Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — المائدة 5:86 – المائدة 5:120

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. المائدة 5:86
  2. المائدة 5:87
  3. المائدة 5:88
  4. المائدة 5:89
  5. المائدة 5:90
  6. المائدة 5:91
  7. المائدة 5:92
  8. المائدة 5:93
  9. المائدة 5:94
  10. المائدة 5:95
  11. المائدة 5:96
  12. المائدة 5:97
  13. المائدة 5:98
  14. المائدة 5:99
  15. المائدة 5:100
  16. المائدة 5:101
  17. المائدة 5:102
  18. المائدة 5:103
  19. المائدة 5:104
  20. المائدة 5:105
  21. المائدة 5:106
  22. المائدة 5:107
  23. المائدة 5:108
  24. المائدة 5:109
  25. المائدة 5:110
  26. المائدة 5:111
  27. المائدة 5:112
  28. المائدة 5:113
  29. المائدة 5:114
  30. المائدة 5:115
  31. المائدة 5:116
  32. المائدة 5:117
  33. المائدة 5:118
  34. المائدة 5:119
  35. المائدة 5:120

المائدة 5:86

(آیت) ” نمبر 86۔ یہاں (آیت) ” (والذین کفروا) سے مراد قطعیت کے ساتھ وہی لوگ ہیں ‘ جو نصاری میں سے سچائی کو سنتے ہیں لیکن مان کر نہیں دیتے ۔ سچائی کو سن کر نہ ماننے والے نصاری کے بارے میں قرآن یہاں کافرین کا لفظ استعمال کرتا ہے ‘ لہذا نصاری جب بھی ایسا موقف اختیار کریں گے ان پر کفر کا اطلاق ہوگا ۔ اس میں یہود ونصاری کے درمیان کوئی امتیاز نہیں ہے اور جب تک وہ حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ کلام کو تسلیم نہیں کرتے جو کلام برحق ہے ہے ان میں اور مشرکین اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں ہوگا ۔ جب تک وہ منکر رہیں گے اور اسلام میں داخل نہ ہوں گے ‘ اس لئے کہ اب اللہ کے ہاں دین اسلام کے سوا کوئی اور دین مقبول نہیں ہے اور یہ مضمون قرآن مجید کی متعدد آیات میں دہرایا گیا ہے ۔ (آیت) ” لم یکن الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین منفکین حتی تاتیھم البینۃ (98 : 1) ” اہل کتاب اور مشرکین سے جو لوگ کافر تھے ‘ وہ باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آجائے ۔ “ (آیت) ” ان الذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین فی نار جھنم خلدین فیھا اولئک ھم شرالبریۃ “۔ (98 : 2) ” اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں کے کفر کیا ہے وہ یقینا جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔ “ (آیت) ” لقد کفر الذین قالو ان اللہ ثالثۃ “ (5 : 73) ” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے ۔ “ (آیت) ” لقد کفر الذین قالو ان اللہ ھو المسیح ابن مریم “ (5 : 72) ” یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے ۔ “ (آیت) ” لعن الذین کفروا من بنی اسرآء یل علی لسان داؤد و عیسیٰ ابن مریم “۔ (5 : 87) ’ ” بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی زبان سے لعنت کی گئی۔ “ غرض قرآن کریم کا ایک عام انداز بیان ہے اور یہ بات معہود فی الذہن ہے لیکن یہاں جو بات ہو رہی ہے وہ نصاری میں سے دو فریقوں کے رویے کے بارے میں ہے ، اصل میں یہ بتانا مقصود ہے کہ نصاری میں سے دو فریقوں کا موقف اسلام اور اہل اسلام کے بارے میں بالکل مختلف ہے اس لئے ان دونوں کا انجام بھی مختلف ہوگا ۔ ایک گروہ کے لئے جو ایمان لائے گا ایسے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور دوسروں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ جہنمی ہوں گے ۔ اس بحث سے معلوم ہوگیا کہ وہ تمام لوگ جو اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں اس آیت میں داخل نہیں جس میں کہا گیا ہے : (آیت) ” ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا) ” تم اہل ایمان کے ساتھ دوستی میں زیادہ قریب ان لوگوں کو پاؤ گے ۔ “ آیات کا یہ مفہوم وہی لوگ لیتے ہیں جو ہر آیت کو علیحدہ لے کر پڑھتے ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ آیت زیر بحث کا حکم محدود ہے ‘ اور اس سے متعین طور پر وہ لوگ مراد ہیں جو ایمان لاتے ہیں ۔ قرآن کریم نے ان لوگوں کی اچھی طرح وضاحت کردی ہے اور کوئی غلط فہمی نہیں چھوڑی ۔ دونوں فریقوں کو نکھار کر رکھ دیا ہے۔ قرآن کریم کے علاوہ اس مفہوم کی وضاحت اور تائید میں بہت سی روایات بھی آئی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے مراد نصاری کے چند متعین لوگ تھے ۔ قرطبی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے : ” یہ آیت نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں ہے ‘ اور یہ اس وقت نازل ہوئی تھی جب ہجرت اول میں مسلمان حبشہ کو گئے تھے ‘ جیسا کہ ابن اسحاق اور دوسرے اہل سیر نے لکھا ہے ۔ یہ لوگ مشرکین کے خوف اور تشدد کی وجہ سے گئے تھے اور بڑی تعداد میں تھے ۔ اس کے بعد حضور نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو یہ لوگ ہجرت کرنے مدینہ مدینہ نہ آسکے ‘ اس لئے کہ جنگوں کی وجہ سے حالات ایسے ہوگئے کہ وہ حضور سے نہ مل سکے جب بدر کی جنگ ہوئی اور اس میں کفار کے بڑے بڑے لیڈر مارے گئے تو قریش کے لوگوں نے کہا کہ کہ ہم ان لوگوں سے انتقام لے سکتے ہیں جو حبشہ گئے ہوئے ہیں ‘ اس لئے کچھ ہدایات دے کرنجاشی کے پاس دو عقلمند آدمیوں کو بھیجو ۔ نجاشی ان لوگوں کو تمہارے حوالے کر دے گا اور تم ان کو قتل کر کے اہل بدر کا بدلہ لے سکو گے ۔ اہل قریش نے عمرو ابن العاص اور عبداللہ ابن ابو ربیعہ کو ہدیے دے کر بھیجا ۔ حضور کو ان خبروں کی اطلاع ہوگئی ۔ آپ نے عمر ابن امیہ ضمیری کو بطور ایلچی بھیجا اور اسے ایک خط دیا ۔ وہ نجاشی کو ملے ‘ اس نے حضور ﷺ کے نامہ مبارک کو پڑھا ۔ اس کے بعد حضرت جعفر ابن ابو طالب اور مہاجرین کو بلایا اور اپنے علماء اور فقراء کو بھی بلایا اور حضرت جعفر کو حکم دیا کہ ان کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت کریں ۔ انہوں نے سورة مریم کی تلاوت کی ۔ یہ علماء اور مشائخ اس حال میں اٹھے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا قالوا انا نصری) ” تم مسلمانوں کے ساتھ دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جو کہتے ہیں ہم نصاری ہیں۔ “ یہ آیت انہوں نے ” الشاہدین “ تک پڑھی ۔ (اس حدیث کو ابو داؤد نے محمد ابن مسلمہ ‘ ابن وہب ‘ یونس ‘ ابن شہاب (انہوں نے ابوبکر ابن عبد الرحمن اور سعید ابن مسیب کے واسطے سے) عروہ ابن زبیر سے روایت کیا ۔ انہوں نے اس حدیث کا آغاز اس سے کیا کہ حبشہ کی پہلی ہجرت کا یہ واقعہ ہے) بیہقی نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ حضور کے پاس بیس افراد آئے ۔ اس وقت آپ مکہ میں تھے یا مکہ کے قریب تھے ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کے بارے میں اطلاعات حبشہ پہنچی تھیں ۔ یہ لوگ نصاری تھے ۔ ان لوگوں نے مسجد میں حضور کے ساتھ ملاقات کی ۔ سوالات وجوابات ہوئے اور قریش کے لوگ کعبہ کے اردگرد محفلیں جمائے بیٹھے تھے ۔ جب ان کے سوالات ختم ہوئے اور جو پوچھنا چاہتے تھے ‘ پوچھ لیا تو حضور نے ان کو دعوت دی اور قرآن مجید پڑھ کر انہیں سنایا جب انہوں نے قرآن سنا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔ انہوں نے آپ کی دعوت کو قبول کیا ‘ آپ کی تصدیق کی ۔ انہوں نے حضور ﷺ کو ان پیش گوئیوں کی روشنی میں پہچان لیا جو ان کی کتابوں میں تھیں ۔ جب یہ لوگ جانے کے لئے اٹھے تو ابوجہل اور قریش کے چند لوگوں نے مداخلت کی ۔ ابوجہل نے کہا تم جیسا بیوقوف کوئی بھی نہ ہوگا ۔ تمہیں تمہاری قوم نے تو اس لئے بھیجا تھا کہ تم واپس جاؤ اور اس شخص کے بارے میں ان تک اطلاعات پہنچاؤ لیکن چند منٹ کی بات چیت میں تم نے اپنے دین کو چھوڑ دیا اور اس کی تصدیق کردی ، میں نے تم سے زیادہ احمق مسافر کوئی اور نہیں دیکھا یا اس نے اس جیسی کوئی اور بات کہی ۔ انہوں نے کہا اسلام علیکم ہم تمہارے ساتھ جاہلانہ رویہ اختیار نہیں کرتے ۔ ہمارے اعمال ہمارے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے ہیں ۔ ہم اپنے آپ کو بھلائی سے محروم نہیں کرتے ۔ کہا جاتا ہے ۔ کہ یہ لوگ اہل نجران میں سے تھے ۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان ہی کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں۔ (آیت) ” الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون) آیت (لا نبتغی الجھلین) (28 : 53 تا 55) تک ان آیات کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جعفر اور ان کے ستر افراد پر مشتمل ساتھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ملاقات کے لئے آئے ۔ یہ لوگ اونی کپڑے پہنے ہوئے تھے ۔ ان میں سے باسٹھ افراد حبشہ سے تعلق رکھتے تھے اور آٹھ شامی تھے ۔ شامیوں میں بحیرا راہب ‘ ادریس ‘ اشرف ‘ ابرہہ ‘ ثمامہ ‘ قثم ‘ درید اور ایمن تھے ۔ ان کے سامنے حضور ﷺ نے سورة یسین تلاوت فرمائی ۔ انہوں نے جب قرآن مجید سنا تو خوب روئے اور حضور ﷺ پر ایمان لائے ۔ انہوں نے کہا یہ کلام ویسا ہی ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوا تھا ۔ ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود والذین اشرکوا ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوا انا نصری ) (5 : 82) ” تم اہل ایمان کی عدوات میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور ایمان لانے والوں کے لئے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں ۔ “ اس سے مراد حبشہ کے وفد سے ہے اور یہ لوگ کینسوں کے انجارچ تھے ۔ سعید ابن جبیر نے کا ہ ہے کہ ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت اتری ْ : (الذین اتینھم الکتب من قبلہ ھم بہ یومنون) ۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ (اولئک یوتون اجرھم مرتین) آخر آیت تک ۔ مقاتل اور کلبی نے کہا ہے کہ ان لوگوں میں سے چالیس افراد نجران کے قبیلہ بنی الحرث ابن کعب سے تھے ۔ اور بتیس حبشہ کے تھے اور اڑسٹھ شامی تھے ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سچی شریعت پر قائم تھے اور جب حضور ﷺ مبعوث ہوئے تو وہ حضور ﷺ پر ایمان لائے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو قتادہ نے کہا ہے یہی اس آیت کا مفہوم ہے اور سیاق کلام بھی اسی کا اظہار کرتا ہے ۔ سابقۃ الذکر تمام روایات اس کی تائید کرتی ہیں اور اس سورة میں دوسری آیات اور قرآن کریم کی دوسری تصریحات کے ساتھ بھی یہ مفہوم متفق ہے ۔ یہ مفہوم اس موقف سے بھی متفق ہے ۔ جو یہود ونصاری نے اہل اسلام اور خود اسلام کے مقابلے میں اختیار کیا ۔ نیز گزشتہ 14 سو سال کی تاریخ میں ان لوگوں نے اسلام کے مقابلے میں جس قسم کا رویہ اختیار کیا اس کے ساتھ بھی یہ مفہوم درست بیٹھتا ہے ۔ یہ سورة اپنے رجحان اپنی فضا اور اپنے مقاصد کے اعتبار سے ایک اکائی ہے ۔ اللہ کے کلام میں تناقض ممکن نہیں ہے ۔ (آیت) ” (ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا “۔ (4 : 82) ” اگر قرآن مجید اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس میں بہت اختلاف پاتے ۔ “ خود اس سورة کے اندر بھی بعضے فیصلے اور ایسی آیات موجود ہیں جن سے اس آیت کی تشریح اچھی طرح ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” یایھا الذین لا تتخذوا الیھود والنصری اولئاء بعضھم اولیاء بعض ومن یتولھم منکم فانہ منھم ان اللہ لایھدی القوم الظلمین “۔ (5 : 51) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہیں میں ہے یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ (آیت) ” قل یاھل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم ، ولیزیدن کثیرا منھم ما انزل الیک من ربک طغیانا وکفرا فلا تاس علی القوم الکفرین (5 : 68) ” کہہ دو کہ اے اہل کتاب تم ہرگز اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات وانجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں۔ “ ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے گا ۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو ۔ اسی طرح سورة بقرہ میں اس سے پہلے کہا گیا تھا : (آیت) ” ولن ترضی عنک الیھود ولاالنصاری حتی تتبع ملتھم قل ان ھدی اللہ ‘ ھو الھدی ولئن اتبع اھوآء ھم بعد الذی جآءک من العلم مالک من اللہ من ولی ولا نصیر۔ (2 : 120) ” یہودی اور عیسائی تم سے ہر گز راضی نہ ہوں گے ‘ جب تک آپ ان کی طریقے پر نہ چلنے لگو صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ورنہ اس علم کے بعد جو تمہارے پاس آچکا ہے ‘ تم نے انکی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مدد گار تمہارے لئے نہیں ہے۔ “ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو ان آیات میں جو تنبیہ کی تھی بعد کے ادوار میں پوری تاریخ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ یہودیون اور عیسائیوں دونوں نے کبھی اہل اسلام کو معاف نہ کیا ۔ تاریخ نے یہودیوں کی اسلام دشمنی کے واقعات کو اس وقت سے ریکارڈ کیا ہے جب سے اسلام مدینہ طیبہ میں داخل ہوا ‘ اور اس وقت سے آج تک ان کا یہی ریکارڈ مسلسل چلا آرہا ہے کہ وہ اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ۔ اپنی ان خبیث سرگرمیوں کو انہوں نے کسی بھی دور میں موقوف نہیں کیا ۔ تاریخ نے یہ واقعہ بھی ریکارڈ پر محفوظ کیا ہے کہ جب سے جنگ یرموک میں اہل اسلام اور عیسائیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے اس کے بعد عیسائیوں نے بھی اسلام کے خلاف صلیبی جنگیں مسلسل جاری رکھیں ‘ ماسوائے ان چند استثنائی واقعات کے جن کا ذکر ان آیات میں ہوا ہے اور ماسوائے بعض ایسی عیسائی فرقوں کے جو خود دوسرے عیسائی فرقوں کے وبال سے تنگ آکر اسلامی حدود میں آب سے ۔ رہاعیسائیوں کا عام رویہ تو اس کی اصلی تصویر صلیبی جنگوں ہی میں نظر آتی ہے ۔ یاد رہے کہ صلیبی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ‘ یہ آج تک جاری ہے ۔ جب سے اسلام اور مسیحیت کا مقابلہ یرموک کے میدان میں ہوا ہے اس وقت سے یہ جنگ جاری ہے ۔ اگرچہ بظاہر کبھی کبھی امن بھی نظر آجاتا ہے ۔ عیسائیوں کو اسلام کے ساتھ کس قدر بعض و عدوات تھی ‘ اس کا اظہار دو صدیوں تک ہوتا رہا یعنی مشہور صیلبی جنگوں کے دوران نیز اس ذہینت کا اظہار اس تحریک بیخ کنی سے بھی ہوتا ہے جو عیسائیوں نے مسلمانوں کے خلاف اندلس میں جاری رکھی ۔ اس کی استعماریت اور تبلیغ مسیحیت کی مہم اسلامی افریقہ میں چلائی گئی اور اس کے بعد اس استعمار اور تبلیغ مسیحیت کو تمام عالم اسلام تک پھیلا دیا گیا ۔ اسلام کے خلاف جنگ میں یہودیت اور عیسائیت دونوں باہم حلیف رہے حالانکہ دونوں فرقے ایک دوسرے کے بھی دشمن تھے لیکن اسلام کے خلاف تمام جنگوں میں وہ ایک دوسرے کے دوست بھی رہے ۔ جیسا کہ اللہ علیم وخبیر نے آج سے 14 سو سال پہلے کہ دیا تھا کہ (آیت) ” بعضھم اولیاء بعض “۔ وہ خود ایک دوسرے کے دوست ہیں “ اور ان کی یہ دوستی اس وقت تک قائم رہی جب انہوں نے خلافت اسلامیہ کو ختم کیا ، اس کے بعد وہ اس دین کی ایک ایک رسی کو توڑتے رہے اور جب انہوں نے اسلامی نظام حکومت کو ختم کرلیا تو اب وہ اسلام کی اساس نماز کو ختم کرنے کے درپے ہیں ۔ اب دور جدید میں دیکھئے مسلمانوں کے خلاف یہودیوں کا جو موقف تھا کہ وہ اہل اسلام کے مقابلے میں مشرکین کو پسند کرتے تھے اب بایہ ثبوت کو پہنچ گیا ہے ۔ اب عالمی عیسائیت ان تمام بت پرست اقوام کی پشت پر کھڑی ہے بشرطیکہ وہ اسلام کے خلاف لڑ رہے ہوں ۔ بعض اوقات تو یہ لوگ تائید کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ لوگ براہ راست بین الاقوامی اداروں میں مسلمانوں کے خلاف بت پرستوں کی تائید کرتے ہیں ۔ پاکستا اور ہندوستان کے درمیان پائے جانے والے مسئلہ کشمیر میں انہوں نے وہی کردار ادا کیا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ یہودی و عیسائی احیائے اسلام کی تمام تحریکات کی بیخ کنی میں باہم معاون ہیں ۔ انہوں نے عالم اسلام کے ایسے نام نہاد عظیم لیڈر پال رکھے ہیں جو ان کی مرضی اور خواہشات کے مطابق اپنے اپنے ممالک میں اسلام کی بیخ کنی پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ عالمی قوتیں بونے لیڈروں کے اردگرد اژدہام کئے ہوئے ہیں اور زندہ باد کے نعرے لگا رہی ہیں ۔ اس غوغا آرائی نے ان لوگوں کو عظیم لیڈر بنا دیا ہے ۔ حالانکہ یہ لوگ نہایت ہی بونے قد کے لوگ ہیں ۔ یہ ہے خلاصہ اس ریکارڈ کا جو گذشتہ چودہ سو سال سے اسلامی تاریخ نے قلم بند کیا ہے اور اس میں یہودیوں اور عیسائیوں کا موقف اسلام کے خلاف رہا ہے اور دونوں کی دشمنی کے درمیان کوئی کمی بیشی نہیں ہے ۔ نہ ان کے کیمپوں میں فرق کیا جاسکتا ہے اور نہ تحریک اسلامی کے خلاف ان کی اس مسلسل جنگ میں کبھی کمی آتی ہے ۔ ایک زمانہ گزر گیا اس صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ یہ ہے وہ صورت حال جسے سمجھنے والوں کو سمجھ لینا چاہئے اور انہیں ان تحریکات کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہئے جو فریب خوردہ لوگ چلا رہے ہیں اور جن کا مقصد اسلامی صلابت اور پختگی کو پگھلانا ہے ۔ یہ تحریکات اسلام کو ختم کرنے کے لئے اس آیت سے استدلال کرتی ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ اس کا مفہوم دوسری آیات سے کاٹ کر ‘ اور صرف نظر کرکے وہ مفہوم نکالتی ہیں جو ان کا مفید مطلب ہے ۔ اس آیت کے مفہوم کے تعین کے لئے یہ لوگ نہ پوری سورة کے مضامین کو دیکھتے ہیں نہ قرآن کریم کی دوسری تصریحات سے استفادہ کرتے ہیں ‘ نہ وہ اس سلسلے میں اسلامی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں اور اس طرح وہ اہل ایمان کے شعور کو سلانا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان کیمپوں کے مقابلے میں بےحس اور بےفکر ہوجائیں ۔ ان کے دل اسلام کے خلاف بغض وعداوت سے بھرے پڑے ہیں اور وہ ہر وقت عالم اسلام کے خلاف سازشوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ وہ اس ثقافتی یلغار کے ذریعے اسلامی نظریہ حیات پر اپنا آخری وار کرنا چاہتے ہیں ۔ اسلام کے یہ دشمن کیمپ جس امر سے بہت خائف ہیں وہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر دین حق کا فہم وادراک اور شعور واحساس ترقی نہ کر جائے اگرچہ یہ شعور ایک قلیل تعداد ہی کے اندر پایا جاتا ہو۔ جو لوگ مسلمانوں کے اس شعور اور بیداری کے بدترین دشمن ہیں ان میں سے بعض ایسے ہیں جو فریب خوردہ ہیں اور دشمنان اسلام کے جال میں آگئے ہیں یہ فریب خوردہ لوگ مسلمان ہونے کے باوجود اسلام کے کھلے دشمنوں سے کم خطرناک نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ اسلام اور تحریک احیائے اسلام کے لئے زیادہ مضر ہو سکتے ہیں ۔ بیشک یہ قرآن اس بات کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو نہایت ہی مضبوط اور قائم ہے ۔ قرآن خود اپنی تردید ہرگز نہیں کرتا ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کا مطالعہ دینی بصیرت کے ساتھ کریں ۔ درس نمبر 53 ایک نظر میں : یہ پورا سبق ایک ہی مسئلے کو لیتا ہے ۔ اگرچہ موضوعات مختلف ہیں لیکن یہ تمام موضوعات ایک ہی محور کے اردگرد گھومتے ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی نظام حیات میں قانون سازی کا مسئلہ ذات باری سے تعلق رکھتا ہے اور یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ حلال و حرام کے حدود وقیود کا تعین کرے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو جواز اور عدم جواز کے فیصلے کرسکتا ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ یہ اس کا امر ہے اور یہ اس کی جانب سے نہی ہے ۔ اس اصولی قاعدے کے ساتھ تمام چھوٹے اور بڑے امور یکساں ہیں ‘ اس لئے زندگی کے تمام معاملات کا حل اس قاعدے کے مطابق ہونا چاہئے ۔ انسانوں میں سے جو شخص اپنے لئے قانون سازی کے حق کا دعوی کرتا ہے اور اس حق کو استعمال کرتا ہے تو وہ غلطی پر ہے ۔ اسلامی نظریے کی رو سے یہ حق صرف اللہ ہی کے لئے ہے ۔ اگر کوئی اللہ کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتا تو گویا وہ اللہ کی الوہیت اور اس کی حاکمیت کو چیلنج کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس قسم کی دست درازی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا جو شخص لوگوں کے رواج ‘ ان کی اصطلاحات اور ان کے اقوال کے مطابق قانون سازی کرتا ہے وہ اللہ کے کلام کے خلاف بغاوت کرتا ہے اور اس طرح وہ دائرہ ایمان اور حدود اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ اور وہ دین اسلام میں نہیں رہتا اس سبق کے تمام فقرے (یایھا الذین امنوا) سے شروع ہوتے ہیں مثلا : (آیت) ” أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواَ (87) (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ (90) (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَسْأَلُواْ عَنْ أَشْیَاء إِن تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ ۔۔۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ ۔۔۔۔ یِا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ شَہَادَۃُ بَیْْنِکُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّۃِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنکُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَیْْرِکُمْ ۔۔ (5 : 106) اس سبق کا موضوع چونکہ مسئلہ قانون سازی ہے ‘ اس لئے اس حوالے سے ان الفاظ کے ساتھ خطاب یہاں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس میں ایک خاص اشارہ پیش نظر ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ اس مسئلے کا تعلق الوہیت ‘ حاکمیت اور ایمان اور دین کے ساتھ ہے ۔ اہل ایمان کی صفت ایمان کے ساتھ پکارا جاتا ہے ‘ اس لئے کہ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی الوہیت ‘ حاکمیت کا اقرار کیا جائے ۔ اس پکار کی وجہ سے اسلام اور دین کا پہلا قاعدہ اور سبق مسلمانوں کے ذہن نشین کرانا مطلوب ہے ۔ اس مناسبت کے ساتھ حکم دیا جاتا ہے کہ لوگ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں اور اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت سے روگردانی نہ کریں ورنہ ان کو شدید عذاب سے دو چار ہونا پڑے گا جو شخص یہ اطاعت کرے گا وہ آخرت میں بہت بڑے انعام کا مستحق ہوگا ۔ اس کے بعد صفت ایمان کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکم دیا جاتا ہے ۔ اہل ایمان اور اہل کفر کے درمیان مکمل جدائی ہوگی ‘ اس لئے کہ اہل کفر اہل ایمان کے منہاج کو قبول نہیں کرتے ۔ اہل ایمان کا منہاج تو یہ ہے کہ وہ چھوٹے بڑے معاملات میں حق قانون سازی اللہ کو دیتے ہیں اور اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی نہیں کرتے ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ إِلَی اللّہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً (5 : 105) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اپنی فکر کرو کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو ۔ اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ۔ “ اہل ایمان ایک امت ہیں ‘ جس کا اپنا دین ‘ اپنی شریعت ‘ شریعت کے اپنے مصادر ہیں اور وہ ان کے سوا کسی اور ذریعے سے قانون نہیں اخذ کرتی ۔ اگر یہ امت تمام اقوام وملل پر اپنا یہ موقف واضح کر دے اور پھر بھی وہ گمراہ ہوں تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں ‘ اگر وہ ان سے مکمل جدائی رکھے اور انہیں ان کی جاہلیت اور ضلالت پر چھوڑ دے سب نے اللہ کی طرف لوٹنا ہے ۔ یہ ہے اس پورے سبق کا محور۔ رہے وہ موضوعات جو اس سبق کے اندر ہیں اور جو اس دائرے کے اندر گھومتے ہیں تو وہ مختلف ہیں ۔ اب اس عمومی دائرے کے اندر ان موضوعات کو ہم ذرا تفصیل کے ساتھ لیتے ہیں ۔

المائدة 5:87

درس نمبر 53 تشریح آیات : 87۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 108۔ (آیت) ” نمبر 87 تا 89۔ ” اے ایمان لانے والو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم انسان اور اللہ کے غلام ہوتے ہوئے ‘ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ‘ اس لئے تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کاموں اور اشیاء کو حرام قرار دو ‘ خصوصا پاکیزہ چیزوں کو۔ اس لئے تم پاک چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس طرح نہ رکو کہ تم ان کو اپنے لئے حرام قرار دے لو ۔ اس لئے کہ اللہ نے یہ پاک چیزیں تمہارے لئے ہی تو پیدا کی ہیں اور پھر یہ کہ حلال و حرام کے حدود کا تعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (87) وَکُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ حَلاَلاً طَیِّباً وَاتَّقُواْ اللّہَ الَّذِیَ أَنتُم بِہِ مُؤْمِنُونَ (88) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں ۔ جو کچھ حلال وطیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اسے کھاؤ پیو اور اس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو ۔ A ” حقیقت یہ ہے کہ قانون سازی کے مسئلے کا تعلق خاص مسئلہ حاکمیت اور الوہیت کے ساتھ ہے ۔ قانون سازی کا حق اللہ کی حاکمیت کے ساتھ مخصوص اس لئے ہے کہ اللہ ہی انسانوں کا مالک اور خالق ہے اور وہی ہے جو انسانوں کو رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لئے یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لئے ‘ اپنے پیدا کردہ رزق میں سے بعض چیزوں کو حلال کر دے اور بعض کو حرام کر دے ۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کو انسانوں کی عقل بڑی آسانی سے مان لیتی ہے ۔ انسانوں کے نزدیک بھی کسی چیز کا مالک ہی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی ممو کہ چیز میں جس طرح چاہے تصرف کرے اور جو شخص بھی کسی کے حق ملکیت پر دست درازی کرتا ہے تو اسے ظلم و زیادتی کا مرتکب تصور کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ ایمان لا چکے ‘ ظاہر ہے کہ ان سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حقوق پر دست درازی کریں گے اس لئے کہ اللہ پر ایمان اور پھر اللہ سے بغاوت دونوں ایک دل میں کس طرح جمع ہو سکتے ہیں ۔ یہ ہے وہ مسئلہ جسے یہ دو آیات ایسے واضح اسلوب میں پیش کرتی ہیں کوئی معقول شخص اس بارے میں کوئی مباحثہ اور مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے کہ اللہ دست درازی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ مسئلہ ایک عام قاعدے اور اصول کو طے کرتا ہے کہ تمام لوگ اللہ کے بندے اور غلام ہیں اور اس مسئلے کے مطابق اپنا طرز عمل ڈھالنا تقاضائے ایمان ہے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ دو آیات اور ان سے آگلی آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئیں ۔ یہ واقعہ حضور ﷺ کے دور میں پیش آیا لیکن آیت عام ہے اور اسباب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اسباب نزول کے ذریعے فہم قرآن میں اچھی مدد ملتی ہے ۔ ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ ایک دن حضور ﷺ تشریف فرما تھے ۔ آپ نے لوگوں کو یاد دہانی کی ۔ آپ اٹھ کر چلے گئے اور آپ نے اس دن انہیں بہت نہ ڈرایا ۔ آپ کے جو ساتھی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کچھ باتیں اور اعمال اپنی طرف سے کیوں نہ شروع کردیں ‘ نصاری نے تو ایسا کیا کہ بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ‘ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے اوپر بعض چیزیں حرام کرلیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ گوشت اور سرین نہ کھائے گا ۔ بعض نے کہا کہ وہ دن کو نہ کھائے گا ۔ بعض نے اپنے اوپر عورتیں حرام کرلیں ‘ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ بھی عجیب ہیں کوئی اپنے اوپر عورتوں کو حرام کرتا ہے کوئی کھانا حرام کرتا ہے کوئی نیند حرام کرتا ہے ۔ خبردار میں تو سوتا بھی ہوں کھڑا بھی ہوتا ہوں ‘ روزے بھی رکھتا ہوں ‘ کھاتا بھی ہوں ‘ عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرتا ہوں ‘ پس جو شخص میری اس سنت سے منہ موڑے گا وہ مجھ سے نہ ہوگا “۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ ) صحیحین میں حضرت انس ؓ سے ایک روایت منقول ہے وہ بھی ابن جریر کی روایت کی موید ہے ۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ تین افراد ازواج مطہرات کے گھر آئے ‘ انہوں نے حضرت نبی ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھا ۔ جب ان کو حضور ﷺ کی عبادات کے بارے میں معلومات دی گئیں تو گویا انہوں نے ان عبادات کو کم سمجھا ۔ انہوں نے کہا ہم حضور ﷺ کے رتبے تک کب پہنچ سکتے ہیں ؟ اللہ نے حضور ﷺ کے سابقہ اور آیندہ تمام گناہوں کو معاف کردیا ہے ۔ ایک نے کہا میں تو تمام رات نماز پڑھوں گا ‘ دوسرے نے کہا کہ میں تو ہمیشہ کے لئے روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہ کروں گا ۔ تیسرے نے کہا میں تو کبھی بھی عورتوں کے پاس نہ جاؤں گا اور نہ نکاح کروں گا ۔ حضور ﷺ کو جب علم ہوا تو آپ ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ تم لوگ ہو جنہوں نے یہ یہ باتیں کیں ۔ خدا کی قسم میں تم سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ‘ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور ان میں عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرتا ہوں ۔ لہذا جو میری سنت سے ہٹا وہ مجھ سے نہ ہوگا ۔ “ ترمذی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص حضور کے پاس آیا اور کہا حضور میں جب گوشت کھاتا ہوں تو مجھ پر شہوت غالب آجاتی ہے اور میں عورتوں کے لئے اٹھتا ہوں اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ ) اب رہی وہ آیت جس میں قسموں کا ذکر ہے اور جو ان دو آیات کے بعد آتی ہے تو وہ بھی ایسے ہی حالات میں ہدایت دیتی ہیں ۔ (آیت) ” لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّہُ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْْمَانِکُمْ وَلَـکِن یُؤَاخِذُکُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَیْْمَانَ فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیْکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ ذَلِکَ کَفَّارَۃُ أَیْْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَیْْمَانَکُمْ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (89) تم لوگ جو مہمل قسمیں کھالیتے ہو ‘ ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا ‘ مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو اس پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا ۔ (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو ‘ یا انہیں کپڑے پہناؤ یا ایک غلام آزاد کرو ‘ اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو ‘ وہ تین دن کے روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھا کر توڑ دو ۔ اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو ، اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لئے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو ۔ “ یہ آیت ایسے حالات کے لئے ہے کہ کوئی مباح چیزوں کے استعمال کرنے کے خلاف حلف اٹھالے مثلا جن تین افراد نے قسم اٹھالی تھی کہ وہ یہ یہ کام نہیں کریں گے ‘ اور انہیں رسول اللہ ﷺ نے قسم کو جاری رکھنے سے منع کردیا تھا ۔ اور قرآن نے ان کو اس بات سے روک دیا تھا کہ وہ اپنے لئے حلال و حرام خود مقرر نہیں کرسکتے ۔ یہ ان کا کام نہیں ہے ۔ یہ تو اس اللہ کا کام ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں ۔ اس طرح یہ ان تمام صورتوں کے لئے ہدایت ہے جن میں کوئی کسی اچھے کام سے بذریعہ حلف اپنے آپ کو روک لیتا ہے ۔ اس لئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نیک کام کے نہ کرنے کی قسم اٹھاتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ نیک کام جاری رکھے اور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرے جس کی تفصیلات اس آیت میں دی گئی ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہوا کہ جن لوگوں نے اپنے اوپر بعض کھانے ‘ بعض لباس اور عورتوں کے ساتھ نکاح حرام کرلیا تھا ‘ انہوں نے اس پر حلف بھی اٹھایا تھا ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ” اللہ کی پاک چیزیں اپنے اوپر حرام نہ کرو “ تو انہوں نے پوچھا کہ ہماری قسموں کا کیا بنے گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر لغو قسموں کے بارے میں کوئی مواخذہ نہیں کرتا ۔ یعنی محض زبان پر لفظ قسم جاری ہوجائے لیکن دل سے پختہ ارادہ قسم نہ ہو ‘ البتہ اللہ تعالیٰ جانب سے حکم یہ ہے کہ خواہ مخواہ ہر بات پر اللہ کی قسم نہ اٹھائی جائے ‘ اس لئے کہ اللہ کی قسم کا کچھ تو احترام ہونا چاہئے ۔ اللہ کی قسم کا وقار ہونا چاہئے اس لئے لغو قسم بھی بار بار اٹھانا ناپسندیدہ ہے ۔ رہی وہ سچی قسم جو قصدا ہوتی ہے اور اس کے پیچھے پختہ ارادہ ہوتا ہے ٗ کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا تو وہ لغو کی طرف معاف نہیں ہے ۔ اس پر کفارہ واجب ہے اور یہ آیت اسی کو بیان کرتی ہے ۔ ” سچی قسموں کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ یا انہیں کپڑے پہناؤ یا ایک غلام آزاد کرو اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے ۔ اگر تم قسم کھا کر توڑ دو ۔ “ دس مسکینوں کے لئے اوسط درجے کا کھانا ایسا ہوگا کہ قسم اٹھانے والا جس کھانا اپنے اہل و عیال کو دیتا ہے ۔ اوسط کا مفہوم احسن بھی ہو سکتا ہے اور متوسط بھی ہو سکتا ہے کیونکہ لفظ اوسط احسن اور متوسط دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ اوسط سے دونوں مفہوم مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ اسلام کے پیمانے میں اوسط ہی احسن ہوتا ہے ۔ (آیت) ” (اوکسوتھم) سے مراد یہی ہے کہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کی پوشاک پہنائی جائے یا ایک غلام آزاد کیا جائے اور یہاں اس بات کی تصریح نہیں کی گئی کہ غلام کو مومن ہونا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہوا ہے ۔ ہم تو فی ظلال القرآن میں فقہی اختلافات کا ذکر نہیں کرتے ۔ اگر استطاعت نہ ہو تو پھر تین روزے رکھے ۔ یہ اس صورت میں ہوں گے کہ دوسرے بیان کردہ کفارات میں سے کسی کی ادائیگی ممکن نہ ہو ۔ اس طرح یہ تین روزے مسلسل ہوں گے یا مسلسل نہ ہوں گے ‘ اس بارے میں بھی فقہی اختلافات ہوئے ہیں اس لئے کہ یہاں متتابعات کی تصریح نہیں ہے ۔ فی ظلال القرآن میں ہمارے طریقہ کار میں فقہی تفصیلات میں جانا ممکن نہیں ہے ۔ اگر کسی کو شوق ہو تو کتب فقہ میں تلاش کرے ۔ تمام فقہی اختلافات اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کفارہ اس لئے عائد کیا گیا ہے کہ حالف نے پختہ عقد کو توڑا ہے ۔ دوسرے یہ کہ قسموں کا ہلکا نہ سمجھا جائے اس لئے کہ قسمیں بھی دراصل ایک عہد ہوتی ہیں اور اللہ کا حکم یہ ہے کہ عقد اور عہد کو پورا کیا جائے ۔ اور اگر صورت یہ ہو کہ کوئی قسم اٹھا لے اور جس بات سے اس نے قسم اٹھائی ہے وہ اچھا کام ہے تو اس پر فرض ہے کہ قسم توڑے اور اچھے کام کو جاری رکھے ۔ اور اگر اس نے ایسی قسم اٹھالی ہے جس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے مثلا حلال کرنا یا حرام کرنا تو اس پر فرض ہے کہ وہ قسم توڑ دے اور کفارہ ادا کرے ۔ اب ہم اس اصل موضوع کی طرف آتے ہیں جس کی وجہ سے یہ آیات نازل ہوئی ہیں ۔ ان آیات کے اسباب نزول کے زاوے سے دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے تو وہ طیب ہیں اور جن چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو جان لو کہ وہ خبیث اور ناپاک ہیں ۔ انسان کو یہ حق نہین ہے کہ وہ اپنے لئے وہ کچھ اختیار کرے جو اللہ نے اس کے لئے اختیار نہیں کیا ہے اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ ہے کہ حرام و حلال کے قیود مقرر کرنا اللہ کے خصوصی حقوق میں سے ہے ‘ جو رازق ہے ۔ جب رازق وہ ہے تو اس رزق میں تحریم وتحلیل بھی اسی کا کام ہے ۔ اگر کوئی اللہ کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتا تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے ۔ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا اور نہ اس طرح ایمان درست ہوسکتا ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ نے طیبات کو حلال قرار دیا ہے لہذا کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے اوپر پاکیزہ چیزوں کو حرام کرلے اس لئے کہ وہ چیزیں اس شخص کے لئے بھی مفید ہیں اور اس کرہ ارض پر زندگی کے تسلسل کے لئے بھی مفید ہیں ۔ انسان کی سوچ وبصیرت وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں تک علیم وخبیر کی بصیرت کی رسائی ہے جس نے ان طیبات کو حلال قرار دیا ہے ۔ اگر ان طیبات میں کوئی خرابی ہوتی تو اللہ اس سے اپنے بندوں کو ضرور بچاتا ۔ اگر ان کے حرام کردینے میں کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو حلال ہی نہ کرتا ۔ یہ دین تو آیا ہی اس لئے ہے کہ خیر ‘ بھلائی اور بہتری کو روبکار لائے اور انسانیت کی تمام قوتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور توازن قائم کرے ۔ اسلام انسانی فطرت کی ضروریات میں سے کسی ضرورت سے غافل نہیں ہے اور نہ اس نے انسان کی تعمیری قوتوں میں سے کسی قوت کو مہمل چھوڑا ہے ۔ اسلام نے وسط کو اختیار کیا ہے اور جادہ مستقیم پر رواں دواں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کے ساتھ جنگ کی ‘ اس لئے کہ رہبانیت کا مقصد فطرت کشی تھا ۔ اس سے زندگی کی نشوونمارک رہی تھی حالانکہ اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ کرہ ارض پر زندگی کو نشوونما حاصل ہو ‘ اور طیبات کو حرام کرنے سے اسلام نے اس لئے منع کیا کہ طیبات موجب ترقی حیات ہیں جن سے اس دنیا میں زندگی کی تجدید ہوتی چلی جاتی ہے ۔ اللہ نے اس زندگی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ تسلسل سے رہے اور اللہ کے نظام حیات کے مطابق اس کی تجدید ہوتی رہے ۔ رہبانیت جو طیبات کو حرام قرار دیتی ہے وہ اسلامی نظام حیات کی اسکیم کے ساتھ متصادم ہے ۔ رہبانیت انسانیت کو ایک متعین مقام پر روک دیتی ہے اور یہ رکاوٹ وہ بلندی اور علو مرتبت کے نام سے پیدا کرتی ہے حالانکہ بلندی اور علو شان نظام حیات کے اندر داخل ہیں جو ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر دواعی فطرت پوری طرح موجود ہیں اور یہ علم الہی کے مطابق رکھے گئے ہیں۔ کسی آیت کے نزول کے مخصوص واقعات اس آیت کو ان حالات کے اندر محدود نہیں کردیتے ۔ آیت بہرحال عام رہتی ہے اور آیت کی یہ عمومیت بتاتی ہے کہ قانون سازی کے اندر بھی حلال و حرام کے حدود وقیود مقرر کرنا اللہ ہی کا کام ہے اور یہ بات صرف کھانے اور پینے تک محدود نہیں ہے یا نکاح تک محدود نہیں ہے ۔ زندگی کے تمام امور میں یہ حق اللہ کو حاصل ہے ‘ شریعت کو حاصل ہے ۔ ہم اس مفہوم پر بار بار زور اس لئے دے رہے ہیں کہ ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے کہ لوگوں نے اسلام کو زندگی کے عملی دھارے سے نکال دیا ہے ‘ حالانکہ اسلام کی شان یہ ہے کہ وہ پوری زندگی پر حکمران ہو ۔ حلال و حرام کے الفاظ اور ان کے پر تو کو محدود کردیا گیا ہے اور اب اس کے وہ معنی نہیں لئے جاتے جو قرآن کو مطلوب تھے ۔ لوگوں کے ذہنوں میں اب حلال و حرام کا مفہوم صرف ذبیحوں کا مفہوم صرف ذبیحوں ‘ کھانے ‘ پینے کی چیزوں ‘ لباسوں اور نکاح کے اندر محدود ہوگیا ہے ۔ لوگ عموما حلال و حرام کے متعلق صرف انہی باتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کیا حلال ہے ‘ اور کیا حرام ہے ؟ رہے وہ عمومی اور بڑے بڑے معاملات تو انکے بارے فتوی وہ جدید دساتیر اور جدید قوانین سے پوچھتے ہیں جو انہوں نے شریعت کی جگہ جاری کردیئے ہیں ۔ غرض تمام اجتماعی معاملات میں ‘ تمام سیاسی نظاموں کے بارے میں ‘ تمام بین الاقوامی معاملات میں اور اللہ کے حق حاکمیت اور الوہیت کے بارے میں اب لوگ اسلام سے فتوی طلب نہیں کرتے ۔ یاد رہے کہ اسلام ایک مکمل منہاج حیات ہے جو شخص پورے پورے اسلام کا اتباع کرے گا وہی اللہ کے دین میں ہوگا اور جو شخص کسی ایک بھی معاملے میں شریعت کو چھوڑ کو کسی دوسرے قانون کی اطاعت کرے گا تو وہ دین سے خارج ہوجائے گا ۔ چاہے وہ ہزار بار اسلامی عقیدے کا اظہار کرے اور یہ اعلان کرے کہ وہ مسلمان ہے ‘ اس لئے کہ اس کے اعلان اسلام کو اس کا یہ عمل جھٹلا دیتا ہے ۔ جب وہ اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کسی اور قانون کا اتباع کرتا ہے اور اس طرح وہ دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے وہ اصول اعظم جس کا تعین یہ آیات کرتی ہیں ‘ اسے ایمان کا مسئلہ قرار دیتی ہیں ‘ اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے تو اسے اللہ کے حقوق پر دست درازی قرار دیتی ہیں ‘ اور یہی ہے ان آیات کا مفہوم و مدعا ۔ یہی مفہوم اس دین کی سنجیدگی اور قرآن کریم کی سنجیدگی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اسی کے مطابق الوہیت کا مفہوم اور معنی حقیقی روپ اختیار کرتا ہے ۔ اسی سلسلہ قانون سازی میں جوے اور شراب کے بارے میں آخری اور قطعی حکم آجاتا ہے تاکہ جماعت مسلمہ کی تربیت اور اسے جاہلیت کی تمام آلودگیوں سے پاک کردیا جائے ‘ اسے جاہلیت کی گندی اجتماعی عادات سے پاک کردیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ہی آستانوں اور پانسوں کو بھی حرام قرار دے دیا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ یہ بھی شرکیہ افعال ہیں ۔

المائدة 5:88

درس نمبر 53 تشریح آیات : 87۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 108۔ (آیت) ” نمبر 87 تا 89۔ ” اے ایمان لانے والو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم انسان اور اللہ کے غلام ہوتے ہوئے ‘ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ‘ اس لئے تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کاموں اور اشیاء کو حرام قرار دو ‘ خصوصا پاکیزہ چیزوں کو۔ اس لئے تم پاک چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس طرح نہ رکو کہ تم ان کو اپنے لئے حرام قرار دے لو ۔ اس لئے کہ اللہ نے یہ پاک چیزیں تمہارے لئے ہی تو پیدا کی ہیں اور پھر یہ کہ حلال و حرام کے حدود کا تعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (87) وَکُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ حَلاَلاً طَیِّباً وَاتَّقُواْ اللّہَ الَّذِیَ أَنتُم بِہِ مُؤْمِنُونَ (88) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں ۔ جو کچھ حلال وطیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اسے کھاؤ پیو اور اس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو ۔ A ” حقیقت یہ ہے کہ قانون سازی کے مسئلے کا تعلق خاص مسئلہ حاکمیت اور الوہیت کے ساتھ ہے ۔ قانون سازی کا حق اللہ کی حاکمیت کے ساتھ مخصوص اس لئے ہے کہ اللہ ہی انسانوں کا مالک اور خالق ہے اور وہی ہے جو انسانوں کو رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لئے یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لئے ‘ اپنے پیدا کردہ رزق میں سے بعض چیزوں کو حلال کر دے اور بعض کو حرام کر دے ۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کو انسانوں کی عقل بڑی آسانی سے مان لیتی ہے ۔ انسانوں کے نزدیک بھی کسی چیز کا مالک ہی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی ممو کہ چیز میں جس طرح چاہے تصرف کرے اور جو شخص بھی کسی کے حق ملکیت پر دست درازی کرتا ہے تو اسے ظلم و زیادتی کا مرتکب تصور کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ ایمان لا چکے ‘ ظاہر ہے کہ ان سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حقوق پر دست درازی کریں گے اس لئے کہ اللہ پر ایمان اور پھر اللہ سے بغاوت دونوں ایک دل میں کس طرح جمع ہو سکتے ہیں ۔ یہ ہے وہ مسئلہ جسے یہ دو آیات ایسے واضح اسلوب میں پیش کرتی ہیں کوئی معقول شخص اس بارے میں کوئی مباحثہ اور مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے کہ اللہ دست درازی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ مسئلہ ایک عام قاعدے اور اصول کو طے کرتا ہے کہ تمام لوگ اللہ کے بندے اور غلام ہیں اور اس مسئلے کے مطابق اپنا طرز عمل ڈھالنا تقاضائے ایمان ہے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ دو آیات اور ان سے آگلی آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئیں ۔ یہ واقعہ حضور ﷺ کے دور میں پیش آیا لیکن آیت عام ہے اور اسباب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اسباب نزول کے ذریعے فہم قرآن میں اچھی مدد ملتی ہے ۔ ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ ایک دن حضور ﷺ تشریف فرما تھے ۔ آپ نے لوگوں کو یاد دہانی کی ۔ آپ اٹھ کر چلے گئے اور آپ نے اس دن انہیں بہت نہ ڈرایا ۔ آپ کے جو ساتھی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کچھ باتیں اور اعمال اپنی طرف سے کیوں نہ شروع کردیں ‘ نصاری نے تو ایسا کیا کہ بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ‘ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے اوپر بعض چیزیں حرام کرلیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ گوشت اور سرین نہ کھائے گا ۔ بعض نے کہا کہ وہ دن کو نہ کھائے گا ۔ بعض نے اپنے اوپر عورتیں حرام کرلیں ‘ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ بھی عجیب ہیں کوئی اپنے اوپر عورتوں کو حرام کرتا ہے کوئی کھانا حرام کرتا ہے کوئی نیند حرام کرتا ہے ۔ خبردار میں تو سوتا بھی ہوں کھڑا بھی ہوتا ہوں ‘ روزے بھی رکھتا ہوں ‘ کھاتا بھی ہوں ‘ عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرتا ہوں ‘ پس جو شخص میری اس سنت سے منہ موڑے گا وہ مجھ سے نہ ہوگا “۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ ) صحیحین میں حضرت انس ؓ سے ایک روایت منقول ہے وہ بھی ابن جریر کی روایت کی موید ہے ۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ تین افراد ازواج مطہرات کے گھر آئے ‘ انہوں نے حضرت نبی ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھا ۔ جب ان کو حضور ﷺ کی عبادات کے بارے میں معلومات دی گئیں تو گویا انہوں نے ان عبادات کو کم سمجھا ۔ انہوں نے کہا ہم حضور ﷺ کے رتبے تک کب پہنچ سکتے ہیں ؟ اللہ نے حضور ﷺ کے سابقہ اور آیندہ تمام گناہوں کو معاف کردیا ہے ۔ ایک نے کہا میں تو تمام رات نماز پڑھوں گا ‘ دوسرے نے کہا کہ میں تو ہمیشہ کے لئے روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہ کروں گا ۔ تیسرے نے کہا میں تو کبھی بھی عورتوں کے پاس نہ جاؤں گا اور نہ نکاح کروں گا ۔ حضور ﷺ کو جب علم ہوا تو آپ ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ تم لوگ ہو جنہوں نے یہ یہ باتیں کیں ۔ خدا کی قسم میں تم سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ‘ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور ان میں عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرتا ہوں ۔ لہذا جو میری سنت سے ہٹا وہ مجھ سے نہ ہوگا ۔ “ ترمذی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص حضور کے پاس آیا اور کہا حضور میں جب گوشت کھاتا ہوں تو مجھ پر شہوت غالب آجاتی ہے اور میں عورتوں کے لئے اٹھتا ہوں اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ ) اب رہی وہ آیت جس میں قسموں کا ذکر ہے اور جو ان دو آیات کے بعد آتی ہے تو وہ بھی ایسے ہی حالات میں ہدایت دیتی ہیں ۔ (آیت) ” لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّہُ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْْمَانِکُمْ وَلَـکِن یُؤَاخِذُکُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَیْْمَانَ فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیْکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ ذَلِکَ کَفَّارَۃُ أَیْْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَیْْمَانَکُمْ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (89) تم لوگ جو مہمل قسمیں کھالیتے ہو ‘ ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا ‘ مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو اس پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا ۔ (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو ‘ یا انہیں کپڑے پہناؤ یا ایک غلام آزاد کرو ‘ اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو ‘ وہ تین دن کے روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھا کر توڑ دو ۔ اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو ، اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لئے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو ۔ “ یہ آیت ایسے حالات کے لئے ہے کہ کوئی مباح چیزوں کے استعمال کرنے کے خلاف حلف اٹھالے مثلا جن تین افراد نے قسم اٹھالی تھی کہ وہ یہ یہ کام نہیں کریں گے ‘ اور انہیں رسول اللہ ﷺ نے قسم کو جاری رکھنے سے منع کردیا تھا ۔ اور قرآن نے ان کو اس بات سے روک دیا تھا کہ وہ اپنے لئے حلال و حرام خود مقرر نہیں کرسکتے ۔ یہ ان کا کام نہیں ہے ۔ یہ تو اس اللہ کا کام ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں ۔ اس طرح یہ ان تمام صورتوں کے لئے ہدایت ہے جن میں کوئی کسی اچھے کام سے بذریعہ حلف اپنے آپ کو روک لیتا ہے ۔ اس لئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نیک کام کے نہ کرنے کی قسم اٹھاتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ نیک کام جاری رکھے اور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرے جس کی تفصیلات اس آیت میں دی گئی ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہوا کہ جن لوگوں نے اپنے اوپر بعض کھانے ‘ بعض لباس اور عورتوں کے ساتھ نکاح حرام کرلیا تھا ‘ انہوں نے اس پر حلف بھی اٹھایا تھا ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ” اللہ کی پاک چیزیں اپنے اوپر حرام نہ کرو “ تو انہوں نے پوچھا کہ ہماری قسموں کا کیا بنے گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر لغو قسموں کے بارے میں کوئی مواخذہ نہیں کرتا ۔ یعنی محض زبان پر لفظ قسم جاری ہوجائے لیکن دل سے پختہ ارادہ قسم نہ ہو ‘ البتہ اللہ تعالیٰ جانب سے حکم یہ ہے کہ خواہ مخواہ ہر بات پر اللہ کی قسم نہ اٹھائی جائے ‘ اس لئے کہ اللہ کی قسم کا کچھ تو احترام ہونا چاہئے ۔ اللہ کی قسم کا وقار ہونا چاہئے اس لئے لغو قسم بھی بار بار اٹھانا ناپسندیدہ ہے ۔ رہی وہ سچی قسم جو قصدا ہوتی ہے اور اس کے پیچھے پختہ ارادہ ہوتا ہے ٗ کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا تو وہ لغو کی طرف معاف نہیں ہے ۔ اس پر کفارہ واجب ہے اور یہ آیت اسی کو بیان کرتی ہے ۔ ” سچی قسموں کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ یا انہیں کپڑے پہناؤ یا ایک غلام آزاد کرو اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے ۔ اگر تم قسم کھا کر توڑ دو ۔ “ دس مسکینوں کے لئے اوسط درجے کا کھانا ایسا ہوگا کہ قسم اٹھانے والا جس کھانا اپنے اہل و عیال کو دیتا ہے ۔ اوسط کا مفہوم احسن بھی ہو سکتا ہے اور متوسط بھی ہو سکتا ہے کیونکہ لفظ اوسط احسن اور متوسط دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ اوسط سے دونوں مفہوم مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ اسلام کے پیمانے میں اوسط ہی احسن ہوتا ہے ۔ (آیت) ” (اوکسوتھم) سے مراد یہی ہے کہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کی پوشاک پہنائی جائے یا ایک غلام آزاد کیا جائے اور یہاں اس بات کی تصریح نہیں کی گئی کہ غلام کو مومن ہونا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہوا ہے ۔ ہم تو فی ظلال القرآن میں فقہی اختلافات کا ذکر نہیں کرتے ۔ اگر استطاعت نہ ہو تو پھر تین روزے رکھے ۔ یہ اس صورت میں ہوں گے کہ دوسرے بیان کردہ کفارات میں سے کسی کی ادائیگی ممکن نہ ہو ۔ اس طرح یہ تین روزے مسلسل ہوں گے یا مسلسل نہ ہوں گے ‘ اس بارے میں بھی فقہی اختلافات ہوئے ہیں اس لئے کہ یہاں متتابعات کی تصریح نہیں ہے ۔ فی ظلال القرآن میں ہمارے طریقہ کار میں فقہی تفصیلات میں جانا ممکن نہیں ہے ۔ اگر کسی کو شوق ہو تو کتب فقہ میں تلاش کرے ۔ تمام فقہی اختلافات اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کفارہ اس لئے عائد کیا گیا ہے کہ حالف نے پختہ عقد کو توڑا ہے ۔ دوسرے یہ کہ قسموں کا ہلکا نہ سمجھا جائے اس لئے کہ قسمیں بھی دراصل ایک عہد ہوتی ہیں اور اللہ کا حکم یہ ہے کہ عقد اور عہد کو پورا کیا جائے ۔ اور اگر صورت یہ ہو کہ کوئی قسم اٹھا لے اور جس بات سے اس نے قسم اٹھائی ہے وہ اچھا کام ہے تو اس پر فرض ہے کہ قسم توڑے اور اچھے کام کو جاری رکھے ۔ اور اگر اس نے ایسی قسم اٹھالی ہے جس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے مثلا حلال کرنا یا حرام کرنا تو اس پر فرض ہے کہ وہ قسم توڑ دے اور کفارہ ادا کرے ۔ اب ہم اس اصل موضوع کی طرف آتے ہیں جس کی وجہ سے یہ آیات نازل ہوئی ہیں ۔ ان آیات کے اسباب نزول کے زاوے سے دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے تو وہ طیب ہیں اور جن چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو جان لو کہ وہ خبیث اور ناپاک ہیں ۔ انسان کو یہ حق نہین ہے کہ وہ اپنے لئے وہ کچھ اختیار کرے جو اللہ نے اس کے لئے اختیار نہیں کیا ہے اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ ہے کہ حرام و حلال کے قیود مقرر کرنا اللہ کے خصوصی حقوق میں سے ہے ‘ جو رازق ہے ۔ جب رازق وہ ہے تو اس رزق میں تحریم وتحلیل بھی اسی کا کام ہے ۔ اگر کوئی اللہ کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتا تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے ۔ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا اور نہ اس طرح ایمان درست ہوسکتا ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ نے طیبات کو حلال قرار دیا ہے لہذا کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے اوپر پاکیزہ چیزوں کو حرام کرلے اس لئے کہ وہ چیزیں اس شخص کے لئے بھی مفید ہیں اور اس کرہ ارض پر زندگی کے تسلسل کے لئے بھی مفید ہیں ۔ انسان کی سوچ وبصیرت وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں تک علیم وخبیر کی بصیرت کی رسائی ہے جس نے ان طیبات کو حلال قرار دیا ہے ۔ اگر ان طیبات میں کوئی خرابی ہوتی تو اللہ اس سے اپنے بندوں کو ضرور بچاتا ۔ اگر ان کے حرام کردینے میں کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو حلال ہی نہ کرتا ۔ یہ دین تو آیا ہی اس لئے ہے کہ خیر ‘ بھلائی اور بہتری کو روبکار لائے اور انسانیت کی تمام قوتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور توازن قائم کرے ۔ اسلام انسانی فطرت کی ضروریات میں سے کسی ضرورت سے غافل نہیں ہے اور نہ اس نے انسان کی تعمیری قوتوں میں سے کسی قوت کو مہمل چھوڑا ہے ۔ اسلام نے وسط کو اختیار کیا ہے اور جادہ مستقیم پر رواں دواں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کے ساتھ جنگ کی ‘ اس لئے کہ رہبانیت کا مقصد فطرت کشی تھا ۔ اس سے زندگی کی نشوونمارک رہی تھی حالانکہ اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ کرہ ارض پر زندگی کو نشوونما حاصل ہو ‘ اور طیبات کو حرام کرنے سے اسلام نے اس لئے منع کیا کہ طیبات موجب ترقی حیات ہیں جن سے اس دنیا میں زندگی کی تجدید ہوتی چلی جاتی ہے ۔ اللہ نے اس زندگی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ تسلسل سے رہے اور اللہ کے نظام حیات کے مطابق اس کی تجدید ہوتی رہے ۔ رہبانیت جو طیبات کو حرام قرار دیتی ہے وہ اسلامی نظام حیات کی اسکیم کے ساتھ متصادم ہے ۔ رہبانیت انسانیت کو ایک متعین مقام پر روک دیتی ہے اور یہ رکاوٹ وہ بلندی اور علو مرتبت کے نام سے پیدا کرتی ہے حالانکہ بلندی اور علو شان نظام حیات کے اندر داخل ہیں جو ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر دواعی فطرت پوری طرح موجود ہیں اور یہ علم الہی کے مطابق رکھے گئے ہیں۔ کسی آیت کے نزول کے مخصوص واقعات اس آیت کو ان حالات کے اندر محدود نہیں کردیتے ۔ آیت بہرحال عام رہتی ہے اور آیت کی یہ عمومیت بتاتی ہے کہ قانون سازی کے اندر بھی حلال و حرام کے حدود وقیود مقرر کرنا اللہ ہی کا کام ہے اور یہ بات صرف کھانے اور پینے تک محدود نہیں ہے یا نکاح تک محدود نہیں ہے ۔ زندگی کے تمام امور میں یہ حق اللہ کو حاصل ہے ‘ شریعت کو حاصل ہے ۔ ہم اس مفہوم پر بار بار زور اس لئے دے رہے ہیں کہ ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے کہ لوگوں نے اسلام کو زندگی کے عملی دھارے سے نکال دیا ہے ‘ حالانکہ اسلام کی شان یہ ہے کہ وہ پوری زندگی پر حکمران ہو ۔ حلال و حرام کے الفاظ اور ان کے پر تو کو محدود کردیا گیا ہے اور اب اس کے وہ معنی نہیں لئے جاتے جو قرآن کو مطلوب تھے ۔ لوگوں کے ذہنوں میں اب حلال و حرام کا مفہوم صرف ذبیحوں کا مفہوم صرف ذبیحوں ‘ کھانے ‘ پینے کی چیزوں ‘ لباسوں اور نکاح کے اندر محدود ہوگیا ہے ۔ لوگ عموما حلال و حرام کے متعلق صرف انہی باتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کیا حلال ہے ‘ اور کیا حرام ہے ؟ رہے وہ عمومی اور بڑے بڑے معاملات تو انکے بارے فتوی وہ جدید دساتیر اور جدید قوانین سے پوچھتے ہیں جو انہوں نے شریعت کی جگہ جاری کردیئے ہیں ۔ غرض تمام اجتماعی معاملات میں ‘ تمام سیاسی نظاموں کے بارے میں ‘ تمام بین الاقوامی معاملات میں اور اللہ کے حق حاکمیت اور الوہیت کے بارے میں اب لوگ اسلام سے فتوی طلب نہیں کرتے ۔ یاد رہے کہ اسلام ایک مکمل منہاج حیات ہے جو شخص پورے پورے اسلام کا اتباع کرے گا وہی اللہ کے دین میں ہوگا اور جو شخص کسی ایک بھی معاملے میں شریعت کو چھوڑ کو کسی دوسرے قانون کی اطاعت کرے گا تو وہ دین سے خارج ہوجائے گا ۔ چاہے وہ ہزار بار اسلامی عقیدے کا اظہار کرے اور یہ اعلان کرے کہ وہ مسلمان ہے ‘ اس لئے کہ اس کے اعلان اسلام کو اس کا یہ عمل جھٹلا دیتا ہے ۔ جب وہ اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کسی اور قانون کا اتباع کرتا ہے اور اس طرح وہ دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے وہ اصول اعظم جس کا تعین یہ آیات کرتی ہیں ‘ اسے ایمان کا مسئلہ قرار دیتی ہیں ‘ اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے تو اسے اللہ کے حقوق پر دست درازی قرار دیتی ہیں ‘ اور یہی ہے ان آیات کا مفہوم و مدعا ۔ یہی مفہوم اس دین کی سنجیدگی اور قرآن کریم کی سنجیدگی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اسی کے مطابق الوہیت کا مفہوم اور معنی حقیقی روپ اختیار کرتا ہے ۔ اسی سلسلہ قانون سازی میں جوے اور شراب کے بارے میں آخری اور قطعی حکم آجاتا ہے تاکہ جماعت مسلمہ کی تربیت اور اسے جاہلیت کی تمام آلودگیوں سے پاک کردیا جائے ‘ اسے جاہلیت کی گندی اجتماعی عادات سے پاک کردیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ہی آستانوں اور پانسوں کو بھی حرام قرار دے دیا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ یہ بھی شرکیہ افعال ہیں ۔

