Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الأنعام 6:1 – الأنعام 6:37

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الأنعام 6:1
  2. الأنعام 6:2
  3. الأنعام 6:3
  4. الأنعام 6:4
  5. الأنعام 6:5
  6. الأنعام 6:6
  7. الأنعام 6:7
  8. الأنعام 6:8
  9. الأنعام 6:9
  10. الأنعام 6:10
  11. الأنعام 6:11
  12. الأنعام 6:12
  13. الأنعام 6:13
  14. الأنعام 6:14
  15. الأنعام 6:15
  16. الأنعام 6:16
  17. الأنعام 6:17
  18. الأنعام 6:18
  19. الأنعام 6:19
  20. الأنعام 6:20
  21. الأنعام 6:21
  22. الأنعام 6:22
  23. الأنعام 6:23
  24. الأنعام 6:24
  25. الأنعام 6:25
  26. الأنعام 6:26
  27. الأنعام 6:27
  28. الأنعام 6:28
  29. الأنعام 6:29
  30. الأنعام 6:30
  31. الأنعام 6:31
  32. الأنعام 6:32
  33. الأنعام 6:33
  34. الأنعام 6:34
  35. الأنعام 6:35
  36. الأنعام 6:36
  37. الأنعام 6:37

الأنعام 6:1

نیز ہمیں اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ جب طرح یہ دین اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ رسول نازل کیا گیا اسی طرح اس کا طریق کار بھی اللہ تعالیٰ نے سنت رسول کے ذریعے مقرر فرما دیا ۔ یہ مسنون طریق کار ہی اس دین کے مزاج کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اس دین اور اس کے فطری طریق کار کو علیحدہ نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہمارے پیش نظر رہے کہ جس طرح اسلام نظریاتی اصلاح کے ذریعہ انسان کے کردار میں اصلاح اور تبدیلی چاہتا ہے بعینہ اسی طرح وہ اس طریق کار کو بھی بدل دینا چاہتا ہے جس کے مطابق فکری اور نظریاتی اصلاح درکار ہے ۔ مثلا یہ کہ وہ محض فکری تعمیر ‘ فلسفیانہ طور پر نہیں چاہتا بلکہ وہ فکری اصلاح اور راہنمائی کے ساتھ ساتھ ایک تحریک بھی برپا کرنا چاہتا ہے ‘ تاکہ ایک ایسی امت (GreAt NAtion) کی تعمیر ہو جس کے طرز فکر میں اعتقادی تصورات اور ایک زندہ وفعال معاشرے کا وجود ساتھ ساتھ موجود ہوں۔ غرض اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اس کے طرز فکر ‘ اور اس فکر کے مطابق اساسی تصورات اور ان تصورات کے مطابق وجود میں آنے والے معاشرے کے درمیان ایسی کوئی حد فاصل نہیں ہے کہ جب ایک پر کام ہو رہا ہو تو دوسرے کو ہاتھ نہ لگایا جائے ‘ احیائے دین کے اسلامی طریق کار کے مطابق سب پر بیک وقت کام ہوگا ۔ اس طریق کار کی اہمیت : احیائے دین کے اس طریق کار کو سمجھ لینے کے بعد ہمیں اس بات کو اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ یہ طریق نہایت اہم اور نہایت بنیادی ہے ۔ یہ کسی خاص مرحلے کسی خاص خاندان اور کسی خاص معاشرے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ ہی یہ طریق پہلی تحریک اسلامی کے ظروف واحوال کے ساتھ مخصوص تھا ۔ یہ ایسا طریق کار ہے جس کو اختیار کیے بغیراحیائے دین کا کام کسی جگہ اور کسی زمانے میں بھی نہیں ہو سکتا ۔ اسلام کے پیش نظر صرف یہ نہ تھا کہ لوگوں کے کچھ عقائد میں تبدیلی کرکے اور معاشرتی حالات میں کچھ اصلاحات کر کے بیٹھ جائے ۔ وہ لوگوں کے فکر ونظر میں ہمہ گیر تبدیلی چاہتا تھا اور یہی وہ مہم تھی جس کا بیڑا اس نے اٹھایا ۔ اس نے انہیں نظریہ بھی دیا اور واقعیت بھی دی اور اس کے لئے ایک خاص طریق کار بھی دیا اور چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ طریق کار ہے اس لئے وہ اپنے مزاج کے اعتبار ہی سے انسانوں کے وضع کردہ ناقص طریق ہائے کار سے سراسر مختلف ہے ۔ اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام زندگی کا حصول اس وقت تک ناممکن ہے جب تک ہم اپنے اندر اسلامی طرز فکر (IslAmic WAy of Thinking) پیدا نہ کرلیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی طرز فکر پر لوگوں کے افطار و تصورات کی تعمیر کی اور ان کے تمام عقائد درست ہوگئے اور ان کی عملی زندگی کی تشکیل اور تعمیر بھی صحیح خطوط پر ہوئی ۔ جدید افکار سے متاثر ہو کر جب ہم اسلامی نظریہ حیات کو محض تعلیمی اور تدریسی نظریہ بنا دیں گے تو وہ اپنا مخصوص مزاج کھو دے گا اور ہم اس ذہنی شکست کا شکار ہوں گے کہ گویا اسلامی طریق کار اور الہی نقطہ نظرانسانی نظریوں اور نظاموں سے فروتر ہے یا یہ کہ وہ ان سے ناقص ہے اور ہم یہ تبدیلی کرکے اس کے نقص کو دور کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ انسانی طریق کار اور معیار کے مطابق ہوجائے ۔۔۔۔۔۔ یہ ایک عظیم شکست ہوگی اور تباہ کن بھی ۔ اسلامی نظام حیات کی خصوصیت یہ ہو کہ وہ تحریک اسلامی کے کارکنوں کو ایک خاص طرز فکر عطا کرے اور انہیں جاہلی طرز فکر کے بندھنوں سے آزاد کردے ‘ جو اس وقت ہر طرف چھائے ہوئے ہیں اور جن سے ہماری تنظیمیں اور ہماری پوری ثقافت متاثر ہے ۔ اگر ہم اسلامی نظام حیات کو اسی نقطہ نظر سے دیکھیں ‘ جو کسی دنیاوی جاہلی نظام کے بارے میں رکھا جاتا ہے تو یہ اسلامی نظام حیات کے مزاج کے سراسر خلاف ہوگا اس طرح اس دین کا وہ اصلی مقصد ہی فوت ہوجائے گا جو مقصد وہ فلاح انسانیت کے سلسلے میں پیش نظررکھتا ہے ۔ اس نقطہ نظر کو اختیار کرنے کے بعد ہمارے لئے یہ بےحد مشکل ہوگا کہ ہم جاہلی نظام حیات سے نجات پاسکیں ۔ جب کہ یہ نظام اس وقت ہر طرف سے غلبہ پارہا ہے ۔ اس طرح ہم ایک زریں موقع کھو دیں گے اور ہماری اجتماعی زندگی جاہلی نظریات اور غیر اسلامی افکار کے نیچے دب جائے گی اور اس کے نتائج دور رس اور تباہ کن ہوں گے ۔ نقطہ نظرکا توازن : تحریک احیائے اسلام میں طرز فکر اور طریق کار تصور حیات اور نظام حیات کے در میان اہمیت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے ۔ طرز فکر اور طریق کار ‘ کسی وقت بھی مفصل نظام حیات اور تصور حیات سے منفصل نہیں ہو سکتے اور اس تصور حیات اور نظام حیات کو اگر محض تعبیری شکل میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتیجے میں قطعا کوئی تحریک وجود میں نہ آئے گی اور اسلامی نظریہ حیات محض ذہنی نظریہ بن کر رہ جائے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اگر ہم اسلام کے تصور حیات کو پیش کرنے کے لئے محض تعبیری طریق کو اختیار بھی کرلیں تو پھر بھی اس سے وہی لوگ مستفید ہو سکیں گے جو عملا اس تحریک کو اپنائے ہوئے ہوں اور یہ بھی اس صورت میں کہ جس منزل پر یہ کارکن ہوں اس میں وہ اسلامی نظام حیات کے احکامات پر پوری طرح عمل پیرا ہوں ۔ یعنی اس نظریہ حیات سے استفادہ مقدار عمل کے مطابق اٹھایا جاسکتا ہے ‘ مقدار علم کے مطابق نہیں ۔ غرض میری ان معروضات کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلامی تصور حیات فی الفور ایک تحریک کی شکل میں ظاہر ہونا چاہئے اور یہ تحریک اس تصور حیات کی صحیح تمثیل اور ترجمہ ہو ۔ یہی اسلامی نظام حیات کے قیام کا فطری طریق کار ہے اور تمام دوسرے طریقوں سے اعلی ارفع اور ٹھوس بھی ہے ۔ انسانی فطرت کے ساتھ زیادہ مطابق بھی ہے اور اس میں زیادہ تحریکیت اور فعالیت پائی جاتی ہے ۔ محض جامد شکل میں ایک مستقل اور مکمل نظریہ حیات پیش کردینے سے یہ طریق کار زیادہ مفید ہے کیونکہ اس میں فعال اور متحرک لوگوں کے سامنے لائحہ عمل پیش ہوتا ہے اور غیر متحرک لوگوں سے واسطہ نہیں پڑتا بلکہ لوگ ذہنی تصورات اور نظریہ حیات کی جیتی جاگتی تصور ہوتے ہیں ۔ تحریک اسلامی اور علمی تحقیقات : اگر یہ رائے اصل اسلامی نظریہ حیات کے بارے میں درست ہے تو اسے اسلامی نظریہ حیات کے اساسی تصورات کے بارے میں بھی درست ہونا چاہئے ۔ نیز اسلامی نظام حیات کے مفصل قوانین پیش کرنے کے مسئلے میں بھی یہی طریق کار ‘ یعنی تدوین ونفاذ کا اتحاد ہی درست ہونا چاہئے ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہمارے اردگرد جاہلیت کا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے ۔ وہ تحریک اسلامی کے کارکنوں پر اثر انداز ہو رہی ہے ۔ جوں جوں وہ احیائے دین کے لئے اسلامی نظام حیات کے مقررہ طریق کار کے مطابق قدم آگے بڑھاتے ہیں وہ ان سے بڑے معصوم لہجے میں سوال کرتی ہے کہ جس نظام حیات کی طرف تم لوگوں کو بلا رہے ہو اس کی تفصیلات کیا ہیں ۔ اس کے نفاذ کے لئے تم نے کیا کیا علمی تحقیقات کی ہیں ‘ اس کی علمی اور نظری بنیادی کہاں تک تیار ہوچکی ہیں اور جدید خطوط پر اسلامی فقہ کی تدوین کہاں تک ہوگئی ہے ؟ ان معصومانہ سوالات کو سن کر یہ محسوس ہوتا ہے کہ گویا اسلامی نظام حیات کے نفاذ کی راہ میں ‘ اب صرف یہی رکاوٹیں حائل ہیں کہ صرف فقہی احکامات کی تدوین اور بعض فقہی موضوعات پر تحقیق کی ضرورت پوری ہوجائے ۔ رہی جاہلیت تو وہ تو اللہ کی حاکمیت کے سامنے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے اور تمام لوگ اس کے لئے آمادہ ہوچکے ہیں کہ اسلامی قوانین کو نافذ کیا جائے ، مشکل صرف یہ درپیش ہے کہ کوئی ایسا فقیہ مجتہد اور مفنن نہیں مل رہاجو جدید قانونی خطوط پر اسلامی شریعت کو مدون کرسکے ۔ یہ دراصل ایک گہری سازش اور ایک کھلا مزاح ہے جو شریعت اسلامیہ کے ساتھ کیا جارہا ہے اور ہر حساس دل کو اس کی طرف خاطر خواہ توجہ دینا چاہئے ۔ جاہلیت کے پیروکار ایسے سوالات اٹھا کر ‘ دراصل شریعت اسلامی کے نفاذ سے پہلو تہی کرنا چاہتے ہیں ۔ انکا ایک مقصد تو یہ ہے کہ مسلمانوں کو بدستور غیر اسلامی اور انسانی قوانین کے تابع رکھا جائے ، دوسرا مقصد یہ ہے کہ تحریک اسلامی کو اقامت دین کے اسلامی طریق کار سے ہٹا دیا جائے ‘ تعمیر افکار اور احیائے تحریک کے ضروری مرحلے کو نظر انداز کردیاجائے اور اس سے پہلے ہی قانون کی تدوین شروع کردی جائے ‘ حالانکہ اقامت دین کا صحیح طریق کار یہ ہے کہ سب سے پہلے اسلامی نظریہ حیات تحریک اسلامی کی فعال شکل میں ظہور پذیر ہو اور اقامت دین کا جو مرحلہ درپیش ہو اس کی حقیقی ضرورت کے مطابق ہی تفصیلی قوانین کو سامنے لایا جائے اور تدوین قانون اس وقت ہو جب اس کی ضرورت درپیش ہو ۔ تحریک اسلامی کے کارکنوں کا یہ فرض اولین ہے کہ وہ اسی طریق کار کو پیش نظر رکھیں ۔ سازشوں اور فوجی انقلابات کے طریق کار سے باز رہیں اور اس اسلامی طریق کار کے مقابلے میں اپنی طرف سے کوئی طریق کار املاء نہ کرائیں جو لوگ سرے سے خدا اور رسول پر یقین ہی نہیں رکھتے ان کی باتوں پر توجہ نہ دیں ۔ یہ لوگ دراصل ہمارے تحریک اسلامی کے کارکنوں کو گمراہ کرکے جلد باز بنانا چاہتے ہیں ۔ ان کے مقابلے میں ہمیں بےحد سنجیدہ ہونا چاہئے ۔ اسلام پسند عناصر میں مختلف طریقوں سے جو تنگی دلی پھیلائی جارہی ہے اس کا مقابلہ بےحد ضروری ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس سازش کو بھی ناکام بنائیں اور اس پست ذہنیت کو نظر انداز کو دیں جو ” فقہ اسلامی کے ارتکائ “ کے نام سے ایک ایسے ملک میں پھیلائی جارہی ہے جو سرے سے شریعت کی اطاعت اور نفاذ کا قائل ہی نہیں ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اس بےفائدہ مزاح کو نظر انداز کرتے ہوئے صحیح اسلامی طریق کار کے مطابق اپنے حقیقی نصب العین کی طرف متوجہ ہوجائیں ۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہوا میں تخم ریزی کا فائدہ کچھ نہ ہوگا ۔ اسلام تحققات اور فقہی ارتقاء کا یہ خوش آئند کھیل دراصل ایک گہری سازش ہے اور ہمارا فرض یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں احیائے دین کے صحیح اور فطری طریق کار ہی پر ڈٹ جائیں ۔ اسی میں اس دین کی قوت کا راز مضمر ہے اور وہی ہمارے کارکنوں کی معنوی قوت کا مصدر ہے ۔ (اس وقت مصر میں پاکستان کے ادارہ ثقافت اسلامیہ اور مرکزی ادارہ تحقیقات اسلامی کی طرز پر کئی ادارے اسلام پر تحقیقا کر رہے ہیں ۔ یہ تحقیقات ایسی ہی ہیں جیسے کوئی مشاق فن ریگستانوں میں اثری اکتشافات میں مصروف ہوتا ہے ۔ سید قطب کا مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو اسلام کے احیاء سے کوئی سروکار ہے نہ وہ لوگ جو ان اداروں میں کام کرتے ہیں اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور انہ ان کی حکومتوں کا یہ مقصد ہوتا ہے کہ ان تحقیقات کو نافذ کیا جائے بلکہ محض علمی اور فنی عیاشی کے طور پر کام کیا جاتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی کوئی تدبیر اسلام کو مطلوب نہیں ہے ۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام کے ہر موضوع پر اٹھائے ہوئے جدید سوالات اور جدید حالات کی روشنی میں تحقیقات کی اشد ضرورت ہے ‘ خصوصا دفاعی تحقیقات ۔ نیز یہ بھی پیش نظر رہے کہ عربوں کے سامنے اسلامی نظام پہلی مرتبہ پیش ہوا اور ساتھ ساتھ بتدریج اس پر عمل بھی ہوتا رہا ہے ۔ لہذا قدرتی طور پر تعمیر افکار ‘ اس کا طریق کار اور تحریک اسلامی اور تشکیل نظام حیات کے ساتھ ساتھ ہی ہوتے رہے ۔ لیکن اب ہم جس صورت حال سے دوچار ہیں اس کے دو پہلو ہیں ۔ ایک طرف عوام الناس ہیں جو اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے آمادہ ہیں یا کم از کم اس کے مخالف نہیں ہیں کہ ان پر یہ نظام نافذ کیا جائے اور دوسری طرف ایک محدود اقلیت ہے جو اسلامی نظام کے نفاذ کی امکانیت کی قائل نہیں اور یہ اقلیت محض طاقت اور اقتدار کے بل بوتے پر اسلامی نظام حیات کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ‘ لہذا اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے بعینہ وہ طریق کار جس میں تمام لوگوں کو غیر مسلم فرض کرکے اختیار کیا جاتا ہے ‘ نہیں اپنایا جاسکتا ۔ ایک دوسرا فرق یہ بھی ہے کہ دور اول میں اسلامی قوانین کی تفصیلات پر وہ غیب میں مستور تھیں اور جاہلیت کے حامل صرف انہیں قوانین اور احکامات پر اعتراض کرسکتے تھے جو نازل ہوجاتے تھے ۔ لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسلامی نظام حیات مفصل طور پر قرآن وسنت میں موجود ہے ۔ اسلامی تاریخ مدون ہے اور جاہلیت کو یہ موقع مل رہا ہے کہ وہ اسلامی ثقافت کے بارے میں قسم قسم کے اعتراضات اٹھائے ۔ لہذا اسلامی نظام حیات کے احیاء کے ابتدائی طریق کار کے ہر مرحلے میں یہ ضروری ہوگا کہ جاہلیت کے اعتراضات کا دفعیہ کیا جائے اور اسلامی قوانین کے مختلف گوشوں کی وضاحت کی جائے ، نیز اس وقت ساری دنیا کو زندگی کے اساسی مسائل کا سامنا ہے اور مختلف نظام ہائے حیات کی باہمی آویزش میں صرف وہی نظام حیات کامیاب ہوسکتا ہے جو عالمی مسائل کا بہترین حل پیش کرتا ہو۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ تحریک اسلامی اس میدان میں بھی اسلامی نظام حیات کی برتری کو ذہن نشین کرائے ۔ اس طرح صحیح خطوط پر اسلامی تحقیقات کا کام بھی اشد ضروری ہوجاتا ہے ۔ ان حقائق کے پیش نظر سید قطب کا یہ فرمان کہ اسلامی قانون کی تفصیلات کو بالکل نہ چھیڑا جائے خالی از مبالغہ نہیں ہے) احیائے دین کا اسلامی طریق کار اور خود اسلامی نظام حیات آپس میں عین ہیں ۔ ان کے درمیان کوئی فرق اور جدائی نہیں ہے ۔ اس طریق کار کے سوا کوئی دوسرا طریق کار اسلامی نظام حیات کو جنم نہیں دے سکتا ۔ کسی دوسرے طریق کار کے نتیجے میں کوئی انسانی اور جاہلی نظام حیات ہی جنم لے سکتا ہے ۔ اسلامی نظام حیات کا احیاء اس کے مطابق ہر گز نہیں ہو سکتا ۔ غرض اس پوری بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ احیائے دین کی ہر تحریک اور ہر کوشش میں ‘ احیائے دین کے اسلامی طریق کار کا التزام ضرری ہے ۔ یہ میری آخری بات ہے اور مجھے یہ یقین ہے کہ اس طویل نوٹ کے ذریعے میں نے مکی سورتوں اور ان کے اندر طے کردہ منہاج کی پوری پوری وضاحت کردی ہے ۔ اب ان تمام قائدین کو چاہیے کہ وہ اپنی تحریکوں کے لئے اسلامی منہاج کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لیں اور جو اسلام کا کام کرنا چاہتے ہیں ۔ پھر اطمینان کرلیں اور امید رکھیں کہ وہ جس منہاج کو پا چکے ہیں وہ خیر اور بھلائی ہے اور یہ کہ وہی بلند ترین لوگ ہیں اور یہ کہ قرآن کریم جو راہ دکھاتا ہے وہ اقوام اور مضبوط ہے ۔ (آیت) ” ان ھذا القرآن یھدی للتی ھی اقوم) اب ہم کچھ بات اس سورة کے بارے میں کرتے ہیں ۔ ضلال القرآن میں یہ پہلی مکی سورة ہے جس پر ہمیں کلام کرنے کا موقعہ مل رہا ہے اور یہ سورة مکی قرآن اور مکی انداز کلام اور مضامین کی ایک مکمل تصویر ہے ‘ جس کے خصائص ‘ جس کے مزاج اور مضامین کے بارے میں ہم گزشتہ صفحات میں بیان کر آئے ہیں ۔ اس سورة میں قرآن کریم کے خصائص ‘ اس کے منہاج کلام ‘ اس کے موضوع اساسی ‘ اور طرز ادا کے زاوے سے ایک مثالی بحث موجود ہے ۔ اس عمومی اسلوب کو اپناتے ہوئے سورة کے اپنے مزاج کو بھی قائم رکھا گیا ہے ۔ جس طرح قرآن کریم کی تمام سورتوں کی یہ خصوصیت ہے کہ ان میں قرآن کریم کے عمومی اسلوب اور اخذ کے ساتھ ساتھ سورة کا ایک خاص مزاج اور اسلوب بھی قائم رکھا گیا ہے ۔ اور ہر سورة کا مخصوص ماحول دوسری سورتوں میں نہیں پایا جاتا ۔ چناچہ قرآن کریم کی ہر سورة کی اپنی ذاتی شخصیت بھی ہوتی ہے ‘ اس کا ایک علیحدہ محور ہوتا ہے ‘ ہر سورة کے مخصوص خدوخال ہوتے ہیں اور اس کا ایک بڑا موضوع ہوتا ہے جس کے گرد تمام مباحث گھومتے ہیں ۔ پھر اس موضوع کی مناسبت اور دوسرے اسباب جو ادائے مطلب کو نہایت ہی موثر بناتے ہیں ۔ مخصوص منظر کشی ‘ مخصوص سائے اور مخصوص فضا ہر سورة میں ممیز وممتاز نظر آتی ہے ۔ ہر سورة میں مخصوص اسلوب کے جملے بار بار تکرار کے ساتھ آتے ہیں ۔ موضوعات بعض اوقات ملتے جلتے بھی ہوتے ہیں ‘ سورة کی شخصیت کا تعین موضوع سے نہیں ہوتا بلکہ کچھ دوسرے خدوخال ہوتے ہیں جو اس سورة کی شخصیت کے لئے سیٹ کا کام دیتے ہیں جو اس سورة کے ساتھ خاص ہوتے ہیں اور دوسری سورتوں میں نہیں ہوتے ۔ رہی سورة زیر بحث تو اس کا ایک مرکزی موضوع ہے اور یہ موضوع ہر لمحہ ‘ ہر وقت ‘ ہر منظر میں نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ۔ ایسی خوبصورتی کے ساتھ جس کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا جائیں ۔ انسان انگشت بدنداں رہ جائے ار اس کی سانس رک جائے ، اس وقت جبکہ کوئی اس کے مناظر پر غور کرے ‘ اس کے زیروبم کو دیکھے اور اس کے اثرات کو محسوس کرے ۔ ہاں یہ ایک حقیقت بہت اہم ہے ‘ میں اپنے نفس کے اندر اس حقیقت کو پاتا ہوں ‘ جب بھی اس سورة کے سیاق کلام کے ساتھ چلتا ہوں ‘ اس کے مناظر کی سیر کرتا ہوں اور اس کے اثرات کو محسوس کرتا ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص بھی ایک حساس دل رکھتا ہے ‘ وہ ضرور ان احساسات میں سے کچھ نہ کچھ پائے گا جو میں محسوس کرتا ہوں ۔ یہ حقیقت ہے کہ اس سورة کی خوبصورتی انسان کو مبہوت کردیتی ہے اور دل و دماغ مسحور ہو کر اس کے ساتھ چلتے ہیں ۔ یہ سورة مجموعی لحاظ سے اللہ کی حاکمیت سے بحث کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کے دائرے میں بھی اور انسانی زندگی کے دائرے میں بھی ۔ انسانی نفس اور ضمیر کے دائرے میں بھی اور اس دکھائی دینے والی کائنات کے نامعلوں رازوں کے دائرے میں بھی ، نیز عالم الغیب کے نامعلوم رازوں کے دائرے میں بھی ۔ یہ سورة اس کائنات کی تخلیق اس کرہ ارض کے اوپر زندگی کی تخلیق ‘ پھر حیوانات کے اوپر انسان کی تخلیق کے باب میں تصور حاکمیت الہ کو پیش کرتی ہے ۔ پھر تاریخی زوایے سے یہ سورة گزرنے والوں کی باہمی کشمکش اور پھر ان کی جگہ لینے والوں کی جانشینی میں بھی حاکمیت الہیہ کے کچھ رنگ دکھاتی ہے غرض اس کائنات کے اوپر نظر ڈالتے ہوئے مظاہر فطرت پر اللہ کی حاکمیت ‘ دنیا میں رونما ہونے والے بڑے بڑے واقعات میں اللہ کی حاکمیت ‘ اور دنیا میں خوشحالی اور بدحالی میں اللہ کی حاکمیت اس سورة کا موضوع ہے ۔ قدرت الہیہ کے مختلف مظاہر ومشاہد میں اللہ حاکمیت ‘ انسانی زندگی کے اوپر اللہ کی ظاہری اور باطنی گرفت میں اللہ کی حاکمیت ‘ اس کرہ ارض پر رونما ہونے والے واقعات و حوادث میں اللہ کی حاکمیت اور سب سے آخر میں مشاہد قیامت اور لوگوں کے بارگاہ الہی میں کھڑے ہونے میں اللہ کی حاکمیت ۔ وہ موضوع جو اس سورة میں آغاز سے انتہا تک چلتا ہے وہ نظریے کا موضوع ہے ۔ اس موضوع کے تمام عناصر ترکیبی نظریاتی ہیں اور اس کے تمام پوشیدہ معانی بھی نظریاتی ہیں ۔ یہ سورة انسانی معاشروں کا ہاتھ پکڑتی ہے اور انہیں لے کر اس پوری کائنات کی سیر کراتی ہے ۔ یہ انہیں اس کائنات کے نظریاتی سرچشموں اور ان کے ظاہری اور خفیہ اشارات کی سیر کراتی ہے ۔ نفس انسانی کو لے کر یہ زمین وآسمانوں کی بادشاہت میں چلتی ہے ۔ جہاں یہ نفس عالم ظلمات اور عالم نور کی سیر کرتا ہے ‘ سورج چاند اور ستاروں کے جھرمٹ دیکھتا ہے ۔ یہ اس زمین کے باغات میں سیر کرتا ہے جس میں قسم قسم کے پھل ہیں ۔ ان پر بارشیں ہو رہی ہیں اور ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں ۔ پھر یہ سورة نفس انسانی کو ایسے معرکہ کار زار میں لا کر کھڑا کردیتی ہے جس میں گذشتہ اقوام مرتی مٹتی نظر آتی ہیں اور ان کے آثار قدیمہ نظر آتے ہیں ۔ پھر بحر وبر کے اندھیروں کی سیر کرائی جاتی ہے ۔ کچھ غیبی راز بتائے جاتے ہیں ۔ انسانی نفسیات کے راز آشکارا ہوتے ہیں ۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ زندہ مردے سے نکلتا ہے اور مردہ زندے سے نکلتا ہے ۔ ایک بیج ہے جو زمین کے پیٹ کی تاریکیوں میں پوشیدہ ایک نطفہ ہے جو رحم کے اندھیروں میں پرورش پارہا ہے ۔ پھر اس سورة کی اسکرین پر جن وانس کے غور آتے ہیں پھر پرندوں اور دوسرے وحوش کے گلے آتے ہیں ۔ پھر اولین اور آخرین آتے ہیں ۔ زندہ لوگ اور مرے ہوئے لوگ بھی نظر آتے ہیں اور رات ودن کے وقت محافظین الہی بھی نظر آتے ہیں ۔ یہ بیشمار کائناتی مشاہد ومناظر انسانی حس اور انسانی نفس پر ہر جانب سے حملہ آور ہوتے ہیں انسان بالکل ایک نیا ٹچ محسوس کرتا ہے ۔ نہایت ہی زندہ احساس نفس کے اندر پیدا ہوتا ہے اور یہ مناظر اور یہ معانی پردہ خیال پر زندہ دوڑتے نظرآتے ہیں ۔ حالت یہ ہوجاتی ہے کہ مکرر اور دیکھے ہوئے مناظر اور احساسات بھی بالکل نئے اور انوکھے نظر آتے ہیں ‘ بالکل جدید اور بالکل متحرک اور زندہ ۔ انسان محسوس کرتا ہے کہ یہ احساس اور یہ شعور بالکل پہلی مرتبہ حاصل ہوا ہے ۔ گویا اس سے قبل کوئی انسانی ضمیر اور شعور ان احساسات سے کبھی دوچار نہ ہوا تھا ۔ یہ سورة اپنے ان شاہدات ومواقف ‘ اپنے اشارات واثرات اور اپنی تصاویر وشیڈز کے ساتھ اس طرح جاری وساری ہے جس طرح کوئی دریا اپنی امواج کے ساتھ جاری وساری رہتا ہے ۔ ایک موج ساحل سے نہیں ٹکراتی کہ دوسری اٹھتی ہے ۔ امواج کے ان نشیب و فراز میں اس سورة کا دریا مسلسل آگے بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ۔ یہ سورة اپنی امواج کے اس مسلسل طلاطم کے ساتھ اور اپنی امواج کے باہم ٹکراؤ کے ساتھ اس قدر خوبصورت نظر آتی ہے کہ انسان محسور ہوجاتا ہے ۔ اس خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مضامین اور مفاہیم کو بھی نہایت ہی ہم آہنگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا گیا ہے اور اس قدر اثر انگیز طریقے سے مضامین پیش کئے گئے ہیں کہ انسان کے احساسات دنگ رہ جاتے ہیں ۔ نہایت ہی زندہ ‘ متحرک ہم آہنگ اور موثر صوتی اثرات والے الفاظ ہیں جو نفس انسانی پر ہر جہت اور ہر سمت سے اثرات والے الفاظ ہیں جو نفس انسانی پر ہر جہت اور ہر سمت سے اثر انداز ہو کر اسے مسحور کردیتے ہیں ۔ زندگی سے بھرپور فقرے ‘ موثر صوتی اور تصویری انداز تعبیر نفس انسانی کے ہر پہلو پر اپنے اثرات چھوڑتا ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم اس سورة میں وہ اثرات جو دل و دماغ پر مرتب ہوتے ہیں ‘ ان کا اظہار ہم اپنے الفاظ میں نہیں کرسکتے ۔ بہتر تو یہ ہے کہ پڑھنے والا اسے خود پڑھے اور خود براہ راست اس کے اثرات اور کرشمے محسوس کرے ۔ اس سورة کے ادبی اور اشاراتی اوصاف ہم اپنے انسانی الفاظ اور فقروں میں بیان ہی نہیں کرسکتے ۔ البتہ ہم ان لوگوں کو اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کے ذریعے ایک راہ دکھلاتے ہیں جنہوں نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے ۔ ان کی زندگی اور قرآن کے درمیان خلیج واقعہ ہوگئی ہے اور وہ قرآن کی فضا سے متضاد فضاؤں میں زندگی بسر کرتے ہیں ۔ قرآنی فضا میں زندگی گزارنے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ہم قرآن مجید کی تعلیم حاصل کریں ‘ اس کو قرات کے ساتھ پڑھیں اور اس کے علوم وفنون سے آگاہ ہوں اور اس کی ادبی خوبیاں ہمیں معلوم ہوں ۔ یہ قرآنی فضا نہیں ہے ۔ قرآن کی فضا میں زندگی گزارنے کے معنی ہمارے نزدیک یہ ہیں کہ انسانی ایسے حالات میں ‘ ایسی فضا میں ایسی کشمکش میں ‘ ایسی مشکلات میں اور ایسی اقدار میں زندگی بسر کرے جس طرح دور اول میں نزول قرآن کے وقت تھی ۔ اس طرح کہ گویا قرآن ابھی نازل ہو رہا ہے ۔ انسان اس جاہلیت کے بالمقابل زندگی بسر کرے جو اس وقت پورے کرہ ارض پر چھائی ہوئی ہے ۔ انسان اپنے دل میں اپنے ارادوں میں ‘ اپنی حرکات میں ‘ جاہلیت کا مقابلہ کر رہا ہو ‘ اپنے نفس اور لوگوں کے نفس کے اندر اسلام کو پید اکر رہا ہو ‘ اپنی زندگی میں اور لوگوں کی زندگیوں میں ‘ جاہلیت کا مقابلہ کرتے ہوئے از سر نو اسلام کو پیدا کر رہا ہو۔ وہ جاہلیت کے تمام تصورات ‘ جاہلیت کی تمام ترجیحات ‘ جاہلیت کی تمام رسومات اور جاہلیت کی تمام عملی صورت حال کا از سرنو مقابلہ کرے ۔ جاہلیت کے تمام پریشرز ‘ جاہلیت کی ہر قسم کی معرکہ آرائی ‘ ہر قسم کے مقابلے اور اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام حیات پر ہر قسم کے حملے کے سامنے صف آراء ہوجائے ۔ اسلامی نظام اور اسلامی نظریہ حیات کے تمام تقاضے پورے کرے ‘ اسلام کی راہ میں جہاد کرے اور اس پر مصر رہے ۔ یہ ہے قرآنی فضا کا مفہوم ۔ یہ ہے وہ قرآنی فضا جس میں رہنے کا تقاضا یہ قرآن کرتا ہے ‘ صرف اسی صورت میں کوئی صاحب ذوق فہم قرآن کو پاسکتا ہے ۔ اس لئے کہ ایسے ہی حالات میں یہ قرآن نازل ہوا ‘ ایسے ہی بحر مشکلات میں قرآن نے اپنا کام کیا جو مسلمان ایسی فضاؤں سے ناآشنا ہیں ۔ وہ قرآن سے محروم ہیں ۔ اگرچہ وہ اسلامی مدارس میں پڑھتے ہوں ‘ قاری ہوں اور قرآنی علوم وفنون کے ماہر ہوں ۔ قرآن کی دنیا میں داخل ہونے کے لئے مخلصین کے استعمال کے لئے ہم جو فہم قرآن کا پل تعمیر کر رہے ہیں ‘ اس کا فائدہ ان مخلصین کو تب ہی ہوگا کہ وہ اس پل کو عبور کر کے قرآن کی دنیا میں داخل ہوجائیں ‘ وہ اس جہاں اور منطقے کو چھوڑ کر ایک دوسرے علاقے میں داخل ہوجائیں ‘ اور اپنے عمل اور اپنی جدوجہد کے ذریعے وہ قرآن کی فضا میں داخل ہوجائیں ‘ اور یہ فضا وہ خود پیدا کریں ‘ صرف اس وقت ان کو قرآن کا ذائقہ محسوس ہوگا اور صرف اس وقت ہی وہ محسوس کریں گے کہ اللہ نے انہیں ایک نعمت سے نوازا ہے ۔ یہ سورة اسلامی نظریہ حیات سے بحث کرتی ہے ۔ اس کا موضوع اللہ کی الوہیت اور بندے کی بندگی ہے ۔ یہ سورة اللہ کے بندوں کے سامنے اللہ کا تعارف پیش کرتی ہے کہ اللہ کیا ہے ؟ اس کائنات کی اصلیت کیا ہے ؟ اس کی پشت پر کیا راز ہائے دروں ہیں ؟ یہ انسان کون ہیں ؟ انہیں کون وجود میں لایا ہے ؟ انہیں کس نے پیدا کیا ؟ انہیں رزق کون فراہم کرتا ہے ؟ ان کی کفالت کون کرتا ہے ؟ ان کے معاملات کی تدبیر کون کرتا ہے ؟ ان کے دلوں اور ان کے نقطہ نظر میں تبدیلی کون لاتا ہے ؟ ان کی تخلیق کا مقصد کیا ہے ؟ ان کی زندگی کو یہاں محدود کیوں رکھا گیا ہے ؟ ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ زندگی کیا ہے اور اس کی بوقلمونیاں کیا ہیں ؟ اس کرہ ارض پر اسے کس نے پھیلایا ؟ یہ پانی کیا ہے ؟ یہ چشمے ‘ یہ پھل اوپر نیچے ‘ یہ شہاب ثاقب ‘ یہ صبح کی نموداری ‘ یہ رات کی تاریکی ‘ یہ آسمانوں کی گردش ‘ ان کے پیچھے کون ہے ؟ اور ان کے پیچھے کیا راز ہیں ؟ کیا اطلاعات ہیں ؟ یہ اقوام ‘ یہ صدیاں ‘ یہ اقوام ہلاکت سے کیوں دوچار ہوتی ہیں ؟ اور پھر نئے لوگوں کو اوپر لا کر جس آزمائش میں ڈالا جاتا ہے ان کا انجام ‘ آزمائش اور جزاء وسزا کس طرح وقوع پذیر ہوتی ہے عمل اور مکافات عمل کا یہ کیا چکر ہے ؟ اس طرح یہ سورة قلب انسانی کو لے کر ان تمام ابعادوآفاق تک لے جاتی ہے اور ان تمام نشیب و فراز کی سیر کراتی ہے ۔ لیکن پوری سورة میں قرآن کریم کا مکی انداز برقرار ہے جس کے اسلوب کے بارے میں ہم گزشتہ صفحات میں بیان کر آئے ہیں ۔ مکی اسلوب کے ساتھ ساتھ پورے قرآن کا انداز کلام بھی اس سورة میں اپنے اعلی میعار پر ہے ۔ انداز بحث صرف نظریاتی نہیں ہے اور نہ ہی لاہوتی جدلیات پر مشتمل ہے کہ قارئین کے افکار اور ان کے ذہنوں کو مشغول کیے رکھے ‘ بلکہ سیدھے سادے انداز میں ‘ یہ سورة رب العالمین کا تعارف لوگوں سے کراتی ہے تاکہ اپنے سچے رب کی بندگی اور غلامی اختیار کریں ۔ ان کا ضمیر اور ان کی روح اللہ کی غلام ہوجائے ۔ ان کی جدوجہد اور انکی تمام مساعی اللہ کی تابعداری میں ہوں ‘ ان کے رسوم اور رواج اللہ کی اطاعت میں ہوں اور ان کی زندگی کی پوری عملی صورت حال اللہ وحدہ کی حاکمیت کے تحت ہو جس کے سوا زمین وآسماں کے اندر کسی کی حاکمیت نہیں ہے ۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ سورة اول سے آخر تک ایک متعین نصب العین کی طرف بڑھ رہی ہے ‘ یہ کہ اللہ ہی خالق ہے ‘ وہی مالک ہے ‘ وہی قدرتوں والا ہے اور وہی بادشاہ اور قہار ہے ۔ وہی پوشیدہ چیزوں اور غیب کا جاننے والا ہے ۔ وہ جس طرح رات اور دن کو گردش دے رہا ہے اسی طرح وہ دلوں اور دماگوں کا بھی پھیرنے والا ہے اس لئے اسی کو تمام لوگوں کی زندگیوں پر حاکم ہونا چاہئے اور لوگوں کی زندگیوں میں امر اور نہی کا اختیار صرف اسے ہونا چاہئے ۔ کوئی حکم کوئی قانون اس سے سوا نہ ہوگا ۔ حلال و حرام کے تعین کا اختیار بھی صرف اسی کو ہے ۔ اس لئے کہ یہ تمام امور اللہ کی الوہیت کے عناصر ترکیبی ہیں ۔ لہذا لوگوں کی زندگیوں میں ان کے بارے میں تصرف صرف اللہ کرسکتا ہے ۔ اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے ‘ نہ کوئی رازق ہے ‘ نہ زندہ کرنے والا ہے ‘ نہ مارنے والا ہے ‘ نہ نفع دینے والا ہے ‘ نہ نقصان دینے والا ہے نہ کوئی داتا ہے اور نہ کوئی مانع ہے ۔ غرض نہ اللہ کے سوا کوئی بھی کسی کے لئے یا اپنے نفع ونقصان کا مالک ہو سکتا ہے ‘ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں ۔ اس سورة میں اول سے آخر تک اس مقصد کے لئے دلائل و شواہد پیش کئے گئے ہیں اور یہ دلائل ان مشاہدات ‘ مؤثرات اور قدرتی مواقف کے ذریعے پیش کئے گئے ہیں جو اس کائنات میں موجود ہیں اور فکر ونظر کو مسحور کرنے والے ہیں ۔ ان مناظر فطرت کے اس مطالعے سے دل پر ہر طرف سے اشارات ومؤثرات ہر دروازے اور ہر پہلو سے ہوتے ہیں ۔ وہ سب سے بڑا مسئلہ جس پر یہ سورة زور دے رہی ہے ‘ وہ زمین وآسمانوں کے اندر اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کا مسئلہ ہے ۔ زمین و آسمان کے وسیع دائرے میں اور اس کائنات کے وسیع و عریض میدان میں تصور حاکمیت الہیہ کا مسئلہ ۔ یہ سورة اسی مسئلے کو پیش کرتی ہے لیکن اخلاقی انداز اور بات کی مناسبت یہ ہے کہ جاہلیت کے پیروکار بعض ذیبحوں اور بعض کھانوں کے معاملے میں حلال و حرام کے اختیارات اللہ کے سوا دوسروں کو دیتے تھے ۔ اسی طرح نذر بعض قربانیوں بعض پھلوں اور بعض بچوں کے سلسلے میں جاہلیت کے پرستار اللہ کے سوا دوسروں الہوں کو اختیارات دیتے تھے ۔ اس مناسبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کے اندر نظریہ حاکمیت الہیہ یہاں تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور اس مناسبت کی طرف سورة کی آخری آیات کے اندر اشارے کئے گئے ہیں ۔ (پھر اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو ‘ تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت کھاؤ ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالت اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے ان کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے ۔ بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں ‘ ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے ۔ تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی ۔ جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے ۔ اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت نہ کھاؤ ‘ ایسا کرنا فسق ہے ۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں ۔ لیکن اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو گے ۔ (6 : 118۔ 121) (اور ان لوگوں نے اللہ کے لئے خود اس کی پیدا کی ہوئی کھیتوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے ‘ اور کہتے ہیں یہ اللہ کیلئے ہے بزعم خود ‘ اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے ۔ پھر جو حصہ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے کیسے برے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ ۔ اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اولاد کے قتل کو خوشنما بنایا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے ‘ لہذا انہیں چھوڑ دو کہ یہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں ۔ کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ۔ انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراء کیا ہے ۔ عنقریب اللہ انہیں ان کی افتراء پر دازیوں کا بدلہ دے گا اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کیلئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ‘ لیکن اگر وہ مردہ ہوں تو دونوں اس کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا ۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔ یقینا خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت اور نادانی کی وجہ سے قتل کیا اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو اللہ پر افتراء پردازی کر کے حرام ٹھہرا لیا ۔ یقینا وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے ۔ (6 : 136۔ تا 140) امت مسلمہ کی زندگی میں یہ ایک عملی پہلو تھا ‘ جس کی مناسبت سے اس سورة میں اس عظیم مسئلہ کو لیا گیا ۔ اس دور میں امت مسلمہ کے ماحول پر بھی جاہلیت چھائی ہوئی تھی جس میں قانون سازی اور حلال و حرام کے تعین کے معاملے میں یہ شرکیہ عقائد موجود تھے ۔ ان کی اصلاح کے حوالے سے یہاں اللہ کی الوہیت ‘ اللہ کی حاکمیت اور تمام انسانوں کی بندگی اور عبودیت کے مسائل کو لیا گیا ۔ چناچہ جس طرح تمام مکی قرآن میں اس مسئلے کو لیا گیا ہے ‘ اسی طرح اس سورة میں بھی اس مسئلے کو بڑی تفصیل سے لیا گیا ہے ۔ مدنی آیات میں جہاں بھی حلال و حرام اور حق قانون سازی کا بیان آتا ہے وہاں بھی مسئلہ حاکمیت الہیہ کو لیا جاتا ہے ۔ اس سیاق کلام میں جن موثر ہدایات اور فیصلوں اور قرار دادوں کا سیلاب امنڈتا چلا آرہا ہے اور ان جانوروں ‘ نذروں اور ذبیحوں کے بارے میں اہل شرک کی جو تردید کی جارہی ہے ‘ اسی حوالے سے یہاں اللہ کے مسئلہ الوہیت اور اللہ کے حق قانون سازی کو بھی بیان کیا جا رہا ہے ۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ حلال و حرام کی اس قانون سازی کا تعلق اسلامی عقائد اور اسلامی نظریات کے ساتھ ہے ۔ وہ نظریہ اسلام کا نظریہ حاکمیت الہیہ اور انسانوں کی بندگی اور غلامی کا ہے اور یہ مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ‘ اسلام اور کفر اور اسلام اور جاہلیت کا مسئلہ ہے ۔ ہدایات کے اس سیلاب میں سے ہم یہاں اس سورة کے تعارف میں صرف چند نمونے پیش کریں گے لیکن ان کی مکمل تفصیلات اس وقت آئیں گی جب ہم اس سورة کی آیات پر تفصیلی بحث کریں گے ۔ لیکن اپنے اثرات کے اعتبار سے یہ سیلاب نفس انسان کے اندر اس دین کے مزاج کی حقیقی ماہیت بٹھا دیتا ہے ۔ وہ یہ کہ انسانی زندگی کا چھوٹا مسئلہ ہو یا بڑا ‘ ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ کے حق حاکمیت کے تحت حل ہونا چاہئے اور اللہ کی حاکمیت اسلامی شریعت کی صورت میں ریکارڈ شدہ ہے ۔ اگر اس طرح نہ ہوگا تو پھر یہ تصور ہوگا ۔ کہ ایسے لوگ یا معاشرہ دین سے خارج ہے ۔ ایک جزوی مسئلے یا معمولی مسئلے کی حد تک انسان دین سے نکل گیا ہے ۔ ہدایات کا یہ کثیر مجموعہ اس بات کا کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ یہ دین انسانی زندگی کے تمام مظاہر سے اور زندگی کے تمام معاملات میں سے انسانوں کی حاکمیت کو ختم کرتا ہے ۔ یہ معاملات اہم ہوں یا غیر اہم ‘ بڑے ہوں یا چھوٹے ‘ ان معاملات کو اس عظیم اصول کے دائرے کے اندر لاتا ہے ۔ یعنی یہ کہ اللہ کی الوہیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پورے کرہ ارض پر حاکم مطلق ہے اور وہ بلاشرکت غیرے اس کائنات کے اوپر متصرف ہے ۔ یہ اصول دین اسلام کے اندر پوری طرح ظاہر اور مجسم ہے ۔ اس سورة میں مویشیوں ‘ پھلوں ‘ نذر ونیاز اور اولاد کے بارے میں دور جاہلیت کی رسومات اور شعائر کے ذکر کے بعد مختلف قسم کے تبصرے بھی کئے گئے ہیں ‘ جن سے اس بات کا اظہار مطلوب ہے کہ یہ رسومات اور شعائر نہایت ہی احمقانہ ‘ نہایت ہی متضاد ہیں ۔ بعض میں یہ کہا گیا ہے کہ انسان کا یہ حق نہیں ہے کہ حلال و حرام کا تعین خود کرے بلکہ یہ کام تو ایک عظیم نظریاتی کام ہے اور حلال و حرام کے تعین میں اللہ کے احکام کی اطاعت ہی درست راستہ اور صحیح طرز عمل ہے ۔ اگر کوئی شخص حلال و حرام کے تعین میں اللہ کے احکام کی اطاعت نہیں کرتا تو وہ دین سے خارج ہے ‘ سابقہ آیات کے بعد ملاحظہ ہو ذرا طرز ادا اور پھر تبصرے : ” وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان اور نخلستان پیدا کئے ۔ کھیتیاں اگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں ‘ زیتون اور انار کے درخت پیدا کئے جن کے پھل صورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں ۔ کھاؤ اس کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو ‘ جب ان کی فصل کاٹو ‘ اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کئے جن سے سواری وبار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں ۔ کھاؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ یہ آٹھ نرو مادہ ہیں ‘ دوبھیڑ کی قسم سے ‘ دو بکری کی قسم سے اے محمد ﷺ ان سے پوچھو کہ اللہ نے ان کے نر حرام کئے ہیں یا مادہ ‘ یا وہ بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں ؟ ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ مجھے بتاؤ اگر تم سچے ہو اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے ۔ پوچھو ‘ ان کے نر حرام کئے ہیں یا مادہ یا وہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں ۔ کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم دیا تھا ؟ “ پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی راہنمائی کرے یقینا اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا ۔ اے محمد ﷺ ان سے کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو ‘ الا یہ کہ وہ مردار ہو ‘ یابہایا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو ‘ کہ وہ ناپاک ہے ‘ یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ پھر جو شخص مجبور کی حالت میں بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حد ضرورت سے تجاوز کرے ‘ یقینا تمہارا رب درگزر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجر اس کے کہ جو ان کی پیتھ یا آنتوں سے لگی ہوئی ہو ‘ یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا انہیں دی تھی ‘ اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں اب اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے رب کا دامن رحمت وسیع ہے اور مجرموں سے اس کے عذاب کو پھیرا نہیں جاسکتا ۔ یہ مشرک لوگ ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔ “ ایسی ہی باتیں بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزہ انہوں نے چکھ لیا ۔ ان سے کہو ’ ” کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “ پھر کہو ” حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے ‘ بیشک اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔ “ ان سے کہو ” کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ “ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا اور ہر گز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ اے محمد ﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں ۔ ؟ (1) یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ (2) اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ (3) اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے اور بےشرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ ۔ خواہ وہ کھلی ‘ یا چھپی ہوں۔ (4) اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔ یہ باتیں ہیں جس کی ہدایت تمہیں اس نے کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو ۔ (5) اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ۔ (6) اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو ‘ ہم ہر شخص پر ذمہ داریوں کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے ۔ (7) اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنی رشتہ داری کا کیوں نہ ہو۔ (8) اور اللہ کے عہد کو پورا کرو ۔۔۔۔۔ ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔ (9) نیز اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے ‘ لہذا اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔ “ یہاں یہ بات نظر آتی ہے کہ مویشیوں ‘ جانوروں اور پھلوں اور بچوں کی نذر ونیاز کی جو رسوم جاہلیت میں مروج تھیں ان کے جواز اور عدم جواز کے ایک بالکل جزوی مسئلے کو بھی عظیم نظریاتی اور فکری مسائل کے ساتھ جوڑ دیا گیا ۔ اس جواز وعدم جواز کو ہدایت اور گمراہی ‘ اسلامی نظام کے اتباع اور شیطانی نظام کے اتباع اور اللہ کی رحمت اور اللہ کی پکڑ کے مسائل کے ساتھ جوڑ دیا گیا جو زندگی کے اہم ترین مسائل ہیں ۔ یہ قرار دیا گیا کہ ان مسائل سے عقیدہ توحید اور اللہ کے ساتھ کسی اور کو برابر کرنے کا اظہار ہوتا ہے ۔ یہ قرار دیا گیا کہ جو لوگ غیر اللہ کی نذر ونیاز دیتے ہیں وہ اللہ کے صراط مستقیم سے ہٹ گئے ہیں ۔ اس لئے ان مسائل کی اہمیت کے پیش نظر وہی تعبیرات اختیار کی گئی ہیں جو ان بلند نظریاتی مسائل کے اظہار کے لئے اختیار کی گئی تھیں ۔ یہ وجہ ہے کہ یہاں اشارات و دلائل کا وہی رنگ اختیار کیا گیا ہے جو قرآن کریم ان مسائل عالیہ کے لئے اختیار کرتا ہے ۔ مسئلہ تخلیق اور مختلف زندہ چیزوں کی اقسام ‘ باغات اور تاکستان ‘ نخلستان اور کھیت ‘ مختلف رنگ اور ذائقے ‘ زیتون ‘ انار ‘ ایک سے ذائقے اور مختلف ذائقے وغیرہ ۔ وہ حقائق بھی لائے گئے جو عقیدہ توحید کے لیے لائے جاتے ہیں اور یہاں مشرکین کے لئے اللہ کے عذاب اور پکڑ کو بھی لایا گیا ہے ۔ یہ تمام مشاہد ومناظر اس سے پہلے بھی اس سورة میں پیش کئے گئے ‘ جب موضوع عقیدہ توحید تھا ۔ اس وقت نذر ونیاز کا مسئلہ زیر بحث نہ تھا ۔ اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ جہاں بات عقیدہ توحید کی ہو اور اللہ کی حاکمیت کا مسئلہ زیر بحث ہو تو قرآن کا انداز ایسا ہی ہوتا ہے چاہے کوئی جزوی مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

الأنعام 6:2

سورة کا آغاز اس مضمون سے ہوتا ہے کہ مشرکین جو اللہ کے ساتھ الہ ٹھہراتے ہیں ان کا موقف نہایت ہی بودا ہے حالانکہ توحید کے دلائل ان کے سامنے ہیں ‘ ہر طرف سے انہیں گھیرے ہوئے ہیں اور وہ اپنے نفوس میں آفاق میں انہیں دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ سورة ہمارا استقبال ایک واضح حقیقت الوہیت کے ساتھ کرتی ہے اور چند جھلکیوں کے ذریعے اس پوری کائنات کے اوراق الٹ دیتی ہے ۔ صرف تین جھلکیوں میں ہم اس پوری کائنات کی تہ تک اتر جاتے ہیں اور اس کی وسعت کو اپنے دائرے میں لے لیتے ہیں ۔ یہ تین جھلکیاں ہیں ۔ ایک جھلکی میں اس پوری کائنات کی تخلیق دکھائی جاتی ہے ‘ دوسری میں پوری انسانیت کی تخلیق دکھائی جاتی ہے اور تیسری مین ان دونوں وجودوں کو ذات باری گھیرے ہوئے ہے ۔ کیا اعجاز ہے یہ ! کلام کی شوکت اور زور کو تو دیکھئے کس قدر جامع اور مانع بات ہے ! اس کائنات کے ہوتے ہوئے جو وحدت خالق پر دال ہے ‘ وجود انسانی کے ہوتے ہوئے جو ایک ذات مدبر پر شاہد عادل ہے اور اس کرہ ارض اور کر ات سماوی اور ان کے اندر اللہ کی جاری وساری حاکمیت کے ہوتے ہوئے مشرکین کے شرک اور کرنے والوں کی شک کی کوئی گنجائش از روئے عقل نہیں ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کا یہ رویہ نظام کائنات ‘ انسان کے نفس اور اس کی فطرت اور ایک صحت مند انسان کے دل اور اس کی عقل کی روشنی میں تعجب انگیز ہے ۔ اس لمحے میں اس سورة کے دریا میں ایک دوسری لہر نمودار ہوتی ہے ۔ اس میں جھٹلاتے والوں کا موقف پیش کیا جاتا ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ ایسی نشانیوں اور ایسے دلائل کو جھٹلاتے ہیں جو اس پوری کائنات اور خود انسان کے نفس کے اندر بکھرے پڑے ہیں اور موجود ہیں ۔ ان منکرین کے عجیب و غریب موقف کو پیش کر کے انہیں سخت تنبیہ بھی کی جاتی ہے ۔ ان کے سامنے ان منکرین کے نقشے پیش کئے جاتے ہیں جن کے لاشے انسانی تاریخ کی اسکرین پر بکھرے نظر آتے ہیں ۔ اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی قوت قاہرہ کے مقابلے میں ان کی کوئی پوزیشن نہیں ہے ۔ تعجب ہے کہ وہ اللہ کی ایسی ہی کسی پکڑ سے بالکل نہیں ڈرتے ۔ وہ حق مبین کو دیکھتے ہوئے بھی ‘ اپنی سرکشی پر قائم ہیں ۔ اس لہر سے ظاہر ہوتا ہے کہ منکرین دلائل کی کمی کی وجہ سے انکار نہیں کرتے بلکہ ان کی نیت درست نہیں ہے اور ان کے دل قبولیت حق کے لئے ابھی نہیں کھلے ‘ ان کے دلوں کے دروازے بند ہیں ۔ ذرا قرآن کے الفاظ دیکھیں ۔ ” لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں ہے جو ان کے سامنے آئی ہو ‘ اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو۔ چناچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا ۔ اچھا ‘ جس چیز کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ چیزیں انہیں پہنچیں گی ۔ کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے زمانے میں دور دورہ رہا ہے ؟ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا جو تمہیں نہیں بخشا ‘ ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں (مگر انہوں نے کفران نعمت کیا) تو آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا ۔ اے پیغمبر ﷺ اگر ہم تمہارے اوپر کوئی کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی اتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تب بھی جنہوں نے حق کا انکار کیا وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو ہے ۔ کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ اور اگر ہم فرشتہ اتارتے تب بھی اسے انسانی شکل میں اتارتے اور اس طرح انہیں اسی شبہ میں مبتلا کردیتے جس میں اب یہ مبتلا ہیں ۔ اے محمد ﷺ تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے ‘ مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے ۔ ان سے کہو ‘ ذرا زمین پر چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ۔ اس مقام پر اب ایک تیسری موج اٹھتی ہے اس لہر میں شان الوہیت کا حقیقی تعارف ہے اور اس کا اظہار یوں کیا گیا ہے کہ زمین وآسمانوں اور مافیہا کا مالک ذات باری ہے ۔ رات کے اندھیروں میں اور دن کے اجالوں میں جو کچھ ٹھہرا ہوا ہے وہ اسی کا ہے ۔ اور ایسا رازق ہے جو سب کا کھلا رہا ہے اور اسے کسی جانب سے جوابی کھلانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صرف وہی ولی ہی اور اس کے سوا کوئی اور ولی نہیں ہے بندوں کو چاہئے کہ اپنے آپ کو صرف اس کے حوالے کردیں ۔ یہ وہی تو ہے جو آخرت میں نافرمانوں کو سزا دے گا ۔ وہی ہے جو بندوں کی بھلائی اور مصیبت کا مالک ہے ‘ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اپنے بندوں پر اسے مکمل کنٹرول حاصل ہے ۔ وہ حکیم وخبیر ہے ۔ اس پوری تمہید کے بعد اب یہ لہر اپنی بلندیوں تک پہنچ جاتی ہے ۔ رسول اور اس کی قوم کے درمیان ثبوت واثباث کے بعد مکمل فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔ قوم کو ڈرایا جاتا ہے کہ وہ شرک سے دور رہیں اور یہ کہ رسول ان کے شرک کے ذمہ دار نہیں ہیں ۔ یہ اعلان نہایت ہی بلند آہنگی اور نہایت ہی فیصلہ کن انداز میں ہوتا ہے ۔ ذرا قرآن کے الفاظ دیکھیں ‘ ” ان سے پوچھو ‘ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ کہو سب کچھ اللہ کا ہے ‘ اس نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا ‘ یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے ۔ مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مبتلا کرلیا ہے وہ اسے نہیں مانتے ۔ رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو کچھ ٹھہرا ہوا ہے ‘ سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ۔ کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور ” تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو “ کہو ‘ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ ان سے پوچھو کس کی گواہی بڑھ کر ہے ؟ کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی شریک ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ “ اب ایک چوتھی لہر اٹھتی ہے ۔ اس میں اس نئی کتاب کے بارے میں اہل کتاب کے رویے کا ذکر ہے ‘ جسے مشرکین نے جھٹلایا ہے ۔ اس لہر میں یہ بتایا گیا ہے کہ شرک ایک عظیم ظلم ہے اور یہ تمام مظالم سے بدتر ہے ۔ اس لہر میں مشرکین کے سامنے قیامت میں ان کو پیش آنے والے واقعات کے منظر کو پیش کیا جاتا ہے ۔ اس منظر میں اہل شرک ان لوگوں سے دریافت کرتے ہیں جنہیں وہ شریک ٹھہراتے تھے ‘ یہ لوگ ان کے اس شرک کا صاف صاف انکار کرتے ہیں ۔ اس لئے ان کی اس افتراء پردازی کے تار وپود بکھر جاتے ہیں ۔ اس لہر میں اہل شرک کے حالات کی تصویر کشی کی جاتی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ ان کی قبولیت حق کی فطری قوتیں معطل ہیں ۔ وہ ایمان کے اشارات سے استفادہ کرنے سے قاصر ہیں اس لئے وہ ایمان نہیں لاتے ۔ وہ دلائل نہیں پاتے ‘ اس لئے کہ ان کے دلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں ‘ کیونکہ ان کا دعوی یہ ہے کہ قرآن محض پرانے قصوں پر مشتمل ہے ۔ اس لہر میں ان کو کہا جاتا ہے کہ وہ دوسروں کو بھی ہدایت قبول کرنے سے روکتے ہیں اور خود بھی قرآن سے دور بھاگتے ہیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں ۔ ان کے حالات کی تصویر کشی یوں کی جاتی ہے ‘ اس وقت کے حالات کی جب وہ آگ پر کھڑے ہوں گے ‘ اس وقت ان کی سوچ کی کیفیت یہ ہوگی کہ کاش ہمیں دوبارہ دنیا میں لوٹا دیا جاتا اور ہم اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور اہل ایمان میں شامل ہوجائیں لیکن اگر وہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو پھر معاد اور آخرت کا انکار کردیں ۔ تصور کا ایک دوسرا رخ جب وہ اپنے رب کے سامنے پیش ہوتے ہیں ‘ ان سے ان کے اس جحود و انکار کے بارے میں بازپرس ہوتی ہے ۔ حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے گناہوں کو شخص طور پر اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ اس لہر کے آخر میں ان کی حسرت اور پشیمانی کا ذکر ہے ۔ اس ملاقات میں ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ حیات دنیا محض لہو ولعب تھی اور آخرت ہی زندگی جاوداں ہے ۔ قرآن کریم کے الفاظ دیکھیں ۔ ” جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے ان کو اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا ۔ مگر جنہوں نے اپنے آپ کو خود خسارے میں ڈال دیا ہے وہ اسے نہیں مانتے ۔ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ جھوٹا بہتان لگائے ‘ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے ۔ جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکین سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ہوجائیں گے ۔ ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے ۔ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ‘ اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے ۔ حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آکر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں ۔ وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ کاش تم اس وقت ان کی حالت دیکھ سکتے کہ جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے ۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔ درحقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بےنقاب ہو کر ان کے سامنے آچکی ہوگی ‘ ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ۔ وہ تو ہیں ہی جھوٹے ۔ آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔ کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے ۔ اس وقت ان کا رب ان سے پوچھے گا ” کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ “ یہ کہیں گے ” ہاں ہمارے رب ! یہ حقیقت ہی ہے ۔ “ وہ فرمائے گا ” اچھا تو اپنے انکار کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو “۔۔۔۔ نقصان میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا ۔ جب اچانک وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ” افسوس ! ہم سے اس معاملے میں کیسی تقصیر ہوئی “۔ اور ان کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے ۔ دیکھو کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں ۔ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے ‘ حقیقت میں آخرت کا مقام ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں ۔ پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے ؟ “ اب اس سورة کے دریا میں پانچویں موج اٹھتی ہے ۔ اس میں روئے سخن رسول اللہ کی طرف مڑ جاتا ہے ۔ آپ کو تسلی دی جاتی ہے اور آپ کے حزن وملال کو دور کیا جاتا ہے ۔ آپ کی پریشانی یہ تھی کہ لوگ آپ کو اور آپ پر نازل ہونے والے کلام کی تکذیب کرتے تھے ۔ آپ کو تلقین کی جاتی ہے کہ آپ انبیائے سابقین کے اسوہ حسنہ کو اپنائیں جن کی تکذیب کی گئی جن کو جھٹلایا گیا اور جن کو اذیت دی گئی ۔ یہا تک کہ اللہ کی نصرت آپہنچی ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی سنت ہے اور اس میں تبدیلی نہیں ہوتی لیکن اللہ کی سنت اپنے وقت سے پہلے بھی نہیں آتی ۔ اگر آپ ان کے جحود و انکار پر صبر نہیں کرتے تو آپ خود اپنی طرف سے کوئی معجزہ لے آئیں اور یہ سوچیں کہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو اللہ ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا ۔ اللہ وحدہ صاحب حکم و تصرف ہے اور اس کی مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ لوگ دعوت حق کو قبول کریں جن کی فطری قوتیں قبولیت حق کی نااہل نہیں ہو چکیں ۔ رہے وہ لوگ جو روحانی طور پر مر چکے ہیں اور ان کے اندر زندگی کی رمق باقی نہیں ہے تو وہ اشارات ہدایت کی طرف متوجہ نہیں ہوتے اور سچائی کو قبول نہیں کرتے ۔ ایک دن آنے والا بہرحال ہے اور وہ سب اٹھ کر اس کے سامنے پیش ہوں گے ۔ ” اے محمد ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔ تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں انہوں نے صبر کیا ‘ یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے اور پچھلے رسولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ چکی ہیں ۔ تاہم اگر ان لوگوں کی بےرخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا لہذا نادان مت بنو ۔ دعوت حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ‘ رہے مردے تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور پھر وہ واپس لائے جائیں گے ۔ “ یوں اس سورة میں کلام کی روانی موج در موج کی صورت میں چلتی ہے اور اس انداز میں جس کے نمونے ہم نے قارئین کے سامنے رکھے ۔ ان نمونوں سے اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس سورة کا مزاج کیسا ہے نیز اس سے سورة کے موضوع کے بارے میں بھی اچھی طرح روشنی حاصل ہوجاتی ہے ۔ اس کی بعض لہریں ان سے بھی اونچی ہیں جن کو ہم نے بطور نمونے درج کیا ۔ بعض مقامات میں ان کا بہاؤ اور ٹکراؤ زیادہ پر جوش اور شدید ہے ۔ ہمارے لئے ممکن نہیں ہے کہ اس پوری سورت کا تنقیدی جائزہ اور تعارف ان مختصر الفاظ میں کرسکیں ۔ بہرحال اس کا ایک دوسرا پہلو اگلے پیراگراف میں دیکھیں ۔ اس سے پہلے ہم یہ بات کہہ آئے ہیں کہ یہ سورة اپنے مرکزی موضوع کو نہایت ہی منفرد انداز میں پیش کرتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ سورة ہر لمحہ میں ‘ ہر موقف میں اور ہر منظر میں آنکھوں میں چکا چوند کرنے والا حسن لیے ہوئے ہے ۔ جب انسان اس کے مناظر ‘ اس کے اثرات ‘ اور اس کے اشارات کو پے درپے دیکھتا ہے تو نفس انسانی انہیں اپنا حصہ بنا لیتا ہے اس کے تمام اثرات کو پلے باندھ لیتا ہے اور ہدایت کی روشنی حاصل کرلیتا ہے ۔ ب ہم قارئین کے سامنے بعض ایسی آیات رکھتے ہیں جن سے یہ حقائق براہ راست قرآنی اسلوب میں نظر آئیں اس لیے کہ تبصرے کے ذریعے ہم جس قدر تعریف بھی کریں وہ براہ راست قرآنی آیات کے مطالعے کے مقابلے میں کم ہی مفید ہوتی ہے ۔ آیات کا براہ راست اثر کچھ اور ہی ہوتا ہے ۔ مقام الوہیت کا بیان ‘ لوگوں کو اپنے سچے رب سے متعارف کرانا اور لوگوں کو صرف اللہ تعالیٰ کی بندگی کے دائرے میں لانا اس سورة کا مرکزی موضوع اور محور ہے۔ ذرا ملاحظہ کیجئے مختلف مواقع اور مواقف پر قرآن کریم اس موضوع کو کس طرح لیتا ہے ۔ شہادت اور فیصلہ کن موقف کے وقت ‘ جہاں قلب مومن میں مقام الوہیت اچھی طرح بیٹھ جاتا ہے ‘ جہاں مخالفین کے سامنے صاف صاف یہ موقف واضح کردیا جاتا ہے نہایت ہی قوت اور نہایت ہی یقین کے ساتھ تو قرآن کا اسلوب یہ ہوتا ہے : (آیت) ” نمبر 2 : ” وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ‘ پھر تمہارے لئے زندگی کی ایک مدت مقرر کردی ‘ اور ایک دوسری مدت اور بھی ہے جو اس کے ہاں طے شدہ ہے ، مگر تم لوگ ہو جو شک میں پڑے ہوئے ہو ۔ کائنات کے بعد اب اس کائنات کے اندر وجود انسانی کی جھلکی دکھائی جاتی ہے ۔ پہلے اس کائنات اور اس میں پیدا ہونے والے بڑے مظاہر روز وشب کو غور و فکر کے لئے پیش کیا گیا تھا ۔ اس بےجان کائنات کے اندر ایک جاندار اور شاندار مخلوق انسانی کو غور فکر کے لئے پیش کیا جاتا ہے کہ ایک بےجان اور تاریک مٹی کے اندر انقلاب برپا کر کے اللہ نے اسے ایک زندہ اور تروتازہ مخلوق کو پیدا کیا ۔ دونوں جھلکیوں کے اندر دو اور جھلکیاں بھی ہیں ‘ ایک یہ کہ ایک وقت آنے والا ہے کہ اس زندگی کا خاتمہ ہوجائے گا اور دوسرے یہ کہ بیک وقت یہ تمام مردہ لوگ میدان حشر میں جمع ہوں گے ۔ تمام مردہ اور ساکن لوگ بیک وقت جنبش میں آجائیں گے اور میدان حشر برپا ہوگا جس میں ہر طرف حرکت ہی حرکت ہوگی جس طرح مٹی ساکن اور ہر جاندار متحرک ہوتا ہے ۔ ان مردوں اور زندوں کے درمیان اپنی حقیقت کے اعتبار سے بہت بڑا فرق اور فاصلہ ہے ۔ ان تمام مناظر ومظاہر کا تقاضا تو یہ تھا کہ ایک سلیم الفطرت انسان کا کاسہ دل ایمان سے لبریز ہوجاتا اور وہ اللہ کے سامنے ایک دن پیش ہونے کا یقین کرلیتا لیکن اس سورة کے مخاطب اہل کفر اس کے باوجود اس میں شک کرتے ہیں ۔ (آیت) ” ثم انتم تمترون (2 : 2) ” مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو ۔ “ تیسری جھلکی کی نوعیت یہ ہے کہ وہ ان تمام سابقہ مظاہر کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ اس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ یہ پوری کائنات ‘ یہ پوری زندگی اور پھر خصوصا پورا عالم انسانیت اللہ کے دائرہ حکومت میں داخل ہے ۔

الأنعام 6:3

(آیت) ” نمبر 3 : ” وہی ایک خدا آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی ‘ تمہارے کھلے اور چھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے ۔ “ وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ‘ وہی آسمانوں اور زمین کی حاکم مطلق ہے ۔ اس حق حاکمیت میں وہ منفرد ہے ۔ زمین و آسمان دونوں پر اس کی حکومت کو تسلیم کیا جانا چاہئے ۔ اللہ کی شان حاکمیت ‘ زمین و آسمان میں پوری طرح جاری وساری ہے ۔ یوں کہ زمین و آسمان میں اللہ کا جاری کردہ ناموس کائنات ان پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ اس سے سرتابی نہیں کرسکتے ۔ اسی طرح اللہ کی منشا یہ ہے کہ انسانوں کی زندگی کے اندر بھی اللہ کا حکم ‘ قانون اور شریعت جاری ہو ‘ اس لئے کہ جس طرح اللہ نے ذمین و آسمان کی تخلیق فرمائی ہے ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی پیدا کیا ہے ۔ انسانی اپنی ابتدائی تخلیق کے وقت اس زمین کی مٹی سے پیدا کیا گیا ۔ اس کے اندر وہ خصائص رکھے گئے جن کی وجہ سے وہ انسان بنا اور اس زمین ہی سے اس کے رزق کا بھی بندوبست کیا گیا ۔ یہ انسان اپنی جسمانی تخلیق کے زاویہ سے بھی اسی قانون قدرت کا تابع ہے جسے اللہ تعالیٰ نے انسان کی ذات کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا ‘ نہ اس کی ماں اور باب کی مشیت اور ارادے کا اس میں کوئی دخل ہوتا ہے ۔ وہ دونوں باہم ملتے ضرور ہیں لیکن وہ بچے میں روح نہیں ڈال سکتے نہ جنین کو وجود بخش سکتے ہیں ۔ یہ بچہ ان تمام قوانین قدرت کے مطابق مدت حمل پوری کرکے اس ناموس فطرت کے مطابق بطن مادر سے باہر آتا ہے جو اس کے لئے رب ذوالجلال نے تجویز کیا ہے ۔ وہ اس ہوا میں سانس لیتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیمانوں کے مطابق بنایا ہے اور وہ اسی قدر اور اسی کیفیت کے مطابق سانس لیتا ہے جو اللہ کے قانون قدرت نے وضع فرمائے ۔ اس کا احساس رنج والم ‘ اس کا بھوک اور پیاس کا احساس ‘ اس کا کھانا اور پینا اور عام طور پر زندہ رہنا عین ناموس فطرت کے مطابق ہوتا ہے ۔ اس میں اس کے ارادے کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ۔ اپنے فطری وجود کے اعتبار سے انسان اور زمین و آسمان کی فطرت اور ناموس کے اندر کوئی فرق نہیں ہے ۔ اللہ وہ ذات ہے کہ انسان کے بھیدوں سے بھی واقف ہے ۔ اور اس کی ظاہری باتوں سے بھی واقف ہے ۔ وہ جو اعمال بھی کرتا ہے چاہے وہ ظاہری ہوں یا خفیہ ہوں ان سب سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے اس لئے حق تو یہ ہے کہ وہ اللہ کے اس ناموس اور قانون کا بھی اتباع کرے جو اللہ نے اس کی اختیاری زندگی کے لئے تجویز کیا ہے ۔ وہ اپنے نظریات وزندگی جو ناموس تکوینی کے اندر جکڑی ہوئی ہے اور وہ زندگی جو اختیاری ہے دونوں میں وہ اللہ کی شریعت کے تابع ہو ‘ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں ۔ ان دونوں زندگیوں کے اندر کوئی تضاد اور کشمکش نہ ہو ‘ کوئی عملی تصادم نہ ہو اور یہ دونوں ناموس باہم تکڑا کر پاش پاش نہ ہوجائیں کہ اس کائنات اور زندگی میں الہی ناموس ہو اور اختیاری اور قانون اور شرعی زندگی طاغوتی اور غیر اسلامی بنیادوں پر استوار نہ ہو۔ درس نمبر 56 ایک نظر میں : افتتاح سورة کے بعد یہ ایک دوسری لہر ہے ۔ پہلی لہر کے اثرات نہایت ہی دور رس تھے ۔ اس نے اس پوری کائنات کو حقیقت وجود باری سے بھر دیا تھا ۔ صرف زمین و آسمان کی تخلیق اور نور وظلمت کے ظہور سے اس میں اس حقیقت پر استدلال کیا گیا ۔ پھر یہ بتایا گیا کہ اس تاریک مادے سے اللہ نے انسان جیسی مخلوق کو پیدا کیا ۔ اس کی زندگی کے خاتمے کے لئے ایک مقررہ وقت دیا اور بتایا گیا کہ بعث بعد الموت کے لئے بھی ایک وقت مقرر ہے جس کا سوائے اللہ کے کسی کو علم نہیں ہے ۔ یہ بھی واضح کیا گیا کہ ذات باری لوگوں کے تمام افعال واقوال کو جانتی ہے ۔ وہ چھپے اور ظاہر سے بھی واقف ہے اور ان کے پورے اعمال سے باخبر ہے ۔ وجود باری جو انفس اور آفاق میں تاباں ہے ‘ وہ منفرد اور واحد وجود ہے ۔ اس جیسا کوئی دوسرا وجود نہیں ہے اللہ کے سوا کوئی اور خالق نہیں ہے ۔ وہ بھرپور ‘ روشن اور نہایت ہی چھایا ہوا وجود حق ہے ۔ ان آیات و دلائل کی روشنی میں اس کی تکذیب نہایت ہی مکروہ فعل ہے جس کی کوئی سند نہیں ہے اور یہ منکر معذور تصور ہوگا ۔ اس لئے اس لہر میں مشرکین کے موقف کو اس وجود برحق کی روشنی میں پیش کیا گیا ہے کہ یہ لوگ دعوت اسلامی کا انکار ایسے حالات میں کر رہے ہیں کہ ذات باری پر روشن دلائل ان کے انفس وآفاق میں واضح طور پر موجود ہیں ‘ اس لئے ان کا یہ موقف نہایت ہی مکروہ اور ناپسندیدہ ہے ۔ ان منکرین کا یہ طرز عمل خود ان کے اپنے احساس و شعور کی رو سے بھی مکروہ ہے اس لئے کہ قرآن ان کے سامنے یہ دلائل پیش کر رہا تھا ۔ چناچہ پہلے ہی معرکے میں قرآن کریم انہیں شکست دے دیتا ہے اور لوگوں کی فطرت کی گہرائیوں کے اندر اس سچائی کو اتار دیتا ہے اگرچہ بظاہر وہ مکابرہ میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن دراصل عناد کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں ۔ قرآن کریم اس عہد میں ان کے عناد اور غرور اور مکابرہ کی ایک تصویر کبھی تو نہایت ہی تہدید آمیز لہجے میں اور تلخ نوائی کے ساتھ پیش کرتا ہے اور کبھی ان کو یوں دعوت دیتا ہے کہ ذرا اس سے پہلے کے جھٹلانے والوں کے انجام کی تاریخ پر غور کرو ۔ جس میں بیشمار سامان عبرت وبصیرت ہے ۔ بعض اوقات ان جھٹلانے والوں کا انجام بھی سامنے رکھ دیتا ہے اور بیشمار ہدایات واشارات فراہم کردیتا ہے ۔

