Fi Zilal al-Quran — المائدة 5:39 – المائدة 5:85
Contents
- المائدة 5:39
- المائدة 5:40
- المائدة 5:41
- المائدة 5:42
- المائدة 5:43
- المائدة 5:44
- المائدة 5:45
- المائدة 5:46
- المائدة 5:47
- المائدة 5:48
- المائدة 5:49
- المائدة 5:50
- المائدة 5:51
- المائدة 5:52
- المائدة 5:53
- المائدة 5:54
- المائدة 5:55
- المائدة 5:56
- المائدة 5:57
- المائدة 5:58
- المائدة 5:59
- المائدة 5:60
- المائدة 5:61
- المائدة 5:62
- المائدة 5:63
- المائدة 5:64
- المائدة 5:65
- المائدة 5:66
- المائدة 5:67
- المائدة 5:68
- المائدة 5:69
- المائدة 5:70
- المائدة 5:71
- المائدة 5:72
- المائدة 5:73
- المائدة 5:74
- المائدة 5:75
- المائدة 5:76
- المائدة 5:77
- المائدة 5:78
- المائدة 5:79
- المائدة 5:80
- المائدة 5:81
- المائدة 5:82
- المائدة 5:83
- المائدة 5:84
- المائدة 5:85
المائدة 5:39
(آیت) ” فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِہِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللّہَ یَتُوبُ عَلَیْْہِ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(39)
” اور وہ دانا وبینا ہے ۔ پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)
” اللہ کی حکمرانی ایک ہے ‘ وہ مالک الملک ہے ‘ وہی ہے جو اس دنیا کے لئے قانون بناتا ہے اور آخرت میں پھر اس قانون کے مطابق جزا وسزا مقرر کرتا ہے ۔ ان معاملات میں نہ تعدد ہے ‘ نہ کوئی تقسیم ہے اور نہ یہ معاملات ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ لوگوں کے معاملات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک حق قانون سازی اور نظام جزاوسزا دنیا اور آخرت دونوں میں ایک ہی ذات باری میں مرتکز نہ کردیا جائے ۔ اس لئے کہ اگر اس کائنات میں صرف اللہ الہ نہ ہوتا اور متعدد الہ ہوتے تو یہ کب کی تباہ ہوچکی ہوتی ۔ پس وہی ہے جو آسمانوں میں بھی الہ ہے اور زمین میں الہ۔
درس نمبر 49 ایک نظر میں :
اس سبق میں اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام حیات کا نہایت ہی اہم مسئلہ لیا گیا ہے ۔ اس پر اسلامی نظام حکومت اور اسلامی زندگی کا دارومدا رہے ۔ سورة آل عمران اور سورة نساء میں بھی اس مسئلے کا بار بار ذکر ہوا ہے لیکن یہاں اس سبق میں اسے نہایت ہی واضح اور قطعی شکل میں لے لیا گیا ہے ۔ یہاں اس مسئلے کو اشارۃ النص یا مفہوم آیت کے طور پر نہیں لیا گیا نہ بطور اقتضاء النص لیا گیا ۔ یہاں اسے عبارۃ النص اور قضی الدلالت کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔
یہ مسئلہ نظام حکومت ‘ قانونی نظام اور عدالتی نظام سے متعلق ہے اور اس کی اساس پر مسئلہ توحید ‘ مسئلہ حاکمیت الہیہ اور ایک شخص کے ایمان کے ہونے نہ ہونے کا دارومدار ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ہمارا نظام حکومت ہمارا قانونی نظام اور ہمارا نظام عدالت آیا اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہوگا ‘ شریعت کے مطابق ہوگا اور ان شرائع کے مطابق ہوگا جو ادیان سماوی میں محفوظ رہی ہیں ۔ سابقہ رسل اور اس رسول آخر الزمان کی شریعت کے مطابق ہوگا یا ہماری خواہشات بدلتی ہوئی خواہشات یا ہمار مصالح اور بدلتے ہوئے مصالح کے مطابق ہوگا جو اللہ کی شریعت کے مطابق نہیں ہیں یا صرف کسی دوریا کسی نسل کے رسم و رواج کے مطابق متغیر اور متبدل ہوتا رہے گا ۔ آیا لوگوں کی زندگی اور اس کرہ ارض پر حاکمیت ‘ ربوبیت اور قیومیت اللہ کی ہوگی یا اس میں سے بعض چیزیں اللہ کی اور بعض دوسرے لوگوں کی ہوں گی ؟
اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے ۔ اس نے لوگوں کے لئے ایک شریعت نازل کی ہے اور یہ شریعت اور قانون اس کی حاکمیت کے مطابق ہے ۔ اس نے لوگوں سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ اللہ کی شریعت پر قائم رہیں گے اور اس کرہ ارض پر یہی شریعت حاکم رہے گی ۔ اور لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اسی شریعت کے مطابق اپنی عدالتیں چلائیں اور انبیاء کا بھی فرض ہے کہ وہ اس کے مطابق کام کریں ۔ انبیاء کے بعد حکام کا فرض بھی یہی ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلے کریں ۔
اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ اس مسئلے میں کوئی جھوٹ اور کوئی خود مختاری نہیں ہے ۔ اس مسئلے میں زندگی کے معاملات میں سے چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اگر کوئی پوری نسل کسی بھی دور میں کوئی قانون اس کے مقابلے میں وضع کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ نہ کسی قبیلے یا کسی قوم کا کوئی اصول اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت رکھتا ہے الا یہ کہ اللہ نے کسی چیز کا اذن دے دیا ہو ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہاں سوال یا تو ایمان وکفرکا ہے یا اسلام اور جاہلیت کا یا شریعت ہوگی یا نفسانیت ۔ اس معاملے میں نہ کوئی بین بین مقام ہے ۔ نہ نرمی ہے اور نہ مصالحت ہے ۔ مومنین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے قانون کے مطابق حکم کرتے ہیں ۔ اس سے ذرہ برابر انحراف نہیں کرتے اور اس میں ایک حرف کی تبدیلی نہیں کرتے ، ظالم ‘ فاسق ‘ اور کافر وہ لوگ ہیں جو اس معاملے میں انحراف کرکے فیصلے اللہ کے قانون شریعت کے مطابق نہیں کرتے ۔ حکمران اگر اللہ کی شریعت کے مطابق حکمران ہوں گے تو وہ دائرہ ایمان میں داخل ہوں گے یا وہ کسی دوسرے آئین ودستور و قانون پر چلتے ہوں گے جس کی اجازت اللہ نے نہ دی ہوگی تو وہ کافر ‘ فاسق اور ظالم ہوں گے ۔ لوگوں کے لئے دو ہی راستے ہیں ‘ یا تو وہ حکام اور ججوں کی جانب سے اللہ کے قانون کے مطابق جاری کردہ فیصلے قبول کریں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں ایسا کریں گے تو وہ مومن ہوں گے اور اگر وہ یہ راہ اختیار نہ کریں گے تو وہ مومن نہ ہوں گے ۔ ان دو راستوں کے درمیان کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے ۔ نہ اس معاملے میں کوئی حجت بازی کام دے گی ‘ نہ کوئی معذرت قبول ہوگی ‘ نہ کوئی مصلحت قبول ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ بہر حال لوگوں کا رب ہے اور وہی جانتا ہے کہ لوگوں کی مصلحت کس میں ہے ؟ اللہ تعالیٰ لوگوں کی حقیقی بہبود کے لئے قانون سازی کرتا ہے لہذا اللہ کی شریعت اور احکام سے کوئی قانون اور کوئی آرڈر بہتر نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اللہ کی شریعت کو تسلیم نہیں کرتا ۔ یا یہ کہ وہ اللہ سے زیادہ لوگوں کی مصلحت کے بارے میں جانتا ہے ۔ اگر کوئی اپنی زبان اور اپنے عمل سے ایسا کہے تو وہ دائرہ ایمان سے خارج تصور ہوگا ۔
یہ ہے وہ عظیم مسئلہ جو اس سبق میں فیصلہ کن انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس سبق میں یہودیوں کے حالات بھی بیان کئے گئے ہیں جو مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے جو منافقین کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے تھے اور داؤ پیچ لڑا رہے تھے ۔
(آیت) ” من الذین قالوا امنا باافواھھم ولم تو من قلوبھم “۔ (5 : 41) (ان لوگوں سے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل ایمان نہ لائے تھے) اس میں وہ حالات بھی بیان کئے گئے ہیں جن کے مطابق حضور اکرم ﷺ ان سازشوں کا مقابلہ کر رہے تھے اور جن سے یہودی حضور اکرم ﷺ کے زمانہ سے آج تک باز نہیں آئے ۔
اس سبق میں قرآن کی عبارتوں سے کئی باتیں نکلتی ہیں ۔ پہلا فیصلہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام ادیان جو اللہ کی جانب سے نازل ہوئے ان میں تمام فیصلے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہوتے رہے ۔ ان کے اندر زندگی کا پورا نظام اللہ کی شریعت پر قائم ہوتا رہا ۔ یہ بات اسلام اور کفر کے اندر حد فاصل رہی ‘ اسلام اور جاہلیت کے اندر فرق و امتیاز کی بنیاد رہی اور شریعت اور ہوائے نفس کے درمیان جدائی کی اساس رہی کہ شریعت کے مطابق فیصلے کراتا ہے اور کون نہیں کراتا ہے۔ توراۃ کو بھی اللہ نے اس لئے نازل فرمایا کہ اس میں ہدایت اور نور تھا ۔
(آیت) ” یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِیْنَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِیْنَ ہَادُواْ وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن کِتَابِ اللّہِ وَکَانُواْ عَلَیْْہِ شُہَدَائ۔ (5 : 44)
(سارے نبی جو مسلم تھے ‘ اسی کے مطابق ان یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے اور اسی طرح ربانی اور احبار بھی ۔ (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے)
دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” وعندھم التورۃ فیھا حکم اللہ “ (5 : 43) (اور انکے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے) اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے۔ (آیت) ” وکتبنا علیھم علیھم فیھا ان النفس بالنفس) (اور ہم نے اس میں ان پر یہ فرض کردیا کہ جان کے بدلے جان ہوگی ) اور حضرت ابن مریم عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل دی گئی ۔
(آیت) ” مصدقالما بین یدیہ من التورت وھدی وموعظۃ للمتقین (46) والیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ “۔ (47) (5 : 46۔ 47) (اور وہ تورات میں سے جو کچھ اس وقت موجود تھا اس کی تصدیق کرنے والی تھی اور خدا ترس لوگوں کے لئے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی ، ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اس قانون کے مطابق فیصلے کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی پر قرآن کریم نازل فرمایا ۔
(آیت) ” بالحق مصدقالما بین یدیہ من الکتب ومھیمنا علیہ (5 : 48) (سچائی کے ساتھ اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ اور نگہبان ہے) اور نبی آخر الزمان کو حکم دیا گیا :
(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق (5 : 48) (لہذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو) اور پھر کہا :
(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفسقون “۔ (5 : 47) (جو لوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہ فاسق ہیں) اور یہ حکم دیا :
(آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (5 : 50) (تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں کے نزدیک اللہ بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے) ان آیات سے صاف نظر آتا ہے کہ تمام ادیان کا اس نکتے پر پورا پورا اتفاق رہا ہے ۔ یوں اسلامی حدود متعین ہوجاتی ہیں اور اسلام کی سرائط کا تعین ہوجاتا ہے ۔ محکموں اور عدالتوں کے لئے بھی اور حکام کے لئے بھی ۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام فیصلے اللہ کے احکام کے مطابق کئے جائیں اور عوام الناس ان فیصلوں کو قبول کریں ۔ اور اسلامی قانون کو چھوڑ کر دوسرے قوانین اور احکام کے پیچھے نہ بھاگیں ۔
اس فریم ورک میں یہ مسئلہ نہایت ہی اہمیت اختیار کرجاتا ہے اور اس زاویے سے اس پر زور دینے کے اسباب بھی لازما نہایت ہی اہم ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ اسباب کیا ہیں ؟ چاہے ان اسباب کی تلاش ہم ان نصوص کے اندر کریں یا پوری قرآنی آیات وعبارات میں کریں یہ اسباب ہمیں بالکل واضح نظر آتے ہیں ۔
ان میں پہلا سبب یہ ہے کہ یہ دراصل اللہ کی الوہیت اس کی ربوبیت اور حاکمیت کے اقرار کا مسئلہ ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ ان امور میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس کے انکار کا مسئلہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ ایمان اور کفر کا معاملہ بن جاتا ہے ۔ اسلام اور جاہلیت کا مسئلہ ہے ۔ یا جاہلیت ہوگی یا اسلام ہوگا ۔
آپ پورے قرآن پر نگاہ ڈالیں ۔ یہ ایک نمائش گاہ ہے لیکن اس میں جہاں دیکھو اس ایک ہی حقیقت کو برائے مشاہدہ پیش کیا گیا ہے ۔۔۔۔ ۔۔ یہ کہ اللہ وحدہ ہی خالق ہے ‘ اسی نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا ‘ اسی نے اس انسان کو پیدا کیا ‘ اسی نے اس زمین و آسمان کو اور ان کے درمیان پائے جانے والی تمام اشیاء کو اس انسان کے لئے مسخر کیا ۔ تخلیق صرف اللہ کی ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ چاہے یہ مخلوق چھوٹی ہو یا بڑی ‘ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو ۔۔۔۔۔ یہ کہ اللہ ہی مالک ہے اور وہ مالک اس لئے ہے کہ وہی خالق ہے ۔ زمینون اور آسمانوں اور ان دونوں کے درمیان اور آسمانوں اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے اس کا مالک ہے اور وہ مالک اس لئے ہے کہ وہی خالق ہے ۔ زمینوں اور آسمانوں اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے اس کا مالک اللہ ہے ‘ وہ منفردا مالک ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔۔۔۔۔ پھر یہ کہ اللہ رازق ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی اور ذات انسان کو یا دوسرے جانداروں کو رزق فراہم نہیں کرسکتی نہ کم اور نہ زیادہ ۔
اور پھر کہ اللہ اس کائنات کا شہنشاہ اور اس کے اندر متصرف ہے اور وہ لوگوں کے لئے بھی متصرف الامور ہے ۔ اس لئے کہ وہی خالق ‘ وہی مالک اور وہی رازق ہے اور وہ اس قدر قدرتوں کا مالک ہے جس کی قدرت کاملہ کے بغیر نہ تخلیق ہو سکتی ہے اور نہ رزق مل سکتا ہے اور نہ نفع ونقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اسی پوری کائنات پر اس کی حکمرانی ہے ۔
اب ایمان کیا ہے ‘ ان مذکورہ بالاامور کا اقرار ایمان ہے یعنی یہ کہ حاکمیت ‘ ملکیت اور ربوبیت میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہ خصائص صرف ذات باری کو حاصل ہیں ۔ اسلام درحقیقت سرتسلیم خم کردینے کا نام ہے اور ان خصوصیات کے تقاضوں کے اندر اللہ کی اطاعت کا نام اسلام ہے یعنی الوہیت ‘ ربوبیت ‘ قیومیت اور حاکمیت کا حق صرف ذات باری کو حاصل ہے ‘ اس پوری کائنات پر جس کے اندر انسان اس کا ایک جزء ہے ۔ اللہ کے قضا وقدر کے فیصلوں کا اعتراف اور اس کی شریعت کے قوانین کا اعتراف اس میں شامل ہے ۔ بس اللہ کی شریعت کا اعتراف ہی دراصل اللہ کی الوہیت ‘ ربوبیت اور اس کا حاکمیت اور نگہبانی کا اعتراف ہے ۔ اس شریعت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے معنی سب سے پہلے یہ ہیں کہ ہم اللہ کی الوہیت ‘ ربوبیت اور اس کی حاکمیت وقیومیت کا انکار کر رہے ہیں بایں معنی کہ کوئی اپنی زندگی کے تمام جزئی معاملات میں فیصلے کسی اور شریعت و قانون کے مطابق کرے ، اسلام کے سامنے سرتسلیم خم کرنا یا اس کا انکار کرنا چاہے زبان سے ہو یا عمل سے ہو دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ کفر و ایمان کا مسئلہ ہے ‘ جاہلیت اور اسلام کا مسئلہ ہے اور اسی وجہ سے یہ آیت آئی ہے :
(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون “۔ (5 : 44) (جو لوگ بھی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ کافر ہیں) اور دوسری آیات میں فاسق اور ظالم کے الفاظ آئے ہیں ۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلامی شریعت دوسرے شرائع اور قوانین کے مقابلے میں قطعا برتر اور افضل ہے اور اس سبق کی آخری آیت اسی کی جانب اشارہ کر رہی ہے ۔
(آیت) ” ومن احسن من اللہ حکما القوم یوقنون “۔ (5 : 50) (جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے ۔ )
اسلامی شریعت کی افضیلت کا یہ اعتراف بھی مسئلہ ایمان کے اندر شامل ہے اور ایک سچے مومن کے نزدیک زندگی کے تمام حالات اور طریقوں میں اللہ کے قانون اور شریعت کو ہی افضل ہونا چاہئے ۔ اس لئے کوئی مومن انسان تو یہ دعوی کر ہی نہیں سکتا کہ انسانی قوانین اللہ کی شریعت سے افضل یا اس کے مماثل ہو سکتے ہیں ۔ کسی پیمانے ‘ کسی حال اور کسی رسم و رواج کے اعتبار سے ۔ اگر کوئی ایسا دعوی کرے گا تو وہ مومن نہ ہوگا نہ وہ مسلم ہوگا ‘ بلکہ اس کے اس دعوے کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ شخص اللہ سے زیادہ لوگوں کے حالات کا جاننے والا ہے اور وہ ان کے حالات کی بابت اللہ سے زیادہ اچھے فیصلے کرنے والا ہے یا اس کے اس دعوے کا مفہوم یہ ہوگا کہ لوگوں کو بعض حالات پیش آئے لیکن ان حالات کا علم اللہ تعالیٰ کو نہ تھا ۔ لوگوں کو بعض ضروریات درپیش تھیں ‘ جو اللہ کی نظروں سے اوجھل تھیں (نعوذ باللہ) اور پھر بھی اللہ نے لوگوں کے لئے قانون سازی کی یا یہ کہ اللہ کو ان کا علم تھا لیکن اس کے باوجود اللہ نے ان کے لئے قانون نہ بنایا ۔ ظاہر ہے کہ ایسے دعو وں کے ساتھ ایمان اور اسلام جمع نہیں ہو سکتے اگرچہ بظاہر اپنی زبان سے کوئی ایمان اور اسلام کا دعوی کرے ۔
اب اس فضیلت کا عملی اظہار کس طرح ہوگا تو اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کی حقیقت تک پوری طرح پہنچ ہی نہیں سکتے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قوانین کی پوری حکمت کا اظہار کسی دور میں بھی پوری طرح نہیں فرمایا ۔ جن حکمتوں کا ذکر ہوا ہے ‘ یہاں ہم فی ظلال القرآن میں ان پر پوری بحث نہیں کرسکتے لہذا یہاں ہم چند جھلکیاں ہی دے سکتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی شریعت ایک کامل اور باہم مربوط نظام حیات ہے ۔ اس کے اندر انسان کے لئے راہنمائی ‘ اس کی زندگی کی تنظیم اور ہر جہت سے اس کی تعمیر و ترقی کا سامان موجود ہے ۔ یہ نظام اس انسانی زندگی کے ہر قسم کے حالات اور ہر زمان ومکان میں اس کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔
یہ ایک ایسا نظام ہے جو اس انسان کی شخصیت اور اس کے نفس کے بارے میں نہایت ہی گہرے علم پر مبنی ہے اور اس میں اس کی پوری ضروریات کا حل موجود ہے ۔ یہ نظام اس پوری کائنات کی ماہیت کو پیش نظر رکھ کر وضع کیا گیا ہے اور اس نظام کی تشکیل میں انسانوں کی فطرت اور اس کائنات کے طبعی قوانین کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے جو اس پوری کائنات کے اندر کار فرما ہیں اس لئے اس نظام میں انسانی زندگی کے معاملات کے اندر کوئی افراط وتفریط نہیں ہے اور اس میں فطرت انسانی کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہے ۔ نہ یہ فطری میلانات کے اندر توڑ پھوڑ کرتا ہے اور نہ انسان کی فطری سرگرمیوں پر بندشیں عائد کرتا ہے ۔ اس نظام اور موامیس فطرت کے اندر کوئی تصادم بھی نہیں ہے بلکہ اس نظام پر عمل کرنے کے نتیجے میں اس کے اندر اور موامیس فطرت کے اندر نہایت ہی بہترین توازن ‘ اعتدال اور ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جو کسی دوسرے انسانی نظام کے اندر کبھی بھی پیدا نہیں ہوئی ۔ انسان تو محض ظاہری باتوں ہی کو جانتا ہے اور ایک انسان ایک متعین دور میں زندگی پاتا ہے ۔ وہ اپنے دور کے حالات کے مطابق ہی کچھ ظاہری باتوں کو سمجھ سکتا ہے ۔ انسان خود جو نظام بھی وضع کرتا ہے اس کے اندر انسانی جہالت کے آثار بہرحال پائے جاتے ہیں اور اس کے وضع کردہ نظام کے بعض تباہ کن اثرات بھی انسانی زندگی کے بعض پہلوؤں پر ظاہر ہوجاتے ہیں ۔ انسان کی فطرت اور ان وضعی قوانین کے اندر تباہ کن تصادم کے نتیجے میں انسانیت تباہ کن جھٹکوں سے دو چار ہوتی رہتی ہے ۔
سب سے پہلے یہ کہ اسلامی نظام ‘ عدل مطلق پر قائم ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہی صحیح طرح اس بات کو جانتا ہے کہ عدل کن زرائع سے قائم کیا جاسکتا ہے اور کس طرح وہ بار آور ہو سکتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا رب ہے اس لئے سب کے درمیان انصاف کرنا بھی اسی کا حق ہے ۔ اللہ کا نظام ذاتی خواہش ‘ کسی خاص رجحان اور ہر قسم کے نقص سے ایسے ہی پاک ہوتا ہے جس طرح وہ نظام جہالت ‘ نقص اور افراط وتفریط سے پاک ہوتا ہے ۔ یہ وہ اوصاف ہیں کہ جو کسی ایسے نظام زندگی میں جمع نہیں ہو سکتے جو انسان کا بنایا ہوا ہو ‘ اس لئے کہ انسان کے اندر شخصی خواہشات بھی ہوتی ہیں ‘ ذاتی رجحانات بھی اس کے اندر ہوتے ہیں اور انسان کے اندر شخصی خواہشات بھی ہوتی ہیں ‘ ذاتی رجحانات بھی اس کے اندر ہوتے ہیں اور انسان کے اندر جہل اور دوسرے نقائص بھی ہوتے ہیں چاہے یہ قانون کوئی فرد بنائے یا کوئی طبقہ بنائے یا کوئی پوری قوم بنائے یا کسی خاص زمانے کی پوری نسل انسانی بنا دے یا انسانوں کے تمام ادوار کی نسلیں اسے بنائیں اس لئے کہ ان تمام قانون سازوں کے اپنے میلانات اور رجحانات ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی ذاتی خواہشات اور مفادات ان پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا تمام حالات میں قانون ساز جہالت نقص اور عجز سے پاک نہیں ہوتے اور وہ کسی ایک زمان ومکان کے اندر بھی معاملے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرسکتے ۔
پھر اسلامی نظام ایک ایسا نظام ہے جو اس پوری کائنات کے ناموس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اس لئے کہ اسلامی نظام اللہ کا نظام ہے اور ناموس کائنات بھی اللہ کا جاری کردہ ہے ۔ اللہ کی ذات ہی اس کائنات کی صانع ہے اور وہی اس انسان کی بھی صانع ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جب انسان کے لئے کوئی ضابطہ بنایا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جس طرح اس نے کائنات کے ایک حصے کے لئے ضابطہ بنایا ہے ۔ ذات باری اس پوری کائنات کے تمام عناصر پر غالب ہے اور ان پر نہگبان ہے ۔ یہ تمام عناصر اللہ کی ہدایت پر رواں و ودواں ہیں اور یہ تمام عناصر ان قوانین کو جانتے ہیں جوان پر حکمران ہیں۔ یہ قوانین ان پر ان کے خالق کے حکم سے حکمران ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام میں ایک انسان اور اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی اس کائنات کے اندر ایک قسم کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ اس طرح ضابطہ شریعت جو اس انسان کی زندگی کی تنظیم کرتا ہے ایک کائناتی مزاج اپنے اندر رکھتا ہے اور یہ ضابطہ صرف انسانی نفس کے ساتھ معاملہ نہیں کرتا نہ صرف اپنے بنی نوع انسان کے ساتھ ہی نہیں کرتا بلکہ یہ معاملہ زندہ اور غیر زندہ اشیاء کے ساتھ ہوتا ہے اور اس پوری کائنات کے ساتھ ہوتا ہے جس میں وہ زندہ وجود رہ رہا ہے اور اس سے وہ نکل نہیں سکتا اور اسے اس کائنات کے اندر اس کے ساتھ جڑ کر زندہ رہنا ہے ۔ امن اور آشتی کے ساتھ ۔
پھر یہ واحد نظام زندگی ہے جس میں ایک انسان تمام دوسرے انسانوں کی غلامی سے پوری طرح آزاد ہوجاتا ہے ۔ اسلام کے سوا تمام نظام ہائے زندگی میں انسان انسانوں کے غلام ہوتے ہیں اور صرف اسلامی نظام ہی میں تمام لوگ تمام دوسرے لوگوں کی غلامی سے نکل آتے ہیں اور اس میں وہ صرف اللہ کے بندے ہوتے ہیں سب کے سب ۔
جیسا کہ اس سے پہلے ہم بار بار بیان کر آئے ہیں اللہ کی خصوصیات میں سے اہم ترین خصوصیت اللہ کی حاکمیت ہے ۔ اور جو شخص خود انسانوں کے لئے قانون بناتا ہے وہ یہ خصوصیت اپنے لئے خاص کرلیتا ہے اور ان انسانوں کے اندر ایک طرح کی الوہیت کا مدعی بن جاتا ہے ۔ یہ لوگ جو اس کو انسان کا قانون مانتے ہیں وہ اس انسان کے بندے بن جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی بندگی سے نکل آتے ہیں ۔ یہ لوگ اس دین پر ہوتے ہیں ‘ اللہ کے دین پر نہیں ہوتے ۔ اسلام جب حق قانون سازی صرف اللہ کے سپرد کرتا ہے تو وہ لوگوں کو تمام انسانوں کی بندگی سے خارج کر کے اسے صرف اللہ کی بندگی میں داخل کردیتا ہے ۔ انسان کی آزادی کا اعلان کرتا ہے بلکہ اسلام انسان کے لئے ایک نئے جنم کا اعلان کرتا ہے ۔ اس طرح کہ انسان کی گردن جب تک دوسرے انسان کے حق سے آزاد نہ ہو ‘ اس وقت تک وہ آزاد تصور نہیں ہوتا اور جب تک یہ تمام انسان رب الناس کے سامنے مساوی سطح پر کھڑے نہیں ہوجاتے ۔
یہ مسئلہ جوان آیات میں لیا گیا ہے یہ اسلامی عقیدے اور اسلامی نظریہ حیات کا نہایت ہی اہم اور خطرناک مسئلہ ہے ۔ یہالوہیت اور عبودیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ عدالت اور اصلاح کا مسئلہ ہے ۔ یہ حریت اور مساوات کا مسئلہ ہے ۔ یہ پوری انسانیت کی آزادی اور نئے جنم کا مسئلہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کفر اور ایمان کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے اور اسے اسلام اور جاہلیت کے امتیاز کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے ۔
جاہلیت کسی ایک دور کا نام نہیں ہے ۔ یہ ایسی حالت کا نام ہے جس کے کچھ بنیادی عناصر ترکیبی ہیں۔ جہاں بھی اس کے عناصر اور مقومات پائے جائیں وہاں جاہلیت موجود ہوجاتی ہے ۔ اس کے یہ عناصر جس نظام اور جس صورت حالات میں پائے جائیں وہ نظام جاہلی نظام ہوگا اور اس حالت کو حالت جاہلیت کہیں گے ۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی یہ ہے کہ کوئی قانون سازی اور حکمرانی میں انسانی خواہشات کا تابع ہوجائے اور اسلامی نظام اور اللہ کی شریعت کے تابع نہ ہو ۔ یہ خواہشات چاہے کسی فرد کی خواہشات ہوں ‘ چاہے کسی طبقے کی خواہشات ہوں چاہے کسی ایک قوم کی خواہشات ہوں یا پوری نسل انسانی کی خواہشات اس لئے کہ یہ سب خواہشات اور یہ سب لوگ جب تک اللہ کی شریعت کے تابع نہ ہوں گے یہ نفسانی خواہشات ہی رہیں گی ۔
اگر ایک فرد کسی سوسائٹی کے لئے قانون سازی کرے تو یہ جاہلیت ہے ‘ اس لئے کہ اس صورت میں اس کی خواہش قانون ہوگی ۔ اس کی رائے قانون ہوگی ‘ اور اس ضمن میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف الفاظ کا ہے ۔ اصل حقیقت وہ ہے جو ہم کہہ رہے ہیں ۔
یا کوئی ایک طبقہ تمام طبقات کے لئے قانون سازی کر رہا ہو تو یہ صورت حال بھی جاہلیت ہوگی ۔ اس صورت میں اس طبقے کی مفادات قانون کی شکل میں اختیار کرلیں گے ، یا اس طبقے کی پارلیمنٹ میں اکثریت کی رائے قانون بن جائے گی اس صورت میں فرق اگر کوئی ہے تو صرف الفاظ کا ہے ۔
یا پھر اگر حق قانون سازی تمام طبقات کے نمائندوں کو حاصل ہے اور امت کے تمام گروہوں کو حاصل ہے تو بھی یہ صورت حال جاہلی صورت حال ہے ‘ اس لئے کہ لوگوں کی آراء کسی وقت بھی ذاتی خواہشات سے پاک نہیں ہوتیں۔ پھر اس قانون سازی میں جہالت بھی شامل ہوگی کیونکہ لوگ جاہلیت سے کبھی پاک نہیں ہوتے یا پھر اگر ریفرنڈم کی صورت ہو تو پوری قوم کی اغلبیت کی رائے قانون ہوجائے گی ۔ اب بھی فرق اگر کوئی ہوگا تو صرف الفاظ کا ہوگا ۔
اس سے بھی وسیع دائرے میں پوری اقوام کا مجموعہ اگر کوئی قانون سازی کرتا ہے تو وہ بھی جاہلیت ہوگی ‘ کیونکہ ان اقوام کے قومی مقاصد قانونی صورت اختیار کرلیں گے یا بین الاقوامی مجالس کی جو رائے بنے گی وہ قانون ہوجائے گی اور یہ نظام بھی جاہلی ہوگا ۔ فرق اگر کوئی ہوگا تو صرف الفاظ کا ہوگا ۔
اب تمام افراد ‘ تمام سوسائٹیوں ‘ تمام اقوام اور تمام نسلوں کا خالق اگر کوئی قانون بناتا ہے تو یہ قانون تمام لوگوں کے لئے ہوگا اور یہ اللہ کی شریعت ہوگی ۔ اس میں کسی ایک کو نقصان دے کر دوسرے کو فاہدہ نہیں پہنچایا جاتا ۔ اس میں کسی فرد ‘ کسی سوسائٹی اور کسی بین الاقوامی انجمن یا کسی پوری نسل انسانی کے ساتھ مخصوص باتوں کو مدنظر نہیں رکھا جاتا اس لئے کہ اللہ سب کے لئے رب العالمین ہے اور اس کے ہاں سب کا رتبہ برابر ہے ۔ پھر وہ سب کی مصلحت اور مفاد کو بھی اچھی طرح جانتا ہے اور یہ سب امور افراط اور تفریط سے بھی پاک ہوتے ہیں ۔
اب اگر کوئی اور قانون سازی کرے تو یقینا لوگ اس غیر کے غلام ہوں گے چاہے یہ غیر اللہ جو بھی ہو ۔ فرد ہو ‘ سوسائٹی ہو یا طبقہ ہو یا قوم ہو یا انجمن اقوام ہو ۔۔۔۔۔ لیکن اللہ کی قانون سازی میں تمام لوگ آزاد ہوجاتے ہیں ‘ مساوی سطح پر آجاتے ہیں ۔ ان کے ماتھے اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے ۔ وہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرتے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ انسانوں کی زندگی میں نہایت ہی اہمیت رکھتا ہے اور خود اس نظام کائنات کے اندر بھی اس کی اہمیت ہے ۔
(آیت) ” لو اتبع الحق اھوائھم لفسدت السموات والارض ومن فیھن “۔ (اگر سچائی لوگوں کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان میں ان کے معاملات میں بھی فساد ہوجائے ) اس لئے اللہ کے سوا کسی اور کے مطابق فیصلے کرنے کی معنی ہیں شروفساد اور آخر کار اس کی وجہ سے انسان دائرہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے ۔ ذرا قرآنی آیات کو غور سے پڑھیں ۔ یہ اس نص کا تقاضا ہے ۔
المائدة 5:40
(آیت) ” فَمَن تَابَ مِن بَعْدِ ظُلْمِہِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللّہَ یَتُوبُ عَلَیْْہِ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(39)
” اور وہ دانا وبینا ہے ۔ پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی ‘ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے)
” اللہ کی حکمرانی ایک ہے ‘ وہ مالک الملک ہے ‘ وہی ہے جو اس دنیا کے لئے قانون بناتا ہے اور آخرت میں پھر اس قانون کے مطابق جزا وسزا مقرر کرتا ہے ۔ ان معاملات میں نہ تعدد ہے ‘ نہ کوئی تقسیم ہے اور نہ یہ معاملات ایک دوسرے سے جدا ہیں ۔ لوگوں کے معاملات اس وقت تک درست نہیں ہوسکتے جب تک حق قانون سازی اور نظام جزاوسزا دنیا اور آخرت دونوں میں ایک ہی ذات باری میں مرتکز نہ کردیا جائے ۔ اس لئے کہ اگر اس کائنات میں صرف اللہ الہ نہ ہوتا اور متعدد الہ ہوتے تو یہ کب کی تباہ ہوچکی ہوتی ۔ پس وہی ہے جو آسمانوں میں بھی الہ ہے اور زمین میں الہ۔
درس نمبر 49 ایک نظر میں :
اس سبق میں اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام حیات کا نہایت ہی اہم مسئلہ لیا گیا ہے ۔ اس پر اسلامی نظام حکومت اور اسلامی زندگی کا دارومدا رہے ۔ سورة آل عمران اور سورة نساء میں بھی اس مسئلے کا بار بار ذکر ہوا ہے لیکن یہاں اس سبق میں اسے نہایت ہی واضح اور قطعی شکل میں لے لیا گیا ہے ۔ یہاں اس مسئلے کو اشارۃ النص یا مفہوم آیت کے طور پر نہیں لیا گیا نہ بطور اقتضاء النص لیا گیا ۔ یہاں اسے عبارۃ النص اور قضی الدلالت کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔
یہ مسئلہ نظام حکومت ‘ قانونی نظام اور عدالتی نظام سے متعلق ہے اور اس کی اساس پر مسئلہ توحید ‘ مسئلہ حاکمیت الہیہ اور ایک شخص کے ایمان کے ہونے نہ ہونے کا دارومدار ہے ۔
سوال یہ ہے کہ ہمارا نظام حکومت ہمارا قانونی نظام اور ہمارا نظام عدالت آیا اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ہوگا ‘ شریعت کے مطابق ہوگا اور ان شرائع کے مطابق ہوگا جو ادیان سماوی میں محفوظ رہی ہیں ۔ سابقہ رسل اور اس رسول آخر الزمان کی شریعت کے مطابق ہوگا یا ہماری خواہشات بدلتی ہوئی خواہشات یا ہمار مصالح اور بدلتے ہوئے مصالح کے مطابق ہوگا جو اللہ کی شریعت کے مطابق نہیں ہیں یا صرف کسی دوریا کسی نسل کے رسم و رواج کے مطابق متغیر اور متبدل ہوتا رہے گا ۔ آیا لوگوں کی زندگی اور اس کرہ ارض پر حاکمیت ‘ ربوبیت اور قیومیت اللہ کی ہوگی یا اس میں سے بعض چیزیں اللہ کی اور بعض دوسرے لوگوں کی ہوں گی ؟
اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے ۔ اس نے لوگوں کے لئے ایک شریعت نازل کی ہے اور یہ شریعت اور قانون اس کی حاکمیت کے مطابق ہے ۔ اس نے لوگوں سے یہ عہد لیا ہے کہ وہ اللہ کی شریعت پر قائم رہیں گے اور اس کرہ ارض پر یہی شریعت حاکم رہے گی ۔ اور لوگوں کا فرض ہے کہ وہ اسی شریعت کے مطابق اپنی عدالتیں چلائیں اور انبیاء کا بھی فرض ہے کہ وہ اس کے مطابق کام کریں ۔ انبیاء کے بعد حکام کا فرض بھی یہی ہے کہ وہ اس کے مطابق فیصلے کریں ۔
اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ اس مسئلے میں کوئی جھوٹ اور کوئی خود مختاری نہیں ہے ۔ اس مسئلے میں زندگی کے معاملات میں سے چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اگر کوئی پوری نسل کسی بھی دور میں کوئی قانون اس کے مقابلے میں وضع کرے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ نہ کسی قبیلے یا کسی قوم کا کوئی اصول اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت رکھتا ہے الا یہ کہ اللہ نے کسی چیز کا اذن دے دیا ہو ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہاں سوال یا تو ایمان وکفرکا ہے یا اسلام اور جاہلیت کا یا شریعت ہوگی یا نفسانیت ۔ اس معاملے میں نہ کوئی بین بین مقام ہے ۔ نہ نرمی ہے اور نہ مصالحت ہے ۔ مومنین وہی لوگ ہیں جو اللہ کے قانون کے مطابق حکم کرتے ہیں ۔ اس سے ذرہ برابر انحراف نہیں کرتے اور اس میں ایک حرف کی تبدیلی نہیں کرتے ، ظالم ‘ فاسق ‘ اور کافر وہ لوگ ہیں جو اس معاملے میں انحراف کرکے فیصلے اللہ کے قانون شریعت کے مطابق نہیں کرتے ۔ حکمران اگر اللہ کی شریعت کے مطابق حکمران ہوں گے تو وہ دائرہ ایمان میں داخل ہوں گے یا وہ کسی دوسرے آئین ودستور و قانون پر چلتے ہوں گے جس کی اجازت اللہ نے نہ دی ہوگی تو وہ کافر ‘ فاسق اور ظالم ہوں گے ۔ لوگوں کے لئے دو ہی راستے ہیں ‘ یا تو وہ حکام اور ججوں کی جانب سے اللہ کے قانون کے مطابق جاری کردہ فیصلے قبول کریں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں ایسا کریں گے تو وہ مومن ہوں گے اور اگر وہ یہ راہ اختیار نہ کریں گے تو وہ مومن نہ ہوں گے ۔ ان دو راستوں کے درمیان کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے ۔ نہ اس معاملے میں کوئی حجت بازی کام دے گی ‘ نہ کوئی معذرت قبول ہوگی ‘ نہ کوئی مصلحت قبول ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ بہر حال لوگوں کا رب ہے اور وہی جانتا ہے کہ لوگوں کی مصلحت کس میں ہے ؟ اللہ تعالیٰ لوگوں کی حقیقی بہبود کے لئے قانون سازی کرتا ہے لہذا اللہ کی شریعت اور احکام سے کوئی قانون اور کوئی آرڈر بہتر نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اللہ کی شریعت کو تسلیم نہیں کرتا ۔ یا یہ کہ وہ اللہ سے زیادہ لوگوں کی مصلحت کے بارے میں جانتا ہے ۔ اگر کوئی اپنی زبان اور اپنے عمل سے ایسا کہے تو وہ دائرہ ایمان سے خارج تصور ہوگا ۔
یہ ہے وہ عظیم مسئلہ جو اس سبق میں فیصلہ کن انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ اس سبق میں یہودیوں کے حالات بھی بیان کئے گئے ہیں جو مدینہ کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے جو منافقین کے ساتھ مل کر اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے تھے اور داؤ پیچ لڑا رہے تھے ۔
(آیت) ” من الذین قالوا امنا باافواھھم ولم تو من قلوبھم “۔ (5 : 41) (ان لوگوں سے جو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل ایمان نہ لائے تھے) اس میں وہ حالات بھی بیان کئے گئے ہیں جن کے مطابق حضور اکرم ﷺ ان سازشوں کا مقابلہ کر رہے تھے اور جن سے یہودی حضور اکرم ﷺ کے زمانہ سے آج تک باز نہیں آئے ۔
اس سبق میں قرآن کی عبارتوں سے کئی باتیں نکلتی ہیں ۔ پہلا فیصلہ تو یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام ادیان جو اللہ کی جانب سے نازل ہوئے ان میں تمام فیصلے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ہوتے رہے ۔ ان کے اندر زندگی کا پورا نظام اللہ کی شریعت پر قائم ہوتا رہا ۔ یہ بات اسلام اور کفر کے اندر حد فاصل رہی ‘ اسلام اور جاہلیت کے اندر فرق و امتیاز کی بنیاد رہی اور شریعت اور ہوائے نفس کے درمیان جدائی کی اساس رہی کہ شریعت کے مطابق فیصلے کراتا ہے اور کون نہیں کراتا ہے۔ توراۃ کو بھی اللہ نے اس لئے نازل فرمایا کہ اس میں ہدایت اور نور تھا ۔
(آیت) ” یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِیْنَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِیْنَ ہَادُواْ وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن کِتَابِ اللّہِ وَکَانُواْ عَلَیْْہِ شُہَدَائ۔ (5 : 44)
(سارے نبی جو مسلم تھے ‘ اسی کے مطابق ان یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے اور اسی طرح ربانی اور احبار بھی ۔ (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے)
دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” وعندھم التورۃ فیھا حکم اللہ “ (5 : 43) (اور انکے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے) اور دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے۔ (آیت) ” وکتبنا علیھم علیھم فیھا ان النفس بالنفس) (اور ہم نے اس میں ان پر یہ فرض کردیا کہ جان کے بدلے جان ہوگی ) اور حضرت ابن مریم عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل دی گئی ۔
(آیت) ” مصدقالما بین یدیہ من التورت وھدی وموعظۃ للمتقین (46) والیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ “۔ (47) (5 : 46۔ 47) (اور وہ تورات میں سے جو کچھ اس وقت موجود تھا اس کی تصدیق کرنے والی تھی اور خدا ترس لوگوں کے لئے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی ، ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اس قانون کے مطابق فیصلے کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی پر قرآن کریم نازل فرمایا ۔
(آیت) ” بالحق مصدقالما بین یدیہ من الکتب ومھیمنا علیہ (5 : 48) (سچائی کے ساتھ اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ اور نگہبان ہے) اور نبی آخر الزمان کو حکم دیا گیا :
(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق (5 : 48) (لہذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو) اور پھر کہا :
(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفسقون “۔ (5 : 47) (جو لوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں وہ فاسق ہیں) اور یہ حکم دیا :
(آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (5 : 50) (تو پھر کیا جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں کے نزدیک اللہ بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے) ان آیات سے صاف نظر آتا ہے کہ تمام ادیان کا اس نکتے پر پورا پورا اتفاق رہا ہے ۔ یوں اسلامی حدود متعین ہوجاتی ہیں اور اسلام کی سرائط کا تعین ہوجاتا ہے ۔ محکموں اور عدالتوں کے لئے بھی اور حکام کے لئے بھی ۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام فیصلے اللہ کے احکام کے مطابق کئے جائیں اور عوام الناس ان فیصلوں کو قبول کریں ۔ اور اسلامی قانون کو چھوڑ کر دوسرے قوانین اور احکام کے پیچھے نہ بھاگیں ۔
اس فریم ورک میں یہ مسئلہ نہایت ہی اہمیت اختیار کرجاتا ہے اور اس زاویے سے اس پر زور دینے کے اسباب بھی لازما نہایت ہی اہم ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ اسباب کیا ہیں ؟ چاہے ان اسباب کی تلاش ہم ان نصوص کے اندر کریں یا پوری قرآنی آیات وعبارات میں کریں یہ اسباب ہمیں بالکل واضح نظر آتے ہیں ۔
ان میں پہلا سبب یہ ہے کہ یہ دراصل اللہ کی الوہیت اس کی ربوبیت اور حاکمیت کے اقرار کا مسئلہ ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ ان امور میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس کے انکار کا مسئلہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ ایمان اور کفر کا معاملہ بن جاتا ہے ۔ اسلام اور جاہلیت کا مسئلہ ہے ۔ یا جاہلیت ہوگی یا اسلام ہوگا ۔
آپ پورے قرآن پر نگاہ ڈالیں ۔ یہ ایک نمائش گاہ ہے لیکن اس میں جہاں دیکھو اس ایک ہی حقیقت کو برائے مشاہدہ پیش کیا گیا ہے ۔۔۔۔ ۔۔ یہ کہ اللہ وحدہ ہی خالق ہے ‘ اسی نے اس پوری کائنات کو پیدا کیا ‘ اسی نے اس انسان کو پیدا کیا ‘ اسی نے اس زمین و آسمان کو اور ان کے درمیان پائے جانے والی تمام اشیاء کو اس انسان کے لئے مسخر کیا ۔ تخلیق صرف اللہ کی ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ‘ چاہے یہ مخلوق چھوٹی ہو یا بڑی ‘ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو ۔۔۔۔۔ یہ کہ اللہ ہی مالک ہے اور وہ مالک اس لئے ہے کہ وہی خالق ہے ۔ زمینون اور آسمانوں اور ان دونوں کے درمیان اور آسمانوں اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے اس کا مالک ہے اور وہ مالک اس لئے ہے کہ وہی خالق ہے ۔ زمینوں اور آسمانوں اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے اس کا مالک اللہ ہے ‘ وہ منفردا مالک ہے اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔۔۔۔۔ پھر یہ کہ اللہ رازق ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی اور ذات انسان کو یا دوسرے جانداروں کو رزق فراہم نہیں کرسکتی نہ کم اور نہ زیادہ ۔
اور پھر کہ اللہ اس کائنات کا شہنشاہ اور اس کے اندر متصرف ہے اور وہ لوگوں کے لئے بھی متصرف الامور ہے ۔ اس لئے کہ وہی خالق ‘ وہی مالک اور وہی رازق ہے اور وہ اس قدر قدرتوں کا مالک ہے جس کی قدرت کاملہ کے بغیر نہ تخلیق ہو سکتی ہے اور نہ رزق مل سکتا ہے اور نہ نفع ونقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اسی پوری کائنات پر اس کی حکمرانی ہے ۔
اب ایمان کیا ہے ‘ ان مذکورہ بالاامور کا اقرار ایمان ہے یعنی یہ کہ حاکمیت ‘ ملکیت اور ربوبیت میں اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہ خصائص صرف ذات باری کو حاصل ہیں ۔ اسلام درحقیقت سرتسلیم خم کردینے کا نام ہے اور ان خصوصیات کے تقاضوں کے اندر اللہ کی اطاعت کا نام اسلام ہے یعنی الوہیت ‘ ربوبیت ‘ قیومیت اور حاکمیت کا حق صرف ذات باری کو حاصل ہے ‘ اس پوری کائنات پر جس کے اندر انسان اس کا ایک جزء ہے ۔ اللہ کے قضا وقدر کے فیصلوں کا اعتراف اور اس کی شریعت کے قوانین کا اعتراف اس میں شامل ہے ۔ بس اللہ کی شریعت کا اعتراف ہی دراصل اللہ کی الوہیت ‘ ربوبیت اور اس کا حاکمیت اور نگہبانی کا اعتراف ہے ۔ اس شریعت کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کے معنی سب سے پہلے یہ ہیں کہ ہم اللہ کی الوہیت ‘ ربوبیت اور اس کی حاکمیت وقیومیت کا انکار کر رہے ہیں بایں معنی کہ کوئی اپنی زندگی کے تمام جزئی معاملات میں فیصلے کسی اور شریعت و قانون کے مطابق کرے ، اسلام کے سامنے سرتسلیم خم کرنا یا اس کا انکار کرنا چاہے زبان سے ہو یا عمل سے ہو دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ کفر و ایمان کا مسئلہ ہے ‘ جاہلیت اور اسلام کا مسئلہ ہے اور اسی وجہ سے یہ آیت آئی ہے :
(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون “۔ (5 : 44) (جو لوگ بھی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ کافر ہیں) اور دوسری آیات میں فاسق اور ظالم کے الفاظ آئے ہیں ۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلامی شریعت دوسرے شرائع اور قوانین کے مقابلے میں قطعا برتر اور افضل ہے اور اس سبق کی آخری آیت اسی کی جانب اشارہ کر رہی ہے ۔
(آیت) ” ومن احسن من اللہ حکما القوم یوقنون “۔ (5 : 50) (جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے ۔ )
اسلامی شریعت کی افضیلت کا یہ اعتراف بھی مسئلہ ایمان کے اندر شامل ہے اور ایک سچے مومن کے نزدیک زندگی کے تمام حالات اور طریقوں میں اللہ کے قانون اور شریعت کو ہی افضل ہونا چاہئے ۔ اس لئے کوئی مومن انسان تو یہ دعوی کر ہی نہیں سکتا کہ انسانی قوانین اللہ کی شریعت سے افضل یا اس کے مماثل ہو سکتے ہیں ۔ کسی پیمانے ‘ کسی حال اور کسی رسم و رواج کے اعتبار سے ۔ اگر کوئی ایسا دعوی کرے گا تو وہ مومن نہ ہوگا نہ وہ مسلم ہوگا ‘ بلکہ اس کے اس دعوے کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ شخص اللہ سے زیادہ لوگوں کے حالات کا جاننے والا ہے اور وہ ان کے حالات کی بابت اللہ سے زیادہ اچھے فیصلے کرنے والا ہے یا اس کے اس دعوے کا مفہوم یہ ہوگا کہ لوگوں کو بعض حالات پیش آئے لیکن ان حالات کا علم اللہ تعالیٰ کو نہ تھا ۔ لوگوں کو بعض ضروریات درپیش تھیں ‘ جو اللہ کی نظروں سے اوجھل تھیں (نعوذ باللہ) اور پھر بھی اللہ نے لوگوں کے لئے قانون سازی کی یا یہ کہ اللہ کو ان کا علم تھا لیکن اس کے باوجود اللہ نے ان کے لئے قانون نہ بنایا ۔ ظاہر ہے کہ ایسے دعو وں کے ساتھ ایمان اور اسلام جمع نہیں ہو سکتے اگرچہ بظاہر اپنی زبان سے کوئی ایمان اور اسلام کا دعوی کرے ۔
اب اس فضیلت کا عملی اظہار کس طرح ہوگا تو اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم اس کی حقیقت تک پوری طرح پہنچ ہی نہیں سکتے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قوانین کی پوری حکمت کا اظہار کسی دور میں بھی پوری طرح نہیں فرمایا ۔ جن حکمتوں کا ذکر ہوا ہے ‘ یہاں ہم فی ظلال القرآن میں ان پر پوری بحث نہیں کرسکتے لہذا یہاں ہم چند جھلکیاں ہی دے سکتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی شریعت ایک کامل اور باہم مربوط نظام حیات ہے ۔ اس کے اندر انسان کے لئے راہنمائی ‘ اس کی زندگی کی تنظیم اور ہر جہت سے اس کی تعمیر و ترقی کا سامان موجود ہے ۔ یہ نظام اس انسانی زندگی کے ہر قسم کے حالات اور ہر زمان ومکان میں اس کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔
یہ ایک ایسا نظام ہے جو اس انسان کی شخصیت اور اس کے نفس کے بارے میں نہایت ہی گہرے علم پر مبنی ہے اور اس میں اس کی پوری ضروریات کا حل موجود ہے ۔ یہ نظام اس پوری کائنات کی ماہیت کو پیش نظر رکھ کر وضع کیا گیا ہے اور اس نظام کی تشکیل میں انسانوں کی فطرت اور اس کائنات کے طبعی قوانین کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے جو اس پوری کائنات کے اندر کار فرما ہیں اس لئے اس نظام میں انسانی زندگی کے معاملات کے اندر کوئی افراط وتفریط نہیں ہے اور اس میں فطرت انسانی کے ساتھ کوئی تصادم نہیں ہے ۔ نہ یہ فطری میلانات کے اندر توڑ پھوڑ کرتا ہے اور نہ انسان کی فطری سرگرمیوں پر بندشیں عائد کرتا ہے ۔ اس نظام اور موامیس فطرت کے اندر کوئی تصادم بھی نہیں ہے بلکہ اس نظام پر عمل کرنے کے نتیجے میں اس کے اندر اور موامیس فطرت کے اندر نہایت ہی بہترین توازن ‘ اعتدال اور ہم آہنگی پیدا ہوجاتی ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جو کسی دوسرے انسانی نظام کے اندر کبھی بھی پیدا نہیں ہوئی ۔ انسان تو محض ظاہری باتوں ہی کو جانتا ہے اور ایک انسان ایک متعین دور میں زندگی پاتا ہے ۔ وہ اپنے دور کے حالات کے مطابق ہی کچھ ظاہری باتوں کو سمجھ سکتا ہے ۔ انسان خود جو نظام بھی وضع کرتا ہے اس کے اندر انسانی جہالت کے آثار بہرحال پائے جاتے ہیں اور اس کے وضع کردہ نظام کے بعض تباہ کن اثرات بھی انسانی زندگی کے بعض پہلوؤں پر ظاہر ہوجاتے ہیں ۔ انسان کی فطرت اور ان وضعی قوانین کے اندر تباہ کن تصادم کے نتیجے میں انسانیت تباہ کن جھٹکوں سے دو چار ہوتی رہتی ہے ۔
سب سے پہلے یہ کہ اسلامی نظام ‘ عدل مطلق پر قائم ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ہی صحیح طرح اس بات کو جانتا ہے کہ عدل کن زرائع سے قائم کیا جاسکتا ہے اور کس طرح وہ بار آور ہو سکتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی سب کا رب ہے اس لئے سب کے درمیان انصاف کرنا بھی اسی کا حق ہے ۔ اللہ کا نظام ذاتی خواہش ‘ کسی خاص رجحان اور ہر قسم کے نقص سے ایسے ہی پاک ہوتا ہے جس طرح وہ نظام جہالت ‘ نقص اور افراط وتفریط سے پاک ہوتا ہے ۔ یہ وہ اوصاف ہیں کہ جو کسی ایسے نظام زندگی میں جمع نہیں ہو سکتے جو انسان کا بنایا ہوا ہو ‘ اس لئے کہ انسان کے اندر شخصی خواہشات بھی ہوتی ہیں ‘ ذاتی رجحانات بھی اس کے اندر ہوتے ہیں اور انسان کے اندر شخصی خواہشات بھی ہوتی ہیں ‘ ذاتی رجحانات بھی اس کے اندر ہوتے ہیں اور انسان کے اندر جہل اور دوسرے نقائص بھی ہوتے ہیں چاہے یہ قانون کوئی فرد بنائے یا کوئی طبقہ بنائے یا کوئی پوری قوم بنائے یا کسی خاص زمانے کی پوری نسل انسانی بنا دے یا انسانوں کے تمام ادوار کی نسلیں اسے بنائیں اس لئے کہ ان تمام قانون سازوں کے اپنے میلانات اور رجحانات ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک کی ذاتی خواہشات اور مفادات ان پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا تمام حالات میں قانون ساز جہالت نقص اور عجز سے پاک نہیں ہوتے اور وہ کسی ایک زمان ومکان کے اندر بھی معاملے کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرسکتے ۔
پھر اسلامی نظام ایک ایسا نظام ہے جو اس پوری کائنات کے ناموس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اس لئے کہ اسلامی نظام اللہ کا نظام ہے اور ناموس کائنات بھی اللہ کا جاری کردہ ہے ۔ اللہ کی ذات ہی اس کائنات کی صانع ہے اور وہی اس انسان کی بھی صانع ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جب انسان کے لئے کوئی ضابطہ بنایا ہے تو وہ ایسا ہی ہے جس طرح اس نے کائنات کے ایک حصے کے لئے ضابطہ بنایا ہے ۔ ذات باری اس پوری کائنات کے تمام عناصر پر غالب ہے اور ان پر نہگبان ہے ۔ یہ تمام عناصر اللہ کی ہدایت پر رواں و ودواں ہیں اور یہ تمام عناصر ان قوانین کو جانتے ہیں جوان پر حکمران ہیں۔ یہ قوانین ان پر ان کے خالق کے حکم سے حکمران ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام میں ایک انسان اور اس کے ارد گرد پھیلی ہوئی اس کائنات کے اندر ایک قسم کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ اس طرح ضابطہ شریعت جو اس انسان کی زندگی کی تنظیم کرتا ہے ایک کائناتی مزاج اپنے اندر رکھتا ہے اور یہ ضابطہ صرف انسانی نفس کے ساتھ معاملہ نہیں کرتا نہ صرف اپنے بنی نوع انسان کے ساتھ ہی نہیں کرتا بلکہ یہ معاملہ زندہ اور غیر زندہ اشیاء کے ساتھ ہوتا ہے اور اس پوری کائنات کے ساتھ ہوتا ہے جس میں وہ زندہ وجود رہ رہا ہے اور اس سے وہ نکل نہیں سکتا اور اسے اس کائنات کے اندر اس کے ساتھ جڑ کر زندہ رہنا ہے ۔ امن اور آشتی کے ساتھ ۔
پھر یہ واحد نظام زندگی ہے جس میں ایک انسان تمام دوسرے انسانوں کی غلامی سے پوری طرح آزاد ہوجاتا ہے ۔ اسلام کے سوا تمام نظام ہائے زندگی میں انسان انسانوں کے غلام ہوتے ہیں اور صرف اسلامی نظام ہی میں تمام لوگ تمام دوسرے لوگوں کی غلامی سے نکل آتے ہیں اور اس میں وہ صرف اللہ کے بندے ہوتے ہیں سب کے سب ۔
جیسا کہ اس سے پہلے ہم بار بار بیان کر آئے ہیں اللہ کی خصوصیات میں سے اہم ترین خصوصیت اللہ کی حاکمیت ہے ۔ اور جو شخص خود انسانوں کے لئے قانون بناتا ہے وہ یہ خصوصیت اپنے لئے خاص کرلیتا ہے اور ان انسانوں کے اندر ایک طرح کی الوہیت کا مدعی بن جاتا ہے ۔ یہ لوگ جو اس کو انسان کا قانون مانتے ہیں وہ اس انسان کے بندے بن جاتے ہیں۔ یہ اللہ کی بندگی سے نکل آتے ہیں ۔ یہ لوگ اس دین پر ہوتے ہیں ‘ اللہ کے دین پر نہیں ہوتے ۔ اسلام جب حق قانون سازی صرف اللہ کے سپرد کرتا ہے تو وہ لوگوں کو تمام انسانوں کی بندگی سے خارج کر کے اسے صرف اللہ کی بندگی میں داخل کردیتا ہے ۔ انسان کی آزادی کا اعلان کرتا ہے بلکہ اسلام انسان کے لئے ایک نئے جنم کا اعلان کرتا ہے ۔ اس طرح کہ انسان کی گردن جب تک دوسرے انسان کے حق سے آزاد نہ ہو ‘ اس وقت تک وہ آزاد تصور نہیں ہوتا اور جب تک یہ تمام انسان رب الناس کے سامنے مساوی سطح پر کھڑے نہیں ہوجاتے ۔
یہ مسئلہ جوان آیات میں لیا گیا ہے یہ اسلامی عقیدے اور اسلامی نظریہ حیات کا نہایت ہی اہم اور خطرناک مسئلہ ہے ۔ یہالوہیت اور عبودیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ عدالت اور اصلاح کا مسئلہ ہے ۔ یہ حریت اور مساوات کا مسئلہ ہے ۔ یہ پوری انسانیت کی آزادی اور نئے جنم کا مسئلہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے کفر اور ایمان کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے اور اسے اسلام اور جاہلیت کے امتیاز کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے ۔
جاہلیت کسی ایک دور کا نام نہیں ہے ۔ یہ ایسی حالت کا نام ہے جس کے کچھ بنیادی عناصر ترکیبی ہیں۔ جہاں بھی اس کے عناصر اور مقومات پائے جائیں وہاں جاہلیت موجود ہوجاتی ہے ۔ اس کے یہ عناصر جس نظام اور جس صورت حالات میں پائے جائیں وہ نظام جاہلی نظام ہوگا اور اس حالت کو حالت جاہلیت کہیں گے ۔ اس کی ریڑھ کی ہڈی یہ ہے کہ کوئی قانون سازی اور حکمرانی میں انسانی خواہشات کا تابع ہوجائے اور اسلامی نظام اور اللہ کی شریعت کے تابع نہ ہو ۔ یہ خواہشات چاہے کسی فرد کی خواہشات ہوں ‘ چاہے کسی طبقے کی خواہشات ہوں چاہے کسی ایک قوم کی خواہشات ہوں یا پوری نسل انسانی کی خواہشات اس لئے کہ یہ سب خواہشات اور یہ سب لوگ جب تک اللہ کی شریعت کے تابع نہ ہوں گے یہ نفسانی خواہشات ہی رہیں گی ۔
اگر ایک فرد کسی سوسائٹی کے لئے قانون سازی کرے تو یہ جاہلیت ہے ‘ اس لئے کہ اس صورت میں اس کی خواہش قانون ہوگی ۔ اس کی رائے قانون ہوگی ‘ اور اس ضمن میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف الفاظ کا ہے ۔ اصل حقیقت وہ ہے جو ہم کہہ رہے ہیں ۔
یا کوئی ایک طبقہ تمام طبقات کے لئے قانون سازی کر رہا ہو تو یہ صورت حال بھی جاہلیت ہوگی ۔ اس صورت میں اس طبقے کی مفادات قانون کی شکل میں اختیار کرلیں گے ، یا اس طبقے کی پارلیمنٹ میں اکثریت کی رائے قانون بن جائے گی اس صورت میں فرق اگر کوئی ہے تو صرف الفاظ کا ہے ۔
یا پھر اگر حق قانون سازی تمام طبقات کے نمائندوں کو حاصل ہے اور امت کے تمام گروہوں کو حاصل ہے تو بھی یہ صورت حال جاہلی صورت حال ہے ‘ اس لئے کہ لوگوں کی آراء کسی وقت بھی ذاتی خواہشات سے پاک نہیں ہوتیں۔ پھر اس قانون سازی میں جہالت بھی شامل ہوگی کیونکہ لوگ جاہلیت سے کبھی پاک نہیں ہوتے یا پھر اگر ریفرنڈم کی صورت ہو تو پوری قوم کی اغلبیت کی رائے قانون ہوجائے گی ۔ اب بھی فرق اگر کوئی ہوگا تو صرف الفاظ کا ہوگا ۔
اس سے بھی وسیع دائرے میں پوری اقوام کا مجموعہ اگر کوئی قانون سازی کرتا ہے تو وہ بھی جاہلیت ہوگی ‘ کیونکہ ان اقوام کے قومی مقاصد قانونی صورت اختیار کرلیں گے یا بین الاقوامی مجالس کی جو رائے بنے گی وہ قانون ہوجائے گی اور یہ نظام بھی جاہلی ہوگا ۔ فرق اگر کوئی ہوگا تو صرف الفاظ کا ہوگا ۔
اب تمام افراد ‘ تمام سوسائٹیوں ‘ تمام اقوام اور تمام نسلوں کا خالق اگر کوئی قانون بناتا ہے تو یہ قانون تمام لوگوں کے لئے ہوگا اور یہ اللہ کی شریعت ہوگی ۔ اس میں کسی ایک کو نقصان دے کر دوسرے کو فاہدہ نہیں پہنچایا جاتا ۔ اس میں کسی فرد ‘ کسی سوسائٹی اور کسی بین الاقوامی انجمن یا کسی پوری نسل انسانی کے ساتھ مخصوص باتوں کو مدنظر نہیں رکھا جاتا اس لئے کہ اللہ سب کے لئے رب العالمین ہے اور اس کے ہاں سب کا رتبہ برابر ہے ۔ پھر وہ سب کی مصلحت اور مفاد کو بھی اچھی طرح جانتا ہے اور یہ سب امور افراط اور تفریط سے بھی پاک ہوتے ہیں ۔
اب اگر کوئی اور قانون سازی کرے تو یقینا لوگ اس غیر کے غلام ہوں گے چاہے یہ غیر اللہ جو بھی ہو ۔ فرد ہو ‘ سوسائٹی ہو یا طبقہ ہو یا قوم ہو یا انجمن اقوام ہو ۔۔۔۔۔ لیکن اللہ کی قانون سازی میں تمام لوگ آزاد ہوجاتے ہیں ‘ مساوی سطح پر آجاتے ہیں ۔ ان کے ماتھے اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے ۔ وہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہیں کرتے۔
یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ انسانوں کی زندگی میں نہایت ہی اہمیت رکھتا ہے اور خود اس نظام کائنات کے اندر بھی اس کی اہمیت ہے ۔
(آیت) ” لو اتبع الحق اھوائھم لفسدت السموات والارض ومن فیھن “۔ (اگر سچائی لوگوں کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان میں ان کے معاملات میں بھی فساد ہوجائے ) اس لئے اللہ کے سوا کسی اور کے مطابق فیصلے کرنے کی معنی ہیں شروفساد اور آخر کار اس کی وجہ سے انسان دائرہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے ۔ ذرا قرآنی آیات کو غور سے پڑھیں ۔ یہ اس نص کا تقاضا ہے ۔
المائدة 5:41
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی ہجرت کے بعد ابتدائی سالوں میں نازل ہوئیں ‘ اس دور میں جب یہودی بدستور مدینہ میں موجود تھے ‘ کم از کم غزوہ احزاب سے پہلے کے زمانہ میں اور اس سے پہلے جب بنی قریظہ کو سزادی گئی یا اس سے بھی زیادہ پہلے یعنی یہ اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب بنی نضیر اور بنی قینقاع مدینہ کے اردگرد موجود تھے ۔ ان میں سے اولی الذکر احد کے بعد اور آخر الذکر احد سے پہلے جلاوطن ہوئے ۔ اس دور میں یہودی مسلمانوں کے خلاف اپنی سازشوں میں مصروف تھے اور اس دور میں منافقین ان کے ہاں اس طرح پناہ لینے کے لئے گھستے تھے جس طرح سانپ اپنے سوراخ میں گھستا ہے اور یہ دونوں کفر میں بہت ہی آگے بڑھنے والے تھے ۔ اگرچہ منافقین منہ سے یہ کہتے تھے کہ ہم ایمان لائے ہیں مگر ان لوگوں کا طرز عمل رسول اللہ ﷺ کو بہت ہی پریشان کئے ہوئے تھا اور اس سے آپ کو بہت ہی اذیت پہنچتی تھی ۔
اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کی تعزیت اور دلجوئی فرماتے ہیں اور انکے لئے لوگوں کے یہ کرتوت قابل برداشت بناتے ہیں ۔ ساتھ ہی جماعت مسلمہ کے سامنے ان لوگوں کی حقیقت کھول دیتے ہیں کہ یہ کفر میں بہت تیز ہیں اور ان میں یہ دونوں فرقے شامل ہیں ۔ آپکو اس طرز عمل کی ہدایت دی جاتی ہے جو ان کے ساتھ اختیار کیا جانا ضروری ہے جبکہ وہ آپ کے پاس فیصلے کرانے کے لئے آتے ہیں اور اس کے بعد آتے ہیں جب آپ ﷺ پر ان کی سازشیں بھی طشت ازبام ہوجاتی ہیں جو انہوں نے حضور ﷺ کے پاس آنے سے قبل ہی آپس میں کی ہوئی ہوتی ہیں ۔
(آیت) ” نمبر 41۔
” اے پیغمبر ﷺ تمہارے لئے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں خواہ وہ ان میں سے ہوں جو منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل ان کے ایمان نہیں لائے یا ان میں سے جو یہودی ہیں ‘ جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کیلئے کان لگاتے ہیں ‘ اور دوسرے لوگوں کی خاطر جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے سن گن لیتے پھرتے ہیں ‘ کتاب اللہ کے الفاظ کو ان کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو نہیں تو نہ مانو۔
روایات میں آتا ہے کہ یہ آیات ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ‘ جنہوں نے بعض جرائم کا ارتکاب کیا تھا ۔ ان جرائم کے تعین میں روایات کے اندر اختلاف ہے بعض میں ہے کہ یہ جرم سرقہ تھا ۔ بعض میں ہے کہ یہ جرم زنا تھا اور یہ دونوں جرائم تورات کے مطابق جرائم حدود تھے لیکن یہودیوں نے اپنے ہاں کچھ دوسرے قوانین وضع کئے ہوئے تھے ۔ اس کا پہلا سبب تو یہ تھا کہ یہ لوگ تورات کی حدود اپنے ہاں شرفاء پر نافذ نہ کرتے تھے ۔ اس کے بعد تمام لوگوں پر انہیں نے نرمی کرکے ان سزاؤں کو موقوف کردیا تھا ۔ ان حدود کی جگہ انہوں نے از خود کچھ تعزیری سزائیں مقرر کرلی تھیں ۔ جس طرح آج کے نام نہاد مسلمانوں نے اپنے ہاں ایسا ہی کر رکھا ہے ۔ جب حضور ﷺ کے دور میں ان سے جرائم کا صدور ہوا تو انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ ان کے بارے میں حضور ﷺ سے دریافت کریں گے ۔ اگر حضور ﷺ نے بھی انہی خفیف تعزیری سزاؤں کے بارے میں حکم دیا تو وہ انہیں نافذ کردیں گے اور اللہ کے ہاں ان کے لئے عذر ہوگا کہ ایک رسول نے ان کا فتوی دیا تھا اور اگر رسول اللہ ﷺ نے بھی وہی فتوی دیا تو تورات میں ہے تو وہ اسے رد کردیں گے ۔ انہوں نے اپنے کچھ لوگوں کو حضور ﷺ کے پاس فتوی کے لئے بھیجا اور انہی کے بارے میں یہ آتا ہے :
(آیت) ” ان اوتیتم ھذا فخذواہ وان لم توتوہ فاحذروا (5 : 41) (اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو ورنہ نہیں)
(آیت) ” من الذین قالوا امنا بافواھھم ولم تو من قلوبھم (5 : 41) (ان لوگوں میں سے جو اپنے منہ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ ان کے دل مومن نہ تھے) کیا یہ لوگ دین کے خلاف فتوے طلب نہیں کرتے ‘ نفاذ کے لئے نہیں بلکہ دین سے پھیرنے والے ۔ کیا یہ لوگ دین پر ہاتھ محض اس لئے نہیں پھیرتے کہ وہ ان کی خواہشات کو پورا کرے اور انکی مرضی کے مطابق اس پر سائن کر دے ۔ اگر دین ان کو حق بات کہہ دے اور ان کو سچائی کے مطابق اپنا فیصلہ سنا دے تو ان لوگوں کو پھر دین کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ پھر یہ کہتے ہیں :
(آیت) ” یقولون ان اوتیتم ھذا فخذوہ وان لم توتوہ فاحذروا “۔ (5 : 41) (اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو ورنہ نہیں ) یہ ہے ان کا حال ۔ اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا یہ قصہ اپنی پوری تفصیلات کے ساتھ محض اس لئے بیان کیا تاکہ آنے والی نسلیں اس سے عبرت پکڑی اور سمجھدار لوگ اس راہ میں پھسلنے کے مقامات کے بارے میں قبل از وقت متنبہ ہوں ۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں جو کفر میں بہت تیزی دکھا رہے ہیں اور ان لوگوں کے بارے میں جو اسلام کے خلاف راتوں کے وقت مشورہ کرتے ہیں اور خفیہ کھیل کھیلتے ہیں یہ فیصلہ سناتا ہے کہ یہ لوگ فتنے کی راہ پر چل پڑے ہیں اور اس فتنے کے گڑھے میں انہیں خواہ مخواہ گرنا ہے ۔ اس میں آپ کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ آپ ان لوگوں سے یہ فتنہ دور نہیں کرسکتے اس لئے کہ یہ اس راستے میں بہت آگے نکل گئے ہیں ۔
(آیت) ” ومن یرد اللہ فتنتہ فلن تملک لہ من اللہ شیئا ۔۔۔۔ (41)
”(جسے اللہ ہی نے فتنہ مین ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کیلئے تم کچھ نہیں کرسکتے) ان لوگوں کے دل ناپاک ہوگئے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے افکار کی تطہیر نہیں چاہتے ‘ اس لئے یہ لوگ اسی طرح گندگیوں میں پڑے رہیں گے ۔
(آیت) ” اولئک الذین لم یرد اللہ ان یطھر قلوبھم۔۔۔۔۔ (41)
”(یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا) جلد ہی اللہ ان کو اس دنیا میں شرمندہ کرے گا اور آخرت میں تو ان کے لئے عذاب عظیم تیار ہے ۔
(آیت) ” نمبر 41۔
(ان کیلئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا۔ ) اس لئے آپ ﷺ پر ان لوگوں کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور آپ ان کی کفریہ روش سے پریشان نہ ہوں ۔ آپ ان کے معاملے میں کوئی بات نہ کریں اس لئے کہ ان کے معاملے کا فیصلہ ہوچکا ہے ۔
اس کے بعد ان لوگوں کے مزید حالات بیان کئے ہیں اور یہ بتایا گیا کہ یہ لوگ اپنے طرز عمل اور اخلاقی بگاڑ سے اگرچہ بہت دور نکل گئے ہیں لیکن پھر بھی اگر یہ لوگ آپ کے پاس فیصلہ لے کر آتے ہیں تو ان کے درمیان فیصلہ نہایت عادلانہ کریں ۔
المائدة 5:42
(آیت) ” نمبر 42۔
” یہ جھوٹ سننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں ‘ لہذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کر دو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ‘ اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے “۔
مکرر طور پر یہاں بتایا جاتا ہے کہ یہ جھوٹ سننے کے عادی ہیں ‘ جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ یہ اس کے عادی ہوگئے ہیں ۔ جھوٹ اور باطل اور ناحق سننے کے لئے انکے کان کھڑے ہوجاتے ہیں اور خوشی سے لپکتے ہیں اور سچائی اور حق سننے سے انہیں سخت انقباض ہوتا ہے ۔ اور اس قسم کی گمراہ اور منحرف سوسائٹیوں میں ہمیشہ باطل اور جھوٹ کو خوب کان لگا کر سنا جاتا ہے اور انسان کے دل و دماغ اگر فساد کا شکار ہوجائیں تو ان کی یہی حالت ہوتی ہے ۔ روح جب بجھ جاتی ہے تو وہ باطل کی تلاش میں رہتی ہے اور سچائی اسے بہت ہی ناپسند ہوتی ہے ۔ ایسے ادوار میں باطل کو خوب رواج نصیب ہوتا ہے ‘ اس کا چرچا ہوتا ہے اور سچائی ان ملعون ادوار میں بدحال ہوتی ہے ۔
یہ لوگ نہایت ہی دلچسپی سے باطل کی طرف کان دھرتے ہیں کیونکہ ان کا عمل حرام خوری ہوتا ہے ۔ السحت کا مفہوم ہے ہر وہ چیز جو حرام ہے ۔ مثلا سود رشوت ‘ تقریر کی اجرت اور فتوی کی اجرت وغیرہ ۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو انکی حرام خوریوں میں سرفہرست ہیں اور ہر دور میں جب کوئی معاشرہ اسلامی قدروں سے منحرف ہوجائے تو اس میں یہ ذمائم بہت ہی زیادہ ہوجاتے ہیں اور حرام چیزوں کو السحت کے لفظ سے اس لئے ادا کیا گیا ہے کہ حرام کی وجہ سے مال سے برکت ختم ہوجاتی ہے اور تمام منحرف اور بےراہ رو معاشروں سے ہر قسم کی برکات ختم ہوجاتی ہے ۔ جیسا کہ آج ہم لوگ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ آج ان تمام معاشروں میں جو اللہ کی نظام حیات سے انحراف اختیار کئے ہوئے ہیں ‘ کوئی برکت نہیں رہی ہے ۔ ہر طرف کمی ہی کمی ہے ۔
ان لوگوں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ حضرت محمد ﷺ کو اختیار دیتے ہیں کہ اگر یہ لوگ فیصلے لے کر آپ کے پاس آئیں تو آپ یا تو اعراض کرلیں اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ نہ کریں تو بھی یہ لوگ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر آپ چاہیں تو ان کے درمیان نہایت ہی منصفانہ فیصلہ کریں ۔ ان کی خواہشات سے ہر گز متاثر نہ ہوں ۔ اس بات سے بھی متاثر نہ ہوں کہ یہ لوگ کفر کی راہ میں بہت تیز ہیں اور یہ کہ وہ سازشیں کرتے اور مسلمانوں کے خلاف ہر چال چلتے ہیں ۔ اس لئے کہ (آیت) ” ان اللہ یحب المقسطین “۔ (5 : 42) (اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)
رسول اللہ ﷺ ایک مسلمان حاکم اور ایک مسلمان جج انصاف کے حوالے سے معاملہ اللہ کے ساتھ کرتا ہے وہ انصاف اللہ کے خوف سے اور اللہ کی رضا کے لئے کرتا ہے اس لئے کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ اگر لوگ ظلم کریں ‘ خیانت کریں اور راہ حق سے منحرف ہوجائیں ‘ تو پھر بھی عدل اس سے بالا ہے کہ ان کا طرز عمل کیا ہے ؟ اس لئے کہ انصاف لوگوں کی خاطر نہیں ہوتا ‘ بلکہ اللہ کی خاطر ہوتا ہے اسلامی شریعت میں اس کی پوری پوری ضمانت دی گئی ہے اور اسلامی عدلیہ نے ہر زمان ومکان میں اس پر عمل کیا ہے ۔
یہودیوں کو یہ اختیارات دینا کہ وہ اپنے فیصلے خود کریں ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات بہت ہی ابتدائی دور میں نازل ہوئی ہیں ۔ بعد کے ادوار میں اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنا لازمی ہوگیا تھا اس لئے کہ دارالاسلام میں صرف اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کئے جاسکتے ہیں ۔ دارالاسلام کے باشندوں پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے فیصلے شرعی قانون کے مطابق کریں ۔ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اسلامی معاشرے میں اہل کتاب کے متعلق یہ خاص اصول وضع کیا گیا ہے کہ ان کے فیصلے خود ان کی شریعت کے مطابق کئے جائیں گے مثلا یہ کہ ان کے لئے وہ معاملات جائز ہوں گے جو ان کی شریعت میں جائز ہیں ۔ مثلا خنزیر کی ملکیت ‘ اس کا گوشت کھانا ‘ شراب کی ملکیت اور شراب پینا (ہاں مسلمانوں پر فروخت کرنے کی اجازت نہ ہوگی) نیز ان پر سودی کاروبار کرنا حرام ہوگا ‘ اس لئے کہ اہل کتاب کے ہاں بھی سودی کاروبار کرنا حرام ہے ۔ اسی طرح حد زنا ‘ حد سرقہ بھی ان پر نافذ ہوگی ‘ کیونکہ ان کی کتابوں میں بھی یہ حدود نافذ ہیں ۔ بغاوت ‘ فساد فی الارض اور دوسری عام تعزیری سزائیں ان پر بھی اسی طرح نافذ ہوگی جس طرح عام مسلمانوں پر نافذ ہوتی ہیں ۔ اس لئے کہ یہ امور دارالاسلام کے امن وامان کے لئے ضروری ہیں چاہے مسلمان ہوں یا غیر مسلم اور اس معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کی جاسکتی ۔
اس اختیاری دور میں ‘ جس میں ان کو یہ چھوٹ تھی کہ اگر وہ چاہیں تو اپنے فیصلے خود اپنے قوانیں کے مطابق کرسکتے ہیں ‘ یہ لوگ اپنے بعض تنازعات حضور ﷺ کے پاس لے کر آتے تھے ۔ مثلا امام مالک (رح) نے حضرت نافع کے رابطے سے عبداللہ ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے :” یہودی حضور ﷺ کے پاس آئے ۔ انہوں نے حضور ﷺ سے ذکر کیا کہ ان میں سے ایک مرد اور عورت نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ رجم کے بارے میں تورات کے اندر کیا پاتے ہو ؟ تو انہوں نے کہا ہم ان کو شرمندہ کریں گے اور اس کے بعد کوڑے ماریں گے ۔ عبداللہ ابن سلام نے کہا تم جھوٹ بولتے ہو ۔ توراۃ میں تو سزائے رجم مذکور ہے ۔ وہ تورات لائے اور اسے کھولا ۔ ان میں سے ایک نے رجم کی آیت پر ہاتھ رکھ دیا ۔ سابق اور لاحق کو پڑھ لیا ۔ عبداللہ ابن سلام نے کہا ذرا ہاتھ اٹھاؤ ۔ اس نے ہاتھ اٹھایا تو نیچے آیت رجم لکھی ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے یہ آیت رجم ہے ۔ اس پر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ ان کو رجم کردیا جائے ، میں نے خود دیکھا کہ مرد اس عورت پر جھکتا تھا اور اسے پتھروں سے بچاتا تھا ۔ (بخاری مسلم ‘ الفاظ بخاری کے ہیں)
اسی طرح امام مسلم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ۔۔۔۔۔ یہ آیات یہودیوں کے دو گروہوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔ ایک گروہ نے جاہلیت میں دوسرے کو اس فیصلے پر مجبور کر دیا تھا کہ جو مقتول کسی ذلیل طبقے سے ہو اور اسے معزز قاتل نے قتل کیا ہو تو اس کی دیت 50 وسق ہوگی اور اگر کوئی ذلیل شخص کسی معزز شخص کو قتل کر دے تو اس کی دیت ایک سو وسق ہوگی ۔ مدینہ میں یہ لوگ اسی طرح فیصلے کرتے تھے یہاں تک کہ حضور ﷺ وارد مدینہ ہوئے ، انہی دونوں ایک ذلیل طبقے کے شخص نے ایک معزز شخص کو قتل کردیا ۔ اس پر معزز قبیلہ نے مطالبہ کیا کہ اسے سو وسق دیت ادا کی جائے ۔ اس پر ذلیل قبیلے کے لوگوں نے کہا ‘ کیا یہ فرق ان دو قبائل کے اندر جائز ہے جن کا دین ایک ہے ‘ نسب ایک ہے ‘ شہر ایک ہے اور بعض کی دیت بعض دوسروں سے نصف ہے ۔ یہ دیت جو ہم ادا کرتے رہے ہیں یہ تو تمہاری جانب سے مظالم کی وجہ سے ادا کرتے رہے ہیں اور تم نے زبردستی یہ فرق و امتیاز قائم کردیا تھا ۔ اب چونکہ حضرت محمد ﷺ تشریف لا چکے ہیں اس لئے ہم دگنی دیت ادا کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان دو قبائل کے اندر جنگ شروع ہونے والی تھی لیکن ان کے درمیان گفتگو کے نتیجے میں یہ فیصلہ ہوا کہ حضور ﷺ ہمارے درمیان حکم ہیں ۔ اس پر معزز قبیلے کے لوگوں نے کہا ‘ خدا کی قسم محمد ہم کو اس سے دگنی ادا نہ کریں گے جو ہم ادا کرتے ہیں ۔ ان کی بات سچ ہے کہ ذلیل قبیلے والے ہمیں تو مجبور ہو کر دگنی دیت ادا کرتے تھے اور وہ ہم سے مجبور تھے ، اس لئے مناسب ہے کہ حضرت کے پاس خفیہ مشن بھیج کر معلوم کرلو کہ اگر وہ تمہاری مرضی کا فیصلہ کرتے ہیں تو اسے ثالث بنا لیں اور اگر خطرہ یہ ہو کہ وہ تمہاری مرضی کا فیصلہ نہ کریں گے تو حکم ہی نہ بناؤ ، چناچہ انہوں نے منافقین پر مشتمل خفیہ مشن حضور کے پاس روانہ کیا۔ جب یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو اللہ نے حضور ﷺ کو خبردار کردیا کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ‘ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
(آیت) ” یایھا الرسول لا یحزنک الذین یسارعون فی الکفر “۔ (5 : 41) (اے رسول آپ کو وہ لوگ پریشان نہ کردیں تو کفر میں بہت تیز ہیں) الفاسقون تک ۔ غرض یہ آیات صرف انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور ان سے یہی لوگ مراد ہیں ۔ (ابو داؤد بروایت ابو الزنادعن ابیہ) ابن جریر نے ایک روایت میں معزز قبیلے کا نام بھی لیا ہے وہ بنو النضیر تھے ۔ اور ذلیل قبیلہ بنو قریظہ تھے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے جیسا کہ اوپر کہا گیا ہے کہ یہ آیات ان قبائل کی جلاوطنی اور سرزنش سے پہلے ہی نازل ہوگئی تھیں ۔
اس کے بعد یہودیوں کے موقف کے بارے میں سخت انداز کلام میں ‘ یعنی استفہام انکاری کے طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ یہودیوں کا عام رویہ ہے کہ وہ قانون تورات کے نفاذ سے پہلو تہی کرتے ہیں ۔
(آیت) ” وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ فیھا حکم اللہ ثم یتولون من بعد ذلک ۔ “
(۔۔۔۔۔۔ اور یہ تمہیں کیسے حکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں)
یہ تو عظیم گناہ ہے کہ ان کے پاس خدا کی شریعت موجود ہے اور وہ اس سے منہ موڑتے ہیں اور حضور ﷺ کے پاس اس توقع سے آتے ہیں کہ آپ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں اور ان کے ہاں جو تورات میں انہوں نے لکھا اس پر فیصلہ کریں ۔ حالانکہ قرآن کے احکام بھی تورات ہی کے اصلی احکام ہیں ۔ اور یہ لوگ جس طرح تورات کے احکام سے پہلوتہی کرتے ہیں اسی طرح حضور کے حکم سے بھی اعراض کرتے ہیں ۔ یہ اعراض اس طرح کہ حضور کے احکام کی اطاعت نہیں کرتے یا یوں کہ ان پر پھر راضی نہیں ہوتے ۔ لیکن یہاں سیاق کلام تو صرف استفہام انکاری پر ہی ختم نہیں کردیا بلکہ اس موقف پر اسلامی نقطہ نظر سے فیصلہ صادر ہوتا ہے ۔
المائدة 5:43
(آیت) ” نمبر 43۔
” اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے)
یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے اور پھر بھی مومن ہو ‘ یا وہ اللہ کے قانون پر راضی نہ ہو اور پھر بھی یہ زعم رکھتا ہو کہ وہ مومن ہے ۔ یہ ہر گز ممکن نہیں ہے ۔ اگر کوئی ایمان لاتا ہے تو اسے اپنی پوری زندگی میں شریعت کا نفاذ کرنا ہوگا ۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کا دعوائے ایمان جھوٹا ہے اور اس کا موقف اس قطعی نص کی بالکل ضد ہے ۔ (آیت) ” وما اولئک بالمومنین “ (5 : 43) (یہ لوگ ایمان نہیں رکھتے) یہ معاملہ فقط اس حد تک نہیں ہے کہ حکام کی جانب سے اسلامی شریعت کانفاذ نہیں ہے بلکہ اگر محکوم لوگ بھی جن پر شریعت کا نفاذ ہوتا ہے ‘ شریعت کے نفاذ پر راضی نہیں تو بھی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہوں گے اگرچہ زبانی طور پر وہ ایمان کا دعوی کریں ۔
