Fi Zilal al-Quran — الأنعام 6:91 – الأنعام 6:160
Contents
- الأنعام 6:91
- الأنعام 6:92
- الأنعام 6:93
- الأنعام 6:94
- الأنعام 6:95
- الأنعام 6:96
- الأنعام 6:97
- الأنعام 6:98
- الأنعام 6:99
- الأنعام 6:100
- الأنعام 6:101
- الأنعام 6:102
- الأنعام 6:103
- الأنعام 6:104
- الأنعام 6:105
- الأنعام 6:106
- الأنعام 6:107
- الأنعام 6:108
- الأنعام 6:109
- الأنعام 6:110
- الأنعام 6:111
- الأنعام 6:112
- الأنعام 6:113
- الأنعام 6:114
- الأنعام 6:115
- الأنعام 6:116
- الأنعام 6:117
- الأنعام 6:118
- الأنعام 6:119
- الأنعام 6:120
- الأنعام 6:121
- الأنعام 6:122
- الأنعام 6:123
- الأنعام 6:124
- الأنعام 6:125
- الأنعام 6:126
- الأنعام 6:127
- الأنعام 6:128
- الأنعام 6:129
- الأنعام 6:130
- الأنعام 6:131
- الأنعام 6:132
- الأنعام 6:133
- الأنعام 6:134
- الأنعام 6:135
- الأنعام 6:136
- الأنعام 6:137
- الأنعام 6:138
- الأنعام 6:139
- الأنعام 6:140
- الأنعام 6:141
- الأنعام 6:142
- الأنعام 6:143
- الأنعام 6:144
- الأنعام 6:145
- الأنعام 6:146
- الأنعام 6:147
- الأنعام 6:148
- الأنعام 6:149
- الأنعام 6:150
- الأنعام 6:151
- الأنعام 6:152
- الأنعام 6:153
- الأنعام 6:154
- الأنعام 6:155
- الأنعام 6:156
- الأنعام 6:157
- الأنعام 6:158
- الأنعام 6:159
- الأنعام 6:160
الأنعام 6:91
مشرکین اپنی کج بحثی اور عناد کی وجہ سے یہ کہتی تھے کہ اللہ نے تو انسانوں میں سے کسی فرد کو رسول بنا کر بھیجا ہی نہیں ہے ۔ نہ اللہ تعالیٰ نے کوئی کتاب بھیجی ہے جو اللہ کی وحی پر مبنی ہو حالانکہ مشرکین کے پڑوس ہی میں یہودی اہل کتاب رہتے تھے اور ان مشرکین کے کبھی اس امر کا انکار نہ کیا تھا کہ وہ اہل کتاب ہیں ۔ نہ انہوں نے اس بات کا انکار کیا تھا کہ تورات اللہ کی جانب سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر اتری ۔ یہ بات وہ عناد اور محض کٹ حجتی کی خاطر کرتے تھے ۔ مقصد صرف یہ تھا کہ اس بہانے وہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کا انکار کرسکیں ۔ اسی لئے قرآن مجید یہاں ان پر تنقید کرتا ہے کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ اللہ نے کوئی کتاب کسی انسان پر نہیں اتاری تو پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بات تم کیوں نہ کہتے تھے ۔
(آیت) ” وَمَا قَدَرُواْ اللّہَ حَقَّ قَدْرِہِ إِذْ قَالُواْ مَا أَنزَلَ اللّہُ عَلَی بَشَرٍ مِّن شَیْْء ٍ “ (6 : 91)
” ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ۔ “
یہ نظریہ مشرکین مکہ دور جاہلیت میں رکھتے تھے ۔ ہر دور میں اس قسم کے لوگ ہمیشہ رہے ہیں ۔ آج دور جدید میں بھی بعض لوگوں کا یہی نظریہ ہے ۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ تمام ادیان سماوی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور ان ادیان نے بھی درجہ بدرجہ ترقی کی جس طرح انسان نے بتدریج ترقی کی ۔ یہ لوگ اس معاملے میں ان ادیان کے درمیان جو خود لوگوں نے بنائے مثلا قدیم وجدیدیت پرستیاں اور ان ادیان کے درمیان فرق نہیں کرتے جو اللہ کے فرستادہ رسول لے کر آئے اور جواب تک اپنے حقیقی اصولوں پر قائم ہیں ۔ تمام رسول پے درپے انہی ادیان پر قائم رہے ۔ اگرچہ بعض لوگوں نے ان ادیان کو قبول کیا اور بعض نے انکار کیا ۔ بعد کے زمانوں میں ان کے اصول و فروع کے درمیان تحریف واقع ہوگئی اور لوگ اس تحریف کی وجہ سے دوبارہ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے ۔ اس کے بعد اللہ نے ان قوموں کے اندر رسول بھیجنے کی ضرورت محسوس کی ۔ آخر کار دین اسلام آیا ۔ ان لوگوں کا نظریہ فقط یہ ہے کہ جس طرح انسان نے ترقی کی اسی طرح ادیان نے بھی ساتھ ساتھ ترقی کی ۔
یہ بات قدیم لوگوں نے کی یا جدید لوگوں نے ان لوگوں نے فی الحقیقت اللہ کی ذات کا صحیح اندازہ نہیں لگایا اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے فضل ‘ اس کی رحمت اور اس کے عدل کو صحیح طرح نہیں پہنچانا ۔ ان لوگوں کے نظریے کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو رسول بنا کر نہیں بھیجتا ۔ اگر اللہ کوئی رسول بھیجنا چاہتا تو کسی فرشتے کو بھیج دیتا جس طرح بعض عرب یہ کہتے تھے ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس عظیم کائنات کے عظیم خالق کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اپنی مخلوقات میں سے ایک چھوٹے سے ذرے جس کا نام کرہ ارض ہے ‘ کے اوپر بسنے والی اس حقیر مخلوق کی اس قدر فکر کرے جس طرح اہل ادیان کہتے ہیں کہ اس نے رسول بھیجے ‘ رسولوں پر کتابیں بھیجیں تاکہ ان کے ذریعے ان حقیر اہل ارض کو صحیح راستے پر لایا جائے یا جس طرح بعض قدیم اور جدید فلاسفر یہ کہتے آئے ہیں کہ نہ کوئی الہ ہے ‘ نہ کوئی وحی ہے اور نہ رسول ہیں ۔ یہ لوگوں کے ادہام ہیں اور دین کے نام پر بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں جس طرح آج کے جدید ملحد اور مادہ پرست لوگ کہتے ہیں ۔
یہ تمام لوگ دراصل اللہ کی ذات کے بارے میں اندازہ لگانے میں غلطی کرتے ہیں ۔ ایک عظیم وکریم ذات ‘ ایک رحیم اور عادل پروردگار اور ایک علیم و حکیم خالق کس طرح انسان کو بلاہدایت اور بلاحکمت وبصیرت چھوڑ سکتا ہے حالانکہ اللہ نے اس انسان کو پیدا کیا ۔ وہ اس کی خفیہ اور ظاہر ہر جبلت سے واقف ہے ۔ اس کی قوتوں اور صلاحیتوں سے باخبر ہے ۔ وہ اس کی کمزوریوں اور کوتاہیوں سے بھی واقف ہے ‘ وہ اس کی ضروریات اور اقدار کے بارے میں بھی خوب جانتا ہے ۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ اس کے لئے کچھ اصول اور پیمانے وضع نہ کرے جس کے مطابق اس کے اعمال وافعال کو جانچا جائے اور اس کی اچھائیوں اور برائیوں کی نشاندہی کی جائے ۔ اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ اس انسان کو جو عقل دی گئی ہے وہ محدود القوت ہے اور اس پر کئی فیکٹر اثر انداز ہوجاتے ہیں ۔ خواہشات نفس اور ذاتی میلانات کے وہ تابع ہوتی ہے ‘ ۔ وہ لالچ اور مفادات سے بھی متاثر ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ عقل کے ذمہ از جانب اللہ یہ فریضہ بھی عائد کیا گیا ہے کہ وہ اس زندگی کے لئے کوئی مستحکم نظام اور اصول تجویز کرے اس لئے کہ زندگی کا نظام تجویز کرنا اس کا کام نہیں ہے ‘ یہ نظام اس کے لئے منجانب اللہ آئے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کا نظام تجویز کرنے کا کام صرف عقل انسانی پر نہیں چھوڑا ہے اور نہ یہ امر اللہ تعالیٰ کی اس فطری قوت کے حوالے کیا ہے جس کی رو سے اس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے سلسلے میں اجمالی معفرت حاصل کرے ۔ مصیبت کے وقت وہ اس رب ہی کو پکارتا ہے اس لئے کہ انسان کی اس فطری قوت کے حوالے کیا ہے جس کی رو سے اس پر یہ بات لازم ہے کہ وہ اللہ کی ذات کے سلسلے میں اجمالی معرفت حاصل کرے ۔ مصیبت کے وقت وہ اس رب ہی کو پکارتا ہے اس لئے انسان کی اس فطرت سلیمہ پر بھی بعض فیکٹر دباؤ ڈال کر اسے فساد میں مبتلا کردیتے ہیں ۔ یہ فیکٹر داخلی بھی اور خارجی بھی ہو سکتے ہیں ۔ نیز انسان کو بدی کی طرف انسانوں اور جنوں کے تمام ذرائع اختیار کرتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نظام زندگی کے بارے میں انسان کو صرف وحی اور رسالت کے حوالے کرتے ہیں ۔ اس کو حکم دیتے ہیں کہ وہ اس کی ان ہدایات کی پیروی کرے جو اس نے کتابوں میں اتاری ہیں تاکہ اس کی فطرت درست اور صاف رہ سکے ۔ انکی عقل اور سوچ صحیح سمت میں کام کرسکے ۔ اور ان پر وہ عوامل نہ اندر سے اثر انداز ہو سکیں اور نہ باہر سے جو انسان کو گمراہ کرتے ہیں ۔ یہی پالیسی اللہ کی شان اور اس کے فضل وکرم اور اس کی رحمت اور عدالت اور اس کی حکمت اور علم کے شایان شان ہے ۔ اللہ کے لئے یہ بات کیسے مناسب ہو سکتی ہے کہ وہ انسان کو پیدا کرکے یونہی چھوڑ دے ۔ قیامت کے دن ان سے حساب و کتاب تو لے لیکن ان کی ہدایات کے لئے کوئی رسول نہ بھیجے حالانکہ اللہ کا اعلان ہے :
(آیت) ” وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “۔ اور ہم کسی قوم کو اس وقت تک عذاب دینے والے نہیں جب تک ان کے لئے رسول نہ بھیجیں “ ۔ اس لئے اللہ کی الوہیت کا صحیح اندازہ لگانے اور اس کی قدروقیمت کا اقرار کرنے کے لئے لازم ہے کہ یہ اعتراف کیا جائے کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے رسول بھیجے ہیں۔ ان رسولوں کا مقصد یہ رہا ہے کہ وہ لوگوں کی فطرت کو تمام آلودگیوں سے پاک کرکے ‘ اور ان کی عقل وادراک کو تمام مؤثرات سے نکال کر خالص اور آزادنہ غوروفکر کرنے کے لئے آزاد کردیں ۔ اللہ نے ان رسولوں کو دعوت کا منہاج اور طریقہ کار بھی سکھایا اور ان میں سے بعض کو کتابیں بھی دیں جو آج تک موجود ہیں جیسا کہ داؤد اور موسیٰ (علیہ السلام) ۔ نبی آخرالزمان کو قرآن کریم دیا گیا جو آج تک تمام تحریفات سے پاک ہے ۔
چونکہ ساکنان جزیرہ عرب کے ہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت معروف ومشہور تھی اور عرب اہل کتاب کو بھی جانتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے رسول کو حکم دیا کہ وہ انکے سامنے اہل کتاب اور کتاب موسیٰ کو بطور مثال پیش کریں کہ اس کا تو کبھی تم نے انکار نہیں کیا ۔
(آیت) ” قُلْ مَنْ أَنزَلَ الْکِتَابَ الَّذِیْ جَاء بِہِ مُوسَی نُوراً وَہُدًی لِّلنَّاسِ تَجْعَلُونَہُ قَرَاطِیْسَ تُبْدُونَہَا وَتُخْفُونَ کَثِیْراً وَعُلِّمْتُم مَّا لَمْ تَعْلَمُواْ أَنتُمْ وَلاَ آبَاؤُکُم (6 : 91)
” ان سے پوچھو ‘ پھر وہ کتاب جسے موسیٰ (علیہ السلام) لایا تھا ‘ جو تمام انسانوں کے لئے روشنی اور ہدایت تھی ‘ جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو ‘ کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو ‘ اور جس کے ذریعے سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو ‘ آخر اس کا نازل کرنے والا کون تھا ؟ ۔ “
اس سورة پر تبصرے کے وقت ہم نے بتایا تھا کہ ان لوگوں کا قول درست نہیں ہے کہ یہ آیت مدنی ہے ۔ انہوں نے یہ قول اس لئے اختیار کیا کہ اس میں یہ الفاظ ہیں :” جسے تم پارہ پارہ کر کے رکھتے ہو ‘ کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چھپاتے ہو۔ “ ہم نے اس موقعہ پر بتایا تھا کہ ابن جریر کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور اس میں ایک قرات یجعلونہ یبدونھا “ اور یخفون بھی ہے اس صورت میں ضمیر غائب اہل کتاب کی طرف راجع ہے ۔ اگرچہ مخاطب مشرکین مکہ ہیں لیکن بات اہل کتاب کے متعلق ہے ۔ جس طرح انہوں نے عملا کر رکھا تھا کہ تورات کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے بعض حصوںٗ کو چھپاتے تھے اور بعض کو اپنے منصوبے اور مقاصد کے مطابق ظاہر کرتے تھے ۔ یوں وہ عوام کو دھوکہ دیتے تھے اور احکام وفرائض کے ساتھ مذاق کرتے تھے ۔ یہودیوں کے ان کارناموں سے بعض عرب بھی واقف تھے ‘ جس طرح قرآن کریم بھی ان کا انکشاف کر رہا ہے تو گویا یہ آیت اخبار عن الیھود ہے جو مشرکین مکہ سے ہونے والی بات چیت کے اندر بطور جملہ معترضہ آئی ہے ۔ اس طرح یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ آیت بھی مکی ہے ‘ مدنی نہیں ہے ۔ میں سمجھتا ہوں ابن جریر کی رائے درست ہے ۔
اب مضمون ومفہوم یہ ہوگا : ” اے محمد ﷺ ان سے کہو وہ کتاب جو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے جس میں نئی روشنی انسان کو دی گئی تاکہ لوگ راہ ہدایت پائیں جبکہ یہود نے اسے پارہ پارہ کیا ‘ جس میں سے بعض حصوں کو وہ چھپاتے تھے اور بعض کو ظاہر کرتے تھے اور کتاب الہی کے ساتھ یہ مذاق وہ اپنے ذاتی مقاصد کے لئے کرتے تھے ۔ “ ذرا غور تو کرو کہ اللہ تمہیں وہ حقائق بتا رہا ہے جن کے بارے میں تم نہ جانتے تھے ‘ اس لئے تم پر یہ فرض ہے کہ اللہ کے اس فضل وکرم کا شکر ادا کرو اور سرے سے تم اس بات کے منکر نہ بن جاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے نہ وحی بھیجی ہے اور نہ کوئی کتاب نازل کی ہے ۔
یہ سوال کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں موقعہ ہی نہ دیا کہ وہ جواب دیں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ خود ہی جواب دے دیں اور فیصلہ کن اور دو ٹوک بات کردیں تاکہ کوئی تنازعہ ہی نہ رہے اور نہ ہی مزید قیل وقال کرنے کے ضرورت رہے ۔
(آیت) ” قل اللہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون “۔ (6 : 91) ” بس اتنا کہہ دو کہ اللہ ‘ پھر انہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لئے چھوڑ دو ۔ “ اللہ نے اسے نازل کیا ہے ۔ بس یہ کہہ دیں اور اس کے بعد ان کے ساتھ مزید بات چیت کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کی کٹ حجتی اور لجاجت اور ظاہر داری کو خاطر میں نہ لائیں اور پھر ان کو چھوڑ دیں کہ وہ اپنی کٹ حجتی میں مگن رہیں ۔ یہ انداز کلام نہایت ہی تہدید آمیز ہے اور اس میں ان کے لئے ایک قسم کی توہین بھی ہے۔ اس سے حق پرستی اور سنجیدگی کا اظہار بھی ہوتا ہے ۔ جب لوگوں کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہوجائے اور وہ ایسی باتیں کرنے لگیں تو مناسب یہی ہے کہ دو ٹوک انداز میں کہہ دیا جائے کہ ہماری تو یہ راہ ہے تمہاری مرضی ہے ‘ کرو۔
آگے اس کتاب جدید کے بارے میں ایک مختصر تبصرہ آتا ہے ‘ جس کے بارے میں منکرین یہ کہتے تھے کہ اللہ سرے سے کتاب نازل ہی نہیں کرتا ۔ بتایا یہ جاتا ہے کہ یہ کوئی انوکھی چیز نہیں ہے ‘ یہ تو کتاب سماوی کا آخری حلقہ ہے ۔ اللہ اس سے قبل بھی رسول بھیجتا رہا ہے ۔ اور ان میں سے جسے چاہتا ہے کتاب عطا کرتا رہا ہے ۔
الأنعام 6:92
(آیت) ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92)
(اسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ بڑی خیر و برکت والی ہے ۔ اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی ۔ اور اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو ۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ “
سنن الہیہ میں سے یہ بھی ایک سنت ہے کہ اللہ رسول بھیجا کرتا ہے ۔ یہ جدید کتاب جس کے نزول کے بارے میں یہ لوگ شک کرتے ہیں یہ ایک کتاب مبارک ہے اور خدا کی قسم فی الواقعہ یہ ایک مبارک کتاب ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہر معنی کے اعتبار سے مبارک ہے اور حقیقت کے اعتبار سے مبارک ہے ۔ اس میں اللہ کے اس وقت برکت ڈالی جب اسے نازل کیا ۔ اس اعتبار سے بھی مبارک ہے کہ جس محل اور رسول پر اسے اتارا گیا وہ بھی مبارک ہے ۔ یعنی قلب محمد ﷺ کریم اور عظیم ہیں ۔ یہ اپنے حجم اور مضامین کے اعتبار سے بھی مبارک ہے ۔ یہ انسانوں کی لکھی ہوئی طویل کتابوں کے مقابلے میں چندصفحات ہیں ۔ لیکن مفہوم ‘ ہدایات ‘ تعلیمات اور اثرات کے اعتبار سے وہ اس قدر عظیم ہے کہ انسانوں کی لکھی ہوئی دسیوں کتابیں ان کی تشریح نہیں کرسکتیں اگرچہ وہ حجم اور صفحات کے اعتبار سے قرآن کریم سے کئی گنا زیادہ کیوں نہ ہوں ۔ وہ لوگ جو اسالیب کلام ‘ خود اپنے کلام یا دوسروں کے کلام پر تبصرے اور غور وفکر کرتے ہیں اور الفاظ کے ذریعے معافی کی طرز ہائے تعبیر پر تنقیدی نگاہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ متن قرآن اظہار معانی کے اعتبار سے نہایت ہی مبارک کلام ہے اور یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی انسان اس طرز پر بات کرسکے ۔ کوئی شخص طویل ترین عبارات کے اندر بھی وہ معانی ادا نہیں کرسکتا جو قرآن نے مختصر ترین جملوں میں ادا کئے ہیں ۔ ان میں معانی کا دریا ہے ‘ اشارات اور معانی کا سیلاب ہے ‘ اور پھر نہایت ہی اثر آفریں بھی ۔ ایک پوری آیت تو اس قدر معانی ادا کرتی ہے اور اس قدر حقائق اس کے اندر سمو دیئے گئے ہوتے ہیں کہ اسے تقریر وتحریر کے بہترین نمونے اور ایک منفرد ٹکڑے کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ‘ جس کی نظیر بلیغ سے بلیغ انسانی کلام میں نہیں ملتی ۔ پھر یہ کتاب اپنے اثرات کے اعتبار سے بھی بہت ہی مبارک ہے ۔ یہ انسانی فطرت اور انسانی شخصیت کو جامعیت کے ساتھ خطا کرتی ہے اور یہ خطاب نہایت ہی لطیف پیرائے میں اور براہ راست ہوتا ہے ۔ یہ خطا نہایت ہی لطیف انداز میں فطرت کے اندر اتر جاتا ہے ۔ یوں یہ کلام فطرت انسانی کو اس کے ہر پہلو اور ہر راستے سے متاثر کرتا ہے اور اس پر یوں اثر انداز ہوتا ہے کہ کوئی اور کلام اس پر اس طرح اثر انداز نہیں ہوسکتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام میں اللہ کی جانب سے ایک قوت ودیعت کردی گئی ہے اور اس کے سوا دوسرے لوگوں کے کلام کے اندر اس قسم کی کوئی قوت نہیں ہوتی ۔
کتاب اللہ کی برکات کے بارے میں یہاں مزید کہنا ہمارے لئے ممکن نہیں اور اگر ہم اس موضوع پر کلام جاری بھی رکھیں تو اس کا حق ادا کرنا کسی انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے ۔ بس اللہ کی یہ بات کافی وشافی ہے کہ یہ کلام مبارک ہے اور فصل الخطاب پر مشتمل ہے ۔
(آیت) ” مصدق الذی بین یدیہ “۔ (6 : 92) یہ سابقہ کتب کی تصدیق کرنے والی ہے ۔ “ یعنی یہ ان تمام کتابوں کی تصدیق کرتی ہے جو کبھی بھی اللہ کی جانب سے اتری ہیں لیکن یہ کتاب ان کتابوں کی تصدیق ان کی اصلی شکل میں کرتی ہے ‘ اس شکل میں نہیں جن میں ان کتابوں کو ان کے ماننے والوں کی مختلف کانفرنسوں نے پیش کیا اور کہا کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے ۔ یہ کتاب کتب سابقہ کی تصدیق اس لئے کرتی ہے کہ اصول و عقائد کے اندر یہ کتاب جو سچائی پیش کرتی ہے ‘ وہ ان کتب سابقہ کے اندر بھی موجود ہے ۔ رہی شریعت اور قوانین تو اللہ کی سنت یہ ہے کہ اللہ ہر امت کے لئے علیحدہ شریعت اور علیحدہ منہاج وضع کیا کرتا ہے لیکن یہ منہاج اور یہ شریعت دین کے عظیم اصولوں کی روشنی میں طے ہوتے ہیں ۔
جو لوگ اسلام کی تعریف کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ یہ پہلا دین ہے جس نے مکمل توحید کا نظریہ پیش کیا اور یہ کہ رسالت اور رسولوں کے بارے میں اس دین نے سب سے پہلے مکمل تصور پیش کیا ۔ آخرت اور حساب و کتاب کے بارے میں سب سے پہلے مکمل نظریہ پیش کیا ۔ ایسے لوگوں کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام کی تعریف کریں ۔ ایسے لوگوں نے دراصل قرآن کریم کا مطالعہ نہیں کیا ہوتا ۔ اگر انہوں نے قرآن کریم کا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ لوگ بسہولت معلوم کرلیتے کہ قرآن کے مطابق تمام رسولوں نے مکمل اور خالص توحید کا نظریہ اور عقیدہ پیش کیا جس کے اندر شرک کا شائبہ تک نہ تھا ‘ اور یہ کہ تمام رسولوں نے رسالت کی حقیقت بیان کی اور سب نے یہی کہا کہ وہ کسی کے نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں ۔ وہ غیب نہیں جانتے اور یہ کہ وہ کسی کے نفع ونقصان کے ملک نہیں ہیں ۔ وہ غیب نہیں جانتے اور یہ کہ وہ کسی کے رزق میں نہ کمی کرسکتے ہیں اور نہ زیادتی ۔ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم اور امت کو آخرت کی جواب دہی کا احساس دلایا اور کہا کہ تم کو وہاں حساب و کتاب سے سابقہ پیش ہوگا ۔ تمام رسولوں نے ایک ہی قسم کے اساسی عقائد ونظریات پیش کئے ۔ قرآن کریم جو آخری کتاب ہے اس نے ان تمام سابقہ کتب کی تصدیق کی ۔ اسلام کے بارے میں یہ تعریفی جملے جن کا ذکر ہوا یورپین تصورات کا چربہ ہیں اور یورپین تصور یہ ہے کہ تمام آسمانی مذاہب ترقی پذیر ہیں اور وہ ترقی کے مختلف مراحل سے گزرے ہیں ۔ جوں جوں قوموں نے ترقی کی ‘ ان مذاہب کے تصورات میں بھی ترقی ہوتی رہی ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے کسی اصول کو منہدم کرکے اسلام کی تعریف و توصیف نہیں کی جاسکتی لہذا تمام لکھنے والوں اور تمام پڑھنے والوں کو چاہئے کہ وہ ایسی باتیں نہ لکھیں اور نہ ایسی باتیں پڑھیں ۔ اور یہ آخری کتاب کیوں نازل کی گئی ؟ تاکہ رسول اللہ ﷺ اہل مکہ اور اس کے اردگرد جو لوگ بستے ہیں ان کو ڈرائیں ۔
(آیت) ” لتنذر ام القری ومن حولھا “۔ (6 : 92) تاکہ تم ام القری اور اس کے ارد گرد بسنے والوں کو دراؤ۔ “ مکہ مکرمہ کو ام القری اس لئے کہا گیا کہ اس میں وہ گھر ہے جسے سب سے پہلے اللہ وحدہ کی عبادت کے لئے تعمیر کیا گیا اور اسے امن اور لوگوں کے آنے جانے کی جگہ قرار دیا گیا ۔ فقط انسانوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر زندہ چیز کے لئے اسے جائے امن قرار دیا گیا اور مکہ مکرمہ ہی سے تمام روئے زمین کے باشندوں کے لئے دعوت اٹھی ۔ اس سے قبل تمام انبیاء کی دعوت کبھی دعوت عامہ نہیں رہی اور یہ ام اس لیے بھی ہے کہ یہاں تمام اہل ایمان حج کے لئے آتے ہیں تاکہ یہاں سے دعوت اسلامی کو لے کر دنیا میں پھیل جائیں ۔
اس آیت سے وہ مراد نہیں جو مغربی مستشرقین سے نکالی ہے کہ دعوت اسلامی صرف اہل مکہ اور اس کے اردگرد بسنے والے لوگوں کے لئے ہے۔ مستشرقین اس آیت کا یہ مفہوم اس طرح نکالتے ہیں کہ اسے دوسرے قرآن مجید ہے کاٹ کر پڑھتے ہیں اور یہ اخذ کرتے ہیں کہ پہلے پہل حضرت نبی اکرم ﷺ کا مقصد صرف یہ تھا کہ اہل مکہ اور چند دوسرے شہروں کے لوگوں تک اپنی دعوت کو محدود رکھیں مگر بعد میں آپ نے اپنی دعوت کو پھیلائیں ۔ اس کے بعد آپ نے یہ ارادہ کیا کہ اسے اور آگے بڑھایا جائے ۔ آپ کے ذہن میں یہ خیال بعض اتفاقات کی وجہ سے پیدا ہوا یعنی مدینہ کی طرف ہجرت کرنے اور وہاں حکومت قائم ہوجانے کی وجہ سے ‘ لیکن ان لوگوں نے اسلام اور نبی اکرم ﷺ پر یہ عظیم افتراء باندھا ہے اس لئے کہ دعوت کے ابتدائی دنوں ہی میں اللہ نے حضور ﷺ کو کہہ دیا تھا ۔
(آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ اللعلمین “۔ (21 : 107) اور ہم نے تجھے پورے جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے ۔ “
(آیت) ” وما ارسلنک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا “۔ (34 : 28) اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے بشیرونذیر بنا کر بھیجا ہے ۔ “ یہ اس دور کی بات ہے جب دعوت اسلامی مکہ میں شعب ابو طالب میں محصور تھی اور اسے سخت مشکلات کا سامنا تھا ۔
(آیت) ” وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92)
” اور لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں ۔ “
اور وہ لوگ جو اس حقیقت پر ایمان لاتے ہیں کہ ایک دن ہم نے اپنی زندگی کا حساب و کتاب دینا ہے ‘ وہ اس بات پر بھی ایمان لاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لازما رسول بھیجتا ہے اور وہ رسولوں کی طرف وحی کرتا ہے ۔ ایسے لوگ قرآن مجید کی تصدیق کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے بلکہ یہ ایمان انہیں اس تصدیق پر آمادہ کرتا ہے اور پھر وہ اپنے اس ایمان بالاخرت اور ایمان بالکتاب کی وجہ سے اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں تاکہ ان کا تعلق ذات باری سے قائم و دائم ہے ۔ اور وہ نماز کی شکل میں اطاعت باری کا اظہار کرسکیں ۔ یہ انسانی نفسیات کی کیفیت ہے کہ جب کسی کے دل میں خوف آخرت پیدا ہوجائے اور اس کو قیام قیامت کا یقین ہوجائے تو ایسے نفوس اللہ کی جانب سے کتاب ہدایت کے نزول کو خود بخود مان لیتے ہیں اور اس کے بعد وہ نماز کی صورت میں اللہ کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرلیتے ہیں ۔ قرآن کریم کے اندر جابجا جن انسانی نفسیات و کیفیات کو قلم بند کیا گیا ہے ‘ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رب العالمین کا سچا کلام ہے ۔
اب آگے اس لہر اور سبق کا آخری حصہ ہے ۔ یہ حصہ ایک خوفناک اور متحرک منظر پیش کرتا ہے ۔ یہ منظر الفاظ کی تصویر کے ذریعے نظروں کے سامنے اسکرین پر ہے ۔ اس منظر کے کردار وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں اور ظالم ہیں اور جن کا وطیرہ یہ ہے کہ یہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۔ یہ جعلی مدعیان نبوت ہیں جن کا دعوی یہ ہے کہ ان کی طرف وحی آتی ہے ۔ حالانکہ ان کی طرف کوئی وحی نہیں آتی ۔ یہ وہ لوگ جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ بھی قرآن مجید جیسا کلام پیش کرسکتے ہیں ۔ یہ لوگ حالت نزع میں ہیں اور ان کا ظلم اس قدر عظیم ہے کہ اس کے بارے میں انسان سوچ میں نہیں سکتا ۔ موت کے وقت فرشتے ہاتھوں میں ذرائع عذاب لے کر ان کی جان نکالنے کے لئے حاضر ہوں گے ۔ اس وقت ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی ہوں گی اور یہ لوگ اس دنیا کی ہر چیز کا پیچھے چھوڑتے ہوئے جان دیں گے اور رخصت ہوں گے ۔
الأنعام 6:93
(آیت) ” نمبر 93 تا 94۔
حضرت قتادہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سین یہ روایت ہے کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب اور اس کی بیوی سجاح بنت حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اسود عنسی کے بارے میں بھی ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے حضور ﷺ کی زندگی میں نبوت کا دعوی کیا تھا ۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی ہے ۔ رہی یہ بات کہ (آیت) ” سانزل مثل ما انزل اللہ “۔ (6 : 93) یا جس نے کہا کہ ” میری طرف بھی وحی آئی ہے ۔ “ تو حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد عبداللہ ابن سعد ابن ابی سرح ہیں ۔ یہ ایمان لائے تھے ۔ اور یہ رسول اللہ ﷺ کے کاتب وحی تھے ۔ جب سورة المومنون کی یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین “۔ (23 : 12) تو نبی کریم ﷺ نے اسے بلایا اور اسے لکھوانا شروع کیا اور جب یہ آیات یہاں تک پہنچیں ۔
(آیت) ” ثم انشانہ خلقا اخر “۔ (23 : 14) تو عبداللہ کی تخلیق کی ان تفصیلات پر تعجب ہوا ۔ تو اس نے کہا :
(آیت) ” فتبرک اللہ احسن الخلقین “۔ (23 : 14) تو رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ اسی طرح آیت نازل ہوئی ہے ۔ اس مقام پر عبداللہ نے شک کرلیا کہ اگر محمد سچا ہو تو پھر مجھ پر بھی ویسے ہی وحی نازل ہوگئی جس طرح ان پر نازل ہوئی اور اگر ہوں تو جس طرح انہوں نے کہا ویسا ہی میں نے بھی کہا ۔ اسی طرح وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوگیا اور مشرکین سے دوبارہ مل گیا ۔ یہ ہے مصداق اس آیت کا ۔
(آیت) ” سانزل مثل ماانزل اللہ “۔ (6 : 93) (روایت کلبی عن عباس)
یہاں سیاق کلام میں ‘ ان مشرک ظالموں کے جس انجام کا ذکر ہوا ہے وہ نہایت خوفناک ‘ کربناک اور ہراساں کنندہ ہے ۔ نظر آتا ہے کہ یہ ظالم سکرات الموت کی حالت میں ہیں اور اس حالت کے لئے لفظ غمرات کا استعمال بتایا ہے کہ ان کی حالت نہایت دردناک ہوگی ۔ فرشتے ان کی جان لینے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے اور فرشتوں کی یہ گرفت بھی سزا دہی کے طور پر ہوگی ۔ یہ فرشتے ان کی روح نکال لیں گے اور پھر عذاب الہی ان کے لئے حاضر ہوگا ۔
(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذِ الظَّالِمُونَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُواْ أَیْْدِیْہِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ (93)
” کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ” لاؤ“ نکالو اپنی جان ‘ آج تمہیں ان باتوں کی پاداش مین ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے “ ۔
ان کے استکبار اور سرکشی کی وجہ سے انہیں عذاب عظیم میں مبتلا ہونا ہوگا ۔ یہ توہین آمیز سزا انہیں اس لئے دی جا رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ۔ ان تمام امور کے تذکرے سے اس منظر پر ایک خوفناک فضا طاری ہوجاتی ہے اور اس کو دیکھ کر انسان مارے خوف فضا طاری ہوجاتی ہے اور اس کا دیکھ کر انسان مارے خوف کے دہشت زدہ ہوجاتا ہے اور اس کا کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔
آخر میں یہ توبیخ اور جھڑک اس وقت ہوتی ہے جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور اللہ تعالیٰ کا خطاب ان سے ایسے حالات میں یوں ہوتا ہے ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ (6 : 94) (اور اللہ فرمائے گا) ” لو اب تم ویسے ہی تنا تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا “۔ اب تمہارے پاس فقط تمہاری ذات ہے ۔ تم بالکل اکیلے ہو ‘ تم اپنے رب کے سامنے گروہ کی شکل میں نہ ہوگے بلکہ فردا فردا جس طرح تم ماں کے پیٹ سے اکیلے اس جہان میں آئے تھے ‘ ننگا جسم اور بےیارومددگار ۔
اب تم سے تمہارے تمام یارومددگار دور ہوچکے ہیں ۔ ہر سہارا اور وسیلہ تم سے دور ہوچکا ہے ۔ اب تمہیں ان چیزوں پر بھی اختیارات حاصل نہیں ہیں جنہیں اللہ نے تمہاری ملکیت میں دیا تھا ۔
(آیت) ” وَتَرَکْتُم مَّا خَوَّلْنَاکُمْ وَرَاء ظُہُورِکُمْ “ (6 : 94) ” جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا ‘ وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو “۔
وہ مال وزینت جس کے تم دنیا میں مالک تھے ‘ وہ تم سے پیچھے رہ گیا ہے ۔ اولاد اور مرتبہ تم سے پیچھے رہ گیا ہے ۔ قوت اور اختیارات سب کے سب ختم ہوگئے ۔ یہ سب چیزیں دنیا میں رہ گئیں اور اب تمہارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے اور نہ کسی دنیاوی امر پر اب تمہیں کوئی اختیار حاصل ہے ۔
(آیت) ” وَمَا نَرَی مَعَکُمْ شُفَعَاء کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ أَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکَاء (6 : 94) ” اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے ۔ ‘
یہ لوگ جن کے بارے میں تم سمجھتے تھے کہ یہ لوگ مشکلات میں تمہاری سفارش کریں گے اور تم انہیں اپنی زندگی اور اپنے مال میں شریک ٹھہراتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ تمہارے سفارشی ہوں گے ۔ دوسری جگہ میں آتا ہے ۔
(آیت) ” ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “۔ ہم تو ان کی بندگی صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں ۔ “ چاہئے یہ شریک لوگ ہوں ‘ کاہن ہوں یا وقت کے حکمران ہوں ‘ یا پتھر ہوں یا حجر وشجر کے بت ہوں ‘ جنات ہوں یا ملائکہ ہوں ‘ ستارے ہوں یا سیارے ہوں یا اولیاء فقراء ہوں بتاؤ وہ کہاں ہیں ؟ بتوں کی نسبت یا ستاروں کی نسبت وہ اپنے جھوٹے خداؤں کی طرف کرتے تھے اور اپنے مال اور اپنی زندگی میں یہ لوگ انہیں شریک بناتے تھے ۔ اللہ میاں سوال کریں گے ‘ بتاؤ وہ کہاں گئے ؟۔
(آیت) ” لَقَد تَّقَطَّعَ بَیْْنَکُمْ “۔ (6 : 94) ” تمہارے آپس میں سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے ۔ “ تمام رابطے ٹوٹ گئے ‘ تمام تعلقات ختم ہوگئے اور تمام اسباب اور وسیلے ختم ہوگئے ۔ اب وہ تمہارے تمام مزعومہ خدا اور الہ غائب ہوگئے ہیں ‘ جس طرح شرکاء غائب ہیں اسی طرح تمہارے مزعومہ عقائد بھی کافور ہوگئے ہیں ۔ تم دیکھ رہے ہو کہ میرے ہاں اب ان کا نہ کوئی اثر ہے نہ کوئی سفارش ہے اور نہ اثر ورسوخ ہے ۔
غرض یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسان کو جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ یہ منظر نہایت ہی مجسم شکل میں اور متحرک طور پر سامنے نظر آتا ہے ۔ نفس انسانی پر اس کی چھاؤں پڑتی ہے ۔ دل میں مومن معرفت سے بھر جاتا ہے ۔ یہ سائے نہایت ہی خوفناک اور دہشتناک ہیں ۔ بیشک یہ قرآن ہی کا انداز بیان ہے اور قرآن ہی کا حصہ ہے ۔
درس نمبر 66 ایک نظر میں :
مناسب ہے کہ یہاں وہ تبصرہ ہمارے پیش نظر رہے جو ہم نے اس سورة پر کیا تھا ‘ اور یہ بات بھی ہمارے سامنے رہے کہ اس سورة کے مضامین دریا کی لہروں کی طرح ٹھاٹھیں مارتے ہوئے آرہے ہیں اور لہر کے پیچھے لہر چلی آرہی ہے اس کا انداز بیان اس حد تک خوبصورت اور اس قدر فصیح وبلیغ ہے کہ حسن تعبیر کے بارے میں انسان جس حد تک سوچ سکتا ہے ۔ اثر آفریں کلام کی جو آخری حد ہو سکتی ہے یہ سورة اس سے بھی آگے بڑھ رہی ہے ۔ ہم نے کہا تھا :
” یہ سورة اپنے اساسی موضوع کو ایک منفرد طریقے پر لے رہی ہے ۔ ہر لمحے ‘ ہر موقف اور ہر منظر میں اس کا انداز بیان خیرہ کن ہے ۔ جب انسان اس پر غور کرتا ہے اور اس کے مناظر کی سیر کرتا ہے تو احساس اس کے مناظر کا گرفتار ہوجاتا ہے اور ایک لمحہ کے لئے سانس رک سا جاتا ہے خصوصا جب انسان اس کے مناظر پر غور کرے ۔ اس کے زیروبم کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اس کے اثرات کو محسوس کرے ۔ “
” یہ سورة اپنے مشاہد ومواقف ‘ اپنے اشارات واثرات اور اپنی تقاریر وشیڈز کے ساتھ اس طرح جاری وساری ہے جس طرح کوئی لہر اور دریا اپنی امواج اور لہروں کے ساتھ جاری وساری رہتا ہے ۔ ایک لہر ساحل سے نہیں ٹکراتی کہ دوسری اٹھ رہی ہوتی ہے ۔ امواج کے اس تلاطم میں اس سورة کا دریا اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہتا ہے ۔ “
” یہ سورة اپنی امواج کے اس تلاطم کے ساتھ اور اپنی لہروں کے باہم ٹکراؤ کے روشنی میں اس قدر خوبصورت نظر آتی ہے کہ انسان مسحور ہوجاتا ہے ۔ اس خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مضامین اور مفہومات کو نہایت ہی ہم آہنگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا گیا ہے اور اس قدر اثر انگیز طریقے سے مضامین پیش کئے گئے ہیں کہ انسان کے احساسات دنگ رہ جاتے ہیں ۔ نہایت ہی زندہ ‘ متحرک ‘ ہم آہنگ اور موثر صوتی اثرات کے ذریعے نفس انسانی پر ہر جہت اور ہر سمت سے اثر انداز ہو کر اسے مسحور کردیتے ہیں ۔ “ وغیرہ وغیرہ ۔
یہ تمام خصوصیات جن کا اوپر اس سورة کے بارے میں ذکر ہوا ‘ اس سبق میں پوری طرح عیاں اور نمایاں ہیں ۔ قاری یوں محسوس کرتا ہے کہ یہ مناظر اسکرین پر یکے بعد دیگرے چل رہے ہیں ۔ چمک دمک کے ساتھ سامنے آرہے ہیں ۔ جس طرح الفاظ کا سیل رواں سامنے آتا ہے ‘ اسی طرح معانی کا بھی ایک سیلاب ہے جو امڈتا چلا آرہا ہے اور دونوں کے درمیان ہم آہنگی ہے ۔ جس طرح یہ مناظر سب کچھ دکھا رہے ہیں ‘ اسی طرح لفظی تعبیر بھی پورے مفہوم و مراد کو واضح کرتی چلی جاتی ہے اور دونوں اپنے ہدف کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
ان مناظر ومشاہد میں سے ہر منظر کسی نامعلوم خزانہ سے نہایت ہی چمک دمک اور نہایت ہی دل کشی ساتھ لے کر سامنے آتا ہے اور دل دل و دماغ اور قلب ونظر کو روشن کر کے غائب ہوجاتا ہے ۔
پھر الفاظ وعبارات اس طرح ہیں جس طرح ایک قدرتی چشمہ سے پانی پھوٹتا ہے ۔ عبارت یوں چلتی ہے جس طرح کہ گویا کسی منظر پر رننگ کمنٹری ہو رہی ہو اور الفاظ اور ان سے مراد مناظر دونوں نہایت تابانی کے ساتھ ہم قدم ہو کر چلتے ہیں ۔
یہ مناظر اور یہ تصورات اور یہ الفاظ ونعرے یوں چلتے ہیں جس طرح لہریں اور موجیں یکے بعد دیگرے ایک توازن کے ساتھ چلتی ہیں ۔ انسان کی نظریں ان کا تعاقب کرتی ہیں اور یوں کہ جس طرح چندھیا جائیں ‘ خیالات و تصورات کی اہل لہر ابھی ساحل کے ساتھ ٹکرا کر ختم نہیں ہوتی کہ تصورات کی اور بہت سی لہریں اٹھتی ہیں ۔ اس سبق یا اس لہر میں وہ تمام خواص نمایاں ہیں جن کا ہم نے سورة کے آغاز میں ذکر کیا ہے ۔
خوبصورتی اس لہر کی نمایاں خصوصیت ہے ‘ اس قدر خوبصورتی کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ اس سبق میں جو مناظر ہیں وہ بالکل صاف ہیں اور خوبصورتی کے اعتبار سے منتخب ہیں ۔ الفاظ ‘ عبارتیں اپنے مفہوم ومدلول کے اعتبار سے اور اپنے لفظی حسن کے اعتبار سے ار اپنے تصورات اور حقائق کے اعتبار سے نہایت ہی اعلی میعار کی اور حسین و جمیل ہیں ۔ غرض مفہوم اور حقائق موتیوں کی طرح چمکتے نظر آتے ہیں ۔
اس سبق کی خوبصورتی اور تروتازہ حسن کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ خود اللہ جل شانہ نے ایک منظر کے حسن و خوبی کی طرف متوجہ کیا ہے ۔ باغات کے اندر پھلوں کی تازگی اور حسن کے سلسلے میں دعوت نظارہ دی گئی ہے ۔ فرمایا گیا ہے ۔
(آیت) ” انظُرُواْ إِلِی ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَیَنْعِہِ (6 : 99) ” یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو “۔ یہ براہ راست دعوت نظارہ ہے کہ اس قدرتی جمال کو دیکھو ‘ اس پر غور کرو اور لطف اندوز ہوتے رہو۔
اب ایک ایسا مقام آتا ہے کہ یہ خوبصورتی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے ۔۔۔۔ ۔ نہایت ہی تعجب میں پڑجاتا ہے اور اس کے دل و دماغ روشن ہوجاتے ہیں ۔ اب یہ بہار اس کائنات کے دائرے سے نکل کر ماوراء کی حدود میں داخل ہوجاتی ہے ۔ اور اب یہ بہار ‘ تروتازگی اور خوبصورت بیان بدیع السماوات والارض ‘ ذات کبریا کی طرف لوٹ جاتا ہے ۔ ذات کبریا کے بارے میں یہاں جو بات کی جاتی ہے بتائی جاتی ہے اس میں معیار فصاحت وبلاغت بدستور ہے ۔ ذرا قرآن ہی کے الفاظ میں پڑھئے ۔
(آیت) ” لاَّ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (103)
” نگائیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ۔ وہ نہایت ہی باریک بین اور باخبر ہے ۔ “
اب میں ایک دوسرے پہلو کو لیتا ہوں ۔ اس سبق میں ہم اس کائنات کی کھلی کتاب کو پڑھتے ہیں ۔ اس کتاب کو غافل لوگ ہر لحظہ دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں مگر وہ کتاب کائنات کے عجائبات اور معجزات کو گہری نظر سے نہیں دیکھتے ۔ “
جو صاف اندھے ہیں انہیں تو کچھ نہیں ہی نہیں آتا ۔ وہ کیا دیکھیں کہ اس میں کیا کیا اعجوبے ہیں لیکن قرآن کریم کی یہ آیات ہمیں ایک ایک اعجوبے کے سامنے لاکھڑا کرتی ہیں ۔ یوں نظر آتا ہے کہ شاید اس سے پہلے ہم اس دنیا میں نہ تھے اور اب اس میں اتر رہے ہیں ۔ یہ آیات ہمیں اس کتاب کے عجیب و غریب نشانات کے سامنے کھڑا کردیتی ہیں ۔ اور ہمارے تجسس کو ان عجائبات کی طرف ابھارتی ہیں جن پر سے دنیا کے غافل انسان یونہی گزر جاتے ہیں ۔
اب ہم ایک ایسے خارق العادت اعجوبے کے سامنے ہیں جو رات کے ہر لحظہ میں رونما ہوتا رہتا ہے ‘ یہ کہ اس دنیا میں مردہ چیزوں سے زندہ اشیاء رات اور دن نمودار ہو رہی ہیں ۔ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ مردہ زمین سے یہ روئیدگی کس طرح نمودار ہو رہی ہے ؟ ہم اس کرہ ارض پر زندگی کے مختلف نمونے پاتے ہیں اور ہمارے پاس اس کے سوا کوئی اور تعبیر نہیں ہے کہ اللہ کے حکم اور فیصلے کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہے ۔ انسان نہ تو یہ عمل کرسکتا ہے کہ کسی مردہ چیز سے زندہ چیز کو نکالے اور نہ ہی وہ اس کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے ۔
اب ہم زمین و آسمان کے نظام کی گردش بلکہ گردشوں کے سامنے ہیں ۔ یہ گردشیں بھی عجیب ہیں ۔ زمین کی گردش جو رات دن ہو رہی ہے ‘ نہایت ہی تعجب خیز ہے اور ہر لمحہ اور ہر سیکنڈ میں اس کی تکمیل ہو رہی ہے ۔ اب ہم خود تخلیقی انسان کے سامنے ہیں ایک ہی نفس سے انسان پیدا ہوتا ہے اور اپنی نسل کشی کے نظام سے بڑھتا جاتا ہے ۔
اب ہم نباتات اگائی کے نظام کے سامنے ہیں ۔ نباتات کو زندگی مل رہی ہے ۔ بارشیں ہو رہی ہیں ‘ پھل پھول اگ رہے ہیں ‘ کیا ہی خوبصورت ہیں اور کیا ہی خوش ذائقہ ہیں ۔ ان میں قسم قسم کے حیوانات ہیں اور عجیب و غریب مناظر ہیں ‘ اگر ہم زندہ احساس اور روشن آنکھوں سے انہیں دیکھیں تو ہر ایک میں سامان عبرت ہے ۔
اب ہم اس پوری کائنات کے سامنے ہیں ۔ اب یہ ہمیں اس طرح نظر آرہی ہے گویا ہم اسے پہلی بار دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک زندی کائنات ہے ۔ وہ ہم سے پیار کرتی ہے اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں ۔ یہ رواں دواں ہے ‘ اس کی رگ رگ میں حرکت اور دوڑ ہے ۔ یہ ہمارے احساس و شعور کا دامن پکڑتی ہے اور اپنے خالق کی بات کرنا چاہتی ہے وہ اپنی انفرادی اور انوکھی حیثیت میں اللہ کی قدرت اور اس کی ذات کے لئے دلیل وبرہان ہے ۔
یہاں آکر اچانک بات کا رخ شرک باللہ کی طرف پھرجاتا ہے اور شرک اور مشرکین کی مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ اس کائنات کی فطرت اور اس کے وجود کے مزاج ہی کے خلاف تصور ہے ‘ یہ فطرت کائنات کے خلاف ہے ۔ جو شخص دلائل و شواہد کی اس بھری کائنات کا مطالعہ کرتا ہے اس کے آئینہ فطرت پر یہ ایک بدنما داغ نظر آتا ہے ۔ شرک اور اللہ کے ساتھ ! اس کائنات کا گہرا مطالعہ اسے یکسر ردکر دیتا ہے اور یوں غور کرنے والے کا دل گہرے ایمان سے بھر جاتا ہے ۔
قرآن کریم جب شخصیت انسانی کو ذات باری کے بارے میں خطاب کرتا ہے تو اس کا انداز بحث یہ ہوتا ہے ۔ دیکھو وہ تمہارا اور پوری کائنات کا خالق ہے اس نے اس کرہ ارض پر سب سے پہلے زندگی اور روئیدگی پیدا کی ۔ پھر اس نے تمام جانداروں اور نباتات کی زندگی میں نشوونما کا انتظام کیا اور ان کے اپنی پوری کائنات کی قوتوں کو ممدومعاون بنایا ۔ اللہ وہ ذات ہے کہ عالم اسباب اور اس کائنات کے اندر ہونے والے تمام تغیرات اور تصرفات صرف اس کی مرضی اور ادارے سے ہوتے ہیں ۔ اس دنیا کے تمام ظاہری اسباب کو اللہ ہی نے تاثیر بخشی ہوئی ہے ۔ لہذا تمہیں چاہئے کہ تم صرف اللہ کی بندگی کرو ۔ کیا تم اشارات فطرت کو نہیں پاتے ؟ کیا اس دنیا کی رنگا رنگ بو قلمونیاں انسان کے لئے برہان ناطق نہیں ہیں کی وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرے ‘ صرف اللہ ہی کے سامنے مراسم عبودیت بجا لائے اور اسی کے سامنے عاجزی اور خشوع کرے اور اس کی اطاعت کرے ؟ اس کائنات کی کھلی کتاب کو برائے مطالعہ پیش کرکے قرآن کریم یہ دعوت دیتا ہے کہ چونکہ تخلیق اس کی ہے رزق اس کا ہے ‘ کفالت اس کی ہے تو سلطنت اور بندگی بھی اس کی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم خدائی اور خدائی کے حقوق میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ اسی کے لئے مراسم عبودیت بجا لائیں ‘ وہی حاکم ہو اور زندگی کے تمام امور میں وہی متصرف ہو ‘ اور اس کے سوا جو بھی ان حقوق وخصائص کا مدعی ہو اس کا انکار کیا جائے ۔ اس سبق میں آتا ہے ۔
(آیت) ” ذَلِکُمُ اللّہُ رَبُّکُمْ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْْء ٍ فَاعْبُدُوہُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ وَکِیْلٌ(102)
” یہ سب کام تمہارے رب کے ہیں ۔ اس کے سوا کوئی حکم نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز کا خالق ہے ‘ پس اس کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کانگہبان ہے ۔ “ یہ ہے قرآن کریم کا منہاج استدلال کہ چونکہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز کا نگہبان ہے اس کے لئے بندگی اسی کی چاہئے وہی اس کا مستحق ہے ۔
اس سبق کے آخر میں ‘ کتاب کائنات کا کھولنے اور اس کے اندر سے خوارق ومعجزات دکھانے کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات کے ہوتے ہوئے بھی جو لوگ مزید معجزات اور خوارق عادت امور کے طالب ہیں وہ نہایت ہی کم عقل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ اب بھی منکر ہیں وہ دلائل ومعجزات کی کمی کی وجہ سے منکر نہیں ہیں بلکہ انکی چشم بصیرت میں بینائی نہیں ہے ورنہ اس کائنات میں تو ہر طرف وجود باری اور خصائص الوہیت پر دلائل ومعجزات کے انبار لگے ہوئے ہیں اور دعوت نظارہ دیتے ہیں ۔
الأنعام 6:94
(آیت) ” نمبر 93 تا 94۔
حضرت قتادہ ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ سین یہ روایت ہے کہ یہ آیت مسیلمہ کذاب اور اس کی بیوی سجاح بنت حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اسود عنسی کے بارے میں بھی ۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے حضور ﷺ کی زندگی میں نبوت کا دعوی کیا تھا ۔ انہوں نے یہ دعوی بھی کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی نازل کی ہے ۔ رہی یہ بات کہ (آیت) ” سانزل مثل ما انزل اللہ “۔ (6 : 93) یا جس نے کہا کہ ” میری طرف بھی وحی آئی ہے ۔ “ تو حضرت ابن عباس کی ایک روایت میں ہے کہ اس سے مراد عبداللہ ابن سعد ابن ابی سرح ہیں ۔ یہ ایمان لائے تھے ۔ اور یہ رسول اللہ ﷺ کے کاتب وحی تھے ۔ جب سورة المومنون کی یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” لقد خلقنا الانسان من سللۃ من طین “۔ (23 : 12) تو نبی کریم ﷺ نے اسے بلایا اور اسے لکھوانا شروع کیا اور جب یہ آیات یہاں تک پہنچیں ۔
(آیت) ” ثم انشانہ خلقا اخر “۔ (23 : 14) تو عبداللہ کی تخلیق کی ان تفصیلات پر تعجب ہوا ۔ تو اس نے کہا :
(آیت) ” فتبرک اللہ احسن الخلقین “۔ (23 : 14) تو رسول اللہ ﷺ نے کہا کہ اسی طرح آیت نازل ہوئی ہے ۔ اس مقام پر عبداللہ نے شک کرلیا کہ اگر محمد سچا ہو تو پھر مجھ پر بھی ویسے ہی وحی نازل ہوگئی جس طرح ان پر نازل ہوئی اور اگر ہوں تو جس طرح انہوں نے کہا ویسا ہی میں نے بھی کہا ۔ اسی طرح وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوگیا اور مشرکین سے دوبارہ مل گیا ۔ یہ ہے مصداق اس آیت کا ۔
(آیت) ” سانزل مثل ماانزل اللہ “۔ (6 : 93) (روایت کلبی عن عباس)
یہاں سیاق کلام میں ‘ ان مشرک ظالموں کے جس انجام کا ذکر ہوا ہے وہ نہایت خوفناک ‘ کربناک اور ہراساں کنندہ ہے ۔ نظر آتا ہے کہ یہ ظالم سکرات الموت کی حالت میں ہیں اور اس حالت کے لئے لفظ غمرات کا استعمال بتایا ہے کہ ان کی حالت نہایت دردناک ہوگی ۔ فرشتے ان کی جان لینے کے لئے ہاتھ بڑھا رہے ہوں گے اور فرشتوں کی یہ گرفت بھی سزا دہی کے طور پر ہوگی ۔ یہ فرشتے ان کی روح نکال لیں گے اور پھر عذاب الہی ان کے لئے حاضر ہوگا ۔
(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذِ الظَّالِمُونَ فِیْ غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلآئِکَۃُ بَاسِطُواْ أَیْْدِیْہِمْ أَخْرِجُواْ أَنفُسَکُمُ الْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُونِ بِمَا کُنتُمْ تَقُولُونَ عَلَی اللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ وَکُنتُمْ عَنْ آیَاتِہِ تَسْتَکْبِرُونَ (93)
” کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ” لاؤ“ نکالو اپنی جان ‘ آج تمہیں ان باتوں کی پاداش مین ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے “ ۔
ان کے استکبار اور سرکشی کی وجہ سے انہیں عذاب عظیم میں مبتلا ہونا ہوگا ۔ یہ توہین آمیز سزا انہیں اس لئے دی جا رہی ہے کہ انہوں نے اللہ پر افتراء باندھا ۔ ان تمام امور کے تذکرے سے اس منظر پر ایک خوفناک فضا طاری ہوجاتی ہے اور اس کو دیکھ کر انسان مارے خوف فضا طاری ہوجاتی ہے اور اس کا دیکھ کر انسان مارے خوف کے دہشت زدہ ہوجاتا ہے اور اس کا کلیجہ منہ کو آتا ہے ۔
آخر میں یہ توبیخ اور جھڑک اس وقت ہوتی ہے جب وہ اللہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور اللہ تعالیٰ کا خطاب ان سے ایسے حالات میں یوں ہوتا ہے ۔
(آیت) ” وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَی کَمَا خَلَقْنَاکُمْ أَوَّلَ مَرَّۃٍ (6 : 94) (اور اللہ فرمائے گا) ” لو اب تم ویسے ہی تنا تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے ہو جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا “۔ اب تمہارے پاس فقط تمہاری ذات ہے ۔ تم بالکل اکیلے ہو ‘ تم اپنے رب کے سامنے گروہ کی شکل میں نہ ہوگے بلکہ فردا فردا جس طرح تم ماں کے پیٹ سے اکیلے اس جہان میں آئے تھے ‘ ننگا جسم اور بےیارومددگار ۔
اب تم سے تمہارے تمام یارومددگار دور ہوچکے ہیں ۔ ہر سہارا اور وسیلہ تم سے دور ہوچکا ہے ۔ اب تمہیں ان چیزوں پر بھی اختیارات حاصل نہیں ہیں جنہیں اللہ نے تمہاری ملکیت میں دیا تھا ۔
(آیت) ” وَتَرَکْتُم مَّا خَوَّلْنَاکُمْ وَرَاء ظُہُورِکُمْ “ (6 : 94) ” جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا ‘ وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو “۔
وہ مال وزینت جس کے تم دنیا میں مالک تھے ‘ وہ تم سے پیچھے رہ گیا ہے ۔ اولاد اور مرتبہ تم سے پیچھے رہ گیا ہے ۔ قوت اور اختیارات سب کے سب ختم ہوگئے ۔ یہ سب چیزیں دنیا میں رہ گئیں اور اب تمہارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے اور نہ کسی دنیاوی امر پر اب تمہیں کوئی اختیار حاصل ہے ۔
(آیت) ” وَمَا نَرَی مَعَکُمْ شُفَعَاء کُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ أَنَّہُمْ فِیْکُمْ شُرَکَاء (6 : 94) ” اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے ان سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے ۔ ‘
یہ لوگ جن کے بارے میں تم سمجھتے تھے کہ یہ لوگ مشکلات میں تمہاری سفارش کریں گے اور تم انہیں اپنی زندگی اور اپنے مال میں شریک ٹھہراتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے ہاں یہ تمہارے سفارشی ہوں گے ۔ دوسری جگہ میں آتا ہے ۔
(آیت) ” ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی “۔ ہم تو ان کی بندگی صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں ۔ “ چاہئے یہ شریک لوگ ہوں ‘ کاہن ہوں یا وقت کے حکمران ہوں ‘ یا پتھر ہوں یا حجر وشجر کے بت ہوں ‘ جنات ہوں یا ملائکہ ہوں ‘ ستارے ہوں یا سیارے ہوں یا اولیاء فقراء ہوں بتاؤ وہ کہاں ہیں ؟ بتوں کی نسبت یا ستاروں کی نسبت وہ اپنے جھوٹے خداؤں کی طرف کرتے تھے اور اپنے مال اور اپنی زندگی میں یہ لوگ انہیں شریک بناتے تھے ۔ اللہ میاں سوال کریں گے ‘ بتاؤ وہ کہاں گئے ؟۔
(آیت) ” لَقَد تَّقَطَّعَ بَیْْنَکُمْ “۔ (6 : 94) ” تمہارے آپس میں سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے ۔ “ تمام رابطے ٹوٹ گئے ‘ تمام تعلقات ختم ہوگئے اور تمام اسباب اور وسیلے ختم ہوگئے ۔ اب وہ تمہارے تمام مزعومہ خدا اور الہ غائب ہوگئے ہیں ‘ جس طرح شرکاء غائب ہیں اسی طرح تمہارے مزعومہ عقائد بھی کافور ہوگئے ہیں ۔ تم دیکھ رہے ہو کہ میرے ہاں اب ان کا نہ کوئی اثر ہے نہ کوئی سفارش ہے اور نہ اثر ورسوخ ہے ۔
غرض یہ ایک ایسا منظر ہے جو انسان کو جھنجوڑ کر رکھ دیتا ہے ۔ یہ منظر نہایت ہی مجسم شکل میں اور متحرک طور پر سامنے نظر آتا ہے ۔ نفس انسانی پر اس کی چھاؤں پڑتی ہے ۔ دل میں مومن معرفت سے بھر جاتا ہے ۔ یہ سائے نہایت ہی خوفناک اور دہشتناک ہیں ۔ بیشک یہ قرآن ہی کا انداز بیان ہے اور قرآن ہی کا حصہ ہے ۔
درس نمبر 66 ایک نظر میں :
مناسب ہے کہ یہاں وہ تبصرہ ہمارے پیش نظر رہے جو ہم نے اس سورة پر کیا تھا ‘ اور یہ بات بھی ہمارے سامنے رہے کہ اس سورة کے مضامین دریا کی لہروں کی طرح ٹھاٹھیں مارتے ہوئے آرہے ہیں اور لہر کے پیچھے لہر چلی آرہی ہے اس کا انداز بیان اس حد تک خوبصورت اور اس قدر فصیح وبلیغ ہے کہ حسن تعبیر کے بارے میں انسان جس حد تک سوچ سکتا ہے ۔ اثر آفریں کلام کی جو آخری حد ہو سکتی ہے یہ سورة اس سے بھی آگے بڑھ رہی ہے ۔ ہم نے کہا تھا :
” یہ سورة اپنے اساسی موضوع کو ایک منفرد طریقے پر لے رہی ہے ۔ ہر لمحے ‘ ہر موقف اور ہر منظر میں اس کا انداز بیان خیرہ کن ہے ۔ جب انسان اس پر غور کرتا ہے اور اس کے مناظر کی سیر کرتا ہے تو احساس اس کے مناظر کا گرفتار ہوجاتا ہے اور ایک لمحہ کے لئے سانس رک سا جاتا ہے خصوصا جب انسان اس کے مناظر پر غور کرے ۔ اس کے زیروبم کو سمجھنے کی کوشش کرے اور اس کے اثرات کو محسوس کرے ۔ “
” یہ سورة اپنے مشاہد ومواقف ‘ اپنے اشارات واثرات اور اپنی تقاریر وشیڈز کے ساتھ اس طرح جاری وساری ہے جس طرح کوئی لہر اور دریا اپنی امواج اور لہروں کے ساتھ جاری وساری رہتا ہے ۔ ایک لہر ساحل سے نہیں ٹکراتی کہ دوسری اٹھ رہی ہوتی ہے ۔ امواج کے اس تلاطم میں اس سورة کا دریا اپنی رفتار سے آگے بڑھتا رہتا ہے ۔ “
” یہ سورة اپنی امواج کے اس تلاطم کے ساتھ اور اپنی لہروں کے باہم ٹکراؤ کے روشنی میں اس قدر خوبصورت نظر آتی ہے کہ انسان مسحور ہوجاتا ہے ۔ اس خوبصورتی کے ساتھ ساتھ مضامین اور مفہومات کو نہایت ہی ہم آہنگی اور خوش اسلوبی کے ساتھ ادا کیا گیا ہے اور اس قدر اثر انگیز طریقے سے مضامین پیش کئے گئے ہیں کہ انسان کے احساسات دنگ رہ جاتے ہیں ۔ نہایت ہی زندہ ‘ متحرک ‘ ہم آہنگ اور موثر صوتی اثرات کے ذریعے نفس انسانی پر ہر جہت اور ہر سمت سے اثر انداز ہو کر اسے مسحور کردیتے ہیں ۔ “ وغیرہ وغیرہ ۔
یہ تمام خصوصیات جن کا اوپر اس سورة کے بارے میں ذکر ہوا ‘ اس سبق میں پوری طرح عیاں اور نمایاں ہیں ۔ قاری یوں محسوس کرتا ہے کہ یہ مناظر اسکرین پر یکے بعد دیگرے چل رہے ہیں ۔ چمک دمک کے ساتھ سامنے آرہے ہیں ۔ جس طرح الفاظ کا سیل رواں سامنے آتا ہے ‘ اسی طرح معانی کا بھی ایک سیلاب ہے جو امڈتا چلا آرہا ہے اور دونوں کے درمیان ہم آہنگی ہے ۔ جس طرح یہ مناظر سب کچھ دکھا رہے ہیں ‘ اسی طرح لفظی تعبیر بھی پورے مفہوم و مراد کو واضح کرتی چلی جاتی ہے اور دونوں اپنے ہدف کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔
ان مناظر ومشاہد میں سے ہر منظر کسی نامعلوم خزانہ سے نہایت ہی چمک دمک اور نہایت ہی دل کشی ساتھ لے کر سامنے آتا ہے اور دل دل و دماغ اور قلب ونظر کو روشن کر کے غائب ہوجاتا ہے ۔
پھر الفاظ وعبارات اس طرح ہیں جس طرح ایک قدرتی چشمہ سے پانی پھوٹتا ہے ۔ عبارت یوں چلتی ہے جس طرح کہ گویا کسی منظر پر رننگ کمنٹری ہو رہی ہو اور الفاظ اور ان سے مراد مناظر دونوں نہایت تابانی کے ساتھ ہم قدم ہو کر چلتے ہیں ۔
یہ مناظر اور یہ تصورات اور یہ الفاظ ونعرے یوں چلتے ہیں جس طرح لہریں اور موجیں یکے بعد دیگرے ایک توازن کے ساتھ چلتی ہیں ۔ انسان کی نظریں ان کا تعاقب کرتی ہیں اور یوں کہ جس طرح چندھیا جائیں ‘ خیالات و تصورات کی اہل لہر ابھی ساحل کے ساتھ ٹکرا کر ختم نہیں ہوتی کہ تصورات کی اور بہت سی لہریں اٹھتی ہیں ۔ اس سبق یا اس لہر میں وہ تمام خواص نمایاں ہیں جن کا ہم نے سورة کے آغاز میں ذکر کیا ہے ۔
خوبصورتی اس لہر کی نمایاں خصوصیت ہے ‘ اس قدر خوبصورتی کہ انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ اس سبق میں جو مناظر ہیں وہ بالکل صاف ہیں اور خوبصورتی کے اعتبار سے منتخب ہیں ۔ الفاظ ‘ عبارتیں اپنے مفہوم ومدلول کے اعتبار سے اور اپنے لفظی حسن کے اعتبار سے ار اپنے تصورات اور حقائق کے اعتبار سے نہایت ہی اعلی میعار کی اور حسین و جمیل ہیں ۔ غرض مفہوم اور حقائق موتیوں کی طرح چمکتے نظر آتے ہیں ۔
اس سبق کی خوبصورتی اور تروتازہ حسن کا اظہار اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ خود اللہ جل شانہ نے ایک منظر کے حسن و خوبی کی طرف متوجہ کیا ہے ۔ باغات کے اندر پھلوں کی تازگی اور حسن کے سلسلے میں دعوت نظارہ دی گئی ہے ۔ فرمایا گیا ہے ۔
(آیت) ” انظُرُواْ إِلِی ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَیَنْعِہِ (6 : 99) ” یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو “۔ یہ براہ راست دعوت نظارہ ہے کہ اس قدرتی جمال کو دیکھو ‘ اس پر غور کرو اور لطف اندوز ہوتے رہو۔
اب ایک ایسا مقام آتا ہے کہ یہ خوبصورتی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے ۔۔۔۔ ۔ نہایت ہی تعجب میں پڑجاتا ہے اور اس کے دل و دماغ روشن ہوجاتے ہیں ۔ اب یہ بہار اس کائنات کے دائرے سے نکل کر ماوراء کی حدود میں داخل ہوجاتی ہے ۔ اور اب یہ بہار ‘ تروتازگی اور خوبصورت بیان بدیع السماوات والارض ‘ ذات کبریا کی طرف لوٹ جاتا ہے ۔ ذات کبریا کے بارے میں یہاں جو بات کی جاتی ہے بتائی جاتی ہے اس میں معیار فصاحت وبلاغت بدستور ہے ۔ ذرا قرآن ہی کے الفاظ میں پڑھئے ۔
(آیت) ” لاَّ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (103)
” نگائیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے ۔ وہ نہایت ہی باریک بین اور باخبر ہے ۔ “
اب میں ایک دوسرے پہلو کو لیتا ہوں ۔ اس سبق میں ہم اس کائنات کی کھلی کتاب کو پڑھتے ہیں ۔ اس کتاب کو غافل لوگ ہر لحظہ دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں مگر وہ کتاب کائنات کے عجائبات اور معجزات کو گہری نظر سے نہیں دیکھتے ۔ “
جو صاف اندھے ہیں انہیں تو کچھ نہیں ہی نہیں آتا ۔ وہ کیا دیکھیں کہ اس میں کیا کیا اعجوبے ہیں لیکن قرآن کریم کی یہ آیات ہمیں ایک ایک اعجوبے کے سامنے لاکھڑا کرتی ہیں ۔ یوں نظر آتا ہے کہ شاید اس سے پہلے ہم اس دنیا میں نہ تھے اور اب اس میں اتر رہے ہیں ۔ یہ آیات ہمیں اس کتاب کے عجیب و غریب نشانات کے سامنے کھڑا کردیتی ہیں ۔ اور ہمارے تجسس کو ان عجائبات کی طرف ابھارتی ہیں جن پر سے دنیا کے غافل انسان یونہی گزر جاتے ہیں ۔
اب ہم ایک ایسے خارق العادت اعجوبے کے سامنے ہیں جو رات کے ہر لحظہ میں رونما ہوتا رہتا ہے ‘ یہ کہ اس دنیا میں مردہ چیزوں سے زندہ اشیاء رات اور دن نمودار ہو رہی ہیں ۔ ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے کہ مردہ زمین سے یہ روئیدگی کس طرح نمودار ہو رہی ہے ؟ ہم اس کرہ ارض پر زندگی کے مختلف نمونے پاتے ہیں اور ہمارے پاس اس کے سوا کوئی اور تعبیر نہیں ہے کہ اللہ کے حکم اور فیصلے کے مطابق سب کچھ ہو رہا ہے ۔ انسان نہ تو یہ عمل کرسکتا ہے کہ کسی مردہ چیز سے زندہ چیز کو نکالے اور نہ ہی وہ اس کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے ۔
اب ہم زمین و آسمان کے نظام کی گردش بلکہ گردشوں کے سامنے ہیں ۔ یہ گردشیں بھی عجیب ہیں ۔ زمین کی گردش جو رات دن ہو رہی ہے ‘ نہایت ہی تعجب خیز ہے اور ہر لمحہ اور ہر سیکنڈ میں اس کی تکمیل ہو رہی ہے ۔ اب ہم خود تخلیقی انسان کے سامنے ہیں ایک ہی نفس سے انسان پیدا ہوتا ہے اور اپنی نسل کشی کے نظام سے بڑھتا جاتا ہے ۔
اب ہم نباتات اگائی کے نظام کے سامنے ہیں ۔ نباتات کو زندگی مل رہی ہے ۔ بارشیں ہو رہی ہیں ‘ پھل پھول اگ رہے ہیں ‘ کیا ہی خوبصورت ہیں اور کیا ہی خوش ذائقہ ہیں ۔ ان میں قسم قسم کے حیوانات ہیں اور عجیب و غریب مناظر ہیں ‘ اگر ہم زندہ احساس اور روشن آنکھوں سے انہیں دیکھیں تو ہر ایک میں سامان عبرت ہے ۔
اب ہم اس پوری کائنات کے سامنے ہیں ۔ اب یہ ہمیں اس طرح نظر آرہی ہے گویا ہم اسے پہلی بار دیکھ رہے ہیں ۔ یہ ایک زندی کائنات ہے ۔ وہ ہم سے پیار کرتی ہے اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں ۔ یہ رواں دواں ہے ‘ اس کی رگ رگ میں حرکت اور دوڑ ہے ۔ یہ ہمارے احساس و شعور کا دامن پکڑتی ہے اور اپنے خالق کی بات کرنا چاہتی ہے وہ اپنی انفرادی اور انوکھی حیثیت میں اللہ کی قدرت اور اس کی ذات کے لئے دلیل وبرہان ہے ۔
یہاں آکر اچانک بات کا رخ شرک باللہ کی طرف پھرجاتا ہے اور شرک اور مشرکین کی مذمت کی جاتی ہے ۔ یہ اس کائنات کی فطرت اور اس کے وجود کے مزاج ہی کے خلاف تصور ہے ‘ یہ فطرت کائنات کے خلاف ہے ۔ جو شخص دلائل و شواہد کی اس بھری کائنات کا مطالعہ کرتا ہے اس کے آئینہ فطرت پر یہ ایک بدنما داغ نظر آتا ہے ۔ شرک اور اللہ کے ساتھ ! اس کائنات کا گہرا مطالعہ اسے یکسر ردکر دیتا ہے اور یوں غور کرنے والے کا دل گہرے ایمان سے بھر جاتا ہے ۔
قرآن کریم جب شخصیت انسانی کو ذات باری کے بارے میں خطاب کرتا ہے تو اس کا انداز بحث یہ ہوتا ہے ۔ دیکھو وہ تمہارا اور پوری کائنات کا خالق ہے اس نے اس کرہ ارض پر سب سے پہلے زندگی اور روئیدگی پیدا کی ۔ پھر اس نے تمام جانداروں اور نباتات کی زندگی میں نشوونما کا انتظام کیا اور ان کے اپنی پوری کائنات کی قوتوں کو ممدومعاون بنایا ۔ اللہ وہ ذات ہے کہ عالم اسباب اور اس کائنات کے اندر ہونے والے تمام تغیرات اور تصرفات صرف اس کی مرضی اور ادارے سے ہوتے ہیں ۔ اس دنیا کے تمام ظاہری اسباب کو اللہ ہی نے تاثیر بخشی ہوئی ہے ۔ لہذا تمہیں چاہئے کہ تم صرف اللہ کی بندگی کرو ۔ کیا تم اشارات فطرت کو نہیں پاتے ؟ کیا اس دنیا کی رنگا رنگ بو قلمونیاں انسان کے لئے برہان ناطق نہیں ہیں کی وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرے ‘ صرف اللہ ہی کے سامنے مراسم عبودیت بجا لائے اور اسی کے سامنے عاجزی اور خشوع کرے اور اس کی اطاعت کرے ؟ اس کائنات کی کھلی کتاب کو برائے مطالعہ پیش کرکے قرآن کریم یہ دعوت دیتا ہے کہ چونکہ تخلیق اس کی ہے رزق اس کا ہے ‘ کفالت اس کی ہے تو سلطنت اور بندگی بھی اس کی ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم خدائی اور خدائی کے حقوق میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ اسی کے لئے مراسم عبودیت بجا لائیں ‘ وہی حاکم ہو اور زندگی کے تمام امور میں وہی متصرف ہو ‘ اور اس کے سوا جو بھی ان حقوق وخصائص کا مدعی ہو اس کا انکار کیا جائے ۔ اس سبق میں آتا ہے ۔
(آیت) ” ذَلِکُمُ اللّہُ رَبُّکُمْ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْْء ٍ فَاعْبُدُوہُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ وَکِیْلٌ(102)
” یہ سب کام تمہارے رب کے ہیں ۔ اس کے سوا کوئی حکم نہیں ہے ۔ وہ ہر چیز کا خالق ہے ‘ پس اس کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کانگہبان ہے ۔ “ یہ ہے قرآن کریم کا منہاج استدلال کہ چونکہ اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور ہر چیز کا نگہبان ہے اس کے لئے بندگی اسی کی چاہئے وہی اس کا مستحق ہے ۔
اس سبق کے آخر میں ‘ کتاب کائنات کا کھولنے اور اس کے اندر سے خوارق ومعجزات دکھانے کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کائنات کے ہوتے ہوئے بھی جو لوگ مزید معجزات اور خوارق عادت امور کے طالب ہیں وہ نہایت ہی کم عقل ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ اب بھی منکر ہیں وہ دلائل ومعجزات کی کمی کی وجہ سے منکر نہیں ہیں بلکہ انکی چشم بصیرت میں بینائی نہیں ہے ورنہ اس کائنات میں تو ہر طرف وجود باری اور خصائص الوہیت پر دلائل ومعجزات کے انبار لگے ہوئے ہیں اور دعوت نظارہ دیتے ہیں ۔
الأنعام 6:95
(آیت) ” نمبر 95۔
یہ وہ معجزہ ہے جس کے راز تک کوئی نہیں پہنچ سکا یہ تو بڑی بات ہوگی کہ کوئی یہ معجزہ کر دیکھائے ۔ کیا معجزہ ؟ یعنی زندگی کی تخلیق اور اس کی نشوونما اور اس کی حرکت ‘ ہر وقت ایک زندہ اور بڑھنے والے درخت سے مردہ بیج نکالتا ہے اور ایک بےجان گٹھلی ایک بڑھنے والے درخت سے نکلتی ہے ۔ پھر اس بیج اور اس گٹھلی کے اندر پوشیدہ زندگی ایک پودے اور ایک درخت کی شکل اختیار کرتی ہے ۔ یہ ایک خفیہ راز ہے جس کی حقیقت کا علم صرف اللہ کی ذات کریم کو ہے ۔ اس زندگی کا اصل مصدر اور منبع کیا ہے ‘ اس بات کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ۔ انسان نے جو بھی عملی ترقی کی ہے ‘ جس قدر زندگی کے ظاہری امور کا مطالعہ کیا ہے اور جس قدر خصائص بھی متعین کئے ہیں اس کی انتہاء پر ایک راز ہے جو غائب ہے ۔ اس سلسلے میں جس طرح پہلے انسان کا علم محدود تھا اسی طرح اس آخری دور کے ترقی یافتہ انسان کا علم بھی محدود ہے ۔ انسان صرف مظاہر اور خواص حیات سے واقف ہے لیکن اسے زندگی کے اصل منبع اور اس کی اصل ماہیت کا علم نہیں ہے ۔ صورت حال یہ ہے کہ زندگی ہماری آنکھوں کے سامنے رواں دواں ہے اور یہ معجزہ ہر لحظہ واقعہ ہوتا رہتا ہے ۔
اللہ وہ ذات ہے جس نے روز اول سے ایک مردہ حالت سے انسان کو زندگی پخشی ۔ یہ کائنات تو تھی مگر انسان نہ تھا یہ زمین تھی مگر اس پر زندگی نہ تھی ۔ پھر یہ زندگی اذان الہی سے نمودار ہوئی ۔ یہ کیسے نمودار ہوئی ؟ اس کا ہمیں علم نہیں ہے اور اس وقت سے لے کر آج تک یہ زندگی مردے سے نمودار ہو رہی ہے اور مردہ ذرات زندگی کے ذریعے زندگی پاتے ہیں ۔ یہ بےجان مواد زندہ عضوی شکل اختیار کرتا ہے ‘ اور پھر یہ زندگی خلیہ انسان کے جسم میں اور تمام جانداروں کے جسم میں داخل ہوتا ہے ۔ یہ زندہ ذرات اب مزید تغیر پذیری کے ذریعے زندہ خلیے بن جاتے ہیں اور اس کے بعد یہ زندہ خلیے پھر مرجاتے ہیں ۔ کیونکہ زندہ خلیے ہر وقت مردہ خلیوں کی شکل اختیار کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ ہو یہ زندہ شخص یا جانور ایک دن مردہ ذرات کی شکل میں تبدیل ہوجاتا ہے ۔ یہ ہے مفہوم اس جملے کا ۔
(آیت) ” یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَمُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیَِّ (95)
” وہ زندہ کو مردے سے خارج کرنے والا ہے اور مردے کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے ۔ “
اللہ کے سوا کوئی بھی یہ کام نہیں کرسکتا اور یہ بھی ناممکن ہے کہ آغاز حیات کے وقت اللہ کے سوا کوئی اور حیات پیدا کرسکے اور نہ کوئی یہ قدرت رکھتا کہ وہ مردہ ذروں کو زندہ ذروں کی شکل دے دے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو ان زندہ ذروں کو پھر مردہ ذروں کی شکل دیتا ہے اور یہ سرکل ایک ایسا سرکل ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ اس کا آغاز کب ہوا اور کب یہ سرکل ختم ہوگا ۔ سائنس دان جو قیافے لگاتے رہتے ہیں وہ محض احتمالات ہیں ۔
اس کرہ ارض پر ظہور حیات کے خصائص کے بارے میں آج تک سائنس دانوں نے جو نظریات بیان کیے ہیں ان میں سے کوئی نظریہ بھی تشفی بخش نہیں ہے ۔ صرف یہ نظریہ تشفی بخش ہے کہ اس دنیا پر تخلیق کائنات ذات باری کا کارنامہ ہے اور یورپ میں جب قرون وسطی میں عوام کنیسہ سے بھاگ کھڑے ہوئے جس طرح بدکے ہوئے گدھے ہوں یا جس طرح شیر کے ڈر سے جانور بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ۔ مذہب سے فرار اختیار کرنے والوں نے جب اس کرہ ارض پر تخلیق حیات کے راز کے عقدے کو حل کرنا چاہا ‘ پھر جب انہوں نے خود اس کائنات کی تخلیق کے رازوں سے پردہ اٹھانا چاہا ‘ اور یہ کام انہوں نے خدا کے نظریے کو اپناتے ہوئے کیا تو ان کی تمام مساعی ناکام رہیں اور بیسوی صدی میں اس موضوع پر جو کچھ بھی لکھا گیا وہ ایک مذاق کے سوا کچھ نہ تھا اور یہ تمام تحریریں عناد اور انکار مذہب پر مبنی تھیں اور کوئی مخلصانہ مساعی نہ تھیں ۔
ان سائنس دانوں میں سے بعض صحیح الفکر لوگوں نے اپنے عجز ناتوانی کا اعراف کیا ہے ۔ ایسے لوگوں کی باتوں سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس موضوع پر انسان کا علم کس قدر محدود ہے ۔ ہمارے ہاں بعض ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں جو سترہویں یا انیسویں صدی کے مغربی افکار کو نقل کرتے ہیں ۔ اور دعوی کرتے ہیں کہ وہ سائنس دان ہیں اور صرف مشاہدے کے قائل ‘ جبکہ اہل مذہب عالم غیب کو ماننے والے ہوتے ہیں ۔ ایسے لوگ کو سمجھانے کے لئے میں یہاں بعض بڑے سائنس دانوں کے اقوال نقل کرنا مناسب سمجھتا ہوں مثلا بعض امریکی علماء یہاں تک پہنچے ہیں۔
ڈاکٹر فرانک ایلن ‘ کو رنل یونیورسٹی کے گریجویٹ ہیں اور کینیڈا کی مانٹویا یونیورسٹی میں حیاتیات کے استاد ہیں ۔ اپنے ایک مقالے میں جس کا عنوان ہے ” یہ دنیا یہ یا اتفاقا وجود میں آئی یا منصوبے کے تحت “ ۔ یہ مقالہ بتجلی فی عصر العلم کتاب ترجمہ ڈاکٹر مرداش عبدالحمید سرفان سے نقل کیا گیا ہے ۔
” اگر یہ زندگی کسی سابقہ متعین منصوبے اور اسکیم کے تحت وجود میں نہیں لائی گئی تو پھر یہ اتفاقا وجود میں آگئی ہوگی ۔ وہ ” اتفاق “ کیا ہے ؟ معلوم ہونا چاہئے تاکہ ہم اس پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس ” اتفاق “ کے ذریعے زندگی کا ظہور کس طرح ہوتا ہے ۔ “
” اتفاق اور احتمال (بخت واتفاق) کے جو نظریات اس وقت پائے جاتے ہیں پہلے کی طرح نہیں ہیں ۔ دور جدید میں اب ان کے لئے ریاضی کے کچھ ٹھوس اصول اور قواعد مرتب ہوچکے ہیں اور اگر کسی موضوع پر یقینی فیصلہ نہ کی جاسکتا ہو تو ان اصولوں کے مطابق بخت واتفاق کے اصولوں کو کام میں لایا جاتا ہے اور ان اصولوں کے مطابق جو نتائج سامنے آتے ہیں وہ اقرب الی الصواب ہوتے ہیں اگرچہ ان نتائج کے غلط ہوئے کے امکان کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ریاضی کے زاویہ سے نظریہ بخت واتفاق نے کافی ترقی کرلی ہے ۔ ان قواعد اور اصولوں کے مطابق انسان کے لئے ممکن ہوگیا ہے کہ وہ بعض واقعات کے بارے میں بات کرسکے ۔ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ واقعات اتفاقا ہوگئے ہیں اور جن کے ظہور کے اسباب و عوامل دوسرے ذرائع سے معلوم نہیں ہو سکتے ۔ (مثلا تاش کے کھیل میں پھول کا پھینکنا) ان تحقیقات کی وجہ سے انسان اس بات پر قادر ہوگیا ہے کہ وہ یہ بتا سکے کہ کیا چیز اتفاقا وجود میں آجاتی ہے اور کیا امر جو اتفاقا وجود میں نہیں آسکتا ۔
(اسلامی تصورحیات کے مطابق اس دنیا میں بخت واتفاق نہیں ہے ۔ ہر چیز کی تخلیق تقدیر الہی کے مطابق ہوتی ہے ۔ ان خلقلنا کل شیء بقدر۔
(ہم نے ہر چیز کو اندازے کے مطابق تخلیق کیا) اللہ نے تخلیق کائنات کے لئے اٹل قوانین وضع کئے ہیں ۔ جو واقعات ہوتے ہی ان ہر بار سنت الہیہ کے مطابق تقدیر الہی تصرف کرتی ہے ۔ اسی طرح یہ قوانین قدرت بھی کبھی کبھی ٹال دئیے جاتے ہیں اور ایک خارق عادت معجزہ صادر ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی ایک خاص حکمت الہیہ کے مطابق ہوتا ہے کیونکہ یہ نوامیس فطرت اور خارق عادت بظاہر دونوں اللہ کی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں ۔ ہم نے جو سائنس دانوں کے حوالے دیئے ہیں تو ضروری نہیں ہے کہ ہم محولہ بالاعبارت سے پوری طرح متفق بھی ہوں) اور یہ بھی بتایا جاسکتا ہے کہ کون سا واقعہ کس قدر عرصے کے بعد اتفاقا نمودار ہوسکتا ہے ۔ اس تمہید کے بعد اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس کرہ ارض پر زندگی کا ظہور بطور اتفاق ہو سکتا ہے ۔ “
تمام زندہ خلیوں میں پروٹین بنیادی عناصر ترکیبی ہیں ۔ یہ پروٹین پانچ عناصر سے مرکب ہوتے ہیں ۔ کاربن ہائیڈوجن ‘ نائٹروجن ‘ آکسیجن اور گندھک ۔ ایک پروٹین میں چالیس ہزار ایٹم ہوتے ہیں ، کیمیاوی عناصر کی تعداد 29 ہے ۔ اور یہ سب غیر منظم اور نامعلوم مقداروں میں بکھرے ہوئے ہیں ۔
(عقل انتہائی بھی فلسفیانہ اصطلاحات میں سے ایک ہے ۔ ایک مسلمان اللہ پر صرف اس کے اسمائے حسنی ہی کا اطلاق کرسکتا ہے اس لئے اللہ پر اس لفظ کا اطلاق مناسب نہیں ہے)
ان پانچ عناصر کے آپس میں ملنے کے احتمال کے تعین کے لئے یہ ضروری ہے کہ اس مادے کی مقدار اور زمانے کا تعین ہو اور وہ مادہ مسلسل ان عناصر پر مشتمل مخلوطہ میں رہے اور پھر اس قدر طویل عرصے تک وہ مادہ یونہی رہے تاکہ اس عرصے میں ” اتفاقا “ واقعہ ہوجائے اور یوں ایک عدد پروٹین حاصل ہوجائے ۔ “ غرض یہ تعین ضروری ہے کہ کتنا مادہ کتنے عرصے کے لئے ضروری ہے ۔ “
” سوئٹزر لینڈ کے ایک ریاضی دان نے کچھ حساب لگایا ہے (چار لزیوجین جے) اس نے اس کا حساب لگا کر کہا ہے کہ احتمال کے طور پر ایک پروٹین کی تشکیل پر ایک نسبت : دس کی قیمت 160 مرتبہ لگائی جائے (1 : 160 : 1) یہ اس قدر بڑی رقم بنتی ہے کہ زبان سے اس کا ادا کرنا بھی مشکل ہے نہ الفاظ کے ذریعے اسے بیان کیا جاسکتا ہے اور بطور اتفاق اس عمل کی تکمیل کے لئے یعنی ایک پروٹین کی تشکیل کے لئے اس قدر مادے کی ضرورت ہے جس کے ساتھ اس پوری کائنات کو کئی ملین بار بھرا جاسکتا ہو اور اگر صرف روئے زمین پر اتفاقا ایک پروٹین کو پیدا کرنا ہو تو اس کے لئے کئی بلین سالوں کی ضروری ہوگی اور یعنی 10 کی ” 243 (243 : 10) یہ زمانہ مذکور ماہر طبیات نے تجویز کیا ہے ۔