الأنعام 6:4

(آیت) ” نمبر 4 تا 6۔ ان لوگوں نے عناد اور باطل پہ اصرار کرنے کے موقف کو اپنایا ‘ حالانکہ ایسے دلائل اور نشانیوں کی کمی نہ تھی جن کو دیکھ کر وہ ایمان لاتے اور نہ ایسے دلائل اور نشانات کی کمی تھی جن سے معلوم ہوتا کہ پیغمبروں کی دعوت نہایت ہی سچی دعوت ہے ‘ نہ یہ بات تھی کہ اس دعوت اور داعی کی سچائی پہ دلائل کی کوئی کمی تھی ۔ وجود باری پر دلائل وبراہین بھی موجود تھے ۔ غرض ان چیزوں کی ان کے ہاں کوئی کمی نہ تھی بلکہ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ وہ مان کر نہ دیتے تھے ۔ وہ باطل پر مصر تھے ‘ تحریک سے عناد رکھتے تھے اور اس روگردانی کی وجہ ان کے لئے اس دین اور تحریک میں غور وفکر کرنے کے مواقع جاتے رہے ۔ (آیت) ” وَمَا تَأْتِیْہِم مِّنْ آیَۃٍ مِّنْ آیَاتِ رَبِّہِمْ إِلاَّ کَانُواْ عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ (4) ” لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں ہے جو ان کے سامنے آئی ہو ‘ اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو۔ “ جب صورت حالات یہ ہوجائے کہ لوگ جان بوجھ کر حق سے روگردانی اختیار کریں ‘ جب کہ ان کے پاس آیات و دلائل موجود ہوں ‘ حقائق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہوچکے ہوں تو پھر بعض اوقات ڈر اوا اور تہدید ان کی آنکھیں کھول دیتی ہے ۔ ایک جھٹکے سے آنکھ کھل جاتی ہے اور فطرت کے دریچے کھل جاتے ہیں ‘ بشرطیکہ غرور اور عناد کے پردے حائل نہ ہوں ۔ (آیت) ” فَقَدْ کَذَّبُواْ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاء ہُمْ فَسَوْفَ یَأْتِیْہِمْ أَنبَاء مَا کَانُواْ بِہِ یَسْتَہْزِئُونَ (5) ” چناچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا ۔ اچھا ‘ جس چیز کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ چیزیں انہیں پہنچیں گی ۔ “ زمین وآسمانوں کے خالق کی طرف سے جو ہدایت آئی وہ سچائی تھی ۔ روشنی اور تاریکی پیدا کرنے والے کی طرف سے سچائی تھی ‘ جس نے انسان کو کیچڑ سے پیدا کیا ۔ جو آسمانوں کا بھی حاکم ہے اور زمین کا بھی حاکم ہے جو ان کے کھلے اور پوشیدہ سب امور سے واقف ہے ۔ وہ جو کچھ بھی کماتے ہیں ان سے واقف ہے ۔ وہ سچائی ہے اور انہوں نے سچائی کو جھٹلایا ہے ۔ اب وہ اس تکذیب پر اصرار کر رہے ہیں ‘ آیات الہی سے روگردانی کرتے ہیں ‘ دعوت اسلامی کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ لہذا انہیں چاہئے کہ وہ اب اس بات کے انجام اور آخری خبر کا انتظار کریں۔ اب یہ ایک نہایت ہی اجمالی تہدید اور ڈراوا ہے جس کی نہ تفصیلات دی گئی ہیں اور نہ اس انجام بد کا کوئی وقت مقرر کیا گیا ہے ۔ انہیں صرف یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وہ ہر وقت اس انجام کا انتظار کریں ۔ ان پر عذاب الہی کس بھی وقت آسکتا ہے ۔ ان پر سچائی کھل جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھ لیں گے ۔ اس تہدید اور ڈراوے کے مقام پر انہیں یاد دلایا جاتا ہے ‘ انہیں متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھیں اور ذرا نگاہ ڈالیں کہ انسانی تاریخ میں جھٹلانے والوں کا انجام کیا رہا ہے ؟ ان میں سے بعض لوگوں کے انجام سے وہ واقف بھی تھے ۔ احقاف میں قوم عاد کا جو انجام ہوا اور حجر میں قوم ثمود کا جو انجام ہوا ‘ اس کی داستانیں ان کے ہاں مشہور تھیں ۔ جب عرب گرمیوں میں شمال کی طرف جاتے اور سردیوں میں جنوب کی طرف سفر کرتے تو ان اقوام کے کھنڈرات کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ۔ قوم لوط پر جہاں تباہی آئی وہ مقامات بھی انہیں معلوم تھے اور ان کے اردگرد رہنے والے لوگ ان مقامات سے واقف تھے لہذا یہاں ان کی توجہ ان حقائق کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے ۔ (آیت) ” أَلَمْ یَرَوْاْ کَمْ أَہْلَکْنَا مِن قَبْلِہِم مِّن قَرْنٍ مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الأَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّن لَّکُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاء عَلَیْْہِم مِّدْرَاراً وَجَعَلْنَا الأَنْہَارَ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمْ فَأَہْلَکْنَاہُم بِذُنُوبِہِمْ وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِہِمْ قَرْناً آخَرِیْنَ (6) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے زمانے میں دور دورہ رہا ہے ؟ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا جو تمہیں نہیں بخشا ‘ ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں (مگر انہوں نے کفران نعمت کیا) تو آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا ۔ “ کیا یہ لوگ گزری ہوئی اقوام کے انجام بد سے عبرت نہیں لیتے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو اس کرہ ارض پر بہت ہی بڑا قتدار عطا کیا تھا ۔ انہیں قوت اور سلطنت کے اسباب فراہم کئے تھے ۔ اور وہ اس قدر ترقی یافتہ اور قوی تھی کہ قرآن کے مخاطبین اہل قریش اور ان کے درمیان کوئی مماثلت ہی نہ تھی ان پر پے در پے بارشیں ہوتی تھیں ‘ ان کی سرزمین تروتازہ تھی اور ہر قسم کی پیداوار کی فراوانی تھی ۔ پھر کیا ہوا ؟ انہوں نے اپنے رب کی نافرمانی شروع کردی ۔ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑا ۔ ان کو تباہ کر کے ان کی جگہ دوسری اقوام کو منصہ شہود پر لایا گیا اور زمین کا اقتدار ان کے حوالے کردیا گیا ۔ اس زمین نے جانے والوں پر کوئی ماتم نہ کیا اس لئے کہ زمین کے وارث اب دوسرے لوگ تھے ۔ ذرادیکھئے کہ ان مکذبین اور روگردانی کرنے والوں کی حیثیت ہی کیا رہی ہے ۔ اللہ کے ہاں وہ کس قدر ہلکے ہیں اور اس زمین پر وہ کس قدر ہلکے ہیں ۔ وہ ہلاک کردیئے گئے ‘ نیست ونابود ہوگئے اور اس زمین کو کوئی احساس ہی نہ ہوا ۔ اور نہ یہ زمین خالی رہ گئی ‘ اس خلا کو دوسری اقوام نے پر کردیا اور یہ زمین اس طرح گردش کرتی رہی کہ گویا یہ مٹنے والی اقوام کبھی اس پر بسی ہی نہ تھیں اور زندگی اس طرح چلتی رہی کہ گویا سابقہ لوگ کبھی زندہ ہی نہ تھے ۔ جب اللہ کسی کو اس کرہ ارض پر تمکن عطا کرتا ہے تو صاحبان اقتدار سب سے پہلے اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ یہ اقتدار انہیں اللہ کی مرضی سے نصیب ہوا ہے اور یہ ان کے لئے ایک بڑی آزمائش ہے ۔ آزمائش یہ کہ آیا وہ اس اقتدار کو اللہ کے عہد اور شرط کے مطابق استعمال کرتے ہیں اور اس میں وہ صرف اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور صرف اسی سے ہدایات لیتے ہیں اس لئے کہ وہی تو اس اقتدار کا اصل مالک ہے اور انسان تو اس کا خلیفہ ہے یا وہ اپنے آپ کو طاغوت کا منصب دیتے ہیں اور اپنے لئے اللہ کے اختیارات حاصل کرتے ہیں اور وہ ان اختیارات کو بطور خلیفہ استعمال نہیں کرتے بلکہ بطور مالک خود مختار استعمال کرتے ہیں ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے انسان بھول جاتے ہیں ‘ الا یہ کہ کوئی اللہ کی جانب سے محفوظ کردیا گیا ہو ۔ جب انسان اس حقیقت کو بھول جائیں تو وہ اللہ کے عہد اور اس کے خلیفہ فی الارض ہونے کی شرائط سے صرف نظر کرنے لگتے ہیں اور سنت الہیہ کے خلاف جاتے ہیں ۔ پہلے پہل انہیں احساس نہیں ہوتا کہ اس انحراف کے نتائج کیا ہوں گے ‘ چناچہ ان کے اندر آہستہ آہستہ فساد رونما ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ انہیں اس کا شعور بالکل نہیں ہوتا ‘ یہاں تک کہ وقت مقررہ تک وہ پہنچ جاتے ہیں اور اللہ کا وعدہ آجاتا ہے ۔ ان کے انجام پھر مختلف ہوتے ہیں ‘ بعض اوقات ان پر ایسا عذاب آتا ہے کہ انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے ۔ یہ عذاب کبھی آسمان سے آتا ہے اور کبھی نیچے زمین سے آتا ہے ۔ دنیا کی کئی اقوام کو اس عذاب کے ذریعے تباہ کیا گیا اور بعض اوقات یہ عذاب قحط سالی اور خشک سالی کی صورت میں آتا ہے ۔ پھل اور پیداوار ختم ہوجاتے ہیں اور لوگ بھوکے مرنے لگتے ہیں ۔ کئی اقوام عالم اس عذاب سے دو چار ہوئیں ۔ بعض اوقات وہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ہیں اور ہر ایک دوسرے کے لئے عذاب بن جاتا ہے بعض دوسروں کو مبتلائے عذاب کرتے ہیں ‘ بعض اقوام دوسروں کو نیست ونابود کردیتی ہیں ۔ بعض دوسروں کو اذیت دیتی ہیں اور کئی دوسروں کو امن نہیں دیتے ۔ اس طرح انکی قوت اور شوکت ختم ہوجاتی ہے ‘ اور اللہ ان پر پھر اپنے دوسرے بندوں کو مسلط کردیتا ہے جو یا تو اللہ کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور یا نافرمان ہوتے ہیں ۔ وہ ان کی قوت کو توڑ کر انہیں اس اقتدار اعلی سے محروم کردیتے ہیں جس پر ان کو متمکن کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد اللہ کچھ نئے لوگوں کو تمکین فی الارض عطا کرتا ہے تاکہ اب ان کی آزمائش کا دور شروع ہو ۔ یوں سنت الہیہ کا دور چلتا ہے اور دنیا میں نیک بخت اقوام وہ ہوتی ہیں جو سنت الہیہ کا ادراک رکھتی ہیں ۔ جو یہ سمجھتی ہیں کہ یہ ایک آزمائش ہے ۔ وہ اللہ کے عہد کا پاس رکھتی ہیں ۔ بدبخت اقوام دہ ہوتی جو اس حقیقت سے غافل ہوتی ہیں اور یہ گمان کرنے لگتی ہیں کہ یہ اقتدار انہیں خود ان کے علم و کمال کی وجہ سے ملا ہے یا کسی حیلے اور تدبیر سے ملا یا اتفاقا بغیر کسی منصوبے کے انہیں مل گیا ہے ۔ لوگوں کو یہ امر دھوکے میں ڈالتا ہے کہ وہ ایک باغی و سرکش ‘ ایک بدکار اور مفسد اور ایک ملحد اور کافر کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس کرہ ارض پر مقتدر اعلی ہے اور اس پر اللہ کی جانب سے کوئی مواخذہ نہیں ہو رہا ہے ۔ وہ مایوس ہوجاتے ہیں ‘ لیکن ایسے لوگ جلد بازی سے کام لیتے ہیں ۔ وہ راستہ کا ابتدائی حصہ دیکھتے ہیں ‘ درمیانی حصہ بھی دیکھتے ہیں لیکن ان کی جب ایسے سرکشوں پر اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ نیست ونابود ہوجاتے ہیں اور انکے بارے میں محض قصے اور کہانیاں ہی رہ جاتی ہیں ‘ تب حقیقت نظر آتی ہے ۔ قرآن کریم ایسے لوگوں کے ہونے والے انجام کے کچھ مظاہر پیش کرتا ہے تاکہ ایسے غافل سرکشوں کو ہوش آجائے ‘ کیونکہ ایسے لوگ اپنے انفرادی حالات میں اس قدر مست ہوتے ہیں کہ انہیں منزل مقصود اور اپنا آخری انجام نظر نہیں آتا ۔ یہ لوگ بس اس مختصر زندگی کو دیکھ سکتے ہیں اور اسے ہی آخری منزل سمجھتے ہیں ۔ قرآن کریم کی یہ آیت (فاھلکنھم بذنوبھم (6 : 6) اور اس جیسی دوسری آیات بار بار دہرائی گئی ہیں ۔ ایسی آیات میں اللہ کی ایک ناقابل تبدیل سنت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور ان میں اسلام کے نظریہ تاریخ کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے ۔ ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ سنت الہیہ یہ ہے کہ بدکار لوگوں کو آخر کار ان کی اس بدکاری کی وجہ سے ہلاک اور برباد کردیا جاتا ہے ۔ ان پر یہ ہلاکت اور بربادی اللہ کی جانب سے آتی ہے اور یہ سنت اس کائنات میں ہمیشہ کے لئے جاری وساری ہے ۔ اگرچہ ایک فرد اپنی مختصر زندگی میں اسے نہ سمجھ سکے ۔ یا ایک محدود اور متعین نسل کی زندگی میں یہ ہلاکت نہ آئے ۔ لیکن یہ ایک ایسی سنت الہیہ ہے کہ جب کسی قوم میں جرائم اور بدکاریاں بہت زیادہ ہوجاتی ہیں اور پوری زندگی کا نظام بدکاری اور جرائم پر قائم ہو ‘ تو پھر اللہ کی جانب سے عذاب ضرور آتا ہے ۔ اسلام کا نظریہ تاریخ یہ ہے کہ اقوام کے عروج وزوال میں اصل اور موثر عالم (FActor) یہ ہوتا ہے کہ ان کے جسم میں جب بدکاری اور جرائم سرایت کر جاتی ہیں تو یہ تباہی اور بربادی کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ یہ تباہی یا تو آفات سماویہ کے ذریعے سے ہوتی ہے جیسا کہ قدیم تاریخ میں یہ واقعات رونما ہوئے یا نہایت ہی تدریجی تباہی کے ذریعے طبعی طور پر ‘ جس طرح کسی جسم پر عارضی طور پر زوال آتا ہے جب وہ بدکاری اور جرائم میں کانوں تک ڈوب جاتے ۔ انسان کی جدید تاریخ میں ہمارے سامنے اس زوال کی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں اقوام پر اخلاقی بےراہ روی ‘ بدکرداری اور فحاشی ‘ عیاشی اور اسراف اور لہو ولعب کی وجہ سے تباہی آئی ۔ مثلا یونان کی تباہی کے یہی عوامل تھے ۔ اس کے بعد رومیوں کی تباہی اور زوال کے یہی اسباب تھے ۔ یہ اقوام اپنے عروج کے باوجود اس طرح مٹ گئیں کہ اب انکے صرف قصے کہانیاں ہی رہ گئیں ۔ جدید ترقی یافتہ اقوام کے اندر بھی اس عظیم تباہی اور زوال کے اسباب نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں مثلا فرانس اور برطانیہ کا زوال شروع ہوچکا ہے حالانکہ مادی جنگی اور تکنیکی قوت کے اعتبار سے وہ عروج پر ہیں اور نہایت ہی ترقی یافتہ اور دولتمند ہیں ۔ تاریخ کی مادی تفسیر لکھنے والوں اور اقوام کے عروج وزوال کی داستانیں لکھنے والوں کی نظر سے تاریخ کا یہ اخلاقی پہلو غائب ہے ‘ اس لئے کہ مادی نقطہ نظر رکھنے والے کی گناہوں سے شروع ہی سے اخلاقی عناصر اوجھل رہتے ہیں ۔ اصل الاصول یعنی سنت الہیہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے ۔ جو لوگ تاریخ کی تفسیر اور اس پر تبصرہ صرف مادی نقطہ نظر سے کرتے ہیں اور اقوام کے عروج وزوال کے سلسے میں نہایت ہی مضحکہ خیز باتیں کرتے ہیں ۔ حالانکہ اقوام کے عروج وزوال کے بعد واقعات کی معقول تفسیر صرف اعتقادی اور اخلاقی زاوے ہی سے کی جاسکتی ہے ۔ اسلام کا تاریخی نقطہ نظر نہایت جامع ‘ حقیقت پسندانہ اور سچا ہے اور وہ اپنی اس جامعیت کی وجہ سے مادی عنصر کو اسلامی نقطہ نظر کا تعلق ہے ‘ وہ زوال اقوام میں مادی زوال کو بھی اہمیت دیتا ہے ۔ تاہم اسلام دوسرے عوامل کو بھی لیتا ہے جن کا انکار صرف معاندین ہی کرتے ہیں ۔ اسلام نے سب سے پہلے اللہ کی سنت اور اللہ کی تقدیر کو اصل عامل قرار دیتا ہے ۔ پھر انسان کے داخلی شعور ‘ جذبات اور تصورات اور نظریات کو اس کا سبب قرار دیتا ہے ۔ تاہم اسلام دوسرے عوامل کو بھی لیتا ہے جن کا انکار صرف معاندین ہی کرتے ہیں ۔ اسلام نے سب سے پہلے اللہ کی سنت اور اللہ کی تقدیر کو اصل عامل قرار دیتا ہے ۔ پھر انسان کے داخلی شعور ‘ جذبات اور تصورات اور نظریات کو اس کا سبب قرار دیتا ہے ۔ اس کے بعد اسلام لوگوں کی عام اخلاقی اور عملی زندگی کو بھی اس میں اہمیت دیتا ہے اور وہ ان اسباب وعلل میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کرتا جو کسی قوم کے عروج وزوال کا سبب بنتی ہیں۔ (تفیصلات کے لئے دیکھئے الا سلام ومشکلات الحضارۃ ۔ النطور والنبات فی حیات البیرہ ۔ خصائص التصور الاسلامی وھو مائہ التصویر الفنی فی القرآن) اب اگلی آیات میں ان لوگوں کے اس عناد کی تصویر کشی کی جاتی ہے ‘ جس کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہوتی ہے ۔ اس تصویر کشی میں انسانوں کی ایک عجیب قسم پیش کی جاتی ہے ۔ انسانوں کی یہ قسم صرف ماضی یا کسی ایک زمانے تک محدود نہیں ہے ‘ اس قسم کے لوگ تاریخ میں بار بار دہرائے جاتے ہیں ۔ ہر زمانے میں ہر جگہ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ ہر نسل اور ہر خاندان میں نمونے موجود ہوتے ہیں ۔ یہ ہٹ دھرم قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ سچائی ان کی آنکھوں کو پھاڑتی ہے لیکن یہ اسے دیکھ نہیں پاتے ۔ یہ لوگ ایسے امور کا بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ انکار کرتے ہیں جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسے امور جو اس قدر واضح ہوتے ہیں کہ ان کے انکار کی وجہ سے منکر کو کم از کم شرم آتی ہے ۔ قرآن کریم اس قسم کے نمونے کا بڑی وضاحت سے ذکر کرتا ہے ۔ مختصر کلمات میں عجیب انداز میں جو انوکھا بھی ہے اور معجزانہ بھی ہے جس طرح قرآن کریم کا انداز تعبیر بالعموم اعجاز کا حامل ہوتا ہے ۔

الأنعام 6:5

(آیت) ” نمبر 4 تا 6۔ ان لوگوں نے عناد اور باطل پہ اصرار کرنے کے موقف کو اپنایا ‘ حالانکہ ایسے دلائل اور نشانیوں کی کمی نہ تھی جن کو دیکھ کر وہ ایمان لاتے اور نہ ایسے دلائل اور نشانات کی کمی تھی جن سے معلوم ہوتا کہ پیغمبروں کی دعوت نہایت ہی سچی دعوت ہے ‘ نہ یہ بات تھی کہ اس دعوت اور داعی کی سچائی پہ دلائل کی کوئی کمی تھی ۔ وجود باری پر دلائل وبراہین بھی موجود تھے ۔ غرض ان چیزوں کی ان کے ہاں کوئی کمی نہ تھی بلکہ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ وہ مان کر نہ دیتے تھے ۔ وہ باطل پر مصر تھے ‘ تحریک سے عناد رکھتے تھے اور اس روگردانی کی وجہ ان کے لئے اس دین اور تحریک میں غور وفکر کرنے کے مواقع جاتے رہے ۔ (آیت) ” وَمَا تَأْتِیْہِم مِّنْ آیَۃٍ مِّنْ آیَاتِ رَبِّہِمْ إِلاَّ کَانُواْ عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ (4) ” لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں ہے جو ان کے سامنے آئی ہو ‘ اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو۔ “ جب صورت حالات یہ ہوجائے کہ لوگ جان بوجھ کر حق سے روگردانی اختیار کریں ‘ جب کہ ان کے پاس آیات و دلائل موجود ہوں ‘ حقائق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہوچکے ہوں تو پھر بعض اوقات ڈر اوا اور تہدید ان کی آنکھیں کھول دیتی ہے ۔ ایک جھٹکے سے آنکھ کھل جاتی ہے اور فطرت کے دریچے کھل جاتے ہیں ‘ بشرطیکہ غرور اور عناد کے پردے حائل نہ ہوں ۔ (آیت) ” فَقَدْ کَذَّبُواْ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاء ہُمْ فَسَوْفَ یَأْتِیْہِمْ أَنبَاء مَا کَانُواْ بِہِ یَسْتَہْزِئُونَ (5) ” چناچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا ۔ اچھا ‘ جس چیز کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ چیزیں انہیں پہنچیں گی ۔ “ زمین وآسمانوں کے خالق کی طرف سے جو ہدایت آئی وہ سچائی تھی ۔ روشنی اور تاریکی پیدا کرنے والے کی طرف سے سچائی تھی ‘ جس نے انسان کو کیچڑ سے پیدا کیا ۔ جو آسمانوں کا بھی حاکم ہے اور زمین کا بھی حاکم ہے جو ان کے کھلے اور پوشیدہ سب امور سے واقف ہے ۔ وہ جو کچھ بھی کماتے ہیں ان سے واقف ہے ۔ وہ سچائی ہے اور انہوں نے سچائی کو جھٹلایا ہے ۔ اب وہ اس تکذیب پر اصرار کر رہے ہیں ‘ آیات الہی سے روگردانی کرتے ہیں ‘ دعوت اسلامی کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ لہذا انہیں چاہئے کہ وہ اب اس بات کے انجام اور آخری خبر کا انتظار کریں۔ اب یہ ایک نہایت ہی اجمالی تہدید اور ڈراوا ہے جس کی نہ تفصیلات دی گئی ہیں اور نہ اس انجام بد کا کوئی وقت مقرر کیا گیا ہے ۔ انہیں صرف یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وہ ہر وقت اس انجام کا انتظار کریں ۔ ان پر عذاب الہی کس بھی وقت آسکتا ہے ۔ ان پر سچائی کھل جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھ لیں گے ۔ اس تہدید اور ڈراوے کے مقام پر انہیں یاد دلایا جاتا ہے ‘ انہیں متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھیں اور ذرا نگاہ ڈالیں کہ انسانی تاریخ میں جھٹلانے والوں کا انجام کیا رہا ہے ؟ ان میں سے بعض لوگوں کے انجام سے وہ واقف بھی تھے ۔ احقاف میں قوم عاد کا جو انجام ہوا اور حجر میں قوم ثمود کا جو انجام ہوا ‘ اس کی داستانیں ان کے ہاں مشہور تھیں ۔ جب عرب گرمیوں میں شمال کی طرف جاتے اور سردیوں میں جنوب کی طرف سفر کرتے تو ان اقوام کے کھنڈرات کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ۔ قوم لوط پر جہاں تباہی آئی وہ مقامات بھی انہیں معلوم تھے اور ان کے اردگرد رہنے والے لوگ ان مقامات سے واقف تھے لہذا یہاں ان کی توجہ ان حقائق کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے ۔ (آیت) ” أَلَمْ یَرَوْاْ کَمْ أَہْلَکْنَا مِن قَبْلِہِم مِّن قَرْنٍ مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الأَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّن لَّکُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاء عَلَیْْہِم مِّدْرَاراً وَجَعَلْنَا الأَنْہَارَ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمْ فَأَہْلَکْنَاہُم بِذُنُوبِہِمْ وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِہِمْ قَرْناً آخَرِیْنَ (6) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے زمانے میں دور دورہ رہا ہے ؟ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا جو تمہیں نہیں بخشا ‘ ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں (مگر انہوں نے کفران نعمت کیا) تو آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا ۔ “ کیا یہ لوگ گزری ہوئی اقوام کے انجام بد سے عبرت نہیں لیتے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو اس کرہ ارض پر بہت ہی بڑا قتدار عطا کیا تھا ۔ انہیں قوت اور سلطنت کے اسباب فراہم کئے تھے ۔ اور وہ اس قدر ترقی یافتہ اور قوی تھی کہ قرآن کے مخاطبین اہل قریش اور ان کے درمیان کوئی مماثلت ہی نہ تھی ان پر پے در پے بارشیں ہوتی تھیں ‘ ان کی سرزمین تروتازہ تھی اور ہر قسم کی پیداوار کی فراوانی تھی ۔ پھر کیا ہوا ؟ انہوں نے اپنے رب کی نافرمانی شروع کردی ۔ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑا ۔ ان کو تباہ کر کے ان کی جگہ دوسری اقوام کو منصہ شہود پر لایا گیا اور زمین کا اقتدار ان کے حوالے کردیا گیا ۔ اس زمین نے جانے والوں پر کوئی ماتم نہ کیا اس لئے کہ زمین کے وارث اب دوسرے لوگ تھے ۔ ذرادیکھئے کہ ان مکذبین اور روگردانی کرنے والوں کی حیثیت ہی کیا رہی ہے ۔ اللہ کے ہاں وہ کس قدر ہلکے ہیں اور اس زمین پر وہ کس قدر ہلکے ہیں ۔ وہ ہلاک کردیئے گئے ‘ نیست ونابود ہوگئے اور اس زمین کو کوئی احساس ہی نہ ہوا ۔ اور نہ یہ زمین خالی رہ گئی ‘ اس خلا کو دوسری اقوام نے پر کردیا اور یہ زمین اس طرح گردش کرتی رہی کہ گویا یہ مٹنے والی اقوام کبھی اس پر بسی ہی نہ تھیں اور زندگی اس طرح چلتی رہی کہ گویا سابقہ لوگ کبھی زندہ ہی نہ تھے ۔ جب اللہ کسی کو اس کرہ ارض پر تمکن عطا کرتا ہے تو صاحبان اقتدار سب سے پہلے اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ یہ اقتدار انہیں اللہ کی مرضی سے نصیب ہوا ہے اور یہ ان کے لئے ایک بڑی آزمائش ہے ۔ آزمائش یہ کہ آیا وہ اس اقتدار کو اللہ کے عہد اور شرط کے مطابق استعمال کرتے ہیں اور اس میں وہ صرف اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور صرف اسی سے ہدایات لیتے ہیں اس لئے کہ وہی تو اس اقتدار کا اصل مالک ہے اور انسان تو اس کا خلیفہ ہے یا وہ اپنے آپ کو طاغوت کا منصب دیتے ہیں اور اپنے لئے اللہ کے اختیارات حاصل کرتے ہیں اور وہ ان اختیارات کو بطور خلیفہ استعمال نہیں کرتے بلکہ بطور مالک خود مختار استعمال کرتے ہیں ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے انسان بھول جاتے ہیں ‘ الا یہ کہ کوئی اللہ کی جانب سے محفوظ کردیا گیا ہو ۔ جب انسان اس حقیقت کو بھول جائیں تو وہ اللہ کے عہد اور اس کے خلیفہ فی الارض ہونے کی شرائط سے صرف نظر کرنے لگتے ہیں اور سنت الہیہ کے خلاف جاتے ہیں ۔ پہلے پہل انہیں احساس نہیں ہوتا کہ اس انحراف کے نتائج کیا ہوں گے ‘ چناچہ ان کے اندر آہستہ آہستہ فساد رونما ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ انہیں اس کا شعور بالکل نہیں ہوتا ‘ یہاں تک کہ وقت مقررہ تک وہ پہنچ جاتے ہیں اور اللہ کا وعدہ آجاتا ہے ۔ ان کے انجام پھر مختلف ہوتے ہیں ‘ بعض اوقات ان پر ایسا عذاب آتا ہے کہ انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے ۔ یہ عذاب کبھی آسمان سے آتا ہے اور کبھی نیچے زمین سے آتا ہے ۔ دنیا کی کئی اقوام کو اس عذاب کے ذریعے تباہ کیا گیا اور بعض اوقات یہ عذاب قحط سالی اور خشک سالی کی صورت میں آتا ہے ۔ پھل اور پیداوار ختم ہوجاتے ہیں اور لوگ بھوکے مرنے لگتے ہیں ۔ کئی اقوام عالم اس عذاب سے دو چار ہوئیں ۔ بعض اوقات وہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ہیں اور ہر ایک دوسرے کے لئے عذاب بن جاتا ہے بعض دوسروں کو مبتلائے عذاب کرتے ہیں ‘ بعض اقوام دوسروں کو نیست ونابود کردیتی ہیں ۔ بعض دوسروں کو اذیت دیتی ہیں اور کئی دوسروں کو امن نہیں دیتے ۔ اس طرح انکی قوت اور شوکت ختم ہوجاتی ہے ‘ اور اللہ ان پر پھر اپنے دوسرے بندوں کو مسلط کردیتا ہے جو یا تو اللہ کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور یا نافرمان ہوتے ہیں ۔ وہ ان کی قوت کو توڑ کر انہیں اس اقتدار اعلی سے محروم کردیتے ہیں جس پر ان کو متمکن کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد اللہ کچھ نئے لوگوں کو تمکین فی الارض عطا کرتا ہے تاکہ اب ان کی آزمائش کا دور شروع ہو ۔ یوں سنت الہیہ کا دور چلتا ہے اور دنیا میں نیک بخت اقوام وہ ہوتی ہیں جو سنت الہیہ کا ادراک رکھتی ہیں ۔ جو یہ سمجھتی ہیں کہ یہ ایک آزمائش ہے ۔ وہ اللہ کے عہد کا پاس رکھتی ہیں ۔ بدبخت اقوام دہ ہوتی جو اس حقیقت سے غافل ہوتی ہیں اور یہ گمان کرنے لگتی ہیں کہ یہ اقتدار انہیں خود ان کے علم و کمال کی وجہ سے ملا ہے یا کسی حیلے اور تدبیر سے ملا یا اتفاقا بغیر کسی منصوبے کے انہیں مل گیا ہے ۔ لوگوں کو یہ امر دھوکے میں ڈالتا ہے کہ وہ ایک باغی و سرکش ‘ ایک بدکار اور مفسد اور ایک ملحد اور کافر کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس کرہ ارض پر مقتدر اعلی ہے اور اس پر اللہ کی جانب سے کوئی مواخذہ نہیں ہو رہا ہے ۔ وہ مایوس ہوجاتے ہیں ‘ لیکن ایسے لوگ جلد بازی سے کام لیتے ہیں ۔ وہ راستہ کا ابتدائی حصہ دیکھتے ہیں ‘ درمیانی حصہ بھی دیکھتے ہیں لیکن ان کی جب ایسے سرکشوں پر اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ نیست ونابود ہوجاتے ہیں اور انکے بارے میں محض قصے اور کہانیاں ہی رہ جاتی ہیں ‘ تب حقیقت نظر آتی ہے ۔ قرآن کریم ایسے لوگوں کے ہونے والے انجام کے کچھ مظاہر پیش کرتا ہے تاکہ ایسے غافل سرکشوں کو ہوش آجائے ‘ کیونکہ ایسے لوگ اپنے انفرادی حالات میں اس قدر مست ہوتے ہیں کہ انہیں منزل مقصود اور اپنا آخری انجام نظر نہیں آتا ۔ یہ لوگ بس اس مختصر زندگی کو دیکھ سکتے ہیں اور اسے ہی آخری منزل سمجھتے ہیں ۔ قرآن کریم کی یہ آیت (فاھلکنھم بذنوبھم (6 : 6) اور اس جیسی دوسری آیات بار بار دہرائی گئی ہیں ۔ ایسی آیات میں اللہ کی ایک ناقابل تبدیل سنت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور ان میں اسلام کے نظریہ تاریخ کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے ۔ ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ سنت الہیہ یہ ہے کہ بدکار لوگوں کو آخر کار ان کی اس بدکاری کی وجہ سے ہلاک اور برباد کردیا جاتا ہے ۔ ان پر یہ ہلاکت اور بربادی اللہ کی جانب سے آتی ہے اور یہ سنت اس کائنات میں ہمیشہ کے لئے جاری وساری ہے ۔ اگرچہ ایک فرد اپنی مختصر زندگی میں اسے نہ سمجھ سکے ۔ یا ایک محدود اور متعین نسل کی زندگی میں یہ ہلاکت نہ آئے ۔ لیکن یہ ایک ایسی سنت الہیہ ہے کہ جب کسی قوم میں جرائم اور بدکاریاں بہت زیادہ ہوجاتی ہیں اور پوری زندگی کا نظام بدکاری اور جرائم پر قائم ہو ‘ تو پھر اللہ کی جانب سے عذاب ضرور آتا ہے ۔ اسلام کا نظریہ تاریخ یہ ہے کہ اقوام کے عروج وزوال میں اصل اور موثر عالم (FActor) یہ ہوتا ہے کہ ان کے جسم میں جب بدکاری اور جرائم سرایت کر جاتی ہیں تو یہ تباہی اور بربادی کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ یہ تباہی یا تو آفات سماویہ کے ذریعے سے ہوتی ہے جیسا کہ قدیم تاریخ میں یہ واقعات رونما ہوئے یا نہایت ہی تدریجی تباہی کے ذریعے طبعی طور پر ‘ جس طرح کسی جسم پر عارضی طور پر زوال آتا ہے جب وہ بدکاری اور جرائم میں کانوں تک ڈوب جاتے ۔ انسان کی جدید تاریخ میں ہمارے سامنے اس زوال کی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں اقوام پر اخلاقی بےراہ روی ‘ بدکرداری اور فحاشی ‘ عیاشی اور اسراف اور لہو ولعب کی وجہ سے تباہی آئی ۔ مثلا یونان کی تباہی کے یہی عوامل تھے ۔ اس کے بعد رومیوں کی تباہی اور زوال کے یہی اسباب تھے ۔ یہ اقوام اپنے عروج کے باوجود اس طرح مٹ گئیں کہ اب انکے صرف قصے کہانیاں ہی رہ گئیں ۔ جدید ترقی یافتہ اقوام کے اندر بھی اس عظیم تباہی اور زوال کے اسباب نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں مثلا فرانس اور برطانیہ کا زوال شروع ہوچکا ہے حالانکہ مادی جنگی اور تکنیکی قوت کے اعتبار سے وہ عروج پر ہیں اور نہایت ہی ترقی یافتہ اور دولتمند ہیں ۔ تاریخ کی مادی تفسیر لکھنے والوں اور اقوام کے عروج وزوال کی داستانیں لکھنے والوں کی نظر سے تاریخ کا یہ اخلاقی پہلو غائب ہے ‘ اس لئے کہ مادی نقطہ نظر رکھنے والے کی گناہوں سے شروع ہی سے اخلاقی عناصر اوجھل رہتے ہیں ۔ اصل الاصول یعنی سنت الہیہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے ۔ جو لوگ تاریخ کی تفسیر اور اس پر تبصرہ صرف مادی نقطہ نظر سے کرتے ہیں اور اقوام کے عروج وزوال کے سلسے میں نہایت ہی مضحکہ خیز باتیں کرتے ہیں ۔ حالانکہ اقوام کے عروج وزوال کے بعد واقعات کی معقول تفسیر صرف اعتقادی اور اخلاقی زاوے ہی سے کی جاسکتی ہے ۔ اسلام کا تاریخی نقطہ نظر نہایت جامع ‘ حقیقت پسندانہ اور سچا ہے اور وہ اپنی اس جامعیت کی وجہ سے مادی عنصر کو اسلامی نقطہ نظر کا تعلق ہے ‘ وہ زوال اقوام میں مادی زوال کو بھی اہمیت دیتا ہے ۔ تاہم اسلام دوسرے عوامل کو بھی لیتا ہے جن کا انکار صرف معاندین ہی کرتے ہیں ۔ اسلام نے سب سے پہلے اللہ کی سنت اور اللہ کی تقدیر کو اصل عامل قرار دیتا ہے ۔ پھر انسان کے داخلی شعور ‘ جذبات اور تصورات اور نظریات کو اس کا سبب قرار دیتا ہے ۔ تاہم اسلام دوسرے عوامل کو بھی لیتا ہے جن کا انکار صرف معاندین ہی کرتے ہیں ۔ اسلام نے سب سے پہلے اللہ کی سنت اور اللہ کی تقدیر کو اصل عامل قرار دیتا ہے ۔ پھر انسان کے داخلی شعور ‘ جذبات اور تصورات اور نظریات کو اس کا سبب قرار دیتا ہے ۔ اس کے بعد اسلام لوگوں کی عام اخلاقی اور عملی زندگی کو بھی اس میں اہمیت دیتا ہے اور وہ ان اسباب وعلل میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کرتا جو کسی قوم کے عروج وزوال کا سبب بنتی ہیں۔ (تفیصلات کے لئے دیکھئے الا سلام ومشکلات الحضارۃ ۔ النطور والنبات فی حیات البیرہ ۔ خصائص التصور الاسلامی وھو مائہ التصویر الفنی فی القرآن) اب اگلی آیات میں ان لوگوں کے اس عناد کی تصویر کشی کی جاتی ہے ‘ جس کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہوتی ہے ۔ اس تصویر کشی میں انسانوں کی ایک عجیب قسم پیش کی جاتی ہے ۔ انسانوں کی یہ قسم صرف ماضی یا کسی ایک زمانے تک محدود نہیں ہے ‘ اس قسم کے لوگ تاریخ میں بار بار دہرائے جاتے ہیں ۔ ہر زمانے میں ہر جگہ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ ہر نسل اور ہر خاندان میں نمونے موجود ہوتے ہیں ۔ یہ ہٹ دھرم قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ سچائی ان کی آنکھوں کو پھاڑتی ہے لیکن یہ اسے دیکھ نہیں پاتے ۔ یہ لوگ ایسے امور کا بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ انکار کرتے ہیں جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسے امور جو اس قدر واضح ہوتے ہیں کہ ان کے انکار کی وجہ سے منکر کو کم از کم شرم آتی ہے ۔ قرآن کریم اس قسم کے نمونے کا بڑی وضاحت سے ذکر کرتا ہے ۔ مختصر کلمات میں عجیب انداز میں جو انوکھا بھی ہے اور معجزانہ بھی ہے جس طرح قرآن کریم کا انداز تعبیر بالعموم اعجاز کا حامل ہوتا ہے ۔

الأنعام 6:6

(آیت) ” نمبر 4 تا 6۔ ان لوگوں نے عناد اور باطل پہ اصرار کرنے کے موقف کو اپنایا ‘ حالانکہ ایسے دلائل اور نشانیوں کی کمی نہ تھی جن کو دیکھ کر وہ ایمان لاتے اور نہ ایسے دلائل اور نشانات کی کمی تھی جن سے معلوم ہوتا کہ پیغمبروں کی دعوت نہایت ہی سچی دعوت ہے ‘ نہ یہ بات تھی کہ اس دعوت اور داعی کی سچائی پہ دلائل کی کوئی کمی تھی ۔ وجود باری پر دلائل وبراہین بھی موجود تھے ۔ غرض ان چیزوں کی ان کے ہاں کوئی کمی نہ تھی بلکہ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ وہ مان کر نہ دیتے تھے ۔ وہ باطل پر مصر تھے ‘ تحریک سے عناد رکھتے تھے اور اس روگردانی کی وجہ ان کے لئے اس دین اور تحریک میں غور وفکر کرنے کے مواقع جاتے رہے ۔ (آیت) ” وَمَا تَأْتِیْہِم مِّنْ آیَۃٍ مِّنْ آیَاتِ رَبِّہِمْ إِلاَّ کَانُواْ عَنْہَا مُعْرِضِیْنَ (4) ” لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں ہے جو ان کے سامنے آئی ہو ‘ اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو۔ “ جب صورت حالات یہ ہوجائے کہ لوگ جان بوجھ کر حق سے روگردانی اختیار کریں ‘ جب کہ ان کے پاس آیات و دلائل موجود ہوں ‘ حقائق ان پر روز روشن کی طرح واضح ہوچکے ہوں تو پھر بعض اوقات ڈر اوا اور تہدید ان کی آنکھیں کھول دیتی ہے ۔ ایک جھٹکے سے آنکھ کھل جاتی ہے اور فطرت کے دریچے کھل جاتے ہیں ‘ بشرطیکہ غرور اور عناد کے پردے حائل نہ ہوں ۔ (آیت) ” فَقَدْ کَذَّبُواْ بِالْحَقِّ لَمَّا جَاء ہُمْ فَسَوْفَ یَأْتِیْہِمْ أَنبَاء مَا کَانُواْ بِہِ یَسْتَہْزِئُونَ (5) ” چناچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا ۔ اچھا ‘ جس چیز کا وہ اب تک مذاق اڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ چیزیں انہیں پہنچیں گی ۔ “ زمین وآسمانوں کے خالق کی طرف سے جو ہدایت آئی وہ سچائی تھی ۔ روشنی اور تاریکی پیدا کرنے والے کی طرف سے سچائی تھی ‘ جس نے انسان کو کیچڑ سے پیدا کیا ۔ جو آسمانوں کا بھی حاکم ہے اور زمین کا بھی حاکم ہے جو ان کے کھلے اور پوشیدہ سب امور سے واقف ہے ۔ وہ جو کچھ بھی کماتے ہیں ان سے واقف ہے ۔ وہ سچائی ہے اور انہوں نے سچائی کو جھٹلایا ہے ۔ اب وہ اس تکذیب پر اصرار کر رہے ہیں ‘ آیات الہی سے روگردانی کرتے ہیں ‘ دعوت اسلامی کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ لہذا انہیں چاہئے کہ وہ اب اس بات کے انجام اور آخری خبر کا انتظار کریں۔ اب یہ ایک نہایت ہی اجمالی تہدید اور ڈراوا ہے جس کی نہ تفصیلات دی گئی ہیں اور نہ اس انجام بد کا کوئی وقت مقرر کیا گیا ہے ۔ انہیں صرف یہ تاثر دیا گیا ہے کہ وہ ہر وقت اس انجام کا انتظار کریں ۔ ان پر عذاب الہی کس بھی وقت آسکتا ہے ۔ ان پر سچائی کھل جائے گی اور وہ اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھ لیں گے ۔ اس تہدید اور ڈراوے کے مقام پر انہیں یاد دلایا جاتا ہے ‘ انہیں متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھیں اور ذرا نگاہ ڈالیں کہ انسانی تاریخ میں جھٹلانے والوں کا انجام کیا رہا ہے ؟ ان میں سے بعض لوگوں کے انجام سے وہ واقف بھی تھے ۔ احقاف میں قوم عاد کا جو انجام ہوا اور حجر میں قوم ثمود کا جو انجام ہوا ‘ اس کی داستانیں ان کے ہاں مشہور تھیں ۔ جب عرب گرمیوں میں شمال کی طرف جاتے اور سردیوں میں جنوب کی طرف سفر کرتے تو ان اقوام کے کھنڈرات کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ۔ قوم لوط پر جہاں تباہی آئی وہ مقامات بھی انہیں معلوم تھے اور ان کے اردگرد رہنے والے لوگ ان مقامات سے واقف تھے لہذا یہاں ان کی توجہ ان حقائق کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے ۔ (آیت) ” أَلَمْ یَرَوْاْ کَمْ أَہْلَکْنَا مِن قَبْلِہِم مِّن قَرْنٍ مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الأَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّن لَّکُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاء عَلَیْْہِم مِّدْرَاراً وَجَعَلْنَا الأَنْہَارَ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمْ فَأَہْلَکْنَاہُم بِذُنُوبِہِمْ وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِہِمْ قَرْناً آخَرِیْنَ (6) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے زمانے میں دور دورہ رہا ہے ؟ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا جو تمہیں نہیں بخشا ‘ ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں (مگر انہوں نے کفران نعمت کیا) تو آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا ۔ “ کیا یہ لوگ گزری ہوئی اقوام کے انجام بد سے عبرت نہیں لیتے ؟ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو اس کرہ ارض پر بہت ہی بڑا قتدار عطا کیا تھا ۔ انہیں قوت اور سلطنت کے اسباب فراہم کئے تھے ۔ اور وہ اس قدر ترقی یافتہ اور قوی تھی کہ قرآن کے مخاطبین اہل قریش اور ان کے درمیان کوئی مماثلت ہی نہ تھی ان پر پے در پے بارشیں ہوتی تھیں ‘ ان کی سرزمین تروتازہ تھی اور ہر قسم کی پیداوار کی فراوانی تھی ۔ پھر کیا ہوا ؟ انہوں نے اپنے رب کی نافرمانی شروع کردی ۔ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑا ۔ ان کو تباہ کر کے ان کی جگہ دوسری اقوام کو منصہ شہود پر لایا گیا اور زمین کا اقتدار ان کے حوالے کردیا گیا ۔ اس زمین نے جانے والوں پر کوئی ماتم نہ کیا اس لئے کہ زمین کے وارث اب دوسرے لوگ تھے ۔ ذرادیکھئے کہ ان مکذبین اور روگردانی کرنے والوں کی حیثیت ہی کیا رہی ہے ۔ اللہ کے ہاں وہ کس قدر ہلکے ہیں اور اس زمین پر وہ کس قدر ہلکے ہیں ۔ وہ ہلاک کردیئے گئے ‘ نیست ونابود ہوگئے اور اس زمین کو کوئی احساس ہی نہ ہوا ۔ اور نہ یہ زمین خالی رہ گئی ‘ اس خلا کو دوسری اقوام نے پر کردیا اور یہ زمین اس طرح گردش کرتی رہی کہ گویا یہ مٹنے والی اقوام کبھی اس پر بسی ہی نہ تھیں اور زندگی اس طرح چلتی رہی کہ گویا سابقہ لوگ کبھی زندہ ہی نہ تھے ۔ جب اللہ کسی کو اس کرہ ارض پر تمکن عطا کرتا ہے تو صاحبان اقتدار سب سے پہلے اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ یہ اقتدار انہیں اللہ کی مرضی سے نصیب ہوا ہے اور یہ ان کے لئے ایک بڑی آزمائش ہے ۔ آزمائش یہ کہ آیا وہ اس اقتدار کو اللہ کے عہد اور شرط کے مطابق استعمال کرتے ہیں اور اس میں وہ صرف اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور صرف اسی سے ہدایات لیتے ہیں اس لئے کہ وہی تو اس اقتدار کا اصل مالک ہے اور انسان تو اس کا خلیفہ ہے یا وہ اپنے آپ کو طاغوت کا منصب دیتے ہیں اور اپنے لئے اللہ کے اختیارات حاصل کرتے ہیں اور وہ ان اختیارات کو بطور خلیفہ استعمال نہیں کرتے بلکہ بطور مالک خود مختار استعمال کرتے ہیں ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے انسان بھول جاتے ہیں ‘ الا یہ کہ کوئی اللہ کی جانب سے محفوظ کردیا گیا ہو ۔ جب انسان اس حقیقت کو بھول جائیں تو وہ اللہ کے عہد اور اس کے خلیفہ فی الارض ہونے کی شرائط سے صرف نظر کرنے لگتے ہیں اور سنت الہیہ کے خلاف جاتے ہیں ۔ پہلے پہل انہیں احساس نہیں ہوتا کہ اس انحراف کے نتائج کیا ہوں گے ‘ چناچہ ان کے اندر آہستہ آہستہ فساد رونما ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔ انہیں اس کا شعور بالکل نہیں ہوتا ‘ یہاں تک کہ وقت مقررہ تک وہ پہنچ جاتے ہیں اور اللہ کا وعدہ آجاتا ہے ۔ ان کے انجام پھر مختلف ہوتے ہیں ‘ بعض اوقات ان پر ایسا عذاب آتا ہے کہ انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے ۔ یہ عذاب کبھی آسمان سے آتا ہے اور کبھی نیچے زمین سے آتا ہے ۔ دنیا کی کئی اقوام کو اس عذاب کے ذریعے تباہ کیا گیا اور بعض اوقات یہ عذاب قحط سالی اور خشک سالی کی صورت میں آتا ہے ۔ پھل اور پیداوار ختم ہوجاتے ہیں اور لوگ بھوکے مرنے لگتے ہیں ۔ کئی اقوام عالم اس عذاب سے دو چار ہوئیں ۔ بعض اوقات وہ ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے ہیں اور ہر ایک دوسرے کے لئے عذاب بن جاتا ہے بعض دوسروں کو مبتلائے عذاب کرتے ہیں ‘ بعض اقوام دوسروں کو نیست ونابود کردیتی ہیں ۔ بعض دوسروں کو اذیت دیتی ہیں اور کئی دوسروں کو امن نہیں دیتے ۔ اس طرح انکی قوت اور شوکت ختم ہوجاتی ہے ‘ اور اللہ ان پر پھر اپنے دوسرے بندوں کو مسلط کردیتا ہے جو یا تو اللہ کے فرمانبردار ہوتے ہیں اور یا نافرمان ہوتے ہیں ۔ وہ ان کی قوت کو توڑ کر انہیں اس اقتدار اعلی سے محروم کردیتے ہیں جس پر ان کو متمکن کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد اللہ کچھ نئے لوگوں کو تمکین فی الارض عطا کرتا ہے تاکہ اب ان کی آزمائش کا دور شروع ہو ۔ یوں سنت الہیہ کا دور چلتا ہے اور دنیا میں نیک بخت اقوام وہ ہوتی ہیں جو سنت الہیہ کا ادراک رکھتی ہیں ۔ جو یہ سمجھتی ہیں کہ یہ ایک آزمائش ہے ۔ وہ اللہ کے عہد کا پاس رکھتی ہیں ۔ بدبخت اقوام دہ ہوتی جو اس حقیقت سے غافل ہوتی ہیں اور یہ گمان کرنے لگتی ہیں کہ یہ اقتدار انہیں خود ان کے علم و کمال کی وجہ سے ملا ہے یا کسی حیلے اور تدبیر سے ملا یا اتفاقا بغیر کسی منصوبے کے انہیں مل گیا ہے ۔ لوگوں کو یہ امر دھوکے میں ڈالتا ہے کہ وہ ایک باغی و سرکش ‘ ایک بدکار اور مفسد اور ایک ملحد اور کافر کو دیکھتے ہیں کہ وہ اس کرہ ارض پر مقتدر اعلی ہے اور اس پر اللہ کی جانب سے کوئی مواخذہ نہیں ہو رہا ہے ۔ وہ مایوس ہوجاتے ہیں ‘ لیکن ایسے لوگ جلد بازی سے کام لیتے ہیں ۔ وہ راستہ کا ابتدائی حصہ دیکھتے ہیں ‘ درمیانی حصہ بھی دیکھتے ہیں لیکن ان کی جب ایسے سرکشوں پر اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ نیست ونابود ہوجاتے ہیں اور انکے بارے میں محض قصے اور کہانیاں ہی رہ جاتی ہیں ‘ تب حقیقت نظر آتی ہے ۔ قرآن کریم ایسے لوگوں کے ہونے والے انجام کے کچھ مظاہر پیش کرتا ہے تاکہ ایسے غافل سرکشوں کو ہوش آجائے ‘ کیونکہ ایسے لوگ اپنے انفرادی حالات میں اس قدر مست ہوتے ہیں کہ انہیں منزل مقصود اور اپنا آخری انجام نظر نہیں آتا ۔ یہ لوگ بس اس مختصر زندگی کو دیکھ سکتے ہیں اور اسے ہی آخری منزل سمجھتے ہیں ۔ قرآن کریم کی یہ آیت (فاھلکنھم بذنوبھم (6 : 6) اور اس جیسی دوسری آیات بار بار دہرائی گئی ہیں ۔ ایسی آیات میں اللہ کی ایک ناقابل تبدیل سنت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور ان میں اسلام کے نظریہ تاریخ کو بڑی وضاحت سے بیان کیا گیا ہے ۔ ان آیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ سنت الہیہ یہ ہے کہ بدکار لوگوں کو آخر کار ان کی اس بدکاری کی وجہ سے ہلاک اور برباد کردیا جاتا ہے ۔ ان پر یہ ہلاکت اور بربادی اللہ کی جانب سے آتی ہے اور یہ سنت اس کائنات میں ہمیشہ کے لئے جاری وساری ہے ۔ اگرچہ ایک فرد اپنی مختصر زندگی میں اسے نہ سمجھ سکے ۔ یا ایک محدود اور متعین نسل کی زندگی میں یہ ہلاکت نہ آئے ۔ لیکن یہ ایک ایسی سنت الہیہ ہے کہ جب کسی قوم میں جرائم اور بدکاریاں بہت زیادہ ہوجاتی ہیں اور پوری زندگی کا نظام بدکاری اور جرائم پر قائم ہو ‘ تو پھر اللہ کی جانب سے عذاب ضرور آتا ہے ۔ اسلام کا نظریہ تاریخ یہ ہے کہ اقوام کے عروج وزوال میں اصل اور موثر عالم (FActor) یہ ہوتا ہے کہ ان کے جسم میں جب بدکاری اور جرائم سرایت کر جاتی ہیں تو یہ تباہی اور بربادی کا شکار ہوجاتی ہیں ۔ یہ تباہی یا تو آفات سماویہ کے ذریعے سے ہوتی ہے جیسا کہ قدیم تاریخ میں یہ واقعات رونما ہوئے یا نہایت ہی تدریجی تباہی کے ذریعے طبعی طور پر ‘ جس طرح کسی جسم پر عارضی طور پر زوال آتا ہے جب وہ بدکاری اور جرائم میں کانوں تک ڈوب جاتے ۔ انسان کی جدید تاریخ میں ہمارے سامنے اس زوال کی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں اقوام پر اخلاقی بےراہ روی ‘ بدکرداری اور فحاشی ‘ عیاشی اور اسراف اور لہو ولعب کی وجہ سے تباہی آئی ۔ مثلا یونان کی تباہی کے یہی عوامل تھے ۔ اس کے بعد رومیوں کی تباہی اور زوال کے یہی اسباب تھے ۔ یہ اقوام اپنے عروج کے باوجود اس طرح مٹ گئیں کہ اب انکے صرف قصے کہانیاں ہی رہ گئیں ۔ جدید ترقی یافتہ اقوام کے اندر بھی اس عظیم تباہی اور زوال کے اسباب نمودار ہونا شروع ہوگئے ہیں مثلا فرانس اور برطانیہ کا زوال شروع ہوچکا ہے حالانکہ مادی جنگی اور تکنیکی قوت کے اعتبار سے وہ عروج پر ہیں اور نہایت ہی ترقی یافتہ اور دولتمند ہیں ۔ تاریخ کی مادی تفسیر لکھنے والوں اور اقوام کے عروج وزوال کی داستانیں لکھنے والوں کی نظر سے تاریخ کا یہ اخلاقی پہلو غائب ہے ‘ اس لئے کہ مادی نقطہ نظر رکھنے والے کی گناہوں سے شروع ہی سے اخلاقی عناصر اوجھل رہتے ہیں ۔ اصل الاصول یعنی سنت الہیہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوتی ہے ۔ جو لوگ تاریخ کی تفسیر اور اس پر تبصرہ صرف مادی نقطہ نظر سے کرتے ہیں اور اقوام کے عروج وزوال کے سلسے میں نہایت ہی مضحکہ خیز باتیں کرتے ہیں ۔ حالانکہ اقوام کے عروج وزوال کے بعد واقعات کی معقول تفسیر صرف اعتقادی اور اخلاقی زاوے ہی سے کی جاسکتی ہے ۔ اسلام کا تاریخی نقطہ نظر نہایت جامع ‘ حقیقت پسندانہ اور سچا ہے اور وہ اپنی اس جامعیت کی وجہ سے مادی عنصر کو اسلامی نقطہ نظر کا تعلق ہے ‘ وہ زوال اقوام میں مادی زوال کو بھی اہمیت دیتا ہے ۔ تاہم اسلام دوسرے عوامل کو بھی لیتا ہے جن کا انکار صرف معاندین ہی کرتے ہیں ۔ اسلام نے سب سے پہلے اللہ کی سنت اور اللہ کی تقدیر کو اصل عامل قرار دیتا ہے ۔ پھر انسان کے داخلی شعور ‘ جذبات اور تصورات اور نظریات کو اس کا سبب قرار دیتا ہے ۔ تاہم اسلام دوسرے عوامل کو بھی لیتا ہے جن کا انکار صرف معاندین ہی کرتے ہیں ۔ اسلام نے سب سے پہلے اللہ کی سنت اور اللہ کی تقدیر کو اصل عامل قرار دیتا ہے ۔ پھر انسان کے داخلی شعور ‘ جذبات اور تصورات اور نظریات کو اس کا سبب قرار دیتا ہے ۔ اس کے بعد اسلام لوگوں کی عام اخلاقی اور عملی زندگی کو بھی اس میں اہمیت دیتا ہے اور وہ ان اسباب وعلل میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کرتا جو کسی قوم کے عروج وزوال کا سبب بنتی ہیں۔ (تفیصلات کے لئے دیکھئے الا سلام ومشکلات الحضارۃ ۔ النطور والنبات فی حیات البیرہ ۔ خصائص التصور الاسلامی وھو مائہ التصویر الفنی فی القرآن) اب اگلی آیات میں ان لوگوں کے اس عناد کی تصویر کشی کی جاتی ہے ‘ جس کی وجہ سے یہ بیماری لاحق ہوتی ہے ۔ اس تصویر کشی میں انسانوں کی ایک عجیب قسم پیش کی جاتی ہے ۔ انسانوں کی یہ قسم صرف ماضی یا کسی ایک زمانے تک محدود نہیں ہے ‘ اس قسم کے لوگ تاریخ میں بار بار دہرائے جاتے ہیں ۔ ہر زمانے میں ہر جگہ ایسے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ ہر نسل اور ہر خاندان میں نمونے موجود ہوتے ہیں ۔ یہ ہٹ دھرم قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ سچائی ان کی آنکھوں کو پھاڑتی ہے لیکن یہ اسے دیکھ نہیں پاتے ۔ یہ لوگ ایسے امور کا بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ انکار کرتے ہیں جن کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسے امور جو اس قدر واضح ہوتے ہیں کہ ان کے انکار کی وجہ سے منکر کو کم از کم شرم آتی ہے ۔ قرآن کریم اس قسم کے نمونے کا بڑی وضاحت سے ذکر کرتا ہے ۔ مختصر کلمات میں عجیب انداز میں جو انوکھا بھی ہے اور معجزانہ بھی ہے جس طرح قرآن کریم کا انداز تعبیر بالعموم اعجاز کا حامل ہوتا ہے ۔

الأنعام 6:7

(آیت) ” نمبر 7۔ یہ لوگ آیات الٰہی کا انکار اس لئے نہیں کرتے کہ ان آیات کی صداقت کی دلیل میں کوئی کمزوری ہے یا اس کے ادراک میں کوئی پیچیدگی ہے یا یہ کہ مختلف دماغ اس کے بارے میں ایک طرح نہیں سوچتے بلکہ وہ ہٹ دھرمی اور مکابرہ کی وجہ سے اور کھلے عناد کی وجہ سے انکار کرتے ہیں ۔ انہوں نے دلیل وبرہان پر غور کرنے سے پہلے ہی اس حقیقت کے انکار کی ٹھان لی ہے ۔ اگر نزول قرآن کی صورت یہ ہوتی کہ وہ آسمان سے پرچوں کی شکل میں اترتا اور وہ اپنے ہاتھوں سے اسے چھوتے اور آنکھوں سے دیکھتے اور یہ نہ ہوتا کہ بذریعہ وحی حضور ﷺ پر آتا اور آپ اسے سناتے تو اس صورت میں بھی وہ اس محسوس اور مشاہد حقیقت کے بارے میں یوں کہتے : (آیت) ’‘’ ان ھذا لا سحر مبین (6 : 7) ” یہ تو صریح جادو ہے ۔ “ یہ ان لوگوں کی ایسی مکروہ تصویر ہے کہ انسانی فطرت کو اس سے گھن آتی ہے ۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جسے دیکھتے ہی ہر انسان ان کے مٹانے کے لئے آگے بڑھتا ہے ‘ اس لئے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ بحث و تکرار اور دلیل و استدلال کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی ۔ اس انداز میں اس تصویر کشی کے دو فائدے ہیں بلکہ کئی فائدے ہیں (تصویر کشی کا یہ انداز اس طرح ہے کہ قرآن کریم عام طور پر دیکھے جانے والے نمونے کو سامنے لاتا ہے) ایک تو یہ فائدہ ہے کہ قرآن کریم خود ان لوگوں کے سامنے ان کا یہ کریہہ اور ناپسندیدہ موقف پیش کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ وہ دیکھیں تو سہی ان کی تصویر کس قدر بھدی ہے ۔ مثلا کوئی کسی کریہہ المنظر شخص کے ہاتھ میں آئینہ پکڑا دے اور کہہ دے کہ دیکھو یہ ہو تم ۔ اور وہ شخص اپنی شکل دیکھ کر شرمندہ ہوجائے ۔ اس کے ساتھ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس تصویر کشی کے ذریعہ اہل اہل ایمان کے دلوں میں جوش پیدا ہوجاتا ہے اور وہ مشرکین کے مقاصد کو ناکام بنا دیتے ہیں وہ منکرین کے انکار کا مقابلہ کرتے ہیں اور خود ان کے دل حق پر جم جاتے ہیں ۔ وہ اس فضا سے متاثر نہیں ہوتے جس میں ہر طرف سے انکار ‘ استہزاء فتنہ اور ایذا ہوتی ہے ۔ اس سے یہ بتانا بھی مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ نہایت حلیم ہے اور وہ ان جھٹلانے والوں اور تکذیب کرنے والوں کو جلدی نہیں پکڑتا حالانکہ وہ بہت قابل نفرت انداز میں انکار کرتے ہیں اور کھلے عناد میں مبتلا ہیں ۔ یہ تمام امور جماعت مسلمہ اور مشرکین کے درمیان برپا کشمکش میں مسلمانوں کے لئے اسلحہ اور زاد راہ ہیں ۔ اس کے بعد قرآن مجید اہل شرک کی جانب سے آنے والی بعض تجاویز کو ان کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بغض وعناد میں کس قدر عیار ہیں اور ان کی سوچ کس قدر پوچ ہے ۔ تجویز یہ لاتے ہیں کہ اگر حضرت محمد ﷺ رسول برحق ہیں تو آپ کے ساتھ تبلیغ کے وقت ایک فرشتہ ہو جو ساتھ ساتھ آپ کی تصدیق کرتا جائے ۔ اس تجویز کے ذکر کے بعد اس پر تنقید بھی کی جاگی ہے کہ اس میں کیا نقص ہے ؟ ایک تو یہ کہ یہ لوگ ملائکہ کی ماہیت سے بھی واقف نہیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ فرشتوں کو بھیجنے کے سلسلے میں اللہ کی جو سنت ہے اس سے بھی یہ لوگ واقف نہیں ہیں ۔ پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ اللہ کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ وہ فرشتے نہیں بھیج رہا ہے اور ان کی تجویز کو تسلیم نہیں کرتا۔