المائدة 5:89

درس نمبر 53 تشریح آیات : 87۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 108۔ (آیت) ” نمبر 87 تا 89۔ ” اے ایمان لانے والو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم انسان اور اللہ کے غلام ہوتے ہوئے ‘ اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کے حقوق پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہ کرو ‘ اس لئے تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ کاموں اور اشیاء کو حرام قرار دو ‘ خصوصا پاکیزہ چیزوں کو۔ اس لئے تم پاک چیزوں کے کھانے اور پینے سے اس طرح نہ رکو کہ تم ان کو اپنے لئے حرام قرار دے لو ۔ اس لئے کہ اللہ نے یہ پاک چیزیں تمہارے لئے ہی تو پیدا کی ہیں اور پھر یہ کہ حلال و حرام کے حدود کا تعین کرنے والا تو اللہ ہی ہے ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (87) وَکُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ حَلاَلاً طَیِّباً وَاتَّقُواْ اللّہَ الَّذِیَ أَنتُم بِہِ مُؤْمِنُونَ (88) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں ۔ جو کچھ حلال وطیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اسے کھاؤ پیو اور اس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو ۔ A ” حقیقت یہ ہے کہ قانون سازی کے مسئلے کا تعلق خاص مسئلہ حاکمیت اور الوہیت کے ساتھ ہے ۔ قانون سازی کا حق اللہ کی حاکمیت کے ساتھ مخصوص اس لئے ہے کہ اللہ ہی انسانوں کا مالک اور خالق ہے اور وہی ہے جو انسانوں کو رزق فراہم کرتا ہے ۔ اس لئے یہ حق صرف اللہ کا ہے کہ وہ اپنی مخلوق کے لئے ‘ اپنے پیدا کردہ رزق میں سے بعض چیزوں کو حلال کر دے اور بعض کو حرام کر دے ۔ یہ ایک ایسی دلیل ہے جس کو انسانوں کی عقل بڑی آسانی سے مان لیتی ہے ۔ انسانوں کے نزدیک بھی کسی چیز کا مالک ہی یہ حق رکھتا ہے کہ وہ اپنی ممو کہ چیز میں جس طرح چاہے تصرف کرے اور جو شخص بھی کسی کے حق ملکیت پر دست درازی کرتا ہے تو اسے ظلم و زیادتی کا مرتکب تصور کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ ایمان لا چکے ‘ ظاہر ہے کہ ان سے یہ توقع نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حقوق پر دست درازی کریں گے اس لئے کہ اللہ پر ایمان اور پھر اللہ سے بغاوت دونوں ایک دل میں کس طرح جمع ہو سکتے ہیں ۔ یہ ہے وہ مسئلہ جسے یہ دو آیات ایسے واضح اسلوب میں پیش کرتی ہیں کوئی معقول شخص اس بارے میں کوئی مباحثہ اور مجادلہ نہیں کرسکتا اس لئے کہ اللہ دست درازی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ یہ مسئلہ ایک عام قاعدے اور اصول کو طے کرتا ہے کہ تمام لوگ اللہ کے بندے اور غلام ہیں اور اس مسئلے کے مطابق اپنا طرز عمل ڈھالنا تقاضائے ایمان ہے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ دو آیات اور ان سے آگلی آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئیں ۔ یہ واقعہ حضور ﷺ کے دور میں پیش آیا لیکن آیت عام ہے اور اسباب نزول کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اسباب نزول کے ذریعے فہم قرآن میں اچھی مدد ملتی ہے ۔ ابن جریر نے نقل کیا ہے کہ ایک دن حضور ﷺ تشریف فرما تھے ۔ آپ نے لوگوں کو یاد دہانی کی ۔ آپ اٹھ کر چلے گئے اور آپ نے اس دن انہیں بہت نہ ڈرایا ۔ آپ کے جو ساتھی بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ ہم لوگ کچھ باتیں اور اعمال اپنی طرف سے کیوں نہ شروع کردیں ‘ نصاری نے تو ایسا کیا کہ بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ‘ ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے اوپر بعض چیزیں حرام کرلیں ۔ بعض نے کہا کہ وہ گوشت اور سرین نہ کھائے گا ۔ بعض نے کہا کہ وہ دن کو نہ کھائے گا ۔ بعض نے اپنے اوپر عورتیں حرام کرلیں ‘ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی ۔ آپ نے فرمایا کہ لوگ بھی عجیب ہیں کوئی اپنے اوپر عورتوں کو حرام کرتا ہے کوئی کھانا حرام کرتا ہے کوئی نیند حرام کرتا ہے ۔ خبردار میں تو سوتا بھی ہوں کھڑا بھی ہوتا ہوں ‘ روزے بھی رکھتا ہوں ‘ کھاتا بھی ہوں ‘ عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرتا ہوں ‘ پس جو شخص میری اس سنت سے منہ موڑے گا وہ مجھ سے نہ ہوگا “۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُواْ ) صحیحین میں حضرت انس ؓ سے ایک روایت منقول ہے وہ بھی ابن جریر کی روایت کی موید ہے ۔ انس ؓ فرماتے ہیں کہ تین افراد ازواج مطہرات کے گھر آئے ‘ انہوں نے حضرت نبی ﷺ کی عبادت کے بارے میں پوچھا ۔ جب ان کو حضور ﷺ کی عبادات کے بارے میں معلومات دی گئیں تو گویا انہوں نے ان عبادات کو کم سمجھا ۔ انہوں نے کہا ہم حضور ﷺ کے رتبے تک کب پہنچ سکتے ہیں ؟ اللہ نے حضور ﷺ کے سابقہ اور آیندہ تمام گناہوں کو معاف کردیا ہے ۔ ایک نے کہا میں تو تمام رات نماز پڑھوں گا ‘ دوسرے نے کہا کہ میں تو ہمیشہ کے لئے روزے رکھوں گا اور کبھی افطار نہ کروں گا ۔ تیسرے نے کہا میں تو کبھی بھی عورتوں کے پاس نہ جاؤں گا اور نہ نکاح کروں گا ۔ حضور ﷺ کو جب علم ہوا تو آپ ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ تم لوگ ہو جنہوں نے یہ یہ باتیں کیں ۔ خدا کی قسم میں تم سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا ہوں اور تم سب سے زیادہ متقی ہوں لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں ‘ نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور ان میں عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرتا ہوں ۔ لہذا جو میری سنت سے ہٹا وہ مجھ سے نہ ہوگا ۔ “ ترمذی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص حضور کے پاس آیا اور کہا حضور میں جب گوشت کھاتا ہوں تو مجھ پر شہوت غالب آجاتی ہے اور میں عورتوں کے لئے اٹھتا ہوں اس لئے میں نے اپنے اوپر گوشت حرام کرلیا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحَرِّمُواْ طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّہُ لَکُمْ ) اب رہی وہ آیت جس میں قسموں کا ذکر ہے اور جو ان دو آیات کے بعد آتی ہے تو وہ بھی ایسے ہی حالات میں ہدایت دیتی ہیں ۔ (آیت) ” لاَ یُؤَاخِذُکُمُ اللّہُ بِاللَّغْوِ فِیْ أَیْْمَانِکُمْ وَلَـکِن یُؤَاخِذُکُم بِمَا عَقَّدتُّمُ الأَیْْمَانَ فَکَفَّارَتُہُ إِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسَاکِیْنَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَہْلِیْکُمْ أَوْ کِسْوَتُہُمْ أَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ فَمَن لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ ذَلِکَ کَفَّارَۃُ أَیْْمَانِکُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُواْ أَیْْمَانَکُمْ کَذَلِکَ یُبَیِّنُ اللّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُونَ (89) تم لوگ جو مہمل قسمیں کھالیتے ہو ‘ ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا ‘ مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہو اس پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا ۔ (ایسی قسم توڑنے کا) کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو ‘ یا انہیں کپڑے پہناؤ یا ایک غلام آزاد کرو ‘ اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو ‘ وہ تین دن کے روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب کہ تم قسم کھا کر توڑ دو ۔ اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو ، اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لئے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو ۔ “ یہ آیت ایسے حالات کے لئے ہے کہ کوئی مباح چیزوں کے استعمال کرنے کے خلاف حلف اٹھالے مثلا جن تین افراد نے قسم اٹھالی تھی کہ وہ یہ یہ کام نہیں کریں گے ‘ اور انہیں رسول اللہ ﷺ نے قسم کو جاری رکھنے سے منع کردیا تھا ۔ اور قرآن نے ان کو اس بات سے روک دیا تھا کہ وہ اپنے لئے حلال و حرام خود مقرر نہیں کرسکتے ۔ یہ ان کا کام نہیں ہے ۔ یہ تو اس اللہ کا کام ہے جس پر وہ ایمان لائے ہیں ۔ اس طرح یہ ان تمام صورتوں کے لئے ہدایت ہے جن میں کوئی کسی اچھے کام سے بذریعہ حلف اپنے آپ کو روک لیتا ہے ۔ اس لئے کہ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نیک کام کے نہ کرنے کی قسم اٹھاتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ نیک کام جاری رکھے اور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرے جس کی تفصیلات اس آیت میں دی گئی ہیں ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کا سبب یہ ہوا کہ جن لوگوں نے اپنے اوپر بعض کھانے ‘ بعض لباس اور عورتوں کے ساتھ نکاح حرام کرلیا تھا ‘ انہوں نے اس پر حلف بھی اٹھایا تھا ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی ” اللہ کی پاک چیزیں اپنے اوپر حرام نہ کرو “ تو انہوں نے پوچھا کہ ہماری قسموں کا کیا بنے گا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ حکم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر لغو قسموں کے بارے میں کوئی مواخذہ نہیں کرتا ۔ یعنی محض زبان پر لفظ قسم جاری ہوجائے لیکن دل سے پختہ ارادہ قسم نہ ہو ‘ البتہ اللہ تعالیٰ جانب سے حکم یہ ہے کہ خواہ مخواہ ہر بات پر اللہ کی قسم نہ اٹھائی جائے ‘ اس لئے کہ اللہ کی قسم کا کچھ تو احترام ہونا چاہئے ۔ اللہ کی قسم کا وقار ہونا چاہئے اس لئے لغو قسم بھی بار بار اٹھانا ناپسندیدہ ہے ۔ رہی وہ سچی قسم جو قصدا ہوتی ہے اور اس کے پیچھے پختہ ارادہ ہوتا ہے ٗ کوئی کام کرنے یا نہ کرنے کا تو وہ لغو کی طرف معاف نہیں ہے ۔ اس پر کفارہ واجب ہے اور یہ آیت اسی کو بیان کرتی ہے ۔ ” سچی قسموں کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلاؤ یا انہیں کپڑے پہناؤ یا ایک غلام آزاد کرو اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے ۔ اگر تم قسم کھا کر توڑ دو ۔ “ دس مسکینوں کے لئے اوسط درجے کا کھانا ایسا ہوگا کہ قسم اٹھانے والا جس کھانا اپنے اہل و عیال کو دیتا ہے ۔ اوسط کا مفہوم احسن بھی ہو سکتا ہے اور متوسط بھی ہو سکتا ہے کیونکہ لفظ اوسط احسن اور متوسط دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ اوسط سے دونوں مفہوم مراد ہو سکتے ہیں کیونکہ اسلام کے پیمانے میں اوسط ہی احسن ہوتا ہے ۔ (آیت) ” (اوکسوتھم) سے مراد یہی ہے کہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کی پوشاک پہنائی جائے یا ایک غلام آزاد کیا جائے اور یہاں اس بات کی تصریح نہیں کی گئی کہ غلام کو مومن ہونا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہوا ہے ۔ ہم تو فی ظلال القرآن میں فقہی اختلافات کا ذکر نہیں کرتے ۔ اگر استطاعت نہ ہو تو پھر تین روزے رکھے ۔ یہ اس صورت میں ہوں گے کہ دوسرے بیان کردہ کفارات میں سے کسی کی ادائیگی ممکن نہ ہو ۔ اس طرح یہ تین روزے مسلسل ہوں گے یا مسلسل نہ ہوں گے ‘ اس بارے میں بھی فقہی اختلافات ہوئے ہیں اس لئے کہ یہاں متتابعات کی تصریح نہیں ہے ۔ فی ظلال القرآن میں ہمارے طریقہ کار میں فقہی تفصیلات میں جانا ممکن نہیں ہے ۔ اگر کسی کو شوق ہو تو کتب فقہ میں تلاش کرے ۔ تمام فقہی اختلافات اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کفارہ اس لئے عائد کیا گیا ہے کہ حالف نے پختہ عقد کو توڑا ہے ۔ دوسرے یہ کہ قسموں کا ہلکا نہ سمجھا جائے اس لئے کہ قسمیں بھی دراصل ایک عہد ہوتی ہیں اور اللہ کا حکم یہ ہے کہ عقد اور عہد کو پورا کیا جائے ۔ اور اگر صورت یہ ہو کہ کوئی قسم اٹھا لے اور جس بات سے اس نے قسم اٹھائی ہے وہ اچھا کام ہے تو اس پر فرض ہے کہ قسم توڑے اور اچھے کام کو جاری رکھے ۔ اور اگر اس نے ایسی قسم اٹھالی ہے جس میں اس کا کوئی حق نہیں ہے مثلا حلال کرنا یا حرام کرنا تو اس پر فرض ہے کہ وہ قسم توڑ دے اور کفارہ ادا کرے ۔ اب ہم اس اصل موضوع کی طرف آتے ہیں جس کی وجہ سے یہ آیات نازل ہوئی ہیں ۔ ان آیات کے اسباب نزول کے زاوے سے دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتے ہیں کہ اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے تو وہ طیب ہیں اور جن چیزوں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو جان لو کہ وہ خبیث اور ناپاک ہیں ۔ انسان کو یہ حق نہین ہے کہ وہ اپنے لئے وہ کچھ اختیار کرے جو اللہ نے اس کے لئے اختیار نہیں کیا ہے اور اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ ہے کہ حرام و حلال کے قیود مقرر کرنا اللہ کے خصوصی حقوق میں سے ہے ‘ جو رازق ہے ۔ جب رازق وہ ہے تو اس رزق میں تحریم وتحلیل بھی اسی کا کام ہے ۔ اگر کوئی اللہ کے اس حق کو تسلیم نہیں کرتا تو گویا وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق پر دست درازی کرتا ہے ۔ اللہ اس بات کو پسند نہیں کرتا اور نہ اس طرح ایمان درست ہوسکتا ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ نے طیبات کو حلال قرار دیا ہے لہذا کسی کو یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ اپنے اوپر پاکیزہ چیزوں کو حرام کرلے اس لئے کہ وہ چیزیں اس شخص کے لئے بھی مفید ہیں اور اس کرہ ارض پر زندگی کے تسلسل کے لئے بھی مفید ہیں ۔ انسان کی سوچ وبصیرت وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں تک علیم وخبیر کی بصیرت کی رسائی ہے جس نے ان طیبات کو حلال قرار دیا ہے ۔ اگر ان طیبات میں کوئی خرابی ہوتی تو اللہ اس سے اپنے بندوں کو ضرور بچاتا ۔ اگر ان کے حرام کردینے میں کوئی بھلائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان کو حلال ہی نہ کرتا ۔ یہ دین تو آیا ہی اس لئے ہے کہ خیر ‘ بھلائی اور بہتری کو روبکار لائے اور انسانیت کی تمام قوتوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی اور توازن قائم کرے ۔ اسلام انسانی فطرت کی ضروریات میں سے کسی ضرورت سے غافل نہیں ہے اور نہ اس نے انسان کی تعمیری قوتوں میں سے کسی قوت کو مہمل چھوڑا ہے ۔ اسلام نے وسط کو اختیار کیا ہے اور جادہ مستقیم پر رواں دواں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے رہبانیت کے ساتھ جنگ کی ‘ اس لئے کہ رہبانیت کا مقصد فطرت کشی تھا ۔ اس سے زندگی کی نشوونمارک رہی تھی حالانکہ اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ کرہ ارض پر زندگی کو نشوونما حاصل ہو ‘ اور طیبات کو حرام کرنے سے اسلام نے اس لئے منع کیا کہ طیبات موجب ترقی حیات ہیں جن سے اس دنیا میں زندگی کی تجدید ہوتی چلی جاتی ہے ۔ اللہ نے اس زندگی کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ تسلسل سے رہے اور اللہ کے نظام حیات کے مطابق اس کی تجدید ہوتی رہے ۔ رہبانیت جو طیبات کو حرام قرار دیتی ہے وہ اسلامی نظام حیات کی اسکیم کے ساتھ متصادم ہے ۔ رہبانیت انسانیت کو ایک متعین مقام پر روک دیتی ہے اور یہ رکاوٹ وہ بلندی اور علو مرتبت کے نام سے پیدا کرتی ہے حالانکہ بلندی اور علو شان نظام حیات کے اندر داخل ہیں جو ایک ایسا نظام ہے جس کے اندر دواعی فطرت پوری طرح موجود ہیں اور یہ علم الہی کے مطابق رکھے گئے ہیں۔ کسی آیت کے نزول کے مخصوص واقعات اس آیت کو ان حالات کے اندر محدود نہیں کردیتے ۔ آیت بہرحال عام رہتی ہے اور آیت کی یہ عمومیت بتاتی ہے کہ قانون سازی کے اندر بھی حلال و حرام کے حدود وقیود مقرر کرنا اللہ ہی کا کام ہے اور یہ بات صرف کھانے اور پینے تک محدود نہیں ہے یا نکاح تک محدود نہیں ہے ۔ زندگی کے تمام امور میں یہ حق اللہ کو حاصل ہے ‘ شریعت کو حاصل ہے ۔ ہم اس مفہوم پر بار بار زور اس لئے دے رہے ہیں کہ ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے کہ لوگوں نے اسلام کو زندگی کے عملی دھارے سے نکال دیا ہے ‘ حالانکہ اسلام کی شان یہ ہے کہ وہ پوری زندگی پر حکمران ہو ۔ حلال و حرام کے الفاظ اور ان کے پر تو کو محدود کردیا گیا ہے اور اب اس کے وہ معنی نہیں لئے جاتے جو قرآن کو مطلوب تھے ۔ لوگوں کے ذہنوں میں اب حلال و حرام کا مفہوم صرف ذبیحوں کا مفہوم صرف ذبیحوں ‘ کھانے ‘ پینے کی چیزوں ‘ لباسوں اور نکاح کے اندر محدود ہوگیا ہے ۔ لوگ عموما حلال و حرام کے متعلق صرف انہی باتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کیا حلال ہے ‘ اور کیا حرام ہے ؟ رہے وہ عمومی اور بڑے بڑے معاملات تو انکے بارے فتوی وہ جدید دساتیر اور جدید قوانین سے پوچھتے ہیں جو انہوں نے شریعت کی جگہ جاری کردیئے ہیں ۔ غرض تمام اجتماعی معاملات میں ‘ تمام سیاسی نظاموں کے بارے میں ‘ تمام بین الاقوامی معاملات میں اور اللہ کے حق حاکمیت اور الوہیت کے بارے میں اب لوگ اسلام سے فتوی طلب نہیں کرتے ۔ یاد رہے کہ اسلام ایک مکمل منہاج حیات ہے جو شخص پورے پورے اسلام کا اتباع کرے گا وہی اللہ کے دین میں ہوگا اور جو شخص کسی ایک بھی معاملے میں شریعت کو چھوڑ کو کسی دوسرے قانون کی اطاعت کرے گا تو وہ دین سے خارج ہوجائے گا ۔ چاہے وہ ہزار بار اسلامی عقیدے کا اظہار کرے اور یہ اعلان کرے کہ وہ مسلمان ہے ‘ اس لئے کہ اس کے اعلان اسلام کو اس کا یہ عمل جھٹلا دیتا ہے ۔ جب وہ اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کسی اور قانون کا اتباع کرتا ہے اور اس طرح وہ دین اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے وہ اصول اعظم جس کا تعین یہ آیات کرتی ہیں ‘ اسے ایمان کا مسئلہ قرار دیتی ہیں ‘ اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے تو اسے اللہ کے حقوق پر دست درازی قرار دیتی ہیں ‘ اور یہی ہے ان آیات کا مفہوم و مدعا ۔ یہی مفہوم اس دین کی سنجیدگی اور قرآن کریم کی سنجیدگی کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اسی کے مطابق الوہیت کا مفہوم اور معنی حقیقی روپ اختیار کرتا ہے ۔ اسی سلسلہ قانون سازی میں جوے اور شراب کے بارے میں آخری اور قطعی حکم آجاتا ہے تاکہ جماعت مسلمہ کی تربیت اور اسے جاہلیت کی تمام آلودگیوں سے پاک کردیا جائے ‘ اسے جاہلیت کی گندی اجتماعی عادات سے پاک کردیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ہی آستانوں اور پانسوں کو بھی حرام قرار دے دیا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ یہ بھی شرکیہ افعال ہیں ۔

المائدة 5:90

(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔ شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس طرح اس قسم کی مجالس میں سب کے لئے دلچسپی کا سامان ہوتا ۔ یہ ذبیحے وہ بتوں کے نام اور آستانوں پر کرتے تھے اور ان ذبیحوں کا خون بتوں کا خون بتوں پر ڈالتے تھے ۔ نیز وہ اپنے الہوں اور کاہنوں کے نام پر بھی بعض جانوروں کو ذبح کرتے تھے ۔ شراب نوشی اور دوسرے مواقع پر جو جانور ذبح کرتے تھے ‘ ان کے گوشت کو پھر وہ پانسوں کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ۔ ہر شخص اپنے پانسے کے مقررہ حصے کا گوشت لیتا تھا ‘ جس کا پانسہ اونچا نکلا اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا ‘ یہاں تک کہ بعض اوقات جانور ذبح کرنے والے کے حصے میں کچھ نہ آتا اور وہ مکمل خسارے میں پڑجاتا ۔ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رسوم اور عادات باہم مربوط اور متعلق تھیں اور یہ عادات انہیں جاہلی طریقوں پر جاری تھیں ۔۔۔ اسلامی نظام زندگی نے تحریک کا آغاز ان رسوم کی اصلاح سے شروع نہیں کیا اس لئے کہ یہ رسوم اور عادات بعض فاسد نظریاتی تصورات پر قائم تھیں ۔ اگر محض اصلاح رسوم کی سطحی تحریک شروع کردی جاتی اور اصل اعتقادی نظریات کی بیخ کنی نہ کی جاتی تو یہ کام نہایت ہی سطحی ہوتا ۔ اسلام سے ہر گز یہ توقع نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ جڑوں کو چھوڑ کر محض سطحی امور تک اپنے آپ کو محدود کر دے ۔ اسلام نے سب سے پہلے نفس انسانی کی پہلی گرہ یعنی عقائد ونظریات پر کلام کیا ۔ اس نے سب سے پہلے جاہلی عقائد و تصورات کو لیا اور انہوں اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورات کو لیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورار کے فساد کو ظاہر کیا اور ان کو ایک الہ حق کے عقیدے پر مجتمع کردیا ۔ جب ان کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ توحید چھا گیا تو اب وہ فطری طور پر سوچنے کے لئے تیار ہوگئے کہ انکا الہ الحق کس بات کو پسند نہیں کرتا ۔ اس نظریاتی اصلاح سے پہلے وہ کب اپنی عادات ورسومات کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو سکتے تھے وہ نظریاتی تبدیلی کے بغیر اپنے جاہلی پسندیدہ طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اگرچہ انہیں بار بار نصیحت کی جاتی ۔ فطرت کی گرہ درحقیقت عقیدے کی گرہ ہوتی ہے ۔ جب تک سب سے پہلے اس گرہ اور عقدے کو حل نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی اخلاقی تعلیم ‘ کوئی تہذیب اخلاق کا پروگرام اور کوئی اجتماعی اصلاحی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ نظریہ دراصل انسانی فطرت کی کنجی ہے ۔ جب تک یہ کنجی لگا کر فطرت انسانی کو کھول کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک اس کے نہاں خانے اور اس کی راہ ورسم کی تہ تک رسائی ممکن نہ ہوگی ۔ جب ہم اس کی ایک تنگ گلی کو کھولیں گے تو کئی اور تنگ گلیاں سامنے آئیں گی اور اگر ہم اس کا ایک پہلو روشن کرلیں گے تو دس اور تاریک پہلو سامنے آئیں گے ۔ ہم ایک گرہ کھولیں گے اور مزید دس گرہیں لگ جائیں گی ۔ ہم ایک راہ کھولیں گے تو دس راہیں بند ہوجائیں گی اور اس طرح ہم ایسی بھول بھلیوں میں پڑجائیں گے کہ نکلنے کی راہ نہ ملے گی ۔ یہ وجہ ہے کہ اسلامی نظام حیات نے جاہلیت کی بری رسموں اور گندی عادات سے اپنے اصلاحی کام کا آغاز نہ کیا ۔ اسلام نے سب سے پہلے نظریاتی اصلاح سے کام شروع کیا ۔ سب سے پہلے یہ مطالبہ ہوا کہ تم کلمہ طیبہ کو قبول کرو اور مکہ کے ابتدائی تیرہ سال اسی نظریاتی اصلاح اور عقائد کی درستی میں صرف ہوئے ۔ ان طویل سالوں میں تحریک اسلامی کا نصب العین ہی شہادت لا الہ الا رہا ۔ اس عرصے میں لوگوں کو رب العالمین سے متعارف کرایا گیا ‘ ان کو صرف اسی کی بندگی کی دعوت دی جاتی رہی ‘ اور لوگوں کو صرف اسی کی بادشاہت کی طرف بلایا جاتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے نفوس صرف رب واحد کے لئے خالص ہوگئے ۔ ان کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اپنے لئے وہی کچھ پسند کرنے لگے جو ان کے لئے ان کا خدا پسند کرتا تھا ۔ جب نظریاتی اصلاح اس ڈگری تک پہنچ گئی تو اب فرائض کا آغاز ہوا ‘ مراسم عبودیت فرض ہوئے اب جاہلیت کی گندی عادات اور رسوم کی اصلاح کا آغاز ہوا ‘ اجتماعی طور طریقوں کے بدلنے کے احکام صادر ہونا شروع ہوئے ‘ اقتصادی اصلاحات نافذ کی گئیں ‘ نفسیاتی اور اخلاقی طرز عمل کی اصلاح شروع ہوئی اور یہ کام ایسے وقت میں شروع ہوا کہ ادھر سے اللہ کا حکم آتا ادھر سے مسلمان اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ‘ بغیر کسی حیل وحجت کے ‘ اس لئے کہ انہوں نے امر ونہی کے تمام اختیارات الہ العالمین کے سپرد کردیئے تھے ان کا اپنا کچھ اختیار نہ تھا ۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اوامر اور نواہی کی تلقین اس مرحلے کے بعد شروع ہوئی جب لوگوں نے مکمل انقیاد سے سر تسلیم خم کردیا ۔ ہر ایک مسلم نے اپنا سب کچھ اللہ کے حوالے کردیا ‘ اور یہ بات تسلیم کرلی کہ اللہ کے اوامر ونواہی کے بالمقابل اس کا کوئی اختیار نہیں ہے جیسا کہ استاد ابوالحسن علی ندوی نے کہا ہے وہ اپنی کتاب عالم اسلام میں مشرقیت اور مغربیت کی کشمکش میں کہتے ہیں ۔ ” کفر وشرک کا عظیم عقدہ کھل گیا ۔ بیشک یہ ایک عظیم عقدہ تھا ۔ اس عقدے کا کھلنا تھا کہ تمام عقدے کھل گئے ۔ حضور ﷺ نے ان کے ساتھ یہ پہلا جہاد کیا اور اس لئے انہیں مزید کسی جہاد کی ضرورت نہ رہی ۔ ہر امر اور ہر نہی کے لئے آپ کو کوئی جدوجہد کرنا نہ پڑی ۔ اس پہلے نظریاتی معرکے میں اسلام کو جاہلیت پر فتح نصیب ہوئی اور اس کے بعد ہر معرکے میں کامیابی نے آپ کا ساتھ دیا ۔ یہ اس لئے ہوا کہ یہ لوگ اپنے دلوں ‘ اپنی روح ‘ اپنے اعضاء کے ساتھ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ جب ان پر ہدایت نازل ہوتی تو وہ حضور ﷺ کے ساتھ مخالفت اور مخاصمت نہ کرتے تھے ۔ حضور ﷺ جو فیصلہ کرتے اس پر وہ اپنے دلوں میں کوئی خلجان نہ پاتے اور سوال کے فیصلے کے بعد ان کے لیے کوئی اختیار یا دائرہ اختیار نہ رہا تھا ۔ جب معاملات میں ان سے ضمیر اور عقیدے کے خلاف کوئی بات سرزد ہوجاتی تو وہ کھلے طور پر حضور ﷺ کو بتلا دیتے ‘ اور اپنے آپ کو سزا کے لئے پیش کردیتے ۔ جب ان سے غلطی ہوتی تو ان پر حد نافذ ہوجاتی ۔ تحریم شراب کا حکم آتا ہے ‘ شراب سے بھرے ہوئے جام ان کے ہاتھوں میں ہیں اور اللہ کا حکم حائل ہوجاتا ہے اور وہ ہونٹوں تک نہیں جاتے ۔ ہونٹ خشک اور جگر پیاسے رہ جاتے ہیں ۔ شراب کے مٹکے توڑ دیئے جاتے ہیں اور شراب مدینہ کی گلیوں میں سیلاب کی طرف بہ نکلتی ہے ۔ “ لیکن اس کے باوجود تحریم شراب اور اس کے ساتھ دوسری اشیاء کی تحریم کوئی اچانک کام نہ تھا ۔ اس آخری تحریم سے پہلے اس عام اور نہایت ہی گہری بیماری کا علاج بڑی تدریج کے ساتھ کیا گیا ‘ اس لئے کہ لوگ اس کے رسیا تھے اور یہ ان کے لئے ایک نہایت ہی عادی نشہ تھا ۔ اس کے ساتھ ان کے معاشرتی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہے ۔ شراب کی یہ آخری حرمت تیسرے یا چوتھے مرحلے میں نازل ہوئی ۔ پہلے مرحلے میں محض اس سمت میں ایک تیر پھینکا گیا جس کی طرف اسلامی نظام کا رجحان تھا سورة نحل کی ایک آیت میں کہا گیا : (آیت) ” ومن ثمرت النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا “۔ (16 : 67) ” کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے جن سے تم شراب اور رزق حسن حاصل کرتے ہو۔ “ یہاں سکر یعنی مسکرات کو رزق حسن کے مقابلے میں رکھا گیا جس سے یہ اشارہ مطلوب تھا کہ مسکرات رزق حسن کی تعریف میں نہیں آتے ۔ گویا مسکرات کوئی اور چیز ہے اور رزق حسن کوئی اور چیز ہے ۔ اس کے بعد سورة بقرہ میں مسلمانوں کی دینی وجدان کو شراب کے خلاف ایک قانونی اور منطقی استدلال کے ذریعے جگایا گیا ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” لوگ آپ سے شراب اور جوائے کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ کہہ دیں ان میں گناہ بھی ہے اور لوگوں کے لئے منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ انکے منافع سے بہت بڑا ہے ۔ “ اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا کہ جب ان سے ان کا گناہ بڑا ہے تو قلیل منافع کو نظر انداز کرکے ان کو ترک کرنا ہی اولی ہے ۔ اس لئے کہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی فائدہ تو ضرور ہوتا ہے ۔ البتہ حلال اور حرام ہونے کا دارومدار اکثریت پر ہوتا ہے ۔ نفع اور نقصان کا غلبہ دیکھا جاتا ہے ۔ تیسرا اقدام یہ کیا گیا کہ شراب نوشی کی عادت میں اوقات کی کمی کردی گئی اور شراب نوشی کو حالت صلوۃ کے منافی قرار دیا گیا ۔ سورة نساء کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی : (آیت) ”(یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (4 : 43) (اے ایمان لانے والوجب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تم جو کچھ کہو اسے سمجھو “۔ ) ۔ اب پانچ وقت کی نمازیں چونکہ اکثر باہم بہت ہی قریب ہیں اور ان کے درمیان اس قدر وقفہ نہیں ہوتا کہ کوئی شراب پئے اور نشے میں ہو کر پھر اسے افاقہ ہوجائے ‘ چناچہ ان اوقات کے اندر عملا شراب نوشی کا امکان ہی نہ رہا اور اس عمل کے لئے دائرہ تنگ ہوگیا ۔ خصوصا (صبوح) صبح کے وقت کی شراب اور ” غبوق “ یعنی بعد عصر اور بعد مغرب کی شراب کے لئے اوقات تنگ ہوگئے اس لئے کہ دور جاہلیت میں انہیں اوقات میں شراب پی جاتی تھی اور اس اسکیم کے ذریعے شریعت نے نشے کے اوقات میں خواہش کو توڑ دیا ۔ ایک مسلمان کے لئے یہ ایک بہترین تدبیر ثابت ہوئی اس لئے کہ اس وقت کسی مسلم کے بارے میں یہ سوچا بھی نہ جاسکتا تھا کہ وہ نماز چھوڑ کر شراب نوشی کرے گا ۔ اس وقت ہر مسلمان اپنے وقت پر نماز ادا کرتا تھا ۔ اس طرح شراب کا نشہ ٹوٹ جاتا ۔ اس کے بعد چوتھا اور آخری اقدام اس آیت کے ذریعے کیا گیا ۔ اب اس آخر وار کے لئے فضا تیار تھی ‘ لوگوں کے نفوس تیار تھے ‘ چناچہ حکم آتے ہیں لوگوں نے یقین کیا اور تعمیل کر ڈالی حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہا انہوں نے کہا اے اللہ ہمارے لئے شراب کے سلسلے میں کافی اور شافی بیان دے دے ۔ اس پر سورة بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ کہہ دیں ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ انکے نفع سے بہت زیادہ ہے ۔ “ حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان پر یہ آیت پڑھی گئی اس پر انہوں نے دوبارہ کہا اے اللہ ہمارے لئے شراب کے بارے میں کافی وشافی بیان نازل فرما ۔ اس پر سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ”(یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (4 : 43) (اے ایمان لانے والو نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم جو کچھ کہو اسے سمجھو “۔ ) جب حضرت عمر ؓ کو یہ آیت سنائی گئی تو انہوں نے پھر سوال کیا کہ اے اللہ شراب کے بارے میں کافی وشافی بیان نازل فرما۔ اس پر سورة مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون “۔ (5 : 91) شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے ۔ پھر کیا تم اس سے باز رہو گے ؟ ) اس پر حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا جی ہاں ہم رک گئے ‘ ہم رک گئے ۔ “ (اصحاب السنن) جب واقعہ احد کے بعد سن تین ہجری میں یہ آیات نازل ہوئیں تو اس کے سوا کسی اور اقدام کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ بس ایک منادی نے مدینہ میں اعلان کیا : ” اے قوم ! شراب حرام کردی گئی ۔ “ یہ سننا تھا کہ جس کے ہاتھ میں پیالہ تھا اس نے اسے توڑ دیا ‘ جس کے منہ گھونٹ تھا ‘ اس نے اسے تھوک دیا ‘ شراب کے مشکیزے پھاڑ ڈالے گئے اور شراب کے مٹکے توڑ دیئے گئے اور صورت حال میں اس طرح ہوگئی کہ گویا لوگوں نے نشے اور شراب کو کبھی دیکھا ہی نہ تھا ۔ اب ذرا قرآن کی آیات کی بناوٹ (Construction) دیکھئے اور وہ انداز تربیت دیکھئے جو قرآن نے اختیار فرمایا ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّہِ وَعَنِ الصَّلاَۃِ فَہَلْ أَنتُم مُّنتَہُونَ (91) وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَاحْذَرُواْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہ شراب جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے ، پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے ؟ ۔ اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی ۔ آغاز اور لہجہ وہ معروف آواز ہے جس میں لوگوں کو ان کے محبوب لقب اہل ایمان سے پکارا جاتا ہے ۔ (آیت) ” (یایھا الذین امنوا) ۔ یوں مسلمانوں کے جذبہ ایمان کو جگایا جاتا ہے اور انہیں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ ان کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آنے والے احکام کی مکمل اطاعت کریں ۔ اس کے بعد آیت کا انداز بیان نہایت ہی دو ٹوک اور حصر کے انداز میں آتا ہے ۔ (آیت) ” إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ ۔ ” یہ شراب جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں “ یہ گندے کام ہیں اور ان کاموں پر طیب کا اطلاق نہیں ہو سکتا ۔ اور اللہ نے صرف طیبات کو حلال کیا ہے اور پھر یہ شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا قدیمی دشمن ہے ۔ ایک مومن کے لئے تو بس یہی کافی ہے کہ اسے معلوم ہوجائے کہ کوئی کام شیطانی ہے ‘ یہ سنتے ہی وہ اس سے بدکتا ہے ‘ اس کا پورا وجود کانپ اٹھتا ہے اور وہ ڈر کر اس سے دور ہوجاتا ہے ۔ ایسے حالات میں اب قطعی ممانعت صادر ہوجاتی ہے لیکن اس ممانعت کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس پر عمل سے تمہیں فلاح اخروی نصیب ہوگی ۔ یہ ایک دوسری جھلکی ہے ‘ جس کے ذریعے یہ دکھایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کس طرح انسانی نفسیات کی گہرائیوں تک احساسات اتار دیتا ہے ۔ (آیت) ” فاجتنبوہ لعلکم تفلحون “۔ اس سے مکمل اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ “۔ اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس گندگی کو جاری رکھ کر شیطان اپنے کیا مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے : ” شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد اور نماز سے روک دے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے شیطان کا اصل منصوبہ اور یہ ہیں شیطان کے مقاصد جو وہ ان ناپاکیوں اور بداخلاقیوں کے ذریعے بروئے کار لانا چاہتا ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی صفوں کے درمیان بغض وعداوت پھیل جائے اور یہ کام وہ شراب وکباب اور جوئے بازی کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ دوسرا مقصد اس سے وہ یہ حاصل کرنا چاہتا ہے کہ اہل ایمان کو یاد الہی اور صلوۃ سے روکتا ہے ‘ اس سے بڑی سازش اور کیا ہو سکتی ہے ؟ یہ شیطانی مقاصد جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں ‘ یہ تو وہ واقعی امور ہیں جنہیں مسلمان اپنی تاریخ میں اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں جبکہ قرآن کریم بذات خود سچا ہے اور اسے کسی تاریخی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس مسئلے پر کسی بحث اور تفتیش کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شیطان کا یہ منصوبہ کس طرح کام کرتا ہے ۔ شراب نوشی سے انسان کا فہم اور ادراک ختم ہوجاتا ہے ۔ گوشت اور خون کا نقصان اور جذبات اور میلانات کا ہیجان اس کے فوری اثرات ہیں اور جوئے کی وجہ سے لوگوں کو جو مالی نقصان ہوتا ہے ‘ اس کی وجہ سے دلی بغض اور عداوت پیدا ہوتی ہے ‘ اس لئے کہ جوئے میں جو ہارتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ جیتنے والا اس کی دولت کو اس کی آنکھوں کے سامنے بطور مال غنیمت لے کر جارہا ہے جبکہ وہ شکست خوردہ اور دولت بریدہ ہے ۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے نتیجے میں بغض وعداوت کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے اگرچہ شرابی اور جوئے باز بظاہر یار اور دوست نظر آتے ہیں اور ایک ہی مجلس میں خوش وخرم نظر آتے ہیں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور پختہ ہم نشین ہیں۔ دوسری برائی کہ یہ دونوں چیزیں ذکر الہی سے روکنے والی ہیں اور نماز سے روکتی ہیں تو یہ ایسی باتیں ہیں جن کے ثبوت کی ضرورت نہیں ہے ۔ شراب بےہوش کرتی ہے اور جو امدہوش کرتا ہے اور جوئے میں جس طرح مت ماری جاتی ہے وہ شراب نوشی کی بےہوشی سے کم نہیں ہے ۔ جوئے باز کی دنیا اور شراب خور کی دنیا ایک ہی دنیا ہے اور یہ شراب وکباب اور جام وسبو سے آگے نہیں ہے ۔ جب بات یہاں تک آپہنچتی ہے اور یہ بتا دیا جاتا ہے کہ اس گندگی کے پھیلانے سے شیطان کے اصل مقاصد کیا ہیں تو ایک مومن کا دل جاگ اٹھتا ہے اور اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ وہ فیصلہ کن اقدام کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے اور جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تم اس سے باز آنے والے ہو ؟ تو ہر مومن کے دل میں وہی جواب تیار ہوچکا ہوتا ہے جو حضرت عمر ؓ نے دیا تھا ہاں ! بیشک ہم باز آگئے ‘ ہم باز آگئے ۔ اب بات مزید آگے بڑھتی ہے اور ایک آخری چوٹ لگائی جاتی ہے ۔ (آیت) ” وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَاحْذَرُواْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی ۔ “ یہ وہ اصول ہے جس کی طرف تمام معاملات لوٹتے ہیں ‘ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور یہی ہے اسلام ۔ اسلام کے اندر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بےقید اطاعت کے علاوہ کسی اور چیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اگر کوئی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے روگردانی کرے گا تو اس کے نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہوگا ۔ (آیت) ” ْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم بتا دینے کے سوا کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے “۔ اور رسول اللہ ﷺ نے تو اللہ کا پیغام بہت ہی اچھے طریقے سے پہنچا دیا ۔ اس صاف صاف بتا دینے کے بعد تمام تر ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگئی جو مخالفت کر رہے ہیں ۔ یہ بالواسطہ طور پر ایک سخت دھمکی ہے ۔ ایک مومن کا بدن کانپ اٹھتا ہے اس لئے کہ اہل ایمان اگر نافرمانی کرتے ہیں اور اللہ و رسول کی اطاعت نہیں کرتے تو گویا صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے تو تبلیغ کردی اور اپنا فریضہ اچھی طرح ادا کردیا اور ان کے معاملے سے فارغ ہوگئے ‘ ہاتھ جھاڑ دیئے ۔ اب اگر وہ عذاب کے مستحق ہوتے ہیں تو رسول ان سے عذاب کو دفعہ نہیں کرسکتے ۔ خصوصا جبکہ انہوں نے ان کی نافرمانی کی اور آپ کی اطاعت نہ کی اور اللہ سرکشوں اور نافرمانوں کو سزا دینے پر پوری طرح قادر ہے ۔ یہ اسلامی منہاج اصلاح ہے جو انسان کے دلوں میں اترتا ہے ‘ دلوں کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ‘ دلوں کے بند دروازے کھولتا ہے ۔ اس کے بعد پھر اس پر نہایت ہی خفیہ راستے اور نشیب و فراز کھلتے ہیں ۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم ذرا اس شراب کی تفصیلات دے دیں جسے یہاں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ امام ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے کہ ” ہر نشہ دلانے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ “ حضرت عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ کے منبر پر خطبہ دیا اور اس خطبے میں حضور ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت موجود تھی ” اے لوگو ‘ شراب کی حرمت کا حکم جس وقت نازل ہوا تمہیں معلوم ہے ‘ شراب پانچ چیزوں سے ہے ۔ انگور سے ‘ کھجور سے ‘ شہد سے ‘ گندم سے اور جو سے اور شراب کی تعریف ہے ” وہ جو عقل کو ڈھانپ لے۔ “ ان دونوں روایات سے یہ معلوم ہوا کہ ہر وہ چیز خمر کی تعریف میں آتی ہے جو بےہوش کرتی ہے ۔ خمر سے مراد شراب مسکر کی کوئی خاص قسم مراد نہیں ہے جو مشروب بےہوش کرتا ہو وہ خمر ہے ۔ کسی بھی نشہ آور چیز کے ذریعے انسان کی ہوش کا غائب ہونا ‘ اس دائمی بیداری کے ساتھ متضاد ہے جو اسلام نے ہر شخص کے لئے لازمی کردی ہے ۔ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ انسان بیدار رہے اور مسلسل اللہ کے ساتھ مربوط رہے ۔ ہر لحظہ وہ اللہ کی طرف دیکھتا رہے ۔ پھر اس مسلسل بیداری کی حالت میں وہ اس دنیا کی ترقی اور نشوونما میں لگا رہے ۔ کمزوری اور فساد سے اس زندگی کو بچاتا رہے اور اپنے نفس اپنے مال اور اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہرے ۔ جماعت مسلمہ کے امن وامان ‘ نیز اسلامی شریعت اور اسلامی نظام زندگی کا محافظ ہو تاکہ اس پر کوئی بھی دست درازی نہ کرسکے اس لئے کہ ایک مسلمان فرد صرف اپنی ذات اور اپنی لذتوں کے اندر غرق نہیں رہ سکتا ۔ اس پر اس قسم کے فرائض عائد کئے گئے ہیں جن کی ادائیگی کے لئے اسے ہر وقت بیدار رہنا پڑتا ہے ۔ کچھ فرائض اس پر اس کے رب کی جانب سے ہیں ‘ کچھ فرائض اپنے نفس کی طرف سے ہیں ‘ کچھ فرائض اس کے اہل و عیال کی طرف سے ہیں ‘ کچھ فرائض اس اسلامی سوسائٹی کی طرف سے ہیں جس میں وہ رہ رہا ہے ۔ اس کے بعد پوری انسانیت کی جانب سے بھی اس پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں تاکہ وہ اسے اسلامی دعوت دے اور راہ ہدایت سکھائے ۔ اس وجہ سے اسلام اس سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر وقت بیدار رہے ۔ نیز جب وہ پاک چیزوں سے بھی استفادہ کر رہا ہو تو بھی اس سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ بیدار رہے ‘ خود دار رہے اور لذات اور شہوات کا بندہ اور غلام نہ بن جائے ، اسے چاہئے کہ وہ اپنی خواہشات اور رغبات کو لگام میں رکھے ۔ وہ اپنی خواہشات کا بندہ و غلام نہ ہو بلکہ مالک اور آقا ہو ۔ جو لوگ مدہوشی میں پناہ لے کر اس دنیا سے اوجھل ہونا چاہتے ہیں ‘ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ مذکورہ بالافرائض میں سے کوئی فریضہ بھی ادا نہیں کرسکتے ۔ پھر اپنے آپ کو عالم مدہوشی میں داخل کرنے کی حقیقت کیا ہے ۔ کچھ وقت کے لئے نشے باز اپنے آپ کو حقیقی دنیا سے علیحدہ کردیتا ہے اور وہ ایک طرح حقیقی زندگی سے فرار کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ وہ ان تصورات کی دنیا میں پناہ لیتا ہے جو خمار اور نشے کی حالت میں ذہن میں آتے ہیں ۔ اسلام انسان کے لئے اس قسم کی موہوم دنیا اور خیالی تصورات میں گھومنے کو حرام قرار دیتا ہے ۔ اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ حقائق کا مقابلہ کریں ‘ حقائق میں زندہ رہیں اور اپنی زندگی کو حقائق پر چلائیں ۔ ان کی زندگی محض ادہام اور تخیلات پر قائم نہ ہو ۔ جب انسان حقائق کا سامنا کرتا ہے تب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے عزم و ارادے کا کیا حال ہے ۔ رہا یہ طریق کار کہ کوئی حقائق سے فرار اختیار کر کے محض تخیلات اور ادہام کی زندگی میں جالے تو یہ ناقص اور بیمار انداز حیات ہے ۔ اس صورت میں عزم کمزور ہوتا ہے ‘ ارادہ تحلیل ہوجاتا ہے ۔ اسلام انسان کے ارادے کو بہت ہی بڑی اہمیت دیتا ہے ‘ اور اس کی پالیسی یہ ہے کہ اس کا ارادہ آزاد ہو اور اس کے اوپر کوئی جابر اور قاہر قوت نہ ہو ۔ مذکورہ بالا اسلامی پالیسیاں ہی اس بات کے لئے کافی ہیں کہ تمام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دیا جائے اس لئے یہ ناپاک اور شیطانی اعمال ہیں اور ان سے انسانی زندگی میں فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا شراب تمام نجاستوں کی طرح نجس بھی ہے یا نہیں ہے ؟ یا صرف پینا حرام ہے ۔ پہلا قول کہ وہ نجس ہے یہ جمہور کا قول ہے اور دوسرا قول ربیعہ ‘ لیث ‘ مزنی (امام شافعی کے ساتھی) اور بعض متاخرین بغدادی علماء کا ہے ۔ بس ہمارے لئے اسی قدر ذکر کافی ہے ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں شراب کو حرام کردیا گیا اور یہ کہا گیا کہ یہ نجس ہے اور شیطانی عمل ہے اس وقت اسلامی سوسائٹی کے اندر دو سوال پیدا ہوئے ‘ ایک یہ کہ بعض نہایت ہی پاک فطرت اور محتاط صحابہ کرام کے یہ سوال اٹھایا کہ ہمارے ان ساتھیوں کا کیا بنے گا جنہوں نے ایسے حالات میں انتقال کیا کہ وہ شراب پیتے تھے ۔ بعض نے یہ کہا کہ ان لوگوں کا کیا بنے گا کہ جو احد میں شہید ہوئے اور ان کے پیٹوں میں شراب تھی ۔ (اس وقت شراب حرام نہ تھی) اور جو لوگ اسلامی صفوں میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنا چاہتے تھے انہوں نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ۔ ان کا مقصد یہ تھا اسلام کے عمل قانون سازی کے اندر شبہات اور شکوک پھیلائیں ۔ یہ لوگ یہ اشارہ دیتے کہ جو لوگ پہلے فوت ہوئے ان کا ایمان ضائع ہوگیا اس لئے کہ وہ تو شراب پیتے تھے جو ناپاک ہے اور اعمال شیطانیہ میں سے ہے ۔ ان میں سے بعض لوگ اس حال میں فوت ہوئے کہ ان کے پیٹ میں یہ ناپاک شے موجود تھی ۔ ان دونوں قسم کے خدشات و اعتراضات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” لَیْْسَ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُواْ إِذَا مَا اتَّقَواْ وَّآمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَواْ وَّآمَنُواْ ثُمَّ اتَّقَواْ وَّأَحْسَنُواْ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (93) جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا ‘ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں ‘ پھر جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الہی ہو اسے مانیں ‘ پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں ۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے ۔ ‘ ‘ اس آیت میں فیصلہ یہ کیا گیا کہ جسے حرام نہ کیا گیا ہو ‘ وہ حرام نہیں ہے ۔ اور یہ کہ تحریم کا اطلاق حکم الہی کے بعد ہوتا ہے ۔ پہلے نہیں ہوتا اور یہ کہ تحریم موثر بماضی نہ ہوگی ‘ لہذا کوئی سزا اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کوئی نص وارد نہ ہو ‘ چاہے یہ سزا دنیا کی سزا ہو یا آخرت کی سزا ‘ اس لئے کہ اللہ کا کلام ہی وجود میں لاتا ہے ۔ جو لوگ مر گئے ‘ شراب پیتے رہے یا ان کے پیٹ میں شراب تھی اور اس وقت حرام نہ تھی تو ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ اس لئے کہ انہوں نے کوئی حرام چیز استعمال نہیں کی ۔ نہ انہوں نے کوئی نافرمانی کی ۔ وہ تو اللہ سے ڈرنے والے تھے ۔ معاصی سے بچنے والے تھے ‘ نیک کام کرتے تھے اور اللہ سے اچھے انجام کی امید رکھتے تھے ‘ ان کو اچھی طرح یقین تھا کہ اللہ ان کی نیتوں سے خوب واقف ہے ‘ ان کے اعمال کو جانتا ہے ۔ جن لوگوں کے حالات ایسے ہوں وہ محرمات کا ارتکاب کیسے کرسکتے ہیں اور وہ معصیت کا ارتکاب کیسے کرسکتے ہیں۔ ہم یہاں ان مباحث میں پڑنا ہی نہیں چاہتے ‘ جو معتزلہ نے اس حکم کے بارے میں کیے ہیں۔ معتزلہ نے یہ بحثیں کیں کہ آیا شراب کے اندر نجاست ذاتی ہے یا اس کے اندر نجاست اللہ کی اس آیت کی وجہ سے پیدا ہوگئی ۔ نیز تمام محرمات کے اندر حرمت ذاتی ہے یا وارد حکم کی وجہ سے حرمت لاحق ہوجاتی ہے ۔ یہ بےنتیجہ بحث ہے اور اسلامی شعور اس بحث کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو حرام قرار دیتے ہیں ‘ تو یہ بات اللہ کے علم میں ہوتی ہے کہ اللہ اس چیز کو کیوں حرام قرار دے رہے ہیں چاہے اللہ حرمت کے سبب کی تصریح کرے یا نہ کرے ‘ چاہے حرمت اس لئے ہو کہ سبب حرام چیز کی ذات کے اندر ہو یا اس چیز کو استعمال کرنے والے کے اندر سبب حرمت ہو یا محض سوسائٹی کے مفادات کے لئے اسے حرام قرار دیا گیا ہو ‘ تمام چیزوں کا علمتو صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے ۔ اللہ کے احکام کی اطاعت واجب ہے اور احکام آنے کے بعد اس قسم کے مباحث کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کا مزاج ہی واقعیت پسندانہ ہے لہذا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اگر حرمت کسی ایسے سبب کی وجہ سے تھی جو محرم کی ذات میں تھی تو پھر حرمت سے پہلے وہ چیز حلال کیوں تھی ؟ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ایسی مصلحت ہو جس کی وجہ سے اللہ نے کچھ عرصہ کے لئے اسے حرام قرار نہ دیا ہو ‘ ہر بات اللہ کے اختیار میں ہے ۔ یہی اس کی حاکمیت کا تقاضا ہے ۔ یہ بات نہیں ہے کہ انسان کسی چیز کو اچھا سمجھے تو اچھی ہے برا سمجھے تو بری ہے ۔ بعض اوقات انسان کسی چیز کو حکم کی علت سمجھتا ہے اور وہ علت نہیں ہوتی ۔ اللہ کی بارگاہ میں باادب طریقہ یہی ہے کہ حکم کو سنا جائے ‘ قبول کیا جائے اور نافذ کیا جائے ‘ چاہے کوئی اس کی علت اور حکمت کو سمجھے یا نہ سمجھے ۔ علت معلوم ہو یا خفی ہو ‘ اس کو اللہ ہی جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے ۔ اسلامی شریعت پر عمل کی بنیاد اللہ کی بندگی اور غلامی کے اصول پر ہے ۔ اللہ کی اطاعت اس لئے ہے کہ ہم اللہ کے غلام ہیں ‘ اور یہی ہے اسلام بمعنی سرتسلیم خم کرنا ۔ یہ تو اطاعت کے بعد کا درجہ ہے کہ کوئی عقلمند شریعت کی حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اپنی سمجھ کے مطابق یہ کام وہ تمام اوامر ونواہی میں کرسکتا ہے ‘ چاہے وہ حکمتیں منصوص ہوں یامنصوص نہ ہوں ‘ اسے عقل انسانی سمجھ سکتی ہو یا نہ سمجھ سکتی ہو ۔ اس لئے کہ شریعت اسلامی کے متحقق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کنندہ انسان نہیں ہے ۔ یہ اللہ ہے جو یہ فیصلہ کرسکتا ہے ۔ جب اللہ نے حکم فرما دیا یا منع کردیا تو اطاعت لازم ہوگئی ۔ اگر اللہ اسلامی شریعت کے بارے میں آخری فیصلہ کنند عقل انسانی کو قرار دیدیتا تو عقل انسانی کا مقام اسلامی شریعت سے اونچا ہوجاتا ۔ اس صورت میں مقام الوہیت اور مقام عبودیت کے پھر فرق کیا رہ جاتا ۔ اب ذرا عربیت کے اعتبار سے اس آیت کی ترکیب (Construction) پر بات ہوجائے ۔ اس آیت میں تقوی کو تین مرتبہ دہرایا گیا ہے ۔ (آیت) ” اتقوا وامنوا وعملوا الصلحت “ یعنی تقوی ایمان اور عمل صالح ۔ پھر (اتقوا وامنوا “ ) تقوی اور ایمان فقط ۔ پھر (اتقوا واحسنوا) تقوی اور احسان کا ذکر کیا ہے ۔ اس عبارت میں اس انداز میں تقوی کی تکرار کیوں کی گئی ۔ اس سلسلے میں کسی مفسر کی توجیہ تشفی بخش نہیں رہی ہے ۔ اسی طرح فی ظلال القرآن کے پہلے ایڈیشن میں ‘ میں خود بھی کوئی تشفی بخش توجیہ نہیں کرسکا اور ابھی تک کوئی تسلی بخش بات سمجھ میں نہیں آئی ہے ۔ تفاسیر کی توجیہات میں سے دوسروں کے مقابلے میں جو بہتر توجیہ مجھے ملی ہے وہ ابن جریر کی ہے اگرچہ تشفی بخش نہیں ہے وہ کہتے ہیں : ” پہلے تقوی سے مراد یہ ہے کہ خدا ترسی کے ساتھ اللہ کے حکم کو قبول کیا جائے ‘ اس کی تصدیق کیا جائے اور اس پر دینداری کے ساتھ عمل کیا جائے ‘ دوسرے تقوی سے مراد یہ ہے کہ خدا خوفی سے اس پر ثابت قدم رہا جائے ‘ اور تیسرے سے مراد وہ خدا خوفی ہے جس میں احسان اور نوافل کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے ۔ اس کتاب کے طبع اول میں خود میں نے جو کچھ کہا تھا ‘ وہ یہ تھا ۔ ” یہ مزید تفصیل دے کر تاکید کرنا ہے ۔ پہلے فقرے میں ایمان ‘ عمل صالح اور تقوی کا ذکر ہوا ہے ‘ دوسرے فقرے میں تقوی کا ذکر ایمان کے ساتھ ہوا اور تیسرے میں تقوی اور احسان یعنی عمل صالح کے ساتھ ذکر ہوا ۔ اس تاکید کا مقصد یہ ہے کہ تمام امور کا مدار تقوی پر ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اعمال کی اصل قدروقیمت اس باطنی شعور کی وجہ سے ہوتی ہے جو انکی پشت پر ہوتا ہے اور یہ باطنی شعور تقوی ہے ‘ جس کا اظہار خدا ترسی کے ذریعے ہوتا ہے اور اس شعور کی وجہ سے انسان اللہ کی ذات کے ساتھ ہر وقت جڑا رہتا ہے ۔ اللہ پر ایمان ‘ اس کے اوامر وانواہی کی تصدیق اور عمل صالح جو اس باطنی عقیدے اور خفیہ شعور کا ترجمان ہوتا ہے ۔ اس عمل صالح اور اس باطنی شعور کے درمیان ایک ربط ہوتا ہے ۔ یہ تمام باطنی شعور اور تقوی اصل مطلوب ہیں اور انہی پر مدار حکم ہے ۔ اعمال کی ظاہری اشکال وصور پر مدار حکم نہیں ہے ۔ یہ بات کہ اصل مدار نیت ‘ روح اور باطنی شعور پر ہے اس قدر اہم اور اصولی بات ہے کہ اس کے لئے بار بار تکرار کی ضرورت ہے ۔ ابھی تک میں خود اپنی بات سے بھی مطمئن نہیں ہوں لیکن اسکے سوا کوئی اور بات بھی میری سمجھ میں نہیں آتی ہے ۔ واللہ ھو المستعان۔ آگے بات بھی حلال و حرام کے موضوع پر ہی جاری ہے ۔ حالت احرام میں شکار کے مسئلے پر بات ہو رہی ہے ۔ شکار کے قتل کا کفارہ ‘ یہ حکمت کہ اللہ تعالیٰ کے بیت ‘ اشہر حرام ‘ ہدی اور پٹے ڈالے ہوئے جانوروں کا احترام کیوں فرض کیا ہے ؟ اور اس سورة کے آغاز میں ان چیزوں کو چھیڑنے سے منع کیا گیا ہے ۔ آخر میں ایک فرد مسلم اور ایک اسلامی سوسائٹی کے لئے ایک عام اصول اور پیمانے کا ذکر کردیا جاتا ہے ۔ ایسا پیمانہ کہ اس میں پاک چیز کی قدرو قیمت زیادہ ہے اگرچہ قلیل ہو اور ناپاک چیز اگرچہ بہت ہی زیادہ ہو اس کی کوئی قدر نہیں ہے ۔

المائدة 5:91

(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔ شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس طرح اس قسم کی مجالس میں سب کے لئے دلچسپی کا سامان ہوتا ۔ یہ ذبیحے وہ بتوں کے نام اور آستانوں پر کرتے تھے اور ان ذبیحوں کا خون بتوں کا خون بتوں پر ڈالتے تھے ۔ نیز وہ اپنے الہوں اور کاہنوں کے نام پر بھی بعض جانوروں کو ذبح کرتے تھے ۔ شراب نوشی اور دوسرے مواقع پر جو جانور ذبح کرتے تھے ‘ ان کے گوشت کو پھر وہ پانسوں کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ۔ ہر شخص اپنے پانسے کے مقررہ حصے کا گوشت لیتا تھا ‘ جس کا پانسہ اونچا نکلا اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا ‘ یہاں تک کہ بعض اوقات جانور ذبح کرنے والے کے حصے میں کچھ نہ آتا اور وہ مکمل خسارے میں پڑجاتا ۔ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رسوم اور عادات باہم مربوط اور متعلق تھیں اور یہ عادات انہیں جاہلی طریقوں پر جاری تھیں ۔۔۔ اسلامی نظام زندگی نے تحریک کا آغاز ان رسوم کی اصلاح سے شروع نہیں کیا اس لئے کہ یہ رسوم اور عادات بعض فاسد نظریاتی تصورات پر قائم تھیں ۔ اگر محض اصلاح رسوم کی سطحی تحریک شروع کردی جاتی اور اصل اعتقادی نظریات کی بیخ کنی نہ کی جاتی تو یہ کام نہایت ہی سطحی ہوتا ۔ اسلام سے ہر گز یہ توقع نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ جڑوں کو چھوڑ کر محض سطحی امور تک اپنے آپ کو محدود کر دے ۔ اسلام نے سب سے پہلے نفس انسانی کی پہلی گرہ یعنی عقائد ونظریات پر کلام کیا ۔ اس نے سب سے پہلے جاہلی عقائد و تصورات کو لیا اور انہوں اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورات کو لیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورار کے فساد کو ظاہر کیا اور ان کو ایک الہ حق کے عقیدے پر مجتمع کردیا ۔ جب ان کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ توحید چھا گیا تو اب وہ فطری طور پر سوچنے کے لئے تیار ہوگئے کہ انکا الہ الحق کس بات کو پسند نہیں کرتا ۔ اس نظریاتی اصلاح سے پہلے وہ کب اپنی عادات ورسومات کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو سکتے تھے وہ نظریاتی تبدیلی کے بغیر اپنے جاہلی پسندیدہ طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اگرچہ انہیں بار بار نصیحت کی جاتی ۔ فطرت کی گرہ درحقیقت عقیدے کی گرہ ہوتی ہے ۔ جب تک سب سے پہلے اس گرہ اور عقدے کو حل نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی اخلاقی تعلیم ‘ کوئی تہذیب اخلاق کا پروگرام اور کوئی اجتماعی اصلاحی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ نظریہ دراصل انسانی فطرت کی کنجی ہے ۔ جب تک یہ کنجی لگا کر فطرت انسانی کو کھول کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک اس کے نہاں خانے اور اس کی راہ ورسم کی تہ تک رسائی ممکن نہ ہوگی ۔ جب ہم اس کی ایک تنگ گلی کو کھولیں گے تو کئی اور تنگ گلیاں سامنے آئیں گی اور اگر ہم اس کا ایک پہلو روشن کرلیں گے تو دس اور تاریک پہلو سامنے آئیں گے ۔ ہم ایک گرہ کھولیں گے اور مزید دس گرہیں لگ جائیں گی ۔ ہم ایک راہ کھولیں گے تو دس راہیں بند ہوجائیں گی اور اس طرح ہم ایسی بھول بھلیوں میں پڑجائیں گے کہ نکلنے کی راہ نہ ملے گی ۔ یہ وجہ ہے کہ اسلامی نظام حیات نے جاہلیت کی بری رسموں اور گندی عادات سے اپنے اصلاحی کام کا آغاز نہ کیا ۔ اسلام نے سب سے پہلے نظریاتی اصلاح سے کام شروع کیا ۔ سب سے پہلے یہ مطالبہ ہوا کہ تم کلمہ طیبہ کو قبول کرو اور مکہ کے ابتدائی تیرہ سال اسی نظریاتی اصلاح اور عقائد کی درستی میں صرف ہوئے ۔ ان طویل سالوں میں تحریک اسلامی کا نصب العین ہی شہادت لا الہ الا رہا ۔ اس عرصے میں لوگوں کو رب العالمین سے متعارف کرایا گیا ‘ ان کو صرف اسی کی بندگی کی دعوت دی جاتی رہی ‘ اور لوگوں کو صرف اسی کی بادشاہت کی طرف بلایا جاتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے نفوس صرف رب واحد کے لئے خالص ہوگئے ۔ ان کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اپنے لئے وہی کچھ پسند کرنے لگے جو ان کے لئے ان کا خدا پسند کرتا تھا ۔ جب نظریاتی اصلاح اس ڈگری تک پہنچ گئی تو اب فرائض کا آغاز ہوا ‘ مراسم عبودیت فرض ہوئے اب جاہلیت کی گندی عادات اور رسوم کی اصلاح کا آغاز ہوا ‘ اجتماعی طور طریقوں کے بدلنے کے احکام صادر ہونا شروع ہوئے ‘ اقتصادی اصلاحات نافذ کی گئیں ‘ نفسیاتی اور اخلاقی طرز عمل کی اصلاح شروع ہوئی اور یہ کام ایسے وقت میں شروع ہوا کہ ادھر سے اللہ کا حکم آتا ادھر سے مسلمان اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ‘ بغیر کسی حیل وحجت کے ‘ اس لئے کہ انہوں نے امر ونہی کے تمام اختیارات الہ العالمین کے سپرد کردیئے تھے ان کا اپنا کچھ اختیار نہ تھا ۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اوامر اور نواہی کی تلقین اس مرحلے کے بعد شروع ہوئی جب لوگوں نے مکمل انقیاد سے سر تسلیم خم کردیا ۔ ہر ایک مسلم نے اپنا سب کچھ اللہ کے حوالے کردیا ‘ اور یہ بات تسلیم کرلی کہ اللہ کے اوامر ونواہی کے بالمقابل اس کا کوئی اختیار نہیں ہے جیسا کہ استاد ابوالحسن علی ندوی نے کہا ہے وہ اپنی کتاب عالم اسلام میں مشرقیت اور مغربیت کی کشمکش میں کہتے ہیں ۔ ” کفر وشرک کا عظیم عقدہ کھل گیا ۔ بیشک یہ ایک عظیم عقدہ تھا ۔ اس عقدے کا کھلنا تھا کہ تمام عقدے کھل گئے ۔ حضور ﷺ نے ان کے ساتھ یہ پہلا جہاد کیا اور اس لئے انہیں مزید کسی جہاد کی ضرورت نہ رہی ۔ ہر امر اور ہر نہی کے لئے آپ کو کوئی جدوجہد کرنا نہ پڑی ۔ اس پہلے نظریاتی معرکے میں اسلام کو جاہلیت پر فتح نصیب ہوئی اور اس کے بعد ہر معرکے میں کامیابی نے آپ کا ساتھ دیا ۔ یہ اس لئے ہوا کہ یہ لوگ اپنے دلوں ‘ اپنی روح ‘ اپنے اعضاء کے ساتھ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ جب ان پر ہدایت نازل ہوتی تو وہ حضور ﷺ کے ساتھ مخالفت اور مخاصمت نہ کرتے تھے ۔ حضور ﷺ جو فیصلہ کرتے اس پر وہ اپنے دلوں میں کوئی خلجان نہ پاتے اور سوال کے فیصلے کے بعد ان کے لیے کوئی اختیار یا دائرہ اختیار نہ رہا تھا ۔ جب معاملات میں ان سے ضمیر اور عقیدے کے خلاف کوئی بات سرزد ہوجاتی تو وہ کھلے طور پر حضور ﷺ کو بتلا دیتے ‘ اور اپنے آپ کو سزا کے لئے پیش کردیتے ۔ جب ان سے غلطی ہوتی تو ان پر حد نافذ ہوجاتی ۔ تحریم شراب کا حکم آتا ہے ‘ شراب سے بھرے ہوئے جام ان کے ہاتھوں میں ہیں اور اللہ کا حکم حائل ہوجاتا ہے اور وہ ہونٹوں تک نہیں جاتے ۔ ہونٹ خشک اور جگر پیاسے رہ جاتے ہیں ۔ شراب کے مٹکے توڑ دیئے جاتے ہیں اور شراب مدینہ کی گلیوں میں سیلاب کی طرف بہ نکلتی ہے ۔ “ لیکن اس کے باوجود تحریم شراب اور اس کے ساتھ دوسری اشیاء کی تحریم کوئی اچانک کام نہ تھا ۔ اس آخری تحریم سے پہلے اس عام اور نہایت ہی گہری بیماری کا علاج بڑی تدریج کے ساتھ کیا گیا ‘ اس لئے کہ لوگ اس کے رسیا تھے اور یہ ان کے لئے ایک نہایت ہی عادی نشہ تھا ۔ اس کے ساتھ ان کے معاشرتی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہے ۔ شراب کی یہ آخری حرمت تیسرے یا چوتھے مرحلے میں نازل ہوئی ۔ پہلے مرحلے میں محض اس سمت میں ایک تیر پھینکا گیا جس کی طرف اسلامی نظام کا رجحان تھا سورة نحل کی ایک آیت میں کہا گیا : (آیت) ” ومن ثمرت النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا “۔ (16 : 67) ” کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے جن سے تم شراب اور رزق حسن حاصل کرتے ہو۔ “ یہاں سکر یعنی مسکرات کو رزق حسن کے مقابلے میں رکھا گیا جس سے یہ اشارہ مطلوب تھا کہ مسکرات رزق حسن کی تعریف میں نہیں آتے ۔ گویا مسکرات کوئی اور چیز ہے اور رزق حسن کوئی اور چیز ہے ۔ اس کے بعد سورة بقرہ میں مسلمانوں کی دینی وجدان کو شراب کے خلاف ایک قانونی اور منطقی استدلال کے ذریعے جگایا گیا ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” لوگ آپ سے شراب اور جوائے کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ کہہ دیں ان میں گناہ بھی ہے اور لوگوں کے لئے منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ انکے منافع سے بہت بڑا ہے ۔ “ اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا کہ جب ان سے ان کا گناہ بڑا ہے تو قلیل منافع کو نظر انداز کرکے ان کو ترک کرنا ہی اولی ہے ۔ اس لئے کہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی فائدہ تو ضرور ہوتا ہے ۔ البتہ حلال اور حرام ہونے کا دارومدار اکثریت پر ہوتا ہے ۔ نفع اور نقصان کا غلبہ دیکھا جاتا ہے ۔ تیسرا اقدام یہ کیا گیا کہ شراب نوشی کی عادت میں اوقات کی کمی کردی گئی اور شراب نوشی کو حالت صلوۃ کے منافی قرار دیا گیا ۔ سورة نساء کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی : (آیت) ”(یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (4 : 43) (اے ایمان لانے والوجب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تم جو کچھ کہو اسے سمجھو “۔ ) ۔ اب پانچ وقت کی نمازیں چونکہ اکثر باہم بہت ہی قریب ہیں اور ان کے درمیان اس قدر وقفہ نہیں ہوتا کہ کوئی شراب پئے اور نشے میں ہو کر پھر اسے افاقہ ہوجائے ‘ چناچہ ان اوقات کے اندر عملا شراب نوشی کا امکان ہی نہ رہا اور اس عمل کے لئے دائرہ تنگ ہوگیا ۔ خصوصا (صبوح) صبح کے وقت کی شراب اور ” غبوق “ یعنی بعد عصر اور بعد مغرب کی شراب کے لئے اوقات تنگ ہوگئے اس لئے کہ دور جاہلیت میں انہیں اوقات میں شراب پی جاتی تھی اور اس اسکیم کے ذریعے شریعت نے نشے کے اوقات میں خواہش کو توڑ دیا ۔ ایک مسلمان کے لئے یہ ایک بہترین تدبیر ثابت ہوئی اس لئے کہ اس وقت کسی مسلم کے بارے میں یہ سوچا بھی نہ جاسکتا تھا کہ وہ نماز چھوڑ کر شراب نوشی کرے گا ۔ اس وقت ہر مسلمان اپنے وقت پر نماز ادا کرتا تھا ۔ اس طرح شراب کا نشہ ٹوٹ جاتا ۔ اس کے بعد چوتھا اور آخری اقدام اس آیت کے ذریعے کیا گیا ۔ اب اس آخر وار کے لئے فضا تیار تھی ‘ لوگوں کے نفوس تیار تھے ‘ چناچہ حکم آتے ہیں لوگوں نے یقین کیا اور تعمیل کر ڈالی حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہا انہوں نے کہا اے اللہ ہمارے لئے شراب کے سلسلے میں کافی اور شافی بیان دے دے ۔ اس پر سورة بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ کہہ دیں ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ انکے نفع سے بہت زیادہ ہے ۔ “ حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان پر یہ آیت پڑھی گئی اس پر انہوں نے دوبارہ کہا اے اللہ ہمارے لئے شراب کے بارے میں کافی وشافی بیان نازل فرما ۔ اس پر سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ”(یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (4 : 43) (اے ایمان لانے والو نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم جو کچھ کہو اسے سمجھو “۔ ) جب حضرت عمر ؓ کو یہ آیت سنائی گئی تو انہوں نے پھر سوال کیا کہ اے اللہ شراب کے بارے میں کافی وشافی بیان نازل فرما۔ اس پر سورة مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون “۔ (5 : 91) شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے ۔ پھر کیا تم اس سے باز رہو گے ؟ ) اس پر حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا جی ہاں ہم رک گئے ‘ ہم رک گئے ۔ “ (اصحاب السنن) جب واقعہ احد کے بعد سن تین ہجری میں یہ آیات نازل ہوئیں تو اس کے سوا کسی اور اقدام کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ بس ایک منادی نے مدینہ میں اعلان کیا : ” اے قوم ! شراب حرام کردی گئی ۔ “ یہ سننا تھا کہ جس کے ہاتھ میں پیالہ تھا اس نے اسے توڑ دیا ‘ جس کے منہ گھونٹ تھا ‘ اس نے اسے تھوک دیا ‘ شراب کے مشکیزے پھاڑ ڈالے گئے اور شراب کے مٹکے توڑ دیئے گئے اور صورت حال میں اس طرح ہوگئی کہ گویا لوگوں نے نشے اور شراب کو کبھی دیکھا ہی نہ تھا ۔ اب ذرا قرآن کی آیات کی بناوٹ (Construction) دیکھئے اور وہ انداز تربیت دیکھئے جو قرآن نے اختیار فرمایا ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّہِ وَعَنِ الصَّلاَۃِ فَہَلْ أَنتُم مُّنتَہُونَ (91) وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَاحْذَرُواْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہ شراب جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے ، پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے ؟ ۔ اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی ۔ آغاز اور لہجہ وہ معروف آواز ہے جس میں لوگوں کو ان کے محبوب لقب اہل ایمان سے پکارا جاتا ہے ۔ (آیت) ” (یایھا الذین امنوا) ۔ یوں مسلمانوں کے جذبہ ایمان کو جگایا جاتا ہے اور انہیں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ ان کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آنے والے احکام کی مکمل اطاعت کریں ۔ اس کے بعد آیت کا انداز بیان نہایت ہی دو ٹوک اور حصر کے انداز میں آتا ہے ۔ (آیت) ” إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ ۔ ” یہ شراب جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں “ یہ گندے کام ہیں اور ان کاموں پر طیب کا اطلاق نہیں ہو سکتا ۔ اور اللہ نے صرف طیبات کو حلال کیا ہے اور پھر یہ شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا قدیمی دشمن ہے ۔ ایک مومن کے لئے تو بس یہی کافی ہے کہ اسے معلوم ہوجائے کہ کوئی کام شیطانی ہے ‘ یہ سنتے ہی وہ اس سے بدکتا ہے ‘ اس کا پورا وجود کانپ اٹھتا ہے اور وہ ڈر کر اس سے دور ہوجاتا ہے ۔ ایسے حالات میں اب قطعی ممانعت صادر ہوجاتی ہے لیکن اس ممانعت کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس پر عمل سے تمہیں فلاح اخروی نصیب ہوگی ۔ یہ ایک دوسری جھلکی ہے ‘ جس کے ذریعے یہ دکھایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کس طرح انسانی نفسیات کی گہرائیوں تک احساسات اتار دیتا ہے ۔ (آیت) ” فاجتنبوہ لعلکم تفلحون “۔ اس سے مکمل اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ “۔ اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس گندگی کو جاری رکھ کر شیطان اپنے کیا مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے : ” شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد اور نماز سے روک دے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے شیطان کا اصل منصوبہ اور یہ ہیں شیطان کے مقاصد جو وہ ان ناپاکیوں اور بداخلاقیوں کے ذریعے بروئے کار لانا چاہتا ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی صفوں کے درمیان بغض وعداوت پھیل جائے اور یہ کام وہ شراب وکباب اور جوئے بازی کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ دوسرا مقصد اس سے وہ یہ حاصل کرنا چاہتا ہے کہ اہل ایمان کو یاد الہی اور صلوۃ سے روکتا ہے ‘ اس سے بڑی سازش اور کیا ہو سکتی ہے ؟ یہ شیطانی مقاصد جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں ‘ یہ تو وہ واقعی امور ہیں جنہیں مسلمان اپنی تاریخ میں اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں جبکہ قرآن کریم بذات خود سچا ہے اور اسے کسی تاریخی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس مسئلے پر کسی بحث اور تفتیش کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شیطان کا یہ منصوبہ کس طرح کام کرتا ہے ۔ شراب نوشی سے انسان کا فہم اور ادراک ختم ہوجاتا ہے ۔ گوشت اور خون کا نقصان اور جذبات اور میلانات کا ہیجان اس کے فوری اثرات ہیں اور جوئے کی وجہ سے لوگوں کو جو مالی نقصان ہوتا ہے ‘ اس کی وجہ سے دلی بغض اور عداوت پیدا ہوتی ہے ‘ اس لئے کہ جوئے میں جو ہارتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ جیتنے والا اس کی دولت کو اس کی آنکھوں کے سامنے بطور مال غنیمت لے کر جارہا ہے جبکہ وہ شکست خوردہ اور دولت بریدہ ہے ۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے نتیجے میں بغض وعداوت کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے اگرچہ شرابی اور جوئے باز بظاہر یار اور دوست نظر آتے ہیں اور ایک ہی مجلس میں خوش وخرم نظر آتے ہیں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور پختہ ہم نشین ہیں۔ دوسری برائی کہ یہ دونوں چیزیں ذکر الہی سے روکنے والی ہیں اور نماز سے روکتی ہیں تو یہ ایسی باتیں ہیں جن کے ثبوت کی ضرورت نہیں ہے ۔ شراب بےہوش کرتی ہے اور جو امدہوش کرتا ہے اور جوئے میں جس طرح مت ماری جاتی ہے وہ شراب نوشی کی بےہوشی سے کم نہیں ہے ۔ جوئے باز کی دنیا اور شراب خور کی دنیا ایک ہی دنیا ہے اور یہ شراب وکباب اور جام وسبو سے آگے نہیں ہے ۔ جب بات یہاں تک آپہنچتی ہے اور یہ بتا دیا جاتا ہے کہ اس گندگی کے پھیلانے سے شیطان کے اصل مقاصد کیا ہیں تو ایک مومن کا دل جاگ اٹھتا ہے اور اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ وہ فیصلہ کن اقدام کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے اور جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تم اس سے باز آنے والے ہو ؟ تو ہر مومن کے دل میں وہی جواب تیار ہوچکا ہوتا ہے جو حضرت عمر ؓ نے دیا تھا ہاں ! بیشک ہم باز آگئے ‘ ہم باز آگئے ۔ اب بات مزید آگے بڑھتی ہے اور ایک آخری چوٹ لگائی جاتی ہے ۔ (آیت) ” وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَاحْذَرُواْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی ۔ “ یہ وہ اصول ہے جس کی طرف تمام معاملات لوٹتے ہیں ‘ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور یہی ہے اسلام ۔ اسلام کے اندر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بےقید اطاعت کے علاوہ کسی اور چیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اگر کوئی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے روگردانی کرے گا تو اس کے نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہوگا ۔ (آیت) ” ْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم بتا دینے کے سوا کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے “۔ اور رسول اللہ ﷺ نے تو اللہ کا پیغام بہت ہی اچھے طریقے سے پہنچا دیا ۔ اس صاف صاف بتا دینے کے بعد تمام تر ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگئی جو مخالفت کر رہے ہیں ۔ یہ بالواسطہ طور پر ایک سخت دھمکی ہے ۔ ایک مومن کا بدن کانپ اٹھتا ہے اس لئے کہ اہل ایمان اگر نافرمانی کرتے ہیں اور اللہ و رسول کی اطاعت نہیں کرتے تو گویا صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے تو تبلیغ کردی اور اپنا فریضہ اچھی طرح ادا کردیا اور ان کے معاملے سے فارغ ہوگئے ‘ ہاتھ جھاڑ دیئے ۔ اب اگر وہ عذاب کے مستحق ہوتے ہیں تو رسول ان سے عذاب کو دفعہ نہیں کرسکتے ۔ خصوصا جبکہ انہوں نے ان کی نافرمانی کی اور آپ کی اطاعت نہ کی اور اللہ سرکشوں اور نافرمانوں کو سزا دینے پر پوری طرح قادر ہے ۔ یہ اسلامی منہاج اصلاح ہے جو انسان کے دلوں میں اترتا ہے ‘ دلوں کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ‘ دلوں کے بند دروازے کھولتا ہے ۔ اس کے بعد پھر اس پر نہایت ہی خفیہ راستے اور نشیب و فراز کھلتے ہیں ۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم ذرا اس شراب کی تفصیلات دے دیں جسے یہاں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ امام ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے کہ ” ہر نشہ دلانے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ “ حضرت عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ کے منبر پر خطبہ دیا اور اس خطبے میں حضور ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت موجود تھی ” اے لوگو ‘ شراب کی حرمت کا حکم جس وقت نازل ہوا تمہیں معلوم ہے ‘ شراب پانچ چیزوں سے ہے ۔ انگور سے ‘ کھجور سے ‘ شہد سے ‘ گندم سے اور جو سے اور شراب کی تعریف ہے ” وہ جو عقل کو ڈھانپ لے۔ “ ان دونوں روایات سے یہ معلوم ہوا کہ ہر وہ چیز خمر کی تعریف میں آتی ہے جو بےہوش کرتی ہے ۔ خمر سے مراد شراب مسکر کی کوئی خاص قسم مراد نہیں ہے جو مشروب بےہوش کرتا ہو وہ خمر ہے ۔ کسی بھی نشہ آور چیز کے ذریعے انسان کی ہوش کا غائب ہونا ‘ اس دائمی بیداری کے ساتھ متضاد ہے جو اسلام نے ہر شخص کے لئے لازمی کردی ہے ۔ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ انسان بیدار رہے اور مسلسل اللہ کے ساتھ مربوط رہے ۔ ہر لحظہ وہ اللہ کی طرف دیکھتا رہے ۔ پھر اس مسلسل بیداری کی حالت میں وہ اس دنیا کی ترقی اور نشوونما میں لگا رہے ۔ کمزوری اور فساد سے اس زندگی کو بچاتا رہے اور اپنے نفس اپنے مال اور اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہرے ۔ جماعت مسلمہ کے امن وامان ‘ نیز اسلامی شریعت اور اسلامی نظام زندگی کا محافظ ہو تاکہ اس پر کوئی بھی دست درازی نہ کرسکے اس لئے کہ ایک مسلمان فرد صرف اپنی ذات اور اپنی لذتوں کے اندر غرق نہیں رہ سکتا ۔ اس پر اس قسم کے فرائض عائد کئے گئے ہیں جن کی ادائیگی کے لئے اسے ہر وقت بیدار رہنا پڑتا ہے ۔ کچھ فرائض اس پر اس کے رب کی جانب سے ہیں ‘ کچھ فرائض اپنے نفس کی طرف سے ہیں ‘ کچھ فرائض اس کے اہل و عیال کی طرف سے ہیں ‘ کچھ فرائض اس اسلامی سوسائٹی کی طرف سے ہیں جس میں وہ رہ رہا ہے ۔ اس کے بعد پوری انسانیت کی جانب سے بھی اس پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں تاکہ وہ اسے اسلامی دعوت دے اور راہ ہدایت سکھائے ۔ اس وجہ سے اسلام اس سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر وقت بیدار رہے ۔ نیز جب وہ پاک چیزوں سے بھی استفادہ کر رہا ہو تو بھی اس سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ بیدار رہے ‘ خود دار رہے اور لذات اور شہوات کا بندہ اور غلام نہ بن جائے ، اسے چاہئے کہ وہ اپنی خواہشات اور رغبات کو لگام میں رکھے ۔ وہ اپنی خواہشات کا بندہ و غلام نہ ہو بلکہ مالک اور آقا ہو ۔ جو لوگ مدہوشی میں پناہ لے کر اس دنیا سے اوجھل ہونا چاہتے ہیں ‘ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ مذکورہ بالافرائض میں سے کوئی فریضہ بھی ادا نہیں کرسکتے ۔ پھر اپنے آپ کو عالم مدہوشی میں داخل کرنے کی حقیقت کیا ہے ۔ کچھ وقت کے لئے نشے باز اپنے آپ کو حقیقی دنیا سے علیحدہ کردیتا ہے اور وہ ایک طرح حقیقی زندگی سے فرار کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ وہ ان تصورات کی دنیا میں پناہ لیتا ہے جو خمار اور نشے کی حالت میں ذہن میں آتے ہیں ۔ اسلام انسان کے لئے اس قسم کی موہوم دنیا اور خیالی تصورات میں گھومنے کو حرام قرار دیتا ہے ۔ اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ حقائق کا مقابلہ کریں ‘ حقائق میں زندہ رہیں اور اپنی زندگی کو حقائق پر چلائیں ۔ ان کی زندگی محض ادہام اور تخیلات پر قائم نہ ہو ۔ جب انسان حقائق کا سامنا کرتا ہے تب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے عزم و ارادے کا کیا حال ہے ۔ رہا یہ طریق کار کہ کوئی حقائق سے فرار اختیار کر کے محض تخیلات اور ادہام کی زندگی میں جالے تو یہ ناقص اور بیمار انداز حیات ہے ۔ اس صورت میں عزم کمزور ہوتا ہے ‘ ارادہ تحلیل ہوجاتا ہے ۔ اسلام انسان کے ارادے کو بہت ہی بڑی اہمیت دیتا ہے ‘ اور اس کی پالیسی یہ ہے کہ اس کا ارادہ آزاد ہو اور اس کے اوپر کوئی جابر اور قاہر قوت نہ ہو ۔ مذکورہ بالا اسلامی پالیسیاں ہی اس بات کے لئے کافی ہیں کہ تمام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دیا جائے اس لئے یہ ناپاک اور شیطانی اعمال ہیں اور ان سے انسانی زندگی میں فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا شراب تمام نجاستوں کی طرح نجس بھی ہے یا نہیں ہے ؟ یا صرف پینا حرام ہے ۔ پہلا قول کہ وہ نجس ہے یہ جمہور کا قول ہے اور دوسرا قول ربیعہ ‘ لیث ‘ مزنی (امام شافعی کے ساتھی) اور بعض متاخرین بغدادی علماء کا ہے ۔ بس ہمارے لئے اسی قدر ذکر کافی ہے ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں شراب کو حرام کردیا گیا اور یہ کہا گیا کہ یہ نجس ہے اور شیطانی عمل ہے اس وقت اسلامی سوسائٹی کے اندر دو سوال پیدا ہوئے ‘ ایک یہ کہ بعض نہایت ہی پاک فطرت اور محتاط صحابہ کرام کے یہ سوال اٹھایا کہ ہمارے ان ساتھیوں کا کیا بنے گا جنہوں نے ایسے حالات میں انتقال کیا کہ وہ شراب پیتے تھے ۔ بعض نے یہ کہا کہ ان لوگوں کا کیا بنے گا کہ جو احد میں شہید ہوئے اور ان کے پیٹوں میں شراب تھی ۔ (اس وقت شراب حرام نہ تھی) اور جو لوگ اسلامی صفوں میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنا چاہتے تھے انہوں نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ۔ ان کا مقصد یہ تھا اسلام کے عمل قانون سازی کے اندر شبہات اور شکوک پھیلائیں ۔ یہ لوگ یہ اشارہ دیتے کہ جو لوگ پہلے فوت ہوئے ان کا ایمان ضائع ہوگیا اس لئے کہ وہ تو شراب پیتے تھے جو ناپاک ہے اور اعمال شیطانیہ میں سے ہے ۔ ان میں سے بعض لوگ اس حال میں فوت ہوئے کہ ان کے پیٹ میں یہ ناپاک شے موجود تھی ۔ ان دونوں قسم کے خدشات و اعتراضات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” لَیْْسَ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُواْ إِذَا مَا اتَّقَواْ وَّآمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَواْ وَّآمَنُواْ ثُمَّ اتَّقَواْ وَّأَحْسَنُواْ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (93) جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا ‘ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں ‘ پھر جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الہی ہو اسے مانیں ‘ پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں ۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے ۔ ‘ ‘ اس آیت میں فیصلہ یہ کیا گیا کہ جسے حرام نہ کیا گیا ہو ‘ وہ حرام نہیں ہے ۔ اور یہ کہ تحریم کا اطلاق حکم الہی کے بعد ہوتا ہے ۔ پہلے نہیں ہوتا اور یہ کہ تحریم موثر بماضی نہ ہوگی ‘ لہذا کوئی سزا اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کوئی نص وارد نہ ہو ‘ چاہے یہ سزا دنیا کی سزا ہو یا آخرت کی سزا ‘ اس لئے کہ اللہ کا کلام ہی وجود میں لاتا ہے ۔ جو لوگ مر گئے ‘ شراب پیتے رہے یا ان کے پیٹ میں شراب تھی اور اس وقت حرام نہ تھی تو ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ اس لئے کہ انہوں نے کوئی حرام چیز استعمال نہیں کی ۔ نہ انہوں نے کوئی نافرمانی کی ۔ وہ تو اللہ سے ڈرنے والے تھے ۔ معاصی سے بچنے والے تھے ‘ نیک کام کرتے تھے اور اللہ سے اچھے انجام کی امید رکھتے تھے ‘ ان کو اچھی طرح یقین تھا کہ اللہ ان کی نیتوں سے خوب واقف ہے ‘ ان کے اعمال کو جانتا ہے ۔ جن لوگوں کے حالات ایسے ہوں وہ محرمات کا ارتکاب کیسے کرسکتے ہیں اور وہ معصیت کا ارتکاب کیسے کرسکتے ہیں۔ ہم یہاں ان مباحث میں پڑنا ہی نہیں چاہتے ‘ جو معتزلہ نے اس حکم کے بارے میں کیے ہیں۔ معتزلہ نے یہ بحثیں کیں کہ آیا شراب کے اندر نجاست ذاتی ہے یا اس کے اندر نجاست اللہ کی اس آیت کی وجہ سے پیدا ہوگئی ۔ نیز تمام محرمات کے اندر حرمت ذاتی ہے یا وارد حکم کی وجہ سے حرمت لاحق ہوجاتی ہے ۔ یہ بےنتیجہ بحث ہے اور اسلامی شعور اس بحث کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو حرام قرار دیتے ہیں ‘ تو یہ بات اللہ کے علم میں ہوتی ہے کہ اللہ اس چیز کو کیوں حرام قرار دے رہے ہیں چاہے اللہ حرمت کے سبب کی تصریح کرے یا نہ کرے ‘ چاہے حرمت اس لئے ہو کہ سبب حرام چیز کی ذات کے اندر ہو یا اس چیز کو استعمال کرنے والے کے اندر سبب حرمت ہو یا محض سوسائٹی کے مفادات کے لئے اسے حرام قرار دیا گیا ہو ‘ تمام چیزوں کا علمتو صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے ۔ اللہ کے احکام کی اطاعت واجب ہے اور احکام آنے کے بعد اس قسم کے مباحث کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کا مزاج ہی واقعیت پسندانہ ہے لہذا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اگر حرمت کسی ایسے سبب کی وجہ سے تھی جو محرم کی ذات میں تھی تو پھر حرمت سے پہلے وہ چیز حلال کیوں تھی ؟ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ایسی مصلحت ہو جس کی وجہ سے اللہ نے کچھ عرصہ کے لئے اسے حرام قرار نہ دیا ہو ‘ ہر بات اللہ کے اختیار میں ہے ۔ یہی اس کی حاکمیت کا تقاضا ہے ۔ یہ بات نہیں ہے کہ انسان کسی چیز کو اچھا سمجھے تو اچھی ہے برا سمجھے تو بری ہے ۔ بعض اوقات انسان کسی چیز کو حکم کی علت سمجھتا ہے اور وہ علت نہیں ہوتی ۔ اللہ کی بارگاہ میں باادب طریقہ یہی ہے کہ حکم کو سنا جائے ‘ قبول کیا جائے اور نافذ کیا جائے ‘ چاہے کوئی اس کی علت اور حکمت کو سمجھے یا نہ سمجھے ۔ علت معلوم ہو یا خفی ہو ‘ اس کو اللہ ہی جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے ۔ اسلامی شریعت پر عمل کی بنیاد اللہ کی بندگی اور غلامی کے اصول پر ہے ۔ اللہ کی اطاعت اس لئے ہے کہ ہم اللہ کے غلام ہیں ‘ اور یہی ہے اسلام بمعنی سرتسلیم خم کرنا ۔ یہ تو اطاعت کے بعد کا درجہ ہے کہ کوئی عقلمند شریعت کی حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اپنی سمجھ کے مطابق یہ کام وہ تمام اوامر ونواہی میں کرسکتا ہے ‘ چاہے وہ حکمتیں منصوص ہوں یامنصوص نہ ہوں ‘ اسے عقل انسانی سمجھ سکتی ہو یا نہ سمجھ سکتی ہو ۔ اس لئے کہ شریعت اسلامی کے متحقق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کنندہ انسان نہیں ہے ۔ یہ اللہ ہے جو یہ فیصلہ کرسکتا ہے ۔ جب اللہ نے حکم فرما دیا یا منع کردیا تو اطاعت لازم ہوگئی ۔ اگر اللہ اسلامی شریعت کے بارے میں آخری فیصلہ کنند عقل انسانی کو قرار دیدیتا تو عقل انسانی کا مقام اسلامی شریعت سے اونچا ہوجاتا ۔ اس صورت میں مقام الوہیت اور مقام عبودیت کے پھر فرق کیا رہ جاتا ۔ اب ذرا عربیت کے اعتبار سے اس آیت کی ترکیب (Construction) پر بات ہوجائے ۔ اس آیت میں تقوی کو تین مرتبہ دہرایا گیا ہے ۔ (آیت) ” اتقوا وامنوا وعملوا الصلحت “ یعنی تقوی ایمان اور عمل صالح ۔ پھر (اتقوا وامنوا “ ) تقوی اور ایمان فقط ۔ پھر (اتقوا واحسنوا) تقوی اور احسان کا ذکر کیا ہے ۔ اس عبارت میں اس انداز میں تقوی کی تکرار کیوں کی گئی ۔ اس سلسلے میں کسی مفسر کی توجیہ تشفی بخش نہیں رہی ہے ۔ اسی طرح فی ظلال القرآن کے پہلے ایڈیشن میں ‘ میں خود بھی کوئی تشفی بخش توجیہ نہیں کرسکا اور ابھی تک کوئی تسلی بخش بات سمجھ میں نہیں آئی ہے ۔ تفاسیر کی توجیہات میں سے دوسروں کے مقابلے میں جو بہتر توجیہ مجھے ملی ہے وہ ابن جریر کی ہے اگرچہ تشفی بخش نہیں ہے وہ کہتے ہیں : ” پہلے تقوی سے مراد یہ ہے کہ خدا ترسی کے ساتھ اللہ کے حکم کو قبول کیا جائے ‘ اس کی تصدیق کیا جائے اور اس پر دینداری کے ساتھ عمل کیا جائے ‘ دوسرے تقوی سے مراد یہ ہے کہ خدا خوفی سے اس پر ثابت قدم رہا جائے ‘ اور تیسرے سے مراد وہ خدا خوفی ہے جس میں احسان اور نوافل کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے ۔ اس کتاب کے طبع اول میں خود میں نے جو کچھ کہا تھا ‘ وہ یہ تھا ۔ ” یہ مزید تفصیل دے کر تاکید کرنا ہے ۔ پہلے فقرے میں ایمان ‘ عمل صالح اور تقوی کا ذکر ہوا ہے ‘ دوسرے فقرے میں تقوی کا ذکر ایمان کے ساتھ ہوا اور تیسرے میں تقوی اور احسان یعنی عمل صالح کے ساتھ ذکر ہوا ۔ اس تاکید کا مقصد یہ ہے کہ تمام امور کا مدار تقوی پر ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اعمال کی اصل قدروقیمت اس باطنی شعور کی وجہ سے ہوتی ہے جو انکی پشت پر ہوتا ہے اور یہ باطنی شعور تقوی ہے ‘ جس کا اظہار خدا ترسی کے ذریعے ہوتا ہے اور اس شعور کی وجہ سے انسان اللہ کی ذات کے ساتھ ہر وقت جڑا رہتا ہے ۔ اللہ پر ایمان ‘ اس کے اوامر وانواہی کی تصدیق اور عمل صالح جو اس باطنی عقیدے اور خفیہ شعور کا ترجمان ہوتا ہے ۔ اس عمل صالح اور اس باطنی شعور کے درمیان ایک ربط ہوتا ہے ۔ یہ تمام باطنی شعور اور تقوی اصل مطلوب ہیں اور انہی پر مدار حکم ہے ۔ اعمال کی ظاہری اشکال وصور پر مدار حکم نہیں ہے ۔ یہ بات کہ اصل مدار نیت ‘ روح اور باطنی شعور پر ہے اس قدر اہم اور اصولی بات ہے کہ اس کے لئے بار بار تکرار کی ضرورت ہے ۔ ابھی تک میں خود اپنی بات سے بھی مطمئن نہیں ہوں لیکن اسکے سوا کوئی اور بات بھی میری سمجھ میں نہیں آتی ہے ۔ واللہ ھو المستعان۔ آگے بات بھی حلال و حرام کے موضوع پر ہی جاری ہے ۔ حالت احرام میں شکار کے مسئلے پر بات ہو رہی ہے ۔ شکار کے قتل کا کفارہ ‘ یہ حکمت کہ اللہ تعالیٰ کے بیت ‘ اشہر حرام ‘ ہدی اور پٹے ڈالے ہوئے جانوروں کا احترام کیوں فرض کیا ہے ؟ اور اس سورة کے آغاز میں ان چیزوں کو چھیڑنے سے منع کیا گیا ہے ۔ آخر میں ایک فرد مسلم اور ایک اسلامی سوسائٹی کے لئے ایک عام اصول اور پیمانے کا ذکر کردیا جاتا ہے ۔ ایسا پیمانہ کہ اس میں پاک چیز کی قدرو قیمت زیادہ ہے اگرچہ قلیل ہو اور ناپاک چیز اگرچہ بہت ہی زیادہ ہو اس کی کوئی قدر نہیں ہے ۔

