Fi Zilal al-Quran — الأنعام 6:38 – الأنعام 6:90
Contents
- الأنعام 6:38
- الأنعام 6:39
- الأنعام 6:40
- الأنعام 6:41
- الأنعام 6:42
- الأنعام 6:43
- الأنعام 6:44
- الأنعام 6:45
- الأنعام 6:46
- الأنعام 6:47
- الأنعام 6:48
- الأنعام 6:49
- الأنعام 6:50
- الأنعام 6:51
- الأنعام 6:52
- الأنعام 6:53
- الأنعام 6:54
- الأنعام 6:55
- الأنعام 6:56
- الأنعام 6:57
- الأنعام 6:58
- الأنعام 6:59
- الأنعام 6:60
- الأنعام 6:61
- الأنعام 6:62
- الأنعام 6:63
- الأنعام 6:64
- الأنعام 6:65
- الأنعام 6:66
- الأنعام 6:67
- الأنعام 6:68
- الأنعام 6:69
- الأنعام 6:70
- الأنعام 6:71
- الأنعام 6:72
- الأنعام 6:73
- الأنعام 6:74
- الأنعام 6:75
- الأنعام 6:76
- الأنعام 6:77
- الأنعام 6:78
- الأنعام 6:79
- الأنعام 6:80
- الأنعام 6:81
- الأنعام 6:82
- الأنعام 6:83
- الأنعام 6:84
- الأنعام 6:85
- الأنعام 6:86
- الأنعام 6:87
- الأنعام 6:88
- الأنعام 6:89
- الأنعام 6:90
الأنعام 6:38
(آیت) ” نمبر 37 تا 39۔
حضرت محمد ﷺ سے یہ لوگ ایسے خوارق عادت معجزات کے طلبگار تھے ‘ جو آپ سے قبل آنے والے رسولوں کو دیئے گئے تھے ۔ یہ لوگ قرآن کریم جیسے زندہ معجزے پر اکتفا کرنے والے نہ تھے ‘ جو قیامت تک کے لئے باقی ہے ‘ انسانی فہم وادراک کو اپیل کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسان فکری اعتبار سے بلوغ تک پہنچ گیا ہے ۔ اس لئے انسان کو ایسے فلسفیانہ اور بلند کلام کے ذریعے مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ کلام ایسا لازوال اور ابدی کلام ہے کہ کسی نسل کے ساتھ اس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ دائم و باقی ہے اور قیامت تک انسانی شعور اور ادراک سے مخا طب ہے ۔
یہ لوگ خارق عادت معجزے کے تو طلبگار تھے لیکن ایسے معجزات کے صدور کے بعد سنت الہی کے مطابق جو عذاب آتا ہے اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے ۔ اس عذاب کی لپیٹ میں سب لوگ آجایا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو دنیا میں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ نیز یہ لوگ اس حکمت کو بھی نہ پا رہے تھے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزے کا صدور نہ فرمایا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر معجزہ صادر بھی ہوجائے تو بھی یہ لوگ ماننے والے نہ تھے ۔ حضور ﷺ سے قبل کوئی اقوام نے یہ حرکت کی تھی اور وہ ہلاکت کی مستحق ہوگئی تھیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان لوگوں کو مہلت دی جائے اور ان لوگوں میں سے کئی ایسے تھے جن کی قسمت میں ایمان لانا لکھا تھا ۔ اگر کوئی شخص ان میں سے ایمان نہ بھی لایا تو اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس کی پشت سے امت مومنہ پیدا ہونے والی ہے ۔ لیکن یہ لوگ اس مہلت پر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اللہ نے خود ان کے مطالبے کے باوجود انہیں اس ابتلاء سے بچایا جبکہ وہ اس مطالبے کے عواقب سے بیخبر تھے ۔
قرآن کریم ان کے اس مطالبے کے تذکرے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ لوگ بےعلم ہیں اور یہ لوگ ان نتائج سے بیخبر ہیں جو ان کے مطابلے کے پورے ہوجانے کے بعد ظہور پذیر ہونے والے تھے ۔ حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت میں ہے ہر قسم کے معجزات کا صدور ‘ لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں کو مطالبے کے باوجود ان مشکلات اور ہلاکتوں سے دو چار نہ کیا جائے ۔ یہ ان کی رحمت کا بھی تقاضا ہے کہ اس نے اپنے اوپر رحمت کرنا فرض کرلیا ہے ۔
(آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37)
” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔
اس انتباہ کے بعد اب سیاق کلام قرآن کریم کو ایک نہایت ہی لطیف راستے سے مخاطب کے دل میں اتارنے کی راہ تلاش کرتا ہے ۔ انسان کی قوت مشاہدہ اور قوت تدبر کو جگایا جاتا ہے کہ ذرا وہ اس کائنات پر غور وفکر کرے کہ اس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کرے ۔ اگر وہ غور وفکر کرے تو اسے بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے ۔
(آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38)
” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں ۔ “
اس کائنات میں صرف انسان ہی نہیں بستے تاکہ ہم یہ کہیں کہ بس اتفاقا وہ وجود میں آگئے اور اب ان کی زندگی بھی جس طرح وہ چاہیں بسر ہو اور لغو جائے ۔ بلکہ انسان کے ارد گرد دوسری جاندار مخلوقات بھی ہوتی ہیں اور ان تمام جانداروں کی زندگی ایک خاص منظم طریقے سے بسر ہو رہی ہے ۔ ان کی زندگی کے مطابعے سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندگی بامقصد ایک اسکیم کے مطابق اور حکیمانہ انداز میں بسر ہو رہی ہے اور تمام مخلوقات کی زندگی کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوتی ہے کہ یہ سب مخلوق ایک ہی خالق کی پیدا کردہ ہے ایک ہی قوت مدبرہ ہے جو ان تمام مخلوقات کے پیچھے عمل پیرا ہے اور کائنات پر پوری طرح حاوی ہے ۔
جو جانور زمین پر چلتے ہیں (وما من دآبۃ “۔ (6 : 38) اس لفظ میں تمام جاندار حشرات الارض تک شامل ہیں ۔ کیڑے مکوڑے یہاں تک کہ تمام جراثیم ‘ تمام پرندے جو ہوا میں اڑتے ہیں اور تمام مخلوق جو اس کائنات پر زندہ ہے ‘ وہ ایک امت ہے ۔ اس میں ایک جیسے خصائص ہیں ۔ وہ ایک طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کی زندگی کے امور بعینہ اسی طرح ہیں جس طرح یہاں امم انسانی کے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے کوئی چیز بغیر اسکیم اور تدبیر کے نہیں چھوڑی اور نہ کوئی چیز اپنے مخصوص علم کے دائرے سے باہر رکھی ہے ۔ آخرت میں یہ تمام مخلوقات اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گی اور ان کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ آخری فیصلے کرے گا ‘ جو وہ چاہے گا ۔
یہ آیت نہایت ہی مختصر ہونے کے باوجود زندہ مخلوقات کے بارے میں ایک فیصلہ کن بات ہمارے سامنے رکھتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ کی جانب سے پوری مخلوقات کی مکمل نگرانی ہو رہی ہے ۔ پوری مخلوق اس کی فعال تدبیر کے تحت زندہ ہے ‘ وہ اس پوری مخلوق کے بارے میں خوب جانتا ہے اور ہر چیز اس کے دائرہ قدرت میں ہے جو رب ذوالجلال ہے ۔
یہاں ظلال القرآن میں ہمارا جو انداز ہے ‘ اس کے پیش نظر ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم یہاں کائنات کے اندر پائے جانے والی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے بحث کرسکیں ۔ (البتہ میری کتاب خصائص التصور الاسلامی میں حقیقت الوہیت ‘ حقیقت انسانی اور حقیقت مادہ کے عنوانات قابل ملاحظہ ہیں) یہاں اس بحث کے دوران اس حقیقت کو اس لئے لایا گیا ہے کہ انسان کے دل و دماغ کو اس طرح متوجہ کیا جائے کہ یہ تمام مخلوقات اور اس مخلوق کا یہ نظام حیات جس کے مطابق زندگی رواں دواں ہے اور پھر اس کے بارے میں اللہ کی جانب سے مکمل تدبیر اور علم اور آخرت میں ان تمام مخلوقات کا اللہ کے سامنے اٹھنا یہ سب ایسے امور ہیں کہ ان میں کسی معجزے سے زیادہ حیرت انگیز دلائل اور اشارات ہیں ۔ اگر کوئی معجزہ صادر ہوجائے تو اسے انسانوں کی ایک وقت میں موجود نسل ہی ملاحظہ کرے گی لیکن ان مخلوقات کے اندر موجود آیات الہی پر اگر غور کیا جائے تو ہر وقت زندہ معجزات نظر آئیں گے اور ہر دور کے لوگ انہیں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
اب اس لہر کا خاتمہ اس حقیقت پر ہوتا ہے کہ ہدایت وضلالت کی پشت پر سنت الہی کے مطابق مشیت الہی کام کر رہی ہے اور یہ کہ اللہ کی مشیت اور سنت انسانی فطرت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور راہنمائی کرتی ہیں ۔
(آیت) ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِیْ الظُّلُمَاتِ مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39)
” مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ‘ تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے ۔ “
یہ اسی حقیقت کا اعادہ ہے کہ کون لوگ ہیں جو سنتے ہیں اور کون ہیں جو مردہ ہیں اور سن ہی نہیں سکتے ۔ لہذا وہ قبول حق سے محروم ہیں لیکن یہاں بات کو ایک دوسرے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ آیات الہی کی تکذیب کرتے اور ان دلائل وبینات پر غور نہیں کرتے جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں ۔ پھر قرآن کریم میں پائی جانے والی آیات ونشانیوں پر بھی وہ غور نہیں کرتے یہ کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے اپنی شخصیات میں پائے جانے والے قبولیت حق کے مادے اور صلاحیت ہی کو معطل کردیا ہے ۔ یہ بہرے ہیں سنتے ہیں نہیں گونگے ہیں اور کوئی بات ہی نہیں کرتے ۔ گمراہی کے اندھیروں میں غرق ہیں ۔ کچھ دیکھتے ہی نہیں ۔ صرف مادی اعتبار سے ہی نہیں حقیقی اعتبار سے بھی یہ بہرے ‘ گونگے اور اندھے ہیں اس طرح کہ ان کے قوت مدرکہ معطل ہے ۔ ان کے حواس کام ہی نہی کرتے اور نہ ان کے حواس کوئی اچھی بات ان کے دماغوں تک منتقل کرتے ہیں ۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات بذات خود اثر انگیز ‘ محرک اور جھنجوڑنے والی ہیں ۔ لیکن ان پر ان آیات کا کچھ اثر ہی نہیں ہو رہا ہے ۔ وہ بات کو پاتے ہیں نہیں ۔ لہذا ان آیات بینات سے جو شخص روگردانی کرتا ہے اس کی فطرت میں فساد پیدا ہوگیا ہے ۔ لہذا وہ اس قابل نہیں رہی ہے کہ ہدایت قبول کرے اور ایک ترقی یافتہ زندگی بسر کرنے کا اہل بن جائے ۔
اور یہ سب صورت حالات اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر رونما ہو رہی ہے ۔ اس مشیت کا تقاضا ہی یہ تھا کہ حضرت انسان کے اندر ہدایت قبول کرنے اور گمراہی اختیار کرنے کی دونوں صلاحیتیں موجود ہوں اور وہ دونوں راستوں میں سے کوئی ایک راہ اختیار کرنے میں آزاد ہو اور اس پر کوئی جبر نہ ہو اور نہ کوئی قضائے مبرم ہو۔ اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے راہ ہدایت پر ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے ۔ اور یہ ہے اللہ کی مشیت کا مفہوم ۔ اللہ کی مشیت اس شخص کی مددگار ہوتی ہے جو اس کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے اور جو شخص عناد کی راہ اختیار کرتا ہے خود گمراہ ہوتا ہے ۔ اللہ کسی بندے پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ۔
راہ ہدایت کی طرف انسان کا رجحان اور میلان یا راہ ضلالت کی طرف انسان کا رجحان اور میلان ‘ دونوں اس مخلوق کے اندر اللہ کی پیدا کردہ صلاحیت سے پیدا ہوتے اور اس کی مشیت کے مطابق ہی کام کرتے ہیں ۔ ابتداء تو یہ رجحان اللہ کا پیدا کردہ ہے اور اس ابتدائی تخلیق کردہ مادے کے نتائج کے طور پر جو ہدایت وگمراہی آتی ہے یہ بھی دائرہ مشیت الہیہ کے اندر ہوتی ہے ۔ اور یہ مشیت بےقید ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پھر باز پرس اور سزا وجزاء کیوں ہے ؟ تو وہ اس وجہ سے ہے کہ انسان کا رجحان بہرحال آزادی کی طرف ہوتا ہے ۔ میلان میں وہ آزاد ہے ۔ اگرچہ اس کی یہ صلاحیت اس کے اندر اللہ کی تخلیق کردہ ہے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہے ۔ (دیکھئے خصائص تصور اسلامی “ کا عنوان ” التوازن “ )
اس لہر کی آیات کی تشریح کے بعد اب ذرا رکیے تاکہ ہم اس مطالعے سے ان لوگوں کے لئے سرمہ بصیرت حاصل کرلیں جو کسی بھی دور میں اور کسی بھی امت میں دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں ۔ ان آیات میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ زمان ومکان کی حدود سے باہر ہیں ۔ ان کا اطلاق تمام حالات اور تمام تحریکوں پر ہوتا ہے اور ان میں دعوت دین کے ایسے نقوش وضع کئے گئے ہیں جو ہر دور کے لئے کار آمد ہیں ۔ یہاں ہم اس نکتے کے پورے پہلوؤں کو زیر بحث نہیں لاسکتے البتہ ہم یہاں نشانات راہ معلوم کرسکتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ نہایت ہی پر خطر ہے ۔ اس میں جگہ جگہ کانٹے بچھے ہوئے ہیں ۔ ہر قدم پر ایک ناپسندیدہ صورت حال کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے ۔ اس کے باوجود سچائی کو فتح اور کامرانی کی گارنٹی دی گئی ہے ۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ فتح کا وقت پس پردہ تقدیر ہوتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے ۔ اس کی حکمت کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے اور اس کے سوا کوئی اور اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی اس غیب کا علم نہیں دیا گیا ۔ اس راہ میں جو مشکلات سامنے آتی ہیں وہ دو اہم اساسی فیکٹرز کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ پہلا فیکٹر یہ ہے کہ جب دعوت اسلامی کا آغاز ہوتا ہے تو پہلے لوگ اس سے روگردانی اختیار کرتے ہیں ۔ اس کے بعد دوسری مشقت یہ ہوتی ہے کہ داعی کے دل میں اس بات کی شدید خواہش پیدا ہوجاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کو قبول کرکے راہ حق پر آجائیں اور اس ذوق وشوق میں وہ بھی ڈوب جائیں جس سے داعی سرشار ہوتا ہے ۔ اس کے لئے ہو پرجوش ہوتا ہے اور اپنی دعوت کے کلمے کی سربلندی چاہتا ہے ۔ یہ خواہش بھی اسی قدر تکلیف دہ ہوتی ہے جس قدر مخاطبین کی طرف سے اعراض اور تکذیب تکلیف دہ ہوتی ہے ۔ یہ دونوں فیکٹرز داعی کے لئے وہ ان روح بن جاتے ہیں۔
یہاں اس لہر میں قرآن کریم جو ہدایات دیتا ہے اور وہ اس مشقت کے دونوں پہلوؤں کے سلسلے میں ہیں ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ جو لوگ قرآن کی دعوت سے اعراض کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں وہ حق الیقین رکھتے ہیں کہ صرف حضور ﷺ اور آپ کی دعوت عین سچائی ہیں ۔ اور حضور ﷺ سچے ہیں اور وہ یہ پیغام اللہ کی جانب سے لے کر آئے ہیں ۔ لیکن اپنے اس علم کے باوجود وہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ۔ وہ محض ذاتی خواہشات اور ہوائے نفس کی وجہ سے تکذیب کرتے ہیں حالانکہ یہ دعوت ایسی ہے کہ وہ بذات خود دلیل حق ہے ۔
آفتاب آمد دلیل آفتاب کا مصداق ہے اور انسان کے فطری تقاضوں کے عین مطابق ہے ۔ بشرطیکہ فطرت زندہ ہو اور سچائی کو قبول کرنے کا مادہ اپنے اندر رکھتی ہو ۔ کیونکہ (آیت) ” انما یستجیب الذین یسمعون “ (6 : 36) بیشک دعوت حق تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو تکذیب پر اصرار کرتے ہیں تو ان کے دل و دماغ مردہ ہیں ۔ وہ خود بھی مردہ ہیں ۔ گونگے ‘ بہرے اور اندھے ہیں اور تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ رسول کے اندر یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ مردوں کو سنوائے اور نہ مردے سنتے ہیں ۔ اگرچہ کوئی پکارتا ہے ۔ ایک داعی کی ڈیوٹی یہ نہیں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے ۔ کیونکہ یہ تو اللہ کی شان ہے اور یہ اللہ کا کام ہے ۔ یہ تو ہے معاملے کا ایک پہلو اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ کی نصرت بہرحال حق کے ساتھ ہوتی ہے ۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ دستور الہی ہے کہ وہ اللہ کی جانب سے مقرر شدہ وقت پر آتی ہے ۔ جس طرح سنت الہیہ قبل از وقت ظاہر نہیں ہوتی اور جس طرح اللہ کے کلمات بدلتے نہیں ۔ اسی طرح یہ بات بھی اٹل ہے کہ آخر کار نصرت آتی ضرور ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ پر ہے کہ وہ قبل از وقت نہیں آتی ۔ اپنے وقت پر ہی ظاہر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس معاملے میں کوئی جلد بازی نہیں فرماتے ۔ اس لئے کہ اذیت اور تکالیف تو داعیوں پر آتی ہی رہتی ہیں ۔ اگرچہ داعی رسول ہی کیوں نہ ہوں ۔ کیونکہ داعیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بغیر عجلت اور شتابی اور بےصبری کے مشکلات کو انگیز کریں اور قبل ازوقت نصرت کا مطالبہ نہ کریں ۔
دین اسلام میں ایک داعی اور رسول کا کردار کیا ہوتا ہے ‘ ان قرآنی ہدایات میں اس کا تعین بھی کردیا گیا ہے ۔ تمام ادوار کے لئے اور تمام معاملات کیلئے ۔ وہ کردار یہ ہے کہ انہوں نے پیغام پہنچانا ہے اور اپنی راہ پر آگے بڑھنا ہے اور اس راہ کی مشکلات کو برداشت کرنا ہے ۔ رہی یہ بات کہ لوگ راہ ہدایت پر آتے ہیں یا نہیں تو یہ جس طرح داعی اور رسول کی طاقت کے حدود سے باہر ہے اسی طرح ان کے فرائض میں بھی شامل نہیں ہے ۔ ہدایت وضلالت سنت الہیہ کے مطابق کام کرتی ہیں اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اگر رسول اپنے کسی محبوب کے بارے میں لاکھ چاہے کہ وہ ہدایت پر آجائے تو اگر سنت الہیہ اس کے حق میں نہیں ہے تو وہ راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ جبکہ رسول لاکھ چاہے کہ وہ ہدایت پر آجائے تو اگر سنت الہیہ اس کے حق میں نہیں ہے تو وہ راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ جبکہ رسول کے دشمنوں اور مبغوض لوگوں کو بھی ہدایت نصیب ہو سکتی ہے ۔ اس معاملے میں داعی اور رسول کی شخصیت اور ذات کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ رسول کے ساتھ یہ حساب نہ ہوگا کہ اس کی دعوت کے نتیجے میں کتنے لوگ راہ راست پر آئے ہیں۔ اس سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے دعوت کا حق کس قدر ادا کیا ‘ کس قدر مشکلات کو برداشت کیا اور کس قدر اپنی راہ دروش پر جمے رہے ۔ اور کس قدر ثابت قدمی اختیار کی ۔ رہی یہ بات کہ لوگ ہدایت قبول کرتے ہیں یا نہیں ۔ تو یہ معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔
(آیت) ” مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39)
جسے اللہ چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے ۔ “
(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَیَ (35) ” اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا ۔ “
(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ (6 : 36) ” دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ اس قبل ہم یہ بیان کر آئے ہیں اس سے قبل ہم یہ بیان کر آئے ہیں کہ اللہ کی مشیت ہدایت وضلالت کے بارے میں بےقید ہے اور اس کا رابطہ لوگوں کے رجحان اور جدوجہد کے ساتھ ہے ۔ وہ بیان کافی وشافی ہے ۔
چناچہ داعی حق کا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ جن لوگوں کو دعوت دیتا ہے ‘ ان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر کان نہ دھرے ۔ خصوصا جبکہ ان تجاویز کا تعلق اساس دین اور منہاج دعوت سے ہو ۔ نہ کسی داعی کے لئے مناسب ہے کہ وہ دین کے اصولوں کو لوگوں کی وقتی خواہشات ورغبات کے مطابق بنا سجا کے پیش کرے ۔ مشرکین کا مطالبہ یہ تھا کہ حضور ﷺ کچھ خارق عادت معجزات پیش کریں جو ان کے زمانے کے تصورات اور مالوفات کے مطابق ہوں اور جنہیں وہ سمجھ سکیں جس کے بارے میں قرآن کریم نے کئی مقامات پر ذکر کیا ہے ۔ اس سورة میں بھی ان کا یہ قول مذکور ہے ۔
(آیت) ” لولا انزل علیہ ملک (25 : 7) وہ کہتے ہیں کہ اس پر فرشتہ کیوں نہیں نازل ہوتا ؟ (آیت) ” وقالوا لولا نزل علیہ ایۃ من ربی “۔ اور وہ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں نازل ہوتی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی جانب سے ؟ “
(آیت) ” واقسموا باللہ جھدا ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ لیومنن بھا “۔ (6 : 109) اور وہ پختہ قسمیں اٹھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے ۔ “ ایک دوسری سورة میں ان کا یہ مطالبہ نہایت ہی تعجب خیز انداز میں سامنے آتا ہے ۔ سورة اسراء میں اللہ نے ان کے اس مطالبے اور تجویز کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔
(آیت) ” وقالوا لن مومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا ‘، (90) اوتکون لک جنۃ من نخیل وعنب فتفجر الانھر خللھا تفجیرا (91) اوتسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا اوتاتی باللہ والملئکۃ قبیلا (92) اویکون لک بیت من زخرف اوترقی فی السمآء ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرءہ ) (93) (17 : 90 تا 93)
” اور انہوں نے کہا ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے ۔ یا تیری لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے ۔ یا تو آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعوی ہے یا خدا اور فرشتوں کو رو در رو ہمارے سامنے لے آئے ۔ یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں ۔ “ اور سورة الفرقان میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے ۔
(آیت) ” وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق لولا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرا “۔ (7) او یلقی الیہ کنز او تکون لہ جنۃ یا کل منھا (8) (25 : 7۔ 8) کہتے ہیں یہ کیسا رسول ہے ‘ جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ کیون نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا یا اور نہین تو اس کے لئے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ روزی حاصل کرتا۔ “ اس لہر میں رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو براہ راست اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ وہ اہل کفر کے مطالبے سے متاثر ہو کر کہیں اس خواہش کا اظہار نہ کریں کہ کوئی معجزہ صادر ہو ہی جائے ۔ چناچہ حضور ﷺ سے ان الفاظ میں خطاب ہوا۔
(آیت) ” وَإِن کَانَ کَبُرَ عَلَیْْکَ إِعْرَاضُہُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِیَ نَفَقاً فِیْ الأَرْضِ أَوْ سُلَّماً فِیْ السَّمَاء فَتَأْتِیَہُم بِآیَۃٍ وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَی فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ (35) إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَی یَبْعَثُہُمُ اللّہُ ثُمَّ إِلَیْْہِ یُرْجَعُونَ (36)
” اگر ان لوگوں کی بےرخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا لہذا نادان مت بنو ۔ دعوت حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ‘ رہے مردے تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور پھر وہ واپس لائے جائیں گے ۔ “ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے) ۔
بعض مسلمانوں کے دلوں میں یہ رغبت پائی جاتی تھی کہ مشرکین صدور معجزات کے بارے میں جو مطالبے کرتے ہیں ان کا مطالبہ پورا کردیا جائے ۔ اس لئے کہ وہ پختہ قسمیں کھاتے تھے کہ اگر کوئی معجزہ صادر ہوگیا تو وہ ضرور ایمان لائیں گے ۔ ایسے لوگوں کو کہا گیا : ۔
(آیت) ” قُلْ إِنَّمَا الآیَاتُ عِندَ اللّہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ أَنَّہَا إِذَا جَاء تْ لاَ یُؤْمِنُونَ (109) وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَہُمْ وَأَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُواْ بِہِ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ (110)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں ۔ ہم اسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے ۔ ہم انہیں اس کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑے دیتے ہیں) تاکہ اہل ایمان یہ جان لیں کہ اہل کفر کے ہاں اس بات کی کمی نہیں ہے کہ ان کے سامنے کوئی معجزہ نہیں ہے یا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جو انہیں سچائی تک لے جائے ‘ بلکہ ان کے ہاں جو کمی ہے وہ یہ ہے کہ وہ سنتے ہی نہیں ۔ وہ اس طرح ہیں جس طرح مردے ۔ ان کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے ۔ وہ سنت الہی کے مطابق اپنے آپ کو ہدایت سے محروم کرچکے ہیں ۔ لہذا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ دین اللہ سنت کے مطابق چلتا ہے ۔ اور اس کا مقام اس سے بلند ہے کہ وہ لوگوں کی خواہشات اور عوام کی تجاویز کے مطابق کوئی روش اختیار کرے ۔ اب ہم قرآنی آیات کے ایک وسیع دائرے میں آجاتے ہیں ۔ اب ایسی ہدایات سامنے آتی ہیں جو زمان ومکان کی قید سے وراء ہیں ‘ جن کا تعلق کسی ایک واقعہ سے نہیں ہے ۔ نہ کسی مخصوص تجویز سے ان کا تعلق ہے ۔ زمانہ تو بدلتا رہتا ہے ۔ لوگوں کی خواہشات اور ان کے مطالبات بھی بدلتے رہتے ہیں اس لئے داعیان حق کو چاہئے کہ انہیں لوگوں کی خواہشات صراط مستقیم سے ادھر ادھر نہ کردیں ۔ یہ لوگوں کی خواہشات اور ان کے مطالبات ہی ہیں جن کا لحاظ کرتے ہوئے بعض داعیان حق اسلامی نظریہ حیات کو ایک مذہب کے طور پر تسلیم کر کے اسے دوسرے مذہب کی طرح ایک کاغذی مذہب قرار دیتے ہیں اور اسے انفرادی زندگی کے معاملات تک محدود کردیتے ہیں ۔ جس طرح اس کرہ ارض پر متعدد دوسرے مذاہب موجود ہیں جو کسی وقت ایک محدود مقصد کے لئے وجود میں آجاتے ہیں ۔ پھر اسی جذبے کے تحت بعض داعی اسلامی نظام کو ایک کاغذی منصوبے یا ایک مفصل کاغذی قانونی نظام کی صورت میں پیش کرتے ہیں اور اس منصوبے کے ذریعے وہ دور جدید کی جاہلیت کے واقعی حالات کا مقابلہ کرتے ہیں حالانکہ اہل جاہلیت کی جو عملی صورت حال ہے اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس لئے کہ دور جدید کے اہل جاہلیت تو ببانگ دہل یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک پرائیویٹ عقیدہ ہے اور اس کا زندگی کے واقعی اور عملی نظام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ یہ داعی لوگوں کے لئے اس عملی جاہلی صورت حال کو اسلامی رنگ میں مرتب کرتے ہیں ۔ اس کے مطابق لوگ بدستور جاہلیت پر قائم رہتے ہیں ‘ اپنے فیصلے طاغوت کی عدالت سے کراتے ہیں ۔ نہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور نہ کراتے ہیں ۔ اس قسم کی تمام کوششیں نہایت ہی گھٹیا اور ذلیل حرکات ہیں ۔ ایک سچے مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان جدید فکری رنگوں میں رنگے ہوئے ان خیالات کو پرے پھینک دیں ‘ اس لئے کہ یہ خیالات ناپختہ ہیں اور کسی حال میں بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہ سکتے ۔ اگرچہ انکو دعوت اسلامی کے جدید رنگ اور جدید تکنیک کا نام دیا جائے ۔
اور اس سے بھی زیادہ ذلیل اور گھٹیا حرکت ان لوگوں کی ہے جو اسلام کو جدید لباس پہناتے ہیں اور اسلام پر ایسی صفات اور اصطلاحات کا اطلاق کرتے ہیں جو تاریخی ادوار میں کسی دور میں خود انسانوں نے ایجاد کیں ۔ مثلا اشتراکیت اور جمہوریت وغیرہ ایسے لوگوں کی اس سعی نامشکور کا مقصد یہ رہا ہے کہ وہ اسلام کی ترقی یافتہ تعبیر کرکے اس طرح اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔ ذرا غور کیجئے اشتراکیت ایک اجتماعی اور اشتراکی نظام ہے اور یہ خالص انسانوں کا بنایا ہوا ہے ۔ اس کے اندر کچھ چیزیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور کچھ غلط بھی ہو سکتی ہیں ۔ اسی طرح جمہوریت بھی ایک نظام حکومت اور نظام زندگی ہے ۔ یہ جمہوری نظام خود انسانوں کی سوچ اور فکر کے نتیجے میں بنایا گیا ہے ۔ اس میں بعض چیزیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور غلط بھی ہو سکتی ہیں ۔ ان کے مقابلے میں اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور یہ نظریاتی افکار ایک اجتماعی سوشل نظام ایک علیحدہ اقتصادی نظام اور ایک ممتاز عملی اور انتظامی ڈھانچے پر مشتمل ہے اور یہ نظام اللہ بنایا ہوا نظام ہے ۔ اس کے اندر نہ کوئی نقص پایا جاتا ہے نہ کوئی عیب ہے ۔ لہذا جو شخص تو وہ شخص اسلام کے حوالے سے درست موقف کا حامل نہیں ہے ۔ یا اس پر ایسے اقوال منطبق کرتا ہے جو انسانوں کے اعمال ہیں ۔
اہل جاہلیت مشرک صرف اس لئے قرار پاتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض لوگوں کو اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے اور ان کو دوست بناتے تھے ۔
(آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الا لیقربونا الی زلفی (39 : 3) ” وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ۔ (اور اپنے اس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کردیں “ یہی تو شرک ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے دربار میں کچھ لوگوں کی سفارش کے مرحلے سے بھی آگے بڑھ کر کچھ دوسرے لوگوں کے بنائے ہوئے نظام حیات کے ذریعے تقرب حاصل کرتے ہیں ان کا یہ فعل ‘ مشرکین عرب کے فعل سے کس قدر زیادہ مکروہ ہے ۔ مشرکین عرب دین بہرحال خدا ہی کا مانتے تھے البتہ کچھ اشخاص کو شریک بناتے تھے ۔ یہ لوگ تو نظام حیات غیر اللہ کا اپناتے ہیں اور قرب اللہ کا چاہتے ہیں ۔
خوب غور کیجئے اور سمجھیے کہ اسلام اسلام ہے ‘ سوشلزم سوشلزم ہے اور جمہوریت جمہوریت ہے ۔ اسلام کا صرف وہی نام اور وہی عنوان ہوگا جو اس کے لئے اللہ نے رکھا ہے اور تجویز کیا ہے ۔ یہ دوسرے نام اور عنوان لوگوں کے رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ تمام دوسرے نظام لوگوں نے اپنے تجربوں سے بنائے ہوئے ہیں ‘ اگر کوئی شخص ان نظاموں کو اپناتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ انہیں اپنے نام اور عنوان سے اپنائے ۔ کسی داعی دین کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ لوگوں کے اپنائے ہوئے کسی رنگ کو اپنائے اور دعوی یہ کرے کہ وہ اللہ کے دین پر کوئی احسان کر رہا ہے ۔
بہرحال ہم ایسے لوگوں سے ایک بات پوچھتے ہیں ‘ آخر تمہاری نظروں میں اللہ کا دین اس قدر بےوقعت کیوں ہوگیا ہے ‘ اور تم کیوں اللہ کی عظمت کو اپنے دل میں اس طرح نہیں بٹھاتے جس طرح اس کا حق ہے ۔ تم لوگ آج کے دور میں اسلام کو کیوں اشتراکیت اور جمہوریت کے رنگ میں پیش کرتے ہو ‘ کیونکہ یہ تو دور حاضر کے فتنے اور دور حاضر کے لئے محبوب تھا کہ لوگ جاگیرداری سے گلو خلاصی چاہتے تھے جبکہ جاگیرداری سے بھی پہلے ڈکٹیڑ شپ ایک محبوب نظام تھا اور اس کے ذریعے لوگ چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور بکھری ہوئی ظالم ریاستوں سے نجات چاہتے تھے مثلا جرمنی اور اٹلی کے ممالک اس دور سے بھی گزرے ہیں ۔ کل مذکورہ بالا نظاموں کے مقابلے میں دنیا میں کوئی نیا نظام بھی رائج ہو سکتا ہے جو اہل دنیا کو کوئی تجربہ یا نیارنگ ہوگا اور جس میں ایک نئی شکل میں انسان ‘ انسان کا غلام ہوگا تو تم پھر کل اسلام پر اس نئے نظام اور رنگ کا لیبل چسپاں کرو گے تاکہ تم اسلام کو ایک ایسے رنگ میں پیش کرسکو جسے لوگ چاہتے ہیں ؟
آیات کے زیر بحث حصے یا لہر میں اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ داعی دین کا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی دعوت ونظریہ کو لے کر اور مستغنی ہو کر آگے بڑھے اور جو لوگ دعوت اسلامی کے سلسلے میں ترمیمی تجاویز دیتے ہیں ان کی باتوں اور تجویزوں پر سرے سے کان ہی نہ دھرے ۔ نیز دین اسلام کو اس کے اصل نام اور عنوان کے ساتھ ہی پیش کرے اور اسے دوسرے مروجہ ناموں اور عنوانوں کے ساتھ کرنے کی سعی نہ کرے ۔ وہ لوگوں کو اسلامی منہاج اور اسلامی ذرائع ہی کے ذریعے بیدار کرنے کی سعی کرے ۔ اللہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے ۔ اگر کوئی اس دعوت کو اس طرح قبول نہیں کرتا جس میں وہ صرف اللہ کی بندگی کرے اور اس کے سوا تمام غلامیوں سے نکل آئے تو دین اسلام کو کسی ایسے شخص کی ضرورت نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کو کسی سرکش اور کسی مطیع فرمان کی طرف کوئی احتیاج ہے ۔
دین اسلام اپنے بنیادی عناصر اور اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اپنی ایک خاص اصلیت (OrignAlity) رکھتا ہے ۔ اللہ کا منشا یہ ہے کہ یہ خصائص اور یہ اساسی اقدار غالب ہوجائیں ۔ دنیا کے عملی نظام کے معاملے میں یہ دین اصلیت (OrignAlity) کا مالک ہے ۔ اور وہ جس انداز میں انسان کو دعوت فکر دیتا ہے وہ بھی اور جنل ہے ۔ جس خدا نے اس دین کو اپنی خصوصیات اور اپنے عناصر ترکیبی کے ساتھ اتارا ہے ۔ ‘ وہی کدا تو ہے جو اس حضرت انسان کا خالق ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ انسان کیا کیا سوچتا رہتا ہے اور اس کے دل میں خواہشات کی کیا کیا لہریں اٹھتی ہیں ؟
اس لہر میں قرآن کریم کے اس انداز خطاب کا بھی ایک نمونہ موجود ہے جس کے ساتھ وہ فطرت انسانی کو مخاطب کرتا ہے ۔ اس کے اسلوب خطاب میں سے یہ بھی ایک اساسی نمونہ ہے ۔ قرآن انسانی فطرت اور اس کائنات کے طبعی عمل کے درمیان ایک رابطہ اور تعلق پیدا کرتا ہے ۔ وہ کائناتی اثرات واشارات کا رخ فطرت انسانی کی طرف موڑتا ہے ۔ اس اثناء میں قرآن انسان کی فطری ساخت کو اس پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ ان فطری اشارات کو قبول کرے ۔ قرآن جانتا ہے کہ جب اس کائنات کے تکوینی اشارات انسانی فطرت کی گہرائیوں تک پہنچ جائیں تو انسان فورا لبیک کہتا ہے ۔
(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ (6 : 36) ” دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ وہ نمونہ طرز ادا کیا ہے جو اس لہر میں ہم سے مخاطب ہے ۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں ۔
(آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37)
” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔
اس آیت میں ان لوگوں کی بات نقل کی گئی ہے جو دین اسلام کو جھٹلاتے تھے ‘ حضور ﷺ کا مقابلہ کرتے تھے ‘ اور ایسے خارق عادت معجزات کے طلبگار تھے جنہیں ان کی آبادی بچشم سر دیکھے یہاں ان کا مطالبہ نقل کرنے کے بعد ان کے دلوں میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ اگر ان کا یہ مطالبہ مان لیا جائے تو اس کے نتائج کیا نکلیں گے ۔ یہ کہ وہ خدا کی شدید پکڑ میں آجائیں گے اور ہلاک وبرباد کردیئے جائیں گے ۔ ظاہر ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ کوئی معجزہ نازل فرمائے ۔ لیکن اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ نازل نہ کرے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے اس مطالبے کو مسترد کردیے ۔
سیاق کلام اب اس محدود موضوع سے نکل کر کائنات کی وسعتوں میں داخل ہوجاتا ہے اور لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم اپنے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات پر ذرا نگاہ ڈالو ‘ وہ آیات ومعجزات خود کتاب کائنات کے اندر موجود ہیں جن کے مقابلے میں وہ خوارق کچھ خوارق نہیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ۔ اور یہ معجزات اور نشانات اس کائنات کے دل میں ابدالاباد تک قائم ہیں تاکہ صرف ایک موجودہ نسل ہی نہیں سب نسلیں انہیں دیکھتی رہیں ۔
(آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38)
” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جا رہے ہیں ۔ یہ بیشک ایک ہولناک حقیقت ہے ۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جسے اس وقت ان کی وقت مشاہدہ دیکھ سکتی تھی ‘ اس لئے کہ اس وقت تک وہ سائنس میں کوئی منظم علم نہ رکھتے تھے ۔ وہ یہ کہ تمہارے اردگرد موجود تمام مخلوقات کے اصناف واجناس اپنی جگہ اقوام وامم ہیں ۔ ہر ایک کی اپنی خصوصیت ہے اور اپنا نظام ہے ‘ لیکن یہ مشاہدہ اس قدر عظیم حقیقت ہے کہ جس قدر اس کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے اسی قدر اس کی عظمت کا یقین ہوتا جاتا ہے ‘ اس سے انسانی علم میں اضافہ ہوتا ہے ہاں انسانی علم میں اضافہ ہوتا ہے ہاں انسانی علوم اس کائنات کے علوم میں اضافہ تو کرسکتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے اس کائنات کی کسی بھی حقیقت میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا ۔ انسانی علوم کے متوازی اللہ کے علوم غیبی ہیں جو اپنا کام کرتے ہیں اور ہر معاملے پر الہی علم و ارادہ اپنا تدبیری عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کائنات میں ہمارا مشاہدہ جس قدر آگے جاتا ہے ‘ یہ حقیقت اور واضح ہوتی جاتی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اس کائنات کے اندر جو الہی قوتیں کار فرما ہیں اور جو نہایت ہی معجزانہ انداز میں کام کررہی ہیں ان کے مقابلے میں ان لوگوں کے مطلوبہ معجزات کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ یہ کائناتی آیات ومعجزات تو وہ حقائق ہیں کہ انسان کی بصارت اور بصیرت جس قدر آگے بڑھتی ہے وہ ان کے نئے نئے پہلو دیکھتے ہیں اور قیامت تک دیکھتے رہیں گے ۔
اس انتخاب اور نمونے میں قرآنی منہاج کلام یہ ہے کہ قرآن کریم فطرت انسانی اور اس کائنات کے درمیان ایک ربط اور جوڑ پیدا کردیتا ہے ۔ وہ فطرت کے دریچے کائنات کے رازوں کے لئے وا کردیتا ہے اور اس طرح قرآن کریم اس عظیم کائنات کے رازوں کے ذریعے انسان کی شخصیت اور اس کی سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے ۔
قرآن کریم انسان کی فطرت کے سامنے محض جدلیاتی لاہوتی مباحث پیش نہیں کرتا ۔ نہ ان کے سامنے محض جدلیاتی علم الکلام اور توحیدی مباحث پیش کرتا ہے ۔ نہ عقلی اور حسی فلسفے پیش کرتا ہے ۔ یہ امور اسلامی اور قرآنی منہاج کے خلاف ہیں ۔ قرآن لوگوں کے سامنے عالم موجودات اور عالم غیب کے واقعی مشاہد وحقائق پیش کرتا ہے ۔ عقل انسانی کو آزاد چھوڑ دیتا ہے کہ وہ غور وفکر کرے ‘ ان سے نتائج اخذ کرے اور قدرت کی کارفرمائیوں کے ساتھ ہمقدم ہو کر چلے اور حقائق کو قبول کرے ۔ لیکن قرآن کریم انسان پر یہ ایک خاص ضابطے اور اسلوب کے ساتھ پیش کرتا ہے اور اسے اسی طرح نہیں چھوڑ دیتا کہ وہ عالم شہادت کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر صراط مستقیم کھو دے ۔ اب سب سے آخر میں ان لوگوں کا انجام بتلایا جاتا ہے جو اس عظیم معجزے کے منکر ہیں :
(آیت) ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِیْ الظُّلُمَاتِ مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39)
” مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ‘ تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے ۔ “
قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ آیات الہی کو جھٹلاتے ہیں وہ گونگے اور بہرے ہیں اور اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ اور پھر بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ہدایت وضلالت کے بارے میں کیا اصول رائج ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ ہدایت وضلالت اللہ کی مشیت کے دائرے میں آتی ہے اور یہ اس قانون فطرت کے مطابق ہے جس پر اللہ نے بندوں کو پیدا کیا ہے ۔
یوں اس معاملے میں اسلامی تصور حیات کے تمام پہلو جڑ جاتے ہیں اور اسلامی منہاج دعوت کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے ۔ ایک داعی کے موقف کو متعین کردیا جاتا ہے ‘ جو اپنے نظریات و عقائد کے مطابق جدوجہد کرتا رہتا ہے ۔ ہر دور اور ہر حال میں وہ لوگوں کے سامنے دعوت پیش کرتا رہتا ہے ۔ امید ہے کہ اس قدر کلمات کے ساتھ ہم اپنا مدعا واضح کرچکے ہیں اور اس کے ساتھ وہ مزید بحث بھی قابل ملاحظہ ہے جو ہم نے دعوت اسلامی کے منہاج کے سلسلے میں اس سورة کے مقدمے میں کی ہے ۔
درس نمبر 60 ایک نظر میں :
یہاں سے سیاق کلام کا رخ اب اس موضوع کی طرف پھرجاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اس کا مشرکین کی فطرت پر کیا ردعمل ہوتا ہے بلکہ مشرکین کے سامنے ان کے فطری ردعمل کا نمونہ پیش کردیا جاتا ہے کہ جس سے وہ عذاب الہی کے وقت دو چار ہوتے ہیں ۔ جب انسان اور ان مشرکین کی فطرت کے اوپر سے تہ بہ تہ جمے ہوئے مادی پردے ہٹ جاتے ہیں اور جب وہ خوفناک حالات سے جھنجوڑے جاتے ہیں تو فطرت کے اوپر جمی ہوئی گرد و غبار چھٹ جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں مشرکین اپنے جھوٹے خداؤں کی تمام کہانیاں بھول جاتے ہیں ۔ وہ رب واحد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کی معرفت ان کی فطرت کی گہرائیوں میں پہلے سے موجود ہوتی ہے ۔ اب وہ صرف اللہ کے سامنے نجات اور فلاح کے لئے دست بدعا ہوتے ہیں ۔
اس کے بعد سیاق کلام ان کے ہاتھ پکڑ کر ایک دوسرے منظر کے سامنے لے جاتا ہے اور اس میں منظر میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے اسلاف پر کیا کیا عذاب نازل ہوئے اور کس کس میدان میں وہ مارے گئے ۔ سنت الہیہ نے تاریخ میں کیا کیا کردار ادا کیا اور قضائے الہی کس طرح ان کے ساتھ عمل کرتی رہی ۔ ان کی بصارت اور بصیرت کو روشن کرنے کے لئے انہیں وہ واقعات بتائے گئے کہ اللہ نے انہیں کہاں کہاں مہلت دی جس کے اندر وہ رسولوں کو جھٹلاتے رہے ۔ اور نتیجۃ کس طرح ایک ابتلاء کے بعد ان پر دوسری ابتلاء آتی رہی ۔ انہیں مصائب ومشکلات سے دو چار کیا گیا ۔ پھر نعمت و دولت کے ذریعے انہیں آزمائش میں ڈالا گیا اور انہیں مہلت کے بعد مہلت دی جاتی جاتی رہی تاکہ وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہوجائیں یہاں تک کہ انہوں نے فرصت کے تمام مواقع ضائع کردیئے ۔ مشکلات اور مصائب نے ان کے اندر جو احساس پیدا کردیا تھا ‘ دولت ونعمت نے انہیں اس احساس سے محروم کردیا ۔ اللہ کی سنت کے مطابق ان پر پھر عذاب الہی آیا اور اس نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ یہ تھا :
(آیت) ” فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)
اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔
یہ منظر جو دلوں کو دہلانے والا ہے ‘ ابھی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا کہ سامنے سے دوسرا منظر نمودار ہوجاتا ہے ۔ اس نئے منظر میں یہ لوگ اللہ کے عذاب میں مبتلا نظرآتے ہیں ۔ اللہ کے عذاب نے ان کی قوت سماعت اور ان کی قوت بصارت کو ختم کردیا ہے ۔ ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں اور اب اللہ کے سوا ‘ اس منظر میں ‘ کوئی دوسری قوت انہیں نظر نہیں آتی جو ان کی کھوئی ہوئی بصارت ‘ سماعت اور قوت مدرکہ انہیں دو بار دے سکے ۔ ان نمایاں اور خوفناک مناظر موجودگی میں بتایا جاتا ہے کہ کسی رسول کے فرائض کیا ہیں ؟ یہ کہ وہ بشیر ونذیر ہوتا ہے اور اس کے سوا نہ کوئی اس کی ڈیوٹی ہے اور نہ اختیار ۔ رسول کے پاس یہ طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی جانب سے کوئی معجزہ پیش کرے ۔ نہ رسولوں کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ لوگوں سے تجاویز لیں اور ان کے مطابق کام کریں ۔ وہ تو مبلغ ہوتے ہیں اور بشیر ونذیر ہوتے ہیں ۔ اب صورت حالات یہ ہوجاتی ہے کہ بعض لوگ ان پر ایمان لا کر عمل صالح شروع کردیتے ہیں ۔ وہ خوف سے اور پریشانی سے نجات پا جاتے ہیں ۔ اور بعض لوگ ان کی تکذیب کرتے ہیں اس لئے انہیں عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور یہ عذاب ان پر اس روگردانی اور تکذیب کی وجہ سے آتا ہے ۔ اس لئے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے ‘ اس کا انجام یہ ہوگا ‘ جس کا اس لہر میں ذکر ہوا ہے ۔
الأنعام 6:39
(آیت) ” نمبر 37 تا 39۔
حضرت محمد ﷺ سے یہ لوگ ایسے خوارق عادت معجزات کے طلبگار تھے ‘ جو آپ سے قبل آنے والے رسولوں کو دیئے گئے تھے ۔ یہ لوگ قرآن کریم جیسے زندہ معجزے پر اکتفا کرنے والے نہ تھے ‘ جو قیامت تک کے لئے باقی ہے ‘ انسانی فہم وادراک کو اپیل کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ اب انسان فکری اعتبار سے بلوغ تک پہنچ گیا ہے ۔ اس لئے انسان کو ایسے فلسفیانہ اور بلند کلام کے ذریعے مخاطب کیا جاتا ہے اور یہ کلام ایسا لازوال اور ابدی کلام ہے کہ کسی نسل کے ساتھ اس کا خاتمہ نہیں ہوجاتا بلکہ دائم و باقی ہے اور قیامت تک انسانی شعور اور ادراک سے مخا طب ہے ۔
یہ لوگ خارق عادت معجزے کے تو طلبگار تھے لیکن ایسے معجزات کے صدور کے بعد سنت الہی کے مطابق جو عذاب آتا ہے اسے سمجھ نہیں پا رہے تھے ۔ اس عذاب کی لپیٹ میں سب لوگ آجایا کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو دنیا میں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ نیز یہ لوگ اس حکمت کو بھی نہ پا رہے تھے جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ایسے معجزے کا صدور نہ فرمایا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر معجزہ صادر بھی ہوجائے تو بھی یہ لوگ ماننے والے نہ تھے ۔ حضور ﷺ سے قبل کوئی اقوام نے یہ حرکت کی تھی اور وہ ہلاکت کی مستحق ہوگئی تھیں ۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ان لوگوں کو مہلت دی جائے اور ان لوگوں میں سے کئی ایسے تھے جن کی قسمت میں ایمان لانا لکھا تھا ۔ اگر کوئی شخص ان میں سے ایمان نہ بھی لایا تو اللہ کے علم میں یہ بات تھی کہ اس کی پشت سے امت مومنہ پیدا ہونے والی ہے ۔ لیکن یہ لوگ اس مہلت پر خدا کا شکر ادا نہیں کرتے کہ اللہ نے خود ان کے مطالبے کے باوجود انہیں اس ابتلاء سے بچایا جبکہ وہ اس مطالبے کے عواقب سے بیخبر تھے ۔
قرآن کریم ان کے اس مطالبے کے تذکرے کے بعد یہ فیصلہ کرنا ہے کہ یہ لوگ بےعلم ہیں اور یہ لوگ ان نتائج سے بیخبر ہیں جو ان کے مطابلے کے پورے ہوجانے کے بعد ظہور پذیر ہونے والے تھے ۔ حکم ہوتا ہے کہ اللہ کی قدرت میں ہے ہر قسم کے معجزات کا صدور ‘ لیکن اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان لوگوں کو مطالبے کے باوجود ان مشکلات اور ہلاکتوں سے دو چار نہ کیا جائے ۔ یہ ان کی رحمت کا بھی تقاضا ہے کہ اس نے اپنے اوپر رحمت کرنا فرض کرلیا ہے ۔
(آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37)
” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔
اس انتباہ کے بعد اب سیاق کلام قرآن کریم کو ایک نہایت ہی لطیف راستے سے مخاطب کے دل میں اتارنے کی راہ تلاش کرتا ہے ۔ انسان کی قوت مشاہدہ اور قوت تدبر کو جگایا جاتا ہے کہ ذرا وہ اس کائنات پر غور وفکر کرے کہ اس کے اندر پائے جانے والے دلائل ایمان پر غور کرے ۔ اگر وہ غور وفکر کرے تو اسے بہت کچھ معلوم ہو سکتا ہے ۔
(آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38)
” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جاتے ہیں ۔ “
اس کائنات میں صرف انسان ہی نہیں بستے تاکہ ہم یہ کہیں کہ بس اتفاقا وہ وجود میں آگئے اور اب ان کی زندگی بھی جس طرح وہ چاہیں بسر ہو اور لغو جائے ۔ بلکہ انسان کے ارد گرد دوسری جاندار مخلوقات بھی ہوتی ہیں اور ان تمام جانداروں کی زندگی ایک خاص منظم طریقے سے بسر ہو رہی ہے ۔ ان کی زندگی کے مطابعے سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زندگی بامقصد ایک اسکیم کے مطابق اور حکیمانہ انداز میں بسر ہو رہی ہے اور تمام مخلوقات کی زندگی کے مطالعے سے یہ حقیقت بھی آشکارا ہوتی ہے کہ یہ سب مخلوق ایک ہی خالق کی پیدا کردہ ہے ایک ہی قوت مدبرہ ہے جو ان تمام مخلوقات کے پیچھے عمل پیرا ہے اور کائنات پر پوری طرح حاوی ہے ۔
جو جانور زمین پر چلتے ہیں (وما من دآبۃ “۔ (6 : 38) اس لفظ میں تمام جاندار حشرات الارض تک شامل ہیں ۔ کیڑے مکوڑے یہاں تک کہ تمام جراثیم ‘ تمام پرندے جو ہوا میں اڑتے ہیں اور تمام مخلوق جو اس کائنات پر زندہ ہے ‘ وہ ایک امت ہے ۔ اس میں ایک جیسے خصائص ہیں ۔ وہ ایک طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کی زندگی کے امور بعینہ اسی طرح ہیں جس طرح یہاں امم انسانی کے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں سے کوئی چیز بغیر اسکیم اور تدبیر کے نہیں چھوڑی اور نہ کوئی چیز اپنے مخصوص علم کے دائرے سے باہر رکھی ہے ۔ آخرت میں یہ تمام مخلوقات اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گی اور ان کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ آخری فیصلے کرے گا ‘ جو وہ چاہے گا ۔
یہ آیت نہایت ہی مختصر ہونے کے باوجود زندہ مخلوقات کے بارے میں ایک فیصلہ کن بات ہمارے سامنے رکھتی ہے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ کی جانب سے پوری مخلوقات کی مکمل نگرانی ہو رہی ہے ۔ پوری مخلوق اس کی فعال تدبیر کے تحت زندہ ہے ‘ وہ اس پوری مخلوق کے بارے میں خوب جانتا ہے اور ہر چیز اس کے دائرہ قدرت میں ہے جو رب ذوالجلال ہے ۔
یہاں ظلال القرآن میں ہمارا جو انداز ہے ‘ اس کے پیش نظر ہمارے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم یہاں کائنات کے اندر پائے جانے والی زندگی کے مختلف پہلوؤں سے بحث کرسکیں ۔ (البتہ میری کتاب خصائص التصور الاسلامی میں حقیقت الوہیت ‘ حقیقت انسانی اور حقیقت مادہ کے عنوانات قابل ملاحظہ ہیں) یہاں اس بحث کے دوران اس حقیقت کو اس لئے لایا گیا ہے کہ انسان کے دل و دماغ کو اس طرح متوجہ کیا جائے کہ یہ تمام مخلوقات اور اس مخلوق کا یہ نظام حیات جس کے مطابق زندگی رواں دواں ہے اور پھر اس کے بارے میں اللہ کی جانب سے مکمل تدبیر اور علم اور آخرت میں ان تمام مخلوقات کا اللہ کے سامنے اٹھنا یہ سب ایسے امور ہیں کہ ان میں کسی معجزے سے زیادہ حیرت انگیز دلائل اور اشارات ہیں ۔ اگر کوئی معجزہ صادر ہوجائے تو اسے انسانوں کی ایک وقت میں موجود نسل ہی ملاحظہ کرے گی لیکن ان مخلوقات کے اندر موجود آیات الہی پر اگر غور کیا جائے تو ہر وقت زندہ معجزات نظر آئیں گے اور ہر دور کے لوگ انہیں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
اب اس لہر کا خاتمہ اس حقیقت پر ہوتا ہے کہ ہدایت وضلالت کی پشت پر سنت الہی کے مطابق مشیت الہی کام کر رہی ہے اور یہ کہ اللہ کی مشیت اور سنت انسانی فطرت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں اور راہنمائی کرتی ہیں ۔
(آیت) ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِیْ الظُّلُمَاتِ مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39)
” مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ‘ تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے ۔ “
یہ اسی حقیقت کا اعادہ ہے کہ کون لوگ ہیں جو سنتے ہیں اور کون ہیں جو مردہ ہیں اور سن ہی نہیں سکتے ۔ لہذا وہ قبول حق سے محروم ہیں لیکن یہاں بات کو ایک دوسرے تناظر میں پیش کیا جاتا ہے ۔ جو لوگ آیات الہی کی تکذیب کرتے اور ان دلائل وبینات پر غور نہیں کرتے جو اس کائنات میں ہر طرف بکھری پڑی ہیں ۔ پھر قرآن کریم میں پائی جانے والی آیات ونشانیوں پر بھی وہ غور نہیں کرتے یہ کیوں ؟ اس لئے کہ انہوں نے اپنی شخصیات میں پائے جانے والے قبولیت حق کے مادے اور صلاحیت ہی کو معطل کردیا ہے ۔ یہ بہرے ہیں سنتے ہیں نہیں گونگے ہیں اور کوئی بات ہی نہیں کرتے ۔ گمراہی کے اندھیروں میں غرق ہیں ۔ کچھ دیکھتے ہی نہیں ۔ صرف مادی اعتبار سے ہی نہیں حقیقی اعتبار سے بھی یہ بہرے ‘ گونگے اور اندھے ہیں اس طرح کہ ان کے قوت مدرکہ معطل ہے ۔ ان کے حواس کام ہی نہی کرتے اور نہ ان کے حواس کوئی اچھی بات ان کے دماغوں تک منتقل کرتے ہیں ۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ قرآن کریم کی آیات بذات خود اثر انگیز ‘ محرک اور جھنجوڑنے والی ہیں ۔ لیکن ان پر ان آیات کا کچھ اثر ہی نہیں ہو رہا ہے ۔ وہ بات کو پاتے ہیں نہیں ۔ لہذا ان آیات بینات سے جو شخص روگردانی کرتا ہے اس کی فطرت میں فساد پیدا ہوگیا ہے ۔ لہذا وہ اس قابل نہیں رہی ہے کہ ہدایت قبول کرے اور ایک ترقی یافتہ زندگی بسر کرنے کا اہل بن جائے ۔
اور یہ سب صورت حالات اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر رونما ہو رہی ہے ۔ اس مشیت کا تقاضا ہی یہ تھا کہ حضرت انسان کے اندر ہدایت قبول کرنے اور گمراہی اختیار کرنے کی دونوں صلاحیتیں موجود ہوں اور وہ دونوں راستوں میں سے کوئی ایک راہ اختیار کرنے میں آزاد ہو اور اس پر کوئی جبر نہ ہو اور نہ کوئی قضائے مبرم ہو۔ اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے راہ ہدایت پر ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے ۔ اور یہ ہے اللہ کی مشیت کا مفہوم ۔ اللہ کی مشیت اس شخص کی مددگار ہوتی ہے جو اس کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے اور جو شخص عناد کی راہ اختیار کرتا ہے خود گمراہ ہوتا ہے ۔ اللہ کسی بندے پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں ۔
راہ ہدایت کی طرف انسان کا رجحان اور میلان یا راہ ضلالت کی طرف انسان کا رجحان اور میلان ‘ دونوں اس مخلوق کے اندر اللہ کی پیدا کردہ صلاحیت سے پیدا ہوتے اور اس کی مشیت کے مطابق ہی کام کرتے ہیں ۔ ابتداء تو یہ رجحان اللہ کا پیدا کردہ ہے اور اس ابتدائی تخلیق کردہ مادے کے نتائج کے طور پر جو ہدایت وگمراہی آتی ہے یہ بھی دائرہ مشیت الہیہ کے اندر ہوتی ہے ۔ اور یہ مشیت بےقید ہے ۔ سوال یہ ہے کہ پھر باز پرس اور سزا وجزاء کیوں ہے ؟ تو وہ اس وجہ سے ہے کہ انسان کا رجحان بہرحال آزادی کی طرف ہوتا ہے ۔ میلان میں وہ آزاد ہے ۔ اگرچہ اس کی یہ صلاحیت اس کے اندر اللہ کی تخلیق کردہ ہے اور اللہ کی مشیت کے ماتحت ہے ۔ (دیکھئے خصائص تصور اسلامی “ کا عنوان ” التوازن “ )
اس لہر کی آیات کی تشریح کے بعد اب ذرا رکیے تاکہ ہم اس مطالعے سے ان لوگوں کے لئے سرمہ بصیرت حاصل کرلیں جو کسی بھی دور میں اور کسی بھی امت میں دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں ۔ ان آیات میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ زمان ومکان کی حدود سے باہر ہیں ۔ ان کا اطلاق تمام حالات اور تمام تحریکوں پر ہوتا ہے اور ان میں دعوت دین کے ایسے نقوش وضع کئے گئے ہیں جو ہر دور کے لئے کار آمد ہیں ۔ یہاں ہم اس نکتے کے پورے پہلوؤں کو زیر بحث نہیں لاسکتے البتہ ہم یہاں نشانات راہ معلوم کرسکتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ دعوت اسلامی کی راہ نہایت ہی پر خطر ہے ۔ اس میں جگہ جگہ کانٹے بچھے ہوئے ہیں ۔ ہر قدم پر ایک ناپسندیدہ صورت حال کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے ۔ اس کے باوجود سچائی کو فتح اور کامرانی کی گارنٹی دی گئی ہے ۔ ہاں یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ فتح کا وقت پس پردہ تقدیر ہوتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے ۔ اس کی حکمت کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔ اس کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے اور اس کے سوا کوئی اور اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی اس غیب کا علم نہیں دیا گیا ۔ اس راہ میں جو مشکلات سامنے آتی ہیں وہ دو اہم اساسی فیکٹرز کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ پہلا فیکٹر یہ ہے کہ جب دعوت اسلامی کا آغاز ہوتا ہے تو پہلے لوگ اس سے روگردانی اختیار کرتے ہیں ۔ اس کے بعد دوسری مشقت یہ ہوتی ہے کہ داعی کے دل میں اس بات کی شدید خواہش پیدا ہوجاتی ہے کہ لوگ دعوت اسلامی کو قبول کرکے راہ حق پر آجائیں اور اس ذوق وشوق میں وہ بھی ڈوب جائیں جس سے داعی سرشار ہوتا ہے ۔ اس کے لئے ہو پرجوش ہوتا ہے اور اپنی دعوت کے کلمے کی سربلندی چاہتا ہے ۔ یہ خواہش بھی اسی قدر تکلیف دہ ہوتی ہے جس قدر مخاطبین کی طرف سے اعراض اور تکذیب تکلیف دہ ہوتی ہے ۔ یہ دونوں فیکٹرز داعی کے لئے وہ ان روح بن جاتے ہیں۔
یہاں اس لہر میں قرآن کریم جو ہدایات دیتا ہے اور وہ اس مشقت کے دونوں پہلوؤں کے سلسلے میں ہیں ۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ جو لوگ قرآن کی دعوت سے اعراض کرتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کو جھٹلاتے ہیں وہ حق الیقین رکھتے ہیں کہ صرف حضور ﷺ اور آپ کی دعوت عین سچائی ہیں ۔ اور حضور ﷺ سچے ہیں اور وہ یہ پیغام اللہ کی جانب سے لے کر آئے ہیں ۔ لیکن اپنے اس علم کے باوجود وہ اس دعوت کو قبول نہیں کرتے ۔ وہ محض ذاتی خواہشات اور ہوائے نفس کی وجہ سے تکذیب کرتے ہیں حالانکہ یہ دعوت ایسی ہے کہ وہ بذات خود دلیل حق ہے ۔
آفتاب آمد دلیل آفتاب کا مصداق ہے اور انسان کے فطری تقاضوں کے عین مطابق ہے ۔ بشرطیکہ فطرت زندہ ہو اور سچائی کو قبول کرنے کا مادہ اپنے اندر رکھتی ہو ۔ کیونکہ (آیت) ” انما یستجیب الذین یسمعون “ (6 : 36) بیشک دعوت حق تو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو تکذیب پر اصرار کرتے ہیں تو ان کے دل و دماغ مردہ ہیں ۔ وہ خود بھی مردہ ہیں ۔ گونگے ‘ بہرے اور اندھے ہیں اور تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ رسول کے اندر یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ مردوں کو سنوائے اور نہ مردے سنتے ہیں ۔ اگرچہ کوئی پکارتا ہے ۔ ایک داعی کی ڈیوٹی یہ نہیں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے ۔ کیونکہ یہ تو اللہ کی شان ہے اور یہ اللہ کا کام ہے ۔ یہ تو ہے معاملے کا ایک پہلو اور اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ کی نصرت بہرحال حق کے ساتھ ہوتی ہے ۔ البتہ یہ بات اپنی جگہ دستور الہی ہے کہ وہ اللہ کی جانب سے مقرر شدہ وقت پر آتی ہے ۔ جس طرح سنت الہیہ قبل از وقت ظاہر نہیں ہوتی اور جس طرح اللہ کے کلمات بدلتے نہیں ۔ اسی طرح یہ بات بھی اٹل ہے کہ آخر کار نصرت آتی ضرور ہے اور یہ بات بھی اپنی جگہ پر ہے کہ وہ قبل از وقت نہیں آتی ۔ اپنے وقت پر ہی ظاہر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس معاملے میں کوئی جلد بازی نہیں فرماتے ۔ اس لئے کہ اذیت اور تکالیف تو داعیوں پر آتی ہی رہتی ہیں ۔ اگرچہ داعی رسول ہی کیوں نہ ہوں ۔ کیونکہ داعیوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بغیر عجلت اور شتابی اور بےصبری کے مشکلات کو انگیز کریں اور قبل ازوقت نصرت کا مطالبہ نہ کریں ۔
دین اسلام میں ایک داعی اور رسول کا کردار کیا ہوتا ہے ‘ ان قرآنی ہدایات میں اس کا تعین بھی کردیا گیا ہے ۔ تمام ادوار کے لئے اور تمام معاملات کیلئے ۔ وہ کردار یہ ہے کہ انہوں نے پیغام پہنچانا ہے اور اپنی راہ پر آگے بڑھنا ہے اور اس راہ کی مشکلات کو برداشت کرنا ہے ۔ رہی یہ بات کہ لوگ راہ ہدایت پر آتے ہیں یا نہیں تو یہ جس طرح داعی اور رسول کی طاقت کے حدود سے باہر ہے اسی طرح ان کے فرائض میں بھی شامل نہیں ہے ۔ ہدایت وضلالت سنت الہیہ کے مطابق کام کرتی ہیں اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اگر رسول اپنے کسی محبوب کے بارے میں لاکھ چاہے کہ وہ ہدایت پر آجائے تو اگر سنت الہیہ اس کے حق میں نہیں ہے تو وہ راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ جبکہ رسول لاکھ چاہے کہ وہ ہدایت پر آجائے تو اگر سنت الہیہ اس کے حق میں نہیں ہے تو وہ راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ جبکہ رسول کے دشمنوں اور مبغوض لوگوں کو بھی ہدایت نصیب ہو سکتی ہے ۔ اس معاملے میں داعی اور رسول کی شخصیت اور ذات کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ رسول کے ساتھ یہ حساب نہ ہوگا کہ اس کی دعوت کے نتیجے میں کتنے لوگ راہ راست پر آئے ہیں۔ اس سے صرف یہ پوچھا جائے گا کہ اس نے دعوت کا حق کس قدر ادا کیا ‘ کس قدر مشکلات کو برداشت کیا اور کس قدر اپنی راہ دروش پر جمے رہے ۔ اور کس قدر ثابت قدمی اختیار کی ۔ رہی یہ بات کہ لوگ ہدایت قبول کرتے ہیں یا نہیں ۔ تو یہ معاملہ اللہ کے سپرد ہے ۔
(آیت) ” مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39)
جسے اللہ چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے ۔ “
(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَیَ (35) ” اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا ۔ “
(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ (6 : 36) ” دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ اس قبل ہم یہ بیان کر آئے ہیں اس سے قبل ہم یہ بیان کر آئے ہیں کہ اللہ کی مشیت ہدایت وضلالت کے بارے میں بےقید ہے اور اس کا رابطہ لوگوں کے رجحان اور جدوجہد کے ساتھ ہے ۔ وہ بیان کافی وشافی ہے ۔
چناچہ داعی حق کا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ جن لوگوں کو دعوت دیتا ہے ‘ ان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر کان نہ دھرے ۔ خصوصا جبکہ ان تجاویز کا تعلق اساس دین اور منہاج دعوت سے ہو ۔ نہ کسی داعی کے لئے مناسب ہے کہ وہ دین کے اصولوں کو لوگوں کی وقتی خواہشات ورغبات کے مطابق بنا سجا کے پیش کرے ۔ مشرکین کا مطالبہ یہ تھا کہ حضور ﷺ کچھ خارق عادت معجزات پیش کریں جو ان کے زمانے کے تصورات اور مالوفات کے مطابق ہوں اور جنہیں وہ سمجھ سکیں جس کے بارے میں قرآن کریم نے کئی مقامات پر ذکر کیا ہے ۔ اس سورة میں بھی ان کا یہ قول مذکور ہے ۔
(آیت) ” لولا انزل علیہ ملک (25 : 7) وہ کہتے ہیں کہ اس پر فرشتہ کیوں نہیں نازل ہوتا ؟ (آیت) ” وقالوا لولا نزل علیہ ایۃ من ربی “۔ اور وہ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں نازل ہوتی اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی جانب سے ؟ “
(آیت) ” واقسموا باللہ جھدا ایمانھم لئن جآء تھم ایۃ لیومنن بھا “۔ (6 : 109) اور وہ پختہ قسمیں اٹھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئی تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے ۔ “ ایک دوسری سورة میں ان کا یہ مطالبہ نہایت ہی تعجب خیز انداز میں سامنے آتا ہے ۔ سورة اسراء میں اللہ نے ان کے اس مطالبے اور تجویز کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔
(آیت) ” وقالوا لن مومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا ‘، (90) اوتکون لک جنۃ من نخیل وعنب فتفجر الانھر خللھا تفجیرا (91) اوتسقط السمآء کما زعمت علینا کسفا اوتاتی باللہ والملئکۃ قبیلا (92) اویکون لک بیت من زخرف اوترقی فی السمآء ولن نومن لرقیک حتی تنزل علینا کتبا نقرءہ ) (93) (17 : 90 تا 93)
” اور انہوں نے کہا ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے ۔ یا تیری لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کر دے ۔ یا تو آسمان کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعوی ہے یا خدا اور فرشتوں کو رو در رو ہمارے سامنے لے آئے ۔ یا تیرے لئے سونے کا ایک گھر بن جائے یا تو آسمان پر چڑھ جائے اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک تو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اتار لائے جسے ہم پڑھیں ۔ “ اور سورة الفرقان میں اسے یوں بیان کیا گیا ہے ۔
(آیت) ” وقالوا مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق لولا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرا “۔ (7) او یلقی الیہ کنز او تکون لہ جنۃ یا کل منھا (8) (25 : 7۔ 8) کہتے ہیں یہ کیسا رسول ہے ‘ جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟ کیون نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو) دھمکاتا یا اور نہین تو اس کے لئے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا یا اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ روزی حاصل کرتا۔ “ اس لہر میں رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو براہ راست اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ وہ اہل کفر کے مطالبے سے متاثر ہو کر کہیں اس خواہش کا اظہار نہ کریں کہ کوئی معجزہ صادر ہو ہی جائے ۔ چناچہ حضور ﷺ سے ان الفاظ میں خطاب ہوا۔
(آیت) ” وَإِن کَانَ کَبُرَ عَلَیْْکَ إِعْرَاضُہُمْ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَن تَبْتَغِیَ نَفَقاً فِیْ الأَرْضِ أَوْ سُلَّماً فِیْ السَّمَاء فَتَأْتِیَہُم بِآیَۃٍ وَلَوْ شَاء اللّہُ لَجَمَعَہُمْ عَلَی الْہُدَی فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْجَاہِلِیْنَ (35) إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ وَالْمَوْتَی یَبْعَثُہُمُ اللّہُ ثُمَّ إِلَیْْہِ یُرْجَعُونَ (36)
” اگر ان لوگوں کی بےرخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا لہذا نادان مت بنو ۔ دعوت حق پر لبیک وہی کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ‘ رہے مردے تو انہیں تو بس اللہ قبروں سے اٹھائے گا اور پھر وہ واپس لائے جائیں گے ۔ “ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لئے) ۔
بعض مسلمانوں کے دلوں میں یہ رغبت پائی جاتی تھی کہ مشرکین صدور معجزات کے بارے میں جو مطالبے کرتے ہیں ان کا مطالبہ پورا کردیا جائے ۔ اس لئے کہ وہ پختہ قسمیں کھاتے تھے کہ اگر کوئی معجزہ صادر ہوگیا تو وہ ضرور ایمان لائیں گے ۔ ایسے لوگوں کو کہا گیا : ۔
(آیت) ” قُلْ إِنَّمَا الآیَاتُ عِندَ اللّہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ أَنَّہَا إِذَا جَاء تْ لاَ یُؤْمِنُونَ (109) وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَہُمْ وَأَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُواْ بِہِ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ (110)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں ۔ ہم اسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے ۔ ہم انہیں اس کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑے دیتے ہیں) تاکہ اہل ایمان یہ جان لیں کہ اہل کفر کے ہاں اس بات کی کمی نہیں ہے کہ ان کے سامنے کوئی معجزہ نہیں ہے یا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے جو انہیں سچائی تک لے جائے ‘ بلکہ ان کے ہاں جو کمی ہے وہ یہ ہے کہ وہ سنتے ہی نہیں ۔ وہ اس طرح ہیں جس طرح مردے ۔ ان کی قسمت میں ہدایت نہیں ہے ۔ وہ سنت الہی کے مطابق اپنے آپ کو ہدایت سے محروم کرچکے ہیں ۔ لہذا تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ یہ دین اللہ سنت کے مطابق چلتا ہے ۔ اور اس کا مقام اس سے بلند ہے کہ وہ لوگوں کی خواہشات اور عوام کی تجاویز کے مطابق کوئی روش اختیار کرے ۔ اب ہم قرآنی آیات کے ایک وسیع دائرے میں آجاتے ہیں ۔ اب ایسی ہدایات سامنے آتی ہیں جو زمان ومکان کی قید سے وراء ہیں ‘ جن کا تعلق کسی ایک واقعہ سے نہیں ہے ۔ نہ کسی مخصوص تجویز سے ان کا تعلق ہے ۔ زمانہ تو بدلتا رہتا ہے ۔ لوگوں کی خواہشات اور ان کے مطالبات بھی بدلتے رہتے ہیں اس لئے داعیان حق کو چاہئے کہ انہیں لوگوں کی خواہشات صراط مستقیم سے ادھر ادھر نہ کردیں ۔ یہ لوگوں کی خواہشات اور ان کے مطالبات ہی ہیں جن کا لحاظ کرتے ہوئے بعض داعیان حق اسلامی نظریہ حیات کو ایک مذہب کے طور پر تسلیم کر کے اسے دوسرے مذہب کی طرح ایک کاغذی مذہب قرار دیتے ہیں اور اسے انفرادی زندگی کے معاملات تک محدود کردیتے ہیں ۔ جس طرح اس کرہ ارض پر متعدد دوسرے مذاہب موجود ہیں جو کسی وقت ایک محدود مقصد کے لئے وجود میں آجاتے ہیں ۔ پھر اسی جذبے کے تحت بعض داعی اسلامی نظام کو ایک کاغذی منصوبے یا ایک مفصل کاغذی قانونی نظام کی صورت میں پیش کرتے ہیں اور اس منصوبے کے ذریعے وہ دور جدید کی جاہلیت کے واقعی حالات کا مقابلہ کرتے ہیں حالانکہ اہل جاہلیت کی جو عملی صورت حال ہے اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ اس لئے کہ دور جدید کے اہل جاہلیت تو ببانگ دہل یہ کہتے ہیں کہ اسلام ایک پرائیویٹ عقیدہ ہے اور اس کا زندگی کے واقعی اور عملی نظام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔ یہ داعی لوگوں کے لئے اس عملی جاہلی صورت حال کو اسلامی رنگ میں مرتب کرتے ہیں ۔ اس کے مطابق لوگ بدستور جاہلیت پر قائم رہتے ہیں ‘ اپنے فیصلے طاغوت کی عدالت سے کراتے ہیں ۔ نہ وہ شریعت کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور نہ کراتے ہیں ۔ اس قسم کی تمام کوششیں نہایت ہی گھٹیا اور ذلیل حرکات ہیں ۔ ایک سچے مسلمان کو چاہئے کہ وہ ان جدید فکری رنگوں میں رنگے ہوئے ان خیالات کو پرے پھینک دیں ‘ اس لئے کہ یہ خیالات ناپختہ ہیں اور کسی حال میں بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہ سکتے ۔ اگرچہ انکو دعوت اسلامی کے جدید رنگ اور جدید تکنیک کا نام دیا جائے ۔
