Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الأنعام 6:161 – الأعراف 7:93

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الأنعام 6:161
  2. الأنعام 6:162
  3. الأنعام 6:163
  4. الأنعام 6:164
  5. الأنعام 6:165
  6. الأعراف 7:1
  7. الأعراف 7:2
  8. الأعراف 7:3
  9. الأعراف 7:4
  10. الأعراف 7:5
  11. الأعراف 7:6
  12. الأعراف 7:7
  13. الأعراف 7:8
  14. الأعراف 7:9
  15. الأعراف 7:10
  16. الأعراف 7:11
  17. الأعراف 7:12
  18. الأعراف 7:13
  19. الأعراف 7:14
  20. الأعراف 7:15
  21. الأعراف 7:16
  22. الأعراف 7:17
  23. الأعراف 7:18
  24. الأعراف 7:19
  25. الأعراف 7:20
  26. الأعراف 7:21
  27. الأعراف 7:22
  28. الأعراف 7:23
  29. الأعراف 7:24
  30. الأعراف 7:25
  31. الأعراف 7:26
  32. الأعراف 7:27
  33. الأعراف 7:28
  34. الأعراف 7:29
  35. الأعراف 7:30
  36. الأعراف 7:31
  37. الأعراف 7:32
  38. الأعراف 7:33
  39. الأعراف 7:34
  40. الأعراف 7:35
  41. الأعراف 7:36
  42. الأعراف 7:37
  43. الأعراف 7:38
  44. الأعراف 7:39
  45. الأعراف 7:40
  46. الأعراف 7:41
  47. الأعراف 7:42
  48. الأعراف 7:43
  49. الأعراف 7:44
  50. الأعراف 7:45
  51. الأعراف 7:46
  52. الأعراف 7:47
  53. الأعراف 7:48
  54. الأعراف 7:49
  55. الأعراف 7:50
  56. الأعراف 7:51
  57. الأعراف 7:52
  58. الأعراف 7:53
  59. الأعراف 7:54
  60. الأعراف 7:55
  61. الأعراف 7:56
  62. الأعراف 7:57
  63. الأعراف 7:58
  64. الأعراف 7:59
  65. الأعراف 7:60
  66. الأعراف 7:61
  67. الأعراف 7:62
  68. الأعراف 7:63
  69. الأعراف 7:64
  70. الأعراف 7:65
  71. الأعراف 7:66
  72. الأعراف 7:67
  73. الأعراف 7:68
  74. الأعراف 7:69
  75. الأعراف 7:70
  76. الأعراف 7:71
  77. الأعراف 7:72
  78. الأعراف 7:73
  79. الأعراف 7:74
  80. الأعراف 7:75
  81. الأعراف 7:76
  82. الأعراف 7:77
  83. الأعراف 7:78
  84. الأعراف 7:79
  85. الأعراف 7:80
  86. الأعراف 7:81
  87. الأعراف 7:82
  88. الأعراف 7:83
  89. الأعراف 7:84
  90. الأعراف 7:85
  91. الأعراف 7:86
  92. الأعراف 7:87
  93. الأعراف 7:88
  94. الأعراف 7:89
  95. الأعراف 7:90
  96. الأعراف 7:91
  97. الأعراف 7:92
  98. الأعراف 7:93

الأنعام 6:161

آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔ یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) ” اے محمدنبی ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ یہ سپاس گزاری پر مشتمل اعلان ہے ‘ جس سے یقین محکم اور بھرپور بھروسے کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں عبارت کی لفظی تعمیر اور اس کے حقیقی مفہوم کو سمو دیا گیا ہے ۔ اس سے رب کے ساتھ ہدایت کا ربط ‘ ربوبیت کا تعلق اور اس کی جانب سے مسلسل نگہبانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں اس بات کا شکر ادا کیا گیا ہے کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت بخشی ‘ جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ۔ وہ دین قیم ہے اور یہ دین ہماری قدیم میراث بھی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے یہی دین اسلام ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس امت کے ابو الاباء ہیں اور اس وقت سے امت مسلمہ مبارک امت ہے ۔ اس میں دو ٹوک اعلان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکین میں سے نہ تھے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) ” کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ “ یہ توحید کا نغمہ ہے ۔ مطلق توحید اور ہمہ گیر بندگی کا اظہار جس میں نماز ‘ اعتکاف ‘ زندگی اور موت سب امور اللہ کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں جو رب العالمین ہے ۔ جو سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حاکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس زندگی کے تمام امور بلکہ موت تک میں ‘ ضمیر میں اور عمل میں سب میں مکمل اسلام ۔ (وبذلک امرت) میں یہ کہا گیا کہ یہ مکمل اسلام امر الہی ہے محض رضاکارانہ فعل نہیں ہے ۔ اس لئے سب سے پہلے حضور اکرم ﷺ ہیں۔ آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) ” کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ “ یہ ایک لفظ ہے جو پوری کائنات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ زمین و آسمان اور مافیہا ۔ وہ تمام مخلوق اس میں آتی ہے جو معلوم ہے یا نامعلوم ہے ۔ ہر واقعہ اور ہر حادثہ اس میں آتا ہے جو ظاہری ہو یا باطنی ۔ یہ سب اللہ کی ربوبیت کے سائے میں ہیں ۔ اور یہ عظیم کائنات اللہ کی ربوبیت کے دائرے میں ہے ۔ اس پر اللہ کی حاکمیت حاوی ہے اور یہ اس کی مطیع فرماں ہے ۔ عقائد میں ‘ عبادت میں اور قانونی نظام میں ۔ آیت ” وھو رب کل شیئ “۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ‘ استفہام انکاری ۔ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور رب کو تلاش کروں ؟ آیت ” وھو رب کل شیء “ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں ‘ وہ میرا حاکم ہو ‘ وہ میرے امور میں متصرف ہو ‘ وہ مجھ پر نگہبان ہو ‘ وہ میرا مصلح اور راہنماہو حالانکہ میری نیت اور عمل کے بارے میں مجھ سے باز پرس صرف اللہ کرے گا ‘ صرف وہی ہے جو حساب لے گا ‘ اطاعت کا اور معصیت کا۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں جبکہ یہ پوری کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور میں اور تم سب اس کے نظام ربوبیت کا حصہ ہیں ۔ میں غیر اللہ کو کس طرح رب بنا سکتا ہوں ‘ کیونکہ آخرت میں جب ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے جرائم کی سزا ملے گی تو یہ غیر کیا کرسکے گا ‘ وہاں تو ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہوگا اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا ۔ میں غیر اللہ کو رب کس طرح بنا سکتا ہوں ‘ انہی میں انسانون کو تو اللہ نے لا کر بسایا ہے اور اس میں ان کی تنظیم کر کر کے کسی کو بلند رتبے دیئے ہیں اور کسی کو ماتحت بنایا ہے ۔ کسی کو عقل مند اور کسی کو نادان ‘ کسی کو تنومند اور کسی کو ناتواں ‘ کسی کو مالدار اور کسی کو غریب تاکہ سب کی آزمائش ہو ‘ کسی غیر کو کس طرح بناؤں جب غفور ورحیم تو صرف اللہ رب العالمین ہے۔ آیت ” وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165) ” وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “ کیا میں غیر اللہ کو رب بناؤں اور اس کی شریعت کو اپنے لئے شریعت بناؤں اور اس کے امر کو سمجھوں ‘ اس کے حکم کو حکم مانوں یہ سب دلائل میرے سامنے موجود ہیں ‘ سب شواہد موجود ہیں اور یہ سب دلائل بتاتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ وحدہ کو رب بنانا چاہئے ۔ یہ توحید کا نغمہ ہے ‘ نہایت نرم اور خوشگوار ۔ اس نغمے کے اندر ایمان کی حقیقت اور اس کے مظاہر ومشاہد رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی اسکرین پر صاف صاف نظر آتے ہیں ۔ اسے ایسے انداز اور ایسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جو قرآن کا واضح اعجاز ہے اور منفرد انداز بیان ۔ شعور کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون نظام کی اطاعت کا اعلان ہے بعینہ اس طرح ہے جس طرح سورة کے آغاز میں ‘ اللہ کی حاکمیت کے بارے میں نظریاتی اظہار کے وقت کیا گیا تھا ۔ سورة کے آغاز میں سے اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات کو ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں ۔ آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14) قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) ” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور ” تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو “ کہو ‘ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ “ اب اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سورة کے آغاز میں جن امور کا تذکرہ ہوا تھا اسے اختتام پر دوبارہ دہرایا گیا تھا ۔ ابتداء کے معانی اور اختتام کے معانی ایک جیسے ہیں ‘ ابتداء میں ان معانی اور حقائق کے نظریاتی پہلو کو لیا گیا تھا اور اختتام پر انکو عملی اور نظام حیات کی شکل میں لیا گیا ہے ۔ دونوں جگہ اس دین کی ایک ہی حقیقت کے دو پہلوؤں کو لیا گیا ہے ۔ اب یہ سورة ختم ہوگئی ہے ‘ ذرا پیچھے مڑ کر نظر ڈالئے ‘ ہم نے ایک طویل ذہنی سفر کیا ‘ معانی کے وسیع صحراؤں اور دریاؤں کو عبور کیا ‘ طویل اور گہری وادیوں کا سفر کیا ۔ اس سورة کا کچھ حصہ سابقہ پارے میں تھا اور کچھ حصہ زیر نظر پارے میں آیا ۔ معانی وحقائق کا یہ کس قدر عظیم سفر تھا ۔ اگر اس سورة کے حجم کو دیکھا جائے تو یہ گنے چنے صفحات ہی ہیں۔ محدود آیات وعبارات ہیں ۔ اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو وہ ان لامحدود حقائق کو اس قدر مختصر سورة میں ادا نہ کرسکتا ۔ حقائق مشاہدات ‘ ہدایات واشارات کا ایک عظیم ذخیرہ ہے جو ان آیات میں سمو دیا گیا ہے ۔ اور کلام کا انداز نہایت ہی معجز اور مترنم ہے اور تعبیر نہایت ہی مختصر اور بےمثال ۔ اس سورة کے مضامین کی دنیا میں ہم نے جو سفر کیا یہ نہایت ہی طویل ‘ وسیع اور نشیب و فراز پر مشتمل تھا ۔ اس میں اس کائنات کے حقائق سے بھی ہم دوچار ہوئے اور اسلامی تصور حیات کے حدود کی پیمائش بھی ہم نے کی ۔ اس سفر میں ہم حقیقت الوہیت ‘ اس کی خوبصورتی اور اس کے جلال و جمال سے بھی آگاہ ہوئے ۔ اس سفر میں ہم نے اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے حقائق ‘ اس کے اندر زندگی اور اس کی قلمونیوں کا بھی مشاہدہ کیا اور اس کے پس منظر میں جو غیبی حقائق موجود ہیں یا آنے والے ہیں ان کے مناظر بھی ہم نے دیکھے ۔ اللہ کے نظام مشیت کے بارے میں بھی ہمیں علم ہوا کہ کس طرح وہ ثبات دیتی ہے اور کس طرح مٹا دیتی ہے کس طرح پیدا کرتی ہے اور کس طرح معدوم کردیتی ہے کس طرح زندگی بخشتی ہے اور کس طرح موت طاری کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کو اس نے کس طرح متحرک کردیا ہے تمام زندہ اور مردہ مخلوق کس طرح رواں اور دواں ہے ۔ اس سفر میں ہم نفس انسانی کی گہرائیوں تک بھی گئے ‘ اس کے نشیب و فراز میں بھی ہم نے سفر کیا ‘ اس کی ظاہری تصویر اور باطنی حقیقت سے بھی آگاہ ہوئے ‘ اس کی خواہشات اور میلانات سے بھی دوچار ہوئے ‘ اس کی ہدایت یابی اور گمراہی کو بھی دیکھا ‘ اس نفس انسانی کے اندر شیاطین جن وانس کی کارستانیاں بھی ملاحظہ کیں اور ان کے اقدامات ومنصوبے دیکھے ‘ ہدایت دینے والوں اور گمراہ کرنے والوں کو باہم دست و گریبان ہوتے بھی دیکھا ۔ اس طویل سیر میں مشاہد قیامت ‘ حشر ونشر کے مناظر کرب وابتلا کے اوقات ‘ خوشی اور فلاح کے لمحات اس کرہ ارض پر انسانیت کی آبادی اور اس کی تاریخ کے بعض باب اور اس کائنات کی تاریخ کی بعض جھلکیاں بھی نظر آئیں ۔ غرض اس سورة میں ہم نے وہ کچھ دیکھا جس کی پوری تلخیص یہاں ممکن نہیں ہے ۔ پوری حقیقت تو اس سورة کے مطالعہ اور اس کے پیارے اسلوب ہی سے اخذ ہو سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فی الواقعہ ایک کتاب مبارک ہے اور یہ سورة اس کی برکات میں سے ایک حصہ ہے ۔

الأنعام 6:162

آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔ یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) ” اے محمدنبی ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ یہ سپاس گزاری پر مشتمل اعلان ہے ‘ جس سے یقین محکم اور بھرپور بھروسے کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں عبارت کی لفظی تعمیر اور اس کے حقیقی مفہوم کو سمو دیا گیا ہے ۔ اس سے رب کے ساتھ ہدایت کا ربط ‘ ربوبیت کا تعلق اور اس کی جانب سے مسلسل نگہبانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں اس بات کا شکر ادا کیا گیا ہے کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت بخشی ‘ جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ۔ وہ دین قیم ہے اور یہ دین ہماری قدیم میراث بھی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے یہی دین اسلام ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس امت کے ابو الاباء ہیں اور اس وقت سے امت مسلمہ مبارک امت ہے ۔ اس میں دو ٹوک اعلان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکین میں سے نہ تھے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) ” کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ “ یہ توحید کا نغمہ ہے ۔ مطلق توحید اور ہمہ گیر بندگی کا اظہار جس میں نماز ‘ اعتکاف ‘ زندگی اور موت سب امور اللہ کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں جو رب العالمین ہے ۔ جو سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حاکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس زندگی کے تمام امور بلکہ موت تک میں ‘ ضمیر میں اور عمل میں سب میں مکمل اسلام ۔ (وبذلک امرت) میں یہ کہا گیا کہ یہ مکمل اسلام امر الہی ہے محض رضاکارانہ فعل نہیں ہے ۔ اس لئے سب سے پہلے حضور اکرم ﷺ ہیں۔ آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) ” کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ “ یہ ایک لفظ ہے جو پوری کائنات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ زمین و آسمان اور مافیہا ۔ وہ تمام مخلوق اس میں آتی ہے جو معلوم ہے یا نامعلوم ہے ۔ ہر واقعہ اور ہر حادثہ اس میں آتا ہے جو ظاہری ہو یا باطنی ۔ یہ سب اللہ کی ربوبیت کے سائے میں ہیں ۔ اور یہ عظیم کائنات اللہ کی ربوبیت کے دائرے میں ہے ۔ اس پر اللہ کی حاکمیت حاوی ہے اور یہ اس کی مطیع فرماں ہے ۔ عقائد میں ‘ عبادت میں اور قانونی نظام میں ۔ آیت ” وھو رب کل شیئ “۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ‘ استفہام انکاری ۔ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور رب کو تلاش کروں ؟ آیت ” وھو رب کل شیء “ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں ‘ وہ میرا حاکم ہو ‘ وہ میرے امور میں متصرف ہو ‘ وہ مجھ پر نگہبان ہو ‘ وہ میرا مصلح اور راہنماہو حالانکہ میری نیت اور عمل کے بارے میں مجھ سے باز پرس صرف اللہ کرے گا ‘ صرف وہی ہے جو حساب لے گا ‘ اطاعت کا اور معصیت کا۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں جبکہ یہ پوری کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور میں اور تم سب اس کے نظام ربوبیت کا حصہ ہیں ۔ میں غیر اللہ کو کس طرح رب بنا سکتا ہوں ‘ کیونکہ آخرت میں جب ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے جرائم کی سزا ملے گی تو یہ غیر کیا کرسکے گا ‘ وہاں تو ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہوگا اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا ۔ میں غیر اللہ کو رب کس طرح بنا سکتا ہوں ‘ انہی میں انسانون کو تو اللہ نے لا کر بسایا ہے اور اس میں ان کی تنظیم کر کر کے کسی کو بلند رتبے دیئے ہیں اور کسی کو ماتحت بنایا ہے ۔ کسی کو عقل مند اور کسی کو نادان ‘ کسی کو تنومند اور کسی کو ناتواں ‘ کسی کو مالدار اور کسی کو غریب تاکہ سب کی آزمائش ہو ‘ کسی غیر کو کس طرح بناؤں جب غفور ورحیم تو صرف اللہ رب العالمین ہے۔ آیت ” وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165) ” وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “ کیا میں غیر اللہ کو رب بناؤں اور اس کی شریعت کو اپنے لئے شریعت بناؤں اور اس کے امر کو سمجھوں ‘ اس کے حکم کو حکم مانوں یہ سب دلائل میرے سامنے موجود ہیں ‘ سب شواہد موجود ہیں اور یہ سب دلائل بتاتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ وحدہ کو رب بنانا چاہئے ۔ یہ توحید کا نغمہ ہے ‘ نہایت نرم اور خوشگوار ۔ اس نغمے کے اندر ایمان کی حقیقت اور اس کے مظاہر ومشاہد رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی اسکرین پر صاف صاف نظر آتے ہیں ۔ اسے ایسے انداز اور ایسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جو قرآن کا واضح اعجاز ہے اور منفرد انداز بیان ۔ شعور کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون نظام کی اطاعت کا اعلان ہے بعینہ اس طرح ہے جس طرح سورة کے آغاز میں ‘ اللہ کی حاکمیت کے بارے میں نظریاتی اظہار کے وقت کیا گیا تھا ۔ سورة کے آغاز میں سے اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات کو ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں ۔ آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14) قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) ” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور ” تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو “ کہو ‘ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ “ اب اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سورة کے آغاز میں جن امور کا تذکرہ ہوا تھا اسے اختتام پر دوبارہ دہرایا گیا تھا ۔ ابتداء کے معانی اور اختتام کے معانی ایک جیسے ہیں ‘ ابتداء میں ان معانی اور حقائق کے نظریاتی پہلو کو لیا گیا تھا اور اختتام پر انکو عملی اور نظام حیات کی شکل میں لیا گیا ہے ۔ دونوں جگہ اس دین کی ایک ہی حقیقت کے دو پہلوؤں کو لیا گیا ہے ۔ اب یہ سورة ختم ہوگئی ہے ‘ ذرا پیچھے مڑ کر نظر ڈالئے ‘ ہم نے ایک طویل ذہنی سفر کیا ‘ معانی کے وسیع صحراؤں اور دریاؤں کو عبور کیا ‘ طویل اور گہری وادیوں کا سفر کیا ۔ اس سورة کا کچھ حصہ سابقہ پارے میں تھا اور کچھ حصہ زیر نظر پارے میں آیا ۔ معانی وحقائق کا یہ کس قدر عظیم سفر تھا ۔ اگر اس سورة کے حجم کو دیکھا جائے تو یہ گنے چنے صفحات ہی ہیں۔ محدود آیات وعبارات ہیں ۔ اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو وہ ان لامحدود حقائق کو اس قدر مختصر سورة میں ادا نہ کرسکتا ۔ حقائق مشاہدات ‘ ہدایات واشارات کا ایک عظیم ذخیرہ ہے جو ان آیات میں سمو دیا گیا ہے ۔ اور کلام کا انداز نہایت ہی معجز اور مترنم ہے اور تعبیر نہایت ہی مختصر اور بےمثال ۔ اس سورة کے مضامین کی دنیا میں ہم نے جو سفر کیا یہ نہایت ہی طویل ‘ وسیع اور نشیب و فراز پر مشتمل تھا ۔ اس میں اس کائنات کے حقائق سے بھی ہم دوچار ہوئے اور اسلامی تصور حیات کے حدود کی پیمائش بھی ہم نے کی ۔ اس سفر میں ہم حقیقت الوہیت ‘ اس کی خوبصورتی اور اس کے جلال و جمال سے بھی آگاہ ہوئے ۔ اس سفر میں ہم نے اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے حقائق ‘ اس کے اندر زندگی اور اس کی قلمونیوں کا بھی مشاہدہ کیا اور اس کے پس منظر میں جو غیبی حقائق موجود ہیں یا آنے والے ہیں ان کے مناظر بھی ہم نے دیکھے ۔ اللہ کے نظام مشیت کے بارے میں بھی ہمیں علم ہوا کہ کس طرح وہ ثبات دیتی ہے اور کس طرح مٹا دیتی ہے کس طرح پیدا کرتی ہے اور کس طرح معدوم کردیتی ہے کس طرح زندگی بخشتی ہے اور کس طرح موت طاری کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کو اس نے کس طرح متحرک کردیا ہے تمام زندہ اور مردہ مخلوق کس طرح رواں اور دواں ہے ۔ اس سفر میں ہم نفس انسانی کی گہرائیوں تک بھی گئے ‘ اس کے نشیب و فراز میں بھی ہم نے سفر کیا ‘ اس کی ظاہری تصویر اور باطنی حقیقت سے بھی آگاہ ہوئے ‘ اس کی خواہشات اور میلانات سے بھی دوچار ہوئے ‘ اس کی ہدایت یابی اور گمراہی کو بھی دیکھا ‘ اس نفس انسانی کے اندر شیاطین جن وانس کی کارستانیاں بھی ملاحظہ کیں اور ان کے اقدامات ومنصوبے دیکھے ‘ ہدایت دینے والوں اور گمراہ کرنے والوں کو باہم دست و گریبان ہوتے بھی دیکھا ۔ اس طویل سیر میں مشاہد قیامت ‘ حشر ونشر کے مناظر کرب وابتلا کے اوقات ‘ خوشی اور فلاح کے لمحات اس کرہ ارض پر انسانیت کی آبادی اور اس کی تاریخ کے بعض باب اور اس کائنات کی تاریخ کی بعض جھلکیاں بھی نظر آئیں ۔ غرض اس سورة میں ہم نے وہ کچھ دیکھا جس کی پوری تلخیص یہاں ممکن نہیں ہے ۔ پوری حقیقت تو اس سورة کے مطالعہ اور اس کے پیارے اسلوب ہی سے اخذ ہو سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فی الواقعہ ایک کتاب مبارک ہے اور یہ سورة اس کی برکات میں سے ایک حصہ ہے ۔

الأنعام 6:163

آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔ یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) ” اے محمدنبی ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ یہ سپاس گزاری پر مشتمل اعلان ہے ‘ جس سے یقین محکم اور بھرپور بھروسے کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں عبارت کی لفظی تعمیر اور اس کے حقیقی مفہوم کو سمو دیا گیا ہے ۔ اس سے رب کے ساتھ ہدایت کا ربط ‘ ربوبیت کا تعلق اور اس کی جانب سے مسلسل نگہبانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں اس بات کا شکر ادا کیا گیا ہے کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت بخشی ‘ جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ۔ وہ دین قیم ہے اور یہ دین ہماری قدیم میراث بھی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے یہی دین اسلام ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس امت کے ابو الاباء ہیں اور اس وقت سے امت مسلمہ مبارک امت ہے ۔ اس میں دو ٹوک اعلان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکین میں سے نہ تھے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) ” کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ “ یہ توحید کا نغمہ ہے ۔ مطلق توحید اور ہمہ گیر بندگی کا اظہار جس میں نماز ‘ اعتکاف ‘ زندگی اور موت سب امور اللہ کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں جو رب العالمین ہے ۔ جو سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حاکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس زندگی کے تمام امور بلکہ موت تک میں ‘ ضمیر میں اور عمل میں سب میں مکمل اسلام ۔ (وبذلک امرت) میں یہ کہا گیا کہ یہ مکمل اسلام امر الہی ہے محض رضاکارانہ فعل نہیں ہے ۔ اس لئے سب سے پہلے حضور اکرم ﷺ ہیں۔ آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) ” کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ “ یہ ایک لفظ ہے جو پوری کائنات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ زمین و آسمان اور مافیہا ۔ وہ تمام مخلوق اس میں آتی ہے جو معلوم ہے یا نامعلوم ہے ۔ ہر واقعہ اور ہر حادثہ اس میں آتا ہے جو ظاہری ہو یا باطنی ۔ یہ سب اللہ کی ربوبیت کے سائے میں ہیں ۔ اور یہ عظیم کائنات اللہ کی ربوبیت کے دائرے میں ہے ۔ اس پر اللہ کی حاکمیت حاوی ہے اور یہ اس کی مطیع فرماں ہے ۔ عقائد میں ‘ عبادت میں اور قانونی نظام میں ۔ آیت ” وھو رب کل شیئ “۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ‘ استفہام انکاری ۔ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور رب کو تلاش کروں ؟ آیت ” وھو رب کل شیء “ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں ‘ وہ میرا حاکم ہو ‘ وہ میرے امور میں متصرف ہو ‘ وہ مجھ پر نگہبان ہو ‘ وہ میرا مصلح اور راہنماہو حالانکہ میری نیت اور عمل کے بارے میں مجھ سے باز پرس صرف اللہ کرے گا ‘ صرف وہی ہے جو حساب لے گا ‘ اطاعت کا اور معصیت کا۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں جبکہ یہ پوری کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور میں اور تم سب اس کے نظام ربوبیت کا حصہ ہیں ۔ میں غیر اللہ کو کس طرح رب بنا سکتا ہوں ‘ کیونکہ آخرت میں جب ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے جرائم کی سزا ملے گی تو یہ غیر کیا کرسکے گا ‘ وہاں تو ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہوگا اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا ۔ میں غیر اللہ کو رب کس طرح بنا سکتا ہوں ‘ انہی میں انسانون کو تو اللہ نے لا کر بسایا ہے اور اس میں ان کی تنظیم کر کر کے کسی کو بلند رتبے دیئے ہیں اور کسی کو ماتحت بنایا ہے ۔ کسی کو عقل مند اور کسی کو نادان ‘ کسی کو تنومند اور کسی کو ناتواں ‘ کسی کو مالدار اور کسی کو غریب تاکہ سب کی آزمائش ہو ‘ کسی غیر کو کس طرح بناؤں جب غفور ورحیم تو صرف اللہ رب العالمین ہے۔ آیت ” وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165) ” وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “ کیا میں غیر اللہ کو رب بناؤں اور اس کی شریعت کو اپنے لئے شریعت بناؤں اور اس کے امر کو سمجھوں ‘ اس کے حکم کو حکم مانوں یہ سب دلائل میرے سامنے موجود ہیں ‘ سب شواہد موجود ہیں اور یہ سب دلائل بتاتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ وحدہ کو رب بنانا چاہئے ۔ یہ توحید کا نغمہ ہے ‘ نہایت نرم اور خوشگوار ۔ اس نغمے کے اندر ایمان کی حقیقت اور اس کے مظاہر ومشاہد رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی اسکرین پر صاف صاف نظر آتے ہیں ۔ اسے ایسے انداز اور ایسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جو قرآن کا واضح اعجاز ہے اور منفرد انداز بیان ۔ شعور کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون نظام کی اطاعت کا اعلان ہے بعینہ اس طرح ہے جس طرح سورة کے آغاز میں ‘ اللہ کی حاکمیت کے بارے میں نظریاتی اظہار کے وقت کیا گیا تھا ۔ سورة کے آغاز میں سے اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات کو ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں ۔ آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14) قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) ” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور ” تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو “ کہو ‘ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ “ اب اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سورة کے آغاز میں جن امور کا تذکرہ ہوا تھا اسے اختتام پر دوبارہ دہرایا گیا تھا ۔ ابتداء کے معانی اور اختتام کے معانی ایک جیسے ہیں ‘ ابتداء میں ان معانی اور حقائق کے نظریاتی پہلو کو لیا گیا تھا اور اختتام پر انکو عملی اور نظام حیات کی شکل میں لیا گیا ہے ۔ دونوں جگہ اس دین کی ایک ہی حقیقت کے دو پہلوؤں کو لیا گیا ہے ۔ اب یہ سورة ختم ہوگئی ہے ‘ ذرا پیچھے مڑ کر نظر ڈالئے ‘ ہم نے ایک طویل ذہنی سفر کیا ‘ معانی کے وسیع صحراؤں اور دریاؤں کو عبور کیا ‘ طویل اور گہری وادیوں کا سفر کیا ۔ اس سورة کا کچھ حصہ سابقہ پارے میں تھا اور کچھ حصہ زیر نظر پارے میں آیا ۔ معانی وحقائق کا یہ کس قدر عظیم سفر تھا ۔ اگر اس سورة کے حجم کو دیکھا جائے تو یہ گنے چنے صفحات ہی ہیں۔ محدود آیات وعبارات ہیں ۔ اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو وہ ان لامحدود حقائق کو اس قدر مختصر سورة میں ادا نہ کرسکتا ۔ حقائق مشاہدات ‘ ہدایات واشارات کا ایک عظیم ذخیرہ ہے جو ان آیات میں سمو دیا گیا ہے ۔ اور کلام کا انداز نہایت ہی معجز اور مترنم ہے اور تعبیر نہایت ہی مختصر اور بےمثال ۔ اس سورة کے مضامین کی دنیا میں ہم نے جو سفر کیا یہ نہایت ہی طویل ‘ وسیع اور نشیب و فراز پر مشتمل تھا ۔ اس میں اس کائنات کے حقائق سے بھی ہم دوچار ہوئے اور اسلامی تصور حیات کے حدود کی پیمائش بھی ہم نے کی ۔ اس سفر میں ہم حقیقت الوہیت ‘ اس کی خوبصورتی اور اس کے جلال و جمال سے بھی آگاہ ہوئے ۔ اس سفر میں ہم نے اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے حقائق ‘ اس کے اندر زندگی اور اس کی قلمونیوں کا بھی مشاہدہ کیا اور اس کے پس منظر میں جو غیبی حقائق موجود ہیں یا آنے والے ہیں ان کے مناظر بھی ہم نے دیکھے ۔ اللہ کے نظام مشیت کے بارے میں بھی ہمیں علم ہوا کہ کس طرح وہ ثبات دیتی ہے اور کس طرح مٹا دیتی ہے کس طرح پیدا کرتی ہے اور کس طرح معدوم کردیتی ہے کس طرح زندگی بخشتی ہے اور کس طرح موت طاری کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کو اس نے کس طرح متحرک کردیا ہے تمام زندہ اور مردہ مخلوق کس طرح رواں اور دواں ہے ۔ اس سفر میں ہم نفس انسانی کی گہرائیوں تک بھی گئے ‘ اس کے نشیب و فراز میں بھی ہم نے سفر کیا ‘ اس کی ظاہری تصویر اور باطنی حقیقت سے بھی آگاہ ہوئے ‘ اس کی خواہشات اور میلانات سے بھی دوچار ہوئے ‘ اس کی ہدایت یابی اور گمراہی کو بھی دیکھا ‘ اس نفس انسانی کے اندر شیاطین جن وانس کی کارستانیاں بھی ملاحظہ کیں اور ان کے اقدامات ومنصوبے دیکھے ‘ ہدایت دینے والوں اور گمراہ کرنے والوں کو باہم دست و گریبان ہوتے بھی دیکھا ۔ اس طویل سیر میں مشاہد قیامت ‘ حشر ونشر کے مناظر کرب وابتلا کے اوقات ‘ خوشی اور فلاح کے لمحات اس کرہ ارض پر انسانیت کی آبادی اور اس کی تاریخ کے بعض باب اور اس کائنات کی تاریخ کی بعض جھلکیاں بھی نظر آئیں ۔ غرض اس سورة میں ہم نے وہ کچھ دیکھا جس کی پوری تلخیص یہاں ممکن نہیں ہے ۔ پوری حقیقت تو اس سورة کے مطالعہ اور اس کے پیارے اسلوب ہی سے اخذ ہو سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فی الواقعہ ایک کتاب مبارک ہے اور یہ سورة اس کی برکات میں سے ایک حصہ ہے ۔