المائدة 5:92

(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔ شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس طرح اس قسم کی مجالس میں سب کے لئے دلچسپی کا سامان ہوتا ۔ یہ ذبیحے وہ بتوں کے نام اور آستانوں پر کرتے تھے اور ان ذبیحوں کا خون بتوں کا خون بتوں پر ڈالتے تھے ۔ نیز وہ اپنے الہوں اور کاہنوں کے نام پر بھی بعض جانوروں کو ذبح کرتے تھے ۔ شراب نوشی اور دوسرے مواقع پر جو جانور ذبح کرتے تھے ‘ ان کے گوشت کو پھر وہ پانسوں کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ۔ ہر شخص اپنے پانسے کے مقررہ حصے کا گوشت لیتا تھا ‘ جس کا پانسہ اونچا نکلا اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا ‘ یہاں تک کہ بعض اوقات جانور ذبح کرنے والے کے حصے میں کچھ نہ آتا اور وہ مکمل خسارے میں پڑجاتا ۔ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رسوم اور عادات باہم مربوط اور متعلق تھیں اور یہ عادات انہیں جاہلی طریقوں پر جاری تھیں ۔۔۔ اسلامی نظام زندگی نے تحریک کا آغاز ان رسوم کی اصلاح سے شروع نہیں کیا اس لئے کہ یہ رسوم اور عادات بعض فاسد نظریاتی تصورات پر قائم تھیں ۔ اگر محض اصلاح رسوم کی سطحی تحریک شروع کردی جاتی اور اصل اعتقادی نظریات کی بیخ کنی نہ کی جاتی تو یہ کام نہایت ہی سطحی ہوتا ۔ اسلام سے ہر گز یہ توقع نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ جڑوں کو چھوڑ کر محض سطحی امور تک اپنے آپ کو محدود کر دے ۔ اسلام نے سب سے پہلے نفس انسانی کی پہلی گرہ یعنی عقائد ونظریات پر کلام کیا ۔ اس نے سب سے پہلے جاہلی عقائد و تصورات کو لیا اور انہوں اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورات کو لیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورار کے فساد کو ظاہر کیا اور ان کو ایک الہ حق کے عقیدے پر مجتمع کردیا ۔ جب ان کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ توحید چھا گیا تو اب وہ فطری طور پر سوچنے کے لئے تیار ہوگئے کہ انکا الہ الحق کس بات کو پسند نہیں کرتا ۔ اس نظریاتی اصلاح سے پہلے وہ کب اپنی عادات ورسومات کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو سکتے تھے وہ نظریاتی تبدیلی کے بغیر اپنے جاہلی پسندیدہ طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اگرچہ انہیں بار بار نصیحت کی جاتی ۔ فطرت کی گرہ درحقیقت عقیدے کی گرہ ہوتی ہے ۔ جب تک سب سے پہلے اس گرہ اور عقدے کو حل نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی اخلاقی تعلیم ‘ کوئی تہذیب اخلاق کا پروگرام اور کوئی اجتماعی اصلاحی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ نظریہ دراصل انسانی فطرت کی کنجی ہے ۔ جب تک یہ کنجی لگا کر فطرت انسانی کو کھول کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک اس کے نہاں خانے اور اس کی راہ ورسم کی تہ تک رسائی ممکن نہ ہوگی ۔ جب ہم اس کی ایک تنگ گلی کو کھولیں گے تو کئی اور تنگ گلیاں سامنے آئیں گی اور اگر ہم اس کا ایک پہلو روشن کرلیں گے تو دس اور تاریک پہلو سامنے آئیں گے ۔ ہم ایک گرہ کھولیں گے اور مزید دس گرہیں لگ جائیں گی ۔ ہم ایک راہ کھولیں گے تو دس راہیں بند ہوجائیں گی اور اس طرح ہم ایسی بھول بھلیوں میں پڑجائیں گے کہ نکلنے کی راہ نہ ملے گی ۔ یہ وجہ ہے کہ اسلامی نظام حیات نے جاہلیت کی بری رسموں اور گندی عادات سے اپنے اصلاحی کام کا آغاز نہ کیا ۔ اسلام نے سب سے پہلے نظریاتی اصلاح سے کام شروع کیا ۔ سب سے پہلے یہ مطالبہ ہوا کہ تم کلمہ طیبہ کو قبول کرو اور مکہ کے ابتدائی تیرہ سال اسی نظریاتی اصلاح اور عقائد کی درستی میں صرف ہوئے ۔ ان طویل سالوں میں تحریک اسلامی کا نصب العین ہی شہادت لا الہ الا رہا ۔ اس عرصے میں لوگوں کو رب العالمین سے متعارف کرایا گیا ‘ ان کو صرف اسی کی بندگی کی دعوت دی جاتی رہی ‘ اور لوگوں کو صرف اسی کی بادشاہت کی طرف بلایا جاتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے نفوس صرف رب واحد کے لئے خالص ہوگئے ۔ ان کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اپنے لئے وہی کچھ پسند کرنے لگے جو ان کے لئے ان کا خدا پسند کرتا تھا ۔ جب نظریاتی اصلاح اس ڈگری تک پہنچ گئی تو اب فرائض کا آغاز ہوا ‘ مراسم عبودیت فرض ہوئے اب جاہلیت کی گندی عادات اور رسوم کی اصلاح کا آغاز ہوا ‘ اجتماعی طور طریقوں کے بدلنے کے احکام صادر ہونا شروع ہوئے ‘ اقتصادی اصلاحات نافذ کی گئیں ‘ نفسیاتی اور اخلاقی طرز عمل کی اصلاح شروع ہوئی اور یہ کام ایسے وقت میں شروع ہوا کہ ادھر سے اللہ کا حکم آتا ادھر سے مسلمان اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ‘ بغیر کسی حیل وحجت کے ‘ اس لئے کہ انہوں نے امر ونہی کے تمام اختیارات الہ العالمین کے سپرد کردیئے تھے ان کا اپنا کچھ اختیار نہ تھا ۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اوامر اور نواہی کی تلقین اس مرحلے کے بعد شروع ہوئی جب لوگوں نے مکمل انقیاد سے سر تسلیم خم کردیا ۔ ہر ایک مسلم نے اپنا سب کچھ اللہ کے حوالے کردیا ‘ اور یہ بات تسلیم کرلی کہ اللہ کے اوامر ونواہی کے بالمقابل اس کا کوئی اختیار نہیں ہے جیسا کہ استاد ابوالحسن علی ندوی نے کہا ہے وہ اپنی کتاب عالم اسلام میں مشرقیت اور مغربیت کی کشمکش میں کہتے ہیں ۔ ” کفر وشرک کا عظیم عقدہ کھل گیا ۔ بیشک یہ ایک عظیم عقدہ تھا ۔ اس عقدے کا کھلنا تھا کہ تمام عقدے کھل گئے ۔ حضور ﷺ نے ان کے ساتھ یہ پہلا جہاد کیا اور اس لئے انہیں مزید کسی جہاد کی ضرورت نہ رہی ۔ ہر امر اور ہر نہی کے لئے آپ کو کوئی جدوجہد کرنا نہ پڑی ۔ اس پہلے نظریاتی معرکے میں اسلام کو جاہلیت پر فتح نصیب ہوئی اور اس کے بعد ہر معرکے میں کامیابی نے آپ کا ساتھ دیا ۔ یہ اس لئے ہوا کہ یہ لوگ اپنے دلوں ‘ اپنی روح ‘ اپنے اعضاء کے ساتھ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ جب ان پر ہدایت نازل ہوتی تو وہ حضور ﷺ کے ساتھ مخالفت اور مخاصمت نہ کرتے تھے ۔ حضور ﷺ جو فیصلہ کرتے اس پر وہ اپنے دلوں میں کوئی خلجان نہ پاتے اور سوال کے فیصلے کے بعد ان کے لیے کوئی اختیار یا دائرہ اختیار نہ رہا تھا ۔ جب معاملات میں ان سے ضمیر اور عقیدے کے خلاف کوئی بات سرزد ہوجاتی تو وہ کھلے طور پر حضور ﷺ کو بتلا دیتے ‘ اور اپنے آپ کو سزا کے لئے پیش کردیتے ۔ جب ان سے غلطی ہوتی تو ان پر حد نافذ ہوجاتی ۔ تحریم شراب کا حکم آتا ہے ‘ شراب سے بھرے ہوئے جام ان کے ہاتھوں میں ہیں اور اللہ کا حکم حائل ہوجاتا ہے اور وہ ہونٹوں تک نہیں جاتے ۔ ہونٹ خشک اور جگر پیاسے رہ جاتے ہیں ۔ شراب کے مٹکے توڑ دیئے جاتے ہیں اور شراب مدینہ کی گلیوں میں سیلاب کی طرف بہ نکلتی ہے ۔ “ لیکن اس کے باوجود تحریم شراب اور اس کے ساتھ دوسری اشیاء کی تحریم کوئی اچانک کام نہ تھا ۔ اس آخری تحریم سے پہلے اس عام اور نہایت ہی گہری بیماری کا علاج بڑی تدریج کے ساتھ کیا گیا ‘ اس لئے کہ لوگ اس کے رسیا تھے اور یہ ان کے لئے ایک نہایت ہی عادی نشہ تھا ۔ اس کے ساتھ ان کے معاشرتی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہے ۔ شراب کی یہ آخری حرمت تیسرے یا چوتھے مرحلے میں نازل ہوئی ۔ پہلے مرحلے میں محض اس سمت میں ایک تیر پھینکا گیا جس کی طرف اسلامی نظام کا رجحان تھا سورة نحل کی ایک آیت میں کہا گیا : (آیت) ” ومن ثمرت النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا “۔ (16 : 67) ” کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے جن سے تم شراب اور رزق حسن حاصل کرتے ہو۔ “ یہاں سکر یعنی مسکرات کو رزق حسن کے مقابلے میں رکھا گیا جس سے یہ اشارہ مطلوب تھا کہ مسکرات رزق حسن کی تعریف میں نہیں آتے ۔ گویا مسکرات کوئی اور چیز ہے اور رزق حسن کوئی اور چیز ہے ۔ اس کے بعد سورة بقرہ میں مسلمانوں کی دینی وجدان کو شراب کے خلاف ایک قانونی اور منطقی استدلال کے ذریعے جگایا گیا ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” لوگ آپ سے شراب اور جوائے کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ کہہ دیں ان میں گناہ بھی ہے اور لوگوں کے لئے منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ انکے منافع سے بہت بڑا ہے ۔ “ اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا کہ جب ان سے ان کا گناہ بڑا ہے تو قلیل منافع کو نظر انداز کرکے ان کو ترک کرنا ہی اولی ہے ۔ اس لئے کہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی فائدہ تو ضرور ہوتا ہے ۔ البتہ حلال اور حرام ہونے کا دارومدار اکثریت پر ہوتا ہے ۔ نفع اور نقصان کا غلبہ دیکھا جاتا ہے ۔ تیسرا اقدام یہ کیا گیا کہ شراب نوشی کی عادت میں اوقات کی کمی کردی گئی اور شراب نوشی کو حالت صلوۃ کے منافی قرار دیا گیا ۔ سورة نساء کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی : (آیت) ”(یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (4 : 43) (اے ایمان لانے والوجب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تم جو کچھ کہو اسے سمجھو “۔ ) ۔ اب پانچ وقت کی نمازیں چونکہ اکثر باہم بہت ہی قریب ہیں اور ان کے درمیان اس قدر وقفہ نہیں ہوتا کہ کوئی شراب پئے اور نشے میں ہو کر پھر اسے افاقہ ہوجائے ‘ چناچہ ان اوقات کے اندر عملا شراب نوشی کا امکان ہی نہ رہا اور اس عمل کے لئے دائرہ تنگ ہوگیا ۔ خصوصا (صبوح) صبح کے وقت کی شراب اور ” غبوق “ یعنی بعد عصر اور بعد مغرب کی شراب کے لئے اوقات تنگ ہوگئے اس لئے کہ دور جاہلیت میں انہیں اوقات میں شراب پی جاتی تھی اور اس اسکیم کے ذریعے شریعت نے نشے کے اوقات میں خواہش کو توڑ دیا ۔ ایک مسلمان کے لئے یہ ایک بہترین تدبیر ثابت ہوئی اس لئے کہ اس وقت کسی مسلم کے بارے میں یہ سوچا بھی نہ جاسکتا تھا کہ وہ نماز چھوڑ کر شراب نوشی کرے گا ۔ اس وقت ہر مسلمان اپنے وقت پر نماز ادا کرتا تھا ۔ اس طرح شراب کا نشہ ٹوٹ جاتا ۔ اس کے بعد چوتھا اور آخری اقدام اس آیت کے ذریعے کیا گیا ۔ اب اس آخر وار کے لئے فضا تیار تھی ‘ لوگوں کے نفوس تیار تھے ‘ چناچہ حکم آتے ہیں لوگوں نے یقین کیا اور تعمیل کر ڈالی حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہا انہوں نے کہا اے اللہ ہمارے لئے شراب کے سلسلے میں کافی اور شافی بیان دے دے ۔ اس پر سورة بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ کہہ دیں ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ انکے نفع سے بہت زیادہ ہے ۔ “ حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان پر یہ آیت پڑھی گئی اس پر انہوں نے دوبارہ کہا اے اللہ ہمارے لئے شراب کے بارے میں کافی وشافی بیان نازل فرما ۔ اس پر سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ”(یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (4 : 43) (اے ایمان لانے والو نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم جو کچھ کہو اسے سمجھو “۔ ) جب حضرت عمر ؓ کو یہ آیت سنائی گئی تو انہوں نے پھر سوال کیا کہ اے اللہ شراب کے بارے میں کافی وشافی بیان نازل فرما۔ اس پر سورة مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون “۔ (5 : 91) شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے ۔ پھر کیا تم اس سے باز رہو گے ؟ ) اس پر حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا جی ہاں ہم رک گئے ‘ ہم رک گئے ۔ “ (اصحاب السنن) جب واقعہ احد کے بعد سن تین ہجری میں یہ آیات نازل ہوئیں تو اس کے سوا کسی اور اقدام کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ بس ایک منادی نے مدینہ میں اعلان کیا : ” اے قوم ! شراب حرام کردی گئی ۔ “ یہ سننا تھا کہ جس کے ہاتھ میں پیالہ تھا اس نے اسے توڑ دیا ‘ جس کے منہ گھونٹ تھا ‘ اس نے اسے تھوک دیا ‘ شراب کے مشکیزے پھاڑ ڈالے گئے اور شراب کے مٹکے توڑ دیئے گئے اور صورت حال میں اس طرح ہوگئی کہ گویا لوگوں نے نشے اور شراب کو کبھی دیکھا ہی نہ تھا ۔ اب ذرا قرآن کی آیات کی بناوٹ (Construction) دیکھئے اور وہ انداز تربیت دیکھئے جو قرآن نے اختیار فرمایا ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّہِ وَعَنِ الصَّلاَۃِ فَہَلْ أَنتُم مُّنتَہُونَ (91) وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَاحْذَرُواْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہ شراب جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے ، پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے ؟ ۔ اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی ۔ آغاز اور لہجہ وہ معروف آواز ہے جس میں لوگوں کو ان کے محبوب لقب اہل ایمان سے پکارا جاتا ہے ۔ (آیت) ” (یایھا الذین امنوا) ۔ یوں مسلمانوں کے جذبہ ایمان کو جگایا جاتا ہے اور انہیں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ ان کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آنے والے احکام کی مکمل اطاعت کریں ۔ اس کے بعد آیت کا انداز بیان نہایت ہی دو ٹوک اور حصر کے انداز میں آتا ہے ۔ (آیت) ” إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ ۔ ” یہ شراب جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں “ یہ گندے کام ہیں اور ان کاموں پر طیب کا اطلاق نہیں ہو سکتا ۔ اور اللہ نے صرف طیبات کو حلال کیا ہے اور پھر یہ شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا قدیمی دشمن ہے ۔ ایک مومن کے لئے تو بس یہی کافی ہے کہ اسے معلوم ہوجائے کہ کوئی کام شیطانی ہے ‘ یہ سنتے ہی وہ اس سے بدکتا ہے ‘ اس کا پورا وجود کانپ اٹھتا ہے اور وہ ڈر کر اس سے دور ہوجاتا ہے ۔ ایسے حالات میں اب قطعی ممانعت صادر ہوجاتی ہے لیکن اس ممانعت کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس پر عمل سے تمہیں فلاح اخروی نصیب ہوگی ۔ یہ ایک دوسری جھلکی ہے ‘ جس کے ذریعے یہ دکھایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کس طرح انسانی نفسیات کی گہرائیوں تک احساسات اتار دیتا ہے ۔ (آیت) ” فاجتنبوہ لعلکم تفلحون “۔ اس سے مکمل اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ “۔ اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس گندگی کو جاری رکھ کر شیطان اپنے کیا مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے : ” شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد اور نماز سے روک دے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے شیطان کا اصل منصوبہ اور یہ ہیں شیطان کے مقاصد جو وہ ان ناپاکیوں اور بداخلاقیوں کے ذریعے بروئے کار لانا چاہتا ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی صفوں کے درمیان بغض وعداوت پھیل جائے اور یہ کام وہ شراب وکباب اور جوئے بازی کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ دوسرا مقصد اس سے وہ یہ حاصل کرنا چاہتا ہے کہ اہل ایمان کو یاد الہی اور صلوۃ سے روکتا ہے ‘ اس سے بڑی سازش اور کیا ہو سکتی ہے ؟ یہ شیطانی مقاصد جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں ‘ یہ تو وہ واقعی امور ہیں جنہیں مسلمان اپنی تاریخ میں اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں جبکہ قرآن کریم بذات خود سچا ہے اور اسے کسی تاریخی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس مسئلے پر کسی بحث اور تفتیش کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شیطان کا یہ منصوبہ کس طرح کام کرتا ہے ۔ شراب نوشی سے انسان کا فہم اور ادراک ختم ہوجاتا ہے ۔ گوشت اور خون کا نقصان اور جذبات اور میلانات کا ہیجان اس کے فوری اثرات ہیں اور جوئے کی وجہ سے لوگوں کو جو مالی نقصان ہوتا ہے ‘ اس کی وجہ سے دلی بغض اور عداوت پیدا ہوتی ہے ‘ اس لئے کہ جوئے میں جو ہارتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ جیتنے والا اس کی دولت کو اس کی آنکھوں کے سامنے بطور مال غنیمت لے کر جارہا ہے جبکہ وہ شکست خوردہ اور دولت بریدہ ہے ۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے نتیجے میں بغض وعداوت کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے اگرچہ شرابی اور جوئے باز بظاہر یار اور دوست نظر آتے ہیں اور ایک ہی مجلس میں خوش وخرم نظر آتے ہیں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور پختہ ہم نشین ہیں۔ دوسری برائی کہ یہ دونوں چیزیں ذکر الہی سے روکنے والی ہیں اور نماز سے روکتی ہیں تو یہ ایسی باتیں ہیں جن کے ثبوت کی ضرورت نہیں ہے ۔ شراب بےہوش کرتی ہے اور جو امدہوش کرتا ہے اور جوئے میں جس طرح مت ماری جاتی ہے وہ شراب نوشی کی بےہوشی سے کم نہیں ہے ۔ جوئے باز کی دنیا اور شراب خور کی دنیا ایک ہی دنیا ہے اور یہ شراب وکباب اور جام وسبو سے آگے نہیں ہے ۔ جب بات یہاں تک آپہنچتی ہے اور یہ بتا دیا جاتا ہے کہ اس گندگی کے پھیلانے سے شیطان کے اصل مقاصد کیا ہیں تو ایک مومن کا دل جاگ اٹھتا ہے اور اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ وہ فیصلہ کن اقدام کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے اور جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تم اس سے باز آنے والے ہو ؟ تو ہر مومن کے دل میں وہی جواب تیار ہوچکا ہوتا ہے جو حضرت عمر ؓ نے دیا تھا ہاں ! بیشک ہم باز آگئے ‘ ہم باز آگئے ۔ اب بات مزید آگے بڑھتی ہے اور ایک آخری چوٹ لگائی جاتی ہے ۔ (آیت) ” وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَاحْذَرُواْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی ۔ “ یہ وہ اصول ہے جس کی طرف تمام معاملات لوٹتے ہیں ‘ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور یہی ہے اسلام ۔ اسلام کے اندر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بےقید اطاعت کے علاوہ کسی اور چیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اگر کوئی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے روگردانی کرے گا تو اس کے نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہوگا ۔ (آیت) ” ْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم بتا دینے کے سوا کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے “۔ اور رسول اللہ ﷺ نے تو اللہ کا پیغام بہت ہی اچھے طریقے سے پہنچا دیا ۔ اس صاف صاف بتا دینے کے بعد تمام تر ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگئی جو مخالفت کر رہے ہیں ۔ یہ بالواسطہ طور پر ایک سخت دھمکی ہے ۔ ایک مومن کا بدن کانپ اٹھتا ہے اس لئے کہ اہل ایمان اگر نافرمانی کرتے ہیں اور اللہ و رسول کی اطاعت نہیں کرتے تو گویا صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے تو تبلیغ کردی اور اپنا فریضہ اچھی طرح ادا کردیا اور ان کے معاملے سے فارغ ہوگئے ‘ ہاتھ جھاڑ دیئے ۔ اب اگر وہ عذاب کے مستحق ہوتے ہیں تو رسول ان سے عذاب کو دفعہ نہیں کرسکتے ۔ خصوصا جبکہ انہوں نے ان کی نافرمانی کی اور آپ کی اطاعت نہ کی اور اللہ سرکشوں اور نافرمانوں کو سزا دینے پر پوری طرح قادر ہے ۔ یہ اسلامی منہاج اصلاح ہے جو انسان کے دلوں میں اترتا ہے ‘ دلوں کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ‘ دلوں کے بند دروازے کھولتا ہے ۔ اس کے بعد پھر اس پر نہایت ہی خفیہ راستے اور نشیب و فراز کھلتے ہیں ۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم ذرا اس شراب کی تفصیلات دے دیں جسے یہاں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ امام ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے کہ ” ہر نشہ دلانے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ “ حضرت عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ کے منبر پر خطبہ دیا اور اس خطبے میں حضور ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت موجود تھی ” اے لوگو ‘ شراب کی حرمت کا حکم جس وقت نازل ہوا تمہیں معلوم ہے ‘ شراب پانچ چیزوں سے ہے ۔ انگور سے ‘ کھجور سے ‘ شہد سے ‘ گندم سے اور جو سے اور شراب کی تعریف ہے ” وہ جو عقل کو ڈھانپ لے۔ “ ان دونوں روایات سے یہ معلوم ہوا کہ ہر وہ چیز خمر کی تعریف میں آتی ہے جو بےہوش کرتی ہے ۔ خمر سے مراد شراب مسکر کی کوئی خاص قسم مراد نہیں ہے جو مشروب بےہوش کرتا ہو وہ خمر ہے ۔ کسی بھی نشہ آور چیز کے ذریعے انسان کی ہوش کا غائب ہونا ‘ اس دائمی بیداری کے ساتھ متضاد ہے جو اسلام نے ہر شخص کے لئے لازمی کردی ہے ۔ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ انسان بیدار رہے اور مسلسل اللہ کے ساتھ مربوط رہے ۔ ہر لحظہ وہ اللہ کی طرف دیکھتا رہے ۔ پھر اس مسلسل بیداری کی حالت میں وہ اس دنیا کی ترقی اور نشوونما میں لگا رہے ۔ کمزوری اور فساد سے اس زندگی کو بچاتا رہے اور اپنے نفس اپنے مال اور اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہرے ۔ جماعت مسلمہ کے امن وامان ‘ نیز اسلامی شریعت اور اسلامی نظام زندگی کا محافظ ہو تاکہ اس پر کوئی بھی دست درازی نہ کرسکے اس لئے کہ ایک مسلمان فرد صرف اپنی ذات اور اپنی لذتوں کے اندر غرق نہیں رہ سکتا ۔ اس پر اس قسم کے فرائض عائد کئے گئے ہیں جن کی ادائیگی کے لئے اسے ہر وقت بیدار رہنا پڑتا ہے ۔ کچھ فرائض اس پر اس کے رب کی جانب سے ہیں ‘ کچھ فرائض اپنے نفس کی طرف سے ہیں ‘ کچھ فرائض اس کے اہل و عیال کی طرف سے ہیں ‘ کچھ فرائض اس اسلامی سوسائٹی کی طرف سے ہیں جس میں وہ رہ رہا ہے ۔ اس کے بعد پوری انسانیت کی جانب سے بھی اس پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں تاکہ وہ اسے اسلامی دعوت دے اور راہ ہدایت سکھائے ۔ اس وجہ سے اسلام اس سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر وقت بیدار رہے ۔ نیز جب وہ پاک چیزوں سے بھی استفادہ کر رہا ہو تو بھی اس سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ بیدار رہے ‘ خود دار رہے اور لذات اور شہوات کا بندہ اور غلام نہ بن جائے ، اسے چاہئے کہ وہ اپنی خواہشات اور رغبات کو لگام میں رکھے ۔ وہ اپنی خواہشات کا بندہ و غلام نہ ہو بلکہ مالک اور آقا ہو ۔ جو لوگ مدہوشی میں پناہ لے کر اس دنیا سے اوجھل ہونا چاہتے ہیں ‘ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ مذکورہ بالافرائض میں سے کوئی فریضہ بھی ادا نہیں کرسکتے ۔ پھر اپنے آپ کو عالم مدہوشی میں داخل کرنے کی حقیقت کیا ہے ۔ کچھ وقت کے لئے نشے باز اپنے آپ کو حقیقی دنیا سے علیحدہ کردیتا ہے اور وہ ایک طرح حقیقی زندگی سے فرار کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ وہ ان تصورات کی دنیا میں پناہ لیتا ہے جو خمار اور نشے کی حالت میں ذہن میں آتے ہیں ۔ اسلام انسان کے لئے اس قسم کی موہوم دنیا اور خیالی تصورات میں گھومنے کو حرام قرار دیتا ہے ۔ اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ حقائق کا مقابلہ کریں ‘ حقائق میں زندہ رہیں اور اپنی زندگی کو حقائق پر چلائیں ۔ ان کی زندگی محض ادہام اور تخیلات پر قائم نہ ہو ۔ جب انسان حقائق کا سامنا کرتا ہے تب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے عزم و ارادے کا کیا حال ہے ۔ رہا یہ طریق کار کہ کوئی حقائق سے فرار اختیار کر کے محض تخیلات اور ادہام کی زندگی میں جالے تو یہ ناقص اور بیمار انداز حیات ہے ۔ اس صورت میں عزم کمزور ہوتا ہے ‘ ارادہ تحلیل ہوجاتا ہے ۔ اسلام انسان کے ارادے کو بہت ہی بڑی اہمیت دیتا ہے ‘ اور اس کی پالیسی یہ ہے کہ اس کا ارادہ آزاد ہو اور اس کے اوپر کوئی جابر اور قاہر قوت نہ ہو ۔ مذکورہ بالا اسلامی پالیسیاں ہی اس بات کے لئے کافی ہیں کہ تمام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دیا جائے اس لئے یہ ناپاک اور شیطانی اعمال ہیں اور ان سے انسانی زندگی میں فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا شراب تمام نجاستوں کی طرح نجس بھی ہے یا نہیں ہے ؟ یا صرف پینا حرام ہے ۔ پہلا قول کہ وہ نجس ہے یہ جمہور کا قول ہے اور دوسرا قول ربیعہ ‘ لیث ‘ مزنی (امام شافعی کے ساتھی) اور بعض متاخرین بغدادی علماء کا ہے ۔ بس ہمارے لئے اسی قدر ذکر کافی ہے ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں شراب کو حرام کردیا گیا اور یہ کہا گیا کہ یہ نجس ہے اور شیطانی عمل ہے اس وقت اسلامی سوسائٹی کے اندر دو سوال پیدا ہوئے ‘ ایک یہ کہ بعض نہایت ہی پاک فطرت اور محتاط صحابہ کرام کے یہ سوال اٹھایا کہ ہمارے ان ساتھیوں کا کیا بنے گا جنہوں نے ایسے حالات میں انتقال کیا کہ وہ شراب پیتے تھے ۔ بعض نے یہ کہا کہ ان لوگوں کا کیا بنے گا کہ جو احد میں شہید ہوئے اور ان کے پیٹوں میں شراب تھی ۔ (اس وقت شراب حرام نہ تھی) اور جو لوگ اسلامی صفوں میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنا چاہتے تھے انہوں نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ۔ ان کا مقصد یہ تھا اسلام کے عمل قانون سازی کے اندر شبہات اور شکوک پھیلائیں ۔ یہ لوگ یہ اشارہ دیتے کہ جو لوگ پہلے فوت ہوئے ان کا ایمان ضائع ہوگیا اس لئے کہ وہ تو شراب پیتے تھے جو ناپاک ہے اور اعمال شیطانیہ میں سے ہے ۔ ان میں سے بعض لوگ اس حال میں فوت ہوئے کہ ان کے پیٹ میں یہ ناپاک شے موجود تھی ۔ ان دونوں قسم کے خدشات و اعتراضات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” لَیْْسَ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُواْ إِذَا مَا اتَّقَواْ وَّآمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَواْ وَّآمَنُواْ ثُمَّ اتَّقَواْ وَّأَحْسَنُواْ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (93) جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا ‘ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں ‘ پھر جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الہی ہو اسے مانیں ‘ پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں ۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے ۔ ‘ ‘ اس آیت میں فیصلہ یہ کیا گیا کہ جسے حرام نہ کیا گیا ہو ‘ وہ حرام نہیں ہے ۔ اور یہ کہ تحریم کا اطلاق حکم الہی کے بعد ہوتا ہے ۔ پہلے نہیں ہوتا اور یہ کہ تحریم موثر بماضی نہ ہوگی ‘ لہذا کوئی سزا اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کوئی نص وارد نہ ہو ‘ چاہے یہ سزا دنیا کی سزا ہو یا آخرت کی سزا ‘ اس لئے کہ اللہ کا کلام ہی وجود میں لاتا ہے ۔ جو لوگ مر گئے ‘ شراب پیتے رہے یا ان کے پیٹ میں شراب تھی اور اس وقت حرام نہ تھی تو ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ اس لئے کہ انہوں نے کوئی حرام چیز استعمال نہیں کی ۔ نہ انہوں نے کوئی نافرمانی کی ۔ وہ تو اللہ سے ڈرنے والے تھے ۔ معاصی سے بچنے والے تھے ‘ نیک کام کرتے تھے اور اللہ سے اچھے انجام کی امید رکھتے تھے ‘ ان کو اچھی طرح یقین تھا کہ اللہ ان کی نیتوں سے خوب واقف ہے ‘ ان کے اعمال کو جانتا ہے ۔ جن لوگوں کے حالات ایسے ہوں وہ محرمات کا ارتکاب کیسے کرسکتے ہیں اور وہ معصیت کا ارتکاب کیسے کرسکتے ہیں۔ ہم یہاں ان مباحث میں پڑنا ہی نہیں چاہتے ‘ جو معتزلہ نے اس حکم کے بارے میں کیے ہیں۔ معتزلہ نے یہ بحثیں کیں کہ آیا شراب کے اندر نجاست ذاتی ہے یا اس کے اندر نجاست اللہ کی اس آیت کی وجہ سے پیدا ہوگئی ۔ نیز تمام محرمات کے اندر حرمت ذاتی ہے یا وارد حکم کی وجہ سے حرمت لاحق ہوجاتی ہے ۔ یہ بےنتیجہ بحث ہے اور اسلامی شعور اس بحث کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو حرام قرار دیتے ہیں ‘ تو یہ بات اللہ کے علم میں ہوتی ہے کہ اللہ اس چیز کو کیوں حرام قرار دے رہے ہیں چاہے اللہ حرمت کے سبب کی تصریح کرے یا نہ کرے ‘ چاہے حرمت اس لئے ہو کہ سبب حرام چیز کی ذات کے اندر ہو یا اس چیز کو استعمال کرنے والے کے اندر سبب حرمت ہو یا محض سوسائٹی کے مفادات کے لئے اسے حرام قرار دیا گیا ہو ‘ تمام چیزوں کا علمتو صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے ۔ اللہ کے احکام کی اطاعت واجب ہے اور احکام آنے کے بعد اس قسم کے مباحث کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کا مزاج ہی واقعیت پسندانہ ہے لہذا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اگر حرمت کسی ایسے سبب کی وجہ سے تھی جو محرم کی ذات میں تھی تو پھر حرمت سے پہلے وہ چیز حلال کیوں تھی ؟ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ایسی مصلحت ہو جس کی وجہ سے اللہ نے کچھ عرصہ کے لئے اسے حرام قرار نہ دیا ہو ‘ ہر بات اللہ کے اختیار میں ہے ۔ یہی اس کی حاکمیت کا تقاضا ہے ۔ یہ بات نہیں ہے کہ انسان کسی چیز کو اچھا سمجھے تو اچھی ہے برا سمجھے تو بری ہے ۔ بعض اوقات انسان کسی چیز کو حکم کی علت سمجھتا ہے اور وہ علت نہیں ہوتی ۔ اللہ کی بارگاہ میں باادب طریقہ یہی ہے کہ حکم کو سنا جائے ‘ قبول کیا جائے اور نافذ کیا جائے ‘ چاہے کوئی اس کی علت اور حکمت کو سمجھے یا نہ سمجھے ۔ علت معلوم ہو یا خفی ہو ‘ اس کو اللہ ہی جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے ۔ اسلامی شریعت پر عمل کی بنیاد اللہ کی بندگی اور غلامی کے اصول پر ہے ۔ اللہ کی اطاعت اس لئے ہے کہ ہم اللہ کے غلام ہیں ‘ اور یہی ہے اسلام بمعنی سرتسلیم خم کرنا ۔ یہ تو اطاعت کے بعد کا درجہ ہے کہ کوئی عقلمند شریعت کی حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اپنی سمجھ کے مطابق یہ کام وہ تمام اوامر ونواہی میں کرسکتا ہے ‘ چاہے وہ حکمتیں منصوص ہوں یامنصوص نہ ہوں ‘ اسے عقل انسانی سمجھ سکتی ہو یا نہ سمجھ سکتی ہو ۔ اس لئے کہ شریعت اسلامی کے متحقق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کنندہ انسان نہیں ہے ۔ یہ اللہ ہے جو یہ فیصلہ کرسکتا ہے ۔ جب اللہ نے حکم فرما دیا یا منع کردیا تو اطاعت لازم ہوگئی ۔ اگر اللہ اسلامی شریعت کے بارے میں آخری فیصلہ کنند عقل انسانی کو قرار دیدیتا تو عقل انسانی کا مقام اسلامی شریعت سے اونچا ہوجاتا ۔ اس صورت میں مقام الوہیت اور مقام عبودیت کے پھر فرق کیا رہ جاتا ۔ اب ذرا عربیت کے اعتبار سے اس آیت کی ترکیب (Construction) پر بات ہوجائے ۔ اس آیت میں تقوی کو تین مرتبہ دہرایا گیا ہے ۔ (آیت) ” اتقوا وامنوا وعملوا الصلحت “ یعنی تقوی ایمان اور عمل صالح ۔ پھر (اتقوا وامنوا “ ) تقوی اور ایمان فقط ۔ پھر (اتقوا واحسنوا) تقوی اور احسان کا ذکر کیا ہے ۔ اس عبارت میں اس انداز میں تقوی کی تکرار کیوں کی گئی ۔ اس سلسلے میں کسی مفسر کی توجیہ تشفی بخش نہیں رہی ہے ۔ اسی طرح فی ظلال القرآن کے پہلے ایڈیشن میں ‘ میں خود بھی کوئی تشفی بخش توجیہ نہیں کرسکا اور ابھی تک کوئی تسلی بخش بات سمجھ میں نہیں آئی ہے ۔ تفاسیر کی توجیہات میں سے دوسروں کے مقابلے میں جو بہتر توجیہ مجھے ملی ہے وہ ابن جریر کی ہے اگرچہ تشفی بخش نہیں ہے وہ کہتے ہیں : ” پہلے تقوی سے مراد یہ ہے کہ خدا ترسی کے ساتھ اللہ کے حکم کو قبول کیا جائے ‘ اس کی تصدیق کیا جائے اور اس پر دینداری کے ساتھ عمل کیا جائے ‘ دوسرے تقوی سے مراد یہ ہے کہ خدا خوفی سے اس پر ثابت قدم رہا جائے ‘ اور تیسرے سے مراد وہ خدا خوفی ہے جس میں احسان اور نوافل کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے ۔ اس کتاب کے طبع اول میں خود میں نے جو کچھ کہا تھا ‘ وہ یہ تھا ۔ ” یہ مزید تفصیل دے کر تاکید کرنا ہے ۔ پہلے فقرے میں ایمان ‘ عمل صالح اور تقوی کا ذکر ہوا ہے ‘ دوسرے فقرے میں تقوی کا ذکر ایمان کے ساتھ ہوا اور تیسرے میں تقوی اور احسان یعنی عمل صالح کے ساتھ ذکر ہوا ۔ اس تاکید کا مقصد یہ ہے کہ تمام امور کا مدار تقوی پر ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اعمال کی اصل قدروقیمت اس باطنی شعور کی وجہ سے ہوتی ہے جو انکی پشت پر ہوتا ہے اور یہ باطنی شعور تقوی ہے ‘ جس کا اظہار خدا ترسی کے ذریعے ہوتا ہے اور اس شعور کی وجہ سے انسان اللہ کی ذات کے ساتھ ہر وقت جڑا رہتا ہے ۔ اللہ پر ایمان ‘ اس کے اوامر وانواہی کی تصدیق اور عمل صالح جو اس باطنی عقیدے اور خفیہ شعور کا ترجمان ہوتا ہے ۔ اس عمل صالح اور اس باطنی شعور کے درمیان ایک ربط ہوتا ہے ۔ یہ تمام باطنی شعور اور تقوی اصل مطلوب ہیں اور انہی پر مدار حکم ہے ۔ اعمال کی ظاہری اشکال وصور پر مدار حکم نہیں ہے ۔ یہ بات کہ اصل مدار نیت ‘ روح اور باطنی شعور پر ہے اس قدر اہم اور اصولی بات ہے کہ اس کے لئے بار بار تکرار کی ضرورت ہے ۔ ابھی تک میں خود اپنی بات سے بھی مطمئن نہیں ہوں لیکن اسکے سوا کوئی اور بات بھی میری سمجھ میں نہیں آتی ہے ۔ واللہ ھو المستعان۔ آگے بات بھی حلال و حرام کے موضوع پر ہی جاری ہے ۔ حالت احرام میں شکار کے مسئلے پر بات ہو رہی ہے ۔ شکار کے قتل کا کفارہ ‘ یہ حکمت کہ اللہ تعالیٰ کے بیت ‘ اشہر حرام ‘ ہدی اور پٹے ڈالے ہوئے جانوروں کا احترام کیوں فرض کیا ہے ؟ اور اس سورة کے آغاز میں ان چیزوں کو چھیڑنے سے منع کیا گیا ہے ۔ آخر میں ایک فرد مسلم اور ایک اسلامی سوسائٹی کے لئے ایک عام اصول اور پیمانے کا ذکر کردیا جاتا ہے ۔ ایسا پیمانہ کہ اس میں پاک چیز کی قدرو قیمت زیادہ ہے اگرچہ قلیل ہو اور ناپاک چیز اگرچہ بہت ہی زیادہ ہو اس کی کوئی قدر نہیں ہے ۔