اور اس سے بھی زیادہ ذلیل اور گھٹیا حرکت ان لوگوں کی ہے جو اسلام کو جدید لباس پہناتے ہیں اور اسلام پر ایسی صفات اور اصطلاحات کا اطلاق کرتے ہیں جو تاریخی ادوار میں کسی دور میں خود انسانوں نے ایجاد کیں ۔ مثلا اشتراکیت اور جمہوریت وغیرہ ایسے لوگوں کی اس سعی نامشکور کا مقصد یہ رہا ہے کہ وہ اسلام کی ترقی یافتہ تعبیر کرکے اس طرح اسلام کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔ ذرا غور کیجئے اشتراکیت ایک اجتماعی اور اشتراکی نظام ہے اور یہ خالص انسانوں کا بنایا ہوا ہے ۔ اس کے اندر کچھ چیزیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور کچھ غلط بھی ہو سکتی ہیں ۔ اسی طرح جمہوریت بھی ایک نظام حکومت اور نظام زندگی ہے ۔ یہ جمہوری نظام خود انسانوں کی سوچ اور فکر کے نتیجے میں بنایا گیا ہے ۔ اس میں بعض چیزیں درست بھی ہو سکتی ہیں اور غلط بھی ہو سکتی ہیں ۔ ان کے مقابلے میں اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور یہ نظریاتی افکار ایک اجتماعی سوشل نظام ایک علیحدہ اقتصادی نظام اور ایک ممتاز عملی اور انتظامی ڈھانچے پر مشتمل ہے اور یہ نظام اللہ بنایا ہوا نظام ہے ۔ اس کے اندر نہ کوئی نقص پایا جاتا ہے نہ کوئی عیب ہے ۔ لہذا جو شخص تو وہ شخص اسلام کے حوالے سے درست موقف کا حامل نہیں ہے ۔ یا اس پر ایسے اقوال منطبق کرتا ہے جو انسانوں کے اعمال ہیں ۔
اہل جاہلیت مشرک صرف اس لئے قرار پاتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے بعض لوگوں کو اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے اور ان کو دوست بناتے تھے ۔
(آیت) ” والذین اتخذوا من دونہ اولیاء ما نعبدھم الا لیقربونا الی زلفی (39 : 3) ” وہ لوگ جنہوں نے اس کے سوا دوسرے سرپرست بنا رکھے ہیں ۔ (اور اپنے اس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کردیں “ یہی تو شرک ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کے دربار میں کچھ لوگوں کی سفارش کے مرحلے سے بھی آگے بڑھ کر کچھ دوسرے لوگوں کے بنائے ہوئے نظام حیات کے ذریعے تقرب حاصل کرتے ہیں ان کا یہ فعل ‘ مشرکین عرب کے فعل سے کس قدر زیادہ مکروہ ہے ۔ مشرکین عرب دین بہرحال خدا ہی کا مانتے تھے البتہ کچھ اشخاص کو شریک بناتے تھے ۔ یہ لوگ تو نظام حیات غیر اللہ کا اپناتے ہیں اور قرب اللہ کا چاہتے ہیں ۔
خوب غور کیجئے اور سمجھیے کہ اسلام اسلام ہے ‘ سوشلزم سوشلزم ہے اور جمہوریت جمہوریت ہے ۔ اسلام کا صرف وہی نام اور وہی عنوان ہوگا جو اس کے لئے اللہ نے رکھا ہے اور تجویز کیا ہے ۔ یہ دوسرے نام اور عنوان لوگوں کے رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ تمام دوسرے نظام لوگوں نے اپنے تجربوں سے بنائے ہوئے ہیں ‘ اگر کوئی شخص ان نظاموں کو اپناتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ انہیں اپنے نام اور عنوان سے اپنائے ۔ کسی داعی دین کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ لوگوں کے اپنائے ہوئے کسی رنگ کو اپنائے اور دعوی یہ کرے کہ وہ اللہ کے دین پر کوئی احسان کر رہا ہے ۔
بہرحال ہم ایسے لوگوں سے ایک بات پوچھتے ہیں ‘ آخر تمہاری نظروں میں اللہ کا دین اس قدر بےوقعت کیوں ہوگیا ہے ‘ اور تم کیوں اللہ کی عظمت کو اپنے دل میں اس طرح نہیں بٹھاتے جس طرح اس کا حق ہے ۔ تم لوگ آج کے دور میں اسلام کو کیوں اشتراکیت اور جمہوریت کے رنگ میں پیش کرتے ہو ‘ کیونکہ یہ تو دور حاضر کے فتنے اور دور حاضر کے لئے محبوب تھا کہ لوگ جاگیرداری سے گلو خلاصی چاہتے تھے جبکہ جاگیرداری سے بھی پہلے ڈکٹیڑ شپ ایک محبوب نظام تھا اور اس کے ذریعے لوگ چھوٹی چھوٹی ریاستوں اور بکھری ہوئی ظالم ریاستوں سے نجات چاہتے تھے مثلا جرمنی اور اٹلی کے ممالک اس دور سے بھی گزرے ہیں ۔ کل مذکورہ بالا نظاموں کے مقابلے میں دنیا میں کوئی نیا نظام بھی رائج ہو سکتا ہے جو اہل دنیا کو کوئی تجربہ یا نیارنگ ہوگا اور جس میں ایک نئی شکل میں انسان ‘ انسان کا غلام ہوگا تو تم پھر کل اسلام پر اس نئے نظام اور رنگ کا لیبل چسپاں کرو گے تاکہ تم اسلام کو ایک ایسے رنگ میں پیش کرسکو جسے لوگ چاہتے ہیں ؟
آیات کے زیر بحث حصے یا لہر میں اور قرآن کریم کے دوسرے مقامات پر یہ ہدایات دی گئی ہیں کہ داعی دین کا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنی دعوت ونظریہ کو لے کر اور مستغنی ہو کر آگے بڑھے اور جو لوگ دعوت اسلامی کے سلسلے میں ترمیمی تجاویز دیتے ہیں ان کی باتوں اور تجویزوں پر سرے سے کان ہی نہ دھرے ۔ نیز دین اسلام کو اس کے اصل نام اور عنوان کے ساتھ ہی پیش کرے اور اسے دوسرے مروجہ ناموں اور عنوانوں کے ساتھ کرنے کی سعی نہ کرے ۔ وہ لوگوں کو اسلامی منہاج اور اسلامی ذرائع ہی کے ذریعے بیدار کرنے کی سعی کرے ۔ اللہ تمام جہانوں سے بےنیاز ہے ۔ اگر کوئی اس دعوت کو اس طرح قبول نہیں کرتا جس میں وہ صرف اللہ کی بندگی کرے اور اس کے سوا تمام غلامیوں سے نکل آئے تو دین اسلام کو کسی ایسے شخص کی ضرورت نہیں ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کو کسی سرکش اور کسی مطیع فرمان کی طرف کوئی احتیاج ہے ۔
دین اسلام اپنے بنیادی عناصر اور اپنی خصوصیات کے اعتبار سے اپنی ایک خاص اصلیت (OrignAlity) رکھتا ہے ۔ اللہ کا منشا یہ ہے کہ یہ خصائص اور یہ اساسی اقدار غالب ہوجائیں ۔ دنیا کے عملی نظام کے معاملے میں یہ دین اصلیت (OrignAlity) کا مالک ہے ۔ اور وہ جس انداز میں انسان کو دعوت فکر دیتا ہے وہ بھی اور جنل ہے ۔ جس خدا نے اس دین کو اپنی خصوصیات اور اپنے عناصر ترکیبی کے ساتھ اتارا ہے ۔ ‘ وہی کدا تو ہے جو اس حضرت انسان کا خالق ہے اور وہ خوب جانتا ہے کہ انسان کیا کیا سوچتا رہتا ہے اور اس کے دل میں خواہشات کی کیا کیا لہریں اٹھتی ہیں ؟
اس لہر میں قرآن کریم کے اس انداز خطاب کا بھی ایک نمونہ موجود ہے جس کے ساتھ وہ فطرت انسانی کو مخاطب کرتا ہے ۔ اس کے اسلوب خطاب میں سے یہ بھی ایک اساسی نمونہ ہے ۔ قرآن انسانی فطرت اور اس کائنات کے طبعی عمل کے درمیان ایک رابطہ اور تعلق پیدا کرتا ہے ۔ وہ کائناتی اثرات واشارات کا رخ فطرت انسانی کی طرف موڑتا ہے ۔ اس اثناء میں قرآن انسان کی فطری ساخت کو اس پر آمادہ کرتا ہے کہ وہ ان فطری اشارات کو قبول کرے ۔ قرآن جانتا ہے کہ جب اس کائنات کے تکوینی اشارات انسانی فطرت کی گہرائیوں تک پہنچ جائیں تو انسان فورا لبیک کہتا ہے ۔
(آیت) ” إِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُونَ (6 : 36) ” دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سنتے ہیں ۔ وہ نمونہ طرز ادا کیا ہے جو اس لہر میں ہم سے مخاطب ہے ۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں ۔
(آیت) ” وَقَالُواْ لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْْہِ آیَۃٌ مِّن رَّبِّہِ قُلْ إِنَّ اللّہَ قَادِرٌ عَلَی أَن یُنَزِّلٍ آیَۃً وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (37)
” یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نبی پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ؟ کہو ‘ اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ‘ مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔
اس آیت میں ان لوگوں کی بات نقل کی گئی ہے جو دین اسلام کو جھٹلاتے تھے ‘ حضور ﷺ کا مقابلہ کرتے تھے ‘ اور ایسے خارق عادت معجزات کے طلبگار تھے جنہیں ان کی آبادی بچشم سر دیکھے یہاں ان کا مطالبہ نقل کرنے کے بعد ان کے دلوں میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ اگر ان کا یہ مطالبہ مان لیا جائے تو اس کے نتائج کیا نکلیں گے ۔ یہ کہ وہ خدا کی شدید پکڑ میں آجائیں گے اور ہلاک وبرباد کردیئے جائیں گے ۔ ظاہر ہے کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ کوئی معجزہ نازل فرمائے ۔ لیکن اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ نازل نہ کرے اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کے اس مطالبے کو مسترد کردیے ۔
سیاق کلام اب اس محدود موضوع سے نکل کر کائنات کی وسعتوں میں داخل ہوجاتا ہے اور لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ تم اپنے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات پر ذرا نگاہ ڈالو ‘ وہ آیات ومعجزات خود کتاب کائنات کے اندر موجود ہیں جن کے مقابلے میں وہ خوارق کچھ خوارق نہیں جن کا وہ مطالبہ کرتے ہیں ۔ اور یہ معجزات اور نشانات اس کائنات کے دل میں ابدالاباد تک قائم ہیں تاکہ صرف ایک موجودہ نسل ہی نہیں سب نسلیں انہیں دیکھتی رہیں ۔
(آیت) ” وَمَا مِن دَآبَّۃٍ فِیْ الأَرْضِ وَلاَ طَائِرٍ یَطِیْرُ بِجَنَاحَیْْہِ إِلاَّ أُمَمٌ أَمْثَالُکُم مَّا فَرَّطْنَا فِیْ الکِتَابِ مِن شَیْْء ٍ ثُمَّ إِلَی رَبِّہِمْ یُحْشَرُونَ (38)
” زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو ‘ یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ‘ ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ‘ پھر یہ سب اپنے رب کی طرف سمیٹے جا رہے ہیں ۔ یہ بیشک ایک ہولناک حقیقت ہے ۔ یہ وہ عظیم حقیقت ہے جسے اس وقت ان کی وقت مشاہدہ دیکھ سکتی تھی ‘ اس لئے کہ اس وقت تک وہ سائنس میں کوئی منظم علم نہ رکھتے تھے ۔ وہ یہ کہ تمہارے اردگرد موجود تمام مخلوقات کے اصناف واجناس اپنی جگہ اقوام وامم ہیں ۔ ہر ایک کی اپنی خصوصیت ہے اور اپنا نظام ہے ‘ لیکن یہ مشاہدہ اس قدر عظیم حقیقت ہے کہ جس قدر اس کا دائرہ وسیع ہوتا جاتا ہے اسی قدر اس کی عظمت کا یقین ہوتا جاتا ہے ‘ اس سے انسانی علم میں اضافہ ہوتا ہے ہاں انسانی علم میں اضافہ ہوتا ہے ہاں انسانی علوم اس کائنات کے علوم میں اضافہ تو کرسکتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے اس کائنات کی کسی بھی حقیقت میں اضافہ نہیں کیا جاسکتا ۔ انسانی علوم کے متوازی اللہ کے علوم غیبی ہیں جو اپنا کام کرتے ہیں اور ہر معاملے پر الہی علم و ارادہ اپنا تدبیری عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کائنات میں ہمارا مشاہدہ جس قدر آگے جاتا ہے ‘ یہ حقیقت اور واضح ہوتی جاتی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ اس کائنات کے اندر جو الہی قوتیں کار فرما ہیں اور جو نہایت ہی معجزانہ انداز میں کام کررہی ہیں ان کے مقابلے میں ان لوگوں کے مطلوبہ معجزات کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ یہ کائناتی آیات ومعجزات تو وہ حقائق ہیں کہ انسان کی بصارت اور بصیرت جس قدر آگے بڑھتی ہے وہ ان کے نئے نئے پہلو دیکھتے ہیں اور قیامت تک دیکھتے رہیں گے ۔
اس انتخاب اور نمونے میں قرآنی منہاج کلام یہ ہے کہ قرآن کریم فطرت انسانی اور اس کائنات کے درمیان ایک ربط اور جوڑ پیدا کردیتا ہے ۔ وہ فطرت کے دریچے کائنات کے رازوں کے لئے وا کردیتا ہے اور اس طرح قرآن کریم اس عظیم کائنات کے رازوں کے ذریعے انسان کی شخصیت اور اس کی سوچ پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے ۔
قرآن کریم انسان کی فطرت کے سامنے محض جدلیاتی لاہوتی مباحث پیش نہیں کرتا ۔ نہ ان کے سامنے محض جدلیاتی علم الکلام اور توحیدی مباحث پیش کرتا ہے ۔ نہ عقلی اور حسی فلسفے پیش کرتا ہے ۔ یہ امور اسلامی اور قرآنی منہاج کے خلاف ہیں ۔ قرآن لوگوں کے سامنے عالم موجودات اور عالم غیب کے واقعی مشاہد وحقائق پیش کرتا ہے ۔ عقل انسانی کو آزاد چھوڑ دیتا ہے کہ وہ غور وفکر کرے ‘ ان سے نتائج اخذ کرے اور قدرت کی کارفرمائیوں کے ساتھ ہمقدم ہو کر چلے اور حقائق کو قبول کرے ۔ لیکن قرآن کریم انسان پر یہ ایک خاص ضابطے اور اسلوب کے ساتھ پیش کرتا ہے اور اسے اسی طرح نہیں چھوڑ دیتا کہ وہ عالم شہادت کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر صراط مستقیم کھو دے ۔ اب سب سے آخر میں ان لوگوں کا انجام بتلایا جاتا ہے جو اس عظیم معجزے کے منکر ہیں :
(آیت) ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا صُمٌّ وَبُکْمٌ فِیْ الظُّلُمَاتِ مَن یَشَإِ اللّہُ یُضْلِلْہُ وَمَن یَشَأْ یَجْعَلْہُ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (39)
” مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ‘ تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے ۔ “
قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ جو لوگ آیات الہی کو جھٹلاتے ہیں وہ گونگے اور بہرے ہیں اور اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ اور پھر بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ہدایت وضلالت کے بارے میں کیا اصول رائج ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ ہدایت وضلالت اللہ کی مشیت کے دائرے میں آتی ہے اور یہ اس قانون فطرت کے مطابق ہے جس پر اللہ نے بندوں کو پیدا کیا ہے ۔
یوں اس معاملے میں اسلامی تصور حیات کے تمام پہلو جڑ جاتے ہیں اور اسلامی منہاج دعوت کی وضاحت بھی ہوجاتی ہے ۔ ایک داعی کے موقف کو متعین کردیا جاتا ہے ‘ جو اپنے نظریات و عقائد کے مطابق جدوجہد کرتا رہتا ہے ۔ ہر دور اور ہر حال میں وہ لوگوں کے سامنے دعوت پیش کرتا رہتا ہے ۔ امید ہے کہ اس قدر کلمات کے ساتھ ہم اپنا مدعا واضح کرچکے ہیں اور اس کے ساتھ وہ مزید بحث بھی قابل ملاحظہ ہے جو ہم نے دعوت اسلامی کے منہاج کے سلسلے میں اس سورة کے مقدمے میں کی ہے ۔
درس نمبر 60 ایک نظر میں :
یہاں سے سیاق کلام کا رخ اب اس موضوع کی طرف پھرجاتا ہے کہ جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو اس کا مشرکین کی فطرت پر کیا ردعمل ہوتا ہے بلکہ مشرکین کے سامنے ان کے فطری ردعمل کا نمونہ پیش کردیا جاتا ہے کہ جس سے وہ عذاب الہی کے وقت دو چار ہوتے ہیں ۔ جب انسان اور ان مشرکین کی فطرت کے اوپر سے تہ بہ تہ جمے ہوئے مادی پردے ہٹ جاتے ہیں اور جب وہ خوفناک حالات سے جھنجوڑے جاتے ہیں تو فطرت کے اوپر جمی ہوئی گرد و غبار چھٹ جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں مشرکین اپنے جھوٹے خداؤں کی تمام کہانیاں بھول جاتے ہیں ۔ وہ رب واحد کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں جس کی معرفت ان کی فطرت کی گہرائیوں میں پہلے سے موجود ہوتی ہے ۔ اب وہ صرف اللہ کے سامنے نجات اور فلاح کے لئے دست بدعا ہوتے ہیں ۔
اس کے بعد سیاق کلام ان کے ہاتھ پکڑ کر ایک دوسرے منظر کے سامنے لے جاتا ہے اور اس میں منظر میں انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کے اسلاف پر کیا کیا عذاب نازل ہوئے اور کس کس میدان میں وہ مارے گئے ۔ سنت الہیہ نے تاریخ میں کیا کیا کردار ادا کیا اور قضائے الہی کس طرح ان کے ساتھ عمل کرتی رہی ۔ ان کی بصارت اور بصیرت کو روشن کرنے کے لئے انہیں وہ واقعات بتائے گئے کہ اللہ نے انہیں کہاں کہاں مہلت دی جس کے اندر وہ رسولوں کو جھٹلاتے رہے ۔ اور نتیجۃ کس طرح ایک ابتلاء کے بعد ان پر دوسری ابتلاء آتی رہی ۔ انہیں مصائب ومشکلات سے دو چار کیا گیا ۔ پھر نعمت و دولت کے ذریعے انہیں آزمائش میں ڈالا گیا اور انہیں مہلت کے بعد مہلت دی جاتی جاتی رہی تاکہ وہ غفلت کی نیند سے بیدار ہوجائیں یہاں تک کہ انہوں نے فرصت کے تمام مواقع ضائع کردیئے ۔ مشکلات اور مصائب نے ان کے اندر جو احساس پیدا کردیا تھا ‘ دولت ونعمت نے انہیں اس احساس سے محروم کردیا ۔ اللہ کی سنت کے مطابق ان پر پھر عذاب الہی آیا اور اس نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ یہ تھا :
(آیت) ” فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)
اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔
یہ منظر جو دلوں کو دہلانے والا ہے ‘ ابھی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا کہ سامنے سے دوسرا منظر نمودار ہوجاتا ہے ۔ اس نئے منظر میں یہ لوگ اللہ کے عذاب میں مبتلا نظرآتے ہیں ۔ اللہ کے عذاب نے ان کی قوت سماعت اور ان کی قوت بصارت کو ختم کردیا ہے ۔ ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں اور اب اللہ کے سوا ‘ اس منظر میں ‘ کوئی دوسری قوت انہیں نظر نہیں آتی جو ان کی کھوئی ہوئی بصارت ‘ سماعت اور قوت مدرکہ انہیں دو بار دے سکے ۔ ان نمایاں اور خوفناک مناظر موجودگی میں بتایا جاتا ہے کہ کسی رسول کے فرائض کیا ہیں ؟ یہ کہ وہ بشیر ونذیر ہوتا ہے اور اس کے سوا نہ کوئی اس کی ڈیوٹی ہے اور نہ اختیار ۔ رسول کے پاس یہ طاقت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی جانب سے کوئی معجزہ پیش کرے ۔ نہ رسولوں کو یہ اختیار ہوتا ہے کہ لوگوں سے تجاویز لیں اور ان کے مطابق کام کریں ۔ وہ تو مبلغ ہوتے ہیں اور بشیر ونذیر ہوتے ہیں ۔ اب صورت حالات یہ ہوجاتی ہے کہ بعض لوگ ان پر ایمان لا کر عمل صالح شروع کردیتے ہیں ۔ وہ خوف سے اور پریشانی سے نجات پا جاتے ہیں ۔ اور بعض لوگ ان کی تکذیب کرتے ہیں اس لئے انہیں عذاب سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور یہ عذاب ان پر اس روگردانی اور تکذیب کی وجہ سے آتا ہے ۔ اس لئے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کا رویہ اختیار کرے ‘ اس کا انجام یہ ہوگا ‘ جس کا اس لہر میں ذکر ہوا ہے ۔
الأنعام 6:40
(آیت) ” نمبر 40 تا 41۔
اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کے خطاب کے لئے جو وسائل استعمال فرماتے ہیں یہ اس کا ایک نمونہ ہے ۔ یہ نمونے اس سے پہلے کی لہروں میں بھی بیان کئے جا چکے ہیں اور اس کے بعد جو فقرات آ رہے ہیں ان میں بھی اس کے نمونے آئیں گے ۔ اس پوری سورة میں انسانی فطرت کو مخاطب کیا گیا ہے ۔
اس سے قبل یہ بات کہی گئی تھی کہ زندہ مخلوقات کے جہان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدبرانہ قدرت نے ان کے اندر کس قدر تنظیم پیدا کر رکھی ہے ۔ پھر ذرا دیکھو کہ اللہ کا علم کس قدر وسیع اور شامل ہے ۔ اس زیر بحث مجموعہ آیات میں اللہ کے عذاب اور آفات ناگہانی کا ذکر ہے ۔ جب یہ ناگہانی آفات وبلیات انسانی فطرت پر آتی ہیں تو ان کے مقابلے میں کا ردعمل کیا ہوتا ہے ۔ خصوصا اس وقت جب یہ آفات ایک ہولناک صورت میں ہوتی ہیں جس سے انسان کا دل دہل جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان کے دل و دماغ سے شرک کے گرد و غبار کی تہیں چھٹ جاتی ہیں اور انسانی فطرت صاف ہو کر سامنے آجاتی ہے اور عقیدہ توحید جو انسانی فطرت کی گہرائیوں میں موجود رہتا ہے وہ سامنے آتا ہے اور انسانی فطرت صرف رب واحد کو پکارتی ہے ۔
(آیت) ” قُلْ أَرَأَیْْتُکُم إِنْ أَتَاکُمْ عَذَابُ اللّہِ أَوْ أَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ أَغَیْْرَ اللّہِ تَدْعُونَ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (40)
” ان سے کہو ‘ ذرا غور کرکے بتا ‘ اگر تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آجاتی یا آخری گھڑی آپہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو ؟ بولو اگر تم سچے ہو ۔
یہاں ایک خوفناک صورت حال کا تصور پیش کیا جاتا ہے اور دنیا میں تباہی و بربادی کے بعض مناظر نظروں کے سامنے لائے جاتے ہیں یا یہ تصور کہ اچانک قیامت برپا ہوجائے ۔ جب انسانی فطرت کے سامنے یہ مناظر آتے ہیں تو فطری احساس چٹکیاں لینے لگتا ہے ۔ ان مناظر کی ہولناکی کا تصور ذہن میں خوبی کے ساتھ آجاتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو خالق فطرت ہے کہ اس اسلوب کے ساتھ فطرت ان مناظر کا اچھی طرح ادراک کرلیتی ہے اور بسہولت حقیقت تک رسائی حاصل کرلیتی ہے ۔ اس کی تمام قوتیں ان مناظر کی وجہ سے حرکت میں آجاتی ہیں اس لئے کہ ان ہولناک مناظر میں جو حقیقت ہوتی ہے وہ فطرت انسانی کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ خالق فطرت کو تو اچھی طرح علم ہے کہ یہ حقیقت فطرت کے اندر موجود ہوتی ہے اس لئے باری تعالیٰ اس اسلوب میں فطرت سے مخاطب ہوتے ہیں اور فطرت اس تصور کو قبول کرلیتی ہے ‘ کانپ اٹھتی ہے اور غفلت اور سرکشی پردوں اور غبار کی تہوں کے نیچے سے صاف صاف نمودار ہوجاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں یا جواب طلب فرماتے ہیں اور خود ان کی زبان سے جواب چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ یہ جواب ان کی فطرت کا حقیقی اظہار ہے ۔ (آیت) ” اغیر اللہ تدعون “۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہو ‘ اگر تم سچے ہو تو جواب دو ۔ “
ان کی جانب سے جواب کا انتظار کئے بغیر سچا اور حقیقی جواب آجاتا ہے جو عملا ان کی فطرت کے مطابق ہے ۔ اگرچہ وہ جواب نہ دیں لیکن ایسے مواقع پر ان کا عمل کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔
(آیت) ” بَلْ إِیَّاہُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْْہِ إِنْ شَاء وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ (41)
” اس وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو ۔ پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے ۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو۔
بلکہ تم صرف اللہ وحدہ ہی کو پکارو گے اور ایسے حالات میں تم اپنے شرکیہ تصورات کو یکسر بھول جاؤ گے ۔ یہ خوفناک صورت حال تمہاری اصل فطرت کو سطح تک لے آئے گی اور اب یہ فطرت صرف اللہ وحدہ کو پکارے گی ۔ اسے یہ بات یاد بھی نہ رہے گی کہ کوئی شخص شرک کرتے ہوئے غیر اللہ کو بھی پکارتا رہا ہے ۔ سرے سے حقیقت شرک بھی ان کے ذہن سے محو ہوجائے گی ۔ اس لئے کہ معرفت کردگار ہی وہ اصل حقیقت ہے جو انسانی فطرت کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ رہے شرکیہ تصورات تو یہ جھلکی کی طرح عارضی چیز ہوتی ہے ۔ بعض عارضی عوامل اور حالات کی وجہ سے یہ شرکیہ تصورات جنم لیتے ہیں ۔ انسانی فطرت پر یہ عارضی پردے پڑ کر اصل حقیقت کو نیچے چھپا دیتے ہیں ۔ جب کوئی خوفناک صورت حالات انسان کو جھنجھوڑتی ہے ۔ تو اوپر کے پردے اور غبار چھٹ جاتے ہیں ۔ اور نیچے سے اصل حقیقت نمودار ہوجاتی ہے ۔ اب یہ فطرت رب ذوالجلال کے سامنے اپنا رد عمل ظاہر کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ ان خوفناک حالات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی انسان کی مدد کرسکتے ہیں اور ایسے حالات میں انسان کے لئے کوئی اور چارہ کار نہیں رہتا ۔
یہ ہے انسان کی حقیقی فطری روش ۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کے سامنے انسان کے اس فطری ردعمل کو برائے غور پیش فرماتے ہیں لیکن ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی شان بےنیازی کیا روش اختیار فرماتی ہے ؟ یہ کہ اگر اللہ چاہے کہ ان پر سے ان مشکلات کو دور فرما دے تو اس کی مشیت بےقید ہے ۔ اس کے ارادے کو رد کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ اگر چاہے تو ان کی دعاؤں کو قبول کرلے ‘ تکالیف پوری طرح دور ہوجائیں یا جزوی طور پر دور ہوجائیں ۔ اور اگر اس کی مشیت کا تقاضا یہ ہو کہ ان کی پکار کو رد کردیتا ہے ۔ یہ فیصلہ ‘ اس کی تقدیر ‘ اس کے علم اور اس کی حکمت پر موقوف ہے ۔
اگرچہ شرک انسانی فطرت کے خلاف ہے لیکن بعض اوقات انسان شرکیہ تصورات اختیار کرلیتا ہے ۔ یہ وہ اس وقت اختیار کرتا ہے جب وہ راہ فطرت سے انحراف اختیار کرلیتا ہے اور یہ انحراف مختلف عوامل کی وجہ سے واقع ہوتا ہے اور یہ عوامل انسان کے اندر جو صاف ستھری فطرت موجود ہے اسے دبا دیتے ہیں اور ان عوامل کے نیچے رب واحد کی حقیقی معرفت انسان کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے ۔ اس لئے کہ انسان کبھی بھی وجود باری کا منکر نہیں رہا ہے اور نہ یہ اس کا فطری موقف رہا ہے کہ وہ وجود باری سے انکار کردے ۔
جیسا کہ ہم بارہا دیکھ چکے ہیں کہ جو لوگ بظاہر اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ملحد ہیں اور وہ وجود خالق کے منکر ہیں ‘ درحقیقت وہ خدا کے منکر نہیں ہوتے ۔ ہم یہ یقین نہیں کرسکتے کہ جن لوگوں کو دست قدرت نے بنایا ہے اور جن کے وجود کے ہر ذرے اور ہر خیلے میں دست قدرت کی چھاپ موجود ہے ‘ پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے خالق کو بالکل بھول جائیں اور حقیقی ملحد ہوجائیں ۔ ان کے وجود کا تو ہر ذرہ ذات باری پر گواہ ہے ۔
انسانیت پر اس خوفناک عذاب کے نزول کی ایک طویل داستان ہے ، کنیسہ اور فطرت کے درمیان ایک طویل عرصے تک کشمکش جاری رہی ۔ کینسہ اس جدوجہد میں رہا کہ فطری عامل اور دواعی کا قلع قمع کر دے ۔ اہل کنیسہ انسان کی فطری خواہشات اور میلانات کی قانونی حیثیت کا انکار کرتے تھے ۔ جبکہ درحقیقت وہ نہایت ہی مکروہ زندگی بسر کرتے تھے جو عیاشیوں سے پر تھی ۔ اس طرح فطرت کے ساتھ مخاصمت اور کشمکش یورپ میں صدیوں تک برپا رہی ۔ اس کا نتیجہ یہ وہا کہ اہل یورپ نے یہ سمجھا کہ خدا پرستی کا مطلب فطرت کا انکار ہے یوں وہ کفر اور الحاد کے صحرا میں گم گشتہ راہ ہوگئے اور کنیسہ کی رہبانی زندگی سے بھی مکروہ ترزندگی اور سراب کے پیچھے بھاگتے رہے ۔ (دیکھئے میری کتاب المستقبل لھذا الدین کی فصل غیر فطری افتراق)
اس صورت حال سے یہودیوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور نصاری کو اپنے صحیح دین سے برگشتہ کردیا تاکہ ان کی نکیل ان کے ہاتھ آجائے اور وہ خوب اچھی طرح سے ان کے اندر فسق وفجور اور اخلاقی بےراہ روی پھیلا سکیں اور ان کو اپنے مقاصد کے لئے اس طرح استعمال کریں جس طرح گدھے کو استعمال کیا جاتا ہے ‘ جس کا اظہار انہوں نے تلمود اور یہودی زعما کے پروٹوکولز میں بڑی صراحت سے کیا ہے ۔ یہودی یہ کام اس وقت تک نہ کرسکتے جب تک انہوں نے یورپ کی اس غیر فطری تاریخ کنیسہ پر تنقید کر کے لوگوں کو گمراہ نہ کردیا اور لوگوں کو کنیسہ سے منتفر کر کے ملحد نہ بنا دیا ۔
اس صریح اور ان تھک مکارانہ جدوجہد کا آخری اظہار عالمی کمیونزم کی صورت میں ہوا ۔ یہ بات یاد رہے کہ عالمی کمیونزم لوگوں کو ملحد اور گمراہ کرنے کی ایک عظیم یہودی سازش تھی ۔ یہ لوگ گزشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے تمام حکومتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں کو ملحد بنانے میں مصروف رہے لیکن دوسری اقوام کے دلوں کی گہرائی کے اندر اب بھی عقیدہ خدا پرستی موجود ہے ۔ سٹالن جیسے وحشی انسان کو بھی بالاخر کنیسہ کے ساتھ مصالحت کرنی پڑی اور دوسری عالم گیرجنگ کے دوران اس نے کنیسہ کے مشائخ کو رہا کردیا ۔ دوسری عالم گیر جنگ نے اس پر اس قدر بوجھ ڈالا کہ اس کی گردن بھی تصور خدا کے سامنے آخر جھک ہی گئی اس لئے کہ لوگوں کی فطرت کے اندر تصور خدا موجود تھا ۔ اگرچہ سٹالن اور اس کے مٹھی بھر ساتھی ملحد تھے جن کے ہاتھوں میں زمام حکومت تھی ۔
یہودیوں نے اپنے صلیبی خرکاروں فائدہ اٹھاتے ہوئے ان اقوام کے اندر بھی کفر والحاد کا مصنوعی سیلاب لانے کی بےحد سعی کی ۔ اگرچہ مسلم اقوام کے دل و دماغ میں عقیدہ خدا پرستی نہایت ہی کمزور ہوگیا تھا لیکن انہوں نے ترکی کے نام نہاد لیڈر اتاترک کے زریعے عالم اسلام کے اندر کفر والحاد کی جو تحریک شروع کی تھی وہ تحریک خود ترکی کے اندر بری طرح ناکام ہوگئی ‘ حالانکہ یہودیوں اور ان کے خرکاروں نے اس نام نہاد لیڈر کی عظمت اور برتری کے ڈھنڈورے پیٹے اور ہر طرف سے مالی امداد کے دروازے کھول دیئے ۔ ترکی کی تحریک الحاد پر انہوں نے بیشمار کتابیں بھی لکھیں اور ان میں اس کے الحادی تجربے کو بےحد سراہا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ عالم اسلام میں ترکی کے تجربے کے بعد جو دوسرے تجربے کررہے ہیں ان کو وہ الحاد وزندقہ کا عنوان نہیں دیتے بلکہ یہاں وہ اسلام کے نام سے الحاد پھیلاتے ہیں تاکہ ان کی تحریک کا ٹکراؤ انسان کے فطری میلانات سے نہ ہو ‘ جس طرح اتاترک کے تجرباتی کے انسان کے فطری رجحان کے ساتھ ٹکراؤ ہوا اور وہ اپنی جگہ پاش پاش ہوگیا ۔ اب یہ لوگ اسلامی جھنڈوں کے سائے تلے گندگی ‘ غلاظت اور اخلاقی بےراہ روی پھیلاتے ہیں ۔ اس طرح خام انسانی عقول کو تباہ وبرباد کرتے ہیں اور یہودی اور ان کے خرکار صلیبی یہ کام عالم اسلام میں بڑے اہتمام سے کرتے ہیں ۔
لیکن ان تمام تجربات کے بعد جو حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی فطرت اپنے رب کو اچھی طرح جانتی ہے وہ رب کو وحدہ لاشریک بھی تسلیم کرتی ہے اگر کسی وقت انسانی فطرت پر فسق وفجور کی گرد پڑجائے اور وہ اس آلودگی کے نیچے دب جائے تو جونہی کوئی اچانک کوئی خطرہ درپیش ہو اور انسان جھنجھوڑا جائے تو یہ گرد و غبار چھٹ جاتا ہے اور اصل انسانی فطرت واضح طور پر سامنے آجاتی ہے اور انسان اپنے رب کو یوں پکارتا ہے ۔ جس طرح اس وقت انسان نے پکارا تھا جب اسے اللہ نے پیدا کیا تھا ۔ اچانک وہ مطیع فرمان مومن اور خشوع و خضوع کرنے والا انسان بن جاتا ہے ۔ یہودیوں اور ان کے خر کاروں کی اس عالمی سازش کا تارو پود فطرت کی ایک کڑکے دار چیخ سے ہی پاش پاش ہوجاتا ہے اور فطرت دوبارہ باری تعالیٰ کے آستانے پر آگرتی ہے ۔ جس خطے میں یہ فطری آواز بلند ہو وہاں سے یہ سازش نابود ہوجاتی ہے ۔ اور یہودی اور ان کے خرکار جس قدر جدوجہد بھی کریں ‘ زمین پر یہ آواز حق بلند ہوتی رہے گی ۔
الأنعام 6:41
(آیت) ” نمبر 40 تا 41۔
اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کے خطاب کے لئے جو وسائل استعمال فرماتے ہیں یہ اس کا ایک نمونہ ہے ۔ یہ نمونے اس سے پہلے کی لہروں میں بھی بیان کئے جا چکے ہیں اور اس کے بعد جو فقرات آ رہے ہیں ان میں بھی اس کے نمونے آئیں گے ۔ اس پوری سورة میں انسانی فطرت کو مخاطب کیا گیا ہے ۔
اس سے قبل یہ بات کہی گئی تھی کہ زندہ مخلوقات کے جہان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدبرانہ قدرت نے ان کے اندر کس قدر تنظیم پیدا کر رکھی ہے ۔ پھر ذرا دیکھو کہ اللہ کا علم کس قدر وسیع اور شامل ہے ۔ اس زیر بحث مجموعہ آیات میں اللہ کے عذاب اور آفات ناگہانی کا ذکر ہے ۔ جب یہ ناگہانی آفات وبلیات انسانی فطرت پر آتی ہیں تو ان کے مقابلے میں کا ردعمل کیا ہوتا ہے ۔ خصوصا اس وقت جب یہ آفات ایک ہولناک صورت میں ہوتی ہیں جس سے انسان کا دل دہل جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان کے دل و دماغ سے شرک کے گرد و غبار کی تہیں چھٹ جاتی ہیں اور انسانی فطرت صاف ہو کر سامنے آجاتی ہے اور عقیدہ توحید جو انسانی فطرت کی گہرائیوں میں موجود رہتا ہے وہ سامنے آتا ہے اور انسانی فطرت صرف رب واحد کو پکارتی ہے ۔
(آیت) ” قُلْ أَرَأَیْْتُکُم إِنْ أَتَاکُمْ عَذَابُ اللّہِ أَوْ أَتَتْکُمُ السَّاعَۃُ أَغَیْْرَ اللّہِ تَدْعُونَ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (40)
” ان سے کہو ‘ ذرا غور کرکے بتا ‘ اگر تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آجاتی یا آخری گھڑی آپہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو ؟ بولو اگر تم سچے ہو ۔
یہاں ایک خوفناک صورت حال کا تصور پیش کیا جاتا ہے اور دنیا میں تباہی و بربادی کے بعض مناظر نظروں کے سامنے لائے جاتے ہیں یا یہ تصور کہ اچانک قیامت برپا ہوجائے ۔ جب انسانی فطرت کے سامنے یہ مناظر آتے ہیں تو فطری احساس چٹکیاں لینے لگتا ہے ۔ ان مناظر کی ہولناکی کا تصور ذہن میں خوبی کے ساتھ آجاتا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے جو خالق فطرت ہے کہ اس اسلوب کے ساتھ فطرت ان مناظر کا اچھی طرح ادراک کرلیتی ہے اور بسہولت حقیقت تک رسائی حاصل کرلیتی ہے ۔ اس کی تمام قوتیں ان مناظر کی وجہ سے حرکت میں آجاتی ہیں اس لئے کہ ان ہولناک مناظر میں جو حقیقت ہوتی ہے وہ فطرت انسانی کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ خالق فطرت کو تو اچھی طرح علم ہے کہ یہ حقیقت فطرت کے اندر موجود ہوتی ہے اس لئے باری تعالیٰ اس اسلوب میں فطرت سے مخاطب ہوتے ہیں اور فطرت اس تصور کو قبول کرلیتی ہے ‘ کانپ اٹھتی ہے اور غفلت اور سرکشی پردوں اور غبار کی تہوں کے نیچے سے صاف صاف نمودار ہوجاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں یا جواب طلب فرماتے ہیں اور خود ان کی زبان سے جواب چاہتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ یہ جواب ان کی فطرت کا حقیقی اظہار ہے ۔ (آیت) ” اغیر اللہ تدعون “۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہو ‘ اگر تم سچے ہو تو جواب دو ۔ “
ان کی جانب سے جواب کا انتظار کئے بغیر سچا اور حقیقی جواب آجاتا ہے جو عملا ان کی فطرت کے مطابق ہے ۔ اگرچہ وہ جواب نہ دیں لیکن ایسے مواقع پر ان کا عمل کچھ ایسا ہی ہوتا ہے ۔
(آیت) ” بَلْ إِیَّاہُ تَدْعُونَ فَیَکْشِفُ مَا تَدْعُونَ إِلَیْْہِ إِنْ شَاء وَتَنسَوْنَ مَا تُشْرِکُونَ (41)
” اس وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو ۔ پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے ۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو۔
بلکہ تم صرف اللہ وحدہ ہی کو پکارو گے اور ایسے حالات میں تم اپنے شرکیہ تصورات کو یکسر بھول جاؤ گے ۔ یہ خوفناک صورت حال تمہاری اصل فطرت کو سطح تک لے آئے گی اور اب یہ فطرت صرف اللہ وحدہ کو پکارے گی ۔ اسے یہ بات یاد بھی نہ رہے گی کہ کوئی شخص شرک کرتے ہوئے غیر اللہ کو بھی پکارتا رہا ہے ۔ سرے سے حقیقت شرک بھی ان کے ذہن سے محو ہوجائے گی ۔ اس لئے کہ معرفت کردگار ہی وہ اصل حقیقت ہے جو انسانی فطرت کے اندر موجود ہوتی ہے ۔ رہے شرکیہ تصورات تو یہ جھلکی کی طرح عارضی چیز ہوتی ہے ۔ بعض عارضی عوامل اور حالات کی وجہ سے یہ شرکیہ تصورات جنم لیتے ہیں ۔ انسانی فطرت پر یہ عارضی پردے پڑ کر اصل حقیقت کو نیچے چھپا دیتے ہیں ۔ جب کوئی خوفناک صورت حالات انسان کو جھنجھوڑتی ہے ۔ تو اوپر کے پردے اور غبار چھٹ جاتے ہیں ۔ اور نیچے سے اصل حقیقت نمودار ہوجاتی ہے ۔ اب یہ فطرت رب ذوالجلال کے سامنے اپنا رد عمل ظاہر کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ ان خوفناک حالات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی انسان کی مدد کرسکتے ہیں اور ایسے حالات میں انسان کے لئے کوئی اور چارہ کار نہیں رہتا ۔
یہ ہے انسان کی حقیقی فطری روش ۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کے سامنے انسان کے اس فطری ردعمل کو برائے غور پیش فرماتے ہیں لیکن ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ کی شان بےنیازی کیا روش اختیار فرماتی ہے ؟ یہ کہ اگر اللہ چاہے کہ ان پر سے ان مشکلات کو دور فرما دے تو اس کی مشیت بےقید ہے ۔ اس کے ارادے کو رد کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ اگر چاہے تو ان کی دعاؤں کو قبول کرلے ‘ تکالیف پوری طرح دور ہوجائیں یا جزوی طور پر دور ہوجائیں ۔ اور اگر اس کی مشیت کا تقاضا یہ ہو کہ ان کی پکار کو رد کردیتا ہے ۔ یہ فیصلہ ‘ اس کی تقدیر ‘ اس کے علم اور اس کی حکمت پر موقوف ہے ۔
اگرچہ شرک انسانی فطرت کے خلاف ہے لیکن بعض اوقات انسان شرکیہ تصورات اختیار کرلیتا ہے ۔ یہ وہ اس وقت اختیار کرتا ہے جب وہ راہ فطرت سے انحراف اختیار کرلیتا ہے اور یہ انحراف مختلف عوامل کی وجہ سے واقع ہوتا ہے اور یہ عوامل انسان کے اندر جو صاف ستھری فطرت موجود ہے اسے دبا دیتے ہیں اور ان عوامل کے نیچے رب واحد کی حقیقی معرفت انسان کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہے ۔ اس لئے کہ انسان کبھی بھی وجود باری کا منکر نہیں رہا ہے اور نہ یہ اس کا فطری موقف رہا ہے کہ وہ وجود باری سے انکار کردے ۔
جیسا کہ ہم بارہا دیکھ چکے ہیں کہ جو لوگ بظاہر اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ ملحد ہیں اور وہ وجود خالق کے منکر ہیں ‘ درحقیقت وہ خدا کے منکر نہیں ہوتے ۔ ہم یہ یقین نہیں کرسکتے کہ جن لوگوں کو دست قدرت نے بنایا ہے اور جن کے وجود کے ہر ذرے اور ہر خیلے میں دست قدرت کی چھاپ موجود ہے ‘ پھر ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے خالق کو بالکل بھول جائیں اور حقیقی ملحد ہوجائیں ۔ ان کے وجود کا تو ہر ذرہ ذات باری پر گواہ ہے ۔
انسانیت پر اس خوفناک عذاب کے نزول کی ایک طویل داستان ہے ، کنیسہ اور فطرت کے درمیان ایک طویل عرصے تک کشمکش جاری رہی ۔ کینسہ اس جدوجہد میں رہا کہ فطری عامل اور دواعی کا قلع قمع کر دے ۔ اہل کنیسہ انسان کی فطری خواہشات اور میلانات کی قانونی حیثیت کا انکار کرتے تھے ۔ جبکہ درحقیقت وہ نہایت ہی مکروہ زندگی بسر کرتے تھے جو عیاشیوں سے پر تھی ۔ اس طرح فطرت کے ساتھ مخاصمت اور کشمکش یورپ میں صدیوں تک برپا رہی ۔ اس کا نتیجہ یہ وہا کہ اہل یورپ نے یہ سمجھا کہ خدا پرستی کا مطلب فطرت کا انکار ہے یوں وہ کفر اور الحاد کے صحرا میں گم گشتہ راہ ہوگئے اور کنیسہ کی رہبانی زندگی سے بھی مکروہ ترزندگی اور سراب کے پیچھے بھاگتے رہے ۔ (دیکھئے میری کتاب المستقبل لھذا الدین کی فصل غیر فطری افتراق)
اس صورت حال سے یہودیوں نے خوب فائدہ اٹھایا اور نصاری کو اپنے صحیح دین سے برگشتہ کردیا تاکہ ان کی نکیل ان کے ہاتھ آجائے اور وہ خوب اچھی طرح سے ان کے اندر فسق وفجور اور اخلاقی بےراہ روی پھیلا سکیں اور ان کو اپنے مقاصد کے لئے اس طرح استعمال کریں جس طرح گدھے کو استعمال کیا جاتا ہے ‘ جس کا اظہار انہوں نے تلمود اور یہودی زعما کے پروٹوکولز میں بڑی صراحت سے کیا ہے ۔ یہودی یہ کام اس وقت تک نہ کرسکتے جب تک انہوں نے یورپ کی اس غیر فطری تاریخ کنیسہ پر تنقید کر کے لوگوں کو گمراہ نہ کردیا اور لوگوں کو کنیسہ سے منتفر کر کے ملحد نہ بنا دیا ۔
اس صریح اور ان تھک مکارانہ جدوجہد کا آخری اظہار عالمی کمیونزم کی صورت میں ہوا ۔ یہ بات یاد رہے کہ عالمی کمیونزم لوگوں کو ملحد اور گمراہ کرنے کی ایک عظیم یہودی سازش تھی ۔ یہ لوگ گزشتہ نصف صدی سے بھی زیادہ عرصے سے تمام حکومتی ذرائع ابلاغ کے ذریعے لوگوں کو ملحد بنانے میں مصروف رہے لیکن دوسری اقوام کے دلوں کی گہرائی کے اندر اب بھی عقیدہ خدا پرستی موجود ہے ۔ سٹالن جیسے وحشی انسان کو بھی بالاخر کنیسہ کے ساتھ مصالحت کرنی پڑی اور دوسری عالم گیرجنگ کے دوران اس نے کنیسہ کے مشائخ کو رہا کردیا ۔ دوسری عالم گیر جنگ نے اس پر اس قدر بوجھ ڈالا کہ اس کی گردن بھی تصور خدا کے سامنے آخر جھک ہی گئی اس لئے کہ لوگوں کی فطرت کے اندر تصور خدا موجود تھا ۔ اگرچہ سٹالن اور اس کے مٹھی بھر ساتھی ملحد تھے جن کے ہاتھوں میں زمام حکومت تھی ۔
یہودیوں نے اپنے صلیبی خرکاروں فائدہ اٹھاتے ہوئے ان اقوام کے اندر بھی کفر والحاد کا مصنوعی سیلاب لانے کی بےحد سعی کی ۔ اگرچہ مسلم اقوام کے دل و دماغ میں عقیدہ خدا پرستی نہایت ہی کمزور ہوگیا تھا لیکن انہوں نے ترکی کے نام نہاد لیڈر اتاترک کے زریعے عالم اسلام کے اندر کفر والحاد کی جو تحریک شروع کی تھی وہ تحریک خود ترکی کے اندر بری طرح ناکام ہوگئی ‘ حالانکہ یہودیوں اور ان کے خرکاروں نے اس نام نہاد لیڈر کی عظمت اور برتری کے ڈھنڈورے پیٹے اور ہر طرف سے مالی امداد کے دروازے کھول دیئے ۔ ترکی کی تحریک الحاد پر انہوں نے بیشمار کتابیں بھی لکھیں اور ان میں اس کے الحادی تجربے کو بےحد سراہا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ عالم اسلام میں ترکی کے تجربے کے بعد جو دوسرے تجربے کررہے ہیں ان کو وہ الحاد وزندقہ کا عنوان نہیں دیتے بلکہ یہاں وہ اسلام کے نام سے الحاد پھیلاتے ہیں تاکہ ان کی تحریک کا ٹکراؤ انسان کے فطری میلانات سے نہ ہو ‘ جس طرح اتاترک کے تجرباتی کے انسان کے فطری رجحان کے ساتھ ٹکراؤ ہوا اور وہ اپنی جگہ پاش پاش ہوگیا ۔ اب یہ لوگ اسلامی جھنڈوں کے سائے تلے گندگی ‘ غلاظت اور اخلاقی بےراہ روی پھیلاتے ہیں ۔ اس طرح خام انسانی عقول کو تباہ وبرباد کرتے ہیں اور یہودی اور ان کے خرکار صلیبی یہ کام عالم اسلام میں بڑے اہتمام سے کرتے ہیں ۔
لیکن ان تمام تجربات کے بعد جو حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ انسانی فطرت اپنے رب کو اچھی طرح جانتی ہے وہ رب کو وحدہ لاشریک بھی تسلیم کرتی ہے اگر کسی وقت انسانی فطرت پر فسق وفجور کی گرد پڑجائے اور وہ اس آلودگی کے نیچے دب جائے تو جونہی کوئی اچانک کوئی خطرہ درپیش ہو اور انسان جھنجھوڑا جائے تو یہ گرد و غبار چھٹ جاتا ہے اور اصل انسانی فطرت واضح طور پر سامنے آجاتی ہے اور انسان اپنے رب کو یوں پکارتا ہے ۔ جس طرح اس وقت انسان نے پکارا تھا جب اسے اللہ نے پیدا کیا تھا ۔ اچانک وہ مطیع فرمان مومن اور خشوع و خضوع کرنے والا انسان بن جاتا ہے ۔ یہودیوں اور ان کے خر کاروں کی اس عالمی سازش کا تارو پود فطرت کی ایک کڑکے دار چیخ سے ہی پاش پاش ہوجاتا ہے اور فطرت دوبارہ باری تعالیٰ کے آستانے پر آگرتی ہے ۔ جس خطے میں یہ فطری آواز بلند ہو وہاں سے یہ سازش نابود ہوجاتی ہے ۔ اور یہودی اور ان کے خرکار جس قدر جدوجہد بھی کریں ‘ زمین پر یہ آواز حق بلند ہوتی رہے گی ۔
الأنعام 6:42
(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔
یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ اب وہ لاعلاج ہوجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں اس قدر عمل بگاڑ رونما ہوجاتا ہے کہ اب اصلاح احوال ممکن ہی نہیں رہتی ۔ ایسے لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان پر اللہ کا ایسا عذاب آتا ہے کہ پھر ان میں کا کوئی متنفس زندہ نہیں رہتا ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَأَخَذْنَاہُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُونَ (42) فَلَوْلا إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (43)
” تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ جھک جائیں ۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی ؟ مگر ان کے دل تو وہ سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔
انسانی تاریخ میں ایسی اقوام بکثرت موجود ہیں اور ان میں سے بیشمار قرآن کریم نے انسانوں کو گنوا کر انکے حالات بتائے ہیں ۔ قرآن نے یہ حالات اس وقت بتائے جب انسانی تاریخ ابھی مدون ہی نہ ہوئی تھی ۔ تاریخ کی جن کتابوں کو انسانوں نے مرتب کیا ہے وہ تو بہت ہی قریبی ادوار سے متعلق ہیں وہ حدیث السن اور نومولود ہے ۔ ہماری تاریخ انسان کی طویل ترین تاریخ کو سمجھنے سمجھانے کی اہل نہیں ہے کیونکہ کرہ ارض پر انسان کے بسنے کی تاریخ بہت ہی طویل ہے اور انسان نے جو تاریخ مرتب کی ہے یہ تو جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ وہ ہے بھی بہت ہی مختصر اور اس کے اندر تاریخ کے اصل عوام اور اسباب کا احاطہ ہی نہیں کیا سکا ۔ ان تاریخی عوامل میں سے بعض تو نفس انسانی کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہیں اور بعض ایسے اسباب ہیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور ان میں سے نہایت ہی قلیل حصہ انسان پر ظاہر ہوا ہے ۔ پھر جو بعض انسانوں پر ظاہر بھی ہوئے ہیں انسانوں نے ان کے جمع وتدوین میں غلطی کی ۔ ٹھیک طور پر واقعات جمع کر بھی لئے گئے تو ان کے سمجھنے میں غلطیاں کی گئیں اور ان میں سے سچے اور جھوٹے واقعات واسباب کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جاسکا ۔ صرف چند واقعات کا درست تجزیہ ہوسکا ۔ لہذا کسی انسان کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ اس نے پوری انسانی تاریخ کے واقعات واسباب کا احاطہ کرلیا ہے اور یہ کہ وہ ان واقعات کی سائنٹیفک تفسیر کرسکتا ہے اور یہ کہ وہ تاریخ کے مستقبل کے رخ کو بھی صحیح طرح متعین کرسکتا اور نتائج اخذ کرسکتا ہے تو یہ بہت ہی بڑا جھوٹ ہے جو کوئی بول سکتا ہے ۔ ایک نہایت ہی تعجب انگیز بات یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے جھوٹ کا دعوی کرتے نہیں شرماتے ۔ اگر ایسے لوگ یہ کہتے کہ مستقبل میں یہ واقعات ظاہر ہونے کی توقع ہے تو ان کی بات معقول ہوتی لیکن اگر کسی جھوٹے شخص کو ایسے افراد مل رہے ہوں جو اس کے جھوٹ کی تصدیق کے لئے ہر وقت تیار ہوں تو اسے جھوٹ سے باز رہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور صادق القول ہے ۔ اللہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا واقعات ہو گزرے ہیں ۔ اور اپنی مہربانی اور فضل کی وجہ سے وہ بندوں کے سامنے ان حقائق کو بیان کرتا ہے ۔ کلام الہی اللہ کی تقدیر ‘ اس کے فیصلوں اور اس کائنات میں اس کی سنت پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ لوگ احتیاط کریں اور واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکیں کہ ان واقعات کے پیچھے کی اسباب وعوام کارفرما تھے اور ظاہری اسباب کیا نظر آتے تھے ۔ تاکہ وہ ان تاریخی واقعات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور ان کی تشریح تجزیہ اور تحلیل کرسکیں ۔ پھر آئندہ تاریخ پر پڑنے والے اثرات اور نکلنے والے نتائم کو سمجھ سکیں اور ان کا استدلال سنت الہیہ کی روشنی میں ہو جس کے اصول یہاں اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کئے ہیں ۔
آیات زیر بحث میں ایسے واقعات کی صورت گری کی گئی ہے جو مختلف اقوام میں بار بار پیش آتے رہے ہیں ۔ ان اقوام کے پاس اللہ کی طرف سے بھیجے گئے رسول آئے ‘ لیکن انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں مشکلات اور تکالیف کے ذریعے ابتلاء میں ڈالا گیا ۔ یہ مشکلات مالی بھی تھیں اور جانی بھی ۔ ان کو مشکل حالات اور مشکل مسائل میں مبتلا کردیا گیا لیکن یہ مشکلات ابھی عذاب الہی کی حد تک نہ پہنچی تھیں ‘ جن کا ذکر اس سے قبل کی آیات میں آگیا ہے ۔ یعنی یہ مشکلات تباہی اور بربادی کی حد تک نہ تھیں ۔
قرآن کریم نے ان اقوام کے بعض نمونے پیش کئے ہیں اور ان مشکلات اور مصائب کا ذکر بھی کیا ہے جو ان پر ڈالے گئے ان میں سے فرعون اور اس کے ساتھیوں کا قصہ بہت ہی مشہور ہے ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُونَ (130) فَإِذَا جَاء تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُواْ لَنَا ہَـذِہِ وَإِن تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَّیَّرُواْ بِمُوسَی وَمَن مَّعَہُ أَلا إِنَّمَا طَائِرُہُمْ عِندَ اللّہُ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (131) وَقَالُواْ مَہْمَا تَأْتِنَا بِہِ مِن آیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ (132) فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آیَاتٍ مُّفَصَّلاَتٍ فَاسْتَکْبَرُواْ وَکَانُواْ قَوْماً مُّجْرِمِیْنَ (133)
” ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آجائے ۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لئے فال بد ٹھہراتے ‘ حالانکہ درحقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی ‘ مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے ۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا :” تو ہمیں مسحور کرنے کے لئے خواہ کوئی نشانی لے آئے ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں ۔ “ آخرکار ہم نے ان پر طوفان بھیجا ‘ ٹڈی دل چھوڑے ‘ سرسریاں پھیلائیں ‘ مینڈک نکالے اور خون برسایا ۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ کرکے دکھائیں مگر وہ سرکشی کئے چلے گئے “۔ یہ ہے ایک نمونہ ان واقعات کا ‘ جس کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو مشکلات ومصائب سے محض اس لئے دو چار کیا کہ وہ ذرا ہوش میں آجائیں ‘ وہ ذرا اپنے ضمیر میں جھانکیں اور اپنے حالات پر غوروفکر کریں محض اس لئے کہ ان شدائد کی وجہ سے شاید وہ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے لگیں اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ذلیل وجھکنے والے بنا دیں ۔ وہ اپنے کبر و غرور کو چھور کر سنجیدہ رویہ اختیار کریں اور اخلاص سے دعا کریں کہ اللہ ان پر سے یہ مشکلات دور کر دے ۔ ان کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ‘ لیکن ان کے لئے جو مناسب تھا وہ انہوں نے نہ کیا ۔ انہوں نے اللہ کی پناہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا اور اپنے عناد اور سرکشی کو جاری رکھا اور ان مشکلات کی وجہ سے بھی ان کی سوچ اس طرف نہ لوٹی ۔ ان کی چشم بصیرت وا نہ ہوئی اور ان کے دل نرم نہ ہوئے ۔ شیطان ان کے پیچھے خوب لگا ہوا تھا وہ ان کے لئے ان کی ضلالت اور سرکشی کو مزین کر رہا تھا ۔ ” مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلا دیا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔ “
وہ دل جو شدائد مصائب کے باوجود رجوع الی اللہ اختیار نہیں کرتا وہ دل میں اس طرح خشک ہوگیا ہے جس طرح پتھر خشک ہوتا ہے اور اس کے اندر رس کا ایک قطرہ بھی نہیں ہوتا جسے شدائد اور مصائب نچوڑ سکیں ۔ یہ دل مر گیا ہے اور اس پر جس قدر دباؤ آئے اسے احساس نہ ہوگا ۔ اس دل کے اندر سے قبولیت حق کا تمام مواد خارج ہوچکا ہے ۔ وہ پوری طرح مرچکا ہے اس لئے اس کو احساس دلانے کے لئے چاہے جس قدر چٹکیاں بھریں اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ حالانکہ زندہ دل ایسے جھٹکوں کے نتیجے میں بیدار ہوجاتے ہیں اور اللہ کی جانب سے اس قسم کے مصائب آتے ہی حق کو قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ جاگ اٹھتے ہیں اور ان کے دریچے کھل جاتے ہیں اور یوں ان کو رجوع الی اللہ نصیب ہوجاتا ہے ۔ وہ اس رحمت اور رافت اور جود وکرم کے مستحق ہوجاتے ہیں جسے اللہ نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ۔ جو شخص مر چکا ہو یہ مشکلات اس کے لئے محاسبہ اور سزا ہوتے ہیں اور ان سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ الٹا اس شخص کے تمام عذرات ختم ہوجاتے ہیں اور تمام دلائل بیکار جاتے ہیں ۔ وہ انجام بد اور شقاوت کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ لہذا اللہ کا عذاب اس کے لئے طے ہوجاتا ہے ۔
یہ امم سابقہ جن کی خبریں اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر نازل کرتے ہیں اور آپ کے واسطے سے ہمیں پہنچاتے ہیں ‘ انہوں نے ان مصائب وشدائد سے کوئی عبرت نہ پکڑی ۔ انہوں نے رجوع الی اللہ اختیار نہ کیا اور نہ اللہ کے سامنے بدست بدعا ہوئے ۔ شیطان نے ان کے لئے روگردانی اور عناد کو مزین کردیا ہے وہ اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ ایسی اقوام کو اللہ تعالیٰ مہلت دیتے ہیں اور انہیں آزاد چھوڑے دیتے ہیں اور وہ حدوں سے گزر جاتے ہیں ۔
(آیت) ” فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)
” پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی ‘ بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ‘ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی) “۔
خوشحالی بھی دراصل ابتلاء ہے جس طرح مصائب اور شدائد ابتلاء ہیں لیکن خوشحالی غربت اور بدحالی کے مقابلے میں شدید ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس طرح بدحالی سے آزماتا ہے اسی طرح خوشحالی سے بھی آزماتا ہے ۔ جب کسی مومن پر بدحالی آجائے اور وہ آزمائش میں مبتلا ہوجائے تو وہ صبر کرتا ہے اور اگر مومن پر خوشحالی آجائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اس لئے وہ ہر حالت میں اچھا رہتا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے : ” مومن بھی عجیب ہے کہ اس کے تمام حالات خیر ہی خیر ہوتے ہیں اور یہ خصوصیت صرف مومن کو حاصل ہے ۔ اگر اسے خوشحالی نصیب ہو اور وہ اس کا شکر ادا کرے تو یہ اس کے لئے خیر ہے اور اگر وہ بدحال ہو اور صبر کرے تو بھی اس کے لئے خیر ہے ۔ “ (روایت مسلم)
رہیں وہ اقوام جنہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور جن کی کہانیاں اللہ نے یہاں بیان کیں تو انہوں نے اس ہدایت کو بھلا دیا جو انہیں دی گئی تھی ۔ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ اب وہ ہلاکت سے دو چار ہونے ہی والے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو شدائد ومصائب میں ڈالا تو بھی انہیں ہوش نہ آیا ۔ اور ان میں سے بعض پر انعامات کے دروازے کھول دیئے اور ہر چیز کی فراوانی کردی اور ان کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا تاکہ وہ سرکشی میں خوب آگے بڑھ جائیں ۔ یہاں قرآن کا انداز تعبیر بھی نہایت ہی خوبصورت ہے ۔
(آیت) ” فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ (6 : 44) ” ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے “
اس کے اندر ہر قسم کی بھلائیاں ہر قسم کے ضروریات ‘ سازوسامان اور عزت وشان کی بڑی فروانی کے ساتھ شامل ہیں ۔ یعنی ہر چیز سیلاب کی طرح بہتات ہیں ‘ بغیر رکاوٹ اور پابندی کے ان کے لئے عام کردی نعمت انہیں بسہولت ارزاں ملتی رہی بغیر کسی محنت ومشقت کے ۔ فی الحقیقت یہ ایک نہایت ہی موثر منظر ہے ۔ قرآن کریم کے فنی انداز تعبیر کا یہ ایک نادر نمونہ ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی میں باب طریقۃ القرآن)
(آیت) ” حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ (6 : 44۔ 45) ‘ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے “۔ ہر قسم کی بھلائیوں اور سازوسامان کی بہتات میں وہ غرق ہوگئے اور عیش و عشرت میں مگن ہوگئے ۔ انہوں نے ایسے حالات میں نہ خدا کو یاد کیا اور نہ اس کا شکر ادا کیا اور ان کے دلوں سے منعم حقیقی کا تصور محو ہوگیا اور خشیت الہی سے انکے دل خالی ہوگئے ۔ وہ عیش کوشی اور کام ودہن کی لذت کوشی میں مکمل طور پر گھر گئے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر ان چیزوں کے حوالے کردیا ۔ ان کی زندگی میں اعلی اقدام کی کوئی اہمیت نہ رہی اور یہ لہو ولعب اور عیش طرب میں غرق لوگوں کی عام عادت ہوتی ہے کہ ان میں سے اعلی قدریں غائب ہوجاتی ہیں ۔ اس کے بعد ان کی سوسائٹی سے نظم اور اچھی عادات غائب ہوجاتی ہیں اور وہ اخلاقی اعتبار سے مکمل طور پر تباہ جاتے ہیں ۔ یوں ان کے یہ حالات اس پر منتج ہوتے ہیں کہ ان کی پوری زندگی تباہ ہوجاتی ہے اور اب یہ تباہی قدرتی ہوتی ہے ۔ یہ عین سنت الہیہ ہے ۔
(آیت) ” أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) ” تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا “۔ کسی قوم کا دابر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سب سے پیچھے آتا ہے یعنی ان کا آخری آدمی ۔ جب آخری آدمی ہی کٹ گیا تو اس سے پہلے کے بدرجہ اولی کٹ گئے ۔
(آیت) ” ِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ “۔ (6 : 45) ، سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے شرک کیا اس لئے قرآن کریم بیشتر مقامات پر مشرکین کو ظال میں سے تعبیر کرتا ہے اور شرک پر ظلم کے لفظ کا اطلاق کرتا ہے ۔
(آیت) ” وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45) اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے “۔ یہ تبصرہ ہے اس بات پر کہ اللہ نے مشرکین کی جڑ کاٹ دی اور یوں انہیں مہلت دیتے دیتے اچانک پکڑ لیا ۔ سوا یہ ہے کہ اللہ کی حمد تو اللہ کے انعام واکرام پر ہوتی ہے ؟ ہاں ‘ لیکن اللہ کی زمین کا تو ظالموں سے پاک ہونا بھی ایک گونہ نعمت ہے ۔ نیز اللہ کی حمد اس کی رحمت پر ہوتی ہے تو زمین کو پاک کردینا بھی سب سے بڑی رحمت ہے ۔
اللہ نے نوح (علیہ السلام) ‘ ہود (علیہ السلام) صالح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی اقوام کو پکڑا ۔ فرعون اور اہل یونان اور اہل روما کر پکڑا اور اسی سنت کے مطابق اس نے دوسری اقوام کو بھی عروج کے بعد پکڑا ۔ پہلے ان کی تہذیب و تمدن کو خوب ترقی دی اور پھر انہیں تباہ وبرباد کردیا ۔ یہ بہرحال اللہ کی تقدیروں کے راز ہیں ۔ لیکن سنت الہیہ عروج وزوال کی اس داستان میں ظاہر ہے اور اللہ اسی کی داستاں یہاں اس اصولی انداز میں ثبت فرماتے ہیں ۔
ان اقوام کی اپنی اپنی تہذبییں تھیں اور اپنے وقت میں ان کو بڑا عروج تھا ۔ ان کو بڑی فراوانی اور دولتمندی حاصل تھی ۔ بعض پہلوؤں سے وہ آج کے ترقی یافتہ دور سے بھی زیادہ خوشحال تھے انہوں نے شان و شوکت اور سازو سامان اور فراوانی حاصل تھی اور وہ اس دھوکے میں تھے کہ وہ یوں ہی رہیں گے ۔ یہ اقوام ان دوسری اقوام کو بھی دھوکے دے رہی تھیں جو خوشحالی اور ترقی کے بارے میں سنت الہیہ سے واقف نہ تھیں ۔
یہ اقوام اس بات کو نہ سمجھ سکیں کہ اس کائنات میں سنت الہیہ کام کرتی ہے ۔ وہ یہ بات بھی نہ سمجھ سکیں کہ انہیں ڈھیل دی جاری ہے ‘ اس سنت کی پالیسی کے عین مطابق ۔ جو لوگ سنت الہیہ کے آسمان میں گردش کر رہے تھے اللہ کی نعمتوں کی بارش نے ان کی آنکھیں چندھیا دی تھیں ۔ شوکت وقوت نے ان کے اندر بہت ہی زیادہ اعتماد پیدا کردیا تھا اور ان خوشحال اقوام کو جو مہلت اور ڈھیل دی گئی تھی اس کی وجہ سے وہ دھوکے میں پڑگئے تھے ۔ یہ لوگ نہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور نہ انہیں اللہ کی معرفت حاصل تھی ۔ یہ لوگ اللہ کی حاکمیت کے خلاف باغی ہوگئے تھے بلکہ انہوں نے حق حاکمیت کا دعوی خود کیا تھا حالانکہ حاکمیت الوہیت کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے ۔ یہ لوگ زمین میں فساد پھیلاتے تھے ‘ لوگوں پر مظالم ڈھاتے تھے اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں حاکمیت کا دعوی خود کرلیا تھا ۔ جب میں امریکہ میں تھا تو میں نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا وہ اس آیت کا مصداق تھا ۔
(آیت) ” فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ “ (6 : 44) ” پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی ‘ بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ‘ ‘۔
یہ منظر جس کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں پر رزق کی فراوانی تھی اور ہر جانب سے بلاحساب سہولیات کا سیلاب تھا جو امڈتا چلا آرہا تھا ۔ یہ منظر امریکہ میں پوری طرح عروج پر تھا ۔
میں نے دیکھا کہ یہ قوم اس خوشحالی پر بےحد مغرور بھی ہے اور ان کے شعور میں یہ بات پوری طرح بیٹھی ہوئی نظر آتی تھی کہ سہولتوں کی یہ بہتات صرف سفید رنگ کے لوگوں کے لئے مخصوص ہے ۔ رنگ دار لوگوں کے ساتھ انکا طرز عمل نہایت متکبرانہ اور وحشیانہ ہوتا ہے ۔ امریکی پورے کرہ ارض کے لوگوں کو اس قدر کم وقعت سمجھتے ہیں جس کے مقابلے میں یہودیوں کا نازی ازم بھی کچھ وقعت نہیں رکھتا حالانکہ یہودی اس کے بارے میں بہت مشہور ہیں اور قومی اور نسلی افتخار ان کا طرہ امتیاز ہے ۔ سفید رنگ امریکیوں کا رویہ رنگ دار امریکیوں کی نسبت یہودیوں سے بھی زیادہ برا اور زیادہ سخت ہے ۔ یہ سختی خصوصا اور زیادہ ہوجاتی ہے جب رنگ دار لوگ مسلمان ہوں۔
امریکہ میں ‘ میں یہ سب کچھ دیکھتا رہا اور یہ توقع کرتا رہا کہ سنت الہیہ ایک دن ضرور اپنا کام کرے گی ۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ سنت الہیہ امریکی سوسائٹی کی طرف دھیمی رفتار سے بڑی رھی ہی ہے ۔
(آیت) ’ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)
” یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے “۔
حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم پر یہ رحم فرمایا کہ اب ان کو مسخ نہ کیا جائے گا اور نہ انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا ۔ لیکن اللہ کے عذابوں کی کئی اقسام اب بھی آتی رہتی ہیں خصوصا ان اقوام پر جنہیں خوشحالی اور فراوانی دی گئی ہے ۔ ان پر انواع و اقسام کے عذاب آئے دن آتے رہتے ہیں ‘ اس کے باوجود کہ انکے ہاں ضروریات زندگی کی پیداوار حد سے زیادہ ہوچکی ہے اور انہیں رزق اور سہولیات کی بہتات سے نوازا گیا ہے۔
نفسیاتی عذاب ‘ روحانی بےچینی ‘ جنسی بےراہ روی اور اخلاقی بگاڑ جیسے عذابوں نے انہیں تباہ کردیا ہے اور ان کی اس خوشحالی اور مادی پیداوار اور سازوسامان میں بھی ان کے لئے کوئی ذریعہ اطمینان نہیں ہے اور قریب ہے کہ ان کی پوری زندگی بدبختی ‘ قلق و پریشانی میں ڈوب جائے ۔ (دیکھئے میری کتاب اسلام اور مشکلات تہذیب کا باب خبط و اضطراب) اس خوشحالی کے باوجود ان لوگوں کی اخلاقی حالت یہ ہے کہ بڑے بڑے سیاسی راز چند ٹکوں میں بیچ دیئے جاتے ہیں اور پوری قوم کے خلاف جرم خیانت کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور حاصل کیا ہوتا ہے چند لمحوں کی عیاشی ‘ جنسی لذت اور چند ٹکے اور یہ ایسی علامات ہیں کہ مستقبل قریب میں ایسی اقوام کے لئے شدید خطرے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
اقوام مغرب کی تباہی کے یہ بالکل ابتدائی آثار ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ نے بالکل سچ فرمایا :” جب تم دیکھو کہ جب اللہ کسی کو اس کی بدکرداری کے باوجود سب کچھ دے جو وہ چاہتا ہو ‘ تو سمجھ لو کہ یہ اسے ڈھیل دی جارہی ہے ۔ “ اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی “ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس ہوگئے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم)
لیکن یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اہل باطل کو ہلاک کرنے کا اصول اور سنت الہیہ کو اسکیم میں صرف یہ نہیں ہوتا کہ اہل باطل کو نیست ونابود کردیا جائے بلکہ یہ امر بھی اس کا حصہ ہوتا ہے کہ اہل حق قائم اور غالب کردیا جائے اور یہ اہل حق ایک امت کی شکل میں نمودار ہوں ۔ اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سچائی کے ذریعے اور اہل حق کے ذریعے باطل پر وار کرتا ہے اور باطل کا سر پھوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ باطل نابود ہوجاتا ہے لہذا اہل حق کو ڈھیلے ہو کر بیٹھ نہ جانا چاہیے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف سنت الہیہ کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ سنت الہیہ بھی اسلامی جدوجہد کے نتیجے میں روبعمل ہوتی ہے ۔ اگر اہل حق بےعمل ہو کر بیٹھ جائیں تو وہ اہل حق نہ رہیں گے اور وہ غلبہ اور باطل کا سر پھوڑنے کے قابل ہی نہ رہیں گے ۔ خصوصا جبکہ وہ سست اور بےعمل ہو کر بیٹھ جائیں ۔ حق تو ایسی امت کی شکل میں نمودار ہوتا ہے جو کرہ ارض پر اللہ کی حاکمیت کے مقام کے لئے جدوجہد کر رہی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے مقابلے میں دفاع کررہی ہوتی ہے جنہوں نے اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت قائم کی ہوئی ہوتی ہے جبکہ حاکمیت الہیہ خصائص الوہیت میں سے ایک خاصہ ہے ۔ یہ ہے اصلی اور بنیادی سچائی ۔
(آیت) ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض “۔ (اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسروں کے ذریعے نہ روکتا تو زمین میں فساد برپا ہوجاتا)
اب سیاق کلام مشرکین کو عذاب الہی کے سامنے لاکر کھڑا کردیتا ہے اور عذاب کی یہ مجوزہ شکل ان کی ذات اور ان کے نفوس کے ساتھ متعلق ہے ۔ اس کا تعلق ان کی قوت باصرہ ‘ قوت سامعہ اور قوت ادراک کے ساتھ ہے ۔ تجویز یہ ہے کہ اگر اللہ ان قوتوں کو سلب کرے تو کون ہے جو تمہیں یہ قوتیں لوٹا کر دے دے ‘ کوئی نہیں ہے ۔ اب سوچنے کے بعد وہ بھی یقین کرلیتے ہیں کہ کوئی نہ ہوگا جو انہیں ‘ قوت سماعت ‘ قوت باصرہ اور قوت ادراک دے سکے اگر اللہ ان قوتوں کو چھین لے ۔
الأنعام 6:43
(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔
یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ اب وہ لاعلاج ہوجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں اس قدر عمل بگاڑ رونما ہوجاتا ہے کہ اب اصلاح احوال ممکن ہی نہیں رہتی ۔ ایسے لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان پر اللہ کا ایسا عذاب آتا ہے کہ پھر ان میں کا کوئی متنفس زندہ نہیں رہتا ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَأَخَذْنَاہُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُونَ (42) فَلَوْلا إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (43)
” تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ جھک جائیں ۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی ؟ مگر ان کے دل تو وہ سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔
انسانی تاریخ میں ایسی اقوام بکثرت موجود ہیں اور ان میں سے بیشمار قرآن کریم نے انسانوں کو گنوا کر انکے حالات بتائے ہیں ۔ قرآن نے یہ حالات اس وقت بتائے جب انسانی تاریخ ابھی مدون ہی نہ ہوئی تھی ۔ تاریخ کی جن کتابوں کو انسانوں نے مرتب کیا ہے وہ تو بہت ہی قریبی ادوار سے متعلق ہیں وہ حدیث السن اور نومولود ہے ۔ ہماری تاریخ انسان کی طویل ترین تاریخ کو سمجھنے سمجھانے کی اہل نہیں ہے کیونکہ کرہ ارض پر انسان کے بسنے کی تاریخ بہت ہی طویل ہے اور انسان نے جو تاریخ مرتب کی ہے یہ تو جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ وہ ہے بھی بہت ہی مختصر اور اس کے اندر تاریخ کے اصل عوام اور اسباب کا احاطہ ہی نہیں کیا سکا ۔ ان تاریخی عوامل میں سے بعض تو نفس انسانی کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہیں اور بعض ایسے اسباب ہیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور ان میں سے نہایت ہی قلیل حصہ انسان پر ظاہر ہوا ہے ۔ پھر جو بعض انسانوں پر ظاہر بھی ہوئے ہیں انسانوں نے ان کے جمع وتدوین میں غلطی کی ۔ ٹھیک طور پر واقعات جمع کر بھی لئے گئے تو ان کے سمجھنے میں غلطیاں کی گئیں اور ان میں سے سچے اور جھوٹے واقعات واسباب کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جاسکا ۔ صرف چند واقعات کا درست تجزیہ ہوسکا ۔ لہذا کسی انسان کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ اس نے پوری انسانی تاریخ کے واقعات واسباب کا احاطہ کرلیا ہے اور یہ کہ وہ ان واقعات کی سائنٹیفک تفسیر کرسکتا ہے اور یہ کہ وہ تاریخ کے مستقبل کے رخ کو بھی صحیح طرح متعین کرسکتا اور نتائج اخذ کرسکتا ہے تو یہ بہت ہی بڑا جھوٹ ہے جو کوئی بول سکتا ہے ۔ ایک نہایت ہی تعجب انگیز بات یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے جھوٹ کا دعوی کرتے نہیں شرماتے ۔ اگر ایسے لوگ یہ کہتے کہ مستقبل میں یہ واقعات ظاہر ہونے کی توقع ہے تو ان کی بات معقول ہوتی لیکن اگر کسی جھوٹے شخص کو ایسے افراد مل رہے ہوں جو اس کے جھوٹ کی تصدیق کے لئے ہر وقت تیار ہوں تو اسے جھوٹ سے باز رہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور صادق القول ہے ۔ اللہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا واقعات ہو گزرے ہیں ۔ اور اپنی مہربانی اور فضل کی وجہ سے وہ بندوں کے سامنے ان حقائق کو بیان کرتا ہے ۔ کلام الہی اللہ کی تقدیر ‘ اس کے فیصلوں اور اس کائنات میں اس کی سنت پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ لوگ احتیاط کریں اور واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکیں کہ ان واقعات کے پیچھے کی اسباب وعوام کارفرما تھے اور ظاہری اسباب کیا نظر آتے تھے ۔ تاکہ وہ ان تاریخی واقعات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور ان کی تشریح تجزیہ اور تحلیل کرسکیں ۔ پھر آئندہ تاریخ پر پڑنے والے اثرات اور نکلنے والے نتائم کو سمجھ سکیں اور ان کا استدلال سنت الہیہ کی روشنی میں ہو جس کے اصول یہاں اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کئے ہیں ۔
