہم کڑی ہے جو نہایت ہی مستحکم نظام ہے ۔ جس کے مقاصد اور اہداف متعین ہیں اور یہ نظام نفس انسانی کی بہتری کے لئے نازل کیا گیا ہے ۔ اس کے ذریعے نفس انسانی کا اس طرح علاج کیا گیا ہے کہ جس دست قدرت نے ذات انسان کو بنایا ہے ‘ وہی اس کی کمزوریوں کا علاج بھی کر رہا ہے ۔ یہ علاج اس لئے کامیاب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس ممتاز مخلوق اور صنعت کے پرزے پرزے سے واقف ہے ‘ یہ اس کی حقیقت اور ماہیت کو اچھی طرح جانتا ہے اس کے رجحانات ومیلانات سے واقف ہے اور اس کی ضروریات اور اس کے اندر پوشیدہ ترین صلاحیتوں اور کمزوریوں سے بھی آگاہی رکھتا ہے ۔ اس سبق میں اسلامی نظام حیات کے اصول ‘ نہایت ہی اٹل اصول بتائے گئے ہیں جو مستقل ہیں ۔ ہر دور ‘ ہر جگہ اور ہر زمانے کے لئے ہیں تاکہ انسانیت کو جاہلیت کی پستیوں سے بلند کر کے نہایت اونچی بلندیوں تک پہنچائے اور جہان تک انسان ترقی کرچکا ہو اس سے اسے مزید آگے بڑھائے ۔ ان اصولوں کے ساتھ ساتھ اس سبق میں پہلی جماعت مسلمہ کے بھی کچھ خدوخال بیان کئے گئے ہیں جو اس قرآن کی پہلی مخاطب جماعت تھی ۔ ان آیات کے آئینے کے اندر پہلی تحریک اسلامی نہایت ہی خوبصرتی کے ساتھ بحیثیت ایک انسانی جماعت نظر آتی ہے ۔ اس میں بشری کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں اور اعلی پاکیزگی کا میعار بھی نظر آتا ہے ۔ اس جماعت کے اندر جاہلی دور کی باقیات اور فطری کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں ۔ قرآن کریم اس جماعت کی تربیت کرتے ہوئے ایک ایک کمزوری کو لیتا ہے اور ان کا علاج کرتا ہے ‘ پھر اس جماعت کو تقویت دے کر اسے ایک مثالی جماعت بنا رہا ہے ۔ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ سچائی پر جم جائیں اور راہ حق میں جدوجہد کریں اور قربانیاں دیں ۔ سبق کا آغاز اس پکار سے کیا جاتا ہے جو جماعت مسلمہ کے نام ہے اسے کہا جاتا ہے کہ تم خیر امت ہو اور اس دنیا میں تمہارا ایک مقرر کردار ہے ‘ اسے ادا کرنے کے لئے کمر باندھو اور دنیا میں عدل و انصاف کا وہ معیار قائم کرو جو انسانیات کی تاریخ کا سب سے اونچا معیار اور مثالی عدل ہو ۔ اور عدل قائم کرنے میں تمہارا مطح نظر اور نصب العین ذات باری کی رضا کا حصول ہو ‘ اور اس معاملے میں کسی اور جذبے ‘ کسی اور خواہش اور کسی اور مصلحت کو پیش نظر مت رکھو ۔ اس معاملے میں خود اپنی جماعت ‘ اپنی حکومت اور اپنی امت (NAtion) کے مفادات کو بھی پیش نظر نہ رکھو ۔ اس میں خدا ترسی اور رضائے الہی کے سوا تمہارے پیش نظر کوئی اور جذبہ نہ ہو ۔ امت نے فی الواقعہ ایسا کیا اور اس کا ایک نمونہ ایک یہودی کے اوپر جھوٹے الزام کے واقعہ کی شکل میں خود قرآن کریم نے ریکارڈ کیا اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو بذریعہ وحی انصاف کرنے کی تنبیہ اور تاکید کی جس کا تذکرہ ہم تفصیلا کر آئے ہیں ۔ سبق کا آغاز اس حکم سے ہوتا ہے کہ عدل کرو ‘ مطلق اور خالص عدل کرو۔ مطلق اور خالص عدل کس قدر مشکل کام ہے ‘ اس کو رب کائنات ہی جانتا ہے ۔ جس نے انسان کو پیدا کیا ۔ رب کو معلوم ہے کہ اس راہ میں کیا کیا مشکلات پیش آتی ہیں ۔ اللہ کو معلوم ہے کہ انسان میں کمزوری کے کیا کیا پہلو ہیں ۔ انسان کے جذبات اس کی ذات کے لئے اور اقارب کے لئے کمزوروں اور زبردستوں کے لئے خصوصا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے ‘ فقراء اور اغنیاء کے لئے ‘ دوست اور دشمن کے لئے کیسے ہیں ۔ اس کے علاوہ دوسرے بیشمار جذبات اور یہ سب کے سب یا ان میں کوئی ایک بات عدل کے معاملے میں اثرانداز ہو سکتی ہے اور ان کو نظر انداز کرنا نہایت ہی مشکل کام ہے ۔ یہ کام اسی طرح مشکل ہے جس طرح ایک آدمی نہایت ہی عمودی چڑھائی پر چڑھ رہا ہو اور اس میں اس کے پیش نظر صرف رضائے الہی اور حبل اللہ رہے ۔ کس قدر مشکل ہے یہ کام ۔ دوسری دعوت اس سبق میں یہ ہے کہ مکمل ایمان لے آؤ ۔ اللہ کتابوں ‘ ملائکہ ‘ رسول اور یوم آخرت پر ایمان لاؤ ۔ یہ ہے مکمل ایمان ۔ اس کے تمام اجزاء کی اپنی اپنی جگہ بہت بڑی اہمیت ہے ۔ یہ تمام اجزاء مل کر ایمان کو مکمل کرتے ہیں اور انہی اجزاء سے مجموعی اسلامی تصور حیات وجود میں آتا ہے ‘ جو تمام دوسرے تصورات کے مقابلے میں زیادہ فوقیت رکھتا ہے ‘ جو کسی زمانے میں انسانی معاشروں کے اندر رائج ومعروف رہے ہیں ۔ اسلام سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ۔ یہ نظریہ حیات بذات خود ‘ ہر نظریہ سے قوی اور برتر ہے اور اس سے تمام دوسری قدریں وجود میں آتی ہیں چاہے وہ اخلاقی ہوں ‘ اجتماعی ہوں یا تنظیمی ہوں اور جن کا عملی مظاہرہ پہلی جماعت اسلامی کی زندگی میں ہوا تھا اور آئندہ کے ادوار میں بھی جس جماعت نے اس نظام پر صحیح طرح ایمان کا اظہار کیا اور اس کے تقاضوں کو پورا کیا تو اس کی زندگی کے اندر بھی یہی تفوق اور برتری پیدا ہوئی ۔ قیامت تک یہ اصول اپنی جگہ قائم رہے گا اور قیامت میں تو بہرحال اللہ کا کلمہ ہی حق اور برتر ثابت ہوگا ۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا (آیت) ” (ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا (4 : 141) (اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں کے مقابلے میں برتری کی کوئی سبیل نہیں رکھی) ۔ ان دو دعوتوں کے اب اللہ تعالیٰ منافقین پر تنقیدی حملہ شروع کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض تو وہ ہیں جو ابھی تک اپنے نفاق کو چھپائے ہوئے ہیں اور بعض وہ ہیں جو منافق رہنے کے بعد دوبارہ کفر کا اعلان کرچکے ہیں ۔ اس تنقیدی بیان میں منافقین کے مزاح انکی قابل نفرت صورت ‘ اسلامی صفوں کے اندر ان کی سرگرمیوں کی جو صورت حال ہے اس کی تفصیلات ان کا متلون موقف ‘ کہ اگر مسلمانوں کو فتح ہو تو وہ ان کی چاپلوسی کرتے ہیں اور اگر اہل کفر کو فتح نصیب ہو تو یہ انکے ہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہر جگہ خود اپنے آپ کو سبب فتح قرار دیتے ہیں ۔ نماز کے لئے نہایت ہی بوجھل قدموں کے ساتھ جاتے ہیں ۔ اور دکھاوے کے لئے پڑھتے ہیں ‘ ان کا رویہ نہایت ہی مذبذب ہوتا ہے ۔ نہ ادھر کے اور نہ ادھر کے ۔ اس تنقیدی حملے کے درمیان جا بجا اہل ایمان کو بھی ہدایات دی گئی ہیں جن سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ منافقین اس وقت اسلامی صفوں میں کس طرح گھسے ہوئے تھے اور کیا کیا کارستانیاں کر رہے تھے ۔ اسلامی صفوں میں منافقین کو کس قدر اثرورسوخ حاصل تھا ۔ ان حالات میں اس قسم کے تنقیدی حملے کی ضرورت اس لئے پیش آئی تاکہ اس وقت کے موجود حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تحریک اسلامی کو قدم بقدم آگے بڑھایا جائے اور اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ منافقین سے آہستہ آہستہ دور ہوتے جائیں اور ان کے ساتھ تعلقات رکھنے سے اجتناب کریں ۔ ان کی مجالس میں نہ بیٹھیں ‘ جہاں وہ اکثر کفریہ گفتگوئیں کرتے ہیں اور اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ البتہ اس دور میں قرآن کریم نے منافقین کے ساتھ بائیکاٹ کا حکم تو بہرحال نہیں دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت یہ آیات نازل ہو رہی تھیں اس وقت منافقین کا جتھا بڑا مضبوط تھا اور وہ اس قدر سرگرم تھے کہ اہل اسلام کے لئے ان کا مکمل بائیکاٹ ممکن ہی نہ تھا ۔ مسلمانوں کو اس تحذیر ار تنبیہ کرنے کے درمیان ہی یہ بتا دیا گیا کہ نفاق کی علامات کیا ہیں اور نفاق کا آغاز کس طرح شروع ہوتا ہے ۔ تاکہ وہ خود بھی نفاق کی علامات سے اپنے آپ کو بچانے کی سعی کریں ۔ سب سے پہلی ہدایت یہ دی جاتی ہے کہ تم منافقین کے ساتھ دوستی ہر گز نہ کرو اور منافقین کے ہاں اپنی عزت اور احترام بڑھانے کا لالچ نہ کرو ‘ اس لئے کہ عزت تو صرف اللہ کے ہاں ہے۔ اللہ کو ہر گز یہ بات پسند نہیں کہ وہ کافروں کو اہل اسلام پر برتری دے اور منافقین تو دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے ۔ یہ ہے ان کی تصویر ذرا ملاحظہ کرو اور پھر آخرت میں وہ دوزخ کے اندر سب سے نیچے پڑے ہوں گے ۔ اس انداز میں یہ ہدایات اور تنبہات بتلاتی ہیں کہ اسلامی نظام زندگی نفس انسانی اور اس کے اندر رچی بسی عادات کو کس طرح درست کرتا ہے اور کسی موجود عملی صورت حال کے اندر اسلام اصلاح کی کاروائی کا آغاز کس طرح کرتا ہے ؟ اسلام نہایت ہی تدریج کے ساتھ کوئی تبدیلی لاتا ہے اور آخر کار کسی موجودہ صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے اس کی جگہ نہایت ہی جدید صورت حالات لے کر آجائے ہے ۔ نیز اس سے اس بات کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ اس دور میں مسلمانوں کے حالات کیا تھے ، کفر ونفاق کے محاذ ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح معاون تھے اور وہ کس طرح جماعت مسلمہ اور دین اسلام کے خلاف گٹھ جوڑ کئے ہوئے تھے ۔ ان تمام تبصروں کے اندر غور کرنے سے یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ کیا عظیم معرکہ تھا ۔ جس کے اندر قرآن کریم نے جماعت مسلمہ کو ڈال دیا تھا ۔ اور اس معرکہ میں ڈال کر قرآن کس نظام اور منہاج کے مطابق جماعت مسلمہ اور نفس انسانی کی قیادت اور راہنمائی کر رہا تھا ۔ یہ معرکہ وہی معرکہ ہے جو ہر زمان ومکان کے اندر اسلام اور جاہلیت کے درمیان برپا رہا ہے اور کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا ۔ وسائل بدل سکتے ہیں اور چہرے بدل سکتے ہیں لیکن اسلام اور جاہلیت کے درمیان جو جنگ ہے اس کی نوعیت آج بھی وہی ہے جو قرن اول میں تھی ۔ نیز ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کی سرگرمیوں میں قرآن کریم کی قیادت اور راہنمائی کو کس قدر اہمیت حاصل ہے ۔ قرآن کریم یہ قیادت جس طرح حضور کے درمیان جو جنگ ہے اس کی نوعیت آج بھی وہی ہے جو قرن اول میں تھی ۔ نیز ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کی سرگرمیوں میں قرآن کریم کی قیادت اور راہنمائی کو کس قدر اہمیت حاصل ہے ۔ قرآن کریم یہ قیادت جس طرح حضور ﷺ کے دور میں کرتا تھا ‘ وہی راہنمائی اور قیادت وہ آج بھی کرتا ہے ۔ قرآن کریم کسی ایک دور یا کسی ایک نسل کی راہنمائی کے لئے تو آیا ہی نہیں ہے ‘ یہ تو اس امت کا قائدہ ہے ‘ اس کا مرشد ہے اور اس کا ہادی ہے اور ہر دور اور ہر نسل کے لئے ہے ۔ اور اس سبق کے آخر میں ایک لمحہ فکریہ ! یہ کہ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ لوگوں کو خواہ مخواہ عذاب دے ۔ اس کا مطالبہ تو صرف یہ ہے کہ ایمان لاؤ اور اللہ کا شکر بجا لاؤ ۔ اگر لوگ ایمان نہیں لاتے اور شکر گزار بندے نہیں بنتے تو اسے کوئی پرواہ نہیں ۔ وہ تو ان کے ایمان اور شکر گزاری دونوں سے بےنیاز ہے ۔ اللہ جو ہدایات دے رہا ہے وہ تو انکی اصلاح کے لئے ہے ۔ ان کو نرمی دینے کے لئے ہیں تاکہ وہ اس بات کے مستحق ہوجائیں کہ ان کو جنت میں انعامات ملیں ۔ اگر وہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے اور الٹے پاؤں پھریں گے تو وہ خود عذاب جہنم کے مستحق ہوجائیں گے ۔ اس میں صرف ان ہی کا ذاتی نقصان ہے اور منافقین تو اس جہنم کے بھی سب سے خطرناک ” درک اسفل “ میں ہوں گے ‘ سب سے نیچے والے درجے ہیں ۔ درس نمبر 42 تشریح آیات : 135۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 147 (آیت) ” نمبر 135۔ یہ اہل ایمان کو خصوصی پکار ہے ۔ اس پکار میں ان کے لئے ایک جدید لقب اور ایک نئی صفت کو استعمال کیا گیا ہے اور اس لقب اور صفت میں وہ بالکل منفرد ہیں ۔ اور الذین امنوا کی روح بدل گئی ہے ۔ ان کے تصورات بالکل نئے ہوگئے ہیں ۔ ان کے اصول اور مقاصد بدل کر نئے ہوگئے ہیں ۔ وہ اس جدید انقلابی مہم کے راہنما بن گئے ہیں اور ان کے کاندھوں پر عظیم ذمہ داریاں عائد کردی گئی ہیں ‘ اب وہ پوری انسانیت کے لئے پاسبان ونگہبان ہیں ۔ وہ لوگوں کے درمیان اب فیصلہ کرنے والے ہیں ۔ اس لئے یہاں (آیت) ” (یایھا الذین امنوا) کے الفاظ نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں ۔ یعنی اس صفت ایمان ہی کی وجہ سے ان پر عالمی قیادت کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے اور پورے عالم کی قیادت کرنا گویا تقاضائے ایمان ہے اور صفت ایمان ہی کے تقاضے کے طور پر مسلمان اس قیادت کے مقام کا چارج لینے کے لئے یہ تیاری کر رہے تھے ۔ اسلامی منہاج تربیت کی یہ ایک نہایت ہی موثر جھلکی ہے ۔ اور امت مسلمہ کو ایک نہایت ہی بھاری ذمہ داری کا چارج دینے سے قبل ہی یہ جھلکی دکھائی گئی اور وہ بھاری ذمہ داری یہ ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شھداء للہ ولو علی انفسکم اوالوالدین والاقربین ان یکن غنیا اوفقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (4 : 135) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو انصاف کے علمبردار اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے) یہ امانت اور ذمہ داری یہ تھی کہ تم نے عدل قائم کرنا ہے اور یہ عدل مطلق ہوگا جس کا علمبردار تم نے بننا ہے ۔ ہر حال اور ہر میدان میں تم نے انصاف کرنا ہے ۔ ایسا عدل جس کے ذریعے ظلم اور عدوان کی خودبخود نفی ہوجائے اور پورے کرہ ارض پر کہیں بھی ظلم نہ رہے اور یہ ایسا عدل ہو کہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے ۔ اس حق رسیدگی میں مومن اور غیر مومن دونوں برابر ہوں جیسا کہ یہودی کے قصے میں واضح طور پر کہا گیا ہے ۔ اس میں رشتہ دار اور غیر رشتہ دار سب برابر ہوں ۔۔۔ دوست اور دشمن سب برابر ہوں۔ غنی اور فقیر کا درجہ ایک ہی ہو ۔ (آیت) ” (کونوا قومین بالقسط شھداء للہ ) (انصاف کے علمبردار اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو) یہ انصاف اور شہادت صرف اللہ کے لئے ہو اور اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہو اور شہادت نہ ان کے لئے دی جائے جن کے حق میں دی جارہی ہو اور نہ ان کی وجہ سے دی جائے جن کے خلاف دی جارہی ہے ۔ یہ شہادت نہ کسی فرد اور نہ کسی جماعت کے مفادات کے لیے ہو اور نہ شہادت ان حالات سے متاثر ہو کردی جائے جو اس وقت موجود ہوں یا مقدمہ زیر بحث پراثر انداز ہو رہے ہوں خالصتا اللہ کے لئے اور خالصتا اللہ کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ‘ صرف اس کی رضا کے لئے دی جائے اور ایسے حالات میں کہ کوئی میلان ‘ کوئی رجحان ‘ کوئی مصلحت اور کوئی خواہش اسے متاثر نہ کر رہی ہو ۔ نہ کسی کا لحاظ رکھا جا رہا ہو۔ (آیت) ” ولو علی انفسکم اولوالدین والاقربین “۔ (4 : 135) (اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ ) یہاں اسلامی نظام نفس انسانی کو خود اس کے اپنے خلاف مسلح کر رہا ہے ۔ اپنے جذبات کے ساتھ ‘ اپنی ذات کے خلاف ‘ اپنے والدین کے خلاف اور اپنے رشتہ داروں کے خلاف ‘ اور یہ نہایت ہی دشوار مرحلہ ہے کہ کوئی اپنی ذات کے خلاف فیصلہ کرے ۔ محض زبانی جمع خرچ تو آسان ہوتا ہے لیکن عملا ایسا کرنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے ۔ انسان ذہنی لحاظ سے اس کے بارے میں سوچ تو سکتا ہے کہ ایسا ہونا چاہئے مگر عمل دشوار ہوتا ہے اور اس بات کی اصل مشکلات کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب انسان عملا یہ کام کرے ۔ اس کے باوجود کہ یہ مشکل کام ہے ‘ اسلامی نظام نفس مومنہ کو تقوی کے ذریعے خود اپنی ذات کے خلاف مسلح کر رہا ہے کہ وہ اس خطرناک تجربے میں کود پڑے ‘ اس لئے کہ دنیا کے اندر عدل و انصاف کا یہی معیار ہونا چاہئے کہ کوئی اپنی ذات کے خلاف بھی فیصلہ کر گزرے اگر حق و انصاف اس کا تقاضا کرتے ہوں ۔ اور کچھ لوگ یہ فیصلہ عملا کرکے دکھائیں ۔ اس کے بعد نفس انسانی کو اپنے فطری اور اجتماعی شعور کے خلاف بھی مسلح کیا جاتا ہے کہ جس شخص کے حق میں یا خلاف گواہی دی جارہی ہو وہ غریب ہو ۔ اگر وہ غریب ہے تو مشکل یہ ہوتی ہے کہ کوئی رحمدل انسان اس کے خلاف شہادت دینا گواہی دی جارہی ہو وہ غریب ہو ۔ اگر وہ غریب ہے تو مشکل یہ ہوتی ہے کہ کوئی رحمدل انسان اس کے خلاف شہادت دینا ازروئے رحمدلی ‘ پسند نہیں کرتا اور یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی کمزوری کی وجہ سے اس کے حق میں شہادت دے ۔ یا کسی اجتماعی مرتبہ ومقام کی وجہ سے یا کسی سوسائٹی کی طبقاتی منافرت کی وجہ سے کوئی کسی زیردست کے ساتھ نفرت کرتا ہو یا اگر مدمقابل گنی ہو تو اس کی وجاہت کا لحاظ رکھے اور اس کے خلاف شہادت نہ دے ۔ جاہلیت کے تمام نظاموں میں ایسا ہوتا رہا ہے ۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک گواہ ایک مالدار شخص کے ساتھ نفرت کرے اور اس کی مالداری اور برتری اسے پسند نہ ہو اور اس وجہ سے وہ شہادت حق نہ دے بلکہ مالدار کے خلاف شہادت دے دے ۔ یہ تمام فطری میلانات ہوئے اور جب عملا کسی کو واسطہ پڑتا ہے تو انصاف اور شہادت کے وقت یہ اپنا وزن انسان پر ڈالتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے تمام امور کو لے لیا کہ ذات ہو ‘ اقرباء ہوں ‘ غریب ہو یا امیر تم شہادت حق دو ۔ (آیت) ” ان یکن غنیا اوفقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (4 : 135) (فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے) یہ نہایت ہی مشکل اور بھاری کام ہے ۔ اسلام نے اہل ایمان کو عملی زندگی میں ڈالا اور اسے اس قدر بلندی تک پہنچایا کہ انہیں پوری انسانیت نے دیکھ لیا کہ اسلام نے اس کرہ ارض پر عالم انسانیت کے اندر یہ ایک عظیم معجزہ دکھایا تھا ۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا کہ صرف اسلامی نظام کے سایہ ہی میں رونما ہو سکتا تھا ۔ (آیت) ” فلا تتبعوا الھوی ان تعدلوا “۔ (4 : 135) (لہذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ‘) خواہشات نفسانیہ کی کئی اقسام ہوتی ہیں جن میں سے بعض کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے ۔ ذات کی محبت ‘ اہل و عیال کی محبت ‘ رشتہ داروں کی محبت ‘ کسی فقیر کے ساتھ رحمدلی ‘ (شہادت کے وقت) کسی غنی کی رعایت اور وجاہت کا لحاظ ‘ کسی امیر یا فقیر سے نفرت وغیرہ سب خواہشات نفسانیہ ہیں ۔ خاندان ‘ قبیلے ‘ قوم ‘ وطن اور حکومت کی طرفداری (شہادت کے وقت) دشمن سے نفرت اگرچہ دین کے دشمن ہوں ۔ غرض خواہشات کی بیشمار قسمیں اور رنگ ہیں ۔ ان تمام خواہشات سے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے متاثر ہونے کو پسند نہیں کرتے ۔ اور اس تاثر کے تحت انصاف اور شہادت حق سے باز رہنے سے منع کرتے ہیں ۔ سب سے آخر میں اس بات پر متنبہ کیا جاتا ہے کہ شہادت کے اندر تحریف ہر گز نہ کرو اور شہادت سے منہ بھی نہ پھیرو۔ (آیت) ” وان تلوا اوتعرضوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ (4 : 135) (اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے ۔ ) اس معاملے میں صرف یہ یاد دہائی کرائی جاتی ہے کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے تاکہ اہل ایمان کے اندر یہ تاثر پختہ ہوجائے کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو اس کا انجام بہت ہی برا ہوگا تاکہ ان کا دل کانپ اٹھے اس لئے کہ قرآن کریم کی ان آیات کے مخاطب اہل ایمان ہی تو ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ جب عبداللہ ابن رواحہ ؓ کو حضور ﷺ نے خیبر کی محصولات کی وصولی کے لئے بھیجا (یاد رہے کہ ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ نے نصف محصولات پر فیصلہ کیا تھا) اور وہ فتح خیبر کے بعد وہاں گئے تو یہودیوں نے انکو اس امر کے لئے رشوت دینا چاہی کہ وہ ان کے ساتھ نرمی کریں تو انہوں نے یہودیوں سے کہا : ” خدا کی قسم میں تو ایک ایسے شخص کا نمائدہ ہوں جو اس پوری دنیا سے مجھے زیادہ محبوب ہے ۔ خدا کی قسم تم کو میں بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ براسمجھتا ہوں لیکن حضور ﷺ کی محبت اور تمہاری نفرت مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرسکتی کہ میں تمہارے درمیان عدل کے سوا کچھ اور کروں “۔ اس پر یہودیوں نے کہا کہ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے زمین و آسمان کا نظام قائم ہے ۔ عبداللہ ابن رواحہ ؓ مدرسہ رسول اللہ ﷺ کے تعلیم یافتہ تھے ‘ اور ان کی تعلیم وتربیت ربانی منہاج پر ہوئی تھی ۔ وہ انسان تھے اور پورے انسانی جذبات کے ساتھ کسی عدالت کی کرسی پر بیٹھے اور کامیاب رہے ۔ اور ان کے سوا دوسرے بھی کچھ کم نہ تھے جنھوں نے اسلامی نظام کے زیر سایہ معجزہ دنیا کو کر کے دکھایا ۔ سالوں پر سال گزرتے رہے ۔ صدیاں بیت گئیں اور یہ دور بہت دور چلا گیا ہے اور لائبریریاں فقہ اور قانون کی کتابوں سے بھر گئی ہیں ۔ قانونی ضابطوں اور انصاف کے رولز ریگولیش کی بہتات ہوگئی اور قانون اور انصاف کے محکمے اور وزارتیں تشکیل دے دی گئیں ۔ اور دماغ عدل و انصاف کا نام سن سن کر پھرگئے ۔ دنیا میں عدل کرنے کے بارے میں طویل ترین تقاریر اور مقالات پڑھے جانے لگے ۔ عدل و انصاف کے سلسلے میں کئی نظریات پیدا ہوئے اور کئی تنظیمیں وجود میں آئیں اور کانفرنسیں ہوئیں لیکن وہ حقیقی عدل کہاں ہے ؟ اس کا ذائقہ کسی نے نہیں چکھا ۔ یہ عدل لوگوں کے ضمیروں اور ان کی زندگی میں عنقاہی رہا ۔ اور یہ عدل ان انتظامات کے باوجود اس اعلی میعار تک نہ پہنچ سکا جو خیر القرون کا طرہ امتیاز تھا ۔ اس کا حقیقی وجود اگر کہیں تھا تو صرف اسلامی نظام کے دور میں تھا ۔ اس مختصر دور میں عدل کا گراف اس قدر بلندی تک پہنچا اور نبوت اور خلافت راشدہ کے بعد اگر وہ کہیں ملا تو صرف اسلامی معاشرے کے اندر ملا اور صرف ان دلوں میں ملا جن میں اسلام جاگزین تھا اور ان افراد اور ان سوسائٹیوں میں ملا جن کی تربیت اسلامی نظام کے زیر سایہ ہوچکی تھی ۔ جو یقینا ایک واحد اور مثالی عادلانہ نظام ہے ۔ وہ لوگ جو آج کل جدید سے جدید عدالتی نظام تشکیل دیتے ہیں ‘ عدل و انصاف کے لئے جدید سے جدید ذرائع استعمال کرتین ہیں اور عدلیہ کے لئے نہایت ہی پیچیدہ طریقہ کار طے کرتے ہیں ‘ ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ ان امور کو بھی مدنظر رکھیں جو ہم نے اوپر دئیے ہیں ۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ طریقہ کار پیچیدہ ہے اور یہ نہایت ہی منظم عدالتی ڈھانچے اس سادہ اور نہایت ہی ابتدائی انتظامات سے زیادہ مفید ہوں گے جو اسلامی دور میں اختیار کئے گئے تھے ۔ یہ جدید لوگ جن کے ہاتھوں میں عدلیہ کا اہتمام ہے ‘ وہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ بہت ہی کامیاب ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ یہ ایک وہم ہے اور یہ وہم اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ لوگ ظاہری حجم کو دیکھ کر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اشیاء کی حقیقت ان کے ظاہری حجم سے معلوم نہیں ہوتی ۔ یہ اسلامی نظام ہی ہے جو ان سادہ حالات کے اندر اس قدر بلند معیار تک پہنچا اور آج بھی اسلام ہی ہے جو اس سطح تک عدل کے معیار کو پہنچا سکتا ہے ‘ بشرطیکہ اسے اختیار کیا جائے ۔ لیکن اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہم جدید ترقی یافتہ دور میں نظام عدالت کے جدید انتطامات اور ضابطہ ہائے دیوانی اور فوجداری سے فائدہ نہ اٹھائیں یا محکمہ انصاف کی جدید تنظیم اور ترقی یافتہ اشکال کو ختم کرکے ان کی جگہ خلافت راشہ کی سادہ شکل جاری کردیں ۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اصل مقصد شکل اور تنظیم نہیں ہے بلکہ اصل مطلوب وہ روح ہے جو ظاہری شکل کے اندر کار فرما ہوتی ہے چاہے اس کی ظاہری شکل اور جسامت جو بھی ہو اور وہ نظام کیسے ہی خیالات اور کیسے ہی زمان ومکان میں ہو۔

النساء 4:136

(آیت) ” نمبر 136۔ یہ ایک دوسری پکار ہے ‘ جو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو ایمان لا چکے ہیں اور یہاں اس صفت اور لقب کے ساتھ ان کو آواز دی گئی ہے جو ان کو ان کے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیت سے ممتاز کرتی ہے ۔ یہ صفت ان کے واجبات وفرائض کا تعین کرتی ہے اور ان کو اس منبع اور ذریعے سے مربوط کرتی ہے جو ان کی قوت اور برتری کا اصل ماخذ (Source) ہے جس ماخذ سے وہ تمام قوتیں اور ہمتیں حاصل کرتے ہیں ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا امنوا باللہ ورسولہ والکتب الذی نزل علی رسولہ والکتب الذی انزل من قبل (4 : 136) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کرچکا ہے ۔ ) یہاں ایمان کے عناصر ترکیبی کو بیان کیا گیا ہے ۔ یہ وہ امور ہیں جن کا ہر شخص کے ایمان اور عقیدے میں موجود ہونا ضروری ہے ۔ گویا یہ وہ اساس ہے جس پر ایمان کے اعتقادی تصورات قائم ہوتے ہیں ۔ اللہ پر ایمان اور رسولوں پر ایمان انسان کو اس ذات سے مربوط کردیتا ہے جس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اللہ نے پھر رسول کو بھیجا ہے تاکہ وہ انسان کو ہدایت دے ایمان بالرسالت میں یہ امر شامل ہے کہ رسول اللہ نے اللہ کی جانب سے جو پیغام دیا ہے وہ صحیح دیا ہے ۔ ایمان باللہ اور ایمان بالرسالت کا لازمی نتیجہ صدق ایمانی ہے ۔ اللہ نے جو کتاب رسول کے ذریعہ ارسال کی ہے وہ بالکل سچی ہے ۔ اس کتاب کے اندر اللہ نے انسانوں کو زندگی بسر کرنے کے تمام طریقے بتائے ہیں اور یہ کتاب تمام اہل ایمان کے درمیان ایک مشترکہ رابطہ ہے اور انسانوں کے اس پوری کتاب کو بطور ہدایت لینا ہے ۔ یہ جائز نہیں کہ اس میں سے بعض امور کو لے لیا جائے اور نافذ کیا جائے اور اس کے بعض حصوں کو چھوڑ دیا جائے ۔ ایمان کے اساسی عناصر میں تمام کتب سابقہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے ۔ اس لئے کہ سابقہ انبیاء بھی اللہ کے رسول تھے اور وہ کتب بھی اللہ کی کتابیں تھیں اور ان سب میں جو نظام زندگی تجویز ہوا تھا وہ اسلام ہی تھا ۔ سب کی تعلیم یہ تھی کہ اللہ ہی الہ ہے الوہیت کے تمام خصائص کے اندر اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے اور سب کی تعلیم یہ تھی کہ اس نظام زندگی کی اطاعت اور نفاذ واجب ہے اور اللہ کی وحدانیت کے عقیدے کا یہ تقاضا بھی ہے کہ یہ کتب اپنی تحریف سے قبل سب کی سب اللہ کی طرف سے تھیں ۔ ان میں ایک ہی نظام درج تھا اور بشر کے بارے میں سب کے اندر اللہ ہی کا ارادہ درج تھا ۔ ایک ہی راستہ تھا جو صراط مستقیم تھا اور باقی تمام راستے اس کے اردگرد ناقص اور ٹیڑھے تھے ۔ تمام کتابوں پر ایمان لانے کا مقصد یہ ہے کہ دراصل تمام کتب ایک ہی کتاب ہے جو الکتاب ہے ۔ اور یہ وحدت فکر صرف امت مسلمہ کی خصوصیت ہے ۔ اس کا تصور یہ ہے کہ تمام کتب سماوی ایک کتاب ہے ‘ تمام ادیان سماوی ایک دین ہے ان کے اندر بیان کردہ بابطہ ایک نظام ہے اور طریق کار بھی ایک ہے ۔ یہی تصور حقیقت الوہیت کے ساتھ حقیقی لگا کھاتا ہے اور یہی بشریت کے لئے بھی درست ہے ۔ یہ تصورثابت کرتا ہے کہ سچائی ایک ہوتی ہے اور سچائی میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ گمراہی ہے ۔ (آیت) ” (فما ذا بعدالحق الا الضلال) ایمان لانے کا حکم دینے کے بعد ایک سخت تنبیہ آتی ہے یہ کہ ان عناصر ایمان میں سے کسی کا انکار ہر گز قابل برداشت نہیں ہے اور منفی بیان کے اندر بھی عناصر ایمان کی پوری تفصیل دے دی گئی ۔ (آیت) ” ومن یکفر باللہ وملئکتہ وکتبہ ورسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضلا بعیدا (4 : 136) (جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روز آخرت سے کفر کیا اور گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا) پہلی آیت میں ایمان باللہ اور ایمان بالکتب اور ایمان بالرسل کا ذکر کیا گیا اور ملائکہ کا ذکر نہ تھا ۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی کتابوں میں ملائکہ اور ذکر آخت دونوں آجاتے ہیں ۔ اور کتابوں پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ فرشتوں اور یوم آخرت پر ایمان لایا جائے لیکن اس دوسری آیت میں ان کا ذکر کردیا گیا ‘ اس لئے کہ کفر کے بعد تہدید اور وعید آتی ہے اور عذاب سے ڈرایا جاتا ہے ۔ جس کی تصریح اور وضاحت ضروری تھی تاکہ کل یہ کوئی نہ کہے کہ قیامت اور ملائکہ کا ذکر علی التخصیص نہ تھا ۔ اس آیت میں ” ضلال بعید “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ راہ گمراہی میں یہ لوگ اس قدر دور نکل گئے ہیں کہ اب ان کا راہ ہدایت پر آنا ممکن نہیں ہے اور نہ اس بارے میں ان سے امید کی جاسکتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص اللہ کا منکر ہے ‘ حالانکہ ذات باری پر ہر شخص ذاتی اور طبیعی طور پر ایمان لاتا ہے بلکہ ہر شخص کی فطرت اس پر ایمان لاتی ہے انکار خدا کے بعد وہ ملائکہ ‘ کتب ‘ یوم آخرت کا انکار کرتا ہے تو وہ درحقیقت ذات باری کے انکار ہی کو آگے بڑھاتا ہے ۔ ایسے شخص کی اصل فطرت فساد ‘ تعطل اور خرابی کا شکار ہوچکی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے کفر کے لئے ضلال بعید کا لفظ استعمال کیا گیا ۔ مسلمانوں کو صفت ایمان سے پکار کر دو بار آواز دینے کے بعد اب منافقین پر حملہ شروع ہوجاتا ہے اور یہ حملہ اس وقت ان کے جو حقیقی حالات تھے ان کے ذکر سے شروع ہوتا ہے ان کا یہ موقف ایسا ہے جو آج کل کے منافقین کے ساتھ بالکل ملتا جلتا ہے ۔

النساء 4:137

(آیت) ” نمبر 137۔ وہ کفر جو ایمان سے پہلے ہو ‘ اس کے آثار کو ایمان بالکل مٹا دیتا ہے جس شخص نے کبھی روشنی دیکھی ہی نہ ہو وہ اگر اندھیرے میں رہتا ہے تو وہ معذور ہے ۔ لیکن ایمان کے بعد کفر کا رویہ اختیار کرنا اور بار بار ایسا کرنا کبیرہ گناہ ہے ‘ اس قدر بڑا گناہ کہ اللہ تعالیٰ ہر گز اس کی مغفرت نہ کرے گا اور نہ اس حرکت کا کوئی عذر ہو سکتا ہے ۔ کفر تو ایک حجاب ہے ‘ جب پردہ ہٹ جائے تو فطرت اپنے خالق کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہے اور گمراہ شخص پھر سے ساتھ مل جاتا ہے ۔ پودا اپنی نرسری میں آجاتا ہے اور روح ایمان کی مٹھاس کو چکھ لیتی ہے اس لئے جو لوگ ایمان کے بعد بار بار مرتد ہوتے ہیں گویا وہ فطرت سے بھاگتے ہیں ‘ علم سے بھاگتے ہیں اور عمدا جہالت میں گرتے ہیں اور وہ عمدا راہ ضلالت اور گم شدگی پر چل نکلتے ہیں ۔ اور پھر وہ اس راہ پر اس قدر دور نکل جاتے ہیں کہ آگے سے راہ ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ یہ وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا کہ اب وہ انہیں معاف نہ کرے گا اور اب وہ انہیں دوبارہ لوٹا کر راہ ہدایت پر نہ لائے گا اس لئے کہ انہوں نے قصدا راہ حق کو چھوڑا پہلے وہ اس راہ پر چل چکے تھے اور منزل پا چکے تھے ۔ انہوں نے قصدا اندھے پن اور برائی کو اختیار کیا جبکہ پہلے وہ صاحب نظر تھے اور صراط مستقیم کے راہ رو تھے ۔ جب تک نفس انسانی اللہ کے لئے خالص نہ ہوجائے ‘ اس وقت تک وہ اوضاع واقدار اور مصالح اور مفادات کے دباؤ سے آزاد نہیں ہو سکتا ۔ نہ وہ حرص اور لالچ سے پاک ہو سکتا ہے اور نہ وہ مصلحتوں اور امیدوں سے پاک ہو سکتا ہے ۔ اور یہ نفس کبھی بھی عزت نفس ‘ بلندی ‘ ہمت اور آزادی سے سرشار نہیں ہوسکتا جس طرح وہ نفس ہوتا ہے جو محبت الہی سے بھرا ہوا ہو ۔ جب کوئی دل محبت الہی سے بھر جائے تو وہ دنیاوی اقدار ‘ دنیاوی طور طریقوں ‘ دنیا کے واقعات ‘ دنیا کے لوگوں ‘ دنیا میں پائے جانے والی تمام قوتوں ‘ حکومتوں اور ان کے اہالی وموالی کے مقابلے میں برتر ہوتا ہے ۔ یہاں سے پھر نفاق کا پودا پھوٹتا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ نفاق کی حقیقت کیا ہے ؟ نفاق صرف یہ ہے کہ انسان سچائی پر بظاہر تو ثابت ہوجائے مگر اس کے لئے لڑنے اور باطل کے ساتھ مقابلہ کرنے میں ضعیف ہو ۔ یہ ضعف اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ انسان کے دل میں خوف اور لالچ پیدا ہوجاتا ہے اور یہ خوف اور لالچ دونوں اللہ سے نہیں ہوتے بلکہ غیر اللہ سے ہوتے ہیں ۔ انسان پھر زمین کے حالات اور زمین کی شخصیات کا قیدی بن جاتا ہے اور اسلامی نظام سے دور ہوجاتا ہے ۔ لہذا اس سبق میں ایمان کی بات بھی ہونی ہے ‘ قیام شہادت اور عدل کی بات بھی ہوئی اور نفاق کی بات بھی ہوئی اور تینوں کے درمیان گہرا ربط ہے ۔ عمومی مناسبت تو یہ ہے کہ یہی اس سورة کے اصل موضوعات ہیں یعنی جماعت مسلمہ کی اسلامی نظام حیات میں تربیت اور اس کی اجتماعی زندگی سے جاہلیت کے آثار کو مٹانا ‘ جماعت کے افراد کے نفوس کو بشری فطری کمزوریوں کے مقابلے میں تیار کرنا اور پھر اسے اردگرد پھیلے ہوئے مشرکین اور منافقین کے ساتھ ہونے والے معرکے کے اندر اتارنا ۔ اس پوری سورة کے اندر یہی مرکزی مضمون ہے جس کے اردگرد یہ سورة گھومتی ہے ’ اول سے آخر تک ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سبق کے باقی ماندہ حصے میں بات منافقین تک محدود ہے اور اس پر یہ پارہ بھی ختم ہوتا ہے جبکہ اس سے قبل منافقین کی ایک خاص جماعت کا تذکرہ ہوا کہ وہ بار بار اعلان اسلام کرتے ہیں اور پھر کفر کرتے ہیں ۔ چناچہ اب یہاں سے منافقین پر تنقید شروع ہوتی ہے جن کے بارے میں قرآن نے تفصیلات بیان کردی ہیں اور مختلف انداز میں ان کی بیماری کا مطالعہ کیا ہے تاکہ اسلامی نظام کا مزاج اچھی طرح سامنے آجائے فطرت کے مطابق اس پر عمل ہو اور دلوں میں اور عمل میں اسلامی نظام واضح طور پر نظر آئے ۔

