Fi Zilal al-Quran — النساء 4:163 – المائدة 5:38
Contents
- النساء 4:163
- النساء 4:164
- النساء 4:165
- النساء 4:166
- النساء 4:167
- النساء 4:168
- النساء 4:169
- النساء 4:170
- النساء 4:171
- النساء 4:172
- النساء 4:173
- النساء 4:174
- النساء 4:175
- النساء 4:176
- المائدة 5:1
- المائدة 5:2
- المائدة 5:3
- المائدة 5:4
- المائدة 5:5
- المائدة 5:6
- المائدة 5:7
- المائدة 5:8
- المائدة 5:9
- المائدة 5:10
- المائدة 5:11
- المائدة 5:12
- المائدة 5:13
- المائدة 5:14
- المائدة 5:15
- المائدة 5:16
- المائدة 5:17
- المائدة 5:18
- المائدة 5:19
- المائدة 5:20
- المائدة 5:21
- المائدة 5:22
- المائدة 5:23
- المائدة 5:24
- المائدة 5:25
- المائدة 5:26
- المائدة 5:27
- المائدة 5:28
- المائدة 5:29
- المائدة 5:30
- المائدة 5:31
- المائدة 5:32
- المائدة 5:33
- المائدة 5:34
- المائدة 5:35
- المائدة 5:36
- المائدة 5:37
- المائدة 5:38
النساء 4:163
(آیت) ” نمبر 163 تا 165۔
غرض یہ ایک قافلہ ہے جو شاہراہ تاریخ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے اور اس سلسلے کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں ۔ یہ ایک ہی رسالت ہے اور اس کا ایک ہی نصب العین ہے کہ انسان کو قبل از وقت خبردار کردیا جائے اور اچھے لوگوں کو قبل از وقت ہی اچھے انجام کی خوشخبری دیدی جائے ، اس قافلے میں آگے پیچھے مختار ان درگاہ الہی اور انسانوں میں سے چیدہ لوگ آگے پیچھے چلے آرہے ہیں ۔ یہ رہے حضرت نوح (علیہ السلام) یہ رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ آئی سواری حضرت اسماعیل کی ۔ انکے بعد یہ چلے آرہے ہیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بعد متصلا حضرت یعقوب آرہے ہیں ۔ اب کچھ مختلف گروہ نمودار ہوئے حضرت ایوب (علیہ السلام) یونس (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) ‘ سلیمان (علیہ السلام) ‘ داؤد (علیہ السلام) ‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے اپنی اپنی باری پر اور بعض ایسے لوگ بھی چلے آئے ہیں جن کے نام سے ہم واقف نہیں ہیں۔ آخر میں حضرت محمد ﷺ خاتم النبین تشریف لا رہے ہیں اور اب اس قافلے کا آخری سرا اختتام کو پہنچا ۔ اس قافلے میں بعض لوگ ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے پیش کیا ۔ اس قافلے میں مختلف رنگوں اور مختلف نسلوں کے نبی ہیں اور کرہ ارض کے مختلف علاقوں میں یہ قافلہ نظر آتا ہے ۔ اور مختلف ادوار اور مختلف زمانوں میں ، مختلف معاشروں اور مختلف خاندانوں میں یہ رسول کام کرتے رہے ۔ یہ سب ایک ہی مصدر اور منبع سے پیغام لاتے رہے ۔ یہ سب راہ دکھانے والی ایک ہی روشنی کے حامل رہے ۔ سب کے سب متنبہ اور خبردار کرتے رہے اور خوشخبری دیتے رہے ۔ یہ سب کے سب قافلہ انسانیت کی زمام اپنے ہاتھ میں لیکر اسے نور ہدایت میں داخل کرتے رہے ۔ چاہے کوئی کسی ایک خاندان کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی کسی ایک قوم کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی ایک شہر ار ایک علاقے کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی تمام انسانوں کیلئے آیا ہو اور خاتم النبین کا لقب پایا ہو۔
یہ سب کے سب وحدہ سے وحی پاتے رہے ۔ ان میں سے کسی نے کوئی بات اپنی طرف سے پیش نہیں کی ۔ ان میں سے اگر اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست بات کی تو وہ بھی وحی کا ایک رنگ تھا ۔ اس کیفیت سے ہم آگاہ نہیں ہیں نہ اس کا ادراک کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم آخری وحی کا ریکارڈ ہے اور یہ اس قدر درست ریکارڈ ہے جو ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے اور قرآن نے اس ہم کلامی کی کوئی تفصیل یاکیفیت بیان نہیں کی ہے ۔ اس کی کیفیت کیا تھی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کن خواص اور کس قوت ادراک سے اسے پا رہے تھے ۔ یہ سب باتیں غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے بارے میں کوئی بات بیان نہیں کی ہے ۔ اور قرآن کریم کے علاوہ اس موضوع پر جو کوئی بھی اپنے دہن سے بات کرے گا وہ بےسند ‘ فلسفہ یا قصہ کہانی ہوگی ۔
یہ رسول ‘ جن میں سے بعض کے نام ذکر ہوئے اور بعض کے نام نہیں لئے گئے کیوں بھیجے گئے ؟ اللہ کی شفقت اور رحمت اور عدالت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ رسول بھیجے ۔ تاکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے مومنین اور اطاعت کندگان کو خوشخبری دیدیں کہ اللہ نے ان کیلئے کیا کیا نعمتیں تیار کی ہوئی ہیں ۔ بیشمار نعمتیں اور اللہ کی رضا مندی ان کے انتظار میں ہے ۔ اور کافروں اور نافرمانوں کو ڈرائیں کہ اللہ کا غضب اور ایک دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔ اور یہ سب کچھ کیوں کیا گیا ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ (4 : 165) (تاکہ ان کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے ۔ “ اور یہ رسول لوگوں کو بتا دیں کہ ان کے نفس اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر کیا کیا دلائل ہیں ۔ انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ جنس بشر کو متاع عقل سے نوازا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر دلائل تلاش کریں۔ عقل کے ہوتے ہوئے بھی ان کے پاس رسول بھیجے گئے ، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر خاص شفقت اور رحمت تھی کہ اس نے رسول بھیجے کیونکہ اسے معلوم تھا کہ انسان کی ذاتی خواہشات اور اس کے میلانات اس کی عقل پر غالب آجائیں گے اور ان کے نتیجے یہ عظیم قوت دب کر رہ جائے گی ۔ اسی لئے اللہ نے اپنی رحمت خاصہ کے تحت ان کے پاس رسول بھیجے جو مبشرین اور منذرین تھے ۔ وہ ان کے سامنے یاد دہانی کراتے رہے ۔ انہیں بصارت اور بصیرت دیتے رہے ۔ وہ ان کی فطرت اور ان کی قوت عقلیہ کو شہوات نفسانیہ کے ڈھیروں کے نیچے سے نکال کر آزاد کراتے رہے ۔ جن ڈھیروں کے نیچے رہتے ہوئے اس کی عقل اور فطرت کیلئے دلائل ہدایت اور ایمان کے تقاضوں کو پانا مشکل ہوگیا تھا چاہے یہ دلائل خود نفس انسانی کے اندر ہوں یا اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی اس کائنات کے اندر ہوں ۔
(آیت) ” وکان اللہ عزیزا حکیما “۔ (3 : 165) (اور اللہ بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم ودانا ہے ۔ “ وہ غالب اس طرح ہے کہ اس کے بندے جب جرائم کا ارتکاب کریں ان پر وہ گرفت کرسکتا ہے ۔ حکیم ودانا اس طرح ہے کہ وہ اس کائنات کے تمام امور کو اپنی حکمت کے مطابق چلاتا ہے ۔ ہر معاملے کو اپنی جگہ پر طے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کیلئے جو تقدیرات اور جو اندازے طے کئے ہیں وہ سب حکمت اور اپنی مشیت کے مطابق کئے ہیں ۔
اب ذرا منظر کے سامنے رکئے ! (لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ ان رسولوں کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے “۔ اس منظر میں تو ہدایات واشارات کا ایک ذخیرہ پنہاں ہے ۔ گہرے اشارے اور واضح ہدایات ۔ ہم ان میں سے دو تین کا ذکر کرتے ہیں اور وہ بھی ضلال القرآن کی مناسبت سے نہایت ہی مختصر۔
اس آیت سے پہلی بات جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ نظام دین میں انسانی عقل کا مقام کیا ہے ؟ اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ اور انسان کے اہم ترین مسائل مثلا مسئلہ ایمان کے سلسلے میں عقل کی اہمیت کیا ہے ؟ اس لئے کہ ایمان کی بنیادوں پر لوگوں کی زندگی کا نظام استوار ہونا تھا ۔ اور زندگی کے تمام عناصر ‘ اس کے تمام رجحانات ‘ اس کی پوری عملی شکل اور اس کی کائنات میں اس کے تمام تصرفات کو ایمانی نظریے پر استوار ہونا تھا ‘ جس طرح عالم آخرت میں اس کا انجام تمام کا تمام اس ایمان پر موقوف تھا ۔
اگر اپنی قوتوں کے بل پر (اور اللہ انسان اور اس کی قوتوں کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ‘ اور ان قوتوں کو انسان کے اندر خود اللہ نے ودیعت کیا ہے ) یہ انسان صرف اپنی اس عقل کے ذریعہ ہدایت پاسکتا اور اپنی ذات اور اپنی حیات کیلئے راہ مصلحت تلاش کرسکتا ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنے لئے خیر ڈھونڈ سکتا تو اللہ تعالیٰ پوری انسانی تاریخ میں اس طویل سلسلہ رسل کو ہر گز نہ جاری فرماتا اور لوگوں پر بذریعہ رسل حجت تمام نہ کرتا اور انسان اپنی اس عقل کے بل بوتے پر اپنے لئے دلائل ہدایت اور ایمان ویقین کے اشارات تلاش کرلیتا ۔ یہ دلائل وہ اپنے نفس سے بھی معلوم کرلیتا اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے آفاق کے اندر سے بھی وہ انکو دھونڈ لاتا ۔ وہ اپنے لئے ایک ایسا نظام زندگی بھی گھڑلیتا جس سے اس کی زندگی کے تمام مسائل ہوجاتے ۔ وہ راہ حق اور صراط مستقیم پر سیدھا چلتا ۔ سلسلہ رسل کی سرے سے ضرورت نہ رہتی ‘ ان کی تبلیغی سرگرمیوں کی ضرورت نہ رہتی ‘ اور اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتے کہ اگر رسول نہ ہوتے تو لوگوں کے پاس حجت ہوتی ۔ جیسا کہ کہا گیا۔
(آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت نہ ہو۔ “
لیکن اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا کہ اس کو عقل کا جو ذریعہ ادراک اور الہ فہم دیا ہے وہ بذات خود ان امور کے ادراک سے قاصر ہے اور محض عقل انبیاء کی راہنمائی کے بغیر ‘ رسولوں کی تنظیم اور معاونت کے بغیر ہدایت تک نہیں پہنچ سکتی ۔ نیز رسولوں کی راہنمائی کے بغیر اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ پوری انسانی زندگی کیلئے کوئی اور منہاج حیات وضع کرلیں جس میں ان کی پوری پوری مصلحت ہو اور وہ ان کیلئے دنیا اور آخرت دونوں میں اچھے انجام کا ضامن ہو ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو عقل انسانی کی کوتاہ دامنی کا اچھی طرح علم تھا ‘ اسی لئے اللہ کی حکمت اور اس کی شفقت کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ لوگوں کیلئے رسول بھیجے اور یہ کہ رسالت اور تبلیغ ہدایت کے بغیر لوگوں سے کوئی مواخذہ نہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا) ” ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں “ اور یہ بات اس قدر بدیہی ہے کہ آیت سے قطعا ثابت ہوتی ہے اور اگر قطعا ثابت نہیں ہوتی تو اس آیت کا لازمی تقاضا ضرور ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایمان وہدایت کے میدان میں اور ایمان وہدایت کی اساس پر تفصیلی نظام زندہ قیام کے معاملے میں پھر عقل کا کردار ہی کیا رہ جاتا ہے ۔ ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عقل انسانی کا کردار یہ ہے کہ وہ رسولوں سے ہدایت اخذ کرنے کے سلسلے میں اپنے فرائض ادا کرے ۔ عقل کا فرض ہے کہ رسولوں کی دعوت پر غور وفکر کرے ۔ رسولوں کے فرائض صرف اس حد تک ہیں کہ وہ پہنچا دیں اور سمجھا دیں اور انسانی فطرت کے اوپر جو غلط افکار کے تہہ بہ تہہ ڈھیر ہیں انہیں صاف کرکے فطرت کو ان کے نیچے سے نکال دیں ‘ اور انسان کو اس طرف متوجہ کردیں کہ اس کے نفس اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر معرفت کرد گار (خالق) کے واضح دلائل موجود ہیں ۔ اس کیلئے یہ رسول صحیح نظام تربیت اور صحیح منہاج مطاعلہ کائنات وضع کردیں اور انسانوں کیلئے نظام زندگی تجویز کردیں جس پر انکی زندگی کا قافلہ رواں اور دواں ہوجائے اور جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی خیر ہو ۔
عقل کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ دین اور الہیات کے معاملے میں ‘ ان موضوعات کی صحت اور بطلان کے بارے میں مفتی اور جج بن جائے ۔ اسے اختیار ہو کہ جو چاہے وہ قبول کرے اور جس چیز کو چاہے اسے رد کر دے جبکہ وہ بات قرآن وسنت سے یقینی طور پر ثابت شدہ ہو یہ بعد کہ اس بات کا مفہوم واضح طور پر سمجھ میں آگیا ہو ۔ یعنی نصوص قرآنی کے لغوی اور اصطلاحی مدلولات کی روشنی میں ۔ اگر عقل انسانی کو رد و قبول کا یہ اختیار ہوتا یعنی صحیح مفہوم ومدلول کے ادراک کے بعد ‘ بایں طور کہ ہماری عقل اس مدلول کو قبول نہیں کرتی ‘ یا اسے قبول کرنا نہین چاہتی تو پھر خدا اور رسول کے بیان کے بعد انسان مستحق عذاب قرار نہ پاتا ۔ لہذا عقل اس بات کی پابند ہے کہ وہ ضروریات دین کو قبول کرے ۔ اگر یہ عقائد اس تک صحیح طرح پہنچ جائیں اور جب عقل صحیح طور پر ان نصوص کے مفہوم و مراد کو سمجھ بھی جائے ۔
حضور اکرم ﷺ کی رسالت عقل کو مخاطب کرتی ہے ۔ وہ عقل کو جگاتی ہے ‘ اس کیلئے فکر ونظر کا ایک درست منہاج وضع کرتی ہے اور اسے صحیح راہ پر ڈالتی ہے ۔ لیکن یہ خطاب اس مفہوم میں نہیں ہے کہ عقل کو اس رسالت کے صحیح ہونے یا اسکے باطل ہونے کا فیصلہ صادر کرنے کا اختیار ہے یا وہ ایسا کرسکتی ہے ۔ یا امور رسالت میں اسے رد و قبول کر اختیار حاصل ہے ‘ بلکہ بہ خطاب اس مفہوم میں ہے کہ جب نص سے کوئی امر ثابت ہوجائے تو وہی اللہ کا حکم ہوگا اور عقل انسانی کا فرض ہے کہ اسے قبول کرے ۔
اس کی اطاعت کرے اور اسے اس کرہ ارض پر نافذ کرے ۔ چاہے نص کا یہ مفہوم اس کے ذہن کیلئے مالوف ومقبول ہو یا اس کیلئے عجیب و غریب ہو ۔
عقل انسانی کا کردار اس بات میں صرف اس قدر ہے کہ وہنصوص کو سمجھنے کی صحیح کوشش کرے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ لغت عربی اور اصطلاحات شریعت کے مطابق اس نص کا مفہوم کیا بنتا ہے ۔ یہاں آکر عقل کا کام ختم ہوجاتا ہے اور نص شریعت سے جو صحیح مفہوم اخذ ہوتا ہے اسے کسی عقلی دلیل اور قیاس سے رد نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ جہاں تک نص کا تعلق ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ محض عقلی توجیہہ نص سے برتر نہیں ہو سکتی اس لئے کہ عقل الہ کا درجہ نہیں رکھتی نہ وہ اللہ کی نصوص کے اور ردوقبول کا درجہ رکھتی ہے۔
اس اہم نکتے پر خیالات کے اندر ایک عظیم التباس پیدا ہوجاتا ہے ۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو عقل انسانی کو الہ کا درجہ دیدیتے ہیں ۔ اپنے معاملات پر بھی اسے حکم قرار دیتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایمان وہدایت کے میدانوں میں عقل کو دخل اندازی کی ذرہ بھر اجازت نہیں دیتے ، صحیح منہاج وہی ہے جو اوپر ہم نے بیان کردیا ہے ۔ وہ یہ کہ رسالت نے عقل کو مخاطب کیا ہے تاکہ وہ رسالت کے فیصلوں کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ رسالت اپنے عملی اور نظریاتی فیصلوں کے بارے میں عقل کیلئے بھی ایک منہاج بناتی ہے تاکہ وہ بھی اپنے دائرے کے اندر کام کرے ۔ پوری زندگی میں رسالت کے فیصلوں کا ادراک کرے ۔ جب عقل نے رسالت کے فیصلوں کو سمجھ لیا کہ نصوص شریعت و رسالت کا مفہوم کیا ہے تو پھر عقل کیلئے تصدیق ‘ اطاعت اور انکے نفاذ کے سوا اور کوئی راستہ ہی نہیں رہتا شریعت یہ لازم نہیں کرتی کہ وہ مفاہیم نصوص سمجھے بغیر ان پر عمل کرے بلکہ شریعت کا مدعا یہ ہے کہ نصوص شریعت پر سمجھ کر عمل کیا جائے ۔ لیکن جب عقل ان کا ادراک کرلے تو اس پر فرض ہوجاتا ہے کہ پھر ان پر عمل پیرا ہو اور کوئی چون وچرا نہ کرے ۔ نصوص کے مفاہیم کے مطابق بات کو قبول کرے ۔ اور نصوص کا مقابلہ اور چون وچرا یہ ہوگا کہ ان میں سے بعض کو قبول کرے اور بعض کو رد کرے ۔ بعض کو صحیح قرار دے اور بعض کو غلط قرار دے ‘ باوجود اس علم کے کہ یہ نصوص وہدایت اللہ کی جانب سے آئی ہوئی ہیں ۔ اللہ وہی بات کرتا ہے جو حق ہوتی ہے اور وہ جو حکم بھی دیتا ہے اس میں بھلائی ہوتی ہے ۔
اسلامی منہاج حیات میں اللہ سے ہدایت پانے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ نصوص قرآن وسنت کا صحیح مفہوم پالینے کے بعد اس میں عقلی گھوڑے نہ دوڑائے جائیں یہ فہم اصول فہم کے مطابق ہو۔ انسان قرآن وسنت کا مطالعہ اپنے ذہن میں بعض فیصلے پہلے سے طے کرکے نہ کرے اس طرح کہ اپنے دین میں بعض منطقی نتائج طے کرلے یا اپنے محدود ملاحظے سے کچھ باتیں طے کرلے یا پنے ناقص تجربات کے مطابق بعض چیزوں کو حقائق سمجھ لے اور اس کے مطابق قرآن وسنت کو ڈھالنے کی سعی کرے ۔ صحیح منہاج مطالعہ یہ ہے کہ وہ نصوص کو اس طرح لے جس طرح کہ وہ ہیں اور نصوص نے جو فیصلے کر لئے ہیں وہ بہرحال فیصلے ہیں اور وہ اس کی ذاتی سوچ سے بہتر ہیں اور ان کا نظام اور ان کا منہاج اس کے ذاتی منہاج سے زیادہ مضبوط ہے اس لئے عقل دین کے فیصلوں پر کوئی محاکمہ نہیں کرسکتی ۔ جب عقل کے نزدیک یہ بات ثابت ہوجائے کہ یہ فیصلہ دین کا ہے ۔ لوگوں کے بتائے ہوئے فیصلے اصول دین پر برتری حاصل نہیں کرسکتے ہیں ۔ عقل بہرحال ان دینی ضوابط کی تابع ہوگی ۔ بشرطیکہ دین کے ضوابط اور پیمانے اچھی طرح ثابت ہو کو سامنے آجائیں ۔
عقل لو الہ کا درجہ حاصل نہیں ہے کہ وہ یہ قرار دے کہ اس نے جو نتائج اخذ کر لئے ہیں وہ اللہ کے فیصلے ہیں ہاں عقل انسانی کو یہ حق ضرور حاصل ہے کہ وہ کسی نص کا کوئی مفہوم انسانی عقل کے مطابق کسی دوسرے مفہوم کے مقابلے میں پیش کرے جو بذات خود بھی عقلی مفہوم ہو ۔ یہ تو عقل انسانی کا دائرہ کار ہے اور اس میں عقل پر کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی حرج ہے بشرطیکہ نصوص کا یہ مفہوم وادراک صحیح اور اصولوں کے دائرے کے اندر ہو مقصود تاویل نصوص اور افہام و تفہیم ہو اور نصوص کے اندر تاویل کی گنجائش موجود ہو ۔ یہ تاویل اور تفہیم بھی ان قواعد اور ضوابط کے اندر ہو ‘ جو اس مقصد کیلئے خود دین نے وضع کئے ہیں ۔ یہ قواعد ایسے ہیں جو انسانوں کی حریت فکر کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور انسان کے فہم وادراک کیلئے ایک وسیع میدان فراہم کرتے ہیں ۔ اسلامی نظام میں کوئی ایا اداراہ کوئی ایسی اجتماعی پابندی اور کوئی ایسا عہدیدار نہیں ہے جسے ذہنوں پر تالے لگانے کا اختیار ہو کہ لوگ نصوص شرعیہ کے اندر غوروفکر نہیں کرسکتے ۔ ان کے انطباق کیلئے کوئی اچھی رائے نہیں دے سکتے یا کوئی معقول وجوہ پیش نہیں کرسکتے ۔ بشرطیکہ کوئی شرعی نص ان آراء ‘ ان تاویلات اور وجوہات کی متحمل ہو اور یہ تاویلات بھی اسلامی نظام کے حدود کے اندر ہوں اور اصول دین پر مبنی ہوں ۔ یہ ہے مفہوم اس بات کا کہ رسالت محمدیہ عقل کو مخاطب کرتی ہے ۔
بیشک اسلام ایک عقلی دین ہے ۔ وہ اپنے مسائل ‘ عقائد اور فیصلے عقل کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ اور اسلام یہ فیصلے اور عقائد انسانوں سے فوق الفطری انداز میں نہیں منواتا کہ ماننے کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہ رہے بلکہ وہ عقلی دین اس مفہوم میں ہے کہ وہ عقل سے مخاطب ہوتا ہے اور اسے غوروفکر کی دعوت دیتا ہے ۔ وہ اس کے سامنے ہدایت اور صراط مستقیم پر آنے دلائل پیش کرتا ہے کہ وہ اپنے نفس اور اپنے آفاق کے اندر پائے جانے والے ان نشانات راہ پر غور کرے راہ پر غور کرے اور انسان کی اصلی فطرت کو ان عادات وتقالید کے تہ بہ تہ جمے ہوئے پردوں اور ڈھیرون کے نیچے سے نکالے ۔ نیز یہ کہ عقل اپنے آپ کو گمرہ کن خواہشات اور عقل و فطرت پر چھا جانے والے موثرات سے نکال لے ۔ قرآن کریم عقل کو اس لئے خطاب کرتا ہے کہ قرآن نے اپنے نصوص کے اندر جو امور طے کردیئے ہیں وہ ان پر غور وفکر کرکے انکو تسلیم کرے ، اور قرآن کریم کا یہ انداز نہیں ہے کہ وہ بغیر سمجھانے کے لوگوں کو بات تسلیم کرنے پر مجبور کرے ۔ ہاں جب عقل کو کام میں لا کر انسان کسی نص کا مفہوم ومدلول پالے اور حقائق کا ادراک کرے تو پھر اس کیلئے سرتسلیم خم کرنے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے ۔ سمجھنے کے بعد اگر وہ تسلیم کرلیں تو مومن ہیں اور اگر تسلیم نہ کریں تو کافر ہیں۔ رہے قرآنی اور اسلامی فیصلے تو وہ عقل کے سامنے پیش کئے جانے سے پہلے ہوچکے ہیں ۔ عقل کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ وہ درست ہیں یا غلط ہیں ۔ نہ عقل کو اختیار ہے کہفہم ودارک کے بعد اسلامی فیصلوں کو رد کرسکے ۔ آج کل بعض لوگ عقل کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ اسلامی فیصلوں کو رد کرے ۔ ایسے لوگوں کے نزدیک ان کی عقل ان کا الہ بن جاتی ہے ۔ اب ان کا یہ الہ شریعت کے جن فیصلوں کو چاہے قبول کرلے اور جن کو چاہین انہیں رد کردے ۔ جن امورکو چاہے چن لے اور جن کو چاہے چھوڑ دے ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔
(آیت) ” افتومنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض “۔ کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو ۔ “ یہ طرز عمل کافرانہ ہے اور ایسے لوگوں کو آخرت میں سخت سزا دی جائے گی ۔
اب اللہ تعالیٰ نے چاہے اس کائنات کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ‘ یا انسان کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ‘ یا کسی بھی دوسری مخلوق کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا یا اللہ تعالیٰ نے قانون میراث کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا یا فرائض ونواہی کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا تو اللہ کے یہ تمام فیصلے واجب القبول ہیں اور جن تک یہ فیصلے پہنچیں اور وہ ان فیصلوں کے مدلولات کا ادراک کرلیں تو ان کیلئے ان فیصلوں کو قبول کرنا فرض ہے ۔ مثلا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
(آیت) ” اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن “ (65 : 12) (اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہیں کے مانند ۔۔۔۔۔ “ (آیت) ” (واللہ خلق کل دآبۃ من مآئ) (24 : 45) ” اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا۔ “ (آیت) ” (خلق الانسان من صلصال کالفخار) (14) (وخلق الجان من مارج من نار (15) (55 : 14۔ 15) (انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا) یہ اور اس قسم کی بیشمار آیات ہیں جن کا تعلق اس کائنات کی نوعیت اور زندہ اور مردہ اشیاء کی ماہیت سے ہے ۔ پس اللہ نے جو کچھ کہہ دیا وہ حق ہے ۔ اب عقل کیلئے یہ مجال نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ یہ باتیں تو میرے فیصلوں کے اندر اس طرح نہیں ہیں یا میرے فہم وادراک میں یہ بات نہیں سماتی یا یہ بات ابھی میرے تجربے کے اندر نہیں آئی ۔ اس لئے کہ ان معاملات میں عقل نے جو فیصلے کئے ہیں وہ درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی ہوسکتے ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جو کچھ کہہ دیا ہے وہ درست ہی ہو سکتا ہے اور اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ البتہ ہماری فہم نصوص کے صحیح مفہوم کا ادراک کرنے میں غلطی کرسکتی ہے اور یہ بات اس صورت میں ہے کہ نصوص کے صحیح مفہوم کا ہم ادراک کرلیں ۔ اسی طرح دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” (ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون) (5 : 44) (جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربوا ان کنتم مومنین (278) فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ وان تبتم فلکم رء وس اموالکم لا تظلمون ولا تظلمون “۔ (279) (2 : 278۔ 279)
” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ‘ خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ‘ اگر واقعی تم ایمان لائے ہو ۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ‘ تو آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ اب بھی توبہ کرلو (اور سودچھوڑ دو ) تو اپنا اصل سرمایہ تم لینے کے حقدار ہو۔ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔
(آیت) ” وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی) (33 : 33) ” اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کیسی سج دھج نہ دکھاتی پھرو “۔ (آیت) ” ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن “۔ (24 : 31) ” اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں “۔
یہ اور انسانی زندگی کے بارے میں دوسری آیات وہدایات ایسی ہیں کہ ان میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہی سچ ہے اور ان کے بارے میں عقل کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ عقل کے مطابق فلاں اور فلاں باتوں میں مصلحت زیادہ ہے ‘ جو اللہ کے فیصلوں کے خلاف ہوں یا وہ ایسی باتیں ہوں جن کی اجازت اللہ تعالیٰ نے نہ دی ہو اور اسے لوگوں کیلئے قانون قرار نہ دیا ہو ۔ جس امر میں عقل کو مصلحت نظر آتی ہے اس میں خطا اور صواب دونوں کا امکان ہے اور وقتی جذبات اور خواہشات نفسانیہ کا دخل اس میں عین ممکن ہے اس لئے اللہ تعالیٰ جو فیصلہ فرماتے ہیں وہ درست ہی ہو سکتا ہے اور اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نے جن عقائد اور تصورات کی تلقین کی ہے ‘ یا زندگی کا جو منہاج اور طریق کار تجویز کیا ہے ان کے بارے میں عقل کا موقف جو ہو سو ہو ‘ جب تک نص صحیح ہے ‘ قطعی الدلالت ہے اور کسی وقت کے ساتھ موقت نہیں ہے ۔ اس بارے میں ہم عقل کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ یہ کہے کہ جہاں تک عقائد ونظریات کا تعلق ہے وہ تو ہم نصوص کے مطابق لیتے ہیں ۔ رہا زندگی کا تفصیلی نظام تو اس بارے میں بات یہ ہے کہ اب زمانہ بہت ہی بدل گیا ہے اور نہایت ہی ترقی یافتہ ہے ۔ اس لئے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ نصوص شرعیہ کسی خاص وقت تک ہی موثر ہوں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح کرسکتا تھا ۔ جب تک کوئی نص مطلق ہے تو وہ جس طرح زمانہ نزول کے وقت موثر تھی اسی طرح وہ آخری زمانے میں بھی موثر ہوگی ورنہ یہ بات لازم آئے گی کہ ہم اللہ میاں کو قصور وار ٹھہرانے کی جسارت کریں جوہر قسم کے نقائص سے پاک وصاف ہے ۔
سوال یہ ہوگا کہ کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا ہے ؟ نہیں اجتہاد اس مین ہوگا کہ ہم کسی جزئی صورت حال پر کسی نص کی تطبیق کریں ۔ یہ اجتہاد نہیں ہے کہ ہم ایک عام اصول میں یا حکم میں کوئی تبدیلی کریں یا اسے رد کردیں ‘ کسی دور میں یا کسی نسل میں اصول عقل میں سے کسی اصول کے تحت کوئی بات کریں ۔
درج بالا جو معروضات ہم نے پیش کی ہیں ‘ ان میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو حیات انسانی کے اندر عقل وخرد کی اہمیت کو کم کر رہی ہو اس لئے کہ اسلامی نصوص اور اصولوں کو جدید سے جدید تر حالات پر منطبق کرنے کا ایک وسیع میدان کار عقل کیلئے کھلا ہے ۔ جبکہ عقل اسلامی نقطہ نظر اور اسلامی پیمانوں کا اچھی طرح ادراک کرے جو صحیح خطوط پر فہم دین سے مستفاد ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ وسیع میدان اس کائنات کے اصول طبیعی ‘ اس کی قوتوں اور اس کے اندر پوشیدہ ذخائر کا ہے ۔ اس کائنات کا مزاج ‘ اس کے اندر رہنے والی مخلوقات کا علم ‘ ان قوتوں کے استفادے کے ذرائع اور اس میں زندہ مخلوقات کیلئے زندگی آسان بنانے کے ذرائع واسباب عقل کیلئے وسیع تر میدان ہیں جن میں صرف عقل ہی کام کرسکتی ہے ۔ یہاں انسان کو ترقی دی جاسکتی ہے اور حدود اللہ میں رہتے ہوئے اس کی زندگی کے شب وروز بدل سکتے ہیں ۔ بہرحال عقل کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ انسانیت کی لگام ہوا وہوس اور لذت وشہوت کے ہاتھ میں دیدے جہاں عقل ٹھوکر کھاتی ہے اور فطرت خواہشات کے دبیز مادے کے نیچے دب جاتی ہے ۔
ذرا پھر رکئے اور اس آیت پر دوبارہ نظر ڈالئے (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ رسولوں کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے۔ “ اس آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے کاندھوں پر کس قدر عظیم ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں اور اس کے بعد جو لوگ انبیاء (علیہم السلام) کی رسالت پر ایمان لانے والے ہیں ان پر تمام انسانوں کے حوالے سے کس قدر عظیم ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں ۔ فی الواقعہ یہ عظیم اور بھاری ذمہ داریاں ہیں۔
تمام لوگ جو اس دنیا میں آباد ہیں ان کے انجام ‘ دنیا اور آخرت دونوں میں ‘ رسولوں اور رسولوں کے متبعین کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ مثلا رسول اور ان کے متبیعن اللہ کے پیغام کو ان تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں اور اس تبلیغ کے نتیجے ہی میں لوگوں کی خوش بختی اور بدبختی کا فیصلہ ہوگا ‘ اس تبلیغ اور دعوت ہی کے نتیجے میں ثواب اور عتاب کے وہ مستحق ہوں گے ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔
بیشک یہ ایک ہولناک اور خوفناک اور عظیم ذمہ داری ہے لیکن اس کے سوا اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام رسل (علیہم السلام) اپنی اس عظیم ذمہ داری کا شدید احساس رکھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کو اس بوجھ سے اچھی طرح آگاہ فرما دیتے تھے جو ان پر ڈالدیا گیا تھا ۔ یہی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہتے ہیں ۔ (آیت) ” انا سنلقی علیک قولا ثقیلا “۔ (73 : 5) ” ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنیوالے ہیں ۔ “ اور اس کیلئے تیاری یوں ہوگی ۔
(آیت) ” یایھا المزمل “ (1) قم الیل الا قلیلا (2) نصفہ اوانقص منہ قلیلا (3) اوزد علیہ ورتل القران ترتیلا (4) (انا سنلقی علیک قولا ثقیلا (5) (73 : 1۔ 5) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ‘ رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم ‘ آدھی رات ‘ یا اس سے کچھ کم کرلو ‘ یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو ‘ اور قرآن کو خوب ٹھہرٹھہر کر پڑھو ۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنیوالے ہیں ۔ “
(آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا (23) فاصبر لحکم ربک ولا تطع منھم اثما اوکفورا (24) واذکراسم ربک بکرۃ واصیلا (25) ومن الیل فاسجد لہ وسبحہ لیلا طویلا “۔ (26) (76 : 23 تا 26)
” اے نبی ! ہم نے تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے لہذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو ‘ اور ان میں سے کسی بدعمل ‘ یا منکر حق کی بات نہ مانو۔ اپنے رب کا نام صبح اور شام یاد کرو۔ رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو ‘ اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے وہ بات جس کا احساس اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو دلاتے ہیں اور اسے حکم دیتے کہ وہ یہ بات کریں اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اس کی حقیقت اور اہمیت کیا ہے ۔
(آیت) ” قل انی لن یجیرنی من اللہ احد ولن اجد من دونہ ملتحدا “۔ (72 : 22) ” کہو مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں ۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں ۔ “
(آیت) ” علم الغیب فلایظھر علی غیبہ احدا (26) الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا (27) لعلم ان قد ابلغوا رسلت ربھم واحاط بما لدیھم واحصی کل شیء عددا (28) (72 : 26 تا 28)
” وہ عالم الغیب ہے ۔ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ‘ سوائے اس رسول کے جسے اس نے پسند کرلیا ہو ‘ تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ‘ اور وہ انکے پورے ماحول کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے ۔ “
بیشک یہ ایک خوفناک اور عظیم فریضہ ہے ۔ لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ان کی خوش بختی اور بدبختی کا معاملہ ہے ۔ ان کے ثواب اور عذاب کا مسئلہ ۔ یہ پوری انسانیت کے انجام کا معاملہ ہے ۔ اس فریضے کا خلاصہ یہ ہے کہ اس پیغام کو یا تو لوگوں تک پہنچایا جائے گا تاکہ وہ اسے قبول کریں ‘ اس کی پیروی کریں جس کے نتیجے میں وہ دنیا وآخرت میں فلاح پائیں گے یا ان تک یہ پیغام پہنچے گا تو وہ اسے دور پھینک دیں گے اور دنیا وآخرت دونوں میں بدبختی کا شکار ہوں گے اور یا یہ پیغام ان تک نہ پہنچے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگوں کے ہاتھ ان کے رب کے خلاف ایک حجت ہاتھ آجائے گی اور ان لوگوں کی اس دنیاوی بدبختی کی ذمہ داری اور ان کی گمراہی کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہوگی جو اس دنیا میں ان تک خدا کا پیغام پہنچانے کے ذمہ دار ہیں اور وہ یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتے ۔
رہے اللہ کے رسول تو انہوں نے تو اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا کردی ۔ انہوں نے اللہ کا پیغام اور امانت لوگوں تک پہنچا دی۔ وہ اپنے رب کے پاس اس حال میں گئے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کردی تھیں ۔ انہوں نے یہ ذمہ داریاں صرف زبانی تبلیغ کی حد تک ہی پوری نہ کی تھیں بلکہ انہوں نے اللہ کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں عملی شکل دیکر لوگوں کو دکھایا اور وہ رات اور دن اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے ان مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرتے رہے جو اس پیغام کی راہ میں حائل تھیں ۔ یہ مشکلات چاہے شبہات کی شکل میں تھیں جو لوگوں کے ذہنوں میں کھٹک رہے تھے یا گمراہی کی شکل میں تھیں جو لوگوں پر مسلط تھیں یا ایسی قوتوں کی شکل میں تھیں جو طاغوتی قوتیں تھیں اور جو لوگوں کو اس دعوت پر کان دھرنے سے روکتی تھیں اور ان کے دین کیلئے فتنہ بنی ہوئی تھیں ۔ خاتم النبین ﷺ نے اپنی عملی زندگی میں اسلام کو پوری طرح نافذ کر کے دکھایا اس لئے کہ آپ آخری مبلغ تھے ۔ آپ کی رسالت تمام رسالتوں کا اختتامیہ تھی ‘ تو آپ نے محض زبانی تبلیغ پر اکتفاء نہ کیا ۔ آپ نے تلوار اور قوت کے زور سے بھی ان مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کیا ۔ (آیت) ” حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ “ (2 : 193) ” تاکہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین صرف اللہ کے لئے ہوجائے ،۔ “ اب یہ بھاری ذمہ داری آپ کے بعد ان لوگوں پر آپڑتی ہے جو آپ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ زمانے گزر گئے ‘ نسلوں کی نسلیں گزر گئیں اور گزرتی رہیں گی ۔ حضور ﷺ کے بعد تبلیغ کا سلسلہ آپ کی متبعین کی ذمہ داری میں آگیا ہے اور ان کے لئے اس مشکل اور بھاری ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ انہوں نے لوگوں پر حجت قائم کرنی ہے ۔ انہوں نے لوگوں کو دنیا کی بدبختی اور آخرت کی ناکامی سے بچانا ہے ۔ یہ فریضہ اور یہ ذمہ داری صرف تبلیغ کرنے سے ہی ادا کی جاسکتی ہے ۔ اور یہ اسی منہاج پر ادا ہو سکتی ہے جس پر اسے رسول خدا ﷺ نے ادا فرمایا ۔ اس لئے کہ رسالت وہی ہے اور اہل ایمان پر وہی ہیں۔ گمراہیاں ‘ خواہشات نفسانیہ اور شبہات اور اعتراضات بھی وہی ہیں وہ طاغوتی قوتیں بھی اسی طرح موجود ہیں جو لوگوں تک دعوت اسلامی کے پہنچنے کی راہ میں حائل ہیں ۔ یہ قوتیں مسلمانوں کو ان کے دین کے بارے میں فتنے میں ڈال رہی ہیں اور قوت کے بل بوتے پر انکو گمراہی کر رہی ہیں ۔ وہی موقف ہے جو تھا ‘ وہی مشکلات ہیں جو تھیں ۔ لوگ بھی وہی ہیں جو تھے ۔
دعوت اسلامی وہ فریضہ ہے جس سے ہم روگردانی اور انکار نہیں کرسکتے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم تبلیغ کریں ‘ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یہ فریضہ ادا کریں ۔ تحریر وتقریر سے تبلیغ کریں ۔ اپنے عمل سے تبلیغ کریں تاکہ مبلغین اپنے عمل اور کردار کی وجہ سے چلتی پھرتی تبلیغ ہوں اور تبلیغ اور دعوت کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں کہ یہ بھی تبلیغ ہی کی ایک صورت ہوگی جو لوگ فتنے میں پھنسے ہوئے ہوں انہیں رہائی دلائیں ۔ اگر یہ کام نہ کیا گیا تو کوئی تبلیغ نہ ہوگی اور نہ ادائیگی فرض ہوگی اور نہ لوگوں پر اللہ کی حجت تمام ہوگی ۔
یہ ذمہ داریاں اٹھانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے ورنہ اس کے بھاری نتائج برآمد ہوں گے ۔ تمام دنیا گمراہی میں مبتلا ہوگی وہ اس دنیا میں بدبختی کا شکار ہوگی اور آخرت میں اس کے خلاف اللہ کے ہاں حجت نہ ہوگی اور ان کے ہاتھ حجت آجائے گی ۔ اگر امت یہ ذمہ داری ادا نہ کرے گی تو اس کی وجہ سے لوگ نجات نہ پائیں گے ۔
کون ہے جو اس بوجھ کو ہلکا سمجھے گا ؟ یہ کمر توڑ بوجھ ہے ‘ اس سے جسم کا ہر جوڑ اور ہر عضو کانپ رہا ہے جو شخص بھی یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ ” مسلم “ ہے یا تو وہ اس فریضے کو ادا کرے گا اور دعوت دین کا کام کرے گا ورنہ خود اس دنیا اور آخرت میں اس کیلئے فلاح ممکن نہیں ہے ۔ جب وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلم ہے اور پھر دعوت دین کا کام نہیں کرتا اور اپنا فرض ادا نہیں کرتا ‘ ان تمام طریقوں کے مطابق جو دعوت دیں اور ادائیگی فرض کیلئے مسنون ہیں تو وہ گویا اس اسلام کے خلاف شہادت دے رہا ہے جس کا اس نے دعوی کیا ہے ۔ اس کی شہادت اسلام کے حق میں نہیں ہے بلکہ اسلام کے خلاف ہے حالانکہ اسے اس لئے اٹھایا گیا ہے کہ وہ اسلام کے حق شہادت دے ۔
(آیت) ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا التکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا “ (2 : 142) اور اسی طرح ہم نے تم مسلمانوں کو امت وسط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو (تفصیلات کیلئے دیکھئے مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی کتاب شھادت حق (سیدقطب)
شہادت حق اور اسلام کے حق میں شہادت کا آغاز یوں ہوگا کہ ایک مسلمان بذاتہ پھر اس کا گھر اور خاندان ‘ پھر اس کی قوم اور اس کے رشتہ دار اس دین کا عملی نمونہ ہوں جس کی وہ دنیا کی دعوت دے رہا ہے ۔ اس کے بعد اس کی یہ شہادت ایک قدم اور آگے بڑھے اور ایک ایسی امت پیدا ہو جسے امت دعوت کہا جاسکے ۔ وہ اپنے گھر ‘ خاندان ‘ اور رشتہ داری کے حدود میں اسلام اور دعوت اسلامی کو عملی شکل میں پیش کرنے کے بعد شخصی معاملات اور ملک کے سیاسی معاملات کے اندر بھی اس دعوت کے قیام کی ذمہ داری لے ۔ اس کے بعد وہ ایسی شہادت دے کہ ان رکاوٹوں کو دور کردے جو اسلام کی راہ میں حائل ہیں ‘ جو لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں اور اس دعوت کے حوالے سے ان کو فتنے میں ڈال رہی ہیں ۔ چاہے یہ رکاوٹیں جس قسم کی بھی ہوں ۔ اگر کسی مسلمان نے اس مفہوم میں شہادت دی تو پھر وہ صحیح معنوں میں شاہد بھی ہوگا اور شہید بھی ہوگا ۔ وہ گواہی دیکر اپنے رب کے پاس پہنچ جائے گا ۔ یہ ہے وہ حقیقی شہید۔
سب سے آخر میں ہم دست بستہ اللہ کے حضور اس کی درگاہ عظمت و جلالت میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ یہ درگاہ درگاہ عدل ہے اور گہرے علم پر مبنی ہے ۔ اس درگاہ میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت سایہ فگن ہوتے ہیں اور اس میں ہر کسی کے ساتھ رعایت اور احسان ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اس حضرت انسان کے ساتھ ہوتا ہے جو کبھی منکر حق کے روپ میں آتا ہے اور کبھی سخت نافرمانی کرتا ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے زیور علم سے آراستہ کیا ہے اور اس کی ذات کے اندر بےپناہ قوتیں ودیعت کی ہیں۔ اس کی ذات میں ہدایت اور ضلالت دونوں کی استعداد پیدا کی ہے ۔ اگر اس علم کو عقل کے تابع نہ کیا جائے تو اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کا ایک عظیم ہتھیار دیا ہے اور یہ کہ انسان کے انفس اور اس کے آفاق میں ہدایت اور قبول ایمان کے بیشمار دلائل موجود ہیں ۔ اللہ کو علم تھا کہ انسان کے پاس علم کا جو عظیم ہتھیا رہے اس کے مقابلے میں انسان کے اندر قوت شہوانیہ اور حیوانیہ بھی موجود ہے ۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ انفس وآفاق کے اندر جو کثیر التعداد دلائل و شواہد پائے جاتے ہیں انہیں انسان کی خواہشات نفسانیہ دبالیں اور اس کی کو تاہیاں اور اس کی جہالت انہیں اس کی نظروں سے اوجھل کردیں ۔ انسان کیلئے ان دلائل پر تب ہی غور وفکر کرنا ممکن ہوگا جب اس کے پاس رسول بھیجے جائیں اور اسے بار بار یاددہانی کرائی جائے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے بیان کے بعد بھی انسان کے ذمے یہ بات نہیں ڈالی کہ وہ اپنے لئے کوئی نظام زندگی بنائے بلکہ اسے نظام زندگی بنا کردیا اور اس کا فرض یہ قرار دیا کہ وہ اس نظام کو دنیا میں نافذ کرے ۔ اس کے بعد اسے پھر اس دنیا میں آزاد چھوڑ دیا ۔ ان حدود وقیود کے بعد بھی اس کیلئے اس عظیم مملکت میں ایک وسیع دائرہ کار رہ گیا ۔ اسے اجازت دی گئی کہ وہ اس میں جو چاہے نئی نئی ایجادات کرے ۔ جو تغیرات چاہے کرے اور جو ترکیبات چاہے کرے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے جس طرح اس پوری کائنات کو مسخر کیا ہے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائے اس میں یہ انسان کبھی درست فیصلے کرے گا اور کبھی غلط کبھی وہ پھسلے گا اور کبھی صراط مستقیم پر رواہ دواں ہوگا ۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اللہ کے ہاں انصاف کی کیا اہمیت ہے جسے اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ۔ اگر رسول نہ بھیجے جاتے تو لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خلاف ایک حجت ہوتی ۔ لیکن اللہ نے رسول بھیجے جو لوگوں کو خوشخبری دیتے تھے اور انجام بد سے ڈراتے تھے ۔ حالانکہ اس کائنات میں اللہ کی ذات پر ایمان لانے کے تکوینی دلائل موجود تھے اور یہ کائنات سب کے سامنے کتاب مفتوح تھی ۔ نیز نفس انسنای بھی ایک کھلی کتاب کے طور پر انسان کے سامنے موجود تھا ۔ جس کے اندر کرد گار کے وجود پر بیشمار دلائل تھے ۔
جن سے اللہ کی وحدانیت کو اچھی طرح معلوم کیا جاسکتا تھا ۔ جن سے اللہ کی تقدیر ‘ اللہ کی تدبیر ‘ اللہ کی قدرت اور اس کے علم کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہو سکتا تھا ۔ نیز فطرت انسانی کے اندر بھی ایک قوی اور حقیقی داعیہ موجود ہوتا ہے جس سے انسان کو اس کائنات کے خالق تک رسائی کا ایک نہایت پختہ شوق ملتا ہے اور اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اس کا کوئی خالق ضرور ہے پھر اس فطرت اور دلائل کونیہ کے درمیان ایک قسم کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق اور مدیر موجود ہے پھر اللہ تعالیٰ نیانسان کو عقل عطا فرمائی تھی جو مشاہدات کے ذریعے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ انسان کی ان تمام قوتوں پر ضعف طاری ہوجاتا ہے ۔ کبھی کبھی یہ قوتیں معطل ہوجاتی ہیں ‘ کبھی یوں ہوتا ہے کہ بعض اثرات ان قوتوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔ کبھی تو ان عقلی قوتوں کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ کبھی عقل کے فیصلوں میں غلطی واقعہ ہوتی ہے اور عقل پریشان ہوجاتی ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس ڈیوٹی سے معاف کردیا کہ وہ اس کائنات کے دلائل و شواہد ہی سے راہ ہدایت حاصل کریں یا محض فطری دلائل سے اپنی عقل کے بل بوتے پر راہ حق پائیں ‘ جب تک ان کے پاس کوئی رسول نہیں آجاتا تاکہ یہ رسالت انسان کی ان تمام خوبیوں اور قوتوں کو ان تمام آلودگیوں سے پاک کر دے اور ان عقلی قوتوں کو ان ضوابط کے اندر لے آئے جو اللہ رسالت نے بھیجے ۔ انسان کی یہ تمام فطری قوتیں جب اسلامی منہاج فکر کے اندر منضبط ہوجاتی ہیں تو ان قوتوں کے ذمے اب صرف یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اس رسالت کا اقرار کریں اور اللہ کی بندگی کریں اور رسول کا اتباع کریں ۔ یا اگر وہ انکار کردیں تو پھر ان پر حجت تمام ہوجائے اور قیامت کے دن سزا کی مستوجب ہوجائیں ۔
پھر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے ۔ وہ ان کی کس قدر دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کو اپنے فضل وکرم سے نوازتا ہے ان کو کس قدر مکرم اور مختار بناتا ہے ۔ اس کے باوجود کہ اسے علم سے کہ انسان خطا اور نقص کا پتلا ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ پرھ بھی اس جہان کو اس کے حوالے کردیتا ہے ۔ اسے خلیفہ فی الارض بناتا ہے ۔ حالانکہ یہ کائنات اس کی نسبت سے بہت ہی بڑی ہے ۔ اور اللہ تو بےنیاز ہے کہ اگر ایک ذرہ بھی اس کی اس عظیم کائنات میں ہے تو وہ ضائع نہیں ہو سکتا ۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
النساء 4:164
(آیت) ” نمبر 163 تا 165۔
غرض یہ ایک قافلہ ہے جو شاہراہ تاریخ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے اور اس سلسلے کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں ۔ یہ ایک ہی رسالت ہے اور اس کا ایک ہی نصب العین ہے کہ انسان کو قبل از وقت خبردار کردیا جائے اور اچھے لوگوں کو قبل از وقت ہی اچھے انجام کی خوشخبری دیدی جائے ، اس قافلے میں آگے پیچھے مختار ان درگاہ الہی اور انسانوں میں سے چیدہ لوگ آگے پیچھے چلے آرہے ہیں ۔ یہ رہے حضرت نوح (علیہ السلام) یہ رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ آئی سواری حضرت اسماعیل کی ۔ انکے بعد یہ چلے آرہے ہیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بعد متصلا حضرت یعقوب آرہے ہیں ۔ اب کچھ مختلف گروہ نمودار ہوئے حضرت ایوب (علیہ السلام) یونس (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) ‘ سلیمان (علیہ السلام) ‘ داؤد (علیہ السلام) ‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے اپنی اپنی باری پر اور بعض ایسے لوگ بھی چلے آئے ہیں جن کے نام سے ہم واقف نہیں ہیں۔ آخر میں حضرت محمد ﷺ خاتم النبین تشریف لا رہے ہیں اور اب اس قافلے کا آخری سرا اختتام کو پہنچا ۔ اس قافلے میں بعض لوگ ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے پیش کیا ۔ اس قافلے میں مختلف رنگوں اور مختلف نسلوں کے نبی ہیں اور کرہ ارض کے مختلف علاقوں میں یہ قافلہ نظر آتا ہے ۔ اور مختلف ادوار اور مختلف زمانوں میں ، مختلف معاشروں اور مختلف خاندانوں میں یہ رسول کام کرتے رہے ۔ یہ سب ایک ہی مصدر اور منبع سے پیغام لاتے رہے ۔ یہ سب راہ دکھانے والی ایک ہی روشنی کے حامل رہے ۔ سب کے سب متنبہ اور خبردار کرتے رہے اور خوشخبری دیتے رہے ۔ یہ سب کے سب قافلہ انسانیت کی زمام اپنے ہاتھ میں لیکر اسے نور ہدایت میں داخل کرتے رہے ۔ چاہے کوئی کسی ایک خاندان کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی کسی ایک قوم کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی ایک شہر ار ایک علاقے کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی تمام انسانوں کیلئے آیا ہو اور خاتم النبین کا لقب پایا ہو۔
یہ سب کے سب وحدہ سے وحی پاتے رہے ۔ ان میں سے کسی نے کوئی بات اپنی طرف سے پیش نہیں کی ۔ ان میں سے اگر اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست بات کی تو وہ بھی وحی کا ایک رنگ تھا ۔ اس کیفیت سے ہم آگاہ نہیں ہیں نہ اس کا ادراک کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم آخری وحی کا ریکارڈ ہے اور یہ اس قدر درست ریکارڈ ہے جو ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے اور قرآن نے اس ہم کلامی کی کوئی تفصیل یاکیفیت بیان نہیں کی ہے ۔ اس کی کیفیت کیا تھی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کن خواص اور کس قوت ادراک سے اسے پا رہے تھے ۔ یہ سب باتیں غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے بارے میں کوئی بات بیان نہیں کی ہے ۔ اور قرآن کریم کے علاوہ اس موضوع پر جو کوئی بھی اپنے دہن سے بات کرے گا وہ بےسند ‘ فلسفہ یا قصہ کہانی ہوگی ۔
یہ رسول ‘ جن میں سے بعض کے نام ذکر ہوئے اور بعض کے نام نہیں لئے گئے کیوں بھیجے گئے ؟ اللہ کی شفقت اور رحمت اور عدالت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ رسول بھیجے ۔ تاکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے مومنین اور اطاعت کندگان کو خوشخبری دیدیں کہ اللہ نے ان کیلئے کیا کیا نعمتیں تیار کی ہوئی ہیں ۔ بیشمار نعمتیں اور اللہ کی رضا مندی ان کے انتظار میں ہے ۔ اور کافروں اور نافرمانوں کو ڈرائیں کہ اللہ کا غضب اور ایک دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔ اور یہ سب کچھ کیوں کیا گیا ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ (4 : 165) (تاکہ ان کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے ۔ “ اور یہ رسول لوگوں کو بتا دیں کہ ان کے نفس اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر کیا کیا دلائل ہیں ۔ انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ جنس بشر کو متاع عقل سے نوازا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر دلائل تلاش کریں۔ عقل کے ہوتے ہوئے بھی ان کے پاس رسول بھیجے گئے ، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر خاص شفقت اور رحمت تھی کہ اس نے رسول بھیجے کیونکہ اسے معلوم تھا کہ انسان کی ذاتی خواہشات اور اس کے میلانات اس کی عقل پر غالب آجائیں گے اور ان کے نتیجے یہ عظیم قوت دب کر رہ جائے گی ۔ اسی لئے اللہ نے اپنی رحمت خاصہ کے تحت ان کے پاس رسول بھیجے جو مبشرین اور منذرین تھے ۔ وہ ان کے سامنے یاد دہانی کراتے رہے ۔ انہیں بصارت اور بصیرت دیتے رہے ۔ وہ ان کی فطرت اور ان کی قوت عقلیہ کو شہوات نفسانیہ کے ڈھیروں کے نیچے سے نکال کر آزاد کراتے رہے ۔ جن ڈھیروں کے نیچے رہتے ہوئے اس کی عقل اور فطرت کیلئے دلائل ہدایت اور ایمان کے تقاضوں کو پانا مشکل ہوگیا تھا چاہے یہ دلائل خود نفس انسانی کے اندر ہوں یا اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی اس کائنات کے اندر ہوں ۔
(آیت) ” وکان اللہ عزیزا حکیما “۔ (3 : 165) (اور اللہ بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم ودانا ہے ۔ “ وہ غالب اس طرح ہے کہ اس کے بندے جب جرائم کا ارتکاب کریں ان پر وہ گرفت کرسکتا ہے ۔ حکیم ودانا اس طرح ہے کہ وہ اس کائنات کے تمام امور کو اپنی حکمت کے مطابق چلاتا ہے ۔ ہر معاملے کو اپنی جگہ پر طے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کیلئے جو تقدیرات اور جو اندازے طے کئے ہیں وہ سب حکمت اور اپنی مشیت کے مطابق کئے ہیں ۔
اب ذرا منظر کے سامنے رکئے ! (لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ ان رسولوں کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے “۔ اس منظر میں تو ہدایات واشارات کا ایک ذخیرہ پنہاں ہے ۔ گہرے اشارے اور واضح ہدایات ۔ ہم ان میں سے دو تین کا ذکر کرتے ہیں اور وہ بھی ضلال القرآن کی مناسبت سے نہایت ہی مختصر۔
اس آیت سے پہلی بات جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ نظام دین میں انسانی عقل کا مقام کیا ہے ؟ اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ اور انسان کے اہم ترین مسائل مثلا مسئلہ ایمان کے سلسلے میں عقل کی اہمیت کیا ہے ؟ اس لئے کہ ایمان کی بنیادوں پر لوگوں کی زندگی کا نظام استوار ہونا تھا ۔ اور زندگی کے تمام عناصر ‘ اس کے تمام رجحانات ‘ اس کی پوری عملی شکل اور اس کی کائنات میں اس کے تمام تصرفات کو ایمانی نظریے پر استوار ہونا تھا ‘ جس طرح عالم آخرت میں اس کا انجام تمام کا تمام اس ایمان پر موقوف تھا ۔
اگر اپنی قوتوں کے بل پر (اور اللہ انسان اور اس کی قوتوں کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ‘ اور ان قوتوں کو انسان کے اندر خود اللہ نے ودیعت کیا ہے ) یہ انسان صرف اپنی اس عقل کے ذریعہ ہدایت پاسکتا اور اپنی ذات اور اپنی حیات کیلئے راہ مصلحت تلاش کرسکتا ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنے لئے خیر ڈھونڈ سکتا تو اللہ تعالیٰ پوری انسانی تاریخ میں اس طویل سلسلہ رسل کو ہر گز نہ جاری فرماتا اور لوگوں پر بذریعہ رسل حجت تمام نہ کرتا اور انسان اپنی اس عقل کے بل بوتے پر اپنے لئے دلائل ہدایت اور ایمان ویقین کے اشارات تلاش کرلیتا ۔ یہ دلائل وہ اپنے نفس سے بھی معلوم کرلیتا اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے آفاق کے اندر سے بھی وہ انکو دھونڈ لاتا ۔ وہ اپنے لئے ایک ایسا نظام زندگی بھی گھڑلیتا جس سے اس کی زندگی کے تمام مسائل ہوجاتے ۔ وہ راہ حق اور صراط مستقیم پر سیدھا چلتا ۔ سلسلہ رسل کی سرے سے ضرورت نہ رہتی ‘ ان کی تبلیغی سرگرمیوں کی ضرورت نہ رہتی ‘ اور اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتے کہ اگر رسول نہ ہوتے تو لوگوں کے پاس حجت ہوتی ۔ جیسا کہ کہا گیا۔
(آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت نہ ہو۔ “
لیکن اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا کہ اس کو عقل کا جو ذریعہ ادراک اور الہ فہم دیا ہے وہ بذات خود ان امور کے ادراک سے قاصر ہے اور محض عقل انبیاء کی راہنمائی کے بغیر ‘ رسولوں کی تنظیم اور معاونت کے بغیر ہدایت تک نہیں پہنچ سکتی ۔ نیز رسولوں کی راہنمائی کے بغیر اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ پوری انسانی زندگی کیلئے کوئی اور منہاج حیات وضع کرلیں جس میں ان کی پوری پوری مصلحت ہو اور وہ ان کیلئے دنیا اور آخرت دونوں میں اچھے انجام کا ضامن ہو ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو عقل انسانی کی کوتاہ دامنی کا اچھی طرح علم تھا ‘ اسی لئے اللہ کی حکمت اور اس کی شفقت کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ لوگوں کیلئے رسول بھیجے اور یہ کہ رسالت اور تبلیغ ہدایت کے بغیر لوگوں سے کوئی مواخذہ نہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا) ” ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں “ اور یہ بات اس قدر بدیہی ہے کہ آیت سے قطعا ثابت ہوتی ہے اور اگر قطعا ثابت نہیں ہوتی تو اس آیت کا لازمی تقاضا ضرور ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایمان وہدایت کے میدان میں اور ایمان وہدایت کی اساس پر تفصیلی نظام زندہ قیام کے معاملے میں پھر عقل کا کردار ہی کیا رہ جاتا ہے ۔ ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عقل انسانی کا کردار یہ ہے کہ وہ رسولوں سے ہدایت اخذ کرنے کے سلسلے میں اپنے فرائض ادا کرے ۔ عقل کا فرض ہے کہ رسولوں کی دعوت پر غور وفکر کرے ۔ رسولوں کے فرائض صرف اس حد تک ہیں کہ وہ پہنچا دیں اور سمجھا دیں اور انسانی فطرت کے اوپر جو غلط افکار کے تہہ بہ تہہ ڈھیر ہیں انہیں صاف کرکے فطرت کو ان کے نیچے سے نکال دیں ‘ اور انسان کو اس طرف متوجہ کردیں کہ اس کے نفس اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر معرفت کرد گار (خالق) کے واضح دلائل موجود ہیں ۔ اس کیلئے یہ رسول صحیح نظام تربیت اور صحیح منہاج مطاعلہ کائنات وضع کردیں اور انسانوں کیلئے نظام زندگی تجویز کردیں جس پر انکی زندگی کا قافلہ رواں اور دواں ہوجائے اور جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی خیر ہو ۔
عقل کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ دین اور الہیات کے معاملے میں ‘ ان موضوعات کی صحت اور بطلان کے بارے میں مفتی اور جج بن جائے ۔ اسے اختیار ہو کہ جو چاہے وہ قبول کرے اور جس چیز کو چاہے اسے رد کر دے جبکہ وہ بات قرآن وسنت سے یقینی طور پر ثابت شدہ ہو یہ بعد کہ اس بات کا مفہوم واضح طور پر سمجھ میں آگیا ہو ۔ یعنی نصوص قرآنی کے لغوی اور اصطلاحی مدلولات کی روشنی میں ۔ اگر عقل انسانی کو رد و قبول کا یہ اختیار ہوتا یعنی صحیح مفہوم ومدلول کے ادراک کے بعد ‘ بایں طور کہ ہماری عقل اس مدلول کو قبول نہیں کرتی ‘ یا اسے قبول کرنا نہین چاہتی تو پھر خدا اور رسول کے بیان کے بعد انسان مستحق عذاب قرار نہ پاتا ۔ لہذا عقل اس بات کی پابند ہے کہ وہ ضروریات دین کو قبول کرے ۔ اگر یہ عقائد اس تک صحیح طرح پہنچ جائیں اور جب عقل صحیح طور پر ان نصوص کے مفہوم و مراد کو سمجھ بھی جائے ۔
حضور اکرم ﷺ کی رسالت عقل کو مخاطب کرتی ہے ۔ وہ عقل کو جگاتی ہے ‘ اس کیلئے فکر ونظر کا ایک درست منہاج وضع کرتی ہے اور اسے صحیح راہ پر ڈالتی ہے ۔ لیکن یہ خطاب اس مفہوم میں نہیں ہے کہ عقل کو اس رسالت کے صحیح ہونے یا اسکے باطل ہونے کا فیصلہ صادر کرنے کا اختیار ہے یا وہ ایسا کرسکتی ہے ۔ یا امور رسالت میں اسے رد و قبول کر اختیار حاصل ہے ‘ بلکہ بہ خطاب اس مفہوم میں ہے کہ جب نص سے کوئی امر ثابت ہوجائے تو وہی اللہ کا حکم ہوگا اور عقل انسانی کا فرض ہے کہ اسے قبول کرے ۔
اس کی اطاعت کرے اور اسے اس کرہ ارض پر نافذ کرے ۔ چاہے نص کا یہ مفہوم اس کے ذہن کیلئے مالوف ومقبول ہو یا اس کیلئے عجیب و غریب ہو ۔
عقل انسانی کا کردار اس بات میں صرف اس قدر ہے کہ وہنصوص کو سمجھنے کی صحیح کوشش کرے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ لغت عربی اور اصطلاحات شریعت کے مطابق اس نص کا مفہوم کیا بنتا ہے ۔ یہاں آکر عقل کا کام ختم ہوجاتا ہے اور نص شریعت سے جو صحیح مفہوم اخذ ہوتا ہے اسے کسی عقلی دلیل اور قیاس سے رد نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ جہاں تک نص کا تعلق ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ محض عقلی توجیہہ نص سے برتر نہیں ہو سکتی اس لئے کہ عقل الہ کا درجہ نہیں رکھتی نہ وہ اللہ کی نصوص کے اور ردوقبول کا درجہ رکھتی ہے۔
اس اہم نکتے پر خیالات کے اندر ایک عظیم التباس پیدا ہوجاتا ہے ۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو عقل انسانی کو الہ کا درجہ دیدیتے ہیں ۔ اپنے معاملات پر بھی اسے حکم قرار دیتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایمان وہدایت کے میدانوں میں عقل کو دخل اندازی کی ذرہ بھر اجازت نہیں دیتے ، صحیح منہاج وہی ہے جو اوپر ہم نے بیان کردیا ہے ۔ وہ یہ کہ رسالت نے عقل کو مخاطب کیا ہے تاکہ وہ رسالت کے فیصلوں کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ رسالت اپنے عملی اور نظریاتی فیصلوں کے بارے میں عقل کیلئے بھی ایک منہاج بناتی ہے تاکہ وہ بھی اپنے دائرے کے اندر کام کرے ۔ پوری زندگی میں رسالت کے فیصلوں کا ادراک کرے ۔ جب عقل نے رسالت کے فیصلوں کو سمجھ لیا کہ نصوص شریعت و رسالت کا مفہوم کیا ہے تو پھر عقل کیلئے تصدیق ‘ اطاعت اور انکے نفاذ کے سوا اور کوئی راستہ ہی نہیں رہتا شریعت یہ لازم نہیں کرتی کہ وہ مفاہیم نصوص سمجھے بغیر ان پر عمل کرے بلکہ شریعت کا مدعا یہ ہے کہ نصوص شریعت پر سمجھ کر عمل کیا جائے ۔ لیکن جب عقل ان کا ادراک کرلے تو اس پر فرض ہوجاتا ہے کہ پھر ان پر عمل پیرا ہو اور کوئی چون وچرا نہ کرے ۔ نصوص کے مفاہیم کے مطابق بات کو قبول کرے ۔ اور نصوص کا مقابلہ اور چون وچرا یہ ہوگا کہ ان میں سے بعض کو قبول کرے اور بعض کو رد کرے ۔ بعض کو صحیح قرار دے اور بعض کو غلط قرار دے ‘ باوجود اس علم کے کہ یہ نصوص وہدایت اللہ کی جانب سے آئی ہوئی ہیں ۔ اللہ وہی بات کرتا ہے جو حق ہوتی ہے اور وہ جو حکم بھی دیتا ہے اس میں بھلائی ہوتی ہے ۔
اسلامی منہاج حیات میں اللہ سے ہدایت پانے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ نصوص قرآن وسنت کا صحیح مفہوم پالینے کے بعد اس میں عقلی گھوڑے نہ دوڑائے جائیں یہ فہم اصول فہم کے مطابق ہو۔ انسان قرآن وسنت کا مطالعہ اپنے ذہن میں بعض فیصلے پہلے سے طے کرکے نہ کرے اس طرح کہ اپنے دین میں بعض منطقی نتائج طے کرلے یا اپنے محدود ملاحظے سے کچھ باتیں طے کرلے یا پنے ناقص تجربات کے مطابق بعض چیزوں کو حقائق سمجھ لے اور اس کے مطابق قرآن وسنت کو ڈھالنے کی سعی کرے ۔ صحیح منہاج مطالعہ یہ ہے کہ وہ نصوص کو اس طرح لے جس طرح کہ وہ ہیں اور نصوص نے جو فیصلے کر لئے ہیں وہ بہرحال فیصلے ہیں اور وہ اس کی ذاتی سوچ سے بہتر ہیں اور ان کا نظام اور ان کا منہاج اس کے ذاتی منہاج سے زیادہ مضبوط ہے اس لئے عقل دین کے فیصلوں پر کوئی محاکمہ نہیں کرسکتی ۔ جب عقل کے نزدیک یہ بات ثابت ہوجائے کہ یہ فیصلہ دین کا ہے ۔ لوگوں کے بتائے ہوئے فیصلے اصول دین پر برتری حاصل نہیں کرسکتے ہیں ۔ عقل بہرحال ان دینی ضوابط کی تابع ہوگی ۔ بشرطیکہ دین کے ضوابط اور پیمانے اچھی طرح ثابت ہو کو سامنے آجائیں ۔
عقل لو الہ کا درجہ حاصل نہیں ہے کہ وہ یہ قرار دے کہ اس نے جو نتائج اخذ کر لئے ہیں وہ اللہ کے فیصلے ہیں ہاں عقل انسانی کو یہ حق ضرور حاصل ہے کہ وہ کسی نص کا کوئی مفہوم انسانی عقل کے مطابق کسی دوسرے مفہوم کے مقابلے میں پیش کرے جو بذات خود بھی عقلی مفہوم ہو ۔ یہ تو عقل انسانی کا دائرہ کار ہے اور اس میں عقل پر کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی حرج ہے بشرطیکہ نصوص کا یہ مفہوم وادراک صحیح اور اصولوں کے دائرے کے اندر ہو مقصود تاویل نصوص اور افہام و تفہیم ہو اور نصوص کے اندر تاویل کی گنجائش موجود ہو ۔ یہ تاویل اور تفہیم بھی ان قواعد اور ضوابط کے اندر ہو ‘ جو اس مقصد کیلئے خود دین نے وضع کئے ہیں ۔ یہ قواعد ایسے ہیں جو انسانوں کی حریت فکر کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور انسان کے فہم وادراک کیلئے ایک وسیع میدان فراہم کرتے ہیں ۔ اسلامی نظام میں کوئی ایا اداراہ کوئی ایسی اجتماعی پابندی اور کوئی ایسا عہدیدار نہیں ہے جسے ذہنوں پر تالے لگانے کا اختیار ہو کہ لوگ نصوص شرعیہ کے اندر غوروفکر نہیں کرسکتے ۔ ان کے انطباق کیلئے کوئی اچھی رائے نہیں دے سکتے یا کوئی معقول وجوہ پیش نہیں کرسکتے ۔ بشرطیکہ کوئی شرعی نص ان آراء ‘ ان تاویلات اور وجوہات کی متحمل ہو اور یہ تاویلات بھی اسلامی نظام کے حدود کے اندر ہوں اور اصول دین پر مبنی ہوں ۔ یہ ہے مفہوم اس بات کا کہ رسالت محمدیہ عقل کو مخاطب کرتی ہے ۔
بیشک اسلام ایک عقلی دین ہے ۔ وہ اپنے مسائل ‘ عقائد اور فیصلے عقل کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ اور اسلام یہ فیصلے اور عقائد انسانوں سے فوق الفطری انداز میں نہیں منواتا کہ ماننے کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہ رہے بلکہ وہ عقلی دین اس مفہوم میں ہے کہ وہ عقل سے مخاطب ہوتا ہے اور اسے غوروفکر کی دعوت دیتا ہے ۔ وہ اس کے سامنے ہدایت اور صراط مستقیم پر آنے دلائل پیش کرتا ہے کہ وہ اپنے نفس اور اپنے آفاق کے اندر پائے جانے والے ان نشانات راہ پر غور کرے راہ پر غور کرے اور انسان کی اصلی فطرت کو ان عادات وتقالید کے تہ بہ تہ جمے ہوئے پردوں اور ڈھیرون کے نیچے سے نکالے ۔ نیز یہ کہ عقل اپنے آپ کو گمرہ کن خواہشات اور عقل و فطرت پر چھا جانے والے موثرات سے نکال لے ۔ قرآن کریم عقل کو اس لئے خطاب کرتا ہے کہ قرآن نے اپنے نصوص کے اندر جو امور طے کردیئے ہیں وہ ان پر غور وفکر کرکے انکو تسلیم کرے ، اور قرآن کریم کا یہ انداز نہیں ہے کہ وہ بغیر سمجھانے کے لوگوں کو بات تسلیم کرنے پر مجبور کرے ۔ ہاں جب عقل کو کام میں لا کر انسان کسی نص کا مفہوم ومدلول پالے اور حقائق کا ادراک کرے تو پھر اس کیلئے سرتسلیم خم کرنے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے ۔ سمجھنے کے بعد اگر وہ تسلیم کرلیں تو مومن ہیں اور اگر تسلیم نہ کریں تو کافر ہیں۔ رہے قرآنی اور اسلامی فیصلے تو وہ عقل کے سامنے پیش کئے جانے سے پہلے ہوچکے ہیں ۔ عقل کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ وہ درست ہیں یا غلط ہیں ۔ نہ عقل کو اختیار ہے کہفہم ودارک کے بعد اسلامی فیصلوں کو رد کرسکے ۔ آج کل بعض لوگ عقل کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ اسلامی فیصلوں کو رد کرے ۔ ایسے لوگوں کے نزدیک ان کی عقل ان کا الہ بن جاتی ہے ۔ اب ان کا یہ الہ شریعت کے جن فیصلوں کو چاہے قبول کرلے اور جن کو چاہین انہیں رد کردے ۔ جن امورکو چاہے چن لے اور جن کو چاہے چھوڑ دے ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔
(آیت) ” افتومنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض “۔ کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو ۔ “ یہ طرز عمل کافرانہ ہے اور ایسے لوگوں کو آخرت میں سخت سزا دی جائے گی ۔
اب اللہ تعالیٰ نے چاہے اس کائنات کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ‘ یا انسان کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ‘ یا کسی بھی دوسری مخلوق کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا یا اللہ تعالیٰ نے قانون میراث کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا یا فرائض ونواہی کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا تو اللہ کے یہ تمام فیصلے واجب القبول ہیں اور جن تک یہ فیصلے پہنچیں اور وہ ان فیصلوں کے مدلولات کا ادراک کرلیں تو ان کیلئے ان فیصلوں کو قبول کرنا فرض ہے ۔ مثلا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
(آیت) ” اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن “ (65 : 12) (اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہیں کے مانند ۔۔۔۔۔ “ (آیت) ” (واللہ خلق کل دآبۃ من مآئ) (24 : 45) ” اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا۔ “ (آیت) ” (خلق الانسان من صلصال کالفخار) (14) (وخلق الجان من مارج من نار (15) (55 : 14۔ 15) (انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا) یہ اور اس قسم کی بیشمار آیات ہیں جن کا تعلق اس کائنات کی نوعیت اور زندہ اور مردہ اشیاء کی ماہیت سے ہے ۔ پس اللہ نے جو کچھ کہہ دیا وہ حق ہے ۔ اب عقل کیلئے یہ مجال نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ یہ باتیں تو میرے فیصلوں کے اندر اس طرح نہیں ہیں یا میرے فہم وادراک میں یہ بات نہیں سماتی یا یہ بات ابھی میرے تجربے کے اندر نہیں آئی ۔ اس لئے کہ ان معاملات میں عقل نے جو فیصلے کئے ہیں وہ درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی ہوسکتے ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جو کچھ کہہ دیا ہے وہ درست ہی ہو سکتا ہے اور اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ البتہ ہماری فہم نصوص کے صحیح مفہوم کا ادراک کرنے میں غلطی کرسکتی ہے اور یہ بات اس صورت میں ہے کہ نصوص کے صحیح مفہوم کا ہم ادراک کرلیں ۔ اسی طرح دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” (ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون) (5 : 44) (جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربوا ان کنتم مومنین (278) فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ وان تبتم فلکم رء وس اموالکم لا تظلمون ولا تظلمون “۔ (279) (2 : 278۔ 279)
” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ‘ خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ‘ اگر واقعی تم ایمان لائے ہو ۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ‘ تو آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ اب بھی توبہ کرلو (اور سودچھوڑ دو ) تو اپنا اصل سرمایہ تم لینے کے حقدار ہو۔ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔
(آیت) ” وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی) (33 : 33) ” اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کیسی سج دھج نہ دکھاتی پھرو “۔ (آیت) ” ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن “۔ (24 : 31) ” اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں “۔
یہ اور انسانی زندگی کے بارے میں دوسری آیات وہدایات ایسی ہیں کہ ان میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہی سچ ہے اور ان کے بارے میں عقل کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ عقل کے مطابق فلاں اور فلاں باتوں میں مصلحت زیادہ ہے ‘ جو اللہ کے فیصلوں کے خلاف ہوں یا وہ ایسی باتیں ہوں جن کی اجازت اللہ تعالیٰ نے نہ دی ہو اور اسے لوگوں کیلئے قانون قرار نہ دیا ہو ۔ جس امر میں عقل کو مصلحت نظر آتی ہے اس میں خطا اور صواب دونوں کا امکان ہے اور وقتی جذبات اور خواہشات نفسانیہ کا دخل اس میں عین ممکن ہے اس لئے اللہ تعالیٰ جو فیصلہ فرماتے ہیں وہ درست ہی ہو سکتا ہے اور اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نے جن عقائد اور تصورات کی تلقین کی ہے ‘ یا زندگی کا جو منہاج اور طریق کار تجویز کیا ہے ان کے بارے میں عقل کا موقف جو ہو سو ہو ‘ جب تک نص صحیح ہے ‘ قطعی الدلالت ہے اور کسی وقت کے ساتھ موقت نہیں ہے ۔ اس بارے میں ہم عقل کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ یہ کہے کہ جہاں تک عقائد ونظریات کا تعلق ہے وہ تو ہم نصوص کے مطابق لیتے ہیں ۔ رہا زندگی کا تفصیلی نظام تو اس بارے میں بات یہ ہے کہ اب زمانہ بہت ہی بدل گیا ہے اور نہایت ہی ترقی یافتہ ہے ۔ اس لئے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ نصوص شرعیہ کسی خاص وقت تک ہی موثر ہوں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح کرسکتا تھا ۔ جب تک کوئی نص مطلق ہے تو وہ جس طرح زمانہ نزول کے وقت موثر تھی اسی طرح وہ آخری زمانے میں بھی موثر ہوگی ورنہ یہ بات لازم آئے گی کہ ہم اللہ میاں کو قصور وار ٹھہرانے کی جسارت کریں جوہر قسم کے نقائص سے پاک وصاف ہے ۔
سوال یہ ہوگا کہ کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا ہے ؟ نہیں اجتہاد اس مین ہوگا کہ ہم کسی جزئی صورت حال پر کسی نص کی تطبیق کریں ۔ یہ اجتہاد نہیں ہے کہ ہم ایک عام اصول میں یا حکم میں کوئی تبدیلی کریں یا اسے رد کردیں ‘ کسی دور میں یا کسی نسل میں اصول عقل میں سے کسی اصول کے تحت کوئی بات کریں ۔