یہ آیت سورة نساء کی آیت کے عین مطابق ہے جس میں کہا گیا ہے ۔
(آیت) ” (فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مماقضیت ویسلموا تسلیما “ (4 : 65)
” خدا کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک یہ اپنے تنازعات کا فیصلہ آپ سے نہ کرائیں ۔ پھر یہ اپنے دل میں آپ کے فیصلے پر کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور پوری طرح سرتسلیم خم نہ کردیں) ان دونوں آیات کا تعلق محکوم عوام الناس سے ہے ‘ حکام سے نہیں ہے جبکہ دونوں ایمان سے نکل جاتے ہیں ۔ جو لوگ اللہ اور رسول کے فیصلوں پر راضی نہیں ہوتے ان کے بارے میں یہ آیات کہتی ہیں کہ یہ مومن نہیں رہتے یا اگر رسول فیصلہ کریں اور یہ لوگ روگردانی کردیں اور تسلیم نہ کریں ۔
خلاصہ کلام یہ ہے جیسا کہ اس سبق کے آغاز میں ہم نے کہا تھا کہ یہ مسئلہ اللہ کی حاکمیت کے اقرار کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کی حاکمیت ‘ اس کی قیومیت اور انسان پر اس کی نگرانی ونگہبانی کے اقرار کا مسئلہ ہے یا اس کے انکار کا مسئلہ ہے اور اللہ کی شریعت کو قبول کرنا اور اس کے مطابق فیصلے کرانا اللہ کی حاکمیت ‘ اس کی نگہبانی کے اقرار کا ایک مظہر اور ثبوت ہے اور شریعت پر فیصلے نہ کرانا اس کے انکار کا مظہر اور ثبوت ہے ۔
یہ تو فیصلہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے قبول نہیں کرتے ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو حکام اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ان کے بارے میں فتوی کیا ہے اور یہ فتوی ان تمام ادیان کا ہے جو اللہ کی جانب سے نازل ہوتے ہیں سب سے پہلے تورات کا فتوی ۔
المائدة 5:44
(آیت) ” نمبر 44 تا 45۔
اللہ کی جانب سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے تاکہ وہ نظام زندگی بنے اور لوگوں کی عملی زندگی کا وہ نظام ہو ۔ ہر دین میں اس لئے آیا ہے کہ وہ انسانیت کی قیادت کرے ۔ انسان کو منظم کرے ‘ اسے صحیح راستہ دکھائے اور اسے غلطیوں اور سیاہ کاریوں سے بچائے ، دین محض اس لئے نہیں آتا کہ وہ انسانی شعور میں ایک عقیدہ اور نظریہ ہو ‘ یا وہ محض اس لئے بھی نہیں آتا کہ کلیسا اور مساجد میں چند مراسم عبودیت کے طور پر جاری رہے ۔ یہ دونوں باتیں اگرچہ انسانی کے عقیدہ وعمل کے لئے ضروری ہیں لیکن صرف عقیدہ اور مراسم عبودیت سے انسانی زندگی کی تنظیم ‘ توجہیہ اور سیاہ کاریوں سے بچاؤ ممکن نہیں ہے جب تک دین کی اساس پر پورا نظام زندگی ‘ نظام قانون اور نظام معاشرت نافذ نہ ہو ‘ جب تک ان چیزوں کو عملا نافذ نہ کیا جائے ‘ جب تک مسند اقدار پر ایسے لوگ نہ پائے جائیں جو اس حاکمیت اور قانون کے مطابق حکمرانی کریں اور جب تک ایسی حکومت نہ ہو جو اسلامی قوانین اور ہدایت کی خلاف ورزی پر گرفت کرنے والی ہو اور اسلامی سزائیں نافذ کرنے والی ہو ۔ اس وقت تک قانون اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے ۔
انسانی زندگی اس وقت تک استوار نہیں ہو سکتی جب تک نظریہ حیات ‘ مراسم عبودیت اور قانون ایک ہی منبع سے اخذ نہ کئے جائیں ۔ اس منبع کی حکمرانی دلوں پر بھی ہو ‘ ذات الصدور پر بھی ہو اور انسانی کی عملی حرکات و سکنات پر بھی ہو ۔ وہ اس دنیا میں بھی لوگوں کو اجر دیتاہو اور آخرت میں بھی وہ لوگوں کو اجر دیتا ہو اور حساب و کتاب لیتا ہو۔
جب انسانی زندگی پر حکمرانی مختلف ہوجائے اور رشد وہدایت کے منابع مختلف ہوجائیں مثلا ضمیر اور ایمان پر حکمرانی ایک الہ کی ہو اور ظاہری نظم ونسق اور قانون پر حکمرانی دوسرے حاکم کی ہو اور آخرت کی جزاء کا مالک اور ہو اور دنیا میں سزا دینے والی طاقت کوئی اور ہو تو ایسے حالات میں انسانی کی ذات دو مختلف حکمرانوں کے درمیان ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے اس کی شخصیت کے اندر دو مختلف رجحانات ہوتے اور اس کی زندگی دو طرح کے متضاد طرز ہائے عمل میں بٹ جاتی ایسے حالات میں زندگی کے اندر وہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کی طرف قرآن کریم نے مختلف طریقوں سے اشارہ کیا ہے ۔
(آیت) ” لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا “۔ (اگر زمین و آسمان میں زیادہ الہ ہوتے تو ان میں فساد برپا ہوجاتا)
(آیت) ” لواتبع الحق اھوائھم لفسدت والارض ومن فیھن “ (اگر حق ان کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو زمین ‘ آسمانوں اور ان کے اندر جو کچھ ہے وہ فساد کا شکار ہوجائے)
(آیت) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر ولا تتبع اھواء الذین لا یعلمون “۔ (پھر ہم نے آپ کو شریعت پر قائم کیا ہے پس آپ اس کی اطاعت کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے)
یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے کہ وہ زندگی کا نظام بنے ۔ یہ دین کسی گاؤں کے لئے ہو ‘ کسی قوم کے لئے ہو یا پوری کی پوری انسانیت کے لئے ہو ‘ بشرطیکہ وہ دین حق میں اور اس کے ساتھ شریعت ہو ۔ ہر دین میں ایک طرف تو ایک نظریہ حیات ہوتا ہے اور دوسری جانب اس میں زندگی کی تفصیلی ہدایات کے لئے ایک شریعت ہوتی ہے ۔ اس میں اللہ کی بندگی کے لئے کچھ مراسم عبودیت ہوتے ہیں۔ یہ تین پہلو ہر دین کے بنیادی عناصر ترکیبی ہوتے ہیں جہاں بھی کوئی دین اللہ کی طرف سے آیا ہے ‘ اس میں یہ تین پہلو ضرور ہوتے ہیں ۔ انسانی زندگی تب ہی استوار اور درست ہوسکتی ہے جب دین کو زندگی کا نظام بنا دیا جائے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتابیں الاسلام ومشکلات الحضارہ اور المستقبل لہذا الدین اور خصائص التصور الاسلامی ومقوماۃ)
قرآن کریم میں ایسے شواہد موجود ہیں کہ سابقہ ادیان میں سے بعض ایک محدود علاقے کے لئے تھے مثلا ایک گاؤں کے لئے یا ایک شہر کے لئے یا کسی ایک قبیلے کے لئے لیکن یہ ادیان بھی مکمل نظام زندگی پر مشتمل تھے اور وہ اس گاؤں اور قریہ کے اس وقت کے حالات کے لئے ایک پورا نظام حیات تھے ۔ یہاں قرآن کریم بڑے ادیان یہودیت ‘ نصرانیت اور اسلام کے بارے میں کہتا ہے ۔
(آیت) ” انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور (5 : 44) (ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی ۔
تورات جس شکل میں اسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا تھا ‘ ایک کتاب تھی ‘ جسے بنی اسرائیل کی راہنمائی کے لئے بھیجا گیا تھا ۔ یہ جادہ حق پر انکے لئے روشنی کامینار تھی اور ان کے لئے زندگی گزارنے کا ایک ماڈل تھی ۔ اس میں نظریہ حیات ‘ مراسم عبودیت اور ملک کے لئے سول لا تینوں شعبے تھے ۔
(آیت) ” یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِیْنَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِیْنَ ہَادُواْ وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن کِتَابِ اللّہِ وَکَانُواْ عَلَیْْہِ شُہَدَاء
” سارے نبی ‘ جو مسلم تھے اسی کے مطابق ان یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے اور اسی طرح ربانی اور احبار بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے)
اللہ تعالیٰ نے تورات کو صرف اس لئے نہیں نازل کیا تھا کہ اس میں صرف نظریہ حیات اور عقائد کے بارے میں راہنمائی ہو۔ اس کے اندر عقائد اور مراسم عبودیت کی تفصیل بھی تھی ‘ بلکہ وہ نور وہدایت تھی اس معنی میں کہ اس کے اندر ایک قانونی نظام کی تفصیلات تھیں اور ایک مکمل نظام تھا کیونکہ انسان کی پوری زندگی کو اس نظام کے حدود کے اندر رکھنا ضروری تھا ۔ تورات کے مطابق وہ تمام نبی فیصلے کرتے رہے جو اپنے آپ کو مسلم سمجھتے تھے اور انہوں نے سرتسلیم خم کرلیا تھا ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا کوئی حصہ اپنے لئے محفوظ نہ کر رکھا تھا بلکہ پوری زندگی اللہ کے حوالے کردی تھی ۔ وہ کسی معاملے میں اپنی مرضی نہ کرتے تھے ‘ نہ اپنی حکمرانی کرتے تھے ‘ وہ اللہ کے حق حاکمیت میں اپنے آپ کو شریک کرتے تھے ۔ یہ ہے اسلام اپنے حقیقی مفہوم میں ۔ یہ پیغمبر یہودیوں اور اس تورات کے ذریعہ حکومت کرتے تھے اور تورات اس سلسلے میں ان کا دستور اور قانون شریعت تھی ۔ نبیوں کے علاوہ ربانی اور احبار بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے ۔ یہ لوگ ان کے علماء اور قاضی تھے اور ان کا یہ فریضہ تھا کہ وہ تورات کی حکمرانی کو قائم رکھیں ۔ وہ اس بات کے گواہ رہیں کہ انہوں نے یہ حق ادا کردیا تھا ۔ یہ شہادت وہ اس طرح دیں کہ ان کی اپنی زندگی تورات کے نظام کے مطابق گزرے اور وہ یہ شہادت بھی دیں کہ ان کی قوم نے تورات کو قائم کیا تھا ۔ انہوں نے اس کے مطابق فیصلے کئے تھے ۔
تورات کے بارے میں بات ختم ہونے سے پہلے ہی روئے سخن جماعت مسلمہ کی طرف پھرجاتا ہے تاکہ انہیں اس بات کی طرف متوجہ کیا جاسکے کہ آیا وہ بھی اپنی کتاب کے مطابق فیصلے کرتے ہیں یا نہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بعض اوقات لوگوں کی ذاتی خواہشات ‘ ان کا عناد اور ان کی جدوجہد اس راہ میں رکاوٹ بنتی ہو ۔ ایسے مشکل حالات میں پھر کتاب اللہ کے محافظین کے فرائض کیا ہوتے ہیں اور لوگوں کی مخالفت اور کتاب اللہ سے روگردانی کی سزا کیا ہے ۔
(آیت) ” فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآیَاتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ (44)
” پس (اے گروہ یہود) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں)
اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات بہرحال تھی کہ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کئے جانے کی راہ میں بہرحال ہر دور میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور بعض لوگ اس کی مخالفت کریں گے ۔ بعض انسان ایسے بھی ہوں گے جو خوشی اور تسلیم ورضا کے ساتھ اسے قبول نہ کریں گے نیز بعض بااثر اور بڑے لوگ اور بعض نافرمان اور موروثی طور پر حکومتوں پر قابض ہوجانے والے لوگ اس کی مخالفت کریں گے ۔ یہ مخالفت وہ اس لئے کریں گے کہ انہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کی چادر خود اپنے اوپر اوڑھ رکھی ہوتی ہے ۔ اب اسلامی نظام میں انہیں یہ چادر اترتی نظر آتی ہے اور حاکمیت کا حق صرف اللہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے یہ لوگوں کے لئے جو قوانین بناتے ہیں اور جن کا اذن اللہ نے نہیں دیا ہوتا اب وہ ایسا نہیں کرسکتے ۔ اسی طرح مفاد پرست اور مادہ پرست عناصر کے مفادات بھی اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں جو لوگوں کا استحصال کرتے ہیں اور عوام پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا عادلانہ نظام ایسے مظالم کو جاری رکھنے کی کبھی اجازت نہ دے گا ۔ اسی طرح اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ میں وہ لوگ بھی آڑے آتے ہیں جو عیاش اور نفس پرست اور لذت کام و ہن کے دلدادہ ہوتے ہیں ‘ جو دنیا کے سازو سامان پر فخر کرتے ہیں اور ذاتی مفادات کے بندے ہوتے ہیں ۔ ان کو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت انہیں پاکیزہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کرے گی اور اگر وہ پاکیزہ زندگی بسر نہ کریں گی تو انہیں سزا کا سامنا کرنا ہوگا ۔ ان اطراف وجہات کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے موانع اور رکاوٹیں سامنے آیا کرتی ہیں علی الخصوص ایسے لوگوں کی طرف سے جو از روئے فطرت بھلائی نہیں چاہتے اور نیکی اور انصاف کا دور دورہ دیکھ نہیں سکتے ۔
یہ بات اللہ کے علم میں تھی کہ اسلامی شریعت کے نفاذ کی راہ میں مختلف اطراف سے یہ رکاوٹیں سامنے آئیں گی ۔ اللہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ اسلام کے محافظین اور مجاہدین وشہداء کو ان رکاوٹوں کا سامنا کرنا ہوگا اور انکو ان کے بالمقابل بڑی مضبوطی سے کھڑا ہونا ہوگا اور جانی ومالی نقصانات انہیں برداشت کرنے ہوں گے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں پکارتے ہیں۔
(آیت) ” فلا تخشوا الناس واخشون “۔ (5 : 44) (تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو) اس طرح جب وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں گے تو وہ کسی کے ڈر کی وجہ سے شریعت کے نفاذ میں سستی نہ کریں گے ۔ یہ ڈر کئی جہات سے ہو سکتا ہے ‘ ایک تو ان لوگوں کے کی طرف سے جو سرے سے اسلامی نظام قانون کے آگے جھکتے ہی نہیں اور وہ اسلامی شریعت کو تسلیم ہی نہیں کرتے ‘ وہ اللہ کو قانون ساز تسلیم ہی نہیں کرتے یا وہ لوگ شریعت کا نفاذ اس لئے نہیں چاہتے کہ اس کی وجہ سے ان کے استحصالی نظام پر زد پڑتی ہے جس کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ‘ اور جس کے وہ عادی ہوچکے ہیں ۔ یا یہ لوگ عام گمراہ اور منحرف طبقات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن کے اوپر شریعت کے احکام بہت ہی بھاری ہوتے ہیں اور وہ اس سے پریشان ہوتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ان تمام طبقات سے نہ ڈرتے ہوئے یا دوسرے لوگوں سے ڈرتے ہوئے وہ اللہ کے احکام کے نفاذ سے نہیں رکتے اس لئے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ ہم اس سے ڈریں اور ڈرنا بھی اسی سے چاہئے ۔
اللہ تعالیٰ کو اس بات کا بھی علم تھا کہ کتاب کی حفاظت کرنے والے اور اسلام کی راہ میں شہادت دینے والے ایسے بھی ہوسکتے ہیں کہ دنیا کی اس مختصر زندگی کی خواہشات انہیں ورغلا دیں ‘ یہ محافظین اسلام دیکھتے ہیں کہ اہالیان حکومت ‘ مالدار طبقات اور شہوت پرست اور عیاش لوگ اسلام کے نفاذ کی راہ میں حائل ہیں۔ اس بات کا امکان تھا کہ اہل دین ان طبقات کے ساتھ ریاکاری کرتے ہوئے دنیا کے مفادات کی غرض سے ان کے الہ کار بن جائیں ‘ جیسا کہ ہر دور میں ہر دین کے علمائے سوء ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں اور خصوصا علمائے بنی اسرائیل یہ بری حرکت ہمیشہ کرتے آئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو پکارا ۔
(آیت) ” ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا “۔ (5 : 44) (اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے پر بیچنا چھوڑ دو )
اس کی متعدد صورتیں ہوتی ہیں مثلا سچائی کے مقام پر خاموش ہوجانا ‘ یا احکام میں تحریف کرنا یا ایسے فتوے جاری کرنا جس میں حق باطل دونوں ملے جلے ہوں ۔
رہی یہ بات کہ ثمن قلیل سے مراد کیا ہے ؟ تو ہر قیمت ‘ قیمت قلیلہ ہے اگرچہ دین میں تحریف کرکے پوری دنیا کسی کی ملکیت میں آجائے ۔ لیکن ان علمائے سوء کی حاصل کردہ قیمت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ کچھ مفادات ‘ کچھ وظائف ‘ کچھ القاب اور دوسرے چھوٹے چھوٹے مفادات حاصل کرتے ہیں اور ان کے عوض دین بیچتے ہیں ‘ لیکن اس فعل پر انہیں یقینا جہنم رسید ہونا ہوگا ۔
اگر باڑ فصل کو کھانے لگے اور اگر چوکیدار ہی ڈاکو بن جائے اور اگر گواہ جھوٹ بکنے لگے تو اس سے برا اور کیا ہوگا ۔ جن لوگوں کے لئے ” دینداروں “ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ‘ جن لوگوں کو علماء کہا جاتا ہے ‘ اگر وہ خیانت کرنے لگیں ‘ اگر وہ زیادتی کرنے لگیں ‘ دین کے احکام چھپائیں ‘ اللہ کی شریعت کے نفاذ کے بارے میں سکوت اختیار کرلیں ‘ آیات کا مفہوم بدل دیں اور بااثر لوگوں کے لئے احکام شریعت میں تبدیلی کردیں تو پھر ایسے لوگوں کے لئے اللہ کا نہایت ہی موزوں فیصلہ ہے ۔
(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون “۔ (5 : 44) (اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو وہی لوگ کافر ہیں) دو ٹوک بات ہے لفظ من استعمال کرکے اس کے مفہوم کے اندر عمومیت (GenerAlizAtion) پیدا کردی گئی ہے ۔ من موصولہ اور شرطیہ ہے اور آگے فا کے بعد جملہ جواب شرط ہے یوں یہ حکم مخصوص حالات اور زمان ومکان کی قید سے نکل آتا ہے اور ایک عام حکم بن جاتا ہے ‘ جو بھی اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے ‘ خواہ وہ کسی نسل اور قبیلے سے ہو ‘ کافر سمجھا جائے گا ۔
اس حکم کی علت وہی ہے جو ہم نے بیان کردیں ہے کہ جو شخص اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ اللہ کے حق حاکمیت کا انکار کرتا ہے ۔ حاکمیت اللہ کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور حاکمیت کا براہ راست تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی شریعت ماخذ قانون ہو۔ اور جو اس کے مطابق فیصلے نہ کرے اور اللہ کے حق حاکمیت کا انکار کرے اور اللہ کی اس خصوصیت کا حق اپنے لئے حاصل کرے تو پھر وہ کافر ہوجائے گا ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسلام اور ایمان کے معنی کیا رہ جاتے ہیں زبان سے تو ایمان واسلام کا دعوی ہو اور عمل جو اظہار مافی الضمیر کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے ‘ اس سے انسان کفر کا اظہار کرے تو زبانی اظہار اسلام یقینا بےمعنی ہوجاتا ہے ۔
اس دو ٹوک ‘ قطعی اور عام حکم کے بارے میں لیت ولعل سے کام لینا محض حقیقت کا سامنا کرنے سے فرار ہے ۔ اس قسم کے قطعی اور دو ٹوک حکم میں تاویلات کرنے کا مقصد صرف یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کا مفہوم بدل کر رکھ دیاجائے ۔ لہذا کوئی شخص جس پر یہ قطعی حکم منطبق ہوتا ہے وہ اس صریح اور موکد حکم کے نتائج سے کسی طرح بھی فرار اختیار نہیں کرسکتا ۔
دین اسلام کے اس اصولی اور اساسی قاعدے کے بیان کے بعد اب روئے سخن تورات کی طرف پھرجاتا ہے ۔ تورات میں بھی اللہ تعالیٰ نے احکام شریعت نافذ کئے تھے اور نبیوں ‘ اہل دین اور علماء کو یہ حکم تھا کہ قانون تورات کے مطابق فیصلے کریں اس لئے کہ ان کو شریعت تورات پر محافظ بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ بھی تھے ۔
(آیت) ” وَکَتَبْنَا عَلَیْْہِمْ فِیْہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْْنَ بِالْعَیْْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ (5 : 45)
” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ‘ آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان ‘ دانت کے بدلے دانت ‘ اور تمام زخموں کیلئے برابر کا بدلہ ‘ ۔ “
یہ احکام جو تورات میں نازل ہوئے تھے ‘ اسلامی شریعت میں بحال رکھے تھے اور اسلامی شریعت کا جزء بن گئے تھے یوں وہ قیامت تک شرعی احکام قرار پائے کیونکہ مسلمانوں کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے ۔ اگرچہ ان احکام کا نفاذ صرف دارالاسلام میں ہو سکے گا ۔ اس لئے کہ عملا صرف ایسا ہی ممکن ہے اور جو حکومت ان احکام کو نافذ کرتی ہے ‘ اسکا اقتدار دارالاسلام کے حدود کے اندر ہوتا ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی استطاعت میں جب بھی یہ بات آئے تو ان پر فرض ہے کہ وہ اسلامی شریعت کو دارالاسلام سے باہر بھی نافذ کریں اس لئے اسلامی شریعت تمام انسانوں کے لئے ہے اور وہ حدود وقیود کی پابند نہیں ہے کیونکہ اللہ کا ارادہ یہی ہے ۔
مذکورہ بالا احکام تورات کو اسلامی شریعت کا جزء بناتے وقت ان احکام کے ساتھ ‘ ایک قانونی دفعہ کا اضافہ کردیا گیا ۔ (آیت) ” فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ “۔ (5 : 45) (پس جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے)
تورات میں یہ دفعہ نہ تھی ۔ احکام تورات کے مطابق یہ جرائم قابل راضی نامہ (CompoundAblc) نہ تھے ان میں مستغیث نہ معافی دے سکتا تھا اور نہ صلح ممکن تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کفارہ نہ تھا ۔
یہاں مناسب ہے کہ فی ظلال القرآن کی مناسبت سے جرائم قصاص کے بارے میں ایک مختصر بات کردی جائے ۔
اسلامی شریعت قصاص کے بارے میں پہلا اصول مساوات کا متعین کرتی ہے ۔ خون سب کا یکساں ہوتا ہے اور سزا بھی سب کے لئے یکساں ہے ۔ اسلام کے بغیر کسی دوسری شریعت میں جان کے بدلے جان کی مساوات نہیں ہے ۔ چناچہ اسلام میں جان کے بدلے جان اور عضو کے بدلے وہی عضو ہے ۔ اس بارے میں علاقے ‘ طبقے ‘ نسب ‘ خون اور قوم کا کوئی امتیاز یا لحاظ نہیں ہے ۔
جان کے بدلے جان ‘ آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان ‘ دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں پورا پورا بدلہ ہے ۔ اس بارے میں کوئی امتیاز کوئی نسلی ‘ طبقاتی اور قومی فرق نہیں ہے ۔ حاکم و محکوم کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ سب کے سب اسلامی شریعت کی نظر میں برابر ہیں ۔ اور یہ اس لئے کہ سب کے سب ایک جوڑے آدم وحوا سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ابو کم آدم والام حواء ۔
اسلامی شریعت نے اس دنیا کو جس زریں اصول سے متعارف کرایا وہ اصول مساوات ہے اور مساوات دے کر اسلام نے انسان کو گویا ایک نیا جنم دیا ۔ اس سے پہلے انسان کو حقیقی مساوات نصیب نہ ہوئی تھی ۔ اس مساوات کا پہلا اصول یہ تھا کہ تمام لوگ قانون کی نظروں میں برابر ہوں گے ۔ وہ ایک ہی پلیٹ فارم سے انصاف حاصل کریں گے ۔
دوسرے یہ کہ سب سے ایک ہی پیمانے کے مطابق قصاص لیا جائے گا ۔ اور سب کی ایک ہی ہوگی ۔
انسان کے بنائے ہوئے نظام اور قونین کو اس درجہ مساوات تک پہنچنے کے لئے صدیاں سفر کرنا پڑا اور اسلامی شریعت ہی سے متاثر ہو کر دنیا کے قانونی نظاموں نے صرف بعض پہلوؤں کے اعتبار سے اسلامی مساوات کو حاصل کیا۔ اگرچہ عملا وہ ایسی مساوات قائم نہیں کرسکے جو اسلام نے قائم کی ۔
یہود جن پر نازل شدہ تورات میں انسانی مساوات کے زریں اصول درج تھے انہوں نے ان قوانین سے رو گردانی کی ۔ اور یہ روگردانی انہوں نے اپنے اور دوسرے لوگوں ہی کے درمیان نہ کی جس طرح قرآن ان کا یہ قول نقل کرتا ہے ۔
(آیت) ” لیس علینا فی الامیین سبیل “۔ (ہم پر امی لوگوں کے بارے میں کوئی مواخذہ نہ ہوگا) بلکہ وہ خود اپنے اندر بھی مساوات قائم نہ کرسکے ۔ خصوصا وہ قانونی مساوات پر عمل پیرا نہ تھے جیسا کہ وہ بنو نضیر کو برتر اور بنی قریظہ کو ذلیل قبیلہ سمجھتے تھے اور دونوں کے لئے سزائیں علیحدہ علیحدہ تھیں اور جب حضور اکرم ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ نے ان کے درمیان قانونی مساوات قائم فرمائی ۔ آپ نے ان میں سے ذلیل لوگوں کی جان کو معزز لوگوں کی جان کے برابر قرار دیا ۔
اس عظیم اصول پر قانون قصاص نافذ کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ سخت غیرت آموز سزا ہے اور اس کے ہوتے ہوئے ہر شخص اقدام قتل ‘ اقدام ضرر شدید اور اعضاء کے توڑنے کے بارے میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے بار بار سوچتا ہے کہ وہ یہ اقدام کرے یا نہ کرے ۔ اس لئے کہ اسے علم ہوتا ہے کہ اگر اس نے قتل کیا تو اسے سولی پر چڑھنا ہوگا ‘ اور اس کا نسب ‘ اس کی سماجی حیثیت اور اس کا رنگ ونسل اسے کوئی فائدہ نہ دے سکے گا ۔ اسے ویسی ہی سزا ملے گی جیسا وہ جرم کرے گا ۔ اگر وہ کسی کا ہاتھ ‘ پاؤں یا دوسرے اعضاء ضائع کرے گا تو اس کے بھی وہی اعضا ضائع ہوں گے ۔ اگر وہ آنکھ ‘ کان اور ناک ضائع کرے گا تو اس کے یہی اعضاء ضائع ہوں گے ۔ اور اگر کوئی یہ سمجھے کہ اسے صرف قید ہونا ہے تو وہ کبھی بھی ایسے جرائم سے باز نہ آئے گا چاہے سزائے قید لمبی ہو۔ اس لئے کہ جسمانی سزا ‘ جسمانی نقص اور شکل کا بگڑنا بمقابلہ مصائب سزائے قید زیادہ اذیت ناک ہے جیسا کہ ہم حد سرقہ کے بیان میں قطع ید کے ضمن میں تفصیلات بیان کر آئے ہیں۔
پھر مزید یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ سزائے قصاص ایک ایسی سزا ہے کہ انسان کی فطرت اس کے اجراء کے بعد مطمئن ہوجاتی ہے اور نفس انسانی سے بغض اور کینہ دور ہوجاتا ہے ۔ دل کے زخم مندمل ہوجاتے ہیں اور انتقام کی آگ بجھ جاتی ہے ‘ جسے عرصہ اور جاہلی انتقام بھڑکاتا رہتا ہے ۔ اس لئے کہ اگرچہ بعض لوگ قتل میں دیت اور زخموں کا تاوان وصول کرلیتے ہیں لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اجرائے سزائے قصاص پر اصرار کرتے ہیں ۔
اسلام نے قانون سازی کرتے وقت فطرت انسانی کے جذبات کو ملحوظ رکھا ہے جیسا کہ تورات کی شریعت نے اس کی سختی سے پابندی کی اور مکمل قصاص کے نفاذ سے فطرت انسانی کو مطمئن کیا ۔ لیکن اسلامی شریعت میں قصاص لینے والے کے لئے یہ اصول بھی رکھا کہ وہ معاف کرسکے بشرطیکہ قصاص لینے پر اسے اختیار ہوجائے ۔ (آیت) ” فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ (5 : 45) (اور جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے)
یعنی جو خوش دلی کے ساتھ قصاص معاف کر دے تو اس کے عوض اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کے گناہ معاف کر دے گا ۔ بعض اوقات لوگ عفو و درگزر کی طرف مائل ہو سکتے ہیں ‘ انہیں انہیں کی جانب سے عفو و درگزر کی امید ہو سکتی ہے ۔ خصوصا ان لوگوں کی طرف سے جن لوگوں کو مالی معاوضے کی ضرورت نہیں ہوتی ‘ اور قصاص کے نفاذ سے بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی کیونکہ ان کا جو عزیز ان سے جدا ہوگیا یا انہیں ذاتی طور پر جو نقصان ہوا اور ناقابل تلافی تھا اس لئے کہ مقتول کے وارث کو کیا ملے گا اگر قاتل کو قتل بھی کردیا جائے ۔ یا اگر اس کا بھائی وغیرہ جدا ہوگیا تو مالی مفادات سے اسے کیا حاصل ہوگا ؟ اس سے تو صرف اس دنیا میں انصاف اور امن وامان حاصل ہو سکتے ہیں لیکن ورثاء یا مجرم کے دل میں احساس ہمیشہ کے لئے زندہ رہتا ہے اگر لوگوں کو اللہ کی جانب سے مغفرت کی امید ہو تو ان کے دل صاف ہو سکتے ہیں اور دلوں سے کینہ کی میل دور ہو سکتی ہے ۔
امام احمد نے وکیع ‘ یونس ‘ ابو السفر کے واسطے سے روایت کی ہے ۔ ابو السفر کہتے ہیں کہ ایک قریشی نے ایک انصاری کا دانت توڑ دیا ۔۔۔ اس نے حضرت معاویہ ؓ سے تعاون چاہا ۔ معاویہ نے کہا ہم اسے راضی کردیں گے ‘ لیکن انصاری نے اصرار کیا کہ قانون قصاص نافذ کیا جائے ‘ تو امیر معاویہ ؓ نے کہا کہ تم جانو اور یہ انصاری جانیں ‘ اس مجلس میں ابو الدرداء بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا کوئی مسلمان اگر دوسرے مسلمان کے ہاتھوں کوئی زخم اٹھائے اور پھر اسے معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس کا مرتبہ بلند کردیں گے یا اس کی کوتاہیوں میں سے کوئی کوتاہی معاف کردیں گے ۔ اس پر انصاری نے کہا میں معاف کرتا ہوں “۔
یوں اس شخص کا دل راضی ہوگیا اور مطمئن ہوگیا حالانکہ وہ حضرت معاویہ ؓ کی جانب سے کسی بھی مالی تاوان پر راضی نہ ہوا تھا جس کی طرف حضرت معاویہ ؓ نے اشارہ فرمایا تھا ۔
یہ تو ہے علیم و خیبر کی شریعت جو اس نے اپنی مخلوق کے لئے وضع فرمائی ہے جس میں لوگوں کے میلانات اور احساسات کا لحاظ رکھا گیا ہے ‘ جس میں لوگوں کی دلی رضا مندی کا بہت بڑا دخل ہے اور جس کی وجہ سے لوگوں کے اندر اطمینان ‘ سلامتی اور دلی رضا پیدا ہوتی ہے ۔
یہ بتانے کے بعد کہ یہ تورات کی شریعت تھی اور اب یہ اسلامی شریعت کا جزء ہے ایک عام حکم دے دیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون “۔ (5 : 45) (جن لوگوں نے اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ لوگ ظالم ہیں) یہ ایک عام تعبیر ہے ۔ یہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم اسے مخصوص کہہ سکیں لیکن ایسے لوگوں کی جدید صفت الظالمون لائی گئی ہے ۔
الظالمون سے تعبیر کرنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ شاید اس تعبیر اور پہلی تعبیر الکافرون کے درمیان کوئی فرق ہے ۔ بلکہ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہونے کے ساتھ ظالم بھی ہیں ۔ وہ کافر اس لئے ہیں کہ وہ اللہ کی حاکمیت کے منکر ہیں ‘ اس لئے کہ حاکمیت خاصہ خدا ہے اور قانون سازی صرف اللہ کرسکتا ہے اور اگر کوئی خود اپنا قانون بناتا ہے تو وہ خود حاکمیت کا مدعی ہے اور اپنے لئے حق قانون سازی حاصل کرتا ہے ۔ وہ ظالم اس لئے ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی شریعت کے بجائے اپنی شریعت پر چلاتا ہے ۔ حالانکہ اللہ کی شریعت ان کے لئے مناسب ہے اور ان کے حالات کی اصلاح اس سے ہوسکتی ہے ۔ اور ظلم وہ اس لئے بھی کر رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے اور اپنے آپ کو کفر کی سزا کا مستحق بناتا ہے اور اپنی ذات اور تمام لوگوں کی زندگیوں کو فساد میں مبتلا کرتا ہے ۔
یہ مفہوم عربیت کے قواعد کا تقاضا ہے کیونکہ عربیت کی رو سے مسند الیہ اور فعل شرط ایک ہے یعنی (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ “۔ (45) اب اس شرط کا ایک پہلا جواب ہے اور ایک دوسرا جواب ہے ۔ یہاں دوسرا جواب شرط پہلے جواب شرط پر مستزاد ہوگا اور دونوں کا مسند الیہ شرط میں ” من “ ہوگا جو مطلق ہے اور عام ہے ۔
اب یہ بتایا جاتا ہے کہ تورات کے بعد بھی یہ حکم جاری ہی رہا ۔
المائدة 5:45
(آیت) ” نمبر 44 تا 45۔
اللہ کی جانب سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے تاکہ وہ نظام زندگی بنے اور لوگوں کی عملی زندگی کا وہ نظام ہو ۔ ہر دین میں اس لئے آیا ہے کہ وہ انسانیت کی قیادت کرے ۔ انسان کو منظم کرے ‘ اسے صحیح راستہ دکھائے اور اسے غلطیوں اور سیاہ کاریوں سے بچائے ، دین محض اس لئے نہیں آتا کہ وہ انسانی شعور میں ایک عقیدہ اور نظریہ ہو ‘ یا وہ محض اس لئے بھی نہیں آتا کہ کلیسا اور مساجد میں چند مراسم عبودیت کے طور پر جاری رہے ۔ یہ دونوں باتیں اگرچہ انسانی کے عقیدہ وعمل کے لئے ضروری ہیں لیکن صرف عقیدہ اور مراسم عبودیت سے انسانی زندگی کی تنظیم ‘ توجہیہ اور سیاہ کاریوں سے بچاؤ ممکن نہیں ہے جب تک دین کی اساس پر پورا نظام زندگی ‘ نظام قانون اور نظام معاشرت نافذ نہ ہو ‘ جب تک ان چیزوں کو عملا نافذ نہ کیا جائے ‘ جب تک مسند اقدار پر ایسے لوگ نہ پائے جائیں جو اس حاکمیت اور قانون کے مطابق حکمرانی کریں اور جب تک ایسی حکومت نہ ہو جو اسلامی قوانین اور ہدایت کی خلاف ورزی پر گرفت کرنے والی ہو اور اسلامی سزائیں نافذ کرنے والی ہو ۔ اس وقت تک قانون اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے ۔
انسانی زندگی اس وقت تک استوار نہیں ہو سکتی جب تک نظریہ حیات ‘ مراسم عبودیت اور قانون ایک ہی منبع سے اخذ نہ کئے جائیں ۔ اس منبع کی حکمرانی دلوں پر بھی ہو ‘ ذات الصدور پر بھی ہو اور انسانی کی عملی حرکات و سکنات پر بھی ہو ۔ وہ اس دنیا میں بھی لوگوں کو اجر دیتاہو اور آخرت میں بھی وہ لوگوں کو اجر دیتا ہو اور حساب و کتاب لیتا ہو۔
جب انسانی زندگی پر حکمرانی مختلف ہوجائے اور رشد وہدایت کے منابع مختلف ہوجائیں مثلا ضمیر اور ایمان پر حکمرانی ایک الہ کی ہو اور ظاہری نظم ونسق اور قانون پر حکمرانی دوسرے حاکم کی ہو اور آخرت کی جزاء کا مالک اور ہو اور دنیا میں سزا دینے والی طاقت کوئی اور ہو تو ایسے حالات میں انسانی کی ذات دو مختلف حکمرانوں کے درمیان ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے اس کی شخصیت کے اندر دو مختلف رجحانات ہوتے اور اس کی زندگی دو طرح کے متضاد طرز ہائے عمل میں بٹ جاتی ایسے حالات میں زندگی کے اندر وہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے جس کی طرف قرآن کریم نے مختلف طریقوں سے اشارہ کیا ہے ۔
(آیت) ” لو کان فیھما الھۃ الا اللہ لفسدتا “۔ (اگر زمین و آسمان میں زیادہ الہ ہوتے تو ان میں فساد برپا ہوجاتا)
(آیت) ” لواتبع الحق اھوائھم لفسدت والارض ومن فیھن “ (اگر حق ان کی خواہشات کے تابع ہوجائے تو زمین ‘ آسمانوں اور ان کے اندر جو کچھ ہے وہ فساد کا شکار ہوجائے)
(آیت) ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر ولا تتبع اھواء الذین لا یعلمون “۔ (پھر ہم نے آپ کو شریعت پر قائم کیا ہے پس آپ اس کی اطاعت کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کی اطاعت نہ کریں جو نہیں جانتے)
یہی وجہ ہے کہ اللہ کی طرف سے جو دین بھی آیا ہے وہ اس لئے آیا ہے کہ وہ زندگی کا نظام بنے ۔ یہ دین کسی گاؤں کے لئے ہو ‘ کسی قوم کے لئے ہو یا پوری کی پوری انسانیت کے لئے ہو ‘ بشرطیکہ وہ دین حق میں اور اس کے ساتھ شریعت ہو ۔ ہر دین میں ایک طرف تو ایک نظریہ حیات ہوتا ہے اور دوسری جانب اس میں زندگی کی تفصیلی ہدایات کے لئے ایک شریعت ہوتی ہے ۔ اس میں اللہ کی بندگی کے لئے کچھ مراسم عبودیت ہوتے ہیں۔ یہ تین پہلو ہر دین کے بنیادی عناصر ترکیبی ہوتے ہیں جہاں بھی کوئی دین اللہ کی طرف سے آیا ہے ‘ اس میں یہ تین پہلو ضرور ہوتے ہیں ۔ انسانی زندگی تب ہی استوار اور درست ہوسکتی ہے جب دین کو زندگی کا نظام بنا دیا جائے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتابیں الاسلام ومشکلات الحضارہ اور المستقبل لہذا الدین اور خصائص التصور الاسلامی ومقوماۃ)
قرآن کریم میں ایسے شواہد موجود ہیں کہ سابقہ ادیان میں سے بعض ایک محدود علاقے کے لئے تھے مثلا ایک گاؤں کے لئے یا ایک شہر کے لئے یا کسی ایک قبیلے کے لئے لیکن یہ ادیان بھی مکمل نظام زندگی پر مشتمل تھے اور وہ اس گاؤں اور قریہ کے اس وقت کے حالات کے لئے ایک پورا نظام حیات تھے ۔ یہاں قرآن کریم بڑے ادیان یہودیت ‘ نصرانیت اور اسلام کے بارے میں کہتا ہے ۔
(آیت) ” انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور (5 : 44) (ہم نے تورات نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی ۔
تورات جس شکل میں اسے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا تھا ‘ ایک کتاب تھی ‘ جسے بنی اسرائیل کی راہنمائی کے لئے بھیجا گیا تھا ۔ یہ جادہ حق پر انکے لئے روشنی کامینار تھی اور ان کے لئے زندگی گزارنے کا ایک ماڈل تھی ۔ اس میں نظریہ حیات ‘ مراسم عبودیت اور ملک کے لئے سول لا تینوں شعبے تھے ۔
(آیت) ” یَحْکُمُ بِہَا النَّبِیُّونَ الَّذِیْنَ أَسْلَمُواْ لِلَّذِیْنَ ہَادُواْ وَالرَّبَّانِیُّونَ وَالأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُواْ مِن کِتَابِ اللّہِ وَکَانُواْ عَلَیْْہِ شُہَدَاء
” سارے نبی ‘ جو مسلم تھے اسی کے مطابق ان یہودیوں کے معاملات کا فیصلہ کرتے تھے اور اسی طرح ربانی اور احبار بھی (اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے)
اللہ تعالیٰ نے تورات کو صرف اس لئے نہیں نازل کیا تھا کہ اس میں صرف نظریہ حیات اور عقائد کے بارے میں راہنمائی ہو۔ اس کے اندر عقائد اور مراسم عبودیت کی تفصیل بھی تھی ‘ بلکہ وہ نور وہدایت تھی اس معنی میں کہ اس کے اندر ایک قانونی نظام کی تفصیلات تھیں اور ایک مکمل نظام تھا کیونکہ انسان کی پوری زندگی کو اس نظام کے حدود کے اندر رکھنا ضروری تھا ۔ تورات کے مطابق وہ تمام نبی فیصلے کرتے رہے جو اپنے آپ کو مسلم سمجھتے تھے اور انہوں نے سرتسلیم خم کرلیا تھا ۔ انہوں نے اپنی زندگی کا کوئی حصہ اپنے لئے محفوظ نہ کر رکھا تھا بلکہ پوری زندگی اللہ کے حوالے کردی تھی ۔ وہ کسی معاملے میں اپنی مرضی نہ کرتے تھے ‘ نہ اپنی حکمرانی کرتے تھے ‘ وہ اللہ کے حق حاکمیت میں اپنے آپ کو شریک کرتے تھے ۔ یہ ہے اسلام اپنے حقیقی مفہوم میں ۔ یہ پیغمبر یہودیوں اور اس تورات کے ذریعہ حکومت کرتے تھے اور تورات اس سلسلے میں ان کا دستور اور قانون شریعت تھی ۔ نبیوں کے علاوہ ربانی اور احبار بھی اسی کے مطابق فیصلے کرتے رہے ۔ یہ لوگ ان کے علماء اور قاضی تھے اور ان کا یہ فریضہ تھا کہ وہ تورات کی حکمرانی کو قائم رکھیں ۔ وہ اس بات کے گواہ رہیں کہ انہوں نے یہ حق ادا کردیا تھا ۔ یہ شہادت وہ اس طرح دیں کہ ان کی اپنی زندگی تورات کے نظام کے مطابق گزرے اور وہ یہ شہادت بھی دیں کہ ان کی قوم نے تورات کو قائم کیا تھا ۔ انہوں نے اس کے مطابق فیصلے کئے تھے ۔
تورات کے بارے میں بات ختم ہونے سے پہلے ہی روئے سخن جماعت مسلمہ کی طرف پھرجاتا ہے تاکہ انہیں اس بات کی طرف متوجہ کیا جاسکے کہ آیا وہ بھی اپنی کتاب کے مطابق فیصلے کرتے ہیں یا نہیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ بعض اوقات لوگوں کی ذاتی خواہشات ‘ ان کا عناد اور ان کی جدوجہد اس راہ میں رکاوٹ بنتی ہو ۔ ایسے مشکل حالات میں پھر کتاب اللہ کے محافظین کے فرائض کیا ہوتے ہیں اور لوگوں کی مخالفت اور کتاب اللہ سے روگردانی کی سزا کیا ہے ۔
(آیت) ” فَلاَ تَخْشَوُاْ النَّاسَ وَاخْشَوْنِ وَلاَ تَشْتَرُواْ بِآیَاتِیْ ثَمَناً قَلِیْلاً وَمَن لَّمْ یَحْکُم بِمَا أَنزَلَ اللّہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْکَافِرُونَ (44)
” پس (اے گروہ یہود) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں)
اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات بہرحال تھی کہ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کئے جانے کی راہ میں بہرحال ہر دور میں رکاوٹیں پیدا ہوں گی اور بعض لوگ اس کی مخالفت کریں گے ۔ بعض انسان ایسے بھی ہوں گے جو خوشی اور تسلیم ورضا کے ساتھ اسے قبول نہ کریں گے نیز بعض بااثر اور بڑے لوگ اور بعض نافرمان اور موروثی طور پر حکومتوں پر قابض ہوجانے والے لوگ اس کی مخالفت کریں گے ۔ یہ مخالفت وہ اس لئے کریں گے کہ انہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کی چادر خود اپنے اوپر اوڑھ رکھی ہوتی ہے ۔ اب اسلامی نظام میں انہیں یہ چادر اترتی نظر آتی ہے اور حاکمیت کا حق صرف اللہ کے لئے مخصوص ہوجاتا ہے یہ لوگوں کے لئے جو قوانین بناتے ہیں اور جن کا اذن اللہ نے نہیں دیا ہوتا اب وہ ایسا نہیں کرسکتے ۔ اسی طرح مفاد پرست اور مادہ پرست عناصر کے مفادات بھی اس کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں جو لوگوں کا استحصال کرتے ہیں اور عوام پر مظالم ڈھاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا عادلانہ نظام ایسے مظالم کو جاری رکھنے کی کبھی اجازت نہ دے گا ۔ اسی طرح اسلامی نظام کے نفاذ کی راہ میں وہ لوگ بھی آڑے آتے ہیں جو عیاش اور نفس پرست اور لذت کام و ہن کے دلدادہ ہوتے ہیں ‘ جو دنیا کے سازو سامان پر فخر کرتے ہیں اور ذاتی مفادات کے بندے ہوتے ہیں ۔ ان کو یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اسلامی شریعت انہیں پاکیزہ زندگی بسر کرنے پر مجبور کرے گی اور اگر وہ پاکیزہ زندگی بسر نہ کریں گی تو انہیں سزا کا سامنا کرنا ہوگا ۔ ان اطراف وجہات کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے موانع اور رکاوٹیں سامنے آیا کرتی ہیں علی الخصوص ایسے لوگوں کی طرف سے جو از روئے فطرت بھلائی نہیں چاہتے اور نیکی اور انصاف کا دور دورہ دیکھ نہیں سکتے ۔
یہ بات اللہ کے علم میں تھی کہ اسلامی شریعت کے نفاذ کی راہ میں مختلف اطراف سے یہ رکاوٹیں سامنے آئیں گی ۔ اللہ کو یہ بھی معلوم تھا کہ اسلام کے محافظین اور مجاہدین وشہداء کو ان رکاوٹوں کا سامنا کرنا ہوگا اور انکو ان کے بالمقابل بڑی مضبوطی سے کھڑا ہونا ہوگا اور جانی ومالی نقصانات انہیں برداشت کرنے ہوں گے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں پکارتے ہیں۔
(آیت) ” فلا تخشوا الناس واخشون “۔ (5 : 44) (تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو) اس طرح جب وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں گے تو وہ کسی کے ڈر کی وجہ سے شریعت کے نفاذ میں سستی نہ کریں گے ۔ یہ ڈر کئی جہات سے ہو سکتا ہے ‘ ایک تو ان لوگوں کے کی طرف سے جو سرے سے اسلامی نظام قانون کے آگے جھکتے ہی نہیں اور وہ اسلامی شریعت کو تسلیم ہی نہیں کرتے ‘ وہ اللہ کو قانون ساز تسلیم ہی نہیں کرتے یا وہ لوگ شریعت کا نفاذ اس لئے نہیں چاہتے کہ اس کی وجہ سے ان کے استحصالی نظام پر زد پڑتی ہے جس کے ساتھ ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں ‘ اور جس کے وہ عادی ہوچکے ہیں ۔ یا یہ لوگ عام گمراہ اور منحرف طبقات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن کے اوپر شریعت کے احکام بہت ہی بھاری ہوتے ہیں اور وہ اس سے پریشان ہوتے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ان تمام طبقات سے نہ ڈرتے ہوئے یا دوسرے لوگوں سے ڈرتے ہوئے وہ اللہ کے احکام کے نفاذ سے نہیں رکتے اس لئے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ ہم اس سے ڈریں اور ڈرنا بھی اسی سے چاہئے ۔
اللہ تعالیٰ کو اس بات کا بھی علم تھا کہ کتاب کی حفاظت کرنے والے اور اسلام کی راہ میں شہادت دینے والے ایسے بھی ہوسکتے ہیں کہ دنیا کی اس مختصر زندگی کی خواہشات انہیں ورغلا دیں ‘ یہ محافظین اسلام دیکھتے ہیں کہ اہالیان حکومت ‘ مالدار طبقات اور شہوت پرست اور عیاش لوگ اسلام کے نفاذ کی راہ میں حائل ہیں۔ اس بات کا امکان تھا کہ اہل دین ان طبقات کے ساتھ ریاکاری کرتے ہوئے دنیا کے مفادات کی غرض سے ان کے الہ کار بن جائیں ‘ جیسا کہ ہر دور میں ہر دین کے علمائے سوء ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں اور خصوصا علمائے بنی اسرائیل یہ بری حرکت ہمیشہ کرتے آئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو پکارا ۔
(آیت) ” ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا “۔ (5 : 44) (اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے پر بیچنا چھوڑ دو )
اس کی متعدد صورتیں ہوتی ہیں مثلا سچائی کے مقام پر خاموش ہوجانا ‘ یا احکام میں تحریف کرنا یا ایسے فتوے جاری کرنا جس میں حق باطل دونوں ملے جلے ہوں ۔
رہی یہ بات کہ ثمن قلیل سے مراد کیا ہے ؟ تو ہر قیمت ‘ قیمت قلیلہ ہے اگرچہ دین میں تحریف کرکے پوری دنیا کسی کی ملکیت میں آجائے ۔ لیکن ان علمائے سوء کی حاصل کردہ قیمت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ کچھ مفادات ‘ کچھ وظائف ‘ کچھ القاب اور دوسرے چھوٹے چھوٹے مفادات حاصل کرتے ہیں اور ان کے عوض دین بیچتے ہیں ‘ لیکن اس فعل پر انہیں یقینا جہنم رسید ہونا ہوگا ۔
اگر باڑ فصل کو کھانے لگے اور اگر چوکیدار ہی ڈاکو بن جائے اور اگر گواہ جھوٹ بکنے لگے تو اس سے برا اور کیا ہوگا ۔ جن لوگوں کے لئے ” دینداروں “ کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں ‘ جن لوگوں کو علماء کہا جاتا ہے ‘ اگر وہ خیانت کرنے لگیں ‘ اگر وہ زیادتی کرنے لگیں ‘ دین کے احکام چھپائیں ‘ اللہ کی شریعت کے نفاذ کے بارے میں سکوت اختیار کرلیں ‘ آیات کا مفہوم بدل دیں اور بااثر لوگوں کے لئے احکام شریعت میں تبدیلی کردیں تو پھر ایسے لوگوں کے لئے اللہ کا نہایت ہی موزوں فیصلہ ہے ۔
(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون “۔ (5 : 44) (اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے تو وہی لوگ کافر ہیں) دو ٹوک بات ہے لفظ من استعمال کرکے اس کے مفہوم کے اندر عمومیت (GenerAlizAtion) پیدا کردی گئی ہے ۔ من موصولہ اور شرطیہ ہے اور آگے فا کے بعد جملہ جواب شرط ہے یوں یہ حکم مخصوص حالات اور زمان ومکان کی قید سے نکل آتا ہے اور ایک عام حکم بن جاتا ہے ‘ جو بھی اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرے ‘ خواہ وہ کسی نسل اور قبیلے سے ہو ‘ کافر سمجھا جائے گا ۔
اس حکم کی علت وہی ہے جو ہم نے بیان کردیں ہے کہ جو شخص اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ اللہ کے حق حاکمیت کا انکار کرتا ہے ۔ حاکمیت اللہ کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور حاکمیت کا براہ راست تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی شریعت ماخذ قانون ہو۔ اور جو اس کے مطابق فیصلے نہ کرے اور اللہ کے حق حاکمیت کا انکار کرے اور اللہ کی اس خصوصیت کا حق اپنے لئے حاصل کرے تو پھر وہ کافر ہوجائے گا ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسلام اور ایمان کے معنی کیا رہ جاتے ہیں زبان سے تو ایمان واسلام کا دعوی ہو اور عمل جو اظہار مافی الضمیر کا بہترین ذریعہ ہوتا ہے ‘ اس سے انسان کفر کا اظہار کرے تو زبانی اظہار اسلام یقینا بےمعنی ہوجاتا ہے ۔
اس دو ٹوک ‘ قطعی اور عام حکم کے بارے میں لیت ولعل سے کام لینا محض حقیقت کا سامنا کرنے سے فرار ہے ۔ اس قسم کے قطعی اور دو ٹوک حکم میں تاویلات کرنے کا مقصد صرف یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے واضح احکام کا مفہوم بدل کر رکھ دیاجائے ۔ لہذا کوئی شخص جس پر یہ قطعی حکم منطبق ہوتا ہے وہ اس صریح اور موکد حکم کے نتائج سے کسی طرح بھی فرار اختیار نہیں کرسکتا ۔
دین اسلام کے اس اصولی اور اساسی قاعدے کے بیان کے بعد اب روئے سخن تورات کی طرف پھرجاتا ہے ۔ تورات میں بھی اللہ تعالیٰ نے احکام شریعت نافذ کئے تھے اور نبیوں ‘ اہل دین اور علماء کو یہ حکم تھا کہ قانون تورات کے مطابق فیصلے کریں اس لئے کہ ان کو شریعت تورات پر محافظ بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ بھی تھے ۔
(آیت) ” وَکَتَبْنَا عَلَیْْہِمْ فِیْہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْْنَ بِالْعَیْْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ (5 : 45)
” تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ‘ آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان ‘ دانت کے بدلے دانت ‘ اور تمام زخموں کیلئے برابر کا بدلہ ‘ ۔ “
یہ احکام جو تورات میں نازل ہوئے تھے ‘ اسلامی شریعت میں بحال رکھے تھے اور اسلامی شریعت کا جزء بن گئے تھے یوں وہ قیامت تک شرعی احکام قرار پائے کیونکہ مسلمانوں کی شریعت قیامت تک کے لئے ہے ۔ اگرچہ ان احکام کا نفاذ صرف دارالاسلام میں ہو سکے گا ۔ اس لئے کہ عملا صرف ایسا ہی ممکن ہے اور جو حکومت ان احکام کو نافذ کرتی ہے ‘ اسکا اقتدار دارالاسلام کے حدود کے اندر ہوتا ہے ۔ لیکن مسلمانوں کی استطاعت میں جب بھی یہ بات آئے تو ان پر فرض ہے کہ وہ اسلامی شریعت کو دارالاسلام سے باہر بھی نافذ کریں اس لئے اسلامی شریعت تمام انسانوں کے لئے ہے اور وہ حدود وقیود کی پابند نہیں ہے کیونکہ اللہ کا ارادہ یہی ہے ۔
مذکورہ بالا احکام تورات کو اسلامی شریعت کا جزء بناتے وقت ان احکام کے ساتھ ‘ ایک قانونی دفعہ کا اضافہ کردیا گیا ۔ (آیت) ” فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ “۔ (5 : 45) (پس جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے)
تورات میں یہ دفعہ نہ تھی ۔ احکام تورات کے مطابق یہ جرائم قابل راضی نامہ (CompoundAblc) نہ تھے ان میں مستغیث نہ معافی دے سکتا تھا اور نہ صلح ممکن تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کفارہ نہ تھا ۔
یہاں مناسب ہے کہ فی ظلال القرآن کی مناسبت سے جرائم قصاص کے بارے میں ایک مختصر بات کردی جائے ۔
اسلامی شریعت قصاص کے بارے میں پہلا اصول مساوات کا متعین کرتی ہے ۔ خون سب کا یکساں ہوتا ہے اور سزا بھی سب کے لئے یکساں ہے ۔ اسلام کے بغیر کسی دوسری شریعت میں جان کے بدلے جان کی مساوات نہیں ہے ۔ چناچہ اسلام میں جان کے بدلے جان اور عضو کے بدلے وہی عضو ہے ۔ اس بارے میں علاقے ‘ طبقے ‘ نسب ‘ خون اور قوم کا کوئی امتیاز یا لحاظ نہیں ہے ۔
جان کے بدلے جان ‘ آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ ناک کے بدلے ناک ‘ کان کے بدلے کان ‘ دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں پورا پورا بدلہ ہے ۔ اس بارے میں کوئی امتیاز کوئی نسلی ‘ طبقاتی اور قومی فرق نہیں ہے ۔ حاکم و محکوم کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ سب کے سب اسلامی شریعت کی نظر میں برابر ہیں ۔ اور یہ اس لئے کہ سب کے سب ایک جوڑے آدم وحوا سے پیدا ہوئے ہیں ۔ ابو کم آدم والام حواء ۔
اسلامی شریعت نے اس دنیا کو جس زریں اصول سے متعارف کرایا وہ اصول مساوات ہے اور مساوات دے کر اسلام نے انسان کو گویا ایک نیا جنم دیا ۔ اس سے پہلے انسان کو حقیقی مساوات نصیب نہ ہوئی تھی ۔ اس مساوات کا پہلا اصول یہ تھا کہ تمام لوگ قانون کی نظروں میں برابر ہوں گے ۔ وہ ایک ہی پلیٹ فارم سے انصاف حاصل کریں گے ۔
دوسرے یہ کہ سب سے ایک ہی پیمانے کے مطابق قصاص لیا جائے گا ۔ اور سب کی ایک ہی ہوگی ۔
انسان کے بنائے ہوئے نظام اور قونین کو اس درجہ مساوات تک پہنچنے کے لئے صدیاں سفر کرنا پڑا اور اسلامی شریعت ہی سے متاثر ہو کر دنیا کے قانونی نظاموں نے صرف بعض پہلوؤں کے اعتبار سے اسلامی مساوات کو حاصل کیا۔ اگرچہ عملا وہ ایسی مساوات قائم نہیں کرسکے جو اسلام نے قائم کی ۔
یہود جن پر نازل شدہ تورات میں انسانی مساوات کے زریں اصول درج تھے انہوں نے ان قوانین سے رو گردانی کی ۔ اور یہ روگردانی انہوں نے اپنے اور دوسرے لوگوں ہی کے درمیان نہ کی جس طرح قرآن ان کا یہ قول نقل کرتا ہے ۔
(آیت) ” لیس علینا فی الامیین سبیل “۔ (ہم پر امی لوگوں کے بارے میں کوئی مواخذہ نہ ہوگا) بلکہ وہ خود اپنے اندر بھی مساوات قائم نہ کرسکے ۔ خصوصا وہ قانونی مساوات پر عمل پیرا نہ تھے جیسا کہ وہ بنو نضیر کو برتر اور بنی قریظہ کو ذلیل قبیلہ سمجھتے تھے اور دونوں کے لئے سزائیں علیحدہ علیحدہ تھیں اور جب حضور اکرم ﷺ مبعوث ہوئے تو آپ نے ان کے درمیان قانونی مساوات قائم فرمائی ۔ آپ نے ان میں سے ذلیل لوگوں کی جان کو معزز لوگوں کی جان کے برابر قرار دیا ۔
اس عظیم اصول پر قانون قصاص نافذ کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہ سخت غیرت آموز سزا ہے اور اس کے ہوتے ہوئے ہر شخص اقدام قتل ‘ اقدام ضرر شدید اور اعضاء کے توڑنے کے بارے میں کوئی قدم اٹھانے سے پہلے بار بار سوچتا ہے کہ وہ یہ اقدام کرے یا نہ کرے ۔ اس لئے کہ اسے علم ہوتا ہے کہ اگر اس نے قتل کیا تو اسے سولی پر چڑھنا ہوگا ‘ اور اس کا نسب ‘ اس کی سماجی حیثیت اور اس کا رنگ ونسل اسے کوئی فائدہ نہ دے سکے گا ۔ اسے ویسی ہی سزا ملے گی جیسا وہ جرم کرے گا ۔ اگر وہ کسی کا ہاتھ ‘ پاؤں یا دوسرے اعضاء ضائع کرے گا تو اس کے بھی وہی اعضا ضائع ہوں گے ۔ اگر وہ آنکھ ‘ کان اور ناک ضائع کرے گا تو اس کے یہی اعضاء ضائع ہوں گے ۔ اور اگر کوئی یہ سمجھے کہ اسے صرف قید ہونا ہے تو وہ کبھی بھی ایسے جرائم سے باز نہ آئے گا چاہے سزائے قید لمبی ہو۔ اس لئے کہ جسمانی سزا ‘ جسمانی نقص اور شکل کا بگڑنا بمقابلہ مصائب سزائے قید زیادہ اذیت ناک ہے جیسا کہ ہم حد سرقہ کے بیان میں قطع ید کے ضمن میں تفصیلات بیان کر آئے ہیں۔
پھر مزید یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ سزائے قصاص ایک ایسی سزا ہے کہ انسان کی فطرت اس کے اجراء کے بعد مطمئن ہوجاتی ہے اور نفس انسانی سے بغض اور کینہ دور ہوجاتا ہے ۔ دل کے زخم مندمل ہوجاتے ہیں اور انتقام کی آگ بجھ جاتی ہے ‘ جسے عرصہ اور جاہلی انتقام بھڑکاتا رہتا ہے ۔ اس لئے کہ اگرچہ بعض لوگ قتل میں دیت اور زخموں کا تاوان وصول کرلیتے ہیں لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اجرائے سزائے قصاص پر اصرار کرتے ہیں ۔
اسلام نے قانون سازی کرتے وقت فطرت انسانی کے جذبات کو ملحوظ رکھا ہے جیسا کہ تورات کی شریعت نے اس کی سختی سے پابندی کی اور مکمل قصاص کے نفاذ سے فطرت انسانی کو مطمئن کیا ۔ لیکن اسلامی شریعت میں قصاص لینے والے کے لئے یہ اصول بھی رکھا کہ وہ معاف کرسکے بشرطیکہ قصاص لینے پر اسے اختیار ہوجائے ۔ (آیت) ” فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ (5 : 45) (اور جو قصاص کا صدقہ کر دے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے)
یعنی جو خوش دلی کے ساتھ قصاص معاف کر دے تو اس کے عوض اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کے گناہ معاف کر دے گا ۔ بعض اوقات لوگ عفو و درگزر کی طرف مائل ہو سکتے ہیں ‘ انہیں انہیں کی جانب سے عفو و درگزر کی امید ہو سکتی ہے ۔ خصوصا ان لوگوں کی طرف سے جن لوگوں کو مالی معاوضے کی ضرورت نہیں ہوتی ‘ اور قصاص کے نفاذ سے بھی ان کی تسلی نہیں ہوتی کیونکہ ان کا جو عزیز ان سے جدا ہوگیا یا انہیں ذاتی طور پر جو نقصان ہوا اور ناقابل تلافی تھا اس لئے کہ مقتول کے وارث کو کیا ملے گا اگر قاتل کو قتل بھی کردیا جائے ۔ یا اگر اس کا بھائی وغیرہ جدا ہوگیا تو مالی مفادات سے اسے کیا حاصل ہوگا ؟ اس سے تو صرف اس دنیا میں انصاف اور امن وامان حاصل ہو سکتے ہیں لیکن ورثاء یا مجرم کے دل میں احساس ہمیشہ کے لئے زندہ رہتا ہے اگر لوگوں کو اللہ کی جانب سے مغفرت کی امید ہو تو ان کے دل صاف ہو سکتے ہیں اور دلوں سے کینہ کی میل دور ہو سکتی ہے ۔
امام احمد نے وکیع ‘ یونس ‘ ابو السفر کے واسطے سے روایت کی ہے ۔ ابو السفر کہتے ہیں کہ ایک قریشی نے ایک انصاری کا دانت توڑ دیا ۔۔۔ اس نے حضرت معاویہ ؓ سے تعاون چاہا ۔ معاویہ نے کہا ہم اسے راضی کردیں گے ‘ لیکن انصاری نے اصرار کیا کہ قانون قصاص نافذ کیا جائے ‘ تو امیر معاویہ ؓ نے کہا کہ تم جانو اور یہ انصاری جانیں ‘ اس مجلس میں ابو الدرداء بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے فرمایا میں نے حضور ﷺ سے سنا کوئی مسلمان اگر دوسرے مسلمان کے ہاتھوں کوئی زخم اٹھائے اور پھر اسے معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس کا مرتبہ بلند کردیں گے یا اس کی کوتاہیوں میں سے کوئی کوتاہی معاف کردیں گے ۔ اس پر انصاری نے کہا میں معاف کرتا ہوں “۔
یوں اس شخص کا دل راضی ہوگیا اور مطمئن ہوگیا حالانکہ وہ حضرت معاویہ ؓ کی جانب سے کسی بھی مالی تاوان پر راضی نہ ہوا تھا جس کی طرف حضرت معاویہ ؓ نے اشارہ فرمایا تھا ۔
یہ تو ہے علیم و خیبر کی شریعت جو اس نے اپنی مخلوق کے لئے وضع فرمائی ہے جس میں لوگوں کے میلانات اور احساسات کا لحاظ رکھا گیا ہے ‘ جس میں لوگوں کی دلی رضا مندی کا بہت بڑا دخل ہے اور جس کی وجہ سے لوگوں کے اندر اطمینان ‘ سلامتی اور دلی رضا پیدا ہوتی ہے ۔
یہ بتانے کے بعد کہ یہ تورات کی شریعت تھی اور اب یہ اسلامی شریعت کا جزء ہے ایک عام حکم دے دیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الظلمون “۔ (5 : 45) (جن لوگوں نے اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ لوگ ظالم ہیں) یہ ایک عام تعبیر ہے ۔ یہاں کوئی ایسا قرینہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم اسے مخصوص کہہ سکیں لیکن ایسے لوگوں کی جدید صفت الظالمون لائی گئی ہے ۔
الظالمون سے تعبیر کرنے سے یہ نہ سمجھا جائے کہ شاید اس تعبیر اور پہلی تعبیر الکافرون کے درمیان کوئی فرق ہے ۔ بلکہ جو اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہونے کے ساتھ ظالم بھی ہیں ۔ وہ کافر اس لئے ہیں کہ وہ اللہ کی حاکمیت کے منکر ہیں ‘ اس لئے کہ حاکمیت خاصہ خدا ہے اور قانون سازی صرف اللہ کرسکتا ہے اور اگر کوئی خود اپنا قانون بناتا ہے تو وہ خود حاکمیت کا مدعی ہے اور اپنے لئے حق قانون سازی حاصل کرتا ہے ۔ وہ ظالم اس لئے ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی شریعت کے بجائے اپنی شریعت پر چلاتا ہے ۔ حالانکہ اللہ کی شریعت ان کے لئے مناسب ہے اور ان کے حالات کی اصلاح اس سے ہوسکتی ہے ۔ اور ظلم وہ اس لئے بھی کر رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتا ہے اور اپنے آپ کو کفر کی سزا کا مستحق بناتا ہے اور اپنی ذات اور تمام لوگوں کی زندگیوں کو فساد میں مبتلا کرتا ہے ۔
یہ مفہوم عربیت کے قواعد کا تقاضا ہے کیونکہ عربیت کی رو سے مسند الیہ اور فعل شرط ایک ہے یعنی (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ “۔ (45) اب اس شرط کا ایک پہلا جواب ہے اور ایک دوسرا جواب ہے ۔ یہاں دوسرا جواب شرط پہلے جواب شرط پر مستزاد ہوگا اور دونوں کا مسند الیہ شرط میں ” من “ ہوگا جو مطلق ہے اور عام ہے ۔
اب یہ بتایا جاتا ہے کہ تورات کے بعد بھی یہ حکم جاری ہی رہا ۔
المائدة 5:46
(آیت) ” نمبر 46 تا 47۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا ہوئی تاکہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی قرار پائے ۔ انجیل میں بذات خود کوئی نیا شرعی نظام نہ تھا ‘ البتہ انجیل میں تورات کے قانونی نظام میں نہایت ہی خفیف تبدیلیاں کی گئی تھیں ۔ انجیل نے خود تورات کے نظام قانون اور نظریات کی تصدیق کی ‘ صرف چند تبدیلیاں لائی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل کے اندر امت مسلمہ کے لئے ہدایت ‘ نئی روشنی اور نصیحت اتاری یہ کس کے لئے ؟ ان لوگوں کے لئے جو خدا ترس تھے ۔ اس لئے متقی لوگ وہ ہوں گے جو ہدایت ‘ روشنی اور وعظ ونصیحت اللہ کی کتابوں سے اخذ کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو یہ کتابیں ہدایات دیتی ہیں ۔ رہے وہ دل جو خشک ‘ پتھر کی طرح بےجان اور سخت ہوتے ہیں تو کوئی نصیحت ان تک نہیں پہنچتی ۔ ان دلوں کو کلام کے اندر کوئی مفہوم نظر نہیں آتا ۔ ان کو ہدایات کے اندر روح نظر نہیں آتی ان کو ایمان کے اندر کوئی ذائقہ نظر نہیں آتا ۔ وہ ان ہدایات ‘ ان انوار سے کوئی راہ نہیں پاتے اور نہ ہی دعوت و پکار لبیک کہتے ہیں ۔ نور اور روشنی موجود ہوتی ہے لیکن ان کی بصارت اور بصیرت کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ راہنمائی موجود ہوتی ہے لیکن اس راہنمائی کا ادراک صرف بلند روحوں کو ہوتا ہے ۔ نصیحت موجود ہوتی ہے لیکن صرف فہم رکھنے والے دل ہی نصیحت لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انجیل میں بھی ہدایت ‘ نور اور اہل تقوی کے لئے نصیحت درج فرمائی اور اہل انجیل کے لئے اسے نظام حیات قرار دیا ۔ اور ان کے لیے قوانین کا ماخذ بنایا یعنی انجیل صراف اہل انجیل کے لئے نظام حیات تھی ۔ وہ تمام لوگوں کے لئے نہ تھی ‘ کیونکہ انجیل کی دعوت عام نہ تھی لیکن اس کا نفاذ تورات کی طرح ‘ ہر رسالت کی طرح اور ہر رسول کی دعوت کی طرح ضروری تھا ‘ جو رسول کریم ﷺ سے پہلے گزرے تھے اور جن کی دعوت نبی کریم ﷺ کی دعوت اور شریعت کے مطابق تھی ۔ لہذا شرائع سابقہ کا جو حصہ اسلام کے مطابق ہے وہ اسلام کی شریعت اور قرآن کی شریعت کا حکم دکھتا ہے جیسا کہ حکم قصاص کے ضمن میں ہم کہہ آئے ہیں۔
یعنی اہل انجیل سے بھی مطالبہ یہی تھا کہ وہ انجیل کی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے کریں ۔
(آیت) ” ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ “۔ (5 : 47) (ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اسی قانون کے مطابق فیصلہ کریں جسے اللہ نے اتارا) یعنی اصل الاصول یہی تھا کہ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کئے جائیں ۔ اہل انجیل اور یہودیوں دونوں کی کوئی حیثیت نہ تھی جب تک وہ اسلام سے قبل تورات کو نافذ کرتے تھے ۔ اسلام کے آنے کے بعد اب تو سب دنیا کے انسانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام شریعت نافذ کریں ۔ یہ شریعت اب سب کی شریعت ہے اور یہ اب آخری رسالت اور آخر شریعت ہے ۔
(آیت) ” بما انزل اللہ فیہ ومن لم یحکم بما انزل فاولئک ھم الفسقون “۔ (5 : 47) (جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں)
یہاں بھی آیت نہایت ہی عام اور مطلق ہے ۔ اور اس سے قبل اس قسم کے فعل پر صفت کفر اور ظلم کا جو اطلاق ہوا تھا ‘ صف کفر ان دونوں پر مستزاد ہے ۔ یہاں فاسقوں سے مراد کوئی اور لوگ نہیں ہیں بلکہ وہی کافرون اور ظالمون ہیں جنہوں یہاں صفت فاسقون سے بھی متصف کیا گیا ہے اور جو بھی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کرے گا وہ اس صفت سے متصف ہوگا ۔
کفر اس لئے ہوگا کہ اللہ کی شریعت کا انکار کرنے سے اللہ کی حاکمیت کا انکار ہوگا ۔ ظلم اس لئے ہوگا کہ لوگوں پر اللہ کے سوا کوئی اور قانون نافذ کرکے ظلم ہوگا اور اس قانون کے ذریعے ان کی زندگیوں میں فساد برپا ہوگا اور فسق اس لئے ہوگا کہ اللہ کے نظام حیات سے خارج ہونے والا خود بخود فاسق ہوجاتا ہے ۔ غرض یہ تمام صفات اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہ کرنے کے فعل کے ساتھ لازم ہیں اور ایسا فاعل ان تمام صفات کا مرتکب ہوتا ہے ۔ اور ان میں کوئی تفریق نہیں ہے۔
اب بات حضور اکرم ﷺ کی آخری رسالت تک آپہنچتی ہے ۔ اب آخری شریعت یعنی اسلامی شریعت کے بارے بات ہوتی ہے ۔ اس میں اسلام کو اپنی آخری شکل میں پیش کردیا گیا تاکہ وہ تمام انسانوں کا دین بن جائے اور اسلام کی شریعت تمام لوگوں کی شریعت ہو ۔ نیز اس کے اندر ان تمام ہدایات کو جمع کرکے محفوظ کردیا جائے جو اس سے پہلے کسی بھی رسول کو دی گئی تھی اور یہ شریعت اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کو لپیٹ نہیں لیتا ۔ یہ ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر اسلامی زندگی ہر پہلو کے اعتبار سے قائم ہوتی ہے ۔ اس کے دائرے کے اندر زندگی محدود ہوجاتی ہے اور اس کے محور کے اندر گھومتی ہے ۔ انسان اپنے اعتقادات و تصورات اسی سے اخذ کرتا ہے ۔ اپنا اجتماعی نظام بھی اس کے مطابق استوار کرتا ہے ‘ اور وہ اپنے انفرادی اور سوشل روابط اسی کے مطابق ڈھالتا ہے ۔ اور یہ شریعت اس لئے اتاری گئی ہے کہ یہ عدالتوں میں رائج ہو ‘ اس کے مطابق نظام استوار ہو ‘ کتابوں اور دفتروں کے اندر اس کا دور دورہ ہو اور اس کی پیروی اور اس کا نفاذ نہایت دقت کے ساتھ ہو ۔ اس کا کوئی جزء متروک نہ ہو ‘ اس کا کوئی جزء بدلا نہ گیا ہو ‘ چاہے چھوٹے معاملات سے متعلق ہو یا بڑے معاملات سے اس لئے کہ یا تو شریعت اسلامی ہوگی اور یہ جاہلیت ہوگی ۔ اس شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں ان نیت سے تساہل اور مداہنت کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اس بہانے بہت سے لوگوں کو اسلام کے نام پر جمع کردیا جائے ‘ اس لئے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا ۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اس کی شریعت کی حکمرانی قائم ہو ‘ پھر جو ہوتا ہے ہو۔
المائدة 5:47
(آیت) ” نمبر 46 تا 47۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کو انجیل عطا ہوئی تاکہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی قرار پائے ۔ انجیل میں بذات خود کوئی نیا شرعی نظام نہ تھا ‘ البتہ انجیل میں تورات کے قانونی نظام میں نہایت ہی خفیف تبدیلیاں کی گئی تھیں ۔ انجیل نے خود تورات کے نظام قانون اور نظریات کی تصدیق کی ‘ صرف چند تبدیلیاں لائی گئیں ۔ اللہ تعالیٰ نے انجیل کے اندر امت مسلمہ کے لئے ہدایت ‘ نئی روشنی اور نصیحت اتاری یہ کس کے لئے ؟ ان لوگوں کے لئے جو خدا ترس تھے ۔ اس لئے متقی لوگ وہ ہوں گے جو ہدایت ‘ روشنی اور وعظ ونصیحت اللہ کی کتابوں سے اخذ کرتے ہیں اور ایسے ہی لوگوں کو یہ کتابیں ہدایات دیتی ہیں ۔ رہے وہ دل جو خشک ‘ پتھر کی طرح بےجان اور سخت ہوتے ہیں تو کوئی نصیحت ان تک نہیں پہنچتی ۔ ان دلوں کو کلام کے اندر کوئی مفہوم نظر نہیں آتا ۔ ان کو ہدایات کے اندر روح نظر نہیں آتی ان کو ایمان کے اندر کوئی ذائقہ نظر نہیں آتا ۔ وہ ان ہدایات ‘ ان انوار سے کوئی راہ نہیں پاتے اور نہ ہی دعوت و پکار لبیک کہتے ہیں ۔ نور اور روشنی موجود ہوتی ہے لیکن ان کی بصارت اور بصیرت کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ راہنمائی موجود ہوتی ہے لیکن اس راہنمائی کا ادراک صرف بلند روحوں کو ہوتا ہے ۔ نصیحت موجود ہوتی ہے لیکن صرف فہم رکھنے والے دل ہی نصیحت لیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے انجیل میں بھی ہدایت ‘ نور اور اہل تقوی کے لئے نصیحت درج فرمائی اور اہل انجیل کے لئے اسے نظام حیات قرار دیا ۔ اور ان کے لیے قوانین کا ماخذ بنایا یعنی انجیل صراف اہل انجیل کے لئے نظام حیات تھی ۔ وہ تمام لوگوں کے لئے نہ تھی ‘ کیونکہ انجیل کی دعوت عام نہ تھی لیکن اس کا نفاذ تورات کی طرح ‘ ہر رسالت کی طرح اور ہر رسول کی دعوت کی طرح ضروری تھا ‘ جو رسول کریم ﷺ سے پہلے گزرے تھے اور جن کی دعوت نبی کریم ﷺ کی دعوت اور شریعت کے مطابق تھی ۔ لہذا شرائع سابقہ کا جو حصہ اسلام کے مطابق ہے وہ اسلام کی شریعت اور قرآن کی شریعت کا حکم دکھتا ہے جیسا کہ حکم قصاص کے ضمن میں ہم کہہ آئے ہیں۔
یعنی اہل انجیل سے بھی مطالبہ یہی تھا کہ وہ انجیل کی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے کریں ۔
(آیت) ” ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ “۔ (5 : 47) (ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اسی قانون کے مطابق فیصلہ کریں جسے اللہ نے اتارا) یعنی اصل الاصول یہی تھا کہ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے کئے جائیں ۔ اہل انجیل اور یہودیوں دونوں کی کوئی حیثیت نہ تھی جب تک وہ اسلام سے قبل تورات کو نافذ کرتے تھے ۔ اسلام کے آنے کے بعد اب تو سب دنیا کے انسانوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلام شریعت نافذ کریں ۔ یہ شریعت اب سب کی شریعت ہے اور یہ اب آخری رسالت اور آخر شریعت ہے ۔
(آیت) ” بما انزل اللہ فیہ ومن لم یحکم بما انزل فاولئک ھم الفسقون “۔ (5 : 47) (جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں)
یہاں بھی آیت نہایت ہی عام اور مطلق ہے ۔ اور اس سے قبل اس قسم کے فعل پر صفت کفر اور ظلم کا جو اطلاق ہوا تھا ‘ صف کفر ان دونوں پر مستزاد ہے ۔ یہاں فاسقوں سے مراد کوئی اور لوگ نہیں ہیں بلکہ وہی کافرون اور ظالمون ہیں جنہوں یہاں صفت فاسقون سے بھی متصف کیا گیا ہے اور جو بھی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہ کرے گا وہ اس صفت سے متصف ہوگا ۔
کفر اس لئے ہوگا کہ اللہ کی شریعت کا انکار کرنے سے اللہ کی حاکمیت کا انکار ہوگا ۔ ظلم اس لئے ہوگا کہ لوگوں پر اللہ کے سوا کوئی اور قانون نافذ کرکے ظلم ہوگا اور اس قانون کے ذریعے ان کی زندگیوں میں فساد برپا ہوگا اور فسق اس لئے ہوگا کہ اللہ کے نظام حیات سے خارج ہونے والا خود بخود فاسق ہوجاتا ہے ۔ غرض یہ تمام صفات اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے نہ کرنے کے فعل کے ساتھ لازم ہیں اور ایسا فاعل ان تمام صفات کا مرتکب ہوتا ہے ۔ اور ان میں کوئی تفریق نہیں ہے۔
اب بات حضور اکرم ﷺ کی آخری رسالت تک آپہنچتی ہے ۔ اب آخری شریعت یعنی اسلامی شریعت کے بارے بات ہوتی ہے ۔ اس میں اسلام کو اپنی آخری شکل میں پیش کردیا گیا تاکہ وہ تمام انسانوں کا دین بن جائے اور اسلام کی شریعت تمام لوگوں کی شریعت ہو ۔ نیز اس کے اندر ان تمام ہدایات کو جمع کرکے محفوظ کردیا جائے جو اس سے پہلے کسی بھی رسول کو دی گئی تھی اور یہ شریعت اس وقت تک نافذ رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ اس پوری کائنات کو لپیٹ نہیں لیتا ۔ یہ ایک ایسا نظام زندگی ہے جس پر اسلامی زندگی ہر پہلو کے اعتبار سے قائم ہوتی ہے ۔ اس کے دائرے کے اندر زندگی محدود ہوجاتی ہے اور اس کے محور کے اندر گھومتی ہے ۔ انسان اپنے اعتقادات و تصورات اسی سے اخذ کرتا ہے ۔ اپنا اجتماعی نظام بھی اس کے مطابق استوار کرتا ہے ‘ اور وہ اپنے انفرادی اور سوشل روابط اسی کے مطابق ڈھالتا ہے ۔ اور یہ شریعت اس لئے اتاری گئی ہے کہ یہ عدالتوں میں رائج ہو ‘ اس کے مطابق نظام استوار ہو ‘ کتابوں اور دفتروں کے اندر اس کا دور دورہ ہو اور اس کی پیروی اور اس کا نفاذ نہایت دقت کے ساتھ ہو ۔ اس کا کوئی جزء متروک نہ ہو ‘ اس کا کوئی جزء بدلا نہ گیا ہو ‘ چاہے چھوٹے معاملات سے متعلق ہو یا بڑے معاملات سے اس لئے کہ یا تو شریعت اسلامی ہوگی اور یہ جاہلیت ہوگی ۔ اس شریعت کے نفاذ کے سلسلے میں ان نیت سے تساہل اور مداہنت کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ اس بہانے بہت سے لوگوں کو اسلام کے نام پر جمع کردیا جائے ‘ اس لئے کہ اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا ۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اس کی شریعت کی حکمرانی قائم ہو ‘ پھر جو ہوتا ہے ہو۔
المائدة 5:48
(آیت) ” نمبر 48 تا 50۔
انسان جب اس تعبیر کی صفائی پر غور کرتا ہے اور اس دوٹوک فیصلے پر نگاہ ڈالتا ہے اور اس مکمل اختیار پر غور کرتا ہے اس میں ان تمام امور کی پیش بندی کردی گئی ہے جو ترک شریعت کے بارے میں کسی انسان کے دل میں آسکتے ہیں ۔ جب انسان غور کرتا تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ کوئی مسلمان ان ہدایات کے باوجود کسی طرح شریعت کو ترک کرسکتا ہے ۔ یہ ترک وہ حالات اور ضروریات کے بہانے سے کرتا ہے اور پھر بھی دعوائے اسلام کرتا ہے ۔ اس سے زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ کوئی شخص اسلامی شریعت کو کلیۃ ترک کردے اور پھر بھی یہ کہے کہ وہ مسلمان ہے ۔ ان لوگوں کی جرات کا عالم یہ ہے کہ انہوں نے اپنے گلے سے اسلام کا طوق اتار پھینکا ہے لیکن پھر بھی وہ اپنے آپ کو بدستور مسلمان کہتے ہیں ۔ پوری کی پوری شریعت کو انہوں نے اپنی زندگی سے یکسر خارج کردیا ہے ۔ وہ اللہ کی حاکمیت کا اقرار ہی نہیں کرتے اور یہ یوں کہ وہ قانون سازی کو اللہ کے ساتھ مخصوص نہیں کرتے اور یہ بات نہیں مانتے کہ اسلامی شریعت ہر قسم کے حالات اور ہر قسم کے اوقات میں قابل عمل ہے اور یہ کہ ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم تمام حالات میں شریعت کو نافذ کریں ۔
(آیت) ” وانزلنا الیک الکتب بالحق “ (5 : 48) (پھر اے نبی ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے)
یہ حق اس طرح ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ شریعت نازل کرے اور لوگوں پر قانون ڈیوٹیاں عائد کرے ۔ پھر اس کتاب کے مشمولات تمام حق ہیں ‘ نظریات سچے ہیں ‘ قوانین سچے ہیں ‘ جو قصے اور خبریں اس میں درج ہیں وہ سچے ہیں اور جو ہدایات اس میں دی گئی ہیں وہ برحق دی گئی ہیں۔
(آیت) ” مصدقا لما بین یدیہ من الکتب ومھیمنا علیہ “ (5 : 48) (اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ ونگہبان ہے)
اس طرح یہ دین الہی کی آخری مکمل شکل ہے اور آخری ماخذ اور مرجع ہے ۔ یہ آخری نظام زندگی ہے ‘ آخری قانون ہے اور اس کے بعد قانون و شریعت اور نظام ودستور میں کوئی تبدیلی نہ ہوگی اور کوئی ترمیم وتنسیخ ہوگی ۔
اس اصول کا قدرتی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنے تمام اختلافات اس کتاب کی طرف لوٹائیں تاکہ یہ کتاب اس بارے میں فیصلہ کرے ‘ چاہے ان اختلافات کا تعلق اعتقادات اور تصورات کے ساتھ ہو ‘ جو عموما ادیان سماوی کے حاملین اور علماء کے درمیان ہوتا رہا ہے یا یہ اختلاف خود مسلمانوں کے اندر پایا جاتا ہو تو وہ مرجع اور ماخذ جس کی طرف وہ اپنی پوری زندگی کے امور میں رجوع کریں گے وہ یہی کتاب ہے ۔ اور ان معاملات میں انسانوں میں سے بڑے سے بڑے افراد کی ذاتی رائے کی کوئی قیمت نہیں ہے ۔ اگر اس رائے کی پشت پر قرآن وسنت سے کوئی دلیل نہیں ہے ۔
چناچہ اس اصول اور حقیقت کا براہ راست تقاضا یہ سامنے آتا ہے ۔
(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق “۔ (5 : 48) (لہذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو) ابتداء یہ حکم رسول اللہ ﷺ کو دیا گیا ہے ‘ یعنی ان اہل کتاب کے بارے میں جو آپ کے پاس فیصلے لے کر آتے تھے ۔ لیکن یہ حکم اس سبب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ایک عام حکم ہے اور ہر زمان ومکان کے لئے ہے اس لئے کہ آپ کے بعد کوئی جدید رسول آنے والا نہیں ہے ۔ نہ آپ کے بعد کوئی جدید رسالت بھیجی جانے والی ہے کہ اس حکم میں کوئی تبدیلی لائی جاسکے کہ اب قرآن مرجع نہیں رہا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس دین کو مکمل کردیا ہے اور اس طرح مسلمانوں پر اپنی نعمت تمام کردی ہے اور ان تمام اہل ایمان کے لئے یہ اسلامی نظام حیات پسند کرلیا ہے اب اس میں کسی ترمیم اور تبدیلی کا کوئی راستہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی اصول کے مطابق اللہ کے کسی حکم کو تبدیل کرکے اسکی جگہ دوسرا حکم نافذ کرسکتے ہیں ۔ جس وقت اللہ تعالیٰ نے اس دین کو لوگوں کے لئے پسند فرمایا تو اللہ کو علم تھا کہ یہ دین تمام لوگوں کے لئے اپنے اندر گنجائش رکھتا ہے اور جب اس دین کو ہدایت کا مرجع بنایا گیا تو اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ اس میں سب کے لئے فلاح اور بھلائی ہے ۔ یہ تمام لوگوں کی زندگی کے تمام مسائل قیامت تک حل کرسکتا ہے اور یہ کہ اس کے اندر کوئی تبدیلی (اس سے روگردانی تو بڑی بات ہے) موجب کفر ہے ۔ ایسا فعل کرنے والا دین سے خارج ہے اگرچہ زبانی طور پر وہ لاکھ مرتبہ اپنے آپ کو مسلمان کہے ۔ یہ اس دین کی اس نوعیت کا لازمی نتیجہ ہے ۔
اللہ کو علم تھا کہ اس راہ میں لوگ لمبی چوڑی معذرتیں پیش کریں گے اور یہ معذرتیں اس لئے پیش کی جائیں گی کہ اللہ کے نازل کردہ قانون سے پھر کر ان لوگوں کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کیا جائے جو جعلی طور پر حاکم بن گئے ‘ یا محکوم ہیں۔ بعض حالات میں مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کے متعلق بعض لوگوں کے دلوں میں اندیشے پیدا ہوں گے ‘ لیکن ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نبی اکرم ﷺ کو دو بار اس بارے میں متنبہ کیا آپ ایسے لوگوں کی خواہشات اور خدشات کی پیروی نہ کریں اور ایسے لوگوں کے فتنے سے بچیں۔