آیات زیر بحث میں ایسے واقعات کی صورت گری کی گئی ہے جو مختلف اقوام میں بار بار پیش آتے رہے ہیں ۔ ان اقوام کے پاس اللہ کی طرف سے بھیجے گئے رسول آئے ‘ لیکن انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں مشکلات اور تکالیف کے ذریعے ابتلاء میں ڈالا گیا ۔ یہ مشکلات مالی بھی تھیں اور جانی بھی ۔ ان کو مشکل حالات اور مشکل مسائل میں مبتلا کردیا گیا لیکن یہ مشکلات ابھی عذاب الہی کی حد تک نہ پہنچی تھیں ‘ جن کا ذکر اس سے قبل کی آیات میں آگیا ہے ۔ یعنی یہ مشکلات تباہی اور بربادی کی حد تک نہ تھیں ۔
قرآن کریم نے ان اقوام کے بعض نمونے پیش کئے ہیں اور ان مشکلات اور مصائب کا ذکر بھی کیا ہے جو ان پر ڈالے گئے ان میں سے فرعون اور اس کے ساتھیوں کا قصہ بہت ہی مشہور ہے ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُونَ (130) فَإِذَا جَاء تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُواْ لَنَا ہَـذِہِ وَإِن تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَّیَّرُواْ بِمُوسَی وَمَن مَّعَہُ أَلا إِنَّمَا طَائِرُہُمْ عِندَ اللّہُ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (131) وَقَالُواْ مَہْمَا تَأْتِنَا بِہِ مِن آیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ (132) فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آیَاتٍ مُّفَصَّلاَتٍ فَاسْتَکْبَرُواْ وَکَانُواْ قَوْماً مُّجْرِمِیْنَ (133)
” ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آجائے ۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لئے فال بد ٹھہراتے ‘ حالانکہ درحقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی ‘ مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے ۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا :” تو ہمیں مسحور کرنے کے لئے خواہ کوئی نشانی لے آئے ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں ۔ “ آخرکار ہم نے ان پر طوفان بھیجا ‘ ٹڈی دل چھوڑے ‘ سرسریاں پھیلائیں ‘ مینڈک نکالے اور خون برسایا ۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ کرکے دکھائیں مگر وہ سرکشی کئے چلے گئے “۔ یہ ہے ایک نمونہ ان واقعات کا ‘ جس کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو مشکلات ومصائب سے محض اس لئے دو چار کیا کہ وہ ذرا ہوش میں آجائیں ‘ وہ ذرا اپنے ضمیر میں جھانکیں اور اپنے حالات پر غوروفکر کریں محض اس لئے کہ ان شدائد کی وجہ سے شاید وہ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے لگیں اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ذلیل وجھکنے والے بنا دیں ۔ وہ اپنے کبر و غرور کو چھور کر سنجیدہ رویہ اختیار کریں اور اخلاص سے دعا کریں کہ اللہ ان پر سے یہ مشکلات دور کر دے ۔ ان کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ‘ لیکن ان کے لئے جو مناسب تھا وہ انہوں نے نہ کیا ۔ انہوں نے اللہ کی پناہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا اور اپنے عناد اور سرکشی کو جاری رکھا اور ان مشکلات کی وجہ سے بھی ان کی سوچ اس طرف نہ لوٹی ۔ ان کی چشم بصیرت وا نہ ہوئی اور ان کے دل نرم نہ ہوئے ۔ شیطان ان کے پیچھے خوب لگا ہوا تھا وہ ان کے لئے ان کی ضلالت اور سرکشی کو مزین کر رہا تھا ۔ ” مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلا دیا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔ “
وہ دل جو شدائد مصائب کے باوجود رجوع الی اللہ اختیار نہیں کرتا وہ دل میں اس طرح خشک ہوگیا ہے جس طرح پتھر خشک ہوتا ہے اور اس کے اندر رس کا ایک قطرہ بھی نہیں ہوتا جسے شدائد اور مصائب نچوڑ سکیں ۔ یہ دل مر گیا ہے اور اس پر جس قدر دباؤ آئے اسے احساس نہ ہوگا ۔ اس دل کے اندر سے قبولیت حق کا تمام مواد خارج ہوچکا ہے ۔ وہ پوری طرح مرچکا ہے اس لئے اس کو احساس دلانے کے لئے چاہے جس قدر چٹکیاں بھریں اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ حالانکہ زندہ دل ایسے جھٹکوں کے نتیجے میں بیدار ہوجاتے ہیں اور اللہ کی جانب سے اس قسم کے مصائب آتے ہی حق کو قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ جاگ اٹھتے ہیں اور ان کے دریچے کھل جاتے ہیں اور یوں ان کو رجوع الی اللہ نصیب ہوجاتا ہے ۔ وہ اس رحمت اور رافت اور جود وکرم کے مستحق ہوجاتے ہیں جسے اللہ نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ۔ جو شخص مر چکا ہو یہ مشکلات اس کے لئے محاسبہ اور سزا ہوتے ہیں اور ان سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ الٹا اس شخص کے تمام عذرات ختم ہوجاتے ہیں اور تمام دلائل بیکار جاتے ہیں ۔ وہ انجام بد اور شقاوت کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ لہذا اللہ کا عذاب اس کے لئے طے ہوجاتا ہے ۔
یہ امم سابقہ جن کی خبریں اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر نازل کرتے ہیں اور آپ کے واسطے سے ہمیں پہنچاتے ہیں ‘ انہوں نے ان مصائب وشدائد سے کوئی عبرت نہ پکڑی ۔ انہوں نے رجوع الی اللہ اختیار نہ کیا اور نہ اللہ کے سامنے بدست بدعا ہوئے ۔ شیطان نے ان کے لئے روگردانی اور عناد کو مزین کردیا ہے وہ اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ ایسی اقوام کو اللہ تعالیٰ مہلت دیتے ہیں اور انہیں آزاد چھوڑے دیتے ہیں اور وہ حدوں سے گزر جاتے ہیں ۔
(آیت) ” فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)
” پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی ‘ بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ‘ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی) “۔
خوشحالی بھی دراصل ابتلاء ہے جس طرح مصائب اور شدائد ابتلاء ہیں لیکن خوشحالی غربت اور بدحالی کے مقابلے میں شدید ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس طرح بدحالی سے آزماتا ہے اسی طرح خوشحالی سے بھی آزماتا ہے ۔ جب کسی مومن پر بدحالی آجائے اور وہ آزمائش میں مبتلا ہوجائے تو وہ صبر کرتا ہے اور اگر مومن پر خوشحالی آجائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اس لئے وہ ہر حالت میں اچھا رہتا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے : ” مومن بھی عجیب ہے کہ اس کے تمام حالات خیر ہی خیر ہوتے ہیں اور یہ خصوصیت صرف مومن کو حاصل ہے ۔ اگر اسے خوشحالی نصیب ہو اور وہ اس کا شکر ادا کرے تو یہ اس کے لئے خیر ہے اور اگر وہ بدحال ہو اور صبر کرے تو بھی اس کے لئے خیر ہے ۔ “ (روایت مسلم)
رہیں وہ اقوام جنہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور جن کی کہانیاں اللہ نے یہاں بیان کیں تو انہوں نے اس ہدایت کو بھلا دیا جو انہیں دی گئی تھی ۔ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ اب وہ ہلاکت سے دو چار ہونے ہی والے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو شدائد ومصائب میں ڈالا تو بھی انہیں ہوش نہ آیا ۔ اور ان میں سے بعض پر انعامات کے دروازے کھول دیئے اور ہر چیز کی فراوانی کردی اور ان کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا تاکہ وہ سرکشی میں خوب آگے بڑھ جائیں ۔ یہاں قرآن کا انداز تعبیر بھی نہایت ہی خوبصورت ہے ۔
(آیت) ” فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ (6 : 44) ” ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے “
اس کے اندر ہر قسم کی بھلائیاں ہر قسم کے ضروریات ‘ سازوسامان اور عزت وشان کی بڑی فروانی کے ساتھ شامل ہیں ۔ یعنی ہر چیز سیلاب کی طرح بہتات ہیں ‘ بغیر رکاوٹ اور پابندی کے ان کے لئے عام کردی نعمت انہیں بسہولت ارزاں ملتی رہی بغیر کسی محنت ومشقت کے ۔ فی الحقیقت یہ ایک نہایت ہی موثر منظر ہے ۔ قرآن کریم کے فنی انداز تعبیر کا یہ ایک نادر نمونہ ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی میں باب طریقۃ القرآن)
(آیت) ” حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ (6 : 44۔ 45) ‘ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے “۔ ہر قسم کی بھلائیوں اور سازوسامان کی بہتات میں وہ غرق ہوگئے اور عیش و عشرت میں مگن ہوگئے ۔ انہوں نے ایسے حالات میں نہ خدا کو یاد کیا اور نہ اس کا شکر ادا کیا اور ان کے دلوں سے منعم حقیقی کا تصور محو ہوگیا اور خشیت الہی سے انکے دل خالی ہوگئے ۔ وہ عیش کوشی اور کام ودہن کی لذت کوشی میں مکمل طور پر گھر گئے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر ان چیزوں کے حوالے کردیا ۔ ان کی زندگی میں اعلی اقدام کی کوئی اہمیت نہ رہی اور یہ لہو ولعب اور عیش طرب میں غرق لوگوں کی عام عادت ہوتی ہے کہ ان میں سے اعلی قدریں غائب ہوجاتی ہیں ۔ اس کے بعد ان کی سوسائٹی سے نظم اور اچھی عادات غائب ہوجاتی ہیں اور وہ اخلاقی اعتبار سے مکمل طور پر تباہ جاتے ہیں ۔ یوں ان کے یہ حالات اس پر منتج ہوتے ہیں کہ ان کی پوری زندگی تباہ ہوجاتی ہے اور اب یہ تباہی قدرتی ہوتی ہے ۔ یہ عین سنت الہیہ ہے ۔
(آیت) ” أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) ” تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا “۔ کسی قوم کا دابر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سب سے پیچھے آتا ہے یعنی ان کا آخری آدمی ۔ جب آخری آدمی ہی کٹ گیا تو اس سے پہلے کے بدرجہ اولی کٹ گئے ۔
(آیت) ” ِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ “۔ (6 : 45) ، سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے شرک کیا اس لئے قرآن کریم بیشتر مقامات پر مشرکین کو ظال میں سے تعبیر کرتا ہے اور شرک پر ظلم کے لفظ کا اطلاق کرتا ہے ۔
(آیت) ” وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45) اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے “۔ یہ تبصرہ ہے اس بات پر کہ اللہ نے مشرکین کی جڑ کاٹ دی اور یوں انہیں مہلت دیتے دیتے اچانک پکڑ لیا ۔ سوا یہ ہے کہ اللہ کی حمد تو اللہ کے انعام واکرام پر ہوتی ہے ؟ ہاں ‘ لیکن اللہ کی زمین کا تو ظالموں سے پاک ہونا بھی ایک گونہ نعمت ہے ۔ نیز اللہ کی حمد اس کی رحمت پر ہوتی ہے تو زمین کو پاک کردینا بھی سب سے بڑی رحمت ہے ۔
اللہ نے نوح (علیہ السلام) ‘ ہود (علیہ السلام) صالح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی اقوام کو پکڑا ۔ فرعون اور اہل یونان اور اہل روما کر پکڑا اور اسی سنت کے مطابق اس نے دوسری اقوام کو بھی عروج کے بعد پکڑا ۔ پہلے ان کی تہذیب و تمدن کو خوب ترقی دی اور پھر انہیں تباہ وبرباد کردیا ۔ یہ بہرحال اللہ کی تقدیروں کے راز ہیں ۔ لیکن سنت الہیہ عروج وزوال کی اس داستان میں ظاہر ہے اور اللہ اسی کی داستاں یہاں اس اصولی انداز میں ثبت فرماتے ہیں ۔
ان اقوام کی اپنی اپنی تہذبییں تھیں اور اپنے وقت میں ان کو بڑا عروج تھا ۔ ان کو بڑی فراوانی اور دولتمندی حاصل تھی ۔ بعض پہلوؤں سے وہ آج کے ترقی یافتہ دور سے بھی زیادہ خوشحال تھے انہوں نے شان و شوکت اور سازو سامان اور فراوانی حاصل تھی اور وہ اس دھوکے میں تھے کہ وہ یوں ہی رہیں گے ۔ یہ اقوام ان دوسری اقوام کو بھی دھوکے دے رہی تھیں جو خوشحالی اور ترقی کے بارے میں سنت الہیہ سے واقف نہ تھیں ۔
یہ اقوام اس بات کو نہ سمجھ سکیں کہ اس کائنات میں سنت الہیہ کام کرتی ہے ۔ وہ یہ بات بھی نہ سمجھ سکیں کہ انہیں ڈھیل دی جاری ہے ‘ اس سنت کی پالیسی کے عین مطابق ۔ جو لوگ سنت الہیہ کے آسمان میں گردش کر رہے تھے اللہ کی نعمتوں کی بارش نے ان کی آنکھیں چندھیا دی تھیں ۔ شوکت وقوت نے ان کے اندر بہت ہی زیادہ اعتماد پیدا کردیا تھا اور ان خوشحال اقوام کو جو مہلت اور ڈھیل دی گئی تھی اس کی وجہ سے وہ دھوکے میں پڑگئے تھے ۔ یہ لوگ نہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور نہ انہیں اللہ کی معرفت حاصل تھی ۔ یہ لوگ اللہ کی حاکمیت کے خلاف باغی ہوگئے تھے بلکہ انہوں نے حق حاکمیت کا دعوی خود کیا تھا حالانکہ حاکمیت الوہیت کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے ۔ یہ لوگ زمین میں فساد پھیلاتے تھے ‘ لوگوں پر مظالم ڈھاتے تھے اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں حاکمیت کا دعوی خود کرلیا تھا ۔ جب میں امریکہ میں تھا تو میں نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا وہ اس آیت کا مصداق تھا ۔
(آیت) ” فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ “ (6 : 44) ” پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی ‘ بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ‘ ‘۔
یہ منظر جس کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں پر رزق کی فراوانی تھی اور ہر جانب سے بلاحساب سہولیات کا سیلاب تھا جو امڈتا چلا آرہا تھا ۔ یہ منظر امریکہ میں پوری طرح عروج پر تھا ۔
میں نے دیکھا کہ یہ قوم اس خوشحالی پر بےحد مغرور بھی ہے اور ان کے شعور میں یہ بات پوری طرح بیٹھی ہوئی نظر آتی تھی کہ سہولتوں کی یہ بہتات صرف سفید رنگ کے لوگوں کے لئے مخصوص ہے ۔ رنگ دار لوگوں کے ساتھ انکا طرز عمل نہایت متکبرانہ اور وحشیانہ ہوتا ہے ۔ امریکی پورے کرہ ارض کے لوگوں کو اس قدر کم وقعت سمجھتے ہیں جس کے مقابلے میں یہودیوں کا نازی ازم بھی کچھ وقعت نہیں رکھتا حالانکہ یہودی اس کے بارے میں بہت مشہور ہیں اور قومی اور نسلی افتخار ان کا طرہ امتیاز ہے ۔ سفید رنگ امریکیوں کا رویہ رنگ دار امریکیوں کی نسبت یہودیوں سے بھی زیادہ برا اور زیادہ سخت ہے ۔ یہ سختی خصوصا اور زیادہ ہوجاتی ہے جب رنگ دار لوگ مسلمان ہوں۔
امریکہ میں ‘ میں یہ سب کچھ دیکھتا رہا اور یہ توقع کرتا رہا کہ سنت الہیہ ایک دن ضرور اپنا کام کرے گی ۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ سنت الہیہ امریکی سوسائٹی کی طرف دھیمی رفتار سے بڑی رھی ہی ہے ۔
(آیت) ’ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)
” یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے “۔
حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم پر یہ رحم فرمایا کہ اب ان کو مسخ نہ کیا جائے گا اور نہ انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا ۔ لیکن اللہ کے عذابوں کی کئی اقسام اب بھی آتی رہتی ہیں خصوصا ان اقوام پر جنہیں خوشحالی اور فراوانی دی گئی ہے ۔ ان پر انواع و اقسام کے عذاب آئے دن آتے رہتے ہیں ‘ اس کے باوجود کہ انکے ہاں ضروریات زندگی کی پیداوار حد سے زیادہ ہوچکی ہے اور انہیں رزق اور سہولیات کی بہتات سے نوازا گیا ہے۔
نفسیاتی عذاب ‘ روحانی بےچینی ‘ جنسی بےراہ روی اور اخلاقی بگاڑ جیسے عذابوں نے انہیں تباہ کردیا ہے اور ان کی اس خوشحالی اور مادی پیداوار اور سازوسامان میں بھی ان کے لئے کوئی ذریعہ اطمینان نہیں ہے اور قریب ہے کہ ان کی پوری زندگی بدبختی ‘ قلق و پریشانی میں ڈوب جائے ۔ (دیکھئے میری کتاب اسلام اور مشکلات تہذیب کا باب خبط و اضطراب) اس خوشحالی کے باوجود ان لوگوں کی اخلاقی حالت یہ ہے کہ بڑے بڑے سیاسی راز چند ٹکوں میں بیچ دیئے جاتے ہیں اور پوری قوم کے خلاف جرم خیانت کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور حاصل کیا ہوتا ہے چند لمحوں کی عیاشی ‘ جنسی لذت اور چند ٹکے اور یہ ایسی علامات ہیں کہ مستقبل قریب میں ایسی اقوام کے لئے شدید خطرے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
اقوام مغرب کی تباہی کے یہ بالکل ابتدائی آثار ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ نے بالکل سچ فرمایا :” جب تم دیکھو کہ جب اللہ کسی کو اس کی بدکرداری کے باوجود سب کچھ دے جو وہ چاہتا ہو ‘ تو سمجھ لو کہ یہ اسے ڈھیل دی جارہی ہے ۔ “ اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی “ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس ہوگئے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم)
لیکن یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اہل باطل کو ہلاک کرنے کا اصول اور سنت الہیہ کو اسکیم میں صرف یہ نہیں ہوتا کہ اہل باطل کو نیست ونابود کردیا جائے بلکہ یہ امر بھی اس کا حصہ ہوتا ہے کہ اہل حق قائم اور غالب کردیا جائے اور یہ اہل حق ایک امت کی شکل میں نمودار ہوں ۔ اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سچائی کے ذریعے اور اہل حق کے ذریعے باطل پر وار کرتا ہے اور باطل کا سر پھوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ باطل نابود ہوجاتا ہے لہذا اہل حق کو ڈھیلے ہو کر بیٹھ نہ جانا چاہیے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف سنت الہیہ کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ سنت الہیہ بھی اسلامی جدوجہد کے نتیجے میں روبعمل ہوتی ہے ۔ اگر اہل حق بےعمل ہو کر بیٹھ جائیں تو وہ اہل حق نہ رہیں گے اور وہ غلبہ اور باطل کا سر پھوڑنے کے قابل ہی نہ رہیں گے ۔ خصوصا جبکہ وہ سست اور بےعمل ہو کر بیٹھ جائیں ۔ حق تو ایسی امت کی شکل میں نمودار ہوتا ہے جو کرہ ارض پر اللہ کی حاکمیت کے مقام کے لئے جدوجہد کر رہی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے مقابلے میں دفاع کررہی ہوتی ہے جنہوں نے اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت قائم کی ہوئی ہوتی ہے جبکہ حاکمیت الہیہ خصائص الوہیت میں سے ایک خاصہ ہے ۔ یہ ہے اصلی اور بنیادی سچائی ۔
(آیت) ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض “۔ (اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسروں کے ذریعے نہ روکتا تو زمین میں فساد برپا ہوجاتا)
اب سیاق کلام مشرکین کو عذاب الہی کے سامنے لاکر کھڑا کردیتا ہے اور عذاب کی یہ مجوزہ شکل ان کی ذات اور ان کے نفوس کے ساتھ متعلق ہے ۔ اس کا تعلق ان کی قوت باصرہ ‘ قوت سامعہ اور قوت ادراک کے ساتھ ہے ۔ تجویز یہ ہے کہ اگر اللہ ان قوتوں کو سلب کرے تو کون ہے جو تمہیں یہ قوتیں لوٹا کر دے دے ‘ کوئی نہیں ہے ۔ اب سوچنے کے بعد وہ بھی یقین کرلیتے ہیں کہ کوئی نہ ہوگا جو انہیں ‘ قوت سماعت ‘ قوت باصرہ اور قوت ادراک دے سکے اگر اللہ ان قوتوں کو چھین لے ۔
الأنعام 6:44
(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔
یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ اب وہ لاعلاج ہوجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں اس قدر عمل بگاڑ رونما ہوجاتا ہے کہ اب اصلاح احوال ممکن ہی نہیں رہتی ۔ ایسے لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان پر اللہ کا ایسا عذاب آتا ہے کہ پھر ان میں کا کوئی متنفس زندہ نہیں رہتا ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَأَخَذْنَاہُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُونَ (42) فَلَوْلا إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (43)
” تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ جھک جائیں ۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی ؟ مگر ان کے دل تو وہ سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔
انسانی تاریخ میں ایسی اقوام بکثرت موجود ہیں اور ان میں سے بیشمار قرآن کریم نے انسانوں کو گنوا کر انکے حالات بتائے ہیں ۔ قرآن نے یہ حالات اس وقت بتائے جب انسانی تاریخ ابھی مدون ہی نہ ہوئی تھی ۔ تاریخ کی جن کتابوں کو انسانوں نے مرتب کیا ہے وہ تو بہت ہی قریبی ادوار سے متعلق ہیں وہ حدیث السن اور نومولود ہے ۔ ہماری تاریخ انسان کی طویل ترین تاریخ کو سمجھنے سمجھانے کی اہل نہیں ہے کیونکہ کرہ ارض پر انسان کے بسنے کی تاریخ بہت ہی طویل ہے اور انسان نے جو تاریخ مرتب کی ہے یہ تو جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ وہ ہے بھی بہت ہی مختصر اور اس کے اندر تاریخ کے اصل عوام اور اسباب کا احاطہ ہی نہیں کیا سکا ۔ ان تاریخی عوامل میں سے بعض تو نفس انسانی کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہیں اور بعض ایسے اسباب ہیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور ان میں سے نہایت ہی قلیل حصہ انسان پر ظاہر ہوا ہے ۔ پھر جو بعض انسانوں پر ظاہر بھی ہوئے ہیں انسانوں نے ان کے جمع وتدوین میں غلطی کی ۔ ٹھیک طور پر واقعات جمع کر بھی لئے گئے تو ان کے سمجھنے میں غلطیاں کی گئیں اور ان میں سے سچے اور جھوٹے واقعات واسباب کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جاسکا ۔ صرف چند واقعات کا درست تجزیہ ہوسکا ۔ لہذا کسی انسان کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ اس نے پوری انسانی تاریخ کے واقعات واسباب کا احاطہ کرلیا ہے اور یہ کہ وہ ان واقعات کی سائنٹیفک تفسیر کرسکتا ہے اور یہ کہ وہ تاریخ کے مستقبل کے رخ کو بھی صحیح طرح متعین کرسکتا اور نتائج اخذ کرسکتا ہے تو یہ بہت ہی بڑا جھوٹ ہے جو کوئی بول سکتا ہے ۔ ایک نہایت ہی تعجب انگیز بات یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے جھوٹ کا دعوی کرتے نہیں شرماتے ۔ اگر ایسے لوگ یہ کہتے کہ مستقبل میں یہ واقعات ظاہر ہونے کی توقع ہے تو ان کی بات معقول ہوتی لیکن اگر کسی جھوٹے شخص کو ایسے افراد مل رہے ہوں جو اس کے جھوٹ کی تصدیق کے لئے ہر وقت تیار ہوں تو اسے جھوٹ سے باز رہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور صادق القول ہے ۔ اللہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا واقعات ہو گزرے ہیں ۔ اور اپنی مہربانی اور فضل کی وجہ سے وہ بندوں کے سامنے ان حقائق کو بیان کرتا ہے ۔ کلام الہی اللہ کی تقدیر ‘ اس کے فیصلوں اور اس کائنات میں اس کی سنت پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ لوگ احتیاط کریں اور واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکیں کہ ان واقعات کے پیچھے کی اسباب وعوام کارفرما تھے اور ظاہری اسباب کیا نظر آتے تھے ۔ تاکہ وہ ان تاریخی واقعات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور ان کی تشریح تجزیہ اور تحلیل کرسکیں ۔ پھر آئندہ تاریخ پر پڑنے والے اثرات اور نکلنے والے نتائم کو سمجھ سکیں اور ان کا استدلال سنت الہیہ کی روشنی میں ہو جس کے اصول یہاں اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کئے ہیں ۔
آیات زیر بحث میں ایسے واقعات کی صورت گری کی گئی ہے جو مختلف اقوام میں بار بار پیش آتے رہے ہیں ۔ ان اقوام کے پاس اللہ کی طرف سے بھیجے گئے رسول آئے ‘ لیکن انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں مشکلات اور تکالیف کے ذریعے ابتلاء میں ڈالا گیا ۔ یہ مشکلات مالی بھی تھیں اور جانی بھی ۔ ان کو مشکل حالات اور مشکل مسائل میں مبتلا کردیا گیا لیکن یہ مشکلات ابھی عذاب الہی کی حد تک نہ پہنچی تھیں ‘ جن کا ذکر اس سے قبل کی آیات میں آگیا ہے ۔ یعنی یہ مشکلات تباہی اور بربادی کی حد تک نہ تھیں ۔
قرآن کریم نے ان اقوام کے بعض نمونے پیش کئے ہیں اور ان مشکلات اور مصائب کا ذکر بھی کیا ہے جو ان پر ڈالے گئے ان میں سے فرعون اور اس کے ساتھیوں کا قصہ بہت ہی مشہور ہے ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُونَ (130) فَإِذَا جَاء تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُواْ لَنَا ہَـذِہِ وَإِن تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَّیَّرُواْ بِمُوسَی وَمَن مَّعَہُ أَلا إِنَّمَا طَائِرُہُمْ عِندَ اللّہُ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (131) وَقَالُواْ مَہْمَا تَأْتِنَا بِہِ مِن آیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ (132) فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آیَاتٍ مُّفَصَّلاَتٍ فَاسْتَکْبَرُواْ وَکَانُواْ قَوْماً مُّجْرِمِیْنَ (133)
” ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آجائے ۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لئے فال بد ٹھہراتے ‘ حالانکہ درحقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی ‘ مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے ۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا :” تو ہمیں مسحور کرنے کے لئے خواہ کوئی نشانی لے آئے ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں ۔ “ آخرکار ہم نے ان پر طوفان بھیجا ‘ ٹڈی دل چھوڑے ‘ سرسریاں پھیلائیں ‘ مینڈک نکالے اور خون برسایا ۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ کرکے دکھائیں مگر وہ سرکشی کئے چلے گئے “۔ یہ ہے ایک نمونہ ان واقعات کا ‘ جس کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو مشکلات ومصائب سے محض اس لئے دو چار کیا کہ وہ ذرا ہوش میں آجائیں ‘ وہ ذرا اپنے ضمیر میں جھانکیں اور اپنے حالات پر غوروفکر کریں محض اس لئے کہ ان شدائد کی وجہ سے شاید وہ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے لگیں اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ذلیل وجھکنے والے بنا دیں ۔ وہ اپنے کبر و غرور کو چھور کر سنجیدہ رویہ اختیار کریں اور اخلاص سے دعا کریں کہ اللہ ان پر سے یہ مشکلات دور کر دے ۔ ان کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ‘ لیکن ان کے لئے جو مناسب تھا وہ انہوں نے نہ کیا ۔ انہوں نے اللہ کی پناہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا اور اپنے عناد اور سرکشی کو جاری رکھا اور ان مشکلات کی وجہ سے بھی ان کی سوچ اس طرف نہ لوٹی ۔ ان کی چشم بصیرت وا نہ ہوئی اور ان کے دل نرم نہ ہوئے ۔ شیطان ان کے پیچھے خوب لگا ہوا تھا وہ ان کے لئے ان کی ضلالت اور سرکشی کو مزین کر رہا تھا ۔ ” مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلا دیا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔ “
وہ دل جو شدائد مصائب کے باوجود رجوع الی اللہ اختیار نہیں کرتا وہ دل میں اس طرح خشک ہوگیا ہے جس طرح پتھر خشک ہوتا ہے اور اس کے اندر رس کا ایک قطرہ بھی نہیں ہوتا جسے شدائد اور مصائب نچوڑ سکیں ۔ یہ دل مر گیا ہے اور اس پر جس قدر دباؤ آئے اسے احساس نہ ہوگا ۔ اس دل کے اندر سے قبولیت حق کا تمام مواد خارج ہوچکا ہے ۔ وہ پوری طرح مرچکا ہے اس لئے اس کو احساس دلانے کے لئے چاہے جس قدر چٹکیاں بھریں اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ حالانکہ زندہ دل ایسے جھٹکوں کے نتیجے میں بیدار ہوجاتے ہیں اور اللہ کی جانب سے اس قسم کے مصائب آتے ہی حق کو قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ جاگ اٹھتے ہیں اور ان کے دریچے کھل جاتے ہیں اور یوں ان کو رجوع الی اللہ نصیب ہوجاتا ہے ۔ وہ اس رحمت اور رافت اور جود وکرم کے مستحق ہوجاتے ہیں جسے اللہ نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ۔ جو شخص مر چکا ہو یہ مشکلات اس کے لئے محاسبہ اور سزا ہوتے ہیں اور ان سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ الٹا اس شخص کے تمام عذرات ختم ہوجاتے ہیں اور تمام دلائل بیکار جاتے ہیں ۔ وہ انجام بد اور شقاوت کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ لہذا اللہ کا عذاب اس کے لئے طے ہوجاتا ہے ۔
یہ امم سابقہ جن کی خبریں اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر نازل کرتے ہیں اور آپ کے واسطے سے ہمیں پہنچاتے ہیں ‘ انہوں نے ان مصائب وشدائد سے کوئی عبرت نہ پکڑی ۔ انہوں نے رجوع الی اللہ اختیار نہ کیا اور نہ اللہ کے سامنے بدست بدعا ہوئے ۔ شیطان نے ان کے لئے روگردانی اور عناد کو مزین کردیا ہے وہ اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ ایسی اقوام کو اللہ تعالیٰ مہلت دیتے ہیں اور انہیں آزاد چھوڑے دیتے ہیں اور وہ حدوں سے گزر جاتے ہیں ۔
(آیت) ” فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)
” پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی ‘ بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ‘ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی) “۔
خوشحالی بھی دراصل ابتلاء ہے جس طرح مصائب اور شدائد ابتلاء ہیں لیکن خوشحالی غربت اور بدحالی کے مقابلے میں شدید ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس طرح بدحالی سے آزماتا ہے اسی طرح خوشحالی سے بھی آزماتا ہے ۔ جب کسی مومن پر بدحالی آجائے اور وہ آزمائش میں مبتلا ہوجائے تو وہ صبر کرتا ہے اور اگر مومن پر خوشحالی آجائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اس لئے وہ ہر حالت میں اچھا رہتا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے : ” مومن بھی عجیب ہے کہ اس کے تمام حالات خیر ہی خیر ہوتے ہیں اور یہ خصوصیت صرف مومن کو حاصل ہے ۔ اگر اسے خوشحالی نصیب ہو اور وہ اس کا شکر ادا کرے تو یہ اس کے لئے خیر ہے اور اگر وہ بدحال ہو اور صبر کرے تو بھی اس کے لئے خیر ہے ۔ “ (روایت مسلم)
رہیں وہ اقوام جنہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور جن کی کہانیاں اللہ نے یہاں بیان کیں تو انہوں نے اس ہدایت کو بھلا دیا جو انہیں دی گئی تھی ۔ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ اب وہ ہلاکت سے دو چار ہونے ہی والے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو شدائد ومصائب میں ڈالا تو بھی انہیں ہوش نہ آیا ۔ اور ان میں سے بعض پر انعامات کے دروازے کھول دیئے اور ہر چیز کی فراوانی کردی اور ان کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا تاکہ وہ سرکشی میں خوب آگے بڑھ جائیں ۔ یہاں قرآن کا انداز تعبیر بھی نہایت ہی خوبصورت ہے ۔
(آیت) ” فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ (6 : 44) ” ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے “
اس کے اندر ہر قسم کی بھلائیاں ہر قسم کے ضروریات ‘ سازوسامان اور عزت وشان کی بڑی فروانی کے ساتھ شامل ہیں ۔ یعنی ہر چیز سیلاب کی طرح بہتات ہیں ‘ بغیر رکاوٹ اور پابندی کے ان کے لئے عام کردی نعمت انہیں بسہولت ارزاں ملتی رہی بغیر کسی محنت ومشقت کے ۔ فی الحقیقت یہ ایک نہایت ہی موثر منظر ہے ۔ قرآن کریم کے فنی انداز تعبیر کا یہ ایک نادر نمونہ ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی میں باب طریقۃ القرآن)
(آیت) ” حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ (6 : 44۔ 45) ‘ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے “۔ ہر قسم کی بھلائیوں اور سازوسامان کی بہتات میں وہ غرق ہوگئے اور عیش و عشرت میں مگن ہوگئے ۔ انہوں نے ایسے حالات میں نہ خدا کو یاد کیا اور نہ اس کا شکر ادا کیا اور ان کے دلوں سے منعم حقیقی کا تصور محو ہوگیا اور خشیت الہی سے انکے دل خالی ہوگئے ۔ وہ عیش کوشی اور کام ودہن کی لذت کوشی میں مکمل طور پر گھر گئے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر ان چیزوں کے حوالے کردیا ۔ ان کی زندگی میں اعلی اقدام کی کوئی اہمیت نہ رہی اور یہ لہو ولعب اور عیش طرب میں غرق لوگوں کی عام عادت ہوتی ہے کہ ان میں سے اعلی قدریں غائب ہوجاتی ہیں ۔ اس کے بعد ان کی سوسائٹی سے نظم اور اچھی عادات غائب ہوجاتی ہیں اور وہ اخلاقی اعتبار سے مکمل طور پر تباہ جاتے ہیں ۔ یوں ان کے یہ حالات اس پر منتج ہوتے ہیں کہ ان کی پوری زندگی تباہ ہوجاتی ہے اور اب یہ تباہی قدرتی ہوتی ہے ۔ یہ عین سنت الہیہ ہے ۔
(آیت) ” أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) ” تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا “۔ کسی قوم کا دابر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سب سے پیچھے آتا ہے یعنی ان کا آخری آدمی ۔ جب آخری آدمی ہی کٹ گیا تو اس سے پہلے کے بدرجہ اولی کٹ گئے ۔
(آیت) ” ِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ “۔ (6 : 45) ، سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے شرک کیا اس لئے قرآن کریم بیشتر مقامات پر مشرکین کو ظال میں سے تعبیر کرتا ہے اور شرک پر ظلم کے لفظ کا اطلاق کرتا ہے ۔
(آیت) ” وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45) اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے “۔ یہ تبصرہ ہے اس بات پر کہ اللہ نے مشرکین کی جڑ کاٹ دی اور یوں انہیں مہلت دیتے دیتے اچانک پکڑ لیا ۔ سوا یہ ہے کہ اللہ کی حمد تو اللہ کے انعام واکرام پر ہوتی ہے ؟ ہاں ‘ لیکن اللہ کی زمین کا تو ظالموں سے پاک ہونا بھی ایک گونہ نعمت ہے ۔ نیز اللہ کی حمد اس کی رحمت پر ہوتی ہے تو زمین کو پاک کردینا بھی سب سے بڑی رحمت ہے ۔
اللہ نے نوح (علیہ السلام) ‘ ہود (علیہ السلام) صالح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی اقوام کو پکڑا ۔ فرعون اور اہل یونان اور اہل روما کر پکڑا اور اسی سنت کے مطابق اس نے دوسری اقوام کو بھی عروج کے بعد پکڑا ۔ پہلے ان کی تہذیب و تمدن کو خوب ترقی دی اور پھر انہیں تباہ وبرباد کردیا ۔ یہ بہرحال اللہ کی تقدیروں کے راز ہیں ۔ لیکن سنت الہیہ عروج وزوال کی اس داستان میں ظاہر ہے اور اللہ اسی کی داستاں یہاں اس اصولی انداز میں ثبت فرماتے ہیں ۔
ان اقوام کی اپنی اپنی تہذبییں تھیں اور اپنے وقت میں ان کو بڑا عروج تھا ۔ ان کو بڑی فراوانی اور دولتمندی حاصل تھی ۔ بعض پہلوؤں سے وہ آج کے ترقی یافتہ دور سے بھی زیادہ خوشحال تھے انہوں نے شان و شوکت اور سازو سامان اور فراوانی حاصل تھی اور وہ اس دھوکے میں تھے کہ وہ یوں ہی رہیں گے ۔ یہ اقوام ان دوسری اقوام کو بھی دھوکے دے رہی تھیں جو خوشحالی اور ترقی کے بارے میں سنت الہیہ سے واقف نہ تھیں ۔
یہ اقوام اس بات کو نہ سمجھ سکیں کہ اس کائنات میں سنت الہیہ کام کرتی ہے ۔ وہ یہ بات بھی نہ سمجھ سکیں کہ انہیں ڈھیل دی جاری ہے ‘ اس سنت کی پالیسی کے عین مطابق ۔ جو لوگ سنت الہیہ کے آسمان میں گردش کر رہے تھے اللہ کی نعمتوں کی بارش نے ان کی آنکھیں چندھیا دی تھیں ۔ شوکت وقوت نے ان کے اندر بہت ہی زیادہ اعتماد پیدا کردیا تھا اور ان خوشحال اقوام کو جو مہلت اور ڈھیل دی گئی تھی اس کی وجہ سے وہ دھوکے میں پڑگئے تھے ۔ یہ لوگ نہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور نہ انہیں اللہ کی معرفت حاصل تھی ۔ یہ لوگ اللہ کی حاکمیت کے خلاف باغی ہوگئے تھے بلکہ انہوں نے حق حاکمیت کا دعوی خود کیا تھا حالانکہ حاکمیت الوہیت کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے ۔ یہ لوگ زمین میں فساد پھیلاتے تھے ‘ لوگوں پر مظالم ڈھاتے تھے اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں حاکمیت کا دعوی خود کرلیا تھا ۔ جب میں امریکہ میں تھا تو میں نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا وہ اس آیت کا مصداق تھا ۔
(آیت) ” فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ “ (6 : 44) ” پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی ‘ بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ‘ ‘۔
یہ منظر جس کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں پر رزق کی فراوانی تھی اور ہر جانب سے بلاحساب سہولیات کا سیلاب تھا جو امڈتا چلا آرہا تھا ۔ یہ منظر امریکہ میں پوری طرح عروج پر تھا ۔
میں نے دیکھا کہ یہ قوم اس خوشحالی پر بےحد مغرور بھی ہے اور ان کے شعور میں یہ بات پوری طرح بیٹھی ہوئی نظر آتی تھی کہ سہولتوں کی یہ بہتات صرف سفید رنگ کے لوگوں کے لئے مخصوص ہے ۔ رنگ دار لوگوں کے ساتھ انکا طرز عمل نہایت متکبرانہ اور وحشیانہ ہوتا ہے ۔ امریکی پورے کرہ ارض کے لوگوں کو اس قدر کم وقعت سمجھتے ہیں جس کے مقابلے میں یہودیوں کا نازی ازم بھی کچھ وقعت نہیں رکھتا حالانکہ یہودی اس کے بارے میں بہت مشہور ہیں اور قومی اور نسلی افتخار ان کا طرہ امتیاز ہے ۔ سفید رنگ امریکیوں کا رویہ رنگ دار امریکیوں کی نسبت یہودیوں سے بھی زیادہ برا اور زیادہ سخت ہے ۔ یہ سختی خصوصا اور زیادہ ہوجاتی ہے جب رنگ دار لوگ مسلمان ہوں۔
امریکہ میں ‘ میں یہ سب کچھ دیکھتا رہا اور یہ توقع کرتا رہا کہ سنت الہیہ ایک دن ضرور اپنا کام کرے گی ۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ سنت الہیہ امریکی سوسائٹی کی طرف دھیمی رفتار سے بڑی رھی ہی ہے ۔
(آیت) ’ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)
” یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے “۔
حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم پر یہ رحم فرمایا کہ اب ان کو مسخ نہ کیا جائے گا اور نہ انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا ۔ لیکن اللہ کے عذابوں کی کئی اقسام اب بھی آتی رہتی ہیں خصوصا ان اقوام پر جنہیں خوشحالی اور فراوانی دی گئی ہے ۔ ان پر انواع و اقسام کے عذاب آئے دن آتے رہتے ہیں ‘ اس کے باوجود کہ انکے ہاں ضروریات زندگی کی پیداوار حد سے زیادہ ہوچکی ہے اور انہیں رزق اور سہولیات کی بہتات سے نوازا گیا ہے۔
نفسیاتی عذاب ‘ روحانی بےچینی ‘ جنسی بےراہ روی اور اخلاقی بگاڑ جیسے عذابوں نے انہیں تباہ کردیا ہے اور ان کی اس خوشحالی اور مادی پیداوار اور سازوسامان میں بھی ان کے لئے کوئی ذریعہ اطمینان نہیں ہے اور قریب ہے کہ ان کی پوری زندگی بدبختی ‘ قلق و پریشانی میں ڈوب جائے ۔ (دیکھئے میری کتاب اسلام اور مشکلات تہذیب کا باب خبط و اضطراب) اس خوشحالی کے باوجود ان لوگوں کی اخلاقی حالت یہ ہے کہ بڑے بڑے سیاسی راز چند ٹکوں میں بیچ دیئے جاتے ہیں اور پوری قوم کے خلاف جرم خیانت کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور حاصل کیا ہوتا ہے چند لمحوں کی عیاشی ‘ جنسی لذت اور چند ٹکے اور یہ ایسی علامات ہیں کہ مستقبل قریب میں ایسی اقوام کے لئے شدید خطرے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
اقوام مغرب کی تباہی کے یہ بالکل ابتدائی آثار ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ نے بالکل سچ فرمایا :” جب تم دیکھو کہ جب اللہ کسی کو اس کی بدکرداری کے باوجود سب کچھ دے جو وہ چاہتا ہو ‘ تو سمجھ لو کہ یہ اسے ڈھیل دی جارہی ہے ۔ “ اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی “ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس ہوگئے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم)
لیکن یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اہل باطل کو ہلاک کرنے کا اصول اور سنت الہیہ کو اسکیم میں صرف یہ نہیں ہوتا کہ اہل باطل کو نیست ونابود کردیا جائے بلکہ یہ امر بھی اس کا حصہ ہوتا ہے کہ اہل حق قائم اور غالب کردیا جائے اور یہ اہل حق ایک امت کی شکل میں نمودار ہوں ۔ اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سچائی کے ذریعے اور اہل حق کے ذریعے باطل پر وار کرتا ہے اور باطل کا سر پھوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ باطل نابود ہوجاتا ہے لہذا اہل حق کو ڈھیلے ہو کر بیٹھ نہ جانا چاہیے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف سنت الہیہ کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ سنت الہیہ بھی اسلامی جدوجہد کے نتیجے میں روبعمل ہوتی ہے ۔ اگر اہل حق بےعمل ہو کر بیٹھ جائیں تو وہ اہل حق نہ رہیں گے اور وہ غلبہ اور باطل کا سر پھوڑنے کے قابل ہی نہ رہیں گے ۔ خصوصا جبکہ وہ سست اور بےعمل ہو کر بیٹھ جائیں ۔ حق تو ایسی امت کی شکل میں نمودار ہوتا ہے جو کرہ ارض پر اللہ کی حاکمیت کے مقام کے لئے جدوجہد کر رہی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے مقابلے میں دفاع کررہی ہوتی ہے جنہوں نے اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت قائم کی ہوئی ہوتی ہے جبکہ حاکمیت الہیہ خصائص الوہیت میں سے ایک خاصہ ہے ۔ یہ ہے اصلی اور بنیادی سچائی ۔
(آیت) ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض “۔ (اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسروں کے ذریعے نہ روکتا تو زمین میں فساد برپا ہوجاتا)
اب سیاق کلام مشرکین کو عذاب الہی کے سامنے لاکر کھڑا کردیتا ہے اور عذاب کی یہ مجوزہ شکل ان کی ذات اور ان کے نفوس کے ساتھ متعلق ہے ۔ اس کا تعلق ان کی قوت باصرہ ‘ قوت سامعہ اور قوت ادراک کے ساتھ ہے ۔ تجویز یہ ہے کہ اگر اللہ ان قوتوں کو سلب کرے تو کون ہے جو تمہیں یہ قوتیں لوٹا کر دے دے ‘ کوئی نہیں ہے ۔ اب سوچنے کے بعد وہ بھی یقین کرلیتے ہیں کہ کوئی نہ ہوگا جو انہیں ‘ قوت سماعت ‘ قوت باصرہ اور قوت ادراک دے سکے اگر اللہ ان قوتوں کو چھین لے ۔
الأنعام 6:45
(آیت) ” نمبر 42 تا 45۔
یہ لہر عذاب الہی کی ایک جھلکی ہے اور انسان کی تاریخ کی واقعی صورت حال کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں کسی واقعہ کے بجائے یہ بتایا گیا ہے کہ لوگ عذاب الہی کی زد میں کس طرح آتے ہیں ۔ اور ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ عذاب سے پہلے اللہ تعالیٰ کس طرح انہیں مہلت کے بعد مہلت دیتا چلا جاتا ہے اور کس طرح ان کی تنبیہ کے بعد تنبیہ کی جاتی رہتی ہے ۔ لیکن وہ بھلاتے ہی چلے جاتے ہیں اور بعض اوقات شدید سے شدید عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے نہیں جگا سکتا ۔ اور جب ان پر انعامات واکرامات کی بارش کردی جاتی ہے تو وہ شکر ادا نہیں کرتے یا زوال نعمت اور فتنوں سے نہیں ڈرتے ۔ ان کی فطرت اس قدر بگڑ جاتی ہے کہ اب وہ لاعلاج ہوجاتے ہیں ۔ ان کی زندگی میں اس قدر عمل بگاڑ رونما ہوجاتا ہے کہ اب اصلاح احوال ممکن ہی نہیں رہتی ۔ ایسے لوگوں پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور ان پر اللہ کا ایسا عذاب آتا ہے کہ پھر ان میں کا کوئی متنفس زندہ نہیں رہتا ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَأَخَذْنَاہُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُونَ (42) فَلَوْلا إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَـکِن قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (43)
” تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ جھک جائیں ۔ پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی ؟ مگر ان کے دل تو وہ سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔
انسانی تاریخ میں ایسی اقوام بکثرت موجود ہیں اور ان میں سے بیشمار قرآن کریم نے انسانوں کو گنوا کر انکے حالات بتائے ہیں ۔ قرآن نے یہ حالات اس وقت بتائے جب انسانی تاریخ ابھی مدون ہی نہ ہوئی تھی ۔ تاریخ کی جن کتابوں کو انسانوں نے مرتب کیا ہے وہ تو بہت ہی قریبی ادوار سے متعلق ہیں وہ حدیث السن اور نومولود ہے ۔ ہماری تاریخ انسان کی طویل ترین تاریخ کو سمجھنے سمجھانے کی اہل نہیں ہے کیونکہ کرہ ارض پر انسان کے بسنے کی تاریخ بہت ہی طویل ہے اور انسان نے جو تاریخ مرتب کی ہے یہ تو جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ وہ ہے بھی بہت ہی مختصر اور اس کے اندر تاریخ کے اصل عوام اور اسباب کا احاطہ ہی نہیں کیا سکا ۔ ان تاریخی عوامل میں سے بعض تو نفس انسانی کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہیں اور بعض ایسے اسباب ہیں جو پردہ غیب میں مستور ہیں اور ان میں سے نہایت ہی قلیل حصہ انسان پر ظاہر ہوا ہے ۔ پھر جو بعض انسانوں پر ظاہر بھی ہوئے ہیں انسانوں نے ان کے جمع وتدوین میں غلطی کی ۔ ٹھیک طور پر واقعات جمع کر بھی لئے گئے تو ان کے سمجھنے میں غلطیاں کی گئیں اور ان میں سے سچے اور جھوٹے واقعات واسباب کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جاسکا ۔ صرف چند واقعات کا درست تجزیہ ہوسکا ۔ لہذا کسی انسان کی جانب سے یہ دعوی کرنا کہ اس نے پوری انسانی تاریخ کے واقعات واسباب کا احاطہ کرلیا ہے اور یہ کہ وہ ان واقعات کی سائنٹیفک تفسیر کرسکتا ہے اور یہ کہ وہ تاریخ کے مستقبل کے رخ کو بھی صحیح طرح متعین کرسکتا اور نتائج اخذ کرسکتا ہے تو یہ بہت ہی بڑا جھوٹ ہے جو کوئی بول سکتا ہے ۔ ایک نہایت ہی تعجب انگیز بات یہ ہے کہ بعض لوگ ایسے جھوٹ کا دعوی کرتے نہیں شرماتے ۔ اگر ایسے لوگ یہ کہتے کہ مستقبل میں یہ واقعات ظاہر ہونے کی توقع ہے تو ان کی بات معقول ہوتی لیکن اگر کسی جھوٹے شخص کو ایسے افراد مل رہے ہوں جو اس کے جھوٹ کی تصدیق کے لئے ہر وقت تیار ہوں تو اسے جھوٹ سے باز رہنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور صادق القول ہے ۔ اللہ جانتا ہے کہ دنیا میں کیا واقعات ہو گزرے ہیں ۔ اور اپنی مہربانی اور فضل کی وجہ سے وہ بندوں کے سامنے ان حقائق کو بیان کرتا ہے ۔ کلام الہی اللہ کی تقدیر ‘ اس کے فیصلوں اور اس کائنات میں اس کی سنت پر مشتمل ہوتا ہے تاکہ لوگ احتیاط کریں اور واقعات سے عبرت حاصل کریں ۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ سکیں کہ ان واقعات کے پیچھے کی اسباب وعوام کارفرما تھے اور ظاہری اسباب کیا نظر آتے تھے ۔ تاکہ وہ ان تاریخی واقعات کو صحیح طرح سمجھ سکیں اور ان کی تشریح تجزیہ اور تحلیل کرسکیں ۔ پھر آئندہ تاریخ پر پڑنے والے اثرات اور نکلنے والے نتائم کو سمجھ سکیں اور ان کا استدلال سنت الہیہ کی روشنی میں ہو جس کے اصول یہاں اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کئے ہیں ۔
آیات زیر بحث میں ایسے واقعات کی صورت گری کی گئی ہے جو مختلف اقوام میں بار بار پیش آتے رہے ہیں ۔ ان اقوام کے پاس اللہ کی طرف سے بھیجے گئے رسول آئے ‘ لیکن انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں مشکلات اور تکالیف کے ذریعے ابتلاء میں ڈالا گیا ۔ یہ مشکلات مالی بھی تھیں اور جانی بھی ۔ ان کو مشکل حالات اور مشکل مسائل میں مبتلا کردیا گیا لیکن یہ مشکلات ابھی عذاب الہی کی حد تک نہ پہنچی تھیں ‘ جن کا ذکر اس سے قبل کی آیات میں آگیا ہے ۔ یعنی یہ مشکلات تباہی اور بربادی کی حد تک نہ تھیں ۔
قرآن کریم نے ان اقوام کے بعض نمونے پیش کئے ہیں اور ان مشکلات اور مصائب کا ذکر بھی کیا ہے جو ان پر ڈالے گئے ان میں سے فرعون اور اس کے ساتھیوں کا قصہ بہت ہی مشہور ہے ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ أَخَذْنَا آلَ فِرْعَونَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّن الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَذَّکَّرُونَ (130) فَإِذَا جَاء تْہُمُ الْحَسَنَۃُ قَالُواْ لَنَا ہَـذِہِ وَإِن تُصِبْہُمْ سَیِّئَۃٌ یَطَّیَّرُواْ بِمُوسَی وَمَن مَّعَہُ أَلا إِنَّمَا طَائِرُہُمْ عِندَ اللّہُ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ (131) وَقَالُواْ مَہْمَا تَأْتِنَا بِہِ مِن آیَۃٍ لِّتَسْحَرَنَا بِہَا فَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِیْنَ (132) فَأَرْسَلْنَا عَلَیْْہِمُ الطُّوفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ آیَاتٍ مُّفَصَّلاَتٍ فَاسْتَکْبَرُواْ وَکَانُواْ قَوْماً مُّجْرِمِیْنَ (133)
” ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آجائے ۔ مگر ان کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں اور جب برا زمانہ آتا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لئے فال بد ٹھہراتے ‘ حالانکہ درحقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی ‘ مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے ۔ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا :” تو ہمیں مسحور کرنے کے لئے خواہ کوئی نشانی لے آئے ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں ۔ “ آخرکار ہم نے ان پر طوفان بھیجا ‘ ٹڈی دل چھوڑے ‘ سرسریاں پھیلائیں ‘ مینڈک نکالے اور خون برسایا ۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ کرکے دکھائیں مگر وہ سرکشی کئے چلے گئے “۔ یہ ہے ایک نمونہ ان واقعات کا ‘ جس کی طرف یہ آیت اشارہ کر رہی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو مشکلات ومصائب سے محض اس لئے دو چار کیا کہ وہ ذرا ہوش میں آجائیں ‘ وہ ذرا اپنے ضمیر میں جھانکیں اور اپنے حالات پر غوروفکر کریں محض اس لئے کہ ان شدائد کی وجہ سے شاید وہ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے لگیں اور اپنے آپ کو اللہ کے سامنے ذلیل وجھکنے والے بنا دیں ۔ وہ اپنے کبر و غرور کو چھور کر سنجیدہ رویہ اختیار کریں اور اخلاص سے دعا کریں کہ اللہ ان پر سے یہ مشکلات دور کر دے ۔ ان کے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ‘ لیکن ان کے لئے جو مناسب تھا وہ انہوں نے نہ کیا ۔ انہوں نے اللہ کی پناہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا اور اپنے عناد اور سرکشی کو جاری رکھا اور ان مشکلات کی وجہ سے بھی ان کی سوچ اس طرف نہ لوٹی ۔ ان کی چشم بصیرت وا نہ ہوئی اور ان کے دل نرم نہ ہوئے ۔ شیطان ان کے پیچھے خوب لگا ہوا تھا وہ ان کے لئے ان کی ضلالت اور سرکشی کو مزین کر رہا تھا ۔ ” مگر ان کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلا دیا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو ۔ “
وہ دل جو شدائد مصائب کے باوجود رجوع الی اللہ اختیار نہیں کرتا وہ دل میں اس طرح خشک ہوگیا ہے جس طرح پتھر خشک ہوتا ہے اور اس کے اندر رس کا ایک قطرہ بھی نہیں ہوتا جسے شدائد اور مصائب نچوڑ سکیں ۔ یہ دل مر گیا ہے اور اس پر جس قدر دباؤ آئے اسے احساس نہ ہوگا ۔ اس دل کے اندر سے قبولیت حق کا تمام مواد خارج ہوچکا ہے ۔ وہ پوری طرح مرچکا ہے اس لئے اس کو احساس دلانے کے لئے چاہے جس قدر چٹکیاں بھریں اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔ حالانکہ زندہ دل ایسے جھٹکوں کے نتیجے میں بیدار ہوجاتے ہیں اور اللہ کی جانب سے اس قسم کے مصائب آتے ہی حق کو قبول کرلیتے ہیں ۔ وہ جاگ اٹھتے ہیں اور ان کے دریچے کھل جاتے ہیں اور یوں ان کو رجوع الی اللہ نصیب ہوجاتا ہے ۔ وہ اس رحمت اور رافت اور جود وکرم کے مستحق ہوجاتے ہیں جسے اللہ نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ۔ جو شخص مر چکا ہو یہ مشکلات اس کے لئے محاسبہ اور سزا ہوتے ہیں اور ان سے اسے کوئی فائدہ نہیں ہوتا ۔ الٹا اس شخص کے تمام عذرات ختم ہوجاتے ہیں اور تمام دلائل بیکار جاتے ہیں ۔ وہ انجام بد اور شقاوت کا مستحق قرار پاتا ہے ۔ لہذا اللہ کا عذاب اس کے لئے طے ہوجاتا ہے ۔
یہ امم سابقہ جن کی خبریں اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ پر نازل کرتے ہیں اور آپ کے واسطے سے ہمیں پہنچاتے ہیں ‘ انہوں نے ان مصائب وشدائد سے کوئی عبرت نہ پکڑی ۔ انہوں نے رجوع الی اللہ اختیار نہ کیا اور نہ اللہ کے سامنے بدست بدعا ہوئے ۔ شیطان نے ان کے لئے روگردانی اور عناد کو مزین کردیا ہے وہ اسے چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ ایسی اقوام کو اللہ تعالیٰ مہلت دیتے ہیں اور انہیں آزاد چھوڑے دیتے ہیں اور وہ حدوں سے گزر جاتے ہیں ۔
(آیت) ” فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)
” پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی ‘ بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ‘ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی) “۔
خوشحالی بھی دراصل ابتلاء ہے جس طرح مصائب اور شدائد ابتلاء ہیں لیکن خوشحالی غربت اور بدحالی کے مقابلے میں شدید ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو جس طرح بدحالی سے آزماتا ہے اسی طرح خوشحالی سے بھی آزماتا ہے ۔ جب کسی مومن پر بدحالی آجائے اور وہ آزمائش میں مبتلا ہوجائے تو وہ صبر کرتا ہے اور اگر مومن پر خوشحالی آجائے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اس لئے وہ ہر حالت میں اچھا رہتا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے : ” مومن بھی عجیب ہے کہ اس کے تمام حالات خیر ہی خیر ہوتے ہیں اور یہ خصوصیت صرف مومن کو حاصل ہے ۔ اگر اسے خوشحالی نصیب ہو اور وہ اس کا شکر ادا کرے تو یہ اس کے لئے خیر ہے اور اگر وہ بدحال ہو اور صبر کرے تو بھی اس کے لئے خیر ہے ۔ “ (روایت مسلم)
رہیں وہ اقوام جنہوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی اور جن کی کہانیاں اللہ نے یہاں بیان کیں تو انہوں نے اس ہدایت کو بھلا دیا جو انہیں دی گئی تھی ۔ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا علم تھا کہ اب وہ ہلاکت سے دو چار ہونے ہی والے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کو شدائد ومصائب میں ڈالا تو بھی انہیں ہوش نہ آیا ۔ اور ان میں سے بعض پر انعامات کے دروازے کھول دیئے اور ہر چیز کی فراوانی کردی اور ان کے لئے میدان کھلا چھوڑ دیا تاکہ وہ سرکشی میں خوب آگے بڑھ جائیں ۔ یہاں قرآن کا انداز تعبیر بھی نہایت ہی خوبصورت ہے ۔
(آیت) ” فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ (6 : 44) ” ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے “
اس کے اندر ہر قسم کی بھلائیاں ہر قسم کے ضروریات ‘ سازوسامان اور عزت وشان کی بڑی فروانی کے ساتھ شامل ہیں ۔ یعنی ہر چیز سیلاب کی طرح بہتات ہیں ‘ بغیر رکاوٹ اور پابندی کے ان کے لئے عام کردی نعمت انہیں بسہولت ارزاں ملتی رہی بغیر کسی محنت ومشقت کے ۔ فی الحقیقت یہ ایک نہایت ہی موثر منظر ہے ۔ قرآن کریم کے فنی انداز تعبیر کا یہ ایک نادر نمونہ ہے ۔ (دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی میں باب طریقۃ القرآن)
(آیت) ” حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ (6 : 44۔ 45) ‘ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے “۔ ہر قسم کی بھلائیوں اور سازوسامان کی بہتات میں وہ غرق ہوگئے اور عیش و عشرت میں مگن ہوگئے ۔ انہوں نے ایسے حالات میں نہ خدا کو یاد کیا اور نہ اس کا شکر ادا کیا اور ان کے دلوں سے منعم حقیقی کا تصور محو ہوگیا اور خشیت الہی سے انکے دل خالی ہوگئے ۔ وہ عیش کوشی اور کام ودہن کی لذت کوشی میں مکمل طور پر گھر گئے اور اپنے آپ کو مکمل طور پر ان چیزوں کے حوالے کردیا ۔ ان کی زندگی میں اعلی اقدام کی کوئی اہمیت نہ رہی اور یہ لہو ولعب اور عیش طرب میں غرق لوگوں کی عام عادت ہوتی ہے کہ ان میں سے اعلی قدریں غائب ہوجاتی ہیں ۔ اس کے بعد ان کی سوسائٹی سے نظم اور اچھی عادات غائب ہوجاتی ہیں اور وہ اخلاقی اعتبار سے مکمل طور پر تباہ جاتے ہیں ۔ یوں ان کے یہ حالات اس پر منتج ہوتے ہیں کہ ان کی پوری زندگی تباہ ہوجاتی ہے اور اب یہ تباہی قدرتی ہوتی ہے ۔ یہ عین سنت الہیہ ہے ۔
(آیت) ” أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) ” تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا “۔ کسی قوم کا دابر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو سب سے پیچھے آتا ہے یعنی ان کا آخری آدمی ۔ جب آخری آدمی ہی کٹ گیا تو اس سے پہلے کے بدرجہ اولی کٹ گئے ۔
(آیت) ” ِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ “۔ (6 : 45) ، سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے شرک کیا اس لئے قرآن کریم بیشتر مقامات پر مشرکین کو ظال میں سے تعبیر کرتا ہے اور شرک پر ظلم کے لفظ کا اطلاق کرتا ہے ۔
(آیت) ” وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45) اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے “۔ یہ تبصرہ ہے اس بات پر کہ اللہ نے مشرکین کی جڑ کاٹ دی اور یوں انہیں مہلت دیتے دیتے اچانک پکڑ لیا ۔ سوا یہ ہے کہ اللہ کی حمد تو اللہ کے انعام واکرام پر ہوتی ہے ؟ ہاں ‘ لیکن اللہ کی زمین کا تو ظالموں سے پاک ہونا بھی ایک گونہ نعمت ہے ۔ نیز اللہ کی حمد اس کی رحمت پر ہوتی ہے تو زمین کو پاک کردینا بھی سب سے بڑی رحمت ہے ۔
اللہ نے نوح (علیہ السلام) ‘ ہود (علیہ السلام) صالح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی اقوام کو پکڑا ۔ فرعون اور اہل یونان اور اہل روما کر پکڑا اور اسی سنت کے مطابق اس نے دوسری اقوام کو بھی عروج کے بعد پکڑا ۔ پہلے ان کی تہذیب و تمدن کو خوب ترقی دی اور پھر انہیں تباہ وبرباد کردیا ۔ یہ بہرحال اللہ کی تقدیروں کے راز ہیں ۔ لیکن سنت الہیہ عروج وزوال کی اس داستان میں ظاہر ہے اور اللہ اسی کی داستاں یہاں اس اصولی انداز میں ثبت فرماتے ہیں ۔
ان اقوام کی اپنی اپنی تہذبییں تھیں اور اپنے وقت میں ان کو بڑا عروج تھا ۔ ان کو بڑی فراوانی اور دولتمندی حاصل تھی ۔ بعض پہلوؤں سے وہ آج کے ترقی یافتہ دور سے بھی زیادہ خوشحال تھے انہوں نے شان و شوکت اور سازو سامان اور فراوانی حاصل تھی اور وہ اس دھوکے میں تھے کہ وہ یوں ہی رہیں گے ۔ یہ اقوام ان دوسری اقوام کو بھی دھوکے دے رہی تھیں جو خوشحالی اور ترقی کے بارے میں سنت الہیہ سے واقف نہ تھیں ۔
یہ اقوام اس بات کو نہ سمجھ سکیں کہ اس کائنات میں سنت الہیہ کام کرتی ہے ۔ وہ یہ بات بھی نہ سمجھ سکیں کہ انہیں ڈھیل دی جاری ہے ‘ اس سنت کی پالیسی کے عین مطابق ۔ جو لوگ سنت الہیہ کے آسمان میں گردش کر رہے تھے اللہ کی نعمتوں کی بارش نے ان کی آنکھیں چندھیا دی تھیں ۔ شوکت وقوت نے ان کے اندر بہت ہی زیادہ اعتماد پیدا کردیا تھا اور ان خوشحال اقوام کو جو مہلت اور ڈھیل دی گئی تھی اس کی وجہ سے وہ دھوکے میں پڑگئے تھے ۔ یہ لوگ نہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور نہ انہیں اللہ کی معرفت حاصل تھی ۔ یہ لوگ اللہ کی حاکمیت کے خلاف باغی ہوگئے تھے بلکہ انہوں نے حق حاکمیت کا دعوی خود کیا تھا حالانکہ حاکمیت الوہیت کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت ہے ۔ یہ لوگ زمین میں فساد پھیلاتے تھے ‘ لوگوں پر مظالم ڈھاتے تھے اس لئے کہ انہوں نے اللہ کے مقابلے میں حاکمیت کا دعوی خود کرلیا تھا ۔ جب میں امریکہ میں تھا تو میں نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا وہ اس آیت کا مصداق تھا ۔
(آیت) ” فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْء ٍ “ (6 : 44) ” پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انہیں کی گئی تھی ‘ بھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لئے کھول دیئے ‘ ‘۔
یہ منظر جس کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں پر رزق کی فراوانی تھی اور ہر جانب سے بلاحساب سہولیات کا سیلاب تھا جو امڈتا چلا آرہا تھا ۔ یہ منظر امریکہ میں پوری طرح عروج پر تھا ۔
میں نے دیکھا کہ یہ قوم اس خوشحالی پر بےحد مغرور بھی ہے اور ان کے شعور میں یہ بات پوری طرح بیٹھی ہوئی نظر آتی تھی کہ سہولتوں کی یہ بہتات صرف سفید رنگ کے لوگوں کے لئے مخصوص ہے ۔ رنگ دار لوگوں کے ساتھ انکا طرز عمل نہایت متکبرانہ اور وحشیانہ ہوتا ہے ۔ امریکی پورے کرہ ارض کے لوگوں کو اس قدر کم وقعت سمجھتے ہیں جس کے مقابلے میں یہودیوں کا نازی ازم بھی کچھ وقعت نہیں رکھتا حالانکہ یہودی اس کے بارے میں بہت مشہور ہیں اور قومی اور نسلی افتخار ان کا طرہ امتیاز ہے ۔ سفید رنگ امریکیوں کا رویہ رنگ دار امریکیوں کی نسبت یہودیوں سے بھی زیادہ برا اور زیادہ سخت ہے ۔ یہ سختی خصوصا اور زیادہ ہوجاتی ہے جب رنگ دار لوگ مسلمان ہوں۔
امریکہ میں ‘ میں یہ سب کچھ دیکھتا رہا اور یہ توقع کرتا رہا کہ سنت الہیہ ایک دن ضرور اپنا کام کرے گی ۔ مجھے نظر آرہا ہے کہ سنت الہیہ امریکی سوسائٹی کی طرف دھیمی رفتار سے بڑی رھی ہی ہے ۔
(آیت) ’ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ (44) فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (45)
” یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس تھے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے “۔
حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم پر یہ رحم فرمایا کہ اب ان کو مسخ نہ کیا جائے گا اور نہ انہیں بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا ۔ لیکن اللہ کے عذابوں کی کئی اقسام اب بھی آتی رہتی ہیں خصوصا ان اقوام پر جنہیں خوشحالی اور فراوانی دی گئی ہے ۔ ان پر انواع و اقسام کے عذاب آئے دن آتے رہتے ہیں ‘ اس کے باوجود کہ انکے ہاں ضروریات زندگی کی پیداوار حد سے زیادہ ہوچکی ہے اور انہیں رزق اور سہولیات کی بہتات سے نوازا گیا ہے۔
نفسیاتی عذاب ‘ روحانی بےچینی ‘ جنسی بےراہ روی اور اخلاقی بگاڑ جیسے عذابوں نے انہیں تباہ کردیا ہے اور ان کی اس خوشحالی اور مادی پیداوار اور سازوسامان میں بھی ان کے لئے کوئی ذریعہ اطمینان نہیں ہے اور قریب ہے کہ ان کی پوری زندگی بدبختی ‘ قلق و پریشانی میں ڈوب جائے ۔ (دیکھئے میری کتاب اسلام اور مشکلات تہذیب کا باب خبط و اضطراب) اس خوشحالی کے باوجود ان لوگوں کی اخلاقی حالت یہ ہے کہ بڑے بڑے سیاسی راز چند ٹکوں میں بیچ دیئے جاتے ہیں اور پوری قوم کے خلاف جرم خیانت کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور حاصل کیا ہوتا ہے چند لمحوں کی عیاشی ‘ جنسی لذت اور چند ٹکے اور یہ ایسی علامات ہیں کہ مستقبل قریب میں ایسی اقوام کے لئے شدید خطرے کی نشان دہی کرتی ہیں۔
اقوام مغرب کی تباہی کے یہ بالکل ابتدائی آثار ہیں ۔ حضور اکرم ﷺ نے بالکل سچ فرمایا :” جب تم دیکھو کہ جب اللہ کسی کو اس کی بدکرداری کے باوجود سب کچھ دے جو وہ چاہتا ہو ‘ تو سمجھ لو کہ یہ اسے ڈھیل دی جارہی ہے ۔ “ اس کے بعد حضور ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی “ یہاں تک کہ جب ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں وہ خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ ہو ہر چیز سے مایوس ہوگئے ۔ اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ (ابن جریر ابن ابی حاتم)
لیکن یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اہل باطل کو ہلاک کرنے کا اصول اور سنت الہیہ کو اسکیم میں صرف یہ نہیں ہوتا کہ اہل باطل کو نیست ونابود کردیا جائے بلکہ یہ امر بھی اس کا حصہ ہوتا ہے کہ اہل حق قائم اور غالب کردیا جائے اور یہ اہل حق ایک امت کی شکل میں نمودار ہوں ۔ اصل اصول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سچائی کے ذریعے اور اہل حق کے ذریعے باطل پر وار کرتا ہے اور باطل کا سر پھوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ باطل نابود ہوجاتا ہے لہذا اہل حق کو ڈھیلے ہو کر بیٹھ نہ جانا چاہیے اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف سنت الہیہ کا انتظار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ سنت الہیہ بھی اسلامی جدوجہد کے نتیجے میں روبعمل ہوتی ہے ۔ اگر اہل حق بےعمل ہو کر بیٹھ جائیں تو وہ اہل حق نہ رہیں گے اور وہ غلبہ اور باطل کا سر پھوڑنے کے قابل ہی نہ رہیں گے ۔ خصوصا جبکہ وہ سست اور بےعمل ہو کر بیٹھ جائیں ۔ حق تو ایسی امت کی شکل میں نمودار ہوتا ہے جو کرہ ارض پر اللہ کی حاکمیت کے مقام کے لئے جدوجہد کر رہی ہوتی ہے اور ان لوگوں کے مقابلے میں دفاع کررہی ہوتی ہے جنہوں نے اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت قائم کی ہوئی ہوتی ہے جبکہ حاکمیت الہیہ خصائص الوہیت میں سے ایک خاصہ ہے ۔ یہ ہے اصلی اور بنیادی سچائی ۔
(آیت) ” ولولا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لفسدت الارض “۔ (اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض دوسروں کے ذریعے نہ روکتا تو زمین میں فساد برپا ہوجاتا)
اب سیاق کلام مشرکین کو عذاب الہی کے سامنے لاکر کھڑا کردیتا ہے اور عذاب کی یہ مجوزہ شکل ان کی ذات اور ان کے نفوس کے ساتھ متعلق ہے ۔ اس کا تعلق ان کی قوت باصرہ ‘ قوت سامعہ اور قوت ادراک کے ساتھ ہے ۔ تجویز یہ ہے کہ اگر اللہ ان قوتوں کو سلب کرے تو کون ہے جو تمہیں یہ قوتیں لوٹا کر دے دے ‘ کوئی نہیں ہے ۔ اب سوچنے کے بعد وہ بھی یقین کرلیتے ہیں کہ کوئی نہ ہوگا جو انہیں ‘ قوت سماعت ‘ قوت باصرہ اور قوت ادراک دے سکے اگر اللہ ان قوتوں کو چھین لے ۔
الأنعام 6:46
(آیت) ” نمبر 46۔
یہ ایک ایسے منظر کی تصویر کشی ہے جس میں وہ خود اپنے عقائد کے مطابق اللہ کے اس مجوزہ عذاب سے بچنے کی کوئی سبیل نہیں پاتے جبکہ ضمنا یہ بات بھی آجاتی ہے کہ یہ لوگ اللہ کے سوا جن دوسرے لوگوں کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ بھی نہایت ہی عاجز ہیں ۔ البتہ اس منظر میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اس مجوزہ عذاب کی تجویز نے ان لوگوں کو خوب جھنجھوڑا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فطرت انسانی کا خالق ہے ۔ اسے خوب علم ہے کہ اس فطرت کے اندر ادراک حقیقت کی حقیقی قوت بھی موجود ہے اور فطرت انسانی سچائی سے دور نہیں ہے ۔ فطرت انسانی کو اس بات کا ادراک ہے اور علی وجہ البصیرت ہے کہ یہ کام صرف اللہ کرسکتا ہے اور کوئی نہیں ۔ وہ قوت باصرہ ‘ قوت سامعہ اور قوت مدرکہ کو سلب بھی کرسکتا ہے اور لوٹا بھی سکتا ہے اور اس کے سوا کوئی اور یہ کام نہیں کرسکتا ۔
دل کو دہلا دینے اور اعضائے جسم پر کپکپی طاری کردینے والے اس منظر کے ذریعے اور عقیدہ شرک اور اللہ کے شرکاء کی زبوں حالی کا منظر پیش کرنے کے بعد اب سیاق کلام میں اس تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جن لوگوں کے سامنے یہ مناظر اور یہ دلائل رکھے جارہے ہیں وہ پھر بھی بیمار اونٹ کی طرف جھکتے ہیں اور سیدھی راہ پر بھی ٹیڑھے چلتے ہیں ۔
(آیت) ” انظُرْ کَیْْفَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ ثُمَّ ہُمْ یَصْدِفُونَ (46) دیکھو کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔ “ یہ تعجب ان کی جانب سے جادہ حق سے ایک طرف چلنے کے منظر پر کیا جارہا ہے ۔ (یصدفون (6 : 46) کا مفہوم عربوں میں مشہور ہے ۔ فعل صدف کا صدور بیمار اونٹ سے ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان لوگوں کے بارے میں ایک قسم کا بہیمانہ اور قابل نفرت تصور دیا جاتا ہے جو ان کے لئے ایک لطیف توہین ہے ۔
ابھی اس متوقع مجوزہ تصوراتی منظر کے اثرات زائل نہ ہوئے تھے کہ ان کے سامنے اب ایک دوسرا متوقع منظر پیش کردیا جاتا ہے ۔ وہ خود بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس مجوزہ منظر کو عملی شکل دینا اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ اس منظر میں انہیں یہ دکھایا جاتا ہے کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک آگیا تو تم سوچو کہ اس کی زد میں ظالموں کے سوا اور کون آئے گا ؟ مشرکین ہی تو سب سے پہلے تباہ ہوں گے ۔ ایک جھلکی دکھائی جاتی ہے کہ جب اچانک عذاب آتا ہے تو ظالم اور مشرک نابود کردیئے جاتے ہیں ‘ چاہے یہ عذاب اچانک آئے یا اطلاع کے بعد کھلے بندوں آئے ۔
الأنعام 6:47
(آیت) ” نمبر 47۔
ظالموں کو عذاب الہی ہر صورت میں پکڑتا ہے ۔ یہ اچانک بھی آتا ہے جبکہ وہ غفلت میں ہوتے ہیں اور انہیں کوئی توقع نہیں ہوتی اور کبھی ان پر یہ عذاب اعلانیہ آتا ہے اور وہ اس کے لئے پوری طرح تیار بھی ہوتے ہیں ‘ لیکن ظالم اقوام پر تباہی آکر رہتی ہے ۔ (یہ بات یاد رہے کہ قرآن کریم کی تعبیرات کے مطابق ظالمین سے مراد مشرکین ہیں) جب یہ عذاب آتا ہے چاہے اچانک آئے یا اعلانیہ تو پھر اس کے مقابلے میں وہ کوئی بچاؤ نہیں کرسکتے اس لئے کہ عذاب الہی کے مقابلے میں وہ اس قدر ضعیف ہیں کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ نہ ان کے بنائے ہوئے شریک اس عذاب کو روک سکتے ہیں اس لئے کہ جن لوگوں کو یہ لوگ شریک بناتے ہیں وہ تو اللہ کے ضعیف بندے ہیں ۔