درج بالا جو معروضات ہم نے پیش کی ہیں ‘ ان میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو حیات انسانی کے اندر عقل وخرد کی اہمیت کو کم کر رہی ہو اس لئے کہ اسلامی نصوص اور اصولوں کو جدید سے جدید تر حالات پر منطبق کرنے کا ایک وسیع میدان کار عقل کیلئے کھلا ہے ۔ جبکہ عقل اسلامی نقطہ نظر اور اسلامی پیمانوں کا اچھی طرح ادراک کرے جو صحیح خطوط پر فہم دین سے مستفاد ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ وسیع میدان اس کائنات کے اصول طبیعی ‘ اس کی قوتوں اور اس کے اندر پوشیدہ ذخائر کا ہے ۔ اس کائنات کا مزاج ‘ اس کے اندر رہنے والی مخلوقات کا علم ‘ ان قوتوں کے استفادے کے ذرائع اور اس میں زندہ مخلوقات کیلئے زندگی آسان بنانے کے ذرائع واسباب عقل کیلئے وسیع تر میدان ہیں جن میں صرف عقل ہی کام کرسکتی ہے ۔ یہاں انسان کو ترقی دی جاسکتی ہے اور حدود اللہ میں رہتے ہوئے اس کی زندگی کے شب وروز بدل سکتے ہیں ۔ بہرحال عقل کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ انسانیت کی لگام ہوا وہوس اور لذت وشہوت کے ہاتھ میں دیدے جہاں عقل ٹھوکر کھاتی ہے اور فطرت خواہشات کے دبیز مادے کے نیچے دب جاتی ہے ۔
ذرا پھر رکئے اور اس آیت پر دوبارہ نظر ڈالئے (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ رسولوں کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے۔ “ اس آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے کاندھوں پر کس قدر عظیم ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں اور اس کے بعد جو لوگ انبیاء (علیہم السلام) کی رسالت پر ایمان لانے والے ہیں ان پر تمام انسانوں کے حوالے سے کس قدر عظیم ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں ۔ فی الواقعہ یہ عظیم اور بھاری ذمہ داریاں ہیں۔
تمام لوگ جو اس دنیا میں آباد ہیں ان کے انجام ‘ دنیا اور آخرت دونوں میں ‘ رسولوں اور رسولوں کے متبعین کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ مثلا رسول اور ان کے متبیعن اللہ کے پیغام کو ان تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں اور اس تبلیغ کے نتیجے ہی میں لوگوں کی خوش بختی اور بدبختی کا فیصلہ ہوگا ‘ اس تبلیغ اور دعوت ہی کے نتیجے میں ثواب اور عتاب کے وہ مستحق ہوں گے ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔
بیشک یہ ایک ہولناک اور خوفناک اور عظیم ذمہ داری ہے لیکن اس کے سوا اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام رسل (علیہم السلام) اپنی اس عظیم ذمہ داری کا شدید احساس رکھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کو اس بوجھ سے اچھی طرح آگاہ فرما دیتے تھے جو ان پر ڈالدیا گیا تھا ۔ یہی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہتے ہیں ۔ (آیت) ” انا سنلقی علیک قولا ثقیلا “۔ (73 : 5) ” ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنیوالے ہیں ۔ “ اور اس کیلئے تیاری یوں ہوگی ۔
(آیت) ” یایھا المزمل “ (1) قم الیل الا قلیلا (2) نصفہ اوانقص منہ قلیلا (3) اوزد علیہ ورتل القران ترتیلا (4) (انا سنلقی علیک قولا ثقیلا (5) (73 : 1۔ 5) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ‘ رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم ‘ آدھی رات ‘ یا اس سے کچھ کم کرلو ‘ یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو ‘ اور قرآن کو خوب ٹھہرٹھہر کر پڑھو ۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنیوالے ہیں ۔ “
(آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا (23) فاصبر لحکم ربک ولا تطع منھم اثما اوکفورا (24) واذکراسم ربک بکرۃ واصیلا (25) ومن الیل فاسجد لہ وسبحہ لیلا طویلا “۔ (26) (76 : 23 تا 26)
” اے نبی ! ہم نے تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے لہذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو ‘ اور ان میں سے کسی بدعمل ‘ یا منکر حق کی بات نہ مانو۔ اپنے رب کا نام صبح اور شام یاد کرو۔ رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو ‘ اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے وہ بات جس کا احساس اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو دلاتے ہیں اور اسے حکم دیتے کہ وہ یہ بات کریں اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اس کی حقیقت اور اہمیت کیا ہے ۔
(آیت) ” قل انی لن یجیرنی من اللہ احد ولن اجد من دونہ ملتحدا “۔ (72 : 22) ” کہو مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں ۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں ۔ “
(آیت) ” علم الغیب فلایظھر علی غیبہ احدا (26) الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا (27) لعلم ان قد ابلغوا رسلت ربھم واحاط بما لدیھم واحصی کل شیء عددا (28) (72 : 26 تا 28)
” وہ عالم الغیب ہے ۔ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ‘ سوائے اس رسول کے جسے اس نے پسند کرلیا ہو ‘ تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ‘ اور وہ انکے پورے ماحول کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے ۔ “
بیشک یہ ایک خوفناک اور عظیم فریضہ ہے ۔ لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ان کی خوش بختی اور بدبختی کا معاملہ ہے ۔ ان کے ثواب اور عذاب کا مسئلہ ۔ یہ پوری انسانیت کے انجام کا معاملہ ہے ۔ اس فریضے کا خلاصہ یہ ہے کہ اس پیغام کو یا تو لوگوں تک پہنچایا جائے گا تاکہ وہ اسے قبول کریں ‘ اس کی پیروی کریں جس کے نتیجے میں وہ دنیا وآخرت میں فلاح پائیں گے یا ان تک یہ پیغام پہنچے گا تو وہ اسے دور پھینک دیں گے اور دنیا وآخرت دونوں میں بدبختی کا شکار ہوں گے اور یا یہ پیغام ان تک نہ پہنچے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگوں کے ہاتھ ان کے رب کے خلاف ایک حجت ہاتھ آجائے گی اور ان لوگوں کی اس دنیاوی بدبختی کی ذمہ داری اور ان کی گمراہی کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہوگی جو اس دنیا میں ان تک خدا کا پیغام پہنچانے کے ذمہ دار ہیں اور وہ یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتے ۔
رہے اللہ کے رسول تو انہوں نے تو اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا کردی ۔ انہوں نے اللہ کا پیغام اور امانت لوگوں تک پہنچا دی۔ وہ اپنے رب کے پاس اس حال میں گئے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کردی تھیں ۔ انہوں نے یہ ذمہ داریاں صرف زبانی تبلیغ کی حد تک ہی پوری نہ کی تھیں بلکہ انہوں نے اللہ کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں عملی شکل دیکر لوگوں کو دکھایا اور وہ رات اور دن اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے ان مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرتے رہے جو اس پیغام کی راہ میں حائل تھیں ۔ یہ مشکلات چاہے شبہات کی شکل میں تھیں جو لوگوں کے ذہنوں میں کھٹک رہے تھے یا گمراہی کی شکل میں تھیں جو لوگوں پر مسلط تھیں یا ایسی قوتوں کی شکل میں تھیں جو طاغوتی قوتیں تھیں اور جو لوگوں کو اس دعوت پر کان دھرنے سے روکتی تھیں اور ان کے دین کیلئے فتنہ بنی ہوئی تھیں ۔ خاتم النبین ﷺ نے اپنی عملی زندگی میں اسلام کو پوری طرح نافذ کر کے دکھایا اس لئے کہ آپ آخری مبلغ تھے ۔ آپ کی رسالت تمام رسالتوں کا اختتامیہ تھی ‘ تو آپ نے محض زبانی تبلیغ پر اکتفاء نہ کیا ۔ آپ نے تلوار اور قوت کے زور سے بھی ان مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کیا ۔ (آیت) ” حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ “ (2 : 193) ” تاکہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین صرف اللہ کے لئے ہوجائے ،۔ “ اب یہ بھاری ذمہ داری آپ کے بعد ان لوگوں پر آپڑتی ہے جو آپ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ زمانے گزر گئے ‘ نسلوں کی نسلیں گزر گئیں اور گزرتی رہیں گی ۔ حضور ﷺ کے بعد تبلیغ کا سلسلہ آپ کی متبعین کی ذمہ داری میں آگیا ہے اور ان کے لئے اس مشکل اور بھاری ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ انہوں نے لوگوں پر حجت قائم کرنی ہے ۔ انہوں نے لوگوں کو دنیا کی بدبختی اور آخرت کی ناکامی سے بچانا ہے ۔ یہ فریضہ اور یہ ذمہ داری صرف تبلیغ کرنے سے ہی ادا کی جاسکتی ہے ۔ اور یہ اسی منہاج پر ادا ہو سکتی ہے جس پر اسے رسول خدا ﷺ نے ادا فرمایا ۔ اس لئے کہ رسالت وہی ہے اور اہل ایمان پر وہی ہیں۔ گمراہیاں ‘ خواہشات نفسانیہ اور شبہات اور اعتراضات بھی وہی ہیں وہ طاغوتی قوتیں بھی اسی طرح موجود ہیں جو لوگوں تک دعوت اسلامی کے پہنچنے کی راہ میں حائل ہیں ۔ یہ قوتیں مسلمانوں کو ان کے دین کے بارے میں فتنے میں ڈال رہی ہیں اور قوت کے بل بوتے پر انکو گمراہی کر رہی ہیں ۔ وہی موقف ہے جو تھا ‘ وہی مشکلات ہیں جو تھیں ۔ لوگ بھی وہی ہیں جو تھے ۔
دعوت اسلامی وہ فریضہ ہے جس سے ہم روگردانی اور انکار نہیں کرسکتے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم تبلیغ کریں ‘ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یہ فریضہ ادا کریں ۔ تحریر وتقریر سے تبلیغ کریں ۔ اپنے عمل سے تبلیغ کریں تاکہ مبلغین اپنے عمل اور کردار کی وجہ سے چلتی پھرتی تبلیغ ہوں اور تبلیغ اور دعوت کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں کہ یہ بھی تبلیغ ہی کی ایک صورت ہوگی جو لوگ فتنے میں پھنسے ہوئے ہوں انہیں رہائی دلائیں ۔ اگر یہ کام نہ کیا گیا تو کوئی تبلیغ نہ ہوگی اور نہ ادائیگی فرض ہوگی اور نہ لوگوں پر اللہ کی حجت تمام ہوگی ۔
یہ ذمہ داریاں اٹھانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے ورنہ اس کے بھاری نتائج برآمد ہوں گے ۔ تمام دنیا گمراہی میں مبتلا ہوگی وہ اس دنیا میں بدبختی کا شکار ہوگی اور آخرت میں اس کے خلاف اللہ کے ہاں حجت نہ ہوگی اور ان کے ہاتھ حجت آجائے گی ۔ اگر امت یہ ذمہ داری ادا نہ کرے گی تو اس کی وجہ سے لوگ نجات نہ پائیں گے ۔
کون ہے جو اس بوجھ کو ہلکا سمجھے گا ؟ یہ کمر توڑ بوجھ ہے ‘ اس سے جسم کا ہر جوڑ اور ہر عضو کانپ رہا ہے جو شخص بھی یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ ” مسلم “ ہے یا تو وہ اس فریضے کو ادا کرے گا اور دعوت دین کا کام کرے گا ورنہ خود اس دنیا اور آخرت میں اس کیلئے فلاح ممکن نہیں ہے ۔ جب وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلم ہے اور پھر دعوت دین کا کام نہیں کرتا اور اپنا فرض ادا نہیں کرتا ‘ ان تمام طریقوں کے مطابق جو دعوت دیں اور ادائیگی فرض کیلئے مسنون ہیں تو وہ گویا اس اسلام کے خلاف شہادت دے رہا ہے جس کا اس نے دعوی کیا ہے ۔ اس کی شہادت اسلام کے حق میں نہیں ہے بلکہ اسلام کے خلاف ہے حالانکہ اسے اس لئے اٹھایا گیا ہے کہ وہ اسلام کے حق شہادت دے ۔
(آیت) ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا التکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا “ (2 : 142) اور اسی طرح ہم نے تم مسلمانوں کو امت وسط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو (تفصیلات کیلئے دیکھئے مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی کتاب شھادت حق (سیدقطب)
شہادت حق اور اسلام کے حق میں شہادت کا آغاز یوں ہوگا کہ ایک مسلمان بذاتہ پھر اس کا گھر اور خاندان ‘ پھر اس کی قوم اور اس کے رشتہ دار اس دین کا عملی نمونہ ہوں جس کی وہ دنیا کی دعوت دے رہا ہے ۔ اس کے بعد اس کی یہ شہادت ایک قدم اور آگے بڑھے اور ایک ایسی امت پیدا ہو جسے امت دعوت کہا جاسکے ۔ وہ اپنے گھر ‘ خاندان ‘ اور رشتہ داری کے حدود میں اسلام اور دعوت اسلامی کو عملی شکل میں پیش کرنے کے بعد شخصی معاملات اور ملک کے سیاسی معاملات کے اندر بھی اس دعوت کے قیام کی ذمہ داری لے ۔ اس کے بعد وہ ایسی شہادت دے کہ ان رکاوٹوں کو دور کردے جو اسلام کی راہ میں حائل ہیں ‘ جو لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں اور اس دعوت کے حوالے سے ان کو فتنے میں ڈال رہی ہیں ۔ چاہے یہ رکاوٹیں جس قسم کی بھی ہوں ۔ اگر کسی مسلمان نے اس مفہوم میں شہادت دی تو پھر وہ صحیح معنوں میں شاہد بھی ہوگا اور شہید بھی ہوگا ۔ وہ گواہی دیکر اپنے رب کے پاس پہنچ جائے گا ۔ یہ ہے وہ حقیقی شہید۔
سب سے آخر میں ہم دست بستہ اللہ کے حضور اس کی درگاہ عظمت و جلالت میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ یہ درگاہ درگاہ عدل ہے اور گہرے علم پر مبنی ہے ۔ اس درگاہ میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت سایہ فگن ہوتے ہیں اور اس میں ہر کسی کے ساتھ رعایت اور احسان ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اس حضرت انسان کے ساتھ ہوتا ہے جو کبھی منکر حق کے روپ میں آتا ہے اور کبھی سخت نافرمانی کرتا ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے زیور علم سے آراستہ کیا ہے اور اس کی ذات کے اندر بےپناہ قوتیں ودیعت کی ہیں۔ اس کی ذات میں ہدایت اور ضلالت دونوں کی استعداد پیدا کی ہے ۔ اگر اس علم کو عقل کے تابع نہ کیا جائے تو اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کا ایک عظیم ہتھیار دیا ہے اور یہ کہ انسان کے انفس اور اس کے آفاق میں ہدایت اور قبول ایمان کے بیشمار دلائل موجود ہیں ۔ اللہ کو علم تھا کہ انسان کے پاس علم کا جو عظیم ہتھیا رہے اس کے مقابلے میں انسان کے اندر قوت شہوانیہ اور حیوانیہ بھی موجود ہے ۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ انفس وآفاق کے اندر جو کثیر التعداد دلائل و شواہد پائے جاتے ہیں انہیں انسان کی خواہشات نفسانیہ دبالیں اور اس کی کو تاہیاں اور اس کی جہالت انہیں اس کی نظروں سے اوجھل کردیں ۔ انسان کیلئے ان دلائل پر تب ہی غور وفکر کرنا ممکن ہوگا جب اس کے پاس رسول بھیجے جائیں اور اسے بار بار یاددہانی کرائی جائے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے بیان کے بعد بھی انسان کے ذمے یہ بات نہیں ڈالی کہ وہ اپنے لئے کوئی نظام زندگی بنائے بلکہ اسے نظام زندگی بنا کردیا اور اس کا فرض یہ قرار دیا کہ وہ اس نظام کو دنیا میں نافذ کرے ۔ اس کے بعد اسے پھر اس دنیا میں آزاد چھوڑ دیا ۔ ان حدود وقیود کے بعد بھی اس کیلئے اس عظیم مملکت میں ایک وسیع دائرہ کار رہ گیا ۔ اسے اجازت دی گئی کہ وہ اس میں جو چاہے نئی نئی ایجادات کرے ۔ جو تغیرات چاہے کرے اور جو ترکیبات چاہے کرے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے جس طرح اس پوری کائنات کو مسخر کیا ہے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائے اس میں یہ انسان کبھی درست فیصلے کرے گا اور کبھی غلط کبھی وہ پھسلے گا اور کبھی صراط مستقیم پر رواہ دواں ہوگا ۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اللہ کے ہاں انصاف کی کیا اہمیت ہے جسے اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ۔ اگر رسول نہ بھیجے جاتے تو لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خلاف ایک حجت ہوتی ۔ لیکن اللہ نے رسول بھیجے جو لوگوں کو خوشخبری دیتے تھے اور انجام بد سے ڈراتے تھے ۔ حالانکہ اس کائنات میں اللہ کی ذات پر ایمان لانے کے تکوینی دلائل موجود تھے اور یہ کائنات سب کے سامنے کتاب مفتوح تھی ۔ نیز نفس انسنای بھی ایک کھلی کتاب کے طور پر انسان کے سامنے موجود تھا ۔ جس کے اندر کرد گار کے وجود پر بیشمار دلائل تھے ۔
جن سے اللہ کی وحدانیت کو اچھی طرح معلوم کیا جاسکتا تھا ۔ جن سے اللہ کی تقدیر ‘ اللہ کی تدبیر ‘ اللہ کی قدرت اور اس کے علم کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہو سکتا تھا ۔ نیز فطرت انسانی کے اندر بھی ایک قوی اور حقیقی داعیہ موجود ہوتا ہے جس سے انسان کو اس کائنات کے خالق تک رسائی کا ایک نہایت پختہ شوق ملتا ہے اور اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اس کا کوئی خالق ضرور ہے پھر اس فطرت اور دلائل کونیہ کے درمیان ایک قسم کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق اور مدیر موجود ہے پھر اللہ تعالیٰ نیانسان کو عقل عطا فرمائی تھی جو مشاہدات کے ذریعے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ انسان کی ان تمام قوتوں پر ضعف طاری ہوجاتا ہے ۔ کبھی کبھی یہ قوتیں معطل ہوجاتی ہیں ‘ کبھی یوں ہوتا ہے کہ بعض اثرات ان قوتوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔ کبھی تو ان عقلی قوتوں کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ کبھی عقل کے فیصلوں میں غلطی واقعہ ہوتی ہے اور عقل پریشان ہوجاتی ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس ڈیوٹی سے معاف کردیا کہ وہ اس کائنات کے دلائل و شواہد ہی سے راہ ہدایت حاصل کریں یا محض فطری دلائل سے اپنی عقل کے بل بوتے پر راہ حق پائیں ‘ جب تک ان کے پاس کوئی رسول نہیں آجاتا تاکہ یہ رسالت انسان کی ان تمام خوبیوں اور قوتوں کو ان تمام آلودگیوں سے پاک کر دے اور ان عقلی قوتوں کو ان ضوابط کے اندر لے آئے جو اللہ رسالت نے بھیجے ۔ انسان کی یہ تمام فطری قوتیں جب اسلامی منہاج فکر کے اندر منضبط ہوجاتی ہیں تو ان قوتوں کے ذمے اب صرف یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اس رسالت کا اقرار کریں اور اللہ کی بندگی کریں اور رسول کا اتباع کریں ۔ یا اگر وہ انکار کردیں تو پھر ان پر حجت تمام ہوجائے اور قیامت کے دن سزا کی مستوجب ہوجائیں ۔
پھر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے ۔ وہ ان کی کس قدر دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کو اپنے فضل وکرم سے نوازتا ہے ان کو کس قدر مکرم اور مختار بناتا ہے ۔ اس کے باوجود کہ اسے علم سے کہ انسان خطا اور نقص کا پتلا ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ پرھ بھی اس جہان کو اس کے حوالے کردیتا ہے ۔ اسے خلیفہ فی الارض بناتا ہے ۔ حالانکہ یہ کائنات اس کی نسبت سے بہت ہی بڑی ہے ۔ اور اللہ تو بےنیاز ہے کہ اگر ایک ذرہ بھی اس کی اس عظیم کائنات میں ہے تو وہ ضائع نہیں ہو سکتا ۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
النساء 4:165
(آیت) ” نمبر 163 تا 165۔
غرض یہ ایک قافلہ ہے جو شاہراہ تاریخ پر چلتا ہوا نظر آتا ہے اور اس سلسلے کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہیں ۔ یہ ایک ہی رسالت ہے اور اس کا ایک ہی نصب العین ہے کہ انسان کو قبل از وقت خبردار کردیا جائے اور اچھے لوگوں کو قبل از وقت ہی اچھے انجام کی خوشخبری دیدی جائے ، اس قافلے میں آگے پیچھے مختار ان درگاہ الہی اور انسانوں میں سے چیدہ لوگ آگے پیچھے چلے آرہے ہیں ۔ یہ رہے حضرت نوح (علیہ السلام) یہ رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ آئی سواری حضرت اسماعیل کی ۔ انکے بعد یہ چلے آرہے ہیں حضرت اسحاق (علیہ السلام) ان کے بعد متصلا حضرت یعقوب آرہے ہیں ۔ اب کچھ مختلف گروہ نمودار ہوئے حضرت ایوب (علیہ السلام) یونس (علیہ السلام) ہارون (علیہ السلام) ‘ سلیمان (علیہ السلام) ‘ داؤد (علیہ السلام) ‘ موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تشریف لائے اپنی اپنی باری پر اور بعض ایسے لوگ بھی چلے آئے ہیں جن کے نام سے ہم واقف نہیں ہیں۔ آخر میں حضرت محمد ﷺ خاتم النبین تشریف لا رہے ہیں اور اب اس قافلے کا آخری سرا اختتام کو پہنچا ۔ اس قافلے میں بعض لوگ ایسے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے پیش کیا ۔ اس قافلے میں مختلف رنگوں اور مختلف نسلوں کے نبی ہیں اور کرہ ارض کے مختلف علاقوں میں یہ قافلہ نظر آتا ہے ۔ اور مختلف ادوار اور مختلف زمانوں میں ، مختلف معاشروں اور مختلف خاندانوں میں یہ رسول کام کرتے رہے ۔ یہ سب ایک ہی مصدر اور منبع سے پیغام لاتے رہے ۔ یہ سب راہ دکھانے والی ایک ہی روشنی کے حامل رہے ۔ سب کے سب متنبہ اور خبردار کرتے رہے اور خوشخبری دیتے رہے ۔ یہ سب کے سب قافلہ انسانیت کی زمام اپنے ہاتھ میں لیکر اسے نور ہدایت میں داخل کرتے رہے ۔ چاہے کوئی کسی ایک خاندان کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی کسی ایک قوم کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی ایک شہر ار ایک علاقے کیلئے آیا ہو ‘ چاہے کوئی تمام انسانوں کیلئے آیا ہو اور خاتم النبین کا لقب پایا ہو۔
یہ سب کے سب وحدہ سے وحی پاتے رہے ۔ ان میں سے کسی نے کوئی بات اپنی طرف سے پیش نہیں کی ۔ ان میں سے اگر اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست بات کی تو وہ بھی وحی کا ایک رنگ تھا ۔ اس کیفیت سے ہم آگاہ نہیں ہیں نہ اس کا ادراک کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم آخری وحی کا ریکارڈ ہے اور یہ اس قدر درست ریکارڈ ہے جو ہر قسم کے شک وشبہ سے بالا ہے اور قرآن نے اس ہم کلامی کی کوئی تفصیل یاکیفیت بیان نہیں کی ہے ۔ اس کی کیفیت کیا تھی ؟ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے کن خواص اور کس قوت ادراک سے اسے پا رہے تھے ۔ یہ سب باتیں غیب سے تعلق رکھتی ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے بارے میں کوئی بات بیان نہیں کی ہے ۔ اور قرآن کریم کے علاوہ اس موضوع پر جو کوئی بھی اپنے دہن سے بات کرے گا وہ بےسند ‘ فلسفہ یا قصہ کہانی ہوگی ۔
یہ رسول ‘ جن میں سے بعض کے نام ذکر ہوئے اور بعض کے نام نہیں لئے گئے کیوں بھیجے گئے ؟ اللہ کی شفقت اور رحمت اور عدالت کا تقاضا یہی تھا کہ وہ رسول بھیجے ۔ تاکہ وہ اللہ کے بندوں میں سے مومنین اور اطاعت کندگان کو خوشخبری دیدیں کہ اللہ نے ان کیلئے کیا کیا نعمتیں تیار کی ہوئی ہیں ۔ بیشمار نعمتیں اور اللہ کی رضا مندی ان کے انتظار میں ہے ۔ اور کافروں اور نافرمانوں کو ڈرائیں کہ اللہ کا غضب اور ایک دردناک عذاب ان کے انتظار میں ہے ۔ اور یہ سب کچھ کیوں کیا گیا ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ (4 : 165) (تاکہ ان کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے ۔ “ اور یہ رسول لوگوں کو بتا دیں کہ ان کے نفس اور ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر کیا کیا دلائل ہیں ۔ انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ جنس بشر کو متاع عقل سے نوازا ہے اور ان کا فرض ہے کہ وہ اس کے ذریعے اپنے نفسوں اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر دلائل تلاش کریں۔ عقل کے ہوتے ہوئے بھی ان کے پاس رسول بھیجے گئے ، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں پر خاص شفقت اور رحمت تھی کہ اس نے رسول بھیجے کیونکہ اسے معلوم تھا کہ انسان کی ذاتی خواہشات اور اس کے میلانات اس کی عقل پر غالب آجائیں گے اور ان کے نتیجے یہ عظیم قوت دب کر رہ جائے گی ۔ اسی لئے اللہ نے اپنی رحمت خاصہ کے تحت ان کے پاس رسول بھیجے جو مبشرین اور منذرین تھے ۔ وہ ان کے سامنے یاد دہانی کراتے رہے ۔ انہیں بصارت اور بصیرت دیتے رہے ۔ وہ ان کی فطرت اور ان کی قوت عقلیہ کو شہوات نفسانیہ کے ڈھیروں کے نیچے سے نکال کر آزاد کراتے رہے ۔ جن ڈھیروں کے نیچے رہتے ہوئے اس کی عقل اور فطرت کیلئے دلائل ہدایت اور ایمان کے تقاضوں کو پانا مشکل ہوگیا تھا چاہے یہ دلائل خود نفس انسانی کے اندر ہوں یا اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی اس کائنات کے اندر ہوں ۔
(آیت) ” وکان اللہ عزیزا حکیما “۔ (3 : 165) (اور اللہ بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم ودانا ہے ۔ “ وہ غالب اس طرح ہے کہ اس کے بندے جب جرائم کا ارتکاب کریں ان پر وہ گرفت کرسکتا ہے ۔ حکیم ودانا اس طرح ہے کہ وہ اس کائنات کے تمام امور کو اپنی حکمت کے مطابق چلاتا ہے ۔ ہر معاملے کو اپنی جگہ پر طے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کیلئے جو تقدیرات اور جو اندازے طے کئے ہیں وہ سب حکمت اور اپنی مشیت کے مطابق کئے ہیں ۔
اب ذرا منظر کے سامنے رکئے ! (لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ ان رسولوں کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے “۔ اس منظر میں تو ہدایات واشارات کا ایک ذخیرہ پنہاں ہے ۔ گہرے اشارے اور واضح ہدایات ۔ ہم ان میں سے دو تین کا ذکر کرتے ہیں اور وہ بھی ضلال القرآن کی مناسبت سے نہایت ہی مختصر۔
اس آیت سے پہلی بات جو نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ نظام دین میں انسانی عقل کا مقام کیا ہے ؟ اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ اور انسان کے اہم ترین مسائل مثلا مسئلہ ایمان کے سلسلے میں عقل کی اہمیت کیا ہے ؟ اس لئے کہ ایمان کی بنیادوں پر لوگوں کی زندگی کا نظام استوار ہونا تھا ۔ اور زندگی کے تمام عناصر ‘ اس کے تمام رجحانات ‘ اس کی پوری عملی شکل اور اس کی کائنات میں اس کے تمام تصرفات کو ایمانی نظریے پر استوار ہونا تھا ‘ جس طرح عالم آخرت میں اس کا انجام تمام کا تمام اس ایمان پر موقوف تھا ۔
اگر اپنی قوتوں کے بل پر (اور اللہ انسان اور اس کی قوتوں کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ‘ اور ان قوتوں کو انسان کے اندر خود اللہ نے ودیعت کیا ہے ) یہ انسان صرف اپنی اس عقل کے ذریعہ ہدایت پاسکتا اور اپنی ذات اور اپنی حیات کیلئے راہ مصلحت تلاش کرسکتا ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنے لئے خیر ڈھونڈ سکتا تو اللہ تعالیٰ پوری انسانی تاریخ میں اس طویل سلسلہ رسل کو ہر گز نہ جاری فرماتا اور لوگوں پر بذریعہ رسل حجت تمام نہ کرتا اور انسان اپنی اس عقل کے بل بوتے پر اپنے لئے دلائل ہدایت اور ایمان ویقین کے اشارات تلاش کرلیتا ۔ یہ دلائل وہ اپنے نفس سے بھی معلوم کرلیتا اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے آفاق کے اندر سے بھی وہ انکو دھونڈ لاتا ۔ وہ اپنے لئے ایک ایسا نظام زندگی بھی گھڑلیتا جس سے اس کی زندگی کے تمام مسائل ہوجاتے ۔ وہ راہ حق اور صراط مستقیم پر سیدھا چلتا ۔ سلسلہ رسل کی سرے سے ضرورت نہ رہتی ‘ ان کی تبلیغی سرگرمیوں کی ضرورت نہ رہتی ‘ اور اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتے کہ اگر رسول نہ ہوتے تو لوگوں کے پاس حجت ہوتی ۔ جیسا کہ کہا گیا۔
(آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت نہ ہو۔ “
لیکن اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا کہ اس کو عقل کا جو ذریعہ ادراک اور الہ فہم دیا ہے وہ بذات خود ان امور کے ادراک سے قاصر ہے اور محض عقل انبیاء کی راہنمائی کے بغیر ‘ رسولوں کی تنظیم اور معاونت کے بغیر ہدایت تک نہیں پہنچ سکتی ۔ نیز رسولوں کی راہنمائی کے بغیر اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ پوری انسانی زندگی کیلئے کوئی اور منہاج حیات وضع کرلیں جس میں ان کی پوری پوری مصلحت ہو اور وہ ان کیلئے دنیا اور آخرت دونوں میں اچھے انجام کا ضامن ہو ۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کو عقل انسانی کی کوتاہ دامنی کا اچھی طرح علم تھا ‘ اسی لئے اللہ کی حکمت اور اس کی شفقت کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ لوگوں کیلئے رسول بھیجے اور یہ کہ رسالت اور تبلیغ ہدایت کے بغیر لوگوں سے کوئی مواخذہ نہ کرے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا) ” ہم اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک ہم رسول نہ بھیج دیں “ اور یہ بات اس قدر بدیہی ہے کہ آیت سے قطعا ثابت ہوتی ہے اور اگر قطعا ثابت نہیں ہوتی تو اس آیت کا لازمی تقاضا ضرور ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایمان وہدایت کے میدان میں اور ایمان وہدایت کی اساس پر تفصیلی نظام زندہ قیام کے معاملے میں پھر عقل کا کردار ہی کیا رہ جاتا ہے ۔ ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ عقل انسانی کا کردار یہ ہے کہ وہ رسولوں سے ہدایت اخذ کرنے کے سلسلے میں اپنے فرائض ادا کرے ۔ عقل کا فرض ہے کہ رسولوں کی دعوت پر غور وفکر کرے ۔ رسولوں کے فرائض صرف اس حد تک ہیں کہ وہ پہنچا دیں اور سمجھا دیں اور انسانی فطرت کے اوپر جو غلط افکار کے تہہ بہ تہہ ڈھیر ہیں انہیں صاف کرکے فطرت کو ان کے نیچے سے نکال دیں ‘ اور انسان کو اس طرف متوجہ کردیں کہ اس کے نفس اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر معرفت کرد گار (خالق) کے واضح دلائل موجود ہیں ۔ اس کیلئے یہ رسول صحیح نظام تربیت اور صحیح منہاج مطاعلہ کائنات وضع کردیں اور انسانوں کیلئے نظام زندگی تجویز کردیں جس پر انکی زندگی کا قافلہ رواں اور دواں ہوجائے اور جس میں ان کی دنیا اور آخرت کی خیر ہو ۔
عقل کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ دین اور الہیات کے معاملے میں ‘ ان موضوعات کی صحت اور بطلان کے بارے میں مفتی اور جج بن جائے ۔ اسے اختیار ہو کہ جو چاہے وہ قبول کرے اور جس چیز کو چاہے اسے رد کر دے جبکہ وہ بات قرآن وسنت سے یقینی طور پر ثابت شدہ ہو یہ بعد کہ اس بات کا مفہوم واضح طور پر سمجھ میں آگیا ہو ۔ یعنی نصوص قرآنی کے لغوی اور اصطلاحی مدلولات کی روشنی میں ۔ اگر عقل انسانی کو رد و قبول کا یہ اختیار ہوتا یعنی صحیح مفہوم ومدلول کے ادراک کے بعد ‘ بایں طور کہ ہماری عقل اس مدلول کو قبول نہیں کرتی ‘ یا اسے قبول کرنا نہین چاہتی تو پھر خدا اور رسول کے بیان کے بعد انسان مستحق عذاب قرار نہ پاتا ۔ لہذا عقل اس بات کی پابند ہے کہ وہ ضروریات دین کو قبول کرے ۔ اگر یہ عقائد اس تک صحیح طرح پہنچ جائیں اور جب عقل صحیح طور پر ان نصوص کے مفہوم و مراد کو سمجھ بھی جائے ۔
حضور اکرم ﷺ کی رسالت عقل کو مخاطب کرتی ہے ۔ وہ عقل کو جگاتی ہے ‘ اس کیلئے فکر ونظر کا ایک درست منہاج وضع کرتی ہے اور اسے صحیح راہ پر ڈالتی ہے ۔ لیکن یہ خطاب اس مفہوم میں نہیں ہے کہ عقل کو اس رسالت کے صحیح ہونے یا اسکے باطل ہونے کا فیصلہ صادر کرنے کا اختیار ہے یا وہ ایسا کرسکتی ہے ۔ یا امور رسالت میں اسے رد و قبول کر اختیار حاصل ہے ‘ بلکہ بہ خطاب اس مفہوم میں ہے کہ جب نص سے کوئی امر ثابت ہوجائے تو وہی اللہ کا حکم ہوگا اور عقل انسانی کا فرض ہے کہ اسے قبول کرے ۔
اس کی اطاعت کرے اور اسے اس کرہ ارض پر نافذ کرے ۔ چاہے نص کا یہ مفہوم اس کے ذہن کیلئے مالوف ومقبول ہو یا اس کیلئے عجیب و غریب ہو ۔
عقل انسانی کا کردار اس بات میں صرف اس قدر ہے کہ وہنصوص کو سمجھنے کی صحیح کوشش کرے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کرے کہ لغت عربی اور اصطلاحات شریعت کے مطابق اس نص کا مفہوم کیا بنتا ہے ۔ یہاں آکر عقل کا کام ختم ہوجاتا ہے اور نص شریعت سے جو صحیح مفہوم اخذ ہوتا ہے اسے کسی عقلی دلیل اور قیاس سے رد نہیں کیا جاسکتا اس لئے کہ جہاں تک نص کا تعلق ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ محض عقلی توجیہہ نص سے برتر نہیں ہو سکتی اس لئے کہ عقل الہ کا درجہ نہیں رکھتی نہ وہ اللہ کی نصوص کے اور ردوقبول کا درجہ رکھتی ہے۔
اس اہم نکتے پر خیالات کے اندر ایک عظیم التباس پیدا ہوجاتا ہے ۔ بعض لوگ ایسے ہیں جو عقل انسانی کو الہ کا درجہ دیدیتے ہیں ۔ اپنے معاملات پر بھی اسے حکم قرار دیتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو ایمان وہدایت کے میدانوں میں عقل کو دخل اندازی کی ذرہ بھر اجازت نہیں دیتے ، صحیح منہاج وہی ہے جو اوپر ہم نے بیان کردیا ہے ۔ وہ یہ کہ رسالت نے عقل کو مخاطب کیا ہے تاکہ وہ رسالت کے فیصلوں کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ رسالت اپنے عملی اور نظریاتی فیصلوں کے بارے میں عقل کیلئے بھی ایک منہاج بناتی ہے تاکہ وہ بھی اپنے دائرے کے اندر کام کرے ۔ پوری زندگی میں رسالت کے فیصلوں کا ادراک کرے ۔ جب عقل نے رسالت کے فیصلوں کو سمجھ لیا کہ نصوص شریعت و رسالت کا مفہوم کیا ہے تو پھر عقل کیلئے تصدیق ‘ اطاعت اور انکے نفاذ کے سوا اور کوئی راستہ ہی نہیں رہتا شریعت یہ لازم نہیں کرتی کہ وہ مفاہیم نصوص سمجھے بغیر ان پر عمل کرے بلکہ شریعت کا مدعا یہ ہے کہ نصوص شریعت پر سمجھ کر عمل کیا جائے ۔ لیکن جب عقل ان کا ادراک کرلے تو اس پر فرض ہوجاتا ہے کہ پھر ان پر عمل پیرا ہو اور کوئی چون وچرا نہ کرے ۔ نصوص کے مفاہیم کے مطابق بات کو قبول کرے ۔ اور نصوص کا مقابلہ اور چون وچرا یہ ہوگا کہ ان میں سے بعض کو قبول کرے اور بعض کو رد کرے ۔ بعض کو صحیح قرار دے اور بعض کو غلط قرار دے ‘ باوجود اس علم کے کہ یہ نصوص وہدایت اللہ کی جانب سے آئی ہوئی ہیں ۔ اللہ وہی بات کرتا ہے جو حق ہوتی ہے اور وہ جو حکم بھی دیتا ہے اس میں بھلائی ہوتی ہے ۔
اسلامی منہاج حیات میں اللہ سے ہدایت پانے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ نصوص قرآن وسنت کا صحیح مفہوم پالینے کے بعد اس میں عقلی گھوڑے نہ دوڑائے جائیں یہ فہم اصول فہم کے مطابق ہو۔ انسان قرآن وسنت کا مطالعہ اپنے ذہن میں بعض فیصلے پہلے سے طے کرکے نہ کرے اس طرح کہ اپنے دین میں بعض منطقی نتائج طے کرلے یا اپنے محدود ملاحظے سے کچھ باتیں طے کرلے یا پنے ناقص تجربات کے مطابق بعض چیزوں کو حقائق سمجھ لے اور اس کے مطابق قرآن وسنت کو ڈھالنے کی سعی کرے ۔ صحیح منہاج مطالعہ یہ ہے کہ وہ نصوص کو اس طرح لے جس طرح کہ وہ ہیں اور نصوص نے جو فیصلے کر لئے ہیں وہ بہرحال فیصلے ہیں اور وہ اس کی ذاتی سوچ سے بہتر ہیں اور ان کا نظام اور ان کا منہاج اس کے ذاتی منہاج سے زیادہ مضبوط ہے اس لئے عقل دین کے فیصلوں پر کوئی محاکمہ نہیں کرسکتی ۔ جب عقل کے نزدیک یہ بات ثابت ہوجائے کہ یہ فیصلہ دین کا ہے ۔ لوگوں کے بتائے ہوئے فیصلے اصول دین پر برتری حاصل نہیں کرسکتے ہیں ۔ عقل بہرحال ان دینی ضوابط کی تابع ہوگی ۔ بشرطیکہ دین کے ضوابط اور پیمانے اچھی طرح ثابت ہو کو سامنے آجائیں ۔
عقل لو الہ کا درجہ حاصل نہیں ہے کہ وہ یہ قرار دے کہ اس نے جو نتائج اخذ کر لئے ہیں وہ اللہ کے فیصلے ہیں ہاں عقل انسانی کو یہ حق ضرور حاصل ہے کہ وہ کسی نص کا کوئی مفہوم انسانی عقل کے مطابق کسی دوسرے مفہوم کے مقابلے میں پیش کرے جو بذات خود بھی عقلی مفہوم ہو ۔ یہ تو عقل انسانی کا دائرہ کار ہے اور اس میں عقل پر کوئی پابندی نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی حرج ہے بشرطیکہ نصوص کا یہ مفہوم وادراک صحیح اور اصولوں کے دائرے کے اندر ہو مقصود تاویل نصوص اور افہام و تفہیم ہو اور نصوص کے اندر تاویل کی گنجائش موجود ہو ۔ یہ تاویل اور تفہیم بھی ان قواعد اور ضوابط کے اندر ہو ‘ جو اس مقصد کیلئے خود دین نے وضع کئے ہیں ۔ یہ قواعد ایسے ہیں جو انسانوں کی حریت فکر کی تمام ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور انسان کے فہم وادراک کیلئے ایک وسیع میدان فراہم کرتے ہیں ۔ اسلامی نظام میں کوئی ایا اداراہ کوئی ایسی اجتماعی پابندی اور کوئی ایسا عہدیدار نہیں ہے جسے ذہنوں پر تالے لگانے کا اختیار ہو کہ لوگ نصوص شرعیہ کے اندر غوروفکر نہیں کرسکتے ۔ ان کے انطباق کیلئے کوئی اچھی رائے نہیں دے سکتے یا کوئی معقول وجوہ پیش نہیں کرسکتے ۔ بشرطیکہ کوئی شرعی نص ان آراء ‘ ان تاویلات اور وجوہات کی متحمل ہو اور یہ تاویلات بھی اسلامی نظام کے حدود کے اندر ہوں اور اصول دین پر مبنی ہوں ۔ یہ ہے مفہوم اس بات کا کہ رسالت محمدیہ عقل کو مخاطب کرتی ہے ۔
بیشک اسلام ایک عقلی دین ہے ۔ وہ اپنے مسائل ‘ عقائد اور فیصلے عقل کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ اور اسلام یہ فیصلے اور عقائد انسانوں سے فوق الفطری انداز میں نہیں منواتا کہ ماننے کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہ رہے بلکہ وہ عقلی دین اس مفہوم میں ہے کہ وہ عقل سے مخاطب ہوتا ہے اور اسے غوروفکر کی دعوت دیتا ہے ۔ وہ اس کے سامنے ہدایت اور صراط مستقیم پر آنے دلائل پیش کرتا ہے کہ وہ اپنے نفس اور اپنے آفاق کے اندر پائے جانے والے ان نشانات راہ پر غور کرے راہ پر غور کرے اور انسان کی اصلی فطرت کو ان عادات وتقالید کے تہ بہ تہ جمے ہوئے پردوں اور ڈھیرون کے نیچے سے نکالے ۔ نیز یہ کہ عقل اپنے آپ کو گمرہ کن خواہشات اور عقل و فطرت پر چھا جانے والے موثرات سے نکال لے ۔ قرآن کریم عقل کو اس لئے خطاب کرتا ہے کہ قرآن نے اپنے نصوص کے اندر جو امور طے کردیئے ہیں وہ ان پر غور وفکر کرکے انکو تسلیم کرے ، اور قرآن کریم کا یہ انداز نہیں ہے کہ وہ بغیر سمجھانے کے لوگوں کو بات تسلیم کرنے پر مجبور کرے ۔ ہاں جب عقل کو کام میں لا کر انسان کسی نص کا مفہوم ومدلول پالے اور حقائق کا ادراک کرے تو پھر اس کیلئے سرتسلیم خم کرنے کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے ۔ سمجھنے کے بعد اگر وہ تسلیم کرلیں تو مومن ہیں اور اگر تسلیم نہ کریں تو کافر ہیں۔ رہے قرآنی اور اسلامی فیصلے تو وہ عقل کے سامنے پیش کئے جانے سے پہلے ہوچکے ہیں ۔ عقل کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ وہ درست ہیں یا غلط ہیں ۔ نہ عقل کو اختیار ہے کہفہم ودارک کے بعد اسلامی فیصلوں کو رد کرسکے ۔ آج کل بعض لوگ عقل کو یہ اختیار دیتے ہیں کہ وہ اسلامی فیصلوں کو رد کرے ۔ ایسے لوگوں کے نزدیک ان کی عقل ان کا الہ بن جاتی ہے ۔ اب ان کا یہ الہ شریعت کے جن فیصلوں کو چاہے قبول کرلے اور جن کو چاہین انہیں رد کردے ۔ جن امورکو چاہے چن لے اور جن کو چاہے چھوڑ دے ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔
(آیت) ” افتومنون ببعض الکتاب وتکفرون ببعض “۔ کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان لاتے ہو اور بعض سے کفر کرتے ہو ۔ “ یہ طرز عمل کافرانہ ہے اور ایسے لوگوں کو آخرت میں سخت سزا دی جائے گی ۔
اب اللہ تعالیٰ نے چاہے اس کائنات کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ‘ یا انسان کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا ‘ یا کسی بھی دوسری مخلوق کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا یا اللہ تعالیٰ نے قانون میراث کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا یا فرائض ونواہی کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا تو اللہ کے یہ تمام فیصلے واجب القبول ہیں اور جن تک یہ فیصلے پہنچیں اور وہ ان فیصلوں کے مدلولات کا ادراک کرلیں تو ان کیلئے ان فیصلوں کو قبول کرنا فرض ہے ۔ مثلا اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔
(آیت) ” اللہ الذی خلق سبع سموت ومن الارض مثلھن “ (65 : 12) (اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہیں کے مانند ۔۔۔۔۔ “ (آیت) ” (واللہ خلق کل دآبۃ من مآئ) (24 : 45) ” اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا۔ “ (آیت) ” (خلق الانسان من صلصال کالفخار) (14) (وخلق الجان من مارج من نار (15) (55 : 14۔ 15) (انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا) یہ اور اس قسم کی بیشمار آیات ہیں جن کا تعلق اس کائنات کی نوعیت اور زندہ اور مردہ اشیاء کی ماہیت سے ہے ۔ پس اللہ نے جو کچھ کہہ دیا وہ حق ہے ۔ اب عقل کیلئے یہ مجال نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ یہ باتیں تو میرے فیصلوں کے اندر اس طرح نہیں ہیں یا میرے فہم وادراک میں یہ بات نہیں سماتی یا یہ بات ابھی میرے تجربے کے اندر نہیں آئی ۔ اس لئے کہ ان معاملات میں عقل نے جو فیصلے کئے ہیں وہ درست بھی ہو سکتے ہیں اور غلط بھی ہوسکتے ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جو کچھ کہہ دیا ہے وہ درست ہی ہو سکتا ہے اور اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ البتہ ہماری فہم نصوص کے صحیح مفہوم کا ادراک کرنے میں غلطی کرسکتی ہے اور یہ بات اس صورت میں ہے کہ نصوص کے صحیح مفہوم کا ہم ادراک کرلیں ۔ اسی طرح دوسری آیات میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” (ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون) (5 : 44) (جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہی کافر ہیں۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا ما بقی من الربوا ان کنتم مومنین (278) فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ وان تبتم فلکم رء وس اموالکم لا تظلمون ولا تظلمون “۔ (279) (2 : 278۔ 279)
” اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ‘ خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ‘ اگر واقعی تم ایمان لائے ہو ۔ لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ‘ تو آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ اب بھی توبہ کرلو (اور سودچھوڑ دو ) تو اپنا اصل سرمایہ تم لینے کے حقدار ہو۔ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے ۔
(آیت) ” وقرن فی بیوتکن ولا تبرجن تبرج الجاھلیۃ الاولی) (33 : 33) ” اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور سابق دور جاہلیت کیسی سج دھج نہ دکھاتی پھرو “۔ (آیت) ” ولیضربن بخمرھن علی جیوبھن “۔ (24 : 31) ” اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں اور اپنا بناؤ سنگھار نہ ظاہر کریں “۔
یہ اور انسانی زندگی کے بارے میں دوسری آیات وہدایات ایسی ہیں کہ ان میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وہی سچ ہے اور ان کے بارے میں عقل کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ عقل کے مطابق فلاں اور فلاں باتوں میں مصلحت زیادہ ہے ‘ جو اللہ کے فیصلوں کے خلاف ہوں یا وہ ایسی باتیں ہوں جن کی اجازت اللہ تعالیٰ نے نہ دی ہو اور اسے لوگوں کیلئے قانون قرار نہ دیا ہو ۔ جس امر میں عقل کو مصلحت نظر آتی ہے اس میں خطا اور صواب دونوں کا امکان ہے اور وقتی جذبات اور خواہشات نفسانیہ کا دخل اس میں عین ممکن ہے اس لئے اللہ تعالیٰ جو فیصلہ فرماتے ہیں وہ درست ہی ہو سکتا ہے اور اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ نے جن عقائد اور تصورات کی تلقین کی ہے ‘ یا زندگی کا جو منہاج اور طریق کار تجویز کیا ہے ان کے بارے میں عقل کا موقف جو ہو سو ہو ‘ جب تک نص صحیح ہے ‘ قطعی الدلالت ہے اور کسی وقت کے ساتھ موقت نہیں ہے ۔ اس بارے میں ہم عقل کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ یہ کہے کہ جہاں تک عقائد ونظریات کا تعلق ہے وہ تو ہم نصوص کے مطابق لیتے ہیں ۔ رہا زندگی کا تفصیلی نظام تو اس بارے میں بات یہ ہے کہ اب زمانہ بہت ہی بدل گیا ہے اور نہایت ہی ترقی یافتہ ہے ۔ اس لئے اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ نصوص شرعیہ کسی خاص وقت تک ہی موثر ہوں تو اللہ تعالیٰ اسی طرح کرسکتا تھا ۔ جب تک کوئی نص مطلق ہے تو وہ جس طرح زمانہ نزول کے وقت موثر تھی اسی طرح وہ آخری زمانے میں بھی موثر ہوگی ورنہ یہ بات لازم آئے گی کہ ہم اللہ میاں کو قصور وار ٹھہرانے کی جسارت کریں جوہر قسم کے نقائص سے پاک وصاف ہے ۔
سوال یہ ہوگا کہ کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہوگیا ہے ؟ نہیں اجتہاد اس مین ہوگا کہ ہم کسی جزئی صورت حال پر کسی نص کی تطبیق کریں ۔ یہ اجتہاد نہیں ہے کہ ہم ایک عام اصول میں یا حکم میں کوئی تبدیلی کریں یا اسے رد کردیں ‘ کسی دور میں یا کسی نسل میں اصول عقل میں سے کسی اصول کے تحت کوئی بات کریں ۔
درج بالا جو معروضات ہم نے پیش کی ہیں ‘ ان میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جو حیات انسانی کے اندر عقل وخرد کی اہمیت کو کم کر رہی ہو اس لئے کہ اسلامی نصوص اور اصولوں کو جدید سے جدید تر حالات پر منطبق کرنے کا ایک وسیع میدان کار عقل کیلئے کھلا ہے ۔ جبکہ عقل اسلامی نقطہ نظر اور اسلامی پیمانوں کا اچھی طرح ادراک کرے جو صحیح خطوط پر فہم دین سے مستفاد ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ وسیع میدان اس کائنات کے اصول طبیعی ‘ اس کی قوتوں اور اس کے اندر پوشیدہ ذخائر کا ہے ۔ اس کائنات کا مزاج ‘ اس کے اندر رہنے والی مخلوقات کا علم ‘ ان قوتوں کے استفادے کے ذرائع اور اس میں زندہ مخلوقات کیلئے زندگی آسان بنانے کے ذرائع واسباب عقل کیلئے وسیع تر میدان ہیں جن میں صرف عقل ہی کام کرسکتی ہے ۔ یہاں انسان کو ترقی دی جاسکتی ہے اور حدود اللہ میں رہتے ہوئے اس کی زندگی کے شب وروز بدل سکتے ہیں ۔ بہرحال عقل کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ انسانیت کی لگام ہوا وہوس اور لذت وشہوت کے ہاتھ میں دیدے جہاں عقل ٹھوکر کھاتی ہے اور فطرت خواہشات کے دبیز مادے کے نیچے دب جاتی ہے ۔
ذرا پھر رکئے اور اس آیت پر دوبارہ نظر ڈالئے (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ رسولوں کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے۔ “ اس آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کے کاندھوں پر کس قدر عظیم ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں اور اس کے بعد جو لوگ انبیاء (علیہم السلام) کی رسالت پر ایمان لانے والے ہیں ان پر تمام انسانوں کے حوالے سے کس قدر عظیم ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں ۔ فی الواقعہ یہ عظیم اور بھاری ذمہ داریاں ہیں۔
تمام لوگ جو اس دنیا میں آباد ہیں ان کے انجام ‘ دنیا اور آخرت دونوں میں ‘ رسولوں اور رسولوں کے متبعین کے ساتھ وابستہ ہیں ۔ مثلا رسول اور ان کے متبیعن اللہ کے پیغام کو ان تک پہنچانے کے ذمہ دار ہیں اور اس تبلیغ کے نتیجے ہی میں لوگوں کی خوش بختی اور بدبختی کا فیصلہ ہوگا ‘ اس تبلیغ اور دعوت ہی کے نتیجے میں ثواب اور عتاب کے وہ مستحق ہوں گے ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔
بیشک یہ ایک ہولناک اور خوفناک اور عظیم ذمہ داری ہے لیکن اس کے سوا اور کوئی راستہ بھی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تمام رسل (علیہم السلام) اپنی اس عظیم ذمہ داری کا شدید احساس رکھتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ بھی ان کو اس بوجھ سے اچھی طرح آگاہ فرما دیتے تھے جو ان پر ڈالدیا گیا تھا ۔ یہی وہ بات ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے کہتے ہیں ۔ (آیت) ” انا سنلقی علیک قولا ثقیلا “۔ (73 : 5) ” ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنیوالے ہیں ۔ “ اور اس کیلئے تیاری یوں ہوگی ۔
(آیت) ” یایھا المزمل “ (1) قم الیل الا قلیلا (2) نصفہ اوانقص منہ قلیلا (3) اوزد علیہ ورتل القران ترتیلا (4) (انا سنلقی علیک قولا ثقیلا (5) (73 : 1۔ 5) ” اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے ‘ رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم ‘ آدھی رات ‘ یا اس سے کچھ کم کرلو ‘ یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو ‘ اور قرآن کو خوب ٹھہرٹھہر کر پڑھو ۔ ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنیوالے ہیں ۔ “
(آیت) ” انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا (23) فاصبر لحکم ربک ولا تطع منھم اثما اوکفورا (24) واذکراسم ربک بکرۃ واصیلا (25) ومن الیل فاسجد لہ وسبحہ لیلا طویلا “۔ (26) (76 : 23 تا 26)
” اے نبی ! ہم نے تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے لہذا تم اپنے رب کے حکم پر صبر کرو ‘ اور ان میں سے کسی بدعمل ‘ یا منکر حق کی بات نہ مانو۔ اپنے رب کا نام صبح اور شام یاد کرو۔ رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو ‘ اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ یہ ہے وہ بات جس کا احساس اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو دلاتے ہیں اور اسے حکم دیتے کہ وہ یہ بات کریں اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اس کی حقیقت اور اہمیت کیا ہے ۔
(آیت) ” قل انی لن یجیرنی من اللہ احد ولن اجد من دونہ ملتحدا “۔ (72 : 22) ” کہو مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچا نہیں سکتا اور نہ میں اس کے دامن کے سوا کوئی جائے پناہ پا سکتا ہوں ۔ میرا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں ۔ “
(آیت) ” علم الغیب فلایظھر علی غیبہ احدا (26) الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ ومن خلفہ رصدا (27) لعلم ان قد ابلغوا رسلت ربھم واحاط بما لدیھم واحصی کل شیء عددا (28) (72 : 26 تا 28)
” وہ عالم الغیب ہے ۔ اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا ‘ سوائے اس رسول کے جسے اس نے پسند کرلیا ہو ‘ تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیئے ‘ اور وہ انکے پورے ماحول کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گن رکھا ہے ۔ “
بیشک یہ ایک خوفناک اور عظیم فریضہ ہے ۔ لوگوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ان کی خوش بختی اور بدبختی کا معاملہ ہے ۔ ان کے ثواب اور عذاب کا مسئلہ ۔ یہ پوری انسانیت کے انجام کا معاملہ ہے ۔ اس فریضے کا خلاصہ یہ ہے کہ اس پیغام کو یا تو لوگوں تک پہنچایا جائے گا تاکہ وہ اسے قبول کریں ‘ اس کی پیروی کریں جس کے نتیجے میں وہ دنیا وآخرت میں فلاح پائیں گے یا ان تک یہ پیغام پہنچے گا تو وہ اسے دور پھینک دیں گے اور دنیا وآخرت دونوں میں بدبختی کا شکار ہوں گے اور یا یہ پیغام ان تک نہ پہنچے گا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگوں کے ہاتھ ان کے رب کے خلاف ایک حجت ہاتھ آجائے گی اور ان لوگوں کی اس دنیاوی بدبختی کی ذمہ داری اور ان کی گمراہی کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہوگی جو اس دنیا میں ان تک خدا کا پیغام پہنچانے کے ذمہ دار ہیں اور وہ یہ ذمہ داری پوری نہیں کرتے ۔
رہے اللہ کے رسول تو انہوں نے تو اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا کردی ۔ انہوں نے اللہ کا پیغام اور امانت لوگوں تک پہنچا دی۔ وہ اپنے رب کے پاس اس حال میں گئے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا کردی تھیں ۔ انہوں نے یہ ذمہ داریاں صرف زبانی تبلیغ کی حد تک ہی پوری نہ کی تھیں بلکہ انہوں نے اللہ کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں عملی شکل دیکر لوگوں کو دکھایا اور وہ رات اور دن اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے ان مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرتے رہے جو اس پیغام کی راہ میں حائل تھیں ۔ یہ مشکلات چاہے شبہات کی شکل میں تھیں جو لوگوں کے ذہنوں میں کھٹک رہے تھے یا گمراہی کی شکل میں تھیں جو لوگوں پر مسلط تھیں یا ایسی قوتوں کی شکل میں تھیں جو طاغوتی قوتیں تھیں اور جو لوگوں کو اس دعوت پر کان دھرنے سے روکتی تھیں اور ان کے دین کیلئے فتنہ بنی ہوئی تھیں ۔ خاتم النبین ﷺ نے اپنی عملی زندگی میں اسلام کو پوری طرح نافذ کر کے دکھایا اس لئے کہ آپ آخری مبلغ تھے ۔ آپ کی رسالت تمام رسالتوں کا اختتامیہ تھی ‘ تو آپ نے محض زبانی تبلیغ پر اکتفاء نہ کیا ۔ آپ نے تلوار اور قوت کے زور سے بھی ان مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کیا ۔ (آیت) ” حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ “ (2 : 193) ” تاکہ کوئی فتنہ نہ رہے اور دین صرف اللہ کے لئے ہوجائے ،۔ “ اب یہ بھاری ذمہ داری آپ کے بعد ان لوگوں پر آپڑتی ہے جو آپ کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ زمانے گزر گئے ‘ نسلوں کی نسلیں گزر گئیں اور گزرتی رہیں گی ۔ حضور ﷺ کے بعد تبلیغ کا سلسلہ آپ کی متبعین کی ذمہ داری میں آگیا ہے اور ان کے لئے اس مشکل اور بھاری ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ انہوں نے لوگوں پر حجت قائم کرنی ہے ۔ انہوں نے لوگوں کو دنیا کی بدبختی اور آخرت کی ناکامی سے بچانا ہے ۔ یہ فریضہ اور یہ ذمہ داری صرف تبلیغ کرنے سے ہی ادا کی جاسکتی ہے ۔ اور یہ اسی منہاج پر ادا ہو سکتی ہے جس پر اسے رسول خدا ﷺ نے ادا فرمایا ۔ اس لئے کہ رسالت وہی ہے اور اہل ایمان پر وہی ہیں۔ گمراہیاں ‘ خواہشات نفسانیہ اور شبہات اور اعتراضات بھی وہی ہیں وہ طاغوتی قوتیں بھی اسی طرح موجود ہیں جو لوگوں تک دعوت اسلامی کے پہنچنے کی راہ میں حائل ہیں ۔ یہ قوتیں مسلمانوں کو ان کے دین کے بارے میں فتنے میں ڈال رہی ہیں اور قوت کے بل بوتے پر انکو گمراہی کر رہی ہیں ۔ وہی موقف ہے جو تھا ‘ وہی مشکلات ہیں جو تھیں ۔ لوگ بھی وہی ہیں جو تھے ۔
دعوت اسلامی وہ فریضہ ہے جس سے ہم روگردانی اور انکار نہیں کرسکتے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم تبلیغ کریں ‘ یہ بہت ضروری ہے کہ ہم یہ فریضہ ادا کریں ۔ تحریر وتقریر سے تبلیغ کریں ۔ اپنے عمل سے تبلیغ کریں تاکہ مبلغین اپنے عمل اور کردار کی وجہ سے چلتی پھرتی تبلیغ ہوں اور تبلیغ اور دعوت کی راہ میں جو رکاوٹیں حائل ہوں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں کہ یہ بھی تبلیغ ہی کی ایک صورت ہوگی جو لوگ فتنے میں پھنسے ہوئے ہوں انہیں رہائی دلائیں ۔ اگر یہ کام نہ کیا گیا تو کوئی تبلیغ نہ ہوگی اور نہ ادائیگی فرض ہوگی اور نہ لوگوں پر اللہ کی حجت تمام ہوگی ۔
یہ ذمہ داریاں اٹھانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے ورنہ اس کے بھاری نتائج برآمد ہوں گے ۔ تمام دنیا گمراہی میں مبتلا ہوگی وہ اس دنیا میں بدبختی کا شکار ہوگی اور آخرت میں اس کے خلاف اللہ کے ہاں حجت نہ ہوگی اور ان کے ہاتھ حجت آجائے گی ۔ اگر امت یہ ذمہ داری ادا نہ کرے گی تو اس کی وجہ سے لوگ نجات نہ پائیں گے ۔
کون ہے جو اس بوجھ کو ہلکا سمجھے گا ؟ یہ کمر توڑ بوجھ ہے ‘ اس سے جسم کا ہر جوڑ اور ہر عضو کانپ رہا ہے جو شخص بھی یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ ” مسلم “ ہے یا تو وہ اس فریضے کو ادا کرے گا اور دعوت دین کا کام کرے گا ورنہ خود اس دنیا اور آخرت میں اس کیلئے فلاح ممکن نہیں ہے ۔ جب وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلم ہے اور پھر دعوت دین کا کام نہیں کرتا اور اپنا فرض ادا نہیں کرتا ‘ ان تمام طریقوں کے مطابق جو دعوت دیں اور ادائیگی فرض کیلئے مسنون ہیں تو وہ گویا اس اسلام کے خلاف شہادت دے رہا ہے جس کا اس نے دعوی کیا ہے ۔ اس کی شہادت اسلام کے حق میں نہیں ہے بلکہ اسلام کے خلاف ہے حالانکہ اسے اس لئے اٹھایا گیا ہے کہ وہ اسلام کے حق شہادت دے ۔
(آیت) ” وکذلک جعلنکم امۃ وسطا التکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا “ (2 : 142) اور اسی طرح ہم نے تم مسلمانوں کو امت وسط بنایا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو (تفصیلات کیلئے دیکھئے مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی کتاب شھادت حق (سیدقطب)
شہادت حق اور اسلام کے حق میں شہادت کا آغاز یوں ہوگا کہ ایک مسلمان بذاتہ پھر اس کا گھر اور خاندان ‘ پھر اس کی قوم اور اس کے رشتہ دار اس دین کا عملی نمونہ ہوں جس کی وہ دنیا کی دعوت دے رہا ہے ۔ اس کے بعد اس کی یہ شہادت ایک قدم اور آگے بڑھے اور ایک ایسی امت پیدا ہو جسے امت دعوت کہا جاسکے ۔ وہ اپنے گھر ‘ خاندان ‘ اور رشتہ داری کے حدود میں اسلام اور دعوت اسلامی کو عملی شکل میں پیش کرنے کے بعد شخصی معاملات اور ملک کے سیاسی معاملات کے اندر بھی اس دعوت کے قیام کی ذمہ داری لے ۔ اس کے بعد وہ ایسی شہادت دے کہ ان رکاوٹوں کو دور کردے جو اسلام کی راہ میں حائل ہیں ‘ جو لوگوں کو گمراہ کر رہی ہیں اور اس دعوت کے حوالے سے ان کو فتنے میں ڈال رہی ہیں ۔ چاہے یہ رکاوٹیں جس قسم کی بھی ہوں ۔ اگر کسی مسلمان نے اس مفہوم میں شہادت دی تو پھر وہ صحیح معنوں میں شاہد بھی ہوگا اور شہید بھی ہوگا ۔ وہ گواہی دیکر اپنے رب کے پاس پہنچ جائے گا ۔ یہ ہے وہ حقیقی شہید۔
سب سے آخر میں ہم دست بستہ اللہ کے حضور اس کی درگاہ عظمت و جلالت میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ یہ درگاہ درگاہ عدل ہے اور گہرے علم پر مبنی ہے ۔ اس درگاہ میں اللہ کا فضل اور اس کی رحمت سایہ فگن ہوتے ہیں اور اس میں ہر کسی کے ساتھ رعایت اور احسان ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اس حضرت انسان کے ساتھ ہوتا ہے جو کبھی منکر حق کے روپ میں آتا ہے اور کبھی سخت نافرمانی کرتا ہے ۔
ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے زیور علم سے آراستہ کیا ہے اور اس کی ذات کے اندر بےپناہ قوتیں ودیعت کی ہیں۔ اس کی ذات میں ہدایت اور ضلالت دونوں کی استعداد پیدا کی ہے ۔ اگر اس علم کو عقل کے تابع نہ کیا جائے تو اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے انسان کو علم کا ایک عظیم ہتھیار دیا ہے اور یہ کہ انسان کے انفس اور اس کے آفاق میں ہدایت اور قبول ایمان کے بیشمار دلائل موجود ہیں ۔ اللہ کو علم تھا کہ انسان کے پاس علم کا جو عظیم ہتھیا رہے اس کے مقابلے میں انسان کے اندر قوت شہوانیہ اور حیوانیہ بھی موجود ہے ۔ اور یہ عین ممکن ہے کہ انفس وآفاق کے اندر جو کثیر التعداد دلائل و شواہد پائے جاتے ہیں انہیں انسان کی خواہشات نفسانیہ دبالیں اور اس کی کو تاہیاں اور اس کی جہالت انہیں اس کی نظروں سے اوجھل کردیں ۔ انسان کیلئے ان دلائل پر تب ہی غور وفکر کرنا ممکن ہوگا جب اس کے پاس رسول بھیجے جائیں اور اسے بار بار یاددہانی کرائی جائے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے بیان کے بعد بھی انسان کے ذمے یہ بات نہیں ڈالی کہ وہ اپنے لئے کوئی نظام زندگی بنائے بلکہ اسے نظام زندگی بنا کردیا اور اس کا فرض یہ قرار دیا کہ وہ اس نظام کو دنیا میں نافذ کرے ۔ اس کے بعد اسے پھر اس دنیا میں آزاد چھوڑ دیا ۔ ان حدود وقیود کے بعد بھی اس کیلئے اس عظیم مملکت میں ایک وسیع دائرہ کار رہ گیا ۔ اسے اجازت دی گئی کہ وہ اس میں جو چاہے نئی نئی ایجادات کرے ۔ جو تغیرات چاہے کرے اور جو ترکیبات چاہے کرے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے جس طرح اس پوری کائنات کو مسخر کیا ہے اس سے پورا پورا فائدہ اٹھائے اس میں یہ انسان کبھی درست فیصلے کرے گا اور کبھی غلط کبھی وہ پھسلے گا اور کبھی صراط مستقیم پر رواہ دواں ہوگا ۔
یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اللہ کے ہاں انصاف کی کیا اہمیت ہے جسے اس آیت میں بیان کیا گیا ہے ۔ اگر رسول نہ بھیجے جاتے تو لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کے خلاف ایک حجت ہوتی ۔ لیکن اللہ نے رسول بھیجے جو لوگوں کو خوشخبری دیتے تھے اور انجام بد سے ڈراتے تھے ۔ حالانکہ اس کائنات میں اللہ کی ذات پر ایمان لانے کے تکوینی دلائل موجود تھے اور یہ کائنات سب کے سامنے کتاب مفتوح تھی ۔ نیز نفس انسنای بھی ایک کھلی کتاب کے طور پر انسان کے سامنے موجود تھا ۔ جس کے اندر کرد گار کے وجود پر بیشمار دلائل تھے ۔
جن سے اللہ کی وحدانیت کو اچھی طرح معلوم کیا جاسکتا تھا ۔ جن سے اللہ کی تقدیر ‘ اللہ کی تدبیر ‘ اللہ کی قدرت اور اس کے علم کے بارے میں اچھی طرح معلوم ہو سکتا تھا ۔ نیز فطرت انسانی کے اندر بھی ایک قوی اور حقیقی داعیہ موجود ہوتا ہے جس سے انسان کو اس کائنات کے خالق تک رسائی کا ایک نہایت پختہ شوق ملتا ہے اور اسے یقین ہوجاتا ہے کہ اس کا کوئی خالق ضرور ہے پھر اس فطرت اور دلائل کونیہ کے درمیان ایک قسم کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق اور مدیر موجود ہے پھر اللہ تعالیٰ نیانسان کو عقل عطا فرمائی تھی جو مشاہدات کے ذریعے نتائج اخذ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ انسان کی ان تمام قوتوں پر ضعف طاری ہوجاتا ہے ۔ کبھی کبھی یہ قوتیں معطل ہوجاتی ہیں ‘ کبھی یوں ہوتا ہے کہ بعض اثرات ان قوتوں کو بگاڑ دیتے ہیں۔ کبھی تو ان عقلی قوتوں کو مٹا دیا جاتا ہے ۔ کبھی عقل کے فیصلوں میں غلطی واقعہ ہوتی ہے اور عقل پریشان ہوجاتی ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس ڈیوٹی سے معاف کردیا کہ وہ اس کائنات کے دلائل و شواہد ہی سے راہ ہدایت حاصل کریں یا محض فطری دلائل سے اپنی عقل کے بل بوتے پر راہ حق پائیں ‘ جب تک ان کے پاس کوئی رسول نہیں آجاتا تاکہ یہ رسالت انسان کی ان تمام خوبیوں اور قوتوں کو ان تمام آلودگیوں سے پاک کر دے اور ان عقلی قوتوں کو ان ضوابط کے اندر لے آئے جو اللہ رسالت نے بھیجے ۔ انسان کی یہ تمام فطری قوتیں جب اسلامی منہاج فکر کے اندر منضبط ہوجاتی ہیں تو ان قوتوں کے ذمے اب صرف یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ وہ اس رسالت کا اقرار کریں اور اللہ کی بندگی کریں اور رسول کا اتباع کریں ۔ یا اگر وہ انکار کردیں تو پھر ان پر حجت تمام ہوجائے اور قیامت کے دن سزا کی مستوجب ہوجائیں ۔
پھر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے ۔ وہ ان کی کس قدر دیکھ بھال کرتا ہے اور ان کو اپنے فضل وکرم سے نوازتا ہے ان کو کس قدر مکرم اور مختار بناتا ہے ۔ اس کے باوجود کہ اسے علم سے کہ انسان خطا اور نقص کا پتلا ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ پرھ بھی اس جہان کو اس کے حوالے کردیتا ہے ۔ اسے خلیفہ فی الارض بناتا ہے ۔ حالانکہ یہ کائنات اس کی نسبت سے بہت ہی بڑی ہے ۔ اور اللہ تو بےنیاز ہے کہ اگر ایک ذرہ بھی اس کی اس عظیم کائنات میں ہے تو وہ ضائع نہیں ہو سکتا ۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
النساء 4:166
(آیت) ” نمبر 166۔
اہل کتاب اس آخری رسالت کا انکار کرتے ہیں ‘ حالانکہ یہ رسالت اللہ کی سنت کے عین مطابق ہے کہ اللہ تعالیٰ خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے رسولوں کو بھیجتے رہتے ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ہدایت دیں اور تاکہ لوگوں کے پاس قیامت کے دن کوئی حجت نہ رہے اور یہ کہ اہل کتاب حضرت محمد ﷺ سے قبل کے تمام رسل کو مانتے ہیں اور یہودی بھی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے قبل کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ سے پہلے کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں ۔ اگر باوجود ان حقائق کے یہ لوگ مان کر نہیں دیتے تو نہ سہی (مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ اے نبی جو کچھ اس نے تم پر نازل کیا ہے اپنے علم سے نازل کیا ہے اور اس پر ملائکہ بھی گواہ ہیں اگرچہ اللہ کا گواہ ہونا بالکل کفایت کرتا ہے ۔ )
اس آیت میں قرآن کی سچائی پر اللہ کی گواہی ہے ‘ اللہ کے بعد فرشتوں کی گواہی ہے اور ان فرشتوں میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس قرآن کو رسول ﷺ کریم پر اتارا ۔ ان دو گواہیوں سے وہ دعوی ساقط ہوجاتا ہے جو اہل کتاب کرتے ہیں ۔ اگر اللہ گواہی دیتا ہے تو ان لوگوں کے انکار کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔ اگر فرشتے گواہ ہیں تو انکا انکار چہ معنی دارد ۔ جبکہ اللہ کی شہادت ہی کفایت کرتی ہے ۔ اس شہادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دیدی کیونکہ یہودی انکار حق کے ساتھ ساتھ رات دن سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں بھی مصروف تھے ۔
نیز اس شہادت کی وجہ سے اہل اسلام کو اطمینان دلانا بھی مطلوب ہے تاکہ وہ اپنے موقف پر اچھی طرح جم جائیں یہ یقین دہانی انہیں اس دور میں کی گئی جب وہ مدینہ میں نووارد تھے ۔ اس دور میں مدینہ کے یہودیوں نے اسلام اور اہل اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کا ایک طوفان برپا کر رکھا تھا اور وہ مختلف طریقوں ‘ مختلف اسالیب سے اسلام کو ختم کرنے کے درپے تھے اور قرآن کریم نے بھی اس دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں اس کا بھرپور جواب دیا ۔
یہاں آکر اب منکرین حق کو ایک تہدید آمیز دھمکی دی جاتی ہے ۔ اور اللہ اور فرشتوں کی شہادت کے بعد اب دھمکی ہی ان کے خلاف مناسب انداز ہے اس لئے کہ اس شہادت کے باوجود لوگ ہٹ دھرمی اور روگردانی میں مبتلا تھے ۔
النساء 4:167
(آیت) ” نمبر 167 تا 169۔
یہ اوصاف اور یہ فیصلے ‘ باوجود اس کے کہ یہ عام ہیں ان کا اطلاق سب سے پہلے یہودیوں پر ہوتا ہے اور دین اسلام اور اس کے پیروکار ان کے ساتھ یہ موقف ان کا رہا ہے ۔ بلکہ یہودیوں نے ہر سچے دین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ۔ یہ یہودی وہ ہوں جو آغاز اسلام کے وقت مدینہ میں موجود تھے یا وہ ہوں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت موجود تھے یا ان کے بعد آج تک وہ کبھی موجود رہے ہوں یا وہ جو آج ہمارے دور میں موجود ہیں ‘ ان میں سے شاذونادر ہی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل اسلام کیلئے کھول دیئین تھے اور ہدایت سے سرفراز ہوئے ۔
یہ یہودی ہوں یا وہ لوگ ہوں ‘ جن پر بھی صفت کفر اور دین اسلام کی راہ روکنے کی صفت کا اطلاق ہوتا ہے وہ یقینا گمراہ ہوگئے ہیں اور راہ حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ‘ انہوں نے اس راہ کو بھلا دیا جس کی طرف اللہ نے ان کی راہنمائی کی تھی اور انہوں نے وہ رستہ ترک کردیا جو زندگی کا راہ مستقیم تھا ۔ وہ فکری ‘ تصوراتی اور اعتقادی لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ اپنے طرز عمل ‘ اپنے معاشرے اور اپنے اطوار کے لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ دنیا میں بھی گمراہ ہوگئے اور آخرت میں بھی گمراہ ہوگئے ۔ وہ اس قدر دور چلے گئے کہ انکی واپسی کی کوئی امید نہیں رہی ہے ۔ (آیت) ” ضلوا ضللا بعیدا “۔ (4 : 167) (وہ راہ حق سے بہت ہی دور نکل گئے ہیں)
(آیت) ” ان الذین کفروا وظلموا “۔ (4 : 168) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کرنے لگے ۔ “ کفر بذات خود ظلم ہے ۔ یہ حق کے ساتھ ظلم ہے ۔ یہ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور تمام لوگوں کے ساتھ ظلم ہے ۔ قرآن کریم بعض اوقات کفر پر ظلم کا اطلاق بھی کرتا ہے ۔ مثلا (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم) ” بیشک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔ “ اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون “ ۔ (جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ ظالم ہیں ۔ “ اس آیت سے پہلی آیت میں ایسے لوگوں کے بارے میں کہہ دیا گیا تھا کہ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں ۔ (اس کے بارے میں تفصیلی بحث اس پارے کی سورة مائدہ میں ہوگی) ان لوگوں نے صرف شرک کے ظلم ہی کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ انہوں نے اللہ کی راہ روکنے کا ارتکاب بھی کیا ۔ اس طرح گویا یہ لوگ کفر میں بہت ہی دور نکل گئے یا ظلم میں حدوں سے نکل گئے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کیلئے اخروی سزا بھی مقرر فرما دیتے ہیں ۔
(آیت) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ قد ضلوا ضللا بعیدا (167) ان الذین کفروا وظلموا لم یکن اللہ لیغفرلھم ولا لیھدیھم طریقا (168) الا طریق جھنم خلدین فیھا ابداء وکان ذلک علی اللہ یسیرا (169)
جو لوگ ان کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں وہ یقینا گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں نے کفر وبغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم پر اتر آئے اللہ انکو ہر گز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ ۔ بجز جہنم کے راستہ کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “
اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو بخش دے ‘ جبکہ وہ بہت ہی دور نکل گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اوپر خود رحمت ومغفرت کے دروازے بند کرلیے ہیں ۔ اب اللہ کی شان کے یہ لائق نہیں ہے کہ جہنم کی راہ کے سوا انہیں کسی اور راستے کی طرف راہنمائی کرے ۔ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنے لئے ہدایت کے تمام راستے بند کرلیے ہیں اور انہوں نے ان تمام راستوں میں رکاوٹیں خود قائم کرلی ہیں اور صرف اپنے لئے جہنم کی راہ کھلی رکھی ہے ۔ اور جہنم کی راہپر بھی وہ بہت دور نکل گئے ہیں اور اس راہ کے اب وہ دائمی مسافر بن گئے ہیں ۔ یہ لوگ اسی پر چلتے رہیں گے اس لیے کہ انہوں نے کفر ‘ ظلم اور اللہ کی راہ کو روکنے کو اپنا مستقل مشغلہ بنا رکھا ہے اور ان سے اب صرف یہی توقع ہے کہ یہ لوگ صرف اسی راستے پر آگے جائیں گے ۔
(آیت) ” وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 169) ” اور اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے “۔ وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے ۔ اس کے اور اس کے بندوں میں سے کسی کے درمیان نہ نسب ہے اور نہ رشتہ داری ہے۔ اس کے لئے سب کو سزا دینا بہت ہی آسان ہے ۔ کسی بندے کے پاس اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی قوت ہے اور نہ کوئی تدبیر ‘ جس کے ذریعہ وہ اللہ کیلئے کوئی مشکلات پیدا کرسکے ۔
یہودی بھی عیسائیوں کی طرح یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں ۔ اور وہ یہ بھی کہتے تھے (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودات) ” ہمیں آگ نہیں چھوئے گی مگر چند گنے چنے دن “ اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم اللہ کی پسندیدہ قوم ہیں ۔ جب قرآن نازل ہوا تو اس نے ان تمام باتوں کی نفی کردی ۔ اور ہر کسی کو اپنے مقام پر کھڑا کردیا کہ سب بندے ہیں اگر انہوں نے اچھے کام کئے تو اس پر انہیں ثواب ملے گا اور اگر انہوں نے برے کام کئے اور توبہ و استغفار کا موقعہ نہ ملا تو انہیں عذاب دیا جائے گا اور یہ کام اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔
ان تصریحات کے بعد یہاں آکر پوری انسانیت کو دعوت عام دی جاتی ہے کہ یہ رسول تمہارے پاس ایک سچائی لیکر آیا ہے ۔ اگر اس پر کوئی ایمان لائے گا تو یہ خود اس کیلئے ایک قسم کی بھلائی ہوگی اور جو شخص کفر اختیار کرے گا تو اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہ ہوگا ۔ وہ تو سب سے مستغنی ہے ۔ اس کی قدرت سب پر حاوی ہے ۔ اور زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے ‘ اسی کیلئے ہے ۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمام معاملات کو اپنے علم اور حکمت کے مطابق چلاتا ہے ۔
النساء 4:168
(آیت) ” نمبر 167 تا 169۔
یہ اوصاف اور یہ فیصلے ‘ باوجود اس کے کہ یہ عام ہیں ان کا اطلاق سب سے پہلے یہودیوں پر ہوتا ہے اور دین اسلام اور اس کے پیروکار ان کے ساتھ یہ موقف ان کا رہا ہے ۔ بلکہ یہودیوں نے ہر سچے دین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ۔ یہ یہودی وہ ہوں جو آغاز اسلام کے وقت مدینہ میں موجود تھے یا وہ ہوں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت موجود تھے یا ان کے بعد آج تک وہ کبھی موجود رہے ہوں یا وہ جو آج ہمارے دور میں موجود ہیں ‘ ان میں سے شاذونادر ہی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل اسلام کیلئے کھول دیئین تھے اور ہدایت سے سرفراز ہوئے ۔
یہ یہودی ہوں یا وہ لوگ ہوں ‘ جن پر بھی صفت کفر اور دین اسلام کی راہ روکنے کی صفت کا اطلاق ہوتا ہے وہ یقینا گمراہ ہوگئے ہیں اور راہ حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ‘ انہوں نے اس راہ کو بھلا دیا جس کی طرف اللہ نے ان کی راہنمائی کی تھی اور انہوں نے وہ رستہ ترک کردیا جو زندگی کا راہ مستقیم تھا ۔ وہ فکری ‘ تصوراتی اور اعتقادی لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ اپنے طرز عمل ‘ اپنے معاشرے اور اپنے اطوار کے لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ دنیا میں بھی گمراہ ہوگئے اور آخرت میں بھی گمراہ ہوگئے ۔ وہ اس قدر دور چلے گئے کہ انکی واپسی کی کوئی امید نہیں رہی ہے ۔ (آیت) ” ضلوا ضللا بعیدا “۔ (4 : 167) (وہ راہ حق سے بہت ہی دور نکل گئے ہیں)
(آیت) ” ان الذین کفروا وظلموا “۔ (4 : 168) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کرنے لگے ۔ “ کفر بذات خود ظلم ہے ۔ یہ حق کے ساتھ ظلم ہے ۔ یہ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور تمام لوگوں کے ساتھ ظلم ہے ۔ قرآن کریم بعض اوقات کفر پر ظلم کا اطلاق بھی کرتا ہے ۔ مثلا (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم) ” بیشک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔ “ اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون “ ۔ (جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ ظالم ہیں ۔ “ اس آیت سے پہلی آیت میں ایسے لوگوں کے بارے میں کہہ دیا گیا تھا کہ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں ۔ (اس کے بارے میں تفصیلی بحث اس پارے کی سورة مائدہ میں ہوگی) ان لوگوں نے صرف شرک کے ظلم ہی کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ انہوں نے اللہ کی راہ روکنے کا ارتکاب بھی کیا ۔ اس طرح گویا یہ لوگ کفر میں بہت ہی دور نکل گئے یا ظلم میں حدوں سے نکل گئے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کیلئے اخروی سزا بھی مقرر فرما دیتے ہیں ۔
(آیت) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ قد ضلوا ضللا بعیدا (167) ان الذین کفروا وظلموا لم یکن اللہ لیغفرلھم ولا لیھدیھم طریقا (168) الا طریق جھنم خلدین فیھا ابداء وکان ذلک علی اللہ یسیرا (169)
جو لوگ ان کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں وہ یقینا گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں نے کفر وبغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم پر اتر آئے اللہ انکو ہر گز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ ۔ بجز جہنم کے راستہ کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “
اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو بخش دے ‘ جبکہ وہ بہت ہی دور نکل گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اوپر خود رحمت ومغفرت کے دروازے بند کرلیے ہیں ۔ اب اللہ کی شان کے یہ لائق نہیں ہے کہ جہنم کی راہ کے سوا انہیں کسی اور راستے کی طرف راہنمائی کرے ۔ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنے لئے ہدایت کے تمام راستے بند کرلیے ہیں اور انہوں نے ان تمام راستوں میں رکاوٹیں خود قائم کرلی ہیں اور صرف اپنے لئے جہنم کی راہ کھلی رکھی ہے ۔ اور جہنم کی راہپر بھی وہ بہت دور نکل گئے ہیں اور اس راہ کے اب وہ دائمی مسافر بن گئے ہیں ۔ یہ لوگ اسی پر چلتے رہیں گے اس لیے کہ انہوں نے کفر ‘ ظلم اور اللہ کی راہ کو روکنے کو اپنا مستقل مشغلہ بنا رکھا ہے اور ان سے اب صرف یہی توقع ہے کہ یہ لوگ صرف اسی راستے پر آگے جائیں گے ۔
(آیت) ” وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 169) ” اور اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے “۔ وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے ۔ اس کے اور اس کے بندوں میں سے کسی کے درمیان نہ نسب ہے اور نہ رشتہ داری ہے۔ اس کے لئے سب کو سزا دینا بہت ہی آسان ہے ۔ کسی بندے کے پاس اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی قوت ہے اور نہ کوئی تدبیر ‘ جس کے ذریعہ وہ اللہ کیلئے کوئی مشکلات پیدا کرسکے ۔
یہودی بھی عیسائیوں کی طرح یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں ۔ اور وہ یہ بھی کہتے تھے (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودات) ” ہمیں آگ نہیں چھوئے گی مگر چند گنے چنے دن “ اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم اللہ کی پسندیدہ قوم ہیں ۔ جب قرآن نازل ہوا تو اس نے ان تمام باتوں کی نفی کردی ۔ اور ہر کسی کو اپنے مقام پر کھڑا کردیا کہ سب بندے ہیں اگر انہوں نے اچھے کام کئے تو اس پر انہیں ثواب ملے گا اور اگر انہوں نے برے کام کئے اور توبہ و استغفار کا موقعہ نہ ملا تو انہیں عذاب دیا جائے گا اور یہ کام اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔
ان تصریحات کے بعد یہاں آکر پوری انسانیت کو دعوت عام دی جاتی ہے کہ یہ رسول تمہارے پاس ایک سچائی لیکر آیا ہے ۔ اگر اس پر کوئی ایمان لائے گا تو یہ خود اس کیلئے ایک قسم کی بھلائی ہوگی اور جو شخص کفر اختیار کرے گا تو اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہ ہوگا ۔ وہ تو سب سے مستغنی ہے ۔ اس کی قدرت سب پر حاوی ہے ۔ اور زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے ‘ اسی کیلئے ہے ۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمام معاملات کو اپنے علم اور حکمت کے مطابق چلاتا ہے ۔
النساء 4:169
(آیت) ” نمبر 167 تا 169۔
یہ اوصاف اور یہ فیصلے ‘ باوجود اس کے کہ یہ عام ہیں ان کا اطلاق سب سے پہلے یہودیوں پر ہوتا ہے اور دین اسلام اور اس کے پیروکار ان کے ساتھ یہ موقف ان کا رہا ہے ۔ بلکہ یہودیوں نے ہر سچے دین کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا ۔ یہ یہودی وہ ہوں جو آغاز اسلام کے وقت مدینہ میں موجود تھے یا وہ ہوں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت موجود تھے یا ان کے بعد آج تک وہ کبھی موجود رہے ہوں یا وہ جو آج ہمارے دور میں موجود ہیں ‘ ان میں سے شاذونادر ہی ایسے لوگ گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دل اسلام کیلئے کھول دیئین تھے اور ہدایت سے سرفراز ہوئے ۔
یہ یہودی ہوں یا وہ لوگ ہوں ‘ جن پر بھی صفت کفر اور دین اسلام کی راہ روکنے کی صفت کا اطلاق ہوتا ہے وہ یقینا گمراہ ہوگئے ہیں اور راہ حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ‘ انہوں نے اس راہ کو بھلا دیا جس کی طرف اللہ نے ان کی راہنمائی کی تھی اور انہوں نے وہ رستہ ترک کردیا جو زندگی کا راہ مستقیم تھا ۔ وہ فکری ‘ تصوراتی اور اعتقادی لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ اپنے طرز عمل ‘ اپنے معاشرے اور اپنے اطوار کے لحاظ سے گمراہ ہوگئے ۔ وہ دنیا میں بھی گمراہ ہوگئے اور آخرت میں بھی گمراہ ہوگئے ۔ وہ اس قدر دور چلے گئے کہ انکی واپسی کی کوئی امید نہیں رہی ہے ۔ (آیت) ” ضلوا ضللا بعیدا “۔ (4 : 167) (وہ راہ حق سے بہت ہی دور نکل گئے ہیں)
(آیت) ” ان الذین کفروا وظلموا “۔ (4 : 168) ” جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کرنے لگے ۔ “ کفر بذات خود ظلم ہے ۔ یہ حق کے ساتھ ظلم ہے ۔ یہ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور تمام لوگوں کے ساتھ ظلم ہے ۔ قرآن کریم بعض اوقات کفر پر ظلم کا اطلاق بھی کرتا ہے ۔ مثلا (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم) ” بیشک شرک ایک بہت بڑا ظلم ہے ۔ “ اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون “ ۔ (جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ ظالم ہیں ۔ “ اس آیت سے پہلی آیت میں ایسے لوگوں کے بارے میں کہہ دیا گیا تھا کہ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں ۔ (اس کے بارے میں تفصیلی بحث اس پارے کی سورة مائدہ میں ہوگی) ان لوگوں نے صرف شرک کے ظلم ہی کا ارتکاب نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ انہوں نے اللہ کی راہ روکنے کا ارتکاب بھی کیا ۔ اس طرح گویا یہ لوگ کفر میں بہت ہی دور نکل گئے یا ظلم میں حدوں سے نکل گئے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کیلئے اخروی سزا بھی مقرر فرما دیتے ہیں ۔
(آیت) ” ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ قد ضلوا ضللا بعیدا (167) ان الذین کفروا وظلموا لم یکن اللہ لیغفرلھم ولا لیھدیھم طریقا (168) الا طریق جھنم خلدین فیھا ابداء وکان ذلک علی اللہ یسیرا (169)
جو لوگ ان کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں وہ یقینا گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں ۔ اسی طرح جن لوگوں نے کفر وبغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم پر اتر آئے اللہ انکو ہر گز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ ۔ بجز جہنم کے راستہ کے نہ دکھائے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ “
اللہ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کو بخش دے ‘ جبکہ وہ بہت ہی دور نکل گئے ہیں اور انہوں نے اپنے اوپر خود رحمت ومغفرت کے دروازے بند کرلیے ہیں ۔ اب اللہ کی شان کے یہ لائق نہیں ہے کہ جہنم کی راہ کے سوا انہیں کسی اور راستے کی طرف راہنمائی کرے ۔ اس لئے کہ انہوں نے خود اپنے لئے ہدایت کے تمام راستے بند کرلیے ہیں اور انہوں نے ان تمام راستوں میں رکاوٹیں خود قائم کرلی ہیں اور صرف اپنے لئے جہنم کی راہ کھلی رکھی ہے ۔ اور جہنم کی راہپر بھی وہ بہت دور نکل گئے ہیں اور اس راہ کے اب وہ دائمی مسافر بن گئے ہیں ۔ یہ لوگ اسی پر چلتے رہیں گے اس لیے کہ انہوں نے کفر ‘ ظلم اور اللہ کی راہ کو روکنے کو اپنا مستقل مشغلہ بنا رکھا ہے اور ان سے اب صرف یہی توقع ہے کہ یہ لوگ صرف اسی راستے پر آگے جائیں گے ۔
(آیت) ” وکان ذلک علی اللہ یسیرا “۔ (4 : 169) ” اور اللہ کیلئے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے “۔ وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے ۔ اس کے اور اس کے بندوں میں سے کسی کے درمیان نہ نسب ہے اور نہ رشتہ داری ہے۔ اس کے لئے سب کو سزا دینا بہت ہی آسان ہے ۔ کسی بندے کے پاس اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی قوت ہے اور نہ کوئی تدبیر ‘ جس کے ذریعہ وہ اللہ کیلئے کوئی مشکلات پیدا کرسکے ۔
یہودی بھی عیسائیوں کی طرح یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں ۔ اور وہ یہ بھی کہتے تھے (آیت) ” لن تمسنا النار الا ایاما معدودات) ” ہمیں آگ نہیں چھوئے گی مگر چند گنے چنے دن “ اور وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم اللہ کی پسندیدہ قوم ہیں ۔ جب قرآن نازل ہوا تو اس نے ان تمام باتوں کی نفی کردی ۔ اور ہر کسی کو اپنے مقام پر کھڑا کردیا کہ سب بندے ہیں اگر انہوں نے اچھے کام کئے تو اس پر انہیں ثواب ملے گا اور اگر انہوں نے برے کام کئے اور توبہ و استغفار کا موقعہ نہ ملا تو انہیں عذاب دیا جائے گا اور یہ کام اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔
ان تصریحات کے بعد یہاں آکر پوری انسانیت کو دعوت عام دی جاتی ہے کہ یہ رسول تمہارے پاس ایک سچائی لیکر آیا ہے ۔ اگر اس پر کوئی ایمان لائے گا تو یہ خود اس کیلئے ایک قسم کی بھلائی ہوگی اور جو شخص کفر اختیار کرے گا تو اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہ ہوگا ۔ وہ تو سب سے مستغنی ہے ۔ اس کی قدرت سب پر حاوی ہے ۔ اور زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے ‘ اسی کیلئے ہے ۔ وہ ہر چیز کو جانتا ہے اور تمام معاملات کو اپنے علم اور حکمت کے مطابق چلاتا ہے ۔
النساء 4:170
(آیت) ” نمبر 170۔
اس دعوت عامہ سے پہلے ‘ اہل کتاب کی تمام افترا بازیوں کا رد کیا گیا تھا اور یہودیوں کی فطرت اور ان کے منکرات اور ان کی تاریخی بداعمالیوں کا تذکرہ کیا گیا تھا اور یہ بتایا تھا کہ یہ لوگ ہمیشہ ہٹ دھرم رہے ہیں ۔ انہوں نے یہی سلوک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بھی کیا حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے قائد عظیم نبی اور ان کے نجات دہندہ تھے ۔ نیز اس دعوت عامہ سے قبل اللہ تعالیٰ نے رسالت کی حقیقت بھی بیان کردی تھی اور یہ بھی بتادیا تھا کہ رسالت کے مقاصد کیا ہوتے ہیں ۔ ان مقاصد کیلئے رسولوں کا بھیجنا ضروری تھا اور یہ بھی ضروری تھا کہ سب سے آخر میں حضرت محمد ﷺ کو بھیجا جائے اس لئے کہ یہ آخری نبی تمام جہانوں کیلئے ہے ۔ آپ کی دعوت “ کافۃ للناس ‘ ہے جبکہ آپ سے قبل جتنے رسول آئے تھے وہ اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے تھے ۔ لیکن جب سلسلہ رسالت کا خاتمہ طے ہوا تو ضروری تھا کہ خاتم النبین تمام دنیاکیلئے پیغام لانے والے ہوں ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (4 : 165) ” تاکہ رسولوں کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے۔ “ اگر حضرت محمد ﷺ کی رسالت عام نہ ہوتی اور اس کا اطلاق پوری دنیا کے لوگوں پر نہ ہوتا تو آپ کے بعد جو لوگ اور جو اقوام آتیں ‘ قیامت تک کیلئے ان پر حجت تمام نہ ہوتی بلکہ ان کے ہاتھ اللہ کے خلاف یہ حجت آجاتی کہ ان تک تو کوئی رسول سرے سے بھیجا ہی نہیں گیا ۔ اس لئے حضور اکرم ﷺ کی رسالت کو تمام لوگوں اور تمام زمانوں کیلئے عام کر کے اور آخری رسالت قرار دے کر اس حجت کو تمام کردیا گیا ۔ چناچہ یہ بات کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا یا یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اللہ تعالیٰ کی صفت عدل و انصاف کے خلاف ہوگا ۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول بھیجنے کے بغیر ہی لوگوں کو جزا وسزا دین ۔ یہ بات ناقابل انکار ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے قبل کسی نبی اور رسول کی رسالت رسالت عامہ نہ تھی اس لئے رسالت عامہ کی ضرورت تھی ۔ یہ رسالت عامہ اللہ کی صفت عدل اور لوگوں کے ساتھ اس کی رحمت کا تقاضا تھی اور اللہ کی یہ بات سچ تھی کہ ہم نے آپکو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے ۔ آپ اس دنیا میں بھی رحمت تھے اور آخرت میں بھی رحمت ہوں گے ۔ جیسا کہ اس آیت کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے ۔
درس نمبر 44 ایک نظر میں :
اس سبق میں اہل کتاب میں سے نصاری کے ساتھ ایک راؤنڈ ہے جیسا کہ اس سے پہلے سبق میں یہودیوں کو لیا گیا تھا بہرحالت روئے سخن دونوں فرقوں کی طرف ہے جو مسیح اور مریم کے بارے میں افراط وتفریط میں مبتلا تھے ۔
اس سے پہلے سبق میں قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کی جانب سے یہودیوں کی خرافات کا جواب دیا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب پر چڑھانے کے بارے میں صحیح صورت حال بیان کی تھی ۔ یہودیوں ‘ انکے اقوال و عقائد اور ان کی ہٹ دھرمی کے مقابلے میں سچائی کی مدافعت کی گئی تھی۔
اس سبق میں بھی موضوع سخن سچائی ہے اور روئے سخن خود نصاری کی طرف ہے کہ وہ خود بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں اور یہ کہ بعض اقوام کے اندر نصرانیت کے سادہ عقائد کے ساتھ ساتھ بت پرستی بھی انکے نظریات کا جزوبن گئی تھی ۔ جس وقت ان اقوام نے عیسائیت کو قبول کیا اور مضبوط تعلقات قائم ہوگئے تو خصوصا یونانی دیومالائی تصورات اور رومی قصے اور کہانیاں اور قدیم مصریوں کی توہم پرستی اور ہندوؤں کی بت پرستی وغیرہ انکے عقائد میں داخل ہوگئے ۔
قرآن کریم جس وقت نازل ہوا ‘ اس وقت اہل کتاب کے عقائد میں بےحد تحریفات ہوگئی تھیں ۔ انکے عقائد کے اندر جو دیومالائی قصے داخل ہوگئے تھے قرآن کریم نے ان کا بطلان کیا اور انکے تمام منحرف عقائد کی نشاند ہی کی ۔ اسی طرح دین ابراہیم (علیہ السلام) پر جو لوگ قائم تھے اور جو اپنے آپ کو دین حنیف پر سمجھتے تھے ‘ ان کے عقائد کے اندر بھی گہرا انحراف پیدا ہوگیا اور ان کے تصورات میں بھی قصے ‘ کہانیاں اور جاہلیت کے باطل طور طریقے داخل ہوگئے تھے ۔ یہ لوگ بھی جزیرۃ العرب میں موجود تھے ۔
اسلام اس لئے آیا کہ تمام انسانوں کیلئے ‘ انکے الہ کے بارے میں ان کے عقائد درست کر دے اور انسانوں کو ہر قسم کے انحراف اور خلل سے نجات دلائے ۔ عقائد کے اندر ہر قسم کے غلو اور افراط وتفریط کو ختم کر دے اور فکر انسانی کو سیدھی راہ پر ڈال دے ۔ اس طرح اسلام نے ارسطو کے تصور توحید میں اصلاح کی جو اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے یونان میں پیش کیا تھا ۔ اسی طرح اسکندریہ میں افلاطون نے ولادت مسیح کے بعد جو افکار پیش کئے ان میں بھی اصلاح کی ۔ نیز ان دونوں کے بعد الہیات کے میدان میں جو افکار بھی نام نہاد بڑے دماغوں نے پیش کئے وہ سب کے سب گمراہی اور مخبوط الحواسی کی واضح مثال تھے ۔ یہ انسانی عقل کا نتیجہ تھا اور یہ تمام افکار اس بات کے محتاج تھے کہ اللہ کی جانب سے ارسال کردہ پیغام ان کی راہنمائی کرے اور ان گم کردہ راہ لوگوں کو سراب سے نکالے ۔
یہاں جو مسئلہ پیش کیا جاتا ہے وہ تثلیت کا مسئلہ ہے ‘ جس میں عیسائیوں نے یہ کہانی گھڑی تھی کہ حضرت مسیح خدا کے بیٹے ہیں ‘ اس غلط عقیدے کی تردید کرکے درست اور سیدھے طریقے سے عقیدے توحید کو سمجھایا گیا ۔
جس وقت اسلام آیا اس وقت عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے درمیان جو عقیدہ رائج تھا وہ یہ تھا کہ اللہ اقانیم ثلاثہ کے کے اندر ایک ہے ۔ باپ ‘ بیٹا اور روح القدس ۔ ان تینوں میں سے مسیح بیٹا تھا ۔ اس کے بعد مسیح کے بارے میں انکے مذاہب ومکاتب فکر مختلف تھے ۔ آیا وہ لاہوتی طبیعت رکھتے تھے یا ناسوتی طبیعت کے مالک تھے یا دونوں کا امتزاج تھے ۔ پھر ان کی اپنی حیثیت اختلاف طبعی کے باوجود ایک تھی یا مختلف حیثیات تھیں یا یہ کہ باپ کی طرح قدیم تھے یا نہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ان اختلافی مذاہب فکر کے درمیان پھر تصادم بھی ہوتے رہے اور ایک دوسرے پر سخت مظالم بھی کئے گئے ۔ (اس کی تفصیلات اس سورة میں تشریح آیات کے وقت دی جائیں گی) تاریخی تحقیقات اس بات کی مظہر ہیں کہ عقیدہ تثلیث ‘ عقیدہ انبیت مسیح عقیدہ الوہیت مریم ‘ اور تثلیث کی متعدد شکلوں میں مریم کی شمولیت وغیرہ پہ تمام عقائد ابتدائی مسیحیت کا حصہ نہ تھے ۔ یہ عقائد تاریخ کے مختلف ادوار میں مسیحیت میں داخل ہوتے رہے ہیں اور مختلف بت پرست اقوام فوج در فوج مسیحیت میں داخل ہوتی رہیں اور بت پرستی ساتھ لاتی رہیں اس لئے کہ قبول عیسائیت کے ساتھ ان کی نظریاتی تطہیر نہ ہوسکی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تثلیث مصر کے بعض قدیم مذاہب سے لی گئی ہے مثلا ان میں ” اور زوریس ‘ ایزلیس اور حوریس “ اور ان مذاہب میں دوسری متعدد تثلیثات اس عقیدے کا ماخذ ہیں ۔
نصاری میں بھی عقیدہ توحید کے حامل فرقے ہمیشہ رہے ہیں اور پوری تاریخ مسیحیت میں ان موحدین پر سخت مظالم ہوتے رہے ہیں ۔ خصوصا رومی کلیسیا کی طرف سے اور ان لوگوں نے جیسا کہ ہمیشہ اہل توحید کا شیوہ رہا ہے ‘ ان مظالم کا بےجگری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ یہ مقابلہ کیا ۔ یہ مظالم چھٹی صدی عیسوی تک مختلف سوسائیٹوں کی طرف سے ہوتے رہے جو حکومت کی حامی تھیں ۔ ان موحدین پر جو مظالم ڈھائے گئے ان قتل عام ‘ جلاوطنی اور تمام دوسرے مظالم شامل تھے ۔
آج تک نصاری کے عقلمند لوگوں کے ذہنوں میں عقیدہ تثلیث کے بارے میں ایک شدید خلجان موجود ہے ۔ اور اہل کنیسہ اسے مختلف طریقوں سے لوگوں کے ذہنوں میں بٹھاتے ہیں اور ان کا آخری حربہ یہ ہے کہ یہ لوگ اسے یکے از مجہولات قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ ان کا صحیح انکشاف اس وقت ہوگا جب زمین و آسمان کے تمام راز کھول دیئے جائیں گے ۔
رسالہ ” اصول وقوع “ کے مدیر مسٹر پیٹر جو عقیدہ تثلیث کے شارحین میں سے ممتاز شخص ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ ” ہم نے اپنی عقل کی حدود کی حد تک اس کو یوں ہی سمجھا ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں ہم اس عقیدے کو اچھی طرح سمجھ سکیں جب اللہ تعالیٰ گے جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے رازوں سے پردہ اٹھائیں گے ۔ “ (دیکھئے نصرانیت پہ معاملات ابوزہرہ)
النساء 4:171
(آیت) ” نمبر : 171۔
نصرانیوں کا عقیدہ تثلیث غلو فی الدین ‘ حدود سے تجاوز اور حق سے روگردانی ہے اس لئے اہل کتاب کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کے بارے میں وہی کچھ کہیں جو حق ہو ‘ مثلا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی بیٹا ہے یا یہ کہ وہ تین میں سے ایک ہے ۔
ان کے ہاں نظریہ تثلیث مختلف ادوار کے اندر ان کی فکری اتار چڑھاؤ کے مطابق بدلتا رہا ہے ۔ لیکن اللہ کی طرف بیٹے کی نسبت کرکے انسان کی فطری ناپسندیدگی کی وجہ سے اور دور جدید کی عقلیت پسندی کی وجہ سے وہ اس ابنیت کی تشریح اس طرح کرتے ہیں کہ اس بیٹے کی ولادت اس طرح نہیں ہوئی جس طرح عام بشر کی ولادت ہوتی ہے بلکہ اس کی حقیقت اس طرح ہے جس طرح باپ کو بیٹے سے محبت ہوتی ہے اور تین میں سے ایک کی تشریح وہ اس طرح کرتے ہیں جس طرح ایک کی تین صفات ہوتی ہیں ۔ اگرچہ آج تک وہ ان ناقابل فہم اور متضاد تصورات کو انسانی فہم وادراک کے اندر داخل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ۔ آخر کار انہوں نے یہ قرار دیا ہے کہ وہ غیبی معمے ہیں اور ان کی حقیقت کا ادراک اس وقت ہوگا جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے رازوں سے پردہ اٹھائیں گے ۔
اللہ کی ذات شرکت اور مشابہت سے پاک ہے اور یہ عقیدہ کہ اللہ تعالیٰ خالق ہے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کی ذات اپنی مخلوق سے علیحدہ ذات ہو۔ خالق اور مخلوق کے درمیان جدائی اور مالک اور مملوک کے درمیان علیحدگی ایک قابل فہم تصور ہے جس کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے ۔
(آیت) ” انما اللہ الہ واحد سبحنہ ان یکون لہ ولد لہ ما فی السموت والارض “۔ (4 : 171) (اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے ۔ وہ پاک ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو ۔ زمین و آسمان کی ساری چیزین اس کی ملک ہیں)
اگر لوگوں کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا بن باپ پیدا ہوجانا عجیب لگتا ہے اور وہ اس دنیا میں رات دن جو کچھ دیکھتے ہیں ‘ اس کے خلاف لگتا ہے تو یہ تعجب اس لئے ہوتا ہے کہ یہ واقعہ معروف اور متعاد طریقہ کار سے ذرا ہٹ کر ہے ۔ لیکن لوگ جس چیز کو روز دیکھتے ہیں وہ بھی پوری حقیقت نہیں ہے اور انکے سامنے یہ کائنات جن قوانین کے مطابق چل رہی ہے اللہ کی پوری سنت ان کے اندر محدود نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو ان سنتوں اور قوانین کا خالق ہے۔ وہ ان کو دہراتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے ان میں تصرف بھی کرسکتا ہے ۔ اس کی مشیت پر کوئی حد اور قید عائد نہیں ہے ۔
(آیت) ” انما المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وکلمتہ القھا الی مریم وروح منہ (4 : 171) (مسیح عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف سے (جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی)
مختصرا یہ کہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور انکی پوزیشن اور دوسرے رسولوں کی پوزیشن میں کچھ فرق و امتیاز نہیں ہے ۔ وہ وہی حیثیت رکھتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کی ہے اور وہ اسی برگزیدہ گروہ اور مختاران برائے منصب رسالت میں سے ایک ہیں جو انسانی تاریخ کے طویل ترین دور میں وقتا فوقتا مبعوث ہوتے رہے ۔
(آیت) ” وکلمتہ القھا الی مریم “۔ (4 : 171) (ایک فرمان تھا جو مریم کی طرف بھیجا “ قریب الفہم تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو براہ راست اپنے فرمان سے پیدا کیا ۔ اس تکوینی حکم اور فرمان کے لئے قرآن کن فیکون کے الفاظ استعمال کرتا ہے ۔ اللہ نے مریم کی طرف یہ حکم متوجہ کیا اور اس کے بطن میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تخلیق ہوگئی اور یہ کسی باپ کے نطفے کے بغیر ہوئی ۔ یعنی اس طرح نہ ہوئی جس طرح انسان کی عمومی زندگی کی روٹین میں ہوتا ہے اور اللہ کا یہ فرمان اور یہ کلمہ وہ ہے جو ہر چیز کو عدم سے وجود میں لایا ہے ۔ اس لئے یہ کوئی تعجب انگیز بات نہیں ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بطن مریم میں اپنے حکم اور نفخ روح سے پیدا کردیں ۔ (آیت) ” وروح منہ) ” وہ اللہ کی طرف سے ایک روح تھی۔ “
تمام کتب سماوی کے ماننے والے اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ نے آدم کو مٹی سے بنایا اور بنانے کے بعد اس میں روح پھونکی ۔ اس طرح وہ انسان کی شکل اختیار کر گئے ۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔
(آیت) ” اذ قال ربک للملئکۃ انی خالق بشرا من طین (71) فاذا سویتہ ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین (72) (38 آیت 72۔ 72) (جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا : ” میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں ‘ پھر جب میں اسے پوری طرح بنا دوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدے میں گر جاؤ) اور یہی بات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں فرمائی ۔
(آیت) ” والتی احصنت فرجھا فنفخنا فیھا من روحنا “۔ (21 : 91) ” اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی ۔ ہم نے اس کے اندر اپنی روح سے پھونکا “۔ اس لئے قرآن مجید کے مطابق مریم کے اندر جو روح پھونکی گئی اور اس کی جو تعبیر قرآن نے کی ویسی ہی تعبیر حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں بھی کی ہے ۔ اور دونوں جگہ نفخ روح کا ذکر ہے اور اہل کتاب میں سے کوئی اس بات کا قائم نہیں ہے کہ حضرت آدم ابن اللہ ہیں حالانکہ وہ سب تخلیق آدم کی کہانی اور آدم میں نفخ روح کے قائل ہیں ۔ نہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ آدم اقانیم الہیہ میں سے کوئی اقنوم ہیں ۔ جس طرح وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں قائل ہیں ۔ حالانکہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان تخلیق اور نفخ روح کے لحاظ سے مکمل مشابہت پائی جاتی ہے ۔ بلکہ آدم (علیہ السلام) بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا ہوئے تھے جبکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے کیس میں بالاتفاق ماں تو موجود تھی۔ یہی حقیقت قرآن کریم دوسری جگہ پیش کرتا ہے ۔
(آیت) ” ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون “ (3 : 58) ” اللہ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہوجاؤ اور وہ گیا “۔ انسان اس بات پر متعجب ہوتا ہے کہ ذاتی خواہشات اور بت پرستی کے غلط افکار نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے نہایت ہی سادہ اور قابل فہم مسئلے کو کس قدر چیستان بنا دیا ہے ۔ جس نے صدیوں تک کئی نسلوں کے ذہن کو پریشان کئے رکھا ۔ لیکن جب قرآن آتا ہے تو وہ بڑی سادگی کے ساتھ ایک چٹکی سے اس مسئلے کو حل کردیتا ہے ۔ اور اصل حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے ۔
جو ذات باری حضرت آدم (علیہ السلام) کو بغیر والدین کے پیدا کرکے اسے روح دے سکتی ہے اور اسے تمام مخلوقات میں سے ممتاز اور برتر بنا سکتی ہے تو وہی ذات ہے جس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بن باپ پیدا کردیا اور یہ تمہیں کیوں حیرت انگیز نظر آتا ہے ۔ یہ بھی زندگی ہے اور وہ بھی زندگی ہے ۔ اور اللہ کا یہ کلام نہایت ہی واضح اور سادہ اور قابل فہم ہے ۔ بہ نسبت ان چیستانوں کے جو عیسائیوں کے ہاں رائج ہوئے اور ان کی انتہا الوہیت مسیح کی قرار داد پر ہوئی ۔ اس نتیجے تک وہ محض اس لئے پہنچے کہ ان کا کوئی باپ نہ تھا ۔ اور اسی کے نتیجے میں وہ اللہ تعالیٰ کے تین اقنوم کے قائل ہوئے حالانکہ وہ اس تصور سے پاک اور بلند تر ہے ۔
(آیت) ” فامنوا باللہ ورسلہ ولا تقولوا ثلثۃ انتھوا خیرالکم “۔ (4 : 171) ” پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ ” تین “ ہیں ۔ باز آجاؤ یہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔ “ اللہ اور رسولوں پر ایمان لانے کی اسی دعوت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بحیثیت رسول اور حضرت محمد ﷺ خاتم النبین شامل ہیں اور اس میں یہ بھی شامل ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں تم جن اساطیر اور جھوٹے دعوؤں پر یقین رکھتے ہو ‘ ان سے باز آجاؤ ۔ اس کی تفصیلات بعد میں مناسب مقام پر آرہی ہیں ۔
(آیت) ” انما اللہ الہ واحد “ (4 : 171) (بےشک اللہ تو ایک ہی خدا ہے) اور اس کی وحدانیت پر اس کائنات کے اندر جاری وساری واحد ناموس گواہی دے رہا ہے ۔ اس پوری مخلوقات کی وحدت ‘ اس پوری کائنات کی فطرت کو ایک ہی نہج پر ڈال رہی ہیں ۔ اور یہ نہج یہ ہے کہ اللہ نے کن کہا اور پھر سب کچھ ہوگیا ۔ پھر انسانی عقل بھی واحد الہ پر گواہ ہے اس لئے کہ ایک واحد مدبر الہ کا وجود انسان کیلئے قابل فہم ہے ۔ عقل انسانی کسی ایسے خالق کا تصور نہیں کرسکتی جو مخلوقات جیسا ہو ‘ نہ وہ تین خالقیں کا تصور کرسکتی ہے اور یہ بات تو سمجھ میں آتی ہی نہیں کہ تین بھی ہوں اور ایک بھی ہو ۔
(آیت) ” سبحنہ ان یکون لہ ولد “ (4 : 171) (وہ اس سے پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو) بیٹا تو اس لئے ہوتا ہے کہ باپ فانی ہوتا ہے اور اس صورت میں نسل کا تسلسل مطلوب ہوتا ہے ۔ اللہ تو ابد الاباد تک باقی ہے ۔ اسے کیا ضرورت ہے کہ ایک فانی کو اپنا بیٹا بنائے جب تمام وہ چیزیں جو زمین میں ہیں یا آسمانوں میں ہیں وہ اللہ کی ملکیت میں ہیں ۔
(آیت) ” لہ ما فی السموت والارض “۔ (4 : 171) ” آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اس کی ملک ہیں “۔ اور بندوں کیلئے یہ کافی ہے کہ وہ سب کے سب اللہ کے ساتھ رابطہ بندگی قائم کریں ۔ وہ تو سب کانگہبان اور محافظ ہے ۔ اور سب کا پالنے والا ہے ۔ اس لئے اللہ کے ساتھ رشتہ نکالنے کی کیا ضرورت ہے ۔ اللہ اور بندوں کے درمیان یہ تعلق قائم ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں کا کفیل اور وکیل ہے ، (آیت) ”(وکفی باللہ وکیلا “۔ (4 : 171) ” بندوں کی کفالت اور خبر گیری کیلئے وہی کافی ہے۔ “
یوں قرآن مجید اس حقیقت کو اس حد تک اجاگر کردیتا ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے عقیدے کے بارے میں فیصلہ کردیتا ہے ۔ ساتھ ساتھ لوگوں کو یہ احساس اور یہ شعور بھی دلایا جاتا ہے کہ اللہ ان کا کفیل اور نگہبان بھی ہے ۔ اللہ ہر وقت ان کی دیکھ بھال کر رہا ہے ۔ ان کی ضروریات کا بھی وہ کفیل ہے ۔ ان کے مفادات کا بھی وہ بندوبست کرنے والا ہے ۔ تاکہ وہ اپنے تمام امور اطمینان کے ساتھ اس کے حوالے کردیں ۔
اب سیاق کلام میں بات ذرا آگے بڑھتی ہے ۔ اب ہم نہایت ہی عظیم اور اہم نظریاتی مسئلے کی طرف آتے ہیں ۔ وہ اعتقاد اور نظریہ جو ایک انسان کے دل و دماغ میں عقیدہ توحید کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے یعنی یہ کہ اللہ خالق اور مالک ہے ۔ اور اس کے جوا اب میں انسان مملوک اور بندہ ہے ۔ اس لئے دو حقائق عقیدہ یا دو اجزاء عقیدہ توحید کے لازمی حصے ہیں یہ کہ اللہ حاکم ہے اور لوگ محکوم اللہ الہ ہے اور معبود ہے اور لوگ عابد اور غلام ‘ اور یہ کہ بندگی اور غلامی اس کرہ ارض کی تمام موجودات کیلئے ہے اور موجودات کی تمام اقسام و انواع اس کی بندگی میں ہیں ۔
یہاں قرآن کریم نصاری کے اس عقیدے کی تصحیح کرتا ہے جس کے مطابق وہ فرشتوں کو بھی اللہ کے بیٹے اور اولاد تصور کرتے تھے یا ان کو خدا کے ساتھ خدائی میں شریک کرتے تھے ۔ جس طرح وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو الوہیت میں شریک کرتے تھے ۔
النساء 4:172
(آیت) ” نمبر 172 تا 173۔
قرآن کریم نے عقیدہ توحید لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی بڑی کوشش کی ہے ۔ ایسی وحدانیت جس کے اندر شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو اور نہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کیلئے کسی قسم کا تشبہ لازم آتا ہو ۔ قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ اللہ جیسا کوئی بھی نہیں ہے اور نہ کوئی چیز اس جیسی ہے ۔ نہ اللہ کی ماہیت میں اس کا کوئی شریک ہے ۔ نہ صفت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ نہ خاصیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ اور قرآن کریم نے خالق اللہ اور مخلوقات کے درمیان ایک ہی رابطہ جائز رکھا ہے ۔ اور وہی حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا تمام اشیاء (جس میں زندہ مخلوق بھی ہے) اس کے بندے اور تابع فرمان ہیں ۔ جو شخص بھی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ دیکھے گا کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو ذہن نشین کرانے کیلئے بہت ہی زور دیا ہے۔ اس حقیقت کے ہر پہلو کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ اس طرح کہ انسان کے دماغ میں کوئی شیڈ ‘ کوئی شک اور کوئی پیچیدگی نہ رہے ۔
پھر قرآن نے مزدی یہ دعوی بھی کیا ہے کہ یہ وہ حقیقت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو مبعوث فرمایا ہے اس لئے قرآن کریم نے ہر رسول کی سیرت کے واقعات بیان کرتے وقت اور ہر رسول کی دعوت کا خلاصہ پیش کرتے وقت یہ کہا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت عقیدہ توحید کی طرف رہی ہے ۔ نوح (علیہ السلام) کی رسالت کا یہی عقیدہ رہا ہے اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا محور بھی عقیدہ توحید رہا ہے ہر رسول کی دعوت میں یہ فقرہ بنیادی رہا ہے ۔ (یاقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” اے قوم ! اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ “ لہذا یہ بات نہایت ہی تعجب انگیز تھی کہ ان سماوی ادیان کے پیروکاروں میں سے کوئی شخص یا قوم عقیدہ توحید کے اندر تحریف کرے ‘ حالانکہ ان ادیان میں عقیدہ توحید مرکزی نکتہ رہا ہے اور ان ادیان نے اسے نہایت ہی قطعی اور فیصلہ کن انداز میں پیش کیا ہے ۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی دین سماوی کے پیروکار اللہ کے لئے کسی کو بیٹے یا بیٹیاں قرار دیں ۔ یا یہ کہ ذات باری اقانیم کی صورت میں کسی مخلوق کے اندر امتزاج اختیار کرے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے عقائد صرف باہر کے بت پرستوں ہی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔
اسلام میں تو الوہیت اور عبودیت باہم متقابل ہیں یہی اسلام کی اساس ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان حاکم و محکوم اور معبود اور عابد کے سوا کوئی اور تعلق نہیں ہوسکتا تھا ۔ محکوم اور عابد مخلوق ہوگی اور حاکم اور معبود اللہ ہوگا ۔
جب تک لوگ اس سیدھے نظریے اور عقیدے کو قبول نہ کریں گے نہ ان کی زندگی درست ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کے تصورات درست ہو سکتے ہیں ورنہ ان کے خیالات میں خواہ مخواہ کوئی شیڈ کوئی ملاوٹ اور کوئی شبہ موجود رہے گا ۔
ہاں یہ درست ہے کہ لوگوں کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی اور نہ ان کی سوچ میں ٹھہراؤ پیدا ہو سکتا ہے جب تک انہیں اپنے اور اپنے رب کے درمیان اس رابطے کا یقین نہ ہوجائے کہ رب ان کا حاکم ہے اور وہ اس کے محکوم ہیں۔ رب خالق ہے اور وہ مخلوق ہیں ۔ رب ان کا مالک ہے اور وہ اس کے مملوک ہیں ۔ یہ سب بندے اور مخلوقات اپنی اس حیثیت میں ایک جیسے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ کا بیٹا نہیں ہے ۔ کسی کے ساتھ اللہ کا امتزاج نہیں ہے اس لئے اللہ کے ساتھ کسی کی کوئی قرابت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ کسی کے پاس ایمان اور عمل کی کوئی پونجی ہو اور وہ اس پونجی کو اللہ کے سامنے قلبی رجحان کے ساتھ پیش کرے اور یہ تقرب وہ ہے جو اللہ کے ساتھ اس کی مخلوق میں ہر شخص حاصل کرسکتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ کوئی اللہ کا بیٹا ہے یا یہ کہ کسی کے ساتھ اللہ نے امتزاج اختیار کرلیا ہے تو یہ کسی بشر کو بھی حاصل نہیں ہے ۔
جب تک لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ حقیقت نہیں بیٹھ جاتی کہ وہ سب کے سب ایک ہی رب کے بندے اور غلام ہیں ‘ اس وقت تک ان کی زندگی درست ہو سکتی ہے ‘ نہ ان کے باہمی رابطے قائم ہو سکتے ہیں اور نہ وہ فرائض حیات کو اچھی طرح سرانجام دے سکتے ہیں ۔ اس تصور کا نتیجہ یہ ہے کہ احکم الحاکمین کے ساتھ سب کا موقف برابر فاصلے پر ہوگا اور اس کے ساتھ قرب حاصل کرنا سب کیلئے کھلا ہوگا ۔ یوں تمام بنی نوع انسان کے درمیان مرتبہ کے اعتبار سے مکمل مساوات ہوگی ۔ اس طرح کہ مالک الملک کے ساتھ ان کا فاصلہ برابر ہوگا اور یہاں پر وہ کھوٹا اور غلط دعوی بالکل باطل ہوجائے گا کہ یہاں اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس تصور کے مطابق کسی فرد یا کسی نسب یا کسی طبقہ حاکمہ کی جانب سے اپنے لئے حاصل کردہ وہ تمام حقوق بےاصل ہوجاتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں سے رب کے ساتھ تعلق کے حوالے سے کسی طرح ممتاز ہیں۔ اس تصور کے سوا عوام الناس کے اندر حقیقی مساوات قائم نہیں ہوسکتی نہ انسانوں کا کوئی نظام حیات یا انکی کوئی سوسائٹی اصول مساوات پر قائم ہوسکتی ہے ۔
اس لئے عقیدہ توحید اس نقطہ نظر سے محض ایک ایسا مسئلہ ہی نہیں رہتا کہ وہ ویک وجدانی تصور ہے جو کسی شخص کے قبل میں مضبوطی سے بیٹھ جائے اور بس ‘ بلکہ عقیدہ توحید ایک نظام زندگی ‘ معاشرتی رابطہ اور بنی نوع انسان کی مختلف نسلوں اور اقوام کے درمیان روابط یعنی سوشیالوجی اور بین الاقوامی مسئلہ بھی بن جاتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے اسلام نے انسان کو عقیدہ توحید دیکر اسے ایک جدید زندگی اور نشاۃ ثانیہ عطا کی ہے ۔ اس کی رو سے انسان تمام انسانوں کی غلامی سے آزاد ہو کر صرف ایک رب ذوالجلال کا غلام بن جاتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اسلام کی تاریخ میں کوئی ایسا کنیسہ قائم نہیں ہوا جو لوگوں کو اپنا محکوم اس تصور حیات کی اساس پر بنائے کہ وہ ابن اللہ کا نمائدہ ہے ۔ یا وہ اس اقنوم کا نمائندہ ہے جو لوگوں کو اپنا محکوم اس تصور حیات کی اساس پر بنائے کہ وہ ابن اللہ کا نمائندہ ہے ۔ یا وہ اس اقنوم کا نمائندہ ہے جو اللہ کے اقانیم کیلئے متمم ہے ۔ اس وجہ سے اسلامی تاریخ میں مسلمانوں پر تھیاکریسی کا نظام کبھی قائم نہیں ہوا جس میں کوئی بادشاہ اپنے لئے ظل اللہ فی الارض کا لقب اختیار کرے اس طرح کہ اسے حکومت کا حق من جانب اللہ ہے یا یہ کہ وہ از جانب اللہ قانون سازی کرسکتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کا قرابت دار ہے یا اللہ نے اپنے اختیارات اسے تفویض کردیئے ہیں ۔
کنیسہ اور پوپ نے اپنے لئے یہ حق محفوظ کئے رکھا ۔ اسی طرح پیٹر کے پیرو بھی اپنے لئے اس حق کا دعوی کرتے تھے ۔ یہ حق یورپ میں ابنیت اور امتزاج اقانیم کے نظریات کے تحت لوگ اپنے لئے مخصوص کرتے رہے ۔ جب صلیبیوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگیں شروع کیں اور مسلمانوں سے لڑتے رہے ۔ تو وہ صلیبی جنگوں میں شکست کے ساتھ ساتھ اسلام کے نظریہ توحید سے بھی شکست کھا گئے ، ان جنگوں کے نتیجے میں یورپ کے اندر تحریک اصلاح مذہب شروع ہوگئی اور مارٹن لوتھر ‘ کالون اور زنجلی کی تحریکات شروع ہوئیں ۔ جنہوں نے کنیسہ کے باطل تصورات کی دھجیاں بکھیر دیں ۔ یہ سب مصلحین اسلام کے سیدھے سادھے تصور حیات سے متاثر ہوئے ۔ انہوں نے انسان کے تقدس کے نظریے یا اس تصور کی نفی کی کہ اللہ نے اپنے اختیارات کسی کو تفویض کئے ہیں اس لئے کہ انہوں نے دیکھا کہ اسلام میں ایک الہ ہے اور مقابلے میں تمام لوگ بندے ہیں اور ان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں قرآن کریم میں الوہیت مسیح کے نظریہ کی فیصلہ کن انداز میں تردید کردی گئی ۔ اسی طرح روح القدس کی خدائی کی بھی تردید کردی کہ وہ اقانیم ثلاثہ میں سے ایک ہیں ۔ غرض کسی شکل میں بھی کسی کیلئے نظریہ الوہیت کی تردید کردی گئی چاہئے کوئی یہ نظریہ کسی کیلئے بھی اختیار کرے ۔ قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں یہ اعلان کرتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کے بندے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اللہ کا بندہ ہونے کو اپنے لئے عار نہیں سمجھا اسی طرح ملائکہ مقربین بھی اللہ کے بندے ہیں اور انہوں نے بھی اپنے لئے اپنی اس حیثیت کو کبھی عار نہیں سمجھا تمام مخلوقات اس کی بندگی میں ہے اور عنقریب انکو اللہ کے سامنے اجتماعی طور پر اٹھایا جائے گا ۔ جو لوگ اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار اور توہین سمجھتے ہیں وہ عذاب الیم کا انتظار کریں اور جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کا بندہ و غلام سمجھتے ہیں وہ انعام واکرام کے امیدوار ہوں۔
(آیت) ” لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ ولا الملئکۃ المقربون ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرھم الیہ جمیعا (172) فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فیوفیھم اجورھم ویزیدھم من فضلہ واما الذین استنکفوا واستکبروا فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (173) (4 : 172۔ 173) ”
” مسیح نے کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب ترین فرشتے اس کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں ، اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا ۔ اس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا ۔ اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے ۔ “
حضرت مسیح ابن مریم اپنے آپ کو اللہ کی بندگی کے مقام سے بلند نہیں سمجھتے ۔ اس لئے کہ وہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں ۔ وہ تمام لوگوں سے زیادہ مقام الوہیت اور مقام عبودیت سے واقف ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ الوہیت اور عبودیت الگ الگ حقائق ہیں اور ان کے درمیان امتزاج ممکن نہیں ہے ۔ وہ سب سے زیادہ جانتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں اور اللہ کی درمیان امتزاج ممکن نہیں ہے ۔ وہ سب سے زیادہ جانتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں ‘ اور اللہ کی مخلوق اللہ جیسی نہیں ہو سکتی ۔ نہ وہ اللہ کا جزو ہو سکتی ہے اور وہ سب سے زیادہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ بندگی کے فرائض صرف اللہ کے سامنے بجا لائے جانے چاہئیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے اللہ کی بندگی بجا لانا ایک حقیقت ہے اور اس کی اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہو سکتی اس لئے کہ اللہ کی بندگی کا انکار صرف کافر کرسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور انشاء کو نہیں مانتے اور یہ کہ بندگی وہ مرتبہ ہے اور وہ اعزاز ہے جو اللہ اپنے رسولوں کو اس وقت دیتے ہیں جب وہ اعلی اور افضل مراتب پر فائز ہوتے ہیں ۔ یہی حال ملائکہ مقربین کا ہے جن میں روح القدس شامل ہیں ۔ ان کا حال بھی یہی ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام دوسرے رسل کا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔ لہذا اب حضرت مسیح کے ان پیروکاروں کو کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح کے حوالے سے اس بات کی نفی کرتے ہیں جس کے وہ خود مقرر ہیں ۔
(آیت) ” ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرھم الیہ جمیعا (4 : 172) (اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا) اس لئے اگر وہ خدا کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں اور اللہ کے مقابلے میں بڑائی کرتے ہیں تو ان فعل انہیں اللہ کے سامنے لا کھڑا ہونے سے ہر گز نہ بچاسکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں پر حاکم مطلق ہے اور اللہ کی حاکمیت کے مقابلے میں مقرب بندے اور تمام لوگ ایک ہی جیسے ہیں۔
جن لوگوں نے حق کو پہچان لیا اور انہوں نے اللہ کی عبودیت کا اقرار کرلیا اور انہوں نے نیک کام کئے ‘ اس لئے کہ نیک کام کرنا اللہ کی عبودیت کے اقرار کا لازمی ثمرہ ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ان کے صلہ پورا پورا دے گا اور اس صلے سے مزید ان پر اپنا فضل بھی کرے گا ۔
(آیت) ” واما الذین استنکفوا واستکبروا فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (4 :۔ 173) ”(اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے)
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی جانب سے بندگی کا اقرار اور اس کی بندگی و عبادت کا مطالبہ اس لئے نہیں کرتے کہ اللہ کو ان کے اقرار غلامی یا بندگی کی کوئی خاص ضرورت ہے ۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے یا یہ کہ اگر یہ لوگ بندگی کریں گے تو اس کی حکومت اور سلطنت میں کوئی اضافہ ہوجائے گا یا یہ کہ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو اس کی مملکت میں کوئی کمی ہوجائے گی ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ لوگ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت کا مفہوم سمجھ لیں ۔ وہ اپنے تصورات و عقائد کی تصحیح کرلیں اور وہ اپنے جذبات اور اپنے شعور کے اندر اصلاح کرلیں جس کے نتیجے میں ان کی زندگی اور زندگی کے طور طریقوں کی اصلاح از خود ہوجائے گی ۔ اس لئے کہ کوئی نظام زندگی اس وقت تک پرسکون اور پرامن نہیں ہو سکتا اور کوئی تصور اور عقیدہ اس وقت تک مستحکم اور مستقر نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی بنیاد میں مستحکم نہ ہو ۔ زندگی کا کوئی تصور اور کوئی نظام اللہ کی حاکمیت اور اللہ کی بندگی کے بغیر مستحکم نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے بغیر زندگی میں اچھے آثار نمودار کرسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ جس کا بیان اوپر کردیا گیا ہے لوگوں کے ذہن نشین ہوجائے اور اس پر ان کی زندگی کا تفصیلی نقشہ مرتب ہوجائے تاکہ وہ انسانوں کی بندگی سے نکل کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل ہوجائیں ۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ اس پوری کائنات اور اس کرہ ارض پر اصل حاکم کون ہے ۔ وہ اس کے سوا کسی کے آئے نہ جھکیں ۔ وہ اسی کے نظام زندگی اور اسی کے منہاج کے پیرو ہوجائیں ۔ وہ اسی کی شریعت کی اطاعت کریں۔ صرف ان حکمرانوں کی اطاعت کریں جو اللہ تعالیٰ کا نظام زندگی نافذ کرنے والے ہوں ۔ اللہ کا ارادہ صرف یہ ہے کہ وہ یہ جان لیں کہ بندے سب کے سب اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ کے بندے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں سراٹھا کے چلیں اور اگر وہ سر جھکاتے ہیں تو صرف اللہ کے سامنے سرجھکائیں ۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ لوگ جبار ‘ قہار اور اللہ کے باغی حکمرانوں کے مقابلے میں اپنی عزت نفس کا شعور حاصل کریں ۔ جب لوگ اللہ کے سامنے رکوع و سجود کریں تو ان کا فرض ہے کہ وہ صرف اللہ کو یاد کریں اور اللہ کے سوا کسی کو یاد نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ ہے کہ یہ لوگ اچھی طرح سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب رشتہ داری اور نسب کی وجہ سے حاصل نہیں ہوتا ۔ یہ قرب صرف تقوی اور عمل صالح کی وجہ سے نصیب ہوتا ہے ۔ اس زمین کی تعمیر اور نیک کام اللہ کی قرابت اور نزدیکی کا باعث ہیں۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ لوگوں کو حقیقت ربوبیت اور حاکمیت کا ادراک ہو اور وہ اپنے مقام بندگی کو اچھی طرح پہچان لیں ۔ وہ اللہ کی حاکمیت کیلئے غیرت اور حمیت رکھتے ہوں اور جو شخص بھی اللہ کے حق حاکمیت میں شریک ہونا چاہتا ہے وہ اس کیلئے سد راہ بن جائیں اور تمام حقوق حاکمیت صرف اللہ کے ساتھ خاص کردیں ۔ اس طرح ان کی زندگی کی اصلاح ہوجائے گی ۔ وہ ترقی کریں گے ۔ اور اساس بندگی پر مکرم ہوں گے ۔
اس عظیم حقیقت کا ادراک ‘ تمام انسانوں کی جانب سے صرف اللہ کی طرف دیکھنا ‘ تمام لوگوں کے قلوب کا اللہ کے ساتھ مربوط ہوجانا ۔ تمام لوگوں کے اعمال کا خدا خوفی پر مبنی ہوجانا ‘ تمام لوگوں کے نظام زندگی کا سب کو چھوڑ چھاڑ کر اللہ کے اذن اور حکم پر مبنی ہوجانا وغیرہ یہ سب امور ہیں جو اس دنیا میں بھلائی آزادی ‘ عدل اور استقامت کا عظیم سرمایہ ہیں ۔ جس سے انسانیت کے سرمایہ میں اس دنیاوی زندگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ غرض یہ ایک ایسا سروسامان ہے جس سے اس دنیا میں حریت ‘ شرافت ‘ عدل اور استقامت کا دور دورہ ہوگا اور ایسے نیکو کار لوگوں کا انجام آخرت میں کیا ہوگا ‘ ان پر اللہ کا کرم ہوگا ان پر اس کا فضل خاص ہوگا ۔ اور وہ اللہ کے فیض خاص سے فیض یاب ہوں گے ۔
ہمارا فرض ہے کہ درج بالا نکات کی روشنی اسلام اور ایمان کے تقاضوں پر غور کریں ‘ اور یہ فیصلہ کریں کہ ایسا ایمان تمام رسولوں کی رسالتوں کی اساس رہا ہے ۔ بعد کے ادوار میں ایمان کی اس اصلی صورت میں تحریف اور تبدیلی ہوگئی ۔ ایمان کے اس حقیقی نقطہ نظر سے معلوم ہوگا کہ ایمان کے اس حقیقی نقطہ نظر سے معلوم ہوگا کہ ایمان لانے کی وجہ سے بشریت کو ایک نیا جنم نصیب ہوگا اور اس صورت میں ایمان مقام شرافت اور اعلان حریت ہوگا ۔ اس کے نتیجے میں عدل و انصاف کا قیام ہوگا اور انسان انسان کی بندگی اور غلامی سے نکل آئے گا ۔
جو لوگ اللہ کی بندگی کو اپنے آپ سے فرو تر سمجھتے ہیں اور پھر وہ اس کرہ ارض پر دوسری لا تعداد اور نہ ختم ہونے والی بندگیوں میں پھنس جاتے ہیں ‘ آخر کار وہ اپنی نفسانی خواہشات کے بندے بن جاتے ہیں ۔ پھر وہ ادہام اور خرافات کے غلام بن جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کے غلام بن جاتے ہیں اور پھر ان کی پیشانیاں ان انسانوں کے سامنے جھکتی ہیں پھر ان کی زندگی میں ان کے نظم ونسق میں ‘ ان کے قانون میں ‘ اور ان کے حسن وقبح کے پیمانوں پر بھی انہی جیسے انسان حاکم ہوجاتے ہیں حالانکہ حقیقت نفس الامری میں وہ دونوں برابر اور ایک جیسے انسان ہوتے ہیں لیکن اس طرح غیر اللہ کی اطاعت کرکے انہوں نے غیر اللہ کو اپنا الہ تسلیم کرلیا ۔ یہ تو ان کی پوزیشن ہوگی ہیں اس دنیا میں کہ وہ اپنے جیسے لوگوں کے غلام ہوگئے اور آخر میں انکی پوزیشن یہ ہوگی ۔
(آیت) ” فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (173) (4 : 173) ”(ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے)
اسلامی نظریہ حیات میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے جسے قرآن نے اس آیت میں پیش کیا ہے ۔ اس کے ذریعے اس وقت اہل کتاب یعنی یہود ونصاری کی تردید کی گئی ہے اور اب قیامت تک یہ ہمارے لئے سنگ میل ہے ۔
سابقہ سبق میں یہودیوں پر تنقید کرکے بتایا گیا تھا کہ لوگو ! حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر اللہ گواہ ہیں جس کی شہادت قطعی برہان ہے ۔ اسی طرح یہاں نصاری کی تردید کرکے پھر تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ یہ رسالت اللہ کی جانب سے برہان ہے ۔ اور یہ ایک نئی روشنی ہے جس سے جہالت کی تاریکیاں چھٹ جائیں گی اور تمام شبہات دور ہوجائیں گے ۔ جس شخص نے اس سے ہدایت حاصل کی اور اسے پختگی سے پکڑا تو اس پر اللہ کی رحمت ہوگی اور اللہ کا فضل اس کے شامل حال ہوگا اور اس روشنی اور ہدایت میں وہ صراط مستقیم پائے گا ۔
النساء 4:173
(آیت) ” نمبر 172 تا 173۔
قرآن کریم نے عقیدہ توحید لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی بڑی کوشش کی ہے ۔ ایسی وحدانیت جس کے اندر شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو اور نہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کیلئے کسی قسم کا تشبہ لازم آتا ہو ۔ قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ اللہ جیسا کوئی بھی نہیں ہے اور نہ کوئی چیز اس جیسی ہے ۔ نہ اللہ کی ماہیت میں اس کا کوئی شریک ہے ۔ نہ صفت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ نہ خاصیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ اور قرآن کریم نے خالق اللہ اور مخلوقات کے درمیان ایک ہی رابطہ جائز رکھا ہے ۔ اور وہی حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا تمام اشیاء (جس میں زندہ مخلوق بھی ہے) اس کے بندے اور تابع فرمان ہیں ۔ جو شخص بھی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ دیکھے گا کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو ذہن نشین کرانے کیلئے بہت ہی زور دیا ہے۔ اس حقیقت کے ہر پہلو کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ اس طرح کہ انسان کے دماغ میں کوئی شیڈ ‘ کوئی شک اور کوئی پیچیدگی نہ رہے ۔
پھر قرآن نے مزدی یہ دعوی بھی کیا ہے کہ یہ وہ حقیقت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو مبعوث فرمایا ہے اس لئے قرآن کریم نے ہر رسول کی سیرت کے واقعات بیان کرتے وقت اور ہر رسول کی دعوت کا خلاصہ پیش کرتے وقت یہ کہا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت عقیدہ توحید کی طرف رہی ہے ۔ نوح (علیہ السلام) کی رسالت کا یہی عقیدہ رہا ہے اور نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا محور بھی عقیدہ توحید رہا ہے ہر رسول کی دعوت میں یہ فقرہ بنیادی رہا ہے ۔ (یاقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” اے قوم ! اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ “ لہذا یہ بات نہایت ہی تعجب انگیز تھی کہ ان سماوی ادیان کے پیروکاروں میں سے کوئی شخص یا قوم عقیدہ توحید کے اندر تحریف کرے ‘ حالانکہ ان ادیان میں عقیدہ توحید مرکزی نکتہ رہا ہے اور ان ادیان نے اسے نہایت ہی قطعی اور فیصلہ کن انداز میں پیش کیا ہے ۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی دین سماوی کے پیروکار اللہ کے لئے کسی کو بیٹے یا بیٹیاں قرار دیں ۔ یا یہ کہ ذات باری اقانیم کی صورت میں کسی مخلوق کے اندر امتزاج اختیار کرے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے عقائد صرف باہر کے بت پرستوں ہی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔
اسلام میں تو الوہیت اور عبودیت باہم متقابل ہیں یہی اسلام کی اساس ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان حاکم و محکوم اور معبود اور عابد کے سوا کوئی اور تعلق نہیں ہوسکتا تھا ۔ محکوم اور عابد مخلوق ہوگی اور حاکم اور معبود اللہ ہوگا ۔
جب تک لوگ اس سیدھے نظریے اور عقیدے کو قبول نہ کریں گے نہ ان کی زندگی درست ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کے تصورات درست ہو سکتے ہیں ورنہ ان کے خیالات میں خواہ مخواہ کوئی شیڈ کوئی ملاوٹ اور کوئی شبہ موجود رہے گا ۔
ہاں یہ درست ہے کہ لوگوں کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی اور نہ ان کی سوچ میں ٹھہراؤ پیدا ہو سکتا ہے جب تک انہیں اپنے اور اپنے رب کے درمیان اس رابطے کا یقین نہ ہوجائے کہ رب ان کا حاکم ہے اور وہ اس کے محکوم ہیں۔ رب خالق ہے اور وہ مخلوق ہیں ۔ رب ان کا مالک ہے اور وہ اس کے مملوک ہیں ۔ یہ سب بندے اور مخلوقات اپنی اس حیثیت میں ایک جیسے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ کا بیٹا نہیں ہے ۔ کسی کے ساتھ اللہ کا امتزاج نہیں ہے اس لئے اللہ کے ساتھ کسی کی کوئی قرابت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ کسی کے پاس ایمان اور عمل کی کوئی پونجی ہو اور وہ اس پونجی کو اللہ کے سامنے قلبی رجحان کے ساتھ پیش کرے اور یہ تقرب وہ ہے جو اللہ کے ساتھ اس کی مخلوق میں ہر شخص حاصل کرسکتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ کوئی اللہ کا بیٹا ہے یا یہ کہ کسی کے ساتھ اللہ نے امتزاج اختیار کرلیا ہے تو یہ کسی بشر کو بھی حاصل نہیں ہے ۔
جب تک لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ حقیقت نہیں بیٹھ جاتی کہ وہ سب کے سب ایک ہی رب کے بندے اور غلام ہیں ‘ اس وقت تک ان کی زندگی درست ہو سکتی ہے ‘ نہ ان کے باہمی رابطے قائم ہو سکتے ہیں اور نہ وہ فرائض حیات کو اچھی طرح سرانجام دے سکتے ہیں ۔ اس تصور کا نتیجہ یہ ہے کہ احکم الحاکمین کے ساتھ سب کا موقف برابر فاصلے پر ہوگا اور اس کے ساتھ قرب حاصل کرنا سب کیلئے کھلا ہوگا ۔ یوں تمام بنی نوع انسان کے درمیان مرتبہ کے اعتبار سے مکمل مساوات ہوگی ۔ اس طرح کہ مالک الملک کے ساتھ ان کا فاصلہ برابر ہوگا اور یہاں پر وہ کھوٹا اور غلط دعوی بالکل باطل ہوجائے گا کہ یہاں اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس تصور کے مطابق کسی فرد یا کسی نسب یا کسی طبقہ حاکمہ کی جانب سے اپنے لئے حاصل کردہ وہ تمام حقوق بےاصل ہوجاتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں سے رب کے ساتھ تعلق کے حوالے سے کسی طرح ممتاز ہیں۔ اس تصور کے سوا عوام الناس کے اندر حقیقی مساوات قائم نہیں ہوسکتی نہ انسانوں کا کوئی نظام حیات یا انکی کوئی سوسائٹی اصول مساوات پر قائم ہوسکتی ہے ۔
اس لئے عقیدہ توحید اس نقطہ نظر سے محض ایک ایسا مسئلہ ہی نہیں رہتا کہ وہ ویک وجدانی تصور ہے جو کسی شخص کے قبل میں مضبوطی سے بیٹھ جائے اور بس ‘ بلکہ عقیدہ توحید ایک نظام زندگی ‘ معاشرتی رابطہ اور بنی نوع انسان کی مختلف نسلوں اور اقوام کے درمیان روابط یعنی سوشیالوجی اور بین الاقوامی مسئلہ بھی بن جاتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے اسلام نے انسان کو عقیدہ توحید دیکر اسے ایک جدید زندگی اور نشاۃ ثانیہ عطا کی ہے ۔ اس کی رو سے انسان تمام انسانوں کی غلامی سے آزاد ہو کر صرف ایک رب ذوالجلال کا غلام بن جاتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اسلام کی تاریخ میں کوئی ایسا کنیسہ قائم نہیں ہوا جو لوگوں کو اپنا محکوم اس تصور حیات کی اساس پر بنائے کہ وہ ابن اللہ کا نمائدہ ہے ۔ یا وہ اس اقنوم کا نمائندہ ہے جو لوگوں کو اپنا محکوم اس تصور حیات کی اساس پر بنائے کہ وہ ابن اللہ کا نمائندہ ہے ۔ یا وہ اس اقنوم کا نمائندہ ہے جو اللہ کے اقانیم کیلئے متمم ہے ۔ اس وجہ سے اسلامی تاریخ میں مسلمانوں پر تھیاکریسی کا نظام کبھی قائم نہیں ہوا جس میں کوئی بادشاہ اپنے لئے ظل اللہ فی الارض کا لقب اختیار کرے اس طرح کہ اسے حکومت کا حق من جانب اللہ ہے یا یہ کہ وہ از جانب اللہ قانون سازی کرسکتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کا قرابت دار ہے یا اللہ نے اپنے اختیارات اسے تفویض کردیئے ہیں ۔
کنیسہ اور پوپ نے اپنے لئے یہ حق محفوظ کئے رکھا ۔ اسی طرح پیٹر کے پیرو بھی اپنے لئے اس حق کا دعوی کرتے تھے ۔ یہ حق یورپ میں ابنیت اور امتزاج اقانیم کے نظریات کے تحت لوگ اپنے لئے مخصوص کرتے رہے ۔ جب صلیبیوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگیں شروع کیں اور مسلمانوں سے لڑتے رہے ۔ تو وہ صلیبی جنگوں میں شکست کے ساتھ ساتھ اسلام کے نظریہ توحید سے بھی شکست کھا گئے ، ان جنگوں کے نتیجے میں یورپ کے اندر تحریک اصلاح مذہب شروع ہوگئی اور مارٹن لوتھر ‘ کالون اور زنجلی کی تحریکات شروع ہوئیں ۔ جنہوں نے کنیسہ کے باطل تصورات کی دھجیاں بکھیر دیں ۔ یہ سب مصلحین اسلام کے سیدھے سادھے تصور حیات سے متاثر ہوئے ۔ انہوں نے انسان کے تقدس کے نظریے یا اس تصور کی نفی کی کہ اللہ نے اپنے اختیارات کسی کو تفویض کئے ہیں اس لئے کہ انہوں نے دیکھا کہ اسلام میں ایک الہ ہے اور مقابلے میں تمام لوگ بندے ہیں اور ان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں قرآن کریم میں الوہیت مسیح کے نظریہ کی فیصلہ کن انداز میں تردید کردی گئی ۔ اسی طرح روح القدس کی خدائی کی بھی تردید کردی کہ وہ اقانیم ثلاثہ میں سے ایک ہیں ۔ غرض کسی شکل میں بھی کسی کیلئے نظریہ الوہیت کی تردید کردی گئی چاہئے کوئی یہ نظریہ کسی کیلئے بھی اختیار کرے ۔ قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں یہ اعلان کرتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کے بندے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اللہ کا بندہ ہونے کو اپنے لئے عار نہیں سمجھا اسی طرح ملائکہ مقربین بھی اللہ کے بندے ہیں اور انہوں نے بھی اپنے لئے اپنی اس حیثیت کو کبھی عار نہیں سمجھا تمام مخلوقات اس کی بندگی میں ہے اور عنقریب انکو اللہ کے سامنے اجتماعی طور پر اٹھایا جائے گا ۔ جو لوگ اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار اور توہین سمجھتے ہیں وہ عذاب الیم کا انتظار کریں اور جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کا بندہ و غلام سمجھتے ہیں وہ انعام واکرام کے امیدوار ہوں۔
(آیت) ” لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ ولا الملئکۃ المقربون ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرھم الیہ جمیعا (172) فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فیوفیھم اجورھم ویزیدھم من فضلہ واما الذین استنکفوا واستکبروا فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (173) (4 : 172۔ 173) ”
” مسیح نے کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب ترین فرشتے اس کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں ، اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا ۔ اس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا ۔ اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے ۔ “
حضرت مسیح ابن مریم اپنے آپ کو اللہ کی بندگی کے مقام سے بلند نہیں سمجھتے ۔ اس لئے کہ وہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں ۔ وہ تمام لوگوں سے زیادہ مقام الوہیت اور مقام عبودیت سے واقف ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ الوہیت اور عبودیت الگ الگ حقائق ہیں اور ان کے درمیان امتزاج ممکن نہیں ہے ۔ وہ سب سے زیادہ جانتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں اور اللہ کی درمیان امتزاج ممکن نہیں ہے ۔ وہ سب سے زیادہ جانتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں ‘ اور اللہ کی مخلوق اللہ جیسی نہیں ہو سکتی ۔ نہ وہ اللہ کا جزو ہو سکتی ہے اور وہ سب سے زیادہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ بندگی کے فرائض صرف اللہ کے سامنے بجا لائے جانے چاہئیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے اللہ کی بندگی بجا لانا ایک حقیقت ہے اور اس کی اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہو سکتی اس لئے کہ اللہ کی بندگی کا انکار صرف کافر کرسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور انشاء کو نہیں مانتے اور یہ کہ بندگی وہ مرتبہ ہے اور وہ اعزاز ہے جو اللہ اپنے رسولوں کو اس وقت دیتے ہیں جب وہ اعلی اور افضل مراتب پر فائز ہوتے ہیں ۔ یہی حال ملائکہ مقربین کا ہے جن میں روح القدس شامل ہیں ۔ ان کا حال بھی یہی ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام دوسرے رسل کا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔ لہذا اب حضرت مسیح کے ان پیروکاروں کو کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح کے حوالے سے اس بات کی نفی کرتے ہیں جس کے وہ خود مقرر ہیں ۔
(آیت) ” ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرھم الیہ جمیعا (4 : 172) (اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا) اس لئے اگر وہ خدا کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں اور اللہ کے مقابلے میں بڑائی کرتے ہیں تو ان فعل انہیں اللہ کے سامنے لا کھڑا ہونے سے ہر گز نہ بچاسکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں پر حاکم مطلق ہے اور اللہ کی حاکمیت کے مقابلے میں مقرب بندے اور تمام لوگ ایک ہی جیسے ہیں۔
جن لوگوں نے حق کو پہچان لیا اور انہوں نے اللہ کی عبودیت کا اقرار کرلیا اور انہوں نے نیک کام کئے ‘ اس لئے کہ نیک کام کرنا اللہ کی عبودیت کے اقرار کا لازمی ثمرہ ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ان کے صلہ پورا پورا دے گا اور اس صلے سے مزید ان پر اپنا فضل بھی کرے گا ۔
(آیت) ” واما الذین استنکفوا واستکبروا فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (4 :۔ 173) ”(اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے)
اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی جانب سے بندگی کا اقرار اور اس کی بندگی و عبادت کا مطالبہ اس لئے نہیں کرتے کہ اللہ کو ان کے اقرار غلامی یا بندگی کی کوئی خاص ضرورت ہے ۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے یا یہ کہ اگر یہ لوگ بندگی کریں گے تو اس کی حکومت اور سلطنت میں کوئی اضافہ ہوجائے گا یا یہ کہ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو اس کی مملکت میں کوئی کمی ہوجائے گی ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ لوگ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت کا مفہوم سمجھ لیں ۔ وہ اپنے تصورات و عقائد کی تصحیح کرلیں اور وہ اپنے جذبات اور اپنے شعور کے اندر اصلاح کرلیں جس کے نتیجے میں ان کی زندگی اور زندگی کے طور طریقوں کی اصلاح از خود ہوجائے گی ۔ اس لئے کہ کوئی نظام زندگی اس وقت تک پرسکون اور پرامن نہیں ہو سکتا اور کوئی تصور اور عقیدہ اس وقت تک مستحکم اور مستقر نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی بنیاد میں مستحکم نہ ہو ۔ زندگی کا کوئی تصور اور کوئی نظام اللہ کی حاکمیت اور اللہ کی بندگی کے بغیر مستحکم نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے بغیر زندگی میں اچھے آثار نمودار کرسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ جس کا بیان اوپر کردیا گیا ہے لوگوں کے ذہن نشین ہوجائے اور اس پر ان کی زندگی کا تفصیلی نقشہ مرتب ہوجائے تاکہ وہ انسانوں کی بندگی سے نکل کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل ہوجائیں ۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ اس پوری کائنات اور اس کرہ ارض پر اصل حاکم کون ہے ۔ وہ اس کے سوا کسی کے آئے نہ جھکیں ۔ وہ اسی کے نظام زندگی اور اسی کے منہاج کے پیرو ہوجائیں ۔ وہ اسی کی شریعت کی اطاعت کریں۔ صرف ان حکمرانوں کی اطاعت کریں جو اللہ تعالیٰ کا نظام زندگی نافذ کرنے والے ہوں ۔ اللہ کا ارادہ صرف یہ ہے کہ وہ یہ جان لیں کہ بندے سب کے سب اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ کے بندے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں سراٹھا کے چلیں اور اگر وہ سر جھکاتے ہیں تو صرف اللہ کے سامنے سرجھکائیں ۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ لوگ جبار ‘ قہار اور اللہ کے باغی حکمرانوں کے مقابلے میں اپنی عزت نفس کا شعور حاصل کریں ۔ جب لوگ اللہ کے سامنے رکوع و سجود کریں تو ان کا فرض ہے کہ وہ صرف اللہ کو یاد کریں اور اللہ کے سوا کسی کو یاد نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ ہے کہ یہ لوگ اچھی طرح سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب رشتہ داری اور نسب کی وجہ سے حاصل نہیں ہوتا ۔ یہ قرب صرف تقوی اور عمل صالح کی وجہ سے نصیب ہوتا ہے ۔ اس زمین کی تعمیر اور نیک کام اللہ کی قرابت اور نزدیکی کا باعث ہیں۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ لوگوں کو حقیقت ربوبیت اور حاکمیت کا ادراک ہو اور وہ اپنے مقام بندگی کو اچھی طرح پہچان لیں ۔ وہ اللہ کی حاکمیت کیلئے غیرت اور حمیت رکھتے ہوں اور جو شخص بھی اللہ کے حق حاکمیت میں شریک ہونا چاہتا ہے وہ اس کیلئے سد راہ بن جائیں اور تمام حقوق حاکمیت صرف اللہ کے ساتھ خاص کردیں ۔ اس طرح ان کی زندگی کی اصلاح ہوجائے گی ۔ وہ ترقی کریں گے ۔ اور اساس بندگی پر مکرم ہوں گے ۔