ان خدشات میں سے پہلا خدشہ یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک فطری جذبہ ہوتا ہے کہ اس سے سب لوگ خوش رہیں اور تمام طبقات اور تمام رجحانات کے لوگوں کا لحاظ رکھا جائے ۔ ان کے وہ رجحانات جن کا اسلامی شریعت کے ساتھ تضاد آتا ہے ان میں ان کا لحاظ رکھا جائے ۔ اور معمولی باتوں میں نرمی کی جائے یا ان معاملات میں تساہل کیا جائے جو بظاہر شریعت کے دائرہ اثر میں نہیں آتے ۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہودیوں نے یہ پیشکش کی کہ وہ ایمان لے آئیں گے اگر آپ بعض احکام کے بارے میں ان کے ساتھ مصالحت کرلیں ان میں سے ایک رجم کا حکم تھا اور یہ تنبیہ خصوصا ایسے موقع پر نازل ہوئی جیسا کہ اس سے ظاہر ہے ۔ لیکن ان آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ کسی خصوصی سبب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے عام ہے ۔ یہ حکم مختلف احوال کے لئے ہو سکتا ہے اور حاملین شریعت کو ہر دور میں ایسے حالات پیش آسکتے ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ تھی کہ وہ اس معاملے میں نہایت ہی دو ٹوک بات کردیں اور انسانی خواہش کا ہر خفیہ راستہ بند کردیں جن میں انسان حالات اور واقعات کے مطابق پوری شریعت کے نفاذ میں تساہل کرتا ہے یا بعض لوگوں کی دلجوئی کے لئے تساہل کرتا ہے جبکہ لوگوں کی خواہشات اور میلانات مختلف ہوتے ہیں ۔ چناچہ اللہ نے اپنے نبی ﷺ سے کہا کہ اگر اللہ چاہتا تو لوگوں کو ایک امت بنا دیتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لئے ایک نظام اور منہاج مقرر کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو جو شریعت عنایت فرمائی تھی انہیں اس کے بارے میں آزمائش میں ڈال دیا اور اس دنیا کی زندگی کے لئے انہیں جو کچھ دیا گیا اس کے بارے میں بھی ان کی آزمائش ہوگی ۔ ہر ایک اپنے لئے ایک طریقہ وضع کرلیتا ہے ۔ اس کے بعد تمام لوگ لوٹائے جائیں گے ۔ اللہ ان کو حقیقت سے آگاہ فرمائے گا اور انہوں نے جو جو طریقے اختیار کئے ان پر ان کا محاسبہ کرے گا ۔ اس لئے ان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ شریعت میں کوئی سستی اور تساہل برتیں اور اس طرح مختلف مسالک اور مشارب کے لوگوں کو جمع کرنے کی سعی کریں ‘ اس لئے کہ یہ اجتماع ممکن ہی نہیں ہے ۔
(آیت) ” لیبلوکم فی ما اتکم فاستبقوا الخیرت ، الی اللہ مرجعکم جمیعا فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون (5 : 48)
” ہم نے تم ” انسانوں “ میں سے ہر ایک کیلئے ایک شریعت اور ایک راہ عمل مقرر کی ۔ اگر تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک امت بھی بنا سکتا تھا ‘ لیکن اس نے یہ اس لئے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، لہذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے ‘ پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتا دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو ۔
اللہ تعالیٰ نے اس طرح شیطان کی تمام راہیں بند کردیں ۔ یعنی وہ سب راہیں جو بظاہر اچھی تھیں اور ان کے ذریعے تالیف قلب ہو سکتی تھی ۔ خصوصا ایسی صورت میں جبکہ شریعت کے نفاذ میں بعض امور پر سودا بازی کی جائے اور اس تساہل کے ذریعہ تمام لوگوں کو راضی رکھا جائے ۔ یا شریعت میں تساہل کے ذریعہ ” قومی اتحاد کا حصول “ جیسے نعرے لگائے جائیں ۔
اسلامی شریعت ایک نہایت ہی قیمتی سرمایہ ہے ۔ وہ اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کے بعض اجزاء کی قیمت پر کسی ایسے مقصد کو حاصل کرنے کی سعی کی جائے جسے اللہ کی تقدیر نے نہیں چاہا ۔ اللہ ہی نے تو لوگوں کو پیدا کیا ہے اور ان میں سے ہر شخص کو علیحدہ علیحدہ استعداد دی ہے اور لوگوں کے مسالک ومشارب بالکل مختلف اور متنوع ہیں ۔ ہر ایک کو اپنا طریقہ اور اپنا منہاج ہے ۔ اور یہ اللہ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ لوگوں کو اس طرح مختلف طبائع کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے ۔ اللہ نے ان پر ہدایت پیش کی اور انہوں نے اسی طرح چھوڑ دیا کہ وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی سعی کریں ۔ یہ مسابقت ان کے درمیان ایک قسم کا ابتلاء ہے اور اسی ابتلاء آزمائش کی وجہ سے قیامت کے دن جب سب لوگ اللہ کے ہاں جائیں گے تو انہیں جزاوسزا ہوگی ۔
اس لئے کہ یہ کٹ حجتی ہوگی اور ایک ناکام کوشش ہوگی کہ کوئی شخص لوگوں کو اسلامی شریعت کے کسی حصے کو قربان کرکے جمع کرے یا لوگوں کی اصلاح اور ان کی معاشی حالات درست کرنے کے لئے شریعت کی کوئی انوکھی تعبیر کی جائے۔ اسلامی شریعت میں تبدیلی یا اس سے روگردانی کی وجہ سے دنیا میں فساد ہی برپا ہو سکتا ہے ۔ اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ اس طرح تو صرف یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ لوگ اللہ کے درست اور سیدھے منہاج سے روگردانی کرلیں ، لوگوں کی زندگیوں میں عدل و انصاف کا نام و نشان نہ رہے اور بعض لوگ بعض دوسروں کے غلام بن جائیں ۔ پھر ان میں سے بعض ‘ بعض دوسروں کے لئے الہ اور رب کا مقام حاصل کرلیں ۔ یہ ایک عظیم شروفساد ہوگا اور اس عظیم شر کو محض ایک موہوم مقصد کے لئے برپا ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی جبکہ یہ مقصد ہو بھی ناممکن الحصول ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تو یہ اصول رکھا ہی نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک ہی راہ پر آجائیں ۔ یہ مقصد اس حکمت اور اسکیم کے بھی خلاف ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے مختلف راستے مختلف منہاج اور مختلف ذوق پیدا کئے ہیں ۔ وہی تو ہے جو سچائی کا بھی خالق ہے ‘ اور تمام امور اول اور آخر سب اس کے ہاتھ میں ہیں اور اسی کی طرف تمام لوگوں کو لوٹنا ہے ۔
ایسے مقاصد کے لئے شریعت کے کسی حصے کو حذف کردینے کی کوئی کوشش اس آیت کی رو سے ایک ناکام کوشش ہے اور انسانوں کی عملی زندگی اس بات کی شاہد ہے ۔ اس کے لئے کسی عملی جواز کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور اس بات پر ارادہ الہی سے بھی کوئی دلیل نہیں ہے اور اسلامی شعور کے اندر بھی ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔ اسلامی شعور اور احساس تو یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا ارادہ بروئے کار آئے ۔ بعض لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ وہ یہاں تک کہتے ہیں ہم اسلامی نظام شریعت اس لئے نافذ نہیں کرتے کہ اس سے ہمارے ملک میں سیاحوں کی آمد کم ہوجائے گی ۔ بالکل وہ ایسا ہی کہتے ہیں ۔
چناچہ قرآن کریم اس حقیقت کی دوبارہ وضاحت کرتا ہے پہلی آیت تو یہ بھی ۔
(آیت) ” فاحکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم عما جآءک من الحق “۔ (5 : 48) (پس آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اس سچائی کے مطابق جو اللہ نے نازل کی ہے اور اتباع نہ کریں ان کی خواہشات بمقابلہ اس کے جو سچائی تمہارے پاس آئی) اس سے یہ مراد ہو سکتی تھی کہ پوری شریعت کو نہ چھوڑ دیا جائے محض لوگوں کی خواہشات کی وجہ سے ۔ لیکن اگر شریعت کا حصہ چھوڑنا پڑے تو اس کے بارے میں یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ بعض (آیت) ” بما انزل اللہ (5 : 48) کا بھی چھوڑنا منع ہے ۔
المائدة 5:49
(آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ ولا تتبع اھوآء ھم واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک “۔ (5 : 49) (پس اے نبی ﷺ تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو ۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے)
یہ تنبیہ بہت ہی شدید ہے اور بہت ہی مفصل ہے ۔ یہ صورت حال کی حقیقی تصور کشی ہے اس لئے کہ یہ ایک عظیم فتنہ ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس سے خبردار رہیں اور تمام فیصلے اللہ کی شریعت کے مطابق کریں ۔ اگر مکمل شریعت نہ ہوگی تو پھر مکمل خواہش پرستی ہوگی جس سے اللہ تعالیٰ ڈراتے ہیں ۔
اگلی آیت میں بعض خدشات اور پریشانیوں کو دور کیا جاتا ہے اور رسول خدا ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے کہ اگر یہ لوگ شریعت کے بڑے احکام سے پہلے شریعت کے چھوٹے احکام نافذ کرنا پسند نہیں کرتے اور اگر یہ لوگ اسلام کو مکمل دین کے طور پر اختیار نہیں کرتے ۔ یا اسلامی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے نہیں لے جاتے ۔ (یہ اس دور کی بات ہے جب شریعت کے مطابق فیصلے اختیاری تھے ابھی تک شریعت کا نظام حتمی طور پر نافذ نہ ہوا تھا ۔ جب دارالاسلام مکمل طور پر قائم ہوگیا تھا تو پھر شریعت کے مطابق فیصلے کرانا لازم کردیا گیا) تو پھر یہ لوگ اللہ کے عذاب کے لئے تیار رہیں ۔
(آیت) ” فان تولوا فاعلم انما یرید اللہ ان یصیبھم ببعض ذنوبھم وان کثیرا من الناس لفسقون (5 : 49)
” پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں ۔
اگر یہ لوگ منہ پھیر لیں تو آپ پر کیا ذمہ داری ہے آپ اپنی جگہ شریعت کو پوری قوت کے ساتھ تھامے رہیں اور اللہ کے احکام نافذ کریں ۔ ان لوگوں کا اعراض اور روگردانی آپ کی گرفت کو ڈھیلا نہ کر دے اور آپ کو اپنے موقف سے ہٹا نہ دے ۔ یہ لوگ تو اعراض اس لئے کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں سخت مصیبت میں ڈالنے والے ہیں ۔ یہ اللہ کی اسکیم ہے کہ یہ لوگ برے نتائج کا شکار ہوں ‘ نہ آپ ‘ نہ اللہ کی شریعت اور نہ اللہ کا دین متاثر ہوگا اور نہ اسلامی محاذ متاثر ہوگا جس نے شریعت کو پوری طرح پکڑ رکھا ہے ۔ ہاں یہ بات انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ لوگوں کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا رہتی ہے اس لئے وہ اسلام سے نکلتے ہیں اور منحرف ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” وان کثیر من الناس لفسقون “۔ (5 : 49) بیشک لوگوں کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا رہتی ہے ۔ یہ لوگ اس طرح رہیں گے اور آپ اس صورت حال کو بدل نہیں سکتے ۔ اس میں شریعت کا بھی کوئی قصور نہیں ہے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اکثریت کو راہ مستقیم پر استوار کردیا جائے ۔
اس طرح ایک مومن کے نفس کے اندر شیطان کی وسوسہ اندازی کے تمام راستے بند کردیئے جاتے ہیں اور ایک مومن اپنی راہ پر دلیل کے ساتھ چلتا ہے ۔ اسلامی شریعت اور اسلامی احکام میں سے کسی حکم کے چھوڑنے کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔ یہ کام کسی دنیاوی غرض کے لئے بھی نہیں ہو سکتا ۔ اور نہ حالات میں سے کسی حال میں ہو سکتا ہے ۔
یہاں آکر قرآن کریم انسانوں کو دوراہئے پر لا کر کھڑا کردیتا ہے ۔ یا تو انہوں نے حکم اور قانون کی راہ اختیار کرنی ہوگی یا وہ جاہلیت کی راہ اپنائیں گے ۔ ان دوراہوں کے درمیان نہ تیسری راہ ہے اور نہ ان کے متبادل اور کوئی راہ ہے ۔ دنیا میں اللہ کے احکام نافذ ہوں گے اور لوگوں کی زندگی میں اسلامی شریعت نافذ ہوگی یعنی یا انسانیت کی قیادت اسلامی نظام کرے گا اور یا احکام جاہلیت نافذ ہوں گے ‘ قانون سرکشی نافذ ہوگا اور غلامی کا نظام جاری رہے گا ۔ اب اس دورا ہے پر لوگوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں ۔
المائدة 5:50
(آیت) ” افحکم الجاھلیۃ یبغون ، ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (5 : 50)
(اگر یہ خدا کے قانون سے منہ موڑتے ہیں تو کیا پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے)
یہاں یہ آیت جاہلیت کے مفہوم اور مدلوں کو متعین کردیتی ہے ۔ یہ اللہ کا قرآن ہے جو جاہلیت کے مفہوم کو متعین کردیتا ہے اور اس کے مطابق جاہلیت یہ ہے کہ مملکت میں انسان کی حکومت انسان پر چلے ۔ یہ دراصل انسانوں کی جانب سے انسانوں کی غلامی ہے ۔ اللہ کی حاکمیت کا انکار ہے اور اللہ کی حاکمیت کے نظریہ کو ترک کرنا ہے ۔ یہ انکار اور ترک اصل انسانوں کی حاکمیت کا اقرار ہے اور انسانوں کی بندگی اور پرستش ہے ۔
اس آیت کی روشنی میں جاہلیت کا تعلق زمان ومکان سے نہیں ہے بلکہ جاہلیت ایک صورت حال کا نام ہے جو کل بھی تھی ‘ آج بھی ہے اور کل بھی ہوگی ۔ لہذا جس چیز کی ممانعت ہے وہ یہ ہے کہ اسلامی نظام کے مطابلے میں جاہلی صورت حال نہ اختیار کی جائے جو اسلام سے متصادم ہے ۔
لوگوں کے مختلف حالات ہو سکتے ہیں اور ہر دور میں ‘ یا تو وہ اللہ کی شریعت کے مطابق عمل کریں گے ‘ ماسوائے اس کے کہ وہ اس کے کچھ اجزاء کو ترک کردیں یا پھر نظام شریعت کو مکمل طور پر تسلیم ورضا کے ساتھ قبول کریں گے ۔ ایسی صورت میں لوگ اللہ کے دین میں متصور ہوں گے ۔ یا وہ اپنے فیصلے کسی ایسے قانون کے مطابق کر رہے ہوں جو انسانوں کا بنایا ہوا ہوتا ہے ‘ چاہے اس کی جو شکل و صورت بھی ہو ‘ اور وہ اسے قبول کریں گے لہذا یہ لوگ ان لوگوں کے دین کے اندر متصور ہوں گے ‘ جن کے قانون کو یہ لوگ مانتے ہیں ۔ ایسے حالات میں یہ لوگ ہر گز دین اسلام میں داخل نہ ہوں گے ۔ جو شخص اللہ کے حکم کے مطابق فیصلے نہیں کراتا وہ دراصل جاہلیت کے مطابق فیصلے کراتا ہے اور جو شخص اللہ کی شریعت کا انکار کرتا ہے ‘ وہ دراصل جاہلیت کی شریعت چاہتا ہے اور جاہلیت میں بستا ہے ۔
یہ ہے ایک دوراہہ جس پر اللہ تعالیٰ کو لا کر کھڑا کردیتا ہے اور اس کے بعد لوگوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ جس راہ پر جانا چاہیں اس راہ کو اختیار کرلیں ۔
اس کے بعد ذرا درشت نظروں کے ساتھ دیکھ کر پوچھا جاتا ہے ان لوگوں سے جو جاہلیت کے مطابق فیصلے کرانا چاہتے ہیں ۔ یہ استفہام انکاری ہے لیکن سوالیہ انداز میں احکام الہی کی برتری کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون “۔ (5 : 50) (حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کون ہو سکتا ہے ؟ ) ۔۔۔۔۔ ہاں یہ بالکل درست ہے کہ اللہ کے قانون اور احکام کے علاوہ اور کوئی قانون اور حکم نہیں ہے کون ہے جو یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ لوگوں کا قانون ساز ہے ۔ یا وہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں زیادہ اچھا قانون بنا سکتا ہے ۔ وہ اس عظیم دعوے کے حق میں کیا دلیل رکھتا ہے ۔
کیا کوئی یہ دعوی کرسکتا ہے کہ وہ لوگوں کے خالق کے مقابلے میں لوگوں کے بارے میں زیادہ جاننے والا ہے کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہو لوگوں کے رب کے مقابلے میں ان کا زیادہ ہمدرد ہے اور کوئی ہے جو یہ کہہ سکتا ہو کہ وہ الہ العالمین کے مقابلے میں لوگوں کی مصلحتوں سے زیادہ باخبر ہے ؟ کیا کوئی یہ کہنے کی جرات کرسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو لوگوں کے لئے آخری شریعت بنا رہا تھا ‘ جو اپنے رسول ﷺ کو خاتم النبین بنا رہا تھا ‘ جو انکی رسالت کو خاتم الرسالات بنا رہا تھا اور ان کی شریعت کو شریعت ابدی بنا رہا تھا کیا اللہ قیامت تک آنے والے حالات میں سے کسی حال سے بیخبر تھا کہ ایسا حال بھی آئے گا ۔ کیا وہ اس سے بیخبر تھا کہ لوگوں کی نئی نئی ضروریات پیدا ہوں گی ‘ نئے حالات پیدا ہوں گے اور اللہ نے اس قانوں سازی میں ان کا کوئی خیال نہ رکھا ۔ مطلب پھر یہ ہوگا کہ اللہ کو ان حالات کا علم نہ تھا اور یہ علم اب آخری زمانے میں لوگوں پر منکشف ہوا۔
اس سوال کا وہ شخص جواب دے جو زندگی کے دھارے سے اسلامی شریعت کو نکالنا چاہتا ہے ۔ اس کی جگہ جاہلیت کی شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ اپنی خواہشات کو قانون میں بدلنا چاہتا ہے ‘ یا کسی قوم کی خواہشات کو قانون سمجھتا ہے یا کسی نسل کی خواہشات کو اللہ کے حکم اور اللہ کے قانون سے اونچا سمجھتا ہے ۔ میں پوچھتا ہوں کہ ایسا شخص درج بالا سوالات کا جواب کیا دیتا ہے اور خصوصا اگر یہ شخص اپنے بارے میں یہ زعم بھی رکھتا ہے کہ وہ مسلمان ہے ۔
حالات ماحول ‘ لوگوں کا دلچسپی نہ لینا ‘ دشمنوں کا خوف وغیرہ کیا یہ تمام امور اللہ کے علم میں نہ تھے ؟ خصوصا اس وقت جب اللہ مسلمانوں کو یہ حکم دے رہا تھا کہ وہ اپنے معاشرے میں معاشرے میں شریعت نافذ کریں ‘ اسلامی نظام کے مطابق زندگی بسر کریں اور اللہ تعالیٰ نے جو احکام نازل کئے ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی نہ چھوڑیں ۔
کیا یہ بات اللہ کے علم میں نہ تھی ۔ نئے نئے حالات پیدا ہوں گے اور ان میں کوئی شرعی حکم نہ ہوگا ۔ نئی نئی عادات پیدا ہوں گی اور انسان کو حالات مجبور کریں گے ۔ یہ سب باتیں اللہ کے علم میں تھیں جب اللہ بڑی سختی سے یہ حکم دے رہے تھے کہ شریعت کو نافذ کرو اور اگر وہ نافذ نہ کریں تو انہیں اس قدر سخت نتائج سے ڈرا رہا تھا ۔
ایک غیر مسلم تو جو چاہے کہہ سکتا ہے لیکن مسلمان ‘ جو اسلام کے داعی ہیں ‘ وہ ان سوالات کا کیا جواب دیں گے ۔ کیا وہ اسلام پر قائم رہ سکتے ہیں یا ان کے پاس اسلام سے کوئی چیز رہ سکتی ہے اگر وہ یہی سوچیں اور یہی کہیں ؟
لاریب یہ ایک فیصلہ کن اور دو ٹوک معاملہ ہے ‘ انسان دورا ہے پر کھڑا ہے ۔ کوئی اور راہ نہیں ہے اور اس میں کوئی بحث و تکرار ممکن نہیں ۔ اور نہ کوئی حجت بازی کام کرسکتی ہے یا ایک راہ ہے اور یا دوسری راہ ہے ۔۔۔۔۔ یا اسلام ہے اور یا جاہلیت ہے یا ایمان ہے اور یا کفر ہے ‘ یا اللہ کا حکم ہوگا اور یا جاہلیت کی حکمرانی ہوگی ۔ اور جو لوگ اللہ کے احکام کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہ کافر ‘ ظالم اور فاسق ہوں گے ۔ اور محکوموں میں سے جو لوگ اللہ کے احکام کو قبول نہیں کرتے وہ مومن نہیں رہتے ۔
ایک مومن کے دل اور فکر میں یہ مسئلہ نہایت ہی واضح اور دو ٹوک ہونا چاہئے ۔ اسے چاہئے کہ وہ نفاذ شریعت میں کسی زمان ومکان کے اثر کو قبول نہ کرے ، نہ تردد کرے اور وہ اس معاملے میں دوست اور دشمن کا کوئی لحاظ نہ کرے ۔ جب تک اس مسئلے میں اہل اسلام اپنے ضمیروں میں دو ٹوک فیصلہ نہیں کرتے تو ان کے حالات درست نہیں ہو سکتے نہ ان کا کوئی ایک معیار اور میزان ہوگا نہ ان کا نظام واضح ہوگا نہ ان کے ضمیر کے اندر حق اور باطل کی کوئی تمیز ہوگی اور نہ وہ اسلام کی شاہراہ پر ایک قدم بھی آگے بڑھ سکیں گے اگر یہ اجازت دی جاتی ہے کہ یہ مسئلہ جماہیر کے ذہنوں میں واضح نہ ہو مجمل ہی رہے ‘ اور لوگوں اور عوام الناس کے ہاں یونہی ڈھیل رہے جس طرح کہ ہے ۔ اور لیکن جو لوگ صحیح طرح مسلمان بننا چاہتے ہیں ان کے ذہن تو صاف ہونے چاہئیں ۔ ان کو تو چاہئے کہ وہ اپنے اندر یہ صفت پیدا کریں ۔
درس نمبر 50 ایک نظر میں :
اس سورة کے زمانہ نزول کے بارے میں ‘ مقدمہ میں ہم نے جو کچھ کہا تھا ‘ اس سبق کی آیات اس کی تصدیق کرتی ہیں ‘ یعنی یہ کہ یہ سورة تمام سورة فتح کے بعد نازل نہیں ہوئی ‘ جو صلح حدیبیہ کے بعد چھٹی صدی ہجری میں نازل ہوئی تھی ۔ اس سورة کے کئی ٹکڑے ہیں جو اس سے پہلے نازل ہوچکے ہوں گے ۔ یعنی کم از کم بنی قریظہ کی جلا وطنی سے پہلے جو چار ہجری میں ہوئی ‘ یعنی عام الاحزاب میں اگرچہ اس سے مزید پہلے یعنی بنی نضیر کی جلاوطنی (بعد جنگ احد) اور بنی قینقاع کی جلاوطنی (بعد جنگ بدر) کے دور تک ہم اسے قدیم نہ کہہ سکیں ۔
بہرحال یہ آیات کچھ واقعات کی طرف اشارہ کر رہی ہیں اور جماعت مسلمہ کے اندر پیش آنے والے بعض واقعات کی طرف ان میں اشارہ ہے ۔ ان میں وہ حالات لئے گئے ہیں جو مدینہ میں منافقین اور یہودیوں کے حوالے سے موجود تھے اور یہ حالات اس وقت ہر گز نہیں رہ سکتے تھے جب کہ یہودیوں کی قوت اور شوکت کو توڑدیا گیا تھا اور ان پر آخری وار واقعہ بنی قریظہ کی صورت میں 4 ہجری میں ہوچکا تھا ۔
یہ ممانعت کہ یہود ونصاری کو دوست نہ بناؤ اور یہ ڈراوا بلکہ یہ دھمکی کہ وہ لوگ ان کو دوست بنائیں گے وہ انہی میں سے ہوں گے ‘ اور یہ اشارہ کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ‘ وہ ان کے ساتھ دوستی کرتے ہیں اور وہ اس پر اپنی یہ مجبوری بیان کرتے ہیں کہ وہ مصیبتوں سے ڈرتے ہیں اور یہ مسلمانون کو نفرت دلانا کہ ان لوگوں سے اس لئے دوستی نہ کرو کہ یہ تمہارے دین کو لہو ولعب سمجھتے ہیں اور یہ اشارہ کہ یہ لوگ اقامت صلوۃ کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ یہ سب واقعات ممکن ہی تب ہو سکتے ہیں کہ مدینہ میں یہودیوں کو پوری قوت اور شوکت حاصل ہو ۔ اگر یہ قوت نہ ہوتی تو اس قسم کے حالات کا مدینہ میں مدینہ میں پیش آنا ممکن ہی نہ تھا ۔ نہ ایسے واقعات پیش آسکتے تھے ‘ اور نہ اس قدر شدید دھمکی اور ڈراوے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی ۔ اور اس مررسہ کرر مخالفت کی ضرورت نہ ہوتی ‘ نیز یہودیوں کی جبلت کو بیان نہ کیا جاتا اور انکی اس طرح تشہیر نہ ہوتی اور نہ ہی ان پر اس قدر تنقید ہوتی ۔ نہ ان کے مکر و فریب کا پردہ چاک کرنے کی ضرورت ہوتی ۔ نہ ان کے حالات کو اس قدر دہرایا جاتا یا اس قدر روشنی ڈالی جاتی ۔
بعض روایات ایسی بھی ہیں ‘ جن میں سے بعض حالات وواقعات کا تعلق واقعہ بنی قینقاع سے بتایا گیا ہے ‘ حالانکہ یہ واقعہ غزوہ بدر کے بعد پیش آیا تھا ۔ ان کے بارے میں عبداللہ ابن ابی ابن السلول کا موقف اور اس کا یہ کہنا کہ یہودی اس کے دوست ہیں اور یہ کہ وہ یہودیوں کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ، مثلا اس کا یہ کہنا کہ میں ایک آدمی ہوں کہ میں برے حالات سے ڈرتا ہوں اس لئے میں اپنے حلیفوں کی حمایت نہیں چھوڑ سکتا ۔
یہ روایات اگر نہ بھی ہوں تب بھی سورة کے موضوع اور مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے موضوعات اس کے اندر بیان کردہ واقعات ‘ سیرت النبی کے واقعات اور مدینہ طیبہ میں اس کے مراحل ‘ ادوار سب کے سب اسی بات کو ترجیح دیتے ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا نیز سورة کے مقدمہ میں بھی یہی موقف اختیار کیا۔
اس سبق کی تمام آیات سے وہ اسلوب معلوم ہوتا ہے جس کے مطابق قرآنی منہاج تربیت نے جماعت مسلمہ کو اس رول کے ادا کرنے کے لئے تیار کیا جو اس نے من جانب اللہ اس دنیا میں ادا کرنا تھا ۔ نیز ان آیات سے وہ بنیادی عناصر بھی معلوم ہوتے ہیں جن کا ایک نفس مسلم اور ایک جماعت مسلمہ کی فکر اور سوچ کے اندر ہونا ضروری تھا ۔ یہ بنیادی عناصر ہر دور کے لئے وہی ہیں ۔ یہ مستقل عناصر ہیں اور مستقل اصول ہیں اور یہ کسی دوریا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں یہی وہ اصول ہیں جن کے اوپر ایک فرد کی تعمیر ہوتی ہے ۔ نیز ایک جماعت کی تنظیم بھی انہیں اصولوں پر ہوتی ہے ۔
قرآن کریم ہر مسلم فرد کی تعمیر اس اساس پر کرتا ہے کہ اس کی تمام ہمدردیاں پورے خلوص کے ساتھ اللہ ‘ رسول ‘ نظریہ اور اس پر قائم ہونے والی جماعت کے ساتھ ہوں ۔ ایک مسلم فرد اور جماعت اور اس فرد اور جماعت کے درمیان مکمل بائیکاٹ ہونا چاہئے جو اسلامی صفوں کے بالمقابل کھڑی ہے اور اس جس نے اسلام کے مخالف جھنڈے اٹھا رکھے ہیں یعنی جو جماعت حضرت نبی کریم ﷺ کی قیادت کو تسلیم نہیں کرتی اور اس جماعت میں ضم نہیں ہوتی جو حزب اللہ کے مقام پر کھڑی ہے ۔ قرآن کریم انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ وہ خوش قسمت ہے کہ اسے اللہ نے اپنے کام کے لئے چنا ہے اور وہ پردہ تقدیر الہی ہے اور اس کے ذریعے اللہ کی تقدیریں پردے سے ظاہر ہوتی ہیں ‘ ان تاریخی واقعات کی صورت میں جو پیش آتے ہیں اور یہ اللہ کا وہ کرم عظیم ہے کہ جس کے حصے میں آگیا سو آگیا ۔ الا یہ کہ اسلامی جماعت کے سوا تمام دوسری جماعتوں کے ساتھ دوستی گانٹھنا دین اسلام سے ارتداد کے مترادف ہے اور اس مقام کو ترک کردینا ہے جو اللہ نے ان کو عطا کیا اور اس خلعت فضیلت کو اتار پھینکنا ہے جو اللہ نے اسے پہنائی تھی ۔
یہ ہدایات اس سبق کی آیات میں بہت ہی واضح طور پر دی گئی ہیں مثلا اے ایمان والو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے ‘ یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ ‘ ‘
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ۔ (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ جسے چاہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ “
” تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب ہونے والی ہے ۔ “
اس کے بعد قرآن کریم ایک مسلم کے شعور میں اس کے دشمنوں کی حقیقت بھی بٹھاتا ہے ‘ اور اس کشمکش کی حقیقت سے بھی انہیں آگاہ کرتا ہے جو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان برپا ہے ۔ یہ کشمکش نظریاتی کشمکش ہے ۔ عقیدہ اور نظریہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ایک مسلمان اور اس کے دشمنوں کے درمیان ہر وقت برپا رہتا ہے ۔ مسلمانوں کی دشمنی تمام دوسری چیزوں سے پہلے اپنے عقیدے اور دین کے لئے ہوتی ہے ۔ اہل کفر مسلمانوں کے ساتھ یہ دشمنی اس لئے رکھتے ہیں کہ انہوں نے اس دین کی نافرمانی کی ٹھانی ہوئی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو شخص بھی اس دین پر سیدھا چل رہا ہو وہ اسے سخت ناپسند کرتے ہیں ۔
” ان سے کہو اے اہل کتاب ‘ تم جس بات پر ہم سے بگڑے ہو ‘ وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی ‘ اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ۔ “ یہ ہے نظریہ اور یہ ہے نظریاتی اختلاف اور یہ ہیں اختلافی محرکات ۔
اس نظام تربیت اور اس میں دی جانے والی ہدایات کی اہمیت بہت ہی بڑی ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کی ساتھ محبت اور رسول اور اس کے دین کے ساتھ والہانہ لگاؤ اور اس کی اساس پر قائم ہونے والی جماعت کے ساتھ لگاؤ اور محبت اور اس دین اور اس کے دشمنوں کے درمیان قائم ہونے والی کشمکش کی اصل نوعیت کو سمجھنا اور اس کے دشمنوں کو اچھی طرح جان لینا ہی اصل دین ہے ۔ یہ ایسے امور ہیں کہ جن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ انکی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ ان کے بغیر ایمان کی ضروری شرائط پوری نہیں ہوتیں ‘ ایک مسلمان کی ذاتی تربیت بھی نہیں ہوتی اور اس دین کے لئے کسی محرک جماعت کی تشکیل بھی ممکن نہیں ہے ۔ جو لوگ اس دین کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہیں وہ اس وقت تک پکے مسلمان نہیں ہو سکتے ‘ اس وقت وہ ٹھوس شخصیت کے مالک نہیں ہو سکتے اور اس وقت تک وہ اس کرہ ارض پر کوئی تبدیلی نہیں لا سکتے جب تک ان کے دلوں کے اندر ان تمام لوگوں کے مقابلے میں دوری نہیں پیدا ہوجاتی جو اس اسلامی محاذ کے خلاف جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں۔ جب تک اہل ایمان کی محبت اور دوستی اللہ ‘ رسول اور اہل ایمان کے لئے مختص نہیں ہوجاتی اور جب تک وہ اس کشمکش کی اصل حقیقت کو پا نہیں لیتے اس وقت تک دین کے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے ۔ اور جب تک ان کو یہ یقین نہیں ہوتا ہے کہ وہ محض اس غرض کے لئے جمع ہوئے ہیں ‘ اور یہ کہ ہمارے دشمن سب کے سب اسلامی جماعت اور اسلامی عقائدے کے خلاف متحد ومتفق ہیں۔
ان آیات میں اس پر اکتفاء نہیں کیا گیا کہ مسلمانوں کو وہ اسباب بتا دیئے جائیں جن کی وجہ سے دشمنان دین اسلام کے خلاف جنگ برپا کئے ہوئے ہیں بلکہ ان آیات میں دشمنوں کی نشاندہی بھی کردی گئی ہے ۔ ان کے فسق وفجور کی مقدار کی وضاحت بھی کردی گئی ہے اور یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ وہ دین سے کس قدر منحرف ہوگئے ہیں تاکہ مسلمانوں کو معلوم ہوجائے کہ ان کو کیسے دشمنوں سے واسطہ پڑا ہے اور اس کا ضمیر بھی مطمئن ہوجائے کہ وہ اس معرکے میں حق بجانب ہیں۔ اس جنگ کی سخت ضرورت ہے ۔ اور اس سے کوئی مفر نہیں ہے ۔ ” اے ایمان والو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو دوست نہ بناؤ یہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔ “ ۔
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تمہارے اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنایا ہے انہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست نہ بناؤ ۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو ۔ جب تم نماز کے لئے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس سے کھیلتے ہیں ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے ۔ “
” جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ‘ حالانکہ کفر لئے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت ہی بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں “۔
” یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ‘ باندھے گئے ان کے ہاتھ ۔ اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کے بدولت جو یہ کرتے ہیں ۔ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے ۔ “ ۔
اس وجہ سے کہ ان کی یہ صفات ہیں اور اس وجہ سے کہ جماعت مسلمہ کے ساتھ ان کا یہ رویہ ہے ‘ اور اس وجہ سے کہ یہ جماعت مسلمہ کے خلاف سب اکھٹے ہوچکے ہیں ‘ اور اس وجہ سے کہ وہ مسلمانوں کے دین اور خصوصا نماز کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں ‘ ایک صحیح مسلمان کے لئے اور کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے کہ وہ پوری سنجیدگی اور پورے اطمینان کے ساتھ ‘ ان لوگوں کی مدافعت کرے ۔
ان تصوص کے اندر اس معرکے کے انجام کا ذکر بھی کردیا گیا ہے اور اس کا پورا نتیجہ بھی یہاں دے دیا ہے ۔ یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ آخرت سے بھی پہلے خود اس دنیا میں اسلام کیا رنگ لاتا ہے : ” اور جو اللہ اور رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ۔ “ ۔۔۔۔۔ اگر یہ اہل کتاب ایمان لے آتے ‘ اور خدا ترسی کی روش اختیار کرتے ‘ تو ہم انکی برائیاں ان سے دور کردیتے ۔ اور ان کی نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے ۔ کاش انہوں نے تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں ‘ ایسا کرتے تو ان کے لئے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے ابلتا ۔ “
نیز ان آیات میں ایسے مسلمانوں کی صفات کا بھی تذکرہ ہے جن کو اللہ اپنے دین کی خدمت کے لئے چن لیتا ہے اور ان کو یہ فضل عظیم عطا کرتا ہے کہ انہیں اس عظیم کردار کے لئے اس نے چن لیا ۔
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ۔ (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ جسے چاہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔ “
یہ تمام فیصلے اور قرار دایدیں اسلامی نظام کے قیام کے لئے اقدامات ہیں اور ان سے مقصود یہ ہے کہ ایک مسلم فرد اور مسلم جماعت کی ٹھوس بنیادوں پر تربیت کی جائے ۔
المائدة 5:51
(آیت) ” نمبر 51 تا 53۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ولایت اور رفاقت کا مفہوم متعین کردیا جائے جس سے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ سختی سے منع کرتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ رفاقت نہ ہونی چاہئے ۔
اس رفاقت کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ حلیفانہ اور باہم تعاون اور امداد کا معاہدہ نہ ہونا چاہئے ۔ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ تم ان کے دین کی اتباع کرو اور اس لئے کہ یہ تو سوچنا بھی ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں میں ایسا بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کے دین کی اتباع کرتا ہو۔ یہ درحقیقت باہم تحالف اور معاونت کی دوستی ہوتی تھی ‘ جس کے بارے میں اس وقت مسلمانوں کا ذہن صاف نہ تھا کہ یہ بھی حرام ہے ۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ایسے تحالف اور تعاون ابھی تک جائز ہیں ۔ اور یہ التباس اس لئے تھا کہ اسلام سے پہلے ان لوگوں کے درمیان ایسے دوستی کے معاہدے ہوا کرتے تھے اور اسلام کے ابتدائی ایام میں بھی ایسا ہوتا تھا خصوصا مدینہ کے ابتدائی ایام میں ۔ ان نصوص کے ذریعے اللہ نے اس سے منع کردیا اور ایسے معاہدوں کو باطل قرار دے دیا ۔ خصوصا جبکہ میثاق مدینہ کے مطابق مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر یہودیوں نے عمل نہ کیا تھا اور اس سے ظاہر ہوگیا تھا کہ اہل اسلام اور ان کے درمیان اب کوئی معاہدہ ولا ممکن نہیں ہے ۔
یہ مفہوم اور مدلول قرآن کی تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہے ۔ (دیکھئے مسلمانان مدینہ اور ان مسلمانوں کے بارے میں جو ابھی تک مکہ میں تھے اور انہوں نے ہجرت نہ کی تھی (آیت) ” مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجروا “ یعنی تمہارے اور ان کے درمیان کوئی دوستی اور رفاقت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ وہ ہجرت کریں ۔ ظاہر ہے کہ اس ولایت سے مراد ولایت فی الدین یعنی اسلامی بھائی چارہ نہیں ہے ۔ یہاں ولایت سے مراد وہ دوستی ہے جس میں از روئے معاہدہ ایک دوسرے کے ساتھ نصرت اور تعاون کا اقرار کیا جاتا ہے ۔ یہ معاہدہ ان لوگوں کے درمیان بھی نہیں ہو سکتا جو اگرچہ مسلمان ہوں لیکن انہوں نے دارالاسلام کی طرف ابھی تک ہجرت نہ کی ہو ۔ یہی قسم ہے جس سے ان آیات میں اہل اسلام کو منع کیا گیا ہے کہ وہ یہود ونصاری کے ساتھ اس قسم کی دوستی نہ کریں جبکہ مدینہ کے ابتدائی دونوں میں یہ عہد قائم تھا ۔
اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا رویہ اور بات ہے اور انکے ساتھ دوستی کے معاہدے کرکے ان کو اپنا دوست بنانا اور چیز ہے لیکن اہل اسلام کے دماغ کے اندر ابھی تک دین کی حقیقت نہیں اتری اور ابھی تک انہوں نے دین کے فرائض ووظائف کو نہیں سمجھا کہ دین ایک منظم اور حقیقت پسندانہ منہاج ہے ۔ یہ مسلسل حرکت میں رہتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر ایک واقعی صورت حال پیدا کر دے جو اسلامی تصورحیات کے مطابق ہو ۔ یہ تصورحیات ان تمام تصورات سے مختلف ہے جو انسانیت کے اندر متعارف رہے ہیں۔ اس طرح اس اسلامی صورت حالات کا پھر ان تمام تصورات و حالات کے ساتھ تصادم ہوتا ہے جو اس کے خلاف ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا لوگوں کی خواہشات کے ساتھ ‘ لوگوں کے فسق وفجور اور انکے انحرافات کے ساتھ بھی تصادم ہوتا ہے اور یہ نظام بھی ایسی کشمکش میں داخل ہوجاتا ہے کہ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں ہوتا ۔ یہ تصادم اس لئے ہوتا ہے کہ اسلامی نظام ایک جدید صورت حال پیدا کرتا ہے اور اپنے اس ہدف کی طرف وہ مسلسل مثبت طور پر حرکت کرتا رہتا ہے ۔
ایسے لوگ جن کے شعور واحساس کے اندر اسلامی نظریہ حیات کا یہ پہلو واضح نہیں ہوتا اور جن کے شعور کے اندر اسلا اور دوسرے ملل ونحل کے اندر برپا معرکے کا اچھی طرح ادراک نہیں ہوتا اور جو اس قسم کی واضح قرآنی ہدایات سے غافل ہیں تو وہ ان ہدایات جن کے اندر اسلامی معاشرے میں رہنے والے اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے تمام حقوق محفوظ کئے گئے ہیں اور ان ہدایات کے درمیان جو معاہدات تحالف اور باہم نصرت کے بارے میں ہوتے ہیں اور جن کے مطابق ولایت اور دوستی صرف اللہ اور رسول اللہ اور جماعت مسلمہ کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے وہ ان دونوں کے درمیان فرق نہیں کرتے ۔ وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ جب اسلام اور اہل کتاب کے درمیان کوئی معرکہ درپیش ہو تو اس میں اہل کتاب اور تمام دوسرے اہل کفر ایک دوسرے کے حلیف ہوتے ہیں اور یہ ان کی ایک مستقل پالیسی اور صفت ہے ۔ ان کو مسلمانوں کے ساتھ محض ان کے اسلام کی وجہ سے دشمنی ہوتی ہے اور یہ کہ وہ کسی مسلمان سے اس وقت تک راضی نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنے دین کو چھوڑ کر ان کے دین کی اطاعت اختیار نہیں کرلیتا یہی وجہ ہے کہ تمام اہل کتاب اسلام اور اسلامی جماعتوں کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہیں ۔ تاہم انکے منہ سے بھی کبھی کبھی یہ بات نکل جاتی ہے اور ان کے دلوں میں جو کچھ چھپا ہوا ہے وہ تو بہت ہی بڑا ہے ۔ یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں ۔
ایک مسلمان کو بہرحال یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا رویہ اختیار کرے ۔ لیکن اسے اس بات سے روکا گیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرے ۔ یعنی باہم نصرت اور حلیفانہ دوستی ۔ اس کی راہ جس پر چل کر اس نے دین کو قائم کرنا ہے اور اسے دنیا پہ غالب کرنا ہے اہل کتاب کی راہ سے بہت دور ہے اگرچہ وہ بہت بڑی رواداری اور محبت کا اظہار کیوں نہ کریں ۔ اس لئے کہ یہ لوگ اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوسکتے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم رہیں اور اسلامی نظام کو روبعمل لائیں اور یہ رواداری انہیں اس بات سے نہیں روک سکتی کہ وہ اسلام کے خلاف یکجا ہو کر نہ لڑیں۔ وہ ہمیشہ ایسا کرتے ہیں۔
یہ ایک عظیم سادہ لوحی ہوگی اور یہ ایک عظیم غفلت ہوگی کہ ہم یہ سمجھ بیٹھیں کہ ہمارے لئے دین کے غلبے کی راہ وہی ہے جس پر اہل کتاب یہودونصاری چل رہے ہیں اور اس راہ پر چل کر ہم کفار اور ملحدین کا مقابلہ کریں گے جب کہ کفار اور ملحد تو آج کل سب سے زیادہ یہی اہل کتاب ہیں ۔ چناچہ اب معرکہ بھی مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ہے ۔
ہم میں سے جو سادہ لوح لوگ ہیں وہ اس ساری حقیقت کو سمجھ نہیں پاتے اور ہر دور میں ایسے مسلمان رہے ہیں کہ جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ مسلمان اور اہل کتاب مل کر الحاد اور مادیت کے خلاف جنگ کرسکتے ہیں اس لئے کہ اہل کتاب بھی اہل دین ہیں اور ہم بھی اہل دین ہیں ۔ لیکن یہ سادہ لوح لوگ قرآن کریم کی ان تمام تعلیمات کو بھول جاتے ہیں بلکہ پوری اسلامی تاریخ کو بھول جاتے ہیں ۔ اہل کتاب تو وہی لوگ ہیں جو ملحد اور مشرک لوگوں سے کہتے تھے ۔ (آیت) ” ھولاء اھدی من الذین امنوا سبیلا “۔ (یہ مشرک ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت پر ہیں جو ایمان لائے ہیں ) اور یہ اہل کتاب ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف احزاب کو جمع کیا تھا اور مدینہ پرچڑھ دوڑے تھے ۔ یہ تمام احزاب کو پروٹیکشن دیتے تھے ۔ یہ اہل کتاب ہی تھے جنہوں نے دو صد سال تک اسلام کے خلاف صلیبی جنگیں لڑیں اور یہی اہل کتاب ہی تو تھے جنہوں نے اندلس میں مسلمانوں کے خلاف ناقابل تصور جرائم کا ارتکاب کیا ۔ یہی اہل کتاب ہیں جنہوں نے حال ہی میں فلسطین سے عرب مسلمانوں کو نکالا اور انکی جگہ یہودیوں کو بسایا اور اس سلسلے میں وہ تمام ملحدوں اور زندیقوں سے تعاون کرتے رہے ۔ یہ اہل کتاب ہی ہیں جو ہر جگہ سے مسلمانوں کو خانہ بدر کر رہے ہیں ‘ حبشہ میں ‘ صومالیہ میں ‘ اریٹریا میں اور الجزائر میں غرض ہر جگہ وہ اس مالک بدری اور اس ظلم میں وہ ملحدین ‘ مشرکین اور بت پرستوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔ یوگو سلاویہ ‘ چین ‘ ترکستان اور ہندوستان اور ہر جگہ وہ دشمنان اسلام کے ساتھ معاون ہیں۔
قرآن کریم کی ان مکمل اور جامع ہدایات اور فیصلوں کے بعد بھی ہم میں ایسے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں اور ان اہل کتاب کے درمیان ملحدانہ مادہ پرستی کے خلاف تعاون اور دوستی ہو سکتی ہے ۔ ایسے لوگوں نے درحقیقت قرآن کریم کا مطالعہ اچھی طرح نہیں کیا اور اگر کیا ہے تو پھر ان کے ذہنوں میں اسلام کے نظریہ مذہبی رواداری اور نظریہ ولایت اور دوستی کے درمیان خلط واقعہ ہوگیا ہے ۔
یہ اس قسم کے لوگ ہیں کہ ان کے شعور میں اسلام کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اسلام ایک نظریہ حیات ہے جو لوگوں سے کوئی دوسرا نظریہ قبول نہیں کرتا ۔ نہ ان کے ذہن میں یہ بات ہے کہ اسلام ایک مثبت تحریک ہے جو اس دنیا کی صورت حال کو یکسر بدلنا چاہتا ہے اور یہ کہ اہل کتاب نے ہمیشہ اسلام کی راہ روکی ہے ‘ جس طرح وہ آج بھی اسلام کی راہ روکے کھڑے ہیں اور یہ اہل کتاب کا وہ موقف ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا کیونکہ یہی ان کے لئے واحد طبعی موقف ہے ۔
ہم ان لوگوں کو ان کی اسی پوزیشن میں چھوڑے ہوئے ہیں کہ وہ غافل رہیں اور یا متغافل رہیں اور ہم خود اللہ کی ان ہدایات پر غور کریں جو بالکل واضح اور صریح ہیں۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَوْلِیَاء بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (51)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہیں میں ہے یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ ‘
اس پکار کا رخ مدینہ طیبہ کے اندر کام کرنے والی جماعت مسلمہ کی طرف ہے لیکن یہی ہدایات ان تمام جماعتوں کے لئے بھی ہیں جو اس کرہ ارض پر کسی بھی جگہ کام کرتی ہیں ۔ اور یہی ہدایات قیامت تک رہیں گی ۔ ان تمام لوگوں پر جن پر یہ لقب درست طور پر استعمال ہو۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ نزول قرآن کے وقت ان ہدایات کی ضرورت اس لئے پیش آگئی تھیں اور اہل ایمان کو یہ ہدایات اس لئے دی گئی تھی کہ اس وقت مسلمانوں اور مدینہ کے اردگرد بسنے والے یہودیوں کے درمیان مکمل قطع تعلق نہ تھا ۔ ان کے درمیان ولایت کے اور حلیفانہ تعلقات ابھی تک باقی تھے ۔ اقتصادی اور دوسرے معاملات ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے تھے اور پڑوس اور ہم نشینی کے تعلقات بھی دونوں کے درمیان موجود تھے ، مدینہ کے جو تاریخی اور اقتصادی حالات تھے یہ صورت حالات ان کا طبعی نتیجہ تھی کیونکہ وہاں عربوں اور یہودیوں کے درمیان تعلقات قائم تھے ، ان حالات کی وجہ سے یہودیوں کو یہ موقع مل رہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف سازش کرسکیں ۔ اور دین اسلام کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں ۔ ان کی یہ سازشیں مختلف نوعیت کی ہیں اور گزشتہ پانچ پاروں کی تفسیر میں ان کی پوری تفصیلات دے دی گئی ہیں اور اس سبق میں بھی اس سازش کے بعض پہلو لئے گئے ہیں۔
قرآن کریم کا نزول صرف اس غرض کے لئے ہوتا رہا کہ مسلمان کو اس دنیا میں اپنے عقیدے اور نظریہ حیات کے حوالے سے ‘ جو معرکہ درپیش ہے ‘ اور اس کے پیش نظر جو مقصد اقامت دین ہے ‘ اس بارے میں اس کی سوچ اور لازمی حد تک اس کا شعور پختہ ہوجائے ۔ نیز ایک مسلم شعور اور ان تمام لوگوں اور قوتوں کے درمیان مکمل خلیج ہوجائے جو اس دین اور اس کے نظام کی راہ روکے ہوئے ہیں اور جو کسی صورت میں بھی اسلامی جھنڈے کے نیچے نہیں آنا چاہتے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اس مکمل بائیکاٹ کے دائرے میں اخلاقی رواداری یا سماجی بائیکاٹ نہیں آتا ۔ اخلاقی برتاؤ اور سماجی روابط بہرحال ایک اچھے مسلمان کی صفات ہیں جو کسی بھی وقت اس سے جدا نہیں ہوتیں۔ ہاں ان ہدایات میں ان کے ساتھ دوستی اور حلیفانہ تعلقات سے منع کیا گیا جو صرف اللہ ‘ رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ہی ہو سکتے ہیں اور علیحدگی کا یہ وہ شعور ہے جو ایک مسلمان کے اندر ہر جگہ ‘ ہر زمانے اور ہر نسل کے اندر ہونا چاہئے ۔ قرآن کے الفاظ پر ذرا غور کیجئے ۔
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہیں میں ہے یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ ‘
یہ لوگ خود ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو زمان ومکان کی قید سے باہر ہے اس لئے کہ یہ حقیقت ایک طبعی حقیقت ہے اور یہ ان کے مزاج کا تقاضا ہے ۔ یہ لوگ کسی جگہ اور کسی دور میں بھی اہل ایمان کے دوست نہیں بنے صدیاں بیت گئیں اور ایک مثال بھی ان کی دوستی کے سامنے نہیں آئی اور اللہ کی یہ بات سچی رہی ہے ۔ حضرت محمد ﷺ کے خلاف جنگ میں بھی اہل کتاب باہم متحد تھے ۔ آپ کے بعد ہر اسلامی جماعت کی دشمنی میں یہ متحد رہے ہیں اور تاریخ کی طویل کڑیوں میں پورے کرہ ارض پر یہ اسلام کے خلاف متحد رہے ہیں ۔ ایک بار بھی اس قاعدے کے اندر کبھی استثناء نہیں ہوا اور دنیا میں ہمیشہ وہی ہوتا رہا جو قرآن کریم نے بطور صفت یہاں اہل کتاب کے لئے استعمال کیا قرآن کریم نے ان کی یہ صفت متفرق حادثات کے حوالے سے بیان نہیں کی ہے ۔ قرآن نے جس انداز میں یہ جملہ اسمیہ یہاں استعمال کیا ہے ۔ (آیت) ” بعضھم اولیآء بعض “۔ (5 : 51) یہ محض انداز تعبیر نہیں ہے بلکہ اس سے یہ ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ یہ باہم ولایت اور دوستی ان کا دائمی وصف ہے ۔
اس کے بعد قرآن کریم اس حقیقت کے فطرتی نتائج مرتب کرتا ہے ۔ جب یہود ونصاری صرف ایک دوسرے کے دوست ہیں تو ان کے ساتھ جو مسلمان بھی دوستی کرے گا وہ ان میں سے تصور ہوگا ۔ اسلامی صفوں کا جو شخص ان کا دوست ہوگا وہ اسلامی صف میں رہے گا ۔ وہ عملا اپنے آپ سے صفت ” اسلامی “ کی نفی کرتا ہے ۔ وہ عملا اپنے اوپر صفت یہودیت اور نصرانیت کا لباس اوڑھتا ہے ۔ حالانکہ یہ ایک فطری نتیجہ ہے ۔ (آیت) ” ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ (5 : 51) (اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی انہی میں ہے)
ایسا شخص اپنے اوپر ظلم کرتا ہے ‘ اپنے دین پر ظلم کرتا ہے ۔ اس لئے کہ اس نے اپنی محبت ان کو دے دی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو نہ ہدایت دیتا ہے اور نہ اس کو واپس اسلامی صفوں میں قبول کرتا ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین “۔ (5 : 51) (یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے)
مدینہ کی اسلامی جماعت کے لئے یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی تھی ۔ یہ دھمکی اگرچہ سخت ہے لیکن بالکل قدرتی ہے اور اس کے اندر کوئی مصنوعی تشدد نہیں ہے ۔ اس لئے جو شخص بھی یہ ممنوع حرکت کرتا ہے وہ ان میں سے ہے اگر وہ ان میں سے نہ ہوتا تو ایک مسلمان کسی صورت میں بھی یہود ونصاری کا ولی اور دوست نہیں ہوتا سکتا ۔ نہ ہی اسلامی صفوں میں ایسے شخص کی ممبر شپ رہ سکتی ہے اس لئے کہ کسی اسلامی جماعت کے افراد کی دوستی اور ان کا حلیفانہ تعلق صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ ہے ایک دوراہا اور فیصلہ طلب یونٹ ۔
ایک مسلمان اور اسلامی نظام کے مخالفوں اور دوسرے نظاموں کے داعیوں کے درمیان مکمل علیحدگی کے معاملے میں کوئی نرمی اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ ایک نے اسلامی جھنڈا اٹھا رکھا ہے اور دوسرے نے مخالف اسلام جھنڈا اٹھا رکھا ہے ۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کرہ ارض پر وہ اسلام کا منفرد نظام قائم نہ کرسکے گا نہ اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر سرگرمی دکھا سکے گا ‘
جب ایک مسلمان کو یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ اس کا دین ہی وہ واحد دین ہے جسے اللہ لوگوں کی جانب سے قبول کرے گا تو اس یقین کے اندر کوئی جھول اور کوئی نرمی نہیں رہتی ۔ اسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے بعد اب کوئی رسالت نہیں ہے اور یہ کہ یہ اسلامی نظام زندگی ہی وہ منفرد نظام ہے جسے اس نے لوگوں کی زندگیوں میں قائم کرنا ہے اور اس کے مقابلے میں دنیا کا کوئی نظام قابل عمل نہیں ہے ۔ اس کرہ ارض پر انسان کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہو سکتی جب تک مسلمان اس نظام کو قائم نہ کردیں اور یہ کہ اللہ اسے معاف نہ کرے گا اگر وہ اپنی پوری قوت اس دین کیا قامت اور غلبے کی راہ میں پوری سعی نہیں کرتا ‘ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسن نظام کے بدلے میں کوئی دوسرا نظام بطور متبادل قبول نہیں کرتا ‘ بلکہ اسلامی نظام کے کسی جزء کیلئے بھی کوئی متبادل اسے قبول نہیں ہے ۔ اور یہ کہ جب تک وہ اسلامی عقائد و تصورات کو خالص کرکے ان کے درمیان میں سے ہر غلط اور ملاوٹ کو پاک نہیں کرتا ‘ جب تک وہ تفصیلی نظام اور قانون امور سے تمام ملاوٹوں کو ختم نہیں کرتا ‘ الا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ شرائع میں سے کسی چیز کو باقی رکھا ہو اس وقت تک اسلام غلبہ نہیں حاصل کرسکتا ۔ غرض ان تمام امور میں جب تک ایک مومن مکمل طور پر یکسو اور یقین محکم کا حامل نہیں ہوتا وہ اس بوجھ کو اٹھا ہی نہیں سکتا اور نہ عملا اس منہاج حیات کو قائم کرسکتا ہے جس کا بھاری فریضہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کاندھوں پر ڈالا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ فریضہ اقامت دین ایک مشکل فریضہ ہے ۔ اس کی راہ میں سخت مشکلات ہیں اور اس راہ کی ذمہ داریاں کمر توڑ ہیں۔ اس راستے میں کینہ پرور دشمن بیٹھے ہیں ، خفیہ پھندے نصب ہیں اور رنج والم کے وہ مقامات ہیں جو بعض اوقات ناقابل برداشت ہوجاتے ہیں ۔ اگر ایسی صورت نہ ہو تو پھر اس وقت جو جاہلیت قائم ہے اس میں کیا تکلیف ہے ۔ چاہے بت پرستانہ جاہلیت ہو ‘ اہل کتاب کی مخلوط جاہلیت ہو یا الحاد وزندقہ کی جدید جاہلیت ہو ۔ نیز اگر اسلامی نظام کے اندر کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرکے اس کے اور اہل کتاب اور دوسروں کے قائم شدہ نظاموں کے درمیان فرق ہی کو ختم کردیا جائے یا اسلام اور دور جدید یا قدیم کی جاہلیت کی درمیان امتزاج اور اتحاد کرکے کوئی نظام لایا جائے اور اس پر مصالحت کرلی جائے تو یقینا پھر اس راہ میں کوئی مشکلات نہیں ہیں ۔
یہ ایک فیصلہ کن جدائی اور امتیاز ہے اور جو لوگ ان حدوں کو مٹانا چاہتے ہیں اور اپنی کوششیں رواداری اور ” تقریب بین الادیان السماویہ “ کے دل لگتے عنوان کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں وہ نہایت ہی غلط راستے پر چل رہے ہیں یہ لوگ نہ ” ادیان “ کے مفہوم کو سمجھے ہیں اور نہ ہی ” تسامح “ اور رواداری کے مفہوم کو سمجھے ہیں ۔ یاد رہے کہ رواداری محض شخصی اور ذاتی معاملات میں ہوتی ہے ۔ اسلامی عقائد و تصورات اور اسلام کے اجتماعی نظام کے ڈھانچے کے اندر کوئی رواداری ممکن نہیں ہے ۔ یہ لوگ دراصل مسلمانوں کے اندر پائے جانے والے اس یقین کو متزلزل کرنا چاہتے ہیں جو ان کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ اللہ اسلام کے سوا کسی اور دین کو قبول نہیں کرتا اور ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اقامت دین کے لئے جدوجہد کرے اور اسلام کے مقابلے میں کوئی اور متبادل دین قبول نہ کرے نہ اس کے اندر کوئی تبدیلی اور ترمیم قبول کرے اگرچہ یہ ترمیم نہایت ہی معمولی ہو ۔ اس یقین کو قرآن کریم بار بار ایک مومن کے دل و دماغ میں بٹھانا چاہتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام) (اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی دین ہے) (آیت) ” ومن یتبع غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ) (اور جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا تو اس سے وہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا) (آیت) ” واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک (5 : 49) (ان سے ہوشیار رہو کہ وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دین ان میں سے بعض چیزوں کی نسبت جو اللہ نے تیری طرف نازل کیں) (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیآء بعض ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ (5 : 51) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہود ونصاری کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ اور تم میں جو شخص بھی انکو دوست بنائے گا ‘ اس کا شمار بھی ان میں ہوگا)
قرآن کریم اس صورت حال کی ایک جھلکی دکھاتا ہے جو اس موجود تھی اور جس کی وجہ سے قرآن کی یہ آیات نازل ہوئیں ۔
(آیت) ” فتری الذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم یقولون نخشی ان تصیبنا دآئرۃ “۔ (5 : 52) (تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں کہتے ہیں ” ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں ۔ “
ابن جریر نے اپنی سند سے ابن سعد کی یہ روایت نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں عبادہ ابن صامت جو حارث ابن الخزرج کی اولاد سے تھے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا : یا رسول اللہ ! میرے یہودیوں میں بیشمار لوگ دوست ہیں اور میں یہودیوں کی دوستی سے برات اختیار کرکے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی دوستی اختیار کرتا ہوں ۔ اس پر عبداللہ ابن ابی رئیس المنافقین نے کہا میں تو ایک آیسا آدمی ہوں کہ میں مختلف چکروں سے ڈرتا ہوں ۔ میں تو اپنے حلیفوں اور دوستوں سے برات کا اعلان نہیں کرتا ۔
رسول اللہ نے عبداللہ ابن ابی مذکور سے کہا : ابو الحباب ‘ یہودیوں کی دوستی کے بارے میں آپ کو عبادہ ابن صامت کے ساتھ چشمک تھی تو اب وہ دوستی بھی تم قبول کرلو ‘ اس پر رئیس المنافقین نے کہا مجھے قبول ہے ۔ اس موقعہ پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیآء “۔ (5 : 51) ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ زہری کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ جب بدر والوں کو شکست ہوئی تو مسلمانوں نے یہودیوں میں سے اپنے دوستوں سے کہا ‘ مناسب ہے کہ تم اسلام قبول کرلو ‘ اس سے پہلے کہ تم پر بھی بدر والوں کا دن آئے اس پر مالک بن الصیف نے کہا : تمہیں اس بات نے بہت ہی غرے میں ڈال دیا ہے کہ تم نے قریش کے کچھ لوگوں کو شکست دے دی ہے جن کو جنگ کے بارے میں کچھ علم ہی نہ تھا ۔ اگر ہم ہمت باندھتے اور تمہارے خلاف جمع ہوجاتے تو تمہارے اندر اتنی سکت نہ ہوتی کہ تم ہم سب کے خلاف لڑتے ۔ اس پر عبادہ ابن الصامت نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہودیوں میں میرے دوست ہیں وہ نہایت ہی مضبوط لوگ ہیں ۔ انکے پاس اسلحہ بھی بہت تھا ۔ وہ نہایت بارعب ہیں لیکن میں انکی دوستی اور معاہدہ وحلیفانہ ربط سے برات کا اعلان کرتا ہوں ۔ اب میرا اللہ اور رسول کے سوا کوئی اور دوست اور حلیف نہیں ہے ۔ اس پر عبداللہ ابن ابی نے کہا میں تو یہودیوں کی دوستی سے برات کا اعلان نہیں کرسکتا ۔ میں ایک ایسا آمدی ہوں کہ میرے نئے وہ بہت ہی ضروری ہیں ۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا :” اے ابو الحباب تمہیں معلوم ہے کہ تم عبادہ ابن صامت کے ساتھ مناقت رکھتے تھے کہ یہودیوں میں ان کے دوست زیادہ تھے ۔ اب یہ دوستیاں تمہارے ۔ ‘ تو اس پر اس نے بھی کہا : ” اچھا تو میں پھر قبول کرتا ہوں ۔ “
محمد ابن اسحاق لکھتا ہیں کہ پہلا یہودی قبیلہ جس نے رسول اللہ ﷺ اور اس کے درمیان پائے جانے والے عہد ومیثاق کو توڑا وہ بنو قینقاع تھے ۔ مجھے عاصم ابن عمر ابن قتادہ نے بتایا کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر محاصرہ کرلیا ہے ۔ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیئے ۔ اس پر عبداللہ ابی ابن السلول اٹھا : (جب یہ لوگ حضور ﷺ کے قابو آگئے تھے) تو اس نے کہا : اے محمد ﷺ میرے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ یہ لوگ خزرج کے حلیف تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اس نے دوبارہ کہا : اے محمد ! میرے دوستوں کے ساتھ نرمی کرو۔ اس پر پھر حضور ﷺ نے اس روگردانی کرلی۔ اس نے حضور ﷺ کی زرہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا ۔ اس پر حضور ﷺ نے اسے کہا ‘ چھوڑو مجھے ‘ اور حضور ﷺ کو بہت ہی غصہ آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے پر اس کا پرتو آگیا ۔ اب کے بعد حضور ﷺ نے پھر کہا کہ تمہارا بیڑا غرق ہو مجھے چھوڑو۔ اس کے بعد اس نے کہا خدا کی قسم میں تمہیں ہر گز نہ چھوڑوں گا جب تک تم میرے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرو۔ چار سو سادہ اور تین سو زرہ پوش دوستوں نے میری تفاظت سرخ اور سیاہ اقوام کے مقابلے میں کی ہے اور میں چھوڑ دوں کہ آپ ایک ہی صبح میں انکی فصل کو کاٹ دیں ۔ میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں مختلف چکروں سے ڈرتا ہوں ۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا :” اچھا وہ سب تیرے ہوئے “۔
محمد ابن اسحاق نے عبادہ ابن صامت کی ایک روایت نقل کی ہے کہ جب بنو قینقاع نے حضور ﷺ کے ساتھ جنگ کی تو عبداللہ ابن ابی ابن السلول ان کے معاملے میں بڑھ گئے اور ان کے سامنے کھڑے ہوگئے اور عبادہ ابن صامت حضور ﷺ کے پاس گئے اور یہ بھی بنو عوف ابن الخزرج میں سے تھے ۔ اور بنو قینقاع میں ان کے بھی اسی قدر حلیف تھے ‘ جس قدر عبداللہ ابن ابی کے تھے۔ عبادہ ابن الصامت نے ان کا اختیار حضور ﷺ کو دے دیا اور کہا کہ میں ان کی دوستی سے برات کا اظہار کرتا ہوں اور اب میرا دوست اور حلیف صرف اللہ اور رسول اللہ ہیں اب میں صرف اللہ اور رسول اللہ ہی کو دوست رکھتا ہوں اور کفار کے حلیفانہ تعلقات کے خاتمہ کا اعلان کرتا ہوں ۔ تب اللہ نے عبادہ ابن الصامت اور عبداللہ ابن ابی کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیآء بعض ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون “۔ امام احمد نے اپنی سند سے ‘ اسامہ ابن زید کی روایت نقل کی ہے ۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عبداللہ ابن ابی کے پاس گیا ۔ آپ اس کی عبادت کے لئے جارہے تھے ۔ اسکو رسول خدا ﷺ نے کہا ” میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ یہودیوں سے محبت نہ رکھو ۔ اس پر عبداللہ نے کہا : ” اسعد ابن زرارہ ان سے بغض رکھتے تھے اور وہ مرگئے۔ “
یہ روایات ان حالات کی اچھی طرح وضاحت کرتی ہیں جو اس وقت اسلامی معاشرے کے اندر عملا موجود تھے یہ معاشرہ ان روایات کے خلاف تھا جو اسلام سے پہلے مدینہ کے اندر موجود تھیں نیز ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک یہ سوچ فیصلہ کن مرحلے تک نہ پہنچی تھی کہ مدینہ کے اردگرد موجود تھیں ۔ نیز ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک یہ سوچ فیصلہ کن مرحلے تک نہ پہنچی تھی کہ مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے یہودیوں کے ساتھ کیسے تعلقات رکھے جائیں اور کیسے نہ رکھے جائیں ۔ ہاں ایک بات ظاہر ہے کہ ان تمام روایات کا تعلق یہودیوں سے ہے اور عیسائیوں کے بارے میں کوئی ایسی روایت مذکور نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم مسلمانوں اور تمام دوسری جماعتوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیلئے ایک دائمی ضابطہ ‘ معیار اور ایک مستقل سوچ دینا چاہتا تھا ۔ چاہے اس کا تعلق اہل کتاب سے ہو یا مشرکین سے ہو جیسا کہ اس درس پر تفصیلی بات کرتے وقت بتایا جائے گا ۔ ہاں یہ اپنی جگہ درست ہے کہ مسلمانوں کی نسبت یہودیوں کے موقف اور طرز عمل اور عیسائیوں کے موقف اور طرز عمل کے درمیان کافی فرق تھا اور یہ فرق عہد نبوی میں تھا ۔ اور اس سورة میں ایک دوسری جگہ قرآن کریم نے اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
(آیت) ” لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الْیَہُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی (5 : 82)
تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور ایمان والوں سے قریب ترین لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں۔ )
اس اختلاف کے باوجود جو اس وقت موجود تھا ‘ اس آیت میں یہود ونصاری ایک ہی سطح پر رکھا گیا ہے جس طرح اگلی آیت میں اہل کتاب اور کفار کو بھی ایک ہی سطح پر رکھا گیا ۔ یہ مساوات دوستی اور ولایت کی حد تک ہے اور یہ بات اسلام کے ایک دوسرے اصول پر مبنی ہے ۔ وہ اصول یہ ہے کوئی مسلم دوستی کا عہد اور حلیفانہ تعلقات صرف ایک مسلم ہی سے قائم کرسکتا ہے اس لئے کہ ہر مسلم صرف اللہ ‘ رسول اللہ اور اسلامی جماعت کے ساتھ دوستی کے تعلقات قائم کرسکتا ہے اور اس اصول کے تحت تمام گروہ اور فرقے برابر ہیں ‘ اگرچہ دوسرے ظروف واحوال میں ان کا موقف مسلمانوں کے مقابلے میں باہم مختلف ہو۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ یہ قاعدہ کلیہ اور دوٹوک اصول وضع کرتے ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ کو تو تمام ادوار اور از منہ کا علم تھا اور یہ قاعدہ صرف حضرت نبی کریم ﷺ کے زمانے کے لئے نہ تھا اور نہ ان حالات کے لئے تھا جو اس وقت موجود تھے بعد کے حالات نے اس بات کو ثابت کردیا کہ دین اسلام اور جماعت مسلمہ کے ساتھ عیسائیوں کی عداوت ‘ دنیا کے مختلف علاقوں میں یہودیوں سے کم نہ تھی ، اگر ہم عرب کے عیسائیوں کے موقف کو مستثنی کردیں ‘ جنہوں نے اسلام کا خوب استقبال کیا تو باقی دنیا میں ‘ خصوصا یورپ میں عیسائیوں نے اہل اسلام اور دین اسلام کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا وہ یہودیوں کے مقابلے میں بہت خراب تھا یا ان سے کم نہ تھا ۔ انہوں نے اسلام کے ساتھ سخت کینہ پروری کی ‘ اسلام کے خلاف سازشیں کیں اور اس کے خلاف جنگیں برپا کیں ۔ حبشہ جیسے ملک کو لیجئے کہ اس کے اسی زمانے کے بادشاہ نے مسلم مہاجرین کو پناہ دی اور اسلام کو خوش آمدید کہا ۔ وہاں بھی اہل اسلام کے خلاف سخت مظالم کئے گئے جو یہودیوں سے بھی زیادہ تھے ۔
اللہ تعالیٰ کو تو تمام ادوار کا علم تھا ۔ اس لئے اللہ نے اہل اسلام کے لئے یہ قاعدہ کلیہ وضع کردیا ۔ اس میں ان حالات کو نظر انداز کیا جو اس وقت دور اول میں موجود تھے اس لئے کہ وہ حالات مستقل اور دائمی نہ تھے اس قاعدہ کلیہ پر عمل کرتے وقت اسلام بعض ممالک کی پالیسی کو نظر انداز بھی کرسکتے ہیں جن کا رویہ اسلام کے خلاف نہیں ہے یا نہ ہوگا ‘ آخر الزمان تک ۔
آج تک اسلام کے خلاف اور ان لوگوں کے خلاف جو اپنا نام مسلمانوں جیسا رکھتے ہیں اور جن کو صفت اسلام کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے اگرچہ اسلام کے ساتھ ان کا کوئی حقیقی تعلق نہیں ہے ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کی جانب سے ایک عظیم معرکہ آرائی جاری ہے ۔ یہ معرکہ آرائی ان کی ذات اور ان کے دین کے خلاف ہے اور دنیا کے ہر حصے میں جاری ہے ۔ اور یہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے ۔ (آیت) ” بعضھم اولیاء بعض) ان میں سے بعض ، بعض دوسروں کے دوست ہیں اور یہ بات ہر عقلمند انسان پر لازم کردیتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس نصیحت کو پلے باندھ لے کہ نصیحت نہیں بلکہ اللہ کی جانب سے اس قطعی ممانعت پر عمل کرنا ہے کہ اللہ کے صحیح بندوں کی دوستی صرف اللہ کے دوستوں اور رسول اللہ سے ہوگی اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جس قدر کیمپ بھی ہوں ‘ جو اسلام کا علم بلند نہ کررہے ہوں ان سے کوئی دوستانہ تعلق نہ ہوگا اور نہ حلیفانہ تعلق ہوگا ۔ یہ اللہ کا دوٹوک فیصلہ اور قطعی حکم ہے ۔
اسلام مسلمانوں کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں سے اپنے تعلقات صرف عقیدے اور نظریے کے اساس پر قائم کریں اور ایک مسلمان کے تصور حیات کے اندر دوستی کا عہد اور حلیفانہ عہد یا دشمنی کا تعلق صرف نظریات کے زاویے سے ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلم اور غیر مسلم کے درمیان باہم امداد اور نصرت کا معاہدہ (یعنی ولایت) کا قیام جائز نہ ہوگا اس لئے کہ ایک مسلمان اور ایک کافر کے درمیان عقائد و تصورات کے میدان میں کوئی تعاون اور نصرت نہیں ہوسکتی ۔ الحاد کے مقابلے میں بھی وہ اکٹھے نہیں ہوسکتے جیسا کہ ہم میں سے بعض سادہ لوح سوچتے ہیں ۔ بعض ایسے مسلمان اس لائن پر سوچتے ہیں جو قرآن کریم کو پڑھتے ہی نہیں اس لئے کہ دونوں کے درمیان کوئی مشترکہ بنیاد ہی نہیں ہے ۔ لہذا وہ کس بنیاد پر حلیف بن سکتے ہیں ؟
بعض لوگ جو قرآن مجید کا مطالعہ نہیں کرتے ‘ اور جن کو اسلام کی حقیقت کا ادراک بھی حاصل نہیں ہے اور بعض وہ لوگ جو فریب خوردہ ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام ادیان دین ہیں جس طرح الحاد الحاد ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ تمام اہل دین مل کر الحاد کے مقابلے میں کھڑے ہوں کیونکہ الحاد جنس دین کا منکر ہے اور وہ مطلق دینداری کے خلاف ہے ۔
لیکن اسلامی تصور حیات کے مطابق معاملہ اس طرح نہیں ہے اور نہ ایک ایسے مسلمان کا شعور اسے قبول کرتا ہے جس نے اسلام کا مزہ صحیح طرح چکھا ہے ۔ اسلام کا مزہ صرف وہی شخص چکھ سکتا ہے جو اسلام کو بطور نظریہ حیات قبول کرتا ہے ۔ اس کے بعد وہ اس نظریہ حیات کے لئے ہر وقت متحرک رہتا ہے اور اس کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ نظام اسلامی کو قائم کیا جائے ۔
ایک صحیح الفکر مسلمان کے ہاں یہ بات بالکل واضح اور متعین ہے کہ اللہ کے ہاں دین صرف اسلامی نظام حیات ہے ۔ اسلام کے بغیر کسی سوچ یا نظام کو اللہ دین نہیں مانتا کیونکہ اللہ نے جو فقرہ استعمال کیا ہے وہ یہ ہے ۔ (آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام “ اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی دین ہے۔ اسلام کے علاوہ اگر کوئی کسی اور عقیدہ وعمل کا اتباع کرتا ہے تو اللہ اسے قبول نہ کرے گا ۔ (آیت) ” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ “۔ حضور اکرم ﷺ کے بعد تو کوئی دین میں ایسا نہیں رہا ہے جو اللہ کو مقبول ہو۔ اب تو تمام دنیا کو اسلام ہی قبول کرنا ہوگا اور اس صورت میں اسے قبول کرنا ہوگا جس صورت میں اسے حضرت محمد ﷺ نے ہم تک پہنچایا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ سے قبل نصاری کا جو دین صحیح مانا جاتا تھا وہ اب مقبول نہ ہوگا جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد یہودیوں کا دین غیر مقبول قرار پایا تھا ۔
حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد یہود ونصاری کا وجود یہ معنی نہیں رکھتا کہ جس دین پر وہ عمل کر رہے ہیں وہ اللہ کو مقبول ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ بھی الہی دین پر ہیں ۔ بیشک ان کا دین الہی تھا مگر حضور اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے اور حضور ﷺ کی بعثت کے بعد صورت حال یہ ہے اور اس کا تمام مسلمان اعتراف کرتے ہیں کہ اب صرف اسلام ہی دین کی حیثیت رکھتا ہے اور مذکورہ بالا آیت اس سلسلے میں نص قطعی ہے جس میں کسی قسم کی کوئی تاویل نہیں ہو سکتی ۔
ہاں یہ بات مسلمہ اصولوں میں سے ہے کہ اسلام یہودونصاری پر جبر کر کے ان کو دین اسلام کے اعتراف پر مجبور نہیں کرتا ۔ اس لئے کہ اصول یہ ہے کہ (آیت) ” لا اکراہ فی الدین) (دین میں کوئی جبر نہیں ہے) لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ جن امور پر عمل پیرا ہیں وہ دین ہے یا اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحیح دین سمجھتا ہے ۔
اس لئے اسلام کسی ایسے محاذ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جو دینی محاذ ہو اور اس محاذ کے اندر اسلام بھی شامل ہو اور وہ الحاد کا مقابلہ کررہا ہو۔ دین تو فقط ایک ہے جس کا نام اسلام ہے اور اس کے علاوہ تمام محاذ لادین ہیں ‘ جو اسلام سے علیحدہ ہیں ۔ اب یہ لادینی نظام چاہے اپنی اصل میں الہی دین ہو اور اس کے اندر انحراف ہوگیا ہو یا وہ بت پرستانہ دین ہو اور اپنی بت پرستی قائم ہو یا الحاد ہو اور سرے سے تمام ادیان کا منکر ہو ‘ اور ان کے درمیان حلیفانہ معاہدہ ہوگیا ہو ‘ لیکن یہ تمام لادین دین اسلام سے متضاد ہیں اور ان کے اور اسلام کے درمیان کوئی حلیفانہ تعلق قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ان کے درمیان دوستی ہو سکتی ہے ۔
ایک مسلمان اہل کتاب کے ساتھ معاملات رکھ سکتا ہے اور اسلام اس سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ ان معاملات کو بر و احسان پر استوار کرے ۔ جب تک وہ اسے دین کے معاملے میں اذیت نہ دین ۔ اسلام ایک مسلمان کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ ان میں سے پاکدامن عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرسکتا ہے ۔ ہاں ان میں سے ان لوگوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے ۔ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا تسلیم کرتے ہیں اور جو لوگ تثلیث کے قائل ہیں کہ آیا ایسی عورتوں کتابی قرار پاکر حلال ہوں گی یا انہیں بت پرست قرار دے کر حرام قرار دیا جائے گا ۔ بہرحال اگر ہم یہ اصول ہی لیں کہ نکاح عموما جائز ہے ‘ تو بھی حسن سلوک یا جواز نکاح سے اس بات پر دلیل نہیں دی جاسکتی کہ ان کے ساتھ دین میں حلیفانہ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں اور دوستی بھی کی جاسکتی ہے ۔ اور اس کا یہ مفہوم بھی نہیں ہے کہ اہل کتاب کا دین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد بھی اسلام کے ہاں معتبر ہے اور پھر اس کے ساتھ ایک ہی محاذ پر کھڑے ہو کر اسلام الحاد کا مقابلہ کرسکتا ہے ۔
اسلام تو آیا ہی اس لئے ہے کہ وہ اہل کتاب کے اعتقادات کو درست کرے اور بعینہ وہ اس لئے بھی آیا ہے کہ بت پرستوں کے غلط عقائد کو درست نہیں کرتا ۔ جب یہودیوں نے یہ سمجھا کہ حضرت نبی کریم ﷺ ان کو بھی دین اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں تو ان کو یہ بات نہایت دعوت دیتے ہیں تو ان کو یہ بات نہایت ہی گراں گزری کہ حضور ﷺ ان کو بھی اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں تو ان کو یہ بات نہایت ہی گراں گزری کہ حضور ﷺ ان کو بھی اسلام کی طرف دعوت دیں تو قرآن کریم نے ان کو اس غلط فہمی کو دور کیا اور کہا کہ اللہ تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہے اور اگر تم اعراض کرو تو تم بھی کافر ہو۔
ایک مسلمان تو اس بات کا مکلف ہے کہ وہ اہل کتاب کو اسلام کی طرف دعوت دے جس طرح وہ مکلف ہے کہ بت پرستوں اور ملحدوں کو دین اسلام کی دعوت دے ۔ ہاں اگر وہ مکلف نہیں ہے تو اس بات کا نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کو زبردستی اسلام کے اندر داخل کرے اس لئے کہ کسی کے دل و دماغ میں عقائد بذریعہ جبرواکراہ نہیں جمتے ۔ ” دین میں جبر “ صرف یہ نہیں ہے کہ ازروئے قرآن وہ ممنوع ہے ۔ اگر ممنوع نہ ہوتا تو بھی اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا ۔
یہ بات درست نہ ہوگی کہ ایک مسلمان حضرت نبی ﷺ کی بعثت کے بعد اس بات کا اعتراف کرے کہ جس دین پر اہل کتاب میں وہ مقبول دین ہے اور پھر بھی وہ انہیں دعوت دے کہ وہ اسلام کی طرف آجائیں ۔ ایک مسلمان صرف اس اساس پر اس بات کا مکلف ہو سکتا ہے کہ وہ ان کی طرف دعوت دے کہ وہ ان کے دین کو دین تسلیم نہ کرے ۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر منطقی بات یہ ہوگی کہ وہ مکلف نہیں ہے ۔ اس لئے کہ یہ بھی دین ہے اور وہ بھی دین ہے ۔ اگر یہ بات بطور اصولی موضوع تسلیم کرلی جائے تو اب ایک مسلمان اور ایک اہل کتاب کے درمیان یہ محاذ کہ وہ دین اسلام کو غالب کریں ایک غیر منطقی محاذ ہوگا ۔ اس لئے کہ وہ تو دین اسلام کو دین تسلیم ہی نہیں کرتے ۔ غرض اسلام میں یہ مسئلہ دین و ایمان کا مسئلہ ہے ۔ اور پھر یہ منطقی اور فطری اتحاد وتنظیم کا بھی مسئلہ ہے ۔
جہاں تک ایمان و اعتقاد کا تعلق ہے تو معاملہ بالکل واضح ہے ۔ ہم نے اس پر بہت طویل بحث کرلی ہے اور اوپر ہم نے قرآنی آیات سے ثابت کردیا ہے کہ مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان کوئی دوستی یا حلیفانہ تعلق قائم نہیں ہو سکتا ۔
رہی یہ بات کہ یہ ایک انتظامی اور تحریکی مسئلہ بھی ہے تو یہ بھی مذکور بالابحث سے واضح ہوگیا ہے ۔ اس لئے ایک مومن کی پوری جدوجہد یہ ہوگی کہ اسلامی نظام حیات کو زندگی کے تمام معاملات کے اندر نافذ کیا جائے اور ان تفصیلات کے ساتھ نافذ کیا جائے جن کا بیان حضرت محمد ﷺ نے کیا ہے ۔ اپنی تمام تفصیلات اور تمام پہلوؤں کے ساتھ اور زندگی کے تمام معاملات میں تو اس میدان میں ایک مسلم اس شخص کے ساتھ متحد اور ہمرکاب کس طرح ہوسکتا ہے جو سرے سے اسلام کو دین ہی نہیں مانتا ۔ نہ اسلامی شریعت کو شریعت مانتا ہے اور جس کے اہداف ومقاصد ہی دوسرے ہیں ۔ اگرچہ یہ اہداف ومقاصد اسلام کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ اسلام کے اہداف بھی نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ اسلام کسی ہدف اور کسی عمل کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اسلامی عقیدے پر قائم نہ ہو ۔
(آیت) ” مثل الذین کفروا بربھم اعمالھم کرماداشتدت بہ الریح فی یوم عاصف “۔ (14 : 18) (جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو)
اسلام ایک مسلمان پر یہ فریضہ عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد صرف اسلام کے لئے کرے اور رات اور دن کی جدوجہد میں اپنی زندگی کے کسی بھی حصے کو اسلام تسلیم کرے گا جس نے نہ اسلام کے مزاج کو سمجھا ہو اور نہ دین اسلام کو سمجھا ہو ۔ یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ ایک مسلمان کی زندگی کا کوئی حصہ اسلام سے خارج بھی ہو سکتا ہے جس کے اندر ایک مسلمان ان لوگوں کے ساتھ تعاون کرے جو دشمنان اسلام ہوں اور دشمن بھی ایسے ہوں جو مسلمانوں سے تب ہی راضی ہو سکتے ہوں جب وہ اسلام کو خیر باد کہہ دیں ۔ یاد رہے کہ اس بات پر قرآن نے واضح طور پر منصوص ہدایات دی ہیں کہ یہود ونصاری تم سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین وملت کو تسلیم نہ کرلو ۔ غرض یہ اتحاد اعتقادی اور نظریاتی طور پر بھی محال ہے جس طرح یہ عملی طور پر ممکن نہیں ہے ۔
عبداللہ ابن ابی ابن السلول نے جو معذرت کی ‘ (یہ شخص ان لوگوں میں سے تھا جن کی دل میں بیماری تھی ) اور اس سے آگے بڑھ کر یہودیوں کے ساتھ دوستی اور حلیفانہ تعلقات قائم کئے اور اس نے جو یہ کہا کہ وہ یہودیوں کے ساتھ اپنے حلیفانہ معاہدے تو نہیں توڑ سکتا کہ وہ ایک ایسا آدمی ہے جو چکروں سے ڈرتا ہے یعنی اسے ڈر یہ تھا کہ حالات ایسے نہ ہوجائیں کہ خود اس پر سختی ہو ۔ یہ عذر اس بات کا مظہر ہے کہ اس کے دل میں بیماری تھی اور وہ ضعیف الایمان تھا ۔ اس لئے کہ ولی اور مددگار تو صرف اللہ ہوتا ہے ۔ ناصر تو صرف اللہ ہے ۔ اور اللہ کے سوا کسی اور سے نصرت طلب کرنا گمراہی ہے ۔ اگر کوئی طلب کرتا ہے تو اس کا یہ کام ہی عبث ہے اس کا کوئی فائدہ نہ نکلے گا لیکن ابن ابی کی حجت اور اس کا عذر ہر شخص کا عذر ہے جو کسی بھی دور میں ابن ابی ابن السلول کا کردار ادا کرتا ہے ۔ اس کا تصور بھی ہر اس منافق کا تصور ہے جو مریض القلب ہے اور جس نے حقیقت ایمان کو نہیں پایا ہے ۔ دوسری جانب حضرت عبادہ ابن الصامت کا دل یہودیوں کی دوستی سے بھر گیا جب اس نے دیکھا کہ یہ لوگ غدار ہیں اس لئے کہ وہ خود سچے مومن تھے ۔ انہوں نے یہودیوں کی دوستی اور حلیفانہ معاہدوں کو توڑ دیا ۔ جبکہ عبداللہ ابن ابی نے ان معاہدوں کو گرمجوشی سے لیا ‘ ان کو سینے سے لگایا اور انکو اپنے دانتوں میں مضبوط پکڑ لیا اس لئے کہ وہ منافق تھا ۔