النساء 4:138

(آیت) ” 138 تا 143۔ منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔ (آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139) (جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ ) یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔ اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔ یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟ کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ علاوہ دوسری باتوں کے یہ بھی کفار سے عزت طلب کرنے کے مترادف ہے کہ انسان اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کرے جو کفر پر مر گئے تھے اور یہ لحاظ رکھے کہ انکے اور مسلمانوں کے درمیان نسبت اور قرابت کا تعلق ہے ۔ جس طرح بعض لوگ فرعونوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض لوگ اشوریوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض فنیضیوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض بابئیوں پر فخر کرتے ہیں اور عرب اپنی جاہلیت عربیہ اور جمعیت جاہلیہ کا لحاظ رکھتے ہیں ۔ امام احمد نے ابو ریحانہ سے روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص (9) نو کافر آباؤاجداد کی طرف اپنی نسبت کرے گا اور اس سے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ ان پر فخر کرتا ہے تو یہ شخص دسواں شخص ہوگا جو ان کا جہنم میں ساتھی ہوگا ۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں اکٹھ صرف نظریہ حیات پر ہے ۔ اسلام میں امت صرف اسلام و ایمان کی اساس پر ہے اور آغاز اسلام سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے آغاز اسلام سے آج تک ہر سرزمین ‘ ہر جگہ اور ہر نسل میں اسلام کا یہی موقف رہا ہے ۔ امت کا معنی یہ نہیں ہیں کہ کسی دور میں کسی نسل کی ایک جگہ رہائش ہو اور وہ ایک امت بن جائے ۔ مراتب نفاق میں سے اعلی مرتبہ یہ ہے کہ ایک مومن کسی ایسی مجلس میں بیٹھا رہے جس کے اندر اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہو ‘ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور یہ شخص خاموش بیٹھا ہو اور چشم پوشی کرے ۔ پھر اس کو ودرواداری کا نام دے یا اسے ہوشیاری ‘ یا وسعت قلبی یا آزادی رائے کا نام دے حالانکہ یہ موقف دراصل داخلی شکست ہے جو اس کی رگ وپے میں سرایت کرگئی ہے ۔ یہ نام وہ اس لئے رکھ رہا ہے کہ لوگ اسے کمزور اور ضعیف الایمان ہونے کا طعنہ نہ دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ ان الفاظ میں اپنی کمزوری کو چھپاتے ہیں ۔ اللہ کے لئے حمیت ‘ اللہ کے دین کے لئے حمیت اور آیات الہی کے لئے حمیت ‘ درحقیقت ایمان کی بڑی نشانی ہے ۔ جب یہ حمیت ختم ہوجاتی ہے تو پھر بند ٹوٹ جاتا ہے اور تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور جب زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو وہ کچا دھاگہ بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔ پہلے پہل اسلامی حمیت دب جاتی ہے جس طرح چنگاری کو راکھ میں دبا دیا جاتا ہے پھر وہ ٹھنڈی ہو کر بجھ جاتی ہے ۔ جو شخص بھی کسی مجلس میں اپنے دین کے ساتھ مذاق سے اسے چاہئے کہ یا تو وہ دین کا دفاع کرے یا مجلس سے اٹھ کر چلا جائے لیکن اگر وہ چشم پوشی کرتا ہے اور خاموش رہتا ہے تو یہ اس کی پہلی شکست ہے ۔ یہ ایک ایسی حالت ہوتی ہے کہ ہوتی ہے کہ انسان نفاق کے پل پر بالکل بیچ میں ایمان اور کفر کے درمیان کھڑا ہوتا ہے ۔ مدینہ میں بعض مسلمان ایسے تھے جو بڑے بڑے منافقین کی محفلوں میں بیٹھتے تھے اور یہ منافقین بڑے بااثر تھے ۔ حضور ﷺ کی ہجرت کے بعد بھی ان کو معاشرے میں اثر ورسوخ حاصل تھا ۔ اس لئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ایسی مجالس میں جانا اور پھر ان مجالس میں جو گفتگوئیں اسلام کے خلاف چلتی ہیں ان کی خاموشی سے سنتے چلے جانا ‘ شکست کا پہلا مرحلہ ہے ۔ چناچہ حکم دیا گیا کہ مسلمان ان مجالس سے باز آجائیں لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ قرآن ایسی مجالس میں بیٹھنے سے مطلقا روک دیتا اس لئے یہاں صرف یہ حکم دیا گیا کہ جب اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو اور ان کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہو تو مسلمانوں کو ان کا بائیکاٹ کردینا چاہئے ۔ اگر اس صورتحال میں بھی ایک مسلم شریک ہوتا ہے تو وہ منافق ہے ۔ (آیت) ” وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا فلا تعقدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “۔ (4 : 140) (اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں ۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو ۔ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کی جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے ۔ ) یہاں الکتاب کا جو ریفرنس دیا گیا ہے ۔ وہ سورة انعام کی یہ آیت ہے ۔ (آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ) یہاں جو سخت بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ (آیت) ” انکم اذا مثلھم) (اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو) اور اس کے بعد جو سخت وعید آتی ہے وہ ایسی ہے کہ جو بات کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “ (4 : 140) (یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے) لیکن صرف ان مجالس سے منع کیا گیا ہے جن میں آیات الہی کا کفر کیا جارہا ہے ۔ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور اس وقت جماعت مسلمہ جن حالات سے گزر رہی تھی اللہ نے ان حالات میں مکمل بائیکاٹ کا حکم نہیں دیا ۔ ایسے حالات دوسرے معاشروں اور آنے والی نسلوں میں بھی پیش آسکتے ہیں اور اسلامی نظام حیات کا طریقہ کار بھی یہی ہے کہ وہ اگر کوئی تحریک برپا کرتا ہے تو اسے نہایت ہی حکمت اور تدریج کے ساتھ لیتا ہے ۔ وہ معاشرے کے اندر پائے جانے والے حالات ‘ واقعی صورت حال اور لوگوں کے افکار وخیالات کو مدنظر رکھتا ہے لیکن ہدف یہی ہوتا ہے کہ اس واقعی صورت حال کو تبدیل کرکے چھوڑا جائے گا اور اس سمت پر مسلسل آگے بڑھا جائے گا ۔ اس کے بعد منافقین کے کچھ خدوخال بیان کئے جاتے ہیں ۔ یہاں منافقین کی بہت ہی بھونڈی صورت حال کی سینری (OilpAinting) بنائی جاتی ہے کہ وہ جب مسلمانوں کے ہاں کھڑے ہوں تو ان کے چہرے کے خدوخال دوسرے ہوتے ہیں اور اس سینری میں جب وہ منافقین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں تو ان کے چہرے کے خدوخال بالکل دوسرے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی عجیب حالت بنا رکھی ہے ۔ وہ کیڑے مکوڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے چلتے ہیں ۔ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ۔ (آیت) ” الذی یتربصون بکم فان کان لکم فتح من اللہ قالوا الم نکن معکم وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا (4 : 141) (یہ منافق تمہارے معاملے میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا ؟ بس اللہ ہی تمہارے اور انکے معاملے کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلے میں) اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہر گز کوئی سبیل نہیں رکھی ۔ ) یہ عجیب تصویر اور سینری ہے ۔ اس میں دکھایا جاتا ہے کہ منافقین مسلمانوں کے خلاف کس قدر گہری چال چل رہے ہیں اور کس قدر برے ارادے ہیں ان کے ۔ وہ ہر وقت اس گھڑی کے انتظار مین ہیں کہ اہل اسلام پر کوئی مصیبت آئے ۔ لیکن بظاہر وہ مسلمانوں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو اور کوئی غنیمت ملے تو وہ اس وقت کہیں گے ۔ (الم نکن معکم (4 : 141) (کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہم جنگ کے موقعہ میں تمہارے ساتھ تھے ۔ اس لئے کہ منافقین کبھی کبھار مسلمانوں کی صفوں میں جا کر اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھتے تھے یا اس سے مراد یہ ہے کہ ہم کہیں گے کہ ہم بھی تمہارے حامی اور ناصر تھے ۔ اور اگر جنگ پر نہ گئے تو پشت پر تمہارے ہی مددگار تھے ۔ (آیت) ” وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین (4 : 141) (اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا) ان کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان سے تعاون کیا ‘ امداد کی اور ان کی پشتیبانی کی اور مسلمانوں کے ساتھ سچ نہ کہا اور مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی اور افراتفری پیدا کی ۔ اس طرح یہ لوگ کیڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے تھے اور ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا تھا ۔ ان کے منہ میں چکنی چپڑی باتیں تھیں لیکن یہ کمزور کردار کے لوگ تھے ۔ ان کی اس سینری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی خستہ حال اور بدشکل ہیں اور ان کو اہل ایمان نظر انداز کر رہے ہیں ۔ اہل ایمان کی روح کے لئے اسلامی نظام حیات کی یہ پہلی جھلکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایت کے زیر سایہ منافقین کے ساتھ حضور ﷺ کا منصوبہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ چشم پوشی اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے اور اہل اسلام کو ان کے مقابلے میں متنبہ اور خبردار کردیا جائے ، ان کو ان کے اصل عزائم سے آگاہ کردیا جائے اور اس طرح ان کو زہر کا میٹھا پیالہ پلایا جائے اسی لئے ان کی سزا کے لئے یہ کہا جاتا ہے سزا دہی میں شتابی نہ کرو ‘ ان کا فیصلہ اللہ آخرت میں کرے گا ۔ (فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ) (4 : 141) ”(اللہ انکا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا) جہاں کوئی سازش نہ چلے گی ‘ جہاں کوئی عیاری اور مکاری کام نہ دے گی اور جہاں کوئی شخص بات دل میں نہ چھپا سکے گا ۔ اس موقعہ پر اہل ایمان کے ساتھ بھی ایک قطعی وعدہ کرکے ان کو مطمئن کردیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو مکاری اور عیاری کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ اور اس کے ذریعے اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور کافروں کے ساتھ ان کی سازش ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی ۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ اس نے کافروں اور منافقوں کے لئے یہ لکھا ہی نہیں ہے کہ وہ اہل ایمان پر غالب ہوں۔ (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا) (4 : 141) ”(اور اللہ نے کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی سبیل نہیں رکھی) بعض روایات میں آتا ہے کہ اس آیت میں کافروں کے غلبے سے مراد قیامت کے روز غلبہ ہے جہاں اللہ اہل ایمان اور منافقین وکافرین کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مومنین کے بارے میں اچھا فیصلہ ہوگا ۔ لیکن ایک دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اس سے مراد کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کافروں کو اس طرح غلبہ نہیں دے گا کہ کافر انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اگرچہ بعض معرکوں اور بعض علاقوں میں ان کو غلبہ نصیب ہو سکتا ہے ۔ اس آیت کو اگر دنیا اور آخرت دونوں کے لئے لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اس میں کوئی اخروی تحدید و تخصیص نہیں ہے ۔ اگر اس سے اخروی کامیابی لی جائے تو پھر اس میں تو کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے ۔ البتہ اگر دنیاوی غلبہ لیا جائے تو اس میں بعض اوقات اشکال پیش آسکتے ہیں اور غلط فہمی بھی لاحق ہو سکتی ہے جس کی تشریح کی ضرورت ہے ۔ یہ اللہ کا ایک قطعی وعدہ ہے اور اللہ کا ایک جامع حکم ہے ۔ جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمان کی حقیقت بیٹھ جائے اور ان کی زندگی کی اصل صورت حال میں اس حقیقت کا ظہور ہوجائے ‘ اور پھر یہ حقیقت ان کے لئے نظام زندگی بن جائے اور اس کے اوپر نظام حکومت قائم ہوجائے اور ان کی ہر حرکت اور ہر سوچ اللہ کے لئے ہوجائے اور وہ چھوٹے اور بڑے سب امور میں اللہ کے بندے بن جائیں تو پھر کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی صورت سنت الہی میں نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کے خلاف تاریخ اسلامی میں کوئی ایک واقعہ بھی بطور مثال پیش کیا جاسکتا ۔ میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ اللہ کے اس وعدے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوسکتا ۔ صحیح اہل ایمان کو کبھی شکست نہیں ہو سکتی ۔ اور ان کو تاریخ میں کبھی بھی ایسی کسی شکست سے دور چار ہونا نہیں پڑا ۔ اور جب کبھی بھی ایسا ہوا ہے تو صرف اس وقت جب ان کے ایمان میں کمزوری ہوئی ہے ۔ یا تو شعوری طور پر ایمان کمزور ہوا ہے یا عقیدے میں کمزوری پائی گئی ہے یا پھر عمل میں کوئی نہ کوئی کمزوری رہی ہے ۔ یاد رہی ہے ۔ یاد رہے کہ ایمان کا یہ مطالبہ ہے کہ اہل ایمان ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہیں اور یہ جہاد بھی خالصتا فی سبیل اللہ ہو اور اس میں کوئی اور مقصد پیش نظر نہ ہو ۔ اور اگر اس میں کوئی لوپ ہول ہو تو پھر اس کمزوری کے مطابق ہی شکست ہوتی رہتی ہے ۔ لیکن جونہی اہل ایمان ‘ ایمان وعمل سے یہ کمزوری دور کرلیں ‘ فتح و کامرانی پھر انکے قدم چومتی ہے ۔ دیکھئے احد میں کمزوری یہ تھی کہ تیر اندازوں نے حضور ﷺ کی اطاعت کے بجائے آپ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا اور اس کی وجہ صرف مال غنیمت کا لالچ تھا ۔ اور جنگ حنین میں کمزوری تھی کہ مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز ہوگیا اور وہ اپنی قوت کے اصل سرچشمے کو پیش نظر نہ رکھ سکے ۔ اگر ہم اپنی پوری تاریخ میں ہر اس واقعے کا تجزیہ کریں جس میں ہمیں شکست ہوئی تو معلوم ہوگا کہ وہاں اس قسم کی کوتاہیوں میں سے کوئی نہ کوئی کوتاہی تھی ۔ اگر کہیں کوتاہی نظر نہ آئے تو یہ ہماری فہم کا قصور ہوگا ۔ رہا اللہ کا یہ وعدہ تو وہ دنیا واخرت دونوں میں برحق ہے ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض اوقات ابتلاء محض حکمت خداوندی کی وجہ سے ہوتی ہے اس میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کے تقاضے میں عائد ہونے والے لازمی اعمال میں اپنی کمزوریوں کا اچھی طرح احساس کرلیں ۔ جیسا کہ احد میں پیش آیا اور اس پر اللہ نے طویل تبصرہ فرمایا ۔ اور جب اس ابتلاء کی وجہ سے حقیقت ایمان لازمی اعمال اور تیاریاں درست ہوگئیں تو اللہ کی مدد آپہنچی اور نصرت سامنے آگئی ‘ بالکل کھلی نصرت ۔ رہا یہ کہ ہزیمت سے مراد وہ ہزیمت ہے جو کسی ایک معرکے اور جھڑپ میں ہزیمت نہیں ہیں ۔ اس کے معنی بھی بہت ہی وسیع ہیں ۔ اس سے مراد روحانی شکست ہے عزم کا ٹوٹ جانا ہے ۔ کسی معرکے میں شکست تب تسلیم ہوگی جب اس کے زیر اثر شکست خورد وجماعت کی ہمت ٹوٹ جائے اور وہ تھک ہار کر بیٹھ جائے ۔ لیکن اگر وہ اپنے اندر از سر نو ہمت تازہ پیدا کرلے ‘ از سر نو مشعل روشن کرلے اور اپنی کمزوری کے مقامات تلاش کرلے اور اسے معلوم ہوجائے کہ اس معرکے کا مزاج کیا ہے ‘ اس نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے ‘ اور اس راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں تو فتح ونصرت کے لئے یہ شکست ایک تمہید ہوگی اگرچہ راہ طویل ہوجائے ۔ جب اس آیت میں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اہل کفر کے غلبے کی کوئی صورت ہی نہیں رکھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن روحانی طور پر غالب ہوتا ہے اور فتح تبھی ہوتی ہے جب روح اور ایمان غالب ہوں ۔ فتح دراصل افکار مومنانہ کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اپنے شعور اور تصور کے اعتبار سے وہ کامل اور مکمل مومن ہوں ۔ اپنی عملی زندگی میں وہ برتر اور کامل ہوں ۔ ان کا عمل وکردار برتر ہو اور ان کا اعتماد صرف عنوان پر ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ نصرت صرف نام اور عنوان کو نہیں ملتی بلکہ نام اور عنوان کے پیچھے جو حقیقت ہوتی ہے فتح اسے نصیب ہوتی ہے ۔ ہماری فتح اور شکست کے لئے صرف ایک ہی شرط ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ ہم حقیقت ایمان کو مکمل کریں اور اس کے بعد اس حقیقت ایمانیہ کے تقاضے میں جو عملی زندگی میں تبدیلیاں لانی ہیں وہ لائیں ۔ حقیقت ایمان یہ ہے کہ ہم پوری طرح تیاری کریں اور سامان جنگ اور تجربہ جنگ سے لیس ہوں ۔ ایمان کی حقیقت کی تکمیل میں یہ بات بھی ہے کہ ہم دشمنوں کے آگے ہر گز نہ جھکیں اور عزت کے طلبگار صرف اللہ سے ہوں ۔ اللہ کا یہ مؤکد وعدہ پوری طرح حقیقت ایمانیہ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور اس طرح حقیقت کفر کے ساتھ بھی یہی وعدہ ہے ۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کا رابطہ اس عظیم قوت سے ہوجائے جو نہ کمزور پڑتی ہے اور نہ ضعیف ہوتی ہے ۔ کفر کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی اس عظیم قوت سے اپنا رابطہ کاٹ دے ۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ محدود ‘ ٹوٹی پھوٹی یکہ و تنہا قوت ایک ایسی قوت پر غالب آجائے جو لاحمدود ہو ‘ جو اپنے سرچشمہ قوت سے مربوط ہو اور جو قوت اس پوری کائنات کی قوت ہے ۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ حقیقت ایمان اور محض مظہر ایمان میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ حقیقت ایمانیہ تو وہ قوت ہے جو ٹھوس ہے ‘ اور اس طرح مستحکم اور اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے قوانین طبیعی ٹھوس اور اٹل ہیں ۔ اور وہ حقیقت ایمانی حضرت انسان کی شخصیت پر مکمل کنڑول رکھتی ہے اور اس کی ہر حرکت پراثر انداز ہوتی ہے ۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے اور وہ اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ جب اس کا سامنا کفر کی قوت کے ساتھ ہو جو یکہ و تنہا ہوتی ہے ‘ جو حقیقی منبع قوت سے کٹی ہوئی ہوتی ہے اور محدود ہوتی ہے تو یہ ایمانی حقیقت ‘ حقیقت کفر پر غالب آجاتی ہے ۔ لیکن ایمان اگر حقیقت نہ ہو محض صورت ہو تو اس صورت پر کفر غالب آسکتا ہے جبکہ کفر اپنی حقیقت کے اندر فعال ہو اور کفر اپنے حقیقت کفر میں مخلص ہو محض صورت نہ ہو اس لئے کہ کسی بھی چیز کی حقیقت محض صورت کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے اگرچہ ایک صورت ایمان اور دوسری طرف صورت کفر ہو ۔ اللہ کے ہاں باطل کو مغلوب کرنے اصول یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں حق اور سچائی اٹھے اور جب سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے موجود ہو تو پھر سچائی اور باطل کے درمیان کشمکش کا فیصلہ اسی وقت ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ باطل بظاہر بہت ہی بڑا اور عظیم نظر آئے اور آنکھوں کو چکا چوند کرنے والا ہو ۔ (آیت) ” بل نقذف بالحق علی الباطل فاذا ھی یدمغہ ما ذا ھو زاھق) (بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں اور وہ باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اور وہ اچانک زائل ہوجاتا ہے) صدق اللہ العظیم ( اور اللہ نے کافروں کے لئے مومنین پر غلبے کی کوئی صورت نہیں رکھی ہے) اس قطعی اور فیصلہ کن وعدے کے بعد کہ کافر مومنین پر غالب و برتر نہیں ہو سکتے اور منافقوں کو جو کافروں کے ساتھ دوست کرتے ہیں اور جو کافروں کے ہاں عزت ڈھونڈتے ہیں اللہ تعالیٰ منافقین کی ایک دوسری تصویر پیش کرتا ہے اور اس تصویر کے ساتھ ان کی سبکی اور ان کی گوشمالی بھی ہے ۔ (آیت) ” ان النمنفقین یخدعون اللہ وھو خادعھم واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (142) مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (143) (4 : 142۔ 143) ( یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔ جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) اسلامی نظام کی جھلکیوں میں سے یہ ایک اور جھلکی مومن دلوں کو دکھائی جارہی ہے کہ اللہ تو کسی کو دھوکہ نہیں دیتا ‘ اس لئے کہ اللہ تو دل کے رازوں کو بھی جانتا ہے اور جو شخص اللہ کو دھوکہ دینے کی جرات کرتا ہے وہ بہرحال ایک ، احمق ‘ جاہل اور نہایت ہی بدفطرت شخص ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایسے لوگوں کو نہایت ہی حقیر ‘ قابل نفرت اور گھٹیا قرار دیا جارہا ہے ۔ اس جھلکی اور ٹچ کے بعد یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ بھی ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رہا ہے ‘ انہیں مہلت دے رہا ہے اور گمراہی کی حالت ہی میں انہوں چھوڑ دیا ہے ۔ ان پر کوئی ایسی مصیبت نہیں لا رہا ہے جس سے وہ متنبہ ہو کر راہ راست پر آجائیں اور نہ ایسی کھٹک سے انہیں دو چار کر رہا ہے جس سے متنبہ ہو کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں ۔ اللہ انہیں کھلی چھٹی دے رہا ہے کہ وہ اس راستے پر چلتے رہیں جس میں گڑھے ہیں تاکہ یہ لوگ ان میں گرجائیں ۔ یہ ہے وہ خدع جو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ حادثات اور مشقتیں بعض اوقات اللہ کی رحمت بن کر آتی ہیں ۔ جب بعض بندوں پر مصیبتیں آتی ہیں تو وہ راہ خطا سے باز آجاتے ہیں اور انہیں وہ راز معلوم ہوجاتے ہیں جن کا پہلے انہیں کوئی علم و شعور نہیں ہوتا ۔ اور بعض اوقات امن و عافیت انسان کے لئے اللہ کی جانب سے مہلت ہوتی ہے اور گناہگار بری راہ پر مزید آگے بڑھ جاتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ گناہ اور گمراہی کی راہ میں اس قدر آگے جا چکے ہوتے ہیں کہ اللہ انہیں عافیت دے کر مزید آگے جانے دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ برے انجام تک جا پہنچتے ہیں ۔ اب بات ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور ان کی اس کریمہ المنظر تصویر میں کچھ اور دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ (آیت) ” واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (4 : 142) (جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ ) وہ نماز کے لئے اس لئے نہیں اٹھتے کہ انہیں اللہ سے ملاقات کرنے کا شوق ہوتا ہے ‘ وہ اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونا چاہتے ہیں ‘ اللہ کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں اور اللہ سے مدد لینا چاہتے ہیں ۔ یہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ نماز کی طرف نہایت ہی بوجھل قدموں سے اٹھتے ہیں ‘ مثلا جیسے کوئی شخص کسی بھاری کام کے لئے اٹھ رہا ہو ‘ یا اسے کسی بیگار کے لئے بلایا جارہا ہو اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ بیشک مومنین کی نظر میں ان کی یہ نہایت ہی کریہہ المنظر صورت ہے ۔ اس نے ان کی نظروں میں حقارت اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کردیئے ہیں اور ان جذبات اور اس سوچ کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان بعد پیدا ہوجاتا ہے ۔ ذاتی اور مفاداتی تعلقات کمزور پڑتے ہیں اور اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان مکمل بائیکاٹ کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہے اور اسلامی منہاج تربیت امت مسلمہ کو اس کی طرف بڑھا رہا ہے ۔ ذرا مزید خدوخال اور دھبے دیکھئے : (آیت) ” مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (4 : 143) (کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) ان کا موقف مذبذب اور ڈانوا ڈول ہے ۔ وہ کسی ایک قطار میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔ نہ مومنین کی صفت میں ہیں اور نہ کافروں کی صف میں ۔ یہ ایسا موقف ہے جو ایمان دلوں میں کوئی جذبہ ماسوائے حقارت اور کراہت کے پیدا ہی نہیں کرتا ۔ اس سے اہل نفاق کی ذاتی کمزوری بھی سامنے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ علی الاعلان کسی عقیدے اور رائے کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ نہ ادھر کے اور نہ ادھرکے ۔ اب اس بدنما تصویر اور اس عاجزانہ موقف کا اختتامیہ یہ آتا ہے کہ ان لوگوں پر اللہ کا فیصلہ قطعی ہوچکا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ راہ ہدایت کے حصول میں ان کے ساتھ کوئی معاونت نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انہیں راہ ہدایت پر نہیں لا سکتا اور نہ ان کے لئے کوئی راہ ہدایت تلاش کرسکتا ہے ۔ (آیت) ” یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (4 : 143) یہاں تک قرآن کریم نے اہل ایمان کے دلوں میں منافقین کے خلاف کراہت اور حقارت کے جذبات پیدا کرکے ان کو ب اور کرایا کہ وہ بہت ہی کمزور لوگ ہیں ۔ یہ مقصد اچھی طرح حاصل کرنے کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ کہیں تم بھی اہل نفاق کی راہ پر نہ چل نکلو اور اہل نفاق کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کفار کے ساتھ دوستی کرتے تھے جبکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی دوستی نہ کرتے تھے ۔ اللہ مومنین کو پنی پکڑ سے ڈراتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ منافقین کے اخروی انجام کی ایک جھلک دکھا کر ان کو ڈراتے ہیں ۔ یہ جھلک نہایت ہی خوفناک ہے اور نہایت ہی ذلت آمیز ہے ۔

النساء 4:139

(آیت) ” 138 تا 143۔ منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔ (آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139) (جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ ) یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔ اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔ یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟ کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ علاوہ دوسری باتوں کے یہ بھی کفار سے عزت طلب کرنے کے مترادف ہے کہ انسان اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کرے جو کفر پر مر گئے تھے اور یہ لحاظ رکھے کہ انکے اور مسلمانوں کے درمیان نسبت اور قرابت کا تعلق ہے ۔ جس طرح بعض لوگ فرعونوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض لوگ اشوریوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض فنیضیوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض بابئیوں پر فخر کرتے ہیں اور عرب اپنی جاہلیت عربیہ اور جمعیت جاہلیہ کا لحاظ رکھتے ہیں ۔ امام احمد نے ابو ریحانہ سے روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص (9) نو کافر آباؤاجداد کی طرف اپنی نسبت کرے گا اور اس سے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ ان پر فخر کرتا ہے تو یہ شخص دسواں شخص ہوگا جو ان کا جہنم میں ساتھی ہوگا ۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں اکٹھ صرف نظریہ حیات پر ہے ۔ اسلام میں امت صرف اسلام و ایمان کی اساس پر ہے اور آغاز اسلام سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے آغاز اسلام سے آج تک ہر سرزمین ‘ ہر جگہ اور ہر نسل میں اسلام کا یہی موقف رہا ہے ۔ امت کا معنی یہ نہیں ہیں کہ کسی دور میں کسی نسل کی ایک جگہ رہائش ہو اور وہ ایک امت بن جائے ۔ مراتب نفاق میں سے اعلی مرتبہ یہ ہے کہ ایک مومن کسی ایسی مجلس میں بیٹھا رہے جس کے اندر اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہو ‘ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور یہ شخص خاموش بیٹھا ہو اور چشم پوشی کرے ۔ پھر اس کو ودرواداری کا نام دے یا اسے ہوشیاری ‘ یا وسعت قلبی یا آزادی رائے کا نام دے حالانکہ یہ موقف دراصل داخلی شکست ہے جو اس کی رگ وپے میں سرایت کرگئی ہے ۔ یہ نام وہ اس لئے رکھ رہا ہے کہ لوگ اسے کمزور اور ضعیف الایمان ہونے کا طعنہ نہ دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ ان الفاظ میں اپنی کمزوری کو چھپاتے ہیں ۔ اللہ کے لئے حمیت ‘ اللہ کے دین کے لئے حمیت اور آیات الہی کے لئے حمیت ‘ درحقیقت ایمان کی بڑی نشانی ہے ۔ جب یہ حمیت ختم ہوجاتی ہے تو پھر بند ٹوٹ جاتا ہے اور تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور جب زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو وہ کچا دھاگہ بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔ پہلے پہل اسلامی حمیت دب جاتی ہے جس طرح چنگاری کو راکھ میں دبا دیا جاتا ہے پھر وہ ٹھنڈی ہو کر بجھ جاتی ہے ۔ جو شخص بھی کسی مجلس میں اپنے دین کے ساتھ مذاق سے اسے چاہئے کہ یا تو وہ دین کا دفاع کرے یا مجلس سے اٹھ کر چلا جائے لیکن اگر وہ چشم پوشی کرتا ہے اور خاموش رہتا ہے تو یہ اس کی پہلی شکست ہے ۔ یہ ایک ایسی حالت ہوتی ہے کہ ہوتی ہے کہ انسان نفاق کے پل پر بالکل بیچ میں ایمان اور کفر کے درمیان کھڑا ہوتا ہے ۔ مدینہ میں بعض مسلمان ایسے تھے جو بڑے بڑے منافقین کی محفلوں میں بیٹھتے تھے اور یہ منافقین بڑے بااثر تھے ۔ حضور ﷺ کی ہجرت کے بعد بھی ان کو معاشرے میں اثر ورسوخ حاصل تھا ۔ اس لئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ایسی مجالس میں جانا اور پھر ان مجالس میں جو گفتگوئیں اسلام کے خلاف چلتی ہیں ان کی خاموشی سے سنتے چلے جانا ‘ شکست کا پہلا مرحلہ ہے ۔ چناچہ حکم دیا گیا کہ مسلمان ان مجالس سے باز آجائیں لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ قرآن ایسی مجالس میں بیٹھنے سے مطلقا روک دیتا اس لئے یہاں صرف یہ حکم دیا گیا کہ جب اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو اور ان کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہو تو مسلمانوں کو ان کا بائیکاٹ کردینا چاہئے ۔ اگر اس صورتحال میں بھی ایک مسلم شریک ہوتا ہے تو وہ منافق ہے ۔ (آیت) ” وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا فلا تعقدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “۔ (4 : 140) (اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں ۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو ۔ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کی جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے ۔ ) یہاں الکتاب کا جو ریفرنس دیا گیا ہے ۔ وہ سورة انعام کی یہ آیت ہے ۔ (آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ) یہاں جو سخت بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ (آیت) ” انکم اذا مثلھم) (اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو) اور اس کے بعد جو سخت وعید آتی ہے وہ ایسی ہے کہ جو بات کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “ (4 : 140) (یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے) لیکن صرف ان مجالس سے منع کیا گیا ہے جن میں آیات الہی کا کفر کیا جارہا ہے ۔ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور اس وقت جماعت مسلمہ جن حالات سے گزر رہی تھی اللہ نے ان حالات میں مکمل بائیکاٹ کا حکم نہیں دیا ۔ ایسے حالات دوسرے معاشروں اور آنے والی نسلوں میں بھی پیش آسکتے ہیں اور اسلامی نظام حیات کا طریقہ کار بھی یہی ہے کہ وہ اگر کوئی تحریک برپا کرتا ہے تو اسے نہایت ہی حکمت اور تدریج کے ساتھ لیتا ہے ۔ وہ معاشرے کے اندر پائے جانے والے حالات ‘ واقعی صورت حال اور لوگوں کے افکار وخیالات کو مدنظر رکھتا ہے لیکن ہدف یہی ہوتا ہے کہ اس واقعی صورت حال کو تبدیل کرکے چھوڑا جائے گا اور اس سمت پر مسلسل آگے بڑھا جائے گا ۔ اس کے بعد منافقین کے کچھ خدوخال بیان کئے جاتے ہیں ۔ یہاں منافقین کی بہت ہی بھونڈی صورت حال کی سینری (OilpAinting) بنائی جاتی ہے کہ وہ جب مسلمانوں کے ہاں کھڑے ہوں تو ان کے چہرے کے خدوخال دوسرے ہوتے ہیں اور اس سینری میں جب وہ منافقین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں تو ان کے چہرے کے خدوخال بالکل دوسرے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی عجیب حالت بنا رکھی ہے ۔ وہ کیڑے مکوڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے چلتے ہیں ۔ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ۔ (آیت) ” الذی یتربصون بکم فان کان لکم فتح من اللہ قالوا الم نکن معکم وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا (4 : 141) (یہ منافق تمہارے معاملے میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا ؟ بس اللہ ہی تمہارے اور انکے معاملے کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلے میں) اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہر گز کوئی سبیل نہیں رکھی ۔ ) یہ عجیب تصویر اور سینری ہے ۔ اس میں دکھایا جاتا ہے کہ منافقین مسلمانوں کے خلاف کس قدر گہری چال چل رہے ہیں اور کس قدر برے ارادے ہیں ان کے ۔ وہ ہر وقت اس گھڑی کے انتظار مین ہیں کہ اہل اسلام پر کوئی مصیبت آئے ۔ لیکن بظاہر وہ مسلمانوں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو اور کوئی غنیمت ملے تو وہ اس وقت کہیں گے ۔ (الم نکن معکم (4 : 141) (کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہم جنگ کے موقعہ میں تمہارے ساتھ تھے ۔ اس لئے کہ منافقین کبھی کبھار مسلمانوں کی صفوں میں جا کر اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھتے تھے یا اس سے مراد یہ ہے کہ ہم کہیں گے کہ ہم بھی تمہارے حامی اور ناصر تھے ۔ اور اگر جنگ پر نہ گئے تو پشت پر تمہارے ہی مددگار تھے ۔ (آیت) ” وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین (4 : 141) (اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا) ان کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان سے تعاون کیا ‘ امداد کی اور ان کی پشتیبانی کی اور مسلمانوں کے ساتھ سچ نہ کہا اور مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی اور افراتفری پیدا کی ۔ اس طرح یہ لوگ کیڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے تھے اور ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا تھا ۔ ان کے منہ میں چکنی چپڑی باتیں تھیں لیکن یہ کمزور کردار کے لوگ تھے ۔ ان کی اس سینری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی خستہ حال اور بدشکل ہیں اور ان کو اہل ایمان نظر انداز کر رہے ہیں ۔ اہل ایمان کی روح کے لئے اسلامی نظام حیات کی یہ پہلی جھلکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایت کے زیر سایہ منافقین کے ساتھ حضور ﷺ کا منصوبہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ چشم پوشی اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے اور اہل اسلام کو ان کے مقابلے میں متنبہ اور خبردار کردیا جائے ، ان کو ان کے اصل عزائم سے آگاہ کردیا جائے اور اس طرح ان کو زہر کا میٹھا پیالہ پلایا جائے اسی لئے ان کی سزا کے لئے یہ کہا جاتا ہے سزا دہی میں شتابی نہ کرو ‘ ان کا فیصلہ اللہ آخرت میں کرے گا ۔ (فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ) (4 : 141) ”(اللہ انکا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا) جہاں کوئی سازش نہ چلے گی ‘ جہاں کوئی عیاری اور مکاری کام نہ دے گی اور جہاں کوئی شخص بات دل میں نہ چھپا سکے گا ۔ اس موقعہ پر اہل ایمان کے ساتھ بھی ایک قطعی وعدہ کرکے ان کو مطمئن کردیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو مکاری اور عیاری کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ اور اس کے ذریعے اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور کافروں کے ساتھ ان کی سازش ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی ۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ اس نے کافروں اور منافقوں کے لئے یہ لکھا ہی نہیں ہے کہ وہ اہل ایمان پر غالب ہوں۔ (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا) (4 : 141) ”(اور اللہ نے کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی سبیل نہیں رکھی) بعض روایات میں آتا ہے کہ اس آیت میں کافروں کے غلبے سے مراد قیامت کے روز غلبہ ہے جہاں اللہ اہل ایمان اور منافقین وکافرین کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مومنین کے بارے میں اچھا فیصلہ ہوگا ۔ لیکن ایک دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اس سے مراد کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کافروں کو اس طرح غلبہ نہیں دے گا کہ کافر انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اگرچہ بعض معرکوں اور بعض علاقوں میں ان کو غلبہ نصیب ہو سکتا ہے ۔ اس آیت کو اگر دنیا اور آخرت دونوں کے لئے لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اس میں کوئی اخروی تحدید و تخصیص نہیں ہے ۔ اگر اس سے اخروی کامیابی لی جائے تو پھر اس میں تو کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے ۔ البتہ اگر دنیاوی غلبہ لیا جائے تو اس میں بعض اوقات اشکال پیش آسکتے ہیں اور غلط فہمی بھی لاحق ہو سکتی ہے جس کی تشریح کی ضرورت ہے ۔ یہ اللہ کا ایک قطعی وعدہ ہے اور اللہ کا ایک جامع حکم ہے ۔ جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمان کی حقیقت بیٹھ جائے اور ان کی زندگی کی اصل صورت حال میں اس حقیقت کا ظہور ہوجائے ‘ اور پھر یہ حقیقت ان کے لئے نظام زندگی بن جائے اور اس کے اوپر نظام حکومت قائم ہوجائے اور ان کی ہر حرکت اور ہر سوچ اللہ کے لئے ہوجائے اور وہ چھوٹے اور بڑے سب امور میں اللہ کے بندے بن جائیں تو پھر کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی صورت سنت الہی میں نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کے خلاف تاریخ اسلامی میں کوئی ایک واقعہ بھی بطور مثال پیش کیا جاسکتا ۔ میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ اللہ کے اس وعدے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوسکتا ۔ صحیح اہل ایمان کو کبھی شکست نہیں ہو سکتی ۔ اور ان کو تاریخ میں کبھی بھی ایسی کسی شکست سے دور چار ہونا نہیں پڑا ۔ اور جب کبھی بھی ایسا ہوا ہے تو صرف اس وقت جب ان کے ایمان میں کمزوری ہوئی ہے ۔ یا تو شعوری طور پر ایمان کمزور ہوا ہے یا عقیدے میں کمزوری پائی گئی ہے یا پھر عمل میں کوئی نہ کوئی کمزوری رہی ہے ۔ یاد رہی ہے ۔ یاد رہے کہ ایمان کا یہ مطالبہ ہے کہ اہل ایمان ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہیں اور یہ جہاد بھی خالصتا فی سبیل اللہ ہو اور اس میں کوئی اور مقصد پیش نظر نہ ہو ۔ اور اگر اس میں کوئی لوپ ہول ہو تو پھر اس کمزوری کے مطابق ہی شکست ہوتی رہتی ہے ۔ لیکن جونہی اہل ایمان ‘ ایمان وعمل سے یہ کمزوری دور کرلیں ‘ فتح و کامرانی پھر انکے قدم چومتی ہے ۔ دیکھئے احد میں کمزوری یہ تھی کہ تیر اندازوں نے حضور ﷺ کی اطاعت کے بجائے آپ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا اور اس کی وجہ صرف مال غنیمت کا لالچ تھا ۔ اور جنگ حنین میں کمزوری تھی کہ مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز ہوگیا اور وہ اپنی قوت کے اصل سرچشمے کو پیش نظر نہ رکھ سکے ۔ اگر ہم اپنی پوری تاریخ میں ہر اس واقعے کا تجزیہ کریں جس میں ہمیں شکست ہوئی تو معلوم ہوگا کہ وہاں اس قسم کی کوتاہیوں میں سے کوئی نہ کوئی کوتاہی تھی ۔ اگر کہیں کوتاہی نظر نہ آئے تو یہ ہماری فہم کا قصور ہوگا ۔ رہا اللہ کا یہ وعدہ تو وہ دنیا واخرت دونوں میں برحق ہے ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض اوقات ابتلاء محض حکمت خداوندی کی وجہ سے ہوتی ہے اس میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کے تقاضے میں عائد ہونے والے لازمی اعمال میں اپنی کمزوریوں کا اچھی طرح احساس کرلیں ۔ جیسا کہ احد میں پیش آیا اور اس پر اللہ نے طویل تبصرہ فرمایا ۔ اور جب اس ابتلاء کی وجہ سے حقیقت ایمان لازمی اعمال اور تیاریاں درست ہوگئیں تو اللہ کی مدد آپہنچی اور نصرت سامنے آگئی ‘ بالکل کھلی نصرت ۔ رہا یہ کہ ہزیمت سے مراد وہ ہزیمت ہے جو کسی ایک معرکے اور جھڑپ میں ہزیمت نہیں ہیں ۔ اس کے معنی بھی بہت ہی وسیع ہیں ۔ اس سے مراد روحانی شکست ہے عزم کا ٹوٹ جانا ہے ۔ کسی معرکے میں شکست تب تسلیم ہوگی جب اس کے زیر اثر شکست خورد وجماعت کی ہمت ٹوٹ جائے اور وہ تھک ہار کر بیٹھ جائے ۔ لیکن اگر وہ اپنے اندر از سر نو ہمت تازہ پیدا کرلے ‘ از سر نو مشعل روشن کرلے اور اپنی کمزوری کے مقامات تلاش کرلے اور اسے معلوم ہوجائے کہ اس معرکے کا مزاج کیا ہے ‘ اس نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے ‘ اور اس راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں تو فتح ونصرت کے لئے یہ شکست ایک تمہید ہوگی اگرچہ راہ طویل ہوجائے ۔ جب اس آیت میں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اہل کفر کے غلبے کی کوئی صورت ہی نہیں رکھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن روحانی طور پر غالب ہوتا ہے اور فتح تبھی ہوتی ہے جب روح اور ایمان غالب ہوں ۔ فتح دراصل افکار مومنانہ کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اپنے شعور اور تصور کے اعتبار سے وہ کامل اور مکمل مومن ہوں ۔ اپنی عملی زندگی میں وہ برتر اور کامل ہوں ۔ ان کا عمل وکردار برتر ہو اور ان کا اعتماد صرف عنوان پر ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ نصرت صرف نام اور عنوان کو نہیں ملتی بلکہ نام اور عنوان کے پیچھے جو حقیقت ہوتی ہے فتح اسے نصیب ہوتی ہے ۔ ہماری فتح اور شکست کے لئے صرف ایک ہی شرط ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ ہم حقیقت ایمان کو مکمل کریں اور اس کے بعد اس حقیقت ایمانیہ کے تقاضے میں جو عملی زندگی میں تبدیلیاں لانی ہیں وہ لائیں ۔ حقیقت ایمان یہ ہے کہ ہم پوری طرح تیاری کریں اور سامان جنگ اور تجربہ جنگ سے لیس ہوں ۔ ایمان کی حقیقت کی تکمیل میں یہ بات بھی ہے کہ ہم دشمنوں کے آگے ہر گز نہ جھکیں اور عزت کے طلبگار صرف اللہ سے ہوں ۔ اللہ کا یہ مؤکد وعدہ پوری طرح حقیقت ایمانیہ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور اس طرح حقیقت کفر کے ساتھ بھی یہی وعدہ ہے ۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کا رابطہ اس عظیم قوت سے ہوجائے جو نہ کمزور پڑتی ہے اور نہ ضعیف ہوتی ہے ۔ کفر کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی اس عظیم قوت سے اپنا رابطہ کاٹ دے ۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ محدود ‘ ٹوٹی پھوٹی یکہ و تنہا قوت ایک ایسی قوت پر غالب آجائے جو لاحمدود ہو ‘ جو اپنے سرچشمہ قوت سے مربوط ہو اور جو قوت اس پوری کائنات کی قوت ہے ۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ حقیقت ایمان اور محض مظہر ایمان میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ حقیقت ایمانیہ تو وہ قوت ہے جو ٹھوس ہے ‘ اور اس طرح مستحکم اور اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے قوانین طبیعی ٹھوس اور اٹل ہیں ۔ اور وہ حقیقت ایمانی حضرت انسان کی شخصیت پر مکمل کنڑول رکھتی ہے اور اس کی ہر حرکت پراثر انداز ہوتی ہے ۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے اور وہ اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ جب اس کا سامنا کفر کی قوت کے ساتھ ہو جو یکہ و تنہا ہوتی ہے ‘ جو حقیقی منبع قوت سے کٹی ہوئی ہوتی ہے اور محدود ہوتی ہے تو یہ ایمانی حقیقت ‘ حقیقت کفر پر غالب آجاتی ہے ۔ لیکن ایمان اگر حقیقت نہ ہو محض صورت ہو تو اس صورت پر کفر غالب آسکتا ہے جبکہ کفر اپنی حقیقت کے اندر فعال ہو اور کفر اپنے حقیقت کفر میں مخلص ہو محض صورت نہ ہو اس لئے کہ کسی بھی چیز کی حقیقت محض صورت کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے اگرچہ ایک صورت ایمان اور دوسری طرف صورت کفر ہو ۔ اللہ کے ہاں باطل کو مغلوب کرنے اصول یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں حق اور سچائی اٹھے اور جب سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے موجود ہو تو پھر سچائی اور باطل کے درمیان کشمکش کا فیصلہ اسی وقت ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ باطل بظاہر بہت ہی بڑا اور عظیم نظر آئے اور آنکھوں کو چکا چوند کرنے والا ہو ۔ (آیت) ” بل نقذف بالحق علی الباطل فاذا ھی یدمغہ ما ذا ھو زاھق) (بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں اور وہ باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اور وہ اچانک زائل ہوجاتا ہے) صدق اللہ العظیم ( اور اللہ نے کافروں کے لئے مومنین پر غلبے کی کوئی صورت نہیں رکھی ہے) اس قطعی اور فیصلہ کن وعدے کے بعد کہ کافر مومنین پر غالب و برتر نہیں ہو سکتے اور منافقوں کو جو کافروں کے ساتھ دوست کرتے ہیں اور جو کافروں کے ہاں عزت ڈھونڈتے ہیں اللہ تعالیٰ منافقین کی ایک دوسری تصویر پیش کرتا ہے اور اس تصویر کے ساتھ ان کی سبکی اور ان کی گوشمالی بھی ہے ۔ (آیت) ” ان النمنفقین یخدعون اللہ وھو خادعھم واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (142) مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (143) (4 : 142۔ 143) ( یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔ جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) اسلامی نظام کی جھلکیوں میں سے یہ ایک اور جھلکی مومن دلوں کو دکھائی جارہی ہے کہ اللہ تو کسی کو دھوکہ نہیں دیتا ‘ اس لئے کہ اللہ تو دل کے رازوں کو بھی جانتا ہے اور جو شخص اللہ کو دھوکہ دینے کی جرات کرتا ہے وہ بہرحال ایک ، احمق ‘ جاہل اور نہایت ہی بدفطرت شخص ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایسے لوگوں کو نہایت ہی حقیر ‘ قابل نفرت اور گھٹیا قرار دیا جارہا ہے ۔ اس جھلکی اور ٹچ کے بعد یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ بھی ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رہا ہے ‘ انہیں مہلت دے رہا ہے اور گمراہی کی حالت ہی میں انہوں چھوڑ دیا ہے ۔ ان پر کوئی ایسی مصیبت نہیں لا رہا ہے جس سے وہ متنبہ ہو کر راہ راست پر آجائیں اور نہ ایسی کھٹک سے انہیں دو چار کر رہا ہے جس سے متنبہ ہو کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں ۔ اللہ انہیں کھلی چھٹی دے رہا ہے کہ وہ اس راستے پر چلتے رہیں جس میں گڑھے ہیں تاکہ یہ لوگ ان میں گرجائیں ۔ یہ ہے وہ خدع جو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ حادثات اور مشقتیں بعض اوقات اللہ کی رحمت بن کر آتی ہیں ۔ جب بعض بندوں پر مصیبتیں آتی ہیں تو وہ راہ خطا سے باز آجاتے ہیں اور انہیں وہ راز معلوم ہوجاتے ہیں جن کا پہلے انہیں کوئی علم و شعور نہیں ہوتا ۔ اور بعض اوقات امن و عافیت انسان کے لئے اللہ کی جانب سے مہلت ہوتی ہے اور گناہگار بری راہ پر مزید آگے بڑھ جاتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ گناہ اور گمراہی کی راہ میں اس قدر آگے جا چکے ہوتے ہیں کہ اللہ انہیں عافیت دے کر مزید آگے جانے دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ برے انجام تک جا پہنچتے ہیں ۔ اب بات ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور ان کی اس کریمہ المنظر تصویر میں کچھ اور دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ (آیت) ” واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (4 : 142) (جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ ) وہ نماز کے لئے اس لئے نہیں اٹھتے کہ انہیں اللہ سے ملاقات کرنے کا شوق ہوتا ہے ‘ وہ اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونا چاہتے ہیں ‘ اللہ کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں اور اللہ سے مدد لینا چاہتے ہیں ۔ یہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ نماز کی طرف نہایت ہی بوجھل قدموں سے اٹھتے ہیں ‘ مثلا جیسے کوئی شخص کسی بھاری کام کے لئے اٹھ رہا ہو ‘ یا اسے کسی بیگار کے لئے بلایا جارہا ہو اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ بیشک مومنین کی نظر میں ان کی یہ نہایت ہی کریہہ المنظر صورت ہے ۔ اس نے ان کی نظروں میں حقارت اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کردیئے ہیں اور ان جذبات اور اس سوچ کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان بعد پیدا ہوجاتا ہے ۔ ذاتی اور مفاداتی تعلقات کمزور پڑتے ہیں اور اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان مکمل بائیکاٹ کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہے اور اسلامی منہاج تربیت امت مسلمہ کو اس کی طرف بڑھا رہا ہے ۔ ذرا مزید خدوخال اور دھبے دیکھئے : (آیت) ” مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (4 : 143) (کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) ان کا موقف مذبذب اور ڈانوا ڈول ہے ۔ وہ کسی ایک قطار میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔ نہ مومنین کی صفت میں ہیں اور نہ کافروں کی صف میں ۔ یہ ایسا موقف ہے جو ایمان دلوں میں کوئی جذبہ ماسوائے حقارت اور کراہت کے پیدا ہی نہیں کرتا ۔ اس سے اہل نفاق کی ذاتی کمزوری بھی سامنے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ علی الاعلان کسی عقیدے اور رائے کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ نہ ادھر کے اور نہ ادھرکے ۔ اب اس بدنما تصویر اور اس عاجزانہ موقف کا اختتامیہ یہ آتا ہے کہ ان لوگوں پر اللہ کا فیصلہ قطعی ہوچکا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ راہ ہدایت کے حصول میں ان کے ساتھ کوئی معاونت نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انہیں راہ ہدایت پر نہیں لا سکتا اور نہ ان کے لئے کوئی راہ ہدایت تلاش کرسکتا ہے ۔ (آیت) ” یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (4 : 143) یہاں تک قرآن کریم نے اہل ایمان کے دلوں میں منافقین کے خلاف کراہت اور حقارت کے جذبات پیدا کرکے ان کو ب اور کرایا کہ وہ بہت ہی کمزور لوگ ہیں ۔ یہ مقصد اچھی طرح حاصل کرنے کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ کہیں تم بھی اہل نفاق کی راہ پر نہ چل نکلو اور اہل نفاق کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کفار کے ساتھ دوستی کرتے تھے جبکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی دوستی نہ کرتے تھے ۔ اللہ مومنین کو پنی پکڑ سے ڈراتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ منافقین کے اخروی انجام کی ایک جھلک دکھا کر ان کو ڈراتے ہیں ۔ یہ جھلک نہایت ہی خوفناک ہے اور نہایت ہی ذلت آمیز ہے ۔