اس عظیم حقیقت کا ادراک ‘ تمام انسانوں کی جانب سے صرف اللہ کی طرف دیکھنا ‘ تمام لوگوں کے قلوب کا اللہ کے ساتھ مربوط ہوجانا ۔ تمام لوگوں کے اعمال کا خدا خوفی پر مبنی ہوجانا ‘ تمام لوگوں کے نظام زندگی کا سب کو چھوڑ چھاڑ کر اللہ کے اذن اور حکم پر مبنی ہوجانا وغیرہ یہ سب امور ہیں جو اس دنیا میں بھلائی آزادی ‘ عدل اور استقامت کا عظیم سرمایہ ہیں ۔ جس سے انسانیت کے سرمایہ میں اس دنیاوی زندگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ غرض یہ ایک ایسا سروسامان ہے جس سے اس دنیا میں حریت ‘ شرافت ‘ عدل اور استقامت کا دور دورہ ہوگا اور ایسے نیکو کار لوگوں کا انجام آخرت میں کیا ہوگا ‘ ان پر اللہ کا کرم ہوگا ان پر اس کا فضل خاص ہوگا ۔ اور وہ اللہ کے فیض خاص سے فیض یاب ہوں گے ۔
ہمارا فرض ہے کہ درج بالا نکات کی روشنی اسلام اور ایمان کے تقاضوں پر غور کریں ‘ اور یہ فیصلہ کریں کہ ایسا ایمان تمام رسولوں کی رسالتوں کی اساس رہا ہے ۔ بعد کے ادوار میں ایمان کی اس اصلی صورت میں تحریف اور تبدیلی ہوگئی ۔ ایمان کے اس حقیقی نقطہ نظر سے معلوم ہوگا کہ ایمان کے اس حقیقی نقطہ نظر سے معلوم ہوگا کہ ایمان لانے کی وجہ سے بشریت کو ایک نیا جنم نصیب ہوگا اور اس صورت میں ایمان مقام شرافت اور اعلان حریت ہوگا ۔ اس کے نتیجے میں عدل و انصاف کا قیام ہوگا اور انسان انسان کی بندگی اور غلامی سے نکل آئے گا ۔
جو لوگ اللہ کی بندگی کو اپنے آپ سے فرو تر سمجھتے ہیں اور پھر وہ اس کرہ ارض پر دوسری لا تعداد اور نہ ختم ہونے والی بندگیوں میں پھنس جاتے ہیں ‘ آخر کار وہ اپنی نفسانی خواہشات کے بندے بن جاتے ہیں ۔ پھر وہ ادہام اور خرافات کے غلام بن جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کے غلام بن جاتے ہیں اور پھر ان کی پیشانیاں ان انسانوں کے سامنے جھکتی ہیں پھر ان کی زندگی میں ان کے نظم ونسق میں ‘ ان کے قانون میں ‘ اور ان کے حسن وقبح کے پیمانوں پر بھی انہی جیسے انسان حاکم ہوجاتے ہیں حالانکہ حقیقت نفس الامری میں وہ دونوں برابر اور ایک جیسے انسان ہوتے ہیں لیکن اس طرح غیر اللہ کی اطاعت کرکے انہوں نے غیر اللہ کو اپنا الہ تسلیم کرلیا ۔ یہ تو ان کی پوزیشن ہوگی ہیں اس دنیا میں کہ وہ اپنے جیسے لوگوں کے غلام ہوگئے اور آخر میں انکی پوزیشن یہ ہوگی ۔
(آیت) ” فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (173) (4 : 173) ”(ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے)
اسلامی نظریہ حیات میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے جسے قرآن نے اس آیت میں پیش کیا ہے ۔ اس کے ذریعے اس وقت اہل کتاب یعنی یہود ونصاری کی تردید کی گئی ہے اور اب قیامت تک یہ ہمارے لئے سنگ میل ہے ۔
سابقہ سبق میں یہودیوں پر تنقید کرکے بتایا گیا تھا کہ لوگو ! حضرت محمد ﷺ کی رسالت پر اللہ گواہ ہیں جس کی شہادت قطعی برہان ہے ۔ اسی طرح یہاں نصاری کی تردید کرکے پھر تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ یہ رسالت اللہ کی جانب سے برہان ہے ۔ اور یہ ایک نئی روشنی ہے جس سے جہالت کی تاریکیاں چھٹ جائیں گی اور تمام شبہات دور ہوجائیں گے ۔ جس شخص نے اس سے ہدایت حاصل کی اور اسے پختگی سے پکڑا تو اس پر اللہ کی رحمت ہوگی اور اللہ کا فضل اس کے شامل حال ہوگا اور اس روشنی اور ہدایت میں وہ صراط مستقیم پائے گا ۔
النساء 4:174
(آیت) ” نمبر 174۔
(آیت) ” یایھا الناس قد جآء کم برھان من ربکم “۔ (4 : 174) (” لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آگئی ہے “
قرآن کریم ایک ایسا کلام ہے جس کے اندر ایسے شواہد موجود ہیں کہ وہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے ۔ اس کے اندر ربانی کاریگری کے شواہد پائے جاتے ہیں اور اس کو یہ شواہد انسانوں کے کلام سے ممتاز کرتے ہیں۔ کلام الہی میں الفاظ کی نشست وبرخاست اور روانی قابل دید ہوتی ہے ۔ اور کلام اللہ کی فصاحت اور بلاغت ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس سے نہ صرف یہ کہ انکار نہیں کیا جاسکتا بلکہ بعض واقعات ایسے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جو ناقابل یقین نظر آتے ہیں مثلا وہ لوگ جو عربی زبان سے بالکل ناواقف ہیں وہ بھی جب قرآن مجید کی تلاوت سنتے ہیں تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے ۔
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ہم لوگ بحری جہاز پر سوار تھے ۔ بحراوقیانوس میں جانب امریکہ سفر کر رہے تھے ۔ ہم نے عرشہ پر جمعہ کی نماز کا اہتمام کیا ۔ ہم میں سے چھ آدمی مختلف عرب ممالک کے باشندے تھے اور کچھ دوسری قومیتوں اور نوبہ کے حبشی بھی تھے جو جہاز کے عملے میں شامل تھے ۔
میں نے خطبہ دیا اور خطبے میں قرآن کریم کی بعض آیات تلاوت کیں ۔ اس جہاز کے تمام باشندے ہمارے نماز کے اس اجتماع کو گھیرے ہوئے تھے ۔ یہ مختلف قومیتوں کے لوگ تھے ۔ غور سے دیکھ رہے تھے ۔
نماز کے بعد بہت سے لوگ ہمارے پاس آتے اور اپنے تاثرات بیان کرتے رہے ۔ لیکن ان میں یوگوسلاویہ کی ایک محترمہ بہت ہی متاثر تھی ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ اپنی وہ اپنی کمزور انگریزی میں ہم سے یوں کہنے لگی کہ تمہاری عبادت کے اندر جو خشوع و خضوع ہے میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی ۔ مجھے تمہاری زبان کا ایک لفظ بھی نہیں آتا لیکن اس زبان کے اندر ایک ایسا صوتی ترنم ہے جو کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ خطیب کے خطبہ میں بعض جملے نہایت ہی ممتاز ہیں اور ان کا مجھ پر بہت ہی اثر ہوا ہے ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ خاص فقرے قرآنی آیات کے وہ حصے اور ٹکڑے تھے جو اپنی فصاحت وبلاغت کے اندر نہایت ہی ممتاز ہوتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہتا کہ جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے ہاں یہ قاعدہ کلیہ ہے اور ہر قاری کی تلاوت قرآن کا سامعین پر ضرور ایسا ہی اثر ہوتا ہے لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ یہ قرآن کا بالکل ایک واضح وصف ہے کہ اس کی آواز ایسے لوگوں کو بھی مسحور کردیتی ہے جو بالکل عربی نہیں جانتے ۔
رہے وہ لوگ جو عربی کا خاص ذوق رکھتے ہیں اور جو عربی کے مختلف اسالیب سے واقف ہیں ‘ ان پر قرآن کے اثرات کی عجیب و غریب حکایات تاریخ کا حصہ ہیں ۔ جب حضور خود اہل کعبہ پر قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے ۔ تو اخنس ابن شریق ‘ ابو سفیان ابن حرب ‘ اور ابو جہل کا قصہ بہت ہی مشہور ہے ۔ سیرت ابن ہشام میں اس کی تفصیلات مذکور ہیں۔
کہتے ہیں کہ ایک رات ابوسفیان ابن حرب ‘ ابوجہل اور اخنس ابن شریق ثقفی ‘ بنی زہرہ کے حلیف رات کے وقت اپنی اپنی جگہ سے چل پڑے تاکہ حضور کا کلام سنیں جبکہ آپ رات کے وقت اپنے گھر میں نماز کے وقت تلاوت فرماتے تھے ۔ ہر شخ ایک بیٹھ گیا اور قرآن کریم کی تلاوت سے لطف اندوز ہوتا رہا ۔ ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کے بارے میں خبر نہ تھی ۔ وہ رات کے وقت کلام الہی سنتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی ۔ جب واپس ہونے لگے تو یہ سب ایک دوسرے سے راستے میں مل گئے ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو سخت سست کہا اور یہ بات نوٹ کی گئی کہ اگر کسی عام شخص نے دیکھ لیا تو وہ اس تحریک کا شکار ہوجائے گا ‘ پھر وہ واپس چلے گئے ، جب دوسری رات ہوئی تو پھر تینوں نہ رہ سکے اور پھر اپنے اپنے خفیہ مقامات پر بیٹھ گئے ‘ رات کو قرآن کریم سنتے رہے ‘ جب صبح ہونے لگی تو اتفاقا پھر راستے میں تینوں کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے پہلے طرح ایکدوسرے کو ملامت کی ۔ جب تیسری رات ہوئی تو پھر یہ تینوں قرآن کریم کو سننے کیلئے پہنچ گئے ، رات گئے تک قرآن کریم سنتے رہے اور جب صبح کو لوٹنے لگے تو پھر راستے میں ایک دوسرے کو دیکھ لیا ۔ اب کے انہوں نے کہا کہ جب تک ہم حلف نہ اٹھالیں گے ہم رک نہ سکیں گے ۔ اس کے بعد انہوں نے حلف پر معاہدہ کیا اور گھروں کو چلے گئے ۔
یہ تو ایک قصہ تھا ‘ ان لوگوں کا جن کو زبان عربی اور قرآن کریم کے اندر ایک ذوق ہے ۔ وہ جس دور میں بھی ہوں وہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم بذات خود ایک سطان اور برہان ہے اور لفظی اور معنوی لحاظ سے معجزہ ہے ۔
جہاں تک معنوعی اعجاز کا تعلق ہے تو قرآن کریم نے جو فکر پیش کی ہے ‘ جو نظام زندگی اس نے پیش کیا ہے ‘ اور زندگی کا جو نقشہ اس نے تجویز کیا ہے اس جگہ ہم اس کی تفصیلات نہیں دے سکتے ۔ لیکن ان تمام پہلوؤں سے بھی قرآن کریم معجزہ ہے اور اس کے اندر برہان اور سلطان موجود ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا مصدر اور منبع کیا ہے اور یہ کہ وہ انسانی کلام نہیں ہے ۔ اس کا انداز اور طرز ادا ایسی ہے جو کسی انسانی کلام کے اندر نہیں ہوتی ۔ اس لئے (آیت) ” وانزلنا الیکم نورا “۔ (4 : 174) ” اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔ ایسی روشنی جس کی شعاعوں میں اشیاء کی صحیح حقیقت نظر آتی ہے اور بہت ہی واضح نظر آتی ہے اور جس کی روشنی میں زندگی کے دو را ہے پر انسان کو حق و باطل کے راستوں میں سے حق کا راستہ صحیح نظر آتا ہے ۔ نفس کی داخلی راہوں کے اندر بھی اور زندگی کی خارجی شاہراہوں پر بھی ۔ جو نفس قرآن کی روشنی سے منور ہو اسے اپنا ماحول اچھی طرح نظر آتا ہے ۔
اس نور کے مقابلے میں دھند چھٹ جاتی ہے ‘ فضا کھل جاتی ہے اور پھر حقیقت واضح اور کھلی نظر آتی ہے ۔ جب یہ روشنی نفس انسانی کو حاصل ہوجاتی ہے تو انسان اپنے اوپر ہنسنے لگتا ہے کہ حقیقت تو بہت ہی کھلی تھی ‘ لیکن تعجب ہے کہ اسے نظر نہ آرہی تھی ۔
اور جب کوئی انسان اپنی روح کے ساتھ کچھ عرصہ قرآنی فضا کے اندر رہے اور قرآن سے اپنے تصورات ‘ حسن وقبح کے پیمانے اور اپنی اقدار اخذ کرلے تو وہ تمام معاملات کو نہایت ہی آسانی ‘ نہایت ہی سادگی اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ دیکھتا ہے اور پھر اسے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ کئی ایسے فیصلے جو اس نے کئے اور جو اس کے لئے خلجان کا باعث تھے ‘ اور وہ اسے سمجھ نہ آتے تھے ‘ اب بڑی آسانی سے اس کی سمجھ میں آجاتے ہیں۔ اب حقائق بڑی آسانی سے نکھر جاتے ہیں اور حقائق کے ساتھ جو مزید آلودگیاں تھیں ختم ہوجاتی ہیں اور تمام حقائق اس طرح ذہن میں اتر جاتے ہیں جس طرح ابھی اللہ کی جانب سے صاف و شفاف ہو کر سامنے آئے ہوں ۔
کس قدر کم الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔ (آیت) ” (وانزلنا الیکم نورا مبینا) (4 : 174) ” اور ہم نے تم پر واضح کرنے والی روشنی اتاری ہے “۔ میں نے ان الفاظ کی تشریح اور ان پر تبصرہ صرف اس شخص کی خاطرہ کیا ہے جس نے اپنے اندر کتاب اللہ کی کچھ روشنی پائی ہو ‘ اس شخص کیلئے نہیں جس کے اندر اس روشنی کی کوئی چمک ہی نہ ہو ۔ یہ روحانی روشنی اس وقت حاصل کی جاسکتی ہے جب انسان اس کیلئے دلی کوشش کرے اور ذاتی ذوق پیدا کرے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ قرآنی علوم کے اندر تجربہ رکھتا ہوں اور براہ راست قرآن سے روشنی پانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
النساء 4:175
(آیت) ” نمبر 175۔
جب کسی انسان کے اندر ذوق ایمان پیدا ہوجائے تو وہ فورا اللہ کی پناہ میں آنے کی سعی شروع کردیتا ہے ۔ بشرطیکہ ایمان صحیح ہو اور نفس انسانی اللہ کی حقیقت کو پا چکے اور اسے معلوم ہوجائے کہ اللہ کی بندگی کا مفہوم کیا ہے ۔ جب یہ حقیقت کوئی پالے تو اس کے سامنے اللہ کی پناہ میں پہنچ جانے کے سوا اور کوئی راہ ہی نہیں رہتی اس لئے کہ اللہ ہی بادشاہت اور قدرت کا مالک ہے ۔ اور ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل کے سائے میں لے لیتا ہے ۔ اس دنیا میں بھی ان پر اللہ کی رحمت سایہ فگن ہوتی ہے اور آخرت میں بھی ان پر رحمت اور فضل وکرم ہوتا ہے ‘ وہ عاجلہ میں بھی کامیاب اور آجلہ میں بھی کامیاب ۔ پس صحیح ایمان ایک گھنے سائے والا ایک ایسا پرنم باغ ہے جس کے اندر انسان روح ‘ بےچین روح ‘ حیران وپریشان روح نہایت ہی خوشگوار باد نسیم پاتی ہے اور اطمینان و سکون حاصل کرتی ہے ۔ جبکہ اجتماعی لحاظ سے ایمان ایک ایسا اصول حیات ہے جس کے اوپر اجتماعی زندگی پاکیزگی ‘ احترام شرافت ‘ آزادی اور استحکام کے ساتھ بسر ہوتی ہے ۔ ہر انسان کو یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہوتی ہے کہ وہ صرف اللہ کا بندہ ہے اور اس کے سوا جس قدر اشیاء اس کائنات میں ہیں ان کا وہ سردار ہے ۔ اسلام کے ایمانی نظام زندگی کے سوا کسی اور نظام کے اندر یہ تصور ناپید ہے ۔ صرف اسلام اس دنیا میں ایک ایسا نظام ہے جس کا مقصد وحید صرف یہ ہے کہ لوگوں کو اپنے جیسے لوگوں کی غلامی سے نکالا جائے اور صرف اللہ کی بندگی میں داخل کیا جائے ۔ یہ نظریہ انسان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ صرف اللہ کو اپنا حاکم سمجھتا ہے اور لوگ تمام کے تمام لوگ ‘ اللہ کے بندے ہوکر ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں ۔ بادشاہت اور حاکمیت صرف اللہ کیلئے خاص ہوجاتی ہے اور انسان انسان کا غلام نہیں رہتا ۔ دوسرے نظاموں میں اگرچہ بظاہر وہ آزاد نظر آتا ہے لیکن حقیقتا وہ دوسروں کا غلام ہوتا ہے ۔
پس جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہ بہرحال اللہ کی رحمت اور فضل میں ہوتے ہیں ۔ وہ اپنی اس زندگی میں بھی رحمت میں ہوتے ہیں اور اخروی زندگی میں بھی رحمت میں ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” ویھدیھم الیہ صراطا مستقیما “۔ (4 : 185) ” اللہ انکو اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ دکھا دے گا “۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اس فقرے میں لفظ الیہ ” اپنی طرف “ سے یوں نظر آتا ہے کہ انسان قدم بہ قدم اس کی طرف بڑھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہاتھ پکڑ کر مومنین کو اپنی طرف آگے بڑھا رہے ہیں ۔ انکو اللہ کی طرف آنے کے لئے بالکل سیدھے راستے کے ذریعے لے جایا رہا ہے ۔ وہ قدم بہ قدم اللہ کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس ایک لفظ سے عبادت کی خوبی اور حسن کو صرف وہ شخص ہی پاسکتا ہے جس نے علی وجہ البصیرت اللہ پر ایمان اپنے اندر پیدا کرلیا ہو اور اس نے راہ ایمان کو پختہ طور پر پکڑ لیا ہو ۔ اسے راہ حق پر ہونے کا پختہ یقین ہو ۔ اسے ہر لمحہ یہ بات محسوس ہوتی ہو کہ وہ راہ حق کا مسافر ہے ۔ اور راستے اس کی آنکھوں کے سامنے ہیں اور وہ ہر لمحہ آگے ہی بڑھ رہا ہے ۔ سیدھے راستے پر واضح پالیسی کے ساتھ ۔ یہ ایک مفہوم ہے جس کا تعلق ذوق یقین کے ساتھ ہے اور اس کا احساس اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ذوق اور ذائقہ درست نہ ہو ۔
النساء 4:176
(آیت) ” نمبر 176۔
یہ اس سورة کا آخری سبق ہے اس سورة کا آغاز خاندانی تعلقات کی استواری سے ہوا تھا ۔ افراد خاندان کے درمیان تعلقات کی درستی سے ہوا تھا اور اس کے درمیان بعض اہم اجتماعی معاملات کا بیان بھی ہوا تھا ۔ اب یہ آخری سبق میراث کلالہ کے بارے میں ۔ حضرت ابوبکر ؓ اور دوسرے اصحاب کے مطابق کلالہ وہ ہے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور نہ اس کے والدین ہوں ۔
کلالہ کے بارے میں بعض احکام سورة کے آغاز میں بیان میراث کے وقت آگئے تھے ۔ مثلا یہ کہ اگر کلالہ کے عصبات نہ ہوں اور اس کی میراث کے حقدار صرف ماں کی طرف سے بہن بھائی ہوں ۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ۔
(آیت) ” وان کان رجل یورث کللۃ اوامراۃ ولہ اخ او اخت فلکل واحد منھما السدس فان کانوا اکثر من ذلک فھم شرکآء فی الثلث من بعد وصیۃ یوصی بھا اودین غیر مضآر وصیۃ من اللہ ، واللہ علیم حلیم “۔ ( سورة نمبر 12 آیت نمبر 12 آخری حصہ)
” اور اگر وہ مرد یا عورت جس کی میراث تقسیم طلب ہے بےاولاد ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں مگر اس کا ایک بھائی یا بہن موجود ہو تو بھائی بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ اور اگر بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے ۔ جب کہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو میت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو ۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا اور بینا اور نرم خو ہے ۔ “ (آیت) ” 11 ‘ 12)
اب کلالہ کی دوسری شکل کا بیان کیا جاتا ہے جو وہاں نہ کیا گیا تھا ۔ اگر متوفی کے والدین اور اولاد نہ ہو اور صرف ایک حقیقی بہن ہو یا باپ کی طرف سے بہن ہو تو وہ نصف ترکہ کی حقدار ہوگی ۔ لیکن اگر ایسی بہن مر جائے تو اس کا تمام ترکہ یہ بھائی لے گا۔ اصحاب قروض کے حصص کے سوا اگر اس عورت کے والدین اور اولاد نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں اگر میت کی ایک کے بجائے دو بہنیں ہوں حقیقی ہوں یا صرف باپ کی طرف سے ہوں تو وہ دو تہائی کی حقدار ہوں گی ۔ اگر بہت سے بھائی بہن موجود ہوں تو مطابق اصول مرد کا حصہ عورت کے دو حصوں کے برابر ہوگا ۔ ہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگر حقیقی بہن بھائی موجود ہوں تو پھر صرف باپ میں شریک بہن یا بھائی محروم ہوجائیں گے ۔
یہ آیت میراث ختم ہوجاتی ہے اور اس پر اس سورة کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ اور آخر میں وہی قرآنی تنبیہ اور اختتامیہ آتا ہے کہ تمام باتوں کا مآل اور مرجع اللہ ہی کی طرف ہے اس طرح تمام حقوق واوجبات اور تمام مالی اور غیر مالی امور میں شریعت کی پابندی کو لازمی کردیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” یبین اللہ لکم ان تضلوا ، واللہ بکل شیء علیم (4 : 176) ” اللہ تمہارے لئے احکام کی توضیح کرتا ہے کہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے “۔ یہ نہایت ہی جامع آیت ہے ۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے میراث میراث کا بھی اور دوسرے امور کا بھی ، خاندانی تعلقات کا بھی اور اجتماعی امور کا بھی ۔ احکام کا بھی اور قانون سازی کا بھی ، یا تو تم ہر معاملے میں اللہ کے احکام کی تابعداری کرو گے یا پھر گمراہی میں پڑو گے ۔ تمہارے زندگی بسر کرنے کے صرف دو طریقے ہیں ۔ کوئی تیسر اطریقہ نہیں ہے ۔ یا تو طریقہ ہدایت ہے ۔ جو اللہ نے بیان کیا ہے اور یا کوئی دوسرا طریقہ ہے جو گمراہی ہے ۔ اللہ نے سچ کہا ہے ۔ (آیت) ” فما ذا بعد الحق الا الضلال “ ” سچائی کے علاوہ گمراہی کے سوا اور کیا ہے “۔
المائدة 5:1
(آیت) ” نمبر 1۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ بندشوں کی پوری پابندی کرو) ۔ زندگی کے بسر کرنے کے لئے کچھ ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خود انسان اور اس کے نفس کے درمیان جو تعلق ہے اسکے لئے بھی کچھ اصول اور ضوابط ہوتے ہیں۔ پھر ایک انسان اور انسان کے درمیان تعلق کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور پھر انسان اور تمام دوسری زندہ مخلوق اور غیر زندہ اشیاء کے درمیان بھی تعلق کے ضابطے ہوتے ہیں ۔ لوگوں میں سے رشتہ داروں سے تعلقات ‘ غیر رشتہ داروں اور دور کے لوگوں کے ساتھ تعلقات ‘ خاندان اور قوم کے لوگوں کے ساتھ تعلقات ‘ جماعت کے ساتھ تعلقات اور پھر پوری امت کے ساتھ ایک فرد کا تعلق ‘ دشمنوں کے ساتھ تعلق ‘ دوستوں کے ساتھ تعلق ‘ دنیا کی ان زندہ جیروں کے ساتھ تعلق جنہیں اللہ نے انسان کے قابو میں رکھا ہے اور ان کے ساتھ تعلق جو بےتعلق جو بےقابو ہیں اور اس وسیع و عریض کائنات کی تمام اشیاء کے ساتھ انسان کے تعلق کے اصول و ضوابط اسلامی نظام زندگی کے اندر پورے کے پورے موجود ہیں ۔ پھر انسان کی زندگی کا ربط اپنے رب کے ساتھ ‘ اپنے آقا کے ساتھ تو ایک ایسا تعلق ہے جو زندگی کی بنیادی قدر ہے ۔ یہ تمام امور اس نظام کے اندر مقرر اور منضبط ہیں ۔
اسلامی نظام ان تمام ضوابط اور تعلقات کو انسانی زندگی کے اندر عملا ثابت کرتا ہے ۔ وہ ان تعلقات کو قائم کرتا ہے ‘ ان کے لئے حدود قیود متعین کرتا ہے اور ان کی پوری پوری وضاحت کرتا ہے ۔ اور یہ تمام رابطے رب ذوالجلال کے عنوان سے ہوتے ہیں ۔ وہ ان تمام رابطوں کے احترام کی ضمانت دیتا ہے ۔ ان کی بےحرمتی اور ان کے ساتھ مذاق کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ ان روابط کے بارے میں اسلامی نظام یہ صورت حال برداشت نہیں کرتا کہ انہیں بدلتی ہوئی خواہشات نفسانیہ کے حوالے کر دے یا ان اغراض ومقاصد کے نابع کر دے جن کا تعلق کسی ایک فرد کی خواہش اور سوچ سے ہو ۔ یا کوئی جماعت ان اغراض اور خواہشات میں دلچسپی رکھتی ہو یا اقوام عالم میں سے کسی قوم میں یہ اغراض پائی جاتی ہوں یا تاریخ انسانی کی نسلوں میں سے کوئی نسل ان میں دلچسپی رکھتی ہو اور ان اسباب کی وجہ سے انہیں توڑ دینا چاہتی ہو۔ ان تمام روابط ہی میں انسان کی مصلحت ہے بشرطیکہ ان روابط کو اللہ اور رسول نے لوگوں کے لئے وضع کیا ہو ‘ اگرچہ کوئی فرد ‘ کوئی جماعت ‘ کوئی قوم یا کوئی نسل یہ سمجھتی ہو کہ ان میں انسانوں کی مصلحت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ خوب جانتا ہے ۔
اور لوگوں کا علم محدود ہے ۔ جو فیصلہ اللہ کرتا ہے وہ بہتر ہے اس سے جو خود لوگ کرتے ہیں ۔ اللہ میاں کے ادب واحترام کا پہلا زینہ یہ ہے کہ انسان اپنے ذاتی اندازے کو اللہ کی تقدیر کے مقابلے میں نہ لائے اور یہ سمجھے کہ بہتر وہی ہے جو اللہ نے قرار دیا ۔ اور جو اللہ نے قرار دیا ‘ اس کے آگے سرتسلیم خم کر دے ‘ نہایت ہی رضامندی ‘ نہایت ہی وثوق اور پورے اطمینان کے ساتھ ۔
یہ تمام ضوابط جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا ‘ ان کی تعبیر اللہ تعالیٰ لفظ ” العقود “ سے فرماتے ہیں اور اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان عقود کی پوری پوری پابندی کریں ۔ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ بندشوں اور عقود کی پابندی کرو اور اس کے بعد پھر حلال و حرام کا بیان شروع کردیا ۔ کھانے پینے میں سے محرمات کو بیان کردیا ۔ نکاح میں جو محرمات ہیں ان کو بیان کردیا اور ان کے بعد دوسرے شرع احکام اور عبادات کے طریقوں کی تفصیلات بیان کیں ۔ اس کے والا صحیح عقائد ونظریات کی تشریح بھی کی گئی ۔ بندگی اور عبادت کے طریقے بھی بیان ہوئے اور اللہ کی حاکمیت کی تفصیلات بھی دی گئیں ۔
پھر امت مسلمہ اور دوسری امم کے درمیان تعلقات کی نوعیت کا تذکرہ بھی ہوا اور احکام بھی ذکر ہوئے ۔ امت مسلمہ کا فریضہ ہے کہ وہ شہادت حق ادا کرے ۔ دنیا میں انصاف قائم کرے ۔ پوری انسانیت کی نگرانی کرے ‘ اس لئے کہ اس کی کتاب بھی تمام کتب پر حاوی اور نگہبان ہے ۔ اور پھر یہ حکم کہ اسلامی معاشرے میں فیصلے اللہ کے قانون کے مطابق ہوں اور یہ حکم کہ فتنے میں نہ پڑو اور ذاتی اور شخصی وجوہات کی بنا پر عدل و انصاف کا رشتہ ہاتھ سے نہ چھوڑو ۔ یہ تمام امور العقود کی تشریح کرتے ہیں ۔
غرض اس سورة کا افتتاح لفظ العقود سے اور اس کے بعد تمام احکام و عقائد و عبادات کی تشریح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ لفظ عقود اور عقد کا مفہوم اس لغوم سے بہت ہی وسیع ہے جو اس لفظ کے سنتے ہی ذہن میں آجاتا ہے بلکہ اس سے مراد وہ تمام ضابطہ حیات ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے مقرر فرمایا ہے ۔ انسان کے لیے اللہ نے جو ضابطہ حیات مقرر فرمایا ہے اس کی اساس ایمان باللہ اور اس معرفت پر ہے کہ اللہ کی الوہیت کا مفہوم کیا ہے اور اللہ کی الوہیت ‘ حاکمیت اور معبودیت کے تقاضے کیا ہیں ؟ یہ عقد اس ایمان اور تصور حاکمیت الہیہ سے پھونٹا ہے اور زندگی کے تمام ضوابط اس ایمان اور عقیدہ اور پابندی عقود پر استوار ہوتے ہیں ۔
اللہ پر ایمان لانے کا عقد ‘ اللہ کی حاکمیت ‘ ربوبیت اور اس کے قوام اور نگران ہونے کا اعتراف اور اس عقد واعتراف کے نتیجے میں اللہ کی مکمل بندگی کرنے کے تقاضے اور ہمہ گیر اور عمیق اطاعت اور سرتسلیم خم کردینے کے وعدے وہ امور ہیں جن پر اسلام کی عمارت استوار ہے ۔ یہ عہد سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے اس وقت لیا تھا جب اللہ تعالیٰ نے ان کو منصب خلافت فی الارض کی چابیاں سپرد فرمائی تھیں ۔ اس معاہدے اور میثاق کو قرآن کریم نے ان الفاظ اور شرائط کے ساتھ بیان فرمایا ہے ۔
(آیت) ” قلنا اھبطوا منھا جمیعا فاما یاتینکم منی ھدی فمن تبع ھدای فلا خوف علیھم ولا ھم یحزنون (38) والذین کفروا وکذبوا بایتنا اولئک اصحب الناس ھم فیھا خالدون (39) (2 : 38۔ 39)
(ہم نے کہا تم سب یہاں سے اتر جاؤ پھر جب میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ‘ ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا ۔ اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ‘ وہ آگ میں جانے والے ہیں ‘ جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ ) حضرت آدم اور آپ کے بعد مطلق انسان کو جو مقام خلافت فی الارض دیا گیا ہے وہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اللہ کے رسول جو ہدایت لے کر آئیں گے ان کو قبول کیا جائے گا ۔ اگر اللہ کے رسولوں اور ان پر نازل شدہ ہدایات کو قبول نہ کیا گیا تو یہ عہد کی صریح خلاف ورزی ہوگی اور پھر انسان کو اس کرہ ارض پر زندہ رہنے کا کوئی حق نہ ہوگا نہ وہ اس زمین کا مالک ہوگا ۔ اگر اس عہد کی خلاف ورزی کی گئی تو جو کام بھی اس عہد کے خلاف ہوں گے وہ باطل (Void) اور کالعدم ہوں گے ۔ انکی کوئی قانونی حیثیت نہ ہوگی اور نہ ان افعال کو از سرنو درست کیا جاسکے گا اس لیے جو شخص بھی اللہ پر صحیح ایمان رکھتا ہو ‘ اللہ کے ساتھ اپنے کئے ہوئے عہد کو پورا کرنا چاہتا ہو ‘ اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اس باطل کی مدافعت کرے ‘ اس کو ہر گز قبول نہ کرے اور اس باطل کی اساس پر کوئی معاملہ نہ کرے ، اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ ہر گز وفائے عہد نہ کر رہا ہوگا ۔
اللہ کے ساتھ اس عقد اور اس عہد کی ذریت آدم کے ساتھ تجدید ہوتی رہی ہے ۔ آدم (علیہ السلام) کی جو جو نسل وجود میں آتی رہی ہے اس کے ساتھ یہی از سر نو ہوتا رہا ہے ۔ ایک دوسری آیت میں ہے ۔
(آیت) ” واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم واشھدھم علی انفسھم الست بربکم قالوا بلی شھدنا ان تقولوا یوم القیمۃ انا کنا عن ھذا غفلین (172) او تقولوا انما اشرک ابآونا من قبل وکنا ذریۃ من بعدھم افتھلکنا بما فعل المبطلون (173) (7 : 172۔ 173)
(اور اے نبی لوگوں کو یاد دلاو وقت جب کہ تمہارے رب نے نبی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہوں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا ” کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ “ انہوں نے کہا : ” ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ہم اس پر گواہی دیتے ہیں “۔ یہ ہم نے اس لئے کہا کہ کہیں قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ ” ہم اس بات سے بیخبر تھے ۔ “ یا یہ کہنے لگو کہ ” شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے ۔ پھر کیا آپ ہمیں اس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا ؟ـ)
غرض یہ ایک دوسرا صریح معاہدہ تھا جو ہر فرد کے ساتھ طے ہوا ۔ اور یہ عہد ایسا ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ تمام بنی آدم کے ساتھ طے پایا تھا اور یہ اس وقت ہوا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے ۔ ہم یہاں یہ سوال نہیں کرسکتے کہ یہ عہد کیسے طے پایا کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ یہ کیسے طے پایا ۔ لوگوں کے ساتھ اللہ نے کس طرح خطاب کیا۔ یہ اللہ ہی جانتا ہے جبکہ وہ آباء کی پشتوں میں تھے ۔ بہرحال اللہ نے ان سے خطاب کی اور ان پر اتمام حجت کیا ۔ اور ان سے عہد یہ لیا گیا کہ وہ ان کا رب ہے اور انہوں نے اس کا اقرار کای جس طرح اللہ نے بیان کیا ہے ۔ اب اگر لوگ اللہ کی الوہیت کو تسلیم نہ کریں گے تو یہ ان کی جانب سے عہد کی خلاف ورزی ہوگی ۔
پھر اگے چل اس سورة میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی ایسا ہی عہد لیا تھا ‘ اس وقت جب پہاڑ کو ان کے اوپر ابر کی طرح لٹکا دیا تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ یہ پہاڑ ان کے اوپر گرنے ہی والا ہے ۔ آگے بتایا جائے گا کہ انہوں نے کس طرح اس عہد ومیثاق کی خلاف ورزی کی اور پھر ان پر خدا کا عذاب کس طرح نازل ہوا۔
اسی طرح حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے والے لوگوں نے بھی درحقیقت ‘ آپ پر ایمان لا کر اللہ سے معاہدہ کیا ۔ انہوں نے سمع اور اطاعت پر عہد کیا ، خوشی میں بھی اور مشکلات میں بھی اور یہ کہ اس عہد کو ہر چیز پہ مقدم رکھیں گے اور کسی کام کے اہل شخص اور مستحق شخص کے استحقاق کو چیلنج نہ کریں گے ۔
اس عام عہد اور عقد کے بعد خصوصی عہد بھی ہوتے رہے ۔ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقعہ پر جس کے نتیجے میں ہجرت کا عمل شروع ہوا اور آپ ﷺ مکہ سے مدینہ کی طرف منتقل ہوئے انصار کے نمائندوہ کے ساتھ ایسا ہی عقد ہوا تھا اور حدیبیہ میں بھی ایک عقد بیعت الرضوان کے نام سے ہوا تھا۔
غرض اللہ پر ایمان لانے کے عقد ‘ اور اللہ کی بندگی کرنے کے عہد پر تمام دوسرے عقود مرتب ہوتے ہیں ‘ چاہے ان کا تعلق اللہ کے اوامر سے ہو یا نواہی سے ہو یا ان کا تعلق عام لوگوں ‘ زندہ چیزوں یا اس کائنات کی دوسری چیزوں سے ہو یا ان حدود میں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی شرعی حکم دیا ہے ۔ یہ سب عقود ہیں اور اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو بحیثیت مومن یہ حکم دے رہے ہیں کہ وہ ان عقود کو پوری طرح سرانجام دیں اس لئے کہ ایمان لاتے ہی ان پر یہ پابندی عائد ہوگئی ہے اور ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ وہ ایسا کریں اور یہی وجہ ہے کہ خطاب یوں ہوا (آیت) ” یایھا الذین امنوا اوفوا بالعقود) اور اس کے بعد اب مزید تفصیلات ان عقود کی اس طرح آتی ہیں ۔
المائدة 5:2
قابل ذبح جانوروں میں تحریم وتحلیل ‘ مختلف چیزوں میں سے حلال و حرام مختلف جگہوں میں حلال و حرام ‘ مختلف اوقات میں حلال و حرام کی یہ حدود وقیود سب کی سب عقود ہیں۔ یہ تمام عقود اور عہد و پیمان ایمان کی بنیاد پر قائم ہیں اس لئے جو لوگ ایمان لائے ہیں ‘ ان کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حلال و حرام کی بابت تمام ہدایات اللہ سے اخذا کریں اور اس معاملے میں غیر اللہ سے کچھ نہ لیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بیان کے آغاز ہی میں کہا گیا کہ عقود اور بندشوں کی پوری طرح پابندی کرو اب اس کے بعد حلال و حرام کا بیان شروع ہوتا ہے ۔ (آیت) ” احلت لکم بھیمۃ الانعام الا ما یتلی علیکم) (تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کئے گئے ‘ سوائے ان کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے)
یعنی اس وجہ سے کہ اللہ نے تمہارے لئے حلال کیا اور اس وجہ سے کہ اس حلت کو اللہ نے تمہارے لئے بیان کیا ہے ‘ کسی اور حلال و حرام کرنے والے نے نہیں کیا ‘ تمہارے لئے ان تمام جانوروں کا کھانا جائز ہوگیا جو مویشیوں کی قسم کے ہوں یعنی مذبوحہ جانور اور شکار کے جانور سوائے ان کے جن کی حرمت آگے خود اللہ تعالیٰ بیان فرما رہے ہیں اور آئندہ جن کی حرمت بیان کی جانے والی ہے ‘ وہ یا تو کسی وقت کے ساتھ مخصوص ہے یا کسی جگہ کے ساتھ مخصوص ہے یا وہ مطلق حرمت ہے اور ہر زمان ومکان کے ساتھ اس کا تعلق ہے ۔ بہیمۃ الانعام کے لفظ میں اونٹ ‘ گائے اور بکری وغیرہ آتے ہیں ۔ ان جیسے وحشی جانور بھی ان میں داخل ہیں مثلا وحشی گائے ‘ ہر نی اور جنگلی گدھے وغیرہ ۔
اب اس عمومی حلت کے حکم سے بعض استثنائی صورتوں کو پیش کیا جاتا ہے اور پہلی صورت یہ ہے کہ احرام میں شکار کرنا حرام قرار دیا گیا ہے ۔ (غیر محلی الصید وانتم حرم (105) (لیکن احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لئے حلال نہ کرلو) اس تحریم کا اطلاق شکار کرنے کے فعل پر ہوگا ۔ حج اور عمرہ کے لئے احرام باندھتے ہی انسان معمول کی زندگی ترک کرکے اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔ وہ زندگی کے نئے انداز سے اللہ کے گھر میں داخل ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس گھر کے لئے کچھ آداب مقرر فرمائے ہیں ۔ اسے دارالامن اور دار الامان قرار دیا ہے ۔ اس کی حدود کے اندر جو شخص بھی آتا ہے ‘ اس کے لئے کسی بھی زندہ چیز پر ہاتھ اٹھانا حرام قرار دیا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی وقفہ ہوتا ہے اور نفس انسانی کے لئے ایسے وقفے ضروری ہوتے ہیں ۔ اس طرح تمام زندہ اشیاء کا تعلق زندگی بخشنے والے کے ساتھ استوار ہوتا ہے اس عرصے میں اور اس مقام کے حدود کے اندر کوئی زندہ پر کسی قسم کی دست درازی نہیں کرسکتا ۔ اس حکم کے ذریعے انسانی ضروریات کا دائرہ بھی محدود کردیا جاتا ہے ‘ جسکی وجہ سے شکار کا کھانا جائز قرار دیا گیا تھا اور دوسرے حیوانات کا کھانا حلال کیا گیا تھا تاکہ انسان اس عرصے میں عام جاری زندگی سے ذرا بلند ہو کر اللہ کے گھر میں زمینی کثافتوں سے اوپر اٹھے اور اس کی نظریں بلند اور روشن افق پر ہوں ۔
اور آگے بڑھنے اور حلال و حرام کی تفصیلات میں جانے سے پہلے اس عقد کو اس عظیم عقد سے مربوط کردیا جاتا ہے اور جو ہر مومن اور ہر انسان نے اللہ کے ساتھ کیا تھا ۔ اہل ایمان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ وہ بڑا معاہدہ اللہ کے ساتھ ہوا تھا اور اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ یحکم ما یرید “۔ (5 : 1) (بےشک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے) اللہ کی مشیت آزاد ہے ۔ اس کا ارادہ ہی اصل حاکم ہے ‘ وہ اس حق حکمرانی میں اکیلا ہے لہذا جو چاہے حکم دے ، کوئی دوسرا نہیں ہے جو اس کے ارادے میں شریک ہو ۔ اس کے علاوہ دوسرے کو بھی حکم حکمرانی نہیں ہے ۔ کوئی اس کے احکام کو مسترد کرنے والا نہیں ہے اور یہاں بھی وہ جسے چاہے حرام کر دے اور جسے چاہے حلال کر دے کیونکہ وہی قانون ساز ہے ۔ اس کے بعد مزید بیان ہوتا ہے اور تاکید کی جاتی ہے کہ اللہ کے ہاں محترم چیزوں کی بےحرمتی تمہارے لئے جائز نہیں ہے ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تحلوا شعآئر اللہ ولا الشھر الحرام ولا الھدی ولا القلائد ولا امین البیت الحرام یبتغون فضلا من ربھم ورضوانا واذا حللتم فاصطادوا “۔ (5 : 2)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ خدا پرستی کی نشانیوں کو بےحرمت نہ کرو ، حرام مہینوں میں کسی کو حلال نہ کرلو ‘ قربانی کے جانوروں پر دست درازی نہ کرو ‘ ان جانوروں پر ہاتھ نہ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں اور نہ انکو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں مکان محترم (کعبہ) کی طرف جارہے ہوں ۔ ہاں جب احرام کی حالت ختم ہوجائے تو شکار تم کرسکتے ہو)
یہ شعائر اللہ کیا ہیں ؟ یہاں جس چیز کی طرف ذہن جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اسے مراد حج ‘ عمرہ ہیں اور ہو محرمات ہیں کہ حج اور عمرہ کے دوران جن کا ارتکاب حرام قرار دیا گیا ہے اور فرائض وہ ہیں جو ان میں ادا ہوتے ہیں یہاں تک کہ حج اور عمرہ ختم ہوجائیں یعنی قربانی کرنے کے بعد ۔ احرام کی حالت میں احرام باندھنے والے کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ ان شعائر اللہ کو حلال قرار دے یا ان کا احترام ملحوظ نہ رکھے کیونکہ اگر وہ ایسا کرے گا تو وہ اس احترام کا لحاظ نہ رکھے گا جو اللہ نے ان چیزوں کے ساتھ وابستہ کیا ہے ۔ ان شعائر کی نسبت اللہ کی طرف اس لئے کی گئی ہے کہ اللہ کے ہاں یہ نہایت ہی محترم چیزیں ہیں اور ان کا استخفاف نہایت ہی خطرناک جرم ہوگا ۔
حرام مہینے کون سے ہیں ۔ رجب ‘ ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ اور محرم چار مہینے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان مہینوں کے اندر جنگ کو حرام کیا ہے ۔ اسلام سے قب عرب بھی ان مہینوں میں جنگ کو ناجائز سمجھتے تھے لیکن وہ حسب خواہش ان حرام مہینوں میں ردوبدل کردیتے تھے ۔ اس میں وہ نسئی کا عمل کرتے تھے یعنی کسی مہینے کی حرمت کو کچھ عرصے کے لئے موخر کردیتے تھے اور اس تاخیر کا فتوی وہ کاہنوں سے لیتے تھے یا بعض مضبوط جنگلی قبائل سے اس کا اعلان کروا دیتے تھے ۔ یہ تاخیر ایک سال سے دوسرے سال تک کردی جاتی ۔ جب اسلام آیا تو اسلام نے اس عمل نسئی کو حرام قرار دیا اور ان مہینوں کو اس طرح حرام قرار دیا جس طرح اللہ نے انہیں حرام قرار دیا تھا اور جس طرح یہ مہینے آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش کے وقت سے اللہ نے رکھے تھے ۔ سورة توبہ کی آیت میں اس کا ذکر یوں ہوا ہے ۔
(آیت) ” ان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھرا فی کتب اللہ یوم خلق السموت والارض منھا اربعۃ حرم ذلک الدین القیم فلا تظلموا فیھن انفسکم وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ واعلموا ان اللہ مع المتقین “۔ (9 : 36)
” حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ رہی ہے اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں یہی ٹھیک ضابطہ ہے تم ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور تم تمام مشرکوں سے جہاد کرو جیسا کہ وہ تم سب سے لڑتے ہیں۔ )
اس سے اگلی آیت میں فیصلہ کیا گیا کہ لسئی کا عمل کفر کے اندر مزید کافرانہ فعل ہے اور صحیح بات اللہ کا حکم ہے اور وہ یہ کہ اس میں قتال حرام ہے بشرطیکہ ان مہینوں میں کوئی مسلمانوں پر حملہ آور نہ ہو۔ اگر ان پر حملہ ہو تو وہ دفاع کرسکتے ہیں ۔ یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ حملہ آور ان مہینوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کریں اور خود ان مہینوں کے احترام کا لحاظ نہ رکھیں ، ہاں اگر ان کی اسکیم یہ ہو کہ وہ ان مہینوں کو وصال بنا کر مسلمانوں کی طرف جوابی کاروائی سے بچ جائیں تو یہ اجازات نہ ہوگی ۔ اشہر حرام کے اندر قتال کا حکم اس سے قبل سورة بقرہ میں گزر چکا ہے ۔
” ہدی “ وہ جانور ہے جسے حاجی یا عمرہ کرنے والا ساتھ لاتا ہے اور حج اور عمرہ سے فارغ ہو کر اسے ذبح کرتا ہے ۔ اسے نحر کہتے ہیں اور اس پر حج اور عمرہ کرنے والے کے مناسک ختم ہوجاتے ہیں یہ یا تو اونٹ ہوتا ہے یا کوئی مویشی ہوتا ہے یا بھیڑ بکری ہوتی ہے ۔ اور یہ کہ ” ہدی حلال نہیں ہے “ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس غرض کے لئے اسے خریدا گیا یا لایا گیا ‘ اس کے سوا کسی اور غرض کے لئے اس کا استعمال جائز نہیں ہے ۔ اسے اس وقت تک ذبح نہ کیا جائے گا جب تک حج میں یوم النحر کا دن نہیں آجاتا اور عمرہ کے مناسک ختم نہیں ہوجاتے ۔ ان قربانیوں کے گوشت ‘ چمڑوں ‘ بالوں اور اون وغیرہ سے (بشکل قیمت) کوئی شخص خود نفع اندوز نہیں ہوسکتا اور ضروری ہے کہ وہ ان چیزوں کو فقرا پر صرف کرے ۔
قلائد : سے مراد وہ جانور ہیں جن کے گلے میں اس کا مالک پٹہ ڈال دیتا تھا ۔ یہ پٹہ ان جانوروں کے ہدی ہونے کی علامت ہوا کرتا تھا ۔ یہ پٹہ ڈال کر حاجی جانور کو آزاد چھوڑ دیتے تھے اور یوم النحر پر اسے ذبح کرتے تھے ۔ جانوروں کے گلوں میں جب پٹے ڈالدیئے جاتے اس کے بعد وہ کسی دوسری غرض کے لئے حلال نہ ہوتے اور اس غرض کے سوا انہیں ذبح نہ کیا جاسکتا ۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ قلائد وہ ہیں جن کے گلوں میں پٹے ڈال دیئے جاتے تھے اور مقصد یہ ہوتا تھا کہ یہ جانور حج اور عمرہ کے لئے خریدے گئے ہٰں ۔ اس طرح ان کو ڈاکوؤں ‘ دشمنوں وغیرہ سے بچایا جاتا تھا ۔ وہ حرم کے درختوں سے ایسی چیزیں بناتے تھے جن کو ان جانوروں کی گردنوں میں ڈال دیتے تھے ۔ ان جانوروں کو عام طور پر علاقے میں چھوڑ دیا جاتا تھا اور کوئی بھی ان پر دست درازی نہ کرتا تھا ۔ جن لوگوں نے قلائد کا یہ مفہوم بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت منسوخ ہے اس لئے کہ اس کے بعد نازل ہونے والی آیت :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا وان خفتم علیۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ ان شآء ان اللہ علیم حکیم “۔ (9 : 28)
” مشرکین ناپاک ہیں ‘ لہذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکیں اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہے تو اللہ تمہیں دولتمند کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ علم و حکمت والا ہے)
اور دوسری جگہ (آیت) ” فخذوھم واقتلوھم حیث ثقفتموھم) (پس انہیں پکڑو ‘ قتل کرو ‘ جہاں بھی تم انہیں پاؤ) لیکن پہلا قول زیادہ قوی ہے اور ظاہر ہے کہ قلائد وہ جانور ہیں جو اللہ کے نام پر نحر کرنے کے لئے نذر کردیئے گئے ہیں اور ان کے گلے میں پٹے ڈال دیئے گئے ہیں اور ان پر یہ بھی دلیل ہے کہ ان کا تذکرہ ہدی کے بعد آیا ۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے ہدی مقلد مراد ہے اور یہ حج اور عمرے کے لئے مقلد جانور ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو بھی حرام قرار دیا ہے جو ” آمین البیت “ ہوں یعنی جنہوں نے بیت اللہ کی طرف جانے کا ارادہ کرلیا ہو اور جن کا مقصد اللہ کے فضل کی تلاش اور اس کی رضا مندی ہو ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو حج کا ارادہ رکھتے ہوں یا عمرے کا ارادہ رکھتے ہوں ۔ اس میں ان کے کے پیش نظر دو چیزیں ہو سکتی ہیں تجارت اور رضائے الہی کا حصول ۔ اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو امن کی گارنٹی دی ہے ۔
آخر میں وضاحت کردی گئی کہ شکار کرنا تمہارے لئے مستقلا حرام نہیں کردیا گیا ۔ جب تم احرام سے باہر آجاؤ تو تمہارے لئے شکار کرنا جائز ہے لیکن حدود حرم سے باہر ‘ کیونکہ حدود حرم کے اندر شکار ہر حالت میں حرام ہے ۔ (آیت) ” واذا حللتم فاصطادوا “ (اور جب احرام کی حالت ختم ہوجائے تو تم شکار کرسکتے ہو) لیکن حدود حرم سے باہر ‘ اس لئے کہ حرم کے حدود کو اللہ تعالیٰ نے علاقہ امن قرار دے دیا ہے ‘ جیسا کہ اس نے حرام مہینوں کو امن کا عرصہ (Period) قرار دیا ہے ۔ یہ وہ علاقہ ہے جس میں لوگ ’ حیوانات ‘ پرندے اور درخت سب کے سب پرامن رہتے ہیں اور ان کو کسی کی جانب سے دست درازی کا کوئی ڈر نہیں ہوتا ۔ غرض ایک ہمہ گیر امن ہے جو اس گھر کے اوپر ایک گھنے سایہ دار درخت کی طرح ہمیشہ لہلہاتا رہتا ہے ۔ حدود حرم پر یہ ہمہ گیر ” سایہ امن “ اس لئے چھایا ہوا ہے کہ اس امت کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ اس گھر کو پرامن بنادے اور اس دعا کو اللہ نے قبول فرمایا تھا اور امن کی جہ فضا چار ماہ تک پوری سرزمین عرب پر چھائی رہتی ہے اور پورے چار ماہ تک یہ امن وسلامتی اسلامی نظام کے سائے میں اپنی شان دکھاتی ہے ۔ یہ اس قدر ہمہ گیر سلامتی ہوتی ہے کہ ہر انسانی دل اس کے اطمینان ‘ سکون کو اور ہر صاحب ذوق اس کی مٹھاس کو محسوس کرتا ہے ۔ اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم امن وسلامتی کی یہ فضا پیدا کرنے میں نہایت ہی سرگرم ہوں اور ان چار مہینوں کے بعد پوری زندگی کے شب وروز میں ‘ سال کے 12 مہینوں میں اور ہر جگہ ایسی ہی فضا پیدا کرنے کی سعی کریں ۔
اس منطقہ امن کے اندر ‘ ان حرمتوں کی فضا میں ‘ اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دعوت دیتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائے ہوئے ہیں اور جنہوں نے اللہ کے ساتھ عہد کر رکھا ہے کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں گے اور اپنے مقام اور پروگرام اور موقف کو اتنی بلندی تک لے جائیں گے جہاں تک اس عظیم مقصد اور نصب العین کے لئے ضروری ہو جو ان کے سپرد کردیا گیا ہے ۔ وہ عظیم نصب العین اور مقصد کیا ہے ؟ یہ کہ امت مسلمہ اس دنیا پر بسنے والی تمام امم کے لئے نگران ہے اور اسے اپنی زندگی کے اس مشن کو شخصی جذبات ‘ ذاتی رجحانات اور عارضی حالات سے متاثر ہوئے بغیر ادا کرنا چاہئے ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ ان لوگوں پر بھی ظلم و زیادتی نہ کرو جنہوں نے حدیبیہ کے موقعہ پر تمہیں مسجد حرام میں جانے سے روک دیا تھا اور اس سے پہلے بھی جب وہ مکہ میں تھے وہ ایسی رکاوٹیں پیدا کیا کرتے تھے ۔ ان کے لگائے ہوئے زخم ابھی تک اگرچہ مسلمانوں کے دلوں میں تازہ تھے ‘ اور مسلمانوں کے دلوں میں مسجد حرام سے روکنے کی وجہ سے ان لوگوں کے خلاف نفرت تازہ تھی۔ اگرچہ یہ صورت حال موجود تھی ‘ لیکن امت مسلمہ کے فرائض اور مقاصد ان چیزوں سے بالاتر تھے امت کے مقاصد وفرائض اس امت کے عظیم کردار کے زاویے سے تھے ۔ فرماتے ہیں :
(آیت) ” ولا یجرمنکم شنان قوم ان صدوکم عن المسجد الحرام ان تعتدوا وتعاونوا علی البر والتقوی ، ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ، واتقوا للہ ، ان اللہ شدید العقاب “۔ (5 : 2)
” اور دیکھو ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیا تو اس پر ۔۔۔۔۔۔۔ تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی انکے مقابلے میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو ۔ جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ان میں سب سے تعاون کر گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو ۔ اللہ سے ڈرو اس کی سزا بہت سخت ہے ۔ ‘
ضبط نفس کے میدان میں یہ بلند ترین مقام ہے ۔ دریا دلی میں یہ سب سے اونچا درجہ ہے اور اس مقام تک اس امت کے لئے پہنچنا فرض ہے جسے اب اللہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کا نگران اور اتالیق مقرر کیا ہے ۔ جسے عوام الناس کی تہذیب اور ترقی کا فریضہ سپرد کیا گیا ہے اور جسے یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ پوری انسانیت کو اس بلند اور روشن افق اور نصب العین کی طرف متوجہ کردے ۔
یہ وہ فرائض ہیں جو منصب قیادت ‘ نگرانی اور امتداب کے از بس ضروری ہیں ۔ یہ مومنین کا فرض ہے کہ وہ ان تمام مصائب وشدائد کو بھول جائیں جو ان کو ان دشمنوں کے ہاتھوں پہنچے تھے ۔ یہ اس لئے کہ وہ اس نمونے کو دنیا کے سامنے عملا پیش کریں جو اسلام کو مطلوب ہے تاکہ وہ رواداری عملا انسانوں کے سامنے پیش ہو جسے اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ صرف اسی طرح امت مسلمہ اسلام کے حق میں شہادت حق دے سکتی ہے ۔ اور لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہو کر اسے پسند کرسکتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک عظیم ذمہ داری ہے لیکن اس شکل میں وہ نفس انسانی کے لئے گرانبار نہیں ہوتی اور نہ وہ انسان کی قوت اور وسعت سے باہر ہوتی ہے ۔ اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ انسان کو غصہ آئے یہ انسان کا حق ہے کہ وہ بری چیز کو ناپسند کرے لیکن انسانوں کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی چیز کو ناپسند کرتے ہی وہ فورا ردعمل ظاہر کردیں یا یہ کہ دشمنی اور کینہ کے ہاتھوں بالکل مجبور ہوجائیں ۔ اسلام ان کو حکم دیتا ہے کہ وہ نیک اور تقوی کے کاموں میں تو فورا اٹھ کھڑے ہوں اور جلدی رد عمل ظاہر کریں لیکن گناہ اوپر ظلم کے کام میں جتھہ بندی نہ کریں ۔ وہ اللہ سے ڈریں اور اس کی سزا سے اپنے آپ کو بچائیں اور تقوی اور خدا خوفی کے ذریعے اپنے نفس پر قابو پائیں ۔ اس کی لگام کھینچ کر رکھیں اور اپنے اندر برداشت اور رواداری پیدا کریں ۔ اللہ سے ڈریں اور اس کی رضا ہمیشہ ان کے پیش نظر رہے ۔
یہ اسلام کا کمال تھا کہ اس کی تربیت نے عرب قوم جیسی اجڈ اور جاہل قوم کو ضبط نفس عطا کر کے ان کے اندر اس سلسلے میں نہایت ہی قوی شعور پیدا کردیا اور انہوں نے نہایت ہی مشفقانہ اور کریمانہ رویہ اپنایا حالانکہ وہ ایسی قوم تھی کہ ان سے اس سطح تک بلند اخلاقی اور حسن سلوک کی کم ہی توقع کی جاسکتی تھی کیونکہ ان کے تمدن کا رخ ہی اس سمت کے خلاف تھا ۔ عربی طرز علم اور اس بارے میں ان کا رویہ یہ تھا ۔ (انصر اخاک ظالما او مظلوما) (اپنے بھائی کی امداد کرو چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو) یہ جاہلانہ حمیت تھی اور دور جاہلیت کی عصبیت تھی ، ان کے نزدیک گناہ اور ظلم پر باہم تعاون کرنا ‘ نیکی اور تقوی کے معاملات میں تعاون کرنے سے زیادہ پرکشش تھا ، وہ ہمیشہ باطل وگمراہی پر باہم تعاون کے معاہدے کرلیتے تھے اور حق اور سچائی پر ان کا اجتماع بہت ہی کم ہوا کرتا تھا ۔ تاریخ جاہلیت میں سچائی پر کم ہی حلف منعقد ہوئے ۔ اور یہ ہر اس معاشرے کا قدرتی خاصہ ہے جس کا رابطہ اور تعلق اللہ کی ذات کے ساتھ نہ ہو اور جس کی عادات اور تقالید اسلامی منہاج اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ پیمانوں کے مطابق نہ ہوں ۔ یہ اصول جاہلیت کے اس مشہور مقولے کے اندر پوری طرح منضبط تھا کہ بھائی کی مدد کرو چاہے ظالم ہے یا مظلوم ۔ اور اس اصول کو ایک جاہلی شاعر نے اس پیش کیا ہے ۔
وھل انا الامن غزیۃ ان غوت غویت
وان ترشد غزیۃ ارشد :
(میں تو بس غزیہ قبیلے کا ایک فرد ہوں ‘ گر وہ گمراہ ہوجائے تو میں گمراہ ہوں گا اور اگر وہ راہ ہدایت پالے تو میں بھی پالوں گا) اسلام آیا ‘ اسلامی نظام تربیت آیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا :
(آیت) ” ولا یجرمنکم شنان قوم ان صدوکم عن المسجد الحرام ان تعتدوا وتعاونوا علی البر والتقوی ، ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ، واتقوا للہ ، ان اللہ شدید العقاب “۔ (5 : 2)
” اور دیکھو ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیا تو اس پر ۔۔۔۔۔۔۔ تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی انکے مقابلے میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو ۔ جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ان میں سب سے تعاون کر گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو ۔ اللہ سے ڈرو اس کی سزا بہت سخت ہے ۔ ‘
اسلام نے آکر دلوں کو اللہ کے ساتھ جوڑ دیا ۔ اخلاق اور اقدار حیات کے لئے اللہ کے پیمانے میدان میں آگئے اسلام نے عربوں اور پوری انسانیت کو حمیت جاہلیہ سے نکالا ۔ نعرہ عصبیت سے منع کیا ‘ ذاتی میلانات ‘ شخصی تاثرات ‘ خاندانی اور قبائلی محدود سوچ سے نکالا اور دو ستون اور دشمنوں کے ساتھ معاملہ کرتے وقت صرف انسانیت کو محور بنایا ۔
غلبہ اسلام کے بعد جزیرۃ العرب کے اندر ایک نیا انسان پیدا ہوا ‘ یہ انسان الہی اخلاق سے مزین تھا یوں عربوں کو ایک نیا جنم ملا اور جب یہ روشنی دنیا میں پھیلی تو تمام کرہ ارض پر انسانیت کو ایک جدید جنم ملا ۔ اسلام سے قبل جزیرۃ العرب پورے کا پورا جاہلیت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔ جس کا نعرہ یہ تھا ” بھائی کی مدد کرو ‘ ظالم ہو یا مظلوم ہو “ بلکہ پوری دنیا اسی نعرہ جاہلیہ کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی ۔
جاہلیت کے گہرے گڑھے اور اسلام کے روشن افق کے درمیان بہت ہی دوری اور بعد ہے اور یہ دوری ان دو اقوال سے کس قدر خوبصورتی سے واضھ ہوتی ہے ۔ ایک بات یہ کہ ” بھائی کی مدد کرو ظالم ہے یا مظلوم “ اور دوسرا قول باری تعالیٰ کا ہے ۔
” اور دیکھو ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیا تو اس پر ۔۔۔۔۔۔۔ تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی انکے مقابلے میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو ۔ جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ان میں سب سے تعاون کر گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو ۔ اللہ سے ڈرو اس کی سزا بہت سخت ہے ۔ ‘
المائدة 5:3
ان دونوں اقوال میں کس قدر فرق ہے زمین و آسمان کا فرق :
اب یہاں مویشیوں میں سے حلال جانوروں کے کھانے کے اجازت عامہ سے بعض ایسی شکلوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو حلال نہیں ہیں ۔
(آیت) ” حُرِّمَتْ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃُ وَالْدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَا أُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّہِ بِہِ وَالْمُنْخَنِقَۃُ وَالْمَوْقُوذَۃُ وَالْمُتَرَدِّیَۃُ وَالنَّطِیْحَۃُ وَمَا أَکَلَ السَّبُعُ إِلاَّ مَا ذَکَّیْْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُواْ بِالأَزْلاَمِ ذَلِکُمْ فِسْقٌ الْیَوْمَ یَئِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن دِیْنِکُمْ فَلاَ تَخْشَوْہُمْ وَاخْشَوْنِ الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الإِسْلاَمَ دِیْناً فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(3)
تم پر حرام کیا گیا مردار ‘ خون ‘ سور کا گوشت ‘ وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ‘ وہ جو گلا گھٹ کر یا چوٹ کھا کر ‘ یا بلندی سے گر کر ‘ یا ٹکر کھا کر مرا ہو ‘ یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو ؛۔۔۔ سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ۔ نیز یہ بھی تمہارے لئے ناجائز ہے کہ پانسوں کے ذریعے اپنی قسمت معلوم کرو ۔ یہ سب افعال فسق ہیں ۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے لہذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے ۔ (لہذا حرام و حلال کی جو قیود تم پر عائد کی گئی ہیں ان کی پابندی کرو) البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی چیز کھالے ‘ بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ )
مردار ‘ خون اور خنزیر کے گوشت کا حکم اس سے پہلے بھی گزر چکا ہے ۔ (دیکھئے بقرہ آیت 172) نیز انسانی علم جس قدر حکمت تشریع اسلامی کا ادراک کرسکتا ہے ‘ اس کا بیان بھی وہاں ہوا ۔ انسانی علم چاہے قانون الہی کی حکمت کا ادراک کرسکے یا نہ کرسکے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ بہرحال کردیا ہے کہ یہ چیزیں خوراک کے لئے پاکیزہ نہیں ہیں ۔ ہمارے لئے تو صرف حکم الہی ہی کافی ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ صرف انہیں چیزوں کو حرام قرار دیتے ہی جو ناپاک ہوتی ہیں ‘ اور ان میں انسانی زندگی کے کسی نہ کسی پہلو کے اعتبار سے ضرر بھی ہوتا ہے چاہے لوگوں کو اس مضرت کا علم نہ ہو ۔ سوال تو یہ ہے کہ کیا لوگوں نے ان تمام چیزوں کو معلوم کرلیا ہے جو انکے لئے مضر ہیں یا مفید ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح ۔
(آیت) ” وما اھل لغیر اللہ بہ “۔ (5 : 3) یعنی جو اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کئے گئے ہوں اس لئے حرام ہیں کہ وہ بنیادی طور پر ایمانی تصور کے خلاف ہیں ۔ ان کی بنیاد ہی اس عقیدے کے خلاف ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ وہی حاکم اور الہ ہے اور وہی نفع ونقصان کا مالک ہے ۔ اس عقیدہ توحید کے پھر کچھ تقاضے ہیں ۔ اس کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے ہر ارادے ‘ ہر نیت اور ہر عمل کا رخ صرف اللہ کی طرف کر دے ۔ وہ ہر چیز پر صرف اللہ کا نام لے ۔ ہر عمل اور ہر حرکت کو صرف اللہ کے نام سے شروع کرے اس لئے ہر وہ حرکت وعمل جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لگ جائے ‘ اسی طرح ہر وہ ذبیحہ جس پر کسی کا نام ہی نہ لیا جائے ‘ نہ غیر اللہ کا اور نہ اللہ کا تو وہ بھی حرام ہے اس لئے کہ یہ عمل ایمان کی بنیادوں کے ساتھ متصاد ہے ۔ اگر کسی کے دل میں صحیح ایمان ہو تو اس سے یہ فعل صادر ہی نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے کہ یہ ناپاک عمل ہے اور چونکہ یہ فعل عقیدۃ ناپاک ہے اس لئے اس کو بھی ان ناپاک چیزوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے جو جسمانی طور پر ناپاک ہیں مثلا خون اور خنزیر کا گوشت ۔
(آیت) ” والمنخنقۃ “ (وہ جسے گلا گھونٹ کر مارا گیا ہو یا خود مر گیا ہو) (والموقوذۃ) (جو کسی اونچی جگہ سے گر جائے ‘ کسی پہاڑ سے یا کنوئیں میں گرکر مر جائے) (والنطیحۃ) (وہ جسے دوسرا جانور مار کر ہلاک کر دے) (آیت) ” وما اکل السبع “ (جسے درندے نے پھاڑ کھایا ہو) یہ سب مردار کی اقسام ہیں اور حرام ہیں ۔ ہاں اگر وہ زندہ ہوں اور انہیں ذبح کرلیا جائے تو کھانا جائز ہے ۔ یہاں ذبح کو اس لئے مستثنی کیا گیا ہے کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ کہیں گرنے ‘ گلا گھٹنے ‘ جانور کے پھاڑے وغیرہ کی وجہ سے یہ حرمت ہے ۔ اس بارے میں فقہاء کے اقوال میں اختلاف ہیں کہ کب کوئی جانور مذبوحہ تصور ہوگا اور اس کا کھانا حلال ہوجائے گا ۔ بعض اقوال کے مطابق ان تمام ذرائع سے مارا ہوا جانور حرام ہوتا ہے جو بہت جلدی اس کی روح نکال دیں یا مکمل طور پر اسے مردہ کردیں ۔ انکے نزدیک اگر ایسے جانور کو ذبح بھی کردیا جائے تو بھی حرام ہوگا جبکہ بعض اقوال کے مطابق یہ حلال ہوتا ہے بشرطیکہ اس کے اندر زندگی ہو اور اسے ذبح کردیا جائے چاہے جس طرح بھی ذبح کیا جائے ۔ تفصیلات کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ (وما ذبح علی النصب) (وہ جانور جو آستانوں پر ذبح کئے جائیں) مشرکین بتوں پر جانور ذبح کرتے تھے اور جاہلیت میں ان کا خون بتوں پر ملتے تھے ۔ عربوں کے علاوہ دوسری اقوام میں بھی ایسی رسومات ہوتی ہیں ۔ یہ حرام ہیں اس لئے کہ ایسے جانوروں کو بتوں پر ذبح کیا گیا اگرچہ ان پر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو اس لئے کہ بت پر ذبح کرنے سے بہرحال شرک لازم آتا ہے ۔
یہ بھی حرام ہے کہ پانسوں کے ذریعہ تقسیم کرو ۔ ازلام وہ تیر ہیں جن کے ذریعہ عرب فال گیری کرتے تھے کہ یہ کام کریں یا نہ کریں ، بعض اقوال کے مطابق یہ تیر تین تھے اور بعض کے مطابق سات تھے ۔ اسی طرح جوئے میں بھی یہ تیر استعمال ہوتے تھے ۔ ان کے ذریعے لوگ ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت بھی تقسیم کرتے تھے ۔ ہر شخص کا ایک تیر ہوتا اور جانور کا جو حصہ جس تیر کے لئے مخصوص ہوتا ہے اگر وہ نکل آتا تو وہ گوشت اس کا ہوجاتا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس طریقے سے گوشت کی تقسیم کو حرام قرار دے دیا کیونکہ یہ بھی جوئے کی ایک شکل تھی جسے حرام قرار دیا جا چکا تھا ۔ چناچہ اس طرح تقسیم کئے ہوئے گوشت کو بھی حرام قرار دے دیا گیا ۔
ّ (آیت) ” فمن اضطر فی مخمصۃ غیر متجانف لاثم فان اللہ غفور رحیم (5 : 3)
البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی چیز کھالے ‘ بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ )
وہ شخص جو بھوک کی وجہ سے اضطرار کی حالت میں ہو (یعنی مخمصہ میں) اور اس کی زندگی خطرے میں ہو ‘ اس کے لئے ان محرمات میں سے کھانا جائز ہے ‘ بشرطیکہ وہ عمدا گناہ کا ارتکاب نہ کر رہا ہو ۔ اس بارے میں فقہاء کی آرا مختلف ہیں کہ وہ کس قدر کھائے ۔ آیا اس قدر کھائے کہ زندگی بچ جائے یا بقدر ضرورت سیر ہو کر کھائے یا اگر آئندہ بھی قلت غذا کا خطرہ ہو تو ذخیرہ بھی کرے ۔ ہم ان تفصیلات میں نہیں جاتے ‘ یہاں صرف یہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ دین اسلام میں یسر اور سہولت رکھی گئی ہے ۔ ضرورت کے وقت اسلامی احکام میں سختی نہیں کی جاتی نہ لوگوں کے لئے مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ معاملات کو لوگوں کی حالات پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ اور خدا خوفی اور خدا ترسی کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ اگر کوئی شخص کسی گناہ کا ارتکاب مضطر ہو کر کرتا ہے اور اس کی نیت احکام شکنی کی نہیں ہے اور نہ ہی وہ بالارادہ ایسا کرتا ہے تو اس پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ (آیت) ” فان اللہ غفور ارحیم (5 : 3) (اللہ غفور ورحیم ہے) ۔
اب یہاں آکر ہم ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں ۔ محرمات کے ذکر کے بعد قبل اس کے کہ حلال چیزوں کی فہرست شروع ہو اچانک یہ آیت بیچ میں آجاتی ہے ۔
(آیت) ” الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ، (5 : 3)
” اور آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے لہذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو ۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے ،
یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوئی ہیں ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ منصوبہ رسالت اپنے آخری مراحل کو پہنچ گیا اور اس طرح لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل وکرم مکمل ہوگیا ۔ اس آیت کے نزول سے حضرت عمر ﷺ کی تیز بصیرت اور ان کی خدا دادہ فہم نے معلوم کرلیا اب حضور ﷺ کے دن دنیا میں کم رہ گئے ہیں ‘ کیونکہ آپ نے امانت لوگوں کے سپرد کردی ‘ اللہ کا پیغام پہنچا دیا ۔ اب صرف اللہ کے ساتھ ملاقات باقی ہے ۔ چناچہ اس آیت کے نزول کے بعد آپ رونے لگے اور سمجھ گئے کہ حضور ﷺ کی جدائی کا وقت اب بہت ہی قریب آگیا ہے ۔
یہ بات قابل غور ہے کہ اس آیت کو حلال و حرام کے احکام کے عین وسط میں لایا گیا ہے اور اسے اس سورة میں رکھا گیا ہے جس کے مقاصد اور موضوعات پر ہم بحث کر آئے ہیں ۔ اس کا مقصد کیا ہے ؟ اس کا مقصد یہ ہے کہ اللہ کی شریعت ایک مکمل نظام ہے جو ایک کل ہے اس کے اجزاء نہیں کئے جاسکتے ۔ اس کے اجزاء باہم اس طرح پیوستہ ہیں کہ ان کو جدا نہیں کیا جاسکتا چاہے وہ اجزاء اعتقادی اور نظریاتی ہوں یا وہ مراسم عبودیت ہوں یا وہ سوسائٹی کے لئے اجتماعی احکام ہوں یا بین الاقوامی امور سے متعلق ہوں ۔ یہ تمام امور (الدین) میں شامل ہوں جس کی تکمیل کی بابت اس آیت میں اعلان کیا گیا ہے اور اس پر مزید یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ اس دین کی تکمیل کرکے اللہ تعالیٰ نے تم پر اتمام نعمت بھی کردیا ہے ۔ اس دین میں اعتقادی امور ‘ مراسم عبودیت کے احکام اور طریقوں ‘ حلال و حرام کے احکام اور اجتماعی اور بین الاقوامی قوانین کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ سب کے سب ایک مجموعے کے اجزاع ہیں جن کے متعلق اللہ نے اپنی رضا مندی صادر فرمائی ہے اور اس نے ہمارے لئے اسے پسند فرمایا ہے اور اہل ایمان اگر اس دین کے کسی جزء سے خارج ہوں اور اس کا انکار کریں گے تو وہ تمام دین کے انکار کے مترادف ہوگا ۔ یہ دین سے بغاوت ہوگی اور نتیجۃ ایک شخص مومن نہ رہے گا ۔
اگر کوئی کسی ایک جزء کا انکار کرے گا تو اس کا حکم وہی ہوگا جس کا بیان ہم نے اس سے پہلے کیا ہے کہ اس دین کے کسی ایک حصے کو ترک کرنا اور اس کی جگہ کسی انسان کے بنائے ہوئے ضابطے کو رکھنا گویا اللہ کی حاکمیت کا انکار ہے اس طرح ایک انسان کسی ایک ضابطے میں اللہ کی اس خصوصیت کی نسبت کسی انسان کی طرف کرتا ہے جو شرک ہے اور اس زمین پر اللہ تعالیٰ کے حق حکمرانی پر دست درازی ہے اور خود اپنے لئے حاکمیت اور حکمرانی کا دعوی ہے جسے اللہ ہر گز ہرگز جائز نہیں رکھتے ۔ اس طرح گویا ایک شخص صراحتا دین سے بغاوت کرتا ہے اور دین سے بغاوت کے نتیجے میں انسان دین سے خارج ہوجاتا ہے ۔
(آیت) ” الیوم یئس الذین کفروا من دینکم “۔ (5 : 3) (آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے) وہ اس بات سے مایوس ہوگئے ہیں کہ اس دین کو باطل کردیں ‘ اس کو ناقص کردیں یا اس کے اندر کسی قسم کی تحریف کردیں ۔ اللہ نے لکھ دیا ہے کہ وہ کامل اور مکمل رہے گا ۔ اللہ نے اس بات کو ریکارڈ کردیا ہے کہ یہ دین ہمیشہ باقی رہے گا ۔ اہل کفر کسی موقعہ پر مسلمانوں پر غالب آسکتے ہیں ‘ وہ کچھ عرصہ تک غالب رہ سکتے ہیں لیکن وہ دین اسلام پر غالب نہیں رہ سکتے ۔ یہ سارے ادیان میں سے واحد دین ہے جو محفوظ ہے اور کبھی مٹ نہ سکے گا ۔ نہ اس کے اندر تحریف کی جاسکے گی اس کے باوجود کہ اس دین کے دشمن ہمیشہ اس میں تحریف کرنے کے لئے اپنی مساعی جاری رکھیں گے ۔ وہ اس دین کے خلاف سخت سے سخت سازشیں کرتے رہیں گے مگر کامیاب نہ ہونگے ۔ یہ بھی ہوگا کہ بعض ادوار میں اہل اسلام اپنے دین سے بےحد غافل بھی رہیں گے اور انہیں اپنے دین کے بارے میں بہت ہی کم علم ہوگا ۔ ہاں اس کی حفاظت اللہ یوں کرتا ہے کہ وہ اس دین کا حامل گروہ ہمیشہ اس دنیا میں رکھتا ہے ‘ جو اس دین کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ ہر وقت اس کا دفاع کرتا رہتا ہے اور یہ دین اس گروہ میں کمال درجے پر موجود رہتا ہے اور ان کی زندگیوں میں محفوظ رہتا ہے اور وہ اس امانت کو آگے منتقل کرتا رہتا ہے ۔ یوں اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ سچا ہوتا رہتا ہے کہ اہل کفر ہر دور میں اس دین کی بابت مایوس رہتے ہیں ۔ (آیت) ” فلا تخشوھم واخشون “ (5 : 3) (لہذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو) اس لئے کہ اہل کفر کی یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ اس دین کا کچھ بگاڑ سکیں ۔ اور وہ اہل اسلام کا بھی صرف اتنا بگاڑ سکتے ہیں وہ انہیں اس دین سے قدرے منحرف کردیں اس قدر کہ وہ اس دین کی زندہ تصویر نظر آئیں اور اس کے فرائض اور تقاضے پورے نہ کرتے ہوں اور اس دین کے مقاصد اور فرائض کو اپنی زندگیوں میں عملا نافذ نہ کرتے ہوں ۔
اہل اسلام کو مدینہ طیبہ میں یہ جو ہدایت دی گئی تھی کیا یہ صرف اہل مدینہ کے لئے تھی ؟ ہر گز نہیں کیا یہ اس نسل کے لئے تھی ؟ ہر گز نہیں بلکہ یہ ایک عام خطاب ہے جو ہر زمان ومکان کے مومنین کے لئے ہے ۔ ہم اہل ایمان کے خدمت میں یہ عرض کرتے ہیں کہ اہل ایمان حقیقتا وہی لوگ ہیں جو اس دین پر راضی ہوجائیں جسے اللہ نے ان کے لئے پسند فرمایا ہے اور وہ پورے کا پورا دین اپنی زندگیوں میں نافذ کریں اور اسے اپنے لئے نظام زندگی قرار دیں ۔
(آیت) ” الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ، (5 : 3)
” آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے ،
یہ آیت حجۃ الوداع کے موقعہ پر نازل ہوئی ، مطلب یہ ہے کہ اللہ نے دین کو مکمل کردیا ہے اور اب اس میں کسی بات کا اضافہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اہل ایمان پر رب کی نعمت مکمل ہوگئی اور وہ ان کے لئے دین اسلام کو بطور دین قبول کرنے پر راضی ہوگیا ہے اور آج سے جو شخص اس کے سوا کسی اور دین کو پسند کرے گا تو گویا وہ اللہ کی پسند کو ترک کرتا ہے ۔
یہ ایک نہایت اہم آیت ہے ایک مومن کو قدرے توقف کرکے اس کے ان ہولناک الفاظ پر غور کرنا چاہتے ۔ اگر اس پر اچھی طرح غور کیا جائے تو وہ معارف وحقائق کبھی ختم نہ ہوں گے جو اس کے اندر پنہاں ہیں ۔ اس کے اندر گہری ہدایات اور اس دور کے فرائض اور تقاضے ذہن میں آئیں گے ۔
سب سے پہلی حقیقت جو اس غور وفکر سے ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے دین کو مکمل کردیا ہے اور پھر ایک مومن تاریخ انسانیت میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی رسالت سے لے کر حضرت محمد ﷺ کی آخری رسالت تک تمام رسالتوں کا جائزہ لیتا ہے اور تمام ادوار میں قوافل ایمان کا جائزہ لیتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ یہ ایک طویل اور غیر منقطع سلسلہ رسل ہے ۔ یہ ہدایت اور روشنی کا قافلہ ہے جو اس طویل سفر میں مشعل لئے ہوئے ہے ۔ اس طویل سفر میں اس کے نشانات راہ صاف صاف نظر آتے ہیں لیکن اس جائزے میں ہمیں صاف صاف نظر آتا ہے کہ ہر رسول کسی خاص قوم یا کسی خاص زمانے کے لئے بھیجا گیا ہے ۔ اس آخری رسالت سے قبل کی تمام رسالتیں کسی خاص دور یا خاص مرحلے کے لئے بھیجی گئی تھیں ۔ ایک خاص پیغام ‘ ایک خاص مرحلے اور ایک خاص معاشرے کے لئے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان رسالتوں پر مخصوص زمانے اور مخصوص معاشرے کا رنگ غالب تھا ۔ وہ ان ظروف وحوال سے متاثر تھیں جن میں ان کو بھیجا گیا ۔ یہ سب رسالتیں صرف ایک خدا کی طرف دعوت دے رہی تھیں ۔ وہ سب صرف ایک الہ کی بندگی اور حاکمیت کی طرف دعوت دے رہی تھیں کیونکہ یہی دین اسلام ہے کہ ہم صرف ایک اللہ کو اپنا حاکم اور معبود سمجھیں اور اسی کی اطاعت کریں ۔ لیکن ان نبیوں کو جو شریعت اور جو قانون اور جو نظام دیا گیا تھا وہ ان کی قوم ‘ انکے دور اور ان کی سوسائٹی کے لئے مناسب تھا اور انکے ظروف واحوال کے مطابق تھا ۔
جب اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ وہ سلسلہ رسل کو ختم کر دے اور انسانوں تک خاص خاص رسالتیں بھیجنے کا سلسلہ بند کر دے تو اللہ نے ایک آخری رسالت پوری انسانیت کے لئے بھیجی اور ایک رسول خاتم النبین تمام انسانوں کے لئے ارسال فرمایا جس کی رسالت کسی خاص معاشرے کسی خاص قوم یا کسی خاص زمانے تک محدود نہ تھی اور نہ کسی دور کے ظروف وحوال سے خصوصیت رکھتی تھی ۔ یہ رسالت کسی زمانے ومکان کی قید میں مقید نہ تھی اور نہ وہ کسی معاشرے کے ظروف واحوال تک محدود تھی ۔ اس رسالت کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی حقیقی فطرت کی اساس پر اٹھایا جس میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا نہ فطرت انسانی اپنی ڈگر سے ہٹتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں !
(آیت) ” فاقم وجھک للدین حنیفا فطرت اللہ التی فطرالناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون “۔ (30 : 30)
” پس تم یکسو ہو کر اپنا چہرہ دین کی طرف متوجہ کرلے وہ فطرت جس پر اللہ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے ‘ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت بدل نہیں سکتی ، یہی بالکل راست اور درست دین ہے لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے)
پھر اس آخری رسالت کو اللہ تعالیٰ نے اس قدر مفصل شریعت عطا کی جس میں زندگی کے ہر پہلو کے مسائل کا حل موجود ہے ‘ زندگی کی ہر سرگرمی کا ضابطہ اس کے اندر درج ہے ۔ اس شریعت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے کلی ضوابط اور اصول درج کئے جن کی روشنی میں وہ ہر دور کے مسائل حل کرتی چلی جاتی ہے ۔ ہر زمان ومکان میں وہ ان قواعد کی روشنی میں یوں نظر آتی ہے جیسے ابھی نازل ہوئی ہے ۔ اس شریعت میں ایسے ضوابط و احکام صراحت سے مذکور ہیں جو کبھی بدلتے نہیں ہیں۔ اس طرح یہ شریعت اپنے اصول و مبادی کے ساتھ اور اپنے تفصیلی اور دائمی احکام کے ساتھ ان تمام اصولوں اور تقاضوں پر حاوی ہے جن کی ضرورت کبھی بھی کسی انسان کو لاحق ہوسکتی ہے ۔ یہ آخری رسالت آغاز آفرینش سے لے کر قیامت تک کے لئے ہے ۔ اس کے ضوابط اس کی ہدایات ‘ اس کی قانون سازی اور اس کے نظم ونسق کے ادارے قیامت تک کے لئے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ زندہ رہے ‘ ترقی کرے ‘ اس کی تجدید اور نشوونما ان اصولوں کی روشنی میں ہو لیکن اس محور کے ارد گرد اور اس دائرے کے اندر جو اس کے لئے اول روز سے وضع کیا گیا ہے ۔ اللہ فرماتے ہیں :
(آیت) ” الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ، (5 : 3)
” آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے ،
” اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اعلان کردیا کہ تمہارا نظریہ حیات مکمل ہوگیا ہے ۔ تمہاری شریعت مکمل ہوگئی ہے اور ہے دین ۔ اس لئے اب اہل ایمان کے لئے ایسا کوئی موقعہ ہی نہیں رہا ہے کہ اس دین میں کوئی نقص رہ گیا ہے اور وہ اسے دور کریں گے ۔ نہ اس میں کوئی کمی ہے جسے وہ پورا کریں گے ۔ نہ اس میں کی زمان ومکان کا رنگ ہے کہ وہ اس میں جدید زمان ومکان کا رنگ بھریں گے ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو نہ تو وہ مومن ہوں گے اور نہ ان کا بنایا ہوا دین ‘ دین اسلام ہوگا اور نہ وہ اللہ کو قبول ہوگا اور نہ ہی صحیح اہل ایمان اسے قبول کریں گے ۔
جس دور میں قرآن کریم نازل ہوا ‘ اس دور کی شریعت ہر دور کے لئے ہے اس لئے کہ یہ اس دین کی شریعت ہے جو تمام ادوار کے لئے اس جہان میں آیا ہے اور یہ ابدی دین ہے ۔ یہ انسانوں کی کسی خاص جماعت کے لئے نہیں آیا نہ یہ کسی خاص دور کے لوگوں کے لئے آیا ہے اور نہ کسی خاص علاقے کے لئے آیا ہے جس طرح اسلام سے پہلے کی رسالتوں کا حال تھا کہ وہ محدود زمان ومکان کے لئے تھیں۔
اسلام کے تفصیلی احکام ایسے ہیں کہ یہ دائمی احکام ہیں اور اسلام کے جامع اصول ایسے ہیں کہ ان کے دائرے کے اندر ہر دور میں زندگی کے لئے ایک مفصل نظام وجود میں آسکتا ہے اور تاقیامت ان کی روشنی میں انسانی زندگی نشوونما پا سکتی ہے ‘ بغیر کسی مشکل کے ۔ الا یہ کہ زندگی ان اصولوں کے دائرے کے تابع ہوجائے اور پھر ایمان کے دائرے سے خارج ہوجائے ۔
انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس نے کیا پیدا کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے یہ دین پسند کیا ہے جو اس کی دائمی شریعت پر قائم ہے ۔ اس لئے جو شخص یہ کہتا ہے کہ کل کا قانونی نظام آج کے لئے قانون اور شریعت کیسے ہو سکتا ہے ‘ وہ دراصل یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ انسان کی ضروریات کی بابت اللہ تعالیٰ سے زیادہ جانتا ہے اور وہ انسان کے طور طریقوں کا علم اللہ سے زیادہ رکھتا ہے ۔
غور وفکر کے اس وقفے میں ہمیں نظر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنی نعمت تمام کردی ہے اور یہ نعمت یوں تمام ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دین کو مکمل کردیا ہے ۔ بیشک یہ ایک مکمل ‘ ایک عظیم اور بھاری نعمت ہے ۔ اس نعمت کے ذریعے انسان کو ایک جدید جنم ملا ہے ۔ اور اس کے ذریعے اس کی نشوونما اور اس کے کمالات کے لئے راہیں کھل گئیں ہیں ۔ اس لئے کہ انسان جب تک اللہ کی معرفت اس طرح حاصل نہیں کرلیتا جس طرح یہ دین اللہ کی معرفت کے دروازے کھولتا ہے تو انسان اس وقت تک انسان ہوتا ہی نہیں ہے ۔ جب تک وہ اس کائنات کی حقیقت اس طرح معلوم نہ کرلے جس طرح اسے یہ دین سکھاتا ہے اور جب تک وہ اپنے نفس کی معرفت اس طرح حاصل نہ کرلے جس طرح اسے یہ دین سکھاتا ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک ایک مکرم مخلوق ہے ۔ انسان صحیح معنوں میں موجود ہی نہیں ہوتا جب تک وہ اللہ کی غلامی کے سوا تمام غلامیوں کا انکار نہ کر دے اور ان سے نکل نہ آئے اور جب تک وہ اس حقیقی مساوات کو حاصل نہیں کرلیتا جو اللہ کی بنائی ہوئی شریعت کے تحت انسان کو حاصل ہوتی ہے ‘ جسے نہ کسی انسان نے دیا ہوتا ہے اور نہ اس میں کسی انسان کا دخل ہوتا ہے ۔
انسان کی جانب سے ان عظیم حقائق کا ادراک کرلینا ہی دراصل اس کے لئے ایک نیا جنم ہے بشرطیکہ وہ ان حقائق کا ادراک اسی انداز پر کرے جس پر اسے اس دین نے ادراک کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس معرفت کے سوا انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ ایک حیوان ہو یا وہ زیر تعمیر اور زیر تشکیل انسان کا کوئی منصوبہ ہو لیکن اسے ایک مکمل انسان نہیں کہا جاسکتا ۔ وہ مکمل انسان تب ہی ہوگا جب وہ اس معیار کے مطابق جس کی تصویر قرآن نے کھینچی ہے ‘ ان حقائق کا ادراک نہ کرلے ۔ انسان کے اس قرآنی تصور اور ان تمام تصورات کے درمیان بہت بڑا فرق ہے جو تصورات خود انسانوں نے از خود گھڑے ہیں ۔ (دیکھئے جز اول اور کتاب خصائص التصور الاسلامی)
انسانی زندگی کے اندر اس تصویر کے نقوش بٹھا دینا ہی دراصل اس بات کا ضامن ہے کہ انسان کو مکمل انسانیت حاصل ہوگئی ہے اور یہ تصویر اس وقت مکمل ہوگئی جب ایک انسان اللہ پر پورا عقیدہ رکھے ‘ اللہ کے فرشتوں ‘ کتابوں رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے تو اس وقت انسانی حیوانی دائرہ محسوسات سے نکل کر انسانی عالم الغیب والشہادۃ میں داخل ہوگا ۔ وہ محسوسات سے بھی واقف ہوگا اور محسوسات سے بالا دنیا سے بھی واقف ہوگا ۔ وہ مادہ کا بھی عالم ہوگا اور فوق المادہ کا بھی عالم ہوگا اور اس طرح وہ حیوان کے محدود حسی دائرے سے باہر نکل آئے گا ۔ یہ کمال وہ عقیدہ توحید کے ذریعے حاصل کرے گا ۔ اس طرح وہ خود دوسرے انسانوں کی بندگی کے دائرے سے بھی نکل آئے گا اور صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرے گا ۔ یوں اسے حقیقی مساوات ‘ حقیقی آزادی اور ماسوا اللہ کے مقابلے میں حقیقی سربلندی نصیب ہوگی ۔ اب وہ صرف اللہ کی عبادت کرے گا ‘ صرف اللہ ہی سے شریعت اور نظام زندگی اخذ کرے گا ۔ وہ صرف اللہ ہی پر توکل کرے گا اور صرف اللہ سے ڈرے گا ۔ یہ مقام اسے اس وقت حاصل ہوگا جب انسان اسلامی نظام زندگی کے مطابق اپنی ترجیحات کی سطح کو بلند کرلے گا ۔ اپنے میلانات کو مہذب اپنی قوتوں کو تعمیر ‘ ترقی کے لئے وقف کر دے اور حیوانی خواہشات کے مقابلے کے لے اپنی قوتوں کو صرف کرے اور حیوانی اور بہائم کی طرف محض حصول لذتیت کے پیچھے نہ بھاگے۔ (دیکھئے کتاب ہذالدین)
جس شخص نے جاہلیت کی زندگی میں وقت نہ گزارا ہو اور جس نے جاہلیت کی تباہ کاریاں نہ دیکھی ہوں ‘ وہ شخص نہ دین اسلام کی نعمت کا ادراک کرسکتا ہے اور نہ ہی وہ اس نعمت کی صحیح قدر کرسکتا ہے ۔ جاہلیت ہر دور اور ہر مکان میں وہ نظام رہا ہے جو اللہ نے نہ بھیجا ہو ‘ لہذا جس شخص نے جاہلیت کو دیکھا ہے اور اس کا مزہ چکھا ہے ‘ تصورات اور نظریات میں اور عملی زندگی کے حالات میں وہ شخص صحیح معنوں میں جاہلیت کا احساس کرسکتا ہے اور اس کے بارے میں شعور رکھ سکتا ہے وہ اسکو اچھی طرح جان سکتا ہے اور صحیح معنوں میں وہی اس دین کی عظیم نعمت کا ادراک کرسکتا ہے ۔
جو شخص اندھے پن اور گمراہی کے مصائب میں مبتلا رہا ہو ‘ جو شخص ٹوٹ پھوٹ اور حیرانی و پریشانی کا شکار رہا ہو ‘ جو شخص تباہی اور ذہنی خلا کی مصیبت میں گرفتار ہوا ہو اور جس شخص کو کسی بھی دور میں اور کسی بھی جگہ جاہلی تصورات نے دکھ پہنچائے ہوں صرف وہی شخص ذوق ایمان کی قدر کرسکتا ہے ۔ (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی کی فصل تیہ ورکام)
جو شخص خودسری اور ظلم کی چکی میں پس چکا ہو ‘ جو ضبط اور اضطراب کا شکار رہا ہو ‘ جس کی زندگی افراط وتفریط میں گزری ہو اور جس نے جاہلیت کے طور طریقوں میں زندگی بسر کی ہو صرف وہی شخص اسلامی اور ایمانی نظام حیات کی قدر کرسکتا ہے ۔ (الاسلام ومشکلات الحضارہ کی فصل ضبط اور اضطراب)
قرآن کریم نے عربوں کو سب سے پہلے خطاب کیا ۔ وہ اس کے الفاظ وکلمات کو اچھی طرح جانتے تھے ‘ اس کے الفاظ کے مفاہیم اور مدلولات ان کی زندگیوں میں عملا قائم رہے تھے ۔ یہ تمام چیزیں اس نسل میں تھیں جس کو قرآن نے خطاب کیا تھا ۔
وہ خود جاہلیت کے کل پرزے تھے ۔ انہوں نے جاہلی تصورات کو اپنے ذہنوں میں عرصے تک بسائے رکھا تھا ۔ انہوں نے جاہلیت کے اجتماعی روابط کو برتا تھا ‘ انہوں نے جاہلیت کے اجتماعی اور انفرادی اخلاق کے مظاہرے بار بار کئے تھے اور انہوں نے اس دین کے ذریعے جو کچھ پایا تھا اور اس کے ذریعے ان پر جو فضل وکرم ہوا تھا اسے بھی اپنی زندگی میں آزمایا تھا ۔
انہوں نے جاہلیت کی گراٹوں کو بھی دیکھا تھا اور اسلام کی رفعتوں کو بھی آزمایا تھا ۔ اسلام انہیں عرصے تک ساتھ لے کر چلا تھا اور انہوں اس دین نے شارٹ کٹ میں بلندیوں تک پہنچا دیا تھا ۔ (دیکھئے مقدمہ سورة نسائ) اور وہ نہایت ہی بلندیوں سے نہایت ہی مسرت سے اقوام عالم پر نگاہ ڈال چکے تھے اور ایک نظر پیچھے مڑ کر وہ ماضی کو بھی دیکھ رہے تھے ۔
اسلام نے انہیں کن کن پہلوؤں سے بلند کیا ۔ اعتقادات و تصورات میں جبکہ وہ پتھر کے بتوں کو رب سمجھتے رہے تھے ملائکہ ‘ جنوں ‘ ستاروں ‘ اور اپنے اسلام کو رب سمجھتے رہے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ احمقانہ اور غلط تصورات کو سینے سے لگائے ہوئے تھے ‘ ان تصورات سے اسلام نے انہیں نکال کر عقیدہ توحید میں داخل کیا ‘ ایک الہ واحد پر یقین ان کو عطا کیا جو رحیم وودود ‘ قادر وقاہر ‘ سمیع وبصیر ‘ علیم وخبیر ‘ عادل وکامل ‘ قریب اور مجیب اور بلاواسطہ الہ و معبود تھا ۔ سب اس کے بندے بن گئے ، وہ کاہنوں کی حکومت سے باہر آگئے وہ انسانوں کی ریاست سے نکل آئے اور وہم و خرافات کی حکمرانی سے باہر آگئے جس طرح اندھیرے سے روشنی میں آگئے ہوں۔
پھر اسلام نے اجتماعی طور پر طریقوں کے اندر بھی انہیں جاہلیت سے نکالا ، طبقاتی امتیازات ختم کردیئے ‘ قابل نفرت عادات چھڑا دیں ‘ وہ ظلم وستم سے باز آگئے کیونکہ جاہلیت میں وہ ہر برا کام کرلیتے جو بس میں ہوتا (یہ بات غلط مشہور ہے کہ عربی زندگی اسلام سے قبل ایک جمہوری زندگی تھی) میں یہاں استاد العقاد کی کتاب سے کچھ اقتباسات دیتا ہوں ۔
” جزیرۃ العرب کے شمال سے لے کر جنوب تک تمام امراء اور سردار ان کے ہاں ظلم پر قدرت رکھنا عزت اور مرتبے کی نشانی تصور کی جاتی تھی ۔ مشہور شاعر نجاشی اپنے مخالف کی ہجو کرتے ہوئے ان کی ہجو میں یوں طنزیہ انداز میں مبالغہ کرتا ہے کہ وہ کمزور ہیں :
قبیلہ لا یغدرون بذمۃ
ولا یظلمون الناس حبہ حردل :
(اس کا قبیلہ کسی ذمہ داری میں کبھی غداری نہیں کرتا اور اس کے قبیلے کے لوگ کسی پر رائی برابر بھی ظلم نہیں کرتے) حجر ابن الحارث عربی بادشاہ نے جب یہ فیصلہ کیا کہ بنی اسد کو غلام بنا لے تو بنی اسد کے شاعر ان کی سفارش کے لئے آئے ۔ انہوں نے کہا :
انت الملک فیھم
وھم العبیدالی القیامۃ :
ذلوالسوطک مثلما
ذل الاشیقرذو الخزمۃ :
(آپ نے ان کے بادشاہ ہیں اور وہ قیامت تک تمہارے غلام ہیں ‘ وہ آپ کے کوڑے کے سامنے اس قدر بےبس ہیں جس طرح گہرے زرد اور سرخ رنگ کا اونٹ اس شخص کے سامنے بےبس ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں اس کی نکیل ہوتی ہے)
اور عمر ابن ہند بھی بادشاہ تھا جس نے لوگوں کو اس بات کا عادی بنا دیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ پس از پردہ خطاب کرے ۔ اور تمام عرب روساء کی مائیں اس کے گھر میں اس کی خدمت کرتیں۔
نعمان ابن مندر بھی عربی بادشاہ تھا ۔ وہ اس قدر ظالم اور احمق تھا کہ اس نے اپنے لئے دو دن مقرر کر رکھے تھے ۔ ایک خوشی کا دن جس میں جو بھی آتا اسے مویشی عطا کرتا اور ایک غم کا دن مقرر کیا ہوا تھا ‘ جس میں جو کوئی اس کے پاس آتا ‘ اسے وہ قتل کردیتا اور صبح سے شام تک یہی معمول رہتا ۔
کلیب ابن وائل کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے کلیب اس لئے کہا جاتا تھا کہ جہاں اسے شکار پسند آتا وہ وہاں کتوں کا جھنڈ چھوڑ دیتا تھا ۔ اب کوئی شخص جو ان کتوں کے بھونکنے کی آواز سنتا وہ اس علاقے کے قریب جانے کی جرات نہ کرسکتا تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ وادی عوف کے اندر کوئی شخص آزاد نہیں ہے ۔ اس لئے کہ وہ وادی عوف میں کسی آزاد شخص کو رہنے نہ دیتا تھا تاکہ اس کے پاس اس کی طرح اور کوئی آزاد شخص نہ رہے وہ تھے تو آزاد لیکن تھے غلاموں کی طرح ۔ (حقائق الاسلام ‘ العقاد ص ، 15 ‘ 151)
ان عربوں کو اسلام نے اپنی عادات ‘ رسوم ‘ اخلاق اور اجتماعی تعلقات کے میدان میں جاہلیت سے اٹھایا انہیں لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے ‘ عورتوں پر ظلم کرنے ‘ شراب نوشی اور جوا کھیلنے ‘ جنسی انارکی ‘ فحاشی وعریانی ‘ عورت کو حقیر سمجھنے اور اس کی توہین کرنے ‘ انتقام لینے ‘ ڈاکے ڈالنے ‘ تاخت و تاراج کرنے اور ہر حملہ آور کے مقابلے میں بزدلی دکھانے وغیرہ کی جاہلی کمزوریوں سے پاک کیا ۔ جہاں تک بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں بزدلی اور بےاتفاقی کا معاملہ ہے تو اسلام سے قبل حبشیوں کا حملہ اس پر شاید عادل ہے ۔ تمام عرب قبائل جو ایک دوسرے کے مقابلے میں سخت ترین موقف رکھتے تھے وہ اس لشکر کا مقابلہ نہ کرسکے ۔ (دیکھئے تفسیر سورة فیل)
پھر ان گندگیوں سے پاک کرکے اسلام نے عربوں کو ایک امت بنایا اس قدر سربلند امت کہ وہ نہایت ہی بلند مقام سے پوری انسانیت پر نظر ڈالتی تھی اور یہ انسانیت اس وقت گراٹوں کے اسفل السافلین میں تھی ، زندگی کے ہر شعبے میں اس وقت کی بشریت گری ہوئی تھی ۔ اس وقت یا اسلام کی سربلندی تھی اور یا جاہلیت کی گراوٹ تھی ۔ یہ نسل جانتی تھی کہ جاہلیت کیا ہے اور اسلام کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ خدا کے اس فرمان کا مفہوم اچھی طرح جانتے تھے ۔
(آیت) ” الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ، (5 : 3)
” آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے ،
اور ایک بار پھر ہم ایک لمحہ فکریہ کے طور پر ذرا غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے دین پسند فرمایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس امت پر کیا کیا عنایات اور مہربانیاں ہیں ۔ خود ان کے لئے دین تجویز کرتا ہے اور پھر اسے قبول بھی کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا انداز تعبیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اس امت کے ساتھ بےحد محبت کرتا ہے اور اس امت سے بہت راضی ہے کہ وہ اس امت کے لئے ایک نظام زندگی تجویز کرتا ہے ۔
یہ عظیم فرقان اس امت کے کاندھوں پر بہت ہی بھاری بوجھ ڈال دیتا ہے جو اس ذمہ داری کے برابر ہے ۔ نعوذ باللہ ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی اہل عظیم رعایت اور مہربانی کے مقابلے میں اس امت کے پاس ہے ہی کیا کہ وہ اللہ کے سامنے پیش کرے بلکہ اس امت کی تمام اگلی پچھلی نسلوں کے پاس بھی اس نعمت کی برابری کے لئے کچھ نہیں ہے کہ وہ پیش کرسکے ، ہاں امت پر اس شکر نعمت کے بدلے میں اپنی حد تک جدوجہدفرض ہے ۔ اللہ کے انعامات کی پہچان اس پر فرض ہے یعنی اپنے فرض کا ادراک واجب ہے ۔ اس کے بعد اس کے لئے بقدر وسعت جدوجہد لازمی ہے اور اس کے اندر اپنی تقصیرات اور کوتاہیوں پر طلب مغفرت کرنا لازم ہے ۔
اللہ کی جانب سے اس امت کے لئے اسلام کو بحیثیت دین قبول کرنا ‘ اس امت سے سب سے پہلے مطالبہ یہ کرتا ہے ۔ کہ وہ اللہ کی اس پسند کی قدروقیمت کو سمجھے ، اس کے بعد وہ اس دین پر اپنی طاقت اور وسعت کے مطابق جم جائے اگر وہ ایسا نہ کرے تو وہ بہت ہی کوتاہ بین ‘ بہت ہی احمق ہے کہ اس نے اللہ کی پسند اور اس کے انتخاب کو رد کردیا اور اپنے لئے خود کوئی دین اور نظام اختیار کرلیا ۔ یہ نہایت ہی خطرناک جرم ہوگا اس امت کی طرف سے اور اس پر اسے ضرور سزا دی جائے گی ۔ کبھی یہ نہیں ہو سکتا کہ ایسا شخص نجات پاجائے جبکہ اس نے اللہ کے انتخاب کو ٹھکرا دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ بعض اوقات ان لوگوں کو چھوڑ دیتے ہیں جنہوں نے اسلام کو بطور دین قبول نہیں کیا کہ وہ جو چاہیں کریں اور ایک وقت تک نہیں مہلت دیتے ہیں لیکن جن لوگوں نے اس دین کو اچھی طرح پہچان اور جان لیا اور پھر اسے ترک کردیا اور انہوں نے اپنی زندگی کے لیے اس نظام کے سوا کوئی اور نظام ازخود منتخب کرلیا تو ایسے لوگوں کو اللہ ہر گز نہ چھوڑے گا اور نہ انہیں مہلت دے گا یہاں تک کہ وہ اپنی بداعمالیوں کے وبال کو چکھ لیں جس کے وہ مستحق ہیں ۔
بس اس سے زیادہ تکمیل دین کے بارے اور ان عظیم کلمات کے بارے میں ‘ یہاں کہنا مناسب نہیں ہے ‘ بات بہت لمبی ہوگئی ہے ۔ اسی پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ یہ تو قرآن کے پرتو ہیں ‘ اب ہم اس سورة کے سیاق کلام سے الگا ٹکڑا لیتے ہیں ۔
المائدة 5:4
(آیت) ” نمبر 4 تا 5۔
یہ سوال ان لوگوں کی طرف سے ہے ایمان لائے اور یہ اس بارے میں ہے کہ ان کے لئے کیا کیا حلال ہے ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول قرآن کے وقت امت مختارہ کی نفسیانی کیفیت کیا تھی ۔ یہ امت جو پہلی مرتبہ خطاب الہی کا اعزاز پا رہی تھی اس کے اس سوال سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے نفوس طیبہ کے اندر ہر وقت احتیاط اور خدا ترسی کے جذبات موجزن تھے اور وہ ان تمام کاموں کے بارے میں حرج محسوس کرتے تھے جو دور جاہلیت میں معمول بہ تھے ان کے دل میں یہ خوف رہتا تھا کہ کہیں اسلام نے ان چیزوں کو حرام قرار نہ دے دیا ہو ‘ اس لئے یہ امت ہر وقت پوچھنے پر مجبور تھی کہ آیا کوئی درپیش بات جائز ہے یا ناجائز ہے ۔
تاریخ اسلام کا آج کا طالب علم اس بات کو محسوس کرتا ہے کہ اسلام نے امت مسلمہ کے اندر کس قدر عظیم انقلاب برپا کردیا تھا ۔ اسلام نے اس امت کو اس قدر سختی سے جھنجوڑا کہ اس پر سے دور جاہلیت کا تمام گرد و غبار جھاڑ دیا ، جن مسلمانوں کو اسلام نے جاہلیت کی پستیوں سے اٹھایا تھا ‘ ان کے ذہن میں یہ احساس تازہ تھا کہ اسلام کے ذریعے انہیں بالکل ایک نیا جنم ملا ہے ۔ وہ از سر نو نشوونما پا رہے ہیں ‘ نیز ان لوگوں کو گہرا احساس اور شعور تھا کہ ان کے اندر ایک عظیم انقلاب پیدا ہوگیا ہے ‘ انہوں ایک بہت بڑی چھلانک لگائی ہے ‘ وہ بہت رفیع الشان بلندیوں تک پہنچ گئے ہیں اور ان کو بلند مرتبہ نعمت سے نوازا گیا ہے ۔ اس گہرے اور پختہ شعور اور اس شدید جھٹکے نے ان کے اندر ایک شدید بیداری اور احتیاط پیدا کردی تھی اور ہو جاہلیت کی ہر چیز کو شک کی نظروں سے دیکھنے لگے تھے ، جب انہوں نے ان آیات کو سنا جن میں بعض چیزوں کو حرام قرار دیا گیا تھا تو انہوں نے حضور ﷺ سے حلال چیزوں کے بارے میں بھی پوچھنا شروع کردیا ۔
(آیت) ” یسئلونک ماذا احل لھم “ (ان کے لئے کیا حلال کیا گیا ہے ) اور اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” قل احل لکم الطیبت “ (کہو تمہارے لئے تمام پاک چیزیں کردی گئی ہیں) یہ ایک ایسا جواب ہے جو قابل غور ہے ۔ ان کے احساس میں یہ بات ڈال دی گئی کہ تمہارے لئے کوئی پاک چیز حرام نہیں کی گئی اور نہ انہیں پاک چیزوں کے استعمال سے منع کیا گیا ہے ، تمام پاکیزہ چیزیں تمہارے لئے حلال ہیں ۔ صرف نجس اور ناپاک اشیاء حرام کردی گئی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جن چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے ‘ ازروئے طبیعی احساس بھی انسان ان کو پسند نہیں کرتا ۔ مثلا مردار ‘ خون اور خنزیر ‘ یا دل مومن ان کو پسند نہیں کرتا مثلا وہ چیزیں جن کو اللہ کے نام کے سوا کسی اور کے نام اور استھان پر ذبح کیا گیا ہو یا بتوں پر ان کو ذبح کیا گیا ہو یا جن کے گوشت کی تقسیم بذریعہ ازلام ہوئی ہو ‘ اس لئے کہ یہ بھی ایک قسم کا جوا ہے ۔
اب طبیات کی عمومی اجازت کے بعد ان میں سے ایک محسوس چیز کا ذکر کیا جاتا ہے ، یہ تخصیص بعد از تعمیم ہے ۔ یعنی وہ شکار ‘ جس کو سدھائے ہوئے کتے یا درندے پکڑتے ہیں ۔ مثلا کتے ، باز اور شکرے یا مثلا سدھائے ہوئے چیتے اور شیر پکڑتے ہیں جن کو مالکوں نے سدھایا ہو کہ شکار کو اس طرح پکڑا جاتا ہے اور اس طرح اسے قید میں رکھا جاتا ہے ۔
(آیت) ’ وَمَا عَلَّمْتُم مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُونَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّہُ فَکُلُواْ مِمَّا أَمْسَکْنَ عَلَیْْکُمْ وَاذْکُرُواْ اسْمَ اللّہِ عَلَیْْہِ وَاتَّقُواْ اللّہَ إِنَّ اللّہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ (4)
” اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سدھایا ہو ۔۔۔۔۔ جن کو خدا کے دیئے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو ۔۔۔۔۔۔ وہ جس جانور کو تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو بھی تم کھاسکتے ہو البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی ۔
حلال ہونا اس شرط کے ساتھ مشروع ہے کہ یہ شکاری جانور اس قدر سدھائے ہوئے ہوں کہ شکار کو پکڑ کو قید میں رکھیں ، اور مالک کے آنے تک اسے کھائیں نہیں۔ اسے مالک کے لئے محفوظ رکھیں ۔ الا یہ کہ یہ جانور بھوکے ہوں اور مالک اس جگہ سے دور رہ گیا ہو ۔۔۔۔ اگر یہ شکاری جانور شکار کو پکڑ کر کھانے لگ جائیں تو ایسے جانور کے بارے میں یہ نہ کہا جائے گا کہ وہ سدھائے ہوئے ہیں انہوں نے تو شکار اپنے لئے کیا ہو گا اس لئے وہ حلال نہ ہوگا ‘ اگرچہ شکار کا تھوڑا حصہ کھایا گیا ہو ‘ اور اس کا زیادہ حصہ باقی ہو ‘ اگرچہ جانور اسے زندہ لائے ہوں لیکن اس کا کچھ انہوں نے کھایا ہو تو پھر بھی وہ پاک نہ ہوگا ۔
اللہ تعالیٰ یہاں اہل ایمان کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ جن جانوروں کو تم سدھاتے ہو اور علم سکھاتے ہو وہ علم بھی تمہارا اپنا نہیں ہے بلکہ یہ علم تمہیں اللہ نے سکھایا ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے ان کو تمہارے لئے مسخر بنایا اور پھر تمہیں یہ قوت دی کہ تم ان کی تربیت کرو ، اللہ ہی نے تمہیں حکمت تربیت دی ۔ یہ قرآن کریم کا ایک انداز تربیت ہے کہ وہ ہر ہر مرحلے پر اہل ایمان کو اللہ کی طرف متوجہ کرتا ہے اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔ وہ اس اساسی اور بنیادی حقیقت کی طرف انہیں متوجہ کرتا رہتا ہے کہ یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں یہ سب کچھ دیا ہے ۔ وہی خالق ہے ‘ وہی معلم ہے ‘ وہی ہے جس نے انسان کے لئے اس جہان کو مسخر کیا ہے ۔ تمام کمالات و فضائل کا مرجع وہی ہے ۔ تمام مخلوقات اپنی ہر حرکت ‘ ہر محنت اور ہر امکان میں اسی کی طرف رجوع کرتی ہے ۔ چناچہ کوئی مومن ایک لحظہ کے لئے بھی اس بات کو نہیں بھولتا کہ اس کے جسم میں اور اس کی شخصیت میں جو کچھ بھی ہے وہ اللہ کی طرف لوٹتا ہے ۔ اس کے اردگرد جو حادثات وواقعات رونماہوتے وہ سب اللہ کی جانب سے ہیں ۔ اور ایک مومن ہر وقت اللہ کے کمالات دیکھتا رہتا ہے ‘ اس معاملے میں اللہ کے فضل وکرم کو دیکھتا ہے ۔ ہر سانس میں وہ دیکھتا ہے کہ اللہ کا کیا کیا کرم ہے ‘ غرض ہر حرکت اور جسم کے ہر حصے میں اسے حکمت نظر آتی ہے ۔ وہ پوری طرح ربانی ہوتا ہے اور کسی لحظہ بھی غافل نہیں ہوتا ۔
اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتا ہے کہ سدھائے ہوئے جانور جو شکار کو تمہارے لئے روکتے ہیں اس پر اللہ کا نام لو اور یہ نام اس وقت لیا جائے جب کسی جانور کو چھوڑا جاتا ہے اس لئے کہ ممکن ہے کہ دانتوں اور پنجوں سے وہ شکار کو ہلاک کر دے ۔ یہ بمنزلہ ذبح ہوگا ‘ اس لئے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا جاتا ہے ۔ اس طرح اسے حکم دیا گیا کہ جانور کو چھوڑتے ہی اس پر اللہ کا نام لے لیا جائے ۔
آخر کار انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ہر وقت خدا خوفی کو مدنظر رکھو اور اللہ کے حساب و کتاب سے ڈرو ۔ اس طرح حلال و حرام کے احکام کو خدا خوفی اور تقوی کے شعور سے مربوط کردیا جاتا ہے جو مومن کی زندگی میں ہر نیت اور ہر عمل کا محور ہوتا ہے اور اسی شعور کی وجہ سے پوری زندگی کا ربط اللہ اللہ کی بزرگی کے احساس اور کھلے بندوں اور پوشیدہ حالات میں خدا خوفی سے ہوجاتا ہے ۔ (آیت) ” واتقوا اللہ ان اللہ سریع الحساب “۔ (5 : 4) (اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ جلدی حساب لینے والا ہے) حلال چیزوں کا بیان جاری ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ تمہارے لئے کن عورتوں سے نکاح جائز ہے ۔
المائدة 5:5
(آیت) ” الْیَوْمَ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حِلٌّ لَّکُمْ وَطَعَامُکُمْ حِلُّ لَّہُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ إِذَا آتَیْْتُمُوہُنَّ أُجُورَہُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْْرَ مُسَافِحِیْنَ وَلاَ مُتَّخِذِیْ أَخْدَانٍ ۔
” آج تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں ، اہل کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لئے ۔ اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا ان قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ‘ بشرطیکہ تم انکے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ بنو ‘ نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو)
اب پھر وہ چیزیں گنوائی جاتی ہیں جو حلال ہیں ۔۔۔۔ (آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں) اس سے اس مفہوم کی طرف تاکیدی اشارہ ملتا ہے جس کی طرف ہم نے قارئین کو اوپر متوجہ کیا تھا ۔ اب طیبات کی فہرست میں کچھ مزید چیزوں کو شامل کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بھی طیب ہیں ۔
یہاں اسلام کی رواداری کا ایک نمونہ سامنے آتا ہے ۔ اسلامی معاشرے میں غیر مسلموں کے ساتھ برتاؤ کی ایک خصوصی صورت بتائی جاتی ہے ۔ ایسے لوگ جو دارالاسلام میں رہتے ہیں اور اہل الذمہ ہیں اور مملکت اسلامیہ کے شہری ہیں اور ہیں اہل کتاب میں سے ۔
اسلام اہل کتاب غیر مسلموں کو صرف مذہبی آزادی دے کر معاشرے کے اندر الگ تھلک نہیں کردیتا نہ انہیں اسلامی معاشرے میں قابل نفرت حد تک دور پھینک دیتا ہے ۔ وہ انہیں اجتماعی شرکت اور محبت کا احساس بھی دیتا ہے اور انہیں اسلامی معاشرے میں ضم ہونے کے مواقع بھی فراہم کرتا ہے ۔ اسلام ان کا کھانا اہل اسلام کے لئے حلال قرار دیتا ہے ۔ اہل اسلام کے لئے یہ بھی جائز قرار دیتا ہے کہ وہ اپنا کھانا بھی اہل کتاب کو پیش کرسکتے ہیں تاکہ وہ ایک دوسرے سے ملاقات کرسکیں ‘ ایک دوسرے کے مہمان بن سکیں اور باہم مل کر کھا پی سکیں اور معاشرے کے اندر محبت اور رواداری کی فضا وجود میں آئے ۔ اسی طرح اسلام اہل کتاب میں سے پاک دامن عورتوں کے ساتھ اہل اسلام کو نکاح کی بھی اجازت دیتا ہے بشرطیکہ وہ محصنات ہوں یعنی پاکدامن ہوں ۔ یہ مسلمانوں کے لئے جائز ہیں ، یہاں مسلمان پاک دامن عورتوں کے ساتھ اہل کتاب پاکدامن عورتوں کا ذکر یکجا کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک ایسی رواداری ہے جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب کے ہاں شاذو نادر ہی ملتی ہوگی ۔ اس لئے کہ عیسائیوں میں سے بھی کیتھولک فرقہ آرتھوڈکس کے ساتھ نکاح کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔ اسی طرح پروٹسٹنٹ اور مارونیہ کے ساتھ بھی وہ نکاح جائز نہیں سمجھتے اور اگر عیسائی معاشرے میں کوئی ایسے نکاح کرتا ہے تو عیسائی آرتھوڈکس اسے صحیح نہیں بلکہ بدعمل سمجھتے ہیں ۔
معلوم ہوا کہ یہ صرف اسلام ہی ہے جو ایک عالمی معاشرہ قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ اسلام نے اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان مکمل علیحدگی قائم نہیں کی نہ مختلف عاقد رکھنے والوں کے درمیاں مستقل پردے ڈالے ۔ وہ اہل عقائد جو اسلامی مملکت کے شہری ہوتے ہیں حسن معاشرت کے نقطہ نظر سے وہ مسلمانوں کے ساتھ اور مسلمان ان کے ساتھ رابطہ رکھ سکتے ہیں ۔ (رہی یہ بات کہ ان لوگوں کے ساتھ خفیہ دوستیاں قائم کرنا جائز ہیں یہ نہیں تو اس کا حکم آگے آرہا ہے) رہی یہ شرط کہ کتابیات محصنہ ہوں تو یہ شرط مومنات کے لئے بھی ہیں کہ ہو محصنہ ہوں۔
(آیت) ” اذا اتیتموھن اجورھن محصنین غیر مسفحین ولا متخذی اخدان “ (5 : 5)
” بشرطیکہ تم ان کے مہر ادا کر کے نکاح میں ان کے محافظ نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنایاں کرو)
وہ اس طرح کہ انہیں مہر ادا کرو ‘ ان کے ساتھ شرعی نکاح کرو ‘ جس میں مرد عورت کو حصار نکاح میں لاتا ہے اور اس کی حفاظت کرتا ہے ۔ یہ نہ ہو کہ اجر دے کہ تم ان کے ساتھ شہوت رانی کرو یا چھوری چھپے دوستیاں کرو ۔ السفاح کا مفہوم یہ ہے کہ عورت کسی بھی مرد کے ساتھ معاہدہ کرے اور المخادنہ کا مفہوم یہ ہے کہ عورت بغیر شرعی نکاح کے کسی ایک شخص کو دوست بنا لے ۔ یہ دونوں صورتیں عرب میں دور جاہلیت میں مشہور اور متعارف تھیں اور جاہلی معاشرہ ان دونوں قسم کے تعلقات کو تسلیم کرتا تھا ۔ اسلام آیا اور اس نے معاشرے کو ان گندگیوں سے پاک وصاف کردیا اور اسے ان گراٹوں سے اٹھا کر سربلند کردیا ۔
(آیت) ” ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ وھو فی الاخرۃ من الخسرین “ (5 : 5) (اور اگر کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامہ زندگی ضائع ہوجائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا 9
یہ تمام قانون سازی ایمان کے ساتھ منسلک ہے ۔ اس کا نافذ کرنا اسی طرح اہم ہے جس طرح ایمان لانا اہم ہے یہ دلیل ایمان ہے ‘ اس لئے یہ جو شخص ان احکام کے نفاذ سے روگردانی کرتا ہے وہ گویا ایمان کا انکار کرتا ہے ایمان کو چھپاتا ہے ایمان پر پردہ ڈالتا ہے ۔ اس طرح جو شخص ایمان کا انکار کرے اس کا عمل باطل ہوجاتا ہے اور وہ مسترد کردیا جاتا ہے ورنہ وہ شخص اس عمل پر ہمیشہ کے لئے عمل پیرا ہوتا ہے ۔ الحبوط عرب میں کسی مویشی کے پھول جانے کو کہتے ہیں ‘ جب وہ کوئی زہریلی گھاس چر لیتا ہے اور اس سے مر جاتا ہے یہ عمل باطل کی اچھی تصویر کشی ہے کہ بظاہر وہ پھول جاتا ہے لیکن درحقیقت اس کا جسم زہر آلود ہوگیا ہوتا ہے اور وہ مرجاتا ہے ۔ اسی طرح عمل باطل بھی زیادہ نظر آتا ہے لیکن اس کا اثر نہیں ہوتا اور دنیا میں بے اور بےکار ہونے کے بعد آخرت میں غیر نافع اور سخت خسارے کا سودا ہوگا ۔
یہ سخت ‘ شدید اور خوفناک اختتامی ڈراوا ایک شرعی حکم کے بعد آتا ہے ۔ یہ شرعی حکم طعام ونکاح کے حوالے سے حلال و حرام کی بابت وارد ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام حیات کے ہر جزو پر عمل کرنا ضروری ہے اور یہ کہ اسلامی نظام کا ہر جزئیہ بھی دین ہی ہے اور اسی لئے اس کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں ہے شریعت کی مخالفت میں اگر کوئی تھوڑا ہو یا زیادہ اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔
پاکیزہ کھانوں اور پاکیزہ بیویوں کے بیان کے ضمن میں نماز کا حکم آجاتا ہے اور نماز کے لئے تیاری اور پاکی کے احکام بتائے جا رہے ہیں :
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جب تم نماز کے لئے اٹھو تو چاہئے کہ اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھولو سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاؤں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہوجاؤ ۔ اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو ‘ اور پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو ‘ بس اس پر ہاتھ مار کر اپنے منہ اور ہاتھوں پر پھیرلیا کرو ، اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ‘ شاید کہ تم شکر گزار بنو)
رزق حلال اور پاکیزہ عورتوں کے احکام کے متصلا بعد نماز اور نماز کے لئے طہارت کا بیان آتا ہے ۔ مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنے والوں کے ساتھ معاملہ کرنے ‘ شکار کرنے احکام کے ساتھ نماز کے لئے طہارت کے احکام کا ذکر محض اتفاقا نہیں کیا گیا ہے کہ ایک بیان ختم ہوا تو دوسرا شروع کردیا گیا اور نہ یہ سیاق کلام اور مقاصد کلام کے ساتھ غیر مناسب ہے بلکہ یہ ذکر بھی اپنے صحیح مقام پر ہے اور قرآن کریم کی حکمت بیان کے عین مطابق ہے ۔
سب سے پہلے تو یہ پاکیزہ چیزوں میں سے ایک نئے رنگ کی پاکیزگی ہے ‘ روحانی پاکیزگی یعنی پاکیزہ طعام و شراب اور پاکیزہ عورتوں کے ساتھ ایک پاکیزہ چیز ‘ روح کی پاکیزگی کے سامان اور انتظام کا بھی یہاں ذکر کردیا گیا ۔ یہ وہ رنگ ہے جس میں قلب مومن وہ کچھ پاتا ہے جو کسی دوسرے سازو سامان میں نہیں پاتا ، یہ وہ سازوسامان ہے جو ذریعہ ملاقات محبوب ہے ، پاکیزگی ‘ طہارت اور عاجزی کی فضا میں جب دنیا کے سامان طعام و شراب کا بیان ختم ہوا اور پاکیزہ ازواج کا ذکر بھی ہوگیا تو پھر روحانی پاکیزگی اور طہارت کا ذکر ہوا جو وضو اور نماز کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ۔ انسان کی زندگی میں پاکیزگی کے تمام رنگ جمع ہوگئے جن کے ساتھ انسان کی تصویر مکمل ہوتی ہے ۔
اس سے یہ بتلانا بھی پیش نظر ہے کہ طہارت اور نماز کے احکام بھی اسی طرح دین کا حصہ ہیں جس طرح کھانے کے احکام اور نکاح کے احکام ‘ شکار کے احکام اور حرام اور حلال کے احکام اور جس طرح امن اور جنگ میں لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے کے احکام ہیں یا جس طرح اس پوری سورة میں مذکور دوسرے احکام ہیں ۔ یہ سب احکام اللہ کی عبادت اطاعت اور بندگی ہیں ۔ یہ سب دین کا حصہ ہیں ۔ اسلام میں ان احکام کے اندر کوئی ایسا فرق نہیں ہے جو فقہاء نے بعد کے ادوار میں اپنی اصطلاحات کے اندر قائم کردیا ہو ۔ یعنی یہ ہیں احکام عبادات اور یہ ہیں احکام معاملات ۔
یہ اصطلاحات جو فقہاء نے محض تصنیفی تقاضوں کے تحت قائم کئے تھے اور کتابوں کے ابواب وفصول کے تعین کے لئے کئے تھے ‘ ان کا اصل نظام زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اور نہ اصل شریعت کے اندر اس تفریق کے لئے کوئی جواز ہے ۔ اسلامی نظام میں عبادات اور معاملات دونوں موجود ہیں اور ان دونوں کا حکم بھی ایک ہے۔ یعنی یہ دونوں امور اسلامی نظام حیات ‘ شریعت اور دین کا حصہ ہیں ۔ اطاعت اور اتباع میں دونوں کے درمیان شریعت نے کوئی فرق و امتیاز نہیں کیا ہے ۔ بلکہ شریعت کا قیام ہی اس وقت تک ممکن نہیں ‘ جب تک ان دونوں حصوں میں پر عمل درآمد نہ کیا جائے اور دین اسلام اس وقت تک درست طور پر قائم نہیں ہوسکتا جب تک جماعت مسلمہ کی زندگی میں یہ دونوں پہلو برابر کے طور پر نافذ نہ ہوجائیں ۔
یہ سب معاہدے ہیں جنکے بارے میں اللہ کا حکم یہ ہے کہ انہیں پورا کیا جائے ۔ یہ تمام عبادات ہیں جن پر ایک مسلمان رضائے الہی کے لئے عمل کرے گا ، یہ تمام امور اسلام کا حصہ ہیں اور ہر ایک پر مسلمان عمل پیرا ہوگا تاکہ وہ اپنی بندگی کا اقرار کرے ۔
اسلام میں عبادات اور معاملات کوئی الگ الگ حیثیت نہیں رکھتے ۔ ان کا بیان صرف فقہی تصنیفات میں الگ الگ کیا گیا ہے ۔ معاملات اور عبادات دونوں ہی درحقیقت عبادات ہیں ۔ یہ سب اللہ کی جانب سے فرائض ہیں اور ہم نے اللہ کے ساتھ یہ عہد (عقود) کیا ہے کہ ہم ان پر عمل کریں گے ، ان میں سے کسی ایک کی خلاف ورزی کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے ایمان کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔
یہ ہے وہ اہم نقطہ نظر جس کے طرف قرآن یہاں اشارہ کر رہا ہے ۔ وہ پے درپے مختلف قسم کے احکام کو اس سورة میں بیان کر رہا ہے جو سب کے سب دین کا حصہ ہیں ۔
المائدة 5:6
اسلام میں نماز کی حیثیت اللہ کے ساتھ ملاقات کی ہے ۔ انسان اللہ کے سامنے دست بستہ کھڑا ہوتا ہے ‘ اللہ سے دعا کرتا ہے ۔ اللہ کے ساتھ راز ونیاز ہوتا ہے اس لئے اس مقام پر کھڑا ہونے کے لئے مناسب تیاری کی ضرورت ہے ۔
روحانی تطہیر سے پہلے اس بات کی ضرورت تھی کہ جسمانی پاکیزگی بھی ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ وضو کا حکم دیا گیا ۔ جہاں تک ہم سمجھے ہیں اصل حکمت تو اللہ کے علم میں ہے ۔ بہرحال وضو میں درج ذلیل چیزیں شامل ہیں چہرے کا دھونا ‘ ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا اور سر کا مسح کرنا اور پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا ۔ ان فرائض کے بارے میں معمولی فقہی اختلافات بھی ہیں ۔ اہم اختلاف یہ ہے کہ آیا یہ فرائض وضو اسی طرح ادا کئے جائیں گے جس ترتیب سے ان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے یا اس ترتیب کے سوا وضو ہوجاتا ہے ۔ اس بارے میں دو اقوال ہیں ۔
یہ وضو تو اس ناپاکی سے ہے جس میں وضو فرض ہے ۔ رہی جنابت چاہے وہ عورت کے ساتھ مباشرت کی وجہ سے لازم ہو یا احتلام کی وجہ سے تو اس پر غسل واجب ہے ۔ فرائض غسل اور فرائض وضو بیان کرنے کے بعد یہاں تیمم کا ذکر بھی کردیا گیا ۔ تیمم کی اجازت درج ذلیل حالات کے ساتھ مشروط ہے ۔
مثلا یہ کہ پانی سرے سے موجود ہی نہ ہو یا یہ کہ کوئی شخص مریض ہو اور وہ وضو پر قادر نہ ہو یا اس پر غسل واجب ہو پانی اس کے لئے موجب اذیت ہو۔ مسافر جو محتاج وضو ہو یا اس پر غسل واجب ہو اور پانی میسر نہ ہو ۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے وضو کی موجب ناپاکی کی تعبیر کی ہے ۔ (آیت) ” او جآء احد منکم من الغآئط (5 : 6) (یا تم میں سے کوئی نشیبی جگہ سے آیا ہو) غائط کے معنی نشیبی جگہ کے ہوتے ہیں جہاں اکثر لوگ قضائے حاجت کے لئے جاتے ہیں ‘ چاہے وہ پیشاب ہی کرے اور نشیبی جگہ نہ جائے ۔
اور غسل واجب ہونے کی ناپاکی کی تعبیر (آیت) ” اولمستم النسآء “ (5 : 6) (یا تم عورتوں کے ساتھ ہاتھ لگاؤ) یہ شریفانہ انداز بیان مباشرت کے لئے ہے ۔ ایسے حالات میں جن میں حاجت وضو ہو یا حاجت غسل کی کو نماز کے قریب جانے کی اجازت نہیں ‘ الا یہ کہ وہ تیمم کرلے اور پاک مٹی کا ارادہ کرے ۔ یعنی ایسی چیز پر تھپکی دے جو زمین سے ہو اور پاک ہو ۔ چاہے یہ مٹی سواری کی پشت پر ہو ‘ چاہے کہ اپنی ہتھیلیوں کے ساتھ مٹی وغیرہ پر تھپکی دے ‘ پھر دونوں ہاتھ جھاڑ دے اور منہ پر مسح کرلے اور پھر اپنے ہاتھوں پر کہنیوں تک مسح کرلے ۔ ایک بار تھپکی دے پورے تیمم کے لئے یا دو بار تھپکی دے ۔ دو فقہی اقوال کے مطابق لفظ (آیت) ” اولمستم النسآء “۔ (5 : 6) کے مفہوم میں بھی اختلاف ہے ۔ کیا اس سے مراد صرف لمس ہے یا مباشرت ہے ۔ یا اس سے مراد مطلق لمس ہے چاہے شہوت اور لذت کے ساتھ ہو یا اس کے کے بغیر ہو۔ اس میں بھی فقہی اختلافات ہیں ۔۔۔۔۔۔ اسی طرح اس میں بھی اختلاف ہے کہ مطلق مرض میں تیمم جائز ہے یا ایسے مرض میں جس میں تکلیف ہو یا تکلیف بڑھ جانے کا خطرہ ہو ۔
پھر یہ بھی مختلف فیہ ہے کہ مرض نہ ہو لیکن پانی شدید ٹھنڈا ہو اور اس سے بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ہو تو تیمم جائز ہے ۔ راجح بات یہی ہے کہ جائز ہے ۔ اس آیت کے اختتام پر یہ تعقیب آتی ہے ۔
(آیت) ” مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـکِن یُرِیْدُ لِیُطَہَّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (6)
” اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ‘ شاید کہ تم شکر گزار بنو)
جیسا کہ ہم نے بیان کیا اللہ کی ملاقات کی حالت میں صفائی شریعت میں واجب کی گئی ہے ۔ وضو اور غسل میں جسمانی اور روحانی صفائی حاصل ہوتی ہے ۔ رہا تیمم تو اس میں کم از کم روحانی صفائی حاصل ہوتی ہے ۔ اور صفائی کے لئے وہ وضو اور غسل کا قائم مقام ہوتا ہے جب پانی نہ ملے یا پانی کے استعمال میں ضرر کا احتمال ہو ۔ یہ اس لئے جائز کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں پر خواہ مخواہ سختی اور شدت نہیں چاہتے اور نہ لوگوں کو مشتقت اور مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو پاک کر دے ۔ یہ پاکی ان پر بطور انعام آئے اور اس کے بعد وہ اس نعمت کا شکر ادا کریں اور اس شکر کے بدلے اللہ اپنے فضل وکرم اور انعام اکرام میں مزید اضافہ فرمائیں ۔ یہ ہے نرمی ‘ مہربانی اور اسلامی نظام کی واقعیت پسندی اور مستقل سہولت کی فراہمی ۔ وضو غسل اور تیمم کی حکمت ۔ اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتے ہیں :
(آیت) ” مِّنْہُ مَا یُرِیْدُ اللّہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْْکُم مِّنْ حَرَجٍ وَلَـکِن یُرِیْدُ لِیُطَہَّرَکُمْ وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْْکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (6)
” اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دے ‘ شاید کہ تم شکر گزار بنو) اسلامی نظام حیات مسلمانوں کو مراسم عبودیت اور نظام قانون دونوں میں ایک حسین ہم آہنگی عطا کرتا ہے ۔ وضو اور غسل سے محض جسمانی تطہیر کا فائدہ ہی حاصل نہیں ہوتا کہ آج کل کے نام نہاد مفکرین اسلام یہ اعتراض وارد کرسکیں کہ اس دور جدید میں ہمیں محض صفائی کے لئے اس قسم کے انتظامات کی ضرورت نہیں ہے جس طرح پسماندہ عربوں کو ضرورت تھی اس لئے کہ اب تو حماموں میں صحت وصفائی کے اچھے انتظامات ہیں اور ہم مہذب ہونے کی وجہ سے بھی صفائی کا بہت ہی خیال رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ اعتراض اس لئے نہیں وارد کرسکتے کہ وضو اور غسل کے ذریعے اسلام نے جسمانی اور روحانی دونوں پہلوؤں سے ہمارے لئے تطہیر کا نظام وضع کیا ہے ۔ پھر اس نظام کو عبادت کے ساتھ منسلک کرکے باقاعدہ بنا دیا ہے کہ تمام لوگ پاک اور صاف وستھرے ہوں ۔ جب وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ وضو اور غسل میں جسمانی صفائی سے روحانی صفائی کا پہلو زیادہ مد نظر رکھا گیا ہے تو ان کے عوض تیمم کو رکھا گیا ہے اس لئے کہ جب پانی کا استعمال ممکن نہ ہو تو ان کے عوض تیمم کو رکھا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ تیمم کے اندر ظاہری صفائی حاصل ہی نہیں ہوتی ۔ اس پر مزید یہ کہ اسلامی نظام زندگی ایک عام نظام ہے اور وہ ہر قسم کے حالات کے لئے ہے ۔ ہر خاندان ‘ ہر طور طریقے کے لئے ایک ہی نظام اور طریقہ ہے ‘ اس لئے اس کا فائدہ ہر قسم کے حالات اور ہر قسم کے ماحول اور ہر قسم کی سوسائٹی میں ہوتا ہے ۔ ہر صورت میں اور ہر مفہوم میں اس کی حکمت اور فائدہ موجود ہوتا ہے اور کسی صورت میں بھی اس سے تخلف نہیں ہوتا ۔
ہمارا فرض ہے کہ ہم سب سے پہلے اسلامی نظریہ حیات کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کریں اور بعد میں اس کے بارے میں اظہار خیال کریں ورنہ ہمارا فتوی بغیر علم اور بغیر روشن کتاب کی ہدایات کے ہوگا ۔ پھر ہماری سعی یہ ہونا چاہئے کہ ہم اللہ کے ساتھ نہایت ہی ادب واحترام سے پیش آئیں اور جو بات ہم جانتے ہیں اور جو باتیں نہیں جانتے دونوں میں احترام سے پیش آئیں ۔ (اس کی ایک مثال زکوۃ اور ٹیکس کے درمیان فرق ہے ۔ اس لئے ٹیکس کی وجہ سے ہم زکوۃ کو ختم نہیں کرسکتے ۔ یہ بحث بھی جلد ہی آئے گی)
یہ مسائل کہ جب وضو ممکن نہ ہو یا غسل نہ ہو عذر اور ضرر کی وجہ سے تو اس وقت تیمم جائز ہے ۔ اس میں ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے اور وہ یہ کہ اسلامی نظام حیات کے اندر نماز کی کس قدر اہمیت ہے اور اس کی راہ میں جو رکاوٹیں اور مشکلات حائل ہوں اسلامی نظام انہیں کیسے حکیمانہ انداز میں حل کرتا ہے ۔ تیمم کے اس حکم اور پھر اس کے ساتھ نماز کے بارے میں دوسرے احکام مثلا صلوۃ الخوف ‘ صلوۃ المریض کے احکام کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو ثابت ہوگا کہ بیٹھ کر ‘ لیٹ کر ‘ پہلو پر جیسے بھی ممکن ہو نماز کی ادائیگی ضروری ہے ۔ اسلام اس پر بہت تاکید کرتا ہے ۔ ان تمام احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام حیات مسلمانوں کی اخلاقی اور نفسیاتی تربیت میں نماز کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اس لئے کہ اللہ کے سامنے کھڑے ہونا اور اللہ سے ملاقات کرنا ‘ انسان پر بےحد اثر انداز ہوتا ہے ۔ اسلام سخت سے سخت حالات میں بھی اور نہایت ہی مشکل اوقات بھی اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا ، اس کی راہ میں کسی مشکل کو حائل ہونے نہیں دیتا ۔ دن میں پانچ بار بندے کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب سے ملے اور اس ملاقات کو کسی وجہ سے بھی نہ چھوڑے ۔ یہ دل کی تازگی ہے اور آنکھوں کا سرور ہے اور اللہ کا سایہ اور خوشگوار سایہ ہے ۔
احکام طہارت اور اس سے پہلے دیئے جانے والے احکام کے بعد اب یہ اختتامیہ آتا ہے جس میں نعمت ایمان کے بارے میں یاد دہانی ہے ۔ اور اس عہد کی تذکیر جو انہوں نے اللہ کے ساتھ باندھا تھا اور جس میں انہوں نے سمع اور اطاعت کا اقرار کیا تھا یہ وہی میثاق تھا ‘ جس کے ذریعے وہ اسلام میں داخل ہوئے تھے ‘ جیسا کہ اس سے پہلے ہم بیان کر آئے ہیں ‘ نیز مسلمانوں کو خدا خوفی کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں کے بارے میں علم ہے ‘ جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں ۔
المائدة 5:7
(آیت) ” نمبر 7۔
جن لوگوں کو سب سے پہلے قرآن نے خطاب کیا تھا وہ اس دین کی قدروقیمت کو اچھی طرح جانتے تھے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں اس لئے کہ وہ اس دین کی حقیقت اپنی ذات اور شخصیت کے اندر زندہ طور پر دیکھ رہے تھے ۔ یہ دین ان کی زندگی ‘ ان کی سوسائٹی اور ان کے اردگرد پوری بشریت میں اس کے مقام کے حوالے سے ان کی آنکھوں کے سامنے تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس قسمت کی طرف صرف اشارہ ہی ان کے لئے کافی تھا ۔ جس کی وجہ سے وہ بسہولت اس عظیم حقیقت کی طرف متوجہ ہو سکتے تھے جو ان کی زندگی اور ماحول میں موجود تھی ۔
اسی طرح اس میں اس میثاق کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا ۔ اور یہاں اس کی طرف اس لئے اشارہ کیا گیا کہ یہ بھی ایک واضح حقیقت تھی جسے وہ جانتے تھے اور اس پر وہ بہت فخر کرتے تھے ۔ اس معاہدے کا فریق اول اللہ تھا ۔ اور فریق دوئم وہ تھے اور یہ بات ان کے لئے نہایت ہی قابل قدر اور قابل عزت تھی ‘ اور یہ بات نہایت عظیم تھی اور وہ اس کی اہمیت اور حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے ۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو خدا ترسی کے حوالے کرتے ہیں اور دل کے اندر اللہ کے خوف کا احساس کرنے اور خفیہ خطرات کے مقابلے میں ان کو بیدار کیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” واتقوا اللہ ان اللہ خبیر بما تعملون “ (اللہ سے ڈرو ‘ اللہ ان باتوں سے خبردار ہے جو تم کرتے ہو) انداز تعبیر (آیت) ” بذات الصدور “۔ (5 : 7) باتصویر اور مفہوم کو تیزی سے منتقل کرنے والی ہے ۔ مناسب ہوگا کہ اس میں جو خوبصورتی ‘ معنی خیزی اور گہرائی ہے اس کی طرف اشارہ کیا جائے ۔ ذات الصدور کا مفہوم عربی میں ” دلوں کی مالکہ “ جو دلوں میں چسپاں ہو ‘ کنایتہ مراد وہ خفیہ جذبات ہیں جو دلوں میں پوشیدہ ہوتے ہیں ۔ پوشیدہ میلانات ‘ دلوں کے خلجان ‘ خفیہ راز ایسے راز جو دلوں کے ساتھ چسپاں ہیں۔ یہ خفیہ راز بھی اللہ کے سامنے بالکل کھلے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ دلوں میں چھپی باتوں کا بھی جاننے والا ہے ۔
وہ عہد جو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے لیا ہے ‘ اس میں یہ بات بھی ہے کہ یہ امت پوری انسانیت کے لئے عدل و انصاف کی نگران ہوگی ۔ ایسا انصاف کہ اس کے ترازو کا کوئی پلڑا دوستی اور دشمنی کی وجہ سے جھک نہ جائے ، اس پر رشتہ داری اور خواہشات نفسانیہ کے اثرات بھی نہ ہوں اور نہ وہ کسی مصلحت سے متاثر ہو ۔ یہ عدل صرف ذات باری کی رضا کے لئے ہو اور اس میں انصاف کرنے والا موثرات دنیا میں سے کسی موثر سے اثر نہ لے اور یہ انصاف اس شعور کے تحت ہو کہ اللہ رقیب اور نگہبان ہے اور خفیہ ترین گوشوں سے باخبر ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کی پکار یہ ہے ۔
المائدة 5:8
(آیت) ” نمبر 8۔
اس سے قبل اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس بات سے روکا تھا کہ وہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے کہ انہوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا تھا ‘ بےانصاف کرنے سے ہاتھ کھینچ لیں اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ کر بیٹھیں ضبط نفس اور رواداری کی یہ انتہا تھی جہاں تک اللہ تعالیٰ ان کو پہنچانا چاہتے تھے اور یہ اللہ کا نہایت ہی مضبوط منہاج تربیت تھا ۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو اس بات سے روکتے ہیں کہ وہ دشمنی کی وجہ سے عدل سے رک نہ جائیں ۔ یہ ایک نہایت ہی اعلی چوٹی ہے اور اس قدر مشکل اور دشوار گزار راہ ہے کہ اس پر چلنا نفس کے لئے نہایت ہی باعث مشقت ہے۔ پہلی آیت میں تھا کہ تم دشمنی کی وجہ سے ظلم نہ کرو اور یہ مرحلہ اس سے آگے کا ہے کہ دشمنی کے باوجود انصاف کرو ‘ یعنی باوجود اس کے کہ ان کے خلاف تمہارے جذبات مشتعل ہیں اور تم کراہت محسوس کرتے ہو پھر بھی عدل کرو۔ پہلا حکم بہت ہی آسان تھا اس لئے کہ وہ منفی کام تھا ‘ انسان اس سے رک سکتا تھا کہ ظلم نہ کرے ۔ رہا دوسرا حکم کہ ان ظالموں کے ساتھ اور دشمنوں کے ساتھ عدل و انصاف کرو یہ ایک مثبت اور پر مشقت کام ہے یعنی انفس انسانی کو ایسے مبغوض اور قابل نفرت لوگوں کے ساتھ انصاف کرنے پر مجبور کرنا ۔
اسلام کا حکیمانہ نظام تربیت اپنے تربیت یافتہ لوگوں سے ایسا مشکل کام کروا سکتا تھا اس لئے اسلام حکم دیتا ہے ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ لِلّہِ شُہَدَاء بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہوں اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ ۔ عدل کرو ‘ یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور اس کے بعد وہ بات بتائی جاتی ہے جو اس مشکل کام کے لئے معین و مددگار ہے ۔
(آیت) ” واتقوا اللہ ، ان اللہ خبیر بما تعملون “۔ (5 : 8) اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ‘ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ سے پوری طرح باخبر ہے ۔ ) انسان کا نفس اس قدر بلندی تک ہرگز نہیں پہنچ سکتا ‘ الا یہ کہ اس کام کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ براہ راست ہو ‘ جس وقت انسان صرف اللہ کے لئے کھڑا ہوجائے اور اللہ کے سوا ہر چیز کو چھوڑ دے ۔ جس وقت انسان کو خدا خوفی کا شعور ہو اور اسے یہ احسان ہو کہ اللہ کی نظروں سے کوئی خفیہ بات بھی بلند کرسکتی ہے۔
دنیا میں کوئی ایسا نظام نہیں ہے جو انسانوں کو ایسا انصاف دے سکتا ہو جس میں دوست اور دشمن برابر ہوں ۔ یہ صرف دین اسلام کا کام ہے جو اہل ایمان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ انصاف کے معاملے میں محض اللہ کے لئے کھڑے ہوجائیں اور وہ انصاف کے لئے ماسوائے انصاف کے ہر سوچ (ConsiderAtion) ترک کردیں ۔
یہی وہ بنیادی عناصر ہیں جن کی وجہ سے اس دین کو دین انسانیت اور عالمی دین قرار دیا گیا ہے ۔ اس کا نظام تمام لوگوں کے لئے بالکل کافی ہے ‘ چاہے وہ لوگ اس دین کے ماننے والے ہوں یا نہ ماننے والے ہوں۔ تمام لوگ اس کے زیر سایہ عدل و انصاف کی زندگی گزار سکتے ہیں ۔ انصاف قائم کرنا ان لوگوں پر فرض ہے جو اس دین کے ماننے والے ہیں اور اس قیام عدل میں ان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ ہے ‘ اگرچہ وہ انصاف چاہنے والوں کے ظلم وعدوان کا شکار رہے ہوں اور ان کے دل میں ان کی دشمنی ہو ۔ یہ اس امت کا فریضہ ہے جسے اس پوری انسانیت کا نگران بنایا گیا ہے ۔ اگرچہ اس عدل کے قیام میں اسے مشکلات پیش آئیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ اس امت نے یہ فریضہ تاریخ میں بہت ہی اچھی طرح ادا کیا ہے ۔ اس نے اس کی راہ میں عظیم مشقتیں برداشت کی ہیں ‘ جبکہ اسلام قائم تھا اور یہ اس امت کی زندگی میں محض وعظ اور نصیحت کا کام نہ تھا ۔ نہ اعلی نمونوں کی چند مثالیں تھیں ‘ بلکہ یہ اس کی روز مرہ زندگی کی صورت حالات تھی ۔ یہ ایسی صورت حالات تھی جس کو انسانیت نے نہ کبھی پہلے دیکھا تھا اور نہ بعد میں دیکھا ۔ اس معیار پر صرف اسلامی نظام زندگی ہی میں انسانیت نے یہ انصاف دیکھا ۔ اس کی مثالیں اور بلند ترین مثالیں اسلامی تاریخ میں لاتعداد ہیں اور تاریخ کا حصہ ہیں ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی ہدایات اور اس کی مقرر کردہ ڈیوٹیاں امت مسلمہ کی زندگی میں ایک واقعی اور عملی نظام کی شکل میں دیکھی گئیں جو بڑے سادہ طریقے سے ادا ہوتی رہیں ۔ اور اس امت کی روز مرہ کی زندگی میں وہ منقش اور مجسم تھیں ۔ یہ محض خیالی اعلی معیاروں کی باتیں نہ تھیں ‘ نہ کچھ انفرادی اعلی نمونے تھے بلکہ وہ عملی زندگی کا ایک نقش دل پذیر تھا جس کے سوا آج تک اعلی معیار کے نقوش انسان کو نظر نہ آئے ۔
جب اس اعلی مقام سے اور بلند ترین چوٹی سے دنیا کی جاہلیت پر نگاہ ڈالی جائے چاہے وہ جس زمان میں ہو اور جس مکان میں ہو ‘ جن جاہلیتوں میں دور جدید کی پالش شدہ جاہلیت بھی شامل ہے تو نگاہ ڈالنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے اللہ نے انسانوں کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ وہ نظام ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لئے بنایا ہے۔ اس مقام بلند سے نظر آتا ہے کہ اسلامی نظام حیات اور ان تمام جاہلی نظامہائے حیات کے درمیان اس قدر طویل فاصلے ہیں جنہیں عبور نہیں کیا جاسکتا ۔ عملی زندگی کے اعتبار سے بھی اور انسانی ضمیر اور عقائد کے اعتبار سے بھی ۔
بعض اوقات لوگ اصول تو پہنچان لیتے ہیں اور اصول پسندی کے نعرے بھی لگاتے ہیں لیکن اصولوں کو عملی شکل میں برتنا اصل چیز ہے ۔ یہ فطری بات ہے کہ لوگ اصولوں کی بات کرتے ہیں اور یہ بات وہ اور لوگوں کے لئے کرتے ہیں لیکن یہ اصول عالم عمل میں موجود نہیں ہوتے ۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو اصولوں کی طرف دعوت دیجائے بلکہ دیکھنا چاہیے کہ جہاں سے دعوت آرہی ہے ‘ جو دعوت کا مقصد ہے اور جو داعی ہے وہ کیسا ہے چاہئے تو یہ کہ دعوت داعی کے ضمیر اور اس کے اندرون پر حکمران ہو۔ اصل بات وہ مرجع ہے جہاں سے دعوت جاری ہوتی ہے اور داعی کی جدوجہد اور داعی کی وہ محنت ہے جو وہ دعوت اور اصولوں کو عملی شکل دینے میں خرچ کرتا ہے ۔
دعوت اسلامی کی اصل قدر و قیمت یہ ہے کہ چند دینی اصولوں کی طرف یہ دعوت دی جاتی ہے ۔ ان کی قدروقیمت دین اسلام کی سند سے ہوتی ہے ۔ دین اسلام کی قدروقیمت یہ ہے کہ وہ اللہ کا دین ہے اس لئے جو شخص دین کی دعوت دیتا ہے تو وہ اللہ کے سوا کسی اور کا سہارا اور سند نہیں لیتا اور اگر کسی کی مدد سے کبھی ایسا ہو بھی جائے تو اس سند کا لوگوں کے ایمان وضمیر پر اثر کیا ہوتا ہے ۔ اور لوگوں کو کیا پڑی ہے کہ وہ کسی اور کے اصولوں کو نافذ کرنے کے لئے جدوجہد کریں اور کسی اور کے پاس ہے کیا وہ لوگوں کو بطور اجر دے گا ۔
ہزارہا لوگ عدل کے حق میں نعرے لگاتے ہیں ‘ پاکیزگی کے نعرے لگاتے ہیں ‘ آزادی کے لئے نعرے لگاتے ہیں رواداری ‘ الوالعزمی ‘ محبت ‘ قربانی اور ایثار کے نعرے لگاتے ہیں لیکن ان نعروں کے نتیجے میں لوگوں کا ضمیر اپنی جگہ سے نہیں ہلتا ‘ اور دلوں پر ان کا اثر نہیں ہوتا ‘ اس لئے کہ وہ ایک ایسی دعوت دے رہے ہوتے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے کوئی سند نہیں ہوتی ہے ۔ غرض اصل بات صرف زبانی جمع خرچ کی نہیں ہے بلکہ اصل حقیقت وہ چیز ہے جو بات کی پیچھے ہوتی ہے ۔
لوگ اپنے جیسے لوگوں کے منہ سے اصول بلند نمونے اور بلند علامات کی بات سنتے رہتے ہیں لیکن انکی پشت پر اللہ کی جانب سے کوئی سند نہیں ہوتی ۔ پس ان کی اس بات کا اثر کیا ہوتا ہے ۔ ان کی فطرت یہ کہتی ہے کہ یہ ایک بات ہے جو ان جیسے لوگوں کی طرف سے ہے ۔ اور یہ بات کرنے والے میں وہ تمام نقائص ‘ عیوب اور کو تاہیاں موجود ہیں جو دوسرے لوگوں میں موجود ہوتی ہیں ۔ انسان ان باتوں کو صرف اس اساس پر لیتے ہیں اس لئے ان کی فطرت پر ان باتوں کی حکمرانی نہیں ہوتی نہ یہ باتیں ان کی شخصیت کو جھنجوڑ سکتی ہیں ۔ ان باتوں کے اثرات ‘ ان لوگوں پر نہیں ہوتے ‘ اگر کوئی اثر ہوتا بھی ہے تو وہ تار عنکبوت کی طرح کمزور ہوتا ہے ۔
پھر یہ دینی اصولوں کی ہدایت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتیں جب تک ان کی زندگی میں عملی شکل نہ دی جائے اسلام ان ہدایات کو محض ہوا میں بکھیر نہیں دیتا بلکہ ان کو عملی زندگی میں نافذ کرتا ہے اس لئے دین جب صرف مشورہ بن جائے اور صرف چند مراسم عبودیت کا نام رہ جائے تو پھر اس کے یہ مشورے حقیقت کا روپ اختیار نہیں کرتے ۔ یہ صورت حال ہمیں آج ہر جگہ نظر آتی ہے کہ اہل دین صرف مشورے دیتے ہیں مگر ان کے پاس قوت نافذہ نہیں ہے ۔
لہذا اصل بات یہ ہے کہ دین کے لئے ایک نظام حیات ضروری ہے جو دین کے منہاج کے مطابق ہو اور اس نظام کی روشنی میں اسلامی ہدایات پر عمل کیا جائے ۔ یہ نظام ان ہدایات کو زندگی کے تمام طور طریقوں میں عملی اور عملی اقدامات کے درمیان مکمل توازن کے ساتھ نافذ کر دے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے دین کو بھی مفہوم ہے ۔ یعنی دین سے مراد وہ نظام زندگی ہے جو زندگی کے تمام پہلوؤں پر حکمران ہو ۔ اس کی پشت پر قوت نافذہ ہو۔
جماعت مسلمہ کی زندگی میں جب دین اپنے اس مفہوم کے ساتھ حقیقت کا روپ اختیار کرلے ‘ تب ہی وہ اس دنیا میں بلندی تک پہنچ سکتی ہے اور پھر وہاں سے پوری انسانیت کا جائزہ لے سکتی ہے ۔ اس انسانیت پر جو ابھی تک جدید جاہلیت کے گڑھوں میں افتادہ ہے ‘ جس طرح نزول قرآن کے وقت عربوں کی قدیم جاہلیت کے گڑھوں میں لوگ اوندھے گرے ہوئے تھے لیکن جب دین کو منبر پر وعظ اور مساجد کے اندر چند مراسم عبودیت تک محدود کردیا جائے اور زندگی کے وسیع عملی میدان سے اسے خارج کردیا جائے تو اس صورت میں انسان کی عملی زندگی میں دین کی کچھ حقیقت بھی نہ ہوگی ۔ نہ اسے نافذ کیا جاسکے گا ‘ نہ اس کی عملی شکل میں سامنے آئے گی ۔
مومنین کے لئے اللہ کی جانب سے اجر ضروری ہے ۔ وہ مومنین جو معاملہ صرف اللہ کی ذات کے ساتھ کرتے ہیں تاکہ وہ مزید جوش و خروش اور پوری قوت کے ساتھ اپنی ڈیوٹی برائے نگرانی بشریت ادا کریں ۔ اللہ کے ساتھ انہوں نے جو پختہ عہد کیا ہے اسے پورا کریں ۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کی راہ میں کام کرنے والوں اور نیک عمل کرنے والوں اور ان لوگوں کے انجام میں فرق ہو جو اسلام سے انکار کرتے ہیں ۔
المائدة 5:9
(آیت) ” نمبر 9 تا 10۔
یہ وہ جزاء ہے جو ان برگزیدہ لوگوں کے لئے ہے جن سے دنیاوی لذات اور مفادات فوت ہوجاتے ہیں ۔ انہیں دنیا میں عیش کوشی کا موقع نہیں ملتا ۔ وہ دنیا میں اسلامی انقلاب کے فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں اور اس انعام کے ہوتے ہوئے دنیا میں بشریت کی نگہبانی کے فرائض بہت ہی کم نظر آتے ہیں اور انسان بشری میلانات ‘ انسانی حسد وعناد اور اس دنیا کے لالچ کو خاطر میں نہیں لاتا ۔ پھر اس سے اللہ کی صفت عدل کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں اور اشرار کو ایک ہی سطح پر نہیں رکھتے ۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ انقلابی مومنین کی نظریں اللہ کی اس جزاء کے ساتھ اٹکی ہوئی ہوں اور ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ اس طرح ہو کہ ان کی راہ میں رکاوٹوں میں سے کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے ۔ زندگی کے حالات میں اور مختلف احوال میں بھی ۔ بعض دل تو ایسے ہوتے ہیں کہ محض جذبہ حصول رضائے الہی ان کے لئے کافی ہوتا ہے اور وہ اس کو چکھ کر خوب چٹخارے لیتے ہیں جس طرح انہیں اللہ کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو ایفا کرنے میں خوب مزہ آتا ہے ۔ لیکن اسلامی نظام ان اولوالعزم لوگوں کے علاوہ عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کو مزاج بھی اللہ کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کا مزاج بھی اللہ کی پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کے ساتھ اجر عظیم کا وعدہ بھی ضروری ہے ۔ اسی طرح عوام الناس کو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ یہ جانیں کہ جھٹلانے والوں کا انجام وسزا کیا ہوگی اس لئے کہ عوام الناس اسی پر راضی ہوتے ہیں اور یہی ان کا مزاج ہوتا ہے ۔ اس لئے عوام الناس اپنی جزا اور کفار کی سزا کا حکم سن کر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح اشرار کے کاموں پر ان کے دل میں جو غیض وغضب پیدا ہوتا ہے وہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے ۔ خصوصا ایسے مواقع پر جب اہل ایمان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کریں ۔ خصوصا ایسے حالات میں جبکہ ان کے ہاتھوں اہل ایمان نے مکروفریب اور ایذاء رسانی اور نیش زنی کو برداشت کیا ہو۔ اسلامی نظام زندگی انسانیت کو اسی طرح لیتا ہے جس طرح انسانوں کی فطرت ہے اور اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتے ہیں ۔ اسلام انسانوں کو ایسا نعرہ اور ایسی دعوت دیتا ہے کہ جس سے ان کے شعور کے دریچے کھلتے ہیں اور جس پر ان کی جان اور روح لبیک کہتی ہے ۔ پھر یہ انعام یعنی مغفرت اور اجر عظیم اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہے ۔
سیاق کلام میں ذرا آگے جائیں اور عدل انصاف اور رواداری کی روح اب جماعت مسلمہ کے اندر نہایت ہی قوی پائیں ۔ اس کے اندر زیادتی ‘ کینہ پروری ‘ اور یک رخی کا شعور ختم کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یاد دلاتے ہیں کہ ان پر اللہ کا یہ کس قدر عظیم کرم ہے کہ اللہ نے ان کے خلاف مشرکین کی تمام کاروائیاں بند کرادیں جبکہ حدیبیہ کے موقع پر اور دوسرے مواقع پر وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہ کرسکے ۔
المائدة 5:10
(آیت) ” نمبر 9 تا 10۔
یہ وہ جزاء ہے جو ان برگزیدہ لوگوں کے لئے ہے جن سے دنیاوی لذات اور مفادات فوت ہوجاتے ہیں ۔ انہیں دنیا میں عیش کوشی کا موقع نہیں ملتا ۔ وہ دنیا میں اسلامی انقلاب کے فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں اور اس انعام کے ہوتے ہوئے دنیا میں بشریت کی نگہبانی کے فرائض بہت ہی کم نظر آتے ہیں اور انسان بشری میلانات ‘ انسانی حسد وعناد اور اس دنیا کے لالچ کو خاطر میں نہیں لاتا ۔ پھر اس سے اللہ کی صفت عدل کا اظہار ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں اور اشرار کو ایک ہی سطح پر نہیں رکھتے ۔
اس بات کی ضرورت ہے کہ انقلابی مومنین کی نظریں اللہ کی اس جزاء کے ساتھ اٹکی ہوئی ہوں اور ان کا معاملہ اللہ کے ساتھ اس طرح ہو کہ ان کی راہ میں رکاوٹوں میں سے کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے ۔ زندگی کے حالات میں اور مختلف احوال میں بھی ۔ بعض دل تو ایسے ہوتے ہیں کہ محض جذبہ حصول رضائے الہی ان کے لئے کافی ہوتا ہے اور وہ اس کو چکھ کر خوب چٹخارے لیتے ہیں جس طرح انہیں اللہ کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو ایفا کرنے میں خوب مزہ آتا ہے ۔ لیکن اسلامی نظام ان اولوالعزم لوگوں کے علاوہ عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کو مزاج بھی اللہ کے پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کو بھی پیش نظر رکھتا ہے ۔ عام انسانوں کا مزاج بھی اللہ کی پیش نظر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ عام لوگوں کے لئے امید مغفرت کا ہونا بھی ضروری ہے اور عوام الناس کے ساتھ اجر عظیم کا وعدہ بھی ضروری ہے ۔ اسی طرح عوام الناس کو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ وہ یہ جانیں کہ جھٹلانے والوں کا انجام وسزا کیا ہوگی اس لئے کہ عوام الناس اسی پر راضی ہوتے ہیں اور یہی ان کا مزاج ہوتا ہے ۔ اس لئے عوام الناس اپنی جزا اور کفار کی سزا کا حکم سن کر مطمئن ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح اشرار کے کاموں پر ان کے دل میں جو غیض وغضب پیدا ہوتا ہے وہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے ۔ خصوصا ایسے مواقع پر جب اہل ایمان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کریں ۔ خصوصا ایسے حالات میں جبکہ ان کے ہاتھوں اہل ایمان نے مکروفریب اور ایذاء رسانی اور نیش زنی کو برداشت کیا ہو۔ اسلامی نظام زندگی انسانیت کو اسی طرح لیتا ہے جس طرح انسانوں کی فطرت ہے اور اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتے ہیں ۔ اسلام انسانوں کو ایسا نعرہ اور ایسی دعوت دیتا ہے کہ جس سے ان کے شعور کے دریچے کھلتے ہیں اور جس پر ان کی جان اور روح لبیک کہتی ہے ۔ پھر یہ انعام یعنی مغفرت اور اجر عظیم اللہ کی رضا مندی کی دلیل ہے ۔
سیاق کلام میں ذرا آگے جائیں اور عدل انصاف اور رواداری کی روح اب جماعت مسلمہ کے اندر نہایت ہی قوی پائیں ۔ اس کے اندر زیادتی ‘ کینہ پروری ‘ اور یک رخی کا شعور ختم کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یاد دلاتے ہیں کہ ان پر اللہ کا یہ کس قدر عظیم کرم ہے کہ اللہ نے ان کے خلاف مشرکین کی تمام کاروائیاں بند کرادیں جبکہ حدیبیہ کے موقع پر اور دوسرے مواقع پر وہ مسلمانوں کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہ کرسکے ۔
المائدة 5:11
(آیت) ” نمبر 11۔
اس آیت کے مفہوم میں اختلاف ہے لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس سے مراد وہ واقعہ ہے جو یوم حدیبیہ پر پیش آیا جب ایک گروہ مسلمانوں اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف غداری کر کے چاہتا تھا کہ غفلت میں ان پر حملہ کر دے مگر اللہ تعالیٰ نے انکو مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بنا دیا (تفصیلات کے لئے دیکھئے سورة فتح)
غرض حادثہ کیسا بھی ہو ‘ بہرحال یہاں اعتبار اور اہمیت اس بات کی ہے جو یہاں اسلام کے نظام تربیت میں پیش نظر ہے اور وہ یہ کہ غصے اور دشمنی کو فرو کرنا چاہئے اور اس طرح دشمنوں کے خلاف اپنے دلوں میں پائے جانے والے کئے اور دشمنی کو نکالنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ ٹھنڈے دل سے سوچیں اور یہ یقین رکھیں کہ اللہ ان کا نگہبان ہے اور ان کا محافظ ہے ۔ اس نرمی ‘ سنجیدگی اور اطمینان کی وجہ سے مسلمانوں کو ضبط نفس حاصل ہوتا ہے ان کے دلوں میں رواداری پیدا ہوتی ہے اور وہ سہولت سے عدل و انصاف قائم کرتے ہیں ۔ مسلمان اس بارے میں ندامت محسوس کریں گے اگر وہ پھر بھی اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو پورا نہ کریں ‘ حالانکہ وہ ہر وقت ان کا نگہبان اور محافظ ہے ‘ اور ان کی طرف بڑھنے والے ہاتھ کو پکڑ رہا ہے ۔ دوسری جگہ آیت یہ ہے :
(آیت) ” اذ ھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم فکف ایدیھم عنکم “۔ (5 : 11) (جب ایک قوم نے تم پر دست درازی کا ارادہ کرلیا تھا مگر اللہ نے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیئے)
ہاتھوں کا آگے بڑھنا اور پکڑنا اور پھر ان کا روک دیا جانا ‘ یہ انداز تعبیر ایک زندہ اور مصور انداز تعبیر ہے اور یہ معنوی انداز سے زیادہ موثر ہے ۔ اس تعبیر کے اندر تصویر اور حرکت اسکریں پر سامنے آجاتی ہے ۔ یہ انداز تعبیر بات کو زور دار اور وزنی بنا دیتا ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ بالکل ایک نیا اسلوب ہے جو پہلی مرتبہ استعمال ہوا ہے اور اس میں ایک محسوس صورت حال بھی نظروں کے سامنے آجاتی ہے ۔ اور وہ متحرک صورت میں تصور کے اسکرین پر دوڑتی ہے یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز بیان ہے اور اسی وجہ سے قرآن معجز ہے ۔
درس نمبر 47 ایک نظر میں :
سابقہ سبق کے آخر میں اس معاہدے کا تذکرہ ہوا تھا جو اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کے درمیاں طے پایا تھا اور یہ معاہدہ کر کے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر جو عظیم احسان کیا تھا وہ انہیں یاد دلایا تھا ۔ یہ اس لئے کہ وہ اس معاہدے کی رو سے ان پر عائد ہونے والی ڈیوٹیوں کو اچھی طرح ادا کریں اور اس بات سے ڈریں کہ وہ اس معاہدے کو توڑ نہ دیں اور اس کی خلاف ورزی نہ کریں ۔
اس پورے سبق میں وہ تفصیلات دی گئی ہیں جن میں اہل کتاب نے اپنے ان معاہدوں کی خلاف ورزیاں کیں جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کئے تھے ، یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں انہیں اس دنیا میں جو سزائیں دی گئیں وہ کس قدر سخت تھیں ، یہ اس لئے کہ ایک طرف تو یہ وضاحت جماعت مسلمہ کے لئے ایک تاریخی نصیحت اور عبرت کا کام کرے اور اہل کتاب کی حقیقی صورت حال کی تفصیلات ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں اور دوسری جانب انہیں بتایا جائے کہ اللہ کی سنت اٹل ہوتی ہے اور وہ اپنے فیصلوں میں کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتا ۔ تیسرے یہ کہ یہ معلوم ہوجائے کہ اہل کتاب کی اصل حقیقت کیا ہے اور تاریخ میں ہمیشہ ان کا موقف کیا رہا ہے ۔ تاکہ مسلمانوں کے خلاف ان کی جانب سے کی جانے والی سازشوں کا اچھی طرح دفعیہ کیا جائے اور ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کو ناکام کیا جاسکے ، یہ سازشیں اور اپنے دینی ثابت قدمی کے رنگ مین کرتے تھے حالانکہ وہ ہمیشہ ان معاہدوں کو توڑتے رہے تھے ۔
اس سبق میں اللہ کے اس معاہدے کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے قوم موسیٰ کے ساتھ اس وقت کیا تھا ‘ جب اس کو مصر کی محکومانہ اور رسوا کن زندگی سے نجات دی گئی تھی ۔ اس میثاق کو بھی بنی اسرائیل نے توڑد یا تھا ۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس عہد شکنی کے نتیجے میں میں ان پر کیا گزری ۔ خدا کی لعنت کے ساتھ انہیں جلاوطن کردیا گیا اور ہدایت اور انعام سے محروم کر کے انہیں راندہ درگاہ قرار دیا گیا ۔ پھر اس معاہدے کا جائزہ بھی لیا گیا ہے جو ان لوگوں سے کیا گیا تھا ‘ جنہوں نے کہا تھا کہ وہ نصاری ہیں۔ انہوں نے اس معاہدے کو توڑا اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان نفرت اور عداوت پیدا کردی اور اعلان کردیا گیا کہ یہ عداوت تاقیامت بحال رہے گی ۔ پھر بنی اسرائیل کا موقف ‘ ارض مقدس کے حوالے سے بھی ایکسرے ہوا ہے جس میں انہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ اس پر حملہ آور ہوں گے انہوں نے اس عہد کو توڑا اور الٹے پاؤں پھرگئے محض بزدلی کی وجہ سے انہوں نے اللہ کی ساتھ بدعہدی کی اور معاہدے کی ذمہ داریاں ادا نہ کیں ۔ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے صاف صاف کہہ دیا کہ آپ جائیں ‘ آپ اور آپ کا خدا دونوں لڑیں ہم توی ہیں بیٹھتے ہیں ۔
اہل کتاب کے ان معاہدوں اور مواقف کے جائزے کے بیچ میں ‘ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان عہد شکنیوں کے نتیجے میں اہل کتاب کے اندر کس قدر فکری انحراف پیدا ہوگیا تھا ۔ ان معاہدوں میں یہ طے ہوا تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کو تسلیم کریں گے اور اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں گے ۔ اس کے بدلے اللہ نے ان کو انعامات واکرامات سے نوازنا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ تمہیں اس سرزمین کا اقتدار اعلی دیا جائے گا لیکن انہوں نے خدا کی نافرمانی کر کے اپنے آپ کو ان تمام چیزوں سے محروم کرلیا ۔ چناچہ وہ اللہ کی جانب سے ملعون ہو کر اور فرقہ پرستی میں پڑ کر جلاوطنی کی زندگی بسر کرتے رہے ۔
ان تبصروں کے بعد از سر نو انکو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ہدایت کو قبول کرلیں ۔ یہ ہدایت جو نہایت ہی اہم ہے جسے اس آخری رسالت نے پیش کیا ہے اور جسے نبی آخر الزمان خاتم النبین نے پیش کیا ہے اور جس کی وجہ سے انسانوں پر حجت تمام ہوگئی کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے اور کوئی نبی نہیں آیا اور آخری نبی گزرنے کے بعد طویل عرصہ گزر گیا ہے ۔ اس لئے وہ ہدایت بھول گئے اور اب ان پر مواخذہ کیا ہوگا ۔ لو حضرت محمد ﷺ بشیر ونذیر بن کر آگئے ہیں ‘ اب کیا بہانہ ہے بتاؤ ؟
اس تمام بحث سے یہ نتیجہ بھی از خود برآمد ہوتا ہے کہ دین اسلام اپنی اساس کے اعتبار سے ایک ہے اللہ کا اپنے بندوں کے ساتھ عہد ومثاق بھی ایک ہے کہ وہ ایمان لائیں ‘ اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھیں ‘ زکوۃ ادا کریں اور اللہ نے انکو جو رزق دیا ہے ‘ اس میں سے اللہ کے لئے خرچ کریں ۔ یہ ایک ایسا میثاق ہے جو صحیح نظریات کو متعین کردیتا ہے جو صحیح عبادات کو متعین کردیتا ہے اور اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیادوں کی نشاندی کرتا ہے ۔ اس مختصر جائزے کے بعد آب ذرا آیات پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔
المائدة 5:12
(آیت) ” نمبر 12 تا 14 ۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا وہ دو فریقوں کے درمیان معاہدہ تھا ۔ اس معاہدے کی عبارت شرط اور جزائے شرط کے انداز میں تھی ۔ قرآن کریم نے اس معاہدے کی شرط اور اجزاء کو بعینہ نقل کیا ہے ۔ یہ اصل عبارت عہد کے حالات اور واقعہ عقد کے ذکر کے بعد دی گئی ہے ۔ یہ عہد اللہ تعالیٰ اور بنی اسرائیل کے 12 نمائندوں کے درمیان ہوا تھا ۔ یہ نمائندے بنی اسرائیل کے 12 قبائل کے نمائندے تھے ۔ یہ 12 قبائل حضرت یعقوب (علیہ السلام) (جن کا نام اسرائیل تھا) کے پوتے اور ان کی اولاد تھے ۔ ان نمائندوں کی تعداد 12 تھی اور اس معاہدے کی عبارت یہ تھی :