الأنعام 6:8

(آیت) ” نمبر 8 تا 9 ۔ یہ تجویز مشرکین کی طرف سے تھی اور ان مشرکین سے پہلے بھی کئی اقوام نے یہ تجویز پیش کی ۔ ہر قوم نے اپنے رسول سے نزول فرشتگان کا مطالبہ کیا ۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے ایسے مطالبے پیش کئے ہیں اور یہاں اس تجویز کو دلائل کے ساتھ رد کردی جاتا ہے ۔ اس تجویز کے بارے میں ‘ مناسب ہے ہم تمام حقائق یہاں پیش کردیں حتی الامکان ۔ اس کے متعلق پہلی حقیقت یہ ہے کہ مشرکین عرب اللہ کا انکار نہ کرتے تھے بلکہ وہ اس بارے میں ایک بین دلیل طلب کرتے تھے سے معلوم ہوجائے کہ حضور ﷺ نبی مرسل ہیں اور آپ جو کتب ان کے سامنے پڑھتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے ۔ اس سلسلے میں دوسری تجاویز دیتے تھے ۔ یہ تجاویز قرآن کریم نے متعدد مقامات پر ذکر فرمائی ہیں ۔ مثلا سورة اسراء میں یہ تجاویز مذکور ہیں ۔ اس میں اس تجویز کے ساتھ ساتھ دوسری تجاویز بھی دی گئی ہیں جن سے ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور عناد کا اظہار ہوتا ہے ۔ عناد کے علاوہ ان کی کج فہمی پر بھی خود ان کی تجویز دلیل بین ہے ۔ اس لئے کہ یہ لوگ نہ اس نظام کائنات کو اچھی طرح سمجھے ہیں اور نہ حقیقی اقدار کو سمجھتے ہیں ۔ سورة اسراء میں آتا ہے ۔ (آیت) ” وَقَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَکَ حَتَّی تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الأَرْضِ یَنبُوعاً (90) أَوْ تَکُونَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّن نَّخِیْلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الأَنْہَارَ خِلالَہَا تَفْجِیْراً (91) أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاء کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْْنَا کِسَفاً أَوْ تَأْتِیَ بِاللّہِ وَالْمَلآئِکَۃِ قَبِیْلاً (92) أَوْ یَکُونَ لَکَ بَیْْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَی فِیْ السَّمَاء وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتَّی تُنَزِّلَ عَلَیْْنَا کِتَاباً نَّقْرَؤُہُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنتُ إَلاَّ بَشَراً رَّسُولاً (93) وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن یُؤْمِنُواْ إِذْ جَاء ہُمُ الْہُدَی إِلاَّ أَن قَالُواْ أَبَعَثَ اللّہُ بَشَراً رَّسُولاً (94) قُل لَّوْ کَانَ فِیْ الأَرْضِ مَلآئِکَۃٌ یَمْشُونَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْْہِم مِّنَ السَّمَاء ِ مَلَکاً رَّسُولاً (95) ” اور انہوں نے کہا ” ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے ۔ یا تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے ۔ یا تو آسمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعوی ہے یا خدا اور فرشتوں کو رو در رو ہمارے سامنے لے آئے ۔ یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں ۔۔۔۔۔ اے نبی ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار ‘ کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے ان کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر ان کے اسی قول نے کہ ” کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا ۔ ان سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہیں تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لئے بنا کر بھیجتے ۔ یہ تجاویز اور مطالبے ایسے ہیں کہ ان سے ایک طرف ان کی ہٹ دھرمی کا اظہار ہوتا اور دوسری جانب ان کی جہالت کا ۔ اس لئے کہ ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی کتاب اخلاق کھلی تھی ‘ وہ طویل تیرن تجربے سے آپ کو اچھی طرح جانتے تھے اور آپ کے اخلاق سے ان کو معلوم تھا کہ آپ سچے اور امین ہیں اور ان ہی لوگوں نے ان کو امین کا لقب دیا ہوا تھا ۔ آپ کے ساتھ انکے شدید نظریاتی اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی یہ لوگ اپنی امانتیں حضور ﷺ کے پاس رکھتے تھے ۔ جب آپ نے ہجرت فرمائی تو آپ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی ؓ کو امانتیں ادا کردیں جو ابھی تک آپ کی تحویل میں تھیں ۔ لیکن ان کو ان کے ساتھ اس قدر اختلاف تھا کہ ہو لوگ آپ ﷺ کے قتل کے تدابیر کر رہے تھے ۔ آپ کی امانت ودیانت جس طرح مسلم تھی اسی طرح آپ کی سچائی بھی مسلم تھی اس لئے کہ جب آپ نے سب سے پہلے کوہ صفا پر انہیں علی الاعلان دعوت دی ۔ یہ اس وقت ہوا جب اللہ کا حکم آگیا کہ آپ علی الاعلان دعوت کا آغاز کردیں ۔ اس موقعہ پر آپ نے ان سے سوال کیا کہ اگر میں آپ لوگوں کو کوئی اہم خبر دوں تو آپ لوگ تصدیق کردیں گے ؟ تو سب نے مل کر جواب دیا کہ آپ تو نہایت ہی سچے آدمی ہیں ۔ اگر یہ لوگ صرف یہ جاننا چاہتے کہ آپ سچے ہیں یا نہیں تو آپ کے ماضی ہیں ان کے لئے دلیل وبرہان تھی ۔ وہ جانتے تھے کہ آپ تو نہایت ہی سچے آدمی ہیں ۔ اسی سورة میں یہ مضمون آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ اللہ کو جھٹلاتے ہیں ۔ (آیت) ” قَدْ نَعْلَمُ إِنَّہُ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُولُونَ فَإِنَّہُمْ لاَ یُکَذِّبُونَکَ وَلَکِنَّ الظَّالِمِیْنَ بِآیَاتِ اللّہِ یَجْحَدُونَ (33) ” جانتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی باتیں بہت پریشان کرتی ہیں ‘ دراصل یہ لوگ آپ کی تکذیب نہیں کرتے لیکن یہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ “ ان لوگوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ انکار کردیں ۔ یہ انکار محض عناد اور کبر کی وجہ سے تھا ۔ جہاں تک حضور ﷺ کی سچائی کا تعلق ہے تو اس میں کسی کو شک نہ تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں کے لئے خود قرآن کریم کے اندر ایک عظیم شہادت موجود تھی ۔ یہ شہادت ان شہادتوں سے زیادہ دقیع تھی جو وہ طلب کرتے تھے ۔ قرآن بذات خود شاہد تھا ۔ قرآن کا طرز تعبیر اور اس کے مضامین بھی اس بات پر شاہد تھے کہ وہ من جانب اللہ ہے ۔ یہ لوگ ذات باری کے تو منکر نہ تھے اور قرآن کی اندرونی شہادت کا انہیں بھی احساس تھا ۔ وہ جس قدر ادبی اور لسانی ذوق رکھتے تھے اس کے ذریعے وہ جانتے تھے کہ انسانوں کی ادبی اور لسانی صلاحیت کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن کریم انسانی حدود سے ماوراء ہے ۔ جو لوگ فنی اور ادبی ذوق رکھتے ہیں وہ اس حقیقت کو ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ جانتے ہیں جو ادبی ذوق نہیں رکھتے ۔ دنیا میں جو لوگ اسالیب کلام کے اندر کچھ بھی ذوق رکھتے ہی۔ (چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم) وہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کا اسلوب انسان کی قدرت سے بہت ہی اونچا ہے ۔ انسان اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اس حقیقت کا انکار صرف ایساشخص ہی کرسکتا ہے جو معاند ہو ‘ جو ایک حقیقت کو پا رہا ہو لیکن اسے اپنے عناد کی وجہ سے دل میں چھپا رہا ہو ۔ نیز اس بہترین اسلوب کے اندر قرآن کریم نے جو تصورات پیش کئے ہیں ‘ ان تصورات اور اعتقادات کو جس اسلوب میں نفس انسانی کے اندر ادا اور انسانی نفسیاتی اسلوب اظہار سے قرآن کا اسلوب نہایت ہی مختلف اور معجز ہے عربوں کے گہرے شعور اور ان کی نفسیات کی اندرونی حالت یہ تھی کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے تھے ۔ ان کے حالات اور ان کے اقوال سے بھی یہ بات اچھی طرح عیاں ہے کہ وہ اس بات میں کسی شک میں مبتلا نہ تھے کہ یہ قرآن اللہ کی جانب سے ہے ۔ یہ بھی اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے جو مطالبے کئے تھے ‘ وہ اس لئے نہ تھے کہ وہ تسلیم کے لئے کسی دلیل وبرہان کے طالب تھے بلکہ یہ ان کی ہٹ دھرمی تھی ۔ یہ ایک ایسا انداز تھا جس کے ذریعے وہ یہ جتلانا چاہتے تھے کہ وہ ہٹ کے پکے ہیں اور یہ مطالبے تو وہ محض عناد اور نہ ماننے کی وجہ سے کر رہے تھے ۔ اللہ نے فرمایا ۔ (آیت) ” وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْْکَ کِتَاباً فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوہُ بِأَیْْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِنْ ہَـذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(7) ” اے پیغمبر ﷺ اگر ہم تمہارے اوپر کوئی کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی اتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تب بھی جنہوں نے حق کا انکار کیا وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو ہے ۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ عرب ملائکہ کو تو مانتے تھے اور مطالبہ یہ کرتے تھے کہ حضور ﷺ پر ایک فرشتہ نازل ہو اور جب آپ تبلیغ کریں تو وہ ساتھ ساتھ آپ کی تصدیق و تائید کرے ۔ لیکن ان کے ذہن میں یہ بات نہ تھی کہ ملائکہ کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے ؟ وہ اس مخلوق کے بارے میں اپنے عقیدے اور تصور میں نہایت ہی مخبوط الحواس تھے ۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ ملائکہ کا اپنے رب کے ساتھ تعلق کیا ہوتا ہے ۔ اس زمین اور اس کے باسیوں کے ساتھ ان کا تعلق کیا ہوتا ہے ؟ قرآن کریم نے عربوں کی فکری ژولیدگی کی کئی مثالیں بیان کی ہیں اور ملائکہ کے بارے میں ان کے جو بت پرستانہ خیالات تھے وہ بھی قرآن نے بیان کئے ہیں ۔ قرآن کریم نے ان تمام فکری غلطیوں کی اصلاح کی ہے تاکہ یہ لوگ پاک وصاف عقیدے کے حامل بن جائیں اور صحیح راہ پر گامزن ہوں ۔ کائنات اور اس میں بسنے والی مخلوق کے بارے میں بھی قرآن نے صحیح فکر دی ہے ۔ اس زاویے سے اسلام نے جس طرح عقل و شعور کو غذا فراہم کی اسی طرح دل اور ضمیر کو بھی صحیح سوچ دی اور اس درست فکر کی اساس پر لوگوں کے اعمال واطوار کو بھی درست کیا ۔ قرآن کریم نے عربوں کی توہم پرستیوں اور باطل نظریات کے کئی پہلوؤں پر بحث کی ہے کہ وہ کس قدر باطل نظریات کے حامل تھے ۔ مثلا یہ کہ وہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ اللہ اس تصور سے پاک اور برتر ہے ۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ان فرشتوں کو ناقابل استراداد سفارش کے اختیارات بھی حاصل ہیں ۔ صحیح بات یہ ہے کہ عربوں کے اندر مروج بتوں میں اکثر ان فرشتوں کے تصور پر بنائے گئے تھے اور انکے اس تصور اور مطالبے سے کہ حضور ﷺ پر ایک موید اور مصدق فرشتہ اترے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے ۔ قرآن کریم نے سورة نجم میں ان کی اس کج فکری کی اصلاح اس طرح کی ہے ۔ (آیت) ” أَفَرَأَیْْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّی (19) وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْأُخْرَی (20) أَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْأُنثَی (21) تِلْکَ إِذاً قِسْمَۃٌ ضِیْزَی (22) إِنْ ہِیَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّیْْتُمُوہَا أَنتُمْ وَآبَاؤُکُم مَّا أَنزَلَ اللَّہُ بِہَا مِن سُلْطَانٍ إِن یَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاء ہُم مِّن رَّبِّہِمُ الْہُدَی (23) أَمْ لِلْإِنسَانِ مَا تَمَنَّی (24) فَلِلَّہِ الْآخِرَۃُ وَالْأُولَی (25) وَکَم مِّن مَّلَکٍ فِیْ السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُہُمْ شَیْْئاً إِلَّا مِن بَعْدِ أَن یَأْذَنَ اللَّہُ لِمَن یَشَاء ُ وَیَرْضَی (26) إِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَۃِ لَیُسَمُّونَ الْمَلَائِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْأُنثَی (27) وَمَا لَہُم بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِن یَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْْئاً (28) (53 : 19 تا 28) ” اب ذرا بتاؤ تم نے کبھی اس لات ‘ اور عزی ۔ اور تیسری ایک دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور کیا ہے ؟ کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لئے ؟ یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی ۔ دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں ۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے ۔ کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لئے وہی حق ہے ۔ دنیا وآخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے ۔ آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں ۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے دے جس کے لئے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے ۔ مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کی دیویوں کے ناموں سے موسوس کرتے ہیں ‘ حالانکہ اس معاملے کا علم بھی انہیں حاصل نہیں ہے ۔ وہ محض گمان کی پیروں کر رہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ “ مزیدیہ کہ ان دو آیات میں قرآن کریم نے فرشتوں کی ماہیت کے بارے میں ان کی دوسری کج فکری کی اصلاح بھی کردی ہے ۔ اس سورة کے علاوہ دوسری سورتوں کے اندر بھی ان کی فکری اصلاح کی گئی : (آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَکاً لَّقُضِیَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ یُنظَرُونَ (8) ۔ ” کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ “ اللہ کی مخلوقات میں سے جن لوگوں کی یہ سوچ ہے ‘ یہاں ان کے بارے میں وضاحت کردیں گئی ۔ یہ لوگ یہ تجویز کرتے ہیں کہ اللہ قرآن کے ساتھ فرشتہ بھی اتارے ۔ لیکن فرشتوں کے اترنے کے بارے میں اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب وہ اترتے ہیں تو وہ اس قوم کو تباہ وبرباد کردیتے ہیں جس نے کسی نبی کی تکذیب کی ہوتی ہے اور وہ پھر تباہی و بربادی کے بارے میں اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ مشرکین عرب کی اس تجویز اور مطالبے کو تسلیم کرلیتے تو بات کا فیصلہ ہوجاتا اور وہ تباہ کردیئے گئے ہوتے ۔ اس کے بعد انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک عظیم تباہی اور عذاب سے بچایا رہا ہے ۔ یوں سیاق کلام میں ان کو یہ بات براہ راست جتا دی جاتی ہے کہ اللہ انہیں مہلت دے کر ان کے ساتھ نہایت ہی رحمت اور درگزر سے کام لے رہا ہے ۔ یہ اس لئے کہ وہ خود اپنی مصلحت کو بھی نہیں سمجھتے اور سنت الہیہ سے بالکل بیخبر ہیں ۔ وہ اس جہالت میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح ان کی زندگی ہی تباہ ہوجائے ۔ اس جہالت کی وجہ سے وہ بدستور اللہ کی رحمت سے انکار کر رہے ہیں ‘ ہدایت سے دور بھاگے جا رہے ہیں ‘ دلائل ومعجزات اور فرشتے اترنے کے مطالبے کر رہے ہیں ۔ ان کی کج فہمی کو درست کرنے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے (آیت) ” وَلَوْ جَعَلْنَاہُ مَلَکاً لَّجَعَلْنَاہُ رَجُلاً وَلَلَبَسْنَا عَلَیْْہِم مَّا یَلْبِسُونَ (9) ” اگر ہم فرشتے کو اتارتے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اتارتے اور اس طرح انہیں اسی شبہ میں مبتلا کردیتے جس میں اب وہ مبتلا ہیں ۔ “ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر ایک فرشتہ نازل کریں اور یہ فرشتہ حضور ﷺ کے دعوائے نبوت کی تصدیق کرے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ فرشتے تو انسانوں سے بالکل جدا مخلوق ہیں ۔ ان کا اپنا ایک خاص مزاج اور ماہیت ہے جس کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ کا علم ہے ۔ یہ فرشتے (جس طرح ان کے بارے میں ان کا خالق ہمیں معلومات فراہم کرتا ہے) اپنی موجودہ ماہئیت کے ساتھ اس زمین پر نہیں چل سکتے کیونکہ وہ اس کرہ ارض کے باشندے نہیں ہیں تاہم اگر وہ اس کرہ ارض کے باشندے نہیں ہیں ۔ تاہم اگر وہ اس کرہ ارض پر انسانوں کے حوالے سے کوئی ڈیوٹی سرانجام دیں تو وہ انسانوں کی شکل اختیار کرکے یہاں آتے ہیں مثلا تبلیغ رسالت اور مکذبین کو ہلاک کرنے کی ڈیوٹی وغیرہ ۔ یا مسلمانوں کی تسلی اور حوصلہ افزائی کی ڈیوٹی یا مسلمانوں کے دشمنوں کو قتل کرنے کی ڈیوٹی یا اس قسم کی دوسری ڈیوٹیاں جن کی بابت انہیں اللہ ہدایت کر دے وہ انکے سرانجام دینے میں اللہ کی ہدایت کی ذرہ برابر نافرمانی نہیں کرتے ۔ اگر اللہ تعالیٰ رسول کی تصدیق کے لئے کوئی فرشتہ بھیج بھی دے تو وہ لوگوں کے سامنے ایک انسان کی شکل اختیار کر کے ہی ظاہر ہوگا ۔ وہ فرشتوں کی اصل صورت میں ہر گز نہ آئے گا ۔ اور جب فرشتہ انسان کی شکل میں آئے گا تو وہ پھر بھی اسی شب ہے کا شکار ہوں گے اور انہیں وہی تردد لاحق ہوگا ۔ وہ پہلے بھی اس تردد کا شکار ہیں حالانکہ حضرت محمد ﷺ ان کے ساتھ جو بات کرتے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ” میں محمد ہوں ‘ تم مجھے خوب جانتے ہو ۔ مجھے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں برے انجام سے خبردار کروں اور اچھے انجام کی خوشخبری دوں ۔ “ لیکن اگر کوئی فرشتہ آئے اور وہ ایسے انسان کی شکل میں آئے جسے وہ نہیں جانتے اور وہ یوں گویا ہو : ” میں فرشتہ ہوں اور مجھے اللہ نے بھیجا ہے کہ میں رسول خدا حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کروں ۔ “ تو وہ دیکھیں گے کہ یہ شخص تو ان ہی جیسا ایک آدمی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں بھی انہیں ویسا ہی شبہ لاحق ہوگا غرض اگر کوئی فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا تو بھی وہ اسی شب ہے کا شکار ہوتے جسے کا وہ پہلے سے شکار تھے اور کوئی یقینی بات نہ کرسکتے ۔ اس طرح ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہ بتاتے ہیں کہ یہ لوگ حقائق کائنات کے بارے میں کس قدر جاہل ہیں اور سنت الہیہ سے کس قدر ناواقف ہیں جبکہ اپنی جگہ نہایت ہی معاند اور بغیر علم وجواز کے ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں ۔ بالکل بلا دلیل ۔ تیسری حقیقت جو یہ آیات انسانی سوچ کے اندر پیدا کرتی ہیں ‘ وہ یہ ہے کہ اسلامی تصور حیات اور اس کے اساسی عناصر ترکیبی کیا ہیں ؟ ان عناصر میں وہ تمام مظاہر فطرت شامل ہیں جن کے بارے میں اسلام ایک مسلمان کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ ان کا ادراک کرے اور اپنی زندگی کو ان مظاہر فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرلے ۔ نیز عالم غیب بھی ان اساسی عناصر میں شامل ہے جس میں ملائکہ بھی شامل ہیں ۔ اسلام نے ایمان کے بنیادی عناصر میں اس بات کو شامل کیا ہے کہ تم فرشتوں پر بھی ایمان لاؤ گے ۔ فرشتوں پر ایمان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا ۔ اللہ پر ایمان ‘ ملائکہ پر ایمان ‘ کتابوں پر ایمان ‘ رسولوں پر ایمان ‘ یوم آخرت پر ایمان اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان ۔ ظلال القرآن کی جلد اول میں جب ہم نے سورة بقرہ کی بتدائی آیات کی تشریح کی تھی تو اس میں ہم نے اس موضوع پر بات کی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان بالغیب کی وجہ سے انسانی زندگی میں ایک بہت بڑا انقلاب رونما ہوجاتا ہے ۔ انسان محض عالم محسوسات کے محدود دائرے سے نکل جاتا ہے اور وہ اس بات پر ایمان لاتا ہے کہ ایک عالم اور بھی ہے جو ہمیں معلوم نہیں ہے ۔ ہم اگرچہ اس کا تصور نہیں کرسکتے لیکن وہ بلاشک اور لاریب آنے والا ہے ۔ یہ تصور انسان کو حیوانات کے محسوس دائرے سے نکال کر انسانی ادراک کے دائرے میں داخل کردیتا ہے اور جو لوگ انسان کے لئے محسوسات سے اوپر جانے کا دروازہ بند کرتے ہیں وہ انسان کو مقام انسانیت سے گرا کر اسے پیچھے حیوانی دائرے میں لے جاتے ہیں اور اس کا نام ترقی پسندی رکھتے ہیں ۔ اس سورة میں جب ہم عالم غیب کے بارے میں بات کریں گے تو اس نکتے کی مزید وضاحت کریں گے ۔ آیت عندہ مفاتح الغیب کے ذیل میں ۔ انشاء اللہ ۔ عالم غیب کے بارے میں جو اسلامی تصور ہے اس میں یہ بات موجود ہے کہ عالم غیب میں ایک مخلوق ایسی ہے جو نظر نہیں آتی اور وہ فرشتے ہیں ۔ قرآن کریم نے اس مخلوق کی بعض صفات کا تذکرہ کیا ہے ‘ جو ان کے بارے میں ایک مجمل تصور کے لئے کافی ہے اور انسان اپنے حدود کے اندر فرشتوں کے ساتھ جو برتاؤ کرے گا اس کی بنیاد اسی بات پر ہونی چاہئے ۔ فرشتے اللہ کو مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں وہ رہ وقت اللہ کی اطاعت اور بندگی پر کمر بستہ ہیں ۔ مطلق مطیع ہیں وہ اللہ کے قریب رہتے ہیں ۔ وہ اللہ کے کس طرح مقرب ہیں اس کی کیفیت کا ہمیں پوری طرح علم نہیں ہے ۔ (آیت) ” وقالوا اتخذ الرحمن ولدا سبحنہ بل عباد مکرمون ‘، (26) لا یسبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون (27) یعلم مابین ایدیھم وما خلفھم ولا یشفعون الا لمن ارتضی وھم من خشیتہ مشفقون (28) (21 : 26 تا 28) (یہ کہتے ہیں رحمن اولاد رکھتا ہے ‘ سبحان اللہ ‘ وہ تو بندے ہیں جنہیں عزت دی گئی ہے ۔ اس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں ۔ جو کچھ ان کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے وہ باخبر ہے ‘ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے کہ جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو ‘ اور وہ اس کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں) (آیت) ” ومن عندہ لا یستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون یسبحون اللیل والنھار لا یفترون “۔ (اور جو فرشتے اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملول ہوتے ہیں ۔ شب وروز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں دم نہیں لیتے) یہ فرشتے اللہ کے تخت کو بھی اٹھائے ہوئے ہیں اور قیامت کے دن بھی اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ اس کی کیفیت کا ادراک انسان کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس غیبی حقیقت کے بارے میں ہمارا ادراک اسی حد تک محدود ہے جس حد تک اللہ نے انکشاف فرمایا ہے ۔ (آیت) ” الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربھم ویومنون بہ (40 : 7) ” عرش الہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش الہی کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ‘ پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔ “ (آیت) ” وتری الملئکۃ حافین من حول العرش یسبحون بحمد ربھم وقضی بینھم بالحق وقیل الحمد للہ رب العلمین “۔ (39 : 75) ” اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد وتسبیح کر رہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا اور پکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ رب العالمین کے لئے ۔ “ وہ اللہ کے خزانوں کے بھی نگران ہیں اور آگ اور جہنم کے داروغے بھی وہی ہوں گے ۔ اہل جنت کو سلام اور دعاء کے ساتھ استقبال کریں گے اور اہل جہنم کو وہ سخت عذاب کی دھمکی دیتے ہوئے لیں گے ۔ “ (آیت) ” وسیق الذین کفروا الی جھنم زمرا حتی اذا جآء وھا فتحت ابوابھا وقال لھم خزنتھا الم یاتکم رسل منکم یتلون علیکم ایت ربکم وینذرونکم لقآء یومکم ھذا قالوا بلی ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین (71) قیل ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبرین (72) وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمرا حتی اذا جآء وھا وفتحت ابوابھا وقال لھم خزنتھا سلم علیکم طبتم فادخلوھا خلدین (83) (39 : 71 تا 73) ” اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا ‘ جہنم کی طرف گروہ درگروہ ہانکے جائیں گے ‘ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے اور اس کے کارندے ان سے کہیں گے ” کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسول نہیں آئے تھے جنہوں نے تم کو تمہارے رب کی آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایاہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا ۔ “ وہ جواب دیں گے ” ہاں آئے تھے ‘ مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا ۔ “ کہا جائے گا داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں ‘ یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے ‘ بڑا ہی بڑا ٹھکانا ہے یہ متکبروں کے لئے ۔۔۔۔۔ اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا ۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے تو اس کے منتظمین ان سے کہیں گے ” سلام میں تم پر ‘ بہت اچھے رہے ‘ داخل ہوجاؤ اس میں ہمیشہ کے لئے ۔ “ اور دوسری جگہ آتا ہے : (آیت) ” وما جعلنا اصحب النار الاملئکۃ “۔ اور ہم نے آگ کا نگران بھی صرف ملائکہ کو بنایا ہے ۔ “ ایک اہم سوال یہ ہے کہ یہ فرشتے اہل زمین کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اہل زمین کے ساتھ ان کا معاملہ مختلف شکلوں میں ہوتا ہے ۔ وہ خدا کے حکم سے اہل زمین کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور ان کے اعمال کا مکمل ریکارڈ بھی تیار کرتے ہیں اور جب ان کا مقررہ وقت پورا ہوتا ہے تو وہ ان کی روح قبض کرلیتے ہیں ۔ (آیت) ” وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَیُرْسِلُ عَلَیْْکُم حَفَظَۃً حَتَّیَ إِذَا جَاء أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَہُمْ لاَ یُفَرِّطُونَ (61) ” پنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دیتے ہیں اور ذرا کوتاہی نہیں کرتے ۔ (آیت) ” لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ “۔ (13 : 11) ” ہر شخص کے آگے پیچھے اس کے مقرر کئے ہوئے نگران لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں ۔ “ (آیت) ” مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید “۔ (5 : 18) ” کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا ہے جسے محفوظ کرنے کے لئے ایک حاضر باش نگران نہ ہو۔ “ ان فرشتوں کے فرائض میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ رسولوں کے اوپر وحی لے کر آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ ان میں سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ کام سرانجام دیتے ہیں ۔ (آیت) ” ینزل الملئکۃ بالروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون “۔ (16 : 2) ” وہ اس روح کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے (اس ہدایت کے ساتھ کہ) لوگوں کو آگاہ کر دو ‘ میرے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے لہذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔ “ (آیت) ” قل من کان عدوا الجریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ “۔ (2 : 97) ” ان سے کہو کہ جو کوئی جبرائیل سے عداوت رکھتا ہو ‘ اسے معلوم ہونا چاہئے کہ جبرائیل نے اللہ ہی کے اذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے ۔ “ (آیت) ” وَالنَّجْمِ إِذَا ہَوَی (1) مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوَی (2) وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْہَوَی (3) إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَی (4) عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوَی (5) ذُو مِرَّۃٍ فَاسْتَوَی (6) وَہُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَی (7) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی (8) فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْْنِ أَوْ أَدْنَی (9) فَأَوْحَی إِلَی عَبْدِہِ مَا أَوْحَی (10) مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی (11) أَفَتُمَارُونَہُ عَلَی مَا یَرَی (12) وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرَی (13) عِندَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہَی (14) عِندَہَا جَنَّۃُ الْمَأْوَی (15) إِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشَی (16) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَی (17) لَقَدْ رَأَی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرَی (18) (53 : 1 تا 18) ” قسم ہے تارے کی جب وہ غروب ہوا ‘۔ تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے ‘ نہ بہکا ہے ۔ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا ۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے ۔ اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے ‘ جو بڑا صاحب حکمت ہے ۔ اور وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ ہو بالائق افق پر تھا ‘ ۔ پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگا ۔ یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا ۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو اس نے پہنچانی تھی ۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا ۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے ۔ اور ایک دفعہ پھر اس نے سدرۃ المنتہی کے پاس اترتے دیکھا ‘ ۔ جہاں پاس ہی جنت الماوی ہے ۔ اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھ ۔ نگاہ نہ چندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی ۔ اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔ اور جب مسلمانوں کی طاغوت کے ساتھ نہایت ہی اہم اور بڑی جنگ ہوتی ہے تو اس معرکے میں وہ بطور تائید اور امداد ثابت قدمی پیدا کرنے کے لئے اترتے ہیں : (آیت) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملئکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون “۔ (30) (41 : 30) ” جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے ‘ اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے یقینا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں ۔ ” نہ ڈرو نہ غم کرو ‘ اور خوش ہوجاؤ اس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ “ (آیت) ” اذ تقول للمومنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلثۃ الف من الملئکۃ منزلین (124) بلی ان تصبروا وتتقوا ویاتوکم من فورھم ھذا یمددکم ربکم بخمسۃ الف من الملئکۃ مسومین (125) وما جعلہ اللہ الابشری لکم ولتطمئن قلوبکم بہ وما النصر الامن عند اللہ العزیزالحکیم (136) (3 : 124 تا 126) ” اے نبی یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے ” کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ؟ “ بیشک اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئیں گے ‘ اسی آن تمہارا رب (تین ہزار نہیں) پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا ۔ یہ بات اللہ نے تمہیں اس لئے بتا دی ہے تاکہ تم خوش ہوجاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں ۔ فتح ونصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا اور بینا ہے ۔ “ (آیت) ” اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنوا سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان (8 : 12) ” اور وہ وقت جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو ‘ میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہوں ‘ پس تم ان کی گردنوں پر ضرب لگاؤ اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ۔ “ یہ فرشتے اہل ایمان کے کاموں میں بھی مصروف رہتے ہیں ‘ وہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے ہر وقت مغفرت کی دعا کرتے ہیں جو اہل ایمان ہیں اور وہ ان مومنین کے لئے اس قدر شغف کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ جس طرح ایک نہایت ہی محبت کرنے والا شخص اپنے محبوب کے لئے دعا کرتا ہے ۔ (آیت) ” الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربھم ویومنون بہ ویستغفرون للذین امنوا ربنا وسعت کل شیء رحمۃ وعلما فاغفر للذین تابوا واتبعوا سبیلک وقھم عذاب الجحیم (7) ربنا وادخلھم جنت عدن التی وعدتھم ومن صلح من ابآئھم وزواجھم وذریتھم انک انت العزیز الحکیم (8) وقھم السیات ومن تق السیات یومئذ فقد رحمتہ وذلک ھو الفوز العظیم (9) (40 : 7 تا 9) ” عرش الہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش الہی کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ‘ پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب تو اپنی رحمت اور علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ‘ پس معاف کر دے اور عذاب دوزخ سے بچا لے ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کرلیا ہے ۔ اے ہمارے رب اور داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے والدین ‘ اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (ان کو بھی وہاں ان کے ساتھ ہی پہنچا دے) تو بلاشبہ قادر مطلق ہے اور حکیم ہے ۔ اور بچا دے ان کو برائیوں سے جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا دیا اس پر تو نے رحم کیا یہی بڑی کامیابی ۔ “ جب فرشتے روح قبض کرتے ہیں تو اس وقت اہل ایمان کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور ان کا استقبال خوشخبری سے کرتے ہیں اور آخرت میں وہ ان کو سلام وآداب سے عزت افزائی کریں گے ۔ (آیت) ” الذین تتوفھم الملئکۃ طیبین یقولون سلم علیکم ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون “۔ (16 : 32) ” ان متقیوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں ” سلام ہو تم پر ‘ جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے ۔ “ (آیت) ” جنت عدن یدخلونھا ومن صلح من ابآئم وازواجھم وذریتھم والملئکۃ یدخلون علیھم من کل باب (23) سلم علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار “۔ (24) (13 : 23۔ 24) ” ایسے باغ جو ان کی ابدی قیام گاہ ہوں گے ۔ وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کی بیویاں اور ان کی اولاد میں سے جو صالح ہیں وہ بھی ان کے ساتھ وہاں جائیں گے ۔ ملائکہ ہر طرف سے ان کے استقبال کے لئے آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہے ‘ تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہو ۔ پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر ۔ ان کے فرائض میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اہل کفر کا استقبال آخرت میں توہین آمیز رویے کے ساتھ کریں گے اور دنیا میں کفر واسلام کے معرکے میں وہ کفار کے مقابلے میں لڑتے ہیں اور جب کفار کی روح قبض کرتے ہیں تو وہ سختی اذیت اور توہین آمیز انداز میں قبض کرتے ہیں ۔ (آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذِ الظَّالِمُونَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُواْ أَیْْدِیْہِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ (93) ” کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ” لاؤ“ نکالو اپنی جان ‘ آج تمہیں ان باتوں کی پاداش مین ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرتے تھے ۔ “ (آیت) ” فکیف اذا توفتھم الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم (47 : 27) ” پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ۔ “ جب سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے باوا آدم کو پیدا کیا اس وقت سے فرشتوں کا انسانوں کے ساتھ ایک خاص تعلق رہا ہے اور یہ سلسلہ طول حیات تک میں جاری رہا ہے اور قیامت تک جاری رہے گا جیسا کہ مذکور بالا قرآنی آیات کے اقتباسات سے اچھی طرح معلوم ہوا ہے ۔ فرشتوں اور عالم بشریت کے باہم تعلق پر بھی قرآن کریم کے متعدد مقامات پر بحث کی گئی ہے اور سورة بقرہ میں اس کی پوری تفصیل دی گئی ہے ۔ (آیت) ” وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (30) وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلاَئِکَۃِ فَقَالَ أَنبِئُونِیْ بِأَسْمَاء ہَـؤُلاء إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (31) قَالُواْ سُبْحَانَکَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّکَ أَنتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ (32) قَالَ یَا آدَمُ أَنبِئْہُم بِأَسْمَآئِہِمْ فَلَمَّا أَنبَأَہُمْ بِأَسْمَآئِہِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّکُمْ إِنِّیْ أَعْلَمُ غَیْْبَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا کُنتُمْ تَکْتُمُونَ (33) وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ أَبَی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ (34) ۔ ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ “ انہوں نے عرض کیا ” کیا آپ زمین میں کسی زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے نظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا ؟ آپ کے حمد وثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں ۔ “ فرمایا : ” میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے ۔ ‘ اس کے بعد اللہ نے آدم کو سارے چیزوں کے نام سکھائے ۔ پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا :” اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے نظام بگڑ جائے گا) تو بتاؤ ان چیزوں کے نام کیا ہیں ؟ ‘ انہوں نے عرض کیا ” نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ۔ ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں ‘ جتنا آپ نے ہم کو دیا ہے ۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ۔ “ پھر اللہ نے آدم سے کہا : ” تم انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ جب اس نے ان کو ان سب کے نام بتا دیئے تو اللہ نے فرمایا : ” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ‘ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو ‘ وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ ‘ پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ تو سب جھک گئے مگر ابلیس نے انکار کیا ۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا ۔ ‘ ” یہ ایک وسیع میدان ہے جس میں انسانی زندگی اور عالم بالا کی زندگی کا باہم اتصال ہوتا ہے اور اس اتصال کی وجہ سے انسانی سوچ میں ایک وسعت سی پیدا ہوجاتی ہے اور انسان اس کائنات کے حقائق کا ادراک ایک وسیع زاویے سے کرسکتا ہے ۔ اس کا نفسیاتی شعور وسیع اور اس کے ذہن کی جو لانی کا دائرہ کھل جاتا ہے اور فکر ونظر کی یہ وسعت ایک مسلمان کو ایک ہمہ گیر اسلامی تصور عطا کرتی ہے ۔ قرآن کریم انسان کے سامنے اس وسیع اور مشہود کائنات کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ اس کا آخری اتصال عالم غیب کے اس وسیع میدان سے ہوتا ہے ۔ عالم غیب کا ایک وسیع عالم اور ایک کھلا میدان ہے ۔ جو لوگ انسان پر عالم غیب کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں وہ انسان کے ساتھ نہایت ہی قبیح عداوت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ انسان کی دنیا کو اس کے نہایت ہی محدود تصور بلکہ عالم محسوسات کے اندر محدود کردینا چاہتے ہیں اور اسے عالم حیوانات میں داخل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ نے انسان کو عزت اور شرافت اس طرح بخشی کہ اسے غور وفکر کی قوت عطا کی ۔ اس غور وفکر کی قوت سے انسان ان چیزوں کا ادراک کرسکتا ہے جس سے جانور اور بہائم محروم ہیں ۔ انسان اپنی اس صلاحیت کی وجہ سے علم ومعرفت کی فراوانی پاتا ہے اور اس کا شعور نہایت ہی وسیع ہوجاتا ہے ۔ وہ اپنی عقل اور اپنے دل کی وجہ سے عالم بالا کی وسعتوں تک پہنچ جاتا ہے وہ اخلاق پاکیزہ حاصل کرتا ہے اور اپنے وجود کے ساتھ نورانی عالم بالا کی سیر کرتا ہے ۔ عرب اپنی اس جاہلیت کے باوجود جس میں وہ غرق تھے اور جس میں ان کا تصور حیات نہایت ہی غلط اصولوں پر قائم تھا ‘ دور جدید کی سائنسی جاہلیت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھے ۔ یہ جدید جاہلیت کے پیروکار عالم غیب کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور ایسے غیبی امور پر ایمان لانے کو غیر علمی اور غیر سائنسی تصور سمجھتے ہیں ۔ وہ عالم غیب کو ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالتے ہیں اور عالم سائنس کو دوسرے میں جو ایک نہایت ہی غلط تقابل ہے ۔ اس تصور کی تردید میں آیت (عنداہ مفاتح الغیب) کے ضمن میں کروں گا اس لئے کہ جاہلیت جدیدہ کا یہ وہ دعوی ہے جس کے اوپر سائنس کے اصولوں کے مطابق کوئی دلیل نہیں لائی جاسکتی نہ دین میں اس کے اوپر کوئی دلیل پیش کی جاسکتی ہے ۔ یہاں ہم صرف فرشتوں کے وجود کے بارے میں ایک مختصر بات کریں گے ۔ سائنس دانوں سے ہم صرف یہ بات پوچھتے ہیں کہ وہ جو فرشتوں کا انکار کرتے ہیں اس پر ان کے پاس سائنسی اصولوں کے مطابق کیا دلیل ہے ؟ وہ فرشتوں کے وجود کو تصور اور تصدیق کے دائرے سے کیوں نکالتے ہیں ؟ ذرا وہ کوئی سائنسی فارمولا بتائیں جس کی رو سے وہ ایسا عقیدہ رکھنے پر مجبور ہوں کہ فرشتوں کا وجود نہیں ہے ۔ ان کی سائنس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ دوسرے کر ات سماوی کے اندر ایسی موجودات کے اقرار اور انکار سے بھی عاجز ہے جو اس کرہ ارض پر موجود ہیں ۔ کجا کہ وہ کر ات جن کی فضا اور جن کی کیمیاوی اور طیعیاتی ترکیب اور مسافت زمین سے مختلف ہے اور جن کی فضائیں مختلف ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ وہ ان دوسرے جہانوں کا انکار کس اصول پر کرتے ہیں جبکہ ان کے پاس فرشتوں کے وجود کی نفی پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ ہم ان سے اپنے عقائد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں چاہتے اور نہ ہم اللہ کے کلام کے بارے میں ان سے کوئی استدلال چاہتے ہیں ۔ ہم ان سے خود ان کے اس علم اور سائنس کے بارے میں محاکمہ چاہتے ہیں جس کو انہوں نے الہ بنا لیا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں ان کے پاس مکابرہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اس ان کی یہ سائنس جو انہیں عالم غیب اور ملائکہ کے انکار پر آمادہ کرتی ہے ‘ اس سوال سے لاجواب ہوجاتی ہے ، انکار محض اس لئے کہ یہ جہان پردہ غیب میں مستور ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس سائنس کی وجہ سے وہ عالم غیب اور فرشتوں کا انکار کرتے ہیں وہی بالجزم عالم غیب کو ثابت کرتی ہے بلکہ اس سائنس نے عالم غیب کو ایک طرح سے عالم شہادت میں بدل دیا ہے اور کئی ایسے انکشاف کردیئے ہیں جو پہلے عالم مغیبات میں تھے ۔ ان مغیبات کو آج ہم دیکھ رہے ہیں ۔ اس موج کا اختتام اس انجام کے تذکرے سے ہوتا ‘ جس سے انسانی تاریخ میں وہ تمام لوگ دو چار ہوئے جنہوں نے رسولوں کا مذاق اڑایا ۔ پھر جھٹلانے والوں کو دعوت دی گئی کہ ذرا وہ انسانی تاریخ میں ان مقتل گاہوں کا مطالعہ کریں جن میں ان کے اسلاف پر عذاب آئے ۔ ذرا اس کرہ ارض پر چل پھر کر جھٹلانے والوں کے انجام کو دیکھیں ۔ یہ واقعات زبان حال سے گویا ہیں کہ جھٹلانے والوں اور مذاق کرنے والوں کا انجام کیا ہوا ہے ؟

الأنعام 6:9

(آیت) ” نمبر 8 تا 9 ۔ یہ تجویز مشرکین کی طرف سے تھی اور ان مشرکین سے پہلے بھی کئی اقوام نے یہ تجویز پیش کی ۔ ہر قوم نے اپنے رسول سے نزول فرشتگان کا مطالبہ کیا ۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے ایسے مطالبے پیش کئے ہیں اور یہاں اس تجویز کو دلائل کے ساتھ رد کردی جاتا ہے ۔ اس تجویز کے بارے میں ‘ مناسب ہے ہم تمام حقائق یہاں پیش کردیں حتی الامکان ۔ اس کے متعلق پہلی حقیقت یہ ہے کہ مشرکین عرب اللہ کا انکار نہ کرتے تھے بلکہ وہ اس بارے میں ایک بین دلیل طلب کرتے تھے سے معلوم ہوجائے کہ حضور ﷺ نبی مرسل ہیں اور آپ جو کتب ان کے سامنے پڑھتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے ۔ اس سلسلے میں دوسری تجاویز دیتے تھے ۔ یہ تجاویز قرآن کریم نے متعدد مقامات پر ذکر فرمائی ہیں ۔ مثلا سورة اسراء میں یہ تجاویز مذکور ہیں ۔ اس میں اس تجویز کے ساتھ ساتھ دوسری تجاویز بھی دی گئی ہیں جن سے ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور عناد کا اظہار ہوتا ہے ۔ عناد کے علاوہ ان کی کج فہمی پر بھی خود ان کی تجویز دلیل بین ہے ۔ اس لئے کہ یہ لوگ نہ اس نظام کائنات کو اچھی طرح سمجھے ہیں اور نہ حقیقی اقدار کو سمجھتے ہیں ۔ سورة اسراء میں آتا ہے ۔ (آیت) ” وَقَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ لَکَ حَتَّی تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الأَرْضِ یَنبُوعاً (90) أَوْ تَکُونَ لَکَ جَنَّۃٌ مِّن نَّخِیْلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الأَنْہَارَ خِلالَہَا تَفْجِیْراً (91) أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاء کَمَا زَعَمْتَ عَلَیْْنَا کِسَفاً أَوْ تَأْتِیَ بِاللّہِ وَالْمَلآئِکَۃِ قَبِیْلاً (92) أَوْ یَکُونَ لَکَ بَیْْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَی فِیْ السَّمَاء وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتَّی تُنَزِّلَ عَلَیْْنَا کِتَاباً نَّقْرَؤُہُ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّیْ ہَلْ کُنتُ إَلاَّ بَشَراً رَّسُولاً (93) وَمَا مَنَعَ النَّاسَ أَن یُؤْمِنُواْ إِذْ جَاء ہُمُ الْہُدَی إِلاَّ أَن قَالُواْ أَبَعَثَ اللّہُ بَشَراً رَّسُولاً (94) قُل لَّوْ کَانَ فِیْ الأَرْضِ مَلآئِکَۃٌ یَمْشُونَ مُطْمَئِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْْہِم مِّنَ السَّمَاء ِ مَلَکاً رَّسُولاً (95) ” اور انہوں نے کہا ” ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے ۔ یا تیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے ۔ یا تو آسمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعوی ہے یا خدا اور فرشتوں کو رو در رو ہمارے سامنے لے آئے ۔ یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں ۔۔۔۔۔ اے نبی ان سے کہو ” پاک ہے میرا پروردگار ‘ کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے ان کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر ان کے اسی قول نے کہ ” کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا ۔ ان سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہیں تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو ان کے لئے بنا کر بھیجتے ۔ یہ تجاویز اور مطالبے ایسے ہیں کہ ان سے ایک طرف ان کی ہٹ دھرمی کا اظہار ہوتا اور دوسری جانب ان کی جہالت کا ۔ اس لئے کہ ان کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی کتاب اخلاق کھلی تھی ‘ وہ طویل تیرن تجربے سے آپ کو اچھی طرح جانتے تھے اور آپ کے اخلاق سے ان کو معلوم تھا کہ آپ سچے اور امین ہیں اور ان ہی لوگوں نے ان کو امین کا لقب دیا ہوا تھا ۔ آپ کے ساتھ انکے شدید نظریاتی اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی یہ لوگ اپنی امانتیں حضور ﷺ کے پاس رکھتے تھے ۔ جب آپ نے ہجرت فرمائی تو آپ نے اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی ؓ کو امانتیں ادا کردیں جو ابھی تک آپ کی تحویل میں تھیں ۔ لیکن ان کو ان کے ساتھ اس قدر اختلاف تھا کہ ہو لوگ آپ ﷺ کے قتل کے تدابیر کر رہے تھے ۔ آپ کی امانت ودیانت جس طرح مسلم تھی اسی طرح آپ کی سچائی بھی مسلم تھی اس لئے کہ جب آپ نے سب سے پہلے کوہ صفا پر انہیں علی الاعلان دعوت دی ۔ یہ اس وقت ہوا جب اللہ کا حکم آگیا کہ آپ علی الاعلان دعوت کا آغاز کردیں ۔ اس موقعہ پر آپ نے ان سے سوال کیا کہ اگر میں آپ لوگوں کو کوئی اہم خبر دوں تو آپ لوگ تصدیق کردیں گے ؟ تو سب نے مل کر جواب دیا کہ آپ تو نہایت ہی سچے آدمی ہیں ۔ اگر یہ لوگ صرف یہ جاننا چاہتے کہ آپ سچے ہیں یا نہیں تو آپ کے ماضی ہیں ان کے لئے دلیل وبرہان تھی ۔ وہ جانتے تھے کہ آپ تو نہایت ہی سچے آدمی ہیں ۔ اسی سورة میں یہ مضمون آنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ اللہ کو جھٹلاتے ہیں ۔ (آیت) ” قَدْ نَعْلَمُ إِنَّہُ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُولُونَ فَإِنَّہُمْ لاَ یُکَذِّبُونَکَ وَلَکِنَّ الظَّالِمِیْنَ بِآیَاتِ اللّہِ یَجْحَدُونَ (33) ” جانتے ہیں کہ آپ کو ان لوگوں کی باتیں بہت پریشان کرتی ہیں ‘ دراصل یہ لوگ آپ کی تکذیب نہیں کرتے لیکن یہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ “ ان لوگوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ انکار کردیں ۔ یہ انکار محض عناد اور کبر کی وجہ سے تھا ۔ جہاں تک حضور ﷺ کی سچائی کا تعلق ہے تو اس میں کسی کو شک نہ تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ عربوں کے لئے خود قرآن کریم کے اندر ایک عظیم شہادت موجود تھی ۔ یہ شہادت ان شہادتوں سے زیادہ دقیع تھی جو وہ طلب کرتے تھے ۔ قرآن بذات خود شاہد تھا ۔ قرآن کا طرز تعبیر اور اس کے مضامین بھی اس بات پر شاہد تھے کہ وہ من جانب اللہ ہے ۔ یہ لوگ ذات باری کے تو منکر نہ تھے اور قرآن کی اندرونی شہادت کا انہیں بھی احساس تھا ۔ وہ جس قدر ادبی اور لسانی ذوق رکھتے تھے اس کے ذریعے وہ جانتے تھے کہ انسانوں کی ادبی اور لسانی صلاحیت کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن کریم انسانی حدود سے ماوراء ہے ۔ جو لوگ فنی اور ادبی ذوق رکھتے ہیں وہ اس حقیقت کو ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ جانتے ہیں جو ادبی ذوق نہیں رکھتے ۔ دنیا میں جو لوگ اسالیب کلام کے اندر کچھ بھی ذوق رکھتے ہی۔ (چاہے مسلم ہوں یا غیر مسلم) وہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم کا اسلوب انسان کی قدرت سے بہت ہی اونچا ہے ۔ انسان اس مقام تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اس حقیقت کا انکار صرف ایساشخص ہی کرسکتا ہے جو معاند ہو ‘ جو ایک حقیقت کو پا رہا ہو لیکن اسے اپنے عناد کی وجہ سے دل میں چھپا رہا ہو ۔ نیز اس بہترین اسلوب کے اندر قرآن کریم نے جو تصورات پیش کئے ہیں ‘ ان تصورات اور اعتقادات کو جس اسلوب میں نفس انسانی کے اندر ادا اور انسانی نفسیاتی اسلوب اظہار سے قرآن کا اسلوب نہایت ہی مختلف اور معجز ہے عربوں کے گہرے شعور اور ان کی نفسیات کی اندرونی حالت یہ تھی کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے تھے ۔ ان کے حالات اور ان کے اقوال سے بھی یہ بات اچھی طرح عیاں ہے کہ وہ اس بات میں کسی شک میں مبتلا نہ تھے کہ یہ قرآن اللہ کی جانب سے ہے ۔ یہ بھی اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے جو مطالبے کئے تھے ‘ وہ اس لئے نہ تھے کہ وہ تسلیم کے لئے کسی دلیل وبرہان کے طالب تھے بلکہ یہ ان کی ہٹ دھرمی تھی ۔ یہ ایک ایسا انداز تھا جس کے ذریعے وہ یہ جتلانا چاہتے تھے کہ وہ ہٹ کے پکے ہیں اور یہ مطالبے تو وہ محض عناد اور نہ ماننے کی وجہ سے کر رہے تھے ۔ اللہ نے فرمایا ۔ (آیت) ” وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْْکَ کِتَاباً فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوہُ بِأَیْْدِیْہِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِنْ ہَـذَا إِلاَّ سِحْرٌ مُّبِیْنٌ(7) ” اے پیغمبر ﷺ اگر ہم تمہارے اوپر کوئی کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب بھی اتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تب بھی جنہوں نے حق کا انکار کیا وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو ہے ۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ عرب ملائکہ کو تو مانتے تھے اور مطالبہ یہ کرتے تھے کہ حضور ﷺ پر ایک فرشتہ نازل ہو اور جب آپ تبلیغ کریں تو وہ ساتھ ساتھ آپ کی تصدیق و تائید کرے ۔ لیکن ان کے ذہن میں یہ بات نہ تھی کہ ملائکہ کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے ؟ وہ اس مخلوق کے بارے میں اپنے عقیدے اور تصور میں نہایت ہی مخبوط الحواس تھے ۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ ملائکہ کا اپنے رب کے ساتھ تعلق کیا ہوتا ہے ۔ اس زمین اور اس کے باسیوں کے ساتھ ان کا تعلق کیا ہوتا ہے ؟ قرآن کریم نے عربوں کی فکری ژولیدگی کی کئی مثالیں بیان کی ہیں اور ملائکہ کے بارے میں ان کے جو بت پرستانہ خیالات تھے وہ بھی قرآن نے بیان کئے ہیں ۔ قرآن کریم نے ان تمام فکری غلطیوں کی اصلاح کی ہے تاکہ یہ لوگ پاک وصاف عقیدے کے حامل بن جائیں اور صحیح راہ پر گامزن ہوں ۔ کائنات اور اس میں بسنے والی مخلوق کے بارے میں بھی قرآن نے صحیح فکر دی ہے ۔ اس زاویے سے اسلام نے جس طرح عقل و شعور کو غذا فراہم کی اسی طرح دل اور ضمیر کو بھی صحیح سوچ دی اور اس درست فکر کی اساس پر لوگوں کے اعمال واطوار کو بھی درست کیا ۔ قرآن کریم نے عربوں کی توہم پرستیوں اور باطل نظریات کے کئی پہلوؤں پر بحث کی ہے کہ وہ کس قدر باطل نظریات کے حامل تھے ۔ مثلا یہ کہ وہ سمجھتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ اللہ اس تصور سے پاک اور برتر ہے ۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ ان فرشتوں کو ناقابل استراداد سفارش کے اختیارات بھی حاصل ہیں ۔ صحیح بات یہ ہے کہ عربوں کے اندر مروج بتوں میں اکثر ان فرشتوں کے تصور پر بنائے گئے تھے اور انکے اس تصور اور مطالبے سے کہ حضور ﷺ پر ایک موید اور مصدق فرشتہ اترے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے ۔ قرآن کریم نے سورة نجم میں ان کی اس کج فکری کی اصلاح اس طرح کی ہے ۔ (آیت) ” أَفَرَأَیْْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّی (19) وَمَنَاۃَ الثَّالِثَۃَ الْأُخْرَی (20) أَلَکُمُ الذَّکَرُ وَلَہُ الْأُنثَی (21) تِلْکَ إِذاً قِسْمَۃٌ ضِیْزَی (22) إِنْ ہِیَ إِلَّا أَسْمَاء سَمَّیْْتُمُوہَا أَنتُمْ وَآبَاؤُکُم مَّا أَنزَلَ اللَّہُ بِہَا مِن سُلْطَانٍ إِن یَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الْأَنفُسُ وَلَقَدْ جَاء ہُم مِّن رَّبِّہِمُ الْہُدَی (23) أَمْ لِلْإِنسَانِ مَا تَمَنَّی (24) فَلِلَّہِ الْآخِرَۃُ وَالْأُولَی (25) وَکَم مِّن مَّلَکٍ فِیْ السَّمَاوَاتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُہُمْ شَیْْئاً إِلَّا مِن بَعْدِ أَن یَأْذَنَ اللَّہُ لِمَن یَشَاء ُ وَیَرْضَی (26) إِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَۃِ لَیُسَمُّونَ الْمَلَائِکَۃَ تَسْمِیَۃَ الْأُنثَی (27) وَمَا لَہُم بِہِ مِنْ عِلْمٍ إِن یَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْحَقِّ شَیْْئاً (28) (53 : 19 تا 28) ” اب ذرا بتاؤ تم نے کبھی اس لات ‘ اور عزی ۔ اور تیسری ایک دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور کیا ہے ؟ کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لئے ؟ یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی ۔ دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں ۔ اللہ نے ان کے لئے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں ۔ حالانکہ ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے ۔ کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لئے وہی حق ہے ۔ دنیا وآخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے ۔ آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں ۔ ان کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی شخص کے حق میں اس کی اجازت نہ دے دے جس کے لئے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے ۔ مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کی دیویوں کے ناموں سے موسوس کرتے ہیں ‘ حالانکہ اس معاملے کا علم بھی انہیں حاصل نہیں ہے ۔ وہ محض گمان کی پیروں کر رہے ہیں اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا۔ “ مزیدیہ کہ ان دو آیات میں قرآن کریم نے فرشتوں کی ماہیت کے بارے میں ان کی دوسری کج فکری کی اصلاح بھی کردی ہے ۔ اس سورة کے علاوہ دوسری سورتوں کے اندر بھی ان کی فکری اصلاح کی گئی : (آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَکاً لَّقُضِیَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ یُنظَرُونَ (8) ۔ ” کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ “ اللہ کی مخلوقات میں سے جن لوگوں کی یہ سوچ ہے ‘ یہاں ان کے بارے میں وضاحت کردیں گئی ۔ یہ لوگ یہ تجویز کرتے ہیں کہ اللہ قرآن کے ساتھ فرشتہ بھی اتارے ۔ لیکن فرشتوں کے اترنے کے بارے میں اللہ کی سنت یہ ہے کہ جب وہ اترتے ہیں تو وہ اس قوم کو تباہ وبرباد کردیتے ہیں جس نے کسی نبی کی تکذیب کی ہوتی ہے اور وہ پھر تباہی و بربادی کے بارے میں اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ مشرکین عرب کی اس تجویز اور مطالبے کو تسلیم کرلیتے تو بات کا فیصلہ ہوجاتا اور وہ تباہ کردیئے گئے ہوتے ۔ اس کے بعد انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک عظیم تباہی اور عذاب سے بچایا رہا ہے ۔ یوں سیاق کلام میں ان کو یہ بات براہ راست جتا دی جاتی ہے کہ اللہ انہیں مہلت دے کر ان کے ساتھ نہایت ہی رحمت اور درگزر سے کام لے رہا ہے ۔ یہ اس لئے کہ وہ خود اپنی مصلحت کو بھی نہیں سمجھتے اور سنت الہیہ سے بالکل بیخبر ہیں ۔ وہ اس جہالت میں اس قدر ڈوبے ہوئے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ اس طرح ان کی زندگی ہی تباہ ہوجائے ۔ اس جہالت کی وجہ سے وہ بدستور اللہ کی رحمت سے انکار کر رہے ہیں ‘ ہدایت سے دور بھاگے جا رہے ہیں ‘ دلائل ومعجزات اور فرشتے اترنے کے مطالبے کر رہے ہیں ۔ ان کی کج فہمی کو درست کرنے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے (آیت) ” وَلَوْ جَعَلْنَاہُ مَلَکاً لَّجَعَلْنَاہُ رَجُلاً وَلَلَبَسْنَا عَلَیْْہِم مَّا یَلْبِسُونَ (9) ” اگر ہم فرشتے کو اتارتے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اتارتے اور اس طرح انہیں اسی شبہ میں مبتلا کردیتے جس میں اب وہ مبتلا ہیں ۔ “ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر ایک فرشتہ نازل کریں اور یہ فرشتہ حضور ﷺ کے دعوائے نبوت کی تصدیق کرے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ فرشتے تو انسانوں سے بالکل جدا مخلوق ہیں ۔ ان کا اپنا ایک خاص مزاج اور ماہیت ہے جس کے بارے میں صرف اللہ تعالیٰ کا علم ہے ۔ یہ فرشتے (جس طرح ان کے بارے میں ان کا خالق ہمیں معلومات فراہم کرتا ہے) اپنی موجودہ ماہئیت کے ساتھ اس زمین پر نہیں چل سکتے کیونکہ وہ اس کرہ ارض کے باشندے نہیں ہیں تاہم اگر وہ اس کرہ ارض کے باشندے نہیں ہیں ۔ تاہم اگر وہ اس کرہ ارض پر انسانوں کے حوالے سے کوئی ڈیوٹی سرانجام دیں تو وہ انسانوں کی شکل اختیار کرکے یہاں آتے ہیں مثلا تبلیغ رسالت اور مکذبین کو ہلاک کرنے کی ڈیوٹی وغیرہ ۔ یا مسلمانوں کی تسلی اور حوصلہ افزائی کی ڈیوٹی یا مسلمانوں کے دشمنوں کو قتل کرنے کی ڈیوٹی یا اس قسم کی دوسری ڈیوٹیاں جن کی بابت انہیں اللہ ہدایت کر دے وہ انکے سرانجام دینے میں اللہ کی ہدایت کی ذرہ برابر نافرمانی نہیں کرتے ۔ اگر اللہ تعالیٰ رسول کی تصدیق کے لئے کوئی فرشتہ بھیج بھی دے تو وہ لوگوں کے سامنے ایک انسان کی شکل اختیار کر کے ہی ظاہر ہوگا ۔ وہ فرشتوں کی اصل صورت میں ہر گز نہ آئے گا ۔ اور جب فرشتہ انسان کی شکل میں آئے گا تو وہ پھر بھی اسی شب ہے کا شکار ہوں گے اور انہیں وہی تردد لاحق ہوگا ۔ وہ پہلے بھی اس تردد کا شکار ہیں حالانکہ حضرت محمد ﷺ ان کے ساتھ جو بات کرتے ہیں اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ” میں محمد ہوں ‘ تم مجھے خوب جانتے ہو ۔ مجھے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں برے انجام سے خبردار کروں اور اچھے انجام کی خوشخبری دوں ۔ “ لیکن اگر کوئی فرشتہ آئے اور وہ ایسے انسان کی شکل میں آئے جسے وہ نہیں جانتے اور وہ یوں گویا ہو : ” میں فرشتہ ہوں اور مجھے اللہ نے بھیجا ہے کہ میں رسول خدا حضرت محمد ﷺ کی تصدیق کروں ۔ “ تو وہ دیکھیں گے کہ یہ شخص تو ان ہی جیسا ایک آدمی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں بھی انہیں ویسا ہی شبہ لاحق ہوگا غرض اگر کوئی فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا تو بھی وہ اسی شب ہے کا شکار ہوتے جسے کا وہ پہلے سے شکار تھے اور کوئی یقینی بات نہ کرسکتے ۔ اس طرح ان آیات میں اللہ تعالیٰ یہ بتاتے ہیں کہ یہ لوگ حقائق کائنات کے بارے میں کس قدر جاہل ہیں اور سنت الہیہ سے کس قدر ناواقف ہیں جبکہ اپنی جگہ نہایت ہی معاند اور بغیر علم وجواز کے ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں ۔ بالکل بلا دلیل ۔ تیسری حقیقت جو یہ آیات انسانی سوچ کے اندر پیدا کرتی ہیں ‘ وہ یہ ہے کہ اسلامی تصور حیات اور اس کے اساسی عناصر ترکیبی کیا ہیں ؟ ان عناصر میں وہ تمام مظاہر فطرت شامل ہیں جن کے بارے میں اسلام ایک مسلمان کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ ان کا ادراک کرے اور اپنی زندگی کو ان مظاہر فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرلے ۔ نیز عالم غیب بھی ان اساسی عناصر میں شامل ہے جس میں ملائکہ بھی شامل ہیں ۔ اسلام نے ایمان کے بنیادی عناصر میں اس بات کو شامل کیا ہے کہ تم فرشتوں پر بھی ایمان لاؤ گے ۔ فرشتوں پر ایمان کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہو سکتا ۔ اللہ پر ایمان ‘ ملائکہ پر ایمان ‘ کتابوں پر ایمان ‘ رسولوں پر ایمان ‘ یوم آخرت پر ایمان اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان ۔ ظلال القرآن کی جلد اول میں جب ہم نے سورة بقرہ کی بتدائی آیات کی تشریح کی تھی تو اس میں ہم نے اس موضوع پر بات کی تھی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایمان بالغیب کی وجہ سے انسانی زندگی میں ایک بہت بڑا انقلاب رونما ہوجاتا ہے ۔ انسان محض عالم محسوسات کے محدود دائرے سے نکل جاتا ہے اور وہ اس بات پر ایمان لاتا ہے کہ ایک عالم اور بھی ہے جو ہمیں معلوم نہیں ہے ۔ ہم اگرچہ اس کا تصور نہیں کرسکتے لیکن وہ بلاشک اور لاریب آنے والا ہے ۔ یہ تصور انسان کو حیوانات کے محسوس دائرے سے نکال کر انسانی ادراک کے دائرے میں داخل کردیتا ہے اور جو لوگ انسان کے لئے محسوسات سے اوپر جانے کا دروازہ بند کرتے ہیں وہ انسان کو مقام انسانیت سے گرا کر اسے پیچھے حیوانی دائرے میں لے جاتے ہیں اور اس کا نام ترقی پسندی رکھتے ہیں ۔ اس سورة میں جب ہم عالم غیب کے بارے میں بات کریں گے تو اس نکتے کی مزید وضاحت کریں گے ۔ آیت عندہ مفاتح الغیب کے ذیل میں ۔ انشاء اللہ ۔ عالم غیب کے بارے میں جو اسلامی تصور ہے اس میں یہ بات موجود ہے کہ عالم غیب میں ایک مخلوق ایسی ہے جو نظر نہیں آتی اور وہ فرشتے ہیں ۔ قرآن کریم نے اس مخلوق کی بعض صفات کا تذکرہ کیا ہے ‘ جو ان کے بارے میں ایک مجمل تصور کے لئے کافی ہے اور انسان اپنے حدود کے اندر فرشتوں کے ساتھ جو برتاؤ کرے گا اس کی بنیاد اسی بات پر ہونی چاہئے ۔ فرشتے اللہ کو مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں وہ رہ وقت اللہ کی اطاعت اور بندگی پر کمر بستہ ہیں ۔ مطلق مطیع ہیں وہ اللہ کے قریب رہتے ہیں ۔ وہ اللہ کے کس طرح مقرب ہیں اس کی کیفیت کا ہمیں پوری طرح علم نہیں ہے ۔ (آیت) ” وقالوا اتخذ الرحمن ولدا سبحنہ بل عباد مکرمون ‘، (26) لا یسبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون (27) یعلم مابین ایدیھم وما خلفھم ولا یشفعون الا لمن ارتضی وھم من خشیتہ مشفقون (28) (21 : 26 تا 28) (یہ کہتے ہیں رحمن اولاد رکھتا ہے ‘ سبحان اللہ ‘ وہ تو بندے ہیں جنہیں عزت دی گئی ہے ۔ اس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں ۔ جو کچھ ان کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے وہ باخبر ہے ‘ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے کہ جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو ‘ اور وہ اس کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں) (آیت) ” ومن عندہ لا یستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون یسبحون اللیل والنھار لا یفترون “۔ (اور جو فرشتے اس کے پاس ہیں وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملول ہوتے ہیں ۔ شب وروز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں دم نہیں لیتے) یہ فرشتے اللہ کے تخت کو بھی اٹھائے ہوئے ہیں اور قیامت کے دن بھی اسے اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ اس کی کیفیت کا ادراک انسان کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اس غیبی حقیقت کے بارے میں ہمارا ادراک اسی حد تک محدود ہے جس حد تک اللہ نے انکشاف فرمایا ہے ۔ (آیت) ” الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربھم ویومنون بہ (40 : 7) ” عرش الہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش الہی کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ‘ پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔ “ (آیت) ” وتری الملئکۃ حافین من حول العرش یسبحون بحمد ربھم وقضی بینھم بالحق وقیل الحمد للہ رب العلمین “۔ (39 : 75) ” اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رب کی حمد وتسبیح کر رہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا اور پکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ رب العالمین کے لئے ۔ “ وہ اللہ کے خزانوں کے بھی نگران ہیں اور آگ اور جہنم کے داروغے بھی وہی ہوں گے ۔ اہل جنت کو سلام اور دعاء کے ساتھ استقبال کریں گے اور اہل جہنم کو وہ سخت عذاب کی دھمکی دیتے ہوئے لیں گے ۔ “ (آیت) ” وسیق الذین کفروا الی جھنم زمرا حتی اذا جآء وھا فتحت ابوابھا وقال لھم خزنتھا الم یاتکم رسل منکم یتلون علیکم ایت ربکم وینذرونکم لقآء یومکم ھذا قالوا بلی ولکن حقت کلمۃ العذاب علی الکفرین (71) قیل ادخلوا ابواب جھنم خلدین فیھا فبئس مثوی المتکبرین (72) وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمرا حتی اذا جآء وھا وفتحت ابوابھا وقال لھم خزنتھا سلم علیکم طبتم فادخلوھا خلدین (83) (39 : 71 تا 73) ” اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا تھا ‘ جہنم کی طرف گروہ درگروہ ہانکے جائیں گے ‘ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور اس کے اور اس کے کارندے ان سے کہیں گے ” کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسول نہیں آئے تھے جنہوں نے تم کو تمہارے رب کی آیات سنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایاہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا ۔ “ وہ جواب دیں گے ” ہاں آئے تھے ‘ مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا ۔ “ کہا جائے گا داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں ‘ یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے ‘ بڑا ہی بڑا ٹھکانا ہے یہ متکبروں کے لئے ۔۔۔۔۔ اور جو لوگ اپنے رب کی نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے انہیں گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا ۔ یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جا چکے ہوں گے تو اس کے منتظمین ان سے کہیں گے ” سلام میں تم پر ‘ بہت اچھے رہے ‘ داخل ہوجاؤ اس میں ہمیشہ کے لئے ۔ “ اور دوسری جگہ آتا ہے : (آیت) ” وما جعلنا اصحب النار الاملئکۃ “۔ اور ہم نے آگ کا نگران بھی صرف ملائکہ کو بنایا ہے ۔ “ ایک اہم سوال یہ ہے کہ یہ فرشتے اہل زمین کے ساتھ کیا برتاؤ کرتے ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اہل زمین کے ساتھ ان کا معاملہ مختلف شکلوں میں ہوتا ہے ۔ وہ خدا کے حکم سے اہل زمین کی حفاظت بھی کرتے ہیں اور ان کے اعمال کا مکمل ریکارڈ بھی تیار کرتے ہیں اور جب ان کا مقررہ وقت پورا ہوتا ہے تو وہ ان کی روح قبض کرلیتے ہیں ۔ (آیت) ” وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَیُرْسِلُ عَلَیْْکُم حَفَظَۃً حَتَّیَ إِذَا جَاء أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَہُمْ لاَ یُفَرِّطُونَ (61) ” پنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دیتے ہیں اور ذرا کوتاہی نہیں کرتے ۔ (آیت) ” لہ معقبت من بین یدیہ ومن خلفہ یحفظونہ من امر اللہ “۔ (13 : 11) ” ہر شخص کے آگے پیچھے اس کے مقرر کئے ہوئے نگران لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں ۔ “ (آیت) ” مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید “۔ (5 : 18) ” کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا ہے جسے محفوظ کرنے کے لئے ایک حاضر باش نگران نہ ہو۔ “ ان فرشتوں کے فرائض میں یہ بات بھی شامل ہے کہ یہ رسولوں کے اوپر وحی لے کر آتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ ان میں سے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ کام سرانجام دیتے ہیں ۔ (آیت) ” ینزل الملئکۃ بالروح من امرہ علی من یشآء من عبادہ ان انذروا انہ لا الہ الا انا فاتقون “۔ (16 : 2) ” وہ اس روح کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے (اس ہدایت کے ساتھ کہ) لوگوں کو آگاہ کر دو ‘ میرے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے لہذا تم مجھ ہی سے ڈرو۔ “ (آیت) ” قل من کان عدوا الجریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ “۔ (2 : 97) ” ان سے کہو کہ جو کوئی جبرائیل سے عداوت رکھتا ہو ‘ اسے معلوم ہونا چاہئے کہ جبرائیل نے اللہ ہی کے اذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے ۔ “ (آیت) ” وَالنَّجْمِ إِذَا ہَوَی (1) مَا ضَلَّ صَاحِبُکُمْ وَمَا غَوَی (2) وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْہَوَی (3) إِنْ ہُوَ إِلَّا وَحْیٌ یُوحَی (4) عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوَی (5) ذُو مِرَّۃٍ فَاسْتَوَی (6) وَہُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَی (7) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّی (8) فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْْنِ أَوْ أَدْنَی (9) فَأَوْحَی إِلَی عَبْدِہِ مَا أَوْحَی (10) مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی (11) أَفَتُمَارُونَہُ عَلَی مَا یَرَی (12) وَلَقَدْ رَآہُ نَزْلَۃً أُخْرَی (13) عِندَ سِدْرَۃِ الْمُنْتَہَی (14) عِندَہَا جَنَّۃُ الْمَأْوَی (15) إِذْ یَغْشَی السِّدْرَۃَ مَا یَغْشَی (16) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَی (17) لَقَدْ رَأَی مِنْ آیَاتِ رَبِّہِ الْکُبْرَی (18) (53 : 1 تا 18) ” قسم ہے تارے کی جب وہ غروب ہوا ‘۔ تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے ‘ نہ بہکا ہے ۔ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا ۔ یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے ۔ اسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے ‘ جو بڑا صاحب حکمت ہے ۔ اور وہ سامنے آکھڑا ہوا جبکہ ہو بالائق افق پر تھا ‘ ۔ پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہوگا ۔ یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا ۔ تب اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو اس نے پہنچانی تھی ۔ نظر نے جو کچھ دیکھا دل نے اس میں جھوٹ نہ ملایا ۔ اب کیا تم اس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے ۔ اور ایک دفعہ پھر اس نے سدرۃ المنتہی کے پاس اترتے دیکھا ‘ ۔ جہاں پاس ہی جنت الماوی ہے ۔ اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ چھا رہا تھ ۔ نگاہ نہ چندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی ۔ اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں ۔ اور جب مسلمانوں کی طاغوت کے ساتھ نہایت ہی اہم اور بڑی جنگ ہوتی ہے تو اس معرکے میں وہ بطور تائید اور امداد ثابت قدمی پیدا کرنے کے لئے اترتے ہیں : (آیت) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیھم الملئکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون “۔ (30) (41 : 30) ” جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے ‘ اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے یقینا ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ان سے کہتے ہیں ۔ ” نہ ڈرو نہ غم کرو ‘ اور خوش ہوجاؤ اس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ “ (آیت) ” اذ تقول للمومنین الن یکفیکم ان یمدکم ربکم بثلثۃ الف من الملئکۃ منزلین (124) بلی ان تصبروا وتتقوا ویاتوکم من فورھم ھذا یمددکم ربکم بخمسۃ الف من الملئکۃ مسومین (125) وما جعلہ اللہ الابشری لکم ولتطمئن قلوبکم بہ وما النصر الامن عند اللہ العزیزالحکیم (136) (3 : 124 تا 126) ” اے نبی یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے ” کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ؟ “ بیشک اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئیں گے ‘ اسی آن تمہارا رب (تین ہزار نہیں) پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا ۔ یہ بات اللہ نے تمہیں اس لئے بتا دی ہے تاکہ تم خوش ہوجاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں ۔ فتح ونصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا اور بینا ہے ۔ “ (آیت) ” اذ یوحی ربک الی الملئکۃ انی معکم فثبتوا الذین امنوا سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان (8 : 12) ” اور وہ وقت جبکہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ‘ تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو ‘ میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیتا ہوں ‘ پس تم ان کی گردنوں پر ضرب لگاؤ اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ۔ “ یہ فرشتے اہل ایمان کے کاموں میں بھی مصروف رہتے ہیں ‘ وہ اللہ کی تسبیح کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لئے ہر وقت مغفرت کی دعا کرتے ہیں جو اہل ایمان ہیں اور وہ ان مومنین کے لئے اس قدر شغف کے ساتھ دعا کرتے ہیں کہ جس طرح ایک نہایت ہی محبت کرنے والا شخص اپنے محبوب کے لئے دعا کرتا ہے ۔ (آیت) ” الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربھم ویومنون بہ ویستغفرون للذین امنوا ربنا وسعت کل شیء رحمۃ وعلما فاغفر للذین تابوا واتبعوا سبیلک وقھم عذاب الجحیم (7) ربنا وادخلھم جنت عدن التی وعدتھم ومن صلح من ابآئھم وزواجھم وذریتھم انک انت العزیز الحکیم (8) وقھم السیات ومن تق السیات یومئذ فقد رحمتہ وذلک ھو الفوز العظیم (9) (40 : 7 تا 9) ” عرش الہی کے حامل فرشتے اور وہ جو عرش الہی کے گردوپیش حاضر رہتے ہیں ‘ پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر رہے ہیں اور وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : اے ہمارے رب تو اپنی رحمت اور علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ‘ پس معاف کر دے اور عذاب دوزخ سے بچا لے ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کرلیا ہے ۔ اے ہمارے رب اور داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں جن کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور ان کے والدین ‘ اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں (ان کو بھی وہاں ان کے ساتھ ہی پہنچا دے) تو بلاشبہ قادر مطلق ہے اور حکیم ہے ۔ اور بچا دے ان کو برائیوں سے جس کو تو نے قیامت کے دن برائیوں سے بچا دیا اس پر تو نے رحم کیا یہی بڑی کامیابی ۔ “ جب فرشتے روح قبض کرتے ہیں تو اس وقت اہل ایمان کو جنت کی خوشخبری دیتے ہیں اور ان کا استقبال خوشخبری سے کرتے ہیں اور آخرت میں وہ ان کو سلام وآداب سے عزت افزائی کریں گے ۔ (آیت) ” الذین تتوفھم الملئکۃ طیبین یقولون سلم علیکم ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون “۔ (16 : 32) ” ان متقیوں کو جن کی روحیں پاکیزگی کی حالت میں ملائکہ قبض کرتے ہیں تو کہتے ہیں ” سلام ہو تم پر ‘ جاؤ جنت میں اپنے اعمال کے بدلے ۔ “ (آیت) ” جنت عدن یدخلونھا ومن صلح من ابآئم وازواجھم وذریتھم والملئکۃ یدخلون علیھم من کل باب (23) سلم علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدار “۔ (24) (13 : 23۔ 24) ” ایسے باغ جو ان کی ابدی قیام گاہ ہوں گے ۔ وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور ان کے آباؤ اجداد اور ان کی بیویاں اور ان کی اولاد میں سے جو صالح ہیں وہ بھی ان کے ساتھ وہاں جائیں گے ۔ ملائکہ ہر طرف سے ان کے استقبال کے لئے آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہے ‘ تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اس کی بدولت آج تم اس کے مستحق ہو ۔ پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر ۔ ان کے فرائض میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اہل کفر کا استقبال آخرت میں توہین آمیز رویے کے ساتھ کریں گے اور دنیا میں کفر واسلام کے معرکے میں وہ کفار کے مقابلے میں لڑتے ہیں اور جب کفار کی روح قبض کرتے ہیں تو وہ سختی اذیت اور توہین آمیز انداز میں قبض کرتے ہیں ۔ (آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذِ الظَّالِمُونَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُواْ أَیْْدِیْہِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ (93) ” کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ” لاؤ“ نکالو اپنی جان ‘ آج تمہیں ان باتوں کی پاداش مین ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی اختیار کرتے تھے ۔ “ (آیت) ” فکیف اذا توفتھم الملئکۃ یضربون وجوھھم وادبارھم (47 : 27) ” پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ۔ “ جب سے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے باوا آدم کو پیدا کیا اس وقت سے فرشتوں کا انسانوں کے ساتھ ایک خاص تعلق رہا ہے اور یہ سلسلہ طول حیات تک میں جاری رہا ہے اور قیامت تک جاری رہے گا جیسا کہ مذکور بالا قرآنی آیات کے اقتباسات سے اچھی طرح معلوم ہوا ہے ۔ فرشتوں اور عالم بشریت کے باہم تعلق پر بھی قرآن کریم کے متعدد مقامات پر بحث کی گئی ہے اور سورة بقرہ میں اس کی پوری تفصیل دی گئی ہے ۔ (آیت) ” وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (30) وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاء کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلاَئِکَۃِ فَقَالَ أَنبِئُونِیْ بِأَسْمَاء ہَـؤُلاء إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (31) قَالُواْ سُبْحَانَکَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّکَ أَنتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ (32) قَالَ یَا آدَمُ أَنبِئْہُم بِأَسْمَآئِہِمْ فَلَمَّا أَنبَأَہُمْ بِأَسْمَآئِہِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّکُمْ إِنِّیْ أَعْلَمُ غَیْْبَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا کُنتُمْ تَکْتُمُونَ (33) وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ أَبَی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ (34) ۔ ” پھر ذرا اس وقت کا تصور کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا تھا کہ ” میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ۔ “ انہوں نے عرض کیا ” کیا آپ زمین میں کسی زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اس کے نظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے گا ؟ آپ کے حمد وثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں ۔ “ فرمایا : ” میں جانتا ہوں جو کچھ تم نہیں جانتے ۔ ‘ اس کے بعد اللہ نے آدم کو سارے چیزوں کے نام سکھائے ۔ پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا :” اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سے نظام بگڑ جائے گا) تو بتاؤ ان چیزوں کے نام کیا ہیں ؟ ‘ انہوں نے عرض کیا ” نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ۔ ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں ‘ جتنا آپ نے ہم کو دیا ہے ۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ۔ “ پھر اللہ نے آدم سے کہا : ” تم انہیں ان چیزوں کے نام بتاؤ جب اس نے ان کو ان سب کے نام بتا دیئے تو اللہ نے فرمایا : ” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں ‘ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو ‘ وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے بھی میں جانتا ہوں۔ ‘ پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ تو سب جھک گئے مگر ابلیس نے انکار کیا ۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا ۔ ‘ ” یہ ایک وسیع میدان ہے جس میں انسانی زندگی اور عالم بالا کی زندگی کا باہم اتصال ہوتا ہے اور اس اتصال کی وجہ سے انسانی سوچ میں ایک وسعت سی پیدا ہوجاتی ہے اور انسان اس کائنات کے حقائق کا ادراک ایک وسیع زاویے سے کرسکتا ہے ۔ اس کا نفسیاتی شعور وسیع اور اس کے ذہن کی جو لانی کا دائرہ کھل جاتا ہے اور فکر ونظر کی یہ وسعت ایک مسلمان کو ایک ہمہ گیر اسلامی تصور عطا کرتی ہے ۔ قرآن کریم انسان کے سامنے اس وسیع اور مشہود کائنات کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ اس کا آخری اتصال عالم غیب کے اس وسیع میدان سے ہوتا ہے ۔ عالم غیب کا ایک وسیع عالم اور ایک کھلا میدان ہے ۔ جو لوگ انسان پر عالم غیب کے دروازے بند کرنا چاہتے ہیں وہ انسان کے ساتھ نہایت ہی قبیح عداوت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ وہ انسان کی دنیا کو اس کے نہایت ہی محدود تصور بلکہ عالم محسوسات کے اندر محدود کردینا چاہتے ہیں اور اسے عالم حیوانات میں داخل کرنا چاہتے ہیں حالانکہ اللہ نے انسان کو عزت اور شرافت اس طرح بخشی کہ اسے غور وفکر کی قوت عطا کی ۔ اس غور وفکر کی قوت سے انسان ان چیزوں کا ادراک کرسکتا ہے جس سے جانور اور بہائم محروم ہیں ۔ انسان اپنی اس صلاحیت کی وجہ سے علم ومعرفت کی فراوانی پاتا ہے اور اس کا شعور نہایت ہی وسیع ہوجاتا ہے ۔ وہ اپنی عقل اور اپنے دل کی وجہ سے عالم بالا کی وسعتوں تک پہنچ جاتا ہے وہ اخلاق پاکیزہ حاصل کرتا ہے اور اپنے وجود کے ساتھ نورانی عالم بالا کی سیر کرتا ہے ۔ عرب اپنی اس جاہلیت کے باوجود جس میں وہ غرق تھے اور جس میں ان کا تصور حیات نہایت ہی غلط اصولوں پر قائم تھا ‘ دور جدید کی سائنسی جاہلیت کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی یافتہ تھے ۔ یہ جدید جاہلیت کے پیروکار عالم غیب کے ساتھ مذاق کرتے ہیں اور ایسے غیبی امور پر ایمان لانے کو غیر علمی اور غیر سائنسی تصور سمجھتے ہیں ۔ وہ عالم غیب کو ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالتے ہیں اور عالم سائنس کو دوسرے میں جو ایک نہایت ہی غلط تقابل ہے ۔ اس تصور کی تردید میں آیت (عنداہ مفاتح الغیب) کے ضمن میں کروں گا اس لئے کہ جاہلیت جدیدہ کا یہ وہ دعوی ہے جس کے اوپر سائنس کے اصولوں کے مطابق کوئی دلیل نہیں لائی جاسکتی نہ دین میں اس کے اوپر کوئی دلیل پیش کی جاسکتی ہے ۔ یہاں ہم صرف فرشتوں کے وجود کے بارے میں ایک مختصر بات کریں گے ۔ سائنس دانوں سے ہم صرف یہ بات پوچھتے ہیں کہ وہ جو فرشتوں کا انکار کرتے ہیں اس پر ان کے پاس سائنسی اصولوں کے مطابق کیا دلیل ہے ؟ وہ فرشتوں کے وجود کو تصور اور تصدیق کے دائرے سے کیوں نکالتے ہیں ؟ ذرا وہ کوئی سائنسی فارمولا بتائیں جس کی رو سے وہ ایسا عقیدہ رکھنے پر مجبور ہوں کہ فرشتوں کا وجود نہیں ہے ۔ ان کی سائنس کی حالت تو یہ ہے کہ وہ دوسرے کر ات سماوی کے اندر ایسی موجودات کے اقرار اور انکار سے بھی عاجز ہے جو اس کرہ ارض پر موجود ہیں ۔ کجا کہ وہ کر ات جن کی فضا اور جن کی کیمیاوی اور طیعیاتی ترکیب اور مسافت زمین سے مختلف ہے اور جن کی فضائیں مختلف ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ وہ ان دوسرے جہانوں کا انکار کس اصول پر کرتے ہیں جبکہ ان کے پاس فرشتوں کے وجود کی نفی پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ ہم ان سے اپنے عقائد کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں چاہتے اور نہ ہم اللہ کے کلام کے بارے میں ان سے کوئی استدلال چاہتے ہیں ۔ ہم ان سے خود ان کے اس علم اور سائنس کے بارے میں محاکمہ چاہتے ہیں جس کو انہوں نے الہ بنا لیا ہے ۔ اس سوال کے جواب میں ان کے پاس مکابرہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اس ان کی یہ سائنس جو انہیں عالم غیب اور ملائکہ کے انکار پر آمادہ کرتی ہے ‘ اس سوال سے لاجواب ہوجاتی ہے ، انکار محض اس لئے کہ یہ جہان پردہ غیب میں مستور ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جس سائنس کی وجہ سے وہ عالم غیب اور فرشتوں کا انکار کرتے ہیں وہی بالجزم عالم غیب کو ثابت کرتی ہے بلکہ اس سائنس نے عالم غیب کو ایک طرح سے عالم شہادت میں بدل دیا ہے اور کئی ایسے انکشاف کردیئے ہیں جو پہلے عالم مغیبات میں تھے ۔ ان مغیبات کو آج ہم دیکھ رہے ہیں ۔ اس موج کا اختتام اس انجام کے تذکرے سے ہوتا ‘ جس سے انسانی تاریخ میں وہ تمام لوگ دو چار ہوئے جنہوں نے رسولوں کا مذاق اڑایا ۔ پھر جھٹلانے والوں کو دعوت دی گئی کہ ذرا وہ انسانی تاریخ میں ان مقتل گاہوں کا مطالعہ کریں جن میں ان کے اسلاف پر عذاب آئے ۔ ذرا اس کرہ ارض پر چل پھر کر جھٹلانے والوں کے انجام کو دیکھیں ۔ یہ واقعات زبان حال سے گویا ہیں کہ جھٹلانے والوں اور مذاق کرنے والوں کا انجام کیا ہوا ہے ؟