یہ دو طریق کار ہیں اور دو طرز ہائے عمل ہیں ‘ یہ دونوں مختلف عقائد و تصورات سے پیدا ہوئے ۔ ان دونوں کی تہ میں دو مختلف شعور کام کر رہے تھے اور یہی اختلاف دو مختلف طرز ہائے عمل کے درمیان قیامت تک رہے گا ۔ ایک قلب مومن ہوگا اور دوسرا قلب ایسا ہوگا جس نے ایمان کو نہ پہچانا ہوگا ۔
جو لوگ دین کے ایسے دشمنوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرتے ہیں اور انکے ساتھ اکٹھ کرتے ہیں ‘ جو منافق ہیں کو ہیں اور جن کا نطریہ ‘ جن کی دوستی اور جن کا اعتماد اللہ اور رسول اللہ کے لئے مخلصانہ نہیں ہے ‘ ان کو اللہ تعالیٰ نہایت ہی سختی سے تنبیہ کرتے ہیں کہ اللہ کی جانب سے یا تو اہل اسلام کو فتح نصیب ہوگی یا اور کوئی ایسی بات ظاہر کردی جائے گی جو فیصلہ کن ہوگی اور اس طرح ان کا نفاق ظاہر ہوجائے گا ۔ اور وہ پھر بہت شرمندہ ہوں گے ۔
(آیت) ” فَعَسَی اللّہُ أَن یَأْتِیَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِہِ فَیُصْبِحُواْ عَلَی مَا أَسَرُّواْ فِیْ أَنْفُسِہِمْ نَادِمِیْنَ (52)
” مگر بعید نہی کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے ۔
اس وقت یعنی مکمل فتح کے قریب جیسے فتح مکہ ہوئی یا کسی اور ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کے وقت اور امر الہی کے آجانے کے وقت ‘ وہ لوگ سخت شرمندہ ہوں گے جن کے دل میں نفاق کی بیماری ہے کہ کیوں انہوں نے جلد بازی سے کام لیا اور یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ دوستی اور حلیفانہ معاہدے کر لئے ۔ وہ نفاق کرتے رہے اور اب ان کا راز کھل گیا ۔ ایسے حالات میں پھر اہل ایمان کو منافقین کے حال پر تعجب ہوگا کہ کس طرح یہ لوگ اپنے سینوں میں نفاق لئے ہوئے تھے اور اب یہ لوگ کس قدر گھاٹے میں ہیں۔
المائدة 5:52
(آیت) ” نمبر 51 تا 53۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ولایت اور رفاقت کا مفہوم متعین کردیا جائے جس سے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ سختی سے منع کرتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ رفاقت نہ ہونی چاہئے ۔
اس رفاقت کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ حلیفانہ اور باہم تعاون اور امداد کا معاہدہ نہ ہونا چاہئے ۔ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ تم ان کے دین کی اتباع کرو اور اس لئے کہ یہ تو سوچنا بھی ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں میں ایسا بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کے دین کی اتباع کرتا ہو۔ یہ درحقیقت باہم تحالف اور معاونت کی دوستی ہوتی تھی ‘ جس کے بارے میں اس وقت مسلمانوں کا ذہن صاف نہ تھا کہ یہ بھی حرام ہے ۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ایسے تحالف اور تعاون ابھی تک جائز ہیں ۔ اور یہ التباس اس لئے تھا کہ اسلام سے پہلے ان لوگوں کے درمیان ایسے دوستی کے معاہدے ہوا کرتے تھے اور اسلام کے ابتدائی ایام میں بھی ایسا ہوتا تھا خصوصا مدینہ کے ابتدائی ایام میں ۔ ان نصوص کے ذریعے اللہ نے اس سے منع کردیا اور ایسے معاہدوں کو باطل قرار دے دیا ۔ خصوصا جبکہ میثاق مدینہ کے مطابق مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر یہودیوں نے عمل نہ کیا تھا اور اس سے ظاہر ہوگیا تھا کہ اہل اسلام اور ان کے درمیان اب کوئی معاہدہ ولا ممکن نہیں ہے ۔
یہ مفہوم اور مدلول قرآن کی تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہے ۔ (دیکھئے مسلمانان مدینہ اور ان مسلمانوں کے بارے میں جو ابھی تک مکہ میں تھے اور انہوں نے ہجرت نہ کی تھی (آیت) ” مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجروا “ یعنی تمہارے اور ان کے درمیان کوئی دوستی اور رفاقت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ وہ ہجرت کریں ۔ ظاہر ہے کہ اس ولایت سے مراد ولایت فی الدین یعنی اسلامی بھائی چارہ نہیں ہے ۔ یہاں ولایت سے مراد وہ دوستی ہے جس میں از روئے معاہدہ ایک دوسرے کے ساتھ نصرت اور تعاون کا اقرار کیا جاتا ہے ۔ یہ معاہدہ ان لوگوں کے درمیان بھی نہیں ہو سکتا جو اگرچہ مسلمان ہوں لیکن انہوں نے دارالاسلام کی طرف ابھی تک ہجرت نہ کی ہو ۔ یہی قسم ہے جس سے ان آیات میں اہل اسلام کو منع کیا گیا ہے کہ وہ یہود ونصاری کے ساتھ اس قسم کی دوستی نہ کریں جبکہ مدینہ کے ابتدائی دونوں میں یہ عہد قائم تھا ۔
اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا رویہ اور بات ہے اور انکے ساتھ دوستی کے معاہدے کرکے ان کو اپنا دوست بنانا اور چیز ہے لیکن اہل اسلام کے دماغ کے اندر ابھی تک دین کی حقیقت نہیں اتری اور ابھی تک انہوں نے دین کے فرائض ووظائف کو نہیں سمجھا کہ دین ایک منظم اور حقیقت پسندانہ منہاج ہے ۔ یہ مسلسل حرکت میں رہتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر ایک واقعی صورت حال پیدا کر دے جو اسلامی تصورحیات کے مطابق ہو ۔ یہ تصورحیات ان تمام تصورات سے مختلف ہے جو انسانیت کے اندر متعارف رہے ہیں۔ اس طرح اس اسلامی صورت حالات کا پھر ان تمام تصورات و حالات کے ساتھ تصادم ہوتا ہے جو اس کے خلاف ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا لوگوں کی خواہشات کے ساتھ ‘ لوگوں کے فسق وفجور اور انکے انحرافات کے ساتھ بھی تصادم ہوتا ہے اور یہ نظام بھی ایسی کشمکش میں داخل ہوجاتا ہے کہ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں ہوتا ۔ یہ تصادم اس لئے ہوتا ہے کہ اسلامی نظام ایک جدید صورت حال پیدا کرتا ہے اور اپنے اس ہدف کی طرف وہ مسلسل مثبت طور پر حرکت کرتا رہتا ہے ۔
ایسے لوگ جن کے شعور واحساس کے اندر اسلامی نظریہ حیات کا یہ پہلو واضح نہیں ہوتا اور جن کے شعور کے اندر اسلا اور دوسرے ملل ونحل کے اندر برپا معرکے کا اچھی طرح ادراک نہیں ہوتا اور جو اس قسم کی واضح قرآنی ہدایات سے غافل ہیں تو وہ ان ہدایات جن کے اندر اسلامی معاشرے میں رہنے والے اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے تمام حقوق محفوظ کئے گئے ہیں اور ان ہدایات کے درمیان جو معاہدات تحالف اور باہم نصرت کے بارے میں ہوتے ہیں اور جن کے مطابق ولایت اور دوستی صرف اللہ اور رسول اللہ اور جماعت مسلمہ کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے وہ ان دونوں کے درمیان فرق نہیں کرتے ۔ وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ جب اسلام اور اہل کتاب کے درمیان کوئی معرکہ درپیش ہو تو اس میں اہل کتاب اور تمام دوسرے اہل کفر ایک دوسرے کے حلیف ہوتے ہیں اور یہ ان کی ایک مستقل پالیسی اور صفت ہے ۔ ان کو مسلمانوں کے ساتھ محض ان کے اسلام کی وجہ سے دشمنی ہوتی ہے اور یہ کہ وہ کسی مسلمان سے اس وقت تک راضی نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنے دین کو چھوڑ کر ان کے دین کی اطاعت اختیار نہیں کرلیتا یہی وجہ ہے کہ تمام اہل کتاب اسلام اور اسلامی جماعتوں کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہیں ۔ تاہم انکے منہ سے بھی کبھی کبھی یہ بات نکل جاتی ہے اور ان کے دلوں میں جو کچھ چھپا ہوا ہے وہ تو بہت ہی بڑا ہے ۔ یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں ۔
ایک مسلمان کو بہرحال یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا رویہ اختیار کرے ۔ لیکن اسے اس بات سے روکا گیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرے ۔ یعنی باہم نصرت اور حلیفانہ دوستی ۔ اس کی راہ جس پر چل کر اس نے دین کو قائم کرنا ہے اور اسے دنیا پہ غالب کرنا ہے اہل کتاب کی راہ سے بہت دور ہے اگرچہ وہ بہت بڑی رواداری اور محبت کا اظہار کیوں نہ کریں ۔ اس لئے کہ یہ لوگ اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوسکتے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم رہیں اور اسلامی نظام کو روبعمل لائیں اور یہ رواداری انہیں اس بات سے نہیں روک سکتی کہ وہ اسلام کے خلاف یکجا ہو کر نہ لڑیں۔ وہ ہمیشہ ایسا کرتے ہیں۔
یہ ایک عظیم سادہ لوحی ہوگی اور یہ ایک عظیم غفلت ہوگی کہ ہم یہ سمجھ بیٹھیں کہ ہمارے لئے دین کے غلبے کی راہ وہی ہے جس پر اہل کتاب یہودونصاری چل رہے ہیں اور اس راہ پر چل کر ہم کفار اور ملحدین کا مقابلہ کریں گے جب کہ کفار اور ملحد تو آج کل سب سے زیادہ یہی اہل کتاب ہیں ۔ چناچہ اب معرکہ بھی مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ہے ۔
ہم میں سے جو سادہ لوح لوگ ہیں وہ اس ساری حقیقت کو سمجھ نہیں پاتے اور ہر دور میں ایسے مسلمان رہے ہیں کہ جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ مسلمان اور اہل کتاب مل کر الحاد اور مادیت کے خلاف جنگ کرسکتے ہیں اس لئے کہ اہل کتاب بھی اہل دین ہیں اور ہم بھی اہل دین ہیں ۔ لیکن یہ سادہ لوح لوگ قرآن کریم کی ان تمام تعلیمات کو بھول جاتے ہیں بلکہ پوری اسلامی تاریخ کو بھول جاتے ہیں ۔ اہل کتاب تو وہی لوگ ہیں جو ملحد اور مشرک لوگوں سے کہتے تھے ۔ (آیت) ” ھولاء اھدی من الذین امنوا سبیلا “۔ (یہ مشرک ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت پر ہیں جو ایمان لائے ہیں ) اور یہ اہل کتاب ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف احزاب کو جمع کیا تھا اور مدینہ پرچڑھ دوڑے تھے ۔ یہ تمام احزاب کو پروٹیکشن دیتے تھے ۔ یہ اہل کتاب ہی تھے جنہوں نے دو صد سال تک اسلام کے خلاف صلیبی جنگیں لڑیں اور یہی اہل کتاب ہی تو تھے جنہوں نے اندلس میں مسلمانوں کے خلاف ناقابل تصور جرائم کا ارتکاب کیا ۔ یہی اہل کتاب ہیں جنہوں نے حال ہی میں فلسطین سے عرب مسلمانوں کو نکالا اور انکی جگہ یہودیوں کو بسایا اور اس سلسلے میں وہ تمام ملحدوں اور زندیقوں سے تعاون کرتے رہے ۔ یہ اہل کتاب ہی ہیں جو ہر جگہ سے مسلمانوں کو خانہ بدر کر رہے ہیں ‘ حبشہ میں ‘ صومالیہ میں ‘ اریٹریا میں اور الجزائر میں غرض ہر جگہ وہ اس مالک بدری اور اس ظلم میں وہ ملحدین ‘ مشرکین اور بت پرستوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔ یوگو سلاویہ ‘ چین ‘ ترکستان اور ہندوستان اور ہر جگہ وہ دشمنان اسلام کے ساتھ معاون ہیں۔
قرآن کریم کی ان مکمل اور جامع ہدایات اور فیصلوں کے بعد بھی ہم میں ایسے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں اور ان اہل کتاب کے درمیان ملحدانہ مادہ پرستی کے خلاف تعاون اور دوستی ہو سکتی ہے ۔ ایسے لوگوں نے درحقیقت قرآن کریم کا مطالعہ اچھی طرح نہیں کیا اور اگر کیا ہے تو پھر ان کے ذہنوں میں اسلام کے نظریہ مذہبی رواداری اور نظریہ ولایت اور دوستی کے درمیان خلط واقعہ ہوگیا ہے ۔
یہ اس قسم کے لوگ ہیں کہ ان کے شعور میں اسلام کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اسلام ایک نظریہ حیات ہے جو لوگوں سے کوئی دوسرا نظریہ قبول نہیں کرتا ۔ نہ ان کے ذہن میں یہ بات ہے کہ اسلام ایک مثبت تحریک ہے جو اس دنیا کی صورت حال کو یکسر بدلنا چاہتا ہے اور یہ کہ اہل کتاب نے ہمیشہ اسلام کی راہ روکی ہے ‘ جس طرح وہ آج بھی اسلام کی راہ روکے کھڑے ہیں اور یہ اہل کتاب کا وہ موقف ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا کیونکہ یہی ان کے لئے واحد طبعی موقف ہے ۔
ہم ان لوگوں کو ان کی اسی پوزیشن میں چھوڑے ہوئے ہیں کہ وہ غافل رہیں اور یا متغافل رہیں اور ہم خود اللہ کی ان ہدایات پر غور کریں جو بالکل واضح اور صریح ہیں۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَوْلِیَاء بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (51)
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہیں میں ہے یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ ‘
اس پکار کا رخ مدینہ طیبہ کے اندر کام کرنے والی جماعت مسلمہ کی طرف ہے لیکن یہی ہدایات ان تمام جماعتوں کے لئے بھی ہیں جو اس کرہ ارض پر کسی بھی جگہ کام کرتی ہیں ۔ اور یہی ہدایات قیامت تک رہیں گی ۔ ان تمام لوگوں پر جن پر یہ لقب درست طور پر استعمال ہو۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ نزول قرآن کے وقت ان ہدایات کی ضرورت اس لئے پیش آگئی تھیں اور اہل ایمان کو یہ ہدایات اس لئے دی گئی تھی کہ اس وقت مسلمانوں اور مدینہ کے اردگرد بسنے والے یہودیوں کے درمیان مکمل قطع تعلق نہ تھا ۔ ان کے درمیان ولایت کے اور حلیفانہ تعلقات ابھی تک باقی تھے ۔ اقتصادی اور دوسرے معاملات ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے تھے اور پڑوس اور ہم نشینی کے تعلقات بھی دونوں کے درمیان موجود تھے ، مدینہ کے جو تاریخی اور اقتصادی حالات تھے یہ صورت حالات ان کا طبعی نتیجہ تھی کیونکہ وہاں عربوں اور یہودیوں کے درمیان تعلقات قائم تھے ، ان حالات کی وجہ سے یہودیوں کو یہ موقع مل رہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف سازش کرسکیں ۔ اور دین اسلام کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں ۔ ان کی یہ سازشیں مختلف نوعیت کی ہیں اور گزشتہ پانچ پاروں کی تفسیر میں ان کی پوری تفصیلات دے دی گئی ہیں اور اس سبق میں بھی اس سازش کے بعض پہلو لئے گئے ہیں۔
قرآن کریم کا نزول صرف اس غرض کے لئے ہوتا رہا کہ مسلمان کو اس دنیا میں اپنے عقیدے اور نظریہ حیات کے حوالے سے ‘ جو معرکہ درپیش ہے ‘ اور اس کے پیش نظر جو مقصد اقامت دین ہے ‘ اس بارے میں اس کی سوچ اور لازمی حد تک اس کا شعور پختہ ہوجائے ۔ نیز ایک مسلم شعور اور ان تمام لوگوں اور قوتوں کے درمیان مکمل خلیج ہوجائے جو اس دین اور اس کے نظام کی راہ روکے ہوئے ہیں اور جو کسی صورت میں بھی اسلامی جھنڈے کے نیچے نہیں آنا چاہتے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اس مکمل بائیکاٹ کے دائرے میں اخلاقی رواداری یا سماجی بائیکاٹ نہیں آتا ۔ اخلاقی برتاؤ اور سماجی روابط بہرحال ایک اچھے مسلمان کی صفات ہیں جو کسی بھی وقت اس سے جدا نہیں ہوتیں۔ ہاں ان ہدایات میں ان کے ساتھ دوستی اور حلیفانہ تعلقات سے منع کیا گیا جو صرف اللہ ‘ رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ہی ہو سکتے ہیں اور علیحدگی کا یہ وہ شعور ہے جو ایک مسلمان کے اندر ہر جگہ ‘ ہر زمانے اور ہر نسل کے اندر ہونا چاہئے ۔ قرآن کے الفاظ پر ذرا غور کیجئے ۔
” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہیں میں ہے یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ ‘
یہ لوگ خود ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو زمان ومکان کی قید سے باہر ہے اس لئے کہ یہ حقیقت ایک طبعی حقیقت ہے اور یہ ان کے مزاج کا تقاضا ہے ۔ یہ لوگ کسی جگہ اور کسی دور میں بھی اہل ایمان کے دوست نہیں بنے صدیاں بیت گئیں اور ایک مثال بھی ان کی دوستی کے سامنے نہیں آئی اور اللہ کی یہ بات سچی رہی ہے ۔ حضرت محمد ﷺ کے خلاف جنگ میں بھی اہل کتاب باہم متحد تھے ۔ آپ کے بعد ہر اسلامی جماعت کی دشمنی میں یہ متحد رہے ہیں اور تاریخ کی طویل کڑیوں میں پورے کرہ ارض پر یہ اسلام کے خلاف متحد رہے ہیں ۔ ایک بار بھی اس قاعدے کے اندر کبھی استثناء نہیں ہوا اور دنیا میں ہمیشہ وہی ہوتا رہا جو قرآن کریم نے بطور صفت یہاں اہل کتاب کے لئے استعمال کیا قرآن کریم نے ان کی یہ صفت متفرق حادثات کے حوالے سے بیان نہیں کی ہے ۔ قرآن نے جس انداز میں یہ جملہ اسمیہ یہاں استعمال کیا ہے ۔ (آیت) ” بعضھم اولیآء بعض “۔ (5 : 51) یہ محض انداز تعبیر نہیں ہے بلکہ اس سے یہ ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ یہ باہم ولایت اور دوستی ان کا دائمی وصف ہے ۔
اس کے بعد قرآن کریم اس حقیقت کے فطرتی نتائج مرتب کرتا ہے ۔ جب یہود ونصاری صرف ایک دوسرے کے دوست ہیں تو ان کے ساتھ جو مسلمان بھی دوستی کرے گا وہ ان میں سے تصور ہوگا ۔ اسلامی صفوں کا جو شخص ان کا دوست ہوگا وہ اسلامی صف میں رہے گا ۔ وہ عملا اپنے آپ سے صفت ” اسلامی “ کی نفی کرتا ہے ۔ وہ عملا اپنے اوپر صفت یہودیت اور نصرانیت کا لباس اوڑھتا ہے ۔ حالانکہ یہ ایک فطری نتیجہ ہے ۔ (آیت) ” ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ (5 : 51) (اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی انہی میں ہے)
ایسا شخص اپنے اوپر ظلم کرتا ہے ‘ اپنے دین پر ظلم کرتا ہے ۔ اس لئے کہ اس نے اپنی محبت ان کو دے دی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو نہ ہدایت دیتا ہے اور نہ اس کو واپس اسلامی صفوں میں قبول کرتا ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین “۔ (5 : 51) (یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے)
مدینہ کی اسلامی جماعت کے لئے یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی تھی ۔ یہ دھمکی اگرچہ سخت ہے لیکن بالکل قدرتی ہے اور اس کے اندر کوئی مصنوعی تشدد نہیں ہے ۔ اس لئے جو شخص بھی یہ ممنوع حرکت کرتا ہے وہ ان میں سے ہے اگر وہ ان میں سے نہ ہوتا تو ایک مسلمان کسی صورت میں بھی یہود ونصاری کا ولی اور دوست نہیں ہوتا سکتا ۔ نہ ہی اسلامی صفوں میں ایسے شخص کی ممبر شپ رہ سکتی ہے اس لئے کہ کسی اسلامی جماعت کے افراد کی دوستی اور ان کا حلیفانہ تعلق صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ ہے ایک دوراہا اور فیصلہ طلب یونٹ ۔
ایک مسلمان اور اسلامی نظام کے مخالفوں اور دوسرے نظاموں کے داعیوں کے درمیان مکمل علیحدگی کے معاملے میں کوئی نرمی اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ ایک نے اسلامی جھنڈا اٹھا رکھا ہے اور دوسرے نے مخالف اسلام جھنڈا اٹھا رکھا ہے ۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کرہ ارض پر وہ اسلام کا منفرد نظام قائم نہ کرسکے گا نہ اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر سرگرمی دکھا سکے گا ‘
جب ایک مسلمان کو یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ اس کا دین ہی وہ واحد دین ہے جسے اللہ لوگوں کی جانب سے قبول کرے گا تو اس یقین کے اندر کوئی جھول اور کوئی نرمی نہیں رہتی ۔ اسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے بعد اب کوئی رسالت نہیں ہے اور یہ کہ یہ اسلامی نظام زندگی ہی وہ منفرد نظام ہے جسے اس نے لوگوں کی زندگیوں میں قائم کرنا ہے اور اس کے مقابلے میں دنیا کا کوئی نظام قابل عمل نہیں ہے ۔ اس کرہ ارض پر انسان کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہو سکتی جب تک مسلمان اس نظام کو قائم نہ کردیں اور یہ کہ اللہ اسے معاف نہ کرے گا اگر وہ اپنی پوری قوت اس دین کیا قامت اور غلبے کی راہ میں پوری سعی نہیں کرتا ‘ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسن نظام کے بدلے میں کوئی دوسرا نظام بطور متبادل قبول نہیں کرتا ‘ بلکہ اسلامی نظام کے کسی جزء کیلئے بھی کوئی متبادل اسے قبول نہیں ہے ۔ اور یہ کہ جب تک وہ اسلامی عقائد و تصورات کو خالص کرکے ان کے درمیان میں سے ہر غلط اور ملاوٹ کو پاک نہیں کرتا ‘ جب تک وہ تفصیلی نظام اور قانون امور سے تمام ملاوٹوں کو ختم نہیں کرتا ‘ الا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ شرائع میں سے کسی چیز کو باقی رکھا ہو اس وقت تک اسلام غلبہ نہیں حاصل کرسکتا ۔ غرض ان تمام امور میں جب تک ایک مومن مکمل طور پر یکسو اور یقین محکم کا حامل نہیں ہوتا وہ اس بوجھ کو اٹھا ہی نہیں سکتا اور نہ عملا اس منہاج حیات کو قائم کرسکتا ہے جس کا بھاری فریضہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کاندھوں پر ڈالا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ فریضہ اقامت دین ایک مشکل فریضہ ہے ۔ اس کی راہ میں سخت مشکلات ہیں اور اس راہ کی ذمہ داریاں کمر توڑ ہیں۔ اس راستے میں کینہ پرور دشمن بیٹھے ہیں ، خفیہ پھندے نصب ہیں اور رنج والم کے وہ مقامات ہیں جو بعض اوقات ناقابل برداشت ہوجاتے ہیں ۔ اگر ایسی صورت نہ ہو تو پھر اس وقت جو جاہلیت قائم ہے اس میں کیا تکلیف ہے ۔ چاہے بت پرستانہ جاہلیت ہو ‘ اہل کتاب کی مخلوط جاہلیت ہو یا الحاد وزندقہ کی جدید جاہلیت ہو ۔ نیز اگر اسلامی نظام کے اندر کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرکے اس کے اور اہل کتاب اور دوسروں کے قائم شدہ نظاموں کے درمیان فرق ہی کو ختم کردیا جائے یا اسلام اور دور جدید یا قدیم کی جاہلیت کی درمیان امتزاج اور اتحاد کرکے کوئی نظام لایا جائے اور اس پر مصالحت کرلی جائے تو یقینا پھر اس راہ میں کوئی مشکلات نہیں ہیں ۔
یہ ایک فیصلہ کن جدائی اور امتیاز ہے اور جو لوگ ان حدوں کو مٹانا چاہتے ہیں اور اپنی کوششیں رواداری اور ” تقریب بین الادیان السماویہ “ کے دل لگتے عنوان کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں وہ نہایت ہی غلط راستے پر چل رہے ہیں یہ لوگ نہ ” ادیان “ کے مفہوم کو سمجھے ہیں اور نہ ہی ” تسامح “ اور رواداری کے مفہوم کو سمجھے ہیں ۔ یاد رہے کہ رواداری محض شخصی اور ذاتی معاملات میں ہوتی ہے ۔ اسلامی عقائد و تصورات اور اسلام کے اجتماعی نظام کے ڈھانچے کے اندر کوئی رواداری ممکن نہیں ہے ۔ یہ لوگ دراصل مسلمانوں کے اندر پائے جانے والے اس یقین کو متزلزل کرنا چاہتے ہیں جو ان کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ اللہ اسلام کے سوا کسی اور دین کو قبول نہیں کرتا اور ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اقامت دین کے لئے جدوجہد کرے اور اسلام کے مقابلے میں کوئی اور متبادل دین قبول نہ کرے نہ اس کے اندر کوئی تبدیلی اور ترمیم قبول کرے اگرچہ یہ ترمیم نہایت ہی معمولی ہو ۔ اس یقین کو قرآن کریم بار بار ایک مومن کے دل و دماغ میں بٹھانا چاہتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام) (اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی دین ہے) (آیت) ” ومن یتبع غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ) (اور جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا تو اس سے وہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا) (آیت) ” واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک (5 : 49) (ان سے ہوشیار رہو کہ وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دین ان میں سے بعض چیزوں کی نسبت جو اللہ نے تیری طرف نازل کیں) (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیآء بعض ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ (5 : 51) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہود ونصاری کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ اور تم میں جو شخص بھی انکو دوست بنائے گا ‘ اس کا شمار بھی ان میں ہوگا)
قرآن کریم اس صورت حال کی ایک جھلکی دکھاتا ہے جو اس موجود تھی اور جس کی وجہ سے قرآن کی یہ آیات نازل ہوئیں ۔
(آیت) ” فتری الذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم یقولون نخشی ان تصیبنا دآئرۃ “۔ (5 : 52) (تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں کہتے ہیں ” ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں ۔ “
ابن جریر نے اپنی سند سے ابن سعد کی یہ روایت نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں عبادہ ابن صامت جو حارث ابن الخزرج کی اولاد سے تھے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا : یا رسول اللہ ! میرے یہودیوں میں بیشمار لوگ دوست ہیں اور میں یہودیوں کی دوستی سے برات اختیار کرکے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی دوستی اختیار کرتا ہوں ۔ اس پر عبداللہ ابن ابی رئیس المنافقین نے کہا میں تو ایک آیسا آدمی ہوں کہ میں مختلف چکروں سے ڈرتا ہوں ۔ میں تو اپنے حلیفوں اور دوستوں سے برات کا اعلان نہیں کرتا ۔
رسول اللہ نے عبداللہ ابن ابی مذکور سے کہا : ابو الحباب ‘ یہودیوں کی دوستی کے بارے میں آپ کو عبادہ ابن صامت کے ساتھ چشمک تھی تو اب وہ دوستی بھی تم قبول کرلو ‘ اس پر رئیس المنافقین نے کہا مجھے قبول ہے ۔ اس موقعہ پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیآء “۔ (5 : 51) ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ زہری کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ جب بدر والوں کو شکست ہوئی تو مسلمانوں نے یہودیوں میں سے اپنے دوستوں سے کہا ‘ مناسب ہے کہ تم اسلام قبول کرلو ‘ اس سے پہلے کہ تم پر بھی بدر والوں کا دن آئے اس پر مالک بن الصیف نے کہا : تمہیں اس بات نے بہت ہی غرے میں ڈال دیا ہے کہ تم نے قریش کے کچھ لوگوں کو شکست دے دی ہے جن کو جنگ کے بارے میں کچھ علم ہی نہ تھا ۔ اگر ہم ہمت باندھتے اور تمہارے خلاف جمع ہوجاتے تو تمہارے اندر اتنی سکت نہ ہوتی کہ تم ہم سب کے خلاف لڑتے ۔ اس پر عبادہ ابن الصامت نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہودیوں میں میرے دوست ہیں وہ نہایت ہی مضبوط لوگ ہیں ۔ انکے پاس اسلحہ بھی بہت تھا ۔ وہ نہایت بارعب ہیں لیکن میں انکی دوستی اور معاہدہ وحلیفانہ ربط سے برات کا اعلان کرتا ہوں ۔ اب میرا اللہ اور رسول کے سوا کوئی اور دوست اور حلیف نہیں ہے ۔ اس پر عبداللہ ابن ابی نے کہا میں تو یہودیوں کی دوستی سے برات کا اعلان نہیں کرسکتا ۔ میں ایک ایسا آمدی ہوں کہ میرے نئے وہ بہت ہی ضروری ہیں ۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا :” اے ابو الحباب تمہیں معلوم ہے کہ تم عبادہ ابن صامت کے ساتھ مناقت رکھتے تھے کہ یہودیوں میں ان کے دوست زیادہ تھے ۔ اب یہ دوستیاں تمہارے ۔ ‘ تو اس پر اس نے بھی کہا : ” اچھا تو میں پھر قبول کرتا ہوں ۔ “
محمد ابن اسحاق لکھتا ہیں کہ پہلا یہودی قبیلہ جس نے رسول اللہ ﷺ اور اس کے درمیان پائے جانے والے عہد ومیثاق کو توڑا وہ بنو قینقاع تھے ۔ مجھے عاصم ابن عمر ابن قتادہ نے بتایا کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر محاصرہ کرلیا ہے ۔ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیئے ۔ اس پر عبداللہ ابی ابن السلول اٹھا : (جب یہ لوگ حضور ﷺ کے قابو آگئے تھے) تو اس نے کہا : اے محمد ﷺ میرے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ یہ لوگ خزرج کے حلیف تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اس نے دوبارہ کہا : اے محمد ! میرے دوستوں کے ساتھ نرمی کرو۔ اس پر پھر حضور ﷺ نے اس روگردانی کرلی۔ اس نے حضور ﷺ کی زرہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا ۔ اس پر حضور ﷺ نے اسے کہا ‘ چھوڑو مجھے ‘ اور حضور ﷺ کو بہت ہی غصہ آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے پر اس کا پرتو آگیا ۔ اب کے بعد حضور ﷺ نے پھر کہا کہ تمہارا بیڑا غرق ہو مجھے چھوڑو۔ اس کے بعد اس نے کہا خدا کی قسم میں تمہیں ہر گز نہ چھوڑوں گا جب تک تم میرے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرو۔ چار سو سادہ اور تین سو زرہ پوش دوستوں نے میری تفاظت سرخ اور سیاہ اقوام کے مقابلے میں کی ہے اور میں چھوڑ دوں کہ آپ ایک ہی صبح میں انکی فصل کو کاٹ دیں ۔ میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں مختلف چکروں سے ڈرتا ہوں ۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا :” اچھا وہ سب تیرے ہوئے “۔
محمد ابن اسحاق نے عبادہ ابن صامت کی ایک روایت نقل کی ہے کہ جب بنو قینقاع نے حضور ﷺ کے ساتھ جنگ کی تو عبداللہ ابن ابی ابن السلول ان کے معاملے میں بڑھ گئے اور ان کے سامنے کھڑے ہوگئے اور عبادہ ابن صامت حضور ﷺ کے پاس گئے اور یہ بھی بنو عوف ابن الخزرج میں سے تھے ۔ اور بنو قینقاع میں ان کے بھی اسی قدر حلیف تھے ‘ جس قدر عبداللہ ابن ابی کے تھے۔ عبادہ ابن الصامت نے ان کا اختیار حضور ﷺ کو دے دیا اور کہا کہ میں ان کی دوستی سے برات کا اظہار کرتا ہوں اور اب میرا دوست اور حلیف صرف اللہ اور رسول اللہ ہیں اب میں صرف اللہ اور رسول اللہ ہی کو دوست رکھتا ہوں اور کفار کے حلیفانہ تعلقات کے خاتمہ کا اعلان کرتا ہوں ۔ تب اللہ نے عبادہ ابن الصامت اور عبداللہ ابن ابی کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیآء بعض ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون “۔ امام احمد نے اپنی سند سے ‘ اسامہ ابن زید کی روایت نقل کی ہے ۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عبداللہ ابن ابی کے پاس گیا ۔ آپ اس کی عبادت کے لئے جارہے تھے ۔ اسکو رسول خدا ﷺ نے کہا ” میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ یہودیوں سے محبت نہ رکھو ۔ اس پر عبداللہ نے کہا : ” اسعد ابن زرارہ ان سے بغض رکھتے تھے اور وہ مرگئے۔ “
یہ روایات ان حالات کی اچھی طرح وضاحت کرتی ہیں جو اس وقت اسلامی معاشرے کے اندر عملا موجود تھے یہ معاشرہ ان روایات کے خلاف تھا جو اسلام سے پہلے مدینہ کے اندر موجود تھیں نیز ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک یہ سوچ فیصلہ کن مرحلے تک نہ پہنچی تھی کہ مدینہ کے اردگرد موجود تھیں ۔ نیز ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک یہ سوچ فیصلہ کن مرحلے تک نہ پہنچی تھی کہ مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے یہودیوں کے ساتھ کیسے تعلقات رکھے جائیں اور کیسے نہ رکھے جائیں ۔ ہاں ایک بات ظاہر ہے کہ ان تمام روایات کا تعلق یہودیوں سے ہے اور عیسائیوں کے بارے میں کوئی ایسی روایت مذکور نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم مسلمانوں اور تمام دوسری جماعتوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیلئے ایک دائمی ضابطہ ‘ معیار اور ایک مستقل سوچ دینا چاہتا تھا ۔ چاہے اس کا تعلق اہل کتاب سے ہو یا مشرکین سے ہو جیسا کہ اس درس پر تفصیلی بات کرتے وقت بتایا جائے گا ۔ ہاں یہ اپنی جگہ درست ہے کہ مسلمانوں کی نسبت یہودیوں کے موقف اور طرز عمل اور عیسائیوں کے موقف اور طرز عمل کے درمیان کافی فرق تھا اور یہ فرق عہد نبوی میں تھا ۔ اور اس سورة میں ایک دوسری جگہ قرآن کریم نے اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
(آیت) ” لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الْیَہُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی (5 : 82)
تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور ایمان والوں سے قریب ترین لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں۔ )
اس اختلاف کے باوجود جو اس وقت موجود تھا ‘ اس آیت میں یہود ونصاری ایک ہی سطح پر رکھا گیا ہے جس طرح اگلی آیت میں اہل کتاب اور کفار کو بھی ایک ہی سطح پر رکھا گیا ۔ یہ مساوات دوستی اور ولایت کی حد تک ہے اور یہ بات اسلام کے ایک دوسرے اصول پر مبنی ہے ۔ وہ اصول یہ ہے کوئی مسلم دوستی کا عہد اور حلیفانہ تعلقات صرف ایک مسلم ہی سے قائم کرسکتا ہے اس لئے کہ ہر مسلم صرف اللہ ‘ رسول اللہ اور اسلامی جماعت کے ساتھ دوستی کے تعلقات قائم کرسکتا ہے اور اس اصول کے تحت تمام گروہ اور فرقے برابر ہیں ‘ اگرچہ دوسرے ظروف واحوال میں ان کا موقف مسلمانوں کے مقابلے میں باہم مختلف ہو۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ یہ قاعدہ کلیہ اور دوٹوک اصول وضع کرتے ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ کو تو تمام ادوار اور از منہ کا علم تھا اور یہ قاعدہ صرف حضرت نبی کریم ﷺ کے زمانے کے لئے نہ تھا اور نہ ان حالات کے لئے تھا جو اس وقت موجود تھے بعد کے حالات نے اس بات کو ثابت کردیا کہ دین اسلام اور جماعت مسلمہ کے ساتھ عیسائیوں کی عداوت ‘ دنیا کے مختلف علاقوں میں یہودیوں سے کم نہ تھی ، اگر ہم عرب کے عیسائیوں کے موقف کو مستثنی کردیں ‘ جنہوں نے اسلام کا خوب استقبال کیا تو باقی دنیا میں ‘ خصوصا یورپ میں عیسائیوں نے اہل اسلام اور دین اسلام کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا وہ یہودیوں کے مقابلے میں بہت خراب تھا یا ان سے کم نہ تھا ۔ انہوں نے اسلام کے ساتھ سخت کینہ پروری کی ‘ اسلام کے خلاف سازشیں کیں اور اس کے خلاف جنگیں برپا کیں ۔ حبشہ جیسے ملک کو لیجئے کہ اس کے اسی زمانے کے بادشاہ نے مسلم مہاجرین کو پناہ دی اور اسلام کو خوش آمدید کہا ۔ وہاں بھی اہل اسلام کے خلاف سخت مظالم کئے گئے جو یہودیوں سے بھی زیادہ تھے ۔
اللہ تعالیٰ کو تو تمام ادوار کا علم تھا ۔ اس لئے اللہ نے اہل اسلام کے لئے یہ قاعدہ کلیہ وضع کردیا ۔ اس میں ان حالات کو نظر انداز کیا جو اس وقت دور اول میں موجود تھے اس لئے کہ وہ حالات مستقل اور دائمی نہ تھے اس قاعدہ کلیہ پر عمل کرتے وقت اسلام بعض ممالک کی پالیسی کو نظر انداز بھی کرسکتے ہیں جن کا رویہ اسلام کے خلاف نہیں ہے یا نہ ہوگا ‘ آخر الزمان تک ۔
آج تک اسلام کے خلاف اور ان لوگوں کے خلاف جو اپنا نام مسلمانوں جیسا رکھتے ہیں اور جن کو صفت اسلام کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے اگرچہ اسلام کے ساتھ ان کا کوئی حقیقی تعلق نہیں ہے ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کی جانب سے ایک عظیم معرکہ آرائی جاری ہے ۔ یہ معرکہ آرائی ان کی ذات اور ان کے دین کے خلاف ہے اور دنیا کے ہر حصے میں جاری ہے ۔ اور یہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے ۔ (آیت) ” بعضھم اولیاء بعض) ان میں سے بعض ، بعض دوسروں کے دوست ہیں اور یہ بات ہر عقلمند انسان پر لازم کردیتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس نصیحت کو پلے باندھ لے کہ نصیحت نہیں بلکہ اللہ کی جانب سے اس قطعی ممانعت پر عمل کرنا ہے کہ اللہ کے صحیح بندوں کی دوستی صرف اللہ کے دوستوں اور رسول اللہ سے ہوگی اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جس قدر کیمپ بھی ہوں ‘ جو اسلام کا علم بلند نہ کررہے ہوں ان سے کوئی دوستانہ تعلق نہ ہوگا اور نہ حلیفانہ تعلق ہوگا ۔ یہ اللہ کا دوٹوک فیصلہ اور قطعی حکم ہے ۔
اسلام مسلمانوں کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں سے اپنے تعلقات صرف عقیدے اور نظریے کے اساس پر قائم کریں اور ایک مسلمان کے تصور حیات کے اندر دوستی کا عہد اور حلیفانہ عہد یا دشمنی کا تعلق صرف نظریات کے زاویے سے ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلم اور غیر مسلم کے درمیان باہم امداد اور نصرت کا معاہدہ (یعنی ولایت) کا قیام جائز نہ ہوگا اس لئے کہ ایک مسلمان اور ایک کافر کے درمیان عقائد و تصورات کے میدان میں کوئی تعاون اور نصرت نہیں ہوسکتی ۔ الحاد کے مقابلے میں بھی وہ اکٹھے نہیں ہوسکتے جیسا کہ ہم میں سے بعض سادہ لوح سوچتے ہیں ۔ بعض ایسے مسلمان اس لائن پر سوچتے ہیں جو قرآن کریم کو پڑھتے ہی نہیں اس لئے کہ دونوں کے درمیان کوئی مشترکہ بنیاد ہی نہیں ہے ۔ لہذا وہ کس بنیاد پر حلیف بن سکتے ہیں ؟
بعض لوگ جو قرآن مجید کا مطالعہ نہیں کرتے ‘ اور جن کو اسلام کی حقیقت کا ادراک بھی حاصل نہیں ہے اور بعض وہ لوگ جو فریب خوردہ ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام ادیان دین ہیں جس طرح الحاد الحاد ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ تمام اہل دین مل کر الحاد کے مقابلے میں کھڑے ہوں کیونکہ الحاد جنس دین کا منکر ہے اور وہ مطلق دینداری کے خلاف ہے ۔
لیکن اسلامی تصور حیات کے مطابق معاملہ اس طرح نہیں ہے اور نہ ایک ایسے مسلمان کا شعور اسے قبول کرتا ہے جس نے اسلام کا مزہ صحیح طرح چکھا ہے ۔ اسلام کا مزہ صرف وہی شخص چکھ سکتا ہے جو اسلام کو بطور نظریہ حیات قبول کرتا ہے ۔ اس کے بعد وہ اس نظریہ حیات کے لئے ہر وقت متحرک رہتا ہے اور اس کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ نظام اسلامی کو قائم کیا جائے ۔
ایک صحیح الفکر مسلمان کے ہاں یہ بات بالکل واضح اور متعین ہے کہ اللہ کے ہاں دین صرف اسلامی نظام حیات ہے ۔ اسلام کے بغیر کسی سوچ یا نظام کو اللہ دین نہیں مانتا کیونکہ اللہ نے جو فقرہ استعمال کیا ہے وہ یہ ہے ۔ (آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام “ اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی دین ہے۔ اسلام کے علاوہ اگر کوئی کسی اور عقیدہ وعمل کا اتباع کرتا ہے تو اللہ اسے قبول نہ کرے گا ۔ (آیت) ” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ “۔ حضور اکرم ﷺ کے بعد تو کوئی دین میں ایسا نہیں رہا ہے جو اللہ کو مقبول ہو۔ اب تو تمام دنیا کو اسلام ہی قبول کرنا ہوگا اور اس صورت میں اسے قبول کرنا ہوگا جس صورت میں اسے حضرت محمد ﷺ نے ہم تک پہنچایا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ سے قبل نصاری کا جو دین صحیح مانا جاتا تھا وہ اب مقبول نہ ہوگا جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد یہودیوں کا دین غیر مقبول قرار پایا تھا ۔
حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد یہود ونصاری کا وجود یہ معنی نہیں رکھتا کہ جس دین پر وہ عمل کر رہے ہیں وہ اللہ کو مقبول ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ بھی الہی دین پر ہیں ۔ بیشک ان کا دین الہی تھا مگر حضور اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے اور حضور ﷺ کی بعثت کے بعد صورت حال یہ ہے اور اس کا تمام مسلمان اعتراف کرتے ہیں کہ اب صرف اسلام ہی دین کی حیثیت رکھتا ہے اور مذکورہ بالا آیت اس سلسلے میں نص قطعی ہے جس میں کسی قسم کی کوئی تاویل نہیں ہو سکتی ۔
ہاں یہ بات مسلمہ اصولوں میں سے ہے کہ اسلام یہودونصاری پر جبر کر کے ان کو دین اسلام کے اعتراف پر مجبور نہیں کرتا ۔ اس لئے کہ اصول یہ ہے کہ (آیت) ” لا اکراہ فی الدین) (دین میں کوئی جبر نہیں ہے) لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ جن امور پر عمل پیرا ہیں وہ دین ہے یا اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحیح دین سمجھتا ہے ۔
اس لئے اسلام کسی ایسے محاذ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جو دینی محاذ ہو اور اس محاذ کے اندر اسلام بھی شامل ہو اور وہ الحاد کا مقابلہ کررہا ہو۔ دین تو فقط ایک ہے جس کا نام اسلام ہے اور اس کے علاوہ تمام محاذ لادین ہیں ‘ جو اسلام سے علیحدہ ہیں ۔ اب یہ لادینی نظام چاہے اپنی اصل میں الہی دین ہو اور اس کے اندر انحراف ہوگیا ہو یا وہ بت پرستانہ دین ہو اور اپنی بت پرستی قائم ہو یا الحاد ہو اور سرے سے تمام ادیان کا منکر ہو ‘ اور ان کے درمیان حلیفانہ معاہدہ ہوگیا ہو ‘ لیکن یہ تمام لادین دین اسلام سے متضاد ہیں اور ان کے اور اسلام کے درمیان کوئی حلیفانہ تعلق قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ان کے درمیان دوستی ہو سکتی ہے ۔
ایک مسلمان اہل کتاب کے ساتھ معاملات رکھ سکتا ہے اور اسلام اس سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ ان معاملات کو بر و احسان پر استوار کرے ۔ جب تک وہ اسے دین کے معاملے میں اذیت نہ دین ۔ اسلام ایک مسلمان کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ ان میں سے پاکدامن عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرسکتا ہے ۔ ہاں ان میں سے ان لوگوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے ۔ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا تسلیم کرتے ہیں اور جو لوگ تثلیث کے قائل ہیں کہ آیا ایسی عورتوں کتابی قرار پاکر حلال ہوں گی یا انہیں بت پرست قرار دے کر حرام قرار دیا جائے گا ۔ بہرحال اگر ہم یہ اصول ہی لیں کہ نکاح عموما جائز ہے ‘ تو بھی حسن سلوک یا جواز نکاح سے اس بات پر دلیل نہیں دی جاسکتی کہ ان کے ساتھ دین میں حلیفانہ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں اور دوستی بھی کی جاسکتی ہے ۔ اور اس کا یہ مفہوم بھی نہیں ہے کہ اہل کتاب کا دین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد بھی اسلام کے ہاں معتبر ہے اور پھر اس کے ساتھ ایک ہی محاذ پر کھڑے ہو کر اسلام الحاد کا مقابلہ کرسکتا ہے ۔
اسلام تو آیا ہی اس لئے ہے کہ وہ اہل کتاب کے اعتقادات کو درست کرے اور بعینہ وہ اس لئے بھی آیا ہے کہ بت پرستوں کے غلط عقائد کو درست نہیں کرتا ۔ جب یہودیوں نے یہ سمجھا کہ حضرت نبی کریم ﷺ ان کو بھی دین اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں تو ان کو یہ بات نہایت دعوت دیتے ہیں تو ان کو یہ بات نہایت ہی گراں گزری کہ حضور ﷺ ان کو بھی اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں تو ان کو یہ بات نہایت ہی گراں گزری کہ حضور ﷺ ان کو بھی اسلام کی طرف دعوت دیں تو قرآن کریم نے ان کو اس غلط فہمی کو دور کیا اور کہا کہ اللہ تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہے اور اگر تم اعراض کرو تو تم بھی کافر ہو۔
ایک مسلمان تو اس بات کا مکلف ہے کہ وہ اہل کتاب کو اسلام کی طرف دعوت دے جس طرح وہ مکلف ہے کہ بت پرستوں اور ملحدوں کو دین اسلام کی دعوت دے ۔ ہاں اگر وہ مکلف نہیں ہے تو اس بات کا نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کو زبردستی اسلام کے اندر داخل کرے اس لئے کہ کسی کے دل و دماغ میں عقائد بذریعہ جبرواکراہ نہیں جمتے ۔ ” دین میں جبر “ صرف یہ نہیں ہے کہ ازروئے قرآن وہ ممنوع ہے ۔ اگر ممنوع نہ ہوتا تو بھی اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا ۔
یہ بات درست نہ ہوگی کہ ایک مسلمان حضرت نبی ﷺ کی بعثت کے بعد اس بات کا اعتراف کرے کہ جس دین پر اہل کتاب میں وہ مقبول دین ہے اور پھر بھی وہ انہیں دعوت دے کہ وہ اسلام کی طرف آجائیں ۔ ایک مسلمان صرف اس اساس پر اس بات کا مکلف ہو سکتا ہے کہ وہ ان کی طرف دعوت دے کہ وہ ان کے دین کو دین تسلیم نہ کرے ۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر منطقی بات یہ ہوگی کہ وہ مکلف نہیں ہے ۔ اس لئے کہ یہ بھی دین ہے اور وہ بھی دین ہے ۔ اگر یہ بات بطور اصولی موضوع تسلیم کرلی جائے تو اب ایک مسلمان اور ایک اہل کتاب کے درمیان یہ محاذ کہ وہ دین اسلام کو غالب کریں ایک غیر منطقی محاذ ہوگا ۔ اس لئے کہ وہ تو دین اسلام کو دین تسلیم ہی نہیں کرتے ۔ غرض اسلام میں یہ مسئلہ دین و ایمان کا مسئلہ ہے ۔ اور پھر یہ منطقی اور فطری اتحاد وتنظیم کا بھی مسئلہ ہے ۔
جہاں تک ایمان و اعتقاد کا تعلق ہے تو معاملہ بالکل واضح ہے ۔ ہم نے اس پر بہت طویل بحث کرلی ہے اور اوپر ہم نے قرآنی آیات سے ثابت کردیا ہے کہ مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان کوئی دوستی یا حلیفانہ تعلق قائم نہیں ہو سکتا ۔
رہی یہ بات کہ یہ ایک انتظامی اور تحریکی مسئلہ بھی ہے تو یہ بھی مذکور بالابحث سے واضح ہوگیا ہے ۔ اس لئے ایک مومن کی پوری جدوجہد یہ ہوگی کہ اسلامی نظام حیات کو زندگی کے تمام معاملات کے اندر نافذ کیا جائے اور ان تفصیلات کے ساتھ نافذ کیا جائے جن کا بیان حضرت محمد ﷺ نے کیا ہے ۔ اپنی تمام تفصیلات اور تمام پہلوؤں کے ساتھ اور زندگی کے تمام معاملات میں تو اس میدان میں ایک مسلم اس شخص کے ساتھ متحد اور ہمرکاب کس طرح ہوسکتا ہے جو سرے سے اسلام کو دین ہی نہیں مانتا ۔ نہ اسلامی شریعت کو شریعت مانتا ہے اور جس کے اہداف ومقاصد ہی دوسرے ہیں ۔ اگرچہ یہ اہداف ومقاصد اسلام کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ اسلام کے اہداف بھی نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ اسلام کسی ہدف اور کسی عمل کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اسلامی عقیدے پر قائم نہ ہو ۔
(آیت) ” مثل الذین کفروا بربھم اعمالھم کرماداشتدت بہ الریح فی یوم عاصف “۔ (14 : 18) (جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو)
اسلام ایک مسلمان پر یہ فریضہ عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد صرف اسلام کے لئے کرے اور رات اور دن کی جدوجہد میں اپنی زندگی کے کسی بھی حصے کو اسلام تسلیم کرے گا جس نے نہ اسلام کے مزاج کو سمجھا ہو اور نہ دین اسلام کو سمجھا ہو ۔ یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ ایک مسلمان کی زندگی کا کوئی حصہ اسلام سے خارج بھی ہو سکتا ہے جس کے اندر ایک مسلمان ان لوگوں کے ساتھ تعاون کرے جو دشمنان اسلام ہوں اور دشمن بھی ایسے ہوں جو مسلمانوں سے تب ہی راضی ہو سکتے ہوں جب وہ اسلام کو خیر باد کہہ دیں ۔ یاد رہے کہ اس بات پر قرآن نے واضح طور پر منصوص ہدایات دی ہیں کہ یہود ونصاری تم سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین وملت کو تسلیم نہ کرلو ۔ غرض یہ اتحاد اعتقادی اور نظریاتی طور پر بھی محال ہے جس طرح یہ عملی طور پر ممکن نہیں ہے ۔
عبداللہ ابن ابی ابن السلول نے جو معذرت کی ‘ (یہ شخص ان لوگوں میں سے تھا جن کی دل میں بیماری تھی ) اور اس سے آگے بڑھ کر یہودیوں کے ساتھ دوستی اور حلیفانہ تعلقات قائم کئے اور اس نے جو یہ کہا کہ وہ یہودیوں کے ساتھ اپنے حلیفانہ معاہدے تو نہیں توڑ سکتا کہ وہ ایک ایسا آدمی ہے جو چکروں سے ڈرتا ہے یعنی اسے ڈر یہ تھا کہ حالات ایسے نہ ہوجائیں کہ خود اس پر سختی ہو ۔ یہ عذر اس بات کا مظہر ہے کہ اس کے دل میں بیماری تھی اور وہ ضعیف الایمان تھا ۔ اس لئے کہ ولی اور مددگار تو صرف اللہ ہوتا ہے ۔ ناصر تو صرف اللہ ہے ۔ اور اللہ کے سوا کسی اور سے نصرت طلب کرنا گمراہی ہے ۔ اگر کوئی طلب کرتا ہے تو اس کا یہ کام ہی عبث ہے اس کا کوئی فائدہ نہ نکلے گا لیکن ابن ابی کی حجت اور اس کا عذر ہر شخص کا عذر ہے جو کسی بھی دور میں ابن ابی ابن السلول کا کردار ادا کرتا ہے ۔ اس کا تصور بھی ہر اس منافق کا تصور ہے جو مریض القلب ہے اور جس نے حقیقت ایمان کو نہیں پایا ہے ۔ دوسری جانب حضرت عبادہ ابن الصامت کا دل یہودیوں کی دوستی سے بھر گیا جب اس نے دیکھا کہ یہ لوگ غدار ہیں اس لئے کہ وہ خود سچے مومن تھے ۔ انہوں نے یہودیوں کی دوستی اور حلیفانہ معاہدوں کو توڑ دیا ۔ جبکہ عبداللہ ابن ابی نے ان معاہدوں کو گرمجوشی سے لیا ‘ ان کو سینے سے لگایا اور انکو اپنے دانتوں میں مضبوط پکڑ لیا اس لئے کہ وہ منافق تھا ۔
یہ دو طریق کار ہیں اور دو طرز ہائے عمل ہیں ‘ یہ دونوں مختلف عقائد و تصورات سے پیدا ہوئے ۔ ان دونوں کی تہ میں دو مختلف شعور کام کر رہے تھے اور یہی اختلاف دو مختلف طرز ہائے عمل کے درمیان قیامت تک رہے گا ۔ ایک قلب مومن ہوگا اور دوسرا قلب ایسا ہوگا جس نے ایمان کو نہ پہچانا ہوگا ۔
جو لوگ دین کے ایسے دشمنوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرتے ہیں اور انکے ساتھ اکٹھ کرتے ہیں ‘ جو منافق ہیں کو ہیں اور جن کا نطریہ ‘ جن کی دوستی اور جن کا اعتماد اللہ اور رسول اللہ کے لئے مخلصانہ نہیں ہے ‘ ان کو اللہ تعالیٰ نہایت ہی سختی سے تنبیہ کرتے ہیں کہ اللہ کی جانب سے یا تو اہل اسلام کو فتح نصیب ہوگی یا اور کوئی ایسی بات ظاہر کردی جائے گی جو فیصلہ کن ہوگی اور اس طرح ان کا نفاق ظاہر ہوجائے گا ۔ اور وہ پھر بہت شرمندہ ہوں گے ۔
(آیت) ” فَعَسَی اللّہُ أَن یَأْتِیَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِہِ فَیُصْبِحُواْ عَلَی مَا أَسَرُّواْ فِیْ أَنْفُسِہِمْ نَادِمِیْنَ (52)
” مگر بعید نہی کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے ۔
اس وقت یعنی مکمل فتح کے قریب جیسے فتح مکہ ہوئی یا کسی اور ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کے وقت اور امر الہی کے آجانے کے وقت ‘ وہ لوگ سخت شرمندہ ہوں گے جن کے دل میں نفاق کی بیماری ہے کہ کیوں انہوں نے جلد بازی سے کام لیا اور یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ دوستی اور حلیفانہ معاہدے کر لئے ۔ وہ نفاق کرتے رہے اور اب ان کا راز کھل گیا ۔ ایسے حالات میں پھر اہل ایمان کو منافقین کے حال پر تعجب ہوگا کہ کس طرح یہ لوگ اپنے سینوں میں نفاق لئے ہوئے تھے اور اب یہ لوگ کس قدر گھاٹے میں ہیں۔
المائدة 5:53
(آیت) ” وَیَقُولُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمُواْ بِاللّہِ جَہْدَ أَیْْمَانِہِمْ إِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فَأَصْبَحُواْ خَاسِرِیْنَ (53)
” اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے ” کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ؟ “۔۔۔۔۔ ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام ونامراد ہو کر رہے ۔
ہاں پھر ایک دن آگیا کہ فتح نصیب ہوئی ۔ کئی لوگوں کے خفیہ راز کھل گئے اور ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور کئی گروپ سخت گھاٹے میں رہے ۔ اور آج بھی ہم اللہ کے اس وعدے کے انتظار میں ہیں کہ فتح آئے گی بشرطیکہ ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ رکھیں ۔ بشرطیکہ ہماری دوستی صرف اللہ سے ہو ‘ بشرطیکہ ہم اسلامی نظام کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنے افکار اور اپنے اعمال استوار کریں ‘ بشرطیکہ ہم معرکے کے اندر اللہ کی ہدایات اور راہنمائی میں اتریں اور ہم اللہ اور رسول کی سوا کسی کو دوست نہ بنائیں ۔
پہلی پکار اہل ایمان کو یہ تھی کہ وہ یہود ونصاری کی دوستی اور اس کے ساتھ حلیفانہ تعلقات قائم کرنے سے باز آجائیں ‘ ورنہ یاد رکھیں کہ ان کا شمار بھی ان میں ہوگا اور اس طرح وہ اسلام سے مرتد ہوجائیں گے ۔ ان کو پتہ بھی نہ چلے گا کہ وہ کیا سے کیا بن گئے بالکل غیر ارادی طور پر۔ اب یہاں ان کو دوسری کال دی جاتی ہے ۔ کہ خبردار ! ان میں سے کوئی مرتد نہ ہوجائے ۔ یہ اراتداد اس دوستی سے بھی ہو سکتا ہے اور دوسرے اسباب کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ۔ اگر وہ مرتد ہوگئے تو اللہ کے ہاں ان کا کوئی مقام نہ رہے گا اور یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ ان کا یہ ارتداد اور الٹا پھرنا ‘ نہ اللہ کو مجبور کرسکتا ہے اور نہ اللہ کے دین کو نقصان دے سکتا ہے ۔ اللہ کے دین کے دوست اور بہت لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ کے علم میں ہیں ۔ اگر مسلمان سب کے سب پھرگئے تو وہ لوگ آجائیں گے اور یہاں ان لوگوں کے کچھ خدوخال بھی بتا دیئے جاتے ہیں جو کہ اللہ کے علم میں ہیں اور ریزور ہیں اور جو اس کے دین کے حامی و مددگار ہوں گے اور یہ خدوخال نہایت ہی پسندیدہ ‘ خوشنما ‘ خوبصورت اور چمکدار ہیں ۔ اور وہ قبلہ بھی بتا دیا جاتا ہے جس کی طرف ایک مسلم اپنی دوستی اور محبت کا رخ کرے گا اور اس دوسری پکار میں اس معرکے کا وہ حتمی انجام بھی ذکر کردیا جاتا ہے ‘ جو حزب اللہ اور تمام دوسری احزاب کے اندر جاری ہے ۔ اس انجام تک وہ لوگ اور صرف وہی لوگ پہنچیں گے جن کی محبت صرف اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ہے ۔
المائدة 5:54
(آیت) ” نمبر 54 تا 56۔
اس صورت میں اور اس مقام پر مسلمانوں کو یہ تنبیہ کرنا کہ وہ مرتد نہ ہوجائیں ‘ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ارتداد اور یہود ونصاری کے ساتھ دوستی اور تعلق موالات کے درمیان گہرا ربط ہے۔ خصوصا اس ریمارک کے بعد کہ جو شخص ان کے ساتھ محبت وموالات کا تعلق قائم کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا ۔ وہ جماعت مسلمہ سے خارج تصور ہوگا اور ان کافر اور آدمی ہوگا ۔ (آیت) ’ ومن یتولھم منکم فانہ منھم) (تم میں سے جو ان کے ساتھ موالات کرے گا وہ ان میں سے ہوگا) اس مفہوم کی رو سے یہ دوسری پکار پہلی ہی تاکید وتائید ہوگی اور اس پکار کے بعد جو تیسری پکار آرہی ہے وہ بھی اس مفہوم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہاں اہل کتاب اور کفار دونوں کے ساتھ تعلق موالات کی ممانعت کا ذکر ہے اور ان کو ایک صف میں کھڑا کردیا گیا ہے کہ اہل کتاب اور کفار کے ساتھ موالات کا درجہ ایک ہی ہے اور یہ کہ اسلام میں اہل کتاب اور دوسرے کفار کے ساتھ بعض تعلقات میں جو فرق کیا گیا ہے وہ ہدایات تعلق موالات پر لاگو نہیں ہیں ان میں موالات شامل نہیں ہے ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَسَوْفَ یَأْتِیْ اللّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَۃَ لآئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللّہِ یُؤْتِیْہِ مَن یَشَاء ُ وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(54)
” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ۔ (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ جسے چاہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔
کسی ایک گروہ اور جماعت کو اللہ کے کام پر لگانا اللہ کی منشا کو پورا کرنا ہے ۔ اگر ایسا گروہ اس کرہ ارض پر اللہ کے دین کی اقامت کے لئے دست قدرت کا آلہ کار ہو ‘ اور اور اس کے ذریعے دنیا میں عوام الناس پر اللہ کی حکومت قائم ہو ‘ ان کی زندگی میں اللہ کے احکام وہدایت نافذ ہوں ‘ انہی کے مطابق ان کی انتظامیہ ہو ‘ ان کی عدالتوں میں اسلامی شریعت نافذ ہو اور بھلائی ‘ خیر ‘ پاکیزگی اور ترقی کا دور دورہ ہو اور یہ اسلامی نظام کی وجہ سے دنیا کو حاصل ہو تو اس گروہ کا اس کام کے منتخب ہونا اور کیا جانا ہی اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل وکرم ہے ۔ اب اگر کوئی اپنے آپ کو اللہ کے اس فضل وکرم سے محروم کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی بدبختی ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ غنی بادشاہ ہے اور ان محروم ہونے والوں کے علاوہ بھی اللہ کے علم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس فضل وکرم کے مستحق ہیں ۔
یہاں اللہ تعالیٰ ان مختاران الہی کی جو تصویر کشی فرماتے ہیں اس کے خدوخال نہایت ہی واضح ہیں اور ان کی صفات کا ذکر بھی نہایت ہی واضح طور پر کردیا گیا ہے ۔ یہ تصویر نہایت ہی روشن اور پرکشش ہے ۔
(آیت) ” فسوف یاتی اللہ بقوم یحبونہ “۔ (5 : 54) ” اللہ بہت سے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا “۔ یعنی ان کے اور ان کے رب کے درمیان رابطہ اور تعلق محبت کے متبادل تحفے ہوں گے ۔ محبت کیا ہے ؟ ایک روح ہے جو نہایت ہی لطیف ‘ روشن ‘ پر رونق اور نہایت ہی ہشاش وبشاش روح ہے ۔ جو اس قوم اور اللہ تعالیٰ کے درمیان رابطے کا کام دیتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا امر ہے جس کی قدروقیمت کا ادراک صرف اس شخص کو ہو سکتا ہے جس کو معرفت ربانی حاصل ہو اور انہیں صفات سے متصف ہو جو اللہ نے خود بیان کی ہیں ۔ نیز صرف وہی شخص اس کا تصور کرسکتا ہے جس کے حس ‘ شعور اور نفس وشخصیت پر ان صفات کا پر تو پڑا ہو۔ یہ فضل وکرم اسی شخص کے ادراک میں آسکتا ہے جو اس داتا کی حقیقت سے واقف ہو ‘ جو جانتا ہو کہ اللہ کون ہے ؟ اس عظیم کائنات کا مالک اور صانع کون ہے ؟ اور اس کائنات میں اس چھوٹے سے کیڑے انسان کا بھی وہ خالق ہے جو نہایت اونچی عظمتوں والے کے اقتدار میں ہے اور وہ اس کی خدمت میں ہے جو خالص اسی کا ہے اور اس کی بادشادہی میں ہے ۔ اور وہ ذات کون ہے اور یہ انسان کیا ہے جس پر ذات فضل وکرم کر رہی ہے ۔ اس کے ساتھ محبت کر رہی ہے حالانکہ انسان خود اس کا بنایا ہوا ہے ۔ وہ پاک ہے ‘ جلیل القدر ‘ عظیم المرتبہ ‘ الحی ‘ الدائم ‘ الارفیع ‘ الابدی ‘ الاول ‘ الاخر اور الظاہر والباطن ہے ۔
کسی بندے کا اپنے اللہ کے ساتھ محبت کرنا اس بندے کے لئے ایک نعمت ہے اور اس کی صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کو اس کا ذوق ہو اور اللہ کی جانب سے کسی بند کے ساتھ محبت کرنا تو ایک عظیم بات ہے اور یقینا عظیم اور بھرپور اور فضل جزیل ہے ۔ اسی طرح اللہ کا اپنے بندوں کو ہدایت دینا ‘ ان کی تعریف کرنا بھی ایک بہت بڑا اعزاز ہے ۔ ان کے اندر اس ذوق جمیل کا پیدا ہونا اور ایک ایسا ذوق محبت پیدا ہونا جس کی دنیا کی محبتوں میں کوئی نظیر نہ ہو ‘ تو یہ بھی ایک عظیم وانعام واکرام ہے اور ایک عظیم فضل وکرم ہے ۔
جس طرح اللہ کی جانب سے بندے کے ساتھ محبت ناقابل بیان ہے اسی طرح بندے کی جانب سے اللہ کے ساتھ محبت بھی ناقابل بیان ہے ۔ دنیا کے محبت کرنے والوں کے کلام میں اور عبادات میں اس کا اظہار ممکن نہیں ہے ۔ اور یہ وہ شعبہ ہے جس میں صوفیا میں سے واصل باللہ لوگ ہی برتری کے حامل ہیں ۔ لیکن صوفیوں کے لباس میں ‘ نام نہاد صوفیوں کی جو فوجیں پھرتی نظر آتی ہیں اور عوام کے درمیان معروف ہیں ان میں ایسے واصل باللہ بہت ہی کم نظر آئیں گے ۔ اس سلسلے میں رابعہ عدویہ کے کچھ اشعار میرے ذہن کی اسکرین پر آتے ہیں ۔ وہ کہتی ہیں :
فلیتک تحلوا والحیاۃ مریرۃ
ولیتک ترضی والانام غضاب
(اے کاش کہ آپ میٹھے ہوں اور زندگی کڑوی ہو اور اے کاش کہ آپ راضی ہوں اور تمام لوگ مجھ پر غضبناک ہوں)
ولیست الذی بینی وبینک عامر
وبینی وبین العلمین خراب :
(اے کاش کہ میرے اور آپ کے درمیان ہے وہ بستا رہے اور میرے اور لوگوں کے درمیان جو ہے وہ خراب ہو) یعنی تعلق ورابطہ ۔
اذا صح منک الحب فالکل ھین
وکل الذی فوق التراب تراب :
(اگر آپ کی جانب سے محبت درست ہوجائے تو پھر سب کچھ آسان اور حقیقت یہ ہے کہ اس مٹی کے اوپر جو مخلوق بھی چلتی پھرتی ہے وہ مٹی ہی ہے)
اللہ جل شانہ کی طرف سے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کے ساتھ یوں اظہار محبت اور ایک عاجز بندے کی طرف سے اللہ کے ساتھ اظہار محبت جو منعم حقیقی ہے اور جو حقیقی فضل کرنے والا ہے ایک انعام ہے ۔ یہ محبت اس پوری کائنات میں پھیل جاتی ہے اور یہ محبت بھی ہر زندہ چیز کا مزاج بن جاتی ہے ہے پھر ایک فضا ہوتی ہے اور ایک سایہ ہوتا ہے جو اس پورے وجود کائنات پر چھا جاتا ہے اور انسان جو محبت بھی ہے اور محبوب بھی ‘ اس کی زندگی کا پیمانہ تو اس محبت سے پوری طرح بھر جاتا ہے ۔
اسلامی تصور حیات ایک مومن اور اس کے رب کے درمیان اس طرح کا محبوب رابطہ قائم کرتا ہے جو نہایت ہی عجیب اور نہایت ہی پیارا ہوتا ہے ۔ یہ دائمی محبت کا رابطہ ایسا نہیں ہوتا کہ اچانک قائم ہوجائے یا ایک چمک پیدا ہو اور چلی جائے ۔ یہ اسلامی تصور حیات میں ایک بنیادی اور حقیقی عنصر ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
(آیت) ” ان الذین وعملوا الصلحت سیجعل لھم الرحمن ودا) ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے رحمن محبت کرنے والا ہے) اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” ان ربی رحیم ودود “۔ ” بیشک میرا رب رحم کرنے والا اور محبت کرنے والا ہے ) اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” واذا سئلک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان) ” اور جب تم سے میرے بندے ‘ میرے بارے میں پوچھیں و بیشک میں قریب ہوں میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں ‘ جب وہ پکارتا ہے ۔ “ (آیت) ” والذین امنوا اشد حب اللہ) ” اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کے ساتھ شدید محبت رکھتے ہیں ۔ “
اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘ ” کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو ‘ تم سے اللہ محبت کرے گا) وغیرہ وغیرہ بیشمار ایسی آیات ہیں جو اس مضمون کا ظاہر کرتی ہیں۔
ان لوگوں پر تعجب ہے کہ وہ اس مضمون کی آیا پڑھتے ہیں اور پھر بھی کہتے ہیں کہ اسلامی تصور حیات ایک خشک سخت اور کرخت تصور ہے اور اس میں خدا بندے کے درمیان تعلق قہر وغضب سزا گوشمالی اور سختی اور دوری کا تعلق ہے ۔ اس میں کوئی ایسا تصور نہیں جس طرح مسیحی تصور میں مسیح کو اقانیم الوہیت میں سے ایک اقنوم تصور کیا جاتا ہے ۔ اور لوگوں میں اور اللہ میں ایک گہرا ربط بلکہ من تو شدم تو من شدی کا تصور پیدا ہوتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تصور حیات کی صفائی اور اس میں حقیقت الوہیت اور مقام بندگی کے اندر مکمل فرق و امتیاز کرنے کی وجہ سے ‘ الفت و محبت کی پرنم فضا میں کوئی کمی نہیں آتی ۔ اللہ اور بندے کے درمیان اس تصور میں نہایت ہی گہرا ربط موجود ہے لیکن یہ ربط وتعلق رحمت اور عدل کا تعلق ہے ۔ اس تعلق کا ایک رخ باہم محبت ہے تو دوسرا رخ مکمل پاکیزگی کا ہے ۔ ایک طرف محبت ہے اور دوسری جانب اللہ کی ذات کے لئے پاکیزگی ہے یہ نہایت ہی جامع اور مانع تصور ہے ۔ اور اس سے وہ تمام بشری تقاضے پورے ہوتے ہیں جو اپنے رب کے حوالے سے انسان کو درکار ہیں۔
چناچہ اس ” مومن رجمنٹ “ کی صفت سے متعلق ‘ جسے اس دین کے لئے اٹھایا گیا ہے اس آیت میں یہ الفاظ آتے ہیں اور بار بار ذہن میں پھرتے ہیں۔ (آیت) ” یحبھم ویحبونہ “۔ (وہ اللہ سے محبت کرتا اور اللہ اس سے محبت کرتے ہیں)
اس فضائے محبت میں جب یہ رجمنٹ اپنے عظیم فرائض کی ادائیگی کے لئے نکلتی ہے اور یہ بوجھ اٹھاتی ہے تو اس کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اس خصوصی خدمت کے لئے بھرتی کیا ہے اور وہ اللہ جل شانہ کی خصوصی رجمنٹ ہے ۔
اس کے بعد اس رجمنٹ کی باقی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں ۔ (آیت) ” اذلۃ علی المومنین “۔ (5 : 54) (مومنوں پر نرم ہوں گے) یہ ایک ایسی صفت ہے جو اطاعت ‘ نرمی اور یسر سے لی گئی ہے اور لفظ یہ استعمال کیا ہے کہ وہ مومنین کے مقابلے میں اپنے آپ کو ذلیل کر کے رکھیں گے ۔ لیکن اگر کوئی مومنین کے مقابلے میں اپنے نفس کو ذلیل کرتا ہے تو وہ ذلت نہیں ہے اور نہ اس میں توہین کا پہلو ہے اس لئے کہ ایک مومن دوسرے مومن کے مقابلے میں اپنے نفس کو ذلیل کرتا ہے تو وہ ذلت نہیں ہے اور نہ اس میں توہین کا پہلو ہے اس لئے ایک مومن دوسرے مومن کے مقابلے میں نہایت ہی نرم ہوتا ہے ‘ سخت اور نافرمان نہیں ہوتا ۔ آسان اور نرم ‘ جلدی لبیک کہنے والا ‘ روادار ‘ محبت کرنے والا ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کے لئے اس لفظ کے استعمال میں ذلت بمعنی حقارت کا مفہوم نہیں ہے بلکہ اس سے اخوت ‘ محبت ‘ عدم تکلف ‘ نفسیاتی اتحاد اور نظریاتی لگاؤ کے معانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ ایک مومن اور دوسرے مومن کے درمیان کوئی پردہ اور راز نہیں رہتا۔
جب انسان بعض چیزیں اپنی ذات کے لئے اٹھا رکھتا ہے تو یہ جذبہ اسے اپنے دوسرے بھائی کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ‘ بخیل اور کنجوس بنا دیتا ہے ۔ لیکن جب ایک شخص اپنے آپ کو ایک کمپنی یا رجمنٹ کا فرد بنا لیتا ہے تو وہ اپنا سب کچھ اس کے لئے قربان کردیتا ہے اور اس کی انفرادیت کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے ۔ پھر اس کمپنی کے علاوہ وہ اپنے لئے کچھ اٹھا نہیں رکھتا جبکہ ان کی کمپنی اخوت اسلامی کی کمپنی ہوتی ہے اور وہ اللہ کے نام اور نظام پر جمع ہوئے ہیں۔ اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ محبت الہی ہی ان میں مشترک ہے اور یہ اسے باہم تقسیم کرتے ہیں ۔
(آیت) ” اعزۃ علی الکفرین “۔ (5 : 54) (جو کفار پر سخت ہوں گے) یعنی کافروں کے مقابلے میں ان کے اندر برتری ‘ ناپسندیدگی اور برتری کے جذبات پائے جاتے ہیں اور چونکہ مقابلہ کفار کے ساتھ ہے اس لئے ان کے مقابلے میں ان جذبات کا ہونا مناسب ہے ۔ ان جذبات کا اظہار ان کے مقابلے میں محض ذاتی عزت کے اظہار کے لئے نہیں ہے اور نہ صرف اپنی خودی بلند کرنا مطلوب ہوتا ہے بلکہ ان کی جانب سے عزت کا اظہار اسلامی نظریہ حیات کی طرف سے عزت کا اظہار ہوگا اس جھنڈے کی برتری ہوگی جس کے نیچے اہل ایمان کھڑے ہوں گے اور اہل کفار کے مقابلے میں ہوں گے ۔ اس سے اس بات کا اظہار ہوگا کہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ خیر ہے اور ان کا مقام یہ ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے ساتھ لے کر اس بھلائی کے تابع کردیں ، یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل کر اس چیز کے تابع ہوجائیں جس کے وہ دوسرے حامل ہیں اور وہ خیر نہیں ہے ۔ اس اظہار برتری اور سختی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے اندر دین کے بارے میں خود اعتمادی ہے اور وہ ہوا وہوس کے دین پر قابو پا چکے ہیں ۔ انکے ہاں اللہ کی قوت تمام دوسری قوتوں پر غالب ہے اور اللہ کی جماعت تمام احزاب پر غالب ہے ۔ اگر وہ بعض معرکوں میں شکست بھی کھا جائیں تو پھر بھی وہ بلند عزم لئے ہوئے ہیں کیونکہ اسلامی جدوجہد کی طویل راہ میں بھی کبھی لغزش بھی تو ہو سکتی ہے ۔
(آیت) ” یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم “۔ (5 : 54) ” وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ “ یہ جہاد فی سبیل اللہ ہوگا ‘ یہ اس لئے ہوگا کہ زمین پر اسلامی نظام قائم کیا جائے ‘ یہ اس لئے ہوگا کہ لوگوں پر اللہ کی بادشاہت کا اعلان کیا جائے ‘ یہ اس لئے ہوگا کہ ملک کے اندر اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے ہوں اور ملک کے اندر بھلائی ترقی اور اصلاح بین الناس کا دور دورہ ہو ۔ یہ ہے ایک دوسری صفت اسلامی رجمنٹ کی ۔ اور اسے اللہ تعالیٰ نے محض اس لئے قائم کیا ہے کہ وہ اس کی زمین پر وہ فریضہ سرانجام دے جو اللہ کو مطلوب ہے۔
یہ رجمنٹ فی سبیل اللہ جہاد کرے گی ‘ اپنے ذاتی مقصد کے لئے نہ کرے گی ۔ نہ اپنی قوم کے کسی مقصد کے لئے لڑے گی ‘ نہ اپنے وطنی مقاصد میں سے کسی مقصد کے لئے لڑے گی ‘ نہ اپنے وطنی مقاصد میں سے کسی مقصد کے لئے لڑے گی ‘ نہ وہ کسی نسل کے لئے کام کرے گی ۔ اس رجمنٹ کے ارکان صرف اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور یہ جہاد اسلامی نظام حیات کے قیام کے لئے ہے ‘ اللہ کی حکومت کے قیام کے لئے ہے ‘ اور اللہ کی شریعت کے نفاذ کے لیے ہے اور اس راہ میں تمام لوگوں کی بھلائی ہے ۔ اس میں ان کی ذاتی کوئی غرض نہیں ہے ‘ نہ ان کا اپنا کوئی حصہ ہے ۔ یہ گروہ صرف اللہ کے لئے ہے اور اس میں کوئی اور شریک نہیں ہے ۔
یہ رجمنٹ اللہ کے راستے میں لڑنے مرنے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی لحاظ نہ رکھے گی ۔ اس کو لوگوں کا کیا خوف ہوگا اور وہ کیا پرواہ کرے گی وہ تو اللہ کی محبت میں سرشار ہوگی اور یہی محبت اس کے لئے امام ضامن ہے ۔ لوگوں کے ہاں رائج مقامات قیام پر وہ سٹاپ نہ کرے گی ۔ سوسائٹی کی اقدار اس کی نظروں میں ہیچ ہوں گی اور جاہلیت کے ہاں معروف اس کے لئے معروف نہ ہوگا ۔ وہ تو سنت الہی کی رجمنٹ ہوگی اور وہ اسلامی نظام حیات پیش کرنے والی ہوگی ۔ لوگوں کی ملامت سے تو وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اپنی اقدار اور ہدایات لوگوں کی خواہشات کے مطابق کرنے والی ہوں گی ۔ لوگوں کی ملامت سے تو وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اقدار اور ہدایات لوگوں کی خواہشات کے مطابق تشکیل دیتے ہیں اور جن کی قوت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں لیکن جس جماعت کا رخ اللہ کی اقدار اور پیمانوں کی طرف ہوگا وہ تو کلمہ حق کو عوام کی اقدار اور پیمانوں پر غالب کرنے کی سعی کرے گی اور لوگوں کی خواہشات کے برعکس کام کرے گی تو وہ لوگوں سے کیا ڈرے گی ۔ جس شخص کی قوت اور اقدار کا سرچشمہ ذات باری ہو ‘ تو کیا پرواہ ہو سکتی ہے کہ لوگ کیا کہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں ۔ وہ تو یہ سمجھے گا کہ گویا لوگ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں ۔ ان لوگوں کی صورت حالات جو ہو سو ہو ‘ ان لوگوں کی تہذیب و تمدن جو ہو سو ہو ‘ وہ اپنی راہ پر رواں دواں رہے گا ۔
ہم لوگ تو دیکھتے ہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں ‘ لوگ کرتے ہیں ‘ لوگوں کے پاس کیا فکر وعمل ہے ‘ لوگ کن اصطلاحات میں بات کرتے ہیں ‘ لوگوں کی عملی زندگی کیا ہے اور ان میں کیا اقدار اور پیمانے ملحوظ ہیں ۔ ہمارا یہ رویہ اس وجہ سے ہے کہ ہم نے اصل اصول کو بھلا دیا ہے جس کے مطابق ہم نے ان اعتبارات کے مقابلے میں ایک پیمانہ بنانا ہے ‘ جس کے مطابق ہم نے اپنے حساب کو درست کرنا ہے اور جس کے مطابق ہم نے آپ کو تولنا ہے ۔ اور وہ اصول ہے اسلامی نظام حیات اسلامی شریعت اور اللہ کے احکام اصل بات یہ ہے کہ یہی ہے اصول حق اور اس کے ماسوا سب باطل ہے ۔ اگرچہ یہ لاکھوں کروڑوں کے لئے معروف ومتداول ہو۔ اگرچہ کئی نسلیں اسے صدیوں تک مانتی چلی آئی ہوں ۔
کسی صورت حال ‘ کسی رواج ‘ کسی عادت یا کسی قدر کی یہ کوئی قیمت (VAlue) نہیں ہے کہ وہ موجود ہے یا وہ امر واقعہ ہے یا لاکھوں لوگ اس کے ماننے والے والے ہیں یا لاکھوں لوگ اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں یا تمام لوگ اسے اصول حیات تسلیم کرتے ہیں ۔ اس قسم کے پیمانے کو اسلامی تصور حیات سلیم نہیں کرتے بلکہ کسی صورت حال ‘ کسی رواج ‘ کسی عادت ‘ کسی قدر کی قیمت یہ ہوگی کہ اسلامی تصور حیات میں اس کی کوئی قیمت ہے یا نہیں ہے اس لئے کہ تمام اقدار اور پیمانوں کا معیار اسلامی نظام ہے ۔
یہ وجہ ہے کہ یہ اسلامی رجمنٹ اللہ کی راہ میں جہاد کرے گی اور وہ کسی امامت کرنے والے کی ملامت سے خوف نہ کھائے گی ، یہ ہے نشانی ان مومنین کی جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس رجمنٹ میں بھرتی کیا ہوگا ۔ اور یہ بھرتی بھی اللہ کرے گا اور پھر اس رجمنٹ کے سپاہیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو بہت گہرا پیار ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ اپنے ان بہادروں کی نشانیاں بتا رہا ہے ۔ ان کے پتے بتا رہا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ان بہادروں کے دلوں میں جو اطمینان ہوگا اور جس ثابت قدمی کے ساتھ راہ جہاد پر وہ رواں دواں ہوں گے یہ بھی اللہ کا فضل وکرم ہوگا ۔
(آیت) ” ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآء واللہ واسع علیم “۔ (5 : 54) ” وہ جسے چاہتا ہے ذرائع دے دیتا ہے اور علم کے مطابق دیتا ہے ۔ اور اللہ کا دین بہت ہی وسیع ہے اور اس کے لئے جسے چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے “۔ اب اللہ تعالیٰ دھمکی کے بعد ‘ اس بات کا تعین فرماتے ہیں کہ اہل ایمان کی دوستی اور موالات کس کے ساتھ ہوگی اس کی تصریح کی جاتی ہے ۔
المائدة 5:55
(آیت) ” إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ (55)
” تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔
بطریق حصریہ فیصلہ دیا جاتا ہے جس میں کسی تاویل اور لیپاپوتی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور نہ اسلامی تحریک کو پگھلانے اور اسلامی تصور حیات کو ڈھیلا کرنے کی کوئی گنجائش رہتی ہے ۔
اس کے سوا کوئی اور بات ممکن بھی نہ تھی اس لئے کہ یہ مسئلہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے نظریاتی مسئلہ ہے ۔ پھر اس نظریہ کو لے کر ایک تحریک برپا کرنے کا مسئلہ ہے اور اس میں دوستی اور موالات کا خالصۃ اللہ کے لئے ہونا ضروری ہے صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرنا ضروری ہے تاکہ دین صرف اسلام ہوجائے اور اسلامی صفوں میں اور ان صفوں کے درمیان مکمل جدائی ہوجائے جو صفیں اسلام کو دین تسلیم نہیں کرتیں جو اسلام کو منہاج حیات نہیں بتاتیں ۔ یہ تمام دو ٹوک پالیسیاں اس لئے ہیں کہ اسلامی تحریک کے اندر سنجیدگی ہو اور اس کا اپنا نظام ہو ۔ اس میں صرف ایک ہی قیادت کے لئے دوستی اور وفاداری ہو اور اتحاد ویقین ایک ہی رجمنٹ کے افراد کے اندر ہو اس لئے کہ یہ اتحاد اس گروہ کے درمیان ہے جسے نظریات کی اساس پر اٹھایا گیا ہے ۔
اب اس رجمنٹ کے بعض دوسرے اوصاف گنوائے جاتے ہیں ۔ یہ اس کے ممتاز اوصاف ہیں اور یہ اس لئے گنوائے جاتے ہیں کہ اسلام محض ایک عنوان ہی نہ ہو ، محض جھنڈا اور علامت ہی نہ ہو ‘ محض زبانی جمع خرچ نہ ہو یا اس طرح نہ ہو کہ وہ ایک نسب کی طرح پشت درپشت سے منتقل ہوتا ہو یا محض ایک صفت ہو جو اچھے لوگوں میں پائی جاتی ہے بلکہ وہ ایک علمی دین ہو۔
(آیت) ” ْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ (55)
” وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔ ان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ۔ صرف نماز ادا نہیں کرتے بلکہ قائم کرتے ہیں اقامت صلوۃ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نماز پورے طور پر ادا کرتے ہیں اور ان کی نماز سے وہ آثار نمودار ہوتے ہیں جن کا ذکر اللہ نے فرمایا ہے ۔
(آیت) ” ان الصلوۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر) (نماز فحاشی اور منکر سے روکتی ہے) اور جس شخص کی نماز اسے فحاشی اور برائیوں کے ارتکاب سے نہیں روکتی اس نے گویا نماز ادا نہیں کی ۔ اگر اس نے نماز قائم کی ہوتی تو نماز اسے برائیوں سے روکتی ۔
ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ زکوۃ دیتے ہیں ۔ یعنی اللہ کی عبادت کرتے ہوئے مال میں سے اللہ کا حق ادا کرتے ہیں ۔ یہ ایک قسم کی مالی عبادت ہے اور اسے دل کی رغبت اور رضا مندی سے ادا کیا جانا چاہئے اس لئے کہ زکوۃ محض ٹیکس نہیں ہے کہ اسے بادل ناخواستہ ادا کیا جائے ۔ زکوۃ بھی عبادت ہے بلکہ یہ مالی عبادت ہے اور یہ اسلامی نظام کی خصوصیت ہے کہ وہ ایک حکم کے ذریعے مختلف مقاصد کو حاصل کرلیتا ہے ۔ رہے انسانوں کے بنائے ہوئے نظام تو ان میں ایسی کوئی خصوصیت نہیں ہے کہ ایک پہلو میں ہدف کو پورا کرلیں اور دوسرا پہلو سرے سے غائب ہو۔