النساء 4:140

(آیت) ” 138 تا 143۔ منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔ (آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139) (جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ ) یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔ اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔ یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟ کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ علاوہ دوسری باتوں کے یہ بھی کفار سے عزت طلب کرنے کے مترادف ہے کہ انسان اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کرے جو کفر پر مر گئے تھے اور یہ لحاظ رکھے کہ انکے اور مسلمانوں کے درمیان نسبت اور قرابت کا تعلق ہے ۔ جس طرح بعض لوگ فرعونوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض لوگ اشوریوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض فنیضیوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض بابئیوں پر فخر کرتے ہیں اور عرب اپنی جاہلیت عربیہ اور جمعیت جاہلیہ کا لحاظ رکھتے ہیں ۔ امام احمد نے ابو ریحانہ سے روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص (9) نو کافر آباؤاجداد کی طرف اپنی نسبت کرے گا اور اس سے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ ان پر فخر کرتا ہے تو یہ شخص دسواں شخص ہوگا جو ان کا جہنم میں ساتھی ہوگا ۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں اکٹھ صرف نظریہ حیات پر ہے ۔ اسلام میں امت صرف اسلام و ایمان کی اساس پر ہے اور آغاز اسلام سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے آغاز اسلام سے آج تک ہر سرزمین ‘ ہر جگہ اور ہر نسل میں اسلام کا یہی موقف رہا ہے ۔ امت کا معنی یہ نہیں ہیں کہ کسی دور میں کسی نسل کی ایک جگہ رہائش ہو اور وہ ایک امت بن جائے ۔ مراتب نفاق میں سے اعلی مرتبہ یہ ہے کہ ایک مومن کسی ایسی مجلس میں بیٹھا رہے جس کے اندر اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہو ‘ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور یہ شخص خاموش بیٹھا ہو اور چشم پوشی کرے ۔ پھر اس کو ودرواداری کا نام دے یا اسے ہوشیاری ‘ یا وسعت قلبی یا آزادی رائے کا نام دے حالانکہ یہ موقف دراصل داخلی شکست ہے جو اس کی رگ وپے میں سرایت کرگئی ہے ۔ یہ نام وہ اس لئے رکھ رہا ہے کہ لوگ اسے کمزور اور ضعیف الایمان ہونے کا طعنہ نہ دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ ان الفاظ میں اپنی کمزوری کو چھپاتے ہیں ۔ اللہ کے لئے حمیت ‘ اللہ کے دین کے لئے حمیت اور آیات الہی کے لئے حمیت ‘ درحقیقت ایمان کی بڑی نشانی ہے ۔ جب یہ حمیت ختم ہوجاتی ہے تو پھر بند ٹوٹ جاتا ہے اور تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور جب زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو وہ کچا دھاگہ بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔ پہلے پہل اسلامی حمیت دب جاتی ہے جس طرح چنگاری کو راکھ میں دبا دیا جاتا ہے پھر وہ ٹھنڈی ہو کر بجھ جاتی ہے ۔ جو شخص بھی کسی مجلس میں اپنے دین کے ساتھ مذاق سے اسے چاہئے کہ یا تو وہ دین کا دفاع کرے یا مجلس سے اٹھ کر چلا جائے لیکن اگر وہ چشم پوشی کرتا ہے اور خاموش رہتا ہے تو یہ اس کی پہلی شکست ہے ۔ یہ ایک ایسی حالت ہوتی ہے کہ ہوتی ہے کہ انسان نفاق کے پل پر بالکل بیچ میں ایمان اور کفر کے درمیان کھڑا ہوتا ہے ۔ مدینہ میں بعض مسلمان ایسے تھے جو بڑے بڑے منافقین کی محفلوں میں بیٹھتے تھے اور یہ منافقین بڑے بااثر تھے ۔ حضور ﷺ کی ہجرت کے بعد بھی ان کو معاشرے میں اثر ورسوخ حاصل تھا ۔ اس لئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ایسی مجالس میں جانا اور پھر ان مجالس میں جو گفتگوئیں اسلام کے خلاف چلتی ہیں ان کی خاموشی سے سنتے چلے جانا ‘ شکست کا پہلا مرحلہ ہے ۔ چناچہ حکم دیا گیا کہ مسلمان ان مجالس سے باز آجائیں لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ قرآن ایسی مجالس میں بیٹھنے سے مطلقا روک دیتا اس لئے یہاں صرف یہ حکم دیا گیا کہ جب اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو اور ان کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہو تو مسلمانوں کو ان کا بائیکاٹ کردینا چاہئے ۔ اگر اس صورتحال میں بھی ایک مسلم شریک ہوتا ہے تو وہ منافق ہے ۔ (آیت) ” وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا فلا تعقدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “۔ (4 : 140) (اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں ۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو ۔ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کی جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے ۔ ) یہاں الکتاب کا جو ریفرنس دیا گیا ہے ۔ وہ سورة انعام کی یہ آیت ہے ۔ (آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ) یہاں جو سخت بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ (آیت) ” انکم اذا مثلھم) (اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو) اور اس کے بعد جو سخت وعید آتی ہے وہ ایسی ہے کہ جو بات کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “ (4 : 140) (یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے) لیکن صرف ان مجالس سے منع کیا گیا ہے جن میں آیات الہی کا کفر کیا جارہا ہے ۔ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور اس وقت جماعت مسلمہ جن حالات سے گزر رہی تھی اللہ نے ان حالات میں مکمل بائیکاٹ کا حکم نہیں دیا ۔ ایسے حالات دوسرے معاشروں اور آنے والی نسلوں میں بھی پیش آسکتے ہیں اور اسلامی نظام حیات کا طریقہ کار بھی یہی ہے کہ وہ اگر کوئی تحریک برپا کرتا ہے تو اسے نہایت ہی حکمت اور تدریج کے ساتھ لیتا ہے ۔ وہ معاشرے کے اندر پائے جانے والے حالات ‘ واقعی صورت حال اور لوگوں کے افکار وخیالات کو مدنظر رکھتا ہے لیکن ہدف یہی ہوتا ہے کہ اس واقعی صورت حال کو تبدیل کرکے چھوڑا جائے گا اور اس سمت پر مسلسل آگے بڑھا جائے گا ۔ اس کے بعد منافقین کے کچھ خدوخال بیان کئے جاتے ہیں ۔ یہاں منافقین کی بہت ہی بھونڈی صورت حال کی سینری (OilpAinting) بنائی جاتی ہے کہ وہ جب مسلمانوں کے ہاں کھڑے ہوں تو ان کے چہرے کے خدوخال دوسرے ہوتے ہیں اور اس سینری میں جب وہ منافقین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں تو ان کے چہرے کے خدوخال بالکل دوسرے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی عجیب حالت بنا رکھی ہے ۔ وہ کیڑے مکوڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے چلتے ہیں ۔ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ۔ (آیت) ” الذی یتربصون بکم فان کان لکم فتح من اللہ قالوا الم نکن معکم وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا (4 : 141) (یہ منافق تمہارے معاملے میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا ؟ بس اللہ ہی تمہارے اور انکے معاملے کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلے میں) اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہر گز کوئی سبیل نہیں رکھی ۔ ) یہ عجیب تصویر اور سینری ہے ۔ اس میں دکھایا جاتا ہے کہ منافقین مسلمانوں کے خلاف کس قدر گہری چال چل رہے ہیں اور کس قدر برے ارادے ہیں ان کے ۔ وہ ہر وقت اس گھڑی کے انتظار مین ہیں کہ اہل اسلام پر کوئی مصیبت آئے ۔ لیکن بظاہر وہ مسلمانوں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو اور کوئی غنیمت ملے تو وہ اس وقت کہیں گے ۔ (الم نکن معکم (4 : 141) (کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہم جنگ کے موقعہ میں تمہارے ساتھ تھے ۔ اس لئے کہ منافقین کبھی کبھار مسلمانوں کی صفوں میں جا کر اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھتے تھے یا اس سے مراد یہ ہے کہ ہم کہیں گے کہ ہم بھی تمہارے حامی اور ناصر تھے ۔ اور اگر جنگ پر نہ گئے تو پشت پر تمہارے ہی مددگار تھے ۔ (آیت) ” وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین (4 : 141) (اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا) ان کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان سے تعاون کیا ‘ امداد کی اور ان کی پشتیبانی کی اور مسلمانوں کے ساتھ سچ نہ کہا اور مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی اور افراتفری پیدا کی ۔ اس طرح یہ لوگ کیڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے تھے اور ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا تھا ۔ ان کے منہ میں چکنی چپڑی باتیں تھیں لیکن یہ کمزور کردار کے لوگ تھے ۔ ان کی اس سینری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی خستہ حال اور بدشکل ہیں اور ان کو اہل ایمان نظر انداز کر رہے ہیں ۔ اہل ایمان کی روح کے لئے اسلامی نظام حیات کی یہ پہلی جھلکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایت کے زیر سایہ منافقین کے ساتھ حضور ﷺ کا منصوبہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ چشم پوشی اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے اور اہل اسلام کو ان کے مقابلے میں متنبہ اور خبردار کردیا جائے ، ان کو ان کے اصل عزائم سے آگاہ کردیا جائے اور اس طرح ان کو زہر کا میٹھا پیالہ پلایا جائے اسی لئے ان کی سزا کے لئے یہ کہا جاتا ہے سزا دہی میں شتابی نہ کرو ‘ ان کا فیصلہ اللہ آخرت میں کرے گا ۔ (فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ) (4 : 141) ”(اللہ انکا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا) جہاں کوئی سازش نہ چلے گی ‘ جہاں کوئی عیاری اور مکاری کام نہ دے گی اور جہاں کوئی شخص بات دل میں نہ چھپا سکے گا ۔ اس موقعہ پر اہل ایمان کے ساتھ بھی ایک قطعی وعدہ کرکے ان کو مطمئن کردیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو مکاری اور عیاری کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ اور اس کے ذریعے اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور کافروں کے ساتھ ان کی سازش ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی ۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ اس نے کافروں اور منافقوں کے لئے یہ لکھا ہی نہیں ہے کہ وہ اہل ایمان پر غالب ہوں۔ (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا) (4 : 141) ”(اور اللہ نے کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی سبیل نہیں رکھی) بعض روایات میں آتا ہے کہ اس آیت میں کافروں کے غلبے سے مراد قیامت کے روز غلبہ ہے جہاں اللہ اہل ایمان اور منافقین وکافرین کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مومنین کے بارے میں اچھا فیصلہ ہوگا ۔ لیکن ایک دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اس سے مراد کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کافروں کو اس طرح غلبہ نہیں دے گا کہ کافر انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اگرچہ بعض معرکوں اور بعض علاقوں میں ان کو غلبہ نصیب ہو سکتا ہے ۔ اس آیت کو اگر دنیا اور آخرت دونوں کے لئے لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اس میں کوئی اخروی تحدید و تخصیص نہیں ہے ۔ اگر اس سے اخروی کامیابی لی جائے تو پھر اس میں تو کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے ۔ البتہ اگر دنیاوی غلبہ لیا جائے تو اس میں بعض اوقات اشکال پیش آسکتے ہیں اور غلط فہمی بھی لاحق ہو سکتی ہے جس کی تشریح کی ضرورت ہے ۔ یہ اللہ کا ایک قطعی وعدہ ہے اور اللہ کا ایک جامع حکم ہے ۔ جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمان کی حقیقت بیٹھ جائے اور ان کی زندگی کی اصل صورت حال میں اس حقیقت کا ظہور ہوجائے ‘ اور پھر یہ حقیقت ان کے لئے نظام زندگی بن جائے اور اس کے اوپر نظام حکومت قائم ہوجائے اور ان کی ہر حرکت اور ہر سوچ اللہ کے لئے ہوجائے اور وہ چھوٹے اور بڑے سب امور میں اللہ کے بندے بن جائیں تو پھر کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی صورت سنت الہی میں نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کے خلاف تاریخ اسلامی میں کوئی ایک واقعہ بھی بطور مثال پیش کیا جاسکتا ۔ میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ اللہ کے اس وعدے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوسکتا ۔ صحیح اہل ایمان کو کبھی شکست نہیں ہو سکتی ۔ اور ان کو تاریخ میں کبھی بھی ایسی کسی شکست سے دور چار ہونا نہیں پڑا ۔ اور جب کبھی بھی ایسا ہوا ہے تو صرف اس وقت جب ان کے ایمان میں کمزوری ہوئی ہے ۔ یا تو شعوری طور پر ایمان کمزور ہوا ہے یا عقیدے میں کمزوری پائی گئی ہے یا پھر عمل میں کوئی نہ کوئی کمزوری رہی ہے ۔ یاد رہی ہے ۔ یاد رہے کہ ایمان کا یہ مطالبہ ہے کہ اہل ایمان ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہیں اور یہ جہاد بھی خالصتا فی سبیل اللہ ہو اور اس میں کوئی اور مقصد پیش نظر نہ ہو ۔ اور اگر اس میں کوئی لوپ ہول ہو تو پھر اس کمزوری کے مطابق ہی شکست ہوتی رہتی ہے ۔ لیکن جونہی اہل ایمان ‘ ایمان وعمل سے یہ کمزوری دور کرلیں ‘ فتح و کامرانی پھر انکے قدم چومتی ہے ۔ دیکھئے احد میں کمزوری یہ تھی کہ تیر اندازوں نے حضور ﷺ کی اطاعت کے بجائے آپ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا اور اس کی وجہ صرف مال غنیمت کا لالچ تھا ۔ اور جنگ حنین میں کمزوری تھی کہ مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز ہوگیا اور وہ اپنی قوت کے اصل سرچشمے کو پیش نظر نہ رکھ سکے ۔ اگر ہم اپنی پوری تاریخ میں ہر اس واقعے کا تجزیہ کریں جس میں ہمیں شکست ہوئی تو معلوم ہوگا کہ وہاں اس قسم کی کوتاہیوں میں سے کوئی نہ کوئی کوتاہی تھی ۔ اگر کہیں کوتاہی نظر نہ آئے تو یہ ہماری فہم کا قصور ہوگا ۔ رہا اللہ کا یہ وعدہ تو وہ دنیا واخرت دونوں میں برحق ہے ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض اوقات ابتلاء محض حکمت خداوندی کی وجہ سے ہوتی ہے اس میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کے تقاضے میں عائد ہونے والے لازمی اعمال میں اپنی کمزوریوں کا اچھی طرح احساس کرلیں ۔ جیسا کہ احد میں پیش آیا اور اس پر اللہ نے طویل تبصرہ فرمایا ۔ اور جب اس ابتلاء کی وجہ سے حقیقت ایمان لازمی اعمال اور تیاریاں درست ہوگئیں تو اللہ کی مدد آپہنچی اور نصرت سامنے آگئی ‘ بالکل کھلی نصرت ۔ رہا یہ کہ ہزیمت سے مراد وہ ہزیمت ہے جو کسی ایک معرکے اور جھڑپ میں ہزیمت نہیں ہیں ۔ اس کے معنی بھی بہت ہی وسیع ہیں ۔ اس سے مراد روحانی شکست ہے عزم کا ٹوٹ جانا ہے ۔ کسی معرکے میں شکست تب تسلیم ہوگی جب اس کے زیر اثر شکست خورد وجماعت کی ہمت ٹوٹ جائے اور وہ تھک ہار کر بیٹھ جائے ۔ لیکن اگر وہ اپنے اندر از سر نو ہمت تازہ پیدا کرلے ‘ از سر نو مشعل روشن کرلے اور اپنی کمزوری کے مقامات تلاش کرلے اور اسے معلوم ہوجائے کہ اس معرکے کا مزاج کیا ہے ‘ اس نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے ‘ اور اس راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں تو فتح ونصرت کے لئے یہ شکست ایک تمہید ہوگی اگرچہ راہ طویل ہوجائے ۔ جب اس آیت میں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اہل کفر کے غلبے کی کوئی صورت ہی نہیں رکھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن روحانی طور پر غالب ہوتا ہے اور فتح تبھی ہوتی ہے جب روح اور ایمان غالب ہوں ۔ فتح دراصل افکار مومنانہ کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اپنے شعور اور تصور کے اعتبار سے وہ کامل اور مکمل مومن ہوں ۔ اپنی عملی زندگی میں وہ برتر اور کامل ہوں ۔ ان کا عمل وکردار برتر ہو اور ان کا اعتماد صرف عنوان پر ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ نصرت صرف نام اور عنوان کو نہیں ملتی بلکہ نام اور عنوان کے پیچھے جو حقیقت ہوتی ہے فتح اسے نصیب ہوتی ہے ۔ ہماری فتح اور شکست کے لئے صرف ایک ہی شرط ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ ہم حقیقت ایمان کو مکمل کریں اور اس کے بعد اس حقیقت ایمانیہ کے تقاضے میں جو عملی زندگی میں تبدیلیاں لانی ہیں وہ لائیں ۔ حقیقت ایمان یہ ہے کہ ہم پوری طرح تیاری کریں اور سامان جنگ اور تجربہ جنگ سے لیس ہوں ۔ ایمان کی حقیقت کی تکمیل میں یہ بات بھی ہے کہ ہم دشمنوں کے آگے ہر گز نہ جھکیں اور عزت کے طلبگار صرف اللہ سے ہوں ۔ اللہ کا یہ مؤکد وعدہ پوری طرح حقیقت ایمانیہ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور اس طرح حقیقت کفر کے ساتھ بھی یہی وعدہ ہے ۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کا رابطہ اس عظیم قوت سے ہوجائے جو نہ کمزور پڑتی ہے اور نہ ضعیف ہوتی ہے ۔ کفر کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی اس عظیم قوت سے اپنا رابطہ کاٹ دے ۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ محدود ‘ ٹوٹی پھوٹی یکہ و تنہا قوت ایک ایسی قوت پر غالب آجائے جو لاحمدود ہو ‘ جو اپنے سرچشمہ قوت سے مربوط ہو اور جو قوت اس پوری کائنات کی قوت ہے ۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ حقیقت ایمان اور محض مظہر ایمان میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ حقیقت ایمانیہ تو وہ قوت ہے جو ٹھوس ہے ‘ اور اس طرح مستحکم اور اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے قوانین طبیعی ٹھوس اور اٹل ہیں ۔ اور وہ حقیقت ایمانی حضرت انسان کی شخصیت پر مکمل کنڑول رکھتی ہے اور اس کی ہر حرکت پراثر انداز ہوتی ہے ۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے اور وہ اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ جب اس کا سامنا کفر کی قوت کے ساتھ ہو جو یکہ و تنہا ہوتی ہے ‘ جو حقیقی منبع قوت سے کٹی ہوئی ہوتی ہے اور محدود ہوتی ہے تو یہ ایمانی حقیقت ‘ حقیقت کفر پر غالب آجاتی ہے ۔ لیکن ایمان اگر حقیقت نہ ہو محض صورت ہو تو اس صورت پر کفر غالب آسکتا ہے جبکہ کفر اپنی حقیقت کے اندر فعال ہو اور کفر اپنے حقیقت کفر میں مخلص ہو محض صورت نہ ہو اس لئے کہ کسی بھی چیز کی حقیقت محض صورت کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے اگرچہ ایک صورت ایمان اور دوسری طرف صورت کفر ہو ۔ اللہ کے ہاں باطل کو مغلوب کرنے اصول یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں حق اور سچائی اٹھے اور جب سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے موجود ہو تو پھر سچائی اور باطل کے درمیان کشمکش کا فیصلہ اسی وقت ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ باطل بظاہر بہت ہی بڑا اور عظیم نظر آئے اور آنکھوں کو چکا چوند کرنے والا ہو ۔ (آیت) ” بل نقذف بالحق علی الباطل فاذا ھی یدمغہ ما ذا ھو زاھق) (بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں اور وہ باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اور وہ اچانک زائل ہوجاتا ہے) صدق اللہ العظیم ( اور اللہ نے کافروں کے لئے مومنین پر غلبے کی کوئی صورت نہیں رکھی ہے) اس قطعی اور فیصلہ کن وعدے کے بعد کہ کافر مومنین پر غالب و برتر نہیں ہو سکتے اور منافقوں کو جو کافروں کے ساتھ دوست کرتے ہیں اور جو کافروں کے ہاں عزت ڈھونڈتے ہیں اللہ تعالیٰ منافقین کی ایک دوسری تصویر پیش کرتا ہے اور اس تصویر کے ساتھ ان کی سبکی اور ان کی گوشمالی بھی ہے ۔ (آیت) ” ان النمنفقین یخدعون اللہ وھو خادعھم واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (142) مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (143) (4 : 142۔ 143) ( یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔ جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) اسلامی نظام کی جھلکیوں میں سے یہ ایک اور جھلکی مومن دلوں کو دکھائی جارہی ہے کہ اللہ تو کسی کو دھوکہ نہیں دیتا ‘ اس لئے کہ اللہ تو دل کے رازوں کو بھی جانتا ہے اور جو شخص اللہ کو دھوکہ دینے کی جرات کرتا ہے وہ بہرحال ایک ، احمق ‘ جاہل اور نہایت ہی بدفطرت شخص ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایسے لوگوں کو نہایت ہی حقیر ‘ قابل نفرت اور گھٹیا قرار دیا جارہا ہے ۔ اس جھلکی اور ٹچ کے بعد یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ بھی ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رہا ہے ‘ انہیں مہلت دے رہا ہے اور گمراہی کی حالت ہی میں انہوں چھوڑ دیا ہے ۔ ان پر کوئی ایسی مصیبت نہیں لا رہا ہے جس سے وہ متنبہ ہو کر راہ راست پر آجائیں اور نہ ایسی کھٹک سے انہیں دو چار کر رہا ہے جس سے متنبہ ہو کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں ۔ اللہ انہیں کھلی چھٹی دے رہا ہے کہ وہ اس راستے پر چلتے رہیں جس میں گڑھے ہیں تاکہ یہ لوگ ان میں گرجائیں ۔ یہ ہے وہ خدع جو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ حادثات اور مشقتیں بعض اوقات اللہ کی رحمت بن کر آتی ہیں ۔ جب بعض بندوں پر مصیبتیں آتی ہیں تو وہ راہ خطا سے باز آجاتے ہیں اور انہیں وہ راز معلوم ہوجاتے ہیں جن کا پہلے انہیں کوئی علم و شعور نہیں ہوتا ۔ اور بعض اوقات امن و عافیت انسان کے لئے اللہ کی جانب سے مہلت ہوتی ہے اور گناہگار بری راہ پر مزید آگے بڑھ جاتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ گناہ اور گمراہی کی راہ میں اس قدر آگے جا چکے ہوتے ہیں کہ اللہ انہیں عافیت دے کر مزید آگے جانے دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ برے انجام تک جا پہنچتے ہیں ۔ اب بات ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور ان کی اس کریمہ المنظر تصویر میں کچھ اور دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ (آیت) ” واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (4 : 142) (جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ ) وہ نماز کے لئے اس لئے نہیں اٹھتے کہ انہیں اللہ سے ملاقات کرنے کا شوق ہوتا ہے ‘ وہ اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونا چاہتے ہیں ‘ اللہ کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں اور اللہ سے مدد لینا چاہتے ہیں ۔ یہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ نماز کی طرف نہایت ہی بوجھل قدموں سے اٹھتے ہیں ‘ مثلا جیسے کوئی شخص کسی بھاری کام کے لئے اٹھ رہا ہو ‘ یا اسے کسی بیگار کے لئے بلایا جارہا ہو اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ بیشک مومنین کی نظر میں ان کی یہ نہایت ہی کریہہ المنظر صورت ہے ۔ اس نے ان کی نظروں میں حقارت اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کردیئے ہیں اور ان جذبات اور اس سوچ کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان بعد پیدا ہوجاتا ہے ۔ ذاتی اور مفاداتی تعلقات کمزور پڑتے ہیں اور اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان مکمل بائیکاٹ کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہے اور اسلامی منہاج تربیت امت مسلمہ کو اس کی طرف بڑھا رہا ہے ۔ ذرا مزید خدوخال اور دھبے دیکھئے : (آیت) ” مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (4 : 143) (کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) ان کا موقف مذبذب اور ڈانوا ڈول ہے ۔ وہ کسی ایک قطار میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔ نہ مومنین کی صفت میں ہیں اور نہ کافروں کی صف میں ۔ یہ ایسا موقف ہے جو ایمان دلوں میں کوئی جذبہ ماسوائے حقارت اور کراہت کے پیدا ہی نہیں کرتا ۔ اس سے اہل نفاق کی ذاتی کمزوری بھی سامنے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ علی الاعلان کسی عقیدے اور رائے کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ نہ ادھر کے اور نہ ادھرکے ۔ اب اس بدنما تصویر اور اس عاجزانہ موقف کا اختتامیہ یہ آتا ہے کہ ان لوگوں پر اللہ کا فیصلہ قطعی ہوچکا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ راہ ہدایت کے حصول میں ان کے ساتھ کوئی معاونت نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انہیں راہ ہدایت پر نہیں لا سکتا اور نہ ان کے لئے کوئی راہ ہدایت تلاش کرسکتا ہے ۔ (آیت) ” یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (4 : 143) یہاں تک قرآن کریم نے اہل ایمان کے دلوں میں منافقین کے خلاف کراہت اور حقارت کے جذبات پیدا کرکے ان کو ب اور کرایا کہ وہ بہت ہی کمزور لوگ ہیں ۔ یہ مقصد اچھی طرح حاصل کرنے کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ کہیں تم بھی اہل نفاق کی راہ پر نہ چل نکلو اور اہل نفاق کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کفار کے ساتھ دوستی کرتے تھے جبکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی دوستی نہ کرتے تھے ۔ اللہ مومنین کو پنی پکڑ سے ڈراتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ منافقین کے اخروی انجام کی ایک جھلک دکھا کر ان کو ڈراتے ہیں ۔ یہ جھلک نہایت ہی خوفناک ہے اور نہایت ہی ذلت آمیز ہے ۔

النساء 4:141

(آیت) ” 138 تا 143۔ منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔ (آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139) (جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ ) یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔ اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔ یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟ کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ علاوہ دوسری باتوں کے یہ بھی کفار سے عزت طلب کرنے کے مترادف ہے کہ انسان اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کرے جو کفر پر مر گئے تھے اور یہ لحاظ رکھے کہ انکے اور مسلمانوں کے درمیان نسبت اور قرابت کا تعلق ہے ۔ جس طرح بعض لوگ فرعونوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض لوگ اشوریوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض فنیضیوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض بابئیوں پر فخر کرتے ہیں اور عرب اپنی جاہلیت عربیہ اور جمعیت جاہلیہ کا لحاظ رکھتے ہیں ۔ امام احمد نے ابو ریحانہ سے روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص (9) نو کافر آباؤاجداد کی طرف اپنی نسبت کرے گا اور اس سے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ ان پر فخر کرتا ہے تو یہ شخص دسواں شخص ہوگا جو ان کا جہنم میں ساتھی ہوگا ۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں اکٹھ صرف نظریہ حیات پر ہے ۔ اسلام میں امت صرف اسلام و ایمان کی اساس پر ہے اور آغاز اسلام سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے آغاز اسلام سے آج تک ہر سرزمین ‘ ہر جگہ اور ہر نسل میں اسلام کا یہی موقف رہا ہے ۔ امت کا معنی یہ نہیں ہیں کہ کسی دور میں کسی نسل کی ایک جگہ رہائش ہو اور وہ ایک امت بن جائے ۔ مراتب نفاق میں سے اعلی مرتبہ یہ ہے کہ ایک مومن کسی ایسی مجلس میں بیٹھا رہے جس کے اندر اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہو ‘ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور یہ شخص خاموش بیٹھا ہو اور چشم پوشی کرے ۔ پھر اس کو ودرواداری کا نام دے یا اسے ہوشیاری ‘ یا وسعت قلبی یا آزادی رائے کا نام دے حالانکہ یہ موقف دراصل داخلی شکست ہے جو اس کی رگ وپے میں سرایت کرگئی ہے ۔ یہ نام وہ اس لئے رکھ رہا ہے کہ لوگ اسے کمزور اور ضعیف الایمان ہونے کا طعنہ نہ دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ ان الفاظ میں اپنی کمزوری کو چھپاتے ہیں ۔ اللہ کے لئے حمیت ‘ اللہ کے دین کے لئے حمیت اور آیات الہی کے لئے حمیت ‘ درحقیقت ایمان کی بڑی نشانی ہے ۔ جب یہ حمیت ختم ہوجاتی ہے تو پھر بند ٹوٹ جاتا ہے اور تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور جب زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو وہ کچا دھاگہ بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔ پہلے پہل اسلامی حمیت دب جاتی ہے جس طرح چنگاری کو راکھ میں دبا دیا جاتا ہے پھر وہ ٹھنڈی ہو کر بجھ جاتی ہے ۔ جو شخص بھی کسی مجلس میں اپنے دین کے ساتھ مذاق سے اسے چاہئے کہ یا تو وہ دین کا دفاع کرے یا مجلس سے اٹھ کر چلا جائے لیکن اگر وہ چشم پوشی کرتا ہے اور خاموش رہتا ہے تو یہ اس کی پہلی شکست ہے ۔ یہ ایک ایسی حالت ہوتی ہے کہ ہوتی ہے کہ انسان نفاق کے پل پر بالکل بیچ میں ایمان اور کفر کے درمیان کھڑا ہوتا ہے ۔ مدینہ میں بعض مسلمان ایسے تھے جو بڑے بڑے منافقین کی محفلوں میں بیٹھتے تھے اور یہ منافقین بڑے بااثر تھے ۔ حضور ﷺ کی ہجرت کے بعد بھی ان کو معاشرے میں اثر ورسوخ حاصل تھا ۔ اس لئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ایسی مجالس میں جانا اور پھر ان مجالس میں جو گفتگوئیں اسلام کے خلاف چلتی ہیں ان کی خاموشی سے سنتے چلے جانا ‘ شکست کا پہلا مرحلہ ہے ۔ چناچہ حکم دیا گیا کہ مسلمان ان مجالس سے باز آجائیں لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ قرآن ایسی مجالس میں بیٹھنے سے مطلقا روک دیتا اس لئے یہاں صرف یہ حکم دیا گیا کہ جب اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو اور ان کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہو تو مسلمانوں کو ان کا بائیکاٹ کردینا چاہئے ۔ اگر اس صورتحال میں بھی ایک مسلم شریک ہوتا ہے تو وہ منافق ہے ۔ (آیت) ” وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا فلا تعقدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “۔ (4 : 140) (اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں ۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو ۔ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کی جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے ۔ ) یہاں الکتاب کا جو ریفرنس دیا گیا ہے ۔ وہ سورة انعام کی یہ آیت ہے ۔ (آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ) یہاں جو سخت بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ (آیت) ” انکم اذا مثلھم) (اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو) اور اس کے بعد جو سخت وعید آتی ہے وہ ایسی ہے کہ جو بات کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “ (4 : 140) (یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے) لیکن صرف ان مجالس سے منع کیا گیا ہے جن میں آیات الہی کا کفر کیا جارہا ہے ۔ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور اس وقت جماعت مسلمہ جن حالات سے گزر رہی تھی اللہ نے ان حالات میں مکمل بائیکاٹ کا حکم نہیں دیا ۔ ایسے حالات دوسرے معاشروں اور آنے والی نسلوں میں بھی پیش آسکتے ہیں اور اسلامی نظام حیات کا طریقہ کار بھی یہی ہے کہ وہ اگر کوئی تحریک برپا کرتا ہے تو اسے نہایت ہی حکمت اور تدریج کے ساتھ لیتا ہے ۔ وہ معاشرے کے اندر پائے جانے والے حالات ‘ واقعی صورت حال اور لوگوں کے افکار وخیالات کو مدنظر رکھتا ہے لیکن ہدف یہی ہوتا ہے کہ اس واقعی صورت حال کو تبدیل کرکے چھوڑا جائے گا اور اس سمت پر مسلسل آگے بڑھا جائے گا ۔ اس کے بعد منافقین کے کچھ خدوخال بیان کئے جاتے ہیں ۔ یہاں منافقین کی بہت ہی بھونڈی صورت حال کی سینری (OilpAinting) بنائی جاتی ہے کہ وہ جب مسلمانوں کے ہاں کھڑے ہوں تو ان کے چہرے کے خدوخال دوسرے ہوتے ہیں اور اس سینری میں جب وہ منافقین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں تو ان کے چہرے کے خدوخال بالکل دوسرے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی عجیب حالت بنا رکھی ہے ۔ وہ کیڑے مکوڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے چلتے ہیں ۔ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ۔ (آیت) ” الذی یتربصون بکم فان کان لکم فتح من اللہ قالوا الم نکن معکم وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا (4 : 141) (یہ منافق تمہارے معاملے میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا ؟ بس اللہ ہی تمہارے اور انکے معاملے کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلے میں) اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہر گز کوئی سبیل نہیں رکھی ۔ ) یہ عجیب تصویر اور سینری ہے ۔ اس میں دکھایا جاتا ہے کہ منافقین مسلمانوں کے خلاف کس قدر گہری چال چل رہے ہیں اور کس قدر برے ارادے ہیں ان کے ۔ وہ ہر وقت اس گھڑی کے انتظار مین ہیں کہ اہل اسلام پر کوئی مصیبت آئے ۔ لیکن بظاہر وہ مسلمانوں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو اور کوئی غنیمت ملے تو وہ اس وقت کہیں گے ۔ (الم نکن معکم (4 : 141) (کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہم جنگ کے موقعہ میں تمہارے ساتھ تھے ۔ اس لئے کہ منافقین کبھی کبھار مسلمانوں کی صفوں میں جا کر اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھتے تھے یا اس سے مراد یہ ہے کہ ہم کہیں گے کہ ہم بھی تمہارے حامی اور ناصر تھے ۔ اور اگر جنگ پر نہ گئے تو پشت پر تمہارے ہی مددگار تھے ۔ (آیت) ” وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین (4 : 141) (اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا) ان کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان سے تعاون کیا ‘ امداد کی اور ان کی پشتیبانی کی اور مسلمانوں کے ساتھ سچ نہ کہا اور مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی اور افراتفری پیدا کی ۔ اس طرح یہ لوگ کیڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے تھے اور ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا تھا ۔ ان کے منہ میں چکنی چپڑی باتیں تھیں لیکن یہ کمزور کردار کے لوگ تھے ۔ ان کی اس سینری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی خستہ حال اور بدشکل ہیں اور ان کو اہل ایمان نظر انداز کر رہے ہیں ۔ اہل ایمان کی روح کے لئے اسلامی نظام حیات کی یہ پہلی جھلکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایت کے زیر سایہ منافقین کے ساتھ حضور ﷺ کا منصوبہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ چشم پوشی اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے اور اہل اسلام کو ان کے مقابلے میں متنبہ اور خبردار کردیا جائے ، ان کو ان کے اصل عزائم سے آگاہ کردیا جائے اور اس طرح ان کو زہر کا میٹھا پیالہ پلایا جائے اسی لئے ان کی سزا کے لئے یہ کہا جاتا ہے سزا دہی میں شتابی نہ کرو ‘ ان کا فیصلہ اللہ آخرت میں کرے گا ۔ (فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ) (4 : 141) ”(اللہ انکا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا) جہاں کوئی سازش نہ چلے گی ‘ جہاں کوئی عیاری اور مکاری کام نہ دے گی اور جہاں کوئی شخص بات دل میں نہ چھپا سکے گا ۔ اس موقعہ پر اہل ایمان کے ساتھ بھی ایک قطعی وعدہ کرکے ان کو مطمئن کردیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو مکاری اور عیاری کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ اور اس کے ذریعے اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور کافروں کے ساتھ ان کی سازش ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی ۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ اس نے کافروں اور منافقوں کے لئے یہ لکھا ہی نہیں ہے کہ وہ اہل ایمان پر غالب ہوں۔ (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا) (4 : 141) ”(اور اللہ نے کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی سبیل نہیں رکھی) بعض روایات میں آتا ہے کہ اس آیت میں کافروں کے غلبے سے مراد قیامت کے روز غلبہ ہے جہاں اللہ اہل ایمان اور منافقین وکافرین کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مومنین کے بارے میں اچھا فیصلہ ہوگا ۔ لیکن ایک دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اس سے مراد کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کافروں کو اس طرح غلبہ نہیں دے گا کہ کافر انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اگرچہ بعض معرکوں اور بعض علاقوں میں ان کو غلبہ نصیب ہو سکتا ہے ۔ اس آیت کو اگر دنیا اور آخرت دونوں کے لئے لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اس میں کوئی اخروی تحدید و تخصیص نہیں ہے ۔ اگر اس سے اخروی کامیابی لی جائے تو پھر اس میں تو کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے ۔ البتہ اگر دنیاوی غلبہ لیا جائے تو اس میں بعض اوقات اشکال پیش آسکتے ہیں اور غلط فہمی بھی لاحق ہو سکتی ہے جس کی تشریح کی ضرورت ہے ۔ یہ اللہ کا ایک قطعی وعدہ ہے اور اللہ کا ایک جامع حکم ہے ۔ جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمان کی حقیقت بیٹھ جائے اور ان کی زندگی کی اصل صورت حال میں اس حقیقت کا ظہور ہوجائے ‘ اور پھر یہ حقیقت ان کے لئے نظام زندگی بن جائے اور اس کے اوپر نظام حکومت قائم ہوجائے اور ان کی ہر حرکت اور ہر سوچ اللہ کے لئے ہوجائے اور وہ چھوٹے اور بڑے سب امور میں اللہ کے بندے بن جائیں تو پھر کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی صورت سنت الہی میں نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کے خلاف تاریخ اسلامی میں کوئی ایک واقعہ بھی بطور مثال پیش کیا جاسکتا ۔ میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ اللہ کے اس وعدے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوسکتا ۔ صحیح اہل ایمان کو کبھی شکست نہیں ہو سکتی ۔ اور ان کو تاریخ میں کبھی بھی ایسی کسی شکست سے دور چار ہونا نہیں پڑا ۔ اور جب کبھی بھی ایسا ہوا ہے تو صرف اس وقت جب ان کے ایمان میں کمزوری ہوئی ہے ۔ یا تو شعوری طور پر ایمان کمزور ہوا ہے یا عقیدے میں کمزوری پائی گئی ہے یا پھر عمل میں کوئی نہ کوئی کمزوری رہی ہے ۔ یاد رہی ہے ۔ یاد رہے کہ ایمان کا یہ مطالبہ ہے کہ اہل ایمان ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہیں اور یہ جہاد بھی خالصتا فی سبیل اللہ ہو اور اس میں کوئی اور مقصد پیش نظر نہ ہو ۔ اور اگر اس میں کوئی لوپ ہول ہو تو پھر اس کمزوری کے مطابق ہی شکست ہوتی رہتی ہے ۔ لیکن جونہی اہل ایمان ‘ ایمان وعمل سے یہ کمزوری دور کرلیں ‘ فتح و کامرانی پھر انکے قدم چومتی ہے ۔ دیکھئے احد میں کمزوری یہ تھی کہ تیر اندازوں نے حضور ﷺ کی اطاعت کے بجائے آپ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا اور اس کی وجہ صرف مال غنیمت کا لالچ تھا ۔ اور جنگ حنین میں کمزوری تھی کہ مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز ہوگیا اور وہ اپنی قوت کے اصل سرچشمے کو پیش نظر نہ رکھ سکے ۔ اگر ہم اپنی پوری تاریخ میں ہر اس واقعے کا تجزیہ کریں جس میں ہمیں شکست ہوئی تو معلوم ہوگا کہ وہاں اس قسم کی کوتاہیوں میں سے کوئی نہ کوئی کوتاہی تھی ۔ اگر کہیں کوتاہی نظر نہ آئے تو یہ ہماری فہم کا قصور ہوگا ۔ رہا اللہ کا یہ وعدہ تو وہ دنیا واخرت دونوں میں برحق ہے ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض اوقات ابتلاء محض حکمت خداوندی کی وجہ سے ہوتی ہے اس میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کے تقاضے میں عائد ہونے والے لازمی اعمال میں اپنی کمزوریوں کا اچھی طرح احساس کرلیں ۔ جیسا کہ احد میں پیش آیا اور اس پر اللہ نے طویل تبصرہ فرمایا ۔ اور جب اس ابتلاء کی وجہ سے حقیقت ایمان لازمی اعمال اور تیاریاں درست ہوگئیں تو اللہ کی مدد آپہنچی اور نصرت سامنے آگئی ‘ بالکل کھلی نصرت ۔ رہا یہ کہ ہزیمت سے مراد وہ ہزیمت ہے جو کسی ایک معرکے اور جھڑپ میں ہزیمت نہیں ہیں ۔ اس کے معنی بھی بہت ہی وسیع ہیں ۔ اس سے مراد روحانی شکست ہے عزم کا ٹوٹ جانا ہے ۔ کسی معرکے میں شکست تب تسلیم ہوگی جب اس کے زیر اثر شکست خورد وجماعت کی ہمت ٹوٹ جائے اور وہ تھک ہار کر بیٹھ جائے ۔ لیکن اگر وہ اپنے اندر از سر نو ہمت تازہ پیدا کرلے ‘ از سر نو مشعل روشن کرلے اور اپنی کمزوری کے مقامات تلاش کرلے اور اسے معلوم ہوجائے کہ اس معرکے کا مزاج کیا ہے ‘ اس نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے ‘ اور اس راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں تو فتح ونصرت کے لئے یہ شکست ایک تمہید ہوگی اگرچہ راہ طویل ہوجائے ۔ جب اس آیت میں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اہل کفر کے غلبے کی کوئی صورت ہی نہیں رکھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن روحانی طور پر غالب ہوتا ہے اور فتح تبھی ہوتی ہے جب روح اور ایمان غالب ہوں ۔ فتح دراصل افکار مومنانہ کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اپنے شعور اور تصور کے اعتبار سے وہ کامل اور مکمل مومن ہوں ۔ اپنی عملی زندگی میں وہ برتر اور کامل ہوں ۔ ان کا عمل وکردار برتر ہو اور ان کا اعتماد صرف عنوان پر ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ نصرت صرف نام اور عنوان کو نہیں ملتی بلکہ نام اور عنوان کے پیچھے جو حقیقت ہوتی ہے فتح اسے نصیب ہوتی ہے ۔ ہماری فتح اور شکست کے لئے صرف ایک ہی شرط ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ ہم حقیقت ایمان کو مکمل کریں اور اس کے بعد اس حقیقت ایمانیہ کے تقاضے میں جو عملی زندگی میں تبدیلیاں لانی ہیں وہ لائیں ۔ حقیقت ایمان یہ ہے کہ ہم پوری طرح تیاری کریں اور سامان جنگ اور تجربہ جنگ سے لیس ہوں ۔ ایمان کی حقیقت کی تکمیل میں یہ بات بھی ہے کہ ہم دشمنوں کے آگے ہر گز نہ جھکیں اور عزت کے طلبگار صرف اللہ سے ہوں ۔ اللہ کا یہ مؤکد وعدہ پوری طرح حقیقت ایمانیہ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور اس طرح حقیقت کفر کے ساتھ بھی یہی وعدہ ہے ۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کا رابطہ اس عظیم قوت سے ہوجائے جو نہ کمزور پڑتی ہے اور نہ ضعیف ہوتی ہے ۔ کفر کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی اس عظیم قوت سے اپنا رابطہ کاٹ دے ۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ محدود ‘ ٹوٹی پھوٹی یکہ و تنہا قوت ایک ایسی قوت پر غالب آجائے جو لاحمدود ہو ‘ جو اپنے سرچشمہ قوت سے مربوط ہو اور جو قوت اس پوری کائنات کی قوت ہے ۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ حقیقت ایمان اور محض مظہر ایمان میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ حقیقت ایمانیہ تو وہ قوت ہے جو ٹھوس ہے ‘ اور اس طرح مستحکم اور اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے قوانین طبیعی ٹھوس اور اٹل ہیں ۔ اور وہ حقیقت ایمانی حضرت انسان کی شخصیت پر مکمل کنڑول رکھتی ہے اور اس کی ہر حرکت پراثر انداز ہوتی ہے ۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے اور وہ اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ جب اس کا سامنا کفر کی قوت کے ساتھ ہو جو یکہ و تنہا ہوتی ہے ‘ جو حقیقی منبع قوت سے کٹی ہوئی ہوتی ہے اور محدود ہوتی ہے تو یہ ایمانی حقیقت ‘ حقیقت کفر پر غالب آجاتی ہے ۔ لیکن ایمان اگر حقیقت نہ ہو محض صورت ہو تو اس صورت پر کفر غالب آسکتا ہے جبکہ کفر اپنی حقیقت کے اندر فعال ہو اور کفر اپنے حقیقت کفر میں مخلص ہو محض صورت نہ ہو اس لئے کہ کسی بھی چیز کی حقیقت محض صورت کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے اگرچہ ایک صورت ایمان اور دوسری طرف صورت کفر ہو ۔ اللہ کے ہاں باطل کو مغلوب کرنے اصول یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں حق اور سچائی اٹھے اور جب سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے موجود ہو تو پھر سچائی اور باطل کے درمیان کشمکش کا فیصلہ اسی وقت ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ باطل بظاہر بہت ہی بڑا اور عظیم نظر آئے اور آنکھوں کو چکا چوند کرنے والا ہو ۔ (آیت) ” بل نقذف بالحق علی الباطل فاذا ھی یدمغہ ما ذا ھو زاھق) (بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں اور وہ باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اور وہ اچانک زائل ہوجاتا ہے) صدق اللہ العظیم ( اور اللہ نے کافروں کے لئے مومنین پر غلبے کی کوئی صورت نہیں رکھی ہے) اس قطعی اور فیصلہ کن وعدے کے بعد کہ کافر مومنین پر غالب و برتر نہیں ہو سکتے اور منافقوں کو جو کافروں کے ساتھ دوست کرتے ہیں اور جو کافروں کے ہاں عزت ڈھونڈتے ہیں اللہ تعالیٰ منافقین کی ایک دوسری تصویر پیش کرتا ہے اور اس تصویر کے ساتھ ان کی سبکی اور ان کی گوشمالی بھی ہے ۔ (آیت) ” ان النمنفقین یخدعون اللہ وھو خادعھم واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (142) مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (143) (4 : 142۔ 143) ( یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔ جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) اسلامی نظام کی جھلکیوں میں سے یہ ایک اور جھلکی مومن دلوں کو دکھائی جارہی ہے کہ اللہ تو کسی کو دھوکہ نہیں دیتا ‘ اس لئے کہ اللہ تو دل کے رازوں کو بھی جانتا ہے اور جو شخص اللہ کو دھوکہ دینے کی جرات کرتا ہے وہ بہرحال ایک ، احمق ‘ جاہل اور نہایت ہی بدفطرت شخص ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایسے لوگوں کو نہایت ہی حقیر ‘ قابل نفرت اور گھٹیا قرار دیا جارہا ہے ۔ اس جھلکی اور ٹچ کے بعد یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ بھی ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رہا ہے ‘ انہیں مہلت دے رہا ہے اور گمراہی کی حالت ہی میں انہوں چھوڑ دیا ہے ۔ ان پر کوئی ایسی مصیبت نہیں لا رہا ہے جس سے وہ متنبہ ہو کر راہ راست پر آجائیں اور نہ ایسی کھٹک سے انہیں دو چار کر رہا ہے جس سے متنبہ ہو کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں ۔ اللہ انہیں کھلی چھٹی دے رہا ہے کہ وہ اس راستے پر چلتے رہیں جس میں گڑھے ہیں تاکہ یہ لوگ ان میں گرجائیں ۔ یہ ہے وہ خدع جو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ حادثات اور مشقتیں بعض اوقات اللہ کی رحمت بن کر آتی ہیں ۔ جب بعض بندوں پر مصیبتیں آتی ہیں تو وہ راہ خطا سے باز آجاتے ہیں اور انہیں وہ راز معلوم ہوجاتے ہیں جن کا پہلے انہیں کوئی علم و شعور نہیں ہوتا ۔ اور بعض اوقات امن و عافیت انسان کے لئے اللہ کی جانب سے مہلت ہوتی ہے اور گناہگار بری راہ پر مزید آگے بڑھ جاتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ گناہ اور گمراہی کی راہ میں اس قدر آگے جا چکے ہوتے ہیں کہ اللہ انہیں عافیت دے کر مزید آگے جانے دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ برے انجام تک جا پہنچتے ہیں ۔ اب بات ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور ان کی اس کریمہ المنظر تصویر میں کچھ اور دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ (آیت) ” واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (4 : 142) (جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ ) وہ نماز کے لئے اس لئے نہیں اٹھتے کہ انہیں اللہ سے ملاقات کرنے کا شوق ہوتا ہے ‘ وہ اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونا چاہتے ہیں ‘ اللہ کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں اور اللہ سے مدد لینا چاہتے ہیں ۔ یہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ نماز کی طرف نہایت ہی بوجھل قدموں سے اٹھتے ہیں ‘ مثلا جیسے کوئی شخص کسی بھاری کام کے لئے اٹھ رہا ہو ‘ یا اسے کسی بیگار کے لئے بلایا جارہا ہو اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ بیشک مومنین کی نظر میں ان کی یہ نہایت ہی کریہہ المنظر صورت ہے ۔ اس نے ان کی نظروں میں حقارت اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کردیئے ہیں اور ان جذبات اور اس سوچ کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان بعد پیدا ہوجاتا ہے ۔ ذاتی اور مفاداتی تعلقات کمزور پڑتے ہیں اور اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان مکمل بائیکاٹ کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہے اور اسلامی منہاج تربیت امت مسلمہ کو اس کی طرف بڑھا رہا ہے ۔ ذرا مزید خدوخال اور دھبے دیکھئے : (آیت) ” مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (4 : 143) (کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) ان کا موقف مذبذب اور ڈانوا ڈول ہے ۔ وہ کسی ایک قطار میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔ نہ مومنین کی صفت میں ہیں اور نہ کافروں کی صف میں ۔ یہ ایسا موقف ہے جو ایمان دلوں میں کوئی جذبہ ماسوائے حقارت اور کراہت کے پیدا ہی نہیں کرتا ۔ اس سے اہل نفاق کی ذاتی کمزوری بھی سامنے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ علی الاعلان کسی عقیدے اور رائے کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ نہ ادھر کے اور نہ ادھرکے ۔ اب اس بدنما تصویر اور اس عاجزانہ موقف کا اختتامیہ یہ آتا ہے کہ ان لوگوں پر اللہ کا فیصلہ قطعی ہوچکا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ راہ ہدایت کے حصول میں ان کے ساتھ کوئی معاونت نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انہیں راہ ہدایت پر نہیں لا سکتا اور نہ ان کے لئے کوئی راہ ہدایت تلاش کرسکتا ہے ۔ (آیت) ” یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (4 : 143) یہاں تک قرآن کریم نے اہل ایمان کے دلوں میں منافقین کے خلاف کراہت اور حقارت کے جذبات پیدا کرکے ان کو ب اور کرایا کہ وہ بہت ہی کمزور لوگ ہیں ۔ یہ مقصد اچھی طرح حاصل کرنے کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ کہیں تم بھی اہل نفاق کی راہ پر نہ چل نکلو اور اہل نفاق کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کفار کے ساتھ دوستی کرتے تھے جبکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی دوستی نہ کرتے تھے ۔ اللہ مومنین کو پنی پکڑ سے ڈراتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ منافقین کے اخروی انجام کی ایک جھلک دکھا کر ان کو ڈراتے ہیں ۔ یہ جھلک نہایت ہی خوفناک ہے اور نہایت ہی ذلت آمیز ہے ۔