(آیت) ” ً وَقَالَ اللّہُ إِنِّیْ مَعَکُمْ لَئِنْ أَقَمْتُمُ الصَّلاَۃَ وَآتَیْْتُمُ الزَّکَاۃَ وَآمَنتُم بِرُسُلِیْ وَعَزَّرْتُمُوہُمْ وَأَقْرَضْتُمُ اللّہَ قَرْضاً حَسَناً لَّأُکَفِّرَنَّ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَلأُدْخِلَنَّکُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ فَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ مِنکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاء السَّبِیْلِ (12)
” اور ان سے کہا تھا کہ ” میں تمہارے ساتھ ہوں ، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوۃ دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے تو یقین رکھو کہ میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل گم کردی ۔ “
(انی معکم) میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ کس قدر عظیم عہد ہے ۔ جس کی حمایت میں اللہ ہو ‘ اس کے خلاف کون ہو سکتا ۔ اور جو چیز بھی اس کے خلاف ہو ‘ نہ اس کی کوئی حقیقت ہوگی ‘ نہ اثر ہوگا اور جس کے ساتھ اللہ ہو اگا تو وہ ہر گز راستہ نہ بھولے گا ‘ اس لئے کہ اللہ جس کا ساتھی ہو وہ ہدایت پر ہی ہوگا ۔ پھر اللہ اس کے لئے کافی بھی ہوگا ۔
جس کے ساتھ اللہ ہو تو نہ ہو پریشان ہوگا اور نہ نامراد ہوگا کیونکہ اللہ کے ساتھ اس کی نزدیکی اور قرب اسے مطمئن کردیتا ہے اور اسے کامیاب کردیتا ہے ۔ غرض جو اللہ کا ساتھی ہو اور جس کا ساتھی اللہ ہوا تو اس کا ضامن اللہ ہوتا ہے ۔ وہ مراد کو پہنچ جاتا ہے ۔ اس مقام بلند پر اسے مزید کسی چیز کی ضرورت یا طلب نہیں رہتی ۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی رفاقت کا یہ اعلان محض گپ اور مزاح میں نہیں کیا یا ان کے ساتھ کسی خاص دوستی کی وجہ سے نہیں کیا اور نہ یہ ان کی کوئی ذاتی بزرگی کا استحقاق ہے کہ جس کے نہ کوئی اسباب ہیں اور نہ اس کے لئے کچھ شرائط وقیود ہیں ۔ بلکہ یہ رفاقت ایک باقاعدہ معاہدے کے تحت طے پائی ہے ۔ یہ شرط وجزاء پر مبنی ہے ۔
وہ شرط یہ ہے کہ وہ نماز قائم کریں گے ۔ صرف نماز کی ادائیگی کافی نہیں ہے بلکہ اس کا قیام اس طرح ضروری ہے کہ اس کے پورے اصول اس کے اندر قائم ہوجائیں اور وہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان پورا رابطہ ہو ۔ نماز ان کے لئے ایک تہذیبی ‘ تربیتی عنصر ہو ‘ اللہ تعالیٰ کے سیدھے نظام تربیت اور نظام حیات کے مطابق ۔ اس طرح کہ یہ نماز نہیں تمام فحاشیوں سے روکتی ہو ‘ تمام برائیوں سے منع کرتی ہو اور نماز کو اس بات سے حیا آتی ہو کہ ہو فحاشی اور ناپسندیدہ افعال کے ذخیرے کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر رہے ‘ منکرات لئے ہوئے ۔
اللہ نے انہیں جو رزق اور دولت دی ہے اس کا حق نعمت ادا کرتے ہوئے وہ زکوۃ کی ادائیگی باقاعدگی کے ساتھ کرتا ہو اور یہ خیال کرتا ہو کہ اصل مالک اللہ ہے اور وہ اس مال کے تصرف میں اللہ کی پیروی کر رہا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ اصل مالک ہے اور اللہ کی مال میں لوگ بطوروکلاء اور ایجنٹ تصرفات کرتے ہیں ۔ پھر زکوۃ کی ادائیگی اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ اسلامی معاشرے کی اجتماعی ضروریات کو اس کے ذریعے پورا کیا جاسکے ۔ نیز اسلامی نظام معیشت کے اس زریں اصول کو بروئے کار لایا جاسکے کہ دولت صرف مالداروں ہی کے درمیاں گردش نہ کرتی رہے بلکہ معاشی زندگی کو اجتماعی کفالتی نظام کے اصول پر قائم کیا جائے ۔ نیز دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں نہ ہو ‘ جس کی وجہ سے عام معاشرے میں کساد بازاری پیدا ہوتی ہے اور لوگوں کی قوت خرید ختم ہوجاتی ہے ۔ اور جس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں کساد بازاری پیدا ہوتی ہے اور لوگوں کی قوت خرید ختم ہوجاتی ہے ۔ اور جس کا آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے کے اندر پیداواری عمل معطل ہوجاتا ہے یا کم از کم بہت ہی سست پڑجاتا ہے ۔ اس کا واضح نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک قلیل تعداد عیاشی کرتی ہے اور عوام کی کثیر تعداد مفلوک الحال رہتی ہے اور غربت کی زندگی بسر کرتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں معاشرتی بگاڑ اور فساد پیدا ہوتا ہے اور یہ بگاڑ مختلف رنگوں میں ظاہر ہوتا ہے ۔ یہ تمام فساد ادائیگی زکوۃ سے رکتا ہے اور اس فساد کو دفع کرنے میں اسلامی نظام کا تقسیم دولت کا نظام بہت بڑا کام کرتا ہے اور اسلام اپنا اقتصادی کردار ادا کرتا ہے ۔
اللہ کے رسولوں پر ایمان ‘ تمام رسولوں پر بغیر کی تفرقہ اور جدائی کے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے آئے ہیں اور سب کے سب اللہ کی دین لے کر آئے اور ان میں سے کسی بھی ایک کا انکار مستلزم کفر ہے ۔ کیونکہ یہ اس ذات کا انکا رہے جس نے ان سب کو بھیجا ہے ۔
یہ عہد صرف ایمان اور مجرد عقیدہ ہی نہ ہو بلکہ ایک مثبت اقرار ہو اور اس کے ساتھ عملا رسولوں کی نصرت ہو ۔ ان فرائض میں ان کے ساتھ مدد اور تعاون بھی ہو جو فرائض ان پر اللہ نے عائد کئے ہیں اور جن کو بروئے کار لانے کے لئے ان رسولوں نے اپنی زندگیوں کو وقف کردیا ہے ۔ اللہ کے دین پر ایمان لازمی تقاضا یہ ہے کہ جو لوگ دین کو قائم کرنا چاہتے ہیں ہر مومن اٹھے اور انکی بھرپور امداد کرے ۔ اس دین کو اس کرہ ارض کی کسی سرزمین پر قائم کر دے اور یہ دین لوگوں کی زندگیوں میں ایک حقیقت بن کر اٹھے ۔ اس لئے کہ اللہ کا دین محض اعتقادی تصورات کا نام نہیں ہے ‘ نہ یہ دین صرف مراسم عبادت کا نام ہے بلکہ یہ زندگی کا ایک واقعی اور عملی نظام ہے یہ ایک متعین نظام ہے جو زندگی کے تمام امور میں تصرف اور عمل کرتا ہے ۔ اور جو نظام بھی ہو اور جو منہاج بھی ہو وہ نصرت اور امداد اور تعاون کا محتاج ہوتا ہے ۔ اسے قوت کی فراہمی ضروری ہوتی ہے ۔ اس کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے تاکہ وہ قائم ہو ‘ اس کی حمایت ہو اور اسے بچایا جائے ۔ اگر ایسی صورت حال نہ ہو تو مومن نے ‘ یہ سمجھا جائے گا ‘ کہ اپنے کیے ہوئے عہد کا ایفا نہیں کیا ہے ۔
زکوۃ کے بعد اب عام انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے یہ عام انفاق فرض کیا ہے لیکن یہ قرض ہے ۔ حالانکہ اللہ خود تمام دولت کا مالک ہے اور وہی داتا ہے ۔ لیکن یہ اس کا فضل وکرم ہے کہ وہ اپنی دی ہوئی چیز کو اپنے لئے بطور قرض مانگتا ہے ۔ یہ تمام امور تو شرط تھے ۔ اب اس شرط کی جزاء کیا ہے ؟
پہلی جزاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے ۔ انسان سے خطا کا صدور خواہ مخواہ ہوتا ہے اور وہ برائی پر مائل ہوتا ہے ۔ اگرچہ وہ بہت ہی نیکوکار ہو ۔ اس کی خطاؤں کو معاف کرنا بھی اس کے لئے ایک بہت ہی بڑا انعام ہے ۔ اور اللہ کی وسیع رحمت کی وجہ سے اس کے ضعف ‘ اس کی کمزوری اور اس کے عجز و قصور کا تدارک ہوتا ہے ۔
پھر اس کی جزاء میں ایسے باغات آتے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں اور یہ اللہ کا خالص فضل وکرم ہے ۔ کوئی انسان اللہ کے اس درجہ فضل وکرم تک محض اپنے عمل کے بل بوتے پر نہیں پہنچ سکتا ۔ یہ محض اللہ کا فضل ہے جو کسی انسان کو اس مقام تک پہنچا سکتا ہے اور یہ مقام اس وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان اس کے لئے جدوجہد کرتا ہے ۔ جہاں تک اس کا بس چلے اور جس قدر اس کی وسعت میں ہو۔
اور عہد ومیثاق میں ایک جزئی شرط یہ بھی تھی ۔ (آیت) ” فمن کفر بعد ذلک منکم فقد ضل سوآء السبیل “۔ (5 : 12) ” مگر اس کے بعد تم میں سے جس نے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل گم کردی ۔ “
اس لئے اب اس کے لئے کوئی ہدایت نہ ہوگی اور نہ وہ گمراہی سے واپس ہوگا ۔ جب اس کے لئے ہدایت واضح ہو اور اس کے ساتھ معاہدہ ہوجائے اور راستہ واضح ہوجائے اور اس پر چلنے کی جزاء بھی متعین ہوجائے تو اب اس کی خلافت ورزی لازما گمراہی ہے ۔
یہ تھا اللہ تعالیٰ کا معاہدہ بنی اسرائیل کے نمائندوں کے ساتھ اور یہ پوری قوم بنی اسرائیل کے نمائندے تھے ۔ وہ سب ان کی نمائندگی پر راضی تھے ۔ اس طرح یہ میثاق گویا بنی اسرائیل کے ہر فرد کے ساتھ ہوگیا ۔ اس جماعت اور امت کے ساتھ بھی ہوگیا جو بنی اسرائیل پر مشتمل تھی لیکن ملاحظہ فرمائیں کہ بنی اسرائیل نے اس عہد کے ساتھ کیا کیا ۔
انہوں نے اپنے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اس عہد کو کھلے بندوں توڑ دیا ۔ انہوں نے اپنے نبیوں کو ناجائز طور پر قتل کیا ۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل اور سزائے موت دلوانے کی سازش کی حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے انبیاء میں سے آخری نبی تھے ۔ انہوں نے اپنی کتاب توراۃ میں تحریف کی ۔ انہوں نے اپنی شریعتوں کو بھلا دیا اور کسی بھی شریعت کو نافذ نہ کیا ۔ انہوں نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی بابت نہایت ہی مکارانہ ‘ معاندانہ اور غیر شریفانہ موقف اختیار کیا ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیانت کی اور حضور ﷺ کے ساتھ کئے ہوئے معاہدوں کی خلاف ورزی کی اس لئے وہہ اللہ کی ہدایت سے نکل گئے ، ان کے دل سخت ہوگئے اور وہ اس قابل ہی نہ رہے کہ وہ ہدایت قبول کرسکیں ۔
المائدة 5:13
(آیت) ” فَبِمَا نَقْضِہِم مِّیْثَاقَہُمْ لَعنَّاہُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَہُمْ قَاسِیَۃً یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ عَن مَّوَاضِعِہِ وَنَسُواْ حَظّاً مِّمَّا ذُکِّرُواْ بِہِ ۔
” پھر یہ انکو اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور انکے دل کو سخت کردیا ، اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا الٹ پھیر کر کے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں ۔ جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑا حصہ بھول چکے ہیں ‘ ‘
اللہ کا فرمان کس قدر سچا ہے ۔ آج بھی یہودیوں کی خصوصیات یہی ہیں ۔ یہ وہ لعنت ہے جو ان کے ماتھے سے ہو ہر وقت عیاں ہے ۔ اس سے ان کی اصل فطرت اور جبلت ظاہر ہوتی ہے ۔ جس پر خدا کی لعنت ہے وہ درگاہ ہدایت سے راندہ ہے ۔ ان کے خدوخال میں بدبختی چمکتی ہے ۔ ان کے چہرے پر اللہ کی رحمت کا نشان نہیں ہوتا ہے ۔ ان کے معاملات انسانی جذبات سے خالی ہوتے ہیں ‘ اگرچہ وہ مکاری سے یا خوف کی وجہ سے زبردستی اپنے چہروں پر مسکراہٹ لائیں اور بات میں نرمی پیدا کریں اور باہم ملاقات میں نہایت فطرت اور جبلت ظاہر ہوتی ہے ۔ جس پر خدا کی لعنت ہے وہ درگاہ ہدایت سے راندہ ہے ۔ ان کے خدوخال میں بدبختی چمکتی ہے ۔ ان کے چہرے پر اللہ کی رحمت کا نشان نہیں ہوتا ہے ۔ ان کے معاملات انسانی جذبات سے خالی ہوتے ہیں ‘ اگرچہ وہ مکاری سے یا خوف کی وجہ سے زبردستی اپنے چہروں پر مسکراہٹ لائیں اور بات میں نرمی پیدا کریں اور باہم ملاقات میں نہایت شرافت سے کام لیں ۔ اس لئے کہ چہرے مہرے کی سختی اور خدوخال میں خشکی اس بات کا اظہار کرتی ہے کہ اس شخص کا دل خشک اور اس کا مزاج کرخت ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی اصل خصوصیت یہ ہے کل وہ بات کو اپنی جگہ سے ہٹاتے ہیں ۔ انہوں نے پہلے اپنی کتاب تورات میں تحریف کی اور اس کی وہ شکل بگاڑ دی جس پر وہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی تھی ۔ یہ تحریف یا تو اس طرح کی گئی کہ انہوں نے اس کتاب میں اپنی مرضی کی چیزوں کا اضافہ کردیا اور یہ ظاہر کیا کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے اور یا یہ تحریف اس طرح ہوئی کہ آیات تو اصلی ہی باقی رہیں لیکن انہوں نے ان کا مفہوم اپنی مرضی کے ساتھ بدل دیا اور اپنے گھٹیا مقاصد کے حصول کے لئے ان آیات کے مفہوم کے اندر زبردست تبدیلی کردی اور اس طرح انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ، یا تحریف اس طرح کی کہ انہوں نے اللہ کے احکام کو بھلا دیا ‘ اسلامی نظام حیات اور شریعت کو موقوف کردیا اور اپنی زندگیوں میں شریعت عمل کرنا بند کردیا اپنے معاشرے کو آزاد کردیا اس لئے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کے بعد ان کو اللہ تعالیٰ کے اس پاک وصاف اور سیدھے دین کے مطابق سیدھا طرز عمل اختیار کرنا پڑتا تھا ۔ جس کے وہ عادی نہ تھے ۔
(آیت) ” ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم الا قلیلا منھم “۔ (5 : 13) (اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ )
یہ حضور اکرم ﷺ کو خطاب ہے ۔ آپ ﷺ کو بتایا جاتا ہے کہ مدینہ کے اسلامی معاشرے میں یہودیوں کے حالات کیا ہیں۔ وہ ہمیشہ خائن رہیں گے اور نبی ﷺ کے ساتھ خیانت سے کبھی بھی باز نہ آئیں گے ۔ وہ بارہا عملا خیانت کا ارتکاب کرتے رہے ۔ جب تک وہ مدینہ میں رہے وہ آئے دن کچھ نہ کچھ کرتے رہے۔ اس کے بعد وہ جزیرۃ العرب میں جب تک رہے ان کی سازشیں جاری رہیں ۔ اور اس کے بعد پوری تاریخ میں اسلامی معاشرہ کے ساتھ یہودی اسی خیانت پر گامزن رہے حالانکہ اسلامی معاشرہ وہ واحد معاشرہ تھا جس نے ان کو پناہ دی ۔ اور ان کو دوسرے کے مظالم سے نجات دی ‘ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا اور اسلامی معاشرے میں وہ ہمیشہ خوشحالی کی زندگی گزارتے رہے ۔ لیکن انہوں نے ہمیشہ بعینہ انہی خطوط پر جن پر وہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ معاملے کرتے رہے ‘ وہی معاملہ اسلامی معاشرے کے ساتھ کیا بچھوؤں ‘ سانپوں ‘ بھیڑیوں اور گیدڑوں کی طرف وہ مسلمانوں کے خلاف سازش اور ان کے ساتھ خیانت کرتے رہے اور آج بھی وہ اسی مکاری و فریب کاری میں مصروف ہیں ۔ جب بھی کبھی انہیں قوت نصیب ہوئی انہوں نے مسلمانوں سے سخت انتقام لیا ۔ ان کے لئے پھندے رکھے ‘ اور ان کے خلاف سازشیں کیں ‘ اور مسلمانوں کے ہر دشمن کے وہ دوست بن گئے ، جہاں بھی انہیں فرصت ملی اور موقعہ ملا انہوں نے مسلمانوں پر وار کیا ۔ نہایت سنگدل اور نہایت ہی بےرحم واقع ہوئے ہیں وہ مسلمانوں کے حوالے سے ۔ کبھی بھی انہوں نے مسلمانوں پر رحم نہ کیا اور مسلمانوں کے بارے میں انہوں نے ہمیشہ اپنے عہد اور ذمہ داری کو بھلا دیا ۔ ان کی اکثریت ایسی ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان کے بارے میں کہا ہے ۔ اور جس طرح ان کی اس جبلت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ عہد شکن رہے ہیں اور قدیم الایام سے ان کا یہ وطیرہ ہے ۔
انداز بیان ایسا ہے کہ حضور کو خطاب کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو ایسا پائیں گے ۔ مدینہ کے حوالے سے ۔ (آیت) ” ولا تزال تطلع علی خائنۃ منھم الا قلیلا منھم “۔ (5 : 13) ” آپ ہمیشہ ان میں سے خائن لوگوں پر مطلع ہوتے رہیں گے الا یہ کہ ان میں سے کم لوگ ایسے نہ ہوں گے ۔ “
ان کے افعال خیانت کارانہ ہوں گے ‘ ان کی نیت میں فتور ہوگا ‘ ان کی بات مکارانہ ہوگی اور ان کی نظر میں خائن ہوگی ۔ یہاں آیت میں موصوف کو حذف کر کے اس کی جگہ صفت کو رکھ دیا یعنی (خائنہ) اور اس سے اس کے مفہوم میں عمومیت پیدا ہوگئی ، مجرد خیانت ‘ خیانت سے بھرپور فضاء اور خیانت کا سایہ ان پر ہر وقت چھایا ہوا ہوگا ۔ ان کی جبلت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ خائن ہیں ۔ یہ ان کے موقف کا جوہر ہے اور رسول اللہ اور جماعت مسلمہ کے ساتھ انکا یہی برتاؤ رہا ہے ۔ خائن ۔۔۔۔۔ خائن ۔۔۔۔۔ خائن۔
یہ قرآن اس امت کا معلم ‘ مرشد ‘ راہنما اور زندگی کی راہوں کے نشیب و فراز میں اس کا حدی خواں ہے ۔ وہ امت کو اس کے دشمنوں کے حالات بتاتا ہے اور دشمنوں کے مزاج اور ان کی تاریخ بھی امت کے سامنے رکھتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اسلامی ہدایات بھی دیتا ہے ۔ اگر یہ امت اپنے قرآن سے مشورہ کرتی رہے ‘ قرآن کی ہدایات پر کان دھرے اور اپنی زندگی میں قرآنی اصولوں اور قوانین کو عملا نافذ کرے تو اس کے دشمن کبھی بھی اس کا کچھ نہ بگار سکیں ۔
لیکن جب امت مسلمہ نے خود اپنے اس عہد کو توڑ دیا جو اس نے اپنے رب کے ساتھ کیا تھا اور جب اس نے قرآن کریم کو پس پشت ڈال دیا تو اسے اس صورت حال سے دو چار ہونا پڑا جس میں وہ بالفعل ہے ‘ اگرچہ یہ امت قرآن کریم کو نہایت ہی ترنم اور وجد انگیز انداز میں پڑھتی ہے ۔ اس سے تعویذ اور گنڈے بھی بناتی ہے اور اسے دم اور جھاڑ کے لئے استعمال بھی کرتی ہے ۔
بنی اسرائیل پر جو گزری اس کی پوری داستاں اللہ تعالیٰ نے امت کو سنائی ۔ کس طرح وہ معلون ہوئے ‘ رائندہ درگاہ ہوئے ‘ سنگ دل بن گئے اور انہوں نے کتاب اللہ میں کیا کیا تحریفیں کیں ‘ انہوں نے اللہ کے ساتھ اپنے عہد و پیمان توڑے ۔ یہ سب داستان اس لئے بیان ہوئی کہ یہ امت اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کو نہ توڑے تاکہ اس کا انجام بھی وہ نہ ہوجائے جو اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کے ہر توڑنے والے کا ہوتا ہے ۔ ہر اس شخص کا ہوتا ہے جو اپنی بات سے پھرجاتا ہے ۔ لیکن جب ان قرآنی تنبیہات سے امت مسلمہ نے غفلت برتی اور صحیح راستے کو چھوڑ کر غلط راستے پر پڑگئی تو اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے انسانیت کی قیادت کا مقام منصب ضبط کرلیا اور قافلہ انسانیت میں یہ امت پیچھے چلنے والوں کی صف میں چلی گئی ۔
جب تک یہ امت اپنے رب کی طرف رجوع نہ کرے گی ‘ جب تک یہ اپنے عہد و پیمان پر پختگی سے قائم نہ ہوگی ٗاور جب تک معاہدے کی شرائط کو پورا نہ کرے گی ‘ اس وقت تک اللہ کا وعدہ ان کے حق میں معطل رہے گا ۔ اگر وہ شرائط پوری کردے تو اللہ تعالیٰ از سر نو اس امت کو تمکن فی الارض عطا کرے گا ۔ وہ پوری انسانیت کی قائد ہوجائے گی اور تب وہ لوگوں پر شاہد حق ہوگی ۔ اگر وہ یہ شرائط پوری نہ کرے گی تو وہ قافلہ انسانیت میں پیچھے چلنے والوں ہی میں رہے گی ، یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا ۔ اس وقت جب یہ آیات نازل ہوئیں اللہ کی جانب سے اس کے نبی کے لئے درج ذیل ہدایات تھیں :
(آیت) ” فاعف عنھم واصفح ، ان اللہ یحب المحسنین “۔ (5 : 13) (پس جب یہ اس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرارتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں) لہذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو ۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں یعنی آپ ان لوگوں کے ان تمام برے افعال کو معاف کردیں ۔ یہ طریقہ احسان ہے ۔ وہ جو خیانتیں کرتے ہیں ان سے بھی صرف نظر کریں اور یہ بھی احسان ہے ۔
یہ تو اس وقت کی بات تھی جب یہ سورت نازل ہو رہی تھی ‘ بعد کے ادوار میں حالات ایسے ہوگئے کہ عفو و درگزر کی گنجائش ہی انہوں نے نہ چھوڑی اور نبی ﷺ نے ان کو مدینہ سے جلا وطن کردیا اور اس کے بعد خلافت راشدہ کے دور میں ان کو پورے جزیرۃ العرب سے جلا وطن کردیا گیا ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ بتاتے ہیں کہ عیسائیوں سے بھی اس نے عہد لیا تھا ۔ انہوں نے بھی اس عہد کو توڑ دیا ۔ اور نتیجۃ انکو بھی اس نقص عہد کی سزا بھگتنی پڑی ۔
المائدة 5:14
(آیت) ” وَمِنَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّا نَصَارَی أَخَذْنَا مِیْثَاقَہُمْ فَنَسُواْ حَظّاً مِّمَّا ذُکِّرُواْ بِہِ فَأَغْرَیْْنَا بَیْْنَہُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَسَوْفَ یُنَبِّئُہُمُ اللّہُ بِمَا کَانُواْ یَصْنَعُونَ (14)
” اسی طرح ہم نے ان لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصہ انہوں نے فراموش کردیا ۔ آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کیلئے دشمنی اور آپس میں بغض وعناد کا بیج بو دیا اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ یہ دنیا میں کیا کیا بناتے رہے ہیں ۔ ‘
یہاں ایک خاص انداز تعبیر ہے اور اس کے اندر ایک خاص اشارہ ہے ۔ (آیت) ” ومن الذین قالوا انا نصری “۔ (5 : 14) ” اسی طرح ان لوگوں سے بھی عہد لیا تھا جنہوں نے کہا ہم نصاری ہیں۔ “
اس انداز کے اندر اشارہ یہ ہے کہ انہوں نے نصاری ہونے کا دعوی تو کیا تھا ‘ لیکن عملا انہوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا تھا ۔ اس عہد وپیماں کی اساس یہ تھی کہ ہم اللہ کو صرف وحدہ لاشریک سمجھیں گے ۔ لیکن انہوں نے اپنی گمراہی کا آغاز ہی اپنے اساسی عقیدہ توحید سے کیا ۔ اس لائن پر وہ آگے بڑھ گئے اور یہ وہ سبق (حظ) تھا جو انہوں نے بھلا دیا حالانکہ یہ سبق انہیں اچھی طرح یاد کرایا گیا تھا ۔ اور اس سبق کو بھلانے کے نتیجے میں وہ غلط راہ پر دور نکل گئے اور ان کے درمیان فرقہ ورانہ اور گروہی اختلاف پیدا ہوئے اور پھر ان کے اندر بہت سے مذاہب اور مکاتب فکر پیدا ہوگئے ۔
یہ مکاتب فکر اس قدر بڑھے کہ آج ان کا شمار ممکن نہیں ہے ۔ قدیم زمانے میں بھی ان کے بیشمار فرقے تھے اور جدید دور میں بھی ان کے بیشمار فرقے ہیں ۔ (اجمالی بحث عنقریب آئے گی ) ان فرقوں کے درمیان اس قدر بغض وعداوت پیدا ہوگیا جس کی کوئی مثال تاریخ مذاہب میں نہیں ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ اختلافات قیامت تک رہیں گے اور اس لئے رہیں گے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے عہد کا کوئی پاس نہ رکھا ۔ انہوں نے اس سبق اور نظریہ حیات ہی کو بھلا دیا جو انہیں اچھی طرح یاد کرایا گیا تھا ۔ آخرت میں جب ان کو اللہ وہ تفصیلات بتائے گا کہ اس دنیا میں وہ کیا کیا کرتے رہے ہیں تب ان کی جزاء کا وہاں ہی فیصلہ ہوگا ۔ اس وقت اللہ کو ان کی تمام صنعت کاریوں کو ان کے سامنے رکھ کر ان کو خوب شرمندہ کرے گا اور پھر سزا دے گا ۔
جو لوگ نصاری (مددگار) ہونے کا دعوی کرتے تھے ان کے درمیان اس قدر اختلافات ‘ تفرقہ بازی اور بغض وعداوت پیدا ہوئی جس کی مثال ملنی مشکل ہے ۔ ان کی تاریخ قدیم میں بھی اور جدید تاریخ میں بھی جس کی حکایت اللہ تعالیٰ یہاں اپنی کتاب کریم میں فرماتے ہیں ۔ ان فرقہ وارانہ جنگوں میں اس قدر خون بہا کہ اس قدر خونریزی ان کی ان تمام تاریخی جنگوں میں نہ ہوئی جو انہوں نے اپنی پوری تاریخ میں لڑیں ، چاہے دینی عقائد سے پیدا ہونے والے اختلافات کے نتیجے میں یہ خونریزی ہوئی یا دینی سربراہی کے حصول کے لئے ہوئی یا سیاسی ‘ اقتصادی اور اجتماعی اختلافات کے نتیجے میں ہوئی ۔ یہ خونریز آویزش اس قدر طویل اور اس قدر گہری تھی کہ اس کے آثار صدیوں تک باقی رہے اور وہ زخم صدیوں بعد بھی مندمل نہ ہوئے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو اصدق القائلین ہیں ۔ یہ اختلاف قیامت تک رہیں گے اور ان کا سبب حقیقی صرف یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے عہد کو پس پشت ڈال دیا اور انہوں نے اس نظریاتی سبق کو بالکل بھلا دیا جو انہیں اچھی طرح یاد کرایا گیا تھا ، اس عہدوپیمان کی پہلی دفعہ یہ تھی کہ وہ عقیدہ توحید پر قائم رہیں گے ‘ جس سے انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اٹھنے کے بہت تھوڑے عرصے بعد ہی انحراف کرلیا تھا اور اس کے اسباب اور واقعات کی تفصیلات یہاں پیش کرنا مشکل ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے محاضرات فی النصرانیہ ‘ ابو زہرہ اور فی ظلال القرآن پارئہ سوئم)
یہودیوں اور عیسائیوں کی جانب سے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کی خلاف ورزی اور اس پر کئے جانے والے تبصروں کا بیان یہاں تک پہنچ کر اب خطاب یہود ونصاری دونوں سے ہے ۔ دونوں کے سامنے اب حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا اعلان کیا جاتا ہے کہ یہ رسالت تمہارے لئے بھیجی گئی ہے جس طرح یہ رسالت امی عرب اقوام اور تمام جہان کے لئے ہے ، دنیا کے سب لوگ اس رسالت اور دعوت کے مخاطب ہیں ۔ سب کو اللہ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ اس آخری رسول پر ایمان لائیں یہ بات اللہ کی جانب سے یہود ونصاری دونوں کے ساتھ کئے ہوئے عہد و پیمان کی ایک دفعہ ہے ‘ جیسا کہ ہم اس کی تفصیلات پہلے بیان کرچکے ہیں ۔ اس نبی آخر الزماں نے بعض ایسی باتوں کے انکشافات بھی کئے ہیں جنہیں وہ چھپاتے تھے ‘ حالانکہ وہ منکشف کردہ امور ان کے ہاں موجود کتابوں میں موجود تھے ۔ انہوں نے ان باتوں کو نہایت ہی حفاظت میں خفیہ رکھا ‘ جو ان کی جانب سے وعدہ خلافی تھی ، کئی ایسی اور باتیں بھی تھیں کہ رسول خدا ﷺ نے عفو درگزر کرتے ہوئے ان کا انکشاف نہ کیا ‘ اس لئے کہ اسلام کے جدید قانونی نظام میں ان کے بارے میں انکشافات کی کوئی ضرورت ہی نہ تھی ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کی بعض گمراہیوں اور انحرافات کا ذکر فرماتے ہیں جو انہوں نے اپنے صحیح اسلامی عقائد کے اندر کئے مثلا نصاری کا یہ قول کہ حضرت عیسیٰ ابن مریم خدا ہیں اور یہودیوں کا یہ کہنا کہ موسیٰ اللہ کے محبوب ہیں اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس آخری رسالت کے ان انکشافات اور اعلانات اور کھلی روشنی پھیلا دینے کے بعد تمہارے لئے اللہ اور انسانوں کے نزدیک کوئی حجت نہ رہے گی اور ان کے لئے اب یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ ہم پر چونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ایک طویل دور گزر گیا تھا ‘ اس لئے خدا تعالیٰ کی تعلیمات ہم بھول گئے اور معاملہ ہم پر مشتبہ ہوگیا ۔
المائدة 5:15
(آیت) ” نمبر 15 تا 19۔
اہل کتاب اس بات کو پسند نہ کرتے تھے کہ ان کو اسلام کی طرف دعوت ایک ایسا نبی دے جو ان میں سے نہ ہو ۔ پھر یہ ان کوکب گوارا تھا کہ ان کے پاس نبی ایک ایسی امت سے آجائے جو ایک امی امت ہے اور جس کے مقابلے میں وہ اپنے آپ کو برتر اور ان کے مقابلے میں اپنے آپ کو زیادہ عالم سمجھتے تھے ۔ اس لئے کہ وہ اہل کتاب تھے اور یہ عرب امی تھے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان امیوں کو سربلند کرنا چاہا تو ان میں ایک نبی مبعوث فرمایا ‘ اے خاتم النبین اور آخری رسول قرار دیا اور اس کی رسالت کو خاتم الرسالات قرار دیا ۔ اسے تمام انسانیت کے لئے عام رسالت قرار دیا گیا ۔ اللہ نے ان ان پڑھ لوگوں کو تعلیم دی اور ایک مختصر عرصے میں وہ تمام انسانیت کے مقابلے میں سب سے اونچے علمی مقام پر فائز ہوگئے وہ اپنے تصورات اور اعتقادات کے لحاظ سے ترقی یافتہ اور اپنے طریقہ کار اور نظام حیات کے لحاظ سے سب سے زیادہ درست ‘ اپنے نظم ونسق اور قانون کے اعتبار سے سب سے زیادہ افضل اور اپنے اخلاق اور معاشرت کے لحاظ سے سب سے زیادہ صالح تھے ۔ اور یہ سب باتیں اس میں شامل ہیں کہ یہ ان پر اللہ کا فضل وکرم تھا ۔ یہ دین ان کو بطور انعام دیا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے دین پسند فرمایا تھا ۔ اگر عرب کے امیوں کو یہ نعمت نہ ملتی تو وہ ہر گز پوری انسانیت کے نگہبان نہ بن سکتے تھے ۔ اگر اس دین کو الگ کردیا جائے پھر عربوں کے پاس اور کیا تحفہ ہے جو وہ اس انسانیت کو دیں گے ۔
ان حالات میں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو پکارتا ہے ۔ یہ بات ریکارڈ پر لائی جاتی ہے کہ ان کو خصوصی طور پر اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جارہی ہے ۔ اس رسول پر ایمان لانے اور اس کی مدد کرنے کی دعوت ان کو دی جارہی ہے ۔ اس عہد و پیمان کے عین مطابق جو ان سے لیا گیا تھا کہ وہ نبی آخر الزمان کی مدد اور نصرت کریں گے ۔ اللہ تعالیٰ یہ بات بھی ریکارڈ پر لاتا ہے کہ یہ رسول امی اللہ نے ان کے پاس بھیجا ہے ۔ وہ عربوں کا بھی رسول ہے ۔ اہل کتاب کے لئے بھی رسول ہے اور پھر پوری انسانیت کے لئے بھی رسول ہے ۔ اس لئے تم اس کی رسالت کا انکار نہیں کرسکتے اور نہ یہ کہہ سکتے ہو کہ آپ کی رسالت صرف عربوں کے لئے ہے یا یہ کہ اس رسالت میں اہل کتاب کو خصوصیت کے ساتھ کوئی دعوت نہیں دی گئی ہے ۔
(آیت) ” یاھل الکتب قد جآء کم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب ویعفوا عن کثیر “ (4 : 15)
(اے اہل کتاب ‘ ہمارا رسول تمہارے پاس آگیا ہے جو کتاب الہی کی بہت سی ان باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرجاتا ہے)
یعنی حضرت محمد ﷺ تمہاری جانب ایک رسول ہیں اور تمہارے بارے میں اس کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ تم نے صدیوں تک جن حقائق کو چھپایا ‘ جو تمہاری کتابوں میں تھے ‘ وہ ان کا کھل کر بیان کرے ۔ رازوں کا انکشاف کرے اور مجمل باتوں کی وضاحت کرے اور اس باب میں یہود ونصاری دونوں برابر ہیں ۔ نصاری نے تو دین کی پہلی اساس ہی کو چھپا دیا تھا یعنی عقیدہ توحید کو ۔ اسی طرح یہودیوں نے کئی شرعی احکام کو چھپا دیا تھا ۔ مثلا زانی کے لئے رجم کی سزا اور تمام لوگوں کے لئے سود کی حرمت ، نیز انہوں نے نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کے بارے میں وارد ہونے والی بشارت کو بھی چھپا دیا تھا جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے ۔ (آیت) ” الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التوراۃ والانجیل) ” وہ جسے وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں “۔ اور یہ کہ رسول کریم ﷺ نے بہت سی ایسی باتوں کو نہیں چھیڑا جو انہوں نے چھپائی تھیں ۔ لیکن چونکہ وہ اسلامی شریعت میں داخل نہ تھیں یعنی انکو اللہ نے سابقہ شریعتوں کی دوسری چیزوں کی طرح منسوخ کردیا ‘ جو انسانی معاشروں سے متروک ہوگئی تھیں اگرچہ وہ کبھی مشروع تھیں لیکن انبیائے سابقہ کے چھوٹے چھوٹے معاشروں میں ‘ جن کیلئے اس سے پہلے رسول بھیجے گئے تھے مگر محدود وقت کے لئے ۔ یہاں تک کہ یہ آخری اور آفاقی رسالت آگئی جو تمام انسانیت کے لئے تھی ، یہ آخری رسالت دنیا میں جم گئی اور اللہ نے اسے مکمل کردیا اور اسے بطور نعمت لوگوں کے لئے مکمل دین کے طور پر پسند کرلیا ۔ اب اس کا فسخ ‘ اس میں کسی قسم کی تبدیلی اور کسی قسم کی ترمیم ممنوع ہوگئی ۔
اب یہاں یہ بھی بیان کردیا جاتا ہے کہ رسالت آخری کے اہداف کیا ہیں اور اس کی نوعیت کیا ہے اور یہ رسالت لوگوں کی زندگیوں میں کیا کیا تبدیلیاں لائے گی ،
(آیت) ” ۔۔۔۔۔ قد جآء کم من اللہ نور وکتب مبین (15) یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلم ویخرجھم من الظلمت الی النور باذنہ یھدیھم الی صراط مستقیم (16) (4 : 15۔ 16)
( تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ )
اس کتاب پر اس سے زیادہ نہ کوئی اور لفظ صادق آتا ہے ‘ نہ اس سے زیادہ پوری طرح منطبق ہوتا ہے اور نہ اس سے زیادہ اس کی حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ یہ کتاب ‘ قرآن ‘ ایک نور ہے اور ایک نئی روشنی ہے ۔۔۔۔۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اسے ایک مسلمان اپنے دل ‘ اپنے وجود ‘ اپنی پوری زندگی ‘ اپنے نقطہ نظر اور اپنی اقدار اور اپنے واقعات اور معاشرے کے تمام افراد کے بارے میں اچھی طرح محسوس کرتا ہے ۔ جونہی ایک مسلمان کے دل میں شمع ایمان روشن ہوتی ہے وہ اپنے اندر ایک روشنی اور ایک نور محسوس کرتا ہے ۔ اس نور سے اس کی شخصیت منور ہوتی ہے ‘ وہ مطمئن ‘ ہوجاتی ہے ۔ اس کے ماحول میں جو چیز بھی آتی ہے وہ منور ہوجاتی ہے ۔ واضح ہوجاتی ہے ‘ صاف صاف دکھائی دیتی ہے اور درست ہوجاتی ہے ۔
انسان کی شخصیت کا فیچر ‘ اس کی مٹی کی تاریکی ‘ اس کے گوشت و پوست کی کثافت ‘ اس کی شہوت ولذت کا جوش و خروش سب منور ہوجاتے ہیں ۔ سب کے سب چمکتے ہیں ‘ روشن ہوجاتے ہیں اور واضح ہو کر نکھر جاتے ہیں ۔ مادیت کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے ۔ کثافت اور جوش میں لطافت اور ٹھنڈک آجاتی ہے ۔ انسان کی فکر ونظر سے غبار اور اجمال دور ہوجاتا ہے۔ اس کے اقدام سے تردو اور خلجان ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کی جہت نظر سے حیرانی اور پریشانی دور ہوجاتی ہے ۔ وہ مویشیوں کے راستے پر نہیں چلتا جس کی کوئی منزل ہوتی ہے نہ نشان منزل ۔ اس کا راستہ واضح ‘ سیدھا اور روشن ہوجاتا ہے ۔ اس کا نصب العین واضح اور مقاصد حیات متعین ہوجاتے ہیں اور نفس انسانی اس راہ پر مطمئن ہوجاتا ہے ۔
” یہ نور اور واضح کتاب ہے “ یہ دونوں اوصاف نور اور مبین ایک چیز کے اوصاف نور اور مبین ایک چیز کے اوصاف ہیں اور یہ وہ کتاب ہے جسے نبی ﷺ لے کر آتے ہیں ۔
المائدة 5:16
(آیت) ” یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلم ویخرجھم من الظلمت الی النور باذنہ یھدیھم الی صراط مستقیم (4 : 16)
(جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف ان کی راہنمائی کرتا ہے ۔ )
اللہ نے اسلام کو بطور دین پسند کرلیا ہے اور جو لوگ اللہ کی اس رضا مندی اور پسند کے تابع ہوں گے اور اسے اپنے لئے پسند کریں گے تو اللہ ایسے لوگوں کو سلامتی کے راستوں پر ڈال دیتا ہے ۔
” یہ انداز اظہار قرآن پر سو فیصدی منطبق ہے اور قرآن اس بات کا نہایت ہی صحیح مصداق ہے کہ وہ سلامتی کا واسطہ ہے ۔ اسلام ایک فرد کے لئے جو راہ متعین کرتا ہے وہ سلامتی کا راستہ ہے ۔ وہ ضمیر کی سلامتی ہے ‘ وہ عقل کی سلامتی ہے ‘ وہ اعضاء کی سلامتی ہے ۔ وہ گھر اور خاندان کی سلامتی ہے ۔ وہ معاشرے کی سلامتی ہے ‘ وہ بشریت و انسانیت کی سلامتی ہے ۔ وہ اس زندگی کے ساتھ سلامتی ہے ‘ وہ اس کائنات کے ساتھ سلامتی ہے ‘ وہ اللہ رب کائنات کے ساتھ سلامتی ہے ‘ وہ اللہ رب کائنات کے ساتھ سلامتی ‘ غرض ہمہ گیر اور ہمہ جہت سلامتی ہے جسے اس انسانیت نے نہ کبھی پایا ہے اور نہ کبھی پا سکے گی مگر صرف اسلامی نظام حیات میں ‘ صرف منہاج میں صرف اسلامی شریعت کے قانون میں اور صرف اس معاشرے میں جو اسلامی شریعت اور اسلامی نظریہ حیات کی اساس پر قائم ہو۔
یہ عظیم سچائی ہے کہ اللہ اس دین کی طرف اس شخص کی راہنمائی کرتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوا ہو ۔ اور وہ شخص ہوتا ہے جو خود بھی اللہ ہی کی مرضی کا خیال کرتا ہے اور اللہ ہی کی مرضی میں سلامتی کے راستے ہیں یعنی اسلام ۔ سلامتی کے تمام راستے اسلام میں ہیں ۔ اور اس سچائی کی گہرائی اور عمق کا ادراک وہی کرسکتا ہے جس نے جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ کے وہ تمام راستے دیکھے ہوں جو جنگ جدال کے راستے ہیں ۔ اس حقیقت کی گہرائی کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جس نے جاہلیت کی وجہ سے ضمیر کی گہرائیوں میں پیدا ہونے والی بےچینی کو خود دیکھا ہو اور اس کا مزہ چکھا ہو ۔ اسی طرح جس نے جاہلی رسم و رواج اور جاہلی نظامہائے حیات اور طور طریقوں سے پیدا ہونے والی بےچینوں کو دیکھا ہو اور اس افراتفری کو دیکھا ہو جو یہ نظام انسانی زندگی کے معاملات میں پیدا کردیتا ہے ۔
ان آیات کے ساتھ سب سے جن لوگوں کو خطاب کیا گیا تھا وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ سبل السلام کا مفہوم کیا ہے کیونکہ جاہلیت میں رہ کر ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ تھا کہ سلامتی کیا چیز ہے ؟ اس لئے وہ ذاتی طور پر سبل السلام کے مفہوم سے واقف تھے ۔ وہ ذاتی طور پر اس کے مزے لے رہے تھے اس لئے کہ وہ جاہلیت کی اس ناآشنا زندگی سے نکلے تھے ۔
اس وقت ہمیں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اسلام کے امن وسلامتی کے اس پہلو کا ادراک کریں کیونکہ ہمارے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیت میں انسانیت ظلم وستم کا شکار ہو رہی ہے صدیوں سے ہر قسم کی جنگ برپا ہے ‘ میدان میں بھی اور انسانی ضمیر میں بھی اور معاشروں کے اندر بھی ۔
ہم لوگ جو اسلام کی سلامتی کے زیر سایہ تاریخ اسلام کے ایک دور میں زندگی بسر کرچکے ہیں اب اس سلامتی کو ترک کرکے ‘ اس نہ ختم ہونے والی کشمکش اور جنگ میں داخل ہوگئے ہیں جس نے ہمارے دلوں اور ارواح کو توڑ پھوڑ دیا ہے ‘ جس نے ہمارے اخلاق اور طرز عمل کو شکست وریخت سے دو چار کردیا ہے ‘ جس نے ہمارے معاشرے اور ہماری اقوام کو تہس نہس کردیا ہے ۔ حالانکہ ہم بڑی سہولت سے دوبارہ اس سلامتی میں داخل ہو سکتے ہیں اس لئے کہ اس سلامتی کا پیغام ہمارے پاس محفوظ ہے ۔ یہ اس وقت اپنا معجزہ دکھا سکتا ہے کہ جب ہم اللہ کی مرضی پر راضی ہوجائیں اور اپنے لئے اس کو پسند کرلیں کیونکہ اسے اللہ نے ہمارے لئے پسند کرلیا ہے ۔
ہم اس وقت جاہلیت کے مصائب جھیل رہے ہیں حالانکہ اسلام ہمارے قریب ہے ‘ ہمارے پاس ہے ۔ ہم جاہلیت کی مسلسل جنگ اور بےامنی میں مبتلا ہیں ۔ اگرچہ اسلام کی سلامتی ہماری دست رس میں ہے ۔ کیا ہی برا سودا ہے جو ہم کر رہے ہیں کہ ہم ایک اعلی چیز دے کر ایک ادنی چیز خرید رہے ہیں ۔ ہم گمراہی لے کر ہدایت چھوڑ رہے ہیں اور ہم امن وسلامتی کی راہ دیکھا سکتے ہیں خود سخت انتشار کا شکار ہیں ۔ ہم انسانیت کو جاہلیت کی بدامنی سے اس وقت نکال سکیں گے جب پہلے ہم خود اپنے نفوس کو جاہلیت سے نکال کر باہر لائیں ۔ پہلے ہم خود اسلامی سلامتی کی چھاؤں میں پناہ لے لیں ۔ جب ہم اللہ کی رضا مندی کی چھاؤں میں داخل ہوجائیں ، اور اس دین کے تابع ہوجائیں جو اللہ نے ہمارے لئے پسند کیا ہے تو ہم ان لوگوں میں داخل ہوجائیں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ سلامتی کی راہوں (سبل السلام) پر سیدھے گئے ہیں اور انہیں اللہ نے ان راہوں پر ڈالا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے الاسلام والسلام العالمی ۔ الاسلام ومشکلات الحضارہ اور تفسیر فی ظلال القرآن پارہ دوئم تفسیر آیت ادخلوا فی السلم)
(آیت) ” ویخرجھم من الظلمت الی النور باذنہ (4 : 16) ” اور اپنے اذن سے ان کو اندھیروں سے نکال کر اجالے کی طرف لاتا ہے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاہلیتیں سب کی سب اندھیرے ہیں ۔ ان میں شکوک و شبہات کے اندھیرے ہوتے ہیں ‘ ان میں خرافات ‘ داستانوں اور تصورات کے اندھیرے ہوتے ہیں اور شہوت پرستی ‘ میلانات اور رجحانات کے اندھیرے اور صحرا ہوتے ہیں ‘ حیرانی ‘ بےچینی اور وحشت اور سرگردانی کے اندھیرے ہوتے ہیں ۔ لوگ اس میں درگاہ امن وسلامتی سے بہت ہی دور ہوجاتے ہیں ۔ پھر اقدار میں اضطراب ‘ حسن وقبح کے پیمانوں میں اضطراب اور حکومت کی ہدایت میں اضطراب پیدا ہوجاتا ہے ۔ اسلامی نظام کی روشنی ان تاریکیوں کے بالمقابل ہے اور روشنی بہرحال روشنی ہے جو اندھیروں میں دور سے نظر آتی ہے ۔ اس میں عقل روشن ‘ ضمیر روشن ‘ شخصیت روشن اور زندگی اور اس کے تمام امور روشن ہوتے ہیں ۔
(آیت) ” ویھدیھم الی صراط مستقیم “ (6 : 16) ” اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ۔ “ یہ راستہ نفس انسانی کی فطرت کے ساتھ ساتھ سیدھا ہے اور ان قوانین کے ساتھ ساتھ جاتا ہے جن کی فطرت پر حکمرانی ہے یہ راستہ اس کائنات کی فطرت کے بھی ساتھ ساتھ جاتا ہے اور جن نوامیس کے مطابق یہ کائنات جاری ہے اس کے ساتھ بھی سیدھا جارہا ہے ۔ یہ راستہ سیدھا اللہ کی طرف جاتا ہے ، نہ اس میں بھول بھلیاں ہے اور نہ اس میں موڑ ہیں ۔ نہ اس میں مختلف پگ ڈنڈیاں ہیں اور نہ مختلف رجحانات ہیں ۔
اللہ ہی ہے جس نے اس انسان اور اس کی فطرت کو پیدا کیا ہے ۔ اس نے اس کائنات اور اس کے نوامیس کو پیدا کیا ہے اسی نے پھر انسان کے لئے اسلامی نظام حیات وضع کیا ہے ۔ وہی ہے جس نے اہل ایمان کے لئے یہ دین پسند کیا ہے ۔ اس لئے یہ بات قدرتی اور واضح ہے کہ یہ نظام لوگوں کو صحیح اور سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرے ۔ جبکہ تمام دوسرے نظام اور مناہج جو عاجز ‘ جاہل اور فانی انسان نے بنائے ہیں وہ اس سے بالکل قاصر ہیں۔
اللہ عظیم ہے اور سچا ہے ‘ اور دونوں جہانوں سے بےنیاز ہے ۔ ان کی ہدایت سے اسے کوئی فائدہ ہے نہ ان کی ضلالت میں اس کا کوئی نقصان ہے لیکن وہ محض اپنی شفقت سے انہیں اس راستے پر لانا پسند کرتا ہے ۔
یہ ہے صراط مستقیم ۔ رہا یہ راستہ کہ اللہ مسیح ابن مریم ہے تو یہ کفریہ راہ ہے ۔ یہ عقیدہ کہ یہود ونصاری اللہ کے بیٹے ہیں اور اس کے محبوب ہیں تو یہ افتراء ہے اور اس پر کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہے ۔ اہل کتاب میں یہ دونوں عقائد پائے جاتے تھے اور یہ دونوں عقیدے توحید کے خلوص میں ملاوٹ پیدا کرتے تھے ۔ اور نبی آخر الزمان آئے ہی اس لئے ہیں کہ لوگوں کے غلط عقائد کو درست کریں ۔ اور جو لوگ اصل حقیقت سے منحرف ہو کر ادھر ادھر ہوگئے ہیں انہیں صحیح راستے پر لے آئیں ۔
المائدة 5:17
(آیت) ” لقد کفرا لذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم ، (قل فمن یملک من اللہ شیئا ان اراد ان یھلک المسیح ابن مریم وامہ ومن فی الارض جمیعا وللہ ملک السموت والارض وما بینھما یخلق ما یشآء واللہ علی کل شیء قدیر (17)
” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ابن مریم خدا ہے ۔ اے نبی ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور ان سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے ۔ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے ۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کی طرف سے جو عقیدہ لے کر آئے تھے وہ وہی عقیدہ توحید تھا جسے ہر رسول لے کر آیا ۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرنا وہ اقرار ہے جو ہر رسول نے کیا ہے لیکن اس صاف اور ممتاز عقیدے کے اندر تحریفات کرلی گئیں ۔ یہ تحرفات اس وقت ہوئیں جب عیسائیت کے اندر بت پرستی داخل ہوئی اور عیسائیوں نے بت پرستی کے غلط مواد کو لا کر عقیدہ توحید کا جزء بنا دیا اور اس کو اس کے اندر اس قدر گڈ مڈ کردیا کہ عیسائیوں کے عقیدہ توحید کا اصلی جوہر نکالنا ممکن ہی نہ رہا ۔
عیسائیت کے اندر یہ انحرافات اچانک ایک ہی دفعہ نہیں آگئے ۔ یہ شرکیہ عقائد آہستہ آہستہ عیسائیت کے اندر داخل ہوتے رہے ۔ ایک ایک کرکے عیسائیوں کی مذہبی مجالس نے انکو دین میں داخل کیا جو یکے بعد دیگرے منعقد ہوتی رہیں ۔ عیسائیوں کے عقائد عجیب و غریب شکل اختیار کر گئے جن میں دیو مالائی کہانیاں داخل ہوگئیں ‘ جن کو سن کر انسان حیرت زدہ ہوجاتا ہے ۔ یہاں تک کہ خود عیسائیوں میں سے اہل ایمان لوگوں کے لئے اس عقیدے کی تشریح مشکل ہوگئی ۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھالئے جانے کے بعد کچھ عرصے تک آپ کے شاگردوں اور متبعین کے اندر عقیدہ توحید رائم رہا ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حالات کے بارے میں جو اناجیل لکھی گئیں ان میں سے ایک اہم انجیل ‘ انجیل برناباس ہے ۔ یہ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ کہتی ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے رسول تھے ۔ اس کے بعد ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ۔ بعض نے یہ کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تمام رسولوں کی طرح ایک رسول تھے ، بعض نے کہا کہ ٹھیک ہے وہ رسول ہیں لیکن ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے ۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹھے ہیں اس لئے کہ وہ بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں ۔ لیکن اس قول کے مطابق وہ اللہ کی مخلوق ہیں ۔ بعض کا قول یہ تھا کہ وہ اللہ کے بیٹے تھے مگر مخلوق نہ تھے ‘ بلکہ وہ باپ کی طرح قدیم تھے ۔
ان اختلافات کو ختم کرنے کے لئے 325 ء میں بمقام نیقیا ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں 48 ہزار مذہبی لیڈر اور علماء شامل ہوئے ۔ انکے بارے میں ایک مذہبی لیڈر جو تاریخ عیسائیت کے مشہور ماہر ہیں ، کہتے ہیں :
یہ لوگ آراء و مذاہب میں مختلف تھے بعض یہ کہتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور انکی ماں اللہ کے علاوہ دو خدا ہیں۔ ان کو بربری کہا جاتا تھا اور عام طور پر ریمنین کے نام سے مشہور تھے ۔ بعض یہ کہتے تھے کہ مسیح باپ سے اس طرح پیدا ہوئے جس طرح آگ کے ایک شعلے سے دوسرا شعلہ پیدا ہوتا ہے ۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اصل شعلہ دوسرے جدا ہونے والے شعلے کی وجہ سے کم ہوگیا ہے ۔ یہ قول سابلیوس اور اس کے متبعین نے اختیار کیا ہے ۔ بعض یہ کہتے ہیں کہ مریم حاملہ نہیں ہوئی یعنی دس ماہ تک ۔ حضرت عیسیٰ آپ کے پیٹ سے اس طرح ہوکر نکل آئے جس طرح پانی پرنالے سے نکل آتا ہے ۔ اس لئے کہ کلمہ آپ کے کان میں داخل ہوا اور وہاں سے نکلا جہا سے بچہ پیدا ہوتا ہے اور یہ عمل فورا ہوا ۔ یہ قول الیان اور اس کے ساتھیوں کا ہے ۔ ان میں سے بعض کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ انسان تھے اور وہ انسانی جوہری سے پیدا ہوئے تھے ۔ ان کے ساتھ اللہ کی رحمت شامل ہوگئی اور اپنی مرضی سے اس میں حلول کرگئی اور اسی وجہ سے ابن اللہ کا لقب انہیں نے پایا ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ جوہر قدیم ہے اور ایک ہے ۔ وہ ایک اقنوم ہے جس کے تین نام ہیں ۔ یہ لوگ کلمہ ‘ روح القدس پر ایمان نہیں لاتے ۔ یہ پولس شمشاطی کا قول ہے ۔ یہ الطاکیہ کا پیٹر تھا ۔ اور ان لوگوں کو بولیقانیوں کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے بعض یہ کہتے تھے کہ یہ تین خدا تھے اور اب بھی ہیں ۔ ایک صالح ‘ ایک طالح اور ایک عادل ۔ یہ قول لعین مرقیون اور اس کے ساتھیوں کا ہے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ مرقیون حواریوں کا صدر تھا ۔ یہ لوگ پطرس کو نہیں مانتے ۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو حضرت مسیح کو خدا سمجھتے تھے اور یہ پطرس کا عقیدہ تھا جسے پیغام بر کہا جاتا ہے ۔ یہی عقیدہ تین سوا سی اسقفوں نے اختیار کیا تھا “۔ (محاضرات فی النصرانیہ شیخ ابو زہرہ)
شہنشاہ قسطنطین نے یہ آخری عقیدہ اپنا لیا جو حال ہی میں عیسائی بنا تھا اور عیسائیت کے بارے میں زیادہ علم نہ رکھتا تھا ۔ اس نے اپنی فوجوں کو مخالفین کے خلاف چھوڑ دیا ، یہ لوگ جلاوطن کردیئے گئے ، خصوصا ان لوگوں پر بےپناہ مظالم ڈھائے گئے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کے قائل نہ تھے ، وہ صرف باپ کو الہ سمجھتے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مخلوق اور ناسوتی سمجھتے تھے ۔
تاریخ اقوام قبط کے مصنف اس فیصلے کے متن کے بارے میں لکھتے ہیں :
” یہ مقدس مجلس اور رسول کا کنیسہ ہر اس عقیدے کو حرام قرار دیتا جس میں یہ تسلیم کیا گیا ہو کہ کہ ایک ایسا زمانہ تھا جس میں ابن اللہ موجود نہ تھا ۔ اور یہ کہ ولادت سے پہلے وہ موجود نہ تھا ۔ یہ کہ وہ عدم سے وجود میں آیا ۔ یا یہ بیٹا ایسے مادے اور جوہر سے پیدا کیا گیا جو باپ سے الگ تھا۔ پھر یہ عقیدہ کہ اسے پیدا کیا گیا یا یہ کہ وہ تغیر پذیر ہے اور اس پر سایہ گردس طاری ہوتا ہے ۔ “
لیکن یہ مجلس عیسائیوں میں اہل توحید کو ختم نہ کرسکی اور ان میں سے آریوس کی شاخ قائم رہی ۔ یہ شاخ قسطنطینہ افطاکیہ ‘ بابل اور اسکندریہ اور پورے مصر پر قابض ہوگئی ۔
اس کے بعد روح القدس کے بارے میں اختلافات شروع ہوگئے ۔ بعض نے کہا کہ وہ بھی الہ ہے ۔ بعض نے کہا کہ وہ الہ نہیں ہے ۔ اس پر قسطنطنیہ کی پہلی مجلس 381 میں منعقد ہوئی تاکہ ان اختلافات کو ختم کرے ۔
اس مجلس میں اسکندریہ کے اسقف نے مقالہ پڑھا اور اس کے مطابق یہ فیصلہ دؤیموثاوس بطریق اسکندریہ کہتے ہیں ۔ ہمارے نزدیک روح القدس اللہ کی روح کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اور اللہ کی روح ‘ اس کی زندگی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اگر ہم کہیں کہ روح القدس مخلوق ہے تو ہمارا قول یہ ہوگا کہ اللہ کی روح مخلوق ہے اور جب ہم اس کے قائل ہوگئے کہ اللہ کی روح مخلوق ہے تو ہم اس کے قائل ہوجائیں گے کہ اللہ کی زندگی مخلوق ہے اور جب ہم نے کہا کہ اللہ کی زندگی مخلوق ہے تو سارا عقیدہ یہ ہوجائے گا کہ اللہ زندہ نہیں ہے ۔ جب ہم نے یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ زندہ نہیں ہے تو ہم نے کفر اختیار کرلیا۔ اور جو کافر ہوجائے اس پر لعنت واجب ہے ۔ “
یوں اس مجلس میں حضرت مسیح کی الوہیت کے بارے میں قطعی فیصلہ کردیا گیا ‘ جس طرح نیقیا کی مجلس میں اس بارے میں فیصلہ ہوا تھا ۔ اس طرح باپ ‘ بیٹے اور روح القدس پر مشتمل تثلیث ثابت ہوگئے ، اس کے بعد ایک اور اختلاف شروع ہوا ۔ یہ اختلاف یہ تھا کہ طیبعت الہیہ اور طبیعت انسانی کے درمیان امتزاج کیسے ہوگیا یا لاہوت اور ناسوت کے اندر امتزاج کیسے ہوگیا ؟ قسطنطنیہ کے پادری نسطور کی رائے یہ تھی کہ ایک اقنوم ہے اور ایک طبیعت ہے ۔ اقنوم کی الوہیت باپ سے ہے اور اس کی نسبت باپ کی طرف ہوگی اور انسانی طبیعت مریم سے ولادت میں منتقل ہوئی اور مریم الہ نہ تھی اس لئے کہ وہ ایک انسان کی والدہ تھی وہ الہ کی والدہ نہ تھی ۔۔۔۔۔ کے بیٹے لکھتے ہیں کہ مسیح جو لوگوں کے اندر آیا اور اس نے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی :
” یہ انسان جو کہتا ہے کہ وہ مسیح ہے اور محبت کے ساتھ بیٹے سے متحد سے اور کہا جاتا ہے وہ اللہ اور ابن اللہ ہے ۔ یہ حقیقت میں نہیں ہے بلکہ یہ وہبی ہے ۔ “
پھر کہتا ہے :
” نسطور کا عقیدہ یہ تھا کہ ہمارا رب یسوع المسیح الہ نہ تھا ۔ یعنی اپنی ذات کے اعتبار سے بلکہ ‘ وہ انسان تھا جو برکت اور نعمت سے پر تھا یا وہ سہم من اللہ تھا تو اس نے کوئی غلطی نہیں کی ہے اور نہ اس نے کفریہ بات کی ہے ۔ “
اسقف روم نے اس کی رائے کی مخالفت کی ‘ اسی طرح اسکندریہ کے صدر پادری نے اور انطاکیہ کے اسقفوں نے بھی مخالفت کی اس لئے انہوں نے ایک چوتھی مجلس پر اتفاق کیا ۔ یہ مجلس انس میں 413 ء میں منعقد ہوئی اس مجلس نے فیصلہ کیا جس طرح ابن بطریق کہتے ہیں :
” مریم اللہ کی والدہ ہیں اور حضرت مسیح سچے الہ اور انساں ہیں اور وہ دو طبیعتوں کے ساتھ مشہور ہیں اور یہ دونوں ایک ہی اقنوم میں ایک ہوگئی ہیں ۔ “ اس مجلس نے نسطور پر لعنت بھیجی ۔
اس کے بعد اسکندریہ کے کنیسہ نے ایک نئی رائے اختیار کی ۔ اس کے لئے پھر افس میں ایک دوسری مجلس منعقد ہوئی اور اس نے فیصلہ کیا :
” مسیح ایک ہی طبیعت ہے جس میں لاہوت اور ناسوت جمع ہوگئے ہیں “ لیکن اس رائے کو تسلیم نہ کیا گیا اور اس بارے میں شدید اختلاف جاری رہے ۔ اس پر طلقدونیہ کی مجلس 451 ء میں منعقد ہوئی اس نے فیصلہ کیا : کہ مسیح کی دو طبیعتیں ہیں ‘ ایک نہیں ہے ۔ لاہوت ایک طبیعت ہے جو علیحدہ ہے اور ناسوت ایک جدا طیبعت ہے ۔ اور دونوں کا النقاء مسیح کی ذات میں ہوگیا ہے ۔ “ ان لوگوں نے افس کی مجلس دوئم پر لعن طعن کیا۔
لیکن مصریوں نے اس مجلس کے فیصلوں کو تسلیم نہ کیا ۔ اس کے نتیجے میں مصر کے مذہب متوفییہ اور ساہی مذہب جو قیصر روم کی حکومت کا پروردہ تھا ‘ کے درمیان خونریز اختلافات ہوئے جس کے بارے میں اس سے پہلے ہم آرنولڈ کے مقالے کا حوالہ دے چکے ہیں ۔ دیکھئے اس کی کتاب ” دعوت اسلامی “ ۔ آغاز سورة آل عمران میں۔
ہمارا خیال ہے کہ الوہیت مسیح کے بارے میں اس قدر افکار باطلہ کے حوالے کافی ہیں کہ اس غلط عقیدے کی وجہ سے کس قدر خونریز فسادات ہوتے رہے اور کس قدر طویل عداوتیں ہوئیں اور کس قدر فرقے وجود میں آئے جو آج تک موجود ہیں ۔
اس کے بعد آخری رسالت آتی ہے تاکہ وہ اس مسئلے کا سچائی کے ساتھ فیصلہ کر دے اور فیصلہ کے ساتھ ناقابل تردید بات کرے ۔ چناچہ آخری رسول آتا ہے اور وہ اہل کتاب کو صحیح عقیدے کی تلقین یوں کرتا ہے ” وہ لوگ بھی کافر ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ مسیح ابن مریم ہیں۔ “ اور ” وہ لوگ بھی کافر ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ تینوں کا ایک ہے “ (تفصیلات آگے آرہی ہیں)
اللہ تعالیٰ ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ ذرا عقل سے تو کام لو اور ذرا واقعی صورت حالات پر بھی غور کرو (ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ )
اس طرح اللہ کی ذات ‘ اس کی طبیعت ‘ اس کی مشیت ‘ اس کی قوت اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات کے اندر مکمل طور پر جدائی کردی جاتی ہے ۔ اسی طرح اس کی والدہ کی ذات اور تمام دوسری ذاتوں کو اللہ سے علیحدہ کردیا جاتا ہے ۔ نہایت ہی قطعیت اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ ۔ یوں کہ اللہ کی ذات وحدہ لاشریک ہے ۔ اس کی مشیت بےقید ہے ۔ اس کی حکومت صرف اس کی ہے۔ کوئی بھی اس کی مشیت کو رد نہیں کرسکتا نہ اس کے احکام کو رد کرسکتا ہے ۔ وہ مسیح ابن مریم ‘ اس کی والدہ اور تمام باشندگان زمین کو ہلاک کرسکتا ہے ۔ وہ ہر چیز کا مالک ہے ۔ وہ ہر چیز کا خالق ہے اور خالق لازما مخلوق سے جدا ہوتا ہے اور ہر چیز اس کی مخلوق ہے۔
(آیت) ” وللہ ملک السموت والارض وما بینھما یخلق ما یشآء واللہ علی کل شیء قدیر “۔
اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور ان سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے ۔ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے ۔
یوں اسلامی عقیدہ صاف ہوکر خالص ہوجاتا ہے ۔ نہایت ہی واضح اور نہایت ہی سادہ اور وہ بےراہ روی ‘ افکار پریشاں ‘ بےحقیقت داستانوں اور بت پرستوں کے مقابلے میں جو اہل کتاب کے ایک گروہ کے عقائد کے ساتھ شامل تھے ‘ ان کے تہ بہ تہ ڈھیروں کے مقابلے میں بالکل صاف اور معقول بن جاتا ہے اور اسلامی عقیدے اور نظریے کا پہلا خاصہ یعنی یہ کہ الوہیت اور حاکمیت صرف اللہ کے لئیی ہے اور بندگی صرف اللہ کی ہوگی ‘ بلاکسی شبہ ‘ بلاکسی پیچیدگی اور بغیر کسی گردوغبار کے دونوں حقیقتوں کے درمیان فیصلہ کن اور واضح فرق ہوجاتا ہے ۔
المائدة 5:18
یہودی اور عیسائی کہتے تھے کہ وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں۔ (آیت) ” وقالت الیھود والنصری نحن ابنوا اللہ واحبآؤہ “۔ (5 : 18) (یہود اور نصاری کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں) انہوں نے اللہ تعالیٰ کے لئے ابوت (والد ہونا) کا عقیدہ اپنایا ‘ اگرچہ اس ابوت کے لئے وہ کئی تصورات کے قائل ہوں ‘ اس کا پر تو عقیدہ توحید پر بہرحال پڑتا ہے اور اللہ کی الوہیت اور مسیح کی عبدیت کے درمیان فیصلہ کن فرق کمزور پڑجاتا ہے اور جب تک اللہ اور بندوں کے درمیان واضح فرق نہ ہو اس وقت تک نہ عقائد درست ہو سکتے ہیں اور نہ زندگی درست راہ پر استوار ہو سکتی ہے ۔ یہ ضروری ہے کہ وہ سمت متعین ہوجائے جس کی طرف تمام بندوں کا رخ ہو اور وہ اس ایک ہی سمت کی بندگی کریں اور اس قبلے اور ماخذ کا بھی تعین ہوجائے جس سے انسان اپنے لئے قانون اور تمدن کے اصول اخذ کریں ۔ اور اس سے وہ اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانے اخذ کریں ۔ بغیر اس کے کہ ان جہات میں کوئی التباس اور باہم تداخل ہو یا بندے اور خدا کے اوصاف باہم گڈمڈ ہوں اور بندے اور خدا کے درمیان امتزاج کا کوئی تصور پیدا ہو ۔ لہذا شرک صرف نظریاتی مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ شرکیہ عقائد کے نتیجے میں پوری زندگی کے اندر ٹیڑھ پیدا ہوجاتی ہے ۔
یہودیوں اور عیسائیوں نے جب یہ دعوے کیے کہ وہ اللہ کے بیٹے اور محبوب ہیں تو پھر ان تصورات کے لازمی نتیجے کے طور پر یہ عقیدہ بھی وہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے گناہوں پر کوئی عذاب نہ دے گا ‘ اگرچہ وہ گناہ کریں ۔ وہ آگ میں داخل نہ ہوں گے اور اگر داخل بھی ہوں تو وہ صرف چند دن آگ میں رہیں گے ۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ کا انصاف صحیح طرح کام نہ کرے گا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے بعض کے ساتھ خصوصی دوستانہ تعلق رکھتا ہے ‘ اس لئے وہ ان کو کھلا چھوڑتا ہے کہ وہ اس زمین میں جو فساد چاہیں پھیلاتے پھیریں ۔ اور ان کو دوسرے مفسدوں کی طرح سزا نہ دی جائے گی ۔ ہر انسان سوچ سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے تو اس کی وجہ سے کسی سوسائٹی میں کیا کیا فسادات ہوں گے اور یہ غلط نظریہ حیات کسی سوسائٹی میں کیسے کیسے اضطراب پیدا کرے گا ۔
یہاں اسلام اس غلط تصور پر ایک فیصلہ کن وار کرکے اس کی جڑ کاٹ کر رکھ دیتا ہے ۔ اور ان تمام فسادات کا دروازہ بند کردیتا ہے جس سے یہ فسادات کسی معاشرے میں داخل ہو سکتے تھے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اللہ کے عدل میں کوئی رورعایت نہیں ہے اور بجائے خود یہ عقیدہ بھی غلط ہے ۔
(آیت) ” قل فلم یعذبکم بذنوبکم بل انتم بشر ممن خلق یغفر لمن یشاء ویعذب من یشآء “۔ (5 : 18)
(ان سے پوچھو پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے ؟ درحقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کئے ہیں ۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ‘ سزا دیتا ہے ۔
اس کے ذریعے عقیدے اور ایمان کے زاوے سے ایک فیصلہ کن حقیقت سامنے آجاتی ہے ۔ یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ ابن ہونے کا دعوی سرے سے باطل ہے بلکہ انبیاء اسی طرح کے مخلوق بندے ہیں جس طرح اور لوگ ہیں اور یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں عدالت اور انصاف اور سزا وجزاء اور مغفرت صرف ایک اصول کے مطابق ہے ۔ اس میدان میں اللہ نے ڈبل معیار نہیں رکھے ۔ یہ اللہ کی مشیت کا کام ہے جس میں سزا بھی کچھ اسباب اور اصول کے مطابق ہوتی ہے اور خرابی کے لئے بھی اسباب اور اصول ہیں۔
یہ جزاء اور سزا نہ تو ذاتی تعلقات کے اصول پر ہو گی اور نہ ابن ہونے کی کوئی حقیقت ہے ۔ اس کے بعد اس بات کو تکرار لایا جاتا ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا مالک ہے اور تمام چیزوں کو اس کی طرف لوٹنا ہے ۔
(آیت) ” وللہ ملک السموت والارض وما بینھما والیہ المصیر (5 : 18) (زمین اور آسمان اللہ کی ساری موجودات اس کی ملک ہیں ‘ اور اس کی طرف سب کو جانا ہے ۔
یقینا مالک اپنے غلام سے علیحدہ ہوتا ہے ۔ ودیوں کی ذات میں فرق ہوتا ہے ۔ اس کی مشیت جدا ہوتی ہے ۔ اور تمام لوگ مالک کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔
اب یہ بیان اپنے اختتام کو پہنچتا ہے اور اہل کتاب کو ایک بار پھر دعوت دی جاتی ہے تاکہ ان پر حجت تمام ہو ‘ ان کے لئے معذرت کا کوئی موقع نہ ہو ۔ اہل کتاب کو ان کے انجام کے بالکل سامنے لاکھڑا کردیا جاتا ہے بغیر کسی میل و غبار کے اور بغیر کسی پیچیدگی کے ۔ ان کا انجام روشن ہوکر سامنے آجاتا ہے ۔
المائدة 5:19
(آیت) ” یاھل الکتب قد جاء کم رسولنا یبین لکم علی فترۃ من الرسل ان تقولوا ما جآء نا من بشیر ولا نذیر فقد جاء کم بشیر ونذیر واللہ علی کل شیء قدیر “۔ (19)
اے اہل کتاب ‘ یہ رسول ایسے وقت تمہارے پاس آیا اور دین کی واضح تعلیم دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدت سے بند تھا تاکہ تم یہ بات کہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا ۔ سو دیکھو اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آگیا ۔۔۔۔۔۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “
اس فیصلہ کن مقابلے کی وجہ سے اب اہل کتاب کے پاس کوئی حجت نہیں رہتی کہ یہ رسول امی انکی طرف نہیں بھیجا گیا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ :
(آیت) ” یاھل الکتب فقد جاء کم رسولنا “۔ (5 : 19) اے اہل کتاب ہمارا رسول تمہارے پاس آچکا ہے ۔
اور ان کی یہ حجت ختم ہوجاتی ہے کہ ایک طویل عرصہ گزر گیا کہ انہیں کوئی یاد دہانی نہیں کرائی گئی نہ کوئی بشارت دی گئی ہے اور نہ کوئی ڈراوا ان تک پہنچا ہے اس لئے ہم بھول گئے اور بےراہ روی اختیار کرلی ۔ اب ان کے پاس بشیر ونذیر آچکا ہے ۔
یہاں ان کو یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ کو کوئی چیز بھی شکست نہیں دے سکتی ۔ اور اس کے لئے یہ بات بھی کوئی مشکل نہیں ہے کہ وہ امیین میں سے رسول بھیج دے اور یہ بات بھی اسے عاجز نہیں بنا سکتی کہ وہ اہل کتاب کا ان گناہوں پر مواخذہ کرے جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں۔
(آیت) ” واللہ علی کل شیء قدیر “۔ (5 : 19) (بےشک اللہ پر چیز پر قادر ہے) اہل کتاب کے ساتھ یہ نشست اب ختم ہوتی ہے ‘ جس میں ان کے تمام انحرافات اور بےراہ رویاں کھل کر سامنے آجاتی ہیں جن کے مطابق انہوں نے اپنے صحیح دین کو ترک کردیا جو خود ان کی قوم کے رسول لے کر ان کے پاس آئے تھے ان اعتقاقدی تصورات کا بھی فیصلہ کردیا جاتا ہے ‘ جو اللہ نے ایمان ایمان کے لئے پسند فرمائے ہیں اور نبی ﷺ کے بارے میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ باطل ہوجاتا ہے اور قیامت میں وہ جو عذر لنگ پیش کرسکتے تھے اللہ نے دنیا ہی میں اس کا راستہ بند کردیا۔
اس طرح اللہ تعالیٰ ایک طرف انکو راہ ہدایت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور دوسری جانب اسلامی صفوں کے اندر ان کی ریشہ دوانیوں کی راہ بند ہوجاتی ہے ۔ جماعت مسلمہ کی راہ روشن ہوجاتی ہے اور تمام طالبان ہدایت کو سیدھی راہ صاف صاف نظر آنے لگتی ہے ۔
ٍ اس سبق کے آخر میں بات اس طرف رخ کرتی ہے کہ بنی اسرائیل کا رویہ اپنے نبی اور نجات دہندہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کیا رہا اور یہ رویہ انہوں نے عین اس وقت اختیار کیا جب وہ اس سرزمین کی دہلیز پر تھے جس کا وعدہ انکے ساتھ خود اللہ تعالیٰ نے کیا تھا اور اس طرح انہوں نے خود اپنے رب کے ساتھ جو پیمان کیا تھا ‘ اس کا حشر انہوں نے کیا کیا ؟ کس طرح انہوں نے اسے توڑا اور اس نقص عہد پر پھر اللہ تعالیٰ پر پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں کیسی سزا دی ؟ ۔
المائدة 5:20
(آیت) ” نمبر 20 تا 26۔
یہ بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اسے یہاں تفصیل سے لیا گیا ہے ۔ یہ تفصیلات جس حکمت کے تحتی دی گئی ہیں اس کے کئی پہلو ہیں ۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ بنی اسرائیل ان لوگون میں سے ہیں جنہوں نے مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے دعوت اسلامی کی مخالفت کی اس کے خلاف سازش کی ‘ مدینہ میں اس کے خلاف برسرپیکار رہے اور پورے جزیرۃ العرب میں اس کے ساتھ محاربت کرتے رہے ۔ وہ پہلے ہی دن سے جماعت مسلمہ کے خلاف برسرجنگ تھے ، انہوں نے مدینہ میں نفاق پیدا کیا اور منافقین کی پرورش کرتے رہے ۔ یہ لوگ ان منافقین کی امداد کرتے رہے اور یہ امداد اسلامی نظریہ حیات کے خلاف بھی تھی اور مسلمانوں کے خلاف بھی ۔ انہوں نے مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا ‘ ان کے ساتھ لمبے چوڑے وعدے کئے اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف افواہ سازی کا کام کیا ‘ خفیہ رویشہ دوانیاں کیں ‘ مکاریوں سے کام لیتے رہے اور اسلامی صفوں میں بےچینی پیدا کرتے رہے ۔ انہوں نے شکوک و شبہات بھی پھیلانے کی کوشش کی ۔ اسلامی عقائد میں بھی اور اسلامی قیادت کے خلاف بھی اور کچھ عرصہ بعد یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف پوری طرح کھل کر سامنے آگئے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ جماعت مسلمہ کے سامنے انکی پوری حقیقت کو کھول کر رکھ دیا جائے تاکہ اسے معلوم ہو کہ اس کے دشمن کس قماش کے لوگ ہیں ‘ ان کا مزاج کیا ہے ‘ ان کی تاریخ کیا ہے ‘ ان کے وسائل عدوات کیا ہیں اور اس معرکے کی نوعیت کیا ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف برپا کر رکھا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ یہ لوگ آنے والی پوری اسلامی تاریخ میں ملت اسلامیہ کہ دشمن رہیں گے بعینہ اسی طرح جس طرح یہ لوگ خود اپنی تاریخ میں ہمیشہ حق کے دشمن رہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تاریخ ملت اسلامیہ کے سامنے رکھ دی اور اچھی طرح کھول کر رکھ دی اور ملت اسلامیہ کے خلاف یہ لوگ جو ذرائع کام میں لاتے تھے وہ بھی ان کے سامنے رکھ دیئے ۔
اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل اس دین کے حامل تھے جو حضرت محمد ﷺ کے آخری دین سے پہلے سچا دین تھا اور اسلام سے قبل بنی اسرائیل ایک طویل تاریخ رکھنے والی ملت تھے ، ان کے عقائد میں انحراف واقعہ ہوگیا تھا اور انہوں نے اس عہد و پیمان کی بار بار خلاف ورزی کی تھی جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا ہوا تھا جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔ اس نظریاتی انحراف اور اس عہد کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان کی زندگی پر برے اثرات مرتب ہوگئے تھے اور ان تمام امور کا تقاضا یہ تھا کہ امت مسلمہ ان کو پوری تاریخ سے آگاہ ہو کیونکہ وہ اس سے قبل کی تمام رسالتوں کی امین اور وارث ہے اور ربانی نظریہ حیات اور صحیح عقائد کی نگہبان ہے ۔ ان وجوہات کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ امت مسلمہ کو ان تمام تاریخی انقلابات کا علم ہو اور اس کو معلوم ہو کہ کہاں کہاں ان لوگوں نے ٹھوکر کھائی اور اس کے کیا نتائج نکلے ۔ بنی اسرائیل کی زندگی اور ان کے اخلاق پر اس کے کیا نتائج مرتب ہوئے تاکہ اس تجربے کی وجہ سے تحریک اسلامی ان مقامات میں سنبھل کر چلے جہاں ٹھوکریں لگتی ہیں ‘ جہاں سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے اور جہاں سے انحراف شروع ہوتا ہے تاکہ ان تاریخی تجربات کے نتیجے میں وہ صحیح راہ پر گامزن رہے ۔
اور اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کے تجربات کے کئی پہلو تھے ۔ یہ بہت طویل تجربات تھے اور اللہ تعالیٰ کو اس بات کا اچھی طرح علم تھا کہ جب اقوام وملل پر ایک طویل عرصہ گزر جاتا ہے تو وہ سنگدل ہوجاتی ہیں اور ان کی بعد کی نسلیں اصل راہ سے ہٹ جاتی ہیں اور یہ کہ امت مسلمہ کی تاریخ قیام قیامت تک طویل رہے گی اور اس پر ایسے ادوار آئیں گے جن مین وہ بعینہ بنی اسرائیل جیسے حالات میں مبتلا ہوجائے گی ، اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ تاریخ اسلام میں پیدا ہونے والے قائدین اور تجدید واحیائے دین کرنے والے مجددیں کے سامنے بھی ایسے تجربات کے نمونے ہونے چاہئیں کہ اقوام وملل کے اندر کس طرح انحراف اور گمراہی سرایت کر جاتی ہے ۔ ان مجددین کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب بیماری کی تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج کیسے ہوگا ‘ اس لئے کہ ہدایت اور صراط مستقیم سے دور چلے جانے میں وہ لوگ بہت ہی سنگدل ہوتے ہیں جو جان بوجھ کر ایسا کریں ، غافل ‘ خام اور کم علم لوگ بہت جلد ہدایت قبول کرتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے ایک جدید دعوت آتی ہے جو انہیں پسند آجاتی ہے اور وہ اسے قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ اپنے اوپر سے گردو غبار جھاڑ لیتے ہیں ‘ کیونکہ یہ ان کے لئے ایک نئی چیز ہوتی ہے ۔ چونکہ یہ جدید دعوت ان کی فطرت کے لئے ایک نئی چیز ہوتی ہے اس لئے ان کی زندگی میں بہار آجاتی ہے ۔ لیکن جن لوگوں کے سامنے پہلے دعوت آجاتی ہے ‘ ان کے لئے دوبارہ وہ دعوت پرکشش نہیں ہوتی ۔ نہ ہو ان کے اندر حرکت پیدا کرتی ہے نہ ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ یہ کوئی عظیم دعوت ہے اور اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے ، یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے زیادہ محنت اور طویل اور صبر آزماجدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے ۔
قصہ بنی اسرائیل کی تفصیلات کی حکمتوں میں سے یہ بہت اہم پہلو تھے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان قصص کو ہمیشہ تفصیلات کے ساتھ دیا ہے اس لئے کہ امت مسلمہ عقائد کی وارث تھی ۔ اسے اب انسانیت کی قیادت کے فرائض سرانجام دینے تھے ۔ اس کے کئی اور پہلو بھی ہو سکتے ہیں لیکن یہاں ان اشارات سے زیادہ دینا ممکن نہیں ہے ۔ لہذا اس سبق مین ہم اس مجلس کی طرف واپس آتے ہیں ۔
(آیت) ” وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ اذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ أَنبِیَاء وَجَعَلَکُم مُّلُوکاً وَآتَاکُم مَّا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِّن الْعَالَمِیْنَ (20) یَا قَوْمِ ادْخُلُوا الأَرْضَ المُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوا عَلَی أَدْبَارِکُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِیْنَ (21)
” یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ” اے میری قوم کے لوگو ‘ اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی ۔ اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے ‘ تم کو فرمان روا بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا ۔ اے برادران قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تمہارے لئے لکھدی ہے ۔ پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام ونامراد پلٹو گے ۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلمات کے اندر ایسا اشارہ پایا جاتا ہے کہ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ ان کی قوم اس جہاد کے سلسلے میں متردد ہے اور انہیں خطرہ تھا کہ وہ الٹے پاؤں پھرجائے گا ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کے مصر سے واپسی کے طویل سفر کے اندر اچھی طرح تجربہ کرلیا تھا کہ یہ لوگ بار بار نافرمانی کرتے تھے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو مصر سے نکالا تھا اور ان کو اس ذلت اور بدبختی کی زندگی سے آزاد کیا تھا ‘ جس میں عرصہ غلامی مصر میں وہ مبتلا تھے ۔ یہ آزادی انہیں اللہ کے نام پر ملی تھی اور اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ نے ان کے لئے سمندر کو چیر دیا تھا اور اس میں فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا تھا ۔ اس کے بعد جب وہ ایک ایسی قوم سے ہو کر گزرے جو بتوں کی پوجا کرتی تھی تو انہوں نے فورا مطالبہ کردیا تھا کہ اے موسیٰ ہمارے لئے بھی ایسا ہی الہ بنا دو جیسا کہ ان لوگوں کا الہ ہے ۔ (آیت) ” یا موسیٰ اجعل لنا الھا کما لھم الھہ) اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ساتھ مقررہ میعاد پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرگوشی کے لئے کوہ طور پر چلے گئے تو پیچھے سے سامری نے ان زیورات سے جو آتے ہوئے ان کی عورتوں نے مصریوں کی عورتوں سے چرا لئے تھے ‘ ایک بچھڑا بنا دیا ۔ یہ بچھڑا ایسا ہی آواز کرتا تھا جس طرح ایک بچھڑا آواز کرتا ہے ۔ یہ لوگ اس بچھڑے پر ٹوٹ پڑے اور کہا کہ یہ تو وہی خدا ہے جس کی ملاقات کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر چلے گئے ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک واضح معجزہ یہ تھا کہ انہوں نے ان کے لئے تپتے ہوئے صحرا کے اندر سے ایک پتھر سے 12 چشمے نکالے ۔ ان پر من اور سلوی جیسے طعام نازل ہوئے جو نہایت ہی لذیذ تھے لیکن انہوں نے ان لذیذ ومفید کھانوں کو چھوڑ کر ان کھانوں کا مطالبہ کردیا جو مصر میں وہ کھاتے تھے حالانکہ وہاں وہ بڑی ذلت کی زندگی بسر کرتے تھے ۔ وہاں انہوں نے ساگ ‘ ترکاری ‘ گیہوں ‘ لہسن اور پیاز کا مطالبہ کیا اور اس کھانے پر صبر نہ کیا جو ان پر نازل ہو رہا تھا حالانکہ وہ عزت اخلاص اور اعلی مقاصد کے لئے کام کر رہے تھے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو ان اعلی مقاصد کی طرف کھینچ لا رہے تھے اور وہ پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے ۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو گائے کے معاملے میں بھی آزمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ اس میں پس وپیش اور بہانہ بازی کرتے اور مدت تک اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے ۔ اور بالآخر مجبور ہو کر انہوں نے اس حکم پر عمل کیا لیکن وہ کرنے والے نہ تھے ۔
(آیت) ” فذبحوھا وما کادوا یفعلون) پھر انہوں نے ان کا تجربہ اس وقت بھی کیا تھا جب وہ کوہ طور سے واپس ہوئے اور ان کے پاس وہ تختیاں تھیں جن میں وہ میثاق اور عہد تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا ۔ انہوں نے اس عہد سے انکار کردیا اور عہد شکنی پر ثابت قدم رہے۔ ان انعامات اور ان کے جواب میں ان نافرمانیوں اور اس کے بعد اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی معافی کے باوجود پھر بھی انہوں نے اس عہد کو تسلیم نہ کیا اور اللہ تعالیٰ کو ان کے سروں پر پہاڑ اس طرح لٹکانا پڑا جس طرح کہ بادل کا ایک ٹکڑا ہو اور وہ اس حالت میں آگیا کہ انہوں نے یقین کرلیا کہ اب یہ ان کے اوپر گرنے ہی والا ہے ۔ (آیت) ” وظنوا انہ واقع بھم “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس طویل سفر آزادی میں ان کو اچھی طرح آزمایا تھا ۔ آپ ان کو لے کر ارض مقدس کی دہلیز تک آپہنچے تھے جس کا وعدہ ان کے ساتھ خود اللہ نے کیا تھا اور اس زمین کے لئے ہی وہ مصر سے نکلے تھے ۔ وہ زمین جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے عہد کیا تھا کہ یہ لوگ اس میں بادشاہت قائم کریں گے اور اللہ اس میں پھر ان پر انبیاء بھیجے گا تاکہ وہ اللہ کی نگرانی اور قیادت میں زندگی کے بہترین دن گزاریں ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اچھی طرح آزمایا تھا ‘ اس لئے ان کا یہ حق تھا کہ وہ ایک بار پھر ان کی جانب سے بدعہدی سے ڈریں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آخری دعوت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے سامنے وہ تمام باتیں رکھ دیں جو انکی سابقہ تاریخ میں سے قابل ذکر تھیں اور ان کے سامنے وہ تمام بشارتیں رکھ دیں جو مستقبل میں ان کو حاصل ہونے والی تھیں ان کے سامنے وہ تمام امور رکھ دیئے جن سے ان کے حوصلے بڑھ سکتے تھے اور وہ سخت سے سخت ڈراوا بھی رکھ دیا :
(آیت) ” وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ اذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ أَنبِیَاء وَجَعَلَکُم مُّلُوکاً وَآتَاکُم مَّا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِّن الْعَالَمِیْنَ (20) یَا قَوْمِ ادْخُلُوا الأَرْضَ المُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوا عَلَی أَدْبَارِکُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِیْنَ (21)