کسی معاشرے کی اصلاح صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس میں لوگوں سے مال محض ٹیکس کے طور پر لیا جائے یا دولت مندوں سے مال لیا جائے اور فقراء کو دیا جائے اور یہ کام حکومت اور قوم کے نام پر کیا جائے یا اسے مالیے کا نام دیاجائے ، ایسی صورتوں میں صرف ایک مقصد پورا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ محتاجوں تک دولت کا ایک حصہ پہنچ جاتا ہے ۔ رہی زکوۃ تو اس کے نام اور مفہوم دونوں سے پاکیزگی اور نشوونما کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس سے ایک طرف سے انسانی ضمیر کے لئے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور دوسرے طرف مال کی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہ اللہ کی عبادت ہوتی ہے اور اس میں ادا کرنے والے کے جذبات اپنے فقراء بھائیوں کی طرف نہایت ہی محبت کے ہوتے ہیں ۔ زکوۃ دینے والا ایک عبادت کر رہا ہوتا ہے اور اس پر اسے قیامت میں اجر اور جزاء ملتی ہے ۔ نیز اس سے اس دنیا میں بھی معاشی ترقی ہوتی ہے اور مال میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے ۔ پھر اس کے ذریعہ جو فقراء مال لیتے ہیں ان کے جذبات بھی مجروح نہیں ہوتے ۔ اس لئے کہ یہ لوگ اس کو اللہ کا فضل سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ان کے لئے اغنیاء کی دولت میں حصہ رکھ چھوڑا ہے ۔ اس طرح ان کے دلوں میں اغنیاء کے خلاف عداوت وبغض پیدا نہیں ہوتا ۔ (اور یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ اسلامی معاشرے میں اغنیاء بھی حلال ذرائع سے مال کماتے ہیں وہ کسی کا حق نہیں مارتے ۔ وہ اپنا نصیب جمع کرتے ہیں) سب سے آخر مین یہ کہ زکوۃ کی شکل میں بڑے خوشگوار انداز میں ایک مالی ٹیکس بھی عائد ہوجاتا ہے اور نہایت ہی پاکیزگی ‘ نہایت ہی طہارت اور بڑھوتری کے ساتھ ۔
غرض زکوۃ کی ادائیگی ان لوگوں کی نہایت ہی ممتاز علامت ہے جو شریعت کا اتباع کرتے ہیں ۔ یہ ان کی جانب سے عملی اقرار ہے کہ وہ اللہ کی حکومت اور اس کے اقتدار اعلی کو تسلیم کرتے ہیں ۔
(آیت) ” وھم رکعون “۔ (5 : 55) (اور وہ رکوع کرتے ہیں) یہ ان کی شان اور صفت ہے ‘ یعنی یہ گویا ان کا وصف لازم ہے اور ان کی اصلی حالت ہی یہ ہے کہ وہ رکوع میں ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یقیمون الصلوۃ پر اکتفاء نہ کیا گیا اور راکعون بھی کہا گیا ‘ اس لئے کہ راکعون گویا ان کی ایک منفرد اور نہایت ہی ممتاز صفت ہے ۔ اسم فاعل کے ساتھ یہ صفت لا کر یہ تاثر دیا گیا کہ وہ دائما ایسا کرتے رہتے ہیں اور اس لئے اسے نمایاں کرکے بیان کیا گیا ۔۔۔۔۔ ایسے مقامات پر قرآن کی تعبیرات کے اندر نہایت ہی گہری اشاریت پائی جاتی ہے اگر کسی کو ادبی ذوق ہو ۔
اب اس رجمنٹ کے ساتھ اللہ کا وعدہ کیا ہے ؟ وہ اللہ پر اعتماد کرتی ہے ‘ وہ اللہ سے دعا کرتی ہے ‘ وہ اللہ سے موالات کرتی ہے ‘ وہ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کی دوست ہے ۔ پھر دوسری جانب اسلامی صفوں کے سوا تمام صفوں سے کٹ چکی ہے اور خاصل اللہ کے لئے ہوگئی ہے ۔ اس کے ساتھ اب کیا وعدہ ہے ؟
المائدة 5:56
(آیت) ” ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون (56) (5 : 55۔ 56)
” اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اور اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ۔
ایمان کے اصول کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے غلبے کا وعدہ کیا ہے ۔ اور ایمانی اصل اور ایمانی قاعدہ یہ ہے کہ موالات اور دوستی صرف اللہ ‘ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہو۔ پہلے یہ حکم دیا گیا کہ اگر تم یہودیوں کے ساتھ موالات کرو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم اسلامی صفوں سے خارج تصور ہوگا ‘ تمہارا شمار یہودونصاری میں ہوگا اور معنوی اعتبار سے تمہارا یہ عمل دین سے ارتداد ہوگا۔
یہ لمحہ فکریہ قرآن میں بار بار آتا ہے ‘ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ایک مسلمان سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اسلام کو مطلقا خیر سمجھے اور اس پر چلے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ غالب ہوگا یا اسے زمین کے اندر اقتدار اعلی نصیب ہوگا ۔ تمکن فی الارض اور غلبہ تو ایمان کے آثار ہیں اور اپنے وقت پر ضرور نمودار ہوتے ہیں اور یہ اس لئے نمودار ہوتے ہیں کہ اللہ کی تقدیر پردے سے ظاہر ہو کہ اس نے اس دین کو اس کرہ ارض پر غالب کرنا ہے ۔ غلبے کا ویہ وعدہ اس لئے نہیں ہے کہ لوگ اس وعدے کے بل بوتے پر دین میں داخل ہوجائیں ۔ محض غلبہ مقصود نہیں ہے ‘ نہ اس میں ان کی ذات اور شخصیت کا کوئی فائدہ ہے ‘ یہ تو اللہ کی تقدیر ہوتی ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں ازپس پردہ تقدیر نمودار ہوتی ہے ۔ یہ غلبہ جو انہیں نصیب ہوتا ہے تو یہ ان کے نظریہ حیات کے لئے ہوتا ہے ‘ ان کی ذات کے لئے نہیں ہوتا ۔ ان کے لئے اگر کچھ ہے تو وہ اس راہ جدوجہد کرنے کا ثواب اخروی ہے اور یہ اخروی ثواب انہیں اس جدوجہد کے ان نتائج پر بھی ملے گا ۔ مثلا کرہ ارض پر اگر دین غالب ہوجاتا ہے تو اس زمین پر جو اصلاحی کام ہوتا ہے ‘ اس تمام کا ثواب انہیں ملے گا ۔
بعض اوقات اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ غلبے کا وعدہ کرتا ہے تاکہ وہ ثابت قدم ہوجائیں اور ان کے سامنے جو مشکلات بھیانک صورت میں کھڑی ہیں ان کے اثرات سے وہ آزاد ہوجائیں ۔ یہ مشکلات بعض نہایت ہی تباہ کن ہوتی ہیں ۔ جب وہ انجام کا یقین حاصل کرلیتے ہیں تو ان کے دل قوی ہوجاتے ہیں اور وہ مشکلات کو انگیز کرلیتے ہیں ۔ وہ مشکل گھاٹی کو سر کرلیتے ہیں اور پرامید ہوجاتے ہیں کہ اللہ ان کے ہاتھوں اس امت کے لئے کوئی بھلائی برپا کردے گا ۔ ان کو جہاد کا ثواب ملے گا اور دین کے غلبے کا ثواب ملے گا اور اس پر جو نتائج مرتب ہوں گے ان کا ثواب بھی ملے گا ۔
غرض اس مقام پر اس آیت کے لانے سے معلوم ہوتا پر اس آیت کے لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں جماعت مسلمہ کے شب وروز کیا تھے اور یہ کہ ایسی خوشخبری کی ضرورت تھی ۔ چناچہ یہ فیصلہ دیا گیا کہ غلبہ حزب اللہ ہی کا ہوگا ۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہ آیات کس دور میں نازل ہوئیں ۔
ان حالات میں ہمارے لئے تمام نتائج کا خلاصہ اس مختصر فیصلے میں دے دیا جاتا ہے کہ حزب اللہ کو غلبہ ہوگا اور ایک مومن مطمئن ہوجاتا ہے کہ بس یہی ہے سنت الہیہ کہ حزب اللہ غالب ہوگی اگرچہ بعض معرکوں میں اسے بظاہر شکست بھی ہوجائے ‘ اس لئے کہ بعض ظاہری حالات کے ہوتے ہوئے بھی اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے ۔ ہاں بعض مراحل تحریک میں شکست بھی نظر آتی ہے ۔ اس وعدے کے تحقق کی راہ بہرحال ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ موالات صرف اللہ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے لئے ہو۔
اب ذرا اس امر پر غور کریں کہ قرآن مجید نے اہل ایمان کو ان لوگوں کے ساتھ تعلق موالات قائم کرنے سے بار بار منع کیا ہے جو اہل ایمان کے نظریے کے خلاف ہیں ۔ اور ان کے لئے نئے نئے انداز اختیار کئے ہیں تاکہ یہ بات ان کے احساس و شعور کا حصہ بن جائے اور یہ اصول ان کے ایمان کا حصہ بن جائے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی تصور حیات میں اس اصول کی کس قدر زیادہ اہمیت ہے ۔
اس سلسلے میں جب اہل ایمان کے نام پہلی پکار جاری ہوئی تو وہ براہ راست تھی اور اس میں ان کو منع کیا گیا کہ اہل کتاب کے ساتھ تعلق موالات قائم کریں ۔ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ فتح لے آئیں گے یا کوئی اور حکم جاری کردیں گے اور اس طرح تمام راز فاش ہوجائیں گے ۔ دوسری پکار میں ان کو اس بات سے ڈرایا گیا کہ اگر وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ اللہ کے دشمنوں سے تعلق موالات کریں گے تو مرتد ہوجائیں گے بلکہ چاہئے کہ تم ایک ایسی رجمنٹ کے سپاہی بن جاؤ جو اللہ کی خاص رجمنٹ ہے ۔ جس سے اللہ کو پیار ہے اور اس کو بھی اللہ سے محبت ہے ۔ اور یہی اللہ کی پارٹی ہے جسے غلبہ نصیب ہوگا ۔
اب یہاں ایک تیسری پکار ہمارے سامنے آتی ہے اس میں اہل ایمان کے جذبہ حمیت دین کو ابھارا جاتا ہے کہ دیکھو یہ لوگ تو تمہارے دین ‘ تمہارے طریقہ عبادت کے نہ صرف یہ کہ مخالف ہیں بلکہ وہ تمہارے طریقوں کے ساتھ سخت مذاق بھی کرتے ہیں اس تیسری پکار میں اللہ تعالیٰ نے ان کو منع کیا کہ وہ اہل کتاب کے ساتھ ساتھ دوسرے کفار کے ساتھ بھی تعلق موالات نہ رکھیں اور خدا خوفی کا رویہ اپنائیں ۔ اگر وہ مومن ہیں تو اللہ کی ان ہدایات پر اچھی طرح غور کریں اور اس پکار میں اہل کتاب اور کفار کی ایک دائمی صفت کا ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ بےعقل ہیں ۔
المائدة 5:57
(آیت) ” نمبر 57 تا 58۔
” ہاں یہ صورت حال سخت ہیجان انگیز ہوتی بشرطیکہ کسی کے اندر ایمانی حمیت کا جذبہ موجود ہو اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر اس کے سامنے اس کے دین کی توہین کردی گئی ‘ اس کی عبادت کی توہین کردی گی اور اس کے نظریہ حیات اور موقف کی توہین کردی گئی تو اس کی کوئی عزت اور آبرو نہ رہے گی لہذا ایسے لوگوں سے ترک تعلق ہی ایک خدائی امر ہے ۔ اہل ایمان اور ایسے لوگوں کے درمیان دوستی یا تعلق موالات کس طرح قائم ہوسکتا ہے ۔ یہ حرکات وہ لوگ کرتے بھی اس لئے ہیں کہ ان کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل متوازن نہیں ہوتی ۔ جب عقل صحت مند اور درست ہو تو وہ اپنے ماحول سے ایمان کے اشارات پاتی رہتی ہے اور جب عقل اور فہم میں خلل واقعہ ہوجاتا ہے تو وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے اشارات ایمان کا ادراک نہیں کرسکتی ۔ اس خلل کی وجہ سے انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے درمیان ‘ تعلقات میں بھی خلل پیدا ہوجاتا ہے اس لئے کہ یہ پوری کائنات ہی اس بات پر شاید عادل ہے کہ اللہ ہی انسان کی بندگی کا مستحق ہے اور اگر عقل صحت مند ہو اور اس میں کوئی خلل نہ ہو تو اس کے اندر اس کائنات کی عظمت اور اس کے بنانے والے کی عظمت و جلالت پیدا ہوتی ہے اس لئے کوئی درست اور سلیم عقل اہل اسلام کے طریقہ عبادت کے ساتھ مزاح نہیں کرسکتی ۔
اسلامی عبادات کے ساتھ یہ مذاق اہل کتاب یہودیوں کی طرف سے بھی ہوتا تھا اور اہل کفر کی طرف سے بھی ۔ یہ مزاح اس وقت ہو رہا تھا جب یہ قرآن حضور اکرم ﷺ کے قلب پر اتر رہا تھا اور جماعت مسلمہ اسے اخذ کر رہی تھی ‘ البتہ سیرت رسول ﷺ سے کوئی ایسا واقعہ منقول نہیں ہے کہ نصاری کی طرف سے بھی یہ مذاق ہوا ہو ۔ لیکن قرآن کریم جماعت مسلمہ کے لئے ایک دائمی اصول وضع کر رہا تھا ‘ مسلمانوں کی زندگی کا ایک دائمی منہاج اور دائمی نظریہ تشکیل پا رہا تھا اور اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ زمانے کی گردشیں کیا ہوں گی اور دیکھئے کہ بعد کے ادوار میں دین کے دشمنوں اور تحریک اسلامی کے دشمنوں نے اس امت کے ساتھ کیا سلوک کیا اور یہ سلوک ان لوگوں نے کیا جو اپنے آپ کو نصاری کہتے تھے اور یہ لوگ تعداد میں یہودیوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ تھے ۔ بلکہ یہود اور دوسرے کفار سے مل کر بھی زیادہ تھے ۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور صدیوں تک اسلام کی دشمنی دلوں میں اٹھائے پھرے ۔ اسلام کے خلاف انہوں نے جنگیں جاری رکھیں اور یہ محاربت اس وقت سے شروع ہوگئی جب حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور میں سلطنت روم کے ساتھ مسلمانوں کی مڈبھیڑ ہوئی اور یہ مڈبھیڑ صلاح الدین ایوبی کے وقت تک صلیبی جنگوں کی شکل میں جاری رہی ۔ اس کے بعد عالم اسلام کے خلاف تمام مغربی ممالک نے جمع ہو کر یہاں سے خلاف اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس کے بعد مغربی استعمار پیدا ہوا ‘ جس کی آغوش میں صلیبیت چھپی ہوئی تھی اور کبھی کبھار اس استعمار کی زبان سے اس کا اظہار بھی ہوجاتا تھا ۔ اس استعمار کے زیر سایہ مسیحی تبلیغ آئی اور مسیحی تبلیغ اور استعمار دونوں اندر سے ملے ہوئے تھے ۔ آج بھی ان لوگوں کے خلاف یہود ونصاری کی جہ جنگ جاری ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کے لئے کسی بھی جگہ کام کرتے ہیں اور ان حملوں میں یہودی ‘ عیسائی اور تمام مشرکین بحیثیت ملت واحدہ شریک ہیں۔
قرآن اس لئے آیا کہ یہ مسلمانوں کے لئے کتاب ہدایت ہے اور قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کتاب ہی اس امت کے تصورات کو تشکیل دیتی ہے ۔ امت کے لئے اجتماعی نظام بناتی ہے اور اس کے لئے تحریکی خطوط وضع کرتی ہے چناچہ یہاں اس نے ایک مستقل اصول رکھ دیا کہ امت مسلمہ کا کوئی فرد اللہ ‘ رسول اللہ اور مومنین کے سوا کسی اور کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرے گا اور یہ اصول منفی طور پر ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ وہ یہود ونصاری اور کافروں کے ساتھ کوئی تعلق مولات قائم ہی نہ کرے اور اس بات کا فیصلہ نہایت ہی سختی سے کیا جاتا ہے اور اسے اس طرح مختلف انداز سے بار بار لایا جاتا ہے ۔
دین اسلام اہل اسلام کو رواداری کا حکم دیتا ہے ۔ اہل کتاب کے ساتھ اسلام عموما حسن معاملہ کا حکم دیتا ہے ۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں ‘ ان کے ساتھ اسلام خصوصی طور پر رواداری کا حکم دیتا ہے لیکن اسلام ان لوگوں کے ساتھ بھی تعلق موالات کی ممانعت کا حکم دیتا ہے اس لئے کہ رواداری اور حسن معاملہ اور حسن سلوک اخلاقی معاملات ہیں اور موالات کا تعلق نظریہ حیات اور تنظیم کے ساتھ ہے ۔ تعلق موالات دراصل ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا معاہدہ ہوتا ہے اور اس سے دونوں فریق ایک دوسرے کی مدد کرنے اور باہم تعاون کرنے کے پابند ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعاون ممکن نہیں ہے ۔ کفار کا مال تو اس بھی زیادہ بدتر ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم وضاحت کرچکے ہیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ موالات صرف دین ‘ اقامت دین اور جہاد میں ہو سکتی ہے اور ان معاملات میں ایک غیر مسلم کے درمیان تعاون کسی طرح ممکن نہیں ہے ۔
یہ مسئلہ نظریاتی اور دو ٹوک ہے ۔ اس معاملے میں صرف فیصلہ کن اور سخت موقف ہی اختیار کیا جاسکتا ہے اور یہی ایک مسلم کے شایان شان ہے ‘ دو ٹوک سنجیدگی ۔
اہل ایمان کے نام ان سخت نداہائے ثلاثہ سے فارغ ہو کر اب حضور نبی کریم ﷺ کو پکارا جاتا ہے کہ آپ خود اہل کتاب کی طرف متوجہہو کر ذرا ان سے پوچھیں کہ آخر تم بتاؤ کہ ہمارے ساتھ تمہاری جانب سے کی جانے والی اس دشمنی کے اسباب کیا ہیں ؟ تم ہم سے کیوں ناراض ہو ؟ محض اس لئے کہ ہم اللہ وحدہ پر ایمان لائے ہیں اور موجودہ کتاب کے ساتھ ان کتب پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوئی ہیں اور اب جو باران رحمت آ رہا ہے ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ دشمنی بس یہی تو ہے کہ ہم مسلمان پورا پورا ایمان لاتے ہیں اور تم اہل کتاب فسق وفجور میں مبتلا ہو۔ حضور ﷺ کا یہ خطاب ان کے لئے نہایت ہی رسوا کن ہے لیکن اس خطاب سے اس معاملے کی اچھی طرح وضاحت بھی ہوتی ہے اور یہ فیصلہ کن خطاب ہے اور اس سے تعین ہوجاتا ہے کہ مابہ الافتراق کیا ہے ۔
یہ سوال اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق کیا جارہا ہے ۔ ایک جانب سے یہ سوال مظہر حقیقت ہے کہ اہل کتاب اور اہل ایمان کے درمیان اصل صورت حال ہے کیا ؟ اور یہ کہ وہ کیا اسباب اور وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اہل کتاب نے دین اسلام اور جماعت مسلمہ کے خلاف یہ موقف اختیار کیا ہے ۔ دوسری جانب سے یہ استفہام انکاری ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے ‘ وہ ان کے شایان شان نہیں ہے ۔ جن اسباب کی وجہ سے وہ اس دشمنی پر تلے ہوئے ہیں ان کا تقاضا یہ نہیں ہے جو وہ کرتے ہیں ۔ یہ اہل اسلام کے لئے ایک فہمائش بھی ہے اور ان کو یہ نفرت دلائی جاتی ہے کہ وہ اس قوم سے ہر گز تعلق موالات قائم نہ کریں اور یہ بالواسطہ اسی موقف کی تائید ہے جو اس سے قبل نداہائے ثلاثہ کے تحت بیان کیا گیا کہ ہر گز ان لوگوں سے یہ تعلق قائم نہ کرو ۔
اہل کتاب حضور ﷺ کے وقت بھی حضور ﷺ اور تحریک اسلامی کے ساتھ محص اس لئے دشمنی رکھتے تھے کہ یہ لوگ ایمان باللہ پر جمے ہوئے تھے ۔ قرآن کریم پر ایمان لاتے تھے ۔ اور سابقہ کتب پر بھی ایمان لاتے تھے اور اس کے سوا اہل ایمان کا اور کوئی جرم نہ تھا ‘ اور آج بھی وہ یہی دشمنی رکھتے ہیں ۔
یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ محض اس لئے دشمنی کرتے ہیں کہ ہو مسلمان ہیں اور یہود و نصاری نہیں ہیں اور یہود ونصاری کی حالت یہ ہے کہ وہ خود ان کتب سے بھی روگردانی اختیار کرچکے ہیں جو ان کی طرف نازل ہوئیں۔ ان کے فسق وفجور کی اور دلیلوں کے علاوہ یہ بھی ایک بڑی قوی دلیل ہے کہ وہ آخری رسالت پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ یہ آخری رسالت تمام سابقہ رسالتوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ اور ان کی ہدایات کے لئے مہیمن ہے ماسوائے ان کے کہ جو خرافات انہوں نے اپنائے ہیں اور جو تحریفات انہوں نے اس میں خود کی ہیں۔
وہ اسلام کے خلاف یہ شعلہ بار جنگ کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی اور گزشتہ چودہ صدیوں سے وہ اسے بھڑکا رہے ہیں یہ جنگ اس وقت سے برپا ہے جب سے مدینہ میں ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی ہے ‘ اسلامی شخصیت نمودار ہوئی ہے اور مسلمانوں کا نقشہ عالم پر ایک مستقل وجود بنا ہے ۔ یہ وجود ان کے دین کی وجہ سے نمودار ہوا ہے ۔ انکے تصور حیات کی وجہ سے بنا ہے اور اسلامی نظام حیات کی وجہ سے بنا ہے اور اسلامی منہاج حیات کے قیام کے لئے بنا ہے ۔
غرض مسلمانوں کے خلاف وہ یہ چومکھی لڑائی اس لئے لڑ رہے ہیں کہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہیں اور یہ لوگ اپنی اس جنگ کو اس وقت تک ختم نہ کریں گے جب تک مسلمانوں کو اپنے دین سے الٹے پاؤں پھیر کر نہ لے جائیں اور جب تک ان کو غیر مسلم نہ بنا دیں ۔ ان کی یہ خواہش اس لئے ہے کہ وہ خود اپنے دین کو چھوڑ کر فاسق ہوگئے ہیں اس لئے وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی دوسرا بھی صحیح مومن اور دین پر اچھی طرح چلنے والا دنیا میں رہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ اس حقیقت کو رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔
(آیت) ” ولن ترضی عنک الیھود ولاالنصاری حتی تتبع ملتھم “۔ اور آپ سے یہود ونصاری ہر گز راضی نہ ہوں گے ‘ جب تک آپ ان کی ملت کے تابع نہ ہوجائیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں اللہ نے واضح طور اہل کتاب کے سامنے ان کے اصل اغراض ومقاصد رکھ دیئے ہیں کہ وہ دشمنی کیوں کرتے ہیں۔
المائدة 5:58
(آیت) ” نمبر 57 تا 58۔
” ہاں یہ صورت حال سخت ہیجان انگیز ہوتی بشرطیکہ کسی کے اندر ایمانی حمیت کا جذبہ موجود ہو اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر اس کے سامنے اس کے دین کی توہین کردی گئی ‘ اس کی عبادت کی توہین کردی گی اور اس کے نظریہ حیات اور موقف کی توہین کردی گئی تو اس کی کوئی عزت اور آبرو نہ رہے گی لہذا ایسے لوگوں سے ترک تعلق ہی ایک خدائی امر ہے ۔ اہل ایمان اور ایسے لوگوں کے درمیان دوستی یا تعلق موالات کس طرح قائم ہوسکتا ہے ۔ یہ حرکات وہ لوگ کرتے بھی اس لئے ہیں کہ ان کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل متوازن نہیں ہوتی ۔ جب عقل صحت مند اور درست ہو تو وہ اپنے ماحول سے ایمان کے اشارات پاتی رہتی ہے اور جب عقل اور فہم میں خلل واقعہ ہوجاتا ہے تو وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے اشارات ایمان کا ادراک نہیں کرسکتی ۔ اس خلل کی وجہ سے انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے درمیان ‘ تعلقات میں بھی خلل پیدا ہوجاتا ہے اس لئے کہ یہ پوری کائنات ہی اس بات پر شاید عادل ہے کہ اللہ ہی انسان کی بندگی کا مستحق ہے اور اگر عقل صحت مند ہو اور اس میں کوئی خلل نہ ہو تو اس کے اندر اس کائنات کی عظمت اور اس کے بنانے والے کی عظمت و جلالت پیدا ہوتی ہے اس لئے کوئی درست اور سلیم عقل اہل اسلام کے طریقہ عبادت کے ساتھ مزاح نہیں کرسکتی ۔
اسلامی عبادات کے ساتھ یہ مذاق اہل کتاب یہودیوں کی طرف سے بھی ہوتا تھا اور اہل کفر کی طرف سے بھی ۔ یہ مزاح اس وقت ہو رہا تھا جب یہ قرآن حضور اکرم ﷺ کے قلب پر اتر رہا تھا اور جماعت مسلمہ اسے اخذ کر رہی تھی ‘ البتہ سیرت رسول ﷺ سے کوئی ایسا واقعہ منقول نہیں ہے کہ نصاری کی طرف سے بھی یہ مذاق ہوا ہو ۔ لیکن قرآن کریم جماعت مسلمہ کے لئے ایک دائمی اصول وضع کر رہا تھا ‘ مسلمانوں کی زندگی کا ایک دائمی منہاج اور دائمی نظریہ تشکیل پا رہا تھا اور اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ زمانے کی گردشیں کیا ہوں گی اور دیکھئے کہ بعد کے ادوار میں دین کے دشمنوں اور تحریک اسلامی کے دشمنوں نے اس امت کے ساتھ کیا سلوک کیا اور یہ سلوک ان لوگوں نے کیا جو اپنے آپ کو نصاری کہتے تھے اور یہ لوگ تعداد میں یہودیوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ تھے ۔ بلکہ یہود اور دوسرے کفار سے مل کر بھی زیادہ تھے ۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور صدیوں تک اسلام کی دشمنی دلوں میں اٹھائے پھرے ۔ اسلام کے خلاف انہوں نے جنگیں جاری رکھیں اور یہ محاربت اس وقت سے شروع ہوگئی جب حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور میں سلطنت روم کے ساتھ مسلمانوں کی مڈبھیڑ ہوئی اور یہ مڈبھیڑ صلاح الدین ایوبی کے وقت تک صلیبی جنگوں کی شکل میں جاری رہی ۔ اس کے بعد عالم اسلام کے خلاف تمام مغربی ممالک نے جمع ہو کر یہاں سے خلاف اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس کے بعد مغربی استعمار پیدا ہوا ‘ جس کی آغوش میں صلیبیت چھپی ہوئی تھی اور کبھی کبھار اس استعمار کی زبان سے اس کا اظہار بھی ہوجاتا تھا ۔ اس استعمار کے زیر سایہ مسیحی تبلیغ آئی اور مسیحی تبلیغ اور استعمار دونوں اندر سے ملے ہوئے تھے ۔ آج بھی ان لوگوں کے خلاف یہود ونصاری کی جہ جنگ جاری ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کے لئے کسی بھی جگہ کام کرتے ہیں اور ان حملوں میں یہودی ‘ عیسائی اور تمام مشرکین بحیثیت ملت واحدہ شریک ہیں۔
قرآن اس لئے آیا کہ یہ مسلمانوں کے لئے کتاب ہدایت ہے اور قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کتاب ہی اس امت کے تصورات کو تشکیل دیتی ہے ۔ امت کے لئے اجتماعی نظام بناتی ہے اور اس کے لئے تحریکی خطوط وضع کرتی ہے چناچہ یہاں اس نے ایک مستقل اصول رکھ دیا کہ امت مسلمہ کا کوئی فرد اللہ ‘ رسول اللہ اور مومنین کے سوا کسی اور کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرے گا اور یہ اصول منفی طور پر ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ وہ یہود ونصاری اور کافروں کے ساتھ کوئی تعلق مولات قائم ہی نہ کرے اور اس بات کا فیصلہ نہایت ہی سختی سے کیا جاتا ہے اور اسے اس طرح مختلف انداز سے بار بار لایا جاتا ہے ۔
دین اسلام اہل اسلام کو رواداری کا حکم دیتا ہے ۔ اہل کتاب کے ساتھ اسلام عموما حسن معاملہ کا حکم دیتا ہے ۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں ‘ ان کے ساتھ اسلام خصوصی طور پر رواداری کا حکم دیتا ہے لیکن اسلام ان لوگوں کے ساتھ بھی تعلق موالات کی ممانعت کا حکم دیتا ہے اس لئے کہ رواداری اور حسن معاملہ اور حسن سلوک اخلاقی معاملات ہیں اور موالات کا تعلق نظریہ حیات اور تنظیم کے ساتھ ہے ۔ تعلق موالات دراصل ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا معاہدہ ہوتا ہے اور اس سے دونوں فریق ایک دوسرے کی مدد کرنے اور باہم تعاون کرنے کے پابند ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعاون ممکن نہیں ہے ۔ کفار کا مال تو اس بھی زیادہ بدتر ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم وضاحت کرچکے ہیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ موالات صرف دین ‘ اقامت دین اور جہاد میں ہو سکتی ہے اور ان معاملات میں ایک غیر مسلم کے درمیان تعاون کسی طرح ممکن نہیں ہے ۔
یہ مسئلہ نظریاتی اور دو ٹوک ہے ۔ اس معاملے میں صرف فیصلہ کن اور سخت موقف ہی اختیار کیا جاسکتا ہے اور یہی ایک مسلم کے شایان شان ہے ‘ دو ٹوک سنجیدگی ۔
اہل ایمان کے نام ان سخت نداہائے ثلاثہ سے فارغ ہو کر اب حضور نبی کریم ﷺ کو پکارا جاتا ہے کہ آپ خود اہل کتاب کی طرف متوجہہو کر ذرا ان سے پوچھیں کہ آخر تم بتاؤ کہ ہمارے ساتھ تمہاری جانب سے کی جانے والی اس دشمنی کے اسباب کیا ہیں ؟ تم ہم سے کیوں ناراض ہو ؟ محض اس لئے کہ ہم اللہ وحدہ پر ایمان لائے ہیں اور موجودہ کتاب کے ساتھ ان کتب پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوئی ہیں اور اب جو باران رحمت آ رہا ہے ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ دشمنی بس یہی تو ہے کہ ہم مسلمان پورا پورا ایمان لاتے ہیں اور تم اہل کتاب فسق وفجور میں مبتلا ہو۔ حضور ﷺ کا یہ خطاب ان کے لئے نہایت ہی رسوا کن ہے لیکن اس خطاب سے اس معاملے کی اچھی طرح وضاحت بھی ہوتی ہے اور یہ فیصلہ کن خطاب ہے اور اس سے تعین ہوجاتا ہے کہ مابہ الافتراق کیا ہے ۔
یہ سوال اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق کیا جارہا ہے ۔ ایک جانب سے یہ سوال مظہر حقیقت ہے کہ اہل کتاب اور اہل ایمان کے درمیان اصل صورت حال ہے کیا ؟ اور یہ کہ وہ کیا اسباب اور وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اہل کتاب نے دین اسلام اور جماعت مسلمہ کے خلاف یہ موقف اختیار کیا ہے ۔ دوسری جانب سے یہ استفہام انکاری ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے ‘ وہ ان کے شایان شان نہیں ہے ۔ جن اسباب کی وجہ سے وہ اس دشمنی پر تلے ہوئے ہیں ان کا تقاضا یہ نہیں ہے جو وہ کرتے ہیں ۔ یہ اہل اسلام کے لئے ایک فہمائش بھی ہے اور ان کو یہ نفرت دلائی جاتی ہے کہ وہ اس قوم سے ہر گز تعلق موالات قائم نہ کریں اور یہ بالواسطہ اسی موقف کی تائید ہے جو اس سے قبل نداہائے ثلاثہ کے تحت بیان کیا گیا کہ ہر گز ان لوگوں سے یہ تعلق قائم نہ کرو ۔
اہل کتاب حضور ﷺ کے وقت بھی حضور ﷺ اور تحریک اسلامی کے ساتھ محص اس لئے دشمنی رکھتے تھے کہ یہ لوگ ایمان باللہ پر جمے ہوئے تھے ۔ قرآن کریم پر ایمان لاتے تھے ۔ اور سابقہ کتب پر بھی ایمان لاتے تھے اور اس کے سوا اہل ایمان کا اور کوئی جرم نہ تھا ‘ اور آج بھی وہ یہی دشمنی رکھتے ہیں ۔
یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ محض اس لئے دشمنی کرتے ہیں کہ ہو مسلمان ہیں اور یہود و نصاری نہیں ہیں اور یہود ونصاری کی حالت یہ ہے کہ وہ خود ان کتب سے بھی روگردانی اختیار کرچکے ہیں جو ان کی طرف نازل ہوئیں۔ ان کے فسق وفجور کی اور دلیلوں کے علاوہ یہ بھی ایک بڑی قوی دلیل ہے کہ وہ آخری رسالت پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ یہ آخری رسالت تمام سابقہ رسالتوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ اور ان کی ہدایات کے لئے مہیمن ہے ماسوائے ان کے کہ جو خرافات انہوں نے اپنائے ہیں اور جو تحریفات انہوں نے اس میں خود کی ہیں۔
وہ اسلام کے خلاف یہ شعلہ بار جنگ کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی اور گزشتہ چودہ صدیوں سے وہ اسے بھڑکا رہے ہیں یہ جنگ اس وقت سے برپا ہے جب سے مدینہ میں ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی ہے ‘ اسلامی شخصیت نمودار ہوئی ہے اور مسلمانوں کا نقشہ عالم پر ایک مستقل وجود بنا ہے ۔ یہ وجود ان کے دین کی وجہ سے نمودار ہوا ہے ۔ انکے تصور حیات کی وجہ سے بنا ہے اور اسلامی نظام حیات کی وجہ سے بنا ہے اور اسلامی منہاج حیات کے قیام کے لئے بنا ہے ۔
غرض مسلمانوں کے خلاف وہ یہ چومکھی لڑائی اس لئے لڑ رہے ہیں کہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہیں اور یہ لوگ اپنی اس جنگ کو اس وقت تک ختم نہ کریں گے جب تک مسلمانوں کو اپنے دین سے الٹے پاؤں پھیر کر نہ لے جائیں اور جب تک ان کو غیر مسلم نہ بنا دیں ۔ ان کی یہ خواہش اس لئے ہے کہ وہ خود اپنے دین کو چھوڑ کر فاسق ہوگئے ہیں اس لئے وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی دوسرا بھی صحیح مومن اور دین پر اچھی طرح چلنے والا دنیا میں رہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ اس حقیقت کو رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔
(آیت) ” ولن ترضی عنک الیھود ولاالنصاری حتی تتبع ملتھم “۔ اور آپ سے یہود ونصاری ہر گز راضی نہ ہوں گے ‘ جب تک آپ ان کی ملت کے تابع نہ ہوجائیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں اللہ نے واضح طور اہل کتاب کے سامنے ان کے اصل اغراض ومقاصد رکھ دیئے ہیں کہ وہ دشمنی کیوں کرتے ہیں۔
المائدة 5:59
(آیت) ” نمبر 59۔
“ اللہ تعالیٰ اپنے سچے کلام میں اس حقیقت کو بار بار دہراتے ہیں اور اہل کتاب اس حقیقت کو پگھلا کر ختم کرنا چاہتے ہیں ‘ اسے دبانا چاہتے ہیں ۔ اس کا انکار کرنا چاہتے ہیں اور اہل کتاب کے علاوہ اکثر نام نہاد مسلمان بھی اس حقیقت کے خلاف ہیں اور وہ مادیت اور الحاد کے عنوان سے اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان دوستی اور موالات قائم کرنا چاہتے ہیں ‘ جو قرآن کی اس پالیسی کے خلاف ہے ۔
آج بھی اہل کتاب اسی برف کو پگھلانا چاہتے ہیں بلکہ اسے دبا کر اس کے آثار کو مٹانا چاہتے ہیں ۔ اور یہ کام وہ اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اسلامی ممالک کے باشندوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں یا ان باشندوں کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں جن کے آباؤ اجداد مسلمان تھے ۔ یہ اہل کتاب اس فہم کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو مسلمانوں کے اندر ربانی منہاج تربیت نے پیدا کردیا تھا اور جب تک مسلمانوں کے اندر یہ فہم و شعور زندہ ہے صلیبی استعمار ان کے مقابلے میں جم نہیں سکتا چہ جائیکہ وہ خود عالم اسلام میں کالونیاں بنائے ۔ اہل کتاب کو جب صلیبی جنگ میں شکست فاش ہوئی اور اس کے بعد جب وہ عیسائیت کی تبلیغ میں بھی ناکام رہے ‘ تو ان کے سامنے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار بھی نہ تھا کہ مکروفریب کی راہ اختیار کریں اور ان آبادیوں کے درمیان یہ تصورات پھیلائیں ‘ جو مسلمانوں کی وارث ہیں ‘ کہ اب دین کے نام پر تمام جنگ جو ئیاں ختم ہوچکی ہیں اور یہ تو ایک تاریک دور تھا جس کے اندر تمام اقوام کے اندر مذہبی جنگیں ہوئیں ، اب تو دنیا کو نئی روشنی مل گئی ہے ‘ اب تو ترقی کا دور ہے اور اب تو کسی دینی نظریہ حیات کے مطابل لڑنا نہ جائز ہے ‘ نہ مناسب ‘ اور نہ ہی اس دنیا کے مفاد میں ہے ۔ آج تو مادی دور ہے اور اب جنگ منڈیوں اور خام مال پر ہوگی ۔ لہذا مسلمانوں یا مسلمانوں کے وارثوں کو چاہئے کہ وہ کسی دینی کشمکش یا کسی تحریک احیائے دین کے متعلق نہ سوچیں ۔
اور جب اہل کتاب اس بات سے مطمئن ہوجاتے ہیں کہ اہل اسلام اب اپنی سرحدوں کے بارے میں بےفکر ہوگئے ہیں اور ان کے فکر و شعور سے یہ ترک موالات محو ہوگئی ہے تو اب وہ اپنا استعماری جال پھیلاتے ہیں ۔ خصوصا پھر وہ بڑی آزادی سے عالم اسلام کے اندر استعماری جال پھیلاتے ہیں ۔ اب وہ عالم اسلام میں مسلمانوں کے غیظ وغضب سے محفوظ ہوگئے ہیں اور جب انہوں نے مسلمانوں کو تھپکی دے کر سلا دیا تو اب ان کو محض نظریاتی فتح ہی حاصل نہ ہوگئی بلکہ اب ان کے لئے عالم اسلام میں ہر قسم کی لوٹ اور مار کے راستے بھی کھل گئے ‘ تب انہوں نے اپنی نو آبادیاں قائم کرلیں ‘ مسلمانوں کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور نظریاتی فتح کے بعد اب وہ مادی دنیا پر بھی قابض ہوگئے اور صورت حال یہ ہوگئی کہ مسلمانوں اور اہل کتاب کے اندر کوئی فرق ہی نہ رہا۔ دونوں قریب قریب ایک جیسے ہوگئے عالم اسلام کے اندر اب اہل کتاب کے ایجنٹ کام کر رہے ہیں جو استعماری طاقتوں نے جگہ جگہ بٹھا رکھے ہیں ۔ بعض اعلانیہ طور پر بٹھا رکھے ہیں اور بعض ان کے خفیہ ایجنٹ ہیں ۔ وہ بھی یہی بات دہراتے ہیں کیونکہ اہل کتاب کے ایجنٹ ہیں اور یہ لوگ اسلامی حدود کے اندر یہ کام کرتے ہیں ۔ یہ ایجنٹ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ صلیبی جنگیں دراصل صلیبی جنگیں ہی نہ تھیں وہ مسلمان جنہوں نے اسلامی جھنڈوں کے نیچے یہ جنگیں لڑیں وہ مسلمان ہی نہ تھے وہ تو قوم پرست تھے ۔ سبحان اللہ ۔
ایک تیسرا فریق جو نہایت کم عقل فریق ہے ‘ اسے مغرب میں صلیبیت کی جانشیں استعماری قوتیں یہ دعوت دیتی ہیں کہ آؤ ہم بھائی بھائی بن جائیں ۔ مذہب کا دفاع کریں اور ملحدین کی تردید کریں ۔ یہ فریب خوردہ ان کی اس دعوت کو قبول کرتے ہیں لیکن یہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ صلیبیوں کی یہ مغربی اولاد جب بھی اسلام اور الحاد کی جنگ ہوتی ہے ‘ یہ ملحدین کے ساتھ صف آراء ہوجاتی ہے ۔ ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں ‘ جب بھی مسلمانوں کا مقابلہ ملحدین کے ساتھ ہو ۔ صدیوں سے ان کا یہ طرز عمل بالکل جاری ہے ۔ آج بھی ان کے لئے مادیت کی جنگ کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ وہ زیادہ تراہمیت اس جنگ کو دیتے ہیں جو وہ اسلام کے خلاف برپا کئے ہوئے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ مادی اور ملحد دشمن ایک وقتی اور عارضی دشمن ہے اور اسلام ایک مستقل اور ٹھوس نظریہ ہے جو ان کے لئے ایک مستقل دشمن ہے ۔ یہ جنگ انہوں نے اس لئے شروع کر رکھی ہے کہ اسلامی قوتوں کے اند بظاہر جو بیداری پیدا ہو رہی ہے یہ اسے ختم کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز یہ لوگ الحاد کے خلاف جنگ میں بیوقوف مسلمانوں کو جھونک کر اپنا مفاد محفوظ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ملحدین مغربی اور صلیبی استعمار کے سیاسی مخالف ہیں اور یہ دونوں معرکے گویا اسلام کے خلاف ہوں گے ۔ اور یاد رہے کہ صلیبیوں اور ملحدین دونوں کے خلاف مسلمانوں کے پاس صرف نظریاتی ہتھیار ہے اور وہ فہم و فراست ہے جو ان کے اندر قرآن کریم کی یہ آیات پیدا کرنا چاہتی ہیں ۔
یہ ایک گہرا کھیل ہے اور یہ اہل اسلام کو دھوکے میں ڈال دیتا ہے ۔ بظاہر اہل کتاب اور صیلبی دوستی کا اظہار کرتے ہیں اور یہ فریب خوردہ مسلمان ان اہل کتاب کو مخلص سمجھتے ہیں ۔ وہ اہل اسلام کو اتحاد ‘ بھائی چارے اور موالات کی دعوت دیتے ہیں اور مقصد یہ بتاتے ہیں کہ مذہب کا دفاع کرتے ہیں لیکن فریب خوردہ مسلمان چودہ سو سال کی تاریخ کو بھول جاتے ہیں جس میں ان کا رویہ عداوت کا رہا ہے اور اس میں کوئی استثناء بھی نہیں ہے ۔ پھر تاریخ تو بڑی بات ہے اور بہت طویل ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی ان واضح تعلیمات کو بھی بھول جاتے ہیں جو انہیں ان کا رب براہ راست دے رہا ہے یہ ایسی تعلیم ہے کہ یہ لاریب ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ اس سے کوئی پہلوتہی نہیں ہو سکتی بشرطیکہ اللہ پر اعتماد ہو ‘ اور اس بات کا یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان نہایت ہی سنجیدہ ہے ۔
یہ فریب دینے والے اور فریب خوردہ لوگ اس سلسلے میں اپنی پالیسی کے حق میں قرآن کریم کی وہ آیات پیش کرتے ہیں اور حضور اکرم ﷺ کی وہ احادیث پیش کرتے ہیں جن کے اندر اہل کتاب کے ساتھ حسن معاملہ کرنے پر زور دیا گیا ہے اور یہ کہ معیشت اور طرز عمل میں ان کے ساتھ رواداری کا سلوک کیا جائے ۔ لیکن یہ لوگ قرآن کریم کی ان تنبیہات وتحذیرات اور فیصلہ کن ممانعت کو بھلا دیتے ہیں جو قرآن کریم اہل کتاب کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے خلاف کرتا ہے اور تفصیل کے ساتھ بتاتا ہے کہ اس حکم کے اسباب کیا ہیں اور یہ کہ اس سلسلے میں اسلامی تحریک کا منصوبہ کیا ہے اور کیا ہونا چاہئے ۔ اسلامی تنظیم کن خطوط پر ہونا چاہئے اور ان کے ساتھ دوستی اور موالات کے تعلقات کو بالکل ختم کرنا چاہئے کیونکہ مسلمانوں کے نزدیک باہم موالات اور باہم دگر نصرت صرف اسلامی نظام کے قیام کے لئے ہوتی ہے اور اسلام کو عملی زندگی میں قائم کرنے لئے ہوتی ہے ۔ تحریک امامت دین کے نصب العین کے بارے میں ہمارے اور اہل کتاب کے درمیان کوئی نکتہ اشتراک سرے سے موجود ہی نہیں ہے ۔ اگرچہ مسلمانوں اور اہل کتاب کے دین میں انکی تحریفات سے پہلے کئی نکات مشترک تھے ۔ لیکن اب تو صورت حالات یہ ہے کہ وہ ہمارے دشمن ہی اس لئے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور اقامت دین کے نصب العین کے حامل ہیں اور وہ ہم سے راضی تب ہی ہوسکتے ہیں کہ ہم اس نصب العین کو چھوڑ کر یہودی یا عیسائی بن جائیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے نص صریح (البقرہ : 12) میں فرمایا ۔
یہ لوگ قرآن مجید کے حصے بخرے کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اس سے وہ اجزاء لیتے ہیں جو انہیں پسند ہیں اور ان کی دعوت کی تائید کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کو غافل کرتے ہیں ۔ اگرچہ وہ اپنی درست کیوں نہ ہوں اور یہ لوگ ان آیات کو چھوڑ دیتے ہیں جوان کی اس فریب کارانہ پالیسی کے بالکل خلاف ہیں۔
ہم اس کو ترجیح دیتے ہیں کہ ہم اس مسئلے میں اللہ کی بات سنیں ۔ اللہ کا کلام اس سلسلے میں نہایت ہی دوٹوک اور قطعی ہے ۔ رہا ان فریب کاروں کا کلام تو وہ ہم سنیں یا نہ سنیں برابر ہے ۔
ذرا چند منٹ کے لئے ٹھہرئیے ! اور اس موضوع پر غور کیجئے ۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی ازلی دشمنی کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایمان باللہ ‘ ایمان بالرسول اور ایمان بالکتب کے جامع عقیدے کی وجہ سے یہ لوگ ان کے دشمن بنے ہوئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ایک اور اہم بات بھی بتاتے ہیں۔
(آیت) ” وان اکثرکم فسقون “۔ (5 : 59) ” اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ۔ “ ان کا یہ فسق وفجور بھی اس عداوت اسلام کے اسباب میں سے ایک سبب ہے اس لئے کہ ایک کج رو شخص کو راست رو شخص بہت ہی برا معلوم ہوتا ہے ۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے اور اس کی تصدیق قرآن کریم کا یہ فقرہ کرتا ہے ۔ یہ ایک گہرا نفسیاتی اشارہ ہے اس لئے کہ جو شخص کسی راہ سے کجروی اختیار کرتا ہے وہ یہ دیکھ ہی نہیں سکتا کہ کچھ اور لوگ اس راہ پر چلیں ۔ اگر وہ ایسے لوگوں کو دیکھے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ فسق وفجور میں مبتلا ہوگیا ہے اور صحیح راہ سے منحرف ہوگیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں کا راہ حق پر قائم رہنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ منحرف ہوگیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ منحرف شخص جادہ حق پر مستقیم شخص کا دشمن ہوتا ہے اور پھر اس سے محض اس لئے انتقام لیتا ہے کہ وہ سچا ہے یہ انتقامی کاروائی اس لئے ہوتی ہے کہ یہ منحرف شخص اس صالح کو بھی گھیر گھار کر اپنی راہ پر ڈال دے اور اگر وہ بہت ہی سخت ہو اور بات مان کر نہ دیتا ہو تو اسے سے سے ختم کردے ۔
یہ ایک دائمی اصول ہے اور یہ حضور اکرم ﷺ کے دور میں اہل کتاب اور اہل اسلام کے تعلقات کے بارے میں ہی درست نہیں ہے بلکہ یہ مطلق اہل کتاب اور اہل اسلام کی پالیسیوں پر صادق آتا ہے ۔ جو شخص بھی کسی صالح گروہ اور اصول پسند جماعت سے نکلتا ہے اس کی سعی یہی ہوتی ہے کہ وہ تمام لوگوں کو اس جماعت سے منحرف کر دے اور فساق وفجار اور اشرار کے معاشرے میں جنگ ہمیشہ صالح لوگوں کے خلاف ہوتی ہے ۔ تمام فساق صالحین کے خلاف جمع ہوجاتے ہیں اور جو لوگ اصولوں سے منحرف ہوچکے ہوتے ہیں ‘ وہ تمام لوگ ان کے دشمن ہوتے ہیں جو اصولوں پر جمے ہوتے ہیں ۔ یہ جنگ ایک قدرتی جنگ ہوتی ہے اور یہ اسی اصول پر برپا ہوتی ہے جس کی طرف اس قرآنی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے ۔
اللہ کے علم میں یہ بات پہلے سے تھی کہ شر کی طرف سے ہر وقت بھلائی کی دشمنی ہوتی رہے گی اور حق کے مقابلے میں باطل ہمیشہ کھڑا ہوگا اور ثابت قدمی کے مظاہر کو دیکھ کر فساق وفجار جلیں گے اور جو لوگ اصولوں پر جمے ہوئے ہوں گے ان پر ان فساق وفجار اور منحرفین کو بہت ہی غصہ آئے گا ۔
اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ بھلائی ‘ سچائی ‘ استقامت اور اصول پرستی کو اپنی مدافعت کرنا ہوگی اور ان کو شر باطل ‘ فسق اور انحراف کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ لڑنی ہوگی ۔ یہ ایک ایسا حتمی معرکہ ہوگا کہ جس میں اہل حق کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہ ہوگا کہ بس وہ اس معرکے میں کود جائیں اور باطل کا مقابلہ کریں ۔ اگر وہ یہ معرکہ آرائی نہ کریں گے تو باطل از خود ان پر حملہ آور ہوجائے گا اور سچائی اس سے کسی طرح جان نہ چھڑا سکے گی کیونکہ باطل کا مقصد اسے سرے سے مٹانا ہوتا ہے ۔
یہ ایک نہایت ہی غافلانہ اور احمقانہ سوچ ہوگی کہ کوئی حق پرست ‘ اصلاح پسند ‘ صاحب استقامت اور اصولی شخص یہ سوچے کہ ‘ شر ‘ باطل اور فسق وفجور کے داعی اسے آرام سے چھوڑ دیں گے اور وہ حق و باطل کے اس معرکے سے بچ نکلیں گے یا حق و باطل کے درمیان کوئی مصالحت یامعاہدہ صلح ہو سکتا ہے ۔ اگر نہیں ‘ تو ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ ہر وقت اس اٹل معرکے کے لئے تیار رہیں اور خوب سوچ کر ساتھ اور اچھی تیاری کے ساتھ رہیں اور موہوم امن کے لئے دشمن کی چالوں میں نہ آئیں ورنہ دشمن انہیں کھا کر چاٹ جائے گا۔
اس کے بعد جب ہم مطالعہ جاری رکھتے ہیں تو حضور اکرم ﷺ کو اہل کتاب کے مقابلے کے لئے ہدایات دی جاتی ہیں ۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ بات واضح طور پر بتا دی گئی تھی کہ اہل کتاب کے دل میں اسلامی نظام اور مسلمانوں کے خلاف اس قدر گہری دشمنی کیوں ہے ؟ اب یہاں بنی اسرائیل کی تاریخ قدیم کے کچھ اوراق الٹے جاتے ہیں اور یہ کہ انہوں نے اپنے رب کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا ؟
المائدة 5:60
(آیت) ” نمبر 60۔
یہاں ہمیں اب یہودیون کی تاریخ کا مطالعہ کرایا جاتا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت ہوئی اور ان پر اللہ غضب ہوا اور ان کی شکلیں بگاڑ کر ‘ ان سے بندر اور خنزیر بنائے گئے اور پھر بھی ان لوگوں نے طاغوت ہی کی بندگی اختیار کی ۔
ان کے ملعون ہونے اور ان پر اللہ کا غضب آنے کے قصے ‘ قرآن کریم میں بار بار ذکر ہوئے ہیں ۔ نیز قرآن کریم میں ان کے وہ واقعات بھی مذکور ہیں کہ ان میں سے کچھ لوگوں کو بندر اور خنزیر کی شکل میں مسخ کیا گیا ۔ لیکن یہاں ان پر بندگی طاغوت کی جو فرد جرم عائد کی گئی ہے ‘ اس سورة کے مضامین کے زاویے سے اس کی بڑی اہمیت ہے ۔ اس کی ہم قدرے تفصیلات دیں گے کیونکہ یہ لفظ نہایت اہم اور خاص معنی کے لئے استعمال ہوا ہے ۔
طاغوت کا لفظ ہر اس اقتدار کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات سے ماخوذ نہ ہو ‘ ہر حکم ‘ حکم طاغوت ہے اور ہر وہ کام طاغوت ہے جو شریعت اسلامی سے ماخوذ نہ ہو ۔ ہر وہ ظلم طاغوت ہے جو برحق نہ ہو ‘ نیز اللہ کی حاکمیت ‘ اللہ کی الوہیت اور اس کے قانون سازی پر دست درازی کرنا طاغوت کی سب سے بڑی قسم ہے اور جو لفظ اور معنا طاغوت پر صادق آتی ہے ۔
کی عبادت کرتے تھے ‘ بات نہ تھی کہ وہ ان کی عبادت کرتے تھے ۔ حقیقت یہ تھی انہوں نے ارباب اور رہبان کی بنائی ہوئی شریعت کو اپنا لیا تھا اور اللہ کی بھیجی ہوئی شریعت کو چھوڑ دیا تھا۔ اس لئے اللہ نے یہ کہا کہ انہوں نے ارباب و رہبان کی بندگی شروع کردی ہے اور یہ لوگ مشرک ہوگئے ہیں ۔ لفظ طاغوت میں یہ گہرا مفہوم شامل ہیں ہے ۔ یعنی وہ اس حکومت کے مطیع تھے جو شریعت پر مبنی نہ تھی اور سرکش تھی ۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس حکومت یا ارباب و رہبان کے سامنے سجدے نہ بجا لاتے تھے بلکہ وہ عبادت اس طرح کرتے تھے کہ وہ ان کی اطاعت کرتے تھے ۔ طاغوت کی جب کوئی اطاعت کرتا ہے تو وہ اللہ کے دین اور اللہ کی اطاعت کے دائرے سے خارج ہوجاتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں رسول اللہ ﷺ کو اس طرف متوجہ فرمایا ہے کہ آپ اہل کتاب کا مقابلہ ان کی اس تاریخ کو پیش نظر رکھ کر کریں اور یہ کہ وہ اسی جزا کے مستحق ہیں جو انہیں ان کی تاریخ میں ملی ۔ گویا یہ یہودی نسلا بعدنسل وہی قوم ہیں اس لئے کہ ان کی جبلت ایک ہے اور ان کا یہی انجام ہونا چاہتے تھا ۔
(آیت) ” قل ھل انبئکم بشر من ذلک مثوبۃ عند اللہ “۔ (5 : 60) ” پھر کہو کیا میں ان لوگوں کی نشاندہی کروں جو انجام کار خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے ۔ “
یعنی اہل کتاب کی جانب سے اہل اسلام کی دشمنی سے بھی زیادہ خطرناک ‘ وہ اسلام کے خلاف جو سازشیں کرتے ہیں اور اہل ایمان کو محض ایمان کی وجہ سے سزا اور اذیت دیتے ہیں “ اس سے بھی زیادہ بری بات ہے اور وہ ہے خدا کی دشمنی اور خدا کا عذاب ۔ بندے کی دشمنی سے خدا کی دشمنی اور عذاب بہت ہی خطرناک ہے ۔ اور اس کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ شرپسند ہیں ‘ گمراہ ہیں اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں ۔
(آیت) ” اولئک شرمکانا واضل عن سوآء السبیل “۔ (5 : 60) ” ان کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ سواء السبیل سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔ “
یہاں قرآن کریم ان کی نشانیوں کی صفات کا ذکر کرکے ان کے ساتھ دوستی کرنے اور تعلق موالات قائم کرنے سے مسلمانوں کو متنفر فرماتے ہیں ۔ جبکہ اس سے قبل ان کے تاریخی کردار اور انکے برے انجام کا ذکر ہوا ۔ اب مسلمانوں کو ‘ ان کے بعض راز افشاء کر کے ‘ ان سے ڈرایا جاتا ہے اور اس تصویر کشی میں یہودیوں کو زیادہ نمایاں کیا جاتا ہے اس لئے کہ بات اس وقت کے حالات کے بارے میں چل رہی تھی اور اس وقت سب سے بڑا فتنہ یہودی فتنہ ہی تھا ۔
المائدة 5:61
(آیت) ” نمبر 61 تا 64۔
یہ ایسی عبادتیں ہیں جن کے اندر کچھ چلتی پھرتی تصاویر نظر آتی ہیں اور یہ قرآن مجید کا منفرد اسلوب ہے ۔ صدیاں گزر گئیں لیکن ان لوگوں کی تصاویر آج بھی ان عبارات میں واضح ہیں ‘ جن کے بارے میں قرآن کریم ان آیات میں بحث کرتا ہے ۔ یہاں جو نقشہ کھنیچا گیا ہے وہ یہودیوں کا ہے ‘ اس سے کہ آگے پیچھے بات انہی کی ہو رہی ہے ۔ اگرچہ اس میں بعض وہ لوگ بھی نظر آتے جو مدینہ کے منافقین ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو شروع کرتے ہیں ‘ ” بھائی ہم بھی تو ایمان لا چکے ہیں “ لیکن اپنی بغل میں کفر چھپائے ہوئجے ہیں جب آئے تو یہ کفر ان کے ساتھ تھا۔ لیکن ان کے منہ میں رام رام ہے اور بغل میں کفر کی چھری ہے ۔
یہ گروہ غالباگروہ تھا یہود تھا جو راتوں کو اسلام کے خلاف سازشیں تیار کرتے تھے ‘ اور ان میں سے بعض دوسروں سے یہ کہتے تھے کہ صبح اس قرآن پر اپنے ایمان کا اعلان کرو اور شام کو پھر کفر کا اعلان کر دو ‘ اور اس طرح اسلامی صفوں میں بےچینی پیدا کرو۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی قرآن کو ترک کردیں اور اپنے دین کو چھوڑ دیں یہ اس افراتفری اور شک وشبہ کی فضا کی وجہ سے ہے ۔
(آیت) ” واللہ اعلم بما کانوا یکتمون “۔ (5 : 61) ” اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں “۔ یہ اللہ کا کہنا ہے اور اللہ حقائق کے جاننے والے ہیں ۔ اور اس اعلان سے اہل ایمان کو اطمینان نصیب ہوتا ہے کہ ان کا رب ان کا محافظ اور نگہبان ہے ۔ وہی انہیں یہودیوں کی سازشوں سے بچا سکتا ہے کیونکہ اللہ کا علم ان کی خفیہ سازشوں پر محیط ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ان کو ایک دھمکی ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو۔۔۔۔
سیاق کلام کو لے کر ذرا آگے بڑھئے ۔ اس منظر میں ان کی کچھ اور تصاویر آتی ہیں ۔
(آیت) ” وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یعملون (62)
” تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت ہی بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں “۔
مسارعہ باب مفاعلہ ہے بہت سے لوگ ہیں جو باہم مقابلہ کررہے ہیں ‘ گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ یہ تصویر نہایت ہی مکروہ اور بدنما ہے ۔ لیکن جب کسی قوم کی اخلاقی حالت بگڑ جائے اور اس میں فساد سرایت کرجائے تو اس میں ایسی ہی صورت حالات پیدا ہوجایا کرتی ہے ۔ زندگی کی اعلی اقدار ختم ہوتی ہیں ‘ معاشرے پر شر غالب ہوجاتی ہوجاتا ہے اور جب بھی انسان کو ایسے معاشروں کو دیکھنے کا موقعہ ملتا ہے تو یہ پایا جاتا ہے کہ ان میں لوگ شر ‘ گناہ اور ظلم کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس معاشرے کے کے طاقتور لوگ اپنے دائرے میں اور زبردست لوگ اپنے دائرے میں ظالم ہوتے ہیں ۔ گناہ میں آلودگی اور ظلم ایسے گرے ہوئے فاسد معاشروں میں صرف طاقتور لوگوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ضعفاء بھی ان جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں یہاں تک سب لوگ اثم وعدوان کے سیلاب میں بہتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ ضعفاء بیشک زبردستوں پر ظلم کرنے پر قادر نہیں ہوتے لیکن یہ ضعفاء پھر آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں اور اگر ایک دوسرے پر ظلم نہ بھی نہ کرسکیں تو یہ لوگ پھر اللہ کی حرمتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں اس لئے کہ فاسد معاشروں کے اندر پھر اللہ کے حدود ہی رہ جاتے ہیں جن کو توڑنے کے لئے ان کے سامنے میدان کھلا ہوتا ہے ۔ ایسے میں نہ طاقتور حکام اور نہ ضعفاء محکوم حدود اللہ کی حفاظت کرتے ہیں ۔ غرض جو معاشرے بھی اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوجائے اس میں گناہ کی زندگی اور ظلم کی حرکات کا دور دورہ ہوتا ہے بلکہ گناہ اور ظلم کی طرف دوڑنے کے مقابلے (مسارعت) ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” لبئس ما کانوا یعملون “۔ (5 : 92) ” بہت بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں ۔ “
یہاں سیاق کلام فاسد معاشروں کی ایک دوسری خصوصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کے علماء اور مشائخ گنگ ہیں ‘ بولتے ہی نہیں ۔ علماء جو شریعت اور قانون کے نگران اور نگہبان ہیں ‘ ان کے سامنے قانون توڑے جاتے ہیں ۔ مشائخ جو علم دین کے استاد ہیں ان کے سامنے غلط افکار پھیل رہے ہیں اور وہ منع نہیں کرتے اور ان کے سامنے لوگ گناہ اور ظلم کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
المائدة 5:62
(آیت) ” نمبر 61 تا 64۔
یہ ایسی عبادتیں ہیں جن کے اندر کچھ چلتی پھرتی تصاویر نظر آتی ہیں اور یہ قرآن مجید کا منفرد اسلوب ہے ۔ صدیاں گزر گئیں لیکن ان لوگوں کی تصاویر آج بھی ان عبارات میں واضح ہیں ‘ جن کے بارے میں قرآن کریم ان آیات میں بحث کرتا ہے ۔ یہاں جو نقشہ کھنیچا گیا ہے وہ یہودیوں کا ہے ‘ اس سے کہ آگے پیچھے بات انہی کی ہو رہی ہے ۔ اگرچہ اس میں بعض وہ لوگ بھی نظر آتے جو مدینہ کے منافقین ہیں ۔ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ گفتگو شروع کرتے ہیں ‘ ” بھائی ہم بھی تو ایمان لا چکے ہیں “ لیکن اپنی بغل میں کفر چھپائے ہوئجے ہیں جب آئے تو یہ کفر ان کے ساتھ تھا۔ لیکن ان کے منہ میں رام رام ہے اور بغل میں کفر کی چھری ہے ۔
یہ گروہ غالباگروہ تھا یہود تھا جو راتوں کو اسلام کے خلاف سازشیں تیار کرتے تھے ‘ اور ان میں سے بعض دوسروں سے یہ کہتے تھے کہ صبح اس قرآن پر اپنے ایمان کا اعلان کرو اور شام کو پھر کفر کا اعلان کر دو ‘ اور اس طرح اسلامی صفوں میں بےچینی پیدا کرو۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی قرآن کو ترک کردیں اور اپنے دین کو چھوڑ دیں یہ اس افراتفری اور شک وشبہ کی فضا کی وجہ سے ہے ۔
(آیت) ” واللہ اعلم بما کانوا یکتمون “۔ (5 : 61) ” اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ چھپاتے ہیں “۔ یہ اللہ کا کہنا ہے اور اللہ حقائق کے جاننے والے ہیں ۔ اور اس اعلان سے اہل ایمان کو اطمینان نصیب ہوتا ہے کہ ان کا رب ان کا محافظ اور نگہبان ہے ۔ وہی انہیں یہودیوں کی سازشوں سے بچا سکتا ہے کیونکہ اللہ کا علم ان کی خفیہ سازشوں پر محیط ہے اور یہ اللہ کی جانب سے ان کو ایک دھمکی ہے کہ اگر وہ باز نہ آئے تو۔۔۔۔
سیاق کلام کو لے کر ذرا آگے بڑھئے ۔ اس منظر میں ان کی کچھ اور تصاویر آتی ہیں ۔
(آیت) ” وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم والعدوان واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یعملون (62)
” تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت ہی بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں “۔
مسارعہ باب مفاعلہ ہے بہت سے لوگ ہیں جو باہم مقابلہ کررہے ہیں ‘ گناہ اور ظلم میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر حرام مال کھاتے ہیں ۔ یہ تصویر نہایت ہی مکروہ اور بدنما ہے ۔ لیکن جب کسی قوم کی اخلاقی حالت بگڑ جائے اور اس میں فساد سرایت کرجائے تو اس میں ایسی ہی صورت حالات پیدا ہوجایا کرتی ہے ۔ زندگی کی اعلی اقدار ختم ہوتی ہیں ‘ معاشرے پر شر غالب ہوجاتی ہوجاتا ہے اور جب بھی انسان کو ایسے معاشروں کو دیکھنے کا موقعہ ملتا ہے تو یہ پایا جاتا ہے کہ ان میں لوگ شر ‘ گناہ اور ظلم کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس معاشرے کے کے طاقتور لوگ اپنے دائرے میں اور زبردست لوگ اپنے دائرے میں ظالم ہوتے ہیں ۔ گناہ میں آلودگی اور ظلم ایسے گرے ہوئے فاسد معاشروں میں صرف طاقتور لوگوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ضعفاء بھی ان جرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں یہاں تک سب لوگ اثم وعدوان کے سیلاب میں بہتے چلے جاتے ہیں ۔ یہ ضعفاء بیشک زبردستوں پر ظلم کرنے پر قادر نہیں ہوتے لیکن یہ ضعفاء پھر آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں اور اگر ایک دوسرے پر ظلم نہ بھی نہ کرسکیں تو یہ لوگ پھر اللہ کی حرمتوں پر ہاتھ ڈالتے ہیں اس لئے کہ فاسد معاشروں کے اندر پھر اللہ کے حدود ہی رہ جاتے ہیں جن کو توڑنے کے لئے ان کے سامنے میدان کھلا ہوتا ہے ۔ ایسے میں نہ طاقتور حکام اور نہ ضعفاء محکوم حدود اللہ کی حفاظت کرتے ہیں ۔ غرض جو معاشرے بھی اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوجائے اس میں گناہ کی زندگی اور ظلم کی حرکات کا دور دورہ ہوتا ہے بلکہ گناہ اور ظلم کی طرف دوڑنے کے مقابلے (مسارعت) ہوتے ہیں ۔ (آیت) ” لبئس ما کانوا یعملون “۔ (5 : 92) ” بہت بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں ۔ “
یہاں سیاق کلام فاسد معاشروں کی ایک دوسری خصوصیت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کے علماء اور مشائخ گنگ ہیں ‘ بولتے ہی نہیں ۔ علماء جو شریعت اور قانون کے نگران اور نگہبان ہیں ‘ ان کے سامنے قانون توڑے جاتے ہیں ۔ مشائخ جو علم دین کے استاد ہیں ان کے سامنے غلط افکار پھیل رہے ہیں اور وہ منع نہیں کرتے اور ان کے سامنے لوگ گناہ اور ظلم کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
المائدة 5:63
(آیت) ” (62) لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یصنعون (63)
” ان کے علماء ومشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے منع نہیں کرتے ۔ یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو یہ تیار کر رہے ہیں۔ “ جب کوئی معاشرہ اخلاقی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ اور فساد کا شکار ہوتا ہے تو اس کی ایک بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس میں قانون کے نگران قانون شکنی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ (علمائ) اخلاقی رہبر (مشائخ) بداخلاقیوں اور ظلم پر سکوت کرتے ہیں اور بنی اسرائیل کی کیا خصوصیات تھیں ؟ (آیت) ” کانوا لا یتناھون عن منکرفعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جو وہ کرتے تھے ۔ “ یہ قرآن ہی نے دوسری جگہ ان کے بارے میں کہا ہے ۔
ایک صحت مند ‘ زندہ ‘ قوی اور فاضلانہ معاشرے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں ہر طرف امر بالعروف اور نہی عن المنکر کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ اور اس میں ہر وقت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مشن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ اور اس میں ہر وقت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مشن امر بالعروف اور نہی عن المنکر ہوتا ہے اور اس کے عوام کے اندر بھی ایسے عناصر غالب ہوتے ہیں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف کان دھرتے ہیں ۔ اور معاشرے کے اوپر اس قسم کے روایات کی گرفت ہو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ختم نہ کیا جاسکتا ہو اور نہ ایسے لوگوں کا بال بیکا کیا جاسکتا ہو جو یہ کام کرتے ہیں ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی شکل میں برپا ہونے والے ایک صحت مند معاشرے کے بارے میں فرمائی ہے ۔
(آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ ‘۔ (3 : 11) ” تم خیر امت ہو ‘ حکم دیتے ہو نیکی کا اور منع کرتے ہو منکر سے اور اللہ پر ایمان لانے والے ہو “۔ اور بنی اسرائیل جو ایک فاسد معاشرے کے خوگر تھے ان کے بارے میں ہے (کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جس کا وہ ارتکاب کرتے تھے ۔ “ یہ بات گویا دو قسم کے معاشروں کا مابہ الامتیاز ہے ۔
یہاں یہودیوں کے علماء اور مشائخ کو ملامت کی جاتی ہے کہ وہ کیوں گنگ ہوگئے ہیں اور وہ ان لوگوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے جو گناہ کی زندگی ‘ باہم ظلم کی روش اور حرام خوری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور کتاب اللہ کی حفاظت کا جو فریضہ ان پر عائد کیا گیا تھا اسے وہ پورا نہیں کرتے ۔
یہ ان تمام لوگوں کے لئے ڈرانے والے کی پکار ہے جو اہل دیں اور علماء کہلاتے ہیں ۔ معاشرے کی اصلاح یافساد ان لوگوں پر موقوف ہے جو اس معاشرے ‘ دین اور قانون کے نمائندے ہوتے ہیں یعنی علماء ومشائخ ۔ اگر وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض ادا کرتے ہیں تو اصلاح ہوگی اور اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو بگاڑ ہوگا اور جس طرح ہم نے اس سے قبل ظلال القرآن میں کہا ہے کہ اس کام کے لئے ایک حکومت درکار ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرے اور یہ نظام دعوت وتبلیغ سے علیحدہ ہو اس لئے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے اقتدار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسا اقتدار جس کے ذریعہ امر بالمعروف اور عن المنکر ایک بامعنی چیز ہو ۔ محض زبانی جمع خرچ نہ ہو ۔
اب ان لوگوں کی فکری کجی اور اخلاقی بےراہ روی کی ایک مثال دی جاتی ہے ۔ قرآن کریم ان گمراہ اور ذلیل یہودیوں کی کج فکری اور بد روی کی ایک نہایت ہی گھاؤنی مثال دیتا ہے ۔
(آیت) ” غلت ایدیھم ولعنوا بما قالوا ، بل یدہ مبسوطتن ینفق کیف یشآء “ (5 : 63) ” یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ باندھے گئے ان کے ہاتھ ‘ اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ “
یہ یہودیوں کا اللہ کا بارے میں نہایت ہی برا تصور تھا ۔ ان کی بہت ہی بدظنیاں قرآن نے جگہ جگہ نقل کی ہیں ۔ ایک جگہ انہوں نے کہا ” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ “ اور یہ انہوں نے اس وقت کیا کہ جب ان سے اسلامی مقاصد کے لئے چندہ مانگا گیا ۔ اللہ کے ہاتھ بندھے ہونے سے عربی محاورے کے مطابق مراد یہ تھی کہ اللہ بخیل ہے ۔ ان کے خیال کے مطابق اللہ لوگوں کو بہت کم ضروریات دیتا ہے ۔ انہیں بھی کم دیا جاتا ہے اس لئے وہ کس طرح خرچ کریں ‘؟ ان کا شعور اس قدر بگڑ گیا تھا اور ان کے دل اس قدر سخت ہوگئے تھے کہ انہوں نے اللہ جل شانہ کے لئے لفظ بخیل بھی استعمال نہ کیا ‘ بلکہ اس سے بھی برا لفظ استعمال کیا جو زیادہ توہین آمیز ہے ۔ یعنی اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔
اللہ یہی جواب ان کو ان کے الفاظ میں دیتے ہیں ۔ ان پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔ اور ان کو راندہ درگاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” غلت ایدیھم ولعنوا بماقالوا “۔ (5 : 64) ان کے ہاتھ باندھ دئیے گئے اور اس لئے باندھ دیئے گئے کہ انہوں نے یہ بکواس کی اور ان پر لعنت کردی گئی اور ایسا ہی ہوا کہ تاریخ میں بنی اسرائیل سے زیادہ کوئی بخیل اور زرپرست قوم نہیں ہے ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کی گری ہوئی سوچ درست فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی ذات کبریا کے بارے میں وضاحت فرماتے ہیں کہ وہ بڑا کریم ہے ۔ اس کے ہاتھ کھلے ہیں اور وہ اپنے بندوں پر بلاحساب فیضان رحمت کرتا ہے ۔
(بل یدہ مبسوطتن ، ینفق کیف یشآء “۔ (5 : 64) ” اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے “۔ اللہ کے عطیے تو جاری ہیں اور تمام مخلوقات پر ان کی بارش ہو رہی ہے دیکھنے والوں کے لئے بالکل واضح ہیں ۔ دیکھو اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں ‘ اس کا فضل وکرم بھرپورے ہے ‘ اس کے عیطے عظیم ہیں ‘ اپنی زبان سے خود بولتے ہیں ‘ ہاں یہودیوں کو وہ نظر نہیں آتے ‘ اس لئے کہ وہ رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ رات دن انکار ونافرمانی میں غرق ہیں اور رات دن اللہ کی ذات کے بارے میں ان کا رویہ توہین آمیز ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کے سامنے ان کے مستقبل کے بارے میں ایک منظر پیش فرماتے ہیں کہ ان کا حشر کیا ہونے والا ہے اور یہ حشر ان کا اس لئے ہونے والا ہے کہ یہ لوگ محمد ﷺ کے نام پروانہ رسالت آنے پر جل بھن گئے ‘ خصوصا اس وجہ سے کہ اس رسالت کے ذریعے ان کے خلاف قدیم وجدید فرد جرم عائد کردی گئی ۔
(آیت) ” ولیزیدن کثیرا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا “۔ ” حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں الٹا اضافہ کو موجب بن گیا ہے “ ۔
اس کینہ اور حسد کی وجہ سے رسالت حضور ﷺ کو کیوں مل گئی اور پھر مزید اس وجہ سے کہ اس رسالت نے ان کی تمام گندی کو بےکم وکاست ریکارڈ کردیا یہ لوگ سرکشی اور کفر و انکار کی راہ پر مزید آگے ہی بڑھیں گے ۔ اس لئے کہ انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا ۔ لہذا ایمان کے برعکس راہ کفر ہی پر یہ لوگ آگے بڑھتے چلے جائیں گے ۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے اور مزید کفر کرنے کی وجہ سے اور اپنی فطری سرکشی اور طغیان کی وجہ سے یہ لوگ اس راہ میں مزید آگے بڑھیں گے اور حضور اکرم ﷺ ان کے لئے روزوبال وجان بنتے چلے جائیں گے ۔
مستقبل کے لئے ان کی ایک دوسری خصوصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے بھی دشمن ہوں گے ۔ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ سخت بعض ہوگا اور جب بھی وہ اسلام کے خلاف کوئی زبردست سازش تیار کریں گے اور جنگ کی آگ بھڑکائیں گے اور تحریک اسلامی کے خلاف کوئی جنگی اسکیم تیار کریں گے اللہ تعالیٰ اس کو ختم کر دے گا اور جماعت مسلمہ کو بچا لے گا ۔
(آیت) ” والقینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیمۃ کلما اوقدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ (5 : 64) ” ہم نے انکے درمیان قیامت کے لئے عدوات اور دشمنی ڈال دی ہے جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکا تے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے ۔ “ آج تک یہودی فرقے ایک دوسرے کے دشمن ہیں ۔ “ اگرچہ آج کے دور میں بظاہریہ نظر آتا ہے کہ عالمی یہودیت متحد ہوگئی ہے ۔ اور اسلامی ممالک میں وہ جابجا جنگ کے شعلے بھڑکا رہی ہے اور کامیاب ہے ۔ لیکن بات یہ نہیں ہے کہ ہم تاریخ کے ایک مختصر عرصے کو سامنے رکھ کر بات کریں یا کسی ایک مظہر کو اور کسی صورت حال کے ایک پہلو ہی کو دیکھ کر فیصلہ کردیں ۔ گزشتہ چودہ سو سال کے اندر بلکہ اسلام سے پہلے کے ادوار میں بھی ‘ یہودی ذلیل اور باہم دست و گریبان رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ہمیشہ جلاوطن اور دوبدر پھرتے رہے ہیں ۔ ان کا آخری انجام بھی وہی ہوگا جس پر وہ پہلے تھے چاہے ان کے اردگرد جس قدر سہارے ہوں ۔ لیکن اصل کنجی تو یہ ہے کہ آیا دنیا میں کوئی اسلامی رجمنٹ بھی ہے یا نہیں ؟ یہ اسلامی رجمنٹ ہی ہے جس کے ہاتھوں ان کی ذلت لکھی ہوئی ہے ۔ چونکہ اس وقت ایمان میں پختہ کار لوگوں کی رجمنٹ مفقود ہے ‘ جو اللہ کے وعدوں پر بھروسہ کرتی ہے اور جو دست قدرت کا آلہ اور ذریعہ بنتی ہے اور اس رجمنٹ کے ذریعے اللہ وہ کچھ کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں ۔
ہاں جب یہ امت اسلامی نظریہ حیات پر جمع ہوگی ‘ ایمان کی حقیقت اپنے اندر پیدا کرلے گی ‘ اپنی پوری زندگی کو اسلامی نظام حیات کے مطابق بنائے گی اور اسلامی شریعت کو نافذ کرے گی ‘ اس دن پھر اللہ کا وعدہ اس کی مخلوقات میں سے ان شریر ترین لوگوں پر صادق ہوگا اور یہودیوں کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ترکش میں شرارت اور سازش کے جو تیر بھی ہیں وہ اسلامی صفوں کے خلاف چلاتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں جس قدر گرفت ہے وہ اسے ان اسلامی دستوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں جو احیائے علوم کی تحریک کے ہر اول دستے بن رہے ہیں یہ یہودی تمام دنیا میں چھان بین کر رہے ہیں اور اپنے گماشتوں کے ذریعے یہ جگہ جگہ ان اسلامی رجمنٹوں کا سر کچل رہے ہیں ۔ نہایت ہی وحشیانہ جرائم اور نہایت ہی ناپسندیدہ کاروائیاں وہ اسلامی لیڈر شپ کے خلاف کر رہے ہیں ۔ وہ اس اسلامی رجمنٹ کے خلاف کسی بھی عہد موالات اور کسی بھی ذمے اور کسی بھی قومی اور بین الاقوامی چارٹر کا کوئی خیال نہیں کرتے لیکن اللہ نے اپنے معاملات اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوئے ہیں اس کا وعدہ سچا ہے کہ حزب اللہ ہی غالب ہوگی ۔
(آیت) ” والقینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیمۃ کلما اوقدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ (5 : 64) ” ہم نے انکے درمیان قیامت کے لئے عدوات اور دشمنی ڈال دی ہے جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکا تے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے ۔ “
یہ شروفساد جس کے نمائندے اور جس کے ماڈل یہود ہیں ‘ دائمی امر نہیں ہے ۔ ایک دن آئے گا کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا دستہ اٹھائے گا جو اسے پاش پاش کر دے گا ۔ اللہ تعالیٰ فساد فی الارض کو پسند نہیں کرتا اور جس چیز کو اللہ پسند نہیں کرتا تو ضروری ہے کہ ایک ایسی قوت اٹھائے جو اسے پاش پاش کر دے ۔
(آیت) ” ویسعون فی الارض فسادا ۔ واللہ لا یحب المفسدین (5 : 63) ” یہ زمین میں فساد پھیلانے کی سعی کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہر گز پسند نہیں کرتا۔ “
اس سبق کے آخر میں عظیم ایمانی اصول کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ وہ یہ کہ خطہ ارض پر دین کے قیام اور اسلامی نظام کے قیام کے معنی یہ ہیں کہ اس میں اصلاحی کام ہوں گے ‘ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے ‘ ان کی دنیاوی فلاح و بہبود کے کام زوروں پر ہوں گے اور فلاح دنیا کے ساتھ ساتھ انہیں فلاح آخرت بھی نصیب ہوگی ۔ اس خطہ ارض پر پھر دنیا اور آخرت میں فرق نہ ہوگا اور نہ وہاں دین دنیا میں تضاد ہوگا یہ نظام بیک وقت دنیا اور آخرت کا ضامن ہوگا اور اس میں دین اور دنیا علیحدہ نہ ہوں گے ۔ اس عظیم تبدیلی کا ذکر اس بات کے بعد کیا جاتا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کے دین سے انحراف کرلیا ہے ۔ وہ حرام خور ہوگئے ہیں اور انہوں نے احکام شریعت کے مفہوم کو بدل دیا ہے ۔ یہ کام انہوں نے محض دنیاوی مفادات کے حصول کے لئے کیا ہے حالانکہ اگر وہ اپنے اصل دین کا اتباع کرتے تو یہ ان کے لئے دنیا وآخرت اور آسمان و زمین دونوں میں ان کے لئے اچھا ہوتا بشرطیکہ وہ صحیح راہ اختیار کرتے ۔
المائدة 5:64
(آیت) ” (62) لولا ینھھم الربنیون والاحبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت ، لبئس ما کانوا یصنعون (63)
” ان کے علماء ومشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے منع نہیں کرتے ۔ یقینا بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو یہ تیار کر رہے ہیں۔ “ جب کوئی معاشرہ اخلاقی اعتبار سے ٹوٹ پھوٹ اور فساد کا شکار ہوتا ہے تو اس کی ایک بڑی علامت یہ ہوتی ہے کہ اس میں قانون کے نگران قانون شکنی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ (علمائ) اخلاقی رہبر (مشائخ) بداخلاقیوں اور ظلم پر سکوت کرتے ہیں اور بنی اسرائیل کی کیا خصوصیات تھیں ؟ (آیت) ” کانوا لا یتناھون عن منکرفعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جو وہ کرتے تھے ۔ “ یہ قرآن ہی نے دوسری جگہ ان کے بارے میں کہا ہے ۔
ایک صحت مند ‘ زندہ ‘ قوی اور فاضلانہ معاشرے کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں ہر طرف امر بالعروف اور نہی عن المنکر کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ اور اس میں ہر وقت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مشن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا دور دورہ ہوتا ہے ۔ اور اس میں ہر وقت ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جن کا مشن امر بالعروف اور نہی عن المنکر ہوتا ہے اور اس کے عوام کے اندر بھی ایسے عناصر غالب ہوتے ہیں جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی طرف کان دھرتے ہیں ۔ اور معاشرے کے اوپر اس قسم کے روایات کی گرفت ہو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ختم نہ کیا جاسکتا ہو اور نہ ایسے لوگوں کا بال بیکا کیا جاسکتا ہو جو یہ کام کرتے ہیں ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کی شکل میں برپا ہونے والے ایک صحت مند معاشرے کے بارے میں فرمائی ہے ۔
(آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ ‘۔ (3 : 11) ” تم خیر امت ہو ‘ حکم دیتے ہو نیکی کا اور منع کرتے ہو منکر سے اور اللہ پر ایمان لانے والے ہو “۔ اور بنی اسرائیل جو ایک فاسد معاشرے کے خوگر تھے ان کے بارے میں ہے (کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ) ” وہ اس برائی سے ایک دوسرے کو منع نہ کرتے تھے جس کا وہ ارتکاب کرتے تھے ۔ “ یہ بات گویا دو قسم کے معاشروں کا مابہ الامتیاز ہے ۔
یہاں یہودیوں کے علماء اور مشائخ کو ملامت کی جاتی ہے کہ وہ کیوں گنگ ہوگئے ہیں اور وہ ان لوگوں کے خلاف آواز کیوں نہیں اٹھاتے جو گناہ کی زندگی ‘ باہم ظلم کی روش اور حرام خوری میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور کتاب اللہ کی حفاظت کا جو فریضہ ان پر عائد کیا گیا تھا اسے وہ پورا نہیں کرتے ۔
یہ ان تمام لوگوں کے لئے ڈرانے والے کی پکار ہے جو اہل دیں اور علماء کہلاتے ہیں ۔ معاشرے کی اصلاح یافساد ان لوگوں پر موقوف ہے جو اس معاشرے ‘ دین اور قانون کے نمائندے ہوتے ہیں یعنی علماء ومشائخ ۔ اگر وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فرائض ادا کرتے ہیں تو اصلاح ہوگی اور اگر وہ خاموش رہتے ہیں تو بگاڑ ہوگا اور جس طرح ہم نے اس سے قبل ظلال القرآن میں کہا ہے کہ اس کام کے لئے ایک حکومت درکار ہے جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام کرے اور یہ نظام دعوت وتبلیغ سے علیحدہ ہو اس لئے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے اقتدار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ایسا اقتدار جس کے ذریعہ امر بالمعروف اور عن المنکر ایک بامعنی چیز ہو ۔ محض زبانی جمع خرچ نہ ہو ۔
اب ان لوگوں کی فکری کجی اور اخلاقی بےراہ روی کی ایک مثال دی جاتی ہے ۔ قرآن کریم ان گمراہ اور ذلیل یہودیوں کی کج فکری اور بد روی کی ایک نہایت ہی گھاؤنی مثال دیتا ہے ۔
(آیت) ” غلت ایدیھم ولعنوا بما قالوا ، بل یدہ مبسوطتن ینفق کیف یشآء “ (5 : 63) ” یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔ باندھے گئے ان کے ہاتھ ‘ اور لعنت پڑی ان پر اس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ ۔ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ‘ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ “
یہ یہودیوں کا اللہ کا بارے میں نہایت ہی برا تصور تھا ۔ ان کی بہت ہی بدظنیاں قرآن نے جگہ جگہ نقل کی ہیں ۔ ایک جگہ انہوں نے کہا ” اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ۔ “ اور یہ انہوں نے اس وقت کیا کہ جب ان سے اسلامی مقاصد کے لئے چندہ مانگا گیا ۔ اللہ کے ہاتھ بندھے ہونے سے عربی محاورے کے مطابق مراد یہ تھی کہ اللہ بخیل ہے ۔ ان کے خیال کے مطابق اللہ لوگوں کو بہت کم ضروریات دیتا ہے ۔ انہیں بھی کم دیا جاتا ہے اس لئے وہ کس طرح خرچ کریں ‘؟ ان کا شعور اس قدر بگڑ گیا تھا اور ان کے دل اس قدر سخت ہوگئے تھے کہ انہوں نے اللہ جل شانہ کے لئے لفظ بخیل بھی استعمال نہ کیا ‘ بلکہ اس سے بھی برا لفظ استعمال کیا جو زیادہ توہین آمیز ہے ۔ یعنی اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔
اللہ یہی جواب ان کو ان کے الفاظ میں دیتے ہیں ۔ ان پر لعنت بھیجی جاتی ہے۔ اور ان کو راندہ درگاہ قرار دیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” غلت ایدیھم ولعنوا بماقالوا “۔ (5 : 64) ان کے ہاتھ باندھ دئیے گئے اور اس لئے باندھ دیئے گئے کہ انہوں نے یہ بکواس کی اور ان پر لعنت کردی گئی اور ایسا ہی ہوا کہ تاریخ میں بنی اسرائیل سے زیادہ کوئی بخیل اور زرپرست قوم نہیں ہے ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کی گری ہوئی سوچ درست فرماتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی ذات کبریا کے بارے میں وضاحت فرماتے ہیں کہ وہ بڑا کریم ہے ۔ اس کے ہاتھ کھلے ہیں اور وہ اپنے بندوں پر بلاحساب فیضان رحمت کرتا ہے ۔
(بل یدہ مبسوطتن ، ینفق کیف یشآء “۔ (5 : 64) ” اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے “۔ اللہ کے عطیے تو جاری ہیں اور تمام مخلوقات پر ان کی بارش ہو رہی ہے دیکھنے والوں کے لئے بالکل واضح ہیں ۔ دیکھو اللہ کے ہاتھ کھلے ہیں ‘ اس کا فضل وکرم بھرپورے ہے ‘ اس کے عیطے عظیم ہیں ‘ اپنی زبان سے خود بولتے ہیں ‘ ہاں یہودیوں کو وہ نظر نہیں آتے ‘ اس لئے کہ وہ رات دن دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ رات دن انکار ونافرمانی میں غرق ہیں اور رات دن اللہ کی ذات کے بارے میں ان کا رویہ توہین آمیز ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کے سامنے ان کے مستقبل کے بارے میں ایک منظر پیش فرماتے ہیں کہ ان کا حشر کیا ہونے والا ہے اور یہ حشر ان کا اس لئے ہونے والا ہے کہ یہ لوگ محمد ﷺ کے نام پروانہ رسالت آنے پر جل بھن گئے ‘ خصوصا اس وجہ سے کہ اس رسالت کے ذریعے ان کے خلاف قدیم وجدید فرد جرم عائد کردی گئی ۔
(آیت) ” ولیزیدن کثیرا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا “۔ ” حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں الٹا اضافہ کو موجب بن گیا ہے “ ۔
اس کینہ اور حسد کی وجہ سے رسالت حضور ﷺ کو کیوں مل گئی اور پھر مزید اس وجہ سے کہ اس رسالت نے ان کی تمام گندی کو بےکم وکاست ریکارڈ کردیا یہ لوگ سرکشی اور کفر و انکار کی راہ پر مزید آگے ہی بڑھیں گے ۔ اس لئے کہ انہوں نے ایمان لانے سے انکار کردیا ۔ لہذا ایمان کے برعکس راہ کفر ہی پر یہ لوگ آگے بڑھتے چلے جائیں گے ۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے اور مزید کفر کرنے کی وجہ سے اور اپنی فطری سرکشی اور طغیان کی وجہ سے یہ لوگ اس راہ میں مزید آگے بڑھیں گے اور حضور اکرم ﷺ ان کے لئے روزوبال وجان بنتے چلے جائیں گے ۔
مستقبل کے لئے ان کی ایک دوسری خصوصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ یہ لوگ ایک دوسرے کے بھی دشمن ہوں گے ۔ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ سخت بعض ہوگا اور جب بھی وہ اسلام کے خلاف کوئی زبردست سازش تیار کریں گے اور جنگ کی آگ بھڑکائیں گے اور تحریک اسلامی کے خلاف کوئی جنگی اسکیم تیار کریں گے اللہ تعالیٰ اس کو ختم کر دے گا اور جماعت مسلمہ کو بچا لے گا ۔
(آیت) ” والقینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیمۃ کلما اوقدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ (5 : 64) ” ہم نے انکے درمیان قیامت کے لئے عدوات اور دشمنی ڈال دی ہے جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکا تے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے ۔ “ آج تک یہودی فرقے ایک دوسرے کے دشمن ہیں ۔ “ اگرچہ آج کے دور میں بظاہریہ نظر آتا ہے کہ عالمی یہودیت متحد ہوگئی ہے ۔ اور اسلامی ممالک میں وہ جابجا جنگ کے شعلے بھڑکا رہی ہے اور کامیاب ہے ۔ لیکن بات یہ نہیں ہے کہ ہم تاریخ کے ایک مختصر عرصے کو سامنے رکھ کر بات کریں یا کسی ایک مظہر کو اور کسی صورت حال کے ایک پہلو ہی کو دیکھ کر فیصلہ کردیں ۔ گزشتہ چودہ سو سال کے اندر بلکہ اسلام سے پہلے کے ادوار میں بھی ‘ یہودی ذلیل اور باہم دست و گریبان رہے ہیں اور اس کی وجہ سے ہمیشہ جلاوطن اور دوبدر پھرتے رہے ہیں ۔ ان کا آخری انجام بھی وہی ہوگا جس پر وہ پہلے تھے چاہے ان کے اردگرد جس قدر سہارے ہوں ۔ لیکن اصل کنجی تو یہ ہے کہ آیا دنیا میں کوئی اسلامی رجمنٹ بھی ہے یا نہیں ؟ یہ اسلامی رجمنٹ ہی ہے جس کے ہاتھوں ان کی ذلت لکھی ہوئی ہے ۔ چونکہ اس وقت ایمان میں پختہ کار لوگوں کی رجمنٹ مفقود ہے ‘ جو اللہ کے وعدوں پر بھروسہ کرتی ہے اور جو دست قدرت کا آلہ اور ذریعہ بنتی ہے اور اس رجمنٹ کے ذریعے اللہ وہ کچھ کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں ۔
ہاں جب یہ امت اسلامی نظریہ حیات پر جمع ہوگی ‘ ایمان کی حقیقت اپنے اندر پیدا کرلے گی ‘ اپنی پوری زندگی کو اسلامی نظام حیات کے مطابق بنائے گی اور اسلامی شریعت کو نافذ کرے گی ‘ اس دن پھر اللہ کا وعدہ اس کی مخلوقات میں سے ان شریر ترین لوگوں پر صادق ہوگا اور یہودیوں کو اس بات کا اچھی طرح احساس ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ترکش میں شرارت اور سازش کے جو تیر بھی ہیں وہ اسلامی صفوں کے خلاف چلاتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں جس قدر گرفت ہے وہ اسے ان اسلامی دستوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں جو احیائے علوم کی تحریک کے ہر اول دستے بن رہے ہیں یہ یہودی تمام دنیا میں چھان بین کر رہے ہیں اور اپنے گماشتوں کے ذریعے یہ جگہ جگہ ان اسلامی رجمنٹوں کا سر کچل رہے ہیں ۔ نہایت ہی وحشیانہ جرائم اور نہایت ہی ناپسندیدہ کاروائیاں وہ اسلامی لیڈر شپ کے خلاف کر رہے ہیں ۔ وہ اس اسلامی رجمنٹ کے خلاف کسی بھی عہد موالات اور کسی بھی ذمے اور کسی بھی قومی اور بین الاقوامی چارٹر کا کوئی خیال نہیں کرتے لیکن اللہ نے اپنے معاملات اپنے ہاتھ میں رکھتے ہوئے ہیں اس کا وعدہ سچا ہے کہ حزب اللہ ہی غالب ہوگی ۔
(آیت) ” والقینا بینھم العداوۃ والبغضاء الی یوم القیمۃ کلما اوقدوا نارا للحرب اطفاھا اللہ (5 : 64) ” ہم نے انکے درمیان قیامت کے لئے عدوات اور دشمنی ڈال دی ہے جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکا تے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے ۔ “
یہ شروفساد جس کے نمائندے اور جس کے ماڈل یہود ہیں ‘ دائمی امر نہیں ہے ۔ ایک دن آئے گا کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسا دستہ اٹھائے گا جو اسے پاش پاش کر دے گا ۔ اللہ تعالیٰ فساد فی الارض کو پسند نہیں کرتا اور جس چیز کو اللہ پسند نہیں کرتا تو ضروری ہے کہ ایک ایسی قوت اٹھائے جو اسے پاش پاش کر دے ۔
(آیت) ” ویسعون فی الارض فسادا ۔ واللہ لا یحب المفسدین (5 : 63) ” یہ زمین میں فساد پھیلانے کی سعی کر رہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہر گز پسند نہیں کرتا۔ “
اس سبق کے آخر میں عظیم ایمانی اصول کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ وہ یہ کہ خطہ ارض پر دین کے قیام اور اسلامی نظام کے قیام کے معنی یہ ہیں کہ اس میں اصلاحی کام ہوں گے ‘ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے ‘ ان کی دنیاوی فلاح و بہبود کے کام زوروں پر ہوں گے اور فلاح دنیا کے ساتھ ساتھ انہیں فلاح آخرت بھی نصیب ہوگی ۔ اس خطہ ارض پر پھر دنیا اور آخرت میں فرق نہ ہوگا اور نہ وہاں دین دنیا میں تضاد ہوگا یہ نظام بیک وقت دنیا اور آخرت کا ضامن ہوگا اور اس میں دین اور دنیا علیحدہ نہ ہوں گے ۔ اس عظیم تبدیلی کا ذکر اس بات کے بعد کیا جاتا ہے کہ اہل کتاب نے اللہ کے دین سے انحراف کرلیا ہے ۔ وہ حرام خور ہوگئے ہیں اور انہوں نے احکام شریعت کے مفہوم کو بدل دیا ہے ۔ یہ کام انہوں نے محض دنیاوی مفادات کے حصول کے لئے کیا ہے حالانکہ اگر وہ اپنے اصل دین کا اتباع کرتے تو یہ ان کے لئے دنیا وآخرت اور آسمان و زمین دونوں میں ان کے لئے اچھا ہوتا بشرطیکہ وہ صحیح راہ اختیار کرتے ۔
المائدة 5:65
(آیت) ” نمبر 65 تا 66۔
ان دو آیات کے اندر اسلامی تصور حیات کا ایک عظیم اصول بیان کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو آیات سے انسانی زندگی کی ایک اساسی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہاں اس اصول کی مناسب وضاحت کی ضرورت ہے اور دور جدد میں اس وضاحت کی ضرورت پہلے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ عقل انسانی اور انسانی پیمانے اور انسانی حالات بدلتے رہتے ہیں اور ان میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ دور جدید کے ان اضطرابات اور فکری انتشار کی وجہ سے اس عظیم حقیقت کے سمجھنے میں بھی انسان صحیح راہ گم کرسکتا ہے ۔
یہاں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور اگر وہ ایمان لے آئیں تو اللہ ان کی تمام تقصیرات معاف کردے گا اور انہیں جنت نعیم میں داخل کر دے گا اور یہ تو ہے جزائے آخرت ۔ لیکن اگر انہوں نے اپنی اس دنیا کی زندگی میں اللہ کا وہ نظام رائج کیا ہوتا جو تورات اور انجیل میں ان کے ہاں موجود تھا اور جو تعلیمات اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کی تھیں جن میں انہوں نے بعد میں تحریف کردی تھی ‘ تو اگر وہ ایسا بھی کرتے تو ان کو کم از کم یہ دنیاوی زندگی تو اچھی طرح گزرتی ۔ ان کے ہاں ترقی ہوتی اور ان کے رزق حلال میں اضافہ ہوتا اور ان کے اوپر آسمان سے رزق نازل ہوتا اور ان کے نیچے سے زمین ان کے لئے سونا اگلتی ‘ پیداوار زیادہ ہوتی اور ان کے درمیان وہ خوب تقسیم ہوتی اور ان کے دنیاوی امور ومسائل سب کے سب حل ہوجاتے ۔ لیکن افسوس کہ نہ تو وہ ایمان لاتے ہیں ‘ نہ خدا ترسی کی روش اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی وہ اسلامی نظام زندگی نافذ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہاں ان میں سے قلیل لوگ ان کی تاریخ میں ایسے رہے ہی جو صراط مستقیم پر چلنے والے تھے اور اپنے نفوس کے خلاف انہوں نے ظلم نہ کیا تھا لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ بد عمل تھے ۔ (آیت) ” وکثیر منھم سآء ما یعملون “۔ (5 : 66) یوں ان دو آیات سے بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا قیام اور اس دنیا کی زندگی میں اسلام پر عمل پیرا ہونا صرف اس بات کا ضامن نہیں ہے کہ وہ ایسا کرنے والوں کے لئے اخروی زندگی کی بھلائی کے اسباب فراہم کردے گا ۔ اگرچہ اسلامی نظام کے قیام کا بڑا اور دائمی مقصد فلاح اخروی کا حصول ہے ۔ وہ بھی نہایت ہی اہم اور دائمی مقصد ہے لیکن اقامت دین اس دنیا کے مسائل کا بھی حل ہے اور دین قائم کرنے والوں کی دنیا بھی اچھی ہوگی ۔ اس دنیا کے وسائل زیادہ ہوں گے ‘ ان کی تقسیم بہت ہی اچھی طرح ہوگی ۔ معاشرے کے اندر ایک کفالتی نظام قائم ہوگا اور معاشرہ دنیاوی اعتبار سے خود کفیل ہوجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسلامی معاشرے کے اندر پائی جانے والی معاشی خوشحالی کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں اس تصویر کشی میں فیضان اور کثرت کا اظہار ہے ۔ (لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم “۔ (5 : 66) ” تو ان کے اوپر سے رزق برستا اور وہ کھاتے اور نیچے سے ابلتا “۔ یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر کے مطابق یہ بات نہیں ہے کہ ایک راستہ علیحدہ ہے جو جس وقت انسان اس راستے سے ادھر ادھر ہوگیا تو سمجھو کہ اس کی دنیا وآخرت خراب ہوگئی ۔ یہ واحد راستہ ایمان ‘ خدا ترسی اور اقامت دین کا راستہ ہے اور دینی نظام کے تحت زندگی گزارنے کا راستہ ہے ۔
یہ نظام صرف عقیدے ‘ صرف نظریئے اور صرف قلبی شعور کا نام نہیں ہے ۔ بیشک یہ چیزیں بھی اس کے اندر ہیں لیکن درحقیقت یہ قلبی شعور کے ساتھ انسانی زندگی کے لئے ایک عملی نظام بھی ہے جس کی اقامت فرض ہے اور اس کے مطابق زندگی کو تبدیل کرنا فرض ہے ۔ اور اقامت دین کے ساتھ ساتھ تقوی کی بھی ضرورت ہے ۔ تقوی ہی وہ معیار ہے جس کے ذریعے اس دنیا میں زندگی کو درست کیا جاسکتا ہے ۔ اسی کے ذریعے اس دنیا کی زندگی کا نظام درست ہو سکتا ہے اور رزق کی فراوانی ہو سکتی ہے ۔ ملک کے اندر پیداوار بڑھ سکتی ہے ‘ اس کی اچھی تقسیم ہو سکتی ہے تاکہ سب لوگ کھائیں اور پئیں اور اس نظام کے اندر ان کے لئے آسمان سے رزق برسے اور زمین ابلے ۔
ایمانی نظام حیات میں دین داری کے لئے ترک دنیا لازمی نہیں ہے اور نہ ہی سعادت اخروی کے حصول کے لئے دنیا میں ذلت اور خواری ضروری ہے ۔ آخرت کے لئے اس دنیا سے گزرنے کے سوا کوئی اور راہ نہیں ہے ۔ یہ وہ باتیں ہیں جنہوں نے آج دنیا کے لوگوں کے افکار کو دھندلا کردیا ہے اور ان افکار کی وجہ سے لوگوں کی عملی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے ۔
لوگوں کی سوچ میں دنیا اور آخرت کے راستے جدا جدا ہیں اور اس کی وجہ سے ان کے طرز عمل میں بھی ایک عظیم فرق واقعہ ہوجاتا ہے ۔ چناچہ ایک عام آدمی کی سوچ میں دنیا اور آخرت کے امتزاج کی کوئی صورت نہیں ہوتی ۔ اس طرح اس کرہ ارض پر پھیلی ہوئی دنیا کی سوچ میں بھی کوئی ایسی صورت نہیں ہے کہ دنیا اور آخرت کی راہ ایک ہوجائے ۔ ان لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ یہ لوگ یا تو دنیا اختیار کریں گے اس صورت میں انہیں آخرت کو ترک کرنا ہوگا اور یا وہ آخرت کی راہ لیں گے اور اس کے لئے انہیں دنیا ترک کرنا پڑے گی ۔ ایسا کوئی تصور نہیں ہے جس میں دنیا اور آخرت ایک ہی نظام میں جمع ہوجائیں اس لئے کہ اس دور میں لوگوں کی حقیقت صورت حال ‘ اس کے طور طریقے انسان کو اس طرح سوچنے پر مجبور کرتے تھے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ گمراہ جاہلیت ‘ بے خدا جاہلیت اور اسلامی نظام سے بیخبر جاہلیت نے دنیا اور آخرت کے راستوں کو دور دور اور جدا کردیا ہے ۔ وہ ان دونوں راستوں کے درمیان فاصلے بڑھاتی چلی جاتی ہے اور دین کو بیخ وبن سے اکھاڑ کو پھینک دینا چاہتی ہے ۔ اس جاہلیت نے یہ لازم کردیا ہے کہ معاشرے کے اندر نمایاں ہونے اور دنیا کے مفادات حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ راہ آخرت کو سرے سے بھلا دیا جائے ۔ ان دینی ہدایات کو قربان کردیا جائے ۔ بلکہ اخلاقی قدروں کو ترک کرلیا جائے اور بلند تصورات اور پاکیزہ طرز عمل کو چھوڑ دیا جائے اور یہی وہ امور ہیں جن پر ہمارا دین زور دیتا ہے ۔ چناچہ جو لوگ آخرت کے طلبگار ہیں انہوں نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ وہ اس زندگی کی تگ ودو سے علیحدہ ہوجائیں کیونکہ اس زندگی کے طور طریقے گندے ہیں اور ان ذریع سے جو لوگ معاشرے میں نمایاں ہوتے ہیں اور منافع کماتے ہیں وہ غلط طور طریقوں میں ملوث ہیں۔ کاروبار کے تمام ذرئع گندے ہیں اور انہیں صاف نہیں کیا جاسکتا اور نہ ان کو دین واخلاق کے مطابق بنایا جاسکتا ہے ۔ یہ ذرائع اللہ کی مرضی کے مطابق بن ہی نہیں سکتے اس لئے اگر دین میں کمال حاصل کرنا ہے تو دنیا سے قطع تعلق کرنا ہوگا ۔
یہ جدید جاہلیت اس موجودہ صورت حالات کو حتمی سمجھتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ اس بری صورت حال سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ دنیا وآخرت کے درمیان اتحاد ممکن نہیں ‘ نہ ان دو راستوں کا ملانا ممکن ہے ‘ حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ یہ کوئی ناقابل اتحاد صورت حال نہیں ہے ۔ دنیا آخرت کے درمیان تضاد اور دنیا اور آخرت کے راستوں کے درمیان یہ جدائی جو جاہلیت نے پیدا کردی ہے یہ کوئی آخری اور فیصلہ کن حقیقت نہیں ہے ‘ نہ یہ صورت حال ناقابل تغیر اور ناقابل اصلاح ہے ۔ بلکہ موجودہ صورت حال نہایت ہی غیر فطری ہے اور اس کا تبدیل کیا جانا لازمی ہے ۔ یہ تو ایک عارضی چیز ہے اور موجودہ حالات انسانیت پر مسلط کئے ہوئے حالات ہیں۔
اصل حقیقت وہ ہے جس میں دنیا وآخرت کی راہ ایک ہو ۔ آخرت کی بھلائی کی راہ بھی وہی ہو ‘ جس میں دنیا کی بھلائی ہو ‘ اور جس میں دنیا کا پیداوار عمل ‘ ترقی اور نشوونما ‘ کثرت پیداوار اور زراعت اور زمین کی ترقی کی راہ ہی ثواب آخرت کا باعث اور ذریعہ ثابت ہو۔ جس طرح یہ کام اس دنیا کی بھلائی کے کام ہیں اسی طرح ایمانداری ‘ خدا ترسی اور عمل صالح بھی اس دنیا کی تعمیر و ترقی کا باعث ہوں ۔ جس طرح یہ امور اللہ کی رضا کا سبب ہوں اور ان پر آخرت میں ثواب ملے اسی طرح یہ امور ہماری دنیاوی ترقی کا باعث ہوں۔
انسانی فطرت اور مزاج کے مطابق اور اصلی اور سیدھی راہ ہی ہے ۔ اس فطری اور اصلی راہ پر انسانیت کا گامزن ہونا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسانی زندگی اس نظام کے مطابق ڈھل جائے جو اللہ کا پسندیدہ ہے اس لئے کہ یہ نظام ہی تمام اعمال کو عبادت بنا دیتا ہے اور یہی تو وہ نظام ہے جو انسان کے عمل خلافت فی الارض کو عبادت بنا دیت ہے ۔ خلافت فی الارض کیا چیز ہے ‘ یہ عبارت ہے عمل اور پیداوار سے ‘ زیادہ سے زیادہ ترقی اور نشوونما سے ۔ انسان کو جو رزق آسمانوں کے ذریعے ملتا ہے اس کی منصفانہ تقسیم خلافت ہے ۔ ذراغور کیجئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں کیا فرماتے ہیں ۔
اسلامی تصور حیات کے مطابق اس زمین پر انسان اللہ کا خلیفہ ہے ۔ یہ خلافت اسے اللہ کے اذن سے حاصل ہوئی ہے اور یہ ایک مشروط خلافت ہے ۔ وہ یہ کہ عمل خلافت اسلامی منہاج کے مطابق ہو اور نظام خلافت نظام شریعت کے مطابق چلے ۔ انسان اللہ کا مطیع ہو اور آخرت کے ثواب کا طلبگار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا کوئی عمل جس سے دنیا میں کوئی پیداوار حاصل ہو یا وہ عمل جس سے خام مال کام میں لایا جائے اور لوگوں کے لئے اسے مفید بنایا جائے ‘ خواہ وہ زمین کے اندر ہو یا مافوق کائنات کے اندر ہو ‘ یہ تمام کام اس نظریہ خلافت فی الارض کے تحت آتے ہیں اور عبارت قرار پاتے ہیں ۔ اس خلافت کے عمل ہی کا نتیجہ ہے کہ اگر انسان اس پر درست طور پر چلے تو اسے زمین کے اندر سے بھی رزق ملے گا اور آسمانوں سے بھی اس پر فیضان اور نزول برکات ہوگا ۔ یہ بات قرآن کریم کے انداز تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہو سکتی ہے ۔
اسلامی تصور حیات کے مطابق جو انسان زمین کے سینے کو نہیں چیرتا ‘ اس سے چشمے اور نہریں نہیں نکالتا اور اس کائنات کے دوسرے قدرتی وسائل کو کام میں نہیں لاتا ‘ وہ اللہ کا نافرمان اور گنہگار ہے اور فریضہ خلافت فی الارض کی ادائیگی سے پہلوتہی کرتا ہے جس کے لئے اسے اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا ۔ (آیت) ” انی جاعل فی الارض خلیفۃ) ” میں زمین کے اوپر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں “۔
اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” وسخرلکم مافی السموات وما فی الارض جمیعا منہ) ” اور اس نے مسخر کیا تمہارے لئے وہ سب کچھ جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے خود اپنی جانب سے “۔ اگر کوئی شخص ترقیات کا کام نہیں کرتا تو وہ گویا اس رزق کو معطل رکھتا ہے جو اللہ نے اس کے لئے پیدا کیا ہے اور جب اس نے اپنی دنیا کو خسارے میں ڈال دیا تو اس کے ساتھ ہی آخرت کا خسارہ بھی ہوگیا ۔
اس نظریے کے مطابق اسلامی منہاج حیات دنیاوی عمل اور اخروی کامیابی کے درمیان ایک حسین امتزاج اور ہم آہنگی پیدا کردیتا ہے ۔ اس لئے اسلام انسان کو یہ مشورہ نہیں دیتا کہ وہ ترک دنیا کرے تاکہ اسے آخرت ملے وہ یہ مشورہ بھی نہیں دیتا کہ وہ آخرت ترک کر دے تاکہ اس کی دنیا بہتر ہوجائے ۔ اس لئے کہ دنیا اور آخرت کے درمیان ‘ اسلامی تصور حیات کے مطابق کوئی تضاد نہیں ہے یہ نہ متضاد ہیں اور نہ متبادل ہیں۔
اس دنیا کے تمام انسان اسلامی تصور حیات کے مطابق اللہ کی جانب سے مقام خلافت فی الارض پر فائز ہیں ۔ تمام اقوام وملل کے انسان خلیفۃ اللہ ہیں۔ جنس انسان خلیفہ ہے لیکن کیا یک فرد انسان کی ذمہ داری اس دنیا کے معاملے میں کوئی مختلف ہے ۔ نہیں وہ بھی خلفیہ ہے ‘ اسلامی تصور حیات کے مطابق جو انسانی جماعت کا فریضہ ہے وہ ایک انسان پر بھی فرض ہے ۔ فرد اور معاشرے کے فرائض میں کوئی فرق ‘ کوئی تضاد اور تعارض ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے اسلام ہر فرد پر یہ فرض کرتا ہے کہ وہ اپنی پوری جسمانی اور عقلی قوت کو زمین و آسمان کے قدرتی وسائل رزق کی ترقی میں صرف کرے لیکن یہ عمل وانتاج اور یہ کثرت پیداوار اللہ کے لئے ہو اس عمل میں وہ کوئی ظلم نہ کرے ‘ کسی کے ساتھ غداری نہ کرے ۔ اس میں چوری نہ کرے خیانت نہ کرے ‘ حرام نہ کھائے اپنے دوسرے بھائی کا حق نہ مارے ‘ اور اس کے پاس جو وسائل جمع ہوں ان کو تقسیم کرے اگرچہ یہ وسائل اسکی انفرادی ملکیت میں ہوں اور اسے ان کے رکھنے کا پورا پورا حق ہو ۔ معاشرے کو اس کے وسائل سے اور اس کی پیداوار سے وہی کچھ لینے کا حق ہو جو اللہ نے مقرر کیا ہے ان حدود وقیود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے والے کے اس کام کو اسلامی نظام ایک عبادت قرار دیتا ہے ۔ اس عبادت کا فائدہ اسے دنیا میں بھی ہوگا آخرت میں بھی ہوگا ۔ پھر یہ اسلامی نظام حیات ایک فرد اور اس کے رب کے درمیان ایک مخصوص رابطہ ان عبادات کے ذریعے ہوتا ہے جو اسلامی نظام نے تعلق باللہ کے لئے تجویز کی ہیں تاکہ اس فرد انسان کا تعلق اپنے رب کے ساتھ قائم رہے ۔ مثلا بذریعہ فرضیت نماز دن میں پانچ مرتبہ یہ تعلق تازہ سے تازہ ہوتا رہے ۔ رمضان شریف میں سال میں ایک ماہ بذریعہ صیام رمضان قوی سے قومی تر ہوتا رہے ۔ پھر ساری عمر میں کم از کم ایک بار حج کرکے یہ رابطہ اب مزید مستحکم سے مستحکم ہوتا چلا جائے اور وہ مذکورہ بالا جو پیدا واری عمل کرتا ہے اس سال میں ایک بار زکوۃ ادا کرکے یہ رابطہ مضبوط ہوتا رہے ۔
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی عبادات کی اسلامی نظام میں کیا قدر و قیمت ہے ۔ یہ گویا اللہ کے ساتھ ایک قسم کا تجدید عہد کرتا ہے ۔ اس نظام حیات کی ذمہ داریوں میں وہ ذمہ داریاں بھی شامل ہیں جو اس نے اس کرہ ارض پر پیداواری عمل ‘ دولت کی منصفانہ تقسیم اور لوگوں کے درمیان جب اختلافات پیدا ہوجائیں تو ان کے مقدمات کے فیصلوں کے سلسلے میں ادا کرنی ہیں۔ ان عبادات کے ذریعے اس کے اندار از سر نو شعور تازہ ہوتا ہے کہ اللہ اس کا اس سلسلے میں مدد گار ہے ۔ وہ تمام فرائض جو اسلام کے اجتماعی نظام کے قیام اور اس کے انتظام وانصرام کے سلسلے میں اس پر عائد ہوتے ہیں اللہ ان میں اس کا مدد گار ہے ۔ اس راستے میں اس کی اپنی خواہشات ‘ نفسانی تقاضے ‘ لوگوں کا بغض وعناد ‘ لوگوں کا انحراف اور فسق وفجور وغیرہ جو رکاوٹیں پیدا کریں گے اللہ اس میں معاون ہوگا ۔
یہ اسلامی عبادات اور اس دنیا کی سرگرمیاں مثلا پیدا واری عمل ‘ تقسیم ‘ دولت اور انتظامیہ اور عدلیہ کے کام اور اللہ کے نظام کے قیام کے سلسلے میں اقدام ودفاع اور اسلامی مملکت کے قیام وغیرہ کے تمام کاموں سے کوئی علیحدہ چیز نہیں ہے ۔ ایمان ‘ خدا ترسی اور تقوی بھی اس اسلامی نظام کا ایک حصہ ہیں جس طرح کا حصہ دوسرے امور حیات ہیں ۔ چناچہ یہی وہ تصور حیات ہے جس کے مطابق ایمان اور تقوی اس دنیا میں فراوانی رزق اور کثرت پیداوار کا باعث بنتے ہیں اور جس کی صراحت یہ دو آیات کرتی ہیں ۔
اسلامی تصورحیات اور اس سے مستنبط ہونے والا اسلامی نظام زندگی کو اخروی زندگی کو اس زندگی پر ترجیح دیتا ہے اور نہ اس زندگی کو اخروی زندگی پر ترجیح دیتا ہے ۔ اسلامی تصور کے مطابق دنیا وآخرت سفرانسانی کے دو مراحل ہیں اور یہ ایک ہی راستے کی دو منزلیں ہیں ۔ ایک ہی راہ اور ایک ہی جدوجہد سے دونوں کا حصول ہوتا ہے لیکن دنیا وآخرت کا یہ معجون صرف اسلامی نظام زندگی کے طریق کار کے مطابق تیار ہو سکتا ہے ۔ یہ مقصد صرف اسلامی نظام کے اتباع میں حاصل ہو سکتا ہے اور وہ بھی صرف اس صورت میں کہ دنیا میں خالص اسلامی نظام رائج کیا جائے ۔ اس کے اندر کوئی دوسرا نظام داخل نہ کیا جائے ‘ نہ اس کے اندر کوئی ایسی چیز ہو جو اسلامی نظام کی نہ ہو ۔ نہ اس کے اندر کسی شخص کے ذاتی رجحانات کو شامل کیا جائے ۔
اسلامی نظام اور اس پر اسلامی تصور حیات ایمان ‘ تقوی اور صالحیت کی ایسی تعبیر نہیں کرتا کہ وہ دنیاوی سرگرمیوں پیداوار ‘ نشوونما ‘ زندگی کی تحسین وتجمیل کے مخالف یا متبادل ہو ‘ یا ایسا بھی تصور نہیں دیتا کہ وہ آخرت اور حصول جنت کے لئے راہ کی نشاندہی تو کرے مگر ان کے لئے دنیاوی بہتری اور دنیا کو جنت بنانے کے لئے آزاد چھوڑ دے کہ وہ اپنے لئے خود ہی کوئی راہ بنائی جس طرح چاہیں۔ یہ تصور ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اس دور جدید میں اسلام کا محض سطحی مطالعہ کیا ہے ۔ رہا اسلامی تصور حیات تو اس کے اندر تمام سرگرمیاں ‘ تمام پیداواری اعمال ‘ نشوونما کے طریقے ‘ اور اس زندگی کی ہر قسم کی تحسین وتجمیل اسلام کا تقاضا ہیں اور تصور خلافت فی الارض کے فرائض ہیں جبکہ یہ خلافت تمام انسانوں کا حق ہے ۔ ایمان ‘ عبادت اصلاح اور تقوی وہ رابطے ‘ وہ ضابطے ‘ وہ محرکات اور وہ دواعی ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کی زندگی میں اسلامی نظام عملا قائم ہوتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں مل کر انسان کو جنت ارضی اور جنت ساوی کا اہل اور مستحق بناتی ہیں ۔ یہی ہے صحیح راستہ اور اس کے مطابق الدین اور عملی مادی زندگی کے درمیان کوئی دوئی اور تضاد نہیں ہے ۔ جس طرح اس وقت تمام کرہ ارض پر پھیلی ہوئی مادی جاہلیتوں نے یہ صورت حال بنا دی ہے کہ دین اور مادیت کے درمیان فرق کردیا گیا ہے ۔ اس سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ الجھن پیدا ہوتی ہے کہ آخرت کے حصول کے لئے ترک دنیا لازم ہے اور یہ کہ کسی تصور اور کسی عملی نظام کے مطابق دنیا وآخرت کے درمیان اجتماعی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی دنیا وآخرت اکٹھے ہو سکتے ہیں ۔
یہ مکروہ فرق جو دنیا اور آخرت کے راستوں کے اندر روا رکھا گیا ہے ‘ دنیاوی اعمال اور آخروی اعمال کے درمیان جو لائن کھینچ دہ گئی ہے ‘ روحانی ترقی اور مادی ترقی کے درمیان جو بعد المشرقین پیدا کردیا گیا ہے اور دنیاوی زندگی میں کامیابی اور اخروی زندگی کی فلاح کے درمیان پیدا کردیا گیا ہے اور دنیاوی زندگی میں کامیابی اور اخروی زندگی کی فلاح کے درمیان جو بعد پیدا کردیا گیا ہے ۔ یہ مکروہ جدائی انسان پر تقدیر الہی نے نہیں عائد کی ، نہ قضا وقدر کے احکام الہیہ نے ایسی کوئی تفریق کی ہے ۔ یہ تو ایک نہایت ہی مکروہ بوجھ ہے جو انسانیت نے خود اپنے اوپر عائد کیا ہے اور یہ اس نے اس لئے عائد کرلیا ہے کہ اس نے اسلامی نظام زندگی کو اپنی زندگی سے جلا وطن کردیا ہے اور اپنے لئے از خود نظامہائے زندگی گھڑ لئے ہیں جو اسلامی زندگی سے متضاد اور مخالف ہیں۔
یہ وہ بوجھ ہے جس نے انسان کے اعصاب کو توڑ دیا ہے اور اس کی دنیاوی زندگی بھی تلخ ہوگئی ہے ۔ اس کی وجہ سے انسان کو جو اخروی ہلاکت ہوگی وہ اس سے بھی زیادہ سخت اور بہت ہی تلخ ہوگی ۔ لیکن یہ لوگ اس از خود عائد کردہ فریضے کو تسلسل کے ساتھ پورا کرتے چلے جاتے ہیں ۔
اس وجہ سے ان کی زندگی نہایت تلخ ہوگئی ہے ۔ وہ تحیر ‘ دل تنگی اور فکری پریشانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے اس لئے کہ وہ اللہ پر ایمان لانا بھی چاہتے ہیں اور ایسے معاشرے میں بھی زندہ رہ رہے ہیں اور ایسے بین الاقوامی حالات میں بھی رہ رہے ہیں جس کے طور طریقے ‘ جس کے افکار و تصورات اور جس کا تمام کاروبار اور جس کے تمام وسائل کسب ومعاش اور جس میں کامیابی کے تمام راستے اللہ کے راستے سے متضاد ہیں ۔ اس میں دینی تصورات اور دینی عقائد اور مروجہ اخلاقیات کے درمیان تضاد ہے ‘ اس کا طرز عمل اس کے قوانین اور ضابطے اور اس کی اقدار اور ترجیحات تمام کی تمام دین اور ضمیر کے خلاف ہیں ۔
اس وقت پوری انسانیت اس بدبختی کا شکار ہے ‘ چاہے وہ مادی اور الحادی مذاہب کی پیرو ہو یا کسی ایسے مادی مذہب کے تحت زندگی بسر کر رہی ہو جس کے پیرو کار اگرچہ مذہب کو مانتے ہوں لیکن مذہب کو علمی زندگی کے دائرے سے دور رکھے ہوئے ہوں یہ مذاہب ایسا سوچتے ہیں یا ان کے لئے انسانیت کے دشمن ایسی سوچ رائج کرتے ہیں کہ ” دین “ اللہ کے لئے ہے اور یہ زندگی لوگوں کے لئے ہے اور یہ کہ دین ’‘ اخلاق اور شعور اور عبادت پر مشتمل ہوتا ہے اور لوگوں کی عام زندگی کا نظام قانون اور طرز عمل اور پیداواری مشغولیات سب کی سب دین کے دائرے سے باہر ہوتی ہیں ۔
اس وقت پوری دنیا ایک جبری ٹیکس کے طور پر یہ بھاری قیمت ادا کررہی ہے ۔ بدبختی ‘ انتہائی قلق ‘ حیرانی ‘ پریشانی اور زندگی کا روحانی خلا ایک ایسا ٹیکس ہے جو انسان نے خود اپنے اوپر عائد کر رکھا ہے ۔ یہ ٹیکس اسے اس لئے ادا کرنا پڑتا ہے کہ یہ دنیا اسلامی نظام زندگی کو قبول نہیں کرتی جس میں دنیا اور آخرت کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے بلکہ اس نظام کے اجزائے ترکیبی میں دنیا اور آخرت دونوں شامل ہیں ۔ اس نظام میں دنیا میں حاصل ہونے والی سہولت و آرام اور آخرت میں حاصل ہونے والے آرام کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ان کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے ۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہے ‘ یہ کہ بعض اقوام جو ایمان سے بھی محروم ہیں ‘ نہ ان کے اندر خدا خوفی ہے اور نہ وہ اسلامی منہاج حیات کو تسلیم کرتی ہیں لیکن ان کے ہاں دنیاوی پیداوار دنیاوی سہولتیں ضروریات زندگی کی بڑی کثرت پائی جاتی ہے ۔ بیشک بعض ادوار میں دنیا کی تاریخ میں بعض عارضی وقفے ایسے رہے ہیں سین یہ قصے دیرپا نہیں رہے ۔ اس لئے ہم ان وقفوں کے اندر پائی جانے والی زندگی کی اللہ کی سنن ثانیہ قرار نہیں دے سکتے ۔ بہت جلد ہی ایسی امتوں اور سوسائٹیوں کے اندر دین ودنیا کی اس تفریق کے برے نتائج نمودار ہوئے ہیں اور آج کے دور میں لادینی معاشروں کے اندر درج ذیل برے آثار نمودار ہورہے ہیں ۔
(1) ۔ ان معاشروں کے اندر دولت کی تقسیم کے اندر توازن نہیں رہا ‘ بعض لوگ زیادہ امیر اور بعض زیادہ غریب ہوگئے ہیں ۔ ان معاشروں کے اندر بےپناہ مشکلات اور کینہ پروریاں پیدا ہوگئیں اور پھر خفیہ ایجنسیوں اور طبقاتی کشمکش کی وجہ سے آنے والے انقلابات کے خوف چھائے رہتے ہیں اور تمام لوگوں کی زندگیاں تلخی کا شکار ہیں ۔
(2) ۔ بعض قوموں کے اندر نہایت گھٹن ‘ جبر اور دباؤ کی فضا قائم ہوگئی ہے ۔ ان اقوام نے چاہا کہ زبر دستی دولت کو غیر فطری طریقے کے مطابق لوگوں کے اندر تقسیم کیا جائے ۔ اس غیرفطری تقسیم دولت کے نتیجے میں سخت توڑ پھوڑ اور خوف وہراس اور قتل و غارت معاشروں کی عادت بن گئی ۔ اس جبری تقسیم دولت کے نتیجے میں ان معاشروں میں نہایت ہی تشدد کا رواج ہوا ۔ یہ جبری نظام انسانیت پر وہ مصیبت لایا کہ تمام لوگوں کا اطمینان غارت ہوگیا اور لوگ آرام اور اطمینان کی ایک رات کے لئے ترس گئے ۔
(3) ۔ ان معاشروں کے اندر نفسیاتی اور اخلاقی بیماریوں نے جنم لیا اور اس کی وجہ سے جلد یا بدیر ان مادی معاشروں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا پڑے گا اس لئے کہ ہر سرگرمی ‘ مادی ترقیاں اور تقسیم دولت کے نظام کو بھی تو اخلاقی ضوابط درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مادی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں لوگ قانون کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں اور اس وقت ان تمام ممالک کے قانون نظام کو عوام کی جانب سے کوئی اخلاقی تائید حاصل نہیں ہے ۔
(4) ۔ ان نظاموں میں جہاں دین ودنیا کی تفریق ہوئی ہے لوگ اعصابی میں مبتلاہو جاتے ہیں ۔ آج دنیا کے نہایت ہی ترقی یافتہ ممالک کے اندر اعصابی بیماریاں سب سے زیادہ پائی جاتی ہیں اور ان کی اس بےاخلاق مادی ترقی نے ان کی ذہنی قوتوں اور قوت برداشت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ اس کی وجہ سے ان ممالک کے اندر پیداواری عمل اور پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے ‘ خود اقتصادی ترقی اور مادی سہولیات میں کمی ہو رہی ہے اور یہ وہ بڑے بڑے نتائج ہیں جو کافی واضح ہو کر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
(5) ۔ اس کے علاوہ وہ عظیم تباہی ‘ جس سے تمام انسانیت لرزاں ہے ‘ جس کا خطرہ ہر وقت سروں پر کھڑا ہے اور جس کی وجہ سے دنیا مضطرب ہے وہ خطرہ تباہ کن ‘ مکمل طور پر تباہ کن جنگ کا ہے ۔ یہ خطرہ ہر انسان کے اعصاب کو متاثر کر رہا ہے ‘ چاہے وہ جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں اور اس کی وجہ سے بھی کئی قسم کی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں ۔ سکتہ عارضہ قلب ‘ دماغی عارضہ اور اقدام خود کشی جیسی امراض جس طرح مغربی معاشرہ کے اندر پھیلی ہوئی ہیں اس طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں نہیں ہیں ۔
(6) ۔ یہ تمام آثار تمام ترقی یافتہ ممالک کے اندر واضح طور پر ظاہر ہو رہے ہیں اور جو قومیں اس کے نتیجے میں تباہی اور ٹوٹ پھوٹ کی طرف بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں ان میں سے ممتاز ترین فرانس ہے جو ہر لحاظ سے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ فرانس کی تباہی دوسروں کے لئے عبرت ہے اور اس تباہی کا سبب صرف یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ کے ربانی نظام کو دنیاوی ترقی کے میدان سے خارج البلد کردیا ہے ۔ دنیا اور آخرت کی راہیں جدا کردی گئی ہیں ۔ دین کو انسان کی زندگی سے نکال دیا گیا ہے ۔ لوگوں نے آخرت کے لئے زندگی کا نظام اللہ سے لینا شروع کردیا ہے اور دنیا کے لئے زندگی کا نظام وہ لوگوں سے لیتے ہیں اور اسلامی نظام اور لوگوں کے درمیان مکمل دوئی ہوگئی ہے۔
قرآن کریم نے اس عظیم اصول کو جس طرح وضع کیا ہے اس پر اپنے اس تبصرے کو ختم کرنے سے پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اسلامی نظام جس نے ایمان ‘ تقوی اور انسان کی واقعی زندگی کے درمیان جو حسین امتزاج پیدا کیا ہے اور جس طرح اخلاقیات کو عمل پیہم اور نظریہ خلافت فی الارض سے منسلک کیا ہے ‘ تو یہی وہ توازن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور دنیا میں بسنے والی تمام انسانی سوسائٹیوں کے لئے لازمی قرار دیا ہے ۔ اگر وہ اپنے اندر یہ حسین امتزاج پیدا کریں گے تو وہ رزق وافر پائیں گے ۔ آسمان ان کے لئے اپنے خزانے برسائے گا اور زمین اپنے خزانے اگل دے گی ۔ اس امتزاج کی صورت میں اگر ان سے دنیا میں کوئی اخلاقی کو تاہیاں بھی ہوں گی تو بھی آخرت میں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور دنیا میں ان کو فردوس ارضی ملے گی جس میں وافر ضروریات ‘ امن وسلامتی اور اطمینان قلب ہوگا اور آخرت میں جنت ملے گی جس میں نعیم مقیم ہوگا اور رضائے الہی ہوگی ۔
لیکن ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے بھی اور اس کی تاکید کرتے ہوئے بھی ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہ کرنا چاہئے کہ اسلامی نظام کا مرکزی ستون اور پہلا قاعدہ ایمان تقوی اور اسلامی نظامی کا قیام ہی ہے ۔ جب اسلامی نظام قائم ہوجائے تو فعالیت ‘ پیداوار ‘ ترقی اور تبدیلی جیسے عوامل خود بخود وجود میں آجاتے ہیں ۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ربط پیدا ہوجانے سے زندگی کے تمام امور کے اندر انسان کا ذوق بدل جاتا ہے ۔ تمام اقدار بلند ہوجاتی ہیں ۔ زندگی کے پیمانے درست ہوجاتے ہیں ۔ اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام حیات کا یہ اصل الاصول ہے ۔ تمام دوسری چیزیں اسی اصول بلکہ الاصول کے بعد وجود میں آتی ہیں تمام شاخیں اس سے پھوٹتی ہیں اور اس اصول کی طرف راجع ہوتی ہیں اور دنیا و آخرت کے تمام معاملات نہایت ہی توازن اور تناسق میں طے ہوتے چلے جاتے ہیں ۔
اب یہ بات آپ پلے سے باندھ لیں کہ ایمان ‘ تقوی ‘ عبادت ‘ اللہ سے ربط ‘ وصل الی اللہ اور زندگی میں شریعت کے قیام سے اللہ کو کیا فائدہ ہے ۔ یہ سب امور تو انسان ہی کی بھلائی کے لئے ہیں ۔ انسانی زندگی کے درست کرنے ہی کے لئے تو ہیں ۔ اللہ تو غنی بادشاہ ہے ۔ اسلامی نظام زندگی نے تمام امور کو ایمان باللہ اور تقوی پر موقوف کردیا ہے ۔ اگر ایمان نہیں ہے تو عمل باطل ہے ۔ تمام سرگرمیاں جو اس اصول پر مبنی نہ ہوں کالعدم ہیں ‘ محض ہوا و غبار ہیں ‘ نسیا ‘ منسیا ہیں اور ہوا میں تحلیل ہونے والی ہیں یہ کیوں ؟ کیا ان سے اللہ کو کوئی فائدہ ہے اگر تمام لوگ ایمان لائیں تو اللہ کو کوئی چیز ملتی ہے ‘ کیا لوگوں کے تقوی اور اسلامی نظام حیات کے مقام سے اللہ کو کوئی فائدہ ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ ان چیزوں کے سوا لوگوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ ان کے سوا ان کی فلاح ممکن بھی نہیں ہے ۔
حضرت ابوذر غفاری ؓ ایک حدیث قدسی میں حضور ﷺ سے روایت فرماتے ہیں ‘ اللہ نے فرمایا !
” اے میرے بندو ! میں نے تو اپنے اوپر ظلم حرام کرلیا ہے ‘ اور اسے میں نے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دے دیا ہے ۔ اس لئے باہم ظلم نہ کرو ۔ اے بندو ! تم میں سے صرف وہی ہدایت پر ہو گا جسے میں نے ہدایت دی باقی سب گمراہ ہوگے ۔ اس لئے ہدایت مجھ ہی سے طالب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو ! تم میں سے سب بھوکے رہیں گے الا وہ شخص کہ اسے میں نے کھانا دیا ۔ لہذا مجھ سے ہی رزق طلب کرو۔ میں تمہیں ضرور رزق دوں گا اے میرے بندو ! تم میں سے سب ننگے ہیں ۔ ماسوائے اس شخص کے جسے میں پہنا دوں۔ اس لئے مجھ ہی سے پوشاک طلب کرو ‘ میں تمہیں پوشاک دوں گا ۔ اے میرے بندو ! تم رات اور دن غلطیاں کرتے ہو اور میں تمہارے سب گناہ معاف کرتا ہوں ۔ لہذا تم مجھ سے ہی مغفرت طلب کرو ‘ میں تمہیں بخش دوں گا ۔ اے میرے بندو ! تم مجھے نقصان پہنچانے کی قدرت ہی نہیں رکھتے کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور تم مجھے نفع پہنچانے کی طاقت ہی نہیں رکھتے کہ مجھے نفع پہنچاؤ اے میرے بندو ! اگر تم سے پہلے شخص اور آخری شخص اور تمہارے سب انسان اور سب جنات اس معیار پر پہنچ جائیں جس پر تم میں کوئی ایک زیادہ سے زیادہ متقی ہو سکتا ہے تو اس سے میری شہنشاہیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ اے میرے بندو ! اگر تم سے پہلا شخص اور آخری شخص اور تمہارے سب انسان اور سب جن اس قدر برے ہوجائیں جس طرح تم میں کوئی ایک شخص ہو سکتا ہے تو وہ میری ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں کرسکتا ۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارا پہلا شخص اور آخری شخص اور تمہارے سب انسان اور سب جن ایک ہی میدان میں جمع ہوجائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کے سوال کو قبول کروں تو میرے خزانوں میں کوئی کمی نہ ہوگی ‘ صرف اس قدر کمی ہوگی جس طرح کوئی سوئی دریا میں ڈالے (اور نکالے) اے میرے بندو ! یہ تو تمہارے اعمال ہیں کہ میں تمہارے لئے گنتا ہوں اور پھر میں ان پر تمہیں جزا دیتا ہوں اگر کسی کو کوئی بھلائی نصیب ہو تو اسے چاہئے کہ اس پر میرا شکر ادا کرے ۔ اور اگر کسی کو بھلائی کے سوا کچھ ملے تو وہ صرف اپنے نفس کو ملامت کرے ۔ (روایت مسلم)
صرف یہ اساس ہے جس میں ہمیں ایمان ‘ تقوی ‘ عبادت ‘ اور اسلامی نظام حیات کے قیام اور نفاذ شریعت کو سمجھنا چاہئے ۔ یہ سب چیزیں تو ہمارے لئے ہیں ‘ انسانوں کے لئے ہیں ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ ان تمام امور کی ضرورت اس لئے درپیش ہوتی ہے کہ یہ انسان کی اصلاح و فلاح کے لئے ضروری ہیں ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس بات کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ شرط جو اہل کتاب کے لئے عائد کی گئی ہے ‘ صرف انکے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اہل کتاب کے لئے جس شرط کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان کی فلاح ایمان اور تقوی اور ان کے ہاں نازل کردہ کتب میں اسلامی نظام کے قیام پر موقوف ہے یعنی اقامت نظام تورات وانجیل پر ‘ ان ہدایات پر جو ان کے نبیوں کی زبانی دی گئیں تو یہ شرط ان کے لئے حضرت نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے دور کے لئے لگائی گئی ہے ۔ یہی شرط اب ہمارے لئے بھی ہے جن کی طرف قرآن کریم نازل کیا گیا ہے ۔ یہ شرط خود بخود ان لوگوں پر عائد ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے یہ مسلمان تو منصوص طور پر قرآن کریم پر بھی ایمان لاتے ہیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے اور دوسری کتابوں پر بھی ایمان لاتے ہیں جو ان سے پہلے نازل کی گئیں ۔ ان کے لئے ان احکام پر عمل کرنا بھی ضروری ہے جو ان پر نازل ہوئے اور ان پر بھی جو ان سے پہلے کی شریعتوں میں نازل ہوئے تھے اور اسلامی نظام نے ان کو منسوخ نہیں کیا ہے ۔ وہ تو مسلمان ہیں اور اسلام ان کا دین ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں تو دین اسلام کے سوا کوئی اور دین سرے سے مقبول ہی نہیں ہے ۔ نہ وہ اب اس دین کے سوا کوئی اور دین کسی کی جانب سے قبول کرتا ہے ۔
لہذا نتیجہ یہ نکالا کہ اہل کتاب کے لئے جو شرط برائے فلاح دنیا وآخرت مقرر کی گئی تھی وہ ہمارے لئے بطریق اولی شرط فلاح ہے ۔ اس کے ساتھ جو عہد کیا گیا تھا وہ ہمارے ساتھ بھی عہد ہے ۔ اور یہ لوگ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اللہ کی اس پسند کو قبول کریں جو اللہ نے ان کے لئے پسند کیا تھا ۔ اللہ کی اس شرط سے فائدہ اٹھائیں جس سے ان سے گناہ معاف ہوئے اور آخرت میں وہ جنت میں داخل ہوئے اور یہ کہ ان پر آسمان سے رزق کی بارش ہوئی اور زمین نے ان کے لئے سونا اگلا۔
اہل اسلام تو اہل کتاب کے مقابلے میں زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ اللہ کی اس شرط کو پورا کرکے فائدہ اٹھائین اس لئے کہ وہ اس وقت عالم اسلام میں بھوک ‘ افلاس ‘ خوف ‘ بیماری اور غربت میں مبتلا ہیں اور پورے عالم اسلام کی یہی حالت ہے ۔ یا اس مالک میں جو کبھی عالم اسلامی تھا اللہ کی شرط قائم ہے اور اس پر عمل کا طریقہ معلوم ہے اگر وہ سمجھیں یاسمجھنے کی کوشش کریں مگر افسوس کہ وہ نہیں سمجھتے ۔
درس نمبر 51 ایک نظر میں :
اس سبق میں بھی اہل کتاب کے حالات کو لیا گیا ہے ۔ یہود ونصاری دونوں کے حالات کو۔ ان کے نظریاتی انحراف کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کی تاریخی بداعمالیوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ خصوصا یہودیوں کا ذکر تفصیل سے ہوا ہے ۔ ان کے اور رسول اللہ کے باہمی تعلق کی تحدید کی گئی ہے ۔ نیز مسلمانوں کے ساتھ ان کے تعلق کو طے کیا گیا ہے ۔ پھر ان کے حوالے سے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کے فرائض کا تعین کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں ان عظیم نظریاتی امور کو بھی طے کیا گیا ہے جو اسلامی تصور حیات کی اساس کا درجہ رکھتے ہیں۔ نیز جماعت مسلمہ کے لئے تحریکی اصول کار اور حدود بھی وضع کئے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو ان منحرف مقاصد و تصورات کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے ۔
حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ تک جو تعلیم آرہی ہے آپ اسے لوگوں تک پہنچا دیں ۔ پوری کی پوری تعلیمات لوگوں تک منتقل کردیں ۔ ان میں سے کوئی چیز رہنے نہ پائے اور حالات سے متاثر ہو کر کوئی چیز ترک یا مؤخر نہ کی جائے ۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ آپ نے فریضہ تبلیغ کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے ۔
اور یہ جو حضور ﷺ کو حکم دیا ہے کہ آپ بےکم وکاست پہنچا دیں اس میں سرفہرست یہ ہے کہ اہل کتاب کو یہ صاف صاف کہہ دیا جائے کہ جب تک تم توراۃ اور انجیل کو قائم نہ کرو اس وقت تک تمہاری کوئی پوزیشن نہیں ہے ۔ اس کے بعد جو اللہ کی طرف سے ہدایات آئی ہیں ان کی تبلیغ بھی ضروری ہے ۔ یہ تبلیغ اس طرح قطعی ‘ کھل کر ‘ صریح اور دو ٹوک انداز میں ہو کہ اس میں کسی قسم کا اجمال نہ ہو ۔ آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ یہودیوں نے انبیاء کو قتل کیا اور اللہ کے ساتھ طے پاجانے والے میثاق کو توڑ کر کفر کا ارتکاب کیا ۔ نصاری نے بھی عقیدہ توحید میں تحریف کر کے حضرت مسیح کو خدا سمجھا اور پھر یہ کہ عقیدہ تثلیث اختیار کیا ۔ یہ بھی صریح کفر کے مترادف ہے آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ عقیدہ شرک کے نتیجے میں ان پر جنت حرام ہوگی اور یہ بھی اعلان کردیں کہ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ذریعے بھی لعنت وملامت کی گئی اس لئے کہ وہ نافرمان اور بےعمل ہوگئے تھے ۔
اس سبق کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اہل کتاب اہل اسلام کے مقابلے میں اہل شرک کی حمایت کر رہے ہیں ۔ یہ بری حرکت وہ اس لئے کر رہے ہیں کہ ان کا اللہ کی ذات پر صحیح طرح ایمان نہیں ہے ۔ نبی کریم ﷺ کو تو وہ بہرحال نہیں مانتے ۔ لیکن اگر وہ اب نبی آخر الزمان پر ایمان نہ لائیں گے تو وہ مومن نہ ہوں گے ۔ اس اجمالی تبصرے کے بعد آپ تفصیلات ملاحظہ فرمائیں ۔
المائدة 5:66
(آیت) ” نمبر 65 تا 66۔
ان دو آیات کے اندر اسلامی تصور حیات کا ایک عظیم اصول بیان کیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دو آیات سے انسانی زندگی کی ایک اساسی حقیقت کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہاں اس اصول کی مناسب وضاحت کی ضرورت ہے اور دور جدد میں اس وضاحت کی ضرورت پہلے مقابلے میں بہت زیادہ ہوگئی ہے ۔ عقل انسانی اور انسانی پیمانے اور انسانی حالات بدلتے رہتے ہیں اور ان میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں ۔ دور جدید کے ان اضطرابات اور فکری انتشار کی وجہ سے اس عظیم حقیقت کے سمجھنے میں بھی انسان صحیح راہ گم کرسکتا ہے ۔
یہاں اللہ تعالیٰ اہل کتاب کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ ایمان لائیں اور اگر وہ ایمان لے آئیں تو اللہ ان کی تمام تقصیرات معاف کردے گا اور انہیں جنت نعیم میں داخل کر دے گا اور یہ تو ہے جزائے آخرت ۔ لیکن اگر انہوں نے اپنی اس دنیا کی زندگی میں اللہ کا وہ نظام رائج کیا ہوتا جو تورات اور انجیل میں ان کے ہاں موجود تھا اور جو تعلیمات اللہ تعالیٰ نے ان پر نازل کی تھیں جن میں انہوں نے بعد میں تحریف کردی تھی ‘ تو اگر وہ ایسا بھی کرتے تو ان کو کم از کم یہ دنیاوی زندگی تو اچھی طرح گزرتی ۔ ان کے ہاں ترقی ہوتی اور ان کے رزق حلال میں اضافہ ہوتا اور ان کے اوپر آسمان سے رزق نازل ہوتا اور ان کے نیچے سے زمین ان کے لئے سونا اگلتی ‘ پیداوار زیادہ ہوتی اور ان کے درمیان وہ خوب تقسیم ہوتی اور ان کے دنیاوی امور ومسائل سب کے سب حل ہوجاتے ۔ لیکن افسوس کہ نہ تو وہ ایمان لاتے ہیں ‘ نہ خدا ترسی کی روش اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی وہ اسلامی نظام زندگی نافذ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ہاں ان میں سے قلیل لوگ ان کی تاریخ میں ایسے رہے ہی جو صراط مستقیم پر چلنے والے تھے اور اپنے نفوس کے خلاف انہوں نے ظلم نہ کیا تھا لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ بد عمل تھے ۔ (آیت) ” وکثیر منھم سآء ما یعملون “۔ (5 : 66) یوں ان دو آیات سے بالکل واضح نظر آتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کا قیام اور اس دنیا کی زندگی میں اسلام پر عمل پیرا ہونا صرف اس بات کا ضامن نہیں ہے کہ وہ ایسا کرنے والوں کے لئے اخروی زندگی کی بھلائی کے اسباب فراہم کردے گا ۔ اگرچہ اسلامی نظام کے قیام کا بڑا اور دائمی مقصد فلاح اخروی کا حصول ہے ۔ وہ بھی نہایت ہی اہم اور دائمی مقصد ہے لیکن اقامت دین اس دنیا کے مسائل کا بھی حل ہے اور دین قائم کرنے والوں کی دنیا بھی اچھی ہوگی ۔ اس دنیا کے وسائل زیادہ ہوں گے ‘ ان کی تقسیم بہت ہی اچھی طرح ہوگی ۔ معاشرے کے اندر ایک کفالتی نظام قائم ہوگا اور معاشرہ دنیاوی اعتبار سے خود کفیل ہوجائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اسلامی معاشرے کے اندر پائی جانے والی معاشی خوشحالی کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں اس تصویر کشی میں فیضان اور کثرت کا اظہار ہے ۔ (لاکلوا من فوقھم ومن تحت ارجلھم “۔ (5 : 66) ” تو ان کے اوپر سے رزق برستا اور وہ کھاتے اور نیچے سے ابلتا “۔ یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر کے مطابق یہ بات نہیں ہے کہ ایک راستہ علیحدہ ہے جو جس وقت انسان اس راستے سے ادھر ادھر ہوگیا تو سمجھو کہ اس کی دنیا وآخرت خراب ہوگئی ۔ یہ واحد راستہ ایمان ‘ خدا ترسی اور اقامت دین کا راستہ ہے اور دینی نظام کے تحت زندگی گزارنے کا راستہ ہے ۔
یہ نظام صرف عقیدے ‘ صرف نظریئے اور صرف قلبی شعور کا نام نہیں ہے ۔ بیشک یہ چیزیں بھی اس کے اندر ہیں لیکن درحقیقت یہ قلبی شعور کے ساتھ انسانی زندگی کے لئے ایک عملی نظام بھی ہے جس کی اقامت فرض ہے اور اس کے مطابق زندگی کو تبدیل کرنا فرض ہے ۔ اور اقامت دین کے ساتھ ساتھ تقوی کی بھی ضرورت ہے ۔ تقوی ہی وہ معیار ہے جس کے ذریعے اس دنیا میں زندگی کو درست کیا جاسکتا ہے ۔ اسی کے ذریعے اس دنیا کی زندگی کا نظام درست ہو سکتا ہے اور رزق کی فراوانی ہو سکتی ہے ۔ ملک کے اندر پیداوار بڑھ سکتی ہے ‘ اس کی اچھی تقسیم ہو سکتی ہے تاکہ سب لوگ کھائیں اور پئیں اور اس نظام کے اندر ان کے لئے آسمان سے رزق برسے اور زمین ابلے ۔
ایمانی نظام حیات میں دین داری کے لئے ترک دنیا لازمی نہیں ہے اور نہ ہی سعادت اخروی کے حصول کے لئے دنیا میں ذلت اور خواری ضروری ہے ۔ آخرت کے لئے اس دنیا سے گزرنے کے سوا کوئی اور راہ نہیں ہے ۔ یہ وہ باتیں ہیں جنہوں نے آج دنیا کے لوگوں کے افکار کو دھندلا کردیا ہے اور ان افکار کی وجہ سے لوگوں کی عملی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے ۔
لوگوں کی سوچ میں دنیا اور آخرت کے راستے جدا جدا ہیں اور اس کی وجہ سے ان کے طرز عمل میں بھی ایک عظیم فرق واقعہ ہوجاتا ہے ۔ چناچہ ایک عام آدمی کی سوچ میں دنیا اور آخرت کے امتزاج کی کوئی صورت نہیں ہوتی ۔ اس طرح اس کرہ ارض پر پھیلی ہوئی دنیا کی سوچ میں بھی کوئی ایسی صورت نہیں ہے کہ دنیا اور آخرت کی راہ ایک ہوجائے ۔ ان لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ یہ لوگ یا تو دنیا اختیار کریں گے اس صورت میں انہیں آخرت کو ترک کرنا ہوگا اور یا وہ آخرت کی راہ لیں گے اور اس کے لئے انہیں دنیا ترک کرنا پڑے گی ۔ ایسا کوئی تصور نہیں ہے جس میں دنیا اور آخرت ایک ہی نظام میں جمع ہوجائیں اس لئے کہ اس دور میں لوگوں کی حقیقت صورت حال ‘ اس کے طور طریقے انسان کو اس طرح سوچنے پر مجبور کرتے تھے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ گمراہ جاہلیت ‘ بے خدا جاہلیت اور اسلامی نظام سے بیخبر جاہلیت نے دنیا اور آخرت کے راستوں کو دور دور اور جدا کردیا ہے ۔ وہ ان دونوں راستوں کے درمیان فاصلے بڑھاتی چلی جاتی ہے اور دین کو بیخ وبن سے اکھاڑ کو پھینک دینا چاہتی ہے ۔ اس جاہلیت نے یہ لازم کردیا ہے کہ معاشرے کے اندر نمایاں ہونے اور دنیا کے مفادات حاصل کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ راہ آخرت کو سرے سے بھلا دیا جائے ۔ ان دینی ہدایات کو قربان کردیا جائے ۔ بلکہ اخلاقی قدروں کو ترک کرلیا جائے اور بلند تصورات اور پاکیزہ طرز عمل کو چھوڑ دیا جائے اور یہی وہ امور ہیں جن پر ہمارا دین زور دیتا ہے ۔ چناچہ جو لوگ آخرت کے طلبگار ہیں انہوں نے اپنے اوپر لازم کردیا ہے کہ وہ اس زندگی کی تگ ودو سے علیحدہ ہوجائیں کیونکہ اس زندگی کے طور طریقے گندے ہیں اور ان ذریع سے جو لوگ معاشرے میں نمایاں ہوتے ہیں اور منافع کماتے ہیں وہ غلط طور طریقوں میں ملوث ہیں۔ کاروبار کے تمام ذرئع گندے ہیں اور انہیں صاف نہیں کیا جاسکتا اور نہ ان کو دین واخلاق کے مطابق بنایا جاسکتا ہے ۔ یہ ذرائع اللہ کی مرضی کے مطابق بن ہی نہیں سکتے اس لئے اگر دین میں کمال حاصل کرنا ہے تو دنیا سے قطع تعلق کرنا ہوگا ۔
یہ جدید جاہلیت اس موجودہ صورت حالات کو حتمی سمجھتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ اس بری صورت حال سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ دنیا وآخرت کے درمیان اتحاد ممکن نہیں ‘ نہ ان دو راستوں کا ملانا ممکن ہے ‘ حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ یہ کوئی ناقابل اتحاد صورت حال نہیں ہے ۔ دنیا آخرت کے درمیان تضاد اور دنیا اور آخرت کے راستوں کے درمیان یہ جدائی جو جاہلیت نے پیدا کردی ہے یہ کوئی آخری اور فیصلہ کن حقیقت نہیں ہے ‘ نہ یہ صورت حال ناقابل تغیر اور ناقابل اصلاح ہے ۔ بلکہ موجودہ صورت حال نہایت ہی غیر فطری ہے اور اس کا تبدیل کیا جانا لازمی ہے ۔ یہ تو ایک عارضی چیز ہے اور موجودہ حالات انسانیت پر مسلط کئے ہوئے حالات ہیں۔
اصل حقیقت وہ ہے جس میں دنیا وآخرت کی راہ ایک ہو ۔ آخرت کی بھلائی کی راہ بھی وہی ہو ‘ جس میں دنیا کی بھلائی ہو ‘ اور جس میں دنیا کا پیداوار عمل ‘ ترقی اور نشوونما ‘ کثرت پیداوار اور زراعت اور زمین کی ترقی کی راہ ہی ثواب آخرت کا باعث اور ذریعہ ثابت ہو۔ جس طرح یہ کام اس دنیا کی بھلائی کے کام ہیں اسی طرح ایمانداری ‘ خدا ترسی اور عمل صالح بھی اس دنیا کی تعمیر و ترقی کا باعث ہوں ۔ جس طرح یہ امور اللہ کی رضا کا سبب ہوں اور ان پر آخرت میں ثواب ملے اسی طرح یہ امور ہماری دنیاوی ترقی کا باعث ہوں۔
انسانی فطرت اور مزاج کے مطابق اور اصلی اور سیدھی راہ ہی ہے ۔ اس فطری اور اصلی راہ پر انسانیت کا گامزن ہونا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ انسانی زندگی اس نظام کے مطابق ڈھل جائے جو اللہ کا پسندیدہ ہے اس لئے کہ یہ نظام ہی تمام اعمال کو عبادت بنا دیتا ہے اور یہی تو وہ نظام ہے جو انسان کے عمل خلافت فی الارض کو عبادت بنا دیت ہے ۔ خلافت فی الارض کیا چیز ہے ‘ یہ عبارت ہے عمل اور پیداوار سے ‘ زیادہ سے زیادہ ترقی اور نشوونما سے ۔ انسان کو جو رزق آسمانوں کے ذریعے ملتا ہے اس کی منصفانہ تقسیم خلافت ہے ۔ ذراغور کیجئے اللہ تعالیٰ اس آیت میں کیا فرماتے ہیں ۔
اسلامی تصور حیات کے مطابق اس زمین پر انسان اللہ کا خلیفہ ہے ۔ یہ خلافت اسے اللہ کے اذن سے حاصل ہوئی ہے اور یہ ایک مشروط خلافت ہے ۔ وہ یہ کہ عمل خلافت اسلامی منہاج کے مطابق ہو اور نظام خلافت نظام شریعت کے مطابق چلے ۔ انسان اللہ کا مطیع ہو اور آخرت کے ثواب کا طلبگار ہو۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کا کوئی عمل جس سے دنیا میں کوئی پیداوار حاصل ہو یا وہ عمل جس سے خام مال کام میں لایا جائے اور لوگوں کے لئے اسے مفید بنایا جائے ‘ خواہ وہ زمین کے اندر ہو یا مافوق کائنات کے اندر ہو ‘ یہ تمام کام اس نظریہ خلافت فی الارض کے تحت آتے ہیں اور عبارت قرار پاتے ہیں ۔ اس خلافت کے عمل ہی کا نتیجہ ہے کہ اگر انسان اس پر درست طور پر چلے تو اسے زمین کے اندر سے بھی رزق ملے گا اور آسمانوں سے بھی اس پر فیضان اور نزول برکات ہوگا ۔ یہ بات قرآن کریم کے انداز تعبیر سے اچھی طرح معلوم ہو سکتی ہے ۔
اسلامی تصور حیات کے مطابق جو انسان زمین کے سینے کو نہیں چیرتا ‘ اس سے چشمے اور نہریں نہیں نکالتا اور اس کائنات کے دوسرے قدرتی وسائل کو کام میں نہیں لاتا ‘ وہ اللہ کا نافرمان اور گنہگار ہے اور فریضہ خلافت فی الارض کی ادائیگی سے پہلوتہی کرتا ہے جس کے لئے اسے اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بنایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا ۔ (آیت) ” انی جاعل فی الارض خلیفۃ) ” میں زمین کے اوپر ایک خلیفہ بنانے والا ہوں “۔
اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” وسخرلکم مافی السموات وما فی الارض جمیعا منہ) ” اور اس نے مسخر کیا تمہارے لئے وہ سب کچھ جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے خود اپنی جانب سے “۔ اگر کوئی شخص ترقیات کا کام نہیں کرتا تو وہ گویا اس رزق کو معطل رکھتا ہے جو اللہ نے اس کے لئے پیدا کیا ہے اور جب اس نے اپنی دنیا کو خسارے میں ڈال دیا تو اس کے ساتھ ہی آخرت کا خسارہ بھی ہوگیا ۔
اس نظریے کے مطابق اسلامی منہاج حیات دنیاوی عمل اور اخروی کامیابی کے درمیان ایک حسین امتزاج اور ہم آہنگی پیدا کردیتا ہے ۔ اس لئے اسلام انسان کو یہ مشورہ نہیں دیتا کہ وہ ترک دنیا کرے تاکہ اسے آخرت ملے وہ یہ مشورہ بھی نہیں دیتا کہ وہ آخرت ترک کر دے تاکہ اس کی دنیا بہتر ہوجائے ۔ اس لئے کہ دنیا اور آخرت کے درمیان ‘ اسلامی تصور حیات کے مطابق کوئی تضاد نہیں ہے یہ نہ متضاد ہیں اور نہ متبادل ہیں۔
اس دنیا کے تمام انسان اسلامی تصور حیات کے مطابق اللہ کی جانب سے مقام خلافت فی الارض پر فائز ہیں ۔ تمام اقوام وملل کے انسان خلیفۃ اللہ ہیں۔ جنس انسان خلیفہ ہے لیکن کیا یک فرد انسان کی ذمہ داری اس دنیا کے معاملے میں کوئی مختلف ہے ۔ نہیں وہ بھی خلفیہ ہے ‘ اسلامی تصور حیات کے مطابق جو انسانی جماعت کا فریضہ ہے وہ ایک انسان پر بھی فرض ہے ۔ فرد اور معاشرے کے فرائض میں کوئی فرق ‘ کوئی تضاد اور تعارض ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے اسلام ہر فرد پر یہ فرض کرتا ہے کہ وہ اپنی پوری جسمانی اور عقلی قوت کو زمین و آسمان کے قدرتی وسائل رزق کی ترقی میں صرف کرے لیکن یہ عمل وانتاج اور یہ کثرت پیداوار اللہ کے لئے ہو اس عمل میں وہ کوئی ظلم نہ کرے ‘ کسی کے ساتھ غداری نہ کرے ۔ اس میں چوری نہ کرے خیانت نہ کرے ‘ حرام نہ کھائے اپنے دوسرے بھائی کا حق نہ مارے ‘ اور اس کے پاس جو وسائل جمع ہوں ان کو تقسیم کرے اگرچہ یہ وسائل اسکی انفرادی ملکیت میں ہوں اور اسے ان کے رکھنے کا پورا پورا حق ہو ۔ معاشرے کو اس کے وسائل سے اور اس کی پیداوار سے وہی کچھ لینے کا حق ہو جو اللہ نے مقرر کیا ہے ان حدود وقیود کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے والے کے اس کام کو اسلامی نظام ایک عبادت قرار دیتا ہے ۔ اس عبادت کا فائدہ اسے دنیا میں بھی ہوگا آخرت میں بھی ہوگا ۔ پھر یہ اسلامی نظام حیات ایک فرد اور اس کے رب کے درمیان ایک مخصوص رابطہ ان عبادات کے ذریعے ہوتا ہے جو اسلامی نظام نے تعلق باللہ کے لئے تجویز کی ہیں تاکہ اس فرد انسان کا تعلق اپنے رب کے ساتھ قائم رہے ۔ مثلا بذریعہ فرضیت نماز دن میں پانچ مرتبہ یہ تعلق تازہ سے تازہ ہوتا رہے ۔ رمضان شریف میں سال میں ایک ماہ بذریعہ صیام رمضان قوی سے قومی تر ہوتا رہے ۔ پھر ساری عمر میں کم از کم ایک بار حج کرکے یہ رابطہ اب مزید مستحکم سے مستحکم ہوتا چلا جائے اور وہ مذکورہ بالا جو پیدا واری عمل کرتا ہے اس سال میں ایک بار زکوۃ ادا کرکے یہ رابطہ مضبوط ہوتا رہے ۔
یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی عبادات کی اسلامی نظام میں کیا قدر و قیمت ہے ۔ یہ گویا اللہ کے ساتھ ایک قسم کا تجدید عہد کرتا ہے ۔ اس نظام حیات کی ذمہ داریوں میں وہ ذمہ داریاں بھی شامل ہیں جو اس نے اس کرہ ارض پر پیداواری عمل ‘ دولت کی منصفانہ تقسیم اور لوگوں کے درمیان جب اختلافات پیدا ہوجائیں تو ان کے مقدمات کے فیصلوں کے سلسلے میں ادا کرنی ہیں۔ ان عبادات کے ذریعے اس کے اندار از سر نو شعور تازہ ہوتا ہے کہ اللہ اس کا اس سلسلے میں مدد گار ہے ۔ وہ تمام فرائض جو اسلام کے اجتماعی نظام کے قیام اور اس کے انتظام وانصرام کے سلسلے میں اس پر عائد ہوتے ہیں اللہ ان میں اس کا مدد گار ہے ۔ اس راستے میں اس کی اپنی خواہشات ‘ نفسانی تقاضے ‘ لوگوں کا بغض وعناد ‘ لوگوں کا انحراف اور فسق وفجور وغیرہ جو رکاوٹیں پیدا کریں گے اللہ اس میں معاون ہوگا ۔
یہ اسلامی عبادات اور اس دنیا کی سرگرمیاں مثلا پیدا واری عمل ‘ تقسیم ‘ دولت اور انتظامیہ اور عدلیہ کے کام اور اللہ کے نظام کے قیام کے سلسلے میں اقدام ودفاع اور اسلامی مملکت کے قیام وغیرہ کے تمام کاموں سے کوئی علیحدہ چیز نہیں ہے ۔ ایمان ‘ خدا ترسی اور تقوی بھی اس اسلامی نظام کا ایک حصہ ہیں جس طرح کا حصہ دوسرے امور حیات ہیں ۔ چناچہ یہی وہ تصور حیات ہے جس کے مطابق ایمان اور تقوی اس دنیا میں فراوانی رزق اور کثرت پیداوار کا باعث بنتے ہیں اور جس کی صراحت یہ دو آیات کرتی ہیں ۔
اسلامی تصورحیات اور اس سے مستنبط ہونے والا اسلامی نظام زندگی کو اخروی زندگی کو اس زندگی پر ترجیح دیتا ہے اور نہ اس زندگی کو اخروی زندگی پر ترجیح دیتا ہے ۔ اسلامی تصور کے مطابق دنیا وآخرت سفرانسانی کے دو مراحل ہیں اور یہ ایک ہی راستے کی دو منزلیں ہیں ۔ ایک ہی راہ اور ایک ہی جدوجہد سے دونوں کا حصول ہوتا ہے لیکن دنیا وآخرت کا یہ معجون صرف اسلامی نظام زندگی کے طریق کار کے مطابق تیار ہو سکتا ہے ۔ یہ مقصد صرف اسلامی نظام کے اتباع میں حاصل ہو سکتا ہے اور وہ بھی صرف اس صورت میں کہ دنیا میں خالص اسلامی نظام رائج کیا جائے ۔ اس کے اندر کوئی دوسرا نظام داخل نہ کیا جائے ‘ نہ اس کے اندر کوئی ایسی چیز ہو جو اسلامی نظام کی نہ ہو ۔ نہ اس کے اندر کسی شخص کے ذاتی رجحانات کو شامل کیا جائے ۔
اسلامی نظام اور اس پر اسلامی تصور حیات ایمان ‘ تقوی اور صالحیت کی ایسی تعبیر نہیں کرتا کہ وہ دنیاوی سرگرمیوں پیداوار ‘ نشوونما ‘ زندگی کی تحسین وتجمیل کے مخالف یا متبادل ہو ‘ یا ایسا بھی تصور نہیں دیتا کہ وہ آخرت اور حصول جنت کے لئے راہ کی نشاندہی تو کرے مگر ان کے لئے دنیاوی بہتری اور دنیا کو جنت بنانے کے لئے آزاد چھوڑ دے کہ وہ اپنے لئے خود ہی کوئی راہ بنائی جس طرح چاہیں۔ یہ تصور ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اس دور جدید میں اسلام کا محض سطحی مطالعہ کیا ہے ۔ رہا اسلامی تصور حیات تو اس کے اندر تمام سرگرمیاں ‘ تمام پیداواری اعمال ‘ نشوونما کے طریقے ‘ اور اس زندگی کی ہر قسم کی تحسین وتجمیل اسلام کا تقاضا ہیں اور تصور خلافت فی الارض کے فرائض ہیں جبکہ یہ خلافت تمام انسانوں کا حق ہے ۔ ایمان ‘ عبادت اصلاح اور تقوی وہ رابطے ‘ وہ ضابطے ‘ وہ محرکات اور وہ دواعی ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کی زندگی میں اسلامی نظام عملا قائم ہوتا ہے ۔ یہ دونوں چیزیں مل کر انسان کو جنت ارضی اور جنت ساوی کا اہل اور مستحق بناتی ہیں ۔ یہی ہے صحیح راستہ اور اس کے مطابق الدین اور عملی مادی زندگی کے درمیان کوئی دوئی اور تضاد نہیں ہے ۔ جس طرح اس وقت تمام کرہ ارض پر پھیلی ہوئی مادی جاہلیتوں نے یہ صورت حال بنا دی ہے کہ دین اور مادیت کے درمیان فرق کردیا گیا ہے ۔ اس سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ الجھن پیدا ہوتی ہے کہ آخرت کے حصول کے لئے ترک دنیا لازم ہے اور یہ کہ کسی تصور اور کسی عملی نظام کے مطابق دنیا وآخرت کے درمیان اجتماعی ممکن نہیں ہے اور نہ ہی دنیا وآخرت اکٹھے ہو سکتے ہیں ۔
یہ مکروہ فرق جو دنیا اور آخرت کے راستوں کے اندر روا رکھا گیا ہے ‘ دنیاوی اعمال اور آخروی اعمال کے درمیان جو لائن کھینچ دہ گئی ہے ‘ روحانی ترقی اور مادی ترقی کے درمیان جو بعد المشرقین پیدا کردیا گیا ہے اور دنیاوی زندگی میں کامیابی اور اخروی زندگی کی فلاح کے درمیان پیدا کردیا گیا ہے اور دنیاوی زندگی میں کامیابی اور اخروی زندگی کی فلاح کے درمیان جو بعد پیدا کردیا گیا ہے ۔ یہ مکروہ جدائی انسان پر تقدیر الہی نے نہیں عائد کی ، نہ قضا وقدر کے احکام الہیہ نے ایسی کوئی تفریق کی ہے ۔ یہ تو ایک نہایت ہی مکروہ بوجھ ہے جو انسانیت نے خود اپنے اوپر عائد کیا ہے اور یہ اس نے اس لئے عائد کرلیا ہے کہ اس نے اسلامی نظام زندگی کو اپنی زندگی سے جلا وطن کردیا ہے اور اپنے لئے از خود نظامہائے زندگی گھڑ لئے ہیں جو اسلامی زندگی سے متضاد اور مخالف ہیں۔
یہ وہ بوجھ ہے جس نے انسان کے اعصاب کو توڑ دیا ہے اور اس کی دنیاوی زندگی بھی تلخ ہوگئی ہے ۔ اس کی وجہ سے انسان کو جو اخروی ہلاکت ہوگی وہ اس سے بھی زیادہ سخت اور بہت ہی تلخ ہوگی ۔ لیکن یہ لوگ اس از خود عائد کردہ فریضے کو تسلسل کے ساتھ پورا کرتے چلے جاتے ہیں ۔
اس وجہ سے ان کی زندگی نہایت تلخ ہوگئی ہے ۔ وہ تحیر ‘ دل تنگی اور فکری پریشانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ ایسا کیوں ہے اس لئے کہ وہ اللہ پر ایمان لانا بھی چاہتے ہیں اور ایسے معاشرے میں بھی زندہ رہ رہے ہیں اور ایسے بین الاقوامی حالات میں بھی رہ رہے ہیں جس کے طور طریقے ‘ جس کے افکار و تصورات اور جس کا تمام کاروبار اور جس کے تمام وسائل کسب ومعاش اور جس میں کامیابی کے تمام راستے اللہ کے راستے سے متضاد ہیں ۔ اس میں دینی تصورات اور دینی عقائد اور مروجہ اخلاقیات کے درمیان تضاد ہے ‘ اس کا طرز عمل اس کے قوانین اور ضابطے اور اس کی اقدار اور ترجیحات تمام کی تمام دین اور ضمیر کے خلاف ہیں ۔
اس وقت پوری انسانیت اس بدبختی کا شکار ہے ‘ چاہے وہ مادی اور الحادی مذاہب کی پیرو ہو یا کسی ایسے مادی مذہب کے تحت زندگی بسر کر رہی ہو جس کے پیرو کار اگرچہ مذہب کو مانتے ہوں لیکن مذہب کو علمی زندگی کے دائرے سے دور رکھے ہوئے ہوں یہ مذاہب ایسا سوچتے ہیں یا ان کے لئے انسانیت کے دشمن ایسی سوچ رائج کرتے ہیں کہ ” دین “ اللہ کے لئے ہے اور یہ زندگی لوگوں کے لئے ہے اور یہ کہ دین ’‘ اخلاق اور شعور اور عبادت پر مشتمل ہوتا ہے اور لوگوں کی عام زندگی کا نظام قانون اور طرز عمل اور پیداواری مشغولیات سب کی سب دین کے دائرے سے باہر ہوتی ہیں ۔
اس وقت پوری دنیا ایک جبری ٹیکس کے طور پر یہ بھاری قیمت ادا کررہی ہے ۔ بدبختی ‘ انتہائی قلق ‘ حیرانی ‘ پریشانی اور زندگی کا روحانی خلا ایک ایسا ٹیکس ہے جو انسان نے خود اپنے اوپر عائد کر رکھا ہے ۔ یہ ٹیکس اسے اس لئے ادا کرنا پڑتا ہے کہ یہ دنیا اسلامی نظام زندگی کو قبول نہیں کرتی جس میں دنیا اور آخرت کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے بلکہ اس نظام کے اجزائے ترکیبی میں دنیا اور آخرت دونوں شامل ہیں ۔ اس نظام میں دنیا میں حاصل ہونے والی سہولت و آرام اور آخرت میں حاصل ہونے والے آرام کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ان کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے ۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہے ‘ یہ کہ بعض اقوام جو ایمان سے بھی محروم ہیں ‘ نہ ان کے اندر خدا خوفی ہے اور نہ وہ اسلامی منہاج حیات کو تسلیم کرتی ہیں لیکن ان کے ہاں دنیاوی پیداوار دنیاوی سہولتیں ضروریات زندگی کی بڑی کثرت پائی جاتی ہے ۔ بیشک بعض ادوار میں دنیا کی تاریخ میں بعض عارضی وقفے ایسے رہے ہیں سین یہ قصے دیرپا نہیں رہے ۔ اس لئے ہم ان وقفوں کے اندر پائی جانے والی زندگی کی اللہ کی سنن ثانیہ قرار نہیں دے سکتے ۔ بہت جلد ہی ایسی امتوں اور سوسائٹیوں کے اندر دین ودنیا کی اس تفریق کے برے نتائج نمودار ہوئے ہیں اور آج کے دور میں لادینی معاشروں کے اندر درج ذیل برے آثار نمودار ہورہے ہیں ۔
(1) ۔ ان معاشروں کے اندر دولت کی تقسیم کے اندر توازن نہیں رہا ‘ بعض لوگ زیادہ امیر اور بعض زیادہ غریب ہوگئے ہیں ۔ ان معاشروں کے اندر بےپناہ مشکلات اور کینہ پروریاں پیدا ہوگئیں اور پھر خفیہ ایجنسیوں اور طبقاتی کشمکش کی وجہ سے آنے والے انقلابات کے خوف چھائے رہتے ہیں اور تمام لوگوں کی زندگیاں تلخی کا شکار ہیں ۔
(2) ۔ بعض قوموں کے اندر نہایت گھٹن ‘ جبر اور دباؤ کی فضا قائم ہوگئی ہے ۔ ان اقوام نے چاہا کہ زبر دستی دولت کو غیر فطری طریقے کے مطابق لوگوں کے اندر تقسیم کیا جائے ۔ اس غیرفطری تقسیم دولت کے نتیجے میں سخت توڑ پھوڑ اور خوف وہراس اور قتل و غارت معاشروں کی عادت بن گئی ۔ اس جبری تقسیم دولت کے نتیجے میں ان معاشروں میں نہایت ہی تشدد کا رواج ہوا ۔ یہ جبری نظام انسانیت پر وہ مصیبت لایا کہ تمام لوگوں کا اطمینان غارت ہوگیا اور لوگ آرام اور اطمینان کی ایک رات کے لئے ترس گئے ۔
(3) ۔ ان معاشروں کے اندر نفسیاتی اور اخلاقی بیماریوں نے جنم لیا اور اس کی وجہ سے جلد یا بدیر ان مادی معاشروں کو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا پڑے گا اس لئے کہ ہر سرگرمی ‘ مادی ترقیاں اور تقسیم دولت کے نظام کو بھی تو اخلاقی ضوابط درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مادی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں لوگ قانون کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں اور اس وقت ان تمام ممالک کے قانون نظام کو عوام کی جانب سے کوئی اخلاقی تائید حاصل نہیں ہے ۔
(4) ۔ ان نظاموں میں جہاں دین ودنیا کی تفریق ہوئی ہے لوگ اعصابی میں مبتلاہو جاتے ہیں ۔ آج دنیا کے نہایت ہی ترقی یافتہ ممالک کے اندر اعصابی بیماریاں سب سے زیادہ پائی جاتی ہیں اور ان کی اس بےاخلاق مادی ترقی نے ان کی ذہنی قوتوں اور قوت برداشت کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ اس کی وجہ سے ان ممالک کے اندر پیداواری عمل اور پیداوار بھی متاثر ہورہی ہے ‘ خود اقتصادی ترقی اور مادی سہولیات میں کمی ہو رہی ہے اور یہ وہ بڑے بڑے نتائج ہیں جو کافی واضح ہو کر ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
(5) ۔ اس کے علاوہ وہ عظیم تباہی ‘ جس سے تمام انسانیت لرزاں ہے ‘ جس کا خطرہ ہر وقت سروں پر کھڑا ہے اور جس کی وجہ سے دنیا مضطرب ہے وہ خطرہ تباہ کن ‘ مکمل طور پر تباہ کن جنگ کا ہے ۔ یہ خطرہ ہر انسان کے اعصاب کو متاثر کر رہا ہے ‘ چاہے وہ جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں اور اس کی وجہ سے بھی کئی قسم کی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں ۔ سکتہ عارضہ قلب ‘ دماغی عارضہ اور اقدام خود کشی جیسی امراض جس طرح مغربی معاشرہ کے اندر پھیلی ہوئی ہیں اس طرح دنیا کے دوسرے ممالک میں نہیں ہیں ۔
(6) ۔ یہ تمام آثار تمام ترقی یافتہ ممالک کے اندر واضح طور پر ظاہر ہو رہے ہیں اور جو قومیں اس کے نتیجے میں تباہی اور ٹوٹ پھوٹ کی طرف بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں ان میں سے ممتاز ترین فرانس ہے جو ہر لحاظ سے زوال کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ فرانس کی تباہی دوسروں کے لئے عبرت ہے اور اس تباہی کا سبب صرف یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ کے ربانی نظام کو دنیاوی ترقی کے میدان سے خارج البلد کردیا ہے ۔ دنیا اور آخرت کی راہیں جدا کردی گئی ہیں ۔ دین کو انسان کی زندگی سے نکال دیا گیا ہے ۔ لوگوں نے آخرت کے لئے زندگی کا نظام اللہ سے لینا شروع کردیا ہے اور دنیا کے لئے زندگی کا نظام وہ لوگوں سے لیتے ہیں اور اسلامی نظام اور لوگوں کے درمیان مکمل دوئی ہوگئی ہے۔
قرآن کریم نے اس عظیم اصول کو جس طرح وضع کیا ہے اس پر اپنے اس تبصرے کو ختم کرنے سے پہلے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اسلامی نظام جس نے ایمان ‘ تقوی اور انسان کی واقعی زندگی کے درمیان جو حسین امتزاج پیدا کیا ہے اور جس طرح اخلاقیات کو عمل پیہم اور نظریہ خلافت فی الارض سے منسلک کیا ہے ‘ تو یہی وہ توازن ہے جو اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور دنیا میں بسنے والی تمام انسانی سوسائٹیوں کے لئے لازمی قرار دیا ہے ۔ اگر وہ اپنے اندر یہ حسین امتزاج پیدا کریں گے تو وہ رزق وافر پائیں گے ۔ آسمان ان کے لئے اپنے خزانے برسائے گا اور زمین اپنے خزانے اگل دے گی ۔ اس امتزاج کی صورت میں اگر ان سے دنیا میں کوئی اخلاقی کو تاہیاں بھی ہوں گی تو بھی آخرت میں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور دنیا میں ان کو فردوس ارضی ملے گی جس میں وافر ضروریات ‘ امن وسلامتی اور اطمینان قلب ہوگا اور آخرت میں جنت ملے گی جس میں نعیم مقیم ہوگا اور رضائے الہی ہوگی ۔
لیکن ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے بھی اور اس کی تاکید کرتے ہوئے بھی ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہ کرنا چاہئے کہ اسلامی نظام کا مرکزی ستون اور پہلا قاعدہ ایمان تقوی اور اسلامی نظامی کا قیام ہی ہے ۔ جب اسلامی نظام قائم ہوجائے تو فعالیت ‘ پیداوار ‘ ترقی اور تبدیلی جیسے عوامل خود بخود وجود میں آجاتے ہیں ۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ربط پیدا ہوجانے سے زندگی کے تمام امور کے اندر انسان کا ذوق بدل جاتا ہے ۔ تمام اقدار بلند ہوجاتی ہیں ۔ زندگی کے پیمانے درست ہوجاتے ہیں ۔ اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام حیات کا یہ اصل الاصول ہے ۔ تمام دوسری چیزیں اسی اصول بلکہ الاصول کے بعد وجود میں آتی ہیں تمام شاخیں اس سے پھوٹتی ہیں اور اس اصول کی طرف راجع ہوتی ہیں اور دنیا و آخرت کے تمام معاملات نہایت ہی توازن اور تناسق میں طے ہوتے چلے جاتے ہیں ۔
اب یہ بات آپ پلے سے باندھ لیں کہ ایمان ‘ تقوی ‘ عبادت ‘ اللہ سے ربط ‘ وصل الی اللہ اور زندگی میں شریعت کے قیام سے اللہ کو کیا فائدہ ہے ۔ یہ سب امور تو انسان ہی کی بھلائی کے لئے ہیں ۔ انسانی زندگی کے درست کرنے ہی کے لئے تو ہیں ۔ اللہ تو غنی بادشاہ ہے ۔ اسلامی نظام زندگی نے تمام امور کو ایمان باللہ اور تقوی پر موقوف کردیا ہے ۔ اگر ایمان نہیں ہے تو عمل باطل ہے ۔ تمام سرگرمیاں جو اس اصول پر مبنی نہ ہوں کالعدم ہیں ‘ محض ہوا و غبار ہیں ‘ نسیا ‘ منسیا ہیں اور ہوا میں تحلیل ہونے والی ہیں یہ کیوں ؟ کیا ان سے اللہ کو کوئی فائدہ ہے اگر تمام لوگ ایمان لائیں تو اللہ کو کوئی چیز ملتی ہے ‘ کیا لوگوں کے تقوی اور اسلامی نظام حیات کے مقام سے اللہ کو کوئی فائدہ ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ ان چیزوں کے سوا لوگوں کی اصلاح نہیں ہو سکتی ۔ ان کے سوا ان کی فلاح ممکن بھی نہیں ہے ۔
حضرت ابوذر غفاری ؓ ایک حدیث قدسی میں حضور ﷺ سے روایت فرماتے ہیں ‘ اللہ نے فرمایا !