المائدة 5:93

(آیت) ” نمبر 90 تا 93۔ شراب ‘ جوا آستانے اور پانسے جاہلی معاشرے کی سب سے بڑی علامات تھیں اور یہ ایسی عادات تھیں جن کا جاہلی معاشرے کے اندر بہت زیادہ رواج تھا ۔ یہ تمام عادات دراصل ایک معاشرتی کل تھیں اور باہم مربوط تھیں اور جاہلی معاشرے کی پہچان تھیں ۔ اہل جاہلیت بڑی مقدار میں شراب استعمال کرتے تھے اور اس میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے تھے اور اس پر فخر کیا کرتے تھے ۔ انکی فخریہ حکایات اور فخریہ اشعار کا موضوع کثرت شراب نوشی ہوا کرتی تھی ۔ مجالس شراب کے ساتھ پھر جانوروں کا ذبح کرنا اور شراب کے ساتھ کباب اور تکے کھلانا بھی لازم تھا ۔ اس میں پینے اور پلانے والے سب شریک ہوتے اور اس طرح اس قسم کی مجالس میں سب کے لئے دلچسپی کا سامان ہوتا ۔ یہ ذبیحے وہ بتوں کے نام اور آستانوں پر کرتے تھے اور ان ذبیحوں کا خون بتوں کا خون بتوں پر ڈالتے تھے ۔ نیز وہ اپنے الہوں اور کاہنوں کے نام پر بھی بعض جانوروں کو ذبح کرتے تھے ۔ شراب نوشی اور دوسرے مواقع پر جو جانور ذبح کرتے تھے ‘ ان کے گوشت کو پھر وہ پانسوں کے ذریعے تقسیم کرتے تھے ۔ ہر شخص اپنے پانسے کے مقررہ حصے کا گوشت لیتا تھا ‘ جس کا پانسہ اونچا نکلا اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا تھا ۔ اسی طرح گوشت تقسیم ہوتا ‘ یہاں تک کہ بعض اوقات جانور ذبح کرنے والے کے حصے میں کچھ نہ آتا اور وہ مکمل خسارے میں پڑجاتا ۔ ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رسوم اور عادات باہم مربوط اور متعلق تھیں اور یہ عادات انہیں جاہلی طریقوں پر جاری تھیں ۔۔۔ اسلامی نظام زندگی نے تحریک کا آغاز ان رسوم کی اصلاح سے شروع نہیں کیا اس لئے کہ یہ رسوم اور عادات بعض فاسد نظریاتی تصورات پر قائم تھیں ۔ اگر محض اصلاح رسوم کی سطحی تحریک شروع کردی جاتی اور اصل اعتقادی نظریات کی بیخ کنی نہ کی جاتی تو یہ کام نہایت ہی سطحی ہوتا ۔ اسلام سے ہر گز یہ توقع نہ کی جاسکتی تھی کہ وہ جڑوں کو چھوڑ کر محض سطحی امور تک اپنے آپ کو محدود کر دے ۔ اسلام نے سب سے پہلے نفس انسانی کی پہلی گرہ یعنی عقائد ونظریات پر کلام کیا ۔ اس نے سب سے پہلے جاہلی عقائد و تصورات کو لیا اور انہوں اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورات کو لیا اور انہیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ۔ ان کی جگہ پاک وصاف اسلامی نظریہ حیات دیا اور یہ تصور اور نظریہ فطرت انسانی کی گہرائیوں تک اتار دیا ۔ اسلام نے متعدد الہوں کے بارے میں ان کے تصورار کے فساد کو ظاہر کیا اور ان کو ایک الہ حق کے عقیدے پر مجتمع کردیا ۔ جب ان کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ توحید چھا گیا تو اب وہ فطری طور پر سوچنے کے لئے تیار ہوگئے کہ انکا الہ الحق کس بات کو پسند نہیں کرتا ۔ اس نظریاتی اصلاح سے پہلے وہ کب اپنی عادات ورسومات کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو سکتے تھے وہ نظریاتی تبدیلی کے بغیر اپنے جاہلی پسندیدہ طریقوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اگرچہ انہیں بار بار نصیحت کی جاتی ۔ فطرت کی گرہ درحقیقت عقیدے کی گرہ ہوتی ہے ۔ جب تک سب سے پہلے اس گرہ اور عقدے کو حل نہ کیا جائے اس وقت تک کوئی اخلاقی تعلیم ‘ کوئی تہذیب اخلاق کا پروگرام اور کوئی اجتماعی اصلاحی سکیم کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ نظریہ دراصل انسانی فطرت کی کنجی ہے ۔ جب تک یہ کنجی لگا کر فطرت انسانی کو کھول کر نہیں دیا جاتا اس وقت تک اس کے نہاں خانے اور اس کی راہ ورسم کی تہ تک رسائی ممکن نہ ہوگی ۔ جب ہم اس کی ایک تنگ گلی کو کھولیں گے تو کئی اور تنگ گلیاں سامنے آئیں گی اور اگر ہم اس کا ایک پہلو روشن کرلیں گے تو دس اور تاریک پہلو سامنے آئیں گے ۔ ہم ایک گرہ کھولیں گے اور مزید دس گرہیں لگ جائیں گی ۔ ہم ایک راہ کھولیں گے تو دس راہیں بند ہوجائیں گی اور اس طرح ہم ایسی بھول بھلیوں میں پڑجائیں گے کہ نکلنے کی راہ نہ ملے گی ۔ یہ وجہ ہے کہ اسلامی نظام حیات نے جاہلیت کی بری رسموں اور گندی عادات سے اپنے اصلاحی کام کا آغاز نہ کیا ۔ اسلام نے سب سے پہلے نظریاتی اصلاح سے کام شروع کیا ۔ سب سے پہلے یہ مطالبہ ہوا کہ تم کلمہ طیبہ کو قبول کرو اور مکہ کے ابتدائی تیرہ سال اسی نظریاتی اصلاح اور عقائد کی درستی میں صرف ہوئے ۔ ان طویل سالوں میں تحریک اسلامی کا نصب العین ہی شہادت لا الہ الا رہا ۔ اس عرصے میں لوگوں کو رب العالمین سے متعارف کرایا گیا ‘ ان کو صرف اسی کی بندگی کی دعوت دی جاتی رہی ‘ اور لوگوں کو صرف اسی کی بادشاہت کی طرف بلایا جاتا رہا ۔ یہاں تک کہ ان کے نفوس صرف رب واحد کے لئے خالص ہوگئے ۔ ان کی حالت یہ ہوگئی کہ وہ اپنے لئے وہی کچھ پسند کرنے لگے جو ان کے لئے ان کا خدا پسند کرتا تھا ۔ جب نظریاتی اصلاح اس ڈگری تک پہنچ گئی تو اب فرائض کا آغاز ہوا ‘ مراسم عبودیت فرض ہوئے اب جاہلیت کی گندی عادات اور رسوم کی اصلاح کا آغاز ہوا ‘ اجتماعی طور طریقوں کے بدلنے کے احکام صادر ہونا شروع ہوئے ‘ اقتصادی اصلاحات نافذ کی گئیں ‘ نفسیاتی اور اخلاقی طرز عمل کی اصلاح شروع ہوئی اور یہ کام ایسے وقت میں شروع ہوا کہ ادھر سے اللہ کا حکم آتا ادھر سے مسلمان اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے ‘ بغیر کسی حیل وحجت کے ‘ اس لئے کہ انہوں نے امر ونہی کے تمام اختیارات الہ العالمین کے سپرد کردیئے تھے ان کا اپنا کچھ اختیار نہ تھا ۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ اوامر اور نواہی کی تلقین اس مرحلے کے بعد شروع ہوئی جب لوگوں نے مکمل انقیاد سے سر تسلیم خم کردیا ۔ ہر ایک مسلم نے اپنا سب کچھ اللہ کے حوالے کردیا ‘ اور یہ بات تسلیم کرلی کہ اللہ کے اوامر ونواہی کے بالمقابل اس کا کوئی اختیار نہیں ہے جیسا کہ استاد ابوالحسن علی ندوی نے کہا ہے وہ اپنی کتاب عالم اسلام میں مشرقیت اور مغربیت کی کشمکش میں کہتے ہیں ۔ ” کفر وشرک کا عظیم عقدہ کھل گیا ۔ بیشک یہ ایک عظیم عقدہ تھا ۔ اس عقدے کا کھلنا تھا کہ تمام عقدے کھل گئے ۔ حضور ﷺ نے ان کے ساتھ یہ پہلا جہاد کیا اور اس لئے انہیں مزید کسی جہاد کی ضرورت نہ رہی ۔ ہر امر اور ہر نہی کے لئے آپ کو کوئی جدوجہد کرنا نہ پڑی ۔ اس پہلے نظریاتی معرکے میں اسلام کو جاہلیت پر فتح نصیب ہوئی اور اس کے بعد ہر معرکے میں کامیابی نے آپ کا ساتھ دیا ۔ یہ اس لئے ہوا کہ یہ لوگ اپنے دلوں ‘ اپنی روح ‘ اپنے اعضاء کے ساتھ پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ جب ان پر ہدایت نازل ہوتی تو وہ حضور ﷺ کے ساتھ مخالفت اور مخاصمت نہ کرتے تھے ۔ حضور ﷺ جو فیصلہ کرتے اس پر وہ اپنے دلوں میں کوئی خلجان نہ پاتے اور سوال کے فیصلے کے بعد ان کے لیے کوئی اختیار یا دائرہ اختیار نہ رہا تھا ۔ جب معاملات میں ان سے ضمیر اور عقیدے کے خلاف کوئی بات سرزد ہوجاتی تو وہ کھلے طور پر حضور ﷺ کو بتلا دیتے ‘ اور اپنے آپ کو سزا کے لئے پیش کردیتے ۔ جب ان سے غلطی ہوتی تو ان پر حد نافذ ہوجاتی ۔ تحریم شراب کا حکم آتا ہے ‘ شراب سے بھرے ہوئے جام ان کے ہاتھوں میں ہیں اور اللہ کا حکم حائل ہوجاتا ہے اور وہ ہونٹوں تک نہیں جاتے ۔ ہونٹ خشک اور جگر پیاسے رہ جاتے ہیں ۔ شراب کے مٹکے توڑ دیئے جاتے ہیں اور شراب مدینہ کی گلیوں میں سیلاب کی طرف بہ نکلتی ہے ۔ “ لیکن اس کے باوجود تحریم شراب اور اس کے ساتھ دوسری اشیاء کی تحریم کوئی اچانک کام نہ تھا ۔ اس آخری تحریم سے پہلے اس عام اور نہایت ہی گہری بیماری کا علاج بڑی تدریج کے ساتھ کیا گیا ‘ اس لئے کہ لوگ اس کے رسیا تھے اور یہ ان کے لئے ایک نہایت ہی عادی نشہ تھا ۔ اس کے ساتھ ان کے معاشرتی اور اقتصادی مفادات وابستہ ہے ۔ شراب کی یہ آخری حرمت تیسرے یا چوتھے مرحلے میں نازل ہوئی ۔ پہلے مرحلے میں محض اس سمت میں ایک تیر پھینکا گیا جس کی طرف اسلامی نظام کا رجحان تھا سورة نحل کی ایک آیت میں کہا گیا : (آیت) ” ومن ثمرت النخیل والاعناب تتخذون منہ سکرا ورزقا حسنا “۔ (16 : 67) ” کھجوروں اور انگوروں کے پھلوں سے جن سے تم شراب اور رزق حسن حاصل کرتے ہو۔ “ یہاں سکر یعنی مسکرات کو رزق حسن کے مقابلے میں رکھا گیا جس سے یہ اشارہ مطلوب تھا کہ مسکرات رزق حسن کی تعریف میں نہیں آتے ۔ گویا مسکرات کوئی اور چیز ہے اور رزق حسن کوئی اور چیز ہے ۔ اس کے بعد سورة بقرہ میں مسلمانوں کی دینی وجدان کو شراب کے خلاف ایک قانونی اور منطقی استدلال کے ذریعے جگایا گیا ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” لوگ آپ سے شراب اور جوائے کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ کہہ دیں ان میں گناہ بھی ہے اور لوگوں کے لئے منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ انکے منافع سے بہت بڑا ہے ۔ “ اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا کہ جب ان سے ان کا گناہ بڑا ہے تو قلیل منافع کو نظر انداز کرکے ان کو ترک کرنا ہی اولی ہے ۔ اس لئے کہ ہر چیز کا کوئی نہ کوئی فائدہ تو ضرور ہوتا ہے ۔ البتہ حلال اور حرام ہونے کا دارومدار اکثریت پر ہوتا ہے ۔ نفع اور نقصان کا غلبہ دیکھا جاتا ہے ۔ تیسرا اقدام یہ کیا گیا کہ شراب نوشی کی عادت میں اوقات کی کمی کردی گئی اور شراب نوشی کو حالت صلوۃ کے منافی قرار دیا گیا ۔ سورة نساء کی مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی : (آیت) ”(یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (4 : 43) (اے ایمان لانے والوجب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ تم جو کچھ کہو اسے سمجھو “۔ ) ۔ اب پانچ وقت کی نمازیں چونکہ اکثر باہم بہت ہی قریب ہیں اور ان کے درمیان اس قدر وقفہ نہیں ہوتا کہ کوئی شراب پئے اور نشے میں ہو کر پھر اسے افاقہ ہوجائے ‘ چناچہ ان اوقات کے اندر عملا شراب نوشی کا امکان ہی نہ رہا اور اس عمل کے لئے دائرہ تنگ ہوگیا ۔ خصوصا (صبوح) صبح کے وقت کی شراب اور ” غبوق “ یعنی بعد عصر اور بعد مغرب کی شراب کے لئے اوقات تنگ ہوگئے اس لئے کہ دور جاہلیت میں انہیں اوقات میں شراب پی جاتی تھی اور اس اسکیم کے ذریعے شریعت نے نشے کے اوقات میں خواہش کو توڑ دیا ۔ ایک مسلمان کے لئے یہ ایک بہترین تدبیر ثابت ہوئی اس لئے کہ اس وقت کسی مسلم کے بارے میں یہ سوچا بھی نہ جاسکتا تھا کہ وہ نماز چھوڑ کر شراب نوشی کرے گا ۔ اس وقت ہر مسلمان اپنے وقت پر نماز ادا کرتا تھا ۔ اس طرح شراب کا نشہ ٹوٹ جاتا ۔ اس کے بعد چوتھا اور آخری اقدام اس آیت کے ذریعے کیا گیا ۔ اب اس آخر وار کے لئے فضا تیار تھی ‘ لوگوں کے نفوس تیار تھے ‘ چناچہ حکم آتے ہیں لوگوں نے یقین کیا اور تعمیل کر ڈالی حضرت عمر ؓ سے روایت ہے کہا انہوں نے کہا اے اللہ ہمارے لئے شراب کے سلسلے میں کافی اور شافی بیان دے دے ۔ اس پر سورة بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الخمر والمیسر قل فیھما اثم کبیر ومنافع للناس واثمھما اکبر من نفعھما “۔ (2 : 219) ” لوگ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں ؟ کہہ دیں ان میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے منافع بھی ہیں اور ان کا گناہ انکے نفع سے بہت زیادہ ہے ۔ “ حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان پر یہ آیت پڑھی گئی اس پر انہوں نے دوبارہ کہا اے اللہ ہمارے لئے شراب کے بارے میں کافی وشافی بیان نازل فرما ۔ اس پر سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ”(یایھا الذین امنوا لا تقرابو الصلوۃ وانتم سکری حتی تعلموا ما تقولون “۔ (4 : 43) (اے ایمان لانے والو نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تم جو کچھ کہو اسے سمجھو “۔ ) جب حضرت عمر ؓ کو یہ آیت سنائی گئی تو انہوں نے پھر سوال کیا کہ اے اللہ شراب کے بارے میں کافی وشافی بیان نازل فرما۔ اس پر سورة مائدہ کی یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضاء فی الخمر والمیسر ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ فھل انتم منتھون “۔ (5 : 91) شیطان یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے ۔ پھر کیا تم اس سے باز رہو گے ؟ ) اس پر حضرت عمر ؓ کو بلایا گیا اور ان کے سامنے یہ آیت پڑھی گئی تو انہوں نے کہا جی ہاں ہم رک گئے ‘ ہم رک گئے ۔ “ (اصحاب السنن) جب واقعہ احد کے بعد سن تین ہجری میں یہ آیات نازل ہوئیں تو اس کے سوا کسی اور اقدام کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔ بس ایک منادی نے مدینہ میں اعلان کیا : ” اے قوم ! شراب حرام کردی گئی ۔ “ یہ سننا تھا کہ جس کے ہاتھ میں پیالہ تھا اس نے اسے توڑ دیا ‘ جس کے منہ گھونٹ تھا ‘ اس نے اسے تھوک دیا ‘ شراب کے مشکیزے پھاڑ ڈالے گئے اور شراب کے مٹکے توڑ دیئے گئے اور صورت حال میں اس طرح ہوگئی کہ گویا لوگوں نے نشے اور شراب کو کبھی دیکھا ہی نہ تھا ۔ اب ذرا قرآن کی آیات کی بناوٹ (Construction) دیکھئے اور وہ انداز تربیت دیکھئے جو قرآن نے اختیار فرمایا ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ فَاجْتَنِبُوہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (90) إِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْْنَکُمُ الْعَدَاوَۃَ وَالْبَغْضَاء فِیْ الْخَمْرِ وَالْمَیْْسِرِ وَیَصُدَّکُمْ عَن ذِکْرِ اللّہِ وَعَنِ الصَّلاَۃِ فَہَلْ أَنتُم مُّنتَہُونَ (91) وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَاحْذَرُواْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہ شراب جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ان سے پرہیز کرو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ۔ شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے ، پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے ؟ ۔ اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی ۔ آغاز اور لہجہ وہ معروف آواز ہے جس میں لوگوں کو ان کے محبوب لقب اہل ایمان سے پکارا جاتا ہے ۔ (آیت) ” (یایھا الذین امنوا) ۔ یوں مسلمانوں کے جذبہ ایمان کو جگایا جاتا ہے اور انہیں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ ان کے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آنے والے احکام کی مکمل اطاعت کریں ۔ اس کے بعد آیت کا انداز بیان نہایت ہی دو ٹوک اور حصر کے انداز میں آتا ہے ۔ (آیت) ” إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْْسِرُ وَالأَنصَابُ وَالأَزْلاَمُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْْطَانِ ۔ ” یہ شراب جوا اور یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں “ یہ گندے کام ہیں اور ان کاموں پر طیب کا اطلاق نہیں ہو سکتا ۔ اور اللہ نے صرف طیبات کو حلال کیا ہے اور پھر یہ شیطانی اعمال ہیں اور شیطان انسان کا قدیمی دشمن ہے ۔ ایک مومن کے لئے تو بس یہی کافی ہے کہ اسے معلوم ہوجائے کہ کوئی کام شیطانی ہے ‘ یہ سنتے ہی وہ اس سے بدکتا ہے ‘ اس کا پورا وجود کانپ اٹھتا ہے اور وہ ڈر کر اس سے دور ہوجاتا ہے ۔ ایسے حالات میں اب قطعی ممانعت صادر ہوجاتی ہے لیکن اس ممانعت کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس پر عمل سے تمہیں فلاح اخروی نصیب ہوگی ۔ یہ ایک دوسری جھلکی ہے ‘ جس کے ذریعے یہ دکھایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کس طرح انسانی نفسیات کی گہرائیوں تک احساسات اتار دیتا ہے ۔ (آیت) ” فاجتنبوہ لعلکم تفلحون “۔ اس سے مکمل اجتناب کرو تاکہ تم فلاح پاؤ “۔ اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس گندگی کو جاری رکھ کر شیطان اپنے کیا مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے : ” شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد اور نماز سے روک دے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہے شیطان کا اصل منصوبہ اور یہ ہیں شیطان کے مقاصد جو وہ ان ناپاکیوں اور بداخلاقیوں کے ذریعے بروئے کار لانا چاہتا ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلامی صفوں کے درمیان بغض وعداوت پھیل جائے اور یہ کام وہ شراب وکباب اور جوئے بازی کے ذریعے حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ دوسرا مقصد اس سے وہ یہ حاصل کرنا چاہتا ہے کہ اہل ایمان کو یاد الہی اور صلوۃ سے روکتا ہے ‘ اس سے بڑی سازش اور کیا ہو سکتی ہے ؟ یہ شیطانی مقاصد جو قرآن کریم نے بیان کئے ہیں ‘ یہ تو وہ واقعی امور ہیں جنہیں مسلمان اپنی تاریخ میں اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں جبکہ قرآن کریم بذات خود سچا ہے اور اسے کسی تاریخی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس مسئلے پر کسی بحث اور تفتیش کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ شیطان کا یہ منصوبہ کس طرح کام کرتا ہے ۔ شراب نوشی سے انسان کا فہم اور ادراک ختم ہوجاتا ہے ۔ گوشت اور خون کا نقصان اور جذبات اور میلانات کا ہیجان اس کے فوری اثرات ہیں اور جوئے کی وجہ سے لوگوں کو جو مالی نقصان ہوتا ہے ‘ اس کی وجہ سے دلی بغض اور عداوت پیدا ہوتی ہے ‘ اس لئے کہ جوئے میں جو ہارتا ہے وہ دیکھتا ہے کہ جیتنے والا اس کی دولت کو اس کی آنکھوں کے سامنے بطور مال غنیمت لے کر جارہا ہے جبکہ وہ شکست خوردہ اور دولت بریدہ ہے ۔ یہ ایسی باتیں ہیں جن کے نتیجے میں بغض وعداوت کا پیدا ہونا ایک فطری امر ہے اگرچہ شرابی اور جوئے باز بظاہر یار اور دوست نظر آتے ہیں اور ایک ہی مجلس میں خوش وخرم نظر آتے ہیں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور پختہ ہم نشین ہیں۔ دوسری برائی کہ یہ دونوں چیزیں ذکر الہی سے روکنے والی ہیں اور نماز سے روکتی ہیں تو یہ ایسی باتیں ہیں جن کے ثبوت کی ضرورت نہیں ہے ۔ شراب بےہوش کرتی ہے اور جو امدہوش کرتا ہے اور جوئے میں جس طرح مت ماری جاتی ہے وہ شراب نوشی کی بےہوشی سے کم نہیں ہے ۔ جوئے باز کی دنیا اور شراب خور کی دنیا ایک ہی دنیا ہے اور یہ شراب وکباب اور جام وسبو سے آگے نہیں ہے ۔ جب بات یہاں تک آپہنچتی ہے اور یہ بتا دیا جاتا ہے کہ اس گندگی کے پھیلانے سے شیطان کے اصل مقاصد کیا ہیں تو ایک مومن کا دل جاگ اٹھتا ہے اور اس کا احساس تیز ہوجاتا ہے ۔ وہ فیصلہ کن اقدام کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے اور جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا تم اس سے باز آنے والے ہو ؟ تو ہر مومن کے دل میں وہی جواب تیار ہوچکا ہوتا ہے جو حضرت عمر ؓ نے دیا تھا ہاں ! بیشک ہم باز آگئے ‘ ہم باز آگئے ۔ اب بات مزید آگے بڑھتی ہے اور ایک آخری چوٹ لگائی جاتی ہے ۔ (آیت) ” وَأَطِیْعُواْ اللّہَ وَأَطِیْعُواْ الرَّسُولَ وَاحْذَرُواْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اللہ اور اس کے رسول کی بات مانو اور باز آجاؤ لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی ۔ “ یہ وہ اصول ہے جس کی طرف تمام معاملات لوٹتے ہیں ‘ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اور یہی ہے اسلام ۔ اسلام کے اندر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی بےقید اطاعت کے علاوہ کسی اور چیز کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اگر کوئی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت سے روگردانی کرے گا تو اس کے نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہوگا ۔ (آیت) ” ْ فَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّمَا عَلَی رَسُولِنَا الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ (92) ” اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم بتا دینے کے سوا کوئی اور ذمہ داری نہیں ہے “۔ اور رسول اللہ ﷺ نے تو اللہ کا پیغام بہت ہی اچھے طریقے سے پہنچا دیا ۔ اس صاف صاف بتا دینے کے بعد تمام تر ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگئی جو مخالفت کر رہے ہیں ۔ یہ بالواسطہ طور پر ایک سخت دھمکی ہے ۔ ایک مومن کا بدن کانپ اٹھتا ہے اس لئے کہ اہل ایمان اگر نافرمانی کرتے ہیں اور اللہ و رسول کی اطاعت نہیں کرتے تو گویا صرف اپنا ہی نقصان کرتے ہیں ۔ حضور ﷺ نے تو تبلیغ کردی اور اپنا فریضہ اچھی طرح ادا کردیا اور ان کے معاملے سے فارغ ہوگئے ‘ ہاتھ جھاڑ دیئے ۔ اب اگر وہ عذاب کے مستحق ہوتے ہیں تو رسول ان سے عذاب کو دفعہ نہیں کرسکتے ۔ خصوصا جبکہ انہوں نے ان کی نافرمانی کی اور آپ کی اطاعت نہ کی اور اللہ سرکشوں اور نافرمانوں کو سزا دینے پر پوری طرح قادر ہے ۔ یہ اسلامی منہاج اصلاح ہے جو انسان کے دلوں میں اترتا ہے ‘ دلوں کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے ‘ دلوں کے بند دروازے کھولتا ہے ۔ اس کے بعد پھر اس پر نہایت ہی خفیہ راستے اور نشیب و فراز کھلتے ہیں ۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم ذرا اس شراب کی تفصیلات دے دیں جسے یہاں حرام قرار دیا گیا ہے ۔ امام ابو داؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے اپنی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے کہ ” ہر نشہ دلانے والی چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ “ حضرت عمر ؓ نے نبی کریم ﷺ کے منبر پر خطبہ دیا اور اس خطبے میں حضور ﷺ کے صحابہ کی ایک جماعت موجود تھی ” اے لوگو ‘ شراب کی حرمت کا حکم جس وقت نازل ہوا تمہیں معلوم ہے ‘ شراب پانچ چیزوں سے ہے ۔ انگور سے ‘ کھجور سے ‘ شہد سے ‘ گندم سے اور جو سے اور شراب کی تعریف ہے ” وہ جو عقل کو ڈھانپ لے۔ “ ان دونوں روایات سے یہ معلوم ہوا کہ ہر وہ چیز خمر کی تعریف میں آتی ہے جو بےہوش کرتی ہے ۔ خمر سے مراد شراب مسکر کی کوئی خاص قسم مراد نہیں ہے جو مشروب بےہوش کرتا ہو وہ خمر ہے ۔ کسی بھی نشہ آور چیز کے ذریعے انسان کی ہوش کا غائب ہونا ‘ اس دائمی بیداری کے ساتھ متضاد ہے جو اسلام نے ہر شخص کے لئے لازمی کردی ہے ۔ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ انسان بیدار رہے اور مسلسل اللہ کے ساتھ مربوط رہے ۔ ہر لحظہ وہ اللہ کی طرف دیکھتا رہے ۔ پھر اس مسلسل بیداری کی حالت میں وہ اس دنیا کی ترقی اور نشوونما میں لگا رہے ۔ کمزوری اور فساد سے اس زندگی کو بچاتا رہے اور اپنے نفس اپنے مال اور اپنی عزت کی حفاظت کرتا ہرے ۔ جماعت مسلمہ کے امن وامان ‘ نیز اسلامی شریعت اور اسلامی نظام زندگی کا محافظ ہو تاکہ اس پر کوئی بھی دست درازی نہ کرسکے اس لئے کہ ایک مسلمان فرد صرف اپنی ذات اور اپنی لذتوں کے اندر غرق نہیں رہ سکتا ۔ اس پر اس قسم کے فرائض عائد کئے گئے ہیں جن کی ادائیگی کے لئے اسے ہر وقت بیدار رہنا پڑتا ہے ۔ کچھ فرائض اس پر اس کے رب کی جانب سے ہیں ‘ کچھ فرائض اپنے نفس کی طرف سے ہیں ‘ کچھ فرائض اس کے اہل و عیال کی طرف سے ہیں ‘ کچھ فرائض اس اسلامی سوسائٹی کی طرف سے ہیں جس میں وہ رہ رہا ہے ۔ اس کے بعد پوری انسانیت کی جانب سے بھی اس پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں تاکہ وہ اسے اسلامی دعوت دے اور راہ ہدایت سکھائے ۔ اس وجہ سے اسلام اس سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ اور ہر وقت بیدار رہے ۔ نیز جب وہ پاک چیزوں سے بھی استفادہ کر رہا ہو تو بھی اس سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ بیدار رہے ‘ خود دار رہے اور لذات اور شہوات کا بندہ اور غلام نہ بن جائے ، اسے چاہئے کہ وہ اپنی خواہشات اور رغبات کو لگام میں رکھے ۔ وہ اپنی خواہشات کا بندہ و غلام نہ ہو بلکہ مالک اور آقا ہو ۔ جو لوگ مدہوشی میں پناہ لے کر اس دنیا سے اوجھل ہونا چاہتے ہیں ‘ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ مذکورہ بالافرائض میں سے کوئی فریضہ بھی ادا نہیں کرسکتے ۔ پھر اپنے آپ کو عالم مدہوشی میں داخل کرنے کی حقیقت کیا ہے ۔ کچھ وقت کے لئے نشے باز اپنے آپ کو حقیقی دنیا سے علیحدہ کردیتا ہے اور وہ ایک طرح حقیقی زندگی سے فرار کا راستہ اختیار کرتا ہے ۔ وہ ان تصورات کی دنیا میں پناہ لیتا ہے جو خمار اور نشے کی حالت میں ذہن میں آتے ہیں ۔ اسلام انسان کے لئے اس قسم کی موہوم دنیا اور خیالی تصورات میں گھومنے کو حرام قرار دیتا ہے ۔ اسلام تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ حقائق کا مقابلہ کریں ‘ حقائق میں زندہ رہیں اور اپنی زندگی کو حقائق پر چلائیں ۔ ان کی زندگی محض ادہام اور تخیلات پر قائم نہ ہو ۔ جب انسان حقائق کا سامنا کرتا ہے تب اسے پتہ چلتا ہے کہ اس کے عزم و ارادے کا کیا حال ہے ۔ رہا یہ طریق کار کہ کوئی حقائق سے فرار اختیار کر کے محض تخیلات اور ادہام کی زندگی میں جالے تو یہ ناقص اور بیمار انداز حیات ہے ۔ اس صورت میں عزم کمزور ہوتا ہے ‘ ارادہ تحلیل ہوجاتا ہے ۔ اسلام انسان کے ارادے کو بہت ہی بڑی اہمیت دیتا ہے ‘ اور اس کی پالیسی یہ ہے کہ اس کا ارادہ آزاد ہو اور اس کے اوپر کوئی جابر اور قاہر قوت نہ ہو ۔ مذکورہ بالا اسلامی پالیسیاں ہی اس بات کے لئے کافی ہیں کہ تمام نشہ آور چیزوں کو حرام قرار دیا جائے اس لئے یہ ناپاک اور شیطانی اعمال ہیں اور ان سے انسانی زندگی میں فساد اور بگاڑ پیدا ہوتا ہے ۔ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے کہ آیا شراب تمام نجاستوں کی طرح نجس بھی ہے یا نہیں ہے ؟ یا صرف پینا حرام ہے ۔ پہلا قول کہ وہ نجس ہے یہ جمہور کا قول ہے اور دوسرا قول ربیعہ ‘ لیث ‘ مزنی (امام شافعی کے ساتھی) اور بعض متاخرین بغدادی علماء کا ہے ۔ بس ہمارے لئے اسی قدر ذکر کافی ہے ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی اور اس میں شراب کو حرام کردیا گیا اور یہ کہا گیا کہ یہ نجس ہے اور شیطانی عمل ہے اس وقت اسلامی سوسائٹی کے اندر دو سوال پیدا ہوئے ‘ ایک یہ کہ بعض نہایت ہی پاک فطرت اور محتاط صحابہ کرام کے یہ سوال اٹھایا کہ ہمارے ان ساتھیوں کا کیا بنے گا جنہوں نے ایسے حالات میں انتقال کیا کہ وہ شراب پیتے تھے ۔ بعض نے یہ کہا کہ ان لوگوں کا کیا بنے گا کہ جو احد میں شہید ہوئے اور ان کے پیٹوں میں شراب تھی ۔ (اس وقت شراب حرام نہ تھی) اور جو لوگ اسلامی صفوں میں انتشار اور افراتفری پیدا کرنا چاہتے تھے انہوں نے بھی اسی قسم کے خدشات کا اظہار کیا ۔ ان کا مقصد یہ تھا اسلام کے عمل قانون سازی کے اندر شبہات اور شکوک پھیلائیں ۔ یہ لوگ یہ اشارہ دیتے کہ جو لوگ پہلے فوت ہوئے ان کا ایمان ضائع ہوگیا اس لئے کہ وہ تو شراب پیتے تھے جو ناپاک ہے اور اعمال شیطانیہ میں سے ہے ۔ ان میں سے بعض لوگ اس حال میں فوت ہوئے کہ ان کے پیٹ میں یہ ناپاک شے موجود تھی ۔ ان دونوں قسم کے خدشات و اعتراضات کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” لَیْْسَ عَلَی الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُواْ إِذَا مَا اتَّقَواْ وَّآمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَواْ وَّآمَنُواْ ثُمَّ اتَّقَواْ وَّأَحْسَنُواْ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (93) جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا ‘ اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں ‘ پھر جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الہی ہو اسے مانیں ‘ پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں ۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے ۔ ‘ ‘ اس آیت میں فیصلہ یہ کیا گیا کہ جسے حرام نہ کیا گیا ہو ‘ وہ حرام نہیں ہے ۔ اور یہ کہ تحریم کا اطلاق حکم الہی کے بعد ہوتا ہے ۔ پہلے نہیں ہوتا اور یہ کہ تحریم موثر بماضی نہ ہوگی ‘ لہذا کوئی سزا اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کوئی نص وارد نہ ہو ‘ چاہے یہ سزا دنیا کی سزا ہو یا آخرت کی سزا ‘ اس لئے کہ اللہ کا کلام ہی وجود میں لاتا ہے ۔ جو لوگ مر گئے ‘ شراب پیتے رہے یا ان کے پیٹ میں شراب تھی اور اس وقت حرام نہ تھی تو ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا ۔ اس لئے کہ انہوں نے کوئی حرام چیز استعمال نہیں کی ۔ نہ انہوں نے کوئی نافرمانی کی ۔ وہ تو اللہ سے ڈرنے والے تھے ۔ معاصی سے بچنے والے تھے ‘ نیک کام کرتے تھے اور اللہ سے اچھے انجام کی امید رکھتے تھے ‘ ان کو اچھی طرح یقین تھا کہ اللہ ان کی نیتوں سے خوب واقف ہے ‘ ان کے اعمال کو جانتا ہے ۔ جن لوگوں کے حالات ایسے ہوں وہ محرمات کا ارتکاب کیسے کرسکتے ہیں اور وہ معصیت کا ارتکاب کیسے کرسکتے ہیں۔ ہم یہاں ان مباحث میں پڑنا ہی نہیں چاہتے ‘ جو معتزلہ نے اس حکم کے بارے میں کیے ہیں۔ معتزلہ نے یہ بحثیں کیں کہ آیا شراب کے اندر نجاست ذاتی ہے یا اس کے اندر نجاست اللہ کی اس آیت کی وجہ سے پیدا ہوگئی ۔ نیز تمام محرمات کے اندر حرمت ذاتی ہے یا وارد حکم کی وجہ سے حرمت لاحق ہوجاتی ہے ۔ یہ بےنتیجہ بحث ہے اور اسلامی شعور اس بحث کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کو حرام قرار دیتے ہیں ‘ تو یہ بات اللہ کے علم میں ہوتی ہے کہ اللہ اس چیز کو کیوں حرام قرار دے رہے ہیں چاہے اللہ حرمت کے سبب کی تصریح کرے یا نہ کرے ‘ چاہے حرمت اس لئے ہو کہ سبب حرام چیز کی ذات کے اندر ہو یا اس چیز کو استعمال کرنے والے کے اندر سبب حرمت ہو یا محض سوسائٹی کے مفادات کے لئے اسے حرام قرار دیا گیا ہو ‘ تمام چیزوں کا علمتو صرف اللہ ہی کو ہوتا ہے ۔ اللہ کے احکام کی اطاعت واجب ہے اور احکام آنے کے بعد اس قسم کے مباحث کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے ۔ اسلامی نظام زندگی کا مزاج ہی واقعیت پسندانہ ہے لہذا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ اگر حرمت کسی ایسے سبب کی وجہ سے تھی جو محرم کی ذات میں تھی تو پھر حرمت سے پہلے وہ چیز حلال کیوں تھی ؟ اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ایسی مصلحت ہو جس کی وجہ سے اللہ نے کچھ عرصہ کے لئے اسے حرام قرار نہ دیا ہو ‘ ہر بات اللہ کے اختیار میں ہے ۔ یہی اس کی حاکمیت کا تقاضا ہے ۔ یہ بات نہیں ہے کہ انسان کسی چیز کو اچھا سمجھے تو اچھی ہے برا سمجھے تو بری ہے ۔ بعض اوقات انسان کسی چیز کو حکم کی علت سمجھتا ہے اور وہ علت نہیں ہوتی ۔ اللہ کی بارگاہ میں باادب طریقہ یہی ہے کہ حکم کو سنا جائے ‘ قبول کیا جائے اور نافذ کیا جائے ‘ چاہے کوئی اس کی علت اور حکمت کو سمجھے یا نہ سمجھے ۔ علت معلوم ہو یا خفی ہو ‘ اس کو اللہ ہی جانتا ہے اور ہم نہیں جانتے ۔ اسلامی شریعت پر عمل کی بنیاد اللہ کی بندگی اور غلامی کے اصول پر ہے ۔ اللہ کی اطاعت اس لئے ہے کہ ہم اللہ کے غلام ہیں ‘ اور یہی ہے اسلام بمعنی سرتسلیم خم کرنا ۔ یہ تو اطاعت کے بعد کا درجہ ہے کہ کوئی عقلمند شریعت کی حکمتوں کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ اپنی سمجھ کے مطابق یہ کام وہ تمام اوامر ونواہی میں کرسکتا ہے ‘ چاہے وہ حکمتیں منصوص ہوں یامنصوص نہ ہوں ‘ اسے عقل انسانی سمجھ سکتی ہو یا نہ سمجھ سکتی ہو ۔ اس لئے کہ شریعت اسلامی کے متحقق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کنندہ انسان نہیں ہے ۔ یہ اللہ ہے جو یہ فیصلہ کرسکتا ہے ۔ جب اللہ نے حکم فرما دیا یا منع کردیا تو اطاعت لازم ہوگئی ۔ اگر اللہ اسلامی شریعت کے بارے میں آخری فیصلہ کنند عقل انسانی کو قرار دیدیتا تو عقل انسانی کا مقام اسلامی شریعت سے اونچا ہوجاتا ۔ اس صورت میں مقام الوہیت اور مقام عبودیت کے پھر فرق کیا رہ جاتا ۔ اب ذرا عربیت کے اعتبار سے اس آیت کی ترکیب (Construction) پر بات ہوجائے ۔ اس آیت میں تقوی کو تین مرتبہ دہرایا گیا ہے ۔ (آیت) ” اتقوا وامنوا وعملوا الصلحت “ یعنی تقوی ایمان اور عمل صالح ۔ پھر (اتقوا وامنوا “ ) تقوی اور ایمان فقط ۔ پھر (اتقوا واحسنوا) تقوی اور احسان کا ذکر کیا ہے ۔ اس عبارت میں اس انداز میں تقوی کی تکرار کیوں کی گئی ۔ اس سلسلے میں کسی مفسر کی توجیہ تشفی بخش نہیں رہی ہے ۔ اسی طرح فی ظلال القرآن کے پہلے ایڈیشن میں ‘ میں خود بھی کوئی تشفی بخش توجیہ نہیں کرسکا اور ابھی تک کوئی تسلی بخش بات سمجھ میں نہیں آئی ہے ۔ تفاسیر کی توجیہات میں سے دوسروں کے مقابلے میں جو بہتر توجیہ مجھے ملی ہے وہ ابن جریر کی ہے اگرچہ تشفی بخش نہیں ہے وہ کہتے ہیں : ” پہلے تقوی سے مراد یہ ہے کہ خدا ترسی کے ساتھ اللہ کے حکم کو قبول کیا جائے ‘ اس کی تصدیق کیا جائے اور اس پر دینداری کے ساتھ عمل کیا جائے ‘ دوسرے تقوی سے مراد یہ ہے کہ خدا خوفی سے اس پر ثابت قدم رہا جائے ‘ اور تیسرے سے مراد وہ خدا خوفی ہے جس میں احسان اور نوافل کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کیا جائے ۔ اس کتاب کے طبع اول میں خود میں نے جو کچھ کہا تھا ‘ وہ یہ تھا ۔ ” یہ مزید تفصیل دے کر تاکید کرنا ہے ۔ پہلے فقرے میں ایمان ‘ عمل صالح اور تقوی کا ذکر ہوا ہے ‘ دوسرے فقرے میں تقوی کا ذکر ایمان کے ساتھ ہوا اور تیسرے میں تقوی اور احسان یعنی عمل صالح کے ساتھ ذکر ہوا ۔ اس تاکید کا مقصد یہ ہے کہ تمام امور کا مدار تقوی پر ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اعمال کی اصل قدروقیمت اس باطنی شعور کی وجہ سے ہوتی ہے جو انکی پشت پر ہوتا ہے اور یہ باطنی شعور تقوی ہے ‘ جس کا اظہار خدا ترسی کے ذریعے ہوتا ہے اور اس شعور کی وجہ سے انسان اللہ کی ذات کے ساتھ ہر وقت جڑا رہتا ہے ۔ اللہ پر ایمان ‘ اس کے اوامر وانواہی کی تصدیق اور عمل صالح جو اس باطنی عقیدے اور خفیہ شعور کا ترجمان ہوتا ہے ۔ اس عمل صالح اور اس باطنی شعور کے درمیان ایک ربط ہوتا ہے ۔ یہ تمام باطنی شعور اور تقوی اصل مطلوب ہیں اور انہی پر مدار حکم ہے ۔ اعمال کی ظاہری اشکال وصور پر مدار حکم نہیں ہے ۔ یہ بات کہ اصل مدار نیت ‘ روح اور باطنی شعور پر ہے اس قدر اہم اور اصولی بات ہے کہ اس کے لئے بار بار تکرار کی ضرورت ہے ۔ ابھی تک میں خود اپنی بات سے بھی مطمئن نہیں ہوں لیکن اسکے سوا کوئی اور بات بھی میری سمجھ میں نہیں آتی ہے ۔ واللہ ھو المستعان۔ آگے بات بھی حلال و حرام کے موضوع پر ہی جاری ہے ۔ حالت احرام میں شکار کے مسئلے پر بات ہو رہی ہے ۔ شکار کے قتل کا کفارہ ‘ یہ حکمت کہ اللہ تعالیٰ کے بیت ‘ اشہر حرام ‘ ہدی اور پٹے ڈالے ہوئے جانوروں کا احترام کیوں فرض کیا ہے ؟ اور اس سورة کے آغاز میں ان چیزوں کو چھیڑنے سے منع کیا گیا ہے ۔ آخر میں ایک فرد مسلم اور ایک اسلامی سوسائٹی کے لئے ایک عام اصول اور پیمانے کا ذکر کردیا جاتا ہے ۔ ایسا پیمانہ کہ اس میں پاک چیز کی قدرو قیمت زیادہ ہے اگرچہ قلیل ہو اور ناپاک چیز اگرچہ بہت ہی زیادہ ہو اس کی کوئی قدر نہیں ہے ۔

المائدة 5:94

(آیت) ” نمبر 94 تا 100۔ ذرا پیچھے دیکھ کر اس سورة کی ابتدائی آیات کو ایک بار پھر پڑھئے ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَوْفُواْ بِالْعُقُودِ أُحِلَّتْ لَکُم بَہِیْمَۃُ الأَنْعَامِ إِلاَّ مَا یُتْلَی عَلَیْْکُمْ غَیْْرَ مُحِلِّیْ الصَّیْْدِ وَأَنتُمْ حُرُمٌ إِنَّ اللّہَ یَحْکُمُ مَا یُرِیْدُ (1) یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تُحِلُّواْ شَعَآئِرَ اللّہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلاَ الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلآئِدَ وَلا آمِّیْنَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُونَ فَضْلاً مِّن رَّبِّہِمْ وَرِضْوَاناً وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُواْ (2) (5 : 1۔ 2) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ بندشوں کی پوری پابندی کرو۔ تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کئے گئے سوائے ان کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے لیکن احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لئے حلال نہ کرلو ‘ بیشک اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ خدا پرستی کی نشانیوں کو بےحرمت نہ کرو ، ۔۔۔۔۔ حرام مہینوں میں کسی کو حلال نہ کرلو ‘ قربانی کے جانوروں پر دست درازی نہ کرو ‘ ان جانوروں پر ہاتھ نہ ڈالو جن کی گردنوں میں نذر خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں اور نہ انکو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں مکان محترم (کعبہ) کی طرف جارہے ہوں ۔ ہاں جب احرام کی حالت ختم ہوجائے تو شکار تم کرسکتے ہو۔ یہ ممانعت اس شکار کے بارے میں تھی جب شکاری حالت احرام میں ہو ‘ اور یہ ممانعت خدا پرستی کی نشانیوں (شعائر) کی بےحرمتی کے بارے میں تھی ‘ قربانی کے جانوروں ‘ پٹے ڈالے ہوئے نذر کے جانوروں ‘ حاجیوں کے ساتھ چھیڑ کی ممانعت کی گئی تھی ‘ لیکن ان مموعات پر دنیا میں کوئی سزا نہ سنائی گئی تھی ۔ صرف یہ کہا گیا تھا کہ یہ کام گناہ گاری کے کام ہیں ۔ اب دنیا میں بطور سزا کفارے کا بیان کیا جاتا ہے تاکہ خلاف ورزی کرنے والا اپنے کئے کا مزہ چکھے ۔ البتہ سابقہ غلطیوں کی معافی کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ اگر کسی نے پہلے ان ممنوعات کا ارتکاب کیا ہو تو وہ معاف ہیں لیکن آئندہ اس ہدایت کے اعلان ویبان کے بعد جو دوبارہ اس کا ارتکاب کرے گا اسے سخت سزاد دی جائے گی اور وہ انتقام الہی سے بچ نہ سکے گا ۔ آیات کے اس مجموعے کا آغاز بھی اسی شناسا آواز کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” (یایھا الذین امنوا) اس خطاب کے بعد ان کو کہا جاتا ہے کہ اب تمہاری آزمائیش ہونے والی ہے ۔ یعنی اس شکار کے بارے میں جس سے تم کو حالت احرام میں منع کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لیبلونکم اللہ بشیء من الصید تنالہ ایدیکم ورماحکم لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب فمن اعتدی بعد ذلک فلہ عذاب الیم “۔ (94) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اللہ تمہیں اس شکار کے ذریعے سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا ۔ یہ دیکھنے کے لئے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے ‘ پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اس کے لئے درد ناک سزا ہے ۔ یہ بہت ہی آسان شکار ہوتا ہے اللہ اسے خود انکی طرف چلاتا ہے ‘ ایسا شکار ہوتا ہے کہ وہ اسے ہاتھوں کے ساتھ بھی پکڑ سکتے ہیں ‘ ان کے نیزے اور تیر بھی اسے بسہولت مار سکتے ہیں ۔ ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ حرم میں شکار خود خیموں کے اندر آجاتا ہے ‘ ان کے گھروں کے اندر آجاتا ہے اور یہ اللہ کی جانب سے آزمائش ہوتی ہے اور یہ وہی آزمائش ہے جس میں بنی اسرائیل فیل ہوئے اور پھر وہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہ رہ سکے ۔ انہوں نے پہلے اپنے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے باصرار یہ مطالبہ کیا کہ ان کے لئے ایک ایسا دن مقرر کریں جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیوں میں مشغول ہونا ممنوع ہو ۔ اس دن وہ مکمل آرام کریں ‘ نماز پڑھیں اور کسی دنیاوی اور معاشی کام میں مشغول نہ ہوں ۔ اللہ نے ہفتے کا دن مقرر کردیا لیکن اللہ نے شکار ان کی آزمائش کے لئے وافر مقدار میں ساحلوں تک چلایا ۔ یہ شکار ان کی نظروں کے سامنے پھرتا اور جب ہفتہ نہ ہوتا تو شکار نظر ہی نہ آتا ۔ جس طرح مچھلی بالمعموم پانی میں چھپی ہوئی ہوتی ہے اب یہ دیکھ دیکھ کر بچارے اللہ کے ساتھ اپنے عہد کو نہ نبھا سکے ۔ یہودیوں کی معروف رگ پھڑکی ‘ ان کی اصل فطرت جاگی ۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ حیلے بہانے کرنے شروع کردیئے ۔ چناچہ انہوں نے ہفتے کے دن شکار کو گھیرنا شروع کردیا جسے وہ بعد کے دنوں میں شکار کرتے ۔ ان کی یہی حرکت تھی جس پر اللہ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ ان کے سامنے رکھیں ۔ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کو خطاب کرکے فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” وسئلھم عن القریتہ التی کانت حاضرۃ البحر اذ یعدون فی السبت اذ تاتیھم حیتانھم یوم سبتھم شرعا ویوم لا یسبتون لا تاتیھم کذلک نبلوھم بما کانوا یفسقون “۔ (7 : 163) ” اور ذرا ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقعہ تھی انہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں لوگ سبت کے دن احکام الہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دونوں میں نہیں آتی تھیں ۔ یہ اس لئے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے۔ “ امت اسلامیہ بھی ایسے ہی ابتلاء میں مبتلا کی گئی تھی اور یہ کامیاب رہی جبکہ یہودی ناکام ونامراد رہے ۔ اور قرآن کریم کی اس آیت کا یہی مفہوم ہے : (آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتومنون باللہ ‘ ولو امن اھل الکتب لکان خیرا لھم منھم المومنون واکثرھم الفسقون ۔ (3 : 11) ” اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو ‘ جسے انسانوں کی ہدایت واصلاح کے لئے میدان میں لایا گیا ہے ۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو ‘ بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ‘ اگر یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا ‘ اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایماندار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں۔ “ بیشمار مراحل ایسے آئے جن میں امت اسلامیہ آزمائشوں میں کامیاب رہی اور بنی اسرائیل ناکام رہے اور یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین پر سے خلافت کا مقام بنی اسرائیل سے سلب کرلیا اور امت مسلمہ کو اس مقام پر فائز کردیا۔ اور امت مسلمہ کو زمین پر وہ عروج عطا کیا جو اس سے قبل کسی کو بھی نہ دیا تھا ۔ اس لئے کہ اسلامی نظام زندگی کسی سابقہ امت کے دور میں اس طرح متمکن نہ ہوا تھا ‘ جس طرح امت مسلمہ کے دور میں پوری طرح ظاہر ہوا ۔ لیکن یہ اس دور میں ہوا جس میں امت مسلمہ فی الواقع امت مسلمہ تھی اور جس دور میں وہ یہ سمجھتی تھی کہ اسلام وہ ہے جو لوگوں کی عملی زندگی کے اندر نمودار ہو اور لوگوں کی زندگی اسلامی شریعت کے مطابق بسر ہو رہی ہو ۔ اس دور میں امت مسلمہ کو یہ احساس تھا کہ اسے یہ عظیم امانت سپرد کی گئی ہے اور اسے اس کا امین قرار دیا گیا ہے ۔ یہ کہ امت مسلمہ کو پوری انسانیت کا نگہبان مقرر کیا گیا ہے اور اس کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں کو اسلام نظام حیات کے مطابق استوار کرے اور ان پر اللہ کی اس امانت کو قائم کرے ۔ یہ آزمائش کہ حالت احرام میں لوگ بسہولت شکار کرسکتے تھے لیکن بطور آزمائش انہیں شکار سے روک دیا گیا ان آزمائشوں میں سے ایک ہے جن میں یہ امت کامیاب رہی ۔ ایسی آزمائشوں کے ذریعے اس امت کو آزمانا اور آزما کر تربیت دینا یہ اللہ تعالیٰ کی بہت ہی بڑی اور کھلی مہربانی تھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو منتخب کرلیا ہے ۔ اس امتحان کی حکمت کی تصریح بھی اللہ تعالیٰ نے فرما دی ہے ۔ (آیت) ” لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب “ ” تاکہ وہ دیکھے کہ تم میں سے کون ہے جو اس سے غائبانہ ڈرتا ہے “۔ ایک مسلمان کے ضمیر کے اندر جو اصول رکھا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ سے غائبانہ کون ڈرتا ہے ۔ یہ ایک نہایت ہی مضبوط قاعدہ ہے جس کے اوپر اسلامی نظریہ حیات کی عمارت کھڑی ہے ۔ اسی قاعدے کے مطابق ایک مسلمان کا طرز عمل طے پاتا ہے اور یہ طرز عمل نظریہ خلافت فی الارض اور اسلامی نظام زندگی کے مطابق ہوتا ہے ۔ لوگ اللہ کو نہیں دیکھتے ‘ لیکن جب وہ اللہ پر ایمان لاتے ہیں تو اللہ انکے نفس کے اندر موجود ہوتا ہے ۔ ایک انسان کے تصور اور فہم میں اللہ غیب ہوتا ہے لیکن دل مومن اس پر غائبانہ ایمان لا کر ‘ اللہ سے ڈرتا ہے ۔ جب کسی کے دل و دماغ کے اندر یہ عظیم حقیقت ‘ حقیقت ایمان بالغیب بیٹھ جاتی ہے اور انسان اللہ سے ڈرنے لگتا ہے اور حسی رویت اور حسی مشاہدے سے مستغنی ہوجاتا ہے اور یہ مومن لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہے ‘ جبکہ اس نے اللہ کو بچشم سر دیکھا نہیں ہوتا ۔ وجود انسانی کے اندر اس عظیم حقیقت کا بیٹھ جانا ‘ اس کے اندر ایک عظیم انقلابی تبدیلی پیدا کردیتا ہے ۔ اس کی فطری قوتیں آزاد ہوجاتی ہیں اور اس کی فطرت کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو مشنری سپرٹ ودیعت کی ہے وہ بدرجہ اکمل کام کرتی ہے اور وہ جس قدر بھی عالم غیب کے قریب پہنچتا ہے (جو انسان کے لئے تیار کیا گیا ہے) اسی قدر وہ عالم حیوانات سے دور ہوتا جاتا ہے ۔ اور اس سطح تک بلند ہوجاتا ہے جو انسان کے لئے محسوسات کے اندر سکیڑ لیتا ہے تو وہ اپنے آپ کو مادی دنیا کے اندر محدود کرکے محض حیوانی دائرے کے اندر چلا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں تصریح فرماتے ہیں کہ اس ابتلاء میں حکمت کیا ہے تاکہ اہل ایمان کے نفوس اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اللہ کو علم لدنی کے ذریعے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے غائبانہ طور پر کون ڈرتا ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے علم کے مطابق دنیا میں لوگوں کو نہیں پکڑتا ۔ اللہ تعالیٰ کی پکڑ اور گرفت صرف ان باتوں پر ہوتی ہے جو واقع ہوجائیں ۔ (آیت) ” فمن اعتدی بعد ذلک فلہ عذاب الیم “۔ پھر اس تنبیہ کے بعد بھی جس نے حدود سے تجاوز کیا تو اس کے لئے دردناک سزا ہے “۔ اللہ تعالیٰ نے امتحان کی اطلاع دے دی اس کی حکمت سے بھی آگاہ کردیا اور اس بات سے متنبہ کردیا کہ وہ اس آزمائش میں نہ پڑیں اس لئے کہ کامیابی کے تمام اسباب بھی اس کے لئے فراہم کردیئے گئے ۔ اب بھی اگر کوئی اللہ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو اس کے لئے درد ناک سزا کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ۔ اس کے سوا وہ اور کس انجام کا مستحق ہے اس لئے کہ وہ خود اپنے لئے یہ سزا اختیار کرتا ہے ۔ اس کے بعد اگر کوئی پھر خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر عائد شدہ کفارے کی تفصیلات دے دی جاتی ہے ۔ دوبارہ بطور تاکید ممانعت بھی کردی جاتی ہے ۔

المائدة 5:95

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَقْتُلُواْ الصَّیْْدَ وَأَنتُمْ حُرُمٌ وَمَن قَتَلَہُ مِنکُم مُّتَعَمِّداً فَجَزَاء مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنکُمْ ہَدْیْاً بَالِغَ الْکَعْبَۃِ أَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْنَ أَو عَدْلُ ذَلِکَ صِیَاماً لِّیَذُوقَ وَبَالَ أَمْرِہِ عَفَا اللّہُ عَمَّا سَلَف وَمَنْ عَادَ فَیَنتَقِمُ اللّہُ مِنْہُ وَاللّہُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ (95) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ احرام کی حالت میں شکار نہ مارو ‘ اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اسی کے ہم پلہ ایک جانور اسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا ‘ یا نہیں تو اسے گناہ کے کفارے میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا ‘ یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے ‘ تاکہ وہ اپنے کئے کا مزا چکھے ۔ پہلے جو کچھ ہوچکا اسے اللہ نے معاف کردیا ‘ لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا ‘ اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے ۔ ممانعت اس بات کی کی گئی ہے کہ کوئی محرم عمدا کسی شکار کو قتل نہ کرے ۔ اگر غلطی سے اس کے ہاتھوں کوئی شکار ہوجائے تو نہ وہ گنہگار ہے اور نہ اس پر کفار ہے ۔ اگر عمدا اس سے شکار کیا تو اس پر جانور ذبح کرنا فرض ہے ۔ اور یہ اس قدر ہو کہ شکار کی قیمت کے برابر ہو ‘ مثلا ہرن کے شکار کے بدلے اونٹنی کا بچہ یا بکری۔ اگر اونٹ کو شکار کرے تو گائے ذبح کرے ۔ لومڑی اور زرافہ کے شکار میں اونٹ کا بچہ ‘ بلی اور خرگوش کے بدلے خرگوش ۔ اور جس جانور کے مقابلے میں خانگی جانور نہ ہو تو اس کی قیمت کا جانور ذبح کرے ۔ اس کفارے کا فیصلہ دو عادل مسلمان کریں گے ۔ اگر دو منصفوں نے کسی جانور کے ذبح کے بارے میں فیصلہ کیا تو جنایت کرنے والا اس جانور کو چھوڑ دے گا کہ وہ کعبے تک پہنچے اور وہاں اسے ذبح کرکے مساکین کو کھلایا جائے ۔ اگر کوئی جانور نہ ملے تو دو منصف پھر مساکین کے کھانیکے بارے بھی فیصلہ کریں گے اور یہ کھانا اس شکار کی قیمت کے برابر ہونا چاہئے اگرچہ اس کے بارے میں فقہی اختلافات ہیں ۔ اگر طعام مساکین کی قدرت بھی نہ ہو تو جنایت کرنے والے محرم کو روزے رکھنے ہوں گے ۔ یعنی ایک مسکین کے مقابلے میں ایک روزہ ۔ اب مسکین کے کھانے کی قیمت کیا ہوگی اس میں فقہی اختلافات ہیں ۔ بہرحال اصل بات یہ ہے کہ اس کا تعین ہر زمانے میں الگ ہوگا ۔ اور اس کفارے کی حکمت بھی قرآن کریم نے منصوص طور پر بتلا دی ہے ۔ (آیت) ” (لیذوق وبال امرہ) ” تاکہ وہ اپنے کئے کا مزہ چکھے ۔ “ کفارہ عائد کرنے میں سزا دہی کا پہلو بھی موجود ہے اس لئے کہ اس شخص نے جس حرمت کی ہتک کی ہے ‘ اسلام اس کے بارے میں سخت متشدد ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں حکم دیا جاتا ہے کہ جو ہوچکا سو ہوچکا اور آئندہ کے لئے جو باز نہ آئے گا اسے سخت انتقام کا سامنا کرنا ہوگا ۔ (آیت) ” عَفَا اللّہُ عَمَّا سَلَف وَمَنْ عَادَ فَیَنتَقِمُ اللّہُ مِنْہُ وَاللّہُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ (95) ” لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا ‘ اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے ۔ یہ تو تھے احکام خشکی کے شکار سے متعلق ۔ رہا سمندری شکار تو وہ حالت احرام اور حالت غیر احرام دونوں میں جائز ہے ۔

المائدة 5:96

(آیت) ” أُحِلَّ لَکُمْ صَیْْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہُ مَتَاعاً لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ ۔ ” تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ‘ جہاں تم ٹھہرو وہاں بھی اسے کھا سکتے ہو اور قافلے کے لئے زاد راہ بھی بنا سکتے ہو ۔ سمندری حیوانات محرم اور غیر محرم دونوں کیلئے جائز ہیں ۔ شکار بھی کیا جاسکتا ہے اور سٹاک بھی کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں چونکہ سمندری حیوانات کے شکار اور استعمال کی اجازت دی گئی تھی اس لئے بری حیوانات کے شکار کی دوبارہ ممانعت کردی گئی ۔ (آیت) ” وَحُرِّمَ عَلَیْْکُمْ صَیْْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُماً ۔ البتہ خشکی کا شکار ‘ جب تک تم احرام کی حالت میں ہو ‘ تم پر حرام کیا گیا ہے ۔ “ جس بات پر اجماع ہے وہ یہ ہے کہ محرم کے لئے بری شکار کرنا حرام ہے ۔ لیکن اگر کوئی غیر محرم کوئی شکار کرے تو آیا اس کا کھانا بھی جائز ہے یا نہیں ۔ نیز شکار کے معنی بھی اختلاف ہے ۔ پھر یہ بھی ایک اختلافی مسئلہ ہے کہ اس سے مراد وہی جانور ہیں جن کا عموما شکار کیا جاتا ہے یا تمام حیوانوں کا شکار حرام ہے ۔ چاہے ان کا شکار کیا جاتا ہو یا نہ کیا جاتا ہو یا یہ کہ یہ نہی تمام حیوانات کے لئے ہے ۔ حلال و حرام کی اس بحث کو پھر اس بات پر ختم کیا جاسکتا ہے کہ اصل مدار تقوی پر ہے ۔ چناچہ یہاں بھی خدا ترسی اور خدا خوفی کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے ۔ (آیت) ” ً وَاتَّقُواْ اللّہَ الَّذِیَ إِلَیْْہِ تُحْشَرُونَ (96) ” پس بچو اس خدا کی نافرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاصل کیا جائے گا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حرم کے اندر اور محرم کے لئے یہ پابندیاں کیوں ہیں ؟ اصل میں یہ دنیا جو لوگوں کے لئے کشمکش کا ایک میدان ہے اس میں اللہ تعالیٰ حرم کو ایک منطقہ امن قرار دینا چاہتے ہیں اور یہ منطقہ امن اور امن خانہ کعبہ اور اشہر حرام ہیں ۔ اس دنیا میں باہم کشمکش جاری رہتی ہے ۔ دشمن ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہتے ہیں ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سعی ہر وقت جاری رہتی ہے ۔ یہ کشمکش تمام زندہ چیزوں میں جاری ہے اور سب کیلئے یہ خطہ امن اور زمانہ امن اسلام مہیا کرتا ہے جس کی وجہ سے خوف کے بجائے اطمینان ملتا ہے ‘ جنگ کے بجائے امن ملتا ہے اور تمام لوگوں کے سروں پرامن ‘ آتشی اطمینان اور سلامتی کا سایہ آجاتا ہے ۔ نفس انسانی ایک عملی دنیا میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے ‘ محض آئیڈیل نہیں بلکہ عملی ۔ اب وہ محض تخیلات اور خوابوں کی دنیا میں نہیں ہوتا جو واقعی دنیا پر بہت بھاری ہوتی ہے ۔

المائدة 5:97

(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا) تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔ بیت الحرام کے اندر یہ حرمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کے دائرے میں انسان ‘ پرندے ‘ حیوان اور حشرات الارض سب آتے ہیں اور اگر کوئی احرام کی حالت میں حرم کے حدود میں پہنچا ہو ‘ تب بھی اس کے لئے یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔ اس کے علاوہ چار مہینوں کو بھی اشہر حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں قتل و قتال سخت ممنوع ہے ۔ یہ چار مہینے ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے دل میں ان چار مہینوں کا احترام بٹھا دیا تھا ‘ یہاں تک کہ ہو دور جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھے ۔ ان مہینوں میں وہ کسی نفس کا ڈراتے دھمکاتے بھی نہ تھے ۔ ان مہینوں میں وہ خون کا بدلہ بھی نہ لیتے تھے اور نہ ہی ان میں کوئی شخص انتقام کی توقع کرتا تھا یہاں تک کہ ایک شخص اپنے باپ بیٹے اور بھائی کے قاتل کو پاتا مگر اسے کوئی اذیت نہ دیتا ۔ چناچہ اس عرصے میں لوگ کھلے بندوں پھرتے اور تجارتی سفر کرتے اور رزق حلال تلاش کرتے ۔ یہ امن کے احکامات اللہ نے اس لئے بھی جاری کئے کہ اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کو خطہ امن وسلامتی قرار دینا چاہتے تھے جہاں لوگوں کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہو اور کوئی خوف اور بےچینی نہ ہو ۔ کعبے کی طرح ان چار مہینوں کو اللہ نے زمانہ امن قرار دیا تھا جس طرح کعبہ مقام امن تھا ۔ اس کے بعد اس امن کی حدود کے اندر مزید توسیع کردی گئی اور اس ہدی کو بھی مامون اور محفوظ کردیا گیا ہے جسے خانہ کعبہ کی طرف روانہ کردیا گیا ہو ۔ یہ جانور حج اور عمرہ کے موقع پر چلائے جاتے تھے ۔ چناچہ دور جاہلیت میں بھی ان جانوروں کو نہ چھیڑا جاتا تاھ ۔ اسی طرح اس شخص کو بھی ماموں قرار دے دیا گیا جو خانہ کعبہ میں پناہ لے لیتا ہے اور اپنے گلے میں بیت الحرام کے درختوں کا ہار ڈالتا ہے ۔ خانہ کعبہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ہاتھوں اس کے تعمیر کے وقت ہی سے رکھی تھی اور اللہ نے اس وقت سے خانہ کعبہ کو لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دے دیا تھا ۔ یہ اللہ کا وہ عظیم فضل و احسان تھا ‘ جس کی یاد دہانی اللہ نے مشرکین کو بھی کرائی اس لئے کہ ان کے لئے بھی بیت اللہ گھومنے پھرنے اور امن کی جگہ تھا ۔ اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اچک لئے جاتے تھے جبکہ مشرکین یہاں نہایت ہی امن سے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کا شکریہ ادا نہ کرتے تھے ۔ اس خانہ توحید میں الہ واحد کی بندگی نہ کرتے تھے اور حضور ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم عقیدہ توحید کو اپنائیں تو ہمیں اپنی جا اور جاگیر چھوڑنی پڑے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کر کے اس کی تردید کی اور انہیں بتایا کہ امن اور خوف ہوتا کیا ہے ۔ (آیت) ” وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرت کل شیء رزقا من لدنا ولکن اکثرھم لا یعلمون “۔ (28 : 57) ” وہ کہتے ہیں ‘ اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے ۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پرامن حرم کو انکے لئے جائے قیام بنادیا جس کی طرف ہر طرف کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں ‘ ہماری طرف سے رزق کے طور پر مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ۔ “ صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن یہ فرمایا ” یہ شہر حرام ہے ‘ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے ‘ اور یہاں کے سبزے کو بھی خراب نہ کیا جائے گا ‘ یہاں کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا اور یہاں کی گمشدہ چیز کو نہ اٹھایا جائے گا مگر وہ شخص جو اعلان کرنا چاہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے حرم میں محرم کے لئے زندہ چیزوں میں سے صرف کوے ‘ چیل ‘ بچھو ‘ چوہے اور کاٹنے والے کتے کو مستثی فرمایا ۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے ” حضور اکرم ﷺ نے پانچ چیزوں کے قتل کا حکم دیا ۔ یہ مضر چیزیں ہیں اور حالت حلت اور احرام دونوں میں یہ حکم دیا ۔ کوا چیل ‘ بچھو ‘ چوہا اور کاٹنے والاکتا۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے سانپ کا اضافہ آیا ہے ۔ حضرت علی ؓ کی روایت کی رو سے یہی حرمت مدینہ کے لئے بھی عائد ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ” عیر “ سے لے کر ” ثور “ مدینہ کو حرم قرار دیا ہے ۔ اور صحیحن ہی میں ایک دوسری روایت ہے ۔ یہ حضرت عبادہ ابن تمیم سے وارد ہوئی ہے۔ کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا فرمائی اور میں نے مدینہ کو اسی طرح حرم کردیا ہے جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا ۔ “ اس کے علاوہ مزید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ علاقہ اور یہ مہینے ہی صرف امن کے لئے مخصوص نہیں اور صرف یہ بات نہیں ہے کہ اس امن وامان کا دائرہ صرف انسان اور حیوان تک ہی محدود ہے بلکہ اس امن اور سکون کا دائرہ انسانی ضمیر تک وسیع ہوجاتا ہے اس لئے کہ انسانی ضمیر انسانی نفس کی گہرائیوں کے اندر ایک معرکہ کار زار ہے ۔ ضمیر کے اندر جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو اس کے شعلے اور اس کا دھواں زمان ومکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ پھر تمام انسان اور حیوان اس کی زد میں آجاتے ہیں حرمین اس اندرونی معرکہ کار زار میں بھی امن کا سامان پیدا کردیتے ہیں اور جب ضمیر کے اندر امن و سکون پیدا ہوجاتا ہے تو ایک محرم کسی جاندار کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بھی حرج محسوس کردیتے ہیں اور جب ضمیر کے اندر امن و سکون پیدا ہوجاتا ہے تو ایک محرم کسی جاندار کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بھی حرج محسوس کرتا ہے اگرچہ یہ شکار حرم سے باہر ہو ۔ یہ عرصہ نفس انسانی کی تربیت کا عرصہ ہے تاکہ وہ صاف و شفاف ہوجائے ۔ وہ ہلکا ہوجائے اور بلند ہو کر ملاء اعلی سے واصل ہوجائے اور ملاء اعلی کے ساتھ معاملہ کرنے کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ انسانیت ‘ یہ خوفزدہ ‘ مصیبت زدہ ‘ پسی ہوئی انسانیت کس قدر محتاج ہے ‘ اس علاقہ امن کی ۔ وہ منطقہ امن جس کو اللہ نے اس دین کے پیروکاروں کے لئے بنایا ہے ‘ اور جس کا اعلان عام قرآن کریم کے اندر کردیا گیا ۔ (آیت) ” ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) ” تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔ اس جگہ یہ عجیب اختتامیہ ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ اللہ جو شریعت مقرر کرتا ہے اور لوگوں کے لئے یہ جائے امن جو قرار دیتا ہے ‘ یہ اس لئے بتاتا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ ان تمام حالات سے باخبر ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے اندر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ‘ تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ انسانوں کے مزاج سے باخبر ہے ‘ وہ انکی خفیہ نفسیات سے بھی خبردار ہے ۔ وہ انکی روح کی پکار کو سنتا ہے اور وہ ایسا قانون بناتا ہے جس کے ذریعے ان کے مزاج کے تقاضے ‘ انکی ضروریات اور ان کے میلانات پورے ہوتے ہیں ۔ جب لوگ یہ محسوس کریں گے کہ قانون سازی میں اللہ نہایت ہی شفیق ورحیم ہے ۔ اور جب لوگوں کے دلوں نے اس شریعت اور ان کی فطرت کے درمیان پوری ہم آہنگی کا مزہ چکھا تو انکو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ان تمام امور کو جانتا ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے اندر ہیں اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ دین اسلام انسانی فطرت اور اس کے میلانات اور خواہشات کے پورے پورے تقاضے ملحوظ رکھنے میں بہت ہی عجیب ہے ۔ وہ انسانوں کی تمام ضروریات کا لحاظ رکھتا ہے ۔ اسلامی شریعت کی اسکیم انسانی فطرت کی اسکیم کے عین مطابق ہے ۔ شریعت کی تشکیل اور انسان کی فطرت کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے ۔ جب انسان کو اس دین کے بارے میں شرح صدر ہوجاتا ہے تو پھر وہ جس قدر غور کرتا ہے اسے کمال و جمال ہی نظر آتا ہے ‘ پھر اسے انس و محبت ہی نظر آتی ہے اور اسے وہ سکون ملتا ہے جس کا تصور وہ شخص نہیں کرسکتا جس کو شریعت پر شرح صدر حاصل نہ ہو ۔ اب حالت احرام اور حالت غیر احرام میں جائز وناجائز امور کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور دوسری جانب وہ غفور ورحیم بھی ہے ۔ (آیت) ” اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ “ اور اس ڈراوے کے ساتھ ساتھ بتا دیا جاتا ہے کہ اپنے کئے کی ذمہ داری ہر شخص کے کاندھوں پر ہے اور جو راہ راست پر نہ ہو وہ خود اپنی گمراہی کا ذمہ دار ہے ۔ (آیت) ” مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔ اب یہ مضمون ایک عام پیمانے اور اصول پر ختم ہوتا ہے اور یہ پیمانہ تمام اصول واقدار کے وزن کے لئے ایک ترازو ہے ۔ اس کے مطابق ایک مسلم فیصلے کرتا ہے اس میزان میں طیب بھاری رہتا ہے ۔ اور خبیث ہلکا ہوجاتا ہے تاکہ خبیث اپنی ظاہری اور جسمانی کثرت کی وجہ سے کسی مسلم کو کسی بھی وقت متاثر نہ کرسکے ۔ (آیت) ” قُل لاَّ یَسْتَوِیْ الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ فَاتَّقُواْ اللّہَ یَا أُوْلِیْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (100) ” اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں ‘ خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو ‘ پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ‘ اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ۔ یہاں پاک وناپاک کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے حلال و حرام اور جائز وناجائز کا مضمون چل رہا تھا ‘ شکار میں سے حلال و حرام کا ذکر ظاہر ہے ۔ کہ حلال طیب ہوتا ہے اور حرام خبیث ہوتا ہے ۔ طیب اور خبیث برابر نہیں ہو سکتے اگرچہ خبیث اپنی کثرت کی وجہ سے انسان کو دھوکے میں ڈالتا ہے اور عجیب معلوم ہوتا ہے ‘ لیکن طیب نہایت ہی خوشگوار ہوتا ہے اور اس کے نتائج بھی اچھے نکلتے ہیں ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اس کے نتیجے میں امراض اور آلام سے بھی زیادہ لذت ہوتی ہے اور طیب کا انجام دنیا وآخرت میں اچھا ہوتا ہے ۔ جب نفس انسانی خواہشات نفسانیہ سے آزاد ہوجاتا ہے اور نفس پر تقوی اور دل کی نگرانی قائم ہوجاتی ہے تو وہ خبیث کے مقابلے میں طیب کو اختیار کرتا ہے اور اس طرح وہ دنیا وآخرت میں کامیاب رہتا ہے ۔ (آیت) ” فَاتَّقُواْ اللّہَ یَا أُوْلِیْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (100) ” پس اے صاحبان عقل وخرد اللہ ہی سے ڈرو ‘ امید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے) یہ تو تھی ظاہری مناسبت لیکن اس آیت کا افق اور مطالب اس سے بھی زیادہ وسیع ہیں ۔ یہ تمام زندگی کو اپنے دائرے میں لیتی ہے اور اس کے مفہوم کو تصدیق مختلف مقامات پر ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس امت کو میدان میں لایا اور اسے خیر امت قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ اسے ایک عظیم امر کے لئے تیار کیا جائے ۔ یہ عظیم امر یہ تھا کہ یہ امت اس کرہ ارض پر اسلامی نظام کی امانت کی حامل ہوگی ۔ وہ اسلامی نظام حیات پر اس طرح قائم ہو کہ اس سے پہلے کوئی امت اس طرح قائم نہ ہوئی ہو ۔ وہ اس نظام کو لوگوں کی زندگیوں میں اس طرح قائم کرے کہ کبھی کسی دوسری امت کے اندر یہ نظام اس طرح قائم نہ کیا جاسکا ہو ۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ اس امت کو اس قدر طویل تربیت دی جائے کہ اس سے پہلے کسی امت کو نہ دی گئی ہو ۔ پہلی تربیت یہ ہو کہ اسے آثار جاہلیت سے مکمل طور پر نکال دیا جائے اور اسے جاہلیت کی گراٹوں سے اٹھا کر سیدھا اعلی منزل مقصود تک بلند کردیا جائے ۔ یہاں تک کہ وہ اسلام کی بلند ترین چوٹی پر فائز ہوجائے ، اس کے بعد یہ امت اپنے تصورات و افکار کو درست کرے ‘ اور اپنی عادات ‘ اپنے شعور اور اپنے افکار کو جاہلیت کے آثار اور آلودگیوں سے پاک کرے ۔ اس کے بعد اس کے اندر اس قدر عزم پیدا کردیا جائے کہ وہ اس سچائی قبول کرلے اور پھر اس قبولیت کے نتیجے میں آنے والی ابتلاؤں کو برداشت کرے ۔ اس کے بعد وہ پوری زندگی کو اسلامی اقدار اور پیمانوں کے مطابق استوار کرے یہاں تک کہ یہ ایک ربانی امت بن جائے اور اس کی انسانیت اعلی مدارج انسانیت تک بلند ہوجائے جب یہاں تک اس کی تربیت ہوجائے تو پھر اس کی نظروں میں اچھا اور برا برابر نہ ہوں گے ۔ اگرچہ خبیث وناپاک زیادہ اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والا ہو اور آنکھوں کو چکا چوند کردینے والا ہو ۔ لیکن جب انسان طیب اور خبیث میں فرق کرلیتا ہے اور اشیاء کو الہی میزان میں تولتا ہے تو اس وقت باوجود کثرت اور حجم کے خبیث کا وزن طیب کے مقابلے میں کم ہوتا ہے اور طیب کا پلڑا باوجود قلت کے بہت بھاری ہوتا ہے ۔ اس مقام پر آکر یہ امت امین اور امانت دار بن جاتی ہے ۔ وہ درست اور قابل اعتماد ہوتی ہے ۔ اب وہ تمام انسانیت کی نگہبان ہوتی ہے ۔ اب وہ لوگوں کے لئے اللہ کا ترازو استعمال کرتی ہے اور اللہ کی قدر کے ساتھ اقدار کا تعین کرتی ہے ‘ وہ طیب کو اختیار کرتی ہے اور اس کی آنکھیں خبیث کو دیکھ کر خیرہ نہیں ہوتیں ۔ بعض اوقات ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ ان میں یہ میزان نہایت ہی مفید ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں کہ جب باطل پھولا ہوا ہو ‘ اور انسان یہ سمجھتا ہو کہ شاید یہ ترقی کر رہا ہے آنکھیں صرف یہ دیکھتی ہیں کہ بظاہر وہ پر قوت اور صاحب کثرت ہے ۔ ایک مومن اس پھولے ہوئے باطل کو اللہ کے ترازو میں تولتا ہے ۔ اس طرح اس کے ہاتھ مضطرب نہیں ہوتے ‘ نہ اس کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں ‘ نہ اس کا معیار خراب ہوتا ہے چناچہ وہ اس باطل کے مقابلے میں سچائی کو اختیار کرتا ہے جس میں کوئی جھاگ اور کوئی سو جن نہیں ہے ۔ نہ اس کے اردگرد کوئی زاد وعتاد ہے ۔ بس وہ تو فقط حق ہے ۔ وہ مجرد حق ہے اور اس کے سوا اس کے ساتھ کوئی غرض نہیں ہے ۔ اللہ کے ترازو میں اس کا وزن زیادہ ہے اور ذاتی طور پر وہ حسین و جمیل ہے ۔ اس کی ذات کے اندر ایک قوت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تربیت عین قرآنی منہاج کے مطابق کی ۔ اور امت پر رسول اللہ ﷺ کو قیم اور نگران مقرر کیا ۔ پھر وہ اس سطح پر پہنچی کہ وہ اللہ کے دین پر ایمان لانے والی تھی ۔ محض نفسیاتی ایمان نہیں اور نہ دل کے اندر کا ایمان بلکہ اپنی عملی زندگی میں ایمان اور اس کرہ ارض پر اپنی تمام سرگرمیوں کے اندر ایمان ۔ زندگی کے تمام اضطرابات میں ‘ تمام خواہشات اور امیدوں میں ‘ تمام رغبتوں اور مسلکوں میں ‘ تمام مفادات اور مصالح میں اور افراد اور گروہوں کی تمام کشمکشوں میں ایمان ‘ غرض اس کا ایمان اس طرح ہو کہ وہ اس پوری کائنات کے اوپر نگہبانی میں بھی ایماندار ہو ‘ اور اس زندگی کے اتھاہ سمندر میں اپنی عظیم ذمہ داریوں کے اندر بھی وہ ایماندار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو مختلف ہدایات ‘ مختلف موثرات ‘ مختلف آزمائشوں اور مختلف ضابطہ بندیوں کے ذریعے تربیت دی اور ان تمام امور کو ایک ہی مجموعی شکل میں ایک گٹھڑی کی طرح ایک نظام بنا دیا جس کے آخری مقاصد ایک ہی تھے ۔ یعنی اس امت کو اپنے عقائد و تصورات ‘ اپنے شعور اور میلانات اپنے طرز عمل اور اخلاق اور اپنی شریعت اور نظام اس طرح تیار کرنے چاہئیں کہ وہ اللہ کے دین کے اوپر قائم ہو ‘ وہ اس پوری انسانیت پر نگران ہو ‘ اور یہ اللہ کا حق ہے کہ وہ اپنے بندوں سے جو کام لینا چاہے وہ لے ۔ اللہ اپنے معاملات میں خود مختار ہے ۔ چناچہ اس کرہ ارض پر اسی روشن شکل میں اللہ کا دین چمکتا ہوا قائم ہوا۔ ہو ایک تصور تھا جس نے زندگی میں واقعیت اختیار کی اور یہ رسم ڈالی گئی کہ جب بھی اس دین کے قیام کے لئے یہ امت جہاد کرے گی اللہ کی مدد اسے حاصل ہوگی ۔ اس کے بعد جماعت مسلمہ کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بعض آداب سکھائے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے جو کچھ نہیں بتایا اس کے بارے میں آپ سے سوالات نہ کئے جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ سوال کریں اور حضور ﷺ جواب دیں تو آپ لوگوں کو وہ جواب پسند نہ آئے اور یاحرج واقعہ ہوجائے اور جواب کے ذریعے ایسے فرائض عائد ہوجائیں جن پر عمل کرنا ممکن نہ ہو۔ یا یہ ہو کہ کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ نے وسعت کی تھی اور سوال کی وجہ سے تنگی ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ آزاری دیتے ہیں ۔