الأنعام 6:164

آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔ یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) ” اے محمدنبی ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ یہ سپاس گزاری پر مشتمل اعلان ہے ‘ جس سے یقین محکم اور بھرپور بھروسے کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں عبارت کی لفظی تعمیر اور اس کے حقیقی مفہوم کو سمو دیا گیا ہے ۔ اس سے رب کے ساتھ ہدایت کا ربط ‘ ربوبیت کا تعلق اور اس کی جانب سے مسلسل نگہبانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں اس بات کا شکر ادا کیا گیا ہے کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت بخشی ‘ جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ۔ وہ دین قیم ہے اور یہ دین ہماری قدیم میراث بھی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے یہی دین اسلام ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس امت کے ابو الاباء ہیں اور اس وقت سے امت مسلمہ مبارک امت ہے ۔ اس میں دو ٹوک اعلان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکین میں سے نہ تھے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) ” کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ “ یہ توحید کا نغمہ ہے ۔ مطلق توحید اور ہمہ گیر بندگی کا اظہار جس میں نماز ‘ اعتکاف ‘ زندگی اور موت سب امور اللہ کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں جو رب العالمین ہے ۔ جو سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حاکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس زندگی کے تمام امور بلکہ موت تک میں ‘ ضمیر میں اور عمل میں سب میں مکمل اسلام ۔ (وبذلک امرت) میں یہ کہا گیا کہ یہ مکمل اسلام امر الہی ہے محض رضاکارانہ فعل نہیں ہے ۔ اس لئے سب سے پہلے حضور اکرم ﷺ ہیں۔ آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) ” کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ “ یہ ایک لفظ ہے جو پوری کائنات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ زمین و آسمان اور مافیہا ۔ وہ تمام مخلوق اس میں آتی ہے جو معلوم ہے یا نامعلوم ہے ۔ ہر واقعہ اور ہر حادثہ اس میں آتا ہے جو ظاہری ہو یا باطنی ۔ یہ سب اللہ کی ربوبیت کے سائے میں ہیں ۔ اور یہ عظیم کائنات اللہ کی ربوبیت کے دائرے میں ہے ۔ اس پر اللہ کی حاکمیت حاوی ہے اور یہ اس کی مطیع فرماں ہے ۔ عقائد میں ‘ عبادت میں اور قانونی نظام میں ۔ آیت ” وھو رب کل شیئ “۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ‘ استفہام انکاری ۔ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور رب کو تلاش کروں ؟ آیت ” وھو رب کل شیء “ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں ‘ وہ میرا حاکم ہو ‘ وہ میرے امور میں متصرف ہو ‘ وہ مجھ پر نگہبان ہو ‘ وہ میرا مصلح اور راہنماہو حالانکہ میری نیت اور عمل کے بارے میں مجھ سے باز پرس صرف اللہ کرے گا ‘ صرف وہی ہے جو حساب لے گا ‘ اطاعت کا اور معصیت کا۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں جبکہ یہ پوری کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور میں اور تم سب اس کے نظام ربوبیت کا حصہ ہیں ۔ میں غیر اللہ کو کس طرح رب بنا سکتا ہوں ‘ کیونکہ آخرت میں جب ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے جرائم کی سزا ملے گی تو یہ غیر کیا کرسکے گا ‘ وہاں تو ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہوگا اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا ۔ میں غیر اللہ کو رب کس طرح بنا سکتا ہوں ‘ انہی میں انسانون کو تو اللہ نے لا کر بسایا ہے اور اس میں ان کی تنظیم کر کر کے کسی کو بلند رتبے دیئے ہیں اور کسی کو ماتحت بنایا ہے ۔ کسی کو عقل مند اور کسی کو نادان ‘ کسی کو تنومند اور کسی کو ناتواں ‘ کسی کو مالدار اور کسی کو غریب تاکہ سب کی آزمائش ہو ‘ کسی غیر کو کس طرح بناؤں جب غفور ورحیم تو صرف اللہ رب العالمین ہے۔ آیت ” وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165) ” وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “ کیا میں غیر اللہ کو رب بناؤں اور اس کی شریعت کو اپنے لئے شریعت بناؤں اور اس کے امر کو سمجھوں ‘ اس کے حکم کو حکم مانوں یہ سب دلائل میرے سامنے موجود ہیں ‘ سب شواہد موجود ہیں اور یہ سب دلائل بتاتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ وحدہ کو رب بنانا چاہئے ۔ یہ توحید کا نغمہ ہے ‘ نہایت نرم اور خوشگوار ۔ اس نغمے کے اندر ایمان کی حقیقت اور اس کے مظاہر ومشاہد رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی اسکرین پر صاف صاف نظر آتے ہیں ۔ اسے ایسے انداز اور ایسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جو قرآن کا واضح اعجاز ہے اور منفرد انداز بیان ۔ شعور کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون نظام کی اطاعت کا اعلان ہے بعینہ اس طرح ہے جس طرح سورة کے آغاز میں ‘ اللہ کی حاکمیت کے بارے میں نظریاتی اظہار کے وقت کیا گیا تھا ۔ سورة کے آغاز میں سے اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات کو ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں ۔ آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14) قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) ” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور ” تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو “ کہو ‘ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ “ اب اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سورة کے آغاز میں جن امور کا تذکرہ ہوا تھا اسے اختتام پر دوبارہ دہرایا گیا تھا ۔ ابتداء کے معانی اور اختتام کے معانی ایک جیسے ہیں ‘ ابتداء میں ان معانی اور حقائق کے نظریاتی پہلو کو لیا گیا تھا اور اختتام پر انکو عملی اور نظام حیات کی شکل میں لیا گیا ہے ۔ دونوں جگہ اس دین کی ایک ہی حقیقت کے دو پہلوؤں کو لیا گیا ہے ۔ اب یہ سورة ختم ہوگئی ہے ‘ ذرا پیچھے مڑ کر نظر ڈالئے ‘ ہم نے ایک طویل ذہنی سفر کیا ‘ معانی کے وسیع صحراؤں اور دریاؤں کو عبور کیا ‘ طویل اور گہری وادیوں کا سفر کیا ۔ اس سورة کا کچھ حصہ سابقہ پارے میں تھا اور کچھ حصہ زیر نظر پارے میں آیا ۔ معانی وحقائق کا یہ کس قدر عظیم سفر تھا ۔ اگر اس سورة کے حجم کو دیکھا جائے تو یہ گنے چنے صفحات ہی ہیں۔ محدود آیات وعبارات ہیں ۔ اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو وہ ان لامحدود حقائق کو اس قدر مختصر سورة میں ادا نہ کرسکتا ۔ حقائق مشاہدات ‘ ہدایات واشارات کا ایک عظیم ذخیرہ ہے جو ان آیات میں سمو دیا گیا ہے ۔ اور کلام کا انداز نہایت ہی معجز اور مترنم ہے اور تعبیر نہایت ہی مختصر اور بےمثال ۔ اس سورة کے مضامین کی دنیا میں ہم نے جو سفر کیا یہ نہایت ہی طویل ‘ وسیع اور نشیب و فراز پر مشتمل تھا ۔ اس میں اس کائنات کے حقائق سے بھی ہم دوچار ہوئے اور اسلامی تصور حیات کے حدود کی پیمائش بھی ہم نے کی ۔ اس سفر میں ہم حقیقت الوہیت ‘ اس کی خوبصورتی اور اس کے جلال و جمال سے بھی آگاہ ہوئے ۔ اس سفر میں ہم نے اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے حقائق ‘ اس کے اندر زندگی اور اس کی قلمونیوں کا بھی مشاہدہ کیا اور اس کے پس منظر میں جو غیبی حقائق موجود ہیں یا آنے والے ہیں ان کے مناظر بھی ہم نے دیکھے ۔ اللہ کے نظام مشیت کے بارے میں بھی ہمیں علم ہوا کہ کس طرح وہ ثبات دیتی ہے اور کس طرح مٹا دیتی ہے کس طرح پیدا کرتی ہے اور کس طرح معدوم کردیتی ہے کس طرح زندگی بخشتی ہے اور کس طرح موت طاری کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کو اس نے کس طرح متحرک کردیا ہے تمام زندہ اور مردہ مخلوق کس طرح رواں اور دواں ہے ۔ اس سفر میں ہم نفس انسانی کی گہرائیوں تک بھی گئے ‘ اس کے نشیب و فراز میں بھی ہم نے سفر کیا ‘ اس کی ظاہری تصویر اور باطنی حقیقت سے بھی آگاہ ہوئے ‘ اس کی خواہشات اور میلانات سے بھی دوچار ہوئے ‘ اس کی ہدایت یابی اور گمراہی کو بھی دیکھا ‘ اس نفس انسانی کے اندر شیاطین جن وانس کی کارستانیاں بھی ملاحظہ کیں اور ان کے اقدامات ومنصوبے دیکھے ‘ ہدایت دینے والوں اور گمراہ کرنے والوں کو باہم دست و گریبان ہوتے بھی دیکھا ۔ اس طویل سیر میں مشاہد قیامت ‘ حشر ونشر کے مناظر کرب وابتلا کے اوقات ‘ خوشی اور فلاح کے لمحات اس کرہ ارض پر انسانیت کی آبادی اور اس کی تاریخ کے بعض باب اور اس کائنات کی تاریخ کی بعض جھلکیاں بھی نظر آئیں ۔ غرض اس سورة میں ہم نے وہ کچھ دیکھا جس کی پوری تلخیص یہاں ممکن نہیں ہے ۔ پوری حقیقت تو اس سورة کے مطالعہ اور اس کے پیارے اسلوب ہی سے اخذ ہو سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فی الواقعہ ایک کتاب مبارک ہے اور یہ سورة اس کی برکات میں سے ایک حصہ ہے ۔

الأنعام 6:165

آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔ یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ إِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفاً وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (161) ” اے محمدنبی ﷺ کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ‘ ابراہیم کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا ۔ یہ سپاس گزاری پر مشتمل اعلان ہے ‘ جس سے یقین محکم اور بھرپور بھروسے کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں عبارت کی لفظی تعمیر اور اس کے حقیقی مفہوم کو سمو دیا گیا ہے ۔ اس سے رب کے ساتھ ہدایت کا ربط ‘ ربوبیت کا تعلق اور اس کی جانب سے مسلسل نگہبانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس میں اس بات کا شکر ادا کیا گیا ہے کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت بخشی ‘ جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ۔ وہ دین قیم ہے اور یہ دین ہماری قدیم میراث بھی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے یہی دین اسلام ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس امت کے ابو الاباء ہیں اور اس وقت سے امت مسلمہ مبارک امت ہے ۔ اس میں دو ٹوک اعلان ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکین میں سے نہ تھے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ (162) لاَ شَرِیْکَ لَہُ وَبِذَلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَاْ أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (163) ” کہو ‘ میری نماز ‘ میرے تمام مراسم عبودیت ‘ میرا جینا اور مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لئے ہے ۔ جس کا کوئی شریک نہیں اس کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا ہوں ۔ “ یہ توحید کا نغمہ ہے ۔ مطلق توحید اور ہمہ گیر بندگی کا اظہار جس میں نماز ‘ اعتکاف ‘ زندگی اور موت سب امور اللہ کے لئے مختص کردیئے گئے ہیں جو رب العالمین ہے ۔ جو سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حاکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس سنبھالنے والا وحدہ متصرف اور نگہبان ہے ۔ مربی اور عالمین کا حکم اور رب ہے ۔ اس میں مکمل اسلام کا اعلان ہے نفس زندگی کے تمام امور بلکہ موت تک میں ‘ ضمیر میں اور عمل میں سب میں مکمل اسلام ۔ (وبذلک امرت) میں یہ کہا گیا کہ یہ مکمل اسلام امر الہی ہے محض رضاکارانہ فعل نہیں ہے ۔ اس لئے سب سے پہلے حضور اکرم ﷺ ہیں۔ آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَبْغِیْ رَبّاً وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْْء ٍ وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ إِلاَّ عَلَیْْہَا وَلاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرَی ثُمَّ إِلَی رَبِّکُم مَّرْجِعُکُمْ فَیُنَبِّئُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ (164) ” کہو کیا میں میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے ؟ ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے ‘ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ‘ پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے ‘ اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔ “ یہ ایک لفظ ہے جو پوری کائنات کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ۔ زمین و آسمان اور مافیہا ۔ وہ تمام مخلوق اس میں آتی ہے جو معلوم ہے یا نامعلوم ہے ۔ ہر واقعہ اور ہر حادثہ اس میں آتا ہے جو ظاہری ہو یا باطنی ۔ یہ سب اللہ کی ربوبیت کے سائے میں ہیں ۔ اور یہ عظیم کائنات اللہ کی ربوبیت کے دائرے میں ہے ۔ اس پر اللہ کی حاکمیت حاوی ہے اور یہ اس کی مطیع فرماں ہے ۔ عقائد میں ‘ عبادت میں اور قانونی نظام میں ۔ آیت ” وھو رب کل شیئ “۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ‘ استفہام انکاری ۔ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور رب کو تلاش کروں ؟ آیت ” وھو رب کل شیء “ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں ‘ وہ میرا حاکم ہو ‘ وہ میرے امور میں متصرف ہو ‘ وہ مجھ پر نگہبان ہو ‘ وہ میرا مصلح اور راہنماہو حالانکہ میری نیت اور عمل کے بارے میں مجھ سے باز پرس صرف اللہ کرے گا ‘ صرف وہی ہے جو حساب لے گا ‘ اطاعت کا اور معصیت کا۔ پس یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ میں غیر اللہ کو رب تسلیم کروں جبکہ یہ پوری کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے اور میں اور تم سب اس کے نظام ربوبیت کا حصہ ہیں ۔ میں غیر اللہ کو کس طرح رب بنا سکتا ہوں ‘ کیونکہ آخرت میں جب ہر شخص کو اس کے کئے ہوئے جرائم کی سزا ملے گی تو یہ غیر کیا کرسکے گا ‘ وہاں تو ہر شخص اپنے کیے کا خود ذمہ دار ہوگا اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھا سکے گا ۔ میں غیر اللہ کو رب کس طرح بنا سکتا ہوں ‘ انہی میں انسانون کو تو اللہ نے لا کر بسایا ہے اور اس میں ان کی تنظیم کر کر کے کسی کو بلند رتبے دیئے ہیں اور کسی کو ماتحت بنایا ہے ۔ کسی کو عقل مند اور کسی کو نادان ‘ کسی کو تنومند اور کسی کو ناتواں ‘ کسی کو مالدار اور کسی کو غریب تاکہ سب کی آزمائش ہو ‘ کسی غیر کو کس طرح بناؤں جب غفور ورحیم تو صرف اللہ رب العالمین ہے۔ آیت ” وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَکُمْ خَلاَئِفَ الأَرْضِ وَرَفَعَ بَعْضَکُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُمْ إِنَّ رَبَّکَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ وَإِنَّہُ لَغَفُورٌ رَّحِیْمٌ(165) ” وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا ‘ اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں بلند درجے دیئے تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ، بیشک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنیو الا اور رحم فرمانے والا بھی ہے ۔ “ کیا میں غیر اللہ کو رب بناؤں اور اس کی شریعت کو اپنے لئے شریعت بناؤں اور اس کے امر کو سمجھوں ‘ اس کے حکم کو حکم مانوں یہ سب دلائل میرے سامنے موجود ہیں ‘ سب شواہد موجود ہیں اور یہ سب دلائل بتاتے ہیں کہ ہمیں صرف اللہ وحدہ کو رب بنانا چاہئے ۔ یہ توحید کا نغمہ ہے ‘ نہایت نرم اور خوشگوار ۔ اس نغمے کے اندر ایمان کی حقیقت اور اس کے مظاہر ومشاہد رسول اللہ ﷺ کے قلب مبارک کی اسکرین پر صاف صاف نظر آتے ہیں ۔ اسے ایسے انداز اور ایسے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے جو قرآن کا واضح اعجاز ہے اور منفرد انداز بیان ۔ شعور کی تاروں پر یہ آخری ضرب ہے جس کا مقصد اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون نظام کی اطاعت کا اعلان ہے بعینہ اس طرح ہے جس طرح سورة کے آغاز میں ‘ اللہ کی حاکمیت کے بارے میں نظریاتی اظہار کے وقت کیا گیا تھا ۔ سورة کے آغاز میں سے اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات کو ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں ۔ آیت ” قُلْ أَغَیْْرَ اللّہِ أَتَّخِذُ وَلِیّاً فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ قُلْ إِنِّیَ أُمِرْتُ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ وَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُشْرِکَیْنَ (14) قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) ” کہو ‘ اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنا لوں ؟ اس خدا کو چھوڑ کر جو زمین وآسمانوں کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے اور روزی لیتا نہیں ؟ کہو ‘ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اس کے آگے سرتسلیم خم کروں اور ” تو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو “ کہو ‘ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ “ اب اس بارے میں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سورة کے آغاز میں جن امور کا تذکرہ ہوا تھا اسے اختتام پر دوبارہ دہرایا گیا تھا ۔ ابتداء کے معانی اور اختتام کے معانی ایک جیسے ہیں ‘ ابتداء میں ان معانی اور حقائق کے نظریاتی پہلو کو لیا گیا تھا اور اختتام پر انکو عملی اور نظام حیات کی شکل میں لیا گیا ہے ۔ دونوں جگہ اس دین کی ایک ہی حقیقت کے دو پہلوؤں کو لیا گیا ہے ۔ اب یہ سورة ختم ہوگئی ہے ‘ ذرا پیچھے مڑ کر نظر ڈالئے ‘ ہم نے ایک طویل ذہنی سفر کیا ‘ معانی کے وسیع صحراؤں اور دریاؤں کو عبور کیا ‘ طویل اور گہری وادیوں کا سفر کیا ۔ اس سورة کا کچھ حصہ سابقہ پارے میں تھا اور کچھ حصہ زیر نظر پارے میں آیا ۔ معانی وحقائق کا یہ کس قدر عظیم سفر تھا ۔ اگر اس سورة کے حجم کو دیکھا جائے تو یہ گنے چنے صفحات ہی ہیں۔ محدود آیات وعبارات ہیں ۔ اگر یہ انسانی کلام ہوتا تو وہ ان لامحدود حقائق کو اس قدر مختصر سورة میں ادا نہ کرسکتا ۔ حقائق مشاہدات ‘ ہدایات واشارات کا ایک عظیم ذخیرہ ہے جو ان آیات میں سمو دیا گیا ہے ۔ اور کلام کا انداز نہایت ہی معجز اور مترنم ہے اور تعبیر نہایت ہی مختصر اور بےمثال ۔ اس سورة کے مضامین کی دنیا میں ہم نے جو سفر کیا یہ نہایت ہی طویل ‘ وسیع اور نشیب و فراز پر مشتمل تھا ۔ اس میں اس کائنات کے حقائق سے بھی ہم دوچار ہوئے اور اسلامی تصور حیات کے حدود کی پیمائش بھی ہم نے کی ۔ اس سفر میں ہم حقیقت الوہیت ‘ اس کی خوبصورتی اور اس کے جلال و جمال سے بھی آگاہ ہوئے ۔ اس سفر میں ہم نے اس کائنات اور اس کے اندر پائے جانے والے حقائق ‘ اس کے اندر زندگی اور اس کی قلمونیوں کا بھی مشاہدہ کیا اور اس کے پس منظر میں جو غیبی حقائق موجود ہیں یا آنے والے ہیں ان کے مناظر بھی ہم نے دیکھے ۔ اللہ کے نظام مشیت کے بارے میں بھی ہمیں علم ہوا کہ کس طرح وہ ثبات دیتی ہے اور کس طرح مٹا دیتی ہے کس طرح پیدا کرتی ہے اور کس طرح معدوم کردیتی ہے کس طرح زندگی بخشتی ہے اور کس طرح موت طاری کرتی ہے ۔ اس پوری کائنات کو اس نے کس طرح متحرک کردیا ہے تمام زندہ اور مردہ مخلوق کس طرح رواں اور دواں ہے ۔ اس سفر میں ہم نفس انسانی کی گہرائیوں تک بھی گئے ‘ اس کے نشیب و فراز میں بھی ہم نے سفر کیا ‘ اس کی ظاہری تصویر اور باطنی حقیقت سے بھی آگاہ ہوئے ‘ اس کی خواہشات اور میلانات سے بھی دوچار ہوئے ‘ اس کی ہدایت یابی اور گمراہی کو بھی دیکھا ‘ اس نفس انسانی کے اندر شیاطین جن وانس کی کارستانیاں بھی ملاحظہ کیں اور ان کے اقدامات ومنصوبے دیکھے ‘ ہدایت دینے والوں اور گمراہ کرنے والوں کو باہم دست و گریبان ہوتے بھی دیکھا ۔ اس طویل سیر میں مشاہد قیامت ‘ حشر ونشر کے مناظر کرب وابتلا کے اوقات ‘ خوشی اور فلاح کے لمحات اس کرہ ارض پر انسانیت کی آبادی اور اس کی تاریخ کے بعض باب اور اس کائنات کی تاریخ کی بعض جھلکیاں بھی نظر آئیں ۔ غرض اس سورة میں ہم نے وہ کچھ دیکھا جس کی پوری تلخیص یہاں ممکن نہیں ہے ۔ پوری حقیقت تو اس سورة کے مطالعہ اور اس کے پیارے اسلوب ہی سے اخذ ہو سکتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن فی الواقعہ ایک کتاب مبارک ہے اور یہ سورة اس کی برکات میں سے ایک حصہ ہے ۔