یہ ایک متوقع صورت حالات ہے جو قرآن کریم ان کے سامنے اس موثر انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ یہ لوگ اس صورت حال سے ڈر جائیں اور اپنا بچاؤ کرلیں اور اس صورت حالات کے وقوع کے اسباب فراہم کرنے سے باز رہیں ۔ یہ متوقع صورت حال اللہ نے ان لوگوں کے سامنے اس لئے پیش فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ خود انسانی فطرت کے اندر تقوی موجود ہے اور ایسی صورت حالات کے تصور ہی سے انسان کانپ اٹھتا ہے ۔
اب جب یہ لہر ساحل کے قریب پہنچ جاتی ہے اور اس کے اندر ایک دوسرے کے بعد اٹھنے والے مناظر دکھائے جاسکتے ہیں اور موثر ہدایات دی جا چکتی ہیں اور ان ہدایات کے تاثرات سامعین اور ناظرین کے قلوب کی تہہ تک اتر جاتے ہیں تو اب حضرت نبی اکرم ﷺ اور دوسرے رسولوں کے فرائض نبوت کا تعین کردیا جاتا ہے ۔ یہ تعین اس لئے کیا جاتا ہے کہ رسولوں سے انکی اقوام کے لوگ خارق عادت معجزات کا مطالبہ کرتے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ رسول تو صرف مبلغ ہوتے ہیں ‘ خوشخبری دیتے ہیں اور انجام بد سے ڈراتے ہیں ۔ اس فریضہ کی ادائیگی کے بعد اب لوگ خود مختار ہوتے ہیں کہ وہ جو راہ چاہیں اختیار کریں ۔ ان کے اس اختیار تمیزی کے اوپر پھر سزا وجزاء مرتب ہوگی ۔
الأنعام 6:48
(آیت) ” نمبر 48۔ 49۔
دین اسلام کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو ذہنی اور عقلی بلوغ تک پہنچائے اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ اس عظیم قوت کو کام میں لا کر فائدہ اٹھائیں جو اللہ نے صرف انسان کو دی ہے اور اسے پوری طرح اس سچائی کے سمجھنے میں استعمال کریں جو اس کائنات کے صفحات میں موجود ہے ۔ خود زندگی کے طور طریقوں کے اندر موجود ہے اور انسان کی تخلیق کے رازوں میں پوشیدہ ہے ۔ یہ راز قرآن مجید نے سب سے پہلے انسانوں پر کھولے اور انسان کی قوت مدرکہ کو ان کی طرف متوجہ کیا ۔
یہ وجہ ہے کہ لوگوں کو حسی خارق عادت معجزات سے نکال کر عقلی میدان میں داخل کیا گیا ۔ حسی معجزات کے نتیجے میں انسان یقین کرنے پر مجبور تو ہوجاتا ہے لیکن اصل حقیقت اس کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ انسان کی گردن ظاہری خارق عادت واقعہ کے سامنے جھک جاتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں دین اسلام نے عقل انسانی کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی کاریگریوں کا مطالعہ کرے اور انہیں سمجھنے کی سعی کرے ۔ اس لئے کہ اس کائنات کی راز بذات خود معجزات ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ یہ معجزات ہر وقت ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔ اور ان کے صدور پر یہ کائنات قائم ہے اور اس کے عناصر ترکیبی انہیں قدرتی بوقلمونیوں پر مشتمل ہیں ۔ اسلام نے انسان کو یہ قوت مدرکہ اور یہ ملکہ بذریعہ کتاب الہی عطا کیا ۔ اپنے انداز بیان اور طرز تعبیر کے اعتبار سے یہ کتاب معجز ہے ۔ اس کا اسلوب بھی معجزے اور اس کی اجتماعی ساخت اور متحرک انداز بیاں اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ اس کی ساخت بےمثال ہے اور قرآن کے نزول کے بعد آج تک اس کی کوئی مثال نہیں لائی جاسکی ۔
انسان کو عقلی بلوغ کے مقام تک پہنچانے کے لئے طویل تربیت اور مسلسل ہدایت کی ضرورت تھی تاکہ انسان کی قوت مدرکہ کہ اندر یہ مطلوب عظیم انقلاب رویہ عمل لایا جاسکے ‘ اور انسانیت ترقی کے مقام بلند تک پہنچ سکے اور انسان خود اپنی قوت مدرکہ کے ساتھ اس کائنات اور موجودات کے اس مسلسل سفر کو سمجھ سکے ۔ لیکن قرآنی ہدایات کی روشنی میں قرآنی ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی روشنی میں انسان سفر کائنات کو مثبت واقعیت سے اور اچانک ایک مختصر عرصے میں سمجھ سکے اور اس کی یہ سمجھ اور اس کا یہ ادراک ان فلسفوں کے تصور اور ادراک سے بالکل مختلف ہو جو اس وقت رائج تھے ۔ مثلا یونانی اور مسیحی لاہوتی فلسفے یا محض حسی اور مادی تصور کائنات جو اس دور میں ہندی ‘ مصری ‘ مجوسی اور بودھ فلسفوں کی شکل میں رائج تھے اور انسانوں کو رنگ وبو کے اس محدود دائرے سے بھی نکال دے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں عام تھے ۔
یہ ہدایت وتربیت حضرت رسول اللہ ﷺ کے فرائض میں سے تھی اور جس طرح ان دو آیات کے اندر اس کی وضاحت کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ کا اصل کردار یہ تھا ۔ اس کی مزید تشریح اگلی لہر میں بھی آپ دیکھیں گے ۔ خلاصہ یہ کہ رسول انسان ہوتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ دنیاوالوں کی طرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ انہیں اچھے انجام کی خوشخبری دے اور برے انجام سے ڈرائے ، ان امور پر اس کا فریضہ رسالت ختم ہوجاتا ہے ۔ اب آگے لوگوں کا فریضہ شروع ہوجاتا ہے کہ وہ رسول کی دعوت کو قبول کریں ۔ لوگوں کی جانب سے قبولیت اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہوتی ہے اور اس دعوت کے مقابلے میں جو شخص جو رویہ بھی اختیار کرے گا اس پر جزا ملے گی یا سزا ہوگی ۔ لہذا جو ایمان لے آئے اور ایسے نیک کام کرے جن سے اس کے ایمان کا اظہار ہو تو اس کا انجام اطمینان بخش ہوگا اور وہ کسی خوف سے دوچار نہ ہوگا نہ اسے بےاطمینانی ہوگی ۔ جن لوگوں نے ان آیات کو جھٹلایا جو رسول لے کر آتا ہے اور جن کے اشارات کتاب کائنات کے اندر موجود ہوتے ہیں تو وہ لوگ عذاب سے دوچار ہوں گے ۔ اور یہ عذاب اور سزا ان کو ان کی اس تکذیب کیوجہ سے دی جائے گی اور اس کی تعبیریوں کی گئی بما کانوا یفسقون (اس وجہ سے کہ انہوں نے فسق اختیار کیا تھا جس سے مراد کفر ہے) ۔ قرآن کریم میں اکثر مقامات پر شرک پر ظلم کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور کفر پر فسق کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے ۔
یہ ایک نہایت ہی واضح اور سیدھا سادا تصور ہے جس کے اندر کوئی پیچیدگی نہیں ہے ۔ رسول کے مقام اور اس کے فرائض کے بارے میں یہ ایک واضح نشاندہی ہے کہ دین میں رسول کا کیا مقام وحیثیت ہے اور اس کے فرائض کیا ہیں ؟ یہ ایک ایسا تصور ہے کہ جس کے مطابق مقام الوہیت صرف اللہ کے لئے مخصوص ہے ‘ اپنے تمام خصائص کے ساتھ اور تمام کاموں کو اللہ کی تقدیر اور فیصلوں پر موقوف کردیا جاتا ہے ۔ اللہ کی تقدیر اور مشیت کے دائرے کے اندر انسان کو سوچ اور فیصلے کی آزادی بھی دی گئی ہے اس وجہ سے انسان مسئول ہوجاتا ہے اور جزاء وسزا کے نتائج اس کے اعمال پر مرتب ہوتے ہیں ۔ اس واضح تصور سے ان پیچیدہ تصورات کی مکمل نفی ہوجاتی ہے جو بعض لوگوں میں رسولوں کی شخصیت اور طبیعت کے بارے میں غلط فلسفوں کے نتیجے میں رائج ہیں یا دور جاہلیت میں رائج تھے جو یہ توقع کرتے تھے کہ اگر رسول برحق ہے تو معجزے کیوں نہیں لاتا ؟ اور لوگ اس کے مطیع فرمان کیوں نہیں ہوتے ؟ یوں اسلام نے انسان کو عقلی بلوغ کے دور میں داخل کیا اور نہایت ہی سادہ انداز میں ‘ بغیر اس کے کہ وہ پیچیدہ ذہنی اور فلسفیانہ تصورات میں گم ہو ‘ یا لاہوتی جدلیات و مباحث میں پڑ کر اپنی قوت مدرکہ کو ضائع کرے جس طرح قرون مظلمہ میں ہوتا رہا ہے ۔
درس نمبر 61 ایک نظر میں :
اس لہر میں حقیقت رسالت کے بیان کا باقی حصہ دیا گیا ہے ۔ مشرکین عرب کو یہ سمجھایا جارہا ہے کہ رسالت کی حقیقت کیا ہوتی ہے اور رسول کا مزاج کیا ہوتا ہے اور یہ حقیقت ان کو سمجھانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ یہ لوگ رسول اکرم ﷺ سے خارق عادت معجزات کا مطالبہ کرتے تھے ۔ سابقہ لہر میں ان کا تذکرہ ہوچکا ہے ۔ یہاں رسالت کے بارے میں ان کے جو جاہلانہ تصورات تھے ان کی مزید درستی کی جارہی ہے ۔ خصوصا یہ وضاحت کردی جاتی ہے کہ رسول بشر ہوتے ہیں اور تمام رسول بشر ہی گزرے ہیں اس لئے کہ عربوں اور انکے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیتوں کے اندر حقیقت رسالت کے بارے میں بہت کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں ۔ ان تصورات کی وجہ سے یہ لوگ حقیقت رسالت حقیقت وحی اور حقیقت نبوت اور ذات رسل کے بارے میں جادہ حق سے بہت دور نکل چکے تھے اور تمام لوگ خرافات اور قصے کہانیوں کی دنیا میں داخل ہو کر گمراہ ہوچکے تھے ۔ انہوں نے نبوت اور رسالت کو سحر اور جادوگری سے ملا دیا تھا ۔ وحی کو وہ جنون سے بھی تعبیر کرتے تھے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہوتا تھا کہ رسول غیب کی خبریں دیا کرتا ہے ۔ رسول وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ سے خوارق اور معجزات صادر ہوتے ہیں اور اسے وہ کام کرنے چاہئیں جو جنات کے عامل اور جادوگر کیا کرتے ہیں ۔ جب اسلامی نظریہ حیات آیا تو اس نے باطل عقائد پر بمباری کرکے باطل کا سر پھوڑ کر رکھ دیا اور ایمان کو اس کی سادگی ‘ واقعیت ‘ سچائی اور اس کی وضاحت لوٹا کر دے دی ۔ یوں ایک نبی کی سچی تصویر سامنے آئی اور نبوت کا واضح تصور دنیا نے پایا اور تمام خرافات اور قصے کہانیوں اور وہمی دیومالائی تصورات سے انسان نے نجات پائی جو اس وقت دنیا پر پوری طرح چھائے ہوئے تھے ۔ مشرکین کے ہاں رائج تصورات وہ تھے جو ان کے قرب و جوار میں یہودیوں اور عیسائیوں کے اندر بالعموم پائے جاتے تھے ۔ ان دونوں ملتوں کے اندر بھی بہت سی شاخیں اور فرقے تھے ۔ لیکن تمام فرقوں کے اندر حقیقت نبوت کو بگاڑنا قدر مشترک تھی ۔
اس لہر میں حقیقت رسالت اور حقیقت رسول ﷺ کو باطل ادہام و خرافات سے پاک وصاف کر کے پیش کرنے کے بعد اب اسلامی نظریہ حیات کو بھی نہایت ہی سادہ انداز میں پیش کردیا جاتا ہے ۔ اسے بغیر کسی مبالغہ اور بغیر کسی بناوٹ کے اپنے سادہ اور حقیقی خدوخال کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ جو اس نظریہ کے پیش کرنے والے ہیں وہ بھی تو انسان ہیں ۔ ان کے پاس دنیا کے خزانے نہیں ہیں ۔ وہ غیب کا علم نہیں رکھتے ‘ نہ ان کا یہ دعوی ہے کہ وہ فرشتے ہیں ۔ وہ تو صرف اپنے رب کی طرف سے ہدایات اخذ کرتے ہیں اور صرف اسی کے حکم کا منبع ہیں ۔ ان کے پاس سارا علم بذریعہ وحی رب کی طرف سے ان کے پاس آجاتا ہے ۔ جو لوگ آپ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں وہ لوگوں کے نزدیک نہایت ہی مکرم ہیں ۔ اس لئے رسول کا بھی فرض ہے کہ وہ انہیں اپنے ساتھ جوڑے رکھے اور ان کا خیر مقدم کرے ۔ انہیں یہ خوشخبری دے کہ اللہ نے اپنے اوپر یہ فرض کرلیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ نہایت ہی رحیمانہ سلوک کرے گا ۔ نیز رسول کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کو ڈرائے جن کے دلوں کے اندر خوف خدا موجود ہے اور جو آخرت کی جوابدہی کے قائل ہیں تاکہ وہ خدا خوفی کے اعلی مقام تک پہنچ جائیں ۔ بس یہی ہے رسول اللہ کا فریضہ اور اس کی ڈیوٹی اور اس کی حقیقت دو لفظوں کے اندر منحصر ہے ۔ ” بشریت “ اور ” اخذوحی “ ان دو لفظوں کے اندر رسول کی حقیقت بھی بیان کردی گئی اور رسول کے فرائض منصبی کے حدود کا بھی تعین کردیا گیا ۔ فکر کی اس درستی اور انجام بد کی نشاندہی کے ساتھ ہی مجرمین کی راہ میں بھی متعین ہوجاتی ہے اور مومنین اور مجرمین کی راہیں ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں ۔ حق و باطل ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں اور حقیقت رسول اور منصب رسالت کے بارے میں تمام ادہام و خرافات کا رد ہوجاتا ہے ۔ نہایت ہی واضح طور پر مومنین اور غیر مومنین کے درمیان لکیر کھینچ جاتی ہے ‘ کھلے طور پر ۔
ان حقائق کی وضاحت کے ساتھ ساتھ مقام الوہیت کے بعد پہلو بھی لوگوں کے سامنے رکھ دیئے جاتے ہیں ۔ رسول خدا اور خدا کے درمیان تعلق کی نوعیت بھی بتا دی جاتی ہے ۔ نیز رسول اور اس کے متبعین اور اس کے مخالفین کے ساتھ اس کے تعلق کی حدود اور نوعیت کا بھی تعین کردیا جاتا ہے ۔ یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ متبعین کا رنگ ڈھنگ کیا ہوتا ہے اور گمراہوں کے طور طریقے کیا ہوتے ہیں ۔ جو لوگ ہدایت پانے والے ہیں وہ آنکھوں والے ہوتے ہیں اور جو گمراہ ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں ۔ اللہ نے اپنے اوپر اپنے مومن بندوں کے لئے رحمت فرض کردی ہے اور اگر ان میں سے کوئی تائب ہوجائے تو اللہ اسے ضرور معاف فرماتے ہیں ‘ اگرچہ انہوں نے معاصی کا ارتکاب کیا ہو ‘ بشرطیکہ یہ ارتکاب انہوں نے جہالت کی وجہ سے کیا ہو اور توبہ کے بعد وہ اصلاح کی راہ اپنائیں ۔ نیز اللہ مجرموں کی روش کو اچھی طرح واضح کرنا چاہتے ہیں ۔ لہذا جو بھی ایمان لاتا ہے وہ علی وجہ البصیرت ایمان لائے اور جو گمراہ ہوتا ہے وہ بھی علی وجہ البصیرت گمراہ ہو۔ ہر شخص جو موقف بھی اختیار کرے ، سوچ کر کرے ۔ کسی غلط فہمی اور کسی گمان وتخمین کی بنیاد نہ ہو۔
الأنعام 6:49
(آیت) ” نمبر 48۔ 49۔
دین اسلام کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو ذہنی اور عقلی بلوغ تک پہنچائے اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ اس عظیم قوت کو کام میں لا کر فائدہ اٹھائیں جو اللہ نے صرف انسان کو دی ہے اور اسے پوری طرح اس سچائی کے سمجھنے میں استعمال کریں جو اس کائنات کے صفحات میں موجود ہے ۔ خود زندگی کے طور طریقوں کے اندر موجود ہے اور انسان کی تخلیق کے رازوں میں پوشیدہ ہے ۔ یہ راز قرآن مجید نے سب سے پہلے انسانوں پر کھولے اور انسان کی قوت مدرکہ کو ان کی طرف متوجہ کیا ۔
یہ وجہ ہے کہ لوگوں کو حسی خارق عادت معجزات سے نکال کر عقلی میدان میں داخل کیا گیا ۔ حسی معجزات کے نتیجے میں انسان یقین کرنے پر مجبور تو ہوجاتا ہے لیکن اصل حقیقت اس کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ انسان کی گردن ظاہری خارق عادت واقعہ کے سامنے جھک جاتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں دین اسلام نے عقل انسانی کو اس طرف متوجہ کیا کہ وہ اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی کاریگریوں کا مطالعہ کرے اور انہیں سمجھنے کی سعی کرے ۔ اس لئے کہ اس کائنات کی راز بذات خود معجزات ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ یہ معجزات ہر وقت ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔ اور ان کے صدور پر یہ کائنات قائم ہے اور اس کے عناصر ترکیبی انہیں قدرتی بوقلمونیوں پر مشتمل ہیں ۔ اسلام نے انسان کو یہ قوت مدرکہ اور یہ ملکہ بذریعہ کتاب الہی عطا کیا ۔ اپنے انداز بیان اور طرز تعبیر کے اعتبار سے یہ کتاب معجز ہے ۔ اس کا اسلوب بھی معجزے اور اس کی اجتماعی ساخت اور متحرک انداز بیاں اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ اس کی ساخت بےمثال ہے اور قرآن کے نزول کے بعد آج تک اس کی کوئی مثال نہیں لائی جاسکی ۔
انسان کو عقلی بلوغ کے مقام تک پہنچانے کے لئے طویل تربیت اور مسلسل ہدایت کی ضرورت تھی تاکہ انسان کی قوت مدرکہ کہ اندر یہ مطلوب عظیم انقلاب رویہ عمل لایا جاسکے ‘ اور انسانیت ترقی کے مقام بلند تک پہنچ سکے اور انسان خود اپنی قوت مدرکہ کے ساتھ اس کائنات اور موجودات کے اس مسلسل سفر کو سمجھ سکے ۔ لیکن قرآنی ہدایات کی روشنی میں قرآنی ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی روشنی میں انسان سفر کائنات کو مثبت واقعیت سے اور اچانک ایک مختصر عرصے میں سمجھ سکے اور اس کی یہ سمجھ اور اس کا یہ ادراک ان فلسفوں کے تصور اور ادراک سے بالکل مختلف ہو جو اس وقت رائج تھے ۔ مثلا یونانی اور مسیحی لاہوتی فلسفے یا محض حسی اور مادی تصور کائنات جو اس دور میں ہندی ‘ مصری ‘ مجوسی اور بودھ فلسفوں کی شکل میں رائج تھے اور انسانوں کو رنگ وبو کے اس محدود دائرے سے بھی نکال دے جو نزول قرآن کے وقت عربوں میں عام تھے ۔
یہ ہدایت وتربیت حضرت رسول اللہ ﷺ کے فرائض میں سے تھی اور جس طرح ان دو آیات کے اندر اس کی وضاحت کی گئی کہ رسول اللہ ﷺ کا اصل کردار یہ تھا ۔ اس کی مزید تشریح اگلی لہر میں بھی آپ دیکھیں گے ۔ خلاصہ یہ کہ رسول انسان ہوتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ دنیاوالوں کی طرف اس لئے بھیجتے ہیں کہ وہ انہیں اچھے انجام کی خوشخبری دے اور برے انجام سے ڈرائے ، ان امور پر اس کا فریضہ رسالت ختم ہوجاتا ہے ۔ اب آگے لوگوں کا فریضہ شروع ہوجاتا ہے کہ وہ رسول کی دعوت کو قبول کریں ۔ لوگوں کی جانب سے قبولیت اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہوتی ہے اور اس دعوت کے مقابلے میں جو شخص جو رویہ بھی اختیار کرے گا اس پر جزا ملے گی یا سزا ہوگی ۔ لہذا جو ایمان لے آئے اور ایسے نیک کام کرے جن سے اس کے ایمان کا اظہار ہو تو اس کا انجام اطمینان بخش ہوگا اور وہ کسی خوف سے دوچار نہ ہوگا نہ اسے بےاطمینانی ہوگی ۔ جن لوگوں نے ان آیات کو جھٹلایا جو رسول لے کر آتا ہے اور جن کے اشارات کتاب کائنات کے اندر موجود ہوتے ہیں تو وہ لوگ عذاب سے دوچار ہوں گے ۔ اور یہ عذاب اور سزا ان کو ان کی اس تکذیب کیوجہ سے دی جائے گی اور اس کی تعبیریوں کی گئی بما کانوا یفسقون (اس وجہ سے کہ انہوں نے فسق اختیار کیا تھا جس سے مراد کفر ہے) ۔ قرآن کریم میں اکثر مقامات پر شرک پر ظلم کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور کفر پر فسق کے لفظ کا اطلاق ہوتا ہے ۔
یہ ایک نہایت ہی واضح اور سیدھا سادا تصور ہے جس کے اندر کوئی پیچیدگی نہیں ہے ۔ رسول کے مقام اور اس کے فرائض کے بارے میں یہ ایک واضح نشاندہی ہے کہ دین میں رسول کا کیا مقام وحیثیت ہے اور اس کے فرائض کیا ہیں ؟ یہ ایک ایسا تصور ہے کہ جس کے مطابق مقام الوہیت صرف اللہ کے لئے مخصوص ہے ‘ اپنے تمام خصائص کے ساتھ اور تمام کاموں کو اللہ کی تقدیر اور فیصلوں پر موقوف کردیا جاتا ہے ۔ اللہ کی تقدیر اور مشیت کے دائرے کے اندر انسان کو سوچ اور فیصلے کی آزادی بھی دی گئی ہے اس وجہ سے انسان مسئول ہوجاتا ہے اور جزاء وسزا کے نتائج اس کے اعمال پر مرتب ہوتے ہیں ۔ اس واضح تصور سے ان پیچیدہ تصورات کی مکمل نفی ہوجاتی ہے جو بعض لوگوں میں رسولوں کی شخصیت اور طبیعت کے بارے میں غلط فلسفوں کے نتیجے میں رائج ہیں یا دور جاہلیت میں رائج تھے جو یہ توقع کرتے تھے کہ اگر رسول برحق ہے تو معجزے کیوں نہیں لاتا ؟ اور لوگ اس کے مطیع فرمان کیوں نہیں ہوتے ؟ یوں اسلام نے انسان کو عقلی بلوغ کے دور میں داخل کیا اور نہایت ہی سادہ انداز میں ‘ بغیر اس کے کہ وہ پیچیدہ ذہنی اور فلسفیانہ تصورات میں گم ہو ‘ یا لاہوتی جدلیات و مباحث میں پڑ کر اپنی قوت مدرکہ کو ضائع کرے جس طرح قرون مظلمہ میں ہوتا رہا ہے ۔
درس نمبر 61 ایک نظر میں :
اس لہر میں حقیقت رسالت کے بیان کا باقی حصہ دیا گیا ہے ۔ مشرکین عرب کو یہ سمجھایا جارہا ہے کہ رسالت کی حقیقت کیا ہوتی ہے اور رسول کا مزاج کیا ہوتا ہے اور یہ حقیقت ان کو سمجھانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ یہ لوگ رسول اکرم ﷺ سے خارق عادت معجزات کا مطالبہ کرتے تھے ۔ سابقہ لہر میں ان کا تذکرہ ہوچکا ہے ۔ یہاں رسالت کے بارے میں ان کے جو جاہلانہ تصورات تھے ان کی مزید درستی کی جارہی ہے ۔ خصوصا یہ وضاحت کردی جاتی ہے کہ رسول بشر ہوتے ہیں اور تمام رسول بشر ہی گزرے ہیں اس لئے کہ عربوں اور انکے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیتوں کے اندر حقیقت رسالت کے بارے میں بہت کچھ غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں ۔ ان تصورات کی وجہ سے یہ لوگ حقیقت رسالت حقیقت وحی اور حقیقت نبوت اور ذات رسل کے بارے میں جادہ حق سے بہت دور نکل چکے تھے اور تمام لوگ خرافات اور قصے کہانیوں کی دنیا میں داخل ہو کر گمراہ ہوچکے تھے ۔ انہوں نے نبوت اور رسالت کو سحر اور جادوگری سے ملا دیا تھا ۔ وحی کو وہ جنون سے بھی تعبیر کرتے تھے ۔ ان کا عقیدہ یہ ہوتا تھا کہ رسول غیب کی خبریں دیا کرتا ہے ۔ رسول وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ سے خوارق اور معجزات صادر ہوتے ہیں اور اسے وہ کام کرنے چاہئیں جو جنات کے عامل اور جادوگر کیا کرتے ہیں ۔ جب اسلامی نظریہ حیات آیا تو اس نے باطل عقائد پر بمباری کرکے باطل کا سر پھوڑ کر رکھ دیا اور ایمان کو اس کی سادگی ‘ واقعیت ‘ سچائی اور اس کی وضاحت لوٹا کر دے دی ۔ یوں ایک نبی کی سچی تصویر سامنے آئی اور نبوت کا واضح تصور دنیا نے پایا اور تمام خرافات اور قصے کہانیوں اور وہمی دیومالائی تصورات سے انسان نے نجات پائی جو اس وقت دنیا پر پوری طرح چھائے ہوئے تھے ۔ مشرکین کے ہاں رائج تصورات وہ تھے جو ان کے قرب و جوار میں یہودیوں اور عیسائیوں کے اندر بالعموم پائے جاتے تھے ۔ ان دونوں ملتوں کے اندر بھی بہت سی شاخیں اور فرقے تھے ۔ لیکن تمام فرقوں کے اندر حقیقت نبوت کو بگاڑنا قدر مشترک تھی ۔
اس لہر میں حقیقت رسالت اور حقیقت رسول ﷺ کو باطل ادہام و خرافات سے پاک وصاف کر کے پیش کرنے کے بعد اب اسلامی نظریہ حیات کو بھی نہایت ہی سادہ انداز میں پیش کردیا جاتا ہے ۔ اسے بغیر کسی مبالغہ اور بغیر کسی بناوٹ کے اپنے سادہ اور حقیقی خدوخال کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ جو اس نظریہ کے پیش کرنے والے ہیں وہ بھی تو انسان ہیں ۔ ان کے پاس دنیا کے خزانے نہیں ہیں ۔ وہ غیب کا علم نہیں رکھتے ‘ نہ ان کا یہ دعوی ہے کہ وہ فرشتے ہیں ۔ وہ تو صرف اپنے رب کی طرف سے ہدایات اخذ کرتے ہیں اور صرف اسی کے حکم کا منبع ہیں ۔ ان کے پاس سارا علم بذریعہ وحی رب کی طرف سے ان کے پاس آجاتا ہے ۔ جو لوگ آپ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں وہ لوگوں کے نزدیک نہایت ہی مکرم ہیں ۔ اس لئے رسول کا بھی فرض ہے کہ وہ انہیں اپنے ساتھ جوڑے رکھے اور ان کا خیر مقدم کرے ۔ انہیں یہ خوشخبری دے کہ اللہ نے اپنے اوپر یہ فرض کرلیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ نہایت ہی رحیمانہ سلوک کرے گا ۔ نیز رسول کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کو ڈرائے جن کے دلوں کے اندر خوف خدا موجود ہے اور جو آخرت کی جوابدہی کے قائل ہیں تاکہ وہ خدا خوفی کے اعلی مقام تک پہنچ جائیں ۔ بس یہی ہے رسول اللہ کا فریضہ اور اس کی ڈیوٹی اور اس کی حقیقت دو لفظوں کے اندر منحصر ہے ۔ ” بشریت “ اور ” اخذوحی “ ان دو لفظوں کے اندر رسول کی حقیقت بھی بیان کردی گئی اور رسول کے فرائض منصبی کے حدود کا بھی تعین کردیا گیا ۔ فکر کی اس درستی اور انجام بد کی نشاندہی کے ساتھ ہی مجرمین کی راہ میں بھی متعین ہوجاتی ہے اور مومنین اور مجرمین کی راہیں ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں ۔ حق و باطل ایک دوسرے سے جدا ہوجاتے ہیں اور حقیقت رسول اور منصب رسالت کے بارے میں تمام ادہام و خرافات کا رد ہوجاتا ہے ۔ نہایت ہی واضح طور پر مومنین اور غیر مومنین کے درمیان لکیر کھینچ جاتی ہے ‘ کھلے طور پر ۔
ان حقائق کی وضاحت کے ساتھ ساتھ مقام الوہیت کے بعد پہلو بھی لوگوں کے سامنے رکھ دیئے جاتے ہیں ۔ رسول خدا اور خدا کے درمیان تعلق کی نوعیت بھی بتا دی جاتی ہے ۔ نیز رسول اور اس کے متبعین اور اس کے مخالفین کے ساتھ اس کے تعلق کی حدود اور نوعیت کا بھی تعین کردیا جاتا ہے ۔ یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ متبعین کا رنگ ڈھنگ کیا ہوتا ہے اور گمراہوں کے طور طریقے کیا ہوتے ہیں ۔ جو لوگ ہدایت پانے والے ہیں وہ آنکھوں والے ہوتے ہیں اور جو گمراہ ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں ۔ اللہ نے اپنے اوپر اپنے مومن بندوں کے لئے رحمت فرض کردی ہے اور اگر ان میں سے کوئی تائب ہوجائے تو اللہ اسے ضرور معاف فرماتے ہیں ‘ اگرچہ انہوں نے معاصی کا ارتکاب کیا ہو ‘ بشرطیکہ یہ ارتکاب انہوں نے جہالت کی وجہ سے کیا ہو اور توبہ کے بعد وہ اصلاح کی راہ اپنائیں ۔ نیز اللہ مجرموں کی روش کو اچھی طرح واضح کرنا چاہتے ہیں ۔ لہذا جو بھی ایمان لاتا ہے وہ علی وجہ البصیرت ایمان لائے اور جو گمراہ ہوتا ہے وہ بھی علی وجہ البصیرت گمراہ ہو۔ ہر شخص جو موقف بھی اختیار کرے ، سوچ کر کرے ۔ کسی غلط فہمی اور کسی گمان وتخمین کی بنیاد نہ ہو۔
الأنعام 6:50
(آیت) ” نمبر 50۔
اہل مکہ میں سے معاندین اور مخالفین رسول اللہ ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ ﷺ ان کے سامنے کوئی خارق عادت معجزہ پیش کردیں تو وہ آپ کی دعوت کو قبول کرلیں گے ۔ لیکن جیسا کہ اس سے قبل بتایا جا چکا ہے کہ اہل مکہ کو آپ کی صداقت میں ذرہ برابر شک نہ تھا ۔ یہ محض بہانہ سازی تھی ۔ کبھی وہ اس مطالبے کا مخصوص طور پر ذکر کرتے تھے اور وہ یہ کہ آپ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کو سونے میں تبدیل کردیں ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ان پہاڑیوں کو مکہ سے غائب کردیا جائے ‘ ان کی جگہ سرسبز و شاداب زمین بن جائے اور اس میں فصل اور پھل اگ آئے ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ انہیں کچھ غیبی امور کی اطلاع کردیں ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے کہ ان کے سامنے فرشتہ آجائے ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے کہ قرآن کریم کتابی صورت میں لکھا ہوا ان کے سامنے آپ پر نازل ہوجائے ‘ وہ اسے پڑھ لیں اور نازل ہوتے ہوئے دیکھ بھی لیں ۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے مطالبات دراصل وہ اس لئے کرتے تھے کہ ان کے نیچے وہ اپنے بغض وعناد کو چھپالیں جس کی وجہ سے وہ مان کر نہ دیتے تھے ۔
یہ مطالبات ان کے ذہن میں ان تصورات کی وجہ سے پیدا ہوتے تھے ‘ جو عربوں کے اردگرد پھیلی ہوئی جاہلیتوں نے ‘ حقیقت رسالت اور شخصیت رسول کے ساتھ غلط طور پر وابستہ کر رکھے تھے ۔ ان تمام وہمی تصورات کو اہل کتاب نے اپنے ہاں تصور نبوت میں جگہ دے رکھی تھی ‘ اور انہوں نے ان ہدایات کو ترک کردیا تھا جو اہل کتاب کے پاس ان کے رسول لے کر آتے رہے تھے ۔
دنیا میں رائج مختلف جاہلیتوں میں بہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو خود نبی بنا کر پیش کیا تھا اور بعض سادہ لوح اقوام نے ان کو نبی تسلیم بھی کرلیا تھا ۔ ان لوگوں پر جادوگروں ‘ کاہنوں ‘ اہل نجوم اور جنات والوں کے دعوے شامل تھے جنہوں نے نبوت کا دعوی کیا۔ اس قسم کے تمام نبیوں نے ہمیشہ عالم الغیب ہونے کا دعوی کیا ‘ مزید یہ کہ انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ روحیں ان کے قبضے میں ہیں اور جنات کے ساتھ ان کے رابطے ہیں اور یہ کہ وہ تعویذوں اور گنڈوں کے ذریعے نظام قدرت کو تبدیل کرسکتے ہیں یا یہ کہ وہ عبادات اور دعاؤں کے ذریعہ کار سازی کرسکتے ہیں یا دوسرے خفیہ ذرائع سے مقصد برآری کرسکتے ہیں ۔ یہ تمام مذاہب جس امر پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ یہ لوگ متبعین کو وہم میں مبتلا کرتے ہیں اور راہ حق سے انہیں گمراہ کرتے ہیں ۔ ہاں اس وہم پرستی اور ضلالت کی شکلیں مختلف ہوسکتی ہیں ۔
جادوگروں کی نبوت کا تعلق ہمیشہ ارواح خبیثہ کے ساتھ ہوا کرتا تھا ۔ یہ جادوگر ان خبیث روحوں کے ساتھ تعلقات استوار کرتے تاکہ نامعلوم امور کو معلوم کرسکیں یا یہ کہ وہ واقعات و حالات پر اثر انداز ہو سکیں ۔ کاہنوں کی نبوت کی شکل یہ ہوتی کہ اس کا تعلق بعض خداؤں سے ہوتا ۔ یہ خدا کاہن کے ماتحت نہیں ہوتے نہ اس کے قبضے میں ہوتے ہیں لیکن وہ اس کی درخواست اور عبادت کو قبول کرتے ہیں اور کاہن کو جو مسائل درپیش ہوتے ہیں انہیں وہ سوتے ہیں یا حالت بیداری میں حل کردیتے ہیں اور اسے بعض اشارات یا خوابوں کے ذریعہ ہدایات دیتے ہیں ۔ لیکن کاہن کی تمام درخواستیں اور دعائیں قبول نہیں ہوتیں ۔ یہ دونوں قسم کی نبوتیں جذب وجنون کی نبوت سے بالکل مختلف ہوتی ہیں ۔ اس لئے کہ ساحر اور کاہن دونوں جو طلب کرتے ہیں وہ اسے خود سمجھتے ہیں ۔ وہ بالا ارادہ دعا کرتے ہیں جو بھی کرتے ہیں یا وہ جو عزم و ارادہ کرتے ہیں سوچ سمجھ کر کرتے ہیں لیکن جذب وجنون کا نبی جذب وجنون کے ہاتھوں بےبس ہوتا ہے ۔ اس کی زبان سے مبہم قسم کی باتیں نکلتی ہیں ۔ وہ بالارادہ یہ باتیں نہیں کرتا ۔ بعض اوقات شاید وہ سمجھتا بھی نہیں کہ وہ کیا کہتا ہے ۔ اکثر اقوام میں یوں ہوتا ہے کہ جذب وجنون میں سرشار نبی کے ساتھ ایک مفسر ہوتا ہے جو اس مجذوب کے کلام کو سمجھنے کا دعوی کرتا ہے ۔ یونانی زبان میں ایسے نبی کو مانتی (Manti) اور اس کے شارح کو پر افٹ (Prophet) کہا جاتا ہے ۔ لغوی مفہوم یہ ہے ” وہ جو دوسرے کی جانب سے بطور نائب بات کرتا ہے ۔ “ اسی لفظ کو اہل یورپ نے نبوت کے مختلف معنوں میں اپنے ہاں رائج کیا۔ کاہن اور مجذوب کبھی بھی ایک دوسرے کے ساتھ متفق نہیں ہوئے ۔ ہاں ایک صورت ایسی ہے کہ کاہن اور مجذوب باہم متفق ہوجاتے ہیں ۔ یہ اس وقت ہوتا ہے کہ جب مجذوب کا شارح کلام ‘ کاہن ہو اور اس کی ڈیوٹی یہ ہو کہ وہ مجذوب کے اشارات ومضامین کی تشریح کرے گا ۔ اکثر اوقات ان کے درمیان اختلاف ہوجاتا ہے اور ان کے درمیان تنازعات برپا ہوجاتے ہیں کیونکہ ان دونوں کی معاشرتی ذمہ داریاں جدا ہوتی ہیں اور ان کی تربیت مختلف حالات میں ہوئی ہوتی ہے ۔ مجذوب ایک انقلابی مزاج رکھتا ہے اور وہ عادات اور سوشل مراسم کا پابند نہیں ہوتا جبکہ کاہن سوشل مراسم کا پابند اور محافظ ہوتا ہے کیونکہ اکثر اوقات یہ کہانت اسے ورثے میں ملتی ہے ۔ اس کے آباؤاجداد بھی کاہن ہوتے ہیں۔ کہانت ایسے معاشرے میں چلتی ہے جو کسی علاقے میں قریب وبعید صومعے یا ہیکل سے متاثر ہو جبکہ جذب کسی معاشرے اور رسم کا پابند نہیں ہوتا کیونکہ صاحب جذب بعض اوقات پوری دنیا سے کٹ جاتا ہے اور اس کی موجودہ صورت حالات اسے اپنے اردگرد سوسائٹی سے کاٹ دیتی ہے ۔ “
” بنی اسرائیل کے قبائل میں انبیاء کی بڑی کثرت رہی ہے اور بنی اسرائیل کی طویل تاریخ میں ان کی مثال اسی طرح ہے جس طرح جدید دور میں اہل ذکر کے سلسلے ہیں یا صوفیاء کے طریقے ہیں ۔ کیونکہ بعض زمانوں میں ان کی تعداد سینکڑوں میں رہی ہے اور انہوں نے اپنے متبعین میں ریاضت اور تربیت کے وہی طریقے جاری کئے جو آج بھی صوفیاء کے ہاں جاری ہیں ‘ مثلا جسمانی ریاضت کے ذریعے سے جذب حاصل کرنا یا سماع اور طرب ونشاط کے آلات کے ذریعے جذب حاصل کرنا ۔ “
(اسلام کے حقائق اور اس کے دشمنوں کی گمراہیاں ۔ مصنفہ استاد عتاد صفحہ ‘ 226)
یہ بات یاد رہے کہ ہم نے عقائد کی کتاب سے محض غلط تصورات کا حوالہ دیا ہے ۔ البتہ انہوں نے تصور خدا اور تصور رسالت میں جو ارتقانی بحث کی ہے بلکہ ادیان سماوی کے اندر بھی ارتقاء ثابت کیا ہے اور اسے اسلام میں تصور خدا اور رسالت تک پہنچایا ہے ‘ اس منہاج سے ہمیں اتفاق نہیں ہے ۔ دراصل تمام ادیان سماوی میں خدا کا وہی تصور تھا جو اسلام نے پیش کیا ہے ۔ ہاں ملل انبیائے سابقین اگر گمراہ ہو کر جاہلیت میں داخل ہوگئیں تو اس کی ذمہ داری ادیان پر نہیں ہے کیونکہ بعد کے ادوار میں ملتوں نے انبیاء کی صحیح تعلیمات کے اندر تحریفات کردیں اور اسلام کے صحیح تصور کو اپنے جاہلی تصورات کے تابع کردیا ۔ قرآن کریم ہماری اس بات کی تائید کرتا ہے ۔ اہل مغرب کے اہل علم جو ادیان کے بارے میں بحث کرتے ہیں خصوصا ارتقائی نظریے سے تو یہ محض مفروضے اور شبہات ہیں ۔ (سیدقطب)
” سموئیل اول کی کتاب میں ہے کہ :
” ساؤل نے داؤد کو گرفتار کرنے کے لئے کچھ ایلچی بھیجے۔۔۔۔۔۔ سو انہوں نے نبیوں کی جماعت کو نبوت کرتے دیکھا اور ساؤل نے ان کے درمیان بطور رئیس کھڑا تھا ۔ پھر اللہ کی روح ساؤل کے ایلچیوں پر اتری اور انہوں نے بھی نبوت کی ۔ پھر اس نے اوروں کو بھیجا تو انہوں نے نبوت کی ۔۔۔۔ پس اس نے اپنے کپڑے اتار دیئے ۔ اور اس نے بھی سموئیل کے آگے نبوت کی اور وہ دن بھر اور رات بھر ننگا رہا ۔
اسی طرح کتاب سموئیل میں یہ بھی آیا ہے کہ تو نبیوں کے ایک گروہ سے ملے گا جو ٹیلے سے اترتے ہوں گے ۔ ان کے آگے رباب ‘ دف ‘ بانسری اور عود بجتے ہوں گے ۔ اور وہ نبوت کرتے ہوں گے ۔ پس ان پر رب کی روح اترے گی اور ان کے ساتھ نبوت کرے گی اور ایک اور آدمی کی طرف منتقل ہوگی ۔
گزشتہ بیان سے ثابت ہوا کہ نبوت ایک فن تھا ۔ جس کا تعلق ماوراء کے ساتھ تھا ۔ بیٹے اسے آباؤاجداد سے سیکھتے تھے ۔ جس طرح کہ کتاب سلاطین دوم میں آیا ہے : جب نبیوں کے بیٹوں نے کہا اے الیسع یہ وہ جگہ ہے جہاں پر ہم تیرے آگے مقیم ہیں ۔ یہ جگہ ہم پر تنگ ہے سو اب ہم کو اردن جانا چاہئے
بعض مواضع ہیں ان کی خدمات لشکر کے سپرد ہوتی تھیں ۔ جیسے کہ ایام کے سفر اول میں ہے : داؤد اور لشکروں کے سرداروں نے بنی اساف وغیرہ کے نبی کہلانے والوں کو عود ‘ رباب اور سارنگیوں سے سرفراز کیا “۔ یہ تھا قدیم جاہلیتوں کا حال اور ان میں وہ جاہلیتیں بھی شامل ہیں جو آسمانی رسالتوں پر ایمان لانے والی امتوں میں فکری انحراف کی وجہ سے رائج ہوگئی تھیں اور اس فکری انحراف کی وجہ سے ان کے ہاں حقیقت نبوت اور مزاج نبی کے بارے میں غلط افکار نے راہ پالی تھی ۔ ان غلط افکار کی وجہ سے عوام الناس ہر مدعی نبوت سے یہ توقع رکھتے تھے کی اس سے مطلوبہ واقعات صادر ہوں ۔ کبھی تو وہ یہ توقع کرتے تھے کہ وہ انہیں غیب کی خبریں دے ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ سحر اور کہانت کے ذریعے کائنات کے طبیعی قوانین کو بدل دے ۔ یہی تصور تھا جس کی وجہ سے مشرکین رسول اللہ ﷺ سے اس قسم کے مطالبات کرتے تھے ۔ اور ان غلط افکار کی درستی کے لئے قرآن کریم نے حقیقت رسالت اور طبیعت رسول کے بارے میں بار بار وضاحت کی ہے ۔ اور ان وضاحتوں میں سے ایک یہ ہے :
(آیت) ” قُل لاَّ أَقُولُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآئِنُ اللّہِ وَلا أَعْلَمُ الْغَیْْبَ وَلا أَقُولُ لَکُمْ إِنِّیْ مَلَکٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الأَعْمَی وَالْبَصِیْرُ أَفَلاَ تَتَفَکَّرُونَ (50)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو ‘ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ۔ نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں ‘ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ۔ “ پھر ان سے پوچھو ” کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ “۔
حضور اکرم ﷺ کو اپنے رب کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو صرف بطور انسان پیش کریں اور اپنے ساتھ جاہلیت کے ادہام اور دیومالائی قصے وابستہ نہ کریں جو اہالیان جاہلیت نے نبوت اور نبی کی ذات میں داخل کردیئے تھے ۔ نیز حضور ﷺ ان کے سامنے اسلامی نظریہ حیات کو بغیر کسی لاگ ولپیٹ کے پیش کریں ‘ جس میں کوئی زیادتی نہ ہو اور نہ ادعاہو ۔ بس یہ ایک عقیدہ ہے جسے رسول لے کر آیا ہے اور اس سے فائدہ وہی شخص اٹھا سکتا ہے جسے اللہ ہدایت دے ‘ بذات خود رسول کسی کو ہدایت بھی نہیں دے سکتا ۔ راہ دکھانے والا صرف اللہ ہے ۔
رسول کی حقیقت اس نظریہ حیات کے مطابق صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کی جانب سے آمدہ وحی کی پیروی کرتا ہے ۔ اللہ اسے ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جنہیں وہ پہلے نہ جانتا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ کے خزانوں کا مختار نہیں بن جاتا کہ وہ ان خزانوں کے دروازے ان لوگوں پر کھول دے جو اس کے متبعین ہیں ۔ نہ اس کے پاس غیب کی کنجیاں آجاتی ہیں کہ وہ اپنے پیروکاروں کو آنے والے واقعات بتاتا جائے ۔ نہ وہ فرشتہ ہوتا ہے کہ اس کی پاس فرشتے آیا کریں اور ساتھ رہیں ۔
وہ بشر اور رسول ہوتا ہے ۔ یہ ہے اسلامی نظریہ حیات پاک وصاف اور بالکل واضح اور سیدھا سادا ۔
یہ عقیدہ فطرت کی آواز ہے ۔ یہ زندگی کا بنیادی عنصر ہے اور اللہ اور آخرت کے راستے کے لئے چراغ راہ ہے ۔ اسے اس کی اصل شکل کے سوا کسی اور سجاوٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر کوئی شخص صرف اس عقیدے کو چاہتا ہے تو وہی اس کا مستحق ہے اور یہ عقیدہ اس کے لئے سب سے اونچی قدر ہوگی ۔ اگر کوئی شخص اس عقیدے کو بطور سامان دنیا اپنائے تو وہ اس کی حقیقت کا ادراک نہ کرسکے گا ۔ نہ اس کی قدروقیمت کو سمجھ سکے گا ‘ لہذا یہ عقیدہ بھی ایسے شخص کو کچھ نہ دے سکے گا ۔ ایسا شخص محتاج ہی رہے گا ۔
ان وجوہات کی بنا پر حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اسے اس انداز میں پیش کریں کہ اس میں کوئی بناوٹ اور تصنع نہ ہو ‘ کیونکہ اسے کسی بنا ؤ سنگھار کی ضرورت نہیں ہے تاکہ معلوم ہو کہ جو لوگ اس نظریے کے سایہ عاطفت میں آتے ہیں وہ کسی غرض اور دولت کے لئے نہیں آتے ‘ کسی جاہ و جلال کے لئے نہیں آتے اور ماسوائے تقوی کے کسی فضیلت کے طبگار نہیں ہیں ۔ وہ محض اللہ کی راہنمائی حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں جو اللہ کا بڑا کرم اور سب سے بڑی دولت ہے ۔ ذرا دوبارہ غور کیجئے :
(آیت) ” قُل لاَّ أَقُولُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآئِنُ اللّہِ وَلا أَعْلَمُ الْغَیْْبَ وَلا أَقُولُ لَکُمْ إِنِّیْ مَلَکٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ (50)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو ‘ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ۔ نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں ‘ اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ۔ “
نیز انہیں معلوم ہو کہ وہ ہدایت الہی میں آکر درحقیقت نور وبصیرت کے دائرے میں آجاتے ہیں اور جہالت اور ظلمت سے نکل آتے ہیں
(آیت) ” قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الأَعْمَی وَالْبَصِیْرُ أَفَلاَ تَتَفَکَّرُونَ (50)
پھر ان سے پوچھو ” کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ “۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ صرف وحی کی پیروی کرنا ہی ہدایت اور بصیرت ہے اور جو شخص وحی سے محروم ہوگیا وہ نابینا اور اندھا تصور ہوگا ۔ اس آیت نے نہایت ہی دو ٹوک الفاظ میں اس سوال کو حل کردیا ۔ سوال یہ ہے کہ ہدایت وضلالت کے معاملے میں عقل انسانی کا کیا کردار ہے ؟
اسلامی نظام حیات نے اس سوال کا نہایت ہی واضح اور دو ٹوک جواب دیا ہے ۔ عقل جو خود اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے ‘ بذات خود دین الہی ہے ۔ اس کے اندر یہ قوت تو ہے کہ وہ وحی الہی کو اخذ کرسکے ‘ اور اس کے مفہومات کو سمجھ سکے ۔ یہ اس کا فریضہ بھی ہے اور یہ اس کا دائرہ اختیار بھی ہے کہ وہ نور ہدایت کو اپنائے اور اپنے آپ کو اس مضبوط ضابطے کا پابند کرلے جس کے اندر کسی جانب سے کوئی جھول یا غلطی نہیں ہے ۔
لیکن اگر عقل انسانی اپنے آپ کو ضابطہ وحی الہی سے آزاد کرلے تو وہ ہمیشہ گمراہی اور انحراف کا شکار ہوجاتی ہے ۔ اس کا مطالعہ غلط ہوتا ہے ‘ اس کے اندازے بہت ہی غلط ہوجاتے ہیں اور اس کی تمام تدابیر ناکارہ رہ جاتی ہیں ۔
عقل انسانی اس حادثے سے دو چار اس لئے ہوتی ہے کہ اپنی ساکت کی وجہ سے عقل انسانی اس کائنات کے اجزاء کا ادراک تو کرسکتی ہے لیکن اس کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کائنات کو بحیثیت کل واحد یا مجموعی طور پر مطالعہ کرسکے ۔ انفرادی اور جزئی ادراک کی وجہ سے عقل بار بار تجربہ کرتی ہے ‘ حادثے کے بعد حادثہ رونما ہوتا ہے ‘ ایک تصویر بنتی ہے اور دوسری بگڑتی ہے ۔ لیکن عقل چوبیں پا کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ پوری کائنات کو مجموعی حیثیت سے دیکھ سکے اور مجموعی اور کلی مطالعے کے نتیجے میں احکام صادر کرسکے ۔ اس کلی ادراک کے نتیجے میں کوئی نظام تشکیل دے سکے ‘ جس کے اندر مکمل جامعیت اور توازن موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جب عقل ہدایت الہیہ اور وحی الہی سے آزاد ہو کر فیصلے کرتی ہے تو اسے بار بار تجربے کرنے پڑتے ہیں اور بار بار احکام تبدیل کرنے پڑتے ہیں ۔ بار بار نظام بدلنا پڑتا ہے ‘ ایک اقدام کرنا پڑتا ہے جس کا کوئی الٹا ردعمل سامنے آتا ہے ۔ کبھی تو عقل نہایت بائیں طرف جھک کر دور چلی جاتی ہے اور کبھی دائیں طرف جھک کر بہت دور نکل جاتی ہے ۔ یوں وہ اس عزیز ترین مخلوق خدا یعنی انسان کو ضائع کرتی رہتی ہے اور معزز انسانی ڈھانچے کو تباہ وبرباد کردیتی ہے ۔ اگر عقل اپنے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے وحی کی مطیع فرمان ہوجاتی تو پوری انسانیت اس تباہی سے بچ جاتی ۔ تجربات اور رسم و رواج کے لئے ہم مادی میدان کا انتخاب کرلیتے ‘ نیز صنعتی اور ٹیکنا لوجی کے میدان میں ہم عقل کو چھوڑ دیتے ‘ کیونکہ یہ وہ میدان ہے جس میں عقل مستقلا کام کرسکتی ہے ۔ اگر اس میں اس کا کوئی تجربہ غلط نکلے تو انسان کو مادی نقصان تو ہو سکتا ہے لیکن انسانی اور روحانی نقصان سے وہ دوچار نہ ہوگا ۔
لیکن اس کی کیا وجوہات ہیں کہ انسان عقل کی وجہ سے ان مشکلات سے دور چارہو جاتا ہے ؟ اس کی عقل کی فطری ساخت کے علاوہ اس کی کچھ اور وجوہات بھی ہیں ۔ اس کے اندر کچھ فطری میلانات ‘ خواہشات ‘ اور جذبات بھی ہیں ۔ اور انسان کے ان فطری ‘ جذبات اور خواہشات کے لئے کسی ضابطے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ ان ضابطوں کے اندر رہتے ہوئے سلسلہ زندگی کو جاری رکھ سکے ۔ اسے ترقی دے سکے اور اپنے فطری فرائض کو ادا کرسکے اور فطری ضابطوں کے محفوظ حدود سے آگے نہ بڑھ جائے ‘ جس کی وجہ سے اس کی پوری زندگی تباہی اور بربادی کا شکار ہوجائے ۔ یہ ضابطہ بندی کون کرے گا ؟ کیا صرف عقل انسانی کے لئے یہ ممکن ہے کہ وہ بذات خود جذبات اور میلانات اور جسمانی خواہشات کے زیر اثر کام کرتی ہے جن کا دائرہ بہت ہی وسیع ہے ‘ لہذا اس کے لئے کسی اور مصدر کی طرف سے ضابطہ بندی ضروری ہے ۔ یہ مصدر اس ضابطہ بندی کے بعد اس کا محافظ بھی ہو سکتا ہے اور عقل انسانی ہر وقت اس کی طرف رجوع کرسکے گی ۔ انسانی زندگی کے ہر حکم پر ‘ ہر تجربے کی ضابطہ بندی اس مصدر ومنبع کی سمت میں ہوگی اور انسان کی حرکت اور جدوجہد کا قبلہ درست رہے گا ۔
جو لوگ عقل انسانی کو وحی الہی کی طرح فیصلہ کن اور حقیقی سمجھتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ جس طرح وحی الہی خدا کی جانب سے ہوتی ہے ‘ اسی طرح عقل انسانی بھی خدا ہی کی دین ہے اور انسان کو خدا ہی نے عقل عطا کی ہے لہذا یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ وحی الہی اور عقل انسانی کے اندر کوئی تضاد ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو عقل انسانی کو وہ درجہ دیتے ہیں جو اسے انسانی فلاسفروں نے دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے عقل انسانی کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کی ہے ۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ صرف کسی ایک انسان کی عقل انسانی کو وحی الہی سے بےنیاز کردیتی ہے ‘ اگر وہ بہت ہی بڑا انسان ہو ۔ وہ اس معاملے میں ایسی بات کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے خلاف وحی اور رسالت کو حجت قرار دیا ہے ۔ محض انسانی عقل پر نظام مسئولیت نہیں موقوف کیا ۔ نہ صرف اس بات کا انسان کو مکلف بنایا ہے کہ وہ اپنی فطری قوتوں کے بل بوتے ہی پر راہ ہدایت حاصل کرے اور معرفت کردگار حاصل کرے ۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ صرف عقل کے لیے منزل مقصود تک پہنچنا مشکل ہے ۔ صرف فطرت پر ہی اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ کیونکہ فطرت کے اندر انحراف ممکن ہے جب وحی راہنما نہ بنے کیونکہ یہی قابل اعتماد رہنما ہے اور صاحب بصیرت لیڈر ۔ (دیکھئے فی ضلال القرآن پارہ ششم آیت ۔۔۔۔۔ کی تفسیر)
جو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ عقل انسان کو دین سے مستغنی کردیتی ہے یا یہ کہ سائنس جو عقل کی پیداوار ہے ‘ انسان کو اللہ کی جانب سے راہنمائی کی ضرورت سے بےنیاز کردیتی ہے ‘ یہ لوگ ایسی بات کرتے ہیں جو نہ حقیقی ہے اور نہ امر واقعہ اس طرح ہے ۔ اس لئے کہ عملی صورت حال بتاتی ہے ‘ یہ لوگ ایسی بات کرتے ہیں جو نہ حقیقی ہے اور نہ امر واقعی اس طرح ہے ۔ اس لئے کہ عملی صورت حال بتاتی ہے کہ جن لوگوں کی زندگی کسی فلسفیانہ تصور پر استوار ہے یا سائنسی نظریات پر استوار ہے وہ نہایت ہی تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں اور اس میں انسان سخت ترین مصائب کا شکار ہے ۔ اگرچہ ان کی زندگی پر ہر طرف سے سہولیات کی بارش ہو ‘ ان کی پیداوار اور آمدن بہت زیادہ ہو اور اس میں وسائل زندگی اور اسباب عیش وطرب حد سے زیادہ ہوں ۔ (دیکھئے اسلام اور مشکلات تہذیب کا باب خبط اور اضطراب) اس کے برعکس یہ بات بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی کہ حیات دنیا محض جہالت اور اتفاق پر مبنی ہے ۔ جو لوگ اس کائنات کی تعبیر اس انداز سے کرتے ہیں کہ یہ خود بخود وجود میں آگئی ہے وہ مطلب پرست اور خود غرض ہیں۔ اسلام ایک ایسا نظام زندگی ہے جس میں عقل انسانی کو ایسی ضمانتیں دی گئی ہیں جن کی وجہ سے انسان اپنی ذاتی ساخت میں پائی جانے والی کمزوریوں سے بھی پاک ہوجاتا ہے ‘ نیز ان کمزوریوں سے بھی بچ جاتا ہے جن میں وہ ذاتی خواہشات اور میلانات کی وجہ سے مبتلا ہوتا ہے ۔ اس کے بعد اسلام عقل کے لئے اصول و ضوابط وضع کرتا ہے جن کیوجہ سے وہ سائنس اور تجربات اور علم ومعرفت کے میدان میں محفوط طریقے سے کام کرتی ہے ۔ ان قواعد کے نتیجے میں عقل کی سرگرمیاں عملی زندگی میں بھی خوب پھیلتی ہیں۔ یہ سب امور اسلامی شریعت کے مطابق طے پاتے ہیں اور عملی زندگی میں عقل پر کوئی پابندی بھی نہیں ہوتی تاکہ وہ برے راستوں پر پڑ کر سیدھے راستے سے منحرف نہ ہوجائے ۔
جب عقل کو وحی الہی کی رہنمائی حاصل ہوتی ہے تو وہ صاحب بصارت ہوجاتی ہے ۔ اگر وہ وحی الہی کی راہنمائی سے آزاد ہو کر چلے تو وہ اندھی ہوجاتی ہے ۔ یہاں یہ ذکر کہ حضور صرف وحی سے ہدایت اخذ کرتے ہیں اور اس کے بعد یہ کہنا کہ اندھے اور آنکھوں والے بربر نہیں ہوتے اور سوالیہ انداز میں یہ کہنا اور اس کے بعد بات پر زور دینا کہ غوروفکر سے کام لو ‘ معنی خیز ہے ۔
(آیت) ”إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الأَعْمَی وَالْبَصِیْرُ أَفَلاَ تَتَفَکَّرُونَ (50)
” میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ۔ “ پھر ان سے پوچھو ” کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ “۔
یہاں آگے پیچھے ایسے اشارات کا ذکر اور یہ انداز ‘ قرآن کریم کا مخصوص انداز تعبیر ہے ۔ اسلام میں غوروفکر مطلوب ہے اور قرآن کریم اس پر بار بار زور دیتا ہے لیکن اسلامی غور وفکر کو وحی کے ضوابط کے اندر منضبط کردیا گیا ہے ۔ وحی عقل کے لئے بطور بصارت کام کرتی ہے ۔ اگر وحی نہ ہو تو عقل چوبیں پا اندھی بھی ہوجاتی ہے اور اس طرح وہ اندھیروں میں لڑکھڑاتی پھرتی ہے ۔ بغیر دلیل وبغیر ہدایت کے اور بغیر کسی کتاب منیر کے ۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر عقل کو ضابطہ ہی کے اندر منضبط کردیا جائے تو کیا اس کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے ؟ نہیں وحی اسے ایک وسیع جو لانگاہ فرہام کرتی ہے ۔ عقل کے میدان کار میں یہ پوری کائنات بھی آتی ہے اور اس سے آگے عالم غیب بھی اس کی فکری جو لانگاہ میں آجاتا ہے جبکہ عالم غیب کا میدان عالم شہادت سے بہت وسیع ہے ۔ نفس انسانی کی گہرائی انسانی زندگی اور زندگی کے واقعات یہ سب انسانی غور وفکر کا موضوع ہیں ۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ وحی الہی کسی موڑ پر بھی عقل انسانی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی ۔ اگر کسی جگہ وہ رکاوٹ بنتی ہے تو اس مقام پر جب عقل بےراہ روی اختیار کرتی ہے ۔ غلط منہاج سے سوچتی ہے اور خواہشات اور اغراض کے پیچھے بھاگتی ہے ۔ ورنہ وحی الہی تو عقل سے کام لینے کی ہدایت کرتی ہے اور اس کی سرگرمیوں کے لئے میدان کا تعین کرتی ہے ‘ اس لئے کہ عقل وہ عظیم قوت ہے جو خود اللہ نے انسان کو عطا کی ہے ۔ لیکن یہ قوت انسان کو اس لئے دی گئی ہے کہ انسان اس کے ذریعے ربانی ہدایت اور ربانی نظام کی حفاظت کرے نہ اس لئے کہ اس کے ذریعے وہ تخریف کاری کرکے گمراہ اور سرکش بن جائے ۔
الأنعام 6:51
(آیت) ” نمبر 51 تا 54۔
یہ اسلامی نظریہ حیات کی برتری اور عزت کی علامت ہے کہ اس میں اس دنیا کے عارضی کرو فر کو کوئی وقعت نہیں دی گئی ۔ اس میں پیش نظر اعلی اقدار ہوتی ہیں اور دنیا کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا ۔
اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اس دعوت کو صاف اور ستھرے انداز میں بغیر کسی بناوٹ کے اصل شکل میں پیش فرما دیں اور اس دعوت کے عوض میں لوگوں کو کسی دنیاوی غرض کا لالچ نہ دیں ۔ یہ حکم بھی دیا گیا کہ آپ صرف ان لوگوں ہی کو پیش نظر رکھیں جو اس دعوت سے کوئی دنیاوی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے ہیں نہ آپ اس سے نفع لینا چاہتے ہیں ۔ اور اپنے اردگر دان لوگوں کو جمع کریں جو اس دعوت کو قبول کرتے ہیں اور مخلص ہیں ۔ جو لوگ دل وجان سے اللہ کی طرف متوجہ ہیں اور صرف رضائے الہی کے لئے کام کرنے والے ہیں ۔ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ جاہلی معاشرے کے رسوم ورواجات اور جاہلی اقدار کو دعوت اسلامی کے نظام میں کوئی وزن نہ دیں اور دنیاوی اعتبارات اور علامات میں سے کسی علامت کو اہمیت دیں ۔
(آیت) ” وَأَنذِرْ بِہِ الَّذِیْنَ یَخَافُونَ أَن یُحْشَرُواْ إِلَی رَبِّہِمْ لَیْْسَ لَہُم مِّن دُونِہِ وَلِیٌّ وَلاَ شَفِیْعٌ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ (51)
” اور اے نبی ﷺ تم اس (علم وحی) کے ذریعے سے ان لوگوں کو نصیحت کرو جو اس کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کئے جائیں گے کہ اس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مددگار ہو یا ان کی سفارش کرے ‘ شاید کہ (اس نصیحت سے متنبہ ہو کر) وہ خدا ترسی کی روش اختیار کرلیں۔
یعنی دعوت اسلامی ان لوگوں کے سامنے سب سے پہلے پیش کی جائے جو لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن انہیں اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ وہاں ان کی حالت یہ ہوگی کہ نہ کوئی ولی ہوگا جو مدد کرسکے اور نہ کوئی سفارشی ہوگا جو چھڑا سکے ۔ اس لئے کہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں ‘ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بھی سفارش نہیں کرسکتا ۔ اگر کسی کو سفارش کی اجازت بھی مل جائے تو بھی وہ ان لوگوں کے حق میں اللہ کی جناب میں سفارش نہ کرے گا ۔ کیونکہ سفارش کے منصف پر فائز ہونے والے لوگ تو خود اس دن خوف کا شدید شعور رکھتے ہوں گے کیونکہ اس دن کوئی اللہ کے سوا شفیع و مددگار نہ ہوگا ۔ اس لئے کہ ان خدا رسیدہ اور خدا سے ڈرنے والے لوگوں سے اس بات کی توقع زیادہ ہوگی ‘ وہ زیادہ خوف محسوس کریں گے اور زیادہ مطیع فرمان ہوں گے اور ہدایت الہی سے اور لوگوں کے مقابلے میں زیادہ نفع اندوز ہوں گے ۔ ایسے لوگوں سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی اس دنیاوی زندگی میں ایسے امور سے بچیں جن کی وجہ آخرت میں عذاب الہی میں مبتلا ہوں ۔ لہذا ڈراوا ایک ایسا بیان ہوتا ہے جو واضح ہوتا ہے اور اس کا بہت اثر ہوتا ہے ۔ یوں انذار کی وجہ سے ان پر وہ امور واضح ہوجائیں گے جن سے وہ پہلے ہی خائف ہیں ‘ لہذا ان امور کے بیان اور انذار کی وجہ سے وہ مزید متقی بنیں گے اور حدود باللہ پامال کرنے سے ڈریں گے اور ان امور میں مبتلا نہ ہوں گے جن سے منع کیا گیا ہے ۔ لیکن یہ اس کے بعد ہوگا جبکہ ان کے سامنے ممنوع باتوں کا بیان ہوجائے ۔
(آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ “ (6 : 52)
” اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو ۔
جن لوگوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کردیا ہے انہیں اپنے آپ سے دور نہ پھینکو۔ ایسے لوگ جو صبح وشام اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اسے پکارتے ہیں اور یہ کام وہ محض رضائے الہی کے لئے کرتے ہیں ۔ یہ خلوص اور محبت کا مقام ہے اور ادب اور احترام کی فضا ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نہایت خضوع اور خشوع کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور عبادت میں مشغول ہیں ۔ رضائے الہی کا حصول صرف اس وقت ہوتا ہے جب انسان نہایت ہی خلوص کے ساتھ رب کی طرف متوجہ ہو ‘ پوری طرح اللہ کے ساتھ محبت کرتا ہو اور دربار الہی میں نہایت ادب اور خشوع کے ساتھ کھڑا ہوتا ہو یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے ربانی کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے یعنی للہ فی اللہ والے ۔
سوال یہ ہے کہ حضور ﷺ کو یہ حکم کیوں دیا گیا ؟ اصل بات کیا ہے ۔ واقعہ یوں ہوا کہ اشراف عرب میں سے بعض لوگ دعوت اسلامی کو اس لئے قبول نہ کرتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ کے اردگرد فقراء اور کمزور لوگ جمع تھے ۔ مثلا صہیب ‘ بلال ‘ عمار ‘ خباب ‘ سلمان ‘ اور ابن مسعود ؓ اجمعین وغیرہ اور ان لوگوں نے ایسے جبے پہنے ہوئے ہوتے تھے جن سے بدبو آتی تھی ‘ کیونکہ غربت کی وجہ سے وہ بار بار دھو نہیں سکتے تھے ۔ ان لوگوں کی معاشرتی حیثیت یہ تھی کہ وہ قریش کے بڑے لوگوں کی مجلس میں بیٹھنے کے اہل نہ سمجھے جاتے تھے ۔ ان وجوہات کی بنا پر قریش کے ان اکابرین نے حضور اکرم ﷺ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان لوگوں کو اپنی مجلس سے دور کردیں ۔ حضور اکرم ﷺ نے اس بات سے انکار کردیا۔ اس پر ان لوگوں نے یہ مطالبہ کیا کہ حضور ﷺ ان کے لئے علیحدہ مجلس بنا دیں اور صاحب حیثیت لوگوں کے لئے ایک مجلس بنا دیں جس میں ان فقراء میں سے کوئی بھی نہ ہو ۔ یہ مطالبہ وہ اس لئے کرتے تھے کہ جاہلیت میں دور جاہلیت کی مجالس میں اکابرین قریش کو یہ امتیازات حاصل تھے جن کی وجہ سے وہ عوام پر اپنا رعب بٹھاتے تھے ۔ اس دوسری تجویز کے بارے میں حضور ﷺ نے غور کرنا شروع کردیا محض اس لئے کہ شاید اس طرح ان کے دل میں دعوت اسلامی اتر جائے ۔ اس پر حکم صادر ہوا۔
(آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ “ (6 : 52)
” اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو ۔
امام مسلم نے سعد ابن ابی وقاص سے روایت نقل کی ہے ‘ وہ فرماتے ہیں ہم چھ افراد حضور ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ مشرکین نے حضور اکرم ﷺ سے فرمائش کی ‘ ذرا آپ ان لوگوں کو اپنے ہاں سے ہٹا دیں تاکہ یہ لوگ بےتکلف ہو کر ہمارے خلاف حوصلے نہ پالیں ۔ وہ کہتے ہیں وہ کہتے ہیں ان چھ میں ‘ ایک میں تھا ‘ ابن مسعود ؓ تھے ایک شخص ہذیل کا تھا ‘ بلال تھے اور دو افراد اور تھے جن کے نام یاد نہیں ۔ قریش کی بات کا اثر رسول اللہ ﷺ کے دل پر ہوا جو اللہ نے چاہا ۔ آپ نے ان کی فرمائش پر سوچنا شروع کیا ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ “ (6 : 52)
” اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو ۔
یہ کبراء ان بیچاروں کے بارے میں بہت کچھ کہتے تھے ۔ ادھر حضور ﷺ کی جانب سے ان پر بےحد عنایات تھیں اور آپ کی مجلس میں ان کا خصوصی مقام تھا ۔ کبراء ان پر الزام لگاتے اور انہیں برا بھلا کہتے اور ان کی غربت اور ضعف پر تنقید کرتے ۔ ان لوگوں کو ان کا حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھنا گوارا نہ تھا اس لئے یہ کبراء اسلام سے نفرت کرتے تھے اور اسلام قبول کرنا نہ چاہتے تھے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس امر کے بارے میں ایک فیصلہ کن حکم دے دیا ۔ ان کی اس تجویز کو بنیادی طور پر رد کردیا گیا اور اسے کالعدم قرار دیا گیا ۔
الأنعام 6:52
(آیت) ” مَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52)
” ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کی چیز کا بار ان پر نہیں ۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے ۔
وہ خود اپنا بوجھ اٹھائیں گے اور حساب دیں گے اور تم اپنا بوجھ اٹھاؤ گے اور حساب دو گے ۔ یہ کہ وہ غریب ہیں تو ان کی قسمت میں یہ اللہ نے لکھا ہے ۔ اس میں تمہارا کوئی دخل نہیں ہے ۔ اسی طرح اے پیغمبر خود تمہاری امارت یا فقر کے بارے میں ان سے بھی نہ پوچھا جائے گا ۔ ایمان اور کفر کے معاملے میں امارت اور غربت کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ اگر آپ کسی کو اپنی مجلس میں جگہ دیں یا طرح آپ ظالموں میں سے ہوں گے اور یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی رسول ظالموں میں سے ہوجائے ۔
وہ لوگ جو دل کے تونگر تھے اور جیب کے لحاظ سے غریب تھے ۔ وہ مجلس رسول کے مستقل ممبر رہے ۔ جو لوگ دنیاوی لحاظ سے کمزور تھے مگر ایمانی اور نظریاتی اعتبار سے طاقتور تھے وہ اسی مقام پر برقرار رہے جو ان کے ایمان نے ان کے لئے مقرر کردیا تھا ۔ اس مقام کے وہ اس لئے مستحق ہوگئے تھے کہ وہ صرف اللہ کو پکارتے تھے اور صرف اللہ کی رضا مندی کے طالب تھے ۔ یوں اسلامی اقدار نے اس طرح روایات کی شکل اختیار کی جس طرح اللہ تعالیٰ پسند فرماتے تھے ۔
اہل کبر و غرور تحریک اسلامی سے متنفر ہوگئے ، ان کا تاثر یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے ایسے لوگ اللہ کے فضل وکرم کے مالک بن جائیں ۔ یہ ٹٹ پونجئے ! اگر محمد کی برپا کی ہوئی تحریک اور آپ جو پیغام لے کر آئے ہیں اس میں کوئی بھلائی ہوتی تو اس کے قبول کرنے میں یہ لوگ ہم سے آگے نہ ہوتے ۔ اللہ ہمیں ان سے پہلے اس کی جانب راہنمائی فرماتا ۔ یہ کوئی معقول بات نظر نہیں آتی کہ اہل عرب میں سے اللہ تعالیٰ ان ضعفاء اور ناداروں کو اپنے فضل وکرم کے لئے منتخب فرمائیں جبکہ ہم صاحب جاہ و مرتبہ ہیں۔
نسب اور مال پر غرور کرنے والے ان لوگوں کو اللہ نے دراصل فتنے میں ڈال دیا تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے دین اسلام کو سمجھا ہی نہ تھا نیز یہ دین انسانیت کو جس نئی دنیا میں لے جانا چاہتا تھا اسے بھی یہ لوگ نہ سمجھ سکے تھے جس کے آفاق نہایت ہی وسیع تھے ۔ یہ دین انسانوں کو اس جدید دنیا میں نہایت ہی بلندیوں تک لے جانا چاہتا تھا ۔ اس جدید اسلامی دنیا کا علم اس وقت نہ عربوں کو تھا اور نہ دوسرے لوگوں کو تھا ۔ آج جو لوگ جمہوریت اور دوسرے ناموں سے ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں وہ بھی اسلامی نظام کی دنیا سے بیخبر ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لِّیَقُولواْ أَہَـؤُلاء مَنَّ اللّہُ عَلَیْْہِم مِّن بَیْْنِنَا (6 : 53)
” دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے ۔ تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ” کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل وکرم ہوا ہے ؟ “
اس سوال کا جواب قرآن کریم یوں دیتا ہے یعنی طبقہ کبراء کے استفہام انکاری کو یوں رد کیا جاتا ہے ۔
الأنعام 6:53
(آیت) ” أَلَیْْسَ اللّہُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاکِرِیْنَ (53)
” ہاں ! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟ “
اس تریدد میں بہت کچھ ہدایات اور اشارات دیئے گئے ، پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل وکرم ان لوگوں پر کرتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ شکر نعمت بجا لائیں گے ، اگرچہ کوئی بندہ اللہ کے انعام کا حق ادا نہیں کرسکتا لیکن بندہ شکر نعمت کے میدان میں جو حقیر سی کوشش بھی کرے اللہ اسے قبول کرتا ہے اور اس حقیر سے شکر پر اسے وہ انعام دیتا ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ۔
اس آیت میں یہ بتایا گیا کہ نعمت ایمان کا تعلق ان حقیر اقدار سے نہیں ہے جو اس دنیا پر چھائے ہوئے جاہلی ظالموں میں اہمیت رکھتی ہیں ۔ ایمان کی دولت اللہ ان لوگوں کو نصیب کرتا ہے جن کے بارے میں اللہ کو علم ہے کہ وہ شکر بجا لائیں گے ‘ اگرچہ وہ غلام ‘ ضعیف اور نادار ہوں کیونکہ اللہ کے ترازو میں دنیا کی دولت اور مال کا کوئی وزن نہیں ہے ۔ انہیں صرف جاہلیت ہی اہمیت دیتی ہے حالانکہ اللہ کے نزدیک ان میں کوئی وزن نہیں ہوتا ہے ۔
اس جواب میں یہ فیصلہ بھی کردیا ہے کہ دراصل یہ اعتراض ہو لوگ کرتے ہیں جو چیزوں کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتے ۔ اللہ دولت ایمان کو جب تقسیم فرماتے ہیں تو وہ خوب جانتے ہیں کہ اس کا مستحق کون ہے ۔ اس سلسلے میں اگر کوئی اعتراض کرے گا تو ایک تو وہ جاہل ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ نہایت گستاخ بھی ہوگا ۔
چناچہ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ آغاز دعوت ان لوگوں سے کریں جن پر اللہ نے فضل فرمایا ‘ سب سے پہلے انہیں نعمت ایمان سے نوازا ‘ ان کو سابقون الاولون کی فضیلت دی گئی اور جن سے یہ کبراء اور اشراف نفرت کرتے ہیں ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ سب سے پہلے انہیں سلام کریں اور اس کے بعد انہیں خوشخبری دیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر ان کے لئے رحمت فرض کرلی ہے اور اگر ان میں سے کسی سے دور جاہلیت میں کوئی غلطی صادر ہوئی ہے تو وہ معاف ہے بشرطیکہ وہ توبہ کرے اور اصلاح کرلے ۔
الأنعام 6:54
(آیت) ” وَإِذَا جَاء کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ أَنَّہُ مَن عَمِلَ مِنکُمْ سُوء اً بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِہِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(54)
” جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو کہو ” تم پر سلامتی ہے ۔ تمہارے رب نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ (یہ اس کا رحم وکرم ہی ہے کہ) اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔ “
نعمت ایمان کے بعد یہ ان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے ۔ اس سے حساب و کتاب میں بہت ہی نرمی ہوگی اور جزاء میں نہایت ہی فیاضی اور فراوانی ہوگی ۔ اس قدر عظیم رحمت اور یقینی رحمت کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر اس فعل کو فرض کرلیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ بعد سلام ایسے مومنین آیات الہی کو خوشخبری بھی دے دیں کہ ان کے ساتھ عفو و درگزر کا سلوک ہوگا بشرطیکہ وہ توبہ اختیار کریں اور صالحانہ روشن اپنائیں ۔ اسی لئے بعض مفسرین نے جہالت کی تعریف یہ کی ہے کہ کوئی ارتکاب ذنوب پر جما ہوا ہو ورنہ جو شخص بھی ارتکاب جرم کرتا ہے وہ جاہلت ہی کی وجہ سے کرتا ہے ۔ اس تفسیر کے مطابق اس نص میں ہر وہ گناہ شامل ہوگا جو کسی سے صادر ہو اور جب وہ توبہ کرے اور نیک ہوجائے تو گناہ معاف ہوجائے گا ۔ اس رائے کی تائید ان آیات ونصوص سے بھی ہوتی ہے جن میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ توبہ اور اس کے بعد اصلاح حال سے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں کیونکہ یہ وہ رحمت الہی ہے جسے اللہ نے اپنے اوپر فرض کرلیا ہے ۔
اس بحث کو ختم کرنے سے پہلے مناسب ہے کی بعض اہم احادیث کا یہاں تذکرہ کردیا جائے جو ان واقعات و حالات کے بارے میں ہیں جن میں یہ آیات نازل ہوئیں ۔ ان آثار و احادیث اور اس آیت کو اگر ملا کر پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ دین اسلام اس وقت انسانیت کے اندر کس قدر عظیم انقلاب لا رہا تھا ۔ اس وقت معاشرتی اعتبار سے اسلام نے انسانیت کو جس مقام بلند تک پہنچا دیا تھا ‘ انسانیت آج کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکی ہے ۔
طبری نے صناد ‘ ابو زید ‘ اشعث کردوس اور حضرت ابن مسعود کے سلسلہ میں روایت سے نقل کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ قریش کے کچھ کبراء حضور ﷺ کے پاس سے گزرے ‘ اس وقت آپ ﷺ کے پاس صہیب ‘ عمار ‘ بلال ‘ خباب اور ان جیسے لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم تمام مسلمانوں میں زیردست لوگ تھے ۔ ان کبراء نے کہا : ” اے محمد ﷺ کای تم نے اپنی قوم سے ان لوگوں کو منتخب کیا ہے ؟ کیا ہم میں سے اللہ نے صرف ان لوگوں پر احسان کیا ہے ؟ کیا ہم ان لوگوں کے زیر اطاعت آجائیں ؟ آپ ان لوگوں کو اپنے پاس سے بھگا دیں ‘ اگر آپ نے ایسا کیا تو ممکن ہے کہ ہم تمہارے مطیع ہوجائیں اس واقعہ پر یہ آیات نازل ہوئیں ۔
(آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ مَا عَلَیْْکَ مِنْ حِسَابِہِم مِّن شَیْْء ٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52) وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُم ۔۔۔۔۔۔۔ (53) (6 : 52۔ 53) تک۔
طبری نے حسین ابن عمرو ابن محمد عنقزی ‘ انہوں نے اپنے والد ‘ انہوں نے بعض دوسرے لوگوں اور انہوں نے سدی اور ابو سعید ازدی سے نقل کیا ہے ۔ یہ ازد قبیلہ کے قاری تھے ۔ انہوں نے خباب سے اس آیت ۔
(آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ مَا عَلَیْْکَ مِنْ حِسَابِہِم مِّن شَیْْء ٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52)
کے بارے میں کہا کہ اقرع ابن حابس تمیمی اور عینیہ ابن حصن فزاری آئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ حضور ﷺ بلال ‘ صہیب ‘ عمار ‘ خباب اور دوسرے ضعیف اور کمزور اہل ایمان کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان لوگوں نے جب ان ضعفاء کو دیکھا تو انہیں حقیر سمجھا ۔ یہ دونوں حضور ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا ‘ ہم چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ہمراہ ایک جگہ بیٹھیں جس کی وجہ سے عربوں کے اندر ہماری عزت ہو ‘ کیونکہ آپ کے پاس عربوں کے وفود آتے جاتے ہیں لیکن ہم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ ہمیں عرب آپ کے پاس ان دوسرے درجے کے لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے پائیں ۔ جب ہم آپ لوگوں کے پاس آئیں تو آپ ذرا ان لوگوں کو اپنے پاس سے اٹھا دیا کریں ۔ جب ہم چلے جائیں تو پھر آپ آزاد ہیں ان کے پاس بیٹھیں یا نہ بیٹھیں ۔ آپ نے فرمایا ” درست “ اس پر ان لوگوں نے یہ مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں آپ ایک پروٹوکول پر دستخط فرما دیں ۔ راوی کہتا ہے آپ نے کاغذ منگوایا اور حضرت علی ؓ کو بلایا کہ انہیں یہ بات لکھ دیں ۔ راوی کہتا ہے ہم ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے کہ جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیَ (52)
” اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو ۔ ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کی چیز کا بار ان پر نہیں ۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے پڑھا ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لِّیَقُولواْ أَہَـؤُلاء مَنَّ اللّہُ عَلَیْْہِم مِّن بَیْْنِنَا أَلَیْْسَ اللّہُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاکِرِیْنَ (53)
” دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے ۔ تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ” کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل وکرم ہوا ہے ؟ ہاں ! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟ “۔ اور اس کے بعد پڑھا ۔
(آیت) ” وَإِذَا جَاء کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ۔ (6 : 54)
” جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو کہو ” تم پر سلامتی ہے ۔ تمہارے رب نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کردیا ہے ۔ “ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کاغذ پھینک دیا ۔ اور ہمیں بلایا اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے ۔