الأنعام 6:10

(آیت) ” نمبر 10 تا 11۔ یہ ایک جھلکی ہے ‘ جو ان لوگوں کی روگردانی اور ہٹ دھرمی کے بعد اور ان کی جاہلانہ اور احمقانہ مطالبات کے بعد آتی ہے۔ اور اس کے بعد کہ ان کے اس چیلنج اور ان کے مطالبات کو اللہ تعالیٰ نے نہایت مہربانی اور نہایت ہی بربادی کر کے قبول نہ کیا ورنہ وہ ہلاک ہوجاتے ‘ تو اس موقعہ پر اس جھلکی سے دو مقاصد مطلوب ہیں ۔ پہلا مقصد تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جائے اور ان کے دل سے غبار غم چھٹ جائے کوئی روگردانی کرنے والوں اور مذاق اڑانے والوں کے رویے کی وجہ سے اور مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ بہت ہی پریشان ہوجاتے تھے ۔ اس طرح حضور ﷺ کا دل مطمئن ہوجاتا کہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے والوں کا انجام آخر کار خراب ہی ہوتا ہے ۔ حضور ﷺ کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تاریخ دعوت وتاریخ رسل میں یہ رویہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا گیا ۔ مذاق اڑانے والوں کا یہی انجام رہا ہے اور وہ جس چیز سے مذاق کرتے تھے آخر کار اسی چیز نے انہیں گھیر لیا اور جس کو دھمکی سمجھتے تھے وہ عذاب ان پر آکر رہا اور حق کو باطل پر آخر کار غلبہ نصیب ہوا۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ ان جھٹلانے والوں اور مذاق کرنے والوں کے دلوں کو بھی ذرا جھنجوڑا جائے اور انہیں اس طرح متوجہ کیا جائے کہ وہ ذرا اپنے اسلام کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں جنہوں نے نبیوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا اور اس کی وجہ سے اللہ کے عذاب نے انہیں گھیرا ۔ یہ لوگ قوت اور شوکت کے اعتبار سے تم سے زیادہ قوی اور پرشوکت تھے ۔ وہ زیادہ آسودہ حال اور ترقی یافتہ تھے ۔ اس طرح انہیں اس طرح متوجہ کیا ۔ شاید کہ وہ ہدایت قبول کرلیں جس طرح سورة کے آغاز میں بھی انہیں واقعات تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ قرآن کریم کے درج ذیل الفاظ قابل غور ہیں : (آیت) ” قُلْ سِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (11) ” ان سے کہو ‘ ذرا زمین پر چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ؟ ۔ زمین میں سیروسیاحت کے مقاصد یہ ہیں کہ پھرنے والے کو علم حاصل ہو ‘ وہ حالات پر غور کرے اور ان سے عبرت حاصل کرے ۔ اور پھر تدبر کے بعد پھرنے والا یہ معلوم کرے کہ سنن الہیہ حوادث وواقعات میں کس طرح کار فرما ہوتی ہیں ۔ سنن الہیہ آثار قدیمہ سے بھی معلوم ہو سکتی ہیں جو نظر آتے ہیں اور ابھی تک کھڑے ہیں ۔ ان تاریخی واقعات کے اندر بھی معلوم کی جاسکتی ہیں جو ہر خطے اور ہر قوم کی روایتی تاریخ کے اندر منضبط ہوتے ہیں ۔ زمین کے اندر اس غرض کے لئے اور اس نہج پر سیاحت کرنا عربوں کے لئے ایک انوکھی بات تھی ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں جیسی بدوی اور سادہ قوم میں قرآن مجید فکر ونظر کا کس قدر عظیم انقلاب لارہا ہے ۔ وہ اہل جاہل اور ان پڑھ قوم کو فلسفہ تاریخ پڑھا رہا ہے ۔ وہ زمین میں پھرتے تھے ‘ سیاحت کے عادی تھے ۔ وہ زندگی گزارنے اور تجارت کے لئے قافلوں کی صورت میں پھرنے کے عادی تھے لیکن ان کے پیش نظر صرف وہ امور تھے جن کا تعلق صرف تجارت اور شکار وغیرہ سے تھا ۔ تربیتی مقاصد کے لئے سیر و سیاحت کبھی ان کا مقصود نہیں رہی تھی ۔ یہ سفر ان کے لئے بالکل جدید تھا ۔ یہ جدید نظام حیات انہیں سچ کی یہ نئی لائن دے رہا تھا اور بچوں کی طرح انہیں ہاتھ سے پکڑ کر جاہلیت کی گہرائیوں اور تاریکیوں سے نکال رہا تھا ۔ انہیں ایک بلند اور کھلی شاہراہ پر ڈال کر مقام سربلندی تک لے جا رہا تھا اور تاریخ شاہد ہے کہ قرآن پر عمل کرکے ہی وہ اس بلند مقام تک پہنچے ۔ مطالعہ تاریخ کا یہ منہاج جو قرآن کریم عربوں کو سکھا رہا تھا اپنے اول اور آخر سے یہ انسانی تاریخ کے مطالعے کا بالکل ایک نیا منہاج تھا جس کے مطابق اس دور میں اسلامی نظام زندگی نے انسانی عقل کے سامنے انسانی تاریخ کو پیش کیا ۔ اس طرز مطالعہ سے صاف صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ جب کچھ اسباب اللہ کی مشیت کے مطابق جمع ہوجاتے ہیں تو ان کے نتائج لازما ظہور پذیر ہوتے ہیں اور انسانی کھلی آنکھوں سے تاریخ میں واقعات واحداث کو سنن الہیہ کے مطابق ظاہر ہوتا دیکھتا ہے ۔ اسلامی نظام سے پہلے انسان اور ان کی روایات میں سے محض چند واقعات گنوائے گئے تھے اور کچھ مشاہدات اور لوگوں کے کچھ رسوم اور رواجات کو قلم بند کیا گیا تھا ۔ کہیں بھی واقعات کے اسباب اور وجوہات کے بارے میں کوئی بحث اور تبصرہ نہیں ہوا تھا اور نہ ان کا تجزیہ کیا گیا تھا کہ یہ اسباب اور یہ ان کے نتائج نکلے ۔ یہ تھے تاریخ کے مراحل اور انقلابات ۔ یہ اسلامی نظام اور قرآن تھا جس نے انسان کو فلسفہ تاریخ دیا اور اسے یہ سکھایا کہ تاریخی واقعات کے اندر اسباب ونتائج کا مطالعہ کرو۔ قرآن نے فلسفہ تاریخ کا کوئی مرحلہ پیش نہیں کیا اور نہ کسی پرانی فکر کو آگے بڑھایا ہے بلکہ قرآن نے انسان کو تاریخی تجزیہ کا ایک منہاج دیا ہے اور صرف اس منہاج کے مطابق ہی انسانی تاریخ کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے ۔ بعض لوگ اس امر پر تعجب کرتے ہیں کہ اسلامی نظام نے اور رسالت محمدیہ نے صرف ربع صدی کے ایک مختصر عرصے میں عربوں کی زندگی میں ایک عظیم اور بےمثال ثقافتی اور اقتصادی انقلاب برپا کردیا ۔ یہ عرصہ بظاہر اس قدر عظیم اور ہمہ گیر انقلاب کے لئے نہایت ہی قلیل ہے ۔ اگر وہ اقصادی انقلاب کے اصل عوامل کا مطالعہ کریں تو وہ ہر گز یہ تعجب نہ کریں گے ۔ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ عوامل کیا تھا جو حضرت محمد ﷺ خدائے علیم وخبیر کی طرف سے لے کر آئے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اقتصادی انقلاب بھی اسلامی نظام زندگی کا دکھایا ہوا معجزہ تھا اور اس کا راز اسی نظام میں پنہاں ہے جو لوگ دور جدید کے جدید اقتصادی نظریات اور کھوئے ہوئے اقتصادی اصولوں کے اندر جو چیز تلاش کر رہے ہیں اور اس کے لئے تاریخ کی مادی تعبیر کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ یہ راز اسلامی نظام کے اندر تلاش کریں ۔ اگر وہ اس کے اسباب نظام زندگی کے اندر تلاش نہیں کرتے تو رسالت محمدیہ کے نتیجے میں پسماندہ اور بدوی عربوں میں جو اقتصادی انقلاب برپا ہوا ‘ اس کے نتیجے میں لوگوں کو ایک نظریہ اور تصور حیات ملا ‘ ایک نظام حکومت ملا ‘ فکر ونظر کا نیا انداز ملا ‘ اخلاق ملا ‘ اقدار ملیں ‘ اجتماعی اوضاع واطوار ملے اور نہایت ہی مختصر عرصے یعنی ربع صدی میں ملے ان کے وہ کیا اسباب اور عوامل بتا سکیں گے ؟ (ھاتوا برھانکم انکنتم صادقین) اس جھلکی پر ذرا دوبارہ غور کیجئے ۔ (آیت) ” قُلْ سِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (11) ” ان سے کہو ‘ ذرا زمین پر چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ؟ ۔۔۔۔ ۔۔۔ اور اس لہر کے ابتدائی حصہ میں آنے والے ریمارک کو ذرا دوبارہ ذہن میں تازہ کریں۔ (آیت) ” أَلَمْ یَرَوْاْ کَمْ أَہْلَکْنَا مِن قَبْلِہِم مِّن قَرْنٍ مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الأَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّن لَّکُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاء عَلَیْْہِم مِّدْرَاراً وَجَعَلْنَا الأَنْہَارَ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمْ فَأَہْلَکْنَاہُم بِذُنُوبِہِمْ وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِہِمْ قَرْناً آخَرِیْنَ (6) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے زمانے میں دور دورہ رہا ہے ؟ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا جو تمہیں نہیں بخشا ‘ ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں (مگر انہوں نے کفران نعمت کیا) تو آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا ۔ “ یہ آیات اور ایسی ہی آیات اس سورة میں اور پورے قرآن میں پائی جاتی ہیں اور انسانیت کو فکر ونظر کا ایک جدید منہاج عطا کرتی ہیں ۔ یہ زندہ رہنے والا منہاج ہے اور یہ بےمثال اور لاثانی نظام زندگی ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتاب خصائص التصور الاسلامی وتومانہ کی ” فصل “ اسلام کا فلسفہ تاریخ) درس نمبر 57 ایک نظر میں : یہ لہر نہایت ہی اونچی ہے اور اس کا ٹکراؤ بھی بہت خوفناک ہے ۔ جھٹلانے ‘ روگردانی کرنے ‘ مذاق اڑانے اور دعوت اسلامی کے ساتھ استہزاء کرنے بحث کے بعد متصلا یہ لہر اٹھتی ہے ۔ روگردانی اور استہزاء کی گزشتہ بحث کے درمیان لوگوں کے لئے ڈراوا اور انجام بد سے ان کے دلوں میں خوف پیدا کیا گیا تھا اور لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا گیا تھا کہ وہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے والوں کی اس تاریخی انجام پر بھی غور کریں ‘ جس سے وہ دوچار ہوئے ۔ مکذبین کے متعلق لہر نمبر 2 ، سے پہلے اس سورت کی افتتاحی لہر میں اس پوری کائنات میں حقیقت الٰہی اور اس کی شان حاکمیت سے بحث کی گئی تھی ۔ یہ شان پوری کائنات کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کی اندر بھی دکھائی گئی تھی ۔ اب اس لہر میں بھی ذات باری کے اقتدار اعلی اور اس کے تصرفات کے کچھ اور پہلو دکھائے گئے ہیں ۔ ایک نئے زیروبم اور کچھ نئے فیکٹرز کے ساتھ ۔ گویا افتتاحی لہر اور اس لہر کا مضمون ایک ہی ہے ‘ فرق صرف یہ ہے ان دونوں کے درمیان مکذبین اور مذاق اڑانے والوں کے لئے ایک سخت تنبیہ آگئی ہے اور جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ معترضین کا یہ فعل نہایت ہی شنیع فعل ہے ۔ جو لوگ دعوت سے منہ موڑتے ہیں وہ بہت ہی بری حرکت کر رہے ہیں ۔ پہلی لہر میں شان الہی کو زمین و آسمان کی تخلیق میں دکھایا گیا کہ کس طرح ظلمت ونور کا نظام پیدا کیا گیا اور پھر اس کائنات کے اندر کیچڑ سے انسان کو کس طرح پیدا کیا گیا ‘ پہلا مرحلہ اس کی عمر کا طے کیا گیا اور دوسرا مرحلہ اس کی قیامت اور بعث کے لئے مقرر کیا گیا ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ خدا کی خدائی زمین وآسمانوں سب پر حاوی ہے ۔ زمین پر اس مخلوق یعنی حضرت انسان کی تمام سرگرمیوں پر بھی حاوی ہے چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ‘ بلند آواز سے ہوں یا خفیہ ‘ ان کے افعال کھلے بندوں ہوں یا پوشیدگی کے ساتھ ۔ یہ سب امور اس لئے نہ لائے گئے کہ قرآن کے پیش نظر کوئی لاہوتی یا نظریاتی بحث نہ تھی بلکہ اس لئے کہ ان حقائق کے تقاضے انسانی زندگی میں عملا نمودار ہوں ۔ انسان کی پوری کی پوری زندگی الہ واحد کے سامنے سرنگوں ہو اور انسان الہ العالمین کے سوا کسی اور کے آگے نہ جھکے اور توحید میں کوئی شک وشبہ نہ رہے ۔ وہ یہ سمجھے اور اقرار کرے کہ اللہ کی حاکمیت اس پوری کائنات اور انسان کی ظاہری وباطنی زندگی پر حاوی ہے اور یوں انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو حاکمیت الہیہ کے تابع کر دے ۔ جس طرح کہ اس کی تکوینی زندگی حاکمیت الہیہ کے تابع ہے ۔ اس جدید بلند لہر کا مقصد بھی حقیقت الوہیت اور حاکمیت الہیہ کا اظہار ہے وہ اس طرح کہ اس پوری کائنات کا مالک اللہ ہی ہے ۔ فعال بھی وہی ہے ۔ رزق بھی وہی دیتا ہے اور کفالت بھی وہی کرتا ہے ۔ وہ قادر اور قہار ہے ‘ وہ نافع اور ضار ہے ‘ لیکن یہ عقائد محض سلبی اور نظریاتی نہیں ہیں بلکہ ضروری ہے کہ ان عقائد کی روشنی میں اللہ وحدہ کو ولی تسلیم کیا جائے اور اس کی طرف رجوع کیا جائے ۔ اس کی مکمل بندگی کی جائے اور اس کا مطیع فرمان رہا جائے ۔ ان تمام امور کا اظہار اس طرح ہوگا کہ اللہ ہی کو اپنا دوست اور حاکم تسلیم کیا جائے ‘ اس لئے کہ وہی تو ہے جو ہمارا رب اور مطعم ہے جبکہ ہماری جانب سے اسے کچھ نہیں دیا جاتا ۔ دوسرے یہ کہ خود اس نے اس بات سے منع کیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی حاکم اور دوست بنایا جائے یا ان امور میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے ۔ اس مقصد کے لئے اس شکل میں ‘ حقیقت الوہیت کے بیان کے ساتھ ساتھ ان مؤثرات اور فیکٹرز کو بھی بیان کردیا گیا ہے جو دل کو پریشان کرتے ہیں ۔ آغاز اس سے کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا مالک ہے ‘ پھر وہی رب ہے لیکن اس طرح کہ وہ تمام لوگوں کو کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا اور نہ وہ محتاج ہے ۔ پھر اللہ کے اس عذاب کا تذکرہ کیا جاتا ہے کہ اگر کسی سے وہ عذاب ٹل جائے تو گویا اس نے عظیم کامیابی حاصل کرلی ۔ پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ خیر وشر پر قادر ہیں۔ اور یہ کہ وہ ہر فعل پر قادر ہیں اور قہار ہیں ‘ وہ حکیم اور تجربہ کار ہیں ۔ ان تمام امور کو ایک موثر انداز بیان ساتھ لایا جاتا ہے اور نہایت ہی بلند شان سے کہا جاتا ہے ۔ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ۔ حقیقت حاکمیت الہیہ کے اس گہرے اور موثر بیان کا خاتمہ نہایت ہی بلند آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور عقیدہ توحید اور رد شرک اور ان کے درمیان فرق و امتیاز کو نہایت ہی پرزور انداز میں بیان کر کے اس کی شہادت دی جاتی ہے اور یہ شہادت بھی نہایت ہی شاہانہ انداز میں دی جاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے ۔ (آیت) ” قل ای شیء اکبر شھادۃ “ سب سے بڑی شہادت کیا ہے ؟ قل للہ کہو اللہ ‘ کہو میں تو شرک پر شہادت نہیں دیتا ۔ اس لئے کہ اللہ تو صرف ایک ہی ذات ہے جو الہ واحد ہے ۔ ان فقروں اور تنبیہ آمیز سوال و جواب کی وجہ سے ایک پر خطر اور خوفناک فضا پیدا ہوجاتی ہے اور ماحول یکلخت سنجیدہ ہوجاتا ہے ۔

الأنعام 6:11

(آیت) ” نمبر 10 تا 11۔ یہ ایک جھلکی ہے ‘ جو ان لوگوں کی روگردانی اور ہٹ دھرمی کے بعد اور ان کی جاہلانہ اور احمقانہ مطالبات کے بعد آتی ہے۔ اور اس کے بعد کہ ان کے اس چیلنج اور ان کے مطالبات کو اللہ تعالیٰ نے نہایت مہربانی اور نہایت ہی بربادی کر کے قبول نہ کیا ورنہ وہ ہلاک ہوجاتے ‘ تو اس موقعہ پر اس جھلکی سے دو مقاصد مطلوب ہیں ۔ پہلا مقصد تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی جائے اور ان کے دل سے غبار غم چھٹ جائے کوئی روگردانی کرنے والوں اور مذاق اڑانے والوں کے رویے کی وجہ سے اور مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ بہت ہی پریشان ہوجاتے تھے ۔ اس طرح حضور ﷺ کا دل مطمئن ہوجاتا کہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے والوں کا انجام آخر کار خراب ہی ہوتا ہے ۔ حضور ﷺ کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تاریخ دعوت وتاریخ رسل میں یہ رویہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا گیا ۔ مذاق اڑانے والوں کا یہی انجام رہا ہے اور وہ جس چیز سے مذاق کرتے تھے آخر کار اسی چیز نے انہیں گھیر لیا اور جس کو دھمکی سمجھتے تھے وہ عذاب ان پر آکر رہا اور حق کو باطل پر آخر کار غلبہ نصیب ہوا۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ ان جھٹلانے والوں اور مذاق کرنے والوں کے دلوں کو بھی ذرا جھنجوڑا جائے اور انہیں اس طرح متوجہ کیا جائے کہ وہ ذرا اپنے اسلام کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں جنہوں نے نبیوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا اور اس کی وجہ سے اللہ کے عذاب نے انہیں گھیرا ۔ یہ لوگ قوت اور شوکت کے اعتبار سے تم سے زیادہ قوی اور پرشوکت تھے ۔ وہ زیادہ آسودہ حال اور ترقی یافتہ تھے ۔ اس طرح انہیں اس طرح متوجہ کیا ۔ شاید کہ وہ ہدایت قبول کرلیں جس طرح سورة کے آغاز میں بھی انہیں واقعات تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ قرآن کریم کے درج ذیل الفاظ قابل غور ہیں : (آیت) ” قُلْ سِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (11) ” ان سے کہو ‘ ذرا زمین پر چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ؟ ۔ زمین میں سیروسیاحت کے مقاصد یہ ہیں کہ پھرنے والے کو علم حاصل ہو ‘ وہ حالات پر غور کرے اور ان سے عبرت حاصل کرے ۔ اور پھر تدبر کے بعد پھرنے والا یہ معلوم کرے کہ سنن الہیہ حوادث وواقعات میں کس طرح کار فرما ہوتی ہیں ۔ سنن الہیہ آثار قدیمہ سے بھی معلوم ہو سکتی ہیں جو نظر آتے ہیں اور ابھی تک کھڑے ہیں ۔ ان تاریخی واقعات کے اندر بھی معلوم کی جاسکتی ہیں جو ہر خطے اور ہر قوم کی روایتی تاریخ کے اندر منضبط ہوتے ہیں ۔ زمین کے اندر اس غرض کے لئے اور اس نہج پر سیاحت کرنا عربوں کے لئے ایک انوکھی بات تھی ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں جیسی بدوی اور سادہ قوم میں قرآن مجید فکر ونظر کا کس قدر عظیم انقلاب لارہا ہے ۔ وہ اہل جاہل اور ان پڑھ قوم کو فلسفہ تاریخ پڑھا رہا ہے ۔ وہ زمین میں پھرتے تھے ‘ سیاحت کے عادی تھے ۔ وہ زندگی گزارنے اور تجارت کے لئے قافلوں کی صورت میں پھرنے کے عادی تھے لیکن ان کے پیش نظر صرف وہ امور تھے جن کا تعلق صرف تجارت اور شکار وغیرہ سے تھا ۔ تربیتی مقاصد کے لئے سیر و سیاحت کبھی ان کا مقصود نہیں رہی تھی ۔ یہ سفر ان کے لئے بالکل جدید تھا ۔ یہ جدید نظام حیات انہیں سچ کی یہ نئی لائن دے رہا تھا اور بچوں کی طرح انہیں ہاتھ سے پکڑ کر جاہلیت کی گہرائیوں اور تاریکیوں سے نکال رہا تھا ۔ انہیں ایک بلند اور کھلی شاہراہ پر ڈال کر مقام سربلندی تک لے جا رہا تھا اور تاریخ شاہد ہے کہ قرآن پر عمل کرکے ہی وہ اس بلند مقام تک پہنچے ۔ مطالعہ تاریخ کا یہ منہاج جو قرآن کریم عربوں کو سکھا رہا تھا اپنے اول اور آخر سے یہ انسانی تاریخ کے مطالعے کا بالکل ایک نیا منہاج تھا جس کے مطابق اس دور میں اسلامی نظام زندگی نے انسانی عقل کے سامنے انسانی تاریخ کو پیش کیا ۔ اس طرز مطالعہ سے صاف صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ جب کچھ اسباب اللہ کی مشیت کے مطابق جمع ہوجاتے ہیں تو ان کے نتائج لازما ظہور پذیر ہوتے ہیں اور انسانی کھلی آنکھوں سے تاریخ میں واقعات واحداث کو سنن الہیہ کے مطابق ظاہر ہوتا دیکھتا ہے ۔ اسلامی نظام سے پہلے انسان اور ان کی روایات میں سے محض چند واقعات گنوائے گئے تھے اور کچھ مشاہدات اور لوگوں کے کچھ رسوم اور رواجات کو قلم بند کیا گیا تھا ۔ کہیں بھی واقعات کے اسباب اور وجوہات کے بارے میں کوئی بحث اور تبصرہ نہیں ہوا تھا اور نہ ان کا تجزیہ کیا گیا تھا کہ یہ اسباب اور یہ ان کے نتائج نکلے ۔ یہ تھے تاریخ کے مراحل اور انقلابات ۔ یہ اسلامی نظام اور قرآن تھا جس نے انسان کو فلسفہ تاریخ دیا اور اسے یہ سکھایا کہ تاریخی واقعات کے اندر اسباب ونتائج کا مطالعہ کرو۔ قرآن نے فلسفہ تاریخ کا کوئی مرحلہ پیش نہیں کیا اور نہ کسی پرانی فکر کو آگے بڑھایا ہے بلکہ قرآن نے انسان کو تاریخی تجزیہ کا ایک منہاج دیا ہے اور صرف اس منہاج کے مطابق ہی انسانی تاریخ کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے ۔ بعض لوگ اس امر پر تعجب کرتے ہیں کہ اسلامی نظام نے اور رسالت محمدیہ نے صرف ربع صدی کے ایک مختصر عرصے میں عربوں کی زندگی میں ایک عظیم اور بےمثال ثقافتی اور اقتصادی انقلاب برپا کردیا ۔ یہ عرصہ بظاہر اس قدر عظیم اور ہمہ گیر انقلاب کے لئے نہایت ہی قلیل ہے ۔ اگر وہ اقصادی انقلاب کے اصل عوامل کا مطالعہ کریں تو وہ ہر گز یہ تعجب نہ کریں گے ۔ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ عوامل کیا تھا جو حضرت محمد ﷺ خدائے علیم وخبیر کی طرف سے لے کر آئے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اقتصادی انقلاب بھی اسلامی نظام زندگی کا دکھایا ہوا معجزہ تھا اور اس کا راز اسی نظام میں پنہاں ہے جو لوگ دور جدید کے جدید اقتصادی نظریات اور کھوئے ہوئے اقتصادی اصولوں کے اندر جو چیز تلاش کر رہے ہیں اور اس کے لئے تاریخ کی مادی تعبیر کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ یہ راز اسلامی نظام کے اندر تلاش کریں ۔ اگر وہ اس کے اسباب نظام زندگی کے اندر تلاش نہیں کرتے تو رسالت محمدیہ کے نتیجے میں پسماندہ اور بدوی عربوں میں جو اقتصادی انقلاب برپا ہوا ‘ اس کے نتیجے میں لوگوں کو ایک نظریہ اور تصور حیات ملا ‘ ایک نظام حکومت ملا ‘ فکر ونظر کا نیا انداز ملا ‘ اخلاق ملا ‘ اقدار ملیں ‘ اجتماعی اوضاع واطوار ملے اور نہایت ہی مختصر عرصے یعنی ربع صدی میں ملے ان کے وہ کیا اسباب اور عوامل بتا سکیں گے ؟ (ھاتوا برھانکم انکنتم صادقین) اس جھلکی پر ذرا دوبارہ غور کیجئے ۔ (آیت) ” قُلْ سِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (11) ” ان سے کہو ‘ ذرا زمین پر چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ؟ ۔۔۔۔ ۔۔۔ اور اس لہر کے ابتدائی حصہ میں آنے والے ریمارک کو ذرا دوبارہ ذہن میں تازہ کریں۔ (آیت) ” أَلَمْ یَرَوْاْ کَمْ أَہْلَکْنَا مِن قَبْلِہِم مِّن قَرْنٍ مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الأَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّن لَّکُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاء عَلَیْْہِم مِّدْرَاراً وَجَعَلْنَا الأَنْہَارَ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمْ فَأَہْلَکْنَاہُم بِذُنُوبِہِمْ وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِہِمْ قَرْناً آخَرِیْنَ (6) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے زمانے میں دور دورہ رہا ہے ؟ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا جو تمہیں نہیں بخشا ‘ ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں (مگر انہوں نے کفران نعمت کیا) تو آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا ۔ “ یہ آیات اور ایسی ہی آیات اس سورة میں اور پورے قرآن میں پائی جاتی ہیں اور انسانیت کو فکر ونظر کا ایک جدید منہاج عطا کرتی ہیں ۔ یہ زندہ رہنے والا منہاج ہے اور یہ بےمثال اور لاثانی نظام زندگی ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتاب خصائص التصور الاسلامی وتومانہ کی ” فصل “ اسلام کا فلسفہ تاریخ) درس نمبر 57 ایک نظر میں : یہ لہر نہایت ہی اونچی ہے اور اس کا ٹکراؤ بھی بہت خوفناک ہے ۔ جھٹلانے ‘ روگردانی کرنے ‘ مذاق اڑانے اور دعوت اسلامی کے ساتھ استہزاء کرنے بحث کے بعد متصلا یہ لہر اٹھتی ہے ۔ روگردانی اور استہزاء کی گزشتہ بحث کے درمیان لوگوں کے لئے ڈراوا اور انجام بد سے ان کے دلوں میں خوف پیدا کیا گیا تھا اور لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا گیا تھا کہ وہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے والوں کی اس تاریخی انجام پر بھی غور کریں ‘ جس سے وہ دوچار ہوئے ۔ مکذبین کے متعلق لہر نمبر 2 ، سے پہلے اس سورت کی افتتاحی لہر میں اس پوری کائنات میں حقیقت الٰہی اور اس کی شان حاکمیت سے بحث کی گئی تھی ۔ یہ شان پوری کائنات کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کی اندر بھی دکھائی گئی تھی ۔ اب اس لہر میں بھی ذات باری کے اقتدار اعلی اور اس کے تصرفات کے کچھ اور پہلو دکھائے گئے ہیں ۔ ایک نئے زیروبم اور کچھ نئے فیکٹرز کے ساتھ ۔ گویا افتتاحی لہر اور اس لہر کا مضمون ایک ہی ہے ‘ فرق صرف یہ ہے ان دونوں کے درمیان مکذبین اور مذاق اڑانے والوں کے لئے ایک سخت تنبیہ آگئی ہے اور جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ معترضین کا یہ فعل نہایت ہی شنیع فعل ہے ۔ جو لوگ دعوت سے منہ موڑتے ہیں وہ بہت ہی بری حرکت کر رہے ہیں ۔ پہلی لہر میں شان الہی کو زمین و آسمان کی تخلیق میں دکھایا گیا کہ کس طرح ظلمت ونور کا نظام پیدا کیا گیا اور پھر اس کائنات کے اندر کیچڑ سے انسان کو کس طرح پیدا کیا گیا ‘ پہلا مرحلہ اس کی عمر کا طے کیا گیا اور دوسرا مرحلہ اس کی قیامت اور بعث کے لئے مقرر کیا گیا ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ خدا کی خدائی زمین وآسمانوں سب پر حاوی ہے ۔ زمین پر اس مخلوق یعنی حضرت انسان کی تمام سرگرمیوں پر بھی حاوی ہے چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ‘ بلند آواز سے ہوں یا خفیہ ‘ ان کے افعال کھلے بندوں ہوں یا پوشیدگی کے ساتھ ۔ یہ سب امور اس لئے نہ لائے گئے کہ قرآن کے پیش نظر کوئی لاہوتی یا نظریاتی بحث نہ تھی بلکہ اس لئے کہ ان حقائق کے تقاضے انسانی زندگی میں عملا نمودار ہوں ۔ انسان کی پوری کی پوری زندگی الہ واحد کے سامنے سرنگوں ہو اور انسان الہ العالمین کے سوا کسی اور کے آگے نہ جھکے اور توحید میں کوئی شک وشبہ نہ رہے ۔ وہ یہ سمجھے اور اقرار کرے کہ اللہ کی حاکمیت اس پوری کائنات اور انسان کی ظاہری وباطنی زندگی پر حاوی ہے اور یوں انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو حاکمیت الہیہ کے تابع کر دے ۔ جس طرح کہ اس کی تکوینی زندگی حاکمیت الہیہ کے تابع ہے ۔ اس جدید بلند لہر کا مقصد بھی حقیقت الوہیت اور حاکمیت الہیہ کا اظہار ہے وہ اس طرح کہ اس پوری کائنات کا مالک اللہ ہی ہے ۔ فعال بھی وہی ہے ۔ رزق بھی وہی دیتا ہے اور کفالت بھی وہی کرتا ہے ۔ وہ قادر اور قہار ہے ‘ وہ نافع اور ضار ہے ‘ لیکن یہ عقائد محض سلبی اور نظریاتی نہیں ہیں بلکہ ضروری ہے کہ ان عقائد کی روشنی میں اللہ وحدہ کو ولی تسلیم کیا جائے اور اس کی طرف رجوع کیا جائے ۔ اس کی مکمل بندگی کی جائے اور اس کا مطیع فرمان رہا جائے ۔ ان تمام امور کا اظہار اس طرح ہوگا کہ اللہ ہی کو اپنا دوست اور حاکم تسلیم کیا جائے ‘ اس لئے کہ وہی تو ہے جو ہمارا رب اور مطعم ہے جبکہ ہماری جانب سے اسے کچھ نہیں دیا جاتا ۔ دوسرے یہ کہ خود اس نے اس بات سے منع کیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی حاکم اور دوست بنایا جائے یا ان امور میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے ۔ اس مقصد کے لئے اس شکل میں ‘ حقیقت الوہیت کے بیان کے ساتھ ساتھ ان مؤثرات اور فیکٹرز کو بھی بیان کردیا گیا ہے جو دل کو پریشان کرتے ہیں ۔ آغاز اس سے کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا مالک ہے ‘ پھر وہی رب ہے لیکن اس طرح کہ وہ تمام لوگوں کو کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا اور نہ وہ محتاج ہے ۔ پھر اللہ کے اس عذاب کا تذکرہ کیا جاتا ہے کہ اگر کسی سے وہ عذاب ٹل جائے تو گویا اس نے عظیم کامیابی حاصل کرلی ۔ پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ خیر وشر پر قادر ہیں۔ اور یہ کہ وہ ہر فعل پر قادر ہیں اور قہار ہیں ‘ وہ حکیم اور تجربہ کار ہیں ۔ ان تمام امور کو ایک موثر انداز بیان ساتھ لایا جاتا ہے اور نہایت ہی بلند شان سے کہا جاتا ہے ۔ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ۔ حقیقت حاکمیت الہیہ کے اس گہرے اور موثر بیان کا خاتمہ نہایت ہی بلند آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور عقیدہ توحید اور رد شرک اور ان کے درمیان فرق و امتیاز کو نہایت ہی پرزور انداز میں بیان کر کے اس کی شہادت دی جاتی ہے اور یہ شہادت بھی نہایت ہی شاہانہ انداز میں دی جاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے ۔ (آیت) ” قل ای شیء اکبر شھادۃ “ سب سے بڑی شہادت کیا ہے ؟ قل للہ کہو اللہ ‘ کہو میں تو شرک پر شہادت نہیں دیتا ۔ اس لئے کہ اللہ تو صرف ایک ہی ذات ہے جو الہ واحد ہے ۔ ان فقروں اور تنبیہ آمیز سوال و جواب کی وجہ سے ایک پر خطر اور خوفناک فضا پیدا ہوجاتی ہے اور ماحول یکلخت سنجیدہ ہوجاتا ہے ۔

الأنعام 6:12

درس نمبر 57 تشریح آیات : 12۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 19 ۔ (آیت) ” نمبر 12 تا 13۔ یہاں خطاب بیان اور فیصلے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان مشرکین سے مخاطب ہوں جو اچھی طرح جانتے ہیں اللہ ہی خالق ہے لیکن یہ جانتے ہوئے بھی خالق کا ہمسر ان لوگوں کو بناتے ہیں جو بذات خود مخلوق ہیں ۔ اور پھر بزعم کود اپنی زندگی کے تصرفات میں ان شرکاء کو بھی دخیل کرتے ہیں۔ سوال یہ کیا جاتا ہے کہ تم مانتے ہو کہ اللہ خالق ہے تو یہ بتاؤ کہ تخلیق کے بعد پھر مالک کون ہے ؟ یعنی اس پوری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ (مافی السموت والارض) کا مالک کون ہے ؟ اور پھر اس سوال کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اس کا انکار نہ کرتے تھے ۔ (قل للہ) عربوں سے اگر پوچھا جاتا کہ (آیت) ” (لمن مافی السموت والارض) ؟ تو وہ جواب دیتے (للہ) تو معلوم ہوا کہ جاہلیت کے اندھیروں میں ہوتے ہوئے اور فکری اور نظری گمراہی کا شکار ہوتے ہوئے بھی وہ دور جدید کی جاہلیت سے بہرحال زیادہ بہتر تھے ۔ دور جدید کی جاہلیت کو علمی جاہلیت کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ وہ اس سادہ حقیقت کی بھی منکر ہے ‘ کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اس نے اپنی فطرت کو اندھا کردیا ہے اور وہ اس بدیہی حقیقت کو بھی دیکھ نہیں رہی ہے ۔ عرب جاہلیت کے پیروکار اگرچہ اس بدیہی حقیقت کا ادراک کرتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے لیکن وہ اس حقیقت اور اقرار پر پھر اس کے منطقی نتیجے مرتب نہ کرتے تھے ۔ یوں وہ اللہ کو اس کی مملوکات کے اندر بھی حاکم مطلق اور مقتدر اعلی نہ سمجھتے تھے ۔ وہ دنیا میں اپنے تمام تصرفات اور تمام حرکات و سکنات کو اذن اللہ کے دائرے کے اندر محدود نہ کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مشرک قرار پاتے تھے اور انہیں اہل جاہلیت کہا گیا ۔ رہے وہ لوگ جو اپنے تمام امور کو اللہ تعالیٰ کے دائرہ حاکمیت سے نکال دیں اور اپنی زندگی کے خود حاکم بن جائیں تو اب یہ سوال ان سے کیا جاسکتا ہے کہ ہم انہیں کیا کہیں اور انکی زندگی پر کیا فیصلہ دیں ۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کو مشرکین کے سوا کوئی اور لقب نہیں دیا جاسکتا اور نہ ان کی زندگی کو شرکیہ زندگی کے سوا کچھ اور کہا جاسکتا ہے ۔ اس لئے کہ خود اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کی یہ زندگی فاسقانہ ‘ ظالمانہ اور کافرانہ ہے ۔ چاہے وہ جس قدر بھی اسلام کا دعوی کریں (ان کے برتھ سرٹیفکیٹ چاہے ان کا مذہب جو بھی بتائیں کیونکہ وہ تو پیدائش کے وقت خانہ پری ہوتی ہے) اب ذرا آیت پر بھرپور نظر ڈالیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ یہ قرار دینے کے بعد کہ زمین اور آسمان کا مالک وہ ہے ساتھ ساتھ یہ بھی اضافہ فرماتے ہیں (کتب علی نفسہ الرحمۃ) ” اس نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ “ اللہ وحدہ خالق ومالک ہے اور اس میں اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے جو نزاع کرسکے ۔ لیکن اس نے اپنے فضل وکرم سے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ رؤف ورحیم ہے ۔ اپنے ارادے اور اپنی مشیت اور مرضی سے اس نے یہ رویہ لازم کرلیا ہے کوئی اور نہیں ہے جس نے اللہ رپ اس رویے کو لازم کردیا ہو ‘ نہ کسی اور نے اللہ سے اس کا مطالبہ کیا ہے اپنے ارادہ مطلق اور اپنی کریمانہ شان ربوبیت کی وجہ سے اس نے یہ رحیمانہ رویہ اپنایا ہوا ہے ۔ اور یہ اصول اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلوں اپنے اخلاق اور اپنے معاملات میں ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنے لئے ایک مسلمہ قاعدہ قرار دیا ہے ۔ اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظریات کی بنیادوں کے اندر بھی یہ اصول کار فرما ہے ۔ اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم کرتا ہے یہاں تک کہ اگر اللہ کسی بندے کو مشکلات اور مصائب سے دو چار کرتا ہے تو بھی دراصل اس پر شفقت مطلوب ہوتی ہے ۔ وہ بندوں کو مشکلات میں اس لئے ڈالتا ہے تاکہ ان میں سے ایک ایسا عنصر ہر وقت تیار رہے جو اللہ کی امانت کا بار اٹھانے کا اہل ہو اور یہ امانت کبری ان کو تب سپرد کی جاتی ہے جب یہ گروہ اپنے خلوص ‘ اپنی بےلوثی اور اپنی فہم ودراک ‘ اور اپنی تیاری اور تجربات کے اعتبار سے اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے تیار ہوجائے ۔ خبیث قوتیں پاک اور صاف لوگوں کی صفوں سے نکال کر باہر پھینک دی جائیں اور یہ اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ کون صحیح طرح مطیع رسول ہے اور کون بھاگنے والا ہے ۔ جو ہلاک ہوتا ہے وہ سمجھ کر ہلاک ہو اور جو زندہ رہتا ہے تو اصولوں پر زندہ رہے ۔ یہ تمام امور اللہ کے دائرہ رحمت کے اندر ہیں ۔ اللہ کی رحمت کے مواقع سے تو ہماری زندگی بھری پڑی ہے ۔ ہر لمحہ اور ہر لحظہ اس کی شفقت اور رحمت کی نئی شان ہے ۔ ہم نے بتلاء اور مشکلات کے زمانے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ بعض اوقات لوگوں کی فکر ونظر اس میں دھوکہ کھاجاتی ہے ۔ ہماری یہاں یہ کوشش نہیں ہے کہ ہم اللہ کی رحمت کے معاملات اور مظاہر گنوائیں ‘ بعض مظاہر آنے والے صفحات میں آپ دیکھیں گے ۔ یہاں ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ اس آیت پر قدرے غور کریں ۔ اور دیکھیں (کتب علی نفسہ الرحمۃ) سے دراصل کیا مراد ہے ۔ اسی سورة میں دوسری جگہ اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے (آیت) ” کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ) اس آیت میں جو بات جاذب نظر ہے وہ یہی فضل وکرم ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ۔ یعنی ایک ذات عالی جو خالق ہے ‘ مالک ہے اور قوت قاہرہ کی مالک ہے وہ اپنی قوت قاہرہ کے استعمال کے بجائے فضل وکرم کا مظاہرہ فرما رہی ہے اور پھر اس صورت میں کہ اس نے اس فعل کو اپنے اوپر لکھ لیا ہے ‘ فرض قرار دے لیا ہے ۔ از خود اس نے اس عہد پر دستخط کر لئے ہیں ۔ محض اپنے ارادہ مطلقہ اور اپنی مشیت کی رو سے وہ ہم پر فضل کر رہا ہے ۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے کہ جب انسان اسے پیش نظر رکھے اس پر غور کرے اور اس کے عجیب انداز کا ملاحظہ کرے تو اس کا انسان کی شخصیت اس کی فکر اور اس کے ذوق نظر پر اچھا اثر مرتب ہونا ضروری ہے ۔ پھر یہ امر بھی جاذب نظر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے بندوں کو اپنی اس شان رحیمی کی اطلاع بھی دیتا ہے کہ میں نے یہ اصول اپنے اوپر لکھ لیا ہے ‘ اپنے لئے اسے فرض قرار دے لیا ہے کہ میں فضل وکرم ضرور کروں گا ۔ اب وہ بندے ہیں کون جن کے بارے میں عالم بالا میں یہ فیصلہ ہوا ہے اور اس کا حکم ان تک تحریری شکل میں آپہنچا ہے کہ ان کے بارے میں یہ فیصلہ ہوگیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی زبانی ان تک اس کی اطلاع ہو رہی ہے ۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ یہ کوئی خاص لوگ نہیں ہیں ‘ بلکہ یہ لوگ عام لوگ ہیں اور اللہ کا یہ فضل وکرم تمام لوگوں کے لئے ہے ۔ اس انداز میں ‘ اس حقیقت پر غور کرنے سے دل میں عجیب و غریب خیالات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ انسان حیران ہوجاتا ہے ۔ اس کے دل میں انس اور اس کے اندر اس قدر روحانی سرور پیدا ہوتا ہے جس کا اظہار الفاظ کے اندر ممکن نہیں ہے ۔ یہ حقائق قلب ونظر جو اثرات چھوڑتے ہیں انسان اسے چکھ تو سکتا ہے ‘ اسے محسوس تو کرسکتا ہے لیکن انسانی اسلوب کلام میں ان کا اظہار ممکن نہیں ہے اور نہ پوری طرح اسے بیان کیا جاسکتا ہے ۔ اس حقیقت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلامی تصور حیات میں شان رحیمی حقیقت الہیہ کا اساسی پہلو ہے ۔ اسی کی اساس پر بندے اور الہ کا تعلق بندگی استوار ہوتا ہے اور یہ تصور نہایت ہی خوبصورت ‘ پرکیف ہے اور محبت اور مودت سے سرشار ہے ۔ اس اساسی تصور کے ہوتے ہوئے ہر منصف مزاج شخص کو ان بدمزاج لوگوں کی ذہینت اور ان کی بہتان تراشیوں پر سخت تعجب ہوگا کہ وہ جو اسلام کے تصور الہ کے خلاف ایسی باتیں کرتے ہیں جو خلاف حقیقت ہیں ‘ یہ الزامات وہ اس لئے عائد کرتے ہیں کہ اسلام عقیدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا قائل نہیں ہے ۔ اسلام اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ اللہ کے بندوں میں سے کوئی اس کا بیٹا ہو سکتا ہے جب کہ کینسہ نے انجیل میں انحراف کرکے یہ عقیدہ گھڑا ۔ اسلامی تصور حیات اللہ کی شان کریمی کے بارے میں بہت ہی اعلی وارفع ہے اور یہ کنیسہ کہ کینسہ بچگانہ تصورات سے بہت ہی بلند ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان جو شفقت اور محبت کا تعلق ہے وہ انسانی الفاظ سے ماوراء ہے ۔ اللہ کی شان جلالت کے ساتھ ساتھ اسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ کی رحمت کا فیضان اس کے تمام بندوں پر ہوتا ہے ۔ یہ رحمت سب کو اپنے جوار میں لیتی ہے ۔ یہ اس کی رحمت ہی ہے جس کے ذریعے ذات انسان زندہ ہے ۔ اس کے جسم اور جان کا رشتہ استوار ہے ۔ انسانی وجود میں اور اس پوری کائنات کے وجود میں اللہ کی رحمت اور اس کی شان کریمی ہر وقت جاری وساری ہے ۔ جہاں تک انسانی زندگی اور انسانی جسم کا تعلق ہے ‘ اس کے اندر اللہ کی رحمت کے مواقع کو تو ہم گن ہی نہیں سکتے ۔ البتہ ان میں سے چند ممتاز پہلوؤں اور مظاہر کا ذکر ضروری ہے ۔ سب سے پہلے انسان کی ذات میں اللہ کی شان رحیمی نظر آتی ہے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ اس طرح پیدا کرتا ہے کہ خود انسان کو اس کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ خود انہیں اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کس طرح انہیں یہ وجود عطا ہوا ۔ پھر اس کے اندر ایسے خصائص رکھ دیئے گئے جن کی وجہ سے انسان کو تمام موجودات پر فضیلت حاصل ہوگئی ۔ پھر اس کی شان کریمی ان قوتوں کے اندر نظر آتی ہے جن کو آج تک انسان مسخر کرسکا ہے ۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ‘ اور یہ ہے اللہ کا رزق اپنے وسیع تر مفہوم میں یوں سمجھیں کہ کائنات جس کے وسیع میدانوں میں ہر وقت انسان جولانیاں دکھاتا ہے ۔ پھر اس شان کریمی کا اظہار اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو علم عطا فرمایا ۔ پہلے اسے حصول علم کی استعداد عطا کی اور اس کی صلاحیتوں اور اس کائنات کی قوتوں کے اندر ہم آہنگی پیدا کی ۔ یہ علم جس کی وجہ سے بعض بدفطرت اور بدمزاج انسان خود ذات باری پر دست درازی شروع کردیتے ہیں حالانکہ یہ وہی تو ہے جس نے ان بدمزاجوں کو یہ علم عطا فرمایا اور یہ علم اللہ کے ارزاق میں سے ایک رزق ہے ۔ پھر اس شان کریمی کا اظہار یوں بھی ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو اس جہان میں اپنا خلیفہ بنا کر اس کی نگہداشت اور تربیت کا انتظام یوں کیا کہ اس کی ہدایت کیلئے مسلسل رسول بھیجے ۔ جب بھی انسان بھٹکا ‘ اللہ نے اسے ہدایت سے نوازا اور بڑی محبت اور صبر کے ساتھ اسے دوبارہ راہ مستقیم پر ڈال دیا ۔ حالانکہ بعض اوقات انسان نے ان ڈرانے والوں اور نصیحت کرنے والے رسولوں کی آواز پر کان بھی نہ دھرا اللہ کے لئے اس کا ہلاک کردینا مشکل نہ تھا لیکن اللہ کی صفت رحمت نے ہمیشہ اس کو مہلت دی اور ہمیشہ اللہ کے حلم نے انسان کو ڈھانپ لیا۔ پھر اس شان کریمی کا اظہار اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ جب ایک بندہ اپنی جہالت کی وجہ سے گناہ کرتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتے ہیں اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ نے اپنے اوپر رحمت کرنا لازم کرلیا ہے ۔ اور یہ بھی اس کی شان کریمی کا ایک پہلو ہے کہ وہ برائی کی جگہ ایک ہی برائی شمار کرتا ہے ۔ ایک ہی برائی کی سزاد دیتا ہے لیکن ایک نیکی کے بدلے وہ دس دنیکیوں کا ثواب اور اجر عطا کرتا ہے اور اس کے بعد بھی وہ جس کے اعمال نامے میں جو چاہے اضافہ کر دے ۔ پھر مزید یہ کہ اللہ نیکی کے بدلے کو محو بھی کرتا جاتا ہے اور یہ سب اس کا کرم ہے ۔ پھر یہ کہ کوئی شخص محض اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کا کرم شامل حال نہ ہو ۔ یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے بارے میں بھی یہی کہا ہے کہ وہ بھی اللہ کے فضل سے جنت میں جائیں گے ۔ اگر اللہ کا فضٰل وکرم شامل حال نہ ہو تو انسان بہت ہی عاجز ہے ۔ غرض اللہ کے رحم وکرم اور جود وسخا کے مواقع اور مظاہر کی تفصیلات دینے کے بجائے ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے قصور فہم کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ ہمارے لئے اس کی شان کریمی کو پوری طرح سمجھنا ہی مشکل ہے اور ہمارے لئے مناسب رویہ ہے ۔ اس لئے کہ اگر ہم ایسا نہ کریں اور یہ اعلان نہ کردیں کہ ہم فیل ہوگئے تو ہم اس میدان میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ وہ لمحہ جس میں کسی بندے پر اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں ‘ اسے اللہ تک رسائی حاصل ہوتی ہے ۔ وہ معرفت کردگار سے سرشار ہوتا ہے ‘ اسے سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ اس کے سایہ عاطفت میں پناہ لیتا ہے ۔ اس کی بارگاہ میں پناہ لیتا ہے ‘ ایسا ایک مختصر لحظہ بھی اس قدر وسعت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی انسان کے لئے اس کا بیان کرنا اور اس کی وضاحت کرنا ممکن نہیں ہے ‘ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ انسان اللہ کی شان کریمی کو پوری طرح بیان کرسکے ۔ ذرا غور کیجئے کہ حضور کریم ﷺ نے اپنے جوامع الکلم کے ذریعے ‘ خوبصورت تمثیلات کے ذریعے کس طرح اللہ کی شان کریمی کو ہماری فہم اور ہماری عقل کے قریب کرنے کی سعی کی ہے : شیخین نے اپنی سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت فرمائی ہے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے مخلوقات کا فیصلہ کردیا (امام مسلم نے کہا جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کردیا) تو اللہ نے ایک ایسی کتاب میں جو ذات باری کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ ” میری رحمت میرے غضب سے پہلے ہوگئی “۔ امام بخاری نے ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ دیئے ہیں ” میری رحمت ‘ میرے غضب پر غالب آگئی ہے ۔ “ شیخین نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ” اللہ نے رحمت کے سو حصے کئے ہیں جن میں سے 99 اللہ نے اپنے ہاں روک لئے ہیں اور زمین پر اللہ نے صرف ایک حصہ اتارا ہے ۔ اس ایک حصے کو استعمال کرکے مخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ رحیمانہ سلوک کرتی ہیں ۔ “ یہاں تک کہ ایک جانور اپنے کھروں کو اٹھاتا ہے مبادا کہ اس کا پاؤں اس کے بچے پر پڑجائے ۔ “ امام مسلم نے اپنی سند کے ذریعے حضرت سلمان فارسی سے روایت فرمائی ہے ۔ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ کے پاس سور حمتیں ہیں ‘ ان میں سے ایک رحمت کو استعمال کرکے مخلوق خدا باہم شفیقانہ سلوک کرتی ہے اور 99 رحمتیں اللہ نے قیامت کے لئے محفوظ کی ہوئی ہیں ۔ “ انہی سے ایک دوسری روایت میں ہے ” جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تو اس نے سو رحمتیں پیدا کیں ۔ اللہ کی ہر رحمت زمین و آسمان سے بڑی ہے ۔ اس میں صرف ایک رحمت کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے اوپر استعمال کے لئے دیا ۔ اسی رحمت سے والدہ اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے ایک دوسرے پر رحمت کرتے ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کے باقی 99 جز کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس رحمت کو مکمل کر دے گا ۔ “ حضور اکرم ﷺ نے جس تمثیلی انداز میں رحمت کی مقدار کو بیان کیا ہے یہ محض تقریب الی الافہام کے لئے ہے ۔ انسان جب زندہ جانوروں میں یہ دیکھتا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کے ساتھ کس قدر حمت و شفقت سے پیش آتی ہیں ‘ لوگ بچوں پر کس قدر شفقت کرتے ہیں ‘ اسی طرح بوڑھوں ‘ ضعفاء مریضوں ‘ اقرباء ‘ دوستوں اور اولاد پر ‘ نیز پرندے اور وحشی جانور ایک دوسرے کے ساتھ ‘ تو انسان ورطہ حیرت میں غرق ہوجاتا ہے ۔ بعض مناظر تو ایسے ہوتے ہیں کہ انسان پر دہشت طاری ہوجاتی ہے اور اس کے بعد انسان یہ تصور کرتا ہے کہ اللہ کی شان کریمی کے سو حصوں میں سے یہ صرف ایک حصہ ہے تو انسان مزیدحیران ہوتا ہے ۔ یہ انداز تفہیم ایسا ہے کہ بات لوگوں کے ذہن کے قریب آجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو اس عظیم رحمت کے بارے میں آگاہ کرتے رہتے تھے ۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ جنگی قیدی عورتیں لائی گئیں ۔ ان میں سے ایک عورت دوڑی پھرتی تھی ‘ اس کے پستانوں سے دودھ بہہ رہا تھا ۔ اسے گرفتار عورتوں کے کیمپ میں جو بچہ بھی ملتا وہ اسے پکڑتی ‘ اسے پیٹ سے لگاتی اور دودھ پلاتی ۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم اس بات پر یقین کرو گے کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی ۔ “ ہم نے کہا خدا کی قسم اگر وہ ایسا نہ کرنے کی قدرت رکھتی ہو (یعنی مجبور نہ ہو) تو وہ ہرگز ایسا نہ کرے گی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” جان لو کہ اس عورت کو اپنے بچے سے جس قدر محبت ہے ‘ اللہ کو اپنے بندوں کے ساتھ اس سے زیادہ محبت ہے ۔ “ (بخاری ۔ مسلم) کس طرح نہ ہوگی ؟ یہ عورت اپنے بچے کے ساتھ جو رحم اور شفقت رکھتی ہے تو یہ اس رحمت کی برکت ہے جو اللہ نے اپنی وسیع رحمت سے اہل زمین کو عطا کی ہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو اس قسم کی جو تعلیم دی تھی ‘ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ نے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر اپنے ساتھیوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس سلسلے میں اللہ کے اخلاق کو اپنائیں ۔ آپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رحمت اور مودت سے پیش آئیں ۔ اس جہان کے تمام زندہ جانوروں کے ساتھ رحم کریں ۔ ان کے دلوں کے اندر محبت اور شفقت کا ذوق پیدا ہو اور وہ اپنے تمام معاملات میں اس ذوق کو برتیں جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں اپنی مخلوقات کے ساتھ رحمت برتتا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کا یہ پہلو نہایت ہی زندہ اور تابندہ ہے ۔ کچھ نمونے ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت عمر ابن العاص ؓ سے روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” رحم کرنے والوں پر اللہ کا رحم ہوگا ۔ تم لوگ اہل زمین پر رحم کرو تم پر وہ رحم کرے گا جو آسمانوں میں ہے ۔ “ (ابو داؤد ‘ ترمذی) ابن جریر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ اس شخص پر رحم نہیں فرماتے جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ۔ “ (بخاری ‘ مسلم اور ترمذی) ابو داؤد اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت میں یہ کہا ہے حضور ﷺ نے فرمایا ” رحمت صرف اس شخص سے چھین لی جاتی ہے جو شقی القلب ہو ۔ “ اور اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ ” رسول اللہ ﷺ نے حسن ابن علی کو بوسہ دیا اور اس وقت آپ کے پاس اقرع ابن حابس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اقرع نے کہا میرے تو دس بیٹھے ہیں میں نے کبھی ان میں سے ایک کو بھی بوسہ نہیں دیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے انکی طرف دیکھا اور فرمایا :” جس نے شفقت نہ کی اس پر شفقت نہ ہوگی ۔ “ (مسلم و بخاری) حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو صرف یہ تعلیم نہ دی تھی کہ وہ فقط انسانوں کے ساتھ مشفقانہ سلوک رکھیں ‘ اس لئے کہ آپ کو علم تھا کہ اللہ کی رحمت بہت ہی وسیع ہے اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اندر خدائی اخلاق پیدا کریں۔ انسان اس وقت تک مکمل انسان نہیں بن سکتا جب تک وہ تمام مخلوقات کے ساتھ رحمت کا برتاؤ نہی کرے ۔ اس سلسلے میں آپ کی تعلیمات نہایت ہی موثر تھیں جیسا کہ ہم کہہ آئے ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” یوں ہوا کہ ایک شخص کسی سفر کے دروان کسی راستے پر جا رہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگ گئی ۔ اسے ایک کنواں ملا ۔ وہ اس میں اترا اور پانی پایا اور باہر نکل آیا ۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا پیاس کی وجہ ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت کی وجہ سے مٹی کھا رہا ہے ۔ اس شخص نے کہا ‘ اس کا حال بھی پیاس نے ایسا کردیا جس طرح میرا کردیا تھا ۔ وہ کنویں میں اترا اپنے جوتے کو پانی سے بھرا اور اپنے منہ میں پکڑا یہاں تک کہ نکل آیا ۔ اس نے کتے کو پانی پلایا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کا اجر دیا اور اس کی مغفرت فرما دی “۔ اس پر صحابہ کرام نے کہا : رسول اللہ کیا ہمارے لئے بہائم میں بھی اجر ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ہر تر کلیجے والی چیز کے ساتھ رحم پر اجر ہے ۔ “ (بخاری مسلم ‘ موطائ) ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک بدکار عورت نے ایک بار دیکھا کہ شدید گرمی میں ایک کتا ایک کنویں کے ارد گرد چکر لگا رہا ہے ۔ اس نے پیاس کی وجہ سے زبان نکالی ہوئی ہے ۔ اس نے اس کے لئے اپنے جوتے کو ڈول بنا کر اور دوپٹے کو رسی بنا کر نکال کر پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کردی ۔ “ حضرت عبدالرحمن ابن عبداللہ ؓ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر تھے ۔ ہم نے ایک (حمرہ) (پرندہ) کو دیکھا جس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے ۔ ہم نے اس کے بچے پکڑ لئے ۔ (حمرہ) آئی اور وہ زمین پربچھی جارہی تھی (یعنی پر ڈھیلے کر کے پھیلا کر زمین کے قریب ہو رہی تھی) رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ۔ آپ نے فرمایا :” کس نے اسے اس کے بچوں کی وجہ سے تکلیف دی ۔ اس کے بچوں کو لوٹا کر اسے دے دو ۔ “ حضور ﷺ نے دیکھا کہ ہم نے چیونٹیوں کے گھر کو جلا دیا تھا تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ کس نے جلایا ہے ؟ ہم نے کہا یہ تو ہم نے جلایا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ آگ کے ساتھ صرف آگ کا مالک سزا دے سکتا ہے ۔ (ابو داؤد) حضرت ابوہریرہ ﷺ سے روایت ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کسی نبی کو چیونٹی نے کاٹا ۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کے گھر کو جلایا جائے اللہ تعالیٰ نے اس پر وحی بھیجی ” اگر آپ کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو کیا آپ اس کی پوری نوع کو جلا ڈالیں گے جو تسبیح کرتی ہے ۔ (مسلم بخاری) یوں حضور ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو قرآن کریم کی اس تعلیم کے مطابق تربیت دی کہ وہ اللہ کی رحمت کا مزہ اس طرح چکھیں کہ اسے لوگوں کے برتیں ۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ مخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ جو رحم اور شفقت کرتی ہے وہ اللہ کی بےبہا اور بیشمار رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے ۔ اب میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک مسلمان کے تصور حیات کے اندر رحمت کی حقیقت بیٹھ جانے سے اس کے احساسات ‘ اس کی زندگی اور اس کے اخلاق پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انہیں کسی صورت میں بھی مٹایا نہیں جاسکتا ۔ مزکور بالا تعلیم کے جو اثرات ایک مسلم کی زندگی پر پڑتے ہیں ‘ یہاں ہم ظلال القرآن کے مختصر اسلوب کے مطابق اس کی طرف بھی کچھ اشارہ کئے دیتے ہیں ۔ اس حقیقت کے شعور کے نتیجے میں ‘ دل مومن اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوجاتا ہے اور وہ اپنے رب کی جانب سے پوری طرح مطمئن ہوجاتا ہے ۔ خصوصا ایسے حالات میں جب کہ وہ مشکلات اور شدید لمحات سے گزر رہا ہو کیونکہ مصائب وشدائد میں انسان کے قلب ونظر دھوکہ کھا سکتے ہیں اس طرح مشکلات میں گھرا ہوا مومن ہر وقت رحمت خداوندی کا امیدوار ہوتے ہوئے یہ یقین رکھتا ہے کہ کسی بھی لمحہ حالات میں تبدیلی آسکتی ہے اور ہر صورت حال کے بعد نئی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے ۔ اللہ اپنے بندوں کو مشکلات میں مبتلا کر کے چھوڑ نہیں دیتا ‘ یا اسے اپنی رحمت سے محروم نہیں کردیتا ۔ اس لئے کہ جو شخص بھی رحمت خداوندی کا طلبگار ہوگا اسے اللہ محروم نہ کرے گا ۔ لوگ تو خود اپنے آپ کو رحمت خداوندی سے محروم کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی ناشکری کرتے ہیں ‘ رحمت کے سایہ میں آنے سے انکار کرتے ہیں اور اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ پھر اللہ کی رحمت کی امیدواری پر پختہ اطمینان کے نتیجے میں انسان کے اندر صبر وثبات پیدا ہوتا ہے ‘ امید کی کرن روشن ہوتی ہے ‘ وہ اطمینان اور آرام محسوس کرتا ہے ‘ کیونکہ وہ بارگاہ رحمت و محبت میں ہوتا ہے ‘ جس کا سایہ گھنا ہوتا ہے جب تک وہ خود اپنے آپ کو اس اس سے دور نہ کرلے ۔ جب ایک مسلم یہ شعور پاتا ہے تو اس کے احساسات میں باری تعالیٰ کی نسبت سے ایک حیا پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ مغفرت کی امیدواری اور رحمت باری کی خواہش کی باوجود کوئی شخص یہ جرات نہیں کرسکتا کہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے حالانکہ اس امید کے نتیجے میں اللہ غفور و رحیم کی نافرمانی کرنے سے شرم آتی ہے ۔ جن لوگوں کے اندر رحمت خداوندی اور مغفرت خداوندی کے نتیجے میں مزید معصیت کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے انہوں نے درحقیقت ایمان کی حقیقت مٹھاس کو پایا ہی نہیں ہے ۔ اس لئے نہ یہ بات میری سمجھ میں آتی ہے اور نہ میں اسے تسلیم کرتا ہوں جو بعض صوفی کہتے ہیں کہ وہ گناہوں کا ارتکاب اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے صبر اور حلم کا مزہ چکیں یا اس کی مغفرت اور رحمت سے فائدہ اٹھائیں ۔ یہ سلیم الفطرت لوگوں کی سوچ نہیں ہے ‘ رحمت الٰہیہ کے لئے یہ ایک منفی رد عمل ہے ۔ اس حقیقت کو اس انداز میں پالینے کے بعد ایک مسلم کے ذہن میں بہت ہی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ وہ جانتا ہے کہ اسے اپنے اندر خدائی اخلاق پیدا کرنے ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس پر ہر طرف سے اللہ کی رحمتوں کی بارش ہورہی ہے اس کے باوجود کہ وہ پراز تقصیرات ہے اور اس سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں ۔ اس طرح وہ خود بھی رحم اور شفقت کے انداز سیکھ لیتا ہے ‘ وہ معاف کرنا جانتا ہے ۔ وہ گناہوں اور غلطیوں سے درگزر کرتا ہے اور یہ بات ہمیں ان تعلیمات میں صاف صاف نظر آتی ہے جو حضور نے صحابہ کرام کو دیں اور یہ تعلیم آپ نے بذریعہ ” تخلق باخلاق اللہ “ دی ۔ اللہ کی رحمت کے مقامات میں سے ایک مقام یہ ہے کہ اللہ نے اپنے اوپر یہ لکھ دیا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو ایک دن میدان حشر میں اٹھائے گا ۔ یہ آیت اس کا بھی فیصلہ کرتی ہے : (آیت) ” قُل لِّمَن مَّا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ قُل لِلّہِ کَتَبَ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ (6 : 12) ” ان سے پوچھو ‘ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ کہو سب کچھ اللہ کا ہے ‘ اس نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ (اسی لئے وہ نافرمانیوں اور سرکشیوں پر تمہیں جلدی نہیں پکڑ لیتا) قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا ‘ یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے ۔ “ اللہ کی اس تحریری رحمت کے دعوے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دن انہیں دوبارہ جمع کرے گا اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے ۔ اور اس جمع کے بعد اللہ کی عنایات کا دور ہوگا اور یہ عنایات اللہ کی ان لوگوں پر ہونگی جو اس کی بندگی کریں گے ۔ اس لئے کہ اللہ نے انہیں پیدا ہی اس لئے کیا تھا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی بندگی کی راہ اپنائیں ۔ انہیں اس زمین پر منصب خلافت صرف اسی مقصد کے لئے دیا گیا تھا ۔ انہیں بےمقصد نہیں پیدا کیا گیا اور نہ وہ یونہی چھوڑ دیئے گئے ۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جس میں یہ سب لوگ جمع ہوں گے ۔ یہ وہ آخری ٹھکانا ہے جس کی طرف یہ لوگ اس طرح لوٹیں گے جس طرح ایک سواری اور قافلہ اپنی منزل مقصود کی طرف مسلسل بڑھتا ہے ۔ وہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزاء دے گا جنہوں نے اللہ کی طرف جانے کی صحیح راہ اختیار کی اور زندگی کے اس طویل سفر میں تکلیفات اٹھائیں ۔ دنیا میں انہوں نے جو اچھے اعمال کئے اور اب وہاں انہیں اس کا اجر ملے گا تاکہ ان کی مشقتیں اور تکالیف ضائع نہ جائیں بلکہ یوم آخرت میں انہیں ان کا اجر پورا دیا جائے گا ۔ یوں اللہ کی رحمتوں کے مظاہر میں سے ایک مظہر کا اظہار ہوگا ۔ قیامت میں اللہ کا جو فضل ہوگا کہ برائی کا بدلہ صرف برائی جیسا ہوگا جبکہ نیکی کے بدلے دس گناہ اجر ہوگا بلکہ اللہ چاہے تو اضعاف مضاعطہ ہوگا تو یہ بھی اللہ کی رحمت اور شفقت کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہوگا ۔ اللہ نے عربوں پر دین اسلام کے ذریعے جو فضل وکرم کیا اور انہیں اس دین کے ذریعے جو باعزت مقام دیا وہ ان پر اللہ کا احسان عظیم ہے ۔ اس سے قبل عرب قیام قیامت کا انکار کرتے تھے ۔ وہ بعینہ اسی طرح کے تصورات رکھتے تھے جس طرح دور جدید کی مہذب جاہلیت کے افکار ہیں ‘ یعنی سائنسی جاہلیت ۔ یہی وجہ ہے کہ قیام قیامت کا ذکر اس قدر تاکیدی الفاظ میں کیا گیا اور اس تکذیب کے مقابلے میں اس قدر حروف تاکید لائے گئے ۔ (آیت) ” لیجمعنکم الی یوم القیمۃ لا ریب فیہ “۔ (6 : 12) تمہیں قیامت کے دن اٹھایا اور جمع کیا جائے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ “ قیامت کے دن خسارہ صرف ان لوگوں کو ہوگا ‘ جو اس دنیا میں ایمان سے محروم رہیں گے ۔ اہل ایمان کو کوئی خسارہ نہ ہوگا ۔ جبکہ اہل کفر کو پورا پورا خسارہ ہوگا ۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنی ذات ہی کو ہار دیا تو وہ کمائیں گے کیا ۔ انسان تو اپنی جان اور اپنے نفس کے لئے کماتا ہے ۔ اگر اس کا نفس اور اس کی زبان ہی چلی جائے تو وہ کمائی کس کے لئے کرے گا ۔ کس کے لئے کمائے گا ۔ (آیت) ” الذین خسروا انفسھم فھم لا یومنون “۔ (6 : 12) ” مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مبتلا کردیا ہے وہ اسے نہیں مانتے ۔ “ ۔ انہوں نے اپنی ذات ہی کو خسارے میں ہار دیا ۔ ان کی ذات اور شخصیت ہی چلی گئی ‘ چونکہ ان کے پاس کوئی شخصیت ہی نہ رہی لہذا ایمان کون لائے ۔ اہل کفر کی حالت کی یہ نہایت ہی لطیف اور حقیقت پسندانہ تعبیر ہے ۔ اس تعبیر کے اندر ایک نہایت ہی گہری فطری پکار ہے کہ ایمان لاؤ ۔ ایمان کی برکات میں سے ایک بڑی برکت یہ ہے کہ وہ تمہیں ایک ذات اور شخصیت عطا کرتا ہے ۔ یہ لوگ جو ایمان سے قبل اپنی شخصیت گم کر بیٹھے تھے ‘ ان کی فطرت مسخ ہوچکی گھی ان کی وہ صلاحتیں جو حق کو قبول کرتی ہیں ‘ ختم ہوگئی تھیں ‘ یا ان پر پردے پڑگئے تھے اس لئے وہ قبولیت حق کی صلاحیت کھو کر اپنی شخصیت اور شناخت کم کر گئے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان نہ لائے تھے اس لئے کہ ان کے پاس ان کی ذات اور شخصیت ہی نہ رہی تھی ۔ یہ ان کے عدم اطمینان اور کفر کی ایک نہایت ہی لطیف اور گہری تعبیر ہے ۔ حالانکہ دلائل ایمان موجود تھے اور ایسے اشارات موجود تھے کہ جن کی وجہ سے انسان حق کو قبول کرتا ہے اس امر نے ان کے معاملے میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کی ۔ یوں گویا وہ اپنی شخصیت سے ہاتھ دھو کر ایک عقیم خسارے سے دوچار ہوئے ۔ اب اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ لیل ونہار میں جو لوگ اور جو مخلوق ہے یعنی زمان میں ‘ وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ۔ جس طرح پہلی آیات میں بتایا گیا تھا کہ جہاں اور جس جگہ میں جو متنفس ہے ‘ وہ اللہ کا مملوک ہے ۔ یوں یہ ملکیت زمان ومکان دونوں پر مشتمل ہوگئی ۔ اللہ کا علم تمام مخلوقات کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ۔ (آیت) ” وَلَہُ مَا سَکَنَ فِیْ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (13) ” رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو کچھ ٹھہرا ہوا ہے ‘ سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ۔ “ ّ (ماسکن) کی زیادہ قریب الفہم تفسیر یہ ہے کہ یہ لفظ سکنہ سے ہے ‘ جیسا کہ زمحشری نے کشاف میں لکھا ہے یعنی وہ تمام جو لیل ونہار میں پناہ لیتی ہیں یعنی تمام مخلوقات ۔ یہ سب مخلوق اللہ کی ملکیت میں ہے ۔ اس سے پہلی آیت میں بھی یہ قرار دیا گیا ہے ۔ (قل لمن ما فی السموت والارض قل للہ) (6 : 12) اس آیت میں تمام مخلوقات کی حصر بلحاظ مکان تھی اب اس آیت میں (آیت) ” ولہ ما سکن فی الیل والنھار “۔ (6 : 13) آیا ہے جس میں حصر بلحاظ زمان ہے ۔ قرآن کریم کا یہ معروف انداز بیان ہے ۔ ان آیات کی تفسیر میں بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔ میرے خیال میں یہ تاویل سب سے بہتر ہے کہ ایک آیت میں حصر زمانی اور دوسری میں حصر مکانی ہے ۔ اس کے بعد ایک تبصرہ یہ آتا ہے کہ اللہ سمیع وعلیم ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کے اعتبار سے بھی اللہ تمام مخلوقات کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ اس آیت کے جواب میں مشرکین جو بھی کہتے ہیں وہ اللہ کے علم میں ہے یعنی وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ اللہ وحدہ ہی مالک ہے ‘ اس کے باوجود وہ بعض مویشیوں ‘ انکے بچوں اور بعض پھلوں کو شرکاء کے لئے مخصوص کرتے تھے ۔ اس سورة کے آخر میں یہ بحث آرہی ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام مخلوقات پر اللہ کا حق ملکیت تسلیم کریں تاکہ بعد میں انہیں یہ سمجھایا جائے کہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض چیزیں تم شرکاء کے کھاتے میں کس کی اجازت سے ڈالتے ہو۔ جبکہ اسی فقرے میں آنے والی یہ بات بھی اس سے ثابت کرنا مطلوب ہے کہ جب مالک وہ ہے تو ولی اور حاکم بھی وہی ہے ۔ اور وہ اس لئے حاکم ہے کہ وہی مالک ہے ہر اس چیز کا جو زمان ومکان کے اندر ہے اور جو اللہ کے علم کے اندر ہے ۔ اب جب کہ یہ بات تسلیم ہوگئی کہ وہی خالق ہے اور وہی مالک ہے تو ان لوگوں پر سخت نکیر وتنقید کی جاتی ہے جو اللہ کے سوا کسی اور سے امداد طلب کرتے ہیں ۔ جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرتے ہیں اور کسی اور کو ولی اور حاکم بناتے ہیں ۔ چناچہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ صورت حال اسلام سے متضاد ہے ۔ یہ صریح شرک ہے اور اسلام کے ساتھ اس کا یکجا جمع ہونا ممکن نہیں ہے ۔ یہاں اللہ کی صفات میں سے اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے فاطر السموت والارض ‘ رازق ومطعم ‘ نافع وضار اور قاہر و قادر کے الفاظ لائے جاتے ہیں ‘ جبکہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ خوفناک سزا بھی دیتا ہے ۔ اس سے فضا پر ایک دم جلال باری تعالیٰ کے سائے پڑجاتے ہیں اور یہ انسان ڈر جاتا ہے اور یہ نہایت ہی زور دار انداز میں کہا جاتا ہے ۔ :