” پروٹین اینوایسڈ کے طویل سلسلوں سے تشکیل پاتے ہیں ‘ تو سوال یہ ہے کہ ان جزئیات کے ذرات کی باہم تالیف کس طرح ہوتی ہے ؟ جس طرح ان کی تشکیل طبعی ہوتی ہے اگر اس کے سوا کسی اور طریق سے ان کی تالیف ہو تو وہ زندگی کے اہل ہی نہیں رہتے ‘ اور بعض اوقات ایسے پروٹین زہربن جاتے ہیں ۔ ایک برطانوی سکالر ۔ ج ۔ ب سیتھر (J.B.SeAther) نے حساب لگایا ہے کہ ان سلسلوں میں پروٹینی ایٹم کس تعداد میں ہوتے ہیں انکے نزدیک انکی تعداد (48 : 10) ہوتی ہے ۔ اس لئے عقلا یہ بات محال ہے کہ احماض امینہ کا یہ پورا سلسلہ محض اتفاقی طور پر تالیف پا جائے اور دنیا میں ایک پروٹین بن جائے ۔ “
” لیکن ان تمام باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بات پیش نظر رہے کہ پروٹین ایک کیمیاوی مادہ ہے جس کے اندر کوئی زندگی نہیں ہوتی اور اس کے اندر زندگی اس وقت تک پیدا نہیں ہوتی جب تک اس کے اندر وہ خفیہ عمل نہیں ہوجاتا جو آج تک ایک عجیب راز ہے اور جس کی حقیقت کا ہمیں کوئی علم نہیں ہے اور اس بات کو صرف ” عقل لا انتہائی “ 2۔ جانتا ہے اور یہ صرف اللہ ہے جس کی حکمت بالغہ کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے کہ یہ پروٹینی جزء مقرحیات بنتا ہے ۔ یہ حیات کی منزل ہے جسے اللہ نے بنایا ۔ اس کو ایک بہترین شکل دی ہے اور اس کو راز حیات بخشا ہے ۔ “
نباتات کی موروثی صفات کے ایک ماہر مسٹر ایرٹنگ ولیم ‘ استاد طبیعیات جامعہ ایوی مچیگن مقالے بعنوان ” صرف مادیت کافی نہیں ہے “ میں لکھتے ہیں :
سائنس اس بات پر قادر نہیں ہے کہ نہایت ہی چھوٹے ایٹم لاتعداد صورت میں کس طرح وجود میں آجاتے ہیں ‘ جن سے دنیا کے تمام مادے مرکب ہوتے ہیں اور اس طرح سائنس کوئی قابل اعتماد توجیہ نہیں کرسکتی کہ ان چھوٹے چھوٹے ایٹموں سے ذی حیات جاندار کس طرح اتفاقا بن جاتے ہیں اور یہ نظریہ کہ تمام جاندار اپنی موجودہ ترقی یافتہ صورت میں بسبب حدوث غفرات عشورئیہ اور ھجائن کے تجمعات کی وجہ سے پہلے پہنچے ایک ایسا نظریہ ہے جو کسی ایسی دلیل ومنطق کی اساس پر قائم نہیں ہے جس پر اطمینان ہوتا ہو ‘ یہ بات محض تسلیم کرلینے کی وجہ سے ہی ممکن ہے ۔ “
(یہ بھی سائنس دانوں کا خبط ہے کہ عناصر کی مقدار معلوم نہیں ہے ۔ ان عناصر کی مقدار بھی مقرر ہے)
باہلر یونیورسٹی کے پروفیسر طبیعیات ڈاکٹر البرٹ میکومب ونسٹر اپنے ایک مقالے کا عنوان یہ دیتے ہیں ” سائنس نے میرا ایمان باللہ کو مضبوط کردیا “۔ وہ لکھتے ہیں :
’ میں نے حیاتیات کے مطالعہ میں اپنے آپ کو مصروف رکھا ۔ حیاتیات وہ علم ہے جس کا موضوع زندگی ہے جس کا میدان مطالعہ بہت ہی وسیع ہے اور اللہ کی تمام مخلوقات میں سے زیادہ دلکش چیز اس دنیا کی زندہ مخلوق ہے ۔ “
” ذرا پودے کو دیکھئے ‘ یہ نہایت ہی چھوٹا پودا ہے ۔ یہ راستے کے ایک کنارے پر اگا ہوا ہے ۔ کیا آپ بیشمار انسانی مصنوعات وآلات میں سے کسی چیز کو اس کے مقابلے میں پیش کرسکتے ہیں ۔ یہ ایک زندہ آلہ ہے اور مسلسل رات دن چلتا رہتا ہے ۔ اس کے اندر ہزاروں کیمیاوی عمل اور ردعمل واقعہ ہوتے رہتے ہیں ‘ طبعی تغیرات ہوتے ہیں اور پروٹوپلازم کے تحت ہوتے ہیں ۔ یہ وہ مادہ ہے جو تمام زندہ کائنات کی ترکیب میں داخل ہوتا ہے ۔ “
” سوال یہ ہے کہ یہ زندہ اور پیچیدہ آلہ کہاں سے آگیا ؟ اسے اللہ نے صرف اس کو اس شکل میں نہیں بنایا بلکہ اللہ نے پوری زندگی کو بھی تخلیق کیا ہے اور اسے اپنے تحفظ کی قوت بھی دی ہے ۔ وہ اس زندگی کو تسلسل بھی ہے اور اس نے اس کے اندر وہ تمام خواص رکھے ہیں اور تمام خصوصی صفات اس کے اندر ودیعت کیں ہیں جن کی وجہ سے ہم ایک پودے اور دوسرے پودے کے درمیان فرق کرتے ہیں ۔ زندہ اشیاء میں اس عظیم کثرت کا مطالعہ بھی ایک عظیم اور دلچسپ موضوع ہے اور اس سے قدرت کی طاقت کی بو قلمونیوں کا اظہار ہوتا ہے ۔ وہ خلیہ جس کے ذریعے نسل کشی ہوتی ہے اور ایک نیا پودا وجود میں آتا ہے اس قدر چھوٹا ہوتا ہے کہ صرف مائیکرو سکوپ سے نظر آتا ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس پودے کے خواص ‘ ہر رگ ‘ ہر ریشہ ‘ ہر شاخ اور ہر تنا ‘ ہر جڑ اور ہر چھوٹا ریشہ ‘ ایسے انجینئروں کی زیر نگرانی سرانجام پاتا ہے کہ یہ تمام نقوش اس چھوٹے سے خلیہ کے اندر موجود ہوتے ہیں اور اس کے اندر موجود رہتے ہیں ۔ یہ انجینئرکون ہوتے ہیں ؟ یہ کروموسوم ہوتے ہیں ۔ “
میں سمجھتا ہوں کہ اس قدر حوالے کافی ہیں اب پھر ہم دوبارہ اس حسن ادا کی طرف لوٹتے ہیں جو قرآن کریک کی عبارت میں موجود ہے ۔ :
(آیت) ” ذَلِکُمُ اللّہُ رَبُّکُمْ (6 : 102) (یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ تمہارا رب ہے ۔ “ جو اس معجزہ حیات کا موجد ہے اور اس معجزے کا ظہور تسلسل سے ہو رہا ہے لیکن راز حیات کسی کو بھی معلوم نہیں ہے ۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا رب اور وہی اس بات کا مستحق ہے کہ تم لوگ اس کے حلقہ بگوش بنو ۔ اس کے ساتھ خشوع و خضوع کرو اور اس کے احکام کا اتباع کرو۔
(آیت) ” فَأَنَّی تُؤْفَکُونَ (95) ” پھر تم کدھر بہکے چلے جارہے ہو ؟ “ تم اس سچائی سے صرف نظر کر کے دوسری راہوں پر چل رہے ہو حالانکہ یہ راہ حق ہے عقلی طور پر واضح ہے ‘ دل لگتی بات ہے اور چشم بصیرت کے لئے تشفی ہے ۔
یہ معجزہ یعنی مردے سے زندہ کو نکالنا ‘ قرآن نے اس کا ذکر بار بار کیا ہے اور اس حقیقت کو بھی قرآن نے باربار دہرایا ہے کہ اللہ نے اس کائنات کو سب سے پہلے پیدا کیا گیا ہے جو بتلاتے ہیں کہ خالق خائنات وحدہ لاشریک ہے ۔ یہ اس لئے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ خالق کائنات ایک ہے اور اسی وحدہ لا شریک کی بندگی کی ضرورت ہے ۔ عقیدہ ونظریہ میں بھی وحدہ لا شریک کو مانا جائے اور ربوبیت بھی اسی وحدہ لاشریک کی تسلیم کی جائے ۔ مراسم عبودیت بھی اسی کے سامنے بجا لائے جائیں اور زندگی کے قوانین اور ضوابط بھی اسی کے احکام سے اخذ کئے جائیں ۔ صرف اسی کے نافذ کردہ قانونی نظام یعنی شریعت کی پابندی کی جائے ۔
(اس مصنف نے اس مقالے میں برٹرینڈرسل کے اس نظریے کی تردید کی ہے کہ زندگی اتفاق کے طور پر وجود میں آتی ہے اور اتفاقا چلی جاتی ہے)
قرآن کریم میں ان باتوں کا ذکر محض لاہوتی فلسفیانہ انداز میں نہیں کیا جاتا ۔ یہ دین تو بہت ہی معقول اور سنجیدہ دین ہے اور لوگوں کا وقت لاہوتی مباحث اور فلسفیانہ موشگافیوں میں ضائع نہیں کرتا ۔ دین اسلام کا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگوں کے تصور حیات کو درست کیا جائے اور انہیں صحیح افکار اور صحیح عقائد دیئے جائیں تاکہ انکی ظاہری اور باطنی زندگی درست ہو سکے ۔ لوگوں کی زندگی کی اصلاح صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کی طرف لوٹ جائیں اور اپنے جیسے انسانوں کی غلامی کا طوق اپنے گلے سے اتار پھینکیں ۔ جب تک کہ وہ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت اختیار نہ کرلیں اور روز مرہ کی زندگی میں اللہ وحدہ کی شریعت کو نہ اپنالیں ۔ حیات کے بارے میں ان کا عقیدہ اور نظریہ درست نہیں ہوسکتا ، ان کی زندگی میں ایسے لوگوں کا اقتدار نہ ہو جو زبردستی ان پر مسلط ہوگئے ہوں ‘ جو بالفاظ دیگر حق الوہیت کے دعویدار ہیں اور لوگوں کی زندگیوں پر اللہ کے حق حاکمیت کے بجائے وہ خود اپنا حق استعمال کرتے ہی ۔ یوں وہ اس دنیا کے جھوٹے خداؤں میں شامل ہوگئے ہیں انہوں نے لوگوں کی حیات دنیوی میں بگاڑ پیدا کردیا ہے اور یہ فساد محض اس لئے ہے کہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی اطاعت کرنے لگتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان باتوں پر تعقیب یہ آتی ہے ۔
(آیت) ” ذَلِکُمُ اللّہُ فَأَنَّی تُؤْفَکُونَ (95) ” یہ سارے کام تو اللہ تمہارے رب کے ہیں پھر تم کدھر بہکے چلے جارہے ہو ؟ “ تمہاری زندگی میں ربوبیت یعنی مکمل اطاعت کا مستحق تو وہی ہے ۔ رب کا مفہوم ہے مربی ‘ جس کی طرف انسان متوجہ ہو ‘ جو سردار اور حاکم ہو ‘ اپنے ان مفہومات کے ساتھ اللہ کے سوا کوئی اور رب نہیں ہے ۔
(لفظ رب کی توضیح کے لئے دیکھئے امیر جماعت اسلامی پاکستان کی کتاب المصطلحات الاربعہ فی القرآن)
الأنعام 6:96
(آیت) ” نمبر 96۔
دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے ۔ پردہ شب کو چاک کرکے وہی صبح کو نکالتا ہے ۔ وہی ہے جس نے سکون کے لئے رات بنائی ہے ‘ اور وہی ہے جس نے چاند ستاروں کی گردش کے لئے صحیح اوقات مقرر کئے ہیں ۔ ان کی گردش کے لئے ایک مقرر نظام تجویز کیا ہے اور اس نظام کو اس قدر موثر اور کنٹرول میں رکھا ہے جس سے اس کے مکمل قبضے کا ثبوت ملتا ہے اور جس سے اس کے وسیع اور محیط علم کا ثبوت ملتا ہے ۔
رات کی تاریکیوں سے سپیدہ صبح نکالنا ایک ایسا ہی عمل ہے جس طرح گٹھلی اور دانے کو پھاڑ کر اس سے پودا اور درخت نکالا جاتا ہے ۔ ایک حرکت میں صبح کی روشنی نمودار ہوتی ہے ۔ اور دوسری حرکت میں پودے کی سوئی برآمد ہوتی ہے ۔ ان دونوں مثالوں میں وجہ تشبیہ یہ ہے کہ دونوں میں حرکت ‘ زندگی خوبصورتی اور جمال ہے جبکہ دونوں حقیقتیں اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک جیسی بھی ہیں ۔
گٹھلی اور دانے کو پھاڑ کر اس سے پودوں کا اخراج جبکہ یہ جامد تھے اور رات کو تاریکیوں سے اور سکون سے صبح کی روشنی نکالنا یہ بھی وجہ مماثلت ہے ۔ گٹھلی اور رات دونوں کے اندر سکون موجود ہے ۔ اس کائنات میں صبح وشام اور وقت و سکون کاموجودہ نظام زندگی اور ہر چیز کے اگنے اور بڑھنے سے خاص تعلق رکھتا ہے ۔
زمین کا اپنے محور کے گرد گھومنا ‘ اور سورج کے سامنے ایک فاصلے اور متعین فاصلے پر رہنا ‘ چاند کا موجودہ حجم اور موجودہ فاصلہ اور موجودہ درجہ حرارت ‘ یہ وہ اندازے اور تقدیرات ہیں جن کی وجہ سے اس کرہ ارض پر زندگی ممکن ہوسکی ہے اور انہی اندازوں اور تدابیر تکوینی کی وجہ سے انسانی اور نباتاتی زندگی ممکن ہو سکتی ہے ۔ انہی کی وجہ سے گٹھلی اور دانے کو پھاڑ کر نباتات اگ سکے ہیں ۔
یہ ایک کائنات ہے جسے دقیق حسابی اور ریاضی اصولوں پر استوار کیا گیا ہے ۔ اس کے اندر ہر قسم کے ذی حیات کی زندگی کا بھی پہلے سے حساب موجود ہے ۔ اس زندگی کا مقام اور اس کی نوعیت ایک ایسی کائنات ہے جس کے اندر بخت واتفاق کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ نیز یہاں اس نظریے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ یہاں وجود بخت واتفاق سے ہے لیکن اس بخت واتفاق کے لئے حساب و کتاب اور ضابطہ مقرر ہے ۔
جو لوگ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ زندگی اس کائنات میں جاری ہے لیکن اس کائنات کو زندگی کے ساتھ کوئی ہم آہنگی نہیں ہے بلکہ کائنات زندگی کی مخالف اور دشمن ہے ۔ یہ چھوٹا ساسیارہ یعنی کرہ ارض جس کے اوپر یہ زندگی موجود ہے ‘ بتا رہا ہے کہ وہ اس زندگی کا مخالف ہے ۔ ایسے لوگوں میں بعض تو یہ کہتے ہیں کہ اگر اس کائنات کا کوئی الہ ہوتا تو وہ اس چھوٹے سے کرہ ارض اور اس پر موجود زندگی کے جھمیلوں میں نہ پڑتا اور اس قسم کے دوسرے خرافات یہ لوگ بکتے ہیں ۔ کبھی اسے علم اور سائنس کا نام دیتے ہیں کبھی اسے فلسفہ کہتے ہیں اور یہ خرافات ایسے ہیں کہ ان کی طرف کسی سنجیدہ نگاہ کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔
یہ لوگ اپنی خواہشات کی پیروی کر رہے ہیں جو ان کے نفوس پر حاوی ہیں اور ان سائنسی نتائج کو بھی تسلیم نہیں کرتے جن کا استخراج خود انہیں نے کیا ہے ۔ ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دین میں جو فیصلے کر لئے وہ ان کے خلاف کسی واضح ترین حقیقت کا سامنا کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ۔ وہ اپنے فیصلوں کو سینے سے لگا کر بھاگ رہے ہیں ۔ وہ لوگ ذات باری سے بھاگ رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنی وحدانیت کے دلائل ان کے سامنے منکشف کرتے چلے جاتے ہیں اور اس کی قدرت کے نظارے ہر طرف عام ہیں اور دعوت نظارہ دے رہے ہیں ‘ وہ ذات باری سے فرار کرتے ہوئے جو راہ بھی لیتے ہیں اس کے آخری سرے پر ذات باری پھر کھڑی ہوتی ہے ۔ یوں وہ پریشان ہو کر دوسری گلی سے بھاگتے ہیں لیکن وہاں بھی انہیں ذات باری کی حقیقت کبری نظر آتی ہے۔
یہ علمی اور عقلی دونوں لحاظ سے یتیم ہیں ‘ علمی لحاظ سے تہی دامن ہیں اور نہایت ہی بدبخت ہیں ۔ یہ لوگ کینسہ اور اس کے الہ سے بہت پہلے بھاگے تھے ‘ اس لئے کہ کینسہ نے انہیں اپنا غلام بنا لیا تھا ۔ وہ اس طرح بھاگے تھے جس طرح کسی شیر کی آمد پر گدھے بدکتے ہیں اور وہ آج تک بھاگے ہی رہے ہیں ۔ اس صدی کے اوائل تک وہ بھاگتے رہے اور آج تک سرپٹ بھاگ رہے ہیں لیکن پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھتے کہ آیا کلیسا اب بھی ان کا پیچھا کر رہا ہے یا نہیں یا خود کلیسا نے اپنا غلط موقف ترک کردیا ہے یا ابھی تک اسی موقف پر قائم ہے ۔ ان لوگوں کا سانس ابھی تک پھولا ہوا ہے لیکن بھاگ رہے ہیں ۔
یہ بدبخت خستہ حال لوگ ہیں اور ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ انہوں نے سائنس کے میدان میں جو دریافتیں کی ہیں ان کے نتائج ان کا پیچھا کر رہے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ کہاں تک بھاگتے رہیں گے ۔ فرانک ایلن جس کی تحریروں سے اس سے قبل ہم اقتباسات دیکھ آئے ہیں دنیا میں زندگی کی نمود کے بارے میں کہتے ہیں :
” زندگی کے لئے زمین کی سازگاری نے ‘ یہاں زندگی کو مختلف شکلوں میں ترقی دی ہے ۔ زندگی کی ان بوقلمونیوں کی توجیہ سے ہم محض ” اتفاق “ نہیں کرسکتے اور نہ لاادریت سے اس کی کوئی تعبیر کرسکتے ہیں اس لئے کہ یہ زمین ایک کرہ ہے جو ہوا میں معلق ہے ۔ یہ اپنے اردگرد چکر لگا رہی ہے ۔ اس کے نتیجے میں رات اور دن پیدا ہوتے ہیں اور فضاؤں میں یہ زمین سال میں ایک بار سورج کے اردگرد بھی گھومتی ہے ۔ اس کے نتیجے میں مختلف موسم آگے پیچھے آتے ہیں اور اس کی وجہ سے ہمارے اس کرے کا زیادہ سے زیادہ حصہ قابل رہائش بن جاتا ہے ۔ مختلف قسم کے نباتات اگ آتے ہیں ۔ اگر یہ زمین ایک ہی جگہ رہتی تو اس قدر اقسام کے نباتات نہ ہوتے ۔ اس کرہ ارض کے اردگرد ایک گیس اوزون کا پردہ ہے جس میں ایسی قسم کی گیسیں پائی جاتی ہیں جو زندگی کے لئے اہم ہیں ۔ ان گیسوں کا یہ خول بہت بلندی تک گیا ہوا ہے ۔ “
” یہ گیس اس قدر کثیف ہے کہ آسمانوں سے ہزاروں شہاب جو زمین کی طرف آتے ہیں وہ اس سے ٹکرا کر ٹوٹ جاتے ہیں اور یہ تیس میل ایک سیکنڈ کے حساب سے ٹوٹتے ہیں ۔ ان گیسوں کا خول اس کرہ ارض کے درجہ حرارت کو بھی کنٹرول کرتا ہے اور اسے زندگی کے لئے مناسب حدود میں رکھتا ہے ۔ ان گیسوں کی وجہ سے آبی بخارات فضاؤں میں دور تک چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ بارش میں بدل کر زمین کو موت کے بعد دوبارہ زندہ کردیتے ہیں ۔ بارش کی وجہ سے ہمیں میٹھا پانی ملتا ہے ‘ اور اگر بارشیں نہ ہوتیں تو یہ زمین ایک چٹیل میدان ہوتی اور اس میں کوئی اگنے والی چیز یا دوسری حیوانی زندگی کا کوئی نام ونشان نہ ہوتا ۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ فضا اور سطح زمین کے گرد دوسرے خول نظام طبیعی کے اندر ایک توازن پیدا کرتے ہیں ۔ “
غرض اب ایسے علمی اور سائنسی دلائل کا انبار لگ گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کرہ ارض پر آثار حیات اور اقسام حیات کی کوئی تعبیر دل لگتی تعبیر نہیں کہی جاسکتی ۔ اس زندگی کے آغاز ‘ نشوونما اور اس کے قیام دوام کے لئے جو عوامل کار فرما ہیں وہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ کائنات ایک منصوبے کے تحت وجود میں آتی ہے ۔ ان دلائل میں سے بعض وہ ہٰن جن کا ذکر علم طبیعیات کے مذکورہ بالا ماہرین نے کیا ہے ۔ ان کے علاوہ بھی بیشمار آثار و دلائل ہیں جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ اور یہ اللہ ہی کی ذات ہے ۔
(آیت) ” الذی اعطی کل شی خلقہ ثم ھدی “۔ ” جس نے زندگی دی اور پھر ہدایت دی اور جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا لیکن اندازے اور منصوبے کے ساتھ ۔ “
الأنعام 6:97
(آیت) ” نمبر 97۔
یہ نظام فلکی کے منظر کا تتمہ ہے جس کے اندر سورج چاند اور ستارے سرگرداں اور یہ پوری کائنات کے منظر کا حصہ ہے جو نہایت ہی وسیع ‘ نہایت ہی حیران کن ہے اور جس کی تمام حرکات و سکنات انسانی زندگی اور اس کے مفادات اور ضروریات کے ساتھ وابستہ ہیں ۔
(آیت) ” لِتَہْتَدُواْ بِہَا فِیْ ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ “۔ (6 : 97) ‘
” تاکہ تم ان کے ذریعے صحرا اور سمندروں کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرو۔ “
صحراؤں اور سمندروں کی دوریوں میں انسان ہمیشہ ستاروں کے زریعے راستہ معلوم کرتا آیا ہے اور آج بھی وہی نظام ہے ۔ اصول وہی ہیں اگرچہ دور جدید کے اکتشافات کی وجہ سے وسائل بدل گئے ہیں ۔ سمندری سفر کے لئے جدید آلات تیار ہوگئے ہیں لیکن اصل الاصول یہی ہے ان سفروں میں قطب شمالی اور ستاروں سے ہدایت لی جاتی ہے ۔ ظلمات البر والبحر میں حسی اور حقیقی اندھیرا بھی شامل ہے اور فکری اور تصوراتی اندھیرا بھی ۔ لہذا نص قرآن جس طرح آج سے صدیوں پہلے بامقصد تھی اسی طرح آج بھی بامقصد ار بامصداق ہے ۔ آج کی بحری زندگی میں بھی اسی اصول کے مطابق ہے۔ آج بھی قرآن انسانوں سے اسی طرح مخاطب ہے جس طرح آج سے پہلے تھا حالانکہ آج کے دور میں انسانی انفس اور آفاق میں اللہ نے انسان کو وسیع علم سے نوازا ہے لیکن آج بھی ہماری بحری سفری زندگی اسی آیت کی مصداق ہے ۔
قرآن آج بھی فطری انداز میں انسانوں کو خطاب کرتا ہے اور تکوینی حقائق انکے سامنے رکھتا ہے ۔ محض نظریاتی بنیادوں پر خطاب نہیں کرتا بلکہ ” واقعی “ صورت انسان کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو آج تک قائم ہے اس صورت میں خطاب کے نتیجے میں صانع کائنات کی کارفرمائی واضح طور پر نظر آتی ہے ۔ اللہ کی تقدیر اس کی تدبیر اور اس کی شان رحیمی عقل ونظر سے بالکل روشن نظر آتی ہے ۔ انسان بصیرت حاصل کرتا ہے ‘ اس کے ادراک کو جلا ملتی ہے اور وہ کائنات پر تدبر بھی کرتا ہے ۔ اس سے نصیحت بھی حاصل کرتا ہے اور اپنے علم ‘ اپنی معرفت اور ترقی کو اس کائنات میں کار فرما حقیقت کبری کے ادراک کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حقیقت انسان کے سامنے رکھنے کے بعد کہ اللہ بحر وبر کے اندھیروں میں ان کی راہنمائی کا انتظام کرتا ہے یہ تعقیب آتی ہے ۔
(آیت) ” قَدْ فَصَّلْنَا الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (97)
” دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ‘ ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں “۔
اس لئے کہ صحرا کی پہنائیوں اور سمندر کی تاریکیوں میں ستاروں سے ہدایت تب ہی لی جاسکتی ہے جب انسان کو ستاروں کے مداروں ‘ ان کے دوروں اور مختلف اوقات میں ان کے مواقع کے بارے میں علم حاصل ہو اور معنوی اندھیروں میں ہدایت وہ لوگ لے سکتے ہیں جنہیں علم ہو کہ یہ کائنات صانع حکیم کی بنائی ہوئی ہے جیسا کہ ہم نے کہا یہاں ہدایت سے مراد دونوں قسم کی ہدایات ہیں ‘ حسی اور بحری سفر کی ہدایات بھی اور معنوی اور گمراہی قلب ونظر کی ہدایات بھی ۔ وہ لوگ جو ستاروں کو حسی رہبری کے لئے استعمال کرتے ہیں اور اس رہبری سے اپنے خالق تک پہنچنے کی ہدایت وبصیرت اخذ نہیں کرتے وہ گویا علم سے محروم ہیں کیونکہ انہوں نے ان چیزوں سے جھوٹی اور حقیر ہدایت تولی لیکن ہدایت کبری اخذ نہ کی ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اس کائنات کا تعلق رب کائنات سے کاٹنا چاہتے ہیں اور اس کائنات کے ان دلائل سے وہ ہدایت اخذ نہیں کرتے جو مبدع عظیم پر دال ہیں ۔ صدق اللہ العظیم ۔
الأنعام 6:98
(آیت) ” نمبر 98۔
اب یہ چٹکی براہ راست ہے ‘ اور یہ ٹچ نفس انسانی اور ذات انسانی کو دیا جاتا ہے ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے انسان ایک ہی نفس سے پیدا کئے گئے ہیں کیونکہ مرد اور عورت اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی ہیں ۔ لہذا پوری بشریت ایک حقیقت واحدہ ہے مرد و عورت کے درمیان زندگی کا آغاز تناسل کے خلیہ سے شروع ہوتا ہے ۔ مثلا خلیہ جب صلب پدر میں ہوتا ہے تو وہ جائے قرار میں ہوتا ہے ۔ جب وہی خلیہ رحم مادر میں جاتا ہے تو وہ اس کے لئے سپردگی کی جگہ ہے اس کے بعد زندگی بڑھتی ہے اور پھیل جاتی ہے اور مختلف نسلوں اور رنگوں میں تقسیم ہوجاتی ہے ۔ مختلف گروہوں اور زبانوں میں بٹ جاتی ہے مختلف اقوام وقبائل میں تقسیم ہوجاتی ہے اور اس زندگی کے اس قدر نمونے بن جاتے ہیں جن کا گننا مشکل ہوجاتا ہے پھر زندگی کے اس قدر کلچر وجود میں آجاتے ہیں کہ زندگی موجود رہے گی آتے رہیں گے ۔
(نفس واحدہ سے مراد میں نے نفس انسانیت لیا ہے اس لئے کہ مجھے اس بارے میں قابل اعتماد حدیث نہیں ملی کہ حوا آدم سے پیدا
کیا گیا)
(آیت) ” قَدْ فَصَّلْنَا الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (97)
” دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ‘ ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں “۔
یہاں فقیہ وہ شخص ہوگا ‘ جو اس نفس انسانی کی تخلیق کے بارے میں اللہ کی کاریگری کا ادراک رکھتا ہو اور پھر اس بات میں مہارت رکھتا ہو کہ ایک انسان آگے جا کر کن کن کلچروں اور نمونوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اور یوں انسان ایک نفس کو بذریعہ نسل آگے بڑھاتا چلا جاتا ہے ۔ اس عمل سے بیشمار مرد اور عورتیں پیدا ہوتے رہتے ہیں اور انسانی آبادی بڑھتی رہتی ہے ۔ یہ تمام کام اللہ کی اس حکمت کے نتیجے میں پورا ہوتا ہے جسے اس نے نظام زوجیت کے ذریعے فرض قرار دیا ۔ جس کے ذریعے آبادی بڑھتی ہے ‘ بچوں کی نشوونما دائرہ انسانیت کے اندر ہوتی ہے اور وہ آئندہ زندگی میں وظیفہ انسانیت ادا کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں ۔
ہم یہاں ظلال القرآن میں اس موضوع کی پوری تفصیلات نہیں دے سکتے جس سے انسانیت کے دونوں اصناف کے درمیان تمام تعلقات کو زیر بحث لا سکیں ۔ اس کے لئے تو علیحدہ ایک کتاب کی ضرورت ہے ۔
(دیکھئے کتاب خصائص التصور الاسلامی میں بحث حقیقۃ الحیاۃ)
لیکن یہاں اس قدر تذکرے کی بہرحال ضرورت ہے کہ نطفے سے مرد اور عورت کس طرح پیدا ہوجاتے ہیں اور کس طرح ایک غیبانی قوت اور قدرت الہی مرد اور عورتوں کی تعداد کو برابر رکھتی ہے تاکہ آئندہ نسل کشی کے لئے اور سلسلہ توالد وتکاثر کو جاری رکھنے کے لئے مناسب انتظام ہو ۔ اس سے قبل ہم نے آیت ۔
(آیت) ” وعندہ مفاتح الغیب لا یعلمھا الا ھو “۔ (6 : 59) کی تفسیر میں کہا تھا کہ مرد کے مادہ منویہ کے اندر جو کروموسوم ہوتے ہیں اور جب ان کا التفاء عورت کے انڈے کے ساتھ ہوتا ہے تو اس وقت صرف تقدیر الہی ہوتی ہے جو مذکر کروموسوم کو مؤنث کروموسوم پر ترجیح دیتی ہے یا اس کے برعکس فیصلہ کرتی ہے اور یہ ترجیح از جانب تقدیر الہی غیب الہی ہے ۔ اس معاملے میں کسی انسان کو کوئی اختیار نہیں ہے ۔
یہ تقدیر فیصلہ کرتی ہے اور کسی کو لڑکا عطا ہوتا ہے اور کسی کو لڑکی ۔ یہ تقدیر تمام روئے زمین پر مردوں اور عورتوں کی تعداد کے اندر مطلوب توازن کو برقرار رکھتی کہ کس قدر مرد درکار ہیں اور کس قدر عورتیں ۔ چناچہ آج تک پوری انسانیت کی سطح پر اس توازن کے اندر کوئی فرق نہیں پڑا اور اس توازن کے ذریعے سلسلہ توالد وتکاثر آج تک جاری وساری ہے ۔ یہ درست ہے کہ اگر مرد کم ہوں تو بھی توالد وتکاثر کا سلسلہ جاری رہ سکتا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کی تقدیر اور اسکیم کا مطلب فقط یہ تھا کہ انسانوں کے درمیان نہ صرف نسل کشی کا انتظام کر دیاجائے بلکہ ساتھ یہ بھی مطلوب تھا کہ حیوانی سطح سے اوپر جا کر انسان کی ازدواجی زندگی میں توازن اور استحکام پیدا ہو ‘ کیونکہ اس استحکام کے بغیر مقاصد انسانیت کی تکمیل ممکن نہ ہوتی ۔ ان میں سب سے اہم مقصد یہ تھا کہ ماں باپ کی پرورش کے بغیر بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر ممکن نہ تھی یعنی ایک خاندان کی خوشگوار فضا کے اندر تاکہ یہ بچے آئندہ زندگی میں اپنا انسانی کردار ادا کرسکیں ۔ صرف یہ نہ ہو کہ بچے ایک حیوان کی طرح مادی زندگی کے لحاظ سے بلوغ تک پہنچ جائیں ۔ انسانی کردار یہ بچے تب ہی ادا کرسکتے ہیں جب یہ ایک پرسکون خاندانی زندگی میں ماں اور باپ دونوں کی پرورش میں ایک طویل عرصے تک رہیں کیونکہ انسانی بچہ حیوانات کے مقابلے میں ایک طویل عرصے تک بچپن میں ہوتا ہے اور محتاج ہوتا ہے ۔
مرد اور عورتوں کی تعداد کے درمیان یہ توازن اس بات پر کافی وشافی دلیل ہے کہ اس کائنات میں خالق کائنات کی تدبیر ‘ حکمت اور اس کی تقدیر کس طرح ہر وقت کارفرما ہے لیکن یہ دلیل اور نشانی صرف ان لوگوں کیلئے ہے جو فقیہ ہیں (لقوم یفقھون) رہے وہ لوگ جو اندھے ہیں اور حقیقت ان کی نظروں سے اوجھل ہے تو ان کی نابینائی کا کوئی علاج نہیں ہے ۔ ان کے سرخیل وہ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو سائنس دان کہتے ہیں اور کسی غیبی حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ وہ عالم الغیب تسلیم کرنے والوں کے ساتھ مذاق کرتے ہیں تو ایسے لوگ ان آیات الہیہ کو اس طرح پڑھ کر گزر جاتے ہیں جس طرح اندھے گزر جاتے ہیں ۔ ان لوگوں کی نظروں سے حقیقت اوجھل رہتی ہے اور ان کی حالت یہ ہوتی ہے ۔
(آیت) ” وان یروا کل ایۃ لا یومنون بھا “ وہ جو نشانی بھی دیکھیں ‘ اس پر ایمان نہیں لاتے ۔
اب اگلی آیت میں اس زندگی کا منظر سامنے لایا جاتا ہے جو اس کرہ ارض پر ہر طرف نظر آتی ہے اور آنکھیں ہر روز اسے دیکھتی ہیں ۔ حواس کے دائرے کے اندر سے اور اس کو دیکھ کر دل و دماغ اس کے بارے میں سوچتے بھی ہیں ۔ ہمارے ادراک کو اس میں اللہ کی تخلیق اور کاریگری صاف صاف نظر بھی آتی ہے ۔ کلام الہی اسے اسی طرح پیش کرتا ہے جس طرح یہ چیزیں نظر آتی ہیں اور ان کے مختلف رنگ اور مختلف مناظر پیش کرکے ذرا نظروں کو ان کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے ‘ مختلف شکلیں اور مختلف قسمیں سامنے لائی جاتی ہیں ‘ انسانی وجدان کو بتایا جاتا ہے کہ زندگی کی نشوونما کو دیکھے اور یہ سمجھنے کی کوشش کرے کہ قدرت نے کیسی کیسی چیزیں پیدا کی ہیں ۔ قلب انسانی کو اس طرح متوجہ کیا جاتا ہے کہ اس نظام کی خوبصورتی کو بھی ذرا دیکھے اور لطف اندوز ہو ۔
الأنعام 6:99
(آیت) ” نمبر 99 ۔
قرآن کریم میں جب بھی حیاتیات اور نباتات کا ذکر ہوتا ہے اس دوران پانی کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے ۔
(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاء ِ مَاء ً فَأَخْرَجْنَا بِہِ نَبَاتَ کُلِّ شَیْْءٍ “۔ (6 : 99)
” اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا ‘ پھر اس کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائیں ۔ “
ہر چیز کی پیدائش میں پانی کا جو کردار ہے وہ بالکل ظاہر ہے اور اس کے بارے میں ایک پسماندہ اور ترقی یافتہ انسان دونوں یکساں طور پر جانتے ہیں ۔ عالم اور جاہل دونوں جانتے ہیں لیکن قرآن کریم نے ظاہری طور پر عوام کے لئے جو کچھ کہا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کی تخلیق میں پانی کا کردار کہیں زیادہ ہے ۔ مثلا سطح زمین پر مٹی کی فراہمی پانیوں کی مرہون منت ہے ۔ یہ بات میں ان نظریات کی اساس پر کہہ رہا ہوں جو اس وقت سطح زمین کے بارے میں معروف ہیں ۔ (اگر وہ درست ہوں) مثلا یہ کہ ابتداء میں سطح زمین آگ کا گولہ تھی ‘ اس کے بعد وہ سخت ہوگئی اس قدر سخت کہ سطح زمین پر نباتات اگنے کے لئے کوئی مٹی نہ تھی ‘ اس کے بعد فضائی عوامل اور پانی کی وجہ سے سطح زمین پر مٹی جمع ہونا شروع ہوئی اور اس کے بعد اس زمین کو تروتازہ اور سرسبز رکھنے کے لئے پانی اہم کردار ادا کرتا رہا ۔ اس کے بعد آسمانوں میں بجلیوں کی چمک کی وجہ سے برف اور بارشوں کے ساتھ ایسی نائٹروجن گرتی رہی جو پانیوں میں تحلیل ہو سکتی تھی اور اس طرح زمین کے اندر روئیدگی شروع ہوگئی ۔ یہ وہ کھاد ہے ‘ جسے آج انسان انہیں قوانین قدرت کے اصول کو اپنا کر بنا رہے ہیں اور یہ وہ مادہ ہے کہ اگر روئے زمین اس سے خالی ہوجائے تو زمین کے اوپر کوئی تروتازگی نہ رہے گی ۔
(آیت) ” فَأَخْرَجْنَا مِنْہُ خَضِراً نُّخْرِجُ مِنْہُ حَبّاً مُّتَرَاکِباً وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِہَا قِنْوَانٌ دَانِیَۃٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّیْْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِہاً وَغَیْْرَ مُتَشَابِہٍ “۔ (6 : 99)
” پھر اس سے ہرے بھرے کھیت اور درخت پیدا کئے پھر ان سے تہہ بہ تہہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھولوں کے گچھے پیدا کئے جو بوجھ کے مارے جھکے پڑتے ہیں اور انگور ‘ زیتوں اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیت جدا جدا بھی ہے ۔ “
ہر ہرا پودا تہ بہ تہ چڑھے ہوئے دانے دیتا ہے ۔ مثلا خوشے وغیرہ ۔ اور کھجور کے درخت کے اوپر چھوٹی چھوٹی شاخیں نکلتی ہیں ۔ (قنو۔ جمع قنوان) یعنی ہو شاخ جس پر کھجوریں لگتی ہیں ۔ پھر (قنوان دانیۃ (6 : 99) شاخیں جھکی ہوئی بھی ایک نہایت ہی دل پسند اور لطیف ترکیب ہے ۔ یہ پورا منظر یوں نظر آتا ہے کہ گویا ہرے بھرے کھیتوں اور باغ کی گھنی چھاؤں کے درمیان انسان سیر کر رہا ہو جس میں انگوروں کے باغ اور زیتون کے باغات ہیں ۔ یہ نباتات اپنی مختلف اقسام اور خاندانوں کے اعتبار سے ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتے بھی ہیں اور علیحدہ خصوصیات کے بھی مالک ہے ۔
(آیت) ” انظُرُواْ إِلِی ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَیَنْعِہِ “۔ (6 : 99)
” یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو ‘ ‘۔
تیز احساس اور بیدار دل کے ساتھ ان کی طرف دیکھو ‘ یہ کس قدر تروتازہ ہیں اور جس وقت یہ پکتے ہیں تو کس قدر خوبصورت نظر آتے ہیں ۔ دیکھو اور ان خوبصورت مناظر کو دیکھ کر لطف حاصل کرو۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ تم ان کے پھلوں کو کھاؤ جب وہ پھل دے دیں بلکہ یہ کہا کہ تم غور کی نظر سے دیکھو کہ کس طرح پھل لگتا ہے اور کس خوبصورتی کے ساتھ پکتا ہے اس لئے کہ یہاں خوبصورتی کے اظہار کا اور دعوت نظارہ کا مقام ہے ۔ پھر ان مناظر کا گہری نظر سے مطالعہ کرکے اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے کا مقام ہے ۔ نیز اللہ کی کاریگری اور اس کی صنعت کاریوں پر فکر و تدبر کا مقام ہے ۔
(آیت) ” إِنَّ فِیْ ذَلِکُمْ لآیَاتٍ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ (99)
” ان چیزوں میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں “۔
ایمان ہی وہ نعمت ہے جس سے دل کھل جاتا ہے اور جس کے ذریعے بصیرت روشن ہوتی ہے اور فطرت میں کسی حقیقت کو قبولیت اور تسلیم کرنے کی جو صلاحیت ہوتی ہے اور وہ اجاگر ہوجاتی ہے ۔ ذات انسانی کا ربط اس کائنات کے ساتھ پیدا ہوجاتا ہے اور انسان کا وجدان اس پوری کائنات کے خالق اللہ پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے ورنہ بعض دل ایسے ہوتے ہیں جو بند ہوتے ہیں اور بعض لوگوں کی بصیرت تاریک ہوجاتی ہے ۔ ان کی فطرت کا رخ الٹے پاؤں کی طرف ہوتا ہے ۔ وہ اللہ کی ان کاری گریوں اور صنعت کاریوں کو دیکھتے ہیں ۔ ان تمام آیات و دلائل کو دیکھتے ہیں لیکن انہیں کوئی احساس نہیں ہوتا اور نہ وہ سچائی کو قبول کرتے ہیں ۔
(آیت) ” انما یستجیب الذین یسمعون “۔ قبول تو وہ لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں “۔ اور ان آیات ونشانات کو صرف وہ لوگ پاتے ہیں جو صاحب ایمان ہوں ۔
جب بات یہاں تک پہنچتی ہے تو انسان کے قلب ونظر کے سامنے اس پوری کائنات کی کتاب کو پیش کردیا جاتا ہے جو اللہ کے وجود کے دلائل ‘ اس کی وحدانیت ‘ اس کی قدرت اور اس کی تدبیر کے مختلف مظاہر سے بھری پڑی ہے اور انسانی وجدان کو اس کائنات کے پر تو نے اچھی طرح ڈھانپ لیا ۔ انسانی ضمیر نے انسانی زندگی کو بدل کر رکھ دیا اور انسانی ضمیر اللہ کی حکیمانہ صنعت وخلاقی کا اعتراف کرنے لگا ، جب بات اس مقام پر پہنچ گئی تو اب مشرکین کے افعال شرکیہ کو پیش کیا جاتا ہے ۔ ایسے حالات میں کہ شرک انسان کو غیر مانوس اور انوکھا لگتا ہے اور معرفت کرد گار کی اس فضا میں اور اعتراف مبدع خلائق کے ان تصورات میں جب مشرکین کے افکار وبیمہ کو پیش کیا جاتا ہے تو وہ بالکل پوچ اور بےبنیاد نظر آتے ہیں اور ایک سلیم الفطرت انسان کا مزاج ان سے ابا کرتا ہے ۔ انسانی فہم وادراک اور انسانی عقل اسے مسترد کردیتی ہے اور فورا ان شرکیہ تصورات پر تنقید کی جاتی ہے اور اس انکار اور تنبیہ کے لئے فضا بالکل تیار ہے ۔
الأنعام 6:100
(آیت) ” نمبر 100 تا 101۔
عرب کے بعض مشرکین جنوں کی عبادت کرتے تھے ‘ لیکن ان کو علم نہیں تھا کہ جن ہیں کیا ۔ البتہ یہ انہیں ایک وہمی سی مخلوق سمجھتے تھے اور یہ بتوں کے پیچھے کوئی مخلوق تھی ۔ انسان جب ایک بالشت کے برابر بھی عقیدہ توحید سے ہٹ جائے تو وہ اس قدر ہٹتا چلا جاتا ہے کہ راہ حق سے کوسوں دور ہوجاتا ہے لیکن آخر کار انسان دیکھتا ہے کہ نقطہ آغاز کا انحراف اگرچہ تھوڑا سا اور ناقابل لحاظ تھا لیکن آگے جا کر دونوں راہوں کے درمیان بہت بڑی خلیج واقع ہوجاتی ہے ۔ یہ مشرکین مکہ آغاز میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دین پر تھے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا دین وہی دین توحید تھا جسے اس علاقے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کیا تھا۔ لیکن یہ لوگ اس عقیدہ توحید سے انکار کر بیٹھے ۔ اگرچہ یہ انحراف آغاز کار میں بہت ہی معمولی ہوگا لیکن وہ بت پرستی کے فعل شنیع پر منتج ہوا اور وہ یہاں تک آپہنچے کہ جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرانے لگے حالانکہ جن اللہ کی مخلوق ہیں ۔
(آیت) ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ شُرَکَاء الْجِنَّ وَخَلَقَہُمْ (6 : 100)
” اس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرا دیا حالانکہ وہ ان کا خالق ہے “۔
دنیا میں جس قدر بت پرست مذاہب گزرے ہیں اور جن کی نوعیت مختلف جاہلیتوں میں مختلف رہی ہے ان سب میں ایک شریر مخلوق کا تصور رہا ہے اور اس شریر مخلوق کا تصور ایسا ہی رہا ہے جس طرح شیطان کا تصور ہے ۔ تمام بت پرست ہمیشہ اس شریر مخلوق سے ڈرتے رہے ہیں ۔ چاہے یہ شریر مخلوق ارواح شریرہ ہوں یا اشخاص شریرہ ۔ ان بت پرست مذاہب میں یہ رواج رہا ہے کہ وہ اس شریر مخلوق کے شر سے بچنے کے لئے کچھ قربانیاں دیں ۔ ہوتے ہوتے یہ شرکیہ مذاہب ان کی پوجا کرنے لگے ۔
عرب بت پرستی میں بھی ایسے ہی تصورات پائے جاتے تھے مثلا وہ جنوں کی پوجا کرتے تھے ۔ ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے حالانکہ اللہ کی ذات ان چیزوں سے پاک ہے ۔ قرآن کریم یہاں ان کے ان عقائد کی کمزوری ان کو بتاتا ہے اور بالکل ایک لفظ میں بات کو ختم کردیتا ہے۔ (خلقھم) اللہ نے تو ان کو خود پیدا کیا۔ یہ ہے تو صرف ایک لفظ لیکن ان کے عقائد کو مذاق بنا دینے کے لئے یہ ایک لفظ ہی کافی ہے ۔ جب پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اور اس نے ان کی تخلیق کی ہے تو اللہ کی مخلوق اس کے ساتھ شریک کیسے ہوجائے گی اور اس مخلوق کو الوہیت اور ربوبیت کے حقوق کیسے حاصل ہوجائیں گے ۔
ان لوگوں نے صرف اس دعوے پر ہی اکتفا نہ کیا ‘ کیونکہ بت پرستانہ ادہام جب شروع ہوتے ہیں تو پھر کسی حد پر جا کر نہیں رکتے اور یہ انحراف آگے ہی بڑھتا جاتا ہے ۔ چناچہ وہ اس سے بھی آگے بڑھے اور یہ عقیدہ اختیار کرلیا کہ اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں بھی ہیں۔
(آیت) ” ْ وَخَرَقُواْ لَہُ بَنِیْنَ وَبَنَاتٍ بِغَیْْرِ عِلْمٍ “ (6 : 100)
” اور بےجانے بوجھے اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کردیں ‘ ‘۔
خرقوا کا مفہوم ہے کہ انہوں نے جعلی طور پر یہ عقیدہ تصنیف کرلیا ۔ خرقوا کے معنے ہوتے ہیں اپنی جانب سے جھوٹ گھڑنا ۔ خرق کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں مثلا کوئی جھوٹی خبر لے کر آتا ہے ۔ یہودیوں کے نزدیک حضرت عزیر ابن اللہ تھے ۔ نصاری حضرت مسیح کو ابن اللہ کہتے تھے ۔ مشرکین مکہ کے نزدیک ملائکہ اللہ کی بیٹیاں تھیں ۔ وہ فرشتوں کو مادہ تصور کرتے تھے لیکن وہ کوئی معقول بات نہ کرتے تھے کہ وہ کیوں مؤنث ہیں ۔ کیونکہ جھوٹے دعوے ہمیشہ بغیر علم کے ہوا کرتے ہیں لہذا ان لوگوں کے دعوے بھی بغیر علم کے ہیں۔
(آیت) ” ٍ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یَصِفُونَ (100)
” حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے ان باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں ۔ “
اس کے بعد اب اللہ تعالیٰ ان کے ان افتراؤں کے جواب میں اصل حقیقت سامنے لاتے ہیں ۔ ان کے غلط تصورات کی تردید فرماتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ ان میں کیا کیا جھول ہے ۔
الأنعام 6:101
(آیت) ” بَدِیْعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ أَنَّی یَکُونُ لَہُ وَلَدٌ وَلَمْ تَکُن لَّہُ صَاحِبَۃٌ وَخَلَقَ کُلَّ شَیْْء ٍ وہُوَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(101)
” وہ تو آسمان اور زمین کا موجد ہے ‘ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس کی کوئی شریک زندگی ہی نہیں ہے ۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ “
اللہ تو وہ ہے جو اس پوری کائنات کو عدم مطلق سے وجود میں لایا لہذا اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ کسی کو اپنا خلف تجویز کرے ۔ خلف اور پسماندگان تو اس ذات کے لئے ہوتے ہیں جو فانی ہو ۔ اور یا جو کمزور ہو اور اسے امداد کی ضرورت ہو ‘ یا جنہیں دیکھ کر وہ خوش ہوسکے ۔
پھر ان لوگوں کو معلوم ہے کہ توالد وتکاثر کا ضابطہ کیا ہوتا ہے ۔ کسی شخص کے لئے اس ہی کی جنس سے ایک مادہ جوڑ ہوتا ہے ۔ جب اللہ کی بیوی ہی نہیں ہے تو بیٹا کیسے ہوگا اور وہ ان چیزوں سے پاک بھی ہے ۔ اس جیسی تو کوئی چیز ہی نہیں ہے لہذا کس طرح ممکن ہے کہ بغیر شادی کے نسل چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تو حقیقت ہے لیکن قرآن کریم اس حقیقت کو ان کے لئے قریب الفہم بنا دیتا ہے اور ان کے ساتھ خطاب میں ان کی فہم کو ملحوظ رکھتا ہے تاکہ وہ اپنے مشاہدات کے رنگ میں بات کو سمجھ سکیں۔
یہاں قرآن کریم ان کی تردید میں صرف حقیقت تخلیق کو پیش کرتا ہے تاکہ شرک کا کوئی سایہ تک باقی نہ رہے ۔
یوں کہ کسی صورت میں بھی مخلوق خالق کے ساتھ شریک نہیں بن سکتی ۔ کیونکہ خالق اور مخلوق کی حقیقت ہی جدا ہوتی ہے اور دوسری دلیل اللہ یہ دیتے ہیں کہ اللہ ہی حقائق کا علم رکھتا ہے اور ان کے پاس کوئی علم نہیں ہے ۔
(آیت) ” وَخَلَقَ کُلَّ شَیْْء ٍ وہُوَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْمٌ(101) یعنی خلق بھی اس کا ہے اور علم بھی وہی رکھتا ہے ۔
جس طرح اس سے قبل قرآن کریم نے مشرکین مکہ کی تردید کرتے ہوئے یہ کہا کہ ” اللہ نے ہر چیز کی تخلیق کی ہے ۔ “ اور اس سے ان کے ان تصورات کی تردید کردی گئی اور بتادیا گیا کہ اللہ کے بیٹے بیٹیاں کیسے ہوسکتی ہیں جبکہ اللہ کی کوئی شریک زندگی ہی نہیں ہے یا اللہ کا کوئی شریک خود اس کی مخلوق سے کیسے بن سکتا ہے ‘ تو یہاں دوبارہ اللہ کی صفت تخلیق کو لایا جاتا ہے تاکہ یہ بات ثابت کی جاسکے کہ چونکہ وہ خالق ہے اس لئے وہی معبود ہوگا اور ہمیں چاہئے کہ ہم صرف اسی کی بندگی کریں اور اپنی زندگی میں پورا دین صرف اس کا نافذ کریں اسی لئے کہ خالق وہی ہے ۔ اس کے سوا کوئی اللہ اور حاکم نہیں ہو سکتا اور نہ ان کا اس کے سوا کوئی رب ہو سکتا ہے ۔۔۔
الأنعام 6:102
(آیت) ” نمبر 02 ا۔
جب یہ بات تسلیم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ ہی خالق ہے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہی بادشاہ اور مالک ہے ۔ اور جب اللہ ہی خالق اور مالک ہے تو لازما وہی رازق ہے اس لئے کہ جب وہ خالق ہے اور مالک ہے تو رزق اسی کی ذمہ داری ہے اور یہ رزق وہ اپنی مملکت سے دیتا ہے جس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ۔ اللہ کی مملکت میں جو کچھ بھی ہے یا جس چیز سے بھی انسان فائدہ اٹھاتے ہیں وہ تمام چیز میں اللہ کی مملوکہ ہیں اور جب تخلیق ‘ ملکیت اور رزق اللہ کا ہے تو یہ بات حتما ثابت ہوجاتی ہے کہ رب بھی وہی ہے ۔ لہذا یہ ہر انسان کا فرض ہوگا کہ وہ خصائص ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے ۔ ربوبیت کی اہم خصوصیات یہ ہیں ‘ مختار ومنتظم ہونا ‘ ہدایت دینا ‘ بادشاہ ہونا اور ایسی پوزیشن میں ہونا کہ اس کی اطاعت کی جائے اور وہ ایک ایسا نظام اور دین دے جس پر لوگ اجتماعی طور پر عمل کریں ۔ (دیکھئے المصطلحات الاربعہ فی القرآن مولانا ومودودی امیر جماعت اسلامی پاکستان ‘ مباحث الوہیت ‘ ربوبیت اور عبادت) لہذا ہر قسم کی عبادت و بندگی اور اطاعت اس کی ہوگی جن میں سے اہم خضوع اور سرتسلیم خم کرنا ہے ۔
عرب لوگ اپنے دور جاہلیت میں اس بات کے منکر نہ تھے کہ اللہ اس کائنات کا خالق ہے ۔ وہ لوگوں کا خالق اور رازق ہے اور تمام لوگوں کو اللہ کی ملکیت سے تمام ضروریات زندگی فراہم ہو رہی ہے ۔ اس کی ملکیت میں کوئی اس کے ساتھ شریک نہیں ہے ۔ عربوں کے علاوہ تمام دوسری جاہلیتیں بھی ان حقائق کا انکار نہ کرتی تھیں (ماسوائے یونانی فلاسفہ کیا کی ایک قلیل تعداد کے) اور اس زمانے میں ہمارے دورجدید کے مادی مذاہب نہ تھے جن کی تشہیر وتشریح یونانی دور کے مقابلے میں زیادہ وسیع طور پر ہو رہی ہے ۔ لہذا سلام کے آغاز کے دور میں اللہ کے ساتھ جن الہوں کو شریک کیا جاتا تھا ان کی عبادت اس لئے کی جاتی تھی کہ یہ الہ الہ حقیقی کے قرب کا سبب اور ذریعہ ہیں ۔ یہ ایک انحراف تھا اور دوسرا انحراف یہ تھا کہ لوگوں کی زندگیوں پر اسلامی نظام حیات کی حکمرانی نہ تھی ۔ اور نہ اس دور میں تحریک اسلامی کو ایسے لوگوں سے سابقہ تھا جو ہمارے دور میں پائے جاتے ہیں جو سرے سے وجود باری کے منکر ہیں اور یہ انکار وہ بغیر علم بغیر ہدایت اور بغیر کسی روشن کتاب کے کر رہے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ آج بھی جو لوگ وجود باری کے منکر ہیں یا انکار خدا پر اصرار کرتے ہیں وہ بہت ہی تھوڑے ہیں اور ایسے لوگ ہمیشہ ایک حقیر اقلیت ہی میں رہیں گے ۔ حقیقی گمراہی یہ تھی جس طرح آج ہے کہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور سے نظام زندگی اخذ کرتے تھے اور یہی وہ روایاتی شرک تھا جس پر جاہلیت عربیہ قائم تھی اور تمام دوسری جاہلیتیں قائم رہی ہیں۔
اب جو حقیر اقلیت انکار خدا پر مصر ہے کیا اس کے پاس کوئی علمی دلیل ہے ؟ کیا اس کا انکار سائنس پر مبنی ہے ؟ اگرچہ اس کا دعوی تو ہے لیکن سائنس ان کے اس عقیدے کی تصدیق نہیں کرتی ہے ؟ نہ کوئی سائنسی دلیل ہے اور نہ اس کائنات کی طبیعیات میں اس بات پر کوئی دلیل ہے ۔ یہ دراصل وہ انحراف اور بغاوت ہے جو لوگوں نے اہل کلیسا اور ان کے خداؤں کے خلاف اختیار کی ۔ کلیسا کے خدا اس بات پر مصر تھے کہ لوگ کلیسا کے پاس غلام ہوں حالانکہ اصول دین میں سے کوئی اصل ایسا نہ تھا کہ لوگوں کو غلام رکھا جائے ۔ پھر ان مذہبی پیشواؤں کی شخصیت کی فطری نشوونما بھی غلط تھی ۔ وہ انسان کے انسانی وظائف کو معطل کر رہے تھے مثلا وہ لوگ جنہیں بتییسمہ دے دیا جاتا تھا ۔ (دیکھئے کتاب الخصائص التصور الاسلامی باب الوہیت اور بندگی)
یہ حقیقت ہے کہ قرآن مجید میں تخلیق کائنات اور تقدیر نظام کائنات کا ذکر اس لئے نہیں کیا جاتا کہ ان امور سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے وجود پر دلائل قائم کیے جائیں ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے وجود کے منکرین کا موقف اس قدر بودا تھا کہ قرآن کریم جیسی سنجیدہ کتاب میں اس پر بحث مناسب ہی نہ تھی ۔ خلق اور تقدیر کے حقائق تو قرآن مجید میں اس لئے لائے گئے ہیں کہ لوگ راہ راست پر آجائیں ‘ وہ اپنے عقائد و اعمال میں اللہ کی الوہیت ‘ اس کی حاکمیت اور اس کی مکمل بندگی کو نافذ کریں اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ یہی صورت حال حقیقت حیات کی ہے ۔
لیکن سائنسی اعتبار سے تخلیق اور دنیا کو ایک نہایت ہی حکیمانہ اندازے کے مطابق پیدا کرنا ‘ اور اس کائنات کے اندر زندگی کی مختلف شکلوں کو پیدا کرنا ‘ ایسے حقائق ہیں جو ان لوگوں کے دلائل کے قلع قمع کرنے کے لئے نہایت ہی کافی وشافی ہیں ۔ جو لوگ ذات باری کے وجود کے بارے میں کج بحثی کرتے ہیں وہ ان حقائق کے ہوتے ہوئے وجود باری کے خلاف کوئی قوی دلیل نہیں لاسکتے ‘ ماسوائے اس کے کہ وہ ہٹ دھرمی کریں اور اپنے آپ کو شرمندہ کریں۔
جو لیان ہاکسلے نے دو کتابیں لکھی ہیں ” انسان اکیلا کھڑا ہے “ اور ” انسان جدید دنیا میں “ یہ شخص ایسے ہی لوگوں میں سے ہے جو اس سلسلے میں نہایت ہی دریدہ دینی سے کام لیتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں ۔ یہ شخص ایسی باتیں کرتا ہے جو صرف اس کے دل کی خواہشات ہیں اور ان باتوں پر کوئی علمی اور سائنسی دلیل اس کے پاس نہیں ہے ۔ یہ اپنی کتاب ” انسان جدید دنیا میں “۔ یہ شخص ایسے ہی لوگوں میں سے ہے جو اس سلسلے میں نہایت ہی دریدہ دینی سے کام لیتے ہیں اور ہٹ دھرمی کرتے ہیں ۔ یہ شخص ایسی باتیں کرتا ہے جو صرف اس کے دل کی خواہشات ہیں اور ان باتوں پر کوئی علمی اور سائنسی دلیل اس کے پاس نہیں ہے ۔ یہ اپنی کتاب ” انسان جدید دنیا میں “ میں دین کے موضوع پر یہ کلام کرتا ہے :
” ہمیں سائنس کی ترقی ‘ منطق کی ترقی اور علم النفس کی ترقی نے اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ ایسے حالات میں اب اس کائنات کے کسی خدا کو فرض کرنے کا فائدہ نہیں ہے ۔ طبیعی علوم نے ہماری عقل سے خدا کو نکال دیا ہے ۔ چناچہ اب وہ اس کائنات کا حاکم اور مدبر نہیں رہا ہے ۔ اب یہ خدا اگر ہے تو وہ پہلا سبب (cAuse) ہے اور ایک مجمل یا ناقابل فہم بنیاد ہے “۔ دل ڈیورانٹ اپنی کتاب ” مناہج فلاسفہ “ میں لکھتے ہیں :
” فلسفہ بھی خدا کی ذات سے بحث کرتا ہے لیکن فلسفے کا خدا لاہوتی خدا نہیں ہے جسے وہ لوگ عالم طبیعی سے خارج وجود سمجھتے ہیں بلکہ بلاسفہ کا الہ ” قانون عالم ‘ اس کا ہیکل ‘ اس کی زندگی اور اس کی مشیت ہے “ ۔ ہمارے قارئین ایسی باتیں برداشت نہیں کرسکتے لیکن بہر حال یہ باتیں کہی گئی ہیں ۔
ہم اپنے مسائل کا فیصلہ نہ قرآن سے کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی عقل سے ان کے ان غلط اقوال پر کوئی فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ ہماری عقل بھی قرآن ہدایت سے فیض یاب ہے ۔ ہم ان لوگوں کا فیصلہ انہی جیسے سائنس دانوں کی عدالت میں پیش کردیتے ہیں جنہوں نے اس مسئلے پر ذرا سنجیدگی سے غور کیا ہے ۔
جان کلیفلانڈ کو تران ‘ مشہور ریاضی دان اور ماہر طبیعیات ہیں۔ انہوں نے جامعہ کو رنل سے ڈاکٹریت کی ڈگری لی اور ایک دوسری یونیورسٹی میں طبیعیات کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں ۔ یہ شخص اپنے ایک مقالے میں جو ” حتمی نتیجہ “ کے عنوان سے کتاب ” اللہ سائنس کے دور میں روز روشن کی طرح ہیں “ میں شائع ہوا ‘ لکھتے ہیں :
” کیا کوئی سمجھ دار آدمی یہ تصور کرسکتا ہے کہ مادہ جو عقل اور حکمت سے عاری ہے ‘ وہ خود اپنے آپ کو پیدا کرسکتا ہے اور یہ بھی محض اتفاق سے ۔ کون عقلمند ہے جو ایسا عقیدہ رکھ سکتا ہے یا کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ اس بےجان اور بےعقل مادے نے یہ پورانظام اور یہ قوانین طبیعی ایجاد کئے اور پھر یہ قوانین اس نے اپنے اوپر لاگو کرلیے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہر معقول انسان اس سوال کا جواب نفی میں دے گا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب مادہ قوت میں بدلتا ہے یا قوت مادے میں بدلتی ہے تو یہ عمل بھی متعین قوانین کے تحت ہوتا ہے وہ مادہ جو یہ نتائج پیدا کرتا ہے وہ بھی ان قوانین طبیعی کا پابند ہے جن کا وہ مادہ پابند ہے وج اس سے پہلے تھا “۔
” کیمیائی تجربے بتاتے ہیں کہ مادے میں سے بعض چیزیں زوال اور فنا کی طرف جارہی ہیں ۔ ان میں سے بعض فنا کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہیں ۔ بعض دوسری ایسی ہیں تو سست رفتاری سے فنا کی طرف جارہی ہیں ۔ اس کے باوجود یہ بات مسلمہ ہے کہ مادہ ابدی نہیں ہے اور جب وہ ابدی نہیں ہے تو معلوم ہوا کہ وہ ازلی بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ایک دن ایسا تھا جس میں مادے کی ابتدا ہوئی ۔ کیمیائی شواہد اور دوسرے سائنسی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ مادے کا آغاز اس طرح نہیں ہوا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ پیدا ہوا ہو یا وہ تدریج کے ساتھ آگے بڑھا ہو بلکہ دلائل یہ بتاتے ہیں کہ مادہ اچانک نمودار ہوا ہے ۔ آج سائنس نے وہ وقت بھی متعین کردیا ہے جس میں مادہ وجود میں آیا ۔ ان حقائق سے معلوم ہوگیا کہ یہ جہان مخلوق ہے اور جب سے یہ پیدا ہوا ہے وہ متعین قوانین قدرت کا پابند ہے ۔ لہذا اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے اور نہ گنجائش ہے کہ یہاں معاملات اتفاقات سے طے ہوتے ہیں ۔ “
” جب یہ مادی دنیا ‘ اس بات کی اہل نہیں ہے کہ وہ اپنے آپ کو خود پیدا کرسکے ‘ یا وہ قوانین اور ضابطے متعین کرسکے جس کے تحت دنیا کو چلنا ہے تو یہ بات متعین ہوگئی اور ثابت ہوگئی کہ یہ مادی مخلوقات کسی غیر مادی ذات کی پیدا کردہ ہے ۔ تمام قرائن اور شواہد اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اس ذات خالق کو عقل و حکمت کا حامل ہونا چاہئے ۔ عقل عالم مادی میں کوئی کام بغیر اس کے اس وقت تک نہیں کرسکتی جب تک اس کے ساتھ ارادہ نہ ہو ۔ مثلا طب اور نفسیاتی علاج کا نظام اس بات کو ثابت کرتا ہے اور جو ذات صاحب ارادہ ہوگی وہ لازما اپنا ذاتی وجود رکھتی ہوگی لہذا خود ہماری عقل جو حتمی اور لازمی نتیجہ نکالتی ہے وہ یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس عالم کا ایک خالق ہے بلکہ وہ خالق علیم و حکیم بھی ہے اور ہر چیز پر قادر بھی ۔ وہ اس عالم کی تخلیق کی بھی قدرت رکھتا ہے اور اس کا انتظام اور تدبیر بھی کرتا ہے ‘ اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خالق علیم و حکیم بھی ہے اور ہر چیز پر قادر بھی ۔ وہ اس عالم کی تخلیق کی بھی قدرت رکھتا ہے اور اس کا انتظام اور تدبیر بھی کرتا ہے ‘ اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ خالق دائم الوجود ہو ۔ اس کی آیات و علامات ہر جگہ پائی جاتی ہوں لہذا کوئی معقول شخص اس عالم کے مسئلہ کو اس وقت تک حل نہیں کرسکتا جب تک وہ وجود باری تعالیٰ پر ایمان نہ رکھتا ہو ‘ جو اس عالم کا خالق ہو اور اس کی طرف متوجہ ہو جس طرح ہم نے اس مقالے کے آغاز میں کہا “۔
لارڈ کلیفن کے زمانے کے بعد سائنسی علوم نے جس قدر ترقی کی ہے ‘ اس کے بعد ہمارے لئے یہ دلیل بےمثال انداز میں مؤکد ہوگئی ہے ۔ اس سے پہلے اس قسم کا کوئی تاکیدی استدلال نہ تھا کہ جس قدر بھی ہم گہرے غور وفکر سے کام لیں تو بہت جلد سائنس ہمیں مجبور کردے گی کہ ہم خدا پر ایمان لائیں۔
ایک دوسرے ماہر علوم جدید اور بیالوجی کے ماہر فرانک ایلن ایک مقالے میں جس کا عنوان یہ ہے ‘ تخلیق کائنات اتفاق ہے یا بالارادہ ہے “ اور یہ مقالہ بھی مذکورہ بالاکتاب میں ہے ۔ لکھتے ہیں :
” اکثر اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مادی کائنات کسی بھی خالق کی محتاج نہیں ہے ۔ لیکن اگر ہم تسلیم کریں کہ یہ جہان موجود ہے تو سوال یہ ہوگا کہ یہ کس طرح موجود ہوا ۔ اس سوال کے صرف چار جواب ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ محض وہم اور خیال ہے ‘ تو یہ احتمال اس لئے غلط ہوگا کہ ہم نے اس کا وجود تسلیم کرکے گفتگو شروع کی ہے ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ کائنات از خود وجود میں آئی ہے اور پھر تیسرا احتمال یہ ہے کہ یہ ازلی ہو اور اس کا کوئی آغاز نہ ہو اور چوتھا یہ ہے کہ اس کا کوئی خالق ہو ۔
جہاں تک پہلے احتمال کا تعلق ہے تو اسے تسلیم کرنے میں اور کوئی مشکل نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ ہمارا شعور واحساس اس احتمال کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا کہ یہ عالم محض وہم ہے اور اس میں حقیقت کا کوئی شائبہ نہیں ہے ۔ ماضی قریب میں یہ رائے سرجیمس جینز نے اختیار کی ۔ انہوں نے طبیعیات میں اس رائے کا اظہار کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس جہان کا کوئی عملی وجود نہیں ہے بلکہ ہمارے ذہن کے اندر یہ محض ایک تصویر ہے ۔ اس رائے کے نتیجے میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم محض ادہام کی دنیا میں رہتے ہیں ۔ مثلا یہ ریل گاڑی جس میں ہم سوار ہو کر جاتے ہیں اور جسے ہم چھوتے ہیں یہ محض وہم ہے ۔ ان گاڑیوں میں جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں وہ بھی محض ادہام ہیں اور یہ ریلیں جن صحراؤں اور دریاؤں کو عبور کرتی چلی جارہی ہیں ان کا بھی کوئی وجود نہیں ہے ۔ وہ جن پلوں کے اوپر سے گزرتی ہیں وہ بھی محض وہم ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس رائے اور نظریے سے بڑھ کر اور کوئی وہمی بات نہ ہوگی۔
رہی دوسری رائے کہ یہ جہان اور یہ پوری مادی دنیا خودبخود وجود میں آگئی تو یہ بات اور احتمال سابقہ احتمال سے بھی زیادہ بودا ہے ‘ زیادہ احمقانہ ہے اور اس کے بارے میں بھی بحث وجدال کرنا یا اس پر سوچنا تک حماقت ہے ۔
تیسری رائے یہ کہ یہ جہان ازلی ابدی ہے اور اس کا کوئی آغاز نہیں ہے ۔ تو یہ رائے چوتھی رائے کے ساتھ ازلیت میں مشترک ہے کیونکہ وہاں الہ ازلی ہے یہاں مادہ ازلی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم صفت ازلیت کو کسی مردہ جہان کی طرف راجع کرتے ہیں یا ہم صفت ازلیت کو کسی زندہ حی وقیوم اور خالق کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان دونوں احتمالات کو مان لینے میں اس قدر شبہات ومشکلات نہیں ہیں جس قدر پہلے دو احتمالات کو قبول کرنے میں ہیں ۔ لیکن ڈائنامک حرارت کے قوانین یہ بتاتے ہیں کہ اس جہان کی ضرورت تدریجا ختم ہو رہی ہے اور آخر جا کر اس نے ختم ہونا ہے اور ایک دن ایسا آئے گا کہ دنیا کا درجہ حرارت نہایت کم ہوجائے گا مثلا مطلق صفر تک ۔ اس دن قوت ختم ہوجائے گی ‘ زندگی محال ہوجائے گی ۔ ایسا ایک دن ضرور آئے گا جب تمام اجسام کا درجہ حرارت صفر مطلق تک پہنچ جائے گا ۔ یہ حالت طویل زمانے کے بعد ہوگی ۔ جلنے والا سورج ‘ بھڑکتے ہوئے ستارے اور یہ زمین اپنی زندگی کے مختلف انواع کے ساتھ یہ بتا رہی ہے کہ اس کا آغاز ایک وقت سے ہوا ‘ اور اس متعین وقت میں یہ وجود میں آئی ۔ لہذا اس بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اس جہان کا ایک خالق ہے جو ازلی اور ابدی ہے ‘ اس کا کوئی آغاز نہیں ہے اور نہ خاتمہ ہے ‘ وہ ہر چیز کو جانتا ہے ‘ وہ نہایت ہی قوی اور اس کی قوت کی کوئی انتہا نہیں ہے ۔ لہذا حقیقی بات یہی ہے کہ اس کے دست قدرت نے اس جہان کو بنایا ہے ۔ “
حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے اور اس کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے یہاں قرآن کریم تخلیق کی اساس پر یہ اصول قائم کرتا ہے کہ چونکہ وہ خالق ہے لہذا یہ امر واجب ہے کہ صرف اسی کی بندگی کی جائے اور صرف وہی رب ہے ‘ اپنے تمام مفاہیم اور معانی کے ساتھ یعنی حاکم بھی وہی ہے ۔ مربی اور تربیت کنندہ بھیوہی ہے ‘ ہادی ورہبر بھی وہی ہے اور قیوم بھی وہی ہے ۔
(آیت) ” ذَلِکُمُ اللّہُ رَبُّکُمْ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ خَالِقُ کُلِّ شَیْْء ٍ فَاعْبُدُوہُ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ وَکِیْلٌ(102)
” یہ ہے اللہ تمہارا رب کوئی خدا ‘ اس کے سوا نہیں ہے ‘ ہر چیز کا خالق ‘ لہذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے ۔ “
اللہ قیوم اور نگران ہے ‘ صرف انسانوں پر ہی نہیں بلکہ تمام کائنات کا قیوم اور منتظم اعلی ہے اس لئے کہ وہ سب کا خالق ہے ۔ اس اصول تخلیق کے یہاں ذکر کا مقصد ہی یہ ہے اور اس بات کا انکار مشرکین مکہ دور جاہلیت میں بھی نہ کرتے تھے کہ اللہ خالق ہے ‘ لیکن وہ لوگ خالق کائنات کی تخلیق کا حق نہ ادا کرتے تھے ۔ یعنی اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کرنا اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا اور اس کے تجویز کردہ نظام حیات کو اپنی پوری زندگی میں اپنانا ۔ یہ صاحب نہایت یقین سے یہ باتیں کرتے ہیں لیکن خود انسانی علم بھی اسے تسلیم نہیں کرتا ۔ پھر حرارت کے ڈائنامک قوانین بھی حتمی نہیں ۔ البتہ تشریح کائنات کے دوسرے نظریات میں سے یہ بھی ایک نظریہ ہے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں ترمیم ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ نظریہ سرے سے اڑ جائے ۔ ہماری عادت یہ نہیں ہے کہ ہم سائنس کے اصولوں سے اسلام کی صحت پر استدلال کریں ۔ نہ ہم سائنس کو اسلام کا تصدیق کنندہ سمجھتے ہیں ۔ ہم ان لوگوں کے اصولوں سے اسلام کی صحت پر استدلال کریں نہ ہم سائنس کو اسلام کا تصدیق کنندہ سمجھتے ہیں ۔ ہم ان لوگوں کے لئے یہ سائنسی شواہد پیش کرتے ہیں جو صرف سائنس کو الہ سمجھتے ہیں ۔ گویا یہ اقوال ان خداؤں کے ہیں جن پر جو لیان ہاکسلے یقین رکھتے ہیں ۔
اس کے بعد اللہ کی صفات کی یہاں ایک تعبیر پیش کی جاتی ہے ۔ یہ ایک ایسی تعبیر ہے جو موضوع کے ہر پہلو پر روشنی ڈالتی ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی انسانی زبان اللہ کی ایسی توصیف کرسکتی ہے ۔ لہذا ہمیں چاہئے کہ ہم قرآن کو اسی طرح بلاتشریح دیکھیں کہ وہ نہایت صاف و شفاف انداز میں ذات باری کے بارے میں روشنی ڈالے اور اس مشہد کی تصویر کشی کرے جس کے اندر ایک نہایت ہی عظیم اور ہولناک حقیقت پوشیدہ ہے تاکہ صفات باری کے معاملے میں انسان کو پوری تشفی ہو اور اس کا ضمیر روشن ہو۔
الأنعام 6:103
(آیت) ” نمبر 103۔
وہ لوگ جو اپنی سادہ لوحی کی وجہ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ اللہ کو دیکھ لیں ‘ وہ ایسے ہی ہیں جس طرح بعض دوسرے لوگ اپنی قبیح فطرت کی وجہ سے وجود باری پر مادی دلیل پیش کرتے ہیں ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ درحقیقت سمجھتے ہی نہیں کہ وہ کہتے کیا ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی نظر ‘ انسان کے حواس ‘ اور انسان کا ذہنی ادراک یہ سب قوتیں اسے صرف اس لئے دی گئی ہیں کہ وہ اس کائنات کے ساتھ تعلق کی نسبت سے اپنے معاملات طے کرسکے اور اس کرہ ارض پر منصب خلافت کی ذمہ داریاں ادا کرسکے اور اس مخلوق کائنات کے صفحات میں وجود باری پر دلالت کرنے والے آثار کی تلاش کرسکے ۔ رہی ذات باری کی حقیقت تو وہ اس طاقت ہی سے محروم ہیں جس کے ذریعے وہ اس کا ادراک کرسکیں ۔ اس لئے کہ ایک حادث اور فانی وجود کے اندر وہ قدرت ہی نہیں ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ذات کا ادراک کرسکیں ۔ اس لئے کہ ایک حادث اور فانی وجود کے اندر وہ قدرت ہی نہیں ہے کہ وہ ازلی اور ابدی ذات کا ادراک کرسکے۔ پھر یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اس کرہ ارض پر انسان کی جو ذمہ داریاں ہیں ان کی ادائیگی کے لئے اس کے لئے رویت باری کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ جہاں تک یہاں انسانی فرائض کا تعلق ہے ان کی ادائیگی کے لئے انسان کو مناسب طاقت دی گئی ہے ۔
انسان کے لئے یہ تو ممکن ہے کہ وہ سابقہ لوگوں کی سادگی کو سمجھ لے مگر وہ آخری دور میں آنے والوں کی قبیح فطرت کو سمجھنے میں غلطی کا مرتکب ہو سکتا ہے ‘ یہ لوگ ایٹم اور برق کی بات کرتے ہیں ۔ پروٹون اور نیوٹرون کی بات کرتے ہیں لیکن ان میں سے کسی نے اپنی زندگی کے اندر ایٹم ‘ کوئی برق ‘ کوئی نیوٹرون اور کوئی پروٹون نہ دیکھا ‘ اس لئے کہ زندگی کی ماہیت کو دیکھنے کی دوربین ابھی تک وجود میں نہیں آسکی ۔ ان سائنس دانوں کے نزدیک یہ امور بہرحال مسلم ہیں اور وہ انکے وجود کو فرض کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انہوں نے ان چیزوں کے کچھ آثار متعین کر لئے ہیں ۔ جب وہ آثار پائے جاتے ہیں تو ان لوگوں کو یقین ہوجاتا ہے کہ وہ موجود ہیں اور کائنات بھی موجود ہے حالانکہ یہ صرف احتمال ہے کہ جس طرح انہوں نے فرض کیا ہے کائنات اسی طرح ہو ۔ تاہم جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ موجود ہے اس لئے کہ اس کے آثار موجود ہیں اور یہ آثار اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ اللہ موجود ہے تو پھر یہ لوگ وجود باری کے بارے میں جدل وجدال اور مناقشہ شروع کردیتے ہیں بغیر علم ‘ بغیر ہدایت ‘ بغیر ادراک اور بغیر کسی کتاب منیر کے ۔ اس کے برعکس اللہ کے وجود کے لئے وہ ایسی دلیل طلب کرتے ہیں کہ آنکھیں اللہ کو دیکھ سکیں ۔ اس کرہ ارض پر زندگی کے عجائب گویا ان کے لئے کافی نہیں ہیں حالانکہ وہ وجود باری پر کافی ثبوت ہیں۔
دلائل تکوینی جو اس کائنات کی کھلی کتاب کے صفحات میں بکھرے ہوئے ہیں اور انسانی نفوس کے اندر بھی موجود ہیں ان کے بیان کے بعد اور یہ کہنے کے بعد کہ ۔
(آیت) ” اَّ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (103)
” نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ ‘
اب اس خوبصورت انداز میں صفات الہی کے بیان کے بعد بات یوں آگے بڑھتی ہے ۔
الأنعام 6:104
(آیت) ” نمبر 104۔
یہ جو کچھ اللہ کی طرف سے آ رہا ہے بصیرت کی روشنی ہے ۔ بصیرت انسان کو ہدایت دیتی ہے اور راہنمائی کرتی ہے ۔ یہ بذات خود عین روشنی ہے ۔ اس لئے جو شخص اسے دیکھے گا وہ روشن دیکھے گا اور اگر کوئی آنکھیں بند کرے گا تو وہ اندھا ہوگا ۔ ان بصیرتوں اور روشنیوں کے آجانے کے بعد صرف اندھا ہی محروم رہ سکتا ہے ۔ وہ جس کے حواس کام نہ کررہے ہوں اور جس کے شعور کا دراوزہ بند ہو جس کا ضمیر اندھا ہو۔
اس کے بعد نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنی برات کا اعلان یوں کردیں کہ میں تم پر نگہبان اور پاسبان مقرر نہیں کیا گیا ہوں۔ (آیت) ” ما انا علیم بحفیظ “۔ (6 : 104) ” میں تمہارے لئے پاسبان مقرر نہی ہوا ہوں “۔ یہاں عبار میں ایک عجیب تناسق ہے ۔ اللہ کی صفت بیان کرتے ہوئے کہا گیا تھا ۔
(آیت) ” اَّ تُدْرِکُہُ الأَبْصَارُ وَہُوَ یُدْرِکُ الأَبْصَارَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ (103)
” نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پا لیتا ہے وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے ۔ ‘
(آیت) ” قَدْ جَاء کُم بَصَآئِرُ مِن رَّبِّکُمْ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِہِ وَمَنْ عَمِیَ فَعَلَیْْہَا “۔ (6 : 104)
” دیکھو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آگئی ہیں ‘ اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اٹھائے گا ۔ “
ایک جگہ ابصار اور مقابل میں بصائر ہے ۔ ایک جگہ بصیر ہے اور مقابلے میں عمی ہے ‘ یہ عربی اسلوب میں الفاظ کا بہترین انتخاب ہے۔
اس کے بعد روئے سخن حضرت نبی کریم ﷺ کی طرف مڑ جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ قرآن کریم کے اندر جو اسلوب کلام اختیار کیا گیا ہے وہ ایسا نہیں ہے جو کسی امی شخص کی طرف سے بنایا جاسکتا ہو اور جس سے مالکان بصیرت خود بخود یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ یہ یقینا کلام الہی ہے ۔ لیکن مشرکین انکار اس لئے نہ کرتے تھے کہ ان کے سامنے تشفی بخش دلائل نہ تھے ۔ بلکہ وہ بہانہ سازی کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ حضرت محمد ﷺ یہ عظیم علمی کام اور فصیح وبلیغ کلام بعض اہل کتاب سے سیکھ کر بتا رہے ہیں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ اس وقت جو اہل کتاب تھے ان کے پاس نہ یہ پیغام تھا اور نہ یہ اعلی کلام ۔ چناچہ حضور ﷺ کو ہدایت کردی جاتی ہے کہ آپ مشرکین سے اعراض کریں اور اللہ کی ہدایات پر عمل کرتین چلے جائیں۔
الأنعام 6:105
(آیت) ” نمبر 105 تا 107۔
اللہ اپنی آیات اس انداز میں بیان کرتے ہیں کہ عربوں کے اندر نہ یہ اسلوب تھا اور نہ وہ اس پر قادر تھے کیونکہ یہ ان کے معاشرے سے ماخوذ نہ تھا ۔ یہ پیغام اور یہ کلام پوری انسانیت کے پاس بھی اس وقت نہ تھا ‘ اس لئے اس کلام کے دو نتائج برآمد ہوئے ۔
” جو لوگ ہدایت چاہتے ہی نہ تھے ‘ جن کو اس پیغام اور علم سے دلچسپی ہی نہ تھی وہ حقیقت تک پہنچنے کی سعی ہی نہ کرتے تھے ۔ حضرت محمد ﷺ جس بلند مقام سے ان سے ہمکلام ہوتے تھے اسے وہ اس انکار اور عدم دلچسپی کا جواز بنا کر پیش کرتے تھے اس لئے کہ حضرت محمد ﷺ کو وہ خوب جانتے تھے ‘ یہ بات ان کے بھی سامنے تھی کہ محمد جو اونچا کلام پیش کرتے تھے وہ ان کا ذاتی نہ تھا ۔ وہ جو کچھ کہہ رہے تھے اس کے بارے میں سمجھتے تھے کہ یہ بہانہ بناوٹی ہے کیونکہ وہ حضور ﷺ سے خوب واقف تھے ۔ رسالت سے قبل بھی اور بعد میں بھی ۔ اسی لئے انہوں نے یہ کہا کہ اے محمد تو نے یہ کلام اہل کتاب سے سیکھا ہے ۔ حالانکہ خود اہل کتاب کے ہاں نہ یہ پیغام تھا اور نہ ایسا اسلوب کلام تھا ۔ اہل کتب کی کتابیں تو وہ پڑھتے تھے اور ان کے پاس موجود تھیں اور اب بھی وہ کتابیں ہمارے پاس موجود ہیں ۔ ان کتابوں کے پیغام اور کلام میں اور قرآن کے پیغام و کلام میں کوسوں اور میلوں فاصلے ہیں ۔ ان کے ہاں جو کلام ہے وہ تو تاریخ انبیاء کی بےترتیب تاریخی روایات ہیں۔ سابقہ بادشاہوں کی تاریخ اور قصے کہانیاں ہیں اور ان کو نامعلوم افراد نے تصنیف کیا ہے ۔ یہ تو عہد قدیم کی بات ہے ۔ رہیں عہد جدید کی کتب یعنی اناجیل تو ان میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے شاگردوں کی روایات کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ پھر یہ بھی آپ کے جانے کے کئی سال بعد جمع کی گئی کتابیں ہیں ۔ بعد میں عیسائیوں کی مختلف کانفرنسوں نے ان میں کئی تبدیلیاں کیں اور سالہا سال تک یہ تبدیلیاں ہوتی رہیں ۔ یہاں تک کہ اخلاق تعلیمات اور روحانی ہدایات بھی اس تحریف اور تعدیل سے نہ بچ سکیں ۔ یہ چیزیں تھیں اس وقات اہل کتاب کے پاس ۔ ان کا قرآن کریم کے ساتھ تقابلی مطالعہ بھی کیا گیا ہے لیکن جاہلیت کے دور میں مشرکین کے پاس اس کے سوا اور کوئی بہانہ تھا کہاں ؟ تعجب کی بات یہ ہے کہ ہمارے دور کے متشرقین اور نام نہاد مسلمان بھی ایسی باتیں کرتے ہیں ۔ وہ اسے علمی تحقیقات کا نام دیتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں ۔
(آیت) ” وَلِنُبَیِّنَہُ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (105)
” اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کھول دیں “۔
اس کے بعد یہ حکم آتا ہے کہ وہ جو چشم بینا رکھتے ہیں اور جانتے ہیں اور وہ جو اندھے ہیں اور کورے ہیں ان کے درمیان مکمل جدائی ہونا چاہئے ۔
اللہ کی جانب سے حضرت نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اب جبکہ اللہ نے اپنی آیات کو ایک اعلی اسلوب میں کھول کر بیان کردیا ہے ۔ اور لوگ اس کے نتیجے میں دو گروہوں میں بٹ گئے ہیں تو آپ کو حکم دیا تھا جاتا ہے کہ آپ آنے والی وحی کی پیروی کریں اور مشرکین کو ایک طرف چھوڑ دیں ۔ آپ اب ان سے ہم کلام ہی نہ ہوں اور وہ جو گھٹیا گفتگو کرتے ہیں اس کی طرف توجہ ہی نہ کریں ۔ وہ جو کج بحثی کرتے ہیں ‘ آپ کی تکذیب کرتے ہیں اور آپ کے ساتھ بغض رکھتے ہیں ‘ اس کی کوئی پرواہ نہ کریں ۔ آپ کے لئے اب راہ صرف ایک ہے کہ آپ اللہ کے راستے پر چل پڑیں ۔ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں ‘ اپنے ساتھیوں کی زندگیوں کو اس کے مطابق درست کریں۔ آپ مشرکین کے ذمہ دار نہیں ہیں اور جب آپ اپنے رب کی وحی کی اطاعت کریں گے تو بندوں کی ذمہ داری آپ پر نہ ہوگی ۔
الأنعام 6:106
(آیت) ” اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (106)
” اے نبی ﷺ اس وحی کی پیروی کئے جاؤ ‘ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے نہ پڑو۔ “
اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ان پر ہدایت لازم کردے تو اللہ نے لازم کردی ہوتی ۔ اگر اللہ یہ چاہتا کہ ان کو آغاز ہی سے فرشتوں کی طرح ہدایت پر پیدا کرتا تو وہ ایسا کردیتا ‘ لیکن اللہ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا اور اس کے اندر ہدایت وضلالت دونون کی طاقت ودیعت کردی اور اسے آزاد چھوڑ دیا کہ وہ ہدایت اختیار کرتا ہے یا ضلالت ۔ پھر جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کی سزا وجزا اسے دی جائے اور یہ تمام کام اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہو جس سے کوئی بات بھی باہر نہیں ہو سکتی ۔ البتہ اللہ کسی انسان کو ہدایت یا گمراہی پر مجبور نہیں کرتا اور یہ کام اللہ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے کیا ہے جس کا علم صرف اسے ہے تاکہ انسان اس کائنات میں اپنا مقررہ کردار ادا کرسکے ‘ اپنی صلاحیتوں اور تصرفات کے مطابق ۔
(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکُواْ (6 : 107) ” اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ۔ “ اس لئے رسول اللہ ﷺ ان کے اعمال کے بارے میں مسئول نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے اعمال کا مختار اور پاسبان مقرر نہیں کیا ۔ یہ کام تو اللہ کا ہے ۔
یہ ہدایت حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے خلفائے کرام اور ان کے بعد ان تمام لوگوں کے لئے حدود کار متعین کردیتی ہے جو آپ کے بعد آئیں گے ۔ ہر دور میں اور ہر قوم میں اور ہر معاشرے میں ۔