الأعراف 7:1

اس کے بعد اس قصے پر کئی تبصرے سامنے آتے ہیں ۔ ایک تبصرہ فطری عہد کے بعد آتا ہے اس میں اس شخص کی صورت حال کا نقشہ کھینچا گیا ہے جسے اللہ نے اپنی نشانیاں عطا کیں اور وہ اس سے نکل گیا ۔ مثلا بنی اسرائیل اور وہ تمام دوسری اقوام جنہیں اللہ نے اپنی نشانیاں عطا کیں لیکن انہوں نے ان کی پابندی نہ کی ۔ یہ ایک ایسا تبصرہ ہے جس میں تمام اشکال اور تمام حرکات اور اشارات ہماری نظروں کے سامنے آجاتے ہیں اور سورة انعام جیسے مناظر اور مشاہد سامنے آتے ہیں ۔ آیت ” وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَأَ الَّذِیَ آتَیْْنَاہُ آیَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْہَا فَأَتْبَعَہُ الشَّیْْطَانُ فَکَانَ مِنَ الْغَاوِیْنَ (175) وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاہُ بِہَا وَلَـکِنَّہُ أَخْلَدَ إِلَی الأَرْضِ وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ فَمَثَلُہُ کَمَثَلِ الْکَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَیْْہِ یَلْہَثْ أَوْ تَتْرُکْہُ یَلْہَث ذَّلِکَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ (176) سَاء مَثَلاً الْقَوْمُ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَأَنفُسَہُمْ کَانُواْ یَظْلِمُونَ (177) مَن یَہْدِ اللّہُ فَہُوَ الْمُہْتَدِیْ وَمَن یُضْلِلْ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْخَاسِرُونَ (178) وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْراً مِّنَ الْجِنِّ وَالإِنسِ لَہُمْ قُلُوبٌ لاَّ یَفْقَہُونَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لاَّ یُبْصِرُونَ بِہَا وَلَہُمْ آذَانٌ لاَّ یَسْمَعُونَ بِہَا أُوْلَـئِکَ کَالأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُوْلَـئِکَ ہُمُ الْغَافِلُونَ (179) (7 : 175 تا 179) ” اور اے محمد ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا ۔ گر وہ ان کی پابندی سے نکل بھاگا ۔ آخر کار شیطان اس کے پیچھے پڑگیا ۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا ۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے ‘ مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا ‘ لہذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے ۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ۔ تم یہ حکایات انکو سناتے رہو ‘ شاید کہ یہ غور وفکر کریں ۔ بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ‘ اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہ راست پاتا ہے ۔ اور جسے اللہ اپنی راہنمائی سے محروم کر دے وہی ناکام ونامراد ہو کر رہتا ہے ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لئے پیدا کیا ہے ۔ ان کے پاس دل ہیں مگر ان سے سوچتے نہیں ‘ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے ہیں وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے اور یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ اب براہ راست نظریاتی مباحث آتے ہیں ۔ نظریاتی مباحث کے ساتھ بعض کائناتی شواہد ومؤثرات بھی پیش کئے جاتے ہیں اور لوگوں کو اللہ کے عذاب اور اس کی سخت پکڑ سے ڈرایا جاتا ہے ان کے دلوں کو ٹٹولا جاتا ہے کہ وہ غور وہ فکر کریں ‘ اللہ کی آیات میں تدبر کریں اور اس رسول اور اس کی رسالت کے بارے میں سوچ سے کام لیں ۔ آیت ” 179) وَلِلّہِ الأَسْمَاء الْحُسْنَی فَادْعُوہُ بِہَا وَذَرُواْ الَّذِیْنَ یُلْحِدُونَ فِیْ أَسْمَآئِہِ سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ (180) وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّۃٌ یَہْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِہِ یَعْدِلُونَ (181) وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُہُم مِّنْ حَیْْثُ لاَ یَعْلَمُونَ (182) وَأُمْلِیْ لَہُمْ إِنَّ کَیْْدِیْ مَتِیْنٌ(183) أَوَلَمْ یَتَفَکَّرُواْ مَا بِصَاحِبِہِم مِّن جِنَّۃٍ إِنْ ہُوَ إِلاَّ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ(184) أَوَلَمْ یَنظُرُواْ فِیْ مَلَکُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللّہُ مِن شَیْْء ٍ وَأَنْ عَسَی أَن یَکُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُہُمْ فَبِأَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ (185) مَن یُضْلِلِ اللّہُ فَلاَ ہَادِیَ لَہُ وَیَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُونَ (186) ”(7 : 180 تا 186) ” اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے ‘ اس کو اچھے ناموں ہی سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھتے ہیں وہ راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں ۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کا بدلہ ہو پاکر رہیں گے ۔ ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا ہے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقے سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی ۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ‘ میری چال کا کوئی توڑ نہیں ۔ اور کیا ان لوگوں نے کبھی سوچا نہیں ؟ ان کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے ۔ وہ تو ایک خبردار کرنے والا ہے جو صاف صاف متنبہ کررہا ہے ۔ کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا ؟ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آلگا ہو ؟ پھر آخر پیغمبر کی اس تنبیہ کے بعد اور کون سی بات ایسی ہو سکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں ؟ جس کو اللہ راہنمائی سے محروم کر دے اس کے لئے پھر کوئی راہنمائی نہیں ہے اور اللہ انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے ۔ اس کے بعد اللہ رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی دعوت کی نوعیت سے آگاہ کریں اور اس نظریہ حیات میں رسول کے حدود کار سے آگاہ کریں ۔ یہ بات ان کے اس سوال کے جواب میں آتی ہے جس میں انہوں نے رسول سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس قیامت کے وقت کا تعین کردیں جس سے وہ انہیں ہر وقت ڈراتے رہتے ہیں۔ آیت ” یَسْأَلُونَکَ عَنِ السَّاعَۃِ أَیَّانَ مُرْسَاہَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُہَا عِندَ رَبِّیْ لاَ یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَا إِلاَّ ہُوَ ثَقُلَتْ فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لاَ تَأْتِیْکُمْ إِلاَّ بَغْتَۃً یَسْأَلُونَکَ کَأَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُہَا عِندَ اللّہِ وَلَـکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُونَ (187) قُل لاَّ أَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعاً وَلاَ ضَرّاً إِلاَّ مَا شَاء اللّہُ وَلَوْ کُنتُ أَعْلَمُ الْغَیْْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوء ُ إِنْ أَنَاْ إِلاَّ نَذِیْرٌ وَبَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ (188) (7 : 187 تا 188) ” یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی ؟ کہو اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے ۔ اسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا ۔ آسمانوں اور زمین میں بڑا سخت وقت ہوگا ۔ وہ تم پر اچانک آجائے گا ۔ “ یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو ۔ کہو ” اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں ۔ “ اے محمد ﷺ ان سے کہو کہ ” میں اپنی ذات کے لئے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا ‘ اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے ‘ وہ ہوتا ہے ۔ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لئے حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا ۔ میں ایک محض خبردار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں ان لوگوں کے لئے جو میری بات مانیں۔ اس کے بعد قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ نفس انسانی جس سے اللہ نے عہد لیا تھا کہ وہ راہ ہدایت پر قائم رہے گا کس طرح اس عقیدہ توحید کو ترک کردیتا ہے جس کا اقرار اس کی فطرت نے کیا تھا۔ یہاں شرک کی کراہت اور شریک معبودوں کی کمزوری کو بیان کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ان معبودوں کی تحدی کریں کہ وہ کس قدر عاجز ہیں ۔ آیت ” قُلِ ادْعُواْ شُرَکَاء کُمْ ثُمَّ کِیْدُونِ فَلاَ تُنظِرُونِ (195) إِنَّ وَلِیِّـیَ اللّہُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْکِتَابَ وَہُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ (196) وَالَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِہِ لاَ یَسْتَطِیْعُونَ نَصْرَکُمْ وَلا أَنفُسَہُمْ یَنْصُرُونَ (197) وَإِن تَدْعُوہُمْ إِلَی الْہُدَی لاَ یَسْمَعُواْ وَتَرَاہُمْ یَنظُرُونَ إِلَیْْکَ وَہُمْ لاَ یُبْصِرُونَ (198) (7 : 195 تا 198) ” اے محمد ان سے کہو کہ ” بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ‘ پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ‘ میرا حامی وناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ‘ بخلاف اس کے تم جنہیں ‘ خدا کو چھوڑ کر ‘ پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لئے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے ۔ بظاہر تم کو ایسا بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقعہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے “۔ اب آگے خطاب صرف حضور ﷺ سے کیا جاتا ہے اور یہ آخر تک چلتا ہے ۔ یاد رہے کہ سورة کا آغاز بھی براہ راست حضور ﷺ کے خطاب کے ساتھ ہوا تھا ۔ یہاں حضور ﷺ کو یہ تلقین کی جاتی ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کریں گے ۔ دعوت کو لے کر کس طرح بڑھیں گے ۔ راستے کی مشکلات پر کس طرح قابو پائیں گے ‘ لوگوں کی سازشوں اور ایذا رسانیوں پر کس طرح قابو پائیں گے ۔ وہ اور اہل ایمان قرآن پر کس طرح کان دھریں گے ۔ وہ اللہ کو ہر وقت کس طرح یاد کریں گے اور اس کے ساتھ ایک تعلق کس طرح قائم رکھیں گے ۔ نیز یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں ملائکہ کس طرح اللہ کو یاد کرتے ہیں ۔ آیت ” خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ (199) وَإِمَّا یَنزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیْْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّہِ إِنَّہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(200) إِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَواْ إِذَا مَسَّہُمْ طَائِفٌ مِّنَ الشَّیْْطَانِ تَذَکَّرُواْ فَإِذَا ہُم مُّبْصِرُونَ (201) وَإِخْوَانُہُمْ یَمُدُّونَہُمْ فِیْ الْغَیِّ ثُمَّ لاَ یُقْصِرُونَ (202) وَإِذَا لَمْ تَأْتِہِم بِآیَۃٍ قَالُواْ لَوْلاَ اجْتَبَیْْتَہَا قُلْ إِنَّمَا أَتَّبِعُ مَا یِوحَی إِلَیَّ مِن رَّبِّیْ ہَـذَا بَصَآئِرُ مِن رَّبِّکُمْ وَہُدًی وَرَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ (203) وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُواْ لَہُ وَأَنصِتُواْ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ (204) وَاذْکُر رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعاً وَخِیْفَۃً وَدُونَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالآصَالِ وَلاَ تَکُن مِّنَ الْغَافِلِیْنَ (205) إِنَّ الَّذِیْنَ عِندَ رَبِّکَ لاَ یَسْتَکْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِہِ وَیُسَبِّحُونَہُ وَلَہُ یَسْجُدُونَ (206) (7 : 199 تا 206) ” اے نبی ‘ نرمی اور درگزر کا طریقہ اختیار کرو ‘ معروف کی تلقین کئے جاؤ ‘ اور جاہلوں سے نہ الجھو۔ اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔ حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انہیں چھو بھی جاتا ہے تو وہ فورا چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگ جاتا ہے کہ ان کے لئے صحیح طریق کار کیا ہے ۔ رہے ان کے (شیطانوں کے) بھائی بند ‘ تو وہ انہیں کج روی میں کھینچتے لئے چلے جاتے ہیں اور انہی بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے ۔ اے نبی ‘ جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے ان کے لئے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کرلی ؟ ان سے کہو ” میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں ۔ جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے ۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو اسے قبول کریں۔ جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ‘ شاید کہ تم پر بھی رحمت کی جائے ۔ “ اے نبی اپنے رب کو صبح وشام یاد کیا کرو۔ دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ ۔ تم ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ۔ جو فرشتے تمہارے رب کے حضور ﷺ تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آکر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں اور اس کے آگے جھکتے ہیں ۔ “ امید ہے کہ اس خلاصے اور ان اقتباسات سے سورة اعراف کے خدوخال واضح ہوگئے ہوں گے ۔ اور اس میں اور سورة انعام میں فرق و امتیاز بھی واضح ہوگیا ہوگا کہ دونوں سورتیں ایک ہی موضوع کو کس طرح مختلف انداز میں بیان کرتی ہیں ۔ دونوں کا موضوع اسلامی عقیدہ اور نظریہ حیات ہے ۔ جہاں تک ہر موضوع پر تفصیلی بات کا تعلق ہے وہ نصوص پر تفصیلی بحث کے وقت آئے گی ۔ انشاء اللہ اللہ کے فضل وکرم سے ! (المص) الف لام میم صاد ‘ سورة کا آغاز ان حروف مقطعات سے کیا گیا ہے ۔ سورة بقرہ کے آغاز میں ہم ان پر بحث کر آئے ہیں ۔ اسی طرح سورة آل عمران کے آغاز میں بھی ۔ ان کی تفسیر کے سلسلے میں ہم نے اس رائے کو ترجیح دی ہے کہ ان سے مراد یہ ہے کہ یہ سورة ایسے ہی حروف سے بنی ہوئی ہے اور عربی زبان کے ان حروف تہجی کو تمام لوگ استعمال کرتے ہیں لیکن کوئی شخص اس میڑیل سے قرآن جیسا کلام نہیں بنا سکتا اور یہ بذات خود اس بات کے لئے شاہد عادل ہے کہ قرآن انسان کا بنایا ہواکلام نہیں ہے کیونکہ یہ حروف اور عربی زبان کے الفاظ ان کے سامنے موجود ہیں۔ لیکن وہ ان سے قرآن نہیں بنا سکتے ۔ ہم نے یہ رائے بطور ترجیح اختیار کی ہے ۔ ہم جزم سے کوئی بات نہیں کہہ سکتے واللہ اعلم ۔ اس لحاظ سے پھر ترکیب یوں ہوگی کہ المص مبتدا ہے اور کتاب انزل الیک اس کی خیر ہے ۔ یعنی ان حروف اور کلمات سے مرکب یہ کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے ۔ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ (المص) صرف اشارہ ہے جس سے یہ مفہوم اخذ ہوتا ہے اور کتاب خیر ہے اور مبتدا محذوف ہے یعنی (ھذا کتب)

الأعراف 7:2

آیت ” نمبر 1 تا 2۔ یہ کتاب تمہاری جانب اتاری گئی ہے تاکہ تم لوگوں کو بھلایا ہوا سبق یاد دلاؤ اور انجام بد سے ڈراؤ ۔ اس میں جو سچائی ہے اسے صاف صاف لوگوں کے سامنے بیان کردیں اور اس بات کا خیال نہ کریں کہ لوگ اسے پسند کرتے ہیں یا نہیں ۔ یہ کتاب آئی ہی اس لئے ہے کہ لوگوں کے سامنے وہ حقائق پیش کرے جسے وہ پسند نہیں کرتے ‘ یہ آئی ہی اس لئے ہے کہ غلط عقائد ‘ رسومات اور غلط تعلقات کو ختم کرے اور باطل نظامہائے حکومت ‘ باطل قوانین اور باطل معاشروں کا مقابلہ کرے ۔ لہذا اس کتاب کی راہ میں مشکلات بہت ہیں ‘ اس کتاب کا پیغام لے کر جو بھی آئے گا ‘ اے مشکلات کو انگیز کرنا ہوگا ۔ اس کتاب کے اس پہلو کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے ‘ جیسا کہ ہم نے سورة پر تبصرے کے وقت کہا ‘ جو اس کے پیغام کو لے کر اٹھے ۔ اس کتاب کے نظریات کا اعلان ببانگ دہل کردے اور اس راہ میں جو مشکلات پیش ہوں انہیں برداشت کرے ۔ اس حقیقت کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو اس کی تعلیمات کی روشنی میں اپنے لئے اہداف طے کرے اور وہ جاہلی معاشرے کو جڑوں سے ‘ اس کے تنے اور شاخوں سمیت اکھاڑ پھینکنے اور اس کی جگہ مکمل تغیر اور انقلاب لانے کا داعیہ اپنے اندر رکھتا ہو ‘ جس طرح اس کتاب کے حامل اول حضرت محمد ﷺ نے اسے لے کر دنیا میں انقلاب برپا کیا تھا اور طاغوت اور جاہلیت کا مقابلہ کیا اور پہلے جزیرۃ العرب میں اور پھر پوری دنیا کی کایا پلٹ دی تھی ۔ اس کتاب کے ساتھ یہ طرز عمل اس وقت جزیرۃ العرب اور اس کے اردگرد کے ماحوال میں لائے جانے والے انقلاب تک ہی موقوف ومخصوص نہ تھا ‘ کیونکہ اسلام کوئی حادثہ یا تاریخ نہیں ہے کہ ایک وقفہ تاریخ میں واقعہ ہوگیا اور اس کے بعد لوگوں نے اسے تاریخ میں لکھنا شروع کردیا ۔ اسلام تو انسانیت کے بالمقابل ایک دائمی تحریک ہے اور یہ تحریک قیامت تک رہے گی ۔ اسلام لوگوں کے لئے وہی پیغام ہے جو آج سے چودہ سو سال پہلے تھا ۔ جب بھی انسانیت صراط مستقیم سے انحراف کرے ‘ اسلام اسے روکتا ہے اور واپس اسے جادہ مستیقم پر ڈال دیتا ہے اس لئے کہ تاریخی عوامل کے تحت انسانیت بار بار جاہلیت کی طرف لوٹ جاتی ہے ۔ یہ اس کی پسماندگی اور رجعت ہوتی ہے لیکن اسلامی تحریک اس مرحلے پر آگے بڑھتی ہے ‘ دوبارہ اسلام کی تجدید ہوجاتی ہے اور اس کمزوری کے بعد اسلام دوبارہ ایک قوت بن کر اٹھتا ہے اور دوبارہ انسانیت کو ترقی اور تہذیب و تمدن کی راہ پر ڈال دیتا ہے ہر دور میں اس تحریک کے قائدین کو وہ مشکلات پیش آتی ہیں جو داعی اول کو پیش آئیں ‘ اس لئے کہ جب انسانیت جاہلیت کے گندے کیچڑ میں لت پت ہوتی ہے تو انہیں اس پوری انسانیت کو کھینچ کر واپس لانا ہوتا ہے ‘ کیونکہ جاہلیت میں انسانیت فکری گمراہی میں مبتلا ہوتی ہے ۔ اس کے تصورات تاریک ہوجاتے ہیں ‘ وہ نفسیاتی خواہشات کی تاریکیوں میں گرفتار ہوتی ہے ‘ وہ ظلم اور ذلت ‘ غلامی اور ذاتی خواہشات ‘ مفادات واغراض کا شکار ہوتی ہے اور جو شخص انسانیت کو اس جاہلیت اور گندگی سے نکالنا چاہتا ہے ‘ اسے اس قسم کی مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس جہان کو ان گندگیوں سے پاک کرنے کے لئے تحریک چلاتا ہے اور اس تحریک میں وہ اللہ تعالیٰ کی اس ہدایت کو خوب سمجھ سکتا ہے ۔ آیت ” المص (1) کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) (7 : 1۔ 2) ” ا ‘ ل ‘ م ‘ ص۔ یہ ایک تاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد ﷺ تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے (منکرین کو) ڈراؤ اور ایمان والوں کو نصیحت ہو ۔ ‘ ایک مومن اپنے معاشرے کے حالات سے یہ اندازہ کرلیتا ہے کہ مومن کون ہیں جنہیں نصیحت کی جاتی ہے اور غیر مومن کون ہیں جن کے لئے اندار کا حکم ہے ۔ اس تحریکی کارکن کے لئے یہ قرآن ایک زندہ کتاب ہوتی ہے جسے پڑھتے ہوئے وہ محسوس کرتا ہے کہ گویا یہ کتاب ابھی نازل ہو رہی ہے ۔ یہ کتاب اس شخص کے لئے تازہ پیغام ہوتی ہے جب وہ اسے بطور پیغام لے کر پوری دنیا کے خلاف جدوجہد شروع کردے ۔ اس وقت پوری انسانیت کی حالت ویسی ہی ہے جس طرح اس وقت تھی جب یہ کتاب حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئی تھی ۔ اس وقت حضور ﷺ کو حکم تھا کہ آپ تذکیر اور انذار کا فریضہ سرانجام دیں اور جب آپ جاہلیت کے مقابلے میں اٹھیں تو آپ کے دل میں کوئی جھجک نہیں ہونا چاہئے ۔ آپ کے اندر یہ داعیہ ہونا چاہئے کہ آپ نے جاہلیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے ۔ آج گردش دوران نے حالات کو اسی مقام پر لا کر کھڑا کردیا ہے جس طرح آج سے چودہ سو سال پہلے نزول قرآن کے وقت تھے ۔ اس وقت دنیا مکمل طور پر جاہلیت کی طرف لوٹ گئی ہے ۔ اس نے اصول و فروع دونوں میں جاہلیت کو اپنا لیا ہے ‘ اس کا ظاہر و باطن اور اس کی سطح اور گہرائی سب کی سب جاہلیت میں ہے ۔ اس وقت انسانیت کے تمام تصورات ونظریات جاہلی ہیں ۔ یہاں تک کہ جن کے آباؤ اجداد مومن تھے اور مومنین مخلصین تھے انہوں نے بھی پوری طرح جاہلی افکار کو اپنا لیا ہے ۔ ان کے تصورات وخیالات میں دین اسلام کا وہ مفہوم باقی نہیں رہا جو حقیقت میں ہے ۔ انہوں نے اسلامی نظام کا مفہوم ہی بدل دیا ہے ۔ یہ دین تو اس دنیا میں اس لئے آیا تھا کہ وہ اس کرہ ارض کے خدوخال ہی بدل دے اور اس کی جگہ اسے ایک نیا روپ دے ۔ یہاں صرف اللہ کا اقتدار اعلی قائم کرے اور طاغوت کے اقتدار کا خاتمہ کردے ۔ یہ دنیا ایک دنیا ہو جس میں صرف اللہ کی مکمل بندگی ہو ‘ اور اللہ کے علاوہ انسانوں میں سے کوئی اپنی بندگی نہ کرائے ۔ ایک ایسی دنیا ہو جس میں لوگ آزادی کے ساتھ انسانوں کی بندگی سے باہر نکل آئیں ۔ اس دنیا میں آزاد ‘ شریف اور پاکدامن انسان پیدا ہوں ‘ وہ خود اپنی شہوات سفلیہ سے بھی آزاد ہوں اور دوسرے لوگوں کی غلامی سے بھی آزاد ہوں ۔ یہ دین اس لئے آیا تھا کہ دنیا میں یہ اصول قائم کرے ۔ (لا الہ الا اللہ) یعنی اللہ کے سوا کوئی حاکم اور مقتدر اعلی نہیں ہے ۔ انسانی تاریخ میں تمام انبیاء یہی دعوت لے کر آتے ہیں ۔ یہ سورة اور قرآن کریم کی دوسری نصوص وآیات اس بات کی صراحت کرتی ہیں ۔ کہ (لا الہ الا اللہ) کا مفہوم صرف یہی ہے کہ اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کا نہیں ہے اور جس طرح اللہ اس کائنات کے اوپر حاکم ہے ‘ اسی طرح وہ انسان کی زندگی کے اوپر بھی حاکم ہے ۔ وہ اپنے نظام قضا وقدر کے ذریعے اس کائنات اور خود انسان کی طبیعی زندگی پر حکمران ہے لہذا وہ انسانوں کے قانونی اور ذاتی نظام کے متعلق امور پر بھی حاکم ہے ۔ اس اصول کے تحت جب طرح ایک مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ اس جہاں کی تکوینی زندگی میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ صرف وہی متصرف ہے اور ایک مسلمان بندگی کے مراسم جس طرح صرف اللہ کے سامنے بجا لاتا ہے اسی طرح دستور و قانون میں بھی وہ صرف اسی اللہ کا مطیع ہے ۔ وہ اپنی اقدار اور حسن وقبح کے پیمانے بھی اسی سے اخذ کرتا ہے ۔ عقائد ونظریات بھی اللہ سے اخذ کرتا ہے اور وہ ہرگز کسی طاغوت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ اللہ کے اس اقتدار اعلی کا کوئی حصہ اپنے لیے مختص کرلے یا اللہ کے ساتھ شریک ہوجائے ۔ غرض اعتقاد ونظریے کے اعتبار سے یہ اس دین کا بنیادی اصول ہے ۔ اس اصول کی روشنی میں اگر ہم آج دنیا پر نگاہ ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا نے اس اساسی اصول کو ترک کردیا ہے ۔ اس دنیا میں فرقے فرقے ہیں اور یہ سب فرقے جاہلیت میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ ایک گروہ ملحدین کا گروہ ہے اور یہ لوگ سرے سے وجود باری تعالیٰ کے منکر ہیں ‘ ان پر کسی تبصرے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ایک گروہ بت پرستوں کا ہے ‘ جو ایک الہ کے وجود کے تو قائل ہیں لیکن وہ اس خدا کے ساتھ دوسرے خداؤں کو شریک کرتے ہیں اور انہوں نے کئی رب بنا رکھے ہیں ۔ مثلا ہند اور وسطی افریقہ اور بعض دوسرے علاقوں میں بھی ایسے لوگ ہیں ۔ ایک گروہ اہل کتاب کا ہے یعنی یہود ونصاری کا ۔ یہ لوگ اللہ کے بیٹے کے قائل ہیں اور بیٹے کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں اور اپنے احبار اور رہبان کو ایسا سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے احبارو رہبان کی حاکمیت اعلی اور حق قانون سازی کو تسلیم کرلیا ہے اگرچہ یہ انکی نماز نہیں پڑھتے اور انکے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوتے اور انہ ان کے سامنے جھکتے ہیں ۔ آج کے دور میں عیسائیوں نے اپنی زندگی سے اللہ کے اقتدار کو خارج کردیا ہے اور انہوں نے اپنے لئے نظامہائے زندگی تجویز کر لئے ہیں جنہیں وہ سرمایہ داری ‘ اشتراکیت اور دوسرے ناموں سے پکارتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے لئے نظامہائے حکومت بھی تجویز کرلئے ہیں جسے وہ جمہوریت اور ڈکٹیٹر شپ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اس طرح انہوں نے اللہ کے اصول ودستور کو کلیتا ترک کردیا ہے ۔ جیسا کہ یونانی اور رومی جاہلیت نے اللہ کے اقتدار اعلی کو ترک کرکے اپنا نظام زندگی اور نظام حکومت خود گھڑ لیا تھا ۔ ایک گروہ وہ ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے لیکن اپنی زندگی میں وہ اہل کتاب کے نظام کا مطیع ہے ۔ وہ پوری طرح اہل مغرب کے عیسائیوں کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے ۔ یہ فرقہ اللہ کے نظام کو ترک کرکے اہل مغرب کے نظام کو اپنا چکا ہے ۔ اللہ کا دین قرآن وسنت اور اسلامی شریعت ہے اور یہی اسلامی نظام قانون ودستور ہے اور انسانوں کا دین انسانوں کا بنایا ہوا دستور اور قانون ہے ۔ لہذا بات یہی ہے کہ زمانہ گردش کر کے اسی مقام پر آگیا ہے جس پر اس وقت تھا جب پہلے پہل دین اسلام انسانوں کی ہدایت کے لئے آیا ۔ لوگ دین اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کی طرف لوٹ گئے ہیں اور فرقے فرقے بن گئے ہیں لیکن کوئی فرقہ دین اسلام کا مطیع نہیں ہے ۔ آج قرآن پوری انسانیت کے لئے اسی طرح دعوت فکروعمل ہے جس طرح اپنے نزول کے وقت تھا ۔ اس دین کا آج بھی ہدف یہ ہے کہ انسان کو سب سے پہلے عقیدے اور نظریات کے زاوے سے اسلام میں داخل کرے ‘ پھر نظام زندگی اور میدان عمل کو اسلام کے مطابق ڈھالا جائے ۔ چناچہ آج جو شخص بھی قرآنی دعوت کو لے کر اٹھتا ہے وہ ویسی ہی مشکلات سے دو چار ہوگا جس طرح کی مشکلات سے رسول اللہ دو چار رہے تھے ۔ کیونکہ آپ نے جب انسانیت کو خطاب فرمایا تو وہ جاہلیت کی گندگی میں آلودہ تھی ۔ جاہلیت کے صحرا میں گم کردہ راہ تھی ۔ اس نے شیطان کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تھا اور بھٹک رہی تھی ۔ لہذا آج پہلا ہدف یہ ہونا چاہئے کہ لوگوں کے دل میں کلمہ شہادت کے مطابق اسلامی تصور حیات اور اسلامی سوچ پیدا کی جائے اور دنیا میں ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں صرف اللہ کی عبادت ہو ‘ اور اللہ کے سوا کوئی اور حاکم اور مقتدر اعلی نہ ہو ۔ یوں انسان کو ایک نئی اسلامی زندگی عطا کی جائے جس میں انسان انسانوں کی زندگی سے آزاد ہو کر اور اپنی خواہشات سے آزاد ہو کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل ہوجائے ۔ اسلام کوئی تاریخی حادثہ نہیں ہے کہ وہ ایک دفعہ پیش آگیا اور پھر جس طرح اس سے پہلے کا دور ایک تاریخ ہے اور بعد کا دور بھی ایک تاریخ ہے ۔ اسے آج بھی وہی کردار ادا کرنا ہے جو اس نے ایک بار پہلے ادا کیا تھا ۔ وہ اس طرح کام کرے گا جیسے حالات اور واقعات میں ‘ جیسے نظام اور معاشرے میں ‘ جیسے عقائد و تصورات میں ‘ جیسی اقدار اور پیمانوں میں اس نے پہلے کام کیا تھا اور نظام باطل کا مقابلہ کیا تھا ۔ یاد رہے کہ جاہلیت ایک صورت حال ہوتی ہے ۔ جاہلیت تاریخ کے کسی مخصوص دور کا نام نہیں ہے ۔ اس وقت اطراف عالم میں یہ جاہلیت چھائی ہوئی ہے ۔ تمام فرقوں ‘ تمام تصورات ‘ تمام مذاہب اور تمام نظامہائے زندگی میں جاہلیت قائم ودائم ہے ۔ اس کا اصل الاصول یہ ہے کہ انسان انسانوں کے غلام ہوں اور اس میں اللہ کی ہمہ گیر حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ کا انکار ہو۔ اس کا دوسرا اصول یہ ہے کہ وہ انسانی خواہشات پر قائم ہوتی ہے ‘ چاہے ان کی شکل و صورت جو بھی ہو۔ اس کی اہم خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس میں اللہ کی شریعت کو بطور نظام حکومت تسلیم نہیں کیا جاتا ۔ اس کے بعد اس کی شکل و صورت ‘ اس کے خدوخال ‘ اس کے جھنڈے اور شعائر اس کے نام والقاب ‘ اس کے گروہ اور مذاہب اور اسکے ملل ونحل اگرچہ مختلف ہوتے ہیں لیکن ان تمام میں مذکورہ بالااساسی ضابطے اور اصول موجود ہوتے ہیں ۔ ان اصولوں کی روشنی میں ‘ آج اگر دنیا پر نظر ڈالی جائے تو اس میں ہر طرف جاہلیت چھائی ہوئی ہے ۔ بلکہ اس وقت پوری دنیا پر جاہلیت حکمران ہے ۔ اس وقت دنیا میں اسلامی نظام زندگی معطل ہے اور جو لوگ اس وقت دنیا میں اسلامی نظام زندگی کی طرف دعوت دے رہے ہیں ‘ انہیں ویسی ہی مشکلات درپیش ہیں جیسی حضور اکرم ﷺ کو درپیش تھیں ۔ ان کا ہدف وہی ہے جو رسول اللہ کا تھا اور آج یہ آیت ان سے اسی طرح مخاطب ہے جس طرح رسول اللہ ﷺ سے مخاطب تھی ۔ آیت ” کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) ” یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد ﷺ تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ “ اس وقت دنیا میں جس قدر معاشرے موجود ہیں ‘ وہ جاہلی معاشرے ہیں ‘ یہی وجہ ہے کہ یہ پسماندہ ‘ رجعت پسند معاشرے ہیں کیونکہ وہ دبارہ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے ہیں حالانکہ اسلام نے انہیں اس جاہلیت سے نجات دی تھی ۔ آج بھی اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ اس جاہلی معاشروں کو رجعت پسندی اور پسماندگی سے نجات دے ۔ اور ترقی اور زبانی ہدایات کے مطابق تہذیب و تمدن کے حصول کے لئے ان کی قیادت کے فرائض سرانجام دے ۔ جب اقتدار اعلی صرف اللہ کے لئے مخصوص ہوجائے اور یہ اقتدار ایک معاشرے کی صورت میں ردبعمل آجائے جس میں اسلامی شریعت نافذ ہو ‘ تو یہی ایک صورت حالات ہوگی جس میں انسانیت انسانوں کی غلامی سے پوری طرح آزاد ہوگی ۔ وہ ہوائے نفس اور مطلب پرستی کی غلامی سے آزاد ہوگی اور صرف یہی صورت حالات اسلامی اور متمدن صورت حالات ہوگی ‘ اسلامی اقدار کے مطابق ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جس تہذیب و تمدن کو انسان کے لئے پسند فرماتے ہیں وہ ہر فرد کی مکمل آزادی اور شرف کے اصول پر مبنی ہے ۔ اس طرح کا کوئی تمدن اللہ کو پسند نہیں ہے جس میں انسان کو ایسی آزادی حاصل ہو جس میں وہ دوسرے انسانوں کا غلام ہو اور جس میں انسان انسانوں کے رب اور خدا ہوں اور ان کے حاکم اور قانون ساز ہوں ۔ بعض تابع ہوں اور بعض متبوع اور حاکم ہوں ۔ قانون سازی سے مراد محض رسمی قوانین ہی نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد حسن وقبح کے پیمانے ‘ اخلاق اور رسم و رواج بھی ہیں ۔ یہ سب قوانین و ضوابط ہیں اور لوگ ان کے تابع ہوتے ہیں چاہے لوگ شعوری طور پر ان کے پابند ہوں یا غیر شعوری طور پر ۔ اس قسم کے معاشروں کو رجعت پسند اور پسماندہ معاشرے تصور کیا جاتا ہے اور اسلامی اصطلاح کے مطابق انہیں جاہلی معاشرے کہا جاتا ہے ۔ جب کسی معاشرے میں اجتماعیت کی اساس نظریہ حیات پر ہو ‘ اس کی اساس پر ایک نظام حیات بھی ہو اور یہ تصور اور نظام دونوں کا مصدر ذات باری تعالیٰ ہو ‘ کسی ایک فرد کی خواہش نہ ہو ‘ کسی ایک بندے کا ارادہ نہ ہو ‘ تو یہ معاشرہ ترقی یافتہ مہذب معاشرہ ہوگا ۔ اسلامی اصطلاح کے مطابق اسے ربانی اور مسلم معاشرہ کہا جائے گا ۔ کیونکہ اس معاشرے میں اجتماعیت انسانی خواص پر نہ ہوگی بلکہ روحانی اور فکری تصورات پر ہوگی ۔ لیکن اگر کسی اجتماعی نظام اور معاشرے کی اساس قوم ‘ نسل وغیرہ اور زمین کی اساس پر ہو تو ایسا معاشرہ رجعت پسند اور پسماندہ معاشرہ کہلائے گا یا اسلامی اصطلاحات کے مطابق اسے جاہلی اور مشرک معاشرہ کہا جائے گا ۔ اس لئے کہ قوم ونسل اور زمین ورنگ کوئی اعلی انسانی اقتدار نہیں ہیں کیونکہ انسانی کسی نسل ‘ کسی قوم ‘ کسی زمین ‘ کسی زنگ میں بھی ہو وہ بہرحال انسان رہتا ہے ۔ اور اس کے اندر اگر کوئی فرق ہوتا ہے تو روح اور فکر کے ذریعے ہوتا ہے ۔ انسان اپنے آزادانہ اختیار اور ارادے سے اور یہ اختیار ارادہ وہ عظیم شرف ہے جو انسان کو عطا ہوا ہے ‘ اپنے عقائد واپنے تصورات کو بدل سکتا ہے ‘ بشرطیکہ اپنے فہم کے ادراک کے ذریعے وہ کسی سمت میں مائل ہوجائے اور اسے اطمینان ہوجائے اس صورت میں گمراہی کو ترک کرکے ہدایت اپنا سکتا ہے ‘ اور کوئی اچھا نظام حیات اپنا سکتا ہے ‘ لیکن کوئی انسان اپنی نسل اپنا رنگ اپنی قوم اور اپنے اس ملک کو نہیں بدل سکتا اور زمین کا تعین نہیں کرسکتا ۔ اس لئے وہ معاشرہ اور وہ اجتماعی نظام جسے لوگوں نے خود اپنے آزادانہ ارادہ سے اپنایا ہو وہ بہتر یا وہ نظام جس کے اندر کوئی شخص مقہور ومجبور ہو ۔ اور اس میں اس کی آزادی اور ارادے کا کوئی دخل نہ ہو ۔ ظاہر ہے کہ پہلی صورت حالات شرف انسانیت کے لئے اعلی وارفع ہے اور اسے زیادہ ترقی پسندانہ کہا جاسکتا ہے ۔ اگر کسی معاشرے میں انسان کی انسانیت ہی اعلی قدر قرار پائے انسان کے انسانی خصائص اہمیت اور رعایت کے مستحق قرار پائیں تو وہ معاشرہ ترقی پسند اور مہذب معاشرہ قرار پائے گا اور اسلامی اصطلاح میں وہ ربانی اور مسلم معاشرہ ہوگا۔ لیکن اگر کسی معاشرے کی اساس مادے پر ہو ‘ چاہے جس شکل و صورت میں بھی وہ ہو ‘ اور مادہ ہی اعلی قدر ہو ‘ وہ مارکسی نظریات کے مطابق ہو ‘ یا مادی پیداوار کے نظریہ کے مطابق ہو۔ مثلا یورپ وامری کہ کے تمام معاشرے جہاں اعلی قدر و قیمت مادی پیداوار ہے جس کے لئے انہوں نے تمام اعلی انسانی اقدار اور انسانی خصوصیات کو قربان کردیا ہے ۔ اس کے لئے ان معاشروں نے تمام اخلاق اقدار ثانوی حیثیت دے دی ہے تو یہ معاشرہ پسماندہ اور رجعت پسند معاشرہ تصور ہوگا اور اسلامی اصطلاح میں اسے جاہلی اور مشرکانہ معاشرہ کہا جائے گا ۔ اسلام کا ربانی معاشرہ بھی مادے کو حقارت کی نظروں سے نہیں دیکھتا ‘ نہ اس نقطہ نظر سے کہ اس پوری کائنات کی تشکیل اسی مادے سے ہوئی ہے اور نہ اس اعتبار سے کہ اس سے پیداوار حاصل کرکے انسان کو اس سے استفادہ کرنا چاہئے ‘ کیونکہ مادہ اور مادی پیداوار اس کرہ ارض پر انسان کے لئے اپنے فرائض خلافت ادا کرنے کے لئے از حد ضروری ہیں ۔ دنیا کی حلال چیزوں سے فائدہ اٹھانا اسلام جائز سمجھتا ہے بلکہ اس کی دعوت دیتا ہے جیسا کہ آگے ہم اس سورة میں بتائیں گے لیکن اسلام مادے اور مادی پیداوارکو اس کائنات کی اعلی قدر قرار نہیں دیتا جس کے حصول کے لیے اعلی انسانی اقدار کو قربان کردیا جائے جیسا کہ تمام جاہلی اور مادی معاشرے کرتے ہیں۔ انسانی اقدار اور انسانی اخلاق ہی اگر کسی معاشرے میں اگر کسی معاشرے میں سربلند ہوں ‘ اس طرح جس طرح انہیں اللہ تعالیٰ نے وضع کیا ہو تو یہ معاشرہ مہذب اور ربانی معاشرہ ہوگا ۔ اب سوال یہ ہے کہ انسانی اخلاق کیا ہیں اور انسانی اقدار کیا ہیں ؟ تو یہ کوئی پوشیدہ اور ناقابل فہم مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی اخلاق واقدار تغیر پذیر ہوتے ہیں یا ایک حالت پر نہیں رہتے جیسا کہ وہ لوگ رائے رکھتے ہیں جو اسلام کے اخلاقی نظام میں طوائف الملوکی پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ اعلی اقدار اور اعلیٰ اخلاقی معیار انسان کی ان خصوصیات کو اجاگر کرتے ہیں جن میں وہ دوسرے حیوانات کے مقابلے میں نفرد ہے ۔ انسان کے انسانی پہلو کو اس کے حیوانی پہلو پر غالب کرتے ہیں ۔ اخلاقی قدریں انسان اور حیوان کے درمیان مشترک خصوصیات کو پروان نہیں چڑھاتیں ۔ اگر اس مسئلے کو اس انداز سے لیا جائے تو اعلی اقدار اور اخلاق اور محض حیوانیت کے درمیان ایک حد فاصل چڑھاتیں ۔ اگر اس مسئلے کو اس انداز سے لیا جائے تو اعلی اقدار اور اخلاق اور محض حیوانیت کے درمیان ایک حد فاصل قائم ہوجائے گی اور اعلی قدروں کو اچھی طرح سمجھا جاسکے گا ۔ چناچہ اس طرح ترقی پسندوں کے تمام فلسفے ڈھیر ہوجاتے ہیں اور سرمایہ دارانہ اخلاق ‘ اشتراکی اخلاق غرباء کے اخلاق اور مالداروں کے اخلاق جیسی کوئی تقسیم نہیں باقی رہتی ‘ صرف انسانی اخلاق اور حیوانی اخلاق رہ جاتے ہیں۔ اس طرح معاشرتی اخلاق اور معاشی اخلاق کی تقسیم کوئی مستقل تقسیم نہ رہے گی ۔ یہ چیزیں تعمیر اخلاق میں مستقل عوامل شمار نہیں ہوں گی اور تعمیر اخلاق میں ان کا اثر حتمی تصور ہوگا ۔ اس زاویہ سے ایک طرف انسانی اخلاقی اور انسانی اقدار ہوگی اور یہ اسلامی معاشرے کے اخلاق ہوں گے اور دوسری جانب حیوانی اخلاق اور اقدار ہوں گی اور اسے پسماندہ کہا جائے گا ۔ اسلامی اصطلاحات میں اس تقسیم کو اسلامی اور ربانی اخلاق واقدار اور رجعت پسندانہ جاہلی اخلاق واقدار کہا جاتا ہے ۔ وہ معاشرے جن پر حیوانی خواہشات اور میلانات چھائے ہوئے ہوتے ہیں ‘ وہ کبھی مہذب معاشرے نہیں بن سکتے اگر وہ صنفی اور اقتصادی اعتبار سے بہت ہی ترقی یافتہ ہوں ۔ انسان کی ترقی میں یہ معیار کبھی غلط ثابت نہیں ہوا ہے ۔ دورجدید کے جاہلی معاشروں نے اعلی اخلاق اور اعلی اقدار کو ان تمام شعبوں سے نکال دیا ہے جن کا تعلق انسان کے حیوانی پہلو سے ہے ۔ ان معاشروں میں فری سیکس کا اصول کارفرما ہے ۔ ان لوگوں کے ہاں نہایت ہی سوقیانہ جنسی حرکات کو بھی جائز سمجھا جاتا ہے ۔ ان کے ہاں اگر ان کوئی قومی مفادتقاضا کرتا ہو تو وہ شخصی معاملات اقتصادی روابط اور سیاست میں اخلاق کے قائل ہیں ‘ اپنی قومی مصلحتوں کے دائرے کے اندر اندر ۔ ان ممالک کے صحافی ‘ ادیب اور میڈیا کے تمام شعبے نوجوانوں کو جنسی بےراہ روی کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اور ان میں جنسی اتصال کو اخلاق رذیلہ میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اس قسم کے معاشرے اسلامی نقطہ نظر سے پسماندہ معاشرے ہیں اور انسانی زاویہ سے بہت ہی گرے ہوئے ہیں۔ اسلامی لحاظ سے تو یہ اس لئے قابل رد ہیں کہ اسلام انسان کی حیوانی خواہشات کو ضبط میں لاتا ہے اور اس کے انسانی پہلوؤں کو نرمی دیتا ہے اور انسانی پہلو کو حیوانی پہلو پر غالب کرتا ہے ۔ آج کے انسانی معاشروں پر یہاں ہم اس سے زیادہ بحث نہیں کرسکتے ۔ یہ معاشرے درحقیقت جاہلیت میں غرق ہیں۔ نظریات سے لے کر اخلاق تک میں اور تصورات سے لے کر طرز عمل تک میں ۔ ان معاشروں کے خدوخال کی وضاحت کے لئے یہ اشارات ‘ میں سمجھتا ہوں یہاں کفایت کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں ان کا تعارف ان اشارات سے ہوجاتا ہے ۔ ہمارے دور میں تحریک اسلامی کا اپنے اہداف ‘ دعوت اسلامی اور احیائے دین کیلئے اس قدر تعارف کافی ہے ۔ آج کی دعوت دین اور تحریک اسلامی کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسانیت کو از سر نو اسلام کی طرف دعوت دی جائے ۔ نظریات کے اعتبار سے بھی ‘ اخلاق کے اعتبار سے بھی اور نظام زندگی کے اعتبار سے بھی ۔ یہ وہی جدوجہد ہے جس کا آغاز حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تھا ۔ ہماری دعوت کا آغاز بھی اسی مقام سے ہونا چاہئے جہاں سے داعی اول نے کیا تھا ۔ جس طرح داعی اول نے اس کتاب کے ساتھ رویہ اختیار کیا تھا وہی ہمارا بھی ہونا چاہئے اور دوبارہ اس آیت پر غور کرنا چاہئے ۔ (یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو) اللہ نے اس کتاب کو رسول اللہ ﷺ کی طرف نازل فرمایا اور حضور ﷺ نے سب سے پہلے کتاب کو لوگوں کے سامنے پیش فرمایا ۔ قیامت تک جب بھی کوئی شخص اس کتاب کو کسی قوم کے سامنے پیش کرے گا تو وہ ان کو لوگوں کو سب سے پہلے یہی حکم دے گا کہ تم ان احکام کی پیروی کرو جو اس کتاب میں ہیں ۔ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی اور کارساز نہ بناؤ۔ کیونکہ دعوت اسلامی کا اصل محور ہی یہ ہے کہ اسلامی احکامات کا اتباع کیا جائے بجائے اس کے کہ دوسرے لوگوں کا اتباع کیا جائے ۔ جو لوگ اس کتاب کا اتباع کرتے ہیں وہ مسلمان ہیں اور اگر وہ دوسروں کا اتباع کرتے ہیں تو مشرک ہیں ۔ اہل کتاب کے مقابلے میں صرف یہی دو موقف ہیں یا مسلم یا مشرک ۔