الأنعام 6:13

درس نمبر 57 تشریح آیات : 12۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 19 ۔ (آیت) ” نمبر 12 تا 13۔ یہاں خطاب بیان اور فیصلے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان مشرکین سے مخاطب ہوں جو اچھی طرح جانتے ہیں اللہ ہی خالق ہے لیکن یہ جانتے ہوئے بھی خالق کا ہمسر ان لوگوں کو بناتے ہیں جو بذات خود مخلوق ہیں ۔ اور پھر بزعم کود اپنی زندگی کے تصرفات میں ان شرکاء کو بھی دخیل کرتے ہیں۔ سوال یہ کیا جاتا ہے کہ تم مانتے ہو کہ اللہ خالق ہے تو یہ بتاؤ کہ تخلیق کے بعد پھر مالک کون ہے ؟ یعنی اس پوری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ (مافی السموت والارض) کا مالک کون ہے ؟ اور پھر اس سوال کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے اس لئے کہ وہ اس کا انکار نہ کرتے تھے ۔ (قل للہ) عربوں سے اگر پوچھا جاتا کہ (آیت) ” (لمن مافی السموت والارض) ؟ تو وہ جواب دیتے (للہ) تو معلوم ہوا کہ جاہلیت کے اندھیروں میں ہوتے ہوئے اور فکری اور نظری گمراہی کا شکار ہوتے ہوئے بھی وہ دور جدید کی جاہلیت سے بہرحال زیادہ بہتر تھے ۔ دور جدید کی جاہلیت کو علمی جاہلیت کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ وہ اس سادہ حقیقت کی بھی منکر ہے ‘ کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے ۔ اس نے اپنی فطرت کو اندھا کردیا ہے اور وہ اس بدیہی حقیقت کو بھی دیکھ نہیں رہی ہے ۔ عرب جاہلیت کے پیروکار اگرچہ اس بدیہی حقیقت کا ادراک کرتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ تھا کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے لیکن وہ اس حقیقت اور اقرار پر پھر اس کے منطقی نتیجے مرتب نہ کرتے تھے ۔ یوں وہ اللہ کو اس کی مملوکات کے اندر بھی حاکم مطلق اور مقتدر اعلی نہ سمجھتے تھے ۔ وہ دنیا میں اپنے تمام تصرفات اور تمام حرکات و سکنات کو اذن اللہ کے دائرے کے اندر محدود نہ کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مشرک قرار پاتے تھے اور انہیں اہل جاہلیت کہا گیا ۔ رہے وہ لوگ جو اپنے تمام امور کو اللہ تعالیٰ کے دائرہ حاکمیت سے نکال دیں اور اپنی زندگی کے خود حاکم بن جائیں تو اب یہ سوال ان سے کیا جاسکتا ہے کہ ہم انہیں کیا کہیں اور انکی زندگی پر کیا فیصلہ دیں ۔ ظاہر ہے کہ ان لوگوں کو مشرکین کے سوا کوئی اور لقب نہیں دیا جاسکتا اور نہ ان کی زندگی کو شرکیہ زندگی کے سوا کچھ اور کہا جاسکتا ہے ۔ اس لئے کہ خود اللہ کے فیصلے کے مطابق ان کی یہ زندگی فاسقانہ ‘ ظالمانہ اور کافرانہ ہے ۔ چاہے وہ جس قدر بھی اسلام کا دعوی کریں (ان کے برتھ سرٹیفکیٹ چاہے ان کا مذہب جو بھی بتائیں کیونکہ وہ تو پیدائش کے وقت خانہ پری ہوتی ہے) اب ذرا آیت پر بھرپور نظر ڈالیں ۔ اس میں اللہ تعالیٰ یہ قرار دینے کے بعد کہ زمین اور آسمان کا مالک وہ ہے ساتھ ساتھ یہ بھی اضافہ فرماتے ہیں (کتب علی نفسہ الرحمۃ) ” اس نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ “ اللہ وحدہ خالق ومالک ہے اور اس میں اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہے جو نزاع کرسکے ۔ لیکن اس نے اپنے فضل وکرم سے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ رؤف ورحیم ہے ۔ اپنے ارادے اور اپنی مشیت اور مرضی سے اس نے یہ رویہ لازم کرلیا ہے کوئی اور نہیں ہے جس نے اللہ رپ اس رویے کو لازم کردیا ہو ‘ نہ کسی اور نے اللہ سے اس کا مطالبہ کیا ہے اپنے ارادہ مطلق اور اپنی کریمانہ شان ربوبیت کی وجہ سے اس نے یہ رحیمانہ رویہ اپنایا ہوا ہے ۔ اور یہ اصول اللہ تعالیٰ نے اپنے فیصلوں اپنے اخلاق اور اپنے معاملات میں ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اپنے لئے ایک مسلمہ قاعدہ قرار دیا ہے ۔ اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظریات کی بنیادوں کے اندر بھی یہ اصول کار فرما ہے ۔ اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر رحم کرتا ہے یہاں تک کہ اگر اللہ کسی بندے کو مشکلات اور مصائب سے دو چار کرتا ہے تو بھی دراصل اس پر شفقت مطلوب ہوتی ہے ۔ وہ بندوں کو مشکلات میں اس لئے ڈالتا ہے تاکہ ان میں سے ایک ایسا عنصر ہر وقت تیار رہے جو اللہ کی امانت کا بار اٹھانے کا اہل ہو اور یہ امانت کبری ان کو تب سپرد کی جاتی ہے جب یہ گروہ اپنے خلوص ‘ اپنی بےلوثی اور اپنی فہم ودراک ‘ اور اپنی تیاری اور تجربات کے اعتبار سے اس بوجھ کے اٹھانے کے لئے تیار ہوجائے ۔ خبیث قوتیں پاک اور صاف لوگوں کی صفوں سے نکال کر باہر پھینک دی جائیں اور یہ اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ کون صحیح طرح مطیع رسول ہے اور کون بھاگنے والا ہے ۔ جو ہلاک ہوتا ہے وہ سمجھ کر ہلاک ہو اور جو زندہ رہتا ہے تو اصولوں پر زندہ رہے ۔ یہ تمام امور اللہ کے دائرہ رحمت کے اندر ہیں ۔ اللہ کی رحمت کے مواقع سے تو ہماری زندگی بھری پڑی ہے ۔ ہر لمحہ اور ہر لحظہ اس کی شفقت اور رحمت کی نئی شان ہے ۔ ہم نے بتلاء اور مشکلات کے زمانے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ بعض اوقات لوگوں کی فکر ونظر اس میں دھوکہ کھاجاتی ہے ۔ ہماری یہاں یہ کوشش نہیں ہے کہ ہم اللہ کی رحمت کے معاملات اور مظاہر گنوائیں ‘ بعض مظاہر آنے والے صفحات میں آپ دیکھیں گے ۔ یہاں ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ اس آیت پر قدرے غور کریں ۔ اور دیکھیں (کتب علی نفسہ الرحمۃ) سے دراصل کیا مراد ہے ۔ اسی سورة میں دوسری جگہ اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے (آیت) ” کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ) اس آیت میں جو بات جاذب نظر ہے وہ یہی فضل وکرم ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ۔ یعنی ایک ذات عالی جو خالق ہے ‘ مالک ہے اور قوت قاہرہ کی مالک ہے وہ اپنی قوت قاہرہ کے استعمال کے بجائے فضل وکرم کا مظاہرہ فرما رہی ہے اور پھر اس صورت میں کہ اس نے اس فعل کو اپنے اوپر لکھ لیا ہے ‘ فرض قرار دے لیا ہے ۔ از خود اس نے اس عہد پر دستخط کر لئے ہیں ۔ محض اپنے ارادہ مطلقہ اور اپنی مشیت کی رو سے وہ ہم پر فضل کر رہا ہے ۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے کہ جب انسان اسے پیش نظر رکھے اس پر غور کرے اور اس کے عجیب انداز کا ملاحظہ کرے تو اس کا انسان کی شخصیت اس کی فکر اور اس کے ذوق نظر پر اچھا اثر مرتب ہونا ضروری ہے ۔ پھر یہ امر بھی جاذب نظر ہے کہ اللہ تعالیٰ خود اپنے بندوں کو اپنی اس شان رحیمی کی اطلاع بھی دیتا ہے کہ میں نے یہ اصول اپنے اوپر لکھ لیا ہے ‘ اپنے لئے اسے فرض قرار دے لیا ہے کہ میں فضل وکرم ضرور کروں گا ۔ اب وہ بندے ہیں کون جن کے بارے میں عالم بالا میں یہ فیصلہ ہوا ہے اور اس کا حکم ان تک تحریری شکل میں آپہنچا ہے کہ ان کے بارے میں یہ فیصلہ ہوگیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی زبانی ان تک اس کی اطلاع ہو رہی ہے ۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ یہ کوئی خاص لوگ نہیں ہیں ‘ بلکہ یہ لوگ عام لوگ ہیں اور اللہ کا یہ فضل وکرم تمام لوگوں کے لئے ہے ۔ اس انداز میں ‘ اس حقیقت پر غور کرنے سے دل میں عجیب و غریب خیالات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ انسان حیران ہوجاتا ہے ۔ اس کے دل میں انس اور اس کے اندر اس قدر روحانی سرور پیدا ہوتا ہے جس کا اظہار الفاظ کے اندر ممکن نہیں ہے ۔ یہ حقائق قلب ونظر جو اثرات چھوڑتے ہیں انسان اسے چکھ تو سکتا ہے ‘ اسے محسوس تو کرسکتا ہے لیکن انسانی اسلوب کلام میں ان کا اظہار ممکن نہیں ہے اور نہ پوری طرح اسے بیان کیا جاسکتا ہے ۔ اس حقیقت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلامی تصور حیات میں شان رحیمی حقیقت الہیہ کا اساسی پہلو ہے ۔ اسی کی اساس پر بندے اور الہ کا تعلق بندگی استوار ہوتا ہے اور یہ تصور نہایت ہی خوبصورت ‘ پرکیف ہے اور محبت اور مودت سے سرشار ہے ۔ اس اساسی تصور کے ہوتے ہوئے ہر منصف مزاج شخص کو ان بدمزاج لوگوں کی ذہینت اور ان کی بہتان تراشیوں پر سخت تعجب ہوگا کہ وہ جو اسلام کے تصور الہ کے خلاف ایسی باتیں کرتے ہیں جو خلاف حقیقت ہیں ‘ یہ الزامات وہ اس لئے عائد کرتے ہیں کہ اسلام عقیدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا قائل نہیں ہے ۔ اسلام اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ اللہ کے بندوں میں سے کوئی اس کا بیٹا ہو سکتا ہے جب کہ کینسہ نے انجیل میں انحراف کرکے یہ عقیدہ گھڑا ۔ اسلامی تصور حیات اللہ کی شان کریمی کے بارے میں بہت ہی اعلی وارفع ہے اور یہ کنیسہ کہ کینسہ بچگانہ تصورات سے بہت ہی بلند ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان جو شفقت اور محبت کا تعلق ہے وہ انسانی الفاظ سے ماوراء ہے ۔ اللہ کی شان جلالت کے ساتھ ساتھ اسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے لیکن بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ کی رحمت کا فیضان اس کے تمام بندوں پر ہوتا ہے ۔ یہ رحمت سب کو اپنے جوار میں لیتی ہے ۔ یہ اس کی رحمت ہی ہے جس کے ذریعے ذات انسان زندہ ہے ۔ اس کے جسم اور جان کا رشتہ استوار ہے ۔ انسانی وجود میں اور اس پوری کائنات کے وجود میں اللہ کی رحمت اور اس کی شان کریمی ہر وقت جاری وساری ہے ۔ جہاں تک انسانی زندگی اور انسانی جسم کا تعلق ہے ‘ اس کے اندر اللہ کی رحمت کے مواقع کو تو ہم گن ہی نہیں سکتے ۔ البتہ ان میں سے چند ممتاز پہلوؤں اور مظاہر کا ذکر ضروری ہے ۔ سب سے پہلے انسان کی ذات میں اللہ کی شان رحیمی نظر آتی ہے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ اس طرح پیدا کرتا ہے کہ خود انسان کو اس کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ خود انہیں اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ کس طرح انہیں یہ وجود عطا ہوا ۔ پھر اس کے اندر ایسے خصائص رکھ دیئے گئے جن کی وجہ سے انسان کو تمام موجودات پر فضیلت حاصل ہوگئی ۔ پھر اس کی شان کریمی ان قوتوں کے اندر نظر آتی ہے جن کو آج تک انسان مسخر کرسکا ہے ۔ یہ کائنات اور اس کی قوتیں ‘ اور یہ ہے اللہ کا رزق اپنے وسیع تر مفہوم میں یوں سمجھیں کہ کائنات جس کے وسیع میدانوں میں ہر وقت انسان جولانیاں دکھاتا ہے ۔ پھر اس شان کریمی کا اظہار اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو علم عطا فرمایا ۔ پہلے اسے حصول علم کی استعداد عطا کی اور اس کی صلاحیتوں اور اس کائنات کی قوتوں کے اندر ہم آہنگی پیدا کی ۔ یہ علم جس کی وجہ سے بعض بدفطرت اور بدمزاج انسان خود ذات باری پر دست درازی شروع کردیتے ہیں حالانکہ یہ وہی تو ہے جس نے ان بدمزاجوں کو یہ علم عطا فرمایا اور یہ علم اللہ کے ارزاق میں سے ایک رزق ہے ۔ پھر اس شان کریمی کا اظہار یوں بھی ہوتا ہے کہ اللہ نے انسان کو اس جہان میں اپنا خلیفہ بنا کر اس کی نگہداشت اور تربیت کا انتظام یوں کیا کہ اس کی ہدایت کیلئے مسلسل رسول بھیجے ۔ جب بھی انسان بھٹکا ‘ اللہ نے اسے ہدایت سے نوازا اور بڑی محبت اور صبر کے ساتھ اسے دوبارہ راہ مستقیم پر ڈال دیا ۔ حالانکہ بعض اوقات انسان نے ان ڈرانے والوں اور نصیحت کرنے والے رسولوں کی آواز پر کان بھی نہ دھرا اللہ کے لئے اس کا ہلاک کردینا مشکل نہ تھا لیکن اللہ کی صفت رحمت نے ہمیشہ اس کو مہلت دی اور ہمیشہ اللہ کے حلم نے انسان کو ڈھانپ لیا۔ پھر اس شان کریمی کا اظہار اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ جب ایک بندہ اپنی جہالت کی وجہ سے گناہ کرتا ہے اور پھر توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتے ہیں اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ نے اپنے اوپر رحمت کرنا لازم کرلیا ہے ۔ اور یہ بھی اس کی شان کریمی کا ایک پہلو ہے کہ وہ برائی کی جگہ ایک ہی برائی شمار کرتا ہے ۔ ایک ہی برائی کی سزاد دیتا ہے لیکن ایک نیکی کے بدلے وہ دس دنیکیوں کا ثواب اور اجر عطا کرتا ہے اور اس کے بعد بھی وہ جس کے اعمال نامے میں جو چاہے اضافہ کر دے ۔ پھر مزید یہ کہ اللہ نیکی کے بدلے کو محو بھی کرتا جاتا ہے اور یہ سب اس کا کرم ہے ۔ پھر یہ کہ کوئی شخص محض اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کا کرم شامل حال نہ ہو ۔ یہاں تک کہ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے بارے میں بھی یہی کہا ہے کہ وہ بھی اللہ کے فضل سے جنت میں جائیں گے ۔ اگر اللہ کا فضٰل وکرم شامل حال نہ ہو تو انسان بہت ہی عاجز ہے ۔ غرض اللہ کے رحم وکرم اور جود وسخا کے مواقع اور مظاہر کی تفصیلات دینے کے بجائے ہمارے لئے بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے قصور فہم کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ ہمارے لئے اس کی شان کریمی کو پوری طرح سمجھنا ہی مشکل ہے اور ہمارے لئے مناسب رویہ ہے ۔ اس لئے کہ اگر ہم ایسا نہ کریں اور یہ اعلان نہ کردیں کہ ہم فیل ہوگئے تو ہم اس میدان میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ وہ لمحہ جس میں کسی بندے پر اللہ کی رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں ‘ اسے اللہ تک رسائی حاصل ہوتی ہے ۔ وہ معرفت کردگار سے سرشار ہوتا ہے ‘ اسے سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے ۔ اس کے سایہ عاطفت میں پناہ لیتا ہے ۔ اس کی بارگاہ میں پناہ لیتا ہے ‘ ایسا ایک مختصر لحظہ بھی اس قدر وسعت اپنے اندر رکھتا ہے کہ کسی انسان کے لئے اس کا بیان کرنا اور اس کی وضاحت کرنا ممکن نہیں ہے ‘ یہ تو ممکن ہی نہیں ہے کہ انسان اللہ کی شان کریمی کو پوری طرح بیان کرسکے ۔ ذرا غور کیجئے کہ حضور کریم ﷺ نے اپنے جوامع الکلم کے ذریعے ‘ خوبصورت تمثیلات کے ذریعے کس طرح اللہ کی شان کریمی کو ہماری فہم اور ہماری عقل کے قریب کرنے کی سعی کی ہے : شیخین نے اپنی سندوں کے ساتھ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت فرمائی ہے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ نے مخلوقات کا فیصلہ کردیا (امام مسلم نے کہا جب اللہ نے مخلوقات کو پیدا کردیا) تو اللہ نے ایک ایسی کتاب میں جو ذات باری کے پاس عرش پر ہے لکھا کہ ” میری رحمت میرے غضب سے پہلے ہوگئی “۔ امام بخاری نے ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ دیئے ہیں ” میری رحمت ‘ میرے غضب پر غالب آگئی ہے ۔ “ شیخین نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کی ہے کہ ۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا ” اللہ نے رحمت کے سو حصے کئے ہیں جن میں سے 99 اللہ نے اپنے ہاں روک لئے ہیں اور زمین پر اللہ نے صرف ایک حصہ اتارا ہے ۔ اس ایک حصے کو استعمال کرکے مخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ رحیمانہ سلوک کرتی ہیں ۔ “ یہاں تک کہ ایک جانور اپنے کھروں کو اٹھاتا ہے مبادا کہ اس کا پاؤں اس کے بچے پر پڑجائے ۔ “ امام مسلم نے اپنی سند کے ذریعے حضرت سلمان فارسی سے روایت فرمائی ہے ۔ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ کے پاس سور حمتیں ہیں ‘ ان میں سے ایک رحمت کو استعمال کرکے مخلوق خدا باہم شفیقانہ سلوک کرتی ہے اور 99 رحمتیں اللہ نے قیامت کے لئے محفوظ کی ہوئی ہیں ۔ “ انہی سے ایک دوسری روایت میں ہے ” جس دن اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تو اس نے سو رحمتیں پیدا کیں ۔ اللہ کی ہر رحمت زمین و آسمان سے بڑی ہے ۔ اس میں صرف ایک رحمت کو اللہ تعالیٰ نے زمین کے اوپر استعمال کے لئے دیا ۔ اسی رحمت سے والدہ اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے ایک دوسرے پر رحمت کرتے ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اس کے باقی 99 جز کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس رحمت کو مکمل کر دے گا ۔ “ حضور اکرم ﷺ نے جس تمثیلی انداز میں رحمت کی مقدار کو بیان کیا ہے یہ محض تقریب الی الافہام کے لئے ہے ۔ انسان جب زندہ جانوروں میں یہ دیکھتا ہے کہ مائیں اپنے بچوں کے ساتھ کس قدر حمت و شفقت سے پیش آتی ہیں ‘ لوگ بچوں پر کس قدر شفقت کرتے ہیں ‘ اسی طرح بوڑھوں ‘ ضعفاء مریضوں ‘ اقرباء ‘ دوستوں اور اولاد پر ‘ نیز پرندے اور وحشی جانور ایک دوسرے کے ساتھ ‘ تو انسان ورطہ حیرت میں غرق ہوجاتا ہے ۔ بعض مناظر تو ایسے ہوتے ہیں کہ انسان پر دہشت طاری ہوجاتی ہے اور اس کے بعد انسان یہ تصور کرتا ہے کہ اللہ کی شان کریمی کے سو حصوں میں سے یہ صرف ایک حصہ ہے تو انسان مزیدحیران ہوتا ہے ۔ یہ انداز تفہیم ایسا ہے کہ بات لوگوں کے ذہن کے قریب آجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ اپنے ساتھیوں کو اس عظیم رحمت کے بارے میں آگاہ کرتے رہتے تھے ۔ حضرت عمر ابن خطاب ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ جنگی قیدی عورتیں لائی گئیں ۔ ان میں سے ایک عورت دوڑی پھرتی تھی ‘ اس کے پستانوں سے دودھ بہہ رہا تھا ۔ اسے گرفتار عورتوں کے کیمپ میں جو بچہ بھی ملتا وہ اسے پکڑتی ‘ اسے پیٹ سے لگاتی اور دودھ پلاتی ۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ” کیا تم اس بات پر یقین کرو گے کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے گی ۔ “ ہم نے کہا خدا کی قسم اگر وہ ایسا نہ کرنے کی قدرت رکھتی ہو (یعنی مجبور نہ ہو) تو وہ ہرگز ایسا نہ کرے گی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” جان لو کہ اس عورت کو اپنے بچے سے جس قدر محبت ہے ‘ اللہ کو اپنے بندوں کے ساتھ اس سے زیادہ محبت ہے ۔ “ (بخاری ۔ مسلم) کس طرح نہ ہوگی ؟ یہ عورت اپنے بچے کے ساتھ جو رحم اور شفقت رکھتی ہے تو یہ اس رحمت کی برکت ہے جو اللہ نے اپنی وسیع رحمت سے اہل زمین کو عطا کی ہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو اس قسم کی جو تعلیم دی تھی ‘ یہ اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ نے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر اپنے ساتھیوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس سلسلے میں اللہ کے اخلاق کو اپنائیں ۔ آپس میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ رحمت اور مودت سے پیش آئیں ۔ اس جہان کے تمام زندہ جانوروں کے ساتھ رحم کریں ۔ ان کے دلوں کے اندر محبت اور شفقت کا ذوق پیدا ہو اور وہ اپنے تمام معاملات میں اس ذوق کو برتیں جس طرح اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں اپنی مخلوقات کے ساتھ رحمت برتتا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کا یہ پہلو نہایت ہی زندہ اور تابندہ ہے ۔ کچھ نمونے ملاحظہ فرمائیں۔ حضرت عمر ابن العاص ؓ سے روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” رحم کرنے والوں پر اللہ کا رحم ہوگا ۔ تم لوگ اہل زمین پر رحم کرو تم پر وہ رحم کرے گا جو آسمانوں میں ہے ۔ “ (ابو داؤد ‘ ترمذی) ابن جریر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اللہ اس شخص پر رحم نہیں فرماتے جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا ۔ “ (بخاری ‘ مسلم اور ترمذی) ابو داؤد اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے ایک روایت میں یہ کہا ہے حضور ﷺ نے فرمایا ” رحمت صرف اس شخص سے چھین لی جاتی ہے جو شقی القلب ہو ۔ “ اور اسی طرح حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ۔ انہوں نے فرمایا کہ ” رسول اللہ ﷺ نے حسن ابن علی کو بوسہ دیا اور اس وقت آپ کے پاس اقرع ابن حابس بیٹھے ہوئے تھے ۔ اقرع نے کہا میرے تو دس بیٹھے ہیں میں نے کبھی ان میں سے ایک کو بھی بوسہ نہیں دیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے انکی طرف دیکھا اور فرمایا :” جس نے شفقت نہ کی اس پر شفقت نہ ہوگی ۔ “ (مسلم و بخاری) حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو صرف یہ تعلیم نہ دی تھی کہ وہ فقط انسانوں کے ساتھ مشفقانہ سلوک رکھیں ‘ اس لئے کہ آپ کو علم تھا کہ اللہ کی رحمت بہت ہی وسیع ہے اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اندر خدائی اخلاق پیدا کریں۔ انسان اس وقت تک مکمل انسان نہیں بن سکتا جب تک وہ تمام مخلوقات کے ساتھ رحمت کا برتاؤ نہی کرے ۔ اس سلسلے میں آپ کی تعلیمات نہایت ہی موثر تھیں جیسا کہ ہم کہہ آئے ہیں ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے ‘ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” یوں ہوا کہ ایک شخص کسی سفر کے دروان کسی راستے پر جا رہا تھا کہ اسے شدید پیاس لگ گئی ۔ اسے ایک کنواں ملا ۔ وہ اس میں اترا اور پانی پایا اور باہر نکل آیا ۔ کیا دیکھتا ہے کہ ایک کتا پیاس کی وجہ ہانپ رہا ہے اور پیاس کی شدت کی وجہ سے مٹی کھا رہا ہے ۔ اس شخص نے کہا ‘ اس کا حال بھی پیاس نے ایسا کردیا جس طرح میرا کردیا تھا ۔ وہ کنویں میں اترا اپنے جوتے کو پانی سے بھرا اور اپنے منہ میں پکڑا یہاں تک کہ نکل آیا ۔ اس نے کتے کو پانی پلایا ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کا اجر دیا اور اس کی مغفرت فرما دی “۔ اس پر صحابہ کرام نے کہا : رسول اللہ کیا ہمارے لئے بہائم میں بھی اجر ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ہر تر کلیجے والی چیز کے ساتھ رحم پر اجر ہے ۔ “ (بخاری مسلم ‘ موطائ) ایک دوسری روایت میں ہے کہ ایک بدکار عورت نے ایک بار دیکھا کہ شدید گرمی میں ایک کتا ایک کنویں کے ارد گرد چکر لگا رہا ہے ۔ اس نے پیاس کی وجہ سے زبان نکالی ہوئی ہے ۔ اس نے اس کے لئے اپنے جوتے کو ڈول بنا کر اور دوپٹے کو رسی بنا کر نکال کر پلایا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کردی ۔ “ حضرت عبدالرحمن ابن عبداللہ ؓ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر تھے ۔ ہم نے ایک (حمرہ) (پرندہ) کو دیکھا جس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے ۔ ہم نے اس کے بچے پکڑ لئے ۔ (حمرہ) آئی اور وہ زمین پربچھی جارہی تھی (یعنی پر ڈھیلے کر کے پھیلا کر زمین کے قریب ہو رہی تھی) رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ۔ آپ نے فرمایا :” کس نے اسے اس کے بچوں کی وجہ سے تکلیف دی ۔ اس کے بچوں کو لوٹا کر اسے دے دو ۔ “ حضور ﷺ نے دیکھا کہ ہم نے چیونٹیوں کے گھر کو جلا دیا تھا تو آپ ﷺ نے پوچھا کہ کس نے جلایا ہے ؟ ہم نے کہا یہ تو ہم نے جلایا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ آگ کے ساتھ صرف آگ کا مالک سزا دے سکتا ہے ۔ (ابو داؤد) حضرت ابوہریرہ ﷺ سے روایت ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کسی نبی کو چیونٹی نے کاٹا ۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کے گھر کو جلایا جائے اللہ تعالیٰ نے اس پر وحی بھیجی ” اگر آپ کو ایک چیونٹی نے کاٹ لیا تو کیا آپ اس کی پوری نوع کو جلا ڈالیں گے جو تسبیح کرتی ہے ۔ (مسلم بخاری) یوں حضور ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو قرآن کریم کی اس تعلیم کے مطابق تربیت دی کہ وہ اللہ کی رحمت کا مزہ اس طرح چکھیں کہ اسے لوگوں کے برتیں ۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ مخلوقات ایک دوسرے کے ساتھ جو رحم اور شفقت کرتی ہے وہ اللہ کی بےبہا اور بیشمار رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے ۔ اب میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک مسلمان کے تصور حیات کے اندر رحمت کی حقیقت بیٹھ جانے سے اس کے احساسات ‘ اس کی زندگی اور اس کے اخلاق پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور انہیں کسی صورت میں بھی مٹایا نہیں جاسکتا ۔ مزکور بالا تعلیم کے جو اثرات ایک مسلم کی زندگی پر پڑتے ہیں ‘ یہاں ہم ظلال القرآن کے مختصر اسلوب کے مطابق اس کی طرف بھی کچھ اشارہ کئے دیتے ہیں ۔ اس حقیقت کے شعور کے نتیجے میں ‘ دل مومن اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوجاتا ہے اور وہ اپنے رب کی جانب سے پوری طرح مطمئن ہوجاتا ہے ۔ خصوصا ایسے حالات میں جب کہ وہ مشکلات اور شدید لمحات سے گزر رہا ہو کیونکہ مصائب وشدائد میں انسان کے قلب ونظر دھوکہ کھا سکتے ہیں اس طرح مشکلات میں گھرا ہوا مومن ہر وقت رحمت خداوندی کا امیدوار ہوتے ہوئے یہ یقین رکھتا ہے کہ کسی بھی لمحہ حالات میں تبدیلی آسکتی ہے اور ہر صورت حال کے بعد نئی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے ۔ اللہ اپنے بندوں کو مشکلات میں مبتلا کر کے چھوڑ نہیں دیتا ‘ یا اسے اپنی رحمت سے محروم نہیں کردیتا ۔ اس لئے کہ جو شخص بھی رحمت خداوندی کا طلبگار ہوگا اسے اللہ محروم نہ کرے گا ۔ لوگ تو خود اپنے آپ کو رحمت خداوندی سے محروم کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی ناشکری کرتے ہیں ‘ رحمت کے سایہ میں آنے سے انکار کرتے ہیں اور اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ پھر اللہ کی رحمت کی امیدواری پر پختہ اطمینان کے نتیجے میں انسان کے اندر صبر وثبات پیدا ہوتا ہے ‘ امید کی کرن روشن ہوتی ہے ‘ وہ اطمینان اور آرام محسوس کرتا ہے ‘ کیونکہ وہ بارگاہ رحمت و محبت میں ہوتا ہے ‘ جس کا سایہ گھنا ہوتا ہے جب تک وہ خود اپنے آپ کو اس اس سے دور نہ کرلے ۔ جب ایک مسلم یہ شعور پاتا ہے تو اس کے احساسات میں باری تعالیٰ کی نسبت سے ایک حیا پیدا ہوجاتی ہے کیونکہ مغفرت کی امیدواری اور رحمت باری کی خواہش کی باوجود کوئی شخص یہ جرات نہیں کرسکتا کہ اللہ کی نافرمانی کرتا ہے حالانکہ اس امید کے نتیجے میں اللہ غفور و رحیم کی نافرمانی کرنے سے شرم آتی ہے ۔ جن لوگوں کے اندر رحمت خداوندی اور مغفرت خداوندی کے نتیجے میں مزید معصیت کرنے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے انہوں نے درحقیقت ایمان کی حقیقت مٹھاس کو پایا ہی نہیں ہے ۔ اس لئے نہ یہ بات میری سمجھ میں آتی ہے اور نہ میں اسے تسلیم کرتا ہوں جو بعض صوفی کہتے ہیں کہ وہ گناہوں کا ارتکاب اس لئے کرتے ہیں تاکہ وہ اللہ کے صبر اور حلم کا مزہ چکیں یا اس کی مغفرت اور رحمت سے فائدہ اٹھائیں ۔ یہ سلیم الفطرت لوگوں کی سوچ نہیں ہے ‘ رحمت الٰہیہ کے لئے یہ ایک منفی رد عمل ہے ۔ اس حقیقت کو اس انداز میں پالینے کے بعد ایک مسلم کے ذہن میں بہت ہی اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ وہ جانتا ہے کہ اسے اپنے اندر خدائی اخلاق پیدا کرنے ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس پر ہر طرف سے اللہ کی رحمتوں کی بارش ہورہی ہے اس کے باوجود کہ وہ پراز تقصیرات ہے اور اس سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں ۔ اس طرح وہ خود بھی رحم اور شفقت کے انداز سیکھ لیتا ہے ‘ وہ معاف کرنا جانتا ہے ۔ وہ گناہوں اور غلطیوں سے درگزر کرتا ہے اور یہ بات ہمیں ان تعلیمات میں صاف صاف نظر آتی ہے جو حضور نے صحابہ کرام کو دیں اور یہ تعلیم آپ نے بذریعہ ” تخلق باخلاق اللہ “ دی ۔ اللہ کی رحمت کے مقامات میں سے ایک مقام یہ ہے کہ اللہ نے اپنے اوپر یہ لکھ دیا ہے کہ وہ تمام انسانوں کو ایک دن میدان حشر میں اٹھائے گا ۔ یہ آیت اس کا بھی فیصلہ کرتی ہے : (آیت) ” قُل لِّمَن مَّا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ قُل لِلّہِ کَتَبَ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لَیَجْمَعَنَّکُمْ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لاَ رَیْْبَ فِیْہِ (6 : 12) ” ان سے پوچھو ‘ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ کہو سب کچھ اللہ کا ہے ‘ اس نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ (اسی لئے وہ نافرمانیوں اور سرکشیوں پر تمہیں جلدی نہیں پکڑ لیتا) قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا ‘ یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے ۔ “ اللہ کی اس تحریری رحمت کے دعوے میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ ایک دن انہیں دوبارہ جمع کرے گا اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے ۔ اور اس جمع کے بعد اللہ کی عنایات کا دور ہوگا اور یہ عنایات اللہ کی ان لوگوں پر ہونگی جو اس کی بندگی کریں گے ۔ اس لئے کہ اللہ نے انہیں پیدا ہی اس لئے کیا تھا کہ وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی بندگی کی راہ اپنائیں ۔ انہیں اس زمین پر منصب خلافت صرف اسی مقصد کے لئے دیا گیا تھا ۔ انہیں بےمقصد نہیں پیدا کیا گیا اور نہ وہ یونہی چھوڑ دیئے گئے ۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جس میں یہ سب لوگ جمع ہوں گے ۔ یہ وہ آخری ٹھکانا ہے جس کی طرف یہ لوگ اس طرح لوٹیں گے جس طرح ایک سواری اور قافلہ اپنی منزل مقصود کی طرف مسلسل بڑھتا ہے ۔ وہاں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جزاء دے گا جنہوں نے اللہ کی طرف جانے کی صحیح راہ اختیار کی اور زندگی کے اس طویل سفر میں تکلیفات اٹھائیں ۔ دنیا میں انہوں نے جو اچھے اعمال کئے اور اب وہاں انہیں اس کا اجر ملے گا تاکہ ان کی مشقتیں اور تکالیف ضائع نہ جائیں بلکہ یوم آخرت میں انہیں ان کا اجر پورا دیا جائے گا ۔ یوں اللہ کی رحمتوں کے مظاہر میں سے ایک مظہر کا اظہار ہوگا ۔ قیامت میں اللہ کا جو فضل ہوگا کہ برائی کا بدلہ صرف برائی جیسا ہوگا جبکہ نیکی کے بدلے دس گناہ اجر ہوگا بلکہ اللہ چاہے تو اضعاف مضاعطہ ہوگا تو یہ بھی اللہ کی رحمت اور شفقت کے مظاہر میں سے ایک مظہر ہوگا ۔ اللہ نے عربوں پر دین اسلام کے ذریعے جو فضل وکرم کیا اور انہیں اس دین کے ذریعے جو باعزت مقام دیا وہ ان پر اللہ کا احسان عظیم ہے ۔ اس سے قبل عرب قیام قیامت کا انکار کرتے تھے ۔ وہ بعینہ اسی طرح کے تصورات رکھتے تھے جس طرح دور جدید کی مہذب جاہلیت کے افکار ہیں ‘ یعنی سائنسی جاہلیت ۔ یہی وجہ ہے کہ قیام قیامت کا ذکر اس قدر تاکیدی الفاظ میں کیا گیا اور اس تکذیب کے مقابلے میں اس قدر حروف تاکید لائے گئے ۔ (آیت) ” لیجمعنکم الی یوم القیمۃ لا ریب فیہ “۔ (6 : 12) تمہیں قیامت کے دن اٹھایا اور جمع کیا جائے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے ۔ “ قیامت کے دن خسارہ صرف ان لوگوں کو ہوگا ‘ جو اس دنیا میں ایمان سے محروم رہیں گے ۔ اہل ایمان کو کوئی خسارہ نہ ہوگا ۔ جبکہ اہل کفر کو پورا پورا خسارہ ہوگا ۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنی ذات ہی کو ہار دیا تو وہ کمائیں گے کیا ۔ انسان تو اپنی جان اور اپنے نفس کے لئے کماتا ہے ۔ اگر اس کا نفس اور اس کی زبان ہی چلی جائے تو وہ کمائی کس کے لئے کرے گا ۔ کس کے لئے کمائے گا ۔ (آیت) ” الذین خسروا انفسھم فھم لا یومنون “۔ (6 : 12) ” مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مبتلا کردیا ہے وہ اسے نہیں مانتے ۔ “ ۔ انہوں نے اپنی ذات ہی کو خسارے میں ہار دیا ۔ ان کی ذات اور شخصیت ہی چلی گئی ‘ چونکہ ان کے پاس کوئی شخصیت ہی نہ رہی لہذا ایمان کون لائے ۔ اہل کفر کی حالت کی یہ نہایت ہی لطیف اور حقیقت پسندانہ تعبیر ہے ۔ اس تعبیر کے اندر ایک نہایت ہی گہری فطری پکار ہے کہ ایمان لاؤ ۔ ایمان کی برکات میں سے ایک بڑی برکت یہ ہے کہ وہ تمہیں ایک ذات اور شخصیت عطا کرتا ہے ۔ یہ لوگ جو ایمان سے قبل اپنی شخصیت گم کر بیٹھے تھے ‘ ان کی فطرت مسخ ہوچکی گھی ان کی وہ صلاحتیں جو حق کو قبول کرتی ہیں ‘ ختم ہوگئی تھیں ‘ یا ان پر پردے پڑگئے تھے اس لئے وہ قبولیت حق کی صلاحیت کھو کر اپنی شخصیت اور شناخت کم کر گئے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایمان نہ لائے تھے اس لئے کہ ان کے پاس ان کی ذات اور شخصیت ہی نہ رہی تھی ۔ یہ ان کے عدم اطمینان اور کفر کی ایک نہایت ہی لطیف اور گہری تعبیر ہے ۔ حالانکہ دلائل ایمان موجود تھے اور ایسے اشارات موجود تھے کہ جن کی وجہ سے انسان حق کو قبول کرتا ہے اس امر نے ان کے معاملے میں فیصلہ کن حیثیت اختیار کی ۔ یوں گویا وہ اپنی شخصیت سے ہاتھ دھو کر ایک عقیم خسارے سے دوچار ہوئے ۔ اب اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ لیل ونہار میں جو لوگ اور جو مخلوق ہے یعنی زمان میں ‘ وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ۔ جس طرح پہلی آیات میں بتایا گیا تھا کہ جہاں اور جس جگہ میں جو متنفس ہے ‘ وہ اللہ کا مملوک ہے ۔ یوں یہ ملکیت زمان ومکان دونوں پر مشتمل ہوگئی ۔ اللہ کا علم تمام مخلوقات کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ۔ (آیت) ” وَلَہُ مَا سَکَنَ فِیْ اللَّیْْلِ وَالنَّہَارِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (13) ” رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو کچھ ٹھہرا ہوا ہے ‘ سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ۔ “ ّ (ماسکن) کی زیادہ قریب الفہم تفسیر یہ ہے کہ یہ لفظ سکنہ سے ہے ‘ جیسا کہ زمحشری نے کشاف میں لکھا ہے یعنی وہ تمام جو لیل ونہار میں پناہ لیتی ہیں یعنی تمام مخلوقات ۔ یہ سب مخلوق اللہ کی ملکیت میں ہے ۔ اس سے پہلی آیت میں بھی یہ قرار دیا گیا ہے ۔ (قل لمن ما فی السموت والارض قل للہ) (6 : 12) اس آیت میں تمام مخلوقات کی حصر بلحاظ مکان تھی اب اس آیت میں (آیت) ” ولہ ما سکن فی الیل والنھار “۔ (6 : 13) آیا ہے جس میں حصر بلحاظ زمان ہے ۔ قرآن کریم کا یہ معروف انداز بیان ہے ۔ ان آیات کی تفسیر میں بہت کچھ لکھا گیا ہے ۔ میرے خیال میں یہ تاویل سب سے بہتر ہے کہ ایک آیت میں حصر زمانی اور دوسری میں حصر مکانی ہے ۔ اس کے بعد ایک تبصرہ یہ آتا ہے کہ اللہ سمیع وعلیم ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کے اعتبار سے بھی اللہ تمام مخلوقات کا احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ اس آیت کے جواب میں مشرکین جو بھی کہتے ہیں وہ اللہ کے علم میں ہے یعنی وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ اللہ وحدہ ہی مالک ہے ‘ اس کے باوجود وہ بعض مویشیوں ‘ انکے بچوں اور بعض پھلوں کو شرکاء کے لئے مخصوص کرتے تھے ۔ اس سورة کے آخر میں یہ بحث آرہی ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ تمام مخلوقات پر اللہ کا حق ملکیت تسلیم کریں تاکہ بعد میں انہیں یہ سمجھایا جائے کہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض چیزیں تم شرکاء کے کھاتے میں کس کی اجازت سے ڈالتے ہو۔ جبکہ اسی فقرے میں آنے والی یہ بات بھی اس سے ثابت کرنا مطلوب ہے کہ جب مالک وہ ہے تو ولی اور حاکم بھی وہی ہے ۔ اور وہ اس لئے حاکم ہے کہ وہی مالک ہے ہر اس چیز کا جو زمان ومکان کے اندر ہے اور جو اللہ کے علم کے اندر ہے ۔ اب جب کہ یہ بات تسلیم ہوگئی کہ وہی خالق ہے اور وہی مالک ہے تو ان لوگوں پر سخت نکیر وتنقید کی جاتی ہے جو اللہ کے سوا کسی اور سے امداد طلب کرتے ہیں ۔ جو اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرتے ہیں اور کسی اور کو ولی اور حاکم بناتے ہیں ۔ چناچہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ صورت حال اسلام سے متضاد ہے ۔ یہ صریح شرک ہے اور اسلام کے ساتھ اس کا یکجا جمع ہونا ممکن نہیں ہے ۔ یہاں اللہ کی صفات میں سے اس مفہوم کی ادائیگی کے لئے فاطر السموت والارض ‘ رازق ومطعم ‘ نافع وضار اور قاہر و قادر کے الفاظ لائے جاتے ہیں ‘ جبکہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ خوفناک سزا بھی دیتا ہے ۔ اس سے فضا پر ایک دم جلال باری تعالیٰ کے سائے پڑجاتے ہیں اور یہ انسان ڈر جاتا ہے اور یہ نہایت ہی زور دار انداز میں کہا جاتا ہے ۔ :

الأنعام 6:14

(آیت) ” نمبر 14 تا 18۔ یہ مسئلہ کہ اللہ وحدہ ولی ہے لفظ ولی کے تمام معنوں میں ہے ۔ یعنی وہ وحدہ رب ہے ۔ وہ وحدہ معبود ہے ۔ تمام لوگ اسی کی بندگی کرتے ہیں اور تمام اس کے اقتدار اعلی کے تابع ہیں ۔ وہ عبادت بھی اس کی کرتے ہیں اور عبادت کے مراسم بھی اس کے سامنے ادا کرتے ہیں ۔ صرف اسی کو ناصر اور مددگار سمجھتے ہیں ‘ اسی پر اعتماد کرتے ہیں ‘ مصائب میں اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ یہ اسلام کا اساسی عقیدہ ہے ۔ انسان اگر صرف اللہ کو اپنی ولی سمجھے گا ‘ ان تمام مفہومات کے ساتھ تو پھر وہ مسلمان ہوگا اور اگر اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی ولی بنائے گا تو پھر وہ مشرک ہوگا ۔ شرک اور اللہ وحدہ کی ولایت ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔ اس آیت میں اس حقیقت کو نہایت ہی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے ۔ ذرا دوبارہ غور کریں ۔ (آیت) ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14) ” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور (اور تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے) تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو ۔ “ یہ ایک نہایت ہی گہری فطری اور منطقی سوچ ہے ۔ کون ولی ہوگا اور ولایت کس کے لئے خالص ہوگی ؟ اگر ہم زمین وآسمانوں کے بنانے والے اور انکو وجود میں لانے والے کو اپنی ولی نہ بنائیں گے تو پھر کس کو بنائیں گے ۔ زمین و آسمان میں رہنے والی تمام مخلوقات کو رزق دینے والا ولی نہ ہوگا تو اور کون ہوگا ۔ جو تمام مخلوقات کو رزق دیتا ہے اور خود کسی کا محتاج نہیں ہے ۔ کہو کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو ولی بنا لوں ‘ جبکہ اللہ کی ذات ان صفات کی مالک ہے جن کا ذکر ہوا۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا دلیل اور منطق ہے ‘ جس کی وجہ سے کوئی انسان مجبور ہو کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی بنائے ۔ انسان کسی کو ولی اور سرپرست اس لئے بناتا ہے کہ وہ اس کی مدد کرتا ہے ۔ اللہ جب زمین وآسمانوں کا بنانے والا ہے وہ زمین و آسمان دونوں پر صاحب اقدار ہے ‘ اگر ولایت اور سرپرستی کا مقصد یہ ہے کہ سرپرست رزق اور طعام دے تو ذات باری تو تمام جہان والوں کی رازق اور مطعم ہے ‘ خواہ زمین میں ہوں یا آسمانوں میں ۔ اب اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور سرپرست بنانے کا فائدہ کیا ہوگا ؟ پھر یہ کہ ” کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور مجھے تاکید کی گئی ہے کہ تو بہرحال مشرکین میں شامل نہ ہو ۔ “ معلوم ہوا کہ سرتسلیم خم کرنے اور شرک سے باز رہنے کے لازمی معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کسی اور کو سرپرست نہ بنایا جائے ۔ دوسرے زاویے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو سرپرست بنانے کا مقصد یہ ہے کہ گویا ہم شرک کا ارتکاب کررہے ہیں اور شرک ہر گز اسلام نہی ہوسکتا ۔ یہ ایک واضح اور متعین مسئلہ ہے ۔ اس کے بارے میں کوئی دو رنگی اور نرمی نہیں ہو سکتی ۔ اس معاملے میں ہم صرف دو موقف اختیار کرسکتے ہیں یا تو اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھیں گے ‘ صرف اسی کی طرف متوجہ ہوں گے ‘ اسی کیا اطاعت کریں گے ‘ اسی سے ڈریں گے ‘ خشوع و خضوع کے ساتھ ایس کی عبادت کریں گے ‘ صرف اسی سے امداد طلب کریں گے ‘ صرف اسی کو اپنا حاکم اور مقتدر اعلی اور قانون ساز سمجھیں گے ۔ اپنی زندگی کے پورے امور میں اس کی اطاعت کریں گے ‘ اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کریں گے ‘ اپنے دل اور اپنے عمل میں ‘ اپنے قانون اور طرز عمل میں اسی کو اپناولی اور سرپرست سمجھیں گے اور کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ کریں گے تو ہمارا یہ رویہ عین اسلام ہوگا یا پھر ہم اس کے بندوں میں سے کسی کو ان معاملات میں اس کے ساتھ شریک کریں گے تو یہ رویہ مشرکانہ ہوگا اور شرک وہ بیماری اور وہ حقیقت ہے جو اسلام کے ساتھ ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ مشرکین کے سامنے اپنی اس ناپسندیدگی کا اظہار برملا کردیں کیونکہ وہ آپ کو اس بات پر آمادہ کر رہے تھے کہ آپ ان کے ساتھ اس نظریاتی مسئلے میں نرمی اور مداہنت کریں اور ان کے الہوں کو بھی اپنے اس دین میں کوئی نہ کوئی حیثیت دے دیں ۔ اس کے بدلے میں وہ اس دین میں داخل ہوجائیں گے ۔ یوں کہ آپ ان کے الہوں کو الوہیت کے بعض خصائص عطا کردیں تاکہ مشرکین کی حیثیت اور مرتبہ اور ان کے مفادات اپنی جگہ پر قائم رہیں ۔ وہ سب سے پہلے اور سرفہرست یہ چاہتے تھے کہ ان کے الہوں کو حرام کرنے اور حلال کرنے کا حق دیا جائے اور اس کے عوض وہ حضور ﷺ کی مخالفت ترک کردیں گے ‘ آپ کو رئیس مکہ بھی تسلیم کریں گے ‘ آپ کو مالی واجبات بھی ادا کریں گے اور اپنی خوبصورت ترین لڑکیاں بھی آپ کے نکاح میں دے دیں گے ۔ مشرکین مکہ ایک طرف تو آپ ﷺ کو اذیت دیتے تھے ۔ مسلمانوں پر مظالم ڈھاتے تھے اور دوسری جانب نرمی اور مصالحت کا ہاتھ بڑھا کر آپ کو پھسلانا بھی چاہتے تھے ۔ ان کی اس پالیسی کی وجہ ہی سے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ ان کے سامنے ان باتوں سے اپنی شدید ترین نفرت کا اظہار کریں اور فیصلہ کن انداز میں اور دو ٹوک الفاظ میں اعلان کردیں کہ آپ اس نظریاتی معاملے میں کوئی نرمی نہیں کرسکتے ۔

الأنعام 6:15

(آیت) ” قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) (6ـ15۔ 16) ” اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس معاملے کی اہمیت اور سنجیدگی کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ اگر وہ سرموانحراف بھی کریں تو خود ان پر عذاب الہی نازل ہو سکتا ہے ۔ خصوصا اسلام اور توحید کے معاملے میں اس طرح خود اہل شرک کے دلوں میں خوف اور رعب پیدا ہوگا ۔ حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارے میں جس قدر حساس تھے یہ اس کی بہترین تصویر کشی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ حضور ﷺ عذاب الہی سے بہت ہی ڈرتے تھے ۔ اللہ کا عذاب اس قدر خوفناک ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی سے ٹل جائے تو اس کا محض ٹلنا ہی فوز عظیم تصور ہوتا ہے ۔ اس تصویری احساس کے علاوہ اس میں اہل شرک کے لئے دلوں کو ہلا دینے والی ایک تنبیہ بھی ہے ۔ اس دور کے مشرکین کے لئے بھی اور بعد کے ادوار کے مشرکین کے لئے بھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس قدر ہولناک ہوگا ۔ یہ عذاب اپنے شکار کو بسہولت تلاش کرلے گا ۔ اسے گھیر لے گا اور اس کو جھپٹ کر اپنے قبضے میں لے لے گا ۔ صرف قادر مطلق ہی اسے بچا سکتا ہے ۔ چونکہ عذاب الہی کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ‘ اسے صرف وہی پھیر سکتا ہے ۔ انسان جب اس تصویر کشی پر غور کرتا ہے تو اس کی سانس رکنے لگتی ہے ۔ یہ آخری گھڑی کس قدر ہوش ربا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھے میری کتاب التصویر الغنی میں طریقۃ قرآن) سوال یہ ہے کہ کوئی شخص غیر اللہ کو ولی اور سرپرست کیوں بنائے ؟ اپنے آپ کو اس شرک میں مبتلا کیوں کرے اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو کیوں اس قدر ہولناک عذاب میں مبتلا کرے ؟ کیا وہ اپنے آپ کو کوئی نفع پہنچانے کے لئے ایسا کرے ‘ یا کسی دنیاوی مضرت سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسا کرے ۔ یا اس لئے کرے کہ مشکلات میں لوگ امداد کریں یا بدحالی میں کوئی نفع دیں ۔ حالانکہ نفع ونقصان تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عالم اسباب میں وہ اللہ کی ذات ہی ہے جو قدرتوں والی ہے ۔ تمام انسان اس کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں ۔ عطا کرنے اور روکنے میں صرف اس کی حکیمانہ پالیسی ہی کار فرما ہوتی ہے ۔

الأنعام 6:16

(آیت) ” قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) (6ـ15۔ 16) ” اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس معاملے کی اہمیت اور سنجیدگی کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ اگر وہ سرموانحراف بھی کریں تو خود ان پر عذاب الہی نازل ہو سکتا ہے ۔ خصوصا اسلام اور توحید کے معاملے میں اس طرح خود اہل شرک کے دلوں میں خوف اور رعب پیدا ہوگا ۔ حضور اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کے احکام کے بارے میں جس قدر حساس تھے یہ اس کی بہترین تصویر کشی ہے ۔ نظر آتا ہے کہ حضور ﷺ عذاب الہی سے بہت ہی ڈرتے تھے ۔ اللہ کا عذاب اس قدر خوفناک ہوتا ہے کہ اگر وہ کسی سے ٹل جائے تو اس کا محض ٹلنا ہی فوز عظیم تصور ہوتا ہے ۔ اس تصویری احساس کے علاوہ اس میں اہل شرک کے لئے دلوں کو ہلا دینے والی ایک تنبیہ بھی ہے ۔ اس دور کے مشرکین کے لئے بھی اور بعد کے ادوار کے مشرکین کے لئے بھی ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا عذاب کس قدر ہولناک ہوگا ۔ یہ عذاب اپنے شکار کو بسہولت تلاش کرلے گا ۔ اسے گھیر لے گا اور اس کو جھپٹ کر اپنے قبضے میں لے لے گا ۔ صرف قادر مطلق ہی اسے بچا سکتا ہے ۔ چونکہ عذاب الہی کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہیں ‘ اسے صرف وہی پھیر سکتا ہے ۔ انسان جب اس تصویر کشی پر غور کرتا ہے تو اس کی سانس رکنے لگتی ہے ۔ یہ آخری گھڑی کس قدر ہوش ربا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھے میری کتاب التصویر الغنی میں طریقۃ قرآن) سوال یہ ہے کہ کوئی شخص غیر اللہ کو ولی اور سرپرست کیوں بنائے ؟ اپنے آپ کو اس شرک میں مبتلا کیوں کرے اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو کیوں اس قدر ہولناک عذاب میں مبتلا کرے ؟ کیا وہ اپنے آپ کو کوئی نفع پہنچانے کے لئے ایسا کرے ‘ یا کسی دنیاوی مضرت سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے ایسا کرے ۔ یا اس لئے کرے کہ مشکلات میں لوگ امداد کریں یا بدحالی میں کوئی نفع دیں ۔ حالانکہ نفع ونقصان تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ عالم اسباب میں وہ اللہ کی ذات ہی ہے جو قدرتوں والی ہے ۔ تمام انسان اس کے قبضہ قدرت اور کنٹرول میں ہیں ۔ عطا کرنے اور روکنے میں صرف اس کی حکیمانہ پالیسی ہی کار فرما ہوتی ہے ۔

الأنعام 6:17

(آیت) ” وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدُیْرٌ(17) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (18) ” اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “ وہ نفس انسانی کے ہر خیال اور اس کے سینے کے ہر وسوسے کا پیچھا کرتا ہے ۔ وہ دلی خواہشات اور اندرونی اندیشوں سے بھی باخبر ہے ۔ وہ شکوک و شبہات کی تمام شکلوں کو جانتا ہے اور ان تمام باتوں کو نظریاتی روشنی سے حل کرتا ہے ۔ برہاں و دلیل سے انسانی تصور کو واضح کرتا ہے اور اپنی خدائی کی صحیح معرفت عطا کرتا ہے ۔ چونکہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اس لئے قرآن کریم دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی اس کی وضاحت کردیتا ہے ۔ اب یہ لہر اپنے عروج پر ہے اور اس سے نہایت ہی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ بات شہادت ‘ ثبوت اور سرزنشن تک آپہنچتی ہے ۔ اب جدائی اور برات کا اعلان کردیا جاتا ہے کہ بس ہم تمہارے ساتھ شرکیہ امور میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ نہایت ہی بلند آواز میں اور نہایت ہی رعب دار اور فیصلہ کن اعلان میں :

الأنعام 6:18

(آیت) ” وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدُیْرٌ(17) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (18) ” اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “ وہ نفس انسانی کے ہر خیال اور اس کے سینے کے ہر وسوسے کا پیچھا کرتا ہے ۔ وہ دلی خواہشات اور اندرونی اندیشوں سے بھی باخبر ہے ۔ وہ شکوک و شبہات کی تمام شکلوں کو جانتا ہے اور ان تمام باتوں کو نظریاتی روشنی سے حل کرتا ہے ۔ برہاں و دلیل سے انسانی تصور کو واضح کرتا ہے اور اپنی خدائی کی صحیح معرفت عطا کرتا ہے ۔ چونکہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اس لئے قرآن کریم دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی اس کی وضاحت کردیتا ہے ۔ اب یہ لہر اپنے عروج پر ہے اور اس سے نہایت ہی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ بات شہادت ‘ ثبوت اور سرزنشن تک آپہنچتی ہے ۔ اب جدائی اور برات کا اعلان کردیا جاتا ہے کہ بس ہم تمہارے ساتھ شرکیہ امور میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ نہایت ہی بلند آواز میں اور نہایت ہی رعب دار اور فیصلہ کن اعلان میں :

الأنعام 6:19

(آیت) ” 19۔ ” ان سے پوچھو کس کی گواہی بڑھ کر ہے ؟ کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی شریک ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ بات کا جگہ جگہ رکنا ‘ اور پھر موثر آغاز اور ایک ہی آیت میں یہ زیروبم ایک عجیب انداز کلام ہے ۔ ایک لفظ میں ایک موقف بیان ہوجاتا ہے ‘ ایک ایک لفظ ایک منظر کو پیش کرتا ہے جس سے شبہات وخلجانات اور ان کی نوعیت کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ بذات خود حضور اکرم ﷺ کو خطاب کیا جاتا ہے اور احکام دیئے جاتے ہیں ۔ پھر حضور ﷺ ان احکامات کے تحت ان مشرکین سے مخاطب ہوتے ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا اور لوگوں کو اپنا سرپرست بنا رکھا ہے ۔ وہ اللہ کے مخصوص حقوق میں بعض حقوق غیر اللہ کو دیتے ہیں اور ان سرپرستوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے ہیں ۔ پھر یہ لوگ حضور ﷺ کو یہ دعوت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ ان کو ان کی اس حالت پر برقرار رکھیں تاکہ وہ اس کے بدلے حضور ﷺ کے دین میں شریک ہوجائیں ۔ ان کے خیال میں ایسا ممکن تھا وہ یہ سمجھتے تھے کہ اسلام اور شرک ایک ہی دل میں جمع ہو سکتے ہیں ۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک سوچ دل میں بٹھالی تھی ۔ آج کے دور جدید میں بھی لوگوں کے دلوں میں اس قسم کی سوچ بیٹھی ہوئی ہے ۔ عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کے حوالے سے مسلمان بھی ہو سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے معاملات میں غیر اللہ سے ہدایات بھی لے سکتے ہیں ۔ وہ غیر اللہ کے مطیع فرمان بھی ہوسکتے ہیں اور غیر اللہ سے غیبی امداد بھی لے سکتے ہیں اور غیر اللہ کو ولی اور سرپرسب بھی بنا سکتے ہیں ۔ حضور اب یہاں مشرکیں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ یہاں آکر آپ ﷺ کے دین اور ان کے ادیان کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں ۔ آپ کی توحید اور ان کا شرک اب اکٹھے نہیں رہ سکتے ۔ آپ ﷺ کا اسلام اور ان کی جاہلیت ایک جگہ زندہ نہیں رہ سکتے ۔ اب آپ ان کے ساتھ فیصلہ کردیتے ہیں : ” اب میرے اور تمہارے درمیان اتحاد واتصال ممکن نہیں ہے ۔ اتحاد صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ تم لوگ اپنا دین چھوڑ کر میرے دین میں شامل ہوجاؤ ورنہ ۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ یہ اتحاد ہو سکے کیونکہ آغاز ہی سے دونوں کی رہیں جدا ہوچکی ہیں ۔ “ حضور ﷺ ان کے ساتھ یوں ہمکلام ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ کون سی سند اور شہادت ہے ؟ ذرا لائیں میدان میں کوئی شہادت اور کوئی ثبوت اپنے موقف پر ۔ (آیت) ” قل ای شیء اکبر شھادۃ “۔ (6 : 19) ان سے پوچھو کس چیر کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے ۔ “ اس پوری کائنات میں سب سے بڑی شہادت کیا ہے ؟ وہ کون سی شہادت ہے جسے درجہ تصدیق حاصل ہے ؟ مقدمے میں کون سا ثبوت فائنل ہے جس کے بعد کسی ثبوت کی ضرورت نہ ہو ؟ یہ نہایت ہی عمومی سوال ہے ۔ شیء کے لفظ سے سوال کیا گیا ہے یعنی پوری کائنات کی کوئی شے ثبوت میں لاؤ ۔ جو سب سے بڑی شہادت ہو۔ حضور ﷺ کو جس طرح حکم دیا جاتا ہے کہ ان سے پوچھو ‘ اسی طرح آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ ان کو جواب بھی دے دو ۔ اس لئے کہ خود مخالفین اس بات کے معترف تھے کہ دراصل جواب وہی ہے جو حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ یہ جواب دے دیں ۔ (آیت) ” قل اللہ (6 : 19) ” کہو اللہ “ ہاں ! بیشک سب سے بڑا گواہ ہے ۔ وہی تو ہے جو اس سچائی کو بیان کر رہا ہے ۔ وہی تو ہے جو سب سے بھلے فیصلے کرتا ہے اور اس کی گواہی کے بعد کوئی گواہی نہیں ہے ۔ اس کی بات کے بعد کسی بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ جب اللہ بات کر دے تو تمام باتیں ختم ہوجاتی ہیں اور معاملے کا فیصلہ ہوجاتا ہے ۔ جب اس حقیقت کا اعلان کردیا گیا کہ اللہ شہادت سب سے برتر شہادت ہے تو اب اس بات کا اعلان کیا جاتا ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان بس اللہ گواہ ہے اور اللہ ہی اس مسئلے کا فیصلہ کرے گا ۔ (آیت) ” شھید بینی وبینکم “۔ (6 : 19) ” میرے اور تمہارے درمیان وہ گواہ ہے ۔ “ مطلب یہ ہوا (آیت) ” ھو شھید) ۔ میرے اور تمہارے درمیان وہ گواہ ہے ۔ اس مقام پر لفظ اللہ کے بعد وقف مناسب ہے ۔ کیونکہ یہاں مختصر مختصر فقروں میں بات ہو رہی ہے ۔ یعنی لفظ اللہ کے بعد وقف وصل کے مقابلے میں زیادہ مناسب ہے ۔ اگر وصل ہو تو اللہ (آیت) ” شھید بینی وبینکم “۔ (6 : 19) ہوگا ۔ جب یہ اصول متعین ہوگیا کہ اس معاملے میں فیصلہ صرف اللہ کا فیصلہ ہے تو یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی شہادت قرآن کی شکل میں آگئی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن کریم محض اس لئے نازل کیا ہے کہ میں تمہیں اور ان تمام دوسرے لوگوں کو ڈراؤں جن تک وہ پہنچے ۔ آپ کی زندگی میں یا آپ کی وفات کے بعد ۔ لہذا قرآن کریم ان لوگوں پر بھی حجت ہوگا جن تک حضور ﷺ کی موجودگی میں پہنچایا آپ ﷺ کے بعد جن تک پہنچا ۔ اس لئے کہ انسانی سوچ کے اس اساسی مسئلے میں قرآن ہی فیصلہ کن شہادت ہے اور اسی سوچ پر دنیا اور آخرت کی نجات کا مدار ہے اس پر انسانی وجود قائم ہے ۔ (آیت) ” واوحی الی ھذا القرآن لانذرکم بہ ومن بلغ (6 : 19) ” اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے سب کو متنبہ کردوں ۔ “ ہر وہ شخص جس تک قرآن کی تعلیمات پہنچ جائیں ‘ کسی ایسی زبان میں جسے وہ سمجھتا ہو اور اس سے وہ دعوت قرآن اخذ کرسکتا ہو تو اس پر حجت قائم ہوگئی ۔ حضور ﷺ کا فریضہ انذار ادا ہوگیا ‘ اور اگر وہ نافرمانی کرے اور تکذیب کرے تو اس کے لئے عذاب لازم ہوگیا ۔ (ہاں جو شخص عربی زبان نہیں جانتا اور اس کی زبان میں قرآن کی دعوت بھی موجود نہیں ہے تو اس پر حجت قائم نہ ہوگی اور اس بات کا مؤاخذہ اہل اسلام سے ہوگا کیونکہ انہوں نے اس زبان میں قرآن کے مفہوم کو منتقل نہ کیا جسے وہ سمجھتا ہے ۔ اگر اس کی زبان میں قرآن کا ترجمہ کردیا گیا ہو تو اس پر حجت تمام ہوگی) ۔ جب یہ اعلان کردیا گیا کہ اللہ کی شہادت قرآن کریم کے اندر درج ہے تو اس شہادت کا مضمون بھی بتا دیا گیا ۔ اور یہ چیلنج کی صورت میں اور سخت تنبیہ کے انداز میں بتادیا گیا وہ لوگ جو شہادت دیتے تھے اس پر ان کی سرزنش کی گئی کہ کیا تم اللہ کے مقابلے میں خود اپنی شہادت پیش کرتے ہو ؟ بتا دیا گیا کہ ہم تمہاری اس شہادت کو مسترد کرتے ہیں ۔ آپ اس کے مخالف موقف کا اعلان فرما دیتے ہیں اور اعلان کردیتے ہیں کہ اللہ کی ذات وحدہ لاشریک ہے ۔ صرف اللہ ہی الہ ہے اور اس معاملے میں ہمارے اور تمہارے مکمل جدائی ہے ‘ ہماری راہیں مختلف ہیں ۔ نہایت ہی تاکیدی اور فیصلہ کن الفاظ میں اپنی براءت کا اظہار کردیا جاتا ہے ۔ (آیت) ” قُلْ أَیُّ شَیْْء ٍ أَکْبَرُ شَہَادۃً قُلِ اللّہِ شَہِیْدٌ بِیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَکُم بِہِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19) ” کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی شریک ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ “ قرآن کی یہ آیات ان آیات کے یہ مقطعے اور ان کی یہ ضربات انسانی دل کو اس قدر جھنجوڑتی ہیں کہ الفاظ میں ان کے اثرات کو بیان کرنا ہی محال ہے اس لئے میں مناسب نہیں سمجھتا کہ اپنے الفاظ کے ذریعے ان کے اثرات اور ان کی خوبصورتی کو محدود کر دوں کیونکہ کوئی تبصرہ ان کے حسن کو بیان نہیں کرسکتا ۔ آیات کے اس مجموعے یا اس لہر میں جس مسئلے کو لیا گیا ہے اس پر قدرے ضروری ہے ۔ یہ مسئلہ سرپرستی ‘ توحید اور مشرکین کے ساتھ کے ساتھ مکمل جدائی کا مسئلہ ہے ۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کا اساسی مسئلہ ہے اور اس دین میں یہ ایک عظیم اور اہم حقیقت ہے ۔ آج کے اسلامی گروہ اور اسلامی جماعت کو چاہئے کہ وہ اس مسئلے پر غور کرے ‘ اس سبق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ذراطویل وقفہ کرے اور تامل و تدبر کرے ۔ اس وقت تحریک اسلامی کا مقابلہ پورے کرہ ارض پر چھائے ہوئے نظام جاہلیت کے ساتھ ہے ۔ جس طرح نزول قرآن کے وقت برپا ہونے والی تحریک اسلامی کا مقابلہ اس وقت کی جاہلیت سے تھا ۔ اس لئے آج کی تحریک اسلامی کو چاہئے کہ وہ اپنا موقف نزول قرآن کے وقت کی تحریک اسلامی کے موقف کی روشنی میں متعین کرے تاکہ وہ اس روشنی کی مدد سے اپنی راہ کو اچھی طرح دیکھ سکے ۔ چناچہ تحریک اسلامی کی یہ ضرورت ہے کہ وہ اس آیات پر خوب اچھی طرح طویل غور وفکر کرے اور پہلی تحریک اسلامی کے نقوش پا سے راہنمائی حاصل کرے ۔ زمانہ لوٹ کر اسی مقام پر آگیا ہے جہاں پہلی تحریک اسلامی کے وقت تھا ۔ انسانیت اسی مقام پر آگئی ہے جس پر وہ نزول قرآن کے وقت تھی اور رسول اللہ ﷺ زندہ و موجود تھے ۔ ان پر اسلام نازل ہوا تھا اور اس کی اساس اس بات کی شہادت پر تھی کہ اللہ ایک ہے ‘ اور اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے ۔ یہ شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ‘ اسی طرح ہم نے ادا کرنی ہے جس طرح اسے حضرت ربعی ابن عامر نے ادا کیا تھا ‘ جب وہ مسلمانوں کے کمانڈر انچیف کے ایلچی کے طور پر ایرانیوں کے کمانڈر انچیف رستم کے ہاں گئے تھے اور جنہوں نے حضرت ربعی سے پوچھا تھا ” تم نے کیوں ہم لوگوں پر لشکر کش کی کی ہے ؟ “ ان کا جواب یہ تھا ” اللہ نے ہمیں اس لئے اٹھایا ہے کہ وہ اپنے جن بندوں کو انسانوں کی غلامی سے نکالنا چاہتا ہے انہیں اس غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل کر دے ۔ پھر انہیں دنیا اور آخرت کی وسعتوں کے اندر لے جائے اور دوسرے ادیان کے مظالم سے نکال کر اسلام کے نظام عدل میں داخل کر دے ۔ “ حضرت ربعی ؓ نے یہ شہادت یہ جانتے ہوئے دی کہ رستم اور اس کے ساتھی کسی کی پوجا یہ جانتے ہوئے نہ کرتے تھے کہ وہ الٰہ ہے اور ان کا خالق ہے یا اس کائنات کا خالق ہے اور نہ یہ لوگ کسری کے سامنے معروف مراسم عبودت بجا لاتے تھے ۔ بلکہ وہ قانون اور شریعت کسری سے اخذ کرتے تھے ۔ اس طرح وہ کسری کی بندگی کرتے تھے جو اسلام کے منافی تھی ۔ ربعی ؓ نے ان کو بتایا کہ وہ لوگوں کو انسانی نظاموں سے نکال کر اللہ کے نظام حاکمیت میں داخل کرنا چاہتے ہیں جس میں اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدہ کے لئے مخصوص ہے اور اس کے مقابلے میں اسلامی نظام زندگی ہے جس کے اندر حاکمیت ‘ اطاعت اور بندگی صرف وحدہ کے لئے ہے ۔ آج کل زمانہ اس مقام پر لوٹ آیا ہے جس پر کبھی اسلام نے لوگوں کے سامنے (لا الہ الا اللہ) کی شہادت پیش کی تھی ۔ آج انسانیت لوٹ کر بندوں کی غلامی میں داخل ہوگئی ہے ‘ وہ دوسرے ادیان کے مظالم سہ رہی ہے اور اس عظیم شہادت سے اس نے روگردانی اختیار کرلی ہے ۔ اگرچہ انسانیت کی آبادی کا ایک حصہ مسجدوں سے اذانوں کے ذریعے سے روز وشب (لا الہ الا اللہ) کی شہادت نشر کر رہا ہے ۔ لیکن اسے معلوم نہیں ہے کہ اس شہادت اور کلمہ شہادت کا مدلول اور مفہوم کیا ہے ؟ نہ یہ شہادت دیتے وقت یہ لوگ اس مفہوم کو ذہن میں لاتے ہیں ۔ نہ یہ لوگ اس حاکمیت کا انکار کرتے ہیں جو کچھ لوگوں نے اپنے لئے مخصوص کرلی ہے حالانکہ ان کا یہ موقف اعلان خدائی کے برابر ہے چاہے وہ اپنے اس موقف کا اعلان کریں یا نہ کریں ۔ مثلا دنیا میں مروج مجالس قانون ساز کا جو حال ہے یا کچھ اقوام کا حال ہے اس معاملے میں افراد ومجالس کا حکم ایک ہی ہے ۔ افراد اور اقوام کی حیثیت ایک ہی ہے ۔ یہ افراد اور یہ مجالس اور یہ اقوام چونکہ الٰہ نہیں ہیں اس لئے انہیں انسانون کے لئے قانون سازی کا کوئی حق نہیں ہے الا یہ کہ انسانیت مرتد ہو کر (لا الہ الا اللہ) سے انکار کر دے اور وہ یہ اختیارات اللہ کے سوا کسی اور کو دے دے تو اس صورت میں وہ عقیدہ توحید کی منکر ہوگی اور صرف اللہ اس کا والی اور سرپرست نہ ہوگا ۔ اس وقت صورت حالات یہ ہے کہ پوری انسانیت ‘ جس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو رات اور دن مساجد سے اذانوں کے ذریعے سے (لا الہ الا اللہ) کا مفہوم نہ سمجھتے ہوئے اس کا اعلان کرتے ہیں ۔ یہ لوگ قیامت کے دن سب سے بڑی گناہگار اور زیادہ عذاب کے مستحق ہوں گے ‘ اس لئے کہ انہوں نے مسلمان ہونے کے بعد لوٹ کر انسانوں کی بندگی اختیار کرلی ہے ۔ اس کے بعد کہ ان پر یہ سچائی اتری اور ان تک پہنچ گئی اور اس کے بعد کہ وہ دین اسلام میں داخل تھے ‘ لہذا اس دور میں تحریک اسلامی اس بات کی زیادہ محتاج ہے کہ وہ ان آیات پر اچھی طرح غور کرے : (آیت) ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14) ” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں (مجھے کہا گیا) تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو۔ “ چاہے اس کا جو مفہوم بھی لیا جائے ‘ اس کا مطلب ہوگا اس کے سامنے عاجزی کرنا ‘ اس کی اطاعت کرنا ‘ اس سے نصرت طلب کرنا اور اس سے استعانت طلب کرنا ۔ یہ سب امور اسلام کے ساتھ متضاد ہیں اس لئے کہ یہ امور شرکیہ ہیں اور اسلام آیا ہی اس لئے ہے کہ لوگوں کو ان شرکیہ امور سے نکالا جائے ۔ تحریک اسلامی کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ولایت کا اظہار سب سے پہلے جس بات میں ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی اپنے نظریہ یا اپنی زندگی کے نظام میں غیر اللہ کی حاکمیت کو قبول کرلے ۔ یہ وہ بات ہے جس میں میں اس وقت کرہ ارض پر بننے والی پوری انسانیت مبتلا بلا استثناء ۔ اور تاکہ تحریک اسلامی کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اس کے سامنے جو ہدف ہے وہ یہ ہے کہ اس نے عوام الناس کو لوگوں کی بندگی سے نکال کر صرف اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کرنا ہے اور یہ کہ اسے اسی قسم کی جاہلیت سے واسطہ درپیش ہے جس سے حضور اکرم ﷺ اور پہلی تحریک اسلامی کو سابقہ درپیش تھا جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں ۔ نیز تحریک اسلامی کو اس شراب ایمانی کی بھی اشد ضرورت ہے جو یہ آیات قلب مومن میں انڈیل رہی ہیں جبکہ دل مومن کسی جاہلیت کے سامنے صف آرا ہو : (آیت) ” قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدُیْرٌ(17) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (18) ” کہو ‘ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے (خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ جو تحریک بھی جاہلیت اور اس کی طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کر رہی ہو ‘ جو جاہلیت کے جبر وقہر اور عناد وسرکشی کا مقابلہ کر رہی ہو اور جو جاہلیت کی سازشوں اور کینہ پروریوں کے سامنے صف آراہو اور اس کے پھیلائے ہوئے فساد اور فسق وفجور کا دفعیہ چاہتی ہو اس کے لئے اس تمام شرک کے مقابلے کے لئے ان حقائق کا ادراک ضروری ہے اور اس تحریک کے اندر یہ جذبات اور یہ شعور موجود ہونا چاہئے ، ورنہ اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ غیر اللہ کو اپنا سرپرست بنا لے اور یہ نہ ہو کہ اس نافرمانی کے نتیجے میں وہ عذاب اخروی کی سزاوار ہوجائے ۔ تحریک اسلامی کو یہ یقین کرلینا چاہئے کہ نفع ونقصان صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور یہ کہ اللہ کو اپنے بندوں پر پورا پورا کنٹرول حاصل ہے ۔ اس کے فیصلے کے بعد کوئی فیصلہ نہیں ہے اور نہ اس کے حکم اور فیصلے کو کوئی رد کرسکتا ہے ۔ جس دل میں یہ یقین اور یہ شعور نہ ہو وہ احیائے اسلام کی مشکلات کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتا جبکہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ جاہلیت کے قائم نظام کے مقابلے میں ہو رہی ہو اس لئے کہ احیائے اسلام کی تحریک کو جاہلیت کبھی بھی ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتی ۔ اس کی راہ میں ہمیشہ پہاڑ جیسی مشکلات حائل کی جاتی رہی ہیں ۔ یہ یقین کرلینے کے بعد کہ آج کرہ ارض پر تحریک اسلامی کا نصب العین کس قدر اہم اور مشکل ہے ‘ اپنے نظریے اور عقیدے کے صحیح ادراک کے بعد اور اس کے تقاضوں کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد کہ اللہ سبحانہ وحدہ لا شریک ہے اور اس توحید کے کئی پہلو ہیں اور ان تمام امور کے ساتھ ساتھ یہ شعور کہ اس راہ میں کیا کیا مشکلات ہیں ۔ آج کی تحریک اسلامی کو اللہ کی جانب سے شہادت اور جاہلیت کے ساتھ مکمل بائیکاٹ اور فیصلہ کن علیحدگی کی ضرورت ہے کیونکہ جاہلیت بعینہ اس شرک میں مبتلا ہے جس میں قرون اولی کی جاہلیت مبتلا تھی ۔ اس لئے تحریک اسلامی کو چاہئے کہ وہ ویسا ہی اعلان کردے جس اعلان کے کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو دیا تھا ۔ جس طرح رسول ﷺ نے اس وقت کی جاہلیت کے منہ پر اس کے نظریات مار دیئے تھے آج بھی تحریک کو چاہئے کہ وہ دور جدید کی جاہلیت کے غلط افکار اس کے منہ پر دے مارے اور اللہ رب العالمین کے ان احکام کو نافذ کر دے ۔ (آیت) ” قُلْ أَیُّ شَیْْء ٍ أَکْبَرُ شَہَادۃً قُلِ اللّہِ شَہِیْدٌ بِیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَکُم بِہِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19) ” ان سے پوچھو کس کی گواہی بڑھ کر ہے ؟ کہو اللہ ۔۔۔۔۔ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو ؟ کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی شریک ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ تحریک اسلامی کا یہ فرض ہے کہ وہ اس وقت کرہ ارض پر چھائی ہوئی جاہلیت کے مقابلے میں یہ موقف اختیار کرے ۔ اسے چاہئے کہ وہ اس کے مقابلے میں اپنے سچے نظریات کا اعلان ببانگ دہل کرے اور فیصلہ دل دہلا دینے والی رعب دار آواز میں کرے ۔ اس کے بعد نتائج اللہ پر چھوڑ دے جو ہر چیز پر قادر ہے ۔ اسے اپنے بندوں کے معاملات پر پورا پورا کنٹرول ہے ۔ اللہ کے بندے جس میں یہ جابر طاغوتی طاقتیں بھی شامل ہیں ‘ اللہ کے مقابلے میں ایک مکھی جتنی طاقت بھی نہیں رکھتے ۔ اگر ان سے مکھی بھی کوئی چیز لے بھاگے تو یہ اس سے نہیں چھڑا سکتے ۔ مقابلے میں ایک مکھی جتنی طاقت بھی نہیں رکھتے ۔ اگر ان سے مکھی بھی کوئی چیز لے بھاگے تو یہ اس سے نہیں چھڑا سکتے ۔ یہ جابر قوتیں اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتیں نہ یہ قوتیں کسی کو کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ امور کائنات پر پوری طرح غالب ہے لیکن لوگوں کو اللہ کا غلبہ نظر نہیں آتا ۔ تحریک اسلامی کو اچھی طرح یقین کرلینا چاہئے کہ اسے حسب وعدہ الہی تمکن فی الارض اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتا جب تک وہ جاہلیت کے مقابلے میں اپنی زندگی کی راہیں بالکل الگ نہیں کرلیتی ‘ اس کے ساتھ مکمل طور پر قطع تعلق نہیں کرلیتی ‘ جب تک طاغوتی قوتوں کے مقابلے میں تحریک اسلامی اعلان حق نہیں کردیتی اور جب تک وہ جاہلیت کے مقابلے میں اس اسلوب پر شہادت حق نہیں دے دیتی جس طرح ان آیات میں اسے کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ جب تک وہ جاہلیت کو اسی انداز میں چیلنج نہیں کرتی اور اس کے ساتھ مکمل بائیکاٹ نہیں کردیتی اور اس سے اعلان برات نہیں کردیتی ۔ قرآن کریم تاریخ کے ایک مخصوص دور کی اصلاح کے لئے مخصوص نہ تھا ۔ قرآنی ہدایات مکان وزمان کے قیود سے آزاد ہیں ۔ قرآن تو ایک منہاج انقلاب ہے ۔ اور جب بھی کوئی تحریک اس منہاج کو اپنائے گی اسے اسی طرح کام کرنا پڑے گا جس طرح پہلی تحریک اسلامی کو کرنا پڑا ۔ آج ہمیں ویسے ہی حالات درپیش ہیں جیسے نزول قرآن کے وقت درپیش تھے ۔ اسی مقام پر لوٹ کر آگیا ہے جس پر وہ حضور ﷺ کے وقت تھا ۔ جبکہ دنیا میں اسلام متعارف ہو رہا تھا ۔ ہمیں اس دین کی حقیقت پر پورا بھروسہ ہونا چاہئے ۔ ہمیں اللہ کی قدرت اور اس کے غلبے پر پورا پورا بھروسہ ہونا چاہئے ۔ جماعت اسلامی کو اسی کو اسی انداز میں تیاری کرنا چاہئے ۔ اللہ سب سے اچھا محافظ ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے ۔ درس نمبر 58 ایک نظر میں : ” یہ ایک نئی لہر ہے ۔ روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جو قرآن کریم کی تکذیب کرتے ہیں اور خصوصا قرآن کے نظریہ بعث بعد الموت کو جھٹلاتے ہیں ۔ البتہ اس لہر میں نہ تو ان کی ہٹ دھرمی اور عناد کی تصویر کشی کی گئی ہے اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے وہ اسلاف جو قرآن اور بعث بعد الموت کے منکر تھے ‘ ان کا انجام کیا ہوا ؟ بلکہ ان کے سامنے یوم البعث کے کچھ مناظر اور جھلکیاں پیش کی جاتی ہیں اور ان کے آخروی انجام بد کی تصویر کشی کی جاتی ہے اور یہ انجام بدنہایت متحرک اور زندہ مناظر ومشاہد کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ لوگ میدان حشر میں ہیں اور نہایت ہی شرمسار کنندہ سوالات سے دو چار ہیں جس کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ‘ سرعام رسوا ہورہے ہیں ۔ کوئی جواب بن نہیں پڑتا ۔ (آیت) ” أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22) ” کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جنہیں تم خدا کے ساتھ برابر سمجھتے تھے ؟ “ یہ سوال اس قدر شان جلالت کے ساتھ ہوتا ہے کہ ان پر جزع وفزع کا عالم طاری ہوجاتا ہے ۔ اب وہ نہایت ہی خاکساری اور نہایت ہی بھولے پن سے قسمیں اٹھاتے ہیں اور اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں ۔ (آیت) ” وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23) ” اللہ ہمارے رب کی قسم ہم تو مشرک تھے ہی نہیں۔ “ لیکن جب وہ آگ کے کنارے پہنچتے ہیں ‘ ہتھ کڑیاں لگی ہوئی ‘ حسرت وندامت میں ڈوبے ہوئے ڈرے اور سہمے ہوئے تو یوں گویا ہوتے ہیں۔ (آیت) ” یَا لَیْْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِآیَاتِ رَبِّنَا وَنَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (27) ” اے کاش ! کہ ہم لوٹائے جائیں ‘ اور اللہ کی آیات کی تکذیب نہ کریں اور مومنین میں شامل ہوجائیں۔ “ اب خود اللہ جل جلالہ ان سے ایک سوال کرتے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ وہ شرم وندامت کی وجہ سے پگھلے جا رہے ہیں اور اور خوف وہراس کی وجہ سے ان کی جان نکلی جا رہی ہے ۔ (آیت) ” الیس ھذا بالحق “۔ (6 : 30) ” کیا یہ سچائی نہیں ہے ؟ “ اب وہ نہایت ہی خاکساری اور شرمندگی کے ساتھ جواب دیتے ہیں (آیت) ” بلی وربنا “۔ (6 : 30) ” ہمارے رب کی قسم ‘ ہاں “ ۔۔۔۔۔۔۔ اب یہ اعتراف ان کے لئے مفید نہیں ہے ۔ حکم ہوتا ہے ۔ (آیت) ” فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ (30) ” پس چکھو تم اس عذاب کو اس لئے کہ تم انکار پر مصر تھے ۔ “ وہ ایسے حالات میں اس صورت حالات سے دو چار ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آپ کو ہار چکے ہیں ۔ سب کچھ ہار چکے ہیں ۔ اب انہوں نے اپنے کاندھوں پر اپنے تمام برے اعمال اٹھائے ہوئے ہیں اور آخرت کے بارے میں اپنے برے موقف کی وجہ سے اور اس گھاٹے کے سودے پر سخت نالاں ہیں اور غم سے نڈھال ہوچکے ہیں ۔ ایک منظر کے بعد دوسرا منظر اسکرین پر آتا ہے ۔ ہر منظر ایسا ہے کہ دل دہل جاتا ہے ‘ پورا بدن ٹوٹ رہا ہے پورا وجود ریزہ ریزہ ہوا چاہتا ہے ۔ دل و دماغ کے دریچے اب تو بالکل کھلے ہیں ۔ اب وہ سچائی انہیں صاف صاف نظر آتی ہے ۔ جو حضور ﷺ پیش فرما رہے تھے ۔ لیکن ان مناظر کو دیکھ کر قبولیت حق کی توفیق صرف ان لوگوں کو ہوئی جن کے بارے میں مشیت الٰہی نے فیصلہ کیا کہ وہ حق کو قبول کریں گے ‘ لیکن وہ لوگ جن کو قرآن کریم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں وہ تو اس سچائی کو اس طرح پہچان رہے تھے جس طرح وہ اپنے بچوں کو پہچانتے تھے ‘ لیکن اس کے باوجود اس سچائی کو قبول نہ کرتے تھے ۔