(آیت) ” سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ “۔ (6 : 54)
اس کے بعدہم آپ کے پاس بیٹھا کرتے اور جب آپ جانا چاہتے تو خود اٹھ کر چلے جاتے اور ہم اپنی جگہ پر ہوتے ۔ اس کے بعد سورة کہف کی یہ آیت (واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالعدواۃ والعشی یریدون وجھہ ولا تعد عینک عنھم ترید زینۃ الحیوۃ الدنیا (18 : 28)
” اور اپنے دل کو ان لوگوں کی معیت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گار بن کر صبح وشام اسے پکارتے ہیں اور ان سے ہر گز نگاہ نہ پھیرو “۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو “۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ ہمارے ساتھ بیٹھے رہتے اور جب وقت ہوجاتا تو ہم خود اٹھ جاتے اور آپ ﷺ کو اکیلا چھوڑتے کہ آپ ﷺ اٹھ کر چلے جائیں ۔
(ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں اس حدیث پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ ” یہ حدیث غریب ہے ۔ یہ آیت مکی ہے ‘ اور اقرع ابن حابس اور عیینہ ہجرت کے بہت بعد میں مسلمان ہوئے ہیں ۔ “ لیکن اس تنقید کا کوئی جواز نہیں ہے ۔ ان کی اس روایت کا تعلق ان کے اسلام کے پہلے کے واقعہ سے ہے ۔ انہوں نے یہ تو نہیں کہا کہ اس واقعے کے وقت وہ مسلمان ہوچکے تھے ۔ لہذا ان کے اسلام اور اس روایت کے درمیان کوئی تعارض نہیں ہے ۔ کیونکہ جب حضور ﷺ نے ان کی بات تسلیم نہ کی تو انہوں نے اس وقت اسلام سے اعراض کردیا ۔ (سید قطب)
اس کے بعد جب رسول اللہ ﷺ ان لوگوں کو دیکھتے ان کو سلام کرنے میں پہل فرماتے اور فرماتے ” خدا کا شکر ہے کہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جن کے بارے میں اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں انہیں پہلے سلام کروں ۔ “
صحیح مسلم میں عائذ ابن عمر کی روایت ہے کہ ابو سفیان آیا اور مجلس میں سلمان ‘ صہیب ‘ بلال ؓ اجمعین اور دوسرے لوگ بیٹھے تھے ۔ ان لوگوں نے کہا : ” خدا کی قسم اللہ کی تلواروں نے خدا کے دشمنوں میں سے جس مقام تک پہنچنا چاہئے تھا نہ پہنچ سکیں ۔ “ اس پر حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا : تم لوگ یہ ریمارکس شیخ قریش اور ان کے سردار کے بارے میں پاس کررہے ہو ؟ ابوبکر ؓ حضور ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے اس واقعہ کی اطلاع آپ ﷺ کو دی تو حضور ﷺ نے فرمایا : ” تم نے ان کو ناراض تو نہیں کردیا ؟ اگر تم نے ان لوگوں کو ناراض کردیا ہے تو تو نے رب کو ناراض کردیا ہے ۔ “ ابوبکر ؓ فورا ان کے پاس آئے اور ان سے پوچھا ” بھائیو ! کیا تم میری بات سے ناراض تو نہیں ہوگئے ہو ؟ تو انہوں نے کہا :” نہیں تو ‘ بھائی تمہیں اللہ معاف کر دے ۔
ذرا ٹھہرو ‘ یہ غور کا مقام ہے اور اس پر ذرا طویل وقفہ کرو۔ ان آیات پر غور کرو ‘ بلکہ تمام انسانیت کا یہ حق ہے کہ وہ اس مقام پر رکے ار دیر تک غور کرے ۔ ان آیات میں انسان کے خالی خولی حقوق اور چمکدار اصولوں اور اقدار ہی کا تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ ان آیات میں جو بات کہی گئی ہے وہ انسانی حقوق سے بھی بہت بلند اور اہم ہے ۔ یہاں ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو عملا لوگوں کی زندگیوں میں موجود ہے اور یہ وہ عظیم انقلاب ہے جو اسلامی نظام حیات نے پوری انسانیت کی زندگی میں عملا برپا کیا ۔ ذرا آسمان انسانیت کے افق پر نگاہ ڈالو ‘ وہ ہے بلند اور باریک لکیر جس تک کبھی یہ انسانیت پہنچی تھی اور کاغذوں پر نہیں ملا وہاں تک پہنچی تھی آج ذرا غور کرو کہ وہی انسانیت اس ریکارڈ مقام سے کس قدر نیچے گر گئی ہے اس لئے کہ انسانیت دین اسلام کی قیادت سے محروم ہوگئی ہے ۔ انسانیت جس قدر بھی گر جائے اس ریکارڈ کی اہمیت اپنی جگہ ہے ۔ اس انقلاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے کیونکہ تاریخ کے ایک دور میں انسانیت اس مقام تک پہنچی ہے ۔ یہ ریکارڈ عملا قائم ہوا ہے اور انسان نے یہ خط ایک دن اپنے عمل سے افق انسانیت پر رقم کیا ہے ۔ انسانیت کو چاہئے کہ اس مقام بلند تک دوبارہ پہنچنے کی سعی کرے اس لئے کہ اسلامی انقلاب نے اس چوٹی کو ایک بار سر کیا ہے ۔ دوبارہ اس مقام تک پہنچا جاسکتا ہے ۔ وہ دیکھو افق انسانیت پر مسلمانوں کے نقوش پا موجود ہٰں ۔ اب بھی انسان وہاں تک پہنچ سکتے ہیں ۔ اب بھی دین اسلام موجود ہے ۔ صرف عزم یقین اور اعتماد کی ضرورت ہے ۔
ان آیات کی اہمیت یہ ہے کہ ان میں انسانیت کے اس عظیم سفر کے نقوش پا کو دائما مرتسم کردیا گیا ہے ۔ ان آیات میں اس تاریخی عمل کو ریکارڈ کردیا گیا جس کے ذریعے اسلام نے عربوں کو جاہلیت کی گراٹوں اور گندگیوں سے اٹھا کر اس مقام بلند تک پہنچا دیا تھا اور پھر ان کے ہاتھ میں پوری انسانیت کی قیادت دے دی تھی ۔ انہوں نے اطراف عالم میں پوری انسانیت کو ہاتھ سے پکڑا اور افق انسانیت میں اس ریکارڈ لکیر تک اٹھا دیا جسے کوئی اور نظام تک عبور نہیں کرسکا ۔
انسانیت عموما اور عرب خصوصا جس قعر مذلت میں گرے ہوئے تھے ‘ ان آیات میں اس کا تصور سردار قریش کے ان الفاظ کے اندر بالکل واضح ہے ۔ کہتے ہیں : ” محمد تم نے اپنی قوم میں سے صرف ان لوگوں کو چن لیا ہے ؟ کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ تعالیٰ نے ہم سب کو چھوڑ کر ‘ احسان کیا ہے ؟ اور کیا اب ہم ان لوگوں کے مطیع فرمان ہوجائیں ؟ ہمارا مشورہ تو یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کو اپنی مجلس سے بھگا دیں ۔ اگر آپ نے انہیں اپنی مجلس سے رخصت کردیا تو امید ہے کہ ہم آپ کی اطاعت کرلیں گے ۔ “ ۔۔۔۔۔ اقرع ابن حابس اور عیینہ ابن حصن فزاری نے جو الفاظ کہے ان میں بھی صاف نظر آتا ہے کہ اس وقت دنیا کس قعر مذلت میں گری ہوئی تھی ۔ یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے اصحاب سابقین اولین کے بارے میں اس حقارت آمیز انداز میں کلام کرتے ہیں کہ بلال ‘ صہیب ‘ عمار اور خباب ؓ اجمعین جیسے لوگ دوسرے درجے کے لوگ ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ملاقات کرنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں یہ پسند نہیں ہے کہ اہل عرب ہمیں ان جیسے ضعفاء اور غلاموں کے ساتھ ایک ہی مجلس میں بیٹھے ہوئے دیکھیں کیونکہ حضور ﷺ کے پاس تو ہر وقت عالم عرب سے وفود آتے رہتے ہیں ۔ ان لوگوں کا موقف یہ تھا کہ ایسے لوگوں کے ساتھ ان کا بیٹھنا ان کے لئے باعث ننگ ہے ۔
اس جگہ جاہلیت کا سیاہ چہرہ بےنقاب ہوجاتا ہے اور اس کی حقیر رسمیں اور کمزور اقدار کھل کر سامنے آجاتی ہیں ۔ قوم ‘ نسب اور مال و دولت کی بنیاد پر قائم ہونے والی عصبیت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے ۔ ان فقراء میں سے بعض لوگ سرے سے عرب ہی نہ تھے ۔ بعض دوسرے ایسے تھے کہ انکا تعلق وقت کے نام نہاد شرفاء میں سے نہ تھا اور بعض ایسے تھے جو مالدار نہ تھے ۔ یہی وہ اقدار ہیں جن کو دنیا کی ہر جاہلیت نشوونما دیتی ہے ۔ دور جدید کی جاہلیتیں بھی آج تک اس قسم کے تصور قومیت ‘ تصور نسل اور مالی لحاظ سے اٹھنے والے طبقاتی تصور سے بلند نہیں ہو سکیں ۔
یہ ہیں جاہلیت کی گراوٹیں اور پستیاں اور یہ ہے اسلام کی سربلندی اور علو شان ۔ اسلام کی نظر میں ان قومی ‘ نسلی اور طبقاتی نعروں کا کوئی وزن نہیں ہے اور نہ ان پست اور سطحی تصورات کا کوئی اعتبار ہے ۔ اسلام وہ نظام ہے جو آسمان سے نازل ہوا ‘ یہ کوئی ایسا نظام نہیں ہے جو زمین سے اگا ہو۔ اس لئے کہ زمین کے اندر تو پستیاں موجود ہیں اور یہ پستیاں ایسی شور زدہ ہیں کہ ان کے اندر ایسے خیالات کے پودے اگ ہی نہیں سکتے کیونکہ اسلامی پودا نہایت ہی پاکیزہ درخت ہوتا ہے ۔ اسلام کی اطاعت سب سے پہلے محمد رسول اللہ ﷺ کرتے ہیں جو اللہ کے نبی اور رسول ہیں اور جن پر آسمانوں سے وحی آتی ہے ۔ وہ قریش کی ایک سرکردہ شاخ بنی ہاشم کے فرد ہیں ۔ پھر اسلام کی اطاعت حضرت ابوبکر ؓ کرتے ہیں ‘ جو حضور ﷺ کے ساتھی ہیں۔ یہ حضرات سب سے پہلے ان غلاموں کے بارے میں ان زیردستوں کے بارے میں اسلامی ہدایات پر عمل کرتے ہیں ۔ یہ غلام اور زیردست وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے سوا تمام غلامیوں کا جو اپنی گردن سے اتار پھینکا ہے صرف اللہ کے غلام بن گئے ہیں اور صرف اللہ کے غلام ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں مذکورہ بالا انقلابی ہدایات آئیں ۔
جس طرح قریش کے ان سرداروں کی باتوں میں جاہلیت کی پستیاں عیاں ہیں اور اقرع اور عیینہ کی ذہنیت میں یہ گراوٹیں نمایاں ہیں اس طرح کلام الہی کے اس حصے میں بھی علو شان عیاں ہے ۔ حضور ﷺ کو ان الفاظ میں ہدایات دی جاتی ہیں ۔ ذرا دوبارہ غور کیجئے ۔
(آیت) ” وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ مَا عَلَیْْکَ مِنْ حِسَابِہِم مِّن شَیْْء ٍ وَمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52) وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لِّیَقُولواْ أَہَـؤُلاء مَنَّ اللّہُ عَلَیْْہِم مِّن بَیْْنِنَا أَلَیْْسَ اللّہُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاکِرِیْنَ (53) وَإِذَا جَاء کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ أَنَّہُ مَن عَمِلَ مِنکُمْ سُوء اً بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِہِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(54)
جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو ۔ ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کی چیز کا بار ان پر نہیں ۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے ۔ دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے ۔ تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ” کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل وکرم ہوا ہے ؟ ہاں ! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟ جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو کہو ” تم پر سلامتی ہے ۔ تمہارے رب نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ (یہ اس کا رحم وکرم ہی ہے کہ) اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔ “
اسلام کی یہ سربلندی اس روپے سے عیاں ہوتی ہے جو حضور ﷺ نے ان غلاموں کے ساتھ اختیار کیا جس کے بارے میں اللہ نے نبی کو حکم دیا کہ آپ ان کو سلام کرنے پہلے کریں اور جب وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوں تو اس وقت تک انتظار کریں جب تک وہ خود اتھ نہیں جاتے حالانکہ حضور محمد ابن عبد اللہ ابن ہاشم تھے ‘ اس کے سوا آپ پیغمبر خدا تھے اور خیرالخلائق تھے اور ان لوگوں کے سرخیل تھے جن کی وجہ سے انسانیت اور زندگی کو شرف نصیب ہوا ۔
ان غلاموں کی ذہنیت سے بھی اسلامی نظریہ حیات کی سربلندی عیاں ہے ۔ وہ اللہ کے ہاں اپنے مرتبے کا احساس رکھتے ہیں ۔ وہ اللہ کی راہ میں چلنے والی تلواروں کے کام اور فرائض کے بارے میں بھی احساس رکھتے ہیں کہ یہ اللہ کی تلواریں ہیں ۔ ابو سفیان قریش کا شیخ اور سردار ہے اور وہ اسلامی صفوں میں اس لئے پیچھے رہ گیا کہ وہ فتح مکہ کے بعد عام معافی کے نتیجے میں ایمان لایا ، یہ غلام اس لئے پہلی صفوں میں چلے گئے کہ انہوں نے مشکل دور میں دعوت اسلامی پر لبیک کہا اور شدید ابتلا میں ڈالے گئے ۔ جب حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں ابو سفیان کے معاملے میں ڈانٹا تو حضور ﷺ نے انہیں سخت متنبہ کیا اور کہا کہ تم نے ان لوگوں کو غصہ تو نہیں دلایا ۔ اگر تم نے انہیں ناراض کیا ہے تو گویا تم نے اللہ کو ناراض کردیا ہے ۔ آج کے دور میں ہمارا کوئی تبصرہ یہاں تک نہیں پہنچ سکتا ۔ ہم تو صرف سادہ الفاظ میں اس واقعہ کو نقل کرسکتے ہیں ۔ حضرت ابوبکر ؓ فورا اٹھ کر ان کے پاس واپس جاتے اور پوچھتے ہیں ” بھائیو ! تم ناراض تو نہیں ہوگئے ہو ۔ “ وہ جواب دیتے ہیں ” نہیں بھائی ‘ اللہ تمہاری مغفرت کرے ۔ “
یہ کس قدر حیران کن واقعہ ہے جو انسانی تاریخ میں رونماہوا ؟ یہ کس قدر عظیم انقلاب تھا جو انسانی زندگی میں رونما ہوا ؟ جس کے اندر اقدار بدل گئیں ‘ طور طریقے بدل گئے ۔ لوگوں کا شعور بدل گیا اور ان کے خیالات بدل گئے اور یہ تمام تغیرات آنا فانا واقع ہوئے جبکہ علاقے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ لوگ بدل نہیں گئے تھے اور اقتصادی نظام جوں کا توں تھا ۔ نظریات کے سوا تمام حالات زندگی جوں کے توں تھے ۔ بس آسمان سے ایک پیغام آیا ‘ وہ ایک بشر پر آیا ‘ یہ صرف اللہ کی حاکمیت کا پیغام تھا ۔ انسانی فطرت تہ بہ تہ آلودگیوں میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ لوگ جاہلیت کی پستیوں میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ اس پیغام لانے والے نہیں پکارا ‘ اس پکار کی وجہ سے ان کی قوتوں نے جوش مارا اور اس جوش میں وہ پستیوں سے اٹھ کر بلند ترین چوٹیوں پر چڑھ گئے ۔ یہ برتری انہیں صرف اسلام کی برکت سے نصیب ہوئی ۔
پھر تاریک نے دیکھا کہ یہ لوگ ان بلندیوں سے پستیوں میں جا جا کر گرنے لگے ۔ اور آخر کار دوبارہ پستیوں تک پہنچ گئے ، آج نام نہاد تہذیب کے مراکزواشنگٹن ‘ نیویارک ‘ شکاگو اور جو ہانسبرگ وغیرہ میں یہ گندی عصبیتیں دوبارہ عروج پر ہیں ۔ رنگ اور نسل کے اساس پر آج پھر لوگوں نے عصبیتوں کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ کہیں وطنیت کا فتنہ ہے ‘ کہیں قومیت کا چرچا ہے ‘ کہیں طبقاتی جنگ برپا ہے اور ان جاہلیتوں کی گندگی جاہلیت عربیہ سے کچھ کم بدبودار نہیں ہے ۔
لیکن اسلامی نظام حیات آج بھی سرفراز ہے ۔ اس کے عروج کا خط آج بھی افق انسانیت پر ریکارڈ ہے ۔ آج بھی انسانیت کے لئے یہ نظام رحمت ہے اور امید کی کرن ہے کہ شاید دوبارہ انسانیت اس مقام تک اس کی قیادت میں پہنچ جائے اور اس گندے اور بدبودار تبخیر سے نکل آئے ۔ اس کی آنکھیں اور نظریں اوپر کو اٹھیں ۔ وہ دوبارہ اس ریکارڈ خط تک پہنچنے کی سعی کرے ۔ شاید وہ دوبارہ یہ میٹھی آواز سن سکے اور داعی اسلام کی حدی خوانی سے وجد میں آجائے اور اسلامی نقوش راہ پر چل کر دو بار اس بلند ترین ٹارگٹ تک جا پہنچے ۔
اس تفسیر میں ہم نے جو انداز اختیار کیا ہے اس کی وجہ سے ان اجمالی اشارات سے آگے ہم نہیں جاسکتے ۔ جس قدر وقفہ ہم نے کرلیا اب اس سے زیادہ نہیں رک سکتے تاکہ ہم تمام انسانیت کو دعوت دے سکیں کہ وہ ان آیات پر غور کرے اور دیکھے کہ پوری انسانی تاریخ کے اندر یہ واقعہ کس قدر روشن اور چمکدار ہے ۔ اس کے اندر انسانیت نے نہایت ہی پستیوں سے اسلامی نقوش راہ پر چلتے ہوئے بلندی حاصل کی اور وہ بلندیوں میں بہت دور تک جانکلی ۔ کس طرح آج کی مادی اور بےدین تہذیب کی قیادت میں وہ دوبارہ گری اور اب اس کی حالت یہ ہے کہ انسانیت ایک ایسا جسم ہے جس میں کوئی روحانیت نہیں ہے ۔ انسان ہیں مگر وہ نظریہ حیات سے محروم ہیں ۔ یہ بھی معلوم کرلیں اسلام میں کس قدر صلاحیت ہے کہ وہ دوبارہ قائدانہ مقام حاصل کرسکتا ہے ۔ خصوصا تاریخ کے ایسے موڑ پر جبکہ تمام تجربے ‘ تمام مکاتب فکر ‘ تمام طرز ہائے حیات ‘ تمام نظامہائے زندگی ‘ تمام تصورات حیات اور تمام افکار ‘ جو انسانوں کے خود ساختہ تھے اور جن میں دین اسلام سے ہدایت نہ اخذ کی گئی تھی وہ زندگی کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں ۔ یہ تمام افکار انسانی زندگی کو اس سربلندی تک یہ پہنچا سکے جس تک اسلامی نظام نے اسے پہنچایا تھا ۔ یہ تمام تصورات انسانیت کو عزت واحترام کا وہ مقام نہ دلا سکے جو اسے اسلام کے زیرسایہ نصیب ہوا ۔ انسانوں کو وہ اطمینان نہ دلا سکے جو اسلام نے انہیں عطا کیا ۔ خصوصا وہ انقلاب جو اسلامی نظام نے عربوں میں رونما کیا ‘ بغیر اس کے کہ لاکھوں انسانوں کو ذبح کیا جائے ‘ بغیر اس کے کہ کروڑوں پر تشدد کیا جائے ‘ بغیر اس کے کہ لوگوں کو بغیر مقدمہ چلائے کیمپوں میں بند رکھا جائے ‘ بغیر تشدد ‘ بغیر بےچینی ‘ بغیر ایذا رسانی ‘ بغیر بھوک اور بغیر فقر اور بغیر ان انقلابات کے جن کی زد میں انسانیت آتی رہتی ہے اور جس میں کچھ لوگ دوسروں کو جسمانی یا روحانی طور پر غلام بنا لیتے ہیں ۔ اللہ کی غلامی کے سوا اور غلامیاں راسخ ہوجاتی ہیں ۔
میں سمجھتا ہوں یہاں اسی قدر کلام کافی ہے اور یہ آیات بذات خود جو گہرے اثرات نفس انسانی پر چھوڑتی ہیں وہ کسی تشریح کے محتاج نہیں ہیں۔ (مزید تشریح کے لئے پارہ 30 میں سورة عبس کی تشریح ملاحظہ فرمائیں)
الأنعام 6:55
(آیت) ” نمبر 55۔
یہ اس لہر کا خاتمہ ہے ۔ اس میں حقیقت رسالت اور مزاج رسول کی بڑی خوبی سے وضاحت کی گئی ہے اور اسلامی نظریہ حیات کو بھی کسی بغیر لاگ ولپیٹ کے بتایا گیا ہے ۔ ان اقدار حیات کو بھی واضح کیا گیا ہے ۔ جن کے غلبے کے لئے اسلام اس جہان میں آیا اور ان کو بھی جدا کردیا گیا جن کی بیخ کنی کے لئے اسلام اٹھا ۔
(آیت) ” وکذلک نفصل الایت “۔ (6 : 55) (اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں)
کیوں اس لئے کہ (آیت) ” لتستبین سبیل المجرمین “۔ (6 : 55) (تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے) یعنی اس انداز ‘ اس منہاج اور اس طرز کلام کے ساتھ ہم بیان مدعا کرتے ہیں ۔ بڑی تفصیلات کے ساتھ جن کے بعد سچائی کی پہچان میں کسی شک کی گنجائش نہی رہتی ۔ بات میں کوئی اجماع یا پیچیدگی نہیں رہتی اور اس فصاحت کے بعد سچائی کو تسلیم کرنے کے لئے کسی معجزے کی ضرورت نہیں رہتی ۔ سچائی واضح ہوجاتی ہے ‘ بات کھل جاتی ہے اور قرآنی انداز کلام کے مطابق ۔ اس پوری سورة کے اندر بیان ہونے والے شواہد و دلائل کے مطابق حقائق وواقعات کی روشنی میں یہ امور تفصیل آیات کے مفہوم میں شامل ہیں۔
مقصد مجرموں کی راہوں کو جدا کرنا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات اور اس کی اساس پر تحریک برپا کرنے کے لئے قرآن کا منہاج کیا ہے ؟ (لتستبین) قرآن کا منہاج وانداز یہ نہیں ہے کہ وہ فقط مومنین وصالحین کی راہوں کی نشاندہی کر دے ‘ بلکہ قرآن کا منہاج تحریک یہ ہے کہ قرآن کریم گمراہوں اور مجرموں کے طور طریقوں کی وضاحت بھی کرتا ہے ۔ مجرموں کی راہوں کی وضاحت بذریعہ تنقید باطل بےحد ضروری ہے اور اس لئے ضروری ہے کہ اہل حق کے راستے کی وضاحت ہو ۔ یہ دعوت اسلامی کے واضح خطوط ہیں جن پر ہمیں چلنا ہے ۔ حق و باطل کا طریقہ کار یہاں سے جدا ہوجاتا ہے ۔
اسلام کا منہاج عمل اللہ نے متعین کیا ہے اور یہ اس لئے متعین کیا گیا ہے کہ اس منہاج کے مطابق نفوس انسانی کا علاج کیا جائے ۔ اللہ کو اس بات کا خوب علم تھا کہ سچائی وبھلائی پر پختہ یقین اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ جب بھلائی کے مقابلے میں شر اور سچائی کے مقابلے میں جھوٹ پر بھی نظر رکھی جائے اور یہ معلوم کیا جائے کہ یہ باطل خالص جھوٹ اور شر محض ہے جس کے مقابلے میں حق خالص سچائی اور خیر محض ہے ۔ نیز حق وصداقت کی حمایت پر انسان اس وقت آمادہ ہوتا ہے جب وہ یہ یقین کرلے کہ اس سچائی کا مقابلہ جو قوت کر رہی ہے وہ باطل ہے ۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ قوت باطلہ مجرموں کی راہوں کی مسافر ہے اور مجرمین وہ قوت ہیں جن کے بارے میں ایک دوسری جگہ قرآن کریم یہ تصریح کرتا ہے کہ ہر نبی کا کوئی دشمن ہوتا ہے ۔ (آیت) ” وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین ) (اسی طرح ہم نے ہر نبی کیلئے مجرموں میں سے ایک دشمن پیدا کیا) یہ اس لئے تاکہ نبی اور مومنین کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جائے کہ ان کا دشمن مجرم ہے اور ان کا یہ عقیدہ پختہ یقین ‘ اعتماد اور شرح صدر پر مبنی ہو۔
کفر ‘ شر اور مجرمانہ حرکات کی وضاحت ‘ ایمان ‘ بھلائی اور اصلاح کے لئے نہایت ضروری ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ مجرمین کے راستوں کی وضاحت آیات الہیہ کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ہے ‘ مجرمین کے موقف اور ان کے طرز عمل کے بارے میں کوئی بھی شعبہ یا معمولی التباس خود مومنین کے موقف ‘ ان کے طرز عمل اور ان کی راہ میں شبہات پیدا کردیتا ہے ‘ اس لئے کہ دونوں تصویر کے دو رخ ہیں ‘ کتاب کے صفحات متقابل ہیں اور دو جدا جدا راستے ہیں ۔ دونوں کے الگ الگ رنگ ہیں جن کے درمیان امتیاز ضروری ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ تحریک اسلامی کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ اس کے کارکنوں کے فکر ونظر مومنین اور مجرمین کا راستہ ممتاز ہو۔ ہر تحریک کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اپنے راستے کو متعارف کرائے اور اس کے بالمقابل مجرمین کے جو راستے ہیں ان پر تنقید کرکے ان کی کمزوریاں واضح کرے اور دونوں کے درمیان جو فرق و امتیاز ہے اسے کھول کر بیان کرے ۔ یہ فرق و امتیاز عالم واقعہ میں بھی ہو ‘ حقیقی ہو ‘ محض نظریاتی نہ ہو ‘ اس لئے کہ داعیوں اور ان کے کارکنوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ جس ماحول میں وہ کام کر رہے ہیں ان میں مومنین کون ہیں اور مجرمین کون ہیں ؟ نیز ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ ان مجرمین کا طریق کار کیا ہے ‘ ان کا منہاج کار کیا ہے اور ان کی علامات کیا کیا ہیں ۔ تاکہ ان کے ذہن میں دونوں راستوں اور منہاج کے اندر کوئی شبہ والتباس نہ ہو ۔ نہ عنوان ایک ہو اور نہ صفات اور خدوخال ایک ہوں ۔ مومنین اور مجرمین ان کے تصور میں ایک دوسرے سے اچھی طرح ممتاز ہوں ۔
جس وقت جزیزۃ العرب میں سب سے پہلے اسلام اور شرک کی مڈبھیڑ ہوئی ‘ اہل ایمان اور مجرمین کے درمیان یہ فرق و امتیاز بالکل واضح تھا ۔ دونوں کے راستے اچھی طرح ممتاز اور جدا تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کا راستہ مومنین کا راستہ تھا اور یہی آپ کے ساتھیوں کا راستہ تھا اور مجرمین کا راستہ ان لوگوں کا راستہ تھا جو تحریک اسلامی میں آپ کے ساتھ شامل نہ ہوئے تھے اور ایمان نہ لائے تھے ۔ اس حد بندی اور اس وضاحت کے ساتھ قرآن کریم نازل ہو رہا تھا اور آیات الہیہ تفصیلات دے رہی تھیں ۔ جس کے نمونے اس سورة میں آپ نے دیکھے ۔ یہ آخری نمونہ تو سبیل المجرمین کی اچھی طرح نشاندہی کر رہا ہے ۔
جب اسلام نے شرک ‘ بت پرستی ‘ الحاد اور ان ادیان کا سامنا کیا جو اپنی اصل کے اعتبار سے ادیان سماوی تھے لیکن ان کے اندر بعد میں آنے والے انسانوں نے اپنی خواہشات کے مطابق تحریفات کردی تھیں ‘ تو اسلام نے ان ادیان ونظریات کے مقابلے میں مومنین کو ایک واضح موقف اور ایک صاف وسیدھا راستہ دیا ۔ جس طرح ان کافروں اور مشرکوں کی راہ واضح اور متعین تھی ‘ اور ان کے اندر کوئی بیس اور شک نہ تھا۔
لیکن آج عالم اسلام میں چلنے والی تحریکات اور انکے مخالفین کے درمیان راستے کی صفائی اور اس کا تعین نہیں ہے ۔ اور یہی بہت بڑی مشکل ہے ۔ یہ اسلامی تحریکات ایسے لوگوں کے درمیان چل رہی ہیں جو نسلی اعتبار سے مسلمان ہیں اور ایسے علاقوں میں چل رہی ہیں جو کسی وقت دارالاسلام میں شامل تھے ۔ کسی وقت ان علاقوں پر دین اسلام کی حکمرانی تھی اور شریعت ان علاقوں کا بنیادی قانون تھی ۔ پھر ان علاقوں نے اور ان اقوام نے حقیقی اعتبار سے اسلام کو چھوڑ دیا ‘ صرف نام کے مسلمان رہ گئے اور انہوں نے اسلام کے بنیادی عناصر کو عملا اور اعتقادا ترک کردیا ۔ اگرچہ وہ اس زعم میں مبتلا رہے کہ انہوں نے عقیدے کے اعتبار سے اسلام کو اپنایا ہوا ہے ۔ حالانکہ اسلام کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی اس بات کی شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ اور حاکم نہیں ہے ۔ اس شہادت کے اندر یہ مفہوم شامل ہیں کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ‘ وہ اس کائنات کا خالق اور اس میں متصرف ہے ۔ انسان صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اسی کے احکام کے مطابق پوری زندگی بسر کریں گے ۔ انسانوں کا یہ فرض ہوگا کہ صرف اللہ سے اپنے قوانین اخذ کریں اور اپنی پوری زندگی میں اللہ کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کریں ۔ جو شخص اس مفہوم کے ساتھ اللہ کی وحدانیت کا اقرار نہیں کرتا تو اس نے نہ کلمہ شہادت پڑھا اور نہ وہ اسلام میں داخل ہوا ۔ چاہے اس کا نام اور اس کا لقب اور اس کی نسل اور نسب جو بھی ہو ۔ جس سرزمین پر بھی کلمہ شہادت اپنے اس مدلول کے ساتھ جاری نہ ہو تو اس سرزمین کو ہم دارالاسلام نہیں کہہ سکتے اور نہ وہ سرزمین سرزمین اسلام ہے ۔
اس کرہ ارض پر لوگوں کی بڑی بڑی قومیں آباد ہیں جن کے نام مسلمانوں کے ناموں جیسے ہیں اور یہ لوگ ہیں بھی مسلمانوں کی نسلوں سے ۔ ان لوگوں کے علاقے بھی کسی وقت دارالاسلام تھے لیکن ان میں سے آج کوئی قوم بھی لا الہ الا اللہ کی شہادت اس مفہوم کے مطابق نہیں دیتی اور نہ کسی ملک میں لوگ اس مفہوم کے مطابق نظام حکومت چلاتے ہیں۔
یہ ایک نہایت ہی تکلیف دہ صورت حال ہے ‘ جس کا مقابلہ آج ان ملکوں میں اسلامی تحریکات کر رہی ہیں ۔ ایسے لوگوں سے ان کا رابطہ ہے جن کا اوپر ذکر ہوا ۔ ان تحریکات کو یہ مشکل درپیش ہے کہ نام نہاد مسلمانوں کے اندر لا الہ الا اللہ کا مفہوم نہیں سمجھا جاتا ۔ اور نہ لوگ لفظ اسلام کو اس کے صحیح معنوں میں سمجھتے ہیں ۔ یہ لوگ نہ تو جاہلیت کے مفہوم سے آگاہ ہیں اور نہ ہی شرک کی حقیقت سے ۔
اس کے علاوہ اسلامی تحریکات کو یہ مشکل بھی درپیش ہے کہ خود صالح مسلمانوں کے سامنے صحیح راستہ متعین نہیں ہے ۔ ان کا راستہ مجرموں اور مشرکوں کے راستہ سے جدا نہیں ہے ۔ دونوں کے نشانات وعنوانات ایک ہیں ۔ دونوں کے نام اور اوصاف ایک جیسے ہیں اور دونوں ایک ناپیدا کنار صحرا میں گم گشتہ راہ ہیں ۔
اسلامی تحریکات ‘ اس کمزوری کو اچھی طرح جانتی ہیں ‘ لیکن وہ اس عظیم کوتاہی کے بارے میں خاموش ہیں ۔ یہ خاموشی محض وسعت قلبی ‘ بےراہ روی ‘ منافقت اور حق و باطل کے درمیان ملاوٹ کی وجہ سے اختیار کی جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ اس پوائنٹ پر جو شخص سچی اور فیصلہ کن بات کرتا ہے وہی الٹا مجرم بن جاتا ہے ۔ اس کی پکڑ دھکڑ شروع ہوجاتی ہے اور اس پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ یہ شخص مسلمانوں کی تکفیر کرتا ہے ۔ اس طرح ان لوگوں کے نزدیک مسلمان وہ نہیں ہوتا جو اقوال خدا اور اقوال رسول کے مطابق مسلمان ہو بلکہ مسلمان وہ ہوتا ہے جو ان کی اپنی اصطلاحات اور ان کے رسم و رواج کے مطابق مسلمان ہو ۔ یہ ہے وہ عظیم مشکل جو اسلامی تحریکات کی راہ میں مائل ہے ۔ لیکن تمام اہل دعوت کے لئے لازم ہے کہ وہ اس مشکل مسئلے کو حل کر کے آگے بڑھیں ‘ وہ جہاں بھی ہوں اور جس دور میں بھی ہوں ۔
مناسب یہ ہے کہ دعوت الی اللہ کی تحریک کا آغاز یوں کی جائے کہ ابتداء ہی سے مومنین اور مجرمین کی راہیں بالکل علیحدہ اور متعین ہوجائیں ۔ اہل دعوت جب کام کا آغاز کریں تو حق اور صداقت کا اظہار بغیر کسی مداہنت کے دو ٹوک الفاظ میں کریں ۔ وہ بغیر کسی خوف اور لاگ لپیٹ کے بات کریں ۔ ان کی بات میں کوئی پیچیدگی نہ ہو اور وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ۔ ان کے دل میں کوئی خوف اور ڈر نہ ہو ۔ نہ وہ اپنے دل میں اس بات کا خوف پیدا ہونے دیں کہ ان کے خلاف کوئی مخالفانہ آواز اٹھے گی اور یہ کہا جائے گا ” دیکھو یہ لوگ تو مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ۔
اسلام کا موقف یہ نہیں ہے جو ان بےراہ رو لوگوں نے اختیار کر رکھا ہے ۔ اسلام کا راستہ واضح ہے ‘ جس طرح کفر کی راہ بالکل واضح ہے ۔ اسلام یہ ہے کہ کلمہ طیبہ کا اقرار درج بالا مفہوم کے ساتھ کیا جائے ۔ جو شخص اس مفہوم کے ساتھ کلمہ طیبہ کا اقرار نہیں کرتا اور جو شخص اپنی زندگی میں کلمہ طیبہ کو اس مفہوم کے اندر قائم نہیں کرتا تو اس کے بارے میں اللہ اور رسول اللہ کا حکم یہ ہے کہ وہ ظالم ‘ فاسق اور کافر ہے اور مجرم ہے ۔
ذرا پھر پڑھیے (آیت) ” وَکَذَلِکَ نفَصِّلُ الآیَاتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ (55)
” اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے ۔ “ یاد رکھیے دعوت الی اللہ کا کام کرنے والوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اس گھاٹی کو سر کریں ۔ اپنی راہ سے اس رکاوٹ کو ہٹائیں ۔ وہ اپنے نظریات کے اندر خلوص اور للہیت پیدا کریں تاکہ وہ اپنی پوری قوتوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں اٹھ کھڑے ہوں ۔ کوئی شبہ ان کی راہ نہ روک سکے ‘ کوئی التباس ‘ کوئی مداہنت اور کوئی بےراہ روی ان کی راہ میں حائل نہ ہو ‘ اس لئے کہ ان کی قوتیں اس وقت تک کھل کر کام نہ کرسکیں گی جب تک انہیں یہ یقین نہ ہو کہ وہ سچے مسلمان ہیں اور یہ کہ جو لوگ ان کی راہ روکے کھڑے ہیں اور ان کو اور تمام دوسرے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکے ہوئے ہیں وہ مجرمین ہیں ۔ یہ بات بھی تحریک اسلامی کے حاملین کے پیش نظر رہے کہ اقامت دین کے مسئلے کو جب تک کفر و ایمان کا مسئلہ نہ تصور کیا جائے گا اس وقت تک کوئی بھی اس راہ کی مشکلات کو خندہ پیشانی کے ساتھ قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوگا ۔ جب تک ایک مسلمان یہ یقین نہ کرلے کہ اس کی راہ اور اس کی قوم کی راہ بالکل جدا ہے ‘ یہ کہ اس کی ملت اور اس کی قوم کی ملت جدا ہے اور یہ کہ ان کا دین اور ان کی قوم کا دین جدا ہے ۔ ذرا پھر دہرائیے ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نفَصِّلُ الآیَاتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ (55)
” اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے ۔ “ صدق اللہ العظیم ۔
درس نمبر 62 ایک نظر میں :
حقیقت رسول ﷺ اور حقیقت رسالت کے بیان کے بعد اب روئے سخن دو بار حقیقت الوہیت کی طرف پھر گیا ہے ۔ ان حقائق پر سابقہ لہر میں بحث کی گئی تھی ۔ ان تمام لہروں کا باہم گہرا ربط ہے ۔ حقیقت رسول اور حقیقت رسالت کے بعد یہ بھی واضح کیا گیا کہ رسول کا راستہ مومنین کا راستہ ہے اور اس کے مقابلے میں تمام راستے مجرمین کے راستے ہیں ۔
اس لہر میں شان کبریائی کا اظہار کئی رنگوں اور کئی میدانوں میں ہوتا ہے ۔ ان کی تفصیلات تو ہم تشریح آیات کے ضمن میں دیں گے البتہ یہاں ہم ان کی طرف اجمالی اشارات کریں گے ۔
حقیقت الوہیت کا چراغ قلب رسول میں روشن ہے ۔ رسول کا دل اعتماد اور یقین کی شراب طہور سے بھر پور ہوتا ہے ۔ اگر پوری دنیا بھی اس حقیقت کو جھٹلا دے تو رسول ثابت قدم رہتا ہے اس کے پائے یقین میں کوئی لغزش نہیں آتی ۔ اس لئے رسول اللہ اعلان کردیتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے ہوگئے ہیں اور وہ اس معاملے میں ان لوگوں سے مکمل علیحدہ راہ اپنا لیتے ہیں جو اس بارے میں متزلزل ہوتے ہیں اور یہ جدائی رسول کے پختہ یقین اور عزم کی وجہ سے ہے ۔
(آیت) ” قُلْ إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّہِ قُل لاَّ أَتَّبِعُ أَہْوَاء کُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ (56) قُلْ إِنِّیْ عَلَی بَیِّنَۃٍ مِّن رَّبِّیْ وَکَذَّبْتُم بِہِ مَا عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَ خَیْْرُ الْفَاصِلِیْنَ (57) (6 : 56۔ 57)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو ” تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے ۔ “ کہو : ” میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا ‘ اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوگیا ‘ راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا ۔ “ کہو ” میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے ۔ اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو ‘ فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے ‘ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے “۔
شان کبریائی کا اظہار اس حلم اور برداشت سے بھی ہوتا جس کا برتاؤ اللہ تعالیٰ ان مکذبین کے ساتھ فرماتے ہیں ۔ وہ تو مطالبہ کرتے ہیں کہ ان پر خارق عادت معجزے کا وقوع ہوجائے لیکن اللہ تعالیٰ ان کے اس مطالبے کے جواب میں نہایت ہی بردباری کا عمل اختیار فرماتے ہیں اور یہ اس لئے کہ اگر کسی خارق عادت معجزے کا ظہور ہوجائے اور پھر وہ تکذیب کریں تو سنت الہیہ کے مطابق پھر ان پر نزول عذاب لازم ہوجائے گا اور ہر قسم کا عذاب نازل کرنا اللہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر نزول عذاب کو خود حضرت نبی کریم ﷺ کے اختیار میں دے دیا جاتا تو ان لوگوں نے جو رویہ اختیار کیا اس کے پیش نظر یہ خطرہ تھا کہ حضور ﷺ ان پر یہ عذاب نازل ہی کردیتے کیونکہ انہوں نے بار بار حق جھٹلا کر آپ کو دل تنگ کردیا تھا اور آپ کی قوت برداشت سے یہ صورت حال باہر ہوگئی تھی ۔ لہذا ایسے حالات میں بھی ان کو مہلت دے دینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی حلیم و حکیم ہے اور اس سے شان کبریائی کا ظہور بھی ہوتا ہے ۔
(آیت) ” قُل لَّوْ أَنَّ عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ لَقُضِیَ الأَمْرُ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَاللّہُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ (58)
” کہو : اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہئے ؟ “۔ شان کبریائی کا ظہور اس حقیقت سے بھی ہوتا ہے کہ وہ عالم الغیب ہے اور اس کائنات کے اندر جو واقعہ بھی ہوتا ہے ‘ اس کا علم اسے احاطے میں لئے ہوئے ہے اور یہ علم اللہ کے سوا کسی اور کو نہیں ہے ۔ اس غیب کا یہ نقش اور یہ صورت صرف اللہ کے ساتھ مخصوص ہے ۔
(آیت) ” وَعِندَہُ مَفَاتِحُ الْغَیْْبِ لاَ یَعْلَمُہَا إِلاَّ ہُوَ وَیَعْلَمُ مَا فِیْ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَۃٍ إِلاَّ یَعْلَمُہَا وَلاَ حَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمَاتِ الأَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ یَابِسٍ إِلاَّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ (59) ۔
” اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ بحروبر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے ‘ درخت سے گرنے والا کوئی پتا ایسا نہیں ہے جس کا اسے علم نہ ہو ‘ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں ہے جس سے وہ باخبر نہ ہو ‘ خشک وتر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے ۔ “
اس کا اظہار اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ اللہ کو اپنے بندوں پر مکمل گرفت حاصل ہے ۔ وہ ہر حال میں اللہ کے کنٹرول میں ہیں ‘ سوتے ہوں یا جاگتے ‘ زندہ ہوں یا مردہ اور دنیا میں ہو یا آخرت میں ہوں۔
(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفَّاکُم بِاللَّیْْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضَی أَجَلٌ مُّسَمًّی ثُمَّ إِلَیْْہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (60) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَیُرْسِلُ عَلَیْْکُم حَفَظَۃً حَتَّیَ إِذَا جَاء أَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَہُمْ لاَ یُفَرِّطُونَ (61) ثُمَّ رُدُّواْ إِلَی اللّہِ مَوْلاَہُمُ الْحَقِّ أَلاَ لَہُ الْحُکْمُ وَہُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِیْنَ (62) (6 : 60 : 62)
” وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے ۔ پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو ‘ آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے ‘ پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ۔ ؟ اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کر کے بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دیتے ہیں اور ذرا کوتاہی نہیں کرتے ۔ پھر سب کے سب اللہ اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس جاتے ہیں ۔ خبردار ہوجاؤ کہ سارے اختیارات اس کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے “۔
یہ شان کبریائی خود ان لوگوں کے اس فطری ردعمل کے وقت بھی ظاہر ہوتی ہے جب یہ جھٹلانے والے کسی خطرے سے دو چار ہوتے ہیں ۔ اس وقت یہ لوگ دوسرے شرکاء کو چھوڑ کر صرف اللہ کو پکارتے ہیں کہ وہ اس خطرے کو ٹال دے لیکن اس کے باوجود پھر شرک کرنے لگتے ہیں اور اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اس خطرے کو ٹالنے کے لئے وہ جس خدا کو پکارتے تھے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ انہیں کسی دوسرے ایسے عذاب سے دوچار کر دے جس کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہ بچے ۔
(آیت) ” قُلْ مَن یُنَجِّیْکُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَہُ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ ہَـذِہِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ (63) قُلِ اللّہُ یُنَجِّیْکُم مِّنْہَا وَمِن کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِکُونَ (64) قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلَی أَن یَبْعَثَ عَلَیْْکُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِکُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِکُمْ أَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعاً وَیُذِیْقَ بَعْضَکُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ کَیْْفَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُونَ (65) ۔ (6 : 63 تا 65)
(اے نبی ﷺ ان سے پوچھو ‘ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ‘ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو ؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟ کہو ‘ اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے ۔ پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ کہو ” وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے ‘ یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے ‘ یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے ۔ “ دیکھو ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں ۔ “ )
الأنعام 6:56
(آیت) ” نمبر 56 تا 58۔
یہ لہر ہدایت اور اشارات سے بھری پڑی ہے ۔ اس میں قلب انسانی پر اثر انداز ہونے والے مختلف عوامل کے ذریعے حقیقت الوہیت کو نظروں کے سامنے لایا گیا ہے ۔ ان مؤثرات اور ضربات میں سے اہم اور گہرا موثر اس میں لفظ قل کا تکرار ہے ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو کیا گیا ہے کہ آپ اپنے رب کی طرف سے آنے والے ہر پیغام کو پہنچا دیں ۔ یہ وہ پیغام ہے جو کسی اور گروہ کے پاس نہیں ہے ‘ کوئی اور اس پیغام کا حامل نہیں ہے ۔ اور نہ یہ پیغام کسی اور پر القا ہوتا ہے ۔
(آیت) ” قُلْ إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّہِ قُل لاَّ أَتَّبِعُ أَہْوَاء کُمْ قَدْ ضَلَلْتُ إِذاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ (56)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو ” تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے ۔ “ کہو : ” میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا ‘ اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوگیا ‘ راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا ۔ “
حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اعلان فرما دیں کہ آپ کو ان لوگوں کی بندگی کرنے اور انکی پیروی کرنے سے خدا نے منع کردیا ہے جن کی بندگی اور پیروی تم مشرکین کرتے ہو ۔ میں تمہارے معبودوں کو کسی صورت میں اپنے رب کا ہمسر نہیں بنا سکتا ۔ اس لئے کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا کہ میں لوگوں کی خواہشات کی پیروی کروں اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی بندگی کرتے ہیں وہ محض اپنی خواہشات نفس کی وجہ سے ان لوگوں کی پیروی کرتے ہیں اور انہیں اللہ کا ہمسر بناتے ہیں ۔ وہ کسی علم یا دلیل کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہے ۔ اور نہ اس وجہ سے کر رہے ہیں کہ انکے نزدیک یہ کوئی حق بات ہے ۔ نیز یہ کہ اگر میں ان لوگوں کی پیروی کروں تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت یافتہ نہ رہوں گا کیونکہ جن لوگوں پر ان کی خواہشات مسلط ہوتی ہیں وہ لازما گمراہی کا شکار ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کو یہ حکم دیتے ہیں کہ آپ مشرکین کے ساتھ اس انداز میں ہمکلام ہوں ۔ ان کے ساتھ اس انداز میں دو ٹوک بات کریں ۔ اس سورة میں اس سے پہلے بھی حضور ﷺ کو حکم دیا جا چکا ہے ۔
(آیت) ” أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19) ۔
” کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسراخدا بھی ہے ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ خدا تو وہی ایک ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ “
مشرکین مکہ حضور ﷺ کو یہ پیشکش کرتے رہے تھے کہ آپ انکے دین کو مان لیں اور وہ آپ کے دین کو تسلیم کریں گے ۔ آپ ان کے خداؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور وہ آپ کے الہ واحد کے سامنے سجدہ ریز ہوجائیں گے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ شاید اس قسم کی مصالحت مسالت کا امکان ہے اور یہ کہ ایک ہی دل میں شرک اور توحید جمع ہو سکتے ہیں ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ غیر اللہ کی بندگی اور پیروی کے ساتھ ساتھ اللہ کی بندگی اور پیروی بھی ممکن ہے حالانکہ یہ اجتماع ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ اپنے ساتھ دوسرے شریکوں کو تسلیم کرے ۔ وہ تو یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اس کے بندے صرف اور صرف اس کی بندگی کریں ۔ اللہ کو وہ بندگی سرے سے قبول ہی نہیں ہے جس میں شرک کا کوئی شائبہ تک موجود ہو ‘ چاہے وہ تھوڑا ہو یا زیادہ ۔
آیت کا مقصد تو یہ ہے کہ حضور ﷺ ان سے یوں مخاطب ہوں کہ آپ ﷺ کو ان کی بندگی سے منع کردیا گیا ہے جن کی یہ لوگ بندگی کرتے ہیں یا جنہیں وہ الہ کہتے ہیں ۔ لیکن یہاں انداز تعبیر یوں ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے ” الذین “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو قابل غور ہے اس لئے کہ الذین کا لفظ ذوالعقول کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ اگر مراد صرف بتوں سے ہوتی یا دوسرے بےجان معبود مراد ہوتے تو یہاں لفظ (ما) استعمال ہوتا (الذین) استعمال نہ ہوتا ۔ لہذا یہاں بتوں اور دوسرے حجر وشجر سے کوئی اور مخلوق مراد ہے جنکے لئے لفظ الذین استعمال ہوا ہے ۔ ان معبودوں کے لئے الذین کی ضمیر استعمال بتاتا ہے کہ معبود ذوالعقول تھے ۔ اس تعبیر کی تائید دو باتوں سے ہوتی ہے ایک تو واقعی تاریخی حائق سے اور دوسری اسلامی اصطلاحات سے ۔
تاریخی واقعہ یہ ہے کہ مشرک صرف پتھر کے بتوں اور درختوں کی پوجا نہ کرتے تھے بلکہ ان کے ساتھ وہ جنوں ‘ فرشتوں اور انسانوں کو بھی پوجتے تھے ۔ انسانوں کی پوجا اس طرح کرتے تھے کہ وہ انسانوں کو قانون سازی اور افراد کے لئے راہنمائی کا حق دیتے تھے یہ انسان ان کے لئے رسم و رواج قوانین اور ضابطے بناتے تھے جن کے مطابق ان کے ہاں اجتماعی عمل ہوتا اور تنازعات کے فیصلے ہوتے ۔ ان انسانوں کی رائے اور دوسرے انسانوں کے رواج کے مطابق ۔
اب ہم اسلامی اصطلاحات کی طرف آتے ہیں۔ اسلام اسے شرک تصور کرتا ہے ۔ اسلام کا تصور یہ ہے کہ انسانوں کے امور زندگی میں کچھ دوسرے انسانوں کو حاکم بنانا اس طرح ہے جس طرح انہیں کوئی اپنا الہ بنا لے اور انہیں اللہ کا شریک اور ہمسر بنا دے ۔ اسلام میں اس حرکت سے اسی طرح منع کرتا ہے جس طرح اسلام بتوں اور پتھروں کی پوجا سے منع کرتا ہے ۔ یہ دونوں کام اسلام کے عرف میں برابر اور مساوی درجے کے منکرات ہیں ۔ یہ صریح شرک ہے اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانا ہے ۔ اب پہلی چوٹ کے ساتھ متصلا دوسری چوٹ لگتی ہے ۔ یہ دوسری ضرب پہلی ضرب کی تکمیل ہے اور اس سے متصل ہے ۔
الأنعام 6:57
(آیت) ” قُلْ إِنِّیْ عَلَی بَیِّنَۃٍ مِّن رَّبِّیْ وَکَذَّبْتُم بِہِ مَا عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَ خَیْْرُ الْفَاصِلِیْنَ (57) ۔
” کہو ” میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے ۔ اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو ‘ فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے ‘ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے “۔
یہ ضرب اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ کفار اور جھٹلانے والوں کے سامنے واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان کردیں کہ آپ کے دل میں اپنے پیغام کے بارے میں پختہ یقین ہے اور آپ کو اس سلسلے میں مکمل یکسوئی حاصل ہے ۔ آپ کے شعور میں اس پیغام کی سچائی پر بین دلائل موجود ہیں اور آپ کی ذات میں اس امر کا گہرا وجدانی احساس موجود ہے کہ آپ ﷺ جو پیغام دے رہے ہیں وہ حق ہے ۔ یہ ایک ایسا شعور ہے ‘ جو تمام نبیوں کے اندر پوری طرح پایا جاتا ہے اور تمام نبیوں نے اس احساس و شعور اور وجدانی راہنمائی کا اظہار ایسے ہی الفاظ میں کیا ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا :
(آیت) ” قال یقوم ارئیتم ان کنتم علی بینۃ من ربی واتنی رحمۃ من عندہ فعمیت علیکم انلزمکموھا وانتم لھا کرھون “۔ (11 : 28)
” نوح نے کہا اے بردران قوم ‘ ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا ‘ اور پھر اس نے مجھ پر اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر پر چپکا دیں ۔ “ اور حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا :
(آیت) ” (آیت) ” قال یقوم ارئیتم ان کنتم علی بینۃ من ربی واتنی رحمۃ فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہ فما تزیدوننی غیر تخسیر “۔ (11 : 63)
” صالح (علیہ السلام) نے کہا اے بردران قوم ‘ تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا ‘ اور پھر اس نے مجھ پر اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو ؟ سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارہ میں ڈال دو ۔ “ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا :
(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ (6 : 80)
” اس قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا : ” کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے ۔ “ اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کہا :
(آیت) ” فلما ان جآء البشیر القہ علی وجھہ فارتد بصیرا قال الم اقل لکم انی اعلم من اللہ مالا تعلمون “۔ (12 : 96)
” پھر جب خوشخبری لانے والا آیا تو اس نے یوسف کا قمیص یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور یکایک اس کی بینائی عود کر آئی ۔ تب اس نے کہا ” میں تم سے کہتا نہ تھا ؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ “
یہ ہے حقیقت خدائی ‘ جو اللہ والوں کے دل میں روشن چراغ کی طرح نمایاں ہوتی ہے ۔ لیکن صرف ان لوگوں کے دلوں میں یہ چراغ روشن ہوتا ہے جن کے دلوں میں اللہ روشن کرنا چاہے ۔ ایسے لوگ اللہ کو اپنے دل میں موجود پاتے ہیں اور ان کی شخصیت کی گہرائیوں میں یہ حقیقت بیٹھ جاتی ہے اور ان کے دلوں کو یقین سے بھر دیتی ہے ۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کے بارے میں اللہ اپنے نبی کو حکم دیتا ہے کہ وہ مشرکین کے سامنے اس کا اعلان ببانگ دہل کردیں ۔ مشرکین دراصل دعوت الی اللہ کی تکذیب کرنا چاہتے ہیں اور وہ حیلے بہانے بنا کر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ اس حقیقت کو تسلیم کرانے کے لئے معجزات پیش کریں حالانکہ یہ حقیقت تو قلب رسول میں روشن چراغ کی طرح موجود ہے ۔
(آیت) ” قل انی علی بینۃ من ربی وکذبتم بہ “۔ (6 : 57)
” کہو میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے “۔ وہ ہمیشہ یہ مطالبہ کرتے رہتے تھے کہ یا تو ان پر کوئی خارق عادت معجزہ نازل ہوجائے یا ان پر عذاب الہی نازل ہوجائے تاکہ وہ اس بات کو تسلیم کرلیں ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے حکم دیا جاتا تھا کہ اس سوال کے جواب میں آپ ان کے سامنے رسول اور رسالت کی حقیقت کا اعلان کریں اور رسول اور رسالت اور اللہ اور اس کی الوہیت وحاکمیت کے درمیان مکمل فرق بیان کریں ۔ نیز یہ بھی اعلان کردیں کہ جس عذاب اور معجزے کی آمد کے لئے وہ عجلت کا اظہار کر رہے ہیں اس کے صدور میں ان کو بالکل اختیارات نہیں ہیں ۔ یہ کام تو صرف اللہ کے دست قدرت میں ہے ۔ وہ تو الہ نہیں وہ تو فقط پیغام بر ہیں ۔
(آیت) ” ِ مَا عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَ خَیْْرُ الْفَاصِلِیْنَ (57)
” میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو ‘ فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے ‘ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے “۔
کسی معجزے کا آنا اور اس کے بعد نہ ماننے کی صورت میں ان پر عذاب الہی کا نزول ایک ایسا معاملہ ہے جس کا تعلق اللہ کے فیصلے اور حکم سے ہے اور اس معاملے میں جج اور فیصلہ کرنے والا صرف اللہ ہی ہے ۔ اللہ ہی حق بیان کرنے والا ہے اور اطلاع دینے والا ہے ۔ اللہ ہی ہے جو کسی پیغمبر اور اس کی امت دعوت کے درمیان فیصلے کا اختیار رکھتا ہے ۔ کسی انسان کو اس باب میں کوئی اختیار اور حق مداخلت نہیں دیا گیا ہے ۔
اس طرح رسول اللہ ﷺ اعلان کردیتے ہیں کہ ایسا کوئی فیصلہ کرنے کا انہیں کوئی اختیار نہیں ہے اور نہ وہ قضا وقدر کے ان امور میں مداخلت کرسکتے ہیں ۔ یہ اللہ کے نظام الوہیت کے ساتھ مخصوص ہے اور خصائص الوہیت میں سے ہے جبکہ وہ خود ایک بشر ہیں ۔ ہاں امتیاز یہ ہے کہ ان کی طرف وحی آتی ہے ۔ ان کا فرض یہ ہے کہ وہ اسے لوگوں تک پہنچا دیں اور انہیں انجام بد سے ڈرائیں ۔ ان کا یہ منصب نہیں ہے کہ فیصلے کریں اور ان کے مطابق لوگوں کو سزا دیں ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ حق بیان کرتا ہے اور ہمیں اس کی اطلاع دیتا ہے اسی طرح فیصلوں کا اختیار بھی اللہ کو ہے ۔ یہ وہ انداز ہے جس کے سوا ایک بشر اور ذات باری کے درمیان فرق و امتیاز کی کوئی اور سبیل نہیں ہے ۔
اس کے بعد حضرت کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کے قلب ونظر سے اپیل کریں اور ان کی توجہ ان قوی دلائل واشارات کی طرف مبذول کرائیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ یہ پیغام اللہ کی جانب سے ہے اور اس کا فیصلہ بھی مشیت الہی پر موقوف ہے ۔ اگر معجزات کا صدور اور عذاب الہی کا نزول آپ کے قبضہ قدرت میں ہوتا تو تقاضائے انسانیت کے نتیجے میں آپ فورا ہی یہ چیلنج قبول کرلیتے اور اور اس معاملے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کرتے کیونکہ وہ تو اس امر کا بار بار باصرار مطالبہ کرتے تھے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ اللہ کے اختیار میں تھا اور اللہ وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کے مقابلے میں نہایت ہی حلیم ہے ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کوئی خارق عادت معجزہ نہیں صادر فرماتے کیونکہ اس کے بعد ان پر عذاب آتا ہے ۔ وہ تو تکذیب پر تلے ہوئے تھے اور یہ وہ بات ہے جو تاریخ میں اس سے قبل اقوام وملل کو پیش آتی رہی ہے ۔
الأنعام 6:58
(آیت) ” قُل لَّوْ أَنَّ عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ لَقُضِیَ الأَمْرُ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَاللّہُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ (58)
” کہو : اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہئے ؟ “۔
جہاں تک انسان کا تعلق ہے ‘ صبر ‘ حلم ‘ بردباری ‘ اور مہلت دینے میں اس کی صلاحیت محدود ہے ۔ جب انسان انسان کے خلاف بغاوت اور سرکشی اختیار کرتا ہے تو انسان کی قوت برداشت ختم ہوجاتی ہے کیونکہ انسان دوسرے زیردست انسان کی جانب سے سرکشی کو برداشت ہی نہیں کرتا لیکن اللہ حلیم ‘ بردبار اور قوی ہے ‘ وہ عظمت والا ہے ۔
ذراکلام الہی پر غور کرو ۔ بارہا ایسا ہوتا ہے انسان بعض دوسرے انسانوں سے ایسے امور دیکھتا ہے کہ اس کا پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے اور اس کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں دیکھو کہ انسان اللہ کی نافرمانی کرتا چلا جاتا ہے لیکن وہ پھر بھی اللہ کی زمین پر رہتے ہیں ‘ وہ اللہ کھانا وپینا فراہم کرتا ہے ‘ ان پر بارش برساتا ہے ‘ انکے لئے ہر طرف سے فراوانی کے دروازے کھول دیتا ہے اور اس کے لئے اس کے سوا کوئی اور چارہ ہی نہیں رہتا کہ وہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی بات کو دہرائے ۔ ایک بار وہ معرکہ جنگ میں تھے ۔ معرکہ اس قدر گرم تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہ دیتا تھا اور کفار نے فیصلہ کن حملہ کیا ہوا تھا ۔ ہر طرف سے بزن کا عالم تھا ۔ آپ نے فرمایا :” اے اللہ آپ کس قدم حلیم اور بردبار ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم و بردبار ہیں ۔ غرض یہ اللہ کا حلم اور بردباری ہی ہے کہ نافرمانوں کو مہلت دئیے جا رہی ہے ۔
(آیت) ” وَاللّہُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ (58)
” اور اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہئے ؟ “۔ وہ جانتے ہوئے مہلت دیتا ہے ۔ وہ حکمت کے ساتھ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور علیم بھی ہے اور قدرت بھی رکھتا ہے کہ ان کے مطالبے کو بھی پورا کردے اور انہیں سخت عذاب سے بھی دوچار کر دے ۔ “
بات یہ ہو رہی تھی کہ اللہ ظالموں کے بارے میں خوب جانتے ہیں ‘ اور یہ کہ حقیقت الوہیت اور شان کبریائی کیا ہے ‘ اس مناسبت سے یہاں شان کبریائی کے ایک وسیع تر میدان ان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے اور یہ وسیع تر میدان عالم غیب ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کا علم تمام خفیہ باتوں پر محیط ہے ۔ یہاں اللہ کے علم کی وسعت کی عجیب اور منفرد تصور کشی کی جاتی ہے اور اس میدان میں اللہ کے علم کی وسعتوں کی طرف دور تک را ہوار خیال کو گامزن کیا جاتا ہے ۔
الأنعام 6:59
(آیت) ” نمبر 59۔
اللہ کے کامل اور محیط علم کی یہ نہایت خوبصورت تصویر ہے ۔ یہ علم اس قدر محیط ہے کہ زمان ومکان کا ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔ بروبحر کے تمام موجودات اس کے علم کے دائرے کے اندر ہیں ۔ فضاؤں اور زمین کی گہرائیوں میں پائے جانے والے تمام ذرات بھی اس کے دائرہ علم کے اندر ہیں ۔ خشک وتر اور زندہ و مردہ ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔
ہمارے اس بیان اور آیت زیر بحث کے اسلوب بیان میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ قرآن کا انداز نہایت ہی منفرد ‘ شامل وکامل ‘ گہرا وعمیق اور نہایت ہی موثر اور معنی آفریں ہے ۔
ہمارا را ہوار خیال اس مختصر آیت کے پیچھے سرپٹ بھاگتا ہے ۔ ہمارا خیال عالم معلومات اور عالم مجہولات میں گھوڑے دوڑاتا ہے ۔ انسان عالم غیب وعالم شہادت پر غور وفکر کرتا ہے تو اس کا وجدان اور مشاہدہ کانپ اٹھتا ہے کہ ہر وادی میں اور ہر طرف اسے مشاہدات ومظاہر کی نئی نئی شکلیں نظر آتی ہیں ۔ انسان کی جدوجہد بڑی تیزی سے اپنی تلاش نامعلوم کے لئے جاری ہے ۔ وہ غیب کے پردوں کو پھاڑ کر سب کچھ عیاں کرنا چاہتا ہے ۔ وہ ماضی اور مستقبل کے تمام پردے ہٹانا چاہتا ہے ۔ زمان ومکان کے آفاق اور گہرائیوں میں وہ دور تک جھانکنا چاہتا ہے لیکن وہ جس سمت سے آگے بڑھتا ہے اسے نظر آتا ہے کہ غیب کی چابیاں تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں ۔ ایک حد پر جاکر اس کو علم واکتشافات کے دروازے مقفل نظرآتے ہیں اور آگے کی چابیاں اللہ کے پاس ہیں ۔ غرض انسان کا وجدان کائنات کی تاریک وادیوں اور سمندر کی گہرائیوں میں دوڑتا ہے ۔ یہ سب جگہیں اللہ کے علم کے زاویے سے عیاں ہیں ۔ پھر ہمارا شعور دنیا کے ہر خزاں میں گرنے والے پتوں کی طرف جاتا ہے ‘ جن کی تعداد سے انسان بیخبر ہیں لیکن اللہ کی آنکھ ایک ایک کو دیکھ رہی ہے کہ کس طرح وہ امر ربی سے گرتا ہے اور اس پوری کائنات میں یہ علم ان پتوں تک وسیع ہے ۔ اس کائنات میں اگنے والے بیشمار پودوں سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے بیج اور ان کا ایک ایک دانہ جو ظلمات ارض میں کہیں پڑا ہے وہ بھی اللہ کی نظر میں ہے ۔ اس وسیع و عریض کائنات کا ہر خشک وتر اللہ کی نظروں میں ہے اور کوئی بھی چیز علم الہی سے باہر نہیں ہے ۔
غرض یہ تصور سر کو چکرا دیتا ہے اور اس سے عقل مبہوت ہوجاتی ہے ۔ یہ تصور اور شعور ہمیں تاریخ اور زمانوں کی طوالتوں میں لے جاتا ہے ۔ یہ آفاق کائنات کی دوریوں کا تصور دلاتا ہے ۔ عالم معلوم اور مشاہد اور عالم غیب اور مجہول کا تصور انسان کرتا ہے تو اس میں ہر طرف وسعت ہی وسعت نظر آتی ہے ۔ را ہوار خیال تھک کر چور چور ہوجا تا ہے لیکن قرآن کریم کے چند کلمات ان وسعتوں اور دوریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔ یہ ہے قرآن کا اعجاز ‘ اعجاز عبارت اور اعجاز خیال جس پہلو سے بھی ہم اس مختصر آیت پر نگاہ ڈالیں یہ معجز ہے اور یہ اعجاز ہمیں واضح طور پر اس طرف لے جاتا ہے کہ اس عظیم کلام کا مصدر اور منبع کیا ہے ؟
قرآن کریم جو اسلامی تصور حیات کا مصدر اور سرچشمہ ہے اور جس سے اسلامی ذہنیت پیدا ہوتی ہے ‘ وہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اس کائنات کے دو جہان ہیں ‘ ایک عالم غیب ہے اور دوسرا عالم مشاہدہ یا عالم شہادت ۔ لہذا انسان جس جہان میں رہتا ہے اس کے تمام حقائق غیبی نہیں ہیں اور نہ اس کا واسطہ عالم مجہولاتا سے ہے بلکہ یہاں عالم شہادت بھی ہے ۔
اس کائنات کے اندر بعض ناقابل تغیر قوانین اور سنن ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سنن کائنات میں سے ضروری کا علم حاصل کرسکتا ہے ۔ اپنی اس صلاحیت اور ضرورت کے مطابق اسے یہ صلاحیت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ یہاں خلافت ارضی کے منصب سے وابستہ فرائض ادا کرسکے اور اپنی زندگی کو سنن کائنات کے ساتھ ہم آہنگ کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس قدر صلاحیت دی ہے جس قدر اسے منصب خلافت کے تقاضے پورے کرنے کے لئے درکار ہے ، تاکہ انسان کائناتی قوتوں کو مسخر کر کے اس زمین کو آباد کرسکے ‘ یہاں زندگی کو ترقی دے سکے اور انسانی زندگی کی بہتری کے لئے اللہ نے اس کائنات کے اندر جو ذخائر ودیعت کئے ہیں انہیں کام میں لا سکے ۔
لیکن ان قوانین قدرت کے ساتھ ساتھ مشیت الہی بھی بطور ایک حقیقت کے موجود ہے ۔ اگرچہ یہ تمام قوانین قدرت مشیت ایزدی کا نتیجہ ہیں لیکن یہ قوانین قدرت مشیت الہیہ کے بجائے تقدیر الہی کے مطابق کام کرتے ہیں ۔ یہ تمام قوانین قدرت الہیہ کے تحت چلتے ہیں ۔ یہ کوئی خود مختار یا کنٹرول سے باہر مشینری نہیں ہے ۔ اللہ کی قدرت اور اس کی تقدیر ان قوانین پر پوری طرح محیط ہے ۔ اس کائنات کی ہر حرکت اس کے دائرہ قدرت میں ہے ۔ اگرچہ بظاہر یہ کائنات ایک ناموس کے مطابق رواں دواں ہے لیکن یہ ناموس اللہ کا پیدا کردہ ہے ۔ اللہ کا نظام قضا وقدر ان قوانین قدرت کو نافذ کرتا ہے ۔ نظام قضا وقدر عالم غیب کا حصہ ہے اور اس کے بارے میں علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ لوگوں نے جو سائنسی اصول وضع کر رکھے ہیں وہ بھی ظنی اور احتمالی ہوتے ہیں اور آج تک انسان نے اس کائنات کے جو راز معلوم کئے ہیں اور ان کے بھی یہ اعتراف موجود ہے ۔
ذرا انسان کے اس مختصر وجود پر غور کیجئے ۔ اس کے اندر ہر لحظہ لاکھوں ذرات سرگرداں ہیں ۔ ہی سب تصرفات انسانی نقطہ نظر سے غیب ہیں ۔ اگرچہ یہ تمام حرکات اور مؤثرات خود اس کے وجود کے اندر روبعمل رہتے ہیں ۔ پھر اس عظیم کائنات کے اندر جو مؤثرات کام کر رہے ہیں وہ تو لاتعدد الا تحصی ہیں۔ انسان ان میں سے کچھ بھی نہیں جانتا ۔
عالم غیب انسان کے ماضی پر بھی محیط ہے اور اس کائنات کے ماضی پر بھی محیط ہے ۔ انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات اور اس کی موجودہ حالت پر بھی عالم غیب محیط ہے ۔ نیز ان کے مستقبل پر بھی عالم غیب محیط ہے ۔ یہ سب امور سنن الہیہ کے مطابق روبعمل ہیں جن میں سے نہایت ہی قلیل مقدار کا علم ابھی تک انسان کو ہوسکا ہے ۔ انسان ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور انہیں منظم اور مربوط طریقے سے فریضہ خلافت کی ادائیگی میں استعمال کر رہا ہے ۔
انسان اس کائنات میں اپنی خواہش کے مطابق نہیں آتا ۔ نہ اسے یہ علم ہوتا ہے کہ اب وہ اس جہان میں وارد ہوگا ۔ جب وہ اس جہان سے رخصت ہوتا ہے تب بھی اس رخصتی میں اس کی خواہش شامل نہیں ہوتی اور نہ اسے علم ہوتا ہے کہ کب اسے جانا ہے یہی صورت حال ہر زندہ مخلوق کی ہے ۔ انسان جس قدر علم بھی حاصل کرلے اور اس کی معرفت اور آگاہی کا دائرہ کتنا ہی وسیع تر کیوں نہ ہوجائے وہ اس صورت حالات میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا ۔
اسلامی ذہنیت اور اسلامی ماہیت کے اعتبار سے ” غیبی علمی “ نوعیت رکھتی ہے ۔ اس لئے کہ غیب اور عدم علم اسائنسی اعتبار سے بھی بھی حقیقی علم ہے ۔ جو لوگ غیب کا انکار کرتے ہیں وہ جاہل ہیں حالانکہ وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ بہت کچھ جاننے والے ہیں ۔
اسلامی فکر کی اساس یہ ہے کہ ایک مسلمان ایسے غیبی حقائق کے وجود کا اقرار کرتا ہے جس کا حقیقی علم صرف اللہ کو ہے ۔ اس علم کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ پھر اسلامی فکر یہ بھی یقین رکھتی ہے کہ یہ کائنات سنن الہیہ کے مطابق چل رہی ہے ۔ اور ان سنن الہیہ میں سے بعض ایسے ہیں جن کا علم فریضہ خلافت فی الارض کے لئے ضروری ہے ۔ ان اصولوں کے ساتھ مضبوط اساسوں پر ہم آہنگی اختیار کرنا بھی ضروری ہے ۔ چناچہ اسلامی ذہنیت اور اسلامی فکر کی وجہ سے انسان نہ علم ومعرفت سے محروم ہوتا ہے اور نہ حقیقت واقعیہ کے ادراک سے محروم ہوتا ہے ۔ اس عالم شہادت سے آگے ایک عالم غیب ہے اور اس عالم مغیبات کا علم صرف اللہ کو ہے اور اپنے بندوں میں سے اگر اللہ چاہے تو کسی قدر علم کسی کو عطا کر دے ۔
ایمان بالغیب وہ دشوار گزار گھاٹی ہے جس کو انسان نے ضرور عبور کرنا ہے ۔ جب تک وہ اس مقام پر فائز نہیں ہوتا وہ حیوانی مقام سے بلند ہو کر انسانی مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتا ۔ کیونکہ حیوان صرف ان امور کا ادراک کرسکتا ہے جو اس کے حواس کے دائرے میں آتے ہیں ۔ اس حقیقت کا ادراک صرف انسان ہی کرسکتا ہے کہ یہ کائنات صرف اسی قدر محدود نہیں ہے جو اس کے حواس میں آتی ہے یہ بہت ہی وسیع ہے بلکہ اس سے بھی وسیع تر ہے جو بذریعہ آلات اس کے ترقی دادہ حواس کے دائرہ ادراک میں آرہی ہے ۔ یہ اسلامی تصور اس کائنات کے تصور سے کہیں وسیع تر تصور ہے بلکہ اس کائنات کے بارے میں انسان سوچ کے اندر یہ ایک دور رس تبدیلی ہے ۔ یہ انسانی شخصیت کے بارے میں بھی انسانی سوچ میں ایک دور رس تبدیلی ہے ۔ انسانی شخصیت کے اندر جو قوتیں کار فرما ہیں ان کے بارے میں بھی انقلابی سوچ ہے ۔ اس سوچ کے تحت ایک انسان کے اندر اس کائنات کے بارے میں اور اس کے پیچھے کام کرنے والی قوتوں کے بارے میں ایک نیا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ اس تصور کے اثرات اس کرہ ارض پر انسان کی عملی زندگی پر بھی پڑتے ہیں اس لئے کہ وہ انسان جو صرف ماحول کا اپنے حواس کے ساتھ ایک محدود مشاہدہ کرتا ہے اس انسان کے مساوی نہیں ہو سکتا جو اپنی بصیرت اور اپنے نظریات کی وجہ سے اس کائنات کے بارے میں وسیع تر سوچ رکھتا ہے ۔ یہ عقلمند انسان فطرت کائنات کی آواز کو اپنی شخصیت کے نہاں خانے سے سنتا ہے اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اشارات پاتا ہے ۔ وہ یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کا دائرہ کار زمان ومکان کی قید سے زیادہ وسیع ہے ۔ اور اس کی شخصیت اس سے کہیں وسیع ہے جو وہ سمجھتا ہے یا اپنی عمر کے ایک مختصر عرصے میں وہ سمجھ سکتا ہے ۔ وہ اس بات کا شعور رکھتا ہے کہ اس ظاہری اور پوشیدہ کائنات کے پس پست ایک عظیم حقیقت ہے اور یہ حقیقت اس کائنات سے بڑی اور اس کی خالق ہے ۔ اس عظیم حقیقت کے وجود ہی سے تمام کائنات کا وجود مستعاد ہے ۔ یہ ہے حقیقت باری تعالیٰ جسے آنکھیں نہیں پا سکتیں اور جو انسانی کی عقل کے احاطے میں نہیں آسکتی ۔
ایمان بالغیب وہ یونٹ ہے جہاں سے انسان اور حیوان کے راستے جدا ہوتے ہیں اور انسان عالم حیوانیت سے بلند ہوتا ہے ۔ لیکن ہر زمانے کی طرح ہمارے دور کے مادہ پرست بھی یہ چاہتے ہیں کہ انسان کو انسانیت کے مقام بلند سے گرا کر عالم حیوانیت کی طرف لوٹا کرلے آئیں جہاں وہی چیز حقیقت سمجھی جاتی ہے جو حواس کے دائرے میں آتی ہے ۔ یہ مادیت پسند اس بات کو ترقی پسندی کہتے ہیں حالانکہ یہ دراصل رجعت پسندی اور ناکامی ہے جس سے اللہ نے مسلمانوں کو ابھی تک بچایا ہے ۔ لہذا ان کی امتیازی صفت ہی یہ قرار دی گئی کہ یومنون بالغیب (جو غیب پر ایمان لاتے ہیں) اور یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ جس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ یہ نکتہ گرنے والوں اور منہ موڑنے والوں کے لئے ہلکات اور تباہی کا مقام ہے ۔
جو لوگ غیب اور سائنس کا باہم تقابل کرکے بحث کرتے ہیں وہ تاریخی واقعات کی فیصلہ کن تعبیر کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک گویا مستقبل ان کے سامنے یقینی صورت میں موجود ہے حالانکہ جدید ترین سائنسی انکشافات یہ ہیں کہ مستقبل کا دارومدار محض احتمالات پر ہے ۔ مستقبل کے بارے میں انسان کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتا ۔
مارکس کی یہ عادت تھی کہ وہ تاریخی اسباب کی روشنی میں مستقبل کے لئے قطعی فیصلے کرتا تھا ۔ لیکن آج کا انسان بچشم سردیکھ سکتا ہے کہ مارکس کی ان تمام پیشین گوئیوں کا حشر کیا ہوا ؟
مارکس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سب سے پہلے انگلستان میں کمیونزم نافذ ہوگا کیونکہ انگلستان صنفی اعتبار سے چوٹی پر پہنچ چکا ہے ۔ وہاں ایک طرف سرمایہ دار عروج پر ہے اور دوسری جانب جانب مزدور فقر وفاقے کے اعتبار سے اپنی آخری منزل تک پہنچ چکا ہے ۔ لیکن بعد کے ادوار میں ہم نے دیکھا کہ نہایت ہی پسماندہ اقوام کے اندر کمیونزم کامیاب ہوا ‘ مثلا روس اور چین میں اور صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہممالک میں سے کسی ایک میں بھی کمیونسٹ انقلاب برپا نہ ہوا۔
لینن اور اسٹالن نے یہ پیشین گوئی کی تھی کہ سوشلسٹ دنیا اور سرمایہ دار دنیا کے درمیان کسی وقت بھی عالمگیر جنگ ہوگی ‘ لیکن ان دونوں کے خلیفہ خرد شیف باہم سلامتی اور دیانت کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔ میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کی پیشین گوئیوں پر مزید بحث کرکے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی یہ یقینی پیشین گویاں اس لائق نہیں کہ ان پر کوئی سنجیدہ بحث کی جائے ۔