الأعراف 7:3

آیت ” نمبر 3۔ یہ اس دین کا اساسی مسئلہ ہے ‘ یہ کہ یا تو اس وحی کی پیروی ہوگی تو یہ اسلام ہوگا اور اس میں اللہ کی ربوبیت کا اعتراف ہوگا ۔ اس میں اللہ وحدہ کی حاکمیت کا اعتراف ہوگا ‘ اللہ حکم دے گا اور لوگ اطاعت کریں گے ۔ اللہ نہیں کرے گا اور لوگ رک جائیں گے یا اگر لوگ اپنے لئے کچھ اور لوگوں کو سرپرست بنا لیں گے تو یہ شرک ہوگا اور شرک کے معنی یہ ہوں گے کہ لوگ صرف اللہ کو رب تسلیم نہیں کرتے اس لئے کہ ربوبیت اور اقتدار اعلی صرف اللہ کا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کو خطاب کرتے وقت یہ فرمایا گیا کہ (کتب انزل الیک) (7 : 2) یعنی نزول آپ کی ذات پر ہوا ہے اور جب لوگوں کو خطاب ہوا تو فرمایا آیت ” اتبعوا ماانزل الیکم ) (7 : 3) رسول کی طرف تو کتاب نازل ہوئی کہ آپ اس پر ایمان لائیں اور اسے لوگوں تک پہنچائیں اور انہیں انجام بد سے ڈرائیں اور لوگوں کی طرف کتاب کے نزول کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں اور عمل کریں اور اس کے علاوہ کسی اور کی اطاعت نہ کریں ۔ دونوں صورتوں میں الیک اور الیکم کے ذریعے حضور اکرم ﷺ اور آپ کی امت کی عزت افزائی کی گئی ہے اور ان کے حوصلے بڑھائے گئے ہیں اس لئے کہ جس کی طرف اللہ کتاب بھیج دے اور اسے اس عظیم کام کے لئے چن لے اور اس پر یہ کرم کردے کہ وہ اس بات کا مستحق ہے کہ وہ اس کا شکر بھی بجا لائے ۔ اس فریضے کو اچھی طرح سرانجام دے اور اس میں سستی نہ کرے ۔ چونکہ یہ ایک عظیم جدوجہد ہے ‘ اس میں پیش نظریہ ہے کہ جاہلیت کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکنا ہے ۔ اس کے تصورات اس کے افکار اس کی اقدار اس کی عادات ‘ اس کی رسومات ‘ اس کے انتظامات ‘ اور اس کی اجتماعی عادات واطوار ‘ اقتصادی نظام کو اور اس کائنات اور انسانوں کے ساتھ اس کے روابط کو یکسر ختم کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ ایک عظیم جدوجہد ہے اس لئے یہاں انسانوں کے ضمیر کو خوب جھنجوڑا جاتا ہے اور انسانی اعصاب کو حساس بنایا جاتا ہے ۔ انہیں بلا مارنا اور ان کی سوئی ہوئی فطرت کو جگانا ‘ جو زمانہ جاہلیت میں جاہلی تصورات اور اطوار میں ڈوبی ہوئی تھی ‘ مقصود ہے چناچہ اس مقصد کے لئے لوگوں کے سامنے ازمنہ ماضی کے مکذبین کے انجام کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے اور یہ بھی بتا دیا جاتا ہے کہ آج دنیا کی خواری کے بعد آخرت میں وہ زیادہ برباد ہوں گے ۔

الأعراف 7:4

آیت ” نمبر 4 تا 9۔ اقوام سابقہ کا انجام سبق آموز ہوتا ہے ۔ وہ نہایت ہی اونچا ڈراوا ہوتا ہے ۔ قرآن کریم اقوام سابقہ کے عبرت آموز حصوں کو نہایت ہی موثر انداز میں لاتا ہے جس سے انسان خواب غفلت سے جاگ اٹھتا ہے ۔ اور دل پر سے غفلت کے پردے ہٹ جاتے ہیں۔ بیشمار ایسی بستیاں ہیں جو غفلت کی وجہ سے اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہریں ۔ ان پر جب ہلاکت آئی تو وہ خواب غفلت میں مدہوش تھیں۔ یہ عذاب ان پر رات کے وقت آیا یا دن کے وقت وہ سوتے میں مارے گئے ۔ بالعموم لوگ دوپہر کے وقت آرام کرتے ہیں اور اس وقت ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ امن وامان سے رہیں۔ آیت ” وَکَم مِّن قَرْیَۃٍ أَہْلَکْنَاہَا فَجَاء ہَا بَأْسُنَا بَیَاتاً أَوْ ہُمْ قَآئِلُونَ (4) ” کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا ۔ ان پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا ‘ یا دن دہاڑے ایسے وقت آیا جبکہ وہ آرام کر رہے تھے۔ “ یہ دونوں حالتیں یعنی قیلولہ کی حالت اور رات کی وقت سونے کی حالت ایسی ہوتی ہے جس میں انسان بےپرواہ ‘ پرامن اور غفلت کی حالت میں ہوتا ہے اور ایسی حالت میں کسی کا پکڑا جانا اور عذاب میں مبتلا ہونا نہایت ہی خوفناک اور زیادہ موثر ہوتا ہے ۔ اور اس کے نتیجے میں ڈر ‘ نصیحت آموزی ‘ احتیاط وتقوی ‘ زیادہ سہولت کے ساتھ حاصل ہو سکتا ہے ۔ ایسے حالات میں جب یہ مجرمین پکڑے گئے اور ان پر عذاب آیا تو ان کا ردعمل کیا تھا اعتراف اور مطلق اعتراف جرم ۔ ماسوائے اقرار کے ان کے پاس اور کوئی بہانہ نہ رہا۔

الأعراف 7:5

آیت ” فَمَا کَانَ دَعْوَاہُمْ إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا إِلاَّ أَن قَالُواْ إِنَّا کُنَّا ظَالِمِیْنَ (5) ” اور جب ہمارا عذاب ان پر آگیا تو ان کی زبان پر اس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے ۔ “ انسان ہر قسم کے بہانے تلاش کرتا ہے لیکن اعتراف اس کے لئے مشکل کام ہوتا ہے ۔ وہ آخری وقت تک اقرار نہیں کرتا ۔ لیکن ان لوگوں کو عذاب الہی نے اس قدر اچانک آلیا تھا کہ ماسوائے اقرار کے ان میں اور کوئی حجت نہی رہی تھی اس لئے کہ وہ نہایت ہی خوفناک اور مرعوب کن پوزیشن میں ڈال دیئے گئے تھے ایسی پوزیشن میں جہاں اقرار و اعتراف آخری کوشش ہوتی ہے ۔ یہاں انہوں نے ظلم یعنی شرک کا اقرار کیا ۔ یہاں ظلم سے مراد وہ شرک لیتے ہیں ۔ قرآن کریم کی تعبیرات میں سے بیشتر میں ظلم سے مراد شرک ہی ہے ۔ ظاہر ہے شرک ظلم ہے اور ظلم شرک ہے اس لئے کہ جو شخص اپنے خالق کے ساتھ کسی کو شریک کرے اس سے بڑا ظالم اور کون ہوسکتا ہے ۔ ؟ اب ذرا دیکھئے کہ دنیا کے عذاب کا منظر نظروں کے سامنے ہے ‘ جھٹلانے والے عذاب الہی کی گرفت میں ہیں اور وہ اعتراف کررہے ہیں کہ بیشک وہ ظالم تھے ‘ حق ان کے سامنے واضح ہوجاتا ہے اور وہ حق کا اعتراف بھی کرلیتے ہیں لیکن اب یہ اعتراف ان کے لئے مفید مطلب نہیں ہے ۔ یہ عذاب اب ندامت اور اعتراف کی وجہ سے نہیں ٹل سکتا ‘ نہ اب توبہ مفید ہے اس لئے کہ توبہ وندامت کا وقت چلا گیا ہے اور توبہ کا دروازہ بند ہے ۔ یہ منظر ابھی چل رہا ہے اور دنیا کی سطح پر وہ عذاب الہی سے کچلے جا رہے ہیں ‘ کہ اچانک دیکھنے والے اپنے آپ کو میدان حشر میں پاتے ہیں ‘ کوئی وقفہ درمیان میں نہیں ہے ۔ سیاق کلام ایک ریل پر چل رہا ہے جو جڑی ہوئی ہے اور منظر کے بعد منظر سامنے آتا ہے ۔ زمان ومکان کی طنابیں کھنچ جاتی ہیں اور دنیا وآخرت باہم مل جاتے ہیں ۔ عذاب دنیا ابھی ختم نہیں ہوا کہ آخرت کا عذاب شروع ہوجاتا ہے ۔ اچانک دوسرا منظر سامنے ہے۔

الأعراف 7:6

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9) ” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “ یہ تصویر کشی کا انداز بیان قرآنی تعبیرات کا خاصہ ہے ۔ طرز تعبیر ہمیں لحظہ بھر میں پوری دنیا کی سیر کرا دیتا ہے ۔ پھر قرآن کی ایک سطر میں دنیا اور آخرت مل جاتے ہیں ۔ اور آغاز و انجام ایک ہوجاتے ہیں ۔ اس جہان میں تو یہ لوگ عذاب الہی سے دو چار ہیں اور اس جہان میں ان سے باز پرس ہو رہی ہے اور جب عذاب آگیا تھا اور وہ غفلت میں تھے تو پھر اچانک انہوں نے اعتراف کرنا شروع کردیا اور کہا آیت ” انا کنا ظلمین “۔ (بےشک ہم ظالم تھے) لیکن اس جہان میں ۔ آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) ” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ “ یہ سوال نہایت ہی جامع ومانع ہے ۔ یہ رسولوں سے بھی ہوگا اور ان کی امتوں سے بھی ہوگا ۔ یہ سوال و جواب کھلی مجلس میں ہوگا ‘ ایک بڑے اجتماع میں اور اس میں تمام راز کھل جائیں گے ۔ امت دعوت سے سوال ہوگا اور ان کی جانب سے اعتراف ہوگا ‘ رسولوں سے بھی باز پرس ہوگی اور وہ جواب دیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کا ریکارڈ پوری تفصیلات کے ساتھ پیش کریں گے اس لئے کہ اللہ تو ہر چیز کے پاس تھا ‘ اس سے کوئی چیز غائب نہ تھی ۔ یہ نہایت ہی موثر ٹچ ہے۔ آیت ” وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ “۔ (7 : 8) ” اس روز عین حق ہوگا ۔ “ اس دن وزن کے اندر کوئی غلطی کا امکان نہ ہوگا اور نہ فیصلے میں کوئی غلطی ہوگی ۔ دنیا میں فیصلوں پر جو جدل وجدال اور واقعات ہوتے ہیں وہ نہ ہوں گے ۔ آیت ” فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) ”۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے “۔ اللہ کا ترازو سچا ہے ۔ اب وہ بھاری ہوگیا ہے لہذا آگ سے بچاؤ ہوگیا ۔ جنت کی طرف سفر شروع ہوگیا اور یہ اس طویل سفر کا آخری ٹھکانا ہے ۔ آیت ” وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9) ” اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “ اللہ کے ترازو میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہے ۔ یہ لوگ گھاٹا کھا گئے ہیں ۔ اب تو کمائی کا وقت ختم ہے ۔ انسان اپنے لئے کماتا ہے ‘ جب خسارہ ہی ہوگیا کاروبار میں تو کیا کمائے گا اور کیا رہے گا ۔ انہوں نے کفر کیا ‘ اپنی جان ہی کو گنوا دیا ۔ کیونکہ آیات الہیہ کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے تھے ‘ جیسا کہ کہا گیا ظلم سے مراد شرک ہے کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔ آیت ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وزن اور میزان کی شکل کیا ہوگی ۔ اسلامی عقائد کی تاریخ میں اس پر بحثیں ہوچکی ہیں ‘ کیونکہ اللہ کے افعال کی شکل و صورت اور کیف وکم کی کوئی مثال نہیں ہے ۔ خود اللہ تعالیٰ کی کوئی مثال نہیں ۔ آیت ” لیس کمثلہ شیء “ اس لئے ہم قرآن کے فرمان ہی پر اکتفا کرتے ہیں کہ اس دن حساب برحق ہوگا کہ انسان کے کسی بھی نیک عمل میں نہ کمی ہوگی نہ وہ شمار سے رہ جائے گا اور نہ ہی ضائع ہوگا ۔