الأنعام 6:20

(آیت) ” نمبر 20۔ قرآن کریم میں اس بات کا ذکر بار بار آتا ہے کہ اہل کتاب یہود ونصاری ‘ قرآن کریم کو بعینہ اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ رسول برحق ہیں اور یہ قرآن کریم ان پر اللہ کی جانب سے نازل ہو رہا ہے ۔ یہ حقیقت اہل کتاب کے ساتھ کلام کرتے ہوئے بھی بیان کی گئی ہے اور مشرکین عرب کے مقابلے میں بھی یہ دلیل دی گئی ۔ اہل کتاب بالمعوم مدینہ میں تحریک اسلامی کے خلاف دشمنی ‘ عناد اور مقابلے کا موقف اختیار کئے ہوئے تھے اور اہل شرک ہر جگہ پر تھے ۔ یہ حقیقت اس لئے لائی گئی کہ مشرکین عرب مانتے تھے کہ اہل کتاب ان کے مقابلے میں زیادہ اہل علم ہیں اور وہ کتب سماویہ اور وحی کے مزاج سے زیادہ باخبر ہیں ۔ لہذا یہ بات لائی گئی کہ اہل کتاب قرآن کریم کو اچھی طرح بغیر کسی اشتباہ کے پہچانتے ہیں اور یہ کہ حضور ﷺ پر بھی اسی رب کی وحی آرہی ہے جس نے پہلے رسولوں پر وحی بھیجی تھی ۔ جس طرح ہم نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ یہ آیت مکی ہے ‘ اور اس میں اس انداز سے اہل کتاب کے تذکرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں خطاب مشرکین مکہ سے تھا کہ جس کتاب کا تم انکار کر رہے ہو اہل کتاب اسے اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں اور اگر اہل کتاب کی ایک بڑی اکثریت ایمان نہیں لائی تو اس نے درحقیقت اپنے آپ کو ایک بہت ہی بڑے خسارے میں ڈال لیا ہے ۔ اس معاملے میں علم کے باوجود وہ مشرکین کے ہم پلہ ہوگئے ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالتے ہوئے ایمان کی دولت سے محروم کرلیا ہے ۔ اس آیت سے قبل اور بعد کی بات بہرحال مشرکین مکی کی بابت ہے ۔ اس لئے جس طرح ہم نے اس سورة کے تعارف کے وقت بتایا ‘ ہم ترجیح اس بات کو دیتے ہیں کہ یہ آیات بھی مکی ہیں ۔ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں ‘ (آیت) ” الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاء ہُمُ ۔ (6 : 20) جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے ان اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ نہیں آتا ۔ “ کا حوالہ دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ وہ مانتے ہیں کہ یہ کلام منزل من اللہ اور سچا ہے یا یہ کہ رسول اللہ ﷺ اللہ کے سچے نبی ہیں اور ان پر بذریعہ وحی یہ قرآن نازل ہو رہا ہے ۔ یہ تفسیر بھی بہرحال اس آیت کے مدلول اور مفہوم میں داخل ہے لیکن تاریخی واقعات کی روشنی میں اور اہل کتاب کے رویے کو پیش نظر رکھتے ہوئے ‘ جو انہوں نے دین اسلام کے مقابلے میں اختیار کیا ‘ ہم یہ کہتے ہیں کہ اس آیت کے مفہوم کا ایک دوسرا رخ بھی ہے ۔ اللہ کا منشا یہ تھا کہ جماعت مسلمہ کے ذہن میں یہ پہلو بھی آجائے تاکہ وہ آئندہ کے ادوار میں اہل کتاب کے حوالے سے اپنا اپنا رویہ متعین کرلے اور یہ جان لے کہ ان کا رویہ اسلام کی بابت کیا ہوگا ۔ اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ کتاب از جانب اللہ برحق ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس کتاب کی قوت تاثیر سے واقف تھے ۔ اس میں جو بھلائی اور اصلاح تھی کہ یہ کتاب از جانب اللہ برحق ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس کتاب کی قوت تاثیر سے واقف تھے ۔ اس میں جو بھلائی اور اصلاح تھی کہ یہ کتاب از جانب اللہ برحق ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس کتاب کی قوت تاثیر سے واقف تھے ۔ اس میں جو بھلائی اور اصلاح تھی اس سے بھی وہ واقف تھے ۔ وہ اس بات سے بھی اچھی طرح باخبر تھے کہ اس کتاب کے اندر پائے جانے والے نظریات کو جو قوم سینے سے لگاتی ہے اس کے اندر پھیلاؤ کی کس قدر عظیم قوت پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس کتاب کے نتیجے میں کسی قوم کے اندر جو اخلاقی قوت پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے اثرات کس قدر دور رس ہوتے ہیں ۔ یہ کتاب جو نظام حیات پیش کرتی ہے وہ کس قدر مستحکم نظام ہے ۔ اہل کتاب اس کتاب اور اس کے ماننے والوں کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے ۔ انہیں یقین تھا کہ اس کتاب میں ان کے لئے نہ کوئی گنجائش ہے اور نہ کسی دوسرے دین کے لئے کوئی گنجائش ہے ۔ وہ خوب جانتے تھے کہ اس کتاب میں کس قدر عظیم سچائی ہے اور وہ خود کس عظیم باطل کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ اس نظام جاہلیت سے بھی واقف تھے جس تک وہ آپہنچے اور جس تک ان کی قوم ‘ ان کے اوضاع واطوار اور ان کے اخلاق اور ان کا اجتماعی نظم پہنچ گئے ہیں ۔ اب صورت یہ ہوگئی کہ یہ دین برحق ان کے ساتھ کوئی مصالحت نہیں کرسکتا ۔ نہ ان کے درمیان بقائے باہمی ممکن ہے ۔ اس لئے جو معرکہ درپیش ہے وہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کرہ ارض کے اوپر سے جاہلیت ختم ہوجاتی ‘ جب تک ہر جگہ یہ دین غالب نہیں ہوجاتا اور پوری دنیا کا دین خدا پرستی پر قائم نہیں ہوجاتا اور اس کرہ ارض پر اللہ کی بادشاہت قائم نہیں ہوجاتی ۔ جب تک اللہ کے حقوق سلطنت اور حقوق اقتدار اعلی پر دست درازی کرنے والوں کو اس کرہ ارض کے اوپر سے بھگا نہیں دیا جاتا اس وقت تک دونوں گروہوں کے درمیان مصالحت نہیں ہو سکتی اس لئے کہ صرف اسی طریقے سے خدا کی بادشاہ قائم ہو سکتی ہے ۔ اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ اس دین میں یہ حقیقت موجود ہے اور اس حقیقت کو وہ بعینہ اس طرح بغیر کسی اشتباہ کے جانتے تھے جس طرح وہ اپنے بچوں کو جانتے تھے ۔ اہل کتاب نسلا بعد نسل اس دین کا مطالعہ کرتے چلے آئے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اس دین کے اندر قوت اور شوکت کے سرچشمے پنہاں ہیں اور یہ کہ یہ دین نفس انسانی کے اندر کن کن راہوں پر اپنے اثرات چھوڑتا ہے ۔ اسی لئے وہ ہر وقت ان تحقیقات میں لگے رہتے ہیں کہ وہ اس دین کی ان قوتوں کے اثرات کو کس طرح زائل کردیں ۔ کس طرح وہ اہل اسلام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرسکتے ہیں ؟ کس طرح وہ دین اسلام کے نصوص میں لفظی اور معنوی تحریف کرسکتے ہیں ؟ کس طرح وہ اس دین کو باطل اور جاہلیت کے مقابلے میں تحریک نفاذ اسلام اور تحریک قیام حکومت الٰہیہ کے مقام سے گرا کر ایک مجرد ثقافتی اور علمی تحریک میں بدل سکتے ہیں اور اس کی زندہ نصوص کو محض الہیاتی نظریاتی مباحث میں بدل کر انہیں بےجان کرسکتے ہیں ۔ چناچہ انکی یہی سعی رہی کہ اس دین کو محض لاہوتی ‘ فقہی اور فرقہ وارانہ اختلافات کا اکھاڑہ بنا کر رکھ دیا جائے ۔ وہ دین اسلام کے مطالب اور مفہومات کو ایسے تصورات اور ایسی اشکال میں ڈھالتے ہیں جن کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ اس دین کے لئے مہلک ہیں ۔ لیکن ان سازشوں کے باوجود وہ اہل اسلام کو یہ باور کراتے ہیں کہ تمہارا عقیدہ محفوظ ہے اور قابل احترام ہے ۔ اس طرح جو خلا وہ پیدا کرتے ہیں اس کی جگہ وہ نئے تصورات ‘ نئے طور طریقے اور نئی ترجیحات سامنے لاتے ہیں اور اس طرح وہ اسلامی سوچ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیتے ہیں ۔ اہل کتاب دین اسلام کا بہت ہی گہرا مطالعہ کرتے ہیں اور نہایت ہی سنجیدگی اور گہرائی سے اسلام کو سمجھنے کی سعی کرتے ہیں ۔ لیکن اس سے وہ کسی حقیقت کی تلاش میں نہیں ہیں ۔ ہمارے بعض سادہ لوح لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید انہیں حقیقت کی تلاش ہے یا وہ اس دین کے ساتھ کوئی انصاف کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ ہمارے بعض سادہ لوح لوگ ایسا سمجھتے ہیں جب مستشرقین میں سے کوئی اسلام کے بعض پہلوؤں کے بارے میں اچھے تاثرات کا اظہار کرے ۔ لیکن حقیقت یہ نہیں ہے کہ یہ لوگ سچائی کی تلاش میں ہیں یا یہ کہ وہ دین اسلام پر کوئی منصفانہ تبصرہ کرنا چاہتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی ان تحقیقات سے اس امر کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کس مقام سے وہ دین اسلام پر حملہ آور ہوں ۔ یہ لوگ دین اسلام کے ان تمام سرچشموں کو بند کرنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے انسانی فطرت کو سیرابی حاصل ہو سکتی ہے یا فطرت انسانی ان پہلوؤں سے متاثر ہو سکتی ہے ۔ وہ ایسے تمام سرچشموں کو بند کرنا چاہتے ہیں ۔ وہ اس دین کی قوتوں کے راز معلوم کرتے ہیں تاکہ وہ ان قوتوں کا اچھی طرح دفاع کرسکیں ۔ یہ لوگ یہ جاننا چاہتے کہ یہ دین اپنے آپ کو انسانی نفسیات کے اندر کس طرح نشوونما دیتا ہے تاکہ یہ لوگ اہل اسلام کو غافل پا کر کچھ اپنے تصورات اس کے اندر داخل کردیں اور لوگوں کے نفوس کے اندر جو بھی خلا باقی ہو اسے وہ دین کے ساتھ متضاد تصورات کے ذریعے بھر دیں ۔ چناچہ ان مقاصد کے حصول کے لئے یہ لوگ دین اسلام کو اسی طرح جانتے اور پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنے بچوں کو جانتے اور پہچانتے ہیں ۔ ہمیں ان حقائق کے بارے میں علم ہونا چاہئے ۔ ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہمیں اپنے دین کے بارے میں بھی پورا پورا علم ہونا چاہئے اور ہمیں بھی چاہئے کہ ہمیں اپنے دین کے بارے میں اسی طرح پہچان ہو جس طرح ہمیں اپنی اولاد کے بارے میں پہچان ہوتی ہے ۔ گزشتہ چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ کی عملی صورت حال اس بات کی تصدیق کرتی ہے جس کے بارے میں قرآن کریم نے پہلے سے بتا دیا تھا ۔ (آیت) ” الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْرِفُونَہُ کَمَا یَعْرِفُونَ أَبْنَاء ہُمُ ۔ (6 : 20) وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے اس طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کے پہچانتے ہیں ۔ “ میں کوئی اشتباہ نہیں آتا ۔ “ ماضی قریب کے تاریخی دور میں یہ صورت حال بہت ہی اچھی طرح واضح ہوگئی ہے ۔ آج اسلام کے بارے میں جو بحثیں ہو رہی ہیں وہ اس قدر وسیع ہیں کہ ہر ہفتے کی تحریروں کو جمع کرکے ایک کتاب شائع کی جاسکتی ہے ۔ یہ صورت تمام غیر ملکی زبانوں کی ہے ۔ ان مباحث سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل کتاب اس دین کی ہر چھوٹی بڑی بات سے واقف ہیں ۔ وہ اس کے مزاج اور اس کی تاریخ سے پوری طرح باخبر ہیں ۔ انہیں اس دین کی قوت کے سرچشمے بھی معلوم ہیں اور اس کی قوت مدافعت سے بھی وہ پوری طرح باخبر ہیں ۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ اس دین کے بگاڑنے کے طریقے کیا ہیں ‘ لیکن اہل کتاب کی اکثریت اپنی اس نیت کو چھپائے رکھتی ہے ۔ وہ اپنے مقاصد کو اس لئے خفیہ رکھتے ہیں کہ اگر دین اسلام پر براہ راست حملہ کیا جائے تو لوگ اس کی مدافعت کے لئے اٹھتے ہیں اور طرفداری کرتے ہیں ۔ وہ تحریکات جو اس دین پر مسلح حملوں کے دفاع کے لئے برپا کی گئیں ‘ مثلا استعماری قوتوں کے خلاف تو یہ تحریکات ایک دینی فہم اور دینی جذبے کے اوپر قائم تھیں ۔ انہوں نے اپنے وقت میں دین کے دفاع کا فریضہ سرانجام دیا ‘ لیکن آج دین کے خلاف فکری جنگ شروع ہے اس فکری ونظریاتی جنگ کی مدافعت کے لئے بھی اسلامی تحریکات اٹھتی رہی ہیں اور اہل کتاب کو اس کا اندیشہ ہمیشہ رہتا ہے ۔ اس لئے وہ نہایت ہی مذموم طریقے اختیار کرتے ہیں اور وہ یوں کہ وہ پہلے دین اسلام کی کسی قدر تعریف کرتے ہیں اور اسلام کی مدافعت اور حمایت کے جذبات کی جذبات کو سلا دیتے ہیں تاکہ اسلام کی حمایت کا جذبہ بےحس کردیا جائے ‘ اور پڑھنے والے کے دل میں اطمینان پیدا ہوجائے اور اس طرح ایسے مصنفین پیالے میں زہر ڈالتے جائیں اور پڑھنے والا ایک ایک گھونٹ پیتا رہے ۔ اب ایسے لوگوں کی بات کچھ اس طرح کی ہوتی ہے ۔ ” بیشک اسلام ایک عظیم دین ہے لیکن اس کے معانی اور تصورات کو ترقی یافتہ شکل میں جدید تہذیب کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے تاکہ وہ جدید دور کی ضروریات کو پورا کرے ۔ دور جدید میں معاشروں کے اندر جو جدت اور ترقی کا عمل جاری ہے ‘ مناسب نہیں ہے کہ یہ دین اس کی راہ میں رکاوٹ بنے بلکہ مناسب یہ ہے کہ یہ دین جدید اخلاقی قدریں اپنا لے اور جدید نظامہائے حکومت اور اجتماعی امور کو نہ چھیڑے ۔ اس طرح کہ جو چاہے اسلامی عقائد کو اپنے دلوں میں بٹھائے رکھے لیکن انسان کی عملی زندگی میں جدید نظریات اور تہذیب مغرب کے رنگ ڈھنگ اس کے دائرے سے باہر نکل آئیں ۔ وہ اپنے اجتماعی معاملات بھی اس ان لوگوں کے حوالے کر دے جو اس کرہ ارض پر الہ اور رب بنے ہوئے ہیں اور خود اپنا دین چلا رہے ہیں ‘ اس طرح اسلام ایک ہمہ گیر دین قرار پائے گا “۔ اس انداز گفتگو کے دوران یہ مصنفین اپنی اقوام کو یہ راز سمجھاتے ہیں کہ دین اسلام کی قوت اور صلابت کا راز کیا ہے ؟ بظاہر یہ تعریف کر رہے ہوتے ہیں لیکن بباطن اپنی اقوام کو تاثر دیتے ہیں کہ یہ دین نہایت ہی خطرناک ہے ۔ یوں تعریف کے لباس میں یہ اپنی اقوام کو اس دین کی قوت کے راز سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ ان انکشافات کے ذریعے تخریبی قوتیں دین کے نازک مقامات پر حملہ آور ہوں اور ان کے وار اور بمباری ٹھیک ٹھیک نشانے پر لگے اور ان کو اس بارے میں اس قدر علم ومعرفت حاصل ہوتی رہے جس طرح وہ اپنے بچوں کے بارے میں جانتے ہیں ۔ قرآن کریم کے اسرار و رموز اس کے جاننے والوں پر کھلتے ہی رہیں گے ۔ یہ کتاب ہمیشہ جدید اور نئی رہے گی ۔ گزشتہ چودہ سو سال میں یہ ہمیشہ جدید رہی ہے ۔ مسلمان اس کی روشنی میں معرکے لڑتے رہے ہیں اور اپنی تاریخ پر اس کی روشنی میں غور کرتے رہے ہیں ۔ وہ اپنے ماضی اور حال کا جائزہ اس کی روشنی میں لیتے رہے ہیں اور اپنے معاملات کو اللہ کے نور میں دیکھتے رہے ہیں جس کے ذریعے سچائی کے راستے واضح ہوجاتے ہیں ۔

الأنعام 6:21

(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔ بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اس چیز کی حلت یا حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ۔ جس طرح آج ہمارے زمانے میں بیشمار لوگ دعوائے اسلام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ حالانکہ ان کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے ۔ اور اللہ پر افتراء ہے ۔ وہ خود اپنی جانب سے قوانین اور فرامین جاری کرتے ہیں ‘ خود اپنی جانب سے زندگی کے اوضاع واطوار اور رسومات پیدا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے نئی نئی چیزیں جاری کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان معاملات میں اللہ کے اقتدار اعلی کو غصب کرلیتے ہیں اور خود مقتدر اعلی بن بیٹھتے ہیں ۔ پھر بھی ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ہیں جو سراسر جھوٹ ہے ۔ ان میں سے تعلیم یافتہ لوگ جنہوں نے اپنا دین فروخت کردیا ہے اور اپنے لئے جہنم کے بدترین درجے کو الاٹ کرا لیا ہے وہ ایسے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پھر بھی مسلمان ہیں ۔ ان آیات میں ان کی جانب سے پیش کی جانے والی آیات کو جھٹلانے پر بھی ان کے خلاف نکیر کی جاتی ہے ۔ انہوں نے آیات الہیہ کو مسترد کیا ‘ ان کا مقابلہ اور انکار کیا ‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ آیات از جانب اللہ نہیں ہیں اور جس جاہلیت پر وہ عمل پیرا ہیں وہ از جانب اللہ ہیں ۔ یہ موقف بعینہ ویسا ہی ہے جس طرح آج کے دور میں اہل جاہلیت جدید اس کے مدعی ہیں ۔ ان دونوں کا موقف بالکل یکساں ہے ۔ (آیت) ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیتہ “۔ (6 : 21) ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ جھوٹا بہتان لگائے ‘ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ “ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے شرک کو ظلم اس لئے کہا گیا ہے کہ لفظ ” ظلم “ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس کے گھناؤنے پن اور قباحت کا اظہار اچھی طرح ہوجائے ۔ قرآن کریم میں بیشتر شرک کی تعبیر ظلم سے کی جاتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے ایک نہایت ہی برافعل سمجھ کر اس سے متنفر ہوجائیں اور حقیقت حال بھی یہی ہے کہ شرک سچائی کے ساتھ ظلم ہے ۔ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور عوام الناس پر ظلم ہے ۔ اس لئے کہ کبریائی صرف اللہ کا حق ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ اس سے اللہ کی حق تلفی ہوگی ۔ نفس انسانی پر یہ اس لئے ظلم ہے کہ اس کی وجہ سے یہ دائمی ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ اور لوگوں پر ظلم یہ ہے کہ وہ معرفت حق سے محروم ہوں گے اور ان کی زندگی ایسے اصولوں کے تحت چلتی رہے گی جو ظالمانہ ہوں گے ‘ غرض شرک ہر پہلو سے ظلم عظیم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں رب العالمین خود فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” انہ لا یفلح الظلمون “۔ (6 : 21) یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ ایک قاعدہ کلیہ بیان کردیتے ہیں اور حکم آجاتا ہے کہ مشرک یا ظلم اور ظالموں کا انجام کیا ہوگا ۔ انسانوں کی کوتاہ نظر آنکھیں جو کچھ دیکھ سکتی ہیں وہ قابل اعتبار حقیقت نہیں ہوتی ۔ انسان کی نظر نہایت ہی قریبی فاصلے تک ہوتی ہے ۔ انسان صرف دنیوی فلاح اور نجات کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو انجام بد تک پہنچاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ صادق القول اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اس موقعہ پر قرآن ان کی ناکامی اور عدم فلاح اور ان کے غلط موقف کی ایک تصویر کشی نہایت ہی زندہ ‘ متحرک اور دلکش الفاظ میں فرماتے ہیں : (آیت) ” وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22) ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23) انظُرْ کَیْْفَ کَذَبُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (24) (6 : 22 تا 24) ” جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکین سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ہو گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرک کی کئی قسمیں ہیں ۔ اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کی بھی کئی اقسام ہیں اور صورت حال وہ نہیں ہے جو عام طور پر کلمہ شرک اور شرکاء اور مشرکین کے اطلاق سے آج کل عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کچھ لوگ بتوں اور پتھروں کی پوجا کرتے ہیں یا پتھروں ‘ درختوں اور آگ وغیرہ کے مظاہر کی پرستش کرتے ہیں ۔ بس یہی ہے شرک کا مفہوم ۔ درحقیقت شرک تو یہ ہے کہ کوئی اللہ کے سوا کسی اور کے بارے میں یہ اعتراف کرے کہ ذات باری کے خصائص میں سے کچھ خصائص اس میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ چاہے وہ نظریاتی امور ہوں جن میں کا اس کائنات کے تصرفات میں سے کوئی امر اللہ کے سوا کسی اور سے منسوب کیا جائے ‘ یا مراسم عبودیت ہوں کہ اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے بجا لائے جائیں مثلا عبادت اور نذر ونیاز وغیرہ یا زندگی کے نظام کو درست کرنے کے لئے اصول اور ضابطے اللہ کے سوا کسی اور سے لیے جائیں ۔ یہ سب کے سب شرک کے الوان و اقسام ہیں ۔ اس شرک کا ارتکاب یوں ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایک قسم کا شرک کرتے ہیں اور بعض دوسری قسم کے شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر مختلف قسم کے مشرکین کے شرکاء اور معبود بھی مختلف ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے ان تمام اقسام پر کلمہ شرک کا اطلاق کیا ہے اور شاید قیامت کے منظر کے اندر ان مشرکین اور شرکاء کے زندہ مناظر پیش کرکے اہل ایمان کو حقیقت سمجھانے کی سعی کی ہے ۔ قرآن کریم نے لفظ شرک کو کسی ایک مفہوم تک محدود نہیں رکھا ہے اور نہ ان میں سے کسی ایک مفہوم سے متصف کسی شخص کو مشرک کہا ہے اور نہ دنیا اور آخرت میں ان تمام اقسام کے مشرکین کے انجام اور سزا اور ان کے ساتھ تعلق میں کوئی فرق کیا ہے ۔ عربوں کے اندر شرک کی یہ تمام اقسام پائی جاتی تھیں ۔ عربوں میں یہ اعتقاد موجود تھا کہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض اللہ کے ساتھ شریک ہیں ۔ یہ شرکت اس طرح ہے کہ اللہ کے ہاں جو بات وہ کہتے ہیں وہ لازما منظور ہوتی ہے ۔ لوگوں کی قسمتوں کے فیصلوں اور واقعات کی رونمائی میں ان کا بھی داخل ہوتا ہے ۔ مثلا فرشتے شریک ہوتے ہیں یا یوں کہ یہ مخلوقات انسان کو اذیت دینے پر قادر ہے ۔ مثلا جنات نقصان دیتے ہیں ۔ یا دونوں طریقوں سے یہ انسان کو اذیت دے سکتے ہیں ۔ مثلا آباؤ و اجداد کی روحیں بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ ان جنات ‘ کاہنوں اور اجداد کی ارواح کی طرف اشارات کے طور پر یہ لوگ ان کی طرف منسوب بت بناتے تھے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہوتا تھا کہ ان بتوں کے اندر ان خدا رسیدہ مخلوقات کی روح آجاتی ہے ۔ کاہن پھر ان روحوں اور بتوں کے ساتھ ہم کلام بھی ہوتے تھے ۔ یوں ان کے لئے یہ کاہن اس اسلوب اور اٹکل سے بعض چیزوں کو حرام کرتے تھے اور بعض کو حلال کرتے تھے ۔ اس طرح درحقیقت یہ کاہن ہی تھے جو یہ کام کرتے تھے اور وہی شریک کا درجہ رکھتے تھے ۔ مزید برآں شرک کا ارتکاب وہ اس طرح بھی کرتے تھے کہ ان بتوں کے سامنے مراسم بندگی ادا کرتے تھے ۔ ان کے استھانوں پر قربانیاں کرتے اور ان کی نذریں مانتے تھے ۔ یہ قربانیاں اور نذریں اور عبادات بھی دراصل وہ ان کاہنوں کی کرتے تھے ۔ بعض عرب ایرانیوں کے زیر اثر یہ بھی عقیدے رکھتے تھے کہ کواکب کو بھی واقعات عالم میں اثر ودخل حاصل ہے ‘ اور اس طرح گویا یہ ستارے بھی خدا کے شریک ہیں ۔ چناچہ عربوں کے اندر ستارہ پر ستی داخل ہوگئی ۔ اس سورة میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جو قصہ لایا گیا ہے وہ بھی اسی نقطہ نظر سے لایا گیا ہے اور اس سورة کے موضوع سے یہی بات اس قصے کو مربوط کردیتی ہے ۔ (جیسا کہ آگے ہم بتائیں گے انشاء اللہ) شرک کی تیسری صورت بھی ان عربوں کے اندر رائج تھی ۔ یہ لوگ کاہنوں کی مدد سے اپنے لئے دستور اور قانون خود بناتے تھے اور زندگی کے طور طریقے اور رسم و رواج اپنے لئے خود وضع کرتے تھے ۔ اگرچہ اس کے اندر قانون سازی کی اجازت اللہ نے نہ دی تھی لیکن خود قانون بنا کر وہ دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ اللہ کا قانون اور شریعت ہے جس طرح آج کے بعض سیاسی مفکر ایسا دعوی کرتے ہیں ۔ پس اس منظر میں ‘ یعنی قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ تمام قسم کے شرکاء کے بارے میں لوگوں کو بلا کر یہ سوال کریں گے کہ لاؤ ان کو اب جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے تھے ؟ آج تو ان کا کوئی پتہ نہیں ہے ۔ آج تو وہ اپنے متبعین کی کوئی امداد نہیں کرسکتے ۔ نہ ان کو اس ہولناک صورت حال سے بچا سکتے ہیں۔ (آیت) ” وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22) ” جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے ۔ “ یہ منظر بالکل آنکھوں کے سامنے ۔ گو میدان حشر برپا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکوں سے یہ باز پرس ہو رہی ہے اور ان کے لئے یہ باز پرس نہایت ہی المناک ہے ۔ ” وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں ؟ “ یہ ہولناک باز پرس انہیں حواس باختہ کردیتی ہے ۔ اب ان کی فطرت پر جو پردے پڑگئے تھے وہ پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ ان کی فطرت اور ان کی یادداشت سے وہ عارضی حالات محو ہوجاتے ہیں اس لئے کہ ان حالات کی بنیاد فطرت پر تھی ہی نہیں یہ غیر فطری اور محض سراب کی طرح عارضی حالات تھے ۔ ان کا شعور اب یہ بتاتا ہے کہ وہ کس طرح شریک ٹھہر سکتے ہیں ۔ وہ کہیں گے کہ نہ تو شرکاء موجود تھے اور نہ ہی ہم نے کسی کو شریک بنایا ۔ اب یہ منظر ان کے لئے ایک نئے فتنے کا سبب بنے گا ۔ اس حقیقی دربار میں اب خبیث اور بےاصل افکار ان کے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں جس طرح بھٹی میں تپ کر چیزوں سے غلط عناصر جھاگ کی شکل میں خارج ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23) ” تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ “ وہ حقیقت سامنے آگئی جس کی وجہ سے فتنہ چھٹ گیا یا اس کی روشنی میں فتنہ واضح ہوگیا ۔ ان لوگوں نے اپنے ماضی سے مکمل طور پر کٹ کر اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اقرار کرلیا لیکن انہوں نے یہ کام اس وقت کیا جب ان کے لئے اقرار مفید نہ تھا ۔ اس اقرار باطل سے علیحدگی ان کے لئے مفید نہ رہے گی ۔ بلکہ یہ ان کے لئے ایک مصیبت ہوگی اور ان کا یہ اقرار ان کے لئے اب موجب نجات نہ ہوگا ۔ وقت جا چکا ہوگا ۔ آج تو جزائے اعمال کا دن ہے ۔ آج تو آخری فیصلوں کا دن ہے ۔ یہ ریمانڈ کا دن نہ ہوگا ۔ ان کی اس حالت پر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ تبصرہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جب شرک کا ارتکاب کیا اور ان لوگوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا تو انہوں نے اپنے نفوس کے ساتھ جھوٹ اور فریب کا ارتکاب کیا اس لئے کہ اللہ کے ساتھ کسی شریک کا تو دراصل کوئی وجود ہی نہ تھا ۔ نہ ان شرکاء کی کوئی حقیقت تھی ۔ آج ان سے وہ افتراء غائب ہے ۔ انہوں نے حق کا اعتراف اس وقت کیا جب ان کا جھوٹا طلسم غائب ہوگیا۔ (آیت) ” انظُرْ کَیْْفَ کَذَبُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (24) ۔ ” دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ناپید ہوگئے ۔ “ انہوں نے اپنے اوپر جھوٹ بولا ہے ۔ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو انہوں نے اسی وقت اپنے اوپر جھوٹ بولا اور اپنے آپ کو فریب میں ڈال دیا ۔ اللہ پر افترا باندھا اور اب ان کے تمام معبود ناپید اور گمشدہ ہیں اور اب تو حشر اور حساب کا دن ہے ۔ میرے خیال میں اس آیت کی یہی اطمینان بخش تفسیر ہے ‘ کیونکہ منظر قیامت کا ہے اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور ذات باری کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ وہ مشرک نہ تھے اس لئے کہ قیامت کے دن ان کا جھوٹ ان کے خلاف ہوگا اس مفہوم میں ۔ کیونکہ قیامت کے دن وہ اللہ پر جھوٹ نہ باندھ سکیں گے اور نہ ارادۃ جھوٹی قسم اٹھا سکیں گے ۔ جن لوگوں نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ عمدا جھوٹ بولیں گے تو وہ اس لئے درست نہیں ہے کہ لایکتمون اللہ حدیثا کے بموجب وہ قیامت میں اللہ سے تو کوئی بات چھپا نہ سکیں گے ۔ بلکہ قیامت کے اس ہولناک منظر میں ان کی فطرت پاک وصاف ہوجائے گی اور اس سے شرک کی آلائشیں دور ہوجائیں گی ۔ لیکن اللہ ان پر تعجب فرماتا ہے کہ دیکھو انہوں نے دنیا میں اپنی زندگی کس جھوٹ میں بسر کی اور آج آخرت میں ان کے پردہ خیال میں اس جھوٹ کا کوئی اثر نہیں ہے ۔ (واللہ اعلم بالمراد) بہرحال یہ بھی احتمالات میں سے ایک احتمال ہے ۔ اگلی آیات میں مشرکین کا ایک دوسرا گروہ اسکرین پر آتا ہے اور اب ان کے کیس کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔ یہ مناظر قیامت میں سے ایک دوسرا منظر ہے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کو سنتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی قوت مدرکہ کو معطل کردیا ہے ‘ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے ۔ یہ لوگ تحریک اسلامی کے معاند ہیں اور اپنے آپ کو بہت ہی بڑی شے سمجھتے ہیں ۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے مجادلہ کر رہے ہیں۔ چناچہ اس صورت میں وہ آنکھیں بند کرنے اور نفرت کرنے کی وجہ سے اس قرآن کریم پر یہ تبصرہ کرتے ہیں ” یہ تو ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ “ اور پھر وہ دوسروں کو بھی اس حقیقت کو سننے اور قبول کرنے سے منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ ان کے حالات کی یہ تصویر صفحہ کی ایک طرف ہے اور اس صفحے کے دوسری جانب ان کی نہایت ہی مکروہ اور دردناک حالت کو منقش کیا گیا ہے ۔ وہ آگ کے کنارے کھڑے ہیں ‘ گرفتار ہیں اور انہیں اس خوفناک انجام کے دھانے پر کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ وہ نہایت ہی ذلت میں چیخ و پکار کرتے ہیں اور نہایت ہی حسرت آمیز انداز میں یہ تمنا کرتے ہیں کہ اگر انہیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے تو وہ اپنے موقف میں تبدیلی کرلیں گے جس کی وجہ سے ان کو یہ روز بد دیکھنا پڑا ۔ چناچہ نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں ان کی اس تمنا اور خواہش کو رد کیا جاتا ہے ۔

الأنعام 6:22

(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔ بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اس چیز کی حلت یا حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ۔ جس طرح آج ہمارے زمانے میں بیشمار لوگ دعوائے اسلام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ حالانکہ ان کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے ۔ اور اللہ پر افتراء ہے ۔ وہ خود اپنی جانب سے قوانین اور فرامین جاری کرتے ہیں ‘ خود اپنی جانب سے زندگی کے اوضاع واطوار اور رسومات پیدا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے نئی نئی چیزیں جاری کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان معاملات میں اللہ کے اقتدار اعلی کو غصب کرلیتے ہیں اور خود مقتدر اعلی بن بیٹھتے ہیں ۔ پھر بھی ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ہیں جو سراسر جھوٹ ہے ۔ ان میں سے تعلیم یافتہ لوگ جنہوں نے اپنا دین فروخت کردیا ہے اور اپنے لئے جہنم کے بدترین درجے کو الاٹ کرا لیا ہے وہ ایسے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پھر بھی مسلمان ہیں ۔ ان آیات میں ان کی جانب سے پیش کی جانے والی آیات کو جھٹلانے پر بھی ان کے خلاف نکیر کی جاتی ہے ۔ انہوں نے آیات الہیہ کو مسترد کیا ‘ ان کا مقابلہ اور انکار کیا ‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ آیات از جانب اللہ نہیں ہیں اور جس جاہلیت پر وہ عمل پیرا ہیں وہ از جانب اللہ ہیں ۔ یہ موقف بعینہ ویسا ہی ہے جس طرح آج کے دور میں اہل جاہلیت جدید اس کے مدعی ہیں ۔ ان دونوں کا موقف بالکل یکساں ہے ۔ (آیت) ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیتہ “۔ (6 : 21) ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ جھوٹا بہتان لگائے ‘ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ “ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے شرک کو ظلم اس لئے کہا گیا ہے کہ لفظ ” ظلم “ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس کے گھناؤنے پن اور قباحت کا اظہار اچھی طرح ہوجائے ۔ قرآن کریم میں بیشتر شرک کی تعبیر ظلم سے کی جاتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے ایک نہایت ہی برافعل سمجھ کر اس سے متنفر ہوجائیں اور حقیقت حال بھی یہی ہے کہ شرک سچائی کے ساتھ ظلم ہے ۔ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور عوام الناس پر ظلم ہے ۔ اس لئے کہ کبریائی صرف اللہ کا حق ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ اس سے اللہ کی حق تلفی ہوگی ۔ نفس انسانی پر یہ اس لئے ظلم ہے کہ اس کی وجہ سے یہ دائمی ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ اور لوگوں پر ظلم یہ ہے کہ وہ معرفت حق سے محروم ہوں گے اور ان کی زندگی ایسے اصولوں کے تحت چلتی رہے گی جو ظالمانہ ہوں گے ‘ غرض شرک ہر پہلو سے ظلم عظیم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں رب العالمین خود فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” انہ لا یفلح الظلمون “۔ (6 : 21) یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ ایک قاعدہ کلیہ بیان کردیتے ہیں اور حکم آجاتا ہے کہ مشرک یا ظلم اور ظالموں کا انجام کیا ہوگا ۔ انسانوں کی کوتاہ نظر آنکھیں جو کچھ دیکھ سکتی ہیں وہ قابل اعتبار حقیقت نہیں ہوتی ۔ انسان کی نظر نہایت ہی قریبی فاصلے تک ہوتی ہے ۔ انسان صرف دنیوی فلاح اور نجات کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو انجام بد تک پہنچاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ صادق القول اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اس موقعہ پر قرآن ان کی ناکامی اور عدم فلاح اور ان کے غلط موقف کی ایک تصویر کشی نہایت ہی زندہ ‘ متحرک اور دلکش الفاظ میں فرماتے ہیں : (آیت) ” وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22) ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23) انظُرْ کَیْْفَ کَذَبُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (24) (6 : 22 تا 24) ” جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکین سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ہو گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرک کی کئی قسمیں ہیں ۔ اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کی بھی کئی اقسام ہیں اور صورت حال وہ نہیں ہے جو عام طور پر کلمہ شرک اور شرکاء اور مشرکین کے اطلاق سے آج کل عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کچھ لوگ بتوں اور پتھروں کی پوجا کرتے ہیں یا پتھروں ‘ درختوں اور آگ وغیرہ کے مظاہر کی پرستش کرتے ہیں ۔ بس یہی ہے شرک کا مفہوم ۔ درحقیقت شرک تو یہ ہے کہ کوئی اللہ کے سوا کسی اور کے بارے میں یہ اعتراف کرے کہ ذات باری کے خصائص میں سے کچھ خصائص اس میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ چاہے وہ نظریاتی امور ہوں جن میں کا اس کائنات کے تصرفات میں سے کوئی امر اللہ کے سوا کسی اور سے منسوب کیا جائے ‘ یا مراسم عبودیت ہوں کہ اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے بجا لائے جائیں مثلا عبادت اور نذر ونیاز وغیرہ یا زندگی کے نظام کو درست کرنے کے لئے اصول اور ضابطے اللہ کے سوا کسی اور سے لیے جائیں ۔ یہ سب کے سب شرک کے الوان و اقسام ہیں ۔ اس شرک کا ارتکاب یوں ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایک قسم کا شرک کرتے ہیں اور بعض دوسری قسم کے شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر مختلف قسم کے مشرکین کے شرکاء اور معبود بھی مختلف ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے ان تمام اقسام پر کلمہ شرک کا اطلاق کیا ہے اور شاید قیامت کے منظر کے اندر ان مشرکین اور شرکاء کے زندہ مناظر پیش کرکے اہل ایمان کو حقیقت سمجھانے کی سعی کی ہے ۔ قرآن کریم نے لفظ شرک کو کسی ایک مفہوم تک محدود نہیں رکھا ہے اور نہ ان میں سے کسی ایک مفہوم سے متصف کسی شخص کو مشرک کہا ہے اور نہ دنیا اور آخرت میں ان تمام اقسام کے مشرکین کے انجام اور سزا اور ان کے ساتھ تعلق میں کوئی فرق کیا ہے ۔ عربوں کے اندر شرک کی یہ تمام اقسام پائی جاتی تھیں ۔ عربوں میں یہ اعتقاد موجود تھا کہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض اللہ کے ساتھ شریک ہیں ۔ یہ شرکت اس طرح ہے کہ اللہ کے ہاں جو بات وہ کہتے ہیں وہ لازما منظور ہوتی ہے ۔ لوگوں کی قسمتوں کے فیصلوں اور واقعات کی رونمائی میں ان کا بھی داخل ہوتا ہے ۔ مثلا فرشتے شریک ہوتے ہیں یا یوں کہ یہ مخلوقات انسان کو اذیت دینے پر قادر ہے ۔ مثلا جنات نقصان دیتے ہیں ۔ یا دونوں طریقوں سے یہ انسان کو اذیت دے سکتے ہیں ۔ مثلا آباؤ و اجداد کی روحیں بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ ان جنات ‘ کاہنوں اور اجداد کی ارواح کی طرف اشارات کے طور پر یہ لوگ ان کی طرف منسوب بت بناتے تھے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہوتا تھا کہ ان بتوں کے اندر ان خدا رسیدہ مخلوقات کی روح آجاتی ہے ۔ کاہن پھر ان روحوں اور بتوں کے ساتھ ہم کلام بھی ہوتے تھے ۔ یوں ان کے لئے یہ کاہن اس اسلوب اور اٹکل سے بعض چیزوں کو حرام کرتے تھے اور بعض کو حلال کرتے تھے ۔ اس طرح درحقیقت یہ کاہن ہی تھے جو یہ کام کرتے تھے اور وہی شریک کا درجہ رکھتے تھے ۔ مزید برآں شرک کا ارتکاب وہ اس طرح بھی کرتے تھے کہ ان بتوں کے سامنے مراسم بندگی ادا کرتے تھے ۔ ان کے استھانوں پر قربانیاں کرتے اور ان کی نذریں مانتے تھے ۔ یہ قربانیاں اور نذریں اور عبادات بھی دراصل وہ ان کاہنوں کی کرتے تھے ۔ بعض عرب ایرانیوں کے زیر اثر یہ بھی عقیدے رکھتے تھے کہ کواکب کو بھی واقعات عالم میں اثر ودخل حاصل ہے ‘ اور اس طرح گویا یہ ستارے بھی خدا کے شریک ہیں ۔ چناچہ عربوں کے اندر ستارہ پر ستی داخل ہوگئی ۔ اس سورة میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جو قصہ لایا گیا ہے وہ بھی اسی نقطہ نظر سے لایا گیا ہے اور اس سورة کے موضوع سے یہی بات اس قصے کو مربوط کردیتی ہے ۔ (جیسا کہ آگے ہم بتائیں گے انشاء اللہ) شرک کی تیسری صورت بھی ان عربوں کے اندر رائج تھی ۔ یہ لوگ کاہنوں کی مدد سے اپنے لئے دستور اور قانون خود بناتے تھے اور زندگی کے طور طریقے اور رسم و رواج اپنے لئے خود وضع کرتے تھے ۔ اگرچہ اس کے اندر قانون سازی کی اجازت اللہ نے نہ دی تھی لیکن خود قانون بنا کر وہ دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ اللہ کا قانون اور شریعت ہے جس طرح آج کے بعض سیاسی مفکر ایسا دعوی کرتے ہیں ۔ پس اس منظر میں ‘ یعنی قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ تمام قسم کے شرکاء کے بارے میں لوگوں کو بلا کر یہ سوال کریں گے کہ لاؤ ان کو اب جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے تھے ؟ آج تو ان کا کوئی پتہ نہیں ہے ۔ آج تو وہ اپنے متبعین کی کوئی امداد نہیں کرسکتے ۔ نہ ان کو اس ہولناک صورت حال سے بچا سکتے ہیں۔ (آیت) ” وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22) ” جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے ۔ “ یہ منظر بالکل آنکھوں کے سامنے ۔ گو میدان حشر برپا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکوں سے یہ باز پرس ہو رہی ہے اور ان کے لئے یہ باز پرس نہایت ہی المناک ہے ۔ ” وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں ؟ “ یہ ہولناک باز پرس انہیں حواس باختہ کردیتی ہے ۔ اب ان کی فطرت پر جو پردے پڑگئے تھے وہ پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ ان کی فطرت اور ان کی یادداشت سے وہ عارضی حالات محو ہوجاتے ہیں اس لئے کہ ان حالات کی بنیاد فطرت پر تھی ہی نہیں یہ غیر فطری اور محض سراب کی طرح عارضی حالات تھے ۔ ان کا شعور اب یہ بتاتا ہے کہ وہ کس طرح شریک ٹھہر سکتے ہیں ۔ وہ کہیں گے کہ نہ تو شرکاء موجود تھے اور نہ ہی ہم نے کسی کو شریک بنایا ۔ اب یہ منظر ان کے لئے ایک نئے فتنے کا سبب بنے گا ۔ اس حقیقی دربار میں اب خبیث اور بےاصل افکار ان کے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں جس طرح بھٹی میں تپ کر چیزوں سے غلط عناصر جھاگ کی شکل میں خارج ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23) ” تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ “ وہ حقیقت سامنے آگئی جس کی وجہ سے فتنہ چھٹ گیا یا اس کی روشنی میں فتنہ واضح ہوگیا ۔ ان لوگوں نے اپنے ماضی سے مکمل طور پر کٹ کر اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اقرار کرلیا لیکن انہوں نے یہ کام اس وقت کیا جب ان کے لئے اقرار مفید نہ تھا ۔ اس اقرار باطل سے علیحدگی ان کے لئے مفید نہ رہے گی ۔ بلکہ یہ ان کے لئے ایک مصیبت ہوگی اور ان کا یہ اقرار ان کے لئے اب موجب نجات نہ ہوگا ۔ وقت جا چکا ہوگا ۔ آج تو جزائے اعمال کا دن ہے ۔ آج تو آخری فیصلوں کا دن ہے ۔ یہ ریمانڈ کا دن نہ ہوگا ۔ ان کی اس حالت پر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ تبصرہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جب شرک کا ارتکاب کیا اور ان لوگوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا تو انہوں نے اپنے نفوس کے ساتھ جھوٹ اور فریب کا ارتکاب کیا اس لئے کہ اللہ کے ساتھ کسی شریک کا تو دراصل کوئی وجود ہی نہ تھا ۔ نہ ان شرکاء کی کوئی حقیقت تھی ۔ آج ان سے وہ افتراء غائب ہے ۔ انہوں نے حق کا اعتراف اس وقت کیا جب ان کا جھوٹا طلسم غائب ہوگیا۔ (آیت) ” انظُرْ کَیْْفَ کَذَبُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (24) ۔ ” دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ناپید ہوگئے ۔ “ انہوں نے اپنے اوپر جھوٹ بولا ہے ۔ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو انہوں نے اسی وقت اپنے اوپر جھوٹ بولا اور اپنے آپ کو فریب میں ڈال دیا ۔ اللہ پر افترا باندھا اور اب ان کے تمام معبود ناپید اور گمشدہ ہیں اور اب تو حشر اور حساب کا دن ہے ۔ میرے خیال میں اس آیت کی یہی اطمینان بخش تفسیر ہے ‘ کیونکہ منظر قیامت کا ہے اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور ذات باری کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ وہ مشرک نہ تھے اس لئے کہ قیامت کے دن ان کا جھوٹ ان کے خلاف ہوگا اس مفہوم میں ۔ کیونکہ قیامت کے دن وہ اللہ پر جھوٹ نہ باندھ سکیں گے اور نہ ارادۃ جھوٹی قسم اٹھا سکیں گے ۔ جن لوگوں نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ عمدا جھوٹ بولیں گے تو وہ اس لئے درست نہیں ہے کہ لایکتمون اللہ حدیثا کے بموجب وہ قیامت میں اللہ سے تو کوئی بات چھپا نہ سکیں گے ۔ بلکہ قیامت کے اس ہولناک منظر میں ان کی فطرت پاک وصاف ہوجائے گی اور اس سے شرک کی آلائشیں دور ہوجائیں گی ۔ لیکن اللہ ان پر تعجب فرماتا ہے کہ دیکھو انہوں نے دنیا میں اپنی زندگی کس جھوٹ میں بسر کی اور آج آخرت میں ان کے پردہ خیال میں اس جھوٹ کا کوئی اثر نہیں ہے ۔ (واللہ اعلم بالمراد) بہرحال یہ بھی احتمالات میں سے ایک احتمال ہے ۔ اگلی آیات میں مشرکین کا ایک دوسرا گروہ اسکرین پر آتا ہے اور اب ان کے کیس کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔ یہ مناظر قیامت میں سے ایک دوسرا منظر ہے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کو سنتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی قوت مدرکہ کو معطل کردیا ہے ‘ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے ۔ یہ لوگ تحریک اسلامی کے معاند ہیں اور اپنے آپ کو بہت ہی بڑی شے سمجھتے ہیں ۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے مجادلہ کر رہے ہیں۔ چناچہ اس صورت میں وہ آنکھیں بند کرنے اور نفرت کرنے کی وجہ سے اس قرآن کریم پر یہ تبصرہ کرتے ہیں ” یہ تو ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ “ اور پھر وہ دوسروں کو بھی اس حقیقت کو سننے اور قبول کرنے سے منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ ان کے حالات کی یہ تصویر صفحہ کی ایک طرف ہے اور اس صفحے کے دوسری جانب ان کی نہایت ہی مکروہ اور دردناک حالت کو منقش کیا گیا ہے ۔ وہ آگ کے کنارے کھڑے ہیں ‘ گرفتار ہیں اور انہیں اس خوفناک انجام کے دھانے پر کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ وہ نہایت ہی ذلت میں چیخ و پکار کرتے ہیں اور نہایت ہی حسرت آمیز انداز میں یہ تمنا کرتے ہیں کہ اگر انہیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے تو وہ اپنے موقف میں تبدیلی کرلیں گے جس کی وجہ سے ان کو یہ روز بد دیکھنا پڑا ۔ چناچہ نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں ان کی اس تمنا اور خواہش کو رد کیا جاتا ہے ۔

الأنعام 6:23

(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔ بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اس چیز کی حلت یا حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ۔ جس طرح آج ہمارے زمانے میں بیشمار لوگ دعوائے اسلام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ حالانکہ ان کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے ۔ اور اللہ پر افتراء ہے ۔ وہ خود اپنی جانب سے قوانین اور فرامین جاری کرتے ہیں ‘ خود اپنی جانب سے زندگی کے اوضاع واطوار اور رسومات پیدا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے نئی نئی چیزیں جاری کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان معاملات میں اللہ کے اقتدار اعلی کو غصب کرلیتے ہیں اور خود مقتدر اعلی بن بیٹھتے ہیں ۔ پھر بھی ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ہیں جو سراسر جھوٹ ہے ۔ ان میں سے تعلیم یافتہ لوگ جنہوں نے اپنا دین فروخت کردیا ہے اور اپنے لئے جہنم کے بدترین درجے کو الاٹ کرا لیا ہے وہ ایسے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پھر بھی مسلمان ہیں ۔ ان آیات میں ان کی جانب سے پیش کی جانے والی آیات کو جھٹلانے پر بھی ان کے خلاف نکیر کی جاتی ہے ۔ انہوں نے آیات الہیہ کو مسترد کیا ‘ ان کا مقابلہ اور انکار کیا ‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ آیات از جانب اللہ نہیں ہیں اور جس جاہلیت پر وہ عمل پیرا ہیں وہ از جانب اللہ ہیں ۔ یہ موقف بعینہ ویسا ہی ہے جس طرح آج کے دور میں اہل جاہلیت جدید اس کے مدعی ہیں ۔ ان دونوں کا موقف بالکل یکساں ہے ۔ (آیت) ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیتہ “۔ (6 : 21) ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ جھوٹا بہتان لگائے ‘ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ “ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے شرک کو ظلم اس لئے کہا گیا ہے کہ لفظ ” ظلم “ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس کے گھناؤنے پن اور قباحت کا اظہار اچھی طرح ہوجائے ۔ قرآن کریم میں بیشتر شرک کی تعبیر ظلم سے کی جاتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے ایک نہایت ہی برافعل سمجھ کر اس سے متنفر ہوجائیں اور حقیقت حال بھی یہی ہے کہ شرک سچائی کے ساتھ ظلم ہے ۔ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور عوام الناس پر ظلم ہے ۔ اس لئے کہ کبریائی صرف اللہ کا حق ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ اس سے اللہ کی حق تلفی ہوگی ۔ نفس انسانی پر یہ اس لئے ظلم ہے کہ اس کی وجہ سے یہ دائمی ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ اور لوگوں پر ظلم یہ ہے کہ وہ معرفت حق سے محروم ہوں گے اور ان کی زندگی ایسے اصولوں کے تحت چلتی رہے گی جو ظالمانہ ہوں گے ‘ غرض شرک ہر پہلو سے ظلم عظیم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں رب العالمین خود فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” انہ لا یفلح الظلمون “۔ (6 : 21) یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ ایک قاعدہ کلیہ بیان کردیتے ہیں اور حکم آجاتا ہے کہ مشرک یا ظلم اور ظالموں کا انجام کیا ہوگا ۔ انسانوں کی کوتاہ نظر آنکھیں جو کچھ دیکھ سکتی ہیں وہ قابل اعتبار حقیقت نہیں ہوتی ۔ انسان کی نظر نہایت ہی قریبی فاصلے تک ہوتی ہے ۔ انسان صرف دنیوی فلاح اور نجات کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو انجام بد تک پہنچاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ صادق القول اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اس موقعہ پر قرآن ان کی ناکامی اور عدم فلاح اور ان کے غلط موقف کی ایک تصویر کشی نہایت ہی زندہ ‘ متحرک اور دلکش الفاظ میں فرماتے ہیں : (آیت) ” وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22) ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23) انظُرْ کَیْْفَ کَذَبُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (24) (6 : 22 تا 24) ” جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکین سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ہو گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرک کی کئی قسمیں ہیں ۔ اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کی بھی کئی اقسام ہیں اور صورت حال وہ نہیں ہے جو عام طور پر کلمہ شرک اور شرکاء اور مشرکین کے اطلاق سے آج کل عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کچھ لوگ بتوں اور پتھروں کی پوجا کرتے ہیں یا پتھروں ‘ درختوں اور آگ وغیرہ کے مظاہر کی پرستش کرتے ہیں ۔ بس یہی ہے شرک کا مفہوم ۔ درحقیقت شرک تو یہ ہے کہ کوئی اللہ کے سوا کسی اور کے بارے میں یہ اعتراف کرے کہ ذات باری کے خصائص میں سے کچھ خصائص اس میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ چاہے وہ نظریاتی امور ہوں جن میں کا اس کائنات کے تصرفات میں سے کوئی امر اللہ کے سوا کسی اور سے منسوب کیا جائے ‘ یا مراسم عبودیت ہوں کہ اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے بجا لائے جائیں مثلا عبادت اور نذر ونیاز وغیرہ یا زندگی کے نظام کو درست کرنے کے لئے اصول اور ضابطے اللہ کے سوا کسی اور سے لیے جائیں ۔ یہ سب کے سب شرک کے الوان و اقسام ہیں ۔ اس شرک کا ارتکاب یوں ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایک قسم کا شرک کرتے ہیں اور بعض دوسری قسم کے شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر مختلف قسم کے مشرکین کے شرکاء اور معبود بھی مختلف ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے ان تمام اقسام پر کلمہ شرک کا اطلاق کیا ہے اور شاید قیامت کے منظر کے اندر ان مشرکین اور شرکاء کے زندہ مناظر پیش کرکے اہل ایمان کو حقیقت سمجھانے کی سعی کی ہے ۔ قرآن کریم نے لفظ شرک کو کسی ایک مفہوم تک محدود نہیں رکھا ہے اور نہ ان میں سے کسی ایک مفہوم سے متصف کسی شخص کو مشرک کہا ہے اور نہ دنیا اور آخرت میں ان تمام اقسام کے مشرکین کے انجام اور سزا اور ان کے ساتھ تعلق میں کوئی فرق کیا ہے ۔ عربوں کے اندر شرک کی یہ تمام اقسام پائی جاتی تھیں ۔ عربوں میں یہ اعتقاد موجود تھا کہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض اللہ کے ساتھ شریک ہیں ۔ یہ شرکت اس طرح ہے کہ اللہ کے ہاں جو بات وہ کہتے ہیں وہ لازما منظور ہوتی ہے ۔ لوگوں کی قسمتوں کے فیصلوں اور واقعات کی رونمائی میں ان کا بھی داخل ہوتا ہے ۔ مثلا فرشتے شریک ہوتے ہیں یا یوں کہ یہ مخلوقات انسان کو اذیت دینے پر قادر ہے ۔ مثلا جنات نقصان دیتے ہیں ۔ یا دونوں طریقوں سے یہ انسان کو اذیت دے سکتے ہیں ۔ مثلا آباؤ و اجداد کی روحیں بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ ان جنات ‘ کاہنوں اور اجداد کی ارواح کی طرف اشارات کے طور پر یہ لوگ ان کی طرف منسوب بت بناتے تھے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہوتا تھا کہ ان بتوں کے اندر ان خدا رسیدہ مخلوقات کی روح آجاتی ہے ۔ کاہن پھر ان روحوں اور بتوں کے ساتھ ہم کلام بھی ہوتے تھے ۔ یوں ان کے لئے یہ کاہن اس اسلوب اور اٹکل سے بعض چیزوں کو حرام کرتے تھے اور بعض کو حلال کرتے تھے ۔ اس طرح درحقیقت یہ کاہن ہی تھے جو یہ کام کرتے تھے اور وہی شریک کا درجہ رکھتے تھے ۔ مزید برآں شرک کا ارتکاب وہ اس طرح بھی کرتے تھے کہ ان بتوں کے سامنے مراسم بندگی ادا کرتے تھے ۔ ان کے استھانوں پر قربانیاں کرتے اور ان کی نذریں مانتے تھے ۔ یہ قربانیاں اور نذریں اور عبادات بھی دراصل وہ ان کاہنوں کی کرتے تھے ۔ بعض عرب ایرانیوں کے زیر اثر یہ بھی عقیدے رکھتے تھے کہ کواکب کو بھی واقعات عالم میں اثر ودخل حاصل ہے ‘ اور اس طرح گویا یہ ستارے بھی خدا کے شریک ہیں ۔ چناچہ عربوں کے اندر ستارہ پر ستی داخل ہوگئی ۔ اس سورة میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جو قصہ لایا گیا ہے وہ بھی اسی نقطہ نظر سے لایا گیا ہے اور اس سورة کے موضوع سے یہی بات اس قصے کو مربوط کردیتی ہے ۔ (جیسا کہ آگے ہم بتائیں گے انشاء اللہ) شرک کی تیسری صورت بھی ان عربوں کے اندر رائج تھی ۔ یہ لوگ کاہنوں کی مدد سے اپنے لئے دستور اور قانون خود بناتے تھے اور زندگی کے طور طریقے اور رسم و رواج اپنے لئے خود وضع کرتے تھے ۔ اگرچہ اس کے اندر قانون سازی کی اجازت اللہ نے نہ دی تھی لیکن خود قانون بنا کر وہ دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ اللہ کا قانون اور شریعت ہے جس طرح آج کے بعض سیاسی مفکر ایسا دعوی کرتے ہیں ۔ پس اس منظر میں ‘ یعنی قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ تمام قسم کے شرکاء کے بارے میں لوگوں کو بلا کر یہ سوال کریں گے کہ لاؤ ان کو اب جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے تھے ؟ آج تو ان کا کوئی پتہ نہیں ہے ۔ آج تو وہ اپنے متبعین کی کوئی امداد نہیں کرسکتے ۔ نہ ان کو اس ہولناک صورت حال سے بچا سکتے ہیں۔ (آیت) ” وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22) ” جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے ۔ “ یہ منظر بالکل آنکھوں کے سامنے ۔ گو میدان حشر برپا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکوں سے یہ باز پرس ہو رہی ہے اور ان کے لئے یہ باز پرس نہایت ہی المناک ہے ۔ ” وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں ؟ “ یہ ہولناک باز پرس انہیں حواس باختہ کردیتی ہے ۔ اب ان کی فطرت پر جو پردے پڑگئے تھے وہ پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ ان کی فطرت اور ان کی یادداشت سے وہ عارضی حالات محو ہوجاتے ہیں اس لئے کہ ان حالات کی بنیاد فطرت پر تھی ہی نہیں یہ غیر فطری اور محض سراب کی طرح عارضی حالات تھے ۔ ان کا شعور اب یہ بتاتا ہے کہ وہ کس طرح شریک ٹھہر سکتے ہیں ۔ وہ کہیں گے کہ نہ تو شرکاء موجود تھے اور نہ ہی ہم نے کسی کو شریک بنایا ۔ اب یہ منظر ان کے لئے ایک نئے فتنے کا سبب بنے گا ۔ اس حقیقی دربار میں اب خبیث اور بےاصل افکار ان کے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں جس طرح بھٹی میں تپ کر چیزوں سے غلط عناصر جھاگ کی شکل میں خارج ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23) ” تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ “ وہ حقیقت سامنے آگئی جس کی وجہ سے فتنہ چھٹ گیا یا اس کی روشنی میں فتنہ واضح ہوگیا ۔ ان لوگوں نے اپنے ماضی سے مکمل طور پر کٹ کر اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اقرار کرلیا لیکن انہوں نے یہ کام اس وقت کیا جب ان کے لئے اقرار مفید نہ تھا ۔ اس اقرار باطل سے علیحدگی ان کے لئے مفید نہ رہے گی ۔ بلکہ یہ ان کے لئے ایک مصیبت ہوگی اور ان کا یہ اقرار ان کے لئے اب موجب نجات نہ ہوگا ۔ وقت جا چکا ہوگا ۔ آج تو جزائے اعمال کا دن ہے ۔ آج تو آخری فیصلوں کا دن ہے ۔ یہ ریمانڈ کا دن نہ ہوگا ۔ ان کی اس حالت پر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ تبصرہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جب شرک کا ارتکاب کیا اور ان لوگوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا تو انہوں نے اپنے نفوس کے ساتھ جھوٹ اور فریب کا ارتکاب کیا اس لئے کہ اللہ کے ساتھ کسی شریک کا تو دراصل کوئی وجود ہی نہ تھا ۔ نہ ان شرکاء کی کوئی حقیقت تھی ۔ آج ان سے وہ افتراء غائب ہے ۔ انہوں نے حق کا اعتراف اس وقت کیا جب ان کا جھوٹا طلسم غائب ہوگیا۔ (آیت) ” انظُرْ کَیْْفَ کَذَبُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (24) ۔ ” دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ناپید ہوگئے ۔ “ انہوں نے اپنے اوپر جھوٹ بولا ہے ۔ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو انہوں نے اسی وقت اپنے اوپر جھوٹ بولا اور اپنے آپ کو فریب میں ڈال دیا ۔ اللہ پر افترا باندھا اور اب ان کے تمام معبود ناپید اور گمشدہ ہیں اور اب تو حشر اور حساب کا دن ہے ۔ میرے خیال میں اس آیت کی یہی اطمینان بخش تفسیر ہے ‘ کیونکہ منظر قیامت کا ہے اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور ذات باری کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ وہ مشرک نہ تھے اس لئے کہ قیامت کے دن ان کا جھوٹ ان کے خلاف ہوگا اس مفہوم میں ۔ کیونکہ قیامت کے دن وہ اللہ پر جھوٹ نہ باندھ سکیں گے اور نہ ارادۃ جھوٹی قسم اٹھا سکیں گے ۔ جن لوگوں نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ عمدا جھوٹ بولیں گے تو وہ اس لئے درست نہیں ہے کہ لایکتمون اللہ حدیثا کے بموجب وہ قیامت میں اللہ سے تو کوئی بات چھپا نہ سکیں گے ۔ بلکہ قیامت کے اس ہولناک منظر میں ان کی فطرت پاک وصاف ہوجائے گی اور اس سے شرک کی آلائشیں دور ہوجائیں گی ۔ لیکن اللہ ان پر تعجب فرماتا ہے کہ دیکھو انہوں نے دنیا میں اپنی زندگی کس جھوٹ میں بسر کی اور آج آخرت میں ان کے پردہ خیال میں اس جھوٹ کا کوئی اثر نہیں ہے ۔ (واللہ اعلم بالمراد) بہرحال یہ بھی احتمالات میں سے ایک احتمال ہے ۔ اگلی آیات میں مشرکین کا ایک دوسرا گروہ اسکرین پر آتا ہے اور اب ان کے کیس کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔ یہ مناظر قیامت میں سے ایک دوسرا منظر ہے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کو سنتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی قوت مدرکہ کو معطل کردیا ہے ‘ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے ۔ یہ لوگ تحریک اسلامی کے معاند ہیں اور اپنے آپ کو بہت ہی بڑی شے سمجھتے ہیں ۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے مجادلہ کر رہے ہیں۔ چناچہ اس صورت میں وہ آنکھیں بند کرنے اور نفرت کرنے کی وجہ سے اس قرآن کریم پر یہ تبصرہ کرتے ہیں ” یہ تو ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ “ اور پھر وہ دوسروں کو بھی اس حقیقت کو سننے اور قبول کرنے سے منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ ان کے حالات کی یہ تصویر صفحہ کی ایک طرف ہے اور اس صفحے کے دوسری جانب ان کی نہایت ہی مکروہ اور دردناک حالت کو منقش کیا گیا ہے ۔ وہ آگ کے کنارے کھڑے ہیں ‘ گرفتار ہیں اور انہیں اس خوفناک انجام کے دھانے پر کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ وہ نہایت ہی ذلت میں چیخ و پکار کرتے ہیں اور نہایت ہی حسرت آمیز انداز میں یہ تمنا کرتے ہیں کہ اگر انہیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے تو وہ اپنے موقف میں تبدیلی کرلیں گے جس کی وجہ سے ان کو یہ روز بد دیکھنا پڑا ۔ چناچہ نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں ان کی اس تمنا اور خواہش کو رد کیا جاتا ہے ۔

الأنعام 6:24

(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔ بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا تذکرہ کیا گیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اس چیز کی حلت یا حرمت کا کوئی حکم نہیں دیا تھا ۔ جس طرح آج ہمارے زمانے میں بیشمار لوگ دعوائے اسلام کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ‘ حالانکہ ان کا یہ دعوی سراسر جھوٹا ہے ۔ اور اللہ پر افتراء ہے ۔ وہ خود اپنی جانب سے قوانین اور فرامین جاری کرتے ہیں ‘ خود اپنی جانب سے زندگی کے اوضاع واطوار اور رسومات پیدا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے نئی نئی چیزیں جاری کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان معاملات میں اللہ کے اقتدار اعلی کو غصب کرلیتے ہیں اور خود مقتدر اعلی بن بیٹھتے ہیں ۔ پھر بھی ان کا دعوی یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ہیں جو سراسر جھوٹ ہے ۔ ان میں سے تعلیم یافتہ لوگ جنہوں نے اپنا دین فروخت کردیا ہے اور اپنے لئے جہنم کے بدترین درجے کو الاٹ کرا لیا ہے وہ ایسے لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ پھر بھی مسلمان ہیں ۔ ان آیات میں ان کی جانب سے پیش کی جانے والی آیات کو جھٹلانے پر بھی ان کے خلاف نکیر کی جاتی ہے ۔ انہوں نے آیات الہیہ کو مسترد کیا ‘ ان کا مقابلہ اور انکار کیا ‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ یہ آیات از جانب اللہ نہیں ہیں اور جس جاہلیت پر وہ عمل پیرا ہیں وہ از جانب اللہ ہیں ۔ یہ موقف بعینہ ویسا ہی ہے جس طرح آج کے دور میں اہل جاہلیت جدید اس کے مدعی ہیں ۔ ان دونوں کا موقف بالکل یکساں ہے ۔ (آیت) ” وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً أَوْ کَذَّبَ بِآیتہ “۔ (6 : 21) ” اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ جھوٹا بہتان لگائے ‘ یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟ “ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے شرک کو ظلم اس لئے کہا گیا ہے کہ لفظ ” ظلم “ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے اس کے گھناؤنے پن اور قباحت کا اظہار اچھی طرح ہوجائے ۔ قرآن کریم میں بیشتر شرک کی تعبیر ظلم سے کی جاتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ اسے ایک نہایت ہی برافعل سمجھ کر اس سے متنفر ہوجائیں اور حقیقت حال بھی یہی ہے کہ شرک سچائی کے ساتھ ظلم ہے ۔ نفس انسانی کے ساتھ ظلم ہے اور عوام الناس پر ظلم ہے ۔ اس لئے کہ کبریائی صرف اللہ کا حق ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے کیونکہ اس سے اللہ کی حق تلفی ہوگی ۔ نفس انسانی پر یہ اس لئے ظلم ہے کہ اس کی وجہ سے یہ دائمی ہلاکت میں پڑجائے گا ۔ اور لوگوں پر ظلم یہ ہے کہ وہ معرفت حق سے محروم ہوں گے اور ان کی زندگی ایسے اصولوں کے تحت چلتی رہے گی جو ظالمانہ ہوں گے ‘ غرض شرک ہر پہلو سے ظلم عظیم ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں رب العالمین خود فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” انہ لا یفلح الظلمون “۔ (6 : 21) یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ ایک قاعدہ کلیہ بیان کردیتے ہیں اور حکم آجاتا ہے کہ مشرک یا ظلم اور ظالموں کا انجام کیا ہوگا ۔ انسانوں کی کوتاہ نظر آنکھیں جو کچھ دیکھ سکتی ہیں وہ قابل اعتبار حقیقت نہیں ہوتی ۔ انسان کی نظر نہایت ہی قریبی فاصلے تک ہوتی ہے ۔ انسان صرف دنیوی فلاح اور نجات کو دیکھ سکتا ہے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو انجام بد تک پہنچاتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ صادق القول اور کوئی نہیں ہو سکتا ۔ اس موقعہ پر قرآن ان کی ناکامی اور عدم فلاح اور ان کے غلط موقف کی ایک تصویر کشی نہایت ہی زندہ ‘ متحرک اور دلکش الفاظ میں فرماتے ہیں : (آیت) ” وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22) ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23) انظُرْ کَیْْفَ کَذَبُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (24) (6 : 22 تا 24) ” جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکین سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ہو گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرک کی کئی قسمیں ہیں ۔ اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کی بھی کئی اقسام ہیں اور صورت حال وہ نہیں ہے جو عام طور پر کلمہ شرک اور شرکاء اور مشرکین کے اطلاق سے آج کل عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ کچھ لوگ بتوں اور پتھروں کی پوجا کرتے ہیں یا پتھروں ‘ درختوں اور آگ وغیرہ کے مظاہر کی پرستش کرتے ہیں ۔ بس یہی ہے شرک کا مفہوم ۔ درحقیقت شرک تو یہ ہے کہ کوئی اللہ کے سوا کسی اور کے بارے میں یہ اعتراف کرے کہ ذات باری کے خصائص میں سے کچھ خصائص اس میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ چاہے وہ نظریاتی امور ہوں جن میں کا اس کائنات کے تصرفات میں سے کوئی امر اللہ کے سوا کسی اور سے منسوب کیا جائے ‘ یا مراسم عبودیت ہوں کہ اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے بجا لائے جائیں مثلا عبادت اور نذر ونیاز وغیرہ یا زندگی کے نظام کو درست کرنے کے لئے اصول اور ضابطے اللہ کے سوا کسی اور سے لیے جائیں ۔ یہ سب کے سب شرک کے الوان و اقسام ہیں ۔ اس شرک کا ارتکاب یوں ہوتا ہے کہ بعض لوگ ایک قسم کا شرک کرتے ہیں اور بعض دوسری قسم کے شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور پھر مختلف قسم کے مشرکین کے شرکاء اور معبود بھی مختلف ہوتے ہیں۔ قرآن کریم نے ان تمام اقسام پر کلمہ شرک کا اطلاق کیا ہے اور شاید قیامت کے منظر کے اندر ان مشرکین اور شرکاء کے زندہ مناظر پیش کرکے اہل ایمان کو حقیقت سمجھانے کی سعی کی ہے ۔ قرآن کریم نے لفظ شرک کو کسی ایک مفہوم تک محدود نہیں رکھا ہے اور نہ ان میں سے کسی ایک مفہوم سے متصف کسی شخص کو مشرک کہا ہے اور نہ دنیا اور آخرت میں ان تمام اقسام کے مشرکین کے انجام اور سزا اور ان کے ساتھ تعلق میں کوئی فرق کیا ہے ۔ عربوں کے اندر شرک کی یہ تمام اقسام پائی جاتی تھیں ۔ عربوں میں یہ اعتقاد موجود تھا کہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض اللہ کے ساتھ شریک ہیں ۔ یہ شرکت اس طرح ہے کہ اللہ کے ہاں جو بات وہ کہتے ہیں وہ لازما منظور ہوتی ہے ۔ لوگوں کی قسمتوں کے فیصلوں اور واقعات کی رونمائی میں ان کا بھی داخل ہوتا ہے ۔ مثلا فرشتے شریک ہوتے ہیں یا یوں کہ یہ مخلوقات انسان کو اذیت دینے پر قادر ہے ۔ مثلا جنات نقصان دیتے ہیں ۔ یا دونوں طریقوں سے یہ انسان کو اذیت دے سکتے ہیں ۔ مثلا آباؤ و اجداد کی روحیں بھی نقصان پہنچا سکتی ہیں ۔ ان جنات ‘ کاہنوں اور اجداد کی ارواح کی طرف اشارات کے طور پر یہ لوگ ان کی طرف منسوب بت بناتے تھے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہوتا تھا کہ ان بتوں کے اندر ان خدا رسیدہ مخلوقات کی روح آجاتی ہے ۔ کاہن پھر ان روحوں اور بتوں کے ساتھ ہم کلام بھی ہوتے تھے ۔ یوں ان کے لئے یہ کاہن اس اسلوب اور اٹکل سے بعض چیزوں کو حرام کرتے تھے اور بعض کو حلال کرتے تھے ۔ اس طرح درحقیقت یہ کاہن ہی تھے جو یہ کام کرتے تھے اور وہی شریک کا درجہ رکھتے تھے ۔ مزید برآں شرک کا ارتکاب وہ اس طرح بھی کرتے تھے کہ ان بتوں کے سامنے مراسم بندگی ادا کرتے تھے ۔ ان کے استھانوں پر قربانیاں کرتے اور ان کی نذریں مانتے تھے ۔ یہ قربانیاں اور نذریں اور عبادات بھی دراصل وہ ان کاہنوں کی کرتے تھے ۔ بعض عرب ایرانیوں کے زیر اثر یہ بھی عقیدے رکھتے تھے کہ کواکب کو بھی واقعات عالم میں اثر ودخل حاصل ہے ‘ اور اس طرح گویا یہ ستارے بھی خدا کے شریک ہیں ۔ چناچہ عربوں کے اندر ستارہ پر ستی داخل ہوگئی ۔ اس سورة میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا جو قصہ لایا گیا ہے وہ بھی اسی نقطہ نظر سے لایا گیا ہے اور اس سورة کے موضوع سے یہی بات اس قصے کو مربوط کردیتی ہے ۔ (جیسا کہ آگے ہم بتائیں گے انشاء اللہ) شرک کی تیسری صورت بھی ان عربوں کے اندر رائج تھی ۔ یہ لوگ کاہنوں کی مدد سے اپنے لئے دستور اور قانون خود بناتے تھے اور زندگی کے طور طریقے اور رسم و رواج اپنے لئے خود وضع کرتے تھے ۔ اگرچہ اس کے اندر قانون سازی کی اجازت اللہ نے نہ دی تھی لیکن خود قانون بنا کر وہ دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ اللہ کا قانون اور شریعت ہے جس طرح آج کے بعض سیاسی مفکر ایسا دعوی کرتے ہیں ۔ پس اس منظر میں ‘ یعنی قیامت کے دن ‘ اللہ تعالیٰ تمام قسم کے شرکاء کے بارے میں لوگوں کو بلا کر یہ سوال کریں گے کہ لاؤ ان کو اب جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے تھے ؟ آج تو ان کا کوئی پتہ نہیں ہے ۔ آج تو وہ اپنے متبعین کی کوئی امداد نہیں کرسکتے ۔ نہ ان کو اس ہولناک صورت حال سے بچا سکتے ہیں۔ (آیت) ” وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعاً ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ أَیْْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (22) ” جس روز ہم ان کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم خدا سمجھتے تھے ۔ “ یہ منظر بالکل آنکھوں کے سامنے ۔ گو میدان حشر برپا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ مشرکوں سے یہ باز پرس ہو رہی ہے اور ان کے لئے یہ باز پرس نہایت ہی المناک ہے ۔ ” وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں ؟ “ یہ ہولناک باز پرس انہیں حواس باختہ کردیتی ہے ۔ اب ان کی فطرت پر جو پردے پڑگئے تھے وہ پردے ہٹ جاتے ہیں ۔ ان کی فطرت اور ان کی یادداشت سے وہ عارضی حالات محو ہوجاتے ہیں اس لئے کہ ان حالات کی بنیاد فطرت پر تھی ہی نہیں یہ غیر فطری اور محض سراب کی طرح عارضی حالات تھے ۔ ان کا شعور اب یہ بتاتا ہے کہ وہ کس طرح شریک ٹھہر سکتے ہیں ۔ وہ کہیں گے کہ نہ تو شرکاء موجود تھے اور نہ ہی ہم نے کسی کو شریک بنایا ۔ اب یہ منظر ان کے لئے ایک نئے فتنے کا سبب بنے گا ۔ اس حقیقی دربار میں اب خبیث اور بےاصل افکار ان کے ذہن سے محو ہوجاتے ہیں جس طرح بھٹی میں تپ کر چیزوں سے غلط عناصر جھاگ کی شکل میں خارج ہوجاتے ہیں ۔ (آیت) ” ثُمَّ لَمْ تَکُن فِتْنَتُہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ (23) ” تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ اے ہمارے آقا ! تیری قسم ہم ہر گز مشرک نہ تھے ۔ “ وہ حقیقت سامنے آگئی جس کی وجہ سے فتنہ چھٹ گیا یا اس کی روشنی میں فتنہ واضح ہوگیا ۔ ان لوگوں نے اپنے ماضی سے مکمل طور پر کٹ کر اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اقرار کرلیا لیکن انہوں نے یہ کام اس وقت کیا جب ان کے لئے اقرار مفید نہ تھا ۔ اس اقرار باطل سے علیحدگی ان کے لئے مفید نہ رہے گی ۔ بلکہ یہ ان کے لئے ایک مصیبت ہوگی اور ان کا یہ اقرار ان کے لئے اب موجب نجات نہ ہوگا ۔ وقت جا چکا ہوگا ۔ آج تو جزائے اعمال کا دن ہے ۔ آج تو آخری فیصلوں کا دن ہے ۔ یہ ریمانڈ کا دن نہ ہوگا ۔ ان کی اس حالت پر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ تبصرہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جب شرک کا ارتکاب کیا اور ان لوگوں کو اللہ کا شریک ٹھہرایا تو انہوں نے اپنے نفوس کے ساتھ جھوٹ اور فریب کا ارتکاب کیا اس لئے کہ اللہ کے ساتھ کسی شریک کا تو دراصل کوئی وجود ہی نہ تھا ۔ نہ ان شرکاء کی کوئی حقیقت تھی ۔ آج ان سے وہ افتراء غائب ہے ۔ انہوں نے حق کا اعتراف اس وقت کیا جب ان کا جھوٹا طلسم غائب ہوگیا۔ (آیت) ” انظُرْ کَیْْفَ کَذَبُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (24) ۔ ” دیکھو اس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبود گم ناپید ہوگئے ۔ “ انہوں نے اپنے اوپر جھوٹ بولا ہے ۔ جب انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا تو انہوں نے اسی وقت اپنے اوپر جھوٹ بولا اور اپنے آپ کو فریب میں ڈال دیا ۔ اللہ پر افترا باندھا اور اب ان کے تمام معبود ناپید اور گمشدہ ہیں اور اب تو حشر اور حساب کا دن ہے ۔ میرے خیال میں اس آیت کی یہی اطمینان بخش تفسیر ہے ‘ کیونکہ منظر قیامت کا ہے اور وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں اور ذات باری کی قسم اٹھا کر کہتے ہیں کہ وہ مشرک نہ تھے اس لئے کہ قیامت کے دن ان کا جھوٹ ان کے خلاف ہوگا اس مفہوم میں ۔ کیونکہ قیامت کے دن وہ اللہ پر جھوٹ نہ باندھ سکیں گے اور نہ ارادۃ جھوٹی قسم اٹھا سکیں گے ۔ جن لوگوں نے اس آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ وہ عمدا جھوٹ بولیں گے تو وہ اس لئے درست نہیں ہے کہ لایکتمون اللہ حدیثا کے بموجب وہ قیامت میں اللہ سے تو کوئی بات چھپا نہ سکیں گے ۔ بلکہ قیامت کے اس ہولناک منظر میں ان کی فطرت پاک وصاف ہوجائے گی اور اس سے شرک کی آلائشیں دور ہوجائیں گی ۔ لیکن اللہ ان پر تعجب فرماتا ہے کہ دیکھو انہوں نے دنیا میں اپنی زندگی کس جھوٹ میں بسر کی اور آج آخرت میں ان کے پردہ خیال میں اس جھوٹ کا کوئی اثر نہیں ہے ۔ (واللہ اعلم بالمراد) بہرحال یہ بھی احتمالات میں سے ایک احتمال ہے ۔ اگلی آیات میں مشرکین کا ایک دوسرا گروہ اسکرین پر آتا ہے اور اب ان کے کیس کا فیصلہ کردیا جاتا ہے ۔ یہ مناظر قیامت میں سے ایک دوسرا منظر ہے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کو سنتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی قوت مدرکہ کو معطل کردیا ہے ‘ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے ۔ یہ لوگ تحریک اسلامی کے معاند ہیں اور اپنے آپ کو بہت ہی بڑی شے سمجھتے ہیں ۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے مجادلہ کر رہے ہیں۔ چناچہ اس صورت میں وہ آنکھیں بند کرنے اور نفرت کرنے کی وجہ سے اس قرآن کریم پر یہ تبصرہ کرتے ہیں ” یہ تو ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ “ اور پھر وہ دوسروں کو بھی اس حقیقت کو سننے اور قبول کرنے سے منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ ان کے حالات کی یہ تصویر صفحہ کی ایک طرف ہے اور اس صفحے کے دوسری جانب ان کی نہایت ہی مکروہ اور دردناک حالت کو منقش کیا گیا ہے ۔ وہ آگ کے کنارے کھڑے ہیں ‘ گرفتار ہیں اور انہیں اس خوفناک انجام کے دھانے پر کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ وہ نہایت ہی ذلت میں چیخ و پکار کرتے ہیں اور نہایت ہی حسرت آمیز انداز میں یہ تمنا کرتے ہیں کہ اگر انہیں دنیا کی طرف لوٹایا جائے تو وہ اپنے موقف میں تبدیلی کرلیں گے جس کی وجہ سے ان کو یہ روز بد دیکھنا پڑا ۔ چناچہ نہایت ہی حقارت آمیز انداز میں ان کی اس تمنا اور خواہش کو رد کیا جاتا ہے ۔