کسی داعی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی دعوت ‘ اپنے دل ‘ اور اپنی سرگرمیوں کو صرف منحرفین اور معاندین کے لئے وقف کر دے حالانکہ ان کے دل اور دماغ قبول دعوت اور دلائل قبول دعوت اور شواہد حقیقت کے لئے کھلے ہی نہیں ۔ داعی کو چاہئے کہ وہ دل کھلا رکھے اور اپنی امیدیں اور اپنی سرگرمیاں ان لوگوں تک محدود رکھے جو قبول دعوت کے لئے آمادہ ہوں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی سیرت کی تعمیر اصول دین کی روشنی میں کی جائے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے دلوں میں اس کائنات اور اس دنیاوی زندگی کے بارے میں اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ایک گہرا تصور بٹھایا جائے۔ نیز ایسے ہی لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے اخلاق اور ان کے طرز عمل کو صحیح طرح استوار کیا جائے اور پھر ایسے افراد کی ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جس کی بنیاد اس عقیدے اور نظریہ حیات پر ہو ۔ یہ کام اس قدر بھاری ہے کہ اس کے لئے زبردست جدوجہد کی ضرورت ہے اور یہ کام مسلسل جدوجہد کا مستحق بھی ہے ۔ رہے وہ لوگ جو دعوت کی مخالفت میں صف آرا ہیں تو وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ دعوت دے کر انہیں ایک طرف چھوڑ دیا جائے ۔ جب سچائی قوت پکڑتی ہے اور غالب ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کی سنت یہ ہے کہ سچائی برائی پر حملہ آور ہوتی ہے اور باطل مٹ جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سچائی موجود رہے ۔ جب سچائی مکمل شکل میں موجود ہوتی ہے تو اس کے مقابلے میں باطل نرم پڑجاتا ہے اور اس کے دن گنے جاتے ہیں ۔
رسول اکرم ﷺ کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ مشرکین سے اعراض کریں ‘ حضور ﷺ کو اور اہل اسلام کو حکم دیا گیا کہ یہ اعراض اور صرف نظر نہایت ہی شائستہ انداز میں اور پروقار طریقے سے ہو مثلا یہ کہ وہ مشرکین کے الہوں کو برا بھلا نہ کہیں کیونکہ اس کے جواب میں وہ لوگ اللہ کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ جل شانہ کی جلالت قدر کا کوئی علم نہیں ہے ۔ چناچہ مسلمان تو ان کے الہوں کو برا کہیں گے جو حقیر ہیں اور اس کے مقابلے میں وہ لوگ ان کے جلیل القدر الہ کو برا بھلا کہیں گے ۔
الأنعام 6:107
(آیت) ” اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (106)
” اے نبی ﷺ اس وحی کی پیروی کئے جاؤ ‘ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے نہ پڑو۔ “
اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ان پر ہدایت لازم کردے تو اللہ نے لازم کردی ہوتی ۔ اگر اللہ یہ چاہتا کہ ان کو آغاز ہی سے فرشتوں کی طرح ہدایت پر پیدا کرتا تو وہ ایسا کردیتا ‘ لیکن اللہ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا اور اس کے اندر ہدایت وضلالت دونون کی طاقت ودیعت کردی اور اسے آزاد چھوڑ دیا کہ وہ ہدایت اختیار کرتا ہے یا ضلالت ۔ پھر جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کی سزا وجزا اسے دی جائے اور یہ تمام کام اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہو جس سے کوئی بات بھی باہر نہیں ہو سکتی ۔ البتہ اللہ کسی انسان کو ہدایت یا گمراہی پر مجبور نہیں کرتا اور یہ کام اللہ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے کیا ہے جس کا علم صرف اسے ہے تاکہ انسان اس کائنات میں اپنا مقررہ کردار ادا کرسکے ‘ اپنی صلاحیتوں اور تصرفات کے مطابق ۔
(آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکُواْ (6 : 107) ” اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ۔ “ اس لئے رسول اللہ ﷺ ان کے اعمال کے بارے میں مسئول نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے اعمال کا مختار اور پاسبان مقرر نہیں کیا ۔ یہ کام تو اللہ کا ہے ۔
یہ ہدایت حضرت نبی کریم ﷺ اور آپ کے خلفائے کرام اور ان کے بعد ان تمام لوگوں کے لئے حدود کار متعین کردیتی ہے جو آپ کے بعد آئیں گے ۔ ہر دور میں اور ہر قوم میں اور ہر معاشرے میں ۔
کسی داعی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی دعوت ‘ اپنے دل ‘ اور اپنی سرگرمیوں کو صرف منحرفین اور معاندین کے لئے وقف کر دے حالانکہ ان کے دل اور دماغ قبول دعوت اور دلائل قبول دعوت اور شواہد حقیقت کے لئے کھلے ہی نہیں ۔ داعی کو چاہئے کہ وہ دل کھلا رکھے اور اپنی امیدیں اور اپنی سرگرمیاں ان لوگوں تک محدود رکھے جو قبول دعوت کے لئے آمادہ ہوں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی سیرت کی تعمیر اصول دین کی روشنی میں کی جائے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے دلوں میں اس کائنات اور اس دنیاوی زندگی کے بارے میں اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ایک گہرا تصور بٹھایا جائے۔ نیز ایسے ہی لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے اخلاق اور ان کے طرز عمل کو صحیح طرح استوار کیا جائے اور پھر ایسے افراد کی ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جس کی بنیاد اس عقیدے اور نظریہ حیات پر ہو ۔ یہ کام اس قدر بھاری ہے کہ اس کے لئے زبردست جدوجہد کی ضرورت ہے اور یہ کام مسلسل جدوجہد کا مستحق بھی ہے ۔ رہے وہ لوگ جو دعوت کی مخالفت میں صف آرا ہیں تو وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ دعوت دے کر انہیں ایک طرف چھوڑ دیا جائے ۔ جب سچائی قوت پکڑتی ہے اور غالب ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کی سنت یہ ہے کہ سچائی برائی پر حملہ آور ہوتی ہے اور باطل مٹ جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سچائی موجود رہے ۔ جب سچائی مکمل شکل میں موجود ہوتی ہے تو اس کے مقابلے میں باطل نرم پڑجاتا ہے اور اس کے دن گنے جاتے ہیں ۔
رسول اکرم ﷺ کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ مشرکین سے اعراض کریں ‘ حضور ﷺ کو اور اہل اسلام کو حکم دیا گیا کہ یہ اعراض اور صرف نظر نہایت ہی شائستہ انداز میں اور پروقار طریقے سے ہو مثلا یہ کہ وہ مشرکین کے الہوں کو برا بھلا نہ کہیں کیونکہ اس کے جواب میں وہ لوگ اللہ کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ جل شانہ کی جلالت قدر کا کوئی علم نہیں ہے ۔ چناچہ مسلمان تو ان کے الہوں کو برا کہیں گے جو حقیر ہیں اور اس کے مقابلے میں وہ لوگ ان کے جلیل القدر الہ کو برا بھلا کہیں گے ۔
الأنعام 6:108
(آیت) ” نمبر 108۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس طرح پیدا کیا ہے کہ ان میں سے جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اسے اچھا سمجھ کر کرتا ہے اور وہ اپنے طرز عمل کی مدافعت کرتا ہے ۔ اگر وہ اچھے اعمال پر عمل پیرا ہے تو بھی وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے ۔ اگر وہ برے اعمال پر عمل پیرا ہے تو بھی وہ انہیں اچھا سمجھتا ہے اور ان کی مدافعت کرتا ہے ۔ اگر وہ صحیح راہ پر ہو تو بھی اسے اچھی سمجھتا ہے اور اگر وہ ضلالت کی راہ پر گامزن ہو تو بھی وہ اسے اچھا سمجھتا ہے ۔ یہ ہے انسان کی فطرت اور اس کا مزاج ۔ مشرکین مکہ اللہ کے ساتھ کچھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے حالانکہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ صرف اللہ ہی خالق اور رازق ہے ۔ اگر ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو مسلمانوں نے برا بھلا کہا تو وہ اپنے بتوں کے دفاع میں نکل آئیں گے اور اللہ رب العزت کو برا بھلا کہیں گے ۔ لہذا مسلمانوں کو ہدایت ہوئی کہ وہ انہیں ان کے حال ہی پر چھوڑ دیں ۔
(آیت) ” ثُمَّ إِلَی رَبِّہِم مَّرْجِعُہُمْ فَیُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (108)
” پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے ‘ اس وقت وہ انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں “۔
ایک مومن جس کو اسلامی دین پر اطمینان قلب حاصل ہو اور اسے یہ یقین ہو کہ وہ جس دین پر ہے وہ برحق ہے ۔ اس کا قلب مطمئن ہے اور وہ ایسے امور کے پیچھے نہیں پڑتا جس میں کوئی فائدہ نہ ہو ‘ کیونکہ بتوں کو گلیاں دینے سے ان کے ایمان ویقین میں کوئی اضافہ ہو نہیں سکتا ۔ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ مخالفین کے دلوں میں عناد بڑھ جائے ۔ اس لیے اہل ایمان کو اس بےفائدہ مشغلے سے کیا تعلق ہو سکتا ہے ۔ ہاں یہ خطرہ ہو سکتا ہے کہ جواب میں اہل ایمان مخالفین کی جانب سے ایسی باتیں سنیں جن کو وہ پسند نہیں کرتے یعنی رب ذوالجلال کی شان میں گستاخی ۔
اب اس سبق کا خاتمہ ہو رہا ہے ‘ اس پورے سبق میں اللہ تعالیٰ نے ایسے دلائل و شواہد پیش کئے ہیں جو رات ودن کے ہر لمحے میں چشم بینا کے لئے وافر مقدار میں موجود ہیں سبق کا خاتمہ اس بات پر ہوتا ہے کہ یہ مخالفین اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہمارے سامنے بھی رسولان سابقہ کی طرح کوئی خارق العادۃ مادی معجزہ آجائے تو وہ ضرور ایمان لائیں گے اور ان کے اس حلفیہ بیان کر سن کر بعض مخلصین اہل ایمان نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے تجویز پیش کی کہ آپ ﷺ اللہ سے کسی ایسے معجزے کے صدور کے لئے دست بدعا ہوں ۔ اس تجویز کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ دو ٹوک جواب یوں دیتے ہیں کہ دیکھو تمہیں ان مکذبین اور ان کی تکذیب کی حقیقت ہی کا علم نہیں ہے ۔
الأنعام 6:109
(آیت) ” نمبر 109 تا 110۔
” وہ دل جو اس کائنات میں بکھرے ہوئے شواہد و دلائل کو تسلیم نہیں کرتا ‘ خصوصا اس تبلیغ وبیان کے بعد جو اس کتاب نے بےمثال پیرائے میں پیش کیا اور اس کائنات اور خود انسان کے نفس کے اندر موجود آیات الہیہ اسے اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں اور وہ اپنے رب کی طرف دوڑ کر نہیں آتا تو ایسا دل یقینا لاعلاج دل ہے ۔ ان لوگوں نے ابتداء ہی سے ایمان کا انکار کردیا ہے تو جو مسلمان حضرت نبی کریم ﷺ سے درخواستیں کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ایسے معجزات کے صدور کی دعا کریں تو ان کے پاس کی گارنٹی ہے کہ وہ صدور معجزہ کے بعد دوبارہ انکار نہ کریں گے ۔ اللہ ہی ان کے دلوں کا حال جانتا ہے اور خوب جانتا ہے ۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ یہ لوگ یونہی اپنی سرکش میں غرق رہیں کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ ان کی تکذیب کا صلہ یہی ہے اور اللہ کو یہ بھی علم ہے کہ صدور معجزہ کے بعد بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔ اگر فرشتے بھی اتر آئیں تب بھی وہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ اگر مردے اٹھ کر قبروں سے بات چیت شروع کردیں تب بھی نہیں مانیں گے ۔ اگر تمام مخلوق کو اٹھا کر ان کے سامنے حشر برپا کر دیاجائے اور یہ تمام مخلوق ان کو دعوت ایمان دے تب بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ یہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کی مشیت انہیں مجبور ایمان نہ کر دے ۔ اور اللہ کی مشیت کسی کو مجبور نہیں کرتی کیونکہ لوگ اس طرف آنا ہی نہیں چاہتے ۔ یہ وہ نفسیاتی حقیقت ہے جسے اکثر داعی بھول جاتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ اہل ضلال کے سامنے دلائل وبراہین کی کوئی کمی ہے ‘ بلکہ وہ دل کے بیمار ہیں ۔ ان کی فطرت معطل ہوچکی ہے اور ان کا ضمیر فاسد ہوچکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے حصول کے لئے سعی کریں ۔ بٹگرام 12 دسمبر 1990۔ 49 : 12 بجے دن ۔
الأنعام 6:110
(آیت) ” نمبر 109 تا 110۔
” وہ دل جو اس کائنات میں بکھرے ہوئے شواہد و دلائل کو تسلیم نہیں کرتا ‘ خصوصا اس تبلیغ وبیان کے بعد جو اس کتاب نے بےمثال پیرائے میں پیش کیا اور اس کائنات اور خود انسان کے نفس کے اندر موجود آیات الہیہ اسے اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں اور وہ اپنے رب کی طرف دوڑ کر نہیں آتا تو ایسا دل یقینا لاعلاج دل ہے ۔ ان لوگوں نے ابتداء ہی سے ایمان کا انکار کردیا ہے تو جو مسلمان حضرت نبی کریم ﷺ سے درخواستیں کرتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے ایسے معجزات کے صدور کی دعا کریں تو ان کے پاس کی گارنٹی ہے کہ وہ صدور معجزہ کے بعد دوبارہ انکار نہ کریں گے ۔ اللہ ہی ان کے دلوں کا حال جانتا ہے اور خوب جانتا ہے ۔ اللہ کی مشیت یہ ہے کہ یہ لوگ یونہی اپنی سرکش میں غرق رہیں کیونکہ اللہ جانتا ہے کہ ان کی تکذیب کا صلہ یہی ہے اور اللہ کو یہ بھی علم ہے کہ صدور معجزہ کے بعد بھی یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ۔ اگر فرشتے بھی اتر آئیں تب بھی وہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ اگر مردے اٹھ کر قبروں سے بات چیت شروع کردیں تب بھی نہیں مانیں گے ۔ اگر تمام مخلوق کو اٹھا کر ان کے سامنے حشر برپا کر دیاجائے اور یہ تمام مخلوق ان کو دعوت ایمان دے تب بھی یہ مان کردینے والے نہیں ہیں ۔ یہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک اللہ کی مشیت انہیں مجبور ایمان نہ کر دے ۔ اور اللہ کی مشیت کسی کو مجبور نہیں کرتی کیونکہ لوگ اس طرف آنا ہی نہیں چاہتے ۔ یہ وہ نفسیاتی حقیقت ہے جسے اکثر داعی بھول جاتے ہیں ۔ یہ بات نہیں ہے کہ اہل ضلال کے سامنے دلائل وبراہین کی کوئی کمی ہے ‘ بلکہ وہ دل کے بیمار ہیں ۔ ان کی فطرت معطل ہوچکی ہے اور ان کا ضمیر فاسد ہوچکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جو اس کی طرف متوجہ ہوں اور اس کے حصول کے لئے سعی کریں ۔ بٹگرام 12 دسمبر 1990۔ 49 : 12 بجے دن ۔
الأنعام 6:111
پارہ نمبر 8 ایک نظر میں :
اس پارے کے دو حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں سورة الانعام کا باقی حصہ ہے ‘ جس کا پہلا حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں سورة الانعام کا باقی حصہ ہے ‘ جس پہلا حصہ ساتویں پارے میں تھا۔ دوسرا حصہ سورة اعراف پر مشتمل ہے ۔ سورة انعام کا تعارف ہم نے ساتویں پارے میں کرا دیا تھا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس تعارف کا ایک حصہ قارئین کی یاد تازہ کرنے کے لئے یہاں بھی ذکر کریں ۔ رہی سورة اعراف تو اس کے آغاز میں اس کا مکمل تعارف دے دیا جائے گا ‘ انشاء اللہ تعالیٰ !
سورة انعام کا یہ حصہ بھی اسی پیٹرن (PAttern) پر آگے بڑھتا ہے جس کی وضاحت ہم نے سورة انعام کے آغاز میں کردی تھی ‘ یعنی ساتویں پارے میں ۔ یہاں چند فقروں میں مختصر اشارات کافی ہوں گے ۔ اس سورة کے تعارف میں ساتویں پارے میں یہ فقرے اس قابل ہیں کہ انہیں ذہن میں تازہ کیا جائے ۔
” یہ سورة مجموعی لحاظ سے حقیقت الوہیت سے بحث کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کے دائرے میں بھی اور انسانی زندگی کے دائرے میں بھی۔ انسانی نفس اور ضمیر کے دائرے میں بھی اور اس دکھائی دینے والی کائنات کے نامعلوم رازوں کے دائرے میں بھی اور عالم غیب کے نامعلوم رازوں کے دائرے کے اندر بھی تصور حاکمیت الہیہ کو پیش کرتی ہے اور گزرنے والوں کی باہمی کشمکش اور ان کی جگہ لینے والوں کی جانشینی میں بھی حاکمیت الہیہ کے کچھ رنگ دکھاتی ہے ۔ غرض اس کائنات پر نظر ڈالتے ہوئے مشاہد فطرت میں اللہ کی حاکمیت ‘ دنیا میں ہونے والے بڑے بڑے واقعات میں اللہ کی حاکمیت ‘ دنیا کی خوشحالی اور بدحالی میں اللہ کی حاکمیت اس سورة کا موضوع ہے ۔ قدرت الہیہ کے مختلف مظاہر ومشاہد میں اللہ کی حاکمیت ‘ انسان کی زندگی کے اوپر اللہ کی ظاہری اور باطنی گرفت میں اللہ کی حاکمیت دنیا میں رونما ہونے والے واقعات اور متوقع حوادث میں اور سب سے آخر میں قیامت کے مناظر اور خصوصا اس منظر میں اللہ کی حاکمیت جس میں سب لوگ بارگاہ الہی میں کھڑے ہونگے ۔ “
” اس طرح یہ سورة قلب انسانی کو لے کر مختلف ابعاد وآفاق تک لے جاتی ہے اور ان کے نشیب و فراز کی سیر کراتی ہے ‘ لیکن پوری سورة میں قرآن کریم کا مکی انداز برقرار ہے جس کے اسلوب کے بارے میں ہم گزشتہ صفحات میں بیان کر آئے ہیں ۔ مکی اسلوب کے ساتھ ساتھ پورے قرآن کا انداز کلام بھی اس سورة میں اپنے اعلیٰ معیار رکھنے کے لئے کوئی بحث مطلوب ہو ۔ بلکہ سیدھے سادے انداز میں یہ سورة رب العالمین کا تعارف لوگوں سے کراتی ہے ‘ تاکہ لوگ اپنے سچے رب کی بندگی اور غلامی کریں ۔ ان کا ضمیر اور ان کی روح اللہ کی غلام ہوجائے ‘ ان کی جدوجہد اور ان کی تمام مساعی اللہ کی تابعداری میں ہوں ‘ ان کے رسوم و رواج اللہ کے رنگ میں ہوں ‘ اور ان کی زندگی کی پوری صورت حال اللہ وحدہ کی حاکمیت کے تحت ہو ‘ جس کے سوا زمین و آسمان میں کسی اور کی حاکمیت نہیں ہے ۔ “
” یوں نظر آتا ہے کہ یہ سورة اول سے آخر تک ایک متعین نصب العین کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق ہے ‘ وہی مالک ہے ‘ وہی قدرتوں والا ہے ‘ اور وہی بادشاہ اور قہار ہے ۔ وہی پوشیدہ چیزوں اور غیب کا جاننے والا ہے ۔ وہ جس طرح رات ودن کو گردش دے رہا ہے ‘ اسی طرح وہ دلوں اور دماغوں کا بھی پھیرنے والا ہے اس لئے اس کو تمام لوگوں کی زندگیوں پر حاکم ہونا چاہئے ۔ لوگوں کی زندگیوں میں امر ونہی کا اختیار صرف اسی کو ہونا چاہئے ۔ کوئی حکم اور کوئی قانون اس کے حکم اور قانون کے سوا نہ ہوگا ۔ حلال و حرام کے تعین کا اختیار بھی صرف اسی کو ہے ‘ اس لئے کہ یہ تمام امور اللہ کی الوہیت کے عناصر ترکیبی ہیں ‘ لہذا لوگوں کی زندگیوں میں ان کے بارے میں تصرف صرف اللہ کرسکتا ہے ۔ اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے ‘ نہ کوئی رازق ہے ‘ نہ زندہ کرنے والا ہے اور نہ مارنے والا ہے ‘ نہ نفع دینے والا ہے اور نہ نقصان دینے والا ہے ‘ نہ کوئی داتا ہے اور نہ کوئی مانع ہے ۔ غرض نہ اللہ کے سوا کوئی بھی کسی کے لئے یا اپنے لئے نفع ونقصان دینے والا ہے ‘ نہ کوئی داتا ہے اور نہ کوئی مانع ہے ۔ غرض نہ اللہ کے سوا کوئی بھی کسی کے لئے یا اپنے لئے نفع ونقصان کا مالک ہو سکتا ہے ‘ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ اس سورة میں اول سے آخر تک اس مقصد کے لئے دلائل و شواہد پیش کئے گئے ہیں اور یہ دلائل ان مشاہدات ‘ مؤثرات اور قدرتی مواقف کے ذریعے فراہم ہوئے ہیں جو اس کائنات میں موجود ہیں اور فکر ونظر کو مسحور کرنے والے ہیں ۔ اور ان مناظر فطرت کے اس مطالعے سے دل پر ہر طرف سا اشارات ومؤثرات ہر دروازے اور ہر پہلو سے متوجہ ہوتے ہیں اور اثر انداز ہوتے ہیں۔
وہ سب سے بڑا مسئلہ جس پر یہ سورة زور دے رہی ہے ‘ وہ زمین وآسمانوں کے اندر اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کا مسئلہ ہے ‘ زمین و آسمان کے وسیع دائرے میں اور کائنات کے وسیع و عریض میدان میں تصور حاکمیت الہیہ کا مسئلہ ۔ یہ سورة اسی مسئلے کو پیش کرتی ہے لیکن اطلاقی انداز اور بات کی مناسبت یہ ہے کہ جاہلیت کے پیروکار بعض ذبیحوں اور بعض کھانوں کے معاملے میں حلال و حرام کے اختیارات اللہ کے سوا دوسروں کو دیتے تھے ۔ اسی طرح نذر کے معاملے میں بعض قربانیوں ‘ بعض پھلوں اور بعض بچوں کے ملنے میں جاہلیت کے پرستار اللہ کے سوا دوسرے الہوں کو اختیارات دیتے تھے ۔ اس مناسبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پوری کائنات کے اندر نظریہ حاکمیت الہیہ یہاں تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور اسی مناسبت کی طرف سورة کی آخری آیات کے اندر اشارے کئے گئے ہیں۔
(پھر اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو ‘ تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت کھاؤ ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالت اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے ان کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے ۔ بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں ‘ ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے ۔ تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی ۔ جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے ۔ اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت نہ کھاؤ ‘ ایسا کرنا فسق ہے ۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں ۔ لیکن اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو گے ۔ (6 : 118۔ 121)
(اور ان لوگوں نے اللہ کے لئے خود اس کی پیدا کی ہوئی کھیتوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے ‘ اور کہتے ہیں یہ اللہ کیلئے ہے بزعم خود ‘ اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے ۔ پھر جو حصہ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے کیسے برے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ ۔ اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اولاد کے قتل کو خوشنما بنایا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے ‘ لہذا انہیں چھوڑ دو کہ یہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں ۔ کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ۔ انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراء کیا ہے ۔ عنقریب اللہ انہیں ان کی افتراء پر دازیوں کا بدلہ دے گا اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کیلئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ‘ لیکن اگر وہ مردہ ہوں تو دونوں اس کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا ۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔ یقینا خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت اور نادانی کی وجہ سے قتل کیا اور اللہ کے دیئے ہوئے رزق کو اللہ پر افتراء پردازی کر کے حرام ٹھہرا لیا ۔ یقینا وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے ۔ (6 : 136۔ تا 140)
” امت مسلمہ کی زندگی میں یہ ایک عملی پہلو تھا جس کی مناسبت سے اس سورة میں اس عظیم مسئلہ کو لیا گیا ۔ اس دور میں امت مسلمہ کے ماحول پر بھی جاہلیت چھائی ہوئی تھی ۔ قانون سازی اور حلال و حرام کے تعین کے معاملے میں جو شرکیہ عقائد موجود تھے ان کی اصلاح کے حوالے سے یہاں اللہ کی الوہیت ‘ اللہ کی حاکمیت اور تمام انسانوں کی بندگی اور عبودیت کے مسائل کو لیا گیا ۔ چناچہ جس طرح تمام مکی قرآن میں اس مسئلے کو لیا گیا ہے اسی طرح اس سورة میں بھی اس مسئلے کو بڑی تفصیل سے لیا گیا ہے اور مدنی آیات میں جہاں حلال و حرام اور حق قانون سازی کا بیان آتا ہے وہاں بھی مسئلہ حاکمیت الہیہ کو لیا جاتا ہے ۔ “
” اس سیاق کلام میں جن موثر ہدایات اور فیصلوں اور قرار دادوں کا سیلاب امنڈتا چلا آ رہا ہے اور جن جانوروں نذروں اور ذبیحوں کے بارے میں مشرکین کی جو تردید کی جارہی ہے ‘ اسی حوالے سے یہاں اللہ کے مسئلہ الوہیت اور اللہ کے حق قانون سازی کو بھی بیان کیا جارہا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ حلال و حرام کی اس قانون سازی کا تعلق اسلامی عقائد اور اسلامی نظریات کے ساتھ ہے ‘ اور وہ نظریہ ‘ حاکمیت الہیہ اور انسانوں کی بندگی اور غلامی کا ہے ۔ یہ مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ‘ یہ اسلام اور کفر اور اسلام اور جاہلیت کا مسئلہ ہے ۔ ہدایات کے اس سیلاب میں سے ہم یہاں اس سورة کے تعارف میں صرف چند نمونے پیش کریں گے لیکن ان کی مکمل تفصیلات اس وقت آئیں گی جب ہم سورة کی آیات تفصیلی بحث کریں گے ۔ اپنے اثرات کے اعتبار سے یہ سیلاب نفس انسانی کے اندر اس دین کے مزاج کی حقیقی ماہیت بٹھا دیتا ہے ۔ وہ یہ کہ انسانی زندگی کا چھوٹا مسئلہ ہو یا بڑا اللہ کے حق حاکمیت کے تحت حل ہونا چاہئے اور اللہ کی حاکمیت اسلامی شریعت کی صورت میں ریکارڈ شدہ ہے ۔ اگر اس طرح نہ ہوگا تو پھر یہ تصور ہوگا کہ ایسے یا معاشرہ دین سے خارج ہے ‘ یا ایک جزوی مسئلے یا اس معمولی مسئلے کی حدتک انسان دین سے نکل گیا ہے ۔
” اور یہ کثرت ہدایات اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ دین انسانی زندگی کے تمام مظاہر سے اور زندگی کے تمام معاملات سے انسانوں کی حاکمیت کو ختم کرتا ہے ۔ یہ معاملات اہم ہوں یا غیر اہم ‘ بڑے ہوں یا چھوٹے ان کو اس عظیم اصول کے دائرے کے اندر لاتا ہے ۔ یعنی یہ کہ اللہ کی الوہیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پورے کرہ ارض پر حاکم مطلق ہے ‘ بلاشرکت غیرے اس کائنات کے اوپر متصرف ہے اور یہ اصول دین اسلام کے اندر پوری طرح ظاہر اور مجسم ہے ۔ “
درج بالااقتباسات میں جس صورت حالات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ امت مسلمہ کی زندگی میں موجود تھی اور امت کے اردگرد جاہلیت بھی موجود تھی جس کی اصلاح یہ سورة مذکورہ بالاانداز میں کررہی تھی ۔ اس پارے میں سورة انعام کے جس حصے کی بابت ہم بات کریں گے یہ حصہ اسی صورت حالات سے متعلق ہے جبکہ سورة انعام کا جو حصہ گزشتہ پارے میں گزر گیا ہے اس کا موضوع بھی مسئلہ الوہیت ‘ حاکمیت اور انسانوں کی بندگی تھا ‘ لیکن یہ مسئلہ وہاں عمومی طور پر لیا گیا تھا ۔ اب سیاق کلام یہاں مخصوص جاہلی رسوم کی شکل میں اسی مسئلہ الوہیت اور عبودیت کو لے رہا ہے اور دونوں کے درمیان ربط واضح ہے ‘ ایک جگہ اصول عام ہے اور دوسری جگہ اس کی مثال ہے ۔
اس پارے میں اب متعدد اور بیشمار مثالوں کو لے کر بعض جاہلی رسوم کو لیا گیا ہے ‘ کہ اہل جاہلیت نے بعض کھانوں کو حرام قرار یدا تھا اور بعض کو جائز قرار دے دیا تھا ۔ جن کا تعلق نذر ونیاز ‘ بعض پھلوں اور بعض بچوں سے تھا اس حوالے سے نہایت ہی موثر اور متعدد فیصلے کئے گئے ۔ ان فیصلوں کا ربط بعض حقائق اور اصولوں کے ساتھ ہے جو اس دین کی اساس ہیں۔ ان قواعد اور اصولوں کے بڑے بڑے اختلافات اور نتائج کو بھی پیش کیا گیا ہے ‘ ان تمام باتوں سے واضح ہوتا ہے کہ دین اسلام اس بات کو نہایت ہی زیادہ اہمیت دیتا ہے کہ انسان کی زندگی جاہلیت سے مکمل طور پر خالی ہو ‘ اور پوری کی پوری اسلام میں داخل ہو یعنی اللہ کی حاکمیت کے نیچے آجائے ۔
اس پارے کا آغاز بطور تمہید اس بات سے کیا جاتا ہے کہ اللہ کی مشیت تمام بندوں کو گھیرے ہوئے ہے ۔ جنوں کو بھی اور انسانوں کو بھی اور تمام جہانوں کے واقعات اللہ کی تقدیر اور مشیت کے مطابق رونما ہوتے ہیں ۔ انسانوں اور جنوں میں سے جو لوگ شیطان ہیں ‘ رسولوں کے دشمن ہیں ۔ انہیں اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے ‘ ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ جن برائیوں کا ارتکاب کرنا چاہتے ہیں ‘ کرلیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو انہیں مجبور کرکے ہدایت دے دیتا اور انہیں گمراہی سے روک دیتا ہے یا انہیں ہدایت دے دیتا اور راہ حق پر انہیں شرح صدر حاصل ہوجاتی یا انہیں اس بات سے روک دیتا کہ وہ رسولوں کو اذیت دیں ‘ مومنین کو تنگ کریں اور ان کے ہاتھ ہی رسولوں اور مومنین تک نہ پہنچ سکتے ۔ اس لئے کہ وہ جن برائیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور رسولوں کو اذیت دیتے ہیں تو یہ اللہ کی مشیت کے دائرے سے باہر نکل کر نہیں کرتے ‘ اللہ کی مشیت اور سلطنت کے اندر رہ کر وہ یہ کام کرتے ہیں ۔ یہ اللہ کی مشیت ہی ہے جس نے ان کو یہ سب کچھ کرنے کا اختیار دیا ہے کہ وہ چاہیں تو ہدایت کی راہ لیں اور چاہیں تو ضلالت کی راہ لیں ۔ وہ تو بہرحال اللہ کی قبضہ قدرت میں ہیں :” اور ہم نے تو اسی طرح شیطانوں انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القاء کرتے رہتے ہیں ۔ اگر تمہارے رب کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے ‘ پس تم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افتراء پردازیاں کرتے رہیں اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ‘ ان کے دل اس دھوکے کی طرف مائل ہوں اور اس سے راضی ہوجائیں اور ان برائیوں کا اکتساب کریں جن کا اکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں ۔ “
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ انسانوں میں سے شیطان اور جنوں میں سے شیطان ‘ سنت الہی کے مطابق انبیاء رسل کے دشمن ہوں گے اور یہ کہ یہ شیاطین اپنی تمام کارستانیوں کے باوجود اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس لئے حضور ﷺ نے اس امر کو بہت ہی برا سمجھا کہ میں اللہ کے حکم بناؤں چاہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو ‘ اس لئے کھانے پینے کی ان چیزوں میں اللہ کے سوا کسی اور کے فیصلے کو ماننے کے معنی یہ ہیں کہ ہم تمام معاملات میں غیر اللہ کا حکم بنا رہے ہیں ۔ مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے سوا میں کسی اور کی ربوبیت کا اقرار کیسے کرسکتا ہوں ۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب اور اس شریعت کی صورت میں فیصلہ کن بات آگئی ہے اس لئے اللہ کی بات کے بعد کسی کی بات کا کیا موقعہ ہے اور اللہ کے حکم کے بعد کسی حکم کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ ؟ حضور اکرم ﷺ کو متنبہ کردیا گیا کہ آپ اللہ کے دین کے معاملے میں کسی انسان کی اطاعت نہ کریں ۔ اس لئے کہ لوگ تو محض ظن وتخمین سے کام چلاتے ہیں اور ان کے پاس کوئی یقینی علم نہیں ہے ۔ اگر کسی نے ان کی اطاعت کی تو وہ اسے گمراہ کردیں گے ۔ اس بات کا علم صرف اللہ کو ہے کہ اسکے بندوں میں سے ہدایت یافتہ کون ہے اور گمراہ کون ہے ؟ یہ بات بطور تمہید یہ حکم دینے کے لئے کہی گئی کہ اگر تم مومن ہو تو ان جانوروں کو خوب کھاؤ جن پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ اور ان جانوروں کو نہ کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ‘ اور اس بات سے ڈرایا گیا کہ تم حلال و حرام کے تین میں شیطان کے دوستوں کی بات ہر گز نہ مانو ۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تم بھی انہیں کی طرح مشرکین میں سے ہو جاؤگے ۔ آخر میں پھر ان احکامات کا خاتمہ اس وضاحت پر ہوتا ہے کہ کفر کی حقیقت کیا ہے اور ایمان کی ماہیت کیا ہے ۔ اور وہ اسباب کیا ہیں جو ان کفار کو برائیوں کے ارتکاب پر مجبور ہیں۔ ذرا قرآن کے ان الفاظ پر غور کریں :
” پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ‘ حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے ‘ اور جن لوگوں کو ہم نے تم سے پہلے کتاب دی تھی وہ جانتے تھے کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہذا تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہو ۔ تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے ‘ کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے اور اے محمد اگر تم ان لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین پر میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے ۔ وہ تو بس گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں ۔ درحقیقت تمہارا رب بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے ۔ پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کا گوشت کھاؤ ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالت اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے ان کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے ۔ بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بناء پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں ‘ ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے ۔ تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپنے والے گناہوں سے بھی ‘ جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی کمائی کا بدلہ پاک کر رہیں گے اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاؤ ‘ ایسا کرنا فسق ہے ۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القاء کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں ۔ لیکن اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو ۔ کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اس سے نہ نکلتا ہو۔ کافروں کے لئے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنادیئے گئے ہیں اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکروفریب کا جال پھیلائیں ۔ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں خود پھنسے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہی ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے ۔ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ قریب ہے وہ وقت کہ یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے ۔ “
اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ ہدایت پانے والوں کی ہدایت اور ضلالت کی راہ لینے والوں کی گمراہی دونوں کی تکمیل تب ہی ہوسکتی ہے کہ جب قدرت الہیہ کا منشا ہو۔ دونوں قسم کے لوگ اللہ کے قبضہ قدرت اور اس کے اقتدار اعلی کے تحت ہیں اور یہ دونوں اللہ کی قدرت اور مشیت کے دائرے کے اندر رہتے ہیں ۔ فرمایا جارہا ہے :
” پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا کہ اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ۔ اس طرح اللہ ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ “
آیات کا یہ حصہ اس بات پر اختتام پذیر ہوتا ہے کہ اس سے قبل جو امر ونہی وارد ہوئے جو اعتقادات اور تصورات بیان کئے گئے یہ سب کے سب صراط مستقیم ہیں ۔ اللہ کی مشیت اور قدرت کے تعین کے اصول اور ان اوامر ونواہی کے درمیان ربط پیدا کرکے انہیں ایک پیکج قرار دیا جاتا ہے جسے صراط مستقیم قرار دے کر حکم دیا جاتا ہے کہ اس راہ کو اپنائیں تاکہ اپنے رب کے ہاں امن وسلامتی کی منزل کو پالیں اور اللہ بہرحال اس کا ولی اور ناصر ہے ۔ ” حالانکہ یہ راستہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات ان لوگوں کے لئے واضح کردیئے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں ۔ ان کے لئے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے اور وہ ان کا سرپرست ہے ‘ اس صحیح طرز عمل کی وجہ سے جو انہوں نے اختیار کیا ۔ “۔
ذبیحوں کی بحث اور ان کے کھانے کے مسائل ختم ہونے سے پہلے یہاں قرآن کریم ان لوگوں کے انجام کا ذک ربھی کردیتا ہے جو شیاطین ہیں اور جن وانس دونوں میں سے ہیں اور جو اس وقت اہل ایمان کے ساتھ ان ذیبحوں کے مسائل پر سخت الجھ رہے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ آخری انجام اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور وہ قادر مطلق اور حاکم ہے ۔ یہ اللہ ہی ہے جو جسے چاہے اس زمین کی خلافت عطا کرتا ہے ۔ جس کے بارے میں چاہے اسے اس جہان سے حرف غلط کی طرح مٹا دے ۔ اس بات پر سخت تنبیہ کی جاتی ہے کہ کوئی شخص خود سری اختیار نہ کرے اس لئے کہ اسے جو آزادی اور اختیار دیا گیا ہے وہ خود سری کے لئے نہیں دیا گیا بلکہ اسے آزمانے کے لئے دیا گیا ہے اور مہلت دی گئی ہے کہ وہ کس راہ پر چلتا ہے اور آخر کار جب مہلت ختم ہوگئی تو اس سے مواخذہ ہوگا اور جو کچھ اس نے کمایا اس کی سزا بھگتے گا ۔ ” اور جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا ‘ اس روز جنوں سے خطاب کرکے فرمائے گا ” اے گروہ جن ! تم نے نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا ۔ “ انسانوں میں سے جو ان کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے پروردگار ! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے ‘ اور اب ہم اس وقت آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کردیا ہے ۔ اللہ فرمائے گا ” اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے ‘ اس میں تم ہمیشہ رہو گے ۔ “ اس سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا ‘ بیشک تمہارا رب دانا اور علیم ہے ۔ دیکھو اس طرح ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے ۔ اس کمائی کی وجہ سے جو وہ کرتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ ” اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ہو پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اس دن کے انجام سے ڈراتے تھے ۔ “ وہ کہیں گے ” ہاں ! ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں ۔ “ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔ تمہارا رب بستیوں کو ظلم کے ساتھ تباہ کرنے والا نہ تھا بلکہ ان کے باشندے حقیقت سے ناواقف تھے ۔ ہر شخص کا درجہ اس کے عمل کے لحاظ سے ہے اور تمہارا رب لوگوں کے اعمال سے بیخبر نہیں ہے ۔ تمہارا رب بےنیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ دوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے ‘ جس طرح اس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے ۔ تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقینا آنے والی ہے اور تم خدا کو عاجز کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ اے محمد ﷺ کہہ دو کہ لوگو تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کر رہا ہوں ‘ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے ۔ “
اب ذرا غور کیجئے کہ کھانے یا نہ کھانے کا ایک جزئی مسئلہ ہے کہ کون سے ذبیحے کا کھانا جائز ہے اور کس کا ناجائز ہے ؟ لیکن اس جاہلی رسم و رواج کے مقابلے میں قرآن اسلامی نظریہ حیات کا اساسی تصور پیش کرتا ہے ۔ نہایت ہی موثر اشارات اور مختلف قسم کے مشاہدات سے اللہ کی مشیت کے بعض حقائق پر روشنی ڈالی جاتی ہے ‘ اللہ کے بعض تکوینی تصرفات کو پیش کیا جاتا ہے ‘ انسانی نفسیات کے بعض اصولوں سے پردہ اٹھایا جاتا ہے ‘ انسانی زندگی کے بعض ظاہری اور بعض خفیہ میلانات کو ظاہر کیا جاتا ہے ‘ زمین و آسمان پر اللہ کی حاکمیت کے بارے میں بعض حقائق پیش کئے جاتے ہیں ‘ دنیا وآخرت میں اور ان سب امور کو محض ایک جزوی مسئلہ حلت و حرمت کے ضمن میں ۔ سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کو اس قدر اہمیت کیوں دی گئی ؟ اس لئے کہ یہ اس دین کا اساسی مسئلہ ہے ۔ یہ اس کرہ ارض پر اقتدار اور حاکمیت کا مسئلہ ہے کہ یہ حق کس کو حاصل ہے ؟ بالفاظ دیگر یہ الوہیت اور ربوبیت کا مسئلہ ہے اور فیصلہ یہ کرنا ہے کہ الہ اور رب کون ہے ؟ یہی ہے کہ اس جزوی مسئلے کے بیان کے ضمن میں اس قدر اساسی نظریاتی مباحث کو یہاں لایا گیا ہے ۔
یہی تمام امور مسئلہ نذر ونیاز کے بیان کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں یعنی پھلوں ‘ مویشیوں اور اولاد کے بارے میں جاہلیت میں مروج نذر ونیاز کے بارے میں ۔۔۔۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ عرب جاہلیت ذات باری کی منکر نہ تھی ۔ اسی طرح دور جاہلیت کے عرب اللہ کے ساتھ مساوی طور پر کسی اور کو الہ بناتے تھے ۔ ان کی کج فکری یہ تھی کہ وہ اللہ کے ساتھ کچھ اور الہ قرار دیتے تھے اور مقام و مرتبہ کے اعتبار سے ان کے الہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کم مرتبہ ہوتے تھے اور وہ کہتے یہ تھے کہ ان دوسری شخصیات کو ہم الہ اس لئے قرار دیتے ہیں کہ انکے ذریعے ہم اللہ کا قرب حاصل کرتے ہیں اور یہی وہ شرک تھا جس کا وہ ارتکاب کرتے تھے اور اسی وجہ سے قرآن انہیں مشرکین کا لقب دیتا ہے ۔
نیز ان شرک میں سے ایک شرک یہ تھا کہ اپنے کاہنوں اور اپنے مشائخ کے ذریعے انہوں نے اپنے لئے کچھ قوانین اور کچھ رسم و رواج گھڑ لئے تھے جو ان کے لئے شریعت کا درجہ رکھتے تھے ۔ اور ان کا زعم یہ تھا کہ یہ قوانین اور رسوم ان کے لئے اللہ نے تجویزکئے ہیں اور اللہ نے انہیں حکم دیا ہے کہ وہ ان کی پابندی کریں۔ وہ اس قدر شدید مشرک نہ تھے کہ وہ ان قوانین اور رسوم کو اپنی طرف منسوب کرتے اور یہ دعوی کرتے کہ اقتدار اعلی کا حق خود انہیں حاصل ہے اور انہیں حق ہے کہ اپنے لئے جو چاہیں قانون سازی کریں ۔ یہ خود سری تو دور حاضر کے مشرکین نے سیکھی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے سوا از خود اپنے لئے قانون سازی کرسکتے ہیں ۔ یہی ان کا شرک تھا اور اسی وجہ سے وہ مشرکین کہلائے ۔
یہ قوانین اور رسومات جو انہوں نے خو داپنے لئے گھڑ لئے تھے اور زعم یہ تھا کہ وہ خدا کی طرف سے ہیں ان میں ان کے قوانین نذرونیاز بھی تھے جو انہیں نے اپنے پھلوں اور مویشیوں کے بارے میں وضع کئے تھے ۔ یہ قوانین انہوں نے خود بنائے تھے یا ان کے کاہنوں اور شیوخ نے بنائے تھے ۔ بہرحال وہ ایسے تھے کہ ” جو ان کے شرکاء کے لئے ہوتا وہ اللہ کے حصے کے ساتھ نہ مل سکتا اور جو اللہ کے لئے ہوتا وہ ان کے شرکاء کے حصص کے ساتھ مل سکتا ۔ “ مثلا وہ اپنی اولاد میں سے بعض کی منت مانتے اور اس طرح وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق اپنی بیٹیوں کو قتل کرتے ۔
ان قوانین میں سے ایک قانون یہ تھا کہ وہ بعض فصلوں ‘ پھلوں اور مویشیوں کو بند کردیتے اور یہ کہتے کہ ان کا استعمال صرف ان کے لئے جائز ہوگا جنہیں اللہ اجازت دے حالانکہ ان چیزوں کو حرام بھی وہ خود قرار دیتے اور جن لوگوں کے لئے ان کا استعمال جائز تھا ان کا تعین بھی وہ خود کرتے ۔ بعض قوانین ایسے تھے کہ وہ بعض مویشیوں پر سواری حرام قرار دیتے مثلا بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام ۔ (دیکھئے سورة مائدہ)
ایک قانون یہ بھی تھا کہ وہ مویشیوں کے بعض حمل کو مردوں کے لئے خاص کردیتے اور عورتوں پر حرام کردیتے الا یہ کہ مویشیوں کا بچہ مردہ پیدا ہو تو اس صورت میں دونوں شریک ہوتے ۔ یہ لوگ ایک چیز کو حرام قرار دیتے اور دوسری کو حلال قرار دیتے ۔ ایک قانون یہ بھی تھا کہ وہ مردار کو حلال قرار دیتے اور یہ کہتے کہ اسے خود اللہ نے ذبح کیا ہے ۔
اسلام ان تمام باتوں پر ایک کھلا حملہ کرتا ہے ۔ اس تنقیدی حملے میں بنیادی نظریاتی فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ ان جزوی قوانین اور مسائل کے بارے میں قرآن کریم نہایت ہی موثر حقائق اور شواہد پیش کرتا ہے ۔ وہ شواہد وحقائق جو قرآن اس پوری مدت میں ایمان وشرک کے موضوع پر لاتا ہے ، اس لئے کہ ان جزوی مسائل کا تعلق بھی شرک اور ایمان کے اصولی مسائل کے ساتھ ہے ۔ یہ جزوی مسائل وہ ہیں جن پر ایمان اور شرک کے اصولوں کی تطبیق اور اطلاق ہوتا ہے ۔
اس تنقیدی حملے کا مطالعے کرکے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ مسائل جزئی مسائل نہیں بلکہ اس دین کے اساسی مسائل ہیں ۔ ان کا تعلق نظریات کے ساتھ ہے ۔ یہ قوانین اور یہ رسوم ان مشرکین کے لئے ان لوگوں نے مزین کرکے تجویز کئے ہیں جن کو یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں ۔ یہ شرکاء ان مشرکین کی زندگی کو تباہ کرتے ہیں اور ان پر دین کو مشتبہ بناتے ہیں ۔ یہ دینی تلبیس اور زندگی کی تباہ کاریاں دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں یا تو لوگ شریعت کے پیروکار ہوں گے اور اس صورت میں ان کی زندگی صحیح و سلامت ہوگی اور یا وہ اسلامی شریعت سے متضاد شریعت پر چلتے ہوں گے تو اس صورت میں وہ کوئی سیدھی راہ نہ پا سکیں گے اور ان کی زندگی خطرے میں ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ أَوْلاَدِہِمْ شُرَکَآؤُہُمْ لِیُرْدُوہُمْ وَلِیَلْبِسُواْ عَلَیْْہِمْ دِیْنَہُمْ (6 : 137)
” اور اسی طرح بہت سے مشرکین کے لئے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنا دیا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں ۔ “۔
اس تنقیدی مہم کے دوران یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ شریعت خداوندی سے سرتابی کی پشت پر ہمیشہ شیطانی سازش ہوتی ہے ۔ جب بھی کوئی قوم شریعت کو چھوڑتی ہے تو وہ جن لوگوں کی بھی اطاعت کرے گی وہ اللہ کے شرکاء ہوں گے ۔ اس مہم کا اہم عنصر یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور جب اس کی یہ سازش کامیاب ہوتی تو وہ ایسے مشرکین کی قیادت ہلاکت اور تباہ کن گھاٹے کی طرف کرتا ہے ۔
(آیت) ” کُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(142)
” کھاؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو ‘ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “
اس مہم سے معلوم ہوتا ہے کہ حلال و حرام کا شریعت اسلامیہ کے سوا کسی دوسرے ذریعے سے تعین کرنا کھلا شرک ہے اور یہ شرک جلی کے برابر ہے ۔ لیکن تمام زمانوں میں مشرکین نے یہ دعوی کیا ہے کہ وہ شرک کرنے پر مجبور ہیں ورنہ وہ اللہ کی قوت قاہرہ کے خلاف کیونکر جاسکتے ہیں ۔ حالانکہ اللہ کی مشیت تو یہ تھی کہ اس نے ہر انسان کو ایک حد تک مختار بنایا ہے اور اسی اختیار کے نتیجے میں اس کے لئے آزمائش لازمی کی ہے لہذا اللہ تعالیٰ نے کسی کو بھی اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ وہ شرک کرے بہرحال وہ آزمائش میں ہیں اور اللہ کے دائرہ قدرت کے اندر ان کی آزمائش ہو رہی ہے ۔
(آیت) ” سَیَقُولُ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ لَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَیْْء ٍ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم حَتَّی ذَاقُواْ بَأْسَنَا قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ (148)
” یہ مشرک لوگ ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔ “ ایسی ہی باتیں بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزہ انہوں نے چکھ لیا ۔ ان سے کہو ’ ” کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “ پھر کہو ” حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے ‘ بیشک اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔ “
اب اس کے بعد ہمارے سامنے طلب ثبوت اور شہادت کا ایک منظرآتا ہے ۔ ان سے یہ ثبوت مانگا جاتا ہے کہ اپنے مزعومات کے بارے میں وہ دعوی کرتے کہ ان کو اللہ نے حرام کیا ہے تو اس پر وہ گواہ لائیں ۔ اس سے ذہن اس طرف منتقل ہوجاتا ہے کہ اس سورة کے آغاز میں بھی اللہ کی حاکمیت کے مسئلے پر ان سے ثبوت اور شہادت طلب کی گئی تھی ۔ اس لئے کہ اللہ کی حاکمیت اور حلال و حرام کے تعین کے اختیارات کا آپس میں چولی دامن کا تعلق ہے ۔ اور یہ کہ حلال و حرام کے تعین کا اختیار اللہ کی حاکمیت کے مخصوص ترین خصائص میں سے ایک ہے ۔ اور یہی حقیقی سوال ہے ۔
(آیت) ” قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاء کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُونَ أَنَّ اللّہَ حَرَّمَ ہَـذَا فَإِن شَہِدُواْ فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَہُم بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُونَ (150)
” ان سے کہو ” کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ “ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا اور ہر گز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ “
یہاں لفظ (یعدلون) ذہن کو اس سورة کے آغاز میں عقیدہ توحید کے ذکر کے وقت اسی لفظ کے استعمال کی طرف متوجہ کرتا ہے ‘ وہاں بھی مشرکین کو یہ کہا گیا کہ وہ دوسروں کو اللہ کا ہمسر بناتے ہیں ۔ (یعدلون) دیکھئے سورة انعام آیت (1)
اس کے بعد یہ مہم اس آخری فیصلے پر ختم ہوتی ہے کہ قانون سازی اور مویشیوں اور ان کے بچوں اور پھلوں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ کیا ہے وہی صراط مستقیم ہے ۔ یہی انداز گفتگو اس سے پہلے ذبیحوں کی حلت اور حرمت کے مضامین کے وقت اختیار کیا گیا تھا اور یہی انداز اس سورة کے آغاز میں مسئلہ الوہیت کے بیان کے وقت اختیار کیا گیا تھا ۔
(آیت) ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِیْلِہِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (153)
” نیز اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے ‘ لہذا اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔ “
بات ان اقتباسات پر ختم نہیں ہوجاتی جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ‘ بلکہ اس سے آگے یہ بتایا جاتا ہے کہ اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنی قوم کے لئے ایک کتاب لے کر آئے تھے جس کے اندر تمام امور کی تفصیلات تھیں۔ وہ ہدایت اور رحمت تھی اور اس کتاب کا مقصد بھی یہ تھا کہ لوگ قیامت کی جوابدہی پر ایمان لے آئیں ۔ اس کتاب کا مقصد بھی یہ ہے کہ مسلمان اس کی اطاعت کریں اور خدا ترسی کا رویہ اختیار کریں تاکہ ان پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ اللہ نے یہود ونصاری کے لئے تو مفصل کتابیں بھیجیں مگر ہمارے لئے کوئی کتاب نہ بھیجی جس میں ہمارے لئے تفصیلی ہدایات ہوں اور انہیں معلوم ہو کہ شریعت کے احکام کیا ہے اور یہ کہ انہیں جو باتیں شریعت کی بتائی جاتی ہیں وہ شریعت نہیں ہے اور محض افتراء ہے ۔
اس کے بعد ان لوگوں کو تہدید آمیز تنبیہ کی جاتی ہے جو حضرت نبی کریم ﷺ پر ایمان نہیں لاتے اور اس جاہلی نظام پر قائم رہتے ہیں جسے وہ من جانب اللہ کہتے ہیں اور ان کا یہ دعوی صریح افتراء ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ ایسے خارق العادت معجزات کا بھی مطالبہ کرتے ہیں جن کے نتیجے میں وہ تصدیق اور اتباع پر مجبور ہوجائیں ۔ ان لوگوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ جس دن ایسے معجزات آگئے تو وہ دن ان کا آخری دن ہوگا اور اس کے بعد وہ ہلاک اور نیست ونابود کردیئے جائیں گے ۔
(آیت) ” ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِیْہُمُ الْمَلآئِکَۃُ أَوْ یَأْتِیَ رَبُّکَ أَوْ یَأْتِیَ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَ یَنفَعُ نَفْساً إِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِیْ إِیْمَانِہَا خَیْْراً قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ (158)
” کیا اب یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے کھڑے ہوں یا تمہارا رب خود آجائے یا تمہارے رب کی صریح نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ جس روز تمہارے رب کی بعض نشانیاں نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو ‘ جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو ۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہہ دو کہ اچھا ‘ تم انتظار کرو ‘ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ “
اس کے بعد یہ فیصلہ آتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ امت مسلمہ اور دین اسلام اور ان لوگوں کے درمیان اتحاد ممکن ہی نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے لئے حلال و حرام اور جائز وناجائز مقرر کرتے ہیں اور اپنے لئے شریعت خود بناتے ہیں اور اس پر یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ یہ شریعت الہیہ ہے ۔
(آیت) ” إِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْْء ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (159)
” جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے ان سے تمہارا واسطہ کچھ نہیں ۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ‘ وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ “
اللہ کا فیصلہ بہت ہی واضح ہے ۔ لست منھم فی شیء ” ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں ہے ۔ “ اب یہ سورة اپنی انتہاکو پہنچ جاتی ہے اور قانون سازی اور اللہ کی حاکمیت کو نہایت ہی مفصل اور واضح انداز میں بیان کردیا جاتا ہے ‘ بظاہر تو یہ موضوع ایک جزئی موضوع نظر آتا ہے ‘ لیکن یہاں اس نظریاتی مسئلے کو نہایت ہی اصولی انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور پورے دین کا فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ یہ مسائل دین اسلام کے مقاصد ونظریات ہیں ۔ ان کے بارے میں اہل اسلام کا قلب ونظر صاف اور یکسو ہونا چاہئے اور پھر اس نظریے ‘ اس عقیدے اور یکسوئی کو ایک مفصل نظام حیات کی شکل میں ظاہر ہونا چاہئے ۔
(آیت) ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165)
” اے محمد ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “
یہ وہ مسائل ہیں جو اسلامی نظریہ حیات اور دین اسلام کے اساسی مسائل ہیں ۔ دنیا وآخرت کے بارے میں ہدایات ‘ زندگی اور موت کے مسائل ‘ عمل اور مکافات عمل کے مسائل ‘ عبادت اور احسان کے مسائل اور ان تمام مسائل کو زبانی اسلوب بیان اس سورة کے اس رعب دار اختتامیہ میں نہایت ہی پرشوکت اور خوفناک انداز میں جمع کردیتا ہے ۔ اللہ کی حاکمیت اور سلطنت اور اس کی قانون سازی کے حق کے اعلی ترین مسئلے کو نہایت ہی سادہ اور روز مرہ کے مسائل یعنی کھانے وپینے کے عام مسائل کے ضمن میں بیان کردیا جاتا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ کی حاکمیت اور بوبیت بڑے سے بڑے اور چھوٹے سے چھوٹے معاملات میں اپنا فیصلہ کرتی ہے ۔۔۔۔ ۔۔ یہ ہے اسلام جس کی تشریح خود قرآن مجید کر رہا ہے جو کلام الہ العالمین ہے ۔
درس 37 تشریح آیات :
یہ پارہ ہشتم کی ابتدائی آیات ہیں ۔ ان میں سے پہلا پیراگراف پارہ ہفتم کی آخری آیات سے متعلق ہے۔ پارہ ہفتم کی آخری آیات میں مشرکین عرب کی اس تجویز کا ذکر تھا کہ حضور ﷺ ان کے سامنے خود ان کے تجویز کردہ معجزات پیش کردیئے جائیں تو وہ آپ کی تصدیق کریں گے اور آپ پر ایمان لائیں گے ۔ ان لوگوں کی ان قسموں کی وجہ سے بعض اہل اسلام بھی دل ہی دل میں یہ خواہش رکھتے تھے کہ اگر اللہ ان لوگوں کی اس خواہش کو پورا کردے تو بہتر ہو ‘ اور یہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے بھی یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ بھی اللہ تعالیٰ سے یہ مطالبہ فرمائیں کہ اللہ ان لوگوں کی خواہشات کو پورا کردے ۔ پارہ ہفتم اور پارہ ہشتم کے ان حصوں کا پورا مضمون یوں ہے ۔
(آیت) ” وَأَقْسَمُواْ بِاللّہِ جَہْدَ أَیْْمَانِہِمْ لَئِن جَاء تْہُمْ آیَۃٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِہَا قُلْ إِنَّمَا الآیَاتُ عِندَ اللّہِ وَمَا یُشْعِرُکُمْ أَنَّہَا إِذَا جَاء تْ لاَ یُؤْمِنُونَ (109) وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَہُمْ وَأَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُواْ بِہِ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ (110) وَلَوْ أَنَّنَا نَزَّلْنَا إِلَیْْہِمُ الْمَلآئِکَۃَ وَکَلَّمَہُمُ الْمَوْتَی وَحَشَرْنَا عَلَیْْہِمْ کُلَّ شَیْْء ٍ قُبُلاً مَّا کَانُواْ لِیُؤْمِنُواْ إِلاَّ أَن یَشَاء َ اللّہُ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَہُمْ یَجْہَلُونَ (111) (6 : 109 تا 111)
” یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی (یعنی معجزہ) ہمارے سامنے آجائے تو ہم اس پر ایمان لائیں گے ۔ اے نبی ﷺ ! ان سے کہو کہ نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں ‘ اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں ۔ ہم اسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس کتاب پر ایمان نہیں لائے تھے ۔ ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑے دیتے ہیں ۔ “
ان آیات کی تفسیر ہم پارہ ہفتم میں کر آئے ہیں ۔ یہاں ہم وہ عمومی حقائق بیان کریں گے جو ان آیات میں دیئے گئے ہیں اور جن کے بارے میں وہاں بات نہ ہوئی تھی۔
1۔ پہلی حقیقت یہ ہے کہ ایمان وکفر ‘ اور ہدایت وضلالت کا دارومدار صرف دلائل پر نہیں ہوتا کہ اگر کسی سچائی پر دلائل نہ دیئے گئے تھے تو لوگ اسے تسلیم نہ کریں گے ۔ بلکہ سچائی تو بذات خود ایک دلیل ہوتی ہے ۔ سچائی کے اندر بذات خود اس قدر قوت ہوتی ہے کہ وہ قلب انسانی پر چھا جاتی ہے ‘ ہر انسان کا دل اس پر مطمئن ہوجاتا ہے اور اس کی طرف مائل ہوجاتا ہے لیکن کچھ دوسرے داخلی اور خارجی اسباب ایسے ہوتے ہیں جو کسی انسان اور قبولیت حق کے درمیان رکاوٹ بن جاتے ہیں ۔ ایسی ہی رکاوٹوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
(آیت) ” وَمَا یُشْعِرُکُمْ أَنَّہَا إِذَا جَاء تْ لاَ یُؤْمِنُونَ (109) وَنُقَلِّبُ أَفْئِدَتَہُمْ وَأَبْصَارَہُمْ کَمَا لَمْ یُؤْمِنُواْ بِہِ أَوَّلَ مَرَّۃٍ وَنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ (110)
” اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آ بھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں ۔ ہم اسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس کتاب پر ایمان نہیں لائے تھے ۔ ہم انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکنے کے لئے چھوڑے دیتے ہیں ۔ “
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
الأنعام 6:112
(آیت) ” نمبر 112 تا 113۔
یوں ہم نے انسان کو لئے مقدر کردیا ہے کہ جو مشرکین اپنے ایمان کو ایسی باتوں پر موقوف کرتے ہیں جو خوراق عادت ہیں اور اپنے انفس اور اپنے آفاق وماحول میں اس پھیلی ہوئی کائنات کے اندر دلائل ہدایت اور نشانات راہ پر غور نہیں کرتے تو اگر ان کے پاس ہزار مضمرات اور خوارق عادت واقعات آجائیں وہ ایمان نہ لائیں گے ۔
ان لوگوں کی تقدیر کو ہم نے اسی طرح بنا دیا ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ ہر نبی کے بامقابل انسانوں اور جنوں میں سے کچھ شیاطین اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان میں سے بعض ‘ بعض دوسروں پر خوش آئندہ باتیں القا کرتے ہیں ۔ اور یہ عوام الناس کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور یوں وہ رسولوں کے ساتھ دشمنی کرکے لوگوں کو فریب دیتے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ ہدایت کے ساتھ برسرپیکار ہوتے ہیں ۔ یہ بھی ہماری سنت اور ہماری اسکیم ہے کہ ان شیطانوں کی باتوں کی طرف وہ لوگ بڑے شوق سے کان رکھتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اپنی اس روش پر راضی ہیں اور گناہ کماتے ہیں جس میں وہ مصروف ہیں یعنی رسولوں کی عداوت اور اس کرہ ارض پر فساد اور گمراہی کو پھیلانا ۔
یہ سب واقعات تقدیر الہی کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں اس کی مشیت کے مطابق واقع ہوتے ہیں اور اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو یہ لوگ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے اور واقعات کا رخ بالکل الٹی سمت ہوتا اور اللہ کی تقدیر بالکل دوسری سمت پر چلتی ۔ اس لئے کہ یہ واقعات محض اتفاق کے طور پر واقع نہیں ہوتے اور نہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات خود حضرت انسان کی اپنی طاقت اور قوت سے رونما ہوتے ہیں۔
جب یہ بات طے ہوگئی کہ اس جہان میں حق و باطل کا جو معرکہ برپا ہے اور جس کے فریق ایک جانب سے رسول اور ان کے ساتھ کی سچائی ہے اور دوسرا فریق انسانوں اور جنوں کے شیاطین ہیں جن کے ساتھ باطل ‘ فریب اور دھوکہ ہے اور جب یہ بات بھی طے ہوگئی کہ یہ پوری کشمکش ‘ حق و باطل کی کشمکش ‘ اللہ کی مشیت اور اس کی تقدیر کی اسکیم کے تحت جاری ہے تو ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس حکمت اور تدبیر پر غور کرے جو اس کشمکش کی تہ میں کار فرما ہے اور اس سے قبل بندہ مومن کو چاہئے کہ وہ ان واقعات کی تہ تک پہنچنے کی سعی کرے ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نِبِیٍّ عَدُوّاً شَیَاطِیْنَ الإِنسِ وَالْجِنِّ یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً وَلَوْ شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ (112)
” اور ہم نے تو اسی طرح شیطانوں انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القاء کرتے رہتے ہیں ۔ “
یعنی اپنے ارادے اور تقدیر کے مطابق ہم نے ایسا کیا ہے ۔ ہر نبی کا ہم نے ایک دشمن پیدا کیا ہے ۔ یہ دشمن انسانوں اور جنوں میں سے وہ لوگ ہوتے رہے ہیں جو شیطان تھے ۔ شیطنت کے معنی نافرمانی اور حکم عدولی کے ہیں ۔ شیطنت کا مفہوم ہے مجسمہ شر ہونا ۔ یہ ایسی صفت ہے جس سے انسان بھی متصف ہوتے ہیں اور جن بھی ۔ اگر کوئی مجسمہ شر ہو تو اگر جن ہو تو وہ جن شیطان ہے اور اگر انسان ہو تو وہ انسان شیطان ہے ۔ بعض اوقات اس صفت کے ساتھ ایک حیوان بھی متصف ہوتا ہے جبکہ وہ نافرمان ‘ سرکش اور حملہ آور ہو ‘ اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے ۔ “
یہ جنی اور انسی شیاطین جن کے بارے میں فیصلہ الہیہ ہے کہ وہ ہر نبی کے دشمن ہوں گے ‘ یہ ایک دوسرے کو چکنی چپڑی باتوں سے دھوکہ دیتے ہیں اور یہ باتیں وہ ایک دوسرے پر القاء کرتے ہیں ۔ وحی کے مفہومات میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی ایک جان سے دوسری جان کی طرف ایک خفیہ اور داخلی اثر منتقل ہو ۔ یا کوئی ایک شخص دوسرے کو دھوکہ دے اور لوگ ایک دوسرے کو سرکشی ‘ نافرمانی اور شرو معصیت کے لئے ابھاریں ۔
ان شیاطن میں سے جو انسان ہیں ان کی سرگرمیاں معروف ومشہور ہیں اور اس کرہ ارض پر ہم ان کو رات ودن دیکھتے ہیں ۔ ان کے نمونے اور ماڈل اور انبیاء کے مقابلے میں ان کی سرگرمیاں معلوم ومعروف ہیں ۔ ہر دور کے انسانوں نے اسے دیکھا ہے اور اب بھی دیکھ رہے ہیں۔
رہے وہ شیطان جن کا تعلق جنات سے ہے تو وہ اللہ کے غیبی امور میں سے ایک امر ہے ۔ ان کے بارے میں ہم صرف اسی قدر جانتے ہیں ۔ جس قدر اللہ اور رسول اللہ نے ہمیں بتایا ہے ۔ اس لئے کہ مفاتیح غیب صرف اللہ کے پاس ہیں اور ان کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے ۔ یہ بات کہ اس کرہ ارض پر معروف ومشہور ذی روح اشیاء کے علاوہ بھی کوئی مخلوق ہے ‘ تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں اطلاع دی ہے ۔ اور اس مخلوق کے بارے میں اللہ نے جو اطلاع دی ہے اس کے حدود کے اندر ہم ایمان لاتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو سائنس کو ڈھال بنا کر اللہ کی ایسی کسی مخلوق کا انکار کرتے ہیں تو ہمیں معلوم نہیں ہے کہ وہ کن دلائل پر انحصار کرتے ہوئے ایسا کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انسانی علم نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ انسان نے تمام قسم کے ذی روح اشیاء کو معلوم کرلیا ہے ۔ خصوصا اس چھوٹے سے ستارے کرہ ارض کے اندر بھی جبکہ دوسرے بیشمار اجرام فلکی کے بارے میں سائنس کے پاس ابھی تک ابتدائی معلوم ہی ہیں ‘ صرف یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ اس کرہ ارض پر جس قسم کی مخلوق ہے وہ بعض دوسرے ستاروں میں ممکن ہے یا نہیں ہے ۔ اس سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ زندگی کی ایک مختلف قسم اور زندہ اور ذی روح مخلوقات کی کوئی دوسری جنس اور صنف ممکن نہیں ہے جس کا علم سائنس کو نہ ہو ۔ اس لئے کہ سائنس کے عنوان سے کوئی جاہل ہی ہوگا جو اس جہان سے آگے دوسرے جہانوں کا انکار کرتا ہو ۔ ہو سکتا ہے بیشمار ایسی مخلوقات ہوں ۔
اس اصولی عقیدے کے بعد اب یہ بات کہ اس مخلوقات کا مزاج کیا ہوتا ہے اور اس کی طبیعی زندگی کیسی ہوتی ہے تو اس کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے ۔ اس بارے میں ہم اسی قدر جانتے ہیں جس قدر مخبر صادق حضرت نبی کریم ﷺ نے ہمیں بتایا ہے ۔
ہم اس قدر جانتے ہیں کہ یہ مخلوق ناری مخلوق ہے ۔ یہ مخلوق زمین کے اوپر ‘ زمین کے اندر اور اس سے خارج میں بھی زندہ رہ سکتی ہے ۔ یہ مخلوق نہایت ہی سریع الحرکت ہے ۔ اس مخلوق میں سے بعض لوگ صالح اور مومن ہیں ‘ بعض شیاطین اور سرکش ہیں ۔ وہ انسانوں کو دیکھ سکتے ہیں ۔ اور انسان ان کو نہیں دیکھ سکتے ۔ یعنی ان کی اصلی شکل میں ۔ اور کتنی ہی مخلوق ہے جسے انسان نظر آتا ہے لیکن انسانوں کو وہ نظر نہیں آتی ۔ بعض شیاطین ایسے ہیں جو انسانوں پر مسلط کردیئے گئے ہیں اور وہ انسانوں کو دھوکہ و فریب دے کر گمراہ کرتے ہیں لیکن ان کو اللہ کے خاص بندوں پر کوئی قدرت حاصل نہیں ہوتی جو اللہ کو یاد کرنے والے اور پختہ ایمان کے مالک ہوتے ہیں ۔ شیطان ہر وقت مومن کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے ۔ جب مومن اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ چھپ جاتا ہے اور بھاگ جاتا ہے اور جب وہ غافل ہوتا ہے تو پھر وسوسے ڈالتا ہے ۔ مومن یاد الہی سے سرشار ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں شیطان کا مکر کمزور ہوجاتا ہے ۔ جنوں کا حشر ونشر بھی اسی طرح ہوگا جس انسانوں کا حشر ونشر ہوگا ۔ اسی طرح ان کا بھی حساب و کتاب ہوگا ۔ اسی طرح جنت کی جزاء اور دوزخ کی سزا کے وہ بھی مستوجب ہوں گے ۔ جنات کا جب فرشتوں سے سامنا ہوتا ہے تو وہ بہت ہی ضعیف نظر آتے ہیں اور ان کے پاس کوئی قوت نہیں ہوتی ۔ اس آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بنی کے مقابلے میں جنوں اور انسانوں میں سے اپوزیشن کو کھڑا کیا ہے ۔
اللہ کی ذات تو اس بات پر قادر تھی کہ اگر اس کی مشیت کا تقاضا ہوتا تو جن یہ طرز عمل اختیار نہ کرتے ۔ وہ سرکشی نہ کرتے اور مجسمہ شر ہر گز نہ بنتے ۔ وہ انبیاء کے دشمن نہ ہوتے ‘ اہل ایمان کو اذیت نہ دیتے اور عوام الناس کو اللہ کی راہ سے برگشتہ نہ کرتے ۔ اللہ تو اس بات پر قادر تھا کہ انہیں مجبور کر کے ہدایت کی راہ پر ڈال دیتا اور ان کو ہدایت دے دیتا بشرطیکہ وہ ہدایت کی طرف متوجہ ہوتے اور یوں وہ انبیاء کی دشمنی ‘ حق کی مخالفت اور مومنین سے عداوت نہ کرتے ۔ لیکن اللہ نے ان کو ایک حد تک اختیار اور آزادی دے دی اور ان کو یہ اذان دے دیا کہ وہ اللہ کے دوستوں پر دست درازیاں کرتے پھریں ۔ اللہ کی مشیت اور اس کی اسکیم تقدیر کے مطابق تاکہ اس کے دوستوں کی آزمائش ہو سکے اور یہ آزمائش اس کے دشمنوں کے ذریعے ایذا رسانی سے ہو ۔ جس طرح اللہ اپنے دشمنوں کو قوت ‘ اختیار اور آزادی کی ایک محدود ومقدار عطا کر کے آزماتا ہے ۔ دشمن بھی اللہ کے دوستوں کو اسی حد تک اذیت دے سکتے ہیں جس حد کو اللہ نے مقرر کیا ہے ۔
(آیت) ” وَلَوْ شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہ (6 : 112) (اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا کر ہی نہ سکتے ۔ “ سوال یہ ہے کہ اس ہدایت سے ہمارے لئے کیا نتائج نکلتے ہیں ؟
1۔ یہ کہ جو لوگ انبیاء کے مقابلے میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور انبیاء کے متبعین کو اذیت دیتے ہیں وہ شیطان ہوتے ہیں ۔ یہ شیطان انسانوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور جنات میں سے بھی ۔ جنوں کے شیطان اور انسانوں کے شیطان دونوں ایک جیسے ہوتے ہیں اور دونوں کے کام کی نوعیت بھی ایک جیسی ہوتی ہے ۔ وہ ایک دوسرے کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور گمراہ کرتے ہیں جبکہ سب کی مشترکہ خاصیت یہ ہے کہ وہ سرکش ‘ گمراہ اور اللہ کے دشمن ہوتے ہیں۔
2۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ شیاطین جو انبیاء کے دشمن ہوتے ہیں اور انبیاء کے متعبین کو اذیت دیتے ہیں ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے ذریعے اللہ اپنے بندوں اور دوستوں کو آزماتا ہے اور یہ آزمائش بھی گہری حکمت پر مبنی ہوتی ہے ۔ تاکہ لوگوں کو چھان پھٹک کر دیکھ لیا جائے ‘ ان کے دلوں کو صاف کیا جائے ۔ ان کے صبر کا امتحان لیا جائے ‘ ان کی قوت برداشت اور امانت ودیانت کو آزمایا جائے ۔ جب بھی وہ اس آزمائش میں کامیاب ہوگئے یہ آزمائش اور امتحان ختم ہوجاتا ہے اور مخالفین کی مخالفت ختم ہوجاتی ہے ۔ اب دشمن دست درازی کرنے پر قدرت نہیں رکھتے ۔ اس لئے کہ اللہ کی اسکیم تقدیر ختم ہوجاتی ہے اور اب ان کے دشمن کمزور اور ناکام ہوجاتے ہیں ۔ ان کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں کا بوجھ اٹھائے اللہ کی طرف لوٹ رہے ہوتے ہیں ۔
(آیت) ” وَلَوْ شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہ (6 : 112) (اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا کر ہی نہ سکتے ۔ “
3۔ یہ کہ یہ اللہ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ شیاطین جن اور شیاطین انس کو یہ مہلت عطا کرے کہ ہو شیطنت کرتے پھریں اس لئے کہ اللہ نے ان شیطانوں کو جو مہلت اور طاقت دی ہوئی ہے اس میں ان کو آزمائے ‘ تاکہ وہ ایک وقت تک اللہ کے دوستوں کو اذیت دیتے رہیں ۔ اس طرح اللہ اپنے دوستوں کو بھی آزماتا ہے تاکہ دیکھا جائے کہ وہ صبر کرتے ہیں ؟ کیا ان کے پاس جو سچائی ہے اس پر وہ ثابت قدم رہتے ہیں جبکہ باطل ان پر زور آور ہو رہا ہے اور دست درازی کر رہا ہو۔ کیا وہ اپنے نفوس کو اللہ کے ہاں پوری طرح فروخت کرتے ہیں اور خوشی اور دیکھ دونوں حالتوں میں ‘ تنگی وترشی میں اور فراوانی اور خوشحالی دونوں میں اللہ عہد پر پختہ رہتے ہیں ؟ ورنہ یہ تو اللہ کے دائرہ قدرت میں تھا کہ وہ اس تمام کھیل کو شروع ہی نہ کرتا ۔
4۔ یہ کہ جن وانس کے تمام شیاطین کی مکاری کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے ‘ یہ تو بہت ہی کمزور مخلوقات ہیں ۔ ان کے پاس انکی کوئی ذات قوت اور طاقت نہیں ہے ۔ وہ تو ان حدود وقیود کے اندر کام کرسکتے ہیں جو ان کے لئے اللہ نے مقرر فرمائی ہیں ۔ وہ مومن جو اس بات کو جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ قادر مطلق تو ہی ہے وہی ہے جس نے ان لوگوں کو اجازت دے رکھی ہے ‘ تو اس کی نظروں میں یہ شیاطین ضعیف ہوتے ہیں ۔ اگرچہ بظاہر وہ قہار وجبار نظر آئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حضور کو متوجہ کردیا جاتا ہے ۔ (فذرھم وما یفترون) چھوڑ دیجئے انکو اور ان کی افتراء پردازی کو ۔ میں قادر مطلق ہوں اور ان کے جرائم کی سزا ان کے لئے تیار ہے ۔
5۔ ان اہل ایمان اور شیاطین کے ابتلاء کے علاوہ ایک اور حکمت بھی ہے ۔ یہ عداوت اور یہ گمراہی پھیلانا اور قول وفعل سے یہ وسیع فریب کاری ‘ اللہ نے اس کا اذن اس لئے بھی دے رکھا ہے :
(آیت) ” وَلِتَصْغَی إِلَیْْہِ أَفْئِدَۃُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُواْ مَا ہُم مُّقْتَرِفُونَ (113)
” (یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لئے کرنے دے رہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انکے دل اس خوشنما دھوکے کیطرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہوجائیں اور ان برائیوں کا اکتساب کریں جن کا اکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں ۔ “
یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ ان ہدایات پر کان نہیں دھریں گے اور ان شیطانوں کی وسوسہ اندازی پر توجہ دیں گے ۔ اس لئے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کی تمام صلاحیتیں دنیاوی کاموں میں صرف ہوتی ہیں ۔ ایسے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر موڑ پر شیاطین بیٹھے ہوئے ہیں اور نبی کے مخالف ہیں ‘ نبیوں کے متبعین کو رات اور دن اذیت دیتے ہیں اور یہ شیاطین ایک دوسرے کے مدد گار ہیں ‘ ایک دوسرے کی باتوں کو مزین بنادیتے ہیں اور ایک دوسرے کی قولی اور فعلی تائید کرتے ہیں ۔ اس لئے یہ دنیا پرست لوگ شیاطین کے تابع ہوجاتے ہیں اور ان کے اس باطل رعب وداب اور شان و شوکت سے مرعوب ہوجاتے ہیں ۔ حالانکہ ان کا یہ اقتدار اور قوت نہایت ہی کمزور ہوتی ہے ۔ چناچہ یوں وہ بھی برائی اور گناہ کماتے ہیں اور شر ‘ معصیت اور فساد کے پھیلانے میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ اس توجہ اور اصغاء کی وجہ سے یہ دنیا پرست شیطانی ہدایات لیتے رہتے ہیں ۔
یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس کا یونہی چلنا منصوبہ تقدیر الہیہ کے مطابق تھا ۔ کیونکہ اس عمل کے ذریعے اپنے بندوں کی آزمائش کرکے اللہ ان میں سے کھرے اور کھوٹے کو سامنے لانا چاہتے تھے ۔ نیز اس اسکیم کے مطابق اللہ ہر شخص کو آزادی کے ساتھ ایک راہ پر چلانا چاہتے تھے تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے عمل کے ساتھ بالکل مناسب جزا کا مستحق بن جائے ۔
نیز یہ مقصد بھی تھا کہ اس کشمکش میں حق و باطل کے ذریعے دنیا میں اصلاحی کام جاری رہ سکے ۔ حق باطل سے علیحدہ ہو کر ممتاز ہوجائے اور صبر کے صیقل کے ذریعے خیر صاف ستھری ہو کر سامنے آجائے ۔ شیاطین قیامت کے دن اپنے کئے کا پورا پورا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں اور یہ تمام اسکیم اللہ کی مشیت کے مطابق جاری وساری رہے ۔ اسی اسکیم کے مطابق معاملہ اللہ کے دوستوں کا بھی طے ہو اور اسی کے مطابق معاملہ اللہ کے دشمنوں کا بھی طے ہو ۔ یہ ہے اللہ کی اسکیم مشیت اور اللہ جو چاہتا ہے ‘ وہ کرتا ہے ۔
اب ذرا اس منظر پر غور کریں ‘ اس میدان معرکہ میں ایک جانب جن وانس کے تمام شیطان اور ان کے دوست و مددگار کھڑے ہیں اور دوسری جانب انبیائے کرام اور ان کے تمام متبعین کھڑے ہیں اور اس کشمکش میں ایک تیسری اور فیصلہ کن قوت اللہ کی مشیت ‘ اس کا غلبہ اور اس کا اقتدار اعلی ہے ۔ اس منظر کے یہ تین پہلو ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم ذرا توقف کرکے اس پر گہری نگاہ ڈالیں ۔
یہ ایک ایسا معرکہ ہے کہ اس میں اس کائنات میں شر کی تمام قوتیں جمع ہو رہی ہیں ۔ جن شیطان اور انسان شیطان شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ یہ اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کررہے ہیں اور نہایت ہی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں ۔ ان لوگوں کا مشترکہ منصوبہ یہ ہے کہ یہ تمام انبیاء ‘ ان کی دعوت اور انکے حامیوں کے دشمن ہیں ۔ اور ان کا ہدف اور منصوبہ متعین ہے ۔ ” یہ ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القاء کر رہے ہیں ۔ یہ ایک دوسرے کی مدد تمام وسائل کے ساتھ کرتے ہیں جن میں فریب کاری اور دھوکہ بازی کے تمام ذرائع شامل ہیں اور یہ خود آپس میں بھی ایک دوسرے کو گمراہ کرتے ہیں اور جب بھی حق اور سچائی کے مطابق کوئی مجمع جمع ہوتا ہے تو اس مجمع کی اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ ایک دوسرے کو بھی فریب دیتے ہیں ۔ وہ باہم تعاون کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو گمراہ کرتے ہیں اور اس گمراہی میں ایک دوسرے کے معاون بنتے ہیں ۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو حق کی کوئی بات نہیں بتاتے ۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کے سامنے سچائی کی دشمنی کو ایک بڑا جہاد کہہ کر پیش کرتے ہیں اور یہ عزم کرتے ہیں کہ وہ اس سچائی کے ساتھ طویل عرصے تک لڑیں گے ۔
ان قوتوں کی یہ مکاری مکمل طور پر آزاد اور بےقید بھی نہیں ہے ۔ اس کے اردگرد مشیت الہیہ کا ایک وسیع دائرہ ہے ۔ یہ شیاطین جو سرگرمیاں بھی دکھاتے ہیں وہ اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے دکھاتے ہیں ۔ یہ مشیت کا دائر اللہ کی تقسیم کا دائرہ ہے ۔ یہیں سے اللہ کے بندوں کی نظروں میں شر کی قوتوں کا یہ اکٹھ اور ان کی پشت پر عالمی تائید پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی ۔ یہ مقید اور پابزنجیر ہے ۔ یہ اکٹھ اور گٹھ جوڑ بےقید اور آزاد نہیں ہے ۔ اللہ جس طرح چاہتا ہے ‘ کرتا ہے اور یوں نہیں کرتا کہ ہر کوئی ان کے اس جال میں بغیر کسی مدافعت اور مقادمت کے پھنس جائے جس طرح ہمیشہ تمام سرکش شیاطین چاہتے ہیں کہ انہیں بےقید حاکمیت حاصل ہو اور لوگ ان کی غیر مشروط اطاعت کریں اور ان کی مرضی اور خواہش کے اوپر عمل پیرا ہوں ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ ان سرکشوں کی تمام سرگرمیاں اللہ کی مشیت اور اس کی تقدیر اور ضوابط کے اندر محدود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شیطانی قوتیں اللہ کے دوستوں کو کوئی اذیت اور نقصان نہیں پہنچا سکتیں ۔ ہاں اس قدر اذیت یہ ضرور پہنچا دیتے ہیں جس قدر اللہ میاں اپنے دوستوں کی آزمائش کے طور پر اجازت دیں ۔ آخر کار تمام معاملات اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں ۔
لیکن شر کی قوتوں کا یہ اکٹھ اور ان کا باہم تعاون اہل حق کے لئے بھی ایک نکتہ تفکیر ہے ۔ ان کو غور وفکر کرکے شر کی قوتوں کے اس منصوبے کو سمجھنا چاہیے اور شر کے وسائل کو بھی زیر نظر رکھنا چاہیے ۔ اسی طرح یہ منظر کہ اللہ کی مشیت اور تقدیر ان لوگوں کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے یہ بھی اہل حق کے لئے ایک بشارت ہے ۔ اس سے بھی اہل حق کو یقین اور اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ آخر کار وہ کامیاب رہیں گے ۔ اس لئے ان کی نظریں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ پر مرکوز رہنی چاہئیں جو ہمیشہ نافذ اور کارگر رہتی ہے ۔ اور آخر کار اللہ کا اقتدار اعلی قائم ہوتا ہے ۔ اور حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے ‘ اس لئے اہل حق کو چاہیے کہ وہ اپنے یقین اور عقیدے کو اللہ کی ذات کبریا کے ساتھ وابستہ رکھیں خواہ شیطان چاہے یا نہ چاہے ۔ اور وہ اپنی راہ پر اس طرح گامزن ہوں کہ ان کے اخلاق و اعمال میں سچائی رچی بسی ہو ‘ ان کے دل و دماغ حق سے سرشار ہوں ۔ رہی شیطانوں کی دشمنی اور ان کی مکاری تو اہل حق کو چاہیے کہ ان کو اللہ کی مشیت اور قدرت کے حوالے کردیں جو ہر صورت میں کامیاب اور غالب رہتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ سب امور اللہ کی مشیت کے مطابق چلتے ہیں اور ” اگر تمہارے رب کی مشیت ہوتی تو وہ ایسا نہ کرتے پس انہیں چھوڑ دیں جو چاہیں افترا پردازیاں کرتے پھریں ۔ “
درس 68 ایک نظر میں :
اب یہاں سے وہ موضوع شروع ہوتا ہے جو اس پوری سورة کا موضوع ہے اور اس موضوع کے بارے میں تمہیدی باتیں اس سورة میں جگہ جگہ آتی رہیں ہیں۔ ان میں سے آخری تمہیدی بات وہ علیم نظریاتی مسئلہ ہے جو سابقہ دو آیات میں بیان کیا گیا ہے ۔ نیز وہ نظریاتی کشمکش ہے جو حق و باطل کے درمیان برپا رہی ہے اور اس کشمکش کے درمیان شیاطین جن اور شیاطین انس اور دوسری جانب سے انبیاء اور ان کے متبعین کے درمیان دشمنی رہی ہے اور اس پر آخر کار اللہ کی مشیت غالب رہی ہے اور پھر یہ بیان کہ ہدایت وضلالت سنت الہیہ کے مطابق اور مشیت الہیہ کے تحت ہوتی ہے ۔ یعنی درس سابق کے آخر میں آنے والے تمام مباحث جن پر تفصیلی بحث کی گئی ہے بطور تمہید آئے ہیں ۔
اب روئے سخن اس اصل موضوع کی طرف آتا ہے جس کے لئے یہ تمام باتیں بطور تمہید تھیں ۔ یہ موضوع تھا مسئلہ ” ما اھل بہ لغیر اللہ “ یعنی ان چیزوں کی حلت اور حرمت کا مسئلہ جن پر ذبح کے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو ۔ اس مسئلہ کی اہمیت اسلام کے اس اولین اصول کی وجہ سے ہے کہ اسلام میں حق حاکمیت صرف اللہ کو حاصل ہے ‘ اور اقتدار اعلی کا مستحق صرف اللہ ہے ۔ کسی انسان کو اللہ کے حق حاکمیت کو کسی صورت میں بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ اور اگر مسئلہ اصولی اور نظریاتی ہو تو اس میں چھوٹی سی بات بھی ایک نہایت ہی عظیم معاملے کی طرح اہم ہوجاتی ہے ۔ یہ بات اہم نہیں ہے کہ یہ ایک ذبیحہ کا مسئلہ ہے یا یہ کہ یہ اس قدر معمولی مسئلہ ہے کہ ایک متعین جانور کا گوشت کھانا جائز ہے یا ناجائز ہے یا یہ معاملہ ہے کہ ایک مملکت کا اقتدار اعلی کس کو حاصل ہو یا کسی معاشرے میں اقتدار اعلی کس کو حاصل ہو یا کسی معاشرے میں اقتدار اعلی کس کا ہوگا ۔ اصولوں کے اس معاملے میں دونوں باتوں کی اہمیت برابر ہے کیونکہ دونوں میں ایک شخص اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ حاکمیت کس کو حاصل ہے اللہ کو یا کسی اور کو ۔ یا یہ کہ اقرار حاکمیت الہیہ ہے یا اس کا انکار ہے ۔
اسلامی نظام حیات اور قرآن اس اصول پر ہر جگہ زور دیتا ہے اور چاہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ‘ ہر جگہ اس اصول کو بتکرار اور بتاکید مزید پیش کیا جاتا ہے ‘ اس لئے کہ یہ اصول نہایت ہی اہم نظریاتی اصول ہے ۔ یہ اصول اسلام ہے اور یہی دین ہے ۔ اس اصول کے علاوہ جو مسائل بھی ہیں وہ اس اصول کی عملی تطبیق اور تشریح ہیں اور تفصیلی نتائج ہیں ۔
سورة کے زیر بحث حصے میں یا سورة کی تمام دوسری آیات میں ہم اس حقیقت کو پالیں گے کہ قرآن میں اس اصول کو بتکرار دہرایا گیا ہے اور مختلف شکلوں میں اسے لایا گیا ہے ۔ جب دور جاہلیت کے قانون ‘ نظام اور رسم و رواج پر بحث ہوتی ہے تو بھی اس اصول کو دہرایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ قوانین اور رسوم و رواج شرک ہیں اور اسلام سے سرکشی کے مترادف ہیں ۔ اور یہ قوانین و ضوابط اس نظریہ سے پیدا ہوئے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ایسے قوانین اور ایسے رسوم و رواج پر سخت ترین تنقید کرتا ہے ۔ اور یہ تنقید مختلف اسالیب اور مختلف طرز ادا میں کی گئی ہے ۔ لیکن اس تنقید کا اصل محور یہی اسلام کا اصول اعظم ہے کہ اس کائنات پر مقتدر اعلی صرف اللہ ہے ۔ یہی اصل اسلام اور اصل ایمان ہے ۔
الأنعام 6:113
(آیت) ” نمبر 112 تا 113۔
یوں ہم نے انسان کو لئے مقدر کردیا ہے کہ جو مشرکین اپنے ایمان کو ایسی باتوں پر موقوف کرتے ہیں جو خوراق عادت ہیں اور اپنے انفس اور اپنے آفاق وماحول میں اس پھیلی ہوئی کائنات کے اندر دلائل ہدایت اور نشانات راہ پر غور نہیں کرتے تو اگر ان کے پاس ہزار مضمرات اور خوارق عادت واقعات آجائیں وہ ایمان نہ لائیں گے ۔
ان لوگوں کی تقدیر کو ہم نے اسی طرح بنا دیا ہے ۔ ہم نے یہ فیصلہ کردیا ہے کہ ہر نبی کے بامقابل انسانوں اور جنوں میں سے کچھ شیاطین اٹھ کھڑے ہوں گے اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان میں سے بعض ‘ بعض دوسروں پر خوش آئندہ باتیں القا کرتے ہیں ۔ اور یہ عوام الناس کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور یوں وہ رسولوں کے ساتھ دشمنی کرکے لوگوں کو فریب دیتے ہیں حالانکہ درحقیقت وہ ہدایت کے ساتھ برسرپیکار ہوتے ہیں ۔ یہ بھی ہماری سنت اور ہماری اسکیم ہے کہ ان شیطانوں کی باتوں کی طرف وہ لوگ بڑے شوق سے کان رکھتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اپنی اس روش پر راضی ہیں اور گناہ کماتے ہیں جس میں وہ مصروف ہیں یعنی رسولوں کی عداوت اور اس کرہ ارض پر فساد اور گمراہی کو پھیلانا ۔
یہ سب واقعات تقدیر الہی کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں اس کی مشیت کے مطابق واقع ہوتے ہیں اور اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو یہ لوگ ایسا رویہ اختیار نہ کرتے اور واقعات کا رخ بالکل الٹی سمت ہوتا اور اللہ کی تقدیر بالکل دوسری سمت پر چلتی ۔ اس لئے کہ یہ واقعات محض اتفاق کے طور پر واقع نہیں ہوتے اور نہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات خود حضرت انسان کی اپنی طاقت اور قوت سے رونما ہوتے ہیں۔
جب یہ بات طے ہوگئی کہ اس جہان میں حق و باطل کا جو معرکہ برپا ہے اور جس کے فریق ایک جانب سے رسول اور ان کے ساتھ کی سچائی ہے اور دوسرا فریق انسانوں اور جنوں کے شیاطین ہیں جن کے ساتھ باطل ‘ فریب اور دھوکہ ہے اور جب یہ بات بھی طے ہوگئی کہ یہ پوری کشمکش ‘ حق و باطل کی کشمکش ‘ اللہ کی مشیت اور اس کی تقدیر کی اسکیم کے تحت جاری ہے تو ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اس حکمت اور تدبیر پر غور کرے جو اس کشمکش کی تہ میں کار فرما ہے اور اس سے قبل بندہ مومن کو چاہئے کہ وہ ان واقعات کی تہ تک پہنچنے کی سعی کرے ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نِبِیٍّ عَدُوّاً شَیَاطِیْنَ الإِنسِ وَالْجِنِّ یُوحِیْ بَعْضُہُمْ إِلَی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوراً وَلَوْ شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ (112)
” اور ہم نے تو اسی طرح شیطانوں انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القاء کرتے رہتے ہیں ۔ “
یعنی اپنے ارادے اور تقدیر کے مطابق ہم نے ایسا کیا ہے ۔ ہر نبی کا ہم نے ایک دشمن پیدا کیا ہے ۔ یہ دشمن انسانوں اور جنوں میں سے وہ لوگ ہوتے رہے ہیں جو شیطان تھے ۔ شیطنت کے معنی نافرمانی اور حکم عدولی کے ہیں ۔ شیطنت کا مفہوم ہے مجسمہ شر ہونا ۔ یہ ایسی صفت ہے جس سے انسان بھی متصف ہوتے ہیں اور جن بھی ۔ اگر کوئی مجسمہ شر ہو تو اگر جن ہو تو وہ جن شیطان ہے اور اگر انسان ہو تو وہ انسان شیطان ہے ۔ بعض اوقات اس صفت کے ساتھ ایک حیوان بھی متصف ہوتا ہے جبکہ وہ نافرمان ‘ سرکش اور حملہ آور ہو ‘ اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ سیاہ کتا شیطان ہوتا ہے ۔ “
یہ جنی اور انسی شیاطین جن کے بارے میں فیصلہ الہیہ ہے کہ وہ ہر نبی کے دشمن ہوں گے ‘ یہ ایک دوسرے کو چکنی چپڑی باتوں سے دھوکہ دیتے ہیں اور یہ باتیں وہ ایک دوسرے پر القاء کرتے ہیں ۔ وحی کے مفہومات میں سے ایک مفہوم یہ ہے کہ کسی ایک جان سے دوسری جان کی طرف ایک خفیہ اور داخلی اثر منتقل ہو ۔ یا کوئی ایک شخص دوسرے کو دھوکہ دے اور لوگ ایک دوسرے کو سرکشی ‘ نافرمانی اور شرو معصیت کے لئے ابھاریں ۔
ان شیاطن میں سے جو انسان ہیں ان کی سرگرمیاں معروف ومشہور ہیں اور اس کرہ ارض پر ہم ان کو رات ودن دیکھتے ہیں ۔ ان کے نمونے اور ماڈل اور انبیاء کے مقابلے میں ان کی سرگرمیاں معلوم ومعروف ہیں ۔ ہر دور کے انسانوں نے اسے دیکھا ہے اور اب بھی دیکھ رہے ہیں۔
رہے وہ شیطان جن کا تعلق جنات سے ہے تو وہ اللہ کے غیبی امور میں سے ایک امر ہے ۔ ان کے بارے میں ہم صرف اسی قدر جانتے ہیں ۔ جس قدر اللہ اور رسول اللہ نے ہمیں بتایا ہے ۔ اس لئے کہ مفاتیح غیب صرف اللہ کے پاس ہیں اور ان کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے ۔ یہ بات کہ اس کرہ ارض پر معروف ومشہور ذی روح اشیاء کے علاوہ بھی کوئی مخلوق ہے ‘ تو اس بارے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام میں اطلاع دی ہے ۔ اور اس مخلوق کے بارے میں اللہ نے جو اطلاع دی ہے اس کے حدود کے اندر ہم ایمان لاتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو سائنس کو ڈھال بنا کر اللہ کی ایسی کسی مخلوق کا انکار کرتے ہیں تو ہمیں معلوم نہیں ہے کہ وہ کن دلائل پر انحصار کرتے ہوئے ایسا کرتے ہیں ۔ اس لئے کہ انسانی علم نے کبھی یہ دعوی نہیں کیا کہ انسان نے تمام قسم کے ذی روح اشیاء کو معلوم کرلیا ہے ۔ خصوصا اس چھوٹے سے ستارے کرہ ارض کے اندر بھی جبکہ دوسرے بیشمار اجرام فلکی کے بارے میں سائنس کے پاس ابھی تک ابتدائی معلوم ہی ہیں ‘ صرف یہ فرض کیا جاسکتا ہے کہ اس کرہ ارض پر جس قسم کی مخلوق ہے وہ بعض دوسرے ستاروں میں ممکن ہے یا نہیں ہے ۔ اس سے اس بات کی نفی نہیں ہوتی کہ زندگی کی ایک مختلف قسم اور زندہ اور ذی روح مخلوقات کی کوئی دوسری جنس اور صنف ممکن نہیں ہے جس کا علم سائنس کو نہ ہو ۔ اس لئے کہ سائنس کے عنوان سے کوئی جاہل ہی ہوگا جو اس جہان سے آگے دوسرے جہانوں کا انکار کرتا ہو ۔ ہو سکتا ہے بیشمار ایسی مخلوقات ہوں ۔
اس اصولی عقیدے کے بعد اب یہ بات کہ اس مخلوقات کا مزاج کیا ہوتا ہے اور اس کی طبیعی زندگی کیسی ہوتی ہے تو اس کے بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں ہے ۔ اس بارے میں ہم اسی قدر جانتے ہیں جس قدر مخبر صادق حضرت نبی کریم ﷺ نے ہمیں بتایا ہے ۔
ہم اس قدر جانتے ہیں کہ یہ مخلوق ناری مخلوق ہے ۔ یہ مخلوق زمین کے اوپر ‘ زمین کے اندر اور اس سے خارج میں بھی زندہ رہ سکتی ہے ۔ یہ مخلوق نہایت ہی سریع الحرکت ہے ۔ اس مخلوق میں سے بعض لوگ صالح اور مومن ہیں ‘ بعض شیاطین اور سرکش ہیں ۔ وہ انسانوں کو دیکھ سکتے ہیں ۔ اور انسان ان کو نہیں دیکھ سکتے ۔ یعنی ان کی اصلی شکل میں ۔ اور کتنی ہی مخلوق ہے جسے انسان نظر آتا ہے لیکن انسانوں کو وہ نظر نہیں آتی ۔ بعض شیاطین ایسے ہیں جو انسانوں پر مسلط کردیئے گئے ہیں اور وہ انسانوں کو دھوکہ و فریب دے کر گمراہ کرتے ہیں لیکن ان کو اللہ کے خاص بندوں پر کوئی قدرت حاصل نہیں ہوتی جو اللہ کو یاد کرنے والے اور پختہ ایمان کے مالک ہوتے ہیں ۔ شیطان ہر وقت مومن کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے ۔ جب مومن اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ چھپ جاتا ہے اور بھاگ جاتا ہے اور جب وہ غافل ہوتا ہے تو پھر وسوسے ڈالتا ہے ۔ مومن یاد الہی سے سرشار ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں شیطان کا مکر کمزور ہوجاتا ہے ۔ جنوں کا حشر ونشر بھی اسی طرح ہوگا جس انسانوں کا حشر ونشر ہوگا ۔ اسی طرح ان کا بھی حساب و کتاب ہوگا ۔ اسی طرح جنت کی جزاء اور دوزخ کی سزا کے وہ بھی مستوجب ہوں گے ۔ جنات کا جب فرشتوں سے سامنا ہوتا ہے تو وہ بہت ہی ضعیف نظر آتے ہیں اور ان کے پاس کوئی قوت نہیں ہوتی ۔ اس آیت سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر بنی کے مقابلے میں جنوں اور انسانوں میں سے اپوزیشن کو کھڑا کیا ہے ۔
اللہ کی ذات تو اس بات پر قادر تھی کہ اگر اس کی مشیت کا تقاضا ہوتا تو جن یہ طرز عمل اختیار نہ کرتے ۔ وہ سرکشی نہ کرتے اور مجسمہ شر ہر گز نہ بنتے ۔ وہ انبیاء کے دشمن نہ ہوتے ‘ اہل ایمان کو اذیت نہ دیتے اور عوام الناس کو اللہ کی راہ سے برگشتہ نہ کرتے ۔ اللہ تو اس بات پر قادر تھا کہ انہیں مجبور کر کے ہدایت کی راہ پر ڈال دیتا اور ان کو ہدایت دے دیتا بشرطیکہ وہ ہدایت کی طرف متوجہ ہوتے اور یوں وہ انبیاء کی دشمنی ‘ حق کی مخالفت اور مومنین سے عداوت نہ کرتے ۔ لیکن اللہ نے ان کو ایک حد تک اختیار اور آزادی دے دی اور ان کو یہ اذان دے دیا کہ وہ اللہ کے دوستوں پر دست درازیاں کرتے پھریں ۔ اللہ کی مشیت اور اس کی اسکیم تقدیر کے مطابق تاکہ اس کے دوستوں کی آزمائش ہو سکے اور یہ آزمائش اس کے دشمنوں کے ذریعے ایذا رسانی سے ہو ۔ جس طرح اللہ اپنے دشمنوں کو قوت ‘ اختیار اور آزادی کی ایک محدود ومقدار عطا کر کے آزماتا ہے ۔ دشمن بھی اللہ کے دوستوں کو اسی حد تک اذیت دے سکتے ہیں جس حد کو اللہ نے مقرر کیا ہے ۔
(آیت) ” وَلَوْ شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہ (6 : 112) (اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا کر ہی نہ سکتے ۔ “ سوال یہ ہے کہ اس ہدایت سے ہمارے لئے کیا نتائج نکلتے ہیں ؟
1۔ یہ کہ جو لوگ انبیاء کے مقابلے میں کھڑے ہوجاتے ہیں اور انبیاء کے متبعین کو اذیت دیتے ہیں وہ شیطان ہوتے ہیں ۔ یہ شیطان انسانوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور جنات میں سے بھی ۔ جنوں کے شیطان اور انسانوں کے شیطان دونوں ایک جیسے ہوتے ہیں اور دونوں کے کام کی نوعیت بھی ایک جیسی ہوتی ہے ۔ وہ ایک دوسرے کو دھوکہ اور فریب دیتے ہیں اور گمراہ کرتے ہیں جبکہ سب کی مشترکہ خاصیت یہ ہے کہ وہ سرکش ‘ گمراہ اور اللہ کے دشمن ہوتے ہیں۔
2۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ شیاطین جو انبیاء کے دشمن ہوتے ہیں اور انبیاء کے متعبین کو اذیت دیتے ہیں ۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے ذریعے اللہ اپنے بندوں اور دوستوں کو آزماتا ہے اور یہ آزمائش بھی گہری حکمت پر مبنی ہوتی ہے ۔ تاکہ لوگوں کو چھان پھٹک کر دیکھ لیا جائے ‘ ان کے دلوں کو صاف کیا جائے ۔ ان کے صبر کا امتحان لیا جائے ‘ ان کی قوت برداشت اور امانت ودیانت کو آزمایا جائے ۔ جب بھی وہ اس آزمائش میں کامیاب ہوگئے یہ آزمائش اور امتحان ختم ہوجاتا ہے اور مخالفین کی مخالفت ختم ہوجاتی ہے ۔ اب دشمن دست درازی کرنے پر قدرت نہیں رکھتے ۔ اس لئے کہ اللہ کی اسکیم تقدیر ختم ہوجاتی ہے اور اب ان کے دشمن کمزور اور ناکام ہوجاتے ہیں ۔ ان کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں کا بوجھ اٹھائے اللہ کی طرف لوٹ رہے ہوتے ہیں ۔
(آیت) ” وَلَوْ شَاء رَبُّکَ مَا فَعَلُوہ (6 : 112) (اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا کر ہی نہ سکتے ۔ “
3۔ یہ کہ یہ اللہ کی حکمت کا تقاضا تھا کہ وہ شیاطین جن اور شیاطین انس کو یہ مہلت عطا کرے کہ ہو شیطنت کرتے پھریں اس لئے کہ اللہ نے ان شیطانوں کو جو مہلت اور طاقت دی ہوئی ہے اس میں ان کو آزمائے ‘ تاکہ وہ ایک وقت تک اللہ کے دوستوں کو اذیت دیتے رہیں ۔ اس طرح اللہ اپنے دوستوں کو بھی آزماتا ہے تاکہ دیکھا جائے کہ وہ صبر کرتے ہیں ؟ کیا ان کے پاس جو سچائی ہے اس پر وہ ثابت قدم رہتے ہیں جبکہ باطل ان پر زور آور ہو رہا ہے اور دست درازی کر رہا ہو۔ کیا وہ اپنے نفوس کو اللہ کے ہاں پوری طرح فروخت کرتے ہیں اور خوشی اور دیکھ دونوں حالتوں میں ‘ تنگی وترشی میں اور فراوانی اور خوشحالی دونوں میں اللہ عہد پر پختہ رہتے ہیں ؟ ورنہ یہ تو اللہ کے دائرہ قدرت میں تھا کہ وہ اس تمام کھیل کو شروع ہی نہ کرتا ۔
4۔ یہ کہ جن وانس کے تمام شیاطین کی مکاری کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے ‘ یہ تو بہت ہی کمزور مخلوقات ہیں ۔ ان کے پاس انکی کوئی ذات قوت اور طاقت نہیں ہے ۔ وہ تو ان حدود وقیود کے اندر کام کرسکتے ہیں جو ان کے لئے اللہ نے مقرر فرمائی ہیں ۔ وہ مومن جو اس بات کو جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ قادر مطلق تو ہی ہے وہی ہے جس نے ان لوگوں کو اجازت دے رکھی ہے ‘ تو اس کی نظروں میں یہ شیاطین ضعیف ہوتے ہیں ۔ اگرچہ بظاہر وہ قہار وجبار نظر آئیں ۔ یہی وجہ ہے کہ حضور کو متوجہ کردیا جاتا ہے ۔ (فذرھم وما یفترون) چھوڑ دیجئے انکو اور ان کی افتراء پردازی کو ۔ میں قادر مطلق ہوں اور ان کے جرائم کی سزا ان کے لئے تیار ہے ۔
5۔ ان اہل ایمان اور شیاطین کے ابتلاء کے علاوہ ایک اور حکمت بھی ہے ۔ یہ عداوت اور یہ گمراہی پھیلانا اور قول وفعل سے یہ وسیع فریب کاری ‘ اللہ نے اس کا اذن اس لئے بھی دے رکھا ہے :
(آیت) ” وَلِتَصْغَی إِلَیْْہِ أَفْئِدَۃُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَلِیَرْضَوْہُ وَلِیَقْتَرِفُواْ مَا ہُم مُّقْتَرِفُونَ (113)
” (یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لئے کرنے دے رہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انکے دل اس خوشنما دھوکے کیطرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہوجائیں اور ان برائیوں کا اکتساب کریں جن کا اکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں ۔ “
یعنی جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ ان ہدایات پر کان نہیں دھریں گے اور ان شیطانوں کی وسوسہ اندازی پر توجہ دیں گے ۔ اس لئے کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ان کی تمام صلاحیتیں دنیاوی کاموں میں صرف ہوتی ہیں ۔ ایسے لوگ جب دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر موڑ پر شیاطین بیٹھے ہوئے ہیں اور نبی کے مخالف ہیں ‘ نبیوں کے متبعین کو رات اور دن اذیت دیتے ہیں اور یہ شیاطین ایک دوسرے کے مدد گار ہیں ‘ ایک دوسرے کی باتوں کو مزین بنادیتے ہیں اور ایک دوسرے کی قولی اور فعلی تائید کرتے ہیں ۔ اس لئے یہ دنیا پرست لوگ شیاطین کے تابع ہوجاتے ہیں اور ان کے اس باطل رعب وداب اور شان و شوکت سے مرعوب ہوجاتے ہیں ۔ حالانکہ ان کا یہ اقتدار اور قوت نہایت ہی کمزور ہوتی ہے ۔ چناچہ یوں وہ بھی برائی اور گناہ کماتے ہیں اور شر ‘ معصیت اور فساد کے پھیلانے میں شریک ہوجاتے ہیں ۔ اس توجہ اور اصغاء کی وجہ سے یہ دنیا پرست شیطانی ہدایات لیتے رہتے ہیں ۔
یہ ایک ایسا معاملہ ہے کہ اس کا یونہی چلنا منصوبہ تقدیر الہیہ کے مطابق تھا ۔ کیونکہ اس عمل کے ذریعے اپنے بندوں کی آزمائش کرکے اللہ ان میں سے کھرے اور کھوٹے کو سامنے لانا چاہتے تھے ۔ نیز اس اسکیم کے مطابق اللہ ہر شخص کو آزادی کے ساتھ ایک راہ پر چلانا چاہتے تھے تاکہ وہ قیامت کے دن اپنے عمل کے ساتھ بالکل مناسب جزا کا مستحق بن جائے ۔
نیز یہ مقصد بھی تھا کہ اس کشمکش میں حق و باطل کے ذریعے دنیا میں اصلاحی کام جاری رہ سکے ۔ حق باطل سے علیحدہ ہو کر ممتاز ہوجائے اور صبر کے صیقل کے ذریعے خیر صاف ستھری ہو کر سامنے آجائے ۔ شیاطین قیامت کے دن اپنے کئے کا پورا پورا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں اور یہ تمام اسکیم اللہ کی مشیت کے مطابق جاری وساری رہے ۔ اسی اسکیم کے مطابق معاملہ اللہ کے دوستوں کا بھی طے ہو اور اسی کے مطابق معاملہ اللہ کے دشمنوں کا بھی طے ہو ۔ یہ ہے اللہ کی اسکیم مشیت اور اللہ جو چاہتا ہے ‘ وہ کرتا ہے ۔
اب ذرا اس منظر پر غور کریں ‘ اس میدان معرکہ میں ایک جانب جن وانس کے تمام شیطان اور ان کے دوست و مددگار کھڑے ہیں اور دوسری جانب انبیائے کرام اور ان کے تمام متبعین کھڑے ہیں اور اس کشمکش میں ایک تیسری اور فیصلہ کن قوت اللہ کی مشیت ‘ اس کا غلبہ اور اس کا اقتدار اعلی ہے ۔ اس منظر کے یہ تین پہلو ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم ذرا توقف کرکے اس پر گہری نگاہ ڈالیں ۔
یہ ایک ایسا معرکہ ہے کہ اس میں اس کائنات میں شر کی تمام قوتیں جمع ہو رہی ہیں ۔ جن شیطان اور انسان شیطان شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ یہ اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کررہے ہیں اور نہایت ہی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کر رہے ہیں ۔ ان لوگوں کا مشترکہ منصوبہ یہ ہے کہ یہ تمام انبیاء ‘ ان کی دعوت اور انکے حامیوں کے دشمن ہیں ۔ اور ان کا ہدف اور منصوبہ متعین ہے ۔ ” یہ ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القاء کر رہے ہیں ۔ یہ ایک دوسرے کی مدد تمام وسائل کے ساتھ کرتے ہیں جن میں فریب کاری اور دھوکہ بازی کے تمام ذرائع شامل ہیں اور یہ خود آپس میں بھی ایک دوسرے کو گمراہ کرتے ہیں اور جب بھی حق اور سچائی کے مطابق کوئی مجمع جمع ہوتا ہے تو اس مجمع کی اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ ایک دوسرے کو بھی فریب دیتے ہیں ۔ وہ باہم تعاون کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو گمراہ کرتے ہیں اور اس گمراہی میں ایک دوسرے کے معاون بنتے ہیں ۔ یہ لوگ ایک دوسرے کو حق کی کوئی بات نہیں بتاتے ۔ بلکہ وہ ایک دوسرے کے سامنے سچائی کی دشمنی کو ایک بڑا جہاد کہہ کر پیش کرتے ہیں اور یہ عزم کرتے ہیں کہ وہ اس سچائی کے ساتھ طویل عرصے تک لڑیں گے ۔
ان قوتوں کی یہ مکاری مکمل طور پر آزاد اور بےقید بھی نہیں ہے ۔ اس کے اردگرد مشیت الہیہ کا ایک وسیع دائرہ ہے ۔ یہ شیاطین جو سرگرمیاں بھی دکھاتے ہیں وہ اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے دکھاتے ہیں ۔ یہ مشیت کا دائر اللہ کی تقسیم کا دائرہ ہے ۔ یہیں سے اللہ کے بندوں کی نظروں میں شر کی قوتوں کا یہ اکٹھ اور ان کی پشت پر عالمی تائید پرکاہ کی حیثیت بھی نہیں رکھتی ۔ یہ مقید اور پابزنجیر ہے ۔ یہ اکٹھ اور گٹھ جوڑ بےقید اور آزاد نہیں ہے ۔ اللہ جس طرح چاہتا ہے ‘ کرتا ہے اور یوں نہیں کرتا کہ ہر کوئی ان کے اس جال میں بغیر کسی مدافعت اور مقادمت کے پھنس جائے جس طرح ہمیشہ تمام سرکش شیاطین چاہتے ہیں کہ انہیں بےقید حاکمیت حاصل ہو اور لوگ ان کی غیر مشروط اطاعت کریں اور ان کی مرضی اور خواہش کے اوپر عمل پیرا ہوں ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ ان سرکشوں کی تمام سرگرمیاں اللہ کی مشیت اور اس کی تقدیر اور ضوابط کے اندر محدود ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شیطانی قوتیں اللہ کے دوستوں کو کوئی اذیت اور نقصان نہیں پہنچا سکتیں ۔ ہاں اس قدر اذیت یہ ضرور پہنچا دیتے ہیں جس قدر اللہ میاں اپنے دوستوں کی آزمائش کے طور پر اجازت دیں ۔ آخر کار تمام معاملات اللہ کی طرف لوٹ جاتے ہیں ۔
لیکن شر کی قوتوں کا یہ اکٹھ اور ان کا باہم تعاون اہل حق کے لئے بھی ایک نکتہ تفکیر ہے ۔ ان کو غور وفکر کرکے شر کی قوتوں کے اس منصوبے کو سمجھنا چاہیے اور شر کے وسائل کو بھی زیر نظر رکھنا چاہیے ۔ اسی طرح یہ منظر کہ اللہ کی مشیت اور تقدیر ان لوگوں کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے یہ بھی اہل حق کے لئے ایک بشارت ہے ۔ اس سے بھی اہل حق کو یقین اور اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ آخر کار وہ کامیاب رہیں گے ۔ اس لئے ان کی نظریں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی قوت قاہرہ پر مرکوز رہنی چاہئیں جو ہمیشہ نافذ اور کارگر رہتی ہے ۔ اور آخر کار اللہ کا اقتدار اعلی قائم ہوتا ہے ۔ اور حق کو غلبہ نصیب ہوتا ہے ‘ اس لئے اہل حق کو چاہیے کہ وہ اپنے یقین اور عقیدے کو اللہ کی ذات کبریا کے ساتھ وابستہ رکھیں خواہ شیطان چاہے یا نہ چاہے ۔ اور وہ اپنی راہ پر اس طرح گامزن ہوں کہ ان کے اخلاق و اعمال میں سچائی رچی بسی ہو ‘ ان کے دل و دماغ حق سے سرشار ہوں ۔ رہی شیطانوں کی دشمنی اور ان کی مکاری تو اہل حق کو چاہیے کہ ان کو اللہ کی مشیت اور قدرت کے حوالے کردیں جو ہر صورت میں کامیاب اور غالب رہتی ہے ۔ اس لئے کہ یہ سب امور اللہ کی مشیت کے مطابق چلتے ہیں اور ” اگر تمہارے رب کی مشیت ہوتی تو وہ ایسا نہ کرتے پس انہیں چھوڑ دیں جو چاہیں افترا پردازیاں کرتے پھریں ۔ “
درس 68 ایک نظر میں :
اب یہاں سے وہ موضوع شروع ہوتا ہے جو اس پوری سورة کا موضوع ہے اور اس موضوع کے بارے میں تمہیدی باتیں اس سورة میں جگہ جگہ آتی رہیں ہیں۔ ان میں سے آخری تمہیدی بات وہ علیم نظریاتی مسئلہ ہے جو سابقہ دو آیات میں بیان کیا گیا ہے ۔ نیز وہ نظریاتی کشمکش ہے جو حق و باطل کے درمیان برپا رہی ہے اور اس کشمکش کے درمیان شیاطین جن اور شیاطین انس اور دوسری جانب سے انبیاء اور ان کے متبعین کے درمیان دشمنی رہی ہے اور اس پر آخر کار اللہ کی مشیت غالب رہی ہے اور پھر یہ بیان کہ ہدایت وضلالت سنت الہیہ کے مطابق اور مشیت الہیہ کے تحت ہوتی ہے ۔ یعنی درس سابق کے آخر میں آنے والے تمام مباحث جن پر تفصیلی بحث کی گئی ہے بطور تمہید آئے ہیں ۔
اب روئے سخن اس اصل موضوع کی طرف آتا ہے جس کے لئے یہ تمام باتیں بطور تمہید تھیں ۔ یہ موضوع تھا مسئلہ ” ما اھل بہ لغیر اللہ “ یعنی ان چیزوں کی حلت اور حرمت کا مسئلہ جن پر ذبح کے وقت اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو ۔ اس مسئلہ کی اہمیت اسلام کے اس اولین اصول کی وجہ سے ہے کہ اسلام میں حق حاکمیت صرف اللہ کو حاصل ہے ‘ اور اقتدار اعلی کا مستحق صرف اللہ ہے ۔ کسی انسان کو اللہ کے حق حاکمیت کو کسی صورت میں بھی استعمال نہیں کرنا چاہیے ۔ اور اگر مسئلہ اصولی اور نظریاتی ہو تو اس میں چھوٹی سی بات بھی ایک نہایت ہی عظیم معاملے کی طرح اہم ہوجاتی ہے ۔ یہ بات اہم نہیں ہے کہ یہ ایک ذبیحہ کا مسئلہ ہے یا یہ کہ یہ اس قدر معمولی مسئلہ ہے کہ ایک متعین جانور کا گوشت کھانا جائز ہے یا ناجائز ہے یا یہ معاملہ ہے کہ ایک مملکت کا اقتدار اعلی کس کو حاصل ہو یا کسی معاشرے میں اقتدار اعلی کس کو حاصل ہو یا کسی معاشرے میں اقتدار اعلی کس کا ہوگا ۔ اصولوں کے اس معاملے میں دونوں باتوں کی اہمیت برابر ہے کیونکہ دونوں میں ایک شخص اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ حاکمیت کس کو حاصل ہے اللہ کو یا کسی اور کو ۔ یا یہ کہ اقرار حاکمیت الہیہ ہے یا اس کا انکار ہے ۔
اسلامی نظام حیات اور قرآن اس اصول پر ہر جگہ زور دیتا ہے اور چاہے معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ‘ ہر جگہ اس اصول کو بتکرار اور بتاکید مزید پیش کیا جاتا ہے ‘ اس لئے کہ یہ اصول نہایت ہی اہم نظریاتی اصول ہے ۔ یہ اصول اسلام ہے اور یہی دین ہے ۔ اس اصول کے علاوہ جو مسائل بھی ہیں وہ اس اصول کی عملی تطبیق اور تشریح ہیں اور تفصیلی نتائج ہیں ۔
سورة کے زیر بحث حصے میں یا سورة کی تمام دوسری آیات میں ہم اس حقیقت کو پالیں گے کہ قرآن میں اس اصول کو بتکرار دہرایا گیا ہے اور مختلف شکلوں میں اسے لایا گیا ہے ۔ جب دور جاہلیت کے قانون ‘ نظام اور رسم و رواج پر بحث ہوتی ہے تو بھی اس اصول کو دہرایا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہ قوانین اور رسوم و رواج شرک ہیں اور اسلام سے سرکشی کے مترادف ہیں ۔ اور یہ قوانین و ضوابط اس نظریہ سے پیدا ہوئے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ایسے قوانین اور ایسے رسوم و رواج پر سخت ترین تنقید کرتا ہے ۔ اور یہ تنقید مختلف اسالیب اور مختلف طرز ادا میں کی گئی ہے ۔ لیکن اس تنقید کا اصل محور یہی اسلام کا اصول اعظم ہے کہ اس کائنات پر مقتدر اعلی صرف اللہ ہے ۔ یہی اصل اسلام اور اصل ایمان ہے ۔
الأنعام 6:114
(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔
یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔
الأنعام 6:115
(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔
یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔
الأنعام 6:116
(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔
یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔
الأنعام 6:117
(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔
یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔
الأنعام 6:118
(آیت) ” نمبر 118
اس سے قبل کہ اس تمہید کے بعد حلال و حرام کا آخری فیصلہ دے دیا جائے بعض دوسری ہدایات اور نتائج دیئے جاتے ہیں جو امر ونہی کے بیان اور وعید اخروی اور ضروری تنبیہ پر مشتمل ہیں :
الأنعام 6:119
(آیت) ” نمبر 118
اس سے قبل کہ اس تمہید کے بعد حلال و حرام کا آخری فیصلہ دے دیا جائے بعض دوسری ہدایات اور نتائج دیئے جاتے ہیں جو امر ونہی کے بیان اور وعید اخروی اور ضروری تنبیہ پر مشتمل ہیں :
الأنعام 6:120
(آیت) ” نمبر 118
اس سے قبل کہ اس تمہید کے بعد حلال و حرام کا آخری فیصلہ دے دیا جائے بعض دوسری ہدایات اور نتائج دیئے جاتے ہیں جو امر ونہی کے بیان اور وعید اخروی اور ضروری تنبیہ پر مشتمل ہیں :
الأنعام 6:121
(آیت) ” نمبر 121۔
اس کے بعد ایک بار پھر کفر و ایمان کی اصل حقیقت پر بات کی جاتی ہے اور دو بار تکرار کا مطلب ہے کہ اسلام میں حلال و حرام قرار دینے کا تعلق کفر واسلام سے ہے ۔
یہ بار بار کی تاکید ‘ یہ بار بار کے ربط اور بات کو دہرانے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں قانون سازی اور اقتدار اعلی انسان کی روز مرہ زندگی کے اندر کس قدر اہمیت رکھتے ہیں ۔
ّ (آیت) ” أَفَغَیْْرَ اللّہِ أَبْتَغِیْ حَکَماً وَہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً وَالَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْلَمُونَ أَنَّہُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ (114)
” پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ‘ حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے ‘ اور جن لوگوں کو ہم نے تم سے پہلے کتاب دی تھی وہ جانتے تھے کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو ۔
یہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی ایک سوال ہے اور یہ استفہام انکاری ہے ۔ یہ تنبیہ اس بات پر کی گئی ہے کہ کسی کے لئے یہ کوئی درست رویہ نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں سے کسی معاملے میں بھی اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم اور فیصلہ کنندہ تسلیم کرے ۔ چناچہ اس طرح اس بات کا فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام میں زندگی کے تمام معاملات میں فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا اور یہ ایک غیر متنازعہ بات ہے اور اس بات کی ممانعت کردی جاتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو انسانوں کی زندگیوں میں فیصلے کرنے کا مجاز ہو اور اپنی مرضی کے مطابق وہ ایسا کرتا رہے ۔
(آیت) ” أَفَغَیْْرَ اللّہِ أَبْتَغِیْ حَکَماً “۔ ” کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ؟ “
اس کے بعد اس ناگوار احساس کی تفصیل آتی ہے ‘ ان حالات کی تفصیل بھی بیان کردی جاتی ہے جن کی وجہ سے اللہ کے سوا دوسروں کا اقتدار اعلی ایک قابل سرزنش فعل قرار پاتا ہے ۔ اللہ نے ہر چیز کی تفصیلات دے دی ہیں اور اور بندوں کو اس بات کا محتاج نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے لئے خود راہ ہدایت تلاش کرتے پھریں ‘ یا اللہ کے سوا کسی دوسری جگہ سے اپنی زندگی کے مسائل کے فیصلے لیں ۔ اور مشکلات حیات کو حل کریں ۔
(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً “۔ ‘” حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے ‘ “۔ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ان معاملات کے فیصلے کرے جن کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہو اور یوں اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی کا ظہور ہو ۔ پھر اللہ نے یہ کتاب نہایت ہی مفصل طور پر نازل کی ہے ۔ اس میں وہ تمام اصول منضبط کردیئے گئے ہیں جن کے اوپر پورا نظام زندگی استوار ہوگا ۔ اس میں بعض فروعی اور جزئی مسائل بھی بیان کردیئے گئے ہیں جن کے بارے میں اللہ کی مرضی یہ تھی کہ وہ انسانی معاشرے کے لئے دائمی احکام ہوں چاہے وہ معاشرہ جس قدر بھی ترقی یافتہ ہو اور علمی لحاظ سے وہ بہت ہی آگے کیوں نہ بڑھ گیا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے ہوتے ہوئے پھر کسی دوسرے پلیٹ فارم سے فیصلہ لینے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ یہ ہے وہ فیصلہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کے مقام کے بارے میں کیا ہے ۔ اب اگر کوئی یہ کہتا ہے : ” کہ دنیا ترقی کرچکی ہے اور اب اسے اس کتاب کی طرف رجوع کی ضرورت نہیں ہے تو ہزار بار کہتا پھرے لیکن اسے اس قول کے ساتھ ایک اور بات بھی صاف صاف کہہ دینا چاہئے وہ یہ کہ میں (نعوذ باللہ) کافر ہوں ‘ اس دین اسلام کا منکر ہوں اور اللہ رب العالمین کے اقوال کی تکذیب کرتا ہوں۔
یہاں ان لوگوں کے اردگرد ایک مخصوص صورت حالات بھی موجود ہے ‘ جس کے اندر زندگی کے حالات میں سے کسی حال میں بھی اللہ کے سوا کسی اور مصدر سے فیصلہ طلب کرنا نہایت ہی مکروہ عمل قرار پاتا ہے ‘ اور نہایت ہی عجیب سا لگتا ہے ۔ وہ یہ کہ جن لوگوں کو اس سے قبل آسمانی کتابیں دی گئیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ قرآن بھی منزل من اللہ ہے اس لئے کہ وہ کتب سماوی کے بارے میں معرفت رکھنے والے ہیں۔
(آیت) ” وَالَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْلَمُونَ أَنَّہُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّکَ بِالْحَقِّ (6 : 113)
” اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب ہمارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے ۔ “
یہ صورت حالات مکہ مکرمہ اور جزیرۃ العرب میں موجود تھی اس لئے اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں ۔ چاہے اہل کتاب اس حقیقت کو مان کردیں جس طرح بعض لوگوں نے کیا بھی جن کے دل اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیئے تھے یا وہ اسے چھپا دیں اور اس کا اظہار نہ کریں ۔ اکثر اہل کتاب نے یہی رویہ اختیار کیا ‘ لیکن دونوں صورتوں میں یہ حقیقت اپنی جگہ موجود تھی کہ اہل کتاب حقیقت سے باخبر تھے ۔ خود اللہ تعالیٰ ان کے علم کے بارے میں شہادت دیتے ہیں اور اللہ کی شہادت سچی ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ واضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ یہ لوگ (یعلمون) جانتے ہیں کہ قرآن اللہ کی جانب سے سچائی لے کر نازل ہوا ہے اور اس میں صرف سچائی ہی سچائی ہے اور یہ سچائی منزل من اللہ ہے ۔
آج بھی اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے ۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس دین کی قوت کا راز صرف یہ ہے کہ اس کی پشت پر عظیم سچائی ہے اور قرآن کریم اسی عظیم سچائی پر مشتمل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اس علم کی وجہ سے اس دین کے خلاف اس بےجگری سے مسلسل لڑ رہے ہیں ۔ وہ اس کتاب سے بھی لڑتے ہیں اور ان کی یہ لڑائی اس دین کے آغاز سے آج تک جاری ہے ۔ یہ نہایت ہی شدید اور تکلیف دہ جنگ ہے ۔ یہ جنگ اہل کتاب محض اس مقصد کے لئے لڑ رہے ہیں کہ مسلمانوں کی زندگی کے اوپر سے اس کتاب کی حاکمیت ختم کردیں اور مسلمانوں کی زندگی کچھ دوسری کتابوں اور کچھ دوسرے وضعی قوانین کی حکمرانی میں آجائے ۔ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو جج اور حاکم بنا لیں تاکہ یہ کتاب زندہ نہ رہے اور اللہ کے دین کا کوئی حقیقی وجود نہ رہے ۔ ان کی کوشش ہے وہ ان اسلامی ممالک میں جہاں کبھی اللہ کی حاکمیت قائم تھی کچھ دوسری حاکمیتیں اور اقتدار قائم کردیں حالانکہ کبھی ان ممالک میں وہ نظام اور قانون نافذ تھا جو اس کتاب میں تھا ۔ صرف یہی قانون نافذ تھا اور اس میں اس کے ساتھ کوئی دوسرے قوانین شریک عمل نہ تھے ۔ نہ اللہ کی کتاب کے ساتھ کچھ دوسری کتابیں بھی رائج تھیں جن سے لوگ اصول قانون اور زندگی کی دوسری اقدار اخذ کرتے ہوں اور ان کی دفعات اور آیات کو کتاب اللہ کی طرح بطور اتھارٹی پیش کرتے ہوں ۔ ایسے تمام منصوبوں کے پیچھے اہل کتاب یعنی صلیبی اور صہیونی عزائم کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ اس قسم کی تمام سرگرمیاں آج بھی ان اہل کتاب ہی کی ریشہ دوانیوں سے ہوتی ہیں ۔
یہاں کہا گیا کہ اللہ نے اس کتاب کو نہایت مفصل انداز میں نازل کیا ہے اور یہ کہ اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے بھی ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے سچائی کے ساتھ نازل ہوئی ہے ۔ اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے اور آپ کے واسطہ سے تمام اہل ایمان کو یہ حقیقت بتلائی جاتی ہے اور یہ تسلی دی جاتی ہے کہ آپ اہل کتاب کے جدل وجدال اور تکذیب اور روگردانی سے دل تنگ نہ ہوں ۔ وہ جو حق کو چھپا رہے ہیں جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے ۔ یہ بات آپ کے لئے گرانبارنہ وہ۔
ّ (آیت) ” (فلا تکونن من الممترین) (6 : 114) ” لہذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو ۔ “ رسول اللہ ﷺ نے تو کبھی شک اور شبہ نہیں کیا ۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب آپ پر سورة یونس کی یہ آیت نازل ہوئی :
(آیت) ” فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرء ون الکتب من قبلک لقد جآءک الحق من ربک فلا تکونن من الممترین “۔ (10 : 94)
” اب اگر تجھے اس ہدایت کی طرف سے کچھ شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں ۔ فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے ‘ تیرے رب کی طرف سے لہذا تو شک کرنے والوں میں نہ ہو۔ “ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” میں نہ شک کرتا ہوں اور نہ مجھے ان سے پوچھنے کی ضرورت ہے ۔ “
لیکن ان ہدایات اور اس قسم کی دوسری مثالوں سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس دور میں حضور ﷺ اور امت مسلمہ کو نہایت ہی گہری ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ مخالفین سخت عناد اور انکار کا مظاہرہ کر رہے تھے اور اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا تھا کہ آپ کو ایسی سخت ہدایات دے کر آپ اور امت مسلمہ کو سخت موقف اختیار کرنے کی تلقین کی جائے ۔
آگے مزید کہا جاتا ہے کہ اللہ کی دو ٹوک بات اب ختم ہوگئی ہے ‘ مکمل ہوگئی ہے ۔ اللہ کی اتھارٹی کے اوپر کوئی اور اتھارٹی نہیں ہے جو اس فیصلہ کن بات کو بدل دے کیونکہ یہ برحق ہے اور یہ حق ان کی تمام سازشوں تک رسائی رکھتا ہے ۔
(آیت) ” وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقاً وَعَدْلاً لاَّ مُبَدِّلِ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (115) “
” تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے ‘ کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے ۔ “ اللہ تعالیٰ نے جو کہنا تھا اور جو فیصلے کرنے تھے وہ سچائی کے ساتھ کردیئے ‘ اور جو قانون سازی کرنی تھی وہ عادلانہ طور پر کردی ۔ اللہ کی بات کے بعد اب نہ کسی کی بات ہے ‘ نہ کوئی نظریہ و عقیدہ ہے ‘ نہ کوئی اصول و قانون ہے اور نہ کوئی قدر ومیزان ہے ۔ اب نہ کوئی قانون اور شریعت کے بارے میں اس کے خلاف کوئی بات کہہ سکتا ہے ‘ نہ کوئی رسم و رواج اس کے مقابلے میں رہ سکتے ہیں ۔ نہ اللہ کی اتھارٹی کے اوپر کوئی اتھارٹی ہے کہ وہ اللہ کی بات کو بدلنے کی مجازہو۔
(آیت) ” (وھو السمیع العلیم) (6 : 115) ’ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ۔ “ اس کے بندے جو کچھ کہتے ہیں وہ سنتا ہے اور ان کے اقوال کے پس منظر کو بھی جانتا ہے اور ان کے مصالح ومفادات کو بھی اچھی طرح جانتا ہے ۔
یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ سچائی وہی ہے جو کتاب اللہ میں ہے اور جو اللہ نے نازل کی ہے ‘ یہ بھی فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ کتاب اللہ کی سوچ کے مقابلے میں انسان جو سوچ پیش کرتا ہے وہ محض ظن وتخمین کے پائے چوبیں پر قائم ہوتی ہے ۔ جو لوگ انسانی سوچ کی پیروی کرتے ہیں وہ محض ظن وتخمین کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا انجام صرف یہی ہوگا کہ وہ سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے ۔ انسانوں کی سوچ صرف اسی وقت درست اور ہدایت یافتہ ہو سکتی ہے جب وہ کتاب اللہ سے ماخوذ ہو جو ایک یقینی مصدر ہدایت ہے ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو بھی متنبہ فرماتے ہیں کہ وہ لوگوں کی ان باتوں پر دھیان نہ دیں جو وہ محض انسانی سوچ کی بنیاد پر کرتے ہیں اگرچہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس سوچ کی ماننے والی ہو ‘ اس لئے کہ جاہلیت بہرحال جاہلیت ہوتی ہے ‘ چاہے اس کے ماننے والے زیادہ ہوں یا کم ‘ بہرحال وہ گمراہ ہوتے ہیں ۔
(آیت) ” وَإِن تُطِعْ أَکْثَرَ مَن فِیْ الأَرْضِ یُضِلُّوکَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ إِن یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ ہُمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ (116)
” اے نبی ﷺ اگر تم ان لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین پر میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے ۔ وہ تو بس گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں ۔
زمین پر بسنے والے لوگوں کی اکثریت ‘ نزول قرآن کے وقت اہل جاہلیت پر مشتمل تھی ‘ جس طرح آج ہمارے دور میں لوگوں کی اکثریت ‘ نزول قرآن کے وقت اہل جاہلیت پر مشتمل تھی ‘ جس طرح آج ہمارے دور میں لوگوں کی اکثریت نے جاہلیت کو اپنا لیا ہے ۔ اس وقت لوگوں کی اکثریت الہی قانون کے مطابق اپنے فیصلے نہ کرتی تھی ‘ نہ انہوں نے اللہ کی کتابوں میں موجود شریعت کو لاء آف دی لینڈ قرار دیا تھا ۔ وہ اپنے تصورات و افکار ‘ اپنی طرز فکر اور طرز زندگی اللہ کی ہدایات اور راہنمائی سے اخذ نہ کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اکثریت نزول قرآن کے وقت جاہلیت میں مبتلا تھی جس طرح آج لوگوں کی اکثریت جاہلیت میں مبتلا ہے ۔ وہ لوگ کوئی فکر ‘ کوئی رائے اور کوئی فیصلہ اس ” حق “ سے اخذ نہ کرتے تھے اور نہ وہ اس سچائی پر مبنی ہوتا تھا ۔ نیز اس دور کے قائدین اپنے متبع لوگوں کی ہدایت کی طرف نہیں بلکہ ضلالت کی طرف لے جاتے تھے ۔ جس طرح آج کی صورت حال ہے کہ لوگ یقینی علم کتاب وسنت کو چھوڑ کر ظن اور تخمین کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ظن وتخمین صرف گمراہی پر منتج ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو متنبہ کردیا گیا کہ آپ ﷺ نے اگر لوگوں کی اطاعت شروع کردی تو وہ آپ کو گمراہ کردیں گے ۔ اللہ نے حضور ﷺ کو عمومی ہدایات اگرچہ شان نزول کے اعتبار سے دی ہیں تاہم یہ ہدایت ایک مخصوص مسئلے یعنی ذبیحوں کے ضمن میں آئی جیسا کہ آگے تفصیلات آرہی ہیں ۔
اس کے بعد یہ قرار داد آتی ہے کہ بندوں کے بارے میں ہدایت یافتہ ہونے یا گمراہ ہونے کا فیصلہ کرنے کا مجاز بھی اللہ ہی ہے ‘ کیونکہ یہ اللہ ہی ہے جو بندوں کی حقیقت سے باخبر ہے ۔ کسی کے راہ راست پر ہونے اور گمراہ ہونے کا فیصلہ بھی وہی کرسکتا ہے ۔
(آیت) ” إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ مَن یَضِلُّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ (117)
” اور حقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے ۔ “
لوگوں کے تصورات و افکار ‘ ان کی اقدار اور پیمانوں ‘ ان کے طرز عمل اور سرگرمیوں کے بارے میں حسن وقبح کا فیصلہ کرنے کے لئے لازما کوئی معیار ہونا چاہئے جس کے مطابق یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ۔ یہ معیار لوگوں کی خواہشات نفسانیہ اور ان کی بدلتی ہوئی اصطلاحات اور رسم و رواج کو نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ یہ دونوں امور متغیر ہیں ۔ اس لئے ایک ایسے منبع اور ماخذ کا تعین ہونا چاہیے جہاں سے لوگ اپنے پیمانون اور خود لوگوں کے بارے میں فیصلے کرسکیں ۔
یہاں اللہ تعالیٰ یہ قرار دیتے ہیں کہ یہ فیصلہ اللہ نے کرنا ہے کہ یہاں اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے اور یہ حق صرف اللہ ہی کو ہے ۔ وہی فیصلہ کرسکتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا ہے ہادی کون ہے اور ضال کون ہے ؟
ہم کسی سوسائٹی کو یہ اختیار نہیں دے سکتے کہ وہ اپنے بدلتے ہوئے حالات اور اصطلاحات کے مطابق حسن وقبح کا فیصلہ کرے اس لئے کہ ہر سوسائٹی کے عناصر ترکیبی ‘ اس کی شکل و صورت اور اس کی مادی ضروریات بدلتی رہتی ہیں ۔ اگر یہ حق سوسائٹی کو دے دیا جائے تو حسن وقبح کے پیمانے بھی مستقل نہ رہیں گے ۔ پھر ایک زرعی معاشرے کی اخلاقی اقدار اور ہوں گیی اور ایک صنعتی معاشرے کی اقدار اور ہوں گی ۔ سرمایہ دارانہ بور ژدا معاشرے کی اقدار اور ہوں گی اور اشتراکی اور کمیونسٹ معاشرے کی اقدار اور ہوں گی اور پھر ان معاشروں کی اقدار کے مطابق لوگوں کے حسن وقبح کے اصول مختلف ہوں گے ۔
اسلام اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے ‘ اس لئے ایسی مستقل ذاتی اقدار وضع کرتا ہے جو اللہ کی طرف سے مستقلا دی گئی ہیں ۔ معاشرے اور سوسائٹیاں جس قدر بدل جائیں ‘ ترقی یافتہ ہوں یا پسماندہ ۔ جو ساسوئٹیاں ان اصولوں کو ترک کردیں اسلامی نظام ان کے لئے ایک مخصوص اصطلاح استعمال کرتا ہے ۔ اسلام انہیں جاہلی معاشرے کے نام سے پکارتا ہے ۔ یہ مشرک معاشرہ ہوتا ہے ‘ اس لئے کہ یہ معاشرہ اللہ کے سوا دوسرے خداؤں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ان کے لئے حسن قبح کے پیمانے مقرر کریں ۔ ان کو تصور حیات ‘ اصول اخلاق اور نظام حیات دیں ۔ اسلامی نظام صرف ایک ہی تقسیم روا رکھتا ہے ۔ اس کے نزدیک ایک معاشرہ یا تو اسلامی معاشرہ ہے یا جاہلی معاشرہ ۔ کوئی تیسری قسم اس کے نزدیک نہیں ہے ۔ آگے جاہلی معاشرے کی اشکال اور صورتیں پھر مختلف ہو سکتی ہیں۔
اس طویل تمہید کے بعد اب اسلامی نظام میں ذبیحوں کے اصولی مسئلے کو لیا جاتا ہے ۔ اس مسئلے کو اسی اساسی اصول کے مطابق لیا جاتا ہے کہ اسلام میں حسن وقبح اور حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ آیات میں اس اصول پر تفصیلی گفتگو ہوئی :
(آیت) ” فَکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ إِن کُنتُمْ بِآیَاتِہِ مُؤْمِنِیْنَ (118) وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُم مَّا حَرَّمَ عَلَیْْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْْہِ وَإِنَّ کَثِیْراً لَّیُضِلُّونَ بِأَہْوَائِہِم بِغَیْْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ (119) وَذَرُواْ ظَاہِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَہُ إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُونَ الإِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُواْ یَقْتَرِفُونَ (120) وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ وَإِنَّہُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّیَاطِیْنَ لَیُوحُونَ إِلَی أَوْلِیَآئِہِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ (121)
(پھر اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو ‘ تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت کھاؤ ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالت اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے ان کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے ۔ بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں ‘ ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے ۔ تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی ۔ جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے ۔ اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت نہ کھاؤ ‘ ایسا کرنا فسق ہے ۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں ۔ لیکن اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو گے ۔ (6 : 118۔ 121)
حکم یہ ہے کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا جائے اسے کھاؤ ۔ اللہ کا نام لینا اس لئے ضروری قرار دیا گیا کہ لوگوں کے نظریے اور ان کے عقیدے کی سمت کا تعین کردیا جائے ‘ تاکہ انکا ایمان اور ان کی اطاعت ان احکام کے لئے مخصوص ہو جو اللہ کی طرف سے صادر ہوتے ہیں ۔
(آیت) ” فَکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ إِن کُنتُمْ بِآیَاتِہِ مُؤْمِنِیْنَ (118)
” پھر اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو ‘ تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت کھاؤ۔ “
اور اس کے بعد ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو تمہارے لئے ایسے جانوروں کے گوشت کو کھانے سے روک رہی ہے جبکہ ان پر اللہ کا نام لیا گیا ہے ‘ اور ان کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اضطراری حالت میں استثناء کی گنجائش رکھتے ہوئے ان چیزوں کی تفصیلات دے دی ہیں جو حرام ہیں ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے حلت اور حرمت کے معاملے میں کسی کو بات کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا ہے ۔ اس لئے کوئی شخص یہ نہیں کرسکتا کہ وہ اپنی مرضی سے بعض چیزوں کو حلال سمجھتے ہوئے کھائے اور بعض کو حرام سمجھتے ہوئے ترک کردے ۔
(آیت) ” وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُم مَّا حَرَّمَ عَلَیْْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْْہِ (6 : 119)
” آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالت اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے “۔
ان کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے ۔ “
اس مسئلے کو وقتی تعلق اس وقت کے معاشرے میں پائے جانے والے ایک معاملے سے ہے ۔ مشرکین مکہ بعض ایسے جانوروں کا گوشت کھاتے تھے جنہیں اللہ نے حرام قرار دے دیا تھا اور بعض ایسے جانور کے گوشت کو حرام قرار یتے ہوئے نہ کھاتے ہیں جو عنداللہ حلال تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ اللہ کی شریعت ہے ۔ چناچہ یہاں قرآن مجید اس قصے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ قرار دیتا ہے کہ یہ لوگ اپنی خواہشات سے متاثر ہو کر اور بغیر علم کے قانون سازی کرتے ہیں اور یوں وہ اللہ تعالیٰ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان حدود کار میں داخل ہوتے ہیں جو اللہ کے لئے مخصوص ہیں حالانکہ وہ اللہ کے بندے اور غلام ہیں ۔
(آیت) ” وَإِنَّ کَثِیْراً لَّیُضِلُّونَ بِأَہْوَائِہِم بِغَیْْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ (119)
” بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں ‘ ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے ۔ “
اس لئے اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تم ہر قسم کے گناہوں کو ترک کر دو ‘ چاہے ظاہری ہوں یاباطنی ۔ یہ بات بھی ان گناہوں ہی میں سے ہے کہ کوئی بغیر علم کے لوگوں کو گمرہ کرنے کا سبب بنے ۔ اور یہ کام وہ محض اپنی خواہشات کی تسکین کے لئے کرے اور پھر اپنی اس سرگرمی کو دینی اور شرعی رنگ بھی دے اگرچہ شریعت کے ساتھ اسے کوئی نسبت بھی نہ ہو بلکہ یہ اسلامی شریعت پر محض افتراء ہو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ انہیں اس قسم کی افتراء پردازی کے انجام بد سے ڈراتا ہے ۔
(آیت) ” وَذَرُواْ ظَاہِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَہُ إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُونَ الإِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُواْ یَقْتَرِفُونَ (120)
” تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی ۔ جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے ۔ “
اس کے بعد حکم دیا جاتا ہے کہ جن جانوروں پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ‘ ان کا گوشت کھانے سے باز رہو ۔ یہ لوگ بعض جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کے سوا اور الہوں کے نام لیتے تھے ۔ یا وہ انہیں قماربازی کے لئے ذبح کرتے تھے اور پھر پانسوں کے ذریعے انہیں تقسیم کرتے تھے ۔ بعض مردار جانوروں کے گوشت کے استعمال کے معاملے میں وہ مسلمانوں سے جھگڑتے تھے ۔ وہ کہتے تھے اگرچہ ایسے مردہ جانروں پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا لیکن اللہ نے خود انہیں ذبح کردیا ہے ۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ مسلمان اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ہوئے جانوروں کا گوشت تو کھاتے ہیں لیکن اللہ کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کا گوشت وہ نہیں کھاتے ۔ یہ وہ تصور اور استدلال ہے جس کی کمزوری بالکل واضح ہے اور یہ تصور تمام جاہلیتوں کے اندر پایا جاتا رہا ہے ۔ یہ تصور مشرکین کو ان کے وہ شیاطین دیتے تھے جو جنوں اور انسانوں میں سے انکے ساتھ لگے ہوئے تھے تاکہ وہ ان کے بودے تصورات اور دلائل کے ذریعے مسلمانوں کے ساتھ مجادلہ کریں ۔ ان باتوں کی تفصیلات ان آیات میں دی گئی ہیں ۔
(آیت) ” وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ وَإِنَّہُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّیَاطِیْنَ لَیُوحُونَ إِلَی أَوْلِیَآئِہِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ (121)
” اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت نہ کھاؤ ‘ ایسا کرنا فسق ہے ۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں ۔ لیکن اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو ۔ “
اس آخری فیصلہ کے سامنے کھڑے ہو کر ذرا غور کیجئے ۔ یہ فیصلہ کس قدر دو ٹوک اور صریح ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حاکم صرف اللہ ہے ‘ اس لئے مطاع بھی وہی ہوگا اور یہ اس دین کا بنیادی اصول ہے ۔ یہ آیت فیصلہ کردیتی ہے کہ زندگی کے مسائل کے کسی ایک جزئیہ میں بھی اللہ کے سوا کسی اور کی اطاعت کرنا جبکہ یہ اطاعت اللہ کی شریعت اور اس کے اصولوں کی طرف منسوب نہ ہو ‘ کھلا شرک ہے اور اس کی وجہ سے ایک مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہو کر دائرہ کفر میں داخل ہوجاتا ہے ۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ
(آیت) ” وَإِنْ أَطَعْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ (121)
” اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو ۔ “
یعنی جہاں تم نے امر الہی اور شریعت الہیہ کو ترک کردیا اور دوسروں کے اوامر اور احکام کو ان پر ترجیح دے دی تو یہ صریح شرک ہوگا ۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
(آیت) ” اتخذوا اخبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ “۔ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا رب بنایا ہے ۔ “
اس آیت کی تفسیر میں ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے۔ وہ حضرت عدی ؓ ابن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا رسول اللہ ﷺ ! انہوں نے تو احبارو رہبان کی بندگی نہیں کی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں “ بالکل انہوں نے کی ہے ۔ انہوں نے ان کے لئے حرام کو حلال کردیا اور حلال کو حرام اور یہ لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں تو یہ ان لوگوں کی جانب سے احبارورہبان کی عبادت ہے ۔ اسی طرح علامہ ابن کثیر نے حضرت عدی ؓ سے روایت کی ہے کہ اس آیت
(آیت) ” اتخذوا اخبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ “۔ کا مفہوم یہ ہے کہ انہوں نے لوگوں سے نصیحت وہدایت طلب کی اور اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا ۔
(آیت) ” وما امروا الا لیعبدوا الھا واحد “۔
” انکو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ صرف الہ واحد کی بندگی کریں “۔ یعنی اس کی بندگی کریں جس نے اگر کسی چیز کو حرام قرار دے دیا تو وہ حرام ہوجاتی ہے اور کسی چیز کو حلال قرار دیا تو وہ حلال ہوجاتی ہے ۔ جو قانون بنایا وہ قابل اتباع ہوتا ہے جو فیصلہ وہ کرتا ہے وہ نافذ ہوجاتا ہے ۔
یہ ہیں اقوال حضرت ابن کثیر اور سدی کے ۔ یہ دونوں حضرات نہایت ہی دو ٹوک الفاظ میں فیصلہ کرتے ہیں اور بات کو بالکل کھول کر بیان کرتے ہیں اور یہ اس لئے کہ اس معاملے میں قرآن کی بات بھی نہایت ہی واضح اور دوٹوک ہے پھر اس بات کو حضرت نبی کریم ﷺ نے خود تشریح کرکے واضح کردیا ہے کہ جو شخص بھی معاملات زندگی کے کسی بھی جزئیہ میں اللہ کی بنائی ہوئی شریعت کے مقابلے میں لوگوں کی بنائی ہوئی شریعت پر چلتا ہے وہ مشرک ہے اگرچہ ایسا شخص اپنی اصلیت کے اعتبار سے مسلم ہو کیونکہ اس فعل کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج ہو کر مشرکوں کی صف میں کھڑا ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ زبان کے ساتھ وہ بار بار ” اشھد “ پڑھتا رہے جبکہ عملا وہ غیر اللہ کا مطیع فرمان اور شاگرد ہو ۔
آج جب ہم اس کرہ ارض پر اس زاوے سے نظر ڈالتے ہیں اور پھر اسے ہم ان آیات کی ان تصریحات کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس پر شرک اور جاہلیت کا مکمل کنٹرول ہے ۔ الا ماشاء اللہ تو ہم اس کرہ ارض کے مالکان اقتدار کے اس عمل پر اعراض کرتے ہیں جنہوں نے خدائی خصوصیات کا دعوی کردیا ہے کہ ان کا کوئی قانون اور کوئی حکم قابل قبول نہیں ہے ۔ الا یہ کہ کوئی نہایت ہی مجبور ہو ۔
آیت زیر بحث (ولا تاکلوا) میں ذیبحوں کے بارے میں جو ہدایت دی گئی ہیں ان میں سے فقہی اعتبار سے حلال و حرام کی تفصیلات علامہ ابن کثیر نے اس طرح دی ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ اس مسء لہ میں ائمہ فقہ کے تین اقوال ہیں۔
بعض فقہاء کہتے ہیں کہ ایسے ذیبحے کا گوشت کھانا حرام ہے چاہے ذبیحے پر اللہ نام عمدا نہ لیا گیا ہو یا سہوا ۔
حضرت ابن عمر ‘ نافع ‘ عامر شعبی اور محمد ابن سیرین سے بھی ایسے ہی مروی ہے ‘ امام مالک سے بھی ایک روایت ایسی ہی ہے ۔ امام احمد ابن حنبل سے بھی ایک روایت ایسی ہی ہے اور متقدمین ومتاخرین میں سے ایک گروہ نے اس کی تائید کی ہے ۔
ابوثور ‘ داؤد ظاہری اور ابو الفتوح محمد ابن علی طائی جو متاخرین شافعیہ میں ہیں ‘ انہوں نے اپنی کتاب اربعیں میں بھی یہی رائے اختیار کی ہے اور انہوں نے اپنے مذہب پر اسی آیت سے استدلال کیا ہے ۔ نیز اس گروہ نے شکار کے بارے میں وارد دوسری آیت سے بھی استدلال کیا ہے ۔
(آیت) ” ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ) پس اس شکار سے کھاؤ جسے وہ (کتے) پکڑ کر تمہارے لئے رک لیں ‘ اور اس پر اللہ کا نام لو۔ “ ان کا استدلال یہ بھی ہے کہ اس آیت میں اس کے لئے انہ لفسق کا تاکیدی لفظ آیا ہے ۔ انہ کی ضمیر کا مرجع اکل ہے ۔ بعض مفسرین نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی طرف عائد کیا ہے ۔ نیز یہ رائے رکھنے والے حضرات ان احادیث سے بھی استدلال کرتے ہیں جو شکار اور ذبیحوں پر اللہ کا نام لینے کے بارے میں وارد ہیں مثلا عدی ؓ ابن حاتم اور ابو ثعلبہ کی احادیث ۔ ” جب تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑا اور اس پر تم نے اللہ کا نام لیا تو جب تک وہ کتا تمہارے لئے روکے رکھے تم کھاؤ۔ “ یہ دونوں احادیث صحیحین نے روایت کی ہیں ۔ نیز رافع ابن خدیج کی حدیث سے بھی یہ گروہ استدلال کرتا ہے ۔ ” جس سے خون نکلا اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ “ یہ حدیث بھی صحیحین نے روایت کی ہے ۔ اس مسئلے میں دوسرا مذہب یہ ہے کہ ذبیحوں پر اللہ کا نام لینا شرط اور واجب نہیں ہے ۔ بلکہ یہ مستحب ہے ۔ اگر کوئی عمدا یانسیان کی وجہ سے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ یہ امام شافعی کا مذہب ہے ۔ اور آپ نے تمام رفقاء بھی اسی طرف گئے ہیں امام احمد ابن حنبل سے بھی ایک روایت اسی مضمون کی ہے ۔ امام مالک سے بھی ایک روایت اس کے مطابق ہے ۔ آپ کے رفقاء میں سے اشہب ابن عبدالعزیز نے اس کی تصریح کی ہے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ ‘ ابوہریرہ ؓ ‘ عطاء ابن ابو رباح ؓ سے بھی ایسی ہی روایات نقل کی ہیں ‘ واللہ اعلم ۔ اب رہیں وہ آیات و احادیث تو ان کی تاویل امام شافعی نے یوں کی ہے کہ آیت
(آیت) ” وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہ “۔ ان ذبیحوں کے بارے میں ہے جن پر بتوں کا نام لیا گیا ہو۔ مثلا
ّ (اوفسقا اھل لغیر اللہ بہ) میں اس کی تصریح ہے ۔ اسی طرح ابن جریج کہتے ہیں کہ آیت (الاتاکلوا ‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) میں ممانعت ان ذبیحوں سے ہے جو قریش بتوں کے اوپر ذبح کرتے تھے ۔ نیز ان ذبیحوں کے بارے میں جو مجوسی ذبح کرتے تھے امام شافعی نے جو مسلک اختیار کیا ہے یہ قوی تر ہے ۔
ابن ابو حاتم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ نقل کیا ہے کہ
(آیت) ” وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہ “۔ مردار کے بارے میں ہے ۔ اس کی تائید میں امام ابو داؤد نے اپنی مرسل احادیث میں ثور ابن یزید کی حدیث نقل کی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” مسلم کا ذبیحہ حلال ہے ‘ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو یا نہ لیا گیا ہو۔ اس لئے کہ اگر وہ نام لیتا تو صرف اللہ ہی کا لیتا ۔ “ اور اس مرسل روایت کی تائید دارقطنی کی روایت سے ہوتی ہے جبکہ ایک مسلمان ذبح کرے اور اس ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لے تو چاہیے کہ اس کا گوشت کھایا جائے ‘ اس لئے کہ مسلمان کے اندر اللہ کے ناموں میں سے کوئی نام ہوتا ہی ہے ۔ “
تیسرا مذہب یہ ہے کہ اگر کوئی بھول کر اللہ کا نام نہ لے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر عمدا ایسا کرے تو کھانا جائز نہ ہوگا ۔ امام مالک (رح) اور امام احمد ابن حنبل (رح) کا یہ مشہور مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے ساتھی بھی اسی طرف گئے ہیں ۔
اسحاق ابن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔ حضرت علی ‘ ابن عباس ‘ سعید ابن مسیب ‘ عطاء طاؤس ‘ حسن بصری ابو مالک ‘ عبدالرحمن ابن ابولیلی ‘ جعفر ابن محمد اور ربیعہ ابن عبدالرحمن سے بھی ایسا ہی منقول ہے ۔
ابن جریر کہتے ہیں کہ اہل علم نے اس آیت کے بارے میں اختلاف کیا ہے کہ اس آیت کا کوئی حکم منسوخ ہوا ہے یا نہیں ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ اپنے مفہوم میں محکم آیت ہے اور اس کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہے ۔ مجاہد اسی کے قائل ہیں۔ حسن بصری ‘ (رح) عکرمہ (رح) کا یہ قول ہے کہ
(آیت) ” فَکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ إِن کُنتُمْ بِآیَاتِہِ مُؤْمِنِیْنَ (118)
دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں ۔
(آیت) ” وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہ وانہ لفسق “۔ اس طرح اس آیت نے پہلی کو منسوخ کردیا ۔ پھر اس سے اہل کتاب کا کھانا مستثنی کیا گیا ۔
(آیت) ” وطعام الذین اوتوالکتاب حل لکم وطعامکم حل لھم) ابن ابو حاتم کہتے ہیں کہ عباس ابن الولید کے سامنے مکحول کی یہ روایت پڑھی گئی کہ اللہ نے پہلے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہ ) اور اس کے بعد اللہ نے اسے منسوخ کردیا ۔ یوں اس نے اہل اسلام پر رحم فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” الیوم احل لکم الطیبت وطعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم “۔ یوں اس دوسری آیت نے پہلی کو منسوخ کردیا اور اہل کتاب کا ذبیحہ حلال قرار دیا گیا ۔ اس کے بعد ابن جریر نے کہا : ” کہ حقیقت یہ ہے کہ جن چیزوں پر اللہ نام نہ لیا گیا ہو ۔ ان کی حرمت اور اہل کتاب کے ذبیحوں کی حلت کے احکام میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابن جریر کی بات درست ہے ۔ سلف میں سے جن لوگوں نے نسخ کا لفظ استعمال کیا ان کی مراد تخصیص ہے ‘ واللہ اعلم ۔
اس کے بعد اسلام اور کفر کے درمیان ایک مکمل معرکہ سامنے آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر گاؤں میں بڑے بڑے مجرمین پیدا کئے ہیں اور ان کے دلوں میں کبروغرور کی ایک بڑی مقدار پائی جاتی ہے ۔ یہ اس گاؤں کے بڑے مجرم ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ پورے علاقے میں لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں ۔ اس بیانیہ میں واضح طور پر یہ دکھایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں ۔ اس بیانیہ میں واضح طور پر یہ دکھایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کے دل ایمان کے لئے کھل جاتے ہیں ان کے حالات کیسے ہوتے ہیں ۔ وہ حالات کس طرح کے ہوتے ہیں جن میں لوگوں کے دل اسلام اور قبولیت حق کے لئے تنگ ہوجاتا ہے اور اسلام کا تصور کرتے ہی وہ لوگ تنگی محسوس کرتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ گویا ان کی سانس رک گئی ہے ۔ یوں یہ بیانیہ موضوع سخن یعنی اسلام میں حلال و حرام کے موضوع کے ساتھ اصولی طور پر منسلک ہوجاتا ہے ۔ یعنی اصول اور فروع کی نسبت قائم ہوجاتی ہے اور یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ ذبیحوں کی حلت اور حرمت کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ۔ بلکہ یہ نہایت ہی اصولی مسئلہ ہے ۔