الأعراف 7:7

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9) ” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “ یہ تصویر کشی کا انداز بیان قرآنی تعبیرات کا خاصہ ہے ۔ طرز تعبیر ہمیں لحظہ بھر میں پوری دنیا کی سیر کرا دیتا ہے ۔ پھر قرآن کی ایک سطر میں دنیا اور آخرت مل جاتے ہیں ۔ اور آغاز و انجام ایک ہوجاتے ہیں ۔ اس جہان میں تو یہ لوگ عذاب الہی سے دو چار ہیں اور اس جہان میں ان سے باز پرس ہو رہی ہے اور جب عذاب آگیا تھا اور وہ غفلت میں تھے تو پھر اچانک انہوں نے اعتراف کرنا شروع کردیا اور کہا آیت ” انا کنا ظلمین “۔ (بےشک ہم ظالم تھے) لیکن اس جہان میں ۔ آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) ” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ “ یہ سوال نہایت ہی جامع ومانع ہے ۔ یہ رسولوں سے بھی ہوگا اور ان کی امتوں سے بھی ہوگا ۔ یہ سوال و جواب کھلی مجلس میں ہوگا ‘ ایک بڑے اجتماع میں اور اس میں تمام راز کھل جائیں گے ۔ امت دعوت سے سوال ہوگا اور ان کی جانب سے اعتراف ہوگا ‘ رسولوں سے بھی باز پرس ہوگی اور وہ جواب دیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کا ریکارڈ پوری تفصیلات کے ساتھ پیش کریں گے اس لئے کہ اللہ تو ہر چیز کے پاس تھا ‘ اس سے کوئی چیز غائب نہ تھی ۔ یہ نہایت ہی موثر ٹچ ہے۔ آیت ” وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ “۔ (7 : 8) ” اس روز عین حق ہوگا ۔ “ اس دن وزن کے اندر کوئی غلطی کا امکان نہ ہوگا اور نہ فیصلے میں کوئی غلطی ہوگی ۔ دنیا میں فیصلوں پر جو جدل وجدال اور واقعات ہوتے ہیں وہ نہ ہوں گے ۔ آیت ” فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) ”۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے “۔ اللہ کا ترازو سچا ہے ۔ اب وہ بھاری ہوگیا ہے لہذا آگ سے بچاؤ ہوگیا ۔ جنت کی طرف سفر شروع ہوگیا اور یہ اس طویل سفر کا آخری ٹھکانا ہے ۔ آیت ” وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9) ” اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “ اللہ کے ترازو میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہے ۔ یہ لوگ گھاٹا کھا گئے ہیں ۔ اب تو کمائی کا وقت ختم ہے ۔ انسان اپنے لئے کماتا ہے ‘ جب خسارہ ہی ہوگیا کاروبار میں تو کیا کمائے گا اور کیا رہے گا ۔ انہوں نے کفر کیا ‘ اپنی جان ہی کو گنوا دیا ۔ کیونکہ آیات الہیہ کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے تھے ‘ جیسا کہ کہا گیا ظلم سے مراد شرک ہے کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔ آیت ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وزن اور میزان کی شکل کیا ہوگی ۔ اسلامی عقائد کی تاریخ میں اس پر بحثیں ہوچکی ہیں ‘ کیونکہ اللہ کے افعال کی شکل و صورت اور کیف وکم کی کوئی مثال نہیں ہے ۔ خود اللہ تعالیٰ کی کوئی مثال نہیں ۔ آیت ” لیس کمثلہ شیء “ اس لئے ہم قرآن کے فرمان ہی پر اکتفا کرتے ہیں کہ اس دن حساب برحق ہوگا کہ انسان کے کسی بھی نیک عمل میں نہ کمی ہوگی نہ وہ شمار سے رہ جائے گا اور نہ ہی ضائع ہوگا ۔

الأعراف 7:8

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9) ” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “ یہ تصویر کشی کا انداز بیان قرآنی تعبیرات کا خاصہ ہے ۔ طرز تعبیر ہمیں لحظہ بھر میں پوری دنیا کی سیر کرا دیتا ہے ۔ پھر قرآن کی ایک سطر میں دنیا اور آخرت مل جاتے ہیں ۔ اور آغاز و انجام ایک ہوجاتے ہیں ۔ اس جہان میں تو یہ لوگ عذاب الہی سے دو چار ہیں اور اس جہان میں ان سے باز پرس ہو رہی ہے اور جب عذاب آگیا تھا اور وہ غفلت میں تھے تو پھر اچانک انہوں نے اعتراف کرنا شروع کردیا اور کہا آیت ” انا کنا ظلمین “۔ (بےشک ہم ظالم تھے) لیکن اس جہان میں ۔ آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) ” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ “ یہ سوال نہایت ہی جامع ومانع ہے ۔ یہ رسولوں سے بھی ہوگا اور ان کی امتوں سے بھی ہوگا ۔ یہ سوال و جواب کھلی مجلس میں ہوگا ‘ ایک بڑے اجتماع میں اور اس میں تمام راز کھل جائیں گے ۔ امت دعوت سے سوال ہوگا اور ان کی جانب سے اعتراف ہوگا ‘ رسولوں سے بھی باز پرس ہوگی اور وہ جواب دیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کا ریکارڈ پوری تفصیلات کے ساتھ پیش کریں گے اس لئے کہ اللہ تو ہر چیز کے پاس تھا ‘ اس سے کوئی چیز غائب نہ تھی ۔ یہ نہایت ہی موثر ٹچ ہے۔ آیت ” وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ “۔ (7 : 8) ” اس روز عین حق ہوگا ۔ “ اس دن وزن کے اندر کوئی غلطی کا امکان نہ ہوگا اور نہ فیصلے میں کوئی غلطی ہوگی ۔ دنیا میں فیصلوں پر جو جدل وجدال اور واقعات ہوتے ہیں وہ نہ ہوں گے ۔ آیت ” فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) ”۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے “۔ اللہ کا ترازو سچا ہے ۔ اب وہ بھاری ہوگیا ہے لہذا آگ سے بچاؤ ہوگیا ۔ جنت کی طرف سفر شروع ہوگیا اور یہ اس طویل سفر کا آخری ٹھکانا ہے ۔ آیت ” وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9) ” اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “ اللہ کے ترازو میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہے ۔ یہ لوگ گھاٹا کھا گئے ہیں ۔ اب تو کمائی کا وقت ختم ہے ۔ انسان اپنے لئے کماتا ہے ‘ جب خسارہ ہی ہوگیا کاروبار میں تو کیا کمائے گا اور کیا رہے گا ۔ انہوں نے کفر کیا ‘ اپنی جان ہی کو گنوا دیا ۔ کیونکہ آیات الہیہ کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے تھے ‘ جیسا کہ کہا گیا ظلم سے مراد شرک ہے کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔ آیت ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وزن اور میزان کی شکل کیا ہوگی ۔ اسلامی عقائد کی تاریخ میں اس پر بحثیں ہوچکی ہیں ‘ کیونکہ اللہ کے افعال کی شکل و صورت اور کیف وکم کی کوئی مثال نہیں ہے ۔ خود اللہ تعالیٰ کی کوئی مثال نہیں ۔ آیت ” لیس کمثلہ شیء “ اس لئے ہم قرآن کے فرمان ہی پر اکتفا کرتے ہیں کہ اس دن حساب برحق ہوگا کہ انسان کے کسی بھی نیک عمل میں نہ کمی ہوگی نہ وہ شمار سے رہ جائے گا اور نہ ہی ضائع ہوگا ۔

الأعراف 7:9

آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْْہِم بِعِلْمٍ وَمَا کُنَّا غَآئِبِیْنَ (7) وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9) ” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں ‘ آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے اور وزن اس روز عین حق ہوگا جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “ یہ تصویر کشی کا انداز بیان قرآنی تعبیرات کا خاصہ ہے ۔ طرز تعبیر ہمیں لحظہ بھر میں پوری دنیا کی سیر کرا دیتا ہے ۔ پھر قرآن کی ایک سطر میں دنیا اور آخرت مل جاتے ہیں ۔ اور آغاز و انجام ایک ہوجاتے ہیں ۔ اس جہان میں تو یہ لوگ عذاب الہی سے دو چار ہیں اور اس جہان میں ان سے باز پرس ہو رہی ہے اور جب عذاب آگیا تھا اور وہ غفلت میں تھے تو پھر اچانک انہوں نے اعتراف کرنا شروع کردیا اور کہا آیت ” انا کنا ظلمین “۔ (بےشک ہم ظالم تھے) لیکن اس جہان میں ۔ آیت ” فَلَنَسْأَلَنَّ الَّذِیْنَ أُرْسِلَ إِلَیْْہِمْ وَلَنَسْأَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ (6) ” پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم ان لوگوں سے باز پرس کریں جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں ۔ “ یہ سوال نہایت ہی جامع ومانع ہے ۔ یہ رسولوں سے بھی ہوگا اور ان کی امتوں سے بھی ہوگا ۔ یہ سوال و جواب کھلی مجلس میں ہوگا ‘ ایک بڑے اجتماع میں اور اس میں تمام راز کھل جائیں گے ۔ امت دعوت سے سوال ہوگا اور ان کی جانب سے اعتراف ہوگا ‘ رسولوں سے بھی باز پرس ہوگی اور وہ جواب دیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ لوگوں کے اعمال کا ریکارڈ پوری تفصیلات کے ساتھ پیش کریں گے اس لئے کہ اللہ تو ہر چیز کے پاس تھا ‘ اس سے کوئی چیز غائب نہ تھی ۔ یہ نہایت ہی موثر ٹچ ہے۔ آیت ” وَالْوَزْنُ یَوْمَئِذٍ الْحَقُّ “۔ (7 : 8) ” اس روز عین حق ہوگا ۔ “ اس دن وزن کے اندر کوئی غلطی کا امکان نہ ہوگا اور نہ فیصلے میں کوئی غلطی ہوگی ۔ دنیا میں فیصلوں پر جو جدل وجدال اور واقعات ہوتے ہیں وہ نہ ہوں گے ۔ آیت ” فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (8) ”۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے “۔ اللہ کا ترازو سچا ہے ۔ اب وہ بھاری ہوگیا ہے لہذا آگ سے بچاؤ ہوگیا ۔ جنت کی طرف سفر شروع ہوگیا اور یہ اس طویل سفر کا آخری ٹھکانا ہے ۔ آیت ” وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہُ فَأُوْلَـئِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُواْ أَنفُسَہُم بِمَا کَانُواْ بِآیَاتِنَا یِظْلِمُونَ (9) ” اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے رہے تھے ۔ “ اللہ کے ترازو میں غلطی کا امکان ہی نہیں ہے ۔ یہ لوگ گھاٹا کھا گئے ہیں ۔ اب تو کمائی کا وقت ختم ہے ۔ انسان اپنے لئے کماتا ہے ‘ جب خسارہ ہی ہوگیا کاروبار میں تو کیا کمائے گا اور کیا رہے گا ۔ انہوں نے کفر کیا ‘ اپنی جان ہی کو گنوا دیا ۔ کیونکہ آیات الہیہ کے ساتھ ظالمانہ برتاؤ کرتے تھے ‘ جیسا کہ کہا گیا ظلم سے مراد شرک ہے کیونکہ شرک ظلم عظیم ہے ۔ آیت ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وزن اور میزان کی شکل کیا ہوگی ۔ اسلامی عقائد کی تاریخ میں اس پر بحثیں ہوچکی ہیں ‘ کیونکہ اللہ کے افعال کی شکل و صورت اور کیف وکم کی کوئی مثال نہیں ہے ۔ خود اللہ تعالیٰ کی کوئی مثال نہیں ۔ آیت ” لیس کمثلہ شیء “ اس لئے ہم قرآن کے فرمان ہی پر اکتفا کرتے ہیں کہ اس دن حساب برحق ہوگا کہ انسان کے کسی بھی نیک عمل میں نہ کمی ہوگی نہ وہ شمار سے رہ جائے گا اور نہ ہی ضائع ہوگا ۔

الأعراف 7:10

درس نمبر 73 تشریح آیات : 10۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 25۔ یہاں سے انسانیت کے عظیم سفر کا آغاز ہوتا ہے اور نسل انسانی کو کرہ ارض کا چارج دیا جاتا ہے ۔ یہ فقرہ قصہ انسانیت کے لئے ایک تمہید ہے ۔ تفصیلات آگے آرہی ہیں۔ آیت ” نمبر 10۔ اس زمین اور انسانوں کے خالق ہی نے یہاں انسانوں کو بسایا اور اسی نے زمین کے اندر وہ وسائل وخصائص پیدا کئے جو انسانی زندگی کے لئے سازگار ہیں جو انسانوں کے لئے قوت و ضروریات مہیا کرتے ہیں اور اس نگہداشت کرتے ہیں جن میں وسائل رزق ومعاش شامل ہیں۔ یہ اللہ ہی ہے کہ جس نے کرہ ارض کو ایک ایسے مقام پر رکھا جو انسانوں کی نشوونما کے لئے ساز گار ہے ۔ زمین اپنی ترکیب ‘ حجم اور سورج و چاند سے اپنے متعین فاصلے اور سورج کے گرد اپنی گردش ‘ اور اپنے طور پر ایک طرف جھکاؤ اور اپنی گردش کی رفتار وغیرہ کے اعتبار سے انسانی زندگی کے لئے مفید ہے ۔ پھر یہ اللہ ہی ہے جس نے زمین کے اندر بےحد و حساب خزانے ودیعت کئے ہیں اور اس میں اکثر چیزیں انسان کی خوراک اور استعمال کے لئے فراونی سے پیدا کی ‘ جو اس انسان کے لئے یہاں نشوونما پانے اور ترقی کرنے کا سبب ہیں۔ پھر وہ اللہ ہی ہے جس نے جنس انسانی کو اس زمین کا سردار بنایا ہے ۔ وہ اس قابل ہوا ہے کہ ان قوتوں کو تسخیر کرے اور انہیں اپنی آسائش کے لئے استعمال کرے پھر اللہ نے انسانوں کو ایسی عقلی قوت دی ہے جس کے ذریعے انہوں نے اس کائنات کے بعض پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل کرلی ہے ۔ اور اس علم کو پھر وہ اپنی ضروریات کے لئے استعمال کر رہا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ انسانوں کو یہ قوت نہ دیتا تو یہ ضعیف انسان اس کائناتی قوتوں کو ” تسخیر “ نہ کرسکتا (جس طرح قدیم وجدید جاہلیت کے علمبردار اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں) اور اس عظیم کائنات اور طویل و عریض دنیا کی قوتوں کا مقابلہ نہ کرسکتا ۔ دور جدید کی تہذیب پر رومی اور یونانی جاہلی افکار کی چھاپ لگی ہوئی ہے ۔ یہ جاہلی تصورات کائناتی قوتوں کو انسان کی دشمن قوتیں سمجھتے ہیں ۔ ان کے نزدیک یہ قوتیں انسان کے وجود اور اس کی سرگرمیوں کی دشمن ہیں ۔ ان تصورات کے مطابق انسان اور کائناتی قوتوں کے درمیان مسلسل جنگ ہے ۔ اس لئے انسان جب اس کائنات کے بھیدوں میں سے کسی بھید کو جان لیتا ہے تو یہ لوگ اسے ” تسخیر فطرت “ کے الفاظ سے تعبیر کرتے ہیں لیکن یہ تصورات غلط ہیں اور پھر ان کے پس منظر میں خباثت بھی چھپی ہوئی ہے۔ اگر یہ کائناتی قوتیں انسان کی دشمن ہوتیں ‘ اس کی زندگی کا نقیض ہوتیں ‘ اس کے خلاف مورچہ زن ہوتیں ‘ اس کی مخالفت کرتیں ‘ اور ان کے پس منظر میں کسی مدبر ذات کا ارادہ کام نہ کر رہا ہوتا ‘ جس طرح ان لوگوں کا خیال ہے تو انسان سرے سے پیدا ہی نہ ہوتا ۔ اگر پیدا ہوتا تو وہ اس کائنات کے اندر کسی طرح نشوونما نہ پاسکتا تھا ۔ کیونکہ ان تصورات کے مطابق یہ پورا جہان انسان کا دشمن ہے محض اس لئے کہ وہ وجود میں آگیا ہے ۔ لہذا وہ یہاں زندگی بسر کر رہا ہے ‘ یہ کوئی معقول توجیہ نہیں ہے ۔ کیونکہ اگر یہ پوری کائنات ہی انسان کی دشمن ہے تو وہ کس طرح یہاں چل سکتا ہے ۔ ان لوگوں کا تصور یہ تھا کہ یہ کائنات خود مختار ہے اور اس کے اوپر کوئی مقتدر اعلی نہیں ہے ۔ ان تصورات کے مقابلے میں اسلامی تصور کائنات ہی وہ حقیقی تصور ہے جو یہاں کائنات کے تمام اجزاء کی پوری پوری تشریح کردیتا ہے ۔ وہ یہ کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس نے اس کائنات کو پیدا کیا ۔ وہی ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور یہ وہی اللہ ہے جس نے اس کائنات کے مزاج کو اس طرح بنایا ہے کہ وہ اپنی ساخت کے اعتبار ہی سے انسان کے لئے ممدومعاون ہے ۔ انسان کے اندر اسی اللہ نے ایسی قوتیں ودیعت کی ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کائنات کی قوتوں کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کرپاتا ہے ۔ یہ موافقت اور یہ ہم آہنگی ہی وہ قابل لحاظ راز ہے جس کی وجہ سے اللہ نے ہر چیز کی تخلیق کو بہترین بنایا ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ کائنات کی یہ قوتیں باہم دگر برسر جنگ ہیں۔ اس اسلامی تصور کے مطابق انسان اس کائنات کے ساتھ باہم دوست کی طرح زندگی گزار رہا ہے ۔ ایک قوت مدبرہ یعنی باری تعالیٰ کی نگرانی میں ۔ اس کا قلب مطمئن ہے ۔ اس کا نفس خوش ہے ۔ اس کے قدم مضبوط ہیں اور وہ پورے اعتماد کے ساتھ اس کرہ ارض پر اپنے فرائض خلافت انسانی کو سرانجام دے رہا ہے ۔ وہ کائنات کا انیس وہم نشیں ہے اور اللہ کا شکر گزار ہے کہ اس نے اس کائنات کا راز بخشا ہے ۔ جونہی وہ اس کائنات کے راز ہائے نہفتہ میں سے کوئی راز دریافت کرتا ہے ‘ جو اس کے فرائض کیلئے معاون ہوتا ہے تو اس کی ترقی آرام اور خوشحالی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس کائنات کے بارے میں یہ تصور جو اسلام دیتا ہے انسان کو اس بات سے نہیں روکتا کہ وہ اس کائنات کے مزید راز معلوم کرے ۔ یہ تصور اسکی اس بات کے لئے حوصلہ افزائی کرتا ہے اور اسے نہایت ہی اطمینان اور خود اعتمادی کی کیفیت دیتا ہے کیونکہ اس کی حرکت ‘ ایک ایسے دوست کی ہمرکابی میں ہوتی ہے جو بخیل نہیں ہے جو اسے اپنے راز نہ بتاتا ہو۔ وہ اپنے تعاون اور امداد سے بھی ہاتھ نہیں کھینچتا ۔ اس کی وجہ سے انسان کا کسی ایسے دشمن سے رابطہ نہیں ہوتا جو ہر وقت مخالفت کرتا ہے اور راستے میں روڑے اٹکاتا ہے اور اسکی آرزوؤں اور امیدوں پر پانی پھیرتا ہے ۔ فلسفہ وجودیت کا یہ عظیم المیہ ہے کہ اس کائنات کے بارے میں ایک برا اور خبیث تصور رکھتا ہے ۔ اس فلسفے کا تصور کائنات یہ ہے کہ یہ پوری کائنات اور اس کے اندر انسان کا اجتماعی نظام انسانی کے انفرادی وجود کا دشمن ہے اور اس کائنات کا بوجھ اور پھر انسان کی اجتماعیت کا بوجھ انسان کے لئے تباہ کن ہے ۔ یہ ایک ایسا تصور ہے کہ اس پر یقین رکھنے والا انسان رجعت پسندی ‘ عزلت نسبتی بلکہ عدم کے دامن میں لوٹ جاتا ہے یا پھر اس کے نتیجے میں انفرادیت اور خود سری اور سرکشی جنم لیتی ہے ۔ دونوں حالتوں میں ایک انسان بےچینی اور قلق میں مبتلا ہوتا ہے جس کا بوجھ وہ برداشت نہیں کرسکتا عقل وخرد انسان کے لئے وبال بن جاتے ہیں۔ وہ عملی اور نفسیاتی الجھنوں کا شکار ہوجاتا ہے اور یا وہ سرکشی کی راہ اختیار کرلیتا ہے یاعدم کے صحرا میں گم گشتہ راہ ہوجاتا ہے اور یہ دونوں حالتیں ایک ہی طرح کی مصیبت ہیں۔ یورپی افکار کے شعبہ وجودیت ہی کا یہ المیہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے پورے فلسفے کا بھی یہی المیہ ہے ۔ یورپ کے تمام مکاتب فکر اور رجحانات اسی المیہ میں گرفتار ہیں بلکہ ہر قسم کا جاہلی نظام ہر دور میں اور ہر معاشرے میں اس المیے سے دوچار ہوتا ہے ۔ اس المیے کا مقابلہ صرف اسلامی نظام فکر وعمل ہی کرتا ہے کیونکہ اسلام ہی انسان کو اس کائنات کے بارے میں ایک دوست زاویہ فکر دیتا ہے ۔ بلکہ وہ و رائے کائنات بھی ایک معقول تصور دیتا ہے ۔ انسان اس زمین کا بیٹا ہے ‘ وہ اس کائنات کی پیداوار ہے ۔ وہ اس زمین سے پیدا کیا گیا ‘ اسی میں پروان چڑھا ۔ اس کی بودوباش اور نشوونما کا انتظام اسی زمین میں ہے اور اسے یہاں ایسی عقلی قوت دی گئی ہے جس کے ذریعے وہ اس جہان کے پوشیدہ رازوں تک رسائی حاصل کرتا ہے اور یہ راز اور قوتیں انسانی وجود کے لئے سازگار ہیں۔ جب ان رازوں تک انسان رسائل حاصل کرلیتا ہے تو یہ انسان کے معاون ہوتے ہیں اور اس کی زندگی کی تفسیر وتعبیر کرتے ہیں۔ لیکن انسان ! انسان کی اکثریت ناشکری ہے اس لئے کہ وہ اپنی جہالت اور جاہلیت میں گم گشتہ راہ ہے ۔ جو لوگ اس کائنات کے راز ہائے نہفتہ سے واقف ہوگئے ہیں وہ بھی حق شکر ادا نہیں کرتے ۔ وہ شکر وثنا بھی کیسے سکتے ہیں جب اللہ کو ان کی جانب سے یہ اعزاز قبول ہی نہیں ۔ (وہ انسانیت کے بجائے اپنی حیوانیت ثابت کرتے ہیں) آیت ” وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِیْ الأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُونَ (10) ” ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لئے یہاں سامان زیست فراہم کیا ‘ مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو ۔ “ اب قصہ انسانیت کے دلچسپ واقعات بیان ہوتے ہیں ۔ ایک عظیم محفل میں انسانیت کی ولادت کی تقریب منعقد ہوتی ہے ۔ یہ ملاء اعلی میں ایک عظیم الشان تقریب ہے ۔ اللہ تعالیٰ جو ایک عظیم اور جلیل القدر بادشاہ ہے ‘ اس کی جانب سے تخلیق آدم کا اعلان ہوتا ہے ‘ خود بادشاہ کائنات اعلان کرتے ہیں ۔ یہ اس بندہ انسان کے لئے ایک بڑا اعزاز ہے ۔ اس محفل میں تمام ملائکہ حاضر ہیں ۔ ان میں حضرت ابلیس بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ یہ دراصل فرشتہ نہیں تھا لیکن اس تقریب میں پوری کائنات اور اس کی مخلوقات موجود ہیں ‘ اس لئے کہ یہ نہایت ہی اہم واقعہ ہے اور عظیم الشان معاملہ ہے جس کی اہمیت پوری کائنات کی اسکیم میں مرکزیت کی حامل ہے ۔