المائدة 5:98

(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا) تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔ بیت الحرام کے اندر یہ حرمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کے دائرے میں انسان ‘ پرندے ‘ حیوان اور حشرات الارض سب آتے ہیں اور اگر کوئی احرام کی حالت میں حرم کے حدود میں پہنچا ہو ‘ تب بھی اس کے لئے یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔ اس کے علاوہ چار مہینوں کو بھی اشہر حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں قتل و قتال سخت ممنوع ہے ۔ یہ چار مہینے ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے دل میں ان چار مہینوں کا احترام بٹھا دیا تھا ‘ یہاں تک کہ ہو دور جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھے ۔ ان مہینوں میں وہ کسی نفس کا ڈراتے دھمکاتے بھی نہ تھے ۔ ان مہینوں میں وہ خون کا بدلہ بھی نہ لیتے تھے اور نہ ہی ان میں کوئی شخص انتقام کی توقع کرتا تھا یہاں تک کہ ایک شخص اپنے باپ بیٹے اور بھائی کے قاتل کو پاتا مگر اسے کوئی اذیت نہ دیتا ۔ چناچہ اس عرصے میں لوگ کھلے بندوں پھرتے اور تجارتی سفر کرتے اور رزق حلال تلاش کرتے ۔ یہ امن کے احکامات اللہ نے اس لئے بھی جاری کئے کہ اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کو خطہ امن وسلامتی قرار دینا چاہتے تھے جہاں لوگوں کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہو اور کوئی خوف اور بےچینی نہ ہو ۔ کعبے کی طرح ان چار مہینوں کو اللہ نے زمانہ امن قرار دیا تھا جس طرح کعبہ مقام امن تھا ۔ اس کے بعد اس امن کی حدود کے اندر مزید توسیع کردی گئی اور اس ہدی کو بھی مامون اور محفوظ کردیا گیا ہے جسے خانہ کعبہ کی طرف روانہ کردیا گیا ہو ۔ یہ جانور حج اور عمرہ کے موقع پر چلائے جاتے تھے ۔ چناچہ دور جاہلیت میں بھی ان جانوروں کو نہ چھیڑا جاتا تاھ ۔ اسی طرح اس شخص کو بھی ماموں قرار دے دیا گیا جو خانہ کعبہ میں پناہ لے لیتا ہے اور اپنے گلے میں بیت الحرام کے درختوں کا ہار ڈالتا ہے ۔ خانہ کعبہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ہاتھوں اس کے تعمیر کے وقت ہی سے رکھی تھی اور اللہ نے اس وقت سے خانہ کعبہ کو لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دے دیا تھا ۔ یہ اللہ کا وہ عظیم فضل و احسان تھا ‘ جس کی یاد دہانی اللہ نے مشرکین کو بھی کرائی اس لئے کہ ان کے لئے بھی بیت اللہ گھومنے پھرنے اور امن کی جگہ تھا ۔ اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اچک لئے جاتے تھے جبکہ مشرکین یہاں نہایت ہی امن سے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کا شکریہ ادا نہ کرتے تھے ۔ اس خانہ توحید میں الہ واحد کی بندگی نہ کرتے تھے اور حضور ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم عقیدہ توحید کو اپنائیں تو ہمیں اپنی جا اور جاگیر چھوڑنی پڑے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کر کے اس کی تردید کی اور انہیں بتایا کہ امن اور خوف ہوتا کیا ہے ۔ (آیت) ” وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرت کل شیء رزقا من لدنا ولکن اکثرھم لا یعلمون “۔ (28 : 57) ” وہ کہتے ہیں ‘ اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے ۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پرامن حرم کو انکے لئے جائے قیام بنادیا جس کی طرف ہر طرف کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں ‘ ہماری طرف سے رزق کے طور پر مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ۔ “ صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن یہ فرمایا ” یہ شہر حرام ہے ‘ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے ‘ اور یہاں کے سبزے کو بھی خراب نہ کیا جائے گا ‘ یہاں کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا اور یہاں کی گمشدہ چیز کو نہ اٹھایا جائے گا مگر وہ شخص جو اعلان کرنا چاہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے حرم میں محرم کے لئے زندہ چیزوں میں سے صرف کوے ‘ چیل ‘ بچھو ‘ چوہے اور کاٹنے والے کتے کو مستثی فرمایا ۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے ” حضور اکرم ﷺ نے پانچ چیزوں کے قتل کا حکم دیا ۔ یہ مضر چیزیں ہیں اور حالت حلت اور احرام دونوں میں یہ حکم دیا ۔ کوا چیل ‘ بچھو ‘ چوہا اور کاٹنے والاکتا۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے سانپ کا اضافہ آیا ہے ۔ حضرت علی ؓ کی روایت کی رو سے یہی حرمت مدینہ کے لئے بھی عائد ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ” عیر “ سے لے کر ” ثور “ مدینہ کو حرم قرار دیا ہے ۔ اور صحیحن ہی میں ایک دوسری روایت ہے ۔ یہ حضرت عبادہ ابن تمیم سے وارد ہوئی ہے۔ کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا فرمائی اور میں نے مدینہ کو اسی طرح حرم کردیا ہے جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا ۔ “ اس کے علاوہ مزید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ علاقہ اور یہ مہینے ہی صرف امن کے لئے مخصوص نہیں اور صرف یہ بات نہیں ہے کہ اس امن وامان کا دائرہ صرف انسان اور حیوان تک ہی محدود ہے بلکہ اس امن اور سکون کا دائرہ انسانی ضمیر تک وسیع ہوجاتا ہے اس لئے کہ انسانی ضمیر انسانی نفس کی گہرائیوں کے اندر ایک معرکہ کار زار ہے ۔ ضمیر کے اندر جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو اس کے شعلے اور اس کا دھواں زمان ومکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ پھر تمام انسان اور حیوان اس کی زد میں آجاتے ہیں حرمین اس اندرونی معرکہ کار زار میں بھی امن کا سامان پیدا کردیتے ہیں اور جب ضمیر کے اندر امن و سکون پیدا ہوجاتا ہے تو ایک محرم کسی جاندار کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بھی حرج محسوس کردیتے ہیں اور جب ضمیر کے اندر امن و سکون پیدا ہوجاتا ہے تو ایک محرم کسی جاندار کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بھی حرج محسوس کرتا ہے اگرچہ یہ شکار حرم سے باہر ہو ۔ یہ عرصہ نفس انسانی کی تربیت کا عرصہ ہے تاکہ وہ صاف و شفاف ہوجائے ۔ وہ ہلکا ہوجائے اور بلند ہو کر ملاء اعلی سے واصل ہوجائے اور ملاء اعلی کے ساتھ معاملہ کرنے کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ انسانیت ‘ یہ خوفزدہ ‘ مصیبت زدہ ‘ پسی ہوئی انسانیت کس قدر محتاج ہے ‘ اس علاقہ امن کی ۔ وہ منطقہ امن جس کو اللہ نے اس دین کے پیروکاروں کے لئے بنایا ہے ‘ اور جس کا اعلان عام قرآن کریم کے اندر کردیا گیا ۔ (آیت) ” ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) ” تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔ اس جگہ یہ عجیب اختتامیہ ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ اللہ جو شریعت مقرر کرتا ہے اور لوگوں کے لئے یہ جائے امن جو قرار دیتا ہے ‘ یہ اس لئے بتاتا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ ان تمام حالات سے باخبر ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے اندر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ‘ تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ انسانوں کے مزاج سے باخبر ہے ‘ وہ انکی خفیہ نفسیات سے بھی خبردار ہے ۔ وہ انکی روح کی پکار کو سنتا ہے اور وہ ایسا قانون بناتا ہے جس کے ذریعے ان کے مزاج کے تقاضے ‘ انکی ضروریات اور ان کے میلانات پورے ہوتے ہیں ۔ جب لوگ یہ محسوس کریں گے کہ قانون سازی میں اللہ نہایت ہی شفیق ورحیم ہے ۔ اور جب لوگوں کے دلوں نے اس شریعت اور ان کی فطرت کے درمیان پوری ہم آہنگی کا مزہ چکھا تو انکو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ان تمام امور کو جانتا ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے اندر ہیں اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ دین اسلام انسانی فطرت اور اس کے میلانات اور خواہشات کے پورے پورے تقاضے ملحوظ رکھنے میں بہت ہی عجیب ہے ۔ وہ انسانوں کی تمام ضروریات کا لحاظ رکھتا ہے ۔ اسلامی شریعت کی اسکیم انسانی فطرت کی اسکیم کے عین مطابق ہے ۔ شریعت کی تشکیل اور انسان کی فطرت کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے ۔ جب انسان کو اس دین کے بارے میں شرح صدر ہوجاتا ہے تو پھر وہ جس قدر غور کرتا ہے اسے کمال و جمال ہی نظر آتا ہے ‘ پھر اسے انس و محبت ہی نظر آتی ہے اور اسے وہ سکون ملتا ہے جس کا تصور وہ شخص نہیں کرسکتا جس کو شریعت پر شرح صدر حاصل نہ ہو ۔ اب حالت احرام اور حالت غیر احرام میں جائز وناجائز امور کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور دوسری جانب وہ غفور ورحیم بھی ہے ۔ (آیت) ” اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ “ اور اس ڈراوے کے ساتھ ساتھ بتا دیا جاتا ہے کہ اپنے کئے کی ذمہ داری ہر شخص کے کاندھوں پر ہے اور جو راہ راست پر نہ ہو وہ خود اپنی گمراہی کا ذمہ دار ہے ۔ (آیت) ” مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔ اب یہ مضمون ایک عام پیمانے اور اصول پر ختم ہوتا ہے اور یہ پیمانہ تمام اصول واقدار کے وزن کے لئے ایک ترازو ہے ۔ اس کے مطابق ایک مسلم فیصلے کرتا ہے اس میزان میں طیب بھاری رہتا ہے ۔ اور خبیث ہلکا ہوجاتا ہے تاکہ خبیث اپنی ظاہری اور جسمانی کثرت کی وجہ سے کسی مسلم کو کسی بھی وقت متاثر نہ کرسکے ۔ (آیت) ” قُل لاَّ یَسْتَوِیْ الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ فَاتَّقُواْ اللّہَ یَا أُوْلِیْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (100) ” اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں ‘ خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو ‘ پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ‘ اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ۔ یہاں پاک وناپاک کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے حلال و حرام اور جائز وناجائز کا مضمون چل رہا تھا ‘ شکار میں سے حلال و حرام کا ذکر ظاہر ہے ۔ کہ حلال طیب ہوتا ہے اور حرام خبیث ہوتا ہے ۔ طیب اور خبیث برابر نہیں ہو سکتے اگرچہ خبیث اپنی کثرت کی وجہ سے انسان کو دھوکے میں ڈالتا ہے اور عجیب معلوم ہوتا ہے ‘ لیکن طیب نہایت ہی خوشگوار ہوتا ہے اور اس کے نتائج بھی اچھے نکلتے ہیں ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اس کے نتیجے میں امراض اور آلام سے بھی زیادہ لذت ہوتی ہے اور طیب کا انجام دنیا وآخرت میں اچھا ہوتا ہے ۔ جب نفس انسانی خواہشات نفسانیہ سے آزاد ہوجاتا ہے اور نفس پر تقوی اور دل کی نگرانی قائم ہوجاتی ہے تو وہ خبیث کے مقابلے میں طیب کو اختیار کرتا ہے اور اس طرح وہ دنیا وآخرت میں کامیاب رہتا ہے ۔ (آیت) ” فَاتَّقُواْ اللّہَ یَا أُوْلِیْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (100) ” پس اے صاحبان عقل وخرد اللہ ہی سے ڈرو ‘ امید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے) یہ تو تھی ظاہری مناسبت لیکن اس آیت کا افق اور مطالب اس سے بھی زیادہ وسیع ہیں ۔ یہ تمام زندگی کو اپنے دائرے میں لیتی ہے اور اس کے مفہوم کو تصدیق مختلف مقامات پر ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس امت کو میدان میں لایا اور اسے خیر امت قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ اسے ایک عظیم امر کے لئے تیار کیا جائے ۔ یہ عظیم امر یہ تھا کہ یہ امت اس کرہ ارض پر اسلامی نظام کی امانت کی حامل ہوگی ۔ وہ اسلامی نظام حیات پر اس طرح قائم ہو کہ اس سے پہلے کوئی امت اس طرح قائم نہ ہوئی ہو ۔ وہ اس نظام کو لوگوں کی زندگیوں میں اس طرح قائم کرے کہ کبھی کسی دوسری امت کے اندر یہ نظام اس طرح قائم نہ کیا جاسکا ہو ۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ اس امت کو اس قدر طویل تربیت دی جائے کہ اس سے پہلے کسی امت کو نہ دی گئی ہو ۔ پہلی تربیت یہ ہو کہ اسے آثار جاہلیت سے مکمل طور پر نکال دیا جائے اور اسے جاہلیت کی گراٹوں سے اٹھا کر سیدھا اعلی منزل مقصود تک بلند کردیا جائے ۔ یہاں تک کہ وہ اسلام کی بلند ترین چوٹی پر فائز ہوجائے ، اس کے بعد یہ امت اپنے تصورات و افکار کو درست کرے ‘ اور اپنی عادات ‘ اپنے شعور اور اپنے افکار کو جاہلیت کے آثار اور آلودگیوں سے پاک کرے ۔ اس کے بعد اس کے اندر اس قدر عزم پیدا کردیا جائے کہ وہ اس سچائی قبول کرلے اور پھر اس قبولیت کے نتیجے میں آنے والی ابتلاؤں کو برداشت کرے ۔ اس کے بعد وہ پوری زندگی کو اسلامی اقدار اور پیمانوں کے مطابق استوار کرے یہاں تک کہ یہ ایک ربانی امت بن جائے اور اس کی انسانیت اعلی مدارج انسانیت تک بلند ہوجائے جب یہاں تک اس کی تربیت ہوجائے تو پھر اس کی نظروں میں اچھا اور برا برابر نہ ہوں گے ۔ اگرچہ خبیث وناپاک زیادہ اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والا ہو اور آنکھوں کو چکا چوند کردینے والا ہو ۔ لیکن جب انسان طیب اور خبیث میں فرق کرلیتا ہے اور اشیاء کو الہی میزان میں تولتا ہے تو اس وقت باوجود کثرت اور حجم کے خبیث کا وزن طیب کے مقابلے میں کم ہوتا ہے اور طیب کا پلڑا باوجود قلت کے بہت بھاری ہوتا ہے ۔ اس مقام پر آکر یہ امت امین اور امانت دار بن جاتی ہے ۔ وہ درست اور قابل اعتماد ہوتی ہے ۔ اب وہ تمام انسانیت کی نگہبان ہوتی ہے ۔ اب وہ لوگوں کے لئے اللہ کا ترازو استعمال کرتی ہے اور اللہ کی قدر کے ساتھ اقدار کا تعین کرتی ہے ‘ وہ طیب کو اختیار کرتی ہے اور اس کی آنکھیں خبیث کو دیکھ کر خیرہ نہیں ہوتیں ۔ بعض اوقات ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ ان میں یہ میزان نہایت ہی مفید ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں کہ جب باطل پھولا ہوا ہو ‘ اور انسان یہ سمجھتا ہو کہ شاید یہ ترقی کر رہا ہے آنکھیں صرف یہ دیکھتی ہیں کہ بظاہر وہ پر قوت اور صاحب کثرت ہے ۔ ایک مومن اس پھولے ہوئے باطل کو اللہ کے ترازو میں تولتا ہے ۔ اس طرح اس کے ہاتھ مضطرب نہیں ہوتے ‘ نہ اس کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں ‘ نہ اس کا معیار خراب ہوتا ہے چناچہ وہ اس باطل کے مقابلے میں سچائی کو اختیار کرتا ہے جس میں کوئی جھاگ اور کوئی سو جن نہیں ہے ۔ نہ اس کے اردگرد کوئی زاد وعتاد ہے ۔ بس وہ تو فقط حق ہے ۔ وہ مجرد حق ہے اور اس کے سوا اس کے ساتھ کوئی غرض نہیں ہے ۔ اللہ کے ترازو میں اس کا وزن زیادہ ہے اور ذاتی طور پر وہ حسین و جمیل ہے ۔ اس کی ذات کے اندر ایک قوت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تربیت عین قرآنی منہاج کے مطابق کی ۔ اور امت پر رسول اللہ ﷺ کو قیم اور نگران مقرر کیا ۔ پھر وہ اس سطح پر پہنچی کہ وہ اللہ کے دین پر ایمان لانے والی تھی ۔ محض نفسیاتی ایمان نہیں اور نہ دل کے اندر کا ایمان بلکہ اپنی عملی زندگی میں ایمان اور اس کرہ ارض پر اپنی تمام سرگرمیوں کے اندر ایمان ۔ زندگی کے تمام اضطرابات میں ‘ تمام خواہشات اور امیدوں میں ‘ تمام رغبتوں اور مسلکوں میں ‘ تمام مفادات اور مصالح میں اور افراد اور گروہوں کی تمام کشمکشوں میں ایمان ‘ غرض اس کا ایمان اس طرح ہو کہ وہ اس پوری کائنات کے اوپر نگہبانی میں بھی ایماندار ہو ‘ اور اس زندگی کے اتھاہ سمندر میں اپنی عظیم ذمہ داریوں کے اندر بھی وہ ایماندار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو مختلف ہدایات ‘ مختلف موثرات ‘ مختلف آزمائشوں اور مختلف ضابطہ بندیوں کے ذریعے تربیت دی اور ان تمام امور کو ایک ہی مجموعی شکل میں ایک گٹھڑی کی طرح ایک نظام بنا دیا جس کے آخری مقاصد ایک ہی تھے ۔ یعنی اس امت کو اپنے عقائد و تصورات ‘ اپنے شعور اور میلانات اپنے طرز عمل اور اخلاق اور اپنی شریعت اور نظام اس طرح تیار کرنے چاہئیں کہ وہ اللہ کے دین کے اوپر قائم ہو ‘ وہ اس پوری انسانیت پر نگران ہو ‘ اور یہ اللہ کا حق ہے کہ وہ اپنے بندوں سے جو کام لینا چاہے وہ لے ۔ اللہ اپنے معاملات میں خود مختار ہے ۔ چناچہ اس کرہ ارض پر اسی روشن شکل میں اللہ کا دین چمکتا ہوا قائم ہوا۔ ہو ایک تصور تھا جس نے زندگی میں واقعیت اختیار کی اور یہ رسم ڈالی گئی کہ جب بھی اس دین کے قیام کے لئے یہ امت جہاد کرے گی اللہ کی مدد اسے حاصل ہوگی ۔ اس کے بعد جماعت مسلمہ کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بعض آداب سکھائے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے جو کچھ نہیں بتایا اس کے بارے میں آپ سے سوالات نہ کئے جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ سوال کریں اور حضور ﷺ جواب دیں تو آپ لوگوں کو وہ جواب پسند نہ آئے اور یاحرج واقعہ ہوجائے اور جواب کے ذریعے ایسے فرائض عائد ہوجائیں جن پر عمل کرنا ممکن نہ ہو۔ یا یہ ہو کہ کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ نے وسعت کی تھی اور سوال کی وجہ سے تنگی ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ آزاری دیتے ہیں ۔

المائدة 5:99

(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا) تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔ بیت الحرام کے اندر یہ حرمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کے دائرے میں انسان ‘ پرندے ‘ حیوان اور حشرات الارض سب آتے ہیں اور اگر کوئی احرام کی حالت میں حرم کے حدود میں پہنچا ہو ‘ تب بھی اس کے لئے یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔ اس کے علاوہ چار مہینوں کو بھی اشہر حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں قتل و قتال سخت ممنوع ہے ۔ یہ چار مہینے ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے دل میں ان چار مہینوں کا احترام بٹھا دیا تھا ‘ یہاں تک کہ ہو دور جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھے ۔ ان مہینوں میں وہ کسی نفس کا ڈراتے دھمکاتے بھی نہ تھے ۔ ان مہینوں میں وہ خون کا بدلہ بھی نہ لیتے تھے اور نہ ہی ان میں کوئی شخص انتقام کی توقع کرتا تھا یہاں تک کہ ایک شخص اپنے باپ بیٹے اور بھائی کے قاتل کو پاتا مگر اسے کوئی اذیت نہ دیتا ۔ چناچہ اس عرصے میں لوگ کھلے بندوں پھرتے اور تجارتی سفر کرتے اور رزق حلال تلاش کرتے ۔ یہ امن کے احکامات اللہ نے اس لئے بھی جاری کئے کہ اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کو خطہ امن وسلامتی قرار دینا چاہتے تھے جہاں لوگوں کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہو اور کوئی خوف اور بےچینی نہ ہو ۔ کعبے کی طرح ان چار مہینوں کو اللہ نے زمانہ امن قرار دیا تھا جس طرح کعبہ مقام امن تھا ۔ اس کے بعد اس امن کی حدود کے اندر مزید توسیع کردی گئی اور اس ہدی کو بھی مامون اور محفوظ کردیا گیا ہے جسے خانہ کعبہ کی طرف روانہ کردیا گیا ہو ۔ یہ جانور حج اور عمرہ کے موقع پر چلائے جاتے تھے ۔ چناچہ دور جاہلیت میں بھی ان جانوروں کو نہ چھیڑا جاتا تاھ ۔ اسی طرح اس شخص کو بھی ماموں قرار دے دیا گیا جو خانہ کعبہ میں پناہ لے لیتا ہے اور اپنے گلے میں بیت الحرام کے درختوں کا ہار ڈالتا ہے ۔ خانہ کعبہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ہاتھوں اس کے تعمیر کے وقت ہی سے رکھی تھی اور اللہ نے اس وقت سے خانہ کعبہ کو لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دے دیا تھا ۔ یہ اللہ کا وہ عظیم فضل و احسان تھا ‘ جس کی یاد دہانی اللہ نے مشرکین کو بھی کرائی اس لئے کہ ان کے لئے بھی بیت اللہ گھومنے پھرنے اور امن کی جگہ تھا ۔ اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اچک لئے جاتے تھے جبکہ مشرکین یہاں نہایت ہی امن سے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کا شکریہ ادا نہ کرتے تھے ۔ اس خانہ توحید میں الہ واحد کی بندگی نہ کرتے تھے اور حضور ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم عقیدہ توحید کو اپنائیں تو ہمیں اپنی جا اور جاگیر چھوڑنی پڑے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کر کے اس کی تردید کی اور انہیں بتایا کہ امن اور خوف ہوتا کیا ہے ۔ (آیت) ” وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرت کل شیء رزقا من لدنا ولکن اکثرھم لا یعلمون “۔ (28 : 57) ” وہ کہتے ہیں ‘ اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے ۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پرامن حرم کو انکے لئے جائے قیام بنادیا جس کی طرف ہر طرف کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں ‘ ہماری طرف سے رزق کے طور پر مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ۔ “ صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن یہ فرمایا ” یہ شہر حرام ہے ‘ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے ‘ اور یہاں کے سبزے کو بھی خراب نہ کیا جائے گا ‘ یہاں کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا اور یہاں کی گمشدہ چیز کو نہ اٹھایا جائے گا مگر وہ شخص جو اعلان کرنا چاہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے حرم میں محرم کے لئے زندہ چیزوں میں سے صرف کوے ‘ چیل ‘ بچھو ‘ چوہے اور کاٹنے والے کتے کو مستثی فرمایا ۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے ” حضور اکرم ﷺ نے پانچ چیزوں کے قتل کا حکم دیا ۔ یہ مضر چیزیں ہیں اور حالت حلت اور احرام دونوں میں یہ حکم دیا ۔ کوا چیل ‘ بچھو ‘ چوہا اور کاٹنے والاکتا۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے سانپ کا اضافہ آیا ہے ۔ حضرت علی ؓ کی روایت کی رو سے یہی حرمت مدینہ کے لئے بھی عائد ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ” عیر “ سے لے کر ” ثور “ مدینہ کو حرم قرار دیا ہے ۔ اور صحیحن ہی میں ایک دوسری روایت ہے ۔ یہ حضرت عبادہ ابن تمیم سے وارد ہوئی ہے۔ کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا فرمائی اور میں نے مدینہ کو اسی طرح حرم کردیا ہے جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا ۔ “ اس کے علاوہ مزید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ علاقہ اور یہ مہینے ہی صرف امن کے لئے مخصوص نہیں اور صرف یہ بات نہیں ہے کہ اس امن وامان کا دائرہ صرف انسان اور حیوان تک ہی محدود ہے بلکہ اس امن اور سکون کا دائرہ انسانی ضمیر تک وسیع ہوجاتا ہے اس لئے کہ انسانی ضمیر انسانی نفس کی گہرائیوں کے اندر ایک معرکہ کار زار ہے ۔ ضمیر کے اندر جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو اس کے شعلے اور اس کا دھواں زمان ومکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ پھر تمام انسان اور حیوان اس کی زد میں آجاتے ہیں حرمین اس اندرونی معرکہ کار زار میں بھی امن کا سامان پیدا کردیتے ہیں اور جب ضمیر کے اندر امن و سکون پیدا ہوجاتا ہے تو ایک محرم کسی جاندار کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بھی حرج محسوس کردیتے ہیں اور جب ضمیر کے اندر امن و سکون پیدا ہوجاتا ہے تو ایک محرم کسی جاندار کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بھی حرج محسوس کرتا ہے اگرچہ یہ شکار حرم سے باہر ہو ۔ یہ عرصہ نفس انسانی کی تربیت کا عرصہ ہے تاکہ وہ صاف و شفاف ہوجائے ۔ وہ ہلکا ہوجائے اور بلند ہو کر ملاء اعلی سے واصل ہوجائے اور ملاء اعلی کے ساتھ معاملہ کرنے کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ انسانیت ‘ یہ خوفزدہ ‘ مصیبت زدہ ‘ پسی ہوئی انسانیت کس قدر محتاج ہے ‘ اس علاقہ امن کی ۔ وہ منطقہ امن جس کو اللہ نے اس دین کے پیروکاروں کے لئے بنایا ہے ‘ اور جس کا اعلان عام قرآن کریم کے اندر کردیا گیا ۔ (آیت) ” ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) ” تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔ اس جگہ یہ عجیب اختتامیہ ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ اللہ جو شریعت مقرر کرتا ہے اور لوگوں کے لئے یہ جائے امن جو قرار دیتا ہے ‘ یہ اس لئے بتاتا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ ان تمام حالات سے باخبر ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے اندر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ‘ تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ انسانوں کے مزاج سے باخبر ہے ‘ وہ انکی خفیہ نفسیات سے بھی خبردار ہے ۔ وہ انکی روح کی پکار کو سنتا ہے اور وہ ایسا قانون بناتا ہے جس کے ذریعے ان کے مزاج کے تقاضے ‘ انکی ضروریات اور ان کے میلانات پورے ہوتے ہیں ۔ جب لوگ یہ محسوس کریں گے کہ قانون سازی میں اللہ نہایت ہی شفیق ورحیم ہے ۔ اور جب لوگوں کے دلوں نے اس شریعت اور ان کی فطرت کے درمیان پوری ہم آہنگی کا مزہ چکھا تو انکو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ان تمام امور کو جانتا ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے اندر ہیں اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ دین اسلام انسانی فطرت اور اس کے میلانات اور خواہشات کے پورے پورے تقاضے ملحوظ رکھنے میں بہت ہی عجیب ہے ۔ وہ انسانوں کی تمام ضروریات کا لحاظ رکھتا ہے ۔ اسلامی شریعت کی اسکیم انسانی فطرت کی اسکیم کے عین مطابق ہے ۔ شریعت کی تشکیل اور انسان کی فطرت کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے ۔ جب انسان کو اس دین کے بارے میں شرح صدر ہوجاتا ہے تو پھر وہ جس قدر غور کرتا ہے اسے کمال و جمال ہی نظر آتا ہے ‘ پھر اسے انس و محبت ہی نظر آتی ہے اور اسے وہ سکون ملتا ہے جس کا تصور وہ شخص نہیں کرسکتا جس کو شریعت پر شرح صدر حاصل نہ ہو ۔ اب حالت احرام اور حالت غیر احرام میں جائز وناجائز امور کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور دوسری جانب وہ غفور ورحیم بھی ہے ۔ (آیت) ” اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ “ اور اس ڈراوے کے ساتھ ساتھ بتا دیا جاتا ہے کہ اپنے کئے کی ذمہ داری ہر شخص کے کاندھوں پر ہے اور جو راہ راست پر نہ ہو وہ خود اپنی گمراہی کا ذمہ دار ہے ۔ (آیت) ” مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔ اب یہ مضمون ایک عام پیمانے اور اصول پر ختم ہوتا ہے اور یہ پیمانہ تمام اصول واقدار کے وزن کے لئے ایک ترازو ہے ۔ اس کے مطابق ایک مسلم فیصلے کرتا ہے اس میزان میں طیب بھاری رہتا ہے ۔ اور خبیث ہلکا ہوجاتا ہے تاکہ خبیث اپنی ظاہری اور جسمانی کثرت کی وجہ سے کسی مسلم کو کسی بھی وقت متاثر نہ کرسکے ۔ (آیت) ” قُل لاَّ یَسْتَوِیْ الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ فَاتَّقُواْ اللّہَ یَا أُوْلِیْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (100) ” اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں ‘ خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو ‘ پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ‘ اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ۔ یہاں پاک وناپاک کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے حلال و حرام اور جائز وناجائز کا مضمون چل رہا تھا ‘ شکار میں سے حلال و حرام کا ذکر ظاہر ہے ۔ کہ حلال طیب ہوتا ہے اور حرام خبیث ہوتا ہے ۔ طیب اور خبیث برابر نہیں ہو سکتے اگرچہ خبیث اپنی کثرت کی وجہ سے انسان کو دھوکے میں ڈالتا ہے اور عجیب معلوم ہوتا ہے ‘ لیکن طیب نہایت ہی خوشگوار ہوتا ہے اور اس کے نتائج بھی اچھے نکلتے ہیں ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اس کے نتیجے میں امراض اور آلام سے بھی زیادہ لذت ہوتی ہے اور طیب کا انجام دنیا وآخرت میں اچھا ہوتا ہے ۔ جب نفس انسانی خواہشات نفسانیہ سے آزاد ہوجاتا ہے اور نفس پر تقوی اور دل کی نگرانی قائم ہوجاتی ہے تو وہ خبیث کے مقابلے میں طیب کو اختیار کرتا ہے اور اس طرح وہ دنیا وآخرت میں کامیاب رہتا ہے ۔ (آیت) ” فَاتَّقُواْ اللّہَ یَا أُوْلِیْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (100) ” پس اے صاحبان عقل وخرد اللہ ہی سے ڈرو ‘ امید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے) یہ تو تھی ظاہری مناسبت لیکن اس آیت کا افق اور مطالب اس سے بھی زیادہ وسیع ہیں ۔ یہ تمام زندگی کو اپنے دائرے میں لیتی ہے اور اس کے مفہوم کو تصدیق مختلف مقامات پر ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس امت کو میدان میں لایا اور اسے خیر امت قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ اسے ایک عظیم امر کے لئے تیار کیا جائے ۔ یہ عظیم امر یہ تھا کہ یہ امت اس کرہ ارض پر اسلامی نظام کی امانت کی حامل ہوگی ۔ وہ اسلامی نظام حیات پر اس طرح قائم ہو کہ اس سے پہلے کوئی امت اس طرح قائم نہ ہوئی ہو ۔ وہ اس نظام کو لوگوں کی زندگیوں میں اس طرح قائم کرے کہ کبھی کسی دوسری امت کے اندر یہ نظام اس طرح قائم نہ کیا جاسکا ہو ۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ اس امت کو اس قدر طویل تربیت دی جائے کہ اس سے پہلے کسی امت کو نہ دی گئی ہو ۔ پہلی تربیت یہ ہو کہ اسے آثار جاہلیت سے مکمل طور پر نکال دیا جائے اور اسے جاہلیت کی گراٹوں سے اٹھا کر سیدھا اعلی منزل مقصود تک بلند کردیا جائے ۔ یہاں تک کہ وہ اسلام کی بلند ترین چوٹی پر فائز ہوجائے ، اس کے بعد یہ امت اپنے تصورات و افکار کو درست کرے ‘ اور اپنی عادات ‘ اپنے شعور اور اپنے افکار کو جاہلیت کے آثار اور آلودگیوں سے پاک کرے ۔ اس کے بعد اس کے اندر اس قدر عزم پیدا کردیا جائے کہ وہ اس سچائی قبول کرلے اور پھر اس قبولیت کے نتیجے میں آنے والی ابتلاؤں کو برداشت کرے ۔ اس کے بعد وہ پوری زندگی کو اسلامی اقدار اور پیمانوں کے مطابق استوار کرے یہاں تک کہ یہ ایک ربانی امت بن جائے اور اس کی انسانیت اعلی مدارج انسانیت تک بلند ہوجائے جب یہاں تک اس کی تربیت ہوجائے تو پھر اس کی نظروں میں اچھا اور برا برابر نہ ہوں گے ۔ اگرچہ خبیث وناپاک زیادہ اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والا ہو اور آنکھوں کو چکا چوند کردینے والا ہو ۔ لیکن جب انسان طیب اور خبیث میں فرق کرلیتا ہے اور اشیاء کو الہی میزان میں تولتا ہے تو اس وقت باوجود کثرت اور حجم کے خبیث کا وزن طیب کے مقابلے میں کم ہوتا ہے اور طیب کا پلڑا باوجود قلت کے بہت بھاری ہوتا ہے ۔ اس مقام پر آکر یہ امت امین اور امانت دار بن جاتی ہے ۔ وہ درست اور قابل اعتماد ہوتی ہے ۔ اب وہ تمام انسانیت کی نگہبان ہوتی ہے ۔ اب وہ لوگوں کے لئے اللہ کا ترازو استعمال کرتی ہے اور اللہ کی قدر کے ساتھ اقدار کا تعین کرتی ہے ‘ وہ طیب کو اختیار کرتی ہے اور اس کی آنکھیں خبیث کو دیکھ کر خیرہ نہیں ہوتیں ۔ بعض اوقات ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ ان میں یہ میزان نہایت ہی مفید ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں کہ جب باطل پھولا ہوا ہو ‘ اور انسان یہ سمجھتا ہو کہ شاید یہ ترقی کر رہا ہے آنکھیں صرف یہ دیکھتی ہیں کہ بظاہر وہ پر قوت اور صاحب کثرت ہے ۔ ایک مومن اس پھولے ہوئے باطل کو اللہ کے ترازو میں تولتا ہے ۔ اس طرح اس کے ہاتھ مضطرب نہیں ہوتے ‘ نہ اس کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں ‘ نہ اس کا معیار خراب ہوتا ہے چناچہ وہ اس باطل کے مقابلے میں سچائی کو اختیار کرتا ہے جس میں کوئی جھاگ اور کوئی سو جن نہیں ہے ۔ نہ اس کے اردگرد کوئی زاد وعتاد ہے ۔ بس وہ تو فقط حق ہے ۔ وہ مجرد حق ہے اور اس کے سوا اس کے ساتھ کوئی غرض نہیں ہے ۔ اللہ کے ترازو میں اس کا وزن زیادہ ہے اور ذاتی طور پر وہ حسین و جمیل ہے ۔ اس کی ذات کے اندر ایک قوت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تربیت عین قرآنی منہاج کے مطابق کی ۔ اور امت پر رسول اللہ ﷺ کو قیم اور نگران مقرر کیا ۔ پھر وہ اس سطح پر پہنچی کہ وہ اللہ کے دین پر ایمان لانے والی تھی ۔ محض نفسیاتی ایمان نہیں اور نہ دل کے اندر کا ایمان بلکہ اپنی عملی زندگی میں ایمان اور اس کرہ ارض پر اپنی تمام سرگرمیوں کے اندر ایمان ۔ زندگی کے تمام اضطرابات میں ‘ تمام خواہشات اور امیدوں میں ‘ تمام رغبتوں اور مسلکوں میں ‘ تمام مفادات اور مصالح میں اور افراد اور گروہوں کی تمام کشمکشوں میں ایمان ‘ غرض اس کا ایمان اس طرح ہو کہ وہ اس پوری کائنات کے اوپر نگہبانی میں بھی ایماندار ہو ‘ اور اس زندگی کے اتھاہ سمندر میں اپنی عظیم ذمہ داریوں کے اندر بھی وہ ایماندار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو مختلف ہدایات ‘ مختلف موثرات ‘ مختلف آزمائشوں اور مختلف ضابطہ بندیوں کے ذریعے تربیت دی اور ان تمام امور کو ایک ہی مجموعی شکل میں ایک گٹھڑی کی طرح ایک نظام بنا دیا جس کے آخری مقاصد ایک ہی تھے ۔ یعنی اس امت کو اپنے عقائد و تصورات ‘ اپنے شعور اور میلانات اپنے طرز عمل اور اخلاق اور اپنی شریعت اور نظام اس طرح تیار کرنے چاہئیں کہ وہ اللہ کے دین کے اوپر قائم ہو ‘ وہ اس پوری انسانیت پر نگران ہو ‘ اور یہ اللہ کا حق ہے کہ وہ اپنے بندوں سے جو کام لینا چاہے وہ لے ۔ اللہ اپنے معاملات میں خود مختار ہے ۔ چناچہ اس کرہ ارض پر اسی روشن شکل میں اللہ کا دین چمکتا ہوا قائم ہوا۔ ہو ایک تصور تھا جس نے زندگی میں واقعیت اختیار کی اور یہ رسم ڈالی گئی کہ جب بھی اس دین کے قیام کے لئے یہ امت جہاد کرے گی اللہ کی مدد اسے حاصل ہوگی ۔ اس کے بعد جماعت مسلمہ کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بعض آداب سکھائے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے جو کچھ نہیں بتایا اس کے بارے میں آپ سے سوالات نہ کئے جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ سوال کریں اور حضور ﷺ جواب دیں تو آپ لوگوں کو وہ جواب پسند نہ آئے اور یاحرج واقعہ ہوجائے اور جواب کے ذریعے ایسے فرائض عائد ہوجائیں جن پر عمل کرنا ممکن نہ ہو۔ یا یہ ہو کہ کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ نے وسعت کی تھی اور سوال کی وجہ سے تنگی ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ آزاری دیتے ہیں ۔

المائدة 5:100

(آیت) ” جَعَلَ اللّہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْْتَ الْحَرَامَ قِیَاماً لِّلنَّاسِ وَالشَّہْرَ الْحَرَامَ وَالْہَدْیَ وَالْقَلاَئِدَ ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” اللہ نے مکان محترم کعبہ کو لوگوں کے لئے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی (اس کام میں معاون بنادیا) تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔ بیت الحرام کے اندر یہ حرمتیں اس قدر وسیع ہیں کہ ان کے دائرے میں انسان ‘ پرندے ‘ حیوان اور حشرات الارض سب آتے ہیں اور اگر کوئی احرام کی حالت میں حرم کے حدود میں پہنچا ہو ‘ تب بھی اس کے لئے یہ سب چیزیں ممنوع ہیں۔ اس کے علاوہ چار مہینوں کو بھی اشہر حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان میں قتل و قتال سخت ممنوع ہے ۔ یہ چار مہینے ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے دل میں ان چار مہینوں کا احترام بٹھا دیا تھا ‘ یہاں تک کہ ہو دور جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھے ۔ ان مہینوں میں وہ کسی نفس کا ڈراتے دھمکاتے بھی نہ تھے ۔ ان مہینوں میں وہ خون کا بدلہ بھی نہ لیتے تھے اور نہ ہی ان میں کوئی شخص انتقام کی توقع کرتا تھا یہاں تک کہ ایک شخص اپنے باپ بیٹے اور بھائی کے قاتل کو پاتا مگر اسے کوئی اذیت نہ دیتا ۔ چناچہ اس عرصے میں لوگ کھلے بندوں پھرتے اور تجارتی سفر کرتے اور رزق حلال تلاش کرتے ۔ یہ امن کے احکامات اللہ نے اس لئے بھی جاری کئے کہ اللہ تعالیٰ خانہ کعبہ کو خطہ امن وسلامتی قرار دینا چاہتے تھے جہاں لوگوں کے اندر ٹھہراؤ پیدا ہو اور کوئی خوف اور بےچینی نہ ہو ۔ کعبے کی طرح ان چار مہینوں کو اللہ نے زمانہ امن قرار دیا تھا جس طرح کعبہ مقام امن تھا ۔ اس کے بعد اس امن کی حدود کے اندر مزید توسیع کردی گئی اور اس ہدی کو بھی مامون اور محفوظ کردیا گیا ہے جسے خانہ کعبہ کی طرف روانہ کردیا گیا ہو ۔ یہ جانور حج اور عمرہ کے موقع پر چلائے جاتے تھے ۔ چناچہ دور جاہلیت میں بھی ان جانوروں کو نہ چھیڑا جاتا تاھ ۔ اسی طرح اس شخص کو بھی ماموں قرار دے دیا گیا جو خانہ کعبہ میں پناہ لے لیتا ہے اور اپنے گلے میں بیت الحرام کے درختوں کا ہار ڈالتا ہے ۔ خانہ کعبہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ہاتھوں اس کے تعمیر کے وقت ہی سے رکھی تھی اور اللہ نے اس وقت سے خانہ کعبہ کو لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دے دیا تھا ۔ یہ اللہ کا وہ عظیم فضل و احسان تھا ‘ جس کی یاد دہانی اللہ نے مشرکین کو بھی کرائی اس لئے کہ ان کے لئے بھی بیت اللہ گھومنے پھرنے اور امن کی جگہ تھا ۔ اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کی حالت یہ تھی کہ وہ اچک لئے جاتے تھے جبکہ مشرکین یہاں نہایت ہی امن سے رہتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ اللہ کا شکریہ ادا نہ کرتے تھے ۔ اس خانہ توحید میں الہ واحد کی بندگی نہ کرتے تھے اور حضور ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ اگر ہم عقیدہ توحید کو اپنائیں تو ہمیں اپنی جا اور جاگیر چھوڑنی پڑے گی ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ بات نقل کر کے اس کی تردید کی اور انہیں بتایا کہ امن اور خوف ہوتا کیا ہے ۔ (آیت) ” وقالوا ان نتبع الھدی معک نتخطف من ارضنا اولم نمکن لھم حرما امنا یجبی الیہ ثمرت کل شیء رزقا من لدنا ولکن اکثرھم لا یعلمون “۔ (28 : 57) ” وہ کہتے ہیں ‘ اگر ہم تمہارے ساتھ اس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اچک لئے جائیں گے ۔ کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پرامن حرم کو انکے لئے جائے قیام بنادیا جس کی طرف ہر طرف کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں ‘ ہماری طرف سے رزق کے طور پر مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ۔ “ صحیحین میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن یہ فرمایا ” یہ شہر حرام ہے ‘ اس کے درخت نہ کاٹے جائیں گے ‘ اور یہاں کے سبزے کو بھی خراب نہ کیا جائے گا ‘ یہاں کے شکار کو نہ بھگایا جائے گا اور یہاں کی گمشدہ چیز کو نہ اٹھایا جائے گا مگر وہ شخص جو اعلان کرنا چاہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے حرم میں محرم کے لئے زندہ چیزوں میں سے صرف کوے ‘ چیل ‘ بچھو ‘ چوہے اور کاٹنے والے کتے کو مستثی فرمایا ۔ حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں ہے ” حضور اکرم ﷺ نے پانچ چیزوں کے قتل کا حکم دیا ۔ یہ مضر چیزیں ہیں اور حالت حلت اور احرام دونوں میں یہ حکم دیا ۔ کوا چیل ‘ بچھو ‘ چوہا اور کاٹنے والاکتا۔ صحیحین میں حضرت ابن عمر ؓ سے سانپ کا اضافہ آیا ہے ۔ حضرت علی ؓ کی روایت کی رو سے یہی حرمت مدینہ کے لئے بھی عائد ہے ۔ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ” عیر “ سے لے کر ” ثور “ مدینہ کو حرم قرار دیا ہے ۔ اور صحیحن ہی میں ایک دوسری روایت ہے ۔ یہ حضرت عبادہ ابن تمیم سے وارد ہوئی ہے۔ کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لئے دعا فرمائی اور میں نے مدینہ کو اسی طرح حرم کردیا ہے جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا ۔ “ اس کے علاوہ مزید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ علاقہ اور یہ مہینے ہی صرف امن کے لئے مخصوص نہیں اور صرف یہ بات نہیں ہے کہ اس امن وامان کا دائرہ صرف انسان اور حیوان تک ہی محدود ہے بلکہ اس امن اور سکون کا دائرہ انسانی ضمیر تک وسیع ہوجاتا ہے اس لئے کہ انسانی ضمیر انسانی نفس کی گہرائیوں کے اندر ایک معرکہ کار زار ہے ۔ ضمیر کے اندر جنگ کے شعلے بھڑکتے ہیں تو اس کے شعلے اور اس کا دھواں زمان ومکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ پھر تمام انسان اور حیوان اس کی زد میں آجاتے ہیں حرمین اس اندرونی معرکہ کار زار میں بھی امن کا سامان پیدا کردیتے ہیں اور جب ضمیر کے اندر امن و سکون پیدا ہوجاتا ہے تو ایک محرم کسی جاندار کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بھی حرج محسوس کردیتے ہیں اور جب ضمیر کے اندر امن و سکون پیدا ہوجاتا ہے تو ایک محرم کسی جاندار کی طرف ہاتھ بڑھانے میں بھی حرج محسوس کرتا ہے اگرچہ یہ شکار حرم سے باہر ہو ۔ یہ عرصہ نفس انسانی کی تربیت کا عرصہ ہے تاکہ وہ صاف و شفاف ہوجائے ۔ وہ ہلکا ہوجائے اور بلند ہو کر ملاء اعلی سے واصل ہوجائے اور ملاء اعلی کے ساتھ معاملہ کرنے کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ انسانیت ‘ یہ خوفزدہ ‘ مصیبت زدہ ‘ پسی ہوئی انسانیت کس قدر محتاج ہے ‘ اس علاقہ امن کی ۔ وہ منطقہ امن جس کو اللہ نے اس دین کے پیروکاروں کے لئے بنایا ہے ‘ اور جس کا اعلان عام قرآن کریم کے اندر کردیا گیا ۔ (آیت) ” ذَلِکَ لِتَعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ یَعْلَمُ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَأَنَّ اللّہَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(97) ” تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔ اس جگہ یہ عجیب اختتامیہ ہے ۔ یہ بات معلوم ہے کہ اللہ جو شریعت مقرر کرتا ہے اور لوگوں کے لئے یہ جائے امن جو قرار دیتا ہے ‘ یہ اس لئے بتاتا ہے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ ان تمام حالات سے باخبر ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے اندر ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ‘ تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ انسانوں کے مزاج سے باخبر ہے ‘ وہ انکی خفیہ نفسیات سے بھی خبردار ہے ۔ وہ انکی روح کی پکار کو سنتا ہے اور وہ ایسا قانون بناتا ہے جس کے ذریعے ان کے مزاج کے تقاضے ‘ انکی ضروریات اور ان کے میلانات پورے ہوتے ہیں ۔ جب لوگ یہ محسوس کریں گے کہ قانون سازی میں اللہ نہایت ہی شفیق ورحیم ہے ۔ اور جب لوگوں کے دلوں نے اس شریعت اور ان کی فطرت کے درمیان پوری ہم آہنگی کا مزہ چکھا تو انکو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ان تمام امور کو جانتا ہے جو آسمانوں اور زمینوں کے اندر ہیں اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔ دین اسلام انسانی فطرت اور اس کے میلانات اور خواہشات کے پورے پورے تقاضے ملحوظ رکھنے میں بہت ہی عجیب ہے ۔ وہ انسانوں کی تمام ضروریات کا لحاظ رکھتا ہے ۔ اسلامی شریعت کی اسکیم انسانی فطرت کی اسکیم کے عین مطابق ہے ۔ شریعت کی تشکیل اور انسان کی فطرت کے اندر مکمل ہم آہنگی ہے ۔ جب انسان کو اس دین کے بارے میں شرح صدر ہوجاتا ہے تو پھر وہ جس قدر غور کرتا ہے اسے کمال و جمال ہی نظر آتا ہے ‘ پھر اسے انس و محبت ہی نظر آتی ہے اور اسے وہ سکون ملتا ہے جس کا تصور وہ شخص نہیں کرسکتا جس کو شریعت پر شرح صدر حاصل نہ ہو ۔ اب حالت احرام اور حالت غیر احرام میں جائز وناجائز امور کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ اللہ کا عذاب سخت ہے اور دوسری جانب وہ غفور ورحیم بھی ہے ۔ (آیت) ” اعْلَمُواْ أَنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَأَنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(98) خبردار ہوجاؤ ۔ ! اللہ سزادینے میں بھی سخت ہے اور اسکے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے ۔ “ اور اس ڈراوے کے ساتھ ساتھ بتا دیا جاتا ہے کہ اپنے کئے کی ذمہ داری ہر شخص کے کاندھوں پر ہے اور جو راہ راست پر نہ ہو وہ خود اپنی گمراہی کا ذمہ دار ہے ۔ (آیت) ” مَّا عَلَی الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّہُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَکْتُمُونَ (99) ” رسول پر تو پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے ‘ آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا ہے ۔ اب یہ مضمون ایک عام پیمانے اور اصول پر ختم ہوتا ہے اور یہ پیمانہ تمام اصول واقدار کے وزن کے لئے ایک ترازو ہے ۔ اس کے مطابق ایک مسلم فیصلے کرتا ہے اس میزان میں طیب بھاری رہتا ہے ۔ اور خبیث ہلکا ہوجاتا ہے تاکہ خبیث اپنی ظاہری اور جسمانی کثرت کی وجہ سے کسی مسلم کو کسی بھی وقت متاثر نہ کرسکے ۔ (آیت) ” قُل لاَّ یَسْتَوِیْ الْخَبِیْثُ وَالطَّیِّبُ وَلَوْ أَعْجَبَکَ کَثْرَۃُ الْخَبِیْثِ فَاتَّقُواْ اللّہَ یَا أُوْلِیْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (100) ” اے پیغمبر ان سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں ‘ خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو ‘ پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ‘ اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو ‘ امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی ۔ یہاں پاک وناپاک کے ذکر کی مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے حلال و حرام اور جائز وناجائز کا مضمون چل رہا تھا ‘ شکار میں سے حلال و حرام کا ذکر ظاہر ہے ۔ کہ حلال طیب ہوتا ہے اور حرام خبیث ہوتا ہے ۔ طیب اور خبیث برابر نہیں ہو سکتے اگرچہ خبیث اپنی کثرت کی وجہ سے انسان کو دھوکے میں ڈالتا ہے اور عجیب معلوم ہوتا ہے ‘ لیکن طیب نہایت ہی خوشگوار ہوتا ہے اور اس کے نتائج بھی اچھے نکلتے ہیں ۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ اس کے نتیجے میں امراض اور آلام سے بھی زیادہ لذت ہوتی ہے اور طیب کا انجام دنیا وآخرت میں اچھا ہوتا ہے ۔ جب نفس انسانی خواہشات نفسانیہ سے آزاد ہوجاتا ہے اور نفس پر تقوی اور دل کی نگرانی قائم ہوجاتی ہے تو وہ خبیث کے مقابلے میں طیب کو اختیار کرتا ہے اور اس طرح وہ دنیا وآخرت میں کامیاب رہتا ہے ۔ (آیت) ” فَاتَّقُواْ اللّہَ یَا أُوْلِیْ الأَلْبَابِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (100) ” پس اے صاحبان عقل وخرد اللہ ہی سے ڈرو ‘ امید ہے کہ تم فلاح پاؤ گے) یہ تو تھی ظاہری مناسبت لیکن اس آیت کا افق اور مطالب اس سے بھی زیادہ وسیع ہیں ۔ یہ تمام زندگی کو اپنے دائرے میں لیتی ہے اور اس کے مفہوم کو تصدیق مختلف مقامات پر ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس امت کو میدان میں لایا اور اسے خیر امت قرار دیا ۔ اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ اسے ایک عظیم امر کے لئے تیار کیا جائے ۔ یہ عظیم امر یہ تھا کہ یہ امت اس کرہ ارض پر اسلامی نظام کی امانت کی حامل ہوگی ۔ وہ اسلامی نظام حیات پر اس طرح قائم ہو کہ اس سے پہلے کوئی امت اس طرح قائم نہ ہوئی ہو ۔ وہ اس نظام کو لوگوں کی زندگیوں میں اس طرح قائم کرے کہ کبھی کسی دوسری امت کے اندر یہ نظام اس طرح قائم نہ کیا جاسکا ہو ۔ اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے اس بات کی ضرورت تھی کہ اس امت کو اس قدر طویل تربیت دی جائے کہ اس سے پہلے کسی امت کو نہ دی گئی ہو ۔ پہلی تربیت یہ ہو کہ اسے آثار جاہلیت سے مکمل طور پر نکال دیا جائے اور اسے جاہلیت کی گراٹوں سے اٹھا کر سیدھا اعلی منزل مقصود تک بلند کردیا جائے ۔ یہاں تک کہ وہ اسلام کی بلند ترین چوٹی پر فائز ہوجائے ، اس کے بعد یہ امت اپنے تصورات و افکار کو درست کرے ‘ اور اپنی عادات ‘ اپنے شعور اور اپنے افکار کو جاہلیت کے آثار اور آلودگیوں سے پاک کرے ۔ اس کے بعد اس کے اندر اس قدر عزم پیدا کردیا جائے کہ وہ اس سچائی قبول کرلے اور پھر اس قبولیت کے نتیجے میں آنے والی ابتلاؤں کو برداشت کرے ۔ اس کے بعد وہ پوری زندگی کو اسلامی اقدار اور پیمانوں کے مطابق استوار کرے یہاں تک کہ یہ ایک ربانی امت بن جائے اور اس کی انسانیت اعلی مدارج انسانیت تک بلند ہوجائے جب یہاں تک اس کی تربیت ہوجائے تو پھر اس کی نظروں میں اچھا اور برا برابر نہ ہوں گے ۔ اگرچہ خبیث وناپاک زیادہ اور آنکھوں کو خیرہ کردینے والا ہو اور آنکھوں کو چکا چوند کردینے والا ہو ۔ لیکن جب انسان طیب اور خبیث میں فرق کرلیتا ہے اور اشیاء کو الہی میزان میں تولتا ہے تو اس وقت باوجود کثرت اور حجم کے خبیث کا وزن طیب کے مقابلے میں کم ہوتا ہے اور طیب کا پلڑا باوجود قلت کے بہت بھاری ہوتا ہے ۔ اس مقام پر آکر یہ امت امین اور امانت دار بن جاتی ہے ۔ وہ درست اور قابل اعتماد ہوتی ہے ۔ اب وہ تمام انسانیت کی نگہبان ہوتی ہے ۔ اب وہ لوگوں کے لئے اللہ کا ترازو استعمال کرتی ہے اور اللہ کی قدر کے ساتھ اقدار کا تعین کرتی ہے ‘ وہ طیب کو اختیار کرتی ہے اور اس کی آنکھیں خبیث کو دیکھ کر خیرہ نہیں ہوتیں ۔ بعض اوقات ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ ان میں یہ میزان نہایت ہی مفید ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں کہ جب باطل پھولا ہوا ہو ‘ اور انسان یہ سمجھتا ہو کہ شاید یہ ترقی کر رہا ہے آنکھیں صرف یہ دیکھتی ہیں کہ بظاہر وہ پر قوت اور صاحب کثرت ہے ۔ ایک مومن اس پھولے ہوئے باطل کو اللہ کے ترازو میں تولتا ہے ۔ اس طرح اس کے ہاتھ مضطرب نہیں ہوتے ‘ نہ اس کی آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں ‘ نہ اس کا معیار خراب ہوتا ہے چناچہ وہ اس باطل کے مقابلے میں سچائی کو اختیار کرتا ہے جس میں کوئی جھاگ اور کوئی سو جن نہیں ہے ۔ نہ اس کے اردگرد کوئی زاد وعتاد ہے ۔ بس وہ تو فقط حق ہے ۔ وہ مجرد حق ہے اور اس کے سوا اس کے ساتھ کوئی غرض نہیں ہے ۔ اللہ کے ترازو میں اس کا وزن زیادہ ہے اور ذاتی طور پر وہ حسین و جمیل ہے ۔ اس کی ذات کے اندر ایک قوت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کی تربیت عین قرآنی منہاج کے مطابق کی ۔ اور امت پر رسول اللہ ﷺ کو قیم اور نگران مقرر کیا ۔ پھر وہ اس سطح پر پہنچی کہ وہ اللہ کے دین پر ایمان لانے والی تھی ۔ محض نفسیاتی ایمان نہیں اور نہ دل کے اندر کا ایمان بلکہ اپنی عملی زندگی میں ایمان اور اس کرہ ارض پر اپنی تمام سرگرمیوں کے اندر ایمان ۔ زندگی کے تمام اضطرابات میں ‘ تمام خواہشات اور امیدوں میں ‘ تمام رغبتوں اور مسلکوں میں ‘ تمام مفادات اور مصالح میں اور افراد اور گروہوں کی تمام کشمکشوں میں ایمان ‘ غرض اس کا ایمان اس طرح ہو کہ وہ اس پوری کائنات کے اوپر نگہبانی میں بھی ایماندار ہو ‘ اور اس زندگی کے اتھاہ سمندر میں اپنی عظیم ذمہ داریوں کے اندر بھی وہ ایماندار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو مختلف ہدایات ‘ مختلف موثرات ‘ مختلف آزمائشوں اور مختلف ضابطہ بندیوں کے ذریعے تربیت دی اور ان تمام امور کو ایک ہی مجموعی شکل میں ایک گٹھڑی کی طرح ایک نظام بنا دیا جس کے آخری مقاصد ایک ہی تھے ۔ یعنی اس امت کو اپنے عقائد و تصورات ‘ اپنے شعور اور میلانات اپنے طرز عمل اور اخلاق اور اپنی شریعت اور نظام اس طرح تیار کرنے چاہئیں کہ وہ اللہ کے دین کے اوپر قائم ہو ‘ وہ اس پوری انسانیت پر نگران ہو ‘ اور یہ اللہ کا حق ہے کہ وہ اپنے بندوں سے جو کام لینا چاہے وہ لے ۔ اللہ اپنے معاملات میں خود مختار ہے ۔ چناچہ اس کرہ ارض پر اسی روشن شکل میں اللہ کا دین چمکتا ہوا قائم ہوا۔ ہو ایک تصور تھا جس نے زندگی میں واقعیت اختیار کی اور یہ رسم ڈالی گئی کہ جب بھی اس دین کے قیام کے لئے یہ امت جہاد کرے گی اللہ کی مدد اسے حاصل ہوگی ۔ اس کے بعد جماعت مسلمہ کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے بعض آداب سکھائے جاتے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور ﷺ نے جو کچھ نہیں بتایا اس کے بارے میں آپ سے سوالات نہ کئے جائیں ۔ ہوسکتا ہے کہ اگر آپ سوال کریں اور حضور ﷺ جواب دیں تو آپ لوگوں کو وہ جواب پسند نہ آئے اور یاحرج واقعہ ہوجائے اور جواب کے ذریعے ایسے فرائض عائد ہوجائیں جن پر عمل کرنا ممکن نہ ہو۔ یا یہ ہو کہ کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ نے وسعت کی تھی اور سوال کی وجہ سے تنگی ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم کرتے ہوئے انہیں زیادہ سے زیادہ آزاری دیتے ہیں ۔

المائدة 5:101

(آیت) ” نمبر 101 تا 102۔ بعض صحابہ کرام ؓ اجمعین حضور ﷺ سے بہت سوالات کرتے تھے ‘ اور یہ سوالات ان باتوں کے متعلق ہوتے تھے جن میں کوئی امر یا نہی نازل نہ ہوئی تھی ۔ یہ لوگ بعض ایسے معاملات کی تفصیل میں زیادہ دلچسپی لیتے جن کو قرآن نے مجمل چھوڑا تھا اور اس اجمال کی وجہ سے لوگوں پر ایک قسم کی سہولت تھی ۔ بعض اوقات وہ ایسے معاملات کے بارے میں پوچھتے جن کے جوابات کی ضرورت ہی نہ تھی ‘ کیونکہ یہ ممکن تھا کہ خود سائل کو وہ انکشاف اچھا نہ لگے ۔ یہ اس سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت ملے ۔ روایات میں آتا ہے کہ فرضیت حج کی آیت پر کسی نے یہ پوچھا کہ کیا ہر سال حج فرض ہوگیا ہے ؟ تو حضور نے اس سوال پر بہت ہی ناراضگی کا اظہار فرمایا کیونکہ آیت حج میں اجمال تھا ۔ (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ اللہ کی جانب سے لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے ‘ اس پر جو راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔ زندگی میں ایک بار حج کرکے اس آیت پر عمل ہوسکتا تھا ۔ اس طرح اگر حضور اس آیت کی یہ تفسیر کردیتے کہ ” ہر سال “ تو اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہوجاتیں حالانکہ اللہ نے لوگوں کو ان میں ڈالنا مناسب نہ سمجھا تھا ۔ ترمذی اور دارقطنی نے حضرت علی ؓ سے ایک حدیث مرسل روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ تو لوگوں نے پوچھا حضور ہر سال میں ؟ تو آپ خاموش ہوگئے ۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کیا ہر سال میں ؟ تو آپ نے فرمایا ” نہیں اگر میں کہتا کہ ” ہاں “ تو یہ ہمیشہ کے لئے فرض ہوجاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر حج فرض کردیا گیا ہے ۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور سوال کردیا کہ کیا ہر سال ؟ حضور ﷺ نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اس کے بعد اس نے پھر سوال کیا ” حضور ہر سال ؟ “ تو حضور ﷺ نے پوچھا یہ سائل کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتلایا کہ فلاں فلاں ہے ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں کہہ دیتا ہاں تو یہ ہر سال واجب ہوجاتا اور اگر ہر سال واجب ہوتا تو تم ہر گز اسے ادا نہ کرسکتے اور اگر تم نہ کرسکتے تو کافر ہوجاتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) ایک دوسری حدیث کا مضمون یہ ہے ‘ اور یہ امام مسلم نے صحیح مسلم میں نقل کی ہے ۔ وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آپ ﷺ نے ایک موقعہ پر فرمایا جب تک میں اس جگہ کھڑا ہوں پوچھو جو پوچھتے ہو ۔ میں تمہیں اطلاع دوں گا ۔ “ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا : حضور ﷺ میں کہاں داخل ہوں گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” آگ میں “ ۔ عبداللہ ابن حذافہ ؓ نے پوچھا : میرے باپ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے ۔ (ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ عبداللہ ابن حذافہ قدیم الاسلام تھے ۔ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ‘ بدر میں شریک ہوئے ‘ یہ نہایت ہی خوش مزاج تھے ، حضور ﷺ نے انہیں کسری کے پاس پیغام دے کر بھیجا تھا ۔ جب حضور ﷺ کے ساتھ اس کا یہ سوال و جواب ہوا کہ میرا باپ کون ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا حذافہ تو اس کی ماں نے کہا میں نے تم جیسا نافرمان بیٹا نہیں دیکھا ۔ ” کیا تم کو یہ اطمینان تھا کہ میں نے جاہلیت کی عورتوں کی طرح گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ؟ تم مجھے مجمع عام میں شرمندہ کرنا چاہتے تھے ؟ اس پر عبداللہ نے کہا : ” خدا کی قسم اگر حضور ﷺ مجھے ایک کالے غلام کا بیٹا بتلاتے تو میں اس کے ساتھ اپنا نسب ملا دیتا۔ “ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے ۔ ایک دن حضور ﷺ نہایت ہی جلال میں تھے آپ ﷺ کا چہرہ سرخ تھا ۔ آپ منبر پر بیٹھے ۔ ایک شخص نے پوچھا حضور ﷺ میں کہاں ہوں گا تو آپ نے فرمایا ” آگ میں “۔ ایک دوسرا اٹھا اور پوچھا میرا باپ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا باپ ” حذیفہ “ ہے اس پر حضرت عمر بن خطاب ؓ اٹھے اور فرمایا حضور ﷺ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور محمد ﷺ ہماری نبی ہیں اور قرآن ہمارا امام ہے ۔ حضور ﷺ ہم تو ابھی ابھی جاہلیت سے اور شرک سے نکلے ہیں ۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد کون ہیں ؟ اس پر حضور ﷺ کا غضب ٹھنڈا ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں ‘ ۔ مجاہد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کے بارے میں پوچھا تھا ۔ سعید ابن جبیر ؓ نے بھی یہی رائے اختیار کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس آیت کے بعد اسی وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ (5 : 103) ان روایات میں وہ تمام سوالات آگئے ہیں جن کے بارے میں پوچھنے سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو منع فرمایا ۔ قرآن کریم کا مقصد یہ نہ تھا کہ محض عقیدہ اور نظریہ ہی بیان کر دے یا ایک شرعی قانون نافذ کرے ۔ بلکہ قرآن کریم کے پیش نظر ایک امت کی تربیت کرنا تھا ۔ ایک معاشرہ وجود میں لانا تھا ۔ قرآن کریم افراد کو بتا رہا ہے تھا کہ ان کی نشوونما اور تربیت معقول اخلاقی اصولوں پر کی جانی مطلوب تھی ۔ یہاں قرآن کریم نے سوالات کے آداب بتلائے ہیں ۔ بحث و مباحثہ کی حدود کا تعین کیا ہے ۔ علم ومعرفت کا طریق کاربتلایا ہے ۔ خصوصا اس عرصے کے لئے جس میں باران رحمت کا نزول ہو رہا تھا ۔ غیب سے خبریں آرہی تھیں ۔ حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگ شریعت کی تفصیلات نہ پوچھیں اور نصوص کو مجمل ہی رہنے دین ۔ نیز غیبی امور کو غیب ہی رہنے دیا جائے ۔ اور وہ غیبی امور میں اسی حد تک علم کی تمنا کریں جس قدر اللہ علیم وخبیر دے دے ۔ ان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ نئی نئی نصوص طلب کرکے اپنے اوپر مزید مشکلات ڈالتے چلے جائیں ۔ محض احتمالات اور فرضی مسائل نہ پوچھیں اور وہ ان غیبی امور کے پیچھے ہی نہ پڑیں جن کا انکشاف اللہ نے نہیں کیا ہے اس لئے کہ اللہ کو انسان کی طاقت اور قدرت کا اچھی طرح علم ہے ۔ وہ ان کی حد برداشت کو جانتا ہے ۔ وہ ان کی طاقت کے مطابق ان کے قانون بنا رہا ہے ۔ اور ان پر ان ہی امور کو منکشف کرتا ہے جس کا ادراک ان کا مزاج کرسکتا ہے ۔ بعض امور کو اللہ ارادۃ مجمل چھوڑتا ہے ۔ لوگوں کے لئے ان میں کوئی نقصان نہیں ہے کہ وہ امور اسی طرح مجمل رہیں ۔ نزول قرآن کے وقت ایسا جواب آسکتا ہے جو انہیں پسند نہ ہو یا بعض لوگ اسے پسند نہ کریں اور وہ سب پر بوجھ بن جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس بات سے منع کردیا کہ وہ ایسے امور کے بارے میں نہ پوچھیں کہ اگر بتا دیئے جائیں تو انہیں ناگوار ہوں اور انہیں متنبہ کردیا گیا کہ اگر وہ پوچھیں گے تو جواب آئے گا ۔ اس لئے کہ وحی جاری ہے ۔ اس طرح فرائض کا دائرہ وسیع ہوجائے گا ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَسْأَلُواْ عَنْ أَشْیَاء إِن تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَإِن تَسْأَلُواْ عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّہُ عَنْہَا ۔ ” ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں ‘ لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ ان چیزوں کو اللہ نے معاف کردیا ۔ “ ۔ یعنی ان امور کے بارے میں نہ پوچھو جو اللہ نے معاف کردیئے اور اس کا فرض کرنا موقوف رکھا ۔ اس لئے کہ اجمال ہی میں وسعت ہوتی ہے ۔ مثلا حج کی تعداد کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی بات نہیں کہ یا ایسی چیزیں جن کا اللہ نے ذکر ہی نہیں کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے ان کے سامنے امم سابقہ یعنی اہل کتاب کی مثال پیش کی کہ انہوں نے بار بار سوالات کرکے اپنی آزادی کا دائرہ تنگ کیا اور اس طرح ان پر زیادہ فرائض اور احکام عائد ہوتے چلے گئے اور جب ان پر احکام فرض ہوئے تو انہوں نے ان کی تعمیل سے انکار کردیا اور کفر کا راستہ اختیار کیا ۔ اگر وہ خاموش رہتے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر آسانی کی تھی اسے جاری رہنے دیتے تو ان پر سختی نہ ہوتی اور نہ شدت کے نتیجے میں انہیں انکار کرنا پڑتا ۔ سورة بقرہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ وہ گائے ذبح کریں اور گائے کے ساتھ تو کوئی قیود وشروط عائد نہ تھے بلکہ صرف یہی کہا گیا تھا کہ بس وہ گائے ذبح کردیں ۔ اگر وہ کوئی گائے ذبح کرتے تو حکم کی تعمیل ہوجاتی ۔ انہوں نے گائے کے اوصاف گنانے شروع کردیئے ۔ انہوں نے اس کے رنگ تک تحقیقات شروع کردیں ۔ ہر تحقیق وسوال کے نتیجے میں ان پر سختی ہوتی گئی ۔ اگر وہ سوالات کی بوچھاڑ نہ کرتے تو ان کے لئے کوئی مشکل پیدا نہ ہوتی ۔ یہی حال تھا ان کا سبت کے بارے میں کہ پہلے انہوں نے خود ایک تعطیل کا مطالبہ کیا اور پھر اس کی پابندی کرنے سے انکار کردیا ۔ ان کی اس خصلت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر بطور سزا کئی اشیاء کو حرام کردیا ۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے ” میں نے جو احکام نہیں دیئے ان کے بارے میں مجھے چھوڑ دو ۔ اس سے پہلے جو قومیں ہلاک ہوئیں وہ زیادہ پوچھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں اور مزید اس لئے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ اختلاف کئے ۔ صحیح مسلم میں عامر ابن سعید نے اپنے باپ سے روایت کی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں سے خود مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑا جرم کرنے والا وہ شخص ہے کہ جو کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھے جسے مسلمانوں پر حرام نہیں کیا گیا اور اب اس کے سوالات کی وجہ سے وہ مسلمانوں پر حرام ہوجائے ۔ یہ آیات اور ان کے بعد احادیث نبوی کا یہ مجموعہ اسلامی معاشرے میں حصول علم کے لئے ایک منہاج وضع کردیتا ہے ۔ اسلام میں طلب علم کا مقصد واقعی ضروریات کے لئے مسائل کا حل معلوم کرنا ہے اور ضرورت کے دائرے تک کرنا ہے ۔ اس لئے عالم غیب میں دلچسپی نہ رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ انسانی طاقتیں ایسے کام کو روشنی میں لانے کے اندر خرچ نہ کی جائیں جن کی حقیقت تک پہنچنے کی انسان کو کوئی عملی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کی عملی زندگی اس حقیقت کی محتاج نہیں ہے اور انسانی ذہن کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ عالم غیب پر اسی طرح ایمان لائے جس طرح اللہ علیم وخبیر نے کہہ دیا ہے ۔ جب کوئی ایمان کو چھوڑ کر غیبی حقائق پر بحث شروع کر دے تو اس بحث کے نتیجے میں کچھ حاصل نہیں ہوتا اس لئے کہ انسانی ذہن کو یہ قوت اور صلاحیت ہی نہیں دی گئی کہ وہ عالم غیب کے میدان میں کسی چیز کا ادراک کرسکے ۔ اس کا ادراک اسی حد تک محدود ہے جس حد تک اسے بتایا گیا ہے لہذا اس قسم کی کوئی کوشش بھی بےسود رہے گی ۔ یہ اور بات ہے کہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار کر ایسا شخص اپنے آپ کو تھکا ڈالے گا اور آپ ہی ضلال بعید میں جا پڑے گا ۔ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ در پیش ہو تو اس وقت اس کے بارے میں سوال کیا جائے ‘ اور یہی ہے اسلامی منہاج ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ پورے مکی دور میں کوئی ایسا شرعی حکم نازل نہیں ہوا جس کا نفاذ ضروری ہو ۔ اگرچہ بعض اشیاء اور بعض انفرادی اعمال کے بارے میں احکام آتے رہے ‘ لیکن ایسے احکام جن کے نفاذ کی ضرورت ہو مثلا حدود ‘ تعزیرات ‘ کفارات اور قصاص یہ سب کے سب مدینہ میں نازل ہوئے کیونکہ مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی تھی اور نفاذ احکام حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ابتدائی اسلامی سوسائٹی نے اس حقیقت کو پالیا تھا ۔ وہ کسی مسئلے کے بارے میں اس وقت تک نہ پوچھتے تھے جب تک وہ واقع نہ ہوجائے اور یہ سوال بھی واقعہ کی حد تک ہوتا ‘ مفصل قانون دفعات کے وضع کرنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آتی تاکہ سوال و جواب بھی اسلام کے نظام تربیت کے مطابق ہوں ۔ حضرت عمر ؓ کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کوئی قضیہ درپیش نہ ہوتا تو خواہ مخواہ سوال کرنے والے پر وہ لعنت بھیجتے ۔ دارمی نے اپنی مسند میں اور زہری نے اس کا ذکر کیا ہے کہ زید ابن ثابت انصاری سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ پہلے پوچھتے کہ کیا ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے ۔ اگر وہ کہتے کہ ہاں ایسا وقوعہ ہوگیا ہے تو وہ پھر اپنے علم کے مطابق بات کرتے ۔ اور اگر وہ کہتے کہ واقعہ نہیں ہوا ہے تو وہ جواب دیتے کہ ایسا ہونے دو پھر بات کریں گے ۔ اسی طرح عمار ابن یاسر سے بھی روایت ہے کہ ان سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کیا اس سلسلے کا کوئی واقعہ ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں تو انہوں نے کہا کہ دیکھو جب ایسا کوئی واقعہ ہو تو پھر بات کریں گے ۔ درامی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ میں نے صحابہ رسول سے اچھے لوگ نہیں دیکھے ۔ انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کی وفات تک صرف 31 مسئلے پوچھے ۔ اور یہ سب مسئلے قرآن کریم میں ذکر ہوئے ہیں جن میں یہ یسئلون شامل ہیں ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الشھر الحرام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسئلونک عن المحیض) اور وہ اسی بات کے بارے میں پوچھتے تھے جو ان کے لئے نفع بخش ہوتی ۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ جب میں مدینہ میں آیا تو اہل مدینہ کے پاس کتاب وسنت کے سوا کوئی علم نہ تھا ۔ جب کوئی معاملہ پیش آتا تو امیر مدینہ موجود علماء کو جمع کرتے اور جس بات پر ان کا اتفاق ہوجاتا وہ اسے نافذ کردیتے ۔ تم لوگ بہت ہی سوالات کرتے ہو اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو پسند نہیں فرمایا ۔ علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں کہا ہے : امام مسلم نے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کردی ہے بیٹیوں کا دفن کرنا حرام کردیا ہے دوسروں کے حقوق منع کرنے اور اپنے حقوق طلب کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور تین چیزوں کا ناپسند کیا ہے ۔ زیادہ قیل وقال منع ہے ‘ زیادہ سوالات کرنا منع ہے اور دولت کو ضائع کرنا ناپسند ہے ۔ اکثر علماء کا کہنا یہ ہے کہ کثرت سوال سے مراد فقہی مسائل میں زیادہ سوالات کرنا ہے ۔ یعنی ان معاملات میں جن میں کوئی نص نہیں ہے ۔ یعنی فقہی پہیلیاں اور مسائل سے جزئیات اور مشتقات نکالنا ۔ سلف صالحین اس کو ناپسند کرتے تھے اور اسے محض تکلف سمجھتے تھے ۔ وہ کہتے تھے پہلوؤں پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے ۔ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کے بارے میں سوال کرنا تو ایک متعین صورت حالات کے بارے میں سوال ہوگا ‘ لیکن اگر کوئی واقعہ پیش آیا ہی نہ تو اس کا تعین ممکن ہی نہیں ہوتا اور اس کے بارے میں جو بھی فتوی دیا جائے گا وہ عملا اچھی طرح منطبق نہ ہوگا ۔ اگر ہم فرض حالات کے جوابات دینے لگیں تو یہ فعل شریعت کی حقیقت پسندی کے خلاف ہوگا ۔ اور اسلام کے منہاج کے متصادم ہوگا ۔ آج کے دور میں اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ لوگ ایسے ممالک میں شریعت کے قوانین کے بارے میں سوالات کرتے ہیں جہاں شریعت کے قیام کا مقصد پیش نظر ہوتا ہے ۔ نہ فتوی اس لئے طلب کیا جاتا ہے ۔ کہ شریعت کے کسی حکم کو نافذ کرنا ہے ۔ اسلامی شریعت کا طریق کار یہ ہے کہ اس میں فتوی نفاذ قانون کے لئے طلب کیا جاتا ہے ۔ اگر پوچھنے والے اور جواب دینے والے دونوں جانتے ہیں کہ وہ ایسے ملک کے باشندے ہیں جس میں شریعت کا نفاذ نہیں ہورہا ہے ۔ اس میں اللہ کے اقتدار اعلی کو نہ تسلیم کیا جاتا ہے اور نہ اس پر کوئی یقین رکھتا ہے نہ اسے لوگوں کی زندگیوں اور اجتماعی امور میں نافذ کیا جاتا ہے بالفاظ دیگر اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے اور اللہ اعلی کی اطاعت نہیں کی جاتی تو ایسے حالات میں فتوی طلب کرنے کے کیا معنی ؟ اور جواب دینے والے کے جواب کا کیا فائدہ ؟ یہ دونوں دراصل شریعت کے ساتھ مذاق کرتے ہیں چاہے انہیں اس کا شعور ہو یا لاشعوری طور پر وہ ایسا کر رہے ہوں ۔ اسی طرح اسلامی فقہ کی جزئیات کی خیالی تعلیم اور تحقیق خصوصا ان شعبوں میں جن کا انطباق اور نفاذ نہیں ہوتا ایک ایسا مطالعہ اور تحقیق ہے جو محض کھیل کے طور پر کیا جاتا ہے اور اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اسلامی فقہ اور اسلامی شریعت کا اس کرہ ارض پر ایک مقام ہے اور وہ مقام صرف یہ ہے کہ اسے مدارس کے اندر پڑھایا جائے ‘ عدالتوں کے اندر ان فقہی جزئیات کا نفاذ ضروری نہیں ہے ۔ یہ تاثر جو شخص دیتا ہے وہ اپنے آپ کو ایک بڑے گناہ میں ملوث کرتا ہے ‘ اس لئے کہ یہ شخص لوگوں کو یہ شعور دے کر ان کے جذبہ نفاذ شریعت کو سرد کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین سنجیدہ دین ہے اور یہ آیا ہی اس لئے ہے کہ لوگوں کی زندگی پر کنٹرول کرے ۔ یہ اس لئے آیا ہے کہ لوگ صرف اللہ کی بندگی اور غلامی کریں ۔ اس دین کے آنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے اقتدار اعلی اور حاکمیت کے حق کو چھین لیا ہے ان سے یہ حق واپس لیا جائے اور اسے دوبارہ اللہ کے حوالے کیا جائے اور تمام امور میں اللہ کی شریعت اور حکومت جاری ہو ۔ اللہ کے سوا کسی اور کی شریعت نافذ نہ ہو ‘ اس لئے کہ یہ شریعت آئی ہی اس لئے ہے کہ وہ زندگی پر حکمرانی کرے اور زندگی کے واقعی اور عملی مسئلوں کے حل پیش کرے اور ہر معاملے کی شکل و صورت اور اس کے حجم کے مطابق صحیح صحیح فیصلے دے ۔ حالات اور واقعات کے مطابق ۔ یہ دین اس لئے نہیں آیا کہ اسے بطور علامت اور شعار لیا جائے ۔ اس لئے نہیں آیا کہ اس کے شرعی نظام پر محض عملی مباحث ہوں ‘ اس لئے نہیں کہ اس کا نفاذ کیسے ہو ۔ یہ نظام خیالی مفروضات کے حل پیش کرتا ہے اور فرض واقعات کے فرضی احکام وضع کرتا ہے ۔ یہ ہے اسلام کی حقیقت پسندی ۔ علمائے دین کو چاہئے کہ وہ اس دین کا مطالعہ حقیقت پسندانہ انداز میں کریں اور اس مطالعے کے ساتھ ساتھ نفاذ شریعت کے امکانات کا مطالعہ بھی کریں ۔ اگر وہ نفاذ شریعت کی جدوجہد نہیں کرسکتے تو ہوا میں محض خیالی فتوے کیوں جاری کرتے ہیں ؟ ابن عباس ؓ سے جو روایت کی ہے اور اس آیت کے شان نزول کے بارے میں سعید ابن جبیر نے کہا ہے کہ آیت (یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآئ) سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ جاہلیت میں مروج بعض باتوں کے بارے میں پوچھتے تھے ۔ البتہ معین طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ سوال کیا تھا لیکن اس آیت کے بعد بحیرہ ، سائبہ وصیلہ اور حام کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں اور آیت سابقہ کے درمیان کوئی تعلق ضرور ہوگا ۔