النساء 4:142

(آیت) ” 138 تا 143۔ منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔ (آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139) (جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ ) یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔ اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔ یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟ کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ علاوہ دوسری باتوں کے یہ بھی کفار سے عزت طلب کرنے کے مترادف ہے کہ انسان اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کرے جو کفر پر مر گئے تھے اور یہ لحاظ رکھے کہ انکے اور مسلمانوں کے درمیان نسبت اور قرابت کا تعلق ہے ۔ جس طرح بعض لوگ فرعونوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض لوگ اشوریوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض فنیضیوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض بابئیوں پر فخر کرتے ہیں اور عرب اپنی جاہلیت عربیہ اور جمعیت جاہلیہ کا لحاظ رکھتے ہیں ۔ امام احمد نے ابو ریحانہ سے روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص (9) نو کافر آباؤاجداد کی طرف اپنی نسبت کرے گا اور اس سے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ ان پر فخر کرتا ہے تو یہ شخص دسواں شخص ہوگا جو ان کا جہنم میں ساتھی ہوگا ۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں اکٹھ صرف نظریہ حیات پر ہے ۔ اسلام میں امت صرف اسلام و ایمان کی اساس پر ہے اور آغاز اسلام سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے آغاز اسلام سے آج تک ہر سرزمین ‘ ہر جگہ اور ہر نسل میں اسلام کا یہی موقف رہا ہے ۔ امت کا معنی یہ نہیں ہیں کہ کسی دور میں کسی نسل کی ایک جگہ رہائش ہو اور وہ ایک امت بن جائے ۔ مراتب نفاق میں سے اعلی مرتبہ یہ ہے کہ ایک مومن کسی ایسی مجلس میں بیٹھا رہے جس کے اندر اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہو ‘ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور یہ شخص خاموش بیٹھا ہو اور چشم پوشی کرے ۔ پھر اس کو ودرواداری کا نام دے یا اسے ہوشیاری ‘ یا وسعت قلبی یا آزادی رائے کا نام دے حالانکہ یہ موقف دراصل داخلی شکست ہے جو اس کی رگ وپے میں سرایت کرگئی ہے ۔ یہ نام وہ اس لئے رکھ رہا ہے کہ لوگ اسے کمزور اور ضعیف الایمان ہونے کا طعنہ نہ دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ ان الفاظ میں اپنی کمزوری کو چھپاتے ہیں ۔ اللہ کے لئے حمیت ‘ اللہ کے دین کے لئے حمیت اور آیات الہی کے لئے حمیت ‘ درحقیقت ایمان کی بڑی نشانی ہے ۔ جب یہ حمیت ختم ہوجاتی ہے تو پھر بند ٹوٹ جاتا ہے اور تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور جب زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو وہ کچا دھاگہ بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔ پہلے پہل اسلامی حمیت دب جاتی ہے جس طرح چنگاری کو راکھ میں دبا دیا جاتا ہے پھر وہ ٹھنڈی ہو کر بجھ جاتی ہے ۔ جو شخص بھی کسی مجلس میں اپنے دین کے ساتھ مذاق سے اسے چاہئے کہ یا تو وہ دین کا دفاع کرے یا مجلس سے اٹھ کر چلا جائے لیکن اگر وہ چشم پوشی کرتا ہے اور خاموش رہتا ہے تو یہ اس کی پہلی شکست ہے ۔ یہ ایک ایسی حالت ہوتی ہے کہ ہوتی ہے کہ انسان نفاق کے پل پر بالکل بیچ میں ایمان اور کفر کے درمیان کھڑا ہوتا ہے ۔ مدینہ میں بعض مسلمان ایسے تھے جو بڑے بڑے منافقین کی محفلوں میں بیٹھتے تھے اور یہ منافقین بڑے بااثر تھے ۔ حضور ﷺ کی ہجرت کے بعد بھی ان کو معاشرے میں اثر ورسوخ حاصل تھا ۔ اس لئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ایسی مجالس میں جانا اور پھر ان مجالس میں جو گفتگوئیں اسلام کے خلاف چلتی ہیں ان کی خاموشی سے سنتے چلے جانا ‘ شکست کا پہلا مرحلہ ہے ۔ چناچہ حکم دیا گیا کہ مسلمان ان مجالس سے باز آجائیں لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ قرآن ایسی مجالس میں بیٹھنے سے مطلقا روک دیتا اس لئے یہاں صرف یہ حکم دیا گیا کہ جب اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو اور ان کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہو تو مسلمانوں کو ان کا بائیکاٹ کردینا چاہئے ۔ اگر اس صورتحال میں بھی ایک مسلم شریک ہوتا ہے تو وہ منافق ہے ۔ (آیت) ” وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا فلا تعقدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “۔ (4 : 140) (اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں ۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو ۔ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کی جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے ۔ ) یہاں الکتاب کا جو ریفرنس دیا گیا ہے ۔ وہ سورة انعام کی یہ آیت ہے ۔ (آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ) یہاں جو سخت بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ (آیت) ” انکم اذا مثلھم) (اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو) اور اس کے بعد جو سخت وعید آتی ہے وہ ایسی ہے کہ جو بات کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “ (4 : 140) (یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے) لیکن صرف ان مجالس سے منع کیا گیا ہے جن میں آیات الہی کا کفر کیا جارہا ہے ۔ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور اس وقت جماعت مسلمہ جن حالات سے گزر رہی تھی اللہ نے ان حالات میں مکمل بائیکاٹ کا حکم نہیں دیا ۔ ایسے حالات دوسرے معاشروں اور آنے والی نسلوں میں بھی پیش آسکتے ہیں اور اسلامی نظام حیات کا طریقہ کار بھی یہی ہے کہ وہ اگر کوئی تحریک برپا کرتا ہے تو اسے نہایت ہی حکمت اور تدریج کے ساتھ لیتا ہے ۔ وہ معاشرے کے اندر پائے جانے والے حالات ‘ واقعی صورت حال اور لوگوں کے افکار وخیالات کو مدنظر رکھتا ہے لیکن ہدف یہی ہوتا ہے کہ اس واقعی صورت حال کو تبدیل کرکے چھوڑا جائے گا اور اس سمت پر مسلسل آگے بڑھا جائے گا ۔ اس کے بعد منافقین کے کچھ خدوخال بیان کئے جاتے ہیں ۔ یہاں منافقین کی بہت ہی بھونڈی صورت حال کی سینری (OilpAinting) بنائی جاتی ہے کہ وہ جب مسلمانوں کے ہاں کھڑے ہوں تو ان کے چہرے کے خدوخال دوسرے ہوتے ہیں اور اس سینری میں جب وہ منافقین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں تو ان کے چہرے کے خدوخال بالکل دوسرے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی عجیب حالت بنا رکھی ہے ۔ وہ کیڑے مکوڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے چلتے ہیں ۔ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ۔ (آیت) ” الذی یتربصون بکم فان کان لکم فتح من اللہ قالوا الم نکن معکم وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا (4 : 141) (یہ منافق تمہارے معاملے میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا ؟ بس اللہ ہی تمہارے اور انکے معاملے کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلے میں) اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہر گز کوئی سبیل نہیں رکھی ۔ ) یہ عجیب تصویر اور سینری ہے ۔ اس میں دکھایا جاتا ہے کہ منافقین مسلمانوں کے خلاف کس قدر گہری چال چل رہے ہیں اور کس قدر برے ارادے ہیں ان کے ۔ وہ ہر وقت اس گھڑی کے انتظار مین ہیں کہ اہل اسلام پر کوئی مصیبت آئے ۔ لیکن بظاہر وہ مسلمانوں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو اور کوئی غنیمت ملے تو وہ اس وقت کہیں گے ۔ (الم نکن معکم (4 : 141) (کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہم جنگ کے موقعہ میں تمہارے ساتھ تھے ۔ اس لئے کہ منافقین کبھی کبھار مسلمانوں کی صفوں میں جا کر اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھتے تھے یا اس سے مراد یہ ہے کہ ہم کہیں گے کہ ہم بھی تمہارے حامی اور ناصر تھے ۔ اور اگر جنگ پر نہ گئے تو پشت پر تمہارے ہی مددگار تھے ۔ (آیت) ” وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین (4 : 141) (اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا) ان کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان سے تعاون کیا ‘ امداد کی اور ان کی پشتیبانی کی اور مسلمانوں کے ساتھ سچ نہ کہا اور مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی اور افراتفری پیدا کی ۔ اس طرح یہ لوگ کیڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے تھے اور ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا تھا ۔ ان کے منہ میں چکنی چپڑی باتیں تھیں لیکن یہ کمزور کردار کے لوگ تھے ۔ ان کی اس سینری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی خستہ حال اور بدشکل ہیں اور ان کو اہل ایمان نظر انداز کر رہے ہیں ۔ اہل ایمان کی روح کے لئے اسلامی نظام حیات کی یہ پہلی جھلکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایت کے زیر سایہ منافقین کے ساتھ حضور ﷺ کا منصوبہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ چشم پوشی اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے اور اہل اسلام کو ان کے مقابلے میں متنبہ اور خبردار کردیا جائے ، ان کو ان کے اصل عزائم سے آگاہ کردیا جائے اور اس طرح ان کو زہر کا میٹھا پیالہ پلایا جائے اسی لئے ان کی سزا کے لئے یہ کہا جاتا ہے سزا دہی میں شتابی نہ کرو ‘ ان کا فیصلہ اللہ آخرت میں کرے گا ۔ (فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ) (4 : 141) ”(اللہ انکا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا) جہاں کوئی سازش نہ چلے گی ‘ جہاں کوئی عیاری اور مکاری کام نہ دے گی اور جہاں کوئی شخص بات دل میں نہ چھپا سکے گا ۔ اس موقعہ پر اہل ایمان کے ساتھ بھی ایک قطعی وعدہ کرکے ان کو مطمئن کردیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو مکاری اور عیاری کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ اور اس کے ذریعے اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور کافروں کے ساتھ ان کی سازش ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی ۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ اس نے کافروں اور منافقوں کے لئے یہ لکھا ہی نہیں ہے کہ وہ اہل ایمان پر غالب ہوں۔ (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا) (4 : 141) ”(اور اللہ نے کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی سبیل نہیں رکھی) بعض روایات میں آتا ہے کہ اس آیت میں کافروں کے غلبے سے مراد قیامت کے روز غلبہ ہے جہاں اللہ اہل ایمان اور منافقین وکافرین کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مومنین کے بارے میں اچھا فیصلہ ہوگا ۔ لیکن ایک دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اس سے مراد کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کافروں کو اس طرح غلبہ نہیں دے گا کہ کافر انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اگرچہ بعض معرکوں اور بعض علاقوں میں ان کو غلبہ نصیب ہو سکتا ہے ۔ اس آیت کو اگر دنیا اور آخرت دونوں کے لئے لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اس میں کوئی اخروی تحدید و تخصیص نہیں ہے ۔ اگر اس سے اخروی کامیابی لی جائے تو پھر اس میں تو کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے ۔ البتہ اگر دنیاوی غلبہ لیا جائے تو اس میں بعض اوقات اشکال پیش آسکتے ہیں اور غلط فہمی بھی لاحق ہو سکتی ہے جس کی تشریح کی ضرورت ہے ۔ یہ اللہ کا ایک قطعی وعدہ ہے اور اللہ کا ایک جامع حکم ہے ۔ جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمان کی حقیقت بیٹھ جائے اور ان کی زندگی کی اصل صورت حال میں اس حقیقت کا ظہور ہوجائے ‘ اور پھر یہ حقیقت ان کے لئے نظام زندگی بن جائے اور اس کے اوپر نظام حکومت قائم ہوجائے اور ان کی ہر حرکت اور ہر سوچ اللہ کے لئے ہوجائے اور وہ چھوٹے اور بڑے سب امور میں اللہ کے بندے بن جائیں تو پھر کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی صورت سنت الہی میں نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کے خلاف تاریخ اسلامی میں کوئی ایک واقعہ بھی بطور مثال پیش کیا جاسکتا ۔ میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ اللہ کے اس وعدے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوسکتا ۔ صحیح اہل ایمان کو کبھی شکست نہیں ہو سکتی ۔ اور ان کو تاریخ میں کبھی بھی ایسی کسی شکست سے دور چار ہونا نہیں پڑا ۔ اور جب کبھی بھی ایسا ہوا ہے تو صرف اس وقت جب ان کے ایمان میں کمزوری ہوئی ہے ۔ یا تو شعوری طور پر ایمان کمزور ہوا ہے یا عقیدے میں کمزوری پائی گئی ہے یا پھر عمل میں کوئی نہ کوئی کمزوری رہی ہے ۔ یاد رہی ہے ۔ یاد رہے کہ ایمان کا یہ مطالبہ ہے کہ اہل ایمان ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہیں اور یہ جہاد بھی خالصتا فی سبیل اللہ ہو اور اس میں کوئی اور مقصد پیش نظر نہ ہو ۔ اور اگر اس میں کوئی لوپ ہول ہو تو پھر اس کمزوری کے مطابق ہی شکست ہوتی رہتی ہے ۔ لیکن جونہی اہل ایمان ‘ ایمان وعمل سے یہ کمزوری دور کرلیں ‘ فتح و کامرانی پھر انکے قدم چومتی ہے ۔ دیکھئے احد میں کمزوری یہ تھی کہ تیر اندازوں نے حضور ﷺ کی اطاعت کے بجائے آپ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا اور اس کی وجہ صرف مال غنیمت کا لالچ تھا ۔ اور جنگ حنین میں کمزوری تھی کہ مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز ہوگیا اور وہ اپنی قوت کے اصل سرچشمے کو پیش نظر نہ رکھ سکے ۔ اگر ہم اپنی پوری تاریخ میں ہر اس واقعے کا تجزیہ کریں جس میں ہمیں شکست ہوئی تو معلوم ہوگا کہ وہاں اس قسم کی کوتاہیوں میں سے کوئی نہ کوئی کوتاہی تھی ۔ اگر کہیں کوتاہی نظر نہ آئے تو یہ ہماری فہم کا قصور ہوگا ۔ رہا اللہ کا یہ وعدہ تو وہ دنیا واخرت دونوں میں برحق ہے ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض اوقات ابتلاء محض حکمت خداوندی کی وجہ سے ہوتی ہے اس میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کے تقاضے میں عائد ہونے والے لازمی اعمال میں اپنی کمزوریوں کا اچھی طرح احساس کرلیں ۔ جیسا کہ احد میں پیش آیا اور اس پر اللہ نے طویل تبصرہ فرمایا ۔ اور جب اس ابتلاء کی وجہ سے حقیقت ایمان لازمی اعمال اور تیاریاں درست ہوگئیں تو اللہ کی مدد آپہنچی اور نصرت سامنے آگئی ‘ بالکل کھلی نصرت ۔ رہا یہ کہ ہزیمت سے مراد وہ ہزیمت ہے جو کسی ایک معرکے اور جھڑپ میں ہزیمت نہیں ہیں ۔ اس کے معنی بھی بہت ہی وسیع ہیں ۔ اس سے مراد روحانی شکست ہے عزم کا ٹوٹ جانا ہے ۔ کسی معرکے میں شکست تب تسلیم ہوگی جب اس کے زیر اثر شکست خورد وجماعت کی ہمت ٹوٹ جائے اور وہ تھک ہار کر بیٹھ جائے ۔ لیکن اگر وہ اپنے اندر از سر نو ہمت تازہ پیدا کرلے ‘ از سر نو مشعل روشن کرلے اور اپنی کمزوری کے مقامات تلاش کرلے اور اسے معلوم ہوجائے کہ اس معرکے کا مزاج کیا ہے ‘ اس نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے ‘ اور اس راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں تو فتح ونصرت کے لئے یہ شکست ایک تمہید ہوگی اگرچہ راہ طویل ہوجائے ۔ جب اس آیت میں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اہل کفر کے غلبے کی کوئی صورت ہی نہیں رکھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن روحانی طور پر غالب ہوتا ہے اور فتح تبھی ہوتی ہے جب روح اور ایمان غالب ہوں ۔ فتح دراصل افکار مومنانہ کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اپنے شعور اور تصور کے اعتبار سے وہ کامل اور مکمل مومن ہوں ۔ اپنی عملی زندگی میں وہ برتر اور کامل ہوں ۔ ان کا عمل وکردار برتر ہو اور ان کا اعتماد صرف عنوان پر ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ نصرت صرف نام اور عنوان کو نہیں ملتی بلکہ نام اور عنوان کے پیچھے جو حقیقت ہوتی ہے فتح اسے نصیب ہوتی ہے ۔ ہماری فتح اور شکست کے لئے صرف ایک ہی شرط ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ ہم حقیقت ایمان کو مکمل کریں اور اس کے بعد اس حقیقت ایمانیہ کے تقاضے میں جو عملی زندگی میں تبدیلیاں لانی ہیں وہ لائیں ۔ حقیقت ایمان یہ ہے کہ ہم پوری طرح تیاری کریں اور سامان جنگ اور تجربہ جنگ سے لیس ہوں ۔ ایمان کی حقیقت کی تکمیل میں یہ بات بھی ہے کہ ہم دشمنوں کے آگے ہر گز نہ جھکیں اور عزت کے طلبگار صرف اللہ سے ہوں ۔ اللہ کا یہ مؤکد وعدہ پوری طرح حقیقت ایمانیہ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور اس طرح حقیقت کفر کے ساتھ بھی یہی وعدہ ہے ۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کا رابطہ اس عظیم قوت سے ہوجائے جو نہ کمزور پڑتی ہے اور نہ ضعیف ہوتی ہے ۔ کفر کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی اس عظیم قوت سے اپنا رابطہ کاٹ دے ۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ محدود ‘ ٹوٹی پھوٹی یکہ و تنہا قوت ایک ایسی قوت پر غالب آجائے جو لاحمدود ہو ‘ جو اپنے سرچشمہ قوت سے مربوط ہو اور جو قوت اس پوری کائنات کی قوت ہے ۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ حقیقت ایمان اور محض مظہر ایمان میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ حقیقت ایمانیہ تو وہ قوت ہے جو ٹھوس ہے ‘ اور اس طرح مستحکم اور اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے قوانین طبیعی ٹھوس اور اٹل ہیں ۔ اور وہ حقیقت ایمانی حضرت انسان کی شخصیت پر مکمل کنڑول رکھتی ہے اور اس کی ہر حرکت پراثر انداز ہوتی ہے ۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے اور وہ اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ جب اس کا سامنا کفر کی قوت کے ساتھ ہو جو یکہ و تنہا ہوتی ہے ‘ جو حقیقی منبع قوت سے کٹی ہوئی ہوتی ہے اور محدود ہوتی ہے تو یہ ایمانی حقیقت ‘ حقیقت کفر پر غالب آجاتی ہے ۔ لیکن ایمان اگر حقیقت نہ ہو محض صورت ہو تو اس صورت پر کفر غالب آسکتا ہے جبکہ کفر اپنی حقیقت کے اندر فعال ہو اور کفر اپنے حقیقت کفر میں مخلص ہو محض صورت نہ ہو اس لئے کہ کسی بھی چیز کی حقیقت محض صورت کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے اگرچہ ایک صورت ایمان اور دوسری طرف صورت کفر ہو ۔ اللہ کے ہاں باطل کو مغلوب کرنے اصول یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں حق اور سچائی اٹھے اور جب سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے موجود ہو تو پھر سچائی اور باطل کے درمیان کشمکش کا فیصلہ اسی وقت ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ باطل بظاہر بہت ہی بڑا اور عظیم نظر آئے اور آنکھوں کو چکا چوند کرنے والا ہو ۔ (آیت) ” بل نقذف بالحق علی الباطل فاذا ھی یدمغہ ما ذا ھو زاھق) (بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں اور وہ باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اور وہ اچانک زائل ہوجاتا ہے) صدق اللہ العظیم ( اور اللہ نے کافروں کے لئے مومنین پر غلبے کی کوئی صورت نہیں رکھی ہے) اس قطعی اور فیصلہ کن وعدے کے بعد کہ کافر مومنین پر غالب و برتر نہیں ہو سکتے اور منافقوں کو جو کافروں کے ساتھ دوست کرتے ہیں اور جو کافروں کے ہاں عزت ڈھونڈتے ہیں اللہ تعالیٰ منافقین کی ایک دوسری تصویر پیش کرتا ہے اور اس تصویر کے ساتھ ان کی سبکی اور ان کی گوشمالی بھی ہے ۔ (آیت) ” ان النمنفقین یخدعون اللہ وھو خادعھم واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (142) مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (143) (4 : 142۔ 143) ( یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔ جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) اسلامی نظام کی جھلکیوں میں سے یہ ایک اور جھلکی مومن دلوں کو دکھائی جارہی ہے کہ اللہ تو کسی کو دھوکہ نہیں دیتا ‘ اس لئے کہ اللہ تو دل کے رازوں کو بھی جانتا ہے اور جو شخص اللہ کو دھوکہ دینے کی جرات کرتا ہے وہ بہرحال ایک ، احمق ‘ جاہل اور نہایت ہی بدفطرت شخص ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایسے لوگوں کو نہایت ہی حقیر ‘ قابل نفرت اور گھٹیا قرار دیا جارہا ہے ۔ اس جھلکی اور ٹچ کے بعد یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ بھی ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رہا ہے ‘ انہیں مہلت دے رہا ہے اور گمراہی کی حالت ہی میں انہوں چھوڑ دیا ہے ۔ ان پر کوئی ایسی مصیبت نہیں لا رہا ہے جس سے وہ متنبہ ہو کر راہ راست پر آجائیں اور نہ ایسی کھٹک سے انہیں دو چار کر رہا ہے جس سے متنبہ ہو کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں ۔ اللہ انہیں کھلی چھٹی دے رہا ہے کہ وہ اس راستے پر چلتے رہیں جس میں گڑھے ہیں تاکہ یہ لوگ ان میں گرجائیں ۔ یہ ہے وہ خدع جو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ حادثات اور مشقتیں بعض اوقات اللہ کی رحمت بن کر آتی ہیں ۔ جب بعض بندوں پر مصیبتیں آتی ہیں تو وہ راہ خطا سے باز آجاتے ہیں اور انہیں وہ راز معلوم ہوجاتے ہیں جن کا پہلے انہیں کوئی علم و شعور نہیں ہوتا ۔ اور بعض اوقات امن و عافیت انسان کے لئے اللہ کی جانب سے مہلت ہوتی ہے اور گناہگار بری راہ پر مزید آگے بڑھ جاتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ گناہ اور گمراہی کی راہ میں اس قدر آگے جا چکے ہوتے ہیں کہ اللہ انہیں عافیت دے کر مزید آگے جانے دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ برے انجام تک جا پہنچتے ہیں ۔ اب بات ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور ان کی اس کریمہ المنظر تصویر میں کچھ اور دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ (آیت) ” واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (4 : 142) (جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ ) وہ نماز کے لئے اس لئے نہیں اٹھتے کہ انہیں اللہ سے ملاقات کرنے کا شوق ہوتا ہے ‘ وہ اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونا چاہتے ہیں ‘ اللہ کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں اور اللہ سے مدد لینا چاہتے ہیں ۔ یہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ نماز کی طرف نہایت ہی بوجھل قدموں سے اٹھتے ہیں ‘ مثلا جیسے کوئی شخص کسی بھاری کام کے لئے اٹھ رہا ہو ‘ یا اسے کسی بیگار کے لئے بلایا جارہا ہو اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ بیشک مومنین کی نظر میں ان کی یہ نہایت ہی کریہہ المنظر صورت ہے ۔ اس نے ان کی نظروں میں حقارت اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کردیئے ہیں اور ان جذبات اور اس سوچ کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان بعد پیدا ہوجاتا ہے ۔ ذاتی اور مفاداتی تعلقات کمزور پڑتے ہیں اور اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان مکمل بائیکاٹ کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہے اور اسلامی منہاج تربیت امت مسلمہ کو اس کی طرف بڑھا رہا ہے ۔ ذرا مزید خدوخال اور دھبے دیکھئے : (آیت) ” مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (4 : 143) (کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) ان کا موقف مذبذب اور ڈانوا ڈول ہے ۔ وہ کسی ایک قطار میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔ نہ مومنین کی صفت میں ہیں اور نہ کافروں کی صف میں ۔ یہ ایسا موقف ہے جو ایمان دلوں میں کوئی جذبہ ماسوائے حقارت اور کراہت کے پیدا ہی نہیں کرتا ۔ اس سے اہل نفاق کی ذاتی کمزوری بھی سامنے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ علی الاعلان کسی عقیدے اور رائے کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ نہ ادھر کے اور نہ ادھرکے ۔ اب اس بدنما تصویر اور اس عاجزانہ موقف کا اختتامیہ یہ آتا ہے کہ ان لوگوں پر اللہ کا فیصلہ قطعی ہوچکا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ راہ ہدایت کے حصول میں ان کے ساتھ کوئی معاونت نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انہیں راہ ہدایت پر نہیں لا سکتا اور نہ ان کے لئے کوئی راہ ہدایت تلاش کرسکتا ہے ۔ (آیت) ” یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (4 : 143) یہاں تک قرآن کریم نے اہل ایمان کے دلوں میں منافقین کے خلاف کراہت اور حقارت کے جذبات پیدا کرکے ان کو ب اور کرایا کہ وہ بہت ہی کمزور لوگ ہیں ۔ یہ مقصد اچھی طرح حاصل کرنے کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ کہیں تم بھی اہل نفاق کی راہ پر نہ چل نکلو اور اہل نفاق کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کفار کے ساتھ دوستی کرتے تھے جبکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی دوستی نہ کرتے تھے ۔ اللہ مومنین کو پنی پکڑ سے ڈراتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ منافقین کے اخروی انجام کی ایک جھلک دکھا کر ان کو ڈراتے ہیں ۔ یہ جھلک نہایت ہی خوفناک ہے اور نہایت ہی ذلت آمیز ہے ۔