الأعراف 7:11

آیت ” نمبر 11 تا 18۔ یہ پہلا منظر ہے اس قصے کا ۔ نہایت ہی دلچسپ ‘ نہایت ہی اہم ۔ ہم اس قصے کے مناظر اس کی تفسیر سے پہلے پیش کریں گے ۔ ان مناظر سے فارغ ہونے کے بعد ہم اس قصے کے اشارات واثرات پیش کریں گے ۔ آیت ” وَلَقَدْ خَلَقْنَاکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنَاکُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ لَمْ یَکُن مِّنَ السَّاجِدِیْنَ (11) ” بیشک ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتداء کی ‘ پھر تمہاری صورت بنائی ‘ پھر فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ‘ اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ۔ لفظ خلق کبھی تو محض وجود میں لانے کے لئے آتا ہے ۔ اسی طرح تصویر کا مفہوم کبھی یہ ہوتا ہے کہ کسی چیز کو شکل و صورت اور خصائص دینا ۔ اس اعتبار سے خلق وتصویر کی تخلیق کے دو مرحلے نہیں ہوتے بلکہ بیک وقت کسی تخلیق میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ لازمی نہیں ہے کہ ثم کا لفظ ہمیشہ ترتیب زمانی کے لئے استعمال ہو ۔ یہ معنوی ترقی کے مفہوم میں بھی آتا ہے ۔ معنوی اعتبار سے محض وجود کے مقابلے میں مصور ہونا زیادہ ترقی یافتہ شکل ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ محض مادے پر بھی وجود کا اطلاق ہوتا ہے ۔ البتہ تصویر کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں مجرد وجود ہی نہیں بخشا گیا بلکہ ایک ترقی یافتہ مصور اور صاحب خصائص و کمالات وجود دیا گیا ہے ۔ دوسری جگہ آیت ” الذی اعطی کل شیء خلقہ ثم ھدی “۔ جس نے ہر چیز کو اس کا وجود بخشا اور پھر ہدایت دی “۔۔۔۔ ۔۔ اس لئے کہ اللہ نے ہر چیز کو اس کے خصائص اور اس کے مقاصد وفرائض اسی وقت دے دیئے تھے جس وقت انہیں پیدا کیا تھا اور تخلیق کے وقت ہی ہدایت کردی تھی کہ اپنے ان وظائف وفرائض کے لئے کام کرو ‘ اور تخلیق اور ہدایت کے درمیان کوئی زمانی فاصلہ نہ تھا ۔ اگر ہدایت سے مراد رب کی طرف ہدایت لی جائے تب بھی مفہوم میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ تخلیق کرتے ہی اللہ نے انسان کو ہدایت کردی تھی ۔ اسی طرح آدم کو بھی خصائص انسانیت تخلیق کے وقت ہی دے دیئے گئے تھے ۔ اور ثم کا لفظ یہاں ترقی اور مرتبہ کی بڑائی کے معنوں میں ہے ۔ زمانہ ماقبل یا مابعد کے معنی میں نہیں ہے ۔ ہمارے خیال میں یہی مفہوم درست ہے ۔ بہرحال خلق آدم کے بارے میں جس قدر نصوص وارد ہیں اور اس کرہ ارض کے اوپر نسل انسانی کے بارے میں جس قدر آیات آئی ہیں ان سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ انسان کو اس کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے انسانی خصائص اور فرائض منصبی دے دیئے گئے تھے اور انسانی تاریخ میں جو ترقی نظر آتی ہے وہ صرف ان صلاحتیوں کے ظہور میں ہوئی ہے انسان کے تجربے اور اس کی مہارت میں اضافہ بہرحال ہوتا ہے ۔ یہ ترقی انسان کے وجود اور اس کی ذہنی صلاحیت میں نہیں ہوئی لہذا یہ فلسفہ بالکل غلط ہے جو ڈارون نے گھڑا ہے کہ انسان کی ساخت میں ترقی ہوتی رہی ہے۔ ڈارون کا یہ نظریہ کہ حیوانات کے انواع میں ترقی ہوتی رہی ۔ آثار قدیمہ اور پتھروں کی کھدائی پر مبنی ہے ۔ اور محض ظن وتخمین ہے ۔ طبقات الارض کے لحاظ سے بھی پتھروں اور پہاڑوں کی عمر کا تعین کوئی یقین امر نہیں ہے ۔ یہ محض ظنی اور تخمینی فیصلے ہیں۔ مثلا شعاعوں کے ذریعے ستاروں کی عمر معلوم کرنا ۔ یہ علوم جو محض ظن وتخمین اور مفروضوں پر مبنی ہیں۔ ان کے مقابلے میں دوسرے مفروضے بھی ہوسکتے ہیں جو ان سے زیادہ معقول ہو سکتے ہیں ۔ اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ پتھروں اور چٹانوں کی عمر یقینی طور پر متعین ہوگئی ہے تب بھی یہ ممکن ہے کہ قدیم زمانوں سے حیوانات کی مختلف اقسام اپنی موجودہ شکل میں تھیں ۔ ان ادوار میں ان کے لئے حالات ساز گار تھے لیکن بعد میں ان کے لئے حالات ساز گار نہ رہے اور ان کی نوع دنیا سے ختم ہوگئی ۔ لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ان میں سے ایک نوع دوسری نوع کی ترقی یافتہ شکل ہے ۔ ہم دونوں کو مستقل انواع مان سکتے ہیں ۔ ڈارون کی کھدائیاں اور اس کے بعد دریافت ہونے والے انواع اس سے زیادہ کچھ ثابت نہیں کرسکتے ۔ ان چٹانی تصاویر سے صرف یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ کسی ایک نوع سے زیادہ ترقی یافتہ نوع فلاں وقت میں موجود تھی اور اس بات کی تاویل کی جاسکتی ہے کہ اس وقت اس نوع کے وجود کے لئے حالات سازگار تھے اور بعد میں حالات ناساز گار ہونے کے باعث وہ نوع ختم ہوگئی اور اس کی جگہ دوسری قسم کے حیوانات وجود میں آگئے اور ترقی کر گئے ۔ اس لئے ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ نوع انسانی روز اول سے ایسی ہی ہے جس طرح کہ آج ہے اور اسے اللہ تعالیٰ زمین پر اس وقت وجود میں لائے جب یہاں کے حالات انسان کے لئے ساز گار بنا دیئے گئے ۔ تمام قرآنی نصوص اسی بات کی تائید کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ انسانی طبیعیاتی ‘ عضویاتی اور عقلی و روحانی اعتبار سے اس قدر منفرد ہے کہ دور جدید کے ڈارونی بھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں کہ انسان کسی دوسری نوع کی ترقی پذیر نوع نہیں ہے اور وہ کسی دوسری نوع کے ساتھ عضویاتی مماثلت نہیں رکھتا ۔ حالانکہ ان میں سے بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو سرے سے ذات باری کے قائل ہی نہیں ہیں اور ان کی جانب سے یہ ایک قسم کا اعتراف ہے کہ انسان کا وجود اور اس کی نشوونما بالکل منفرد ہے ۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا اعلان فرشتوں کے اجتماع میں کیا اور یہ اجتماع عالم بالا میں منعقد ہوا ۔ آیت ” ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلآئِکَۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ لَمْ یَکُن مِّنَ السَّاجِدِیْنَ (11) پھر ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو ‘ اس حکم پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا ۔ ملائکہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مستقل مخلوق ہے اور ان کے اپنے خصائص وفرائض ہیں ۔ ہم ان کے بارے میں اسی قدر جانتے ہیں جس قدر اللہ نے ہمیں بتایا ہے ۔ ظلال القرآن میں ہم اس سے قبل فرشتوں کے بارے میں ایک نوٹ دے آئے ہیں ۔ اسی طرح ابلیس بھی ایک مستقل نوع کی مخلوق سے تعلق رکھتا ہے ۔ قرآن میں کہا گیا ہے کان من الجن نفسق عن امر ربہ ” یہ جنوں میں سے تھا ‘ اس نے اپنے رب کی حکم عدولی کی “۔ جنات فرشتوں سے الگ ایک مخلوق ہیں۔ ان کے بارے میں بھی ہم اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں اللہ نے بتایا ہے ۔ ان کے بارے میں بھی ہم نے ایک مجمل حاشیہ اسی پارے میں دے دیا ہے ۔ اس سورة میں آگے جا کر یہ بات آئے گی کہ ابلیس آگ سے پیدا ہوا اس لئے وہ ملائکہ سے الگ ایک مخلوق سے وابستہ ہے ۔ ابلیس کو بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ ریز ہونے کا حکم دیا گیا تھا اس لئے کہ یہ زمرہ ملائکہ میں شامل تھا اور اس وقت وہ عالم بالا کی اس محفل میں موجود تھا ‘ جہاں تخلیق آدم کی تقریب ہوئی ۔ رہے فرشتے تو وہ تو ایسی مخلوق ہیں جو اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور انہیں جو حکم دیا جائے اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں اس لئے انہوں نے مطیع فرمان ہو کر سجدہ کردیا اور اللہ کے حکم کی تعمیل کردی ۔ کیونکہ وہ کسی معاملے میں نہ تردد کرتے ہیں نہ تکبر کرتے ہیں اور نہ وہ اللہ کی نافرمانی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں ‘ چاہے کوئی سبب اور کوئی جواز ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ان کا مزاج ہے ۔ یہ اطاعت شعاری ان کی خصوصیت ہے اور یہ انکے فرائض منصبی میں شامل ہے ۔ اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت انسان کی ذات کس قدر مکرم ہے اور یہ بھی عیاں ہوجاتا ہے کہ فرشتے اللہ کے مطیع مطلق ہیں ۔ رہا ابلیس تو اس نے امتثال امرنہ کیا اور نافرمانی کردی۔ یہ بات آگے آرہی ہے کہ کس وجہ سے اس کے دل میں خلجان پیدا ہوا ۔ اس پر کیا خیالات چھاگئے جس کی وجہ سے اس نے نافرمانی کی جرات کی ؟ حالانکہ وہ جانتا تھا کہ اللہ رب العالمین ہے اور خود اس کا بھی خالق ہے ۔ وہ اس کے امور اور خود اس کے وجود کا بھی مالک ہے ‘ اسے ان معاملات میں کوئی شک نہیں تھا ۔ اس منظر میں اللہ کی مخلوقات کے تین نمونے پائے جاتے ہیں ۔ ایک نمونہ وہ ہے جو ہر لحاظ سے مطیع فرمان ہے اور اس کی فطرت میں تعمیل امر ہے ۔ دوسرا نمونہ ہے جو مکمل طور پر نافرمان ہے اور اس کی فطرت میں استکبار اور نافرمانی ہے۔ تیسری مخلوق انسانی مخلوق ہے ۔ اس کی صفات ‘ اس کی کمزوریوں اور کمالات پر بھی عنقریب بات ہوگی ۔ پہلی قسم کی مخلوق خالص الہی مخلوق ہے اور انہوں نے اپنا فرض اس محفل ہی میں پوری طرح ادا کردیا ۔ دوسری دو قسم کی مخلوقات کے بارے میں عنقریب تفصیلات آئیں گی کہ ان کے رجحانات کیا ہیں ؟

الأعراف 7:12

آیت ” قَالَ مَا مَنَعَکَ أَلاَّ تَسْجُدَ إِذْ أَمَرْتُکَ قَالَ أَنَاْ خَیْْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَہُ مِن طِیْنٍ (12) ” پوچھا ” تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ۔ “ بولا : ” میں اس سے بہتر ہوں ‘ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ۔ “ ابلیس کا قصور یہ تھا کہ نص صریح کے ہوتے بھی اس نے یہ سوچا کہ وہ اپنی رائے پر عمل کرسکتا ہے اور اگر حکم کے باوجود کوئی سبب اور علت اور علت ہو تو اس پر عمل کیا جاسکتا ہے ۔ حالانکہ جب نص صریح آجائے تو پھر فکر ونظر کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ اب صرف یہ صورت رہتی ہے کہ اطاعت کی جائے اور حکم کو نافذ کیا جائے ۔ اب حضرت ابلیس ملعون کو دیکھئے کہ باوجود اس بات کے علم کے کہ اللہ خالق ومالک ہے ‘ وہی رازق اور مدبر ہے اور اس دنیا میں کوئی بات اس کے علم اور اذن کے بغیر نہیں ہو سکتی ۔ اس کے حکم کی اطاعت نہیں کرتا جو اس کے پاس پہنچ گیا ہے ۔ وہ اپنی منطق سامنے لاتا ہے ۔ ” میں اس سے زیادہ بہتر ہوں کہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے ۔ “ اس کی اس حجت سازی پر اس کو فورا سزا ملتی ہے ۔

الأعراف 7:13

آیت ” قَالَ فَاہْبِطْ مِنْہَا فَمَا یَکُونُ لَکَ أَن تَتَکَبَّرَ فِیْہَا فَاخْرُجْ إِنَّکَ مِنَ الصَّاغِرِیْنَ (13) ” فرمایا : ” اچھا “ تو یہاں سے نیچے اتر تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے ۔ نکل جا کہ درحقیقت تو ان لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذلت چاہتے ہیں ۔ “ یہاں اب اس کا علم اس کے لئے نفع بخش نہیں رہا ‘ وہ اللہ کی ذات وصفات سے خوف واقف ہے ۔ لیکن یہ علم اس کے لئے نفع بخش نہیں ہے ۔ یہی حال ہر اس شخص کا ہوگا جس تک اللہ کا حکم پہنچ جاتا ہے اور اس کے بعد وہ پھر اپنی فکر ونظر کے گھوڑے دوڑاتا ہے اور خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اسے قبول کرے یا نہ کرے ۔ ایک مسئلہ اس کے سامنے ہے جس کا فیصلہ اللہ کی عدالت سے ہوگیا ہے لیکن وہ اسے نہیں مانتا ‘ وہ اپنا فیصلہ خود کرتا ہے اور اس کے ذریعہ اللہ کے فیصلے کو رد کرتا ہے ۔ پس یہ جان بوجھ کر اور اچھی طرح سمجھ کر کفر کا ارتکاب ہے ۔ ابلیس کے پاس علم ومعرفت کی کمی نہ تھی ‘ اس کا اعتقاد متزلزل نہ تھا۔ چناچہ وہ جنت سے بھگایا گیا ‘ اللہ کی رحمت سے محروم ہوگیا اور اس پر لعنت لکھ دی گئی ۔ اس کے اوپر ذلت مسلت کردی گئی ۔ لیکن یہ شدید فطرت اس بات کو سمجھنے کی سعی ہی نہیں کرتی کہ اس آدم کی وجہ سے وہ راندہ درگاہ ہوا ۔ چناچہ اب وہ توبہ کرنے بجائے انتقام پر اتر اتا ہے ۔ اب وہ اپنے سر پر وہ ذمہ داریاں لیتا ہے جو اس شر کے ساتھ مناسب ہیں جس میں وہ مبتلا ہوگیا ہے ۔

الأعراف 7:14

آیت ” قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) “۔ (7 : 14 تا 17) ” بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی اس شرپسندی پر اصرار کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ اس نے پوری طرح عزم کرلیا ہے کہ وہ گمراہ ہوگا اور مزید لوگوں کو گمراہ کرے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی مخلوق کی فطرت میں گمراہی رچی بسی ہے اور یہ اس کی خصوصیت اولی ہے ۔ یہ شرعا رضی اور وقتی نہیں ہے ‘ یہ اصلی ‘ بامقصد اور عمدا ہے اور نہایت ہی گہری دشمنی پر مبنی ہے ۔ یہ آیت عقلی ‘ معنوی اور نفسیاتی حرکات کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے اور اس میں زندہ مناظر نظر آتے ہیں ۔ ابلیس یہ درخواست کرتا ہے کہ اسے قیامت تک مہلت دی جائے ‘ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے اللہ کی مشیت و ارادے کے بغیر اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ انتظار اور مہلت کے بارے میں اس کی درخواست منظور فرماتے ہیں لیکن ایک معلوم میعاد تک جیسا کہ دوسری سورتوں میں وضاحت کردی گئی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ مہلت نفخہ اولی کے دن تک ہے جس دن تمام مخلوق جان دے دے گی ۔ یوم البعث تک نہیں ہے ۔ اب مہلت کے بارے میں فیصلہ لے لینے کے بعد ابلیس نہایت ہی ڈھٹائی اور خبث باطن کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی اور راندگی کا بدلہ اللہ کی مخلوق سے یوں لے گا کہ وہ اللہ کی اس مکرم مخلوق کو گمراہ کرکے چھوڑے گا اور وہ اپنے اس پروگرام کا اعلان ایسے فیصلہ کن انداز میں کرتا ہے ۔ آیت ” لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا “۔ یعنی تو نے ان کے لئے جو سیدھا راستہ تجویز کیا ہے میں اس میں اپنے مورچے لگاؤں گا ۔ ان کو اس راہ سے روکنے کی سعی کروں گا ۔ اللہ کی طرف جانے والا راستہ ظاہر ہے کہ کوئی محسوس راستہ نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ ایک ہی جگہ میں ہے اور اس کی طرف یہ راستہ جارہا ہے ۔ اللہ کا راستہ تو ایمان اور اطاعت کا راستہ ہے جس کے نتیجے میں اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ۔ لہذا شیطان انسانوں پر ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے ‘ آگے سے پیچھے سے ‘ دائیں سے اور بائیں سے ۔ اس طرح وہ انسانوں کو انکے ایمان وعمل کی راہ میں روکے گا ۔ یہ گویا ایک ایسا منظر ہے جو زندہ اور رواں دواں ہے ۔ ابلیس ہر طرف سے انسانوں پر حملہ آور ہوتا ہے ‘ مسلسل انہیں بدراہ کر رہا ہے اور لوگ اس کے دام فریب میں گرفتار ہو کر اللہ کی معرفت اور اس کے شکر سے محروم ہوتے ہیں ہاں ایک قلیل تعداد ایسی ہے جو اس کے دام سے بچ نکلتی ہے اور وہ اللہ کے احکام پر چلتی ہے ۔ آیت ” وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا “۔ یہاں شکر کا تذکرہ آغاز سورة میں تذکرہ شکر سے بطور ہم آہنگی کیا گیا ہے ۔ آغاز میں کہا گیا آیت ” قلیلا ما تشکرون “۔ (7 : 10) ” تم کم ہی شکر گزار رہتے ہو۔ “ مقصد یہاں یہ بتانا ہے کہ وہ کیا سبب ہے کہ انسان شکر گزار نہیں رہتا ۔ اس لئے کہ ابلیس خفیہ طور شکر گزار کے خلاف کام کرتا ہے ۔ وہ ہر راستہ پر مورچہ زن ہے اس لئے انسانوں کو چاہئے کہ وہ پوری طرح چوکنے ہوجائیں ‘ دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے۔ وہ ہر طریقے سے انہیں ہدایت سے روکتا ہے اور انہیں اس امر کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جبکہ انہیں معلوم ہے کہ ان پر یہ مصیبت کس راستے سے آرہی ہے ۔ ابلیس کی درخواست اس لئے منظور کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا بھی یہ تھا کہ انسان خود مختاری سے اپنا راستہ خود بنائے ‘ کیونکہ اس کی فطرت میں خیر اور شر دونوں کی استعداد موجود ہے ۔ اسے عقلی قوت بھی دی گئی ہے ۔ جو شر کے مقابلے میں خیر کو ترجیح دیتی ہے ۔ پھر رسولوں کے ہاتھ پیغام بھیج کر اسے شر کے انجام بد سے خبردار بھی کردیا اور پھر اسے دین اسلام کا ضابطہ دے کر اسے درست راہ پر گامزن بھی کردیا گیا ۔ اسے بتایا گیا کہ مشیت الہی کا یہ تقاضا تھا کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا گمراہی اور اس کی شخصیت میں خیر وشر کی کشمکش رہے اور وہ دو انجاموں میں سے کسی ایک تک پہنچ جائے اور اللہ کی مشیت کے مطابق اس پر سنت الہیہ جاری ہو ۔ چاہے وہ ہدایت کی راہ لے یا ضلالت کا فیصلہ ہو ۔ لیکن یہاں سیاق کلام میں ابلیس معلون کو بصراحت یہ اجازت نہیں دی گئی کہ جاؤ تمہیں اجازت ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کرو ‘ جس طرح اس کے پہلے سوال کو منظور کرتے ہوئے قیامت تک اسے مہلت دے دی گئی تھی ‘ یہاں اس کی کارستانیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاتا اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ تم ذلیل و خوار کرکے یہاں سے نکالے جاتے ہو اور اسے یہ دھمکی دیجاتی ہے کہ تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا ۔

الأعراف 7:15

آیت ” قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) “۔ (7 : 14 تا 17) ” بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی اس شرپسندی پر اصرار کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ اس نے پوری طرح عزم کرلیا ہے کہ وہ گمراہ ہوگا اور مزید لوگوں کو گمراہ کرے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی مخلوق کی فطرت میں گمراہی رچی بسی ہے اور یہ اس کی خصوصیت اولی ہے ۔ یہ شرعا رضی اور وقتی نہیں ہے ‘ یہ اصلی ‘ بامقصد اور عمدا ہے اور نہایت ہی گہری دشمنی پر مبنی ہے ۔ یہ آیت عقلی ‘ معنوی اور نفسیاتی حرکات کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے اور اس میں زندہ مناظر نظر آتے ہیں ۔ ابلیس یہ درخواست کرتا ہے کہ اسے قیامت تک مہلت دی جائے ‘ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے اللہ کی مشیت و ارادے کے بغیر اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ انتظار اور مہلت کے بارے میں اس کی درخواست منظور فرماتے ہیں لیکن ایک معلوم میعاد تک جیسا کہ دوسری سورتوں میں وضاحت کردی گئی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ مہلت نفخہ اولی کے دن تک ہے جس دن تمام مخلوق جان دے دے گی ۔ یوم البعث تک نہیں ہے ۔ اب مہلت کے بارے میں فیصلہ لے لینے کے بعد ابلیس نہایت ہی ڈھٹائی اور خبث باطن کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی اور راندگی کا بدلہ اللہ کی مخلوق سے یوں لے گا کہ وہ اللہ کی اس مکرم مخلوق کو گمراہ کرکے چھوڑے گا اور وہ اپنے اس پروگرام کا اعلان ایسے فیصلہ کن انداز میں کرتا ہے ۔ آیت ” لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا “۔ یعنی تو نے ان کے لئے جو سیدھا راستہ تجویز کیا ہے میں اس میں اپنے مورچے لگاؤں گا ۔ ان کو اس راہ سے روکنے کی سعی کروں گا ۔ اللہ کی طرف جانے والا راستہ ظاہر ہے کہ کوئی محسوس راستہ نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ ایک ہی جگہ میں ہے اور اس کی طرف یہ راستہ جارہا ہے ۔ اللہ کا راستہ تو ایمان اور اطاعت کا راستہ ہے جس کے نتیجے میں اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ۔ لہذا شیطان انسانوں پر ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے ‘ آگے سے پیچھے سے ‘ دائیں سے اور بائیں سے ۔ اس طرح وہ انسانوں کو انکے ایمان وعمل کی راہ میں روکے گا ۔ یہ گویا ایک ایسا منظر ہے جو زندہ اور رواں دواں ہے ۔ ابلیس ہر طرف سے انسانوں پر حملہ آور ہوتا ہے ‘ مسلسل انہیں بدراہ کر رہا ہے اور لوگ اس کے دام فریب میں گرفتار ہو کر اللہ کی معرفت اور اس کے شکر سے محروم ہوتے ہیں ہاں ایک قلیل تعداد ایسی ہے جو اس کے دام سے بچ نکلتی ہے اور وہ اللہ کے احکام پر چلتی ہے ۔ آیت ” وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا “۔ یہاں شکر کا تذکرہ آغاز سورة میں تذکرہ شکر سے بطور ہم آہنگی کیا گیا ہے ۔ آغاز میں کہا گیا آیت ” قلیلا ما تشکرون “۔ (7 : 10) ” تم کم ہی شکر گزار رہتے ہو۔ “ مقصد یہاں یہ بتانا ہے کہ وہ کیا سبب ہے کہ انسان شکر گزار نہیں رہتا ۔ اس لئے کہ ابلیس خفیہ طور شکر گزار کے خلاف کام کرتا ہے ۔ وہ ہر راستہ پر مورچہ زن ہے اس لئے انسانوں کو چاہئے کہ وہ پوری طرح چوکنے ہوجائیں ‘ دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے۔ وہ ہر طریقے سے انہیں ہدایت سے روکتا ہے اور انہیں اس امر کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جبکہ انہیں معلوم ہے کہ ان پر یہ مصیبت کس راستے سے آرہی ہے ۔ ابلیس کی درخواست اس لئے منظور کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا بھی یہ تھا کہ انسان خود مختاری سے اپنا راستہ خود بنائے ‘ کیونکہ اس کی فطرت میں خیر اور شر دونوں کی استعداد موجود ہے ۔ اسے عقلی قوت بھی دی گئی ہے ۔ جو شر کے مقابلے میں خیر کو ترجیح دیتی ہے ۔ پھر رسولوں کے ہاتھ پیغام بھیج کر اسے شر کے انجام بد سے خبردار بھی کردیا اور پھر اسے دین اسلام کا ضابطہ دے کر اسے درست راہ پر گامزن بھی کردیا گیا ۔ اسے بتایا گیا کہ مشیت الہی کا یہ تقاضا تھا کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا گمراہی اور اس کی شخصیت میں خیر وشر کی کشمکش رہے اور وہ دو انجاموں میں سے کسی ایک تک پہنچ جائے اور اللہ کی مشیت کے مطابق اس پر سنت الہیہ جاری ہو ۔ چاہے وہ ہدایت کی راہ لے یا ضلالت کا فیصلہ ہو ۔ لیکن یہاں سیاق کلام میں ابلیس معلون کو بصراحت یہ اجازت نہیں دی گئی کہ جاؤ تمہیں اجازت ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کرو ‘ جس طرح اس کے پہلے سوال کو منظور کرتے ہوئے قیامت تک اسے مہلت دے دی گئی تھی ‘ یہاں اس کی کارستانیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاتا اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ تم ذلیل و خوار کرکے یہاں سے نکالے جاتے ہو اور اسے یہ دھمکی دیجاتی ہے کہ تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا ۔

الأعراف 7:16

آیت ” قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) “۔ (7 : 14 تا 17) ” بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی اس شرپسندی پر اصرار کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ اس نے پوری طرح عزم کرلیا ہے کہ وہ گمراہ ہوگا اور مزید لوگوں کو گمراہ کرے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی مخلوق کی فطرت میں گمراہی رچی بسی ہے اور یہ اس کی خصوصیت اولی ہے ۔ یہ شرعا رضی اور وقتی نہیں ہے ‘ یہ اصلی ‘ بامقصد اور عمدا ہے اور نہایت ہی گہری دشمنی پر مبنی ہے ۔ یہ آیت عقلی ‘ معنوی اور نفسیاتی حرکات کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے اور اس میں زندہ مناظر نظر آتے ہیں ۔ ابلیس یہ درخواست کرتا ہے کہ اسے قیامت تک مہلت دی جائے ‘ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے اللہ کی مشیت و ارادے کے بغیر اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ انتظار اور مہلت کے بارے میں اس کی درخواست منظور فرماتے ہیں لیکن ایک معلوم میعاد تک جیسا کہ دوسری سورتوں میں وضاحت کردی گئی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ مہلت نفخہ اولی کے دن تک ہے جس دن تمام مخلوق جان دے دے گی ۔ یوم البعث تک نہیں ہے ۔ اب مہلت کے بارے میں فیصلہ لے لینے کے بعد ابلیس نہایت ہی ڈھٹائی اور خبث باطن کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی اور راندگی کا بدلہ اللہ کی مخلوق سے یوں لے گا کہ وہ اللہ کی اس مکرم مخلوق کو گمراہ کرکے چھوڑے گا اور وہ اپنے اس پروگرام کا اعلان ایسے فیصلہ کن انداز میں کرتا ہے ۔ آیت ” لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا “۔ یعنی تو نے ان کے لئے جو سیدھا راستہ تجویز کیا ہے میں اس میں اپنے مورچے لگاؤں گا ۔ ان کو اس راہ سے روکنے کی سعی کروں گا ۔ اللہ کی طرف جانے والا راستہ ظاہر ہے کہ کوئی محسوس راستہ نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ ایک ہی جگہ میں ہے اور اس کی طرف یہ راستہ جارہا ہے ۔ اللہ کا راستہ تو ایمان اور اطاعت کا راستہ ہے جس کے نتیجے میں اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ۔ لہذا شیطان انسانوں پر ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے ‘ آگے سے پیچھے سے ‘ دائیں سے اور بائیں سے ۔ اس طرح وہ انسانوں کو انکے ایمان وعمل کی راہ میں روکے گا ۔ یہ گویا ایک ایسا منظر ہے جو زندہ اور رواں دواں ہے ۔ ابلیس ہر طرف سے انسانوں پر حملہ آور ہوتا ہے ‘ مسلسل انہیں بدراہ کر رہا ہے اور لوگ اس کے دام فریب میں گرفتار ہو کر اللہ کی معرفت اور اس کے شکر سے محروم ہوتے ہیں ہاں ایک قلیل تعداد ایسی ہے جو اس کے دام سے بچ نکلتی ہے اور وہ اللہ کے احکام پر چلتی ہے ۔ آیت ” وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا “۔ یہاں شکر کا تذکرہ آغاز سورة میں تذکرہ شکر سے بطور ہم آہنگی کیا گیا ہے ۔ آغاز میں کہا گیا آیت ” قلیلا ما تشکرون “۔ (7 : 10) ” تم کم ہی شکر گزار رہتے ہو۔ “ مقصد یہاں یہ بتانا ہے کہ وہ کیا سبب ہے کہ انسان شکر گزار نہیں رہتا ۔ اس لئے کہ ابلیس خفیہ طور شکر گزار کے خلاف کام کرتا ہے ۔ وہ ہر راستہ پر مورچہ زن ہے اس لئے انسانوں کو چاہئے کہ وہ پوری طرح چوکنے ہوجائیں ‘ دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے۔ وہ ہر طریقے سے انہیں ہدایت سے روکتا ہے اور انہیں اس امر کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جبکہ انہیں معلوم ہے کہ ان پر یہ مصیبت کس راستے سے آرہی ہے ۔ ابلیس کی درخواست اس لئے منظور کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا بھی یہ تھا کہ انسان خود مختاری سے اپنا راستہ خود بنائے ‘ کیونکہ اس کی فطرت میں خیر اور شر دونوں کی استعداد موجود ہے ۔ اسے عقلی قوت بھی دی گئی ہے ۔ جو شر کے مقابلے میں خیر کو ترجیح دیتی ہے ۔ پھر رسولوں کے ہاتھ پیغام بھیج کر اسے شر کے انجام بد سے خبردار بھی کردیا اور پھر اسے دین اسلام کا ضابطہ دے کر اسے درست راہ پر گامزن بھی کردیا گیا ۔ اسے بتایا گیا کہ مشیت الہی کا یہ تقاضا تھا کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا گمراہی اور اس کی شخصیت میں خیر وشر کی کشمکش رہے اور وہ دو انجاموں میں سے کسی ایک تک پہنچ جائے اور اللہ کی مشیت کے مطابق اس پر سنت الہیہ جاری ہو ۔ چاہے وہ ہدایت کی راہ لے یا ضلالت کا فیصلہ ہو ۔ لیکن یہاں سیاق کلام میں ابلیس معلون کو بصراحت یہ اجازت نہیں دی گئی کہ جاؤ تمہیں اجازت ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کرو ‘ جس طرح اس کے پہلے سوال کو منظور کرتے ہوئے قیامت تک اسے مہلت دے دی گئی تھی ‘ یہاں اس کی کارستانیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاتا اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ تم ذلیل و خوار کرکے یہاں سے نکالے جاتے ہو اور اسے یہ دھمکی دیجاتی ہے کہ تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا ۔