المائدة 5:102

(آیت) ” نمبر 101 تا 102۔ بعض صحابہ کرام ؓ اجمعین حضور ﷺ سے بہت سوالات کرتے تھے ‘ اور یہ سوالات ان باتوں کے متعلق ہوتے تھے جن میں کوئی امر یا نہی نازل نہ ہوئی تھی ۔ یہ لوگ بعض ایسے معاملات کی تفصیل میں زیادہ دلچسپی لیتے جن کو قرآن نے مجمل چھوڑا تھا اور اس اجمال کی وجہ سے لوگوں پر ایک قسم کی سہولت تھی ۔ بعض اوقات وہ ایسے معاملات کے بارے میں پوچھتے جن کے جوابات کی ضرورت ہی نہ تھی ‘ کیونکہ یہ ممکن تھا کہ خود سائل کو وہ انکشاف اچھا نہ لگے ۔ یہ اس سے دوسرے مسلمانوں کو اذیت ملے ۔ روایات میں آتا ہے کہ فرضیت حج کی آیت پر کسی نے یہ پوچھا کہ کیا ہر سال حج فرض ہوگیا ہے ؟ تو حضور نے اس سوال پر بہت ہی ناراضگی کا اظہار فرمایا کیونکہ آیت حج میں اجمال تھا ۔ (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ اللہ کی جانب سے لوگوں پر حج بیت اللہ فرض ہے ‘ اس پر جو راستے کی استطاعت رکھتا ہو۔ زندگی میں ایک بار حج کرکے اس آیت پر عمل ہوسکتا تھا ۔ اس طرح اگر حضور اس آیت کی یہ تفسیر کردیتے کہ ” ہر سال “ تو اس سے بہت سی مشکلات پیدا ہوجاتیں حالانکہ اللہ نے لوگوں کو ان میں ڈالنا مناسب نہ سمجھا تھا ۔ ترمذی اور دارقطنی نے حضرت علی ؓ سے ایک حدیث مرسل روایت کی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا “ تو لوگوں نے پوچھا حضور ہر سال میں ؟ تو آپ خاموش ہوگئے ۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کیا ہر سال میں ؟ تو آپ نے فرمایا ” نہیں اگر میں کہتا کہ ” ہاں “ تو یہ ہمیشہ کے لئے فرض ہوجاتا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) دارقطنی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لوگو تم پر حج فرض کردیا گیا ہے ۔ ایک شخص کھڑا ہوا اور سوال کردیا کہ کیا ہر سال ؟ حضور ﷺ نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اس کے بعد اس نے پھر سوال کیا ” حضور ہر سال ؟ “ تو حضور ﷺ نے پوچھا یہ سائل کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتلایا کہ فلاں فلاں ہے ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں کہہ دیتا ہاں تو یہ ہر سال واجب ہوجاتا اور اگر ہر سال واجب ہوتا تو تم ہر گز اسے ادا نہ کرسکتے اور اگر تم نہ کرسکتے تو کافر ہوجاتے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) ایک دوسری حدیث کا مضمون یہ ہے ‘ اور یہ امام مسلم نے صحیح مسلم میں نقل کی ہے ۔ وہ حضرت انس ؓ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : آپ ﷺ نے ایک موقعہ پر فرمایا جب تک میں اس جگہ کھڑا ہوں پوچھو جو پوچھتے ہو ۔ میں تمہیں اطلاع دوں گا ۔ “ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پوچھا : حضور ﷺ میں کہاں داخل ہوں گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” آگ میں “ ۔ عبداللہ ابن حذافہ ؓ نے پوچھا : میرے باپ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے ۔ (ابن عبدالبر لکھتے ہیں کہ عبداللہ ابن حذافہ قدیم الاسلام تھے ۔ انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی ‘ بدر میں شریک ہوئے ‘ یہ نہایت ہی خوش مزاج تھے ، حضور ﷺ نے انہیں کسری کے پاس پیغام دے کر بھیجا تھا ۔ جب حضور ﷺ کے ساتھ اس کا یہ سوال و جواب ہوا کہ میرا باپ کون ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا حذافہ تو اس کی ماں نے کہا میں نے تم جیسا نافرمان بیٹا نہیں دیکھا ۔ ” کیا تم کو یہ اطمینان تھا کہ میں نے جاہلیت کی عورتوں کی طرح گناہ کا ارتکاب نہیں کیا ؟ تم مجھے مجمع عام میں شرمندہ کرنا چاہتے تھے ؟ اس پر عبداللہ نے کہا : ” خدا کی قسم اگر حضور ﷺ مجھے ایک کالے غلام کا بیٹا بتلاتے تو میں اس کے ساتھ اپنا نسب ملا دیتا۔ “ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے ۔ ایک دن حضور ﷺ نہایت ہی جلال میں تھے آپ ﷺ کا چہرہ سرخ تھا ۔ آپ منبر پر بیٹھے ۔ ایک شخص نے پوچھا حضور ﷺ میں کہاں ہوں گا تو آپ نے فرمایا ” آگ میں “۔ ایک دوسرا اٹھا اور پوچھا میرا باپ کون ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا باپ ” حذیفہ “ ہے اس پر حضرت عمر بن خطاب ؓ اٹھے اور فرمایا حضور ﷺ ہم اس بات پر راضی ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور محمد ﷺ ہماری نبی ہیں اور قرآن ہمارا امام ہے ۔ حضور ﷺ ہم تو ابھی ابھی جاہلیت سے اور شرک سے نکلے ہیں ۔ اللہ ہی کو علم ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد کون ہیں ؟ اس پر حضور ﷺ کا غضب ٹھنڈا ہوا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآء ان تبدلکم تسوکم ) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں ‘ ۔ مجاہد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت فرمائی ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کے بارے میں پوچھا تھا ۔ سعید ابن جبیر ؓ نے بھی یہی رائے اختیار کی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس آیت کے بعد اسی وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ (5 : 103) ان روایات میں وہ تمام سوالات آگئے ہیں جن کے بارے میں پوچھنے سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو منع فرمایا ۔ قرآن کریم کا مقصد یہ نہ تھا کہ محض عقیدہ اور نظریہ ہی بیان کر دے یا ایک شرعی قانون نافذ کرے ۔ بلکہ قرآن کریم کے پیش نظر ایک امت کی تربیت کرنا تھا ۔ ایک معاشرہ وجود میں لانا تھا ۔ قرآن کریم افراد کو بتا رہا ہے تھا کہ ان کی نشوونما اور تربیت معقول اخلاقی اصولوں پر کی جانی مطلوب تھی ۔ یہاں قرآن کریم نے سوالات کے آداب بتلائے ہیں ۔ بحث و مباحثہ کی حدود کا تعین کیا ہے ۔ علم ومعرفت کا طریق کاربتلایا ہے ۔ خصوصا اس عرصے کے لئے جس میں باران رحمت کا نزول ہو رہا تھا ۔ غیب سے خبریں آرہی تھیں ۔ حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ لوگ شریعت کی تفصیلات نہ پوچھیں اور نصوص کو مجمل ہی رہنے دین ۔ نیز غیبی امور کو غیب ہی رہنے دیا جائے ۔ اور وہ غیبی امور میں اسی حد تک علم کی تمنا کریں جس قدر اللہ علیم وخبیر دے دے ۔ ان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ نئی نئی نصوص طلب کرکے اپنے اوپر مزید مشکلات ڈالتے چلے جائیں ۔ محض احتمالات اور فرضی مسائل نہ پوچھیں اور وہ ان غیبی امور کے پیچھے ہی نہ پڑیں جن کا انکشاف اللہ نے نہیں کیا ہے اس لئے کہ اللہ کو انسان کی طاقت اور قدرت کا اچھی طرح علم ہے ۔ وہ ان کی حد برداشت کو جانتا ہے ۔ وہ ان کی طاقت کے مطابق ان کے قانون بنا رہا ہے ۔ اور ان پر ان ہی امور کو منکشف کرتا ہے جس کا ادراک ان کا مزاج کرسکتا ہے ۔ بعض امور کو اللہ ارادۃ مجمل چھوڑتا ہے ۔ لوگوں کے لئے ان میں کوئی نقصان نہیں ہے کہ وہ امور اسی طرح مجمل رہیں ۔ نزول قرآن کے وقت ایسا جواب آسکتا ہے جو انہیں پسند نہ ہو یا بعض لوگ اسے پسند نہ کریں اور وہ سب پر بوجھ بن جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس بات سے منع کردیا کہ وہ ایسے امور کے بارے میں نہ پوچھیں کہ اگر بتا دیئے جائیں تو انہیں ناگوار ہوں اور انہیں متنبہ کردیا گیا کہ اگر وہ پوچھیں گے تو جواب آئے گا ۔ اس لئے کہ وحی جاری ہے ۔ اس طرح فرائض کا دائرہ وسیع ہوجائے گا ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَسْأَلُواْ عَنْ أَشْیَاء إِن تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ وَإِن تَسْأَلُواْ عَنْہَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَکُمْ عَفَا اللّہُ عَنْہَا ۔ ” ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں ‘ لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہو رہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ ان چیزوں کو اللہ نے معاف کردیا ۔ “ ۔ یعنی ان امور کے بارے میں نہ پوچھو جو اللہ نے معاف کردیئے اور اس کا فرض کرنا موقوف رکھا ۔ اس لئے کہ اجمال ہی میں وسعت ہوتی ہے ۔ مثلا حج کی تعداد کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے کوئی بات نہیں کہ یا ایسی چیزیں جن کا اللہ نے ذکر ہی نہیں کیا ۔ اس کے بعد اللہ نے ان کے سامنے امم سابقہ یعنی اہل کتاب کی مثال پیش کی کہ انہوں نے بار بار سوالات کرکے اپنی آزادی کا دائرہ تنگ کیا اور اس طرح ان پر زیادہ فرائض اور احکام عائد ہوتے چلے گئے اور جب ان پر احکام فرض ہوئے تو انہوں نے ان کی تعمیل سے انکار کردیا اور کفر کا راستہ اختیار کیا ۔ اگر وہ خاموش رہتے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان پر آسانی کی تھی اسے جاری رہنے دیتے تو ان پر سختی نہ ہوتی اور نہ شدت کے نتیجے میں انہیں انکار کرنا پڑتا ۔ سورة بقرہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ وہ گائے ذبح کریں اور گائے کے ساتھ تو کوئی قیود وشروط عائد نہ تھے بلکہ صرف یہی کہا گیا تھا کہ بس وہ گائے ذبح کردیں ۔ اگر وہ کوئی گائے ذبح کرتے تو حکم کی تعمیل ہوجاتی ۔ انہوں نے گائے کے اوصاف گنانے شروع کردیئے ۔ انہوں نے اس کے رنگ تک تحقیقات شروع کردیں ۔ ہر تحقیق وسوال کے نتیجے میں ان پر سختی ہوتی گئی ۔ اگر وہ سوالات کی بوچھاڑ نہ کرتے تو ان کے لئے کوئی مشکل پیدا نہ ہوتی ۔ یہی حال تھا ان کا سبت کے بارے میں کہ پہلے انہوں نے خود ایک تعطیل کا مطالبہ کیا اور پھر اس کی پابندی کرنے سے انکار کردیا ۔ ان کی اس خصلت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر بطور سزا کئی اشیاء کو حرام کردیا ۔ صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے ” میں نے جو احکام نہیں دیئے ان کے بارے میں مجھے چھوڑ دو ۔ اس سے پہلے جو قومیں ہلاک ہوئیں وہ زیادہ پوچھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں اور مزید اس لئے کہ انہوں نے اپنے نبیوں کے ساتھ اختلاف کئے ۔ صحیح مسلم میں عامر ابن سعید نے اپنے باپ سے روایت کی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں میں سے خود مسلمانوں کے خلاف سب سے بڑا جرم کرنے والا وہ شخص ہے کہ جو کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھے جسے مسلمانوں پر حرام نہیں کیا گیا اور اب اس کے سوالات کی وجہ سے وہ مسلمانوں پر حرام ہوجائے ۔ یہ آیات اور ان کے بعد احادیث نبوی کا یہ مجموعہ اسلامی معاشرے میں حصول علم کے لئے ایک منہاج وضع کردیتا ہے ۔ اسلام میں طلب علم کا مقصد واقعی ضروریات کے لئے مسائل کا حل معلوم کرنا ہے اور ضرورت کے دائرے تک کرنا ہے ۔ اس لئے عالم غیب میں دلچسپی نہ رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ انسانی طاقتیں ایسے کام کو روشنی میں لانے کے اندر خرچ نہ کی جائیں جن کی حقیقت تک پہنچنے کی انسان کو کوئی عملی ضرورت نہیں ہے ۔ اس کی عملی زندگی اس حقیقت کی محتاج نہیں ہے اور انسانی ذہن کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ عالم غیب پر اسی طرح ایمان لائے جس طرح اللہ علیم وخبیر نے کہہ دیا ہے ۔ جب کوئی ایمان کو چھوڑ کر غیبی حقائق پر بحث شروع کر دے تو اس بحث کے نتیجے میں کچھ حاصل نہیں ہوتا اس لئے کہ انسانی ذہن کو یہ قوت اور صلاحیت ہی نہیں دی گئی کہ وہ عالم غیب کے میدان میں کسی چیز کا ادراک کرسکے ۔ اس کا ادراک اسی حد تک محدود ہے جس حد تک اسے بتایا گیا ہے لہذا اس قسم کی کوئی کوشش بھی بےسود رہے گی ۔ یہ اور بات ہے کہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار کر ایسا شخص اپنے آپ کو تھکا ڈالے گا اور آپ ہی ضلال بعید میں جا پڑے گا ۔ اسلام کی پالیسی یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ در پیش ہو تو اس وقت اس کے بارے میں سوال کیا جائے ‘ اور یہی ہے اسلامی منہاج ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ پورے مکی دور میں کوئی ایسا شرعی حکم نازل نہیں ہوا جس کا نفاذ ضروری ہو ۔ اگرچہ بعض اشیاء اور بعض انفرادی اعمال کے بارے میں احکام آتے رہے ‘ لیکن ایسے احکام جن کے نفاذ کی ضرورت ہو مثلا حدود ‘ تعزیرات ‘ کفارات اور قصاص یہ سب کے سب مدینہ میں نازل ہوئے کیونکہ مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی تھی اور نفاذ احکام حکومت ہی کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ ابتدائی اسلامی سوسائٹی نے اس حقیقت کو پالیا تھا ۔ وہ کسی مسئلے کے بارے میں اس وقت تک نہ پوچھتے تھے جب تک وہ واقع نہ ہوجائے اور یہ سوال بھی واقعہ کی حد تک ہوتا ‘ مفصل قانون دفعات کے وضع کرنے کی کبھی ضرورت پیش نہیں آتی تاکہ سوال و جواب بھی اسلام کے نظام تربیت کے مطابق ہوں ۔ حضرت عمر ؓ کا طریقہ یہ تھا کہ اگر کوئی قضیہ درپیش نہ ہوتا تو خواہ مخواہ سوال کرنے والے پر وہ لعنت بھیجتے ۔ دارمی نے اپنی مسند میں اور زہری نے اس کا ذکر کیا ہے کہ زید ابن ثابت انصاری سے جب کوئی مسئلہ پوچھا جاتا تو وہ پہلے پوچھتے کہ کیا ایسا کوئی واقعہ ہوا ہے ۔ اگر وہ کہتے کہ ہاں ایسا وقوعہ ہوگیا ہے تو وہ پھر اپنے علم کے مطابق بات کرتے ۔ اور اگر وہ کہتے کہ واقعہ نہیں ہوا ہے تو وہ جواب دیتے کہ ایسا ہونے دو پھر بات کریں گے ۔ اسی طرح عمار ابن یاسر سے بھی روایت ہے کہ ان سے کوئی مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ کیا اس سلسلے کا کوئی واقعہ ہوا ہے تو انہوں نے کہا کہ نہیں تو انہوں نے کہا کہ دیکھو جب ایسا کوئی واقعہ ہو تو پھر بات کریں گے ۔ درامی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے ۔ فرماتے ہیں کہ میں نے صحابہ رسول سے اچھے لوگ نہیں دیکھے ۔ انہوں نے حضور ﷺ سے آپ کی وفات تک صرف 31 مسئلے پوچھے ۔ اور یہ سب مسئلے قرآن کریم میں ذکر ہوئے ہیں جن میں یہ یسئلون شامل ہیں ۔ (آیت) ” یسئلونک عن الشھر الحرام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یسئلونک عن المحیض) اور وہ اسی بات کے بارے میں پوچھتے تھے جو ان کے لئے نفع بخش ہوتی ۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ جب میں مدینہ میں آیا تو اہل مدینہ کے پاس کتاب وسنت کے سوا کوئی علم نہ تھا ۔ جب کوئی معاملہ پیش آتا تو امیر مدینہ موجود علماء کو جمع کرتے اور جس بات پر ان کا اتفاق ہوجاتا وہ اسے نافذ کردیتے ۔ تم لوگ بہت ہی سوالات کرتے ہو اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو پسند نہیں فرمایا ۔ علامہ قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس آیت کے ذیل میں کہا ہے : امام مسلم نے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا :” اللہ تعالیٰ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی حرام کردی ہے بیٹیوں کا دفن کرنا حرام کردیا ہے دوسروں کے حقوق منع کرنے اور اپنے حقوق طلب کرنے کو حرام قرار دیا ہے اور تین چیزوں کا ناپسند کیا ہے ۔ زیادہ قیل وقال منع ہے ‘ زیادہ سوالات کرنا منع ہے اور دولت کو ضائع کرنا ناپسند ہے ۔ اکثر علماء کا کہنا یہ ہے کہ کثرت سوال سے مراد فقہی مسائل میں زیادہ سوالات کرنا ہے ۔ یعنی ان معاملات میں جن میں کوئی نص نہیں ہے ۔ یعنی فقہی پہیلیاں اور مسائل سے جزئیات اور مشتقات نکالنا ۔ سلف صالحین اس کو ناپسند کرتے تھے اور اسے محض تکلف سمجھتے تھے ۔ وہ کہتے تھے پہلوؤں پر پوری طرح منطبق ہوتا ہے ۔ اگر کوئی مسئلہ درپیش ہو تو اس کے بارے میں سوال کرنا تو ایک متعین صورت حالات کے بارے میں سوال ہوگا ‘ لیکن اگر کوئی واقعہ پیش آیا ہی نہ تو اس کا تعین ممکن ہی نہیں ہوتا اور اس کے بارے میں جو بھی فتوی دیا جائے گا وہ عملا اچھی طرح منطبق نہ ہوگا ۔ اگر ہم فرض حالات کے جوابات دینے لگیں تو یہ فعل شریعت کی حقیقت پسندی کے خلاف ہوگا ۔ اور اسلام کے منہاج کے متصادم ہوگا ۔ آج کے دور میں اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ لوگ ایسے ممالک میں شریعت کے قوانین کے بارے میں سوالات کرتے ہیں جہاں شریعت کے قیام کا مقصد پیش نظر ہوتا ہے ۔ نہ فتوی اس لئے طلب کیا جاتا ہے ۔ کہ شریعت کے کسی حکم کو نافذ کرنا ہے ۔ اسلامی شریعت کا طریق کار یہ ہے کہ اس میں فتوی نفاذ قانون کے لئے طلب کیا جاتا ہے ۔ اگر پوچھنے والے اور جواب دینے والے دونوں جانتے ہیں کہ وہ ایسے ملک کے باشندے ہیں جس میں شریعت کا نفاذ نہیں ہورہا ہے ۔ اس میں اللہ کے اقتدار اعلی کو نہ تسلیم کیا جاتا ہے اور نہ اس پر کوئی یقین رکھتا ہے نہ اسے لوگوں کی زندگیوں اور اجتماعی امور میں نافذ کیا جاتا ہے بالفاظ دیگر اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا ہے اور اللہ اعلی کی اطاعت نہیں کی جاتی تو ایسے حالات میں فتوی طلب کرنے کے کیا معنی ؟ اور جواب دینے والے کے جواب کا کیا فائدہ ؟ یہ دونوں دراصل شریعت کے ساتھ مذاق کرتے ہیں چاہے انہیں اس کا شعور ہو یا لاشعوری طور پر وہ ایسا کر رہے ہوں ۔ اسی طرح اسلامی فقہ کی جزئیات کی خیالی تعلیم اور تحقیق خصوصا ان شعبوں میں جن کا انطباق اور نفاذ نہیں ہوتا ایک ایسا مطالعہ اور تحقیق ہے جو محض کھیل کے طور پر کیا جاتا ہے اور اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اسلامی فقہ اور اسلامی شریعت کا اس کرہ ارض پر ایک مقام ہے اور وہ مقام صرف یہ ہے کہ اسے مدارس کے اندر پڑھایا جائے ‘ عدالتوں کے اندر ان فقہی جزئیات کا نفاذ ضروری نہیں ہے ۔ یہ تاثر جو شخص دیتا ہے وہ اپنے آپ کو ایک بڑے گناہ میں ملوث کرتا ہے ‘ اس لئے کہ یہ شخص لوگوں کو یہ شعور دے کر ان کے جذبہ نفاذ شریعت کو سرد کرتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دین سنجیدہ دین ہے اور یہ آیا ہی اس لئے ہے کہ لوگوں کی زندگی پر کنٹرول کرے ۔ یہ اس لئے آیا ہے کہ لوگ صرف اللہ کی بندگی اور غلامی کریں ۔ اس دین کے آنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے اقتدار اعلی اور حاکمیت کے حق کو چھین لیا ہے ان سے یہ حق واپس لیا جائے اور اسے دوبارہ اللہ کے حوالے کیا جائے اور تمام امور میں اللہ کی شریعت اور حکومت جاری ہو ۔ اللہ کے سوا کسی اور کی شریعت نافذ نہ ہو ‘ اس لئے کہ یہ شریعت آئی ہی اس لئے ہے کہ وہ زندگی پر حکمرانی کرے اور زندگی کے واقعی اور عملی مسئلوں کے حل پیش کرے اور ہر معاملے کی شکل و صورت اور اس کے حجم کے مطابق صحیح صحیح فیصلے دے ۔ حالات اور واقعات کے مطابق ۔ یہ دین اس لئے نہیں آیا کہ اسے بطور علامت اور شعار لیا جائے ۔ اس لئے نہیں آیا کہ اس کے شرعی نظام پر محض عملی مباحث ہوں ‘ اس لئے نہیں کہ اس کا نفاذ کیسے ہو ۔ یہ نظام خیالی مفروضات کے حل پیش کرتا ہے اور فرض واقعات کے فرضی احکام وضع کرتا ہے ۔ یہ ہے اسلام کی حقیقت پسندی ۔ علمائے دین کو چاہئے کہ وہ اس دین کا مطالعہ حقیقت پسندانہ انداز میں کریں اور اس مطالعے کے ساتھ ساتھ نفاذ شریعت کے امکانات کا مطالعہ بھی کریں ۔ اگر وہ نفاذ شریعت کی جدوجہد نہیں کرسکتے تو ہوا میں محض خیالی فتوے کیوں جاری کرتے ہیں ؟ ابن عباس ؓ سے جو روایت کی ہے اور اس آیت کے شان نزول کے بارے میں سعید ابن جبیر نے کہا ہے کہ آیت (یایھا الذین امنوا لا تسئلوا عن اشیآئ) سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ جاہلیت میں مروج بعض باتوں کے بارے میں پوچھتے تھے ۔ البتہ معین طور پر یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ سوال کیا تھا لیکن اس آیت کے بعد بحیرہ ، سائبہ وصیلہ اور حام کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ ان چیزوں اور آیت سابقہ کے درمیان کوئی تعلق ضرور ہوگا ۔

المائدة 5:103

(آیت) ” نمبر 103 تا 104۔ انسانوں کے دل و دماغ یا تو اس صورت پر قائم ہوں گے جس پر انہیں اللہ نے پیدا کیا ۔ وہ صرف ایک الہ کی معرفت پائیں گے ‘ ایک رب العالمین کی غلامی کریں گے ‘ اسی کی شریعت کے تابع ہوں گے اور اللہ کے علاوہ تمام دوسرے شرائع وقوانین کو ترک کردیں گے ۔ تمام دوسرے الہوں کی ربوبیت کو ترک کردیں گے اور کسی اور سر چشمے سے اپنے قوانین اور ضوابط نہ لیں گے ۔ یہ ایک نہایت ہی فطری صورت حال ہوگی ‘ بندے کا اپنے رب کے ساتھ جوڑ ہوگا ‘ اس کی عبادت اور رب کریم کے ساتھ اس کے روابط نہایت ہی سادہ ہوں گے ورنہ وہ جاہلیت کی پیچ در پیچ گزر گاہوں میں سرگرداں رہے گا ۔ کبھی بت پرست ہوگا اور تہ بہ تہ کلمات کے اندر گم کردہ راہ رہے گا ۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایک وہم اور تخیل اسے نچا رہا ہوگا ۔ جاہلیت کا ہر بت اس سے اپنے مراسم عبودیت ادا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہوگا ‘ ہر بت کا مطالبہ یہ ہوگا کہ وہ اسے راضی کرے پھر عبادات اور قربانیوں کے مراسم بھی متعدد اور متضاد ہوں گے اور ایک بت پرست کے ذہن میں کوئی اصول نہ ہوگا ۔ وہ عبادات کے مراسم کو ادا کرتا چلا جائے گا اور اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے گی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ؟ مختلف اور متفرق ارباب کی بندگی اسے تھکا کر چور چور کر دے گی اور اس کی انسانیت کا وہ شرف بھی ختم ہوجائے گا جو اللہ نے انسان کو دیا تھا ۔ جب اسلام آیا تو انسانیت موخر الذکر حالت میں تھی ۔ اس نے لوگوں کے سامنے نظریہ توحید پیش کیا اور بتایا کہ قوت حاکمہ ایک ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے ۔ اس نے صرف ایک رب کی بندگی کا نظریہ دیا تاکہ لوگ ایک دوسرے کی بندگی اور غلامی سے نجات پالیں ۔ نظریہ توحید کے ذریعے انسان کو متفرق الہوں کی بندگی سے نجات ملی اور انسانی ضمیر ادہام وخرامات کے ناقابل برداشت بوجھ سے نجات پا گیا ۔ انسانی فہم ودراک اور عقلمندی نے اپنا اصل مقام و مرتبہ پایا اور انسان کو مختلف اور متضاد مراسم عبودیت سے نجات ملی ۔ پھر انسان نے بت پرستی کے خلاف جہاد شروع کیا اور اس کی تمام شکلوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ۔ اس کے بعد زندگی کے تمام نشیب و فراز میں اس کا پیچھا کیا ‘ دل کی گہرائیوں ‘ عبادت کے طریقوں ‘ زندگی کی رسومات اور نظام قانون اور نظام حکومت ہر جگہ سے بت پرستی کا قلع قمع کردیا گیا ۔ افکار جاہلیت میں سے یہ ایک ٹیڑھی فکر تھی ‘ جس کا قرآن کریم یہاں علاج کر رہا ہے تاکہ اسے سیدھا کر دے ‘ دیا جلا کر اس ٹیڑھی راہ کو روشن کر دے اور فکر ونظر کے اسلامی اصولوں کا دیا جلا دے ۔ اصول شریعت اور اصول نظام زندگی ۔ (آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ وَلَـکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَأَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ (103) ” اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام ۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں ۔ یہ جانوروں کی اقسام تھیں جنہیں وہ اپنے الہوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے ۔ ان کی کچھ خاص شرائط ہوتی تھیں اور یہ شرائط انہوں نے فکر ونظر کی تاریخ کے تہ بہ تہ پردوں ادہام اور خرافات سے اخذ کی تھیں ۔ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کیا تھے ؟ اور ان کے بارے میں جو ادہام و خرافات عربوں میں رائج تھے ان کا مصدر اور منبع کیا تھا ؟ ان کی تعریف میں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات کا یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا ۔ زہری نے سعید ابن مسیب سے یہ روایت کی ہے ۔ بحیرہ اونٹوں میں سے وہ قسم ہوتی ہے جس کا دودھ مالک خود استعمال نہیں کرتا تھا ۔ یہ صرف الہوں کے لئے ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ الہوں کا مال مذہبی پیشواؤں ہی کے لئے ہوتا ہوگا ۔ سائبہ وہ ہے جو وہ اپنے بتوں کی نذر کرتے تھے ۔ وصیلہ وہ ہوتی تھی جس کا پہلی بار کا بچہ مادہ ہو پھر دوبارہ بھی بچہ مادہ ہو یعنی دونوں کے درمیان اتصال ہوگیا ۔ یعنی درمیان میں نر پیدا نہ ہوا ۔ ایسی اونٹنی کو وہ بتوں کے نام پر ذبح کردیتے تھے اور حام اس اونٹ کو کہتے تھے کہ جس کی نسل سے کئی بچے پیدا ہوئے ہوں ۔ اس کی تعداد مقرر تھی جب وہ اس تعداد تک پہنچ جاتا تو اسے حام اس لئے کہتے تھے کہ اس نے اپنی پشت کو مزید استعمال سے بچا لیا ۔ اب اس پر سوار نہ ہوتے ۔ اہل لغت کہتے ہیں : بحیرہ وہ اونٹنی ہے جس کے کان پھاڑتے تھے ۔ وہ کہتے (بحرت اذن الناقہ بحرا) (میں نے اپنی اونٹنی کے کان پھاڑ دیئے) ایسی اونٹنی کو بحورہ بھی کہتے تھے اور بحیرہ بھی ۔ اور یہ کان آخری حصے تک پھاڑ دیئے جاتے تھے اور بحر کو بھی بحر اس لئے کہتے ہیں کہ یہ وسیع ہوتا ہے ۔ اہل جاہلیت کے نزدیک بحیرہ کا گوشت کھانا حرام ہوتا تھا اور اسے بحیرہ اس طرح قرار دیتے کہ جب وہ پانچویں بار بچہ دے اور وہ نر ہو ۔ اب وہ اس کے کان پھاڑ دیتے اس کا گوشت حرام قرار دے دیتے اور اس کی قربانی اور اس پر سواری ممنوع ہوتی ۔ کوئی شخص اسے اپنے پانی سے نہ روکتا اور کوئی شخص اسے اپنی چراگاہ سے بھی نہ روکتا ۔ سائبہ وہ اونٹنی ہوتی جسے پن کردیا جائے اور اسے مسیبہ بھی کہتے ہیں ۔ جاہلیت کے زمانے میں اگر کوئی نذر مانتا کہ وہ سفر سے خیرت سے لوٹا یا بیماری سے تندرست ہوا تو وہ یہ نذر دے گا ۔ تو وہ کہتا میری اونٹنی سائبہ ہوئی ‘ حرمت اور آزادانہ چرنے چگنے میں وہ بھی بحیرہ کی طرح ہوتی ۔ اور وصیلہ کے بارے میں بعض اہل لغت نے یہ لکھا ہے کہ اگر بکری کے دو بچے ہوں ایک نر ہو اور دوسرا مادہ ہو تو عرب کہتے ہیں کہ اس مادہ نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ولادت کی تو وہ اس بکری کو ذبح نہ کرتے تھے ۔ بعض کہتے تھے کہ اگر بکری مادہ جنے تو یہ ان کی ہے ۔ اور اگر نہ جنے تو وہ اسے اپنے الہوں کے نام ذبح کردیتے تھے اور اگر نر اور مادہ دونوں یکجا پیدا ہوں تو کہتے کہ چونکہ یہ بھائی بہن اکٹھے ہوئے ہیں اس لئے وہ بکری کو ذبح نہ کرتے ۔ حام وہ اونٹ ہوتا جس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہوتے تو اس کے بارے میں وہ کہتے کہ اس نے اپنی پیٹھ کو بچا لیا ہے اس لئے وہ اس کو چراگاہ اور پانی سے نہ روکتے ۔ “ (دیکھئے احکام القرآن جصاص) ان جانوروں کی تعریف کے بارے میں اور بھی کئی روایات وراد ہیں اور ان کے پیچھے بس یہی تصور ہے جو اوپر ہم نے ذکر کیا ۔ ان جانوروں کے تقدس کے لئے ان اسباب سے کوئی ارفع اور معقول سبب کسی روایت میں نہیں آیا ہے ۔ جیسا کہ درج بالا اقتباس سے معلوم ہوگا یہ تمام اسباب بت پرستی اور جاہلیت کے ادہام اور اندھیروں کا نتیجہ تھے جب فیصلے ادہام اور تاریک خیالی کے زاویے سے ہوتے تو پھر وہم پرستی اور تاریک خیالی کی نہ کوئی حد رہتی ہے اور نہ کوئی اصول اور میعار رہتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں چند مذہبی رسومات پیدا ہوجاتی ہیں کبھی ان رسومات میں کمی آجاتی ہے اور کبھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یہ اصول جاہلیت عربیہ کے اندر بھی رائج تھا اور یہی صورت ہر دور اور ہر جگہ واقعہ ہو سکتی ہے ۔ جب بھی توحید سے لوگ ہٹیں گے وہ ایسی ہی وہمیات کا شکار ہوں گے اس لئے کہ توحید ہی وہ نظریہ ہے جس میں نہ ٹیڑھ ہے اور نہ تاریکی ہے ۔ تمام جاہلی نظاموں میں رسوم وتوہمات کی ظاہری شکلیں تو مختلف ہوتی ہیں لیکن خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ بنیاد تاریک خیالی پر ہوتی ہے یعنی زندگی کے معاملات میں اللہ کے سوا کسی اور جگہ سے ہدایات لینا ۔ جاہلیت کسی مخصوص زمانے کا نام نہیں ہے بلکہ جاہلیت ایک صورت حال کا نام ہے جو بار بار رنگ بدل کر سامنے آتی رہتی ہے ۔ مختلف شکلوں میں آتی ہے ۔ مختلف ادوار میں آتی ہے ۔ اب صورت حال یا تو ایسی ہوگی کہ ایک اللہ حاکم ہوگا اور اس کے مقابلے میں تمام مخلوق اس کی غلام اور محکوم ہوگی ۔ ہر قسم کا اقتدار اللہ کے لئے ہوگا ‘ شعور وفکر اللہ سے لیا گیا ہوگا ‘ نیت اور عمل اللہ کے حوالے سے ہوگا ۔ نظم ونسق اور اجتماعی طور طریقے اللہ کی مرضی سے ہوں گے ۔ اقدار اور پیمانے اللہ کے تصور سے وضع ہوں گے ‘ قوانین اور ضوابط اللہ کے نافذ ہوں گے ۔ اور تمام تصورات فلسفے اور ہدایات اللہ ہی سے اخذ ہوں گے یا پھر جاہلیت ہوگی ‘ کسی بھی رنگ دھنگ میں ‘ اس میں بندہ بندے کا غلام ہوگا یا بندہ اللہ کے سوا کسی اور مخلوق کا غلام ہوگا ‘ اس جاہلیت کے نہ حدود ہوں گے اور نہ ضابطے ہوں گے اس لئے کہ کوئی انسان کوئی ایسا ضابطہ بنا ہی نہیں سکتا جسے الہی ضابطہ اور اصول کہا جاسکے اس لئے کہ عقل انسانی پر بیشمار چیزیں اثرات ڈال دیتی ہیں ہر دور میں جب انسان نے کوئی تصور اور کوئی نظم دینے کی کوشش کی ہے وہ بیشمار عوامل سے متاثر ہوا ہے اور وہ مختلف اطراف سے پریشر اور دباؤ کا مقابلہ نہیں کرسکا ‘ جب تک کہ وہ موزوں ترین ضابطے کے سامنے جھکا نہیں ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے اس بیان اور توضیح کو چودہ سو سال گزر گئے ہیں اور جب بھی عقل انسانی نے عقیدہ توحید سے روگردانی کی وہ پچیدہ راہوں میں گم ہوگیا اور بھول بھلیوں میں پھنس کر رہ گیا ۔ وہ مختلف متعدد اور متفرق ارباب کا معتقد ہوتا رہا ۔ اس نے اپنی آزادی ‘ اپنی شرافت اور اپنی قوت مقابلہ سے ہاتھ دھویا ۔ صرف اس زیر بحث مسئلہ تقدس حیوانات ہی کو اگر لیا جائے تو آج بھی مصر کے اندر دسیوں خرافات ملیں گے جن میں بعض حیوانات کو تقدس کے خیال سے چھوڑ دیا جاتا ہے اور یہ بعض اولیاء اور مقدس لوگوں کے نام پر ‘ بعینہ اسی طرح چھوڑ دیئے جاتے ہیں جس طرح قدیم زمانوں میں الہوں کے نام پر حیوانات چھوڑے جاتے تھے ۔ ان مراسم عبودیت اور جاہلیت کے مسئلے کا تعلق صرف ایک اصول کے ساتھ ہے اور یہ اصول نقطہ آغاز ہے ۔ اس نقطے سے دو راستے نکلتے ہیں یا تو اسلام کا راستہ ہوگا اور یا جاہلیت کا ، نقطہ یہ ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں حاکمیت کس کی چلے گی ؟ اسلامی شریعت کے مطابق حاکمیت اللہ کی ہوگی یا غیر اللہ کی حاکمیت ہوگی اور لوگ اپنے لئے احکام اور طریقے خود وضع کر رہے ہوں گے یا وہ مراسم عبودیت اور اقداروپیمانے خود متعین کریں گے ۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں پر الوہیت اللہ کی ہوگی یا اللہ کی مخلوق میں سے کسی اور کی ہوگی ۔ غیر اللہ میں سے جو بھی اللہ کی حاکمیت کا دعویدار بن جائے گا بس وہ الہ تصور ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کا غاز ہی اس مضمون سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مراسم کی اجازت نہیں دی ہے اگر اللہ نے بحیرہ ‘ سائبہ وصیلہ اور حام جیسے مراسم کی منظوری نہیں دی ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر کس نے یہ نام نہاد جانور حرام کئے ہیں ۔ (آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ ۔ (5 : 103) ” اللہ نے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام نامی جانوروں کو وہ حیثیت نہیں دی “۔ اور وہ لوگ جو اس شریعت اور قانون کی اطاعت کرتے ہیں وہ کفار ہیں ‘ یہ لوگ اس لئے کفار ہیں کہ یہ لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ کبھی وہ خود اپنی طرف سے ایک بات بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی شریعت ہے اور کبھی وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے معاملات کے اندر اللہ کی شریعت کا دخل قبول نہیں کرتے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نافرمان نہیں ہیں ۔ یہ سب کفر ہے ۔ (آیت) ” وَلَـکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَأَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ (103) ” مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں “۔ مشرکین عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں اور یہ دین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ کی طرف سے نازل ہوا تھا ۔ یہ لوگ اللہ کی ذات کے منکر نہ تھے ‘ بلکہ وہ ذات باری کے وجود کا اعتراف کرتے تھے ۔ وہ اللہ کی قدرت کے بھی معترف تھے اور اس بات کا بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی متصرف فی الامور ہے ۔ لیکن ان اعتراضات کے باوجود وہ اپنے لئے قوانین خود بناتے تھے اور اس کے بعد وہ یہ یقین کرتے تھے کہ یہ قوانین اللہ کی جانب سے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کافر بن گئے اور یہ بات ان تمام لوگوں پر صادق آئے گی جو کسی بھی وقت جاہلیت میں زندگی بسر کرتے ہوں اور اپنے لئے قانون خود بناتے ہوں ۔ پھر وہ یہ گمان کرتے ہوں کہ یہ اللہ کی شریعت ہے۔ اللہ کی شریعت تو ہی ہے جو کتاب اللہ کے اندر موجود ہے ۔ جو اللہ نے اتاری اور نبی نے بیان کی ۔ وہ نہ مبہم ہے اور نہ پیچیدہ ہے ۔ اللہ کی شریعت اس بات کی متحمل نہیں ہے کہ اپنی جانب سے شریعت کے اوپر افتراء باندھے اور یہ زعم کرے کہ وہ شریعت ہے یا کتاب اللہ ہے جیسا کہ جاہلیت کے پیروکاروں کا وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ خود ایک شریعت بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ایسے دعوے کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کفر کے ساتھ متصف کرتا ہے اور کافر کہنے کے بعد ایسے لوگوں کو اللہ بےعقل بھی کہتا ہے اس لئے کہ وہ عقلمند ہوتے تو اللہ پر افتراء نہ باندھتے ۔ اگر وہ عقلمند ہوتے تو یہ گمان نہ کرتے کہ ان کا یہ افتراء چل سکے گا ۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے قول وفعل میں بھی تضاد ہے ۔ (آیت) ” وَإِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْاْ إِلَی مَا أَنزَلَ اللّہُ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالُواْ حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْْہِ آبَاء نَا أَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَلاَ یَہْتَدُونَ (104) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبر کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لئے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کئے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو ؟ “۔ اللہ تعالیٰ نے جو شریعت نازل کی ہے وہ واضح ہے ۔ وہ قرآن کریم اور سنت رسول کی شکل میں ریکارڈ ہے ۔ یہی وہ معیار ہے ‘ اور یہی وہ یونٹ ہے جس سے اسلام اور جاہلیت کے راستے جدا ہوتے ہیں ۔ ایک ہے ایمان کا راستہ اور دوسرا ہے کفر کا راستہ ۔ اس جہاں میں یا تو صورت حال یہ ہوگی کہ لوگوں کو ما انزل اللہ کی طرف ‘ دعوت دی جائے گی اور وہ اس پر لبیک کہیں گے اور اس صورت میں وہ مسلمان کہلائیں گے یا وہ اس دعوت کا انکار کریں گے ‘ اس صورت میں وہ کافر ہوں گے اور ان دو صورتوں کے درمیان کوئی تیسری صورت نہیں ہے ۔ یہ لوگ ایسے تھے کہ جب انہیں اللہ اور رسول اللہ کی طرف دعوت دی جائے تو یہ کہتے ہیں ہمارے لئے وہی راستہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ۔ یہ لوگ اس طرح بندوں کے وضع کردہ قوانین کی اطاعت کرنے لگے اور انہوں نے ان قوانین کو ترک کردیا جو بندوں کے رب نے وضع کئے تھے انہوں نے آزادی کے اس نعرے کو ترک کردیا ‘ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ انسانوں کی غلامی کو ترک کر دو اور عقل وضمیر کی پیروی اختیار کرو چاہے یہ عقل وضمیر ان کی اپنی ہو یا آباؤاجداد کی ہو۔ اس کے بعد قرآن مجید ان کے موقف پر تعجب اور تاسف کا اظہار کرتا ہے ۔ (آیت) ” أَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَلاَ یَہْتَدُونَ (104) ” اگرچہ ان کے آباؤ اجداد کسی چیز کو نہ سمجھتے ہوں اور نہ ہی راہ ہدایت پر ہوں “۔ اس استفہام کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ آباؤ اجداد کے اتباع سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ وہ عقلمند نہیں ہیں اور اگر عقلمند ہوں تو پھر آباؤ اجداد کی اطاعت جائز ہے اور اس صورت میں اللہ اور رسول اللہ کے احکام کو ترک کرنا جائز ہے ۔ یہ بات نہیں ہے بلکہ اس اظہار تعجب میں محض ان کی واقعی صورت حال کو بیان کرنا مطلوب ہے کہ اس سے قبل ان کے آباؤ اجداد نامعقول باتوں کو مانتے تھے ۔ اس لئے کہ ان کے آباء پھر اپنے آباء کو ماننے والے تھے اور ان آباء نے بھی خود اپنے لئے قواعد و ضوابط وضع کئے تھے اور شریعت الہی کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص اپنے آباء اور اجداد کے رسم و رواج کا اتباع کرتا ہے تو وہ یقینا بےعقل ہے اور رہا ہدایت پر نہیں ہے ۔ چاہے وہ اپنے آپ اور اپنے قوانین کے بارے میں جو چاہے کہے ۔ جبکہ اللہ بہت ہی علیم وخبیر ہے اور سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم بہرحال یہی ہے کہ یہ لوگ کچھ بھی نہیں جانتے اور یہ اللہ کی شہادت ہے ۔ جو شخص اللہ کی شریعت سے حکم عدولی کرتا ہے وہ جاہل بھی ہے اور گمراہ بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ پر افتراء باندھنے والا اور کافر بھی ہے ۔ اہل کفر کے اقوال وافعال کے بیان کے اختتام کے بعد اب روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ یہاں اہل کفر سے ان کی مکمل علیحدگی کردی جاتی ہے اور ان کو ممیز کردیا جاتا ہے ۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے فرائض اور واجبات کیا ہیں اور یہ کہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ان کا موقف کیا ہے اور یہ کہ وہ اللہ کے سپرد ہیں اور ان کی زندگیاں اس فانی دنیا کے سپرد نہیں ہیں ۔ نہ ان کا مقصد ان دنیا کے مفادات کا حصول ہے ۔

المائدة 5:104

(آیت) ” نمبر 103 تا 104۔ انسانوں کے دل و دماغ یا تو اس صورت پر قائم ہوں گے جس پر انہیں اللہ نے پیدا کیا ۔ وہ صرف ایک الہ کی معرفت پائیں گے ‘ ایک رب العالمین کی غلامی کریں گے ‘ اسی کی شریعت کے تابع ہوں گے اور اللہ کے علاوہ تمام دوسرے شرائع وقوانین کو ترک کردیں گے ۔ تمام دوسرے الہوں کی ربوبیت کو ترک کردیں گے اور کسی اور سر چشمے سے اپنے قوانین اور ضوابط نہ لیں گے ۔ یہ ایک نہایت ہی فطری صورت حال ہوگی ‘ بندے کا اپنے رب کے ساتھ جوڑ ہوگا ‘ اس کی عبادت اور رب کریم کے ساتھ اس کے روابط نہایت ہی سادہ ہوں گے ورنہ وہ جاہلیت کی پیچ در پیچ گزر گاہوں میں سرگرداں رہے گا ۔ کبھی بت پرست ہوگا اور تہ بہ تہ کلمات کے اندر گم کردہ راہ رہے گا ۔ زندگی کے ہر موڑ پر ایک وہم اور تخیل اسے نچا رہا ہوگا ۔ جاہلیت کا ہر بت اس سے اپنے مراسم عبودیت ادا کرنے کا مطالبہ کر رہا ہوگا ‘ ہر بت کا مطالبہ یہ ہوگا کہ وہ اسے راضی کرے پھر عبادات اور قربانیوں کے مراسم بھی متعدد اور متضاد ہوں گے اور ایک بت پرست کے ذہن میں کوئی اصول نہ ہوگا ۔ وہ عبادات کے مراسم کو ادا کرتا چلا جائے گا اور اس کی سمجھ میں یہ بات نہ آئے گی کہ وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ؟ مختلف اور متفرق ارباب کی بندگی اسے تھکا کر چور چور کر دے گی اور اس کی انسانیت کا وہ شرف بھی ختم ہوجائے گا جو اللہ نے انسان کو دیا تھا ۔ جب اسلام آیا تو انسانیت موخر الذکر حالت میں تھی ۔ اس نے لوگوں کے سامنے نظریہ توحید پیش کیا اور بتایا کہ قوت حاکمہ ایک ہے جس کی اطاعت کی جاتی ہے ۔ اس نے صرف ایک رب کی بندگی کا نظریہ دیا تاکہ لوگ ایک دوسرے کی بندگی اور غلامی سے نجات پالیں ۔ نظریہ توحید کے ذریعے انسان کو متفرق الہوں کی بندگی سے نجات ملی اور انسانی ضمیر ادہام وخرامات کے ناقابل برداشت بوجھ سے نجات پا گیا ۔ انسانی فہم ودراک اور عقلمندی نے اپنا اصل مقام و مرتبہ پایا اور انسان کو مختلف اور متضاد مراسم عبودیت سے نجات ملی ۔ پھر انسان نے بت پرستی کے خلاف جہاد شروع کیا اور اس کی تمام شکلوں کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا ۔ اس کے بعد زندگی کے تمام نشیب و فراز میں اس کا پیچھا کیا ‘ دل کی گہرائیوں ‘ عبادت کے طریقوں ‘ زندگی کی رسومات اور نظام قانون اور نظام حکومت ہر جگہ سے بت پرستی کا قلع قمع کردیا گیا ۔ افکار جاہلیت میں سے یہ ایک ٹیڑھی فکر تھی ‘ جس کا قرآن کریم یہاں علاج کر رہا ہے تاکہ اسے سیدھا کر دے ‘ دیا جلا کر اس ٹیڑھی راہ کو روشن کر دے اور فکر ونظر کے اسلامی اصولوں کا دیا جلا دے ۔ اصول شریعت اور اصول نظام زندگی ۔ (آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ وَلَـکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَأَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ (103) ” اللہ نے نہ کوئی بحیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام ۔ مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں ۔ یہ جانوروں کی اقسام تھیں جنہیں وہ اپنے الہوں کے لئے چھوڑ دیتے تھے ۔ ان کی کچھ خاص شرائط ہوتی تھیں اور یہ شرائط انہوں نے فکر ونظر کی تاریخ کے تہ بہ تہ پردوں ادہام اور خرافات سے اخذ کی تھیں ۔ بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام کیا تھے ؟ اور ان کے بارے میں جو ادہام و خرافات عربوں میں رائج تھے ان کا مصدر اور منبع کیا تھا ؟ ان کی تعریف میں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات کا یہاں نقل کرنا مناسب ہوگا ۔ زہری نے سعید ابن مسیب سے یہ روایت کی ہے ۔ بحیرہ اونٹوں میں سے وہ قسم ہوتی ہے جس کا دودھ مالک خود استعمال نہیں کرتا تھا ۔ یہ صرف الہوں کے لئے ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ الہوں کا مال مذہبی پیشواؤں ہی کے لئے ہوتا ہوگا ۔ سائبہ وہ ہے جو وہ اپنے بتوں کی نذر کرتے تھے ۔ وصیلہ وہ ہوتی تھی جس کا پہلی بار کا بچہ مادہ ہو پھر دوبارہ بھی بچہ مادہ ہو یعنی دونوں کے درمیان اتصال ہوگیا ۔ یعنی درمیان میں نر پیدا نہ ہوا ۔ ایسی اونٹنی کو وہ بتوں کے نام پر ذبح کردیتے تھے اور حام اس اونٹ کو کہتے تھے کہ جس کی نسل سے کئی بچے پیدا ہوئے ہوں ۔ اس کی تعداد مقرر تھی جب وہ اس تعداد تک پہنچ جاتا تو اسے حام اس لئے کہتے تھے کہ اس نے اپنی پشت کو مزید استعمال سے بچا لیا ۔ اب اس پر سوار نہ ہوتے ۔ اہل لغت کہتے ہیں : بحیرہ وہ اونٹنی ہے جس کے کان پھاڑتے تھے ۔ وہ کہتے (بحرت اذن الناقہ بحرا) (میں نے اپنی اونٹنی کے کان پھاڑ دیئے) ایسی اونٹنی کو بحورہ بھی کہتے تھے اور بحیرہ بھی ۔ اور یہ کان آخری حصے تک پھاڑ دیئے جاتے تھے اور بحر کو بھی بحر اس لئے کہتے ہیں کہ یہ وسیع ہوتا ہے ۔ اہل جاہلیت کے نزدیک بحیرہ کا گوشت کھانا حرام ہوتا تھا اور اسے بحیرہ اس طرح قرار دیتے کہ جب وہ پانچویں بار بچہ دے اور وہ نر ہو ۔ اب وہ اس کے کان پھاڑ دیتے اس کا گوشت حرام قرار دے دیتے اور اس کی قربانی اور اس پر سواری ممنوع ہوتی ۔ کوئی شخص اسے اپنے پانی سے نہ روکتا اور کوئی شخص اسے اپنی چراگاہ سے بھی نہ روکتا ۔ سائبہ وہ اونٹنی ہوتی جسے پن کردیا جائے اور اسے مسیبہ بھی کہتے ہیں ۔ جاہلیت کے زمانے میں اگر کوئی نذر مانتا کہ وہ سفر سے خیرت سے لوٹا یا بیماری سے تندرست ہوا تو وہ یہ نذر دے گا ۔ تو وہ کہتا میری اونٹنی سائبہ ہوئی ‘ حرمت اور آزادانہ چرنے چگنے میں وہ بھی بحیرہ کی طرح ہوتی ۔ اور وصیلہ کے بارے میں بعض اہل لغت نے یہ لکھا ہے کہ اگر بکری کے دو بچے ہوں ایک نر ہو اور دوسرا مادہ ہو تو عرب کہتے ہیں کہ اس مادہ نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر ولادت کی تو وہ اس بکری کو ذبح نہ کرتے تھے ۔ بعض کہتے تھے کہ اگر بکری مادہ جنے تو یہ ان کی ہے ۔ اور اگر نہ جنے تو وہ اسے اپنے الہوں کے نام ذبح کردیتے تھے اور اگر نر اور مادہ دونوں یکجا پیدا ہوں تو کہتے کہ چونکہ یہ بھائی بہن اکٹھے ہوئے ہیں اس لئے وہ بکری کو ذبح نہ کرتے ۔ حام وہ اونٹ ہوتا جس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہوتے تو اس کے بارے میں وہ کہتے کہ اس نے اپنی پیٹھ کو بچا لیا ہے اس لئے وہ اس کو چراگاہ اور پانی سے نہ روکتے ۔ “ (دیکھئے احکام القرآن جصاص) ان جانوروں کی تعریف کے بارے میں اور بھی کئی روایات وراد ہیں اور ان کے پیچھے بس یہی تصور ہے جو اوپر ہم نے ذکر کیا ۔ ان جانوروں کے تقدس کے لئے ان اسباب سے کوئی ارفع اور معقول سبب کسی روایت میں نہیں آیا ہے ۔ جیسا کہ درج بالا اقتباس سے معلوم ہوگا یہ تمام اسباب بت پرستی اور جاہلیت کے ادہام اور اندھیروں کا نتیجہ تھے جب فیصلے ادہام اور تاریک خیالی کے زاویے سے ہوتے تو پھر وہم پرستی اور تاریک خیالی کی نہ کوئی حد رہتی ہے اور نہ کوئی اصول اور میعار رہتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں چند مذہبی رسومات پیدا ہوجاتی ہیں کبھی ان رسومات میں کمی آجاتی ہے اور کبھی اضافہ ہوجاتا ہے ۔ یہ اصول جاہلیت عربیہ کے اندر بھی رائج تھا اور یہی صورت ہر دور اور ہر جگہ واقعہ ہو سکتی ہے ۔ جب بھی توحید سے لوگ ہٹیں گے وہ ایسی ہی وہمیات کا شکار ہوں گے اس لئے کہ توحید ہی وہ نظریہ ہے جس میں نہ ٹیڑھ ہے اور نہ تاریکی ہے ۔ تمام جاہلی نظاموں میں رسوم وتوہمات کی ظاہری شکلیں تو مختلف ہوتی ہیں لیکن خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ بنیاد تاریک خیالی پر ہوتی ہے یعنی زندگی کے معاملات میں اللہ کے سوا کسی اور جگہ سے ہدایات لینا ۔ جاہلیت کسی مخصوص زمانے کا نام نہیں ہے بلکہ جاہلیت ایک صورت حال کا نام ہے جو بار بار رنگ بدل کر سامنے آتی رہتی ہے ۔ مختلف شکلوں میں آتی ہے ۔ مختلف ادوار میں آتی ہے ۔ اب صورت حال یا تو ایسی ہوگی کہ ایک اللہ حاکم ہوگا اور اس کے مقابلے میں تمام مخلوق اس کی غلام اور محکوم ہوگی ۔ ہر قسم کا اقتدار اللہ کے لئے ہوگا ‘ شعور وفکر اللہ سے لیا گیا ہوگا ‘ نیت اور عمل اللہ کے حوالے سے ہوگا ۔ نظم ونسق اور اجتماعی طور طریقے اللہ کی مرضی سے ہوں گے ۔ اقدار اور پیمانے اللہ کے تصور سے وضع ہوں گے ‘ قوانین اور ضوابط اللہ کے نافذ ہوں گے ۔ اور تمام تصورات فلسفے اور ہدایات اللہ ہی سے اخذ ہوں گے یا پھر جاہلیت ہوگی ‘ کسی بھی رنگ دھنگ میں ‘ اس میں بندہ بندے کا غلام ہوگا یا بندہ اللہ کے سوا کسی اور مخلوق کا غلام ہوگا ‘ اس جاہلیت کے نہ حدود ہوں گے اور نہ ضابطے ہوں گے اس لئے کہ کوئی انسان کوئی ایسا ضابطہ بنا ہی نہیں سکتا جسے الہی ضابطہ اور اصول کہا جاسکے اس لئے کہ عقل انسانی پر بیشمار چیزیں اثرات ڈال دیتی ہیں ہر دور میں جب انسان نے کوئی تصور اور کوئی نظم دینے کی کوشش کی ہے وہ بیشمار عوامل سے متاثر ہوا ہے اور وہ مختلف اطراف سے پریشر اور دباؤ کا مقابلہ نہیں کرسکا ‘ جب تک کہ وہ موزوں ترین ضابطے کے سامنے جھکا نہیں ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے اس بیان اور توضیح کو چودہ سو سال گزر گئے ہیں اور جب بھی عقل انسانی نے عقیدہ توحید سے روگردانی کی وہ پچیدہ راہوں میں گم ہوگیا اور بھول بھلیوں میں پھنس کر رہ گیا ۔ وہ مختلف متعدد اور متفرق ارباب کا معتقد ہوتا رہا ۔ اس نے اپنی آزادی ‘ اپنی شرافت اور اپنی قوت مقابلہ سے ہاتھ دھویا ۔ صرف اس زیر بحث مسئلہ تقدس حیوانات ہی کو اگر لیا جائے تو آج بھی مصر کے اندر دسیوں خرافات ملیں گے جن میں بعض حیوانات کو تقدس کے خیال سے چھوڑ دیا جاتا ہے اور یہ بعض اولیاء اور مقدس لوگوں کے نام پر ‘ بعینہ اسی طرح چھوڑ دیئے جاتے ہیں جس طرح قدیم زمانوں میں الہوں کے نام پر حیوانات چھوڑے جاتے تھے ۔ ان مراسم عبودیت اور جاہلیت کے مسئلے کا تعلق صرف ایک اصول کے ساتھ ہے اور یہ اصول نقطہ آغاز ہے ۔ اس نقطے سے دو راستے نکلتے ہیں یا تو اسلام کا راستہ ہوگا اور یا جاہلیت کا ، نقطہ یہ ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں حاکمیت کس کی چلے گی ؟ اسلامی شریعت کے مطابق حاکمیت اللہ کی ہوگی یا غیر اللہ کی حاکمیت ہوگی اور لوگ اپنے لئے احکام اور طریقے خود وضع کر رہے ہوں گے یا وہ مراسم عبودیت اور اقداروپیمانے خود متعین کریں گے ۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں پر الوہیت اللہ کی ہوگی یا اللہ کی مخلوق میں سے کسی اور کی ہوگی ۔ غیر اللہ میں سے جو بھی اللہ کی حاکمیت کا دعویدار بن جائے گا بس وہ الہ تصور ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کا غاز ہی اس مضمون سے ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مراسم کی اجازت نہیں دی ہے اگر اللہ نے بحیرہ ‘ سائبہ وصیلہ اور حام جیسے مراسم کی منظوری نہیں دی ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر کس نے یہ نام نہاد جانور حرام کئے ہیں ۔ (آیت) ” مَا جَعَلَ اللّہُ مِن بَحِیْرَۃٍ وَلاَ سَآئِبَۃٍ وَلاَ وَصِیْلَۃٍ وَلاَ حَامٍ ۔ (5 : 103) ” اللہ نے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام نامی جانوروں کو وہ حیثیت نہیں دی “۔ اور وہ لوگ جو اس شریعت اور قانون کی اطاعت کرتے ہیں وہ کفار ہیں ‘ یہ لوگ اس لئے کفار ہیں کہ یہ لوگ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ کبھی وہ خود اپنی طرف سے ایک بات بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی شریعت ہے اور کبھی وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے معاملات کے اندر اللہ کی شریعت کا دخل قبول نہیں کرتے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے نافرمان نہیں ہیں ۔ یہ سب کفر ہے ۔ (آیت) ” وَلَـکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَفْتَرُونَ عَلَی اللّہِ الْکَذِبَ وَأَکْثَرُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ (103) ” مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بےعقل ہیں “۔ مشرکین عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں اور یہ دین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ کی طرف سے نازل ہوا تھا ۔ یہ لوگ اللہ کی ذات کے منکر نہ تھے ‘ بلکہ وہ ذات باری کے وجود کا اعتراف کرتے تھے ۔ وہ اللہ کی قدرت کے بھی معترف تھے اور اس بات کا بھی اعتراف کرتے تھے کہ اللہ ہی متصرف فی الامور ہے ۔ لیکن ان اعتراضات کے باوجود وہ اپنے لئے قوانین خود بناتے تھے اور اس کے بعد وہ یہ یقین کرتے تھے کہ یہ قوانین اللہ کی جانب سے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کافر بن گئے اور یہ بات ان تمام لوگوں پر صادق آئے گی جو کسی بھی وقت جاہلیت میں زندگی بسر کرتے ہوں اور اپنے لئے قانون خود بناتے ہوں ۔ پھر وہ یہ گمان کرتے ہوں کہ یہ اللہ کی شریعت ہے۔ اللہ کی شریعت تو ہی ہے جو کتاب اللہ کے اندر موجود ہے ۔ جو اللہ نے اتاری اور نبی نے بیان کی ۔ وہ نہ مبہم ہے اور نہ پیچیدہ ہے ۔ اللہ کی شریعت اس بات کی متحمل نہیں ہے کہ اپنی جانب سے شریعت کے اوپر افتراء باندھے اور یہ زعم کرے کہ وہ شریعت ہے یا کتاب اللہ ہے جیسا کہ جاہلیت کے پیروکاروں کا وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ خود ایک شریعت بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ایسے دعوے کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو کفر کے ساتھ متصف کرتا ہے اور کافر کہنے کے بعد ایسے لوگوں کو اللہ بےعقل بھی کہتا ہے اس لئے کہ وہ عقلمند ہوتے تو اللہ پر افتراء نہ باندھتے ۔ اگر وہ عقلمند ہوتے تو یہ گمان نہ کرتے کہ ان کا یہ افتراء چل سکے گا ۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کے قول وفعل میں بھی تضاد ہے ۔ (آیت) ” وَإِذَا قِیْلَ لَہُمْ تَعَالَوْاْ إِلَی مَا أَنزَلَ اللّہُ وَإِلَی الرَّسُولِ قَالُواْ حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْْہِ آبَاء نَا أَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَلاَ یَہْتَدُونَ (104) ” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبر کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لئے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کئے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو ؟ “۔ اللہ تعالیٰ نے جو شریعت نازل کی ہے وہ واضح ہے ۔ وہ قرآن کریم اور سنت رسول کی شکل میں ریکارڈ ہے ۔ یہی وہ معیار ہے ‘ اور یہی وہ یونٹ ہے جس سے اسلام اور جاہلیت کے راستے جدا ہوتے ہیں ۔ ایک ہے ایمان کا راستہ اور دوسرا ہے کفر کا راستہ ۔ اس جہاں میں یا تو صورت حال یہ ہوگی کہ لوگوں کو ما انزل اللہ کی طرف ‘ دعوت دی جائے گی اور وہ اس پر لبیک کہیں گے اور اس صورت میں وہ مسلمان کہلائیں گے یا وہ اس دعوت کا انکار کریں گے ‘ اس صورت میں وہ کافر ہوں گے اور ان دو صورتوں کے درمیان کوئی تیسری صورت نہیں ہے ۔ یہ لوگ ایسے تھے کہ جب انہیں اللہ اور رسول اللہ کی طرف دعوت دی جائے تو یہ کہتے ہیں ہمارے لئے وہی راستہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ۔ یہ لوگ اس طرح بندوں کے وضع کردہ قوانین کی اطاعت کرنے لگے اور انہوں نے ان قوانین کو ترک کردیا جو بندوں کے رب نے وضع کئے تھے انہوں نے آزادی کے اس نعرے کو ترک کردیا ‘ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ انسانوں کی غلامی کو ترک کر دو اور عقل وضمیر کی پیروی اختیار کرو چاہے یہ عقل وضمیر ان کی اپنی ہو یا آباؤاجداد کی ہو۔ اس کے بعد قرآن مجید ان کے موقف پر تعجب اور تاسف کا اظہار کرتا ہے ۔ (آیت) ” أَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَلاَ یَہْتَدُونَ (104) ” اگرچہ ان کے آباؤ اجداد کسی چیز کو نہ سمجھتے ہوں اور نہ ہی راہ ہدایت پر ہوں “۔ اس استفہام کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ آباؤ اجداد کے اتباع سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ وہ عقلمند نہیں ہیں اور اگر عقلمند ہوں تو پھر آباؤ اجداد کی اطاعت جائز ہے اور اس صورت میں اللہ اور رسول اللہ کے احکام کو ترک کرنا جائز ہے ۔ یہ بات نہیں ہے بلکہ اس اظہار تعجب میں محض ان کی واقعی صورت حال کو بیان کرنا مطلوب ہے کہ اس سے قبل ان کے آباؤ اجداد نامعقول باتوں کو مانتے تھے ۔ اس لئے کہ ان کے آباء پھر اپنے آباء کو ماننے والے تھے اور ان آباء نے بھی خود اپنے لئے قواعد و ضوابط وضع کئے تھے اور شریعت الہی کے ہوتے ہوئے اگر کوئی شخص اپنے آباء اور اجداد کے رسم و رواج کا اتباع کرتا ہے تو وہ یقینا بےعقل ہے اور رہا ہدایت پر نہیں ہے ۔ چاہے وہ اپنے آپ اور اپنے قوانین کے بارے میں جو چاہے کہے ۔ جبکہ اللہ بہت ہی علیم وخبیر ہے اور سچا ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم بہرحال یہی ہے کہ یہ لوگ کچھ بھی نہیں جانتے اور یہ اللہ کی شہادت ہے ۔ جو شخص اللہ کی شریعت سے حکم عدولی کرتا ہے وہ جاہل بھی ہے اور گمراہ بھی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ پر افتراء باندھنے والا اور کافر بھی ہے ۔ اہل کفر کے اقوال وافعال کے بیان کے اختتام کے بعد اب روئے سخن ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے جو ایمان لائے ہیں ۔ یہاں اہل کفر سے ان کی مکمل علیحدگی کردی جاتی ہے اور ان کو ممیز کردیا جاتا ہے ۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے فرائض اور واجبات کیا ہیں اور یہ کہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ان کا موقف کیا ہے اور یہ کہ وہ اللہ کے سپرد ہیں اور ان کی زندگیاں اس فانی دنیا کے سپرد نہیں ہیں ۔ نہ ان کا مقصد ان دنیا کے مفادات کا حصول ہے ۔

المائدة 5:105

(آیت) ” نمبر : 105۔ یہ اہل ایمان اور ان کے مخالف کیمپ کے درمیان ایک مکمل جدائی ہے اور ان کے اپنے درمیان باہم کفالت اور ضمانت ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یہ کہ وہ ایک امت اور ایک جماعت ہیں ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ (5 : 105) ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ اپنی فکر کرو ‘ کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا “۔ تم ایک اکائی ہو اور تم دوسروں سے علیحدہ اور ممتاز ہو ۔ تم باہم متضامن اور متکافل ہو ‘ اس لئے تم اپنے محور کے گرد جمے رہو۔ اپنے آپ کو پاک رکھو۔ اپنا تزکیہ کرو ‘ اپنی جماعت اور اپنی جمعیت کی فکر کرو ‘ اگر تم راہ ہدایت پر جمے رہے تو کسی کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہ دے سکے گی ۔ اس لئے کہ تم ایک علیحدہ جمعیت ہو اور دوسروں سے الگ ہو ۔ تم ایک دوسرے کے دوست ہمدرد اور باہم کفیل ہو۔ تمہاری دوسری امتوں کے ساتھ دوستی نہیں ہے اور نہ ان کے ساتھ دلی ربط ہے ۔ یہ ایک آیت ہی واضح کردیتی ہے کہ اس امت اور دوسری امم کے باہم ربط وتعلق کے اصول کیا ہوں گے ؟ اور دوسری اقوام کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی ۔ امت مسلمہ اللہ کی پارٹی ہے اور امت کی علاوہ جو بھی امتیں ہیں وہ شیطان کی پارٹیاں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ اور دوسری امتوں کے درمیان دوستی اور باہم تضامن قائم نہیں ہو سکتا اس لئے امت مسلمہ اور دوسری امم کے درمیان کوئی نظریاتی اشتراک نہیں ہے ۔ نہ مقاصد کا اشتراک ہے اور نہ وسائل ومقاصد میں ان کے درمیان یگانگت ہے ۔ نہ ذمہ داریوں اور نہ انکی جزاء میں اتحاد ہے ۔ امت مسلمہ کا فرض یہ ہے کہ وہ باہم متضامن اور کفیل ہوں اور اس کے افراد ایک دورے کے ہمدرد اور مخلص ہوں ۔ وہ اللہ کی ہدایت پر چلتے رہیں اس لئے کہ اللہ ہی نے تو انہیں ایک علیحدہ امت قرار دیا ہے ۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو دنیا کی کوئی قوت انہیں نقصان نہ پہنچا سکے گی اگرچہ ان کے اردگرد تمام لوگ گمراہی کو اختیار کرلیں ۔ لیکن یہ اصول اس وقت تک چلتا رہے گا جب تک امت ہدایت پر ہو اور قائم ہو ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت مسلمہ فریضہ دعوت دین سے ہاتھ کھینچ لے ۔ اس کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو دین اور ہدایت کی طرف بلائے کیونکہ لوگوں کو راہ ہدایت کی طرف بلانا ہی ہمارا دین ہے ۔ یہی ہمارا نظام ہے ۔ جب امت اس کرہ ارض پر کہیں اپنا نظام قائم کرلے تو پھر اس کا فرض ہے کہ وہ تمام انسانوں کو اس دین کی طرف دعوت دے ۔ اور پھر انہیں ہدایت دینے کی سعی کرے ۔ یہ فرض اس پر بہرحال رہتا ہے کہ وہ انہیں عدل و انصاف کی راہ پر چلائے ۔ عدل کی نگرانی کرے اور انسانوں کو مزید گمراہی کے راستے پر چلنے سے بچائے ۔ انہیں اس جاہلیت میں داخل ہونے کی اجازت نہ دے جس سے اللہ نے انہیں نکالا ۔ یہ بات کہ امت اپنے نفس ہی کی ذمہ دار ہے اور اگر وہ ہدایت پر ہو تو دوسروں کی گمراہی سے اس کو کوئی نہ ہوگا ۔ اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ امر بالعروف اور نہی عن المنکر میں کوتاہی کرے تو اس سے کوئی محاسبہ نہ ہوگا اس پر یہ فرض ہے کہ پہلے امت کی صفوں کے اندر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرے اور اس کے بعد پورے کرہ ارض پر یہ فریضہ ادا کرے ۔ یہاں سب سے پہلا اور اہم معروف یہ ہے کہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے اور اللہ کی شریعت کو قانون تسلیم کیا جائے ۔ سب سے بڑا منکر جاہلیت اور اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی ہے ۔ جاہلیت کا حکم بھی طاغوت کا حکم ہے اور طاغوت کی حکومت ہونی ہی وہ ہے جس میں اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی ہو جبکہ امت مسلمہ پہلے خود اپنے اوپر قوام ہے اور پھر پوری انسانیت پر قوام ہے ۔ اس آیت کا مفہوم و مراد وہ نہیں ہے جس طرح بعض قدیم مفسرین نے سمجھا ہے اور جس طرح بعض جدید لوگ سمجھتے ہیں یعنی یہ کہ ایک فرد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مکلف نہیں ہے بشرطیکہ وہ خود درست طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہو ۔ نہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ امت مسلمہ بھی اس کرہ ارض پر اللہ کی شریعت کے قیام کی مکلف نہیں ہے ۔ بشرطیکہ وہ بذات خود راہ راست پر ہو اگرچہ اس کے اردگرد لوگ گمراہ ہوں ۔ یہ آیت نہ ایک مومن کو اور نہ پوری امت کو دنیا میں پائے جانے والی برائی کے مقابلے سے بری الذمہ قرار دیتی ہے ۔ ضلالت اور نافرمانی کا مقابلہ فرض ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہے کہ سب سے بڑی گمراہی یہ ہے کہ کوئی اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرے اور اللہ کا حق قانون سازی غصب کرے ۔ یہ ایک ایسا منکر ہے جس سے نہ کسی فرد کو فائدہ ہوتا ہے اور نہ امت کو اور جب تک یہ منکر قائم رہے کوئی امت فلاح نہیں پا سکتی ۔ اصحاب سنن نے یہ روایت کی ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ایک بار تقریر فرمائی اور کہا : ” لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو ۔ (آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّن ضَلَّ إِذَا اہْتَدَیْْتُمْ إِلَی اللّہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (105) اس آیت کا اطلاق تم ایسی صورت حال پر کرتے ہو جو اس کی مراد نہیں ہے میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ لوگ جب برائی کو دیکھیں اور اسے روکنے کی کوشش نہ کریں تو ممکن ہے کہ اللہ سب کو عذاب میں مبتلا کردے ۔ “ خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نہایت ہی وقت پر اس غلط فہمی کا ازالہ فرمایا ۔ یہ غلط فہمی ان کے دور میں بعض لوگوں کے ذہن میں پیدا ہوگئی تھی ۔ آج ہم تو اس نصیحت کے بہت ہی محتاج ہیں ۔ کیونکہ آج منکر کو دور کرنے کے فرائض بہت ہی مشکل ہوگئے ہیں اس لئے ہم جیسے ضعیف لوگ اس آیت کے اس مفہوم کی طرف بہت جلد مائل ہو سکتے ہیں ۔ اس طرح وہ جہاد کی مشقت اور مشکلات سے نجات پالیں گے اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کی مشکلات کو برداشت نہ کرنا پڑے گا ۔ ہر گز یہ مفہوم مراد نہیں ہو سکتا ‘ اس لئے کہ یہ فریضہ صرف جدوجہد اور جہاد ہی کے ذریعہ قائم ہو سکتا ہے اس لئے دین کے لئے کچھ ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو عوام کو اس دین کی طرف دعوت دیں ۔ لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکلا کر اللہ کی غلامی میں داخل کریں اور دنیا میں اللہ کی حاکمیت کو قائم کریں ۔ اللہ کا حق حاکمیت جن لوگوں نے چھین لیا ہے ‘ ان سے وہ حق چھین لیں ۔ لوگوں کی زندگیوں پر اللہ کی شریعت نافذ کریں اور انہیں شریعت پر استوار کریں ۔ اس مقصد کے لئے جدوجہد لازمی ہے تاکہ گمراہ افراد تک نیکی اور روشنی پہنچانے کی جدوجہد کی جائے ۔ اگر کوئی قوت لوگوں کو راہ ہدایت پر آنے سے روک رہی ہو تو اس کا مقابلہ قوت سے کیا جائے ۔ اس قوت کے اثرات کو ختم کیا جائے جو دین اسلام کو معطل رکھتی ہے اور اسلامی نظام اور اسلامی شریعت کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔ اسلام کی راہ میں آڑے آنے والی اس رکاوٹ کو دور کرنے کے بعد اہل ایمان کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے اور تب ہی گمراہ اپنی سزا خود بھگتیں گے جب وہ اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے ۔ (آیت) ”إِلَی اللّہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (105) اگر تم خود راہ راست پر ہو ‘ اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ‘ پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرے رہے ہو ۔ “ اب ان احکام شرعیہ میں سے آخری حکم بیان کیا جاتا ہے ‘ جو اس سورة میں ذکر ہیں اور اس حکم کا تعلق اسلامی معاشرے کے بعض اجتماعی امور سے ہے ۔ یہ حکم اس بارے میں ہے کہ اگر کوئی سفر میں وصیت کر رہا ہوں تو اس پر دو منصف اور عادل قسم کے گواہ ٹھہرائے ‘ ایسے حالات میں کہ جب وہ اپنے معاشرے اور خاندان سے دور ہو ۔ یہ گواہی اس لئے قائم کی جاتی ہے تاکہ حق حقدار تک پہنچ سکے ۔