یقینی حقیقت اگر کوئی ہے تو یہی غیبی حقیقت ہے اور اس کے سوا تمام باتیں محض احتمالات ہیں ۔ اگر کوئی حتمی بات ہے تو وہی ہے جس کا فیصلہ اللہ کی قضا وقدر نے کردیا ہے اور مستقبل کے بارے میں اللہ نے کیا فیصلہ کیا ہے ‘ اس کا کسی کو علم نہیں ہے سوائے اللہ کے ۔ ہاں تقدیر الہی کے اٹل حقیقت ہونے کے باوجود اس کائنات کے بارے میں کچھ سنن الہیہ ایسی بھی ہیں جو اٹل ہیں اور جو تقدیر الہیہ کا حصہ ہیں ۔ ان میں سے بعض سنن الہیہ تک انسان کی رسائی بھی ممکن ہے اور ان تک رسائی حاصل کرکے انسان اپنے منصب خلافت الہیہ کے فرائض کو بہت ہی اچھی طرح ادا کرسکتا ہے ۔ لیکن ان وسائل کے باوجود اللہ کا فیصلہ اور اس کی تقدیر سپریم ہے اور تقدیر الہی نامعلوم ہے ۔ یہ اس کائنات کی اصل حقیقت ہے اور (ان ھذا القرآن یھدی للتی ھی اقوم) (17 : 9) یہ قرآن کریم اس بات کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو نہایت ہی سیدھی ہے ۔
اب روئے سخن غیب کے علوم کی کنجیوں سے اس کائنات کے ایک خاص پہلو کی طرف مر جاتا ہے ۔ یعنی ذات انسانی کی طرف جو اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہے اور اللہ کی قدرت کے کرشموں میں سے اہم کرشمہ ہے جس سے اللہ کے علم محیط کا بہت ہی اچھی طرح اظہار ہوتا ہے ۔
الأنعام 6:60
(آیت) ” نمبر 60۔
یہ چند مزید الفاظ ہیں ‘ اس سے پہلے چند کلمات میں عالم غیب کے طویل و عریض آفاق کے خطوط کھینچ دیئے گئے تھے اور سابق آیت کے محدود کلمات نے یہ واضح کردیا تھا کہ باری تعالیٰ کا علم کس قدر کامل اور شامل ہے ۔ اب ان زیر بحث چند کلمات اور محدود فقروں سے یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ انسان کی پوری زندگی مکمل طور پر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ تمام امور اللہ کے علم ‘ اللہ کی تقدیر اور اللہ کی تدبیر کے مطابق طے پا رہے ہیں ۔ انسان کا جاگنا اور سونا ‘ اس کا مرنا اور پیدا ہونا ‘ اس کا دوبارہ اٹھنا اور حساب و کتاب سب کے سب امر الہی کے مطابق طے ہو رہے ہیں اور آئندہ بھی اس کے مطابق ہی طے ہوں گے ۔ یہ حقیقت قرآن کے مخصوص طرز ادا اور نہایت ہی ایجداز اور نہایت ہی موثر پیرائے میں بیان کی جاتی ہے ۔ طرز ادا نہایت ہی محسوس ‘ متحرک اور ایسے انداز میں ہے کہ پورا منظر اسکرین پر چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور انسانی شعور اور جذبات کو ساتھ لئے ہوئے ہے ‘ نہایت ہی تعجب خیز طرز تعبیر میں ۔
(آیت) ” وھو الذی یتوفکم بالیل “۔ (6 : 60) وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے ۔ جب انسان نیند کی آغوش میں ڈوب جاتا ہے تو گویا وہ مر جاتا ہے ۔ حالت نوم بھی دراصل موت کی ایک قسم ہے ۔ جس طرح حالت موت میں انسان کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اسی طرح خواب میں بھی حواس معطل ہوجاتے ہیں اور انسان غافل ہوتا ہے ۔ حواس مردہ ہوجاتے ہیں ‘ عقل رک جاتی ہے اور انسان کا فہم وادراک بھی ختم جاتا ہے ۔ یہ ایک راز ہے جو ابھی تک انسانی فہم سے باہر ہے کہ انسانی قوتیں حالت خواب میں کس طرح رک جاتی ہیں ۔ اگرچہ ہم حالت خواب کے آثار کو جانتے ہیں لیکن اس کی حقیقت تک انسان نہیں پہنچ سکا کہ یہ حالت کس طاری ہوجاتی ہے ۔ یہ بھی ایک حالت غیبی ہے جس طرح دوسری غیبی حالات انسان کے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں ۔ لیکن جب انسان اس حالت میں پہنچتا ہے تو اس کی تمام قوتیں اس سے سلب ہوجاتی ہیں ۔ یہاں تک کہ فہم وادراک کی قوت سے بھی انسان محروم ہوجاتا ہے ۔ ایک مخصوص وقت تک کے لئے انسان آثار حیات سے محروم ہوجاتا ہے اور اللہ کے قبضہ قدرت میں جا پہنچتا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جب انسان خواب میں چلا جائے تو صرف اور صرف ارادہ الہی اسے حالت بیداری میں لاتا ہے ۔ ذرا غور کیجئے ! کہ انسان جب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہو تو وہ کس قدر کمزور وناتواں ہے ۔
(آیت) ” ویعلم ما جرحتم بالنھار “۔ (6 : 60) ” اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اسے جانتا ہے ۔ “ انسانوں کے اعضاء حالت بیداری میں پورا دن جو حرکات کرتے ہیں جو پکڑتے ہیں اور جو چھوڑتے ہیں ‘ جو اچھے کام کرتے ہیں اور جو برے کام کرتے ہیں ‘ سب کے سب اللہ کے علم میں ہیں ۔ تمام کے تمام انسانوں کی حرکات و سکنات اللہ کی نگرانی میں ہوتی ہیں اور ان کی حرکات و سکنات میں سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں جاتی ۔
(آیت) ” ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی “۔ (6 : 60) ” پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ “ یعنی جب تم رات سوتے میں گزارتے ہو تو وہ اس ٹھہراؤ اور انقطاع کی حالت سے تمہیں جگاتا ہے تاکہ تم حقیقی موت تک اپنی مقررہ مدت حیات پوری کرسکو۔ تو گویا یہ سب انسان ان تمام حالات میں اللہ کی قدرت اور تقدیر میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہ تقدیر الہی سے باہر نکل نہیں سکتے ۔ نہ یہ تقدیر کہیں جا کر رکتی ہے ۔
(آیت) ” ثم الیہ مرجعکم “۔ (6 : 60) ” پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ “ یعنی جب تم رات سوتے میں گزارتے ہو تو وہ اس ٹھہراؤ اور انقطاع کی حالت سے تمہیں جگاتا ہے تاکہ تم حقیقی موت تک اپنی مقررہ مدت حیات پوری کرسکو۔ تو گویا یہ سب انسان ان تمام حالات میں اللہ کی قدرت اور تقدیر میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہ تقدیر الہی سے باہر نکل نہیں سکتے ۔ نہ یہ تقدیر کہیں جا کر رکتی ہے ۔
(آیت) ” ثم الیہ مرجعکم “۔ (6 : 60) ” آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے ۔ “ جس طرح ایک ریوڑ چرنے چگنے کے بعد واپس اپنی جائے قیام اور اپنے مالک کی طرف لوٹتا ہے اسی طرح انسان واپس اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹتا ہے ۔
(آیت) ” ثم ینبکم بما کنتم تعملون “۔ (6 : 60) ” پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ؟ “ اس وقت ان کا وہ اعمال نامہ پیش ہوگا جس کے اندر ان کا ہر فعل درج ہوگا ۔ اور اس پر اس قدر حقیقی انصاف ہوگا جس میں ظلم کا شائبہ تک نہ ہوگا۔
غرض یہ آیت چند کلمات پر مشتمل ہے لیکن ان کلمات کے اندر ایک طویل ریل لپٹی ہوئی ہے ۔ اس کے اندر مختلف تصاویر اور مناظر پنہاں ہیں ۔ مختلف فیصلے ‘ مختلف اشارات اور ہدایت ثبت ہیں ۔ مختلف شیڈ اور رنگ ہیں ‘ کون ہے جو اس قدرت مختلف کلمات میں یہ رنگ بھر سکتا ہے ۔ اگر یہ آیات معجز نہیں ہیں تو پھر کون سا کلام معجز ہو سکتا ہے ۔ لیکن تعجب ہے کہ تکذیب کرنے والے اور کفر کا رویہ اپنانے والے ان سے غافل ہیں اور مادی معجزات اور خوارق کے طلبگار ہیں اور اللہ کے عذاب الیم کو دعوت دے رہے ہیں ۔
الأنعام 6:61
(آیت) ” نمبر 61 تا 62۔
(آیت) ” وھو القاھر فوق عبادہ “۔ (6 : 61) ” اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے ۔ “ یعنی وہ صاحب قوت بادشاہ ہے اور تمام انسان اس کی ایسی رعایا ہیں جو اس کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اس بادشاہ کی حقیقی قوت اور لوگوں کی قوت کی درمیان کوئی نسبت نہیں ہے ۔ اس کے بالمقابل نہ صرف یہ کہ ان کی کوئی قوت نہیں ہے بلکہ ان کے لئے کوئی معاون و مددگار بھی نہیں ہے سب پوری طرح اس کے غلام ہیں اور پوری طرح اس کے تابع اور زیر قبضہ ہیں ۔
یہ ہے انسان کی جانب سے ایک قاہر اور مکمل طور پر حاوی خدا کی مکمل غلامی اور یہی وہ حقیقی تصور ہے جو لوگوں کی عملی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتا ہے چاہے اللہ لوگوں کو مکمل آزادی اور اختیارات عطا کر دے ‘ ان کو وافر مقدار میں علم ومعرفت دے دے اور ان کو وافر مقدار میں قوت دے دے تاکہ وہ اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت ارضی کے تقاضے پورے کرسکیں ۔ لیکن ان باتوں کے باوجود انسانی زندگی کے تمام سانس اللہ کے ہاں مقرر ہیں اور انسان کی تمام حرکات و سکنات اللہ کے اس قانون قدرت کے مطابق ہیں جو اس نے خود انسانوں کے وجود میں جاری اور ساری کردیئے ہیں اور انسان خود اپنے وجود کے ان قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ۔ اور یہ قوانین بھی نفس انسانی اور حرکات انسانی کے اندر متعین اور مقرر ہیں ۔
(آیت) ” ویرسل علیکم حفظۃ “۔ (6 : 61) ” اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کرکے بھیجتا ہے ۔ “ یہاں آیت میں ان نگرانوں کی نوعیت کو متعین نہیں کیا گیا ۔ دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ یہ نگرانی کرنے والے فرشتے ہیں جو انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور وہ تمام اعمال ریکارڈ کر رہے ہیں جو انسانوں سے صادر ہوتے ہیں ۔ یہاں صرف اس امر پر روشنی ڈالنا مقصود ہے کہ ہر انسان براہ راست اللہ کی نگرانی میں ہے اور انسانی سوچ میں یہ شعور ڈالنا ہے کہ نفس انسانی کو ایک لحظہ کے لئے بھی آزاد نہیں چھوڑا جاتا اور نہ ہی وہ کسی وقت تنہا ہوتا ہے ۔ ہر وقت اس کے ساتھ ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو اس کی تمام حرکات و سکنات کو ریکارڈ کرتے رہتے ہیں اور اس قدر مکمل اور جامع ریکارڈ تیار کرتے ہیں کہ ان کی نظروں سے کوئی بات بچ کر نہیں رہتی ۔ یہ ایک ایسا تصور اور ایسی سوچ ہے جس کے نتیجے میں مکمل انسانی شخصیت بیدار ہوجاتی ہے اور وہ ہر بات کو محسوس کرتی ہے ۔
(آیت) ” حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا وھم لا یفرطون “۔ (6 : 61) ” یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے ۔ “ یہ اسی ربانی نگرانی کا رنگ ہے ‘ لیکن مختلف شیڈز میں ‘ یعنی ہر انسان کے لئے اس دنیا میں سانس لینے کی تعداد مقرر ہے ۔ اس کے ان سانسوں کے رک جانے کا بھی ایک وقت مقرر ہے لیکن اس کو وہ جانتا نہیں ہے ۔ انسانی زاوے سے اجل مقرر ہے ۔ لیکن اس کو وہ جانتا نہیں ہے ۔ انسانی زوایے سے اجل مقرر ہے جو اس کے لئے غیب ہے اور اس کا علم اسے کسی ذریعے سے بھی نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اللہ کے علم میں وہ پہلے سے تحریری طور پر ثبت ہے اور ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ۔ ہر شخص زندگی کے سانس پورے کر رہا ہے ۔ اس دنیا سے اس کے جانے کا وقت دور نہیں ہے بلکہ بالکل قریب ہے ‘ اس کے اندر کوئی تغیر ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس میں بھول چوک ممکن ہے ۔ اللہ کے نمائندے تیار کھڑے ہوتے ہیں ‘ یہ فرشتے ہوتے ہیں اور ان کا نظام نہایت ہی محفوظ ہوتا ہے ۔ ہر شخص کی موت کا وقت تحریری طور ثبت ہے لیکن انسان سخت غفلت میں ہوتا ہے ۔ یہ نمائندے اپنا فرض نہایت ہی باریک بینی سے ادا کرتے ہیں ۔ وہ اپنا پیغام وقت پر پہنچاتے ہیں ۔ یہ سوچ اور یہ عقیدہ ہی ایک غافل انسان کو جھنجوڑنے کے لئے کافی اور شافی ہے ۔ اس عقیدے کا حامل انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ کے فیصلے اسے پوری طرح گھیرے ہوئے ہیں ۔ ہر وقت وہ یہ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ اگلے ہی لمحے میں اس کی روح قبض ہو سکتی ہے اور اگلے ہی سانس میں اس کی حرکت قلب رک سکتی ہے ۔
(آیت) ” ثم ردوا الی اللہ مولھم الحق “۔ (6 : 62) ” پھر سب کے سب اللہ ‘ اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں ۔ “ حقیقی آقا وہی ہے جس نے انہیں یہاں اس کرہ ارض پر زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کئے اور ان پر یہاں ان کی پوری زندگی کا ریکارڈ تیار کرنے کے لئے اپنے نگران مقرر کئے جو بالکل کوئی کمی بیشی نہیں کرتے ۔ اس کے بعد وہی آقا ہے کہ جب چاہتا ہے ان انسانوں کو اپنے پاس بلا لیتا ہے تاکہ وہ ان کے بارے میں اپنی مرضی سے فیصلہ کرے اور اس کے فیصلے پر کوئی اپیل نہیں ہو سکتی ۔
(آیت) ” الالہ الحکم وھو اسرع الحسبین “۔ (6 : 62) ” خبردار ہوجاؤ ‘ فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے ۔ “ صرف وہی فیصلہ کرتا ہے ‘ وہ خود ہی حساب لیتا ہے ۔ وہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کرتا ۔ اور نہ جزاوسزا میں تاخیر کرتا ہے ۔ جلدی فیصلہ کرنے کے اثرات بھی انسانی زندگی پر نہایت ہی گہرے ہوتے ہیں ۔ انسان سوچتا ہے کہ اللہ کے ہاں نہ حساب میں دیر لیتا ہے اور نہ فیصلہ کرنے میں ۔
ایک مسلمان کی یہ سوچ کہ اللہ اس کا خالق ہے اور ایک دن اسے مرنے ہے اور اللہ کے سامنے اپنی پوری زندگی کا حساب و کتاب پیش کرنا ہے اسے ایک لمحہ کے لئے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ اس سوچ کے مطابق اس کے عقائد کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ وہ صرف اللہ وحدہ کو حقیقی حاکم سمجھنے لگتا ہے اور اس کا یہ منطقی عقیدہ ہوجاتا ہے کہ اس کرہ ارض پر بندوں کے تمام امور اللہ کے حکم کے مطابق طے ہونے چاہئیں ۔
آخرت کا حساب و کتاب اور آخرت میں سزا وجزاء کے فیصلے بہرحال اس دنیا میں کیے گئے اعمال پر مرتب ہوتے ہیں اور لوگ اس دنیا میں اس وقت تک صحیح طرز عمل اختیار نہیں کرسکتے جب تک ان کے لئے کسی شریعت کی شکل میں مربوط ضابطہ عمل موجود نہ ہو جس میں ان کے لئے حلال و حرام کی حد بندی کردی گئی ہو اور جس کے اوپر ان کا اخروی حساب و کتاب ہو۔ اس طرح اس تصور حیات کے مطابق یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ اس دنیا میں بھی حاکم اللہ ہے اور آخرت میں بھی حاکم اللہ ہے ۔
اگر طے یہ کردیا جائے کہ دنیا میں اللہ کی شریعت کے سوا کوئی اور قانون رائج ہوگا تو پھر آخرت میں ان سے مؤاخذہ اور حساب و کتاب کس ضابطہ عمل پر ہوگا ؟ کیا ان کے اعمال کا موازنہ قیامت کے روز ان قوانین کے مطابق ہوگا جو دنیا میں عملا نافذ نہ تھی اور نہ یہ لوگ اپنے فیصلے اس شریعت کے مطابق کراتے تھے ؟ یہ صورت حال ہر گز ممکن نہیں ہے ۔
لوگوں کو چاہئے کہ وہ اچھی طرح سمجھ لیں اور اس بات کا یقین کرلیں کہ اللہ ان سے حساب و کتاب خود اپنی شریعت کے مطابق لے گا ۔ اگر انہوں نے اپنی پوری زندگی کو اور اپنے معاملات کو اللہ کی شریعت کے مطابق نہ ڈھالا ‘ جس طرح وہ اپنے مراسم عبودیت شریعت کے مطابق بجا لاتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ان سے حساب لیتے وقت سب سے پہلے اس بات کا حساب لیا جائے گا کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا اور یہ کہ کیوں انہوں نے اللہ کے سوا کئی دوسرے الہوں کو حاکم اور شارع مقرر کیا اور تسلیم کیا ۔ صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کو حاکم اور رب قرار کیوں نہ دیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان سے پہلا حساب یہ لیا جائے گا کہ انہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کا انکار کیوں کیا یا انہوں نے اللہ کی شریعت کے ساتھ ساتھ دوسرے شرائع کا اتباع کرکے اور اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسروں کی بندگی کر کے شرک کا ارتکاب کیوں کیا ؟ انہوں نے اپنی اجتماعی زندگی میں اپنے اقتصادی اور سیاسی نظام میں ‘ اپنے معاملات اور سوشل روابط میں اللہ کے سوا دوسروں کی پیروی کرکے شرک کا ارتکاب کیوں کیا جو ایک ناقابل معافی جرم ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ شرک کو معاف نہیں کرتا اور شرک کے سوا سب کوتاہیوں سے درگزر کرتا ہے ‘ اگر چاہے ۔
اب اللہ تعالیٰ انہیں عدالت فطرت میں پیش فرماتے ہیں ‘ کیونکہ خود فطرت انسانی کو حقیقت الہیہ کا شعور ہوتا ہے ۔ فطرت انسانی کا یہ خاصہ ہے کہ وہ مشکل لمحات میں بارگاہ الہیہ میں پناہ لیتی ہے ۔ قرآن ایسے بعض شدید لمحات کی تصویر کشی بڑی سرعت سے ہوتی ہے اور یہ منظر اسکرین پر آکر چلا جاتا ہے ۔ لیکن یہ منظر نہایت ہی دو ٹوک ‘ فیصلہ کن ‘ موثر اور حیران کن ہوتا ہے ۔
یہ ہولناک اور کربناک صورت حال ہمیشہ قیامت کے لئے مؤخر نہیں کردی جاتی ، کبھی کبھار اس دنیا میں بھی انسان ایسے حالات سے دوچار ہوتا ہے ۔ مثلا بحری سفر میں انسان کو جو مشکلات پیش آتی ہیں تو ان میں مشرکین بھی ہمیشہ اللہ جل شانہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی پھر لوگوں کو نجات دیتے ہیں ۔ لیکن جب وہ اس مشکل اور خوفناک صورت حالات سے بخیریت نکل آتے ہیں اور نارمل زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو پھر شرک کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں ۔
الأنعام 6:62
(آیت) ” نمبر 61 تا 62۔
(آیت) ” وھو القاھر فوق عبادہ “۔ (6 : 61) ” اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے ۔ “ یعنی وہ صاحب قوت بادشاہ ہے اور تمام انسان اس کی ایسی رعایا ہیں جو اس کے مکمل کنٹرول میں ہیں ۔ اس بادشاہ کی حقیقی قوت اور لوگوں کی قوت کی درمیان کوئی نسبت نہیں ہے ۔ اس کے بالمقابل نہ صرف یہ کہ ان کی کوئی قوت نہیں ہے بلکہ ان کے لئے کوئی معاون و مددگار بھی نہیں ہے سب پوری طرح اس کے غلام ہیں اور پوری طرح اس کے تابع اور زیر قبضہ ہیں ۔
یہ ہے انسان کی جانب سے ایک قاہر اور مکمل طور پر حاوی خدا کی مکمل غلامی اور یہی وہ حقیقی تصور ہے جو لوگوں کی عملی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کرتا ہے چاہے اللہ لوگوں کو مکمل آزادی اور اختیارات عطا کر دے ‘ ان کو وافر مقدار میں علم ومعرفت دے دے اور ان کو وافر مقدار میں قوت دے دے تاکہ وہ اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت ارضی کے تقاضے پورے کرسکیں ۔ لیکن ان باتوں کے باوجود انسانی زندگی کے تمام سانس اللہ کے ہاں مقرر ہیں اور انسان کی تمام حرکات و سکنات اللہ کے اس قانون قدرت کے مطابق ہیں جو اس نے خود انسانوں کے وجود میں جاری اور ساری کردیئے ہیں اور انسان خود اپنے وجود کے ان قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ۔ اور یہ قوانین بھی نفس انسانی اور حرکات انسانی کے اندر متعین اور مقرر ہیں ۔
(آیت) ” ویرسل علیکم حفظۃ “۔ (6 : 61) ” اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کرکے بھیجتا ہے ۔ “ یہاں آیت میں ان نگرانوں کی نوعیت کو متعین نہیں کیا گیا ۔ دوسرے مقامات پر بتایا گیا ہے کہ یہ نگرانی کرنے والے فرشتے ہیں جو انسانوں کے ساتھ لگے ہوئے ہیں اور وہ تمام اعمال ریکارڈ کر رہے ہیں جو انسانوں سے صادر ہوتے ہیں ۔ یہاں صرف اس امر پر روشنی ڈالنا مقصود ہے کہ ہر انسان براہ راست اللہ کی نگرانی میں ہے اور انسانی سوچ میں یہ شعور ڈالنا ہے کہ نفس انسانی کو ایک لحظہ کے لئے بھی آزاد نہیں چھوڑا جاتا اور نہ ہی وہ کسی وقت تنہا ہوتا ہے ۔ ہر وقت اس کے ساتھ ایسے افراد موجود ہوتے ہیں جو اس کی تمام حرکات و سکنات کو ریکارڈ کرتے رہتے ہیں اور اس قدر مکمل اور جامع ریکارڈ تیار کرتے ہیں کہ ان کی نظروں سے کوئی بات بچ کر نہیں رہتی ۔ یہ ایک ایسا تصور اور ایسی سوچ ہے جس کے نتیجے میں مکمل انسانی شخصیت بیدار ہوجاتی ہے اور وہ ہر بات کو محسوس کرتی ہے ۔
(آیت) ” حتی اذا جآء احدکم الموت توفتہ رسلنا وھم لا یفرطون “۔ (6 : 61) ” یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے ۔ “ یہ اسی ربانی نگرانی کا رنگ ہے ‘ لیکن مختلف شیڈز میں ‘ یعنی ہر انسان کے لئے اس دنیا میں سانس لینے کی تعداد مقرر ہے ۔ اس کے ان سانسوں کے رک جانے کا بھی ایک وقت مقرر ہے لیکن اس کو وہ جانتا نہیں ہے ۔ انسانی زاوے سے اجل مقرر ہے ۔ لیکن اس کو وہ جانتا نہیں ہے ۔ انسانی زوایے سے اجل مقرر ہے جو اس کے لئے غیب ہے اور اس کا علم اسے کسی ذریعے سے بھی نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اللہ کے علم میں وہ پہلے سے تحریری طور پر ثبت ہے اور ایک سیکنڈ آگے پیچھے نہیں ہو سکتی ۔ ہر شخص زندگی کے سانس پورے کر رہا ہے ۔ اس دنیا سے اس کے جانے کا وقت دور نہیں ہے بلکہ بالکل قریب ہے ‘ اس کے اندر کوئی تغیر ممکن نہیں ہے ۔ نہ اس میں بھول چوک ممکن ہے ۔ اللہ کے نمائندے تیار کھڑے ہوتے ہیں ‘ یہ فرشتے ہوتے ہیں اور ان کا نظام نہایت ہی محفوظ ہوتا ہے ۔ ہر شخص کی موت کا وقت تحریری طور ثبت ہے لیکن انسان سخت غفلت میں ہوتا ہے ۔ یہ نمائندے اپنا فرض نہایت ہی باریک بینی سے ادا کرتے ہیں ۔ وہ اپنا پیغام وقت پر پہنچاتے ہیں ۔ یہ سوچ اور یہ عقیدہ ہی ایک غافل انسان کو جھنجوڑنے کے لئے کافی اور شافی ہے ۔ اس عقیدے کا حامل انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ کے فیصلے اسے پوری طرح گھیرے ہوئے ہیں ۔ ہر وقت وہ یہ یقین کے ساتھ جانتا ہے کہ اگلے ہی لمحے میں اس کی روح قبض ہو سکتی ہے اور اگلے ہی سانس میں اس کی حرکت قلب رک سکتی ہے ۔
(آیت) ” ثم ردوا الی اللہ مولھم الحق “۔ (6 : 62) ” پھر سب کے سب اللہ ‘ اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں ۔ “ حقیقی آقا وہی ہے جس نے انہیں یہاں اس کرہ ارض پر زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کئے اور ان پر یہاں ان کی پوری زندگی کا ریکارڈ تیار کرنے کے لئے اپنے نگران مقرر کئے جو بالکل کوئی کمی بیشی نہیں کرتے ۔ اس کے بعد وہی آقا ہے کہ جب چاہتا ہے ان انسانوں کو اپنے پاس بلا لیتا ہے تاکہ وہ ان کے بارے میں اپنی مرضی سے فیصلہ کرے اور اس کے فیصلے پر کوئی اپیل نہیں ہو سکتی ۔
(آیت) ” الالہ الحکم وھو اسرع الحسبین “۔ (6 : 62) ” خبردار ہوجاؤ ‘ فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے ۔ “ صرف وہی فیصلہ کرتا ہے ‘ وہ خود ہی حساب لیتا ہے ۔ وہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کرتا ۔ اور نہ جزاوسزا میں تاخیر کرتا ہے ۔ جلدی فیصلہ کرنے کے اثرات بھی انسانی زندگی پر نہایت ہی گہرے ہوتے ہیں ۔ انسان سوچتا ہے کہ اللہ کے ہاں نہ حساب میں دیر لیتا ہے اور نہ فیصلہ کرنے میں ۔
ایک مسلمان کی یہ سوچ کہ اللہ اس کا خالق ہے اور ایک دن اسے مرنے ہے اور اللہ کے سامنے اپنی پوری زندگی کا حساب و کتاب پیش کرنا ہے اسے ایک لمحہ کے لئے غافل نہیں ہونے دیتی ۔ اس سوچ کے مطابق اس کے عقائد کا قدرتی نتیجہ یہ ہے کہ وہ صرف اللہ وحدہ کو حقیقی حاکم سمجھنے لگتا ہے اور اس کا یہ منطقی عقیدہ ہوجاتا ہے کہ اس کرہ ارض پر بندوں کے تمام امور اللہ کے حکم کے مطابق طے ہونے چاہئیں ۔
آخرت کا حساب و کتاب اور آخرت میں سزا وجزاء کے فیصلے بہرحال اس دنیا میں کیے گئے اعمال پر مرتب ہوتے ہیں اور لوگ اس دنیا میں اس وقت تک صحیح طرز عمل اختیار نہیں کرسکتے جب تک ان کے لئے کسی شریعت کی شکل میں مربوط ضابطہ عمل موجود نہ ہو جس میں ان کے لئے حلال و حرام کی حد بندی کردی گئی ہو اور جس کے اوپر ان کا اخروی حساب و کتاب ہو۔ اس طرح اس تصور حیات کے مطابق یہ بات طے ہوجاتی ہے کہ اس دنیا میں بھی حاکم اللہ ہے اور آخرت میں بھی حاکم اللہ ہے ۔
اگر طے یہ کردیا جائے کہ دنیا میں اللہ کی شریعت کے سوا کوئی اور قانون رائج ہوگا تو پھر آخرت میں ان سے مؤاخذہ اور حساب و کتاب کس ضابطہ عمل پر ہوگا ؟ کیا ان کے اعمال کا موازنہ قیامت کے روز ان قوانین کے مطابق ہوگا جو دنیا میں عملا نافذ نہ تھی اور نہ یہ لوگ اپنے فیصلے اس شریعت کے مطابق کراتے تھے ؟ یہ صورت حال ہر گز ممکن نہیں ہے ۔
لوگوں کو چاہئے کہ وہ اچھی طرح سمجھ لیں اور اس بات کا یقین کرلیں کہ اللہ ان سے حساب و کتاب خود اپنی شریعت کے مطابق لے گا ۔ اگر انہوں نے اپنی پوری زندگی کو اور اپنے معاملات کو اللہ کی شریعت کے مطابق نہ ڈھالا ‘ جس طرح وہ اپنے مراسم عبودیت شریعت کے مطابق بجا لاتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ان سے حساب لیتے وقت سب سے پہلے اس بات کا حساب لیا جائے گا کہ انہوں نے ایسا کیوں نہیں کیا اور یہ کہ کیوں انہوں نے اللہ کے سوا کئی دوسرے الہوں کو حاکم اور شارع مقرر کیا اور تسلیم کیا ۔ صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی کو حاکم اور رب قرار کیوں نہ دیا ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان سے پہلا حساب یہ لیا جائے گا کہ انہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کا انکار کیوں کیا یا انہوں نے اللہ کی شریعت کے ساتھ ساتھ دوسرے شرائع کا اتباع کرکے اور اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسروں کی بندگی کر کے شرک کا ارتکاب کیوں کیا ؟ انہوں نے اپنی اجتماعی زندگی میں اپنے اقتصادی اور سیاسی نظام میں ‘ اپنے معاملات اور سوشل روابط میں اللہ کے سوا دوسروں کی پیروی کرکے شرک کا ارتکاب کیوں کیا جو ایک ناقابل معافی جرم ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ شرک کو معاف نہیں کرتا اور شرک کے سوا سب کوتاہیوں سے درگزر کرتا ہے ‘ اگر چاہے ۔
اب اللہ تعالیٰ انہیں عدالت فطرت میں پیش فرماتے ہیں ‘ کیونکہ خود فطرت انسانی کو حقیقت الہیہ کا شعور ہوتا ہے ۔ فطرت انسانی کا یہ خاصہ ہے کہ وہ مشکل لمحات میں بارگاہ الہیہ میں پناہ لیتی ہے ۔ قرآن ایسے بعض شدید لمحات کی تصویر کشی بڑی سرعت سے ہوتی ہے اور یہ منظر اسکرین پر آکر چلا جاتا ہے ۔ لیکن یہ منظر نہایت ہی دو ٹوک ‘ فیصلہ کن ‘ موثر اور حیران کن ہوتا ہے ۔
یہ ہولناک اور کربناک صورت حال ہمیشہ قیامت کے لئے مؤخر نہیں کردی جاتی ، کبھی کبھار اس دنیا میں بھی انسان ایسے حالات سے دوچار ہوتا ہے ۔ مثلا بحری سفر میں انسان کو جو مشکلات پیش آتی ہیں تو ان میں مشرکین بھی ہمیشہ اللہ جل شانہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی پھر لوگوں کو نجات دیتے ہیں ۔ لیکن جب وہ اس مشکل اور خوفناک صورت حالات سے بخیریت نکل آتے ہیں اور نارمل زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو پھر شرک کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں ۔
الأنعام 6:63
(آیت) ” نمبر 63 تا 64۔
خطرات کا تصور اور ہولناک لمحات کی یاد بعض اوقات خود انسانوں کو بھی راہ راست پر لے آتی ہے ۔ اس سے پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں ۔ اس سے انسان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ انسان بہت ہی ضعیف ہے اور اسے ہر وقت اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں اس کی مشکلات دور ہوجاتی ہیں اور اسے نعمت الہیہ بشکل نجات دستیاب ہوتی ہے ۔
(آیت) ” قُلْ مَن یُنَجِّیْکُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَہُ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ ہَـذِہِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ (63)
(اے نبی ﷺ ان سے پوچھو ‘ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ‘ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو ؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ۔
یہ وہ نفسیاتی تجربہ ہے جو ہر اس شخص کو درپیش ہوا ہے جو کبھی مشکلات میں گھرا ہے یا جس نے مشکلات کے اندر گھرے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے ‘ کیونکہ خشکی اور سمندر دونوں میں انسان اس قسم کی مشکلات سے دو چار ہوتا رہتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ اندھیروں کا تحقق رات ہی میں ہو ‘ اس لئے کہ لاچاری بھی ایک اندھیرا ہے ۔ خطرہ بھی اندھیرا ہے ۔ خشکی اور سمندر کے غیبی واقعات جن کے انتظار میں پوری دنیا کی نظریں لگی ہوتی ہیں یہ بھی ظلمات ہوتے ہیں ۔ جب بھی انسان خشکی اور سمندر کی ان ظلمتوں میں گھرتا ہے تو اس کائنات میں انہیں صرف اللہ ہی حقیقی متصرف نظر آتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان بڑی عاجزی ‘ یکسوئی اور نہایت ہی راز دارانہ طور پر صرف اللہ ہی کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں فطرت انسانی اپنی اصل شکل میں تمام پردوں سے باہر آکر عیاں ہوتی ہے ۔ اس وقت فطرت کی گہرائیوں میں جو حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے وہ سامنے آتی ہے اور وہ حقیقت ہوتی ہے اللہ وحدہ لاشریک کی حاکمیت ۔ انسان حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اب اس کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہیں ٹھہراتا ۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ شرکیہ تصورات کس قدر بودے ہوتے ہیں ۔ اب شرک کا نام ونشان نہیں ہوتا اور جو لوگ اس کرب والم میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے : ” اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟ “ اللہ تعالیٰ اس موقع پر حضور ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کریں :
(آیت) ” قُلِ اللّہُ یُنَجِّیْکُم مِّنْہَا وَمِن کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِکُونَ (64)
” کہو ‘ اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے ۔ پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ اس کے اندر ہی انہیں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ وہ پھر بھی شرک جیسے منکر کا ارتکاب کرتے ہیں اور تعجب خیز انداز میں الٹے پھرتے ہیں ۔
یہاں انسانوں کو یہ صورت حال یاد دلائی جاتی ہے کہ اس نجات کے بعد بھی دوبارہ وہ ایسے ہی مشکل حالات میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ یہ مشکلات صرف ایک بار ہی آنے والی تھیں ۔ یہ باری ان پر سے گزر گئی اور اب گویا وہ اللہ کے قبضہ قدرت سے نکل گئے ہیں ۔ اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو یہ انکی بھول ہے ۔ اس سلسلے میں ذیل کی آیت ملاحظہ ہو :
الأنعام 6:64
(آیت) ” نمبر 63 تا 64۔
خطرات کا تصور اور ہولناک لمحات کی یاد بعض اوقات خود انسانوں کو بھی راہ راست پر لے آتی ہے ۔ اس سے پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں ۔ اس سے انسان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ انسان بہت ہی ضعیف ہے اور اسے ہر وقت اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں اس کی مشکلات دور ہوجاتی ہیں اور اسے نعمت الہیہ بشکل نجات دستیاب ہوتی ہے ۔
(آیت) ” قُلْ مَن یُنَجِّیْکُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَہُ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ ہَـذِہِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ (63)
(اے نبی ﷺ ان سے پوچھو ‘ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ‘ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو ؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ۔
یہ وہ نفسیاتی تجربہ ہے جو ہر اس شخص کو درپیش ہوا ہے جو کبھی مشکلات میں گھرا ہے یا جس نے مشکلات کے اندر گھرے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہے ‘ کیونکہ خشکی اور سمندر دونوں میں انسان اس قسم کی مشکلات سے دو چار ہوتا رہتا ہے ۔ ضروری نہیں کہ اندھیروں کا تحقق رات ہی میں ہو ‘ اس لئے کہ لاچاری بھی ایک اندھیرا ہے ۔ خطرہ بھی اندھیرا ہے ۔ خشکی اور سمندر کے غیبی واقعات جن کے انتظار میں پوری دنیا کی نظریں لگی ہوتی ہیں یہ بھی ظلمات ہوتے ہیں ۔ جب بھی انسان خشکی اور سمندر کی ان ظلمتوں میں گھرتا ہے تو اس کائنات میں انہیں صرف اللہ ہی حقیقی متصرف نظر آتا ہے ۔ ایسے حالات میں انسان بڑی عاجزی ‘ یکسوئی اور نہایت ہی راز دارانہ طور پر صرف اللہ ہی کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں فطرت انسانی اپنی اصل شکل میں تمام پردوں سے باہر آکر عیاں ہوتی ہے ۔ اس وقت فطرت کی گہرائیوں میں جو حقیقت پوشیدہ ہوتی ہے وہ سامنے آتی ہے اور وہ حقیقت ہوتی ہے اللہ وحدہ لاشریک کی حاکمیت ۔ انسان حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اب اس کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہیں ٹھہراتا ۔ اس وقت انسان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ شرکیہ تصورات کس قدر بودے ہوتے ہیں ۔ اب شرک کا نام ونشان نہیں ہوتا اور جو لوگ اس کرب والم میں مبتلا ہوتے ہیں ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے : ” اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچا لیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے ؟ “ اللہ تعالیٰ اس موقع پر حضور ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان لوگوں کو اصل حقیقت کی طرف متوجہ کریں :
(آیت) ” قُلِ اللّہُ یُنَجِّیْکُم مِّنْہَا وَمِن کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ أَنتُمْ تُشْرِکُونَ (64)
” کہو ‘ اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے ۔ پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ اس کے اندر ہی انہیں یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ وہ پھر بھی شرک جیسے منکر کا ارتکاب کرتے ہیں اور تعجب خیز انداز میں الٹے پھرتے ہیں ۔
یہاں انسانوں کو یہ صورت حال یاد دلائی جاتی ہے کہ اس نجات کے بعد بھی دوبارہ وہ ایسے ہی مشکل حالات میں مبتلا ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ یہ مشکلات صرف ایک بار ہی آنے والی تھیں ۔ یہ باری ان پر سے گزر گئی اور اب گویا وہ اللہ کے قبضہ قدرت سے نکل گئے ہیں ۔ اگر وہ ایسا سمجھتے ہیں تو یہ انکی بھول ہے ۔ اس سلسلے میں ذیل کی آیت ملاحظہ ہو :
الأنعام 6:65
(آیت) ” نمبر 65۔
اگر کوئی مصیبت سر کے اوپر آکر پڑتی ہے یا پاؤں کے نیچے سے کوئی مصیبت پھوٹتی ہے تو اس کا تصور دائیں بائیں سے آنے والی مصیبتوں سے زیادہ خوفناک ہوتا ہے اس لئے کہ انسان کی قوت واہمہ یہ سمجھتی ہے کہ وہ دائیں بائیں سے آنے والی مصیبت کا مقابلہ کرسکتا ہے لیکن جو عذاب سرکے اوپر سے نازل ہو یا جو عذاب پاؤں کے نیچے سے ابل پڑے وہ انسان کو ڈھانپ لیتا ہے ‘ اسے متزلزل کردیتا ہے ‘ اور انسان کی محدود قوت پر غالب آجاتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں ٹھہرنا اور اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ انداز بیان ایسا ہے جو انسان کے شعور واحساس میں اس قوی فیکٹر کو اجاگر کرتا ہے اور انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ اللہ کا عذاب جب چاہے اور جس طرح چاہے انسان کو اپنے گھیرے میں لے سکتا ہے ۔ اللہ کسی بھی وقت بندوں کو پکڑنے کی قدرت رکھتا ہے ۔
اس آیت میں عذاب کی ان قسموں کی طرف اشارہ کرنے کے بعد ‘ عذاب کی ان اقسام کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے جو نہایت ہی دھیمی رفتار سے اور طویل زمانے کے بعد انسان پر آتی ہیں ۔ ان اقسام کا عمل لمحہ بھر یا مختصر عرصے میں پورا نہیں ہوجاتا ۔ یہ اقسام انسان کی ساتھی بن جاتی ہیں ‘ انسان کی آبادی اور اس کی پوری زندگی میں رچ بس جاتی ہیں اور رات دن انسان کی رفیق سفر رہتی ہیں ۔
(آیت) ” اویلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض “۔ (6 : 65) ” یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے ۔ “ اللہ کے دائمی اور طویل المدت عذاب کی یہ ایک اور شکل ہے ۔ یہ عذاب انسانوں پر خود اپنے ہاتھوں آتا ہے اور وہ خود اسے گھونٹ گھونٹ پیتے ہیں ‘ وہ یوں کہ اللہ انہیں گروہوں اور پارٹیوں میں تقیسم کردیتا ہے ‘ یہ گروہ اور احزاب ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہوجاتے ہیں ‘ وہ ایک قسم کی پارٹیاں ہوتی ہیں ‘ عوام ان فرقوں کے اندر فرق و امتیاز بھی نہیں کرسکتے ۔ ان فرقوں کے درمیان جدل وجدال قائم رہتا ہے ۔ ایک طویل دشمنی قائم ہوجاتی ہے اور ان میں سے ایک فرقہ دوسرے کے لئے بلائے جان ہوتا ہے ۔
انسانیت نے اپنی تاریخ کے مختلف وقفوں میں اس قسم کے عذاب کو محسوس کیا ہے ۔ جب بھی انسان نے اپنی اجتماعی زندگی سے اسلامی نظام حیات کو بدر کیا ہے ‘ انسان اس عذاب میں مبتلا کردیا گیا ہے ۔ جب بھی اسلام کو ترک کر کے انسانوں نے اپنی خواہشات اور میلانات کی پیروی شروع کی ہے اور اپنی کوتاہیوں ‘ کمزوریوں اور جہالتوں کو اپنا اصول بنایا ہے وہ اس قسم کے عذاب سے دو چار ہوئے ہیں ۔ جب بھی لوگ راہ گم کردیتے ہیں اور اپنے لئے خود نظام زندگی بنانے لگتے ہیں ‘ اپنے لئے رسم و رواج اور اجتماعی قوانین خود بنانے لگتے ہیں اور حسن قبح کے پیمانے خود تجویز کرنے لگتے ہیں تو اس کے نتیجے میں انسانوں میں سے بعض لوگ بعض دوسرے انسانوں کے غلام بن جاتے ہیں ۔ بعض لوگ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ان کے تجویز کردہ نظام زندگی کی اطاعت کریں ۔ اور یوں وہ دوسروں کے غلام بن جائیں اور اس کے مقابلے میں بعض دوسرے لوگ اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ یوں فریق اول ان مخالفین پر حتی المقدور مظالم ڈھانے لگتا ہے ۔ اب دو فریق میدان میں ہوتے ہیں ۔ ان دونوں کی خواہشات ‘ میلانات اور مقاصد ومفادات کے درمیان ٹکراؤ ہوجاتا ہے ۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے کی طاقت کا مزہ چکھتے ہیں ۔ بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں ‘ ایک دوسرے پر غصہ ہوتے اور ان سب تضادات کی وجہ صرف یہ ہوتی ہے کہ یہ دونوں فریق کسی ایک پیمانے پر متفق نہیں ہوتے ۔ وہ پیمانہ معبود نے سب کے لئے تجویز کیا ہے جس کے مطابق تمام لوگ رب ذوالجلال کے بندے ہوتے ہیں ۔ اس رب کے سامنے کوئی بھی جھکنے سے نہیں کتراتا نہ وہ اس عبادت اور جھکنے میں اپنے لئے کوئی سبکی محسوس کرتا ہے ۔
اس کرہ ارض پر سب سے بڑا فتنہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ یہ مطالبہ لے کر اٹھیں کہ دوسرے لوگ انہیں الہ سمجھتے ہوئے انکی بندگی کریں اور ان کے حق حاکمیت کو تسلیم کریں ۔ یہ وہ فتنہ ہے جس کی وجہ سے انسان گروہوں میں بٹ کر باہم دست و گریبان ہوجاتے ہیں اس لئے کہ بظاہر تو وہ ایک ہی قوم اور ایک امت نظر آتے ہیں لیکن درحقیقت ایک دوسرے کے غلام اور بندے ہوتے ہیں ۔ ان میں سے بعض لوگوں کی ہاتھ میں اقتدار ہوتا ہے اور وہ اس اقتدار کے ساتھ چمٹے ہوئے ہوتے ہیں ‘ اس لئے کہ اس اقتدار میں وہ اللہ کی شریعت کے پابند نہیں ہوتے ۔ بعض دوسرے جن کے ہاتھ میں اقتدار نہیں ہوتا ان کے دل میں اہل اقتدار کے لئے نفرت اور بغض ہوتا ہے یہ صاحبان اقتدار اور ان سے اقتدار چھیننے کی فکر کرنے والے متربصین (گھات میں بیٹھنے والے) ایک دوسرے کی طاقت اور دشمنی کا مزہ چکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ پارٹیوں میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔ وہ ایک دوسرے سے نہ علیحدہ ہوتے اور نہ ہی ان کے درمیان کوئی فاصلہ ہوتا ہے ۔ وہ ایک ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں ۔ آج اس کرہ ارض پر تمام انسانیت اللہ کے اس عذاب میں مبتلا ہے اور یہ اللہ کا وہ عذاب ہے جو نہایت ہی دھیمی رفتار سے اپنا کام کرتا ہے ۔
اس وقت اس کرہ ارض پر اسلامی تحریک کا جو موقف ہے وہ قابل التفات ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اسلامی تحریک کے موقف کو دنیا پر چھائی ہوئی جاہلیت سے بالکل علیحدہ اور ممتاز کردیا جائے ۔ سوال یہ ہے کہ جاہلیت ہے کیا ؟ ہر صورت حال ‘ ہر حکومت اور ہر معاشرہ جس پر اسلامی شریعت کی حکمرانی نہ ہو ‘ وہ جاہلیت ہے ۔ ہر وہ صورت حال جس میں اللہ وحدہ کی حاکمیت کو تسلیم نہ کیا جاتا ہو جاہلیت ہے ۔ اس جاہلیت اور اسلامی تحریک کے موقف کے درمیان مکمل جدائی ضروری ہے ۔ تحریک اسلامی کو ہر قوم اور ہر معاشرے کے اندر جو جاہلیت میں رہتی ہو اور جاہلی قوانین اور اقدار نافذ کرنا چاہتی ہو خود اپنا ایک مستقل اور جدا وجود اور تشخص قائم کرنا چاہئے اور اسے جدا نظر آنا چاہئے ۔
اسلامی تحریک عذاب الہی کی اس دھمکی کی زد سے صرف اس صورت میں نجات پاسکتی ہے کہ وہ شعوری نظریاتی اور اپنے نظام زندگی کے اعتبار سے اہل جاہلیت سے مکمل طور پر علیحدہ ہوجائے ، آیت کے یہ الفاظ ” یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے اس بات کا تقاضا کرتے ہیں ۔ “ اور یہ مکمل جدائی اور علیحدہ تشخص اس وقت تک قائم رہے جب تک اللہ ہمیں دارالاسلام قائم کرنے کی توفیق نہیں دے دیتا ۔ اسلامی تحریک کے اندر یہ شعور زندہ رہنے چاہئے کہ وہی حقیقی امت مسلمہ ہے اور اس کے اردگرد جو معاشرہ عملا موجود ہے وہ ابھی تک اسلامی امت کا حصہ نہیں بنا ہے ۔ یہ لوگ حاملین جاہلیت ہیں ۔ اس نظریے اور اس منہاج پر تحریک اسلامی کو دوسرے لوگوں سے جدا ہونا چاہئے ۔ اس کے بعد اسے بارگاہ الہی میں دست بدعا ہونا چاہئے کہ اے اللہ ہمارے اور ہماری اس قوم اور اس معاشرے کے اندر حق کے اوپر فیصلہ کر دے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔
اگر تحریک اسلامی یہ امتیاز اور جدائی اختیار نہیں کرتی تو مذکورہ بالا وعید اور دھمکی کی مستوجب ہوگی ۔ وہ کسی مخصوص معاشرے میں ایک گروہ اور فرقہ بن جائے گی ‘ اور یہ فرقہ بھی دوسرے فرقوں کے ساتھ خلط ملط ہوگا ۔ اس کا کوئی علیحدہ تشخص نہ ہوگا اور نہ اپنے ماحول کے اندر ان کی کوئی امتیازی شان ہوگی ۔ اس پر بھی وہ عذاب نازل ہوگا جو دوسرے لوگوں پر ہوگا اور یہ ایک دائم اور طویل عذاب ہوگا ۔ اور یہ امید تک نہ رہے گی کہ اسے کوئی فتح اور نصرت نصیب ہوگی جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہوا ہے ۔
اپنے معاشرے سے مکمل جدائی اور امتیاز کی وجہ سے بعض اوقات بہت بڑی قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں اور مصائب کے پہاڑ بھی ٹوٹے ہیں ۔ لیکن یہ مصائب اور نـقصانات ان مصائب اور نقصانات سے کہیں کم ہوتے ہیں جو اس صورت میں کسی اسلامی تحریک پر آتے جب وہ جاہلی معاشرے میں خلط ملط ہو اور اس کا موقف واضح اور ممتاز نہ ہو اور وہ جاہلی معاشرے میں مدغم اور پیوستہ رہے اور آخر کار ہر کہ درکان نمک رفت ۔ نمک شد ہوجائے ۔
اس نکتے کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم انبیاء ورسل کی تاریخ کا مطالعہ کریں رسولوں کی تاریخ سے یہ بات نظر آتی ہے کہ جب تک رسولوں کے متبعین نے اس وقت کے موجود جاہلی معاشرے سے اپنے آپ کو مکمل طور پر علیحدہ نہیں کرلیا ‘ اس وقت تک انہیں وہ فتح اور نصرت حاصل نہیں ہوئی جس کا اللہ نے تمام رسولوں کے ساتھ وعدہ کیا ہوا ہوتا ہے کہ اہل ایمان اور رسول آخر کار غالب ہوں گے ۔ کسی امت کو بھی غلبہ اور کامیابی اس وقت تک نصیب نہیں ہوئی جب تک وہ اس وقت کے جاہلی معاشرے سے کٹ کر علیحدہ نہیں ہوگئی ۔ اور انہوں نے دوسرے لوگوں سے نظریہ اور نظم زندگی علیحدہ اور ممتاز نہیں کرلیا ۔ اس علیحدگی اور امتیاز سے مراد یہ نہیں ہے کہ اسلامی تحریک لوگوں سے معاشرتی بائیکاٹ کر دے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ اپنے نظریہ حیات اور اپنے دین اور نظام کے اعتبار سے ممتاز ہو ۔ یہ وہ یونٹ ہے جس سے اسلامی تحریکوں اور دوسرے لوگوں کی راہ جدا ہوجاتی ہے ۔
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دعوت اسلامی کا منہاج وہی ہوگا جس کے مطابق رسولوں نے دعوت دی ۔ اس راہ میں وہی مقامات ہیں جو رسولوں کو پیش آئے ۔
(آیت) ” انظُرْ کَیْْفَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُونَ (65)
” دیکھو ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں ۔ “
درس نمبر 63 ایک نظر میں :
سابق لہر میں اہل حق و باطل کے درمیان مکمل جدائی کے مضمون پر خاتمہ ہوا تھا ۔ اس لہر میں اس کی مزید تفصیل دی گئی ہے ۔ یہ حضور ﷺ کی قوم ہی تھی ۔ جس نے اس کتاب کو جھٹلایا جو آپ پر نازل ہوئی تھی اور وہ کتاب بڑحق تھی ۔ اسی نکتے پر حضور ﷺ اور آپ کی قوم کی راہیں جدا ہوگئیں اور آپ ﷺ نے ان سے علیحدہ ہو کر اپنی راہ لی ۔ آپ ﷺ کو اللہ نے حکم دیا کہ آپ ان سے علیحدہ ہوجائیں اور اعلانیہ کہہ دیں کہ میں تمہارا حوالہ دار نہیں ہوں اور یہ کہ اب میں تمہیں تمہاری تقدیر کے حوالے کرتا ہوں اور تم برے انجام تک پہنچنے والے ہو ‘ وہ عنقریب آنے والا ہے ۔
رسول ﷺ کو یہ بھی حکم دیا جاتا ہے کہ جب وہ اسلام پر نکتہ چینیاں کررہے ہوں تو آپ ان کی مجلس میں نہ بیٹھیں اس وقت جبکہ وہ دین اسلام کے ساتھ مذاق کررہے ہوں اور دین اسلام کا شایان شان احترام نہ کر رہے ہوں ۔ لیکن اس جدائی اور امتیاز کے ساتھ ساتھ حکم یہ ہے کہ انہیں انجام بد سے ڈرایا جاتا رہے اور وعظ وتبلیغ کا سلسلہ بھی جاری رہے ۔ یہ صورتحال بہرحال موجود رہنی چاہئے کہ اہل دعوت اور اہل جاہلیت ایک قوم ہونے کے ساتھ ساتھ دو الگ فرقے ہوں ‘ دو علیحدہ امتیں ہوں ۔ اس لئے کہ اسلام میں رنگ ونسل اور خاندان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ یہاں تو اتحاد وافتراق کا مدار نظریے ‘ اور عقیدے کی اساس پر ہے ۔ یہ نظریہ اور عقیدہ ہی ہوتا ہے جو نکتہ اتفاق یا مقام افتراق ہوتا ہے ۔ جب دینی اساس پائی جائے تو لوگ متحد ہوجاتے ہیں اور جب دینی عنصر مفقود ہو تو تمام دوسرے روابط کٹ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ پس یہی اس لہر کا مختصر مضمون ہے ۔
الأنعام 6:66
(آیت) ” نمبر 66 تا 67۔
یہاں روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف ہے ۔ اس خطاب کے ذریعے نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے کاسہ دل کو ایمان ویقین سے بھر دیا جاتا ہے ۔ اگرچہ ایک داعی کی پوری قوم اور پورا معاشرہ حق کو جھٹلا دے تب بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ حق غالب رہے گا اس لئے کہ سچائی کے بارے میں فیصلہ کرنا اہل جاہلیت کا کام نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے ۔ اللہ ہی ہے جو یہ اعلان کرسکتا ہے کہ فلاں چیز حق ہے اور فلاں چیز باطل ۔ لہذا جھٹلانے والوں کے کسی فیصلے کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے ۔
اس کے بعد حضرت نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم سے دامن جھاڑ دیں اور اعلان کردیں کہ وہ ان سے بری الذمہ ہیں اور یہ کہ اب ان کی اور ان کی قوم کی راہیں جدا ہوگئی ہیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ وہ ان کے معاملے میں کسی چیز کے مختار وحوالہ دار نہیں ہیں اور نہ ان کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کا فریضہ اس وقت ختم ہوجاتا ہے جب وہ پیغام پہنچا دیں اور سمجھا دیں کیونکہ ذمہ داری اور نگہبانی رسولوں کی ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے ۔ جب کوئی رسول پیغام پہنچا دے اور سمجھا دے تو اس کا فریضہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد رسول اقوام کو چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے فطری انجام تک پہنچ جائیں ‘ کیونکہ ہر بات اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہوجاتی ہے اور جب بات سامنے آجاتی ہے تو سب اسے جان لیتے ہیں ۔
(آیت) ” لِّکُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (67)
” ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے ‘ عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہوجائے گا “۔
یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیا بات ہے جو ظاہر ہونے والی ہے ۔ ایسے مقامات پر بات کو مجمل رکھنا زیادہ خوفناک ہوتا ہے ۔ مارے ڈر کے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔
آیات میں حق پر ثابت قدمی کی تلقین ہے یقین دلایا گیا ہے کہ باطل کا ظاہری غلغلہ جس قدر بھی ہوں اس کا انجام بہرحال برا ہوگا اور ایک مقررہ وقت پر اللہ کی جانب سے اہل باطل کو پکڑا جاتا ہے اور یہ کہ ہر بات کے ظہور کا وقت مقرر ہے اور ہر حاضر صورت حال کا ایک انجام سامنے آنے والا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ داعیان حق کو اپنی قوم کی جانب سے جس تکذیب اور سرد مہری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ‘ ان پر اپنے خاندان کی جانب سے جو مظالم ہوتے ہیں ‘ جس طرح وہ اپنے اہل و عیال میں بیگانے بن جاتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ اس طرح ان کا کاسہ دل اطمینان اور یقین سے بھر جاتا ہے اور یہ اطمینان اور سکینت قرآن ہی ان کے دلوں میں پیدا کرسکتا ہے ۔
جب پیغمبر ﷺ نے ان تک یہ پیغام دیا اور ان کی جانب سے ناروا تکذیب و انکار کا جواب ان کے ساتھ قطع تعلق کے ذریعے دے دیا گیا تو اب حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کی ہمنشینی اختیار نہ کریں ‘ یہاں تک کہ تبلیغی مقاصد کے لئے بھی ان کے پاس نہ جائیں اگر حالات ایسے ہوں کہ وہ اسلام پر تنقید اور نکتہ چینیاں کر رہے ہو اور عزت واحترام اور سنجیدگی سے اسلامی موضوعات پر بحث نہ کر رہے ہوں ۔ اسلام جس سنجیدہ عزت ووقار اور رعب وداب کا تقاضا کرتا ہے وہ اس کا لحاظ نہ کررہے ہوں بلکہ الٹا دین کے ساتھ مذاق کر رہے ہوں اور ہنسی مزاح کے ساتھ ریمارکس پاس کر رہے ہوں چاہے اپنی زبان سے وہ ایسا کر رہے ہوں یا عمل کے ساتھ ۔ ایسے حالات میں حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ہم نشینی اختیار نہ کی جائے کیونکہ اس طرح معنوی اعتبار سے ہم نشینی کرنے والا ان باتوں کا تائید کنندہ تصور ہوگا یا کم از کم یہ تصور ہوگا کہ ایسے شخص کے اندر کوئی دینی غیرت نہیں ہے ۔ اگر شیطان کسی مسلمان کو بہلاوے میں ڈال دے اور وہ ایسی محفل میں بیٹھ جائے تو یاد آتے ہیں اس کا فرض ہے کہ وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہو۔
الأنعام 6:67
(آیت) ” نمبر 66 تا 67۔
یہاں روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف ہے ۔ اس خطاب کے ذریعے نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے کاسہ دل کو ایمان ویقین سے بھر دیا جاتا ہے ۔ اگرچہ ایک داعی کی پوری قوم اور پورا معاشرہ حق کو جھٹلا دے تب بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ حق غالب رہے گا اس لئے کہ سچائی کے بارے میں فیصلہ کرنا اہل جاہلیت کا کام نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے ۔ اللہ ہی ہے جو یہ اعلان کرسکتا ہے کہ فلاں چیز حق ہے اور فلاں چیز باطل ۔ لہذا جھٹلانے والوں کے کسی فیصلے کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے ۔
اس کے بعد حضرت نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم سے دامن جھاڑ دیں اور اعلان کردیں کہ وہ ان سے بری الذمہ ہیں اور یہ کہ اب ان کی اور ان کی قوم کی راہیں جدا ہوگئی ہیں اور یہ بھی اعلان کردیں کہ وہ ان کے معاملے میں کسی چیز کے مختار وحوالہ دار نہیں ہیں اور نہ ان کی نگہبانی کے ذمہ دار ہیں ۔ ان کا فریضہ اس وقت ختم ہوجاتا ہے جب وہ پیغام پہنچا دیں اور سمجھا دیں کیونکہ ذمہ داری اور نگہبانی رسولوں کی ڈیوٹی میں شامل نہیں ہے ۔ جب کوئی رسول پیغام پہنچا دے اور سمجھا دے تو اس کا فریضہ ختم ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد رسول اقوام کو چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے فطری انجام تک پہنچ جائیں ‘ کیونکہ ہر بات اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہوجاتی ہے اور جب بات سامنے آجاتی ہے تو سب اسے جان لیتے ہیں ۔
(آیت) ” لِّکُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ (67)
” ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے ‘ عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہوجائے گا “۔
یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کیا بات ہے جو ظاہر ہونے والی ہے ۔ ایسے مقامات پر بات کو مجمل رکھنا زیادہ خوفناک ہوتا ہے ۔ مارے ڈر کے دل کانپ اٹھتے ہیں ۔
آیات میں حق پر ثابت قدمی کی تلقین ہے یقین دلایا گیا ہے کہ باطل کا ظاہری غلغلہ جس قدر بھی ہوں اس کا انجام بہرحال برا ہوگا اور ایک مقررہ وقت پر اللہ کی جانب سے اہل باطل کو پکڑا جاتا ہے اور یہ کہ ہر بات کے ظہور کا وقت مقرر ہے اور ہر حاضر صورت حال کا ایک انجام سامنے آنے والا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ داعیان حق کو اپنی قوم کی جانب سے جس تکذیب اور سرد مہری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ‘ ان پر اپنے خاندان کی جانب سے جو مظالم ہوتے ہیں ‘ جس طرح وہ اپنے اہل و عیال میں بیگانے بن جاتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دوچار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ انہیں جن اعصاب شکن حالات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ‘ ایسے حالات میں فی الواقعہ وہ ایسی ہی تسلی کے محتاج ہوتے ہیں ‘ اس طرح ان کا کاسہ دل اطمینان اور یقین سے بھر جاتا ہے اور یہ اطمینان اور سکینت قرآن ہی ان کے دلوں میں پیدا کرسکتا ہے ۔
جب پیغمبر ﷺ نے ان تک یہ پیغام دیا اور ان کی جانب سے ناروا تکذیب و انکار کا جواب ان کے ساتھ قطع تعلق کے ذریعے دے دیا گیا تو اب حضور ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کی ہمنشینی اختیار نہ کریں ‘ یہاں تک کہ تبلیغی مقاصد کے لئے بھی ان کے پاس نہ جائیں اگر حالات ایسے ہوں کہ وہ اسلام پر تنقید اور نکتہ چینیاں کر رہے ہو اور عزت واحترام اور سنجیدگی سے اسلامی موضوعات پر بحث نہ کر رہے ہوں ۔ اسلام جس سنجیدہ عزت ووقار اور رعب وداب کا تقاضا کرتا ہے وہ اس کا لحاظ نہ کررہے ہوں بلکہ الٹا دین کے ساتھ مذاق کر رہے ہوں اور ہنسی مزاح کے ساتھ ریمارکس پاس کر رہے ہوں چاہے اپنی زبان سے وہ ایسا کر رہے ہوں یا عمل کے ساتھ ۔ ایسے حالات میں حکم دیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ ہم نشینی اختیار نہ کی جائے کیونکہ اس طرح معنوی اعتبار سے ہم نشینی کرنے والا ان باتوں کا تائید کنندہ تصور ہوگا یا کم از کم یہ تصور ہوگا کہ ایسے شخص کے اندر کوئی دینی غیرت نہیں ہے ۔ اگر شیطان کسی مسلمان کو بہلاوے میں ڈال دے اور وہ ایسی محفل میں بیٹھ جائے تو یاد آتے ہیں اس کا فرض ہے کہ وہ وہاں سے اٹھ کھڑا ہو۔
الأنعام 6:68
(آیت) ” نمبر 68۔
یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے لئے تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے بعد آنے والے مسلمان بھی اس میں شامل ہوں ۔ یہ حکم کی دور کے لئے تھا ۔ اس وقت آپ کا کام صرف دعوت وتبلیغ تک محدود تھا اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ جہاد و قتال سے باز رہیں ۔ آپ کو یہ ہدایت تھی کہ آپ مشرکین کے ساتھ تصادم سے باز رہیں ۔ چناچہ اس دور میں آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ جب دیکھیں کہ مشرکین کی کسی مجلس میں دین اسلام کے خلاف بدتمیزی ہورہی ہے تو آپ ایسی مجالس میں بیٹھنے سے اجتناب فرمائیں اور اگر کبھی ایسا ہو کہ شیطان آپ کو بہلاوے میں ڈال دے اور آپ کسی ایسی مجلس میں پہنچ جائیں اور وہاں اسلام کے بارے میں گستاخانہ باتیں ہو رہی ہوں تو آپ یاد آتے ہی وہاں سے اٹھ کھڑے ہوں ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اہل اسلام سب کو یہی حکم تھا ۔ یہاں ظالمون سے مراد مشرکون ہے جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ چکے ہیں ۔ قرآن کریم کا یہ عام انداز گفتگو ہے ۔
لیکن جب مدینہ میں اسلامی حکومت قائم ہوگئی تو اس وقت مشرکین کے مقابلے میں حضور ﷺ کی پوزیشن مختلف تھی ۔ اب پوزیشن یہ تھی کہ حضور ﷺ ان کے مقابلے میں اس وقت تک جہاد و قتال جاری رکھے ہوئے تھے جب تک تمام فتنوں کا استیصال نہیں کردیا جاتا اور کسی کو یہ جرات ہی نہی رہتی کہ وہ آیات الہیہ کے خلاف کوئی ہرزہ سرائی کرے ۔
اس کے بعد سیاق کلام مومنین اور مشرکین کے درمیان مکمل فرق و امتیاز کی بات کو پھر دہراتا ہے جس طرح اس سے قبل رسول اللہ ﷺ اللہ اور مشرکین کے درمیان جدائی کا فیصلہ ہوا تھا ۔ یہاں فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ دونوں کے انجام اور ذمہ داریوں میں بھی فرق ہے ۔
الأنعام 6:69
(آیت) ” نمبر 69۔
اسلامی نظام میں متعین اور مشرکین کے درمیان کوئی مشترکہ ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ متقین اور مشرکین دو علیحدہ علیحدہ امتیں ہیں ۔ اگرچہ رنگ ونسل اور قوم و حکومت میں وہ ایک ہوں ۔ کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق رنگ ‘ نسل اور قوم کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اہل تقوی ایک امت ہیں اور ظالم اور مشرک بالکل ایک دوسری امت ہیں ۔ ظالموں کے حساب و کتاب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری اہل تقوی پر نہیں ہے ۔ ہاں ان کی ذمہ داری اس حد تک ضروری ہے کہ وہ ظالموں کی اصلاح کے لئے سعی کرتے رہیں تاکہ وہ بھی انکی طرح اہل تقوی بن جائیں اور ان کی امت کا حصہ بن جائیں ۔ اگر اہل تقوی اور اہل ظلم کے درمیان نظریاتی اتحاد نہیں ہوجاتا تو پھر ان کے درمیان کسی اور بات پر اشتراک نہیں ہوسکتا ۔
یہ ہے دین اسلام اور یہ ہے اللہ کا کلام ۔ اگر کوئی اس کے سوا کوئی اور بات کرتا ہے یا کوئی اور طرز عمل اختیار کرتا ہے تو یہ فعل اس کا اپنا ہوگا لیکن اسے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہ اپنے اس طرز عمل کے سبب دین اسلام سے خارج بھی ہو سکتا ہے ۔ ذرا مزید مطالعہ کیجئے ‘ قرآن کریم کچھ مزید ہدایات دیتا ہے ‘ اہل حق واہل باطل کے درمیان مکمل جدائی کی کچھ مزید حدود وقیود بیان کی جاتی ہیں ۔
الأنعام 6:70
(آیت) ” نمبر 70۔
اس میں ہم درج ذیل حقائق کے سامنے کھڑے ہیں :
ایک یہ کہ حضور ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان لوگوں سے قطع تعلق کرلیں جو آپ کے دین اور اسلامی نظام کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرتے ہیں اور آپ کے بعد اہل ایمان کے لئے بھی یہی ہدایت آتی ہے اور یہ قطع تعلق اور جدائی بات چیت میں بھی ہوتی ہے اور عمل میں بھی ۔ جو لوگ دین اسلام کو اپنی زندگی کا ضابطہ بنا کر ‘ اپنے لئے ماخذ نظریات قرار دے کر ‘ اپنے لئے نظام عمل بنا کر ‘ اپنے لئے نظام اخلاق اور اپنے لئے نظام قانون قرار دے کر اس کا صحیح مقام نہیں دیتے اور اسے پروقار نہیں بناتے وہ بھی دراصل اس دین کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ جو لوگ اس دین کے موضوعات پر بحث کرتے ہیں ‘ اسلامی شریعت پر کلام کرتے ہیں اور اس دین کی طرف قابل تضحیک اوضاف کی نسبت کرتے ہیں وہ بھی دین کے ساتھ مذاق کرنے والوں میں شامل ہیں ۔ مثلا وہ لوگ جو غیب کے بارے میں باتیں کرتے ہیں اور عالم غیب کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں حالانکہ ایمان بالغیب اصول عقائد میں سے ہے اور جو لوگ زکوۃ کے ساتھ مزاح کرتے ہیں حالانکہ وہ دین کے بنیادوں میں سے ہے ۔ اور جو لوگ شرم وحیاء اور عفت و پاکیزگی کے ساتھ مزاح کرتے ہیں حالانکہ یہ اصول دین میں سے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی تقریروں اور تحرروں میں انہیں قرون اولی کے زرعی اور جاگیردارنہ اخلاق میں سے قرار دیتے ہیں یا انہیں بورژوا اخلاق قرار دیتے ہیں اور جو لوگ حقوق الزوجین کے بارے میں تحقیر آمیز ریمارکس پاس کرتے ہیں اور جو لوگ عورت کے لئے مقرر اصول عفت و پاکیزگی کو عورت کی پسماندگی اور اس کا استحصال قرار دیتے ہیں اور سب سے آخر میں اور تمام باتوں سے پہلے وہ انسانوں کی پوری زندگی میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم نہیں کرتے اور انسان کی سیاسی ‘ اجتماعی ‘ اقتصادی اور قانونی زندگی میں اللہ کی حاکمیت کے قائل نہیں ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ ان شعبوں میں لوگ اللہ کی شریعت سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے اختیارات استعمال کرسکتے ہیں ۔ یہ سب لوگ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہیں اور اللہ کے دین کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرنے والے سمجھے جائیں گے ۔ اس لئے ہر مسلمان کو حکم ہے کہ وہ ماسوائے تبلیغی مقاصد کے ان لوگوں سے دور رہے اس لئے کہ یہ لوگ ظالم اور مشرک ہیں اور ان کافروں میں سے ہیں جو اپنے کفریہ اعمال میں گرفتار ہونے والے ہیں اور قیامت میں ان کی تواضع کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی اور وہ دردناک عذاب میں رہیں گے ‘ اس لئے کہ یہ لوگ مذکورہ کفریہ روش میں مبتلا تھے ۔
دوسری حقیقت یہ سامنے آتی ہے کہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو ایک طرف چھوڑ دیں اور یہی حکم آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے لئے بھی باقی ہے ۔ لیکن حضور کو اس مقاطعہ کے ساتھ ساتھ یہ ہدایت بھی دی گئی کہ وہ لوگ جنہوں نے اس دین کے ساتھ ہنسی مذاق کو اپنا شیوہ بنا رکھا ہے اور انہیں دنیا کی اس عارضی زندگی نے فریب میں ڈال دیا ہے انہیں نظر انداز کرتے ہوئے بھی انہیں یاد دہانی کراتے جائیں ۔ انہیں ڈراتے رہیں کہ وہ جو کچھ برائیاں سمیٹ رہے ہیں ان کا وبال ان کی جان پر ہوگا اور ایک وقت آنے والا ہے جس میں وہ اللہ سے ملیں گے اور اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا جو کچھ بھی تعاون کرسکے ۔ نہ کوئی ان کا سفارشی ہوگا ‘ نہ ان سے کوئی مالی تاوان قابل قبول ہوگا جس کے ذریعے وہ اپنی جان کو ان باتوں سے چھڑا سکیں جن کا انہوں نے دنیا میں ارتکاب کیا ۔ یہ مفہوم قرآن کریم نے جن الفاظ میں ادا کیا ہے ‘ ان کی خوبصورتی اور معنوی گہرائی قابل غور ہے ۔ ذرا دوبارہ تلاوت کیجئے ۔
(آیت) ” وَذَکِّرْ بِہِ أَن تُبْسَلَ نَفْسٌ بِمَا کَسَبَتْ لَیْْسَ لَہَا مِن دُونِ اللّہِ وَلِیٌّ وَلاَ شَفِیْعٌ وَإِن تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لاَّ یُؤْخَذْ مِنْہَا (6 : 70)
” ہاں مگر یہ قرآن سنا کر نصیحت اور متنبہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کئے ہوئے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہوجائے ‘ اور اگر گرفتار بھی اس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی ومدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لئے نہ ہو ‘ اور اگر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے ۔ “
ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت میں ماخوذ ہوگا ‘ ذمہ داری انفرادی ہوگی اور اپنے اعمال کی بنیاد پر ہوگی اور ایسے حالات میں ہوگی کہ جہاں اللہ کے سوا کوئی ولی اور سفارش کرنے والا نہ ہوگا اور اگر کوئی ممکن حد تک زیادہ معاوضہ وتاوان دینا چاہے تو بھی قبول نہ ہوگا اور یوں وہ کسی صورت میں بھی گردن نہ چھڑا سکے گا ۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین کو مذاق کا نشانہ بنایا اور دنیا کی چند روزہ حیات سے دھوکہ کھا گئے تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی کو گروی رکھ دیا اپنی بداعمالیوں کے ہاتھ ‘ اور اس وجہ سے ان پر وہ عذاب ثابت ہوگیا جس کا تذکرہ اس آیت میں ہوا اور ان کا انجام یہ قرار پایا ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ أُبْسِلُواْ بِمَا کَسَبُواْ لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَعَذَابٌ أَلِیْمٌ بِمَا کَانُواْ یَکْفُرُونَ (70)
” کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجے میں پکڑے جائیں گے ‘ ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور دردناک عذاب بھگتنے کو ملے گا “۔
گویا وہ اپنے افعال بد کی وجہ سے پکڑے گئے اور یہ ان کے لئے مناسب سزا تھی ‘ کیسی جزاء ؟ ایسا گرم پانی جو ان کے حلق اور پیٹ کو بھون ڈالے گا ۔ ان کے کفریہ اعمال کی وجہ سے یہ ان کے لئے ایک دردناک عذاب ہوگا اور یہ عذاب اس بات کی دلیل ہوگا کہ وہ دین کے ساتھ مذاق کرتے رہے ۔
تیسری بات اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا للہ کا سچا دین فی الحقیقت ان کا دین ہے ۔ (دینھم) سے مراد وہ لوگ ہیں جو دین میں داخل ہوگئے ہیں اور داخل ہونے کے بعد انہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے ۔ مدینہ طیبہ میں اس قسم کے لوگ موجود تھے اور عرف عام میں انہیں منافقین کہا جاتا تھا ۔ مدینہ طیبہ میں تو بات ایسی ہی تھی ۔
سوال یہ ہے کہ آیا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوگا مثلا مشرکین جو دین اسلام میں داخل نہیں ہوئے ۔ ہاں ان پر بھی ہوگا اس لئے کہ حقیقی دین ‘ دین اسلام ہی ہے ۔ یہ پوری بشریت کا دین ہے چاہے کوئی اس پر ایمان لائے یا نہ لائے ۔ اس لئے کہ جو شخص اس دین کا انکار کرتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے تو وہ درحقیقت خود اپنے دین کو چھوڑتا ہے ۔ اس لئے کہ یہی تو دین ہے جو اللہ کے نزدیک دین ہے اور خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد اللہ کی جانب سے صرف یہی دین مقبول ہے ۔
یہی مفہوم ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دین کی نسبت ان کی طرف کی ہے کہ یہ ان کا دین ہے ۔
(آیت) ” وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُواْ دِیْنَہُمْ لَعِباً وَلَہْواً وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا (6 : 70)
” چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشابنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا ہوئے ہے ۔
جیسا کہ ہم نے وضاحت کی اس آیت میں اسی مفہوم کی طرف اشارہ ہے کہ دین اسلام تمام انسانوں کا دین ہے ۔ لہذا جو شخص دین اسلام کو کھیل اور تماشا بناتا ہے گویا وہ خود اپنے دین کے ساتھ مذاق کرتا ہے ۔ اگرچہ ایسا کرنے والا شخص مشرک ہو۔
چہارم یہ کہ ظالموں اور مشرکوں کی ہم نشینی کس قدر جائز ہے ؟ اور جو لوگ دین اسلام کو کھیل تماشا بناتے ہیں ان کے ساتھ مجالس کی حدود کیا ہیں ؟ یہ مجالست صرف وعظ ونصیحت کی خاطر جائز ہے اور اس کے سوا ایسے لوگوں کے ساتھ کسی قسم کا تعلق جائز نہیں ہے ۔ یعنی ایسے حالات میں جب وہ آیات الہی کے ساتھ مذاق کررہے ہیں اور نکتہ چینی کر رہے ہوں اور یہ نکتہ چینی اور مذاق مختلف انداز میں ہو سکتا ہے ۔
امام قرطبی نے اپنی تفسیر جامع الاحکام میں اس سلسلے میں لکھا ہے کہ ” اس آیت میں بصراحت اس نظرئیے کی تردید آجاتی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ راہنمایان دین اور ان کے متبعین بطور تقیہ فاسقین کے ساتھ ہم نشینی اختیار کرسکتے ہیں اور ان کی غلط آرا کی تصدیق بطور تقیہ کرسکتے ہیں ۔
میں سمجھتا ہوں کہ فاسقین اور مفسدین کی مجالس میں وعظ وتذکیر کی مجالس میں وعظ وتذکیر کی خاطر بھی ان حدود وقیود کے ساتھ ہم بیٹھ سکتے ہی جن کا تذکرہ اس آیت میں ہوچکا ہے ۔ رہی یہ بات کہ فساق وفجار کی مجالس میں بیٹھنا اور ان کی بری اور مفسدانہ باتوں پر سکوت اختیار کرنا اور بطور تقیہ ایسا کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے کیونکہ یہ تو کھلے طور پر باطل کا اقرار ہے اور حق کے خلاف شہادت ہے اور لوگوں کو دھوکے میں ڈالنا ہے ۔ نیز اس طرز عمل میں دین کی بھی توہین ہے اور جو لوگ دین کا کام کرتے ہیں ان کی بھی توہین ہے ۔ لہذا ایسے حالات میں بیٹھنا منع ہوگا اور ایسی مجالس میں چھوڑنا فرض ہوگا ۔
امام قرطبی نے بعض دوسرے اقوال بھی نقل کئے ہیں :” ابن خویز مقداد کہتے ہیں کہ جو شخص آیات الہی کے بارے میں گستاخانہ کلام کرے اس کی مجلس سے فورا واک آوٹ کرنا چاہئے خواہ یہ شخص مومن ہو یا کافر ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ائمہ نے دشمن کی سرزمین میں جانے سے منع کیا ہے ۔ اسی طرح گرجوں اور مندروں میں جانے سے بھی منع کیا گیا ہے اور کفار اور بدعتیوں کے ساتھ ہم نشینی کی بھی ممانعت کی گئی ہے ۔ نیز یہ بات بھی منع ہے کہ کوئی ان سے محبت ودوستی کرے ‘ ان کی باتیں سنے اور ان کے ساتھ مناظرے کرے ۔ روایات میں آیا ہے کہ بعض بدعتی لوگوں کے ابو عمران نخعی سے کہا کہ میری بات سنو تو انہوں نے ان سے منہ پھیرلیا اور کہا میں تمہاری آدھی بات سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوں “۔ اسی قسم کی بات ایوب سختیانی سے بھی منقول ہے اور فضیل ابن عباس نے کہا ہے : جو شخص کسی صاحب بدعت کے ساتھ دوستی رکھے گا ‘ اس کے اعمال تباہ ہوجائیں گے اور یوں اس کے دل سے اسلام خارج ہوجائے گا ۔ جس شخص نے کسی مبتدع شخص کو رشتہ دیا تو اس نے قطع رحم کیا اور جو شخص بدعتی لوگوں کے ساتھ بیٹھے گا وہ دانشمندی سے محروم کردیا جائے گا ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ فلاں بندہ بدعتی کو بری نظروں سے دیکھتا ہے تو مجھے امید ہے کہ ایسے شخص کو اللہ بخش دے گا ۔ ابو عبداللہ حاکم نے حضرت عائشہ ؓ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” جس شخص نے بدعتی کی عزت افزائی کی اس نے اسلام کو منہدم کرنے کے کام میں معاونت کی “۔