الأنعام 6:122
(آیت) ” نمبر 122 تا 125۔
ان آیات میں ہدایت وضلالت کی ماہیت کی تصویر کشی کی گئی ہے اور حقیقت ہدایت وضلالت پر حقیقت ضلالت کی نہایت ہی حقیقت پسندانہ تعبیر کی گئی ہے ۔ اس کے اندر جو تشبیہات اور جو مجاز استعمال کیا گیا ہے وہ اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ تصویر پرتاثیر بن جائے ۔ تشبہیات اور مجاز بھی نہایت ہی واقعیت پسندانہ ہیں۔
ہدایت وضلالت کے حقائق اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسے ہیں جن کو سمجھانے کے لئے اس قسم کی تصویر کشی اور موثر انداز بیان نہایت ہی ضروری ہے ۔ اگرچہ بلاشبہ ہدایت وضلالت حقائق ہیں ۔ لیکن یہ روحانی اور نظریاتی حقائق ہیں اور ایسے حائق میں جنہیں تجربات اور عمل کے ذریعے چکھا جاسکتا ہے ۔ رہی کسی روحانی حقیقت کی تعبیر یا حسن تعبیر تو اس سے لطف اندوز صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے ان حقائق کو عملا برتا ہو ۔
یہ ایسے حقائق ہیں جو مردہ دلوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو تاریک قلب ونظر کو روشن کرتے ہیں ۔ یہ حقائق انسان کو ایسی زندگی دیتے ہیں ۔ جس کے ذریعے انسان ہر چیز کا مزہ لیتا ہے ۔ ہر چیز کے بارے میں درست نقطہ نظر اپناتا ہے ‘ ہر چیز کی صحیح قدروقیمت متعین کرتا ہے ۔ انسان کا احساس تمام محسوسات کے بارے میں یکسر بدل جاتا ہے اور اس کے دل و دماغ میں اس قدر روشنی پیدا ہوجاتی ہے جس میں انسان ایک نئے جہان کو دریافت کرلیتا ہے ‘ جس کے بارے میں پہلے اسے کچھ احساس بھی نہیں ہوتا ۔
ایک ایسا تجربہ ہے جو عام انسان کے حس وادراک میں نہیں آسکتا ۔ نہ انسان اسے الفاظ کا جامہ پہنا سکتا ہے ۔ اس کا ادراک صرف وہ شخص کرسکتا ہے جس نے اس حقیقت کو چکھا ہو ، قرآن کریم کا اسلوب بیان اس قدر زور دار ہے کہ صرف وہی اسے ہمارے ادارک کے قریب ترک کرسکتا ہے ۔ کیونکہ یہ قرآن کا کمال ہے کہ وہ ہر حقیقت کے لئے حسب حال الفاظ لے کر آتا ہے جو مفہوم کی حقیقت کے ساتھ ہم رنگ ہوتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ کفر انسان کو ازلی اور ابدی حقیقت سے دور کردیتا ہے ۔ یہ ازلی اور ابدلی حقیقت ایسی ہوتی ہے جس کے لئے فنا نہیں ہے ۔ جو اوجھل نہیں ہوتی اور نہ گہرائی تک اترتی ہے ۔ ابدی اور ازلی حقیقت سے قطع تعلق ہی درحقیقت موت ہے ‘ کسی انسان کے لئے ۔ ایسا انسان کبھی بھی فعال نہیں ہوسکتا ‘ موثر نہیں ہو سکتا اور اس کائنات پر اسے کنٹرول نہیں حاصل ہو سکتا ۔ چناچہ ایسا شخص مردہ شخص ہے ۔ اس کی قوتیں اور صلاحیتیں مر جاتی ہیں ۔ اور وہ فطرتا مردہ انسان ہوتا ہے ۔ یہی ہے موت کی حقیقت ۔
اس کے مقابلے میں ایمان نام ہے اس ابدی قوت کے ساتھ اتحادواتصال کا ۔ ایمان اس قوت سے مدد لیتا ہے اور یہ قوت اس کی دعا کو قبول کرتی ہے لہذا ایمان حیات ہے اور کفر موت ہے ۔
پھر کفر کی حالت میں روح انسانی شرف اور علم سے محروم ہوتی ہے ۔ وہ تاریکی میں گھر جاتی ہے ۔ انسان کے اعضاء اور اس کے شعور پر تالے پڑجاتے ہیں ۔ انسان تاریکی میں کھو جاتا ہے اور گمراہ ہوجاتا ہے ۔ ایمان ہی درحقیقت آنکھیں کھول دیتا ہے ۔ وہ ادراک کا بہترین وسیلہ ہے ۔ اس سے استقامت نصیب ہوتی ہے ۔ وہ ایک نور ہے ‘ نور کے ہر مفہوم کے اعتبار سے ۔
کفر سے انسان سکڑ جاتا ہے ‘ اور بالاخر پتھر بن جاتا ہے ‘ اس کی سوچ تنگ ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان فطری راستے سے بےراہ ہوجاتا ہے ۔ لہذا کفر ایک قسم کی تنگی ہے جس میں ہر شخص اطمینان سے محروم ہوجاتا ہے ۔ اور ہر وقت دل تنگ رہتا ہے جبکہ ایمان سے شرح صدر ‘ خوشی ‘ سہولت حاصل ہوتی ہے اور اس کے خوشگوار سائے میں اطمینان نصیب ہوتا ہے ۔
کافر کی حیثیت اس طرح ہوتی ہے جس طرح کوئی خودروگھاس اور پودا ہوتا ہے جس کا اس کرہ ارض پر کوئی مضبوط وجود نہیں ہوتا اور نہ اس کی پختہ جڑیں ہوتی ہیں ‘ وہ ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو اپنے خالق سے منقطع ہوتا ہے اور تنہا تنہا نظر آتا ہے ۔ اس کائنات سے بھی وہ مربوط نہیں ہوتا ‘ اس کائنات کے ساتھ اس کا روحانی ربط نہیں ہوتا ۔ فقط مادی ربط ہوتا ہے جو نہایت ہی محدود تعلق ہے اور یہ اسی طرح ہے جس طرح کسی بھی حیوان کا اس کائنات کے ساتھ فطری ربط ہوتا ہے ۔ محض محسوس ربط اور دائرہ ۔
اس کے مقابلے میں للہ فی للہ جو تعلق ہوتا ہے وہ انسان فانی کو حقیقت ابدیہ اور حقیقت ازلیہ کے ساتھ مربوط کردیتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اس کائنات ظاہری کے ساتھ بھی موصول اور مربوط کردیتا ہے ۔
اس کے بعد ایک مومن کا گہرا تعلق اس قافلہ ایمان کے ساتھ اور ایک ایسی امت کے ساتھ ہوتا ہے جس کی جڑیں انسان تاریخ میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہیں ۔ لہذا مومن روابط کے ایک بڑے خزانے کا مالک ہوتا ہے ۔ وہ تعلقات کا ایک عظیم اور وسیع سرمایہ رکھتا ہے ۔ وہ ایک نہایت ہی بھرپور اور وسیع شخصیت رکھتا ہے ۔ اس کا وجود اور اس کی شخصیت اس کی عمر کے اختتام کے ساتھ ختم نہیں ہوجاتی ۔
جب انسان ایمان لاتا ہے تو وہ اپنے دل میں ایک روشنی پاتا ہے اور اس روشنی کے ذریعے پھر اسے دین کے حقائق معلوم ہوتے ہیں اور اسے اس دین کے منہاج عمل اور طرز تحریک کا بھی علم ہوجاتا ہے ۔ اس کے قلب پر عجیب انکشافات ہوتے ہیں ۔ جب ایک مومن اپنے دل میں یہ نور پاتا ہے تو اسے عجیب و غریب مناظر ومقامات نظر آتے ہیں ۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس دین کے تمام اجزاء کے اندر ایک گہراربط پایا جاتا ہے ۔ اسے حقائق واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس دین کا منہاج عمل نہایت ہی گہرا اور نہایت ہی خوبصورت ہے ۔ یہ دین متفرق عقائد اور متفرق عبادات کا کوئی بےربط مجموعہ نہیں ہے جس میں کچھ قوانین بھی ہوں اور کچھ ہدایات بھی ‘ بلکہ یہ دین ایک مکمل منصوبہ ہے ‘ اس کے تمام اجزاء ایک دوسرے میں داخل اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ ہیں ‘ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ نہایت ہی گہرا عشق رکھتے ہیں ۔ یہ تمام اجزاء ایک جسم کی طرح زندہ اور اس کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم سفر ہیں اور یہ سفر نہایت ہی دوستانہ ‘ باہم محبت اور گہری الفت کے ساتھ جاری وساری ہے ‘ نہایت ہی جوش و محبت کے ساتھ ۔
انسان اپنے دل میں یہ نور پاتا ہے ‘ اس کے ذریعے اس پر اپنی ذات کے حقائق اپنی حیات کے حقائق ‘ کرہ ارض پر رونما ہونے والے حقائق لوگوں کے حقائق اور لوگوں کے احوال کے حقائق منکشف ہوتے ہیں ۔ ان کی نظروں کے سامنے نہایت ہی روشن اور خیرہ کن مناظر آتے ہیں وہ اس کائنات کے اندر جاری وساری سنت الہیہ اور اس کے ضوابط کو بھی پالیتا ہے ‘ جو نہایت ہی محکم اور فطری اور خوشگوار انداز میں جاری ہیں ۔ پھر وہ یہ بھی جان لیتا ہے کہ ان سنن و ضوابط کے پیچھے اللہ کی مشیت بھی کام کررہی ہے اور یہ اللہ کی مشیت ہی ہے جس نے اس کائنات میں سنن الہیہ اور اس کے ضوابط کے پیچھے اللہ کی مشیت بھی کام کر رہی ہے اور یہ اللہ کی مشیت ہی ہے جس نے اس کائنات میں سنن الہیہ کو آزادی کے ساتھ جاری وساری کیا ہے اور کام کے مواقع فراہم کئے ہیں ۔ ایسا شخص پھر اس کائنات کے انسانوں کو دیکھتا ہے کہ یہ لوگ کس طرح سنن الہیہ کے مطابق چلتے پھرتے ہیں لیکن سنن الہیہ کے حدود کے اندر ۔
جب کسی انسان کے دل میں یہ نور ایمانی پیدا ہوجاتا ہے تو ہر معاملے ‘ ہر واقعہ اور ہر مسئلے میں سچائی کی راہ واضح طور پر پالیتا ہے ۔ اب وہ اپنے اردگرد جاری سنن الہیہ اور واقعات اچھی طرح دیکھ سکتا ہے ۔ خواہ وہ اس کے نفس سے متعلق ہوں ‘ اس کے خیالات سے متعلق ہوں یا اس کے اردگرد مختلف لوگوں کی طرف سے جاری منصوبوں سے متعلق ہوں ۔ وہ اپنے ماحول کے ارادوں کو بھی معلوم کرلیتا ہے چاہے یہ ارادے ظاہر ہوں یا پوشیدہ ۔ واقعات کی تعبیر و توضیح وہ اپنی عقل اور اپنے نفس کے اندر واضح طور پر پاتا ہے ۔ وہ رونما ہونے والے تمام واقعات کی تعبیر اچھی طرح کرسکتا ہے گویا وہ ہر معاملے کا جواب کتاب اللہ اخذ کررہا ہے ۔
جسے یہ نور حاصل ہوتا ہے اس کے خیالات ‘ اس کا شعور اور اس کے خدوخال بھی روشن نظر آتے ہیں ۔ وہ اپنے دل میں مسرور ‘ اپنے حالات پر خوش اور اپنے انجام سے مطمئن ہوتا ہے ۔ وہ حکم دیتے وقت نرم اور خوشگوار رویہ اپناتا ہے ۔ وہ واقعات و حالات کا سامنا بھی نہایت ہی سنجیدگی سے کرتا ہے اور ہر حال میں مطمئن پرامید پر یقین ہوتا ہے ۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی تصویر کشی قرآن کریم ان الفاظ میں کرتا ہے اور کتنی خوبصورتی سے اور کس پیارے انداز میں۔
(آیت) ” أَوَ مَن کَانَ مَیْْتاً فَأَحْیَیْْنَاہُ وَجَعَلْنَا لَہُ نُوراً یَمْشِیْ بِہِ فِیْ النَّاسِ کَمَن مَّثَلُہُ فِیْ الظُّلُمَاتِ لَیْْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا (122)
” کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اس سے نہ نکلتا ہو۔ “
اس دین سے قبل مسلمان ایسے ہی تھے ‘ وہ مردہ تھے ‘ یہ اسلام ہی ہے جس نے ان کی روح کو وسعت دی اور انہیں زندگی بخشی ۔ ان کو ترقی جستجو ‘ حرکت اور حیات جاوداں عطا کی جبکہ اس سے پہلے ان کے دل بجھے بجھے تھے ۔ ان کی روح تاریک تھی ‘ لیکن جب ان کے دلوں کے اوپر ایمان کی بارش ہوئی تو وہ سرسبز اور لہلہاتے ہوئے کھیت کی طرح ہوگئے ۔ ان کی روح سے نور کے چشمے پھوٹنے لگے ‘ روشنی اور نور کی لہریں اٹھنے لگیں ۔ وہ گمراہوں کو راہ بتلانے لگے ۔ وہ حران وپریشان لوگوں کو راہ دکھاتے ‘ خوفزدہ انسانیت کو اطمینان دلاتے ‘ غلاموں کو رہائی دلاتے ‘ وہ لوگوں کے لئے زندگی کے سفر کی سمت متعین کرنے لگے اور یہ اعلان کرنے لگے کہ انسان کو از سر نو زندگی عطا ہوگئی ہے ۔ اب وہ صرف اللہ کا غلام ہے اور دنیا کی تمام غلاموں سے اس نے رہائی پالی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ جس کی روح میں اللہ نے زندگی بھر دی ہو ‘ کیا وہ شخص اس آدمی کی طرح ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور ان سے اس کے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ یقینا ان دونوں افراد کے حالات ایک دوسرے سے بہت ہی مختلف ہیں ۔ اور اس کے درمیان بہت بڑا فرق ہے ۔ لہذا کون ہے جو اس ظلمت کدے میں دھرنا مار کر بیٹھ جائے جبکہ اس کے اردگرد ونور کا فیضان ہو رہا ہو۔
(آیت) ” کَذَلِکَ زُیِّنَ لِلْکَافِرِیْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ “۔ (6 : 122)
” کافروں کے لئے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیئے گئے ہیں۔ “ یہ ہے حقیقی راز ۔ یہاں کفر کی تعبیر تاریکی اور موت سے کی گئی ہے اور کفر کے اندر یہ صفات مشیت الہی نے ودیعت کی ہیں ۔ پھر اللہ نے انسانوں کے اندر ایسی اقسام پیدا کی ہیں کہ ان میں سے بعض لوگ نور کو پسند کرتے ہیں اور بعض لوگ ظلمت کو پسند کرتے ہیں ۔ جب کوئی ظلمت کو پسند کرنے لگتا ہے تو اس کے لئے ظلمت محبوب کردی جاتی ہے اور وہ گمراہی میں دور تک نکل جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے لئے واپس آنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رہتا ۔ اس کے بعد جنوں اور انسانوں میں سے شیاطین کا ایک لشکر سامنے آتا ہے جو ایک دوسرے کے سامنے بدنما اور گمراہ کن باتوں کو اچھا بنا کر پیش کرتا ہے ۔ اور پھر وہ کافروں کے لئے ان کے اعمال کو مزید خوشنما بنادیتے ہیں ۔ جس دل میں نور ایمان نہیں ہوتا وہ ان شیاطین کی باتوں پر توجہ سے کان دھرتا ہے ۔ وہ ان کے وسوسوں کے جال میں پھنس جاتا ہے اب وہ ہدایت وضلالت کی بھی کوئی تمیز نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اندھیروں میں گھرا ہوتا ہے ۔ یوں اللہ کافروں کے لئے ان کے اعمال کو خوشنما بنا دیتا ہے ۔
اس اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر گاؤں میں کچھ و ڈیرے مجرم بنا دیئے ہیں اور وہ ان بستیوں میں اپنی مکاریوں کے جال پھیلاتے ہیں ۔ یوں اللہ کی جانب سے انسانوں کے ابتلاء کی یہ اسکیم مکمل ہوتی ہے اور اللہ کی تقدیر اپنا کام کرتی ہے ۔ اس کی حکمت کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اور ہر شخص اس دنیا میں وہی راستہ اختیار کرتا ہے جو اس کے لئے ساز گار بنا دیا گیا ہوتا ہے اور آخر کار ہر شخص اپنے مقرر انجام تک جا پہنچتا ہے ۔
الأنعام 6:123
(آیت) ” وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ أَکَابِرَ مُجَرِمِیْہَا لِیَمْکُرُواْ فِیْہَا وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (123)
” اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکروفریب کا جال پھیلائیں ۔ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں خود پھنسے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “
یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ ہر بستی ‘ شہر یا دارالخلافہ میں بڑے بڑے مجرمین میں کچھ لوگوں کو مقتدر بنا دیتا ہے ۔ یہ جرائم پیشہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دین کے دشمن ہوتے ہیں اور یہ دین کے دشمن اس لئے ہوتے ہیں کہ بستیوں کے اوپر اقتدار حاصل کرکے اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ دین ان سے اس اقتدار کو چھین کر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ یوں دین ان سے ربوبیت اور حاکمیت کی حیثیت چھین لیتا ہے اور لوگوں کو آزادی حاصل ہوجاتی ہے ۔ یوں دین تمام لوگوں کو اللہ کی غلامی میں دے دیتا ہے اور اللہ ہی رب الناس اور ملک الناس قرار پاتا ہے ۔
یہ سنت الہیہ ہے کہ اللہ سچائی کے ساتھ رسولوں کو بھیجے اور یہ سچائی تمام مدعیان ربوبیت سے ان کی ربوبیت چھین لے اور تمام مدعیان حاکمیت سے ان کا حق اقتدار چھین لے ۔ چناچہ سچائی کے باوجود یہ اکابر مجرمین رسولوں اور سچائی کے دشمن ہوجاتے ہیں اور بستیوں اور دارالحکومتوں میں اپنی مکاری کے جال پھیلاتے ہیں ۔ تمام لوگ اپنے اپنے دارالخلافوں سے ایک دوسرے کو ہدایت اور رپورٹیں دیتے ہیں جو فریب پر مبنی ہوتی ہیں اور یہ لوگ معرکہ حق و باطل میں شیاطین کے معاون بنتے ہیں ۔ باطل اور گمراہی کو پھیلانے کی سعی کرتے رہتے ہیں اور اپنی اس ظاہری اور خفیہ سازش کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں ۔
یہ سنت جاریہ اور ہمہ گیر معرکہ ہے ۔ اس لئے کہ دونوں قوتوں کے درمیان اصل اول ہی کی بنا پر تضاد ووجود میں آگیا ہے ۔ اصل اول یہ ہے کہ حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ صرف اللہ جل شانہ کے ساتھ مخصوص ہے جبکہ کسی بھی بستی کے مجرمین کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس بستی میں ان کی بات کی چلت ہو اس کے علاوہ اہل حق اور ان اکابر مجرمین کے درمیان ذاتی تضاد بھی ہوتا ہے ۔
ہر نبی کو اس معرکے سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ کوئی نبی اس سے بچ نہیں سکتا ۔ نبی اور اہل ایمان کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس معرکے میں کو دیں اور آخر کار میں اس میں سے سرخروئی کے ساتھ نکلیں ۔ اللہ اپنے دوستوں کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ان مجرمین کا مکر و فریب کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو اور ان کا حال طویل سے طویل ترکیوں نہ ہو ؟ آخر کار یہ مکر خود ان پر آکر پڑے گا ۔ اس لئے کہ اہل ایمان صرف تنہا اس معرکے میں نہیں کودتے اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ ان کے لئے کافی مددگار ہے ۔ وہ کافرین کی سازش کو خود ان پر لوٹاتا ہے ۔ ” دراصل وہ خود اپنے فریب کے جال میں پھنستے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ۔
(آیت) ” وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (123)
” لہذا اہل ایمان کو پوری طرح مطمئن رہنا چاہیے ۔ “
اب قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کے دین کے دشمنوں کے مزاج میں کبر و غرور کا مادہ بھرا ہوتا ہے ۔ اور یہی کبر اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ اسلام سے دور رہیں اور یہ اس لئے اس نظریہ سے دور بھاگتے ہیں کہ اس میں جس طرح یہ اکابر اللہ کے بندے ہوتے ہیں اس طرح تمام عوام بھی اللہ کے بندے ہوتے ہیں ‘ کوئی طبقاتی فرق باقی نہیں رہتا ۔ چونکہ یہ لوگ اپنے اس طبقاتی فرق و امتیاز کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کے لئے یہ ایک بڑا کڑوا گھونٹ ہے کہ یہ ایمان لے آئیں اور نبی کے سامنے اطاعت کریں حالانکہ وہ اس بات کے عادی ہیں کہ وہ خود مطاع بنیں اور الوہیت اور ربوبیت کے مقام پر فائز ہوں ‘ قانون سازی کریں اور ان کے قوانین کو تسلیم کیا جائے ۔ وہ احکام دیں اور لوگ ان کے احکام کی اطاعت کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو کرنے کی نہیں ہیں ۔ نہایت ہی بےبنیاد بات کرتے ہیں ۔ کہ ہم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں وہ تعلیم نہ دی جائے جو نبیوں کو دی گئی :
(آیت) ” وَإِذَا جَاء تْہُمْ آیَۃٌ قَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّی نُؤْتَی مِثْلَ مَا أُوتِیَ رُسُلُ اللّہِ “ (6 : 124)
جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہی ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ “
ولید ابن مغیرہ نے ایک بار کہا : ” کہ اگر نبوت حق بات ہوتی تو میں زیادہ مستحق تھا کہ میں نبی ہوتا ‘ کیونکہ میں عمر میں ’ اے محمد ‘ تم سے بڑا ہو ۔ مال میں تم سے زیادہ ہوں ۔ “ اور ابو جہل نے کہا ’ خدا کی قسم ہم اس تحریک پر راضی نہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی اطاعت کریں گے الا یہ کہ ہم پر بھی اسی طرح جبرئیل وحی لے کر آئیں جس طرح اس پر لاتے ہیں ۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ کبر نفس اور اس قسم کے لوگ جس طرح کے عادی ہوتے ہیں کہ یہ احکام صادر کرتے ہیں اور دوسرے لوگ اطاعت کرتے ہیں ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے لئے ضلالت کو مزین کردیا جاتا ہے اور یوں یہ لوگ دین اور داعیان دین (رسل) کے مقابلے میں دشمنی پر اتر آتے ہیں ۔
چناچہ اللہ ایسے لوگوں کے ان اقوال کی تردید فرماتے ہیں ۔ اول یہ کہ کسی کو رسول مقرر کرنا یہ اللہ کے علم محیط پر موقوف ہے کہ کون اس لائق ہے کیونکہ نبوت ایک نہایت ہی اہم کائناتی منصب ہے ۔ اور دوسری بات یہ کہ یہاں اللہ تعالیٰ ان کی تردید سختی ‘ تحقیر اور دھمکی سے کرتے ہیں کہ تمہارا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے ۔
الأنعام 6:124
(آیت) ” اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُواْ یَمْکُرُونَ (124)
” اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ قریب ہے وہ وقت کہ یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے ۔ “
رسالت ایک نہایت ہی عظیم اور مہتم بالشان منصب ہے ۔ یہ ایک کائناتی معاملہ ہے جس میں ازلی اور ابدی ارادہ الہیہ ایک بندے کے ساتھ جڑ جاتا ہے ۔ عالم بالا اور انسان کی محدود دنیا کے درمیان اتصال ہوجاتا ہے ۔ آسمان اور زمین آپس میں مل جاتے ہیں ‘ دنیا اور آخرت ایک ہوجاتے ہیں ۔ اس میں سچائی کے کلیات انسانی دلوں ‘ انسانی واقعات ‘ انسانی تاریخ اور عملی دنیا پر منطبق ہوتے ہیں ۔ اس میں ایک انسان اپنی ذات سے الگ ہوجاتا ہے اور خالص اور کامل اللہ کا ہوجاتا ہے ۔ محض نیت اور عمل کا خلوص ہی نہیں بلکہ اس مخصوص انسان کا ظرف بھی اس عظیم کام کے لئے خالی ہوجاتا ہے ۔ ذات رسول باری کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہے ۔ رسول اور خدا کے درمیان براہ راست رابطہ ہوجاتا ہے ۔ اور یہ اتصال صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ رسول کی ذات اپنی ماہیت کے اعتبار سے اس رابطے کے لئے صالح اور قابل ہوجائے ۔ اس کے اندر ایسی صلا حیت پیدا کردی جائے کہ وہ اس پیغام کو وصول کرسکے ۔
اس لئے یہ بات اللہ ہی جانتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ امانت رسالت وہ کہاں لا کر رکھ دے ۔ اس مقصد کے لئے کس ذات کا انتخاب کرے ۔ کیونکہ اللہ کے اربوں بندے اس زمین پر آتے جاتے اور موجود رہتے ہیں ۔ یہ اللہ ہی ہے کہ ان اربوں میں سے کسی ایک کا انتخاب فرما لیتا ہے ۔
جو لوگ مقام رسالت تک پہنچنا چاہتے ہیں یا وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انکو دینی تعلیمات عطا کی جائیں جو رسولوں کو دی گئی ہیں ‘ لیکن یہ لوگ ایسا مزاج رکھتے ہیں جو مسلمان کے لئے موزوں ہی نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ خود اپنی ذات کو محور کائنات سمجھتے ہیں جبکہ رسولوں کا مزاج بالکل دوسرا ہوتا ہے ۔ رسول کا مزاج تو یہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت ہی عاجزی سے رسالت کو قبول کرتا ہے اور پھر اپنے آپ کو اس کے لئے وقف کردیتا ہے ۔ وہ اپنی ذات کو اس پیغام میں نشوونما دیتا ہے اور پھر رسول کو یہ منصب ایسے حالات میں دیا جاتا ہے کہ وہ نہ اس کے بارے میں کوئی خبر رکھتا ہے اور نہ ہی وہ اس کا امیدوار ہوتا ہے ۔
(آیت) ” وما کنت ترجو ان یلقی الیک الکتب الا رحمۃ من ربک “۔ تم اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ تمہارے طرف کتاب کا القاء ہوگا ‘ یہ تو تمہارے رب کی ایک رحمت تھی ۔ “ دوسری بات یہ ہے کہ یہ اکابر جاہل ہیں اور اس منصب کی اہمیت سے واقف ہی نہیں ہیں۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ یہ منصب کسی کو عطا کرنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے ۔
یہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر قرآن ان کی بات کا دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتا ہے ۔
(آیت) ” اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ “ (6 : 124) ” اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ “
چونکہ اللہ جانتا تھا ‘ اس لئے اس نے یہ منصب موزوں شخص کو دے دیا ۔ نہایت ہی مکرم اور مخلص شخص کے سپرد ہوا ۔ پوری تاریخ میں اس نے رسولوں کے معزز سلسلے کو جاری کیا اور اسے خاتم النبین ﷺ پر ختم کیا ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان مجرمین کو یہ دھمکی دیتے ہیں کہ ان کا انجام توہین آمیز ہوگا اور انہیں شدید عذاب سے دوچار ہونا ہوگا ۔
(آیت) ” سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُواْ یَمْکُرُونَ (124)
” قریب ہے وہ وقت کہ یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے ۔ ‘
اللہ کے ہاں انکو ذلت اس لئے نصیب ہوگی کہ انہوں نے اپنے متبعین کے ہاں اپنے آپ کو سربلند کیا ہوا تھا اور وہ بوجہ کبر و غرور قبول حق سے انکار کرتے تھے اور ان برائیوں کے ساتھ ساتھ مقام رسالت کی تمنا بھی کرتے تھے ۔ اور چونکہ انہوں نے اسلامی تحریک کے مقابلے میں سازش کا جال پھیلایا ‘ رسولوں کی دشمنی اختیار کی اور مومنین کو اذیت دی ‘ اس لئے انہیں سخت عذاب دیا جائے گا ۔
اب یہ بیان اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ انسانوں کے دل و دماغ میں ایمان ہو تو کیا صورت حال ہوتی ہے اور ہدایت سے انسان کے شب وروز کس طرح بدل جاتے ہیں ۔
الأنعام 6:125
(آیت) ” فَمَن یُرِدِ اللّہُ أَن یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125)
” پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا کہ اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ۔ اس طرح اللہ ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘
اللہ تعالیٰ نے اس جہاں میں ہر شخص کو اختیار تمیزی اور آزادی دی ہے کہ ضلالت اختیار کرے یا ہدایت ۔ اب جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس سنت جاریہ کے مطابق جو اس نے اس کائنات میں ہدایت کے سلسلے میں وضع فرمائی ہے راہ کے حصول میں دلچسپی رکھتا ہے اور اسے آزمانے کے لئے اسے جو اختیار دیا گیا ہے اور وہ اس کو استعمال کر کے ہدایت کے لئے سعی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سینہ کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ اس کے دل کے دریچے کھل جاتے ہیں اور وہ بسہولت اسلام کو قبول کرتا ہے اور اس میں دلچسپی لیتا ہے ‘ اس پر مطمئن ہوجاتا ہے اور وہ اسلام کے ساتھ گھل مل جاتا ہے ۔
اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے جس کے لئے گمراہی مقدر کردی ہے ‘ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی اسی سنت جاریہ کے مطابق اسی شخص کو مقدر کردی جاتی ہے جسے اسلام اور ہدایت سے کوئی دلچسپی نہیں رہتی ۔ اس کے دل کے دریچے بند ہوجاتے ہیں اور اس کا سینہ اسلام کے لئے تنگ ہوجاتا ہے ۔ اس کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ گویا اس کی روح آسمان پر پرواز کرنے والی ہے ۔ چناچہ اس کا دل و دماغ اس کے لئے بند ہوجاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو اختیار کرنے میں نہایت ہی مشکل محسوس کرتا ہے ۔
(آیت) ” کانما یصعد فی السمآئ “۔ کے الفاظ میں ایک نفسیاتی صورت حال کا نقشہ حسی انداز بیان میں کھینچا گیا ہے ۔ ایسے حالات جس میں انسان کی سانس پھول جاتی ہے اور سینہ تنگی محسوس کرتا ہے ‘ جس طرح بلندی پر چڑھتے وقت انسان محسوس کرتا ہے ۔ مفہوم کے ساتھ ساتھ قراۃ حفص کے مطابق لفظ (یصعد) کے اندر بذات خود ایک قسم کی سختی اور مشکل پائی جاتی ہے اور بڑی محنت سے یہ لفظ ادا ہوا ہے ۔ اس لفظ کی آواز ہی سے اس کے مفہوم کی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ یوں انسان کی نفسیاتی حالت ‘ اس کی حسی حالت اور انداز تعبیر سب کے سب یہاں یکجا اور یک رنگ ہوجاتے ہیں۔ (تفصیلات دیکھئے میری کتاب التصویر الغنی میں بحث حسی تخیل)
یہ منظر اس اختتامیہ پر ختم ہوتا ہے :
(آیت) ” کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125)
” اس طرح اللہ ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘ اسی طرح کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اپنا نظام قضا وقدر جاری کیا ہے ۔ اس کے مطابق اور اللہ کی جاری وساری سنت کے مطابق جو شخص راہ ہدایت تلاش کرتا ہے اللہ اس کا سینہ کھول دیتا ہے اور جو شخص ہدایت کو پسند نہیں کرتا اللہ اسے گمراہی کے راستے پر ڈال دیتا ہے ۔ اللہ اس طرح ایمان نہ لانے والوں کو گندگی میں ڈال دیتا ہے ۔ (الرجس) کے مفہومات میں سے ایک مفہوم عذاب بھی ہے اور اس کے مفہوم میں گندگی اور ناپاکی بھی ہے اور گراوٹ بھی ہے ۔ یعنی جو شخص اس ناپاکی اور گندگی کے دلدل میں پھنس جاتا ہے وہ اسی میں پڑا رہتا ہے اور رجس کے لفظ کے استعمال سے یہی اشارہ دینا مطلوب ہے ۔
اب ہم اس آیت پر دو بار غور کرتے ہیں :
(آیت) ” فَمَن یُرِدِ اللّہُ أَن یَہْدِیَہُ یَشْرَحْ صَدْرَہُ لِلإِسْلاَمِ وَمَن یُرِدْ أَن یُضِلَّہُ یَجْعَلْ صَدْرَہُ ضَیِّقاً حَرَجاً کَأَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِیْ السَّمَاء کَذَلِکَ یَجْعَلُ اللّہُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (125)
” پس حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اس کا سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا کہ (اسلام کا تصور کرتے ہی) اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے ۔ اس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی ان لوگوں پر مسلط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے ۔ ‘
اس آیت میں جس عظیم حقیقت کو بیان کیا گیا ہے یعنی مشیت الہیہ اور اس کے ساتھ وہ تمام دوسری آیات ونصوص جن کا تعلق اللہ کی مشیت اور انسانی اعمال اور رجحانات سے ہے ‘ اور جن میں انسانی اعمال پر جزا وسزا کو مرتب کیا گیا ہے یا جن میں انسان کی ہدایت اور ضلالت کے احکام مرتب ہوئے ہیں ‘ ان تمام آیات کو صحیح طرح سمجھنے کے لئے عقلی اور فلسفیانہ منطق کے سوا ایک دوسری منطق اور قوت ادراک کی ضرورت ہے ۔ یہ منطق اور قوت ادراک ‘ ہماری ظاہری عقل اور منطق سے وراء ہے ۔ اس سلسلے میں اسلامی افکار کی تاریخ میں جو بحثیں معتزلہ اور اہل سنت کے درمیان ہوئی ہیں اور اہل سنت اور مرجئہ کے درمیان اور اس سے قبل عیسائیوں کے فلسفہ لاہوت کے اندر جو بحث وجدال رہی ہے اس سلسلہ میں جو منطقی صغری وکبری متعین ہوئے ان سب سے وہ قوت مدرکہ ورا ہے ۔
اس نازک بحث کو سمجھنے کے لئے ہمیں انسان کی عقلی اور منطقی دنیا سے ذرا آگے جانا ہوگا اور اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے ہمیں عقلی اور فلسفیانہ دنیا سے ذرا باہر آکر انسان کی عملی زندگی میں آنا ہوگا ۔ قرآن کریم جس صورت حال کی تصویر کشی کر رہا ہے اس کا تعلق انسان کی عملی صورت حالات سے ہے ۔ اس کا تعلق محض عقلی اور فلسفیانہ مباحث سے نہیں ہے ۔ انسان کے واقعی حالات اور اس کے علمی شب وروز جس طرح ہوتے ہیں اور اس کائنات میں جس طرح عملی طور پر چلتے ہیں ان آیات میں ان کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ جب ہم انسان کی عملی دنیا کو دیکھتے ہیں تو اس میں اللہ کی قدرت اور مشیت اور انسان کا ارادہ اور سعی وعمل ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں اور ان کا عملی میدان اس طرح باہم ملا ہوا ہے کہ محض فلسفیانہ منطق اس گتھی کو سلجھا نہیں سکتی ۔
اگر کوئی یہ کہے کہ اللہ کا ارادہ اور تقدیر انسان کو ہدایت یا ضلالت کی طرف دھکیل دیتی ہے تو یہ صورت بھی عملی نہیں ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ بس انسان کا ارادہ اور عمل ہی اس کے انجام کو متعین کرتا ہے تو عملا ایسا بھی نہیں ہے ۔ حقیقت کا تعلق ان دونوں امور کے ساتھ ہے اور وہ اس قدر لطیف اور نظروں سے اوجھل ہے اور اسی طرح بین بین ہے کہ ایک طرف اللہ کی مشیت مطلقہ ہے اور دوسری جانب انسان کا ارادہ اور رجحان ہے ‘ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ان کے درمیان عملا تصادم بھی نہیں ہوتا ۔
لیکن جبر واکراہ اور قدرت اختیار کے اس حسین امتزاج کی اصل نوعیت کو ہم محض استدلال یا عقلی سوچ کے ذریعے متعین نہیں کر پاتے ۔ نہ ہم اس کی واضح تعبیر انسانی الفاظ وعبارات میں کرسکتے ہیں ۔ اس لئے کہ انسانی عبارات کسی حقیقت کی حقیقی نوعیت سے عبارت ہوتی ہیں اور جب اصل حقیقت ہی منطقی استدلال اور عقلی فکر کی رینج سے باہر ہو تو عبارات اور اسلوب اظہار کیا کرسکتا ہے ۔
اس عظیم عملی حقیقت کے صحیح تصور کے لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ انسان کو بیک وقت عقلی اور روحانی دنیا کا تجربہ ہو ۔ عملا یہ ہوتا ہے کہ جس شخص کا فطری میلان اسلام کی طرف ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ یہ بات قطعی طور پر اللہ کا فعل ہوتی ہے اس لئے کہ یہ شرح صدر ایک وقوعہ ہے اور کوئی وقوعہ اللہ کی تخلیق کے بغیر ظہور پذیر نہیں ہو سکتا ۔ اور جس کی فطرت ضلالت کی طرف متوجہ ہوتی ہے تو وہ اپنے دل میں تنگی اور گھٹن محسوس کرتا ہے اور اسلام وہدایت کا تصور کرتے ہی وہ مشکل محسوس کرتا ہے ۔ یہ بھی اللہ کا کام ہے کیونکہ یہ بھی ایک وقوعہ ہے اور اس کا ظہور بھی اللہ کی تخلیق اور عملا اس کی مشیت کے بغیر نہیں ہوسکتا ۔ یہ دونوں امور اس ارادے کے تابع ہیں جو اللہ کی ذات انسانوں کے بارے میں فرماتی ہے ۔ لیکن اللہ کے اس ارادے کو جبری ارادہ نہیں کہہ سکتے ۔ یہ ارادہ اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ہے ۔ وہ سنت یہ ہے کہ اللہ نے حضرت انسان کو ایک مخصوص مقدار میں آزادی عطا کرکے اسے آزمائش میں ڈال دیا ہے اور اللہ کی یہ سنت اور یہ تقدیر انسان کی جانب سے اس آزادی کے استعمال کے نتیجے میں اپنا کام کرتی ہے ۔ رہی ہدایت وضلالت تو یہ انسان کے خود اپنے رجحان اور صلاحیت پر مبنی ہے ۔
اگر ہم ایک عقلی صغری کے مقابلے میں ایک عقلی کبری لائیں اور ان صغری اور کبری کے قضیوں کے ساتھ روحانی اور باطنی علم کو نہ ملائیں اور نہ ہی اس کے ساتھ انسان کے عملی اور نفسیاتی تجربات کو شامل کریں تو ہم اس عظیم حقیقت کو اپنے ادراک کے دائرے میں نہیں لا سکتے ۔ پوری اسلامی تاریخ میں اس مسئلے پر جو بحث وجدال رہا اس کا یہی نتیجہ نکلا ہے ۔
اور طرح اسلام کے علاوہ دوسرے فلسفوں کا نتیجہ بھی ایسا ہی رہا ہے ۔ لہذا اس مسئلے کو سمجھنے کے لئے ہمیں عملی اور روحانی ذوق کو بھی استعمال کرنا ہوگا ۔ ایسا ذوق جو اس حقیقت کو منطقی صغری وکبری سے نکل کر براہ راست پاسکے ۔
اب ہم دوبارہ سیاق قرآن کی طرف لوٹتے ہیں ۔ اس سبق کی یہ لہر سابق بیان پر بطور تبصرہ وارد ہوئی ۔ سابق بیان ذبیحوں کی حلت اور حرمت کے بارے میں تھا لیکن یہ تمام امور دراصل ایک ہی پیکج کے مختلف حصے ہیں ۔ انسان کے اندر دینی شعور کی تعمیر ‘ انسان کے لئے قانون اور اقتدار کی تجویز ‘ انسان پر اللہ کی حاکمیت کا تصور اور ان سب کو دائرہ ایمان کے اندر لا کر ایک ہی پیکج بنا دینا ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایمان اور کفر اور ہدایت وضلالت کے مضمون کو بھی بیچ میں بیان کردیا گیا ۔ اب آخر میں ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے جس کے نتیجے میں یہ تمام امور باہم مربوط ہوجاتے ہیں ۔ ان امور کا مجموعہ صراط مستقیم کہلاتا ہے ۔ اگر ان امور میں سے کوئی ایک بھی ترک کردیا گیا تو گویا انسان نے صراط مستقیم کو ترک کردیا ۔ یعنی عقیدہ توحید و شعور بھی اس کا حصہ ہے اور اس راستے پر جا کر انسان دارالسلام تک پہنچتا ہے ۔ اور دارالسلام میں اللہ اہل ایمان کا دوست وولی ہوتا ہے ۔
الأنعام 6:126
(آیت) ” نمبر 126۔ 127۔
یہ ہے صحیح راستہ اور تیرے رب کا راستہ ” تیرے رب “ کا لفظ نہایت ہی اطمینان بخش اور تفشی بخش ہے ۔ دل مومن کو اعتماد اور یقین سے بھر دینے والا ہے اور ایک اچھے انجام کے لئے خوشخبری ہے ۔ یعنی یہ ہے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الہیہ اور یہ ہے اسلام کا قانون حلال و حرام اور یہ دونوں دین اسلام کا حصہ ہیں اور سیاق قرآن میں اسی لئے انہیں یکجا اور ایک ٹکڑا بنایا گیا ہے ۔
ہم نے تو ان آیات الہیہ کو نہایت ہی واضح کرکے بیان کردیا ہے لیکن ان سے استفادہ وہی لوگ کرسکیں گے جو ان کو بھلائیں گے نہیں بلکہ یاد رکھیں گے ۔ اس لئے کہ دل مومن تو یاد کرنے والا ہے ‘ بھولنے والا نہیں ہے ۔ نیز دل مومن ہمیشہ ہدایت کے لئے کھلا رہتا ہے ۔ وہ زندہ ہوتا ہے اور بات سنتا ہے ‘ مردوں کی طرح نہیں ہوتا ۔
پھر جو لوگ یاد کرتے ہیں اور نصیحت پکڑتے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے نزدیک دارالسلام ہے جہاں وہ تسلی اور تشفی سے رہیں گے ۔ اس امن و طمانیت کی ضمانت اللہ دیتا ہے جو کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا ۔ وہ ان کا ولی اور مددگار ہے اس لئے کہ وہ صحیح راستے پر عمل کرتے ہیں اور آزمائش دنیا میں ان کی کامیابی پر یہ ان کے لئے انعام ہے ۔
یہاں آکر ہم ایک بار پھر اپنے آپ کو ایک عظیم حقیقت کے سامنے کھڑا پاتے ہیں ۔ اس حقیقت کا تعلق اس دین کے نظریاتی پہلو سے ہے اور یہ حقیقت اسلام کے ان نظریات اور اللہ کے حق حاکمیت پر مشتمل ہے جن کے اوپر اللہ کا سیدھا راستہ استوار ہوتا ہے ۔ یہ اس دین کا حقیقی مزاج ہے اور اسی پر اسے اللہ رب العالمین نے استوار کیا ہے ۔
درس 69 ایک نظر میں :
یہ پورا مضمون درس سابق ہی کے ساتھ ملحق ہے ‘ بلکہ یہ اسی کا تسلسل ہے ۔ اور یہ اسی طرح ہے جس طرح سمندر میں لہر کے بعد لہر اٹھتی ہے ۔ اس میں شیاطین جن اور شیاطین انس کے انجام کا بیان کیا گیا ہے اور یہ انجام اس اچھے انجام کے بالمقابل بیان ہوا ہے جو ان لوگوں کا ہوگا جو صراط مستقیم پر قائم ہوں گے ۔ اس جگہ اس کا ذکر اس مناسبت سے ہوا ہے کہ یہاں اللہ کی حاکمیت اور اس کے حق قانون سازی کا مضمون چل رہا تھا اور یہ مسائل وہ ہیں جن کا تعلق دین اسلام کے بنیادی اور ایمانی تصورات کے ساتھ ہے ، مقصد یہ بتلانا ہے کہ یہ مسائل محض سیانی اور دنیاوی مسائل نہیں ہیں بلکہ یہ ایمانیات کے ساتھ متعلق ہیں اور ان پر اخروی جزاوسزا بھی مرتب ہوتی ہے یعنی دنیا میں تبلیغ اور دعوت اور ڈراوے کے بعد انسان جو بھی کمائے گا اس پر تمام لوگوں کا انجام ہوگا ۔ اگر لوگوں کے کسب وعمل کو دخل نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ تو اس بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ شیاطین اور ان کی دوست اقوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دے اور ان کی جگہ دوسری فرمانبردار اقوام کو لے کو آئے کیونکہ پوری دنیا کی آبادی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ یہ تمام امور نظریاتی عقائد کے ساتھ متعلق ہیں ۔ اور ان کو ذبیحوں کے حلال و حرام کی بحث کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ اس بحث سے قبل بھی اور بعد میں بھی ۔ ذبیحوں کے بیان کے بعد پھلوں اور مویشیوں اور اولاد کی نذر کے مسئلے کو بھی یہاں لیا گیا ہے ‘ اس کا بھی یہاں نظریاتی پہلو ہے اور جاہلیت کے مختلف ادوار میں یہ رسوم کچھ نظریات پر مبنی تھیں ۔ اس طرح یہ تمام مباحث ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور پیوستہ نظر آتے ہیں ۔ اور یہ مسئلہ اسلامی نظام میں اس کی حقیقی حیثیت اور مقام میں نظر آتا ہے ۔ ان سب کے اندر مشترکہ صفت یہ ہے کہ ان تمام مسائل کا ایک نظریاتی پہلو ہے اور وہ یہ کہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔
الأنعام 6:127
(آیت) ” نمبر 126۔ 127۔
یہ ہے صحیح راستہ اور تیرے رب کا راستہ ” تیرے رب “ کا لفظ نہایت ہی اطمینان بخش اور تفشی بخش ہے ۔ دل مومن کو اعتماد اور یقین سے بھر دینے والا ہے اور ایک اچھے انجام کے لئے خوشخبری ہے ۔ یعنی یہ ہے ہدایت وضلالت کے بارے میں سنت الہیہ اور یہ ہے اسلام کا قانون حلال و حرام اور یہ دونوں دین اسلام کا حصہ ہیں اور سیاق قرآن میں اسی لئے انہیں یکجا اور ایک ٹکڑا بنایا گیا ہے ۔
ہم نے تو ان آیات الہیہ کو نہایت ہی واضح کرکے بیان کردیا ہے لیکن ان سے استفادہ وہی لوگ کرسکیں گے جو ان کو بھلائیں گے نہیں بلکہ یاد رکھیں گے ۔ اس لئے کہ دل مومن تو یاد کرنے والا ہے ‘ بھولنے والا نہیں ہے ۔ نیز دل مومن ہمیشہ ہدایت کے لئے کھلا رہتا ہے ۔ وہ زندہ ہوتا ہے اور بات سنتا ہے ‘ مردوں کی طرح نہیں ہوتا ۔
پھر جو لوگ یاد کرتے ہیں اور نصیحت پکڑتے ہیں ان کے لئے ان کے رب کے نزدیک دارالسلام ہے جہاں وہ تسلی اور تشفی سے رہیں گے ۔ اس امن و طمانیت کی ضمانت اللہ دیتا ہے جو کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا ۔ وہ ان کا ولی اور مددگار ہے اس لئے کہ وہ صحیح راستے پر عمل کرتے ہیں اور آزمائش دنیا میں ان کی کامیابی پر یہ ان کے لئے انعام ہے ۔
یہاں آکر ہم ایک بار پھر اپنے آپ کو ایک عظیم حقیقت کے سامنے کھڑا پاتے ہیں ۔ اس حقیقت کا تعلق اس دین کے نظریاتی پہلو سے ہے اور یہ حقیقت اسلام کے ان نظریات اور اللہ کے حق حاکمیت پر مشتمل ہے جن کے اوپر اللہ کا سیدھا راستہ استوار ہوتا ہے ۔ یہ اس دین کا حقیقی مزاج ہے اور اسی پر اسے اللہ رب العالمین نے استوار کیا ہے ۔
درس 69 ایک نظر میں :
یہ پورا مضمون درس سابق ہی کے ساتھ ملحق ہے ‘ بلکہ یہ اسی کا تسلسل ہے ۔ اور یہ اسی طرح ہے جس طرح سمندر میں لہر کے بعد لہر اٹھتی ہے ۔ اس میں شیاطین جن اور شیاطین انس کے انجام کا بیان کیا گیا ہے اور یہ انجام اس اچھے انجام کے بالمقابل بیان ہوا ہے جو ان لوگوں کا ہوگا جو صراط مستقیم پر قائم ہوں گے ۔ اس جگہ اس کا ذکر اس مناسبت سے ہوا ہے کہ یہاں اللہ کی حاکمیت اور اس کے حق قانون سازی کا مضمون چل رہا تھا اور یہ مسائل وہ ہیں جن کا تعلق دین اسلام کے بنیادی اور ایمانی تصورات کے ساتھ ہے ، مقصد یہ بتلانا ہے کہ یہ مسائل محض سیانی اور دنیاوی مسائل نہیں ہیں بلکہ یہ ایمانیات کے ساتھ متعلق ہیں اور ان پر اخروی جزاوسزا بھی مرتب ہوتی ہے یعنی دنیا میں تبلیغ اور دعوت اور ڈراوے کے بعد انسان جو بھی کمائے گا اس پر تمام لوگوں کا انجام ہوگا ۔ اگر لوگوں کے کسب وعمل کو دخل نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ تو اس بات پر پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ شیاطین اور ان کی دوست اقوام کو صفحہ ہستی سے مٹا دے اور ان کی جگہ دوسری فرمانبردار اقوام کو لے کو آئے کیونکہ پوری دنیا کی آبادی اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ یہ تمام امور نظریاتی عقائد کے ساتھ متعلق ہیں ۔ اور ان کو ذبیحوں کے حلال و حرام کی بحث کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔ اس بحث سے قبل بھی اور بعد میں بھی ۔ ذبیحوں کے بیان کے بعد پھلوں اور مویشیوں اور اولاد کی نذر کے مسئلے کو بھی یہاں لیا گیا ہے ‘ اس کا بھی یہاں نظریاتی پہلو ہے اور جاہلیت کے مختلف ادوار میں یہ رسوم کچھ نظریات پر مبنی تھیں ۔ اس طرح یہ تمام مباحث ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ اور پیوستہ نظر آتے ہیں ۔ اور یہ مسئلہ اسلامی نظام میں اس کی حقیقی حیثیت اور مقام میں نظر آتا ہے ۔ ان سب کے اندر مشترکہ صفت یہ ہے کہ ان تمام مسائل کا ایک نظریاتی پہلو ہے اور وہ یہ کہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔
الأنعام 6:128
درس نمبر 69 تشریح آیات :
128۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 135۔
اس سے پہلے سبق میں یہ بات گزری ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے دلوں کو اسلام کے لئے کھول دیتا ہے ۔ ایسے لوگوں کے دل بیدار ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہتے ہیں ۔ یہ لوگ دارالسلام میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے رب کی ولایت اور کفالت میں رہتے بستے ہیں ۔ اب یہاں ایسے لوگوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو ان کے نقیض ہیں ۔ قیامت کے مناظر بیان کرتے ہوئے قرآن کریم کا یہی انداز ہوتا ہے کہ وہ تصویر کے دونوں رخ انسان کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ اب یہاں انسانوں اور جنوں میں سے جو لوگ شیطانی کام کرتے ہیں ان کے شب وروز کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں ایسی زندگی گزاری ہے کہ یہ ایک دوسرے کو کھوٹی باتیں بتاتے رہے ہیں ۔ ایک دوسرے کو دھوکہ دیتے رہے ہیں اور یہ کام وہ اس لئے کرتے رہے ہیں کہ لوگ گمراہ ہوں ۔ ان لوگوں کا رویہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ یہ لوگ نبیوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کے پشتیبان بنیں اور یہ لوگ ایک دوسرے کو مشورے دیتے رہے ہیں تاکہ وہ مسلمانوں کے ساتھ ان معاملات میں بحث و مباحثہ کریں جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے حلال و حرام کا تعین کیا ہے ۔ ان لوگوں کو قرآن کریم نے اس طرح پیش کیا ہے جس طرح ایک زندہ اور متحرک منظر میں کوئی چلتا پھرتا نظر آتا ہے ۔ یہ لوگ اس منظر میں ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہوئے نہایت ہی منائف نظر آئے ۔ غرض اس آیت میں وہ مناظر بھر پور انداز میں آگئے جس طرح کہ قرآن کریم ہر جگہ مناظر قیامت کے بیان کے وقت یہ انداز عموما اختیار کرتا ہے ۔
(آیت) ” نمبر 128 تا 130۔
یہ منظر براہ راست مستقبل کے واقعات سے شروع ہوتا ہے ‘ جب اللہ تعالیٰ سب کو گھیر کر میدان حشر میں جمع کرے گا ‘ لیکن سننے والے کے لئے یہ صورت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے اور وہ اس کی آنکھوں کے سامنے ہو اور یہ تخیل اور تصور صرف ایک لفظ (اور کہے گا) کے حذف سے سامنے آتا ہے یعنی ” اور جس روز ان سب کو گھیر کر جمع کرلے گا (اور یہ کہے گا) اے گروہ جن “۔ صرف لفظ کہے گا کے حذف سے مفہوم ایک منظر کی شکل میں نظروں کے سامنے آکھڑا ہوجاتا ہے اور وہ منظر جو مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والا تھا فی الواقع سامنے آجاتا ہے اور یہ انداز بیان قرآن کریم کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اب ذرا اس منظر کی تفصیلات ملاحظہ فرمائیں ۔
(آیت) ” یَا مَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَکْثَرْتُم مِّنَ الإِنسِ “ (6 : 128)
” اے گروہ جن ! تم نے نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا ۔ “ یعنی تم نے انسانوں کی اکثریت کو اپنا تابع بنا لیا ۔ وہ تمہاری ہدایات واشارات پر چلتے رہے اور تمہاری وسوسہ اندازیوں پر خوب یقین کرتے رہے ۔ تمہارے منصوبوں پر چلتے رہے ۔ یہ صورت واقعہ کا ایسا بیان ہے کہ جس سے مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ صرف واقعہ بیان کرنا مطلوب ہے اس لئے کہ جن اس بات کو خوب جانتے تھے کہ انہوں نے انسانوں کی ایک بڑی اکثریت کو گمراہ کردیا ہے بلکہ اس واقعی صورت حال کے بیان سے مقصد یہ ہے کہ یہ تمہارا بہت ہی بڑا جرم ہے کہ تم نے انسانوں کی اتنی بڑی اکثریت کو گمراہ کردیا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس جرم کو دیکھ کر پشیمان ہوجائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جنات کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ البتہ وہ لوگ جواب دیتے ہیں جنہیں دھوکہ دیا گیا اور جو بسہولت ان شیاطین کے وسوسوں کا شکار ہوجاتے تھے ۔ یہ لوگ یوں جواب دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَقَالَ أَوْلِیَآؤُہُم مِّنَ الإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِیَ أَجَّلْتَ لَنَا “ (6 : 128)
” انسانوں میں سے جو ان کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے پروردگار ! ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے ‘ اور اب ہم اس وقت آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کردیا ہے ۔ “
اس جواب سے ان غافلوں کی غفلت اور ان کے ہلکے پن کا اندازہ ہوتا ہے اور اس دنیا میں شیطان انسانوں کو جس راہ پر گمراہ کرتا ہے اس کا اندازہ بھی خوب ہوجاتا ہے ۔ یعنی جب جنات ان لوگوں کو دھوکہ دے رہے تھے تو یہ دھوکہ کھانے والے بھی انہیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے تھے ۔ یوں یہ جنات ان افکار و تصورات کو ان لوگوں کے لئے خوشنما بناتے تھے ۔ اس طرح یہ لوگ ظاہر اور باطنی بدکاریوں میں مبتلا ہوجاتے تھے ۔ گویا شیطان عیاشیوں کے راستے سے انسان کو گمراہ کرتا ہے ۔ اس طرح اس دھوکے اور گراہ سازی کے ذریعے یہ شیاطین بھی خوب لفط اندوز ہوتے تھے ۔ یوں شیطان ان کو اپنی ہوس کا شکار بناتا اور ان سے کھیلتا اور ان کو اس جہان میں ابلیسی مقاصد کے لئے استعمال کرتا ۔ جبکہ یہ دھوکہ کھانے والے یہ سمجھتے کہ ہم نے شیطان کو گمراہ کردیا ہے ۔ اس طرح یہ خود بھی اس کھیل میں مشغول ہوتے ‘ دلچسپی لیتے اور لطف اندوز ہوتے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے ۔
(آیت) ” استمتع بعضنا ببعض “۔ (ہم ایک دوسرے سے خوب لطف اندوز ہوتے ۔ ) چناچہ مرنے تک ہماری یہی عیاشی جاری رہی اور پھر اچانک موت آگئی ۔ اور اب وہ جان رہے ہیں کہ یہ مہلت تو اللہ تعالیٰ نے دی تھی اور یہ جو عیاشیاں کرتے تھے ‘ اس وقت بھی دراصل وہ پوری طرح اللہ کے قبضہ قدرت میں تھے ۔ (اور اب ہم اس وقت پر آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کیا ہے ) اب اس مقام پر اللہ کی جانب سے فیصلہ کن جواب آتا ہے :
(آیت) ” قَالَ النَّارُ مَثْوَاکُمْ خَالِدِیْنَ فِیْہَا إِلاَّ مَا شَاء اللّہُ إِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلیْمٌ(128)
” اللہ فرمائے گا ” اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے ‘ اس میں تم ہمیشہ رہو گے ۔ “ اس سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا ‘ بیشک تمہارا رب دانا اور علیم ہے ۔ “
یعنی تمہارا ٹھکانا جہنم ہے ۔ یہاں تمہارا قیام ہوگا اور یہ قیام دائمی ہوگا ‘ (الا ما شاء اللہ (6 : 128) اور یہ لفظ (الا ماشاء اللہ (6 : 128) یہاں اس لئے استعمال ہوا ہے کہ اللہ کی مشیت مطلق ہے ‘ بےقید ہے ۔ اسلامی تصورات و عقائد میں اللہ مشیت کا بےقید ہونا ایک اساسی اصول ہے ۔ نہ اس پر کوئی چیک ہے اور نہ اس میں کوئی نقص ہے کیونکہ اللہ دانا اور علیم ہے اور وہ اپنی مشیت اور تقدیر کو پورے علم کے ساتھ چلاتا ہے ۔ اس کے علم کے ساتھ حکمت بھی موجود ہے ۔ اس منظر کے خاتمے سے پہلے اس منظر پر ایک تبصرہ سامنے آتا ہے اور یوں ایک حکمت ہمارے ہاتھ میں دے دی جاتی ہے ۔
الأنعام 6:129
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظَّالِمِیْنَ بَعْضاً بِمَا کَانُواْ یَکْسِبُونَ (129)
” دیکھو اس طرح (آخرت میں) ہم ظالموں کو ایک دوسرے کا ساتھی بنائیں گے ۔ اس کمائی کی وجہ سے جو وہ (دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کرتے تھے ) ۔
یعنی یہ بات قابل عبرت ہے کہ جنوں اور انسانوں کے درمیان اس طرح دوستی قائم ہوجاتی ہے اور اس دوستی کا یہ انجام ہوتا ہے ۔ اس طرح اللہ انہیں ایک دوسرے کے لئے ساز گار بنا دیتا ہے ۔ خود ان کی اپنی کمائی کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے دوست بن جاتے ہیں ‘ اس لئے کہ ان کے مزاج اور ان کی خواہشات ایک دوسرے کے ساتھ مل جاتی ہیں ۔ انکے رجحانات اور اہداف ایک ہوتے ہیں اور پھر ان کا انجام بھی ایک جیسا ہوتا ہے ۔
یہ تعقیب اور اس میں بیان کردہ حقیقت اس وقت کے موجودہ حالات کے مقابلے میں زیادہ دور رس نتائج کی حامل ہے ۔ اس میں جنی اور انسی شیطانوں کے درمیان پائے جانے والے رابطے اور دوستی کی اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا گیا ہے اس لئے کہ وہ لوگ جو ظالم ہیں اور کسی نہ کسی صورت میں شرک کرتے ہیں ‘ وہ سچائی اور ہدایت کے مقابلے میں اکٹھ کرلیتے ہیں اور ان لوگوں کا وطیرہ یہ ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ نبی اور اس کے ساتھیوں کے مقابلے میں آکر کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ جس طرح ان لوگوں کی فطرت اور مزاج ایک ہے ‘ اگرچہ شکلیں مختلف ہوں ‘ اسی طرح ان کے اغراض ومقاصد بھی ایک ہوتے ہیں اور ان کے اغراض واہداف یہ ہوتے ہیں یعنی اللہ کے مقابلے میں اپنا حق حاکمیت چلاتے ہیں اور خواہشات نفسانیہ اور عیاشی کے معاملے میں کوئی حد اور قید قبول نہیں کرتے ‘ یعنی اللہ کے جانب سے حدود وقیود۔
یہ لوگ ہر دور میں ایک گروہ اور ایک بلاک ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں حالانکہ خود ان کے درمیان باہم مقاصد ایک ہوتے ہیں اور اس کی وجہ سے ان کے درمیان باہم محبت ہوتی ہے اس لئے جس طرح گزشتہ منظر میں بتایا گیا ان کا انجام بھی ایک ہی ہوتا ہے ۔
آج کے دور میں ایک طویل عرصے سے ہم اس بات کا مشاہد کر رہے ہیں کہ انسانی شیطان مثلا صیلبی ‘ صہیونی ‘ بت پرست اور اشتراکی ‘ مختلف مفادات اور مختلف بلاکوں کے ممبر ہوتے ہوئے بھی باہم دوست ہیں اور باہم معاون و مددگار ہیں ۔ ان کا یہ اتحادواتفاق اسلام اور اسلامی تحریکات کے دستوں کے خلاف ہے اور یہ پوری دنیا پر موجود ہے ۔
عملایہ ایک خوفناک گٹھ جوڑ ہے ۔ یہ گٹھ جوڑ کرنے والے وہ لوگ ہیں جن کو صدیوں تک اسلام کے مقابلے میں محاربت کا تجربہ ہے ۔ یہ لوگ مادی اور علمی معاشرتی قوتوں اور تمام دوسرے سازو سامان کے ساتھ اسلام کے مقابلے میں معرکہ آراء ہیں اور اپنی مکارانہ شیطانی چالوں کے ساتھ مصروف عمل ہیں ۔ اس گٹھ جوڑ پر اللہ کا یہ فرمان آج اچھی طرح چسپاں ہوتا ہے ۔ ” اور ہم ظالموں کو اسی طرح ایک دوسرے کا ولی بناتے ہیں اس کمائی کی وجہ سے جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کرتے ہیں ۔ “ اس گٹھ جوڑ پر حضور اکرم ﷺ کی تسلی کے لئے آنے والی یہ آیت صادق آتی ہے ۔
(آیت) ” ولوشاء اللہ مافعلوہ فذرھم وما یفترون “۔ ” اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے پس آپ ان کو چھوڑ دیجئے جو چاہیں افراء باندھیں) لیکن اس تسلی کے تقاضے تب ہی پورے ہوں گے کہ دنیا میں حضور ﷺ کے نقش قدم پر چلنے والا ایک گروہ موجود ہو اور یہ معلوم ہو کہ یہ گروہ حضور کے ساتھیوں کا قائم مقام ہے ۔ دین پر دشمنوں کے حملوں کی راہ میں کھڑا ہے ۔ اب ذرا دوبارہ آیات قرآنیہ کی طرف آئیے ۔
الأنعام 6:130
(آیت) ” َا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالإِنسِ أَلَمْ یَأْتِکُمْ رُسُلٌ مِّنکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْْکُمْ آیَاتِیْ وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاء یَوْمِکُمْ ہَـذَا قَالُواْ شَہِدْنَا عَلَی أَنفُسِنَا وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَ (130)
”(اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ) اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ہو پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اس دن کے انجام سے ڈراتے تھے ۔ “ وہ کہیں گے ” ہاں ! ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں ۔ “ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔ “
یہ استفہام تقریری ہے ۔ یہ اس لئے نہیں ہے کہ اللہ ان لوگوں سے معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے کہ آیا رسول آئے تھے یا نہیں ۔ اللہ تو خوب جانتے تھے کہ کیا ہوچکا ہے ۔ ان کی جانب سے اقرار اور استشہاد درحقیقت ان کی سزا کے لئے وجہ جواز ہے ۔ یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ سزا ان کے لئے عادلانہ سزا ہے ۔ وہ اس کے مستحق ہیں ۔
خطاب جس طرح جنوں سے ہے اسی طرح انسانوں سے ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جنوں کے پاس بھی خود ان کے ہم جنس رسول بھیجے گئے تھے ؟ جس طرح انسانوں کے پاس انسان آئے تھے ۔ جن انسانوں سے پوشیدہ مخلوق ہے اور ان کے اصل حالات سے تو صرف اللہ خبر رکھتا ہے ۔ رہی یہ آیت ‘ تو اس کی تفسیر میں کہا جاسکتا ہے کہ جنات بھی رسول اللہ ﷺ پر نازل ہونے والے کلام کو سنتے تھے ۔ پھر جا کر اپنی قوم کو ڈراتے تھے اور خوشخبری بھی سناتے تھے ۔ اس کی تفصیلات احقاف میں قرآن نے دی ہیں : ۔
” اور وہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تاکہ وہ قرآن سنیں ۔ جب وہ اس جگہ پہنچے (جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو انہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجاؤ ‘ پھر جب وہ پڑھا جا چکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے ۔ انہوں نے جاکر کہا : ” اے ہماری قوم کے لوگو ‘ ہم نے ایک کتاب سنی ہے جو موسیٰ کے بعد نازل کی گئی ہے ‘ تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی ‘ راہنمائی کرتی ہے حق اور راہ راست کی طرف ‘ اے ہماری قوم کے لوگو ‘ اللہ کی طرف بلانے والی دعوت قبول کرلو ‘ اور اس پر ایمان لے آؤ اور اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچا لے گا ۔ “ اور جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کو زچ کردے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچائیں ایسے لوگ گمراہی میں پڑے ہیں ۔ “ (46 : 29 تا 32)
ہو سکتا ہے کہ یہ سوال و جواب ان انسانوں اور جنوں سے ہو رہا ہو جو اس طرح کھڑے تھے ۔ بہرحال اصل علم اللہ ہی کو ہے ۔ یہاں ہم اس سے زیادہ نہیں کہہ سکتے ۔ اس سے زیادہ اس مسئلے پر بحث کرنے کا کچھ فائدہ بھی نہیں ہے ۔
بہرحال جن وانس میں سے جن لوگوں سے سوال کیا گیا تھا ‘ وہ جانتے تھے کہ یہ محض استفسار کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ فرد قرار داد جرم ہے ۔ ان کے جرم کا ریکارڈ تیار ہو رہا ہے اور یہ سوال و جواب محض زجرو توبیخ کے لئے ہیں ۔ چناچہ انہوں نے پورا پورا اعتراف کرلیا اور اس بات کا اقرار کرلیا جس کے وہ مستحق تھے ۔
(آیت) ” قَالُواْ شَہِدْنَا عَلَی أَنفُسِنَا (130) ” انہوں نے کہا ہم خود اپنے اوپر گواہی دیتے ہیں ۔ “ اب یہاں اس منظر پر ایک مبصرسامنے آتا ہے اور کہتا ہے ۔
(آیت) ” وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَ (130)
” آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔ “
یہ تبصرہ دنیا میں ان کے حالات پر خوب منطبق ہوتا ہے ۔ دراصل اس دنیاوی زندگی کی بوقلمونیوں نے انہیں دھوکہ دے رکھا ہے اور اس دھوکے کی وجہ سے وہ کفر میں مبتلا ہیں ۔ اب وہ قیامت کے دن سب کچھ دیکھ لینے کے بعد مجبور ہیں کہ اپنے اوپر کی شہادت دیں کیونکہ یہاں انکار اور مکابرہ کرنے سے کچھ حاصل ہونے کی امید نہیں ہے ۔ اس سے بڑی مایوس کن صورت حالات اور کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنے آپ کو ایسے حالات میں گھرا ہوا پائے کہ خود اپنا دفاع بھی نہ کرسکتا ہو ۔ نہ انکار کی تاب ہو ۔ اور نہ کوئی عذر ومعذرت اس کے پاس ہو۔
اب ذرا ملاحظہ ہو قرآن کریم کا انداز بیان ۔ مشاہدہ قیامت کا جو تصویری نقشہ قرآن پیش کرتا ہے اس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔ مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا نقشہ یوں کھینچ دیا جاتا ہے کہ انسان منظر کو اسکرین پر دوڑتا محسوس کرتا ہے ۔ مستقبل کے بجائے قرآں کریم ان مناظر کے لئے ماضی کا صیغہ استعمال کرتا ہے ‘ گویا یہ مناظر دکھلائے جا چکے ہیں ۔
یہ قرآن ہم اس دنیا میں پڑھ رہے ہیں ‘ بلکہ آج پڑھ رہے ہیں ‘ ابھی قیامت تو واقعہ ہی نہیں ہوئی ۔ ابھی تو ہم اس کرہ ارض پر ہیں لیکن یوں نظر آتا ہے کہ یہ منظر نظروں کے سامنے ہے بلکہ یہ منظر ہم دیکھ چکے ہیں ۔ ایک دیکھے ہوئے منظر کی حکایت ہو رہی ہے اور ہم اپنے حافظہ سے یاد تازہ کر رہے ہیں ۔ انسان یہ بات بھول جاتا ہے کہ اس منظر کو تو ابھی آنا ہے ۔ لیکن بات یوں ہو رہی ہے کہ شاید کوئی تاریخی واقعہ دہرایا جا رہا ہے ۔
(آیت) ” وَغَرَّتْہُمُ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا وَشَہِدُواْ عَلَی أَنفُسِہِمْ أَنَّہُمْ کَانُواْ کَافِرِیْنَ (130)
”’ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔ مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔ “
یہ انداز تخیل کے عجائبات میں سے ہے ۔
اب اس منظر کا خاتمہ ہوتا ہے اور روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے ۔ آپ کو خطاب کر کے اہل ایمان کو سمجھایا جاتا ہے اور اہل ایمان کے بعد قیامت تک آنے والے مومنین کو بتایا جاتا ہے کہ جن وانس کے اس انجام میں تمہارے لئے یہ سبق ہے ۔ یہ عظیم مخلوق جو جہنم کی طرف جارہی ہے اور تم اس منظر میں دیکھ رہے ہو کہ وہ خود اپنے خلاف اقرار جرم کر رہے ہیں کہ بیشک رسول آئے تھے ‘ انہوں نے اللہ کی پوری پوری ہدایات ہمیں سنائی تھیں ۔ اس برے انجام سے ہمیں پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا ۔ مومنین کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ تو ان پر حجت تمام کرتا ہے ‘ ان کو بذریعہ رسل خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کرتا ہے ۔ خوشخبر بھی دیتا ہے اور انجام بد سے ڈراتا بھی ہے ۔
الأنعام 6:131
(آیت) ” نمبر 131۔
اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا ہے کہ وہ لوگوں کو شرک ‘ کفر اور نافرمانی پر اس وقت تک سزا نہ دے جب تک ان تک رسولوں کے ذریعے اپنا پیغام پہنچا نہ دے حالانکہ اللہ نے لوگوں کی فطرت کے اندر یہ صلاحیت ودیعت کردی تھی کہ وہ از خود اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی تلاش کریں ۔ یہ انتظام اس لئے کیا گیا کہ انسانی فطرت بعض اوقات صحیح راہ کو تم کردیتی ہے ۔ انسان کے فطری رجحانات کے علاوہ اللہ نے انسان کو عقلی قوت دے کر بھی ایک امتیاز بخشا لیکن اللہ نے اس عقلی قوت کے باوجود رسول بھیجے اس لئے کہ عقلی قوت بھی نفسانی خواہشات کے نتیجے میں بسا اوقات دب جاتی ہے نیز اس کائنات کے مشاہد ومناظر کے اندر بیشمار دلائل ایسے موجود تھے جو انسان کو دعوت فکر دیتے تھے لیکن انسان کی عقلی اور ادراکی قوتیں بسا اوقات معطل ہوجاتی ہیں ۔
ان وجوہات کی بنا پر اللہ نے انسانی فطرت ‘ انسانی عقل اور انسانی مشاہدے کو رسولوں کی دعوت کے ساتھ منسلک کردیا تاکہ انسان کی ان قوتوں کو فساد سے بچایا جاسکے ، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تب ہی لوگوں کو عذاب دیتا ہے جب رسولوں کی دعوت کسی تک پہنچ جائے اور ان پر حجت تمام ہوجائے ۔
اس حقیقت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ کس قدر رحیمانہ اور کریمانہ سلوک کرتا ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان صرف اپنی قوت ادراک اور عقلی قوتوں کے بل بوتے پر راہ ہدایت نہیں پاسکتا ۔ نہ وہ یقین حاصل کرسکتا ہے اور نہ ہی عقل اور ادراک کے ذریعے اپنی شہوانی قوتوں کو ضابطے کا پابند کرسکتا ہے ، یہ قوتیں تب ہی کام کرسکتی ہیں جب ان کی پشت پر دین اور عقیدے کی قوت موجود ہو۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ جزا و سزا کے بارے میں ایک دوسرے اہم اصول کا ذکر فرماتا ہے اور یہ اصول اہل ایمان اور جن و شیاطین سب کے لئے ہے ۔
الأنعام 6:132
(آیت) ” نمبر 132۔
اہل ایمان کے بھی درجے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑا ہے ۔ شیاطین کے بھی درجے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑا ہے ۔ اور سب لوگوں کے اعمال ریکارڈ شدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بیخبر نہیں ہے ۔
(آیت) ” وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ (132)
” اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے رسول بھیجے ‘ یہ محض اس کا کرم ہے کہ اس نے ایسا کیا ‘ اس لئے کہ وہ غنی بادشاہ ہے ‘ اسے ان کے ایمان کی کوئی ضرورت لاحق نہیں ہے ۔ نہ ان کی جانب سے عبادت اور بندگی کی کوئی احتیاج ہے ۔ اگر وہ نیک بنتے ہیں تو وہ دنیا اور آخرت میں اپنی بھلائی کے لئے نیک بنیں گے ۔ اسی طرح اللہ رحمت کا اظہار اس وقت بھی علی وجہ الاثم ہوتا ہے کہ اللہ اس دنیا میں نافرمانوں کو بھی مہلت دیتا ہے ورنہ وہ اس بات کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ وہ سب کو ہلاک کردے اور ان کی جگہ کوئی دوسری قوم اور نسل لے آئے ۔
الأنعام 6:133
(آیت) ” نمبر 133۔
لوگوں کو یہ بات بھولنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں محض اللہ کی مہربانی کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ ان کا یہاں رہنا اللہ کی مشیت پر موقوف ہے ۔ ان کے پاس جو قوت اور حکمت ہے یہ انہیں اللہ کی عطا کی ہوئی ہے ۔ یہ اصل قوت نہیں ہے بلکہ عطائی ہے ۔ وہ خود مختار نہیں ہیں اس لئے کہ کوئی شخص اپنی پیدائش اپنے وجود اور اس جہان میں اپنی بقا میں کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔ انسان کو جو بھی قوت دی گئی ہے اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ان کو یہاں سے ہٹانا اور ان کی جگہ دوسری اقوام کو لانا اللہ کے لئے بہت ہی آسان ہے ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ خود اللہ نے دوسری اقوام کی جگہ انہیں یہاں وجود بخشا اور اپنی قدرت کے ذریعے ان دوسری اقوام کی جگہ یہاں انہیں اقتدار اور قوت دی ۔
یہ نہایت ہی شدید تنبیہات ہیں اور نہایت ہی سختی کے ساتھ انسانوں کے دل و دماغ کو جھنجوڑا جا رہا ہے ۔ خصوصا ان لوگوں کو جو ظالم اور مشرک ہیں اور وہ جنات جو مکرو فریب کا جال بچھاتے ہیں ‘ لوگوں پر دست درازیاں کرتے ہیں ‘ اقتدار کا تخت بچھاتے ہیں ۔ خود حلال و حرام قرار دیتے ہیں اور اللہ کی شریعت پر دست درازی کرتے اور خود قانون بناتے ہیں ۔ یہ سب لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں جب تک وہ چاہے وہ رہیں گے اور جب چاہے ان کو اس دنیا سے رخصت کرکے ان کی جگہ دوسری اقوام کو لے آئے ان تنبیہات کے ذریعے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تسلی بھی دیتا ہے کہ اگرچہ ان پر مظالم ہوتے ہیں ‘ ان کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں اور انہیں اذیت دی جاتی ہے لیکن ان کے دشمن اللہ پر غالب نہیں ہیں ۔ یہ امتحان ہے اور اللہ کسی بھی وقت ان کو اور ان کی مکاریوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے اور یہ آخری ضرب ہے ۔
الأنعام 6:134
(آیت) ” نمبر 134۔
تم اللہ کے قبضہ قدرت میں ہو ‘ اور تم اس کی مشیت کے مر ہوں منت ہو۔ تم اللہ کی مشیت کے دائرے سے نہ باہر نکل سکتے ہو اور نہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی کرسکتے ہو ۔ اس سے قبل مناظر قیامت جن کی ایک جھلک تم دیکھ چکے ہو ‘ تمہارے انتظار میں ہیں ۔ یہ مناظر عملا تمہارے سامنے آنے والے ہیں ۔ تم ان سے بچ کر نہیں نکل سکو گے کیونکہ اللہ کا نظام نہایت ہی قوی اور متین ہے ۔
اب یہ تبصرے اور نتائج ایک نہایت ہی سخت تہدید پر ختم ہوتے ہیں جس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
الأنعام 6:135
(آیت) ” نمبر 135۔
یہ نہایت ہی پختہ تہدید ہے ‘ حق پر مشتمل ہے اور اس کی پشت پر سچائی کی قوت ہے ۔ یہ تہدید نبی کریم ﷺ کی زبانی ہے کہ وہ ان کے معاملات سے ہاتھ نکال رہے ہیں ‘ انہیں یقین ہے کہ وہ سچائی پر ہیں ‘ انہیں یقین ہے کہ ان کا طریق کار اور نظام سچائی پر مشتمل ہے اور انہیں پختہ یقین ہے کہ ان کے مخالفین گمراہی پر ہیں اور ان کا انجام برا ہونے والا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ :
(آیت) ” إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (135) ” کہ ظالم فلاح نہیں پاسکتے “۔
اس لئے کہ یہ غیر متبدل اصول ہے ‘ کہ مشرکین جو اللہ کے سوا کسی اور کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں اور انہیں اپنا دوست بتاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے اس لئے کہ اللہ کے سوا کوئی اور کسی کا مددگار نہیں ہوسکتا ‘ نہ اس کے سوا کوئی اور نصرت کرسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی ہدایات سے منہ موڑتے ہیں ‘ وہ نہایت اعلی درجے کی گمراہی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں اور وہ گھاٹے ہی گھاٹے میں ہیں ۔
اب اس سورة کے دوسرے حلقے میں کلام کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ اس سبق پر قدرے غور کیا جائے ۔ اس سبق سے پہلے ان ذبیحوں پر کلام تھا جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا تھا اور اس سبق کے بعد پھلوں ‘ مویشیوں اور اولاد کے بارے میں نذر ونیاز کی بحث ہے ۔ ان دوجزوی مسائل کے درمیان یہ سبق خالص نظریاتی اور عقائد کے مباحث پر مشتمل ہے اور ان میں ایمان وکفر کے مسائل اور مناظر بیان کئے گئے ۔ اس درمیانی سبق میں انسانوں اور جنوں انبیاء اور ان کے دشمنوں کے درمیان چلنے والی کشمکش کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ تمام بڑے بڑے نظریاتی مسائل چھیڑے گئے ہیں جو اس سورة میں بالعموم بیان ہوئے ہیں ۔
دیکھنا یہ ہے کہ قرآن کریم زندگی کے ان جزوی مسائل کو کس طرح شریعت کے مطابق اسلام کی نظریاتی اساس پر منطبق کرتا ہے اور اس بات کو اہمیت دیتا ہے کہ ہر مسئلے کا نظریاتی پس منظر نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے ۔ وہ نظریاتی اساس یہ ہے کہ اس کائنات کا رب اور حاکم صرف اللہ ہے اور وہی ہے جو حلال و حرام کی حدود کا تعین کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم جگہ جگہ اپنے نظریہ اساسی کو کیوں بار بار دہراتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم اصولا اس بات کو اسلام کا اساسی نظریہ قرار دیتا ہے ۔ اسلام کا نظریہ اساسی کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) پر قائم ہے ۔ اسی کلمہ کے ذریعے اسلام مسلمانوں کے دلوں سے تمام دوسری خدائیاں نکال کر ان کے دلوں میں صرف اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کا عقیدہ جاگزیں کرتا ہے ۔ چناچہ اسلام تمام لوگوں سے حق حاکمیت چھین کر صرف اللہ کی حاکمیت قائم کرتا ہے ۔ قانون سازی ایک ایسا معاملہ ہے کہ کوئی چھوٹا قانون ہو یا بڑا دونوں میں اللہ کا حق حاکمیت استعمال ہوتا ہے ۔ یہی وہ حق ہے جسے ایک مسلمان صرف اللہ کے لئے مخصوص کردیتا ہے اور تمام دوسرے لوگوں کے لیے اس حق کی نفی کردیتا ہے ۔ اسلام میں دین کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں ‘ چاہے وہ عقائد ونظریات سے متعلق ہوں مثلا الوہیت وحاکمیت یا عملی معاملات ہوں سب میں صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کی جائے اور قانون سازی کا حق صرف اللہ کو ہو۔ اس طرح قانون کا حق بھی صرف اللہ کے قانون کو حاصل ہو ۔ چناچہ ایک مسلمان کا دین یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام اطاعتوں اور قیادتوں کا انکار کرکے صرف اللہ کی اطاعت اور قیادت کو قبول کرلے ۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم ان اعتقادی امور کو بار بار دہراتا اور ان کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے اور تمام امور کو ان نظریات پر مرتب کرتا ہے جس طرح اس مکمل سورة میں صاف نظر آتا ہے جیسا کہ آغاز سورة میں ہم نے کہا کہ یہ سورة پوری کی پوری مکی ہے اور مکی سورتوں میں امت مسلمہ کے سامنے قانون سازی کا کوئی مسئلہ درپیش نہ تھا ۔ اس کے باوجود اس سورة میں نظریاتی اور اعتقادی طور پر اس بات کی صاف صاف نشاندہی کردی گئی ہے کہ قانون سازی کا حق صرف اللہ کو ہے اور یہ اسلام اور دین اسلام کا ایک عظیم اور اساسی نظریاتی اصول ہے جس پر یہ دین قائم ہے ۔ (1) (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی کا فصل الوہیت اور عبودیت)
درس نمبر 70 ایک نمبر میں :
یہ سبق جو قدرے طویل ہے اور اس سے پہلے کا سبق اور اس پر آنے والے تبصرے اسلام کے نظریہ حاکمیت سے متعلق ہیں ۔ یہ ایک ایسی سورة میں ہیں جو مکہ میں نازل ہوئی ‘ جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ مکی سورتوں کا موضوع بالعموم نظریات اور عقائد سے متعلق ہوتا ہے ۔ مکی سورتوں میں قانون سازی کو نہیں چھیڑا گیا تھا ‘ قانون سازی کے بارے میں صرف وہ باتیں ان سورتوں میں ہوتی تھیں جن کا تعلق اصول قانون سے تھا ، مکہ مکرمہ میں کوئی اسلامی حکومت موجود نہ تھی جسے قانون سازی کی ضرورت پڑتی اور اللہ تعالیٰ شریعت کو محض داستان یا تاریخ کے طور پر ذکر کرنا نہ چاہتا تھا ۔ نہ اس وقت اسلامی شریعت بحث وتحقیق کا محض کوئی تدریسی موضوع تھا ۔ اسلام تو ایک ایسا معاشرہ چاہتا تھا جو عملا پورے کا پورا اسلام میں داخل ہوسکے ‘ جس کے اندر لوگ اپنے آپ کو ‘ اپنی پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور شریعت کی قیادت میں دینے کے لئے تیار ہوں ۔ لہذا اسلام میں قانون سازی اس وقت تک نہ ہو سکتی تھی جب تک اسلامی حکومت قائم نہ ہوجائے اور وہ لوگوں کے درمیان اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے کرنا نہ شروع کردے ۔ صورت یہ نہ ہو کہ ادھر سے حکم آ رہا ہو اور ادھر انسانوں پر نافذ ہورہا ہو ‘ اس لئے کہ اسلام کا مزاج ہی ایسا ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے اور اپنے قانون نظام کا نفاظ بھی سنجیدگی ‘ وقار اور متانت کے ساتھ کرتا ہے ۔
لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ یہ سبق ایک مکی سورة میں ہونے کے باوجود قانون سازی کے مسئلے کے ساتھ متعلق ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلام قانون سازی کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے اور قانون سازی کو اس دین کے اساسی مسائل میں سے تصور کرتا ہے ۔
اس سے قبل کہ ہم اس سبق کی تفصیلا میں جائیں مناسب ہوگا کہ ظلال القرآن کی طرز پر ہم اس پورے سبق پر ایک اجمالی نگاہ دوڑائیں اور دیکھیں کہ اس سبق کی مراد کیا ہے اور اس میں کیا ہدایات دی گئی ہیں ؟
اس کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ پھلوں ‘ مویشیوں اور اولاد کے بارے میں کچھ تصورات اور ادہام رکھتے تھے ۔ ان کے کچھ مالی اور کچھ اجتماعی تصورات تھے جو دور جاہلیت میں عقیدے اور قانون کا درجہ رکھتے تھے ۔ یہ تصورات اور ادہام درج ذیل امور پر مشتمل تھے ۔
1۔ اللہ نے انہیں فصلوں اور مویشیوں کی صورت میں جو رزق عطا کیا تھا وہ انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا ۔ ایک حصہ اللہ کے لئے تھا ‘ اور وہ یہ زعم رکھتے تھے کہ اللہ نے یہ حصہ اپنے لئے مخصوص کرلیا ہے ۔ ایک دوسرا حصہ انہوں نے اپنے شرکاء کے ساتھ مخصوص کردیا تھا ۔ یہ شرکاء وہ الہ تھے جن کو وہ پکارتے تھے اور ان کو وہ اللہ کے ساتھ اپنے نفس کے معاملات ‘ اموال اور اولاد کے معاملات میں شریک کرتے تھے ۔
(آیت) ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ نَصِیْباً فَقَالُواْ ہَـذَا لِلّہِ بِزَعْمِہِمْ وَہَـذَا لِشُرَکَآئِنَا (6 : 136)
” انہوں نے اللہ کے لئے خود اس کی پیدا کی ہوئی کھیتوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے ‘ اور کہتے ہیں یہ اللہ کیلئے ہے بزعم خود ‘ اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے ۔
2۔ اس کے بعد وہ خود بزعم خود مقرر کردہ حصہ خدا پر دست درازی کرتے تھے اس حصے سے کچھ وہ لے لیتے تھے اور اسے اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیتے تھے لیکن وہ اپنے شرکاء کے حصے کے ساتھ یہ سلوک نہ کرتے تھے ۔
(آیت) ” فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِہِمْ فَلاَ یَصِلُ إِلَی اللّہِ وَمَا کَانَ لِلّہِ فَہُوَ یَصِلُ إِلَی شُرَکَآئِہِمْ (6 : 136)
” پھر جو حصہ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے ۔ “
3۔ ان کے ان شرکاء نے ان کے لئے قتل اولاد کو خوشنما بنادیا تھا ۔ یہ کام ان کے معاشرے میں پائے جانے والے کاہنوں کا تھا جو ان کے قوانین بناتے تھے جو ان کے لئے از خود ایسی رسومات گھڑتے تھے کہ ان پر لوگ عمل کرنے پر مجبور ہوتے ۔ ان پر ایک طرف سے اجتماعی دباؤ ہوتا تھا اور دوسری جانب سے وہ دینی رسومات کے زاویہ سے از خود ایسا کرنا چاہتے تھے مثلا وہ فقر اور عار کی وجہ سے لڑکیوں کو قتل کرتے تھے اور بعض اوقات وہ بطور نذر بھی اولاد کو قتل کرتے تھے جس طرح عبدالمطلب نے نذر مانی تھی کہ اگر اس کے دس بچے ہوئے اور جوان ہوئے تو وہ ایک کو الہوں کے نام پر قربان کرے گا ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ أَوْلاَدِہِمْ شُرَکَآؤُہُمْ لِیُرْدُوہُمْ وَلِیَلْبِسُواْ عَلَیْْہِمْ دِیْنَہُمْ (6 : 137)
” اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اولاد کے قتل کو خوشنما بنایا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں ۔ “
4۔ یہ لوگ بعض جانوروں اور بعض فصلوں پر پابندی عائد کردیتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ ان کا کھانا محض اللہ کے اذن پر موقوف ہے اور یہ ان کا زعم تھا ۔ بعض سواری کے جانوروں کی پشت کا گوشت نہ کھاتے تھے ۔ بعض پر وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا جائز نہ سمجھتے تھے یا حج کے موسم میں اگر ان پر سوار ہوتے تو اللہ کا نام نہ لیتے اس لئے کہ وہ کہتے تھے کہ یہ حج کی سواریاں ہیں اور ان کے اندر اللہ کا ذکر موجود ہے ۔ وہ کہتے یہ تھے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ۔
(آیت) ” وَقَالُواْ ہَـذِہِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لاَّ یَطْعَمُہَا إِلاَّ مَن نّشَاء بِزَعْمِہِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُورُہَا وَأَنْعَامٌ لاَّ یَذْکُرُونَ اسْمَ اللّہِ عَلَیْْہَا افْتِرَاء عَلَیْْہِ “۔ (6 : 138)
” کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ۔ انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراء کیا ہے ۔ “
5۔ وہ کہتے تھے کہ بعض جانوروں کا جو حمل ہے وہ صرف مردوں کے لئے ہے اور عورتوں پر وہ حرام ہے ۔ ہاں اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو تو مرد اور عورت دونوں مساویانہ طور پر حقدار ہوں گے اور اس مضحکہ خیز قانون کو بھی وہ منجانب اللہ سمجھتے تھے ۔
(آیت) ” وَقَالُواْ مَا فِیْ بُطُونِ ہَـذِہِ الأَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَی أَزْوَاجِنَا وَإِن یَکُن مَّیْْتَۃً فَہُمْ فِیْہِ شُرَکَاء سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْ إِنَّہُ حِکِیْمٌ عَلِیْمٌ(139)
” اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کیلئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ‘ لیکن اگر وہ مردہ ہوں تو دونوں اس کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا ۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔ “
عربی سوسائٹی کے اسلام سے پہلے جو رنگ ڈھنگ تھے مذکور بالا تصورات ‘ مزعومات اور رسم و رواج سے ان کا اندازہ بخوبی ہوجاتا ہے اور مکہ مکرمہ کے اندر اس سورة کی اصلاحات کے ذریعے قرآن کریم ان کا قلع قمع کرنے کے درپے ہے ۔
عربوں کے دل و دماغ کو ان غلط مزعومات سے پاک کر رہا ہے اور عرب کی جاہلی سوسائٹی سے ان کو محو کر رہا ہے ۔ قرآن کریم نہایت ہی دھیمی رفتار سے اپنے مخصوص منہاج اصلاح کے ذریعے غلط تصورات کے اس جنگل کو صاف کررہا ہے ۔
٭ سب سے پہلے اس نے لوگوں کو یہ بتایا کہ جو لوگ اپنی اولاد کو مختلف وجوہات کی بنا پر قتل کر رہے ہیں وہ بیوقوف ہیں ۔ وہ علم ومعرفت سے محروم ہیں اور اپنے آپ کو نعمت اولاد سے محروم کر رہے ہیں ۔ پھر یہ کام وہ یوں کرتے ہیں کہ اسے اللہ کی طرف منسوب کرکے اس کی ذات بےعیب پر افتراء باندھنے کے جرم کا ارتکاب بھی کرتے ہیں ۔ قرآن نے اعلان کیا کہ یہ مطلق گمراہی ہے اور یہ مزعومات سب کے سب غلط ہیں ۔
٭ اس کے بعد قرآن نے انہیں یہ سمجھایا کہ ان کے یہ تمام اموال جن میں وہ تصرف کرتے ہیں یہ دراصل اللہ کے پیدا کردہ ہیں ۔ اللہ ہی وہ ذات ہیں جس نے تمہارے لئے طرح طرح کے باغ ‘ تاکستان اور نخلستان پیدا کئے ۔ وہی ہے جس نے تمہارے تمام جانور پیدا کئے اور وہی ہے جو سب کو رزق دیتا ہے ۔ غرض وہی مالک ہے اور صرف وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حق رکھتا ہے ‘ ان تمام چیزوں میں جو اس نے اس دنیا میں بطور رزق پیدا کیں ۔ اس بیان کے دوران قرآن کریم ان مناظر کو کام میں لاتا ہے جو انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ پھلوں کے باغ اور لہلہاتے کھیت اور نخلستان اور تاکستان وغیرہ اور حیوانات جو بہترین اور خوبصورت سواری کا کام کرتے ہیں اور ان کی فر سے فرش کا کام لیا جاتا ہے ‘ ان کا گوشت کھایا جاتا ہے ‘ ان کی کھالوں سے متعدد مفادات لئے جاتے ہیں بلکہ اون اور بال بھی کام میں لائے جاتے ہیں ۔ اس مقام پر یہ تاثر بھی واضح طور پر دیا جاتا ہے کہ انسان اور شیطان کے درمیان روز اول سے دشمنی ہے لہذا انہیں ہر گز اپنے دشمنوں کے قدموں پر نہیں چلنا چاہیے اس لئے کہ ہو کھلا دشمن ہے ۔
٭ اس کے بعد بعض حیوانات کے بارے میں ان کے بودے تصورات کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ تصورات اور عقائد ادنی منطق سے بھی خالی ہیں ۔ ان تصورات کو ایسے انداز میں سامنے لایا گیا ہے کہ وہ بادی النظر میں حقیر بودے اور بےوقعت نظر آتے ہیں ۔ اس وضاحت کے بعد ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ان بےدلیل قوانین رواجات پر وہ کیوں عمل پیرا ہیں ؟ وہ کس دلیل سے کہتے ہیں کہ یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ۔ انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں ‘ حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ‘ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور باربرداری حرام کردی گئی ہے ۔ کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراء کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سوال کرتے ہیں کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ تعالیٰ نے یہ قوانیں بنائے ؟ یا یہ کوئی راز کی بات تھی جو اللہ تعالیٰ نے صرف تمہیں بتائی تھی یا یہ حکم صرف تمہارے لئے تھا ۔ فرماتے ہیں یہ سب کچھ افتراء ہے اور لوگوں کو ناحق گمراہ کرنا ہے اور اس افتراء اور گمراہی کے نتیجے میں اللہ ان سے مواخذہ کرے گا ۔
٭ اس مقام پر اللہ تعالیٰ واضح فرماتے ہیں کہ حرام کیا ہے اور حلال کیا ہے اور یہ کہ یہودیوں کے لئے کیا حرام کیا گیا تھا اور کیوں اور مسلمانوں کے لئے کیا حرام ہے اور وہ کیا چیزیں ہیں جو اگرچہ یہودیوں کے لئے قبلا حرام تھیں مگر اب حلال کردی گئی ہیں ۔
٭ اس کے بعد ان کے اس استدلال کی تردید کی جاتی ہے کہ وہ جو کہتے ہیں کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو وہ اس جاہلیت میں مبتلا نہ ہوتے اور یوں اپنے لئے خود حلال و حرام کے اصول طے کر کے شرک کا ارتکاب نہ کرتے ۔
(آیت) ” لَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَیْْء ٍ “۔ (6 : 148)
” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے آباء شرک کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے ۔ “
چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
کہ یہ بات اور یہ استدلال تمام کافر ہمیشہ سے پیش کرتے چلے آئے ہیں لیکن تاریخ میں جن اقوام نے یہ استدلال کیا ہے وہ ہمارے عذاب سے بچ کر نہیں نکل سکیں ۔
(آیت) ” کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم حَتَّی ذَاقُواْ بَأْسَنَا “۔ (6 : 148)
” اسی طرح ان سے پہلے جو لوگ تھے انہیں نے تکذیب کی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کو چکھا ۔ “
ان آیات سے ثابت ہوا کہ شریعت کے بغیر از خود کسی چیز کو حرام سمجھنا شرک باللہ کے مترادف ہے ۔ جن لوگوں نے ہمیشہ آیات الہی کی تکذیب کی ہے وہ ایسا ہی کرتے آئے ہیں ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس قسم کے فیصلے اور استدلال کس منطق کی رو سے کرتے ہیں ۔
(آیت) ” قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ (148)
” ان سے کہو ’ ’ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “
٭ اس کے بعد ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے موقف پر کوئی علمی ثبوت پیش کریں لیکن اگر وہ کوئی جھوٹے دلائل دیں تو ان کو یکسر رد کردیں ۔ اس سورة کے آغاز میں بھی اصل عقائد کے مضمون میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ رابطہ ہی ختم کردیا جائے ۔ دونوں مواقع پر مضمون کے الفاظ میں بہت کم تغیر پایا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک باللہ (ذات میں) اور شرک باللہ (حاکمیت میں) ایک ہی درجہ رکھتا ہے ۔ جو شخص اللہ کے سوا قانون سازی کرتا ہے یا کسی کو قانون ساز تسلیم کرتا ہے وہ بھی شرک کرتا ہے ۔
(آیت) ” قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاء کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُونَ أَنَّ اللّہَ حَرَّمَ ہَـذَا فَإِن شَہِدُواْ فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَہُم بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُونَ (150)
” ان سے کہو ” کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ “ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا اور ہر گز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ “
ان آیات اور سابقہ آیات کے مناظر ‘ عبارات اور الفاظ تک ایک ہیں ۔ جو لوگ قانون سازی از خود کرتے ہیں وہ ہوائے نفس کے متبع ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو آیات الہی کو جھٹلاتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو آخرت پر ایمان ویقین نہیں رکھتے ۔ اگر وہ اللہ کی آیات کو سچا مانتے اور آخرت پر ایمان لاتے اور اللہ کی ہدایت کو تسلیم کرتے تو وہ اپنے لئے اور لوگوں کے لئے خود قانون نہ بناتے اور اللہ کے احکام کے سوا کسی کو حرام قرار نہ دیتے ۔
٭ اور آخر میں اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو اس نے فی الحقیقت حرام کردی ہیں ۔ اس میں اجتماعی زندگی کے تمام اصول بتلا دیئے گئے ہیں یعنی اللہ کی توحید ‘ اللہ کے احکام اور حدود فرائض لیکن زیادہ تر وہ چیزیں گنوائی گئی ہیں جو حرام ہیں ۔۔۔۔۔۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے شرک کی ممانعت کی ‘ والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا اور فقر وفاقہ کے ڈر سے اولاد کے قتل کی ممانعت اور یہ کہ اللہ رازق ہے اور یہ کہ ممانعت اور یتیم کے مال کو کھانے کی ممانعت الا یہ کہ جائز طور پر اسے استعمال کیا جائے اور ناپ اور تول کے پیانوں کو درست رکھنے کا حکم ۔ بات اور معاملات میں عدل سے کام لیا جائے اگرچہ معاملہ رشتہ داروں کا ہو اور اللہ کے عہد سے وفا کی جائے اور ان سب امور کو منجانب اللہ وصیت قرار دیا گیا اور ان امور کے بارے وصیت کو بار بار دہرایا گیا ہے ۔
یہ تمام امور اسلامی نظریہ حیات کے اساسی اصول اور شریعت کے مبادی ہیں ۔ ان کو ایک ہی سلسلہ کلام میں جمع کیا گیا ہے اور بالکل ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر اور منظم کرکے بیان کیا گیا ہے ۔ یہ سب احکام ایک ہی جملے ‘ ایک ہی گروپ اور ایک ہی اجتماعی شکل میں لائے گئے ہیں ۔ اس سے قرآن کریم کی اجتماعی سوچ اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے اور اسلام کا منہاج بھی واضح ہوتا ہے چناچہ اس سبق کے آخر میں کہا جاتا ہے ۔
(آیت) ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِیْلِہِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (153)
” اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے لہذا تم اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس راستے سے ہٹا کر تمہیں پر اگندہ کردیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں دی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔
یہ آخری جملہ اس لئے کہا گیا تاکہ اس پورے سبق سے جو مقصود اصلی ہے وہ بالکل سامنے آجائے اور بات کھل کر ایک ہی فقرے میں سمیٹ لی جائے اور اس طرح دو ٹوک بن جائے ۔ دین اسلام میں عقائد اور قانون دونوں کا تعلق توحید اور شرک سے ہے ۔ بلکہ اسلامی قانون سازی میں بھی شرک کا ارتکاب ہو سکتا ہے جس طرح عقیدے میں شرک ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام میں قانون سازی عین عقیدہ ہے اس لئے کہ قانون اسلامی دراصل عقیدہ توحید کی تفصیل وتشریح ہوتا ہے ۔ یہ حقیقت قرآن کریم کے متعدد نصوص سے بالکل واضح ہے ۔ اور اسلام کے اسلوب بیان کے مطابق اسے جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے ۔
یہ وہ حقیقی مقام ہے جس سے دین کا مفہوم طویل تاریخی عوامل کی وجہ سے دور ہوگیا اور یہ عمل طویل زمانے میں مکمل ہوا ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے خبیث اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ۔ آج حال یہ ہے کہ دین کے دشمن تو ہیں ہی دشمن ‘ خود دین کے لئے کام کرنے والوں اور اس کے پرجوش کارکنوں کے ذہنوں سے یہ حقیقت اوجھل ہوگئی ۔ خود حامیان دین بھی عقیدہ حاکمیت الہیہ کو اسلامی عقائد سے علیحدہ سمجھتے ہیں اور حامیان دین بھی مسئلہ حاکمیت الہیہ میں اس طرح پرجوش نہیں رہے جس طرح وہ معروف دینی عقائد کے لئے پرجوش ہیں ۔ وہ لوگ عقیدے حاکمیت الہیہ کے انکار کو دین کا انکار نہیں سجھتے جس طرح وہ عقیدہ توحید کے انکار اور اللہ کی عبادات کے انکار کو دین کا انکار سمجھتے ہیں حالانکہ دین اسلام نے کسی جگہ بھی عقیدے بندگی اور شریعت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات کے تصور کو طویل تاریخی اور تدریجی سازشوں کے تحت نکالا گیا ہے اور نہایت ہی ہوشیاری اور تجربہ کاری کے ساتھ یہ کام کیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ حاکمیت الہیہ کے عقیدے نے موجودہ شکل اختیار کرلی ۔ اسلام کے برجوش حامی بھی اس کے حامی نہ رہے ‘ حالانکہ یہ حقیقت اس سورة میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے ‘ باوجود اس کے کہ یہ سورة مکی سورة ہے اور اس کا موضوع دستور و قانون نہیں ہے بلکہ اس کا موضوع عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات ہے لیکن اس کے باوجود اس نکتے کے تمام پہلو لئے گئے ہیں اور تمام تفصیلات دی گئی ہیں اور یہ بھی اس حوالے سے کہ بات اجتماعی زندگی کے اس جزوی مسئلے پر ہو رہی تھی لیکن اس جزوی مسئلے کا تعلق چونکہ ایک اصول سے تھا ‘ نظریاتی اور دستوری مسئلے سے تھا ۔ یہ اصول بھی ایسا تھا جو اساس دین ہے اس لئے یہاں اس پر زور دیا گیا ۔
لوگ بتوں کی پوجا کرنے والے پر تو شرک کا فتوی لگاتے ہیں لیکن ان لوگوں پر شرک کا فتوی نہیں لگاتے جو اپنے فیصلے طاغوتی عدالتوں سے کراتے ہیں ۔ وہ بت پرستی سے تو اجتناب کرتے ہیں لیکن طاغوتی حکام کی اطاعت سے اجتناب نہیں کرتے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کی تلاوت تو کرتے ہیں لیکن اس دین کے مزاج کو نہیں سمجھتے ۔ انہیں چاہیے کہ قرآن کو اس طرح پڑھیں جس طرح وہ نازل ہوا ہے ۔ انہیں اس آیت پر غور کرنا چاہیے ۔
(آیت) ” وان اطعتموھم انکم مشرکون “۔ اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم مشرک بن جاؤ گے ۔ “
اسلام کے یہ پرجوش حامی اپنے آپ کو اور دوسرے لوگوں کو صرف بعض جزوی امور کو زیر بحث لا کر مطمئن کرنے کی سعی کرتے ہیں کہ فلاں فلاں قانون ‘ اسلام کے خلاف ہے یا فلاں فلاں قانون کا فلاں جزء اسلام کے خلاف ہے ۔ ان کا جوش بعض جزوی اصطلاحات تک موقوف ہے یا وہ بعض بدعملیوں کی اصلاح تک اپنے آپ محدود رکھتے ہیں اور ان کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ گو اسلام تو پورے کا پورا قائم ہے لیکن بعض جزوی امور میں نقص رہ گیا ہے بس صرف ان امور کی اصلاح ہی سے اس کی تکمیل ہوجائے گی ۔
دین اسلام کے بارے میں غیرت رکھنے والے اور اس کے پرجوش حامی درحقیقت اس دین کے لئے باعث اذیت ہیں لیکن سمجھتے نہیں بلکہ اس قسم کی جزوی اور غیر اہم باتوں کو اہمیت دے کر یہ لوگ دین کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہیں ۔
امت مسلمہ کے اندر اس وقت جو نظریاتی قوت اور جوش پایا جاتا ہے یہ لوگ اسے اس قسم کی غیر اہم باتوں پر صرف کرتے ہیں اور ضمنا وہ موجودہ دور کے جاہلی اجتماعی نظام اور جاہلی سوسائٹی کی تائید کرتے ہیں ۔ وہ عملا یہ شہادت دیتے ہیں کہ دین قائم ہے اور اگر کوئی کمی ہے تو وہ صرف یہ جزوی نقائص ہیں جنہیں وہ ختم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ دین مکمل طور پر معطل ہے اور اس وقت موجودہ سوسائٹی پوری طرح جاہلی سوسائٹی ہے ۔ اس میں اللہ کی حاکمیت جاری نہیں ہے ‘ ایسی حاکمیت جس میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو ۔
دین اسلام تب قائم ہوگا جب زمین پر اللہ کی حاکمیت جاری ہوگی ۔ جب تک اللہ کی حاکمیت قائم نہ ہوگی دین پوری طرح قائم نہیں ہوسکتا ۔ آج اس کرہ ارض پر مسئلہ ہی یہ ہے کہ یہاں ایسے طاغوتی نظام قائم ہیں جنہوں نے دست درازی کرکے اللہ کی حاکمیت کو چھین لیا ہے ۔ یہ اختیار خود انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر لوگوں کے لئے حلال و حرام متعین کرنا شروع کردیا ہے اور وہ لوگوں کے مال اور اولاد کے بارے میں قوانین بناتے ہیں۔
زیر بحث آیات اور بیانات میں اسی مشکل مسئلے کو نہایت ہی موثر انداز میں نہایت ہی تفصیل کے ساتھ لیا گیا ہے ۔ تمام باتوں کو اللہ کی حاکمیت اور بندگی کے نظریات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور انہیں مسئلہ کفر واسلام اور مسئلہ اسلام وجاہلیت قرار دیا گیا ہے ۔
اسلام نے جس عظیم معرکے کے بعد اس دنیا مین اپنا وجود قائم کیا تھا وہ محض الحاد کے خلاف معرکہ نہ تھا ‘ کہ ایک شخص خدا کو مان لے اور چند دینی رسومات کا پابند ہو کر حامی دین بن جائے یہ معرکہ اجتماعی فساد اور اخلاقی فساد کے خلاف محض کوئی اصلاحی تحریک بھی نہ تھا یہ باتیں بھی اگرچہ اس معرکہ میں شامل تھیں لیکن یہ تحریکات دین کے قیام کے بعد بھی جاری رہیں ۔ اسلام نے اپنے وجود کے لئے جو معرکہ سر کیا وہ اس کرہ ارض پر حاکمیت الہیہ کے قیام کا معرکہ تھا مکہ میں لوگ سمجھتے تھے کہ لا الہ الا اللہ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے ۔ اس وقت مکہ میں قرآن نے اس نظریہ کو مسلمانوں کے ذہن میں اچھی طرح بٹھا دیا تھا ۔ قرآن نے مسلمانوں کے ضمیر کے اندر اور ان کے دل و دماغ کے اندر یہ نظریہ اچھی طرح مرتسم کردیا تھا کہ حاکم صرف اللہ ہے اگرچہ مکہ میں نظام حاکمیت الہیہ اور نظام قانون اسلامی کا کوئی موقعہ نہ تھا ۔ کسی مسلمان کے ذہن میں یہ بات تھی ہی نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور حاکم ہو سکتا ہے اور اگر کوئی یہ تصور کرتا تھا تو وہ مومن نہ ہوسکتا تھا ۔ جب یہ نظریہ مکہ میں مسلمانوں کے دل و دماغ میں اچھی طرح بیٹھ گیا تو مدینہ میں اس نظریہ کی بنیاد پر حاکمیت الہیہ قائم ہوئی ۔ اگر ہمارے دور کے دین کے پرجوش حامیوں کے ذہن میں یہ بات سماجائے تو انہیں اپنے طرزعمل پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور انہیں کرنا کیا چاہیے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں اس سبق پر یہ تبصرہ کافی ہے ۔ اب آیات کی تشریح ملاحظہ فرمائیں ۔
الأنعام 6:136
آیت ” نمبر 136۔
فصلوں اور مویشیوں کے بارے میں جاہلی سوسائٹی کے رسم و رواج کے بیان کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ ان فصلوں اور مویشیوں کی خالق اللہ کی ذات ہے اور وہی ہے جو زمین آسمان سے لوگوں کے لیے وسائل رزق فراہم کرتا ہے ۔ لیکن ان حقائق کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے بعد ذرا سوچیں کہ تم لوگو اللہ کے عطا کردہ رزق کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ‘ یہ کہ وہ اس کا ایک حصہ تو اللہ کے لئے قرار دیتے ہیں اور دوسرا حصہ اپنے بتوں کے نام منسوب کرتے ہیں ۔ (ظاہر ہے کہ بتوں کے مجاور ہی وہ لوگ ہیں جو بتوں کے حصے کو حاصل کرنے کے حقدار ہوتے ہیں) ۔ اب اللہ کے حصے کے ساتھ وہ یہ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں جس کی تفصیلات آیت کے اندر دی گئی ہیں ۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ غلہ لے آتے تو اسے ڈھیر بنا لیتے ۔ اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے نکالتے اور ایک بتوں کے لئے ۔ اب جب تیز ہوا چلتی اور غلے کے دانے بتوں کے حصے سے اڑ کر اللہ کے حصے میں شامل ہوجاتے تو یہ اس حصے سے ان کو جدا کرکے پھر بتوں کے حصے میں ملا دیتے ‘ اور اگر اللہ کے حصے کی جانب سے ہوا آئے اور اللہ کے حصے سے دانے بتوں کے حصے میں مل جاتے تو وہ انہیں اسی طرح چھوڑ دیتے ۔ اسی کے بارے میں یہ آیت آئی ہے ۔
آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136)
” یہ لوگ برے فیصلے کرتے ہیں “۔
مجاہد سے روایت ہے کہ وہ کھیت کے ایک حصے کو اللہ کے نام کردیتے اور ایک حصے کو اپنے بتوں کے لئے مخصوص کردیتے ۔ اب اللہ کے حصے سے ہوا اگر کسی چیز کو اڑا کر بتوں والے حصے میں ملا دے تو یہ اسے اسی طرح چھوڑ دیتے تھے اور اگر بتوں کے حصے سے کوئی چیز اللہ کے حصے میں مل جائے تو یہ اسے واپس کردیتے تھے ۔ اور کہتے ۔ (اللہ عن ھذا غنی) اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ “ اور مویشیوں میں سے انہوں نے سائبہ اور بحیرہ نام رکھے ہوئے تھے ۔ حضرت قتادہ سے روایت ہے ۔ اہل ضلالت نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے مویشیوں اور فصلوں کے ایک حصے کو اللہ کا حق قرار دے دیا اور ایک حصے کو بتوں کا حق قرار دیا ۔ اب اگر اللہ کے حصے کی کوئی چیز بتوں کے حصے میں خلط ملط ہوجاتی تو یہ اسے چھوڑ دیتے اور اگر بتوں کے حصے سے کوئی چیز اللہ کے حصے میں جا پڑتی تو یہ اسے لوٹا دیتے ۔ اور اگر کبھی خشک سالی ہوتی تو وہ اللہ کے حصے کو موقوف کر کے خود استعمال کرتے لیکن بتوں کے حصے کو ہر حال میں قائم رکھتے ۔ اس کے بارے میں اللہ نے کہا۔
آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136)
” یہ برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں ‘۔
حضرت سدی کہتے ہیں کہ یہ اپنے مالوں کے حصے بناتے تھے اور فصلوں میں سے بھی اللہ کا حصہ مقرر کرتے تھے ۔ اسی طرح بتوں کے لئے بھی حصہ مقرر تھا ۔ بتوں کے حصے کو بتوں پر صرف کرتے اور اللہ کے حصے کو صدقہ کردیتے ۔ اب وہ مویشی جو بتوں کا حصہ ہوتے اگر اتفاقا مر جاتے اور اللہ کا حصہ زیادہ ہوجاتا تو وہ کہتے کہ ہمارے خداؤں کے لئے بھی تو اخراجات درکار ہیں تو وہ اللہ کے حصے میں سے لے کر اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شریکوں پر خرچ کرتے ۔ اور اگر اللہ کے حصے کی فصل خراب ہوجاتی اور بتوں والے حصے میں فصل زیادہ ہوجاتی تو کہتے کہ اگر اللہ چاہتا تو وہ اپنے حصے کو اچھا بناتا۔ یوں وہ بتوں کے حصے سے لے کر حصے کو پورا نہ کرتے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” اگر یہ سچے ہوتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کیونکہ یہ لوگ میرے حصے سے تو لیتے ہیں لیکن میرے حصے میں شامل نہیں کرتے اور یہی مطلب ہے ۔ آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) کا ۔
ابن جریر آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان لوگوں کے بارے اطلاع ہے کہ وہ برے فیصلے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جو فیصلہ کیا وہ نہایت ہی غلط فیصلہ تھا کہ انہوں نے میرا حصہ ان لوگوں کو دے دیا جو انہوں نے بزعم خود میرے شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں اور مزید یہ کہ ان مزعومہ شریکوں کے حصے میں سے وہ مجھے کچھ نہیں دیتے ۔ یہی بات اس امر کے لئے کافی ثبوت ہے کہ یہ لوگ گمراہ بھی ہیں اور جاہل بھی ۔ انہوں نے سچائی کی راہ کو ایک طرف چھوڑ دیا کیونکہ وہ جب اپنے خالق اور رازق کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو وہ کس کے ساتھ کریں گے جبکہ اس نے ان پر لاتعداد احسانات بھی کر رکھے ہیں ۔ وہ اللہ کو ان بتوں کے برابر کرتے ہیں جو نفع ونقصان نہیں دے سکتے ۔ بلکہ انہوں نے ان بتوں کو اللہ فضیلت دے دی کہ ان کے حصے کو اللہ کے حصے سے بڑا قرار دیا ۔
یہ تھی وہ بات جو انسانوں اور جنوں میں سے شیطان لوگ اپنے دوستوں کو سجھاتے تھے تاکہ وہ مویشیوں اور فصلوں کے بارے میں اہل ایمان کے ساتھ الجھتے رہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ شیاطین انسانوں کو جو زاویہ نظر دیتے ہیں ‘ اس میں ان شیاطین کا کوئی نہ کوئی مفاد ضرور ہوتا ہے ۔ انسانی شیطانوں کا مفاد یہ ہے (یہ کاہنوں ‘ مجاوروں اور رئیسوں میں سے ہوتے ہیں) کہ پہلے تو وہ ان انسانوں کے دل و دماغ پر چھا جاتے ہیں اور اس اثر کو قائم کرلینے کے بعد وہ ان کو اپنی مطلوبہ سمت کی طرف حرکت دیتے ہیں۔ اپنے دئیے ہوئے زاویہ نظر کے عین مطابق جو باطل تصورات اور فاسد عقائد پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یوں وہ ان عوام الناس کو گمراہ کرکے خود اپنے مادی مفاد بھی حاصل کرتے ہیں مثلا یہ برخود غلط عوام بتوں کے لئے جو حصے تجویز کرتے ہیں وہ عملا انہیں لوگوں کو ملتے ہیں جو ان کو یہ تصور دیتے ہیں ۔ جنوں کے شیاطین کا مفاد یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر ان کو گمراہ کرتے ہیں اور انکی قیادت کرکے ان کی دنیا بھی خراب کرتے ہیں اور آخرت بھی ۔
یہ تصورات جو عرب جاہلیت میں پائے جاتے تھے ‘ ان کی مثالیں دنیا میں پائی جانے والی دوسری جاہلیتوں کے اندر بھی موجود ہیں ۔ مثلا یونانی ‘ فارسی ‘ رومی اور افریقہ وایشیا کی دوسری جاہلیتوں میں ۔ یہ تصورات تمام جاہلیتوں میں مالی تصرفات کرتے ہیں اور یہ ہر جاہلیت میں موجود ہوتے ہیں ۔ مثلا دور جدید کی جاہلیت بھی ایسے مالی تصرفات کو روا رکھتی ہے جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ۔ چناچہ اس شرک میں دور جدید کی جاہلیت بھی ازمنہ سابقہ کی جاہلیتوں کے بالکل برابر ہے ۔ دونوں ایک ہی اصول پر قائم ہیں ۔ مثلا جاہلیت کی تعریف ہے ہو وہ تصرف جو عوام الناس کی زندگیوں میں کیا جائے جبکہ اس کی اجازت اللہ نے نہ دی ہو ۔ اب یہ اور بات ہے کہ قدیم زمانوں میں اس قسم کے تصرفات کی شکل ونوعیت اور ہوتی تھی اور آج ذرا مختلف ہے ۔ اصول ایک ہے اور شکلیں مختلف ۔
الأنعام 6:137
آیت ” نمبر 137۔
جس طرح ان لوگوں کے لئے ان کے شرکاء اور ان کے شیاطین نے اپنے مالوں اور فصلوں میں یہ تصرفات خوبصورت بنادیئے ہیں ‘ اسی طرح انہوں نے ان کے لئے قتل اولاد کو بھی مزین بنا دیا ہے ۔ یوں کہ وہ لوگ اپنی بیٹیوں کو تنگدستی کے خوف سے زندہ درگور کردیتے تھے ‘ یا اس لئے کہ وہ جنگی قیدی بن جائیں گی اور ان کے لئے موجب طار ہوں گی ۔ بعض اوقات وہ اولاد کو بطور نذر بھی قتل کرتے تھے ۔ جس طرح حضرت عبدالمطلب سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے ان کو دس ایسے بیٹے بخشے جوان کے لئے دست وبازو ہوں تو وہ ان میں سے ایک کو قربان کریں گے ۔
یہ تمام باتیں ان کے دل و دماغ میں انکی جاہلی رسومات نے پختہ طور پر بٹھا دی تھیں ۔ یہ رسومات جاہلیت وہ تھیں جو لوگوں نے خود ہی اپنے لئے وضع کی تھیں ۔ اس آیت میں جن شرکاء کا ذکر ہے اس سے مراد شیاطین جن وانس ہیں انسانوں میں سے جو شیاطین تھے وہ کاہن ‘ مجاور اور سردار تھے ۔ جنوں میں سے وہ لوگ تھے جو بعض انسانوں کے دوست بن جاتے تھے اور وہ انسانوں کی مدد کرتے تھے ۔ اس آیت میں ان شیاطین کا جو واضح ہدف بتایا گیا ہے وہ یہ ہے ۔
آیت ” لِیُرْدُوہُمْ وَلِیَلْبِسُواْ عَلَیْْہِمْ دِیْنَہُمْ “۔ (6 : 137)
” تاکہ انکو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں ۔ “ یعنی وہ ان کو ہلاک کردیں ‘ ان پر ان کے دین کو گنجلک اور مشتبہ بنادیں ۔ اس طرح کہ وہ اسے واضح طور پر سمجھ نہ سکیں ۔ ہلاک کرنے کا مصداق ایک تو یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں ۔ دوسرا مصداق یہ ہے کہ ان کی اجتماعی زندگی اسلام کے خلاف ہوجاتی ہے اور وہ اپنے معاشرے میں ان مویشیوں کی طرح بن جاتے ہیں جن کو وہ شیاطین جس طرح چاہیں ہانک کرلے جائیں ‘ یعنی اپنے مقاصد اور مفادات کے مطابق یہاں تک کہ وہ لوگ ان حیوانوں کے اموال ‘ اولاد اور خود ان کی جان کے بارے میں قتل کرنے اور ہلاک کرنے کے اختیارات کے بھی ملک ہوجاتے ہیں۔ ان حیوانوں کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ پوری اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ دین اور عقیدے کے ساتھ جو زائد تصورات وابستہ کردیئے گئے اور جو درحقیقت دین سے نہیں ہیں ‘ وہ نہایت ہی گہرے ہوگئے اور اب دیندار لوگوں پر ان کا بھاری دباؤ ہے ۔ یہ تصورات چونکہ سوسائٹی کے اندر موجود رسم و رواج کی وجہ سے دین سے وابستہ ہوئے ہیں اس لئے یہ عرف بھی ان کی پشت پر ہوتا ہے اور ان رسومات کا دباؤ معاشرے پر اس قدر زیادہ ہوجاتا ہے کہ عوام کالانعام اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ الا یہ کہ یہ ان میں سے کوئی حقیقی دین کی بنیادون کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہو اور قرآن وسنت پر اس کی گرفت مضبوب ہو ۔
یہ دینی رنگ کے مبہم اور پیچیدہ تصورات جن کو لوگ دین سمجھتے ہیں ‘ یہ اجتماعی رسومات جن سے یہ تصورات پروان چڑھتے ہیں اور جو عوام الناس پر کمر توڑ بوجھ بنے ہوئے ہیں ‘ یہ ان صورتوں تک محدود نہیں ہیں جو قدیم زمانوں کی جاہلیتوں کے اندر پائی جاتی تھیں ‘ دور جدید کی تازہ ترین جاہلیت میں بھی یہ تصورات واضح طور پر موجود ہیں ۔ یہ رسم و رواج جو دور جدید میں بھی عوام الناس پر بارگراں بنے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے ‘ لوگوں کے لئے لابدی بن گئے ہیں اور اب لوگوں کے لئے کوئی راہ نہیں رہی ہے کہ وہ ان کے چنگل سے نکل باگیں ۔ لوگوں نے اپنے اوپر مخصوص لباس فرض کرلئے ہیں اور بعض اوقات ان پر اس قدر روپیہ خرچ کرتے ہیں جو انکے پاس نہیں ہوتا ۔ یہ رسم و رواج لوگوں کی زندگی کو چاٹ جاتے ہیں ۔ ان کی تمام آرزوئیں خاک میں مل جاتی ہیں ‘ ان کے اخلاق ختم ہوجاتے ہیں لیکن ہو ہر حال میں ان کی پابندی کرتے ہیں۔ صبح کا لباس ‘ دوپہر کا لباس ‘ شام کا لباس ‘ منی اسکرٹ ‘ ٹیڈی لباس اور مضحکہ خیز لباس ‘ قسم قسم کا میک اپ اور بناؤ سنگھار ۔ بعض لوگ یہ کام کرتے ہیں بعض ان سے کراتے ہیں ۔ کرانے والوں میں سے لباس کے بڑے بڑے تاجر ‘ بڑی بڑی کمپنیاں اور بینکوں اور مالی اداروں کے سود خور کارندے اور وہ تاجر شامل ہیں جو لوگوں سے یہ حرکات اس لئے کراتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں جو نفع ملے اسے وہ مزے لے لے کر کھائیں ۔ اس تمام صورت حال کی پشت پر یہودی سازش ہے اور یہودیوں نے یہ صورت حال اس لئے چلا رکھی ہے کہ اس طرح وہ لوگوں پر معاشی اور سیاسی حکمرانی کریں ۔ لیکن یہودی یہ کام اسلحہ اور فوج کے ذریعے نہیں کرتے بلکہ یہ کام وہ افکار وخیالات ‘ تصورات ونظریات کے ہتھیاروں کے ذریعے کرتے ہیں اور یہ حکومت وہ عرف عام کے دباؤ سے کرتے ہیں اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ نظریات کا اثر اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک یہ نظریات نظام حکومت کا روپ نہ دھاریں اور اجتماعی شکل اختیار نہ کرلیں اور سوسائٹی کے ڈھانچے کے اندر نہ گھس جائیں ۔ چناچہ سوسائٹی کے اندر ان جاہلی نظریات اور تصورات کو یہ یہودی بڑی اسکیم کے ساتھ پھیلاتے اور جاری کرتے ہیں ۔
یہ کام معاشرے کے تمام شیاطین کرتے ہیں ‘ یہ شیاطین جنوں میں بھی ہیں اور انسانوں میں بھی ۔ یہ تمام کام جاہلیت میں جس کی اشکال اور صورتیں مختلف ہیں ۔ لیکن اس کے اصول اور جڑیں اور بنیادیں ایک ہی ہوتی ہیں ۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ قرآن نے بعض ازمنہ قدیمہ کی جاہلیتوں ہی پر بحث وتقید کی ہے اور جدید دور کی جاہلیتوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں تو ہم قرآن کریم کی شان کو گھٹا رہے ہوں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم تمام قدیم وجدید جاہلیتوں پر بحث کرتا ہے ۔ وہ ہر دور میں انحراف کرنے والے معاشرے کا مقابلہ کرتا ہے اور اسے واپس لا کر جادہ مستقیم پر ڈالتا ہے ۔
باوجود اس کے کہ یہ ایک عظیم عمرانی بوجھ اور سازش ہے قرآن کریم مسئلہ جاہلیت کے حل کو آسان کرنے کے لئے اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ یہ تمام شیاطین اور ان کے دوست اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں اپنی قوت اور قدرت سے نہیں کر رہے ۔ وہ یہ کام اس لئے کر رہے ہیں کہ اللہ نے ان کو مہلت دے رکھی ہے ‘ اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے ۔ یہاں یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ کے دائرہ قدرت کے اندر اور اللہ کی مشیت کے ساتھ کر رہے ہیں اگر اللہ کی مشیت نہ ہوتی تو وہ ہر گز ایسا نہ کرتے ۔ لہذا کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ انہیں اپنی روش پر چلنے دیجئے ۔
آیت ” وَلَوْ شَاء اللّہُ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ (137)
” اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے ‘ لہذا انہیں چھوڑ دو کہ یہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں ۔ “
یہ بات اپنی جانب سے کر رہے ہیں بلکہ وہ یہ دعوی کرتے تھے کہ یہ تمام تصورات اور تصرفات من جانب اللہ ہیں اور ان کے لئے یہ شریعت ہیں ۔ اپنے زعم کے مطابق وہ کہتے تھے کہ یہ تصورات وتصرفات حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت ہیں۔
آج جاہلیت جدیدہ کے دور میں بھی شیاطین کا یہی رویہ ہے ۔ ان کی اکثریت میں اس قدر جرات تو نہیں ہے کہ وہ کمیونسٹوں کی طرح سرے سے وجود باری کا انکار ہی کردیں ۔ لیکن وہ دین کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو دور جاہلیت قدیمہ کے لوگ کرتے تھے ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو دین اور مذہب کا سخت احترام کرتے ہیں اور وہ جو قانون بتاتے ہیں اس کی اساس بھی دین اسلام پر ہی ہے ۔ لیکن ان لوگوں کا طریقہ ورادت خالص منکرین خدا اور کیمونسٹوں کے مقابلے میں زیادہ مکارانہ اور اذیت دہ ہے ۔ یہ لوگ مسلمانوں کے اس سوئے ہوئے جذبہ دین سے بہت ڈرتے ہیں جو ان کی رگ وروح میں جاری وساری ہے ۔ ا گرچہ وہ جذبہ اسلام کا حقیقی جذبہ نہ ہو ‘ کیونکہ مکمل اسلام تو پورا نظام حیات ہے ۔ وہ محض خفیہ جذبہ نہیں ہے اور نہ بجھی ہوئی چنگاری ہے ۔ اس طرح یہ لوگ مسلمانوں کے غیض وغضب سے بچنا چاہتے ہیں ۔ یہ نہایت ہی مکارانہ چال ہے اور اسلام کے خلاف ایک نہایت ہی تکلیف دہ صورت حالات ہے ۔
اب ذرا دین کے ان نادان حامیوں کے حالات کو دیکھئے ۔ یہ اسلامی نظام حیات کے اساسی مقاصد کو چھوڑ کر ادھر ادھر کی باتوں پر اپنی قوتیں کھپاتے ہیں ۔ انہیں اس جاہلی صورت حالات کے اندر یہ بات نظر ہی نہیں آتی کہ اللہ کی حاکمیت پر دست درازی کرکے شرک کا ارتکاب کیا جارہا ہے اور بےدانش جوش کی وجہ سے وہ موجودہ مشرکانہ نظام کو ایک اسلامی صورت حالات بناتے ہیں ۔ اپنی اس روش کی وجہ سے یہ تاثر دیتے ہیں کہ موجودہ حالات گویا اسلامی حالات ہیں اور ان حالات اور عالم اسلام کی صورت حال میں صرف چند جزئیات کا اختلاف ہے ۔
اپنے اس رویے کی وجہ سے اسلام کے یہ نادان دوست ‘ مذہبی طبقے اور بظاہر اسلام کے پرجوش حامی اس غیر اسلامی صورت حالات کو طول دے رہے جو سراسر غیر اسلامی ہے اور اسلامی دنیا پرچھائی ہوئی ہے حالانکہ اس طرز عمل کی وجہ سے ان لوگوں کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں جو اسلام کے دشمن ہیں ۔ یہ خدمات وہ لوگ انجام دیتے ہیں جنہوں نے اسلام کا مخصوص مذہبی لباس پہن رکھا ہے حالانکہ اسلامی نظام نے کوئی ایسا مخصوص مذہبی طبقہ نہیں رکھا کہ اسلام کے بارے میں وہی بات کرسکے ۔ اسلام کا نہ کوئی کاہن ہے اور نہ اس میں کسی پادری کی گنجائش ہے کہ ان کے سوا کوئی اور اسلام کی بات ہی نہ کرسکے ۔
الأنعام 6:138
آیت ” نمبر 138۔
ابن جریر طبری کہتے ہیں ان جاہلوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع دیتے ہیں کہ یہ لوگ از خود بعض چیزوں کو حلال قرار دیتے تھے اور بعض کو حرام قرار دیتے تھے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو قانون سازی کے اختیارات نہیں دیئے تھے ۔
آیت میں لفظ حجر کے معنی حرام کے ہیں ۔ یہ لوگ جو اللہ کے حق قانون سازی اور حق حاکمیت پر دست درازی کرتے تھے ‘ یہ دعوی کرتے تھے ‘ کہ یہ اللہ کی شریعت ہے جو ایک جرم ہے ۔ انہوں نے اپنی فصلوں کے ایک حصے کو اور بعض قسم کے مویشیوں کو اپنے الہوں کے لئے مختص کر رکھا تھا جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پھل اور مویشی ان کے لئے حرام ہیں اور ان کو وہی شخص کھا سکتا ہے جس کو اللہ کی طرف سے اجازت ہو ۔ یہ سب اقوال ان کا زعم تھا اور ظاہر ہے کہ ان کے مذہب میں پھر اجازت صرف کاہنوں ‘ گدی نشینوں اور بعض رئیسوں کو تھی ۔ پھر انہوں نے مویشیوں میں سے بعض کو اسی طرح اپنے اوپر بھی حرام کردیا تھا جن کا ذکر سورة مائدہ میں ہوچکا ہے ۔ ” اللہ نے کسی جانور کو بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام قرار نہیں دیا “ ۔ یہ انہوں نے از خود قرار دیا کہ ان جانوروں پر سواری حرام ہے ۔ اسی طرح انہوں نے یہ قرار دیا کہ بعض جانوروں کے اوپر اللہ کا نام نہ لیاجائے گا یعنی سواری کے وقت ‘ دودھ نکالنے کے وقت اور نہ ان کے ذبح کے وقت بلکہ ان پر الہوں کا نام لیا جائے گا جن کے نام وہ مختص ہوچکے تھے ۔
ابن جریر افتراء علی اللہ کی تفسیر میں یہ کہتے ہیں کہ ’ ان لوگوں نے بعض چیزوں کو حرام قرار دے کر اور پھر یہ کہہ کر کہ یہ اللہ کی نازل کردہ شریعت ہے ‘ اللہ پر افتراء باندھا ہے ‘ اللہ پر جھوٹ بولا ہے کیونکہ انہوں نے از خود بعض چیزوں کو حرام قرار دے کر اس کی نسبت اللہ کی طرف کردی تھی ۔ اس آیت میں اللہ نے اس بات کی تردید کردی کہ اس نے ایسا نہیں کیا ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے انہیں جھوٹا قرار دیا ۔ اور نبی کریم ﷺ اور مومنین کو یہ اطلاع کردی کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں “۔
یہاں ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ جاہلیت کے وہ خدوخال کون سے ہیں ۔ جو اکثرجاہلیتوں میں یہ بات مشترک ہوتی ہے کہ بعض لوگ دیدہ دلیری سے کام لے کر اس دنیا کو محض مادہ قرار دیتے ہیں اور بعض اگرچہ بےحیائی میں اس حد تک آگے نہیں جاتے اور خدا کا سرے سے انکار نہیں کرتے مگر وہ کہتے ہیں کہ دین تو صرف عقیدے کا نام ہے ۔ یہ کوئی نظام زندگی یا اجتماعی ڈھانچہ ‘ یا سیاسی اور اقتصادی نظام نہیں ہے جو پوری زندگی کو اپنے دائرہ اختیار میں لے سکتا ہو۔
جاہلیت کی دوسری خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ ہر جاہلیت ایک مخصوص دنیاوی نظام قائم کرتی ہے جس میں حاکمیت اور اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کے لئے ہوتا ہے ۔ البتہ ہر جاہلیت یہ دعوی کرتی ہے کہ وہ مذہب کا احترام کرتی ہے اور وہ اپنے خدوخال دین ہی سے لیتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی جاہلیت کا یہ انداز نہایت ہی خطرناک اور گہری عیاری اور چالاکی پر مبنی ہوتا ہے ۔ عالمی عیسائیت اور عالمی صہیونیت نے اس علاقے میں جو کبھی دارالاسلام تھا ‘ اور جہاں شریعت الہی قانون کی حیثیت رکھتی تھی ‘ یہی پالیسی اپنا رکھی ہے ۔ یہ پالیسی انہوں نے ترکی میں عظیم لیڈر کے تجربے کی ناکامی کے بعد اپنائی ہے ۔ یاد رہے کہ ترکی کا یہ عظیم لیڈر خود انہوں نے مصنوعی طور پر پیدا کیا تھا ‘ اس نے انہی کی ہدایت پر ترکی سے خلافت اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس لئے کہ ترکی کی خلافت اسلامیہ اس کرہ ارض پر عظمت اسلام کی آخری نشانی تھی ‘ لیکن ترکی میں ان کی اعلانیہ ملحدانہ پالیسی بری طرح ناکام رہی اور اس نے اس علاقے میں کوئی اہم کردار ادا نہ کیا ۔ اس ملحدانہ پالیسی نے اعلانیہ دین سے علیحدگی اختیار کرلی ۔ چناچہ یہ پالیسی وہاں کے اجتماعی نظام سے بالکل نامانوس رہی کیونکہ اہالیان ترکیہ کے دلوں میں ابھی تک محبت اسلام کی آگ سلگ رہی تھی ۔ چناچہ اس تجربہ کے بعد عالمی صلیبیت اور صہیونیت نے نئے تجربے شروع کیے ‘ جن کے مقاصد تو وہی ہیں البتہ ان نئے تجربات میں کمالی غلطیوں کو نہیں دہرایا جاتا ۔ چناچہ وہ اب جو سازشیں کرتے ہیں وہ دین کے پردے میں رہ کر کرتے ہیں ۔ وہ دینی نتظیمیں قائم کرتے ہیں جو یا تو اعلانیہ ان مقاصد کے لئے کام کرتی ہیں اور یا ان کا مقصد یہ ہوتا ہے ۔ وہ ان تنظیموں کے بعض جزوی مسائل کو لے کر بیٹھ جاتی ہیں اور یہ تاثر دیتی ہیں کہ ان جزوی خرابیوں کے علاوہ جو کچھ ہے وہ درست ہے ۔ میں سمجھتا ہوں اسلام کے خلاف یہ نہایت ہی گہری سازش ہے جو دین اسلام کے خلاف شیاطین جن وانس نے تیار کی ہے ۔
صلیبی اور صہیونی اس عر سے میں پوری طرح اپنے مقاصد کے لئے کام کرتے رہے ۔ باوجود مذہبی اختلافات کے وہ باہم دگر متحد ومتفق رہے اور باہم تجربات اور مہارتوں کاتبادلہ کرتے رہے ۔ بظاہر وہ اس ترکی تجربے کے بھی خلاف رہے اور یہ تاثر دیتے رہے کہ ترکوں کی تحریک بھی دراصل احیائے اسلام کی تحریک ہے اور یہ کہ ترکی حکومت محض زبانی طور پر اپنے آپ کو لادینی حکومت ظاہر کر رہی ہے ۔
متشرقین صلیبی اور صہیونی استعمار کو فکری غذا مہیا کرتے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر بڑی محنت کی ہے کہ ترکی تجربہ فی الواقعہ ملحدانہ تجربہ نہ تھا اور نہ محنت وہ اس لئے کرتے ہیں کہ ترکی تجربے کے ملحدانہ خو وخال کی وجہ سے اس کے اثرورسوخ اور فعالیت میں میں کمی واقع ہوگئی تھی ۔ مستشرقین کی جانب سے اسلامی تحریک کے خلاف یہ تباہ کن حملہ تھا لیکن ترکی کی تحریک الحاد اب اس قابل نہ رہی تھی کہ وہ دوبارہ فعال ہوسکے ۔ دور جدید میں مستشرقین کی جانب سے اسلام کے خلاف کاروائی خود اسلام کے عنوان سے کی جارہی ہے ۔ یہ لوگ اسلامی نظریات کے مفہوم بدل رہے ہیں ۔ اسلام کے لئے لوگوں کے جوش و خروش کو کم کر رہے ہیں اور اس کو جاہلی رنگ دے رہے ہیں ۔ دین کے نام سے دینی نظریات کو بدلنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اسلامی اخلاق اور انسان کی نہایت ہی فطری عادات کو دین کے نام سے دینی نظریات کو بدلنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اسلامی اخلاق اور انسانی کی نہایت ہی فطری عادات کو دین کے نام سے بےراہ روی پر ڈال رہے ہیں ۔ پھر وہ جاہلیت کے ہر نشان کو ایسا ثابت کر رہے ہیں کہ یہ عین اسلام ہے اور اس کو ان ممالک میں رواج دے رہے ہیں ۔ جہاں اسلام کے بارے میں لوگوں کے جذبات حساس نہیں۔ یوں وہ عالم اسلام کو صلیبیت اور صہیونیت کے دام تذدیر میں پھنساتے ہیں اور ان کی یہ تحریک ان صلیبی اور صہیونی جنگوں سے زیادہ کامیاب ہے جو وہ اسلام کے خلاف گزشتہ تیرہ سو سال سے لڑ رہے ہیں ‘ لیکن حقیقت یہ ہے ۔
آیت ” ِ سَیَجْزِیْہِم بِمَا کَانُواْ یَفْتَرُونَ (138)
” عنقریب اللہ انہیں ان کی افتراء پر دازیوں کا بدلہ دے گا ۔ “
الأنعام 6:139
آیت ” نمبر 139۔
اس شرک اور بت پرستی سے جو ادہام پیدا ہوئے تھے ‘ انکے اندر یہ لوگ اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے حلال و حرام کے تعین کا کام بھی اللہ کے بجائے انسانوں کے سپرد کردیا تھا اور دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ انسان جو قانون سازی کر رہے ہیں وہی اللہ کی شریعت ہے ۔ چناچہ خرافات کی دنیا میں وہ اس مقام تک آپہنچے کہ کہنے لگے کہ ان جانوروں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ مردوں کے لئے ہے یا شاید یہ بات وہ مذکورہ بالا بحریہ ‘ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کے حق میں کہتے تھے کہ عورتوں کے لئے اس کا کھانا حرام ہے ۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اگر یہ جانور مردہ حالت میں پیدا ہو تو عورتیں بھی ان سے کھاسکتی ہیں اور یہ کیوں ؟ اس کا کوئی منطقی جواز ان کے پاس نہ تھا ۔ ہاں جواز صرف یہ تھا کہ انہوں نے قانون سازی کا کام جن لوگوں کے سپرد کردیا تھا ان کی منشا یہ ہوگی یا ان کا مفاد اس میں ہوگا ۔ یہ خالص بےمعنی قانون سازی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ یہ نہایت ہی مکروہ قانون ہے ۔ جن لوگوں نے یہ بنایا ہے انہوں نے اللہ پر افتراء پردازی کی ہے ‘ خصوصا یہ بات جو وہ کہتے ہیں کہ یہ بھی من عند اللہ شریعت ہے ۔
آیت ” سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْ إِنَّہُ حِکِیْمٌ عَلِیْمٌ(139)
” ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا ۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔ “
وہ تمام امور میں بڑی حکمت کے ساتھ تصرفات کرتا ہے اور اس کے فیصلے اور قانون ایسے نہیں ہوتے جیسے ان جاہلوں کے ہوتے ہیں ۔
جب انسان کلام الہی کو پڑھتے ہوئے ان گمراہیوں پر نظر ڈالتا ہے اور ان گمراہیوں کے حاملین جن خساروں ‘ نقصانات اور مشکلات میں مبتلا ہوتے ہیں ان پر غور کرتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر نہایت ہی تعجب میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ لوگ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام سے انحراف کرکے کس قدر نقصانات اٹھا رہے ہیں اور کن ناقابل برداشت ذمہ داریوں میں گھر گئے ہیں ۔ ان ذمہ داریوں کو لے کر وہ کس قدر فضول اور مجمل ناقابل فہم امور میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ان کے عقائد غلط ہیں اور ان فرائض ایسے عائد کردئیے گئے ہیں کہ ناقابل فہم امور میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ان کے عقائد غلط ہیں اور ان پر فرائض ایسے عائد کردیئے گئے ہیں ۔ کہ ناقابل برداشت ہیں ۔ ان کی زندگی پیچیدہ اور اضطراب انگیز ہے ۔ زندگی کا کوئی اصول نہیں ہے ۔ ہر طرف وہم و خرافات اور تقلید اور نقل ہے ۔ ان سب حالات کے مقابلے میں اسلام کا عقیدہ توحید ہے جو بالکل صاف ستھرا اور واضح ہے ۔ عقیدہ انسانی ذہن سے ادہام اور خرافات کو کھرچ کر رکھ دیتا ہے اور انسانی عقل کو اندھی تقلید کی پیروی اور جکڑی بندیوں سے آزاد کردیتا ہے ۔ یہ عقیدہ انسانیت کو جاہلیت اور اس کی رسومات سے رہائی دلاتا ہے ۔ پھر یہ عقیدہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے آزاد کرتا ہے ‘ چاہے یہ غلامی قانون سازی کے معاملے میں ہو ‘ یا رسومات اور طرز عمل میں ہو یا حسن وقبح کے پیمانوں کے میدان میں ہوں۔ اس جنگل سے نکال کر عقیدہ توحید انسان کو ایک واضح نظریہ دیتا ہے ۔ ایک واضح معنی دیتا ہے ۔ اس کے تصورات واضح اور آسان ہیں ۔ ان تصورات کی روشنی میں انسان کو ہمہ گیر آزادی نصیب ہوجاتی ہے اور انسان صرف اللہ کی بندگی اور غلامی کے اعلی ارفع مقام تک پہنچ جاتا ہے ۔ لوگ نبی کی اتباع سے وہاں پہنچ سکتے ہیں۔
آہ ! یہ ایک عظیم خسارہ ہے اور یہ خسارہ دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ‘ بلکہ آخرت کا خسارہ تو بہت ہی زیادہ ہے اور یہ اس لئے ہے کہ انسانیت نے اللہ کی سیدھی راہ سے انحراف کرلیا ہے اور جاہلیت کی گندگی میں ڈوب گئی ہے ۔ اس نے انسانوں کی غلامی میں اپنے آپ کو دے دیا ہے ۔
الأنعام 6:140
آیت ” نمبر 140۔
یہ ایک عام اور مطلق خسارہ ہے ۔ دنیا اور آخرت دونوں کا خسارہ ہے ۔ ان کا اپنا بھی خسارہ ہے اور آنے والی نسلوں کا بھی خسارہ ہے ۔ ان کا فکری خسارہ ہے اور روحانی خسارہ ہے اور انکی آزادی کا خسارہ ہے کہ اللہ نے تو انہیں انسانوں کی غلامی سے چھڑایا اور انہیں رب کی غلامی میں داخل کیا لیکن انہوں نے اپنے آپ کو اپنے جیسے بندوں کی غلامی میں دوبارہ داخل کردیا ۔ اور ان انسانوں کو اپنا حاکم بنا لیا ۔ ان تمام امور سے صرف نظر بھی کیا جائے تو انہوں نے ضلالت اختیار کرلی ہے اور ہدایت کی راہ کو ترک کردیا ہے ۔
آیت ” قَدْ ضَلُّواْ وَمَا کَانُواْ مُہْتَدِیْنَ (140)
” یقینا وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے ۔ “
اس کے بعد قرآن کریم انہیں اس کائنات کی پہلی حقیقت کی طرف لاتا ہے جسے انہوں نے بھلادیا تھا اور آغاز کلام میں آیت ۔
آیت ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ “۔ (6 : 136) میں اشارہ کردیا تھا ۔ انہیں اس حقیقت کی طرف لایا جاتا ہے کہ جن فصلوں اور مویشیوں کے متعلق وہ ایسے نامعقول قواعد واضع کرتے ہیں ‘ ان کی ماہیت کیا ہے اور ان کا اصل اور مصدر کیا ہے ۔ وہ ان کے بارے میں جنوں اور انسانوں کے شیاطین کی ہدایات لیتے ہیں جبکہ ان کو ان جنوں اور شیطانوں نے پیدا نہیں کیا ۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے ان فصلوں اور مویشیوں کو پیدا کیا ۔ ان چیزوں کو تمہارے سازوسامان کے طور پر پیدا کیا گیا اور تم انہیں استعمال کر رہے ہو ۔ تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم شکر خدا وندی بجا لاؤ اور صرف اللہ کی عبادت کرو ‘ حالانکہ اللہ کو تمہارے شکر اور تمہاری بندگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ کیونکہ وہ تو غنی اور رحمتوں والا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ حقائق و عقائد تو خود انسانوں کی دنیا وآخرت کو سدھارنے کے لئے بتلائے جاتے ہیں جو ان میں سے کسی ایک چیز کے مالک و خالق نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ کے پیدا کردہ فصل اور مویشی ہیں لیکن انسان اللہ کی مخلوق کو تقسیم کر کے کچھ بتوں کو دے دیتے ہیں اور کچھ اللہ کے لئے مخصوص کرتے ہیں ۔ پھر اللہ کے حصے کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں اور یوں شیطانوں کو خوش کرتے ہیں ۔
حالانکہ اللہ ہی خالق ‘ مالک اور رازق ورب ہے ‘ اور ان مالوں میں کوئی تصرف اس کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ اس کا اذن اسلامی شریعت کی صورت میں موجود ہے ۔ اور یہ شریعت اللہ کی جانب سے رسول اللہ لائے ہیں ۔ اللہ کا اذن ان غاصبوں کے جاری کردہ قوانین کو حاصل نہیں ہے ۔ جنہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کو غضب کرلیا ہے ۔
الأنعام 6:141
آیت ” نمبر 141 تا 142۔
اللہ وہ ذات ہے جس نے ابتداء ان باغات کو پیدا کیا لہذا وہی ہے جو ایک مردہ سے زندہ چیز کو نکالتا ہے ۔ ان باغوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو تاکستان کی شکل کے ہیں اور انسان انہیں اگاتا ہے ۔ اور ان کے اردگرد باڑ لگاتا ہے اور کچھ نخلستان کی شکل کے ہیں ۔ جو خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور ان کو انسان کی جانب سے کسی قسم کی اعانت کی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ اور فصلیں اس نے اگائیں ۔ زیتون اور انار اس نے پیدا کیے اور قسم قسم کے پھل ہیں جو ملتے جلتے بھی ہیں اور جدا جدا بھی ہیں ۔ پھر حیوانات بھی اس نے پیدا کیے جن میں سے بعض اونچے قد کے ہیں اور کچھ چھوٹے جسم کے ہیں اور وہ تمہارے کھانے کے لئے اور لباس کے لئے ہیں اور جن کے بالوں سے تم فرش وقالین بناتے ہو۔
اور یہ اللہ ہی ہے جس نے اس کرہ ارض پر رنگا رنگ زندہ مخلوقات کو پھیلایا اور اس مخلوقات کی رنگارنگی حیرت انگیز ہے ۔ اور پھر اس مخلوق کو ان فرائض کیلئے نہایت ہی ساز گار ماحول دیا جو انسان کو اس کرہ ارض پر ادا کرتے ہیں ان کو ان ضروریات کے لئے بھی موافق بنایا جو انسان کی زندگی کے لئے لابدی ہیں ۔ ان آیات و دلائل اور ان رنگا رنگ مخلوقات کو دیکھ کر ایک انسان کس طرح کچھ اثر لئے بغیر گزر سکتا ہے ۔ پھر بھی وہ اس مخلوق اور ان زرعی اجناس میں اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت و اختیارات کو تسلیم کرتا ہے ۔
قرآن کریم بار بار اس رزق کا ذکر کرتا ہے جو انسان کے لئے اللہ نے اس کرہ ارض پر بکھیر دیا ہے اس متنوع رزق کو اس بات پر دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ اگر رازق وہ ہے تو حاکم بھی وہی ہے ۔ انسانوں پر اس کی حکومت چلنی چاہئے ۔ اس لئے کہ جو خالق ہے ‘ رازق ہے ‘ رب ہے اور پوری زندگی میں کفیل ہے ‘ صرف وہی اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ زرعی اجناس اور مویشیوں اور پوری زندگی کے معاملات میں اسے اپنا حاکم ‘ مختار اور قانون ساز سمجھیں ۔ اور اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو ۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے باغات اور پھلوں کے کئی مناظر کی طرف اشارہ کیا ہے مختلف قسم کے جانوروں کا ذکر کیا ہے اور بتلایا ہے کہ یہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں۔ اس سے پہلے ان مناظر سے اللہ کی الوہیت اور خدائی پر استدلال کیا گیا ہے ۔ اور یہاں اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے ذکر سے اپنے حق حکمرانی پر استدلال کرتا ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ الوہیت اور حاکمیت دراصل ایک ہی حقیقت ہے ۔ وہی حاکم ہے اور یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے ۔
(لاالہ الا اللہ لا حاکم الا اللہ) اب فصلوں اور پھلوں کے ذکر کے بعد یہ حکم ہے ۔ ایک قانون کی طرف اشارہ ۔
آیت ” کُلُواْ مِن ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (141)
” کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ جب تم اس کی فصل کاٹو تو اللہ کا حق دو ‘ اس فقرے کی وجہ سے بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے ۔ لیکن ہم نے اس سورة کے مقدمہ میں اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ یہ آیت مکی ہے ۔ اور اگر اس سورة سے اس آیت کو علیحدہ کردیاجائے تو بات مکمل نہیں ہوتی ۔ اس آیت سے قبل کا کلام اور بعد کا کلام ایک دوسرے سے اس وقت تک کٹ جاتا ہے جب تک یہ آیت مدینہ میں نازل نہیں ہوجاتی ‘ لہذا یہ بات درست نہیں ہے ۔ پھر ضروری نہیں ہے کہ اللہ کا حق جس کا اس سورة میں ذکر ہے وہ زکوۃ ہی ہو ۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اس سے مراد مقدمہ ہے ۔ رہی زکوۃ تو اپنی متعین شرح کے ساتھ تو وہ ہجرت کے بعد دوسرے سال میں فرض ہوئی ۔
آیت ” وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (141)
” اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔
یہ آیت کھانے پر بھی مناسب حد بندی ہے اور عطا پر بھی مناسب حد بندی عائد کرتی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ مسلمان جب دینے لگے تو حد سے گزر گئے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ” اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اسلام ہر بات میں اعتدال کو پسند کرتا ہے ۔
آیت ” وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَۃً وَفَرْشاً کُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(14
” پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کئے جن سے سواری وبار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں ۔ کھاؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “
مویشیوں کے ذکر میں یہ کہا گیا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ انسان کو یہ یاد دلانا مطلوب ہے کہ یہ تمام مخلوق اللہ کی پیدا کردہ ہے ۔ شیطان کسی چیز کا خالق نہیں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب شیطان کا کچھ ہے ہی نہیں تو پھر یہ کیا ہے کہ نعمتیں اللہ کی اور پیروی شیطان کی ؟ جبکہ معلوم ہے کہ شیطان ہے بھی کھلا دشمن ۔ کیا سوچتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی چیزیں استعمال کرکے شیطان کی پیروی کرتے ہو اور وہ تو کھلا دشمن ہے ۔
اب قرآن کریم نہایت ہی گہرائی میں جا کر ادہام جاہلیت کو تلاش کرتا ہے ۔ نہایت ہی خفیہ گوشوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور ایک ایک خفیہ گوشے کو روشنی میں لایا جاتا ہے ۔ ایسے ایسے گوشے واضح کرتا ہے جو بادی النظر میں بھی نامعقول ہیں اور ان کی کوئی توجہیہ نہیں کی جاسکتی اور بعض اوقات تو ان ادہام میں مبتلا لوگوں کو بہت زیادہ شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے ۔ خصوصا اس وقت جب ان کی یہ حرکات کھلے میدان میں آشکارا ہوجاتی ہیں اور جب وہ دیکھ لیتے ہیں کہ انکے ان ادہام کی پشت پر نہ کوئی سند ہے ‘ نہ کوئی کتاب منیر ہے اور نہ کوئی عقلی دلیل ہے ۔
الأنعام 6:142
آیت ” نمبر 141 تا 142۔
اللہ وہ ذات ہے جس نے ابتداء ان باغات کو پیدا کیا لہذا وہی ہے جو ایک مردہ سے زندہ چیز کو نکالتا ہے ۔ ان باغوں میں سے کچھ تو ایسے ہیں جو تاکستان کی شکل کے ہیں اور انسان انہیں اگاتا ہے ۔ اور ان کے اردگرد باڑ لگاتا ہے اور کچھ نخلستان کی شکل کے ہیں ۔ جو خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور ان کو انسان کی جانب سے کسی قسم کی اعانت کی ضرورت نہیں ہے ۔ کچھ اور فصلیں اس نے اگائیں ۔ زیتون اور انار اس نے پیدا کیے اور قسم قسم کے پھل ہیں جو ملتے جلتے بھی ہیں اور جدا جدا بھی ہیں ۔ پھر حیوانات بھی اس نے پیدا کیے جن میں سے بعض اونچے قد کے ہیں اور کچھ چھوٹے جسم کے ہیں اور وہ تمہارے کھانے کے لئے اور لباس کے لئے ہیں اور جن کے بالوں سے تم فرش وقالین بناتے ہو۔
اور یہ اللہ ہی ہے جس نے اس کرہ ارض پر رنگا رنگ زندہ مخلوقات کو پھیلایا اور اس مخلوقات کی رنگارنگی حیرت انگیز ہے ۔ اور پھر اس مخلوق کو ان فرائض کیلئے نہایت ہی ساز گار ماحول دیا جو انسان کو اس کرہ ارض پر ادا کرتے ہیں ان کو ان ضروریات کے لئے بھی موافق بنایا جو انسان کی زندگی کے لئے لابدی ہیں ۔ ان آیات و دلائل اور ان رنگا رنگ مخلوقات کو دیکھ کر ایک انسان کس طرح کچھ اثر لئے بغیر گزر سکتا ہے ۔ پھر بھی وہ اس مخلوق اور ان زرعی اجناس میں اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت و اختیارات کو تسلیم کرتا ہے ۔
قرآن کریم بار بار اس رزق کا ذکر کرتا ہے جو انسان کے لئے اللہ نے اس کرہ ارض پر بکھیر دیا ہے اس متنوع رزق کو اس بات پر دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ اگر رازق وہ ہے تو حاکم بھی وہی ہے ۔ انسانوں پر اس کی حکومت چلنی چاہئے ۔ اس لئے کہ جو خالق ہے ‘ رازق ہے ‘ رب ہے اور پوری زندگی میں کفیل ہے ‘ صرف وہی اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ زرعی اجناس اور مویشیوں اور پوری زندگی کے معاملات میں اسے اپنا حاکم ‘ مختار اور قانون ساز سمجھیں ۔ اور اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو ۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے باغات اور پھلوں کے کئی مناظر کی طرف اشارہ کیا ہے مختلف قسم کے جانوروں کا ذکر کیا ہے اور بتلایا ہے کہ یہ تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں۔ اس سے پہلے ان مناظر سے اللہ کی الوہیت اور خدائی پر استدلال کیا گیا ہے ۔ اور یہاں اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے ذکر سے اپنے حق حکمرانی پر استدلال کرتا ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ الوہیت اور حاکمیت دراصل ایک ہی حقیقت ہے ۔ وہی حاکم ہے اور یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے ۔
(لاالہ الا اللہ لا حاکم الا اللہ) اب فصلوں اور پھلوں کے ذکر کے بعد یہ حکم ہے ۔ ایک قانون کی طرف اشارہ ۔
آیت ” کُلُواْ مِن ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (141)
” کھاؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ جب تم اس کی فصل کاٹو تو اللہ کا حق دو ‘ اس فقرے کی وجہ سے بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے ۔ لیکن ہم نے اس سورة کے مقدمہ میں اچھی طرح واضح کردیا ہے کہ یہ آیت مکی ہے ۔ اور اگر اس سورة سے اس آیت کو علیحدہ کردیاجائے تو بات مکمل نہیں ہوتی ۔ اس آیت سے قبل کا کلام اور بعد کا کلام ایک دوسرے سے اس وقت تک کٹ جاتا ہے جب تک یہ آیت مدینہ میں نازل نہیں ہوجاتی ‘ لہذا یہ بات درست نہیں ہے ۔ پھر ضروری نہیں ہے کہ اللہ کا حق جس کا اس سورة میں ذکر ہے وہ زکوۃ ہی ہو ۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اس سے مراد مقدمہ ہے ۔ رہی زکوۃ تو اپنی متعین شرح کے ساتھ تو وہ ہجرت کے بعد دوسرے سال میں فرض ہوئی ۔
آیت ” وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (141)
” اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔
یہ آیت کھانے پر بھی مناسب حد بندی ہے اور عطا پر بھی مناسب حد بندی عائد کرتی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ مسلمان جب دینے لگے تو حد سے گزر گئے ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ” اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا “۔ اسلام ہر بات میں اعتدال کو پسند کرتا ہے ۔
آیت ” وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَۃً وَفَرْشاً کُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(14
” پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کئے جن سے سواری وبار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں ۔ کھاؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “
مویشیوں کے ذکر میں یہ کہا گیا ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ انسان کو یہ یاد دلانا مطلوب ہے کہ یہ تمام مخلوق اللہ کی پیدا کردہ ہے ۔ شیطان کسی چیز کا خالق نہیں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جب شیطان کا کچھ ہے ہی نہیں تو پھر یہ کیا ہے کہ نعمتیں اللہ کی اور پیروی شیطان کی ؟ جبکہ معلوم ہے کہ شیطان ہے بھی کھلا دشمن ۔ کیا سوچتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی چیزیں استعمال کرکے شیطان کی پیروی کرتے ہو اور وہ تو کھلا دشمن ہے ۔
اب قرآن کریم نہایت ہی گہرائی میں جا کر ادہام جاہلیت کو تلاش کرتا ہے ۔ نہایت ہی خفیہ گوشوں پر روشنی ڈالی جاتی ہے اور ایک ایک خفیہ گوشے کو روشنی میں لایا جاتا ہے ۔ ایسے ایسے گوشے واضح کرتا ہے جو بادی النظر میں بھی نامعقول ہیں اور ان کی کوئی توجہیہ نہیں کی جاسکتی اور بعض اوقات تو ان ادہام میں مبتلا لوگوں کو بہت زیادہ شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے ۔ خصوصا اس وقت جب ان کی یہ حرکات کھلے میدان میں آشکارا ہوجاتی ہیں اور جب وہ دیکھ لیتے ہیں کہ انکے ان ادہام کی پشت پر نہ کوئی سند ہے ‘ نہ کوئی کتاب منیر ہے اور نہ کوئی عقلی دلیل ہے ۔
الأنعام 6:143
آیت ” نمبر 142 تا 144۔
یہ مویشی جن کے بارے میں تنازعہ چل رہا ہے اور جن کے بارے میں آیت سابقہ میں یہ کہا گیا کہ یہ صرف اللہ کی مخلوق ہے ان کے آٹھ سیٹ ہیں لفظ ” ازواج “ اس وقت بولا جاتا ہے جب نر اور مادہ دونوں ہوں ‘ زوج کے معنے جوڑا ‘ ایک جوڑا بھیڑوں کا اور ایک بکریوں کا ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو اللہ نے کن لوگوں پر حرام قرار دیا ہے ؟ یا انکے پیٹ میں جو جنین ہیں ان کے بارے میں حرمت کا حکم کہاں ہے ؟ـ اگر تم سچے ہو تو بناؤ۔
آیت ” نَبِّؤُونِیْ بِعِلْمٍ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (143) اس لئے کہ حلال و حرام کے فیصلے محض ظن وتخمین سے تو نہیں ہو سکتے نہ ہی اٹکل بچو سے اس معاملے میں کوئی فتوی دیا جاسکتا ہے ۔ نہ اس بارے میں معلوم اور مسلم سند کے بغیر کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے ۔
باقی جوڑے نر اونٹ اور مادہ اونٹ ‘ بیل اور گائے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ انکے بارے میں حلال وحرم کا حکم کہاں ہے ؟ یا ان کے جنین کے بارے میں حکم کہاں ہے اور کس نے دیا ہے ؟
آیت ” أَمْ کُنتُمْ شُہَدَاء إِذْ وَصَّاکُمُ اللّہُ بِہَـذَا “۔ (6 : 144) ” کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم دیا تھا ؟ “
یعنی تم حاضر تھے اور تم اس بات کے گواہ ہو کہ اللہ نے اس کا حکم تمہیں دیا ہے ۔ اس لئے کہ کوئی چیز حلال و حرام تو صرف اللہ کے حکم سے ہوسکتی ہے اور حکم بھی یقینی ہو ۔ محض ظن وتخمین سے اس معاملے میں بات نہیں ہو سکتی ۔
اس آیت سے معلوم ہوجاتا ہے کہ قانون ساز صرف اللہ ہے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ جو قانون بناتے ہیں وہ قانون الہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ فورا ان کو متنبہ کرتے ہیں ۔
آیت ” فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (144)
” پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی راہنمائی کرے یقینا اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا ۔ “
اس شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے جو از خود قانون بنا کر اسے اللہ کا قانون بتلاتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ شریعت ہے ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کالانعام کو گمراہ کرے ۔ ایسا شخص لوگوں کو محض ظن کی طرف بلاتا ہے جبکہ ایسے لوگوں کے لئے ہدایت کی راہ مسدود ہوچکی ہے ۔ انہوں نے غلط راہ کو اپنا لیا ہے اور اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا ہے اور کسی ظالم کو اللہ راہ ہدایت نہیں دیتا ۔
اب جبکہ ان کے متعقدات ‘ تصورات اور ان کی عملی رسومات کے بودے پن کو ظاہر کردیا گیا اور یہ ثابت کردیا گیا کہ یہ سب کچھ محض وہمی ہے اور بےاصل ہے ‘ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ ان کے تصورات اور عقائد کسی علم و دلیل پر مبنی نہیں ہیں اور یہ کہ مویشیوں اور فصلوں کے بارے میں جو تصورات اور رسومات وہ رکھتے ہیں وہ یا تو انہوں نے از خود گھڑ لیے ہیں اور یا ان کے شیاطین نے ان پر القاء کئے ہیں حالانکہ یہ مویشی اور یہ فصل اور پھول پھل ان کے پیدا کردہ نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ کی تخلیق کے کمالات ہیں لہذا حاکمیت اور عبارت سب کی سب اللہ کے لئے مخصوص ہونی چاہیے ۔ اس لئے کہ مخلوق اس کی ہے ‘ رزق اس کا ہے اور لوگوں کو ہر قسم کے مال اس نے دیئے ہیں۔
اب اس تمہید کے بعد اللہ تعالیٰ بتلاتے ہیں کہ وہ کیا چیزیں ہیں جو اللہ نے حرام کی ہیں ۔ اور وہ چیزیں اللہ نے سچائی اور دلیل کی اساس پر حرام کی ہیں ‘ محض وہم و گمان کی بنا پر نہیں۔ کیونکہ اللہ وہی ذات ہے جس کو حاکمیت کا حق حاصل ہے ‘ جسے قانون سازی کا حق ہے ۔ یہ اللہ ہی کا منصب اور مقام ہے کہ وہ جس چیز کو حلال کرے اور وہ حلال ہے اور جس کو حرام کرے تو وہ حرام ہے ۔ اس کام میں کوئی انسان نہ شریک ہے اور نہ کوئی اس میں کسی قسم کی مداخلت کرسکتا ہے ۔ اللہ کی حاکمیت اور اس کی قانون سازی پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے ۔ موقعہ کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے یہاں وہ چیزیں بھی گنوا دیں جو یہودیوں پر حرام تھیں اور مسلمانوں کے لئے حلال کردی گئیں ‘ اس لئے کہ وہ یہودیوں پر بطور سزا حرام کی گئی تھیں کیونکہ وہ ظلم وشرک میں مبتلا ہوگئے تھے اور اللہ کی شریعت سے دور ہوگئے تھے ۔
الأنعام 6:144
آیت ” نمبر 142 تا 144۔
یہ مویشی جن کے بارے میں تنازعہ چل رہا ہے اور جن کے بارے میں آیت سابقہ میں یہ کہا گیا کہ یہ صرف اللہ کی مخلوق ہے ان کے آٹھ سیٹ ہیں لفظ ” ازواج “ اس وقت بولا جاتا ہے جب نر اور مادہ دونوں ہوں ‘ زوج کے معنے جوڑا ‘ ایک جوڑا بھیڑوں کا اور ایک بکریوں کا ۔ سوال یہ ہے کہ ان کو اللہ نے کن لوگوں پر حرام قرار دیا ہے ؟ یا انکے پیٹ میں جو جنین ہیں ان کے بارے میں حرمت کا حکم کہاں ہے ؟ـ اگر تم سچے ہو تو بناؤ۔