النساء 4:143

(آیت) ” 138 تا 143۔ منافقین پر یہ تنقیدی جملہ اس طنز کے ساتھ شروع ہوتا ہے یہاں ارتداد کے بجائے لفظ بشر سے ان پر تنقید شروع کردی جاتی ہے ۔ انہیں اس عذاب کی خوشخبری دی جا رہی ہے جو ان کے انتظار میں ہے ۔ اس کے بعد سبب عذاب بھی بتا دیا جاتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ دوستی کرنے کے بجائے کافروں کو دوست بنا رہے ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کو اللہ سے بدظنی ہے ۔ تیسرے یہ کہ ان کو معلوم نہیں ہے کہ عزت اور ذلت دینے والا کون ہے ۔ (آیت) ” بشر المنفقین بان لھم عذابا الیما (138) الذین یتخذون الکفرین اولیاء من دون المومنین ایبتغون عندھم العزۃ فان العزۃ للہ جمیعا “ (139) (4 : 138۔ 139) (جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفق بناتے ہیں ‘ انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لئے دردناک سزا تیار ہے ۔ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لئے ہے ۔ ) یہاں جن کفار کا ذکر کیا گیا ہے راجح روایات کے مطابق ان سے مراد یہودی ہیں ‘ منافقین ان کے ہاں پناہ لیتے تھے اور ان کے ہاں راتوں کو چھپتے تھے ۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف مشورے کرتے تھے اور مسلمانوں کے خلاف قسم قسم کی سازشیں کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ یہ لوگ دعوائے ایمان بھی کرتے ہیں اور اس کے باوجود کفار کے ساتھ دوستی کرتے ہیں ‘ اپنے آپ کو یہ لوگ کس لئے ایسے موقف میں کھڑا کرتے ہیں ۔ کیا یہ لوگ کفار سے عزت کے طلبگار ہیں ؟ حالانکہ عزت تو اللہ کے ہاں ہوتی ہے اور عزت صرف اسے ملتی ہے جو اللہ کا دوست ہو اور جو اللہ کی درگاہ سے عزت کا طلبگار ہو اور اللہ کے ہاں وہ پناہ لینے والا ہو ۔ اس طرح ان آیات میں منافقین کی ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ یہ ان کی پہلی صفت ہے کہ وہ مومنین کے ساتھ دوستی نہیں رکھتے اور کافروں کے دوست ہوتے ہیں ۔ وہ عزت اور قوت کافروں کے ہاں ڈھونڈتے ہیں حالانکہ عزت اور قوت کا سرچشمہ اللہ ہے ۔ اس لئے ضروری ہے عزت کی تلاش اور قوت کی تلاش اللہ کے ہاں سے کی جائے اور اگر وہ یہ تلاش کسی دوسری جگہ کریں گے تو یہ تلاش عبث ہوگی ‘ اس لئے کہ یہ جنس دوسری جگہ ہے ہی نہیں ۔ یہ بات نوٹ کرلیں کہ اس کائنات میں نفس انسانی کے لئے ایک ہی سہارا ہے ‘ جہاں سے وہ عزت پاسکتا ہے ۔ جب اس سہارے کے آگے یہ نفس جھکے گا تو دوسروں کے مقابلے میں سربلند ہوجائے گا ۔ یہ ایک ہی بندگی اور ایک ہی سجدہ انسان کو تمام سجدوں سے بےنیاز کردیتا ہے ۔ اگر نفس انسانی نے اللہ کے سامنے جھکنا نہ شروع کیا تو اسے بہت سے خداؤں کی بندگی کرنا ہوگی ‘ اسے کئی اشخاص کی بندگی کرنا ہوگی ۔ وہ مختلف قسم کے لحاظ رکھے گا ‘ مختلف جہتوں کا اسے خیال کرنا ہوگا اور وہ مختلف خطرات سے دوچار ہوگا اور یہ سب لحاظ وملاحظے اور مختلف لوگوں کی بندگی اور غلامی بھی اسے بچا نہ سکے گی ۔ اس لئے کہ یا یہاں تو اللہ کی بندگی ہوگی اور پھر انسان سربلند اور معزز ہوجائے گا اور یا پھر انسانوں کی بندگی ہوگی جو عبارت ہے ‘ غلامی اور ذلت سے اور جس میں آزادی کے بجائے قید وبند ہے ۔ اب یہ انسان کا کام ہے کہ وہ ان میں سے کس کو اختیار کرتا ہے ‘ غلامی کو یا آزادی کو ؟ کوئی شخص مومن ہوتے ہوئے یہ نہیں کرسکتا کہ وہ ماسوی اللہ کے ہاں عزت کا طلبگار ہو ۔ اگر ایسا کرے گا تو وہ مومن نہیں ہو سکتا ۔ اسی طرح اگر مومن اللہ کے دشمنوں سے عزت ‘ نصرت اور قوت طلب کرتا ہے ‘ تو وہ مومن نہ ہوگا ۔ آج جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں اور مسلمانوں جیسے نام رکھتے ہیں اور وہ اس کائنات کے اندر دشمنان اسلام سے مدد لیتے ہیں تو سب لوگوں کی نسبت ان کو اس بات کی زیادہ ضرورت ہے کہ وہ ذرا قرآن کی ان ہدایات پر تدبر کریں بشرطیکہ ان کے دلوں میں صحیح مسلمان ہونے کی خواہش ہو ۔ اگر ان کو اس بارے میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے تو اللہ تو عالمین سے غنی ہے۔ علاوہ دوسری باتوں کے یہ بھی کفار سے عزت طلب کرنے کے مترادف ہے کہ انسان اپنے ان آباء و اجداد پر فخر کرے جو کفر پر مر گئے تھے اور یہ لحاظ رکھے کہ انکے اور مسلمانوں کے درمیان نسبت اور قرابت کا تعلق ہے ۔ جس طرح بعض لوگ فرعونوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض لوگ اشوریوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض فنیضیوں پر فخر کرتے ہیں ‘ بعض بابئیوں پر فخر کرتے ہیں اور عرب اپنی جاہلیت عربیہ اور جمعیت جاہلیہ کا لحاظ رکھتے ہیں ۔ امام احمد نے ابو ریحانہ سے روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ” جو شخص (9) نو کافر آباؤاجداد کی طرف اپنی نسبت کرے گا اور اس سے اس کا مقصد یہ ہو کہ وہ ان پر فخر کرتا ہے تو یہ شخص دسواں شخص ہوگا جو ان کا جہنم میں ساتھی ہوگا ۔ “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام میں اکٹھ صرف نظریہ حیات پر ہے ۔ اسلام میں امت صرف اسلام و ایمان کی اساس پر ہے اور آغاز اسلام سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے آغاز اسلام سے آج تک ہر سرزمین ‘ ہر جگہ اور ہر نسل میں اسلام کا یہی موقف رہا ہے ۔ امت کا معنی یہ نہیں ہیں کہ کسی دور میں کسی نسل کی ایک جگہ رہائش ہو اور وہ ایک امت بن جائے ۔ مراتب نفاق میں سے اعلی مرتبہ یہ ہے کہ ایک مومن کسی ایسی مجلس میں بیٹھا رہے جس کے اندر اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہو ‘ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور یہ شخص خاموش بیٹھا ہو اور چشم پوشی کرے ۔ پھر اس کو ودرواداری کا نام دے یا اسے ہوشیاری ‘ یا وسعت قلبی یا آزادی رائے کا نام دے حالانکہ یہ موقف دراصل داخلی شکست ہے جو اس کی رگ وپے میں سرایت کرگئی ہے ۔ یہ نام وہ اس لئے رکھ رہا ہے کہ لوگ اسے کمزور اور ضعیف الایمان ہونے کا طعنہ نہ دیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ ان الفاظ میں اپنی کمزوری کو چھپاتے ہیں ۔ اللہ کے لئے حمیت ‘ اللہ کے دین کے لئے حمیت اور آیات الہی کے لئے حمیت ‘ درحقیقت ایمان کی بڑی نشانی ہے ۔ جب یہ حمیت ختم ہوجاتی ہے تو پھر بند ٹوٹ جاتا ہے اور تمام پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ تمام رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور جب زیادہ دباؤ پڑتا ہے تو وہ کچا دھاگہ بھی ٹوٹ جاتا ہے ۔ پہلے پہل اسلامی حمیت دب جاتی ہے جس طرح چنگاری کو راکھ میں دبا دیا جاتا ہے پھر وہ ٹھنڈی ہو کر بجھ جاتی ہے ۔ جو شخص بھی کسی مجلس میں اپنے دین کے ساتھ مذاق سے اسے چاہئے کہ یا تو وہ دین کا دفاع کرے یا مجلس سے اٹھ کر چلا جائے لیکن اگر وہ چشم پوشی کرتا ہے اور خاموش رہتا ہے تو یہ اس کی پہلی شکست ہے ۔ یہ ایک ایسی حالت ہوتی ہے کہ ہوتی ہے کہ انسان نفاق کے پل پر بالکل بیچ میں ایمان اور کفر کے درمیان کھڑا ہوتا ہے ۔ مدینہ میں بعض مسلمان ایسے تھے جو بڑے بڑے منافقین کی محفلوں میں بیٹھتے تھے اور یہ منافقین بڑے بااثر تھے ۔ حضور ﷺ کی ہجرت کے بعد بھی ان کو معاشرے میں اثر ورسوخ حاصل تھا ۔ اس لئے قرآن کریم نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ ایسی مجالس میں جانا اور پھر ان مجالس میں جو گفتگوئیں اسلام کے خلاف چلتی ہیں ان کی خاموشی سے سنتے چلے جانا ‘ شکست کا پہلا مرحلہ ہے ۔ چناچہ حکم دیا گیا کہ مسلمان ان مجالس سے باز آجائیں لیکن حالات ایسے نہ تھے کہ قرآن ایسی مجالس میں بیٹھنے سے مطلقا روک دیتا اس لئے یہاں صرف یہ حکم دیا گیا کہ جب اللہ کی آیات کا انکار کیا جارہا ہو اور ان کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہو تو مسلمانوں کو ان کا بائیکاٹ کردینا چاہئے ۔ اگر اس صورتحال میں بھی ایک مسلم شریک ہوتا ہے تو وہ منافق ہے ۔ (آیت) ” وقد نزل علیکم فی الکتب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا فلا تعقدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “۔ (4 : 140) (اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں ۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو ۔ یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کی جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے ۔ ) یہاں الکتاب کا جو ریفرنس دیا گیا ہے ۔ وہ سورة انعام کی یہ آیت ہے ۔ (آیت) ” واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ) یہاں جو سخت بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ (آیت) ” انکم اذا مثلھم) (اب اگر تم ایسا کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو) اور اس کے بعد جو سخت وعید آتی ہے وہ ایسی ہے کہ جو بات کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ جامع المنفقین والکفرین فی جھنم جمیعا “ (4 : 140) (یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے) لیکن صرف ان مجالس سے منع کیا گیا ہے جن میں آیات الہی کا کفر کیا جارہا ہے ۔ ان کے ساتھ مذاق کیا جارہا ہو اور اس وقت جماعت مسلمہ جن حالات سے گزر رہی تھی اللہ نے ان حالات میں مکمل بائیکاٹ کا حکم نہیں دیا ۔ ایسے حالات دوسرے معاشروں اور آنے والی نسلوں میں بھی پیش آسکتے ہیں اور اسلامی نظام حیات کا طریقہ کار بھی یہی ہے کہ وہ اگر کوئی تحریک برپا کرتا ہے تو اسے نہایت ہی حکمت اور تدریج کے ساتھ لیتا ہے ۔ وہ معاشرے کے اندر پائے جانے والے حالات ‘ واقعی صورت حال اور لوگوں کے افکار وخیالات کو مدنظر رکھتا ہے لیکن ہدف یہی ہوتا ہے کہ اس واقعی صورت حال کو تبدیل کرکے چھوڑا جائے گا اور اس سمت پر مسلسل آگے بڑھا جائے گا ۔ اس کے بعد منافقین کے کچھ خدوخال بیان کئے جاتے ہیں ۔ یہاں منافقین کی بہت ہی بھونڈی صورت حال کی سینری (OilpAinting) بنائی جاتی ہے کہ وہ جب مسلمانوں کے ہاں کھڑے ہوں تو ان کے چہرے کے خدوخال دوسرے ہوتے ہیں اور اس سینری میں جب وہ منافقین کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں تو ان کے چہرے کے خدوخال بالکل دوسرے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی عجیب حالت بنا رکھی ہے ۔ وہ کیڑے مکوڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے چلتے ہیں ۔ نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے ۔ (آیت) ” الذی یتربصون بکم فان کان لکم فتح من اللہ قالوا الم نکن معکم وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ ولن یجعل اللہ للکفرین علی المؤمنین سبیلا (4 : 141) (یہ منافق تمہارے معاملے میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا ؟ بس اللہ ہی تمہارے اور انکے معاملے کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلے میں) اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہر گز کوئی سبیل نہیں رکھی ۔ ) یہ عجیب تصویر اور سینری ہے ۔ اس میں دکھایا جاتا ہے کہ منافقین مسلمانوں کے خلاف کس قدر گہری چال چل رہے ہیں اور کس قدر برے ارادے ہیں ان کے ۔ وہ ہر وقت اس گھڑی کے انتظار مین ہیں کہ اہل اسلام پر کوئی مصیبت آئے ۔ لیکن بظاہر وہ مسلمانوں کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو فتح نصیب ہو اور کوئی غنیمت ملے تو وہ اس وقت کہیں گے ۔ (الم نکن معکم (4 : 141) (کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے) اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ ہم جنگ کے موقعہ میں تمہارے ساتھ تھے ۔ اس لئے کہ منافقین کبھی کبھار مسلمانوں کی صفوں میں جا کر اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھتے تھے یا اس سے مراد یہ ہے کہ ہم کہیں گے کہ ہم بھی تمہارے حامی اور ناصر تھے ۔ اور اگر جنگ پر نہ گئے تو پشت پر تمہارے ہی مددگار تھے ۔ (آیت) ” وان کان للکفرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم ونمنعکم من المومنین (4 : 141) (اگر کافروں کا پلہ بھاری رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا) ان کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان سے تعاون کیا ‘ امداد کی اور ان کی پشتیبانی کی اور مسلمانوں کے ساتھ سچ نہ کہا اور مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی اور افراتفری پیدا کی ۔ اس طرح یہ لوگ کیڑوں اور سانپوں کی طرح پہلو بدلتے تھے اور ان کے دلوں میں اسلام کے خلاف زہر بھرا ہوا تھا ۔ ان کے منہ میں چکنی چپڑی باتیں تھیں لیکن یہ کمزور کردار کے لوگ تھے ۔ ان کی اس سینری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نہایت ہی خستہ حال اور بدشکل ہیں اور ان کو اہل ایمان نظر انداز کر رہے ہیں ۔ اہل ایمان کی روح کے لئے اسلامی نظام حیات کی یہ پہلی جھلکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نگرانی اور ہدایت کے زیر سایہ منافقین کے ساتھ حضور ﷺ کا منصوبہ یہ تھا کہ ان کے ساتھ چشم پوشی اور نرمی کا رویہ اختیار کیا جائے اور اہل اسلام کو ان کے مقابلے میں متنبہ اور خبردار کردیا جائے ، ان کو ان کے اصل عزائم سے آگاہ کردیا جائے اور اس طرح ان کو زہر کا میٹھا پیالہ پلایا جائے اسی لئے ان کی سزا کے لئے یہ کہا جاتا ہے سزا دہی میں شتابی نہ کرو ‘ ان کا فیصلہ اللہ آخرت میں کرے گا ۔ (فاللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ) (4 : 141) ”(اللہ انکا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا) جہاں کوئی سازش نہ چلے گی ‘ جہاں کوئی عیاری اور مکاری کام نہ دے گی اور جہاں کوئی شخص بات دل میں نہ چھپا سکے گا ۔ اس موقعہ پر اہل ایمان کے ساتھ بھی ایک قطعی وعدہ کرکے ان کو مطمئن کردیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کو مکاری اور عیاری کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ اور اس کے ذریعے اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور کافروں کے ساتھ ان کی سازش ان کو کوئی فائدہ نہ دے گی ۔ اللہ کی سنت یہ ہے کہ اس نے کافروں اور منافقوں کے لئے یہ لکھا ہی نہیں ہے کہ وہ اہل ایمان پر غالب ہوں۔ (آیت) ” ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا) (4 : 141) ”(اور اللہ نے کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی سبیل نہیں رکھی) بعض روایات میں آتا ہے کہ اس آیت میں کافروں کے غلبے سے مراد قیامت کے روز غلبہ ہے جہاں اللہ اہل ایمان اور منافقین وکافرین کے درمیان فیصلہ کرے گا اور مومنین کے بارے میں اچھا فیصلہ ہوگا ۔ لیکن ایک دوسری روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ اس سے مراد کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کافروں کو اس طرح غلبہ نہیں دے گا کہ کافر انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اگرچہ بعض معرکوں اور بعض علاقوں میں ان کو غلبہ نصیب ہو سکتا ہے ۔ اس آیت کو اگر دنیا اور آخرت دونوں کے لئے لیا جائے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس لئے کہ اس میں کوئی اخروی تحدید و تخصیص نہیں ہے ۔ اگر اس سے اخروی کامیابی لی جائے تو پھر اس میں تو کوئی شک وشبہ ہی نہیں ہے ۔ البتہ اگر دنیاوی غلبہ لیا جائے تو اس میں بعض اوقات اشکال پیش آسکتے ہیں اور غلط فہمی بھی لاحق ہو سکتی ہے جس کی تشریح کی ضرورت ہے ۔ یہ اللہ کا ایک قطعی وعدہ ہے اور اللہ کا ایک جامع حکم ہے ۔ جب اہل ایمان کے دلوں میں ایمان کی حقیقت بیٹھ جائے اور ان کی زندگی کی اصل صورت حال میں اس حقیقت کا ظہور ہوجائے ‘ اور پھر یہ حقیقت ان کے لئے نظام زندگی بن جائے اور اس کے اوپر نظام حکومت قائم ہوجائے اور ان کی ہر حرکت اور ہر سوچ اللہ کے لئے ہوجائے اور وہ چھوٹے اور بڑے سب امور میں اللہ کے بندے بن جائیں تو پھر کافروں کو مسلمانوں پر غالب آنے کی کوئی صورت سنت الہی میں نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کے خلاف تاریخ اسلامی میں کوئی ایک واقعہ بھی بطور مثال پیش کیا جاسکتا ۔ میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ اللہ کے اس وعدے کے بارے میں کوئی شک نہیں ہوسکتا ۔ صحیح اہل ایمان کو کبھی شکست نہیں ہو سکتی ۔ اور ان کو تاریخ میں کبھی بھی ایسی کسی شکست سے دور چار ہونا نہیں پڑا ۔ اور جب کبھی بھی ایسا ہوا ہے تو صرف اس وقت جب ان کے ایمان میں کمزوری ہوئی ہے ۔ یا تو شعوری طور پر ایمان کمزور ہوا ہے یا عقیدے میں کمزوری پائی گئی ہے یا پھر عمل میں کوئی نہ کوئی کمزوری رہی ہے ۔ یاد رہی ہے ۔ یاد رہے کہ ایمان کا یہ مطالبہ ہے کہ اہل ایمان ہر وقت جہاد کے لئے تیار رہیں اور یہ جہاد بھی خالصتا فی سبیل اللہ ہو اور اس میں کوئی اور مقصد پیش نظر نہ ہو ۔ اور اگر اس میں کوئی لوپ ہول ہو تو پھر اس کمزوری کے مطابق ہی شکست ہوتی رہتی ہے ۔ لیکن جونہی اہل ایمان ‘ ایمان وعمل سے یہ کمزوری دور کرلیں ‘ فتح و کامرانی پھر انکے قدم چومتی ہے ۔ دیکھئے احد میں کمزوری یہ تھی کہ تیر اندازوں نے حضور ﷺ کی اطاعت کے بجائے آپ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا اور اس کی وجہ صرف مال غنیمت کا لالچ تھا ۔ اور جنگ حنین میں کمزوری تھی کہ مسلمانوں کو اپنی کثرت پر ناز ہوگیا اور وہ اپنی قوت کے اصل سرچشمے کو پیش نظر نہ رکھ سکے ۔ اگر ہم اپنی پوری تاریخ میں ہر اس واقعے کا تجزیہ کریں جس میں ہمیں شکست ہوئی تو معلوم ہوگا کہ وہاں اس قسم کی کوتاہیوں میں سے کوئی نہ کوئی کوتاہی تھی ۔ اگر کہیں کوتاہی نظر نہ آئے تو یہ ہماری فہم کا قصور ہوگا ۔ رہا اللہ کا یہ وعدہ تو وہ دنیا واخرت دونوں میں برحق ہے ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ بعض اوقات ابتلاء محض حکمت خداوندی کی وجہ سے ہوتی ہے اس میں حکمت یہ ہوتی ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کے تقاضے میں عائد ہونے والے لازمی اعمال میں اپنی کمزوریوں کا اچھی طرح احساس کرلیں ۔ جیسا کہ احد میں پیش آیا اور اس پر اللہ نے طویل تبصرہ فرمایا ۔ اور جب اس ابتلاء کی وجہ سے حقیقت ایمان لازمی اعمال اور تیاریاں درست ہوگئیں تو اللہ کی مدد آپہنچی اور نصرت سامنے آگئی ‘ بالکل کھلی نصرت ۔ رہا یہ کہ ہزیمت سے مراد وہ ہزیمت ہے جو کسی ایک معرکے اور جھڑپ میں ہزیمت نہیں ہیں ۔ اس کے معنی بھی بہت ہی وسیع ہیں ۔ اس سے مراد روحانی شکست ہے عزم کا ٹوٹ جانا ہے ۔ کسی معرکے میں شکست تب تسلیم ہوگی جب اس کے زیر اثر شکست خورد وجماعت کی ہمت ٹوٹ جائے اور وہ تھک ہار کر بیٹھ جائے ۔ لیکن اگر وہ اپنے اندر از سر نو ہمت تازہ پیدا کرلے ‘ از سر نو مشعل روشن کرلے اور اپنی کمزوری کے مقامات تلاش کرلے اور اسے معلوم ہوجائے کہ اس معرکے کا مزاج کیا ہے ‘ اس نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے ‘ اور اس راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں تو فتح ونصرت کے لئے یہ شکست ایک تمہید ہوگی اگرچہ راہ طویل ہوجائے ۔ جب اس آیت میں یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اہل کفر کے غلبے کی کوئی صورت ہی نہیں رکھی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن روحانی طور پر غالب ہوتا ہے اور فتح تبھی ہوتی ہے جب روح اور ایمان غالب ہوں ۔ فتح دراصل افکار مومنانہ کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دعوت دیتا ہے کہ اپنے شعور اور تصور کے اعتبار سے وہ کامل اور مکمل مومن ہوں ۔ اپنی عملی زندگی میں وہ برتر اور کامل ہوں ۔ ان کا عمل وکردار برتر ہو اور ان کا اعتماد صرف عنوان پر ہی نہ ہو ۔ اس لئے کہ نصرت صرف نام اور عنوان کو نہیں ملتی بلکہ نام اور عنوان کے پیچھے جو حقیقت ہوتی ہے فتح اسے نصیب ہوتی ہے ۔ ہماری فتح اور شکست کے لئے صرف ایک ہی شرط ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ ہم حقیقت ایمان کو مکمل کریں اور اس کے بعد اس حقیقت ایمانیہ کے تقاضے میں جو عملی زندگی میں تبدیلیاں لانی ہیں وہ لائیں ۔ حقیقت ایمان یہ ہے کہ ہم پوری طرح تیاری کریں اور سامان جنگ اور تجربہ جنگ سے لیس ہوں ۔ ایمان کی حقیقت کی تکمیل میں یہ بات بھی ہے کہ ہم دشمنوں کے آگے ہر گز نہ جھکیں اور عزت کے طلبگار صرف اللہ سے ہوں ۔ اللہ کا یہ مؤکد وعدہ پوری طرح حقیقت ایمانیہ کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے اور اس طرح حقیقت کفر کے ساتھ بھی یہی وعدہ ہے ۔ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کا رابطہ اس عظیم قوت سے ہوجائے جو نہ کمزور پڑتی ہے اور نہ ضعیف ہوتی ہے ۔ کفر کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی اس عظیم قوت سے اپنا رابطہ کاٹ دے ۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ محدود ‘ ٹوٹی پھوٹی یکہ و تنہا قوت ایک ایسی قوت پر غالب آجائے جو لاحمدود ہو ‘ جو اپنے سرچشمہ قوت سے مربوط ہو اور جو قوت اس پوری کائنات کی قوت ہے ۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ حقیقت ایمان اور محض مظہر ایمان میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ حقیقت ایمانیہ تو وہ قوت ہے جو ٹھوس ہے ‘ اور اس طرح مستحکم اور اٹل ہے جس طرح اس کائنات کے قوانین طبیعی ٹھوس اور اٹل ہیں ۔ اور وہ حقیقت ایمانی حضرت انسان کی شخصیت پر مکمل کنڑول رکھتی ہے اور اس کی ہر حرکت پراثر انداز ہوتی ہے ۔ یہ ایک عظیم حقیقت ہوتی ہے اور وہ اس بات کی ضامن ہوتی ہے کہ جب اس کا سامنا کفر کی قوت کے ساتھ ہو جو یکہ و تنہا ہوتی ہے ‘ جو حقیقی منبع قوت سے کٹی ہوئی ہوتی ہے اور محدود ہوتی ہے تو یہ ایمانی حقیقت ‘ حقیقت کفر پر غالب آجاتی ہے ۔ لیکن ایمان اگر حقیقت نہ ہو محض صورت ہو تو اس صورت پر کفر غالب آسکتا ہے جبکہ کفر اپنی حقیقت کے اندر فعال ہو اور کفر اپنے حقیقت کفر میں مخلص ہو محض صورت نہ ہو اس لئے کہ کسی بھی چیز کی حقیقت محض صورت کے مقابلے میں بھاری ہوتی ہے اگرچہ ایک صورت ایمان اور دوسری طرف صورت کفر ہو ۔ اللہ کے ہاں باطل کو مغلوب کرنے اصول یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں حق اور سچائی اٹھے اور جب سچائی اپنی حقیقت کے اعتبار سے موجود ہو تو پھر سچائی اور باطل کے درمیان کشمکش کا فیصلہ اسی وقت ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ باطل بظاہر بہت ہی بڑا اور عظیم نظر آئے اور آنکھوں کو چکا چوند کرنے والا ہو ۔ (آیت) ” بل نقذف بالحق علی الباطل فاذا ھی یدمغہ ما ذا ھو زاھق) (بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینکتے ہیں اور وہ باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اور وہ اچانک زائل ہوجاتا ہے) صدق اللہ العظیم ( اور اللہ نے کافروں کے لئے مومنین پر غلبے کی کوئی صورت نہیں رکھی ہے) اس قطعی اور فیصلہ کن وعدے کے بعد کہ کافر مومنین پر غالب و برتر نہیں ہو سکتے اور منافقوں کو جو کافروں کے ساتھ دوست کرتے ہیں اور جو کافروں کے ہاں عزت ڈھونڈتے ہیں اللہ تعالیٰ منافقین کی ایک دوسری تصویر پیش کرتا ہے اور اس تصویر کے ساتھ ان کی سبکی اور ان کی گوشمالی بھی ہے ۔ (آیت) ” ان النمنفقین یخدعون اللہ وھو خادعھم واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (142) مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (143) (4 : 142۔ 143) ( یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے ۔ جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) اسلامی نظام کی جھلکیوں میں سے یہ ایک اور جھلکی مومن دلوں کو دکھائی جارہی ہے کہ اللہ تو کسی کو دھوکہ نہیں دیتا ‘ اس لئے کہ اللہ تو دل کے رازوں کو بھی جانتا ہے اور جو شخص اللہ کو دھوکہ دینے کی جرات کرتا ہے وہ بہرحال ایک ، احمق ‘ جاہل اور نہایت ہی بدفطرت شخص ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایسے لوگوں کو نہایت ہی حقیر ‘ قابل نفرت اور گھٹیا قرار دیا جارہا ہے ۔ اس جھلکی اور ٹچ کے بعد یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ بھی ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رہا ہے ‘ انہیں مہلت دے رہا ہے اور گمراہی کی حالت ہی میں انہوں چھوڑ دیا ہے ۔ ان پر کوئی ایسی مصیبت نہیں لا رہا ہے جس سے وہ متنبہ ہو کر راہ راست پر آجائیں اور نہ ایسی کھٹک سے انہیں دو چار کر رہا ہے جس سے متنبہ ہو کر ان لوگوں کی آنکھیں کھل جائیں ۔ اللہ انہیں کھلی چھٹی دے رہا ہے کہ وہ اس راستے پر چلتے رہیں جس میں گڑھے ہیں تاکہ یہ لوگ ان میں گرجائیں ۔ یہ ہے وہ خدع جو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ حادثات اور مشقتیں بعض اوقات اللہ کی رحمت بن کر آتی ہیں ۔ جب بعض بندوں پر مصیبتیں آتی ہیں تو وہ راہ خطا سے باز آجاتے ہیں اور انہیں وہ راز معلوم ہوجاتے ہیں جن کا پہلے انہیں کوئی علم و شعور نہیں ہوتا ۔ اور بعض اوقات امن و عافیت انسان کے لئے اللہ کی جانب سے مہلت ہوتی ہے اور گناہگار بری راہ پر مزید آگے بڑھ جاتے ہیں اس لئے کہ یہ لوگ گناہ اور گمراہی کی راہ میں اس قدر آگے جا چکے ہوتے ہیں کہ اللہ انہیں عافیت دے کر مزید آگے جانے دیتے ہیں یہاں تک کہ وہ برے انجام تک جا پہنچتے ہیں ۔ اب بات ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور ان کی اس کریمہ المنظر تصویر میں کچھ اور دھبے دکھائی دیتے ہیں۔ (آیت) ” واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی یراؤن الناس ولا یذکرون اللہ الاقلیلا (4 : 142) (جب یہ نماز کے لئے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں ۔ ) وہ نماز کے لئے اس لئے نہیں اٹھتے کہ انہیں اللہ سے ملاقات کرنے کا شوق ہوتا ہے ‘ وہ اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑے ہونا چاہتے ہیں ‘ اللہ کے ساتھ جڑنا چاہتے ہیں اور اللہ سے مدد لینا چاہتے ہیں ۔ یہ صرف لوگوں کو دکھانے کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ نماز کی طرف نہایت ہی بوجھل قدموں سے اٹھتے ہیں ‘ مثلا جیسے کوئی شخص کسی بھاری کام کے لئے اٹھ رہا ہو ‘ یا اسے کسی بیگار کے لئے بلایا جارہا ہو اور ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کو یاد نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو یاد کرتے ہیں ۔ وہ اللہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے بلکہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ بیشک مومنین کی نظر میں ان کی یہ نہایت ہی کریہہ المنظر صورت ہے ۔ اس نے ان کی نظروں میں حقارت اور ناپسندیدگی کے جذبات پیدا کردیئے ہیں اور ان جذبات اور اس سوچ کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان بعد پیدا ہوجاتا ہے ۔ ذاتی اور مفاداتی تعلقات کمزور پڑتے ہیں اور اہل ایمان اور اہل نفاق کے درمیان مکمل بائیکاٹ کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہے اور اسلامی منہاج تربیت امت مسلمہ کو اس کی طرف بڑھا رہا ہے ۔ ذرا مزید خدوخال اور دھبے دیکھئے : (آیت) ” مذبذبین بین ذالک لا الی ھولآء ولا الی ھولاء ومن یضلل فلن تجدلہ سبیلا (4 : 143) (کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں ۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لئے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ ) ان کا موقف مذبذب اور ڈانوا ڈول ہے ۔ وہ کسی ایک قطار میں ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے ۔ نہ مومنین کی صفت میں ہیں اور نہ کافروں کی صف میں ۔ یہ ایسا موقف ہے جو ایمان دلوں میں کوئی جذبہ ماسوائے حقارت اور کراہت کے پیدا ہی نہیں کرتا ۔ اس سے اہل نفاق کی ذاتی کمزوری بھی سامنے آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کوئی دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف اختیار نہیں کرتے اور نہ ہی وہ علی الاعلان کسی عقیدے اور رائے کا اظہار کرسکتے ہیں ۔ نہ ادھر کے اور نہ ادھرکے ۔ اب اس بدنما تصویر اور اس عاجزانہ موقف کا اختتامیہ یہ آتا ہے کہ ان لوگوں پر اللہ کا فیصلہ قطعی ہوچکا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ راہ ہدایت کے حصول میں ان کے ساتھ کوئی معاونت نہ کرے ۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی انہیں راہ ہدایت پر نہیں لا سکتا اور نہ ان کے لئے کوئی راہ ہدایت تلاش کرسکتا ہے ۔ (آیت) ” یضلل اللہ فلن تجدلہ سبیلا “۔ (4 : 143) یہاں تک قرآن کریم نے اہل ایمان کے دلوں میں منافقین کے خلاف کراہت اور حقارت کے جذبات پیدا کرکے ان کو ب اور کرایا کہ وہ بہت ہی کمزور لوگ ہیں ۔ یہ مقصد اچھی طرح حاصل کرنے کے بعد اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ کہیں تم بھی اہل نفاق کی راہ پر نہ چل نکلو اور اہل نفاق کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کفار کے ساتھ دوستی کرتے تھے جبکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی دوستی نہ کرتے تھے ۔ اللہ مومنین کو پنی پکڑ سے ڈراتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ منافقین کے اخروی انجام کی ایک جھلک دکھا کر ان کو ڈراتے ہیں ۔ یہ جھلک نہایت ہی خوفناک ہے اور نہایت ہی ذلت آمیز ہے ۔

النساء 4:144

(آیت) ” نمبر 144 تا 147۔ یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔ اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مدینہ میں سماجی تعلقات موجود تھے اور بعض مسلمانوں اور کفار اہل قریش کے درمیان بھی بدستور تعلقات موجود تھے اگرچہ یہ تعلقات محض دینی طور پر ہوں ۔ ہم نے بعض مسلمانوں کا اس لئے کہا ہے کہ بعض نے تو از خود اہل جاہلیت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات توڑ لئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آباء اور ابناء کو بھی چھوڑ دیا تھا اور صرف اسلامی برداری تک اپنے آپ کو محدود کرلیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی تھی ۔ اور یہی وہ بعض لوگ تھے جن کو متنبہ کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ تعلق رکھنا گویا نفاق کی راہ ہے اور یہ تنبیہ اس وقت کی گئی جب یہ کہ دیا گیا کہ یہ ہے تصویر ان منافقین کی ۔ اور ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو اللہ کے غصب اور انجام بد سے نہ بچ سکو گے ۔ (آیت) ” اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا (4 : 144) ( کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ) اہل ایمان کا دل تو اللہ کی پکڑ کی دھمکی اور اس کے عذاب کے اشارے ہی سے کانپ اٹھتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں بشکل استفہام ان کو متنبہ کیا گیا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اپنے خلاف حجت قائم نہ کرو ۔ ایک بار پھر جھنجوڑا جاتا ہے ۔ لیکن بالواسطہ یعنی منافقین کے انجام بد کو دوبارہ دہرا کر کہ قیامت کے دن حال یہ ہوگا اور کس قدر خوفناک ہوگا ۔ (آیت) ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ولن تجدلھم نصیرا “۔ (4 : 145) ( یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے) درک اسفل یعنی سب سے نچلا طبقہ ‘ یہ اس صورت حال سے زیادہ مناسب ہے کہ دنیا میں وہز میں کی آلائشوں کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے ‘ اور سب سے نیچے تھے ‘ اس طرح وہ قیامت میں بھی سب سے نیچے ہوں گے ۔ دنیا میں بھی انہوں نے رفعت اور بلندی درجات حاصل نہ کی لہذا وہاں بھی ان کا یہی حال ہوگا یہ لوگ طمع ‘ لالچ ‘ ضعف اور حیرانی کا شکار تھے ‘ اور اسی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی کرتے تھے اور انہوں نے یہ توہین آمیز موقف اختیار کیا ہوا تھا کہ نہ ادھر کے تھے اور نہ ادھر کے ۔ دنیا میں اس انجام بد کے لئے انہوں نے کام کیا ۔ آج وہ سب سے نچلے درجے میں ہیں ۔ اب یہاں ان کا کوئی یارومدگار نہیں ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ دوستی وہ مدد اور نصرت کی خاطر ہی تو کرتے تھے لیکن اب یہ لوگ کہاں مدد کرسکتے ہیں ۔ ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ان کے لئے موقع ہے کہ وہ باز آکر اخروی نجات حاصل کرلیں۔ (آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو واعتصموا باللہ واخلصوا دینھم للہ فاولئک مع المومنین وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیں ‘ ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر دیگا) دوسری جگہوں پر صرف اس قدر کہا گیا تھا ۔ (آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو (4 : 146) اس لئے کہ توبہ اور اصلاح پذیری کے ضمن میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا جائے اور دین اللہ کے لئے خالص ہوجائے ۔ لیکن یہاں توبہ ‘ اصلاح اور اعتصام باللہ اور اخلاص دین کا بھی ذکر کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہاں بات ان لوگوں سے ہو رہی تھی جو مذبذب تھے ‘ منافق تھے ‘ اور اللہ کے سوا اور لوگوں کے دوست تھے ۔ چناچہ یہاں توبہ واصلاح کے ساتھ خلوص دین اور اعتصام باللہ کا ذکر کیا گیا تاکہ یہ لوگ ڈانو ڈول ایمان اور بودے کردار سے باز آجائیں ۔ اس طرح اعتصام باللہ سے انہیں قوت ملے گی اور اخلاص سے انہیں نیت کی صفائی ملے گی ۔ وہ دنیا میں بداعمالی کی گراٹوں اور آخرت میں آگ کے درجہ اسفل سے نجات پالیں گے ۔ دنیا میں توبہ کرنے والے لوگ مسلمانوں اور صرف اللہ کی درگاہ سے عزت طلب کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے اور وہ دنیا اور زمین کی آلودگیوں سے ایمان کی قوت کے ذریعے پاک وصاف ہوکر بلند ہوں گے ۔ اور ایسے لوگوں کی جزاء کیا ہے ۔ (آیت) ” وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) (اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا) ان جھلکیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلامی معاشرے میں منافقین کی حقیقت کو واضح فرماتے ہیں ۔ انکی شان گرتی ہے ۔ اہل ایمان کو نفاق کی لغزشوں سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔ انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے ۔ منافقین کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ ان میں سے جس کے اندر شمہ برابر خیر بھی ہو وہ اسلامی صفوں میں شامل ہوجائے ‘ نہایت سچائی اور نہایت اخلاص کے ساتھ ۔ اور سب سے آخر میں ایک عجیب جھلکی دکھائی جاتی ہے جس کا اثر نہایت ہی گہرا ہے ۔ خوفناک عذاب کے ذکر کے بعد اور عظیم اجر کے اعلان کے بعد تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ بندوں کے عذاب سے غنی ہے ۔ اللہ کو ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ انہیں عذاب دے ۔ اور نہ اس تعذیب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنی قوت کا اظہار چاہتا ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے اندر ایسی کوئی خواہش ہے کہ وہ لوگوں کو تکلیف دے جیسا کہ بت پرستانہ تصورات میں ایسی باتیں پائی جاتی ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ ایمان اور شکر خداوندی کے ذریعے لوگوں کی اصلاح ہو ۔ ایمان اور شکر ان کو محبوب ہو اور اللہ وہ ذات ہے جو نیک اعمال کا بدلہ دیتا ہے اور تمام خفیہ باتوں سے واقف ہے ۔ (آیت) ” ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم وکان اللہ شاکرا علیما (4 : 147) (آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے ۔ اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روشن پر چلو ۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے) اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو تو اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمہیں عذاب دے ۔ اللہ تو کفر اور نافرمانی پر سزا دیتا ہے ۔ یہ ایسی تہدید ہے جو لوگوں کو ایمان اور شکر پر آمادہ کرسکتی ہے ۔ اللہ کو نہ انتقام کا کوئی داعیہ ہے اور نہ تعذیب میں کوئی مزہ آتا ہے ۔ نہ اللہ اس طریق کا کے مطابق اپنی قوت اور سلطنت کا اظہار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بہت ہی بلند ہے ‘ اگر تم ایمان لاؤ اور شکر کرو تو یہ اللہ کے ہاں موجب مغفرت اور رضا مندی ہے ۔ اللہ کی جانب سے بندوں کا شکریہ ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو دل پر گہرا اثر کرتی ہے ۔ یہ معلوم ہے کہ اللہ کی جانب سے شکر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ راضی ہے ۔ اور رضا مندی کا لازمی نتیجہ ثواب دارین ہے ۔ لیکن یہ تعبیر کہ اللہ شکر کرتا ہے نہایت ہی گہری اور اشاراتی تعبیر ہے ۔ اگر وہ ذات جو خالق ہے ‘ برتر ہے ‘ دونوں جہانوں سے بےنیاز ہے ‘ بندوں کا شکر ادا کرتا ہے اس بات پر کہ یہ بندے نیک ہوگئے ہیں ‘ اچھے مومن ہیں شکر بجا لانے والے ہیں اور اللہ کے احسانات کو ماننے والے ہیں ۔ حالانکہ وہ غنی بادشاہ ہے اور اس کو بندوں کے شکر ‘ احسان مندی اور صلاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر اس جہان کا پیدا کرنے والا ‘ وجود میں لانے والا ‘ برتر اور غنی بادشاہ اگر شکر بجا لاتا ہے تو پھر بندوں کا کیا فرض بنتا ہے جو مخلوق بھی ہیں اور ان پر رات دن انعامات کی بارش ہو رہی ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے بندوں کو اپنے خالق کا وفادار ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔ بیشک یہ ایک نہایت ہی شرمسار کنندہ جھلکی ہے اور بندہ مومن ایک گہرا تاثر لے کر شکر نعمت کے لئے اٹھتا ہے ۔ یہ ایک روشن اشارہ ہے جو نشانات منزل متعین کرتا ہے ۔ وہ منزل جو اللہ تک جاتی ہے ‘ جو بخشندہ ‘ منعم ‘ شاکر اور علیم ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم کے تیس پاروں میں سے ایک پارہ ۔ اور یہ اپنے دونوں بازوؤں کے نیچے اصلاح نظر ثانی ‘ درستی اور پاکیزگی پر مشتمل ہدایات کا ایک عظیم ذخیرہ لئے ہوئے ہے ۔ اس میں عالم نفس کی اصلاح ‘ اسلامی معاشرے کی اصلاح ‘ نظام حیات کی اصلاح اور دوسری تعمیری ہدایات ہیں جو اس کے طول و عرف میں پیوستہ ہیں ۔ ان ہدایات کے اندر انسان کو بالکل ایک نیا جنم دیا گیا ہے اور ایک ایسا انسان وجود میں لایا گیا ہے کہ جس کی مثال انسانیت نے نہ پہلے کبھی دیکھی تھی اور نہ بعد میں دیکھی ۔ حقیقت پسند مثالی انسان نظافت اور تطہیر میں مثالی ۔ ایک ایسا انسان جو زندگی کے مختلف میدانوں میں کام کرتا ہے اور یہ ایک ایسا انسان ہے جسے اسلامی زندگی نے جاہلیت کے گہرے گڑھوں سے نکال کر نہایت ہی عمودی بلندی پر سربلند کیا اور اعلی ترین بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ نہایت ہی آسانی کے ساتھ ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ اور نہایت ہی ہمدردی کے ساتھ ۔ (اسلام آباد ‘ 17 دسمبر 1989 ء رات 55 :، 1)

النساء 4:145

(آیت) ” نمبر 144 تا 147۔ یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔ اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مدینہ میں سماجی تعلقات موجود تھے اور بعض مسلمانوں اور کفار اہل قریش کے درمیان بھی بدستور تعلقات موجود تھے اگرچہ یہ تعلقات محض دینی طور پر ہوں ۔ ہم نے بعض مسلمانوں کا اس لئے کہا ہے کہ بعض نے تو از خود اہل جاہلیت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات توڑ لئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آباء اور ابناء کو بھی چھوڑ دیا تھا اور صرف اسلامی برداری تک اپنے آپ کو محدود کرلیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی تھی ۔ اور یہی وہ بعض لوگ تھے جن کو متنبہ کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ تعلق رکھنا گویا نفاق کی راہ ہے اور یہ تنبیہ اس وقت کی گئی جب یہ کہ دیا گیا کہ یہ ہے تصویر ان منافقین کی ۔ اور ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو اللہ کے غصب اور انجام بد سے نہ بچ سکو گے ۔ (آیت) ” اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا (4 : 144) ( کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ) اہل ایمان کا دل تو اللہ کی پکڑ کی دھمکی اور اس کے عذاب کے اشارے ہی سے کانپ اٹھتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں بشکل استفہام ان کو متنبہ کیا گیا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اپنے خلاف حجت قائم نہ کرو ۔ ایک بار پھر جھنجوڑا جاتا ہے ۔ لیکن بالواسطہ یعنی منافقین کے انجام بد کو دوبارہ دہرا کر کہ قیامت کے دن حال یہ ہوگا اور کس قدر خوفناک ہوگا ۔ (آیت) ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ولن تجدلھم نصیرا “۔ (4 : 145) ( یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے) درک اسفل یعنی سب سے نچلا طبقہ ‘ یہ اس صورت حال سے زیادہ مناسب ہے کہ دنیا میں وہز میں کی آلائشوں کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے ‘ اور سب سے نیچے تھے ‘ اس طرح وہ قیامت میں بھی سب سے نیچے ہوں گے ۔ دنیا میں بھی انہوں نے رفعت اور بلندی درجات حاصل نہ کی لہذا وہاں بھی ان کا یہی حال ہوگا یہ لوگ طمع ‘ لالچ ‘ ضعف اور حیرانی کا شکار تھے ‘ اور اسی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی کرتے تھے اور انہوں نے یہ توہین آمیز موقف اختیار کیا ہوا تھا کہ نہ ادھر کے تھے اور نہ ادھر کے ۔ دنیا میں اس انجام بد کے لئے انہوں نے کام کیا ۔ آج وہ سب سے نچلے درجے میں ہیں ۔ اب یہاں ان کا کوئی یارومدگار نہیں ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ دوستی وہ مدد اور نصرت کی خاطر ہی تو کرتے تھے لیکن اب یہ لوگ کہاں مدد کرسکتے ہیں ۔ ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ان کے لئے موقع ہے کہ وہ باز آکر اخروی نجات حاصل کرلیں۔ (آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو واعتصموا باللہ واخلصوا دینھم للہ فاولئک مع المومنین وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیں ‘ ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر دیگا) دوسری جگہوں پر صرف اس قدر کہا گیا تھا ۔ (آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو (4 : 146) اس لئے کہ توبہ اور اصلاح پذیری کے ضمن میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا جائے اور دین اللہ کے لئے خالص ہوجائے ۔ لیکن یہاں توبہ ‘ اصلاح اور اعتصام باللہ اور اخلاص دین کا بھی ذکر کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہاں بات ان لوگوں سے ہو رہی تھی جو مذبذب تھے ‘ منافق تھے ‘ اور اللہ کے سوا اور لوگوں کے دوست تھے ۔ چناچہ یہاں توبہ واصلاح کے ساتھ خلوص دین اور اعتصام باللہ کا ذکر کیا گیا تاکہ یہ لوگ ڈانو ڈول ایمان اور بودے کردار سے باز آجائیں ۔ اس طرح اعتصام باللہ سے انہیں قوت ملے گی اور اخلاص سے انہیں نیت کی صفائی ملے گی ۔ وہ دنیا میں بداعمالی کی گراٹوں اور آخرت میں آگ کے درجہ اسفل سے نجات پالیں گے ۔ دنیا میں توبہ کرنے والے لوگ مسلمانوں اور صرف اللہ کی درگاہ سے عزت طلب کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے اور وہ دنیا اور زمین کی آلودگیوں سے ایمان کی قوت کے ذریعے پاک وصاف ہوکر بلند ہوں گے ۔ اور ایسے لوگوں کی جزاء کیا ہے ۔ (آیت) ” وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) (اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا) ان جھلکیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلامی معاشرے میں منافقین کی حقیقت کو واضح فرماتے ہیں ۔ انکی شان گرتی ہے ۔ اہل ایمان کو نفاق کی لغزشوں سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔ انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے ۔ منافقین کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ ان میں سے جس کے اندر شمہ برابر خیر بھی ہو وہ اسلامی صفوں میں شامل ہوجائے ‘ نہایت سچائی اور نہایت اخلاص کے ساتھ ۔ اور سب سے آخر میں ایک عجیب جھلکی دکھائی جاتی ہے جس کا اثر نہایت ہی گہرا ہے ۔ خوفناک عذاب کے ذکر کے بعد اور عظیم اجر کے اعلان کے بعد تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ بندوں کے عذاب سے غنی ہے ۔ اللہ کو ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ انہیں عذاب دے ۔ اور نہ اس تعذیب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنی قوت کا اظہار چاہتا ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے اندر ایسی کوئی خواہش ہے کہ وہ لوگوں کو تکلیف دے جیسا کہ بت پرستانہ تصورات میں ایسی باتیں پائی جاتی ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ ایمان اور شکر خداوندی کے ذریعے لوگوں کی اصلاح ہو ۔ ایمان اور شکر ان کو محبوب ہو اور اللہ وہ ذات ہے جو نیک اعمال کا بدلہ دیتا ہے اور تمام خفیہ باتوں سے واقف ہے ۔ (آیت) ” ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم وکان اللہ شاکرا علیما (4 : 147) (آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے ۔ اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روشن پر چلو ۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے) اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو تو اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمہیں عذاب دے ۔ اللہ تو کفر اور نافرمانی پر سزا دیتا ہے ۔ یہ ایسی تہدید ہے جو لوگوں کو ایمان اور شکر پر آمادہ کرسکتی ہے ۔ اللہ کو نہ انتقام کا کوئی داعیہ ہے اور نہ تعذیب میں کوئی مزہ آتا ہے ۔ نہ اللہ اس طریق کا کے مطابق اپنی قوت اور سلطنت کا اظہار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بہت ہی بلند ہے ‘ اگر تم ایمان لاؤ اور شکر کرو تو یہ اللہ کے ہاں موجب مغفرت اور رضا مندی ہے ۔ اللہ کی جانب سے بندوں کا شکریہ ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو دل پر گہرا اثر کرتی ہے ۔ یہ معلوم ہے کہ اللہ کی جانب سے شکر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ راضی ہے ۔ اور رضا مندی کا لازمی نتیجہ ثواب دارین ہے ۔ لیکن یہ تعبیر کہ اللہ شکر کرتا ہے نہایت ہی گہری اور اشاراتی تعبیر ہے ۔ اگر وہ ذات جو خالق ہے ‘ برتر ہے ‘ دونوں جہانوں سے بےنیاز ہے ‘ بندوں کا شکر ادا کرتا ہے اس بات پر کہ یہ بندے نیک ہوگئے ہیں ‘ اچھے مومن ہیں شکر بجا لانے والے ہیں اور اللہ کے احسانات کو ماننے والے ہیں ۔ حالانکہ وہ غنی بادشاہ ہے اور اس کو بندوں کے شکر ‘ احسان مندی اور صلاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر اس جہان کا پیدا کرنے والا ‘ وجود میں لانے والا ‘ برتر اور غنی بادشاہ اگر شکر بجا لاتا ہے تو پھر بندوں کا کیا فرض بنتا ہے جو مخلوق بھی ہیں اور ان پر رات دن انعامات کی بارش ہو رہی ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے بندوں کو اپنے خالق کا وفادار ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔ بیشک یہ ایک نہایت ہی شرمسار کنندہ جھلکی ہے اور بندہ مومن ایک گہرا تاثر لے کر شکر نعمت کے لئے اٹھتا ہے ۔ یہ ایک روشن اشارہ ہے جو نشانات منزل متعین کرتا ہے ۔ وہ منزل جو اللہ تک جاتی ہے ‘ جو بخشندہ ‘ منعم ‘ شاکر اور علیم ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم کے تیس پاروں میں سے ایک پارہ ۔ اور یہ اپنے دونوں بازوؤں کے نیچے اصلاح نظر ثانی ‘ درستی اور پاکیزگی پر مشتمل ہدایات کا ایک عظیم ذخیرہ لئے ہوئے ہے ۔ اس میں عالم نفس کی اصلاح ‘ اسلامی معاشرے کی اصلاح ‘ نظام حیات کی اصلاح اور دوسری تعمیری ہدایات ہیں جو اس کے طول و عرف میں پیوستہ ہیں ۔ ان ہدایات کے اندر انسان کو بالکل ایک نیا جنم دیا گیا ہے اور ایک ایسا انسان وجود میں لایا گیا ہے کہ جس کی مثال انسانیت نے نہ پہلے کبھی دیکھی تھی اور نہ بعد میں دیکھی ۔ حقیقت پسند مثالی انسان نظافت اور تطہیر میں مثالی ۔ ایک ایسا انسان جو زندگی کے مختلف میدانوں میں کام کرتا ہے اور یہ ایک ایسا انسان ہے جسے اسلامی زندگی نے جاہلیت کے گہرے گڑھوں سے نکال کر نہایت ہی عمودی بلندی پر سربلند کیا اور اعلی ترین بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ نہایت ہی آسانی کے ساتھ ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ اور نہایت ہی ہمدردی کے ساتھ ۔ (اسلام آباد ‘ 17 دسمبر 1989 ء رات 55 :، 1)

النساء 4:146

(آیت) ” نمبر 144 تا 147۔ یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔ اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مدینہ میں سماجی تعلقات موجود تھے اور بعض مسلمانوں اور کفار اہل قریش کے درمیان بھی بدستور تعلقات موجود تھے اگرچہ یہ تعلقات محض دینی طور پر ہوں ۔ ہم نے بعض مسلمانوں کا اس لئے کہا ہے کہ بعض نے تو از خود اہل جاہلیت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات توڑ لئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آباء اور ابناء کو بھی چھوڑ دیا تھا اور صرف اسلامی برداری تک اپنے آپ کو محدود کرلیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی تھی ۔ اور یہی وہ بعض لوگ تھے جن کو متنبہ کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ تعلق رکھنا گویا نفاق کی راہ ہے اور یہ تنبیہ اس وقت کی گئی جب یہ کہ دیا گیا کہ یہ ہے تصویر ان منافقین کی ۔ اور ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو اللہ کے غصب اور انجام بد سے نہ بچ سکو گے ۔ (آیت) ” اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا (4 : 144) ( کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ) اہل ایمان کا دل تو اللہ کی پکڑ کی دھمکی اور اس کے عذاب کے اشارے ہی سے کانپ اٹھتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں بشکل استفہام ان کو متنبہ کیا گیا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اپنے خلاف حجت قائم نہ کرو ۔ ایک بار پھر جھنجوڑا جاتا ہے ۔ لیکن بالواسطہ یعنی منافقین کے انجام بد کو دوبارہ دہرا کر کہ قیامت کے دن حال یہ ہوگا اور کس قدر خوفناک ہوگا ۔ (آیت) ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ولن تجدلھم نصیرا “۔ (4 : 145) ( یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے) درک اسفل یعنی سب سے نچلا طبقہ ‘ یہ اس صورت حال سے زیادہ مناسب ہے کہ دنیا میں وہز میں کی آلائشوں کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے ‘ اور سب سے نیچے تھے ‘ اس طرح وہ قیامت میں بھی سب سے نیچے ہوں گے ۔ دنیا میں بھی انہوں نے رفعت اور بلندی درجات حاصل نہ کی لہذا وہاں بھی ان کا یہی حال ہوگا یہ لوگ طمع ‘ لالچ ‘ ضعف اور حیرانی کا شکار تھے ‘ اور اسی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی کرتے تھے اور انہوں نے یہ توہین آمیز موقف اختیار کیا ہوا تھا کہ نہ ادھر کے تھے اور نہ ادھر کے ۔ دنیا میں اس انجام بد کے لئے انہوں نے کام کیا ۔ آج وہ سب سے نچلے درجے میں ہیں ۔ اب یہاں ان کا کوئی یارومدگار نہیں ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ دوستی وہ مدد اور نصرت کی خاطر ہی تو کرتے تھے لیکن اب یہ لوگ کہاں مدد کرسکتے ہیں ۔ ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ان کے لئے موقع ہے کہ وہ باز آکر اخروی نجات حاصل کرلیں۔ (آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو واعتصموا باللہ واخلصوا دینھم للہ فاولئک مع المومنین وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیں ‘ ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر دیگا) دوسری جگہوں پر صرف اس قدر کہا گیا تھا ۔ (آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو (4 : 146) اس لئے کہ توبہ اور اصلاح پذیری کے ضمن میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا جائے اور دین اللہ کے لئے خالص ہوجائے ۔ لیکن یہاں توبہ ‘ اصلاح اور اعتصام باللہ اور اخلاص دین کا بھی ذکر کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہاں بات ان لوگوں سے ہو رہی تھی جو مذبذب تھے ‘ منافق تھے ‘ اور اللہ کے سوا اور لوگوں کے دوست تھے ۔ چناچہ یہاں توبہ واصلاح کے ساتھ خلوص دین اور اعتصام باللہ کا ذکر کیا گیا تاکہ یہ لوگ ڈانو ڈول ایمان اور بودے کردار سے باز آجائیں ۔ اس طرح اعتصام باللہ سے انہیں قوت ملے گی اور اخلاص سے انہیں نیت کی صفائی ملے گی ۔ وہ دنیا میں بداعمالی کی گراٹوں اور آخرت میں آگ کے درجہ اسفل سے نجات پالیں گے ۔ دنیا میں توبہ کرنے والے لوگ مسلمانوں اور صرف اللہ کی درگاہ سے عزت طلب کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے اور وہ دنیا اور زمین کی آلودگیوں سے ایمان کی قوت کے ذریعے پاک وصاف ہوکر بلند ہوں گے ۔ اور ایسے لوگوں کی جزاء کیا ہے ۔ (آیت) ” وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) (اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا) ان جھلکیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلامی معاشرے میں منافقین کی حقیقت کو واضح فرماتے ہیں ۔ انکی شان گرتی ہے ۔ اہل ایمان کو نفاق کی لغزشوں سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔ انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے ۔ منافقین کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ ان میں سے جس کے اندر شمہ برابر خیر بھی ہو وہ اسلامی صفوں میں شامل ہوجائے ‘ نہایت سچائی اور نہایت اخلاص کے ساتھ ۔ اور سب سے آخر میں ایک عجیب جھلکی دکھائی جاتی ہے جس کا اثر نہایت ہی گہرا ہے ۔ خوفناک عذاب کے ذکر کے بعد اور عظیم اجر کے اعلان کے بعد تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ بندوں کے عذاب سے غنی ہے ۔ اللہ کو ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ انہیں عذاب دے ۔ اور نہ اس تعذیب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنی قوت کا اظہار چاہتا ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے اندر ایسی کوئی خواہش ہے کہ وہ لوگوں کو تکلیف دے جیسا کہ بت پرستانہ تصورات میں ایسی باتیں پائی جاتی ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ ایمان اور شکر خداوندی کے ذریعے لوگوں کی اصلاح ہو ۔ ایمان اور شکر ان کو محبوب ہو اور اللہ وہ ذات ہے جو نیک اعمال کا بدلہ دیتا ہے اور تمام خفیہ باتوں سے واقف ہے ۔ (آیت) ” ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم وکان اللہ شاکرا علیما (4 : 147) (آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے ۔ اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روشن پر چلو ۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے) اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو تو اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمہیں عذاب دے ۔ اللہ تو کفر اور نافرمانی پر سزا دیتا ہے ۔ یہ ایسی تہدید ہے جو لوگوں کو ایمان اور شکر پر آمادہ کرسکتی ہے ۔ اللہ کو نہ انتقام کا کوئی داعیہ ہے اور نہ تعذیب میں کوئی مزہ آتا ہے ۔ نہ اللہ اس طریق کا کے مطابق اپنی قوت اور سلطنت کا اظہار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بہت ہی بلند ہے ‘ اگر تم ایمان لاؤ اور شکر کرو تو یہ اللہ کے ہاں موجب مغفرت اور رضا مندی ہے ۔ اللہ کی جانب سے بندوں کا شکریہ ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو دل پر گہرا اثر کرتی ہے ۔ یہ معلوم ہے کہ اللہ کی جانب سے شکر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ راضی ہے ۔ اور رضا مندی کا لازمی نتیجہ ثواب دارین ہے ۔ لیکن یہ تعبیر کہ اللہ شکر کرتا ہے نہایت ہی گہری اور اشاراتی تعبیر ہے ۔ اگر وہ ذات جو خالق ہے ‘ برتر ہے ‘ دونوں جہانوں سے بےنیاز ہے ‘ بندوں کا شکر ادا کرتا ہے اس بات پر کہ یہ بندے نیک ہوگئے ہیں ‘ اچھے مومن ہیں شکر بجا لانے والے ہیں اور اللہ کے احسانات کو ماننے والے ہیں ۔ حالانکہ وہ غنی بادشاہ ہے اور اس کو بندوں کے شکر ‘ احسان مندی اور صلاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر اس جہان کا پیدا کرنے والا ‘ وجود میں لانے والا ‘ برتر اور غنی بادشاہ اگر شکر بجا لاتا ہے تو پھر بندوں کا کیا فرض بنتا ہے جو مخلوق بھی ہیں اور ان پر رات دن انعامات کی بارش ہو رہی ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے بندوں کو اپنے خالق کا وفادار ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔ بیشک یہ ایک نہایت ہی شرمسار کنندہ جھلکی ہے اور بندہ مومن ایک گہرا تاثر لے کر شکر نعمت کے لئے اٹھتا ہے ۔ یہ ایک روشن اشارہ ہے جو نشانات منزل متعین کرتا ہے ۔ وہ منزل جو اللہ تک جاتی ہے ‘ جو بخشندہ ‘ منعم ‘ شاکر اور علیم ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم کے تیس پاروں میں سے ایک پارہ ۔ اور یہ اپنے دونوں بازوؤں کے نیچے اصلاح نظر ثانی ‘ درستی اور پاکیزگی پر مشتمل ہدایات کا ایک عظیم ذخیرہ لئے ہوئے ہے ۔ اس میں عالم نفس کی اصلاح ‘ اسلامی معاشرے کی اصلاح ‘ نظام حیات کی اصلاح اور دوسری تعمیری ہدایات ہیں جو اس کے طول و عرف میں پیوستہ ہیں ۔ ان ہدایات کے اندر انسان کو بالکل ایک نیا جنم دیا گیا ہے اور ایک ایسا انسان وجود میں لایا گیا ہے کہ جس کی مثال انسانیت نے نہ پہلے کبھی دیکھی تھی اور نہ بعد میں دیکھی ۔ حقیقت پسند مثالی انسان نظافت اور تطہیر میں مثالی ۔ ایک ایسا انسان جو زندگی کے مختلف میدانوں میں کام کرتا ہے اور یہ ایک ایسا انسان ہے جسے اسلامی زندگی نے جاہلیت کے گہرے گڑھوں سے نکال کر نہایت ہی عمودی بلندی پر سربلند کیا اور اعلی ترین بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ نہایت ہی آسانی کے ساتھ ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ اور نہایت ہی ہمدردی کے ساتھ ۔ (اسلام آباد ‘ 17 دسمبر 1989 ء رات 55 :، 1)