المائدة 5:106

(آیت) ” 106 تا 108۔ ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔ اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر رہے تو ان گواہوں کو نماز کی ادائیگی کے بعد یا ان کے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کے بعد یہ حلف دیا جائے گا کہ وہ یہ شہادت اپنی یا کسی اور کے کسی مفاد کے لئے نہیں دے رہے اگرچہ کوئی رشتہ دار ہو اور یہ کہ انہوں نے کوئی امر مخفی نہیں رکھا ہے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو یقینا گناہگار ہوں گے ۔ اس قسم کے حلف کے بعد ان کی شہادت ثابت اور نافذ تصور ہوگی ۔ اب اس حلف کے بعد اگر یہ ثابت ہوجائے کہ انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور جھوٹی شہادت دی ہے اور امانت میں خیانت کی ہے تو وارثان میں سے دو افراد یہ حلف اٹھائیں گے کہ ان کی شہادت پہلے دو گواہوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے اور یہ کہ وہ یہ حلف اٹھا کر زیادتی نہیں کر رہے ہیں ۔ اس ثبوت اور حلف کے بعد پہلے دو گواہوں کی شہادت ختم تصور ہوگی اور ان دوسرے گواہوں کی شہادت نافذ ہوگی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان انتظامات کے ذریعے کسی امر کی اچھی طرح چھان بین ہو سکے گی اور لوگ شہادت دے سکیں گے اور نیز لوگوں کو یہ خوف نہ رہے گا کہ ان کی شہادت کے خلاف اور شہادت قائم ہوگی ۔ (آیت) ” ذَلِکَ أَدْنَی أَن یَأْتُواْ بِالشَّہَادَۃِ عَلَی وَجْہِہَا أَوْ یَخَافُواْ أَن تُرَدَّ أَیْْمَانٌ بَعْدَ أَیْْمَانِہِمْ ۔ (5 : 108) ” اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے ۔ “ آخر میں تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خدا ترسی کا رویہ اختیار کریں اور اس بات کا احساس کریں کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اس سے ڈریں اور اس کے حکام کی اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ اللہ ان لوگوں کو راست نہیں دکھاتا جو اس کے نافرمان ہیں اور نہ ان کی راہنمائی بھلائی کی طرف کرتا ہے ۔ (آیت) ” وَاتَّقُوا اللّہَ وَاسْمَعُواْ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ (108) ” اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ “ ان تین آیتوں کی شان نزول کے بارے میں امام قرطبی فرماتے ہیں : اس بارے میں کوئی اختلاف میرے علم کی حد تک نہیں ہے کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ بخاری اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کو آتے جاتے تھے ۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان جو بنی سہم قبیلے کا تھا سفر پر نکلا ۔ وہ ایسی سرزمین میں فوت ہوا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور انہوں نے اس کا ترکہ اس نوجوان کے وارثوں تک پہنچایا ۔ انہوں نے ایک چاندی کا جام روک لیا جسے سونے سے مزین کیا گیا تھا ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ نے قسم دی کہ نہ تو انہوں نے اسے چھپایا ہے اور نہ اس کو اس کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد یہ جام مکہ میں پایا گیا تو جن لوگوں سے ملا انہوں نے کہا ہم نے تمیم اور عدی سے خریدا ہے ۔ اب سہمی متوفی نوجوان کے وارث آئے ۔ انہوں نے یہ حلف اٹھایا کہ یہی جام سہمی کی ملکیت تھا ۔ اور یہ کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ معتبر ہے اور یہ کہ ہم کوئی زیادتی نہیں کر رہے ۔ اس کے بعد سہمیوں کو جام دے دیا گیا ۔ یہ آیات اسی بارے میں نازل ہوئیں ۔ (الفاظ دارقطنی کے ہیں) یہ بات ظاہر ہے کہ یہ آیات جس معاشرے کی اصلاح کے لئے نازل ہوئیں اس معاشرے کے حالات کی چھاپ ان تدابیر کے اندر موجود ہے اور ان انتظامات کی نوعیت بھی ایسی ہو سکتی ہے ۔ اس خاص انداز شہادت اور خاص طریقہ ثبوت پر لازما اس وقت کے معاشرتی حالات اثر انداز ہوئے ہیں ۔ خصوصا نماز کے بعد حلف دینا ۔ کیونکہ نماز کے بعد انسان کا دینی شعور اور وجدان تازہ ہوتا ہے ۔ انسان اس بات سے بھی ڈرتا ہے کہ وہ بعد نماز مجمع عام میں حالف لے رہا ہے اور اگر یہ بات جھوٹی نکل جائے تو اسے بہت ہی بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ ان انتظامات کے اندر عربوں کے معاشرتی حالات کی جھلک موجود ہے اور اس وقت ایسے ہی اقدامات کی ضرورت تھی ۔ آج کل کے جدید معاشروں میں اثبات کے جدید وسائل بھی موجود ہیں اور انتظامات ثبوت کی نئی شکلیں بھی موجود ہیں مثلا کتابت ‘ رجسٹری ‘ امانت اور لاکرز ۔ سوال یہ ہے کہ آیا آج کے جدید معاشروں میں یہ انتظامات قابل عمل نہیں رہے ؟ ہم بعض اوقات کسی متعین معاشرے کو ذہن میں رکھ کر بات کرتے ہیں اور یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ فلاں فلاں انتظامات اب اس دور جدید میں قابل عمل نہیں رہے ہیں اب ان کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ان معاشروں کے بقیہ آثار ہیں جن کا دور گزر گیا ہے کیونکہ دور جدید کے وسائل بہت ہی ترقی کر گئے ہیں ۔ اکثر لوگوں کو ایسا دھوکہ ہوتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ دین تمام انسانیت کے لئے آیا ہے ۔ ہر دور کے لئے آیا ہے اور آج کے اس جدید دور میں بھی انسانیت کی ایک بڑی تعداد اور آبادی بالکل ابتدائی اور پسماندہ حالت میں ہے ۔ وہ پسماندگی میں کانوں تک ڈوبی ہوئی ہے ۔ انسانیت کے اس بڑے حصے کو ایسے انتظامات بھی موجود ہیں جو ایسی پسماندہ سوسائٹیوں کے اندر بھی چل سکتے ہیں ۔ اور جوں جوں یہ سوسائٹیاں ترقی کرتی جاتی ہیں ‘ اسلام ان کی ترقی یافتہ ضروریات پوری کرتا ہے ۔ اسلامی شریعت کے اندر امانت اور ثبوت کے لئے ضوابط موجود ہیں اور اسلامی شریعت پھر ان کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے ۔ یہ اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کا ایک معجزانہ کمال ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے یہ شریعت من جانب اللہ ہے اور اسے اللہ جل شانہ ‘ نے انسانیت کے لئے نازل فرمایا ہے ۔ نیز ہم اس بات کے سمجھنے میں بھی دھوکہ کھاتے ہیں کہ ہر ترقی پذیر معاشرے کی ضروریات اسلامی نظام میں پوری ہوتی ہیں ۔ اسلامی نظام حیات ہر معاشرے کے لئے اس کے حسب حالات انتظامات کرتا ہے جس میں جامعیت بھی ہوتی ہے اور لوگوں کے لئے یسر اور سہولت بھی ہوتی ہے ۔ اس طرح یہ دین ہر معاشرے کے حالت کے مطابق وسائل اور طریقے اختیار کرتا ہے ۔ پسماندگی میں بھی اور ترقی یافتہ صحراء اور جنگل میں بھی ‘ اس لئے کہ یہ دین تمام انسانوں کا دین ہے ۔ یہ ہر علاقے اور ہر زمانے کا دین ہے اور یہ بات بھی اس دین کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے ۔ اور ہماری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم انسان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم رب الناس کے مقابلے میں بھی لوگوں کے مفادات کو زیادہ سمجھتے ہیں اور جب ہم عملی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو ہمیں سخت شرمندگی ہوتی ہے ۔ لیکن واقعات و حوادث سے دو چار ہونے سے پہلے ہی ہمارے لئے یہ سمجھنا اچھا نہیں ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انسانوں کے خالق کا احترام کریں اور بارگاہ الہ میں ایک بندے اور ایک غلام کی طرح بات کریں ۔ کاش کہ ہم نصیحت حاصل کریں ۔ کاش کہ ہم اپنی کوتاہ دامنی کا اعتراف کریں۔ درس نمبر 54 ایک نظر میں : یہ سبق اگرچہ نسبتا طویل ہے لیکن اس کا تعلق بھی نظریاتی اصلاح کے مضمون کے ساتھ ہے ۔ نصاری کے عقائد میں جو انحرافات پیدا ہوگئے تھے ان کی اصلاح مقصود ہے ۔ یہ انحرافات اس قدر دور رس تھے کہ ان کی وجہ سے نصاری اپنے بنیادی نظریات میں سماوی دین کے اصولوں سے منحرف ہوگئے تھے ۔ اور وہ اس عقیدہ توحید ہی سے نکل گئے تھے جس کی تعلیم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور ان سے پہلے آنے والے رسولوں نے دی تھی ۔ انہوں نے شرک کے وہ رنگ ڈھنگ اختیار کر لئے تھے جن کا کوئی تعلق دین اسلام سے نہ تھا ۔ چناچہ اس سبق کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کے دین میں اللہ کی الوہیت اور بندوں کی عبودیت کا صحیح مفہوم بٹھایا جائے یہ اصلاح اس طرح کی جاتی ہے کہ ایک عظیم جلسے میں جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تمام رسول اور تمام انسان موجود ہیں ‘ اس میں خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اعلان کرتے ہیں کہ میں نے ہر گز یہ تعلیم نہ دی تھی کہ لوگ مجھے میری والدہ اور دوسرے لوگوں کو الہ تسلیم کریں اور یہ کہ عیسائیوں کے مزعومات میں سے کسی بات کی تعلیم انہوں نے نہیں دی ہے ۔ قرآن کریم اس منظر کی خوب تصویر کشی کرتا ہے ‘ ان مناظر قیامت میں سے ایک ہے جسے قرآن کریم زندہ وتابندہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ یہ نہایت ہی موثر چلتا پھرتا منظر ہے ۔ ‘ دلوں کی گہرائیوں تک اتر جانے والا ‘ جس کے اثرات کا عالم یہ ہے کہ انسان کا وجود کانپ اٹھتا ہے ۔ انسان اس طرح متحرک ہے ذرا قرآن کے الفاظ میں غور کیجئے ۔ (آیت) ” یَوْمَ یَجْمَعُ اللّہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (109) ” جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں ‘ آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ “ اللہ تعالیٰ ان تمام رسولوں کو جمع کرے گا جو مختلف زمانوں میں مبعوث ہوئے تھے ، یکے بعد دیگرے آئے تھے ‘ یا ایک ہی دور میں تھے مگر ان کا دائرہ کا علیحدہ تھا ۔ ہر ایک اپنے زون میں کام کر رہا تھا ۔ یا ہر شخص کسی قوم کے لئے مبعوث ہوا تھا اور اپنی قوم ہی میں کام کر رہا تھا ۔ ان سب کی دعوت ایک ہی تھی ‘ اگرچہ زمان ‘ مکان اور اقوام علیحدہ تھیں ۔ یہاں تک کہ خاتم النبین ﷺ آگئے ۔ انہوں نے تمام جہانوں کے لئے مکمل آخری دعوت دے دی جو ہر مکان ‘ ہر زمان اور ہر قوم اور ملت کے لئے ہے ‘ ہر رنگ ونسل کے لئے ہے ۔ یہ سب رسول ‘ جو مختلف اقوام وملل میں مبعوث ہوئے مختلف زمانوں میں آئے ‘ اب ان کا بھیجنے والا انہیں ایک ہی جگہ جمع کرکے ان تمام سے ایک ہی سوال کر رہا ہے ۔ یہ سب لوگ دنیا میں انسانیت کے نمائندے ہیں اور ہر ایک کو ایک زون کی رسالت دی گئی ہے ۔ مختلف ادوار اور مقامات کے لئے ۔ اب یہ نمائندے سب کے سب رب البشریت کے سامنے حاضر ہیں اور ایک عظیم اجتماع کا عظیم منظر ہے ۔ اور یہ منظر زندگی کے ساتھ ہر سو حرکت کرتا نظر آتا ہے ۔ (آیت) ” یَوْمَ یَجْمَعُ اللّہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ ۔ (5 : 109) ” جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ۔ “ سوال یہ تھا ماذا اجبتم (تمہیں کیا جواب دیا گیا) یہ رسول انسان اور بشر تھے ۔ ان کا علم حضوری تھا ۔ اور وہ پوشیدہ چیزوں کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے ۔ انہوں نے اپنی اقوام کو راہ ہدایت کی طرف بلایا ۔ ان میں سے جس نے دعوت کو قبول کیا ۔ جس نے منہ پھیرا ‘ پھیرلیا ۔ اگرچہ رسول منکرین کے جواب کے بارے میں جانتے تھے کہ انہوں نے انکار کیا ہے لیکن ماننے والوں کی حقیقت سے باخبر نہ تھے کہ انہوں نے دل سے مانا ہے یا نہیں ۔ وہ تو صرف ظاہری بات پہ حکم لگا سکتے ہیں ۔ رہی پوشیدہ بات تو اس کا علم انہیں نہیں ہے اور اب وہ جناب باری میں حاضر ہیں اور وہ سب جاننے والوں سے زیادہ جاننے والا ہے اور وہ اللہ سے اس قدر ڈرتے ہیں جس قدر کوئی کسی سے ڈر سکتا ہے ۔ نیز یہ رسل باری تعالیٰ کی معرفت میں بھی بہت ہی اونچا مقام رکھتے ہیں اور وہ اس بات سے حیا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر اپنے علم کا اظہار کریں جو علم وخبیر ہے ۔ یہ ایک عظیم اجتماع میں ایک عظیم مسئولیت کا دن ہے ۔ عالم بالا کے دربار میں ‘ سب لوگوں کے سامنے کھلے دربار میں اور یہ ایک ایسی جواب طلبی ہے جس کا مقصد یہ بھی ہے کہ سب کے سامنے جواب طلب کیا جائے اور ان لوگوں کے سامنے یہ سوال و جواب ہو جو دنیا میں رسولوں کی تکذیب کرتے تھے تاکہ علی الاعلان یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ رسول از خود نہ آئے تھے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اللہ کا دین لے کر آئے تھے ۔ یہ دکھانا بھی مطلوب تھا کہ یہ کام وہ ذمہ داری سے کرتے رہے تھے محض شوق کے طور پر نہ کرتے تھے ۔ اب دیکھئے وہ اپنی مسئولیت کے مطابق جواب دے رہے ہیں ۔ اپنی ڈیوٹی ‘ فریضہ رسالت ‘ اپنی قوم کی بابت جواب دے رہے تھے جنہوں نے ان کی تکذیب کی تھی ۔ رہے رسول تو وہ اعلان کر رہے ہیں کہ سچا علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔ اس لئے ان کے پاس جو تھوڑی سی معلومات ہیں ان کا اظہار وہ علام الغیوب خدا کے سامنے نہیں کرنا چاہتے یہ عدم واقفیت کا اظہار وہ محض ادب اور حیاء کی وجہ سے کر رہے ہیں اور اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔ (آیت) ” قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (109) ” تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ “ رہے تمام دوسرے رسول ‘ جن کو بعض لوگوں نے مانا اور بعض نے ان کی تکذیب کی ‘ ان کی جانب سے سوال کا اصولی جواب ہی قبول کرلیا گیا ۔ انہوں نے کہہ دیا کہ صحیح علم تو اللہ کے پاس ہے جو علام الغیوب ہے ۔ انہوں نے اپنا اور اپنی قوم کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ۔ اس منظر میں ان رسولوں سے مزید کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا ۔ مزید ضمنی سوال صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہوتا ہے ۔ ان سے یہ مزید سوال اس لئے کیا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں ‘ ان کے بعد ان کی قوم سخت فتنے میں پڑگئی ، ان کے بارے میں فضا کے اندر پیچیدگی پیدا ہوئی اور ان کی ذات کے بارے میں لوگ ادہام اور خرافات کا شکار ہوگئے ، ان کی ذات ‘ ان کی صفات ‘ ان کی ولادت اور ان کی پرورش کے بارے میں ان کی قوم نے عجیب و غریب نظریات گھڑ لیے ۔ اب ان سے ان لوگوں کے سامنے پوچھا جاتا ہے ‘ جو انہیں الہ سمجھتے تھے ۔ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کی ذات اور ان کی والدہ کے اردگرد انہوں نے غلط افکار کے ہالے قائم کئے تھے ، ان کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ دیکھو تم پر اور تمہاری والدہ پر میں نے کس قدر انعامات اور اکرامات کئے ۔ یہ کہ تمہیں بہت سے معجزات عطا کئے کہ لوگ تم پر ایمان لے آئیں ۔ بعض لوگوں نے ان کی سخت تکذیب کی ۔ بعض لوگ ان آیات ومعجزات کو دیکھ کر سخت فتنے میں پڑگئے اور انہیں الہ بنا دیا ۔ حالانکہ یہ آیات ومعجزات تو اللہ کے عطا کردہ تھے اور جن باتوں کا ظہور ان کے ہاتھوں ہوا تھا وہ اللہ کی تائید ونصرت سے ہوا تھا ۔

المائدة 5:107

(آیت) ” 106 تا 108۔ ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔ اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر رہے تو ان گواہوں کو نماز کی ادائیگی کے بعد یا ان کے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کے بعد یہ حلف دیا جائے گا کہ وہ یہ شہادت اپنی یا کسی اور کے کسی مفاد کے لئے نہیں دے رہے اگرچہ کوئی رشتہ دار ہو اور یہ کہ انہوں نے کوئی امر مخفی نہیں رکھا ہے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو یقینا گناہگار ہوں گے ۔ اس قسم کے حلف کے بعد ان کی شہادت ثابت اور نافذ تصور ہوگی ۔ اب اس حلف کے بعد اگر یہ ثابت ہوجائے کہ انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور جھوٹی شہادت دی ہے اور امانت میں خیانت کی ہے تو وارثان میں سے دو افراد یہ حلف اٹھائیں گے کہ ان کی شہادت پہلے دو گواہوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے اور یہ کہ وہ یہ حلف اٹھا کر زیادتی نہیں کر رہے ہیں ۔ اس ثبوت اور حلف کے بعد پہلے دو گواہوں کی شہادت ختم تصور ہوگی اور ان دوسرے گواہوں کی شہادت نافذ ہوگی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان انتظامات کے ذریعے کسی امر کی اچھی طرح چھان بین ہو سکے گی اور لوگ شہادت دے سکیں گے اور نیز لوگوں کو یہ خوف نہ رہے گا کہ ان کی شہادت کے خلاف اور شہادت قائم ہوگی ۔ (آیت) ” ذَلِکَ أَدْنَی أَن یَأْتُواْ بِالشَّہَادَۃِ عَلَی وَجْہِہَا أَوْ یَخَافُواْ أَن تُرَدَّ أَیْْمَانٌ بَعْدَ أَیْْمَانِہِمْ ۔ (5 : 108) ” اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے ۔ “ آخر میں تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خدا ترسی کا رویہ اختیار کریں اور اس بات کا احساس کریں کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اس سے ڈریں اور اس کے حکام کی اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ اللہ ان لوگوں کو راست نہیں دکھاتا جو اس کے نافرمان ہیں اور نہ ان کی راہنمائی بھلائی کی طرف کرتا ہے ۔ (آیت) ” وَاتَّقُوا اللّہَ وَاسْمَعُواْ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ (108) ” اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ “ ان تین آیتوں کی شان نزول کے بارے میں امام قرطبی فرماتے ہیں : اس بارے میں کوئی اختلاف میرے علم کی حد تک نہیں ہے کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ بخاری اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کو آتے جاتے تھے ۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان جو بنی سہم قبیلے کا تھا سفر پر نکلا ۔ وہ ایسی سرزمین میں فوت ہوا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور انہوں نے اس کا ترکہ اس نوجوان کے وارثوں تک پہنچایا ۔ انہوں نے ایک چاندی کا جام روک لیا جسے سونے سے مزین کیا گیا تھا ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ نے قسم دی کہ نہ تو انہوں نے اسے چھپایا ہے اور نہ اس کو اس کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد یہ جام مکہ میں پایا گیا تو جن لوگوں سے ملا انہوں نے کہا ہم نے تمیم اور عدی سے خریدا ہے ۔ اب سہمی متوفی نوجوان کے وارث آئے ۔ انہوں نے یہ حلف اٹھایا کہ یہی جام سہمی کی ملکیت تھا ۔ اور یہ کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ معتبر ہے اور یہ کہ ہم کوئی زیادتی نہیں کر رہے ۔ اس کے بعد سہمیوں کو جام دے دیا گیا ۔ یہ آیات اسی بارے میں نازل ہوئیں ۔ (الفاظ دارقطنی کے ہیں) یہ بات ظاہر ہے کہ یہ آیات جس معاشرے کی اصلاح کے لئے نازل ہوئیں اس معاشرے کے حالات کی چھاپ ان تدابیر کے اندر موجود ہے اور ان انتظامات کی نوعیت بھی ایسی ہو سکتی ہے ۔ اس خاص انداز شہادت اور خاص طریقہ ثبوت پر لازما اس وقت کے معاشرتی حالات اثر انداز ہوئے ہیں ۔ خصوصا نماز کے بعد حلف دینا ۔ کیونکہ نماز کے بعد انسان کا دینی شعور اور وجدان تازہ ہوتا ہے ۔ انسان اس بات سے بھی ڈرتا ہے کہ وہ بعد نماز مجمع عام میں حالف لے رہا ہے اور اگر یہ بات جھوٹی نکل جائے تو اسے بہت ہی بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ ان انتظامات کے اندر عربوں کے معاشرتی حالات کی جھلک موجود ہے اور اس وقت ایسے ہی اقدامات کی ضرورت تھی ۔ آج کل کے جدید معاشروں میں اثبات کے جدید وسائل بھی موجود ہیں اور انتظامات ثبوت کی نئی شکلیں بھی موجود ہیں مثلا کتابت ‘ رجسٹری ‘ امانت اور لاکرز ۔ سوال یہ ہے کہ آیا آج کے جدید معاشروں میں یہ انتظامات قابل عمل نہیں رہے ؟ ہم بعض اوقات کسی متعین معاشرے کو ذہن میں رکھ کر بات کرتے ہیں اور یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ فلاں فلاں انتظامات اب اس دور جدید میں قابل عمل نہیں رہے ہیں اب ان کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ان معاشروں کے بقیہ آثار ہیں جن کا دور گزر گیا ہے کیونکہ دور جدید کے وسائل بہت ہی ترقی کر گئے ہیں ۔ اکثر لوگوں کو ایسا دھوکہ ہوتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ دین تمام انسانیت کے لئے آیا ہے ۔ ہر دور کے لئے آیا ہے اور آج کے اس جدید دور میں بھی انسانیت کی ایک بڑی تعداد اور آبادی بالکل ابتدائی اور پسماندہ حالت میں ہے ۔ وہ پسماندگی میں کانوں تک ڈوبی ہوئی ہے ۔ انسانیت کے اس بڑے حصے کو ایسے انتظامات بھی موجود ہیں جو ایسی پسماندہ سوسائٹیوں کے اندر بھی چل سکتے ہیں ۔ اور جوں جوں یہ سوسائٹیاں ترقی کرتی جاتی ہیں ‘ اسلام ان کی ترقی یافتہ ضروریات پوری کرتا ہے ۔ اسلامی شریعت کے اندر امانت اور ثبوت کے لئے ضوابط موجود ہیں اور اسلامی شریعت پھر ان کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے ۔ یہ اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کا ایک معجزانہ کمال ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے یہ شریعت من جانب اللہ ہے اور اسے اللہ جل شانہ ‘ نے انسانیت کے لئے نازل فرمایا ہے ۔ نیز ہم اس بات کے سمجھنے میں بھی دھوکہ کھاتے ہیں کہ ہر ترقی پذیر معاشرے کی ضروریات اسلامی نظام میں پوری ہوتی ہیں ۔ اسلامی نظام حیات ہر معاشرے کے لئے اس کے حسب حالات انتظامات کرتا ہے جس میں جامعیت بھی ہوتی ہے اور لوگوں کے لئے یسر اور سہولت بھی ہوتی ہے ۔ اس طرح یہ دین ہر معاشرے کے حالت کے مطابق وسائل اور طریقے اختیار کرتا ہے ۔ پسماندگی میں بھی اور ترقی یافتہ صحراء اور جنگل میں بھی ‘ اس لئے کہ یہ دین تمام انسانوں کا دین ہے ۔ یہ ہر علاقے اور ہر زمانے کا دین ہے اور یہ بات بھی اس دین کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے ۔ اور ہماری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم انسان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم رب الناس کے مقابلے میں بھی لوگوں کے مفادات کو زیادہ سمجھتے ہیں اور جب ہم عملی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو ہمیں سخت شرمندگی ہوتی ہے ۔ لیکن واقعات و حوادث سے دو چار ہونے سے پہلے ہی ہمارے لئے یہ سمجھنا اچھا نہیں ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انسانوں کے خالق کا احترام کریں اور بارگاہ الہ میں ایک بندے اور ایک غلام کی طرح بات کریں ۔ کاش کہ ہم نصیحت حاصل کریں ۔ کاش کہ ہم اپنی کوتاہ دامنی کا اعتراف کریں۔ درس نمبر 54 ایک نظر میں : یہ سبق اگرچہ نسبتا طویل ہے لیکن اس کا تعلق بھی نظریاتی اصلاح کے مضمون کے ساتھ ہے ۔ نصاری کے عقائد میں جو انحرافات پیدا ہوگئے تھے ان کی اصلاح مقصود ہے ۔ یہ انحرافات اس قدر دور رس تھے کہ ان کی وجہ سے نصاری اپنے بنیادی نظریات میں سماوی دین کے اصولوں سے منحرف ہوگئے تھے ۔ اور وہ اس عقیدہ توحید ہی سے نکل گئے تھے جس کی تعلیم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور ان سے پہلے آنے والے رسولوں نے دی تھی ۔ انہوں نے شرک کے وہ رنگ ڈھنگ اختیار کر لئے تھے جن کا کوئی تعلق دین اسلام سے نہ تھا ۔ چناچہ اس سبق کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کے دین میں اللہ کی الوہیت اور بندوں کی عبودیت کا صحیح مفہوم بٹھایا جائے یہ اصلاح اس طرح کی جاتی ہے کہ ایک عظیم جلسے میں جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تمام رسول اور تمام انسان موجود ہیں ‘ اس میں خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اعلان کرتے ہیں کہ میں نے ہر گز یہ تعلیم نہ دی تھی کہ لوگ مجھے میری والدہ اور دوسرے لوگوں کو الہ تسلیم کریں اور یہ کہ عیسائیوں کے مزعومات میں سے کسی بات کی تعلیم انہوں نے نہیں دی ہے ۔ قرآن کریم اس منظر کی خوب تصویر کشی کرتا ہے ‘ ان مناظر قیامت میں سے ایک ہے جسے قرآن کریم زندہ وتابندہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ یہ نہایت ہی موثر چلتا پھرتا منظر ہے ۔ ‘ دلوں کی گہرائیوں تک اتر جانے والا ‘ جس کے اثرات کا عالم یہ ہے کہ انسان کا وجود کانپ اٹھتا ہے ۔ انسان اس طرح متحرک ہے ذرا قرآن کے الفاظ میں غور کیجئے ۔ (آیت) ” یَوْمَ یَجْمَعُ اللّہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (109) ” جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں ‘ آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ “ اللہ تعالیٰ ان تمام رسولوں کو جمع کرے گا جو مختلف زمانوں میں مبعوث ہوئے تھے ، یکے بعد دیگرے آئے تھے ‘ یا ایک ہی دور میں تھے مگر ان کا دائرہ کا علیحدہ تھا ۔ ہر ایک اپنے زون میں کام کر رہا تھا ۔ یا ہر شخص کسی قوم کے لئے مبعوث ہوا تھا اور اپنی قوم ہی میں کام کر رہا تھا ۔ ان سب کی دعوت ایک ہی تھی ‘ اگرچہ زمان ‘ مکان اور اقوام علیحدہ تھیں ۔ یہاں تک کہ خاتم النبین ﷺ آگئے ۔ انہوں نے تمام جہانوں کے لئے مکمل آخری دعوت دے دی جو ہر مکان ‘ ہر زمان اور ہر قوم اور ملت کے لئے ہے ‘ ہر رنگ ونسل کے لئے ہے ۔ یہ سب رسول ‘ جو مختلف اقوام وملل میں مبعوث ہوئے مختلف زمانوں میں آئے ‘ اب ان کا بھیجنے والا انہیں ایک ہی جگہ جمع کرکے ان تمام سے ایک ہی سوال کر رہا ہے ۔ یہ سب لوگ دنیا میں انسانیت کے نمائندے ہیں اور ہر ایک کو ایک زون کی رسالت دی گئی ہے ۔ مختلف ادوار اور مقامات کے لئے ۔ اب یہ نمائندے سب کے سب رب البشریت کے سامنے حاضر ہیں اور ایک عظیم اجتماع کا عظیم منظر ہے ۔ اور یہ منظر زندگی کے ساتھ ہر سو حرکت کرتا نظر آتا ہے ۔ (آیت) ” یَوْمَ یَجْمَعُ اللّہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ ۔ (5 : 109) ” جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ۔ “ سوال یہ تھا ماذا اجبتم (تمہیں کیا جواب دیا گیا) یہ رسول انسان اور بشر تھے ۔ ان کا علم حضوری تھا ۔ اور وہ پوشیدہ چیزوں کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے ۔ انہوں نے اپنی اقوام کو راہ ہدایت کی طرف بلایا ۔ ان میں سے جس نے دعوت کو قبول کیا ۔ جس نے منہ پھیرا ‘ پھیرلیا ۔ اگرچہ رسول منکرین کے جواب کے بارے میں جانتے تھے کہ انہوں نے انکار کیا ہے لیکن ماننے والوں کی حقیقت سے باخبر نہ تھے کہ انہوں نے دل سے مانا ہے یا نہیں ۔ وہ تو صرف ظاہری بات پہ حکم لگا سکتے ہیں ۔ رہی پوشیدہ بات تو اس کا علم انہیں نہیں ہے اور اب وہ جناب باری میں حاضر ہیں اور وہ سب جاننے والوں سے زیادہ جاننے والا ہے اور وہ اللہ سے اس قدر ڈرتے ہیں جس قدر کوئی کسی سے ڈر سکتا ہے ۔ نیز یہ رسل باری تعالیٰ کی معرفت میں بھی بہت ہی اونچا مقام رکھتے ہیں اور وہ اس بات سے حیا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر اپنے علم کا اظہار کریں جو علم وخبیر ہے ۔ یہ ایک عظیم اجتماع میں ایک عظیم مسئولیت کا دن ہے ۔ عالم بالا کے دربار میں ‘ سب لوگوں کے سامنے کھلے دربار میں اور یہ ایک ایسی جواب طلبی ہے جس کا مقصد یہ بھی ہے کہ سب کے سامنے جواب طلب کیا جائے اور ان لوگوں کے سامنے یہ سوال و جواب ہو جو دنیا میں رسولوں کی تکذیب کرتے تھے تاکہ علی الاعلان یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ رسول از خود نہ آئے تھے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اللہ کا دین لے کر آئے تھے ۔ یہ دکھانا بھی مطلوب تھا کہ یہ کام وہ ذمہ داری سے کرتے رہے تھے محض شوق کے طور پر نہ کرتے تھے ۔ اب دیکھئے وہ اپنی مسئولیت کے مطابق جواب دے رہے ہیں ۔ اپنی ڈیوٹی ‘ فریضہ رسالت ‘ اپنی قوم کی بابت جواب دے رہے تھے جنہوں نے ان کی تکذیب کی تھی ۔ رہے رسول تو وہ اعلان کر رہے ہیں کہ سچا علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔ اس لئے ان کے پاس جو تھوڑی سی معلومات ہیں ان کا اظہار وہ علام الغیوب خدا کے سامنے نہیں کرنا چاہتے یہ عدم واقفیت کا اظہار وہ محض ادب اور حیاء کی وجہ سے کر رہے ہیں اور اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔ (آیت) ” قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (109) ” تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ “ رہے تمام دوسرے رسول ‘ جن کو بعض لوگوں نے مانا اور بعض نے ان کی تکذیب کی ‘ ان کی جانب سے سوال کا اصولی جواب ہی قبول کرلیا گیا ۔ انہوں نے کہہ دیا کہ صحیح علم تو اللہ کے پاس ہے جو علام الغیوب ہے ۔ انہوں نے اپنا اور اپنی قوم کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ۔ اس منظر میں ان رسولوں سے مزید کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا ۔ مزید ضمنی سوال صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہوتا ہے ۔ ان سے یہ مزید سوال اس لئے کیا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں ‘ ان کے بعد ان کی قوم سخت فتنے میں پڑگئی ، ان کے بارے میں فضا کے اندر پیچیدگی پیدا ہوئی اور ان کی ذات کے بارے میں لوگ ادہام اور خرافات کا شکار ہوگئے ، ان کی ذات ‘ ان کی صفات ‘ ان کی ولادت اور ان کی پرورش کے بارے میں ان کی قوم نے عجیب و غریب نظریات گھڑ لیے ۔ اب ان سے ان لوگوں کے سامنے پوچھا جاتا ہے ‘ جو انہیں الہ سمجھتے تھے ۔ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کی ذات اور ان کی والدہ کے اردگرد انہوں نے غلط افکار کے ہالے قائم کئے تھے ، ان کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ دیکھو تم پر اور تمہاری والدہ پر میں نے کس قدر انعامات اور اکرامات کئے ۔ یہ کہ تمہیں بہت سے معجزات عطا کئے کہ لوگ تم پر ایمان لے آئیں ۔ بعض لوگوں نے ان کی سخت تکذیب کی ۔ بعض لوگ ان آیات ومعجزات کو دیکھ کر سخت فتنے میں پڑگئے اور انہیں الہ بنا دیا ۔ حالانکہ یہ آیات ومعجزات تو اللہ کے عطا کردہ تھے اور جن باتوں کا ظہور ان کے ہاتھوں ہوا تھا وہ اللہ کی تائید ونصرت سے ہوا تھا ۔

المائدة 5:108

(آیت) ” 106 تا 108۔ ان تین آیات میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص یہ محسوس کرے کہ اس کی موت قریب ہے اور وہ اپنے اہل و عیال کے نام وصیت لکھنا چاہے تو اس کا فرض ہے کہ وہ دو عادل گواہ اہل اسلام میں سے بلائے ۔ اگر وہ مقیم ہو اور ان کو وہ وصیت دے دے تو جو وہ اس کے ورثاء کے سامنے رکھیں گے اور اگر یہ سفر میں ہو اسے مسلمان گواہ نہ مل رہے ہوں تو پھر یہ بات جائز ہے کہ وہ غیر مسلم دو افراد کو شاہد مقرر کرے ۔ اگر اہل اسلام یا اہل میت ان دو افراد کی شہادت بابت وصیت میں شک کریں کہ انہوں نے وصیت کے بارے میں جو شہادت دی ہے وہ درست نہیں ہے ‘ اور وہ جس چیز پر مامور کئے گئے تھے وہ ٹھیک طور پر ادا نہیں کر رہے تو ان گواہوں کو نماز کی ادائیگی کے بعد یا ان کے مذہب کے مطابق عبادت کرنے کے بعد یہ حلف دیا جائے گا کہ وہ یہ شہادت اپنی یا کسی اور کے کسی مفاد کے لئے نہیں دے رہے اگرچہ کوئی رشتہ دار ہو اور یہ کہ انہوں نے کوئی امر مخفی نہیں رکھا ہے اور اگر وہ ایسا کریں گے تو یقینا گناہگار ہوں گے ۔ اس قسم کے حلف کے بعد ان کی شہادت ثابت اور نافذ تصور ہوگی ۔ اب اس حلف کے بعد اگر یہ ثابت ہوجائے کہ انہوں نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے اور جھوٹی شہادت دی ہے اور امانت میں خیانت کی ہے تو وارثان میں سے دو افراد یہ حلف اٹھائیں گے کہ ان کی شہادت پہلے دو گواہوں کی شہادت سے زیادہ سچی ہے اور یہ کہ وہ یہ حلف اٹھا کر زیادتی نہیں کر رہے ہیں ۔ اس ثبوت اور حلف کے بعد پہلے دو گواہوں کی شہادت ختم تصور ہوگی اور ان دوسرے گواہوں کی شہادت نافذ ہوگی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان انتظامات کے ذریعے کسی امر کی اچھی طرح چھان بین ہو سکے گی اور لوگ شہادت دے سکیں گے اور نیز لوگوں کو یہ خوف نہ رہے گا کہ ان کی شہادت کے خلاف اور شہادت قائم ہوگی ۔ (آیت) ” ذَلِکَ أَدْنَی أَن یَأْتُواْ بِالشَّہَادَۃِ عَلَی وَجْہِہَا أَوْ یَخَافُواْ أَن تُرَدَّ أَیْْمَانٌ بَعْدَ أَیْْمَانِہِمْ ۔ (5 : 108) ” اس طریقے سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے ۔ “ آخر میں تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ خدا ترسی کا رویہ اختیار کریں اور اس بات کا احساس کریں کہ اللہ دیکھ رہا ہے ۔ اس سے ڈریں اور اس کے حکام کی اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ اللہ ان لوگوں کو راست نہیں دکھاتا جو اس کے نافرمان ہیں اور نہ ان کی راہنمائی بھلائی کی طرف کرتا ہے ۔ (آیت) ” وَاتَّقُوا اللّہَ وَاسْمَعُواْ وَاللّہُ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ (108) ” اللہ سے ڈرو اور سنو اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے ۔ “ ان تین آیتوں کی شان نزول کے بارے میں امام قرطبی فرماتے ہیں : اس بارے میں کوئی اختلاف میرے علم کی حد تک نہیں ہے کہ یہ آیات تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ۔ بخاری اور دارقطنی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ تمیم داری اور عدی ابن بداء مکہ کو آتے جاتے تھے ۔ ان کے ساتھ ایک نوجوان جو بنی سہم قبیلے کا تھا سفر پر نکلا ۔ وہ ایسی سرزمین میں فوت ہوا جہاں کوئی مسلمان نہ تھا ۔ اس نے ان دونوں کو وصیت کی اور انہوں نے اس کا ترکہ اس نوجوان کے وارثوں تک پہنچایا ۔ انہوں نے ایک چاندی کا جام روک لیا جسے سونے سے مزین کیا گیا تھا ان دونوں کو رسول اللہ ﷺ نے قسم دی کہ نہ تو انہوں نے اسے چھپایا ہے اور نہ اس کو اس کے بارے میں کوئی علم ہے ۔ اس کے بعد یہ جام مکہ میں پایا گیا تو جن لوگوں سے ملا انہوں نے کہا ہم نے تمیم اور عدی سے خریدا ہے ۔ اب سہمی متوفی نوجوان کے وارث آئے ۔ انہوں نے یہ حلف اٹھایا کہ یہی جام سہمی کی ملکیت تھا ۔ اور یہ کہ ہماری شہادت ان کی شہادت سے زیادہ معتبر ہے اور یہ کہ ہم کوئی زیادتی نہیں کر رہے ۔ اس کے بعد سہمیوں کو جام دے دیا گیا ۔ یہ آیات اسی بارے میں نازل ہوئیں ۔ (الفاظ دارقطنی کے ہیں) یہ بات ظاہر ہے کہ یہ آیات جس معاشرے کی اصلاح کے لئے نازل ہوئیں اس معاشرے کے حالات کی چھاپ ان تدابیر کے اندر موجود ہے اور ان انتظامات کی نوعیت بھی ایسی ہو سکتی ہے ۔ اس خاص انداز شہادت اور خاص طریقہ ثبوت پر لازما اس وقت کے معاشرتی حالات اثر انداز ہوئے ہیں ۔ خصوصا نماز کے بعد حلف دینا ۔ کیونکہ نماز کے بعد انسان کا دینی شعور اور وجدان تازہ ہوتا ہے ۔ انسان اس بات سے بھی ڈرتا ہے کہ وہ بعد نماز مجمع عام میں حالف لے رہا ہے اور اگر یہ بات جھوٹی نکل جائے تو اسے بہت ہی بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ یہ سب باتیں بتاتی ہیں کہ ان انتظامات کے اندر عربوں کے معاشرتی حالات کی جھلک موجود ہے اور اس وقت ایسے ہی اقدامات کی ضرورت تھی ۔ آج کل کے جدید معاشروں میں اثبات کے جدید وسائل بھی موجود ہیں اور انتظامات ثبوت کی نئی شکلیں بھی موجود ہیں مثلا کتابت ‘ رجسٹری ‘ امانت اور لاکرز ۔ سوال یہ ہے کہ آیا آج کے جدید معاشروں میں یہ انتظامات قابل عمل نہیں رہے ؟ ہم بعض اوقات کسی متعین معاشرے کو ذہن میں رکھ کر بات کرتے ہیں اور یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ فلاں فلاں انتظامات اب اس دور جدید میں قابل عمل نہیں رہے ہیں اب ان کی ضرورت نہیں ہے اور یہ ان معاشروں کے بقیہ آثار ہیں جن کا دور گزر گیا ہے کیونکہ دور جدید کے وسائل بہت ہی ترقی کر گئے ہیں ۔ اکثر لوگوں کو ایسا دھوکہ ہوتا ہے اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ یہ دین تمام انسانیت کے لئے آیا ہے ۔ ہر دور کے لئے آیا ہے اور آج کے اس جدید دور میں بھی انسانیت کی ایک بڑی تعداد اور آبادی بالکل ابتدائی اور پسماندہ حالت میں ہے ۔ وہ پسماندگی میں کانوں تک ڈوبی ہوئی ہے ۔ انسانیت کے اس بڑے حصے کو ایسے انتظامات بھی موجود ہیں جو ایسی پسماندہ سوسائٹیوں کے اندر بھی چل سکتے ہیں ۔ اور جوں جوں یہ سوسائٹیاں ترقی کرتی جاتی ہیں ‘ اسلام ان کی ترقی یافتہ ضروریات پوری کرتا ہے ۔ اسلامی شریعت کے اندر امانت اور ثبوت کے لئے ضوابط موجود ہیں اور اسلامی شریعت پھر ان کو مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے ۔ یہ اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کا ایک معجزانہ کمال ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے یہ شریعت من جانب اللہ ہے اور اسے اللہ جل شانہ ‘ نے انسانیت کے لئے نازل فرمایا ہے ۔ نیز ہم اس بات کے سمجھنے میں بھی دھوکہ کھاتے ہیں کہ ہر ترقی پذیر معاشرے کی ضروریات اسلامی نظام میں پوری ہوتی ہیں ۔ اسلامی نظام حیات ہر معاشرے کے لئے اس کے حسب حالات انتظامات کرتا ہے جس میں جامعیت بھی ہوتی ہے اور لوگوں کے لئے یسر اور سہولت بھی ہوتی ہے ۔ اس طرح یہ دین ہر معاشرے کے حالت کے مطابق وسائل اور طریقے اختیار کرتا ہے ۔ پسماندگی میں بھی اور ترقی یافتہ صحراء اور جنگل میں بھی ‘ اس لئے کہ یہ دین تمام انسانوں کا دین ہے ۔ یہ ہر علاقے اور ہر زمانے کا دین ہے اور یہ بات بھی اس دین کے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے ۔ اور ہماری سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ہم انسان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم رب الناس کے مقابلے میں بھی لوگوں کے مفادات کو زیادہ سمجھتے ہیں اور جب ہم عملی صورت حال سے دوچار ہوتے ہیں تو ہمیں سخت شرمندگی ہوتی ہے ۔ لیکن واقعات و حوادث سے دو چار ہونے سے پہلے ہی ہمارے لئے یہ سمجھنا اچھا نہیں ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انسانوں کے خالق کا احترام کریں اور بارگاہ الہ میں ایک بندے اور ایک غلام کی طرح بات کریں ۔ کاش کہ ہم نصیحت حاصل کریں ۔ کاش کہ ہم اپنی کوتاہ دامنی کا اعتراف کریں۔ درس نمبر 54 ایک نظر میں : یہ سبق اگرچہ نسبتا طویل ہے لیکن اس کا تعلق بھی نظریاتی اصلاح کے مضمون کے ساتھ ہے ۔ نصاری کے عقائد میں جو انحرافات پیدا ہوگئے تھے ان کی اصلاح مقصود ہے ۔ یہ انحرافات اس قدر دور رس تھے کہ ان کی وجہ سے نصاری اپنے بنیادی نظریات میں سماوی دین کے اصولوں سے منحرف ہوگئے تھے ۔ اور وہ اس عقیدہ توحید ہی سے نکل گئے تھے جس کی تعلیم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور ان سے پہلے آنے والے رسولوں نے دی تھی ۔ انہوں نے شرک کے وہ رنگ ڈھنگ اختیار کر لئے تھے جن کا کوئی تعلق دین اسلام سے نہ تھا ۔ چناچہ اس سبق کا مقصد بھی یہی ہے کہ لوگوں کے دین میں اللہ کی الوہیت اور بندوں کی عبودیت کا صحیح مفہوم بٹھایا جائے یہ اصلاح اس طرح کی جاتی ہے کہ ایک عظیم جلسے میں جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تمام رسول اور تمام انسان موجود ہیں ‘ اس میں خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اعلان کرتے ہیں کہ میں نے ہر گز یہ تعلیم نہ دی تھی کہ لوگ مجھے میری والدہ اور دوسرے لوگوں کو الہ تسلیم کریں اور یہ کہ عیسائیوں کے مزعومات میں سے کسی بات کی تعلیم انہوں نے نہیں دی ہے ۔ قرآن کریم اس منظر کی خوب تصویر کشی کرتا ہے ‘ ان مناظر قیامت میں سے ایک ہے جسے قرآن کریم زندہ وتابندہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ یہ نہایت ہی موثر چلتا پھرتا منظر ہے ۔ ‘ دلوں کی گہرائیوں تک اتر جانے والا ‘ جس کے اثرات کا عالم یہ ہے کہ انسان کا وجود کانپ اٹھتا ہے ۔ انسان اس طرح متحرک ہے ذرا قرآن کے الفاظ میں غور کیجئے ۔ (آیت) ” یَوْمَ یَجْمَعُ اللّہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (109) ” جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں ‘ آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ “ اللہ تعالیٰ ان تمام رسولوں کو جمع کرے گا جو مختلف زمانوں میں مبعوث ہوئے تھے ، یکے بعد دیگرے آئے تھے ‘ یا ایک ہی دور میں تھے مگر ان کا دائرہ کا علیحدہ تھا ۔ ہر ایک اپنے زون میں کام کر رہا تھا ۔ یا ہر شخص کسی قوم کے لئے مبعوث ہوا تھا اور اپنی قوم ہی میں کام کر رہا تھا ۔ ان سب کی دعوت ایک ہی تھی ‘ اگرچہ زمان ‘ مکان اور اقوام علیحدہ تھیں ۔ یہاں تک کہ خاتم النبین ﷺ آگئے ۔ انہوں نے تمام جہانوں کے لئے مکمل آخری دعوت دے دی جو ہر مکان ‘ ہر زمان اور ہر قوم اور ملت کے لئے ہے ‘ ہر رنگ ونسل کے لئے ہے ۔ یہ سب رسول ‘ جو مختلف اقوام وملل میں مبعوث ہوئے مختلف زمانوں میں آئے ‘ اب ان کا بھیجنے والا انہیں ایک ہی جگہ جمع کرکے ان تمام سے ایک ہی سوال کر رہا ہے ۔ یہ سب لوگ دنیا میں انسانیت کے نمائندے ہیں اور ہر ایک کو ایک زون کی رسالت دی گئی ہے ۔ مختلف ادوار اور مقامات کے لئے ۔ اب یہ نمائندے سب کے سب رب البشریت کے سامنے حاضر ہیں اور ایک عظیم اجتماع کا عظیم منظر ہے ۔ اور یہ منظر زندگی کے ساتھ ہر سو حرکت کرتا نظر آتا ہے ۔ (آیت) ” یَوْمَ یَجْمَعُ اللّہُ الرُّسُلَ فَیَقُولُ مَاذَا أُجِبْتُمْ ۔ (5 : 109) ” جس روز اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا ۔ “ سوال یہ تھا ماذا اجبتم (تمہیں کیا جواب دیا گیا) یہ رسول انسان اور بشر تھے ۔ ان کا علم حضوری تھا ۔ اور وہ پوشیدہ چیزوں کے بارے میں کچھ نہ جانتے تھے ۔ انہوں نے اپنی اقوام کو راہ ہدایت کی طرف بلایا ۔ ان میں سے جس نے دعوت کو قبول کیا ۔ جس نے منہ پھیرا ‘ پھیرلیا ۔ اگرچہ رسول منکرین کے جواب کے بارے میں جانتے تھے کہ انہوں نے انکار کیا ہے لیکن ماننے والوں کی حقیقت سے باخبر نہ تھے کہ انہوں نے دل سے مانا ہے یا نہیں ۔ وہ تو صرف ظاہری بات پہ حکم لگا سکتے ہیں ۔ رہی پوشیدہ بات تو اس کا علم انہیں نہیں ہے اور اب وہ جناب باری میں حاضر ہیں اور وہ سب جاننے والوں سے زیادہ جاننے والا ہے اور وہ اللہ سے اس قدر ڈرتے ہیں جس قدر کوئی کسی سے ڈر سکتا ہے ۔ نیز یہ رسل باری تعالیٰ کی معرفت میں بھی بہت ہی اونچا مقام رکھتے ہیں اور وہ اس بات سے حیا کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر اپنے علم کا اظہار کریں جو علم وخبیر ہے ۔ یہ ایک عظیم اجتماع میں ایک عظیم مسئولیت کا دن ہے ۔ عالم بالا کے دربار میں ‘ سب لوگوں کے سامنے کھلے دربار میں اور یہ ایک ایسی جواب طلبی ہے جس کا مقصد یہ بھی ہے کہ سب کے سامنے جواب طلب کیا جائے اور ان لوگوں کے سامنے یہ سوال و جواب ہو جو دنیا میں رسولوں کی تکذیب کرتے تھے تاکہ علی الاعلان یہ بات واضح ہوجائے کہ یہ رسول از خود نہ آئے تھے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اللہ کا دین لے کر آئے تھے ۔ یہ دکھانا بھی مطلوب تھا کہ یہ کام وہ ذمہ داری سے کرتے رہے تھے محض شوق کے طور پر نہ کرتے تھے ۔ اب دیکھئے وہ اپنی مسئولیت کے مطابق جواب دے رہے ہیں ۔ اپنی ڈیوٹی ‘ فریضہ رسالت ‘ اپنی قوم کی بابت جواب دے رہے تھے جنہوں نے ان کی تکذیب کی تھی ۔ رہے رسول تو وہ اعلان کر رہے ہیں کہ سچا علم صرف اللہ کے پاس ہے ۔ اس لئے ان کے پاس جو تھوڑی سی معلومات ہیں ان کا اظہار وہ علام الغیوب خدا کے سامنے نہیں کرنا چاہتے یہ عدم واقفیت کا اظہار وہ محض ادب اور حیاء کی وجہ سے کر رہے ہیں اور اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ سب کچھ جانتا ہے ۔ (آیت) ” قَالُواْ لاَ عِلْمَ لَنَا إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (109) ” تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔ “ رہے تمام دوسرے رسول ‘ جن کو بعض لوگوں نے مانا اور بعض نے ان کی تکذیب کی ‘ ان کی جانب سے سوال کا اصولی جواب ہی قبول کرلیا گیا ۔ انہوں نے کہہ دیا کہ صحیح علم تو اللہ کے پاس ہے جو علام الغیوب ہے ۔ انہوں نے اپنا اور اپنی قوم کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ۔ اس منظر میں ان رسولوں سے مزید کوئی سوال نہیں پوچھا جاتا ۔ مزید ضمنی سوال صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہوتا ہے ۔ ان سے یہ مزید سوال اس لئے کیا جاتا ہے کہ ان کے بارے میں ‘ ان کے بعد ان کی قوم سخت فتنے میں پڑگئی ، ان کے بارے میں فضا کے اندر پیچیدگی پیدا ہوئی اور ان کی ذات کے بارے میں لوگ ادہام اور خرافات کا شکار ہوگئے ، ان کی ذات ‘ ان کی صفات ‘ ان کی ولادت اور ان کی پرورش کے بارے میں ان کی قوم نے عجیب و غریب نظریات گھڑ لیے ۔ اب ان سے ان لوگوں کے سامنے پوچھا جاتا ہے ‘ جو انہیں الہ سمجھتے تھے ۔ ان کی عبادت کرتے تھے اور ان کی ذات اور ان کی والدہ کے اردگرد انہوں نے غلط افکار کے ہالے قائم کئے تھے ، ان کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ دیکھو تم پر اور تمہاری والدہ پر میں نے کس قدر انعامات اور اکرامات کئے ۔ یہ کہ تمہیں بہت سے معجزات عطا کئے کہ لوگ تم پر ایمان لے آئیں ۔ بعض لوگوں نے ان کی سخت تکذیب کی ۔ بعض لوگ ان آیات ومعجزات کو دیکھ کر سخت فتنے میں پڑگئے اور انہیں الہ بنا دیا ۔ حالانکہ یہ آیات ومعجزات تو اللہ کے عطا کردہ تھے اور جن باتوں کا ظہور ان کے ہاتھوں ہوا تھا وہ اللہ کی تائید ونصرت سے ہوا تھا ۔

المائدة 5:109

(آیت) ” نمبر 109 تا 111۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر ہونے والی انعامات کی یاد دہانی ہے ۔ یہ کہ روح القدس کے ذریعہ ان کی امداد کی گئی ۔ یہ کہ گہوارے کے اندر انہیں لوگوں کے ساتھ بات کرنے کی قدرت دی گئی اور اس طرح انہوں نے اپنی ماں کو تہمتوں سے بری الذمہ قرار دیا ۔ کیونکہ ان کی بےمثال ولادت کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں بیشمار شبہات پیدا ہوگئے تھے اور پھر بڑے ہو کر بھی ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں دعوت الی اللہ دی ۔ دعوت اسلامی میں بھی حضرت جبرائیل ان کی تائید کرتے رہے اور آپ کو کتاب کی تعلیم دیتے رہے ۔ جب وہ اس جہان پر اترے تھے تو ان کے پاس کوئی علم نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنا سکھایا ‘ انہیں معاملات کے اندر فیصلے کرنے کی حکمت عطا کی ۔ اللہ نے انہیں تورات کا علم بھی عطا کیا ‘ جو بنی اسرائیل کے پاس موجود تھی ۔ انجیل کا علم بھی دیا جو ان پر نازل ہوئی اور اس نے بھی تورات کی تصدیق کی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انکو ایسے خارق العادات معجزات دیئے جن کا صدور اذن الہی کے سوا ممکن نہ تھا ۔ دیکھئے کہ وہ کیچڑ پرندہ بناتے ہیں اور پھر یہ اذن الہی سے ہوتا ہے کہ آپ اس کے منہ میں پھونکتے ہیں اور وہ زندہ ہوجاتا ہے ۔ ہمیں ان معجزات کی ماہیت کا پتہ نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ہم تو آج تک یہ نہیں جان سکے کہ حیات کی حقیقت کیا ہے ؟ اور یہ حیات زندہ چیزوں کے اندر کس طرح پھیل جاتی ہے ۔ اب دیکھئے مادر زاد اندھا آتا ہے اور اللہ کے حکم سے اسے بینائی ملتی ہے جبکہ آج تک اطباء اس بات کو پا نہیں سکے کہ مادر زاد اندھے کو بینائی کس طرح مل گئی ۔ لیکن اللہ جس نے بینائی کا اصل نظام پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ کسی کو از سر نو بینائی دے دے ۔ مرض کا علاج آپ بغیر کسی دوائی کے کرتے تھے ۔ دوا تو ایک وسیلہ ہے جب کا اثر بھی اللہ کے اذن سے ہوتا ہے لیکن اللہ کے حکم سے وسیلہ بدل بھی سکتا ہے ‘ اور اللہ بلاوسیلہ براہ راست بھی ایک حقیقت کو وجود میں لا سکتا ہے ۔ اللہ اپنے حکم سے مردے کو زندہ کرسکتا ہے ‘ وہ زندگی بخشنے والا ہے ۔ وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ وہ دلائل وبینات اور خوارق ومعجزات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے اور انہوں نے پھر بھی آپ کو جھٹلایا اور انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ یہ معجزات واضح سحر ہے ۔ اس لئے کہ وہ ان معجزات کے وقوع کا انکار تو کر نہ سکتے تھے ۔ ہزاروں انسانوں نے ان معجزات کو دیکھا ہوا تھا ۔ یہ لوگ محض عناد اور غرور کی وجہ سے ان معجزات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ پھر انہوں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو بچایا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یاد دلاتے ہیں کہ ایسے مشکل حالات میں حواریوں نے جرات کی اور وہ ایمان لائے اور شہادت دی اور صحیح مسلمان بن گئے اور اللہ کو گواہ ٹھہرایا کہ وہ سرتسلیم خم کرنے والے ہیں ۔ (آیت) ” وَإِذْ أَوْحَیْْتُ إِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ أَنْ آمِنُواْ بِیْ وَبِرَسُولِیْ قَالُوَاْ آمَنَّا وَاشْہَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ (111) ” اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب انہوں نے کہا ” ہم ایمان لائے اور گواہ روہ کہ ہم مسلم ہیں۔ یہ ہیں وہ انعامات جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) پر کیے اور یہ ان کے لئے شواہد وبینات تھے لیکن ان کے متبعین کی اکثریت کے لئے یہ گمراہی اور ضلالت کا باعث بن گئے اور ان کی وجہ سے انہوں نے عظیم گمراہیاں گھڑ لیں اور دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عالم بالا کے اس منظر میں اس کی جواب طلبی کرتے ہیں ‘ اس منظر میں انبیاء ورسل موجود ہیں اور تمام دنیا کے لوگ بھی حاضر ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تمام قوم بھی موجود ہے ۔ ان کے سامنے یہ حقائق پیش کئے جاتے ہیں تا کہ ان کی قوم بھی سنے اور ان کے لئے شرمساری ذرا اور سخت ہوجائے ۔ وہ تمام جہانوں کے سامنے شرمندہ ہوں ۔ اب بات اسی لائن پر آگے چلتی ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے اوپر کئے جانے والے احسانات کے ساتھ ۔ وہ احسانات بھی گنوائے جاتے ہیں جو آپ کی قوم پر کئے گئے ، انہیں بھی معجزات دکھائے گئے ، انہوں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا اور حواری ایمان لائے اور انہوں نے شہادت دی ۔

المائدة 5:110

(آیت) ” نمبر 109 تا 111۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر ہونے والی انعامات کی یاد دہانی ہے ۔ یہ کہ روح القدس کے ذریعہ ان کی امداد کی گئی ۔ یہ کہ گہوارے کے اندر انہیں لوگوں کے ساتھ بات کرنے کی قدرت دی گئی اور اس طرح انہوں نے اپنی ماں کو تہمتوں سے بری الذمہ قرار دیا ۔ کیونکہ ان کی بےمثال ولادت کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں بیشمار شبہات پیدا ہوگئے تھے اور پھر بڑے ہو کر بھی ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں دعوت الی اللہ دی ۔ دعوت اسلامی میں بھی حضرت جبرائیل ان کی تائید کرتے رہے اور آپ کو کتاب کی تعلیم دیتے رہے ۔ جب وہ اس جہان پر اترے تھے تو ان کے پاس کوئی علم نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنا سکھایا ‘ انہیں معاملات کے اندر فیصلے کرنے کی حکمت عطا کی ۔ اللہ نے انہیں تورات کا علم بھی عطا کیا ‘ جو بنی اسرائیل کے پاس موجود تھی ۔ انجیل کا علم بھی دیا جو ان پر نازل ہوئی اور اس نے بھی تورات کی تصدیق کی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انکو ایسے خارق العادات معجزات دیئے جن کا صدور اذن الہی کے سوا ممکن نہ تھا ۔ دیکھئے کہ وہ کیچڑ پرندہ بناتے ہیں اور پھر یہ اذن الہی سے ہوتا ہے کہ آپ اس کے منہ میں پھونکتے ہیں اور وہ زندہ ہوجاتا ہے ۔ ہمیں ان معجزات کی ماہیت کا پتہ نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ہم تو آج تک یہ نہیں جان سکے کہ حیات کی حقیقت کیا ہے ؟ اور یہ حیات زندہ چیزوں کے اندر کس طرح پھیل جاتی ہے ۔ اب دیکھئے مادر زاد اندھا آتا ہے اور اللہ کے حکم سے اسے بینائی ملتی ہے جبکہ آج تک اطباء اس بات کو پا نہیں سکے کہ مادر زاد اندھے کو بینائی کس طرح مل گئی ۔ لیکن اللہ جس نے بینائی کا اصل نظام پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ کسی کو از سر نو بینائی دے دے ۔ مرض کا علاج آپ بغیر کسی دوائی کے کرتے تھے ۔ دوا تو ایک وسیلہ ہے جب کا اثر بھی اللہ کے اذن سے ہوتا ہے لیکن اللہ کے حکم سے وسیلہ بدل بھی سکتا ہے ‘ اور اللہ بلاوسیلہ براہ راست بھی ایک حقیقت کو وجود میں لا سکتا ہے ۔ اللہ اپنے حکم سے مردے کو زندہ کرسکتا ہے ‘ وہ زندگی بخشنے والا ہے ۔ وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ وہ دلائل وبینات اور خوارق ومعجزات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے اور انہوں نے پھر بھی آپ کو جھٹلایا اور انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ یہ معجزات واضح سحر ہے ۔ اس لئے کہ وہ ان معجزات کے وقوع کا انکار تو کر نہ سکتے تھے ۔ ہزاروں انسانوں نے ان معجزات کو دیکھا ہوا تھا ۔ یہ لوگ محض عناد اور غرور کی وجہ سے ان معجزات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ پھر انہوں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو بچایا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یاد دلاتے ہیں کہ ایسے مشکل حالات میں حواریوں نے جرات کی اور وہ ایمان لائے اور شہادت دی اور صحیح مسلمان بن گئے اور اللہ کو گواہ ٹھہرایا کہ وہ سرتسلیم خم کرنے والے ہیں ۔ (آیت) ” وَإِذْ أَوْحَیْْتُ إِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ أَنْ آمِنُواْ بِیْ وَبِرَسُولِیْ قَالُوَاْ آمَنَّا وَاشْہَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ (111) ” اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب انہوں نے کہا ” ہم ایمان لائے اور گواہ روہ کہ ہم مسلم ہیں۔ یہ ہیں وہ انعامات جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) پر کیے اور یہ ان کے لئے شواہد وبینات تھے لیکن ان کے متبعین کی اکثریت کے لئے یہ گمراہی اور ضلالت کا باعث بن گئے اور ان کی وجہ سے انہوں نے عظیم گمراہیاں گھڑ لیں اور دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عالم بالا کے اس منظر میں اس کی جواب طلبی کرتے ہیں ‘ اس منظر میں انبیاء ورسل موجود ہیں اور تمام دنیا کے لوگ بھی حاضر ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تمام قوم بھی موجود ہے ۔ ان کے سامنے یہ حقائق پیش کئے جاتے ہیں تا کہ ان کی قوم بھی سنے اور ان کے لئے شرمساری ذرا اور سخت ہوجائے ۔ وہ تمام جہانوں کے سامنے شرمندہ ہوں ۔ اب بات اسی لائن پر آگے چلتی ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے اوپر کئے جانے والے احسانات کے ساتھ ۔ وہ احسانات بھی گنوائے جاتے ہیں جو آپ کی قوم پر کئے گئے ، انہیں بھی معجزات دکھائے گئے ، انہوں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا اور حواری ایمان لائے اور انہوں نے شہادت دی ۔

المائدة 5:111

(آیت) ” نمبر 109 تا 111۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ پر ہونے والی انعامات کی یاد دہانی ہے ۔ یہ کہ روح القدس کے ذریعہ ان کی امداد کی گئی ۔ یہ کہ گہوارے کے اندر انہیں لوگوں کے ساتھ بات کرنے کی قدرت دی گئی اور اس طرح انہوں نے اپنی ماں کو تہمتوں سے بری الذمہ قرار دیا ۔ کیونکہ ان کی بےمثال ولادت کی وجہ سے لوگوں کے ذہنوں میں بیشمار شبہات پیدا ہوگئے تھے اور پھر بڑے ہو کر بھی ان سے ہم کلام ہوئے اور انہیں دعوت الی اللہ دی ۔ دعوت اسلامی میں بھی حضرت جبرائیل ان کی تائید کرتے رہے اور آپ کو کتاب کی تعلیم دیتے رہے ۔ جب وہ اس جہان پر اترے تھے تو ان کے پاس کوئی علم نہ تھا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں لکھنا سکھایا ‘ انہیں معاملات کے اندر فیصلے کرنے کی حکمت عطا کی ۔ اللہ نے انہیں تورات کا علم بھی عطا کیا ‘ جو بنی اسرائیل کے پاس موجود تھی ۔ انجیل کا علم بھی دیا جو ان پر نازل ہوئی اور اس نے بھی تورات کی تصدیق کی ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے انکو ایسے خارق العادات معجزات دیئے جن کا صدور اذن الہی کے سوا ممکن نہ تھا ۔ دیکھئے کہ وہ کیچڑ پرندہ بناتے ہیں اور پھر یہ اذن الہی سے ہوتا ہے کہ آپ اس کے منہ میں پھونکتے ہیں اور وہ زندہ ہوجاتا ہے ۔ ہمیں ان معجزات کی ماہیت کا پتہ نہیں ہے ‘ اس لئے کہ ہم تو آج تک یہ نہیں جان سکے کہ حیات کی حقیقت کیا ہے ؟ اور یہ حیات زندہ چیزوں کے اندر کس طرح پھیل جاتی ہے ۔ اب دیکھئے مادر زاد اندھا آتا ہے اور اللہ کے حکم سے اسے بینائی ملتی ہے جبکہ آج تک اطباء اس بات کو پا نہیں سکے کہ مادر زاد اندھے کو بینائی کس طرح مل گئی ۔ لیکن اللہ جس نے بینائی کا اصل نظام پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ کسی کو از سر نو بینائی دے دے ۔ مرض کا علاج آپ بغیر کسی دوائی کے کرتے تھے ۔ دوا تو ایک وسیلہ ہے جب کا اثر بھی اللہ کے اذن سے ہوتا ہے لیکن اللہ کے حکم سے وسیلہ بدل بھی سکتا ہے ‘ اور اللہ بلاوسیلہ براہ راست بھی ایک حقیقت کو وجود میں لا سکتا ہے ۔ اللہ اپنے حکم سے مردے کو زندہ کرسکتا ہے ‘ وہ زندگی بخشنے والا ہے ۔ وہ دوبارہ بھی زندہ کرسکتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہ یاد دہانی کراتے ہیں کہ وہ دلائل وبینات اور خوارق ومعجزات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے اور انہوں نے پھر بھی آپ کو جھٹلایا اور انہوں نے یہ پروپیگنڈا کیا کہ یہ معجزات واضح سحر ہے ۔ اس لئے کہ وہ ان معجزات کے وقوع کا انکار تو کر نہ سکتے تھے ۔ ہزاروں انسانوں نے ان معجزات کو دیکھا ہوا تھا ۔ یہ لوگ محض عناد اور غرور کی وجہ سے ان معجزات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ پھر انہوں نے آپ کو قتل کرنا چاہا تو اللہ نے آپ کو بچایا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یاد دلاتے ہیں کہ ایسے مشکل حالات میں حواریوں نے جرات کی اور وہ ایمان لائے اور شہادت دی اور صحیح مسلمان بن گئے اور اللہ کو گواہ ٹھہرایا کہ وہ سرتسلیم خم کرنے والے ہیں ۔ (آیت) ” وَإِذْ أَوْحَیْْتُ إِلَی الْحَوَارِیِّیْنَ أَنْ آمِنُواْ بِیْ وَبِرَسُولِیْ قَالُوَاْ آمَنَّا وَاشْہَدْ بِأَنَّنَا مُسْلِمُونَ (111) ” اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاؤ تب انہوں نے کہا ” ہم ایمان لائے اور گواہ روہ کہ ہم مسلم ہیں۔ یہ ہیں وہ انعامات جو اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) پر کیے اور یہ ان کے لئے شواہد وبینات تھے لیکن ان کے متبعین کی اکثریت کے لئے یہ گمراہی اور ضلالت کا باعث بن گئے اور ان کی وجہ سے انہوں نے عظیم گمراہیاں گھڑ لیں اور دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عالم بالا کے اس منظر میں اس کی جواب طلبی کرتے ہیں ‘ اس منظر میں انبیاء ورسل موجود ہیں اور تمام دنیا کے لوگ بھی حاضر ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تمام قوم بھی موجود ہے ۔ ان کے سامنے یہ حقائق پیش کئے جاتے ہیں تا کہ ان کی قوم بھی سنے اور ان کے لئے شرمساری ذرا اور سخت ہوجائے ۔ وہ تمام جہانوں کے سامنے شرمندہ ہوں ۔ اب بات اسی لائن پر آگے چلتی ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے اوپر کئے جانے والے احسانات کے ساتھ ۔ وہ احسانات بھی گنوائے جاتے ہیں جو آپ کی قوم پر کئے گئے ، انہیں بھی معجزات دکھائے گئے ، انہوں نے اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھا اور حواری ایمان لائے اور انہوں نے شہادت دی ۔