” اے میرے بندو ! میں نے تو اپنے اوپر ظلم حرام کرلیا ہے ‘ اور اسے میں نے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دے دیا ہے ۔ اس لئے باہم ظلم نہ کرو ۔ اے بندو ! تم میں سے صرف وہی ہدایت پر ہو گا جسے میں نے ہدایت دی باقی سب گمراہ ہوگے ۔ اس لئے ہدایت مجھ ہی سے طالب کرو میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو ! تم میں سے سب بھوکے رہیں گے الا وہ شخص کہ اسے میں نے کھانا دیا ۔ لہذا مجھ سے ہی رزق طلب کرو۔ میں تمہیں ضرور رزق دوں گا اے میرے بندو ! تم میں سے سب ننگے ہیں ۔ ماسوائے اس شخص کے جسے میں پہنا دوں۔ اس لئے مجھ ہی سے پوشاک طلب کرو ‘ میں تمہیں پوشاک دوں گا ۔ اے میرے بندو ! تم رات اور دن غلطیاں کرتے ہو اور میں تمہارے سب گناہ معاف کرتا ہوں ۔ لہذا تم مجھ سے ہی مغفرت طلب کرو ‘ میں تمہیں بخش دوں گا ۔ اے میرے بندو ! تم مجھے نقصان پہنچانے کی قدرت ہی نہیں رکھتے کہ مجھے نقصان پہنچاؤ اور تم مجھے نفع پہنچانے کی طاقت ہی نہیں رکھتے کہ مجھے نفع پہنچاؤ اے میرے بندو ! اگر تم سے پہلے شخص اور آخری شخص اور تمہارے سب انسان اور سب جنات اس معیار پر پہنچ جائیں جس پر تم میں کوئی ایک زیادہ سے زیادہ متقی ہو سکتا ہے تو اس سے میری شہنشاہیت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا ۔ اے میرے بندو ! اگر تم سے پہلا شخص اور آخری شخص اور تمہارے سب انسان اور سب جن اس قدر برے ہوجائیں جس طرح تم میں کوئی ایک شخص ہو سکتا ہے تو وہ میری ملکیت میں سے کوئی چیز کم نہیں کرسکتا ۔ اے میرے بندو ! اگر تمہارا پہلا شخص اور آخری شخص اور تمہارے سب انسان اور سب جن ایک ہی میدان میں جمع ہوجائیں اور مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کے سوال کو قبول کروں تو میرے خزانوں میں کوئی کمی نہ ہوگی ‘ صرف اس قدر کمی ہوگی جس طرح کوئی سوئی دریا میں ڈالے (اور نکالے) اے میرے بندو ! یہ تو تمہارے اعمال ہیں کہ میں تمہارے لئے گنتا ہوں اور پھر میں ان پر تمہیں جزا دیتا ہوں اگر کسی کو کوئی بھلائی نصیب ہو تو اسے چاہئے کہ اس پر میرا شکر ادا کرے ۔ اور اگر کسی کو بھلائی کے سوا کچھ ملے تو وہ صرف اپنے نفس کو ملامت کرے ۔ (روایت مسلم)
صرف یہ اساس ہے جس میں ہمیں ایمان ‘ تقوی ‘ عبادت ‘ اور اسلامی نظام حیات کے قیام اور نفاذ شریعت کو سمجھنا چاہئے ۔ یہ سب چیزیں تو ہمارے لئے ہیں ‘ انسانوں کے لئے ہیں ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ ان تمام امور کی ضرورت اس لئے درپیش ہوتی ہے کہ یہ انسان کی اصلاح و فلاح کے لئے ضروری ہیں ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔
میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس بات کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ شرط جو اہل کتاب کے لئے عائد کی گئی ہے ‘ صرف انکے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اہل کتاب کے لئے جس شرط کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان کی فلاح ایمان اور تقوی اور ان کے ہاں نازل کردہ کتب میں اسلامی نظام کے قیام پر موقوف ہے یعنی اقامت نظام تورات وانجیل پر ‘ ان ہدایات پر جو ان کے نبیوں کی زبانی دی گئیں تو یہ شرط ان کے لئے حضرت نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پہلے دور کے لئے لگائی گئی ہے ۔ یہی شرط اب ہمارے لئے بھی ہے جن کی طرف قرآن کریم نازل کیا گیا ہے ۔ یہ شرط خود بخود ان لوگوں پر عائد ہوجاتی ہے جو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اس لئے یہ مسلمان تو منصوص طور پر قرآن کریم پر بھی ایمان لاتے ہیں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے اور دوسری کتابوں پر بھی ایمان لاتے ہیں جو ان سے پہلے نازل کی گئیں ۔ ان کے لئے ان احکام پر عمل کرنا بھی ضروری ہے جو ان پر نازل ہوئے اور ان پر بھی جو ان سے پہلے کی شریعتوں میں نازل ہوئے تھے اور اسلامی نظام نے ان کو منسوخ نہیں کیا ہے ۔ وہ تو مسلمان ہیں اور اسلام ان کا دین ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں تو دین اسلام کے سوا کوئی اور دین سرے سے مقبول ہی نہیں ہے ۔ نہ وہ اب اس دین کے سوا کوئی اور دین کسی کی جانب سے قبول کرتا ہے ۔
لہذا نتیجہ یہ نکالا کہ اہل کتاب کے لئے جو شرط برائے فلاح دنیا وآخرت مقرر کی گئی تھی وہ ہمارے لئے بطریق اولی شرط فلاح ہے ۔ اس کے ساتھ جو عہد کیا گیا تھا وہ ہمارے ساتھ بھی عہد ہے ۔ اور یہ لوگ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اللہ کی اس پسند کو قبول کریں جو اللہ نے ان کے لئے پسند کیا تھا ۔ اللہ کی اس شرط سے فائدہ اٹھائیں جس سے ان سے گناہ معاف ہوئے اور آخرت میں وہ جنت میں داخل ہوئے اور یہ کہ ان پر آسمان سے رزق کی بارش ہوئی اور زمین نے ان کے لئے سونا اگلا۔
اہل اسلام تو اہل کتاب کے مقابلے میں زیادہ اس بات کے مستحق ہیں کہ اللہ کی اس شرط کو پورا کرکے فائدہ اٹھائین اس لئے کہ وہ اس وقت عالم اسلام میں بھوک ‘ افلاس ‘ خوف ‘ بیماری اور غربت میں مبتلا ہیں اور پورے عالم اسلام کی یہی حالت ہے ۔ یا اس مالک میں جو کبھی عالم اسلامی تھا اللہ کی شرط قائم ہے اور اس پر عمل کا طریقہ معلوم ہے اگر وہ سمجھیں یاسمجھنے کی کوشش کریں مگر افسوس کہ وہ نہیں سمجھتے ۔
درس نمبر 51 ایک نظر میں :
اس سبق میں بھی اہل کتاب کے حالات کو لیا گیا ہے ۔ یہود ونصاری دونوں کے حالات کو۔ ان کے نظریاتی انحراف کا اظہار کیا گیا ہے اور ان کی تاریخی بداعمالیوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ خصوصا یہودیوں کا ذکر تفصیل سے ہوا ہے ۔ ان کے اور رسول اللہ کے باہمی تعلق کی تحدید کی گئی ہے ۔ نیز مسلمانوں کے ساتھ ان کے تعلق کو طے کیا گیا ہے ۔ پھر ان کے حوالے سے حضور اکرم ﷺ اور مسلمانوں کے فرائض کا تعین کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں ان عظیم نظریاتی امور کو بھی طے کیا گیا ہے جو اسلامی تصور حیات کی اساس کا درجہ رکھتے ہیں۔ نیز جماعت مسلمہ کے لئے تحریکی اصول کار اور حدود بھی وضع کئے گئے ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمانوں کو ان منحرف مقاصد و تصورات کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے ۔
حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ تک جو تعلیم آرہی ہے آپ اسے لوگوں تک پہنچا دیں ۔ پوری کی پوری تعلیمات لوگوں تک منتقل کردیں ۔ ان میں سے کوئی چیز رہنے نہ پائے اور حالات سے متاثر ہو کر کوئی چیز ترک یا مؤخر نہ کی جائے ۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ آپ نے فریضہ تبلیغ کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے ۔
اور یہ جو حضور ﷺ کو حکم دیا ہے کہ آپ بےکم وکاست پہنچا دیں اس میں سرفہرست یہ ہے کہ اہل کتاب کو یہ صاف صاف کہہ دیا جائے کہ جب تک تم توراۃ اور انجیل کو قائم نہ کرو اس وقت تک تمہاری کوئی پوزیشن نہیں ہے ۔ اس کے بعد جو اللہ کی طرف سے ہدایات آئی ہیں ان کی تبلیغ بھی ضروری ہے ۔ یہ تبلیغ اس طرح قطعی ‘ کھل کر ‘ صریح اور دو ٹوک انداز میں ہو کہ اس میں کسی قسم کا اجمال نہ ہو ۔ آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ یہودیوں نے انبیاء کو قتل کیا اور اللہ کے ساتھ طے پاجانے والے میثاق کو توڑ کر کفر کا ارتکاب کیا ۔ نصاری نے بھی عقیدہ توحید میں تحریف کر کے حضرت مسیح کو خدا سمجھا اور پھر یہ کہ عقیدہ تثلیث اختیار کیا ۔ یہ بھی صریح کفر کے مترادف ہے آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ عقیدہ شرک کے نتیجے میں ان پر جنت حرام ہوگی اور یہ بھی اعلان کردیں کہ بنی اسرائیل پر حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے ذریعے بھی لعنت وملامت کی گئی اس لئے کہ وہ نافرمان اور بےعمل ہوگئے تھے ۔
اس سبق کا خاتمہ اس پر ہوتا ہے کہ اہل کتاب اہل اسلام کے مقابلے میں اہل شرک کی حمایت کر رہے ہیں ۔ یہ بری حرکت وہ اس لئے کر رہے ہیں کہ ان کا اللہ کی ذات پر صحیح طرح ایمان نہیں ہے ۔ نبی کریم ﷺ کو تو وہ بہرحال نہیں مانتے ۔ لیکن اگر وہ اب نبی آخر الزمان پر ایمان نہ لائیں گے تو وہ مومن نہ ہوں گے ۔ اس اجمالی تبصرے کے بعد آپ تفصیلات ملاحظہ فرمائیں ۔
المائدة 5:67
(آیت) ” نمبر 67 تا 68۔
رسول اللہ ﷺ کے لئے قطعی حکم یہ ہے کہ آپ تمام پیغام کی جو اللہ نے نازل کیا ہے پوری پوری تبلیغ کریں ‘ دنیا کے اندر پائے جانے والے حالات میں سے کسی حال کو بھی کوئی اہمیت نہ دیں اور اپنی دعوت کو بالکل کھل کر صاف بیان کردیں ۔ یہ آپ کا فریضہ رسالت ہے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو گویا آپ نے فریضہ رسالت کا حق ادا نہ کیا اور اپنے فرائض پوری طرح سرانجام نہ دیئے رہی بات کہ دشمن تمہارا کچھ بگاڑ لیں گے تو یقین رکھو کہ اللہ آپ کو لوگوں سے بچائے گا اور جس کو بچانے کا ذمہ اللہ لے لے تو لوگ اللہ کے مقابلے میں حیثیت کیا رکھتے ہیں کہ اس کو کوئی نقصان پہنچا سکیں گے ۔
سچائی کے حاملین کو شف شف کرنا مناسب نہیں ہے ۔ انہیں چاہئے کہ صاف صاف اور دو ٹوک بات کریں ۔ رہے اہل باطل اور مخالفین حق تو وہ جو چاہیں کہیں جو چاہیں کرلیں ۔ اس لئے کہ سچوں کو لوگوں کی خواہشات کا لحاظ رکھتے ہوئے نرم بات نہیں کرنا چاہئے اور نہ اس سلسلے میں لوگوں کی خواہش کا لحاظ رکھنا چاہئے ۔ سچی بات کو نہایت ہی قوت اور زور دار طریقے سے کہنا چاہئے تاکہ وہ سیدھی لوگوں کے قلوب کے اندر اتر جائے ۔ حاملین حق جب اپنی بات زور دار زور دار طریقے سے کہنا چاہئے تاکہ وہ سیدھی لوگوں کے قلوب کرنے کی ذرا سی استعداد بھی ہوتی ہے تو وہ بات ان تک پہنچ جاتی ہے ۔ اور اگر سچائی کو دو ٹوک الفاظ میں پیش کیا جائے تو اس کے لئے وہ دل نرم نہیں ہوتے جن میں قبول حق کی استعداد نہیں ہوتی اور یہ اس قسم کے لوگ ہوتے ہیں کہ ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ داعی ان کے ساتھ نرمی کرے اور کچھ مطالبات واپس لے لے تب وہ دعوت کو قبول کریں گے ۔ وہ اپنی طرف سے شرائط عائد کرتے ہیں ۔
(آیت) ” ان اللہ لا یھدی القوم الکفرین “۔ (5 : 67) ” اللہ کافروں کو ہدایت کی راہ دکھانے والا نہیں ہے ۔ “ لہذا آپ سچائی کو دو ٹوک الفاظ میں بیان کریں ‘ جامع اور مانع الفاظ میں بیان کریں ۔ رہی یہ بات کہ کون مانتا ہے اور کون مانتا ‘ یہ موقوف اس امر پر ہے کہ سننے والے کے اندر قبول حق کی استعداد ہے یا نہیں یا یہ کہ اس کا دل اس سچائی کے لئے کھلا ہے یا نہیں ۔ مداہنت اور لحاظ وملاحظہ کرنے اور سچ بات پوری طرح نہ کہنے پر ہدایت کا دارومدار نہیں ہے نہ اس سے کچھ فائدہ ہوتا ہے ۔
نظریاتی اعتبار سے فیصلہ کن بات کرنے کا مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ انسانی نہایت خشک اور سخت لہجے میں بات کرے ۔ اللہ نے حضرت نبی کریم ﷺ کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ آپ نہایت ہی حکمت اور اچھے انداز میں نصیحت فرمائیں ۔ اس لئے قرآنی ہدایت میں کوئی تعارض نہیں ہے یعنی کلمہ حکمت اور موعظہ حسنہ اور دو ٹوک اور فیصلہ کن بات کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے ۔ ایک تو نفس بات ہے یہ کسی بات کے عناصر ترکیبی ہیں اور دوسرا وہ انداز ہے جس انداز میں اس بات کو لوگوں تک پہنچانا مطلوب ہے ۔ جہاں تک نفس بات اور پیغام حق کا تعلق ہے وہ بےکم وکاست پہنچایا جائے ۔ پوری پوری بات پہنچائی جائے اور اس میں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار نہ کی جائے ۔ اس لئے کہ عقیدہ اور نظریہ ایک ایسی حقیقت ہوتی ہے جس کے اجزاء نہیں ہو سکتے ۔ ہاں بات کے پہنچانے کے انداز میں نرمی ہو سکتی ہے ۔ ابتدائے بعثت سے حضور ﷺ نہایت ہی حکمت سے وعظ فرماتے تھے اور بات نہایت ہی اچھے انداز سے کرتے تھے لیکن بات دو ٹوک ہوتی تھی ۔ آپ اللہ کے حکم سے اس طرح فرمایا کرتے تھے ”۔ اے لوگو ! جنہوں نے کفر کیا ہے ‘ میں ان بتوں کی بندگی نہیں کرتا جن کی بندگی تم کرتے ہو۔ “ آپ صاف کہتے کہ تم کافر ہو ‘ اور بات بھی صاف کہتے کہ میں تمہارے معبودوں کی بندگی نہیں کرتا اور نہ ہی آپ نے وہ مصالحتی کوششیں منظور کیں جن کا مقصد یہ تھا کہ کچھ لو اور کچھ دو ‘ نہ آپ نے کبھی مداہنت کی حالانکہ وہ تمنائیں کرتے تھے کہ آپ ایسا کریں ۔ آپ نے کبھی کفار سے یہ نہ کہا کہ تم جس نظام پر عامل ہو ‘ میں تو اس میں چند معمولی تبدیلیاں لاتا ہوں بلکہ آپ یہ فرماتے کہ تم لوگ سراسر باطل پر ہو اور یہ کہ وہ کامل سچائی لے کر آئے ہیں۔ آپ سچائی کی بات نہایت ہی زور سے کرتے ‘ پوری پوری کرتے لیکن ایسے انداز میں کرتے کہ اس میں کرختگی نہ ہوتی اور نہ سخت مزاجی ہوتی ۔ قول لین ہوتا ۔ یہاں اس سورة میں آپ کو حکم یہ دیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللّہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ (67)
” اے پیغمبر ﷺ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو ‘ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا ‘ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ، یقین رکھو کہ وہ کافروں کو ہدایت کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا ۔
یہاں اس آیت سے پہلے اور بعد میں آنے والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مقصد یہ ہے کہ اہل کتاب کو واضح الفاظ میں اور دوٹوک انداز میں بتایاجائے کہ وہ جس موقف پر جمے ہوئے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے ۔ اور یہ بتا دیا جائے کہ ان کا موقف حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں رکھتا ۔ نہ ان کا دین ‘ دین ہے نہ ان کا عقیدہ صحیح عقیدہ اور نہ ان کا ایمان مقبول ہے ۔ اس لئے کہ ان کی یہ چیزیں خود تورات اور انجیل کے مطابق نہیں ہیں ۔ نہ ربانی ہدایات کے مطابق ہیں ۔ اس لئے ان کے یہ دعاوی سراسر باطل ہیں کہ وہ اہل کتاب ہیں یا یہ کہ وہ کوئی نظریہ رکھتے ہیں یا یہ کہ وہ دیندار ہیں اور دین سماوی کے پیروکار ہیں ۔
(آیت) ” قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لَسْتُمْ عَلَی شَیْْء ٍ حَتَّیَ تُقِیْمُواْ التَّوْرَاۃَ وَالإِنجِیْلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ (5 : 68)
” صاف کہہ دو کہ ” اے اہل کتاب ‘ تم ہر گز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔
جس وقت حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ ﷺ اہل کتاب کے سامنے ان کے دین ‘ ان کے عقیدے اور ان کے ایمان کے بارے میں یہ حقیقت واشگاف الفاظ میں بیان کریں کہ ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور نہ وہ کسی ٹھوس حقیقت پر مبنی ہیں ‘ تو اس وقت وہ اپنی کتابیں باقاعدہ پڑھتے تھے ۔ وہ اپنے آپ کو یہودی اور نصرانی کہتے تھے ۔ ان کا دعوے یہ تھا کہ وہ اہل ایمان ہیں لیکن رسول اللہ خدا ﷺ کو ان کے موقف پر جو فیصلہ کن تبصرہ کرنے کو کہا گیا اس میں یہ اعلان مضمر تھا کہ اپنے بارے میں ان کے تمام دعاوی غلط ہیں ‘ اس لئے کہ ” دین “ صرف الفاظ کا نام نہیں ہے جسے کوئی زبان سے ادا کر دے ۔ نہ دین کتابوں کا نام ہے جنہیں ترتیل اور خوش الحانی سے پڑھ لیا جائے ۔ نہ دین کوئی صفت ہے جو موروثی طور پر مل جاتی ہو۔ بلکہ دین تو ایک نظام زندگی ہوتا ہے اور دین کے اجزاء میں وہ عقیدہ اور نظریہ بھی شامل ہوتا ہے جو دلوں کے اندر ہوتا ہے ‘ وہ عبادات بھی ہوتی ہیں جو مراسم عبودیت کی شکل میں ادا ہوتی ہیں ۔ اس میں وہ نظام بندگی بھی ہوتا ہے جس پر ایک مکمل نظام زندگی استوار ہوتا ہے ۔ جب تک وہ اس پورے نظام تورات کو قائم نہیں کرتے تو ان کی حیثیت یہ ہوگی کہ وہ سرے سے دین پر نہیں ہیں ۔ نہ اہل کتاب میں اور نہ اہل دین و عقیدہ میں اور یہی اعلان رسول اللہ ﷺ کو کرنے کا حکم دیا گیا کہ ان سے کہہ دیں کہ وہ اپنے لئے ان چیزوں میں سے کسی شے کو (ClAirn) نہ کریں ۔
اقامت تورات کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ اہل کتاب حضرت محمد ﷺ کے لائے ہوئے دین پر عمل کریں اس لئے کہ ان سے اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لیا تھا کہ وہ تمام رسولوں پر ایمان لائیں اور جو رسول بھی آیا ‘ اس کی نصرت کریں گے اور مدد دین گے ۔ ان کے ہاں تورات اور انجیل میں حضرت محمد ﷺ کی صفت واضح طور پر موجود ہے ‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم کے اندر اس کا تذکرہ فرمایا ۔ نیز ان کو حکم بھی دیا گیا تھا کہ وہ تورات ‘ انجیل اور اس کلام پہ ایمان لائیں جو اللہ نے نازل کیا ہے (چاہے اس ماانزل اللہ سے مراد قرآن ہو یا دوسری کتب ہوں مثلا زبور داؤد وغیرہ) ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ تورات اور انجیل کو قائم نہیں کرتے ۔ اب ان کو اس نئے دین میں داخل ہوجانا چاہیے اس لئے کہ یہ دین تورات وانجیل کی تصدیق کرتا ہے اور اس کے اندر تورات وانجیل کی اصل تعلیمات محفوظ کردی گئی ہیں ۔ اگر یہ دین اسلام میں داخل نہ ہوں گے تو ان کی کوئی دینی حیثیت نہ ہوگی ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے تو حضور ﷺ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایسا اعلان کردیں ورنہ سمجھا جائے گا کہ آپ نے تبلیغ کا حق ادا نہیں کیا اور یہ ایک شدید تہدید ہے جو حضور اکرم ﷺ کو دی گئی ۔
اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ جب اہل کتاب کی دینی حیثیت کو ان فیصلہ کن اور دو ٹوک الفاظ میں چیلنج کیا جائے گا تو وہ کفر و طغیان میں مزید آگے بڑھیں گے ۔ وہ مزید عناد میں مبتلا ہوں گے اور کج بحثیاں کریں گے ۔ لیکن ان خطرات کے باوجود حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ بس وہ یہ اعلان کر ہی دیں اور اس اعلان کے نتیجے میں ہونے والے کفر وسرکشی ‘ گمراہی اور بغاوت کی کوئی پرواہ نہ کریں اور مایوس نہ ہوں کیونکہ حکمت الہی کا تقاضا یہ ہے کہ حق کا اعلان ببانگ دہل کیا جائے اور اس پر جو نتائج مرتب ہونا ہیں وہ ہوجائیں ۔ جو شخص راہ ہدایت کو اختیار کرلیتا ہے وہ کھل کر راہ ہدایت پر آجائے اور جو راہ ضلالت کا انتخاب کرتا ہے وہ کھل کر راہ ضلالت اختیار کرے ۔
المائدة 5:68
(آیت) ” ْ وَلَیَزِیْدَنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم مَّا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ طُغْیَاناً وَکُفْراً فَلاَ تَأْسَ عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ (68)
” ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا ۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔
ان ہدایات کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے داعی کے لئے منہاج دعوت کے نقوش متعین فرما دیئے اور یہ بھی بتادیا کہ اس کی حکمت کیا ہے ۔ جو لوگ ہدایت قبول نہیں کرتے اور کفر وسرکشی میں مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ ان کے بارے میں آپ کی دلجوئی بھی فرمادی کہ یہ لوگ تو اس انجام کے مستحق ہوگئے ہیں ‘ اس لئے کہ ان کے دل سچی بات کے متحمل ہی نہیں ہوتے ۔ ان کے دلوں کی گہرائیوں سے سچائی کا مادہ ختم ہوچکا ہے ۔ اس لئے ان لوگوں کے سامنے کلمہ حق ببانگ دہل کہہ دیا تاکہ ان کے دلوں کی گندگی ظاہر ہوجائے اور وہ مزید کفر وسرکشی میں آگے بڑھ جائیں اور سرکشوں اور کفروں کے انجام تک پہنچ جائیں ۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی کچھ دینی حیثیت نہیں ہے اگر وہ تورات ‘ انجیل اور ما انزل اللہ کو قائم نہیں کرتے ۔ اور نتیجۃ ” دین جدید میں داخل نہیں ہوجاتے ‘ جیسا کہ اس آیت اور متعدد دوسری آیات میں حکم دیا گیا ہے ۔ اور اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو نہ مومن ہوں گے اور نہ کسی سماوی دین پر ہوں گے اور نہ ایسے دین والے ہوں گے جسے اللہ قبول کرے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ۔ کہ حضور ﷺ کی اس انداز کی تبلیغ سے یہ لوگ مزید سرکشی اور کفر میں مبتلا ہو رہے تھے لیکن اس کے باوجود حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ کھل کر اعلان کردیں اور اس سلسلے میں کوئی توریہ نہ کریں اور نہ نتائج سے گھبرائیں ۔
جب یہ ایک فیصلہ کن بات ہے اور اسے فیصلہ کن الفاظ میں بیان کردیا گیا ہے کہ (لستم علی شیء ‘) (5 : 68) تو اب اہل کتاب کو اہل دین کہنے کی سرے سے گنجائش ہی نہ رہی اور نہ اس بات کی گنجائش رہی کہ اہل اسلام اہل کتاب سے دوستی اور موالات کے تعلقات استوار کریں چہ جائیکہ ان کے ساتھ مل کر ملحدین اور الحاد کے خلاف محاذ بنائیں جیسا کہ آج کل ہمارے بعض فریب خوردہ اور فریب کار اہل ثقافت ایسا کرتے ہیں ۔ اہل کتاب نے نہ تورات کو قائم کیا ‘ نہ انجیل کو قائم کیا اور نہ ان دوسری تعلیمات کو قائم کیا جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھیں اس لئے کوئی مسلمان ان کی کسی دینی حیثیت کا اعتراف نہیں کرسکتا ۔ نہ کوئی مسلمان ان کو وہ حیثیت دے سکتا ہے جو اللہ نے انکو نہیں دی ۔ ” اور کسی مومن اور کسی مومنہ کی یہ شان نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسول ﷺ کسی امر کا فیصلہ کردیں تو پھر ان کو اس امر میں کوئی اختیار ہو ۔ “ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اسے کسی قسم کے ” ظروف واحوال “ نہیں بدل سکتے ۔
جب ہم یہ طے کردیں کہ اللہ کی بات فیصلہ کن ہے جیسا کہ وہ فی الحقیقت حق اور فیصلہ کن ہے تو ہمیں یہ بات خاطر میں نہیں لانا چاہئے کہ ہمارے اس اعلان حق سے اہل کتاب کے اندر کس قدر ہیجان پیدا ہوتا ہے اور وہ ہمارے خلاف کس قدر شدید جنگ شروع کرتے ہیں ۔ نہ ہمیں یہ کوشش کرنا چاہئے کہ ہم ان کی دوستی حاصل کرنے کے لئے سعی کریں اور ان کی دینی حیثیت کا اعتراف کریں یا انہیں راضی کرکے اور ان کے ساتھ باہم نصرت اور موالات کا معاہدہ کریں اور پھر ہم دونوں ملتیں مل کر کفر والحاد کا مقابلہ کریں جبکہ ان کا دین کوئی چیز ہی نہیں ہے ۔ اللہ تو ہمیں ایسی کوئی ہدایت نہیں دے رہا ہے اور نہ اللہ کو یہ بات قبول ہے کہ ہم اہل کتاب کی دینی حیثیت کا اعتراف کریں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس موالات اور باہم نصرت کے فعل کو بھی معاف نہیں کرے گا ۔ نہ یہ سوچ قابل معافی ہے جس کے نتیجے میں یہ موالات وجود میں آتی ہے۔ کیونکہ اس صورت میں ہم وہ فیصلہ کریں گے جو اللہ نہیں کیا اور اپنے لئے وہ کچھ اختیار کریں گے جو اللہ نے نہیں کیا ہے ۔ اس طرح ہم یہ تسلیم کریں گے کہ اہل کتاب کے مسخ شدہ اور تحریف شدہ عقائد بھی دین ہیں اور یہ دونوں الہی دین ایک جگہ جمع ہو کر کفر کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کا کہنا یہ ہے کہ وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے جب تک کہ وہ تورات ‘ انجیل اور ان تمام ہدایت کو قائم نہیں کرتے جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئیں ‘ اور ظاہر ہے کہ وہ عملا ایسا نہیں کر رہے ۔
اب ذرا ان لوگوں کو لیجئے جو کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں اور ان کے رب کی طرف سے جو کچھ نازل ہوا ہے وہ اسے قائم نہیں کرتے ۔ یہ بھی ہمیشہ اسی طرح ہوں گے جس طرح اہل کتاب ہیں ۔ یہ بھی کچھ دینی حیثیت نہیں رکھتے ۔ اہل کتاب پر ایک کلام نازل ہوتا ہے اور وہ اسے اپنی زندگیوں میں نفاذ نہیں کرتے ‘ نہ اسے اپنے نفوس پر نافذ کرتے ہیں ۔ لہذا جو شخص مسلمان بننا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ وہ اسلام اور کتاب اللہ کو پہلے اپنے نفس میں قائم کرے ۔ اس کے بعد اپنی پوری زندگی پر قائم کرے اور پھر تمام ان لوگوں کے سامنے یہ اعلان حق کر دے کہ جو لوگ قرآن کو قائم نہیں کرتے ان کی کوئی دینی حیثیت نہیں ہے جب تک کہ وہ قرآن کو اپنی زندگیوں میں نافذ نہیں کرتے ۔ اگر وہ اس کے سوا دعوائے دین کرتے ہیں تو ان کے اس دعوے کی تردید اس دین کے رب فرما رہے ہیں ۔ لہذا اس معاملے میں ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ فیصلہ کن بات کرے ۔ اس قسم کے لوگوں کو از سر نو اسلام کی دعوت دینا ہر مسلمان پر واجب ہے بشرطیکہ اس نے اپنے نفس اور اپنی زندگی میں ماانزل اللہ کو قائم کردیا ہو۔ محض زبانی طور پر اسلام کا دعوی کرنا یا محض موروثی طور پر اسلام کا دعوی کرنا کوئی مفید مطلب بات نہیں ہے نہ اس اسلام وجود میں آتا ہے اور نہ حقیقت ایمان نفس کے اندر پیدا ہوتی ہے اور نہ ایسا شخص اللہ کے دین کے ساتھ متصف ہوگا ۔ ہر زمان ومکان میں اصول و فیصلہ یہ ہوگا۔۔۔۔۔۔ اگر اہل کتاب ان معنوں میں تورات وانجیل اور ما انزل اللہ کو قائم کردیں اور مسلمان ان معنوں میں قرآن کریم کو قائم کردیں تب وہ دین دار ہوں گے اور اہل کتاب بھی اپنے خیال کے مطابق دیندار ہوں گے ۔ ایسے حالات میں وہ کوئی معاہدہ کرسکتے ہیں اگر وہ کسی الحاد کے خلاف ورنہ دھوکہ ہوگا ‘ خودفریبی ہوگی اور خود اپنی دینی حیثیت کو پگھلا کر بہادینا ہوگا ۔
اللہ کا دین نہ کوئی جھنڈا ہے اور نہ کوئی یونیفارم ہے ‘ نہ کوئی وراثت ہے ‘ دین اسلام تو دل میں بیٹھتا ہے ‘ زندگی میں نمودار ہوتا ہے ۔ یہ کچھ نظریات ہیں جو دل کو بھر دیتے ہیں ‘ کچھ عبادات ہیں جو سرانجام دی جاتی ہیں اور ایک نظام ہے جو پوری زندگی پر متصرف ہوتا ہے ۔ دین اسلام تب قائم ہوتا ہے جب اس کے یہ تمام اجزاء ایک ساتھ کام کر رہے ہوں اور انسانوں کی زندگیوں میں جاری وساری ہوں ۔ اس کے سوا جو صورت بھی ہوگی اس میں اسلام کی ٹھوس شکل کو پگھلا کر بہانا مقصود ہوگا ۔ ضمیر کا فریب ہوگا اور کوئی پاک دل مسلمان اس فریب میں نہیں آسکتا ۔
ایک مسلمان کو تو چاہئے کہ وہ مذکورہ بالا حقیقت کا باآواز بلند اعلان کر دے اور جو نتائج اس کے نکلتے ہیں ‘ نکلیں ۔ اللہ ہے بچانے والا ۔ کافروں کو تو اللہ کبھی راہ راست نہیں دکھاتا ۔
ایک داعی اس وقت تک حق دعوت ادا نہیں کرسکتا اور اس وقت تک لوگوں پر اللہ کی جانب سے حجت قائم نہیں کرسکتا جب تک وہ ان تک دعوت کی پوری حقیقت اچھی طرح واضح نہیں کردیتا ۔ لوگوں پر اچھی طرح واضح نہیں کردیتا کہ وہ اس وقت کس پوزیشن میں کھڑے ہیں اور یہ بات وہ بغیر کسی مداہنت اور بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کہہ نہیں دیتا ۔ اگر داعی لوگوں کو صاف صاف یہ نہیں کہتا کہ وہ کس مقام پر کھڑے ہیں ‘ وہ غلط ہے ‘ وہ باطل موقف پر جمے ہوئے ہیں وہ انہیں جس موقف کی طرف دعوت دیتا ہے وہ ان کے موجودہ موقف سے سراسر الگ ایک دوسری چیز ہے اور یہ کہ وہ ایک مکمل تبدیلی کی دعوت دیتا ہے ۔ وہ ایک طویل سفر اور طویل جدوجہد کی طرف بلاتا ہے ۔ وہ مکمل تبدیلی چاہتا ہے یہ ایک مکمل تبدیلی کی دعوت دیتا ہے ۔ وہ ایک طویل سفر اور طویل جدوجہد کی طرف بلاتا ہے وہ مکمل تبدیلی چاہتا ہے یہ تبدیلی ان کے افکار میں بھی ہے ‘ ان کے طور طریقوں میں بھی ہے ۔ ان کے نظام زندگی اور ان کے اخلاقی نظام میں بھی وہ مکمل تغیر چاہتا ہے ۔ گویا وہ انکو اذیت دیتا ہے اس لئے ایک داعی سے لوگوں کی توقع بھی یہ ہوتی ہے کہ وہ واضح طرح بتائے کہ لوگوں کا موجودہ موقف غلط ہے تاکہ جو انکار کرتا ہے وہ واضح طور پر انکار کر دے اور جو اقرار کرتا ہے وہ واضح اقرار کرے۔ جو مرتا ہے مرے اور جو زندہ ہوتا ہے وہ زندہ ہو ۔
جب ایک صاحب دعوت اور داعی شف شف کرتا ہے اور لوگوں کو صاف صاف نہیں بتاتا ہے کہ ان کی زندگی میں کیا کیا باطل ہے اور یہ کہ وہ حق کیا ہے جس کی طرف وہ دعوت دے رہا ہے اور یہ کہ دعوت حق اور ان کے موقف باطل کے درمیان حد فاصل کیا ہے ؟ اور یہ کام وہ محض مشکل ظروف واحوال کی وجہ سے کرتا ہے تو اس وقت گویا وہ لوگوں کو اذیت دیتا ہے اور ان کو فریب دیتا ہے کیونکہ وہ صاف بتا نہیں رہا ہے کہ وہ چاہتا کیا ہے ۔ دوسرا جرم وہ یہ کر رہا ہوتا ہے کہ اللہ نے اسے جو بات صاف صاف کہہ دینے کا حکم دیا ہے اس پر بھی وہ عمل نہیں کر رہا ہوتا ۔
لوگوں کے ساتھ دعوت میں اگر نرمی کی جاسکتی ہے تو وہ صرف اس امر میں کی جاسکتی ہے کہ وہ انداز نرم اختیار کرے ۔ بات پوری کرے مگر نہایت ہی سلیقے سے اور نرم انداز میں ۔ بات پوری ہو مگر سیلقہ مندی سے اور حکمت سے جس کی ہدایت حکم اور موعظہ حسنہ میں دی گئی ہے ۔
آج کل ہمارے بعض دوست یہ دیکھتے ہیں کہ اہل کتاب دنیا میں ایک بڑی تعداد میں بستے ہیں ۔ ان کے پاس بہت بڑی مادی قوت ہے ۔ پھر یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بیشمار بت پرست ہیں اور دنیا کے ممالک کے اندر ان کی بات بھی سنی جاتی ہے پھر جب یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ مادی نظریات کے حامل ممالک کے پاس بڑی قوت ہے ۔ نیز ان لوگوں کے پاس تباہ کن اسلحہ جات بھی موجود ہیں اور پھر یہ دوست جب دیکھتے ہیں کہ جو لوگ اسلام کا دعوی کرتے ہیں ان کے پاس کچھی بھی نہیں ہے ۔ اور ان کے پاس اللہ کی جو کتاب ہے وہ اسے نافذ نہیں کرتے تو ایسے لوگوں پر یہ بات نہایت ہی شاق گزرتی ہے ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس قدر زیادہ لوگوں کو یہ حق بات کسی طرح کہیں کہ وہ سب گمراہ ہیں ۔ اتنی عظیم تعداد کو گمراہ کہنے کا فائدہ کیا ہے اور اس قدر عظیم آبادی کو کس طرح دین حق سمجھایا جاسکتا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ طریق کار یہی ہے ۔ جاہلیت اگر پوری کائنات میں پھیل جائے تو بھی جاہلیت ہوگی ۔ اس دنیا کے عملی حالات چاہے جیسے بھی ہوں ‘ وہ اس وقت تک کچھ حیثیت نہیں رکھتے جب تک وہ حق پر استوار نہ ہوجائیں ۔ ایک داعی کے سامنے اگر لوگوں کی ایک بہت بڑی آبادی گمراہ کھڑی ہو تو اس کے فرائض میں کچھ کمی نہیں ہوتی ‘ نہ باطل کا حجم اور اس کا ڈھیر سا ہونا دعوت پر اثر انداز ہو سکتا ہے جس طرح اس دعوت کا آغاز ہوا تھا اور اس نے تمام انسانوں کو خطاب کیا تھا ‘ کہ وہ کچھ حیثیت نہیں رکھتے ‘ اسی طرح ہمیں آج بھی کام شروع کرنا ہوگا ۔ گردش ایام کے بعد بات وہی تک آپہنچی ہے ‘ جہاں حضور ﷺ کے دور میں تھی ۔ آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا تھا اور آپ کو اللہ نے پکارا تھا ۔
(آیت) ” یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک “۔ (5 : 67) ” اے پیغمبر ﷺ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو ‘ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا ‘ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ، یقین رکھو کہ وہ کافروں کو ہدایت کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا ۔ صاف کہہ دو کہ ” اے اہل کتاب ‘ تم ہر گز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔
اس حصہ آیات کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اللہ کہا ہاں جو دین مقبول ہے وہ کیا ہے ۔ حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے لوگوں کی شناخت جو ہو سو وہ اور وہ چاہے جس دین پر بھی ہوں اور جس ملت کے بھی پیرو ہوں ‘ اب حکم یہ ہے ۔
المائدة 5:69
الذین امنو سے مراد اہل ایمان مسلمان ہیں ۔ الذین ھادو سے مراد یہودی ہیں ۔ الصائبون سے مراد وہ طبقہ ہے جو بتوں کی عبادت نہ کرتا تھا یہ لوگ حضور ﷺ کی بعث سے پہلے موجود تھے اور صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے تھے لیکن ان کا فرقہ کوئی متعین فرقہ نہ تھا ۔ اس قسم کے لوگ عرب میں معدودے چند تھے ۔ نصاری سے مراد عیسائی ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اتباع کا دعوی کرتے ہیں ۔
اس آیت میں فیصلہ یہ کیا گیا ہے کہ پہلے چاہے کوئی جس عقیدے اور دین پر بھی ہو ‘ اب اگر اللہ پر ایمان لائے گا آخرت پر ایمان لائے گا اور نیک کام کرے گا اور یہاں اس میں ضمنا یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اب نبی آخری الزمان ﷺ پر نازل شدہ شریعت پر بھی ایمان لائے جیسا کہ دوسری جگہوں پر تصریح کردی گئی ہے تو ایسے شخص کو نجات ملے گی اور اس کے لئے کوئی خوف ورنج نہ ہوگا ۔ اس بات کا کہ اس سے قبل وہ صحیح رہ پر نہ تھے ۔ ان سے ان کے سابق مذہب اور عنوان کے بارے میں نہ پوچھا جائے گا ۔ اعتبار آخری بات کا ہوگا ۔
یہ جو ہم کہتے ہیں کہ ضمنا یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلامی عقیدے کی ضرورت اور بدیہات میں یہ بات شامل ہے کہ حضرت محمد ﷺ خاتم النبیبن ہیں اور یہ کہ آپ کو تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا ہے ۔ اور یہ کہ تمام لوگ چاہے ‘ ان کی ملت ‘ دین ‘ اعتقادات ‘ نسل اور وطن جو بھی ہو ان کو یہ دعوت دی جارہی ہے کہ وہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائیں اور اپنے تصورات اور اپنی زندگیوں کو حضور اکرم ﷺ کی ہدایات کے مقابق ڈھالیں ۔ جو شخص آپ کو رسول ﷺ نہیں مانتا اور جو شخص اجمالا اور تفصیلا آپ پر ایمان نہیں لاتا وہ گمراہ ہے اور اس کا دین اور مسلک مقبول نہ ہوگا وہ اس اعلان کا مستحق نہ ہوگا ۔ (فلاخوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ (5 : 69) ” کہ انکے لئے نہ خوف کا مقام ہوگا اور نہ رنج کا “ یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جو اس دین سے بطور لازمی نتیجہ برآمد ہوتی ہے ‘ اس لئے ایک سچے مسلمان کے لئے اس بارے میں شف شف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ خصوصا اس عظیم جاہلیت سے متاثر ہو کر جو اس کے سامنے پھیلی ہوئی ہے جاہلیت کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہوئے ایک مسلمان کو غافل نہیں ہونا چاہئے جو مختلف ملتوں اور مسلکوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مجبور ہو کر اور متاثر ہو کر ان گمراہ ملتوں میں سے کسی کے پیروکاروں کو ” اہل دین “ سمجھے اور یہ سمجھے کہ ان کا دین عندا اللہ مقبول ہے اور یہ کہ اس کے ساتھ تعلق ولایت قائم ہو سکتا ہے ۔
اہل ایمان کا ولی اور ناصر فقط اللہ ہے اور جو شخص بھی اللہ کو ‘ اللہ کے رسول ﷺ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں دوست بنائے گا تو اسے یقین رکھنا چاہئے کہ حزب اللہ ہی غالب رہے گی ۔ “ چاہے ظاہری حالات کتنے ہیں ناموافق نظر آئیں اور جو شخص بھی ایمان لائے اللہ پر ‘ اور یوم آخرت پر اور نیک عمل کرے اور یہ اس دین آخری کے اصولوں کے مطابق کرے تو اس کے رنج وخوف کا کوئی موقع نہ ہوگا ۔ نہ دنیا میں اس کے لئے خوف ہوگا اور نہ آخرت میں اس کے لئے کوئی خوف ہوگا ۔ جاہلیت کی تہ بہ تہ قوتوں سے بھی اسے کوئی ڈر نہ ہوگا اور نہ انہیں ایمان سے ڈر ہوگا ۔
اب تاریخ بنی اسرائیل کا ایک اور باب کھلتا ہے اور اس باب میں بتایا جاتا ہے کہ یہ یہودیوں کیوں اور کس طرح بےحقیقت ہیں ؟ اور کیوں ضروری ہے کہ ان کو دعوت اسلامی سے روشناس کردیا جائے اور ان کو اس دین جدید کی دعوت دی جائے تاکہ وہ اس دین کی پناہ گاہ میں داخل ہوجائیں۔ یہ باب اس لئے کھولا جاتا ہے کہ یہ معلوم ہوجائے کہ ان کی حقیقت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ وہ وہی جو تھے ۔ مقصد یہ ہے کہ اہل اسلام کی نظروں میں ان کا کوئی اعتبار ہی نہ رہے اور مسلمان اس امر پر توجہ ہی نہ دیں کہ ان کے ساتھ تعلق موالات قائم ہو سکتا ہے یا وہ ان کے ساتھ کوئی نصرت کرسکتے ہیں جب تک کہ وہ اس حال پر قائم ہیں اور سچائی کے مقابلے میں اپنا رویہ انہیں نے تبدیل نہیں کیا ۔
المائدة 5:70
(آیت) ” نمبر 70 تا 71۔
یہ ان کی قدیم تاریخ ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا وہ پہلا اور آخری موقف نہیں ہے ۔ یہ لوگ سرکشی اور روگردانی کے عادی مجرم ہیں ۔ یہ وعدہ خلافی کے پرانے خوگر ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات نفس ہی کو اپنا الہ اور حاکم مانا ہے ۔ کبھی انہوں نے اللہ کے دین اور رسول ﷺ کے آگے سرتسلیم خم نہیں کیا ۔ یہ لوگ ہمیشہ داعیان حق کے لئے سرکش اور ظالم رہے ۔
(آیت) ” لَقَدْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَیْْہِمْ رُسُلاً کُلَّمَا جَاء ہُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَہْوَی أَنْفُسُہُمْ فَرِیْقاً کَذَّبُواْ وَفَرِیْقاً یَقْتُلُونَ (70)
” ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ۔ مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ‘ انکی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لیکر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کو قتل کردیا ۔
بنی اسرائیل کی قدیم تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی تعلیمات سے روگردانی کی ۔ انہوں نے کئی ایک پر دست درازی کی اور کئی ایک کو قتل کردیا ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات ہی کی پیروی کی ۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طویل داستانیں امت مسلمہ کو سنائیں تاکہ وہ بھی کہیں بنی اسرائیل کی راہ پر چل نہ نکلے ۔ تاکہ امت مسلمہ کو معلوم ہوجائے کہ اس راہ کی مشکلات کیا ہیں اور ان لوگوں کو جو فہم و فراست کے مالک ہیں اور جن کا تعلق باللہ قائم ہے وہ ان مقامات لغزش کا اچھی طرح ادراک کرلیں اور جب انہیں ویسے ہی حالات درپیش ہوں جو انبیائے بنی اسرائیل کو پیش آئے تو وہ ان سے حوصلہ پکڑیں اور یہ کہ آئندہ اہل اسلام کی آنے والی نسلیں بھی اسی راہ پر چلنے والی تھیں اور انہوں نے بھی عرصہ گزرنے کے بعد ویسی ہی سنگ دلی کا مظاہرہ کرنا تھا جو بنی اسرائیل نے کیا تھا ۔ انہوں نے بھی ہدایت کی راہ ترک کرکے اپنی خواہشات نفس کو الہ بنانا تھا ۔ آنے والے داعیان حق کو جھٹلانا تھا اور بعض کو قتل کرنا تھا بعینہ اسی طرح جس طرح بنی اسرائیل کے باغیوں اور نافرمانوں نے کیا تھا ۔
بنی اسرائیل کے یہ سرکش جب یہ سرکشیاں کر رہے تھے تو انہیں یقین تھا کہ ان پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آئے گا اور ان سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ یہ سوچ ان کی اس لئے پختہ ہوگئی تھی کہ وہ سنت الہیہ کو بھول گئے تھے اور وہ اس غرور میں گرفتار تھے کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی پیاری قوم ہیں ۔
(آیت) ” وحسبوا الاتکون فتنہ فعموا وصموا “ (5 : 71) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونمانہ ہوگا ‘ اس لئے اندھے اور بہرے بن گئے ۔ “
ان کی آنکھوں کی بصارت چلی گئی ‘ اس لئے وہ جس کو بھی دیکھتے اسے نہ سمجھتے اور ان کے کانوں پر پردے پڑگئے ‘، اس لئے جو چیز بھی سنتے اس سے فائدہ نہ اٹھاتے تھے ۔
(آیت) ” ثم تاب اللہ علیھم “۔ (5 : 71) ” اس کے بعد اللہ نے انہیں پھر معاف کیا “۔ یہ اللہ خاص رحمت تھی مگر انہوں نے اس اک بھی کچھ پاس نہ کیا ۔ (آیت) ” ثم عموا وصموا کثیرا منھم “۔ (5 : 71) پھر وہ اندھے اور بہرے بن گئے ان سے اکثر لوگ “۔
(آیت) ” (واللہ بصیر بما یعملون) “۔ (5 : 71) اللہ انکی سب حرکات کو دیکھتا رہا ہے “۔ اس لئے وہ انہیں انکی تمام حرکات پر انکو جزاء دے گا اور وہ بچ نہ سکیں گے ۔
اہل ایمان کے لئے یہاں اس قدر کافی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے بارے میں جان لیں اور اپنے جدید موقف کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں تاکہ اہل ایمان اس بات پر یکسو ہوجائیں اور ان کے ساتھ تعلق موالات کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیں ۔ جس طرح حضرت عبادہ ابن الصامت ؓ نے کہا کہ انہوں نے متنفر ہو کر تعلق موالات کے خاتمہ کا اعلان کردیا اور عبداللہ ابن ابی السلول جیسے منافقین نے اس تعلق کو جاری رکھا ۔
یہ تو تھے حالات یہودیوں کے ۔ رہے نصاری تو ان کے شب وروز بھی ایسے ہی تھے ۔ ان کے بارے میں بھی قرآن کریم ایک فیصلہ کن اور دو ٹوک تصرہ کرتا ہے ۔ اور یہ تبصرہ اس سورة کے موضوع اور مقصد کے ساتھ بالکل مناسب ہے ۔ اس لئے کہ قرآن یہاں اہل دین کو جو موقف دینا چاہتا ہے اس کے ساتھ یہی مناسب ہے ۔
اس سے پہلے اس سورة میں ان لوگوں کے بارے میں کہا گیا تھا جن کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ ہیں کہ یہ لوگ کافر ہیں ۔ اب اس بات کو یہاں دوبارہ دہرایا جاتا ہے کہ جن کا عقیدہ ہے کہ صرف عیسیٰ خدا ہیں یا جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تینوں میں سے ایک ہیں ۔ یہ دونوں کافر ہیں اور یہ کہ ان کے کفر پر یہاں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قول سے استدلال کیا گیا ہے ، ان کو خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ تعلیم دی تھی کہ خبردار اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو الہ نہ بناؤ ۔ آپ نے ان کو یہ تعلیم دی تھی کہ اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور اس معاملے میں میں اور تم سب برابر ہیں ‘ آخر میں لوگوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں ان غلط عقائد کو ترک کردیں اور ان کے بارے میں وہ عقائد اپنائیں جو اہل ایمان کے ہیں ۔
المائدة 5:71
(آیت) ” نمبر 70 تا 71۔
یہ ان کی قدیم تاریخ ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کے مقابلے میں انہوں نے جو موقف اختیار کیا وہ پہلا اور آخری موقف نہیں ہے ۔ یہ لوگ سرکشی اور روگردانی کے عادی مجرم ہیں ۔ یہ وعدہ خلافی کے پرانے خوگر ہیں ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات نفس ہی کو اپنا الہ اور حاکم مانا ہے ۔ کبھی انہوں نے اللہ کے دین اور رسول ﷺ کے آگے سرتسلیم خم نہیں کیا ۔ یہ لوگ ہمیشہ داعیان حق کے لئے سرکش اور ظالم رہے ۔
(آیت) ” لَقَدْ أَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ وَأَرْسَلْنَا إِلَیْْہِمْ رُسُلاً کُلَّمَا جَاء ہُمْ رَسُولٌ بِمَا لاَ تَہْوَی أَنْفُسُہُمْ فَرِیْقاً کَذَّبُواْ وَفَرِیْقاً یَقْتُلُونَ (70)
” ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ۔ مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ‘ انکی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لیکر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کو قتل کردیا ۔
بنی اسرائیل کی قدیم تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ انہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کی تعلیمات سے روگردانی کی ۔ انہوں نے کئی ایک پر دست درازی کی اور کئی ایک کو قتل کردیا ۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی خواہشات ہی کی پیروی کی ۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طویل داستانیں امت مسلمہ کو سنائیں تاکہ وہ بھی کہیں بنی اسرائیل کی راہ پر چل نہ نکلے ۔ تاکہ امت مسلمہ کو معلوم ہوجائے کہ اس راہ کی مشکلات کیا ہیں اور ان لوگوں کو جو فہم و فراست کے مالک ہیں اور جن کا تعلق باللہ قائم ہے وہ ان مقامات لغزش کا اچھی طرح ادراک کرلیں اور جب انہیں ویسے ہی حالات درپیش ہوں جو انبیائے بنی اسرائیل کو پیش آئے تو وہ ان سے حوصلہ پکڑیں اور یہ کہ آئندہ اہل اسلام کی آنے والی نسلیں بھی اسی راہ پر چلنے والی تھیں اور انہوں نے بھی عرصہ گزرنے کے بعد ویسی ہی سنگ دلی کا مظاہرہ کرنا تھا جو بنی اسرائیل نے کیا تھا ۔ انہوں نے بھی ہدایت کی راہ ترک کرکے اپنی خواہشات نفس کو الہ بنانا تھا ۔ آنے والے داعیان حق کو جھٹلانا تھا اور بعض کو قتل کرنا تھا بعینہ اسی طرح جس طرح بنی اسرائیل کے باغیوں اور نافرمانوں نے کیا تھا ۔
بنی اسرائیل کے یہ سرکش جب یہ سرکشیاں کر رہے تھے تو انہیں یقین تھا کہ ان پر اللہ کا کوئی عذاب نہ آئے گا اور ان سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ یہ سوچ ان کی اس لئے پختہ ہوگئی تھی کہ وہ سنت الہیہ کو بھول گئے تھے اور وہ اس غرور میں گرفتار تھے کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی پیاری قوم ہیں ۔
(آیت) ” وحسبوا الاتکون فتنہ فعموا وصموا “ (5 : 71) ” اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونمانہ ہوگا ‘ اس لئے اندھے اور بہرے بن گئے ۔ “
ان کی آنکھوں کی بصارت چلی گئی ‘ اس لئے وہ جس کو بھی دیکھتے اسے نہ سمجھتے اور ان کے کانوں پر پردے پڑگئے ‘، اس لئے جو چیز بھی سنتے اس سے فائدہ نہ اٹھاتے تھے ۔
(آیت) ” ثم تاب اللہ علیھم “۔ (5 : 71) ” اس کے بعد اللہ نے انہیں پھر معاف کیا “۔ یہ اللہ خاص رحمت تھی مگر انہوں نے اس اک بھی کچھ پاس نہ کیا ۔ (آیت) ” ثم عموا وصموا کثیرا منھم “۔ (5 : 71) پھر وہ اندھے اور بہرے بن گئے ان سے اکثر لوگ “۔
(آیت) ” (واللہ بصیر بما یعملون) “۔ (5 : 71) اللہ انکی سب حرکات کو دیکھتا رہا ہے “۔ اس لئے وہ انہیں انکی تمام حرکات پر انکو جزاء دے گا اور وہ بچ نہ سکیں گے ۔
اہل ایمان کے لئے یہاں اس قدر کافی ہے کہ وہ بنی اسرائیل کے بارے میں جان لیں اور اپنے جدید موقف کے ساتھ اس کا مقابلہ کریں تاکہ اہل ایمان اس بات پر یکسو ہوجائیں اور ان کے ساتھ تعلق موالات کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑ دیں ۔ جس طرح حضرت عبادہ ابن الصامت ؓ نے کہا کہ انہوں نے متنفر ہو کر تعلق موالات کے خاتمہ کا اعلان کردیا اور عبداللہ ابن ابی السلول جیسے منافقین نے اس تعلق کو جاری رکھا ۔
یہ تو تھے حالات یہودیوں کے ۔ رہے نصاری تو ان کے شب وروز بھی ایسے ہی تھے ۔ ان کے بارے میں بھی قرآن کریم ایک فیصلہ کن اور دو ٹوک تصرہ کرتا ہے ۔ اور یہ تبصرہ اس سورة کے موضوع اور مقصد کے ساتھ بالکل مناسب ہے ۔ اس لئے کہ قرآن یہاں اہل دین کو جو موقف دینا چاہتا ہے اس کے ساتھ یہی مناسب ہے ۔
اس سے پہلے اس سورة میں ان لوگوں کے بارے میں کہا گیا تھا جن کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ ہیں کہ یہ لوگ کافر ہیں ۔ اب اس بات کو یہاں دوبارہ دہرایا جاتا ہے کہ جن کا عقیدہ ہے کہ صرف عیسیٰ خدا ہیں یا جن کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تینوں میں سے ایک ہیں ۔ یہ دونوں کافر ہیں اور یہ کہ ان کے کفر پر یہاں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قول سے استدلال کیا گیا ہے ، ان کو خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ تعلیم دی تھی کہ خبردار اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو الہ نہ بناؤ ۔ آپ نے ان کو یہ تعلیم دی تھی کہ اللہ میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور اس معاملے میں میں اور تم سب برابر ہیں ‘ آخر میں لوگوں کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں ان غلط عقائد کو ترک کردیں اور ان کے بارے میں وہ عقائد اپنائیں جو اہل ایمان کے ہیں ۔
المائدة 5:72
(آیت) ” نمبر 72 تا 76۔
اس سے پہلے ہم بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بیان کردہ عقیدہ توحید کے اندر یہ شرکیہ عقائد کب اور کس کانفرس کے ذریعہ داخل ہوئے ۔ حالانکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا عقیدہ وہی تھا جو اس کے دوسرے بھائی رسولوں کا تھا ‘ جو خالص توحید کے داعی تھے اور اس میں شمہ بھر شرک نہ تھا ۔ اس لئے کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد تمام رسالتوں کی بعثت کا مقصد توحید کی تبلیغ اور شرک کی تردید ہی تھا ۔
یہاں مختصرا ہم وہ عقیدہ درج کرتے ہیں جس تک یہ کانفرنسیں بالاتفاق پہنچیں اور اس کے بعد ان کے اوپر جو اختلافات مرتب ہوئے انکی تفصیلات پہلے گزر گئی ہیں ۔
نوفل ابن نعمت اللہ ابن جرجیس نصرانی کی کتاب ” سوسنہ سلیمان “ میں ہے کہ عیسائیوں کا وہ عقیدہ جس میں کسی کنیسہ کو اختلاف نہیں ہے اور جسے نیقیا کی مجلس نے بطور اصل عقیدہ طے کیا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ الہ صرف ایک ہے ‘ اب باپ الہ ہے جو سب پر کنڑول کرنے والے ہے ۔ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ‘ جو چیز نظرآئے یا نہ آئے اس کا پیدا کرنے والا ہے ۔ پھر ایک رب واحد یسوع پر ایمان لانا ہے جو اکلوتا بیٹا ہے اور ایک باپ سے ہے اور یہ زمانوں سے پہلے نور سے پیدا ہوا ہے ۔ یہ بھی الہ ہے ‘ الہ حق سے ہے ‘ مولود ہے ‘ مولود ہے اور غیر مخلوق ہے ‘ اپنے جوہر میں باپ کے برابر ہے ‘ جس سے تمام مخلوقات پیدا ہوئی اور جس کی وجہ سے ہم انسان پیدا ہوئے اور یہ باپ ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے آسمان سے نازل ہوا۔ روح القدس کو اس کا درجہ ملا ۔ اور بیلاطس کے عہد میں کنواری مریم سے اس کا تولد ہوا ۔ انسان کی شکل میں آیا ۔ عہد بیلاطس میں سولی پر چڑھا ۔ دیکھ پہنچا ‘ قبر میں دفن ہوا اور مردوں سے تیسرے دن اٹھ کھڑا ہوا جیسا کہ کتابوں میں ہے ۔ آسمان کی طرف اٹھا اور رب کے دائیں طرف بیٹھا اور عنقریب اس کا نزول عزت ہوگا اور تمام زندوں کو دین میں داخل کرے گا ۔ اس کی بات ختم نہ ہوگی ۔ روح القدس اور باپ سے نکلنے والے خدا پر ایمان لانا ضروری ہے جو خدا کے ساتھ موجود ہے اور ان دونوں کے لئے سجدہ ہوتا ہے اور جو انبیاء کے ساتھ باتیں کرتا ہے ۔ “۔
ڈاکٹر پوسٹ اپنی کتاب تاریخ کنیسہ میں کہتے ہیں کہ ذات باری تین اقانیم سے عبارت ہے جو مساوی ہیں ۔ اللہ باپ ‘ اللہ بیٹا ‘ اللہ روح القدس ۔ بیٹے کے ذریعے لوگ باپ سے منسوب ہیں کہ وہ مخلوق ہیں ‘ بیٹے نے قربانی دی اور روح القدس پاک ہے ۔ “
اب یہ تصور کس قدر دشوار ہے کہ تین ایک بھی ہیں اور توحید اور تثلیث کا ایک ساتھ تصور کس قدر مشکل ہے ۔ نصاری کے لاہوتی مصنفین نے یہ تجویز کیا ہے کہ اس عقیدے کے عقلی پہلو پر غور وخوض کو ملتوی رکھا جائے ‘ اس لئے کہ عقل تو اسے سنتے ہی مسترد کردیتی ہے ۔ ان میں سے ایک پادری بوطر اپنے رسالہ ” اصول و فروع “ میں لکھتے ہیں ” ہم نے اپنی عقل کی طاقت کے مطابق اسے یوں سمجھا ہے اور آئندہ اسے ہم واضح طور پر سمجھ سکیں گے جب اللہ آسمانوں اور زمینوں کے رازوں سے پردہ اٹھا لے گا ۔ فی الحال اس قدر کافی ہے ۔ “
اللہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام معقولات کفر ہیں ۔ اس لئے کہ ان تمام میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الہ مانا گیا ہے نیز تینوں میں سے ایک کہنا بھی کفر ہے ۔ لہذا اللہ کی بات کے بات کے بعد کوئی اور بات نہیں ہے ۔ اللہ کا فرمان واضح ہے ۔
(آیت) ” لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ہُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَقَالَ الْمَسِیْحُ یَا بَنِیْ إِسْرَائِیْلَ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ إِنَّہُ مَن یُشْرِکْ بِاللّہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَأْوَاہُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِیْنَ مِنْ أَنصَارٍ (72)
” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ ” اے بنی اسرائیل ‘ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ۔ “ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ۔
حضرت مسیح (علیہ السلام) نے اسی طرح انہیں صاف صاف ڈرایا تھا مگر وہ باز نہ آئے ۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد وہ اسی غلطی میں پڑگئے تھے جس سے آپ نے انہیں متنبہ کردیا تھا ۔ حالانکہ آپ ﷺ نے صاف صاف بتایا تھا کہ اگر انہوں نے عقیدہ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کیا تو وہ جنت سے محروم ہو کر جہنم کی آگ کے مستحق ہوجائیں گے ۔ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے اس قول کو بھلا دیا ” اے بنی اسرائیل صرف اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے ۔ “ اس قول کے مطابق آپ نے انہیں کہا تھا کہ اللہ کے سامنے میں اور تم برابر کے بندے ہیں اور اللہ جو سب کا رب ہے اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہاں قرآن کریم ان کے تمام کفریہ معقولات کا ذکر کرتا ہے ۔
المائدة 5:73
(آیت) ” لَّقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُواْ إِنَّ اللّہَ ثَالِثُ ثَلاَثَۃٍ وَمَا مِنْ إِلَـہٍ إِلاَّ إِلَـہٌ وَاحِدٌ(5 : 73)
یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے “۔ اور ان تمام باطل عقائد کی تردید کر کے یہ بتا دیتا ہے کہ تمام رسول جو عقیدہ لے کر آئے ہی وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور اگر عیسائی اپنے ان معقولات سے باز نہ آئے اور ذات باری اور ذات مسیح کے بارے میں ایسی ہی کفریہ باتیں کہتے رہے تو بعید نہیں کہ ان پر دردناک عذاب آجائے اور قیامت کا دن دور نہیں ہے ۔
(آیت) ” وَإِن لَّمْ یَنتَہُواْ عَمَّا یَقُولُونَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِنْہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(73)
” اگر یہ لوگ ان باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اس کو درد ناک سزا دی جائے گی “۔ اور اللہ کی اس تنبیہ کے باوجود کافروں نے ان معقولات سے توبہ نہ کی ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کن انداز میں کہہ دیا تھا کہ یہ کافر ہوگئے ہیں تو اس ترہیب کے ساتھ ساتھ اللہ ان کو ترغیب بھی دیتے ہیں کہ اللہ معاف کرنے والا ہے اگر اب بھی یہ لوگ باز آجائیں ۔
المائدة 5:74
(آیت) ” أَفَلاَ یَتُوبُونَ إِلَی اللّہِ وَیَسْتَغْفِرُونَہُ وَاللّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(74)
” پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے ؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہا گیا کہ توبہ کا دروازہ بندنہ ہو اور ہر کسی کو وقت ختم ہونے سے پہلے واپسی کا موقع ہو ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کا حقیقی مقام کیا ہے ؟ تو مضبوط منطقی انداز میں بتایا جاتا ہے کہ مسیح کون ہیں اس امید سے کہ شاید انکی فطرت سلیمہ مقام مسیح کے ادارک میں انکی مدد کرے ۔ اور مسیح کی حقیقت بتانے کے بعد اللہ تعالیٰ تعجب خیز انداز میں کہتے ہیں کہ اس کے باوجود یہ لوگ روگردانی کرتے ہیں ۔
المائدة 5:75
(آیت) ” مَّا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ وَأُمُّہُ صِدِّیْقَۃٌ کَانَا یَأْکُلاَنِ الطَّعَامَ انظُرْ کَیْْفَ نُبَیِّنُ لَہُمُ الآیَاتِ ثُمَّ انظُرْ أَنَّی یُؤْفَکُونَ (75)
مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا ‘ اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ‘ اس کی ماں راست باز عورت تھی اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے ۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے ساتھ حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں ‘ پھر دیکھو یہ کدھرالٹے پھرے جاتے ہیں ۔
حضرت مسیح (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ صدیقہ کی زندگی میں کھانا ایک واقعی امر تھا ۔ زندوں کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے کہ وہ کھانا کھاتے ہیں اور یہی حضرت مسیح اور ان کی والدہ صدیقہ ؓ کی بشریت پر سب سے بڑی دلیل ہے ۔ اور ان کی مابعد الطبیعیاتی تعبیرات کے مطابق ان کے ناسوت ہونے پر یہ بری دلیل ہے ۔ کھانا کھانا بیشک انسان کی جسمانی طلب اور جسمانی احتیاج کی دلیل ہے ۔ اور جو ذات زندہ رہنے کے لئے کھانے کی محتاج ہو وہ الہ کس طرح بن سکتی ہے ۔ اللہ تو بذات خود زندہ ہے ۔ بذات خود قائم ہے ‘ بذات خود باقی ہے ‘ وہ کھانا کھانے کا محتاج نہیں ہے اور کھانے کی قسم کی اشیاء نہ اللہ کی ذات میں داخل ہوتی ہے اور نہ خارج ہوتی ہیں ۔
اس سیدھی سادی حقیقت کو دیکھتے ہوئے اور صاف ستھری بات کو دیکھتے بات کو دیکھتے ہوئے چونکہ کوئی معقول انسان اس میں مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے اس کے ہوتے ہوئے ان کے موقف پر سخت تعجب کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ اس منطق سلیم سے پھر بھی منہ موڑتے ہیں ۔ ” دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں اور پھر ان کو دیکھو کہ یہ لوگ کدھر الٹے پھرے جارے ہیں ۔ “
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو الوہیت کا جامہ پہنانا چاہا ان کے لئے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی انسانی زندگی ہمیشہ تھکا دینے والی حقیقت رہی ۔ یہ بات آپ کی تعلیمات کے بھی خلاف تھی ‘ اس لئے یہ لوگ ہمیشہ بحث ومباحثے اور جدل وجدال میں مبتلا رہے ۔ اور عیسائیوں کی الہیت میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی لاھوتیت اور ناسوتیت ہمیشہ لایخل مسئلہ رہی ۔
اب قرآن کی منطق سلیم کو ایک دوسرے زاویے سے ملاحظہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے اور تعجب خیرا استکراہ کے ساتھ ۔
المائدة 5:76
(آیت) ” قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَمْلِکُ لَکُمْ ضَرّاً وَلاَ نَفْعاً وَاللّہُ ہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (76)
” ان سے کہو تم اللہ کو چھوڑ کر اس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لئے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا ؟ حالانکہ سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے ۔ یہاں قرآن کریم نے لفظ ” ما “ استعمال کیا ہے ۔ حالانکہ یہاں مسیح کے لئے لفظ من استعمال کی جانا چاہئے تھا ‘ تاکہ اس میں وہ تمام مخلوقات آجائیں جن چیزوں کی پوجا کی گئی ۔ ان میں ذوی العقول بھی شامل ہیں ۔ اور لفظ ” ما “ اس عام چیز کی اصل ماہیت کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ ان معبود اشیاء کی اصل ماہیت مخلوق ہے لہذا ان میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) روح القدس ‘ حضرت مریم صدیقہ (علیہ السلام) سب کے سب شامل ہوں گے اس لئے کہ اپنی ماہیت کے اعتبار سے یہ سب مخلوق ہیں ۔ چناچہ اس انداز تعبیر میں بھی ایک خاص اشاریت پائی جاتی ہے ۔ اور نتیجہ یہی نکلے گا کہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی عبادت کا مستحق نہ رہے گا ‘ جبکہ کوئی مخلوق نفع ونقصان کی مالک بھی نہ ہوگی ۔
(آیت) ” ھو السمیع العلیم “۔ (5 : 76) (وہ سننے والا اور جاننے والا ہے) یعنی وجہ ہے کہ وہ نفع ونقصان پہنچا سکتا ہے ۔ وہ اپنے بندوں کی پکاروں کو سنتا ہے ۔ وہ بندوں کی عبادت کو دیکھتا ہے ۔ وہ ان کے دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے ۔ ان کی اس پکارو عبادت کے پیچھے جو جذبہ ہے اس کا بھی اسے علم ہے اور اللہ کے سوا جس قدر اور مخلوق ہے وہ نہ سنتی ہے ‘ نہ جانتی ہے اور نہ قبولیت کی طاقت رکھتی ہے ۔
اب اس بحث کو اس جامع دعوت کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اہل کتاب کے سامنے یہ تجویز رکھیں ۔
المائدة 5:77
(آیت) ” نمبر 77۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم میں غلو کرنے کی وجہ سے نصاری کے عقائد کے اندر خرافات داخل ہوئے اور اس کے بعد جب سلطنت روما کے حکمران عیسائیت میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنی بت پرستی کو عیسائیت کے اندر داخل کردیا ۔ اس کے مسائل کو حل کرنے کے لیے جو کانفرنسیں منعقد ہوئیں ان کے مندوبین نے بھی اللہ کے دین میں یہ غلط معقولات شامل کردیئے حالانکہ حضرت مسیح کو اللہ نے جو دین دے کر بھیجا تھا اور جس کی تبلیغ آپ ﷺ نے فرمائی تھی وہ بالکل صاف تھا ۔ قرآن مجید میں ہے ” اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا اور تمہار سب کا رب ہے ‘ بیشک جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو اللہ نے اس پر جنت کا داخلہ حرام کردیا ہے ۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہے ‘ اور ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا ۔ “
یہ پکار بنی اسرائیل کو بچانے کی آخری کوشش ہے تاکہ وہ اختلافات ‘ انحرافات ‘ خواہشات نفس کے اتھاہ سمندر سے نکل آئیں ‘ جس کے اندر وہ لوگ گر گئے جو ان سے پہلے گزرے تھے ‘ خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی راہ حق سے بھٹکایا ۔
مندرجہ بالا آیات کا یہ حصہ جو یہاں ختم ہوا اس پر ذرا دوبارہ غور کریں ۔ اس کے تین حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں ۔ یہاں اجمالا ان کا تذکرہ ضروری ہے ۔
(1) ۔ یہاں حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نظام زندگی کے اندر اعتقادی تصورات کی درستی کے لئے کس قدر عظیم جدوجہد کی گئی ہے اور تمام اعتقادات کو خالص نظریہ توحید کی اساس پر استوار کیا گیا ہے ۔ اس کو بت پرستی کی تمام ملاوٹوں سے پاک کیا گیا ہے ۔ شرک کی ہوا بھی اسے لگنے نہیں دی ‘ جس طرح اہل کتاب کے عقائد کے اندر شرک داخل ہوگیا تھا ۔ اسلام نے لوگوں کو ذات باری کی حقیقت اچھی طرح سمجھائی ۔ اللہ کو اپنی ذات اور اپنی صفات میں منفرد قرار دیا گیا ‘ اور اس بات کی سختی سے نفی کی گئی کہ اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات میں کوئی اس کا شریک ہو سکتا ہے ۔ اعتقادی تصورات کی تصحیح کے اس شاندار اہتمام سے اور عقیدہ توحید کے فیصلہ کن بیان اور توضیح سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صحیح عقائد کی کس قدر اہمیت ہے ‘ اور یہ کہ انسانی زندگی کی اصلاح میں درست عقائد کا کس قدر گہرا اثر ہوتا ہے ۔ نیز اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام نے تمام اعمال کو صحیح اعتقادات پر موقوف کیا ہے اور تمام انسانی تعلقات کو عقائد سے مربوط کردیا گیا ہے ۔
(2) ۔ دوسری یہ حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ قرآن نے ان لوگوں کے کفر کی تصریح کردی ہے جن کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم اللہ ہے یا جن کا عقیدہ یہ ہے کہ مسیح ابن مریم ‘ تین خداؤں میں سے ایک ہے ۔ اس تصریح کے بعد کسی مسلمان کے لئے جواز باقی ہی نہیں رہتا کہ وہ اہل کتاب کو دین پر سمجھے اس لئے کہ یہ لوگ ان عقاید کی وجہ سے خود اپنے دین کے بھی منکر ہوگئے ہیں ۔
اسلام اگر لوگوں کو اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ جس دین پر ہیں اسے چھوڑ دیں تو اسلام یہ بھی نہیں کرتا کہ کسی ایسے شخص کو جو دین سے خارج ہوچکا ہو ‘ محض اسے خوش کرنے کے لئے یہ کہہ دے کہ وہ دین پر ہے اور یہ کہ اس کا دین اللہ کو مقبول ہے ‘ بلکہ اسلام ایسے لوگوں کے دین پر کفر کا اطلاق کرتا ہے اور کفر کبھی اللہ کا دین نہیں ہو سکتا ۔
(3) ۔ تیسری حقیقت جو پہلی دونوں حقیقتوں پر بطور لازمی نتیجہ مرتب ہوتی ہے یہ ہے کہ ان عقائد کے حاملین اہل کتاب اور اسلام کے بیان کردہ عقیدہ توحید کو تسلیم کرنے والے اہل اسلام کے درمیان کوئی تعلق موالات قائم نہیں ہو سکتا اس لئے کہ ایک مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ اب دین صرف وہی ہے جس کی تعلیم حضرت محمد ﷺ نے دی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب یہ بات کہ تمام ادیان کے پیروکاروں کو اتحاد کرکے کفر اور الحاد کا مقابلہ کرنا چاہئے ایک لغو بات ہوگی ۔ اسلامی زاویے سے اس بات کے اندر کوئی وزن نہ ہوگا ۔ جب اعتقادات کے اندر اس قدر فیصلہ کن جدائی اور دوری ہو تو دونوں فریقوں کا کسی بات پر متحد ہونا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ دنیا میں ہر چیز کا قیام نظریات پر ہوتا ہے اور اسلام اس کا داعی ہے ۔ ا صل چیز نظریہ اور عقیدہ وہی ہوتا ہے ۔
آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ انبیاء بنی اسرائیل کا موقف کفار بنی اسرائیل کے سلسلے میں کیا رہا ہے ؟ انکی تاریخ کی ایک دوسری فصل ۔ بتایا جاتا ہے کہ ذرا حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا تبصرہ بنی اسرائیل کے بارے میں کیا تھا ۔ اور اللہ نے بنی اسرائیل کی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے ان کے اس موقف کو تسلیم کرلیا ۔ مزید یہ کہ ان کے اجتماعی فساد کی وجہ سے اور ان کی جانب سے اس اجتماعی فساد اور پکار پر مکمل سکوت اختیار کرنے کی وجہ سے اور پھر اس وجہ سے کہ یہ لوگ کفار کے ساتھ دوستی اور موالات کرتے تھے ‘ اللہ نے انہیں ملعون قرار دے دیا اور یہ فیصلہ کردیا کہ یہ لوگ جہنم میں رہیں گے ۔
المائدة 5:78
(آیت) ” 78 تا 81۔
نظر آتا ہے کہ بنی اسرائیل کی تاریخ کفر ‘ معصیت اور لعنتی افعال سے اٹی پڑی ہے اور ان کی ہدایت اور ان کی نجات کے لئے جن انبیاء کو بھیجا گیا تھا انہیں نے آخر کار ان پر لعنت کی بارش کردی اور ان کو اللہ کی راہ ہدایت سے دھتکار دیا ۔ اللہ نے بھی انکی اس دعاء اور پکار کو قبول کرلیا ۔ اور ان پر لعنت لکھ دی اور قیامت تک وہ ملعون قرار پائے ۔
بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ‘ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی کتابوں کے اندر تحریف کی ۔ یہ وہی لوگ تھے جو اللہ کی شریعت کے مطابق فیصلے نہ کرتے تھے جیسا کہ اس سورة میں اور دوسرے مقامات پر قرآن مجید نے تصریح کی ہے ۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کئے ہوئے اس عہد کو توڑا جوان سے اللہ نے لیا تھا کہ وہ ہر رسول پر ایمان لائیں گے اور اس کے ساتھ تعاون کریں گے اور اس کی نصرت کریں گے ۔
(آیت) ” ذَلِکَ بِمَا عَصَوا وَّکَانُواْ یَعْتَدُونَ (78)
” کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے ۔ “ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ سرکشی اور زیادتیوں سے بھری ہوئی ہے ۔ ان کے تصورات عقائد اور طرز عمل میں ہر جگہ سرکشی اور زیادتیوں کی جھلکیاں نظر آتی ہیں اور قرآن کریم نے اس کی پوری تفصیلات دی ہیں ۔
سرکشی کرنا اور زیادتی کرنا بنی اسرائیل میں کوئی انفرادی فعل نہیں رہا تھا بلکہ ان کے معاشرے کی اجتماعی روایات ہی سرکشی اور زیادتی کے رنگ میں رنگی ہوئی تھیں ۔ پورے معاشرے کی یہ فطرت بنی گئی تھی اور پورا معاشرہ ان برائیوں کے ارتکاب کو دیکھتا اور خاموش رہتا اور ان کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھاتا ۔
المائدة 5:79
(آیت) ” کَانُواْ لاَ یَتَنَاہَوْنَ عَن مُّنکَرٍ فَعَلُوہُ لَبِئْسَ مَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (79
” انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا ‘ برا طرز عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا تھا۔
سرکشی اور ظلم ہر معاشرے میں ہوتے رہتے ہیں اس لئے کہ ہر معاشرے میں شریر ‘ مفسد اور منحرف لوگ ہوتے ہیں ، یہ زمین کسی بھی وقت شروفساد سے خالی نہیں رہ سکتی ۔ معاشرے کے اندر ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی روش نرالی ہوتی ہے لیکن معاشرے کا اجتماعی مزاج شر اور منکر کو برداشت نہیں کرتا اور سرکشی اور ظلم کو معاشرے کے مسلمات قرار پانے کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس لئے سرکشی اور ظلم کا ارتکاب کسی بیدار معاشرے کے اندر بڑا مشکل ہوتا ہے ۔ اسی طرح زندہ معاشروں کے اندر برائی کا ارتکاب مشکل ہوتا ہے اور معاشرہ اجتماعی طور پر شر کے خلاف رد عمل ظاہر کم ہوجاتے ہیں معاشرے کے اجتماعی بندھن مضبوط ہوتے ہیں اور برائی چند افراد کے اندر محدود ہوتی ہے ۔ معاشرہ ان کا پیچھا کر رہا ہوتا ہے اور انہیں جمنے نہیں دیتا ۔ ایسے حالات میں فحاشی اور منکر شائع نہیں ہوتے ۔ پھیلتے نہیں بلکہ سکڑتے ہیں اور یہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر اور مزاج کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
بنی اسرائیل کے اس اجتماعی منظر کو یہاں اس مکروہ شکل میں پیش کرکے اور اس پر تنقید کرکے قرآن ‘ اسلامی نظام جماعت کو یہ مشورہ دیتا ہے کہ اس کا ایک مضبوط اجتماعی وجود ہونا چاہئے اور اس وجود کے اندر اس قدر قوت دفاع ہونی چاہئے کہ وہ سرکشی اور ظلم کو برداشت ہی نہ کرے ‘ چہ جائیکہ وہ معاشرے کی ایک عام روش ہوجائے ۔ اسلامی معاشرے کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ اسے بڑی سختی سے سچائی پر قائم ہونا چاہئے اور باطل کے بارے میں سخت حساس ہونا چاہئے ۔ دین کے ذمہ داران کو چاہئے کہ وہ اس امانت کی حفاظت کریں جس کے وہ امین اور محافظ ہیں ۔ اور شر فساد سرکشی اور ظلم کی راہ روکیں اور اس معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ۔ چاہے یہ شر ایسے حکام کی جانب سے ہو جن کا حکومت پر تسلط ہو یا ایسے سرمایہ داروں کی طرف سے ہو جنہوں نے دولت جمع کر کے اثر ورسوخ حاصل کرلیا ہو یا ایسے شرپسندوں کی طرف سے ہو جن کو معاشرے میں ایذا رسانی کی قوت حاصل ہو یا ایسے عوام کی جانب سے ہو جو بےراہ رو ہیں ۔ اسلامی نظام بہرحال خدائی نظام ہے اور اس کے خلاف اٹھنے والے بااثر ہوں یا بےاثر ہوں وہ سب باغی تصور ہوں گے ۔