النساء 4:147

(آیت) ” نمبر 144 تا 147۔ یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔ اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مدینہ میں سماجی تعلقات موجود تھے اور بعض مسلمانوں اور کفار اہل قریش کے درمیان بھی بدستور تعلقات موجود تھے اگرچہ یہ تعلقات محض دینی طور پر ہوں ۔ ہم نے بعض مسلمانوں کا اس لئے کہا ہے کہ بعض نے تو از خود اہل جاہلیت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات توڑ لئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آباء اور ابناء کو بھی چھوڑ دیا تھا اور صرف اسلامی برداری تک اپنے آپ کو محدود کرلیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی تھی ۔ اور یہی وہ بعض لوگ تھے جن کو متنبہ کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ تعلق رکھنا گویا نفاق کی راہ ہے اور یہ تنبیہ اس وقت کی گئی جب یہ کہ دیا گیا کہ یہ ہے تصویر ان منافقین کی ۔ اور ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو اللہ کے غصب اور انجام بد سے نہ بچ سکو گے ۔ (آیت) ” اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا (4 : 144) ( کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ) اہل ایمان کا دل تو اللہ کی پکڑ کی دھمکی اور اس کے عذاب کے اشارے ہی سے کانپ اٹھتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں بشکل استفہام ان کو متنبہ کیا گیا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اپنے خلاف حجت قائم نہ کرو ۔ ایک بار پھر جھنجوڑا جاتا ہے ۔ لیکن بالواسطہ یعنی منافقین کے انجام بد کو دوبارہ دہرا کر کہ قیامت کے دن حال یہ ہوگا اور کس قدر خوفناک ہوگا ۔ (آیت) ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ولن تجدلھم نصیرا “۔ (4 : 145) ( یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے) درک اسفل یعنی سب سے نچلا طبقہ ‘ یہ اس صورت حال سے زیادہ مناسب ہے کہ دنیا میں وہز میں کی آلائشوں کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے ‘ اور سب سے نیچے تھے ‘ اس طرح وہ قیامت میں بھی سب سے نیچے ہوں گے ۔ دنیا میں بھی انہوں نے رفعت اور بلندی درجات حاصل نہ کی لہذا وہاں بھی ان کا یہی حال ہوگا یہ لوگ طمع ‘ لالچ ‘ ضعف اور حیرانی کا شکار تھے ‘ اور اسی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی کرتے تھے اور انہوں نے یہ توہین آمیز موقف اختیار کیا ہوا تھا کہ نہ ادھر کے تھے اور نہ ادھر کے ۔ دنیا میں اس انجام بد کے لئے انہوں نے کام کیا ۔ آج وہ سب سے نچلے درجے میں ہیں ۔ اب یہاں ان کا کوئی یارومدگار نہیں ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ دوستی وہ مدد اور نصرت کی خاطر ہی تو کرتے تھے لیکن اب یہ لوگ کہاں مدد کرسکتے ہیں ۔ ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ان کے لئے موقع ہے کہ وہ باز آکر اخروی نجات حاصل کرلیں۔ (آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو واعتصموا باللہ واخلصوا دینھم للہ فاولئک مع المومنین وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیں ‘ ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر دیگا) دوسری جگہوں پر صرف اس قدر کہا گیا تھا ۔ (آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو (4 : 146) اس لئے کہ توبہ اور اصلاح پذیری کے ضمن میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا جائے اور دین اللہ کے لئے خالص ہوجائے ۔ لیکن یہاں توبہ ‘ اصلاح اور اعتصام باللہ اور اخلاص دین کا بھی ذکر کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہاں بات ان لوگوں سے ہو رہی تھی جو مذبذب تھے ‘ منافق تھے ‘ اور اللہ کے سوا اور لوگوں کے دوست تھے ۔ چناچہ یہاں توبہ واصلاح کے ساتھ خلوص دین اور اعتصام باللہ کا ذکر کیا گیا تاکہ یہ لوگ ڈانو ڈول ایمان اور بودے کردار سے باز آجائیں ۔ اس طرح اعتصام باللہ سے انہیں قوت ملے گی اور اخلاص سے انہیں نیت کی صفائی ملے گی ۔ وہ دنیا میں بداعمالی کی گراٹوں اور آخرت میں آگ کے درجہ اسفل سے نجات پالیں گے ۔ دنیا میں توبہ کرنے والے لوگ مسلمانوں اور صرف اللہ کی درگاہ سے عزت طلب کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے اور وہ دنیا اور زمین کی آلودگیوں سے ایمان کی قوت کے ذریعے پاک وصاف ہوکر بلند ہوں گے ۔ اور ایسے لوگوں کی جزاء کیا ہے ۔ (آیت) ” وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (4 : 146) (اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا) ان جھلکیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلامی معاشرے میں منافقین کی حقیقت کو واضح فرماتے ہیں ۔ انکی شان گرتی ہے ۔ اہل ایمان کو نفاق کی لغزشوں سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔ انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے ۔ منافقین کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ ان میں سے جس کے اندر شمہ برابر خیر بھی ہو وہ اسلامی صفوں میں شامل ہوجائے ‘ نہایت سچائی اور نہایت اخلاص کے ساتھ ۔ اور سب سے آخر میں ایک عجیب جھلکی دکھائی جاتی ہے جس کا اثر نہایت ہی گہرا ہے ۔ خوفناک عذاب کے ذکر کے بعد اور عظیم اجر کے اعلان کے بعد تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ بندوں کے عذاب سے غنی ہے ۔ اللہ کو ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ انہیں عذاب دے ۔ اور نہ اس تعذیب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنی قوت کا اظہار چاہتا ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے اندر ایسی کوئی خواہش ہے کہ وہ لوگوں کو تکلیف دے جیسا کہ بت پرستانہ تصورات میں ایسی باتیں پائی جاتی ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ ایمان اور شکر خداوندی کے ذریعے لوگوں کی اصلاح ہو ۔ ایمان اور شکر ان کو محبوب ہو اور اللہ وہ ذات ہے جو نیک اعمال کا بدلہ دیتا ہے اور تمام خفیہ باتوں سے واقف ہے ۔ (آیت) ” ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم وکان اللہ شاکرا علیما (4 : 147) (آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے ۔ اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روشن پر چلو ۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے) اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو تو اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمہیں عذاب دے ۔ اللہ تو کفر اور نافرمانی پر سزا دیتا ہے ۔ یہ ایسی تہدید ہے جو لوگوں کو ایمان اور شکر پر آمادہ کرسکتی ہے ۔ اللہ کو نہ انتقام کا کوئی داعیہ ہے اور نہ تعذیب میں کوئی مزہ آتا ہے ۔ نہ اللہ اس طریق کا کے مطابق اپنی قوت اور سلطنت کا اظہار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بہت ہی بلند ہے ‘ اگر تم ایمان لاؤ اور شکر کرو تو یہ اللہ کے ہاں موجب مغفرت اور رضا مندی ہے ۔ اللہ کی جانب سے بندوں کا شکریہ ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو دل پر گہرا اثر کرتی ہے ۔ یہ معلوم ہے کہ اللہ کی جانب سے شکر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ راضی ہے ۔ اور رضا مندی کا لازمی نتیجہ ثواب دارین ہے ۔ لیکن یہ تعبیر کہ اللہ شکر کرتا ہے نہایت ہی گہری اور اشاراتی تعبیر ہے ۔ اگر وہ ذات جو خالق ہے ‘ برتر ہے ‘ دونوں جہانوں سے بےنیاز ہے ‘ بندوں کا شکر ادا کرتا ہے اس بات پر کہ یہ بندے نیک ہوگئے ہیں ‘ اچھے مومن ہیں شکر بجا لانے والے ہیں اور اللہ کے احسانات کو ماننے والے ہیں ۔ حالانکہ وہ غنی بادشاہ ہے اور اس کو بندوں کے شکر ‘ احسان مندی اور صلاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر اس جہان کا پیدا کرنے والا ‘ وجود میں لانے والا ‘ برتر اور غنی بادشاہ اگر شکر بجا لاتا ہے تو پھر بندوں کا کیا فرض بنتا ہے جو مخلوق بھی ہیں اور ان پر رات دن انعامات کی بارش ہو رہی ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے بندوں کو اپنے خالق کا وفادار ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔ بیشک یہ ایک نہایت ہی شرمسار کنندہ جھلکی ہے اور بندہ مومن ایک گہرا تاثر لے کر شکر نعمت کے لئے اٹھتا ہے ۔ یہ ایک روشن اشارہ ہے جو نشانات منزل متعین کرتا ہے ۔ وہ منزل جو اللہ تک جاتی ہے ‘ جو بخشندہ ‘ منعم ‘ شاکر اور علیم ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم کے تیس پاروں میں سے ایک پارہ ۔ اور یہ اپنے دونوں بازوؤں کے نیچے اصلاح نظر ثانی ‘ درستی اور پاکیزگی پر مشتمل ہدایات کا ایک عظیم ذخیرہ لئے ہوئے ہے ۔ اس میں عالم نفس کی اصلاح ‘ اسلامی معاشرے کی اصلاح ‘ نظام حیات کی اصلاح اور دوسری تعمیری ہدایات ہیں جو اس کے طول و عرف میں پیوستہ ہیں ۔ ان ہدایات کے اندر انسان کو بالکل ایک نیا جنم دیا گیا ہے اور ایک ایسا انسان وجود میں لایا گیا ہے کہ جس کی مثال انسانیت نے نہ پہلے کبھی دیکھی تھی اور نہ بعد میں دیکھی ۔ حقیقت پسند مثالی انسان نظافت اور تطہیر میں مثالی ۔ ایک ایسا انسان جو زندگی کے مختلف میدانوں میں کام کرتا ہے اور یہ ایک ایسا انسان ہے جسے اسلامی زندگی نے جاہلیت کے گہرے گڑھوں سے نکال کر نہایت ہی عمودی بلندی پر سربلند کیا اور اعلی ترین بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ نہایت ہی آسانی کے ساتھ ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ اور نہایت ہی ہمدردی کے ساتھ ۔ (اسلام آباد ‘ 17 دسمبر 1989 ء رات 55 :، 1)

النساء 4:148

پارہ نمبر 6 ایک نظر میں : پارہ ششم دو حصوں پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ سورة النساء کے بقیہ حصہ پر مشتمل ہے ۔ سورة النساء کا آغاز پارہ چہارم کے آخر سے ہوا تھا پورا پارہ پنجم بھی اس پر مشتمل ہے اور پارہ ششم میں بھی اس کا کچھ آگیا ہے ۔ اس پارے کا دوسرا حصہ ‘ جو اس کا تقریبا تین چوتھائی حصہ ہے سورة مائدہ پر مشتمل ہے ۔ یہاں ہم اپنی بات کو صرف اس پارے کے حصہ اول ہی تک محدود رکھیں گے ۔ حصہ دوئم یعنی سورة مائدہ پر بحث سورة مائدہ کے موقع پر ہو گی ۔ جہاں ہم سورة مائدہ کی اہمیت اور اس کے موضوعات پر اسی طرح بحث کریں گے جس طرح ہم اس سے پہلے کی سورتوں پر کرچکے ہیں ۔ اگر اللہ کا تعاون شامل حال رہا ۔ سورة نساء پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے اس سورة کے جس منہاج بحث کے سلسلے میں کچھ کہا تھا اس حصے میں بھی وہی منہاج چل رہا ہے ۔ یہاں مناسب ہے کہ نہایت ہی مختصر الفاظ میں اسے دو بار قارئین کے پیش نظر رکھ دیا جائے ۔ یہ سورة اسلامی تصور حیات سے بحث کرتی ہے اور اسے اس نوخیز اسلامی جماعت کے ذہن نشین کرنے کے درپے ہے جسے اس نے جاہلیت کی گہری اور تنگ وادیوں سے اٹھایا اور اسے بتدریج بام عروج تک پہنچا دیا ۔ انتہائی بلندیوں تک اور اس جماعت کے ضمیر کو جاہلیت کے افکار کے ڈھیروں کے نیچے سے نکالا اور اس کے ان افکار کو چھانٹ کر رکھ دیا جن کی وجہ سے اس کے ضمیر کے خدوخال دھندلے پڑگئے تھے ۔ اس صفائی کے ساتھ ساتھ جس طرح ہم نے اوپر کہا اسلامی فکر و شعور سے جاہلیت کے خدوخال مٹا کر انکی جگہ اسلامی رنگ بھرے گئے ۔ اس کے بعد اس جدید تصور حیات کی روشنی میں ‘ یہ سورة امت مسلمہ کے ضمیر اس کے اخلاق اور اس کی اجتماعی عادات کو لیتی ہے اور ان کو جاہلی اخلاق و عادات سے ایک ایک کرکے چھانٹتی چلی جاتی ہے ۔ بعینہ اسی طرح جس طرح افکار و تصورات کے اعتبار سے اس کی تطہیر کی گئی ۔ نیز فکری اور اخلاقی تطہیر کے علاوہ اس سورة نے امت کی اجتماعی زندگی اور اس کے عائلی روابط کو اسلام کے مضبوط ربانی نظام زندگی کی اساس پر استوار کیا ۔ اس تربیت اور تطہیر کے دوران ‘ اس سورة میں منحرف اور غلط عقائد کو بھی لیا گیا ہے ۔ غلط عقائد و تصورات کے حاملین پر بھی تنقید کی گئی ہے اور اصلاح کی کوشش کی گئی ہے ۔ چاہے یہ لوگ مشرکین میں سے ہوں یا یہود ونصاری یعنی اہل کتاب ہوں ۔ ان کے عقائد کی تصحیح اور اصلاح کی گئی ہے ۔ حق اور سچائی کو نکھارا گیا ہے جسے ان انحرافات نے بگاڑ دیا تھا ۔ جو ان لوگوں نے اپنی کتب میں اور عقائد میں داخل کئے ہوئے تھے ۔ اس کے بعد مضامین سورة اس معرکے میں داخل ہوجاتے ہیں جو اہل کتاب اور جماعت مسلمہ کے درمیان مسلسل برپا تھا ‘ خصوصا یہودیوں کے ساتھ ۔ اس لئے کہ جب سے حضور اکرم ﷺ اپنی جماعت کو لیکر مدینہ پہنچے تھے ‘ ان لوگوں نے دعوت اسلامی کا بڑی شدت کے ساتھ مقابلہ شروع کردیا تھا ‘ اس لئے کہ تحریک اسلامی کا مرکز مدینہ منتقل ہوتے ہیں یہودیوں کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا تھا کہ اب مدینہ کے معاشرے میں ان کی سابقہ ممتاز حیثیت قائم نہیں رہ سکتی انکے ملی وجود کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا حتی کہ ان کا یہ ادعا بھی ختم ہو رہا تھا کہ وہ واحد ممتاز لوگ ہیں جنہیں اللہ کی قربت حاصل ہے اور وہ ایسی قوم ہیں جو اللہ کے ہاں برگزیدہ ہے ۔ ان وجوہات کی بناء پر وہ تحریک اسلامی کے مقابلے میں ہر قسم کے ہتھیار لیکر اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔ چناچہ اس سورة نے ان کی ذہنیت ‘ ان کے وسائل حرب اور خود ان کے اپنے انبیاء کے ساتھ ان کاتاریخی رویہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا تاکہ معلوم ہو کہ انہوں نے ہمیشہ ہر دعوت حق کے ساتھ یہی برتاؤ کیا چاہے اس کا پیش کرنے والا کوئی بھی ہو اگرچہ وہ پیش کرنے والا خود ان کا اپنا نبی ‘ ان کا اپنا قائد اور ان کا اپنا نجات دہندہ ہو۔ اس کے بعد یہ سورة خود امت مسلمہ کو بتاتی ہے کہ اس کے کاندھوں پر جو بوجھ ڈال دیا گیا ہے ‘ اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں ۔ اس نے اس کرہ ارض پر جو کردار ادا کرنا ہے وہ کس قدر عظیم کردار ہے اور وہ حکمت عملی کیا ہے جس کے مطابق اسے جاہلیت کی تمام الائشوں سے پاک کرنا مقصود ہے ‘ اس کے ضمیر کو پاک کرنا مطلوب ہے اس کی پوری زندگی کو پاک کرنا مطلوب ہے ۔ اس غرض کیلئے کس قدر بیدار مغزی کی ضرورت ہے اور کس قدر عظیم قربانیوں کی ضرورت ہے ۔ مثلا اپنے نفس کی دنیا کے ساتھ مسلسل جہاد ‘ اور اپنے اردگرد پھیلے ہوئے پورے ماحول کے ساتھ مسلسل جہاد اور مسلسل قربانیاں ۔ یہ پوری سورة مسلسل اپنی اس راہ پر گامزن ہے گزشہ حصے میں بھی یہی مضامین ہیں اور یہ حصہ بھی اسی راستے کے نشیب وفرز پر مشتمل ہے اور وہی اسلوب ہے جو سابقہ پارے میں تھا ۔ اس پارے کا آغاز ہی تطہیر نفس اور تطہیر معاشرہ سے ہوتا ہے ‘ یہ کوشش کی گئی ہے کہ افراد جماعت کے درمیان باہم مکمل اعتماد کی فضا قائم رہے ۔ لوگ یہودیوں کے الزامات سے متاثر نہ ہوں اور مسلمان یہ حق رکھتے ہیں کہ وہ بدلہ لیں لیکن عفو و درگزر اور فراخدلی بہرحال انصاف کے ترازو سے بھی زیادہ اونچا مقام ہے ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ غیبت اور بدگوئی کو ناپسند فرماتے ہیں۔ اگر اس نئے معاشرے میں ایک بھائی دوسرے بھائی پر ظلم کرتا ہے اور مظلوم بھائی معاف کردیتا ہے تو یہ فعل اللہ تعالیٰ کو بہت ہی پسندیدہ ہے ۔ اللہ خود بھی معاف کردیتا ہے حالانکہ وہ انتقام پر قادر ہوتا ہے ۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اسلامی تصورحیات یہ ہے کہ وہ اللہ کے دین کو ایک نظام زندگی قرار دیتا ہے اور یہ تصور دیتا ہے کہ انسانی تاریخ میں رسولوں کا قافلہ صرف اس ایک دین کا حامل رہا ہے ۔ اسلامی عقائد کے مطابق ان رسولوں کے درمیان فرق کرنا اور وہ جو ادیان لیکر آئے انکے درمیان فرق کرنا صریح کفر ہے ۔ یہ بیان اس لئے آتا ہے کہ اہل کتاب میں سے یہودیوں کے اس نظریے کی تردید کی جائے کہ ان کے نبی کے بعد اب کوئی نبی آنے والا نہیں ہے اور یہ نظریہ انہوں نے محض دینی اور قومی تعصب اور کینہ پروری کی وجہ سے اپنایا ہے ۔ اس حصے میں یہودیوں کے ساتھ ایک راؤنڈ شروع ہوجاتا ہے ‘ جس میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے نبی اور اپنے قائد اور نجات دہندہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا کیا نافرمانیاں اور بدسلوکیاں کیں ۔ ان واقعات سے یہ عیاں کرنا مطلوب ہے کہ یہودی اپنی فطرت کے اعتبار سے برے لوگ ہیں ۔ سچائی اور اسلامی دعوت کے ساتھ ان کا ہمیشہ یہی رویہ رہا ہے ۔ چاہے کوئی نبی ہی یہ دعوت دے رہا ہو۔ اگرچہ وہ انکے عظیم نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کیوں نہ ہوں ۔ نیز حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کی والدہ کے بارے میں ان کے نازیبا الفاظ کی تردید بھی کی گئی ہے جسے اللہ تعالیٰ بہت ہی ناپسند فرماتے ہیں۔ ان واقعات کے بیان سے نبی آخر الزمان ﷺ کے ساتھ ان کا رویہ اور عناد قابل فہم ہوجاتے ہیں اور لوگوں کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس روئیے کے حقیقی اسباب کیا ہیں ۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں یہودیوں کے غلط دعوؤں اور غلط الزامات کی مناسبت سے اور خصوصا اس دعوے کے حوالے سے کہ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے ‘ قرآن کریم اظہار حقیقت کردیتا ہے ۔ ان کے دعوائے قتل مسیح (علیہ السلام) کی صاف صاف تردید کردی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو ان کے مظالم کرنے ارادہ حق میں رکاوٹ بن جانے اور ان کی سود خوری کی وجہ سے (حالانکہ انہیں ان حرکات سے روکا گیا تھا) کیا کیا سزائیں دیں ۔ نیز ان کی حرام خوری اور لوگوں کے معاشی استحصال کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر بطور سزا ان بعض چیزوں کو حرام قرار دے دیا جو ساری دنیا کے لئے حلال تھیں اور یہ کہ اس دنیاوی عذاب کے علاوہ انہیں وہ عذاب الیم بھی دیا جائے گا جو آخرت میں ان کا انتظار کر رہا ہے ۔ ہاں البتہ اس عذاب سے وہ لوگ مستثنی ہیں جو علم میں پختہ کار ہیں اور جو حضور اکرم ﷺ پر ایمان لائے ہیں۔ جنہوں نے سچائی کو پہچان لیا ہے اور اس کی پیروی کرنے لگے ہیں ۔ یہودی ‘ نبی آخر الزمان ﷺ کی رسالت کے انکار پر جو اصرار کر رہے تھے ‘ انکے اس موقف کی تردید کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ رسالت تو معمول کی بات ہے ۔ یہ کوئی عجیب و غریب امر تو نہیں ہے کہ خود ان میں سے ایک رسول مبعوث ہوگیا ہے ۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے کہ لوگوں کی ہدایت کیلئے ایک انسان رسول بن کر آگیا ہے ۔ یہ تو سنت الہی ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لیکر آج تک رسول آتے رہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ‘ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ‘ حضرت اسحاق (علیہ السلام) ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت ایوب (علیہ السلام) ‘ حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت سلیمان (علیہ السلام) ‘ اور حضرت داؤد (علیہ السلام) اسی سنت الہی کے مطابق بھیجے گئے ۔ نیز وہ تمام دوسرے انبیاء جن کی رسالت کے یہود قائل ہیں اور وہ جن کی رسالت کا وہ محض بغض اور حسد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اسکیم ہے کہ یہاں لوگوں کی ہدایت کیلئے رسول آئیں جو ڈرانے والے اور خوشخبری دینے والے ہوں ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت نہ ہو۔ “ نہ صرف یہ کہ یہ منطقی امر ہے بلکہ ضروری بھی ہے ۔ یہودیوں کے انکار حق کے مقابلے میں ‘ اللہ تعالیٰ اسلام کی سچائی پر خود شہادت دیتے ہیں ‘ ملائکہ کی شہادت قلم بند ہوتی ہے اور اللہ کسی بھی امر پر کافی گواہ ہے ۔ چناچہ انکار حق کی وجہ سے اور راہ حق کو مسدود کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان ظالموں اور کافروں کو سخت دھمکی دیتے ہیں ۔ یہ کہ اللہ کبھی ان کی مغفرت نہ کرے گا کبھی ان کی راہنمائی صراط مستقیم کی طرف نہ کرے گا اور اگر ان کی راہنمائی کرے گا تو وہ جہنم کی طرف ہوگی جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اس کے بعد تمام لوگوں کو پکارا جاتا ہے کہ لوگو ! یہ رسول تمہارے پاس رب کی طرف سے سچائی لیکر آیا ہے ۔ تم اس پر ایمان لاؤ ‘ اگر تم ایسا نہ کرسکو تو جو کچھ زمین اور آسمانوں کے درمیان ہے وہ سب کچھ اللہ کا ہے ۔ مالک ارض وسما نے اس پیغمبر کی رسالت کی شہادت دے دی ہے ۔ اور وہ خود تمہیں دعوت ایمان دے رہا ہے اس لئے وہ خود اپنے لئے جو راہ متعین کر رہے ہیں وہ مالک ارض وسما کے مقابلے کی راہ ہے ۔ اہل کتاب کے ساتھ یہ راونڈ ختم ہوجاتا ہے ۔ اس میں ان کا مزاج ‘ ان کے وسائل کار ‘ اور قدیم زمانے سے ان کی بری عادتوں کا پردہ چاک کردیا جاتا ہے ۔ اس پردہ دری سے ان کے تمام مکاریاں فیل ہوجاتی ہیں اور یہ فیصلہ ہوجاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت برحق ہے اس لئے کہ اس پر اللہ کی جانب سے شہادت دی جاچکی ہے ۔ تمام سلسلہ رسل اور سلسلہ اصحاب دعوت بھی اس پر گواہ ہیں ۔ یوں لوگوں پر اللہ کی جانب سے حجت قائم ہوتی ہے اور یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ لوگوں کی نجات کا دارومدار رسولوں کی رسالت پر پختہ ایمان پر ہے ۔ اگر وہ عذاب جہنم سے نجات چاہتے ہیں یا یہ کہ وہ بتقاضائے منطق اپنے آپ کو اس کا مستحق قرار دیتے ہیں ۔ یہ انکی مرضی ہے لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ یہ نہایت ہی خطرناک انجام ہے ۔ یہودیوں کے ساتھ اس راؤنڈ کے اختتام ‘ انکے مقابلے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ماجدہ کو انصاف دینے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) کے بارے میں ان کے غلط دعوؤں کی تردید کرنے کے بعد اب خود عیسائیوں کے ساتھ ایک راؤنڈ شروع ہوتا ہے ‘ جو اپنے آپ کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پیرو کا رکہتے ہیں ۔ ان کو ہدایت کی جاتی ہے کہ تم لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلو نہ کرو ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اصل سچائی یوں ریکارڈ کی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور وہ خود بھی اس بات کے اقرار سے نہیں ہچکچاتے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔ اس طرح ملائکہ بھی اللہ کے بندے ہیں لہذا تم روح القدس کو خدا نہ سمجھو ‘ تثلیث کا عقیدہ غلط ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ کے درمیان باپ بیٹے کا تعلق نہایت ہی غلط تصور ہے ۔ تصحیح عقائد نصرانیت کے درمیان اسلام کا صحیح عقیدہ بھی بتا دیا جاتا ہے اور اس بات کو چھانٹ کر رکھ دیا جاتا ہے کہ حاکمیت صرف اللہ کے لئے ہے اور غلامی بندوں کے لئے اور اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے جو کوئی بھی ہے وہ اللہ کا بندہ اور غلام ہے اور یہ اسلامی تصور حیات کا اساسی عقیدہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل ایمان کو یہاں فلاں کی خوشخبری دی جاتی ہے اور اہل کفر کو سخت الفاظ میں ڈرایا جاتا ہے اور یہا بھی ‘ یودیوں کی بحث کے خاتمے کی طرح تمام لوگوں کے نام اعلان جہاد کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ لوگوں کے پاس اللہ کی جانب سے برہان آچکا ہے ‘ اس لئے اب جو لوگ اس کی قبولیت سے رہ گئے ان کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی ‘ کوئی شبہات وہ پیش نہ کرسکیں گے اور نہ ان کی کوئی معذرت قبول ہوگی ۔ سورة کا خاتمہ احکام میراث میں سے کلالہ کی ایک صورت کے بیان پر ہے جو پہلے احکام میں بیان نہ ہوئی تھی اس سورة میں کلالہ کی بعض صورتوں کا ذکر ہوچکا ہے یہ انہی کا بقیہ ہے ۔ اس لئے اس کو یہاں دے دیا کیونکہ یہ جماعت مسلمہ کی اقتصادی تنظیم نو کا بقیہ حصہ تھا جس پر اسلام اس جدید اسلامی سوسائٹی کو استوار کرنا چاہتا تھا ۔ اسے ایک ایسی سوسائٹی میں تبدیل کرنا چاہتا تھا جس کا اپنا نظام اقتصادیات ہو ‘ اپنے امتیازی خصائص ہوں جو مستقل ہوں تاکہ یہ جدید سوسائٹی اور یہ نئی جماعت پوری انسانیت کے حوالے سے اپنا وہ عظیم کردار ادا کرسکے جس کے لئے اللہ نے اسے برپا کیا ہے ۔ یعنی قیادت ‘ انقلاب اور تنظیم واصلاح کا کردار۔ یوں اس پوری سورة کے مطالعے اور جائزے سے اور خصوصا زیر بحث حصے کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں اجتماعی تنظیم ‘ اقتصادی اصلاحات اور سیاسی ضابطہ بندی کے ساتھ ساتھ اخلاق ‘ تہذیب ‘ تصور حیات کی اصلاح اور عقائد کی تصحیح بھی ہوتی رہتی ہے ۔ اس اخلاقی اور نظریاتی تربیت کے ساتھ ساتھ جماعت مسلمہ کے دشمنوں کے ساتھ میدان جنگ میں بھی معرکہ آرائی جاری رہتی ہے اس کے باوجود کہ اس جماعت کے کاندھوں پر ذمہ داری کا عظیم بوجھ ڈالا گیا ہے اور اس کرہ ارض پر اس کیلئے عظیم کردار ادا کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے ۔ یہ بھی فیصلہ کردیا گیا ہے کہ قرآن کریم اس جماعت کا دستور العمل ہے ۔ یہ اس کی دعوت کا ماخذ ہے ۔ اس جماعت کا فرض ہے کہ وہ ان تمام ذمہ داریوں کو ایک ساتھ ادا کرتے ہوئے آگے چلے ‘ نہایت گہری ‘ متوازن اور عمومی صورت میں ۔ یہ ہدایات اور یہ امور ایسی صورت میں بیان کئے جاتے ہیں کہ جو شخص یا جماعت بھی اس امت کی تعمیر جدید کا بیڑا اٹھائے اس کیلئے یہ منہاج لازمی اور حتمی ہو تاکہ وہ اپنے فرائض کو پورا کرے ۔ اس قرآن کو اپنی دعوت کا منہاج بنائے ۔ اس کی تحریک کا منہاج اس قرآن سے اخذ ہو ۔ احیائے اسلام ‘ بعث جدید اور تعمیر جدید کا ہر قدم اس منہاج کے مطابق ہو ۔ اگر ان خطوط پرسوچا جائے تو یہ قرآن بعینہ وہ کردار ادا کرنے کیلئے اب بھی تیار کھڑا ہے جو اس نے پہلے ادا کیا تھا ۔ یہ قرآن پوری انسانیت کیلئے اللہ کا خطاب ہے ‘ اور وہ اس کے تمام طور واطوار کے لئے قیامت تک راہنما ہے ۔ اس کے عجائبات تو کبھی ختم نہ ہوں گے اور اس کے بار بار پڑھے جانے سے وہ پرانا نہیں ہوتا ‘ جیسا کہ اس کے بارے میں حضور ﷺ فرماتے ہیں ۔ وہ حضور ﷺ جنہوں نے اس قرآن کے ذریعہ کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کیا ۔ اس کے ساتھ منحرف اور بھٹکے ہوئے اہل کتاب کے ساتھ جہاد کیا اور اس کے ذریعے انسانیت کی تاریخ میں امت مسلمہ جیسی عظیم امت کی بنیاد رکھی ‘ اسے اٹھایا اور سربلند لیا ۔ درس نمبر 43 تشریح آیات : 148۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔ 170۔ قرآن کریم کے پیش نظریہ نصب العین تھا کہ وہ اس کرہ ارض پر ایک بالکل جدید امت پیدا کرے ۔ چناچہ اس امت کو قرآن نے ان لوگوں سے تشکیل دیا جو جاہلیت کی اندھیری وادیوں میں بھٹک رہے تھے ان میں سے جو قرآن کی دعوت پر لبیک کہہ چکے ‘ ان مومنین کو قرآن کریم نے ہاتھ سے پکڑ کر آنا فانا عمودی بلندی پرچڑھا کر تہذیب و تمدن کی چوٹیوں ‘ بلند ترین چوٹیوں تک پہنچا دیا ۔ یہ کیوں ؟ اس لئے کہ اس کی تشکیل اور تربیت کے بعد اسے پوری انسانیت کی قیادت کا فریضہ سپرد کیا جاسکے اور اس دنیا کی قیادت میں اس کا عظیم رول متعین کیا جاسکے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسا ہوا۔ اس جماعت کی تشکیل اور تعمیر کے اہم مقاصد میں سے ایک اہم مقصد اس جماعت کے ضمیر کی تطہیر بھی تھا ‘ اس ماحول کی تطہیر بھی تھا جو اس جماعت کے اردگرد پایا جاتا تھا اور اس جماعت کی اس اخلاقی اور ذہنی سطح کو بلند کرنا بھی تھا جس پر اس وقت پر جماعت تھی ۔ اور جب یہ جماعت اس مطلوبہ سطح اور معیار تک پہنچ گئی اپنے انفرادی اخلاق میں اونچی ہوگئی ‘ اپنے اجتماعی اخلاق میں معیاری ہوگئی جس قدر اپنے عقائد و تصورات میں وہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں برتر ہوگئی ۔ تو اس وقت پھر اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس کرہ ارض پر وہ انقلاب برپا کیا جو اللہ کے پیش نظر تھا۔ اس کے بعد اللہ نے اس امت کو اپنے دین اور اپنے نظام زندگی کا محافظ اور چوکیدار مقرر فرمایا ۔ اس کی یہ ڈیوٹی قرار پائی کہ وہ اس پوری انسانیت کو گمراہی اور اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائے اور مسلسل اس پوری انسانیت کی قیادت کی امانت دار رہے اور اس کی راہنمانی کرتی رہے اور فی الواقع ایسا ہی ہوا ۔ جب کوئی جماعت اس کرہ ارض کے پورے انسانوں پر ان خصوصیات کے اندر فوقیت حاصل کرلیتی ہے تو انسانیت کے لئے اس کی قیادت بالکل ایک فطری اور طبیعی امر بن جاتا ہے اور یہ امر اپنی صحیح اساسوں پر قائم ہوتا ہے ۔ اس صورت حال کے نتیجے میں ایسی جماعت پھر علم و ثقافت اور تہذیب و تمدن اور اقتصادیات اور سیاسیات میں بھی دوسری اقوام سے برتر ہوجاتی ہے اور یہ دوسری برتری اسے پہلی برتری کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے یعنی اخلاقی اور نظریاتی برتری کے نتیجے میں اور یہی ہے سنت الہی اس کرہ ارض کے تمام افراد کیلئے بھی اور تمام جماعتوں اور سوسائٹیوں کیلئے بھی ۔ اسی نفسیاتی اور اجتماعی تطہیر کے ایک پہلو کو درج ذیل دو آیات کے اندر لیا گیا ہے ۔ (آیت) ” نمبر 148 تا 149۔ معاشرہ ہمیشہ نہایت ہی حساس ہوتا ہے اس لئے اسے بعض ایسے اجتماعی آداب کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی اس حساسیت کے مناسب حال ہوں۔ بعض اوقات ایک شخص ایک سرسری سی بات کہتا ہے لیکن معاشرے پر اس کے جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ‘ ان کا وہ اندازہ نہیں کرسکتا ۔ اور بعض اوقات ایک عام بات ہوتی ہے لیکن اس کے قائل کی مراد صرف ایک شخص سے ہوتی ہے لیکن ان باتوں کے اثرات معاشرے کی نفسیات ‘ اس کے اخلاق اور اس کے رسوم ورواجات پر نہایت ہی مہلک ہوتے ہیں۔ اس بات سے صرف وہ ایک فرد ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ اس سے پوری جماعت متاثر ہوتی ہے ۔ کوئی شخص کسی کے بارے میں بدگوئی کرنا چاہے اس کی جو شکل و صورت بھی ہو ‘ اگر اس کے دل میں خدا ترسی نہ ہو اور اس کا ضمیر محتاط نہ ہو تو یہ بدگوئی انسان کیلئے بہت ہی آسان ہوتی ہے ۔ لیکن اس بدگوئی اور بدزبانی کے آثار معاشرے میں بہت ہی برے نتائج پیدا کرتے ہیں ۔ بعض اوقات اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ معاشرے سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے ۔ لوگوں کا یہ خیال ہوجاتا ہے کہ اب معاشرے میں شر کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے اندر شر کی استعداد پوشیدہ ہوتی لیکن وہ معاشرتی دباؤ کی وجہ سے شر کا ارتکاب نہیں کرتے وہ اس کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں اب اس کا ارتکاب عام طور پر کیا جاتا ہے اس لئے وہ اس سے باک نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں کوئی معاشرتی خوف لاحق ہوتا ہے ۔ وہ سوچتے ہیں کہ صرف وہی اس کا ارتکاب نہیں کر رہے اور لوگ بھی ایسا ہی کر رہے ہیں ۔ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ کسی برائی کا ارتکاب دیکھتے دیکھتے انسان کے دل سے اس برائی کی کراہت میں کمی آجاتی ہے ۔ انسان پہلے پہل برائی کو بہت ہی شدت سے محسوس کرتا ہے اور جب اس کا بار بار ارتکاب ہوتا رہے یا بار بار ذکر ہوتا رہے تو اس کی نظروں میں اس کی قباحت کم ہوجاتی ہے اور اس کی جانب سے اس کراہت میں کمی آجاتی ہے لوگوں کیلئے ایسی برائی کا سننا آسان ہوجاتا ہے اور پھر وہ اسے مٹانے کیلئے فورا اٹھتے بھی نہیں ہیں۔ بدگوئی میں انسان سب سے پہلے انفرادی الزامات عائد کرتا ہے ۔ انفرادی گالی گلوچ ہوتی ہے ۔ اس کے بعد اجتماعی نقصان اور انتشار پیدا ہوجاتا ہے ۔ اخلاقی بےراہ روی پھیل جاتی ہے ۔ اس میں بعض لوگوں کے بعض دوسرے کے بارے میں اندازے بدل جاتے ہیں ‘ بعض لوگوں کا بعض دوسرے لوگوں میں اعتماد نہیں رہتا ‘ بعض جماعتوں کا دوسری جماعتوں پر اعتماد نہیں رہتا ۔ الزامات پر الزامات آتے ہیں اور زبانیں انہیں بلا کسی جھجک کے چاٹتی رہتی ہیں ۔ یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت مسلمہ کیلئے ایک دوسرے کی بدگوئی کو حرام قرار دیا ہے ۔ صرف وہی شخص بدگوئی کرسکتا ہے ‘ جس پر ظلم ہوا ہو۔ وہ صرف اس قدر برے لفظ استعمال کرسکتا ہے جن سے ظالم کے حقیقی ظلم کا اظہار ہو رہا ہو ان حدود کے اندر جن کے اندر ظلم ہوا ہے ۔ (آیت) ” لا یحب اللہ الجھر بالسوء من القول الا من ظلم “۔ (4 : 148) ” (اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے ‘ الا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو) ظلم کے حالات میں بدگوئی کے ذریعے دشمن سے بدلہ لیا جاتا ہے اور اسی طرح ظلم کے مقابلے میں مدافعت کی جاتی ہے ۔ اس بدگوئی میں وہ امور بھی شامل ہیں ‘ جنہیں قانونی اصطلاح میں سب وشتم کہا جاتا ہے ۔ اس بدگوئی کے ذریعے ایک فرد ‘ اس انفرادی بدسلوکی کو مسترد کرتا ہے جو فی الواقعہ ہوچکی ہے۔ اس طرح یہ مظلوم اس ظلم اور ظالم کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے۔ جس کا اسے حق حاصل ہوتا ہے تاکہ سوسائٹی اس مظلوم شخص کے ساتھ انصاف کرسکے ۔ وہ ظالم کے ہاتھ کو روک سکے اور معاشرے کے اندر ایک ایسی فضاء قائم ہو سکے جس میں ہر ظالم ظلم سے پہلے اپنے انجام کے بارے میں اچھی طرح سوچے اور اس ظلم کے دوبارہ ارتکاب سے باز آجائے ۔ اعلانیہ بدگوئی کا حق بالکل محدود ہے اسے صرف وہی شخص استعمال کرسکتا ہے جس پر ظلم ہوا ہو۔ اس کے جواز کا سبب بھی محدود ہے ۔ یعنی صرف وہ ظلم جو کسی متعین شخص کے ساتھ کیا گیا ہو اور یہ بدگوئی صرف اس شخص کے خلاف کی جاسکتی ہے جس نے ظلم کیا ہو ۔ ان محدود حالات میں اس بدگوئی کی اجازت اس لئے دی گئی ہے کہ اس سے ایک بڑی بھلائی کو رواج دینا مقصود ہے ۔ نیز اس بدگوئی سے ظلم اور ظالم کے خلاف صرف تشہیر ہی مقصود نہیں ہے بلکہ اصل یہ کہ مظلوم کو عدل و انصاف مل سکے ۔ اسلامی قانون لوگوں کی شہرت اور عزت کی حفاظت صرف اسی حد تک کرتا ہے ‘ جب تک وہ ظلم و زیادتی نہ کریں ۔ جب وہ ظلم کا ارتکاب کریں تو پھر وہ اس بات کے مستحق نہیں ہیں کہ ان کی حیثیت عرفی کو قانونی تحفظ دیا جائے ۔ ظلم کے ارتکاب کے بعد مظلوم کو یہ قانونی حق حاصل ہوجاتا ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف اواز اٹھائے اور ایک حد تک بدگوئی بھی کرے ۔ یہ واحد استثناء ہے جو مظلوم کے سلسلے میں ہے ‘ ورنہ اسلام کا عام قانونی اور اخلاقی ضابطہ یہی ہے کہ کسی کے خلاف بدگوئی کی اجازت نہ ہوگی ۔ اس طرح اسلام کے ان دونوں مقاصد کے درمیان ایک قسم کا توازن قائم ہوجاتا ہے ۔ وہ ایک ایسا نظام انصاف قائم کرنا چاہتا ہے جس میں ظلم کی کوئی گنجائش نہ ہو ۔ ایک ایسا نظام اخلاق بھی رائج کرنا چاہتا ہے جس میں حیائے چشمی اور اجتماعی رواداری پر بھی خراش نہ آئے ۔ اس پر قرآن کریم یہ اختتامیہ لاتا ہے ۔ (آیت) ” وکان اللہ سمیعا علما “۔ (4 : 148) (اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے) اور انتہائے کلام پر بھی بات اللہ جل شانہ کی ذات سے مربوط ہوجاتی ہے ۔ جبکہ آغاز ذکر محبت الہی سے ہوا تھا ۔ (آیت) ” لا یحب اللہ الجھر بالسوء “۔ (4 : 148) ” (اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بدگوئی پر زبان کھولے) یہ اس لئے کہا گیا تاکہ انسان کے دل میں یہ شعور زندہ رہے کہ انسان کی نیت ‘ انسان کی جانب سے بدگوئی کے اسباب اور پھر اس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ اور الزامات کی صحت اور انکی موزونیت کا اللہ تعالیٰ کے ہاں اچھی طرح اندازہ ہوتا ہے کیونکہ اللہ سنتا ہے اور جو بات کہی جاتی ہے اس کے تمام پس منظر سے وہ اچھی طرح آگاہ ہے جو بات بھی سینوں میں بھی عیاں ہے ۔ قرآن کریم یہاں بات کو بدگوئی کی صرف ممانعت یعنی صرف منفی حکم پر ہی ختم نہیں کردیتا بلکہ وہ مثبت بات کرکے بھلائی کا حکم دیتا ہے ۔ اس طرف متوجہ کرتا ہے کہ برائی پر عفو و درگزر سے کام لینا بہرحال بہت ہی پسندیدہ ہے ۔ عفو و درگزر کو صفات الہیہ میں سے ایک اہم صفت ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر خطاکار سے مواخذہ کرنے پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔ یہاں اشارہ دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو اللہ کے اخلاق وصفات اپنے اندر پیدا کرنا چاہئیں ۔ جہاں تک ان میں قدرت ہو اور جہاں تک وہ ایسا کرسکیں ۔