الأنعام 6:25

(آیت) ” نمبر 25 تا 28۔ اس کی تصویر کے یہ دو رخ ہیں ۔ ایک رخ دنیا سے متعلق ہے جس میں عناد ‘ بغض اور سرکشی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور دوسرا رخ آخرت سے متعلق ہے اور اس میں حسرت اور ندامت کے رنگ ہیں ۔ قرآن کریم ان دونوں حالتوں کی تصویر کشی نہایت ہی موثر اور اشاراتی انداز میں کرتا ہے ۔ جامد فطرت پگھل جاتی ہے اور اس میں حرکت اور جوش پیدا ہوجاتا ہے ‘ شاید کہ اس کے اوپر جہالت کی جو تہیں چڑھی ہوئی ہیں وہ دور ہوجائیں اور فطرت کے بند دریچے وا ہوجائیں اور قبل اس کے کہ وقت ختم ہو وہ راہ راست پر آجائے ۔ (آیت) ” وَمِنْہُم مَّن یَسْتَمِعُ إِلَیْْکَ وَجَعَلْنَا عَلَی قُلُوبِہِمْ أَکِنَّۃً أَن یَفْقَہُوہُ وَفِیْ آذَانِہِمْ وَقْراً وَإِن یَرَوْاْ کُلَّ آیَۃٍ لاَّ یُؤْمِنُواْ بِہَا (6 : 25) ” ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے ۔ (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے) وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ‘ اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے ۔ انسانیت کے یہ ایسے نمونے ہیں کہ بظاہر سنتے ہیں لیکن ان کے دلوں پر پردے ہیں ۔ اکنہ کے معنی ہیں غلاف ۔ اور یہ غلاف قوت مدرکہ کو بند کردیتے ہیں ۔ الوقر کا مفہوم ہے بوجھ یعنی ان کے کان بھاری ہیں ‘ اس لئے اس بھارے پن کی وجہ سے وہ سننے کا فریضہ ادا نہیں کرسکتے ۔ اس قسم کے لوگ انسانیت کا حصہ ہیں اور ہر دور میں اور ہر جگہ موجود رہتے ہیں ۔ ہر قوم اور ہر قبیلے میں ایسے لوگ ہوتے ہی ہیں ۔ یہ ٹھیک ٹھیک انسان ہوتے ہیں۔ بظاہر وہ بات سنتے ہیں لیکن سنی ان سنی کردیتے ہیں ۔ ان کے کان گویا بہرے ہیں ۔ اپنا فریضہ منصب فطری ادا نہیں کرتے ۔ ان کی قوت مدرکہ گویا غلافوں میں لپٹی ہوئی ہے اور اس تک قرآنی مدلولات نہیں پہنچے ۔ (آیت) ” حَتَّی إِذَا جَآؤُوکَ یُجَادِلُونَکَ یَقُولُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِنْ ہَذَا إِلاَّ أَسَاطِیْرُ الأَوَّلِیْنَ (25) ” حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آکر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے وہ (ساری بات سننے کے بعد) کہتے ہیں کہ یہ ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں ۔ “ ان کی آنکھیں بھی دیکھ رہی ہوتی ہیں لیکن درحقیقت وہ کچھ نہیں دیکھ رہی ہوتیں ۔ جو منظر وہ دیکھتی ہیں ان کا ان کے دل و دماغ پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ اور کیا بات ہے جو انہیں سمجھنے اور قبول کرنے سے روک رہی ہے ؟ حالانکہ وہ سننے والے کان ‘ بینا آنکھیں اور تیز علق کے مالک ہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” مگر ان کا حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں جن کی وجہ سے وہ کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ہے ۔ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں اس پر ایمان لا کر نہ دیں گے ۔ “ یوں ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کو بیان کیا جاتا ہے کہ ان کا ادراک اس حقیقت تک نہ پہنچ سکے گا اور نہ ہی اسے سمجھ سکے گا ان کی قوت شنوائی کام چھوڑ دے گی ۔ وہ ان کی قوت مدرکہ تک ان کی رہنمائی ہی نہ کرے گی کہ وہ اسے سمجھ سکیں اور قبول کریں چاہے وہ اپنی آنکھوں سے حقائق کو دیکھ رہے ہوں اور دلائل ایمان ان کے سامنے ہوں ۔ ہاں ‘ ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس فیصلے میں سنت الہیہ کو پڑھنے کی سعی کریں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا “۔ ” جو لوگ ہمارے بارے میں سعی کریں گے ہم انہیں ضرور اپنی راہوں کی طرف لے جائیں گے ۔ “ اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا (7) فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا (8) قَدْ أَفْلَحَ مَن زَکَّاہَا (9) وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاہَا (10) ” اور نفس انسانی کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا ‘ پھر اس کی بدی اور اس کی پرہیز گاری اس پر الہام کردی ‘ یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا اور نامراد ہوا وہ جس نے اس کو دبا دیا ۔ “ (الشمس) اللہ کی سنت یہ ہے کہ وہ ہر اس شخص کو ہدایت دیتا ہے جو ہدایت پانے کی جدوجہد کر رہا ہو اور ہر اس شخص کو کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے جو اپنے نفس کو پاک اور مطہر کرلے ۔ مذکورہ بالا لوگوں کا رویہ یہ رہا کہ انہوں نے قبول ہدایت کے لئے کوئی سعی نہ کی اور انہوں نے قبولیت حق کی فطری قوتوں کو اس طرف متوجہ ہی نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو قبولیت حق کی توفیق دے دیتا ۔ انہوں نے قبولیت حق کی فطری قوتوں کو اس طرح متوجہ ہی نہ کیا کہ اللہ تعالیٰ ان کو قبولیت حق کی توفیق دے دیتا ۔ انہوں نے دراصل اپنی فطری قوتوں کو معطل کردیا اور یوں اللہ تعالیٰ نے ان کے اور سچائی کے درمیان حجاب ڈال دیا ۔ ان کے بارے میں سنت الہیہ کے مطابق فیصلہ یہ ہوا کہ انہیں ان کے پہلے فعل اور ان کی نیت اور ارادے پر چھوڑ دیا جائے ۔ ہر کام اللہ کے حکم اور امر الہی سے ہوتا ہے اور اللہ کا امر اور حکم یہ ہے کہ جو بھی جدوجہد کرے اسے راہنمائی فراہم کی جائے اور جو بھی تزکیہ نفس کرے کامیاب ہو ۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اعراض کرنے والوں کے دلوں پر پردے ڈال دے اور وہ سمجھ ہی نہ سکیں ۔ ان کے کان بہرے ہوجائیں اور وہ سن ہی نہ سکیں ۔ اپنی آنکھوں سے آیات و دلائل دیکھیں اور ہدایت نہ پاسکیں ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی گواہی ‘ ان کی جانب سے شرک کا ارتکاب اور انکی تمام خطاکاریاں اللہ کے ارادے کے نتیجے میں ہیں اور یہ کہ ان کے بارے میں تو اللہ نے پہلے ہی فیصلے کردیئے ہیں ۔ وہ اپنی اس سوچ میں مغالطے کا شکار ہوگئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے حقیقت پیش فرماتے ہیں۔ ان کے یہ اقوال نقل کر کے ان کا سقم ظاہر فرماتے ہیں ۔ ذرا اس آیت پر غور کریں : (آیت) ” وقال الذین اشرکوا لو شآء اللہ ما عبدنا من دونہ من شیء نحن ولا ابآؤنا ولا حرمنا من دونہ من شیء کذلک فعل الذین من قبلھم فھل علی الرسل الا البلغ المبین ۔ (35) ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت فمنھم من ھدی اللہ ومنھم من حق علیہ الضللۃ فسیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین “۔ (36) (16 : 35۔ 36) ” یہ مشرکین کہتے ہیں ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ۔ اور نہ اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔ “ ایسے ہی بہانے ان سے لوگ بھی بناتے رہے ہیں ۔ تو کیا رسولوں پر صاف صاف بات پہنچا دینے کے سوا اور بھی کوئی ذمہ داری ہے ؟ ۔ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا ‘ اور اس کے ذریعے سے سب خبر دار کردیا کہ ” اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔ “ اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہوگئی ۔ پھر ذرا چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوچکا ہے ؟ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول پر ناراضگی کا اظہار کیا اور یہ کہ ان کی گمراہی کا فیصلہ اس لئے کردیا گیا کہ ان پرفریضہ تبلیغ ادا ہوگیا ۔ اس کے بعد ان کے طرز عمل کی وجہ سے ان کے ساتھ یہ سلوک ہوا ۔ جو لوگ قضا وقدر اور صبر اور اختیار کے مسائل میں اور بندے کے ارادے اور اس کے عمل کے بارے میں فضول مباحث کرتے ہیں اور ان سادہ سے مسائل کو پیچیدہ لاہوتی مباحث بنا دیتے ہیں وہ ان باتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں جو ان کی عقل میں آتی ہیں ۔ یہ لوگ فرضی وتقدیر کے انداز میں بحثیں کرتے چلے جاتے ہیں ‘ مگر قرآن کریم کے مثبت ‘ سادہ اور حقیقت پسندانہ طرز فکر کو چھوڑ دیتے ہیں ۔ وہ سادہ حقیقت یہ فیصلہ کرتی ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ تقدیر الہی کے مطابق ہوتا ہے اور یہ کہ انسان کا ایک طرف مائل ہونا یا دوسری طرف مائل ہونا اس کی اس فطرت میں داخل ہے ‘ جس پر اللہ نے اسے پیدا کیا ہے ۔ یہ فطرت بھی تقدیر الہی کے مطابق ہے ‘ اور وہ اسی طرح ہے جس طرح تقدیر الہی ہے ۔ انسان کا کسی طرف مائل ہونا اور اس پر دنیا اور آخرت کے نتائج کا مرتب ہونا بھی تقدیر الہی کے حدود کے اندر ہے ۔ تمام امور اللہ کی تقدیر کی طرف لوٹتے ہیں لیکن یہ تمام نتائج انسان کے ادارے پر مرتب ہوتے ہیں اور انسان کا یہ ارادہ بھی تقدیر الہی کا پیدا کردہ ہے ۔ یہ ہے اصل حقیقت اور اس سے آگے اگر کوئی بحث کرتا ہے تو ماسوائے اس کے کہ وہ مزید پیچیدگیوں میں مبتلا ہو اور کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ مشرکین کی صورت حال یہ تھی کہ ان کے سامنے ہدایت کی علامات پیش کردی گئی تھیں ۔ سچائی کے دلائل واضح کردیئے گئے تھے اور ایمان کے اشارات ان پر واضح کردیئے گئے تھے ۔ قرآن کریم میں ان پر انفس وآفاق میں بکھرے ہوئے دلائل جمع کردیئے گئے تھے ۔ اگر ان کے دل اس طرف متوجہ ہوتے تو صرف قرآنی دلائل ہی اس بات کے لئے کافی وشافی تھے کہ وہ مشرکین کے قلوب کی تاروں کو زمزمہ خیز بنا دیتے اور ان کے خفیہ گوشہائے ادراک کو جگاتے ‘ ان کو زندگی بخشتے اور اس طرح ان کے دل ہدایت کو قبول کرکے لبیک کہتے ۔ لیکن انہوں نے اس مقصد کے حصول کے لئے کوئی زحمت گوارا نہ کی جس سے وہ راہ ہدایت پا لیتے بلکہ انہوں نے اپنی فطرت اور اس کے صحیح رجحانات کو معطل کردیا ۔ اس طرح ان کے اور اشارات ہدایت کے درمیان پردے حائل ہوگئے ۔ جب وہ حضور اکرم ﷺ کے پاس آتے تو وہ کھلی آنکھوں کے ساتھ نہ آتے ۔ ان کے کان بھی سننے کے لئے تیار نہ ہوتے ۔ ان کے دل سمجھنے کے لئے تیار نہ ہوتے اور وہ قرآن پر اس طرح تدبر نہ کرتے جس طرح حق اور سچائی کے متلاشی اس پر غور کرتے ہیں بلکہ وہ قرآن کا مطالعہ ہی اس لئے کرتے کہ مجادلہ کریں اور اس کی تکذیب اور اس کے رد کے مواقع تلاش کریں ۔ (آیت) ” حَتَّی إِذَا جَآؤُوکَ یُجَادِلُونَکَ یَقُولُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ إِنْ ہَذَا إِلاَّ أَسَاطِیْرُ الأَوَّلِیْنَ (25) ” حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آکر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں ۔ اساطیر اسطورہ کی جمع ہے ۔ اور اسطورہ کا اطلاق ان کہانیوں پر ہوتا تھا ‘ جن میں خداؤں کے بارے میں خارق عادت کہانیوں کا ذکر ہوتا تھا یا بڑے بڑے لیڈروں بہادروں اور بت پرستی کے واقعات کا تذکرہ ہوتا تھا عربوں میں زیادہ ترایرانی بت پرستی کے قصے مشہور تھے کیونکہ وہ عربوں کے قریب تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرکین اچھی طرح جانتے تھے کہ قرآن کریم کا ان پرانی داستانوں کے ساتھ تعلق ہی نہیں ہے ۔ یہ محض انکی جانب سے مجادلہ تھا اور وہ قرآن کریم کو رد کرنے اور اس کو جھٹلانے کے لئے حیلے بہانے تلاش کر رہے تھے اور قرآن سے دور دراز کی باتیں تلاش کرکے ان کے ذریعے قرآن کو رد کرتے تھے ۔ قرآن کریم میں چونکہ رسولوں اور ان کی اقوام کے واقعات وقصص مذکور تھے ‘ نیز اس میں ان اقوام کا بھی ذکر تھا جن کو اللہ نے ہلاک فرمایا تھا تو محض فریب کاری اور نہایت ہی بودے اعتراض اور دور کی کوڑی ڈھونڈ ڈھونڈ کر وہ لاتے تھے ۔ چناچہ ان نصوص بلکہ پورے قرآن کے بارے میں وہ یہ تبصرہ کرتے ” کہ یہ ایک داستان پارینہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ “ لوگوں کو اس قرآن کریم سے دور رکھنے کی سازش کو مزید گہرا کرنے کے لئے اور اسے نہایت ہی پختہ بنیادوں پر استوار کرنے کی غرض سے اور عوام کے ذہنوں میں یہ بٹھانے کی خاطر کہ قرآن کریم ایک داستان پارینہ ہے ‘ مکہ کا ایک دانشور نضر بن حارث اہل فارس کے رستم واسفندیار کی داستانیں حفظ کرتا اور اس طرح اہل فارس کے دوسرے لیڈروں اور بہادروں کے قصے اور کہانیاں جمع کرتا ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے قریب ہی اپنی مجلس قائم کرتا جبکہ حضور ﷺ لوگوں کے سامنے قرآن مجید پڑھتے ۔ وہ لوگوں سے کہتا اگر محمد تم پر لوگوں کے افسانے پڑھتا ہے تو میرے پاس اس کے مقابلے میں زیادہ ادبی مواد ہے ۔ اس کے بعد وہ رستم واسفند یار کے قصے شروع کردیتا اور یہ تدبیر وہ اس لئے کرتا تھا کہ لوگ قرآن کو نہ سنیں۔ یہ لوگ عوام الناس کو قرآن سننے سے بھی منع کرتے تھے اس لئے کہ اس وقت کی سوسائٹی کے وہ لوگ لیڈر تھے ۔ وہ لوگوں کو ایسے مواقع سے دور رکھتے تھے اس ڈر سے کہ کہیں وہ قرآن کریم کی تلاوت سن کر اس سے متاثر نہ ہوجائیں ۔

الأنعام 6:26

(آیت) ” وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَیَنْأَوْنَ عَنْہُ وَإِن یُہْلِکُونَ إِلاَّ أَنفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (26) ” وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ قرآن کریم محض پرانے لوگوں کے قصوں پر مشتمل نہیں ہے اور اس کا پرانے قصوں کے ساتھ کوئی فائدہ نہ دے گا ۔ اگر لوگ قرآن کریم کو سنتے رہے تو اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ قریش کے بڑے بڑے دانشور تو خود اپنے بارے میں یہ خوف رکھتے تھے کہ تلاوت قرآن کریم خود ان کو بھی متاثر کرسکتی ہے ۔ اپنے متبعین کے بارے میں تو انہیں شدید خوف لاحق تھا ۔ اس لئے اس زور دار ‘ پھیلنے والی اور زبردست تحریک اور اہل مکہ کی کمزور اور باطل سوسائٹی کے درمیان برپا کشمکش میں صرف یہ امر کافی نہ تھا کہ نضر ابن حارث حضور ﷺ کے بالمقابل مجلس لگائے اور اس میں اہل فارس کے ادبی شہ پارے پیش کرے ۔ لہذا امتناعی تدابیر کے طور پر وہ اپنے متبعین کو قرآن کریم سننے سے منع کرتے تھے اور خود بھی اپنے آپ کو ایسے مواقع سے دور رکھتے تھے جہاں وہ قرآن کریم سنیں ۔ محض اس خوف سے کہ کہیں وہ خود ہی متاثر نہ ہوجائیں اور اسے قبول ہی نہ کرلیں ۔ اخنس ابن شریق ‘ ابو سفیان ابن حرب اور عمرو ابن ہشام کا قصہ تو بہت ہی مشہور ہے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کی اس جاذبیت کا مقابلہ کرتے تھے لیکن قرآن کریم پھر بھی انہیں اپنی طرف کھینچ لاتا تھا۔ (دیکھئے ابن ہشام جزء اول اور ظلال القرآن پارہ ششم) یہ تمام پاپڑ وہ اس لئے بیلتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے متبعین کو قرآن سننے سے بچا سکیں تاکہ وہ اس سے متاثر نہ ہوجائیں اور اسے قبول نہ کرلیں اور یہ کام درحقیقت خود ان کے لئے باعث ہلاکت تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” وہ درحقیقت خود اپنی تباہی کا سامان کرتے تھے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “ جو شخص اپنے آپ کو اور دوسروں کو راہ ہدایت ‘ راہ حق اور راہ نجات سے روکے رکھتا ہے وہ دنیا وآخرت دونوں میں خود اپنے آپ کو خسارے اور ہلاکت میں ڈالتا ہے ۔ وہ لوگ جو خود اپنے آپ کو اور اپنے متبعین کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ‘ دراصل وہ مساکین ہیں ۔ اگرچہ وہ بڑے قہار وجبار اور بڑے بڑے طاغوت نظر آتے ہیں ۔ وہ تو دنیا وآخرت میں صرف اپنے اوپر اختیار رکھتے ہیں ۔ اگرچہ انہیں اور ان کے متبعین کو دنیا میں بعض اوقات ایک مختصر عرصے کے لئے یہ نظر آتا ہے کہ وہ بہت ہی فائدے میں ہیں اور کامیاب ہیں ‘ لیکن دراصل وہ مفلس ہوتے ہیں ۔ اور ان کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے تو پھر ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں :

الأنعام 6:27

(آیت) ” وَلَوْ تَرَیَ إِذْ وُقِفُواْ عَلَی النَّارِ فَقَالُواْ یَا لَیْْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِآیَاتِ رَبِّنَا وَنَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (27) ” کاش تم اس وقت ان کی حالت دیکھ سکتے کہ جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے ۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔ “ اس دنیا کے مختصر منظر کے بالمقابل دنیائے اخروی کا یہ منظر ہے ۔ نہایت ہی رسواکن ‘ شرمساری اور یاس و حسرت کا منظر ۔ دنیا میں تو وہ سرکشی کرتے ‘ جھگڑتے اور اسلام کے قریب آنے سے لوگوں کو روکتے اور لمبے چوڑے وعدے کرتے لیکن یہاں ان کے ارمان یہ ہیں جبکہ وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے ۔ یہ منظر دیکھنے کے لائق ہوگا ۔ یہ آگ پر گرفتار کرکے پیش کئے جائیں گے ۔ اب انہیں یہ طاقت ہی نہ ہوگی کہ وہ اعراض اور سرکشی کرسکیں ۔ اب نہ وہ جھگڑ سکیں گے اور نہ مغالطہ آرائی کرسکیں گے ۔ اس قابل دید منظر میں ان کی جانب سے اس تمنا کا اظہار ہوگا اور اگر آپ اسوقت ہوتے تو وہ یوں گویا ہوں گے ” کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔ اب تو وہ جانتے ہیں کہ یہ آیات الہیہ تھیں ۔ اب وہ تمنا کرتے ہیں کہ وہ دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں ۔ اب تو وہ ان آیات کی تکذبی نہیں کرسکتے اور اب تو وہ پکے مومن بن جائیں گے لیکن اب کیا ہو سکتا ہے جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اب یہ لوگ اپنی جبلت کو بھول گئے ۔ وہ ایسی جبلت کے مالک ہیں جو مان کر نہیں دیتی اور ان کی یہ بات کہ کاش وہ اگر لوٹادیئے جائیں تو وہ تکذیب نہ کریں گے اور لازما ایمان لائیں گے ۔ یہ تمنا بھی جھوٹی تمنا ہے یہ وہ تمنا ہے جو ان کی جبلت و حقیقت کے ساتھ لگا نہیں کھاتی ۔ اگر ان کی یہ تمنا پوری بھی کردی جاتی تو بھی وہ ایسا نہ کرتے ۔ اور پھر ان کی بات یہ نہ ہوتی اور یہ لوگ یہ بات اس لئے کہیں گے کہ ان کے سامنے ان کے اعمال اور ان کا برانجام واضح ہوجائے گا جبکہ اس سے قبل وہ اپنے متبعین سے اپنے یہ اعمال اور یہ برا انجام چھپاتے تھے تاکہ ان کو اس فریب میں ڈالے رکھیں کہ یہ حق پرست ہیں اور آخرت میں وہ کامیاب ہونے والے ہیں اور فلاح پانے والے ہیں ۔

الأنعام 6:28

(آیت) ” بَلْ بَدَا لَہُم مَّا کَانُواْ یُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُہُواْ عَنْہُ وَإِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ (28) ۔ درحقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بےنقاب ہو کر ان کے سامنے آچکی ہوگی ‘ ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ‘ وہ تو ہیں ہی جھوٹے ۔ یہاں اب ان کے بارے میں بات ختم ہوجاتی ہے اور وہ اس بری حالت میں ایک جھوٹے انسان کے طور پر حقارت کے ساتھ پس منظر میں چلے جاتے ہیں ۔ اب ایسے لوگوں کے بارے میں ان کے کچھ مزید رخ سامنے آتے ہیں اور ان کے اس آخروی منظر کے مقابلے میں دو مزید منظر پیش کئے جاتے ہیں ۔ ایک تو دنیا کا منظر ہے جس میں وہ عزم بالجزم کے ساتھ اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور اللہ کسی کو دوبارہ نہ اٹھائے گا اور کوئی حساب و کتاب نہیں ہے ۔ اور دوسرا منظر آخرت سے متعلق ہے ۔ ایک جھلکی جس میں وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے دکھائے جاتے ہیں اور اللہ رب العالمین ان سے باز پرس فرماتے ہیں ۔ (الیس ھذا بالحق) (6 : 30) کیا یہ قیامت حق نہ تھی اور حقیقت نہیں ہے ؟ یہا یک ایسا سوال ہے جس سے وہ ٹوٹ جاتے ہیں بلکہ پگھل جاتے ہیں اور ایک نہایت ہی بدحال اور ذلیل آدمی کی طرح جواب دیتے ہیں ۔ (آیت) ” بلی وربنا “۔ (6 : 30) ” ہمارے رب تیری قسم یہ حقیقت ہے ۔ “ اور اب وہ اپنے اعمال کی وجہ سے عذاب الیم سے دوچار ہوتے ہیں ۔ ایک دوسری جھلکی بھی سامنے آتی ہے ۔ اچانک وہ گھڑی آپہنچتی ہے جس کے بارے میں وہ اللہ کے اس ” آمنے سامنے “ سے بالکل منکر تھے ۔ اب وہ یاس و حسرت میں ڈوب جاتے ہیں ۔ اپنے کاندھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں اور آخرت میں یہ بتایا جاتا ہے ۔ کہ اللہ کے ترازو میں دنیا کی حقیقت کیا ہے اور آخرت کا مقام کیا ہے ؟

الأنعام 6:29

(آیت) ” نمبر 29 تا 32۔ قیامت کی جزا وسزا اور دار آخرت کا عقیدہ اسلامی عقائد ونظریات کی اساس ہے اور ہمیشہ یہ عقیدہ صرف اسلام نے پیش کیا ہے اور عقیدہ توحید کے بعد اسلامی نظام کا ڈھانچہ اسی پر استوار ہے ۔ دین اسلام کے عقائد ونظریات ‘ اخلاق وطرز عمل ‘ قانون ودستور صرف اسی صورت میں قائم اور استوار ہو سکتے ہیں جب لوگوں کے اندر آخرت کی جوابدہی کا احساس پیدا ہوجائے ۔ یہ دین جسے اللہ نے مکمل فرمایا ہے ‘ اور اس دین کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنی نعمتوں کو مکمل کردیا ہے اسے اللہ نے مسلمانوں کے نظام حیات کے طور پر پسند کرلیا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کریم خود یہ کہتا ہے کہ یہ دین درحقیقت زندگی کا ایک مکمل نظام ہے اور اپنی ساخت میں وہ باہم مربوط اور باہم متعلق ہے ۔ اس کے اخلاقی اصولوں اور عقائد ونظریات کے درمیان ایک گہرا ربط وتعلق ہے ۔ اور پھر عقائد واخلاقیات دونوں کا قانون ‘ دستور اور انتظام ملک سے تعلق ہے ۔ یہ تمام امور اللہ کے عقیدہ حاکمیت اور آخرت کے جوابدہی کی اساس پر قائم ہیں ۔ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق زندگی وہ مختصر عرصہ نہیں ہے جو ایک فرد اس جہان میں بسر کرتا ہے اور نہ زندگی وہ مختصر عرصہ ہے جس میں کوئی قوم زندہ رہتی ہے ۔ اور نہ زندگی وہ عرصہ معلوم ہے جو اس دنیا میں انسانیت کو دیا گیا ہے اور جسے ہم دیکھ رہے ہیں ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق زندگی ایک طویل اور نہ ختم ہونے والا عرصہ ہے ۔ یہ آفاق کائنات میں وسعت پذیر ہے اور تمام جہانوں میں گہرائی تک چلا گیا ہے ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے متنوع اور رنگارنگ ہے اور یہ اس زندگی سے بالکل مختلف ہے جسے آخرت کے منکر یا اس سے غافل لوگ زندگی سمجھتے ہیں اسے بسر کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں بس یہی زندگی ہے اور اس جہان کے بعد کوئی اور جہان نہیں ہے ۔ اس طرح وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق زندگی بہت ہی وسیع ہے ۔ اس میں یہ زمانہ بھی شامل ہے جسے ہم دیکھ رہے ہیں ‘ یعنی دنیا ۔ وہ اخروی زمانہ بھی اس میں شامل ہے جسے اللہ کے سوا کوئی اور نہیں جانتا ۔ اس طویل اخروی زندگی کے مقابلے مین یہ زندگی اس قدر قصیر ہے کہ یہ ساعتہ من نہار ہی کہی جاسکتی ہے ۔ یعنی دن کا ایک حصہ ۔ مکانیت کے اعتبار سے یہ تصور اس قدر وسیع ہے کہ وہ اس جہان اور اس کرہ ارض کے مقابلے میں مزید کروں اور جہانوں کا قائل ہے ۔ وہ ایک ایسی جنت کا قائل ہے جو آسمانوں اور زمینوں سے زیادہ وسیع ہے ۔ جہنم بھی اس قدر وسیع ہے کہ اس کے پیٹ کو ان تمام انس وجن سے نہیں بھرا جاسکتا جو آغاز انسانیت سے اس دنیا میں آباد ہیں اور یہ آبادی لاکھوں سالوں پر مشتمل ہے ۔ پھر یہ تصور نامعلوم جہانوں تک وسیع ہوجاتا ہے ۔ اس جہان سے آگے کئی جہان ہیں جن کے بارے میں صرف ذات باری کو علم ہے اور ہم اس کے بارے میں وہی کچھ اور صرف اسی قدر جانتے ہیں ۔ جس قدر اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے ۔ اور یہ اخروی زندگی موت سے شروع ہو کر دار آخرت تک جا پہنچتی ہے ۔ عالم موت اور عالم آخرت دونوں غیبی جہان ہیں اور ان میں انسانی وجود اس صورت میں آگے بڑھتا ہے جس کی صحیح کیفیت صرف اللہ کے علم میں ہے ۔ یہ زندگی بھی وسعت اختیار کرتی ہے ۔ ‘ یہ جہاں جسے ہم دیکھ رہے ہیں اس سے آگے بڑھتی ہے اور آخرت میں جنت و دوزخ میں بھی رواں دواں نظر آتی ہے ۔ یہ اس زندگی کے مختلف رنگ ہیں اور اس دنیا کی زندگی میں اس کی صورتیں اور ذائقے مختلف ہیں۔ آخرت میں بھی اس کے رنگ ڈھنگ ہیں لیکن دنیا کی یہ پوری زندگی اخروی زندگی کے مقابلے میں اس قدر بےقیمت ہے جس طرح دنیا کے مقابلے میں مچھر کا ایک پر بےقیمت ہے ۔ یہ ہے اسلامی تصور حیات کے مطاق انسانی شخصیت جس کا وجود زمانے کی حدود سے باہر پھیلا ہوا ہے جس کا عمل دخل مکان سے آگے آفاق کائنات میں وسعت رکھتا ہے اور جس کا مرتبہ اس کائنات میں پائے جانے والے عالمین سے زیادہ گہرا ہے ۔ اس کا تصور اس پوری کائنات تک وسیع ہے اور پورے انسانی وجود کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ اس کا ذوق حیات بہت ہی وسیع ہے ۔ اس میں انسانیت کی اہمیت ہے ۔ انسانی روابط کی اہمیت ہے اور انسانی اقدار کی اہمیت ہے ۔ جس طرح یہ تصور وسیع ہے جو زمان ومکان کے حدود وقیود سے ماوراء ہے ‘ لیکن جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کی سوچ خود اس کائنات کے بارے میں نہایت ہی محدود اور کمزور ہے ۔ انسانی تصور حیات کے بارے میں ان کی سوچ بہت ہی محدود ہے ۔ وہ اپنے آپ کو ‘ اپنی اقدار حیات کو اور اپنے تصورات کو اس محدود دنیا کی تنگنائی تک محدود کرتے ہیں ۔ اس نظریاتی اختلاف کی وجہ سے پھر اقدار حیات ‘ زندگی کے تفصیلی نظام اور عملی شکل میں اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام زندگی کس قدر جامع اور مکمل نظام زندگی ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نظام کی تشکیل میں عقیدہ آخرت کا کس قدر دخل ہے ۔ نظریات و تصورات کے اعتبار سے ‘ اخلاق اور طرز عمل کے اعتبار سے اور نظام قانون اور نظام دستور کے اعتبار سے ۔ وہ انسان جو اس طویل زمانے ‘ اس وسیع و عریض کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والی تمام مخلوقات کے ساتھ پس رہا ہے ‘ یقینا اس انسان سے مختلف ہے جو اس تنگ دنیا کے غار میں بند ہے اور وہ اس تنگ غار میں بھی دوسرے انسانوں کے ساتھ برسرپیکار ہے ۔ اس کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اگر اس دنیا میں وہ کسی چیز سے محروم رہ گیا تو عالم آخرت میں وہ اس سے بہتر پائے گا اور اگر دنیا میں اسے کسی عمل کا اجر نہ ملا تو اسے آخرت میں یقینا بہتر اجر ملے گا اگر اس کے اندر یہ یقین پیدا ہوجائے تو یہ شخص اس دنیا کے لوگوں اور مفادات کے بارے میں بہت ہی سخت رویہ اختیار کرے گا ۔ جس قدر انسان کی سوچ وسیع ہوتی ہے اور حقائق کا گہرا ادراک اسے حاصل ہوتا ہے ‘ اسی قدر اس کی شخصیت بڑی ہوتی ہے ۔ اس کی ترجیحات بلند ہوتی ہیں ‘ اس کا شعور بلند ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں اس کے اخلاق اور اس کا طرز عمل بھی بہت ہی پاکیزہ بن جاتا ہے اور ایسے شخص کا طرز عمل ان لوگوں کے مقابلے میں بہت ہی بلند ہوتا ہے جو سوراخوں میں بند ہوتے ہیں ۔ جب ایسے وسیع سوچ رکھنے والے کسی فرد کی سوچ میں عقیدہ آخرت اور اخروی جزاء وسزا کی سوچ داخل ہوجاتی ہے تو اس کی دنیا ہی بدل جاتی ہے ۔ اس کی سوچ میں نفاست اور پاکیزگی آجاتی ہے ۔ اس کا دل بھلائی اور جزائے اخروی کے راستے میں خرچ کے لئے تیار ہوجاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس پر اخروی جزاء مرتب ہوگئی یوں اس کا اخلاق اور اس کا طرز عمل صالح ہوجاتا ہے اور وہ پختہ کردار کا مالک بن جاتا ہے ۔ یہ پختگی اس وقت تک رہتی ہے جب تک اس کے دل و دماغ پر یہ عقیدہ چھایا رہتا ہے ۔ ایسے لوگ ہر وقت اصلاح اور بھلائی کے لئے کوشاں رہتے ہیں کیونکہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر وہ خاموش رہے تو نہ صرف یہ کہ ان کی دنیا فساد کا شکار ہوگی بلکہ آخرت میں تھی وہ خسران کا شکار ہوجائیں گے ۔ جو لوگ حیات اخروی کے بارے میں افتراء باندھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو اخروی زندگی کی طرف بلانا اس جہاں کے سلسلے میں ایک منفی رویہ ہے ۔ اس کے نتیجے میں لوگ اس دنیا سے لاتعلق ہوجاتے ہیں اور پھر وہ اس دنیا کو خوبصورت بنانے اور اس کی اصلاح کے لئے جدوجہد نہیں کرتے ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دنیا کے اقتدار پر مفسدوں کا قبضہ ہوجاتا ہے کیونکہ ان نیک لوگوں کی نظریں صرف آخرت ہی پر لگی ہوئی ہوتی ہیں ۔ جو لوگ اسلام پر یہ الزام دھرتے ہیں وہ جہالت میں مبتلا ہیں ۔ یہ لوگ اسلام کے نظریہ آخرت اور اہل کینسہ کے نظام رہبانیت اور ترک دنیا کے اندر فرق نہیں کرتے ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق آخرت کا تصور یہ ہے کہ دنیا آخرت کے لئے ایک مزرع ہے اور دنیا میں ہم اس کھیت میں جو بوئیں گے وہی آخرت میں کاٹیں گے ۔ اسلام کا نظریہ جہاد بھی تو اس دنیا کی اصلاح کے لئے ہے ۔ یہ اس لئے فرض کیا گیا ہے کہ اس دنیا سے شر و فساد کو بالکلیہ مٹا دیا جائے اور اس جہان میں جو لوگ اللہ کے حق حاکمیت اور اقتدار اعلی پر دست درازی کرتے ہیں ان کا ہاتھ پکڑا جائے ۔ یہاں تمام ظالم طاغوتوں کی حکومت کو ختم کرکے کرہ ارض پر عادلانہ نظام قائم کیا جائے جس میں تمام انسانوں کی بھلائی اور خیر ہو ‘ اور یہ تمام کام فلاح اخروی کے لئے کیا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے ہیں اور باطل کے ساتھ اس کشمکش میں وہ جو وہاں اللہ انہیں اس کا عوض ادا کرتا ہے انہوں نے اس کی راہ میں جو اذیت اٹھائی اس کے بدلے انہیں راحت دیتا ہے ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ایسا نظریہ حیات جس کی سوچ یہ ہو ‘ وہ انسانی زندگی معطل کرکے اسے متعفن بنا دے ؟ یا یہ زندگی فساد زادہ اور خفلشار میں مبتلا ہو ‘ یا اس میں ظلم اور سرکشی کا دور دورہ ہو اور کوئی نہ ہو کہ ظالم کا ہاتھ روکے ۔ یا وہ زندگی کو پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ حالت میں چھوڑ دے جبکہ ایسے نظریے کے حامل لوگ کی نظریں آخرت پر لگی ہوں اور وہ آخرت میں جزاء کے طالب ہوں ۔ یہ درست ہے کہ تاریخ کے بعض ادوار میں لوگ منفی سوچ کے حامل رہے ہیں ۔ وہ شر و فساد ظلم وسرکشی کے داعی رہے ہیں ۔ پسماندگی اور جہالت ان کی زندگی پر چھائی رہی ہے اور یہ لوگ اپنے ان حالات کے ساتھ ۔۔۔۔۔ اسلام کے مدعی بھی رہے ہیں ۔ لیکن ان کے یہ حالات اسلام کی وجہ سے نہ تھے بلکہ اسلام کے بارے میں ان کی سوچ صحت مند نہ تھی ۔ ان کا تصور اسلام بگڑا ہوا تھا ۔ وہ جادہ مستقیم سے منحرف ہوگئے تھے اور آخرت پر انہیں کوئی یقین نہ رہا تھا ۔ ان کا ایمان متزلزل تھا ۔ ان کے یہ حالات اس لئے نہ تھے کہ وہ حقیقتا دین پر چل رہے تھے اور انہیں پورا یقین تھا کہ انہوں نے خدا کے سامنے حاضر ہونا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ ہر گز ایسے حالات میں زندگی بسر نہ کرتے جن میں انہیں نے پوری زندگی گزار دی کیونکہ جو شخص حقیقت دین کو پالیتا ہے وہ ان لوگوں کی طرح زندگی بسر نہیں کرسکتا ۔ یعنی منفی سوچ کا حامل پسماندہ اور شروفساد پر راضی ۔ ایک مسلمان اس دنیا میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ لیکن وہ اپنے آپ کو اس دنیا سے بہت ہی اونچا تصور کرتا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو اس حقیر دنیا سے بہت ہی عظیم سمجھتا ہے ۔ وہ اس دنیا کی پاکیزہ چیزوں کو کام میں لاتا ہے یا وہ جائز اور حلال چیزوں سے بھی دامن پاک رکھتا ہے محض اپنی اخروی فلاح کے لئے ۔ وہ دنیا کی قوتوں کی تسخیر اور دنیاوی زندگی کی ترقی اور نشوونما کے لئے پوری کوشش کرتا ہے لیکن اس نقطہ نظر سے کہ یہ جدوجہد اس پر اس کے منصب خلافت کی رو سے بطور فریضہ عائد ہوتی ہے اور یہ کہ اس کا فرض ہے کہ وہ اس جہان میں شر و فساد اور ظلم وسرکشی کے خلاف جہاد کرے ۔ اور اس جہاد کی راہ میں جان ومال کی قربانی دے تاکہ اسے فلاح اخروی حاصل ہو ۔ اس کا دین اسے یہ تعلیم دیتا ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور آخرت تک پہنچنے کا واحد راستہ یہ دنیا ہے ۔ اس دنیا سے ہو کر ہر شخص کو آخرت تک پہنچنا ہے ۔ لیکن آخرت کے مقابلے میں دنیا نہایت ہی حقیر اور کم ہے ۔ بہرحال دنیا بھی ایک محدود نعمت ہے اور اس محدود نعمت کو انسان عبور کر کے لامحدود نعمتوں میں داخل ہوتا ہے ۔ اسلامی نظام کا ہر جزء اخروی زندگی کے لئے ایک سیڑھی کا کام دیتا ہے ۔ اسلامی نظام کی اس سوچ کی وجہ سے انسان کے تصور میں وسعت ‘ حسن اور بلندی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس سوچ کے نتیجے میں رفعت ‘ پاکیزگی اور رواداری پیدا ہوتی ہے اور انسان اس راہ کے لئے پرجوش ہوجاتا ہے ۔ وہ محتاط اور متقی بن جاتا ہے اور انسانی جدوجہد اور زندگی میں خود ‘ پختگی اور اعتماد پیدا ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی زندگی صرف تصور آخرت پر استوار ہو سکتی ہے اور اسی لئے قرآن کریم نے اول سے آخر تک جگہ جگہ خوف آخرت اور یقین قیامت پر زور دیا ہے اور حقیقت آخرت کے مضامین ومناظر کو پیش کیا ہے ۔ عرب ایک گھمبیر جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے اور اسی جاہلیت کی وجہ سے ان کی سوچ اور ان کے شعور کی تنگ حدود میں عالم آخرت کا تصور نہیں سماتا تھا اور وہ اس دنیا کے علاوہ کوئی اور بات نہ سوچ سکتے تھے ۔ وہ صرف اسی دنیا کو دیکھ سکتے تھے جو ان کی نظروں کے سامنے تھی ۔ وہ اپنی شخصیت اور اپنی فکر کو اس محدود دنیا حدود کے آگے نہ بڑھا سکتے تھے اور نہ ہی کائنات کی مزید وسعتوں کے بارے میں کوئی تصور کرسکتے تھے ۔ انکی سوچ اور ان کا شعور بالکل حیوانی سطح تک تھا اور وہ بعینہ اس طرح سوچتے تھے جس طرح جدید جاہلیت سوچتی ہے ۔ حالانکہ دور جدید کے لوگ اپنے آپ کو علمی اور سائنسی اعتبار سے ترقی یافتہ کہتے ہیں ۔ چناچہ عربوں کی سوچ یہ تھی ۔ (آیت) ” وَقَالُواْ إِنْ ہِیَ إِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوثِیْنَ (29) ” آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ مذکورہ بالا نظریہ حیات اور اعتقادات کے نتیجے میں ایک پاکیزہ ‘ شریفانہ اور بلند مرتبہ زندگی وجود میں نہیں لائی جاسکتی ۔ شعور اور تصور کے یہ محدود دائرے انسان کو گرا کر اسے مٹی میں ملا دیتے ہیں اور اس کی سوچ کو جانوروں کی طرح محسوسات تک محدود کردیتے ہیں ۔ جب انسان اس محدود دنیا کے اندر بند ہوجاتا ہے تو اس کے نفس کے اندر دنیا کی بھوک پیدا ہوجاتی ہے اور دنیاوی وسائل کے بارے میں حرص اور آز پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور انسان دنیا کی اس مال ومتاع کا بندہ بن جاتا ہے ۔ جس طرح شہوت پرستیاں جب بےلگام ہوجائیں تو خرمستیاں کرتی ہیں اور بےروک ٹوک اور بغیر ٹھہراؤ کے اور بغیر کسی حدود کے زیادہ ہی ہوتی رہتی ہیں ۔ پھر اگر یہ خواہشات اور شہوات پوری نہیں ہوتیں تو انسان اپنے آپ کو محروم تصور کرتا ہے کیونکہ اسے کسی اخروی اجر کی بھی امید نہیں ہوتی اگرچہ وہ نہایت ہی گری ہوئی کیوں نہ ہوں اور وہ نہایت ہی چھوٹی خواہشات کیوں نہ ہوں اور ان کی نوعیت محض حیوانی خواہشات کی ہی کیوں نہ ہو ۔ آج دنیا کی جو صورت حال ہے اور اس کے ردعمل میں آج لوگوں کا جو طرز عمل ہے صرف دنیا کے اس محدود دائرے کو پیش نظر رکھ کر تشکیل پاتا ہے ‘ جس میں لوگوں کے پیش نظر صرف زمان ومکان کا محدود دائرہ ہوتا ہے جس میں عدل و انصاف اور ہمدردی اور رحم دلی کا کوئی نام ونشان نہیں ہے ‘ جس میں ہر انسان دوسرے انسان کے ساتھ برسرجنگ ہے ‘ جس میں ہر طبقہ دوسرے طبقے سے برسرپیکار ہے ‘ جس میں ایک نسل دوسری نسل کی بیخ کنی میں مصروف ہے اور سب انسان جنگل کے جانوروں کی طرح اس دنیا کے جنگل میں آزاد پھر رہے ہیں ۔ وحشیوں کی طرح جس کے جی میں جو آتا ہے کرنے پر آمادہ ہے ۔ یہ مناظر آج کی مہذب دنیا میں رات اور دن ہم دیکھتے ہیں اور ہر جگہ نظر آتے ہیں ۔ یہ سب کے سب دنیا کے اس محدود تصور کی وجہ سے ہیں۔ ذات باری کو ان سب حالات کا علم تھا کہ وہ امت جسے پوری انسانیت کی نگرانی کا فریضہ سپرد کیا جانا تھا ‘ اور جس کے فرائض میں یہ بات بھی شامل تھی کہ پوری انسانیت کو وہ مقام بلند تک پہنچا دے اور اسے اس طرح ترقی دے کہ اس میں انسان کا انسانی پہلو اپنی حقیقی شکل میں نمودار ہوجائے ۔ اپنے یہ فرائض اس وقت تک سرانجام نہیں دے سکتی جب تک وہ دنیا کے اس محدود دائرے سے باہر نہیں آجاتی ۔ جب تک وہ دنیا کے اس محدود دائرے سے باہر نہیں آجاتی ۔ جب تک اس کے تصورات اور اس کی اقدار اس محدود وغار سے نکل کر آفاقی نہیں بن جاتے اور جب تک یہ امت دنیا کی تنگ نائیوں سے نکل کر آخرت کی وسعتوں کی سیر نہیں کرتی ۔ یہ وہ سبب ہے جس کی وجہ سے قرآن نے عقیدہ آخرت پر بہت ہی زور دیا ہے ۔ ایک تو اس لئے کہ یہ ایک حقیقت ہے جو آنے والی ہے ‘ اور قرآن کریم کا نزول اس لئے ہوا ہے کہ وہ حقائق بیان کرے ۔ دوسرے اس لئے کہ اس عقیدے کے سوا کوئی انسان مکمل انسان ہی نہیں بن سکتا۔ نہ تصورات و عقائد کے اعتبار سے ‘ نہ اخلاق اور طرز عمل کے اعتبار سے اور نہ اپنے نظام قانون اور نظام دستور کے اعتبار سے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس لہر میں اس قدر شدید اتار چڑھاؤ ہے ۔ اور اس میں ایک ایسی خوفناک فضا پائی جاتی ہے جس سے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ ان خوفناک مناظر کی بابت اللہ کو علم تھا کہ وہ انسان پر بہت پر بہت ہی اثر انداز ہوتے ہیں اور اس سے انسان کے دل و دماغ کے دریچے وا ہوجاتے ہیں ۔ انسان کے اندر قبولیت حق کی جو فطری استعداد ودیعت کی گئی ہے وہ جاگ اٹھتی ہے ۔ اس کے اندر حرکت پیش ہوجاتی ہے ‘ وہ زندہ انسان نظر آتا ہے اور ہر وقت سچائی کو قبول کرنے کی صلاحیت ہے ۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک عظیم سچائی کا اظہار ہے ۔

الأنعام 6:30

(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُواْ عَلَی رَبِّہِمْ قَالَ أَلَیْْسَ ہَذَا بِالْحَقِّ قَالُواْ بَلَی وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ (30) ۔ ” کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے ۔ اس وقت ان کا رب ان سے پوچھے گا ” کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ “ یہ کہیں گے ” ہاں اے ہمارے رب ‘ یہ حقیقت ہی ہے ۔ “ وہ فرمائے گا ” اچھا تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو ۔ “ یہ ہے ان لوگوں کا انجام جو کہتے تھے : ۔ ” جو کچھ ہے بس ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ یہ ایک نہایت ہی برا ‘ توہین آمیز اور شرمسار کنندہ منظر ہے ۔ یہ لوگ بارگاہ الہی میں کھڑے ہیں ‘ وہ یہاں پیش ہونے کی تکذیب کرتے تھے ۔ اب وہ اس موقف سے بھی نہیں سکتے ۔ یوں کھڑے ہیں جس طرح باندھے ہوئے ہیں اور سامنے خوفناک انجام ہے ۔ ان سے پوچھا جاتا ہے ۔ ” کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ “۔ یہ سوال ہی نہایت شرمسار کرنے والا ہے ۔ سوال سنتے ہی مارے شرم کے انسان پسینے سے شرابور ہوجاتا ہے ۔ اب وہ اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں ؟ ” ہاں ہمارے رب یہ حقیقت ہے “ اس حقیقت کو وہ ایسے وقت تسلیم کرتے ہیں جبکہ وہ باری تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں اور ایک ایسی جگہ کھڑے ہیں جس کا وہ بڑی سختی سے انکار کرتے تھے ۔ اب نہایت ہی شاہانہ انداز میں اور نہایت ہی مختصر فیصلے میں اور نہایت ہی خوفناک انداز میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے ۔ عالم بالا سے نہایت ہی سمری فیصلہ آجاتا ہے لیکن فائنل ! ” اچھا تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو۔ “ یہ انجام ان لوگوں کا بالکل مناسب انجام ہے جنہوں نے اپنے اوپر اسلام کے وسیع تصور حیات کے دروازے بند کرلیے ہیں اور اس تصور کی وسعتوں کو چھوڑ کر وہ محسوسات کے تنگ دائرے میں بند ہوچکے ہیں ‘ جو گوشت و پوست کی دنیا سے بلند ہو کر انسانیت کے مقام بلند تک پہنچنا نہیں چاہتے اور زمین اور مادے کے ساتھ چمٹے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کے نظام کو ایک گرے پڑے اور کمزور تصور پر استوار کرلیا ہے ۔ یہ لوگ اس قدر گر گئے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو اس عذاب کا مستحق بنا لیا جو ان لوگوں کی طبیعت اور مزاج سے زیادہ مناسب ہے جو قیام قیامت کے منکر ہیں ‘ جنہوں نے اس قدر گھٹیا زندگی کو اختیار کرلیا ہے اور جو اس قدر گرے ہوئے خیالات کے حامل ہیں ۔ اس فیصلے پر جس منظر کا خاتمہ ہوتا ہے اس کی تکمیل ان خوفناک ریمارکس کے ساتھ ہوتی ہے ‘ جو رعب وداب میں شان باری کے شایان شان ہیں ۔ فرماتے ہیں :

الأنعام 6:31

(آیت) ” قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِلِقَاء اللّہِ حَتَّی إِذَا جَاء تْہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً قَالُواْ یَا حَسْرَتَنَا عَلَی مَا فَرَّطْنَا فِیْہَا (6 : 31) ” نقصان میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا ۔ جب اچانک وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ” افسوس ! ہم سے اس معاملے میں کیسی تقصیر ہوئی “۔ یقینا یہ عظیم خسارہ ہوگا ‘ دنیا میں انہوں نے گھٹیا اور منچلے در کے کی زندگی گزاری اور آخرت میں تو حال وہ ہوگا جس کا تذکرہ ہوا ۔ اب اچانک وہ گھڑی آپہنچی جس کی توقع ان غفلت شعاروں کو نہ تھی اور جو اسے شمار ہی میں نہ لاتے تھے ۔ لیکن ” جب وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ’ ؓ اجمعینافسوس کہ اس معاملے میں ہم سے کیسی تقصیر ہوئی ۔ “ ۔ اب ان لوگوں کا اگلا منظر ملاحظہ فرمائیں ۔ یہ لوگ یوں نظر آتے ہیں جس طرح بار برداری کے ایسے جانور جس پر بھاری بوجھ لدا ہو ۔ (آیت) ” وَہُمْ یَحْمِلُونَ أَوْزَارَہُمْ عَلَی ظُہُورِہِمَْ (31) ” اور ان کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے ۔ “ بلکہ بلکہ جانور تو ان کے مقابلے میں بہتر ہیں کیونکہ یہ بار برداری سے متعلق ہیں اور بوجھ اٹھاتے ہیں لیکن یہ لوگ جرائم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ جانور اپنے بوجھ کو منزل تک پہنچا کر آرام کرتے ہیں اور یہ لوگ گناہوں کو بوجھ اٹھائے ہوئے وارد جہنم ہوں گے اور ان کو تو مجرم قرار دے کا وہاں بھیجا جائے گا ۔ (آیت) ” أَلاَ سَاء مَا یَزِرُونَ (31) ” دیکھو کیسا برا بوجھ ہے جو یہ اٹھا رہے ہیں ۔ “ اب اس پیراگراف کا آخری بند آتا ہے ‘ خسارے اور ہلاکت کے اس منظر میں اور خوف وہراس کے ان حالات میں بات ختم ہوتی ہے ۔ اللہ ترازو میں ایک طرف دنیا کا وزن ہے اور دوسری جانب آخرت کی قدر و قیمت رکھی جاتی ہے اور اقدار کو یوں تولا جاتا ہے :

الأنعام 6:32

(آیت) ” وَمَا الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلاَّ لَعِبٌ وَلَہْوٌ وَلَلدَّارُ الآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُونَ أَفَلاَ تَعْقِلُونَ (32) ” دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے ‘ حقیقت میں آخرت کا مقام ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں ۔ پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے ؟ “ اللہ کے پیمانے کے مطابق حیات دنیا اور حیات اخروی کا یہ وزن ہے اور یہ حقیقی وزن ہے ۔ اس چھوٹے سے کرے پر جس کا نام زمین ہے ۔ ایک گھنٹے کی زندگی کی کیا حقیقت ہو سکتی ہے ۔ یہ لہو ولعب ہی ہو سکتا ہے ۔ خصوصا جب اس کا موازنہ عالم آخرت کی طویل اور ابدی زندگی سے کیا جائے ۔ ظاہر ہے کہ عالم آخرت کے مقابلے میں اسے لہو ولعب ہی کہا جاسکتا ہے اس لئے کہ وہ ابدی اور دوامی زندگی ہے اور جنت بہت ہی کشادہ ہے ۔ یہ تو ہے اس دنیا کی حقیقی قدروقیمت بمقابلہ آخرت لیکن اسلامی تصور حیات نے اس مختصر دنیا کو بھی مہمل نہیں چھورا اور نہ ہی اس کے ساتھ منفی رویہ اختیار کیا ہے اور نہ ہی ترک دنیا کی تعلیم دی ہے ۔ تصوف اور زاہدانہ زندگی کے بعض مناظر میں جو ترک دنیا اور رہبانیت نظر آتی ہے اس کا سرچشمہ اسلامی تصور حیات نہیں ہے ۔ یہ چیزیں اسلامی تصور حیات میں کنیسہ اور رہبانیت کے راستے داخل ہوئی ہیں یا اہل فارس کے بعض اداروں سے در آئی ہیں یا بعض ہندوانہ اور یونانی تصورات کی وجہ سے آئی ہیں ۔ اس وقت جب دوسرے معاشروں کی ثقافتوں کو اسلامی معاشرے میں منتقل کیا گیا ۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق عملی زندگی کا مکمل نمونہ صحابہ کرام تھے ۔ انہوں نے دنیا کے حوالے سے کوئی منفی رویہ اختیار نہیں کیا اور نہ ہی ترک دنیا کا راستہ اختیار کیا ۔ انہوں نے اپنے نفوس کے اندر پائے جانے والے شیطانی نفس پر قابو پایا ۔ انہوں نے کرہ ارض پر غالب نظام جاہلیت کو مغلوب کیا۔ ان نظاموں میں حق حاکمیت خدا کے بجائے دوسرے سرداروں اور بادشاہوں کو حاصل تھا ۔ صحابہ کرام ؓ اجمعین میزان الہی کے مطابق اس دنیاوی زندگی کی اصل قدر و قیمت بھی سمجھتے تھے ۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی میں آخرت کے لئے کام کیا اور اس دنیا کے حوالے سے بھی مثبت رویہ کا اختیار کیا ۔ انہوں نے معاملات حیات میں سرگرمی سے حصہ لیا اور جوش و خروش کے ساتھ معاملات دنیا طے کئے اور دنیاوی زندگی کے ہر پہلو پر انہوں نے کام کیا ۔ لیکن صحابہ کرام ؓ اجمعین کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دنیا کی حقیقت کی تعلیم نے بہت ہی فائدہ دیا ۔ اس لئے وہ دنیا ہی کے بندے نہ بنے بلکہ انہوں نے آخرت کے لئے بھی کام کیا ۔ وہ دنیا پر سوار تھے ‘ دنیا ان کے اوپر سوار نہ تھی ۔ انہوں نے دنیا کو اپنا غلام بنا کر اسے ذلیل کیا اور خود دنیا کے غلام بن کر انہوں نے دنیا کی سلطنت کی ماتحتی اختیار نہ کی ۔ وہ اس دنیا پر اللہ کی جانب سے نائب اور خلیفہ رہے انہوں نے حق خلافت خوب ادا کیا اور اس دنیا کی خوب تعمیر کی ۔ اس کی خوب اصلاح کی لیکن انہوں نے یہ سب رضائے الہی کے لئے کیا اور اجر اخروی کی امید پر کیا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دنیا کے میدان میں بھی اہل دنیا پر ستوں سے سے آگے بڑھ گئے اور آخرت کے میدان میں تو وہ تھے ہی ان سے آگے ۔ آخرت بیشک پردہ غیب میں مستور ہے اس لئے جو شخص آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس کی سوچ وسیع اور اس کا ادراک بلند ہوتا ہے اور جو لوگ عقل رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ اچھا ہے ۔ ” حقیقت میں آخرت ہی کا مقام ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں ۔ پھر کیا تم عقل سے کام نہ لوگے ؟ “ جو لوگ آج کے دور میں آخرت کے منکر ہیں اور اس لئے منکر ہیں کہ وہ پردہ غیب میں مستور ہے ‘ وہ دراصل پرلے درجے کے جاہل ہیں حالانکہ وہ دعوی علم کا کرتے ہیں اور یہ لوگ جس علم کا دعوی کرتے ہیں وہ انسانی علم ہے اور انسانی علم میں آج تک کوئی ایسی حقیقت سامنے نہیں آئی ہے کہ اسے آخری حقیقت کہا جاسکے ۔ اگر کوئی حقیقت سامنے آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ ہمیں علم نہیں ہے اور غیب ہم سے مخفی ہے ۔ درس نمبر 59 ایک نظر میں : اس سورة کی پر تلاطم موجوں میں سے اس موج میں روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی جانب ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس میں حضور اکرم ﷺ کی دلجوئی فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اس رویے سے پیریشان نہ ہوں جو آپ ﷺ کی جانب آپ ﷺ کی قوم نے اختیار کر رکھا ہے ۔ آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ کو صادق وامین مانتی ہے ‘ اس لئے یہ لوگ آپ ﷺ کو جھوٹا نہیں سمجھتے بلکہ وہ اصرار اس بات پر کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی آیات کو نہ مانیں گے اور ایمان نہ لائیں گے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ حضور ﷺ کو جھوٹا سمجھتے ہیں بلکہ اس لئے کہ کچھ دوسری وجوہات سے وہ اسلامی نظریہ حیات کا انکار کرتے ہیں ۔ آپ کی تسلی کے لئے آپ کے سابق بھائیوں اور رسولوں کے قصے اور واقعات کی طفف بھی اشارہ کیا جاتا ہے کہ ان کو آپ سے زیادہ اذیت دی گئی لیکن انہوں نے صبر سے کام لیا اور مشکلات کو انگیز کیا ۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح و کامرانی عطا فرمائی اور یہ سب کچھ سنت الہیہ کے اصولوں کے مطابق ہوا جس میں کبھی کوئی تبدیلی نہ ہوگی ۔ جب حضور ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلایا جا چکا تو پھر آپ کے سامنے اللہ تعالیٰ دعوت اسلامی کے بارے میں ایک اہم حقیقت برائے غور رکھتے ہیں۔ وہ یہ کہ دعوت اسلامی کا کام سنت الہیہ کے مطابق اس جہاں میں چلتا رہتا ہے اور داعی کا کردار اس میں صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ دعوت کو مخاطبین تک پہنچائے اور بات کرتا چلا جائے ۔ تمام امور کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ اس جہان کو جس طرف چاہے موڑ دے ۔ داعی کا کام بس صرف یہ ہے کہ وہ احکام الہی کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھے اور ایک قدم بھی اپنی راہ سے ادھر ادھر نہ ہو اور خود اللہ کو تجاویز دینا نہ شروع کر دے ۔ اگر داعی بذات خود حضور اکرم ﷺ ہوں تو انہیں بھی اس کی اجازت نہیں ہے ۔ نہ داعی کا یہ کام ہے کہ وہ مخالفین اور مکذبین کی تجاویز پر غور کرے نہ عوام الناس کے کام پر غور کرے کہ دعوت کا منہاج یہ ہونا چاہئے اور نہ ہی وہ انکی جانب سے دلائل ومعجزات کا مطالبہ مانے ۔ اس لئے کہ زندہ دل لوگ تو اس کی بات سنیں گے اور قبول کریں گے لیکن جن لوگوں کے دل مرچکے ہیں وہ ہر گز اس کی بات قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوں گے ۔ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ لوگوں کو اسی طرح مردہ رہنے دیتا ہے یا انہیں زندگی بخشتا ہے ۔ قیامت اور حشر تک اللہ کی یہ سنت جاری رہے گی ۔ یہ لوگ اقوام سابقہ کی طرح آیات ومعجزات طلب کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اگرچہ ہر قسم کے معجزات کے صدور پر قادر ہے ‘ لیکن وہ حکیم ہے ‘ اور وہ ان معجزات کا صدور اپنی حکمت کی بناء پر نہیں کرتا ۔ اب حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ اگر آپ پر یہ صورت حال شاق گزر رہی ہے تو پھر اگر آپ کے اندر کوئی طاقت ہے تو آپ خود کسی معجزے کا بندوبست کریں ۔ اللہ تو تمام مخلوقات کا خالق ہے ۔ وہ تمام مخلوق کے بھیدوں کا جاننے والا ہے ‘ ان کے مزاج اور صلاحیتوں کو خوب جانتا ہے ۔ وہ اپنی حکمت کے تحت جھٹلانے والوں کو اندھیروں میں چھوڑتا ہے جس طرح گونگے اور بہرے ہوتے ہیں ۔ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ضلالت میں چھوڑ دیتا ہے ۔ یہ سب امور اس کی حکمت کے تحت چلتے ہیں ۔