المائدة 5:112

(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔ اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ عیسیٰ کے بعد اس دعوت کو پھیلائیں گے ۔ اصحاب محمد ﷺ کا حال یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد وہ آپ سے کوئی ایک معجزہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ جونہی ان کے دلوں میں ایمان داخل ہوا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اس تصدیق پر انہوں نے کسی برہان و دلیل کا مطالبہ نہیں کیا انہوں نے حقانیت رسول کی شہادت صرف قرآن کو پڑھ کر دے دی ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے حورایوں کے درمیان یہ ایک عظیم فرق ہے ۔ وہ ایک سطح پر ہیں اور یہ دوسری سطح پر ہیں ۔ لیکن یہ بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی مسلمان ہیں ۔ یہ بھی اللہ کے ہاں برگزیدہ ہیں اور وہ بھی برگزیدہ ہیں لیکن جس طرح اللہ نے چاہ دونوں کی سطح میں بہت ہی فرق رکھا بہت بڑا فرق ۔ ” کھانے کے اس خوان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے لیکن نصاری کے لٹریچر میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ نہ ان اناجیل میں اس کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لکھی گئیں اگرچہ بہت بعد میں لکھی گئیں ۔ اس قدر طویل عرصے میں نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے اندر واقعات کی صحیح رپورٹنگ کی گئی ہوگی ۔ نیز ان اناجیل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء نے ان روایات کو نقل کیا ہے اور ان میں انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت کے واقعات نقل کئے ہیں ۔ اس لئے یہ روایات اس کلام پر مشتمل نہیں جو اللہ نے اتارا تھا اور اس کا نام انجیل رکھا تھا ۔ البتہ ان اناجیل میں اس خوان کے قصے کو دوسرے انداز میں نقل کیا ہے ” متی کی انجیل کے اصحاح 15 کے آخر میں آتا ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلایا اور کہا مجھے سب کے بارے میں اندیشہ ہے کیونکہ ان کے لئے صرف تین دن ہیں جو میرے ساتھ چلیں گے اور ان کے پاس خوراک بھی نہیں ہے ۔ اور میں یہ بھی نہیں کرسکتا کہ انہیں روزے کی حالت میں واپس کروں کیونکہ راستے میں ان کے پریشانی ہوگی ۔ ان میں سے اس کے تلامذہ نے کہا ہماری تعداد زیادہ ہے اور ہم کہاں سے کھانا پاسکتے ہیں ۔ ان سے یسوع نے کہا تمہارے پاس کس قدر روٹیاں ہیں ۔ انہوں نے کہا : سات روٹیاں اور کچھ چھوٹی مچھلیاں ۔ آپ نے سب سے کہا کہ وہ زمین پر سہارا لے کر بیٹھ جائیں ۔ آپ نے روٹی اور مچھلیاں لیں ۔ شکر ادا کیا اور انہیں توڑا ۔ انہوں نے یہ روٹیاں شاگردوں کو دیں اور انہوں نے سب کو کھلائی اور سب سیر ہوگئے اور جب روٹیاں اٹھائیں تو سات تھال بھرے ہوئے تھے اور کھانے والے چار ہزار تھے جن میں عورتوں اور بچوں کا شمار نہ کیا گیا تھا ‘ ایسی ہی روایات دوسری اناجیل میں بھی آئی ہیں ۔ بعض تابعین کا خیال ہے کہ یہ مائدہ نہیں اترا ۔ مجاہد اور حسن اس طرف گئے ہیں ‘ کیونکہ جب حواریوں نے یہ سنا ” میں اتارنے والا ہوں لیکن اس کے بعد جس نے کفران نعمت کیا تو اسے میں ایسی سزا دوں گا جیسی تمام جہان والوں میں کسی کو نہ دی گئی تھی ۔ “ تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اپنا یہ مطالبہ واپس لے لیا تھا ۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” لیث نے بذریعہ ابن سلیم مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک مثال تھی جو اللہ نے یہاں بیان کی ورنہ کوئی طعام اترا نہیں تھا ۔ “ ابن جریر نے حارث ‘ قاسم ‘ حجاج ابن جریج کے ذریعہ مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک دسترخوان تھا بعض کے اوپر کھانا ہو۔ انہوں نے اس مطالبے کو واپس لے لیا تھا جب انہیں بتایا گیا کہ ان پر عذاب آجائے گا اگر اس کھانے کے آنے کے بعد انہوں نے ناشکری کی ۔ انہوں نے ابو اللیث ‘ محمد ابن جعفر ‘ شعبہ ‘ منصور ابن زاذان کے واسطہ سے حسن سے یہ روایت کی ہے کہ مائدہ نازل نہیں ہوا تھا ۔ بشر ‘ نرید اور سعید کے واسطہ سے قتادہ کی یہ روایت ہے کہ حسن کہتے تھے کہ جب انہیں کہا گیا کہ اگر اس کے بعد انہوں نے کفران نعمت کیا تو انہیں ایسی سزا دی جائے جو عالمین میں سے کسی کو نہ دی گئی تھی تو انہوں نے ڈر کر کہا کہ ہمیں ایسے مائدہ کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر پھر یہ مائدہ نازل نہ ہوا۔ لیکن سلف صالحین میں سے اکثریت کی رائے یہ ہے کہ یہ کھانا نازل ہوا تھا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے الفاظ یہ استعمال کیے ہیں۔ (آیت) ” انی منزلھا علیکم “ (5 : 115) (میں اسے تم پر نازل کرنے والا ہوں) یہ اللہ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خود قرآن کریم کے الفاظ میں رائے کی تائید کرتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ یہی درست ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حشر کے میدان میں اپنی قوم کے سامنے ایک عظیم جلسہ میں یاد دلاتے ہیں کہ میں نے تم پر یہ یہ انعامات کئے ۔ (آیت) ” إِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ أَن یُنَزِّلَ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ۔ (5 : 112) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا ” اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے “۔ حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تلامذہ تھے ‘ غریب لوگ تھے اور آپ کے بارے میں زیادہ جانتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ آپ انسان ہیں ۔ جانتے تھے کہ آپ ابن مریم ہیں اور آپ کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے وہی کہتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ رب نہیں ہیں بلکہ وہ رب کے پروردہ بندہ ہیں ۔ یہ کہ وہ ابن اللہ نہیں ہیں ‘ بلکہ ابن مریم اور اللہ کے بندے ہیں ۔ وہ جانتے تھے کہ رب وہی ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ان معجزات کا صدور کر رہا ہے ۔ وہ ان معجزات میں سے کوئی بات از خود صادر نہیں کرسکتے ۔ اپنی ذاتی قدرت مطالبہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے نہ کیا ۔ اس لئے کہ وہ بذات خود قدرت نہ رکھتے تھے بلکہ انہوں نے مطالبہ ان الفاظ میں کیا ۔ (آیت) ” یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ أَن یُنَزِّلَ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ۔ (5 : 112) اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے ۔ اب لفظ (آیت) ” ھل یستطیع “ ؟ میں مختلف تاویلات سامنے آتی ہیں ۔ سوال یہ تھا کہ ایمان اور کلمہ شہادت کے بعد وہ یہ سوال کرسکتے ہیں جبکہ وہ اپنے اسلام پر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو شاہد ٹھہراتے ہیں ۔ ” یستطیع “ کا مفہوم یہ بھی بتایا گیا ہے ھل یقد ؟ لیکن مقصد وہ نتیجہ ہے جو اس قدرت اور استطاعت کے نتیجے میں آسکتا ہے یعنی آسمان سے خوان ۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ طلب کر رہے تھے کہ اگر وہ طلب کریں تو کیا اللہ ان کے مطابلے کو پورا کرے گا ۔ ایک قرات (آیت) ” ھل تستطیع ربک “ یعنی کیا آپ کو یہ سوال کرنے کا اختیار ہے کہ آپ نزول مائدہ کا سوال کریں ۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں انہیں تنبیہ کی کہ وہ ایسے سوالات نہ کریں اور خدا سے ڈریں ۔ (آیت) ” قَالَ اتَّقُواْ اللّہَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (112) ” تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو “۔ لیکن حواریوں نے دوبارہ مطالبہ کیا ۔ اور انہوں نے اپنے مطالبے کی غرض وغایت بھی بتا دی : (آیت) ” قَالُواْ نُرِیْدُ أَن نَّأْکُلَ مِنْہَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُونَ عَلَیْْہَا مِنَ الشَّاہِدِیْنَ (113) ” انہوں نے کہا ” ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں “۔ وہ بہرحال یہ مائدہ کھانا چاہتے تھے جس کی کوئی نذیر زمین پر نہ ہو اس لئے کہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ معجزہ ہوتے دیکھیں اور انہیں یقین ہوجائے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے سچ کہا ۔ پھر وہ خود اپنی باقی ماندہ قوم کے لئے گواہ ہوجائیں کہ یہ عظیم معجزہ سرزد ہوا ۔ یہ تمام امور اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کا مقام ومعیار حضرت محمد ﷺ کے حواریوں سے ذرا کم تھا ۔ اگر دونوں کرداروں کا موازنہ کیا جائے تو صحابہ محمد کا مقام نہایت ہی ممتاز نظر آتا ہے ۔ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں : (آیت) ” قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ِ تَکُونُ لَنَا عِیْداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَۃً مِّنکَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ (114) اس پر عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) نے دعا کی ” خدایا ! ہمارے رب ‘ ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر ‘ جو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے۔ “ جیسا کہ سیاق کلام میں بار بار اس بات کو دہرایا جاتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا نہایت ہی مودبانہ ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک مختار بندہ اپنے رب اور اپنے آقا کے ساتھ نہایت ہی رازدارانہ انداز میں بات کرتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ” اے اللہ “ ” اے ہمارے رب “ کے الفاظ کے ساتھ دعا شروع کرتے ہیں ۔ اے اللہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ہمارے اوپر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ اور یہ خوان ایسا ہو کہ ہمارے لئے خوشی اور انبساط کا سبب بنے اور وہ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے سامان فرحت ہو ۔ نیز یہ آپ کے خصوصی رزق سے ہو ۔ اور آپ رزق دینے والوں میں سے حقیقی رزاق ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جانتے ہیں کہ وہ بندے ہیں اور اللہ ہی رب العالمین ہے اور یہ اعتراف وہ ایک کھلی مجلس اور دربار میں کرتے ہیں ۔ یہ کھلی مجلس دربار قیامت میں ہے اور حضرت کی قوم کے سامنے ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرلیا ۔ لیکن اس قبولیت دعا کو سنجیدگی کا عنصر بھی دے یا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے شایان شان تھا ۔ انہوں نے ایک معجزے کا مطالبہ کیا ۔ اللہ نے اسے قبولیت بخشی لیکن یہ شرط عائد کردی کہ اگر اس کے بعد کسی نے کفران نعمت کیا تو اسے شدید عذاب کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اس قدر شدید جس کی کوئی مثال نہ ہو ۔ اور ایسا عذاب کبھی کسی قوم پر نہ آیا ہو ۔ (آیت) ” قَالَ اللّہُ إِنِّیْ مُنَزِّلُہَا عَلَیْْکُمْ فَمَن یَکْفُرْ بَعْدُ مِنکُمْ فَإِنِّیْ أُعَذِّبُہُ عَذَاباً لاَّ أُعَذِّبُہُ أَحَداً مِّنَ الْعَالَمِیْنَ (115) ” اللہ نے جواب دیا ” میں اس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو میں نے کسی کو نہ دی ہوگی۔ “ یہ سنجیدگی اللہ کی شان کے لائق ہے تاکہ معجزات کا مطالبہ ایک مذاق نہ بن جائے ۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ جن لوگوں کے سامنے بین اور معجز دلائل پیش ہوں اور پھر بھی وہ کفر کریں تو انہیں عذاب الہی کا سامنا کرنے کا خوف تو ہو ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جن اقوام نے معجزات طلب کئے ہیں اور پھر انہوں نے سچائی کو تسلیم نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ضرور ہلاک کیا ہے ۔ رہی آیت زیر بحث تو ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد دنیا کا عذاب ہو اور اگر یہاں نہ ہو تو آخرت کا عذاب ہو۔ اب اس تنبیہ اور تخویف کے بعد یہاں سیاق کلام خاموش ہے کہ آیا یہ خوان اترا یا نہیں اور روئے سخن اپنے اصل موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ۔ یعنی الوہیت اور ربوبیت کے اصل موضوع کی طرف کیونکہ اس سبق کا اصل موضوع یہی ہے ۔ یہ عظیم دربار ابھی تک جاری ہے اور لوگ اس کا تماشا کر رہے ہیں ۔ چاہیے کہ ہم ذرا اس کی طرف لوٹیں اور براہ راست سوال و جواب سے لطف اندوز ہوں ۔ اب اللہ تعالیٰ اس دربار میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم کی الوہیت کے بارے میں سوال کرتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ پیروکار بھی موجود ہیں جنہوں نے ان کو اور ان کی والدہ کو الہ سمجھا تھا تاکہ وہ سنیں اور ان کے سامنے حضرت ان کے لغو عقائد سے برات کا اظہار کریں ۔ یہ جواب نہایت ہی خوفناک فضا پیدا کرتا ہے ۔ ذرا ملاحظہ ہو :

المائدة 5:113

(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔ اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ عیسیٰ کے بعد اس دعوت کو پھیلائیں گے ۔ اصحاب محمد ﷺ کا حال یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد وہ آپ سے کوئی ایک معجزہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ جونہی ان کے دلوں میں ایمان داخل ہوا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اس تصدیق پر انہوں نے کسی برہان و دلیل کا مطالبہ نہیں کیا انہوں نے حقانیت رسول کی شہادت صرف قرآن کو پڑھ کر دے دی ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے حورایوں کے درمیان یہ ایک عظیم فرق ہے ۔ وہ ایک سطح پر ہیں اور یہ دوسری سطح پر ہیں ۔ لیکن یہ بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی مسلمان ہیں ۔ یہ بھی اللہ کے ہاں برگزیدہ ہیں اور وہ بھی برگزیدہ ہیں لیکن جس طرح اللہ نے چاہ دونوں کی سطح میں بہت ہی فرق رکھا بہت بڑا فرق ۔ ” کھانے کے اس خوان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے لیکن نصاری کے لٹریچر میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ نہ ان اناجیل میں اس کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لکھی گئیں اگرچہ بہت بعد میں لکھی گئیں ۔ اس قدر طویل عرصے میں نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے اندر واقعات کی صحیح رپورٹنگ کی گئی ہوگی ۔ نیز ان اناجیل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء نے ان روایات کو نقل کیا ہے اور ان میں انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت کے واقعات نقل کئے ہیں ۔ اس لئے یہ روایات اس کلام پر مشتمل نہیں جو اللہ نے اتارا تھا اور اس کا نام انجیل رکھا تھا ۔ البتہ ان اناجیل میں اس خوان کے قصے کو دوسرے انداز میں نقل کیا ہے ” متی کی انجیل کے اصحاح 15 کے آخر میں آتا ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلایا اور کہا مجھے سب کے بارے میں اندیشہ ہے کیونکہ ان کے لئے صرف تین دن ہیں جو میرے ساتھ چلیں گے اور ان کے پاس خوراک بھی نہیں ہے ۔ اور میں یہ بھی نہیں کرسکتا کہ انہیں روزے کی حالت میں واپس کروں کیونکہ راستے میں ان کے پریشانی ہوگی ۔ ان میں سے اس کے تلامذہ نے کہا ہماری تعداد زیادہ ہے اور ہم کہاں سے کھانا پاسکتے ہیں ۔ ان سے یسوع نے کہا تمہارے پاس کس قدر روٹیاں ہیں ۔ انہوں نے کہا : سات روٹیاں اور کچھ چھوٹی مچھلیاں ۔ آپ نے سب سے کہا کہ وہ زمین پر سہارا لے کر بیٹھ جائیں ۔ آپ نے روٹی اور مچھلیاں لیں ۔ شکر ادا کیا اور انہیں توڑا ۔ انہوں نے یہ روٹیاں شاگردوں کو دیں اور انہوں نے سب کو کھلائی اور سب سیر ہوگئے اور جب روٹیاں اٹھائیں تو سات تھال بھرے ہوئے تھے اور کھانے والے چار ہزار تھے جن میں عورتوں اور بچوں کا شمار نہ کیا گیا تھا ‘ ایسی ہی روایات دوسری اناجیل میں بھی آئی ہیں ۔ بعض تابعین کا خیال ہے کہ یہ مائدہ نہیں اترا ۔ مجاہد اور حسن اس طرف گئے ہیں ‘ کیونکہ جب حواریوں نے یہ سنا ” میں اتارنے والا ہوں لیکن اس کے بعد جس نے کفران نعمت کیا تو اسے میں ایسی سزا دوں گا جیسی تمام جہان والوں میں کسی کو نہ دی گئی تھی ۔ “ تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اپنا یہ مطالبہ واپس لے لیا تھا ۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” لیث نے بذریعہ ابن سلیم مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک مثال تھی جو اللہ نے یہاں بیان کی ورنہ کوئی طعام اترا نہیں تھا ۔ “ ابن جریر نے حارث ‘ قاسم ‘ حجاج ابن جریج کے ذریعہ مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک دسترخوان تھا بعض کے اوپر کھانا ہو۔ انہوں نے اس مطالبے کو واپس لے لیا تھا جب انہیں بتایا گیا کہ ان پر عذاب آجائے گا اگر اس کھانے کے آنے کے بعد انہوں نے ناشکری کی ۔ انہوں نے ابو اللیث ‘ محمد ابن جعفر ‘ شعبہ ‘ منصور ابن زاذان کے واسطہ سے حسن سے یہ روایت کی ہے کہ مائدہ نازل نہیں ہوا تھا ۔ بشر ‘ نرید اور سعید کے واسطہ سے قتادہ کی یہ روایت ہے کہ حسن کہتے تھے کہ جب انہیں کہا گیا کہ اگر اس کے بعد انہوں نے کفران نعمت کیا تو انہیں ایسی سزا دی جائے جو عالمین میں سے کسی کو نہ دی گئی تھی تو انہوں نے ڈر کر کہا کہ ہمیں ایسے مائدہ کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر پھر یہ مائدہ نازل نہ ہوا۔ لیکن سلف صالحین میں سے اکثریت کی رائے یہ ہے کہ یہ کھانا نازل ہوا تھا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے الفاظ یہ استعمال کیے ہیں۔ (آیت) ” انی منزلھا علیکم “ (5 : 115) (میں اسے تم پر نازل کرنے والا ہوں) یہ اللہ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خود قرآن کریم کے الفاظ میں رائے کی تائید کرتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ یہی درست ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حشر کے میدان میں اپنی قوم کے سامنے ایک عظیم جلسہ میں یاد دلاتے ہیں کہ میں نے تم پر یہ یہ انعامات کئے ۔ (آیت) ” إِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ أَن یُنَزِّلَ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ۔ (5 : 112) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا ” اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے “۔ حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تلامذہ تھے ‘ غریب لوگ تھے اور آپ کے بارے میں زیادہ جانتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ آپ انسان ہیں ۔ جانتے تھے کہ آپ ابن مریم ہیں اور آپ کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے وہی کہتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ رب نہیں ہیں بلکہ وہ رب کے پروردہ بندہ ہیں ۔ یہ کہ وہ ابن اللہ نہیں ہیں ‘ بلکہ ابن مریم اور اللہ کے بندے ہیں ۔ وہ جانتے تھے کہ رب وہی ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ان معجزات کا صدور کر رہا ہے ۔ وہ ان معجزات میں سے کوئی بات از خود صادر نہیں کرسکتے ۔ اپنی ذاتی قدرت مطالبہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے نہ کیا ۔ اس لئے کہ وہ بذات خود قدرت نہ رکھتے تھے بلکہ انہوں نے مطالبہ ان الفاظ میں کیا ۔ (آیت) ” یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ أَن یُنَزِّلَ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ۔ (5 : 112) اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے ۔ اب لفظ (آیت) ” ھل یستطیع “ ؟ میں مختلف تاویلات سامنے آتی ہیں ۔ سوال یہ تھا کہ ایمان اور کلمہ شہادت کے بعد وہ یہ سوال کرسکتے ہیں جبکہ وہ اپنے اسلام پر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو شاہد ٹھہراتے ہیں ۔ ” یستطیع “ کا مفہوم یہ بھی بتایا گیا ہے ھل یقد ؟ لیکن مقصد وہ نتیجہ ہے جو اس قدرت اور استطاعت کے نتیجے میں آسکتا ہے یعنی آسمان سے خوان ۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ طلب کر رہے تھے کہ اگر وہ طلب کریں تو کیا اللہ ان کے مطابلے کو پورا کرے گا ۔ ایک قرات (آیت) ” ھل تستطیع ربک “ یعنی کیا آپ کو یہ سوال کرنے کا اختیار ہے کہ آپ نزول مائدہ کا سوال کریں ۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں انہیں تنبیہ کی کہ وہ ایسے سوالات نہ کریں اور خدا سے ڈریں ۔ (آیت) ” قَالَ اتَّقُواْ اللّہَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (112) ” تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو “۔ لیکن حواریوں نے دوبارہ مطالبہ کیا ۔ اور انہوں نے اپنے مطالبے کی غرض وغایت بھی بتا دی : (آیت) ” قَالُواْ نُرِیْدُ أَن نَّأْکُلَ مِنْہَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُونَ عَلَیْْہَا مِنَ الشَّاہِدِیْنَ (113) ” انہوں نے کہا ” ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں “۔ وہ بہرحال یہ مائدہ کھانا چاہتے تھے جس کی کوئی نذیر زمین پر نہ ہو اس لئے کہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ معجزہ ہوتے دیکھیں اور انہیں یقین ہوجائے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے سچ کہا ۔ پھر وہ خود اپنی باقی ماندہ قوم کے لئے گواہ ہوجائیں کہ یہ عظیم معجزہ سرزد ہوا ۔ یہ تمام امور اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کا مقام ومعیار حضرت محمد ﷺ کے حواریوں سے ذرا کم تھا ۔ اگر دونوں کرداروں کا موازنہ کیا جائے تو صحابہ محمد کا مقام نہایت ہی ممتاز نظر آتا ہے ۔ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں : (آیت) ” قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ِ تَکُونُ لَنَا عِیْداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَۃً مِّنکَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ (114) اس پر عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) نے دعا کی ” خدایا ! ہمارے رب ‘ ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر ‘ جو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے۔ “ جیسا کہ سیاق کلام میں بار بار اس بات کو دہرایا جاتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا نہایت ہی مودبانہ ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک مختار بندہ اپنے رب اور اپنے آقا کے ساتھ نہایت ہی رازدارانہ انداز میں بات کرتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ” اے اللہ “ ” اے ہمارے رب “ کے الفاظ کے ساتھ دعا شروع کرتے ہیں ۔ اے اللہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ہمارے اوپر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ اور یہ خوان ایسا ہو کہ ہمارے لئے خوشی اور انبساط کا سبب بنے اور وہ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے سامان فرحت ہو ۔ نیز یہ آپ کے خصوصی رزق سے ہو ۔ اور آپ رزق دینے والوں میں سے حقیقی رزاق ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جانتے ہیں کہ وہ بندے ہیں اور اللہ ہی رب العالمین ہے اور یہ اعتراف وہ ایک کھلی مجلس اور دربار میں کرتے ہیں ۔ یہ کھلی مجلس دربار قیامت میں ہے اور حضرت کی قوم کے سامنے ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرلیا ۔ لیکن اس قبولیت دعا کو سنجیدگی کا عنصر بھی دے یا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے شایان شان تھا ۔ انہوں نے ایک معجزے کا مطالبہ کیا ۔ اللہ نے اسے قبولیت بخشی لیکن یہ شرط عائد کردی کہ اگر اس کے بعد کسی نے کفران نعمت کیا تو اسے شدید عذاب کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اس قدر شدید جس کی کوئی مثال نہ ہو ۔ اور ایسا عذاب کبھی کسی قوم پر نہ آیا ہو ۔ (آیت) ” قَالَ اللّہُ إِنِّیْ مُنَزِّلُہَا عَلَیْْکُمْ فَمَن یَکْفُرْ بَعْدُ مِنکُمْ فَإِنِّیْ أُعَذِّبُہُ عَذَاباً لاَّ أُعَذِّبُہُ أَحَداً مِّنَ الْعَالَمِیْنَ (115) ” اللہ نے جواب دیا ” میں اس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو میں نے کسی کو نہ دی ہوگی۔ “ یہ سنجیدگی اللہ کی شان کے لائق ہے تاکہ معجزات کا مطالبہ ایک مذاق نہ بن جائے ۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ جن لوگوں کے سامنے بین اور معجز دلائل پیش ہوں اور پھر بھی وہ کفر کریں تو انہیں عذاب الہی کا سامنا کرنے کا خوف تو ہو ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جن اقوام نے معجزات طلب کئے ہیں اور پھر انہوں نے سچائی کو تسلیم نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ضرور ہلاک کیا ہے ۔ رہی آیت زیر بحث تو ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد دنیا کا عذاب ہو اور اگر یہاں نہ ہو تو آخرت کا عذاب ہو۔ اب اس تنبیہ اور تخویف کے بعد یہاں سیاق کلام خاموش ہے کہ آیا یہ خوان اترا یا نہیں اور روئے سخن اپنے اصل موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ۔ یعنی الوہیت اور ربوبیت کے اصل موضوع کی طرف کیونکہ اس سبق کا اصل موضوع یہی ہے ۔ یہ عظیم دربار ابھی تک جاری ہے اور لوگ اس کا تماشا کر رہے ہیں ۔ چاہیے کہ ہم ذرا اس کی طرف لوٹیں اور براہ راست سوال و جواب سے لطف اندوز ہوں ۔ اب اللہ تعالیٰ اس دربار میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم کی الوہیت کے بارے میں سوال کرتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ پیروکار بھی موجود ہیں جنہوں نے ان کو اور ان کی والدہ کو الہ سمجھا تھا تاکہ وہ سنیں اور ان کے سامنے حضرت ان کے لغو عقائد سے برات کا اظہار کریں ۔ یہ جواب نہایت ہی خوفناک فضا پیدا کرتا ہے ۔ ذرا ملاحظہ ہو :

المائدة 5:114

(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔ اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ عیسیٰ کے بعد اس دعوت کو پھیلائیں گے ۔ اصحاب محمد ﷺ کا حال یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد وہ آپ سے کوئی ایک معجزہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ جونہی ان کے دلوں میں ایمان داخل ہوا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اس تصدیق پر انہوں نے کسی برہان و دلیل کا مطالبہ نہیں کیا انہوں نے حقانیت رسول کی شہادت صرف قرآن کو پڑھ کر دے دی ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے حورایوں کے درمیان یہ ایک عظیم فرق ہے ۔ وہ ایک سطح پر ہیں اور یہ دوسری سطح پر ہیں ۔ لیکن یہ بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی مسلمان ہیں ۔ یہ بھی اللہ کے ہاں برگزیدہ ہیں اور وہ بھی برگزیدہ ہیں لیکن جس طرح اللہ نے چاہ دونوں کی سطح میں بہت ہی فرق رکھا بہت بڑا فرق ۔ ” کھانے کے اس خوان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے لیکن نصاری کے لٹریچر میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ نہ ان اناجیل میں اس کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لکھی گئیں اگرچہ بہت بعد میں لکھی گئیں ۔ اس قدر طویل عرصے میں نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے اندر واقعات کی صحیح رپورٹنگ کی گئی ہوگی ۔ نیز ان اناجیل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء نے ان روایات کو نقل کیا ہے اور ان میں انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت کے واقعات نقل کئے ہیں ۔ اس لئے یہ روایات اس کلام پر مشتمل نہیں جو اللہ نے اتارا تھا اور اس کا نام انجیل رکھا تھا ۔ البتہ ان اناجیل میں اس خوان کے قصے کو دوسرے انداز میں نقل کیا ہے ” متی کی انجیل کے اصحاح 15 کے آخر میں آتا ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلایا اور کہا مجھے سب کے بارے میں اندیشہ ہے کیونکہ ان کے لئے صرف تین دن ہیں جو میرے ساتھ چلیں گے اور ان کے پاس خوراک بھی نہیں ہے ۔ اور میں یہ بھی نہیں کرسکتا کہ انہیں روزے کی حالت میں واپس کروں کیونکہ راستے میں ان کے پریشانی ہوگی ۔ ان میں سے اس کے تلامذہ نے کہا ہماری تعداد زیادہ ہے اور ہم کہاں سے کھانا پاسکتے ہیں ۔ ان سے یسوع نے کہا تمہارے پاس کس قدر روٹیاں ہیں ۔ انہوں نے کہا : سات روٹیاں اور کچھ چھوٹی مچھلیاں ۔ آپ نے سب سے کہا کہ وہ زمین پر سہارا لے کر بیٹھ جائیں ۔ آپ نے روٹی اور مچھلیاں لیں ۔ شکر ادا کیا اور انہیں توڑا ۔ انہوں نے یہ روٹیاں شاگردوں کو دیں اور انہوں نے سب کو کھلائی اور سب سیر ہوگئے اور جب روٹیاں اٹھائیں تو سات تھال بھرے ہوئے تھے اور کھانے والے چار ہزار تھے جن میں عورتوں اور بچوں کا شمار نہ کیا گیا تھا ‘ ایسی ہی روایات دوسری اناجیل میں بھی آئی ہیں ۔ بعض تابعین کا خیال ہے کہ یہ مائدہ نہیں اترا ۔ مجاہد اور حسن اس طرف گئے ہیں ‘ کیونکہ جب حواریوں نے یہ سنا ” میں اتارنے والا ہوں لیکن اس کے بعد جس نے کفران نعمت کیا تو اسے میں ایسی سزا دوں گا جیسی تمام جہان والوں میں کسی کو نہ دی گئی تھی ۔ “ تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اپنا یہ مطالبہ واپس لے لیا تھا ۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” لیث نے بذریعہ ابن سلیم مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک مثال تھی جو اللہ نے یہاں بیان کی ورنہ کوئی طعام اترا نہیں تھا ۔ “ ابن جریر نے حارث ‘ قاسم ‘ حجاج ابن جریج کے ذریعہ مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک دسترخوان تھا بعض کے اوپر کھانا ہو۔ انہوں نے اس مطالبے کو واپس لے لیا تھا جب انہیں بتایا گیا کہ ان پر عذاب آجائے گا اگر اس کھانے کے آنے کے بعد انہوں نے ناشکری کی ۔ انہوں نے ابو اللیث ‘ محمد ابن جعفر ‘ شعبہ ‘ منصور ابن زاذان کے واسطہ سے حسن سے یہ روایت کی ہے کہ مائدہ نازل نہیں ہوا تھا ۔ بشر ‘ نرید اور سعید کے واسطہ سے قتادہ کی یہ روایت ہے کہ حسن کہتے تھے کہ جب انہیں کہا گیا کہ اگر اس کے بعد انہوں نے کفران نعمت کیا تو انہیں ایسی سزا دی جائے جو عالمین میں سے کسی کو نہ دی گئی تھی تو انہوں نے ڈر کر کہا کہ ہمیں ایسے مائدہ کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر پھر یہ مائدہ نازل نہ ہوا۔ لیکن سلف صالحین میں سے اکثریت کی رائے یہ ہے کہ یہ کھانا نازل ہوا تھا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے الفاظ یہ استعمال کیے ہیں۔ (آیت) ” انی منزلھا علیکم “ (5 : 115) (میں اسے تم پر نازل کرنے والا ہوں) یہ اللہ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خود قرآن کریم کے الفاظ میں رائے کی تائید کرتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ یہی درست ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حشر کے میدان میں اپنی قوم کے سامنے ایک عظیم جلسہ میں یاد دلاتے ہیں کہ میں نے تم پر یہ یہ انعامات کئے ۔ (آیت) ” إِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ أَن یُنَزِّلَ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ۔ (5 : 112) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا ” اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے “۔ حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تلامذہ تھے ‘ غریب لوگ تھے اور آپ کے بارے میں زیادہ جانتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ آپ انسان ہیں ۔ جانتے تھے کہ آپ ابن مریم ہیں اور آپ کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے وہی کہتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ رب نہیں ہیں بلکہ وہ رب کے پروردہ بندہ ہیں ۔ یہ کہ وہ ابن اللہ نہیں ہیں ‘ بلکہ ابن مریم اور اللہ کے بندے ہیں ۔ وہ جانتے تھے کہ رب وہی ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ان معجزات کا صدور کر رہا ہے ۔ وہ ان معجزات میں سے کوئی بات از خود صادر نہیں کرسکتے ۔ اپنی ذاتی قدرت مطالبہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے نہ کیا ۔ اس لئے کہ وہ بذات خود قدرت نہ رکھتے تھے بلکہ انہوں نے مطالبہ ان الفاظ میں کیا ۔ (آیت) ” یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ أَن یُنَزِّلَ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ۔ (5 : 112) اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے ۔ اب لفظ (آیت) ” ھل یستطیع “ ؟ میں مختلف تاویلات سامنے آتی ہیں ۔ سوال یہ تھا کہ ایمان اور کلمہ شہادت کے بعد وہ یہ سوال کرسکتے ہیں جبکہ وہ اپنے اسلام پر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو شاہد ٹھہراتے ہیں ۔ ” یستطیع “ کا مفہوم یہ بھی بتایا گیا ہے ھل یقد ؟ لیکن مقصد وہ نتیجہ ہے جو اس قدرت اور استطاعت کے نتیجے میں آسکتا ہے یعنی آسمان سے خوان ۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ طلب کر رہے تھے کہ اگر وہ طلب کریں تو کیا اللہ ان کے مطابلے کو پورا کرے گا ۔ ایک قرات (آیت) ” ھل تستطیع ربک “ یعنی کیا آپ کو یہ سوال کرنے کا اختیار ہے کہ آپ نزول مائدہ کا سوال کریں ۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں انہیں تنبیہ کی کہ وہ ایسے سوالات نہ کریں اور خدا سے ڈریں ۔ (آیت) ” قَالَ اتَّقُواْ اللّہَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (112) ” تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو “۔ لیکن حواریوں نے دوبارہ مطالبہ کیا ۔ اور انہوں نے اپنے مطالبے کی غرض وغایت بھی بتا دی : (آیت) ” قَالُواْ نُرِیْدُ أَن نَّأْکُلَ مِنْہَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُونَ عَلَیْْہَا مِنَ الشَّاہِدِیْنَ (113) ” انہوں نے کہا ” ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں “۔ وہ بہرحال یہ مائدہ کھانا چاہتے تھے جس کی کوئی نذیر زمین پر نہ ہو اس لئے کہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ معجزہ ہوتے دیکھیں اور انہیں یقین ہوجائے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے سچ کہا ۔ پھر وہ خود اپنی باقی ماندہ قوم کے لئے گواہ ہوجائیں کہ یہ عظیم معجزہ سرزد ہوا ۔ یہ تمام امور اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کا مقام ومعیار حضرت محمد ﷺ کے حواریوں سے ذرا کم تھا ۔ اگر دونوں کرداروں کا موازنہ کیا جائے تو صحابہ محمد کا مقام نہایت ہی ممتاز نظر آتا ہے ۔ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں : (آیت) ” قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ِ تَکُونُ لَنَا عِیْداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَۃً مِّنکَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ (114) اس پر عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) نے دعا کی ” خدایا ! ہمارے رب ‘ ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر ‘ جو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے۔ “ جیسا کہ سیاق کلام میں بار بار اس بات کو دہرایا جاتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا نہایت ہی مودبانہ ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک مختار بندہ اپنے رب اور اپنے آقا کے ساتھ نہایت ہی رازدارانہ انداز میں بات کرتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ” اے اللہ “ ” اے ہمارے رب “ کے الفاظ کے ساتھ دعا شروع کرتے ہیں ۔ اے اللہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ہمارے اوپر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ اور یہ خوان ایسا ہو کہ ہمارے لئے خوشی اور انبساط کا سبب بنے اور وہ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے سامان فرحت ہو ۔ نیز یہ آپ کے خصوصی رزق سے ہو ۔ اور آپ رزق دینے والوں میں سے حقیقی رزاق ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جانتے ہیں کہ وہ بندے ہیں اور اللہ ہی رب العالمین ہے اور یہ اعتراف وہ ایک کھلی مجلس اور دربار میں کرتے ہیں ۔ یہ کھلی مجلس دربار قیامت میں ہے اور حضرت کی قوم کے سامنے ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرلیا ۔ لیکن اس قبولیت دعا کو سنجیدگی کا عنصر بھی دے یا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے شایان شان تھا ۔ انہوں نے ایک معجزے کا مطالبہ کیا ۔ اللہ نے اسے قبولیت بخشی لیکن یہ شرط عائد کردی کہ اگر اس کے بعد کسی نے کفران نعمت کیا تو اسے شدید عذاب کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اس قدر شدید جس کی کوئی مثال نہ ہو ۔ اور ایسا عذاب کبھی کسی قوم پر نہ آیا ہو ۔ (آیت) ” قَالَ اللّہُ إِنِّیْ مُنَزِّلُہَا عَلَیْْکُمْ فَمَن یَکْفُرْ بَعْدُ مِنکُمْ فَإِنِّیْ أُعَذِّبُہُ عَذَاباً لاَّ أُعَذِّبُہُ أَحَداً مِّنَ الْعَالَمِیْنَ (115) ” اللہ نے جواب دیا ” میں اس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو میں نے کسی کو نہ دی ہوگی۔ “ یہ سنجیدگی اللہ کی شان کے لائق ہے تاکہ معجزات کا مطالبہ ایک مذاق نہ بن جائے ۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ جن لوگوں کے سامنے بین اور معجز دلائل پیش ہوں اور پھر بھی وہ کفر کریں تو انہیں عذاب الہی کا سامنا کرنے کا خوف تو ہو ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جن اقوام نے معجزات طلب کئے ہیں اور پھر انہوں نے سچائی کو تسلیم نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ضرور ہلاک کیا ہے ۔ رہی آیت زیر بحث تو ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد دنیا کا عذاب ہو اور اگر یہاں نہ ہو تو آخرت کا عذاب ہو۔ اب اس تنبیہ اور تخویف کے بعد یہاں سیاق کلام خاموش ہے کہ آیا یہ خوان اترا یا نہیں اور روئے سخن اپنے اصل موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ۔ یعنی الوہیت اور ربوبیت کے اصل موضوع کی طرف کیونکہ اس سبق کا اصل موضوع یہی ہے ۔ یہ عظیم دربار ابھی تک جاری ہے اور لوگ اس کا تماشا کر رہے ہیں ۔ چاہیے کہ ہم ذرا اس کی طرف لوٹیں اور براہ راست سوال و جواب سے لطف اندوز ہوں ۔ اب اللہ تعالیٰ اس دربار میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم کی الوہیت کے بارے میں سوال کرتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ پیروکار بھی موجود ہیں جنہوں نے ان کو اور ان کی والدہ کو الہ سمجھا تھا تاکہ وہ سنیں اور ان کے سامنے حضرت ان کے لغو عقائد سے برات کا اظہار کریں ۔ یہ جواب نہایت ہی خوفناک فضا پیدا کرتا ہے ۔ ذرا ملاحظہ ہو :

المائدة 5:115

(آیت) ” نمبر 112 تا 115۔ اس گفتگو سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کا مزاج کیسا تھا اور ان میں سے مخلص لوگ کس مزاج کے تھے یعنی آپ کے حواری ۔ ان حواریوں اور ہمارے رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ اجمعین کے درمیان بہت بڑا فرق تھا ۔ ان حواریوں کے دلوں میں اللہ نے بطور الہام ایمان کا القاء کردیا تھا ۔ وہ ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اپنے ایمان پر گواہ ٹھہرایا ۔ ان حقائق کے ساتھ ساتھ اب دیکھئے کہ اس الہام اور معجزات کے دیکھے ہوئے وہ پھر ایک نئے معجزے کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ جان لیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سچے ہیں اور اب وہ عیسیٰ کے بعد اس دعوت کو پھیلائیں گے ۔ اصحاب محمد ﷺ کا حال یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد وہ آپ سے کوئی ایک معجزہ بھی طلب نہیں کرتے ۔ جونہی ان کے دلوں میں ایمان داخل ہوا اور وہ مطمئن ہوگئے ۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی تصدیق کی اور اس تصدیق پر انہوں نے کسی برہان و دلیل کا مطالبہ نہیں کیا انہوں نے حقانیت رسول کی شہادت صرف قرآن کو پڑھ کر دے دی ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد ﷺ کے حورایوں کے درمیان یہ ایک عظیم فرق ہے ۔ وہ ایک سطح پر ہیں اور یہ دوسری سطح پر ہیں ۔ لیکن یہ بھی مسلمان ہیں اور وہ بھی مسلمان ہیں ۔ یہ بھی اللہ کے ہاں برگزیدہ ہیں اور وہ بھی برگزیدہ ہیں لیکن جس طرح اللہ نے چاہ دونوں کی سطح میں بہت ہی فرق رکھا بہت بڑا فرق ۔ ” کھانے کے اس خوان کا ذکر قرآن میں ہوا ہے لیکن نصاری کے لٹریچر میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ نہ ان اناجیل میں اس کا ذکر ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لکھی گئیں اگرچہ بہت بعد میں لکھی گئیں ۔ اس قدر طویل عرصے میں نہیں کہا جاسکتا کہ ان کے اندر واقعات کی صحیح رپورٹنگ کی گئی ہوگی ۔ نیز ان اناجیل کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض علماء نے ان روایات کو نقل کیا ہے اور ان میں انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت کے واقعات نقل کئے ہیں ۔ اس لئے یہ روایات اس کلام پر مشتمل نہیں جو اللہ نے اتارا تھا اور اس کا نام انجیل رکھا تھا ۔ البتہ ان اناجیل میں اس خوان کے قصے کو دوسرے انداز میں نقل کیا ہے ” متی کی انجیل کے اصحاح 15 کے آخر میں آتا ہے ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو بلایا اور کہا مجھے سب کے بارے میں اندیشہ ہے کیونکہ ان کے لئے صرف تین دن ہیں جو میرے ساتھ چلیں گے اور ان کے پاس خوراک بھی نہیں ہے ۔ اور میں یہ بھی نہیں کرسکتا کہ انہیں روزے کی حالت میں واپس کروں کیونکہ راستے میں ان کے پریشانی ہوگی ۔ ان میں سے اس کے تلامذہ نے کہا ہماری تعداد زیادہ ہے اور ہم کہاں سے کھانا پاسکتے ہیں ۔ ان سے یسوع نے کہا تمہارے پاس کس قدر روٹیاں ہیں ۔ انہوں نے کہا : سات روٹیاں اور کچھ چھوٹی مچھلیاں ۔ آپ نے سب سے کہا کہ وہ زمین پر سہارا لے کر بیٹھ جائیں ۔ آپ نے روٹی اور مچھلیاں لیں ۔ شکر ادا کیا اور انہیں توڑا ۔ انہوں نے یہ روٹیاں شاگردوں کو دیں اور انہوں نے سب کو کھلائی اور سب سیر ہوگئے اور جب روٹیاں اٹھائیں تو سات تھال بھرے ہوئے تھے اور کھانے والے چار ہزار تھے جن میں عورتوں اور بچوں کا شمار نہ کیا گیا تھا ‘ ایسی ہی روایات دوسری اناجیل میں بھی آئی ہیں ۔ بعض تابعین کا خیال ہے کہ یہ مائدہ نہیں اترا ۔ مجاہد اور حسن اس طرف گئے ہیں ‘ کیونکہ جب حواریوں نے یہ سنا ” میں اتارنے والا ہوں لیکن اس کے بعد جس نے کفران نعمت کیا تو اسے میں ایسی سزا دوں گا جیسی تمام جہان والوں میں کسی کو نہ دی گئی تھی ۔ “ تو وہ ڈر گئے اور انہوں نے اپنا یہ مطالبہ واپس لے لیا تھا ۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں ” لیث نے بذریعہ ابن سلیم مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک مثال تھی جو اللہ نے یہاں بیان کی ورنہ کوئی طعام اترا نہیں تھا ۔ “ ابن جریر نے حارث ‘ قاسم ‘ حجاج ابن جریج کے ذریعہ مجاہد سے یہ روایت کی ہے کہ یہ ایک دسترخوان تھا بعض کے اوپر کھانا ہو۔ انہوں نے اس مطالبے کو واپس لے لیا تھا جب انہیں بتایا گیا کہ ان پر عذاب آجائے گا اگر اس کھانے کے آنے کے بعد انہوں نے ناشکری کی ۔ انہوں نے ابو اللیث ‘ محمد ابن جعفر ‘ شعبہ ‘ منصور ابن زاذان کے واسطہ سے حسن سے یہ روایت کی ہے کہ مائدہ نازل نہیں ہوا تھا ۔ بشر ‘ نرید اور سعید کے واسطہ سے قتادہ کی یہ روایت ہے کہ حسن کہتے تھے کہ جب انہیں کہا گیا کہ اگر اس کے بعد انہوں نے کفران نعمت کیا تو انہیں ایسی سزا دی جائے جو عالمین میں سے کسی کو نہ دی گئی تھی تو انہوں نے ڈر کر کہا کہ ہمیں ایسے مائدہ کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس پر پھر یہ مائدہ نازل نہ ہوا۔ لیکن سلف صالحین میں سے اکثریت کی رائے یہ ہے کہ یہ کھانا نازل ہوا تھا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے الفاظ یہ استعمال کیے ہیں۔ (آیت) ” انی منزلھا علیکم “ (5 : 115) (میں اسے تم پر نازل کرنے والا ہوں) یہ اللہ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خود قرآن کریم کے الفاظ میں رائے کی تائید کرتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ یہی درست ہے ۔ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حشر کے میدان میں اپنی قوم کے سامنے ایک عظیم جلسہ میں یاد دلاتے ہیں کہ میں نے تم پر یہ یہ انعامات کئے ۔ (آیت) ” إِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّونَ یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ أَن یُنَزِّلَ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ۔ (5 : 112) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا ” اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے “۔ حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تلامذہ تھے ‘ غریب لوگ تھے اور آپ کے بارے میں زیادہ جانتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ آپ انسان ہیں ۔ جانتے تھے کہ آپ ابن مریم ہیں اور آپ کے بارے میں جو کچھ جانتے تھے وہی کہتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ رب نہیں ہیں بلکہ وہ رب کے پروردہ بندہ ہیں ۔ یہ کہ وہ ابن اللہ نہیں ہیں ‘ بلکہ ابن مریم اور اللہ کے بندے ہیں ۔ وہ جانتے تھے کہ رب وہی ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ان معجزات کا صدور کر رہا ہے ۔ وہ ان معجزات میں سے کوئی بات از خود صادر نہیں کرسکتے ۔ اپنی ذاتی قدرت مطالبہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے نہ کیا ۔ اس لئے کہ وہ بذات خود قدرت نہ رکھتے تھے بلکہ انہوں نے مطالبہ ان الفاظ میں کیا ۔ (آیت) ” یَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ہَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّکَ أَن یُنَزِّلَ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ۔ (5 : 112) اے عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے ۔ اب لفظ (آیت) ” ھل یستطیع “ ؟ میں مختلف تاویلات سامنے آتی ہیں ۔ سوال یہ تھا کہ ایمان اور کلمہ شہادت کے بعد وہ یہ سوال کرسکتے ہیں جبکہ وہ اپنے اسلام پر خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو شاہد ٹھہراتے ہیں ۔ ” یستطیع “ کا مفہوم یہ بھی بتایا گیا ہے ھل یقد ؟ لیکن مقصد وہ نتیجہ ہے جو اس قدرت اور استطاعت کے نتیجے میں آسکتا ہے یعنی آسمان سے خوان ۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے یہ طلب کر رہے تھے کہ اگر وہ طلب کریں تو کیا اللہ ان کے مطابلے کو پورا کرے گا ۔ ایک قرات (آیت) ” ھل تستطیع ربک “ یعنی کیا آپ کو یہ سوال کرنے کا اختیار ہے کہ آپ نزول مائدہ کا سوال کریں ۔ بہرحال مفہوم جو بھی ہو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے جواب میں انہیں تنبیہ کی کہ وہ ایسے سوالات نہ کریں اور خدا سے ڈریں ۔ (آیت) ” قَالَ اتَّقُواْ اللّہَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (112) ” تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو “۔ لیکن حواریوں نے دوبارہ مطالبہ کیا ۔ اور انہوں نے اپنے مطالبے کی غرض وغایت بھی بتا دی : (آیت) ” قَالُواْ نُرِیْدُ أَن نَّأْکُلَ مِنْہَا وَتَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَن قَدْ صَدَقْتَنَا وَنَکُونَ عَلَیْْہَا مِنَ الشَّاہِدِیْنَ (113) ” انہوں نے کہا ” ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں “۔ وہ بہرحال یہ مائدہ کھانا چاہتے تھے جس کی کوئی نذیر زمین پر نہ ہو اس لئے کہ ان کے دل مطمئن ہوجائیں اور وہ اپنی آنکھوں کے سامنے یہ معجزہ ہوتے دیکھیں اور انہیں یقین ہوجائے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے سچ کہا ۔ پھر وہ خود اپنی باقی ماندہ قوم کے لئے گواہ ہوجائیں کہ یہ عظیم معجزہ سرزد ہوا ۔ یہ تمام امور اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کا مقام ومعیار حضرت محمد ﷺ کے حواریوں سے ذرا کم تھا ۔ اگر دونوں کرداروں کا موازنہ کیا جائے تو صحابہ محمد کا مقام نہایت ہی ممتاز نظر آتا ہے ۔ اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں : (آیت) ” قَالَ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللَّہُمَّ رَبَّنَا أَنزِلْ عَلَیْْنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَاء ِ تَکُونُ لَنَا عِیْداً لِّأَوَّلِنَا وَآخِرِنَا وَآیَۃً مِّنکَ وَارْزُقْنَا وَأَنتَ خَیْْرُ الرَّازِقِیْنَ (114) اس پر عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) نے دعا کی ” خدایا ! ہمارے رب ‘ ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر ‘ جو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لئے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے۔ “ جیسا کہ سیاق کلام میں بار بار اس بات کو دہرایا جاتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی یہ دعا نہایت ہی مودبانہ ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک مختار بندہ اپنے رب اور اپنے آقا کے ساتھ نہایت ہی رازدارانہ انداز میں بات کرتا ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ” اے اللہ “ ” اے ہمارے رب “ کے الفاظ کے ساتھ دعا شروع کرتے ہیں ۔ اے اللہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ ہمارے اوپر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ اور یہ خوان ایسا ہو کہ ہمارے لئے خوشی اور انبساط کا سبب بنے اور وہ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے سامان فرحت ہو ۔ نیز یہ آپ کے خصوصی رزق سے ہو ۔ اور آپ رزق دینے والوں میں سے حقیقی رزاق ہیں ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جانتے ہیں کہ وہ بندے ہیں اور اللہ ہی رب العالمین ہے اور یہ اعتراف وہ ایک کھلی مجلس اور دربار میں کرتے ہیں ۔ یہ کھلی مجلس دربار قیامت میں ہے اور حضرت کی قوم کے سامنے ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) کی دعا کو قبول کرلیا ۔ لیکن اس قبولیت دعا کو سنجیدگی کا عنصر بھی دے یا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے شایان شان تھا ۔ انہوں نے ایک معجزے کا مطالبہ کیا ۔ اللہ نے اسے قبولیت بخشی لیکن یہ شرط عائد کردی کہ اگر اس کے بعد کسی نے کفران نعمت کیا تو اسے شدید عذاب کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اس قدر شدید جس کی کوئی مثال نہ ہو ۔ اور ایسا عذاب کبھی کسی قوم پر نہ آیا ہو ۔ (آیت) ” قَالَ اللّہُ إِنِّیْ مُنَزِّلُہَا عَلَیْْکُمْ فَمَن یَکْفُرْ بَعْدُ مِنکُمْ فَإِنِّیْ أُعَذِّبُہُ عَذَاباً لاَّ أُعَذِّبُہُ أَحَداً مِّنَ الْعَالَمِیْنَ (115) ” اللہ نے جواب دیا ” میں اس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو میں نے کسی کو نہ دی ہوگی۔ “ یہ سنجیدگی اللہ کی شان کے لائق ہے تاکہ معجزات کا مطالبہ ایک مذاق نہ بن جائے ۔ اور یہ بھی نہ ہو کہ جن لوگوں کے سامنے بین اور معجز دلائل پیش ہوں اور پھر بھی وہ کفر کریں تو انہیں عذاب الہی کا سامنا کرنے کا خوف تو ہو ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جن اقوام نے معجزات طلب کئے ہیں اور پھر انہوں نے سچائی کو تسلیم نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ضرور ہلاک کیا ہے ۔ رہی آیت زیر بحث تو ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد دنیا کا عذاب ہو اور اگر یہاں نہ ہو تو آخرت کا عذاب ہو۔ اب اس تنبیہ اور تخویف کے بعد یہاں سیاق کلام خاموش ہے کہ آیا یہ خوان اترا یا نہیں اور روئے سخن اپنے اصل موضوع کی طرف پھرجاتا ہے ۔ یعنی الوہیت اور ربوبیت کے اصل موضوع کی طرف کیونکہ اس سبق کا اصل موضوع یہی ہے ۔ یہ عظیم دربار ابھی تک جاری ہے اور لوگ اس کا تماشا کر رہے ہیں ۔ چاہیے کہ ہم ذرا اس کی طرف لوٹیں اور براہ راست سوال و جواب سے لطف اندوز ہوں ۔ اب اللہ تعالیٰ اس دربار میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ مریم کی الوہیت کے بارے میں سوال کرتے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ پیروکار بھی موجود ہیں جنہوں نے ان کو اور ان کی والدہ کو الہ سمجھا تھا تاکہ وہ سنیں اور ان کے سامنے حضرت ان کے لغو عقائد سے برات کا اظہار کریں ۔ یہ جواب نہایت ہی خوفناک فضا پیدا کرتا ہے ۔ ذرا ملاحظہ ہو :

المائدة 5:116

(آیت) ” نمبر 116 تا 118۔ اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے کن عقائد کی تبلیغ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس خوفناک دن میں یہ عظیم جواب طلبی اور پھر ایسے شخص سے جو ذمہ دار بھی نہیں ہے ‘ اس لئے کہ گئی کہ اس صالح بندے اور ان کی والدہ کو جو لوگ الہ تصور کرتے تھے ‘ ان کا یہ پورا موقف اچھی طرح واضح ہوجائے اور وہ خوب شرمندہ ہو۔ یہ اس قدر عظیم جسارت ہے کہ کوئی عام اور معقول انسان اس قسم کا کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ خود الہ ہے ۔ جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ بندہ ہے ۔ ایک رسول اس قسم کا دعوی کب کرسکتا ہے اور پھر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک رسول ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا رسول ۔ حالانکہ اللہ نے رسالت سے پہلے اور رسالت کے بعد اسے معجزات اور مقامات عطا کئے تھے اور ان پر عظیم انعامات کئے تھے اور اعزاز بخشے تھے ۔ ایسے رسول کب ایسا دعوی کرسکتے ہیں ۔ ایک صالح اور راہ راست پر گامزن رسول ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت کی طرف سے نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ عاجزانہ جواب آتا ہے ۔ نہایت ہی حمد وثنا کے ساتھ (آیت) ” سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِیْ أَنْ أَقُولَ مَا لَیْْسَ لِیْ بِحَقٍّ (5 : 116) ” سبحان اللہ ‘ میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا ۔ “ اس طرح حضرت جلدی سے جواب دے دیتے ہیں کہ میں نے مطلقا یہ بات نہیں کہی ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی برات پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں اور اپنی عاجزی دکھاتے ہوئے اللہ کے خصائص الوہیت اور بندے کے شایان عبودیت کے افعال بتاتے ہیں ۔ (آیت) ” إِن کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (116) ” اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ‘ آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں “۔ اس قدر تسبیح اور پاکی بیان کرنے کے بعد اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ جرات کرتے ہیں کہ وہ کوئی مثبت بات کریں اور یہ کہیں کہ انہوں نے ہر گز نہیں ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔ بلکہ انہوں نے تو یہ کہا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور تم بھی سب صرف اللہ ہی کی بندگی کرو۔ (آیت) ” مَا قُلْتُ لَہُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِیْ بِہِ أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ (5 : 117) ” میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ‘ یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ “ اور آپ (علیہ السلام) یہ فرماتے ہیں کہ میں تو ان پر نگران صرف اس وقت تک کے لئے تھا جب میں ان کے سامنے تھا ۔ لیکن اپنی وفات کے بعد میں نگران نہ تھا ۔ قرآن کی ظاہری آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وفات دی اور پھر اپنی طرف اٹھا لیا جب کہ بعض آثار میں یہ آتا ہے کہ آپ اللہ کے ہاں زندہ ہیں ۔ میرے خیال میں دونوں قسم کے نصوص میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ زمین کی زندگی سے ان کا قطع تعلق ہوگیا ہو اور انہیں اٹھا لیا گیا ہو اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں زندہ حالت میں اٹھا لیا گیا ہو کیونکہ شہداء بھی تو اللہ کے ہاں زندہ ہوتے ہیں اگرچہ دنیا سے ان کی زندگی کٹ جاتی ہے اگرچہ شہداء کی زندگی کی نوعیت کا ہمیں تفصیلی علم نہیں ہے ۔ یہی صورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میری وفات کے بعد مجھے علم نہ تھا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟ (آیت) ” وَکُنتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ وَأَنتَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ شَہِیْدٌ(117) ” میں اسی وقت تک ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا ۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگران تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگران ہیں ۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیتے ہیں کہ آپ چاہیں تو سزا دیں اور اگر آپ ان کو بخش دیں تو بھی آپ قادر مطلق ہیں ۔ بہرحال وہ ہیں تیرے ہی بندے اور آپ ہی جانتے ہیں کہ ان کے لئے سزا مقرر ہے یا مغفرت ۔ (آیت) ” إِن تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِن تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (118) ” اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کردیں تو آپ غالب اور دانا ہیں ۔ “ ذرا ملاحظہ تو کیجئے کہ اللہ کے یہ صالح اور مقرب بندے بارگاہ الوہیت میں کس قدر خوفزدہ ہیں اور ان لوگوں کی جرات کو دیکھئے جنہوں نے یہ افتراء باندھا ‘ جس سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) صاف صاف برات کا اظہار کرتے ہیں اور ان لوگوں کی اس افتراء کی وجہ سے یہ بندہ اللہ کے سامنے اس طرح گڑ گڑاتے ہوئے کلام کرتا ہے ۔ ان لوگوں کے موقف کو دیکھئے اور اس عظیم دربار کو دیکھئے ۔ اس دربار میں اپنے اس غلط موقف کی وجہ سے اس قدر ذلیل و حقیر نظر آتے ہیں کہ اس پورے مکالمے میں ان کے ساتھ کوئی بات نہیں کی جاتی اور نہ ان کی طرف کوئی التفات کیا جاتا ہے ۔ شاید اس منظر میں شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے یہ لوگ پسینہ پسینہ ہوگئے ہوں گے ۔ جس طرح اللہ نے انہیں نظر انداز کیا ہم بھی انہیں اسی طرح چھوڑتے ہیں اور آئیے ذرا اس دربار کے آخری منظر کو دیکھیں ۔

المائدة 5:117

(آیت) ” نمبر 116 تا 118۔ اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے کن عقائد کی تبلیغ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس خوفناک دن میں یہ عظیم جواب طلبی اور پھر ایسے شخص سے جو ذمہ دار بھی نہیں ہے ‘ اس لئے کہ گئی کہ اس صالح بندے اور ان کی والدہ کو جو لوگ الہ تصور کرتے تھے ‘ ان کا یہ پورا موقف اچھی طرح واضح ہوجائے اور وہ خوب شرمندہ ہو۔ یہ اس قدر عظیم جسارت ہے کہ کوئی عام اور معقول انسان اس قسم کا کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ خود الہ ہے ۔ جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ بندہ ہے ۔ ایک رسول اس قسم کا دعوی کب کرسکتا ہے اور پھر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک رسول ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا رسول ۔ حالانکہ اللہ نے رسالت سے پہلے اور رسالت کے بعد اسے معجزات اور مقامات عطا کئے تھے اور ان پر عظیم انعامات کئے تھے اور اعزاز بخشے تھے ۔ ایسے رسول کب ایسا دعوی کرسکتے ہیں ۔ ایک صالح اور راہ راست پر گامزن رسول ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت کی طرف سے نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ عاجزانہ جواب آتا ہے ۔ نہایت ہی حمد وثنا کے ساتھ (آیت) ” سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِیْ أَنْ أَقُولَ مَا لَیْْسَ لِیْ بِحَقٍّ (5 : 116) ” سبحان اللہ ‘ میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا ۔ “ اس طرح حضرت جلدی سے جواب دے دیتے ہیں کہ میں نے مطلقا یہ بات نہیں کہی ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی برات پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں اور اپنی عاجزی دکھاتے ہوئے اللہ کے خصائص الوہیت اور بندے کے شایان عبودیت کے افعال بتاتے ہیں ۔ (آیت) ” إِن کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (116) ” اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ‘ آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں “۔ اس قدر تسبیح اور پاکی بیان کرنے کے بعد اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ جرات کرتے ہیں کہ وہ کوئی مثبت بات کریں اور یہ کہیں کہ انہوں نے ہر گز نہیں ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔ بلکہ انہوں نے تو یہ کہا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور تم بھی سب صرف اللہ ہی کی بندگی کرو۔ (آیت) ” مَا قُلْتُ لَہُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِیْ بِہِ أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ (5 : 117) ” میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ‘ یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ “ اور آپ (علیہ السلام) یہ فرماتے ہیں کہ میں تو ان پر نگران صرف اس وقت تک کے لئے تھا جب میں ان کے سامنے تھا ۔ لیکن اپنی وفات کے بعد میں نگران نہ تھا ۔ قرآن کی ظاہری آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وفات دی اور پھر اپنی طرف اٹھا لیا جب کہ بعض آثار میں یہ آتا ہے کہ آپ اللہ کے ہاں زندہ ہیں ۔ میرے خیال میں دونوں قسم کے نصوص میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ زمین کی زندگی سے ان کا قطع تعلق ہوگیا ہو اور انہیں اٹھا لیا گیا ہو اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں زندہ حالت میں اٹھا لیا گیا ہو کیونکہ شہداء بھی تو اللہ کے ہاں زندہ ہوتے ہیں اگرچہ دنیا سے ان کی زندگی کٹ جاتی ہے اگرچہ شہداء کی زندگی کی نوعیت کا ہمیں تفصیلی علم نہیں ہے ۔ یہی صورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میری وفات کے بعد مجھے علم نہ تھا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟ (آیت) ” وَکُنتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ وَأَنتَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ شَہِیْدٌ(117) ” میں اسی وقت تک ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا ۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگران تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگران ہیں ۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیتے ہیں کہ آپ چاہیں تو سزا دیں اور اگر آپ ان کو بخش دیں تو بھی آپ قادر مطلق ہیں ۔ بہرحال وہ ہیں تیرے ہی بندے اور آپ ہی جانتے ہیں کہ ان کے لئے سزا مقرر ہے یا مغفرت ۔ (آیت) ” إِن تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِن تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (118) ” اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کردیں تو آپ غالب اور دانا ہیں ۔ “ ذرا ملاحظہ تو کیجئے کہ اللہ کے یہ صالح اور مقرب بندے بارگاہ الوہیت میں کس قدر خوفزدہ ہیں اور ان لوگوں کی جرات کو دیکھئے جنہوں نے یہ افتراء باندھا ‘ جس سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) صاف صاف برات کا اظہار کرتے ہیں اور ان لوگوں کی اس افتراء کی وجہ سے یہ بندہ اللہ کے سامنے اس طرح گڑ گڑاتے ہوئے کلام کرتا ہے ۔ ان لوگوں کے موقف کو دیکھئے اور اس عظیم دربار کو دیکھئے ۔ اس دربار میں اپنے اس غلط موقف کی وجہ سے اس قدر ذلیل و حقیر نظر آتے ہیں کہ اس پورے مکالمے میں ان کے ساتھ کوئی بات نہیں کی جاتی اور نہ ان کی طرف کوئی التفات کیا جاتا ہے ۔ شاید اس منظر میں شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے یہ لوگ پسینہ پسینہ ہوگئے ہوں گے ۔ جس طرح اللہ نے انہیں نظر انداز کیا ہم بھی انہیں اسی طرح چھوڑتے ہیں اور آئیے ذرا اس دربار کے آخری منظر کو دیکھیں ۔

المائدة 5:118

(آیت) ” نمبر 116 تا 118۔ اللہ تعالیٰ تو خوب جانتے تھے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) لوگوں کے سامنے کن عقائد کی تبلیغ کرتے رہے ہیں ۔ لیکن اس خوفناک دن میں یہ عظیم جواب طلبی اور پھر ایسے شخص سے جو ذمہ دار بھی نہیں ہے ‘ اس لئے کہ گئی کہ اس صالح بندے اور ان کی والدہ کو جو لوگ الہ تصور کرتے تھے ‘ ان کا یہ پورا موقف اچھی طرح واضح ہوجائے اور وہ خوب شرمندہ ہو۔ یہ اس قدر عظیم جسارت ہے کہ کوئی عام اور معقول انسان اس قسم کا کوئی دعوی نہیں کرسکتا کہ وہ خود الہ ہے ۔ جبکہ وہ جانتا ہو کہ وہ بندہ ہے ۔ ایک رسول اس قسم کا دعوی کب کرسکتا ہے اور پھر اولوالعزم رسولوں میں سے ایک رسول ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا رسول ۔ حالانکہ اللہ نے رسالت سے پہلے اور رسالت کے بعد اسے معجزات اور مقامات عطا کئے تھے اور ان پر عظیم انعامات کئے تھے اور اعزاز بخشے تھے ۔ ایسے رسول کب ایسا دعوی کرسکتے ہیں ۔ ایک صالح اور راہ راست پر گامزن رسول ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت کی طرف سے نہایت ہی خشوع و خضوع کے ساتھ عاجزانہ جواب آتا ہے ۔ نہایت ہی حمد وثنا کے ساتھ (آیت) ” سُبْحَانَکَ مَا یَکُونُ لِیْ أَنْ أَقُولَ مَا لَیْْسَ لِیْ بِحَقٍّ (5 : 116) ” سبحان اللہ ‘ میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا ۔ “ اس طرح حضرت جلدی سے جواب دے دیتے ہیں کہ میں نے مطلقا یہ بات نہیں کہی ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی برات پر اللہ کو گواہ ٹھہراتے ہیں اور اپنی عاجزی دکھاتے ہوئے اللہ کے خصائص الوہیت اور بندے کے شایان عبودیت کے افعال بتاتے ہیں ۔ (آیت) ” إِن کُنتُ قُلْتُہُ فَقَدْ عَلِمْتَہُ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلاَ أَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ إِنَّکَ أَنتَ عَلاَّمُ الْغُیُوبِ (116) ” اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ‘ آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں “۔ اس قدر تسبیح اور پاکی بیان کرنے کے بعد اب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہ جرات کرتے ہیں کہ وہ کوئی مثبت بات کریں اور یہ کہیں کہ انہوں نے ہر گز نہیں ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے ۔ بلکہ انہوں نے تو یہ کہا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور تم بھی سب صرف اللہ ہی کی بندگی کرو۔ (آیت) ” مَا قُلْتُ لَہُمْ إِلاَّ مَا أَمَرْتَنِیْ بِہِ أَنِ اعْبُدُواْ اللّہَ رَبِّیْ وَرَبَّکُمْ (5 : 117) ” میں نے ان سے اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ‘ یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔ “ اور آپ (علیہ السلام) یہ فرماتے ہیں کہ میں تو ان پر نگران صرف اس وقت تک کے لئے تھا جب میں ان کے سامنے تھا ۔ لیکن اپنی وفات کے بعد میں نگران نہ تھا ۔ قرآن کی ظاہری آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وفات دی اور پھر اپنی طرف اٹھا لیا جب کہ بعض آثار میں یہ آتا ہے کہ آپ اللہ کے ہاں زندہ ہیں ۔ میرے خیال میں دونوں قسم کے نصوص میں کوئی تعارض نہیں ہے ۔ یہ بھی درست ہے کہ زمین کی زندگی سے ان کا قطع تعلق ہوگیا ہو اور انہیں اٹھا لیا گیا ہو اور یہ بھی درست ہے کہ انہیں زندہ حالت میں اٹھا لیا گیا ہو کیونکہ شہداء بھی تو اللہ کے ہاں زندہ ہوتے ہیں اگرچہ دنیا سے ان کی زندگی کٹ جاتی ہے اگرچہ شہداء کی زندگی کی نوعیت کا ہمیں تفصیلی علم نہیں ہے ۔ یہی صورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ میری وفات کے بعد مجھے علم نہ تھا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں ؟ (آیت) ” وَکُنتُ عَلَیْْہِمْ شَہِیْداً مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْْتَنِیْ کُنتَ أَنتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْْہِمْ وَأَنتَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ شَہِیْدٌ(117) ” میں اسی وقت تک ان کا نگران تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا ۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگران تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگران ہیں ۔ “ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیتے ہیں کہ آپ چاہیں تو سزا دیں اور اگر آپ ان کو بخش دیں تو بھی آپ قادر مطلق ہیں ۔ بہرحال وہ ہیں تیرے ہی بندے اور آپ ہی جانتے ہیں کہ ان کے لئے سزا مقرر ہے یا مغفرت ۔ (آیت) ” إِن تُعَذِّبْہُمْ فَإِنَّہُمْ عِبَادُکَ وَإِن تَغْفِرْ لَہُمْ فَإِنَّکَ أَنتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (118) ” اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کردیں تو آپ غالب اور دانا ہیں ۔ “ ذرا ملاحظہ تو کیجئے کہ اللہ کے یہ صالح اور مقرب بندے بارگاہ الوہیت میں کس قدر خوفزدہ ہیں اور ان لوگوں کی جرات کو دیکھئے جنہوں نے یہ افتراء باندھا ‘ جس سے حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) صاف صاف برات کا اظہار کرتے ہیں اور ان لوگوں کی اس افتراء کی وجہ سے یہ بندہ اللہ کے سامنے اس طرح گڑ گڑاتے ہوئے کلام کرتا ہے ۔ ان لوگوں کے موقف کو دیکھئے اور اس عظیم دربار کو دیکھئے ۔ اس دربار میں اپنے اس غلط موقف کی وجہ سے اس قدر ذلیل و حقیر نظر آتے ہیں کہ اس پورے مکالمے میں ان کے ساتھ کوئی بات نہیں کی جاتی اور نہ ان کی طرف کوئی التفات کیا جاتا ہے ۔ شاید اس منظر میں شرمندگی اور ندامت کی وجہ سے یہ لوگ پسینہ پسینہ ہوگئے ہوں گے ۔ جس طرح اللہ نے انہیں نظر انداز کیا ہم بھی انہیں اسی طرح چھوڑتے ہیں اور آئیے ذرا اس دربار کے آخری منظر کو دیکھیں ۔

المائدة 5:119

(آیت) ” نمبر 119۔ ” یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دیتی ہے “ یہ اللہ کی بات ہے اور جھوٹوں کی اس شرمندگی پر یہ خوب تصرہ ہے ۔ انہوں نے یہ افتراء باندھا اور یہ افتراء بھی اولوا لعزم رسولوں میں ایک معزز رسول پر باندھا ۔ اور مسئلہ الوہیت اور بندگی میں یہ افتراء باندھا جس کی اساس پر یہ پوری کائنات قائم ہے اور جس کی اساس پر دنیا میں سچائی قائم ہے اور تمام مخلوقات قائم ہے ۔ ” یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کیلئے ان کی سچائی مفید ہوگی ۔ “ اس عظیم منظر اور شاہی دربار کے سوال و جواب کے آخر میں یہ رب العالمین کا فیصلہ ہے ۔ تمام جہان کے لوگوں کی موجودگی میں اس منظر کے مکالے کے یہ آخری الفاظ ہیں اور کس قدر فیصلہ کن الفاظ ہیں اور اس کے بعد پھر سچوں کے انجام کی ایک جھلکی بھی دکھائی دیتی ہے ۔ (آیت) ” لَہُمْ جَنَّاتٌ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہَا الأَنْہَارُ خَالِدِیْنَ فِیْہَا أَبَداً رَّضِیَ اللّہُ عَنْہُمْ وَرَضُواْ عَنْہُ ذَلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (119) ” ان کے لئے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ‘ یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ‘ اللہ ان سے راضی ہو اور وہ اللہ سے ‘ یہی بڑی کامیابی ہے ۔ “ درجوں کے بعد بلند درجے ‘ پھر ان میں دائمی زندگی اور پھر اللہ کی رضا مندی یقینا یہ بڑی کامیابی ۔ “ ہم نے یہ منظر دیکھا اور یہ منظر قرآن کریم نے اپنے مخصوص انداز اور اسلوب میں پیش کیا ۔ اس منظر کا آخری مکالمہ بھی ہم نے سنا ۔ ہم نے گویا اس منظر دیکھا اپنی آنکھوں کے ساتھ اور سنا اپنے کانوں کے ساتھ۔ قرآن کریم کے انداز تصویر کشی کے مطابق بات کا طریقہ یہ نہیں اختیار کیا جاتا ہے کہ ایسا ہوگا بلکہ عملا منظر پیش کردیا جاتا ہے ۔ انسان کو اس منظر موعودہ کا انتظار نہیں کرنا پڑتا ۔ قرآن کریم محض خشک عبارت ہی پیش نہیں کرتا جسے صرف پڑھا جائے بلکہ وہ متحرک اور مجسم اور شخص مناظر پیش کرتا ہے جس میں انسان چلتے پھرتے نظر آتے ہیں اور مکالمے ہوتے ہوئے اس طرح نظر آتے ہیں جس طرح اسکرین پر ۔ ہماری سوچ اور ہمارے تصور کے مطابق تو یہ ایک منظر ہوگا جو واقع ہوگا ‘ البتہ اللہ کے علم کے مطابق تو وہ وہ چکا اس لئے کہ اللہ کا علم زمان ومکان کے حدود وقیود سے آزاد ہے ۔ زمان ومکان کا تصور تو انسان کے محدود علم کے لئے ہے ۔ ہمارا علم محدود اور فانی ہے ۔ اس سبق کے آخر میں اور اس عظیم افتراء کے بیان کے خاتمے پر جس سے بڑا افتراء کسی رسول کے کسی پیروکار نے نہیں باندھا ۔ حضرت مسیح کے پیروکاروں کی اس عظیم غلط فہمی کے بیان کے آخر میں جس میں انہوں نے اس افتراء سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور ان افتراء پر دازی کرنے والوں کا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا ۔ اس کے بارے میں اس سوال و جواب اور اس سوال و جواب کے لئے قائم کئے گئے اس عظیم دربار کے خاتمے پر اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس قسم کے افتراؤں سے پاک ہے اور زمین وآسمانوں پر صرف اسی کی حکومت اور اس کی حکومت بےحد وبے قید ہے ۔

المائدة 5:120

(آیت) ” 120۔ یہ ایک ایسا اختتامی تبصرہ ہے جو اس عظیم مسئلے کی بحث کے خاتمے کے لئے موزوں اور مناسب ہے ۔ نیز اس عظیم منظر سے جو تاثر ملتا ہے اس کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے ۔ یہاں اللہ وحدہ الہ ہے اور وہی قادر مطلق ہے ۔ اس کے سامنے تمام رسول سرتسلیم خم کرتے ہیں اور سب رسول آخری فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں اس میں حضرت عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) بھی اپنا فیصلہ اللہ کے سپرد کرتے ہیں ۔ جس کے ہاتھ میں زمین وآسماں کی حکومت ہے ۔ اور یہ آخری تبصرہ اس پوری سورت کے مضمون کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سورة کا مرکزی موضوع ” الدین “ ہے اور دین اور دینداری کا اظہار اللہ کی شریعت کی اطاعت میں ہوتا ہے ۔ صرف اللہ کے قوانین و ضوابط اخذ کرنا اور صرف اسی کے مطابق فیصلے کرنا اس لئے کہ وہی بادشاہ ہے جس کے سوا کوئی بادشاہ نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کے درمیان جس قدر چیزیں بھی ہیں وہ اس کی مملوک ہیں اور یہ مالک اور بادشاہ یہ آرڈنینس جاری فرماتا ہے ۔ (آیت) ” ومن لم یحکم بما انز اللہ فاولئک ھم الکافرون “ ” اور جو شخص اس قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتا جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہ کافر ہے ۔ “ یہی ایک مسئلہ ہے اور یہ اللہ کی حاکمیت کا مسئلہ ہے ۔ یہ عقیدہ توحید کا مسئلہ ہے ۔ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کا مسئلہ ہے ‘ جس کے بعد ہی مکمل توحید وجود میں آتی ہے اور صرف اللہ الہ وحاکم قرار پاتا ہے ۔