الأعراف 7:17

آیت ” قَالَ أَنظِرْنِیْ إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ (14) قَالَ إِنَّکَ مِنَ المُنظَرِیْنَ (15) قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) “۔ (7 : 14 تا 17) ” بولا : ” مجھے اس دن تک مہلت دے جبکہ یہ سب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ فرمایا : ” تجھے مہلت ہے ۔ “ بولا : ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔ “ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنی اس شرپسندی پر اصرار کرنے پر تلا ہوا ہے ۔ اس نے پوری طرح عزم کرلیا ہے کہ وہ گمراہ ہوگا اور مزید لوگوں کو گمراہ کرے گا ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شیطانی مخلوق کی فطرت میں گمراہی رچی بسی ہے اور یہ اس کی خصوصیت اولی ہے ۔ یہ شرعا رضی اور وقتی نہیں ہے ‘ یہ اصلی ‘ بامقصد اور عمدا ہے اور نہایت ہی گہری دشمنی پر مبنی ہے ۔ یہ آیت عقلی ‘ معنوی اور نفسیاتی حرکات کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے اور اس میں زندہ مناظر نظر آتے ہیں ۔ ابلیس یہ درخواست کرتا ہے کہ اسے قیامت تک مہلت دی جائے ‘ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے اللہ کی مشیت و ارادے کے بغیر اس تک نہیں پہنچ سکتا ۔ اللہ تعالیٰ انتظار اور مہلت کے بارے میں اس کی درخواست منظور فرماتے ہیں لیکن ایک معلوم میعاد تک جیسا کہ دوسری سورتوں میں وضاحت کردی گئی ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ مہلت نفخہ اولی کے دن تک ہے جس دن تمام مخلوق جان دے دے گی ۔ یوم البعث تک نہیں ہے ۔ اب مہلت کے بارے میں فیصلہ لے لینے کے بعد ابلیس نہایت ہی ڈھٹائی اور خبث باطن کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی اور راندگی کا بدلہ اللہ کی مخلوق سے یوں لے گا کہ وہ اللہ کی اس مکرم مخلوق کو گمراہ کرکے چھوڑے گا اور وہ اپنے اس پروگرام کا اعلان ایسے فیصلہ کن انداز میں کرتا ہے ۔ آیت ” لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ (16) ثُمَّ لآتِیَنَّہُم مِّن بَیْْنِ أَیْْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْْمَانِہِمْ وَعَن شَمَآئِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا “۔ یعنی تو نے ان کے لئے جو سیدھا راستہ تجویز کیا ہے میں اس میں اپنے مورچے لگاؤں گا ۔ ان کو اس راہ سے روکنے کی سعی کروں گا ۔ اللہ کی طرف جانے والا راستہ ظاہر ہے کہ کوئی محسوس راستہ نہیں ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ ایک ہی جگہ میں ہے اور اس کی طرف یہ راستہ جارہا ہے ۔ اللہ کا راستہ تو ایمان اور اطاعت کا راستہ ہے جس کے نتیجے میں اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ۔ لہذا شیطان انسانوں پر ہر جانب سے حملہ آور ہوتا ہے ‘ آگے سے پیچھے سے ‘ دائیں سے اور بائیں سے ۔ اس طرح وہ انسانوں کو انکے ایمان وعمل کی راہ میں روکے گا ۔ یہ گویا ایک ایسا منظر ہے جو زندہ اور رواں دواں ہے ۔ ابلیس ہر طرف سے انسانوں پر حملہ آور ہوتا ہے ‘ مسلسل انہیں بدراہ کر رہا ہے اور لوگ اس کے دام فریب میں گرفتار ہو کر اللہ کی معرفت اور اس کے شکر سے محروم ہوتے ہیں ہاں ایک قلیل تعداد ایسی ہے جو اس کے دام سے بچ نکلتی ہے اور وہ اللہ کے احکام پر چلتی ہے ۔ آیت ” وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (17) ” تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا “۔ یہاں شکر کا تذکرہ آغاز سورة میں تذکرہ شکر سے بطور ہم آہنگی کیا گیا ہے ۔ آغاز میں کہا گیا آیت ” قلیلا ما تشکرون “۔ (7 : 10) ” تم کم ہی شکر گزار رہتے ہو۔ “ مقصد یہاں یہ بتانا ہے کہ وہ کیا سبب ہے کہ انسان شکر گزار نہیں رہتا ۔ اس لئے کہ ابلیس خفیہ طور شکر گزار کے خلاف کام کرتا ہے ۔ وہ ہر راستہ پر مورچہ زن ہے اس لئے انسانوں کو چاہئے کہ وہ پوری طرح چوکنے ہوجائیں ‘ دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے۔ وہ ہر طریقے سے انہیں ہدایت سے روکتا ہے اور انہیں اس امر کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں جبکہ انہیں معلوم ہے کہ ان پر یہ مصیبت کس راستے سے آرہی ہے ۔ ابلیس کی درخواست اس لئے منظور کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا بھی یہ تھا کہ انسان خود مختاری سے اپنا راستہ خود بنائے ‘ کیونکہ اس کی فطرت میں خیر اور شر دونوں کی استعداد موجود ہے ۔ اسے عقلی قوت بھی دی گئی ہے ۔ جو شر کے مقابلے میں خیر کو ترجیح دیتی ہے ۔ پھر رسولوں کے ہاتھ پیغام بھیج کر اسے شر کے انجام بد سے خبردار بھی کردیا اور پھر اسے دین اسلام کا ضابطہ دے کر اسے درست راہ پر گامزن بھی کردیا گیا ۔ اسے بتایا گیا کہ مشیت الہی کا یہ تقاضا تھا کہ وہ ہدایت اختیار کرے یا گمراہی اور اس کی شخصیت میں خیر وشر کی کشمکش رہے اور وہ دو انجاموں میں سے کسی ایک تک پہنچ جائے اور اللہ کی مشیت کے مطابق اس پر سنت الہیہ جاری ہو ۔ چاہے وہ ہدایت کی راہ لے یا ضلالت کا فیصلہ ہو ۔ لیکن یہاں سیاق کلام میں ابلیس معلون کو بصراحت یہ اجازت نہیں دی گئی کہ جاؤ تمہیں اجازت ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کرو ‘ جس طرح اس کے پہلے سوال کو منظور کرتے ہوئے قیامت تک اسے مہلت دے دی گئی تھی ‘ یہاں اس کی کارستانیوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جاتا اور اعلان کردیا جاتا ہے کہ تم ذلیل و خوار کرکے یہاں سے نکالے جاتے ہو اور اسے یہ دھمکی دیجاتی ہے کہ تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا ۔

الأعراف 7:18

آیت ” قَالَ اخْرُجْ مِنْہَا مَذْؤُوماً مَّدْحُوراً لَّمَن تَبِعَکَ مِنْہُمْ لأَمْلأنَّ جَہَنَّمَ مِنکُمْ أَجْمَعِیْنَ (18) ” فرمایا : ” نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ‘ یقین رکھ کہ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا ۔ “ انسانوں میں سے بعض لوگ تو اللہ کو جانتے ہوئے شیطان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ بھی ہوتا ہے کہ اللہ ہمارا الہ ہے لیکن اس معرفت اور عقیدے کے ساتھ ساتھ وہ اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی اور اللہ کے قوانین کے مطابق فیصلے کرنے سے انکار کرتے ہیں اور یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے احکام پر نظر ثانی کرسکتے ہیں اور اللہ کے احکام کو نافذ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں ۔ یہ پھر شیطان ان کو اس قدر گمراہ کردیتا ہے کہ وہ سرے سے خدا کو مانتے ہی نہیں ۔ یہ دونوں قسم کے لوگ شیطان کے پیروکار ہیں اور جہنم کے مستحق ہوں گے ۔ اللہ نے ابلیس اور اس کی جماعت کو یہ موقع دے دیا ہے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی آزادانہ سعی کرے اور آدم اور اس کی اولاد کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ اپنے اختیار سے جو راہ چاہے اختیار کرے ۔ دونوں کے لئے آزمائش کے مواقع ہیں اور یہ اللہ کی مشیت کا تقاضا تھا کہ وہ اس طرح انسان کو آزمائے ۔ اس طرح اسے اس کائنات کی ایک منفرد اور مکرم مخلوق کا مقام دے تاکہ یہ انسان نہ فرشتہ ہو اور نہ شیطان بلکہ وہ اپنا ہی کردار ادا کرے نہ شیطانی کردار اور نہ ہی فرشتوں کا کردار۔ اب یہ منظر ختم ہوتا ہے اور اس کے بعددوسرا منظر سامنے آتا ہے ۔ ابلیس کو جنت سے دھتکارنے کے بعد اللہ تعالیٰ حضرت آدم اور ان کی بیوی سے مخاطب ہوتے ہیں۔ یہاں ہمیں صرف اس قدر بتایا جاتا ہے کہ آدم کی بیوی بھی تھی اور وہ اس کی ہم جنس تھی لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ اس کی تخلیق کس طرح ہوئی ۔ آیت زیر بحث اور اس جیسی دوسری آیات جو قرآن کریم میں وارد ہیں ‘ اس معاملے میں کوئی بات نہیں بتاتیں اور تخلیق حوا کے بارے میں جو روایات ہیں ان کے اندر اسرائیلیات کے اثرات ضرور ہیں اس لئے ہم اس بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کہہ سکتے کہ حوا کی تخلیق کسے ہوئی ؟ یہ بات یقینی ہے کہ اللہ نے آدم کی ہم جنس اس کی بیوی پیدا کی اور اس طرح وہ جوڑا ہوگئے ۔ اللہ نے اپنے تمام مخلوق میں جوڑے پیدا کئے ہیں۔ آیت ” ومن کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون “۔ اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کئے ہیں تاکہ تم نصیحت حاصل کرو “۔ چناچہ یہ اللہ کی سنت جاریہ اور اس کائنات کا بنیادی اصول ہے ۔ جب ہم اس اصول کے مطابق رائے اختیار کریں تو پھر ہمیں یہ رائے اختیار کرنی ہوگی کہ خلق آدم کے بعد حوا کی تخلیق بھی جلد ہی کی گئی اور حضرت حوا کی تخلیق بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح ہوئی ۔ بہرحال اب خطاب حضرت آدم اور آپ کی بیوی حضرت حوا سے ہے تاکہ سب سے پہلے ان کی زندگی کے بارے میں اللہ ان کو احکام دے ۔ انکی تربیت کی جائے اور زمین پر انہوں نے جو بنیادی کردار ادا کرنا ہے اس کے لئے انہیں تیار کیا جائے کیونکہ آدم کو پیدا ہی اس لئے کیا گیا تھا کہ وہ اس کرہ ارض پر فریضہ خلافت الہیہ انجام دے جب کہ سورة بقرہ کی آیت میں واضح طور پر کہا گیا ہے ۔ آیت ” اذ قال ربلک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ “۔ ” جب اللہ نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں ۔

الأعراف 7:19

آیت ” نمبر 19۔ قرآن کریم نے اس درخت کا نام نہیں لیا کیونکہ درخت کا نام لینے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اصل بات یہ تھی کہ انہیں صرف منع کرنا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام حلال چیزوں کے استعمال کی اجازت دے دی تھی اور ممنوعات کے استعمال سے روک دیا تھا ۔ ممنوعات کی حد اس لئے ضروری تھی تاکہ انسان کو معلوم ہوجائے کہ وہ اس سے آگے نہیں جاسکتا اور اس کو رادہ واختیار کی جو آزادی دی گئی ہے اس کو استعمال کرکے وہ اپنی خواہشات اور میلانات پر کنٹرول کرنا سیکھے ۔ اور خواہشات اور میلانات پر برتری حاصل کرے ۔ وہ حیوانات کی طرح خواہشات کا غلام نہ ہو بلکہ خواہشات کا حاکم ہو ۔ کیونکہ ایک انسان اور حیوان میں فرق ہی یہ ہے کہ انسان خواہشات پر قابو رکھتا ہے اور حیوان خواہشات پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا ۔ اب ابلیس اپنا وہ کام شروع کرتا ہے جس کے لئے اس نے اپنے آپ کو وقف کرلیا ہے ۔ یہ انسان جسے اللہ نے یہ اعزاز دیا اور جس کی تخلیق کا اعلان عالم بالا کی اس عظیم تقریب میں کیا گیا ‘ جسے تمام فرشتوں نے سجدہ ریز ہو کر سلامی دی اور جس کے سامنے سجدہ ریز نہ ہونے کی بنا پر ابلیس کو عالم بالا سے خارج البلد کیا گیا ۔ یہ مخلوق اپنے اندر دو صلاحیتیں رکھتی ہے ۔ یہ دونوں جانب جاسکتی ہے اور اس مخلوق میں بعض کمزور یونٹ بھی ہیں جن سے اسے پکڑا جاسکتا ہے الا یہ کہ وہ امر الہی پر کاربند ہوجائے ۔ ان کمزور مقامات سے اس پر حملہ کیا جاسکتا ہے اور اس پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ ان کمزور نکات میں سے ایک ہے شہوات نفسانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا دیکھئے شیطان ان نکات سے کس طرح انسان پر قابو پاتا ہے ۔

الأعراف 7:20

آیت ” نمبر 20 تا 21۔ معلوم نہیں کہ شیطانی وسوسہ کس طرح عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ہم شیطان کی حقیقت سے واقف نہیں جس سے ہم اس کے اعمال کی نوعیت سے خبردار ہوجائیں یا یہ معلوم کرسکیں کہ وہ انسان تک رسائی کیونکر حاصل کرتا ہے اور اس کو کس طرح گمراہ کرتا ہے ۔ لیکن ہمیں مخبر صادق کے ذریعہ یہ علم حاصل ہے کہ شیطان کسی نہ کسی طرح انسان کو گمراہ کرتا ہے اور ان غیبی حقائق کے بارے میں مخبر صادق حضرت محمد ﷺ ہی سچا اور یقینی ذریعہ علم ہیں ۔ شیطان انسان کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرتا ہے اور یہ تمام طریقے انسانی شخصیت میں کمزور مقامات کے ذریعے سے سرانجام دیئے جاتے ہیں ۔ انسانی شخصیت میں فطری کمزوریاں ہیں ان سے انسان صرف پختہ ایمان اور یاد الہی کے ذریعے سے بچ سکتا ہے اور ایمان اور ذکر کے بعد صورت یہ ہوجاتی ہے کہ شیطان کا انسان پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا ۔ اس کی سازشیں کمزور پڑجاتی ہیں اور انسان پر ان کا اثر نہیں ہوتا ۔ اس طرح شیطان نے ان کو بہکایا اور انکی شرمگاہیں جو ایک دوسرے پوشیدہ تھیں انکو ان پر ظاہر کردیا گیا اور یہ تھا اس کا اصل مقصد انکی شرمگاہیں تھیں اور انکو کسی دوسری مادی چیز سے چھپانے کی ضرورت تھی ۔ شیطان نے ان پر اپنی اسکیم ظاہر نہ کی تھی البتہ وہ انکی خواہشات کی راہ سے داخل ہوگیا ۔ اس نے کہا ” تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ سے اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں فرشتے نہ بنا جاؤ یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہوجائے ۔ “ یوں شیطان انسانی خواہشات کے ساتھ کھیلا ۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے یاطویل عرصے تک عمر پائے اور اسے خلود نصیب ہو ۔ اور اس کو ایسی سلطنت ملے جو محدود زندگی سے آگے ہو۔ بعض قراءتوں میں (ملکین ) لفظ ل کی زیر کیساتھ آیا ہے ۔ (ملکین) جس کے معنی دو بادشاہ کے ہوتے ہیں ۔ سورة طہ کی آیت آیت ” ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک الایبلی “۔ (20 : 120) ” کیا میں خلود کا درخت نہ بتاؤں اور ایسی بادشاہت جو ختم ہونے والی نہ ہو ۔ “ اس صورت میں شیطان نے انہیں دائمی عمر اور دائمی حکومت کا لالچ دیا ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی خواہشات میں سرفہرست ہیں۔ جنسی خواہش کی اصل حقیقت بھی یہ ہے کہ جنسی تعلق واتصال کے ذریعے ایک انسان خلود ہی چاہتا ہے یعنی اسکی اولاد ہو اور نسلا بعد نسل وہ زندہ رہے اور اگر ملکین پڑھیں تو مراد یہ ہوگی کہ دونوں فرشتے بن جاؤ گے اور انسان کی جسمانی ضروریات سے فارغ ہوجاؤ گے اور ملائکہ کی طرح زندگی بھی دائمی ہوگی لیکن پہلی قرات اگرچہ مشہور قرات نہیں ہے ‘ سورة طہ کی آیت سے زیادہ موافق ہے اور اس سورة میں شیطان کا دھوکہ بھی انسانی خواہشات کی حدود کے اندر رہتا ہے ۔ شیطان لعین چونکہ جانتا تھا کہ اللہ نے ان کو بصراحت اس درخت سے منع کردیا ہے اور یہ کہ اللہ کی جانب سے ممانعت کی وجہ سے ان کے دل میں کھٹکا موجود ہے ۔ اور قوت مدافعت ان کے اندر پائی جاتی ہے ۔ اس لئے اس وسوسہ اندازی میں وہ انسانی خواہشات اور کمزوریوں سے استفادے کے ساتھ ساتھ ناصح مشفق بن کر اور قسمیں اٹھا کر کہتا ہے آیت ” وَقَاسَمَہُمَا إِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ (21) ” اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ۔ “ آدم اور ان کی بیوی اللہ کی اس تنبیہ کو بھول جاتے ہیں کہ شیطان انکا دشمن ہے ۔ یہ بھول ان کی شخصی خواہش اور شیطان کی قسموں کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ تم احکام الہیہ کی اطاعت کرو چاہے کسی حکم کی علت سمجھو یا نہ سمجھو ۔ یہ دونوں یہ بھی بھول گئے کہ اللہ کی تقدیر اور حکم کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اگر اللہ نے ان کے لئے خلود نہیں لکھا اور دائمی حکومت نہیں لکھی تو یہ مقصد کس طرح حاصل ہو سکتا ہے ۔ ؟

الأعراف 7:21

آیت ” نمبر 20 تا 21۔ معلوم نہیں کہ شیطانی وسوسہ کس طرح عمل پیرا ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ ہم شیطان کی حقیقت سے واقف نہیں جس سے ہم اس کے اعمال کی نوعیت سے خبردار ہوجائیں یا یہ معلوم کرسکیں کہ وہ انسان تک رسائی کیونکر حاصل کرتا ہے اور اس کو کس طرح گمراہ کرتا ہے ۔ لیکن ہمیں مخبر صادق کے ذریعہ یہ علم حاصل ہے کہ شیطان کسی نہ کسی طرح انسان کو گمراہ کرتا ہے اور ان غیبی حقائق کے بارے میں مخبر صادق حضرت محمد ﷺ ہی سچا اور یقینی ذریعہ علم ہیں ۔ شیطان انسان کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرتا ہے اور یہ تمام طریقے انسانی شخصیت میں کمزور مقامات کے ذریعے سے سرانجام دیئے جاتے ہیں ۔ انسانی شخصیت میں فطری کمزوریاں ہیں ان سے انسان صرف پختہ ایمان اور یاد الہی کے ذریعے سے بچ سکتا ہے اور ایمان اور ذکر کے بعد صورت یہ ہوجاتی ہے کہ شیطان کا انسان پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا ۔ اس کی سازشیں کمزور پڑجاتی ہیں اور انسان پر ان کا اثر نہیں ہوتا ۔ اس طرح شیطان نے ان کو بہکایا اور انکی شرمگاہیں جو ایک دوسرے پوشیدہ تھیں انکو ان پر ظاہر کردیا گیا اور یہ تھا اس کا اصل مقصد انکی شرمگاہیں تھیں اور انکو کسی دوسری مادی چیز سے چھپانے کی ضرورت تھی ۔ شیطان نے ان پر اپنی اسکیم ظاہر نہ کی تھی البتہ وہ انکی خواہشات کی راہ سے داخل ہوگیا ۔ اس نے کہا ” تمہارے رب نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ سے اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں فرشتے نہ بنا جاؤ یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہوجائے ۔ “ یوں شیطان انسانی خواہشات کے ساتھ کھیلا ۔ ہر انسان یہ خواہش رکھتا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے یاطویل عرصے تک عمر پائے اور اسے خلود نصیب ہو ۔ اور اس کو ایسی سلطنت ملے جو محدود زندگی سے آگے ہو۔ بعض قراءتوں میں (ملکین ) لفظ ل کی زیر کیساتھ آیا ہے ۔ (ملکین) جس کے معنی دو بادشاہ کے ہوتے ہیں ۔ سورة طہ کی آیت آیت ” ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک الایبلی “۔ (20 : 120) ” کیا میں خلود کا درخت نہ بتاؤں اور ایسی بادشاہت جو ختم ہونے والی نہ ہو ۔ “ اس صورت میں شیطان نے انہیں دائمی عمر اور دائمی حکومت کا لالچ دیا ۔ یہ دونوں چیزیں انسان کی خواہشات میں سرفہرست ہیں۔ جنسی خواہش کی اصل حقیقت بھی یہ ہے کہ جنسی تعلق واتصال کے ذریعے ایک انسان خلود ہی چاہتا ہے یعنی اسکی اولاد ہو اور نسلا بعد نسل وہ زندہ رہے اور اگر ملکین پڑھیں تو مراد یہ ہوگی کہ دونوں فرشتے بن جاؤ گے اور انسان کی جسمانی ضروریات سے فارغ ہوجاؤ گے اور ملائکہ کی طرح زندگی بھی دائمی ہوگی لیکن پہلی قرات اگرچہ مشہور قرات نہیں ہے ‘ سورة طہ کی آیت سے زیادہ موافق ہے اور اس سورة میں شیطان کا دھوکہ بھی انسانی خواہشات کی حدود کے اندر رہتا ہے ۔ شیطان لعین چونکہ جانتا تھا کہ اللہ نے ان کو بصراحت اس درخت سے منع کردیا ہے اور یہ کہ اللہ کی جانب سے ممانعت کی وجہ سے ان کے دل میں کھٹکا موجود ہے ۔ اور قوت مدافعت ان کے اندر پائی جاتی ہے ۔ اس لئے اس وسوسہ اندازی میں وہ انسانی خواہشات اور کمزوریوں سے استفادے کے ساتھ ساتھ ناصح مشفق بن کر اور قسمیں اٹھا کر کہتا ہے آیت ” وَقَاسَمَہُمَا إِنِّیْ لَکُمَا لَمِنَ النَّاصِحِیْنَ (21) ” اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں ۔ “ آدم اور ان کی بیوی اللہ کی اس تنبیہ کو بھول جاتے ہیں کہ شیطان انکا دشمن ہے ۔ یہ بھول ان کی شخصی خواہش اور شیطان کی قسموں کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا کہ تم احکام الہیہ کی اطاعت کرو چاہے کسی حکم کی علت سمجھو یا نہ سمجھو ۔ یہ دونوں یہ بھی بھول گئے کہ اللہ کی تقدیر اور حکم کے سوا کچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اگر اللہ نے ان کے لئے خلود نہیں لکھا اور دائمی حکومت نہیں لکھی تو یہ مقصد کس طرح حاصل ہو سکتا ہے ۔ ؟

الأعراف 7:22

آیت ” نمبر 22۔ اب یہ دھوکہ تمام ہوا اور اس کا نتیجہ ہمارے سامنے آگیا ۔ شیطان نے ان کو اللہ کی اطاعت سے پھیر کر اللہ کی معصیت میں مبتلا کردیا اور یہ سب کچھ اس نے گہری سازش اور دھوکے سے کیا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس جوڑے کو دنیا میں اتار دیا ۔ آیت ” (فدلھما بغرو) (7 : 22) ” اس نے دھوکہ دے کر یہ مقصد حاصل کیا ۔ “ اب انہیں اس بات کا شعور ہوا کہ ان کے جسم میں شرمگائیں بھی ہیں ۔ یہ شرمگاہیں پہلے ان کی نظروں سے اوجھل تھیں ۔ چناچہ انہوں نے جنت کے درختوں کے پتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کر ان کو اپنی شرمگاہوں پر رکھنا شروع کردیا ۔ ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان شرمگاہوں سے مراد وہ جسمانی حصے ہیں جن کے ظاہر ہونے سے انسان فطرتا شرمندہ ہوتا ہے اور ان مقامات کو صرف وہی شخص ننگا اور ظاہر کرسکتا ہے جس کی فطرت ‘ کسی جاہلی سوسائٹی کی وجہ سے فساد پذیر ہوچکی ہو ۔ آیت ” فَدَلاَّہُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْء َاتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْْہِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّۃِ وَنَادَاہُمَا رَبُّہُمَا أَلَمْ أَنْہَکُمَا عَن تِلْکُمَا الشَّجَرَۃِ وَأَقُل لَّکُمَا إِنَّ الشَّیْْطَآنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(22) تب ان کے رب نے انہیں پکارا ” کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا ‘ اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ “ ان دونوں نے اللہ کی جانب سے آنے والی یہ جواب طلبی سنی کیونکہ انہوں نے نصیحت کو بھلا دیا اور نافرمانی کی ۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے آنے والی اس ندا کی کیفیت کیا تھی ؟ ویسی ہی طرح پہلی مرتبہ اللہ نے انہیں خطاب کیا تھا ‘ جس طرح فرشتوں کو خطاب کیا تھا ۔ جس طرح ابلیس کو خطاب کیا تھا ۔ یہ سب امور غیبی امور ہیں اور ان کے بارے میں ہم صرف گمان رکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا ہوگا اور اللہ جو چاہتا ہے ‘ کرتا ہے ۔ اس پکار کے مقابلے میں ‘ معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کی اس منفرد مخلوق انسان کی شخصیت کا ایک دوسرا اہم پہلو بھی ہے ۔ وہ یہ کہ وہ بھول بھی جاتا ہے اور اس سے غلطی بھی سرزد ہوجاتی ہے اور یہ کہ اس میں ایسی کمزوریاں بھی ہیں جن کے راستے سے شیطان اس پر انداز ہوتا ہے ۔ نیز یہ کہ یہ انسان نہ ہمیشہ غلطی پر ہوتا ہے اور نہ ہمیشہ صحیح راستے پر ہوتا ہے۔ البتہ یہ ہے کہ وہ اپنی غلطی اور لغزش کا ادراک کرلیتا ہے اور اس ادراک کے بعد وہ طلب مغفرت کرتا ہے اور نادم ہوجاتا ہے ۔ واپس ہو کر توبہ کرتا ہے اور شیطان کی طرح معصیت اصرار نہیں کرتا ۔ وہ اپنے رب سے معصیت پر معاونت طلب نہیں کرتا ۔

الأعراف 7:23

آیت ” نمبر 23 یہ انسان کی وہ خصوصیت ہے جو اسے اپنے رب سے ملائے رکھتی ہے ‘ اور رب تک رسانی کے دروازے کھلے رکھتی ہے ۔ اعتراف جرم اور ندامت و استغفار ۔ اپنی کمزوری کا شعور اور اللہ سے طلب استعانت اور طلب رحمت اور یہ یقین کہ اللہ کے سوا کوئی اور قوت کا سرچشمہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی معاونت کرسکتا ہے ۔ اگر اللہ کی رحمت ومعاونت نہ ہو تو انسان عظیم خسارے سے دوچار ہوتا ہے ۔ یہاں انسان کا پہلا تجربہ پورا ہوجاتا ہے اور اس کی شخصیت کے بڑے بڑے خدوخال واضح ہوجاتے ہیں ۔ خود انسان اپنی کمزوریوں اور اپنے کمالات وصلاحیتوں سے واقف ہوجاتا ہے ‘ وہ صلاحیتیں جو اسے کرہ ارض پر فریضہ خلافت کی ادائیگی کیلئے دی گئی ہیں ۔ اس فریضے کا اہم حصہ یہ ہے کہ اس زمین پر انسان نے اپنے دشمن شیطان کے ساتھ ایک دائمی معرکہ سر کرنا ہے ۔