آیت ” نَبِّؤُونِیْ بِعِلْمٍ إِن کُنتُمْ صَادِقِیْنَ (143) اس لئے کہ حلال و حرام کے فیصلے محض ظن وتخمین سے تو نہیں ہو سکتے نہ ہی اٹکل بچو سے اس معاملے میں کوئی فتوی دیا جاسکتا ہے ۔ نہ اس بارے میں معلوم اور مسلم سند کے بغیر کوئی قانون بنایا جاسکتا ہے ۔
باقی جوڑے نر اونٹ اور مادہ اونٹ ‘ بیل اور گائے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ انکے بارے میں حلال وحرم کا حکم کہاں ہے ؟ یا ان کے جنین کے بارے میں حکم کہاں ہے اور کس نے دیا ہے ؟
آیت ” أَمْ کُنتُمْ شُہَدَاء إِذْ وَصَّاکُمُ اللّہُ بِہَـذَا “۔ (6 : 144) ” کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم دیا تھا ؟ “
یعنی تم حاضر تھے اور تم اس بات کے گواہ ہو کہ اللہ نے اس کا حکم تمہیں دیا ہے ۔ اس لئے کہ کوئی چیز حلال و حرام تو صرف اللہ کے حکم سے ہوسکتی ہے اور حکم بھی یقینی ہو ۔ محض ظن وتخمین سے اس معاملے میں بات نہیں ہو سکتی ۔
اس آیت سے معلوم ہوجاتا ہے کہ قانون ساز صرف اللہ ہے ۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ جو قانون بناتے ہیں وہ قانون الہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ فورا ان کو متنبہ کرتے ہیں ۔
آیت ” فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَی عَلَی اللّہِ کَذِباً لِیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْْرِ عِلْمٍ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (144)
” پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی بات کہے تاکہ علم کے بغیر لوگوں کی راہنمائی کرے یقینا اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا ۔ “
اس شخص سے بڑا ظالم اور کوئی نہیں ہے جو از خود قانون بنا کر اسے اللہ کا قانون بتلاتا ہے اور یہ دعوی کرتا ہے کہ یہ شریعت ہے ۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کالانعام کو گمراہ کرے ۔ ایسا شخص لوگوں کو محض ظن کی طرف بلاتا ہے جبکہ ایسے لوگوں کے لئے ہدایت کی راہ مسدود ہوچکی ہے ۔ انہوں نے غلط راہ کو اپنا لیا ہے اور اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب کرکے ظلم کا ارتکاب کیا ہے اور کسی ظالم کو اللہ راہ ہدایت نہیں دیتا ۔
اب جبکہ ان کے متعقدات ‘ تصورات اور ان کی عملی رسومات کے بودے پن کو ظاہر کردیا گیا اور یہ ثابت کردیا گیا کہ یہ سب کچھ محض وہمی ہے اور بےاصل ہے ‘ اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ ان کے تصورات اور عقائد کسی علم و دلیل پر مبنی نہیں ہیں اور یہ کہ مویشیوں اور فصلوں کے بارے میں جو تصورات اور رسومات وہ رکھتے ہیں وہ یا تو انہوں نے از خود گھڑ لیے ہیں اور یا ان کے شیاطین نے ان پر القاء کئے ہیں حالانکہ یہ مویشی اور یہ فصل اور پھول پھل ان کے پیدا کردہ نہیں ہیں ۔ یہ تو اللہ کی تخلیق کے کمالات ہیں لہذا حاکمیت اور عبارت سب کی سب اللہ کے لئے مخصوص ہونی چاہیے ۔ اس لئے کہ مخلوق اس کی ہے ‘ رزق اس کا ہے اور لوگوں کو ہر قسم کے مال اس نے دیئے ہیں۔
اب اس تمہید کے بعد اللہ تعالیٰ بتلاتے ہیں کہ وہ کیا چیزیں ہیں جو اللہ نے حرام کی ہیں ۔ اور وہ چیزیں اللہ نے سچائی اور دلیل کی اساس پر حرام کی ہیں ‘ محض وہم و گمان کی بنا پر نہیں۔ کیونکہ اللہ وہی ذات ہے جس کو حاکمیت کا حق حاصل ہے ‘ جسے قانون سازی کا حق ہے ۔ یہ اللہ ہی کا منصب اور مقام ہے کہ وہ جس چیز کو حلال کرے اور وہ حلال ہے اور جس کو حرام کرے تو وہ حرام ہے ۔ اس کام میں کوئی انسان نہ شریک ہے اور نہ کوئی اس میں کسی قسم کی مداخلت کرسکتا ہے ۔ اللہ کی حاکمیت اور اس کی قانون سازی پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے ۔ موقعہ کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے یہاں وہ چیزیں بھی گنوا دیں جو یہودیوں پر حرام تھیں اور مسلمانوں کے لئے حلال کردی گئیں ‘ اس لئے کہ وہ یہودیوں پر بطور سزا حرام کی گئی تھیں کیونکہ وہ ظلم وشرک میں مبتلا ہوگئے تھے اور اللہ کی شریعت سے دور ہوگئے تھے ۔
الأنعام 6:145
آیت ” نمبر 145 تا 146۔
” ابن جریر طبری لکھتے ہیں ” اللہ اپنے نبی سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں اے محمد ! ان لوگوں سے یہ کہہ دیں جنہوں نے اللہ کی پیدا کردہ فصلوں اور مویشیوں میں ایک حصہ اللہ کے لئے مخصوص کردیا ہے اور ایک حصہ اپنے ان معبودوں کے لئے مخصوص کردیا ہے جو خود انہوں نے اللہ کے شریک قرار دیئے ہیں ۔ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور یہ فصل اور لوگوں کے ممنوع ہے اور اسے صرف وہی لوگ استعمال کرسکتے ہیں جن کے بارے میں ہم چاہیں یہ قانون وہ بزعم خود بناتے ہیں جو بعض جانوروں پر بار برداری کو حرام کرتے ہیں اور بعض جانور ایسے ہیں جن پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا جائز نہیں سمجھتے ۔ وہ بعض جانوروں کے پیٹ میں جنین کو اپنی عورتوں اور بیویوں کے لئے حرام قرار دیتے ہیں اور مردوں کے لئے حلال قرار دیتے ہیں ۔ وہ اللہ کے پیدا کردہ بعض دوسرے ارزاق کو حرام قرار دیتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ یہ قوانین و ضوابط اللہ کے بنائے ہوئے ہیں ۔ ان کے یہ کام شرک کے زمرے میں آتے ہیں ۔ ان سے پوچھو ! کہ آیا اللہ کی جانب سے کوئی رسول آیا تھا جس نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا تو بتاؤ وہ کون سا رسول تھا یا اللہ نے جب ان چیزوں کو حرام قرار دیا تو تم خود اس مجلس میں موجود تھے ۔ تم نے خود اللہ سے سنا ہے کہ یہ چیزیں حرام ہیں۔ اگر تم ایسا دعوی کرو تو بادی النظر میں یہ جھوٹا ہوگا اور تم عقلا ایسا دعوی کر ہی نہیں سکتے ۔ اگر تم ایسا دعوی کرو تو تمام جہان تمہاری تکذیب کر دے گا ۔ رہا یہ میرا معاملہ ‘ تو میرے اوپر جو کتاب قرآن نازل ہو رہی ہے اس میں کسی شخص پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہے جس کو تم حرام قرار دیتے ہو اور بزعم کود ” تم “ حرام قرار دیتے ہو ۔ میرے اوپر اللہ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ یہ ہیں کہ کوئی جانور مردار ہوگیا ہو ‘ بغیر ذبح کے مر گیا ہو یا بہایا ہوا خون ہو ‘ یا خنزیر کا گوشت حرام ہے اس لیے کہ یہ ناپاک ہے ‘ یا وہ گوشت جو فسق کا ہو ‘ مثلا وہ ذبیحہ جو مشرکین بتوں پر ذبح کرتے ہیں ‘ اپنے بتوں اور آستانوں پر اور ان پر بتوں کا نام لیا گیا ہو ‘ یہ ذبح اسلام میں فسق تصور ہوتا ہے ‘ اسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ یہ مردار تصور ہوتا ہے اور اس کا کھانا حرام ہے ۔ “
یہ اللہ کی جانب سے اعلان ہے ان مشرکین کے لئے جو حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ مردار کی حلت و حرمت کے مسئلے میں مجادلہ کرتے تھے کہ وہ جن چیزوں میں مجادلہ کرتے ہیں ان میں سے بعض اشیاء تو حرام ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور بعض اشیاء حلال ہیں جنہیں اللہ نے قرار دیا ہے ۔ ان حلال چیزوں کی حرمت کی نسبت جو وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اس میں وہ جھوٹے ہیں ۔ ابن جریر آیت (فمن اضطر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں : ” اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے مردار ‘ خون ‘ لحم خنزیر یا بتوں کے نام پر ذبح ہونے والے جانوروں کو حرام قرار دیا لیکن اگر کوئی اس کے کھانے پر مجبور ہوجائے ‘ بطور حکم عدولی نہ کھا رہا ہو اور یہ نہ ہو کہ حالت اضطرار میں نہ ہو اور اسی طرح وہ جان بوجھ کر حدود سے تجاوز نہ کر رہا ہو اور حد ضرورت کے اندر کھا رہا ہومثلا صرف اس قدر کھا رہا ہو کہ اس کی زندگی بچ جائے ‘ اس سے زیادہ نہ کھا رہا ہو تو اس قدر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ بیشک اللہ غفور ورحیم ہے اور وہ اس کی پردہ پوشی کرنے والا ہے ۔ اس پر اس کو کوئی سزا نہ ہوگی اور گناہ بخش دیا جائے گا ‘ یہ ہے مفہوم غفور کا ۔ اور رحیم اس لئے ہے کہ اس نے لوگوں پر رحم کرکے بوقت مجبوری جواز کا حکم دیا ۔ ورنہ اگر وہ چاہتا تو وہ ان چیزوں کے استعمال کو ہر حال میں حرام کردیتا۔ “
رہی وہ مقدار جو ان چیزوں سے کھائی جاسکتی ہے تو اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں ۔ ایک رائے یہ ہے کہ وہ صرف اسی قدر کھائے گا جس سے جان بچ جائے ‘ دوسری رائے یہ ہے کہ بقدر کفایت اور سیر ہوجانے تک کھا سکتا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ایک بار کھانے کے علاوہ دوسرے اوقات مجبور کے لئے ذخیرہ بھی کرسکتا ہے ۔ اگر اسے یہ ڈر ہو کہ آئندہ بھی رزق حلال نہ ملے گا ‘ مین ان اختلافات کی تفصیلات میں نہیں جاتا ۔ اس موضوع پر اسی قدر کافی ہے ۔
رہے یہودی تو ان پر وہ تمام جانور حرام کردیئے گئے تھے جن کے ناخن تھے ۔ یعنی وہ تمام حیوانات جن کے پاؤں پھاڑے ہوئے نہیں ہیں مثلا اونٹ ‘ شترمرغ ‘ مرغابی اور بطخ ۔ ان پر گائے اور بکریوں کی چربی بھی حرام کردی گئی تھی ‘ صرف پیٹھ کی چربی جائز تھی یا وہ چربی جو آنتوں کے ساتھ لگی ہوئی تھی یا جو ہڈیوں سے ملی ہوئی تھی ۔ یہ چیزیں ان پر بطور سزا حرام کی گئیں اور یہ سزا ان کو اس بغاوت کے نتیجے میں دی گئی جو وہ اللہ کے احکام اور قوانین سے کرتے تھے ۔
آیت ” وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْْہِمْ شُحُومَہُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُورُہُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِکَ جَزَیْْنَاہُم بِبَغْیِہِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ (146)
ٍ ” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجر اس کے کہ جو ان کی پیتھ یا آنتوں سے لگی ہوئی ہو ‘ یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا انہیں دی تھی ‘ اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں “۔
قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ وہ سبب بتا دیا جس کی وجہ سے ان پر یہ چیزیں حرام کردی گئی تھیں اور یہ حرمت یہودیوں کے ساتھ مخصوص تھی اور یہی حقیقی سبب تھا ۔ وہ سبب نہ تھا جو وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل یعنی حضرت یعقوب نے خود اپنے اوپر یہ چیزیں حرام کرلی تھیں اور اسرائیل کی اطاعت میں یہ لوگ بھی بدستور ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام کئے ہوئے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اشیاء حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لئے مباح اور حلال تھیں یعنی ان کے بعد جب انہوں نے سرکشی اختیار کی تو ان پر اللہ نے ان چیزوں کو حرام کردیا اور یا انہیں سزا دی ۔
الأنعام 6:146
آیت ” نمبر 145 تا 146۔
” ابن جریر طبری لکھتے ہیں ” اللہ اپنے نبی سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں اے محمد ! ان لوگوں سے یہ کہہ دیں جنہوں نے اللہ کی پیدا کردہ فصلوں اور مویشیوں میں ایک حصہ اللہ کے لئے مخصوص کردیا ہے اور ایک حصہ اپنے ان معبودوں کے لئے مخصوص کردیا ہے جو خود انہوں نے اللہ کے شریک قرار دیئے ہیں ۔ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ مویشی اور یہ فصل اور لوگوں کے ممنوع ہے اور اسے صرف وہی لوگ استعمال کرسکتے ہیں جن کے بارے میں ہم چاہیں یہ قانون وہ بزعم خود بناتے ہیں جو بعض جانوروں پر بار برداری کو حرام کرتے ہیں اور بعض جانور ایسے ہیں جن پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا جائز نہیں سمجھتے ۔ وہ بعض جانوروں کے پیٹ میں جنین کو اپنی عورتوں اور بیویوں کے لئے حرام قرار دیتے ہیں اور مردوں کے لئے حلال قرار دیتے ہیں ۔ وہ اللہ کے پیدا کردہ بعض دوسرے ارزاق کو حرام قرار دیتے ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ یہ قوانین و ضوابط اللہ کے بنائے ہوئے ہیں ۔ ان کے یہ کام شرک کے زمرے میں آتے ہیں ۔ ان سے پوچھو ! کہ آیا اللہ کی جانب سے کوئی رسول آیا تھا جس نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا تو بتاؤ وہ کون سا رسول تھا یا اللہ نے جب ان چیزوں کو حرام قرار دیا تو تم خود اس مجلس میں موجود تھے ۔ تم نے خود اللہ سے سنا ہے کہ یہ چیزیں حرام ہیں۔ اگر تم ایسا دعوی کرو تو بادی النظر میں یہ جھوٹا ہوگا اور تم عقلا ایسا دعوی کر ہی نہیں سکتے ۔ اگر تم ایسا دعوی کرو تو تمام جہان تمہاری تکذیب کر دے گا ۔ رہا یہ میرا معاملہ ‘ تو میرے اوپر جو کتاب قرآن نازل ہو رہی ہے اس میں کسی شخص پر کوئی ایسی چیز حرام نہیں ہے جس کو تم حرام قرار دیتے ہو اور بزعم کود ” تم “ حرام قرار دیتے ہو ۔ میرے اوپر اللہ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ یہ ہیں کہ کوئی جانور مردار ہوگیا ہو ‘ بغیر ذبح کے مر گیا ہو یا بہایا ہوا خون ہو ‘ یا خنزیر کا گوشت حرام ہے اس لیے کہ یہ ناپاک ہے ‘ یا وہ گوشت جو فسق کا ہو ‘ مثلا وہ ذبیحہ جو مشرکین بتوں پر ذبح کرتے ہیں ‘ اپنے بتوں اور آستانوں پر اور ان پر بتوں کا نام لیا گیا ہو ‘ یہ ذبح اسلام میں فسق تصور ہوتا ہے ‘ اسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور ایسا کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ یہ مردار تصور ہوتا ہے اور اس کا کھانا حرام ہے ۔ “
یہ اللہ کی جانب سے اعلان ہے ان مشرکین کے لئے جو حضور اکرم ﷺ کے ساتھ اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ مردار کی حلت و حرمت کے مسئلے میں مجادلہ کرتے تھے کہ وہ جن چیزوں میں مجادلہ کرتے ہیں ان میں سے بعض اشیاء تو حرام ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور بعض اشیاء حلال ہیں جنہیں اللہ نے قرار دیا ہے ۔ ان حلال چیزوں کی حرمت کی نسبت جو وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں اس میں وہ جھوٹے ہیں ۔ ابن جریر آیت (فمن اضطر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں : ” اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ نے مردار ‘ خون ‘ لحم خنزیر یا بتوں کے نام پر ذبح ہونے والے جانوروں کو حرام قرار دیا لیکن اگر کوئی اس کے کھانے پر مجبور ہوجائے ‘ بطور حکم عدولی نہ کھا رہا ہو اور یہ نہ ہو کہ حالت اضطرار میں نہ ہو اور اسی طرح وہ جان بوجھ کر حدود سے تجاوز نہ کر رہا ہو اور حد ضرورت کے اندر کھا رہا ہومثلا صرف اس قدر کھا رہا ہو کہ اس کی زندگی بچ جائے ‘ اس سے زیادہ نہ کھا رہا ہو تو اس قدر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ بیشک اللہ غفور ورحیم ہے اور وہ اس کی پردہ پوشی کرنے والا ہے ۔ اس پر اس کو کوئی سزا نہ ہوگی اور گناہ بخش دیا جائے گا ‘ یہ ہے مفہوم غفور کا ۔ اور رحیم اس لئے ہے کہ اس نے لوگوں پر رحم کرکے بوقت مجبوری جواز کا حکم دیا ۔ ورنہ اگر وہ چاہتا تو وہ ان چیزوں کے استعمال کو ہر حال میں حرام کردیتا۔ “
رہی وہ مقدار جو ان چیزوں سے کھائی جاسکتی ہے تو اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں ۔ ایک رائے یہ ہے کہ وہ صرف اسی قدر کھائے گا جس سے جان بچ جائے ‘ دوسری رائے یہ ہے کہ بقدر کفایت اور سیر ہوجانے تک کھا سکتا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ایک بار کھانے کے علاوہ دوسرے اوقات مجبور کے لئے ذخیرہ بھی کرسکتا ہے ۔ اگر اسے یہ ڈر ہو کہ آئندہ بھی رزق حلال نہ ملے گا ‘ مین ان اختلافات کی تفصیلات میں نہیں جاتا ۔ اس موضوع پر اسی قدر کافی ہے ۔
رہے یہودی تو ان پر وہ تمام جانور حرام کردیئے گئے تھے جن کے ناخن تھے ۔ یعنی وہ تمام حیوانات جن کے پاؤں پھاڑے ہوئے نہیں ہیں مثلا اونٹ ‘ شترمرغ ‘ مرغابی اور بطخ ۔ ان پر گائے اور بکریوں کی چربی بھی حرام کردی گئی تھی ‘ صرف پیٹھ کی چربی جائز تھی یا وہ چربی جو آنتوں کے ساتھ لگی ہوئی تھی یا جو ہڈیوں سے ملی ہوئی تھی ۔ یہ چیزیں ان پر بطور سزا حرام کی گئیں اور یہ سزا ان کو اس بغاوت کے نتیجے میں دی گئی جو وہ اللہ کے احکام اور قوانین سے کرتے تھے ۔
آیت ” وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا کُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْْہِمْ شُحُومَہُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُورُہُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذَلِکَ جَزَیْْنَاہُم بِبَغْیِہِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ (146)
ٍ ” اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجر اس کے کہ جو ان کی پیتھ یا آنتوں سے لگی ہوئی ہو ‘ یا ہڈی سے لگی رہ جائے ۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا انہیں دی تھی ‘ اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں “۔
قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ وہ سبب بتا دیا جس کی وجہ سے ان پر یہ چیزیں حرام کردی گئی تھیں اور یہ حرمت یہودیوں کے ساتھ مخصوص تھی اور یہی حقیقی سبب تھا ۔ وہ سبب نہ تھا جو وہ کہتے ہیں کہ اسرائیل یعنی حضرت یعقوب نے خود اپنے اوپر یہ چیزیں حرام کرلی تھیں اور اسرائیل کی اطاعت میں یہ لوگ بھی بدستور ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام کئے ہوئے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اشیاء حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لئے مباح اور حلال تھیں یعنی ان کے بعد جب انہوں نے سرکشی اختیار کی تو ان پر اللہ نے ان چیزوں کو حرام کردیا اور یا انہیں سزا دی ۔
الأنعام 6:147
آیت ” نمبر 147۔
اس کا دامن رحمت بہت وسیع ہے اور یہ رحمت ہمارے لئے بھی وسیع ہے اور اس سے پہلے کے مومنین کے لئے بھی وسیع تھی اور مومنین کے علاوہ تمام مخلوقات کے لئے بھی اس میں وسعت ہے کیونکہ وہ تو محسن ہے ۔ دوست کے لئے بھی رحیم ہے اور دشمن کے لئے بھی رحیم ہے ۔ اگر مجرم عذاب کے مستحق ہوں تو بھی وہ نفاذ عذاب میں جلدی نہیں کرتا اور یہ اس کی شان کریمی ہے اور اس ڈھیل کے عرصہ میں کئی لوگ توبہ کرلیتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن ان کا عذاب نہایت ہی سخت ہے ۔ صرف اس کا حلم ہی اسے اہل ایمان سے رد کرسکتا ہے ۔ اللہ کے نظام فضا وقدر میں جو وقت متعین ہے اس وقت تک ہی وہ مؤخر ہو سکتا ہے ۔
اس آیت میں اگرچہ شمع امید کو بھی روشن رکھا گیا ہے اور انسان کو مایوس نہیں کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تنبیہ بھی موجود ہے کہ وہ حد سے نہ گزرے اور اللہ وہ ذات ہے جس نے لوگوں کے دل و دماغ کو پیدا کیا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان کے لئے یہ دونوں باتیں ضروری ہیں تاکہ وہ ڈر جائیں ‘ اپنے رویے پر غور کریں اور دعوت اسلامی کو قبول کرلیں ۔
جب بات یہاں تک پہنچتی ہے اور اہل ضلالت کے لئے کوئی مفر نہیں رہتا ۔ جب ان کے پاس کوئی استدلال نہیں رہتا اور تمام بھاگنے کے راستے بند ہوجاتے ہیں تو قرآن کریم ان کے فرار کے آخری راستے کو بھی بند کردیتا ہے ۔ ان کے گمراہانہ تصورات ‘ شرکیہ عقائد اور بےمعنی اعمال کے لئے ایک راہ موجود تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ وہ اپنا کوئی اختیار نہیں رکھتے ‘ وہ تو مجبور ہیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ نہ ایسے تصورات رکھتے ‘ نہ غلط عقائد ان کے ہوتے اور نہ وہ بداعمالیوں میں مبتلا ہوتے ۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ہمیں ان باتوں سے روک دیتا ۔ وہ تو قادر مطلق ہے اور اس کی قدرت پر کوئی قید نہیں ہے ۔
الأنعام 6:148
آیت ” نمبر 148 تا 149۔
افکار اسلامی کی تاریخ میں مسئلہ جبروقدر پر طویل مباحث رہے ہیں۔ اہل سنت اور معتزلہ اور مرجیہ اس میں باہم دست و گریبان رہے ہیں ۔ یونانی فلسفہ اور یونانی منطق جب عالم اسلام میں آئی تو اس نے بھی ان مباحث کو متاثر کیا ۔ پھر عیسائیوں کے فلسفہ لاہوت نے بھی اثرات ڈالے ۔ اور اس کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا کہ یہ اسلام کے واضح اور حقیقت پسندانہ تصور کے لئے ناقابل فہم بنا گیا ۔ اگر اس مسئلے پر قرآن کے سنجیدہ ‘ حقیقت پسندانہ اور ڈائرکٹ انداز میں غور کیا جاتا تو یہ جدل وجدال نہ ہوتا اور یہ بحث وہ رخ اختیار نہ کرتی جو اس نے اختیار کیا ۔
جب ہم مشرکین کے قول کو پڑھتے ہیں اور اس کو قرآن کریم نے جس سادہ اور واضح انداز میں رد کیا اسے دیکھتے ہیں تو یہ بہت ہی سادہ اور قابل فہم نظر آتا ہے ۔
آیت ” سَیَقُولُ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ لَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَیْْء ٍ “۔ (6 : 148)
” یہ مشرک لوگ ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔ “
ان کا مقصد یہ تھا کہ انہوں نے جو شرک کیا ‘ ان کے آبا نے جو شرک کیا یا انہوں نے از خود جن چیزوں کو حرام قرار دیا اللہ نے انہیں حرام قرار دیا تھا اور ان کا یہ دعوی کرنا کہ یہ اللہ کی جانب سے مقرر کردہ شریعت ہے اور بلادلیل یہ دعوی کرنا کہ یہ سب امور اللہ کی مشیت کے مطابق چل رہے ہیں۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے ۔ اور نہ ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ۔ یہ سب بیکار باتیں ہیں۔
اب دیکھئے کہ قرآن کریم ان کے اس فلسفے کی تردید کس طرح کرتا ہے ۔ قرآن کریم صرف یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ بعینہ اسی طرح جھوٹ بول رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے لوگوں نے جھوٹ بولا ۔ اور اس سے پہلے جن لوگوں نے جھوٹ بولا انہوں نے تو اپنے جھوٹ کا مزہ چکھ لیا ہے اور اب یہ نئے مکذبین آگئے ہیں اور اللہ کا عذاب ان کے انتظار اور استقبال میں ہے ۔
آیت ” ٍ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم حَتَّی ذَاقُواْ بَأْسَنَا “۔ (6 : 148)
” ایسی ہی باتیں بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزہ انہوں نے چکھ لیا ۔ “
یہ وہ تنبیہ ہے جو سوچنے والے کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے ۔ غافل سے غافل انسان بھی ہوش میں آجاتا ہے اور انجام کو سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔
اب ایک دوسری تنبیہ ہے جس کے ذریعے ان کی فکری اصلاح مطلوب ہے ۔ یہ کہ اللہ نے کچھ احکامات واوامر دیئے ہیں اور بعض چیزوں سے منع کیا ہے اور انہیں حرام قرار دیا ہے ۔ ان چیزوں کے بارے میں وہ یقینی اور ناقابل شک علم حاصل کرسکتے ہیں ۔ رہی اللہ کی مشیت اور اس کا نظام تو وہ ایک پوشیدہ نظام ہے اور اس کی اصل حقیقت تک پہنچنا انسان کی قوت مدرکہ کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ وہ کس طرح جان سکتے ہیں کہ اللہ کی مشیت کیا ہے ۔ اور جب انسان اللہ کے نظام قضا وقدر کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تو وہ کسی کے فعل کو کس طرح نظام قضا وقدر کی طرف منسوب کرسکتا ہے ۔
آیت ” قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ (148)
” ان سے کہو ’ ” کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “
اللہ نے جو احکام دیئے یا اس کی جانب سے جو منہیات ہیں ‘ وہ معلوم ہیں اور ان کے بارے میں قطعی علم ہمارے پاس قرآن میں موجود ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ان قطعی معلومات کو چھوڑ کر محض ظن وتخمین کے سراب کے پیچھے کیوں دوڑتے ہیں اور اس وادی میں کیوں قدم رکھتے ہیں جس کے نشیب و فراز سے وہ واقف نہیں ہیں۔
میں سمجھتا ہوں مسئلہ جبروقدر میں یہ ایک فیصلہ کن بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس بات کا مکلف نہیں بناتا کہ وہ اللہ کے نظام قضا وقدر کا علم حاصل کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں ۔ اللہ کی جانب سے لوگوں پر صرف یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے اوامر اور منہیات کا علم حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں ۔ جب وہ اس سلسلے میں سعی شروع کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اللہ انہیں راہ ہدایت پر ڈال دیں گے اور ان کے دل اسلام کے لئے کھل جائیں گے ۔ مسئلہ قضا وقدر میں یہ ایک حقیقت پسندانہ اور عملی سوچ ہے اور انسان کے مسائل کے حل کے لئے کافی ہے یہ آسان بھی ہے ‘ واضح بھی ہے اور اس میں کوئی بحث و مباحثہ اور جدل وجدال نہیں ہے ۔ نہ تحکم اور سینہ زوری ہے ۔
اگر اللہ چاہتا تو آغاز ہی سے انسان کو اس طرح پیدا کرتا کہ وہ ہدایت کی راہ کے سوا کسی دوسری راہ پر چل ہی نہ سکتا یا اللہ انہیں مجبور کردیتا کہ وہ ہدایت اختیار کریں یا اللہ ان کے دلوں میں از خود ہدایت ڈال دیتا اور ان پر ہدایت کے لئے جبری ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی لیکن اللہ جل شانہ یہ نہیں چاہتے تھے ۔ اللہ کی مشیت یہ تھی کہ آدم کو قدرت واختیار دے کر اسے آزمائے اور یہ اختیار اس قدر ہو کہ وہ ہدایت وضلالت میں سے جس راہ پر چاہے اختیار کرے ۔ انسان جب کسی راہ کا آزادانہ ارادہ کرے تو اللہ پھر اس کی مدد کرے ‘ ہدایت کی طرف یا ضلالت کی طرف ‘ یعنی جو ضلالت کی طرف اشارہ کرے اس کے لئے وہ راہ بھی آسان ہو ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اس کی سنت جاری رہتی ہے ۔
آیت ” قُلْ فَلِلّہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ فَلَوْ شَاء لَہَدَاکُمْ أَجْمَعِیْنَ (149)
” پھر کہو (تمہاری حجت کے مقابلے میں) ” حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے ‘ بیشک اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔ “
اب یہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے اور قرآن اسے اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ ہر انسان اسے بسہولت سمجھ سکتا ہے ۔ رہی وہ علمی کشتیاں جو اس مسئلے پر ہوتی رہی اور وہ طویل جدل وجدال جو ہماری تاریخ کا حصہ ہے تو وہ اسلامی احساس اور اسلامی منہاج کے ساتھ لگا نہیں کھاتا ۔ نہ صرف یہ کہ اسلامی سوچ اسے قبول نہیں کرتی بلکہ یونانی فلسفے اور عیسائیوں کے ہاں لاہوتی مباحث بھی آج تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ۔ اس لئے کہ یہ مباحث جس انداز سے چلے وہ اس مسئلے کے مزاج کے خلاف تھا ۔
ہر حقیقت کی جو نوعیت ہوتی ہے اس کے مطابق ہی اسے لیا جاتا ہے اور اس پر بحث کے لئے اس کے حسب حال اسلوب اپنایا جاتا ہے ۔ جہاں تک مادی حقائق کا تعلق ہے ان کو بذریعہ تجربہ معلوم کیا جاسکتا ہے اور ریاضی حقائق کو ذہنی معروضات کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے لیکن جو حقائق مادی دنیا سے وراء ہیں ان کا اپنا منہاج بحث ہوتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر کہا یہ حقائق عملی نوعیت رکھتے ہیں اور انہیں عملی انداز میں اور حقیقت پسندانہ منہاج بحث کے ساتھ لینا چاہتے ۔ ان کو محض دینی مفروضوں کے انداز میں نہیں لینا چاہیے جس طرح ان کو پہلے بھی لیا گیا اور آج بھی لیا جا رہا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام میں اس دنیا میں اس لئے آیا تھا کہ یہاں ایک عملی صورت حالات پیدا کر دے ۔ وہ احکام اور منہیات پر مشتمل ہے اور یہ احکام اور منہیات واضح ہیں ۔ ان کے بارے میں نامعلوم مشیت الہیہ کو زیر بحث لانے کا مقصد یہ ہوگا کہ ہم کسی بےکنار صحرا میں بلا دلیل پڑجائیں اور اپنی قوتوں کو لاحاصل جدل وجدال اور بادیہ پیمائی میں صرف کردیں ۔
اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کو ہدایت کرتے ہیں ۔ کہ آپ اس قانون سازی میں اللہ کو بطور گواہ پیش فرمائیں ۔ اس طرح جس طرح اس سے پہلے حضور کو ہدایت ہوئی تھی کہ آپ اللہ کے اقتدار اعلی اور حاکمیت کے مسئلے میں بھی اللہ کی ذات کو بطور شہادت پیش فرمائیں ۔ اس سورة کے آغاز میں یہ فرمایا گیا تھا ۔
آیت ” قُلْ أَیُّ شَیْْء ٍ أَکْبَرُ شَہَادۃً قُلِ اللّہِ شَہِیْدٌ بِیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَکُم بِہِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19)
” ان سے پوچھو کس کی شہادت بڑھ کر ہے ؟ کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ “
اور یہاں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا :
الأنعام 6:149
آیت ” نمبر 148 تا 149۔
افکار اسلامی کی تاریخ میں مسئلہ جبروقدر پر طویل مباحث رہے ہیں۔ اہل سنت اور معتزلہ اور مرجیہ اس میں باہم دست و گریبان رہے ہیں ۔ یونانی فلسفہ اور یونانی منطق جب عالم اسلام میں آئی تو اس نے بھی ان مباحث کو متاثر کیا ۔ پھر عیسائیوں کے فلسفہ لاہوت نے بھی اثرات ڈالے ۔ اور اس کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا کہ یہ اسلام کے واضح اور حقیقت پسندانہ تصور کے لئے ناقابل فہم بنا گیا ۔ اگر اس مسئلے پر قرآن کے سنجیدہ ‘ حقیقت پسندانہ اور ڈائرکٹ انداز میں غور کیا جاتا تو یہ جدل وجدال نہ ہوتا اور یہ بحث وہ رخ اختیار نہ کرتی جو اس نے اختیار کیا ۔
جب ہم مشرکین کے قول کو پڑھتے ہیں اور اس کو قرآن کریم نے جس سادہ اور واضح انداز میں رد کیا اسے دیکھتے ہیں تو یہ بہت ہی سادہ اور قابل فہم نظر آتا ہے ۔
آیت ” سَیَقُولُ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ لَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَیْْء ٍ “۔ (6 : 148)
” یہ مشرک لوگ ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔ “
ان کا مقصد یہ تھا کہ انہوں نے جو شرک کیا ‘ ان کے آبا نے جو شرک کیا یا انہوں نے از خود جن چیزوں کو حرام قرار دیا اللہ نے انہیں حرام قرار دیا تھا اور ان کا یہ دعوی کرنا کہ یہ اللہ کی جانب سے مقرر کردہ شریعت ہے اور بلادلیل یہ دعوی کرنا کہ یہ سب امور اللہ کی مشیت کے مطابق چل رہے ہیں۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے ۔ اور نہ ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ۔ یہ سب بیکار باتیں ہیں۔
اب دیکھئے کہ قرآن کریم ان کے اس فلسفے کی تردید کس طرح کرتا ہے ۔ قرآن کریم صرف یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ بعینہ اسی طرح جھوٹ بول رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے لوگوں نے جھوٹ بولا ۔ اور اس سے پہلے جن لوگوں نے جھوٹ بولا انہوں نے تو اپنے جھوٹ کا مزہ چکھ لیا ہے اور اب یہ نئے مکذبین آگئے ہیں اور اللہ کا عذاب ان کے انتظار اور استقبال میں ہے ۔
آیت ” ٍ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم حَتَّی ذَاقُواْ بَأْسَنَا “۔ (6 : 148)
” ایسی ہی باتیں بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزہ انہوں نے چکھ لیا ۔ “
یہ وہ تنبیہ ہے جو سوچنے والے کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے ۔ غافل سے غافل انسان بھی ہوش میں آجاتا ہے اور انجام کو سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔
اب ایک دوسری تنبیہ ہے جس کے ذریعے ان کی فکری اصلاح مطلوب ہے ۔ یہ کہ اللہ نے کچھ احکامات واوامر دیئے ہیں اور بعض چیزوں سے منع کیا ہے اور انہیں حرام قرار دیا ہے ۔ ان چیزوں کے بارے میں وہ یقینی اور ناقابل شک علم حاصل کرسکتے ہیں ۔ رہی اللہ کی مشیت اور اس کا نظام تو وہ ایک پوشیدہ نظام ہے اور اس کی اصل حقیقت تک پہنچنا انسان کی قوت مدرکہ کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ وہ کس طرح جان سکتے ہیں کہ اللہ کی مشیت کیا ہے ۔ اور جب انسان اللہ کے نظام قضا وقدر کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تو وہ کسی کے فعل کو کس طرح نظام قضا وقدر کی طرف منسوب کرسکتا ہے ۔
آیت ” قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ (148)
” ان سے کہو ’ ” کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “
اللہ نے جو احکام دیئے یا اس کی جانب سے جو منہیات ہیں ‘ وہ معلوم ہیں اور ان کے بارے میں قطعی علم ہمارے پاس قرآن میں موجود ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ان قطعی معلومات کو چھوڑ کر محض ظن وتخمین کے سراب کے پیچھے کیوں دوڑتے ہیں اور اس وادی میں کیوں قدم رکھتے ہیں جس کے نشیب و فراز سے وہ واقف نہیں ہیں۔
میں سمجھتا ہوں مسئلہ جبروقدر میں یہ ایک فیصلہ کن بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس بات کا مکلف نہیں بناتا کہ وہ اللہ کے نظام قضا وقدر کا علم حاصل کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں ۔ اللہ کی جانب سے لوگوں پر صرف یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے اوامر اور منہیات کا علم حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں ۔ جب وہ اس سلسلے میں سعی شروع کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اللہ انہیں راہ ہدایت پر ڈال دیں گے اور ان کے دل اسلام کے لئے کھل جائیں گے ۔ مسئلہ قضا وقدر میں یہ ایک حقیقت پسندانہ اور عملی سوچ ہے اور انسان کے مسائل کے حل کے لئے کافی ہے یہ آسان بھی ہے ‘ واضح بھی ہے اور اس میں کوئی بحث و مباحثہ اور جدل وجدال نہیں ہے ۔ نہ تحکم اور سینہ زوری ہے ۔
اگر اللہ چاہتا تو آغاز ہی سے انسان کو اس طرح پیدا کرتا کہ وہ ہدایت کی راہ کے سوا کسی دوسری راہ پر چل ہی نہ سکتا یا اللہ انہیں مجبور کردیتا کہ وہ ہدایت اختیار کریں یا اللہ ان کے دلوں میں از خود ہدایت ڈال دیتا اور ان پر ہدایت کے لئے جبری ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی لیکن اللہ جل شانہ یہ نہیں چاہتے تھے ۔ اللہ کی مشیت یہ تھی کہ آدم کو قدرت واختیار دے کر اسے آزمائے اور یہ اختیار اس قدر ہو کہ وہ ہدایت وضلالت میں سے جس راہ پر چاہے اختیار کرے ۔ انسان جب کسی راہ کا آزادانہ ارادہ کرے تو اللہ پھر اس کی مدد کرے ‘ ہدایت کی طرف یا ضلالت کی طرف ‘ یعنی جو ضلالت کی طرف اشارہ کرے اس کے لئے وہ راہ بھی آسان ہو ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اس کی سنت جاری رہتی ہے ۔
آیت ” قُلْ فَلِلّہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ فَلَوْ شَاء لَہَدَاکُمْ أَجْمَعِیْنَ (149)
” پھر کہو (تمہاری حجت کے مقابلے میں) ” حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے ‘ بیشک اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔ “
اب یہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے اور قرآن اسے اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ ہر انسان اسے بسہولت سمجھ سکتا ہے ۔ رہی وہ علمی کشتیاں جو اس مسئلے پر ہوتی رہی اور وہ طویل جدل وجدال جو ہماری تاریخ کا حصہ ہے تو وہ اسلامی احساس اور اسلامی منہاج کے ساتھ لگا نہیں کھاتا ۔ نہ صرف یہ کہ اسلامی سوچ اسے قبول نہیں کرتی بلکہ یونانی فلسفے اور عیسائیوں کے ہاں لاہوتی مباحث بھی آج تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ۔ اس لئے کہ یہ مباحث جس انداز سے چلے وہ اس مسئلے کے مزاج کے خلاف تھا ۔
ہر حقیقت کی جو نوعیت ہوتی ہے اس کے مطابق ہی اسے لیا جاتا ہے اور اس پر بحث کے لئے اس کے حسب حال اسلوب اپنایا جاتا ہے ۔ جہاں تک مادی حقائق کا تعلق ہے ان کو بذریعہ تجربہ معلوم کیا جاسکتا ہے اور ریاضی حقائق کو ذہنی معروضات کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے لیکن جو حقائق مادی دنیا سے وراء ہیں ان کا اپنا منہاج بحث ہوتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر کہا یہ حقائق عملی نوعیت رکھتے ہیں اور انہیں عملی انداز میں اور حقیقت پسندانہ منہاج بحث کے ساتھ لینا چاہتے ۔ ان کو محض دینی مفروضوں کے انداز میں نہیں لینا چاہیے جس طرح ان کو پہلے بھی لیا گیا اور آج بھی لیا جا رہا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام میں اس دنیا میں اس لئے آیا تھا کہ یہاں ایک عملی صورت حالات پیدا کر دے ۔ وہ احکام اور منہیات پر مشتمل ہے اور یہ احکام اور منہیات واضح ہیں ۔ ان کے بارے میں نامعلوم مشیت الہیہ کو زیر بحث لانے کا مقصد یہ ہوگا کہ ہم کسی بےکنار صحرا میں بلا دلیل پڑجائیں اور اپنی قوتوں کو لاحاصل جدل وجدال اور بادیہ پیمائی میں صرف کردیں ۔
اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کو ہدایت کرتے ہیں ۔ کہ آپ اس قانون سازی میں اللہ کو بطور گواہ پیش فرمائیں ۔ اس طرح جس طرح اس سے پہلے حضور کو ہدایت ہوئی تھی کہ آپ اللہ کے اقتدار اعلی اور حاکمیت کے مسئلے میں بھی اللہ کی ذات کو بطور شہادت پیش فرمائیں ۔ اس سورة کے آغاز میں یہ فرمایا گیا تھا ۔
آیت ” قُلْ أَیُّ شَیْْء ٍ أَکْبَرُ شَہَادۃً قُلِ اللّہِ شَہِیْدٌ بِیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَکُم بِہِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19)
” ان سے پوچھو کس کی شہادت بڑھ کر ہے ؟ کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ “
اور یہاں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا :
الأنعام 6:150
آیت ” نمبر 150۔
یہ ایک عظیم مقابلہ ہے ‘ اور ہے بھی فیصلہ کن اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کا مزاج کیا ہے ؟ دین اسلام میں اللہ کی ذات میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا شرک ہے ۔ اسی طرح اللہ کی حق حاکمیت اور قانون سازی میں کسی اور کو عملا شریک کرنا بھی شرک ہے جو عملی شرک ہے ۔ الا یہ کہ کوئی ایسا قانون بنائے جس کی قرآن وسنت نے اجازت دی ہو ۔ قانون سازی میں اگر کوئی زبانی طور پر یہ اعلان کر دے کہ یہ قانون از جانب اللہ ہے تو اس کا دعوی مسترد ہوگا الا یہ کہ درحقیقت وہ منجانب اللہ ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ اس قسم کے لوگوں کو جو خود قانون بناتے ہیں یا کوئی قانون بنا کر اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘ اللہ جھوٹا قرار دیتا ہے اور یہ اعلان بھی کرد یا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دل میں نہ خوف آخرت ہے اور نہ ایمان آخرت اس لئے کہ یہ لوگ اگر منکر آخرت نہ ہوتے تو اللہ کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانے کی جرات ہی نہ کرتے ۔ نہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ۔ ایسی ہی تعبیر اس سورة کے آغاز میں بھی آئی تھی ۔
آیت ” الْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِرَبِّہِم یَعْدِلُونَ (1)
” تعریف ہے اللہ کے لئے جس نے زمین و آسمان بنائے ‘ روشنیاں اور تاریکیاں پیدا ہیں ۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کردیا ہے دوسروں کو اپنے رب کے ہمسر ٹھہرا رہے ہیں ۔ “
یہ ہے حکم ان لوگوں کے بارے میں جو اللہ سے اس کا حق حاکمیت چھینتے ہیں اور اسے ان لوگوں کے سپرد کرتے ہیں جو خود ان ہی کی طرح انسان ہیں یہاں ان لوگوں کے اس دعوی کو بھی مسترد کردیا جاتا ہے کہ ایسی کوئی قانون سازی اسلامی قانون سازی ہو سکتی ہے ۔ اب اللہ کے اس حکم کے بعد کسی اور انسانی رائے کی کیا وقعت ہو سکتی ہے ۔
اگر ہم یہ بات سمجھنا چاہیں کہ اللہ نے اس مسئلے کا فیصلہ اس انداز میں کیوں کیا ؟ اور ایسے لوگوں کو آیات الہیہ کو جھٹلانے والا کیوں کہا ۔ ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں دے دیا کہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور یہ کہ وہ مشرک ہیں اور اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانے والے ہیں ‘ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم سمجھنے کی سعی ضرور کریں کیونکہ اللہ کی شریعت ‘ اس کے احکام اور فیصلوں پر تدبر کرنا اور ان کی حکمت معلوم کرنا ایک مطلوبہ امر ہے ۔
اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں جو اپنی جانب سے عوام کے لئے قانون بنائیں یہاں یہ حکم لگایا ہے کہ وہ آیات الہیہ کی تکذیب کرتے ہیں اگرچہ وہ اسے اللہ کی شریعت کا عنوان دیں ‘ کیونکہ آیات الہیہ سے یہاں دو مفہوم لئے جاسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان سے مراد آیات کونیہ ہیں ‘ تو یہ آیات بھی اس بات پر گواہ ہیں کہ خالق اور رازق اللہ وحدہ ہے ‘ اور جو خالق اور رازق ہوگا وہی مالک ہوگا لہذا وہی متصرف اور حاکم ہوگا ۔ اس لئے جو شخص صرف اللہ کو حاکم نہ سمجھے تو وہ گویا آیات الہیہ کونیہ کی تکذیب کرتا ہے اور اگر ان آیات سے مراد قرآنی آیات ہوں تو قرآن کی بیشمار آیات واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ قرار دیتی ہیں کہ حاکمیت اور قانون سازی کے معاملے میں اللہ وحدہ لاشریک ہے ۔ صرف اللہ کی شریعت ہی کو قانونی درجہ حاصل ہے ۔ اور لوگوں کو صرف اللہ کی شریعت کی پابندی کرنی اور کرانی چاہیے ۔
ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ نے بھی یہ قرار دیا ہے کہ یہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اس لئے کہ جو شخص آخرت پر یقین و ایمان رکھتا ہے کہ وہ ایک دن قیامت کے روز اپنے رب کو ملنے والا ہے تو ایسا شخص ہر گز اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی نہیں کرے گا اور نہ وہ اپنے لئے کسی ایسے حق کا مطالبہ کرے گا ۔ اللہ انسانوں کا حاکم مطلق ہے اس کا نظام قضا وقدر بھی انسان پر جاری ہے اور اس طرح اس کی شریعت بھی ان پر جاری ہونا چاہیے ۔
ان لوگوں کے بارے میں اللہ کی تیسری قرار داد یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ یعنی وہ اسی طرح شرک ہیں جس طرح بت پرست مشرک ہیں ۔ اگر یہ اہل توحید میں سے ہوتے تو وہ دوسروں کو اللہ کا ہمسر نہ بناتے نہ اس کے حق حاکمیت میں اور نہ اس کے حق الوہیت میں کیونکہ وہ ان میں منفرد ہے ۔ اور اگر کوئی دوسرا ان حقوق کو استعمال کررہا ہو تو اس کی مخالفت کرتے اور ہر گز اس پر راضی نہ ہوتے ۔
جیسا کہ معلوم ہوتا ہے ‘ یہ بات ان تمام احکام کی علت ہے کہ جو لوگ قرآن وسنت کے بالمقابل قانون سازی کرتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے اللہ نے ان پر یہ احکام صادر کئے کہ وہ مشرک ہیں ‘ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے ہیں اور یہ کہ دراصل وہ آخرت کی جوابدہی پر یقین نہیں رکھتے کہ ایک دین انہوں نے اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ یہ ہے علت اور اس کے نتیجے میں یہ ہے حکم ۔ رہا یہ کہ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ کا یہ حکم کیوں ہے تو یہ تو نص قطعی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی اور اس کے مطابق تو ایسے لوگ مشرک ہی سمجھے جائیں گے ۔ تو اب یہ ہر مسلمان کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا طرز عمل اختیار کرتا ہے ۔
اس شہادت اور گواہی کے بعد اور ان کی جانب سے قرار دادہ محرمات کو رد کردینے کے بعد اب وہ فہرست دی جاتی ہے کہ فی الواقعہ اللہ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ۔ یہاں محرمات کے ذکر کے ساتھ ساتھ بعض مثبت احکام کی یاد دہانی بھی کی گئی ہے جس کے مخالف طرز عمل کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان محرمات کا آغاز ارتکاب شرک سے ہوتا ہے کیونکہ یہ اسلام کا اصول اولین ہے اور سب سے پہلے اس کو ذہن نشین کرانا ضروری ہے ۔ شرک سے مراد عام ہے ۔ شرک فی الاعتقاد اور شرک فی الحکم ۔ یہاں شرک سے دونوں قسم کے شرک مراد ہیں ۔ اس بنیادی اصول کے بعد تمام اوامر اور نواہی اسی پر مرتب ہوتے ہیں یعنی اسلام قبول کرلے اور پھر سرتسلیم ختم کر دے ۔
الأنعام 6:151
آیت ” نمبر 151 تا 153۔
اللہ تعالیٰ نے آیات کے اس حصے میں جو وصیتیں فرمائی ہیں اور جو قوانین بتلائیں ہیں مثلا مویشیوں اور پیداوار کے متعلق اور ادہام جاہلیت اور رسوم جاہلیت کی تردید وغیرہ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوانین وہدایات اس دین کی اساسی باتوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے ضمیر کو توحید کی روشنی اور زندگی ملتی ہے اور صدیوں پر مشتمل تاریخ میں انسانی خاندان کو تقویت ملتی ہے ۔ باہم تکافل اور باہم نصرت کی وجہ سے اجتماعی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں حقوق کی ضمانت ہوتی ہے اور فرائض ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ سب کام اللہ کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں مگر ان کا آغاز عقیدہ توحید سے ہوتا ہے ۔
اور جب یہ ہدایات ختم ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی اللہ کا جاری کردہ صراط مستقیم ہے اور اس کے علاوہ جس قدر بھی راستے میں وہ ٹیڑھے راستے ہیں یعنی راہ توحید سے ہٹے ہوئے ۔
غرض ان تین آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ نہایت ہی اہم امور سے متعلق ہیں ۔ یہ امور اس مسئلے کے بعد ذکر ہوئے جو بظاہر جاہلیت کا جزوی مسئلہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ مسئلہ اس دین کا نہایت ہی اساسی مسئلہ ہے کیونکہ یہ ان اہم وصیتوں کے ساتھ مربوط ہے ۔
آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ “ (6 : 151)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں ۔ ؟
آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ نے کیا حرام کیا ہے ؟ تم خود جن بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے وہ دراصل حرام نہیں ہیں ۔ اس نے تم پر بعض چیزیں حرام قرار دی ہیں اس لئے کہ اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہی تمہارا رب ہے ۔ رب کا مفہوم ہے ‘ قیم ‘ مربی ‘ ہادی اور حاکم ۔ لہذا حلال و حرام مقرر کرنا اس کا کام ہے ۔ یہ اس کا مقام اور منصب ہے ۔ کہ وہ ایسا کرے ۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور حلال و حرام مقرر کرے گا تو وہی رب کہلائے گا ۔ فی الحقیقت رب ہوتا ہی وہ ہے جو حلال و حرام مقرر کرے ۔
آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئا “۔ (6 : 151)
یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “
یہ بنیادی اصول ہے جس پر اسلامی تصورحیات کی پوری عمارت اٹھائی گئی ہے۔ تمام واجبات وفرائض اسی کی جانب لوٹتے ہیں اور اسی سے حقوق وواجبات متعین ہوتے ہیں ۔ یہ وہ اصول ہے کہ اس کے تسلیم کرنے کے بعد ہی کسی پر دوسرے احکام اور منہیات فرض ہوتے ہیں ۔ فرائض و تکالیف اور اسلامی نظام کی تفصیلات اور اسلامی دستور وقوانین کی پیروی تب عائد ہوتی ہے اور جب کوئی انسان یا معاشرہ عقیدہ توحید کو قبول کرکے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ وحدہ اس کا رب ہے اور وہی الہ اور حاکم ہے ۔ اس کی الوہیت ‘ اس کے اقتدار اعلی اور اس کی ربوبیت میں وہ کسی کو شریک نہیں سمجھتا ۔ وہ اعتراف کرلیتا ہے کہ اللہ ہی اس پوری کائنات کے تمام طبعی امور میں متصرف ہے ۔ عالم اسباب اور نظام تضاد وقدر اسی کی مرضی سے چلتا ہے وہ یہ عقیدہ بھی اپنا لیتے ہیں کہ آخرت میں انہوں نے اپنی پوری زندگی کارکردگی کا جواب دینا ہے ۔ وہ یہ بھی اعتراف کرلیتے ہیں کہ نظام حکومت میں بھی وہ اللہ کے احکام کے پابند ہیں ۔ غرض انسانی دل و دماغ کے لئے یہ عقیدہ ایک مکمل تطہیر ہے اور انسانی فکر اور عقلیت کو وہم و گمان کی بیماریوں سے مکمل طور پر صاف کردیا جاتا ہے ۔ اس کے ذریعہ ہی کسی معاشرے کو جاہلیت کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے اور انسان انسانوں کی غلامی اور بندگی سے رہا ہو سکتا ہے۔
شرک اپنی ہر شکل و صورت کے اعتبار سے حرام ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے انسان ہر حرام چیز میں پڑ سکتا ہے ۔ یہ پہلا منکر ہے جس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوتا ہے اور اس کے ہر پہلو کا انکار ضروری ہے ۔ یہاں تک کہ لوگ اعتراف کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں ‘ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی قانون ساز نہیں ہے اور پھر لوگ اس بات کا اعتراف بھی کرلیں کہ وہ ان معاملات میں صرف اللہ کے سوال کسی طرف رجوع نہ کریں گے ۔
توحید اپنے تمام معانی کے ساتھ ‘ اسلام کا وہ اساسی اصول ہے کہ جسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ نہ اسلام میں توحید کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے نہ یہ کمی عبادت سے پر کی جاسکتی ہے ‘ نہ حسن اخلاق سے اور نہ فضائل اعمال سے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جو وصیتیں کی جارہی ہیں ان کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے ۔
آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً (6 : 151)
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
ہمیں چاہیے کہ یہاں ایک نظر ان آیات پر ڈالیں جو ان وصیتوں سے پہلے وارد ہوئی ہیں تاکہ ہمیں اس شرک کے تعین میں دشواری نہ ہو ‘ جس سے یہاں منع کیا گیا ہے ۔ ان وصیتوں سے پہلے ایک متعین موضوع پر بحث تھی ۔ وہ موضوع تھا حق قانون سازی ‘ اقتدار اعلی کا استعمال اور احکام ونواہی کا صدور ۔ ایک آیت قبل ہی یہ کہا گیا :
آیت ” قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاء کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُونَ أَنَّ اللّہَ حَرَّمَ ہَـذَا فَإِن شَہِدُواْ فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَہُم بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُونَ (150)
ان سے کہو ” کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ “ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا اور ہر گز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ ‘
ہم اس لگا تار یاد دہانی کے اس لئے محتاج ہیں کہ اسلامی تاریخ میں شیاطین نے دین اسلام کی اساسی اصطلاحات کے معانی اور مفاہیم کو بدلنے کی جو جدوجہد کی ہے اس کے آثار اب ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اسلامی تاریخ میں حاکمیت کے مسئلے کو اسلام کے بنیادی عقیدے کے مفہوم سے نکال دیا گیا ہے اور اس کو اسلامی فکر کا شعور اور احساس ہی نہیں رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ اسلام کے نہایت ہی مخلص اور پر جوش حامی ہیں وہ ایک پرستش کے شعار ‘ عبادات کے طریقے اور ایک اخلاقی قدر کے قیام اور قوانین کی معمولی خلاف ورزی کے جزوی مسائل پر تو بات کرتے ہیں مگر اصل مسئلہ یعنی اقتدار اعلی اور اس کے نظریاتی مقام پر بات نہیں کرتے ۔ وہ سکرات کے خلاف تو مہم چلاتے ہیں ۔ لیکن وہ اس عظیم منکر کے خلاف نہیں اٹھتے یعنی یہ کہ زندگی کو عقیدہ توحید کی اساس پر قائم کرنے کے لئے نہیں اٹھتے ایسا نظام قائم کرنے کے لئے سعی نہیں کرتے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ تمام دوسری وصیتوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ وصیت کی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور یہ وصیت ایسے سیاق میں کی جارہی ہے کہ شرک کا مفہوم ان تمام وصیتوں کے اصول کی روشنی میں متعین ہوتا ہے ۔
توحید اور نفی شرک وہ اصول ہے جس کی اساس پر ایک انسان علی وجہ البصیرت اپنے رب کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور جماعت مسلمہ کے افراد بھی باہم ان اصولوں کی اساس پر جڑ جاتے ہیں جو عقیدہ توحید اور نفی شرک کے نتیجے میں متعین ہوتے ہیں اور وہ اقدار ان لوگوں کے درمیان قدر مشترک بن جاتی ہیں جو عقیدہ توحید کے بعد وجود میں آتی ہیں ۔
اور یہ اصول واقدار اس قدر مستحکم ہوتے ہیں کہ جن کو خواہشات نفسانیہ اور جذبات سفلیہ کے طوفان اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتے اور نہ ان پر ان اصطلاحات کا اثر ہوتا ہے جو انسان نے اپنی خواہشات اور میلانات کے تحت وضع کر رکھی ہیں۔
آیت ” وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَکُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَإِیَّاہُمْ “۔ (6 : 151)
اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے ۔ “
صدیوں سے یہ خاندانی نظام قائم ہے اور اللہ نے یہ نظام عقیدہ توحید کی اساس پر قائم کیا ہے ۔ اللہ لوگوں پر والدین اور اولاد سے بھی زیادہ رحیم وکریم ہے اس لئے اللہ نے اولاد کو والدین کے بارے میں حسن سلوک کی وصیت فرمائی اور والدین کو ان کی اولاد کے بارے میں وصیت فرمائی ۔ اس وصیت کی پشت پر وہ نظریاتی رابطہ ہے ۔ جو اللہ کی حاکمیت اور ربوبیت کی صورت میں قائم ہے ۔ اللہ نے ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہی خالق ہے اور وہی رازق ہے ۔ لہذا تم والدین کے بارے میں ان کی کبرسنی کے دور میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرو ‘ اور اولاد جب ضعیف وناتواں ہو تو تم ان کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرو اور فقر اور مجبوری سے نہ ڈور کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کا رازق ہے ۔
آیت ” وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ “۔ (6 : 151)
” اور بےشرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ ۔ خواہ وہ کھلی ‘ یا چھپی ہوں۔ “
اللہ تعالیٰ نے سابقہ فقرے میں وصیت فرمائی کہ خاندانی نظام کو مضبوط بناؤ تو اس کے بعد حکم دیا گیا کہ خاندان اور معاشرے کو پاک وصاف رکھو کیونکہ معاشرہ بھی خاندانوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے ۔ معاشرے کی اخلاقی تطہیر کا خیال رکھو ۔ اسلام معاشرے میں فحاشی کو برداشت نہیں کرتا ‘ چاہے یہ فحاشی ظاہری ہو یا پوشیدہ ‘ لہذا اس وصیت اور سابقہ وصیت کے درمیان گہرا ربط ہے ۔
یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ فحاشی کے کیچڑ میں کوئی پاکیزہ خاندان اور پاکیزہ معاشرہ پروان نہیں چڑھ سکتا ۔ فحاشی ظاہری ہو یا خفیہ اور باطنی ہو اس لئے کہ اسلام عفت اور پاکیزگی کو بہت اہمیت دیتا ہے ۔ جو طبقات بھی فحاشی پھیلاتے ہیں ان کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ خاندانی نظام اور معاشرہ کمزور ہوجائیں ان کی بنیادیں ہل جائیں اور آخر کار وہ معاشرہ دم توڑ دے ۔
فواحش کیا ہوتے ہیں ؟ ہر وہ بات فواحش میں آتی ہے جو حد سے متجاوز ہو۔ لفظ فحش بعض اوقات خصوصا صرف زنا پر بھی بولا جاتا ہے ۔ اس آیت میں بھی غالب گمان یہ ہے کہ اس لفظ سے زنا مراد ہے ۔ کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ ان حرام امور کا ذکر فرما رہے ہیں جن کا ارتکاب ممنوع ہے خواہ کم ہو یا زیادہ ‘ لہذا یہاں مراد زنا ہوگا ۔ ورنہ قتل نفس بھی فاحشہ ہے اور مال یتیم کھانا بھی فاحشہ ہے ۔ اور اللہ کے ساتھ شرک بھی فاحشہ ہے ۔ لہذا یہاں لفظ فاحشہ سے مراد مخصوص طور پر زنا ہوگا اور زنا کے لئے ” فواحش “ یعنی جمع کا لفظ اس لئے استعمال ہوا ہے کہ زنا کے ساتھ اور مقدمات اور لوازم بھی لازم ہوتے ہیں جو سب کے سب فواحش ہیں مثلا نمائش حسن ‘ بےپردگی ‘ اختلاط ‘ الفاظ ومکالمات ‘ حرکات واشارات ‘ ہنسی اور مذاق ‘ میک اپ اور لوگوں کو آمادہ کرنا ‘ یہ سب افعال فواحش میں آتے ہیں ۔ ان میں سے بعض خفیہ ہیں اور بعض ظاہری ہیں ۔ بعض دل میں ہوتے ہیں اور اعضاء سے ہوتے ہیں ۔ یہ تمام فواحش کسی بھی معاشرے کے لئے ہم قاتل ہوتے ہیں اور کسی سوسائٹی کا اجتماعی وجود ان کے ذریعے کھوکھلا ہوجاتا ہے ۔ افراد معاشرہ کے دل گندے ہوتے ہیں اور ان کی ترجیحات حقیر ہوتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کے بعد یہ وصیت ذکر ہوئی ۔
زنا کے ساتھ متعلق فواحش چونکہ اپنے اندر جاذبیت رکھتے ہیں ‘ اس لئے حکم دیا گیا کہ ان کے قریب مت جاؤ ‘ تاکہ اس برائی میں مبتلا ہونے کے ذرائع ہی بند ہوجائیں اور دور رہنے کی وجہ سے ان فواحش کی کشش کیا اثرات کم ہوجائیں ۔ اور وہ انسان کی قوت ارادی پر غالب نہ آجائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ اگر کسی عورت پر ایک دفعہ نظر پڑجائے تو دوسری بار اسے دیکھنے کی کوشش نہ کی جائے اور مرد وزن کے درمیان اختلاط کو بھی ممنوع کیا گیا اور جاہلانہ آرائش وزیبائش کو ممنوع کیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ عطر لگا کر باہر نکلنے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔ اسی طرح تمام ایسی حرکات ہنسی مذاق اور اشارات کو اسلام کے پاک معاشرے میں منع کیا گیا ہے ۔ اسلام لوگوں کو ایسی مشکل صورت حال سے دو چار نہیں کرتا کہ اس میں انہیں اپنے اعصاب کے اوپر کنڑول نہ رہے اور وہ ترغیبات کا مقابلہ نہ کرسکیں ۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو حدود ونافذ کرنے اور سزائیں دینے سے پہلے ہی لوگوں کو بچاتا بھی ہے ۔ اسلام لوگوں کے ضمیر ‘ شعور حواس اور اعضاء تک کو بچانے کی سعی کرتا ہے اس لئے کہ رب تعالیٰ اپنی مخلوق کی کمزوریوں سے خوف واقف ہے ۔ وہ لطیف وخبیر ہے ۔
ہم اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو لوگ دوسروں کے لئے عیاشیاں پیدا کرتے ہیں ‘ ان کے سفلی جذبات کو آزاد کرتے ہیں ‘ اور اس مقصد کے لیے تصاویر ‘ فلمیں ‘ افسانے میلے اور دوسرے تمام ذرائع فراہم کرتے ہیں وہ دین اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کیا ارادے رکھتے ہیں ۔
آیت ” وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالْحَق “۔ (6 : 151)
اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ “۔
قرآن کریم میں ان تین منکرات کا ذکر بارہا ایک جگہ آیا ہے ۔ یعنی شرک زنا اور قتل نفس کا ذکر بارہا ایک ساتھ کیا گیا ہے اس لئے کہ یہ تمام جرائم دراصل قتل کے جرائم ہیں ۔ پہلا جرام شرک دراصل فطرت کا قتل ہے ۔ دوسرا جرام معاشرے کا قتل ہے ‘ اور تیسرا جرم نفس انسانی کا قتل ہے ۔ اس لئے کہ جو فطرت توحید پر قائم نہیں ہے ۔ وہ دراصل مردہ فطرت ہے اور جس سوسائٹی میں فحاشی پھیل گئی ہے وہ سوسائٹی بھی مردہ سوسائٹی ہے اور اس نے آخر کار ہلاک وبرباد ہونا ہے ۔ یونانی تہذیب ‘ رومی تہذیب اور فارسی تہذیب کی تباہی اسی بیماری یعنی فحاشی کی بیماری کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی ۔ یہ تاریخی تباہیاں بتاتی ہیں کہ کسی تہذیب کی بربادی اور ہلاکت کی پہلی علامت فحاشی کی بیماری کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی ۔ یہ تاریخی تباہیاں بتاتی ہیں کہ کسی تہذیب کی بربادی اور ہلاکت کی پہلی علامت فحاشی ہوتی ہے ۔ آج مغربی تہذیب کے اندر جس تیزی سے فحاشی پھیلی ہے ‘ ماہرین اب انتظار کر رہے ہیں کہ کب اس پر ہمہ گیر تباہی آتی ہے اسی طرح وہ معاشرہ جس میں امن وامان نہ ہو وہ بھی لازما اپنے انجام تک پہنچتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ان جرائم کے لئے سخت سزائیں مقرر کی ہیں کیونکہ اسلام اپنے معاشرے کو ہمہ گیرتباہی سے بچانا چاہتا ہے ۔
اس سے پہلے یہ بات آگئی ہے کہ اپنی اولاد کو بھوک و افلاس کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ یہاں مطلق نفس کے قتل کی ممانعت کی گئی ہے ۔ یہاں اشارہ یہ مطلوب ہے کہ ایک فرد کے خلاف بھی اگر جرم قتل کا ارتکاب کیا جائے تو یہ جرم پورے معاشرے کے خلاف جرم تصور ہوگا ۔ دوسری جگہ اس کی تصریح یوں کی گئی ہے ۔
آیت ” انہ من قتل نفسا بغیر نفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا ومن احیاھا فکانما احیاء الناس جمیعا “ (5 : 32)
” جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی ۔ “
اس لئے کہ ارتکاب قتل کا وقوع زندگی پر ہوتا ہے اور زندگی نفس بشر میں ہوتی ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس اصول کے تحت نفس انسانی کی بقا کی ضمانت دی ہے تاکہ دارالاسلام میں جماعت مسلمہ کے تمام افراد کو امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقع ملے اور اسلامی معاشرے کا ہر فرد بڑی آزادی کے ساتھ ترقی کی جدوجہد میں حصہ لے سکے اور اسے ماسوائے حق کے کسی اور وجہ سے نہ ستایا جائے ، وہ سچائی جس کی اساس پر کسی کو ستایا جاسکتا ہے وہ اسلامی شریعت میں بیان کردی گئی ہے اور اس بارے میں کسی تاویل یا اندازے کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہاں اس کی تفصیلات نہیں دی گئیں اس لئے کہ یہ کام مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد کیا جانا تھا تاکہ وہاں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لئے ایک حکومت بھی موجود ہو۔ اس نکتے کی بڑی اہمیت ہے ‘ اور اس سے اسلامی نظام اور دین اسلام کے عملی مزاج کا پتہ چلتا ہے ۔ اسلامی نظام کی نشوونما اور اس کی حرکیت میں عملیت ایک اہم پہلو ہے کہ ان اساسی اصولوں کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں کیونکہ ابھی ان کے نفاذ کا ابھی وقت نہیں آیا تھا ۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہاں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ یہ اصول وقواعد اور اوامر ونواہی اللہ کی جانب سے ایک وصیت ہے اور اس پر تمہیں عمل کرنا ہے ۔
آیت ” ِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ (151)
یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔ “ اس قسم کی تعقیبات قرآن کریم کے ہر حکم ‘ ہر امر ونہی کے بعد آتی ہیں ۔ اور یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے جس کے وہ قانونی امور کو بھی اللہ کی ذات سے وابستہ کردیتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امر ونہی کے صدور اور قانون سازی کا کام صرف اللہ وحدہ کے اختیار میں ہے ۔ یوں اسلامی نظام مملکت میں قانون کے لئے بےحد احترام پایا جاتا ہے ۔
اس بات میں ایک یہ اشارہ بھی ہے کہ یہی بات قابل فہم ہے ۔ اس لئے کہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی حکومت کی اطاعت کی جائے ‘ جیسا کہ اوپر کہا گیا ۔ اسلامی تصور یہ ہے کہ اللہ خالق ‘ رازق اور متصرف فی الکون ہے لہذا لوگوں کی زندگی میں تصرفات بھی اللہ کے کے چلنے چاہئیں ۔
اس تعقیب اور وصیت سے پہلے جو آیت ہے اس میں پائے جانے والے احکام باہم متناسب ہیں اور بعد کے آنے والی آیت میں پائے جانے والے امور بھی باہم ہم رنگ ہیں اور درمیان میں یہ تبصرہ ہے ۔
آیت ” وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْیَتِیْمِ إِلاَّ بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ أَشُدَّہُ “۔ (6 : 152)
اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ۔
کسی سوسائٹی میں یتیم ایک کمزور شخصیت ہوتی ہے ‘ اس کا حامی اور مربی کوئی نہیں ہوتا اور اس کے سر پر والدین کا سایہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس کی ذمہ داری اسلامی سوسائٹی پر ڈال دی گئی ہے کیونکہ سوشل سیکورٹی اسلامی نظام کی اساس ہے ۔ دور جاہلیت میں یتیم ہمیشہ کسمپرسی کی حالت میں ہوتے تھے ۔ یتیم کے بارے میں قرآن کریم بار بار ہدایات دیتا ہے اور مختلف پہلوؤں سے اس مسئلے کو لیا گیا ہے ۔ اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دور جاہلیت میں یتامی کی بےحد حق تلفی ہوا کرتی تھی ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کے لئے بھی ایک یتیم شخص کا انتخاب کیا اور اسے یہ عظیم اعزاز بخشا کہ اسے تمام جہان والوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا پھر فرمایا کہ ان کا خیال اس طرح رکھا جائے کہ ان کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ۔ “
حکم یہ ہے کہ یتیم کے متولی اور گارڈین کو یتیم کے مال میں صرف اتنا تصرف کرنا ہے جو اس کے لئے احسن ہو ۔ اس کا فرض ہوگا کہ وہ اسے بچائے اور اسے ترقی دے ۔ جب وہ سن رش تک پہنچ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے پورا پورا دے دے اور ترقی یافتہ شکل میں دے ۔ سن رشد اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ جب یتیم کی جسمانی اور عقلی قوت کمال کو پہنچ جائے ‘ اسطرح کہ وہ مال کو بچا بھی سکے اور اس کی حفاظ بھیکر سکے اور اسے ترقی بھی دے سکے ۔ اور وہ جب سوسائٹی میں ایک مختار شخص کی صورت میں آئے تو وہ اس کا ایک صحت مند فرد ہو اور سوسائٹی کے لئے مفید ہو ۔
سن رشد اور بلوغ کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں ۔ عبدالرحمن ابن زید اور امام مالک کے نزدیک عقلی بلوغ ہے ۔ امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ علییہ کے نزدیک پندرہ سال کی عمر ہے ۔ سدی تیس سال کی عمر مقرر کرتے ہیں اور اہل مدینہ بلوغ اور عقلمندی دونوں کے حصول کے بعد سن رشد مانتے ہیں اور کسی عمر کی تحدید نہیں کرتے ۔
آیت ” وَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ لاَ نُکَلِّفُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَہَا “۔ (6 : 152)
” اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو ‘ ہم ہر شخص پر ذمہ داریوں کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے ۔
یہ حکم تجارتی معاملات کے بارے میں ہے کہ تجارتی معاملات میں حتی المقدور کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔ ان احکام کو اسلامی عقائد ونظریات سے وابستہ کیا گیا ہے حالانکہ یہ محض تجارتی معاملات ہیں ۔ یہ اس لئے کہ اسلامی نظام میں تمام معاملات دین و ایمان سے وابستہ ہیں اور ان کے بارے میں جو احکام ہیں وہ منجانب اللہ ہیں۔ اس طرح یہ احکام اللہ اور اللہ کے اقتدار اعلی کے مسئلہ سے وابستہ ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ ان احکام کو ایک ایسے منظر میں لایا جاتا ہے جس میں اسلامی نظریہ حیات کا ربط زندگی کے تمام معاملات میں عیاں کیا گیا ہے ۔
تمام جاہلی نظاموں میں جس میں دور جدید کی جاہلیت بھی شامل ہے ‘ طریقہ یہ رہا ہے کہ عقائد و عبادات سے قانون اور معاملات کو بالکل علیحدہ رکھا جاتا ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن کریم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے قصے میں اچھی طرح واضح کیا ہے ۔
آیت ” قالوا یشعیب اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد ابآئونا اوان نفعل فی اموالنا ما نشؤا (11 : 86)
” انہوں نے جواب دیا : اے شعیب کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں باہم مالی اور تجارتی معاملات ‘ بیع اور شرا کے مسائل اور اسلامی نظریہ حیات کے نظریاتی پہلوؤں کو ایک ساتھ لایا جاتا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اس دین کا مزاج کیا ہے ؟ اور اس میں عقائد و قانون کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ عبادت اور معاملات دونوں میں اللہ کی بندگی ضروری ہے کیونکہ یہ دین ہی کا حصہ ہیں اور اس کے اصل الاصول سے مربوط ہیں۔
آیت ” وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُواْ وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبَی “۔ (6 : 152)
” اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنی رشتہ داری کا کیوں نہ ہو۔ “
سب سے پہلے اسلام قلب مومن کارابطہ اللہ کے ساتھ قائم کرتا ہے اور اس طرح انسان کو نہایت ہی بلند مقام تک پہنچاتا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے اور ہر وقت اس سے ڈرتا رہے اس راستے میں کئی ایسے مقامات آتے ہیں جہاں قدم ڈگمگا جاتے ہیں ۔ انسانی کمزوری اثر کر جاتی ہے اور انسان قرابت ‘ رشتہ داری اور قرابت کے حقوق کا لحاظ کرجاتا ہے ۔ کیونکہ انسان نہایت ہی کمزور ‘ ضعیف ہے اور دور اندیش نہیں ہے اور رشتہ داری کی قوت اس سے کمزوری کا ارتکاب کراتی ہے ۔ رشتہ داری کے ماحول میں وہ پروان چڑھتا ہے ۔ اس ماحول میں وہ زندہ رہتا ہے اور جب وہ رشتہ دار کے مقابلے میں شہادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس سے کمزوری کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ اگر بھائی کے لئے شہادت دے تو مبالغہ ہوگا اور اگر خلاف دے تو کمی کرے گا یا بھائی اور دوسرے شخص کے درمیان فیصلہ کرے تو جانب داری کرے گا ۔ اس خطرناک مقام پر اسلام ہی مدد کو آتا ہے ۔ وہ انسانی ضمیر کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ کلمہ حق کہے اور انصاف کرے ۔ اور صرف اللہ وحدہ پر بھروسہ کرے ۔ صرف اس سے ڈرے اور بھائی کی دوستی ودشمنی کے معاملے صرف اللہ کی نصرت طلب کرے ۔ اللہ سے ڈرے اور یہ نہ کرے کہ رشتہ داری کا حق ادا کرتے ہوئے اللہ کے حقوق کو تلف کردے ۔ اللہ انسان کا خالق ہے اور اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہے ۔ چناچہ اللہ یہاں اپنی وصیتوں کے بعد اپنے ساتھ کئے ہوئے عہد کو یاد دلاتے ہیں ۔
آیت ” وَبِعَہْدِ اللّہِ أَوْفُوا “۔ (6 : 152)
” اور اللہ کے عہد کو پورا کرو “۔
اللہ کے عہد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سچ کہو اگرچہ اس کی زد تمہارے کسی قرابت دار پر پڑتی ہو۔ اس کے عہد میں سے یہ بھی ہے کہ ناپ اور تول کے پیمانے پورے رکھو۔ اس کے عہد میں سے یہ بھی ہے کہ یتیم کے مال میں اس طرح تصرف کرو کہ وہ اس کے لئے احسن ہو ۔ اس کے عہد میں یہ امر بھی داخل ہو ہے کہ بےگناہ جان کا احترام کرو ‘ اور ان سب عہدوں سے بڑا عہد یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ الوہیت اور حاکمیت میں کسی کو شریک نہ کرو ‘ اور یہ عہد عہد اکبر ہے ۔ یہی انسانی فطرت کا تقاضا ہے ‘ اس لئے کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ وابستہ ہونا چاہیے اور اسے ان نوامیس قدرت کا شعور ہونا چاہئے جو انسان کے اندر اور اس کے اردگرد کائنات میں جاری وساری ہیں ۔ اور آخر میں وہی تبصرہ ۔
آیت ” ْ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ (152)
”۔ ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔ “
ذکر کا مفہوم غفلت کے بالمقابل ہے۔ لہذا یاد رکھنے والا دل غافل دل کے متضاد ہوگا اور ذاکر وہ ہوگا جو اللہ کے عہد کو یاد رکھے اور ان عہود کے بارے میں اللہ کی وصیتوں کا خیال رکھے اور ان کو کسی حالت میں نہ بھولے ۔
یہ اصول جن کا آغاز عقیدہ توحید کے ساتھ ہوا ‘ جس میں اسلامی عقائد اور اسلامی قانون اور اسلام کے اجتماعی نظام کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں اور جن سے پہلے کے سبق میں اللہ کے اقتدار اعلی اور اس کے حق حاکمیت کے مضامین تھے جس میں حق قانون سازی نمایاں ہے ‘ یہ سب اصول اللہ کا صراط مستقیم ہیں ۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے مقابلے میں دوسرے تمام راستے غلط ‘ دشوار گزار ہیں ‘ یہی مستقیم راستہ ہے ۔
آیت ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِیْلِہِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (153)
” نیز اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے ‘ لہذا اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔ “
یہ سبق یہاں ختم ہوتا ہے جس کا آغاز اس آیت سے ہوا تھا :
آیت ” افغیر اللہ ابغی حکما ھو الذی انزل الیکم الکتب مفصلا “۔
” کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو حکم تلاش کرو ‘ حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف کتاب مفصل طور پر نازل کردی ہے ۔ “ اور اس طویل سبق کا خاتمہ اس فقرے سے ہوا ۔ اس آغاز اور انجام اور درمیان میں مسئلہ حاکمیت الہیہ ‘ مسئلہ قانون سازی ‘ پھلوں اور مویشیوں کی حلت و حرمت ‘ ذبیحوں اور نذروں کے مسائل اور دوسرے اساسی اور اصولی مسائل تھے ۔ یہ مسائل اس آغاز و انجام کے درمیان بیان ہوئے ۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ یہ ہے وہ وسیع دائرہ جس کے اندر یہ سب چیزیں آتی ہیں اور ان سب کا تعلق ان عقائد اور نظریات کے ساتھ ہے جو اس سورة کا اساسی مضمون ہے جس کا اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ حاکم و معبود ہے اور اس معاملے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔
یہ واحد راستہ ہی اللہ کا راستہ ہے اور اس راہ سے ہم اللہ تعالیٰ پہنچ سکتے ہیں ۔ وہ یہ ہے کہ لوگ اللہ وحدہ کو رب تسلیم کریں ‘ اسی کی عبادت کریں ‘ اسی کی اطاعت کریں ‘ صرف اسی کو اپنا حاکم و قانون ساز تسلیم کریں اور پوری زندگی اسی کے رنگ میں رنگ دیں ۔
یہ راہ ہے جو اللہ کی راہ ہے ۔ اس کے سوا جس قدر بھی راستے ہیں وہ اللہ کی راہ سے جدا ہوجاتے ہیں اور وہ راستے کسی انجام تک نہیں پہنچتے ۔ اللہ نے تمہیں اسی راستے پر چلنے کی ہدایت فرمائی ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔ لہذا معلوم ہوا کہ تقوی کا مدار صحیح عقیدے اور صحیح عمل پر ہے ۔ یہ تقوی ہی ہے جو انسان کو اللہ کے راستے کی طرف لے جاتا ہے ۔
الأنعام 6:152
آیت ” نمبر 151 تا 153۔
اللہ تعالیٰ نے آیات کے اس حصے میں جو وصیتیں فرمائی ہیں اور جو قوانین بتلائیں ہیں مثلا مویشیوں اور پیداوار کے متعلق اور ادہام جاہلیت اور رسوم جاہلیت کی تردید وغیرہ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوانین وہدایات اس دین کی اساسی باتوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے ضمیر کو توحید کی روشنی اور زندگی ملتی ہے اور صدیوں پر مشتمل تاریخ میں انسانی خاندان کو تقویت ملتی ہے ۔ باہم تکافل اور باہم نصرت کی وجہ سے اجتماعی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں حقوق کی ضمانت ہوتی ہے اور فرائض ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ سب کام اللہ کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں مگر ان کا آغاز عقیدہ توحید سے ہوتا ہے ۔
اور جب یہ ہدایات ختم ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی اللہ کا جاری کردہ صراط مستقیم ہے اور اس کے علاوہ جس قدر بھی راستے میں وہ ٹیڑھے راستے ہیں یعنی راہ توحید سے ہٹے ہوئے ۔
غرض ان تین آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ نہایت ہی اہم امور سے متعلق ہیں ۔ یہ امور اس مسئلے کے بعد ذکر ہوئے جو بظاہر جاہلیت کا جزوی مسئلہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ مسئلہ اس دین کا نہایت ہی اساسی مسئلہ ہے کیونکہ یہ ان اہم وصیتوں کے ساتھ مربوط ہے ۔
آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ “ (6 : 151)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں ۔ ؟
آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ نے کیا حرام کیا ہے ؟ تم خود جن بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے وہ دراصل حرام نہیں ہیں ۔ اس نے تم پر بعض چیزیں حرام قرار دی ہیں اس لئے کہ اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہی تمہارا رب ہے ۔ رب کا مفہوم ہے ‘ قیم ‘ مربی ‘ ہادی اور حاکم ۔ لہذا حلال و حرام مقرر کرنا اس کا کام ہے ۔ یہ اس کا مقام اور منصب ہے ۔ کہ وہ ایسا کرے ۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور حلال و حرام مقرر کرے گا تو وہی رب کہلائے گا ۔ فی الحقیقت رب ہوتا ہی وہ ہے جو حلال و حرام مقرر کرے ۔
آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئا “۔ (6 : 151)
یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “
یہ بنیادی اصول ہے جس پر اسلامی تصورحیات کی پوری عمارت اٹھائی گئی ہے۔ تمام واجبات وفرائض اسی کی جانب لوٹتے ہیں اور اسی سے حقوق وواجبات متعین ہوتے ہیں ۔ یہ وہ اصول ہے کہ اس کے تسلیم کرنے کے بعد ہی کسی پر دوسرے احکام اور منہیات فرض ہوتے ہیں ۔ فرائض و تکالیف اور اسلامی نظام کی تفصیلات اور اسلامی دستور وقوانین کی پیروی تب عائد ہوتی ہے اور جب کوئی انسان یا معاشرہ عقیدہ توحید کو قبول کرکے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ وحدہ اس کا رب ہے اور وہی الہ اور حاکم ہے ۔ اس کی الوہیت ‘ اس کے اقتدار اعلی اور اس کی ربوبیت میں وہ کسی کو شریک نہیں سمجھتا ۔ وہ اعتراف کرلیتا ہے کہ اللہ ہی اس پوری کائنات کے تمام طبعی امور میں متصرف ہے ۔ عالم اسباب اور نظام تضاد وقدر اسی کی مرضی سے چلتا ہے وہ یہ عقیدہ بھی اپنا لیتے ہیں کہ آخرت میں انہوں نے اپنی پوری زندگی کارکردگی کا جواب دینا ہے ۔ وہ یہ بھی اعتراف کرلیتے ہیں کہ نظام حکومت میں بھی وہ اللہ کے احکام کے پابند ہیں ۔ غرض انسانی دل و دماغ کے لئے یہ عقیدہ ایک مکمل تطہیر ہے اور انسانی فکر اور عقلیت کو وہم و گمان کی بیماریوں سے مکمل طور پر صاف کردیا جاتا ہے ۔ اس کے ذریعہ ہی کسی معاشرے کو جاہلیت کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے اور انسان انسانوں کی غلامی اور بندگی سے رہا ہو سکتا ہے۔
شرک اپنی ہر شکل و صورت کے اعتبار سے حرام ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے انسان ہر حرام چیز میں پڑ سکتا ہے ۔ یہ پہلا منکر ہے جس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوتا ہے اور اس کے ہر پہلو کا انکار ضروری ہے ۔ یہاں تک کہ لوگ اعتراف کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں ‘ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی قانون ساز نہیں ہے اور پھر لوگ اس بات کا اعتراف بھی کرلیں کہ وہ ان معاملات میں صرف اللہ کے سوال کسی طرف رجوع نہ کریں گے ۔
توحید اپنے تمام معانی کے ساتھ ‘ اسلام کا وہ اساسی اصول ہے کہ جسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ نہ اسلام میں توحید کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے نہ یہ کمی عبادت سے پر کی جاسکتی ہے ‘ نہ حسن اخلاق سے اور نہ فضائل اعمال سے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جو وصیتیں کی جارہی ہیں ان کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے ۔
آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً (6 : 151)
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
ہمیں چاہیے کہ یہاں ایک نظر ان آیات پر ڈالیں جو ان وصیتوں سے پہلے وارد ہوئی ہیں تاکہ ہمیں اس شرک کے تعین میں دشواری نہ ہو ‘ جس سے یہاں منع کیا گیا ہے ۔ ان وصیتوں سے پہلے ایک متعین موضوع پر بحث تھی ۔ وہ موضوع تھا حق قانون سازی ‘ اقتدار اعلی کا استعمال اور احکام ونواہی کا صدور ۔ ایک آیت قبل ہی یہ کہا گیا :
آیت ” قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاء کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُونَ أَنَّ اللّہَ حَرَّمَ ہَـذَا فَإِن شَہِدُواْ فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَہُم بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُونَ (150)
ان سے کہو ” کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ “ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا اور ہر گز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ ‘
ہم اس لگا تار یاد دہانی کے اس لئے محتاج ہیں کہ اسلامی تاریخ میں شیاطین نے دین اسلام کی اساسی اصطلاحات کے معانی اور مفاہیم کو بدلنے کی جو جدوجہد کی ہے اس کے آثار اب ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اسلامی تاریخ میں حاکمیت کے مسئلے کو اسلام کے بنیادی عقیدے کے مفہوم سے نکال دیا گیا ہے اور اس کو اسلامی فکر کا شعور اور احساس ہی نہیں رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ اسلام کے نہایت ہی مخلص اور پر جوش حامی ہیں وہ ایک پرستش کے شعار ‘ عبادات کے طریقے اور ایک اخلاقی قدر کے قیام اور قوانین کی معمولی خلاف ورزی کے جزوی مسائل پر تو بات کرتے ہیں مگر اصل مسئلہ یعنی اقتدار اعلی اور اس کے نظریاتی مقام پر بات نہیں کرتے ۔ وہ سکرات کے خلاف تو مہم چلاتے ہیں ۔ لیکن وہ اس عظیم منکر کے خلاف نہیں اٹھتے یعنی یہ کہ زندگی کو عقیدہ توحید کی اساس پر قائم کرنے کے لئے نہیں اٹھتے ایسا نظام قائم کرنے کے لئے سعی نہیں کرتے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ تمام دوسری وصیتوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ وصیت کی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور یہ وصیت ایسے سیاق میں کی جارہی ہے کہ شرک کا مفہوم ان تمام وصیتوں کے اصول کی روشنی میں متعین ہوتا ہے ۔
توحید اور نفی شرک وہ اصول ہے جس کی اساس پر ایک انسان علی وجہ البصیرت اپنے رب کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور جماعت مسلمہ کے افراد بھی باہم ان اصولوں کی اساس پر جڑ جاتے ہیں جو عقیدہ توحید اور نفی شرک کے نتیجے میں متعین ہوتے ہیں اور وہ اقدار ان لوگوں کے درمیان قدر مشترک بن جاتی ہیں جو عقیدہ توحید کے بعد وجود میں آتی ہیں ۔
اور یہ اصول واقدار اس قدر مستحکم ہوتے ہیں کہ جن کو خواہشات نفسانیہ اور جذبات سفلیہ کے طوفان اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتے اور نہ ان پر ان اصطلاحات کا اثر ہوتا ہے جو انسان نے اپنی خواہشات اور میلانات کے تحت وضع کر رکھی ہیں۔
آیت ” وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَکُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَإِیَّاہُمْ “۔ (6 : 151)
اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے ۔ “
صدیوں سے یہ خاندانی نظام قائم ہے اور اللہ نے یہ نظام عقیدہ توحید کی اساس پر قائم کیا ہے ۔ اللہ لوگوں پر والدین اور اولاد سے بھی زیادہ رحیم وکریم ہے اس لئے اللہ نے اولاد کو والدین کے بارے میں حسن سلوک کی وصیت فرمائی اور والدین کو ان کی اولاد کے بارے میں وصیت فرمائی ۔ اس وصیت کی پشت پر وہ نظریاتی رابطہ ہے ۔ جو اللہ کی حاکمیت اور ربوبیت کی صورت میں قائم ہے ۔ اللہ نے ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہی خالق ہے اور وہی رازق ہے ۔ لہذا تم والدین کے بارے میں ان کی کبرسنی کے دور میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرو ‘ اور اولاد جب ضعیف وناتواں ہو تو تم ان کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرو اور فقر اور مجبوری سے نہ ڈور کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کا رازق ہے ۔
آیت ” وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ “۔ (6 : 151)
” اور بےشرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ ۔ خواہ وہ کھلی ‘ یا چھپی ہوں۔ “
اللہ تعالیٰ نے سابقہ فقرے میں وصیت فرمائی کہ خاندانی نظام کو مضبوط بناؤ تو اس کے بعد حکم دیا گیا کہ خاندان اور معاشرے کو پاک وصاف رکھو کیونکہ معاشرہ بھی خاندانوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے ۔ معاشرے کی اخلاقی تطہیر کا خیال رکھو ۔ اسلام معاشرے میں فحاشی کو برداشت نہیں کرتا ‘ چاہے یہ فحاشی ظاہری ہو یا پوشیدہ ‘ لہذا اس وصیت اور سابقہ وصیت کے درمیان گہرا ربط ہے ۔
یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ فحاشی کے کیچڑ میں کوئی پاکیزہ خاندان اور پاکیزہ معاشرہ پروان نہیں چڑھ سکتا ۔ فحاشی ظاہری ہو یا خفیہ اور باطنی ہو اس لئے کہ اسلام عفت اور پاکیزگی کو بہت اہمیت دیتا ہے ۔ جو طبقات بھی فحاشی پھیلاتے ہیں ان کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ خاندانی نظام اور معاشرہ کمزور ہوجائیں ان کی بنیادیں ہل جائیں اور آخر کار وہ معاشرہ دم توڑ دے ۔
فواحش کیا ہوتے ہیں ؟ ہر وہ بات فواحش میں آتی ہے جو حد سے متجاوز ہو۔ لفظ فحش بعض اوقات خصوصا صرف زنا پر بھی بولا جاتا ہے ۔ اس آیت میں بھی غالب گمان یہ ہے کہ اس لفظ سے زنا مراد ہے ۔ کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ ان حرام امور کا ذکر فرما رہے ہیں جن کا ارتکاب ممنوع ہے خواہ کم ہو یا زیادہ ‘ لہذا یہاں مراد زنا ہوگا ۔ ورنہ قتل نفس بھی فاحشہ ہے اور مال یتیم کھانا بھی فاحشہ ہے ۔ اور اللہ کے ساتھ شرک بھی فاحشہ ہے ۔ لہذا یہاں لفظ فاحشہ سے مراد مخصوص طور پر زنا ہوگا اور زنا کے لئے ” فواحش “ یعنی جمع کا لفظ اس لئے استعمال ہوا ہے کہ زنا کے ساتھ اور مقدمات اور لوازم بھی لازم ہوتے ہیں جو سب کے سب فواحش ہیں مثلا نمائش حسن ‘ بےپردگی ‘ اختلاط ‘ الفاظ ومکالمات ‘ حرکات واشارات ‘ ہنسی اور مذاق ‘ میک اپ اور لوگوں کو آمادہ کرنا ‘ یہ سب افعال فواحش میں آتے ہیں ۔ ان میں سے بعض خفیہ ہیں اور بعض ظاہری ہیں ۔ بعض دل میں ہوتے ہیں اور اعضاء سے ہوتے ہیں ۔ یہ تمام فواحش کسی بھی معاشرے کے لئے ہم قاتل ہوتے ہیں اور کسی سوسائٹی کا اجتماعی وجود ان کے ذریعے کھوکھلا ہوجاتا ہے ۔ افراد معاشرہ کے دل گندے ہوتے ہیں اور ان کی ترجیحات حقیر ہوتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کے بعد یہ وصیت ذکر ہوئی ۔
زنا کے ساتھ متعلق فواحش چونکہ اپنے اندر جاذبیت رکھتے ہیں ‘ اس لئے حکم دیا گیا کہ ان کے قریب مت جاؤ ‘ تاکہ اس برائی میں مبتلا ہونے کے ذرائع ہی بند ہوجائیں اور دور رہنے کی وجہ سے ان فواحش کی کشش کیا اثرات کم ہوجائیں ۔ اور وہ انسان کی قوت ارادی پر غالب نہ آجائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ اگر کسی عورت پر ایک دفعہ نظر پڑجائے تو دوسری بار اسے دیکھنے کی کوشش نہ کی جائے اور مرد وزن کے درمیان اختلاط کو بھی ممنوع کیا گیا اور جاہلانہ آرائش وزیبائش کو ممنوع کیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ عطر لگا کر باہر نکلنے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔ اسی طرح تمام ایسی حرکات ہنسی مذاق اور اشارات کو اسلام کے پاک معاشرے میں منع کیا گیا ہے ۔ اسلام لوگوں کو ایسی مشکل صورت حال سے دو چار نہیں کرتا کہ اس میں انہیں اپنے اعصاب کے اوپر کنڑول نہ رہے اور وہ ترغیبات کا مقابلہ نہ کرسکیں ۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو حدود ونافذ کرنے اور سزائیں دینے سے پہلے ہی لوگوں کو بچاتا بھی ہے ۔ اسلام لوگوں کے ضمیر ‘ شعور حواس اور اعضاء تک کو بچانے کی سعی کرتا ہے اس لئے کہ رب تعالیٰ اپنی مخلوق کی کمزوریوں سے خوف واقف ہے ۔ وہ لطیف وخبیر ہے ۔
ہم اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو لوگ دوسروں کے لئے عیاشیاں پیدا کرتے ہیں ‘ ان کے سفلی جذبات کو آزاد کرتے ہیں ‘ اور اس مقصد کے لیے تصاویر ‘ فلمیں ‘ افسانے میلے اور دوسرے تمام ذرائع فراہم کرتے ہیں وہ دین اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کیا ارادے رکھتے ہیں ۔
آیت ” وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالْحَق “۔ (6 : 151)
اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ “۔
قرآن کریم میں ان تین منکرات کا ذکر بارہا ایک جگہ آیا ہے ۔ یعنی شرک زنا اور قتل نفس کا ذکر بارہا ایک ساتھ کیا گیا ہے اس لئے کہ یہ تمام جرائم دراصل قتل کے جرائم ہیں ۔ پہلا جرام شرک دراصل فطرت کا قتل ہے ۔ دوسرا جرام معاشرے کا قتل ہے ‘ اور تیسرا جرم نفس انسانی کا قتل ہے ۔ اس لئے کہ جو فطرت توحید پر قائم نہیں ہے ۔ وہ دراصل مردہ فطرت ہے اور جس سوسائٹی میں فحاشی پھیل گئی ہے وہ سوسائٹی بھی مردہ سوسائٹی ہے اور اس نے آخر کار ہلاک وبرباد ہونا ہے ۔ یونانی تہذیب ‘ رومی تہذیب اور فارسی تہذیب کی تباہی اسی بیماری یعنی فحاشی کی بیماری کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی ۔ یہ تاریخی تباہیاں بتاتی ہیں کہ کسی تہذیب کی بربادی اور ہلاکت کی پہلی علامت فحاشی کی بیماری کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی ۔ یہ تاریخی تباہیاں بتاتی ہیں کہ کسی تہذیب کی بربادی اور ہلاکت کی پہلی علامت فحاشی ہوتی ہے ۔ آج مغربی تہذیب کے اندر جس تیزی سے فحاشی پھیلی ہے ‘ ماہرین اب انتظار کر رہے ہیں کہ کب اس پر ہمہ گیر تباہی آتی ہے اسی طرح وہ معاشرہ جس میں امن وامان نہ ہو وہ بھی لازما اپنے انجام تک پہنچتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ان جرائم کے لئے سخت سزائیں مقرر کی ہیں کیونکہ اسلام اپنے معاشرے کو ہمہ گیرتباہی سے بچانا چاہتا ہے ۔
اس سے پہلے یہ بات آگئی ہے کہ اپنی اولاد کو بھوک و افلاس کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ یہاں مطلق نفس کے قتل کی ممانعت کی گئی ہے ۔ یہاں اشارہ یہ مطلوب ہے کہ ایک فرد کے خلاف بھی اگر جرم قتل کا ارتکاب کیا جائے تو یہ جرم پورے معاشرے کے خلاف جرم تصور ہوگا ۔ دوسری جگہ اس کی تصریح یوں کی گئی ہے ۔
آیت ” انہ من قتل نفسا بغیر نفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا ومن احیاھا فکانما احیاء الناس جمیعا “ (5 : 32)
” جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی ۔ “
اس لئے کہ ارتکاب قتل کا وقوع زندگی پر ہوتا ہے اور زندگی نفس بشر میں ہوتی ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس اصول کے تحت نفس انسانی کی بقا کی ضمانت دی ہے تاکہ دارالاسلام میں جماعت مسلمہ کے تمام افراد کو امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقع ملے اور اسلامی معاشرے کا ہر فرد بڑی آزادی کے ساتھ ترقی کی جدوجہد میں حصہ لے سکے اور اسے ماسوائے حق کے کسی اور وجہ سے نہ ستایا جائے ، وہ سچائی جس کی اساس پر کسی کو ستایا جاسکتا ہے وہ اسلامی شریعت میں بیان کردی گئی ہے اور اس بارے میں کسی تاویل یا اندازے کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہاں اس کی تفصیلات نہیں دی گئیں اس لئے کہ یہ کام مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد کیا جانا تھا تاکہ وہاں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لئے ایک حکومت بھی موجود ہو۔ اس نکتے کی بڑی اہمیت ہے ‘ اور اس سے اسلامی نظام اور دین اسلام کے عملی مزاج کا پتہ چلتا ہے ۔ اسلامی نظام کی نشوونما اور اس کی حرکیت میں عملیت ایک اہم پہلو ہے کہ ان اساسی اصولوں کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں کیونکہ ابھی ان کے نفاذ کا ابھی وقت نہیں آیا تھا ۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہاں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ یہ اصول وقواعد اور اوامر ونواہی اللہ کی جانب سے ایک وصیت ہے اور اس پر تمہیں عمل کرنا ہے ۔
آیت ” ِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ (151)
یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔ “ اس قسم کی تعقیبات قرآن کریم کے ہر حکم ‘ ہر امر ونہی کے بعد آتی ہیں ۔ اور یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے جس کے وہ قانونی امور کو بھی اللہ کی ذات سے وابستہ کردیتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امر ونہی کے صدور اور قانون سازی کا کام صرف اللہ وحدہ کے اختیار میں ہے ۔ یوں اسلامی نظام مملکت میں قانون کے لئے بےحد احترام پایا جاتا ہے ۔
اس بات میں ایک یہ اشارہ بھی ہے کہ یہی بات قابل فہم ہے ۔ اس لئے کہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی حکومت کی اطاعت کی جائے ‘ جیسا کہ اوپر کہا گیا ۔ اسلامی تصور یہ ہے کہ اللہ خالق ‘ رازق اور متصرف فی الکون ہے لہذا لوگوں کی زندگی میں تصرفات بھی اللہ کے کے چلنے چاہئیں ۔
اس تعقیب اور وصیت سے پہلے جو آیت ہے اس میں پائے جانے والے احکام باہم متناسب ہیں اور بعد کے آنے والی آیت میں پائے جانے والے امور بھی باہم ہم رنگ ہیں اور درمیان میں یہ تبصرہ ہے ۔
آیت ” وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْیَتِیْمِ إِلاَّ بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ أَشُدَّہُ “۔ (6 : 152)
اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ۔
کسی سوسائٹی میں یتیم ایک کمزور شخصیت ہوتی ہے ‘ اس کا حامی اور مربی کوئی نہیں ہوتا اور اس کے سر پر والدین کا سایہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس کی ذمہ داری اسلامی سوسائٹی پر ڈال دی گئی ہے کیونکہ سوشل سیکورٹی اسلامی نظام کی اساس ہے ۔ دور جاہلیت میں یتیم ہمیشہ کسمپرسی کی حالت میں ہوتے تھے ۔ یتیم کے بارے میں قرآن کریم بار بار ہدایات دیتا ہے اور مختلف پہلوؤں سے اس مسئلے کو لیا گیا ہے ۔ اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دور جاہلیت میں یتامی کی بےحد حق تلفی ہوا کرتی تھی ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کے لئے بھی ایک یتیم شخص کا انتخاب کیا اور اسے یہ عظیم اعزاز بخشا کہ اسے تمام جہان والوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا پھر فرمایا کہ ان کا خیال اس طرح رکھا جائے کہ ان کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ۔ “
حکم یہ ہے کہ یتیم کے متولی اور گارڈین کو یتیم کے مال میں صرف اتنا تصرف کرنا ہے جو اس کے لئے احسن ہو ۔ اس کا فرض ہوگا کہ وہ اسے بچائے اور اسے ترقی دے ۔ جب وہ سن رش تک پہنچ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے پورا پورا دے دے اور ترقی یافتہ شکل میں دے ۔ سن رشد اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ جب یتیم کی جسمانی اور عقلی قوت کمال کو پہنچ جائے ‘ اسطرح کہ وہ مال کو بچا بھی سکے اور اس کی حفاظ بھیکر سکے اور اسے ترقی بھی دے سکے ۔ اور وہ جب سوسائٹی میں ایک مختار شخص کی صورت میں آئے تو وہ اس کا ایک صحت مند فرد ہو اور سوسائٹی کے لئے مفید ہو ۔
سن رشد اور بلوغ کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں ۔ عبدالرحمن ابن زید اور امام مالک کے نزدیک عقلی بلوغ ہے ۔ امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ علییہ کے نزدیک پندرہ سال کی عمر ہے ۔ سدی تیس سال کی عمر مقرر کرتے ہیں اور اہل مدینہ بلوغ اور عقلمندی دونوں کے حصول کے بعد سن رشد مانتے ہیں اور کسی عمر کی تحدید نہیں کرتے ۔
آیت ” وَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ لاَ نُکَلِّفُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَہَا “۔ (6 : 152)
” اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو ‘ ہم ہر شخص پر ذمہ داریوں کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے ۔
یہ حکم تجارتی معاملات کے بارے میں ہے کہ تجارتی معاملات میں حتی المقدور کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔ ان احکام کو اسلامی عقائد ونظریات سے وابستہ کیا گیا ہے حالانکہ یہ محض تجارتی معاملات ہیں ۔ یہ اس لئے کہ اسلامی نظام میں تمام معاملات دین و ایمان سے وابستہ ہیں اور ان کے بارے میں جو احکام ہیں وہ منجانب اللہ ہیں۔ اس طرح یہ احکام اللہ اور اللہ کے اقتدار اعلی کے مسئلہ سے وابستہ ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ ان احکام کو ایک ایسے منظر میں لایا جاتا ہے جس میں اسلامی نظریہ حیات کا ربط زندگی کے تمام معاملات میں عیاں کیا گیا ہے ۔
تمام جاہلی نظاموں میں جس میں دور جدید کی جاہلیت بھی شامل ہے ‘ طریقہ یہ رہا ہے کہ عقائد و عبادات سے قانون اور معاملات کو بالکل علیحدہ رکھا جاتا ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن کریم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے قصے میں اچھی طرح واضح کیا ہے ۔
آیت ” قالوا یشعیب اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد ابآئونا اوان نفعل فی اموالنا ما نشؤا (11 : 86)
” انہوں نے جواب دیا : اے شعیب کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں باہم مالی اور تجارتی معاملات ‘ بیع اور شرا کے مسائل اور اسلامی نظریہ حیات کے نظریاتی پہلوؤں کو ایک ساتھ لایا جاتا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اس دین کا مزاج کیا ہے ؟ اور اس میں عقائد و قانون کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ عبادت اور معاملات دونوں میں اللہ کی بندگی ضروری ہے کیونکہ یہ دین ہی کا حصہ ہیں اور اس کے اصل الاصول سے مربوط ہیں۔
آیت ” وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُواْ وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبَی “۔ (6 : 152)
” اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنی رشتہ داری کا کیوں نہ ہو۔ “
سب سے پہلے اسلام قلب مومن کارابطہ اللہ کے ساتھ قائم کرتا ہے اور اس طرح انسان کو نہایت ہی بلند مقام تک پہنچاتا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے اور ہر وقت اس سے ڈرتا رہے اس راستے میں کئی ایسے مقامات آتے ہیں جہاں قدم ڈگمگا جاتے ہیں ۔ انسانی کمزوری اثر کر جاتی ہے اور انسان قرابت ‘ رشتہ داری اور قرابت کے حقوق کا لحاظ کرجاتا ہے ۔ کیونکہ انسان نہایت ہی کمزور ‘ ضعیف ہے اور دور اندیش نہیں ہے اور رشتہ داری کی قوت اس سے کمزوری کا ارتکاب کراتی ہے ۔ رشتہ داری کے ماحول میں وہ پروان چڑھتا ہے ۔ اس ماحول میں وہ زندہ رہتا ہے اور جب وہ رشتہ دار کے مقابلے میں شہادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس سے کمزوری کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ اگر بھائی کے لئے شہادت دے تو مبالغہ ہوگا اور اگر خلاف دے تو کمی کرے گا یا بھائی اور دوسرے شخص کے درمیان فیصلہ کرے تو جانب داری کرے گا ۔ اس خطرناک مقام پر اسلام ہی مدد کو آتا ہے ۔ وہ انسانی ضمیر کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ کلمہ حق کہے اور انصاف کرے ۔ اور صرف اللہ وحدہ پر بھروسہ کرے ۔ صرف اس سے ڈرے اور بھائی کی دوستی ودشمنی کے معاملے صرف اللہ کی نصرت طلب کرے ۔ اللہ سے ڈرے اور یہ نہ کرے کہ رشتہ داری کا حق ادا کرتے ہوئے اللہ کے حقوق کو تلف کردے ۔ اللہ انسان کا خالق ہے اور اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہے ۔ چناچہ اللہ یہاں اپنی وصیتوں کے بعد اپنے ساتھ کئے ہوئے عہد کو یاد دلاتے ہیں ۔
آیت ” وَبِعَہْدِ اللّہِ أَوْفُوا “۔ (6 : 152)
” اور اللہ کے عہد کو پورا کرو “۔
اللہ کے عہد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سچ کہو اگرچہ اس کی زد تمہارے کسی قرابت دار پر پڑتی ہو۔ اس کے عہد میں سے یہ بھی ہے کہ ناپ اور تول کے پیمانے پورے رکھو۔ اس کے عہد میں سے یہ بھی ہے کہ یتیم کے مال میں اس طرح تصرف کرو کہ وہ اس کے لئے احسن ہو ۔ اس کے عہد میں یہ امر بھی داخل ہو ہے کہ بےگناہ جان کا احترام کرو ‘ اور ان سب عہدوں سے بڑا عہد یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ الوہیت اور حاکمیت میں کسی کو شریک نہ کرو ‘ اور یہ عہد عہد اکبر ہے ۔ یہی انسانی فطرت کا تقاضا ہے ‘ اس لئے کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ وابستہ ہونا چاہیے اور اسے ان نوامیس قدرت کا شعور ہونا چاہئے جو انسان کے اندر اور اس کے اردگرد کائنات میں جاری وساری ہیں ۔ اور آخر میں وہی تبصرہ ۔
آیت ” ْ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ (152)
”۔ ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔ “
ذکر کا مفہوم غفلت کے بالمقابل ہے۔ لہذا یاد رکھنے والا دل غافل دل کے متضاد ہوگا اور ذاکر وہ ہوگا جو اللہ کے عہد کو یاد رکھے اور ان عہود کے بارے میں اللہ کی وصیتوں کا خیال رکھے اور ان کو کسی حالت میں نہ بھولے ۔
یہ اصول جن کا آغاز عقیدہ توحید کے ساتھ ہوا ‘ جس میں اسلامی عقائد اور اسلامی قانون اور اسلام کے اجتماعی نظام کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں اور جن سے پہلے کے سبق میں اللہ کے اقتدار اعلی اور اس کے حق حاکمیت کے مضامین تھے جس میں حق قانون سازی نمایاں ہے ‘ یہ سب اصول اللہ کا صراط مستقیم ہیں ۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے مقابلے میں دوسرے تمام راستے غلط ‘ دشوار گزار ہیں ‘ یہی مستقیم راستہ ہے ۔
آیت ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِیْلِہِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (153)
” نیز اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے ‘ لہذا اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔ “
یہ سبق یہاں ختم ہوتا ہے جس کا آغاز اس آیت سے ہوا تھا :
آیت ” افغیر اللہ ابغی حکما ھو الذی انزل الیکم الکتب مفصلا “۔
” کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو حکم تلاش کرو ‘ حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف کتاب مفصل طور پر نازل کردی ہے ۔ “ اور اس طویل سبق کا خاتمہ اس فقرے سے ہوا ۔ اس آغاز اور انجام اور درمیان میں مسئلہ حاکمیت الہیہ ‘ مسئلہ قانون سازی ‘ پھلوں اور مویشیوں کی حلت و حرمت ‘ ذبیحوں اور نذروں کے مسائل اور دوسرے اساسی اور اصولی مسائل تھے ۔ یہ مسائل اس آغاز و انجام کے درمیان بیان ہوئے ۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ یہ ہے وہ وسیع دائرہ جس کے اندر یہ سب چیزیں آتی ہیں اور ان سب کا تعلق ان عقائد اور نظریات کے ساتھ ہے جو اس سورة کا اساسی مضمون ہے جس کا اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ حاکم و معبود ہے اور اس معاملے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔
یہ واحد راستہ ہی اللہ کا راستہ ہے اور اس راہ سے ہم اللہ تعالیٰ پہنچ سکتے ہیں ۔ وہ یہ ہے کہ لوگ اللہ وحدہ کو رب تسلیم کریں ‘ اسی کی عبادت کریں ‘ اسی کی اطاعت کریں ‘ صرف اسی کو اپنا حاکم و قانون ساز تسلیم کریں اور پوری زندگی اسی کے رنگ میں رنگ دیں ۔
یہ راہ ہے جو اللہ کی راہ ہے ۔ اس کے سوا جس قدر بھی راستے ہیں وہ اللہ کی راہ سے جدا ہوجاتے ہیں اور وہ راستے کسی انجام تک نہیں پہنچتے ۔ اللہ نے تمہیں اسی راستے پر چلنے کی ہدایت فرمائی ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔ لہذا معلوم ہوا کہ تقوی کا مدار صحیح عقیدے اور صحیح عمل پر ہے ۔ یہ تقوی ہی ہے جو انسان کو اللہ کے راستے کی طرف لے جاتا ہے ۔
الأنعام 6:153
درس نمبر 71 ایک نظر میں :
اس سورة کے اس آخری حصے میں جو موضوع درس سابق میں تھا وہی ٹھاٹھیں مارتے ہوئے دریا کی طرح آگے بڑھ رہا ہے ۔ یہ کہ اللہ ہی حاکم اور قانون ساز ہے اور یہ بات اسلام کے اساسی عقائد ونظریات کا حصہ ہے ۔ یہ سبق بھی اسی موضوع کا حصہ ہے اور اس میں کچھ مزید پہلو سامنے آتے ہیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے ۔
اس سورة کے آغاز میں دین اسلام کے اساسی نظریات اور عقائد موضوع بحث ہیں اور آخری حصے میں یہ موضوع آیا تھا کہ اسلام کے اساسی نظریات میں یہ بات بھی داخل ہے کہ اللہ وحدہ حاکم اور قانون ساز ہے ۔ مقصد یہ تھا کہ اللہ کا اقتدار جس کا ظہور قانون سازی کی صورت میں ہوتا ہے اسی دین کے اساسی قضایا میں سے ہے اور اسی طریقے اور اسی سطح پر قرآن اسے رکھتا ہے ۔ یہ بات ذہن میں رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم اس دوسرے مسئلے پر وہی دلائل وبراہین پیش کرتا ہے جو اس نے اس سورة کے حصہ اول میں عقائد ونظریات کے بارے میں پیش کئے ۔
٭ یہاں بھی رسولوں ‘ کتابوں ‘ وحی اور معجزات کی بات ہے ۔
٭ یہاں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ اگر معجزات پیش ہوئے اور مان کر نہ دیئے گئے تو پھر اللہ کا عذاب لازما آئے گا ۔
٭ مناظر قیامت اور حساب و کتاب ۔
٭ یہ کہ رسول اور اس کی قوم کے درمیان کوئی تعلق ورابطہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ قوم رسول کے نظریات کو رد کر کے متفرق ارباب کے تابع ہوگئی ہے اور رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اپنے نظریات کو واضح ‘ دوٹوک اور فیصلہ کن انداز میں پیش کریں ۔
٭ یہ کہ دو جہانوں کا رب اور حاکم صرف اللہ ہے اور اس کے سوا کوئی اور رب تلاش نہ کرو۔
٭ اللہ تعالیٰ تمام مخلوقات کا رب اور خالق ہے اور انسانوں کو اس جہاں میں اسی رب نے بسایا اور بٹھایا ہے اور وہ اس بات پر قادر ہے موجودہ لوگوں کو بےدخل کرکے کسی اور مخلوق کو یہاں لا بٹھائے ۔
یہ ہیں وہ مسائل جو اس سبق میں لیے گئے ہیں جبکہ یہی مسائل سورة کے آغاز اور اس کے پہلے حصے میں موضوع بحث تھے۔ لیکن وہاں نظریاتی پہلو نمایاں تھا اور یہاں مسئلہ حاکمیت اور قانون سازی عیاں ہے ۔ یہ قرآن کریم کا ایک خاص اسلوب اور انداز ہے اور اسے صرف وہی شخص جان سکتا ہے جو قرآن کے اسلوب کلام سے واقف ہو اور اس کی ممارست رکھتا ہو۔
اس سبق کے آغاز میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کی بات ہے اور سابقہ بات کا تکملہ ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یہی صراط مستقیم ہے ۔ کہ یہی ہمارا سیدھا راستہ ہے ‘ اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ “
یہاں کتاب موسیٰ کے ذکر کا مطلب یہ ہے کہ یہ راستہ ایک طویل شاہراہ ہے جس پر انسانی تاریخ کے تمام انبیاء چلتے رہے ہیں ۔ تمام رسولوں کی شریعتیں اسی راہ کی کڑیاں ہیں اور ان میں سے قریب ترین شریعت ‘ شریعت موسوی ہے ۔ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ایک کتاب دی تھی جس میں ہر چیز کی تفصیلات تھیں اور یہ شریعت ان کی امت کے لئے ہدایت و رحمت تھی ۔ صرف ان لوگوں کے لئے جو خوف آخرت اور قیام قیامت پر یقین رکھتے تھے ۔
آیت ” ثُمَّ آتَیْْنَا مُوسَی الْکِتَابَ تَمَاماً عَلَی الَّذِیَ أَحْسَنَ وَتَفْصِیْلاً لِّکُلِّ شَیْْء ٍ وَہُدًی وَرَحْمَۃً لَّعَلَّہُم بِلِقَاء رَبِّہِمْ یُؤْمِنُونَ (154)
” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی تھی ‘ جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت اور رحمت تھی ۔ شاید کہ لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں ۔ “
پھر دو بار کتاب جدید ‘ قرآن کا ذکر آتا ہے ‘ جو کتاب موسیٰ کی صف میں ہے اور اس میں بھی نظریہ حیات اور نظام زندگی موجود ہے ۔ اس کا اتباع ضروری ہے تاکہ لوگوں کی دنیا اور آخرت دونوں سدھر جائیں ۔
آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ فَاتَّبِعُوہُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ (155)
” اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ۔ ایک برکت والی کتاب ‘ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقوی کی روشن اختیار کرو ‘ بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے ۔ “
قرآن کریم عربوں پر بطور حجت نازل ہوا ہے تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم پر ایسی کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی جس طرح یہود ونصاری پر کتابیں نازل ہوئی ۔ اگر ہم پر کوئی ایسی کتاب نازل ہوتی جس طرح ان پر نازل ہوئی ہے تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ عربوں پر حجت تمام کرنے کے لئے کہا گیا ‘ لیجئے یہ ہے کتاب جو تم پر نازل کی گئی ۔ اور اس کے بعد بھی اگر وہ اس کتاب کو جھٹلاتے ہیں تو وہ دردناک عذاب کے مستحق ہوں گے ۔
آیت ” أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَیْْنَا الْکِتَابُ لَکُنَّا أَہْدَی مِنْہُمْ فَقَدْ جَاء کُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ وَہُدًی وَرَحْمَۃٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن کَذَّبَ بِآیَاتِ اللّہِ وَصَدَفَ عَنْہَا سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157)
اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں کو دی گئی تھی اور ہم کو کوئی خبر نہیں کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے ۔ اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اس سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت و رحمت (قرآن کی صورت میں) آگئی ہے ۔ اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا ‘ جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے ۔ جو لوگ ہمارے آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “
یقینا قرآن کے نزول سے عربوں پر حجت تمام ہوگئی لیکن وہ اب بھی شرک کررہے ہیں ۔ وہ اب بھی خود قانون بناتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ خدائی شریعت ہے حالانکہ خدا کی کتاب آگئی ہے ۔ اس میں وہ باتیں نہیں ہیں جو وہ از خود گھڑتے ہیں اور ماننے کے بجائے وہ مزید خوارق عادت معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ کتاب کی تصدیق کریں اور پھر اس پر عمل کریں ۔ لیکن یہ سمجھتے نہیں کہ اگر کوئی خارق عادت معجزہ آجائے یا بعض حصہ اس کا آجائے تو پھر یہ آخری فیصلے کا وقت ہوگا ۔
آیت ” ہَلْ یَنظُرُونَ إِلاَّ أَن تَأْتِیْہُمُ الْمَلآئِکَۃُ أَوْ یَأْتِیَ رَبُّکَ أَوْ یَأْتِیَ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ لاَ یَنفَعُ نَفْساً إِیْمَانُہَا لَمْ تَکُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ کَسَبَتْ فِیْ إِیْمَانِہَا خَیْْراً قُلِ انتَظِرُواْ إِنَّا مُنتَظِرُونَ (158)
” کیا اب یہ لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے کھڑے ہوں یا تمہارا رب خود آجائے یا تمہارے رب کی صریح نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ جس روز تمہارے رب کی بعض نشانیاں نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو ‘ جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو ۔ اے نبی ﷺ ان سے کہہ دو کہ اچھا ‘ تم انتظار کرو ‘ ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ “
یہاں اللہ نبی کریم ﷺ کے دین اور تمام ادیان کے اندر فرق کردیتے ہیں جو عقیدہ توحید اور اس پر مبنی قانونی نظام پر قائم نہیں ہیں اور یہ کہ انکا معاملہ اللہ کے ہاں ہے اور وہ اپنے نظام عدل اور رحمت کے مطابق ان کا فیصلہ کرے گا ۔
آیت ” إِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْْء ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (159) مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی إِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ (160)
” جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے ان سے تمہارا واسطہ کچھ نہیں ۔ ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ‘ وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ ‘ جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے دس گناہ اجر ہے اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیاجائے گا جتنا اس نے قصور کیا اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔ “
اس اس سبق کی آخری ضرب آتی ہے اور اس پر اس سورة کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ تسبیح کا آخری دانہ گرا نہایت ہی تروتازگی ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ ‘ نہایت حکیمانہ اور نہایت دوٹوک انداز میں ۔ اس دین کے انتہائی گہرے حقائق کا خلاصہ پیش کردیا جاتا ہے یعنی بےقید اور ہمہ جہت توحید ‘ خالص بندگی اور اطاعت ‘ سنجیدگی کے ساتھ آخرت کا اقرار وجوابدہی کا تصور ‘ دنیا میں ہر شخص کے لئے اپنے اور صرف اپنے اعمال کی جوابدہی ۔ ہر چیز میں نظام ربوبیت کا مشاہدہ ‘ اور یہ کہ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ اپنی اس سرزمین پر اقتدار کی کنجیاں کس کے حوالے کرتا ہے اللہ کے اس اختیار میں اس کے ساتھ نہ کوئی شریک ہے اور نہ ہی اس سے کوئی باز پرس کرنے کا مجاز ہے ۔ اس آخری حصے میں مقام الوہیت کو تفصیل سے واضح کیا جاتا ہے نہایت ہی مخلص ‘ پاک وصاف دل یعنی قلب رسول اللہ ﷺ سے یہ ربانی تجلیات پھوٹتی ہیں اور انداز تعبیر قرآنی ہے جو کسی بھی مفہوم کی تصویر کشی میں لاثانی ہے ۔
آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165)
” اے محمد ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “
الأنعام 6:154
آیت ” نمبر 154۔
یہ کلام لفظ ثم کے ذریعہ کلام ماقبل پر عطف ہے ۔ اس کی تشریح یہ ہے کہ پہلے یہ آیت آئی تھی ۔
آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً “۔ (6 : 151) جہاں یہ بیان کرنا مقصود تھا کہ تمہارا حرام کردہ حرام نہیں بلکہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام کیا ۔ پھر کہا آیت ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً “۔ (6 : 153) کہ یہی میرا سیدھا راستہ اور دین ہے ۔ اس جملے کا عطف پہلے پر ہوا تھا ۔ یعنی آیت ” الا تشرکوا بہ “۔ پر اس کے بعد یہ آیت آئی آیت ” ثم اتینا موسیٰ الکتب “۔ (6 : 154) جس کا عطف مذکورہ بالا دونوں جملوں پر ہوا ۔ اس طرح یہ پورا کلام مسلسل ایک دوسرے سے مربوط ہے ۔ (تماما علی الذی احسن “۔ (6 : 154) کا مفہوم یہ ہے ‘ جیسا کہ ابن جریر نے لکھا ہے ’ پھر ہم نے موسیٰ کو تورات دی اور یہ ان پر ہماری جانب سے تکمیل نعمت تھی ۔ ہماری جانب سے ان کے لئے اعزاز وشرف تھا اسی وجہ سے کہ انہوں نے احسان کا رویہ اختیار کیا اور اپنے رب کی اطاعت کی ۔ رب کی جانب سے جو فرائض بھی عائد کئے گئے ہیں اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور اس کتاب میں وہ تمام امور درج ہیں جن کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو ضرورت تھی ۔
آیت ” تفصیلاللکل شی (6 : 154) ” قتادہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد حلال و حرام ہیں ۔
آیت ” وھدی ورحمۃ “۔ (6 : 154) کے معنی یہ ہیں کہ ان کی قوم ہدایت پائے اور آخرت کی جوابدہی پر ایمان لے آئے اور اس طرح اللہ کی رحمت کی مستحق ہو کر اللہ عذاب کے عذاب سے بچ جائے ۔
یہ تھے مقاصد جن کے لئے ہم نے حضرت موسیٰ کو کتاب دی تھی ‘ انہیں مقاصد کی خاطر اللہ نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ تم بھی ہدایت پاؤ اور پھر رحمت کے مستحق قرار پاؤ۔
الأنعام 6:155
آیت ” نمبر 155۔
بیشک یہ ایک مبارک کتاب ہے اور اس کی تشریح ہم نے بڑی تفصیل کے ساتھ اس آیت کی تفسیر میں کردی ہے جہاں یہ لفظ پہلے آیا تھا : ۔
آیت ” وَہَـذَا کِتَابٌ أَنزَلْنَاہُ مُبَارَکٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْْنَ یَدَیْْہِ وَلِتُنذِرَ أُمَّ الْقُرَی وَمَنْ حَوْلَہَا وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَہُمْ عَلَی صَلاَتِہِمْ یُحَافِظُونَ (92)
” یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے ۔ بڑی خیر و برکت والی ہے ۔ اس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی ۔ اور اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو ۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں ۔ “
یہاں لفظ مبارک اسلامی نظریہ حیات اور اس کی شمولیت اور ہمہ گیری کی بحث کے ضمن میں آیا ہے یعنی یہ کتاب ایک شرعی نظام پر مشتمل ہے۔ حکم یہ دیا جا رہا ہے کہ تم اس شرعی نظام کی اطاعت کرو اور تم پر اللہ کی رحمت صرف اس صورت میں ہو سکتی ہے کہ تم اس کتاب کا اتباع کرو ‘ کیونکہ یہاں کلام شرعی نظام کے بارے میں ہے جبکہ سورة کے آغاز میں بات اسلامی عقائد ونظریات کی تھی ۔
یعنی اب تمہارے لئے کوئی وجہ معذرت باقی نہیں ہے اور نہ کوئی حجت باقی ہے ۔ یہ کتاب نازل ہوئی اور اس نے تمام دلائل اور حجتوں کو منسوخ و باطل کردیا ہے ۔ اس کتاب میں زندگی کے تمام امور کی تفصیلات موجود ہیں زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں اس میں ہدایات موجود نہ ہوں کہ تم خود اپنے لئے قانون بنانے کے لئے محتاج ہوجاؤ۔
الأنعام 6:156
آیت ” نمبر 156 تا 157۔
اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں پیغام دے کر بھیجا گیا اور جب آخری رسالت دنیا میں آئی تو حضرت محمد ﷺ کو تمام اقوام عالم کی طرف بھیجا گیا ۔ لہذا حضور ﷺ انسانوں کے لئے آخری رسول ہیں ۔ کیونکہ ان کو تمام انسانوں کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔
عربوں پر اللہ نے حجت اس طرح تمام کردی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوموں کی طرف بھیجے گئے اور عرب کہتے تھے کہ ہم ان کی کتابوں کو نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ہم عالم نہ تھے ‘ نہ ہم تک اس دعوت کو پہنچانے کا کوئی اہتمام کیا گیا ۔ اگر ہمارے پاس ہماری زبان میں کوئی کتاب آئی ہوتی تو ہم ضرور ایمان لاتے اور ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ ان کے پاس یہ کتاب آگئی اور رسول بھی آگئے بلکہ یہ رسول تمام جہان والوں کے لئے آگئے ، اس رسول کو ایسی کتاب دی گئی جو خود اپنی سچائی کی دلیل ہے ۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب ۔ پھر اس کتاب میں جو حقائق بیان ہوئے ان میں کوئی التباس یا پیچیدگی نہیں ہے ۔ لوگ جس گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں انکے لئے چراغ روشن ہے اور جن مصیبتوں میں وہ مبتلا ہیں ان کے مقابلے میں رحمت ہے ‘ دنیا کے لئے بھی اور آخرت کے لئے بھی ۔
اگر صورت حال یہ ہے تو پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو ایسی کتاب کی آیات کی تکذیب کرتا ہو یا ان سے منہ موڑتا ہو حالانکہ یہ کتاب صحیح راہ ‘ اصلاح حال اور دنیا وآخرت کی فلاح کی طرف بلاتی ہے ۔ جو شخص اپنے آپ کو اور عوام الناس کو اس کتاب کی برکتوں سے محروم کرتا ہے ‘ اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے ۔ وہی شخص ظالم ہے جو جاہلی تصورات اور خلاف اسلام قانون بنا کر اس زمین پر فساد پھیلاتا ہے ۔ جو لوگ اس کتاب سے روگردانی کرتے ہیں درحقیقت ان کے مزاج میں فساد پوشیدہ ہے جو انہیں اس چشمہ خیر سے دور رکھتا ہے ۔ مثلا اونٹ کے پاؤں میں جب نقص ہو یا بیماری ہو تو وہ ایک طرف جھکتا ہے اور سیدھا نہیں چلتا ۔ (صدف کا یہی مفہوم ہے) یعنی یہ لوگ سچائی سے ایک طرف چلے جاتے ہیں جس طرح ایک بیمار اونٹ ایک طرف جھکا ہوا ہوتا ہے اور سیدھا نہیں چل سکتا ۔ اپنے اس میلان کی وجہ سے وہ برے عذاب کے مستحق ہوں گے ۔
آیت ” سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157)
” جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں ‘ انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “ ۔
قرآنی انداز بیان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ عربی زبان کے ایک ایک لفظ کو حسی مفہوم سے بلند کرکے معنوی مدلول کے لئے استعمال کرتا ہے ‘ لیکن یہ استعمال معنوی مفہوم پر اس طرح منطبق ہوتا ہے کہ اصل حسی مفہوم بھی اپنی جگہ درست نظر آتا ہے ۔ اسی طرح (یصدفون) کا استعمال ہوا ہے ۔ (صدف) کے معنی یہ ہیں کہ اونٹ اپنے پاؤں کی بیماری کی وجہ سے ایک طرف جھک کرچکے ۔ اس کی دوسری مثال ہے (الصعر) صعر عربی زبان میں ایک ایسی بیماری کو کہا جاتا ہے جس میں اونٹ کا منہ ایک طرف ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور گردن سیدھی نہیں ہو سکتی ۔ یہ بیماری انسانوں کو بھی لاحق ہوتی ہے ۔ قرآن کریم نے اسے بطور تکبر منہ ٹیڑھا کرنے کے لئے استعمال کیا ۔ آیت ” ولا تصعر خدک “۔ (31 : 18) منہ کو ٹیڑھا نہ کرو ‘ تکبر نہ کرو ‘ اس کی تیسری مثال خبط کی ہے ۔ خبط کے معنی ہیں کسی جانور کا زہریلی گھاس کھا کر پھول جانا ۔ خطبت الناقۃ اس وقت بولتے ہیں جب اونٹنی زہریلی گھاس چر کر پھول جائے ۔ قرآن نے یہ لفظ بےمقصد اور بغیر ایمان کے اعمال کے لئے استعمال کیا ہے ۔ جس میں بظاہر اعمال بڑے نظر آئیں ۔ اس قسم کے استعمال کی بیشمار قرآن میں ہیں۔
اب بات ذرا آگے بڑھتی ہے اور اس کتاب کے آجانے کے بعد اب یہ لوگ مزید خوارق عادت واقعات اور معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ اسے تسلیم کرلیں ۔ اس قسم کی تہدید سورة کے آغاز میں بھی تھی جہاں اسلامی نظریہ توحید اور عقائد کو تسلیم نہ کرنے پر تہدید دی گئی تھی اور یہاں یہ تہدید اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کو تسلیم نہ کرنے کی مناسبت سے دوبارہ دہرائی گئی ہے ۔ ابتداء میں یہ کہا گیا تھا :
آیت ” وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَکاً لَّقُضِیَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ یُنظَرُونَ (8)
” کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ “ یہاں اسی مضمون کو دہرایا گیا :
الأنعام 6:157
آیت ” نمبر 156 تا 157۔
اللہ تعالیٰ کی اسکیم یہ تھی کہ ہر رسول کو اس کی قوم کی زبان میں پیغام دے کر بھیجا گیا اور جب آخری رسالت دنیا میں آئی تو حضرت محمد ﷺ کو تمام اقوام عالم کی طرف بھیجا گیا ۔ لہذا حضور ﷺ انسانوں کے لئے آخری رسول ہیں ۔ کیونکہ ان کو تمام انسانوں کے لئے بشیر ونذیر بنا کر بھیجا گیا ہے۔
عربوں پر اللہ نے حجت اس طرح تمام کردی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوموں کی طرف بھیجے گئے اور عرب کہتے تھے کہ ہم ان کی کتابوں کو نہیں پڑھ سکتے تھے ۔ ہم عالم نہ تھے ‘ نہ ہم تک اس دعوت کو پہنچانے کا کوئی اہتمام کیا گیا ۔ اگر ہمارے پاس ہماری زبان میں کوئی کتاب آئی ہوتی تو ہم ضرور ایمان لاتے اور ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے ۔ چناچہ ان کے پاس یہ کتاب آگئی اور رسول بھی آگئے بلکہ یہ رسول تمام جہان والوں کے لئے آگئے ، اس رسول کو ایسی کتاب دی گئی جو خود اپنی سچائی کی دلیل ہے ۔ آفتاب آمد دلیل آفتاب ۔ پھر اس کتاب میں جو حقائق بیان ہوئے ان میں کوئی التباس یا پیچیدگی نہیں ہے ۔ لوگ جس گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں انکے لئے چراغ روشن ہے اور جن مصیبتوں میں وہ مبتلا ہیں ان کے مقابلے میں رحمت ہے ‘ دنیا کے لئے بھی اور آخرت کے لئے بھی ۔
اگر صورت حال یہ ہے تو پھر اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو ایسی کتاب کی آیات کی تکذیب کرتا ہو یا ان سے منہ موڑتا ہو حالانکہ یہ کتاب صحیح راہ ‘ اصلاح حال اور دنیا وآخرت کی فلاح کی طرف بلاتی ہے ۔ جو شخص اپنے آپ کو اور عوام الناس کو اس کتاب کی برکتوں سے محروم کرتا ہے ‘ اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے ۔ وہی شخص ظالم ہے جو جاہلی تصورات اور خلاف اسلام قانون بنا کر اس زمین پر فساد پھیلاتا ہے ۔ جو لوگ اس کتاب سے روگردانی کرتے ہیں درحقیقت ان کے مزاج میں فساد پوشیدہ ہے جو انہیں اس چشمہ خیر سے دور رکھتا ہے ۔ مثلا اونٹ کے پاؤں میں جب نقص ہو یا بیماری ہو تو وہ ایک طرف جھکتا ہے اور سیدھا نہیں چلتا ۔ (صدف کا یہی مفہوم ہے) یعنی یہ لوگ سچائی سے ایک طرف چلے جاتے ہیں جس طرح ایک بیمار اونٹ ایک طرف جھکا ہوا ہوتا ہے اور سیدھا نہیں چل سکتا ۔ اپنے اس میلان کی وجہ سے وہ برے عذاب کے مستحق ہوں گے ۔
آیت ” سَنَجْزِیْ الَّذِیْنَ یَصْدِفُونَ عَنْ آیَاتِنَا سُوء َ الْعَذَابِ بِمَا کَانُواْ یَصْدِفُونَ (157)
” جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں ‘ انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے ۔ “ ۔
قرآنی انداز بیان کی یہ خصوصیت ہے کہ وہ عربی زبان کے ایک ایک لفظ کو حسی مفہوم سے بلند کرکے معنوی مدلول کے لئے استعمال کرتا ہے ‘ لیکن یہ استعمال معنوی مفہوم پر اس طرح منطبق ہوتا ہے کہ اصل حسی مفہوم بھی اپنی جگہ درست نظر آتا ہے ۔ اسی طرح (یصدفون) کا استعمال ہوا ہے ۔ (صدف) کے معنی یہ ہیں کہ اونٹ اپنے پاؤں کی بیماری کی وجہ سے ایک طرف جھک کرچکے ۔ اس کی دوسری مثال ہے (الصعر) صعر عربی زبان میں ایک ایسی بیماری کو کہا جاتا ہے جس میں اونٹ کا منہ ایک طرف ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور گردن سیدھی نہیں ہو سکتی ۔ یہ بیماری انسانوں کو بھی لاحق ہوتی ہے ۔ قرآن کریم نے اسے بطور تکبر منہ ٹیڑھا کرنے کے لئے استعمال کیا ۔ آیت ” ولا تصعر خدک “۔ (31 : 18) منہ کو ٹیڑھا نہ کرو ‘ تکبر نہ کرو ‘ اس کی تیسری مثال خبط کی ہے ۔ خبط کے معنی ہیں کسی جانور کا زہریلی گھاس کھا کر پھول جانا ۔ خطبت الناقۃ اس وقت بولتے ہیں جب اونٹنی زہریلی گھاس چر کر پھول جائے ۔ قرآن نے یہ لفظ بےمقصد اور بغیر ایمان کے اعمال کے لئے استعمال کیا ہے ۔ جس میں بظاہر اعمال بڑے نظر آئیں ۔ اس قسم کے استعمال کی بیشمار قرآن میں ہیں۔
اب بات ذرا آگے بڑھتی ہے اور اس کتاب کے آجانے کے بعد اب یہ لوگ مزید خوارق عادت واقعات اور معجزات طلب کرتے ہیں تاکہ وہ اسے تسلیم کرلیں ۔ اس قسم کی تہدید سورة کے آغاز میں بھی تھی جہاں اسلامی نظریہ توحید اور عقائد کو تسلیم نہ کرنے پر تہدید دی گئی تھی اور یہاں یہ تہدید اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کو تسلیم نہ کرنے کی مناسبت سے دوبارہ دہرائی گئی ہے ۔ ابتداء میں یہ کہا گیا تھا :
آیت ” وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَکاً لَّقُضِیَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ یُنظَرُونَ (8)
” کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ “ یہاں اسی مضمون کو دہرایا گیا :
الأنعام 6:158
آیت ” نمبر 158۔
یہ ایک دو ٹوک اور واضح تہدید ہے ‘ کیونکہ یہ اللہ کی ناقابل تبدیل سنت ہے کہ جب کوئی معجزہ آتا ہے اور لوگ پھر بھی تکذیب کرتے ہیں تو انہیں ہلاک کردیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ جن خوارق عادت واقعات کا مطالبہ کرتے ہیں اگر ان میں سے کوئی واقعہ لایا جاتا تو ان کا فیصلہ کب کا ہوچکا ہوتا کیونکہ جب اس قسم کا کوئی معجزہ آتا ہے تو مدت عمل اور مہلت ختم ہوجاتی ہے اور پھر ایمان وعمل مفید نہیں ہوتے ۔ جو لوگ پہلے سے مومن اور اسلامی نظام پر عمل پیرا نہ تھے ان کے لئے پھر کوئی وقت نہیں ہوتا ۔ قرآن کریم میں ایمان کے ساتھ عمل کا ذکر ہمیشہ کیا جاتا ہے کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق وہی ایمان مقبول ہے جو عمل کے ساتھ ہو ۔ متعدد روایات میں آتا ہے کہ اس آیت یَوْمَ یَأْتِیْ بَعْضُ آیَاتِ رَبِّکَ (6 : 158) سے علامات قیامت مراد ہیں کیونکہ علامات قیامت آنے کے بعد پھر ایمان وعمل مفید نہیں رہتے اور بعض روایات میں اشراط الساعہ کو گنوایا بھی گیا ہے ۔ لیکن اس آیت کی تفسیر اس مفہوم میں زیادہ بہت ہے کہ اس سے مراد اس دنیا میں اللہ کی سنت جاریہ ہے ۔ اس کی مثال اسی سورة کے آغاز میں موجود ہے ۔
آیت ” وَقَالُواْ لَوْلا أُنزِلَ عَلَیْْہِ مَلَکٌ وَلَوْ أَنزَلْنَا مَلَکاً لَّقُضِیَ الأمْرُ ثُمَّ لاَ یُنظَرُونَ (8)
” کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا ۔ اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ‘ پھر انہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔ “
یہ بات ذہن میں رہے کہ آغاز سورة میں یہی باتیں ایمان لانے اور اسلامی نظریات قبول کرنے کے موضوع پر کہی گئی تھیں اور یہاں باتیں اسلامی نظام کے نفاذ اور شریعت کے اجراء کے موضوع پر کہی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی اہم اور یاد رکھنے کے قابل بات ہے تاکہ اسلامی شریعت اور اللہ کی حاکمیت کے قیام کی حقیقت ذہن میں رہے ۔ جس طرح آغاز سورة کی یہ بات سنت جاریہ پر محمول ہے ‘ اسی طرح یہاں بھی اس کی تاویل اشراط قیامت کے مقابلے میں سنت جاریہ کے ساتھ مناسب ہے ۔ یہ مناسب تاویل و تفسیر ہوگی اور یہاں اسے قیامت پر محمول کرنے کی ضرورت نہ ہوگی جس کے وقوع کا علم عالم الغیب کو تھا ۔
اب بات کا رخ رسول اللہ کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ کی شریعت اور آپ کی ملت دنیا میں تمام قائم ملتوں سے علیحدہ ہے ۔ تمام فرقے اور مذاہب جن میں مشرکین مکہ کا مذہب بھی شامل ہے ‘ سب باطل ہیں اور آپ کے دین و شریعت سے متضاد ہیں۔
الأنعام 6:159
آیت ” نمبر 159۔
یہاں آکر رسول اللہ ﷺ کے دین ‘ آپ کی شریعت اور نظام حیات کے بارے میں یہ فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ دنیا میں قائم تمام ادیان ‘ تمام نظام ہائے قانونی کا آپ کے دین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ نہ آپ کا تعلق مشرکین عرب سے ہے جنہیں ادہام جاہلیت ‘ جاہلی اعتقادات اور عادات ورسومات نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور وہ باہم جنگ وجدال میں مصروف ہیں ‘ گروہ فرقے اور شاخ در شاخ بٹے ہوئے ہیں نہ آپ کے دین ونظام کا تعلق اہل کتاب اور یہود ونصاری کے ساتھ ہے جن کو مذہبی اختلافات نے تکڑے ٹکڑے کردیا ہے اور ان کے اندر کئی کئی فرقے اور گروہ بن گئے ہیں اور نہ آپ کا تعلق آئندہ آنے والے فرقوں اور مسلکوں سے ہوگا جو قیامت تک وجود میں آتے رہیں گے ۔
رسول اللہ ﷺ کا ان فرق و مذاہب سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ آپ کا دین ‘ دین اسلام ہے اور آپ کی شریعت وہ ہے جو اس کتاب میں ہے ۔ اور آپ کا لایا ہوا نظام ایک منفرد نظام ہے جو سب سے جدا ہے ۔ اس دین کے تصورات اور اعتقادات دوسرے ادیان کے ساتھ خلط ملط نہیں ہو سکتے ۔ نہ آپ کی شریعت دوسرے قانونی نظاموں اور رسومات کے ساتھ خلط ملط ہوسکتی ہے ۔ کسی صورت حالات اور کسی نظام قانون پر یبک وقت اسلامی اور غیر اسلامی کا اطلاق نہیں ہو سکتا ۔ اسلام فقط اسلام ہے اور اسلام شریعت ہی اصل شریعت ہے ۔ اسلام کا اپنا سیاسی ‘ اجتماعی ‘ اقتصادی نظام ہی اسلامی نظام ہے ۔ اور قیامت تک رسول خدا اور ان کے لائے ہوئے نظام زندگی کا کوئی تعلق دوسرے لوگوں اور نظاموں سے نہیں ہوسکتا ۔
ان تمام ادیان اور تصورات کو جب کسی مسلم سے واسطہ پڑتا ہے تو اس کا پہلا رد عمل مکمل انکار اور جدائی اور قطع تعلق کا ہونا چاہئے ۔ اسی طرح وہ تمام اجتماعی وسیاسی نظام جن میں اقتدار اعلی اور حاکمیت بالفاظ دیگر الوہیت و ربوبیت اللہ کی نہیں ہے ‘ ایک مسلمان کا پہلا فرض یہ ہے کہ سابقہ پیش آتے ہی انہیں رد کر دے اور ان سے اپنی برات کا اعلان کر دے ۔ نہ اسے ان نظاموں اور اسلام کے درمیان قدر مشترک ڈھونڈنا چاہئے اور نہ ان کے بارے میں موافقت اور مخالفت کی بحث میں شریک ہونا چاہئے ۔
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور جن لوگوں نے دین اسلام کو قبول نہیں کیا اور اسے اپنی زندگیوں پر جاری نہیں کیا ‘ ان لوگوں کے ساتھ رسول اللہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اور جن لوگوں نے دین اسلام کو قبول نہیں کیا اور اسے اپنی زندگیوں پر جاری نہیں کیا ‘ ان لوگوں کے ساتھ رسول اللہ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔
اللہ کے نزدیک دین اسلام ایک سیاسی قانونی نظام ہے اور جو لوگ اسے نہیں اپناتے ان کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہی حقیقت ہے اور اس پر کسی بحث ومباحثے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ کسی قیل وقال کی ضرورت ہے ۔
جن لوگوں نے دوسرے نظامہائے زندگی کو عملا اپنا رکھا ہے ان کا بھی رسول خدا سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کے بارے میں یہ فیصلہ اللہ نے کیا ہے اور قیامت میں بھی ان کے بارے میں فیصلہ اللہ نے کیا ہے اور قیامت میں بھی ان کے بارے میں فیصلہ اللہ کرے گا اور اللہ ہی ان سے حساب لینے والا ہے ‘ ان تمام امور کا جو وہ کرتے ہیں ۔
آیت ” ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ (159)
” ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ‘ وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ “
ایسے لوگوں کے حساب و کتاب کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے یہ بتا دیا کہ اللہ تعالیٰ نے حساب و کتاب میں اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ بندوں سے حساب لیتے وقت وہ رحیم وکریم ہوگا ۔ اس لئے جو شخص مومن ہے اور وہ کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اسے دس گناہ اجر ملے گا ۔ یاد رہے کہ اچھے کام کے لئے ایمان شرط ہے کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی کام اچھا نہیں ہو سکتا ‘ ہاں اگر ایمان ہو تو اچھے کام کا بدلہ دس گنا ملے گا اور اگر برائی کی ہے تو صرف اس کے برابر کا بدلہ ہوگا ۔ اللہ کسی پر کوئی ظلم نہیں کرتا ۔
آیت ” مَن جَاء بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِہَا وَمَن جَاء بِالسَّیِّئَۃِ فَلاَ یُجْزَی إِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ (160)
” جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لئے دس گناہ اجر ہے اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیاجائے گا جتنا اس نے قصور کیا اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا ۔ “ اس سورة کے خاتمے اور اسلام کے نظریہ حاکمیت اور قانون سازی پر اس طویل بحث کے خاتمے پر نہایت ہی تروتازہ عبارت ‘ نہایت ہی نرم اور حسین الفاظ میں ‘ نہایت ہی خوشگوار آواز میں ‘ لیکن نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن انداز میں آتی ہے ۔ بات کو اس طرح ختم کیا جاتا ہے کہ یہ مضمون دل کی گہرائیوں تک اتر جاتا ہے ۔ ہر بات کو لفظ (قل ‘ قل) اور (قل) سے دہرایا جاتا ہے اور ہمہ جہت نظریہ تو حید ہمارے سامنے آجاتا ہے ۔ رستے اور ملت کی وحدت ‘ سمت اور حرکت کی وحدت ‘ الہ اور رب کی وحدت ‘ بندگی اور اطاعت کی وحدت ‘ پوری کائنات اور اس کے اندر جاری وساری موامیس قدرت کی وحدت اور ان کے اندر پائے جانے والے عناصر ترکیبی کی وحدت ۔
الأنعام 6:160
آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔
یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161)
” اے محمدنبی ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔
یہ سپاس گزاری پر مشتمل اعلان ہے ‘ جس سے یقین محکم اور بھرپور بھروسے کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں عبارت کی لفظی تعمیر اور اس کے حقیقی مفہوم کو سمو دیا گیا ہے ۔ اس سے رب کے ساتھ ہدایت کا ربط ‘ ربوبیت کا تعلق اور اس کی جانب سے مسلسل نگہبانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں اس بات کا شکر ادا کیا گیا ہے کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت بخشی ‘ جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ۔ وہ دین قیم ہے اور یہ دین ہماری قدیم میراث بھی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے یہی دین اسلام ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس امت کے ابو الاباء ہیں اور اس وقت سے امت مسلمہ مبارک امت ہے ۔ اس میں دو ٹوک اعلان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکین میں سے نہ تھے ۔
آیت ” قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163)
” کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ “
یہ توحید کا نغمہ ہے ۔ مطلق توحید اور ہمہ گیر بندگی کا اظہار جس میں نماز ‘ اعتکاف ‘ زندگی اور موت سب امور اللہ کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں جو رب العالمین ہے ۔ جو سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حاکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس زندگی کے تمام امور بلکہ موت تک میں ‘ ضمیر میں اور عمل میں سب میں مکمل اسلام ۔ (وبذلک امرت) میں یہ کہا گیا کہ یہ مکمل اسلام امر الہی ہے محض رضاکارانہ فعل نہیں ہے ۔ اس لئے سب سے پہلے حضور اکرم ﷺ ہیں۔
آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164)
” کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ “
یہ ایک لفظ ہے جو پوری کائنات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ زمین و آسمان اور مافیہا ۔ وہ تمام مخلوق اس میں آتی ہے جو معلوم ہے یا نامعلوم ہے ۔ ہر واقعہ اور ہر حادثہ اس میں آتا ہے جو ظاہری ہو یا باطنی ۔ یہ سب اللہ کی ربوبیت کے سائے میں ہیں ۔ اور یہ عظیم کائنات اللہ کی ربوبیت کے دائرے میں ہے ۔ اس پر اللہ کی حاکمیت حاوی ہے اور یہ اس کی مطیع فرماں ہے ۔ عقائد میں ‘ عبادت میں اور قانونی نظام میں ۔ آیت ” وھو رب کل شیئ “۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ‘ استفہام انکاری ۔ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور رب کو تلاش کروں ؟ آیت ” وھو رب کل شیء “ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں ‘ وہ میرا حاکم ہو ‘ وہ میرے امور میں متصرف ہو ‘ وہ مجھ پر نگہبان ہو ‘ وہ میرا مصلح اور راہنماہو حالانکہ میری نیت اور عمل کے بارے میں مجھ سے باز پرس صرف اللہ کرے گا ‘ صرف وہی ہے جو حساب لے گا ‘ اطاعت کا اور معصیت کا۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں جبکہ یہ پوری کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور میں اور تم سب اس کے نظام ربوبیت کا حصہ ہیں ۔
میں غیر اللہ کو کس طرح رب بنا سکتا ہوں ‘ کیونکہ آخرت میں جب ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے جرائم کی سزا ملے گی تو یہ غیر کیا کرسکے گا ‘ وہاں تو ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہوگا اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا ۔
میں غیر اللہ کو رب کس طرح بنا سکتا ہوں ‘ انہی میں انسانون کو تو اللہ نے لا کر بسایا ہے اور اس میں ان کی تنظیم کر کر کے کسی کو بلند رتبے دیئے ہیں اور کسی کو ماتحت بنایا ہے ۔ کسی کو عقل مند اور کسی کو نادان ‘ کسی کو تنومند اور کسی کو ناتواں ‘ کسی کو مالدار اور کسی کو غریب تاکہ سب کی آزمائش ہو ‘ کسی غیر کو کس طرح بناؤں جب غفور ورحیم تو صرف اللہ رب العالمین ہے۔
آیت ” وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165)
” وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “
کیا میں غیر اللہ کو رب بناؤں اور اس کی شریعت کو اپنے لئے شریعت بناؤں اور اس کے امر کو سمجھوں ‘ اس کے حکم کو حکم مانوں یہ سب دلائل میرے سامنے موجود ہیں ‘ سب شواہد موجود ہیں اور یہ سب دلائل بتاتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ وحدہ کو رب بنانا چاہئے ۔
یہ توحید کا نغمہ ہے ‘ نہایت نرم اور خوشگوار ۔ اس نغمے کے اندر ایمان کی حقیقت اور اس کے مظاہر ومشاہد رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی اسکرین پر صاف صاف نظر آتے ہیں ۔ اسے ایسے انداز اور ایسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جو قرآن کا واضح اعجاز ہے اور منفرد انداز بیان ۔
شعور کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون نظام کی اطاعت کا اعلان ہے بعینہ اس طرح ہے جس طرح سورة کے آغاز میں ‘ اللہ کی حاکمیت کے بارے میں نظریاتی اظہار کے وقت کیا گیا تھا ۔ سورة کے آغاز میں سے اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات کو ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں ۔
آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14) قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16)
” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور ” تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو “ کہو ‘ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ “
اب اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سورة کے آغاز میں جن امور کا تذکرہ ہوا تھا اسے اختتام پر دوبارہ دہرایا گیا تھا ۔ ابتداء کے معانی اور اختتام کے معانی ایک جیسے ہیں ‘ ابتداء میں ان معانی اور حقائق کے نظریاتی پہلو کو لیا گیا تھا اور اختتام پر انکو عملی اور نظام حیات کی شکل میں لیا گیا ہے ۔ دونوں جگہ اس دین کی ایک ہی حقیقت کے دو پہلوؤں کو لیا گیا ہے ۔
اب یہ سورة ختم ہوگئی ہے ‘ ذرا پیچھے مڑ کر نظر ڈالئے ‘ ہم نے ایک طویل ذہنی سفر کیا ‘ معانی کے وسیع صحراؤں اور دریاؤں کو عبور کیا ‘ طویل اور گہری وادیوں کا سفر کیا ۔ اس سورة کا کچھ حصہ سابقہ پارے میں تھا اور کچھ حصہ زیر نظر پارے میں آیا ۔ معانی وحقائق کا یہ کس قدر عظیم سفر تھا ۔ اگر اس سورة کے حجم کو دیکھا جائے تو یہ گنے چنے صفحات ہی ہیں۔ محدود آیات وعبارات ہیں ۔ اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو وہ ان لامحدود حقائق کو اس قدر مختصر سورة میں ادا نہ کرسکتا ۔ حقائق مشاہدات ‘ ہدایات واشارات کا ایک عظیم ذخیرہ ہے جو ان آیات میں سمو دیا گیا ہے ۔ اور کلام کا انداز نہایت ہی معجز اور مترنم ہے اور تعبیر نہایت ہی مختصر اور بےمثال ۔
اس سورة کے مضامین کی دنیا میں ہم نے جو سفر کیا یہ نہایت ہی طویل ‘ وسیع اور نشیب و فراز پر مشتمل تھا ۔ اس میں اس کائنات کے حقائق سے بھی ہم دوچار ہوئے اور اسلامی تصور حیات کے حدود کی پیمائش بھی ہم نے کی ۔ اس سفر میں ہم حقیقت الوہیت ‘ اس کی خوبصورتی اور اس کے جلال و جمال سے بھی آگاہ ہوئے ۔ اس سفر میں ہم نے اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے حقائق ‘ اس کے اندر زندگی اور اس کی قلمونیوں کا بھی مشاہدہ کیا اور اس کے پس منظر میں جو غیبی حقائق موجود ہیں یا آنے والے ہیں ان کے مناظر بھی ہم نے دیکھے ۔ اللہ کے نظام مشیت کے بارے میں بھی ہمیں علم ہوا کہ کس طرح وہ ثبات دیتی ہے اور کس طرح مٹا دیتی ہے کس طرح پیدا کرتی ہے اور کس طرح معدوم کردیتی ہے کس طرح زندگی بخشتی ہے اور کس طرح موت طاری کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کو اس نے کس طرح متحرک کردیا ہے تمام زندہ اور مردہ مخلوق کس طرح رواں اور دواں ہے ۔
اس سفر میں ہم نفس انسانی کی گہرائیوں تک بھی گئے ‘ اس کے نشیب و فراز میں بھی ہم نے سفر کیا ‘ اس کی ظاہری تصویر اور باطنی حقیقت سے بھی آگاہ ہوئے ‘ اس کی خواہشات اور میلانات سے بھی دوچار ہوئے ‘ اس کی ہدایت یابی اور گمراہی کو بھی دیکھا ‘ اس نفس انسانی کے اندر شیاطین جن وانس کی کارستانیاں بھی ملاحظہ کیں اور ان کے اقدامات ومنصوبے دیکھے ‘ ہدایت دینے والوں اور گمراہ کرنے والوں کو باہم دست و گریبان ہوتے بھی دیکھا ۔
اس طویل سیر میں مشاہد قیامت ‘ حشر ونشر کے مناظر کرب وابتلا کے اوقات ‘ خوشی اور فلاح کے لمحات اس کرہ ارض پر انسانیت کی آبادی اور اس کی تاریخ کے بعض باب اور اس کائنات کی تاریخ کی بعض جھلکیاں بھی نظر آئیں ۔ غرض اس سورة میں ہم نے وہ کچھ دیکھا جس کی پوری تلخیص یہاں ممکن نہیں ہے ۔ پوری حقیقت تو اس سورة کے مطالعہ اور اس کے پیارے اسلوب ہی سے اخذ ہو سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فی الواقعہ ایک کتاب مبارک ہے اور یہ سورة اس کی برکات میں سے ایک حصہ ہے ۔