النساء 4:149

(آیت) ” ان تبدوا خیرا اوتخفوہ اوتعفوا عن سوء فان اللہ کان عفوا قدیرا (4 : 149) (لیکن اگر تم ظاہر و باطن میں بھلائی ہی کئے جاؤ ‘ یا کم از کم برائی سے درگزرکو ‘ تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنیوالا ہے حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ “ ) یوں اسلام کا منہاج تربیت نفس مومن اور جماعت مسلمہ کو ایک قدم اور بلند کردیتا ہے پہلا مرحلے میں کہا جاتا ہے کہ کسی شریف انسان کیلئے بدگوئی کے ساتھ منہ کھولنا اچھا نہیں ہے۔ اس مرحلے میں ایک استثنائی صورت یہ رکھی جاتی ہے کہ مظلوم بدگوئی کرکے بدلہ بھی لے سکتا ہے اور حصول انصاف کو بھی ممکن بنا سکتا ہے ۔ دوسرے مرحلے پر اہل ایمان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ سب کے سب بھلائی کیلئے ہر وقت کوشاں رہیں اور جس شخص پر ظلم کیا گیا ہے اور وہ بدگوئی کرکے اپنا بدلہ لے سکتا ہے اسے بھی یہ کہا گیا ہے کہ اگر وہ معاف کر دے اور صرف نظر کرے تو یہ نہایت ہی اچھا فعل ہے۔ یہ نہایت ہی بلند اخلاقی ہے ‘ بشرطیکہ وہ انتقام پر قادر ہو اور وہ انتقام کے بجائے عفو و درگزر کو ترجیح دے ۔ کیونکہ قدرت انتقام کے بغیر عفو کیا معنی ؟ گدا گر تواضع کند خوائے اوست۔ اگر عفو و درگزر کی نیکی کھل کر کریں تو معاشرہ میں عفو و درگزر کی رسم چلے گی اور نیکی پھیلے گی اور اگر وہ یہ نیکی خفیہ طور پر کریں گے تو بھی تزکیہ نفوس کا کام ہوگا ۔ بھلائی اگر اعلانیہ کی جائے تو بھی مفید ہے اور اگر خفیہ کی جائے تو بھی مفید ہے ۔ جب لوگوں کے درمیان عفو و درگزر عام ہوگا تو بدگوئی کرنے کے مواقع خود ہی کم ہوتے چلے جائیں گے بشرطیکہ یہ عفو و درگزر وہ شخص کرے جو انتقام پر قدرت رکھتا ہو ۔ لیکن اگر کسی شخص کی کمزوری اسے عفو پر مجبور کر رہی ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ یہ عفو و درگزر اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپناتے ہوئے ہونا چاہئے ۔ اللہ قدرت کے باوجود عفو سے کام لیتا ہے ۔ (آیت) ”(فان اللہ کان عفوا قدیرا) (4 : 149) (اللہ بڑا معاف کرنیوالا ہے حالانکہ وہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے) اس کے بعد بات کا رخ اہل کتاب کی طرف پھرجاتا ہے ۔ پہلے تمام اہل کتاب کے حوالے سے بات ہوتی ہے ۔ اس کے بعد خصوصا یہودیوں کے بعض کارناموں کا تذکرہ ہوتا ہے اور آخر میں نصاری پر تنقید ہوتی ہے ۔ یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم (علیہ السلام) کے بارے میں سخت بدگوئی کرتے تھے اور ان کی ذات کے بارے میں بہتان باندھتے تھے ۔ اس حصہ کلام میں ان کی ان بدگویوں کا ذکر بھی ہوتا ہے ۔ اس طرح یہودیوں پر کی جانے والی تنقید کا رابطہ دو سابقہ آیات سے بھی واضح ہوجاتا ہے جن میں بدگوئی کی ممانعت کی گئی ہے ۔ اہل کتاب اور یہود ونصاری پر یہ تنقید بھی اس معرکے کا حصہ ہے جو مدینہ میں جماعت مسلمہ کو اس کے دشمنوں کے ساتھ درپیش تھا جس کا ایک بہت بڑا حصہ اس سورة میں اور سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں تفصیلا بیان ہوا ہے ۔ اس معرکے کی تفصیلات قرآنی ترتیب کے مطابق ملاحظہ ہوں ۔

النساء 4:150

یہودیوں کا دعوی یہ تھا کہ وہ اپنے نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی رسالتوں کا انکار کرتے تھے ۔ جبکہ نصاری کا موقف یہ تھا کہ وہ صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لاتے تھے اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے وہ بھی منکر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ بھی سمجھتے تھے ۔ قرآن کریم نے ان دونوں کے موقف پر سخت گرفت کی ۔ اور اللہ اور اس کے انبیاء ورسل پر ایمان لانے کا جامع تصور پیش فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا بھی غلط ہے اور خود اللہ کے تمام رسولوں کے درمیان فرق کرکے بعض پر ایمان لانا اور بعض کا انکار کرنا بھی غلط ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے تمام رسولوں پر بلا امتیاز ایمان لانا ضروری ہے ۔ اور یہی دین اسلام ہے اللہ کو اس کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہے کیونکہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے تقاضوں کو صرف اسی صورت میں پورا کیا جاسکتا ہے ۔ اللہ کی وحدانیت مطلقہ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کا دین بھی ایک ہو ‘ جس کے حامل وہ تمام رسول قرار دیئے جائیں جو انسان کی ہدایت کیلئے کسی بھی وقت بھیجے گئے ہوں اور جن جن رسولوں کو یہ امانت سپرد کی گئی ان کا درجہ اور مقام بھی ایک ہونا ضروری ہے ۔ رسولوں کے ایک ہی منصب اور ایک ہی مقام کا جو بھی انکار کرے گا وہ اللہ کی توحید کا انکار تصور ہوگا ۔ اس سے اللہ کی وحدانیت کا ایک بڑا تصور سامنے آئے گا اس لئے کہ انسانوں کیلئے اللہ کا پسندیدہ دین بہرحال وہی ایک ہے ‘ اس کی بنیاد ایک ہے ‘ اور اس کا مصدر ومنبع ایک ہے ‘ لہذا اس کے نمائندوں کے درمیان تفریق کس طرح معقول ہو سکتی ہے ۔ قرآن کریم نے اللہ اور رسولوں کے درمیان تفریق کرنے کو ان الفاظ میں بیان کیا ۔ ” کہ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں کا انکار کرتے ہیں ۔ “ اور رسولوں کے درمیان تفریق کو یوں بیان کیا ۔ ” ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے ۔ “ اور ان دونوں فریقوں کے بارے میں کہا۔ (آیت) ” ان الذین یکفرون باللہ ورسولہ “۔ (4 : 150) (جو لوگ اللہ اور رسولوں سے کفر کرتے ہیں) اس طرح قرآن کے نزدیک اللہ اور رسولوں میں سے کسی کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا بھی کفر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک مستقل اکائی ہے اور اسکے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کئے جاسکتے ایمان کا پہلا قدم اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے ۔ اللہ کو وحدہ لا شریک تسلیم کرنے کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کیلئے جو نظام زندگی اور جو دین پسند فرمایا ہے وہ بھی ایک ہے جو عقیدہ توحید کی اساس پر ہے ۔ جو رسول اس دین کو لیکر آتے رہے ہیں وہ بھی ایک ہیں اس لئے کہ یہ سب اسی کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ خود سے نہیں آئے نہ وہ اللہ کے ارادے اور اس کی وحی سے علیحدہ رہے ہیں ۔ ان کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اس لئے ایک پوری اکائی کی تحلیل اور تجزیہ نہیں ہو سکتا ۔ جو بھی ایمان کی اس وحدت اور اکائی میں فرق کرے گا وہ کفر مطلق کا ارتکاب کرے گا اگرچہ وہ یہ خیال کرتا ہو کہ بعض اجزاء پر ایمان لایا ہے اور بعض سے کفر کیا ہے ۔ ایسے لوگوں کی جزاء اللہ کے نزدیک یہ ہوگی کہ انہیں تو ہیں آمیز عذاب دیا جائے گا ایسے سب لوگوں کو ۔ (آیت) ” اولئک ھم الکفرون حقا ، واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (4 : 151) (وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کیلئے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کردینے والی ہوگی ۔ ) کسی قسم کا تفرقہ جائز نہیں ہے ۔ مسلمانوں کے ہاں تمام رسولوں کی عقیدت اور احترام پایا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے نزدیک تمام سماوی ادیان برحق ہیں ‘ ہاں اگر انکے اندر تحریف کردی جائے تو پھر وہ دین نہ رہیں گے اگرچہ ان ادیان کے بعض حصے اپنی اصل شکل میں موجود ہوں ‘ اس لئے کہ دین ایک ہی وحدت ہے اور اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ دین میں ایک الہ ہے ‘ اس ایک الہ نے لوگوں کیلئے ایک ہی دین تجویز کیا ہے ۔ یہ دین ان کی زندگی کا ایک مکمل منہاج ہے ۔ اللہ نے رسولوں کو بھیجا ہے تاکہ یہ تمام رسول اس منہاج اور اس نظام کی طرف لوگوں کو بلائیں ۔ مسلمانوں کے تصور میں قافلہ ایمان ایک دوسرے کے ساتھ قطار کی شکل میں جڑا ہوا ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس قافلے کی قیادت فرما رہے ہیں جن کے درمیان ان کی بھائی مزید ایسے رسول بھی گزرے ہیں جن کے نام یہاں مذکور نہیں ۔ ان تمام رسولوں کا نسب نامہ اسی قافلے کے ساتھ ملتا ہے ۔ یہ سب ایک ہی عظیم امانت کے حامل رہے ہیں اور یہ تمام رسول ایک ہی سچائی وبھلائی کے وارث رہے ہیں جس کا سلسلہ طویل اور مبارک ہے ۔ اس سلسلے میں کوئی تفرقہ نہیں ہے ‘ اس میں سے کوئی رسول علیحدہ نہیں ہے اور اس سلسلے کے درمیان کوئی انقطاع نہیں ہے اور دین حق کی وراثت کا مصدر یہی لوگ رہے ہیں ان رسولوں کے سلسلے سے ہٹ کر جو دین اور جو نظریہ بھی ہے وہ باطل اور گمراہی ہے ۔ یہ ہے اسلامی نظریہ حیات جس کے سوا اللہ تعالیٰ کو کوئی دین اور نظریہ حیات قبول نہیں ہے اور یہ ہیں اہل اسلام جو اپنے اعمال پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجروثواب کے مستحق ہیں اور اس کی جانب سے رحمت اور مغفرت کے بھی مستحق ہیں اگر ان سے اپنی زندگی میں کوئی قصور سرزد ہوگیا ۔

النساء 4:151

یہودیوں کا دعوی یہ تھا کہ وہ اپنے نبیوں پر ایمان رکھتے ہیں لیکن وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی رسالتوں کا انکار کرتے تھے ۔ جبکہ نصاری کا موقف یہ تھا کہ وہ صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت پر ایمان لاتے تھے اور حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے وہ بھی منکر تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الہ بھی سمجھتے تھے ۔ قرآن کریم نے ان دونوں کے موقف پر سخت گرفت کی ۔ اور اللہ اور اس کے انبیاء ورسل پر ایمان لانے کا جامع تصور پیش فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کرنا بھی غلط ہے اور خود اللہ کے تمام رسولوں کے درمیان فرق کرکے بعض پر ایمان لانا اور بعض کا انکار کرنا بھی غلط ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے تمام رسولوں پر بلا امتیاز ایمان لانا ضروری ہے ۔ اور یہی دین اسلام ہے اللہ کو اس کے سوا کوئی اور دین قبول نہیں ہے کیونکہ اللہ کی وحدانیت اور اس کے تقاضوں کو صرف اسی صورت میں پورا کیا جاسکتا ہے ۔ اللہ کی وحدانیت مطلقہ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کا دین بھی ایک ہو ‘ جس کے حامل وہ تمام رسول قرار دیئے جائیں جو انسان کی ہدایت کیلئے کسی بھی وقت بھیجے گئے ہوں اور جن جن رسولوں کو یہ امانت سپرد کی گئی ان کا درجہ اور مقام بھی ایک ہونا ضروری ہے ۔ رسولوں کے ایک ہی منصب اور ایک ہی مقام کا جو بھی انکار کرے گا وہ اللہ کی توحید کا انکار تصور ہوگا ۔ اس سے اللہ کی وحدانیت کا ایک بڑا تصور سامنے آئے گا اس لئے کہ انسانوں کیلئے اللہ کا پسندیدہ دین بہرحال وہی ایک ہے ‘ اس کی بنیاد ایک ہے ‘ اور اس کا مصدر ومنبع ایک ہے ‘ لہذا اس کے نمائندوں کے درمیان تفریق کس طرح معقول ہو سکتی ہے ۔ قرآن کریم نے اللہ اور رسولوں کے درمیان تفریق کرنے کو ان الفاظ میں بیان کیا ۔ ” کہ وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور رسولوں کا انکار کرتے ہیں ۔ “ اور رسولوں کے درمیان تفریق کو یوں بیان کیا ۔ ” ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے ۔ “ اور ان دونوں فریقوں کے بارے میں کہا۔ (آیت) ” ان الذین یکفرون باللہ ورسولہ “۔ (4 : 150) (جو لوگ اللہ اور رسولوں سے کفر کرتے ہیں) اس طرح قرآن کے نزدیک اللہ اور رسولوں میں سے کسی کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا بھی کفر ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایمان ایک مستقل اکائی ہے اور اسکے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کئے جاسکتے ایمان کا پہلا قدم اللہ کی وحدانیت کا اقرار ہے ۔ اللہ کو وحدہ لا شریک تسلیم کرنے کا لازمی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کیلئے جو نظام زندگی اور جو دین پسند فرمایا ہے وہ بھی ایک ہے جو عقیدہ توحید کی اساس پر ہے ۔ جو رسول اس دین کو لیکر آتے رہے ہیں وہ بھی ایک ہیں اس لئے کہ یہ سب اسی کے بھیجے ہوئے ہیں اور یہ خود سے نہیں آئے نہ وہ اللہ کے ارادے اور اس کی وحی سے علیحدہ رہے ہیں ۔ ان کا موقف ہمیشہ ایک ہی رہا ہے اس لئے ایک پوری اکائی کی تحلیل اور تجزیہ نہیں ہو سکتا ۔ جو بھی ایمان کی اس وحدت اور اکائی میں فرق کرے گا وہ کفر مطلق کا ارتکاب کرے گا اگرچہ وہ یہ خیال کرتا ہو کہ بعض اجزاء پر ایمان لایا ہے اور بعض سے کفر کیا ہے ۔ ایسے لوگوں کی جزاء اللہ کے نزدیک یہ ہوگی کہ انہیں تو ہیں آمیز عذاب دیا جائے گا ایسے سب لوگوں کو ۔ (آیت) ” اولئک ھم الکفرون حقا ، واعتدنا للکفرین عذابا مھینا “۔ (4 : 151) (وہ سب پکے کافر ہیں اور ایسے کافروں کیلئے ہم نے وہ سزا مہیا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کردینے والی ہوگی ۔ ) کسی قسم کا تفرقہ جائز نہیں ہے ۔ مسلمانوں کے ہاں تمام رسولوں کی عقیدت اور احترام پایا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کے نزدیک تمام سماوی ادیان برحق ہیں ‘ ہاں اگر انکے اندر تحریف کردی جائے تو پھر وہ دین نہ رہیں گے اگرچہ ان ادیان کے بعض حصے اپنی اصل شکل میں موجود ہوں ‘ اس لئے کہ دین ایک ہی وحدت ہے اور اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔ دین میں ایک الہ ہے ‘ اس ایک الہ نے لوگوں کیلئے ایک ہی دین تجویز کیا ہے ۔ یہ دین ان کی زندگی کا ایک مکمل منہاج ہے ۔ اللہ نے رسولوں کو بھیجا ہے تاکہ یہ تمام رسول اس منہاج اور اس نظام کی طرف لوگوں کو بلائیں ۔ مسلمانوں کے تصور میں قافلہ ایمان ایک دوسرے کے ساتھ قطار کی شکل میں جڑا ہوا ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس قافلے کی قیادت فرما رہے ہیں جن کے درمیان ان کی بھائی مزید ایسے رسول بھی گزرے ہیں جن کے نام یہاں مذکور نہیں ۔ ان تمام رسولوں کا نسب نامہ اسی قافلے کے ساتھ ملتا ہے ۔ یہ سب ایک ہی عظیم امانت کے حامل رہے ہیں اور یہ تمام رسول ایک ہی سچائی وبھلائی کے وارث رہے ہیں جس کا سلسلہ طویل اور مبارک ہے ۔ اس سلسلے میں کوئی تفرقہ نہیں ہے ‘ اس میں سے کوئی رسول علیحدہ نہیں ہے اور اس سلسلے کے درمیان کوئی انقطاع نہیں ہے اور دین حق کی وراثت کا مصدر یہی لوگ رہے ہیں ان رسولوں کے سلسلے سے ہٹ کر جو دین اور جو نظریہ بھی ہے وہ باطل اور گمراہی ہے ۔ یہ ہے اسلامی نظریہ حیات جس کے سوا اللہ تعالیٰ کو کوئی دین اور نظریہ حیات قبول نہیں ہے اور یہ ہیں اہل اسلام جو اپنے اعمال پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے اجروثواب کے مستحق ہیں اور اس کی جانب سے رحمت اور مغفرت کے بھی مستحق ہیں اگر ان سے اپنی زندگی میں کوئی قصور سرزد ہوگیا ۔

النساء 4:152

(آیت) ” والذین امنوا باللہ ورسلہ ولم یفرقوا بین احد منھم اولئک سوف یوتیھم اجورھم وکان اللہ غفورا رحیما “۔ (4 : 152) (بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں ‘ ان کو ہم ضرور ان کے اجر عطا کریں گے اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ ) اسلام نے اللہ اور رسل کے بارے میں عقائد کو ایک اکائی قرار دینے کے بارے میں اس قدر تشدد کیوں کیا ؟ اسی لئے کہ ایک مومن کے تصور الہ میں عقیدہ توحید ایک اساسی حیثیت کا حامل ہے ۔ اور یہ عقیدہ اس کائنات کے اندر ایک مدیر ومنتظم کے تصور کے ساتھ بھی لگا کھاتا ہے جو نہ تعدد کو قبول کرتا ہے اور نہ اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا منتظم ہو سکتا ہے ۔ یہی عقیدہ کوئی ذی شعور انسان اختیار کرسکتا ہے جو اس کائنات کے اندر جاری وساری ناموس اکبر کو محسوس کرتا ہے اور جب تک اس کی نظر کو رسائی حاصل ہے ۔ یہی تصور حیات اہل ایمان کو ایک متحد قافلے کی شکل دے سکتا ہے جو کفر کی صفوں اور حزب الشیطان کی پارٹی کے مقابلے میں ‘ ایک جماعت کی شکل میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ لیکن یہ اہل ایمان ان نظریات کے حامل لوگوں کی طرح متفرق اور بکھرے ہوئے نہیں ہوتے ‘ جن کا دین اور نظریہ اگرچہ اپنی اصل کے اعتبار سے تو سماوی تھا مگر انہوں نے اس میں تحریف کرلی اور اب وہ صحیح اہل ایمان کی طرح ایک ہی صف میں کھڑے نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم صرف اسلام کو دین قرار دیتا ہے ۔ صرف اہل اسلام کو خیر امت قرار دیتا ہے جسے لوگوں کی خاطر برپا کیا گیا ہے ۔ وہ مسلمان جن کا عقیدہ درست ہو ‘ جن کا عمل اور کردار اس عقیدے اور نظرئیے کے مطابق ہو ‘ یہ نہ ہو کہ بس وہ ایک مسلمان کے گھر پیدا ہوئے ہوں اور نہ صرف یہ ہو کہ انہوں نے اسلام کے کلمے کو یاد کرلیا ہو اور زبان سے ادا کردیا ہو ۔ اس تشریح وبیان کے بعد معلوم ہوگیا کہ وہ کون ہیں جو ایک طرف اللہ اور رسولوں میں جدائی کرتے ہیں اور دوسری جانب رسولوں میں سے بعض کو مانتے ہیں اور بعض دوسروں کا انکار کرتے ہیں ۔ وہ تاریخی قافلہ ایمانی کے سلسلے کے اندر گیپ پیدا کرتے ہیں ‘ اس وحدت کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہیں جو اللہ نے پیدا کی ہے اور یوں وہ اس وحدانیت کا انکار کردیتے ہیں جس پر عقیدہ ایمان باللہ قائم ہے ۔ رسولوں اور انکی رسالت کے بارے میں اسلامی تصور حیات کی خشت اول کو مضبوط کرنے کے بعد اور حقیقت ایمان اور حقیقت کفر کو واضح کردینے کے بعد اس سلسلے میں یہودیوں کے بعض غلط مواقف زیر بحث لائے جاتے ہیں ‘ جن کا تعلق اس بدگوئی سے بھی ہے جس کا ذکر اس پارے کے آغاز میں کیا گیا ہے ۔ اس میں نبی ﷺ اور آپ کی رسالت کے بارے میں ان کے موقف کی تردید کی جاتی ہے اور اس بات کی مذمت کی جاتی ہے کہ وہ حضور اکرم ﷺ سے معجزات اور نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ وہ اپنے اس موقف اور عقیدے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اپنے موقف اور عقیدے کے درمیان فرق کرتے ہیں ۔ پھر حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ محترمہ کے بارے میں ان کا موقف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مختلف ہے ۔ حالانکہ ان تمام پیغمبروں کی حقیقت پوری انسانی تاریخ میں ایک ہی ہے ۔ یہاں سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید جو یہودی اور اہل کتاب حضرت محمد ﷺ کے سامنے کھڑے ہیں وہی لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے بھی کھڑے تھے اور یہی لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے بھی کھڑے تھے ۔ اس سے اس مفہوم کی تاکید مطلوب ہے کہ جس طرح رسل ایک ہیں اسی طرح ہم بھی ایک ہیں ۔ چناچہ قرآن کریم ان کی اس جبلت کو ان الفاظ میں ظاہر کرتا ہے ۔

النساء 4:153

جزیرۃ العرب میں یہودیوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے مقابلے میں کھلا معاندانہ دشمنی کا موقف اختیار کیا ۔ وہ آپ کے خلاف مسلسل خفیہ اور نہایت ہی معاندانہ سازشیں تیار کرتے رہے جن کی تفصیلات کو قرآن مجید نے بیان کیا ہے ۔ اور جن کے کچھ رنگ ہم سورة بقرہ ‘ سورة آل عمران اور خود اسی سورة کے پارہ پنجم میں دکھا چکے ہیں ۔ ان آیات میں جو باتیں کہی جا رہی ہیں وہ بھی ان کے اس مسلسل موقف کا ایک رنگ ہے ۔ ان کی پہلی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ وہ حضور ﷺ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ آسمانوں سے ایک کتاب نازل فرما دیں ‘ یہ لکھی ہوئی ہو ‘ وہ مجسم طور پر آسمانوں سے انکے سامنے آرہی ہو اور وہ اسے اپنے ہاتھوں کے ساتھ چھولیں ۔ (آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (4 : 153) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) اس سوال کا جواب ‘ حضرت نبی اکرم ﷺ کی جانب سے خود اللہ تعالیٰ عنایت فرماتے ہیں اور حضور ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے ‘ یہودیوں کی تردید کرتے ہوئے خود یہودیوں کی اپنی تاریخ سے ‘ ان کا اپنے نجات دہندہ اور قائد اور عظیم نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے رویے کی ایک جھلک پیش فرماتے ہیں ۔ حالانکہ ان یہودیوں کا زعم یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ ان کی تاریخ کا یہ صفحہ الٹ کر بتایا جاتا ہے کہ ان کی یہ عادت کوئی نئی عادت نہیں ہے ۔ موجودہ مدینہ کے یہودی ہی ایسے سوالات نہیں کر رہے بلکہ از منہ قدیمہ سے ان کی ایسی ہی عادت رہی ہے ۔ ان کی جبلت آج بھی وہی ہے جو عہد موسیٰ میں ہوا کرتی تھی حالانکہ وہ انکے قائد بھی تھے ‘ نبی بھی تھے اور ان کے نجات دہندہ بھی تھے ۔ وہ موٹے دماغ کے لوگ ہیں ۔ ان کو صرف محسوس چیزوں کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے ۔ جس طرح یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ہٹ دھرم تھے ‘ عناد کرنیوالے تھے اور ماسوائے اس کے کہ انہیں کسی کی بات کو زبردستی تسلیم کرنے پر مجبور کردیا جائے ‘ یہ مان کر نہیں دیتے ۔ یہ آج بھی ویسے ہی کفر پیشہ اور غدار ہیں اور دوڑکر وعدہ توڑنے والے ہیں ۔ یہ وہی ہیں جھوٹے اور گندے لوگ ۔ وہ کسی موقف پر ثابت قدم رہنے والے نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی یہ لوگ بدگوئی سے چوکتے ہیں ۔ یہ ہر وقت لالچ کے بندے ہیں اور دنیا پرستی انکا شعار ہے ۔ لوگوں کے مال باطل اور ناجائز طریقے سے کھانا ان کا وطیرہ ہے ۔ یہ بھی ان کی قدیم عادت ہے کہ یہ لوگ اللہ کے حکم سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کے ہاں جو ثواب آخرت میں ملتا ہے اسے خاطر ہی میں نہیں لاتے ۔ ان آیات میں ان کے خلاف یہ مہم اسی لئے چلائی گئی ہے کہ ان کی حقیقت کھول کر سامنے رکھدی جائے ۔ انہیں شرمندہ کردیا جائے ۔ اس مہم کے زور اور اس کے تنوع کو دیکھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت یہودی سازش کو بےنقاب کرنے کی کسی قدر ضرورت تھی جو سازش وہ اسلام اور وقت کے نبی کے خلاف کر رہے تھے ۔ یہودیوں کی یہی حیثیت اور ناپاک سازشیں ہیں جو آج تک اس دین اور اس کے ماننے والوں کے خلاف بدستور جاری ہیں ۔ (آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (4 : 153) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) آپ ان کی اس ہٹ دھرمی سے پریشان نہ ہوں ‘ اس لئے کہ انکی یہ ہٹ دھرمی تعجب انگیز تعجب انگیز نہیں ہے ‘ نہ یہ کوئی نئی بات ہے ۔ (آیت) ” فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ (4 : 153) ”(تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰ سے کرچکے ۔ اس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو بیشمار معجزات نازل فرمائے تھے وہ ان کے احساس کو نہ جگا سکے ۔ ان عظیم معجزات سے بھی ان کے وجدان کے اندر کوئی ارتعاش پیدا نہ ہوا۔ اور یہ حیران کن معجزات بھی ان کے دلوں کو مائل بہ ہدایت و اطاعت نہ کرسکے اور یہ بدبخت آگے بڑھے اور ذات باری کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کردیا ۔ بالکل کھلے بندوں دیکھنے کا ۔ یہ ان کا ایک متکبرانہ مزاج اور مطالبہ تھا ‘ جس میں ایمان کی تروتازگی سرے سے موجود ہی نہ تھی بلکہ ان کی جبلت میں سرے سے ایمان کی استعداد ہی موجود نہ تھی ۔ ٍ (آیت) ” فاخذتھم الصعقۃ بظلمھم) اور اسی سرکشی کی وجہ سے یکایک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی ۔ لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف ہی کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور اپنے آپ سے ان کے بارے میں عاجزانہ التماس کو قبول ہی کرلیا ۔ اس دعا کی تفصیلات سورة اعراف (155) میں ہیں ۔ (آیت) ” فلما اخذتھم الرجفۃ قال رب لوشئت اھلکنھم من قبل وایایء اتھلکنا بما فعل السفھآء منا ان ھی الا فتنک تضل بھا من تشآء وتھدی من تشآء انت ولینا فاغفرلنا وارحمنا وانت خیر الغفرین (155) واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ انا ھدنا الیک (156) (7 : 155۔ 156) (جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ۔ ” اے میرے سرکار ‘ آپ تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے ‘ کیا اس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کردیں گے ؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی آزمائش تھی جس کے ذریعے سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کردیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت پخش دیتے ہیں ۔ ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں ۔ پس ہمیں معاف کردیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے ۔ آپ سب کو معاف فرمانے والے ہیں ۔ اور ہمارے لئے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ۔ ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ “ ) (آیت) ” ثم اتخذوالعجل من بعد ما جآء تھم البینت “۔ (4 : 153) (پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے) یہ بچھڑا سونے کا بنا ہوا تھا ۔ اسے سامری نامی شخص نے بنایا تھا ۔ یہ اس نے سونے کے ان زیورات سے بنایا تھا ‘ جو انہوں نے مصری عورتوں سے لئے تھے جب وہ وہاں سے نکل رہے تھے ۔ یہ لوگ اس بچھڑے کے اردگرد جمع ہوگئے اور انہوں نے اسے اپنا معبود بنا لیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت کوہ طور پر گئے ہوئے تھے جہاں انہوں نے اپنے رب سے ایک مقررہ وقت میں بات کرنی تھی ۔ جہاں ان کو تورات کی الواح اور ہدایت اور نئی روشنی عطا ہونی تھی ۔ (آیت) ” (فعفونا عن ذلک) (اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا۔ ) لیکن یہودی یہودی ہی تو تھے ۔ ان کے ساتھ معاملات کرنے میں صرف خوف اور جبر مفید رہتا ہے ۔ (آیت) ” واتینا موسیٰ سلطنا مبینا (153) ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم وقلنالھم ادخلوا الباب سجدا وقلنالھم لا تعدوا فی السبت واخذنا منھم میثاقا غلیظا “ (154) (4 : 153۔ 154) (ہم نے ان سے درگزر کیا ۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو صریح فرمان عطا کیا اور ان لوگوں پر طور کو اٹھا کر ان سے اس فرمان کی اطاعت کا عہد لیا ۔ ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو۔ ہم نے ان سے کہا کہ اللہ کا قانون نہ توڑو اور اس پر ان سے پختہ عہد لیا ۔ ) یہاں سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو سلطان عطا فرمایا وہ کیا چیز ہے ۔ غالبا وہ وہی شریعت ہے جو الواح میں موجود تھی ‘ تو اللہ تعالیٰ کی شریعت گویا اللہ کی جانب سے سلطان اور حاکمیت ہے اور اللہ کے سوا جو شریعت اور قانون بھی ہوگا اس پر اللہ کی جانب سے کوئی سلطان اور سند قبولیت نہ ہوگی ۔ عملا بھی غیر اللہ کی شریعت اور قوانین کو دلوں پر کوئی حکمرانی حاصل نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے لئے جو قوانین خود بناتے ہیں ان کی کوئی وقعت عوام الناس کے دلوں میں نہیں ہوتی ۔ ان قوانین کا نفاذ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ داروغہ سر پر کھڑا ہو یا جلاد کی تلوار سر پر ہو ۔ رہی اللہ کی شریعت تو لوگ اس کے سامنے نہایت ہی عاجزی سے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور ان کے دل مائل باطاعت ہوتے ہیں ۔ دلوں کے اندر شریعت کے خلاف ورزی کا خوف ہوتا ہے اور اللہ کی سزا کا ڈر نظروں میں ہوتا ہے ۔ لیکن یہودی جن کے دل شعور ایمان سے محروم تھے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی جانب سے دی گئی الواح شریعت کے ماننے سے صاف انکار کردیا ۔ اس مقام پر پھر ان پر اللہ کا غضب آتا ہے ‘ اس لئے کہ وہ اپنی فطرت اور اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کے لائق تھے ۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ایک عظیم چٹان ان کے سروں پر لٹک رہی ہے ۔ یوں نظر آتا تھا کہ ابھی ان کے سروں پر گری کہ گری ۔ وہ چونکے فورا انہوں نے اس شریعت کو تسلیم کرنے کا اقرار کیا اور وعدہ کرلیا ۔ پختہ میثاق طے ہوگیا ۔ اور بڑی بڑی یقین دہانیوں کے ساتھ طے ہوگیا ۔ حالانکہ پہلے وہ نہ تسلیم کرنے تھے نہ عہد کرنے کیلئے تیار تھے اور نہ ہی اس عہد قدیم کو لینے کے لئے تیار تھے ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ یہاں انہیں ان کی اس صفت قدیمہ کو یاد دلاتے ہیں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اس منظر میں ایک سخت پتھر جو ان کے سروں پر لٹک رہا تھا اور دوسری طرف ان کے سینوں میں سخت پتھر کی طرح دل رکھے ہوئے ہیں۔ چناچہ اس منظر میں ان دو قسم کے پتھروں کے درمیان مناسبت پیدا کردی گئی ہے۔ اس طرح انداز تعبیر پختہ ‘ متعین اور مجسم ہوجاتا ہے ۔ جس طرح قرآن کریم کا عمومی انداز تعبیر ہے کہ وہ وہ بیت المقدس میں سجدہ ریز ہو کر داخل ہوں اور یہ کہ وہ سبت کا احترام کریں جسے خود ان کے مطابلے پر ان کیلئے خوشی کا دن بنایا گیا تھا ۔ لیکن ہوا کیا ؟ پتھر لٹکنے کے خوف وہراس کے غائب ہوتے ہی اور اس قاہرانہ فضا کے ختم ہوتے ہی ان کے قدم پھسل گئے اور فخر سے یہ کہنے لگے کہ ہمارے دل تو کسی نصیحت سے متاثر نہیں ہوتے ۔ وہ مردوں میں ہیں اور ان تک کوئی بات پہنچتی ہی نہیں ہے کیونکہ ان کے دروازے بند ہیں ۔ اور یہ کہنے کے بعد انہوں نے ان تمام برے افعال کا ارتکاب کیا جس کی تفصیلات اللہ میاں یہاں نبی ﷺ کو بتاتے ہیں ۔ یہ یہاں اس لئے گنوائے گئے ہیں تاکہ حضور ﷺ یہودیوں کو ذرا آئینہ دکھا دیں کہ وہ ہیں کیا ؟

النساء 4:154

جزیرۃ العرب میں یہودیوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے مقابلے میں کھلا معاندانہ دشمنی کا موقف اختیار کیا ۔ وہ آپ کے خلاف مسلسل خفیہ اور نہایت ہی معاندانہ سازشیں تیار کرتے رہے جن کی تفصیلات کو قرآن مجید نے بیان کیا ہے ۔ اور جن کے کچھ رنگ ہم سورة بقرہ ‘ سورة آل عمران اور خود اسی سورة کے پارہ پنجم میں دکھا چکے ہیں ۔ ان آیات میں جو باتیں کہی جا رہی ہیں وہ بھی ان کے اس مسلسل موقف کا ایک رنگ ہے ۔ ان کی پہلی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ وہ حضور ﷺ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ آسمانوں سے ایک کتاب نازل فرما دیں ‘ یہ لکھی ہوئی ہو ‘ وہ مجسم طور پر آسمانوں سے انکے سامنے آرہی ہو اور وہ اسے اپنے ہاتھوں کے ساتھ چھولیں ۔ (آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (4 : 153) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) اس سوال کا جواب ‘ حضرت نبی اکرم ﷺ کی جانب سے خود اللہ تعالیٰ عنایت فرماتے ہیں اور حضور ﷺ اور مسلمانوں کے سامنے ‘ یہودیوں کی تردید کرتے ہوئے خود یہودیوں کی اپنی تاریخ سے ‘ ان کا اپنے نجات دہندہ اور قائد اور عظیم نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے رویے کی ایک جھلک پیش فرماتے ہیں ۔ حالانکہ ان یہودیوں کا زعم یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ ان کی تاریخ کا یہ صفحہ الٹ کر بتایا جاتا ہے کہ ان کی یہ عادت کوئی نئی عادت نہیں ہے ۔ موجودہ مدینہ کے یہودی ہی ایسے سوالات نہیں کر رہے بلکہ از منہ قدیمہ سے ان کی ایسی ہی عادت رہی ہے ۔ ان کی جبلت آج بھی وہی ہے جو عہد موسیٰ میں ہوا کرتی تھی حالانکہ وہ انکے قائد بھی تھے ‘ نبی بھی تھے اور ان کے نجات دہندہ بھی تھے ۔ وہ موٹے دماغ کے لوگ ہیں ۔ ان کو صرف محسوس چیزوں کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے ۔ جس طرح یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ہٹ دھرم تھے ‘ عناد کرنیوالے تھے اور ماسوائے اس کے کہ انہیں کسی کی بات کو زبردستی تسلیم کرنے پر مجبور کردیا جائے ‘ یہ مان کر نہیں دیتے ۔ یہ آج بھی ویسے ہی کفر پیشہ اور غدار ہیں اور دوڑکر وعدہ توڑنے والے ہیں ۔ یہ وہی ہیں جھوٹے اور گندے لوگ ۔ وہ کسی موقف پر ثابت قدم رہنے والے نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی یہ لوگ بدگوئی سے چوکتے ہیں ۔ یہ ہر وقت لالچ کے بندے ہیں اور دنیا پرستی انکا شعار ہے ۔ لوگوں کے مال باطل اور ناجائز طریقے سے کھانا ان کا وطیرہ ہے ۔ یہ بھی ان کی قدیم عادت ہے کہ یہ لوگ اللہ کے حکم سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کے ہاں جو ثواب آخرت میں ملتا ہے اسے خاطر ہی میں نہیں لاتے ۔ ان آیات میں ان کے خلاف یہ مہم اسی لئے چلائی گئی ہے کہ ان کی حقیقت کھول کر سامنے رکھدی جائے ۔ انہیں شرمندہ کردیا جائے ۔ اس مہم کے زور اور اس کے تنوع کو دیکھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت یہودی سازش کو بےنقاب کرنے کی کسی قدر ضرورت تھی جو سازش وہ اسلام اور وقت کے نبی کے خلاف کر رہے تھے ۔ یہودیوں کی یہی حیثیت اور ناپاک سازشیں ہیں جو آج تک اس دین اور اس کے ماننے والوں کے خلاف بدستور جاری ہیں ۔ (آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (4 : 153) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) آپ ان کی اس ہٹ دھرمی سے پریشان نہ ہوں ‘ اس لئے کہ انکی یہ ہٹ دھرمی تعجب انگیز تعجب انگیز نہیں ہے ‘ نہ یہ کوئی نئی بات ہے ۔ (آیت) ” فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ (4 : 153) ”(تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰ سے کرچکے ۔ اس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو بیشمار معجزات نازل فرمائے تھے وہ ان کے احساس کو نہ جگا سکے ۔ ان عظیم معجزات سے بھی ان کے وجدان کے اندر کوئی ارتعاش پیدا نہ ہوا۔ اور یہ حیران کن معجزات بھی ان کے دلوں کو مائل بہ ہدایت و اطاعت نہ کرسکے اور یہ بدبخت آگے بڑھے اور ذات باری کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کردیا ۔ بالکل کھلے بندوں دیکھنے کا ۔ یہ ان کا ایک متکبرانہ مزاج اور مطالبہ تھا ‘ جس میں ایمان کی تروتازگی سرے سے موجود ہی نہ تھی بلکہ ان کی جبلت میں سرے سے ایمان کی استعداد ہی موجود نہ تھی ۔ ٍ (آیت) ” فاخذتھم الصعقۃ بظلمھم) اور اسی سرکشی کی وجہ سے یکایک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی ۔ لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف ہی کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور اپنے آپ سے ان کے بارے میں عاجزانہ التماس کو قبول ہی کرلیا ۔ اس دعا کی تفصیلات سورة اعراف (155) میں ہیں ۔ (آیت) ” فلما اخذتھم الرجفۃ قال رب لوشئت اھلکنھم من قبل وایایء اتھلکنا بما فعل السفھآء منا ان ھی الا فتنک تضل بھا من تشآء وتھدی من تشآء انت ولینا فاغفرلنا وارحمنا وانت خیر الغفرین (155) واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ انا ھدنا الیک (156) (7 : 155۔ 156) (جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ۔ ” اے میرے سرکار ‘ آپ تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے ‘ کیا اس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کردیں گے ؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی آزمائش تھی جس کے ذریعے سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کردیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت پخش دیتے ہیں ۔ ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں ۔ پس ہمیں معاف کردیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے ۔ آپ سب کو معاف فرمانے والے ہیں ۔ اور ہمارے لئے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ۔ ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ “ ) (آیت) ” ثم اتخذوالعجل من بعد ما جآء تھم البینت “۔ (4 : 153) (پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے) یہ بچھڑا سونے کا بنا ہوا تھا ۔ اسے سامری نامی شخص نے بنایا تھا ۔ یہ اس نے سونے کے ان زیورات سے بنایا تھا ‘ جو انہوں نے مصری عورتوں سے لئے تھے جب وہ وہاں سے نکل رہے تھے ۔ یہ لوگ اس بچھڑے کے اردگرد جمع ہوگئے اور انہوں نے اسے اپنا معبود بنا لیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت کوہ طور پر گئے ہوئے تھے جہاں انہوں نے اپنے رب سے ایک مقررہ وقت میں بات کرنی تھی ۔ جہاں ان کو تورات کی الواح اور ہدایت اور نئی روشنی عطا ہونی تھی ۔ (آیت) ” (فعفونا عن ذلک) (اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا۔ ) لیکن یہودی یہودی ہی تو تھے ۔ ان کے ساتھ معاملات کرنے میں صرف خوف اور جبر مفید رہتا ہے ۔ (آیت) ” واتینا موسیٰ سلطنا مبینا (153) ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم وقلنالھم ادخلوا الباب سجدا وقلنالھم لا تعدوا فی السبت واخذنا منھم میثاقا غلیظا “ (154) (4 : 153۔ 154) (ہم نے ان سے درگزر کیا ۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو صریح فرمان عطا کیا اور ان لوگوں پر طور کو اٹھا کر ان سے اس فرمان کی اطاعت کا عہد لیا ۔ ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو۔ ہم نے ان سے کہا کہ اللہ کا قانون نہ توڑو اور اس پر ان سے پختہ عہد لیا ۔ ) یہاں سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو سلطان عطا فرمایا وہ کیا چیز ہے ۔ غالبا وہ وہی شریعت ہے جو الواح میں موجود تھی ‘ تو اللہ تعالیٰ کی شریعت گویا اللہ کی جانب سے سلطان اور حاکمیت ہے اور اللہ کے سوا جو شریعت اور قانون بھی ہوگا اس پر اللہ کی جانب سے کوئی سلطان اور سند قبولیت نہ ہوگی ۔ عملا بھی غیر اللہ کی شریعت اور قوانین کو دلوں پر کوئی حکمرانی حاصل نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے لئے جو قوانین خود بناتے ہیں ان کی کوئی وقعت عوام الناس کے دلوں میں نہیں ہوتی ۔ ان قوانین کا نفاذ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ داروغہ سر پر کھڑا ہو یا جلاد کی تلوار سر پر ہو ۔ رہی اللہ کی شریعت تو لوگ اس کے سامنے نہایت ہی عاجزی سے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور ان کے دل مائل باطاعت ہوتے ہیں ۔ دلوں کے اندر شریعت کے خلاف ورزی کا خوف ہوتا ہے اور اللہ کی سزا کا ڈر نظروں میں ہوتا ہے ۔ لیکن یہودی جن کے دل شعور ایمان سے محروم تھے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی جانب سے دی گئی الواح شریعت کے ماننے سے صاف انکار کردیا ۔ اس مقام پر پھر ان پر اللہ کا غضب آتا ہے ‘ اس لئے کہ وہ اپنی فطرت اور اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کے لائق تھے ۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ایک عظیم چٹان ان کے سروں پر لٹک رہی ہے ۔ یوں نظر آتا تھا کہ ابھی ان کے سروں پر گری کہ گری ۔ وہ چونکے فورا انہوں نے اس شریعت کو تسلیم کرنے کا اقرار کیا اور وعدہ کرلیا ۔ پختہ میثاق طے ہوگیا ۔ اور بڑی بڑی یقین دہانیوں کے ساتھ طے ہوگیا ۔ حالانکہ پہلے وہ نہ تسلیم کرنے تھے نہ عہد کرنے کیلئے تیار تھے اور نہ ہی اس عہد قدیم کو لینے کے لئے تیار تھے ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ یہاں انہیں ان کی اس صفت قدیمہ کو یاد دلاتے ہیں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اس منظر میں ایک سخت پتھر جو ان کے سروں پر لٹک رہا تھا اور دوسری طرف ان کے سینوں میں سخت پتھر کی طرح دل رکھے ہوئے ہیں۔ چناچہ اس منظر میں ان دو قسم کے پتھروں کے درمیان مناسبت پیدا کردی گئی ہے۔ اس طرح انداز تعبیر پختہ ‘ متعین اور مجسم ہوجاتا ہے ۔ جس طرح قرآن کریم کا عمومی انداز تعبیر ہے کہ وہ وہ بیت المقدس میں سجدہ ریز ہو کر داخل ہوں اور یہ کہ وہ سبت کا احترام کریں جسے خود ان کے مطابلے پر ان کیلئے خوشی کا دن بنایا گیا تھا ۔ لیکن ہوا کیا ؟ پتھر لٹکنے کے خوف وہراس کے غائب ہوتے ہی اور اس قاہرانہ فضا کے ختم ہوتے ہی ان کے قدم پھسل گئے اور فخر سے یہ کہنے لگے کہ ہمارے دل تو کسی نصیحت سے متاثر نہیں ہوتے ۔ وہ مردوں میں ہیں اور ان تک کوئی بات پہنچتی ہی نہیں ہے کیونکہ ان کے دروازے بند ہیں ۔ اور یہ کہنے کے بعد انہوں نے ان تمام برے افعال کا ارتکاب کیا جس کی تفصیلات اللہ میاں یہاں نبی ﷺ کو بتاتے ہیں ۔ یہ یہاں اس لئے گنوائے گئے ہیں تاکہ حضور ﷺ یہودیوں کو ذرا آئینہ دکھا دیں کہ وہ ہیں کیا ؟