یہ باتیں تو اس شخص کے بارے میں ہیں جو بدعتی ہو ‘ البتہ دین اسلام کا پیروکار ہو ‘ رہا وہ شخص جو اپنے لئے اللہ کی خصوصیات میں سے ایک صفت کا دعوی کرتا ہو ‘ مثلا صفت حاکمیت تو وہ بدعتی سے بھی بڑا مجرم ہے اور جو شخص ایسے شخص کو اس صفت کے ساتھ متصف کرتے ہیں وہ اس سے بھی بڑے مجرم ہیں ۔ یہ جرم محض ارتکاب بدعت جیسا جرم نہیں ہے بلکہ کفر اور شرک جیسا بڑا جرم ہے ۔ کسی شخص کو صفت حاکمیت سے متصف کرنا سلف صالحین کے دور میں نہ تھا ۔ اس لئے انہوں نے اس نکتے پر بحث نہیں کی ۔ تاریخ اسلام میں کسی وقت بھی کسی نے اپنے آپ کو اللہ کے بالمقابل حاکم نہیں سمجھا اور نہ حاکمیت خود یا حاکمیت عوام کا دعوی کیا ہے اور ساتھ ہی وہ مسلمان ہونے کا بھی مدعی ہو۔ شرق اوسط پر فرانسیسی حملے سے پہلے عالم اسلام میں اللہ کی حاکمیت کا نظام قائم تھا ۔ فرانسیسی حملے کے بعد ہی لوگ اللہ کی حاکمیت کے دائرے سے خارج ہوئے ہیں ۔ ہاں بعض لوگ ایسے تھے جو اس سے بچے رہے ۔ لہذا اقوال سلف میں سے ایسے اقوال کم ملتے ہیں جن کا انطباق ہم اس جدید صورت حالات پر کرسکیں اس لئے کہ یہ جدید صور حال ایسی ہے کہ اس میں مسلمان شرعی حدود کو دور پیچھے چھوڑ گئے ہیں ۔
درس نمبر 64 ایک نظر میں :
یہ لہر حقیقت الوہیت اور خصوصیات ذات کبریائی کے بیان میں ایک نہایت ہی موزوں زمزمہ ہے ۔ اس میں ایسے شخص کے بارے میں بڑی شدت کے ساتھ سمجھایا گیا ہے جو راہ ہدایت پانے کے بعد دوبارہ شرک کے اندھیروں میں داخل ہوجائے اور آگے بڑھنے کے بعد رجعت قہقہری اختیار کرلے یا دین اسلام کو ترک کرکے مرتد ہوجائے ۔ ایسے شخص کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے جیسے وہ ایک صحرا میں کھڑا ہے اور اسے اپنی منزل مقصود کی طرف جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا ۔ اس فیصلے اور قرار داد پر کہ ہدایت دی ہے جو اللہ کی راہنمائی پر مبنی ہو ‘ اس لہر کا میٹھا نغمہ اپنے طویل ترنم کے ساتھ اس بات پر ختم ہوجاتا ہے کہ تخلیق اور نظام حکومت (امر) کے بارے صرف اللہ وحدہ کو تمام اختیارات حاصل ہیں۔ اس اختیار کلی کا اظہار اس وقت ہوگا جب نفخ صور کے دن مومن و کافر سب کو اپنی اپنی قبر سے اٹھایا جائے گا سب کے سب اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے تو اس وقت جس کا عقیدہ نہیں تھا وہ بھی یقین سے جان لے گا کہ اب تو تمام اختیارات اللہ وحدہ کے ہاتھ مین ہیں اور اب تمام معاملات اسی کی طرف لوٹ آئے ہیں ۔
الأنعام 6:71
(آیت) ” نمبر 71۔
اس سورة میں بار بار مضراب قل سے ضربات لگائی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی پرتاثیر طرز خطا ہے جس سے یہ تاثر دیا جانا مطلوب ہے کہ حلال و حرام کے حدود وقیود کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے اور رسول اللہ ﷺ تو محض مبلغ اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں ۔ اس انداز کلام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نہایت ہی اہم ‘ بڑا اور خوفناک ہے ۔ یہ تصورات جو رسول خدا ﷺ پیش فرما رہے ہیں یہ ان کی ڈیوٹی ہے اور انہیں خدا کی جانب سے امر ہے کہ وہ ایسا کریں ۔
(آیت) ” قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَنفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنا “۔ (6 : 71)
اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ؟ ۔ “
لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پکارتے تھے اور ان سے امداد طلب کرتے تھے ۔ انکی اس حرکت کو برا سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ان سے صاف صاف کہہ دو کہ تم نے جو ان لوگوں کی اطاعت اختیار کر رکھی ہے وہ تمہارے نفع ونقصان کے مالک ہی نہیں ۔ تم ان لوگوں کو کیوں پکارتے ہو ؟ غیر اللہ سے مراد یہاں ‘ بت ‘ آستانے بھی ہیں ‘ درخت وپتھر بھی ہیں ‘ روحانی مخلوق اور فرشتے بھی ہیں اور انسان و شیاطین بھی ہیں ۔ یہ سب کے سب اس لحاظ سے برابر ہیں کہ ان کے قبضے میں کسی کا نفع ونقصان نہیں ہے ۔ وہ اس پوزیشن سے بہت دور ہیں کہ کسی کو نفع ونقصان پہنچا سکیں ۔ اس دنیا میں تمام حرکات و سکنات اور سب کا نفع ونقصان اللہ کی تقدیر کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔ اللہ کا اذن نہ ہو تو کوئی واقعہ نہیں ہو سکتا اور جو کچھ واقعہ ہوجاتا ہے وہ اللہ کی تقدیر اور راضا کے مطابق ہوتا ہے ‘ اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے ۔
غیر اللہ کو پکارنا ‘ غیر اللہ کی بندگی کرنا اور غیر اللہ سے استعانت طلب کرنا قابل نفرت کام ہے ۔ غیر اللہ کے سامنے عاجزی کرنا اور اللہ کے سوا دوسروں کے لئے تمام ایسے نظریات اور اعمال کھوٹے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تردید ونکیر ان باتوں کو دیکھ کر ہو جس پر مشرکین عمل پیرا تھے یا یہ تردید ان کی اس تجویز کی تردید کرتے ہوئے آئی ہو جس میں وہ لوگ تجویز کرتے تھے کہ ہم حضور ﷺ کے خدا کی عبادت شروع کردیں گے بشرطیکہ حضور ﷺ ہمارے الہوں کی عبادت میں شریک ہوں ۔ بہرحال یہ ازخود تردید ہو یا ان کی کسی تجویز کا رد ہو دونوں صورتوں میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مشرکین کے ساتھ مکمل نظریاتی قطع تعلق کرلیں ۔ مشرکین کے نظریات اور عمل دونوں عقل انسانی کی رو سے نہایت کمزور اور بودے ہیں بشرطیکہ روشن فکری کے ماحول میں عقل کو دعوت فکر دی جائے اور رسم و رواج اور موروثی روایات کی تہوں کے نیچے عقل دبی ہوئی نہ ہو جیسا کہ حضور ﷺ کے دور میں لوگوں کا شعور ماحول میں دبا ہو اتھا ۔
ان مشرکانہ معتقدات اور اعمال کو یہاں ان ہدایات کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دیں تاکہ اسلامی ہدایات کے بالمقابل ان کا کھوٹ اور ان کا قابل نفرت ہونا اچھی طرح واضح ہوجائے ‘ کیونکہ اللہ نے یہ ہدایت دی ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت کی جائے صرف اسے ہی الہ اور حاکم تسلیم کیا جائے اور بلا شرکت غیرے اس کے تجویز کردہ نظام زندگی کو قبول کیا جائے ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ۔ ” اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ “ اگر ہم ایسا کریں تو یہ صحیح معنوں میں ارتداد ہوگا ‘ الٹے پاؤں پھرنا ہوگا ‘ رجعت پسندی ہوگی ۔ ترقی پسندی اور آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے لوٹنا ہوگا ‘ کیونکہ اسلام نام ہی ترقی پسندی کا ہے ۔
(آیت) ” وَنُرَدُّ عَلَی أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا اللّہُ “ (6 : 71)
” اور جب اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پاؤں پھرجائیں ؟ ۔
اس کے بعد ایک اور متحرک اور مشخص منظر اسکرین پر آتا ہے ۔
(آیت) ” کَالَّذِیْ اسْتَہْوَتْہُ الشَّیَاطِیْنُ فِیْ الأَرْضِ حَیْْرَانَ لَہُ أَصْحَابٌ یَدْعُونَہُ إِلَی الْہُدَی ائْتِنَا “۔ (6 : 71)
” کیا ہم اپنا حال اس شخص کا سا کرلیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو ‘ درآں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ادھر آؤ ‘ سیدھی راہ موجود ہے ؟۔ “
ضلالت وگمراہی اور حیرانی و پریشانی کا یہ ایک متحرک اور جیتا جاگتا منظر ہے جو شخص عقیدہ توحید کے بعد شرک اختیار کرتا ہے ۔ جس کا ضمیر رب واحد اور ارباب متفرقہ کے درمیان گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے ‘ وہ عموما ایسی ہی کیفیت سے دو چار ہوتا ہے وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے اور فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کون سی راہ اختیار کرے ۔ غرض یہ ایک ایسی بدبخت مخلوق خدا کا منظر ہے ” جسے شیطان نے صحرا میں بھٹکا کدیا ہو ۔ لفظ استہوتہ اپنے مفہوم کی تصویر کشی خود ہی کردیتا ہے ۔ اگر وہ ایک راہ لیتا تو کوئی بات نہ تھی ۔ کسی ایک راہ پر پڑجاتا چاہے وہ گمراہی کی راہ ہوتی ‘ لیکن یہاں وہ جس صورت حال سے دوچار ہے وہ یہ ہے کہ دوسری جانب سے اس کے کچھ ساتھی ہدایت یافت ہیں اور وہ اسے راہ راست کی طرف بلاتے ہیں اور بار بار پکارتے ہیں کہ آؤ بھائی ادھر آؤ ۔ وہ اس شیطانی بےراہ روی اور دوستوں کی پکار کے درمیان حیران وپریشان کھڑا ہے ۔ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ کدھر جائے اور دونوں پکارنے والوں میں سے کس کی راہ کا انتخاب کرے ۔ وہ اس نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہے اور قرآن کے الفاظ کے درمیان سے اس شخص کی ذہنی اذیت واضح طور پر نظر آتی ہے ۔
میں جب بھی اس آیت کی تلاوت کرتا تو سوچتا رہتا کہ اس ذہنی کھینچا تانی ‘ کشمکش اور تذبذب کی وجہ سے انسان کس عذاب میں مبتلا ہوتا ہوگا ۔ ایسے افراد کا ایک ذہنی نقشہ سامنے آجاتا ہے لیکن یہ صرف ذہنی تصور ہی ہوتا ہے جبکہ عملی زندگی میں ‘ ہمارے سامنے بعض لوگوں کے حقیقی حالات بھی آئے ہیں جن پر یہ منظر پوری طرح چسپاں ہوتا ہے اور وہ لوگ اس عذاب میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو تو پالیا تھا اور اس میں اپنی ذہنی وعملی بساط کے مطابق معرفت بھی حاصل کی مگر اس کے بعد وہ الٹے پاؤں پھرے اور کھوٹے اور جھوٹے الہوں کی پرستش اور اطاعت کرنے لگے ۔ یہ اطاعت انہوں نے خوف اور لالچ کی وجہ سے کی ۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایسی ہی کربناک ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔ ایسے لوگوں کے عملی حالات کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ اس آیت کا حقیقی مفہوم کیا ہے اور قرآن کریم کا یہ اندازبیاں کس قدر جامع اور موثر ہے ۔
ابھی یہ خوفناک منظر آنکھوں کے سامنے تھا اور اس برے انجام کو دیکھ کر دل مومن کانپ ہی رہا تھا کہ صراط مستقیم دکھا دیا جاتا ہے اور فیصلہ کن حکم دیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” قُلْ إِنَّ ہُدَی اللّہِ ہُوَ الْہُدَیَ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (71) وَأَنْ أَقِیْمُواْ الصَّلاۃَ وَاتَّقُوہُ (6 : 72۔ 71)
” کہو ” حقیقت میں صحیح راہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سراطاعت خم کر دو “ ۔ نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ “
نہایت ہی مناسب نفسیاتی حالات میں یہ فیصلہ کن بات ہے ۔ اس لئے کہ جب انسان یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کے سامنے حیرانی اور کشمکش کی ایک تصویر چل رہی ہے ‘ اسے کوئی سکون وقرار حاصل نہیں ہے اور وہ سخت ترین اذیت کا شکار ہے تو ایسے حالات کو دیکھ کر کوئی بھی قاری اس بات کے لئے آمادہ ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کن اور مطمئن کردینے والی بات کو قبول کرے اور راحت و سکون کی تلاش کرے ۔ یہ فیصلہ کن بات کیا ہے ؟ یہ ہے سچائی ۔ ” راہنمائی تو صرف اللہ کی راہنمائی ہے ۔ “ ھدی اللہ ھو الھدی “ کی ترکیب سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کجہ یہ بات فیصلہ کن ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ اللہ کی راہنمائی ہی حقیقی راہنمائی ہے ۔
انسان نے جب بھی اللہ کی ہدایت سے منہ موڑا وہ آوارہ صحرا ہوا ۔ نیز اگر انسان اللہ کی راہنمائی کا کچھ حصہ تبدیل کرکے اس کی جگہ اپنے تصورات نافذ کرے ‘ اپنے فارمولے آزمائے ‘ اپنی جانب سے قوانین وضع کرے ‘ اپنے طور طریقے اپنائے ‘ خود ساختہ پیمانے رائج کرے اور یہ سب کام علم الہی ‘ ہدایت الہی اور اللہ کی روشن کتاب کی راہنمائی کے دائرے سے باہر نکل کر کرے تو وہ کبھی بھی راہ راست نہ پائے گا اور بےکنار صحرا ہی میں پھرتا رہے گا ۔
اس میں شک نہیں کہ حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی قوتیں عطا کی ہیں جن کے ذریعے وہ اس کائنات کے بعض نوامیس فطرت تک رسائی حاصل کرچکا ہے ‘ کائنات کی بعض قوتوں کو اس نے مسخر کرلیا ہے ‘ اس کرہ ارض کا نظام چلانے کے لئے وہ ان قوتوں سے استفادہ کر رہا ہے اور اس دنیا کی زندگی کو ترقی دے رہا ہے لیکن اس کو اللہ نے اس قدر وسیع علم اور قوت نہیں دی ہے کہ وہ اس کائنات کی تمام قوتوں اور تمام حقیقتوں کی تہہ تک پہنچ سکے ‘ نہ یہ حضرت انسان اس عالم غیب کی وسعتوں کے اندر داخل ہو سکتا ہے جو اسے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں ۔ خود انسان کی عقل ، انسان کی سوچ ‘ اس کے جسم کے مختلف اعضاء کا کام کرنا اور اس کے اسباب اور ان اعضاء کا اس طرح مربوط طریقے پر کام کرنا ‘ یہ سب امور ایسے ہیں جو انسان کے لئے ابھی تک عالم غیب کے حصے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ خود اپنی ذات کے بارے میں بھی انسان خدائی ہدایت اور راہنمائی کا محتاج ہے ۔ انسان کی زندگی ‘ اس کے نظریات ‘ اس کی تخلیق ونشوونما ‘ زندگی کی اقدار اور پیمانے ‘ زندگی کا نظام اور طور طریقے ‘ زندگی کے ضوابط اور قوانین ایسے امور ہیں جن میں انسان کو اللہ کی راہنمائی درکار ہے تاکہ ان چیزوں کو اس کی زندگی میں نافذ کیا جاسکے اور اس کی عملی زندگی پر ان خدائی ہدایات کا نفاذ ہو ۔
یہ انسان جب اللہ کی ہدایت کی طرف لوٹ آتا ہے اور ہدایت کو قبول کرلیتا ہے تو وہ صحیح معنوں میں ہدایت یافتہ انسان قرار پاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ کی ہدایت ہی صحیح ہدایت ہے جب بھی وہ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتا ہے یا اللہ کی راہنمائی میں سے بعض اجزاء سے انحراف کرتا ہے یا اس میں سے بعض اجزاء کو تبدیل کرکے اس کے اندر خود ساختہ اجزاء پیوست کردیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اس لئے کہ جو بات اللہ کی راہنمائی پر مبنی نہ ہو تو وہ ضلالت ہے کیونکہ کوئی تیسرا اور درمیانی راستہ موجود نہیں ہے ۔ (فماذا بعد الحق الا الضلال) ” سچائی کے بعد گمراہی کے سوا اور ہے کیا ؟ “ انسان نے اپنی طویل تاریخ میں اس گمراہی کا مزہ خوب چکھا ہے اس کی وجہ سے اس نے بےحد مصائب جھیلے ہیں اور آج تک انسانیت ان مصائب میں مبتلا ہے ۔ انسانی تاریخ نے اپنا یہ حتمی فیصلہ دے دیا ہے کہ اس کا یہی انجام ہوگا ‘ جب بھی وہ اللہ کی راہنمائی سے انحراف کرے گی ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہیں اور اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ نیز اللہ کا حکم بھی یہی ہے اور اللہ کی جانب سے اطلاع بھی یہی ہے ۔ اس حقیقت کی سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اگرچہ دعوی بہت سے حقائق کا کیا جاتا ہے لیکن تاریخ نے کسی کو تصدیق نہیں کی ۔ جو لوگ خدائی راہنمائی سے انحراف کی وجہ سے انسانی مصائب کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں انہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے معاشروں کا مطالعہ کریں ۔ ایک عقلمند سب کچھ چشم بینا سے دیکھ سکتا ہے ۔ وہ ان مصائب کو ہاتھ سے چھو سکتا ہے ۔ یہ محسوس ہیں اور اس پوری دنیا کے عقلمند لوگ ان کی بابت چیخ و پکار کر رہے ہیں۔
چناچہ سیاق کلام میں مکرر حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دو صرف اللہ کے سامنے ۔ اسی سے ڈرو اور اسی کی بندگی اور عبادت کرو ۔ وامرنا۔۔۔۔۔۔ اور اس کی طرف سے ہمیں حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سر اطاعت خم کر دو اور نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ “
یعنی اے محمد اعلان کر دو کہ راہنمائی اور ہدایت تو صرف اللہ کی راہنمائی اور ہدایت ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ رب العالمین ہی کے آگے سرتسلیم خم کر دو ‘ اس لئے کہ عالمین اسی کے آگے جھکتے ہیں ۔ یہ پوری کائنات اس کے آگے پابند حکم ہے ‘ پس کوئی جواز نہیں ہے کہ اس پوری کائنات کے اندر انسان جیسی عقلمند مخلوق اللہ رب العالمین کے آگے نہ جھکے اور اللہ کی ملکیت اور ربوبیت کا انکار کردے اور آسمان و زمین اور پوری کائنات سے مختلف روش اختیار کرے ۔
یہاں پورے جہان اور اس کی ربوبیت کا ذکر بےمحل نہیں ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے تسلیم کئے بغیر بات بنتی ہی نہیں ۔ اس کا اعتراف کرنا ہی پڑے گا یہ کہ پوری دنیا میں مشہود اور غائب دونوں شامل ہیں اور وہ قوانین قدرت جن کے مطابق یہ رواں دواں ہے ان سے یہ کائنات شمہ بھر انحراف بھی نہیں کرسکتی ۔ اس لئے کہ اللہ رب العالمین ہے ۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے اپنی طبیعی زندگی کے اندر وہ بھی ان نوامیس فطرت کا پابند ہے ۔ انسان کی جسمانی زندگی ان ضوابط کے اندر جکڑی ہوئی ہے اور وہ ان ضوابط کا مطیع ہے ۔ ان کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتا ۔ لہذا انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی اس محدود اختیاری زندگی کے اندر بھی اللہ کے ضوابط کی پابندی کرے اور یہ اس کے لئے سخت آزمائش ہے ۔ اس آزمائش میں دیکھا جائے گا کہ وہ راہ ہدایت پالیتا ہے یا صحرائے ضلالت کی طرف جانکلتا ہے ۔ اگر وہ خدائی ضوابط کی اس طرح پابندی کرے جس طرح وہ اپنی طبیعی زندگی کے اندر مطیع نوامیس الہی ہے تو اس کی زندگی خوش اسلوبی سے گزرے گی اور اس کا طرز عمل اور اس کی طبیعی زندگی باہم متناسق ہوں گے ۔ اس کا جسم اس کی روح کا ساتھی ہوگا اور اس کی دنیا آخرت کے ساتھ جڑی ہوئی ہوگی ۔ تفصیلات کے لئے دیکھئے (امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کتاب رسالہ دینیات)
یہ کہنا کہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مالک حقیقی کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ‘ اس لئے انہوں نے سرتسلیم خم کردینے کی روش اختیار کی ہے ، ایک نہایت ہی موثر ار مفرح انداز گفتگو ہے اور تا قیامت جو لوگ بھی راہ تسلیم ورضا کو اختیار کریں گے وہ اپنے آپ کو براہ راست امر الہی کا تعمیل کنندہ سمجھیں گے ۔
اب وہ مامورات آتے ہیں جو اعلان تسلیم ورضا کے بعد کا لائحہ عمل ہیں۔
(آیت) ” وَأَنْ أَقِیْمُواْ الصَّلاۃَ وَاتَّقُوہُ (6 : 72) ” نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو “۔
اصل فریضہ یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت کو تسلیم کیا جائے ۔ اس کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کی رضا کے مطابق اپنے آپ کو درست کیا جائے ۔ اس کے بعد پھر عبادات کا درجہ آتا ہے اور نفسیاتی اصلاح کا کام شروع ہوتا ہے تاکہ تسلیم ورضا کی اساس پر عملی زندگی کا نقشہ فائع ہو سکے اور عملی زندگی اور تفصیلی نظام زندگی اس وقت تک استحکام حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کی تعمیر مستحکم بنیادوں پر نہ ہو ۔
اس لہر کی آخری ضرب اسلامی نظریہ حیات کے اساسی حقائق کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ یہ حقائق اسلامی نظریہ حیات کے اصلی اور بنیادی عوامل ہیں ۔ مثلا حشر ونشر ‘ تخلیق کائنات ‘ حاکمیت الہیہ ‘ علم غیب اور علم شہادت اور یہ کہ اللہ حکیم وخبیر ہے ۔
الأنعام 6:72
(آیت) ” نمبر 71۔
اس سورة میں بار بار مضراب قل سے ضربات لگائی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی پرتاثیر طرز خطا ہے جس سے یہ تاثر دیا جانا مطلوب ہے کہ حلال و حرام کے حدود وقیود کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے اور رسول اللہ ﷺ تو محض مبلغ اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں ۔ اس انداز کلام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نہایت ہی اہم ‘ بڑا اور خوفناک ہے ۔ یہ تصورات جو رسول خدا ﷺ پیش فرما رہے ہیں یہ ان کی ڈیوٹی ہے اور انہیں خدا کی جانب سے امر ہے کہ وہ ایسا کریں ۔
(آیت) ” قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَنفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنا “۔ (6 : 71)
اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ؟ ۔ “
لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پکارتے تھے اور ان سے امداد طلب کرتے تھے ۔ انکی اس حرکت کو برا سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے نبی ﷺ ان سے صاف صاف کہہ دو کہ تم نے جو ان لوگوں کی اطاعت اختیار کر رکھی ہے وہ تمہارے نفع ونقصان کے مالک ہی نہیں ۔ تم ان لوگوں کو کیوں پکارتے ہو ؟ غیر اللہ سے مراد یہاں ‘ بت ‘ آستانے بھی ہیں ‘ درخت وپتھر بھی ہیں ‘ روحانی مخلوق اور فرشتے بھی ہیں اور انسان و شیاطین بھی ہیں ۔ یہ سب کے سب اس لحاظ سے برابر ہیں کہ ان کے قبضے میں کسی کا نفع ونقصان نہیں ہے ۔ وہ اس پوزیشن سے بہت دور ہیں کہ کسی کو نفع ونقصان پہنچا سکیں ۔ اس دنیا میں تمام حرکات و سکنات اور سب کا نفع ونقصان اللہ کی تقدیر کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔ اللہ کا اذن نہ ہو تو کوئی واقعہ نہیں ہو سکتا اور جو کچھ واقعہ ہوجاتا ہے وہ اللہ کی تقدیر اور راضا کے مطابق ہوتا ہے ‘ اللہ کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے ۔
غیر اللہ کو پکارنا ‘ غیر اللہ کی بندگی کرنا اور غیر اللہ سے استعانت طلب کرنا قابل نفرت کام ہے ۔ غیر اللہ کے سامنے عاجزی کرنا اور اللہ کے سوا دوسروں کے لئے تمام ایسے نظریات اور اعمال کھوٹے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تردید ونکیر ان باتوں کو دیکھ کر ہو جس پر مشرکین عمل پیرا تھے یا یہ تردید ان کی اس تجویز کی تردید کرتے ہوئے آئی ہو جس میں وہ لوگ تجویز کرتے تھے کہ ہم حضور ﷺ کے خدا کی عبادت شروع کردیں گے بشرطیکہ حضور ﷺ ہمارے الہوں کی عبادت میں شریک ہوں ۔ بہرحال یہ ازخود تردید ہو یا ان کی کسی تجویز کا رد ہو دونوں صورتوں میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مشرکین کے ساتھ مکمل نظریاتی قطع تعلق کرلیں ۔ مشرکین کے نظریات اور عمل دونوں عقل انسانی کی رو سے نہایت کمزور اور بودے ہیں بشرطیکہ روشن فکری کے ماحول میں عقل کو دعوت فکر دی جائے اور رسم و رواج اور موروثی روایات کی تہوں کے نیچے عقل دبی ہوئی نہ ہو جیسا کہ حضور ﷺ کے دور میں لوگوں کا شعور ماحول میں دبا ہو اتھا ۔
ان مشرکانہ معتقدات اور اعمال کو یہاں ان ہدایات کی روشنی میں پیش کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دیں تاکہ اسلامی ہدایات کے بالمقابل ان کا کھوٹ اور ان کا قابل نفرت ہونا اچھی طرح واضح ہوجائے ‘ کیونکہ اللہ نے یہ ہدایت دی ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت کی جائے صرف اسے ہی الہ اور حاکم تسلیم کیا جائے اور بلا شرکت غیرے اس کے تجویز کردہ نظام زندگی کو قبول کیا جائے ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ۔ ” اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان۔ “ اگر ہم ایسا کریں تو یہ صحیح معنوں میں ارتداد ہوگا ‘ الٹے پاؤں پھرنا ہوگا ‘ رجعت پسندی ہوگی ۔ ترقی پسندی اور آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے لوٹنا ہوگا ‘ کیونکہ اسلام نام ہی ترقی پسندی کا ہے ۔
(آیت) ” وَنُرَدُّ عَلَی أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ ہَدَانَا اللّہُ “ (6 : 71)
” اور جب اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پاؤں پھرجائیں ؟ ۔
اس کے بعد ایک اور متحرک اور مشخص منظر اسکرین پر آتا ہے ۔
(آیت) ” کَالَّذِیْ اسْتَہْوَتْہُ الشَّیَاطِیْنُ فِیْ الأَرْضِ حَیْْرَانَ لَہُ أَصْحَابٌ یَدْعُونَہُ إِلَی الْہُدَی ائْتِنَا “۔ (6 : 71)
” کیا ہم اپنا حال اس شخص کا سا کرلیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سرگرداں پھر رہا ہو ‘ درآں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ادھر آؤ ‘ سیدھی راہ موجود ہے ؟۔ “
ضلالت وگمراہی اور حیرانی و پریشانی کا یہ ایک متحرک اور جیتا جاگتا منظر ہے جو شخص عقیدہ توحید کے بعد شرک اختیار کرتا ہے ۔ جس کا ضمیر رب واحد اور ارباب متفرقہ کے درمیان گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوتا ہے ‘ وہ عموما ایسی ہی کیفیت سے دو چار ہوتا ہے وہ ذہنی کشمکش میں مبتلا ہوتا ہے اور فیصلہ نہیں کر پاتا کہ کون سی راہ اختیار کرے ۔ غرض یہ ایک ایسی بدبخت مخلوق خدا کا منظر ہے ” جسے شیطان نے صحرا میں بھٹکا کدیا ہو ۔ لفظ استہوتہ اپنے مفہوم کی تصویر کشی خود ہی کردیتا ہے ۔ اگر وہ ایک راہ لیتا تو کوئی بات نہ تھی ۔ کسی ایک راہ پر پڑجاتا چاہے وہ گمراہی کی راہ ہوتی ‘ لیکن یہاں وہ جس صورت حال سے دوچار ہے وہ یہ ہے کہ دوسری جانب سے اس کے کچھ ساتھی ہدایت یافت ہیں اور وہ اسے راہ راست کی طرف بلاتے ہیں اور بار بار پکارتے ہیں کہ آؤ بھائی ادھر آؤ ۔ وہ اس شیطانی بےراہ روی اور دوستوں کی پکار کے درمیان حیران وپریشان کھڑا ہے ۔ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ کدھر جائے اور دونوں پکارنے والوں میں سے کس کی راہ کا انتخاب کرے ۔ وہ اس نفسیاتی کشمکش میں مبتلا ہے اور قرآن کے الفاظ کے درمیان سے اس شخص کی ذہنی اذیت واضح طور پر نظر آتی ہے ۔
میں جب بھی اس آیت کی تلاوت کرتا تو سوچتا رہتا کہ اس ذہنی کھینچا تانی ‘ کشمکش اور تذبذب کی وجہ سے انسان کس عذاب میں مبتلا ہوتا ہوگا ۔ ایسے افراد کا ایک ذہنی نقشہ سامنے آجاتا ہے لیکن یہ صرف ذہنی تصور ہی ہوتا ہے جبکہ عملی زندگی میں ‘ ہمارے سامنے بعض لوگوں کے حقیقی حالات بھی آئے ہیں جن پر یہ منظر پوری طرح چسپاں ہوتا ہے اور وہ لوگ اس عذاب میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلامی نظریہ حیات کو تو پالیا تھا اور اس میں اپنی ذہنی وعملی بساط کے مطابق معرفت بھی حاصل کی مگر اس کے بعد وہ الٹے پاؤں پھرے اور کھوٹے اور جھوٹے الہوں کی پرستش اور اطاعت کرنے لگے ۔ یہ اطاعت انہوں نے خوف اور لالچ کی وجہ سے کی ۔ میں نے دیکھا کہ وہ ایسی ہی کربناک ذہنی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔ ایسے لوگوں کے عملی حالات کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ اس آیت کا حقیقی مفہوم کیا ہے اور قرآن کریم کا یہ اندازبیاں کس قدر جامع اور موثر ہے ۔
ابھی یہ خوفناک منظر آنکھوں کے سامنے تھا اور اس برے انجام کو دیکھ کر دل مومن کانپ ہی رہا تھا کہ صراط مستقیم دکھا دیا جاتا ہے اور فیصلہ کن حکم دیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” قُلْ إِنَّ ہُدَی اللّہِ ہُوَ الْہُدَیَ وَأُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (71) وَأَنْ أَقِیْمُواْ الصَّلاۃَ وَاتَّقُوہُ (6 : 72۔ 71)
” کہو ” حقیقت میں صحیح راہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سراطاعت خم کر دو “ ۔ نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ “
نہایت ہی مناسب نفسیاتی حالات میں یہ فیصلہ کن بات ہے ۔ اس لئے کہ جب انسان یہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس کے سامنے حیرانی اور کشمکش کی ایک تصویر چل رہی ہے ‘ اسے کوئی سکون وقرار حاصل نہیں ہے اور وہ سخت ترین اذیت کا شکار ہے تو ایسے حالات کو دیکھ کر کوئی بھی قاری اس بات کے لئے آمادہ ہوتا ہے کہ وہ فیصلہ کن اور مطمئن کردینے والی بات کو قبول کرے اور راحت و سکون کی تلاش کرے ۔ یہ فیصلہ کن بات کیا ہے ؟ یہ ہے سچائی ۔ ” راہنمائی تو صرف اللہ کی راہنمائی ہے ۔ “ ھدی اللہ ھو الھدی “ کی ترکیب سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کجہ یہ بات فیصلہ کن ہے اور یہ یقینی بات ہے کہ اللہ کی راہنمائی ہی حقیقی راہنمائی ہے ۔
انسان نے جب بھی اللہ کی ہدایت سے منہ موڑا وہ آوارہ صحرا ہوا ۔ نیز اگر انسان اللہ کی راہنمائی کا کچھ حصہ تبدیل کرکے اس کی جگہ اپنے تصورات نافذ کرے ‘ اپنے فارمولے آزمائے ‘ اپنی جانب سے قوانین وضع کرے ‘ اپنے طور طریقے اپنائے ‘ خود ساختہ پیمانے رائج کرے اور یہ سب کام علم الہی ‘ ہدایت الہی اور اللہ کی روشن کتاب کی راہنمائی کے دائرے سے باہر نکل کر کرے تو وہ کبھی بھی راہ راست نہ پائے گا اور بےکنار صحرا ہی میں پھرتا رہے گا ۔
اس میں شک نہیں کہ حضرت انسان کو اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی قوتیں عطا کی ہیں جن کے ذریعے وہ اس کائنات کے بعض نوامیس فطرت تک رسائی حاصل کرچکا ہے ‘ کائنات کی بعض قوتوں کو اس نے مسخر کرلیا ہے ‘ اس کرہ ارض کا نظام چلانے کے لئے وہ ان قوتوں سے استفادہ کر رہا ہے اور اس دنیا کی زندگی کو ترقی دے رہا ہے لیکن اس کو اللہ نے اس قدر وسیع علم اور قوت نہیں دی ہے کہ وہ اس کائنات کی تمام قوتوں اور تمام حقیقتوں کی تہہ تک پہنچ سکے ‘ نہ یہ حضرت انسان اس عالم غیب کی وسعتوں کے اندر داخل ہو سکتا ہے جو اسے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہیں ۔ خود انسان کی عقل ، انسان کی سوچ ‘ اس کے جسم کے مختلف اعضاء کا کام کرنا اور اس کے اسباب اور ان اعضاء کا اس طرح مربوط طریقے پر کام کرنا ‘ یہ سب امور ایسے ہیں جو انسان کے لئے ابھی تک عالم غیب کے حصے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ خود اپنی ذات کے بارے میں بھی انسان خدائی ہدایت اور راہنمائی کا محتاج ہے ۔ انسان کی زندگی ‘ اس کے نظریات ‘ اس کی تخلیق ونشوونما ‘ زندگی کی اقدار اور پیمانے ‘ زندگی کا نظام اور طور طریقے ‘ زندگی کے ضوابط اور قوانین ایسے امور ہیں جن میں انسان کو اللہ کی راہنمائی درکار ہے تاکہ ان چیزوں کو اس کی زندگی میں نافذ کیا جاسکے اور اس کی عملی زندگی پر ان خدائی ہدایات کا نفاذ ہو ۔
یہ انسان جب اللہ کی ہدایت کی طرف لوٹ آتا ہے اور ہدایت کو قبول کرلیتا ہے تو وہ صحیح معنوں میں ہدایت یافتہ انسان قرار پاتا ہے ۔ کیونکہ اللہ کی ہدایت ہی صحیح ہدایت ہے جب بھی وہ اللہ کی ہدایت سے دور ہوتا ہے یا اللہ کی راہنمائی میں سے بعض اجزاء سے انحراف کرتا ہے یا اس میں سے بعض اجزاء کو تبدیل کرکے اس کے اندر خود ساختہ اجزاء پیوست کردیتا ہے تو وہ گمراہ ہوجاتا ہے اس لئے کہ جو بات اللہ کی راہنمائی پر مبنی نہ ہو تو وہ ضلالت ہے کیونکہ کوئی تیسرا اور درمیانی راستہ موجود نہیں ہے ۔ (فماذا بعد الحق الا الضلال) ” سچائی کے بعد گمراہی کے سوا اور ہے کیا ؟ “ انسان نے اپنی طویل تاریخ میں اس گمراہی کا مزہ خوب چکھا ہے اس کی وجہ سے اس نے بےحد مصائب جھیلے ہیں اور آج تک انسانیت ان مصائب میں مبتلا ہے ۔ انسانی تاریخ نے اپنا یہ حتمی فیصلہ دے دیا ہے کہ اس کا یہی انجام ہوگا ‘ جب بھی وہ اللہ کی راہنمائی سے انحراف کرے گی ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہیں اور اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ نیز اللہ کا حکم بھی یہی ہے اور اللہ کی جانب سے اطلاع بھی یہی ہے ۔ اس حقیقت کی سوا اور کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اگرچہ دعوی بہت سے حقائق کا کیا جاتا ہے لیکن تاریخ نے کسی کو تصدیق نہیں کی ۔ جو لوگ خدائی راہنمائی سے انحراف کی وجہ سے انسانی مصائب کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں انہیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے معاشروں کا مطالعہ کریں ۔ ایک عقلمند سب کچھ چشم بینا سے دیکھ سکتا ہے ۔ وہ ان مصائب کو ہاتھ سے چھو سکتا ہے ۔ یہ محسوس ہیں اور اس پوری دنیا کے عقلمند لوگ ان کی بابت چیخ و پکار کر رہے ہیں۔
چناچہ سیاق کلام میں مکرر حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دو صرف اللہ کے سامنے ۔ اسی سے ڈرو اور اسی کی بندگی اور عبادت کرو ۔ وامرنا۔۔۔۔۔۔ اور اس کی طرف سے ہمیں حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سر اطاعت خم کر دو اور نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو۔ “
یعنی اے محمد اعلان کر دو کہ راہنمائی اور ہدایت تو صرف اللہ کی راہنمائی اور ہدایت ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ اللہ رب العالمین ہی کے آگے سرتسلیم خم کر دو ‘ اس لئے کہ عالمین اسی کے آگے جھکتے ہیں ۔ یہ پوری کائنات اس کے آگے پابند حکم ہے ‘ پس کوئی جواز نہیں ہے کہ اس پوری کائنات کے اندر انسان جیسی عقلمند مخلوق اللہ رب العالمین کے آگے نہ جھکے اور اللہ کی ملکیت اور ربوبیت کا انکار کردے اور آسمان و زمین اور پوری کائنات سے مختلف روش اختیار کرے ۔
یہاں پورے جہان اور اس کی ربوبیت کا ذکر بےمحل نہیں ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے تسلیم کئے بغیر بات بنتی ہی نہیں ۔ اس کا اعتراف کرنا ہی پڑے گا یہ کہ پوری دنیا میں مشہود اور غائب دونوں شامل ہیں اور وہ قوانین قدرت جن کے مطابق یہ رواں دواں ہے ان سے یہ کائنات شمہ بھر انحراف بھی نہیں کرسکتی ۔ اس لئے کہ اللہ رب العالمین ہے ۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے اپنی طبیعی زندگی کے اندر وہ بھی ان نوامیس فطرت کا پابند ہے ۔ انسان کی جسمانی زندگی ان ضوابط کے اندر جکڑی ہوئی ہے اور وہ ان ضوابط کا مطیع ہے ۔ ان کے دائرے سے خارج نہیں ہو سکتا ۔ لہذا انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی اس محدود اختیاری زندگی کے اندر بھی اللہ کے ضوابط کی پابندی کرے اور یہ اس کے لئے سخت آزمائش ہے ۔ اس آزمائش میں دیکھا جائے گا کہ وہ راہ ہدایت پالیتا ہے یا صحرائے ضلالت کی طرف جانکلتا ہے ۔ اگر وہ خدائی ضوابط کی اس طرح پابندی کرے جس طرح وہ اپنی طبیعی زندگی کے اندر مطیع نوامیس الہی ہے تو اس کی زندگی خوش اسلوبی سے گزرے گی اور اس کا طرز عمل اور اس کی طبیعی زندگی باہم متناسق ہوں گے ۔ اس کا جسم اس کی روح کا ساتھی ہوگا اور اس کی دنیا آخرت کے ساتھ جڑی ہوئی ہوگی ۔ تفصیلات کے لئے دیکھئے (امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کتاب رسالہ دینیات)
یہ کہنا کہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ مالک حقیقی کے سامنے سرتسلیم خم کردیں ‘ اس لئے انہوں نے سرتسلیم خم کردینے کی روش اختیار کی ہے ، ایک نہایت ہی موثر ار مفرح انداز گفتگو ہے اور تا قیامت جو لوگ بھی راہ تسلیم ورضا کو اختیار کریں گے وہ اپنے آپ کو براہ راست امر الہی کا تعمیل کنندہ سمجھیں گے ۔
اب وہ مامورات آتے ہیں جو اعلان تسلیم ورضا کے بعد کا لائحہ عمل ہیں۔
(آیت) ” وَأَنْ أَقِیْمُواْ الصَّلاۃَ وَاتَّقُوہُ (6 : 72) ” نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو “۔
اصل فریضہ یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت کو تسلیم کیا جائے ۔ اس کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کی رضا کے مطابق اپنے آپ کو درست کیا جائے ۔ اس کے بعد پھر عبادات کا درجہ آتا ہے اور نفسیاتی اصلاح کا کام شروع ہوتا ہے تاکہ تسلیم ورضا کی اساس پر عملی زندگی کا نقشہ فائع ہو سکے اور عملی زندگی اور تفصیلی نظام زندگی اس وقت تک استحکام حاصل نہیں کرسکتا جب تک اس کی تعمیر مستحکم بنیادوں پر نہ ہو ۔
اس لہر کی آخری ضرب اسلامی نظریہ حیات کے اساسی حقائق کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے ۔ یہ حقائق اسلامی نظریہ حیات کے اصلی اور بنیادی عوامل ہیں ۔ مثلا حشر ونشر ‘ تخلیق کائنات ‘ حاکمیت الہیہ ‘ علم غیب اور علم شہادت اور یہ کہ اللہ حکیم وخبیر ہے ۔
الأنعام 6:73
(آیت) ” نمبر 72 تا 73۔
(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیَ إِلَیْْہِ تُحْشَرُونَ (72)
” اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے ۔
اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ تم صرف اس کے سامنے سرتسلیم خم کرو کیونکہ تم کو آخر کار اسی کی طرف جانا ہے ۔ لہذا انسانوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ یوم الحشر کے لئے کچھ چیزیں ساتھ لے کر جائیں جس کی وجہ سے ان کی نجات ہو ‘ کیا وہ اس کے سامنے نہیں جھکتے جس کے سامنے حشر کے دن عالمین سرنگوں ہوں گے ۔ مناسب ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی وہ جھکیں ۔ حشر کا تصور دے کر یہاں انسان کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ آج ہی اس کے سامنے سرنگوں ہونا شروع کر دو جبکہ حشر کے روز کوئی بچ کر نہیں نکل سکے گا ۔
(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ “۔ (6 : 73)
” وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے “۔
یہ ایک دوسری حقیقت ہے جو اصلاح احوال کا ایک دوسرا بہترین موثر ہے ۔ وہ اللہ جس کے سامنے سرنگوں ہونے کا یہاں حکم دیا جارہا ہے ‘ وہ وہی ہے جس نے زمین و آسمان کو برحق پیدا کیا ہے ۔ وہ ذات وہی ہے جو پیدا کرتا ہے ‘ جو مالک ہے ‘ جو حاکم ہے اور جو تمام امور میں متصرف ہے اور اس نے زمین و آسمان کو پیدا بھی حق پر کیا ہے ۔ تخلیقات کائنات میں سچائی ایک بنیادی عنصر ہے اور یہ ایک حقیقت ہے ۔ اس فقرے میں ایک جانب تو اس کائنات کے بارے میں افلاطون کے مثالی نظریے کی تردید کردی جس میں کہا گیا تھا کہ یہ کائنات ایک وہم ہے اور اس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔ دوسری جانب اس میں یہ قرار دیا گیا کہ سچائی اپنے اندر اصلیت رکھتی ہے اور وہ اس کائنات کا بنیادی عنصر ہے ۔ جو لوگ سچائی کا سہارا لیتے ہیں فطرت کائنات کے اندر سچائی بھی اسی طرح طرف لوٹتی ہے ۔ اس طرح اس کائنات کی طبعی سچائی اور اسلامی نظریہ حیات کی سچائی باہم مل کر ایک خوفناک اور عظیم قوت بن جاتی ہیں ۔ پھر اس عظیم قوت کے سامنے باطل اپنے پائے چوبیں پر کھڑا ہی نہیں ہوسکتا اس لئے کہ باطل کی جڑیں اس کائنات کے اندر نہیں ہوتیں ۔ اس کی مثال تو ایک خبیث درخت جیسی ہوتی ہے جسے زمین کے اوپر سے باسانی اکھاڑ لیا جاتا ہے اور وہ زمین پر ٹھہر نہیں سکتا یا اس کی مثال تو ایک خبیث درخت جیسی ہوتی ہے جسے زمین کے اوپر سے باسانی اکھاڑ لیا جاتا ہے اور وہ زمین پر ٹھہر نہیں سکتا یا اس کی مثال اس جھاگ کی طرح ہوتی جس کے اندر جسمانی حقیقت نہیں ہوتی اور وہ جلد ہی خود بخود بیٹھ جاتی ہے ۔ اس لئے باطل پر اس کائنات کی بنیاد نہیں رکھی گئی ۔ یہ ایک عظیم اور موثر نظریاتی حقیقت ہے ۔
وہ مومن جس کے شعور میں یہ بات ہو کہ وہ حق کا حامل ہے وہ شخصی اور ذاتی طور پر اس سچائی کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے جو اس کائنات کے اندر موجود ہے ۔ (ایک دوسری آیت میں ہے کہ ان اللہ ھو الحق ‘ یعنی اللہ سچائی ہے) یہ دونوں سچائیاں پھر ذات باری تعالیٰ سے اتصال حاصل کرلیتی ہیں جو بذات خود عظیم سچائی ہے ۔ جب ایک مرد مومن اپنے اندر یہ شعور پیدا کرلیتا ہے کہ وہ واصل بالحق ہے تو اس کے سامنے پھر باطل کی کوئی حقیقت ہی نہیں رہتی ۔ اگرچہ یہ باطل طاقت بظاہر بہت عظیم وضخیم نظر آتی ہو ‘ جابر وقاہر ہو اور اسے اذیت رسانی کی بڑی قوت ہی کیوں نہ حاصل ہو ۔ ایسا مرد مومن یہ سمجھتا ہے کہ یہ صورت حال نہایت ہی عارضی اور حقیر ہے ۔ اس کی جڑیں اس کائنات کے اندر نہیں ہیں اور نہ اسے ثبات وقرار حاصل ہوگا ۔ جلد ہی یہ عارضی اور حقیر ہے ۔ اس کی جڑیں اس کائنات کے اندر نہیں ہیں اور نہ اسے ثبات وقرار حاصل ہوگا ۔ جلد ہی یہ عارضی حالت ختم ہوگی اور صورت حال اس طرح بدل جائے گی کہ گویا وہ یہاں تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور جب ایک منکر اور غیر مومن اس حقیقت پر غور کرتا ہے تو بعض اوقات وہ راہ راست پر آجاتا ہے اور اللہ کے سامنے سرنگوں ہوجاتا ہے ۔
(آیت) ” وَیَوْمَ یَقُولُ کُن فَیَکُونُ ۔ (6 : 73)
” اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہوجائے اسی دن وہ ہوجائے گا ۔ وہ قادر مطلق بادشاہ ہے ‘ اور اس کی مشیت بےقید ہے ۔ از سر نو تخلیق ‘ اپنی تخلیق میں تغیر وتبدل کرنے میں اسے کچھ دیر نہیں لگتی ۔ اللہ کی اس قدرت کا یہاں ذکر کرنے کے دو مقاصد ہیں ۔ ایک طرف تو اس سے اسلامی نظریہ حیات کو قلب مومن میں جاگزیں کیا جارہا ہے ۔ دوسری جانب ان لوگوں کے لئے جنہیں دعوت دی جارہی ہے یہ امر ایک موثر ذریعہ ہے کہ وہ دعوت کو قبول کریں اور اللہ رب العالمین کے سامنے سرنگوں ہوجائیں کیونکہ کن فیکون کہنے والا وہی قادر مطلق ہے ۔
(آیت) ” قَوْلُہُ الْحَقُّ (6 : 73)
” اس کا ارشاد عین حق ہے ۔ “ اس کا وہ قول بھی حق ہے جس کے ذریعے اس نے پوری کائنات کی تخلیق کی اور کن فیکون کہا ۔ اس کا وہ فرمان بھی برحق ہے جس کے ذریعے اس نے بندوں کو حکم دیا کہ وہ صرف اس کی اطاعت کریں اور صرف اس کے سامنے سرنگوں ہوں ۔ اس کے وہ احکام بھی برحق ہیں جن کے ذریعے اس نے لوگوں کے لئے قانون سازی کی ۔ اور وہ اقوال بھی برحق ہیں جن میں ماضی حال اور مستقبل کے بارے میں اطلاعات دی گئی ہیں یعنی خلق ‘ نشاۃ اور حشر ونشر کی بابت اور سزا وجزاء سے متعلق ۔
(آیت) ” وَلَہُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنفَخُ فِیْ الصُّوَرِ (6 : 73)
” اور جس روز صور پھونکا جائے گا اس روز بادشاہی اسی کی ہوگی ۔ “ اور جب صور میں پھونکا جائے گا (صور ڈھول کی طرح اندر سے خالی سینگ کو کہتے ہیں) یہ وہ دن ہوگا جس میں لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کر پھلیں گے ‘ یہ کیونکر ہوگا ؟ انسان کے علم میں یہ کیفیت نہیں آسکتی ۔ یہ ان غیبی امور میں سے ہے جس کا علم اللہ کے ہاں محفوظ ہے ۔ صور کی ماہیت اور حقیقت کیا ہوگی ‘ یہ بھی غیبی امور میں سے ہے ۔ کس طرح تمام مردے اٹھ کھڑے ہونگے اس کا تصور بھی ہم نہیں کرسکتے ۔ روایات میں آتا ہے کہ صور ایک نورانی بگل ہے جس میں فرشتہ پھونکے گا ۔ تمام اہل قبور اسے سنیں گے اور وہ جہاں بھی ہوں گے اٹھنے کی تیاری کریں گے اور یہ دوسری آواز ہوگی ۔ رہا پہلا صور تو اس کے نتیجے میں تمام لوگ مر کر گرجائیں گے یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق جان دے دیگی ۔ الا ماشاء اللہ ۔ سورة زمر میں ہے ” اور روز صور پھونکا جائے گا اور وہ سب مرکر گر جائیں گے جو آسمان و زمین میں ہیں سوائے ان کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے ۔ پھر ایک دوسرا صور پھونکا جائے گا اور یکایک سب اٹھ کر دیکھنے لگیں گے ۔ “ (39 : 68) صور اور اس کے پھونکنے کے جو آثار یہاں دیئے گئے وہ ایسے ہیں کہ انسان جس صورت حال کے عام طور پر عادی ہیں ان میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ‘ ایک عام انسان ایسے حالات کا تصور نہیں کرسکتا اس لئے کہ یہ اللہ کے ان غیبی حقائق میں سے ایک ہے جس کا علم ہمیں نہیں دیا گیا ۔ ہمارا علم وہاں تک محدود ہے جو اللہ نے ہمیں دیا ۔ اس لئے ہم اس کے بارے میں اس سے آگے نہیں بڑھتے جس قدر اس آیت میں دے دیا گیا ہے ۔ نہ آگے جانے میں کوئی فائدہ ہے ۔ اگر اس کی کیفیات پر کوئی کلام کرے گا تو وہ اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے مترادف ہوگا ، محض ظن وتخمین ہوگا ۔
ہاں جس دن صور میں پھونکا جائے گا اس دن اصل حقیقت منکرین پر بھی ظاہر ہوگی اور اندھے بھی اسے دیکھ لیں گے کہ اس دن صرف اللہ کی بادشاہی ہوگی اور صرف اللہ ہی بادشاہ ہوگا ۔ صرف اللہ ہی فیصلے کرے گا ۔ لہذا اس دنیا میں جو لوگ سرکش ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ابھی سے اپنا طرز عمل درست کرلیں ۔ قبل اس کے کہ وہ جبار وقہار کے سامنے کھڑے ہو کر اطاعت کریں یعنی نفخ صور کے دن ۔
(آیت) ” عَالِمُ الْغَیْْبِ وَالشَّہَادَۃِ ۔ (6 : 73)
” وہ غیب اور شہادت ہر چیز کا عالم ہے “۔
یعنی ان باتوں کی کیفیات کا علم اسے ہے جنہیں ہم نہیں سمجھتے ۔ وہ ان باتوں کو اس طرح جانتا ہے جس طرح ہم عالم شہادت کو جانتا ہیں اور بندوں کی پوشیدہ چیزوں سے کوئی چیز بھی اس پر مخفی نہیں ہے ۔ نہ کوئی چیز اس سے چھوٹ سکتی ہے ۔ لہذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی اطاعت کریں اور اس سے ڈریں ۔ اپنی جگہ حقیقت اور جزوعقیدہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ دھمکی مخالفین اور جھٹلانے والوں کے لئے مفید ہے ۔
(آیت) ” وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (73)
” اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “
وہ اپنی حکمت کے مطابق اس پوری کائنات کو چلاتا ہے ۔ وہ دنیا وآخرت دونوں میں اپنے بندوں کے معاملات کو نہایت خبردار اور حکمت سے چلاتا ہے ۔ لہذا لوگوں کو چاہئے کہ وہ اللہ کی ہدایت اور اس کی شریعت کی پیروی کریں اور اللہ کے علم و حکمت سے استفادہ کریں ۔ اس کی ہدایت و رحمت کے سائے میں لوٹ آئیں ۔ حیرانی و پریشانی سے نکل کر اس کے سایہ عاطفت اور حکمت و دانائی میں داخل ہوجائیں جہاں انہیں صراط مستقیم ملے گا اور علم وبصیرت کے لئے موثر بناتے ہیں ۔
درس نمبر 65 ایک نظر میں :
یہ درس ‘ طوالت کے باوجود ‘ ایک ٹکڑا ہے ۔ اس کا موضوع بھی ایک ہے جس کے تمام پیراگراف باہم پیوستہ ہیں ۔ یہ اس سورة کے مرکزی مضمون سے متعلق ہے۔ سورة کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات کی تعمیر مقام الوہیت کی صحیح تعریف اور توضیح کے رنگ میں کی جائے ۔ اس کے مقابلے میں بندے کی حقیقت اور اس کے آداب زندگی کی وضاحت اور عبد و معبود کے درمیان تعلق کی صحیح نوعیت کا بیان ۔ لیکن اس سبق میں ان حقائق اور موضوعات پر بات کرنے کا ایک نیا انداز اختیار کیا گیا ہے جو اس سے قبل اس سورة میں اختیار کئے جانے والے انداز سے بالکل جدا ہے ۔
یہاں اس موضوع اور مضمون کو قصے کے انداز میں لیا گیا ہے ۔ لیکن اس قصے میں وہ تمام اثر آفریں باتیں آگئی ہیں جو اس سے قبل اس سورة میں آنے والی تمام لہروں میں مذکور ہیں جیسا کہ ہم نے اس سورة پر تبصرہ کرتے وقت بیان کیا تھا ۔ مثلا ایک یہ ہے کہ مختلف لہروں کے درمیانی وقفے میں قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیشی کے مناظر بار بار دہرائے گئے ہیں اور نہایت مرتب انداز میں ۔
اس سبق میں اس مسلسل قافلہ دعوت اسلامی کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے ۔ جو حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک طویل انسانی تاریخ کی شاہراہ پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس قافلے کی طرف اشارہ کرنے سے پہلے مقام کبرائی کی توضیح کردی گئی ہے اور یہ توضیح ایک مومن کامل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے فطری تاثرات کی شکل میں کی گئی ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ فطرت سلیمہ اس طرح کی ہوتی ہے اور یہ فطرت سلیمہ جب سچائی کی متلاشی ہوتی ہے تو اس کا انداز اس طرح کا ہوتا ہے ۔ اللہ کی کبریائی کا صحیح تصور تو خود فطرت سلیمہ کے اندر موجود ہوتا ہے ‘ رہے خارجی مظاہر تو ان میں تو قدم قدم پر جاہلیت کو تصادم کے بعد ہی صحیح تصورات عطا کئے جاسکتے ہیں ۔ یہ تصورات حق تعالیٰ کے بارے میں فطرت انسانی کے اپنے تصور کے عین مطابق ہوتے ہیں ۔ ان تصورات کی بنیادان داخلی شواہد پر ہوتی ہے جو فطرت انسانی کے اندر ہوتے ہیں اور جو محسوس شواہد سے زیادہ قوی ہوتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے داخلی فطری شواہد کی وجہ سے حق تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلیتے ہیں اور انہیں ان داخلی فطری شواہد کی وجہ سے اطمینان حاصل ہوجاتا ہے تو قرآن کریم اس داخلی واردات کی حکایت ان الفاظ میں بیان کرتا ہے ۔
(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ إِلاَّ أَن یَشَاء َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً أَفَلاَ تَتَذَکَّرُونَ (80) وَکَیْْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّکُمْ أَشْرَکْتُم بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً فَأَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ (81) (6 : 80 تا 81)
” اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے کہا ” کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ اس نے مجھے راہ راست دکھا دی ہے اور تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا ہاں اگر میرا رب کچھ چاہئے تو ضرور ہوسکتا ہے ، میرا رب کا علم ہر چیز پرچھایا ہوا ہے ‘ پھر کیا تم ہوش میں نہ آؤ گے ؟ اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈرو جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے بتاؤ اگر تم علم رکھتے ہو ۔
اب سیاق کلام قافلہ ایمان کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا ہے ۔ اس قافلے کی قیادت اللہ کے رسولوں کے ہاتھ میں ہے ۔ شاہراہ تاریخ پر یہ رواں ودواں ہے ۔ اس طویل شاہراہ پر مشرکین کا شرک اور مکذبیں کی تکذیب بےوزن نظر آتے ہیں ۔ اور اس قافلے نے ان چیزوں کو ٹھوکریں مارکر اس شاہراہ سے ایک طرف پھینک دیا ہے ۔ یہ قافہ رواں دواں ہے ۔ اس قافلے کی آخری کڑی اس کی ابتدائی کڑی سے جڑی ہوئی ہے ۔ یوں ایک متحدہ امت تشکیل پاتی ہے۔ اس امت مسلمہ کا آخری حصہ اسی ہدایت کی پیروی کر رہا ہے جس کی پیروی اس کے ابتدائی حصے نے کی ۔ اس امت کی تشکیل میں زماں ومکان کا کوئی لحاظ نہیں ہے۔ قوم اور نسل کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ رنگ ونسب کا کوئی لحاظ نہیں ہے ۔ اس امت کے درمیاں واحد رابطہ اور واحد رسی دین اسلام ہے اور اس رسی اور حبل اللہ کو سب نے پکڑ رکھا ہے ۔
یہ ایک حیران کن منظر ہے ۔ اللہ تعالیٰ قافلہ رسل کا نام لے کر گنواتے ہیں اور اس کے بعد فرماتے ہیں :
(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88) أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89) أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90)
” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے راہنمائی کرتا ہے لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کا کیا کرایا غارت ہوجاتا ۔ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ اے نبی وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ۔ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو میں اس (تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے ۔ ‘
اس موقف کو پیش کرنے کے بعد ان لوگوں پر سخت تنقید کی جاتی ہے جو یہ زعم لئے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی کتاب اتاری ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ اس قسم کے لوگ درحقیقت کوتاہ بین ہیں اور انہوں نے ذات باری کی صحیح معرفت حاصل نہیں کی ۔ ان کے اس نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ دیا ‘ ان کی لگام ان کے نفس اور ان کی عقل کے ہاتھ میں دے دی ‘ ان کی خواہشات اور ان کی ناقص فہم اور ان کا سرکش نفس انہیں جو چاہے حکم دے ۔ اللہ کی شان کبریائی اور اس کی الوہیت و ربوبیت سے یہ نظریہ فروتر ہے ۔ اس کا علم ‘ اس کی حکمت اور اس کی عدالت اور پھر سب سے بڑھ کر اس کی شان رحیمی ایسا ہر گز نہیں کرسکتی ۔ اس کے علم ‘ اس کی رحمت اور اس کے عدل کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنے بندوں میں سے بعض برگزیدہ ہسیتوں کو رسول بنا کر بھیجے اور ان میں سے بعض رسولوں پر کتاب نازل کرے تاکہ یہ سب لوگ عوام الناس کا ہاتھ تھام کر انہیں اللہ کی طرف لے جائیں اور ان کی فطرت سلیمہ پر جو تہ بہ تہ پردے پڑجائیں انہیں اتاریں ۔ ان کے قلب ونظر کے جو دریچے بند ہوچکے ہیں انہیں از سر نو کھولیں اور وہ ان کی دعوت پر لبیک کہیں ۔ اس سلسلے میں یہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی کتاب کی مثال دی گئی اور پھر قرآن ایک شاہد عادل ہے ‘ جو ماقبل کی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے ۔
اس طویل سبق کا خاتمہ ان لوگوں کو دھمکی دینے پر ہوتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھتے ہیں اور جو یہ غلط دعوی کرتے ہیں کہ ان پر وحی نازل ہوئی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہوا۔ وہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ جس قسم کا کلام اللہ نازل کرتا ہے ویسا ہی کلام یہ لوگ بھی نازل کرسکتے ہیں اور یہ دعوے ایسے ہیں جو ہر پیغمبر کے مطابلے میں غلط مدعیان نبوت نے ہمیشہ کئے ہیں۔ بعض نے وحی کا دعوی کیا اور بعض نے نبوت کا دعوی کیا ۔ آخر میں مشرکین کا ایک کربناک منظر پیش کیا جاتا ہے ۔ یہ اس منظر کی ایک جھلک ہے جو آخر میں انہیں درپیش ہوگا ۔
(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذِ الظَّالِمُونَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُواْ أَیْْدِیْہِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ (93) وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَتَرَکْتُم مَّا خَوَّلْنَاکُمْ وَرَاء ظُہُورِکُمْ وَمَا نَرَی مَعَکُمْ شُفَعَاء کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ أَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکَاء لَقَد تَّقَطَّعَ بَیْْنَکُمْ وَضَلَّ عَنکُم مَّا کُنتُمْ تَزْعُمُونَ (94) (6 : 93۔ 94)
” کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ” لاؤ“ نکالو اپنی جان ‘ آج تمہیں ان باتوں کی پاداش مین ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے “ ۔ لو اب تم ایسے ہی تن تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا ۔ جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا ‘ وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو ‘ اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے ۔ تمہارے آپس میں سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے ۔ “
یہ نہایت ہی اعصاب شکن منظر ہے ۔ انسان دیکھتے ہی خوفزدہ ہوجاتا ہے ۔ اس منظر میں ان لوگوں کی حالت زار صاف صاف نظر آتی ہے جس میں وہ حیران وپریشان نظر آتے ہیں اور ان کی پشیمانی اور ان کی گوشمالی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ یہ ہے جزاء ان کی سرکشی ‘ روگردانی اور تکذیب وافتراء کی ۔
الأنعام 6:74
(آیت) ” 74 تا 79۔
ان آیات میں قرآن کریم نے جس منظر کی تصویر کشی کی ہے وہ ایک عجیب منظر ہے ۔ یہ فطرت انسانی کا مظاہرہ ہے ۔ فطرت انسانی دیکھتے ہیں تمام جاہلی تصورات اور شرکیہ بت پرستانہ عقائد کو رد کردیتی ہے ۔ ان غلط تصورات کو دیکھتے ہیں فطرت دامن جھاڑنی ہے اور تلاش الہ حق کی راہ میں نکل کھڑی ہوتی ہے ۔ یہ حقیقی سچائی خود اس کے ضمیر میں موجود ہے لیکن انسان کو اس کا ادراک نہیں ہے اور فطرت اس پر متنبہ نہیں ہے ۔ لیکن یہ فطرت تلاش حق میں ہر اس چیز سے ربط قائم کرتی ہے جو بظاہر الہ ہو سکتی ہو ‘ لیکن جب ملاحظہ عمیق کرتی ہے تو وہ کھوٹے خداؤں کو رد کردیتی ہے کیونکہ فطرت کے اندر حقیقی الہ کی جو ذات وصفات ودیعت ہیں وہ چیز اس کے ساتھ ٹیلی نہیں کرتی ۔ جب تلاش کرتے کرتے یہ فطرت کے اندر حقیقی الہ کی جو ذات وصفات ودیعت ہیں وہ چیز اس کے ساتھ ٹیلی نہیں کرتی ۔ جب تلاش کرتے کرتے یہ فطرت اللہ کی ذات تک جا پہنچتی ہے ۔ تو وہ حقیقت اسے واضح نظر آرہی ہوتی ہے جس سے اسے بےحد خوشی ہوتی ہے ۔ اس کے جوش و خروش پیدا ہوجاتا ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس منزل تک بدلائل پہنچ جاتی ہے وہ خود اس کے اندر پنہاں ہوتی ہے ۔ یہ ہے وہ فطری منظر جو قلب ابراہیم (علیہ السلام) کو دکھایا جاتا ہے ۔ وہ جس تجربے سے گزرے اسے ان مختصر آیات میں بیان کردیا جاتا ہے ۔ حق و باطل کے بارے میں فطری سوچ کی یہ عجیب کہانی ہے جسے یہاں اس اسلوب میں لایا گیا ہے ۔ یہ ایک نظریہ حیات کا معاملہ ہے جس کا اظہار ایک مومن ببانگ دہل کرتا ہے اور اس معاملے میں وہ کوئی رکھ رکھاؤ نہیں کرتا ۔ اس راہ میں وہ باپ ‘ خاندان اور قوم کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا جیسا کہ ایسا ہی رویہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے معاملے میں اختیار کیا انہوں نے ناقابل تغیر اور بالکل غیر لچک دار اختیار کیا اور اپنے موقف کو بالکل واضح کر کے بیان کیا ۔
(آیت) ” وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ لأَبِیْہِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَاماً آلِہَۃً إِنِّیْ أَرَاکَ وَقَوْمَکَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ (74)
یہ وہ فطری پکار ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبانی ظاہر ہوتی ہے ۔ اگرچہ اپنی فہم و فراست کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو الہ حقیقی تک رسائی حاصل نہ ہوئی تھی لیکن آپ کی فطرت سلیمہ ابتدا ہی سے اس بات کا انکار کر رہی تھی کہ اس کی قوم جن بتوں کی پوجا کرتی ہے وہ حقیقی الہ ہوسکتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم عراق کے کلدانی تھے ۔ وہ بتوں ‘ ستاروں اور سیاروں کے پجاری تھے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فطرت یہ جانتی تھی کہ وہ رب ‘ معبود اور وہ ذات باری جس کی طرف لوگ خوشحالی اور بدحالی میں متوجہ ہوتے ہیں اور جس نے تمام لوگوں اور تمام زندہ مخلوق کو پیدا کیا ہے ۔ وہ ذات یہ بت نہیں ہیں ۔ بتوں کی ظاہری حالت ہی بتا رہی تھی کہ نہ وہ خالق ہیں ‘ نہ رازق ہیں ‘ نہ سنتے ہیں اور نہ جواب دیتے ہیں لہذا یہ حقیقی الہ نہیں ہو سکتے ۔ اس لئے ان کی فطرت تلاش حق کی راہ پر نکل پڑی اور فیصلہ دے دیا کہ یہ الہ جن کی تم پوجا کرتے ہو نہ یہ الہ حقیقی ہیں اور نہ ہی وہ اس قابل ہیں کہ انہیں الہ حقیقی تک رسائی کا واسطہ اور ذریعہ بنایا جائے ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فطرت اس صورت حال کو واضح طور پر گمراہی کی صورت حال پاتی ہے اور انہیں صحیح فیصلے تک پہنچنے میں کوئی دیر نہیں لگتی ۔ یہ ہے اس فطرت کا نمونہ کامل جس پر اللہ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے ۔ پھر یہ وہ رد عمل ہے فطرت سلیمہ کا جب اس کا مقابلہ کسی واضح گمراہی کے ساتھ ہوتا ہے ۔ وہ فورا اس کا انکار کردیتی ہے اور اسے اس سے نفرت ہوجاتی ہے ۔ اس باطل بین کے معاملے میں پھر فطرت سلیمہ اعلان حق کرنے میں ذرہ بھر دیر نہیں کرتی ‘ خصوصا جب معاملہ عقیدے اور نظریات کا ہو۔
” کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے ؟ میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں۔ “ یہ بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کے سامنے کرتے ہیں ‘ حالانکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے مزاج کے اعتبار سے نہایت ہی نرم مزاج ‘ بردبار اور حلیم الطبع تھے اور پھر وہ تھے بھی ایک بیٹے کی پوزیشن میں لیکن نظریہ حیات کی قدروقیمت باپ بیٹے کے تعلق اور صبر اور برداشت کی صفات کے مقابلے میں زیادہ قیمتی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وہ نشان راہ تھے ۔ جس کے بارے میں ان کی اولاد کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس کی پیروی کریں اور یہ قصہ بھی بطور مثال اور نمونہ پیش کیا جا رہا ہے ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی فطرت کی صفائی اور اپنے خلوص نیت کی بنا پر اس بات کے مستحق ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بادشاہت کے کچھ مخصوص راز منکشف فرمائیں اور ان کو وہ دلائل عطا کریں جو زمین و آسمان کے اندر اللہ کی بادشاہت کے دلائل ہیں ۔
الأنعام 6:75
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نُرِیْ إِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنَ الْمُوقِنِیْنَ (75)
” ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم اسی طرح زمین و آسمان کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لئے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے ۔
اس فطرت سلیمہ کے ساتھ ‘ اس کھلی بصیرت کے ساتھ اور طلب حق کی راہ میں اس خلوص کی وجہ سے اور اس اور صراحت کے ساتھ باطل کا انکار کی وجہ سے اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہت کے کچھ راز بتائے ‘ جن میں زمین اور آسمانوں میں مملکت الہیہ کے کچھ اصول تھے ۔ اس کائنات کے کچھ خفیہ راز جن پر یہ نظام استوار ہے ‘ پھر اللہ نے انہیں وہ دلائل و شواہد دیئے جو اس کائنات میں موجود تھے ۔ خود ان کی فطرت اور انکے دل کے اندر بھی ان ہی جیسے دلائل و شواہد موجود تھے جو راہ ہدایت دکھا رہے تھے تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باطل کے انکار کے مقام سے آگے بڑھ کر حصول حق اور معرفت حق کے درجے تک پہنچ جائیں اور انہیں پوری طرح یقین آجائے ۔
یہ ہے فطرت کا گہرا طریق کار۔ اس کے مطابق جو فراست دی جاتی ہے وہ کبھی بھی زنگ آلود نہیں ہو سکتی اور انسان کے اندر ایسی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے جو اپنی آنکھوں سے اس کائنات میں قدرت کے عجائبات کو دیکھتی ہے ۔ انسان کے اندر ایسا تدبر پیدا ہوتا ہے جو ان مشاہدات عجیبہ کا تتبع کرتا ہے اور آخر کار راز کائنات تک جا پہنچتا ہے ۔ جب اس کے ساتھ انسان اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے تو اس کے عوض اللہ تعالیٰ اس انسان کی راہنمائی کرتا ہے ۔
یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کائنات کی سیر شروع کی اور اس راہ سے انہیں اللہ کے فضل وصل نصیب ہوا ۔ پہلے تو وہ اپنی فطرت سلیمہ کے ذریعے حق تعالیٰ کو پکار رہے تھے لیکن اب تو آپ کی قوت مدرکہ اور آپ کے علم میں ذات باری موجود تھی ۔ پہلے تو حقیقت الوہیت کا شعور ان کے ضمیر اور ان کی فطرت سلیمہ میں تھا مگر اب یہ حقیقت ان کے فہم وادراک میں آچکی تھی ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فطرت صادقہ اور فطرت سلیمہ کا یہ سفر نہایت ہی دلچسپ ہے ۔ اس کا مطالعہ جاری رہنا چاہئے یہ عظیم سفر تھا اگرچہ چشم ظاہر بین کو یہ سفر ایک معمولی سفر نظر آتا ہے ۔ یہ سفر درحقیقت فطری ایمان سے آگے بڑھ کر ایمان مدرک اور ایمان مفہومہ کی طرف انتقال تھا ۔ ایمان مدرک اور ایمان مفہوم کے اوپر ہی شرعی فرائض اور واجبات کا دارومدار ہوتا ہے اور پھر انسان پر شریعت کا اتباع فرض ہوجاتا ہے ۔ یہ ایمان اور اتباع شریعت ‘ وہ مقام ہے جسے صرف لوگوں کے عقلی سفر پر ہی نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ اللہ نے اس کے بیان اور تشریح کے لئے نبوت کو جاری کیا اور سلسلہ رسل کو جاری فرمایا تاکہ لوگ ایمان و شریعت کو صرف اپنی عقل ہی سے معلوم نہ کریں بلکہ رسول اس کی تبلیغ اور تبیین کریں۔
لوگوں پر عقلی ایمان کے بجائے شرعی ایمان اور شرعی دلائل حجت قرار پائیں ۔ آخرت میں بھی جزا وسزا کا مدار ان احکام شرعی پر ہوگا جو رسولوں کی زبانی نازل نہیں ہوئے اور یہ سلسلہ اس لئے جاری کیا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ انسان صرف اپنی عقل سے ایمان و شریعت کی تفصیلات طے نہیں کرسکتا ۔
رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ۔ وہ ایک عام انسان نہ تھے ۔ وہ اللہ کے دوست تھے اور مسلمانوں کے ابو الاباء تھے ۔
الأنعام 6:76
(آیت) ” فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْْہِ اللَّیْْلُ رَأَی کَوْکَباً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لا أُحِبُّ الآفِلِیْنَ (76)
” چناچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا ۔ کہا یہ میرا رب ہے ؟ مگر وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا میں گرویدہ نہیں ہوں ۔ “
یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نفس کی تصویر کشی ہے ان پر معبودان خاندانی کے سلسلین میں شک بلکہ فیصلہ کن انکار پوری طرح حاوی ہوچکا ہے ۔ ان کے والد اور ان کی قوم جن معبودان باطل اور بتوں کی پوجا کر رہے تھے ان کے ذہن نے اس سے ابا کردیا ہے ۔ اور وہ صحیح نظریہ حیات اور صحیح عقیدے کے متلاشی ہیں اور یہ ان کے لئے عظیم مسئلہ بن گیا ہے ۔ اس مسئلے کی تصویر کشی ان الفاظ سے اچھی طرح ہوتی (آیت) ” فلما جن علیہ اللیل) ” جب رات ان پر طاری ہوئی ۔ “ گویا رات نے صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کو گھیر لیا ہے اور یہ رات ان کو دوسرے لوگوں سے علیحدہ کررہی ہے تاکہ وہ رات کی تاریکی میں سکون کے ساتھ اپنے دل میں اس مسئلے پر سوچ بچار کرسکیں اور اسے حل کرسکیں جو انہیں پریشان کر رہا ہے اور بار بار حملہ آور ہوتا ہے ۔ ” چناچہ جب رات طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا ‘ کہا یہ میرا رب ہے۔ “ ان کی قوم ستاروں کی بھی پوجا کرتی تھے جیسا کہ ہم پہلے کہہ آئے ہیں۔
جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس بات سے مایوس ہوگئے کہ ان کی فطرت کے اندر الہ برحق کی جو تصویر ہے اس کے ساتھ تو یہ بت مطابقت نہیں رکھتے تو انہوں نے شاید یہ امید رکھی کہ وہ الہ برحق بتوں کے علاوہ دوسرے سیاروں اور ستاروں کی صورت میں مل جائے ۔
صورت حال یہ نہ تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ اور اپنی قوم کو کہیں پہلی مرتبہ ستاروں اور سیاروں کی پوجا کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے ۔ نہ صورت حال یہ تھی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان ستاروں سیاروں کو پہلی مرتبہ دیکھ رہے تھے لیکن آج کی رات یہ ستارے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو بات بتا رہے تھے وہ بات انہوں نے اس سے پہلے نہ کی تھی ۔ آج وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وہ حقیقت بتا رہے تھے ‘ جو آپ کی فطرت کے عین مطابق تھی ‘ جس کے لئے آپ پریشان و۔۔۔۔۔ تھے اور اس کے بارے میں ان پر خیالات و تصورات کا ہجوم رہتا تھا ۔
(آیت) ” قال ھذا ربی “۔ (6 : 76) ” یہ میرا رب ہے ۔ “ اپنے نور اور اپنی چمک اور اپنے مقام بلند کی وجہ سے شاید بتوں کے مقابلے میں اس کا رب ہونا زیادہ ممکن ہے ۔ لیکن نہیں نہیں یہ امکان بھی بعید ہے ‘ ایسا نہیں ہوسکتا ۔
(آیت) ” فلما افل قال لا احب الافلین “۔ (6 : 76) ” جب ڈوب گیا تو بولا میں ڈوب جانے والوں کا گرویدہ نہیں ہوں۔ “ یہ ستارہ یا سیارہ تو لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے ؟ مخلوقات سے دور ہوجاتا ہے ‘ غائب ہوجاتا ہے ۔ اگر خدا ڈوب گیا اور نظروں سے اوجھل ہوگیا تو پھر کون ہے جو اس عالم کی تدبیر کرتا ہے ۔ رب ہو اور غائب ہو ‘ نہیں ‘ یہ ستاروہ رب نہیں ہوسکتا ۔ رب تو اوجھل نہیں ہو سکتا۔
یہ ہے فطری اور بدیہی استدلال ۔ یہ منطقی اور جدلیاتی فلسفیانہ استدلال نہیں ہے ۔ یہ وجدانی استدلال ہے جو براہ راست سامنے آتا ہے اور بڑی سہولت سے یقین پیدا کردیتا ہے ۔ پوری انسانیت اور پوری انسانی فکر اسے قبول کرلیتی ہے ۔ اور اسے گہرا یقین حاصل ہوجاتا ہے ۔
(آیت) ” لا احب الافلین “۔ (6 : 76) ”(میں ڈوب جانے والوں کو پسند نہیں کرتا) انسانی فطرت اور الہ العالمین کے درمیان حقیقی تعلق محبت کا تعلق ہے اور محبت کا یہ ربط قلبی ربط ہے ۔ اسی لئے فطرت ابراہیم ڈوب جانے والوں کے ساتھ محبت نہیں رکھتی ۔ لہذا انہیں الہ تسلیم نہیں کرتی ۔ اور فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ جو الہ ہے وہ ہر وقت حاضر ومحبوب ہوگا ۔
الأنعام 6:77
(آیت) ” فَلَمَّا رَأَی الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لأکُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّیْنَ (77)
” پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ میرا رب ہے ‘ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میری راہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا ہوتا ۔ “
سابقہ تجربہ بھی سامنے آتا ہے ۔ نظر یوں آتا ہے کہ گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے قبل چاند کو دیکھا تک نہ تھا ۔ گویا آپ کو پتہ تک نہ تھا کہ آپ کا خاندان اور آپ کی قوم چاند کی پرستش کرتی ہے ۔ اور یہ کہ آج کی رات بالکل ایک نئی رات تھی (غور وفکر کی رات)