الأنعام 6:33

(آیت) ” نمبر 33۔ مشرکین عرب عموما اور قریش کا وہ طبقہ خصوصا جو دعوت اسلامی کے مقابلے میں ڈٹا ہوا تھا اور جاہلیت میں گرفتار تھا ‘ وہ حضرت محمد ﷺ کی صداقت میں شک نہ کرتا تھا ۔ یہ لوگ جانتے تھے کہ کہ آپ صادق اور امین ہیں ۔ ان کے علم میں کوئی ایک چھوٹا سا واقعہ بھی نہ تھا جس میں آپ نے جھوٹ بولا ہو کیونکہ آپ رسالت سے قبل ان میں ایک طویل زمانہ رہ چکے تھے ۔ اسی طرح جو طبقات آپ کی دعوت کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے تھے انہیں اس بات میں بھی شک نہ تھا کہ آپ بالکل سچے رسول ہیں ۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ قرآن انسانی کلام نہیں ہے اور یہ کہ انسان اس قسم کا کلام پیش نہیں کرسکتا ۔ لیکن اس کے باوجود اپنے اس علم اور یقین کے اظہار سے انکار کر رہے تھے اور اس دین جدید میں داخل ہونے سے مسلسل انکار کرتے چلے جاتے تھے ۔ وہ یہ انکار اس لئے نہ کرتے تھے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی تکذیب کرتے تھے بلکہ وہ اس لئے یہ انکار کرتے تھے کہ اس طرح ان کے اپنے اثر ورسوخ اور ان کی معاشرتی پوزیشن پر زد پڑتی تھی ۔ یہ تھی وہ اصل بات جس کی وجہ سے انہوں نے انکار اور کفر کی راہ کو اپنا لیا تھا اور اپنے باطل شرکیہ انکار پر جمے ہوئے تھے ۔ اسلامی تاریخ اور ذخیرہ احادیث میں متعدد ایسی روایات موجود ہیں جن سے قریش اور دوسرے عربوں کی اس پالیسی کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے ۔ وہ لوگ قرآن کے بارے میں اپنی حقیقی رائے کو چھپاتے تھے ۔ ابن اسحاق نے ابن شہاب زہری سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ابو سفیان ابن حرب ‘ ابو جہل ابن ہشام اور بنی زہرہ کے حلیف اخنس ابن شریق ابن عمر ابن وہب ثقفی ایک رات خفیہ طور پر نکلے تاکہ حضور اکرم ﷺ سے قرآن سنیں ۔ آپ رات کو اپنے گھر میں نماز میں قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔ ہر ایک کسی خفیہ جگہ بیٹھ گیا اور تلاوت سنتا رہا ۔ ان تین افراد میں سے کوئی شخص دوسرے کے بارے میں نہ جاننا تھا ۔ یہ لوگ ساری رات قرآن کریم سنتے رہے جب صبح ہوئی تو بکھر گئے ۔ راستے میں اتفاقا ایک دوسرے کو انہوں نے دیکھ لیا ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو ملامت کی اور ایک دوسرے سے کہا کہ دوبارہ کوئی یہ حرکت نہ کرے کیونکہ اگر ہمیں عام نادان لوگوں نے دیکھ لیا تو ان کے دل میں تم اچھا تاثر نہ چھوڑو گے ۔ اس قرار داد کے بعد یہ لوگ چلے گئے ۔ جب دوسری رات آئی تو ان میں سے ہر ایک پھر آکر اپنی جگہ چھپ گیا ساری رات سنتے رہے ۔ جب صبح ہوئی تو یہ لوگ پھر بکھر گئے ۔ اتفاقا راستے میں پھر ان کی ملاقات ہوگئی ۔ انہوں نے پھر پہلی رات کی طرح ایک دوسرے کو سخت وسست کہا اور چلے گئے ۔ جب تیسری رات ہوئی تو یہ پھر اپنی اپنی جگہ آکر بیٹھ گئے اور ساری رات کلام الہی سنتے رہے ۔ جب صبح ہوئی تو پھرجانے لگے اور راستے میں انہوں نے پھر ایک دوسرے کو دیکھ لیا ۔ انہوں نے کہا ‘ ہم ایک دوسرے کو نہ چھوڑیں گے جب تک کہ ہم پختہ عہد نہ کرلیں کہ پھر اس طرف نہ آئیں گے ۔ چناچہ انہوں نے پھر نہ آنے کا باقاعدہ معاہدہ کرلیا اور چلے گئے دوسرے دن صبح ہوتے ہیں اخنس ابن شریق نے اپنا عصا لیا اور ابو سفیان ابن حرب سے ان کے گھر آ کر ملا ۔ اس نے ابو سفیان سے کہا : بتاؤ ابو حنظلہ رات کو تم نے محمد سے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری حقیقی رائے کیا ہے ؟ اس نے کہا : ” ابو ثعلبہ ! خدا کی قسم میں نے اس سے بعض ایسی باتیں سنیں جنہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں اور ان کا مطلب بھی اچھی طرح سمجھتا ہوں اور بعض باتیں میں نے ایسی بھی سنی ہیں کہ جن کے معنی و مراد کو میں نہیں سمجھا ہوں ۔ “ اخنس نے کہا : ” اس خدا کی قسم جس کے نام پر میں نے حلف لیا ۔ میرا بھی یہی حال ہے ۔ اب اخنس ان کے ہاں سے نکلا اور ابوجہل کے پاس آیا ‘ اس کے گھر گیا ۔ اور اسے کہا ابو الحکم ! تم بتاؤ محمد سے تم نے جو کلام سنا اس کے بارے میں تمہاری رائے کیا ہے ؟ ابو جہل نے کہا : ” میں نے کہا سنا ؟ “ اور پھر کہا : ” ہمارا اور عبد مناف کا ہمیشہ مقابلہ رہا ۔ انہوں نے لوگوں کو کھانا کھلانا شروع کیا۔ ہم نے بھی لوگوں کو مقابلے میں خوب کھلایا ‘ انہوں نے لوگوں کو سواریاں دیں تو ہم نے بھی سواریاں دینا شروع کردیں۔ انہوں نے عطیے دیئے تو ہم نے بھی عطایا کی بارش کردی یہاں تک کہ ہم گھوڑوں کے اوپر بیٹھ کر بھی گھٹنے سے گھٹنا ملا کر چلے اور ہم ایک دوسرے سے اس طرح آگے بڑھے جس طرح مقابلے کے دو گھوڑے ایک دوسرے سے آگے بڑھتے ہیں ۔ اب وہ کہتے ہیں کہ ہم میں ایک نبی پیدا ہوگیا ہے اور اس پر آسمان سے وحی نازل ہوتی ہے ۔ ہم ان کے مقابلے میں نبی کہاں سے لائیں گے ؟ خدا کی قسم ہم کبھی بھی اس پر ایمان نہ لائیں گے ۔ اور کبھی بھی اس کی تصدیق نہ کریں گے ۔ راوی کہتے ہیں کہ اخنس اسے چھوڑ کر اٹھ گیا ۔ ابن جریر نے آیت (قد نعلم ۔۔۔۔۔ (6 : 33) الخ کے بارے میں سدی سے بواسطہ اسباط یہ روایت نقل کی ہے کہ بدر کے موقعہ پر اخنس ابن شریق نے بنی زہرہ سے کہا : اے بنی زہرہ ‘ محمد تمہارا بھانجا ہے ‘ تمہارا حق تو یہ ہے کہ تم اپنے بھانجے کی مدافعت کرو۔ اگر وہ فی الحقیقت نبی ہے تو تم ایک نبی کے ساتھ مقاتلہ کرنے کے گناہ سے بچ جاؤ گے ۔ اگر وہ جھوٹا ہوا تو تمہارا حق تو یہ ہے کہ تم اپنے بھانجے پر دست درازی نہ کرو۔ تم رک جاؤ حتی کہ اس کی مڈبھیڑ ابوجہل سے ہوجائے ۔ اگر محمد غالب ہوا تو تم صحیح و سلامت واپس ہوجاؤ گے اور اگر محمد مغلوب ہوگیا تو بھی تمہاری قوم تم سے کوئی مواخذہ نہ کرے گی ۔ چناچہ بدر کے واقعہ کے بعد اس کا نام اخنس (علیحدہ ہونے والا ‘ چھپنے والا) پڑگیا حالانکہ پہلے اس کا نام ابی تھا ۔ اس کے بعد اخنس نے ابوجہل سے ملاقات کی ۔ یہ ملاقات تنہائی میں ہوئی ۔ اخنس نے کہا : ” ابو الحکم ‘ مجھے محمد کے بارے میں بتاؤ کہ وہ سچے ہیں یا جھوٹے ؟ یہاں قریش کا میرے اور تمہارے سوا کوئی نہیں ہے جو ہماری بات سنتا ہو ‘ ابو جہل نے کہا : ” تم برباد ہوجاؤ ‘ وہ تو سچے ہیں خدا کی قسم ۔ “ محمد نے تو کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ لیکن بات یہ ہے کہ اگر قصی کی اولاد لواء ‘ سقایہ اور حجابہ کے مناصب کے ساتھ ساتھ نبوت کا مرتبہ بھی لے جائے تو قریش کے باقی قبائل کے پاس کیا رہ جائے گا ۔ “ یہی مفہوم ہے اس آیت کا ” یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔ “ یہاں یہ بات نوٹ کرلی جائے کہ یہ سورة مکی ہے اور یہ آیت بھی بیشک مکی ہے لیکن بدر کا واقعہ مدینہ میں پیش آیا ‘ لیکن جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کسی آیت میں یہ کہتے (ذلک قولہ) اور اس کے بعد کسی واقعہ کا ذکر کرتے تو مطلب یہ نہ ہوتا تھا کہ اس واقعہ کی بابت یہ آیت نازل ہوئی تھی بلکہ مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس واقعہ پر یہ آیت صادق آتی ہے اور اس واقعہ پر اس سے راہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ چاہے یہ آیت اس واقعہ سے پہلے نازل ہوئی ہو یا بعد میں نازل ہوئی ہو لہذا یہ روایت اس لحاظ سے غریب نہ ہوگی ۔ ابن اسحاق (رح) نے یزید ابن زیادہ سے روایت کی ہے ‘ انہوں نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے ۔ محمد نے کہا کہ مجھے یہ بتا گیا ہے عتبہ ابن ربیعہ سرداران قریش سے تھا ‘ ایک دن قریش کی ایک محفل میں بیٹھا ہوا تھا ۔ حضور اکرم ﷺ بھی مسجد حرام میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے ۔ عتبہ نے قریش سے کہا کیا یہ مناسب ہے کہ میں محمد ﷺ کے پاس جا کر ان کے سامنے کچھ تجاویز پیش کروں ؟ اور جو مطالبے کرے ہم انہیں پورا کردیں اور وہ ہم پر تنقید بند کر دے ‘ شاید کہ وہ مان جائے ۔ یہ اس دور کی بات ہے جب حضرت حمزہ مسلمان ہوگئے تھے اور آپ کے ساتھی روز بروز بڑھ رہے تھے ۔ مجلس نے بالاتفاق کہا کہ تجویز بالکل درست ہے ۔ ابو الولید اٹھو اور ان سے بات کرو ۔ عتبہ اٹھا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا ۔ اور بولا : ” بھتیجے ! تم جانتے ہو کہ ہم میں تمہارا بلند مقام ہے ‘ افراد قبیلہ بھی کافی ہیں اور آپ کا نسب بھی بلند مرتبت ہے لیکن تم نے اپنی قوم کو ایک عظیم مصیبت میں ڈال دیا ہے ۔ قوم کا اتحاد واتفاق ختم ہوگیا ہے ‘ تم نے قوم کے افکار و عقائد کی تضحیک کی ۔ ان کے دین اور الہوں کو برا بھلا کہا اور قوم کے آباؤ اجداد جو فوت ہوگئے ہیں ان کو تم کافر اور جہنمی قرار دیتے ہو ۔ میں تمہارے سامنے کچھ تجاویز پیش کرتا ہوں تم انہیں ذرا غور سے سنو ۔ ممکن ہے کہ یہ تمہارے لئے قابل قبول ہوں ۔ “ رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا : ” ابو الولید کہو ‘ میں سنتا ہوں ۔ “ اس پر عتبہ نے کہا : ” بھتیجے ! تم نے جو تحریک برپا کر رکھی ہے اگر اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ تم مال و دولت جمع کرلو تو ہم تمہارے لئے اس قدرمال جمع کردیتے ہیں کہ ہم میں تم سب سے زیادہ مالدار بن جاؤ گے ۔ اگر تم لیڈر شپ چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا اتنا بڑا لیڈر بنا دیتے ہیں کہ تمہارے بغیر ہم کوئی فیصلہ نہ کریں گے ۔ اگر تم بادشاہت چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنا لیتے ہیں اور اگر صورت حال یہ ہے کہ جو خیالات تم پر نازل ہوتے ہیں یہ کوئی ایسی نفسیاتی بیماری ہے جس میں تم مجبور ہو اور تم ان خیالات کو نرک نہیں کرسکتے تو ہم تمہارے لئے بڑے بڑے اطباء کا انتظام کرتے ہیں اور اس قدر خرچ کرتے ہیں کہ تم صحیح اور تندرست ہوجاؤ اس لئے کہ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان کا تابع اس پر غالب آجاتا ہے اور اس کا علاج کرنا پڑتا ہے ۔ (یہ تھے تقریبا اس کے الفاظ) عتبہ نے یہ بات کی اور فارغ ہوگیا ۔ اور حضور اکرم ﷺ اس کی باتوں کو اچھی طرح سنتے رہے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اس سے پوچھا ابو الولید تمہاری بات ختم ہوگئی ۔ “ تو اس نے کہا ‘ ہاں ۔ حضور ﷺ نے ان سے کہا ” اب تم میری بات توجہ سے سنو ‘ تو عتبہ نے کہا فرمائیے ! آپ نے پڑھنا شروع کیا ۔ (آیت) ” حم (1) تنزیل من الرحمن الرحیم (2) کتب فصلت ایتہ قرانا عربیا لقوم یعلمون (3) بشیرا ونذیرا فاعرض اکثرھم فھم لا یسمعون (4) (41 : 1 تا 4) ” آپ نے سورة حم السجدہ کی یہ آیات ‘ آیت سجدہ تک تلاوت کیں اور پھر سجدہ فرمایا ۔ عتبہ خاموشی سے سنتا رہا ۔ اپنے ہاتھ پیٹھ کے پیچھے زمین پر رکھے اور ان پر ٹیک لگائی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ” ابولولید تم نے سن لیا ‘ یہ ہے میرا جواب ۔ “ عتبہ اٹھا اور اپنی محفل میں گیا ۔ انہوں نے جب عتبہ کو آتے دیکھا تو ایک دوسرے سے کہا :” خدا کی قسم ابو الولید جو چہرہ لے کر گیا تھا اب اس کا وہ چہرہ نہیں ہے ۔ “ لیکن جب وہ ان کے پاس بیٹھا تو انہوں نے پوچھا ابو الولید تم کیا لے کر آئے ہو ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس یہ بات ہے کہ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے کہ خدا کی قسم میں نے پہلے کبھی ایسا کلام نہیں سنا ۔ خدا کی قسم نہ وہ جادو ہے ‘ نہ شعر ہے ‘ نہ کہانت ہے ۔ اے اہل قریش ! تمہیں میرا مشورہ یہ ہے کہ تم میری بات مانو اور اس معاملے کو مجھ پر چھوڑ دو ۔ میرا مشورہ یہ ہے کہ اس شخص سے تعرض نہ کرو اور اس کی راہ نہ روکو ‘ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو ‘ خدا کی قسم میں نے اس کی جو بات سنی ہے اس کے بارے میں ایک دن تم کوئی عظیم خبر سنو گے ۔ اگر اس کو عربوں نے ختم کردیا تو وہ تمہارا یہ مسئلہ حل کردیں گے ۔ اور اگر یہ شخص عربوں پر غالب آگیا تو اس کی حکومت تمہاری حکومت ہوگی ۔ اس کی عزت تمہاری عزت ہوگی اور تم اس کی وجہ سے نہایت ہی خوشحال قوم بن جاؤ گے ۔ “ اس پر اہل محفل نے یک زبان ہو کر کہا : ” ابو الولید خدا کی قسم اس نے اپنی باتوں سے تم اپنی باتوں سے تم پر جادو کردیا ہے ۔ “ علامہ بغوی نے اپنی تفسیر میں حضرت جابر ؓ کی روایت نقل فرمائی ہے کہ جب حضور ﷺ سورة حم السجدہ پڑھتے پڑھتے اس آیت تک پہنچے (آیت) ” فان اعرضوا فقل انذرتکم صعقۃ مثل صعقۃ عاد وثمود “۔ (41 : 13) تو عتبہ نے حضور ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ ﷺ کو صلہ رحمی کا واسطہ دیا کہ ایسا نہ کہیں ‘ اس کے بعد عتبہ اپنے خاندان کے پاس چلا گیا اور قریش کی طرف نہ آیا اور اس نے اپنے آپ کو بند کرلیا ۔ اس کے بعد جب عتبہ سے اس بارے میں گفتگو کی جاتی تو وہ کہتا : ” میں نے حضور ﷺ کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور آپ ﷺ کو صلہ رحمی کا واسطہ دیا کہ وہ آگے نہ بڑھیں اور کیا تمہیں علم نہیں ہے جب محمد کوئی بات کہتا ہے تو وہ ہو کر رہتی ہے ‘ اس لئے میں ڈر گیا تھا کہ کہیں تم پر بھی عذاب نازل نہ ہوجائے ۔ ابن اسحاق نے یہ روایت کی ہے ولید ابن مغیرہ کے پاس قریش کے کچھ زعماء جمع ہوئے ۔ ولید ابن مغیرہ ان میں ایک معمر دانشور تھا ۔ زمانہ حج کا تھا ۔ اس نے ان زعماء سے کہا ‘ اہل قریش موسم حج آرہا ہے اور تمام عرب وفود کی شکل میں آئیں گے اور انہوں نے تمہارے ساتھی کے بارے میں سن رکھا ہے ‘ لہذا اس کے بارے میں تم ایک رائے پر متفق ہوجاؤ اور اگر تم مختلف باتیں کرو گے تو اس طرح تم خود ایک دوسرے کی تکذیب کرو گے ۔ خود تمہاری اپنی باتیں تمہاری تردید کردیں گی ۔ انہوں نے کہا ‘ ابو شمس ! تم ہی خود تجاویز دو ‘ میں سنتا ہوں۔ انہوں نے کہا : ” ہم اسے کاہن کہیں گے ۔ “ اس نے کہا : ” یہ بات بالکل غلط ہے ‘ اس لئے کہ وہ ہر گزکاہن نہیں ہے ۔ ہم نے کاہن بہت دیکھے ہیں ‘ نہ وہ کاہنوں کی طرح گاتا گنگناتا ہے ہے اور نہ سجع ملاتا ہے ۔ “ پھر انہوں نے یہ تجویز دی کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں نہ اس کا گلا گھونٹا ہوا ہے ‘ نہ اس کے دل میں وسوسے آتے ہیں ‘ نہ اس کے دل میں شکوک پیدا ہوتے ہیں ۔ پھر انہوں نے تجویز کیا کہ اسے شاعر کہنا چاہئے تو اس نے کہا : کہ آپ ﷺ شاعر بھی نہیں ہیں ۔ ہم اشعار کو اچھی جانتے ہیں ‘ رجز ‘ ہزج ‘ قریضہ ‘ مقبوضہ اور مبسوطہ اس کی اقسام ہیں لہذا قرآن شعر کے زمرے میں نہیں آتا ۔ تو پھر انہوں نے کہا کہ ہمیں انہیں ساحر کہنا چاہیے ۔ اس پر اس نے کہا : کہ حضور ﷺ ساحر بھی نہیں ہیں ۔ ہم نے جادوگروں اور ان کے جادوگرانہ کرتبوں کو دیکھا ہے ۔ وہ نہ پھونک جھاڑ کا کام کرتا ہے اور نہ تعویذ گنڈوں کا ۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ابو شمس پھر تم ہی بتاؤ کہ ہم کیا کہیں ۔ انہوں نے کہا : خدا کی قسم ‘ ان کی باتوں میں بڑی مٹھاس ہے اس کا اصل پھل دار ہے اور اس کی شاخیں بار آور ہیں اور ان باتوں میں سے جس کا بھی تم اظہار کرو گے لوگ انہیں غلط سمجھیں گے ۔ میرے خیال میں اگر اس کلام کے بارے میں کوئی معقول بات کہی جاسکتی ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ تم محمد پر ساحر ہونے کا الزام عائد کرو کہ وہ ایسی جادو بھری باتیں کرتا ہے جن کی وجہ سے باپ اور بیٹے کے درمیان تفرقہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ بھائی اور بھائی کے درمیان دشمنی پیدا ہوجاتی ہے ۔ میاں اور بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہوجاتا ہے اور ایک شخص اپنے خاندان سے کٹ جاتا ہے ۔ چناچہ یہ لوگ یہ بات لے کر پھیل گئے اور موسم حج میں تمام راستوں پر بیٹھ گئے ‘ جو شخص بھی آتا یہ لوگ اسے ڈراتے اور خبردار کرتے اور حضور ﷺ کے کام سے لوگوں کو باخبر کرتے ۔ ابن جریر نے عبدالاعلی ‘ محمد ابن ثورہ ‘ معمر عبادہ ابن منصور کے واسطوں سے عکرمہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ولید ابن مغیرہ نبی ﷺ کے پاس آئے ۔ آپ نے اسے قرآن کریم سنایا ۔ اس پر قرآن کریم کا بہت ہی اثر ہوا ۔ اس واقعہ سے جب ابو جہل ابن ہشام خبردار ہوا تو وہ ولید کے پاس آیا اور اسے کہا کہ تمہاری قوم یہ چاہتی ہے کہ وہ تمہارے لئے دولت جمع کرے تو ولید نے کہا یہ کیوں ؟ تو اس نے کہا کہ آپ کے لئے بطور چندہ وہ جمع کر رہے ہیں اس لئے کہ تم محمد ﷺ کے پاس گئے تھے اور اس کی جانب سے عطیے کے خواہاں تھے ۔ (یہ خبیث اس کی عزت نفس پر چوٹ لگانا چاہتا تھا کیونکہ یہ شخص اپنے آپ کو مالدار سمجھتا تھا اور اپنے مال پر فخر کرتا تھا) اس نے کہا کہ آیا قریش کو معلوم نہیں ہے کہ میں ان میں سب سے زیادہ مالدار ہوں ؟ تو اس پر ابو جہل نے کہا ‘ پھر آپ کے لئے مناسب ہے کہ محمد کے بارے میں کوئی ایسی بات کہیں جس سے معلوم ہو کہ تم اسے سخت ناپسند کرتے ہو اور اس کے خلاف ہو ۔ تو ولید نے کہا : کہ ” تم بتاؤ میں اس کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہوں ۔ خدا کی قسم تم میں کوئی ایک بھی میرے مقابلے میں اصناف شعر سے زیادہ واقف نہیں ہے ‘ نہ مجھ سے زیادہ رجزیہ اشعار کو جانتا ہے ‘ نہ قصائد کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہے ۔ نہ کوئی جنات کے اشعار کا مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے ۔ خدا کی قسم محمد کی کوئی بات شعر کے زمرے میں نہیں آتی ۔ خدا کی قسم وہ جو بات کرتا ہے وہ بہت ہی میٹھی بات ہے ‘ اس کی ظاہری شکل نہایت ہی پالش شدہ ہے ۔ اس کے سامنے جو چیز آتی ہے وہ اسے توڑ دیتی ہے ۔ الغرض اس کی بات برتر اور بلند رہتی ہے اور اس پر کوئی بات بلندی حاصل نہیں کرسکتی ۔ ابو جہل نے کہا ‘ خدا کی قسم لوگ تم سے ہر گز راضی نہ ہوں گے ۔ تمہیں بہرحال کچھ کہنا ہی پڑے گا ۔ اس نے کہا ” پھر مجھے سوچنے دیجئے جب اس نے اچھی طرح سوچا تو پھر کہا : ” یہ ایک جادو ہے جو پر اثر ہے اور کسی اور ذریعے سے آتا ہے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ذرنی ومن خلقت وحیدا۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیھا تسعۃ عشر) ایک دوسری روایت میں ہے کہ قریش نے کہا کہ اگر ولید صابی بن گیا تو تمام قریش صابی بن جائیں گے ۔ ابو جہل نے کہا : ” اس کا بندوبست میں کرلوں گا ۔ فکر مت کرو “۔ اس کے بعد وہ اس سے ملا اور اس نے بڑے غور وفکر کے بعد یہ بات کہی کہ ” یہ جادو بھرا کلام ہے ۔ کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اس کے نتیجے میں ایک شخص اور اس کی اولاد اور اس کے ملازمین کے درمیان تفرقہ پیدا ہوجاتا ہے ۔ “ ان تمام باتوں سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کے مخالفین کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ آپ ان تک جو پیغام پہنچا رہے ہیں اس میں آپ ﷺ ان سے کوئی جھوٹ بول رہے ہیں بلکہ وہ ان روایات کے مطابق بعض دوسری وجوہات واسباب کی وجہ سے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگئے تھے ۔ ان اسباب میں سے سب سے بڑا سبب یہ کہ وہ سمجھتے تھے کہ اس دعوت وتحریک کے نتیجے میں ان سے ان کی موجود سیادت و قیادت چھن جائے گی ‘ جس پر وہ غاصبانہ طور پر فائز تھے ۔ حالانکہ سیادت و قیادت اور حاکمیت کا مقام خاصہ خدا تھا اور یہی مفہوم ہے ۔ (لا الہ الا اللہ) کا جو دعوت اسلامی کی اساس ہے ۔ یہ لوگ بہرحال عربی زبان اور اس کے مفہومات سے اچھی طرح واقف تھے اور وہ کلمہ شہادت کے اس مفہوم کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ اس لئے کہ کلمہ شہادت تمام حاکمیتوں اور قیادتوں کے خلاف ایک انقلابی دعوت تھی جس کا مقصد یہ تھا کہ انسانوں کی زندگی سے غیر اللہ کی بندگی کا قلع قمع کردیا جائے ۔ (آیت) ” قَدْ نَعْلَمُ إِنَّہُ لَیَحْزُنُکَ الَّذِیْ یَقُولُونَ فَإِنَّہُمْ لاَ یُکَذِّبُونَکَ وَلَکِنَّ الظَّالِمِیْنَ بِآیَاتِ اللّہِ یَجْحَدُونَ (33) وَلَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّن قَبْلِکَ فَصَبَرُواْ عَلَی مَا کُذِّبُواْ وَأُوذُوا (34) (6 : 33 : 34) ” اے نبی ﷺ ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں ۔ تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں انہوں نے صبر کیا۔ “ یہاں الظالمون سے مراد المشرکون ہے اور قرآن کریم کے بیشتر مقامات میں الظالمون سے مراد المشرکون ہی ہوتا ہے حضور اکرم ﷺ کے طیب خاطر کے لئے بات آگے بڑھتی ہے اور وہ حقیقی اسباب بیان کردیئے جاتے ہیں جن کی بناء پر جھٹلانے والے حضور ﷺ کی دعوت کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں۔ حالانکہ آیات الہیہ کی صداقت اور سچائی بالکل بدیہی ہے ۔ پھر اس سے آگے یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کے ہم منصب رسولوں کے ساتھ پوری انسانی تاریخ میں مکذبین نے یہی رویہ اختیار کیا ہے ‘ جن کے کچھ حالات قرآن نے بھی بیان کیے ہیں کہ رسولوں نے کن کن مشکل حالات میں اپنا کام جاری رکھا ۔ انہوں نے مشکلات پر صبر کیا یہاں تک کہ اللہ کی مدد آپہنچی ۔ یہ اشارہ اس لئے کیا گیا کہ سنت الہیہ کی یہی شان ہے ۔ سنت الہیہ کبھی نہیں بدلتی اور کسی کی تجاویز اور کسی کی خواہشات کے بدلے اللہ کی سنت نہیں بدلتی ۔ نیز کسی کے جھٹلانے کی وجہ سے ‘ کسی کی تکالیف کی وجہ سے اور کسی کی ذاتی مشکلات کی وجہ سے سنت الہیہ میں کبھی فیصلے قبل بر وقت نہیں کیے جاتے ۔

الأنعام 6:34

(آیت) ” نمبر 34۔ خدا پرستی کی دعوت ایک قدیم دعوت ہے ۔ تاریخ قدیم کی دور دراز وادیوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔ یہ راہ بالکل سیدھی ہے اور بالکل واضح ہے ۔ اس کے خطوط بالکل سیدھے ہیں ۔ اس پر چلنے والے پاؤں ہمیشہ ثابت قدم رہے ہیں ۔ مختلف قسم کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس راہ کو روکنے کی کوشش کی ہے ۔ نیز گمراہوں اور ان کے شدید ترین پیروکاروں نے اس دعوت کی راہ ہمیشہ روکی ہے ۔ اس راہ میں کئی داعیوں کو سخت مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ۔ خون دینا پڑا اور جان دینی پڑی لیکن قافلہ داعیان حق نے ہمیشہ اپنا سفر بالکل سیدھی سمت میں جاری رکھا ۔ یہ قافلہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس سیدھی راہ سے ادھر ادھر نہ ہوا ۔ نہ اس نے اس راہ کو چھوڑ کر روگردانی اختیار کی ۔ لیکن انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آخر کار اللہ کی نصرت صرف اللہ کے اصولوں اور فیصلوں کے مطابق آتی ہے ۔ ” تم سے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں ‘ مگر اس تکذیب پر اور ان اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں ‘ انہوں نے صبر کیا ‘ یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے اور پچھلے رسولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں ۔ “ یہ وہ الفاظ ہیں جو اللہ کی جانب سے اپنے رسول کو کہے جارہے ہیں ۔ یہ ایک یاد دہانی ہے اور ایک گونہ تسلی ہے ۔ ہمدردی اور تسلی کا ہاتھ آپ کے سرپر پھیرا جارہا ہے ۔ اور ان الفاظ کے اندر حضور اکرم ﷺ کے بعد آنے والے داعیوں کے بھی نقوش راہ واضح ہیں ۔ ایک واضح راستہ دکھایا جاتا ہے ‘ ان کا کردار بھی ان کے لئے متعین کردیا جاتا ہے اور آگاہ کردیا جاتا ہے کہ لا الہ الا اللہ کہنے سے مشکلات کے پہاڑ ٹوٹ سکتے ہیں اور جو مشکلات پہلے لوگوں کو پیش آئیں وہ ہر داعی حق کی راہ میں آتی ہیں ۔ یہ الفاظ داعیان حق کو بتاتے ہیں کہ دعوت حق کے لئے سنت الہیہ ایک ہی ہے اور دعوت حق بھی ایک ہی ہے ۔ اس میں تعدد ممکن نہیں ہے ۔ یہ ایک ایسی دعوت ہے کہ اکثر لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں اور مکذبین کی روش ہمیشہ ایسی ہی رہی ہے ‘ اس دعوت کے حاملین کو ہمیشہ اذیت دی جاتی رہی ہے اور اس تکذیب اور ایذا رسانی پر داعیوں کو صبر کرنا پڑتا ہے اور پھر صبر کے مرحلے کے بعد آخر کار داعیوں کو فتح و کامرانی نصیب ہوتی ہے ۔ لیکن نصرت اللہ کے طے کردہ اصولوں کے مطابق اور اپنے وقت پر آتی ہے ۔ یہ نصرت محض اس لئے قبل از وقت نہیں آجاتی کہ کچھ پاک طینت اور بےگناہ داعیوں کو جھٹلایا جاتا ہے اور انہیں اذیت دی جاتی ہے ۔ یا یہ کہ گمراہ لوگ اور گمراہی کے لیڈر ان پاک طینت لوگوں کو اذیت دینے پر قادر ہیں ۔ نیز یہ امر بھی سنت الہیہ کی رفتار کو تیز نہیں کرسکتا کہ ایک مخلص ‘ ذاتی خواہشات سے پاک وصاف ‘ نہایت ہی پاک طینت کارکن اور داعی اپنے دل کے اندر شدید خواہش رکھتا ہے کہ اس کی قوم راہ راست پر آجائے اور وہ اس حقیقت پر بہت ہی فکر مند اور دل گرفتہ ہے کہ اس کی قوم ضلالت میں گری ہوئی ہے اور یہ کہ اس کی قوم دنیا کی تباہی اور آخرت کے عذاب کی راہ پر چل پڑی ہے ۔ یہ تمام امور سنت الہیہ کو قبل از وقت ظاہر نہیں کرسکتے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی جلد بازی کی وجہ سے اپنے کسی کام میں جلد بازی نہیں کرتا ۔ اور اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے ۔ چاہے ان کلمات کا تعلق عباد صالحین کی آخری فتح سے ہو یا ان کے متعلق کسی طے شدہ تقدیر سے ہو ۔ یہ ایک فیصلہ کن دو ٹوک اور سنجیدہ فیصلہ ہے ۔ اس کا مقصد حضور ﷺ کو تسلی اور اطمینان دلانا ہے اور مشکلات راہ پر آپ کے ساتھ ہمدردی اور یک جہتی کا اظہار ہے ۔ اب یہ سنجیدہ فیصلہ اپنے اثرات کو اپنی آخری ممکن حدوں تک پہنچاتا ہے ۔ ان خدشات کی راہ بھی روک دی جاتی ہے جو ممکن تھا کہ حضور ﷺ کے دل میں پیدا ہوجائیں ۔ اس لئے کہ فطری طور پر ایک انسان یہ چاہتا ہے کہ اس کی قوم سدھر جائے اور ایک رسول تو پوری بشریت کی ہدایت کا مشتاق ہوتا ہے ۔ وہ خواہش مند ہوتا ہے اور انتظار میں ہوتا ہے کہ کب اس کی قوم اس کی دعوت پر لبیک کہتی ہے اور کب ہدایت پذیرہو جاتی ہے ؟ اس قسم کی خواہشات نزول قرآن کے وقت بعض مسلمانوں کے دل میں بھی جوش مارتی تھیں جن کی طرف اسی سورة کی دوسری آیات میں اشارت موجود ہیں ۔ اس قسم کی خواہشات انسانوں کے اندر نہایت ہی قدرتی اور فطری ہوتی ہیں ۔ لیکن اس دعوت اسلامی کے فیصلہ کن انداز ‘ اس کے حقیقی مزاج اس کے بارے میں رسولوں کے کردار اور پھر عوام الناس کے کردار کو پیش نظر رکھتے ہوئے قرآن کریم ذار سخت لہجے میں یوں مخاطب ہوتا ہے : ۔

الأنعام 6:35

(آیت) ” نمبر 35 تا 36۔ نہایت ہی شاہانہ انداز کے درمیان سے خوف کے چشمے پھوٹ رہے ہیں ۔ کوئی ان الفاظ کی ہولناکی اور اس معاملے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ نہ رکھے کہ یہ الفاظ رب العالمین کی طرف سے ہیں اور ان کیساتھ اللہ رب العالمین نے اپنے نبی کو مخاطب کیا ہے جن کی صفات میں صابر ہونا اور اولوالعزم رسولوں میں سے ہونا اہم صفات ہیں ۔ جنہوں نے نہایت ہی صبر اور خلوص کے ساتھ اپنی قوم کی جانب سے پہنچنے والی ایذاؤں کو برداشت کیا ۔ آپ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح ان کو بددعا نہ دی حالانکہ ایک زمانہ ان کی تیش ذنیاں سہتے رہے ۔ اور نہایت ہی صبر اور حلم کا مظاہرہ فرماتے رہے ۔ اے محمد ! یہ تو ہماری سنت ہے ۔ اگر ان لوگوں کی بےرخی اور ان کی جانب سے مسلسل تکذیب آپ برداشت نہیں کرسکتے اور آپ بہرحال انہیں کوئی معجزہ ہی دکھانا چاہتے ہیں تو پھر اگر آپ کے اندر استطاعت ہے تو آپ زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈلیں یا آسمان تک پہنچنے کے لئے کوئی سیڑھی لگا لیں اور اس طرح ان لوگوں کے سامنے کوئی حیران کن معجزہ پیش کردیں ۔ ان کی ہدایت ‘ حقیقت یہ ہے کہ اس لئے موقوف نہیں ہے کہ تم ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کر دو ۔ صرف یہ کمی نہیں رہ گئی کہ بس کوئی معجزہ صادر ہوا اور وہ ہدایت کو قبول کرلیں ۔ جیسے وہ بالکل تیار بیٹھے ہوں ۔ اس طرح تو اللہ تعالیٰ اگر چاہتا تو انہیں ہدایت پر جمع کردیتا ۔ یا تو اللہ اس طرح کرتا کہ ابتداء ہی سے انہیں اس طرح پیدا کرتا کہ وہ ہدایت کے سوا کوئی اور راستہ قبول ہی نہ کرتے مثلا ملائکہ اور یا یوں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو اپنی قدرت کے ذریعے راہ ہدایت کی طرف موڑ دیتا اور وہ ہدایت کی قبولیت کے لئے آمادہ ہوجاتے اور یا اللہ تعالیٰ کوئی ایسا معجزہ صادر کردے جس کی وجہ سے ان کی گردنیں جھک جائیں اور کسی وجہ سے یا بغیر کسی وسیلہ کے اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے دے کیونکہ وہ قادر مطلق ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے ‘ اس مخلوق مکرم حضرت انسان کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ۔ اس آسمانی منصوبے کے مطابق اس مقصد کی خاطر اس بات کی ضرورت تھی کہ اس مخلوق کو کچھ متعین صلاحتیں دی جاتیں اور یہ صلاحتیں ان صلاحیتوں سے جدا ہوں جو فرشتوں کو دی گئی تھیں ۔ ان خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ تھی کہ انسانوں کی صلاحیتوں کے درمیان تفاوت رکھی جائے ۔ یہ کہ لوگوں کے اندر ہدایت اور ایمان کی قبولیت کی استعداد بھی مختلف ہو اور لوگوں کے اندر قبولیت حق کے مادے کی مقدار بھی مختلف ہو ۔ یہ کام اللہ کے دائرہ قدرت کے مطابق اللہ کے قانون عدل کے مطابق اور اس کے قانون جزا وسزا کے عین مطابق ہو ۔ یہ وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی جبر کے ذریعے لوگوں کو راہ ہدایت پر جمع نہیں فرمایا ۔ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ہدایت کی راہ لیں اور ماننے نہ ماننے کا اختیار انہیں دے دیا اور آخرت میں اس پر عادلانہ جزاء وسزا کا اجراء فرمایا ۔ اس حقیقت کو جاننا چاہئے اور اس سے غافل نہ ہونا چاہئے ۔ (آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَی فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ (35) ” اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا لہذا نادان مت بنو ۔ “ شوکت کلام دیکھنے کے قابل ہے اور فیصلہ ہدایت بھی قابیل دید ہے ‘ لیکن بات کا موقع ومحل ہی ایسا تھا جس کے اندر اس زور دار بات اور دو ٹوک ہدایت کی ضرورت تھی ۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے انسانوں کو کس مزاج اور کس فطرت پر پیدا کیا ہے اور یہ کہ وہ ہدایت کے مقابلے میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں حالانکہ دعوت حق کے پاس ثبوت دلیل کی کوئی کمی نہیں ہوتی ۔

الأنعام 6:36

(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَی یَبْعَثُہُمُ اللّہُ ثُمَّ إِلَیْْہِ یُرْجَعُونَ (36) عوت حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ‘ رہے مردے تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے) واپس لائے جائیں گے ۔ “ جب کوئی رسول دعوت حق لے کر لوگوں کے پاس آتا ہے تو اس دعوت کے مقابلے میں لوگ دو گروہ بن جاتے ہیں ۔ ایک فریق تو زندہ اور بیدار لوگوں کا ہوتا ہے ‘ جن کے اندر قبولیت حق کی استعداد ہوتی ہے ‘ یہ استعداد کام کر رہی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے دل کے دریچے کھلے ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ ہدایت قبول کرلیتے ہیں اس لئے کہ ہدایت اور سچائی کے اندر ذاتی قوت ‘ نکھار اور فطرت کے ساتھ ہم آہنگی ہوتی ہے اور ایسے لوگ اسے پاتے ہی قبول کرلیتے ہیں ۔ (آیت) ” انما یستجیب الذین یسمعون “۔ (6 : 36) ” یعنی جن لوگوں کی قوت شنوائی کام کر رہی ہوتی ہے وہ حق کو قبول کرلیتے ہیں ۔ ایک دوسرافریق وہ ہوتا ہے جو دراصل مردہ ہوتا ہے ۔ اس کی فطرت معطل ہوجاتی ہے ۔ وہ نہ سنتا ہے اور نہ قبول کرتا ہے ۔ وہ نہ متاثر ہوتا ہے اور نہ ہی لبیک کہتا ہے ۔ یہ بات نہیں ہوتی کہ اس سچائی کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہوتی سچائی تو خود دلیل ہوتی ہے ‘ آفتاب آمد ولیل آفتاب ‘ اور جب بصیرت رکھنے والی فطرت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو وہ اس کے اندر سچائی دیکھ لیتی ہے ۔ فورا وہ آخری فیصلہ کرکے تسلیم کرلیتی ہے ۔ دوسری قسم کے لوگوں کے اندر جو کمی ہوتی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ ان کی فطرت مر چکی ہوتی ہے اور ان کی استعداد قبولیت حق جاتی رہتی ہے لہذا ان کے اندر محض دعوت سنتے ہی قبولیت حق کی استعداد پیدا نہیں ہوتی ۔ ایسے لوگوں کا کوئی علاج خود رسول وقت کے پاس بھی نہیں ہوتا ۔ ان پر کوئی دلیل کارگر نہیں ہوتی ۔ ان کا معاملہ اللہ کی مشیت کے ساتھ وابستہ ہوجاتا ہے ۔ اگر اللہ چاہے تو ایسے لوگوں کو زندہ کردیتا ہے اور اگر نہ چاہے تو یہ لوگ زندہ ہوں یا مردہ قیامت تک مردہ رہیں گے ۔ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ انہیں اٹھائے گا ۔ (آیت) ” والموتی یبعثھم اللہ ثم الیہ یرجعون “ (6 : 36) ” مردوں کو تو اللہ قبروں ہی سے اٹھائے گا اور وہ اس کی عدالت میں پیش ہوں گے ۔ یہ ہے کہانی قبولیت حق اور محرومیت کی ۔ اس سے ہدایت وضلالت کی حقیقت واضح ہوجاتی ہے ۔ رسول کے فرائض متعین ہوجاتے ہیں اور تمام امور کا آخری فیصلہ اللہ کے سپرد ہوتا ہے ۔ وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے ۔ نبی کریم ﷺ پر اس حقیقت کو آشکارا کرنے کے بعد ‘ اب روئے سخن اہل کفار اور مشرکین کے اس غلط مطالبے کی طرف پھرجاتا ہے جس میں وہ خوارق ومعجزات کے مطابلے کرتے تھے ۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ ان کا یہ مطالبہ جہالت پر مبنی ہے اور یہ لوگ اس معاملے میں سنت الہیہ سے بالکل بیخبر ہیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب کوئی معجزہ صادر ہوتا ہے تو اس کے بعد نہ ماننے والوں بلکہ ماننے والوں کو بھی ایک عظیم بربادی سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ لہذا اللہ تعالیٰ جو ان لوگوں کے مطالبے کو تسلیم نہیں کرتا تو اس لئے نہیں کرتا کہ وہ ان پر رحم کرکے انہیں اس عظیم تباہی سے بچانا چاہتا ہے ۔ اس موقعہ پر تمام زندہ مخلوقات کے بارے میں اللہ کی حکیمانہ تدابیر کو بھی بیان کردیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکیمانہ سنت تمام زندہ مخلوقات تک وسعت پزیر ہے ۔ یہاں وہ حکمت بتائی جاتی ہے جو ہدایت وضلالت کے فیصلوں کے پیچھے کام کرتی ہے اور جس میں اللہ تعالیٰ کی بےقید مشیت کام کرتی ہے ۔

الأنعام 6:37

(آیت) ” نمبر 37 تا 39۔ حضرت محمد ﷺ سے یہ لوگ ایسے خوارق عادت معجزات کے طلبگار تھے ‘ جو آپ سے قبل آنے والے رسولوں کو دیئے گئے تھے ۔ یہ لوگ قرآن کریم جیسے زندہ معجزے پر اکتفا کرنے والے نہ تھے ‘ جو قیامت تک کے لئے باقی ہے ‘ انسانی فہم وادراک کو اپیل کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسان فکری اعتبار سے بلوغ تک پہنچ گیا ہے ۔ اس لئے انسان کو ایسے فلسفیانہ اور بلند کلام کے ذریعے مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ کلام ایسا لازوال اور ابدی کلام ہے کہ کسی نسل کے ساتھ اس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ دائم و باقی ہے اور قیامت تک انسانی شعور اور ادراک سے مخا طب ہے ۔ یہ لوگ خارق عادت معجزے کے تو طلبگار تھے لیکن ایسے معجزات کے صدور کے بعد سنت الہی کے مطابق جو عذاب آتا ہے اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے ۔ اس عذاب کی لپیٹ میں سب لوگ آجایا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو دنیا میں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ نیز یہ لوگ اس حکمت کو بھی نہ پا رہے تھے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزے کا صدور نہ فرمایا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر معجزہ صادر بھی ہوجائے تو بھی یہ لوگ ماننے والے نہ تھے ۔ حضور ﷺ سے قبل کوئی اقوام نے یہ حرکت کی تھی اور وہ ہلاکت کی مستحق ہوگئی تھیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان لوگوں کو مہلت دی جائے اور ان لوگوں میں سے کئی ایسے تھے جن کی قسمت میں ایمان لانا لکھا تھا ۔ اگر کوئی شخص ان میں سے ایمان نہ بھی لایا تو اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس کی پشت سے امت مومنہ پیدا ہونے والی ہے ۔ لیکن یہ لوگ اس مہلت پر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اللہ نے خود ان کے مطالبے کے باوجود انہیں اس ابتلاء سے بچایا جبکہ وہ اس مطالبے کے عواقب سے بیخبر تھے ۔ قرآن کریم ان کے اس مطالبے کے تذکرے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ لوگ بےعلم ہیں اور یہ لوگ ان نتائج سے بیخبر ہیں جو ان کے مطابلے کے پورے ہوجانے کے بعد ظہور پذیر ہونے والے تھے ۔ حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت میں ہے ہر قسم کے معجزات کا صدور ‘ لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں کو مطالبے کے باوجود ان مشکلات اور ہلاکتوں سے دو چار نہ کیا جائے ۔ یہ ان کی رحمت کا بھی تقاضا ہے کہ اس نے اپنے اوپر رحمت کرنا فرض کرلیا ہے ۔ (آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔ اس انتباہ کے بعد اب سیاق کلام قرآن کریم کو ایک نہایت ہی لطیف راستے سے مخاطب کے دل میں اتارنے کی راہ تلاش کرتا ہے ۔ انسان کی قوت مشاہدہ اور قوت تدبر کو جگایا جاتا ہے کہ ذرا وہ اس کائنات پر غور وفکر کرے کہ اس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کرے ۔ اگر وہ غور وفکر کرے تو اسے بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے ۔ (آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38) ” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں ۔ “ اس کائنات میں صرف انسان ہی نہیں بستے تاکہ ہم یہ کہیں کہ بس اتفاقا وہ وجود میں آگئے اور اب ان کی زندگی بھی جس طرح وہ چاہیں بسر ہو اور لغو جائے ۔ بلکہ انسان کے ارد گرد دوسری جاندار مخلوقات بھی ہوتی ہیں اور ان تمام جانداروں کی زندگی ایک خاص منظم طریقے سے بسر ہو رہی ہے ۔ ان کی زندگی کے مطابعے سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندگی بامقصد ایک اسکیم کے مطابق اور حکیمانہ انداز میں بسر ہو رہی ہے اور تمام مخلوقات کی زندگی کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوتی ہے کہ یہ سب مخلوق ایک ہی خالق کی پیدا کردہ ہے ایک ہی قوت مدبرہ ہے جو ان تمام مخلوقات کے پیچھے عمل پیرا ہے اور کائنات پر پوری طرح حاوی ہے ۔ جو جانور زمین پر چلتے ہیں (وما من دآبۃ “۔ (6 : 38) اس لفظ میں تمام جاندار حشرات الارض تک شامل ہیں ۔ کیڑے مکوڑے یہاں تک کہ تمام جراثیم ‘ تمام پرندے جو ہوا میں اڑتے ہیں اور تمام مخلوق جو اس کائنات پر زندہ ہے ‘ وہ ایک امت ہے ۔ اس میں ایک جیسے خصائص ہیں ۔ وہ ایک طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کی زندگی کے امور بعینہ اسی طرح ہیں جس طرح یہاں امم انسانی کے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے کوئی چیز بغیر اسکیم اور تدبیر کے نہیں چھوڑی اور نہ کوئی چیز اپنے مخصوص علم کے دائرے سے باہر رکھی ہے ۔ آخرت میں یہ تمام مخلوقات اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گی اور ان کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ آخری فیصلے کرے گا ‘ جو وہ چاہے گا ۔ یہ آیت نہایت ہی مختصر ہونے کے باوجود زندہ مخلوقات کے بارے میں ایک فیصلہ کن بات ہمارے سامنے رکھتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ کی جانب سے پوری مخلوقات کی مکمل نگرانی ہو رہی ہے ۔ پوری مخلوق اس کی فعال تدبیر کے تحت زندہ ہے ‘ وہ اس پوری مخلوق کے بارے میں خوب جانتا ہے اور ہر چیز اس کے دائرہ قدرت میں ہے جو رب ذوالجلال ہے ۔ یہاں ظلال القرآن میں ہمارا جو انداز ہے ‘ اس کے پیش نظر ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم یہاں کائنات کے اندر پائے جانے والی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے بحث کرسکیں ۔ (البتہ میری کتاب خصائص التصور الاسلامی میں حقیقت الوہیت ‘ حقیقت انسانی اور حقیقت مادہ کے عنوانات قابل ملاحظہ ہیں) یہاں اس بحث کے دوران اس حقیقت کو اس لئے لایا گیا ہے کہ انسان کے دل و دماغ کو اس طرح متوجہ کیا جائے کہ یہ تمام مخلوقات اور اس مخلوق کا یہ نظام حیات جس کے مطابق زندگی رواں دواں ہے اور پھر اس کے بارے میں اللہ کی جانب سے مکمل تدبیر اور علم اور آخرت میں ان تمام مخلوقات کا اللہ کے سامنے اٹھنا یہ سب ایسے امور ہیں کہ ان میں کسی معجزے سے زیادہ حیرت انگیز دلائل اور اشارات ہیں ۔ اگر کوئی معجزہ صادر ہوجائے تو اسے انسانوں کی ایک وقت میں موجود نسل ہی ملاحظہ کرے گی لیکن ان مخلوقات کے اندر موجود آیات الہی پر اگر غور کیا جائے تو ہر وقت زندہ معجزات نظر آئیں گے اور ہر دور کے لوگ انہیں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ اب اس لہر کا خاتمہ اس حقیقت پر ہوتا ہے کہ ہدایت وضلالت کی پشت پر سنت الہی کے مطابق مشیت الہی کام کر رہی ہے اور یہ کہ اللہ کی مشیت اور سنت انسانی فطرت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور راہنمائی کرتی ہیں ۔ (آیت) ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِیْ الظُّلُمَاتِ مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39) ” مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ‘ تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے ۔ “ یہ اسی حقیقت کا اعادہ ہے کہ کون لوگ ہیں جو سنتے ہیں اور کون ہیں جو مردہ ہیں اور سن ہی نہیں سکتے ۔ لہذا وہ قبول حق سے محروم ہیں لیکن یہاں بات کو ایک دوسرے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ آیات الہی کی تکذیب کرتے اور ان دلائل وبینات پر غور نہیں کرتے جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں ۔ پھر قرآن کریم میں پائی جانے والی آیات ونشانیوں پر بھی وہ غور نہیں کرتے یہ کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے اپنی شخصیات میں پائے جانے والے قبولیت حق کے مادے اور صلاحیت ہی کو معطل کردیا ہے ۔ یہ بہرے ہیں سنتے ہیں نہیں گونگے ہیں اور کوئی بات ہی نہیں کرتے ۔ گمراہی کے اندھیروں میں غرق ہیں ۔ کچھ دیکھتے ہی نہیں ۔ صرف مادی اعتبار سے ہی نہیں حقیقی اعتبار سے بھی یہ بہرے ‘ گونگے اور اندھے ہیں اس طرح کہ ان کے قوت مدرکہ معطل ہے ۔ ان کے حواس کام ہی نہی کرتے اور نہ ان کے حواس کوئی اچھی بات ان کے دماغوں تک منتقل کرتے ہیں ۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات بذات خود اثر انگیز ‘ محرک اور جھنجوڑنے والی ہیں ۔ لیکن ان پر ان آیات کا کچھ اثر ہی نہیں ہو رہا ہے ۔ وہ بات کو پاتے ہیں نہیں ۔ لہذا ان آیات بینات سے جو شخص روگردانی کرتا ہے اس کی فطرت میں فساد پیدا ہوگیا ہے ۔ لہذا وہ اس قابل نہیں رہی ہے کہ ہدایت قبول کرے اور ایک ترقی یافتہ زندگی بسر کرنے کا اہل بن جائے ۔ اور یہ سب صورت حالات اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر رونما ہو رہی ہے ۔ اس مشیت کا تقاضا ہی یہ تھا کہ حضرت انسان کے اندر ہدایت قبول کرنے اور گمراہی اختیار کرنے کی دونوں صلاحیتیں موجود ہوں اور وہ دونوں راستوں میں سے کوئی ایک راہ اختیار کرنے میں آزاد ہو اور اس پر کوئی جبر نہ ہو اور نہ کوئی قضائے مبرم ہو۔ اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے راہ ہدایت پر ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے ۔ اور یہ ہے اللہ کی مشیت کا مفہوم ۔ اللہ کی مشیت اس شخص کی مددگار ہوتی ہے جو اس کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے اور جو شخص عناد کی راہ اختیار کرتا ہے خود گمراہ ہوتا ہے ۔ اللہ کسی بندے پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ۔ راہ ہدایت کی طرف انسان کا رجحان اور میلان یا راہ ضلالت کی طرف انسان کا رجحان اور میلان ‘ دونوں اس مخلوق کے اندر اللہ کی پیدا کردہ صلاحیت سے پیدا ہوتے اور اس کی مشیت کے مطابق ہی کام کرتے ہیں ۔ ابتداء تو یہ رجحان اللہ کا پیدا کردہ ہے اور اس ابتدائی تخلیق کردہ مادے کے نتائج کے طور پر جو ہدایت وگمراہی آتی ہے یہ بھی دائرہ مشیت الہیہ کے اندر ہوتی ہے ۔ اور یہ مشیت بےقید ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پھر باز پرس اور سزا وجزاء کیوں ہے ؟ تو وہ اس وجہ سے ہے کہ انسان کا رجحان بہرحال آزادی کی طرف ہوتا ہے ۔ میلان میں وہ آزاد ہے ۔ اگرچہ اس کی یہ صلاحیت اس کے اندر اللہ کی تخلیق کردہ ہے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہے ۔ (دیکھئے خصائص تصور اسلامی “ کا عنوان ” التوازن “ ) اس لہر کی آیات کی تشریح کے بعد اب ذرا رکیے تاکہ ہم اس مطالعے سے ان لوگوں کے لئے سرمہ بصیرت حاصل کرلیں جو کسی بھی دور میں اور کسی بھی امت میں دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں ۔ ان آیات میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ زمان ومکان کی حدود سے باہر ہیں ۔ ان کا اطلاق تمام حالات اور تمام تحریکوں پر ہوتا ہے اور ان میں دعوت دین کے ایسے نقوش وضع کئے گئے ہیں جو ہر دور کے لئے کار آمد ہیں ۔ یہاں ہم اس نکتے کے پورے پہلوؤں کو زیر بحث نہیں لاسکتے البتہ ہم یہاں نشانات راہ معلوم کرسکتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ نہایت ہی پر خطر ہے ۔ اس میں جگہ جگہ کانٹے بچھے ہوئے ہیں ۔ ہر قدم پر ایک ناپسندیدہ صورت حال کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے ۔ اس کے باوجود سچائی کو فتح اور کامرانی کی گارنٹی دی گئی ہے ۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ فتح کا وقت پس پردہ تقدیر ہوتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے ۔ اس کی حکمت کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے اور اس کے سوا کوئی اور اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی اس غیب کا علم نہیں دیا گیا ۔ اس راہ میں جو مشکلات سامنے آتی ہیں وہ دو اہم اساسی فیکٹرز کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ پہلا فیکٹر یہ ہے کہ جب دعوت اسلامی کا آغاز ہوتا ہے تو پہلے لوگ اس سے روگردانی اختیار کرتے ہیں ۔ اس کے بعد دوسری مشقت یہ ہوتی ہے کہ داعی کے دل میں اس بات کی شدید خواہش پیدا ہوجاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کو قبول کرکے راہ حق پر آجائیں اور اس ذوق وشوق میں وہ بھی ڈوب جائیں جس سے داعی سرشار ہوتا ہے ۔ اس کے لئے ہو پرجوش ہوتا ہے اور اپنی دعوت کے کلمے کی سربلندی چاہتا ہے ۔ یہ خواہش بھی اسی قدر تکلیف دہ ہوتی ہے جس قدر مخاطبین کی طرف سے اعراض اور تکذیب تکلیف دہ ہوتی ہے ۔ یہ دونوں فیکٹرز داعی کے لئے وہ ان روح بن جاتے ہیں۔ یہاں اس لہر میں قرآن کریم جو ہدایات دیتا ہے اور وہ اس مشقت کے دونوں پہلوؤں کے سلسلے میں ہیں ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ جو لوگ قرآن کی دعوت سے اعراض کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں وہ حق الیقین رکھتے ہیں کہ صرف حضور ﷺ اور آپ کی دعوت عین سچائی ہیں ۔ اور حضور ﷺ سچے ہیں اور وہ یہ پیغام اللہ کی جانب سے لے کر آئے ہیں ۔ لیکن اپنے اس علم کے باوجود وہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ۔ وہ محض ذاتی خواہشات اور ہوائے نفس کی وجہ سے تکذیب کرتے ہیں حالانکہ یہ دعوت ایسی ہے کہ وہ بذات خود دلیل حق ہے ۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب کا مصداق ہے اور انسان کے فطری تقاضوں کے عین مطابق ہے ۔ بشرطیکہ فطرت زندہ ہو اور سچائی کو قبول کرنے کا مادہ اپنے اندر رکھتی ہو ۔ کیونکہ (آیت) ” انما یستجیب الذین یسمعون “ (6 : 36) بیشک دعوت حق تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو تکذیب پر اصرار کرتے ہیں تو ان کے دل و دماغ مردہ ہیں ۔ وہ خود بھی مردہ ہیں ۔ گونگے ‘ بہرے اور اندھے ہیں اور تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ رسول کے اندر یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ مردوں کو سنوائے اور نہ مردے سنتے ہیں ۔ اگرچہ کوئی پکارتا ہے ۔ ایک داعی کی ڈیوٹی یہ نہیں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے ۔ کیونکہ یہ تو اللہ کی شان ہے اور یہ اللہ کا کام ہے ۔ یہ تو ہے معاملے کا ایک پہلو اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ کی نصرت بہرحال حق کے ساتھ ہوتی ہے ۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ دستور الہی ہے کہ وہ اللہ کی جانب سے مقرر شدہ وقت پر آتی ہے ۔ جس طرح سنت الہیہ قبل از وقت ظاہر نہیں ہوتی اور جس طرح اللہ کے کلمات بدلتے نہیں ۔ اسی طرح یہ بات بھی اٹل ہے کہ آخر کار نصرت آتی ضرور ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ پر ہے کہ وہ قبل از وقت نہیں آتی ۔ اپنے وقت پر ہی ظاہر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس معاملے میں کوئی جلد بازی نہیں فرماتے ۔ اس لئے کہ اذیت اور تکالیف تو داعیوں پر آتی ہی رہتی ہیں ۔ اگرچہ داعی رسول ہی کیوں نہ ہوں ۔ کیونکہ داعیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بغیر عجلت اور شتابی اور بےصبری کے مشکلات کو انگیز کریں اور قبل ازوقت نصرت کا مطالبہ نہ کریں ۔ دین اسلام میں ایک داعی اور رسول کا کردار کیا ہوتا ہے ‘ ان قرآنی ہدایات میں اس کا تعین بھی کردیا گیا ہے ۔ تمام ادوار کے لئے اور تمام معاملات کیلئے ۔ وہ کردار یہ ہے کہ انہوں نے پیغام پہنچانا ہے اور اپنی راہ پر آگے بڑھنا ہے اور اس راہ کی مشکلات کو برداشت کرنا ہے ۔ رہی یہ بات کہ لوگ راہ ہدایت پر آتے ہیں یا نہیں تو یہ جس طرح داعی اور رسول کی طاقت کے حدود سے باہر ہے اسی طرح ان کے فرائض میں بھی شامل نہیں ہے ۔ ہدایت وضلالت سنت الہیہ کے مطابق کام کرتی ہیں اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اگر رسول اپنے کسی محبوب کے بارے میں لاکھ چاہے کہ وہ ہدایت پر آجائے تو اگر سنت الہیہ اس کے حق میں نہیں ہے تو وہ راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ جبکہ رسول لاکھ چاہے کہ وہ ہدایت پر آجائے تو اگر سنت الہیہ اس کے حق میں نہیں ہے تو وہ راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ جبکہ رسول کے دشمنوں اور مبغوض لوگوں کو بھی ہدایت نصیب ہو سکتی ہے ۔ اس معاملے میں داعی اور رسول کی شخصیت اور ذات کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ رسول کے ساتھ یہ حساب نہ ہوگا کہ اس کی دعوت کے نتیجے میں کتنے لوگ راہ راست پر آئے ہیں۔ اس سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے دعوت کا حق کس قدر ادا کیا ‘ کس قدر مشکلات کو برداشت کیا اور کس قدر اپنی راہ دروش پر جمے رہے ۔ اور کس قدر ثابت قدمی اختیار کی ۔ رہی یہ بات کہ لوگ ہدایت قبول کرتے ہیں یا نہیں ۔ تو یہ معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔ (آیت) ” مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39) جسے اللہ چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے ۔ “ (آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَیَ (35) ” اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا ۔ “ (آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ (6 : 36) ” دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ اس قبل ہم یہ بیان کر آئے ہیں اس سے قبل ہم یہ بیان کر آئے ہیں کہ اللہ کی مشیت ہدایت وضلالت کے بارے میں بےقید ہے اور اس کا رابطہ لوگوں کے رجحان اور جدوجہد کے ساتھ ہے ۔ وہ بیان کافی وشافی ہے ۔ چناچہ داعی حق کا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ جن لوگوں کو دعوت دیتا ہے ‘ ان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر کان نہ دھرے ۔ خصوصا جبکہ ان تجاویز کا تعلق اساس دین اور منہاج دعوت سے ہو ۔ نہ کسی داعی کے لئے مناسب ہے کہ وہ دین کے اصولوں کو لوگوں کی وقتی خواہشات ورغبات کے مطابق بنا سجا کے پیش کرے ۔ مشرکین کا مطالبہ یہ تھا کہ حضور ﷺ کچھ خارق عادت معجزات پیش کریں جو ان کے زمانے کے تصورات اور مالوفات کے مطابق ہوں اور جنہیں وہ سمجھ سکیں جس کے بارے میں قرآن کریم نے کئی مقامات پر ذکر کیا ہے ۔ اس سورة میں بھی ان کا یہ قول مذکور ہے ۔ (آیت) ” لولا انزل علیہ ملک (25 : 7) وہ کہتے ہیں کہ اس پر فرشتہ کیوں نہیں نازل ہوتا ؟ (آیت) ” وقالوا لولا نزل علیہ ایۃ من ربی “۔ اور وہ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں نازل ہوتی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی جانب سے ؟ “ (آیت) ” واقسموا باللہ جھدا ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ لیومنن بھا “۔ (6 : 109) اور وہ پختہ قسمیں اٹھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے ۔ “ ایک دوسری سورة میں ان کا یہ مطالبہ نہایت ہی تعجب خیز انداز میں سامنے آتا ہے ۔ سورة اسراء میں اللہ نے ان کے اس مطالبے اور تجویز کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔ (آیت) ” وقالوا لن مومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا ‘، (90) اوتکون لک جنۃ من نخیل وعنب فتفجر الانھر خللھا تفجیرا (91) اوتسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا اوتاتی باللہ والملئکۃ قبیلا (92) اویکون لک بیت من زخرف اوترقی فی السمآء ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرءہ ) (93) (17 : 90 تا 93) ” اور انہوں نے کہا ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے ۔ یا تیری لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے ۔ یا تو آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعوی ہے یا خدا اور فرشتوں کو رو در رو ہمارے سامنے لے آئے ۔ یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں ۔ “ اور سورة الفرقان میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے ۔ (آیت) ” وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق لولا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرا “۔ (7) او یلقی الیہ کنز او تکون لہ جنۃ یا کل منھا (8) (25 : 7۔ 8) کہتے ہیں یہ کیسا رسول ہے ‘ جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ کیون نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا یا اور نہین تو اس کے لئے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ روزی حاصل کرتا۔ “ اس لہر میں رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو براہ راست اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ وہ اہل کفر کے مطالبے سے متاثر ہو کر کہیں اس خواہش کا اظہار نہ کریں کہ کوئی معجزہ صادر ہو ہی جائے ۔ چناچہ حضور ﷺ سے ان الفاظ میں خطاب ہوا۔ (آیت) ” وَإِن کَانَ کَبُرَ عَلَیْْکَ إِعْرَاضُہُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِیَ نَفَقاً فِیْ الأَرْضِ أَوْ سُلَّماً فِیْ السَّمَاء فَتَأْتِیَہُم بِآیَۃٍ وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَی فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ (35) إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَی یَبْعَثُہُمُ اللّہُ ثُمَّ إِلَیْْہِ یُرْجَعُونَ (36) ” اگر ان لوگوں کی بےرخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا لہذا نادان مت بنو ۔ دعوت حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ‘ رہے مردے تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور پھر وہ واپس لائے جائیں گے ۔ “ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے) ۔ بعض مسلمانوں کے دلوں میں یہ رغبت پائی جاتی تھی کہ مشرکین صدور معجزات کے بارے میں جو مطالبے کرتے ہیں ان کا مطالبہ پورا کردیا جائے ۔ اس لئے کہ وہ پختہ قسمیں کھاتے تھے کہ اگر کوئی معجزہ صادر ہوگیا تو وہ ضرور ایمان لائیں گے ۔ ایسے لوگوں کو کہا گیا : ۔ (آیت) ” قُلْ إِنَّمَا الآیَاتُ عِندَ اللّہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ أَنَّہَا إِذَا جَاء تْ لاَ یُؤْمِنُونَ (109) وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَہُمْ وَأَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُواْ بِہِ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ (110) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں ۔ ہم اسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے ۔ ہم انہیں اس کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑے دیتے ہیں) تاکہ اہل ایمان یہ جان لیں کہ اہل کفر کے ہاں اس بات کی کمی نہیں ہے کہ ان کے سامنے کوئی معجزہ نہیں ہے یا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جو انہیں سچائی تک لے جائے ‘ بلکہ ان کے ہاں جو کمی ہے وہ یہ ہے کہ وہ سنتے ہی نہیں ۔ وہ اس طرح ہیں جس طرح مردے ۔ ان کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے ۔ وہ سنت الہی کے مطابق اپنے آپ کو ہدایت سے محروم کرچکے ہیں ۔ لہذا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ دین اللہ سنت کے مطابق چلتا ہے ۔ اور اس کا مقام اس سے بلند ہے کہ وہ لوگوں کی خواہشات اور عوام کی تجاویز کے مطابق کوئی روش اختیار کرے ۔ اب ہم قرآنی آیات کے ایک وسیع دائرے میں آجاتے ہیں ۔ اب ایسی ہدایات سامنے آتی ہیں جو زمان ومکان کی قید سے وراء ہیں ‘ جن کا تعلق کسی ایک واقعہ سے نہیں ہے ۔ نہ کسی مخصوص تجویز سے ان کا تعلق ہے ۔ زمانہ تو بدلتا رہتا ہے ۔ لوگوں کی خواہشات اور ان کے مطالبات بھی بدلتے رہتے ہیں اس لئے داعیان حق کو چاہئے کہ انہیں لوگوں کی خواہشات صراط مستقیم سے ادھر ادھر نہ کردیں ۔ یہ لوگوں کی خواہشات اور ان کے مطالبات ہی ہیں جن کا لحاظ کرتے ہوئے بعض داعیان حق اسلامی نظریہ حیات کو ایک مذہب کے طور پر تسلیم کر کے اسے دوسرے مذہب کی طرح ایک کاغذی مذہب قرار دیتے ہیں اور اسے انفرادی زندگی کے معاملات تک محدود کردیتے ہیں ۔ جس طرح اس کرہ ارض پر متعدد دوسرے مذاہب موجود ہیں جو کسی وقت ایک محدود مقصد کے لئے وجود میں آجاتے ہیں ۔ پھر اسی جذبے کے تحت بعض داعی اسلامی نظام کو ایک کاغذی منصوبے یا ایک مفصل کاغذی قانونی نظام کی صورت میں پیش کرتے ہیں اور اس منصوبے کے ذریعے وہ دور جدید کی جاہلیت کے واقعی حالات کا مقابلہ کرتے ہیں حالانکہ اہل جاہلیت کی جو عملی صورت حال ہے اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس لئے کہ دور جدید کے اہل جاہلیت تو ببانگ دہل یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک پرائیویٹ عقیدہ ہے اور اس کا زندگی کے واقعی اور عملی نظام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ یہ داعی لوگوں کے لئے اس عملی جاہلی صورت حال کو اسلامی رنگ میں مرتب کرتے ہیں ۔ اس کے مطابق لوگ بدستور جاہلیت پر قائم رہتے ہیں ‘ اپنے فیصلے طاغوت کی عدالت سے کراتے ہیں ۔ نہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور نہ کراتے ہیں ۔ اس قسم کی تمام کوششیں نہایت ہی گھٹیا اور ذلیل حرکات ہیں ۔ ایک سچے مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان جدید فکری رنگوں میں رنگے ہوئے ان خیالات کو پرے پھینک دیں ‘ اس لئے کہ یہ خیالات ناپختہ ہیں اور کسی حال میں بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہ سکتے ۔ اگرچہ انکو دعوت اسلامی کے جدید رنگ اور جدید تکنیک کا نام دیا جائے ۔ اور اس سے بھی زیادہ ذلیل اور گھٹیا حرکت ان لوگوں کی ہے جو اسلام کو جدید لباس پہناتے ہیں اور اسلام پر ایسی صفات اور اصطلاحات کا اطلاق کرتے ہیں جو تاریخی ادوار میں کسی دور میں خود انسانوں نے ایجاد کیں ۔ مثلا اشتراکیت اور جمہوریت وغیرہ ایسے لوگوں کی اس سعی نامشکور کا مقصد یہ رہا ہے کہ وہ اسلام کی ترقی یافتہ تعبیر کرکے اس طرح اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔ ذرا غور کیجئے اشتراکیت ایک اجتماعی اور اشتراکی نظام ہے اور یہ خالص انسانوں کا بنایا ہوا ہے ۔ اس کے اندر کچھ چیزیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور کچھ غلط بھی ہو سکتی ہیں ۔ اسی طرح جمہوریت بھی ایک نظام حکومت اور نظام زندگی ہے ۔ یہ جمہوری نظام خود انسانوں کی سوچ اور فکر کے نتیجے میں بنایا گیا ہے ۔ اس میں بعض چیزیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور غلط بھی ہو سکتی ہیں ۔ ان کے مقابلے میں اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور یہ نظریاتی افکار ایک اجتماعی سوشل نظام ایک علیحدہ اقتصادی نظام اور ایک ممتاز عملی اور انتظامی ڈھانچے پر مشتمل ہے اور یہ نظام اللہ بنایا ہوا نظام ہے ۔ اس کے اندر نہ کوئی نقص پایا جاتا ہے نہ کوئی عیب ہے ۔ لہذا جو شخص تو وہ شخص اسلام کے حوالے سے درست موقف کا حامل نہیں ہے ۔ یا اس پر ایسے اقوال منطبق کرتا ہے جو انسانوں کے اعمال ہیں ۔ اہل جاہلیت مشرک صرف اس لئے قرار پاتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض لوگوں کو اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے اور ان کو دوست بناتے تھے ۔ (آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الا لیقربونا الی زلفی (39 : 3) ” وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ۔ (اور اپنے اس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کردیں “ یہی تو شرک ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے دربار میں کچھ لوگوں کی سفارش کے مرحلے سے بھی آگے بڑھ کر کچھ دوسرے لوگوں کے بنائے ہوئے نظام حیات کے ذریعے تقرب حاصل کرتے ہیں ان کا یہ فعل ‘ مشرکین عرب کے فعل سے کس قدر زیادہ مکروہ ہے ۔ مشرکین عرب دین بہرحال خدا ہی کا مانتے تھے البتہ کچھ اشخاص کو شریک بناتے تھے ۔ یہ لوگ تو نظام حیات غیر اللہ کا اپناتے ہیں اور قرب اللہ کا چاہتے ہیں ۔ خوب غور کیجئے اور سمجھیے کہ اسلام اسلام ہے ‘ سوشلزم سوشلزم ہے اور جمہوریت جمہوریت ہے ۔ اسلام کا صرف وہی نام اور وہی عنوان ہوگا جو اس کے لئے اللہ نے رکھا ہے اور تجویز کیا ہے ۔ یہ دوسرے نام اور عنوان لوگوں کے رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ تمام دوسرے نظام لوگوں نے اپنے تجربوں سے بنائے ہوئے ہیں ‘ اگر کوئی شخص ان نظاموں کو اپناتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ انہیں اپنے نام اور عنوان سے اپنائے ۔ کسی داعی دین کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ لوگوں کے اپنائے ہوئے کسی رنگ کو اپنائے اور دعوی یہ کرے کہ وہ اللہ کے دین پر کوئی احسان کر رہا ہے ۔ بہرحال ہم ایسے لوگوں سے ایک بات پوچھتے ہیں ‘ آخر تمہاری نظروں میں اللہ کا دین اس قدر بےوقعت کیوں ہوگیا ہے ‘ اور تم کیوں اللہ کی عظمت کو اپنے دل میں اس طرح نہیں بٹھاتے جس طرح اس کا حق ہے ۔ تم لوگ آج کے دور میں اسلام کو کیوں اشتراکیت اور جمہوریت کے رنگ میں پیش کرتے ہو ‘ کیونکہ یہ تو دور حاضر کے فتنے اور دور حاضر کے لئے محبوب تھا کہ لوگ جاگیرداری سے گلو خلاصی چاہتے تھے جبکہ جاگیرداری سے بھی پہلے ڈکٹیڑ شپ ایک محبوب نظام تھا اور اس کے ذریعے لوگ چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور بکھری ہوئی ظالم ریاستوں سے نجات چاہتے تھے مثلا جرمنی اور اٹلی کے ممالک اس دور سے بھی گزرے ہیں ۔ کل مذکورہ بالا نظاموں کے مقابلے میں دنیا میں کوئی نیا نظام بھی رائج ہو سکتا ہے جو اہل دنیا کو کوئی تجربہ یا نیارنگ ہوگا اور جس میں ایک نئی شکل میں انسان ‘ انسان کا غلام ہوگا تو تم پھر کل اسلام پر اس نئے نظام اور رنگ کا لیبل چسپاں کرو گے تاکہ تم اسلام کو ایک ایسے رنگ میں پیش کرسکو جسے لوگ چاہتے ہیں ؟ آیات کے زیر بحث حصے یا لہر میں اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ داعی دین کا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی دعوت ونظریہ کو لے کر اور مستغنی ہو کر آگے بڑھے اور جو لوگ دعوت اسلامی کے سلسلے میں ترمیمی تجاویز دیتے ہیں ان کی باتوں اور تجویزوں پر سرے سے کان ہی نہ دھرے ۔ نیز دین اسلام کو اس کے اصل نام اور عنوان کے ساتھ ہی پیش کرے اور اسے دوسرے مروجہ ناموں اور عنوانوں کے ساتھ کرنے کی سعی نہ کرے ۔ وہ لوگوں کو اسلامی منہاج اور اسلامی ذرائع ہی کے ذریعے بیدار کرنے کی سعی کرے ۔ اللہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے ۔ اگر کوئی اس دعوت کو اس طرح قبول نہیں کرتا جس میں وہ صرف اللہ کی بندگی کرے اور اس کے سوا تمام غلامیوں سے نکل آئے تو دین اسلام کو کسی ایسے شخص کی ضرورت نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کو کسی سرکش اور کسی مطیع فرمان کی طرف کوئی احتیاج ہے ۔ دین اسلام اپنے بنیادی عناصر اور اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اپنی ایک خاص اصلیت (OrignAlity) رکھتا ہے ۔ اللہ کا منشا یہ ہے کہ یہ خصائص اور یہ اساسی اقدار غالب ہوجائیں ۔ دنیا کے عملی نظام کے معاملے میں یہ دین اصلیت (OrignAlity) کا مالک ہے ۔ اور وہ جس انداز میں انسان کو دعوت فکر دیتا ہے وہ بھی اور جنل ہے ۔ جس خدا نے اس دین کو اپنی خصوصیات اور اپنے عناصر ترکیبی کے ساتھ اتارا ہے ۔ ‘ وہی کدا تو ہے جو اس حضرت انسان کا خالق ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ انسان کیا کیا سوچتا رہتا ہے اور اس کے دل میں خواہشات کی کیا کیا لہریں اٹھتی ہیں ؟ اس لہر میں قرآن کریم کے اس انداز خطاب کا بھی ایک نمونہ موجود ہے جس کے ساتھ وہ فطرت انسانی کو مخاطب کرتا ہے ۔ اس کے اسلوب خطاب میں سے یہ بھی ایک اساسی نمونہ ہے ۔ قرآن انسانی فطرت اور اس کائنات کے طبعی عمل کے درمیان ایک رابطہ اور تعلق پیدا کرتا ہے ۔ وہ کائناتی اثرات واشارات کا رخ فطرت انسانی کی طرف موڑتا ہے ۔ اس اثناء میں قرآن انسان کی فطری ساخت کو اس پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ ان فطری اشارات کو قبول کرے ۔ قرآن جانتا ہے کہ جب اس کائنات کے تکوینی اشارات انسانی فطرت کی گہرائیوں تک پہنچ جائیں تو انسان فورا لبیک کہتا ہے ۔ (آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ (6 : 36) ” دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ وہ نمونہ طرز ادا کیا ہے جو اس لہر میں ہم سے مخاطب ہے ۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں ۔ (آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37) ” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔ اس آیت میں ان لوگوں کی بات نقل کی گئی ہے جو دین اسلام کو جھٹلاتے تھے ‘ حضور ﷺ کا مقابلہ کرتے تھے ‘ اور ایسے خارق عادت معجزات کے طلبگار تھے جنہیں ان کی آبادی بچشم سر دیکھے یہاں ان کا مطالبہ نقل کرنے کے بعد ان کے دلوں میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ اگر ان کا یہ مطالبہ مان لیا جائے تو اس کے نتائج کیا نکلیں گے ۔ یہ کہ وہ خدا کی شدید پکڑ میں آجائیں گے اور ہلاک وبرباد کردیئے جائیں گے ۔ ظاہر ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ کوئی معجزہ نازل فرمائے ۔ لیکن اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ نازل نہ کرے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے اس مطالبے کو مسترد کردیے ۔ سیاق کلام اب اس محدود موضوع سے نکل کر کائنات کی وسعتوں میں داخل ہوجاتا ہے اور لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم اپنے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات پر ذرا نگاہ ڈالو ‘ وہ آیات ومعجزات خود کتاب کائنات کے اندر موجود ہیں جن کے مقابلے میں وہ خوارق کچھ خوارق نہیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ۔ اور یہ معجزات اور نشانات اس کائنات کے دل میں ابدالاباد تک قائم ہیں تاکہ صرف ایک موجودہ نسل ہی نہیں سب نسلیں انہیں دیکھتی رہیں ۔ (آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38) ” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جا رہے ہیں ۔ یہ بیشک ایک ہولناک حقیقت ہے ۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جسے اس وقت ان کی وقت مشاہدہ دیکھ سکتی تھی ‘ اس لئے کہ اس وقت تک وہ سائنس میں کوئی منظم علم نہ رکھتے تھے ۔ وہ یہ کہ تمہارے اردگرد موجود تمام مخلوقات کے اصناف واجناس اپنی جگہ اقوام وامم ہیں ۔ ہر ایک کی اپنی خصوصیت ہے اور اپنا نظام ہے ‘ لیکن یہ مشاہدہ اس قدر عظیم حقیقت ہے کہ جس قدر اس کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے اسی قدر اس کی عظمت کا یقین ہوتا جاتا ہے ‘ اس سے انسانی علم میں اضافہ ہوتا ہے ہاں انسانی علم میں اضافہ ہوتا ہے ہاں انسانی علوم اس کائنات کے علوم میں اضافہ تو کرسکتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے اس کائنات کی کسی بھی حقیقت میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا ۔ انسانی علوم کے متوازی اللہ کے علوم غیبی ہیں جو اپنا کام کرتے ہیں اور ہر معاملے پر الہی علم و ارادہ اپنا تدبیری عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کائنات میں ہمارا مشاہدہ جس قدر آگے جاتا ہے ‘ یہ حقیقت اور واضح ہوتی جاتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اس کائنات کے اندر جو الہی قوتیں کار فرما ہیں اور جو نہایت ہی معجزانہ انداز میں کام کررہی ہیں ان کے مقابلے میں ان لوگوں کے مطلوبہ معجزات کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ یہ کائناتی آیات ومعجزات تو وہ حقائق ہیں کہ انسان کی بصارت اور بصیرت جس قدر آگے بڑھتی ہے وہ ان کے نئے نئے پہلو دیکھتے ہیں اور قیامت تک دیکھتے رہیں گے ۔ اس انتخاب اور نمونے میں قرآنی منہاج کلام یہ ہے کہ قرآن کریم فطرت انسانی اور اس کائنات کے درمیان ایک ربط اور جوڑ پیدا کردیتا ہے ۔ وہ فطرت کے دریچے کائنات کے رازوں کے لئے وا کردیتا ہے اور اس طرح قرآن کریم اس عظیم کائنات کے رازوں کے ذریعے انسان کی شخصیت اور اس کی سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے ۔ قرآن کریم انسان کی فطرت کے سامنے محض جدلیاتی لاہوتی مباحث پیش نہیں کرتا ۔ نہ ان کے سامنے محض جدلیاتی علم الکلام اور توحیدی مباحث پیش کرتا ہے ۔ نہ عقلی اور حسی فلسفے پیش کرتا ہے ۔ یہ امور اسلامی اور قرآنی منہاج کے خلاف ہیں ۔ قرآن لوگوں کے سامنے عالم موجودات اور عالم غیب کے واقعی مشاہد وحقائق پیش کرتا ہے ۔ عقل انسانی کو آزاد چھوڑ دیتا ہے کہ وہ غور وفکر کرے ‘ ان سے نتائج اخذ کرے اور قدرت کی کارفرمائیوں کے ساتھ ہمقدم ہو کر چلے اور حقائق کو قبول کرے ۔ لیکن قرآن کریم انسان پر یہ ایک خاص ضابطے اور اسلوب کے ساتھ پیش کرتا ہے اور اسے اسی طرح نہیں چھوڑ دیتا کہ وہ عالم شہادت کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر صراط مستقیم کھو دے ۔ اب سب سے آخر میں ان لوگوں کا انجام بتلایا جاتا ہے جو اس عظیم معجزے کے منکر ہیں : (آیت) ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِیْ الظُّلُمَاتِ مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39) ” مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ‘ تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے ۔ “ قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ آیات الہی کو جھٹلاتے ہیں وہ گونگے اور بہرے ہیں اور اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ اور پھر بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ہدایت وضلالت کے بارے میں کیا اصول رائج ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ ہدایت وضلالت اللہ کی مشیت کے دائرے میں آتی ہے اور یہ اس قانون فطرت کے مطابق ہے جس پر اللہ نے بندوں کو پیدا کیا ہے ۔ یوں اس معاملے میں اسلامی تصور حیات کے تمام پہلو جڑ جاتے ہیں اور اسلامی منہاج دعوت کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے ۔ ایک داعی کے موقف کو متعین کردیا جاتا ہے ‘ جو اپنے نظریات و عقائد کے مطابق جدوجہد کرتا رہتا ہے ۔ ہر دور اور ہر حال میں وہ لوگوں کے سامنے دعوت پیش کرتا رہتا ہے ۔ امید ہے کہ اس قدر کلمات کے ساتھ ہم اپنا مدعا واضح کرچکے ہیں اور اس کے ساتھ وہ مزید بحث بھی قابل ملاحظہ ہے جو ہم نے دعوت اسلامی کے منہاج کے سلسلے میں اس سورة کے مقدمے میں کی ہے ۔ درس نمبر 60 ایک نظر میں : یہاں سے سیاق کلام کا رخ اب اس موضوع کی طرف پھرجاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اس کا مشرکین کی فطرت پر کیا ردعمل ہوتا ہے بلکہ مشرکین کے سامنے ان کے فطری ردعمل کا نمونہ پیش کردیا جاتا ہے کہ جس سے وہ عذاب الہی کے وقت دو چار ہوتے ہیں ۔ جب انسان اور ان مشرکین کی فطرت کے اوپر سے تہ بہ تہ جمے ہوئے مادی پردے ہٹ جاتے ہیں اور جب وہ خوفناک حالات سے جھنجوڑے جاتے ہیں تو فطرت کے اوپر جمی ہوئی گرد و غبار چھٹ جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں مشرکین اپنے جھوٹے خداؤں کی تمام کہانیاں بھول جاتے ہیں ۔ وہ رب واحد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کی معرفت ان کی فطرت کی گہرائیوں میں پہلے سے موجود ہوتی ہے ۔ اب وہ صرف اللہ کے سامنے نجات اور فلاح کے لئے دست بدعا ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد سیاق کلام ان کے ہاتھ پکڑ کر ایک دوسرے منظر کے سامنے لے جاتا ہے اور اس میں منظر میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے اسلاف پر کیا کیا عذاب نازل ہوئے اور کس کس میدان میں وہ مارے گئے ۔ سنت الہیہ نے تاریخ میں کیا کیا کردار ادا کیا اور قضائے الہی کس طرح ان کے ساتھ عمل کرتی رہی ۔ ان کی بصارت اور بصیرت کو روشن کرنے کے لئے انہیں وہ واقعات بتائے گئے کہ اللہ نے انہیں کہاں کہاں مہلت دی جس کے اندر وہ رسولوں کو جھٹلاتے رہے ۔ اور نتیجۃ کس طرح ایک ابتلاء کے بعد ان پر دوسری ابتلاء آتی رہی ۔ انہیں مصائب ومشکلات سے دو چار کیا گیا ۔ پھر نعمت و دولت کے ذریعے انہیں آزمائش میں ڈالا گیا اور انہیں مہلت کے بعد مہلت دی جاتی جاتی رہی تاکہ وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہوجائیں یہاں تک کہ انہوں نے فرصت کے تمام مواقع ضائع کردیئے ۔ مشکلات اور مصائب نے ان کے اندر جو احساس پیدا کردیا تھا ‘ دولت ونعمت نے انہیں اس احساس سے محروم کردیا ۔ اللہ کی سنت کے مطابق ان پر پھر عذاب الہی آیا اور اس نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ یہ تھا : (آیت) ” فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45) اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ یہ منظر جو دلوں کو دہلانے والا ہے ‘ ابھی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا کہ سامنے سے دوسرا منظر نمودار ہوجاتا ہے ۔ اس نئے منظر میں یہ لوگ اللہ کے عذاب میں مبتلا نظرآتے ہیں ۔ اللہ کے عذاب نے ان کی قوت سماعت اور ان کی قوت بصارت کو ختم کردیا ہے ۔ ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں اور اب اللہ کے سوا ‘ اس منظر میں ‘ کوئی دوسری قوت انہیں نظر نہیں آتی جو ان کی کھوئی ہوئی بصارت ‘ سماعت اور قوت مدرکہ انہیں دو بار دے سکے ۔ ان نمایاں اور خوفناک مناظر موجودگی میں بتایا جاتا ہے کہ کسی رسول کے فرائض کیا ہیں ؟ یہ کہ وہ بشیر ونذیر ہوتا ہے اور اس کے سوا نہ کوئی اس کی ڈیوٹی ہے اور نہ اختیار ۔ رسول کے پاس یہ طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی جانب سے کوئی معجزہ پیش کرے ۔ نہ رسولوں کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ لوگوں سے تجاویز لیں اور ان کے مطابق کام کریں ۔ وہ تو مبلغ ہوتے ہیں اور بشیر ونذیر ہوتے ہیں ۔ اب صورت حالات یہ ہوجاتی ہے کہ بعض لوگ ان پر ایمان لا کر عمل صالح شروع کردیتے ہیں ۔ وہ خوف سے اور پریشانی سے نجات پا جاتے ہیں ۔ اور بعض لوگ ان کی تکذیب کرتے ہیں اس لئے انہیں عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور یہ عذاب ان پر اس روگردانی اور تکذیب کی وجہ سے آتا ہے ۔ اس لئے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے ‘ اس کا انجام یہ ہوگا ‘ جس کا اس لہر میں ذکر ہوا ہے ۔