النساء 4:155

(آیت) ” فبمانقضھم میثاقھم وکفرھم بایت اللہ وقتلھم الانبیآء بغیر حق وقولھم قلوبنا غلف “۔ (4 : 155) (آخر کار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا ‘ اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں) ۔۔۔۔۔۔ ان کی اس بات پر کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں ۔ (قلوبنا غلف (4 : 155) ان پر تنقید ختم ہوتی ہے اور اگلی آیت میں ان کی اس بات کا جواب دیا جاتا ہے ۔ وہ یہ بات اس وقت کہتے تھے جب حضور ﷺ ان پر دعوت اسلامی پیش کرتے ۔ یہ لوگ یہ جواب یا تو اس لئے دیتے تھے کہ حضور ﷺ ان سے مایوس ہوجائیں اور آئندہ ان پر دعوت پیش نہ کریں اور یا وہ حضور ﷺ کی جانب سے تبلیغ پر آپ کے ساتھ بطور مزاح یہ بات کرتے تھے اور آپ کی دعوت کو رد کر کے گویا وہ بڑے لوگ بننے کی کوشش کرتے تھے کہ ہم تو ان باتوں پر کان ہی نہیں دھرتے ۔ یہ دونوں باتیں ہی ان کے پیش نظر ہو سکتی ہیں ‘ بہرحال اللہ کا جواب یوں آتا ہے ۔ (آیت) ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یومنون الا قلیلا “۔ (4 : 155) (حالانکہ درحقیقت انکی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔۔۔۔۔ ) مطلب یہ ہے کہ ان کے دل ملفوف نہیں ہیں ‘ بلکہ وہ دعوت اسلامی کا انکار اس لئے کر رہے ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے ۔ یہ ٹھپہ بھی ان کے دلوں پر اس لئے لگایا گیا ہے کہ انہوں نے کفر کو اپنا شیوہ بنا لیا ہے اس لئے ان کے دل سخت ہوگئے ہیں ‘ وہ جمادات کی طرح ہوگئے ہیں ‘ اور کفر کے نیچے دب گئے ہیں ۔ انہوں ایمان کی تروتازگی کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا ‘ ان کے اندر ایمان کی مٹھاس کی حس ہی نہیں رہی ہے ۔ اس لئے شاذونادر رہی یہ ایمان قبول کرتے ہیں ۔ یہ شاذ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مذکورہ بالاافعال بد کا ارتکاب نہ کیا تھا ‘ اسی لئے ان کے دلوں پر مہر نہیں لگائی گئی تھی ۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے دلوں کے دروازوں کو قبول حق کیلئے کھلا رکھا اور حق کو قبول کرکے عزت دار بن گئے ۔ انکو اللہ نے ہدایت دی اور ایمان نصیب کیا۔ یہودیوں میں سے ایسے لوگ بہت ہی کم تھے بلکہ کم سے کم ‘ مثلا عبداللہ بن سلام ‘ ثعلبہ ابن معیہ ‘ اسد ابن محیہ اور اسد ابن عبید اللہ ؓ اجمعین ۔ اس تنقید اور استدراک کے بعد ‘ اللہ تعالیٰ ان اسباب کو گنواتے ہیں جن کی وجہ سے یہ یہودی اس سلوک کے مستحق ہوئے جو انکے ساتھ کیا گیا ۔ دنیا میں ان پر بعض نہایت ہی پاک چیزوں کو حرام حرام قرار دے دیا گیا ‘ آخرت میں ان کیلئے آگ کا عذاب تیار کیا گیا تاکہ وہ آخرت اور قیامت آنے سے پہلے ہی اس کا انتظار کریں۔

النساء 4:156

(آیت) ” وبکفرھم وقولھم علی مریم بھتانا عظیما (156) وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ “۔ (157) (4 : 156۔ 157) (پھر اپنے کفر میں یہ اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا ‘ اور خود کہا کہ ہم نے مسیح ‘ عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ‘ رسول اللہ کو قتل کردیا ہے) ۔۔۔۔ جب بھی ان کے برے افعال میں سے کسی بات کا ذکر کیا جاتا ہے قرآن کریم ان کی صفت کفر کو ضرور ساتھ لاتا ہے ۔ قتل انبیاء ذکر کے وقت بھی یہ صفت دہرائی گئی کہ انہوں نے انبیاء کو ناحق قتل کیا ‘ انبیاء کا قتل جب بھی ہوا ناحق ہی ہوا ۔ ناحق کا لفظ بطور حقیقت واقعہ لایا گیا ہے ۔ اسی طرح جہاں اس بات کا ذکر ہوا کہ انہوں نے حضرت مریم (علیہ السلام) پر عظیم بہتان باندھا وہاں بھی اس صفت کا ذکر ہوا ۔ مریم پر انہوں نے جو بہتان باندھا اس کے قائل صرف یہودی تھے ۔ انہوں نے مریم پر یوسف نجار کے ساتھ زنا کرنے کا الزام باندھا (ان پر خدا کا غضب ہو ! ) اس کے بعد انہوں نے یہ ڈینگ ماری کہ انہوں نے حضرت مسیح کو سولی پر چڑھایا اور طنز ! یہ کہا کہ ” انہوں نے مسیح ابن مریم رسول اللہ کو قتل کردیا ہے ۔ “ یہاں تک آکر سیاق کلام ایک بار پھر رک جاتا ہے اور ان کے اس دعوے کی لگے ہاتھوں تردید کردی جاتی ہے ۔ اور سچائی کو ثابت اور مستحکم کردیا جاتا ہے ۔

النساء 4:157

(آیت) ” وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم ، وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ، وما قتلوہ یقینا “۔ (157) بل رفعہ اللہ الیہ ، وکان اللہ عزیزا حکیما (158) (4 : 157۔ 158) (حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پرچڑھایا بلکہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا ‘ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے) ۔۔۔۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے معاملے میں اہل یہود سخت خبط میں پڑے ہوئے تھے اور خود عیسائیوں کو بھی اس بارے میں سخت غلط فہمی لاحق تھی ۔ یہودی یہ کہتے تھے ” ہم نے عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ “ کو قتل کردیا ہے ۔ لفظ رسول اللہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے بطور مزاح استعمال کرتے تھے ۔ اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا “ انہیں سولی پر چڑھایا گیا اور دفن کردیا گیا لیکن تین دونوں کے بعد آپ دوبارہ اٹھ گئے ۔ “ اور ان کی تاریخ حضرت مسیح کی ولادت اور وفات سے اس طرح خاموش ہے کہ شاید اس واقعہ کی کوئی اہمیت ہی نہ تھی ۔ ان دونوں فریقوں نے اس عظیم واقعہ کے بارے میں وثوق کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی تھی ۔ اس لئے کہ یہ واقعات بہت ہی تیزی سے وقوع پذیر ہوتے رہے اور نظروں سے اوجھل ہوتے رہے ۔ مختلف روایات پھیلتی رہیں اور سچ اور جھوٹ ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ ہوگئے ۔ کوئی بات یقین کے ساتھ کوئی نہ کہہ سکتا تھا ‘ نہ کسی نے کہی ‘ لہذا صرف وہی بات یقینی ہے جو اللہ رب العالمین نے فرمائی ۔ جن چار مروجہ اناجیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی گرفتاری کا قصہ بیان ہوا ہے ‘ آپ کی موت اور سولی پر چڑھانے کا جو قصہ اور پھر دفن کرنے اور پھر اٹھنے کا جو قصہ بیان ہوا ہے ‘ یہ تمام واقعات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے بہت ہی بعد کے ادوار میں لکھے گئے ہیں ۔ اس دور میں حضرت مسیح کے شاگردوں پر مظالم ہوتے رہے اور دین مسیح کو دبایا جاتا رہا ۔ اس خوف ‘ رازداری اور تشدد اور جلاوطنی کی فضا میں یہ بات نہایت ہی مشکل تھی کہ کوئی صحیح اور تحقیقی بات لکھی جاسکے ۔ اس دور میں بیشمار انجیلیں لکھی گئیں ۔ جبکہ 200 ء کے آخر میں جا کر ان میں سے ان مروجہ چار کو منتخب کیا گیا ۔ ان کو سرکاری اناجیل قرار دیا گیا۔ اور ان کو سرکاری اناجیل قرار دینے کے بھی بعض خاص مقاصد تھے اور شک وشبہ سے بالاتر نہ تھے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو اناجیل تحریر ہوئیں ان میں سے ایک انجیل برناباس بھی تھی ۔ یہ انجیل ان چار منتخب اور تسلیم شدہ اناجیل سے مختلف تھی ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے واقعہ کے بارے میں یہ انجیل کہتی ہے ۔ ” جب سپاہی یہوداہ کے ساتھ اس جگہ پہنچے ‘ جہاں یسوع تھا ‘ تو مسیح نے جم غفیر کو پاس آتے سنا اور وہ گھر کے ایک گوشے میں ڈر کر سمٹ گیا ‘ گیارہ شاگرد (بدستور) سو رہے تھے ‘ جب خدائے تعالیٰ نے دیکھا کہ اس کا بندہ (یسوع) خطرے میں ہے تو اس نے اپنے فرشتوں ‘ جبرئیل ‘ میخائیل ‘ رفائیل اور اور یل کو حکم دیا کہ وہ یسوع کو دنیا سے نکال لائیں ‘ پاکیزہ فرشتے آئے اور وہ یسوع کو اس کھڑکی سے ‘ جس کا رخ جنوب کی طرف تھا ‘ نکال کر اور اٹھا کرلے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں لے جا کر رکھ دیا ‘ جو تا ابد اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ‘ یہوداہ وقت کے ساتھ اسی کھڑی سے گھر میں داخل ہوا ‘ جس سے یسوع کو اٹھا لیا گیا تھا مسیح کے شاگرد سب کے سب (اب بھی) سو رہے تھے ‘ اب عجیب و غریب خدا نے ایک عجیب و غریب کام کیا اور وہ یہ کہ یہوداہ کی بولی اور اس کا چہرہ دونوں بدل گئے اور وہ یسوع کی طرح ہوگیا یہاں تک کہ ہمیں یقین ہوگیا کہ وہی یسوع ہے ۔ یہوداہ ہمیں جگانے کے بعد ڈھونڈنے لگا تاکہ معلوم کرے کہ ” استاد “ (یسوع) کہاں ہے ‘ ہمیں اس پر حیرت ہوئی اور ہم نے اس سے کہا : اے ہمارے آقا ! تو ہی تو ہمارا استاد ہے ‘ کیا تو نے ہمیں اس وقت بھلا دیا ہے ۔ ؛۔۔ ‘ غرض عیسائیوں کے پاس موجودہ ریکارڈ سے کوئی ایسا شخص جو اس معاملے میں تحقیق کرنا چاہے کوئی قابل یقین اور پختہ بات نہیں پاتا اس لئے کہ یہ واقعہ صبح صادق سے پہلے رات کی تاریکی میں پیش آیا تھا ۔ بعد میں آنے والے لوگوں نے جو دلائل پیش کئے وہ روایت در روایت پر مبنی تھے ۔ قرآن کریم اس بارے میں کہتا ہے ۔ (آیت) ” وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ، وما قتلوہ یقینا (157) بل رفعہ اللہ الیہ ، وکان اللہ عززا حکیما (158) (4 : 157۔ 158) (اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا ‘ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے) اور اس سے قبل قرآن کریم نے فیصلہ کن انداز میں فرمایا : (آیت) ” وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم “۔ (4 : 157) (حالانکہ انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا۔ ) قرآن کریم یہاں رفع عیسیٰ (علیہ السلام) کی تفصیلات نہیں دیتا کہ آیا یہ رفع جسمانی تھا یا روحانی تھا ۔ بحالت حیات تھا ‘ یا فقط روحانی بعد الوفات تھا اور یہ کہ یہ تو فی کب واقعہ ہوئی اور کہاں ہوئی لیکن قرآن یہ کہتا ہے کہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ ہی اسے سولی پر چڑھایا ۔ یہ قتل اور سولی پر چڑھانے کا فعل اس شخص کے ساتھ ہوا جس کے بارے میں انہیں اشتباہ میں ڈالدیا گیا تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ۔ اس کے سوا قرآن کریم یہاں مزید کچھ تفصیل نہیں بتاتا ۔ البتہ دوسری سورة ( سورة آل عمران) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” (یاعیسی انی متوفیک ورافعک الی) (اے عیسیٰ میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا) اس آیت میں بھی اٹھائے جانے اور واپس لے لینے (وفات) کی تفصیلات نہیں دی گئیں نہ اس توفی کا وقت دیا گیا ہے اور نہ ہی ” توفی “ کی نوعیت بتائی گئی ہے ۔ ظلال القرآن میں ہم نے جو طریقہ اختیار کیا ہے ہم بھی اس میں قرآن کریم کے سائے میں رہتے ہوئے تفصیلات میں نہیں جاتے اس لئے کیفیت توفی پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ۔ نہ اب تفصیلات کیلئے کوئی سبیل ہے ۔ محض اقاویل واساطیر نقل کرنے کا فائدہ ہی کیا ہوگا ۔ اب ہم واپس اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور قرآن کریم نے اہل کتاب پر جو استدراک کیا ہے اس کی طرف لوٹتے ہیں ۔

النساء 4:158

(آیت) ” وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم ، وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ، وما قتلوہ یقینا “۔ (157) بل رفعہ اللہ الیہ ، وکان اللہ عزیزا حکیما (158) (4 : 157۔ 158) (حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پرچڑھایا بلکہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا ‘ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے) ۔۔۔۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے معاملے میں اہل یہود سخت خبط میں پڑے ہوئے تھے اور خود عیسائیوں کو بھی اس بارے میں سخت غلط فہمی لاحق تھی ۔ یہودی یہ کہتے تھے ” ہم نے عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ “ کو قتل کردیا ہے ۔ لفظ رسول اللہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے بطور مزاح استعمال کرتے تھے ۔ اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا “ انہیں سولی پر چڑھایا گیا اور دفن کردیا گیا لیکن تین دونوں کے بعد آپ دوبارہ اٹھ گئے ۔ “ اور ان کی تاریخ حضرت مسیح کی ولادت اور وفات سے اس طرح خاموش ہے کہ شاید اس واقعہ کی کوئی اہمیت ہی نہ تھی ۔ ان دونوں فریقوں نے اس عظیم واقعہ کے بارے میں وثوق کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی تھی ۔ اس لئے کہ یہ واقعات بہت ہی تیزی سے وقوع پذیر ہوتے رہے اور نظروں سے اوجھل ہوتے رہے ۔ مختلف روایات پھیلتی رہیں اور سچ اور جھوٹ ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ ہوگئے ۔ کوئی بات یقین کے ساتھ کوئی نہ کہہ سکتا تھا ‘ نہ کسی نے کہی ‘ لہذا صرف وہی بات یقینی ہے جو اللہ رب العالمین نے فرمائی ۔ جن چار مروجہ اناجیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی گرفتاری کا قصہ بیان ہوا ہے ‘ آپ کی موت اور سولی پر چڑھانے کا جو قصہ اور پھر دفن کرنے اور پھر اٹھنے کا جو قصہ بیان ہوا ہے ‘ یہ تمام واقعات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے بہت ہی بعد کے ادوار میں لکھے گئے ہیں ۔ اس دور میں حضرت مسیح کے شاگردوں پر مظالم ہوتے رہے اور دین مسیح کو دبایا جاتا رہا ۔ اس خوف ‘ رازداری اور تشدد اور جلاوطنی کی فضا میں یہ بات نہایت ہی مشکل تھی کہ کوئی صحیح اور تحقیقی بات لکھی جاسکے ۔ اس دور میں بیشمار انجیلیں لکھی گئیں ۔ جبکہ 200 ء کے آخر میں جا کر ان میں سے ان مروجہ چار کو منتخب کیا گیا ۔ ان کو سرکاری اناجیل قرار دیا گیا۔ اور ان کو سرکاری اناجیل قرار دینے کے بھی بعض خاص مقاصد تھے اور شک وشبہ سے بالاتر نہ تھے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو اناجیل تحریر ہوئیں ان میں سے ایک انجیل برناباس بھی تھی ۔ یہ انجیل ان چار منتخب اور تسلیم شدہ اناجیل سے مختلف تھی ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے واقعہ کے بارے میں یہ انجیل کہتی ہے ۔ ” جب سپاہی یہوداہ کے ساتھ اس جگہ پہنچے ‘ جہاں یسوع تھا ‘ تو مسیح نے جم غفیر کو پاس آتے سنا اور وہ گھر کے ایک گوشے میں ڈر کر سمٹ گیا ‘ گیارہ شاگرد (بدستور) سو رہے تھے ‘ جب خدائے تعالیٰ نے دیکھا کہ اس کا بندہ (یسوع) خطرے میں ہے تو اس نے اپنے فرشتوں ‘ جبرئیل ‘ میخائیل ‘ رفائیل اور اور یل کو حکم دیا کہ وہ یسوع کو دنیا سے نکال لائیں ‘ پاکیزہ فرشتے آئے اور وہ یسوع کو اس کھڑکی سے ‘ جس کا رخ جنوب کی طرف تھا ‘ نکال کر اور اٹھا کرلے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں لے جا کر رکھ دیا ‘ جو تا ابد اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ‘ یہوداہ وقت کے ساتھ اسی کھڑی سے گھر میں داخل ہوا ‘ جس سے یسوع کو اٹھا لیا گیا تھا مسیح کے شاگرد سب کے سب (اب بھی) سو رہے تھے ‘ اب عجیب و غریب خدا نے ایک عجیب و غریب کام کیا اور وہ یہ کہ یہوداہ کی بولی اور اس کا چہرہ دونوں بدل گئے اور وہ یسوع کی طرح ہوگیا یہاں تک کہ ہمیں یقین ہوگیا کہ وہی یسوع ہے ۔ یہوداہ ہمیں جگانے کے بعد ڈھونڈنے لگا تاکہ معلوم کرے کہ ” استاد “ (یسوع) کہاں ہے ‘ ہمیں اس پر حیرت ہوئی اور ہم نے اس سے کہا : اے ہمارے آقا ! تو ہی تو ہمارا استاد ہے ‘ کیا تو نے ہمیں اس وقت بھلا دیا ہے ۔ ؛۔۔ ‘ غرض عیسائیوں کے پاس موجودہ ریکارڈ سے کوئی ایسا شخص جو اس معاملے میں تحقیق کرنا چاہے کوئی قابل یقین اور پختہ بات نہیں پاتا اس لئے کہ یہ واقعہ صبح صادق سے پہلے رات کی تاریکی میں پیش آیا تھا ۔ بعد میں آنے والے لوگوں نے جو دلائل پیش کئے وہ روایت در روایت پر مبنی تھے ۔ قرآن کریم اس بارے میں کہتا ہے ۔ (آیت) ” وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ، وما قتلوہ یقینا (157) بل رفعہ اللہ الیہ ، وکان اللہ عززا حکیما (158) (4 : 157۔ 158) (اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا ‘ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے) اور اس سے قبل قرآن کریم نے فیصلہ کن انداز میں فرمایا : (آیت) ” وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم “۔ (4 : 157) (حالانکہ انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا۔ ) قرآن کریم یہاں رفع عیسیٰ (علیہ السلام) کی تفصیلات نہیں دیتا کہ آیا یہ رفع جسمانی تھا یا روحانی تھا ۔ بحالت حیات تھا ‘ یا فقط روحانی بعد الوفات تھا اور یہ کہ یہ تو فی کب واقعہ ہوئی اور کہاں ہوئی لیکن قرآن یہ کہتا ہے کہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ ہی اسے سولی پر چڑھایا ۔ یہ قتل اور سولی پر چڑھانے کا فعل اس شخص کے ساتھ ہوا جس کے بارے میں انہیں اشتباہ میں ڈالدیا گیا تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ۔ اس کے سوا قرآن کریم یہاں مزید کچھ تفصیل نہیں بتاتا ۔ البتہ دوسری سورة ( سورة آل عمران) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” (یاعیسی انی متوفیک ورافعک الی) (اے عیسیٰ میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا) اس آیت میں بھی اٹھائے جانے اور واپس لے لینے (وفات) کی تفصیلات نہیں دی گئیں نہ اس توفی کا وقت دیا گیا ہے اور نہ ہی ” توفی “ کی نوعیت بتائی گئی ہے ۔ ظلال القرآن میں ہم نے جو طریقہ اختیار کیا ہے ہم بھی اس میں قرآن کریم کے سائے میں رہتے ہوئے تفصیلات میں نہیں جاتے اس لئے کیفیت توفی پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ۔ نہ اب تفصیلات کیلئے کوئی سبیل ہے ۔ محض اقاویل واساطیر نقل کرنے کا فائدہ ہی کیا ہوگا ۔ اب ہم واپس اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور قرآن کریم نے اہل کتاب پر جو استدراک کیا ہے اس کی طرف لوٹتے ہیں ۔

النساء 4:159

(آیت) ” وان من اھل الکتب الا لیومنن بہ قبل موتہ ، ویوم القیمۃ یکون علیھم شیھدا ، (4 : 159) (اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا ۔۔۔۔۔ ) اس آیت کے مفہوم میں سلف صالحین کے اندر اختلاف رائے رہا ہے ۔ اس اختلاف کے پیدا ہونے کی وجہ یہ رہی ہے کہ ” موتہ “ میں جو ضمیر ہے اس کے مرجع میں اختلاف ہوا ہے اگر اس کا مرجع حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہوں تو مفہوم یہ ہوگا کہ اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے قبل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ایمان نہ لائے گا ۔ اس صورت میں یہ حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ قیامت سے پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا ۔۔۔۔ دوسری تعبیر کے مطابق ” موتہ “ کی ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہیں ۔ یعنی یہ کہ اہل کتاب میں سے ہر شخص اپنی موت سے قبل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے گا ۔ وہ یوں کہ موت سے قبل سکرات الموت کے اندر ہی میت پر حق واضح ہوجاتا ہے لیکن اس وقت اگر کوئی ایمان لے آئے تو اس کے لئے وہ ایمان مفید نہیں ہوتا ۔ میرے خیال میں یہ دوسرا قول زیادہ قابل ترجیح ہے اور اس کی طرف حضرت ابی ؓ کی قرات میں بھی اشارہ کر رہی ہے ۔ (آیت) ” (الا لیومنن بہ قبل موتہ) (4 : 159) (اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو ان کی موت سے قبل اس پر ایمان نہ لائے) اس قرات کے مطابق اس ضمیر کا مرجع صرف اہل کتاب ہی ہو سکتے ہیں ۔ اس صورت میں مفہوم یہ ہوگا کہ جو یہودی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کرتے ہیں اور اب تک وہ اپنے اس موقف پر قائم ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انہوں نے انکو قتل کردیا ہے اور سولی پر چڑھایا ہے ان میں سے جو بھی موت پائے گا اسی وقت اس پر یہ بات واضح ہوجائے گی (یعنی بوقت نزع) کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو حق پر ہیں ان کی رسالت برحق ہے ۔ تو وہ حالت نزع میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے گا لیکن اس وقت تو ایمان لانا مفید نہیں ہوتا ۔ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان پر خود گواہ ہوں گے ۔ یہاں آکر قصہ صلیب ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد یہودیوں کے دیگر منکرات کا ذکر شروع ہوتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے ان منکرات پر اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کو کیا سزا دی اور آخرت میں ان کیلئے کیا کچھ تیار ہے ۔

النساء 4:160

(آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم وبصدھم عن سبیل اللہ کثیرا ‘(160) واخذھم الربوا وقد نھو عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل واعتدنا للکفرین منھم عذابا الیما (161) (4 : 160۔ 161) (۔ غرض ان یہودیوں کے اسی ظالمانہ رویے کی بناء پر اور اس بناء پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ‘ اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں ‘ ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کیلئے حلال تھیں ‘ اور وہ لوگ جو ان میں سے کافر ہیں ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ) چناچہ اس آیت کے ذریعے ان کے سابقہ منکرات میں کچھ مزید منکرات کا اضافہ کردیا گیا ۔ اور یہ بتا دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں سے لوگوں کو روکنے کے سوا ان کا اور کوئی کام ہی نہیں ہے ۔ گویا وہ رات دن ایسی کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ نیز یہ رات دن سودی کاروبار میں لگے رہتے ہیں اور یہ کام وہ محض کم علمی کی وجہ سے نہیں کر رہے یا یہ کہ انہیں اس سلسلے میں متنبہ نہیں کیا گیا ‘ بلکہ انہیں صاف الفاظ میں اس سے روکا گیا تھا لیکن انہوں نے پھر بھی اس پر اصرار کیا اور لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھاتے رہے ۔ یہ ربا کے ذریعے بھی کھاتے رہے اور دوسرے ذرائع سے بھی ۔ ان منکرات اور اس سے پہلی سورتوں میں مذکورہ جرائم کی وجہ سے اللہ نے ان پر بعض حلال چیزوں کو حرام کردیا جوان کیلئے حلال تھیں اور یہ کہ اللہ نے کافروں کیلئے سخت دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ یہودیوں کے خلاف اس مہم میں یہودیوں کے چہرے سے نقاب اتار کر پھینک دیا گیا ‘ اور اس ان کے تاریخ سے بعض واقعات بھی پیش کئے گئے تاکہ معلوم ہو کہ ان کی تاریخ کیا ہے ۔ ان کی بہانہ سازیوں اور ان کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کیا کیا اور یہ بتایا گیا کہ وہ کسی طرح مان کردینے والے نہیں ہیں اور یہ کہ انہوں نے اپنے قائد ‘ اپنے نجات دہندہ اور اپنے عظیم نبی کے ساتھ یہی رویہ اختیار کئے رکھا ان کی عادت یہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ صالحین اور انبیاء کے ساتھ برے سلوک اور ان کے خلاف بدگوئی کرنے میں بہت ہی جری وسریع رہے ہیں ۔ وہ انبیاء کو بھی قتل کرتے رہے ہیں اور پھر ندامت کے بجائے اس قتل پر فخر کرتے رہے ہیں ۔ ان جملوں کے نتیجے میں ‘ یہودیوں کے مکروفریب کا جال تار تار ہوگیا جو انہوں نے اسلامی صفوں کے خلاف بچا رکھا تھا ۔ ان کی سازشیں ناکام ہوگئیں اور مسلمانوں کے ساتھ انکی خفیہ دوستیاں کٹ گئیں ۔ یوں اہل اسلام نے یہودیوں کے اصل مزاج کو اچھی طرح جان لیا۔ اسلام کے خلاف ان کی سازشوں اور ان میں استعمال ہونے والے وسائل وذرائع کو پہچان لیا ۔ اس بات کا انہیں علم ہوگیا کہ وہ کس طرح ہر سچائی کے مقابلے میں جتھہ بندی کرلیتے ہیں چاہے یہ سچائی خود ان کے اندر انکی اپنی صفوں سے اٹھے یا ان سے باہر دوسری اقوام کے اندر پائی جائے ۔ اس لئے کہ وہ ہمیشہ سچ اور اہل حق کے دشمن رہے ہیں ۔ وہ ہمیشہ ہدایت اور ہادیوں کی بیخ کنی کرتے رہے ہیں ۔ ہر دور میں اور ہر زمانے میں وہ یہ کام کرتے رہے ہیں ۔ اپنے دشمنوں کے ساتھ تو ان کا یہ رویہ بہرحال تھا ہی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں ‘ اس لئے ہر دور میں ہر اسلامی تحریک اور اسلامی سوسائٹی کا یہ فرض ہے کہ وہ یہودیوں سے چوکنا رہے اس لئے کہ ان کی جبلت ہی ایسی ہے کہ وہ ذاتی طور پر سچائی کے دشمن ہیں ۔ ان کے دل کے اندر حق کی دشمنی بھری ہوئی ہے ۔ ان کے کلیجے سخت ہوگئے ہیں ۔ وہ اپنے سر صرف اس شخص کیلئے جھکاتے ہیں جو ان پر ڈنڈے برسائے اور وہ سچائی کو تب تسلیم کرتے ہیں جب ان کے سروں پر تلوار لٹک رہی ہو ۔ اس قسم کے لوگوں کا یہ تعارف صرف اس جماعت اسلامی کیلئے نہ تھا جو مدینہ طیبہ میں کام کر رہی تھی اس لئے کہ قرآن اس امت کے لئے گائیڈ ہے جب تک کہ یہ امت موجود رہے گی ۔ اگر قرآن سے یہ امت اپنے دشمنوں کے بارے میں ہدایات لینا چاہے تو اس میں اسے ہدایات مل جائیں گی ، اس سے جب بھی یہ امت کوئی نصیحت لینا چاہے یہ کتاب اسے نصیحت دیتی ہے ۔ اس کتاب نے امت کو یہودیوں کے بارے میں ہدایت دی ۔ نصیحت کی اور فہم دیا تو اس کے نتیجے میں یہودیوں کی گردنیں مسلمانوں کے مقابلے میں جھک گئیں ۔ جب اس امت نے قرآن مجید کو چھوڑا تو یہ امت یہودیوں کی غلام بن گئی ، ہم دیکھتے ہیں کہ یہ امت پوری طرح جمع ہوتی ہے اور یہودیوں کی ایک مختصر جمعیت اس پر غالب آجاتی ہے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اپنی کتاب اور گائیڈ بک سے غافل ہے ۔ وہ قرآن کی ہدایات سے دور بھاگ رہی ہے ۔ اس نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے ۔ اور یہ امت فلاں اور فلاں کے اقوال کی اطاعت کر رہی ہے ۔ یہ امت اسی طرح یہودی سازش کا شکار رہے گی اور اسی طرح وہ یہودیوں کے عتاب میں رہے گی جب تک وہ قرآن کی طرف نہیں لوٹتی ۔ یہ بیان اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک یہودیوں میں سے نکل کر آنے والے بعض اچھے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کردی جاتی اور ان کی جرات راندانہ کہ تعریف کی جاتی ہے کہ چھلانگ لگا کر نکل آئے اور سچائی کو قبول کرلیا ۔ قرآن کریم ان لوگوں کے علم و ایمان کی تصدیق کرتا ہے جن کی وجہ سے وہ اہل اسلام میں داخل ہوئے اور رسول اللہ ﷺ پر نازل شدہ دین کو قبول کیا ۔ یہ علم وہ تھا جو رسول اللہ ﷺ پر اترا اور جو آپ سے قبل انبیاء پر اترا تھا ۔ وہ اس علم میں زیادہ رسوخ رکھتے تھے جس کی وجہ سے ایمان لے آئے۔

النساء 4:161

(آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیھم طیبت احلت لھم وبصدھم عن سبیل اللہ کثیرا ‘(160) واخذھم الربوا وقد نھو عنہ واکلھم اموال الناس بالباطل واعتدنا للکفرین منھم عذابا الیما (161) (4 : 160۔ 161) (۔ غرض ان یہودیوں کے اسی ظالمانہ رویے کی بناء پر اور اس بناء پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ‘ اور سود لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں ‘ ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کیلئے حلال تھیں ‘ اور وہ لوگ جو ان میں سے کافر ہیں ان کیلئے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ) چناچہ اس آیت کے ذریعے ان کے سابقہ منکرات میں کچھ مزید منکرات کا اضافہ کردیا گیا ۔ اور یہ بتا دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں سے لوگوں کو روکنے کے سوا ان کا اور کوئی کام ہی نہیں ہے ۔ گویا وہ رات دن ایسی کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ نیز یہ رات دن سودی کاروبار میں لگے رہتے ہیں اور یہ کام وہ محض کم علمی کی وجہ سے نہیں کر رہے یا یہ کہ انہیں اس سلسلے میں متنبہ نہیں کیا گیا ‘ بلکہ انہیں صاف الفاظ میں اس سے روکا گیا تھا لیکن انہوں نے پھر بھی اس پر اصرار کیا اور لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھاتے رہے ۔ یہ ربا کے ذریعے بھی کھاتے رہے اور دوسرے ذرائع سے بھی ۔ ان منکرات اور اس سے پہلی سورتوں میں مذکورہ جرائم کی وجہ سے اللہ نے ان پر بعض حلال چیزوں کو حرام کردیا جوان کیلئے حلال تھیں اور یہ کہ اللہ نے کافروں کیلئے سخت دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ یہودیوں کے خلاف اس مہم میں یہودیوں کے چہرے سے نقاب اتار کر پھینک دیا گیا ‘ اور اس ان کے تاریخ سے بعض واقعات بھی پیش کئے گئے تاکہ معلوم ہو کہ ان کی تاریخ کیا ہے ۔ ان کی بہانہ سازیوں اور ان کی ہٹ دھرمی کا پردہ چاک کیا کیا اور یہ بتایا گیا کہ وہ کسی طرح مان کردینے والے نہیں ہیں اور یہ کہ انہوں نے اپنے قائد ‘ اپنے نجات دہندہ اور اپنے عظیم نبی کے ساتھ یہی رویہ اختیار کئے رکھا ان کی عادت یہ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ صالحین اور انبیاء کے ساتھ برے سلوک اور ان کے خلاف بدگوئی کرنے میں بہت ہی جری وسریع رہے ہیں ۔ وہ انبیاء کو بھی قتل کرتے رہے ہیں اور پھر ندامت کے بجائے اس قتل پر فخر کرتے رہے ہیں ۔ ان جملوں کے نتیجے میں ‘ یہودیوں کے مکروفریب کا جال تار تار ہوگیا جو انہوں نے اسلامی صفوں کے خلاف بچا رکھا تھا ۔ ان کی سازشیں ناکام ہوگئیں اور مسلمانوں کے ساتھ انکی خفیہ دوستیاں کٹ گئیں ۔ یوں اہل اسلام نے یہودیوں کے اصل مزاج کو اچھی طرح جان لیا۔ اسلام کے خلاف ان کی سازشوں اور ان میں استعمال ہونے والے وسائل وذرائع کو پہچان لیا ۔ اس بات کا انہیں علم ہوگیا کہ وہ کس طرح ہر سچائی کے مقابلے میں جتھہ بندی کرلیتے ہیں چاہے یہ سچائی خود ان کے اندر انکی اپنی صفوں سے اٹھے یا ان سے باہر دوسری اقوام کے اندر پائی جائے ۔ اس لئے کہ وہ ہمیشہ سچ اور اہل حق کے دشمن رہے ہیں ۔ وہ ہمیشہ ہدایت اور ہادیوں کی بیخ کنی کرتے رہے ہیں ۔ ہر دور میں اور ہر زمانے میں وہ یہ کام کرتے رہے ہیں ۔ اپنے دشمنوں کے ساتھ تو ان کا یہ رویہ بہرحال تھا ہی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی یہی کچھ کرتے رہے ہیں ‘ اس لئے ہر دور میں ہر اسلامی تحریک اور اسلامی سوسائٹی کا یہ فرض ہے کہ وہ یہودیوں سے چوکنا رہے اس لئے کہ ان کی جبلت ہی ایسی ہے کہ وہ ذاتی طور پر سچائی کے دشمن ہیں ۔ ان کے دل کے اندر حق کی دشمنی بھری ہوئی ہے ۔ ان کے کلیجے سخت ہوگئے ہیں ۔ وہ اپنے سر صرف اس شخص کیلئے جھکاتے ہیں جو ان پر ڈنڈے برسائے اور وہ سچائی کو تب تسلیم کرتے ہیں جب ان کے سروں پر تلوار لٹک رہی ہو ۔ اس قسم کے لوگوں کا یہ تعارف صرف اس جماعت اسلامی کیلئے نہ تھا جو مدینہ طیبہ میں کام کر رہی تھی اس لئے کہ قرآن اس امت کے لئے گائیڈ ہے جب تک کہ یہ امت موجود رہے گی ۔ اگر قرآن سے یہ امت اپنے دشمنوں کے بارے میں ہدایات لینا چاہے تو اس میں اسے ہدایات مل جائیں گی ، اس سے جب بھی یہ امت کوئی نصیحت لینا چاہے یہ کتاب اسے نصیحت دیتی ہے ۔ اس کتاب نے امت کو یہودیوں کے بارے میں ہدایت دی ۔ نصیحت کی اور فہم دیا تو اس کے نتیجے میں یہودیوں کی گردنیں مسلمانوں کے مقابلے میں جھک گئیں ۔ جب اس امت نے قرآن مجید کو چھوڑا تو یہ امت یہودیوں کی غلام بن گئی ، ہم دیکھتے ہیں کہ یہ امت پوری طرح جمع ہوتی ہے اور یہودیوں کی ایک مختصر جمعیت اس پر غالب آجاتی ہے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ اپنی کتاب اور گائیڈ بک سے غافل ہے ۔ وہ قرآن کی ہدایات سے دور بھاگ رہی ہے ۔ اس نے اسے پس پشت ڈال دیا ہے ۔ اور یہ امت فلاں اور فلاں کے اقوال کی اطاعت کر رہی ہے ۔ یہ امت اسی طرح یہودی سازش کا شکار رہے گی اور اسی طرح وہ یہودیوں کے عتاب میں رہے گی جب تک وہ قرآن کی طرف نہیں لوٹتی ۔ یہ بیان اس وقت تک ختم نہیں ہوتا جب تک یہودیوں میں سے نکل کر آنے والے بعض اچھے لوگوں کی حوصلہ افزائی نہیں کردی جاتی اور ان کی جرات راندانہ کہ تعریف کی جاتی ہے کہ چھلانگ لگا کر نکل آئے اور سچائی کو قبول کرلیا ۔ قرآن کریم ان لوگوں کے علم و ایمان کی تصدیق کرتا ہے جن کی وجہ سے وہ اہل اسلام میں داخل ہوئے اور رسول اللہ ﷺ پر نازل شدہ دین کو قبول کیا ۔ یہ علم وہ تھا جو رسول اللہ ﷺ پر اترا اور جو آپ سے قبل انبیاء پر اترا تھا ۔ وہ اس علم میں زیادہ رسوخ رکھتے تھے جس کی وجہ سے ایمان لے آئے۔

النساء 4:162

(آیت) ” نمبر 162۔ غرض پختہ علم اور اس پر روشن ایمان انسان کو اس طرح ہدایت دیتے ہیں کہ انسان پورے دین پر ایمان لانے والا بن جاتا ہے ۔ انسان اپنے علم کی پختگی اور صاف ایمان کی وجہ سے اس نتیجے تک پہنچ جاتا ہے کہ یہ دین اللہ وحدہ کی طرف سے آیا ہے اور یہ کہ اپنے مزاج کے اعتبار سے دین ایک ہی ہے ۔ قرآن کریم کی جانب سے یہ اشارہ دینا کہ علم کی گہرائی کے نتیجے میں صحیح معرفت حاصل ہوتی ہے اور دل کے دروازے نور ایمان کے لئے کھل جاتے ہیں ‘ نزول قرآن کے دور میں نہایت ہی معنی خیز ہے یہ قرآن کریم کے اشارات میں سے ایک اہم اشارہ ہے اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کریم کے نزول کے زمانے میں صورت حال کیا تھی ۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور میں نفس انسانی کی صورت حال کیا ہوتی تھی ۔ سطحی علم کی مثال اس طرح ہوتی ہے جس طرح کفر اور انکار ۔ یہ کفر اور انکار ان کے دل کے اندر صحیح معرفت کے اترنے میں حائل ہوجاتے ہیں۔ ہر دور میں یوں ہوتا ہے کہ سطحی علم کی وجہ سے حقیقت کی معرفت حاصل نہیں ہوتی ۔ جو لوگ علم میں گہرائی تک چلے جاتے ہیں اور انہیں حقیقی علم حاصل ہوجاتا ہے تو ان کی آنکھوں کے سامنے شواہد آجاتے ہیں جو اس کائنات کے اندر پنہاں ہیں ۔ اگر انکے سامنے شواہد نہیں آتے تو کم ازکم ایسے سوالات آجاتے ہیں جن کا جواب ان کے پاس نہیں ہوتا اور محض کسی سماوی نظریہ حیات کو قبول کرکے ہی وہ ان سوالات کے جواب سے جان چھڑا سکتے ہیں ۔ مثلا یہ کہ اس کائنات کا ایک الہ ہے ۔ وہ اس پر حاوی ہے ‘ اس کا مدیر ہے ‘ اور اس پر پوری طرح متصرف ہے ۔ اس کا ایک ہی ارادہ ہے ۔ اس نے اس کائنات کے اندر یہ ناموس اعظم جاری کیا ہے ۔ اسی طرح وہ لوگ جن کے دل ہدایت کیلئے بےتاب ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان پر راز کھول دیتے ہیں اور انکی روح ہدایت کو پالیتی ہے ۔ وہ لوگ جو ادھر ادھر سے کچھ معلومات چن لیتے ہیں اور اپنے آپ کو علماء سمجھنے لگتے ہیں ‘ ان کے اس سطحی علم کا پردہ ان کے اور ان دلائل ایمان کے درمیان حائل ہوجاتا ہے جو اس کائنات میں پوشیدہ ہوتے ہیں ‘ اس لئے وہ ایمان تک نہیں پہنچ پاتے ۔ ان پر ایمان ظاہر ہی نہیں ہوتا ‘ اس لئے کہ ان کا علم ناقص اور سطحی ہوتا ہے اور یہ سطحی علم اس کائنات کے سوالات کا ادراک نہیں کرسکتا ۔ ان کی حالت ایسی ہوجاتی ہے کہ ان کے دل مائل بہ ایمان وہدایت نہیں ہوتے اور نہ ہی وہ اس کے شائق ہوتے ہیں ۔ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں کہ جب دل میں ہوں وہ ایمان کا ذوق نہیں رکھتا اور نہ اسے نور ایمان کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر وہ ایمان رکھتا ہے تو اس دین پر رکھتا ہے جو اسے بطور عصبیت جاہلیہ وراثت میں ملا ہوتا ہے ۔ چناچہ وہ اس دین سے دور ہوجاتا ہے جو خدائے متعال کی جانب سے نازل ہوا ہے اور جسے سلسلہ رسل کے ذریعے بھیجا گیا ہے ۔ جس کی کڑیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں صلی اللہ علیہم وسلم اجمعین ۔ تفسیر ماثور میں یہ روایات آئی ہیں ‘ کہ یہ اشارہ سب سے پہلے ان لوگوں کی طرف ہے جو لوگ یہودیوں میں سے اپنے رسوخ فی العلم کی وجہ سے ہدایت پاگئے تھے ۔ جنہوں نے رسول کی دعوت پر لبیک کہا اور جن کے نام ہم نے گذشتہ سطور میں دے دیئے ہیں لیکن آیت عام ہے اور اس کے مفہوم میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جو کبھی بھی اپنے رسوخ فی العلم کی وجہ سے اس دین میں شامل ہوں گے یا وہ اپنی ایمانی بصیرت کی وجہ سے دین اسلام کو قبول کرلیں گے ہیں خواہ تاریخ کے کسی بھی دور میں ہوں۔ (مثلا ڈاکٹر محمد اسد ‘ حقیقت حال اللہ ہی جانتا ہے) (آیت) ” لکن الرسخون فی العلم منھم والمومنون یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک والمقیمین الصلوۃ والموتون الزکوۃ والمومنون باللہ والیوم الاخر اولئک سنوتیھم اجراعظیما “۔ (4 : 162) ” مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایماندار ہیں وہ سب اس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو اے نبی ‘ تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی ۔ اس طرح کے ایمان لانے والے اور نماز و زکوۃ کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روز آخرت پر سچا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے ۔ (آیت) ” (الرسخون فی العلم) جو اگلی پچھلی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور ایمان لانے والے اور اقامت صلوۃ کرنے والے ‘ یہ صفات اہل ایمان مسلمانوں کی ہیں اس لئے کہ مسلمانوں کی صفت عظیمہ اقامت صلوۃ ‘ ایتائے زکوۃ ‘ ایمان باللہ اور ایمان بالاخرت ہے ۔ ان دونوں کیلئے اجر کا اعلان ہوتا ہے کہ ان کو ہم اجر عظیم عطا کریں گے ۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ والمقیمین میں عطف المومنوں پر ہے جبکہ المومنوں کا اعراب رفعی ہے ۔ اس لحاظ سے ” والمقیمون “ ہونا چاہئے لیکن اسے اعراب حالت نصبی کا دیا گیا یعنی اخص المقیمین۔ (میں نماز قائم کرنیوالوں کا ذکر خصوصیت سے کرتا ہوں) یہ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ اقامت صلوۃ کی اہمیت دین میں کس قدر عظیم ہے ۔ اس طرز ادا کے نظائر کلام عرب اور قرآن مجید میں بالعموم پائے جاتے ہیں اور اس سے سیاق کلام میں کسی بات کی تائید مطلوب ہوتی ہے ۔ عام قرات تو یہی ہے ۔ البتہ ایک قرات والمقیمون بھی آتی ہے اور یہ عبداللہ ابن مسعود ؓ کے مصحف میں وارد ہے ۔ سیاق کلام کی مناسبت سے اہل کتاب کے ساتھ مکالمہ جاری ہے اور اس جگہ یہ بات بالخصوص یہودیوں کے ساتھ ہو رہی ہے ۔ یہ بات حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے بارے میں ہو رہی ہے جس کی وہ تکذیب کرتے تھے ۔ اسی طرح وہ اللہ کے درمیان تفریق کرتے تھے اور اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ سے نشانات ومعجزات کا مطالبہ کرتے تھے ۔ مثلا یہ کہ آپ آسمان سے ایک کتاب اتار کر لائیں ۔۔۔۔۔ چناچہ یہاں کہا جاتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ پر وحی کا آنا کوئی نئی بات نہیں ہے نہ یہ کوئی اعجوبہ ہے ۔ رسول بھیجنا تو اللہ کی سنت ہے اور اس سنت پر اللہ تعالیٰ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لیکر حضرت محمد ﷺ کے دور تک عمل پیرا رہے ہیں ۔ یہ سب رسول ‘ اللہ نے خوشخبری دینے اور ڈرانے کیلئے بھیجے ہیں ۔ یہ اپنے بندوں کے ساتھ اللہ کی شفقت اور رحمت کا تقاضا تھا ۔ نیز اللہ تعالیٰ نے رسول اس لئے بھی بھیجے کہ وہ اپنے بندوں پر حجت تمام کرنا چاہتا تھا اور یوم الحساب آنے سے پہلے انہیں خبردار اور متنبہ کرنا چاہتا تھا ۔ یہ سب حضرات ایک ہی وحی لیکر آئے ۔ ان کا مقصد ایک تھا ‘ اس لئے ان کے درمیان تفریق کرنا محض ضد اور ہٹ دھرمی ہے اور اس کی کوئی دلیل نہیں ہے ۔ اگر وہ ضد اور ہٹ دھرمی کرکے انکار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ خود اس پیغمبر کی وحی پر شاہد عادل ہے ۔ اس کی شہادت کے بعد اب کسی اور کی شہادت اور تصدیق کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ اور اس اللہ کی گواہی پر پھر فرشتے بھی گواہ ہیں ۔ فرماتے ہیں ۔