(آیت) ” قال ھذا ربی “۔ (6 : 77) انہوں نے کہا یہ میرا رب ہے ۔ “ یہ پوری کائنات پر اپنا نور نچھاور کر رہا ہے ‘ آسمانوں میں اکیلا نظر آتا ہے اور اس کی روشنی بھی پسندیدہ ہے لیکن دیکھو یہ بھی غائب ہو رہا ہے لیکن رب کائنات جس سے فطرت ابراہیمی خوب واقف تھی ‘ وہ تو غائب نہیں ہوتا ‘ وہ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں جاگزیں تھا ۔
اس مقام پر آکر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس حل طلب مسئلے کو وہ ذاتی غوروفکر ہی سے حل نہیں کرسکتے اور انہیں اس رب ذوالجلال کی جانب سے معاونت کی ضرورت ہے جسے ان کی فطرت پار ہی ہے اور جو ان کے ضمیر میں بیٹھا ہے ۔ ہو رب جسے وہ محبوب رکھتے ہیں لیکن وہ آپ کے ادراک اور آپ کی فہم میں نہیں اتر رہا ۔ آپ یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس مقام پر اگر ان کا رب انہیں ہدایت نہ کرے گا تو وہ صحیح راہ نہ پا سکیں گے ۔ اب اس رب کی جانب سے دست گیری کی ضرورت ہے ۔ اس کی جانب سے براہ راست راہنمائی کی ضرورت ہے ۔
(آیت) ” قال لئن لم یھدنی ربی لاکون من القوم الضالین “۔ (6 : 77) ” کہا اگر میرے رب نے میری راہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاتا ۔ “
الأنعام 6:78
(آیت) ” فَلَمَّا رَأَی الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ ہَـذَا أَکْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ یَا قَوْمِ إِنِّیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (78) إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (79)
” پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب ہے یہ سب سے بڑا ہے ۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیم پکار اٹھا ” اے برادران قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ میں یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ “
یہ تیسرا تجربہ ہے اور یہ تجربہ اس کائنات کے سب سے بڑے کرے کے ساتھ ہوا جسے دیکھا جاسکتا ہے ۔ جس کی ضو پاشیاں عیاں ہیں اور جس کی گرمی محسوس ہوتی ہے ۔ یہ سورج تو روز طلوع و غروب ہوتا رہتا ہے لیکن وہ آج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نظروں میں بالکل ایک نئی چیز ہے ۔ (وہ نئے زاوئیے سے اسے دیکھ رہے ہیں) آج تو ابراہیم ان تمام چیزوں کو اس زاوئیے سے جانچ رہے ہیں کہ آیا ان میں سے کوئی چیز اس قابل ہے کہ اسے الہ تسلیم کیا جائے اس پر دل مطمئن بھی ہوجائے اور اس پریشانی اور حیرت انگیرمسئلے کے حل کی طویل جدوجہد میں یہ امر فیصلہ کن ہو۔
(آیت) ” قال ھذا ربی ھذا اکبر “۔ (6 : 78) ” کہا یہ میرا رب ہے ! یہ سب سے بڑا ہے ۔ “ لیکن تعجب ہے کہ یہ بھی غائب ہو رہا ہے ۔ اس مقام پر دونوں حقائق آپس میں جرٹے ہیں۔ اس اتصال والتباس سے ایک چنگاری نکلتی ہے ۔ یہاں فطرت صادقہ اور ذات کبریا کے درمیان اتصال ہوجاتا ہے ۔ قلب سلیم روشنی سے معمور ہوجاتا ہے اور پھر یہ روشنی پوری کائنات کو منور کردیتی ہے ۔ اس کے ذریعے انسان کی عقل وفکر بھی روشن ہوجاتی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مطلوب الہی مل جاتا ہے ۔ جس طرح ان کی فطرت اور ان کے شعور میں وہ موجود تھا ۔ اس کا تصور ان کے فہم وادراک میں بھی آجاتا ہے اور فطرت کے شعور احساس اور عقلی ادراک کے درمیان اتحاد وتوافق ہوجاتا ہے ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا رب والہ مل جاتا ہے ۔ لیکن یہ الہ کسی چمکدار ستارے کی شکل میں بھی نہیں ۔ کسی طلوع ہونے والے چاند کی شکل میں نہیں ‘ بلند ہونے والے سورج کی شکل میں نہیں ‘ کسی ایسی شکل میں نہیں جسے آنکھ دیکھ سکے ‘ کسی ایسی صورت میں بھی نہیں جسے انسان چھو سکے ‘ بلکہ یہ الہ ان کے شعور اور فطرت میں ہے ‘ ان کی عقل اور فہم میں ہے ‘ اس پوری کائنات میں ہر جگہ موجود ہے ۔ وہ ان تمام مخلوقات کا خالق ہے جسے آنکھ دیکھ سکتی ہے جسے محسوس کیا جاسکتا ہے یا جس کا انسانی عقل ادراک کرسکتی ہے ۔
اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی اور ان کی قوم کے درمیان اب مکمل جدائی کا وقت آگیا ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ آپ ان تمام معبودات باطلہ سے اپنی اعلانیہ برات کا اظہار کردیں اور دو ٹوک انداز میں بغیر کسی لاگ لپیٹ کے ان کے نقطہ نظر اور ان کے منہاج حیات اور مشرکانہ عقائد وخیالات کو یکسر رد کردیں ۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ لوگ ذات کبریائی کے بالکل منکر نہ تھے لیکن صورت حال ایسی تھی کہ وہ لوگ حقیقی الہ کے ساتھ ان جھوٹے خداؤں کو شریک کرتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) الہ العالمین کی طرف اس طرح متوجہ ہوئے تھے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے تھے ۔
” تو ابراہیم پکار اٹھا ” اے برادران قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ میں یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ “
اب گویا ان کا رخ آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے کی طرف مڑ گیا اور اس قدر یکسوئی کے ساتھ مڑا کہ اس میں شرک کاشائبہ تک نہ رہا ۔ انہوں نے فیصلہ کن بات کردیں یقین محکم کا اظہار کردیا اور آخری طور پر اپنا رخ متعین کرلیا ۔ اب نہ تو کوئی تردو ہے ‘ نہ الجھن ۔ عقل وادراک اس طرح روشن ہوگئے جس طرح اس کا شعور اور ضمیر روشن تھے ۔
ایک بار پھر ہم آنکھوں کو خیرہ کردینے والا خوش کن منظر دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک نظریہ حیات کا منظر ہے جو نفس انسانی کے اندر نمودار ہوگیا ہو ‘ جو کسی دل پر غالب اور حاوی ہوگیا ہو ‘ جو پوری طرح واضح اور نمایاں ہوگیا ہو اور اس سے ہر قسم کا غبار چھٹ گیا ہو۔ یہ منظر ہمارے سامنے آتا ہے اور اس کی حالت یہ ہے کہ ایک انسان کی شخصیت پر وہ چھایا ہوا ہے اور اس نے اس شخصیت کے ہر پہلو کو ڈھانپ لیا ہے ۔ اس شخصیت کا کاسہ دل کو شراب اطمینان سے بھر دیا ہے اب اسے اپنے اس رب پر پورا اعتماد ہے جسے اس نے طور پر پالیا ہے اور وہ اس کے اردگرد کے وجود پر چھایا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو سیاق کلام کے آنے والے جملوں کے اندر اچھی طرح نمایاں ہے ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اب اپنے ضمیر ‘ اپنی عقل اور اپنے اردگرد پھیلے ہوئے وجود کے اندر اپنے رب کو دیکھ رہے ہیں ۔ انکی مشکل حل ہوگئی ہے اور ان کا دل مطمئن ہے ۔ اب وہ محسوس کر رہے ہیں کہ دست قدرت اس راہ میں ان راہنمائی کر رہا ہے اب تو ان کی قوم سامنے آتی ہے اور یہ قوم ان نتائج کو چیلنج کر رہی ہے جن تک وہ جاپہنچے ہیں اور انہیں ان کا یقین حاصل ہوگیا ہے ۔ ان کے دل میں عقیدہ توحید بیٹھ گیا ہے ۔ یہ قوم اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے خداؤں سے ڈراتی ہے کہ یہ الہ انہیں نقصان پہنچائیں گے اور آپ ان کو نہایت ہی اعتماد ایک راسخ العقیدہ مسلم کی طرح جواب دیتے ہیں اور یہ جواب وہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح اپنے رب پر اپنے عقیدے کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیتے ہیں ۔
الأنعام 6:79
(آیت) ” فَلَمَّا رَأَی الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ ہَـذَا أَکْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ یَا قَوْمِ إِنِّیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (78) إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (79)
” پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب ہے یہ سب سے بڑا ہے ۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیم پکار اٹھا ” اے برادران قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ میں یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ “
یہ تیسرا تجربہ ہے اور یہ تجربہ اس کائنات کے سب سے بڑے کرے کے ساتھ ہوا جسے دیکھا جاسکتا ہے ۔ جس کی ضو پاشیاں عیاں ہیں اور جس کی گرمی محسوس ہوتی ہے ۔ یہ سورج تو روز طلوع و غروب ہوتا رہتا ہے لیکن وہ آج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نظروں میں بالکل ایک نئی چیز ہے ۔ (وہ نئے زاوئیے سے اسے دیکھ رہے ہیں) آج تو ابراہیم ان تمام چیزوں کو اس زاوئیے سے جانچ رہے ہیں کہ آیا ان میں سے کوئی چیز اس قابل ہے کہ اسے الہ تسلیم کیا جائے اس پر دل مطمئن بھی ہوجائے اور اس پریشانی اور حیرت انگیرمسئلے کے حل کی طویل جدوجہد میں یہ امر فیصلہ کن ہو۔
(آیت) ” قال ھذا ربی ھذا اکبر “۔ (6 : 78) ” کہا یہ میرا رب ہے ! یہ سب سے بڑا ہے ۔ “ لیکن تعجب ہے کہ یہ بھی غائب ہو رہا ہے ۔ اس مقام پر دونوں حقائق آپس میں جرٹے ہیں۔ اس اتصال والتباس سے ایک چنگاری نکلتی ہے ۔ یہاں فطرت صادقہ اور ذات کبریا کے درمیان اتصال ہوجاتا ہے ۔ قلب سلیم روشنی سے معمور ہوجاتا ہے اور پھر یہ روشنی پوری کائنات کو منور کردیتی ہے ۔ اس کے ذریعے انسان کی عقل وفکر بھی روشن ہوجاتی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مطلوب الہی مل جاتا ہے ۔ جس طرح ان کی فطرت اور ان کے شعور میں وہ موجود تھا ۔ اس کا تصور ان کے فہم وادراک میں بھی آجاتا ہے اور فطرت کے شعور احساس اور عقلی ادراک کے درمیان اتحاد وتوافق ہوجاتا ہے ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا رب والہ مل جاتا ہے ۔ لیکن یہ الہ کسی چمکدار ستارے کی شکل میں بھی نہیں ۔ کسی طلوع ہونے والے چاند کی شکل میں نہیں ‘ بلند ہونے والے سورج کی شکل میں نہیں ‘ کسی ایسی شکل میں نہیں جسے آنکھ دیکھ سکے ‘ کسی ایسی صورت میں بھی نہیں جسے انسان چھو سکے ‘ بلکہ یہ الہ ان کے شعور اور فطرت میں ہے ‘ ان کی عقل اور فہم میں ہے ‘ اس پوری کائنات میں ہر جگہ موجود ہے ۔ وہ ان تمام مخلوقات کا خالق ہے جسے آنکھ دیکھ سکتی ہے جسے محسوس کیا جاسکتا ہے یا جس کا انسانی عقل ادراک کرسکتی ہے ۔
اب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی اور ان کی قوم کے درمیان اب مکمل جدائی کا وقت آگیا ہے ۔ وقت آگیا ہے کہ آپ ان تمام معبودات باطلہ سے اپنی اعلانیہ برات کا اظہار کردیں اور دو ٹوک انداز میں بغیر کسی لاگ لپیٹ کے ان کے نقطہ نظر اور ان کے منہاج حیات اور مشرکانہ عقائد وخیالات کو یکسر رد کردیں ۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ یہ لوگ ذات کبریائی کے بالکل منکر نہ تھے لیکن صورت حال ایسی تھی کہ وہ لوگ حقیقی الہ کے ساتھ ان جھوٹے خداؤں کو شریک کرتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) الہ العالمین کی طرف اس طرح متوجہ ہوئے تھے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے تھے ۔
” تو ابراہیم پکار اٹھا ” اے برادران قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ میں یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ “
اب گویا ان کا رخ آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے والے کی طرف مڑ گیا اور اس قدر یکسوئی کے ساتھ مڑا کہ اس میں شرک کاشائبہ تک نہ رہا ۔ انہوں نے فیصلہ کن بات کردیں یقین محکم کا اظہار کردیا اور آخری طور پر اپنا رخ متعین کرلیا ۔ اب نہ تو کوئی تردو ہے ‘ نہ الجھن ۔ عقل وادراک اس طرح روشن ہوگئے جس طرح اس کا شعور اور ضمیر روشن تھے ۔
ایک بار پھر ہم آنکھوں کو خیرہ کردینے والا خوش کن منظر دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک نظریہ حیات کا منظر ہے جو نفس انسانی کے اندر نمودار ہوگیا ہو ‘ جو کسی دل پر غالب اور حاوی ہوگیا ہو ‘ جو پوری طرح واضح اور نمایاں ہوگیا ہو اور اس سے ہر قسم کا غبار چھٹ گیا ہو۔ یہ منظر ہمارے سامنے آتا ہے اور اس کی حالت یہ ہے کہ ایک انسان کی شخصیت پر وہ چھایا ہوا ہے اور اس نے اس شخصیت کے ہر پہلو کو ڈھانپ لیا ہے ۔ اس شخصیت کا کاسہ دل کو شراب اطمینان سے بھر دیا ہے اب اسے اپنے اس رب پر پورا اعتماد ہے جسے اس نے طور پر پالیا ہے اور وہ اس کے اردگرد کے وجود پر چھایا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جو سیاق کلام کے آنے والے جملوں کے اندر اچھی طرح نمایاں ہے ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اب اپنے ضمیر ‘ اپنی عقل اور اپنے اردگرد پھیلے ہوئے وجود کے اندر اپنے رب کو دیکھ رہے ہیں ۔ انکی مشکل حل ہوگئی ہے اور ان کا دل مطمئن ہے ۔ اب وہ محسوس کر رہے ہیں کہ دست قدرت اس راہ میں ان راہنمائی کر رہا ہے اب تو ان کی قوم سامنے آتی ہے اور یہ قوم ان نتائج کو چیلنج کر رہی ہے جن تک وہ جاپہنچے ہیں اور انہیں ان کا یقین حاصل ہوگیا ہے ۔ ان کے دل میں عقیدہ توحید بیٹھ گیا ہے ۔ یہ قوم اب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے خداؤں سے ڈراتی ہے کہ یہ الہ انہیں نقصان پہنچائیں گے اور آپ ان کو نہایت ہی اعتماد ایک راسخ العقیدہ مسلم کی طرح جواب دیتے ہیں اور یہ جواب وہ ظاہری اور باطنی دونوں طرح اپنے رب پر اپنے عقیدے کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیتے ہیں ۔
الأنعام 6:80
(آیت) ” نمبر 80 تا 81۔
جب انسان کی فطرت راہ سلامتی سے ہٹ جاتی ہے تو وہ گمراہ ہو کر غلط راستوں پر پڑجاتی ہے ۔ وہ ان راستوں پر بہت دور نکل جاتی ہے ۔ اب زاویہ کشادہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کے بازو ایک دوسرے سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔ جس نقطے سے یہ فطرت راہ مستقیم سے ہٹ جاتی ہے وہ دور رہ جاتا ہے ۔ خود انسان اس راہ سے اتنا دور نکل جاتا ہے کہ اس کے لئے لوٹنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس قوم کو دیکھو ‘ یہ بتوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی پرستش کررہے ہیں لیکن وہ اس تبدیلی اور تغیر کو محسوس کرنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں نمودار ہوئی ۔ اگر وہ معمولی غور وفکر بھی کرتے تو وہ اسے محسوس کرنے لگتے ۔ اس کے بجائے انہوں نے الٹا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مجادلہ شروع کردیا اور احتجاج شروع کردیا ‘ حالانکہ وہ خود نہایت ہی بودے تصورات کے حامل تھے اور واضح طور پر گمراہ تھے ۔
لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پکے مومن تھے ‘ اپنے دل و دماغ میں اور پوری کائنات میں اللہ کو پا رہے ہیں اور وہ پورے قلبی اطمینان کے ساتھ ان کو جواب دیتے ہیں۔
(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ (6 : 80)
” تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو ‘ میں نے تو محسوس کیا ہے کہ وہ ہاتھ پکڑ کر مجھے راہ راست پر لا رہا ہے ‘ ‘ میری چشم بصیرت کھول رہا ہے ‘ وہ اپنی طرف مجھے بلا رہا ہے ۔ مجھے اپنی معرفت نصیب کر کے اپنا مقرب بنا رہا ہے ۔ جب اس نے میرے ہاتھ پکڑ کر مجھے ہدایت دی تو وہ موجود ہے ‘ یہ میرے لئے نفسیاتی اور وجدانی دلیل ہے ۔ میں اپنے ضمیر میں اسے پاتا ہوں ‘ میں اپنے فہم کے مطابق اس کے بارے میں سوچتا ہوں اور میں اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں اسے دیکھتا ہوں ۔ ایک بات جو میری نفسیات اور میری ضمیر و شعور میں موجود ہے کیا اس کے بارے میں تم مجھ سے الجھتے ہو ؟ میں نے کب تم سے دلیل طلب کی ہے ؟ اس نے خود مجھے اپنی طرف راہنمائی دی ہے اور یہی میری دلیل ہے ۔
(آیت) ” وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ “ (6 : 80)
” اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا۔ “
وہ شخص جس نے اللہ کو پالیا ہو ‘ ہو شریکوں سے کیسے ڈرسکتا ہے ۔ وہ کس سے ڈرے اور کیوں ڈرے ؟ اللہ کے سوا تمام قوتیں ہیچ ہیں اور اللہ کی بادشاہت کے سوا تمام بادشاہتیں اس قابل ہی نہیں کہ ان سے خوف کھایا جائے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے پختہ ایمان اور اللہ کے مطیع فرمان ہونے کے باوجود کسی بات کو ماسوائے مشیت الہی دو ٹوک انداز میں نہ کہتے تھے ۔ وہ ہر معاملے میں الا ماشاء اللہ کہتے تھے اور ہر بات کو اللہ کے علم کی طرف لوٹاتے تھے ۔
(آیت) ” إِلاَّ أَن یَشَاء َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً (6 : 80)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب سے حمایت ورعایت کو اللہ کی مشیت پر چھوڑتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ وہ مشرکین کے الہوں سے ذرہ بھر خوف نہیں کھاتے کیونکہ ان کا تکیہ اللہ کی حفاظت وحمایت پر ہے ۔ انہیں پورا یقین ہے کہ انہیں اس وقت تک کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی جب تک اللہ نہ چاہے اور اللہ علیم ہے اور اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ۔
(آیت) ” وَکَیْْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّکُمْ أَشْرَکْتُم بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً فَأَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ (81)
ٍ ” اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈرو جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے بتاؤ اگر تم علم رکھتے ہو۔ “
یہ اس شخص کا استدلال ہے جس نے اس دنیا کے حقائق کا ادراک کرلیا ہے ۔ اگر کوئی ڈرتا ہے تو ڈرے ‘ ابراہیم نہیں ڈرتا ‘ کیونکہ ابراہیم تو وہ مومن ہے جس نے اپنا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں دے دیا ہے اور اپنے راستے پر چل رہا ہے ۔ پھر وہ موجودہ عاجز و لاچار الہوں سے کیوں ڈرے ‘ چاہے وہ کسی بھی قسم کے ہوں ؟ اس لئے کہ الہ قہار وجبار حکمرانوں کی شکل میں سامنے آتے ہیں جن کی گرفت بظاہر بہت ہی سخت ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ کی قدرت کے سامنے ان کی کچھ حیثیت نہیں ہوتی ۔ وہاں یہ بھی عاجز ہوتے ہیں اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے موحد ایسے ضعیف اور جھوٹے خداؤں سے کس طرح ڈر سکتے ہیں حالانکہ ڈرنا مشرکیں کو چاہئے کہ انہوں نے بغیر ثبوت وبرہان کے اللہ کے ساتھ ان ضعیف خداؤں کو شریک بنا لیا ہے اور یہ اس قدر ضعیف ہیں کہ ان کے اندر کوئی قوت نہیں ہے ۔ یہ نہایت ہی اہم سوال ہے کہ ہم دونوں فریقوں میں سے کون سا فریق زیادہ مامون اور بےخوف ہے ؟ اللہ پر ایمان رکھنے والا یا ان ضعیف بتوں کو الہ ماننے والا جن کو وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہے اور آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں کہ ان کو کوئی اقتدار اور قوت حاصل نہیں ہے ۔ افسوس ہے کہ ان کے پاس فہم وادراک کی کوئی بصیرت نہیں ہے اس سوال کے جواب میں وحی آتی ہے اور اس قضیے کا فیصلہ یوں ہوتا ہے ۔
الأنعام 6:81
(آیت) ” نمبر 80 تا 81۔
جب انسان کی فطرت راہ سلامتی سے ہٹ جاتی ہے تو وہ گمراہ ہو کر غلط راستوں پر پڑجاتی ہے ۔ وہ ان راستوں پر بہت دور نکل جاتی ہے ۔ اب زاویہ کشادہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کے بازو ایک دوسرے سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔ جس نقطے سے یہ فطرت راہ مستقیم سے ہٹ جاتی ہے وہ دور رہ جاتا ہے ۔ خود انسان اس راہ سے اتنا دور نکل جاتا ہے کہ اس کے لئے لوٹنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس قوم کو دیکھو ‘ یہ بتوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی پرستش کررہے ہیں لیکن وہ اس تبدیلی اور تغیر کو محسوس کرنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں نمودار ہوئی ۔ اگر وہ معمولی غور وفکر بھی کرتے تو وہ اسے محسوس کرنے لگتے ۔ اس کے بجائے انہوں نے الٹا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مجادلہ شروع کردیا اور احتجاج شروع کردیا ‘ حالانکہ وہ خود نہایت ہی بودے تصورات کے حامل تھے اور واضح طور پر گمراہ تھے ۔
لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پکے مومن تھے ‘ اپنے دل و دماغ میں اور پوری کائنات میں اللہ کو پا رہے ہیں اور وہ پورے قلبی اطمینان کے ساتھ ان کو جواب دیتے ہیں۔
(آیت) ” وَحَآجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ أَتُحَاجُّونِّیْ فِیْ اللّہِ وَقَدْ ہَدَانِ (6 : 80)
” تم مجھ سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو ‘ میں نے تو محسوس کیا ہے کہ وہ ہاتھ پکڑ کر مجھے راہ راست پر لا رہا ہے ‘ ‘ میری چشم بصیرت کھول رہا ہے ‘ وہ اپنی طرف مجھے بلا رہا ہے ۔ مجھے اپنی معرفت نصیب کر کے اپنا مقرب بنا رہا ہے ۔ جب اس نے میرے ہاتھ پکڑ کر مجھے ہدایت دی تو وہ موجود ہے ‘ یہ میرے لئے نفسیاتی اور وجدانی دلیل ہے ۔ میں اپنے ضمیر میں اسے پاتا ہوں ‘ میں اپنے فہم کے مطابق اس کے بارے میں سوچتا ہوں اور میں اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات میں اسے دیکھتا ہوں ۔ ایک بات جو میری نفسیات اور میری ضمیر و شعور میں موجود ہے کیا اس کے بارے میں تم مجھ سے الجھتے ہو ؟ میں نے کب تم سے دلیل طلب کی ہے ؟ اس نے خود مجھے اپنی طرف راہنمائی دی ہے اور یہی میری دلیل ہے ۔
(آیت) ” وَلاَ أَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ “ (6 : 80)
” اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا۔ “
وہ شخص جس نے اللہ کو پالیا ہو ‘ ہو شریکوں سے کیسے ڈرسکتا ہے ۔ وہ کس سے ڈرے اور کیوں ڈرے ؟ اللہ کے سوا تمام قوتیں ہیچ ہیں اور اللہ کی بادشاہت کے سوا تمام بادشاہتیں اس قابل ہی نہیں کہ ان سے خوف کھایا جائے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے پختہ ایمان اور اللہ کے مطیع فرمان ہونے کے باوجود کسی بات کو ماسوائے مشیت الہی دو ٹوک انداز میں نہ کہتے تھے ۔ وہ ہر معاملے میں الا ماشاء اللہ کہتے تھے اور ہر بات کو اللہ کے علم کی طرف لوٹاتے تھے ۔
(آیت) ” إِلاَّ أَن یَشَاء َ رَبِّیْ شَیْْئاً وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً (6 : 80)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی جانب سے حمایت ورعایت کو اللہ کی مشیت پر چھوڑتے ہیں اور اعلان فرماتے ہیں کہ وہ مشرکین کے الہوں سے ذرہ بھر خوف نہیں کھاتے کیونکہ ان کا تکیہ اللہ کی حفاظت وحمایت پر ہے ۔ انہیں پورا یقین ہے کہ انہیں اس وقت تک کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی جب تک اللہ نہ چاہے اور اللہ علیم ہے اور اس کا علم ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے ۔
(آیت) ” وَکَیْْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَکْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّکُمْ أَشْرَکْتُم بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْْکُمْ سُلْطَاناً فَأَیُّ الْفَرِیْقَیْْنِ أَحَقُّ بِالأَمْنِ إِن کُنتُمْ تَعْلَمُونَ (81)
ٍ ” اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈرو جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لئے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے بتاؤ اگر تم علم رکھتے ہو۔ “
یہ اس شخص کا استدلال ہے جس نے اس دنیا کے حقائق کا ادراک کرلیا ہے ۔ اگر کوئی ڈرتا ہے تو ڈرے ‘ ابراہیم نہیں ڈرتا ‘ کیونکہ ابراہیم تو وہ مومن ہے جس نے اپنا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں دے دیا ہے اور اپنے راستے پر چل رہا ہے ۔ پھر وہ موجودہ عاجز و لاچار الہوں سے کیوں ڈرے ‘ چاہے وہ کسی بھی قسم کے ہوں ؟ اس لئے کہ الہ قہار وجبار حکمرانوں کی شکل میں سامنے آتے ہیں جن کی گرفت بظاہر بہت ہی سخت ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ کی قدرت کے سامنے ان کی کچھ حیثیت نہیں ہوتی ۔ وہاں یہ بھی عاجز ہوتے ہیں اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے موحد ایسے ضعیف اور جھوٹے خداؤں سے کس طرح ڈر سکتے ہیں حالانکہ ڈرنا مشرکیں کو چاہئے کہ انہوں نے بغیر ثبوت وبرہان کے اللہ کے ساتھ ان ضعیف خداؤں کو شریک بنا لیا ہے اور یہ اس قدر ضعیف ہیں کہ ان کے اندر کوئی قوت نہیں ہے ۔ یہ نہایت ہی اہم سوال ہے کہ ہم دونوں فریقوں میں سے کون سا فریق زیادہ مامون اور بےخوف ہے ؟ اللہ پر ایمان رکھنے والا یا ان ضعیف بتوں کو الہ ماننے والا جن کو وہ اللہ جل شانہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہے اور آنکھوں سے دیکھ بھی رہے ہیں کہ ان کو کوئی اقتدار اور قوت حاصل نہیں ہے ۔ افسوس ہے کہ ان کے پاس فہم وادراک کی کوئی بصیرت نہیں ہے اس سوال کے جواب میں وحی آتی ہے اور اس قضیے کا فیصلہ یوں ہوتا ہے ۔
الأنعام 6:82
وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیا اور اس ایمان میں انہوں نے کسی قسم کے شرک کو نہ ملایا ۔ نہ غیر اللہ کی اطاعت کی اور نہ اسلام کے سوا کوئی اور رخ اختیار کیا تو ایسے ہی لوگ مطمئن اور مامون رہیں گے اور صرف ایسے ہی لوگ راہ ہدایت پا سکتے ہیں ۔
یہی وہ محبت تھی جس کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ توفیق دی گئی کہ انہوں نے اپنے ساتھ مجادلہ کرنے والوں کے تمام دلائل کو رد کردیا ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ ان کے تمام دلائل بودے ہیں ‘ الہوں کے بارے میں ان کے تمام تصورات غلط ہیں اور ان کا یہ وہم بھی فرضی ہے کہ انکے الہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو وکئی گزند پہنچا سکتے ہیں ۔ یہ بات اپنی جگہ مسلم تھی کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکر نہ تھے اور نہ اس بات کے منکر تھے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات میں قوت اور حکومت اور اقتدار کا مالک ہے ۔ غلطی صرف یہ تھی کہ وہ لوگ اپنے ان الہوں کو اللہ کے ساتھ شریک کرتے تھے ۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے یہ بات رکھی کہ جو شخص صرف اللہ وحدہ پر یقین رکھتا ہے وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا ۔ اللہ کے سوا اوروں سے تو اس شخص کو ڈرنا چاہئے جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرتا ہے ۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی جو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈال دی تھی تو ان کے تمام مقابلے میں برتر وسربلند ہوگئے ۔ یوں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا مقام اور درجہ بلند کردیتا ہے اور یہ اللہ کے تصرفات ہیں اس کی حکمتوں کے تقاضوں کے مطابق ۔
الأنعام 6:83
(آیت) ” نمبر 83۔
قبل اس کے کہ ہم آیات زیر بحث کو چھوڑ کر آگے بڑھیں ‘ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کی زندگی کے کچھ خوشگوار واقعات ناظرین کے سامنے رکھو ۔ ان پر قرآن کریم باران رحمت کی طرح اثر کر رہا تھا اور ان کے نفوس اس سے خوب سیراب ہو رہے تھے ۔ وہ اس قرآن کے ساتھ زندہ تھے اور قرآن کے لئے زندہ تھے ۔ وہ اپنی زندگی کو قرآن کریم کے اشاروں ‘ اس کے مفہومات ومدلولات کے ساتھ بدلتے اور ہم آہنگ کرتے چلے جاتے تھے ۔ اس کے تقاضوں کو پورے کرتے چلے جاتے تھے اور وہ نہایت ہی سنجیدگی ‘ نہایت ہی فہم و فراست اور نہایت ہی سختی کے ساتھ اسے لیتے تھے ۔ قرآن کریم کی خوبصورتی ‘ اثر آفرینی عملیت اور سنجیدگی کو دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ یہ امر حیران کن ہے کہ قرآن نے گروہ صحابہ کے اندر کس قدر خارق العادت تبدیلی پیدا کی کہ صرف 25 سال کے اندر اندر یہ معجزہ رونما ہوا جس کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ۔ یہ اس لئے ہوا کہ گروہ صحابہ ؓ اجمعین نہایت ہی محیرالعقول لوگ تھے ۔ ابن جریر نے ‘ اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن ادریس سے روایت کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری ۔
(آیت) ” الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یَلْبِسُواْ إِیْمَانَہُم بِظُلْم “۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہ ملایا ۔ “ تو یہ بات صحابہ کرام پر بہت ہی گراں گزری ۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے نفس پر ظلم نہ کیا ہو ۔ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” اس طرح نہیں جس طرح تم لوگ گمان کرتے ہو ‘ یہ تو اس طرح ہے جس طرح حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا ۔
(آیت) ” لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم “۔ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ بیشک شرک ظلم عظیم ہے ۔ “ انہوں نے اپنی سند کے ساتھ ابو الاشعری ‘ عبدی اور اس کے باپ سے نقل کیا ہے کہ زید ابن ہومان نے سلمان سے پوچھا : اے ابو عبداللہ اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت نے میرا برا حال بنا دیا ہے ۔
(آیت) ” الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یَلْبِسُواْ إِیْمَانَہُم بِظُلْم “۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہ ملایا ۔ “ تو سلمان نے کہا کہ یہ تو اللہ کے ساتھ شرک ہے اور اس کا ذکر اللہ نے کیا ہے ۔ زید نے کہا کہ آپ سے یہ سن کر مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ کل رات میری جس قدر دولت تھی اگر اسی قدر مجھے اور بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔
ان تین روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحابہ کا معزز گروہ قرآن کریم کے بارے میں کس قدر حساس تھا اور ان کی زندگی پر قرآن کس قدر عملا اثر انداز ہوتا تھا اور کس طرح وہ قرآن کریم کو لیتے تھے ؟ “ اس طرح کہ یہ ایسے احکام ہیں جن کا فی الفور نافذ کرنا ضرروی ہے ۔ اور یہ ایسی ہدایات اور ایسے فیصلے ہیں جن کی اطاعت ضروری ہے ۔ کیونکہ یہ آخری احکام اور فیصلے ہیں اور جب وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ ان کی وسعت و طاقت اور مطلوبہ احکام کے درمیان فرق ہے اور ان کے لئے ان احکام کانفاذ ممکن نہ رہے گا تو وہ بےچین ہوجاتے تھے اور اللہ اور رسول ان احکام میں رعایت اور نرمی فرما دیتے تھے ۔ یہ وہ مناظر ہیں جو آنکھوں کو خیرہ کردیتے ہیں ۔ یہ ہیں ان لوگوں کے حالات جو اس دین کے حاملین تھے ۔ وہ ایسا پردہ تقدیر الہی تھے اور وہ دستہ تھے جو مشیت الہی کے نفاذ کے لئے منتخب کیا گیا تھا اور یہ مشیت سب سے پہلے انہوں نے اپنی زندگی میں نافذ کی تھی ۔
اب سیاق کلام میں اس عظیم قافلہ ایمان کا ذکر آتا ہے جس قائدین انبیاء ورسل تھے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے خاتم النبیین تک ان سب پر اللہ کی اللہ کی رحمتیں نازل ہوں ۔ یہ طویل قافلہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے ۔ خصوصا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک ان حضرات کے تذکرے میں تاریخی تسلسل کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر نظر آتا ہے کیونکہ یہاں مقصد یہ نہیں ہے کہ ان کی تاریخی ترتیب کو بیان کیا جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ تمام انبیاء کا مشن ایک ہی تھا یعنی عقیدہ توحید :
الأنعام 6:84
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :
(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)
” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)
” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “
یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی ہوگی ۔ اللہ نے جو رسول بھی بھیجے ہیں وہ اس لئے بھیجے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے اور اللہ نے جو کتاب بھی بھیجی ہے وہ اس لئے بھیجی ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کتاب کے مطابق فیصلے کئے جائیں جیسا کہ دوسری آیات میں آتا ہے کہ تمام نبیوں کو حکم اور نبوت دیا گیا ۔ اللہ نے اپنا دین ان ہی کے حوالے کیا تاکہ وہ لوگوں تک اسے پہنچائیں ۔ خود اس دین پر قائم رہیں ایمان لائیں اور اس کی حفاظت کریں ۔ اگر مشرکین عرب اللہ کی کتاب ‘ اس کی حکومت اور نبوت کا انکار کردیں تو اللہ کا دین انکا محتاج نہیں ۔ اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس دین کے لئے کافی ہیں ۔ یہ دین ایک پرانی حقیقت ہے اور اس درخت کی جڑیں دور تک تاریخ کے اندر پھیلی ہوئی ہیں ۔ رسولوں کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ‘ ایک کے بعد دوسرا آیا ہے اور وہی دعوت لے کر آیا ہے ۔ جس کی قسمت میں اللہ نے ہدایت یافتہ ہونا لکھ دیا تھا اس نے ان سے ہدایت لی کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھر دیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے ۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھردیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ تحریک اسلامی کے ساتھی چاہے کم ہوں اکیلے نہیں ہوتے ۔ پوری تاریخی اسلامی ان کی پشت پر ہے ۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر دور تک گئی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں فضا میں دور تک بلند ہیں ۔ یہ تحریک ایک عظیم تاریخی تحریک اسلامی کی ایک کڑی ہے جس کا آخری سرا اللہ تک پہنچا ہوا ہے ۔ ایک منفرد مومن ‘ اس کرہ ارض پر جہاں بھی ہو ‘ جس قوم میں بھی ہو ‘ وہ نہایت ہی طاقتور ہے اور ایک عظیم الشان حقیقت ہے ۔ وہ اس عظیم درخت کی ایک شاخ ہے جس کی جڑیں دور تک ہیں اور انسانی فطرت کی زمین کے اندر گہرائی تک چلی گئی ہیں ۔ انسانیت کے اندر دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ انسانی تاریخ کے اندر گہرائی تک گئی ہوئی ہیں اور وہ واحد مومن فرد بھی قافلہ اہل ایمان کا ایک حصہ ہے اور اس کی تاریخ زمانوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90)
” اے نبی ﷺ وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ‘ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ‘ یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے تمام دنیا والوں کے لئے۔ “
یہ ایک تیسری قرار داد ہے ۔ یہ قافلہ رسل جو اہل ایمان کی جماعت کے قائد ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے راہ ہدایت دکھائی ۔ انکے پاس اللہ کی جانب سے جو ہدایات آتی رہیں وہ نبی آخر الزمان کے لئے بھی مشعل راہ ہیں ۔ ان افراد کے لئے بھی مشعل راہ ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں ۔ لہذا حضور ﷺ انہی ہدایات پر چلیں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں فیصلے انہی ہدایات سے لیں گے ۔ انہی ہدایات کی طرف پوری انسانیت کو دعوت دیں گے اور آپ امت دعوت کے سامنے یوں گویا ہوں گے ۔
(آیت) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “۔ (6 : 90) ” میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا “۔
(آیت) ” ھو الا ذکری للعلمین “۔ (6 : 90) ” یہ تو تمام جہان والوں کے لئے صرف ایک نصیحت ہے “۔ یہ نصیحت تمام لوگوں کے لئے ہے یہ کسی ایک نسل ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ قریب وبعید کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہ تو پوری انسانیت کے لئے ایک یاد دہانی ہے اس لئے وہ اس پر کسی اجر کا تقاضا نہیں کر رہے ۔ رسول کا اجر تو اللہ پر ہے ۔
اب آگے یہ مضمون آتا ہے کہ جو لوگ سرے سے نبوت اور رسالت کے منکر ہیں ان کا موقف درست نہیں ہے ۔ ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ مقام الوہیت کا صحیح اندازہ نہیں کرسکے ۔ نہ اللہ کی حکمت ‘ اس کی رحمت اور اس کے انصاف کے بارے میں ان کا تصور درست ہے ۔ لہذا یہ بات جان لو کہ آخری نبوت بھی سابقہ نبوتوں اور رسالتوں کے طریق پر ہے اور یہ کتاب بھی تمام کتب سابقہ کی تصدیق وتائید کر رہی ہے ۔ تمام انبیائے سابق کی تعلیمات بھی اسی کتاب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں ۔
الأنعام 6:85
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :
(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)
” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)
” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “
یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی ہوگی ۔ اللہ نے جو رسول بھی بھیجے ہیں وہ اس لئے بھیجے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے اور اللہ نے جو کتاب بھی بھیجی ہے وہ اس لئے بھیجی ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کتاب کے مطابق فیصلے کئے جائیں جیسا کہ دوسری آیات میں آتا ہے کہ تمام نبیوں کو حکم اور نبوت دیا گیا ۔ اللہ نے اپنا دین ان ہی کے حوالے کیا تاکہ وہ لوگوں تک اسے پہنچائیں ۔ خود اس دین پر قائم رہیں ایمان لائیں اور اس کی حفاظت کریں ۔ اگر مشرکین عرب اللہ کی کتاب ‘ اس کی حکومت اور نبوت کا انکار کردیں تو اللہ کا دین انکا محتاج نہیں ۔ اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس دین کے لئے کافی ہیں ۔ یہ دین ایک پرانی حقیقت ہے اور اس درخت کی جڑیں دور تک تاریخ کے اندر پھیلی ہوئی ہیں ۔ رسولوں کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ‘ ایک کے بعد دوسرا آیا ہے اور وہی دعوت لے کر آیا ہے ۔ جس کی قسمت میں اللہ نے ہدایت یافتہ ہونا لکھ دیا تھا اس نے ان سے ہدایت لی کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھر دیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے ۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھردیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ تحریک اسلامی کے ساتھی چاہے کم ہوں اکیلے نہیں ہوتے ۔ پوری تاریخی اسلامی ان کی پشت پر ہے ۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر دور تک گئی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں فضا میں دور تک بلند ہیں ۔ یہ تحریک ایک عظیم تاریخی تحریک اسلامی کی ایک کڑی ہے جس کا آخری سرا اللہ تک پہنچا ہوا ہے ۔ ایک منفرد مومن ‘ اس کرہ ارض پر جہاں بھی ہو ‘ جس قوم میں بھی ہو ‘ وہ نہایت ہی طاقتور ہے اور ایک عظیم الشان حقیقت ہے ۔ وہ اس عظیم درخت کی ایک شاخ ہے جس کی جڑیں دور تک ہیں اور انسانی فطرت کی زمین کے اندر گہرائی تک چلی گئی ہیں ۔ انسانیت کے اندر دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ انسانی تاریخ کے اندر گہرائی تک گئی ہوئی ہیں اور وہ واحد مومن فرد بھی قافلہ اہل ایمان کا ایک حصہ ہے اور اس کی تاریخ زمانوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90)
” اے نبی ﷺ وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ‘ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ‘ یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے تمام دنیا والوں کے لئے۔ “
یہ ایک تیسری قرار داد ہے ۔ یہ قافلہ رسل جو اہل ایمان کی جماعت کے قائد ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے راہ ہدایت دکھائی ۔ انکے پاس اللہ کی جانب سے جو ہدایات آتی رہیں وہ نبی آخر الزمان کے لئے بھی مشعل راہ ہیں ۔ ان افراد کے لئے بھی مشعل راہ ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں ۔ لہذا حضور ﷺ انہی ہدایات پر چلیں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں فیصلے انہی ہدایات سے لیں گے ۔ انہی ہدایات کی طرف پوری انسانیت کو دعوت دیں گے اور آپ امت دعوت کے سامنے یوں گویا ہوں گے ۔
(آیت) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “۔ (6 : 90) ” میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا “۔
(آیت) ” ھو الا ذکری للعلمین “۔ (6 : 90) ” یہ تو تمام جہان والوں کے لئے صرف ایک نصیحت ہے “۔ یہ نصیحت تمام لوگوں کے لئے ہے یہ کسی ایک نسل ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ قریب وبعید کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہ تو پوری انسانیت کے لئے ایک یاد دہانی ہے اس لئے وہ اس پر کسی اجر کا تقاضا نہیں کر رہے ۔ رسول کا اجر تو اللہ پر ہے ۔
اب آگے یہ مضمون آتا ہے کہ جو لوگ سرے سے نبوت اور رسالت کے منکر ہیں ان کا موقف درست نہیں ہے ۔ ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ مقام الوہیت کا صحیح اندازہ نہیں کرسکے ۔ نہ اللہ کی حکمت ‘ اس کی رحمت اور اس کے انصاف کے بارے میں ان کا تصور درست ہے ۔ لہذا یہ بات جان لو کہ آخری نبوت بھی سابقہ نبوتوں اور رسالتوں کے طریق پر ہے اور یہ کتاب بھی تمام کتب سابقہ کی تصدیق وتائید کر رہی ہے ۔ تمام انبیائے سابق کی تعلیمات بھی اسی کتاب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں ۔
الأنعام 6:86
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :
(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)
” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)
” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “
یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی ہوگی ۔ اللہ نے جو رسول بھی بھیجے ہیں وہ اس لئے بھیجے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے اور اللہ نے جو کتاب بھی بھیجی ہے وہ اس لئے بھیجی ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کتاب کے مطابق فیصلے کئے جائیں جیسا کہ دوسری آیات میں آتا ہے کہ تمام نبیوں کو حکم اور نبوت دیا گیا ۔ اللہ نے اپنا دین ان ہی کے حوالے کیا تاکہ وہ لوگوں تک اسے پہنچائیں ۔ خود اس دین پر قائم رہیں ایمان لائیں اور اس کی حفاظت کریں ۔ اگر مشرکین عرب اللہ کی کتاب ‘ اس کی حکومت اور نبوت کا انکار کردیں تو اللہ کا دین انکا محتاج نہیں ۔ اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس دین کے لئے کافی ہیں ۔ یہ دین ایک پرانی حقیقت ہے اور اس درخت کی جڑیں دور تک تاریخ کے اندر پھیلی ہوئی ہیں ۔ رسولوں کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ‘ ایک کے بعد دوسرا آیا ہے اور وہی دعوت لے کر آیا ہے ۔ جس کی قسمت میں اللہ نے ہدایت یافتہ ہونا لکھ دیا تھا اس نے ان سے ہدایت لی کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھر دیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے ۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھردیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ تحریک اسلامی کے ساتھی چاہے کم ہوں اکیلے نہیں ہوتے ۔ پوری تاریخی اسلامی ان کی پشت پر ہے ۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر دور تک گئی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں فضا میں دور تک بلند ہیں ۔ یہ تحریک ایک عظیم تاریخی تحریک اسلامی کی ایک کڑی ہے جس کا آخری سرا اللہ تک پہنچا ہوا ہے ۔ ایک منفرد مومن ‘ اس کرہ ارض پر جہاں بھی ہو ‘ جس قوم میں بھی ہو ‘ وہ نہایت ہی طاقتور ہے اور ایک عظیم الشان حقیقت ہے ۔ وہ اس عظیم درخت کی ایک شاخ ہے جس کی جڑیں دور تک ہیں اور انسانی فطرت کی زمین کے اندر گہرائی تک چلی گئی ہیں ۔ انسانیت کے اندر دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ انسانی تاریخ کے اندر گہرائی تک گئی ہوئی ہیں اور وہ واحد مومن فرد بھی قافلہ اہل ایمان کا ایک حصہ ہے اور اس کی تاریخ زمانوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90)
” اے نبی ﷺ وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ‘ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ‘ یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے تمام دنیا والوں کے لئے۔ “
یہ ایک تیسری قرار داد ہے ۔ یہ قافلہ رسل جو اہل ایمان کی جماعت کے قائد ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے راہ ہدایت دکھائی ۔ انکے پاس اللہ کی جانب سے جو ہدایات آتی رہیں وہ نبی آخر الزمان کے لئے بھی مشعل راہ ہیں ۔ ان افراد کے لئے بھی مشعل راہ ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں ۔ لہذا حضور ﷺ انہی ہدایات پر چلیں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں فیصلے انہی ہدایات سے لیں گے ۔ انہی ہدایات کی طرف پوری انسانیت کو دعوت دیں گے اور آپ امت دعوت کے سامنے یوں گویا ہوں گے ۔
(آیت) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “۔ (6 : 90) ” میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا “۔
(آیت) ” ھو الا ذکری للعلمین “۔ (6 : 90) ” یہ تو تمام جہان والوں کے لئے صرف ایک نصیحت ہے “۔ یہ نصیحت تمام لوگوں کے لئے ہے یہ کسی ایک نسل ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ قریب وبعید کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہ تو پوری انسانیت کے لئے ایک یاد دہانی ہے اس لئے وہ اس پر کسی اجر کا تقاضا نہیں کر رہے ۔ رسول کا اجر تو اللہ پر ہے ۔
اب آگے یہ مضمون آتا ہے کہ جو لوگ سرے سے نبوت اور رسالت کے منکر ہیں ان کا موقف درست نہیں ہے ۔ ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ مقام الوہیت کا صحیح اندازہ نہیں کرسکے ۔ نہ اللہ کی حکمت ‘ اس کی رحمت اور اس کے انصاف کے بارے میں ان کا تصور درست ہے ۔ لہذا یہ بات جان لو کہ آخری نبوت بھی سابقہ نبوتوں اور رسالتوں کے طریق پر ہے اور یہ کتاب بھی تمام کتب سابقہ کی تصدیق وتائید کر رہی ہے ۔ تمام انبیائے سابق کی تعلیمات بھی اسی کتاب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں ۔
الأنعام 6:87
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :
(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)
” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)
” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “
یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی ہوگی ۔ اللہ نے جو رسول بھی بھیجے ہیں وہ اس لئے بھیجے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے اور اللہ نے جو کتاب بھی بھیجی ہے وہ اس لئے بھیجی ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کتاب کے مطابق فیصلے کئے جائیں جیسا کہ دوسری آیات میں آتا ہے کہ تمام نبیوں کو حکم اور نبوت دیا گیا ۔ اللہ نے اپنا دین ان ہی کے حوالے کیا تاکہ وہ لوگوں تک اسے پہنچائیں ۔ خود اس دین پر قائم رہیں ایمان لائیں اور اس کی حفاظت کریں ۔ اگر مشرکین عرب اللہ کی کتاب ‘ اس کی حکومت اور نبوت کا انکار کردیں تو اللہ کا دین انکا محتاج نہیں ۔ اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس دین کے لئے کافی ہیں ۔ یہ دین ایک پرانی حقیقت ہے اور اس درخت کی جڑیں دور تک تاریخ کے اندر پھیلی ہوئی ہیں ۔ رسولوں کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ‘ ایک کے بعد دوسرا آیا ہے اور وہی دعوت لے کر آیا ہے ۔ جس کی قسمت میں اللہ نے ہدایت یافتہ ہونا لکھ دیا تھا اس نے ان سے ہدایت لی کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھر دیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے ۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھردیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ تحریک اسلامی کے ساتھی چاہے کم ہوں اکیلے نہیں ہوتے ۔ پوری تاریخی اسلامی ان کی پشت پر ہے ۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر دور تک گئی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں فضا میں دور تک بلند ہیں ۔ یہ تحریک ایک عظیم تاریخی تحریک اسلامی کی ایک کڑی ہے جس کا آخری سرا اللہ تک پہنچا ہوا ہے ۔ ایک منفرد مومن ‘ اس کرہ ارض پر جہاں بھی ہو ‘ جس قوم میں بھی ہو ‘ وہ نہایت ہی طاقتور ہے اور ایک عظیم الشان حقیقت ہے ۔ وہ اس عظیم درخت کی ایک شاخ ہے جس کی جڑیں دور تک ہیں اور انسانی فطرت کی زمین کے اندر گہرائی تک چلی گئی ہیں ۔ انسانیت کے اندر دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ انسانی تاریخ کے اندر گہرائی تک گئی ہوئی ہیں اور وہ واحد مومن فرد بھی قافلہ اہل ایمان کا ایک حصہ ہے اور اس کی تاریخ زمانوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90)
” اے نبی ﷺ وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ‘ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ‘ یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے تمام دنیا والوں کے لئے۔ “
یہ ایک تیسری قرار داد ہے ۔ یہ قافلہ رسل جو اہل ایمان کی جماعت کے قائد ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے راہ ہدایت دکھائی ۔ انکے پاس اللہ کی جانب سے جو ہدایات آتی رہیں وہ نبی آخر الزمان کے لئے بھی مشعل راہ ہیں ۔ ان افراد کے لئے بھی مشعل راہ ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں ۔ لہذا حضور ﷺ انہی ہدایات پر چلیں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں فیصلے انہی ہدایات سے لیں گے ۔ انہی ہدایات کی طرف پوری انسانیت کو دعوت دیں گے اور آپ امت دعوت کے سامنے یوں گویا ہوں گے ۔
(آیت) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “۔ (6 : 90) ” میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا “۔
(آیت) ” ھو الا ذکری للعلمین “۔ (6 : 90) ” یہ تو تمام جہان والوں کے لئے صرف ایک نصیحت ہے “۔ یہ نصیحت تمام لوگوں کے لئے ہے یہ کسی ایک نسل ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ قریب وبعید کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہ تو پوری انسانیت کے لئے ایک یاد دہانی ہے اس لئے وہ اس پر کسی اجر کا تقاضا نہیں کر رہے ۔ رسول کا اجر تو اللہ پر ہے ۔
اب آگے یہ مضمون آتا ہے کہ جو لوگ سرے سے نبوت اور رسالت کے منکر ہیں ان کا موقف درست نہیں ہے ۔ ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ مقام الوہیت کا صحیح اندازہ نہیں کرسکے ۔ نہ اللہ کی حکمت ‘ اس کی رحمت اور اس کے انصاف کے بارے میں ان کا تصور درست ہے ۔ لہذا یہ بات جان لو کہ آخری نبوت بھی سابقہ نبوتوں اور رسالتوں کے طریق پر ہے اور یہ کتاب بھی تمام کتب سابقہ کی تصدیق وتائید کر رہی ہے ۔ تمام انبیائے سابق کی تعلیمات بھی اسی کتاب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں ۔
الأنعام 6:88
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :
(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)
” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)
” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “
یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی ہوگی ۔ اللہ نے جو رسول بھی بھیجے ہیں وہ اس لئے بھیجے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے اور اللہ نے جو کتاب بھی بھیجی ہے وہ اس لئے بھیجی ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کتاب کے مطابق فیصلے کئے جائیں جیسا کہ دوسری آیات میں آتا ہے کہ تمام نبیوں کو حکم اور نبوت دیا گیا ۔ اللہ نے اپنا دین ان ہی کے حوالے کیا تاکہ وہ لوگوں تک اسے پہنچائیں ۔ خود اس دین پر قائم رہیں ایمان لائیں اور اس کی حفاظت کریں ۔ اگر مشرکین عرب اللہ کی کتاب ‘ اس کی حکومت اور نبوت کا انکار کردیں تو اللہ کا دین انکا محتاج نہیں ۔ اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس دین کے لئے کافی ہیں ۔ یہ دین ایک پرانی حقیقت ہے اور اس درخت کی جڑیں دور تک تاریخ کے اندر پھیلی ہوئی ہیں ۔ رسولوں کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ‘ ایک کے بعد دوسرا آیا ہے اور وہی دعوت لے کر آیا ہے ۔ جس کی قسمت میں اللہ نے ہدایت یافتہ ہونا لکھ دیا تھا اس نے ان سے ہدایت لی کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھر دیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے ۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھردیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ تحریک اسلامی کے ساتھی چاہے کم ہوں اکیلے نہیں ہوتے ۔ پوری تاریخی اسلامی ان کی پشت پر ہے ۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر دور تک گئی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں فضا میں دور تک بلند ہیں ۔ یہ تحریک ایک عظیم تاریخی تحریک اسلامی کی ایک کڑی ہے جس کا آخری سرا اللہ تک پہنچا ہوا ہے ۔ ایک منفرد مومن ‘ اس کرہ ارض پر جہاں بھی ہو ‘ جس قوم میں بھی ہو ‘ وہ نہایت ہی طاقتور ہے اور ایک عظیم الشان حقیقت ہے ۔ وہ اس عظیم درخت کی ایک شاخ ہے جس کی جڑیں دور تک ہیں اور انسانی فطرت کی زمین کے اندر گہرائی تک چلی گئی ہیں ۔ انسانیت کے اندر دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ انسانی تاریخ کے اندر گہرائی تک گئی ہوئی ہیں اور وہ واحد مومن فرد بھی قافلہ اہل ایمان کا ایک حصہ ہے اور اس کی تاریخ زمانوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90)
” اے نبی ﷺ وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ‘ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ‘ یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے تمام دنیا والوں کے لئے۔ “
یہ ایک تیسری قرار داد ہے ۔ یہ قافلہ رسل جو اہل ایمان کی جماعت کے قائد ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے راہ ہدایت دکھائی ۔ انکے پاس اللہ کی جانب سے جو ہدایات آتی رہیں وہ نبی آخر الزمان کے لئے بھی مشعل راہ ہیں ۔ ان افراد کے لئے بھی مشعل راہ ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں ۔ لہذا حضور ﷺ انہی ہدایات پر چلیں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں فیصلے انہی ہدایات سے لیں گے ۔ انہی ہدایات کی طرف پوری انسانیت کو دعوت دیں گے اور آپ امت دعوت کے سامنے یوں گویا ہوں گے ۔
(آیت) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “۔ (6 : 90) ” میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا “۔
(آیت) ” ھو الا ذکری للعلمین “۔ (6 : 90) ” یہ تو تمام جہان والوں کے لئے صرف ایک نصیحت ہے “۔ یہ نصیحت تمام لوگوں کے لئے ہے یہ کسی ایک نسل ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ قریب وبعید کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہ تو پوری انسانیت کے لئے ایک یاد دہانی ہے اس لئے وہ اس پر کسی اجر کا تقاضا نہیں کر رہے ۔ رسول کا اجر تو اللہ پر ہے ۔
اب آگے یہ مضمون آتا ہے کہ جو لوگ سرے سے نبوت اور رسالت کے منکر ہیں ان کا موقف درست نہیں ہے ۔ ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ مقام الوہیت کا صحیح اندازہ نہیں کرسکے ۔ نہ اللہ کی حکمت ‘ اس کی رحمت اور اس کے انصاف کے بارے میں ان کا تصور درست ہے ۔ لہذا یہ بات جان لو کہ آخری نبوت بھی سابقہ نبوتوں اور رسالتوں کے طریق پر ہے اور یہ کتاب بھی تمام کتب سابقہ کی تصدیق وتائید کر رہی ہے ۔ تمام انبیائے سابق کی تعلیمات بھی اسی کتاب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں ۔
الأنعام 6:89
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :
(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)
” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)
” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “
یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی ہوگی ۔ اللہ نے جو رسول بھی بھیجے ہیں وہ اس لئے بھیجے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے اور اللہ نے جو کتاب بھی بھیجی ہے وہ اس لئے بھیجی ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کتاب کے مطابق فیصلے کئے جائیں جیسا کہ دوسری آیات میں آتا ہے کہ تمام نبیوں کو حکم اور نبوت دیا گیا ۔ اللہ نے اپنا دین ان ہی کے حوالے کیا تاکہ وہ لوگوں تک اسے پہنچائیں ۔ خود اس دین پر قائم رہیں ایمان لائیں اور اس کی حفاظت کریں ۔ اگر مشرکین عرب اللہ کی کتاب ‘ اس کی حکومت اور نبوت کا انکار کردیں تو اللہ کا دین انکا محتاج نہیں ۔ اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس دین کے لئے کافی ہیں ۔ یہ دین ایک پرانی حقیقت ہے اور اس درخت کی جڑیں دور تک تاریخ کے اندر پھیلی ہوئی ہیں ۔ رسولوں کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ‘ ایک کے بعد دوسرا آیا ہے اور وہی دعوت لے کر آیا ہے ۔ جس کی قسمت میں اللہ نے ہدایت یافتہ ہونا لکھ دیا تھا اس نے ان سے ہدایت لی کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھر دیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے ۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھردیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ تحریک اسلامی کے ساتھی چاہے کم ہوں اکیلے نہیں ہوتے ۔ پوری تاریخی اسلامی ان کی پشت پر ہے ۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر دور تک گئی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں فضا میں دور تک بلند ہیں ۔ یہ تحریک ایک عظیم تاریخی تحریک اسلامی کی ایک کڑی ہے جس کا آخری سرا اللہ تک پہنچا ہوا ہے ۔ ایک منفرد مومن ‘ اس کرہ ارض پر جہاں بھی ہو ‘ جس قوم میں بھی ہو ‘ وہ نہایت ہی طاقتور ہے اور ایک عظیم الشان حقیقت ہے ۔ وہ اس عظیم درخت کی ایک شاخ ہے جس کی جڑیں دور تک ہیں اور انسانی فطرت کی زمین کے اندر گہرائی تک چلی گئی ہیں ۔ انسانیت کے اندر دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ انسانی تاریخ کے اندر گہرائی تک گئی ہوئی ہیں اور وہ واحد مومن فرد بھی قافلہ اہل ایمان کا ایک حصہ ہے اور اس کی تاریخ زمانوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90)
” اے نبی ﷺ وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ‘ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ‘ یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے تمام دنیا والوں کے لئے۔ “
یہ ایک تیسری قرار داد ہے ۔ یہ قافلہ رسل جو اہل ایمان کی جماعت کے قائد ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے راہ ہدایت دکھائی ۔ انکے پاس اللہ کی جانب سے جو ہدایات آتی رہیں وہ نبی آخر الزمان کے لئے بھی مشعل راہ ہیں ۔ ان افراد کے لئے بھی مشعل راہ ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں ۔ لہذا حضور ﷺ انہی ہدایات پر چلیں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں فیصلے انہی ہدایات سے لیں گے ۔ انہی ہدایات کی طرف پوری انسانیت کو دعوت دیں گے اور آپ امت دعوت کے سامنے یوں گویا ہوں گے ۔
(آیت) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “۔ (6 : 90) ” میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا “۔
(آیت) ” ھو الا ذکری للعلمین “۔ (6 : 90) ” یہ تو تمام جہان والوں کے لئے صرف ایک نصیحت ہے “۔ یہ نصیحت تمام لوگوں کے لئے ہے یہ کسی ایک نسل ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ قریب وبعید کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہ تو پوری انسانیت کے لئے ایک یاد دہانی ہے اس لئے وہ اس پر کسی اجر کا تقاضا نہیں کر رہے ۔ رسول کا اجر تو اللہ پر ہے ۔
اب آگے یہ مضمون آتا ہے کہ جو لوگ سرے سے نبوت اور رسالت کے منکر ہیں ان کا موقف درست نہیں ہے ۔ ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ مقام الوہیت کا صحیح اندازہ نہیں کرسکے ۔ نہ اللہ کی حکمت ‘ اس کی رحمت اور اس کے انصاف کے بارے میں ان کا تصور درست ہے ۔ لہذا یہ بات جان لو کہ آخری نبوت بھی سابقہ نبوتوں اور رسالتوں کے طریق پر ہے اور یہ کتاب بھی تمام کتب سابقہ کی تصدیق وتائید کر رہی ہے ۔ تمام انبیائے سابق کی تعلیمات بھی اسی کتاب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں ۔
الأنعام 6:90
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قافلہ رسل کس قدر قابل قدر اور کس قدر منتخب لوگوں پر مشتمل تھا اور یہ کہ یہ صحیح راہ کی طرف ہدایت یافتہ تھا ۔ اس گروہ کو اس انداز میں پیش کرنا اور اس کو اس شکل و صورت میں اجاگر کرنا دراصل ایک اہم بات کہنے کے لئے تمہید کے طور پر تھا ۔ بات یہ تھی :
(آیت) ” ذَلِکَ ہُدَی اللّہِ یَہْدِیْ بِہِ مَن یَشَاء ُ مِنْ عِبَادِہِ وَلَوْ أَشْرَکُواْ لَحَبِطَ عَنْہُم مَّا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (88)
” یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے ۔ “ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا “۔ یہ فیصلہ ہے اس امر کا کہ اس کرہ ارض پر ہدایت کے سرچشمے کون سے ہیں ؟ تو انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی وہ تعلیمات ہیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں اور ان ہدایات الہیہ میں سے جو ہدایات یقینی طور پر ثابت اور محفوظ ہیں وہ اسی منبع اور سرچشمہ قرآن میں ہیں جس کے بارے میں اللہ کا فیصلہ ہے کہ یہی اس کی ہدایت ہے ۔ اور یہ کہ یہ ہدایت اپنے مختار بندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ ہی بھیجتا ہے ۔ اگر یہ مختار بندے بھی اس راہ کو چھوڑ دیں اور ہدایت کے اس سرچشمے کو ترک کردیں جس سے وہ ہدایات لیتے ہیں اور نظریات و اعمال اور عقیدہ و عبادت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کردیں تو ان کا انجام بھی یہ ہوگا کہ ان کے تمام اعمال اکارت جائیں گے ‘ ضائع ہوجائیں گے اور وہ اس طرح ہلاک ہوجائیں گے جس طرح کوئی جانور زہریلی گھاس کھا کر پھول جاتا ہے اور اس کی موت واقعہ ہوجاتی ہے ۔ ” حبط “ کے لغوی معنی یہی ہیں ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ فَإِن یَکْفُرْ بِہَا ہَـؤُلاء فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْماً لَّیْْسُواْ بِہَا بِکَافِرِیْنَ (89)
” یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی ۔ اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پرواہ نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں ۔ “
یہ دوسرا نتیجہ ہے پہلی تنقیح میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مصدر ہدایت اللہ ہے ۔ اللہ کی ہدایت وہ ہے جو رسولوں کے ذریعے سے انسانوں تک پہنچی ہو ۔ دوسری میں یہ کہا گیا کہ جن رسولوں کا ذکر کیا گیا اور جن کی طرف مجمل اشارہ کیا گیا یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے کتاب ‘ حکمت ‘ حکومت اور نبوت عطا کی ۔ اس آیت ” حکم “ اپنے دونوں مفاہیم میں استعمال ہوا ہے ۔ بمعنی حکومت بھی استعمال ہوتا ہے اور حکم بمعنی مملکت سلطلنت اور اقتدار بھی استعمال ہوتا ہے اور اس آیت میں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں ۔ ان رسولوں میں سے بعض پر تو کتاب نازل کی گئی مثلا تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ‘ زبور ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ‘ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور بعض کو اقتدار دیا گیا ۔ مثلا داؤد (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) کو اور ہر ایک کو اس معنی میں اقتدار اعلی دیا گیا کہ اس کے پاس جو ہدایت ہے وہ اللہ کی جانب سے ہے اور جو دین وہ لے کر آئے ہیں لوگوں پر اسی کی حکمرانی ہوگی ۔ اللہ نے جو رسول بھی بھیجے ہیں وہ اس لئے بھیجے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے اور اللہ نے جو کتاب بھی بھیجی ہے وہ اس لئے بھیجی ہے کہ لوگوں کے درمیان اس کتاب کے مطابق فیصلے کئے جائیں جیسا کہ دوسری آیات میں آتا ہے کہ تمام نبیوں کو حکم اور نبوت دیا گیا ۔ اللہ نے اپنا دین ان ہی کے حوالے کیا تاکہ وہ لوگوں تک اسے پہنچائیں ۔ خود اس دین پر قائم رہیں ایمان لائیں اور اس کی حفاظت کریں ۔ اگر مشرکین عرب اللہ کی کتاب ‘ اس کی حکومت اور نبوت کا انکار کردیں تو اللہ کا دین انکا محتاج نہیں ۔ اللہ کے نبی اور ان کے ساتھی اس دین کے لئے کافی ہیں ۔ یہ دین ایک پرانی حقیقت ہے اور اس درخت کی جڑیں دور تک تاریخ کے اندر پھیلی ہوئی ہیں ۔ رسولوں کی کڑیاں ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں ‘ ایک کے بعد دوسرا آیا ہے اور وہی دعوت لے کر آیا ہے ۔ جس کی قسمت میں اللہ نے ہدایت یافتہ ہونا لکھ دیا تھا اس نے ان سے ہدایت لی کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھر دیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ یہ اللہ ہی جانتا تھا کہ کون ہدایت کا مستحق ہے ۔ یہ وہ تبصرہ ہے جس کے ذریعے مومنوں کے دلوں کو یقین و اطمینان کے ساتھ بھردیا جاتا ہے ‘ ہر دور کا گروہ مومن ان ہدایات سے اطمینان حاصل کرسکتا ہے ۔ چاہے تعداد میں وہ کم ہو یا زیادہ ہو ‘ کیونکہ تحریک اسلامی کے ساتھی چاہے کم ہوں اکیلے نہیں ہوتے ۔ پوری تاریخی اسلامی ان کی پشت پر ہے ۔ یہ ایک ایسا پودا ہے جس کی جڑیں زمین کے اندر دور تک گئی ہوئی ہیں اور اس کی شاخیں فضا میں دور تک بلند ہیں ۔ یہ تحریک ایک عظیم تاریخی تحریک اسلامی کی ایک کڑی ہے جس کا آخری سرا اللہ تک پہنچا ہوا ہے ۔ ایک منفرد مومن ‘ اس کرہ ارض پر جہاں بھی ہو ‘ جس قوم میں بھی ہو ‘ وہ نہایت ہی طاقتور ہے اور ایک عظیم الشان حقیقت ہے ۔ وہ اس عظیم درخت کی ایک شاخ ہے جس کی جڑیں دور تک ہیں اور انسانی فطرت کی زمین کے اندر گہرائی تک چلی گئی ہیں ۔ انسانیت کے اندر دور تک پھیلی ہوئی ہیں ‘ انسانی تاریخ کے اندر گہرائی تک گئی ہوئی ہیں اور وہ واحد مومن فرد بھی قافلہ اہل ایمان کا ایک حصہ ہے اور اس کی تاریخ زمانوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔
(آیت) ” أُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّہُ فَبِہُدَاہُمُ اقْتَدِہْ قُل لاَّ أَسْأَلُکُمْ عَلَیْْہِ أَجْراً إِنْ ہُوَ إِلاَّ ذِکْرَی لِلْعَالَمِیْنَ (90)
” اے نبی ﷺ وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے ‘ انہی کے راستہ پر تم چلو اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ وہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ‘ یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لئے تمام دنیا والوں کے لئے۔ “
یہ ایک تیسری قرار داد ہے ۔ یہ قافلہ رسل جو اہل ایمان کی جماعت کے قائد ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے راہ ہدایت دکھائی ۔ انکے پاس اللہ کی جانب سے جو ہدایات آتی رہیں وہ نبی آخر الزمان کے لئے بھی مشعل راہ ہیں ۔ ان افراد کے لئے بھی مشعل راہ ہیں جو آپ ﷺ پر ایمان لائے ہیں ۔ لہذا حضور ﷺ انہی ہدایات پر چلیں گے اور اپنی زندگی کے تمام امور میں فیصلے انہی ہدایات سے لیں گے ۔ انہی ہدایات کی طرف پوری انسانیت کو دعوت دیں گے اور آپ امت دعوت کے سامنے یوں گویا ہوں گے ۔
(آیت) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا “۔ (6 : 90) ” میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا مطالبہ نہیں کرتا “۔
(آیت) ” ھو الا ذکری للعلمین “۔ (6 : 90) ” یہ تو تمام جہان والوں کے لئے صرف ایک نصیحت ہے “۔ یہ نصیحت تمام لوگوں کے لئے ہے یہ کسی ایک نسل ایک قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور نہ قریب وبعید کے ساتھ مخصوص ہے ۔ یہ تو پوری انسانیت کے لئے ایک یاد دہانی ہے اس لئے وہ اس پر کسی اجر کا تقاضا نہیں کر رہے ۔ رسول کا اجر تو اللہ پر ہے ۔
اب آگے یہ مضمون آتا ہے کہ جو لوگ سرے سے نبوت اور رسالت کے منکر ہیں ان کا موقف درست نہیں ہے ۔ ان کی غلطی یہ ہے کہ وہ مقام الوہیت کا صحیح اندازہ نہیں کرسکے ۔ نہ اللہ کی حکمت ‘ اس کی رحمت اور اس کے انصاف کے بارے میں ان کا تصور درست ہے ۔ لہذا یہ بات جان لو کہ آخری نبوت بھی سابقہ نبوتوں اور رسالتوں کے طریق پر ہے اور یہ کتاب بھی تمام کتب سابقہ کی تصدیق وتائید کر رہی ہے ۔ تمام انبیائے سابق کی تعلیمات بھی اسی کتاب کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں ۔