اسلام اس فرض کی ادائیگی پر بہت ہی زور دیتا ہے ۔ اگر معاشرے کا اجتماعی وجود کسی شر کے خلاف آواز نہیں اٹھاتا تو اسلام پورے معاشرے کو مجرم گردانتا ہے ۔ جس طرح ایک ایک فرد ذمہ دار ہے اسی طرح برائی کے خلاف اٹھنے کی ذمہ داری بھی پورے معاشرے پر عائد ہوتی ہے ۔
امام احمد (رح) نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی یہ روایت نقل فرمائی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” جب بنی اسرائیل نے برائیوں کا ارتکاب شروع کیا تو انکے علماء نے انہیں منع کیا ۔ وہ منع نہ ہوئے ‘ ان علماء نے بھی ان معصیت پیشہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنا اٹھنا اور انکے ساتھ کھانا پینا شروع کردیا ۔ اللہ نے سب کو باہم ملا دیا ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ ان پر لعنت کی اس لئے کہ یہ لوگ سرکشی کرتے تھے اور ظلم کرتے تھے ۔ یہ بات کرتے وقت رسول ﷺ جو تکیہ سے ٹیک لگا کر لیٹے ہوئے تھے ‘ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا :” نہیں ‘ خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کو حق پر سختی سے مجبور کرو گے ۔ “
ابو داؤد نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت نقل کی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بنی اسرائیل میں جو پہلا نقص داخل ہوا وہ یہ تھا کہ ایک آدمی دوسرے سے ملتا تو کہتا : اے فلاں اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تم کر رہے ہو ‘ اسے چھوڑ دو اس لئے کہ یہ جائز نہیں ہے ۔ پھر دوسرے دن اسے ملتا تو اس کی یہ بری بات اسے اس بات سے نہ روکتی کہ وہ اس کا ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنے اور اس کا ہمنشین ہو ‘ جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ نے سب کو باہم ملا دیا۔ “ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ” ملعون کردیا اللہ نے ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے ۔ “ لعن سے فاسقون تک ۔
اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ” ہرگز نہیں تمہیں امر بالمعروف کرنا ہوگا اور نہی عن المنکر کرنا ہوگا اور تمہیں ظالم کا ہاتھ پکڑنا ہوگا اور تمہیں ان کو حق پر کھڑا کرنا ہوگا یا تمہیں انہیں سچائی پر مجبور کرنا ہوگا ۔ “ ‘
صرف امر اور نہی سے مسئلہ ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اصرار کرنا ہوگا کہ ظالم باز آجائیں ۔ ان کے ساتھ مقاطعہ کرنا ہوگا اور شر کو قوت سے مٹانا ہوگا ۔ فساد معصیت اور زیاتیوں کی راہ روکنی ہوگی ۔
امام مسلم نے اپنی سند کے ساتھ ابو سعید خدری ؓ کی حدیث نقل کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” تم میں سے جس نے بھی منکر کو دیکھا ‘ اسے چاہئے کہ وہ ہاتھ سے اسے روکے ‘ اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر طاقت نہ ہو تو دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا ضعیف ترین درجہ ہے۔ “
امام احمد (رح) نے اپنی سند کے ساتھ عدی ابن عمیرہ سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ” اللہ خاص گناہگاروں کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب میں مبتلا نہیں کرتا ۔ ہاں جب وہ اپنے درمیان برائی کو دیکھیں اور وہ اس کے خلاف اجتجاج کرسکتے ہوں مگر نہ کریں۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اللہ خاص مجرموں کی وجہ سے عام لوگوں کو بھی مبتلائے عذاب کرتے ہیں ۔ “
امام ترمذی نے ابو سعید سے نقل کیا ہے :” حضور ﷺ نے فرمایا ! بہترین جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے کلمہ حق ہے ۔ ‘
قرآن وسنت کی نصوص اس مفہوم میں بکثرت وارد ہیں ۔ اسلامی معاشرہ ایسا ہونا چاہئے کہ اس میں صورت یہ نہ ہو کہ ایک شخص برائی دیکھے اور کہے مجھے اس سے کیا واسطہ ؟ بلکہ اسلامی معاشرے کے اندر برائی کے خلاف اٹھ کھڑا ہو ۔ وہ حدود شریعت کے حق میں اٹھ کھڑا ہو اور یہی وہ جذبہ ہوتا ہے جس پر ایک اسلامی جماعت کی اساس ہے ‘ اس کے سوا ایک مسلم معاشرے کے وجود کا تصور ہی نہ ہوگا ۔
یہ حمیت اور جذبہ قلب میں تب پیدا ہوگا جب انسان میں اللہ کے اوپر پختہ یقین پیدا ہوجائے اور اسے یہ شعور ہو کہ اس ایمان کے تقاضے کیا ہیں ۔ پھر اسے اسلامی نظام زندگی کا صحیح فہم حاصل ہو اور اسے یہ احساس ہو کہ اسلامی نظام زندگی ایک مکمل نظام ہے وہ اس نظریے کو سنجیدگی کے ساتھ لے اور اس کے قیام کے لئے جدوجہد شروع کردے ۔ اسلامی معاشرہ ہوتا ہی وہ ہے جس میں قانون کا ماخذ شریعت الہی ہو ۔ اس کی اٹھان اسلامی منہاج پر ہو ‘ اور یہ معاشرہ ایک مسلمان کو اس بات کا موقع دیتا ہو کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرسکے ۔ یہ اس کا انفرادی علم نہ ہو کہ وہ اصلاح کی لہریں اٹھائے اور سمندر کے اندر گم ہوجائیں ۔ حالات ایسے نہ ہوں کہ ایک مسلمان سرے سے اصلاح کر ہی نہ سکے ‘ جیسا کہ آج کل عالم اسلام کے اکثر اوطان میں صورت حال ایسی ہے کہ انفرادی طور پر بھی کوئی امر بالعروف کا فریضہ ادا نہیں کرسکتا کیونکہ عالم اسلام کا اجتماعی نظام اس اصول پر قائم ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے کے معاملات میں دخل ہی نہیں دے سکتا اور اسامی معاشروں میں فسق وفجور اور اللہ کی معصیت کو لوگوں کے شخصی معاملات سمجھتا ہے ۔ کوئی کسی کے کام میں دخل نہیں دے سکتا بلکہ اسلامی معاشروں میں ظلم ‘ مار دھاڑ ‘ سرکشی اور زیادتی اور اس قدر طاقتور ہیں کہ ڈر کے مارے لوگوں کے منہ بالکل بند ہیں۔ زبانوں پر تالے لگے ہوئے ہیں اور جو شخص بھی برائی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے اس پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں ۔ حقیقی جدوجہد اور بھاری قربانیاں اس امر کے لئے دینی چاہئیں کہ ایک فلاحی اور خیر پسند معاشرہ قائم ہو اور فلاح اور خیر پر مشتمل معاشرہ صرف اسلامی نظام کے زیر سایہ ہی قائم ہو سکتا ہے اور یہ نیک معاشرہ دوسری جزوی اصلاحات اور شخصی بھلائی کے معاملات سے بھی پہلے بذریعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر قائم ہونا چاہئے ۔
اگر پورا معاشرہ گندہ ہو تو کسی فرد کو ستھرا نہیں کہا جاسکتا ۔ جبکہ جاہلیت کی سرکشی غالب ہو اور معاشرے کا اجتماعی ڈھانچہ جاہلیت پر قائم ہو ۔ اس میں قانون شریعت نافذ نہ ہو ‘ تو ایسے حالات میں ابتدائی کام شروع کرنا چاہئے اور نیکی کو جڑوں سے اٹھنا چاہئے اور وہ اس طرح ممکن ہے کہ کسی خطے میں اسلامی سلطنت قائم ہو اور جب یہ اقتدار قائم ہوجائے تو پھر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام بنیاد سے شروع ہوگا۔
یہ تمام امور پختہ ایمان کے متقاضی ہیں اور اس بات کے محتاج ہیں کہ نظام زندگی کی تبدیلی میں عزم ویقین کا کام شروع کیا جائے ۔ جب ایمان کامل ہوگا تو اللہ پر اعتماد ہوگا ۔ اور جب اللہ پر اعتماد ہوگا تو راستہ جس قدر طویل ہو ‘ پروانہ ہوگا اور انسان اپنے اجر کا امیدوار اللہ سے ہوگا ۔ پھر یہ مومن اس شخص کا انتظار نہیں کرتا جو اس دنیا میں بھی کچھ چاہتا ہے ۔ نہ مومن گمراہ معاشرے کو خاطر میں لاتا ہوگا ۔ پھر یہ مومن اس شخص کا انتظار نہیں کرتا جو اس دنیا میں بھی کچھ چاہتا ہے ۔ نہ مومن گمراہ معاشرے کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ وہ اہل جاہلیت سے کوئی نصرت طلب کرتا ہے ۔
وہ تمام نصوص قرآنی اور احادیث نبوی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں وارد ہیں وہ ایک اسلامی معاشرے میں ایک مسلم کے فرائض کا تعین کرتی ہیں ۔ وہ معاشرہ جس نے اللہ کے اقتدار اعلی کے اصول کو تسلیم کر لیا ہوتا ہے جس میں اللہ کی شریعت نافذ ہوچکی ہوتی ہے اگرچہ اس میں حکومت ظالمانہ ہو ‘ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ گناہ پھیل جاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” افضل جہاد ظالم سلطان کے سامنے کلمہ حق ہے ۔ امام جائز بہرحال امام ہوتا ہے اور جب تک یہ ظالم بادشاہ بھی اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہ کرے وہ امام بن ہی نہیں سکتا ۔ جب تک وہ شریعت قائم نہ کرے وہ امام نہیں ہے ۔ وہ تو کچھ اور ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون) ” جس نے اس قانون کے مطابق فیصلے نہ کریں ۔ جاہلی معاشروں کے اندر ہونے والا بڑا منکر ‘ جس سے تمام منکرات پیدا ہوتے ہیں وہ یہی منکر ہے جس کی رو سے اللہ کے حق حاکمیت کو مسترد کیا ہوا ہوتا ہے اور اللہ کی شریعت کے قانون کو نافذ نہیں کیا جاتا ۔ اب اگر ایسے معاشرے سے واسطہ ہے تو اہل ایمان کو سب سے پہلے اس عظیم منکر کا قلع قمع کرنا چاہئے کیونکہ یہ ایک بنیادی منکر ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ اس کے خلاف نکیر کریں اور دوسرے جزوی منکرات میں وقت ضائع نہ کریں جو اس بڑے منکر کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں ۔ وہ تو اس کے فروعات ہیں اور ان کا وجود ہی اس بڑے منکر کا مرہون منت ہے ۔
اس میں کوئی فائدہ نہ ہوگا کہ ہم اپنی قوتیں ان جزوی منکرات کے خلاف جدوجہد میں ضائع کریں ۔ بہت سے نیک فطرت اور صالح لوگ ان جزوی منکرات کے خلاف جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں حالانکہ یہ منکرات اس منکر اکبر کی پیداوار ہیں ۔ وہ منکر یہ ہے کہ لوگ اللہ کے حقوق پر دست درازی کرکے اللہ کے حق حاکمیت کو سلب کرتے ہیں ‘ اور اللہ کی شریعت کا انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے ہمیں اپنی قوتیں ان جزوی منکرات کے ازالے میں ضائع نہیں کرنا چاہئیں ‘ جو اس منکراول یعنی طاغوتی اقتدار اعلی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں ۔ اس میں کوئی شک اور بحث نہیں ہے کہ یہ اسی کا نتیجہ ہیں ۔
دوسری بات یہ ہے کہ ایک طاغوتی معاشرے میں جب ہم لوگوں کو نہی عن المنکر کرتے ہوئے کہیں کہ یہ برا کام ہے ایسا مت کرو ‘ تو ہمارے سامنے معیار اور پیمانہ کیا ہوگا ۔ مثلا ایک اسلامی آدمی کہے کہ یہ منکر ہے اور ادھر ادھر سے دس افراد اٹھ کھڑے ہوجائیں گے اور کہیں گے ہر گز نہیں ‘ یہ تو برا کام نہیں ہے ۔ ہاں پرانے زمانے کی باتیں کرتے ہوئے ‘ یہ بات کبھی ایسی تھی ۔ اب دنیا بدل گئی ہے ۔ معاشرہ ترقی کر گیا ہے اور اب اقدار بدل گئی ہیں ۔
لہذا یہ ضروری ہے کہ ایک پیمانہ ہو اور تمام لوگ اچھائی اور برائی کو اس کے مطابق جانچیں ۔ اب یہ پیمانہ اور یہ اقدار ہم کہاں سے اخذ کریں ۔ یہ میزان اور معیار کہاں سے لائیں ؟ کیا لوگوں کے اندازے ‘ لوگ کے رواج ‘ ان کی خواہشات پیمانہ حسن وقبح قرار پائیں ۔ یہ چیزیں تو بدلتی رہتی ہیں ۔ اس طرح تو ہم ایک ایسے صحرا میں داخل ہوجائیں گے جس میں کوئی راہنما نہ ہوگا اور ایسے سمندر میں داخل ہوں گے جو بےکنار ہوگا ۔
لہذا میزان عدل کا قیام پہلے ضروری ہے ۔ اس میزان اور پیمانے کو مستقل ہونا چاہئے جو لوگوں کی خواہشات کے مطابق بدلتا ہوا نہ ہو ۔ اور یہ ہے اللہ کا ترازو ‘ مستقل اور دائمی ۔
اب اگر کوئی معاشرہ سرے سے اللہ کے میزان ہی کو تسلیم نہیں کرتا تو ۔۔۔۔۔ جب لوگ اپنے فیصلے شریعت کے مطابق ہی نہیں کرتے تو ۔۔۔۔ بلکہ صورت یہ ہو کہ جو شخص اسلامی نظام کا داعی ہو ‘ اس پر ظلم ہو رہا ہو ‘ اس سے انتقام لیا جا رہا ہو ‘ اس کے ساتھ تمسخر اور مزاح ہو رہا ہو تو ۔۔۔۔۔ کیا ایسے حالات میں جزوی اصلاح کی جدوجہد ضائع نہ ہوگی محض مذاق ہو کر نہ رہ جائے گی ‘ کیا فائدہ ہوگا کہ تم ایسے معاشرے میں اٹھو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرو اور بعض جزئیات کی اصلاح کے لئے انجمن بنا کر جدوجہد شروع کر دو جن کے تولنے کے بارے میں لوگوں کے پیمانے اور میزان مختلف ہوں جن کے اندر مختلف الرائے ہوں ‘ ہر شخص اپنی خواہشات کے مطابق رہ لینے میں آزاد ہو ۔
لہذا ضروری ہے کہ اصولا ایک جج پر اتفاق ہو ‘ ایک پیمانے پر اتفاق ہو ‘ ایک مقتدر اعلی اور حاکم پر اتفاق ہو ‘ اس فورم پر اتفاق ہو جو فیصلہ کرے گا اور اختلاف رائے کی صورت میں اس کا جو فیصلہ ہو اور اسے تسلیم کیا جائے ۔
یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے معروف اکبر کو قائم کیا جائے اور معروف اکبر یہ ہے کہ اللہ کے حق حاکمیت کو تسلیم کرایا جائے اور اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے ، سب سے پہلے نہی عن المنکر الاکبر کیا جائے اور منکر اکبر یہ ہے کہ اللہ کے اقتدار اعلی کا انکار ہو رہا ہو ۔ اللہ کی شریعت متروک ہو ۔ اس اساس کو استوار کر کے ہی صالح معاشرے کی تعمیر ممکن ہے ۔ اس کے بعد پھر ہر طرف سے اصلاح معاشرہ کی کوششیں شروع کی جاسکتی ہیں ۔ لیکن اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام کوششوں کو مجتمع کرلیا جائے ‘ ان ایک سمت میں لگا دیا جائے اور اس اساس کو قائم کیا جائے یعنی اسلامی نظام حکومت ۔
بعض اوقات انسان دیکھتا ہے کہ بہت ہی اچھے لوگ ‘ نہایت ہی عظیم جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں اور وہ امر بالعروف اور نہی عن المنکر کرتے ہیں ۔ لیکن فروعی منکرات میں ۔ جبکہ وہ اساس جس پر اسلامی معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے اور جس کے اوپر امر بالمعروف ونہی عن المنکر قائم ہوتا ہے وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ۔
کیا فائدہ ہوگا کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں لوگوں کو زنا سے روکیں جو زنا کو سرے سے جرم ہی تصور نہیں کرتا ۔ صرف جبری مباشرت کو جرم تصور کرتا ہے ‘ اور جبری مباشرت میں بھی شریعت کے مطابق سزا نہیں دیتا اس لئے کہ وہ اللہ کی حاکمیت کو تسلیم ہی نہیں کرتا ۔ نہ وہ شریعت کو نظام زندگی تسلیم کرتا ہے ۔
کیا فائدہ ہے کہ ہم لوگوں کو اسلام کے خلاف لعن طعن کرنے سے روکیں ایک ایسے معاشرے میں جس میں اللہ کی حکومت کا اعتراف نہ ہو ‘ جس میں اللہ کی بندگی نہ ہوتی ہو ‘ بلکہ اس میں انسانوں کو رب بنایا گیا ہو ۔ انسان لوگوں کے لئے پارلیمنٹ سے قانون نازل کرتے ہوں ‘ لوگوں کے لئے نظام زندگی اور زندگی کے طور طریقے وضع کرتے ہوں ‘ ان کے لئے اقدار حیات اور حسن وقبیح کے پیمانے وضع کرتے ہوں اور گالیاں دینے والا جسے گالیاں دی جارہی ہیں وہ دونوں اللہ کے دین سے خارج ہوں ۔
حالات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فائدہ کیا ہوگا ؟ صغائر تو صغائر میں کہتا ہوں ان کبائر سے روکنے کا فائدہ کیا ہوگا ؟ جبکہ اکبر الکبائر سے کوئی کسی کو نہ روکتا ہو ‘ کفر عام ہو اور اللہ کی شریعت اور نظام زندگی متروک ہو ۔
یہ معاملہ اس سے بہت برا اور بہت اہم ہے ۔ یہ نیک لوگ جو سعی اور جہد کر رہے ہیں اس سے یہ بہت ہی بڑا ہے ۔ یہ ایسا مرحلہ نہیں ہے جس کے اندر ہم فروعی معاملات اور جزوی اصلاحات کے اندر اپنی قوتیں ضائع کریں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر جزوی معاملات نہ ہوں بڑے معاملات نہ ہوں اور جزوی اصلاحات کے اندر اپنی قوتیں ضائع کریں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر جزوی معاملات نہ ہوں بڑے معاملات ہوں بلکہ حدود اللہ کیوں نہ ہوں لیکن حدود اللہ بھی تب قائم ہوں گی کہ ہم اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی کا اعتراف کرلیں اور یہ مسئلہ طے ہوجائے کہ اقتدار اعلی اللہ کا ہوگا ۔ اللہ کے سوا کسی کو حق حاکمیت حاصل نہ ہوگا ۔ جب تک یہ اعتراف حقیقت واقعیہ نہیں بن جاتا ‘ جب تک شریعت کو ماخذ قانون قرار نہیں دے دیا جاتا ‘ جب تک اللہ کی ربوبیت اور اللہ کی حاکمیت حکومت اور قوت کے ماخذ نہ بن جائیں تو فروعات کے اندر تمام کوششیں اور تمام انفرادی مساعی ضائع ہوں گی اور ہوتی رہیں گی ۔ مناسب یہی ہے کہ ہم سب سے پہلے منکراکبر کے خلاف جہدوجہد شروع کردیں اور تمام دوسرے منکرات کو بعد میں لیں۔
حضور ﷺ کا فرمان یہ ہے کہ جو بھی تم میں سے کسی منکر کو پائے تو اسے چاہئے کہ وہ اسے ہاتھ سے روکے اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اس کی بھی طاقت نہ ہو ‘ دل سے برا جانے اور یہ ضعیف الایمان کا درجہ ہے ۔
اہل دین پر ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ منکر کو ہاتھ سے نہیں روک سکتے ۔ وہ زبان وقلم سے بھی منکر کے خلاف کوئی کام نہیں کرسکتے ۔ اس کے بعد اضعف الایمان کا درجہ ہی رہ جاتا ہے ۔ دل سے برا جاننا ۔ دل کی دنیا میں تو کوئی مداخلت کر ہی نہیں سکتا ۔ اس لئے دل کی دنیا والے ہمیشہ اضعف الایمان کے درجے میں ہوئے ہیں ‘ یعنی برائی کو دل سے برا جاننا ۔ اگر وہ سچے مسلمان ہوں اور دل سے برائی کو برا سمجھتے ہیں۔
یہ کوئی منفی موقف نہیں ہے جو کوئی برائی کے خلاف اختیار کرے گا ۔ جیسا کہ بظاہر نظر آتا ہے ۔ حضور ﷺ نے جو انداز بیان اختیار کیا ہے وہ مثبت انداز ہے ۔ مثلا دل سے برائی کو برا سمجھتا ہی دل کی جانب سے ایک مثبت کام ہے ۔ مثلا دل اسے برا سمجھتا ہے ‘ اس سے نفرت کرتا ہے اور منکر کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالتا ۔ اور دل و دماغ ایسی صورت حال کو جائز قانونی صورت نہیں سمجھتے ۔ اور جب دل و دماغ کسی صورت حال کو تسلیم نہیں کرتے تو یہ بھی درحقیقت اس صورت حالات کو ختم کرنے کی طرف ایک مثبت اقدام ہوتا ہے ۔ دل میں یہ عزم ہوتا ہے کہ جب بھی فرص ملے گی اس منکر صورت حال کی جگہ معروف صورت حال کو قائم کردیا جائے اور ایسا شخص انتظار میں بیٹھا ہوگا کہ کس وقت وہ منکر پر حملہ آور ہو اور یہ تمام کام ایجابی اور مثبت کام ہیں اگرچہ یہ ایک ضعیف درجہ ہے ۔ کسی برے وقت میں ایک مسلمان کے لئے یہ بھی کیا کم ہے کہ وہ اس درجے پر قائم رہے ۔ کم ازکم وہ منکر کے سامنے ہتھیار تو نہیں ڈالتا کہ منکر ایک واقعہ ہے اسے مان ہی لو۔ اور بعض اوقات جب احساس زیاں ختم ہوجاتا ہے تو انسا اضعف الایمان کے مقام سے بھی گر جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔ اور پھر کیا ہوتا ہے ؟ یہ کہ بنی اسرائیل کی طرح پورا معاشرہ لعنت کا مستحق ہوجاتا ہے اور اللہ کا یہ قول ان پر صادق آتا ہے ۔
” بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا ۔
اب اس سے آگے بھی بات بنی اسرائیل ہی کی چلتی ہے اور اس پر ہمارے اس پارے کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ حضور ﷺ کے دور میں ان کے جو شب وروز تھے وہ بتائے جاتے ہیں ۔ کم وبیش ہر دور میں ان کے حالات ایسے ہی رہے ہیں ۔ ان لوگوں نے ہمیشہ اہل اسلام اور جماعت مسلمہ کے خلاف کفار اور بت پرستوں کے ساتھ ایکا کیا اور اس کا سبب یہ ہے ‘ باوجود اس کے کہ وہ اہل کتاب ہیں ‘ وہ اللہ اور نبی ﷺ پر ایمان نہیں لائے ۔ چونکہ وہ اس آخری دین میں داخل نہیں ہوئے وہ مومن نہیں ہیں ۔ اگر یہ مومن ہوتے تو کافروں کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرتے ۔
المائدة 5:80
(آیت) ” تَرَی کَثِیْراً مِّنْہُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ أَنفُسُہُمْ أَن سَخِطَ اللّہُ عَلَیْْہِمْ وَفِیْ الْعَذَابِ ہُمْ خَالِدُونَ (80) وَلَوْ کَانُوا یُؤْمِنُونَ بِاللہ والنَّبِیِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْہِ مَا اتَّخَذُوہُمْ أَوْلِیَاء وَلَـکِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُمْ فَاسِقُونَ (81)
” آج تم ان میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو کفار کی حمایت ورفاقت کرتے ہیں ۔ یقینا بہت برا انجام ہے جس کی تیاری ان کے نفسوں نے ان کیلئے کی ہے اللہ ان پر غضبناک ہوگیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔ اگر فی الواقعہ یہ لوگ اللہ اور پیغمبر اور اس چیز کو ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے مگر ان میں سے بیشتر تو خدا کی اطاعت سے نکل چکے ہیں ۔
” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور ایمان لانے والوں کے لئے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں ۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتی ہیں اور ان میں غرور نفس نہیں ہے ۔ “
یہ بات جس طرح حضور اکرم ﷺ کے دور میں یہودیوں پر منطبق ہوتی تھی اسی طرح آج کے یہودیوں پر بھی منطبق ہے اور کل بھی ہوگی ۔ ہر دور میں اہل کتاب یہودی اور عیسائی اور جو دنیا کے اطراف واکناف میں پھیلے ہوئے ہیں ‘ ایسے ہی رہیں گے ۔ اس سے ہمیں یہ نصیحت ملتی ہے کہ ہم قرآن کریم کے اسرار و رموز پر غور کریں ۔ قرآن کریم میں امت مسلمہ کے لئے عجیب ہدایات موجود ہیں اور اسلامی تحریک کو چاہئے کہ وہ ہر وقت قرآن سے ہدایات اور پالیسیاں اخذ کرے ۔
یہودی مشرکین کے ساتھ اس دور میں تعلق موالات قائم کئے ہوئے تھے ۔ ان کو مسلمانوں کے خلاف جمع کر رہے تھے اور کہتے تھے کہ کفار اور مشرکین ان مسلمانوں ان مسلمانوں سے زیادہ سیدھی راہ پر ہیں۔ جیسا کہ قرآن کریم نے اس کی صراحت کی ہے ‘ اور اس کا اظہار غزوہ احزاب میں اچھی طرح ہوگیا تھا ۔ اس غزوہ سے پہلے اور بعد میں بھی وہ اسی پالیسی پر گامزن رہے اور آج تک وہ اسی موقف پر قائم ہیں ۔ فلسطین میں اسرائیل کا قیام ہی ان جدید ملحدین اور کفار کی مساعی سے ہوا ہے ۔
رہے عیسائی تو ان کا حال یہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں کا معاملہ پیش آتا ہے تو عیسائی مشرکین کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ بت پرستوں کے حامی و مددگار ہوتے ہیں ۔ جب بھی مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان کوئی معرکہ پیش آیا ۔ ان لوگوں کا دلی بغض اسلام کے خلاف کھل کر سامنے آگیا اور اب تک قائم ودائم ہے ۔ اگرچہ معاملہ ان لوگوں کا ہو جو نام نہاد مسلمان ہوں۔ کیا سچ کہا اللہ تعالیٰ نے (تری کثیرا منھم یتولون الذین کفروا “۔ (5 : 80) ” تم ان سے بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو کفار کی حمایت ورفاقت کرتے ہیں ۔ “
(آیت) ” لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَہُمْ أَنفُسُہُمْ أَن سَخِطَ اللّہُ عَلَیْْہِمْ وَفِیْ الْعَذَابِ ہُمْ خَالِدُونَ (80)
” یقینا بہت برا انجام ہے جس کی تیاری ان کے نفسوں نے ان کیلئے کی ہے اللہ ان پر غضبناک ہوگیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں ۔
یہ وہ کمائی ہے جو انہوں نے کی ہے اور وہ اللہ کا غضب ہے جو انکے لئے جمع ہو رہا ہے اور نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دائما جہنم میں رہیں گے اور یہ کس قدر برا انجام ہے ۔ کس قدر برا پس انداز ہے جو یہ کر رہے ہیں ۔ کس قدر تلخ پھل ہے ۔ کفار کے ساتھ تعلق موالات کا ہے یہ پھل !
کیا ہم مسلمان اللہ کی اس بات کو نہیں سن رہے ؟ کیا ہمیں باز نہیں آنا چاہئے ان اقدامات سے جو ہم مسلسل کر رہے ہیں اور اللہ نے ان کی اجازت نہیں دی ہے ۔ پھر بھی ہم مسلمان اہل کتاب دشمنوں کے ساتھ تعلق موالات کے بارے میں سوچتے ہی یا متحدہ محاذ بناتے ہیں ہیں ۔ آخر اس کا سبب کا کیا ہے ؟ سبب تو یہی ہے کہ اللہ اور رسول پر ایمان نہیں ہے ۔
المائدة 5:81
(آیت) ” وَلَوْ کَانُوا یُؤْمِنُونَ بِاللہ والنَّبِیِّ وَمَا أُنزِلَ إِلَیْْہِ مَا اتَّخَذُوہُمْ أَوْلِیَاء وَلَـکِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُمْ فَاسِقُونَ (81)
” اگر فی الواقعہ یہ لوگ اللہ اور پیغمبر اور اس چیز کو ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے مگر ان میں سے بیشتر تو خدا کی اطاعت سے نکل چکے ہیں ۔
یہ ہے اصل سبب کہ وہ اللہ اور نبی اخر الزمان پر ایمان نہیں لائے ۔ ان کی اکثریت فسق وفجور میں مبتلا ہے ۔ یہ اپنے شعور اور اپنے رخ کے اعتبار سے کفار کے ہم جنس ہیں ۔ اس لئے یہ لوگ کفار کے دوست ہوگئے ہیں اور اہل ایمان سے دوستی نہیں کرتے ۔
اس قرآنی تبصرے سے ہمیں تبصرے سے ہمیں تین واضح طور پر ملتے ہیں ۔
پہلی حقیقت یہ ہے کہ اہل کتاب سب کے سب ‘ ماسوائے ان کے جو حضرت محمد ﷺ پر ایمان لائے ‘ مومن نہیں ہیں اس لئے کہ وہ رسول آخر الزمان پر ایمان نہیں لائے ۔ قرآن کریم نے یہ نہیں کہا کہ وہ نبی پر ایمان نہیں لائے بلکہ یہ بھی کے ساتھ دوستی و محبت نہ کرتے ۔ “ یہ اللہ کا فیصلہ ہے اور اس میں تاویل کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ چاہے زبانی طور پر اہل کتاب جس قدر دعوائے ایمان کریں ۔ اور اگر ہم خدا تعالیٰ کے بارے میں ان کے منحرف اور فاسد عقائد و تصورات پر بھی غور کریں جن کی تفسیر ہم نے اسی سبق میں ابھی ابھی دی ہے تو ان کے اندر اللہ پر بھی ایمان نہیں ہے ۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ تمام اہل کتاب کو اسلام دعوت دیتا ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوں ۔ اور یہ دعوت انہیں حضرت محمد ﷺ کی زبان سے دی گئی ہے ۔ اگر وہ اس دعوت کو قبول کریں تو مومن ہیں ورنہ نہیں ہیں ۔
اور تیسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اہل اسلام اور اہل کتاب کے درمیان موالات اور دوستی کا تعلق قائم نہیں ہو سکتا ۔ اور یہ تعلق کسی بھی معاملے میں نہیں ہو سکتا اس لئے کہ مسلمان کے تمام حالات زندگی دین کے تابع ہوتے ہیں اور یہ لوگ دین اسلام کے دشمن ہیں ۔
رہی یہ بات کہ اسلام اہل کتاب کے ساتھ حسن معاشرت اور اچھا طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت کرتا ہے ان کے جان ومال اور ان کی عزت وآبرو کی حفاظت کا حکم دیتا ہے جب تک وہ دارالاسلام میں ہوں اور یہ کہ وہ انکو اجازت دیتا ہے کہ ان کے جو عقائد ہیں وہ ان پر قائم رہیں اور یہ کہ ان کو حکمت اور حسن ادا کے ساتھ اسلام کی طرف دعوت دی جائے اور ان سے بحث و مباحثہ بھی اچھی طرح ہو جب تک وہ اسلامی ریاست کے وفادار ہیں اور یہ کہ ان کو کسی حال میں بھی اپنے عقائد کو ترک کرنے کا حکم نہ دیا جائے تو یہ اسلام کی وہ پالیسی ہے جو اسلام نے دارالاسلام میں رہنے والی تمام اقلیتوں کے لئے وضع کی ہے ۔ یہ ہے اسلام بات واضح اور صاف ہے ۔ اسلام نیکی چاہتا ہے ۔ رواداری کو رائج کرتا ہے اور بات دوٹوک کرتا ہے کیونکہ یہ اللہ کا کلام ہے اور اللہ صحیح راہ دکھانے والا ہے ۔
المائدة 5:82
سورة المائدہ کا آخری حصہ ایک نظر میں :
اس پارے میں سورة مائدہ کا بقیہ حصہ ہے ‘ اس کے ابتدائی حصوں کے بارے میں تفصیلات پارہ ششم میں گزر چکی ہیں ۔ نیز اس میں سورة انعام کے آغاز سے لے کر آیت (آیت) ” ولو اننانزلنا الیھم الملئکۃ) تک کا حصہ بھی مذکور ہے جس کے بارے میں تفصیلی بحث سورة انعام کے آغاز میں ہوگی ۔ یہاں صرف اس حصے پر تبصرہ کیا جا رہا ہے جو سورة مائدہ سے رہ گیا تھا ۔
پارہ ششم میں اس سورة کے تعارف میں ہم نے کہا تھا :
” اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن کریم حضرت محمد ﷺ کے قلب مبارک پر اس لئے نازل فرمایا کہ اس کے ذریعے وہ ایک امت کو برپا کریں ‘ وہ امت ایک مملکت کی بنیاد رکھے ‘ ایک معاشرے کو منظم کرے اور یہ مملکت لوگوں کے ضمیر ‘ ان کے اخلاق سنوارے اور ان کی عقلی تربیت کرے ۔ اس قرآن کے ذریعے اس معاشرے کے اجتماعی تعلقات کے حدود وقیود وضع ہوں اور اس مملکت کے اندر لوگوں کے تعلقات بھی منضبط ہوں اور پھر دوسرے ممالک کے ساتھ بھی اس مملکت کے تعلقات استوار ہوں ۔ اس امت کے تعلقات دوسری امتوں اور ملتوں کے ساتھ قائم ہوں ۔ قرآن اس تمام پوری امت کو ایک مضبوط رسی کے اندر باندھ دے ‘ اس کے متفرق اجزاء کو جمع کر دے ‘ اس کے فرقوں کو جمع کر دے اور اسے ایک مضبوط محور کے اندر پختہ کر دے ‘ اسے اللہ کی اس بادشاہت کے اندر لے آئے اور اس کا رخ ایک سمت میں ہوجائے ۔ یہ ہے دین اسلام جیسا کہ درحقیقت وہ اللہ کے نزدیک ایسا ہی ہے اور جسے مسلمانوں نے ایسا ہی سمجھا جب وہ صحیح مسلمان ہوا کرتے تھے ۔
جیسا کہ سابقہ تین طویل سورتوں میں ہم نے دیکھا اس سورة میں بھی مختلف موضوعات کو لیا گیا ہے ۔ ان تمام موضوعات کے درمیان قدر مشترک کیا چیز ہے ؟ وہی جس کے حصول کے لئے اس دنیا میں پیغام اسلام کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ یعنی ایک امت کی تشکیل ‘ ایک مملکت کا قیام اور ایک مثالی اسلامی معاشرے کا قیام ۔ اس معاشرے کا قیام بھی ایک خاص نظریہ کے مطابق ایک خاص تصور حیات کی روشنی میں اور بالکل جدید انداز میں مطلوب تھا ۔ اس معاشرے کی روح عقیدہ توحید تھی ۔ عقیدہ توحید اس کا پہلا اصول اقرار پایا اور عقیدہ توحید کے اہم عناصر یہ ہیں کہ الہ اور حاکم فقط اللہ ہے ‘ وہی اس کائنات کا تھامنے والا ہے ۔ اسی کا حکم چلتا ہے ‘ زندگی گزارنے کے طریقے صرف اسی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں ‘ وہی شارع ہے ‘ وہی زندگی کی اعلی قدریں متعین کرنے کا حق رکھتا ہے اور حس وقبح کے پیمانے صرف وہی متعین کرسکتا ہے ۔ “
” اس سورة میں اعتقادی افکار کی توضیح کی گی ہے اور اسے بت پرستانہ خرافات اور انحرافات سے پاک کیا گیا ہے ۔ نیز اہل کتاب نے جو تحریفات کیں انہیں بھی دور کیا گیا ہے اور جماعت مسلمہ کے سامنے خود اس کا اپنا تعارف پیش کیا گیا ہے ۔ کہ اس کی حقیقت کیا ہے ‘ اس کا طریقہ کار کیا ہونا چاہئے ‘ اور اس کے راستے میں جو کانٹے ہیں اور جو جال بچھے ہوئے ہیں ان سے بچنے کا کیا طریقہ ہے ۔ کہاں کہاں اس دین کے دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں اور کہاں کہاں پھسلن ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ ‘ اس سورة میں عبادات اسلام اور شعائر اسلام بھی بتائے گئے ہیں جن کے ذریعے ایک مسلم کی روح پاک ہوجاتی ہے اور اس کا رابطہ اس کے رب کے ساتھ قائم ہوجاتا ہے ۔ نیز اعتقادات و عبادات کے ساتھ ساتھ اس میں اجتماعی روابط ‘ حکومت کے لئے قانون سازی اور پھر دوسری حکومتوں کے ساتھ اسلامی حکومت کے تعلقات کے اصول بھی بتائے گئے ہیں ۔ نیز اسلامی معاشرے میں حلال و حرام کا بھی ذکر ہے کہ مسلمانوں کے لئے کن چیزوں کا کھانا حرام ہے کن مشروبات کا پینا حرام ہے اور کن عورتوں سے نکاح حرام ہے ۔ کیا کیا اعمال برے ہیں اور کیا کیا طرز ہائے عمل غیر اسلامی ہیں۔ غرضیکہ یہ سورة ایک مکمل گٹھڑی ہے جس کے اندر ‘ یہ تمام امور ایک ہی جگہ آگئے ہیں اور یہ گٹھڑی مجموعہ دین ہے ۔ اسی نقطہ نظر سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ دین ان تمام امور پر مشتمل ہے ۔ “
اس سورة کی نوعیت اور اس کے مشمولات وموضوعات کی اس عام تصویر کشی کی روشنی میں ہم اس کے اس بقیہ حصے کا بھی بڑی خوبی سے مطالعہ کرتے ہیں ۔ چناچہ اس حصے میں بھی وہ مباحث اور موضوعات یا ان کے ساتھ ملتی جلتی بحثیں موجود ہیں جن کی تفصیلات پارہ ششم میں گزر چکی ہیں ۔
امت مسلمہ کی مخالفت کرنے والے عناصر بعض دوسرے کیمپوں کا تعارف ان مباحث میں کرایا گیا ہے ‘ جن کے بارے میں وہاں اشارات رہ گئے تھے ۔ یہ بات نہایت ہی تعجب خیز ہے کہ یہ وہی کیمپ ہیں جو ہمیشہ تحریک اسلامی یا احیائے اسلام کی تحریکات کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ اگرچہ اس تحریک کے دشمنوں کے رنگ مختلف ہیں لیکن اصل کینہ ایک ہی ہے جو ان کے دلوں میں جاگزین ہے۔ نیزان میں ایک نہایت ہی قلیل تعداد ہدایت کے طالب لوگوں بھی ہے ۔ مثلا بعض عیسائی گروہ ‘ جو ہدایت قبول کر رہے ہیں اور جب اس وقت حضور کی جانب سے انہوں نے یہ دعوت پر سوز سنی تو اس ان کے دل پگھل گئے اور انہوں نے لبیک کہہ کر اپنے آپ کو ثواب آخرت اور جنت کا مستحق کرلیا ۔
ان باقی مباحث میں سے ایک بحث یہ بھی ہے کہ حلال و حرام کے موضوع پر قانون سازی کا حق صرف اللہ کو حاصل ہے اور اہل ایمان کے لئے سخت ممانعت ہے کہ وہ اس موضوع پر اللہ تعالیٰ کے حق اقتدار اور قانون سازی پر دست درازی کریں ۔ اہل ایمان کو خدا کا خوف کرنا چاہئے کیونکہ یہ معاملہ ایمان وکفر کا ہے اور انہوں نے ایمان لانے کا اعلان تو کر ہی دیا ہے ۔
اس کے علاوہ قسموں ‘ جوئے ‘ شراب ‘ پانسوں ‘ بتوں اور حالت احرام کے اندر شکار جیسے قانون اور فقہی احکام ‘ خانہ کعبہ ‘ حرام مہینوں ‘ ہدی اور وہ جانور جن کے گلوں میں پٹے ڈالے ہوئے ہوتے ہیں بطور علامت قربانی کی بابت مسائل نیز اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ شرعی احکام اور نبی کریم ﷺ کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کی پیروی کی تاکید اور خدا اور رسول کی مخالفت سے ڈرانے کے مضامین بھی دیئے گئے ہیں اور تنبیہ کی گئی ہے کہ اللہ کے عذاب اور اس کے انتقام سے ڈرو اور ہر وقت اس ذات باری کو پیش نظر رکھو جس کے پاس تم نے لوٹ کر جانا ہے ۔
اس کے بعد جماعت مسلمہ کی تربیت کے بعض پہلو بھی لئے گئے ہیں ‘ وہ اقدار جن کے مطابق اس کے پوری دنیا کے ساتھ معاملہ کرنا ہے ‘ مثلا یہ کہ خبیث چیزوں کی کثرت سے انہیں متاثر نہ ہونا چاہئے ۔ انہیں یہ دیکھنا چاہئے کہ پاک اور طبیب چیزیں ہمیشہ کم ہوتی ہیں ۔ نیز ان اقدار اور آداب میں سے اہم ادب یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ سے ہر بات کے بارے میں نہ پوچھا جائے اور اگر خدا تعالیٰ نے کسی بات کو مجمل چھوڑ دیا ہے تو اہل ایمان کو اس کے بارے میں پوچھنے گریز کرنا چاہئے ۔
اس حصے میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ جاہلیت کی عادات اور رسوم کو باطل قرار دے دیا گیا ہے ۔ بت پرستی کی ممانعت کردی گئی ہے اور بعض قسم کے جانوروں اور ذبیحوں کے حوالے سے جو شرک اور بت پرستی باقی ہے اسے ختم ہونا چاہئے ۔ مثلا بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ ‘ اور حام وغیرہ اور یہ کہ حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔ پوری زندگی کے لئے قانون سازی کا اختیار اللہ کو حاصل ہے اور کوئی قانون سازی لوگوں کے رواج اور لوگوں کی اصلاحات کے مطابق نہیں ہو سکتی ۔ یہ کام صرف اللہ کا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کو تنبیہ کی گئی کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے ۔ اس کے افراد کے اندر باہم مکمل تکافل ہو اور وہ دوسرے لوگوں سے مکمل طور پر جدا ہو اور کٹے ہوئے ہوں ۔ اسے اپنی مخصوص ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہئے اور دوسرے اہل باطل کی ذمہ داریوں سے اپنے آپ کو مکمل طور پر بری الذمہ رکھنا چاہئے ۔ اور اپنے انجام اور دوسرے لوگوں کے انجام کو بھی مکمل طور پر اللہ کے حوالے کردینا چاہئے ‘ جس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ہوگا ۔
اسلامی قانون سازی کرتے ہوئے مضمون کا خاتمہ اس امر پر ہوتا ہے کہ اگر کوئی سفر میں ہو اور اپنے خاندان سے دور ہو اور وہ وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس پر شہادت مقرر کرے ۔ اس طرح نظر آتا ہے کہ یہ قانون سازی اس لئے ضروری تھی کہ مسلمان جہاد فی سبیل اللہ اور تلاش وسائل اور فضل اللہ کے لئے باہر نکلیں گے ۔ لیکن اس قانون سازی میں بھی تمام معاملات کو خوف آخرت کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے ۔
باقی سورة میں اہل کتاب میں سے نصاری کے عقائد کے بعض دوسرے پہلوؤں کو لیا گیا ہے اور اس مقصد کے لئے حضرت مریم (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کے بعض گوشوں کو لایا گیا ہے ۔ اور ان معجزات کو بیان کیا گیا ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ظاہر ہوئے ۔ حواریوں نے جو کھانا طلب کیا تھا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ کی الوہیت کے مسائل اور یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ہر گز ایسے دعاوی نہیں کئے تھے ‘ اور قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کی جھلکی بھی دکھائی گئی ہے جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا معاملہ تمام انسانیت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور وہ اللہ رب العالمین کے لئے پیش ہوتا ہے اور اس خوفناک منظر میں تمام اقوام رسل موجود ہیں۔
سورة کا خاتمہ اس موقف پر ہوتا ہے کہ زمین وآسمانوں کا اصل مالک اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت پر کوئی قید وبند نہیں ہے ۔
(آیت) ” وللہ ملک السموت والارض وما فیھن واللہ علی کل شیء قدیر) ” زمین و آسمانوں اور تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ۔ “
سورة کے اس بقیہ حصے کے اس سرسری جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طریق کار اور اسی منہاج بحث کے مطابق اس کے مباحث آگے بڑھ رہے ہیں ‘ جس کی طرف ہم نے محولہ بالااقتباسات میں اشارہ کیا ہے ۔ اب ہم بقیہ اسباق پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔
درس نمبر 52 ایک نظر میں :
یہ سبق یہود ونصاری اور مشرکین کے بارے میں ہونے والی طویل گفتگو ہی کا حصہ ہے ‘ جو پارہ ششم میں چل رہی تھی اور جس میں یہ بتانا مقصود تھا کہ رسول اللہ ﷺ اور امت مسلمہ کے بارے میں ان لوگوں کا موقف کیا ہے ۔ یہ بات چیت اس سورة میں نصف سے بھی زیادہ حصے پر مشتمل ہے ۔ اس بات چیت میں وعموما یہود ونصاری دونوں کے نظریاتی فساد سے پردہ اٹھایا گیا ہے ‘ اور خصوصا یہودیوں کی بری نیت اور برے کردار سے بحث کی گئی ہے ۔ یہ کردار ان کا خود ان کے انبیائے سابقہ کے ساتھ رہا۔ حضرت نبی ﷺ کے ساتھ بھی رہا اور وہ اس پورے عرصہ میں اہل اسلام کے بجائے مشرکین کے معاون و مددگار رہے ۔ وہاں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہود ونصاری جن عقائد تک پہنچے ہوئے ہیں وہ صراحۃ کفریہ عقائد ہیں اس لئے کہ انہوں نے تورات ‘ انجیل اور قرآن کریم تینوں میں آئے ہوئے عقائد چھوڑ دیئے ہیں ‘ جب تک وہ تورات ‘ انجیل اور اب نازل ہونے والے کلام الہی کو قائم نہ کریں اس وقت تک ان کی کوئی دینی حیثیت نہ ہوگی ۔ اب بات کا رخ حضور اکرم ﷺ کی طرف ہوجاتا ہے کہ آپ کی طرف جو کچھ بھی نازل ہوتا ہے آپ اسے یہودی ونصاری اور مشرکین سب تک پہنچا دیں ‘ اس لئے کہ ان سب لوگوں نے دین الہی کو چھوڑ دیا ہے اور اب ان سب کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور امت مسلمہ کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان ہی کو دوست اور ولی بنائے اور یہود ونصاری اور مشرکین کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرے کیونکہ یہ لوگ خود ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ یہودی تو اہل کفر اور اہل شرک کے ساتھ بھی دوستی کا تعلق قائم کئے ہوئے ہیں حالانکہ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کے ذریعہ ان پر لعنت ہوچکی ہے ۔ یہ تو تھا سابقہ مضمون اب یہاں حضور ﷺ کے حوالے سے ان سب گروہوں نے جو موقف اختار کر رکھا ہے وہ بیان کیا جاتا ہے اور امت مسلمہ کے ساتھ انہوں نے جو رویہ اختیار کیا ہے وہ اور آخرت میں ان کا جو انجام ہونے والا ہے وہ بیان کیا جاتا ہے ۔
نزول قرآن کے وقت امت مسلمہ قرآن کریم کو یوں لیتی تھی کہ وہ اپنے تمام منصوبے ‘ اپنی تمام سرگرمیوں اور لوگوں کے متعلق اپنے تمام مواقف اور رویے اس کے مطابق ڈھالتی چلی جاتی تھی اور حالت یہ تھی کہ قرآن کریم ‘ ان کا ہادی ‘ محرک ‘ مرشد اور لیڈر تھا ۔ یہی وجہ تھی کہ ہر معرکے میں وہ غالب رہتی اور اس کے مخالف مغلوب رہتے ‘ اس لئے کہ ہر معرکے میں براہ راست وہ ربانی کمانڈ میں لڑتی تھی ‘ اس لئے کہ نبی کریم ﷺ امت کی قیادت عالم بالا کی ربانی ہدایات کے مطابق فرماتے تھے ۔
کیا وہ ربانی ارشادات ہمارے سامنے موجود نہیں ؟ کیا وہ کتاب کریم جس کے اندر وہ ہدایات رقم ہیں موجود نہیں ؟ موجود ہے اور آج جو لوگ دعوت اسلامی دے رہے ہیں یا کل جو لوگ یہ کام کریں گے ان کو چاہئے کہ وہ ان ہدایات اور فیصلوں کو اس طرح لیں جس طرح کہ گویا یہ ہدایات ابھی نازل ہو رہی ہیں اور وہ تمام لوگوں کے مقابلے میں اپنا موقف ان ہدایات کی روشنی میں متعین کر رہے ہیں ۔ تمام مذاہب ومسالک اور تمام آراء اور نظریات اور تمام طور طریقوں اور تمام اقدار اور پیمانوں کے مقابلے میں ان کا موقف ان کی روشنی میں متعین ہو رہا ہے اور یہ کام آج بھی اسی طرح ہونا چاہئے اور کل بھی ۔
(آیت) ” لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا)
” تم اہل ایمان کی عدوات میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے ۔ “ عربیت کے اعتبار سے اس آیت کے مخاطب رسول اللہ ﷺ بھی ہو سکتے ہیں ‘ اور عام اہل ایمان بھی ‘ اس لئے کہ یہ ایک ایسی حقیقت اور ایسا مفہوم ہے جو سب کو بچشم سراب بھی نظر آتا ہے اور یہ انداز کلام ایسا ہے کہ اسالیب عربی کے اندر اس کے نظائر موجود ہیں خواہ مخاطب حضور ہوں یا ایک عام مسلمان دونوں صورتوں میں آیت کے ظاہری معنی بالکل واضح ہیں ۔
البتہ جو نکتہ قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اس عبادت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین سے بھی پہلے یہودیوں کو لیا ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مشرکین کے مقابلے میں یہودیوں کی اسلام دشمنی زیادہ ہے اور تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے یہ بات بھی بالکل واضح ہے ‘ اگر غور کیا جائے ۔
یہ بات درست ہے کہ گرائمر کے قواعد کے مطابق واو سے جو عطف ہوتا ہے ‘ اس میں تعاقب یا ترتیب کا لحاظ نہیں ہوتا اور معطوف اور معطوف علیہ حکم میں برابر ہوتے ہیں ۔ لیکن یہودیوں کو مشرکین سے پہلے اس لئے لایا گیا ہے کہ وہ اصلا اہل کتاب تھے اور ہو سکتا ہے کہ کوئی یہ گمان کرے کہ وہ مسلم دشمنی میں شاید مشرکین سے کم ہوں گے ‘ اس لئے یہاں قواعد نحو سے ہٹ کر اس تقدیم سے یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ یہ لوگ مسلم دشمنی میں کم نہیں ہیں ۔ اگرچہ قواعد نحو میں اس تقدیم سے یہ تاثر نہیں ملتا لیکن اس بات کا احتمال ضرور ہے کہ یہ اشارہ مقصود ہو کہ یہ لوگ مشرکین سے بھی اسلام دشمنی میں شدید تر ہیں۔
آغاز اسلام سے آج تک جب ہم اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں اسلام کے حوالے سے یہودیوں کے طرز عمل پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے مشرکین عالم کے مقابلے میں یہودی اسلام دشمنی میں بہت ہی آگے رہے ہیں ۔
جونہی مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی ‘ یہودی اس کے مقابلے میں کھڑے ہوگئے اور جب امت مسلمہ ایک امت بنی ‘ انہوں نے اس کے خلاف سازشیں شروع کردیں ۔ قرآن کریم نے ان کی ان سازشوں اور مکاریوں کے بارے میں نہایت ہی واضح فیصلے کئے اور اشارات دیئے جو اس معرکہ آرائی کا ایک واضح ثبوت ہیں جو یہودیوں نے اسلام اور رسول اسلام کے خلاف اور امت مسلمہ کے خلاف اس کی طویل تاریخ میں برپا کئے رکھی اور جس کے شعلے گذشتہ چودہ سو سال میں کسی بھی وقت فرد نہیں ہوئے اور جس کی گرمی آج بھی چاردانگ عالم میں ہر سو محسوس کی جارہی ہے ۔
جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے یہودیوں کے ساتھ معاہدہ امن اور معاہدہ پر امن بقائے باہمی (Co-existAnce) کیا ۔ آپ نے ان کو اسلام کی دعوت دی جوان کے پاس موجود کتاب تورات کی تصدیق کرتا تھا لیکن یہودیوں نے اس عہد کو وفا نہ کیا ۔ انہوں نے وہی رویہ اختیار کیا جو انہوں نے اس سے پہلے اپنے اللہ اپنے نبیوں کے ساتھ اختیار کیا تھا اور جس کی وجہ سے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ تبصرہ کیا ۔
(آیت) ” ولقد انزلنا الیک ایت بینت وما یکفربھا الا الفسقون او کلما عھدوا عھدا نبذہ فریق منھم بل اکثرھم لا یومنون ولما جاء ھم رسول من عند اللہ مصدق لما معھم نبذ فریق من الذین اوتوا الکتاب کتاب اللہ وراء ظھورھم کانھم لا یعلمون)
” ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں ۔ کیا ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا ‘ تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور بالائے طاق رکھ دیا ؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہیں ‘ جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے ۔ اور جب ان کے پاس ‘ اللہ کی طرف سے کوئی رسول ‘ اس کتاب کی تصدیق وتائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ‘ تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس پشت ڈالا گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔ “
جس دن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ‘ اوس اور خزرج اسلام پر جمع ہوئے ‘ یہودی مسلمانوں کے دلی دشمن بن گئے ‘ اس لئے کہ اسلام کی وجہ سے ان قبائل کے اندر یہودیوں کا عمل دخل یکسر ختم ہوگیا ۔ اس مشکل اور عظیم اتحاد کی وجہ سے ہی امت مسلمہ کی قیادت وجود میں آگئی اور اس کی زمام اختیار حضرت محمد ﷺ نے اپنی ہاتھ میں لی اور پورے علاقے سے یہودیوں کے اقتدار کے مواقع ختم ہوگئے ۔
یہودیوں کی مکارانہ ذہنیت کے بس میں جو وسائل اور جو ہتھیار تھے ‘ انہوں نے وہ سب مسلمانوں کے خلاف استعمال کئے ۔ بابل کی اسیری ‘ مصر کی غلامی اور رومن عروج کے زمانے میں گزرنے والی غلامانہ زندگی کے شب وروز میں انہوں نے جو مکاری اور عیاری سیکھی تھی وہ سب انہوں نے اسلام کے خلاف استعمال کی ۔ حالانکہ تمام اقوام اور ملتوں نے ان کے ساتھ جس تنگ دلی کا رویہ اختیار کیا تھا ‘ اسلام نے اس کے برعکس ان کے ساتھ نہایت ہی فراخدلی کا ثبوت دیا ۔ لیکن انہوں نے اسلام کے اس حسن سلوک کا بدلہ اس مکر و فریب سے دیا جو فجر اسلام سے آج تک جاری ہے اور جو نہایت ہی گھٹیا ذہنیت کا غماز ہے ۔
انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جزیرۃ العرب کی تمام قوتوں کو اکٹھا کیا اور رات دن عرب کے متفرق قبائل کو اس مہم کے لئے جمع کرتے رہے ۔
(آیت) ” ویقولون للذین کفروا ھولاء اھدی من الذین امنوا سبیلا “۔ ” وہ ان لوگوں سے کہتے جنہوں نے کفر کی راہ کی کہ یہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت کی راہ پر ہیں ۔ “
اور جب اسلام یہودیوں کی سازشوں کے برعکس غالب ہوگیا تو انہوں نے اپنی سازشوں کا رنگ بدلا ۔ انہوں نے اسلامی لٹریچر کے اندر اپنی جانب سے گھڑی ہوئی باتیں داخل کرنے کی پالیسی اختیار کی ۔ صرف کتاب اللہ ان کی دسترس سے باہر رہی ‘ اس لئے کہ اس کی حفاظت کی ضمانت خود اللہ تعالیٰ نے دی تھی انہوں نے مسلمانوں کی صفوں کے اندر اپنے ایجنٹ داخل کئے ۔ جو لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور ابھی ان کے ذہن میں پختگی پیدا نہ ہوئی تھی ان کے اندر انہوں نے فتنہ پردازی شروع کردی یہ کام وہ مختلف علاقوں میں کرتے رہے اور آج تک وہ مسلمانوں کے خلاف دنیا کے اطراف واکناف میں لوگوں کو جمع کرتے ہیں ۔ چانچہ اس وقت دنیا کے چپے چپے پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف یہودیوں نے جال بچھا رکھے ہیں ۔ اس جنگ میں وہ عیسائی اور بت پرست دونوں اقوام کو استعمال کر رہے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو مسلمانوں کے اندر غیر اسلامی طور طریقے رائج کرتے ہیں اور مسلمان ممالک کے اندر ایسی لیڈر شب سٹیج پر لاتے ہیں جن کے صرف نام مسلمانوں جیسے ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے وہ دین اسلام کو بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینکنے کے عمل میں مصروف ہیں ۔
ذرا پھر اللہ تعالیٰ کے اس کلام پر غور فرمائیں : ” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے ۔ “
٭ جس شخص نے مدینہ کی نوخیز اسلامی مملکت کے خلاف تمام قبائل کو جنگ احزاب میں جمع کیا اور بنی قریظہ اور دوسرے یہودیوں کو جمع کیا اور قریش مکہ اور دوسرے قبائل کو جمع کیا یہ کون تھا ؟ یہودی ۔
٭ وہ شخص جس نے عوام کو برانگیختہ کیا ‘ اشرار کو مدینہ میں جمع کیا ‘ اور مکروہ پروپیگنڈا کیا جس کے نتیجے میں حضرت عثمان شہید ہوئے اور اس کے بعد نہایت ہی تباہ کن واقعات پیش آئے وہ کون تھا ؟ یہودی ۔
٭ وہ لوگ جو احادیث رسول میں موضوعات داخل کرتے رہے وہ کون تھا ؟ یہودی ۔
٭ اسلام کی آخری خلافت ‘ خلافت عثمانیہ کے دور میں قومیت کے نعرے کس نے بلند کئے ‘ عالم اسلام میں انقلابات برپا کرکے اسلامی شریعت اور اسلامی دساتیر کو کس نے منسوک کیا اور جس شخص نے خلافت عثمانیہ کو ختم کر کے سلطان عبدالحمید کے بعد لادینی نظام رائج کیا ‘ وہ کون تھا ؟ اتاترک یہودی ۔
٭ وہ تمام اقدامات جو پورے عالم اسلام میں اور پوری دنیا میں اسلامی تحریکات کے خلاف کئے جاتے ہیں ان کی پشت پر کون ہے ؟ یہودی ۔
٭ اس کرہ ارض پر مادیت اور ملحدانہ نظریات کا موجد کون ہے ؟ یہاں حیوانی اور میلانات ‘ جنسی بےراہ روی کے پھیلانے کی تحاریک کی پشت پر کون ہے ؟ ان تمام نظریات کا پرچار کون کرتا ہے جو تمام مذہبی مقدسات اور شعائر کے خلاف ہیں ؟ صرف اور صرف یہودی ۔
غرض یہودیوں نے اسلام کے خلاف پوری اسلامی تاریخ میں جو معرکہ آرائی کی ہے اس کی داستانی نہایت ہی طویل ہے ۔ اور اس کے مقابلے میں مشرکین اور بت پرستوں نے اسلام کے خلاف جو کچھ کیا وہ بہت ہی کم ہے ۔ زمانہ قدیم میں بھی اور دور جدید میں بھی ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مشرکین عرب کے ساتھ اسلام کی معرکہ آرائی مجموعی طور پر صرف بیس سال تک رہی ؟ اس طرح اہل فارس کے ساتھ بھی ایک مختصر عرصہ جنگ رہی ۔ دور جدید میں اگرچہ ہندوستان کے مشرکین بظاہر اسلام کے خلاف لڑتے نظر آتے ہیں لیکن ان کی دشمنی اور جنگ یہودیوں کے مقابلے میں کچ بھی نہیں ہے ۔ عالمی صہیونیت (یاد رہے کہ سوشلزم اور کمیونزم عالمی صہیونیت کی شاخیں ہی تصور ہوتی ہیں) ہمیشہ سے اسلام دشمنی میں پیش پیش رہی ہے اور اس سے قبل یہودیوں نے اسلام کے خلاف جو محاذ آرائی کی اور یہ جس قدر طویل اور وسیع رہی ہے اس کے مقابلے میں صرف صلیبی جنگیں ہی کس قدر وقعت رکھتی ہیں جن پر ہم آگے چل کر بات کریں گے ۔
اگر ہم اللہ تعالیٰ کے ان الفاظ پر بار بار غور کریں ” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت ” یہود اور مشرکین “ کو پاؤ گے “ تو بات کا حق ہونا واضح ہوجاتا ہے ۔ اس آیت میں مشرکین کے مقابلے میں یہودیوں کو پہلا نمبر دیا گیا ہے اور پھر جب ہم یہودیوں کے اس تاریخی رول کو بھی پیش نظر رکھیں جو انہوں نے اسلام کے خلاف ادا کیا ‘ جس کے کچھ واقعات کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فقرے میں یہودیوں کو کیوں پہلے نمبر پر رکھا ہے ۔
بیشک یہودی نہایت ہی بدفطرت لوگ ہیں ‘ ان کے مزاج میں شر ہے ‘ ان کے دلوں کے اندر اسلام اور نبی اسلام کے خلاف کینہ بھرا ہوا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ یہاں مسلمانوں اور نبی اکرم کو خبردار فرماتے ہیں اور ان لوگوں کی اس بری اور شریر فطرت پر اگر دنیا میں کسی نے قابو پایا تو وہ اسلام اور مسلمان تھے ‘ لیکن اس وقت جب مسلمان صحیح معنوں میں مسلمان تھے ۔ صرف اسلام ہی تھا ‘ جس نے اس بدفطرت مخلوق سے لوگوں کو نجات دلائی تھی لیکن اس وقت جب اہل اسلام ‘ اسلام کا حق پورا پورا ادا کرتے تھے ۔
(آیت) لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الْیَہُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَاناً وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (82) وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَی الرَّسُولِ تَرَی أَعْیُنَہُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ (83) وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84) فَأَثَابَہُمُ اللّہُ بِمَا قَالُواْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ جَزَاء الْمُحْسِنِیْنَ (85) وَالَّذِیْنَ کَفَرُواْ وَکَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا أُوْلَـئِکَ أَصْحَابُ الْجَحِیْمِ (86)
” تم اہل ایمان کی عدوات میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں ، یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور ان میں غرور نفس نہیں ہے ۔ جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں ، وہ بول اٹھتے ہیں کہ ” پروردگار ‘ ہم ایمان لائے ‘ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ “ ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ جزاء ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لئے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا ‘ تو وہ جہنم کے مستحق ہیں ۔ “
” ذرا ان آیات پر غور کیجئے ۔ یہ ایک مخصوص صورت حال کی نشاندہی کر رہی ہیں اور ان میں جو فیصلہ ہے یہ بھی ایک مخصوص صورت حال میں ہے ۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیرورکاروں میں سے ایک فریق کے بارے میں ایک تبصرہ ہے جو کہتے تھے کہ ہم ” نصاری “ ہیں اور تبصرہ ان الفاظ میں ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ محبت میں یہ لوگ قریب تر ہیں ۔
لیکن یہ بات یہاں ذہن میں رہنا چاہئے کہ یہ ایک متعین صورت حال پر تبصرہ ہے اس لئے یہ صرف مخصوص صورت حالات پر ہی منطبق ہوگا ۔ اکثر لوگوں نے اس تبصرے کو اچھی طرح نہیں سمجھا ہے ۔ بعض لوگ اس تبصرے کو اس مقصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں کہ اہل اسلام بعض مخالف کیمپوں کے ساتھ اپنے موقف میں نرمی پیدا کرلیں حالانکہ اپنے موقف میں نرمی کرنا اہل اسلام کے لئے نہایت ہی مضر ہے ۔ اس سے دشمن کی پالیسی اور موقف کے سمجھنے میں بھی غلطی ہوسکتی ہے ۔ اس لئے ہم یہاں مناسب سمجھتے ہیں کہ ظلال القرآن میں اس صورت حال کی وضاحت کردیں جس کی تصویر کشی ان آیات میں کی گئی ہے ۔
ان آیات میں جن لوگوں کی تصویر کشی کی گئی ہے وہ ایسے لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ ہم ” نصاری “ ہیں ‘ اور وہ مسلمانوں کی دوستی میں قریب تر ہیں اور یہ لوگ عالم دین اور تاریک الدنیا قسم کے فقیر ہیں اور وہ متکبر اور مغرور بھی نہیں ہیں۔
(آیت) ” ذَلِکَ بِأَنَّ مِنْہُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُہْبَاناً وَأَنَّہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ (82)
” یہ اس لئے کہ ان میں عالم دین اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے “۔ لیکن قرآن مجید بات کو یہاں ہی ختم نہیں کردیتا ۔ نہ بات کو مجمل چھوڑا جاتا ہے ۔ نہ اسے ہر اس شخص کے لئے عام چھوڑ دیا جاتا ہے جو کہتا ہے میں نصرانی ہوں اس گروہ کی تصویر میں کچھ مزید رنگ بھرے جاتے ہیں اور اس گروہ کے موقف کو یوں واضح کیا جاتا ہے ۔
المائدة 5:83
(آیت) ” نمبر 83 تا 84 ۔
یہ ایک زندہ منظر ہے اور اس میں اس گروہ کی مکمل تصویر نظر آتی ہے ۔ یہ گروہ جو اہل ایمان کے ساتھ دوستی میں دوسرے کے مقابلے میں قریب تر ہے ۔ یہ ایسا گروہ ہے کہ جب قرآن مجید کا تازہ ترین حصہ نازل ہوتا ہے تو اس گروہ کے جذبات جوش میں آجاتے ہیں ۔ ان کے دل نرم ہوجاتے اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرجاتی ہیں ۔ یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اس قرآن سے نہایت ہی گہرا اثر لیتے ہیں ۔ وہ اس تاثر کا اظہار صرف آنسوؤں کی زبان میں کرتے ہیں اور اس قسم کا اظہار اس وقت کیا جاتا ہے جب انسان کے لئے الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار ممکن نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس تاثر کا اظہار آنسوؤں کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس طرح دباؤ اور گھٹن ختم ہوجاتی ہے کیونکہ جذبات کا دباؤ نہایت ہی سخت اور گہرا ہوتا ہے ۔
یہ لوگ محض آنسو بہا کر رک نہیں جاتے بلکہ قرآن کو سن کر جس سچائی سے وہ متاثر ہوچکے ‘ اس کے بارے میں منفی رویہ اختیار نہیں کرتے ۔ قرآن کریم میں جس سچے شعور کا حامل ہے ‘ اور جو شدید احساس وہ پیدا کرتا ہے ‘ اس کے مقابلے میں خاموش نہیں رہتے ۔ وہ صرف اتنا ہی نہیں کرتے کہ بس سن کر متاثر ہوئے اور آنسو بہا کر رک گئے بلکہ وہ اس سے آگے بڑھتے ہیں اور مثبت رویہ اختیار کرکے اس سچائی اس شعور اور احساس کو قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ ایمان لاتے ہیں یقین کرلیتے ہیں اور یہ بھی نہیں بلکہ وہ اپنے ایمان اور یقین کا اعلان بھی کرتے ہیں اور یہ اعلان وہ بڑے جوش و خروش سے کرتے ہیں ۔
(آیت) ” یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ (83) وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84)
” وہ بول اٹھتے ہیں کہ ” پروردگار ‘ ہم ایمان لائے ‘ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ ۔
دیکھئے یہ لوگ اس سچائی کا اعلان کرتے ہیں جو ان تک پہنچی اور وہ اسے پہنچان گئے ۔ اس کے بعد وہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں گواہوں کی فہرست میں شامل فرما دے اور ہمیں اس لڑی میں شامل کر دے اور ہمیں اس لڑی میں شامل کر دے جو اس کرہ ارض پر اس سچائی کو قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ اس امت میں داخل کر دے جس پر یہ قرآن گواہ ہے کہ وہ امت حقہ ہے اور جو اپنی زبان اپنے عمل اور اپنی جدوجہد کے ذریعے فریضہ شہادت حق ادا کر رہی ہے اور لوگوں کی زندگیوں میں اس سچائی کو جاری وساری دیکھنا چاہتی ہے ۔ چناچہ یہ لوگ فریضہ شہادت حق ادا کرنے والوں میں خود شامل ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کو اس بات پر گواہ ٹھہراتے ہیں کہ وہ اس امت میں داخل ہوگئے ہیں اور پھر یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ ہمارا نام رجسٹر کرلیا جائے ۔
یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ خود آپ سے بطور استفہام انکاری پوچھتے ہیں کہ اب ہماری راہ قبولیت میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ؟ کہ سنیں ‘ یقین کریں اور ایمان نہ لائیں تاکہ ان کا رب ان کی دعا قبول کرے ‘ ان کو درجات بلند عطا کرے اور انہیں صالح لوگوں میں درج کرے ‘ کیوں اور وہ ایسا نہ کریں ؟ اس کا کوئی جواز نہیں ہے ۔
(آیت) ” وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84)
” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ ‘
یہ ایک صریح ‘ دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف ہے ‘ جس میں وہ علی الاعلان قرآن کریم میں جو سچائی اتری ہے اس کو قبول کرتے ہیں ۔ غرض یہ لوگ سنتے ہیں ‘ سمجھتے ہیں ‘ گہرا تاثر لیتے ہیں اور ایمان کا اعلان کرتے ہیں ۔ اسلام کا قبول کرتے ہیں اور امت مسلمہ کا جزء بن جاتے ہیں اور پھر بھی دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں توفیق دے کہ وہ فریضہ شہادت حق ادا کرسکیں ۔ وہ ان لوگوں میں سے ہوجائیں جو اپنے عمل سے ‘ اور جہاد فی سبیل اللہ کرکے اقامت دین کی جدوجہد کرتے ہیں اور دین کو لوگوں کی زندگیوں میں قائم کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کی نظر میں راستہ اس قدر صاف ہوجاتا ہے کہ وہ یہ یقین کرلیتے ہیں کہ یہی راہ ہے اور اس کے سوا ان کے لئے کسی دوسری راہ پر چلنا جائز نہیں ہے ۔ یہ اللہ پر ایمان لانے کا راستہ ہے اور اس سچائی کا راستہ ہے جو اب اللہ نے اتاری ہے ۔ اس امید کا راستہ ہے کہ اللہ انہیں صالحین میں شامل کرے گا ۔
قرآن کریم یہاں آکر بھی نہیں رکتا ۔ یہ لوگ کون ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں اور مسلمانوں کی دوستی میں قریب تر ہیں ۔ ان کا سلوک اور طرز عمل یہ ہے کہ وہ قرآن کی بیان کردہ سچائی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں نہایت ہی مثبت طرز عمل اختیار کرتے ہیں ‘ ایمان کا اعلان کرتے ہیں اسلامی صفوں میں داخل ہوتے ہیں ‘ جان ومال کی جدوجہد کے ذریعے شہادت حق ادا کرتے ہیں اللہ کی جناب میں دست بدعا ہوتے ہیں کہ وہ ان کا نام فہرست شاہدین حق میں درج کرے اور یہ توقع کرتے ہیں کہ اللہ ان کو صالحین میں شامل کرے ‘ قرآن کریم ان کی صرف ان صفات پر ہی بات ختم نہیں کردیتا بلکہ ان کی تصویر مکمل کرنے کے لئے کچھ رنگ اور بھرے جاتے ہیں اور یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ قیامت میں ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا ۔
المائدة 5:84
(آیت) ” نمبر 83 تا 84 ۔
یہ ایک زندہ منظر ہے اور اس میں اس گروہ کی مکمل تصویر نظر آتی ہے ۔ یہ گروہ جو اہل ایمان کے ساتھ دوستی میں دوسرے کے مقابلے میں قریب تر ہے ۔ یہ ایسا گروہ ہے کہ جب قرآن مجید کا تازہ ترین حصہ نازل ہوتا ہے تو اس گروہ کے جذبات جوش میں آجاتے ہیں ۔ ان کے دل نرم ہوجاتے اور وہ اس قدر متاثر ہوتے ہیں کہ ان کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرجاتی ہیں ۔ یہ بات اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اس قرآن سے نہایت ہی گہرا اثر لیتے ہیں ۔ وہ اس تاثر کا اظہار صرف آنسوؤں کی زبان میں کرتے ہیں اور اس قسم کا اظہار اس وقت کیا جاتا ہے جب انسان کے لئے الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار ممکن نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس تاثر کا اظہار آنسوؤں کے ذریعے کیا جاتا ہے اور اس طرح دباؤ اور گھٹن ختم ہوجاتی ہے کیونکہ جذبات کا دباؤ نہایت ہی سخت اور گہرا ہوتا ہے ۔
یہ لوگ محض آنسو بہا کر رک نہیں جاتے بلکہ قرآن کو سن کر جس سچائی سے وہ متاثر ہوچکے ‘ اس کے بارے میں منفی رویہ اختیار نہیں کرتے ۔ قرآن کریم میں جس سچے شعور کا حامل ہے ‘ اور جو شدید احساس وہ پیدا کرتا ہے ‘ اس کے مقابلے میں خاموش نہیں رہتے ۔ وہ صرف اتنا ہی نہیں کرتے کہ بس سن کر متاثر ہوئے اور آنسو بہا کر رک گئے بلکہ وہ اس سے آگے بڑھتے ہیں اور مثبت رویہ اختیار کرکے اس سچائی اس شعور اور احساس کو قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ ایمان لاتے ہیں یقین کرلیتے ہیں اور یہ بھی نہیں بلکہ وہ اپنے ایمان اور یقین کا اعلان بھی کرتے ہیں اور یہ اعلان وہ بڑے جوش و خروش سے کرتے ہیں ۔
(آیت) ” یَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشَّاہِدِیْنَ (83) وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84)
” وہ بول اٹھتے ہیں کہ ” پروردگار ‘ ہم ایمان لائے ‘ ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے ۔ اور وہ کہتے ہیں کہ ” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ ۔
دیکھئے یہ لوگ اس سچائی کا اعلان کرتے ہیں جو ان تک پہنچی اور وہ اسے پہنچان گئے ۔ اس کے بعد وہ دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں گواہوں کی فہرست میں شامل فرما دے اور ہمیں اس لڑی میں شامل کر دے اور ہمیں اس لڑی میں شامل کر دے جو اس کرہ ارض پر اس سچائی کو قائم کرنے کی جدوجہد کر رہی ہے ۔ اس امت میں داخل کر دے جس پر یہ قرآن گواہ ہے کہ وہ امت حقہ ہے اور جو اپنی زبان اپنے عمل اور اپنی جدوجہد کے ذریعے فریضہ شہادت حق ادا کر رہی ہے اور لوگوں کی زندگیوں میں اس سچائی کو جاری وساری دیکھنا چاہتی ہے ۔ چناچہ یہ لوگ فریضہ شہادت حق ادا کرنے والوں میں خود شامل ہوجاتے ہیں۔ وہ اللہ کو اس بات پر گواہ ٹھہراتے ہیں کہ وہ اس امت میں داخل ہوگئے ہیں اور پھر یہ درخواست بھی کرتے ہیں کہ ہمارا نام رجسٹر کرلیا جائے ۔
یہ سب کچھ کرنے کے بعد وہ خود آپ سے بطور استفہام انکاری پوچھتے ہیں کہ اب ہماری راہ قبولیت میں کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے ؟ کہ سنیں ‘ یقین کریں اور ایمان نہ لائیں تاکہ ان کا رب ان کی دعا قبول کرے ‘ ان کو درجات بلند عطا کرے اور انہیں صالح لوگوں میں درج کرے ‘ کیوں اور وہ ایسا نہ کریں ؟ اس کا کوئی جواز نہیں ہے ۔
(آیت) ” وَمَا لَنَا لاَ نُؤْمِنُ بِاللّہِ وَمَا جَاء نَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَن یُدْخِلَنَا رَبَّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِیْنَ (84)
” آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے ؟ ‘
یہ ایک صریح ‘ دو ٹوک اور فیصلہ کن موقف ہے ‘ جس میں وہ علی الاعلان قرآن کریم میں جو سچائی اتری ہے اس کو قبول کرتے ہیں ۔ غرض یہ لوگ سنتے ہیں ‘ سمجھتے ہیں ‘ گہرا تاثر لیتے ہیں اور ایمان کا اعلان کرتے ہیں ۔ اسلام کا قبول کرتے ہیں اور امت مسلمہ کا جزء بن جاتے ہیں اور پھر بھی دعا کرتے ہیں کہ وہ انہیں توفیق دے کہ وہ فریضہ شہادت حق ادا کرسکیں ۔ وہ ان لوگوں میں سے ہوجائیں جو اپنے عمل سے ‘ اور جہاد فی سبیل اللہ کرکے اقامت دین کی جدوجہد کرتے ہیں اور دین کو لوگوں کی زندگیوں میں قائم کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کی نظر میں راستہ اس قدر صاف ہوجاتا ہے کہ وہ یہ یقین کرلیتے ہیں کہ یہی راہ ہے اور اس کے سوا ان کے لئے کسی دوسری راہ پر چلنا جائز نہیں ہے ۔ یہ اللہ پر ایمان لانے کا راستہ ہے اور اس سچائی کا راستہ ہے جو اب اللہ نے اتاری ہے ۔ اس امید کا راستہ ہے کہ اللہ انہیں صالحین میں شامل کرے گا ۔
قرآن کریم یہاں آکر بھی نہیں رکتا ۔ یہ لوگ کون ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نصاری ہیں اور مسلمانوں کی دوستی میں قریب تر ہیں ۔ ان کا سلوک اور طرز عمل یہ ہے کہ وہ قرآن کی بیان کردہ سچائی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں نہایت ہی مثبت طرز عمل اختیار کرتے ہیں ‘ ایمان کا اعلان کرتے ہیں اسلامی صفوں میں داخل ہوتے ہیں ‘ جان ومال کی جدوجہد کے ذریعے شہادت حق ادا کرتے ہیں اللہ کی جناب میں دست بدعا ہوتے ہیں کہ وہ ان کا نام فہرست شاہدین حق میں درج کرے اور یہ توقع کرتے ہیں کہ اللہ ان کو صالحین میں شامل کرے ‘ قرآن کریم ان کی صرف ان صفات پر ہی بات ختم نہیں کردیتا بلکہ ان کی تصویر مکمل کرنے کے لئے کچھ رنگ اور بھرے جاتے ہیں اور یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ قیامت میں ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا ۔
المائدة 5:85
(آیت) ” نمبر 85۔
اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ ان کے دل سچے ہیں اور ان کی زبان صداقت شعار ہے ۔ وہ صراط مستقیم پرچلنے کا عزم کئے ہوئے ہیں ‘ وہ اس دین کے لئے فریضہ شہادت حق ادا کرنے کے لئے تیار ہیں جس میں وہ داخل ہوئے ہیں ۔ وہ صداقت کے ساتھ اسلامی صفوں میں داخل ہوئے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شہادت حق کی ادائیگی اللہ کا ایک احسان ہے جو اپنے بندوں میں سے کسی پر وہ کرتا ہے ۔ یہ بات اللہ کے علم میں تھی کہ اب وہ صرف اسلامی راہ پر ہی چلنا چاہتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ اللہ انکو نیکوں میں شامل کرے گا ۔ چونکہ یہ سب باتیں اللہ کے علم میں تھیں اس لئے اللہ نے ان کی اس بات کو قبول کرلیا اور ان کے لئے جزائے آخرت لکھ دی ۔ اس پر اپنی گواہی قائم کردی کہ یہ لوگ نیک ہیں اور یہ ہے جزائے محسنین :
(آیت) ” فَأَثَابَہُمُ اللّہُ بِمَا قَالُواْ جَنَّاتٍ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا وَذَلِکَ جَزَاء الْمُحْسِنِیْنَ (85)
” ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ جزاء ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لئے ۔ “
احسان ایمان اور اسلام کے اعلی درجات کو کہتے ہیں اور اللہ بذات خود شہادت دیتے ہیں کہ یہ لوگ گروہ محسنین میں سے ہیں ۔ لہذا یہ آیات ایک خاص گروہ کے بارے میں ہیں ‘ جس کے خدوخال بالکل واضح ہیں اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ حکم ہے :
(آیت) ” وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی )
” اور ایمان لانے والوں کے لئے دوستی میں قریب ترتم ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں “۔ یہ ایک ایسا گروہ ہے کہ جب وہ حق بات کو سنتا ہے تو سرکشی نہیں کرتا بلکہ وہ دل کی گرائیوں سے اسے قبول کرتا ہے اور اس قبولیت کا برملا اعلان کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا فریق ہے کہ وہ اپنے اعلان اسلام میں ایک لمحے کے لئے بھی تردد نہیں کرتا ‘ فورا اسلامی صفوں میں شامل ہوجاتا ہے ۔ وہ اس نظریہ حیات کے حوالے سے عائد ہونے والے تمام فرائض کی ادائیگی کے لئے بھی تیار ہوجاتا ہے اور وہ اسلامی نظام حیات کے قیام کی راہ میں جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے ۔ نیز یہ ایک ایسا فریق ہے کہ جن کی باتوں کی تصدیق اللہ کرتا ہے اور اعلان کردیتا ہے کہ یہ محسنین ہیں اور یہ ہے ان کی جزائ۔
لیکن قرآن مجید اس پر اکتفا نہیں کرتا ‘ وہ اس گروہ کے خدوخال میں مزید اضافہ کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ کون ہیں جو اہل ایمان کے لئے محبت کے جذبات رکھتے ہیں ۔ یہ وضاحت اب اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ اس گروہ نصاری کے بالمقابل ایک دوسرے گروہ نصاری کا ذکر کرتا ہے جن کے خدوخال یہ ہیں کہ وہ سچائی کو سن کر ‘ سمجھ کر اس کا انکار کرتے ہیں وہ اس پر لبیک نہیں کہتے اور وہ گواہی دینے والوں کے ساتھ شامل نہیں ہوتے ۔