” اے میری قوم کے لوگو ‘ اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی ۔ اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے ‘ تم کو فرمان روا بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا ۔ اے برادران قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تمہارے لئے لکھدی ہے ۔ پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام ونامراد پلٹو گے ۔ “
اللہ کا انعام اور وہ وعدے پورے ہوگئے ۔ اللہ نے ان میں انبیاء بھیجے اور بادشاہ پیدا کئے۔ اس باب میں اللہ نے انہیں وہ کچھ دیا جو اقوام عالم میں کسی کو نہ دیا گیا تھا تاریخ کی اس یونٹ تک ‘ اور وہ ارض مقدس جسے فتح کرنے جا رہے تھے جو ان کے لئے لکھ دی گئی تھی ۔ اور یہ تحریر اللہ کی تھی ‘ لہذا اس کا پورا کیا جانا حق الیقین تھا ۔ اس سے پہلے اللہ نے ان کے ساتھ جو بھی وعدے کئے تھے وہ ایک ایک کرکے پورے کردیئے گئے تھے اور یہ ایک ایسا وعدہ تھا جس کی طرف وہ بڑھ رہے تھے ۔ اس سے پیچھے ہٹنا انکے لئے دنیا وآخرت کا خسران تھا ۔۔۔۔۔ لیکن بنی اسرائیل بہرحال بنی اسرائیل تھے ۔ بزدل سست اور پیچھے کی طرف پلٹنے والے اور بار بار وعدہ خلافی کرنے والے :
المائدة 5:21
(آیت) ” نمبر 20 تا 26۔
یہ بنی اسرائیل کی تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اسے یہاں تفصیل سے لیا گیا ہے ۔ یہ تفصیلات جس حکمت کے تحتی دی گئی ہیں اس کے کئی پہلو ہیں ۔
ان میں سے ایک یہ ہے کہ بنی اسرائیل ان لوگون میں سے ہیں جنہوں نے مدینہ طیبہ میں سب سے پہلے دعوت اسلامی کی مخالفت کی اس کے خلاف سازش کی ‘ مدینہ میں اس کے خلاف برسرپیکار رہے اور پورے جزیرۃ العرب میں اس کے ساتھ محاربت کرتے رہے ۔ وہ پہلے ہی دن سے جماعت مسلمہ کے خلاف برسرجنگ تھے ، انہوں نے مدینہ میں نفاق پیدا کیا اور منافقین کی پرورش کرتے رہے ۔ یہ لوگ ان منافقین کی امداد کرتے رہے اور یہ امداد اسلامی نظریہ حیات کے خلاف بھی تھی اور مسلمانوں کے خلاف بھی ۔ انہوں نے مشرکین کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر آمادہ کیا ‘ ان کے ساتھ لمبے چوڑے وعدے کئے اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف افواہ سازی کا کام کیا ‘ خفیہ رویشہ دوانیاں کیں ‘ مکاریوں سے کام لیتے رہے اور اسلامی صفوں میں بےچینی پیدا کرتے رہے ۔ انہوں نے شکوک و شبہات بھی پھیلانے کی کوشش کی ۔ اسلامی عقائد میں بھی اور اسلامی قیادت کے خلاف بھی اور کچھ عرصہ بعد یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف پوری طرح کھل کر سامنے آگئے ۔ اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ جماعت مسلمہ کے سامنے انکی پوری حقیقت کو کھول کر رکھ دیا جائے تاکہ اسے معلوم ہو کہ اس کے دشمن کس قماش کے لوگ ہیں ‘ ان کا مزاج کیا ہے ‘ ان کی تاریخ کیا ہے ‘ ان کے وسائل عدوات کیا ہیں اور اس معرکے کی نوعیت کیا ہے جو انہوں نے مسلمانوں کے خلاف برپا کر رکھا ہے ۔
اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ یہ لوگ آنے والی پوری اسلامی تاریخ میں ملت اسلامیہ کہ دشمن رہیں گے بعینہ اسی طرح جس طرح یہ لوگ خود اپنی تاریخ میں ہمیشہ حق کے دشمن رہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تاریخ ملت اسلامیہ کے سامنے رکھ دی اور اچھی طرح کھول کر رکھ دی اور ملت اسلامیہ کے خلاف یہ لوگ جو ذرائع کام میں لاتے تھے وہ بھی ان کے سامنے رکھ دیئے ۔
اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بنی اسرائیل اس دین کے حامل تھے جو حضرت محمد ﷺ کے آخری دین سے پہلے سچا دین تھا اور اسلام سے قبل بنی اسرائیل ایک طویل تاریخ رکھنے والی ملت تھے ، ان کے عقائد میں انحراف واقعہ ہوگیا تھا اور انہوں نے اس عہد و پیمان کی بار بار خلاف ورزی کی تھی جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا ہوا تھا جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا ہوا تھا ۔ اس نظریاتی انحراف اور اس عہد کی خلاف ورزی کی وجہ سے ان کی زندگی پر برے اثرات مرتب ہوگئے تھے اور ان تمام امور کا تقاضا یہ تھا کہ امت مسلمہ ان کو پوری تاریخ سے آگاہ ہو کیونکہ وہ اس سے قبل کی تمام رسالتوں کی امین اور وارث ہے اور ربانی نظریہ حیات اور صحیح عقائد کی نگہبان ہے ۔ ان وجوہات کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ امت مسلمہ کو ان تمام تاریخی انقلابات کا علم ہو اور اس کو معلوم ہو کہ کہاں کہاں ان لوگوں نے ٹھوکر کھائی اور اس کے کیا نتائج نکلے ۔ بنی اسرائیل کی زندگی اور ان کے اخلاق پر اس کے کیا نتائج مرتب ہوئے تاکہ اس تجربے کی وجہ سے تحریک اسلامی ان مقامات میں سنبھل کر چلے جہاں ٹھوکریں لگتی ہیں ‘ جہاں سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے اور جہاں سے انحراف شروع ہوتا ہے تاکہ ان تاریخی تجربات کے نتیجے میں وہ صحیح راہ پر گامزن رہے ۔
اور اس حکمت کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کے تجربات کے کئی پہلو تھے ۔ یہ بہت طویل تجربات تھے اور اللہ تعالیٰ کو اس بات کا اچھی طرح علم تھا کہ جب اقوام وملل پر ایک طویل عرصہ گزر جاتا ہے تو وہ سنگدل ہوجاتی ہیں اور ان کی بعد کی نسلیں اصل راہ سے ہٹ جاتی ہیں اور یہ کہ امت مسلمہ کی تاریخ قیام قیامت تک طویل رہے گی اور اس پر ایسے ادوار آئیں گے جن مین وہ بعینہ بنی اسرائیل جیسے حالات میں مبتلا ہوجائے گی ، اس لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ تاریخ اسلام میں پیدا ہونے والے قائدین اور تجدید واحیائے دین کرنے والے مجددیں کے سامنے بھی ایسے تجربات کے نمونے ہونے چاہئیں کہ اقوام وملل کے اندر کس طرح انحراف اور گمراہی سرایت کر جاتی ہے ۔ ان مجددین کو معلوم ہونا چاہئے کہ جب بیماری کی تشخیص ہوجائے تو اس کا علاج کیسے ہوگا ‘ اس لئے کہ ہدایت اور صراط مستقیم سے دور چلے جانے میں وہ لوگ بہت ہی سنگدل ہوتے ہیں جو جان بوجھ کر ایسا کریں ، غافل ‘ خام اور کم علم لوگ بہت جلد ہدایت قبول کرتے ہیں کیونکہ ان کے سامنے ایک جدید دعوت آتی ہے جو انہیں پسند آجاتی ہے اور وہ اسے قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ اپنے اوپر سے گردو غبار جھاڑ لیتے ہیں ‘ کیونکہ یہ ان کے لئے ایک نئی چیز ہوتی ہے ۔ چونکہ یہ جدید دعوت ان کی فطرت کے لئے ایک نئی چیز ہوتی ہے اس لئے ان کی زندگی میں بہار آجاتی ہے ۔ لیکن جن لوگوں کے سامنے پہلے دعوت آجاتی ہے ‘ ان کے لئے دوبارہ وہ دعوت پرکشش نہیں ہوتی ۔ نہ ہو ان کے اندر حرکت پیدا کرتی ہے نہ ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ یہ کوئی عظیم دعوت ہے اور اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے ، یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو متاثر کرنے کے لئے زیادہ محنت اور طویل اور صبر آزماجدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے ۔
قصہ بنی اسرائیل کی تفصیلات کی حکمتوں میں سے یہ بہت اہم پہلو تھے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان قصص کو ہمیشہ تفصیلات کے ساتھ دیا ہے اس لئے کہ امت مسلمہ عقائد کی وارث تھی ۔ اسے اب انسانیت کی قیادت کے فرائض سرانجام دینے تھے ۔ اس کے کئی اور پہلو بھی ہو سکتے ہیں لیکن یہاں ان اشارات سے زیادہ دینا ممکن نہیں ہے ۔ لہذا اس سبق مین ہم اس مجلس کی طرف واپس آتے ہیں ۔
(آیت) ” وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ اذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ أَنبِیَاء وَجَعَلَکُم مُّلُوکاً وَآتَاکُم مَّا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِّن الْعَالَمِیْنَ (20) یَا قَوْمِ ادْخُلُوا الأَرْضَ المُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوا عَلَی أَدْبَارِکُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِیْنَ (21)
” یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ” اے میری قوم کے لوگو ‘ اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی ۔ اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے ‘ تم کو فرمان روا بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا ۔ اے برادران قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تمہارے لئے لکھدی ہے ۔ پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام ونامراد پلٹو گے ۔ “
یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلمات کے اندر ایسا اشارہ پایا جاتا ہے کہ انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ ان کی قوم اس جہاد کے سلسلے میں متردد ہے اور انہیں خطرہ تھا کہ وہ الٹے پاؤں پھرجائے گا ۔ انہوں نے بنی اسرائیل کے مصر سے واپسی کے طویل سفر کے اندر اچھی طرح تجربہ کرلیا تھا کہ یہ لوگ بار بار نافرمانی کرتے تھے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو مصر سے نکالا تھا اور ان کو اس ذلت اور بدبختی کی زندگی سے آزاد کیا تھا ‘ جس میں عرصہ غلامی مصر میں وہ مبتلا تھے ۔ یہ آزادی انہیں اللہ کے نام پر ملی تھی اور اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ نے ان کے لئے سمندر کو چیر دیا تھا اور اس میں فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا تھا ۔ اس کے بعد جب وہ ایک ایسی قوم سے ہو کر گزرے جو بتوں کی پوجا کرتی تھی تو انہوں نے فورا مطالبہ کردیا تھا کہ اے موسیٰ ہمارے لئے بھی ایسا ہی الہ بنا دو جیسا کہ ان لوگوں کا الہ ہے ۔ (آیت) ” یا موسیٰ اجعل لنا الھا کما لھم الھہ) اور جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے ساتھ مقررہ میعاد پر اللہ تعالیٰ کے ساتھ سرگوشی کے لئے کوہ طور پر چلے گئے تو پیچھے سے سامری نے ان زیورات سے جو آتے ہوئے ان کی عورتوں نے مصریوں کی عورتوں سے چرا لئے تھے ‘ ایک بچھڑا بنا دیا ۔ یہ بچھڑا ایسا ہی آواز کرتا تھا جس طرح ایک بچھڑا آواز کرتا ہے ۔ یہ لوگ اس بچھڑے پر ٹوٹ پڑے اور کہا کہ یہ تو وہی خدا ہے جس کی ملاقات کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر چلے گئے ، پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ایک واضح معجزہ یہ تھا کہ انہوں نے ان کے لئے تپتے ہوئے صحرا کے اندر سے ایک پتھر سے 12 چشمے نکالے ۔ ان پر من اور سلوی جیسے طعام نازل ہوئے جو نہایت ہی لذیذ تھے لیکن انہوں نے ان لذیذ ومفید کھانوں کو چھوڑ کر ان کھانوں کا مطالبہ کردیا جو مصر میں وہ کھاتے تھے حالانکہ وہاں وہ بڑی ذلت کی زندگی بسر کرتے تھے ۔ وہاں انہوں نے ساگ ‘ ترکاری ‘ گیہوں ‘ لہسن اور پیاز کا مطالبہ کیا اور اس کھانے پر صبر نہ کیا جو ان پر نازل ہو رہا تھا حالانکہ وہ عزت اخلاص اور اعلی مقاصد کے لئے کام کر رہے تھے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کو ان اعلی مقاصد کی طرف کھینچ لا رہے تھے اور وہ پیچھے کی طرف بھاگ رہے تھے ۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو گائے کے معاملے میں بھی آزمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تھا اور وہ اس میں پس وپیش اور بہانہ بازی کرتے اور مدت تک اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے ۔ اور بالآخر مجبور ہو کر انہوں نے اس حکم پر عمل کیا لیکن وہ کرنے والے نہ تھے ۔
(آیت) ” فذبحوھا وما کادوا یفعلون) پھر انہوں نے ان کا تجربہ اس وقت بھی کیا تھا جب وہ کوہ طور سے واپس ہوئے اور ان کے پاس وہ تختیاں تھیں جن میں وہ میثاق اور عہد تھا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا ۔ انہوں نے اس عہد سے انکار کردیا اور عہد شکنی پر ثابت قدم رہے۔ ان انعامات اور ان کے جواب میں ان نافرمانیوں اور اس کے بعد اس پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی معافی کے باوجود پھر بھی انہوں نے اس عہد کو تسلیم نہ کیا اور اللہ تعالیٰ کو ان کے سروں پر پہاڑ اس طرح لٹکانا پڑا جس طرح کہ بادل کا ایک ٹکڑا ہو اور وہ اس حالت میں آگیا کہ انہوں نے یقین کرلیا کہ اب یہ ان کے اوپر گرنے ہی والا ہے ۔ (آیت) ” وظنوا انہ واقع بھم “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس طویل سفر آزادی میں ان کو اچھی طرح آزمایا تھا ۔ آپ ان کو لے کر ارض مقدس کی دہلیز تک آپہنچے تھے جس کا وعدہ ان کے ساتھ خود اللہ نے کیا تھا اور اس زمین کے لئے ہی وہ مصر سے نکلے تھے ۔ وہ زمین جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے عہد کیا تھا کہ یہ لوگ اس میں بادشاہت قائم کریں گے اور اللہ اس میں پھر ان پر انبیاء بھیجے گا تاکہ وہ اللہ کی نگرانی اور قیادت میں زندگی کے بہترین دن گزاریں ۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو اچھی طرح آزمایا تھا ‘ اس لئے ان کا یہ حق تھا کہ وہ ایک بار پھر ان کی جانب سے بدعہدی سے ڈریں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آخری دعوت میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے سامنے وہ تمام باتیں رکھ دیں جو انکی سابقہ تاریخ میں سے قابل ذکر تھیں اور ان کے سامنے وہ تمام بشارتیں رکھ دیں جو مستقبل میں ان کو حاصل ہونے والی تھیں ان کے سامنے وہ تمام امور رکھ دیئے جن سے ان کے حوصلے بڑھ سکتے تھے اور وہ سخت سے سخت ڈراوا بھی رکھ دیا :
(آیت) ” وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ اذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ أَنبِیَاء وَجَعَلَکُم مُّلُوکاً وَآتَاکُم مَّا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِّن الْعَالَمِیْنَ (20) یَا قَوْمِ ادْخُلُوا الأَرْضَ المُقَدَّسَۃَ الَّتِیْ کَتَبَ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَرْتَدُّوا عَلَی أَدْبَارِکُمْ فَتَنقَلِبُوا خَاسِرِیْنَ (21)
” اے میری قوم کے لوگو ‘ اللہ کی اس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی ۔ اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے ‘ تم کو فرمان روا بنایا اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا ۔ اے برادران قوم ! اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ تمہارے لئے لکھدی ہے ۔ پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام ونامراد پلٹو گے ۔ “
اللہ کا انعام اور وہ وعدے پورے ہوگئے ۔ اللہ نے ان میں انبیاء بھیجے اور بادشاہ پیدا کئے۔ اس باب میں اللہ نے انہیں وہ کچھ دیا جو اقوام عالم میں کسی کو نہ دیا گیا تھا تاریخ کی اس یونٹ تک ‘ اور وہ ارض مقدس جسے فتح کرنے جا رہے تھے جو ان کے لئے لکھ دی گئی تھی ۔ اور یہ تحریر اللہ کی تھی ‘ لہذا اس کا پورا کیا جانا حق الیقین تھا ۔ اس سے پہلے اللہ نے ان کے ساتھ جو بھی وعدے کئے تھے وہ ایک ایک کرکے پورے کردیئے گئے تھے اور یہ ایک ایسا وعدہ تھا جس کی طرف وہ بڑھ رہے تھے ۔ اس سے پیچھے ہٹنا انکے لئے دنیا وآخرت کا خسران تھا ۔۔۔۔۔ لیکن بنی اسرائیل بہرحال بنی اسرائیل تھے ۔ بزدل سست اور پیچھے کی طرف پلٹنے والے اور بار بار وعدہ خلافی کرنے والے :
المائدة 5:22
(آیت) ” قَالُوا یَا مُوسَی إِنَّ فِیْہَا قَوْماً جَبَّارِیْنَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا حَتَّیَ یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِن یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ (22)
” انہوں نے جواب دیا ” اے موسیٰ وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں ‘ ہم وہاں ہر گز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں ، ہاں اگر وہ نکل آئے تو ہم داخل ہونے کیلئے تیار ہیں ۔ ‘
یہاں آکر یہودیوں کی اصل سامنے آتی ہے وہ بالکل ننگے ہوجاتے ہیں اور ان پر بالکل مہین سا پردہ بھی نہیں رہتا ۔ یہ اس لئے کہ اب وہ ایک حقیقی خطرے کے سامنے کھڑے تھے ۔ اب وہ کسی قسم کی ظاہر داری بھی نہ کرسکتے تھے ۔ نہ وہ جھوٹی بہادری کا مظاہرہ اور بڑھکیں مار سکتے تھے ‘ نہ منافقت کرسکتے تھے ۔ خطرہ ان کی آنکھوں کے سامنے مجسم تھا اور قریب تھا ۔ اس لئے ان کو یہ بات بھی بچا نہ سکی کہ وہ اس سرزمین کے مالک ہیں اور یہ کہ اللہ نے وہ انکی قسمت میں لکھ دی ہے ‘ اس لئے کہ وہ تو نہایت ہی سستی فتح چاہتے تھے ‘ جس کی انہیں کوئی قیمت ادا کرنی نہ پڑے نہ اس کی راہ میں کوئی جدوجہد کرنی پڑے ۔ وہ اس قدر آرام دہ فتح چاہتے تھے جو ان پر من اور سلوی کی طرح نازل ہو کہتے ہیں :
(آیت) ” ۔۔۔۔۔۔ قَوْماً جَبَّارِیْنَ وَإِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا حَتَّیَ یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِن یَخْرُجُواْ مِنْہَا فَإِنَّا دَاخِلُونَ (22) لیکن فتح اور نصرت کی ذمہ داریاں وہ نہیں ہیں جو بنی اسرائیل کے زہن میں تھی ۔ ان کے دل تو ایمان سے فارغ تھے ۔ ان کے رجال مومن ان کو کہتے ہیں : ۔
المائدة 5:23
(آیت) ” قَالَ رَجُلاَنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُونَ أَنْعَمَ اللّہُ عَلَیْْہِمَا ادْخُلُواْ عَلَیْْہِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوہُ فَإِنَّکُمْ غَالِبُونَ وَعَلَی اللّہِ فَتَوَکَّلُواْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (23)
”(ان ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ان جباروں کے مقابلے میں دروازے کے اندر گھس جاؤ ‘ جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے ‘ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو)
یہاں آکر معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ پر بھروسے اور خدا خوفی کی قدر و قیمت کیا ہے ؟ یہ دو شخص وہ تھے جو اللہ سے ڈرتے تھے اور ان کی خدا خوفی ان کے اندر اس قدر جرات پیدا کر رہی تھی کہ وہ جباروں کو خاطر میں نہ لاتے تھے ۔ اور ان کے اندر ایک موہوم خطرے کے مقا بے میں بےمثال شجاعت تھی ، یہ دونوں یہ شہادت دیتے تھے کہ شدت اور خطرات کے اوقات میں ایمان اور یقین کی کیا اہمیت ہوتی ہے ۔ ان دونوں کا موقف یہ بتاتا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والے لوگوں کا موقف جباروں سے ڈر کے مواقع پر کیا ہوتا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کے دل میں دو ڈر نہیں ڈالتا کہ ایک شخص اللہ جل شانہ سے بھی ڈرے اور وہ لوگوں سے بھی ڈرے ۔ پس جو شخص اللہ ڈرتا ہے وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ۔ وہ کس جرات سے کہتے ہیں۔
(آیت) ” ادخلوا علیھم الباب ، فاذا دخلتموہ فانکم غلبون (5 : 23) (ان جباروں کے مقابلے میں دروازے میں گھس جاؤ جب تم اندر پہنچ جاؤ گے تو تم ہی غالب رہو گے) دلوں کی دنیا اور پھر معرکہ آرائی کی دنیا کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ اقدام کرو اور گھس جاؤ جب تم کسی قوم پر خود ان کے گھر کے اندر جا پہنچے تو ان کے دل ٹوٹ جائیں گے اور اسی قدر تمہارے حوصلے بڑھ جائیں گے ۔ اس طرح ان لوگوں کی نفسیات کے اندر شکست داخل ہوجائے گی اور تمہارے لئے فتح مقدر ہوجائے گی ۔
رہے اہل ایمان تو ان کا بھروسہ صرف اللہ پر ہوتا ہے ۔ (آیت) ” وعلی اللہ فتوکلوا ان کنتم مومنین “ (5 : 23) (اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو) یہ ایمان کی خاصیت اور ایمان کی علامت ہے اور یہی ایمان کی منطق اور ایمان کا تقاضا ہے ۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ دو مومن یہ بات کس سے کہہ رہے ہیں ۔ افسوس کہ ان کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں۔
المائدة 5:24
(آیت) ” قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (24)
(لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ” اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ‘ جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب ‘ دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں) یوں بزدل صفوں سے نکل جاتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ خطرات سے ڈر کر پانبر نجیر ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح گدھوں کے پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے ۔ بزدلی اور بےشرمی آپس میں متضاد نہیں ہیں نہ ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ یہ اوصاف بعض اوقات اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ایک بزدل جب اپنے فرائض کی طرف آگے بڑھتا ہے تو وہ بزدلی دکھا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ وہ اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح اس نے فرض کو ترک کردیا ۔ پھر وہ اس مقصد ہی کو برا کہتا ہے ‘ اس دعوت کو بھی برا بھلا کہتا ہے ‘ جو اس سے بات کا مطالبہ کرتی ہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا ۔
(آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں) یہ تھی ایک کمزور اور بزدل کی عاجزی اس کی زبان سے بہت ہی تیز ہے لیکن مقصد کی طرف بڑھنے کے لئے اس کے قدم بوجھ ہیں اور وہ تیروں کی چبھن محسوس کرتا ہے ۔ (آیت) ” فاذھب انت وربک “۔ (5 : 24) (جاؤ تم اور تمہارا رب) اگر وہ اب ہمیں جنگ پر مجبور کرتا ہے تو ہم اس کی الوہیت کو قبول نہیں کرتے ، یہ تمہارا رب ہے ۔ (آیت) ” انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں) ہمیں نہ تو مملکت کی ضرورت ہے ‘ نہ عزت کی ضرورت ہے ‘ نہ ارض موعودہ کی ضرورت ہے ۔ اس وقت تک اس میں جبار قوم موجود ہے ۔۔۔۔ یہ تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد کا انجام ۔۔۔۔ طویل سفر ‘ اس میں ذلت و خواری ‘ اور بنی اسرائیل کی جانب سے بار بار انحراف ‘ پہلوتہی اور قدم قدم پر نافرمانی ۔۔۔۔۔ یقینا یہ ان کا انجام ہے کہ وہ ارض مقدس کی فتح سے الٹے پھرتے ہیں ، حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ساتھ ہیں اور وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہدوپیمان سے پھرتے ہیں ۔ حالانکہ اس عہد قدیم کا اس عہد یعنی فتح بیت المقدس سے گہرا ربط تھا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مایوسی کے عالم میں کریں تو کیا کریں ؟
(آیت) ” قال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین “۔ (5 : 25) (اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” اے میرے رب ‘ میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر میری اپنی ذات یا میرا بھائی ‘ پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کر دے ۔ “
یہ ایک ایسی پکار ہے جو رنج والم سے بھری ہوئی ہے ۔ اس میں ایک طرف التجاء ہے تو دوسری جانب مکمل تسلیم ورضا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کن پختگی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچھی طرح علم تھا اور یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کے بھائی کے سوا اور کوئی کا حامی نہیں رہا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک شرمندہ انسان کے ضعف اور ایک نبی جو کلیم اللہ ہے ‘ اس کے ایمان کے بیچ میں کھڑے ہیں اور ایک راست باز مومن کی طرح عزم صمیم کئے ہوئے ہیں ۔ ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے کہ صرف اللہ کی متوجہ ہوں اور اس کے سامنے اپنے درد و دکھ کا اظہار بشکل سرگوشی کریں اور یہ مطالبہ کریں کہ اے اللہ مجھے اجازت دے دے کہ میں اس فاسق قوم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوجاؤں اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے پختہ عہد سے روگردانی اختیار کرلی تو اب ان کے ساتھ نبی کلیم کا تعلق ہی کیا رہ گیا ہے ؟ وہ ان کے ساتھ بوجہ نسب نامہ مربوط نہ تھے ‘ نہ یہ کہ ان کی تاریخ ایک ہے ‘ نہ ان کا واسطہ ان کے ساتھ اس اساس پر تھا کہ انہوں نے ایک جگہ مل کر جدوجہد کی تھی اور رفیق کار تھے ۔ ان کے درمیان رابطہ تو دعوت الی الحق کی اساس پر ہی تھا ۔ ان کے درمیان رابطہ یہی عہد قدیم تھا اور یہ عہد انہوں نے توڑ ڈالا تھا ۔ اس لئے ان کے درمیان مکمل قطع تعلق ہوگیا اور نہایت ہی گہرائی تک چلا گیا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے درمیان کوئی رابطہ ہی نہیں رہا ہے ۔ حضرت اپنے عہد ومیثاق کے پابند ہیں اور قوم نے اس سے نافرمانی اختیار کرلی ہے ۔ وہ عہد پر پختہ جمے ہوئے ہیں اور قوم اس سے برگشتہ ہوگئی ہے ۔
یہ ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ادب اور احترام ۔ اور یہی ہے ان کی سنت اور یہی ہے ایک سچے مومن کا منصوبہ ۔ اور یہی ہے وہ اساس اور رابطہ جس پر لوگ جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں ۔ اس راہ میں قوم ‘ نسب ‘ نسل اور مشترکہ تاریخ کچھ چیز نہیں ہے اس میں اس زمین کے تعلقات میں سے کوئی تعلق کام نہیں دیتا ۔ راہ میں جب نظریات کا تعلق ٹوٹ جائے تو تمام تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں اور جب عقیدے جدا ہوجائیں تو راستے اور منہاج بھی جدا ہوجاتے ہیں ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی پکار کا جواب دیتے ہیں اور فاسقوں کو پوری پوری سزا دے دی جاتی ہے ۔
(آیت) ” قال فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ ، یتیھون فی الارض ، فلا تاس علی القوم الفسقین “۔ (26)
” اللہ نے جواب دیا ” اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک ان پر حرام ہے ‘ یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے ‘ ان نافرمانوں کی حالت پر ہر گز ترس نہ کھاؤ۔ )
اللہ تعالیٰ نے ان بدبختوں کو صحراؤں کے حوالے کردیا حالانکہ وہ ارض مقدس کی دہلیز پر تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ سرزمین حرام کردی جو ان کے لئے لکھ دی گئی تھی اور راجح قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس وقت موجود نسل پر اس سرزمین کو حرام کردیا تھا ‘ اور جب تک ان کے نطفوں سے جدید نسل تیار نہ ہوئی وہ اسی طرح مارے مارے پھرتے رہے ۔ چناچہ ان پر ازض موعود میں داخلہ اس وقت تک ممنوع رہا جب تک نئی نسل تیار نہ ہوگئی ‘ ایسی نسل جو نصیحت قبول کرتی ہو ‘ یہ نسل خالص صحرا نوروی کی حالت میں تیار ہوئی اور یہ بالکل آزاد منش اور حریت پسند تھی ۔ یہ وہ نسل نہ تھی جسے ذلت ‘ غلامی اور مصریوں کے مظالم نے کمزوری کا خوگر بنا دیا تھا ۔ اس لئے وہ نسل اس کام کے لئے موزوں نہ تھی جو اولو العزم لوگوں کا کام ہے ۔ ذلت ‘ غلامی اور ظلم انسان کی فطرت کو خراب کردیتے ہیں ۔ اسی طرح ان چیزوں سے قوموں کی فطرت بھی خراب ہوجاتی ہے ۔ اس لئے کہ غلامی اور ظلم انسان کی فطرت کو خراب کردیتے ہیں ، اسی طرح ان چیزوں سے قوموں کی فطرت بھی خبراب ہوجاتی ہے اس لئے کہ غلامی میں قوموں کے ضمیر بدل جاتے ہیں ۔
یہاں آکر بات ختم ہوجاتی ہے اور ان لوگوں کو صحرا کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ اس پر مزید ان کے بارے میں یہاں کچھ نہیں کہا جاتا ۔ یہ ایک ایسا انداز ہے جس میں نفسیاتی عبرت آموزی اور فنی خوبصورت دونوں ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں یہ قرآن کریم کا خاص انداز بیان ہے ۔
اس سبق کو مسلمانوں نے اچھی طرح سمجھ لیا تھا ‘ اللہ نے ان کے سامنے یہ پوری کہانی اسی انداز میں رکھ دی تھی جس طرح وہ پیش آئی تھی ۔ چناچہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا : اے محمد ! آج ہم وہ بات نہ کہیں گے جو بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہی تھی کہ جاؤ تم اور تمہارا خدا لڑو تم دونوں ‘ ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں ۔ (فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “ (5 : 24) (قرآن کریم کے اندازتربیت کے یہ بعض نمونے ہیں ۔ قرآن عام قصص کے انداز میں تربیت کرتا ہے ‘ یہ تھے قصہ بنی اسرائیل کے بیان کی حکمت کے بعض پہلو) ۔
درس نمبر 48 ایک نظر میں :
اس سبق میں انسانی زندگی کے لئے بعض نہایت ہی اساسی قوانین وضع کئے گئے ہیں وہ احکام جو جان کی حفاظت کے لئے ہیں ۔ یہ احکام اس معاشرے کے لئے ہیں جس میں اسلامی زندگی رائج ہو ۔ ان قوانین کا مقصد اسلامی نظام زندگی کی حمایت اور اس نظام کے خلاف بغاوت کے راستوں کو بند کرتا ہے اور اس حکومت کو بچانا ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق قائم ہو اور شریعت کے زیر سایہ کام کر رہی ہو ۔ نیز اس سے سوسائٹی کا تحفظ مطلوب ہے جو شریعت اسلامی کے زیر سایہ اور ایک اسلامی حکومت کے زیر سایہ کام کر رہی ہو ۔ ان احکام سے اسلامی حکومت کی رعایا کے مال اور جان دونوں کی حفاظت مطلوب ہے ‘ بشرطیکہ یہ معاشرہ ‘ یہ حکومت اور یہ نظام اسلامی شریعت کے مطابق چل رہے ہوں ۔
اس پورے سبق میں ‘ سوسائٹی کی اجتماعی زندگی کے بچاؤ کے سلسلے میں نہایت ہی اساسی احکام دیئے گئے ہیں لیکن اس سبق کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے قصے سے کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ قتل و غارت کے اس جرم کے ارتکاب کے وقت مجرمین کی نفسیات کیا ہوتی ہیں ۔ وہ کیا اسباب اور فیکٹر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مجرم جرم کا ارتکاب کے وقت مجرمین کی نفسیات کیا ہوتی ہیں ۔ وہ کیا اسباب اور فیکٹر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مجرم جرم کا ارتکاب کرتا ہے نیز اس سبق میں بتایا جاتا ہے کہ یہ جرم نہایت ہی گھناؤنا ہے اور یہ کہ اس کا تدارک اور سدباب کرنا نہایت ہی ضروری ہے ۔ اس جرم کے مجرم کو سزا دینا بھی بہت ضروری ہے اور ان اسباب اور موثرات پر قابو پانا بھی ضروری ہے جس کی وجہ سے ایک شخص اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے ۔
معلوم ہوتا ہے کہ اس قصے کے تمام اشارات مکمل طور پر ان احکام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو اس قصے کے بعد آتے ہیں ۔ ایک غور وفکر سے پڑھنے والا اس بات کو بسہولت بسہولت محسوس کرسکتا ہے کہ اس سیاق کلام میں اس قصے کو لانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور وہ کس قدر عمیق اور تشفی بخش اشارہ ہے ‘ جو یہ قصہ نفس انسانی پر انڈیلتا ہے اور اسے اس میں پیوست کردیتا ہے ۔ یہ قصہ انسان کے دل و دماغ کو ان احکام کو قبول کرنے کے لئے آمادہ کردیتا ہے کہ وہ ان سخت سزاؤں کو قبول کرے جو اسلام محاربت اور جان کے خلاف جرائم اور نظام ملکیت کے خلاف جرائم اور نظام مملکت میں اسلامی عدالتوں کی طرف سے نافذ ہوں گی جو اسلامی شریعت کے مطابق کام کرتی ہیں ۔
اسلامی معاشرے کا فرض ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو اسلامی نظام کے مطابق شریعت محمدیہ کے تحت چلائے ۔ وہ اپنے معاملات ‘ اپنے روابط اور تعلقات اسلامی نظام اور اسلامی قانون شریعت کے مطابق منظم کرے ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق یہ معاشرہ ایک فرد کا کفیل بھی ہوگا ‘ ایک جماعت کا بھی وہ کفیل ہوگا اور فرد اور سوسائٹی دونوں کو انصاف ‘ سیکورٹی ‘ اطمینان اور سکون عطا کرسکے گا ۔ وہ ان تمام عناصر کے فساد کے دروازے بند کرسکے گا جو افراتفری ‘ بےچینی ‘ دباؤ اور گھٹن پیدا کرتے ہیں اور وہ تمام اسباب ختم ہوجائیں گے جن کی وجہ سے معاشرے کے اندر ظلم و زیادتی ہوتی ہے ۔ اسی طرح لوگوں کی حاجات اور ضروریات بھی بڑی آسانی سے پوری ہو سکیں گی ۔ اسی طرح اس قسم کے باہم متکافل ‘ متوازن ‘ منصفانہ اور فاضلانہ معاشرے کے اندر کسی کی جان اور مال پر ‘ کسی کی انفرادی کی ملکیت پر یا نظام مملکت کے خلاف اس قسم کے جرائم کا ارتکاب نہایت ہی بری حرکت اور سخت جرم سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے لئے کوئی وجہ جوا زیا عذر یا ایسے حالات نہیں ہوتے جو اس جرم کے لئے مخفف (Mit gAting) ہوں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرم اور مجرم کے خلاف اسلام کی جانب سے یہ سختی اس وقت کی جاتی ہے جب ایک فرد کے لئے صحیح راہ پر چلنے کے تمام مواقع فراہم کردیئے جائیں ‘ یعنی معتدل مزاج لوگوں کے لئے درست طور پر زندگی بسر کرنے کے حالات موجود ہوں اور ایسے حالات موجود ہوں کہ ایک فرد اور ایک جماعت اگر چاہیں تو پاکیزہ زندگی بسر کرسکتے ہوں ۔ ان تمام باتوں کے باوجود اسلامی نظام حکومت اور اسلامی نظام عدالت مجرم کو مکمل قانونی تحقیقات اور قانونی فیصلے کے حقوق دیتا ہے ۔ اگر ذرا بھی شبہ پیدا ہوجائے تو شبہات کی وجہ سے حدود ساقط کردیئے جاتے ہیں ۔ نیز اس کے لئے توبہ کا دروازہ بھی کھلا چھوڑا جاتا ہے جس کے مطابق بعض حالات میں اس کا جرم اس دنیا میں بھی معاف ہو سکتا ہے جبکہ آخرت میں اس کے تمام جرائم اور گناہوں کو بہرحال اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں گے ۔۔۔۔ ۔۔ اس درس میں ہم اس کے تمام پہلو اور نمونے پائیں گے اور متعدد و احکام اور قوانین کا ذکر ہوگا ۔
لیکن آیات کی تفسیر اور براہ راست احکام پر کلام کرنے سے پہلے ‘ اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک عام اور اہم بات یہاں نوٹ کرلی جائے یعنی وہ معاشرہ کیسا ہوگا جس میں یہ سخت قوانین نافذ ہوں گے اور قوت نافذہ کے لئے حدود وقیود کیا ہیں ؟
اس سبق میں جو احکام اور قوانین وارد ہیں ‘ چاہے ان کا تعلق ان جرائم سے ہو جو نفس کے خلاف ہوں یا ان احکام سے ہو جو نظام مملکت کے خلاف ہوں یا ان احکام سے جو کسی کے مال کے خلاف ہوں ؟ ان کی حیثیت ان دوسرے شرعی احکام جیسی ہی ہے جو جرائم حدود ‘ قصاص اور تعزیرات میں وارد ہیں ۔ یعنی یہ تمام احکام تب نافذ ہوں گے جب ان کی قوت نافذہ اسلامی معاشرے کی شکل میں ‘ دارالاسلام میں موجود ہو۔ لہذا ضروری ہے کہ شریعت کے مطابق دارالاسلام کی تعریف بھی کردی جائے ۔
اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک پوری دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہے اور ہم کوئی تیسرا بلاک تسلیم نہیں کرتے ۔
پہلا بلاک دارالاسلام ہے اور اس سے مراد وہ ملکت ہے جس کے اندر اسلامی احکام نافذ ہوتے ہیں ۔ جس کا قانونی نظام شریعت پر مبنی ہو ‘ چاہے اس کے باشندے سب کے سب مسلمان ہوں یا مسلمانوں اور ذمیوں دونوں پر مشتمل ہوں یا اس کے لوگو سب کے سب غیر مسلم ہوں اور حکمران مسلمان ہو اور اسلامی ملک کا قانون ہو اور فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے ہیں ۔ (اگرچہ ذمہ پر تمام احکام اسلامی شریعت لازمی نہیں ہیں ‘ اسلام کے صرف سول اور فوجداری احکام لازم ہیں) یا صورت یہ ہو کہ تمام آبادی مسلم ہے یا مسلم اور غیر مسلم مشترکہ آبادی ہو لیکن اس ملک پر حربی غیری مسلموں کا قبضہ ہوجائے لیکن ملک کا قانون نظام نہ بدلا گیا ہو اور ملک کے باشندے بدستور اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہوں ۔ اس لئے کسی ملک کے دارالاسلام ہونے کا مکمل دارومدار صرف اس بات پر ہے کہ اس کا قانونی نظام شریعت کے مطابق ہے یا نہیں اور یہ کہ اس کے اندر تنازعات کا فیصلہ شریعت پر ہوتا ہے یا کسی دوسرے قانون پر ۔
دوسرا دارالحرب ہے اور دارا الحرب ہر وہ ملک ہے جس میں اسلامی شریعت نافذ نہ ہو اور جس میں فیصلے شریعت کے مطابق نہ ہوتے ہوں ، رہے اس کے باشندے تو وہ جس مذہب وملت کے پیروکار ہوں ‘ چاہے وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوں ‘ چاہے وہ اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہوں ‘ یا وہ دوسرے کفار ہوں وہ دارالحرب کے باشندے ہوں گے ۔ اس لئے کسی ملک کے دارالحرب ہونے کا مدار بھی مکمل طور پر صرف اس بات پر ہے کہ اس کے اندر اسلامی قوانین کا نفاذ نہ ہو اور اس کے اندر عدالتوں میں فیصلے اسلامی شریعت کے مطابق نہ ہوں ۔ ایسے مالک کو ایک مسلمان اور ایک اسلامی جماعت کے نقطہ نظر سے دارالحرب کہا جائے گا ۔
مسلم معاشرہ وہ ہوتا ہے جو دارالاسلام میں قائم ہو ‘ اپنے درج بالا مفہوم کے مطابق ۔۔۔۔۔ اور یہ اسلامی معاشرہ جو اسلامی منہاج کے مطابق ہو ‘ جس پر شریعت اسلامی کی حکمرانی ہو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس میں لوگوں کی جانوں کو تحفظ دیا جائے ‘ اس میں لوگوں کے اموال کو تحفظ دیا جائے ‘ اس کے نظام مملکت کو بچایا جائے اور اس میں اور صرف اس میں ان مجرموں پر یہ منصوص سزائیں جاری کی جائیں جن کا ذکر ان آیات میں ہوگا اور جو ان لوگوں کے خلاف نافذ ہوں جو لوگوں کی جان ‘ مال اور مملکت میں خلل انداز ہو رہے ہوں ۔ اس درس اور اس کے علاوہ دوسری قرآنی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت ہی بلند اور صاحب فضیلت معاشرہ ہوگا ۔ اس میں عدل اور آزادیاں ہوں گی ۔ اس معاشرے میں روز گار اور ضروریات زندگی کی ضمانت ہوگی چاہے کوئی کام کرنے پر قادر ہو یامعذور ہو ۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہوگا جس میں بھلائی پر آمادہ کرنے والے عوامل زیادہ ہوں گے اور برائی پر آمادہ کرنے والے فیکٹر بہت ہی کم ہوں گے ۔ اس لئے ایسے معاشرے کا ان تمام لوگوں پر حق ہوگا جو اس کے اندر رہتے ہیں اور اس سے نفع اندوز ہوتے ہیں کہ وہ اس معاشرے کی دل و جان سے حفاظت کریں اور وہ دوسرے باشندگان ملک کے تمام مالی ‘ جانی ‘ عزت کے اور اخلاق کے حقوق کی رعایت و حفاظت کریں ۔ یہ تمام باشندے اس دارالاسلام کی حفاظت کریں جس میں وہ صحیح وسالم اور امن وامان سے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ جس میں ان کو مکمل سیکورٹی حاصل ہے ‘ جس میں ان کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں اور جس میں ان کو تمام خصائص انسانی کے مراتب حاصل ہیں ‘ جس میں ان کو تمام سوشل اور اجتماعی حقوق حاصل ہیں بلکہ تمام باشندوں کا فرض ہے کہ وہ ان تمام حقوق کی حفاظت کریں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی دارالاسلام کے اس نظام کے مقابلے میں بغاوت پر اتر آتا ہے تو وہ ظالم ‘ گناہ گار ‘ شرپسند اور تخریب کار ہے اور اس بات کا مستحق ہے کہ اسے سخت سے سخت سزا دی جائے ، لیکن اس میں بھی اسے یہ حقوق دیئے گئے ہیں کہ کسی کو محض ظن اور شب ہے کی بان پر نہ پکڑا جائے اور یہ اصول اس قانون پر بھی لاگو ہوگا کیونکہ شبہات کی وجہ سے حدود ساقط ہوجاتے ہین۔
رہا دارالحرب جس کی تعریف اوپر کردی گئی ہے تو وہ اور اس کے باشندے اس بات کے مستحق ہی نہیں ہیں کہ ان کو اسلامی شریعت کے اندر نافذ کردہ سزاؤں کا فائدہ دیا جائے ‘ اسلئے کہ وہاں تو سرے سے شریعت کا نفاذ ہی نہیں ہوتا۔
نہ یہ معاشرہ اسلام کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے ۔ پھر یہ دارالحرب ان مسلمانوں کو بھی تحفظ فراہم نہیں کرتا جو دارالاسلام میں رہتے ہیں اور جو اپنے ہاں اسلامی شریعت کو نافذ کرتے ہیں ۔ ان دارالکفر اور دارالحرب والوں کے نزدیک مسلمانوں کی جان ومال مباح ہے ۔ اس لئے اسلام کے نزدیک ایسے لوگوں کا کوئی احترام نہیں ہے الا یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی کا کوئی عہد ہو ‘ اور ان کے اور دارالاسلام والوں کے نزدیک معاہدے طے ہوجائیں ۔ اسلامی شریعت یہ تمام سہولیتیں جو دارالاسلام میں مسلمانوں کو حاصل ہیں ان افراد کو بھی فراہم کرتی ہے جو دارالحرب سے دارالاسلام کو ہجرت یا سفر کرکے آتے ہیں ۔ جب وہ دارالاسلام میں معاہدہ امن کے ساتھ داخل ہوجائیں اور اس میں عہد کی مدت طے ہو اور وہ دارالاسلام کے حدود کے اندر آجائیں جس کا حاکم مسلمان ہو اور مسلمان حاکم وہی ہوتا ہے جو دارالاسلام میں شریعت حقہ کو نافذ کرے ۔
المائدة 5:25
(آیت) ” قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (24)
(لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ” اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ‘ جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب ‘ دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں) یوں بزدل صفوں سے نکل جاتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ خطرات سے ڈر کر پانبر نجیر ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح گدھوں کے پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے ۔ بزدلی اور بےشرمی آپس میں متضاد نہیں ہیں نہ ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ یہ اوصاف بعض اوقات اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ایک بزدل جب اپنے فرائض کی طرف آگے بڑھتا ہے تو وہ بزدلی دکھا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ وہ اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح اس نے فرض کو ترک کردیا ۔ پھر وہ اس مقصد ہی کو برا کہتا ہے ‘ اس دعوت کو بھی برا بھلا کہتا ہے ‘ جو اس سے بات کا مطالبہ کرتی ہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا ۔
(آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں) یہ تھی ایک کمزور اور بزدل کی عاجزی اس کی زبان سے بہت ہی تیز ہے لیکن مقصد کی طرف بڑھنے کے لئے اس کے قدم بوجھ ہیں اور وہ تیروں کی چبھن محسوس کرتا ہے ۔ (آیت) ” فاذھب انت وربک “۔ (5 : 24) (جاؤ تم اور تمہارا رب) اگر وہ اب ہمیں جنگ پر مجبور کرتا ہے تو ہم اس کی الوہیت کو قبول نہیں کرتے ، یہ تمہارا رب ہے ۔ (آیت) ” انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں) ہمیں نہ تو مملکت کی ضرورت ہے ‘ نہ عزت کی ضرورت ہے ‘ نہ ارض موعودہ کی ضرورت ہے ۔ اس وقت تک اس میں جبار قوم موجود ہے ۔۔۔۔ یہ تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد کا انجام ۔۔۔۔ طویل سفر ‘ اس میں ذلت و خواری ‘ اور بنی اسرائیل کی جانب سے بار بار انحراف ‘ پہلوتہی اور قدم قدم پر نافرمانی ۔۔۔۔۔ یقینا یہ ان کا انجام ہے کہ وہ ارض مقدس کی فتح سے الٹے پھرتے ہیں ، حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ساتھ ہیں اور وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہدوپیمان سے پھرتے ہیں ۔ حالانکہ اس عہد قدیم کا اس عہد یعنی فتح بیت المقدس سے گہرا ربط تھا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مایوسی کے عالم میں کریں تو کیا کریں ؟
(آیت) ” قال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین “۔ (5 : 25) (اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” اے میرے رب ‘ میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر میری اپنی ذات یا میرا بھائی ‘ پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کر دے ۔ “
یہ ایک ایسی پکار ہے جو رنج والم سے بھری ہوئی ہے ۔ اس میں ایک طرف التجاء ہے تو دوسری جانب مکمل تسلیم ورضا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کن پختگی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچھی طرح علم تھا اور یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کے بھائی کے سوا اور کوئی کا حامی نہیں رہا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک شرمندہ انسان کے ضعف اور ایک نبی جو کلیم اللہ ہے ‘ اس کے ایمان کے بیچ میں کھڑے ہیں اور ایک راست باز مومن کی طرح عزم صمیم کئے ہوئے ہیں ۔ ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے کہ صرف اللہ کی متوجہ ہوں اور اس کے سامنے اپنے درد و دکھ کا اظہار بشکل سرگوشی کریں اور یہ مطالبہ کریں کہ اے اللہ مجھے اجازت دے دے کہ میں اس فاسق قوم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوجاؤں اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے پختہ عہد سے روگردانی اختیار کرلی تو اب ان کے ساتھ نبی کلیم کا تعلق ہی کیا رہ گیا ہے ؟ وہ ان کے ساتھ بوجہ نسب نامہ مربوط نہ تھے ‘ نہ یہ کہ ان کی تاریخ ایک ہے ‘ نہ ان کا واسطہ ان کے ساتھ اس اساس پر تھا کہ انہوں نے ایک جگہ مل کر جدوجہد کی تھی اور رفیق کار تھے ۔ ان کے درمیان رابطہ تو دعوت الی الحق کی اساس پر ہی تھا ۔ ان کے درمیان رابطہ یہی عہد قدیم تھا اور یہ عہد انہوں نے توڑ ڈالا تھا ۔ اس لئے ان کے درمیان مکمل قطع تعلق ہوگیا اور نہایت ہی گہرائی تک چلا گیا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے درمیان کوئی رابطہ ہی نہیں رہا ہے ۔ حضرت اپنے عہد ومیثاق کے پابند ہیں اور قوم نے اس سے نافرمانی اختیار کرلی ہے ۔ وہ عہد پر پختہ جمے ہوئے ہیں اور قوم اس سے برگشتہ ہوگئی ہے ۔
یہ ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ادب اور احترام ۔ اور یہی ہے ان کی سنت اور یہی ہے ایک سچے مومن کا منصوبہ ۔ اور یہی ہے وہ اساس اور رابطہ جس پر لوگ جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں ۔ اس راہ میں قوم ‘ نسب ‘ نسل اور مشترکہ تاریخ کچھ چیز نہیں ہے اس میں اس زمین کے تعلقات میں سے کوئی تعلق کام نہیں دیتا ۔ راہ میں جب نظریات کا تعلق ٹوٹ جائے تو تمام تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں اور جب عقیدے جدا ہوجائیں تو راستے اور منہاج بھی جدا ہوجاتے ہیں ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی پکار کا جواب دیتے ہیں اور فاسقوں کو پوری پوری سزا دے دی جاتی ہے ۔
(آیت) ” قال فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ ، یتیھون فی الارض ، فلا تاس علی القوم الفسقین “۔ (26)
” اللہ نے جواب دیا ” اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک ان پر حرام ہے ‘ یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے ‘ ان نافرمانوں کی حالت پر ہر گز ترس نہ کھاؤ۔ )
اللہ تعالیٰ نے ان بدبختوں کو صحراؤں کے حوالے کردیا حالانکہ وہ ارض مقدس کی دہلیز پر تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ سرزمین حرام کردی جو ان کے لئے لکھ دی گئی تھی اور راجح قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس وقت موجود نسل پر اس سرزمین کو حرام کردیا تھا ‘ اور جب تک ان کے نطفوں سے جدید نسل تیار نہ ہوئی وہ اسی طرح مارے مارے پھرتے رہے ۔ چناچہ ان پر ازض موعود میں داخلہ اس وقت تک ممنوع رہا جب تک نئی نسل تیار نہ ہوگئی ‘ ایسی نسل جو نصیحت قبول کرتی ہو ‘ یہ نسل خالص صحرا نوروی کی حالت میں تیار ہوئی اور یہ بالکل آزاد منش اور حریت پسند تھی ۔ یہ وہ نسل نہ تھی جسے ذلت ‘ غلامی اور مصریوں کے مظالم نے کمزوری کا خوگر بنا دیا تھا ۔ اس لئے وہ نسل اس کام کے لئے موزوں نہ تھی جو اولو العزم لوگوں کا کام ہے ۔ ذلت ‘ غلامی اور ظلم انسان کی فطرت کو خراب کردیتے ہیں ۔ اسی طرح ان چیزوں سے قوموں کی فطرت بھی خراب ہوجاتی ہے ۔ اس لئے کہ غلامی اور ظلم انسان کی فطرت کو خراب کردیتے ہیں ، اسی طرح ان چیزوں سے قوموں کی فطرت بھی خبراب ہوجاتی ہے اس لئے کہ غلامی میں قوموں کے ضمیر بدل جاتے ہیں ۔
یہاں آکر بات ختم ہوجاتی ہے اور ان لوگوں کو صحرا کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ اس پر مزید ان کے بارے میں یہاں کچھ نہیں کہا جاتا ۔ یہ ایک ایسا انداز ہے جس میں نفسیاتی عبرت آموزی اور فنی خوبصورت دونوں ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں یہ قرآن کریم کا خاص انداز بیان ہے ۔
اس سبق کو مسلمانوں نے اچھی طرح سمجھ لیا تھا ‘ اللہ نے ان کے سامنے یہ پوری کہانی اسی انداز میں رکھ دی تھی جس طرح وہ پیش آئی تھی ۔ چناچہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا : اے محمد ! آج ہم وہ بات نہ کہیں گے جو بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہی تھی کہ جاؤ تم اور تمہارا خدا لڑو تم دونوں ‘ ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں ۔ (فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “ (5 : 24) (قرآن کریم کے اندازتربیت کے یہ بعض نمونے ہیں ۔ قرآن عام قصص کے انداز میں تربیت کرتا ہے ‘ یہ تھے قصہ بنی اسرائیل کے بیان کی حکمت کے بعض پہلو) ۔
درس نمبر 48 ایک نظر میں :
اس سبق میں انسانی زندگی کے لئے بعض نہایت ہی اساسی قوانین وضع کئے گئے ہیں وہ احکام جو جان کی حفاظت کے لئے ہیں ۔ یہ احکام اس معاشرے کے لئے ہیں جس میں اسلامی زندگی رائج ہو ۔ ان قوانین کا مقصد اسلامی نظام زندگی کی حمایت اور اس نظام کے خلاف بغاوت کے راستوں کو بند کرتا ہے اور اس حکومت کو بچانا ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق قائم ہو اور شریعت کے زیر سایہ کام کر رہی ہو ۔ نیز اس سے سوسائٹی کا تحفظ مطلوب ہے جو شریعت اسلامی کے زیر سایہ اور ایک اسلامی حکومت کے زیر سایہ کام کر رہی ہو ۔ ان احکام سے اسلامی حکومت کی رعایا کے مال اور جان دونوں کی حفاظت مطلوب ہے ‘ بشرطیکہ یہ معاشرہ ‘ یہ حکومت اور یہ نظام اسلامی شریعت کے مطابق چل رہے ہوں ۔
اس پورے سبق میں ‘ سوسائٹی کی اجتماعی زندگی کے بچاؤ کے سلسلے میں نہایت ہی اساسی احکام دیئے گئے ہیں لیکن اس سبق کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے قصے سے کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ قتل و غارت کے اس جرم کے ارتکاب کے وقت مجرمین کی نفسیات کیا ہوتی ہیں ۔ وہ کیا اسباب اور فیکٹر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مجرم جرم کا ارتکاب کے وقت مجرمین کی نفسیات کیا ہوتی ہیں ۔ وہ کیا اسباب اور فیکٹر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مجرم جرم کا ارتکاب کرتا ہے نیز اس سبق میں بتایا جاتا ہے کہ یہ جرم نہایت ہی گھناؤنا ہے اور یہ کہ اس کا تدارک اور سدباب کرنا نہایت ہی ضروری ہے ۔ اس جرم کے مجرم کو سزا دینا بھی بہت ضروری ہے اور ان اسباب اور موثرات پر قابو پانا بھی ضروری ہے جس کی وجہ سے ایک شخص اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے ۔
معلوم ہوتا ہے کہ اس قصے کے تمام اشارات مکمل طور پر ان احکام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو اس قصے کے بعد آتے ہیں ۔ ایک غور وفکر سے پڑھنے والا اس بات کو بسہولت بسہولت محسوس کرسکتا ہے کہ اس سیاق کلام میں اس قصے کو لانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور وہ کس قدر عمیق اور تشفی بخش اشارہ ہے ‘ جو یہ قصہ نفس انسانی پر انڈیلتا ہے اور اسے اس میں پیوست کردیتا ہے ۔ یہ قصہ انسان کے دل و دماغ کو ان احکام کو قبول کرنے کے لئے آمادہ کردیتا ہے کہ وہ ان سخت سزاؤں کو قبول کرے جو اسلام محاربت اور جان کے خلاف جرائم اور نظام ملکیت کے خلاف جرائم اور نظام مملکت میں اسلامی عدالتوں کی طرف سے نافذ ہوں گی جو اسلامی شریعت کے مطابق کام کرتی ہیں ۔
اسلامی معاشرے کا فرض ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو اسلامی نظام کے مطابق شریعت محمدیہ کے تحت چلائے ۔ وہ اپنے معاملات ‘ اپنے روابط اور تعلقات اسلامی نظام اور اسلامی قانون شریعت کے مطابق منظم کرے ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق یہ معاشرہ ایک فرد کا کفیل بھی ہوگا ‘ ایک جماعت کا بھی وہ کفیل ہوگا اور فرد اور سوسائٹی دونوں کو انصاف ‘ سیکورٹی ‘ اطمینان اور سکون عطا کرسکے گا ۔ وہ ان تمام عناصر کے فساد کے دروازے بند کرسکے گا جو افراتفری ‘ بےچینی ‘ دباؤ اور گھٹن پیدا کرتے ہیں اور وہ تمام اسباب ختم ہوجائیں گے جن کی وجہ سے معاشرے کے اندر ظلم و زیادتی ہوتی ہے ۔ اسی طرح لوگوں کی حاجات اور ضروریات بھی بڑی آسانی سے پوری ہو سکیں گی ۔ اسی طرح اس قسم کے باہم متکافل ‘ متوازن ‘ منصفانہ اور فاضلانہ معاشرے کے اندر کسی کی جان اور مال پر ‘ کسی کی انفرادی کی ملکیت پر یا نظام مملکت کے خلاف اس قسم کے جرائم کا ارتکاب نہایت ہی بری حرکت اور سخت جرم سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے لئے کوئی وجہ جوا زیا عذر یا ایسے حالات نہیں ہوتے جو اس جرم کے لئے مخفف (Mit gAting) ہوں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرم اور مجرم کے خلاف اسلام کی جانب سے یہ سختی اس وقت کی جاتی ہے جب ایک فرد کے لئے صحیح راہ پر چلنے کے تمام مواقع فراہم کردیئے جائیں ‘ یعنی معتدل مزاج لوگوں کے لئے درست طور پر زندگی بسر کرنے کے حالات موجود ہوں اور ایسے حالات موجود ہوں کہ ایک فرد اور ایک جماعت اگر چاہیں تو پاکیزہ زندگی بسر کرسکتے ہوں ۔ ان تمام باتوں کے باوجود اسلامی نظام حکومت اور اسلامی نظام عدالت مجرم کو مکمل قانونی تحقیقات اور قانونی فیصلے کے حقوق دیتا ہے ۔ اگر ذرا بھی شبہ پیدا ہوجائے تو شبہات کی وجہ سے حدود ساقط کردیئے جاتے ہیں ۔ نیز اس کے لئے توبہ کا دروازہ بھی کھلا چھوڑا جاتا ہے جس کے مطابق بعض حالات میں اس کا جرم اس دنیا میں بھی معاف ہو سکتا ہے جبکہ آخرت میں اس کے تمام جرائم اور گناہوں کو بہرحال اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں گے ۔۔۔۔ ۔۔ اس درس میں ہم اس کے تمام پہلو اور نمونے پائیں گے اور متعدد و احکام اور قوانین کا ذکر ہوگا ۔
لیکن آیات کی تفسیر اور براہ راست احکام پر کلام کرنے سے پہلے ‘ اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک عام اور اہم بات یہاں نوٹ کرلی جائے یعنی وہ معاشرہ کیسا ہوگا جس میں یہ سخت قوانین نافذ ہوں گے اور قوت نافذہ کے لئے حدود وقیود کیا ہیں ؟
اس سبق میں جو احکام اور قوانین وارد ہیں ‘ چاہے ان کا تعلق ان جرائم سے ہو جو نفس کے خلاف ہوں یا ان احکام سے ہو جو نظام مملکت کے خلاف ہوں یا ان احکام سے جو کسی کے مال کے خلاف ہوں ؟ ان کی حیثیت ان دوسرے شرعی احکام جیسی ہی ہے جو جرائم حدود ‘ قصاص اور تعزیرات میں وارد ہیں ۔ یعنی یہ تمام احکام تب نافذ ہوں گے جب ان کی قوت نافذہ اسلامی معاشرے کی شکل میں ‘ دارالاسلام میں موجود ہو۔ لہذا ضروری ہے کہ شریعت کے مطابق دارالاسلام کی تعریف بھی کردی جائے ۔
اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک پوری دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہے اور ہم کوئی تیسرا بلاک تسلیم نہیں کرتے ۔
پہلا بلاک دارالاسلام ہے اور اس سے مراد وہ ملکت ہے جس کے اندر اسلامی احکام نافذ ہوتے ہیں ۔ جس کا قانونی نظام شریعت پر مبنی ہو ‘ چاہے اس کے باشندے سب کے سب مسلمان ہوں یا مسلمانوں اور ذمیوں دونوں پر مشتمل ہوں یا اس کے لوگو سب کے سب غیر مسلم ہوں اور حکمران مسلمان ہو اور اسلامی ملک کا قانون ہو اور فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے ہیں ۔ (اگرچہ ذمہ پر تمام احکام اسلامی شریعت لازمی نہیں ہیں ‘ اسلام کے صرف سول اور فوجداری احکام لازم ہیں) یا صورت یہ ہو کہ تمام آبادی مسلم ہے یا مسلم اور غیر مسلم مشترکہ آبادی ہو لیکن اس ملک پر حربی غیری مسلموں کا قبضہ ہوجائے لیکن ملک کا قانون نظام نہ بدلا گیا ہو اور ملک کے باشندے بدستور اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہوں ۔ اس لئے کسی ملک کے دارالاسلام ہونے کا مکمل دارومدار صرف اس بات پر ہے کہ اس کا قانونی نظام شریعت کے مطابق ہے یا نہیں اور یہ کہ اس کے اندر تنازعات کا فیصلہ شریعت پر ہوتا ہے یا کسی دوسرے قانون پر ۔
دوسرا دارالحرب ہے اور دارا الحرب ہر وہ ملک ہے جس میں اسلامی شریعت نافذ نہ ہو اور جس میں فیصلے شریعت کے مطابق نہ ہوتے ہوں ، رہے اس کے باشندے تو وہ جس مذہب وملت کے پیروکار ہوں ‘ چاہے وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوں ‘ چاہے وہ اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہوں ‘ یا وہ دوسرے کفار ہوں وہ دارالحرب کے باشندے ہوں گے ۔ اس لئے کسی ملک کے دارالحرب ہونے کا مدار بھی مکمل طور پر صرف اس بات پر ہے کہ اس کے اندر اسلامی قوانین کا نفاذ نہ ہو اور اس کے اندر عدالتوں میں فیصلے اسلامی شریعت کے مطابق نہ ہوں ۔ ایسے مالک کو ایک مسلمان اور ایک اسلامی جماعت کے نقطہ نظر سے دارالحرب کہا جائے گا ۔
مسلم معاشرہ وہ ہوتا ہے جو دارالاسلام میں قائم ہو ‘ اپنے درج بالا مفہوم کے مطابق ۔۔۔۔۔ اور یہ اسلامی معاشرہ جو اسلامی منہاج کے مطابق ہو ‘ جس پر شریعت اسلامی کی حکمرانی ہو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس میں لوگوں کی جانوں کو تحفظ دیا جائے ‘ اس میں لوگوں کے اموال کو تحفظ دیا جائے ‘ اس کے نظام مملکت کو بچایا جائے اور اس میں اور صرف اس میں ان مجرموں پر یہ منصوص سزائیں جاری کی جائیں جن کا ذکر ان آیات میں ہوگا اور جو ان لوگوں کے خلاف نافذ ہوں جو لوگوں کی جان ‘ مال اور مملکت میں خلل انداز ہو رہے ہوں ۔ اس درس اور اس کے علاوہ دوسری قرآنی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت ہی بلند اور صاحب فضیلت معاشرہ ہوگا ۔ اس میں عدل اور آزادیاں ہوں گی ۔ اس معاشرے میں روز گار اور ضروریات زندگی کی ضمانت ہوگی چاہے کوئی کام کرنے پر قادر ہو یامعذور ہو ۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہوگا جس میں بھلائی پر آمادہ کرنے والے عوامل زیادہ ہوں گے اور برائی پر آمادہ کرنے والے فیکٹر بہت ہی کم ہوں گے ۔ اس لئے ایسے معاشرے کا ان تمام لوگوں پر حق ہوگا جو اس کے اندر رہتے ہیں اور اس سے نفع اندوز ہوتے ہیں کہ وہ اس معاشرے کی دل و جان سے حفاظت کریں اور وہ دوسرے باشندگان ملک کے تمام مالی ‘ جانی ‘ عزت کے اور اخلاق کے حقوق کی رعایت و حفاظت کریں ۔ یہ تمام باشندے اس دارالاسلام کی حفاظت کریں جس میں وہ صحیح وسالم اور امن وامان سے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ جس میں ان کو مکمل سیکورٹی حاصل ہے ‘ جس میں ان کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں اور جس میں ان کو تمام خصائص انسانی کے مراتب حاصل ہیں ‘ جس میں ان کو تمام سوشل اور اجتماعی حقوق حاصل ہیں بلکہ تمام باشندوں کا فرض ہے کہ وہ ان تمام حقوق کی حفاظت کریں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی دارالاسلام کے اس نظام کے مقابلے میں بغاوت پر اتر آتا ہے تو وہ ظالم ‘ گناہ گار ‘ شرپسند اور تخریب کار ہے اور اس بات کا مستحق ہے کہ اسے سخت سے سخت سزا دی جائے ، لیکن اس میں بھی اسے یہ حقوق دیئے گئے ہیں کہ کسی کو محض ظن اور شب ہے کی بان پر نہ پکڑا جائے اور یہ اصول اس قانون پر بھی لاگو ہوگا کیونکہ شبہات کی وجہ سے حدود ساقط ہوجاتے ہین۔
رہا دارالحرب جس کی تعریف اوپر کردی گئی ہے تو وہ اور اس کے باشندے اس بات کے مستحق ہی نہیں ہیں کہ ان کو اسلامی شریعت کے اندر نافذ کردہ سزاؤں کا فائدہ دیا جائے ‘ اسلئے کہ وہاں تو سرے سے شریعت کا نفاذ ہی نہیں ہوتا۔
نہ یہ معاشرہ اسلام کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے ۔ پھر یہ دارالحرب ان مسلمانوں کو بھی تحفظ فراہم نہیں کرتا جو دارالاسلام میں رہتے ہیں اور جو اپنے ہاں اسلامی شریعت کو نافذ کرتے ہیں ۔ ان دارالکفر اور دارالحرب والوں کے نزدیک مسلمانوں کی جان ومال مباح ہے ۔ اس لئے اسلام کے نزدیک ایسے لوگوں کا کوئی احترام نہیں ہے الا یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی کا کوئی عہد ہو ‘ اور ان کے اور دارالاسلام والوں کے نزدیک معاہدے طے ہوجائیں ۔ اسلامی شریعت یہ تمام سہولیتیں جو دارالاسلام میں مسلمانوں کو حاصل ہیں ان افراد کو بھی فراہم کرتی ہے جو دارالحرب سے دارالاسلام کو ہجرت یا سفر کرکے آتے ہیں ۔ جب وہ دارالاسلام میں معاہدہ امن کے ساتھ داخل ہوجائیں اور اس میں عہد کی مدت طے ہو اور وہ دارالاسلام کے حدود کے اندر آجائیں جس کا حاکم مسلمان ہو اور مسلمان حاکم وہی ہوتا ہے جو دارالاسلام میں شریعت حقہ کو نافذ کرے ۔
المائدة 5:26
(آیت) ” قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُونَ (24)
(لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ” اے موسیٰ ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے ‘ جب تک وہ وہاں موجود ہیں ۔ بس تم اور تمہارا رب ‘ دونوں جاؤ اور لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں) یوں بزدل صفوں سے نکل جاتے ہیں اور شرمندہ ہوجاتے ہیں ۔ وہ خطرات سے ڈر کر پانبر نجیر ہوجاتے ہیں ‘ جس طرح گدھوں کے پاؤں باندھ دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ کوئی اقدام نہیں کرتے ۔ بزدلی اور بےشرمی آپس میں متضاد نہیں ہیں نہ ایک دوسرے سے دور ہیں ۔ یہ اوصاف بعض اوقات اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔ ایک بزدل جب اپنے فرائض کی طرف آگے بڑھتا ہے تو وہ بزدلی دکھا کر پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ وہ اس طرح نکل جاتا ہے جس طرح اس نے فرض کو ترک کردیا ۔ پھر وہ اس مقصد ہی کو برا کہتا ہے ‘ اس دعوت کو بھی برا بھلا کہتا ہے ‘ جو اس سے بات کا مطالبہ کرتی ہے جو وہ کرنا نہیں چاہتا ۔
(آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (بس تم اور تمہارا رب دونوں جاؤ اور لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں) یہ تھی ایک کمزور اور بزدل کی عاجزی اس کی زبان سے بہت ہی تیز ہے لیکن مقصد کی طرف بڑھنے کے لئے اس کے قدم بوجھ ہیں اور وہ تیروں کی چبھن محسوس کرتا ہے ۔ (آیت) ” فاذھب انت وربک “۔ (5 : 24) (جاؤ تم اور تمہارا رب) اگر وہ اب ہمیں جنگ پر مجبور کرتا ہے تو ہم اس کی الوہیت کو قبول نہیں کرتے ، یہ تمہارا رب ہے ۔ (آیت) ” انا ھھنا قعدون “۔ (5 : 24) (ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں) ہمیں نہ تو مملکت کی ضرورت ہے ‘ نہ عزت کی ضرورت ہے ‘ نہ ارض موعودہ کی ضرورت ہے ۔ اس وقت تک اس میں جبار قوم موجود ہے ۔۔۔۔ یہ تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عظیم جدوجہد کا انجام ۔۔۔۔ طویل سفر ‘ اس میں ذلت و خواری ‘ اور بنی اسرائیل کی جانب سے بار بار انحراف ‘ پہلوتہی اور قدم قدم پر نافرمانی ۔۔۔۔۔ یقینا یہ ان کا انجام ہے کہ وہ ارض مقدس کی فتح سے الٹے پھرتے ہیں ، حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ساتھ ہیں اور وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اس سرزمین کی دہلیز پر ہیں ۔ وہ اللہ کے ساتھ کئے ہوئے عہدوپیمان سے پھرتے ہیں ۔ حالانکہ اس عہد قدیم کا اس عہد یعنی فتح بیت المقدس سے گہرا ربط تھا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس مایوسی کے عالم میں کریں تو کیا کریں ؟
(آیت) ” قال رب انی لا املک الا نفسی واخی فافرق بیننا وبین القوم الفسقین “۔ (5 : 25) (اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ” اے میرے رب ‘ میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر میری اپنی ذات یا میرا بھائی ‘ پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کر دے ۔ “
یہ ایک ایسی پکار ہے جو رنج والم سے بھری ہوئی ہے ۔ اس میں ایک طرف التجاء ہے تو دوسری جانب مکمل تسلیم ورضا ہے اور اس کے بعد فیصلہ کن پختگی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اچھی طرح علم تھا اور یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ان کے بھائی کے سوا اور کوئی کا حامی نہیں رہا ہے ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ایک شرمندہ انسان کے ضعف اور ایک نبی جو کلیم اللہ ہے ‘ اس کے ایمان کے بیچ میں کھڑے ہیں اور ایک راست باز مومن کی طرح عزم صمیم کئے ہوئے ہیں ۔ ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی راہ نہیں ہے کہ صرف اللہ کی متوجہ ہوں اور اس کے سامنے اپنے درد و دکھ کا اظہار بشکل سرگوشی کریں اور یہ مطالبہ کریں کہ اے اللہ مجھے اجازت دے دے کہ میں اس فاسق قوم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا ہوجاؤں اس لئے کہ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اپنے پختہ عہد سے روگردانی اختیار کرلی تو اب ان کے ساتھ نبی کلیم کا تعلق ہی کیا رہ گیا ہے ؟ وہ ان کے ساتھ بوجہ نسب نامہ مربوط نہ تھے ‘ نہ یہ کہ ان کی تاریخ ایک ہے ‘ نہ ان کا واسطہ ان کے ساتھ اس اساس پر تھا کہ انہوں نے ایک جگہ مل کر جدوجہد کی تھی اور رفیق کار تھے ۔ ان کے درمیان رابطہ تو دعوت الی الحق کی اساس پر ہی تھا ۔ ان کے درمیان رابطہ یہی عہد قدیم تھا اور یہ عہد انہوں نے توڑ ڈالا تھا ۔ اس لئے ان کے درمیان مکمل قطع تعلق ہوگیا اور نہایت ہی گہرائی تک چلا گیا ۔ اب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے درمیان کوئی رابطہ ہی نہیں رہا ہے ۔ حضرت اپنے عہد ومیثاق کے پابند ہیں اور قوم نے اس سے نافرمانی اختیار کرلی ہے ۔ وہ عہد پر پختہ جمے ہوئے ہیں اور قوم اس سے برگشتہ ہوگئی ہے ۔
یہ ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب سے ادب اور احترام ۔ اور یہی ہے ان کی سنت اور یہی ہے ایک سچے مومن کا منصوبہ ۔ اور یہی ہے وہ اساس اور رابطہ جس پر لوگ جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں ۔ اس راہ میں قوم ‘ نسب ‘ نسل اور مشترکہ تاریخ کچھ چیز نہیں ہے اس میں اس زمین کے تعلقات میں سے کوئی تعلق کام نہیں دیتا ۔ راہ میں جب نظریات کا تعلق ٹوٹ جائے تو تمام تعلقات ٹوٹ جاتے ہیں اور جب عقیدے جدا ہوجائیں تو راستے اور منہاج بھی جدا ہوجاتے ہیں ۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی پکار کا جواب دیتے ہیں اور فاسقوں کو پوری پوری سزا دے دی جاتی ہے ۔
(آیت) ” قال فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ ، یتیھون فی الارض ، فلا تاس علی القوم الفسقین “۔ (26)
” اللہ نے جواب دیا ” اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک ان پر حرام ہے ‘ یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے ‘ ان نافرمانوں کی حالت پر ہر گز ترس نہ کھاؤ۔ )
اللہ تعالیٰ نے ان بدبختوں کو صحراؤں کے حوالے کردیا حالانکہ وہ ارض مقدس کی دہلیز پر تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر وہ سرزمین حرام کردی جو ان کے لئے لکھ دی گئی تھی اور راجح قول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس وقت موجود نسل پر اس سرزمین کو حرام کردیا تھا ‘ اور جب تک ان کے نطفوں سے جدید نسل تیار نہ ہوئی وہ اسی طرح مارے مارے پھرتے رہے ۔ چناچہ ان پر ازض موعود میں داخلہ اس وقت تک ممنوع رہا جب تک نئی نسل تیار نہ ہوگئی ‘ ایسی نسل جو نصیحت قبول کرتی ہو ‘ یہ نسل خالص صحرا نوروی کی حالت میں تیار ہوئی اور یہ بالکل آزاد منش اور حریت پسند تھی ۔ یہ وہ نسل نہ تھی جسے ذلت ‘ غلامی اور مصریوں کے مظالم نے کمزوری کا خوگر بنا دیا تھا ۔ اس لئے وہ نسل اس کام کے لئے موزوں نہ تھی جو اولو العزم لوگوں کا کام ہے ۔ ذلت ‘ غلامی اور ظلم انسان کی فطرت کو خراب کردیتے ہیں ۔ اسی طرح ان چیزوں سے قوموں کی فطرت بھی خراب ہوجاتی ہے ۔ اس لئے کہ غلامی اور ظلم انسان کی فطرت کو خراب کردیتے ہیں ، اسی طرح ان چیزوں سے قوموں کی فطرت بھی خبراب ہوجاتی ہے اس لئے کہ غلامی میں قوموں کے ضمیر بدل جاتے ہیں ۔
یہاں آکر بات ختم ہوجاتی ہے اور ان لوگوں کو صحرا کے حوالے کردیا جاتا ہے ۔ اس پر مزید ان کے بارے میں یہاں کچھ نہیں کہا جاتا ۔ یہ ایک ایسا انداز ہے جس میں نفسیاتی عبرت آموزی اور فنی خوبصورت دونوں ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں یہ قرآن کریم کا خاص انداز بیان ہے ۔
اس سبق کو مسلمانوں نے اچھی طرح سمجھ لیا تھا ‘ اللہ نے ان کے سامنے یہ پوری کہانی اسی انداز میں رکھ دی تھی جس طرح وہ پیش آئی تھی ۔ چناچہ انہوں نے اپنے نبی سے کہا : اے محمد ! آج ہم وہ بات نہ کہیں گے جو بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہی تھی کہ جاؤ تم اور تمہارا خدا لڑو تم دونوں ‘ ہم تو یہاں ہی بیٹھے ہیں ۔ (فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “ (5 : 24) (قرآن کریم کے اندازتربیت کے یہ بعض نمونے ہیں ۔ قرآن عام قصص کے انداز میں تربیت کرتا ہے ‘ یہ تھے قصہ بنی اسرائیل کے بیان کی حکمت کے بعض پہلو) ۔
درس نمبر 48 ایک نظر میں :
اس سبق میں انسانی زندگی کے لئے بعض نہایت ہی اساسی قوانین وضع کئے گئے ہیں وہ احکام جو جان کی حفاظت کے لئے ہیں ۔ یہ احکام اس معاشرے کے لئے ہیں جس میں اسلامی زندگی رائج ہو ۔ ان قوانین کا مقصد اسلامی نظام زندگی کی حمایت اور اس نظام کے خلاف بغاوت کے راستوں کو بند کرتا ہے اور اس حکومت کو بچانا ہے جو اللہ کے حکم کے مطابق قائم ہو اور شریعت کے زیر سایہ کام کر رہی ہو ۔ نیز اس سے سوسائٹی کا تحفظ مطلوب ہے جو شریعت اسلامی کے زیر سایہ اور ایک اسلامی حکومت کے زیر سایہ کام کر رہی ہو ۔ ان احکام سے اسلامی حکومت کی رعایا کے مال اور جان دونوں کی حفاظت مطلوب ہے ‘ بشرطیکہ یہ معاشرہ ‘ یہ حکومت اور یہ نظام اسلامی شریعت کے مطابق چل رہے ہوں ۔
اس پورے سبق میں ‘ سوسائٹی کی اجتماعی زندگی کے بچاؤ کے سلسلے میں نہایت ہی اساسی احکام دیئے گئے ہیں لیکن اس سبق کا آغاز حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے قصے سے کیا گیا ہے ۔ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ قتل و غارت کے اس جرم کے ارتکاب کے وقت مجرمین کی نفسیات کیا ہوتی ہیں ۔ وہ کیا اسباب اور فیکٹر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مجرم جرم کا ارتکاب کے وقت مجرمین کی نفسیات کیا ہوتی ہیں ۔ وہ کیا اسباب اور فیکٹر ہوتے ہیں جن کی وجہ سے مجرم جرم کا ارتکاب کرتا ہے نیز اس سبق میں بتایا جاتا ہے کہ یہ جرم نہایت ہی گھناؤنا ہے اور یہ کہ اس کا تدارک اور سدباب کرنا نہایت ہی ضروری ہے ۔ اس جرم کے مجرم کو سزا دینا بھی بہت ضروری ہے اور ان اسباب اور موثرات پر قابو پانا بھی ضروری ہے جس کی وجہ سے ایک شخص اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے ۔
معلوم ہوتا ہے کہ اس قصے کے تمام اشارات مکمل طور پر ان احکام کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں جو اس قصے کے بعد آتے ہیں ۔ ایک غور وفکر سے پڑھنے والا اس بات کو بسہولت بسہولت محسوس کرسکتا ہے کہ اس سیاق کلام میں اس قصے کو لانے کا مقصد کیا ہے ؟ اور وہ کس قدر عمیق اور تشفی بخش اشارہ ہے ‘ جو یہ قصہ نفس انسانی پر انڈیلتا ہے اور اسے اس میں پیوست کردیتا ہے ۔ یہ قصہ انسان کے دل و دماغ کو ان احکام کو قبول کرنے کے لئے آمادہ کردیتا ہے کہ وہ ان سخت سزاؤں کو قبول کرے جو اسلام محاربت اور جان کے خلاف جرائم اور نظام ملکیت کے خلاف جرائم اور نظام مملکت میں اسلامی عدالتوں کی طرف سے نافذ ہوں گی جو اسلامی شریعت کے مطابق کام کرتی ہیں ۔
اسلامی معاشرے کا فرض ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو اسلامی نظام کے مطابق شریعت محمدیہ کے تحت چلائے ۔ وہ اپنے معاملات ‘ اپنے روابط اور تعلقات اسلامی نظام اور اسلامی قانون شریعت کے مطابق منظم کرے ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق یہ معاشرہ ایک فرد کا کفیل بھی ہوگا ‘ ایک جماعت کا بھی وہ کفیل ہوگا اور فرد اور سوسائٹی دونوں کو انصاف ‘ سیکورٹی ‘ اطمینان اور سکون عطا کرسکے گا ۔ وہ ان تمام عناصر کے فساد کے دروازے بند کرسکے گا جو افراتفری ‘ بےچینی ‘ دباؤ اور گھٹن پیدا کرتے ہیں اور وہ تمام اسباب ختم ہوجائیں گے جن کی وجہ سے معاشرے کے اندر ظلم و زیادتی ہوتی ہے ۔ اسی طرح لوگوں کی حاجات اور ضروریات بھی بڑی آسانی سے پوری ہو سکیں گی ۔ اسی طرح اس قسم کے باہم متکافل ‘ متوازن ‘ منصفانہ اور فاضلانہ معاشرے کے اندر کسی کی جان اور مال پر ‘ کسی کی انفرادی کی ملکیت پر یا نظام مملکت کے خلاف اس قسم کے جرائم کا ارتکاب نہایت ہی بری حرکت اور سخت جرم سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے لئے کوئی وجہ جوا زیا عذر یا ایسے حالات نہیں ہوتے جو اس جرم کے لئے مخفف (Mit gAting) ہوں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرم اور مجرم کے خلاف اسلام کی جانب سے یہ سختی اس وقت کی جاتی ہے جب ایک فرد کے لئے صحیح راہ پر چلنے کے تمام مواقع فراہم کردیئے جائیں ‘ یعنی معتدل مزاج لوگوں کے لئے درست طور پر زندگی بسر کرنے کے حالات موجود ہوں اور ایسے حالات موجود ہوں کہ ایک فرد اور ایک جماعت اگر چاہیں تو پاکیزہ زندگی بسر کرسکتے ہوں ۔ ان تمام باتوں کے باوجود اسلامی نظام حکومت اور اسلامی نظام عدالت مجرم کو مکمل قانونی تحقیقات اور قانونی فیصلے کے حقوق دیتا ہے ۔ اگر ذرا بھی شبہ پیدا ہوجائے تو شبہات کی وجہ سے حدود ساقط کردیئے جاتے ہیں ۔ نیز اس کے لئے توبہ کا دروازہ بھی کھلا چھوڑا جاتا ہے جس کے مطابق بعض حالات میں اس کا جرم اس دنیا میں بھی معاف ہو سکتا ہے جبکہ آخرت میں اس کے تمام جرائم اور گناہوں کو بہرحال اللہ تعالیٰ معاف فرمائیں گے ۔۔۔۔ ۔۔ اس درس میں ہم اس کے تمام پہلو اور نمونے پائیں گے اور متعدد و احکام اور قوانین کا ذکر ہوگا ۔
لیکن آیات کی تفسیر اور براہ راست احکام پر کلام کرنے سے پہلے ‘ اس بات کی ضرورت ہے کہ ایک عام اور اہم بات یہاں نوٹ کرلی جائے یعنی وہ معاشرہ کیسا ہوگا جس میں یہ سخت قوانین نافذ ہوں گے اور قوت نافذہ کے لئے حدود وقیود کیا ہیں ؟
اس سبق میں جو احکام اور قوانین وارد ہیں ‘ چاہے ان کا تعلق ان جرائم سے ہو جو نفس کے خلاف ہوں یا ان احکام سے ہو جو نظام مملکت کے خلاف ہوں یا ان احکام سے جو کسی کے مال کے خلاف ہوں ؟ ان کی حیثیت ان دوسرے شرعی احکام جیسی ہی ہے جو جرائم حدود ‘ قصاص اور تعزیرات میں وارد ہیں ۔ یعنی یہ تمام احکام تب نافذ ہوں گے جب ان کی قوت نافذہ اسلامی معاشرے کی شکل میں ‘ دارالاسلام میں موجود ہو۔ لہذا ضروری ہے کہ شریعت کے مطابق دارالاسلام کی تعریف بھی کردی جائے ۔
اسلام اور مسلمانوں کے نزدیک پوری دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہے اور ہم کوئی تیسرا بلاک تسلیم نہیں کرتے ۔
پہلا بلاک دارالاسلام ہے اور اس سے مراد وہ ملکت ہے جس کے اندر اسلامی احکام نافذ ہوتے ہیں ۔ جس کا قانونی نظام شریعت پر مبنی ہو ‘ چاہے اس کے باشندے سب کے سب مسلمان ہوں یا مسلمانوں اور ذمیوں دونوں پر مشتمل ہوں یا اس کے لوگو سب کے سب غیر مسلم ہوں اور حکمران مسلمان ہو اور اسلامی ملک کا قانون ہو اور فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے ہیں ۔ (اگرچہ ذمہ پر تمام احکام اسلامی شریعت لازمی نہیں ہیں ‘ اسلام کے صرف سول اور فوجداری احکام لازم ہیں) یا صورت یہ ہو کہ تمام آبادی مسلم ہے یا مسلم اور غیر مسلم مشترکہ آبادی ہو لیکن اس ملک پر حربی غیری مسلموں کا قبضہ ہوجائے لیکن ملک کا قانون نظام نہ بدلا گیا ہو اور ملک کے باشندے بدستور اسلامی قانون کے مطابق فیصلے کرتے ہوں ۔ اس لئے کسی ملک کے دارالاسلام ہونے کا مکمل دارومدار صرف اس بات پر ہے کہ اس کا قانونی نظام شریعت کے مطابق ہے یا نہیں اور یہ کہ اس کے اندر تنازعات کا فیصلہ شریعت پر ہوتا ہے یا کسی دوسرے قانون پر ۔
دوسرا دارالحرب ہے اور دارا الحرب ہر وہ ملک ہے جس میں اسلامی شریعت نافذ نہ ہو اور جس میں فیصلے شریعت کے مطابق نہ ہوتے ہوں ، رہے اس کے باشندے تو وہ جس مذہب وملت کے پیروکار ہوں ‘ چاہے وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہوں ‘ چاہے وہ اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہوں ‘ یا وہ دوسرے کفار ہوں وہ دارالحرب کے باشندے ہوں گے ۔ اس لئے کسی ملک کے دارالحرب ہونے کا مدار بھی مکمل طور پر صرف اس بات پر ہے کہ اس کے اندر اسلامی قوانین کا نفاذ نہ ہو اور اس کے اندر عدالتوں میں فیصلے اسلامی شریعت کے مطابق نہ ہوں ۔ ایسے مالک کو ایک مسلمان اور ایک اسلامی جماعت کے نقطہ نظر سے دارالحرب کہا جائے گا ۔
مسلم معاشرہ وہ ہوتا ہے جو دارالاسلام میں قائم ہو ‘ اپنے درج بالا مفہوم کے مطابق ۔۔۔۔۔ اور یہ اسلامی معاشرہ جو اسلامی منہاج کے مطابق ہو ‘ جس پر شریعت اسلامی کی حکمرانی ہو وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس میں لوگوں کی جانوں کو تحفظ دیا جائے ‘ اس میں لوگوں کے اموال کو تحفظ دیا جائے ‘ اس کے نظام مملکت کو بچایا جائے اور اس میں اور صرف اس میں ان مجرموں پر یہ منصوص سزائیں جاری کی جائیں جن کا ذکر ان آیات میں ہوگا اور جو ان لوگوں کے خلاف نافذ ہوں جو لوگوں کی جان ‘ مال اور مملکت میں خلل انداز ہو رہے ہوں ۔ اس درس اور اس کے علاوہ دوسری قرآنی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک نہایت ہی بلند اور صاحب فضیلت معاشرہ ہوگا ۔ اس میں عدل اور آزادیاں ہوں گی ۔ اس معاشرے میں روز گار اور ضروریات زندگی کی ضمانت ہوگی چاہے کوئی کام کرنے پر قادر ہو یامعذور ہو ۔ یہ ایک ایسا معاشرہ ہوگا جس میں بھلائی پر آمادہ کرنے والے عوامل زیادہ ہوں گے اور برائی پر آمادہ کرنے والے فیکٹر بہت ہی کم ہوں گے ۔ اس لئے ایسے معاشرے کا ان تمام لوگوں پر حق ہوگا جو اس کے اندر رہتے ہیں اور اس سے نفع اندوز ہوتے ہیں کہ وہ اس معاشرے کی دل و جان سے حفاظت کریں اور وہ دوسرے باشندگان ملک کے تمام مالی ‘ جانی ‘ عزت کے اور اخلاق کے حقوق کی رعایت و حفاظت کریں ۔ یہ تمام باشندے اس دارالاسلام کی حفاظت کریں جس میں وہ صحیح وسالم اور امن وامان سے زندگی بسر کرتے ہیں ۔ جس میں ان کو مکمل سیکورٹی حاصل ہے ‘ جس میں ان کو تمام بنیادی حقوق حاصل ہیں اور جس میں ان کو تمام خصائص انسانی کے مراتب حاصل ہیں ‘ جس میں ان کو تمام سوشل اور اجتماعی حقوق حاصل ہیں بلکہ تمام باشندوں کا فرض ہے کہ وہ ان تمام حقوق کی حفاظت کریں۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی دارالاسلام کے اس نظام کے مقابلے میں بغاوت پر اتر آتا ہے تو وہ ظالم ‘ گناہ گار ‘ شرپسند اور تخریب کار ہے اور اس بات کا مستحق ہے کہ اسے سخت سے سخت سزا دی جائے ، لیکن اس میں بھی اسے یہ حقوق دیئے گئے ہیں کہ کسی کو محض ظن اور شب ہے کی بان پر نہ پکڑا جائے اور یہ اصول اس قانون پر بھی لاگو ہوگا کیونکہ شبہات کی وجہ سے حدود ساقط ہوجاتے ہین۔
رہا دارالحرب جس کی تعریف اوپر کردی گئی ہے تو وہ اور اس کے باشندے اس بات کے مستحق ہی نہیں ہیں کہ ان کو اسلامی شریعت کے اندر نافذ کردہ سزاؤں کا فائدہ دیا جائے ‘ اسلئے کہ وہاں تو سرے سے شریعت کا نفاذ ہی نہیں ہوتا۔
نہ یہ معاشرہ اسلام کی حاکمیت کو تسلیم کرتا ہے ۔ پھر یہ دارالحرب ان مسلمانوں کو بھی تحفظ فراہم نہیں کرتا جو دارالاسلام میں رہتے ہیں اور جو اپنے ہاں اسلامی شریعت کو نافذ کرتے ہیں ۔ ان دارالکفر اور دارالحرب والوں کے نزدیک مسلمانوں کی جان ومال مباح ہے ۔ اس لئے اسلام کے نزدیک ایسے لوگوں کا کوئی احترام نہیں ہے الا یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی کا کوئی عہد ہو ‘ اور ان کے اور دارالاسلام والوں کے نزدیک معاہدے طے ہوجائیں ۔ اسلامی شریعت یہ تمام سہولیتیں جو دارالاسلام میں مسلمانوں کو حاصل ہیں ان افراد کو بھی فراہم کرتی ہے جو دارالحرب سے دارالاسلام کو ہجرت یا سفر کرکے آتے ہیں ۔ جب وہ دارالاسلام میں معاہدہ امن کے ساتھ داخل ہوجائیں اور اس میں عہد کی مدت طے ہو اور وہ دارالاسلام کے حدود کے اندر آجائیں جس کا حاکم مسلمان ہو اور مسلمان حاکم وہی ہوتا ہے جو دارالاسلام میں شریعت حقہ کو نافذ کرے ۔
المائدة 5:27
(آیت) ” نمبر 27 تا 31۔
یہ ایک قصہ ہے جو بطور نمونہ شر اور ظلم یہاں لایا گیا ہے ۔ یہ ایک ایسے صریح ظلم کا نمونہ ہے جس کے لئے کوئی وجہ جواز نہ ہو اور یہی قصہ ایک ایسا نمونہ بھی پیش کرتا ہے جو نیک نفسی اور رواداری کا اعلی نمونہ ہے اور یہ نمونہ نہایت ہی پاک طینت اور صلح کل نمونہ ہے ۔ اس قصے میں یہ دونوں نمونے ایک دوسرے کے بالمقابل پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہر اک اپنے مزاج کے مطابق اور اپنی فطرت کے مطابق عمل کرتا ہے ۔ یہ قصہ اس جرم کی نقشہ کشی کرتا ہے ‘ جو بدی اور صریح ظلم کا مظہر ہے اور اسے پڑھ کر انسانی ضمیر میں جوش آتا ہے اور وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ ایسے صریح ظلم کے خلاف قانون قصاص ضروری ہے ۔ ایک عادلانہ قانون نظام ہی اس بدی صریح ظلم کے ارتکاب سے روکتا ہے جس کے بعد یہ بدی ظلم کے ارتکاب سے رک جائے گی اور اسے ارتکاب جرم سے خوفزدہ کرکے باز رکھا جاسکے گا ۔ اگر اس تخویف کے بعد بھی بدی جرم کا ارتکاب کرتی ہے تو اسے منصفانہ سزا کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ وہی سزا جو اس بدی کے جرم کے بالکل مناسب ہو ‘ تاکہ معاشرے کے نیک نفس لوگوں کو بچایا جائے اور نیک نفس لوگوں کی جان ومال محفوظ ہوں اس کے لئے اس قصے میں جس قسم کے نیک نفس لوگوں کا نمونہ پیش کیا گیا ہے وہ اس کے مستحق ہیں کہ انہیں تحفظ دیا جائے ‘ وہ زندہ رہ سکیں ‘ امن سے رہیں اور ایک عادلانہ قانونی نظام وانتظام کے تحت رہیں ۔
قرآن کریم نے ان دو بھائیوں کے نام اور زمان ومکان کے بارے میں تفصیلات نہیں دی ہیں ‘ اگرچہ بعض روایات اس سلسلے میں ہابیل اور قابیل کے بارے میں وارد ہیں ۔ یہ دونوں حضرت آدم کے بیٹے تھے اور ان کے درمیان تنازعہ کی تفصیلات بھی ان روایات میں دی گئی ہیں کہ ان دونوں کا تنازعہ دو بہنوں کے سلسلے میں تھا ۔ لیکن ہم اس قصے کو اسی طرح مجمل چھوڑنے ہی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ تمام روایات قطعی الثبوت نہیں ہیں ۔ یہ اہل کتاب سے لی گئی ہیں ۔ یہ قصہ عہد قدیم میں آیا ہے جہاں دونوں کے نام بھی لئے گئے ہیں اور اس میں اس واقعہ کا زمان ومکان بھی دیا گیا ہے جیسا کہ روایات میں آتا ہے ۔ اس قصے کے متعلق جو ایک صحیح حدیث وارد ہے اس میں بھی تفصیلات نہیں دی گئیں ۔ یہ روایت حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” کہ کوئی شخص بھی اگر ظلما قتل ہوگا تو حضرت آدم کے پہلے بیٹے پر اس خون کی ذمہ داری میں سے ایک حصہ ہوگا کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل انسان کا رواج ڈالا ۔ “ (روایت امام احمد) اس کا سلسلہ سند یہ ہے اعمش ‘ عبداللہ ابن مرہ ‘ مسروق ‘ عبداللہ ابن مسعود ؓ ابو داؤد کے سوا دوسرے محدثین نے بھی اسے روایت کیا ہے ۔ اس کے بارے میں ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت انسان کی زندگی کے ابتدائی دنوں میں پیش آیا ۔ اور یہ قتل عمل کا پہلا واقعہ تھا اور قاتل کو اس قدر بھی معلوم نہ تھا کہ وہ اب میت کو کس طرح دفنائے ۔
اس قصے کو اسی مجمل چھوڑنا جس طرح قرآن کریم میں آیا ہے ۔ مقصد قصہ پر کوئی اثر نہیں ڈالتا ۔ جس غرض کے لئے اسے لایا گیا ہے وہ اچھی طرح سے پوری ہوجاتی ہے اور اس کے اشارات وہدایات پوری طرح سمجھ میں آجاتے ہیں ۔ قصے کے جو بنیادی مقاصد ہیں ‘ روایات کی تصیلات ان پر کوئی چیز زیادہ نہیں کرتی اس لئے ہم بھی اسے یہاں چھوڑ دیتے ہیں۔ نہ تفصیلات کی ضرورت ہے اور نہ اختصار کی ۔
(آیت) ” وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ ابْنَیْْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَاناً فَتُقُبِّلَ مِن أَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الآخَرِ قَالَ لَأَقْتُلَنَّکَ قَالَ إِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ (27)
” اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بےکم وکاست سنا دو ۔ جب ان دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اس نے کہا ” میں تجھے مار ڈالوں گا ۔ “ اس نے جواب دیا ” اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے ۔
یعنی ان لوگوں کے ان دو نمونوں میں سے دونوں کی مثال پیش کرو ‘ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے ان واقعات کے بعد سچائی پر مبنی یہ دو نمونے ان کے سامنے رکھو ۔ یہ قصہ اپنی روایت کے اعتبار سے بالکل سچا ہے اور یہ اس لحاظ سے بھی حق ہے کہ انسانی فطرت کے اندر یہ دو نمونے ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں ۔ پھر یہ اس پہلو سے بھی حق ہے کہ یہ ایک منصفانہ نظام عدل کا تقاضا کرتا ہے جس سے شرپسندلوگ ارتکاب جرم سے باز آجائیں ۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کے ان دو بیٹوں کے حالات ایسے تھے کہ ان میں کسی ایک کا قتل کے لئے آمادہ ہوجانا اپنے اندر کوئی جواز نہیں رکھتا ۔ یہ دونوں اللہ کے مطیع فرمان ہیں۔ دونوں قربانی کرتے ہیں ۔ (آیت) ” اذ قربا قربانا “۔ (5 : 27) (جب دونوں نے قربانی کی) لیکن ہوا یہ کہ ایک کی قبول کی گئی اور دوسرے سے قبول نہ ہوئی (آیت) ” فتقبل من احدھما ولم یتقبل من الاخر “۔ (5 : 27)
یہاں فتقبل من فعل مجہول استعمال ہوا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ قربانی کا قبول کیا جانا یا نہ کیا جانا ‘ ایک ایسا معاملہ ہے جو غیبی قوت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس کی کیفیت بھی غیبی ہے ۔ غائب کا صیغہ استعمال کرنے کے دو فائدے ہیں ۔ ایک یہ کہ ہمیں اس قبولیت اور عدم قبولیت کی کیفیت کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ تفاسیر میں ان آیات کی تشریح میں بہت سے قصے بیان کئے گئے ہیں اور یہ قصے عہد نامہ قدیم سے لئے گئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ جس کی قربانی قبول ہوئی ‘ اس نے کوئی جرم نہ کیا تھا کہ اس کے ساتھ عناد کیا جائے اور اس کے قتل کی سازش کی جائے ‘ اس لئے کہ قربانی کی قبولیت میں اس کا کوئی دخل نہ تھا ‘ بلکہ یہ قبولیت انسانی نقطہ نظر سے ایک غیبی قوت کی جانب سے ایک غیبی کیفیت کے مطابق ہوئی ۔ یہ قوت ان دونوں کے ادراک سے وراء ہے اور اس کی مشیت بھی انسان کی میشت سے وارء ہے ۔ لہذا اس فعل پر اپنے بھائی کا گلا گھوٹنے کا اس کے پاس کوئی جواز نہ تھا یا یہ جواز بھی نہ تھا کہ بھائی کے قتل کے لئے کوئی جوش میں آجائے ۔ اس معاملے میں قتل پر آمادہ ہوجانا کسی بھی سلیم الفطرت انسان سے مستبعد ہے کیونکہ معاملہ عبادت کا ہے اور قبولیت اور عدم قبولیت قوت غیبہ کی طرف سے ہے جس میں کسی انسان کا کوئی داخل نہیں ہے ۔
(آیت) ” قال لاقتلنک “۔ (5 : 27) (میں تجھے مار ڈالوں گا) نظر آتا ہے کہ قاتل اس فعل کے ارتکاب پر تلا ہوا تھا اس لئے اس نے نہایت ہی مؤکد صیغہ استعمال کیا ہے ۔ قاتل یہاں جوش و خروش کا اظہار بغیر کسی معقول وجہ کے کر رہا ہے یعنی اس کا یہ غصہ بالکل بلاوجہ ہے ۔ اس کی اگر کوئی وجہ ہے تو وہ اس کا خبیث ارادہ اور برا احساس ہے ‘ جو حسد اور بغض سے بھرا ہوا شعور ہے جس کی نشوونما کسی پاک نفس میں نہیں ہوتی ۔ قصے کے اس منظر میں پہلے مرحلے میں ہم اپنے آپ کو ظلم کے سامنے پاتے ہیں اگرچہ آیت مکمل نہیں ہوئی لیکن اس لفظ ہی سے ارتکاب جرم کے اشارے مل جاتے ہیں ۔
اب بات آگے بڑھتی ہے اور اس ظلم کو مزید بھیانک شکل دے دی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسرا نمونہ قابل قبول ہے پاک فطرت اور صلح کل ہے ۔
(آیت) ” قال انما یتقبل اللہ من المتقین “۔ (5 : 27) (بےشک اللہ متقیوں کی نذریں قبول کرتا ہے)
یہاں علی الاعلان بات کو اصلیت اور حقیقت کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے ۔ ایمان پر بھروسہ کیا جاتا ہے جسے قبولیت حاصل ہوتی ہے اور نہایت ہی لطیف انداز میں ظالم کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور اسے اس راہ کی طرف بلایا جاتا ہے جو قبولیت کی راہ سے اس صورت حال کی طرف بھی لطیف اشارہ کردیا جاتا ہے جو اس کے دل میں کھٹک رہی ہے اور اسے جوش دلاتی ہے اور بدی پر آمادہ کرتی ہے ۔
اس کے بعد مومن بھائی ‘ جو خدا ترس ‘ صلح کل اور پرامن شخصیت ہے وہ اپنے شریر بھائی کے دل میں پائے جانے والی وحشیانہ شرپسندی کے جوش کو کس طرح کم کرنا چاہتا ہے ۔
المائدة 5:28
(آیت) ” لَئِن بَسَطتَ إِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَا أَنَاْ بِبَاسِطٍ یَدِیَ إِلَیْْکَ لَأَقْتُلَکَ إِنِّیْ أَخَافُ اللّہَ رَبَّ الْعَالَمِیْنَ (28)
” اگر تو مجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا ۔ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ۔
یوں امن تقوی اور صلح کل کے نمونے کو مصور انداز میں یہاں پیش کردیا جاتا ہے ۔ یہ نمونہ ایک ایسے وقت میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس میں ایک عام انسانی ضمیر بھی نہایت اشتعال میں آجاتا ہے اگرچہ وہ بہت ٹھنڈا ہو۔ ایسے حالات میں ہر غیر جانبدار انسان ‘ ہر باضمیر انسان ضمیر بھی نہایت اشتعال میں آجاتا ہے اگرچہ وہ بہت ٹھنڈا ہو ۔ ایسے حالات میں ہر غیر جانبدار انسان ‘ ہر باضمیر انسان ظالم کے مقابلے میں اور مظلوم کے حق میں اٹھ جاتا ہے ۔ ان حالات میں بھی یہ مظلوم ‘ نہایت سنجیدہ ‘ نہایت مطمئن ہے حالانکہ وہ کھلی جارحیت کے خطرے سے دو چار ہے لیکن اس کا دل رب العالمین کے خوف سے بھرا ہوا ہے ‘ اس لئے وہ مطمئن ہے ۔
یہ نرم اور دلنواز بات اس کے لئے کافی تھی کہ اس دشمنی کو دوستی میں بدل دے ۔ حسد کو ٹھنڈا کرے ‘ شر کا جوش کم کردے ‘ ہیجان زدہ اعصاب کو ٹھنڈا کرکے اس شخص کو بھائی چارے کی محبت کے اندر لے آئے اور اس کے دل میں تقوی کا احساس پیدا ہوجائے ۔ ہاں یہ طرز عمل اس کے لئے بالکل کافی تھا لیکن یہ شخص باز نہیں آیا چناچہ نیک بھائی اسے متنبہ کرتا ہے اور آخرت کے برے انجام سے اسے ڈراتا ہے ۔
المائدة 5:29
(آیت) ” إِنِّیْ أُرِیْدُ أَن تَبُوء َ بِإِثْمِیْ وَإِثْمِکَ فَتَکُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ وَذَلِکَ جَزَاء الظَّالِمِیْنَ (29)
” میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تو ہی سمیٹ لے اور دوزخی بن کر رہے ۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے ۔ “
اگر تم میری طرف قتل کیلئے ہاتھ بڑھاؤ تو میرا مزاج تو یہ نہیں ہے کہ میں یہی کام تمہارے ساتھ کروں ۔ نہ یہ میری طبیعت ہے اس لئے کہ میں یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ میں اپنے بھائی کو قتل کر دو ۔ میرا ذہن ہی اس طرف نہیں جاتا۔ میں یہ کام اس لئے نہیں کرتا کہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ میں اینٹ کا جواب پتھر سے نہیں دے سکتا ۔ اس لئے میں تمہیں چھوڑتا ہوں کہ تم اپنے سابقہ گناہوں کے ذخیرے میں جن کی وجہ سے تمہاری نذر ہی مسترد ہوئی میرے قتل کے گناہ کا اضافہ بھی کرلے ۔ اس طرح تمہارا گناہ بھی بڑھے گا اور پھر سزا بھی بڑھتی چلی جائے گی ۔ (آیت) ” وذلک جزاء الظلمین “۔ (ظالموں کا یہی انجام ہوتا ہے)
اس طرح اس صالح بھائی نے ظالم کے سامنے جرم قتل کے ارتکاب سے اپنے خوف کو مصور کرکے پیش کیا تاکہ یہ ظالم بھائی اس ظلم کے ارتکاب سے باز آجائے جس پر اس کا نفس اسے بار بار آمادہ کرتا ہے اور پھر اسے اس طرز عمل پر شرمندہ کر دے کہ ایک بھائی ‘ صلح کل بھائی ‘ خدا ترس بھائی کے خلاف وہ کس قدر بری طرح سوچ رکھتا ہے ۔
اس خدا ترس بھائی نے ظالم کے سامنے جرم قتل کے بھیانک نتائج پیش کئے تاکہ وہ اس گناہ سے متنفر ہوجائے اور اسے دو چند سہ چند گناہ سے نکل آنے میں بہتری نظر آجائے اور وہ اللہ رب العالمین کا خوف اپنے دل کے اندر رکھے ۔ اس سلسلے میں یہ خدا ترس بھائی اس مقام تک چلا جاتا ہے جہاں تک کوئی انسان نہیں جاسکتا اور اس سے آگے شرک کے دفعیہ کے لئے اور کوئی صورت ہی نہیں رہتی ۔
لیکن جب تک ہمیں معلوم نہ ہو کہ اس کا انجام کیا ہوا اس شریر بھائی اور مفسد بھائی کی تصویر مکمل نہیں ہو سکتی ۔ اس انتہائی مثبت طرز عمل کا جواب وہ کیا دیتا ہے ۔ ؟
المائدة 5:30
(آیت) ” فَطَوَّعَتْ لَہُ نَفْسُہُ قَتْلَ أَخِیْہِ فَقَتَلَہُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ (30)
” آخرکا اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لئے آسان کردیا اور وہ اسے مار کر ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
ان تمام کوششوں کے باوجود اس وعظ ‘ اس نصیحت اور ڈراوے کے باوجود یہ شریر شخصیت جرم پر آمادہ ہوجاتی ہے اور جرم کا ارتکاب ہوجاتا ہے ۔ اس کے نفس نے اس کے لئے تمام نتائج آسان کردیئے ۔ تمام رکاوٹیں دور کردیں ۔ قتل پر وہ آسانی سے آمادہ کردیا گیا ۔ اس نے قتل کر ہی دیا لیکن کسے ؟ اپنے بھائی کو اور اب وہ خوفناک انجام کا مستحق ہے ۔ (آیت) ” فاصبح من الاخسرین “۔ (5 : 30) (وہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگیا)
اس نے اپنے نفس کا نقصان کیا ۔ اسے ہلاکت میں ڈال دیا ۔ وہ اپنے بھائی کا نقصان کر گیا ‘ جو اس کا ناصر اور ساتھی تھا ۔ اس نے دنیا کا نقصان اس طرح کیا کہ اس کی زندگی اس دنیا میں تلخ ہوگئی اور آخرت کا نقصان یوں ہوگا کہ آخرت میں اپنے اس قتل کا بھی بدلہ بھگتے گا اور بعد میں آنے والے تمام قاتلوں کے گناہ میں بھی حصہ دار ہوگا ۔
اب اس کے لئے اس کے جرم کو ایک نئی شکل میں لاتا جاتا ہے ۔ بھائی کا لاشہ پڑا ہے ‘ روح نکل چکی ہے ۔ گوشت کا ڈھیر ہے اور متعفن ہو رہا ہے ۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جو ناقابل برداشت ہے ‘ ایک لاش اس کا گناہ اب لاش کی صورت میں ہے ۔
اب اللہ کی مشیت یہ ہے کہ یہ ذات شریر اپنے کئے کے سامنے عاجز کھڑی ہو ‘ سمجھ نہ آئے کہ اب اس لاش کے ساتھ کیا کرے ۔ ابھی تو وہ قاتل ‘ خونریز اور سخت گیر تھا ۔ اور اب بےبس ۔ سمجھ نہیں آتی کہ اس لاش کو کس طرح ٹھکانے لگائے اب تو وہ ایک پرندے سے بھی عاجز ہے ۔
المائدة 5:31
(آیت) ” فَبَعَثَ اللّہُ غُرَاباً یَبْحَثُ فِیْ الأَرْضِ لِیُرِیَہُ کَیْْفَ یُوَارِیْ سَوْء ۃَ أَخِیْہِ قَالَ یَا وَیْْلَتَا أَعَجَزْتُ أَنْ أَکُونَ مِثْلَ ہَـذَا الْغُرَابِ فَأُوَارِیَ سَوْء ۃَ أَخِیْ فَأَصْبَحَ مِنَ النَّادِمِیْنَ (31)
” پھر اللہ نے ایک کوا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ۔ یہ دیکھ کر وہ بولا ” افسوس مجھ پر ! میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا ، اس کے بعد وہ اپنے کئے پر بہت بچھتایا)
روایات میں آتا ہے کہ ایک کوے نے دوسرے کو قتل کردیا یا اس نے دوسرے کوے کی لاش کو پایا ۔ یہ کوا زمین کھودنے لگا ۔ اس کے بعد اس نے گڑھے میں ڈال کر اس پر مٹی ڈالنا شروع کیا ، اس موقع پر اس قاتل نے افسوسناک انداز میں اپنی اس ندامت کا اظہار کیا اور پھر اپنے بھائی کی لاش کردیا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قاتل نے اس سے قبل کسی کو دفن ہوتے نہ دیکھا تھا ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ضرور لاش کو دفن کردیتا اور یہ ممکن ہے کہ اس زمین پر یہ پہلی میت ہو یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ۔ یا یہ کہ یہ قاتل نوجوان تھا اور اس نے اس سے قبل کسی کو میتوں کو دفناتے نہ دیکھا تھا ۔ دونوں باتیں اپنی جگہ درست ہیں ۔ نیز یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس قاتل کی ندامت نہ تھی ورنہ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتے بلکہ وہ نادم اس بات پر ہوا کہ اس کو اس فعل کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور اس فعل کے بعد اس کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ‘ اس کی زندگی تلخ ہوگئی اور وہ نفسیاتی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ۔
جس طرح کوے نے دوسرے کوے کی لاش کو دفن کیا ‘ اس طرح اس نے بھی دفن کیا ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کوے ایسا کرتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قاتل کو سکھانے کے لئے ایک کوے کو بھیج دیا ہو اور یہ خارق عادت کام تھا جو اللہ نے کوے سے کروایا ۔ یہ دونوں باتیں اللہ کے لئے برابر ہیں جو ذات زندہ انسان میں کمالات ودیعت کرتی ہے ‘ وہ ذات اس پر بھی قادر ہے کہ وہ ان کمالات کا صدور کسی بھی زندہ چیز سے کرا دے ۔ یہ دونوں امور اس کی قدرت میں ہیں ۔
اس مسلسل قصے کو پڑھنے اور دیکھنے کے بعد ذہن انسانی پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں ‘ قرآن یہاں ان کو ریکارڈ پر لاتا ہے تاکہ ان کو ایک شعوری سوچ بنا دے اور اس سوچ کی اساس پر اگر کوئی شخص قتل کا ارتکاب کر بھی لے تو اس سے منصفانہ قصاص لیا جائے اور مجرم کو معلوم ہو کہ اگر اس نے جرم کیا تو قانون قصاص اس کے انتظار میں ہے ۔
المائدة 5:32
(آیت) ” نمبر : 32۔
اس وجہ سے ‘ یعنی انسانیت کے اندر ایسے لوگوں کی موجودگی کی وجہ سے ‘ امن پسند ‘ صلح کل ‘ نیک فطرت اور پاک طینت لوگوں کے خلاف ایسے جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے ‘ جو شر اور ظلم سے بہت دور بھاگتے ہیں ‘ اور اس وجہ سے کہ بعض نہایت ہی فطری سرپسندوں پر واعظ ونصیحت اور ڈراوا کوئی اثر نہیں کرتا اور اس وجہ سے کہ اگر شر انسان کے رگ وپے میں سرایت کر جائئے تو ایسے لوگوں کے ساتھ امن اور آشتی مفید مطلب نہیں ہوتی اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قتل نفس کو گناہ کبیرہ اور جرم عظیم قرار دیا ۔ اسے اس قدر عظیم جرم قرار دیا کہ گویا اس مجرم نے تمام موجودہ انسانی نسل کو قتل کردیا ۔ پھر جس عمل کے ذریعے ایک شخص کی جان بچ جائے تو گویا اس شخص اور اس عمل نے تمام لوگوں کو زندگی بخش دی ۔ یہ بات ہم نے بنی اسرائیل کے لئے شریعت لکھتے وقت مقرر کردی تھی ۔ (تفصیلات احکام قصاص میں آرہی ہیں)
کسی کے قصاص میں قتل کئے جانے کے علاوہ قتل کردینا یا فساد فی الارض کو دور کرنے کے لئے کسی کے قتل کے علاوہ ‘ قتل اس قدر عظیم جرم ہے جس طرح کوئی تمام انسانوں کو قتل کر دے ۔ ہر نفس دوسرے نفس کے برابر ہے ۔ زندگی کا حق ہر ایک نفس کو حاصل ہے ۔ لہذا کسی ایک نفس کا قتل کرنا گویا تمام نفوس سے حق زندگی چھین لینے کے برابر ہے اس لئے حق حیات میں تمام نفوس شریک ہیں ۔ اسی طرح قتل سے تحفظ کا حق بھی تمام نفوس کو حاصل ہے اور زندگی کا بچانا سب کے لیے لازمی ہے ۔ چاہے حالت زندگی میں دفاع کیا جائے یا مرنے کے بعد قصاص جاری کر کے زندگی کا دفاع کیا جائے تاکہ مجرم دوسرے نفوس پر دست درازی نہ کرے ۔ اس طرح گویا قانون قصاص تمام زندہ لوگوں کو زندگی دینے کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے ۔ کیونکہ قانون قصاص سے زندہ رہنے کا حق فراہم ہوتا ہے جس میں تمام لوگ شریک ہیں ۔
ان احکام کے سلسلے میں ہم نے جو تشریح کی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم صرف دارالاسلام کے باشندوں پر منطبق ہوتا ہے ۔ مسلم ہوں ‘ ذمی ہوں یا مستامن ہوں۔ رہے اہل حرب (وہ لوگ جن سے مسلم حکومت پر سر جنگ ہے) تو ان کا خون مباح ہے الا یہ کہ ان کے اور دارالاسلام کے باشندوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہوجائے ۔ اسی طرح ان کے مال اور جائیداد کو بھی تحفظ حاصل نہ ہوگا ‘ اس لئے ہمیں اس قانون اصول کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے ۔ یہ بات بھی ہمیں ذہن نشین کرنا چاہئے کہ دارالاسلام وہ مملکت ہے جس میں اسلامی شریعت نافذ ہو ‘ اور حکومت کے تمام ادارے اس کے مطابق چلتے ہوں اور دارالحرب اور سرزمین ہے جس میں شریعت نافذ نہ ہو اور کاروبار مملکت میں شریعت کے احکام نہ مانے جاتے ہوں ۔
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر یہ اصول فرض کردیا تھا ‘ اس لئے یہ لوگ اس وقت اہل کتاب تھے ۔ جب تک توراۃ کے مطابق وہ کاروبار حکومت چلاتے اس وقت تک وہ دارالاسلام تصور ہوتے بشرطیکہ وہ احکام شریعت تحریف شدہ نہ ہو ۔ لیکن بنی اسرائیل نے ہمیشہ حدود شریعت سے تجاوز کیا حالانکہ اس ان کے رسول ان کے سامنے واضح طور پر شریعت کے احکام لے کر آئے تھے ۔ خود رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور ان کے بعد کے ادوار میں بھی آج تک ان میں ایسے لوگ بکثرت ہیں جو انکی شریعت توراۃ کی حدود سے تجاوز کرتے تھے ۔ قرآن کریم ان کے اس اسراف ‘ تجاوز اور دست درازی کو یہاں ریکارڈ کر رہا ہے جو بلاسبب تھی اور یہ بھی ریکارڈ پر لایا جاتا ہے کہ اللہ کے مقابلے میں اب ان کے پاس کوئی حجت نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ان کے پاس اللہ کے رسول آئے اور ان رسولوں نے شریعت کے احکام ان کے سامنے بیان کردیئے تھے ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ جَاء تْہُمْ رُسُلُنَا بِالبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم بَعْدَ ذَلِکَ فِیْ الأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (32)
(مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے در پے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں)
اور اس سے بڑا اسراف اور زیادتی اور کیا ہوگی کہ کوئی حدود اللہ سے تجاوز کرے اور اللہ کی شریعت پر دست درازی کرے ۔ اس طرح کہ یا تو اس میں تغیر وتبدل کرے اور یا اس کو مہمل چھوڑ دے ۔
سابقہ آیت میں یہ کہا گیا تھا کہ کسی کی جان لینا فساد فی الارض کے ضمن میں آتا ہے اور قاتل اور مفسد دونوں کی زندگی کو تحفظ سے متثنی کردیا گیا تھا ۔ اور یہ کہا گیا تھا کہ کسی کی ناحق جان لینا نہایت ہی گھناؤنا جرم ہے ۔ اس لئے کہ دارالاسلام میں ایک مسلم سوسائٹی کا امن وامان ‘ اور اس کی جانب سے بھلائی کے کاموں کو امن وامان اور سکون و اطمینان کے ساتھ سرانجام دینا بعینہ اسی طرح ضروری ہے جس طرح اسلامی مملکت میں افراد کا امن و سکون سے زندگی گزارنا ضروری ہے ۔ بلکہ اجتماعی امن کی ضرورت انفرادی امن سے زیادہ ہے اس لئے کہ افراد کو امن و سکون تب ہی نصیب ہوتا ہے جب سوسائٹی کو امن و سکون حاصل ہو ۔ نیز یہ بات اس سے بھی اہم ہے کہ اس قسم کی اعلیٰ اور فاضلانہ سوسائٹی کا امن متاثر نہ ہو اور ایسی سوسائٹی کو ہر قسم کے امن اور استحکام کی ضمانت حاصل ہو ۔ کیونکہ اس ضمانت سے اس قسم کی سوسائٹی میں افراد کو امن و سکون ملتا ہے اور وہ آزادی سے سرگرم رہ سکتے ہیں اور امن کے زیر سایہ ہی انسانی زندگی سکون کے ساتھ نشوونما پاتی ہے ۔ امن کی پر سکون فضا ہی میں ہر قسم کی بھلائی ‘ اخلاق فاضلہ ‘ پیداوار اور ترقی تسلسل کے ساتھ جاری رہ سکتی ہے ۔ ایسی ہی سوسائٹی اپنے افراد کو ضروریات زندگی کی ضمانت بھی دے سکتی ہے اور امن ہی ایسا ماحول اور ایسی فضا فراہم کرتا ہے جس کے اندر بھلائی کے بیج بوئے جاتے ہیں اور نشوونما پاتے ہیں ۔ اور اسی میں برائی کے بیج ختم کئے جاتے ہیں ۔ ایسی سوسائٹی کی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ وہ بیماریوں کا علاج کرنے سے بھی پہلے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کام کرتی ہے اور جہاں حفظان صحت کے اصول کام نہ کرسکیں وہاں پھر یہ علاج کرتی ہے ۔ یہ سوسائٹی ایک سلیم الفطرت شخص کے لئے کوئی ایسا موقع ہی باقی نہیں چھوڑتی جس میں وہ شر اور دست درازی پر آمادہ ہو ‘ ایسے حالات کے اندر اور ایسی سوسائٹی کے اندر پھر بھی اگر کوئی امن وامان کو تباہ کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو سمجھو کہ وہ مادہ خبیثہ ہے اور اسے بذریعہ آپریشن سوسائٹی کے وجود سے خارج کرنا ضروری ہے بشرطیکہ علاج کے دوسرے تمام طریقے ناکام ہوجائیں ۔۔۔۔۔ یہ ایسے ہی عناصر ہیں جن کے بارے میں اس آیت میں احکام آئے ہیں :
المائدة 5:33
(آیت) ” نمبر 33 تا 34۔
یہ جرم جس کے بارے میں یہ آیت آئی ہے اس کی حدود کیا ہیں ؟ یعنی کسی مسلم سربراہ مملکت کے خلاف بغاوت کرنا ‘ جو حکومت شریعت کے مطابق چلا رہا ہو۔ یہ خروج ایک جمعیت کی شکل میں ہو اور کوئی گروہ اس مملکت کے خلاف مغاوت پر اتر آیا ہو اور اس نے ایسی روش اختیار کرلی ہو جس سے دارالاسلام کے لوگوں کے اندر خوف وہراس پیدا ہو اور اس گروہ کی جانب سے باشندگان دارالاسلام کو مالی ‘ جانی اور عزت کے نقصان کے خطرات لاحق ہوں ۔ بعض فقہاء نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ اس قسم کی واردات شہری علاقوں سے دور ہو جہاں مملکت کی انتظامیہ کی دسترس نہ ہو ۔ بعض فقہاء نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ اس قسم کی واردات شہری علاقوں سے دور ہو جہاں مملکت کی انتظامیہ کی دسترس نہ ہو ۔ بعض فقہاء نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ اس قسم کے باغیوں کے گروہ کا جمع ہوجانا اور دست درازی کا آغاز کرنا اور عملا اگر نہ بھی ہو تو بالقوہ یہ پوزیشن اختیار کرلینا ہی اس آیت کے انطیاق کے لئے کافی ہے چاہے یہ گروہ شہروں کے اندر ہو یا باہر ہو اور یہ آخری رائے عملا زیادہ قریب الفہم ہے تاکہ باغیوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے ۔
یہ باغی وہ لوگ تصور ہوں گے ‘ جو ایسے حاکم کے خلاف ہوں جو شریعت کے مطابق حکومت کر رہا ہو اور یہ باغی دارالاسلام کے ان باشندوں پر دست درازی کی پوزیشن میں ہوں ‘ جن کے ہاں شریعت جاری ہو ‘ (چاہے یہ لوگ ذمی ہوں ‘ مسلمان ہوں یامستامن ہوں) یہ لوگ صرف حکم کے خلاف باغی نہ ہوں اور صرف لوگوں کے خلاف بغاوت نہ ہو ‘ بلکہ اللہ اور رسول کے خلاف بھی بغاوت ہو ۔ اللہ کی شریعت سے محاربت ہو اور ایک ایسی سوسائٹی کے ساتھ محاربت ہو جو اس شریعت کی اساس پر قائم کی گئی ہو ۔ نیز ان کی سرگرمیوں کی وجہ سے دارالاسلام کو خطرہ لاحق ہوگیا ہو ‘ ان کی یہ جنگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی خلاف تصور ہوگی ۔ یہ جنگ شریعت کے خلاف تصور ہوگا اس لئے کہ اللہ کی شریعت کو معطل کرنے سے بڑا فساد اس دنیا میں اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اور نہ اس سے زیادہ بڑا فساد کوئی ہو سکتا ہے کہ دارالاسلام کے وجود کو خطرہ لاحق ہوجائے ۔
یہ لوگ چونکہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے محاربت کرتے ہیں اگرچہ بظاہر وہ جماعت مسلمہ ‘ اسلامی سوسائٹی اور اس کے سربراہ کے خلاف برسرپیکار ہوتے ہیں ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے خلاف تو تلوار اٹھا ہی نہیں سکتے ‘ اور نہ ہی رسول اللہ ﷺ کی ذات کے خلاف تلوار اٹھا سکتے ہیں ‘ جبکہ آپ سے دنیا سے اٹھ چکے ہیں ۔ لیکن اگر کوئی جنگ اللہ کی شریعت کے خلاف ہو تو گویا وہ جنگ اللہ اور رسول کے خلاف ہو رہی ہے ۔ یہ جنگ اس سوسائٹی کے خلاف تصور ہوگی جس نے اللہ اور رسول کی شریعت کو اپنایا ہے اور اس علاقے کے خلاف ہوگی جس میں یہ شریعت نافذ ہو رہی ہو ۔
اس آیت کا ایک اور مفہوم بھی درج بالا مفہوم کے مطابق یہاں متعین ہوجاتا ہے ۔ وہ یہ کہ جس سربراہ مملکت کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق باغیوں کے خلاف آیت میں درج سزائیں دینے کا اختیار ہے وہ وہی سربراہ مملکت ہے جو اسلامی شریعت کے مطابق سربراہ بنا ہو اور جو شریعت کا نافذ کنندہ ہو ۔ ایسے بادشاہ کے علاوہ کسی اور بادشاہ یا سربراہ مملکت کو ایسے اختیارات نہ ہوں گے ۔
اس بات کی ہم فیصلہ کن وضاحت اس لئے کر رہے ہیں کہ حکومتوں کے بعض پٹھو جو ہر حکومت کو دسیتاب ہوجاتے ہیں ‘ وہ بعض حکومتوں کے لئے ایسی سزاؤں کے اختیارات ثابت کرتے ہیں ‘ جو شرعیت کی نافذ کنندہ نہیں ہوتیں حالانکہ وہ حکومتیں اپنے علاقے میں دارالاسلام قائم نہیں کرتیں اگرچہ وہ سمجھتی ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ۔ اسے پٹھوؤں نے ہمیشہ ان حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ان حکومتوں کے خلاف اٹھنے والوں کو یہ قرآنی سزائیں دیں ‘ اور انہیں اللہ کی شریعت کے عنوان سے نافذ کریں ‘ حالانکہ ان لادین حکومتوں کے ارکان اللہ اور رسول کے باغی ہوتے ہیں بلکہ وہ ایسی حکومتوں کے ارکان ہوتے ہیں جو اللہ اور رسول کی باغی ہوتی ہیں ۔
غرض اگر کوئی حکومت دارالاسلام میں اسلامی شریعت کی اساس پر قائم نہ ہو ‘ تو اسے اپنے باغیوں پر وہ سزائیں نافذ کرنے کا شرعی اختیار نہیں ہے ۔ ایسی لادین حکومتوں کا شریعت کے ساتھ تعلق ہی کیا ہوتا ہے ؟ یہ حکومت ایسی ہوتی ہے جنہوں نے اللہ کے حق الوہیت اور حق حاکمیت پر دست درازی کی ہوئی ہوتی ہے ۔ ان کا قانون شریعت کے ساتھ تعلق ہی کیا رہتا ہے ؟
ایسے باغی دستوں کے لئے یہ سزائیں تب ہوں گی جب وہ اسلامی خلیفہ کے خلاف بغاوت کریں اور وہ خلیفہ کے خلاف بغاوت کریں اور وہ خلیفہ اسلامی شریعت کا نافذ کنندہ اور حامی ہو ۔ یہ لوگ دارالاسلام کے باشندوں کے لئے خطرہ ہوں ‘ ان کی جان ‘ مال اور آبرو ان سے محفوظ نہ ہو ‘ تو تب انکو قتل کیا جانا جائز اور فرض ہوگا اور ان کو سزائے موت دی جاسکے گی ۔ بعض فقہاء نے یہ کہا ہے کہ قتل کرنے کے بعد لاشوں کو لٹکا دیا جائے گا تاکہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ عبرت ہوں اور یہ کہ ان کے ہاتھ کاٹے جائیں یعنی دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں پاؤں اور بائیں ہاتھ کے ساتھ دایاپاؤں ۔ (من خلاف) کا مفہوم یہ ہے ۔
اس آیت کے بارے میں فقہاء کے درمیان بہت ہی وسیع اختلاف رائے واقعہ ہوا ہے ۔ کیا امام کو اختیار ہے کہ باغیوں کو وہ ان سزاؤں میں سے جو چاہے سزا دے دے ‘ یا یہ کہ ان جرائم میں سے ہر جرم کی الگ سزا ہے ۔
امام ابوحنیفہ ‘ امام شافعی اور امام احمد (رح) سے مروی ہے کہ یہ سزائیں ان جرائم کے مطابق دی جائیں گی جو ان باغیوں سے صادر ہوئے ۔ اگر کوئی شخص صرف قتل کا ارتکاب نہ کیا تو اسے قطع ید کی سزا دی جائے گی ۔ جس نے قتل اور لوٹ دونوں میں حصہ لیا تو اسے قتل اور لٹکانے دونوں کی سزا دی جائے گی ۔ اور جس شخص نے محض خوف وہراس پھیلایا مگر نہ قتل کیا اور نہ مال کی لوٹ میں حصہ لیا تو اسے ملک بدری کی سزا دی جائے گی ۔
امام مالک سے روایت ہے کہ باغی نے اگر قتل کا ارتکاب کیا تو اسے لازما سزائے موت دی جائے گی اور امام وقت کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ وہ اسے قطع ید دیا ملک بدری کی سزا دے ‘ البتہ اسے یہ اختیار ہے کہ اسے قتل کرا دے یاسولی پر لٹکا دے ۔ اسی طرح اگر اس نے قتل کا ارتکاب نہ کیا تو اسے ملک بدری کا اختیار نہ ہوگا ۔ امام کو اختیار اس میں ہے کہ وہ قتل کرے یا سولی پر لٹکائے ‘ یا اگر قطع اعضاء کا فیصلہ کرے تو اعضائے مخالفہ میں سے جو بھی اختیار کرے ۔ اگر مجرموں سے قتل کرے یا سولی پر لٹکائے ‘ یا اگر قطع اعضاء کا فیصلہ کرے تو اعضائے مخالفہ میں سے جو بھی اختیار کرے ۔ اگر مجرموں سے یہ ڈر ہو ‘ کہ انہوں نے راستوں کو پر خطر بنا دیا ہے تو امام کو اختیار ہے کہ انہیں قتل کرے یا سولی پر چڑھائے یا ہاتھ کاٹ دے یا ملک بدری کی سزا دے اور اختیار تمیزی کا مفہوم امام مالک (رح) کے نزدیک یہ ہے کہ معاملہ امام کے اجتہاد پر موقوف ہے ۔ اگر باغی صاحب الرائے آدمی ہو اور بغاوت کی تدابیر کرسکتا ہو تو اجتہاد کا تقاضا یہ ہوگا کہ اسے قتل کردیا جائے یا سولی پر چڑھا دیا جائے کیونکہ محض قطع ید سے اس کی مضرت دفع نہ ہو سکے گی ، اگر وہ باغی صاحب رائے نہ ہو محض ایک قوی اور بہادر شخص ہو تو اسے صرف قطع ید من خلاف کی سزا دی جائے گی اور اگر اس میں یہ دونوں صفات کسی قدر پائی جاتی ہوں تو اسے ملک بدری اور تعزیری سزا دی جائے گی ۔ (التشریع الجنائی الاسلامی ‘ عبدالقادر عودہ)
ہمارے خیال میں امام مالک کی رائے زیادہ موزوں ہے کہ سزا کبھی تو محض بغاوت اور محاربہ پر یا قطع الطریق کے خطرے اور راستوں کو پر خطربنانے پر ہوتی ہے اور یہ سزا محض امتناعی (Preventive) ہوتی ہے ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ جرائم کا ارتکاب نہ ہو اور ان لوگوں کو ڈرانا مقصود ہو جو دارالاسلام کے امن وامان کو تباہ کرتے ہیں اور وہ اس سوسائٹی کو خوفزدہ کرتے ہوں جو دارالاسلام میں اسلامی شریعت کی اساس پر قائم ہوتی ہے ۔ حالانکہ یہ سوسائٹی اور دارالاسلام کا علاقہ اس بات کا سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ ان کے اندر امن و اطمینان قائم ہو۔
اسی طرح فقہاء کے اندر ملک بدری کے مفہوم کے اندر بھی اختلاف واقعہ ہوا ہے ۔ کیا ملک بدری صرف اس علاقے سے ہوگی جس میں جرم کا ارتکاب ہوا ہے یا اسے اس علاقے سے ملک بدر کردیا جائے گا جس میں اسے پھرنے کی اجازت ہوتی ہے اور یہ مقصد قید سے پورا ہوسکتا ہے یا یہ کہ اسے پورے کرہ ارض سے رخصت کر دیاجائے اور یہ تو سزائے موت ہی سے ممکن ہے۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہی مفہوم اقرب ہے کہ اس مجرم کو اس سرز میں سے باہر نکالا جائے گا جس کے اندر اس نے جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔ اسے اس قدر دور پھینک دیا جائے گا کہ وہ وہاں اپنے آپ کو غریب الوطن سمجھے ۔ وہ دھتکارا ہوا اور کمزور ہو اور یہ اس کے اس جرم کی پوری سزا ہے کہ اس نے لوگوں کو پریشاں کیا ‘ خوفزدہ کیا اور اپنی قوت کے بل بوتے پر لوگوں پر دست درازی کی ۔ یہ ملک بدری اس طرح ہو کہ وہ جہاں جائے جرم سے باز آجائے اور اس کا جتھا بھی وہاں نہ ہو یا وہ اپنے جتھے سے دور ہوجائے ۔
(آیت) ” ذَلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِیْ الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ(33)
” یہ ذلت ورسوائی تو ان کے لئے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لئے اس سے بڑی سزا ہے ۔
اس دنیا میں انہیں جو سزا ملے گی ‘ اس سے ان کی سزائے آخرت ساقط نہ ہوجائے گی اور آخرت میں وہ گناہ کی اس گندگی سے پاک نہ ہوں گے ‘ جس طرح بعض دوسرے حدود کے اندر انسان کو سزا ہوجائے تو وہ آخرت کے لئے پاک ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی اس سزا میں سختی کرنے کا ایک پہلو ہے اور اس سے اس جرم کو مزید گھناؤنا ظاہر کرنا مقصود ہے ۔ یہ اس لئے کہ دارالاسلام میں اسلامی سوسائٹی اس بات کی مستحق ہے کہ وہ پرامن زندگی بسر کرے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جو حکومت اسلامی شریعت کے مطابق قائم ہوتی ہے اس کا لوگوں پر یہ حق ہے کہ لوگ اس کے احکام کو تسلیم کریں ۔
اسلامی نظام حکومت کا ماحول ایک بھلائی کا ماحول ہوتا ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اسے پھلنے پھولنے کے مواقع فراہم کئے جائیں نیز اسلامی نظام زندگی ایک ایسا عادلانہ اور مکمل نظام ہے جس کی حفاظت مسلمانوں پر واجب ہوتی ہے ۔
اب یہ باغی اگر اپنی گمراہی کو ترک کردیں اور فساد کو چھوڑ دیں اور اپنے اس جرم کو برا اور منکر سمجھ کر باز آجائیں اور صدق دل سے تائب ہو کر راہ راست پر آجائیں اگرچہ وہ اب بھی ایسی پوزیشن میں ہوں کہ وہ اپنی مہم کو جاری رکھ سکتے ہوں اور اسلامی مملکت ان پر ہاتھ ڈال سکتی ہو ‘ تو ان کا جرم اور اس کی سزا دونوں معاف تصور ہوں گے ۔ اب حکومت کے لئے جائز نہ ہوگا کہ توبہ کرنے والے لوگوں پر ہاتھ دال دیا ۔ اللہ تعالیٰ چونکہ غفور ورحیم ہے ‘ اس لئے حساب آخرت میں بھی انہیں معاف کر دے گا۔
المائدة 5:34
(آیت) ” إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُواْ عَلَیْْہِمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(34)
” (مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاؤ۔۔۔۔۔ تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)
توبہ کرنے والوں کی سزا اور جرم معاف کرنے میں جو حکمت پوشیدہ ہے وہ بالکل واضح ہے اور اس کے دو پہلو ہیں ۔ پہلا یہ کہ ان کی توبہ کی حوصلہ افزائی کی جائے ‘ جبکہ وہ پر قوت تھے ‘ بغاوت جاری رکھ سکتے تھے اور یہ ان کی جانب سے اصلاح پذیری اور ہدایت پر آجانے کی قوی دلیل ہے ۔ دوسرا پہلو یہ ہوگا انہیں دیکھ کر اس قسم کے دوسرے لوگ بھی توبہ کرنے اور راہ راست پر آنے کے لئے آمادہ ہوجائیں گے ۔ اس طرح جنگ وجدل اور مقابلے کے ذریعے انہیں مغلوب کرنے کے بجائے آسان طریقوں سے انہیں راہ راست پر لے آنا ممکن ہوجائے گا ۔
اسلامی نظام زندگی انسان کی اصلاح کے لئے اس کے تمام جذبات ‘ میلانات ‘ اور تمام ذرائع اور احتمالات کو کام میں لاتا ہے اور یہ ایک ایسا نظام ہے جو خود انسانی مزاج اور فطرت کے بنانے والے نے بنایا ہے ۔ وہ ذات انسانی ذات کے نشیب و فراز سے خوف واقف ہے ۔ وہ ذات جانتی ہے کہ انسان کی اصلاح کس طرح ہو سکتی ہے اور کس ذریعے سے ہو سکتی ہے ۔ کیا وہ ذات نہیں جانتی جس نے انسان کو پیدا کیا ہے ‘ وہ تو لطیف وخبیر ہے ۔ (آیت) ” (الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر)
اسلامی نظام زندگی لوگوں پر صرف اسلامی قانون نافذ نہیں کرتا ۔ وہ قانون کی تلوار اٹھا کر لوگوں پر اس طرح مسلط کرتا ہے کہ وہ ڈر کر دوبارہ جرم کا ارتکاب نہ کریں ۔ سزا صرف ان لوگوں کو دی جاتی ہے جو ڈنڈے کے بغیر کسی صورت میں بھی اصلاح کی راہ پر نہیں آتے ۔ اسلام سب سے پہلے لوگوں کی قلبی تربیت پر زور دیتا ہے ۔ لوگوں کے مزاج کو درست کیا جاتا ہے اور ان کی روح کو راہ اصلاح پر لایا جاتا ہے ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسے معاشرے اور ایک ایسی سوسائٹی کا قیام بھی ضروری ہے جس کے اندر اصلاح ‘ نیکی اور بھلائی کے بیج بار آور ہو سکیں ۔ یہ بیج اسی زمین میں بار آور ہو سکتے ہیں جس کے اندر سے گندے پودوں اور جڑی بوٹیوں کو ختم کردیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی اقدامات کرتے ہی ‘ اصلاح روح اور تقوائے دل کی طرف کی طرف آجاتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں روحانیت اور ترسی پیدا کرنے کی سعی کی جاتی ہے ۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے اور اصلاح کی راہ اختیار کرنے کے لئے دوسرے وسائل بھی اختیار کئے جائیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سب سے بڑا وسیلہ اصلاح ہے ۔ اسلامی سوسائٹی کو کفر کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے اور آخرت کے عذاب کی ایسی تصویر کشی کی جاتی ہے جو نہایت ہی خوفناک ہوتی ہے اور ہر شخص اس کو دیکھ کر عبرت پکڑ سکتا ہے ۔
المائدة 5:35
(آیت) ” نمبر 35 تا 37۔
اسلامی نظام نفس انسانی کی اصلاح کے لیے ہر ذریعہ استعمال کرتا ہے اور اسے ہر پہلو سے گھیرتا ہے ۔ اسلامی نظام انسانی شخصیت کے باطن کی اصلاح بھی ضروری سمجھتا ہے ۔ وہ تمام ذرائع استعمال کرکے اسے اللہ کی اطاعت پر آمادہ کرتا ہے اور معصیت کردگار سے روکتا ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کا مقصد اولیں اصلاح فرد ہے اور ایک فرد کو ہر قسم کے انحراف سے بچانا مطلوب ہے ۔ اور سزا دہی کا نظام بھی ایک فرد بشر کی اصلاح ہی کا ایک ذریعہ ہے ۔ سزا دہی اصل مقصد ہے ہی نہیں ۔
ذرا اس سبق پر غور کیجئے کہ یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے واقعہ سے شروع ہوتا ہے ۔ اس سبق میں جا بجا اشارات ہیں ۔ اس کے بعد اس میں سزا کا اعلان کیا جاتا ہے تاکہ دلوں کو اس کی طرف جانے سے روکا جائے ۔ پھر خدا خوفی کی دعوت دی جاتی ہے اور خدا کے عذاب آخرت سے ڈرایا جاتا ہے اور سزا کی اس خوفناک تصویر کشی کے ساتھ ساتھ کہا جاتا ہے ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ “ (5 : 35) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈور)
یعنی مناسب یہی ہے کہ اصل خوف اللہ کا خوف ہے ‘ اور انسان جو اکرم المخلوقات ہے ‘ اس کے شایان شان بھی یہ ہے کہ وہ خدا سے ڈرے ۔ کوڑے اور تلوار اور ڈنڈے سے ڈرنا تو ایک گرا ہوا مقام ہے اور ڈنڈے کے ذریعے اصلاح کی تو صرف ان لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے تو لوگ گرے ہوئے ہوتے ہیں ۔ خدا ترسی تو ایک بہتر ‘ پاکیزہ تر اور شریفانہ مقام ہے ۔ پھر خدا ترسی ایک ایسا چوکیدار ہے جو دلوں میں بیٹھا ہوتا ہے جو اعلانیہ اور خفیہ دونوں حالتوں میں سر پر بیٹھا ہوتا ہے ۔ جن حالات میں انسان لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ۔ اس وقت بھی تقوی اس کا نگران ہوتا ہے ۔ ایسے معاملات میں صرف تقوی ہی بدی اور شر سے روکتا ہے ‘ جن میں انسان قانون کی گرفت سے دور ہوتا ہے ۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھنے کے لائق ہے کہ تقوی کے بغیر قانون کی گرفت ڈھیلی ہوتی ہے ‘ کیونکہ جو مجرم قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں ان کی تعداد ان لوگوں سے کئی گنا زیادہ ہوتی ہے جو قانون کی گرفت میں آجاتے ہیں ۔ جو معاشرہ صرف قانون پر قائم ہوتا ہے اس میں نہ کسی فرد کی اصلاح ہوتی ہے اور نہ اس معاشرے کی اصلاح ہوتی ہے ۔ قانون کے پیچھے ایک پوشیدہ چوکیدار کا ہونا ضروری ہے اور یہ چوکیدار صرف خدا خوفی کا چوکیدار ہوتا ہے جو ہر دل میں بوجہ خدا ترسی اور تقوی بیٹھا ہوتا ہے ۔
(آیت) ” وابتغوا الیہ الوسلۃ “۔ (5 : 35) (اور اس کی جناب میں باریابی کا ذریعہ تلاش کرو)
اللہ سے ڈرو اور اس تک جانے کا وسیلہ تلاش کرو ‘ اور ان اسباب کی تلاش کرو جو تمہیں اللہ کے ساتھ جوڑتے ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے ایک روایت ہے (آیت) ” وابتغوا الیہ الوسلۃ “۔ (5 : 35) (یعنی اس سے اپنی حاجات طلب کرو) کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب اللہ کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور پھر اپنی حاجات اللہ سے طلب کرتے ہیں تو وہ اس وقت بندگی کی صحیح پوزیشن میں ہوتے ہیں ۔ اس وقت اللہ کی ربوبیت پر انہیں پورا پورا یقین ہوجاتا ہے اور ایسے حالات میں وہ اصلاح اور فلاح دونوں کے قریب تر پہنچ جاتے ہیں ۔ یہ دونوں تفسیریں اس آیت کے الفاظ کے ساتھ لگا کھاتی ہے ۔ دونوں کے ذریعے دل کی دنیا کی اصلاح ‘ ضمیر اور روح کی زندگی اور وہ فلاح اخروی حاصل ہوتی ہے جو ہمارا نصب العین ہے ۔
(آیت) ” وجاھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون “۔ (5 : 35) (اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو ‘ شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوجائے)
اس کے مقابلے میں کفار کا منظر آتا ہے ‘ جو اللہ سے نہیں ڈرتے اور جو اللہ تک پہنچنے کے لئے ذریعے کی تلاش نہیں کرتے ۔ اور آخرت میں کامیاب نہیں ہوتے ۔ یہ زندہ اور متحرک منظر ہے ‘ نظروں کے بالکل سامنے ۔ قرآن ‘ اس آیت کے بیان میں بیانیہ اور احکام قانون کا انداز اختیار نہیں کرتا بلکہ ان کے بارے میں حرکات اور تاثراقت پیش کئے جاتے ہیں ۔ شاید قیامت کے بیان میں قرآن کریم کا یہ ایک خاص اسلوب ہے اور اس سے بیان کے تمام اغراض ومقاصد حاصل ہوجاتے ہیں ۔
المائدة 5:36
(آیت) ” إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَوْ أَنَّ لَہُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً وَمِثْلَہُ مَعَہُ لِیَفْتَدُواْ بِہِ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(36) یُرِیْدُونَ أَن یَخْرُجُواْ مِنَ النَّارِ وَمَا ہُم بِخَارِجِیْنَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ(37)
(خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے اگر ان کے قبضے میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں ‘ تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں دردناک سزا مل کر رہے گی ۔ وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔ )
بطور فرض انسان جو تصور کرسکتا ہے وہ یہی ہے کہ اہل کفر کے پاس زمین کے تمام خزانے ہوں اور اسی قدر مزید ان کے لئے فرض کیا جاسکتا ہے ۔ قرآن کریم ان کے لئے یہ بھی فرض کرتا ہے کہ اس جہان جیسا ایک دوسرا جہان بھی ان کے پاس ہو ۔ اس کے بعد قرآن کریم یہ فرض کرتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن یہ تمام مفروضہ دولت بطور فدیہ اور کفارہ کفر دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائیں ۔ قرآن کریم ایک ایسا منظر نظروں کے سامنے لاتا ہے کہ وہ آگ سے کس طرح نکلنا چاہتے ہیں مگر وہ نکل نہیں سکتے ۔ وہ اپنے اس مقصد اور ہدف میں ناکام رہتے ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جن ہم کی آگ میں زندہ رہتے ہیں ۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جس کے اندر کئی مناظر ہیں اور جس میں کئی مسلسل حرکات ہیں ۔ ایک منظر کفار کا ہے وہ اپنے پاس اس پورے جہان کی دولت لیے ہوئے ہیں پھر اچانک یہ دولت دوگنی ہوجاتی ہے ۔ پھر وہ اس دولت کو لے کر اسے بطور فدیہ دینے کی پیشکش کرتے ہیں ۔ پھر ان کا یہ منظر سامنے آتا ہے کہ وہ یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام لوٹتے ہیں اب انہیں یہ مقصد حاصل کرنے کی کوئی آس بھی نہیں رہتی ۔ پھر وہ اچانک آگ میں داخل ہوتے ہیں اور وہ اس سے باہر بھاگنا چاہتے ہیں مگر بھاگ نہیں سکتے ۔ پھر ان کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ وہاں باقی رہیں ۔ اب پردہ گرتا ہے اور وہ یہاں ہی فروکش ہوجاتے ہیں ۔ (دیکھئے کتاب التصویر الغنی میں فصل طریقہ القرآن)
اور اب اس سبق کے آخر میں چوروں کے احکام :
المائدة 5:37
(آیت) ” إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَوْ أَنَّ لَہُم مَّا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً وَمِثْلَہُ مَعَہُ لِیَفْتَدُواْ بِہِ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(36) یُرِیْدُونَ أَن یَخْرُجُواْ مِنَ النَّارِ وَمَا ہُم بِخَارِجِیْنَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ(37)
(خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے اگر ان کے قبضے میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں ‘ تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں دردناک سزا مل کر رہے گی ۔ وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔ )
بطور فرض انسان جو تصور کرسکتا ہے وہ یہی ہے کہ اہل کفر کے پاس زمین کے تمام خزانے ہوں اور اسی قدر مزید ان کے لئے فرض کیا جاسکتا ہے ۔ قرآن کریم ان کے لئے یہ بھی فرض کرتا ہے کہ اس جہان جیسا ایک دوسرا جہان بھی ان کے پاس ہو ۔ اس کے بعد قرآن کریم یہ فرض کرتا ہے کہ یہ لوگ قیامت کے دن یہ تمام مفروضہ دولت بطور فدیہ اور کفارہ کفر دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائیں ۔ قرآن کریم ایک ایسا منظر نظروں کے سامنے لاتا ہے کہ وہ آگ سے کس طرح نکلنا چاہتے ہیں مگر وہ نکل نہیں سکتے ۔ وہ اپنے اس مقصد اور ہدف میں ناکام رہتے ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جن ہم کی آگ میں زندہ رہتے ہیں ۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جس کے اندر کئی مناظر ہیں اور جس میں کئی مسلسل حرکات ہیں ۔ ایک منظر کفار کا ہے وہ اپنے پاس اس پورے جہان کی دولت لیے ہوئے ہیں پھر اچانک یہ دولت دوگنی ہوجاتی ہے ۔ پھر وہ اس دولت کو لے کر اسے بطور فدیہ دینے کی پیشکش کرتے ہیں ۔ پھر ان کا یہ منظر سامنے آتا ہے کہ وہ یہ مقصد حاصل کرنے میں ناکام لوٹتے ہیں اب انہیں یہ مقصد حاصل کرنے کی کوئی آس بھی نہیں رہتی ۔ پھر وہ اچانک آگ میں داخل ہوتے ہیں اور وہ اس سے باہر بھاگنا چاہتے ہیں مگر بھاگ نہیں سکتے ۔ پھر ان کو مجبور کردیا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ وہاں باقی رہیں ۔ اب پردہ گرتا ہے اور وہ یہاں ہی فروکش ہوجاتے ہیں ۔ (دیکھئے کتاب التصویر الغنی میں فصل طریقہ القرآن)
اور اب اس سبق کے آخر میں چوروں کے احکام :
المائدة 5:38
(آیت) ” نمبر 38 تا 40۔
” اسلامی معاشرہ ‘ باشندگان دارالاسلام کے لئے ایک ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جس میں کوئی معتدل شخص چوری کے بارے میں سوچ ہی نہ سکے ‘ چاہے ان باشندوں کے عقائد ونظریات جو بھی ہوں۔ اسلامی معاشرہ اپنے باشندوں کو معاشی کفالت ‘ اخلاقی تربیت اور درست طرز عمل اختیار کرنے کی ضمانت دیتا ہے ۔ نیزانصاف اور دولت کی منصفانہ تقسیم کا انتظام کرتا ہے اور وہ یہ انتظام بھی کرتا ہے کہ اس کے اندر انفرادی ملکیت کی شکل ایسی ہو کہ وہ پوری سوسائٹی کے لیے نفع بخش ہو اور وہ معاشرے کے لئے باعث اذیت نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے حالات پیدا کردینے کے بعد بھی اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اسلام اسے سخت ترین سزا دیتا ہے ۔ اسی طرح انفرادی ملکیت پر دست درازی کرنے والے اور سوسائٹی کا امن وامان تباہ کرنے والے کو عبرت ناک سزا دیتا ہے ۔ ان سخت ترین سزاؤں کی تجویز کے ساتھ ساتھ اسلام شبہات کی بنا پر حدود کو ساقط بھی کرتا ہے اور ملزم کو مکمل قانونی دفاع کا اختیار اور حق عطا کرتا ہے تاکہ کسی شخص کو مکمل ثبوت کے بغیر سزا نہ دی جاسکے ۔ اب مناسب ہے کہ اس اجمال کے بعد قدرے تفصیلی بحث کردی جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام ایک باہم مربوط کل ہے ۔ اس نظام کے کسی جزء کو اس وقت تک نہیں سمجھا جاسکتا جب تک کسی کے پیش نظر وہ تمام اصولی مباحث نہ ہوں اور وہ ضمانتیں نہ ہوں جو یہ نظام اسلامی معاشرے کو فراہم کرتا ہے اور جن اصولوں اور قواعد پر اس کی جزئیات قائم ہیں ۔ پھر اسلامی نظام کا ایک ایک جزء نافذ بھی نہیں ہو سکتا جب تک اسے مکمل طور پر نافذ نہ کیا جائے اور اسے مجموعی طور پر روبعمل نہ لایا جائے ، رہی یہ صورت کہ اس نظام کے کسی ایک جزء کو نافذ کرنا یا اس کے اصولوں میں سے کسی ایک اصول کو نافذ کرنا اور یہ نفاذ ایک ایسے معاشرے اور ایک ایسے نظام کے اندر کرنا جو مجموعی طور پر اسلامی نظام نہیں ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔
اسلام سے کٹا ہوا یہ جزء بھی اسلام کا نفاذ تصور نہ ہوگا ‘ اس لئے کہ اسلام ‘ اسلام کے اجزاء اور ٹکڑوں کا نام نہیں ہے ۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے جو تمام شعبہ ہائے حیات پر حاوی ہے اور اس کے احکام باہم مربوط ہیں ۔۔۔۔۔ یہ تو ایک عمومی بات تھی ۔
رہی یہ بات کہ چوری کے قانون اسلامی کے بارے میں بات قدرے مختلف ہے تو حقیقت یہ ہے کہ دارالاسلام میں اسلام ہر فرد کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ زندہ رہے ‘ اور اپنی زندگی کے حفظ اور بقاء کے لئے تمام وسائل سے کام لے ۔ ہر شخص کھا پی سکتا ہے ‘ ہر شخص کو مکان اور لباس کا حق ہے جہاں وہ آرام اور سکون سے رات گزرے ۔ ایک فرد کا اسلامی سوسائٹی پر یہ حق ہے کہ وہ اسے اس کی یہ بنیادی ضروریات فراہم کرے اور ظاہر ہے کہ ایک حکومت پوری سوسائٹی کی طرف سے نمائندہ ہوتی ہے ۔ یہ حق اس طرح فراہم ہوگا کہ حکومت ان تمام لوگوں کو روز گار فراہم کرے جو کام کرنے کے قابل ہوں ۔ یہ حق ایک فرد کا سوسائٹی پر ہے اور پھر حکومت پر ہے ۔ یہ سوسائٹی اور حکومت لوگوں کو کام کرنے کی تربیت بھی دے گی اور لوگوں کو کام کرنے کے مواقع اور کام کے اوزار بھی فراہم کرے گی ۔ اگر کوئی بےروز گار ہوجاتا ہے اس طرح کہ اسے کام نہیں ملتا ‘ یا کام کے اوزار نہیں ملتے ‘ یا وہ محنت کے قابل نہیں رہتا اور یہ بیکاری جزئی ہے یا کلی ہے ‘ وقتی ہے یا دائمی ہے ‘ یا صورت یہ ہے کہ وہ کام تو کرتا ہے لیکن یہ کام اس کی ضروریات کے لیے کافی نہیں ہے تو اس فرد کا یہ حق ہے کہ وہ اجتماعی نظام یا سوسائٹی اس فرد کو یہ ضروریات خزانہ سے فراہم کرے یا ان لوگوں کے ذریعے فراہم کرائے جن پر ایسے افراد کا نفقہ فرض ہے ۔ اہل محلہ سے ایسے لوگوں کی ضروریات فراہم کرائے ورنہ جیسا کہ کہا گیا بیت المال اور خزانہ سے فراہم کرے ۔ بیت المال کی ایک مد زکوۃ تو ہے ہی اس کے لیے ۔ اگر زکوۃ فنڈ سے بھی پورا نہ ہو تو پھر پورے دارالاسلام پر اس سلسلے میں ٹیکس عائد ہو سکتا ہے جس کے ذریعے غرباء کو اس قدر دیا جائے کہ ان کی ضروریات پوری ہوں ۔ لیکن یہ ٹیکس بھی غرباء کی ضرورت کے مطابق ہی عائد ہو اور ضرورت سے زیادہ نہ ہو اور ایسی انفرادی ملکیت پر ظلم نہ ہو جو بالکل حلال ذرائع سے کمائی گئی ہو۔
پھر اسلام دولت کے ارتکانی پر بھی سخت پابندیاں عائد کرتا ہے ۔ اسلامی نظام میں انفرادی دولت صرف حلال ذرائع سے جمع کی جاسکتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں انفرادی ملکیت کو بغض وحسد کا سامنا کرنا نہیں پڑتا یعنی ان لوگوں کی طرف سے جو نادار ہیں۔ اسی طرح اسلامی معاشرے میں کوئی شخص دوسرے کی جائیداد چھین لینے کے بارے میں بھی نہیں سوچتا خصوصا اس وقت جب اسلامی نظام ان کے بقدر کفایت انتظام کرتا ہے اور ان کو بالکل محروم نہیں چھوڑتا ۔
اسلام لوگوں کے ضمیر اور ان کے اخلاق کی تربیت پر بھی زور دیتا ہے ۔ اس لئے اسلام لوگوں کو کسب وعمل پر آمادہ کرتا ہے اور یہ کسب وعمل اسلامی طریقے کے مطابق چاہتا ہے ۔ اگر عمل اور روز گار نہ ملے تو اسلامی نظام لوگوں کی ضروریات کی فراہمی کا انتظام کرتا ہے ‘ اور پاک وصاف ذرائع سے ان کی کفالت کرتا ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ایسے معاشرے اور ایسے حالات میں ایک شخص اگر چوری کرتا ہے تو کیوں کرتا ہے ؟ یہ شخص ضروریات کے لئے چوری نہیں کرتا بلکہ یہ دولت جمع کرنے کے لئے چوری کرتا ہے ۔ یہ دولت وہ کسب اور محنت کے ذریعہ جمع نہیں کرنا چاہتا بلکہ چوری کے ذریعہ دولت جمع کرنے کے لئے چوری کرتا ہے ۔ یہ دولت وہ کسب اور محنت کے ذریعہ جمع نہیں کرنا چاہتا بلکہ چوری کے ذریعہ دولت جمع کرنے کی خواہش کرتا ہے جس سے پورے دارالاسلام کے امن وامان اور اطمینان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔ اسلامی سوسائٹی کا یہ حق ہے کہ وہ امن و سکون سے جاری وساری رہے لیکن یہ چوری کا فعل ایک حلال مال کے مالک کو اپنے حق اطمینان سے محروم کردیتا ہے اور پھر سوسائٹی کو بھی ۔
اسلامی معاشرے میں جو شخص حلال دولت کماتا ہے ‘ سود خوری نہیں کرتا ‘ دھوکہ دہی نہیں کرتا ‘ ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا ‘ مزدوروں کی مزدوری نہیں مارتا ‘ زکوۃ ادا کرتا ہے ‘ اور اسلامی معاشرے کو وہ ٹیکس بھی ادا کرتا ہے جس کی اس معاشرے کو ضرورت ہو تو ایسے شخص کا بھی اسلامی معاشرے اور دارالاسلام پر یہ حق ہے کہ اس کا مال محفوظ ہو اور اس کی یہ دولت چوری اور ڈاکے سے محفوظ رہے ۔
ایسے تمام حالات اور سہولتوں کے بعد بھی اگر کوئی چوری کرتا ہے ‘ وہ اس حال میں چوری کرتا ہے کہ اس کی ضروریات پوری ہو رہی ہیں ‘ اس کو یہ بھی معلوم ہے کہ چوری ایک سنگین جرم ہے اور اسے دوسروں کا مال لوٹنے کی ضرورت اور احتیاج بھی نہیں ہے اور ان مالداروں نے نہ لوٹ مار کے ذریعہ یہ مال جمع کیا ہے اور نہ حرام ذرائع سے جمع کیا ہے ۔ اگر کوئی ایسے حالات میں سرقے کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ سرقہ بلاجواز ہے ۔ ایسے حالات میں کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے ۔ کہ وہ ایسے شخص پر رحم کرے بشرطیکہ اس پر جرم ثابت ہوجائے ۔
اگر حالات مقدمہ ایسے ہوں کہ جن میں یہ ثابت ہوجائے کہ چور ضرورت مند تھا ‘ یا کوئی اور عذر تھا تو اسلامی قانون کا عام اصول یہی ہے کہ حدود شبہات کی وجہ سے ساقط ہوجاتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قحط سالی کے سال میں حضرت عمر ؓ نے قطع ید کی سزا کو موقوف فرمایا تھا ۔ اس موقعہ پر حالات ایسے تھے کہ لوگ بالعموم بھوکے ہوتے تھے ۔ اسی طرح حضرت عمر ؓ نے ایک خاص حادثے میں بھی سزائے قطع ید نہ دی تھی ۔ حاطب بن ابی بلتہ کے غلاموں نے مزینہ کے ایک شخص کی اونٹنی چوری کرلی تھی ۔ حضرت عمر ؓ نے ان کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تھا ‘ لیکن جب حضرت عمر ؓ کو معلوم ہوا کہ ان غلاموں کا مالک ان کا بھوکا رکھتا ہے تو آپ نے حد کی سزا ساقط کردی اور غلاموں کے مالک پر اونٹنی کی قیمت سے دوگنا قیمت بطور تاوان عائد کردیا۔
مناسب یہ ہے کہ ہم اسلامی حدود کو اس انداز سے سمجھنے کی کوشش کریں اور انہیں اسلام کے مکمل اور مربوط نظام کی شکل و صورت میں سمجھیں جو افراد معاشرہ کو زندگی کی ضمانتیں فراہم کرتا ہے ۔ یہ ضمانتیں کسی ایک طبقے کو دوسرے طبقے کے خلاف نہیں فراہم کرتا بلکہ اسلام سزا کے اسباب فراہم کرنے سے پہلے سزا بچانے کے اسباب فراہم کرتا ہے ۔ اسلام صرف ان لوگوں کو سزا دیتا ہے جو بلاجواز جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔
اس عمومی حقیقت کے اظہار کے بعد اب ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ حد سرقہ کی تفصیلات دی جائیں ۔ سرقہ کی تعریف یہ ہے کہ دوسرے کا مال خفیہ طور پر لیا جائے جو مال حرز کے اندر ہو ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ مال مقوم ہو یعنی مالیت رکھتا ہو ۔ مال کے نصاب کے سلسلے میں فقہاء کے درمیان متفق علیہ بات یہ ہے کہ جو مال لیا گیا ہو اور خفیہ طور پر حرز کے اندر سے لیا گیا ہو ‘ اس کی مقدار 41 دینار کے برابر ہونا چاہئے یعنی ہمارے دور کے 25 مصری قرش کے برابر یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ یہ مال حرز کے اندر ہو اور چور اسے حرز کے اندر سے لے لے ۔ اور وہ لے کر حرز سے نکل جائے ۔ اب اگر کوئی کسی کے پاس مالی امانت رکھتا ہے اور وہ اسے چوری کرلیتا ہے تو اس پر حد سرقہ نہ ہوگی ۔ اسی طرح جو شخص ملازم ہے اور وہ گھر یا دکان وگودام میں آتا جاتا ہے تو بھی اس پر حد سرقہ جاری نہ ہوگی ۔ اس طرح اگر کوئی کسی سے کوئی چیز مانگ کرلے جاتا ہے اور پھر انکار کردیتا ہے اور اس سے برآمد ہوجاتی ہے تو بھی اس پر حد سرقہ جاری نہ ہوگی ۔ نیز ان پھلوں پر بھی حد سرقہ نہ ہوگی جب تک کھلیاں میں انہیں جمع نہ کرلیا جائے ۔ نہ ایسے مال پر یہ حد ہوگی جو گھر سے باہر ہو یا اس صندوق سے باہر ہو جو اس کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ہو ۔ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ مال محفوظ کسی دوسرے شخص کی ملکیت میں ہو ‘ اس لیے اگر کوئی شریک چوری کرلے تو اس پر حد سرقہ نہ ہوگی ۔ اس لئے کہ اس میں وہ خود بھی شریک ہے اور وہ خالص طور پر دوسرے کا نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی سرکاری مال چرائے یعنی دارالاسلام کے خزانے سے تو اسے بھی قطع ید کی سزا نہ ہوگی کیونکہ اس مال میں اس کا بھی حصہ ہے اور وہ خالص مال الغیسر نہیں ہے ۔ ایسے حالات میں سزا قطع ید نہ ہوگی بلکہ تعزیری سزا ہوگی (یاد رہے کہ تعزیری سزا سزائے حد سے کم ہوتی ہے ، مثلا کوڑے ‘ قید ‘ ڈانٹ ڈپٹ اور وعظ ونصیحت بھی اور یہ سزا ظرف احوال کے مطابق قاضی کے اختیار تمیزی پر ہوگی)
” قطع ید “ دائیں ہاتھ کا ہوگا یعنی کلائی تک اگر دوبارہ چوری کرے تو بایاں پاؤں ٹخنے تک کاٹا جائے گا یہاں تک تو تمام لوگوں کا اتفاق ہے تیسری اور چوتھی بار چوری کرنے کی صورت میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ۔
شبہات کی وجہ سے حدود معاف ہوجاتی ہیں حد سرقہ میں شبہات درج ذیل ہو سکتے ہیں ‘ مثلا بھوک اور شدید ضرورت کی وجہ سے حد ساقط ہوجاتی ہے ۔ اسی طرح اگر مال میں شرکت کا شبہ ہو تو بھی حد ساقط ہوگی ‘ اگر کسی نے اعتراف کیا ہو اور باقی شہادت نہ ہو تو بھی اعتراف جرم سے رجوع کرتے ہی حد ساقط تصور ہوگی ۔ اسی طرح اگر کسی نے شہادت دی ہو لیکن بعد میں وہ شہادت سے پھرجائے تو یہ بھی ایک طرح کا شبہ ہوگا ۔
اور فقہاء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ وہ کیا چیز ہے جسے شبہ تصور کیا جائے گا ۔ امام ابوحنفیہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو پیر مباح ہو اصلا تو اس میں قطع ید کی سزا نہ ہوگی اگرچہ وہ حرز اور حفاظت میں ہو ۔ مثلا ایک شخص کسی کے حزز سے پانی چوری کرتا ہے یا مثلا ایک شخص شکار کرے اور اسے محفوظ کرلے اور دوسرا اسے چرا لے ۔ یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جو اپنی اصلیت کے اعتبار سے سب کے لیے مباح ہیں
اس میں یہ شبہ لاحق ہو سکتا ہے کہ حرز اور حفاظت میں آنے کے بعد بھی اباحت جاری ہو ۔ اسی طرح عوام الناس کی مشترکہ دولت اگرچہ کسی خاص شخص کے حرز اور حفاظت میں آجائے ‘ اس میں بھی شبہ لاحق ہو سکتا ہے کہ وہ اب بھی مفاد عامہ کی چیز ہے ۔ جبکہ امام شافعی ‘ (رح) امام مالک (رح) ‘ اور امام احمد (رح) ایسے حالات میں شبہ کے قائل نہیں ہیں اور حد کو ساقط نہیں کرتے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) ان تمام چیزوں کی چوری میں حد ساقط فرماتے ہیں جن میں گلنے سڑنے کا عمل تیزی سے آتا ہے ، مثلا کھانا ‘ پھل ‘ سبزیاں ‘ گوشت ‘ روٹی اور ان جیسی دوسری اشیاء ہاں امام ابو یوسف (رح) ‘ امام ابو حنفیہ (رح) سے اختلاف کرتے ہیں ۔ اور وہ ان میں قطع ید کے قائل ہیں جس طرح ائمہ ثلاثہ قائل ہیں ۔
یہاں ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم فقہاء کے اختلافات میں تفصیل سے بحث کریں ‘ یہ تفصیلات کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔ یہ چند مثالیں اس بات کے اظہار کے لئے کافی ہیں کہ اسلامی قانون کی پالیسی یہ نہیں ہے کہ وہ خواہ مخواہ سزا نافذ کرے بلکہ اسلام شبہات کی وجہ سے حدود کو ساقط کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے ۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں۔ (ادروا الحدود بالشبہات) (حدود کی سزاؤں کو شبہات کی وجہ سے ساقط کر دو ) اور حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں : میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ شبہات کی وجہ سے حدود کو معطل کر دوں بہ نسبت اس کے کہ میں ایسے حالات میں حدود کو نافذ کروں ۔
لیکن قطع ید کے بارے میں مناسب ہے کہ ذرا تفصیلی بات ہوجائے ‘ یہ بات تو ہم کہہ چکے ہیں کہ دارالاسلام میں ‘ ملزم کے بچاؤ اور اسے پورے پورے عدالتی تحفظات دینے کے بعد چور کے ساتھ سختی کیوں کی گئی ہے ۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم جناب عبدالقادر عودہ کی مشہور کتاب سے کچھ اقتباسات دے دیں ۔
” سارق کے لئے قطع ید کی سزا اس لئے تجویز کی گئی ہے کہ چور جب چوری کرتا ہے تو اس کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسرے کی کمائی حاصل کرکے اپنی کمائی میں اضافہ کرے ۔ وہ خود حلال طریقے سے جو کماتا ہے اسے ناکافی تصور کرتا ہے اس طرح وہ حرام طریقے سے اپنی کمائی بڑھانا چاہتا ہے ۔ وہ اپنے عمل اور کسب کے نتائج پر اکتفاء کرتا ‘ اور دوسرے کی کمائی ہتھیانے کا لالچ کرتا ہے ۔ اور اس کام کے پس پشت وہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ اس طرح وہ زیادہ خرچ کرے یا زیادہ دولتمندی کا مظاہرہ کرے یا یہ جذبہ ہوتا ہے کہ وہ کام کرنے اور مشقت کرنے سے بچ جائے یا اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کا مستقبل محفوظ ہوجائے ، غرض چوری پر مائل کرنے کا عامل صرف یہ ہوتا ہے جو اوپر ہم نے بیان کیا یعنی زیادہ کمائی اور دولتمندی۔ اسلامی شریعت نے ان کی نفسیات کے اندر اس بیماری کا علاج اس طرح شروع کردیا کہ اس کہ اس نے جرم کے لئے قطع ید کی سزا تجویز کی اس قطع ید یا قطع پا سے اس شخص کی کمائی پر اثر پڑے گا اس لئے کہ ہاتھ اور پاؤں دونوں کمائی کے آلات ہیں ۔ اب کمائی کم ہوگی تو دولت کم ہوگی اور دولت کم ہوگی تو زیادہ انفاق اور زیادہ دولتمندی کا اظہار بھی کم ہوگا ۔ اس کی وجہ سے اب ایسے شخص کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت پڑے گی اور وہ زیادہ وقت کے لئے کام کرے گا اور اسے اپنے پورے مستقبل سے ہاتھ دھونے کا خطرہ درپیش ہوگا ۔ “
اس طرح شریعت نے قطع ید کی سزا مقرر کرکے ان نفسیاتی عوامل کو ختم کردیا جو اس جرم پہ کسی کو آمادہ کرتے ہیں اور مجرم کی نفسیات کے اندر اس جرم پر آمادہ کرنے کے مخالف نفسیاتی عوامل داخل کردیئے ۔ تاہم اگر پھر بھی کسی کی نفسیات میں پائے جانے والے چوری پر آمادہ کنندہ عوامل غالب آجائیں اور انسان یہ جرم کربیٹھے تو اس صورت میں اسے جو تلخ سزا ملے گی وہ ان مؤثرات پر غالب آجائے گی جو اسے چوری پر آمادہ کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ہر گز دوبارہ اس جرم کے ارتکاب کے لئے آمادہ ہوگا ۔ “
” یہی وہ بنیاد ہے جس پر اسلامی نظام قانون میں قطع ید کی سزا رکھی گئی ہے ۔ اور یہ خدا کی قسم آغاز انسانیت سے لے کر آج تک اس جرم کے لئے بہترین سزا ہے ۔ “
” دوسر جدید کے قوانین چور کو سزائے قید دیتے ہیں ۔ یہ وہ سزا ہے جو ہر قسم کے جرائم کو ختم کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے اور خصوصا چوری کی سزا کو یہ ختم نہیں کرسکی ۔ اس کی حقیقی وجہ یہ ہے کہ سزائے قید چور کی نفسیات کے اندر وہ عوامل داخل نہیں کرسکتی جو اسے اس جرم سے باز رکھے اس لئے کہ یہ سزا چور کو صرف اسی عرصہ میں جرم سے باز رکھ سکتی ہے جس عرصے کے لئے وہ قید میں ہوتا ہے ۔ جب وہ قید ہوتا ہے تو اسے کمانے کی ضرورت ہی نہیں ہوتی ‘ اس لئے کہ جیل کے اندر اس کی تمام ضروریات وحاجات کا انتظام ہوتا ہے اور جب وہ جیل سے نکلتا ہے تو وہ کمانے اور محنت کرنے پر قدرت رکھتا ہے ۔ اس کو از سرنو موقعہ مل جاتا ہے کہ وہ اپنی کمائی میں اضافہ کرے ۔ اپنی دولت کو بڑھائے اور اس میں حلال اور حرام دونوں ذرائع استعمال کرے ۔ وہ پھر لوگوں کو دھوکہ دے سکے ‘ اپنے آپ کو شریف ظاہر کرسکے ‘ لوگ اس کی طرف سے مطمئن ہوجائیں اور اس کے ساتھ تعاون کریں ۔ اگر وہ اچھا رویہ اختیار کرے جو اسے کرنا چاہئے تو وہ ایسا کرے گا ۔ اور اگر وہ اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکے تو اس کو کوئی نقصان بھی نہیں ہوا ہے اور وہ بڑی سہولت سے دوبارہ برے راستے پر جاسکتا ہے ۔ “
” رہی یہ صورت کہ اسے قطع ید کی سزا دے دی جائے تو وہ دوبارہ کسب وعمل پر سرے سے قادر ہی نہ ہوگا یا اس کی کسب وعمل کی صلاحیت بڑی حد تک کم ہوجائے گی اور اس طرح اس کی زیادہ کمائی کے مواقع بہرحال کم ہوں گے ۔ بعض اوقات تو یہ مواقع بہت ہی محدود ہوجاتے ہیں اور بعض اوقات بالکل ختم ہوجاتے ہیں ۔ اب وہ لوگوں کو دھوکہ بھی نہ دے سکے گا اور وہ لوگوں کو اس بات پر آمادہ نہ کرسکے گا کہ وہ اس پر کوئی اعتبار اور اعتماد کریں ۔ اس لئے کہ اس کے جسم پر جرم کے آثار موجود ہوں گے ۔ اس کا سابقہ کردار اس کے کٹے ہوئے ہاتھ سے عیاں ہوگا ۔ اگر قطع یعد کی سزا نافذ ہو تو اس صورت میں چور کے لئے خسارہ یقینی اور حتمی ہوگا ۔ اگر اسے سزائے قید دی جائے تو اسے فائدہ زیادہ ہوگا اور نقصان کم ۔ اور چور ہی کا نہیں بلکہ تمام لوگوں کا یہ اصول ہے کہ وہ اسی طرف جھکتے ہیں جس میں نفع کا احتمال زیادہ ہو ۔ اور ایسا کام وہ ہرگز نہیں کرتے جس میں خسارہ یقینی ہو ۔ “
” اس بحث کے بعد ان لوگوں کی باتیں نہایت ہی عجیب ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ سزائے قطع ید آج کل کے ترقی یافتہ دور اور مہذب دنیا کے ساتھ لگا نہیں کھاتی ۔ گویا تہذیب و تمدن اس چیز کا نام ہے کہ جدید علم اور گہری حکمت کا انکار کردیا جائے ، انسان کے مزاج کو بھلا دیا جائے اور تمام اگلی پچھلی امتوں کے تجربات سے انکار کردیا جائے ۔ ہم اپنی عقل کو یک دم معطل کردیں ‘ اور ہماری فکر واضح طور پر جن نتائج تک پہنچ چکی ہے اسے ترک کردیں ‘ اور ان باتوں کو لے لیں جن کے عوامل کے پاس ان پر بےراہ روی اور گمراہی کے سوا اور کوئی دلیل نہیں ہے ۔ “
” اگر تہذیب و تمدن کا تقاضا یہ ہے کہ جو بھی سزا ہو وہ تہذیب و تمدن کے مطابق ہو تو پھر سزائے قید اس بات کی مستحق ہے کہ اسے سرے سے ختم کردیا جائے اور سزائے قطع ید کو نافذ کردیا جائے ۔ اس لئے کہ سزائے قطع ید نفسیاتی محرکات اور علم النفس کے مسلمہ اصولوں کے عین مطابق ہے ۔ یہ انسان کے مزاج کے عین مطابق اور تمام اقوام عالم کے تجربات کی روشنی میں بھی نہایت ہی مفید ہے ۔ یعنی تمام چیزوں کا ادراک اور اس کی حکمت ۔ تہذیب و تمدن بھی اسی اصول ادراک اور اصول حکمت پر مبنی ہوتے ہیں ۔ رہی سزا قید تو وہ ہر گز علم النفس ‘ حکمت و تجربہ پر قائم نہیں ہے اور نہ یہ عقلی منطق اور دنیا کی مخلوقات کے مزاج سے متفق ہے ۔
” سزائے قطع ید کی بنیاد انسان کی نفسیات اور اس کی عقلمندی پر ہے ۔ یہ سزا افراد کے لئے زیادہ مناسب ہے ۔ یہ معاشرے اور سوسائٹی کے لئے بھی مفید ہے ۔ اس کی وجہ سے جرائم میں ایک دم کمی آجاتی ہے ۔ معاشرے میں امن قائم ہوجاتا ہے ۔ جب ایک سزا فرد کے لئے مناسب اور ایک سوسائٹی کے لئے مفید ہو تو وہ تمام سزاؤں سے زیادہ بہتر ہوتی ہے ۔ “
” لیکن یہ سب دلائل بھی بعض لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکتے کہ سزائے قطع مفید ہے ۔ ان کی رائے پر ان کے پاس صرف یہ دلیل ہے کہ یہ سنگدلانہ سزا ہے ۔ یہ ان کی اول اور آخر دلیل ہے اور ان کی یہ دلیل اس طرح قابل رد ہے کہ لفظ عقوبت (سزا) عقاب کے مشتق ہے ۔ اور سزا اس وقت سزا ہی نہیں رہتی اگر وہ نرم اور محض تفریح ہو ‘ بلکہ وہ محض ایک کھیل تماشا یا اس جیسی کوئی اور چیز ہوگی ۔ لہذا سزا ہونی ہی ایسی چاہئے جس میں مجرم پر سختی ہو تاکہ سزا کو سزا کہا جاسکے۔ “
اللہ تعالیٰ تو ارحم الراحمین ہے ۔ اللہ کا فرمان یہ ہے اور بہت ہی سخت فرمان ہے ۔
(آیت) ” فَاقْطَعُواْ أَیْْدِیَہُمَا جَزَاء بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّہِ (5 : 38)
(اور چور خواہ عورت ہو یا مرد دونوں کے ہاتھ کاٹ دو ‘ یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا)
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتناک اور جرائم سے روکنے والی سزا ہے جس شخص کے دل میں ارتکاب جرم کا داعیہ ہو اور وہ اس سے رک جائے تو یہ اس پر اللہ کی رحمت ہوجاتی ہے ۔ یہ رحمت ربانی اسے روکتی ہے ‘ اور پھر یہ پوری سوسائٹی پر ایک قسم کی رحمت ربانی ہوتی ہے کہ اس سے جرم کم ہوتا ہے اور وہ مطمئن زندگی بسر کرتی ہے ۔ کسی کا دعوی یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے خالق سے بھی زیادہ ان پر مہربان ہے الا یہ کہ کوئی دلی طور پر اندھا ہو ‘ اور اس کی روح مسخ ہوچکی ہو اور یہ امر واقعہ ہے کہ اسلام کے دور اول میں ایک صدی گزر جانے کے باوجود صرف چند لوگوں کا ہاتھ کٹا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلامی نظام حیات کی برکات اور اسلامی سوسائٹی میں لوگوں کی ضروریات کی کفالت کی وجہ سے صرف چند لوگوں پر ہی اس سزا کا اجراء ہوا ۔
پھر اللہ تعالیٰ تائب ہونے والوں کے لئے بھی دروازہ کھلا چھوڑتے ہیں کہ اگر وہ تائب ہوجائیں اور شرمندہ ہوجائیں اور ارتکاب جرم سے باز آجائیں تو اللہ بھی معاف کرنے والا ہے بشرطیکہ وہ صرف توبہ ہی نہ کریں بلکہ اپنے اندر مثبت تبدیلی پیدا کریں اور نیک کام شروع کردیں ۔