الأعراف 7:24

آیت ” نمبر 24 تا 25۔ سب کے سب اتر جاؤ ‘ اس کرہ ارض پر جابسو ‘ سوال یہ ہے کہ اس وقت یہ لوگ کہاں تھے ؟ جنت کہاں ہے ؟ یہ غیبی امور سے متعلق باتیں ہیں اور اس بارے میں ہم اسی قدر جانتے ہیں جس قدر ہمیں وہ ذات باری بتادے جس کے ہاتھ میں غیب کی کنجیاں ہیں ۔ اب جب کہ وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے تو کسی انسان کی جانب سے ان غیبی امور ومقامات کی تلاش ایک فضول کوشش ہوگی ۔ اسی طرح جو لوگ ان امور کا انکار کرتے ہیں اور اپنی سائنسی اور غیر یقینی معلومات کی اساس پر کرتے ہیں وہ بھی اپنی حدود سے تجازو کررہے ہیں اور ان کا یہ موقف محض خود سری اور مکابرہ ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس عالم غیب کی بات کرتے ہیں ، جہاں تک انہیں یہ رسائی حاصل نہیں ہے لیکن ان لوگوں کی خود سری کا عالم یہ ہے کہ یہ سرے سے عالم غیب کا انکار کرتے ہیں حالانکہ عالم غیب نے بھی تک انسان کو گھیرے میں لے رکھا ہے ۔ ان لوگوں کے علم کا موضوع مادہ ہے اور مادے کی دنیا میں بھی اب تک کے معلوم سے مجہول زیادہ ہے ۔ بہرحال یہ سب لوگ اترے ۔ زمین پر آگئے ۔ آدم ‘ حوا ‘ ابلیس اور ان کے حوالی و موالی اور یہاں وہ اس لئے اترے کہ اس میدان میں معرکہ آدم وابلیس شروع ہو وہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں اور دو مزاجوں کے درمیان معرکہ شروع جائے ۔ ایک مزاج سوفیصد شرپسند ہے اور دوسرا خیر وشر دونوں کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ یہ اس لئے کہ اللہ کی مشیت نے ابتلاء کی جو اسکیم تیار کی ہے اسے پورا کیا جاسکے اور اللہ کا منصوبہ قضا وقدر آخر تک پہنچے ۔ اللہ نے آدم اور انکی اولاد کے لئے زمین پر رہنا مقرر کردیا کہ وہ یہاں بسیں ۔ دنیا کی پیداوار سے فائدہ اٹھائیں ۔ ایک وقت مقررہ تک ۔ یہاں زندہ رہیں اور مریں اور وقت آنے پر انہیں اٹھایا جائے گا تاکہ وہ اپنے رب کے سامنے جوابدہی کریں۔ اہل جنت ‘ جنت میں اور اہل النار دوزخ میں جائیں ۔ یہ ہوگا انجام اس عظیم سفر انسانیت کا ۔ اب یہ پہلا راؤنڈ ختم ہوا ۔ اس کے بعد معرکہ آدم وابلیس کے نئے راؤنڈ ہوں گے ۔ ان میں انسان صرف اس صورت میں کامیاب ہوگا کہ اس نے اپنے رب کی پناہ لی ہوگی اور اگر اس نے اپنے دشمن کو دوست بنا لیا تو ظاہر ہے کہ وہ شکست کھائے گا ۔ یہاں یہ بات ذہن نشین کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کوئی قصہ یا کہانی نہیں ہے بلکہ ان آیات میں انسان کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے تاکہ اس کے مزاج ‘ اس کی نشوونما ‘ اس کے ماحول ‘ نظام قضاوقدر جو اس کی زندگی کو متاثر کرتا ہے اور وہ نظام جو اللہ نے اس کے لئے پسند کیا ‘ وہ ابتلاء جس سے اس نے دو چار ہونا ہے اور وہ انجام جس تک اس نے پہنچنا ہے ‘ کے بارے میں حقائق سامنے آسکیں اور یہ وہ باتیں ہیں جو اسلامی تصور حیات کی بنیادوں میں شامل ہیں۔ جہاں تک ہمیں فی ضلال القرآن کا منہاج اجازت دے گا ‘ ہم اس کے بنیادی نکات پر نوٹ کریں گے تفصیلات ہم اپنی کتاب ” خصائص التصور الاسلامی “ کے لئے چھوڑتے ہیں جو اس موضوع پر تفصیلی بحث کرتی ہے ۔ جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں ‘ قصہ تخلیق انسانیت سے ہی میں جو پہلی حقیقت معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی تخلیق اور انسان کی تخلیق کے درمیان ایک فطری ہم آہنگی پائی جاتی ہے ۔ یہ دونوں اللہ کے نظام قضا وقدر کے اندر کام کرتے ہیں ۔ اس حقیقت کے ادراک سے ہم اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ انسان کی تخلیق جو ایک تقدیر اور منصوبے کے مطابق ہوئی محض اتفاقی بات نہ تھی اور اس کائنات ‘ انسان اور نظام قضا وقدر کے درمیان مکمل توافیق ہے ۔ جو لوگ اللہ کی معرفت سے محروم ہیں وہ ذات باری کی قدر نہیں کرسکتے جس طرح کہ اس کا حق ہے ۔ یہ لوگ اللہ کے کاموں اور ان کے نظام قضا وقدر کو ان پیمانوں سے ناپتے ہیں جو انسان کے چھوٹے چھوٹے کاموں اور منصوبوں کے لئے وضع ہوئے ہیں ۔ وہ جب دیکھتے ہیں تو انکی سمجھ میں صرف یہ بات آتی ہے کہ انسان بھی اس دنیا کی دوسری مخلوقات کی طرح کی ایک مخلوق ہے ۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ اس عظیم کائنات میں یہ زمین ایک ذرہ کے برابر ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ کوئی معقول بات نہیں ہے کہ انسان کی پیدائش کے پیچھے کوئی مقصد تلاش کیا جائے ‘ لہذا اس انسان کی اس کائنات میں کوئی خاص اہمیت نہیں ہے ۔ بعض لوگوں نے یہ کہا کہ انسان کا وجود یہاں محض اتفاق سے ہوگیا اور اس انسان کے اردگرد جو کائنات ہے وہ اس کے وجود اور نشوونما کے سخت خلاف ہے ۔ یہ محض تیرت کے ہیں جو یہ لوگ اللہ کے افعال اور اس کے نظام قضا وقدر کے بارے میں چلاتے ہیں ۔ اور وہ بھی محض اپنی محدود انسانی معیار عقل و دانش کے مطابق ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ پوری کائنات انسان کی ملکیت ہوتی تو وہ اس چھوٹے سے کرہ ارض کو خاطر ہی میں نہ لاتا اور نہ اس چھوٹی سی مخلوق کی پرواہ کرتا جو اس پرچلتی ہے ۔ کیونکہ انسان اس پوری کائنات کی عظیم مملکت کا اہتمام نہیں کرسکتا ۔ نہ وہ اس کی ہر چیز کی تدبیر کرسکتا ہے ‘ نہ ہر چیز کا اندازہ کرسکتا ہے اور نہ وہ اس جہان کی تمام اشیاء کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرسکتا ہے ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس جہان کا بادشاہ اللہ ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں سے کوئی ایک ذرہ بھی ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہے ۔ اللہ اس عظیم کائنات کا تھامنے والا ہے اور اس کائنات کی کوئی چیز اپنی جگہ قائم نہیں رہ سکتی اگر اللہ کا حکم نہ ہو ۔ یہاں کوئی چیز بھی اللہ کی مشیت کے بغیر وجود میں نہیں آسکتی ۔ انسان جب اللہ کی ہدایت کو ترک کر دے اور اپنی خواہشات نفسانیہ کی پیروی شروع کر دے تو وہ مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اگر اس مصیبت کو وہ علم کا نام دیتا ہے تو یہ اس کی مرضی ہے ۔ وہ اللہ کو اپنے اوپر قیاس کرتا ہے اور اللہ کے افعال و اعمال کو اپنے افعال پر قیاس کرتا ہے حالانکہ اللہ کے افعال واقدار انسان کے قیاس سے باہر ہیں ۔ یہ انسان کی غلط فہمی ہے کہ وہ اپنی خواہش کو اپنی کم ظرفی کی وجہ سے حقیقت سمجھتا ہے ۔ سرجیمس جینز اپنی کتاب ” کائنات جو ایک راز ہے “ انسان کے گمراہانہ تصورات کے بارے میں کہتا ہے ۔ ” ہم جب اس زمین پر کھڑے ہوتے ہیں ‘ جو ریت کا ایک چھوٹا سادانہ ہے تو ہم یہ کوشش کرتے ہیں کہ ہم اس پوری کائنات کی طبیعت اور ماہیت کو معلوم کریں جو ہمارے اردگرد اور زمان ومکان کی ناقابل تصور وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہے ۔ ہم یہ بھی معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ اس کو وجود میں لانے کی غرض وغایت کیا ہے ؟ جب ہم اس کائنات کو دیکھتے ہیں تو سب سے پہلے تو ہم حیرانی میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ہماری نظریں خیرہ ہوجاتی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کائنات کس طرح ہمیں خوف میں مبتلا نہ کرے جبکہ اس کی وسعتیں اس قدر بڑی ہیں کہ ہماری عقل ان کا ادراک نہیں کرسکتی ۔ پھر اسی کائنات پر ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے اور ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے اور اس کے مقابلے میں انسان کے ذخیرہ علم جو تاریخ ہے وہ ان زمانوں کے مقابلے میں ایک لمحہ ہے ۔ پھر یہ اس اعتبار سے بھی خوفناک ہے کہ اس کے اندر ایک خوفناک وحدت پائی جاتی ہے ۔ پھر یہ اس لئے بھی خوفناک ہے کہ اس کائنات کے اندر ہمارا وطن یہ زمین اس قدر چھوٹی ہے کہ دنیا کے سمندروں کے ایک چھوٹے سے ریت کے کنکر کو اگر ایک ملین ٹکڑے کیا جائے تو اس سے بھی کم ہے ۔ لیکن اس کائنات کی سب سے زیادہ خوفناکی اس پہلو سے ہے کہ یہ ایک بےمطلب چیز ہے ۔ جس طرح ہماری زندگی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بےمطلب ہے ۔ ہمارے جذبات ‘ ہمارے ‘ مقاصد ‘ ہمارے اعمال ‘ ہمارے فنون اور ہمارے ادیان سب کے سب اس کائنات کے نظام کے ساتھ غیر مانوس ہیں اور اس کے نظام کے ساتھ بےمیل ہیں ۔ اگر ہمارے ادیان سب کے سب اس کائنات کے نظام کے ساتھ غیر مانوس ہیں اور اس کے نظام کے ساتھ بےمیل ہیں ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ اس کائنات اور ہماری زندگی کے درمیان مستقل دشمنی اور تضاد ہے تو یہ بات غلط نہ ہوگی اس لئے کہ اس کائنات کی فضا کی اکثریت اس قدر ٹھنڈی ہے کہ جہاں زندگی ممکن نہیں ہے ۔ تمام انواع حیات وہاں منجمد ہوجاتے ہیں اور اکثر مادی اجزاء اس قدر گرم ہیں کہ ان میں زندہ رہنا محال ہے ۔ اس فضائے کائنات میں ایسی شعاعیں ہر وقت باہم متصادم ہوتی رہتی ہیں کہ اجرام فلکی باہم متصادم رہتے ہیں اور یہ شعاعیں بسا اوقات زندگی کی دشمن ہو سکتی ہیں بلکہ کسی بھی وقت زندگی ختم کرسکتی ہیں ۔ “ ” یہ کائنات جس میں حالات نے ہمیں لا کر پھینک دیا ہے اگر یہ بات سچ نہیں ہے کہ ہم یہاں اس کائنات کی کسی غلطی کی وجہ سے زندہ ہیں تو یہ بات بہرحال قرین قیاس ہے کہ انسان کا وجود یہاں محض اتفاق اور مصاوفت سے ہوگیا ہے ۔ “ یہ ہیں ان لوگوں کے خیالات ۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ہم اس نکتے پر بحث کر آئے ہیں کہ اس کائنات کا دشمن حیات ہونا اور یہ فرض کرلینا کہ یہ کائنات کسی مدبر اور کنٹرول کرنے والے کے بغیر ہے ‘ اور یہ کہ اس نے اوپر انسان جیسی مخلوق اور مطلق زنگی کا وجود میں آجانا محض اتفاق کے طور پر ہے کسی عام آدمی کی عقل میں آنے والی باتی نہیں ہے جہ جائیکہ کوئی بڑا عالم یا سائنس دان ایسی باتیں کرے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کائنات اس کے اندر پائے جانے والی ہر قسم کی زندگی کے قاتل ہے اور کوئی اس کے اوپر قوت مدبرہ بھی نہیں ہے تو یہ زندگی کس طرح وجود میں آگئی ؟ سوال یہ ہے کہ یہ زندگی کائنات سے زیادہ طاقتور ہے کہ یہ کائنات کے علی الرغم وجود میں آگئی اور باوجود اس کے وجود میں آگئی کے کائنات اس کے وجود میں آنے کے خلاف تھی ۔ کیا انسان وجود میں آنے سے قبل اس عظیم کائنات سے زیادہ قوی تھا ‘ اور اس طرح وہ زبردستی یہاں آکر کھڑا ہوگیا ۔ میں کہتا ہوں یہ ایک ایسی سوچ ہے جس پر توجہ ہی نہ دینا چاہئے۔ اگر یہ نام نہاد علماء فقط یہ کہنے پر اکتفاء کرتے کہ ہمارے ذرائع علم اس کائنات کی تفسیر و توضیح نہیں کرسکتے ہیں اور یہ خرافات نہ بکتے جو وہ میٹا فزکس کے بارے میں بکتے ہیں ‘ جن پر کوئی سند ان کے پاس نہیں ہے تو وہ اپنا فرض ادا کر جاتے اگرچہ یہ فرض بھی ناقص ہوتا ۔ البتہ وہ کہہ دیتے کہ ہمارے ارد گرد جو کائنات ہے یہ ایک معمہ ہے لیکن وہ اپنے دائرہ علم سے بہت آگے بڑھ جاتے ہیں اور مفروضوں ‘ بلادلیل تصورات اور انسانی خواہشات کے پیدا کردہ فنی مزعومات کی دلدل میں جا پھنستے ہیں جو غیر محفوظ علاقے ہیں ۔ ہم مسلمان الحمد للہ جب اس کائنات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں نہ خوف دامن گیرہوتا ہے اور نہ ہم اس حیرت میں پڑتے ہیں ‘ جس کا اظہار سرجیمس جینز نے کیا ہے بلکہ ہم تو اس کائنات کے خالق کے بارے میں ڈر جاتے ہیں اور ہمیں وہ جمال و جلال نظر آتا ہے جو اس کائنات ہماری دوست بن جاتی ہے اس لئے کہ اس کو بھی خالق نے پیدا کیا ہے اور ہمیں بھی ۔ دونوں کے اندر پورا توافق اور ہم آہنگی ہے ۔ ہم اس کی ضخامت اور اس کی باریکی سے حیرت زدہ ضرور ہوتے ہیں لیکن خوفزدہ نہیں ہوتے اور ہمیں یہ شعور اور احساس آکر نہیں پکڑتا کہ اب ہم آج یا کل برباد ہو رہے ہیں اس لئے کہ ہمارا اور اس کائنات کا رب ایک ہے ۔ ہم اس کے ساتھ نہایت ہی انس و محبت اور اعتماد اور یقین کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں ۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارا رزق اور ضروریات اور ہماری معاش اور معیشت کے ذخائر اسی میں ہیں اور ہمیں اس کائنات کے خالق کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ آیت ” وَلَقَدْ مَکَّنَّاکُمْ فِیْ الأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَکُمْ فِیْہَا مَعَایِشَ قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُونَ (10) ” ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لئے یہاں سامان زیست فراہم کیا ‘ مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو ۔ “ قصہ تخلیق آدم سے ہمیں جو دوسری حقیقت معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کائنات کی جملہ زندہ مخلوق کے مقابلے میں انسان ایک معزز ‘ برتر اور مکرم مخلوق ہے ۔ اس نے اس جہان میں نہایت ہی اہم رول ادا کرنا ہے۔ اس نے نہایت ہی وسیع میدان میں تگ ودو کرنی ہے اور اس کے ساتھ یہاں کئی جہانوں کا معاملہ ہے ۔ لیکن یہ تمام امور اللہ وحدہ کی بندگی اور غلامی کی حدود میں ہیں ۔ اس انسان کی یہاں وہ پوزیشن نہیں جو اسے وہ مکاتب فکر دیتے ہیں جو حواس خمسہ اور مادیت کے اندر محدود ہیں ۔ یہ مکاتب فکر انسان کو اس کائنات کا ایک موثر عامل نہیں سمجھتے ۔ ان مذاہب و تصورات میں تمام اہمیت مادے اور اس کے اثرات کو دی جاتی ہے ۔ اسی طرح نظریات ارتقاء کے قائلین اسے اس سے بھی گھٹیا مقام دیتے ہیں یعنی حیوانات میں سے ایک حیوان ۔ ان لوگوں کو انسان کی انسانی خصوصیات سے کوئی غرض اور واسطہ نہیں ہے ۔ یا وہ اسے فرائیڈ کے نظریہ جنسیت کے زاویہ سے دیکھتے ہیں جو انسان کو محض جنس کے گندے تالات کا ایک کیڑا سمجھتا ہے اور وہ اسی گندے تالاب کے ذریعے ہی ترقی کرتا ہے ۔ لیکن اسلام اس منفرد مخلوق یعنی انسان کو جو عزت و کرامت عطا کرتا ہے وہ اس مقام تک نہیں پہنچتی کہ وہ الہ بن جائے جیسا کہ جدید روشن خیالی کے دور میں پیدا ہونے والے تصورات حیات نے اسے الہ بنا دیا ہے ۔ اسلامی تصورحیات اسے سچائی اور اعتدال کا درجہ دیتا ہے جو درست اور صحت مند ہے ۔ پھر اس منفرد مخلوق حضرت انسان کی تخلیق کا اعلان عالم بالا کی ایک نہایت ہی پروقار تقریب میں کیا گیا ‘ اور جیسا کہ ہم نے قرآنی نصوص کی روشنی میں کہا اس تقریب میں ایک مکمل انسان پیش کیا گیا ۔ اس میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ وہ اس زمین کا خلیفہ ہے ۔ جنت میں اس پر جو ابتلا آئی وہ بھی اسی غرض کے لئے تھی کہ وہ فرائض خلافت کی ادائیگی کے لئے تیار ہوجائے ‘ جیسا کہ دوسری آیات میں آتا ہے کہ یہ پوری کائنات صرف زمین نہیں ‘ انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے ۔ وہ اس کے لئے مفید ومعاون ہے اور زمین و آسمان میں جس قدرچیزیں ہیں انسان کے لئے مسخر کردی گئیں ۔ پھر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں انسان کو جو کردار سپرد کیا ہے وہ بھی بہت ہی عظیم ہے ۔ اس پورے کرہ ارض کو ترقی دینا اور اس کے اوپر اللہ کا نظام خلافت قائم کرنا چاہے اس زمین کا حج بڑا ہو یا چھوٹا ‘ بہرحال یہ ایک عظیم ڈیوٹی ہے جو انسان کے سپرد کی گئی ۔ اس قصے اور قرآن کریم کی دوسری آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان ایک منفرد مخلوق ہے اور یہ صرف اس کرہ ارض پر ہی منفرد نہیں ہے بلکہ یہ پوری کائنات میں منفرد مخلوق ہے ۔ دوسرے ستاروں میں ملائکہ جنات اور وہ تمام مخلوقات ہیں جن کے بارے میں صرف اللہ جانتا ہے ۔ ان مخلوقات کے دوسرے فرائض ہیں ‘ یہ تمام مخلوقات اپنا علیحدہ مزاج اور طبیعت رکھتی ہیں ۔ ان کی طبیعت ان کے فرائض کے ساتھ مناسب ہے ۔ البتہ انسان ایک منفرد مخلوق ہے جس کے فرائض اور وظائف بھی منفرد ہیں اور اس پر قرآن کی یہ آیت دلالت کرتی ہے ۔ آیت ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والا رض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان انہ کان ظلوما جھولا “۔ (33 : 72) ” ” ہم نے اس امانت کو آسمانوں ‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے لیکن انسان نے اسے اٹھالیا ‘ بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا ۔ “ گویا انسان اس پوری کائنات میں اپنی خصوصیات کے اعتبار سے منفرد ہے ۔ ان خصوصیات میں ظلم اور جہل دونوں شامل ہیں ۔ اس ظلم اور جہل کے ساتھ اسے ذاتی خود مختاری دی گئی ہے اور علم ومعرفت کی استعداد دی گئی ہے ۔ ذاتی ارادہ دیا گیا ہے اور جس قدر وہ جہل وظلم پر قادر ہے اسی قدر وہ عدل اور علم پر بھی قدرت رکھتا ہے ۔ غرض انسانی صلاحیتوں کی یہ رنگاررنگی ہی اس کی اہم خصوصیت ہے ۔ ان تمام خصوصیات کے ساتھ ‘ اب یہ بات اہم نہیں رہتی کہ انسان جس کرے پر زندہ ہے وہ اپنے حجم اور اس پوری کائنات کی وسعت کے اعتبار سے بہت ہی چھوٹا ہے ۔ اس لئے کہ ہر معاملے میں حجم کی اہمیت نہیں ہوتی ۔ مثلا قوت عقلی جو اشیاء کا ادراک کرتی ہے اور انسان کا متحرک بالارادہ ہونا اور اپنی ذاتی ترجیح کے مطابق کام کرنا ‘ اگرچہ اللہ کی بندگی کے وسیع تر دائرے کے اندر ہو ‘ یہ سب چیزیں بہرحال انسان کی قدر و قیمت میں اضافہ کرتی ہیں اور اسے ایک منفرد مخلوق بنا دیتی ہیں ۔ محض اس زمین کے حجم کے چھوٹے ہونے کی وجہ سے سرجیمس جینز جیسے لوگ انسان کی قدروقیمت کو گھٹاتے ہیں ۔ یہ بات درست نہیں ہے ۔ یہ آیات اور یہ قصص انسان کو جو اعزاز عطا کرتے ہیں وہ اس کے فریضہ خلافت الہیہ تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس منفرد مخلوق کا اعزاز اور اس کی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے جب ہم ان آفاق اور کائنات کی ان پہنائیوں پر نظر ڈالتے ہیں جن میں یہ کام کرتا ہے ۔ اب ذرا دیکھئے کہ اس منفرد مخلوق کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ براہ راست ہے ۔ اس نے اسے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ہے پھر عالم بالا کی پروقار تقریب میں اس کا اعلان کیا ہے اور اسے گویائی عطا کی ۔ پھر اسے جنت میں داخل کیا اور کہا کہ کھاؤ جہاں سے چاہو ماسوائے ممنوعہ درخت کے ۔ اس کے بعد اسے خلافت کا مقام عطا کیا ‘ خود اپنے کلام کے ساتھ ۔ پھر اللہ نے اسے تعلیم دی جیسا کہ آیت سورة بقرہ میں ہم نے اس کی تشریح کردی ہے کہ اسماء سے مراد الفاظ کے معانی ہیں یعنی لفظ اور مدلول وہ چیز ہے جس پر علم ومعرفت کاتبادلہ ممکن ہوا ہے ۔ ان ہی کے ذریعے سے تمام انسانوں کے علم میں اضافہ ہوا ہے اور آدم کو جنت میں بھی اور اس کے بعد بھی اللہ نے وصیت کی اور اسے ایسی خصوصی صلاحیتیں دیں جو صرف انسان میں ہیں اور کسی اور مخلوق کو نہیں دی گئیں اور پھر اپنی مزید ہدایت دے کر رسولوں کو بھیجا پھر اللہ نے اپنے اوپر اپنی مخلوق کے ساتھ رحمت کرنا فرض کرلیا کہ اگر وہ توبہ کرلیں اور معافی کے خواستگار ہوں تو انہیں معاف کردیا جائے اور یہ اس منفرد مخلوق پر اللہ کا آخری کرم ہے ۔ یہ انسان عالم بالا کے ساتھ بھی باہم ہم سفر ہے ۔ فرشتے اس کی تکریم میں سجدہ کرتے ہیں ۔ پھر اس کی حفاظت کے لئے بھی فرشتے مقرر ہیں ۔ ان میں سے بعض وحی لانے کے فرائض سرانجام دیتے ہیں اور اللہ کے جو بندے یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر ثابت قدمی اختیار کرتے ہیں تو ان پر اللہ فرشتے نازل کرتا ہے ‘ جو اسے خوشخبری دیتے ہیں ۔ اس طرح جو لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ان کی بھی یہ فرشتے نصرت کرتے ہیں اور انہیں فتح کی خوشخبری دیتے ہیں پھر یہ فرشتے کفار پر مسلط کئے جاتے ہیں جو انہیں قتل بھی کرتے ہیں اور انکی ارواح کو بھی عذاب دیتے ہیں۔ غرض یہ اور دوسرے معاملات ایسے ہیں جن میں انسان کا فرشتوں کی دنیا سے بھی رابط ومعاملہ ہے ۔ پھر انسان کا جنات کے ساتھ بھی معاملہ ہے ۔ ان کے صالحین کے ساتھ بھی اور ان کے شرپسندوں کے ساتھ بھی انسان اور شیطان اعظم کے درمیان جو معرکہ ہوا اس کے بارے میں تو قارئین جان چکے ہیں ۔ یہ عظیم معرکہ اب بھی جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا ۔ لیکن نیک جنوں کے ساتھ انسان کا باہم ربط بھی بعض آیات میں مذکور ہے اور جنات کی تسخیر بھی قرآن سے ثابت ہے جس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے قصے میں مذکور ہے کہ انہوں نے جنات کو مسخر کرلیا تھا ۔ اسی طرح یہ انسان اس پوری مادی کائنات کے ساتھ بھی مربوط ہے ۔ خصوصا زمین اور اس کے اردگرد ستاروں اور سیاروں کے ساتھ ۔ اس زمین پر تو انسان اللہ کا خلیفہ اور نائب ہے ۔ انسان کے لئے اس کی تمام قوتیں مسخر کردی گئی ہیں ‘ اس کے خزانے اور اور پیداوار انسان کے لئے وقف ہے ۔ اور انسان کے اندر وہ قوت اور استعداد ودیعت کردی گئی ہے جو اس کی کنہ تک مسلسل پہنچ رہا ہے اور اس کے طبیعی قوانین کا انکشاف کرتا چلا جاتا ہے اور اس طرح وہ اس زمین پر عظیم کردار ادا کر رہا ہے ۔ یوں اس کا اس کائنات کی تمام زندہ مخلوق کے ساتھ ربط ہے ۔ پھر اپنی طبیعت کی بو قلمونیوں کی وجہ سے وہ خود اپنے نفس کے اندر بہت دور تک معرفت کے گھوڑے دوڑاتا ہے ۔ یہ آسمانوں تک معراج حاصل کرتا ہے اور فرشتوں کے مقامات سے بھی آگے چلا جاتا ہے ۔ لیکن اس وقت جب وہ اللہ کا بندہ خاص ہوتا ہے ۔ لیکن اگر وہ گر جائے تو محض ایک حیوان کی سطح تک بھی اتر آتا ہے ۔ جب وہ اپنی خواہشات کو اپنا الہ بنا لے ۔ اس وقت اس کی انسانیت گندے حیوانی تالاب میں لت پت ہوجاتی ہے ۔ ان دو انتہاؤں کے درمیان ایک وسیع و عریض میدان درجات ہے جو عالم حس کے اندر اور اس کے آگے و رائے حس کی حدود تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا اس میں معاملہ ہے ۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ انسان کے سوا کسی اور مخلوق کے لئے یہ مقامات نہیں ہیں ‘ جیسا کہ اس قصے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے ۔ تیسری حقیقت یہ ہے کہ یہ منفرد مخلوق ‘ اپنی اس انفردیات کے باوجود بعض پہلوؤں سے کمزور بھی ہے اور اپنی ان کمزوریوں کی وجہ سے اس بات کا امکان ہے کہ اسے شر کی طرف کھینچا جاسکتا ہے ۔ وہ ذاتی اور سفلی خواہشات کے پیچھے درجہ اسفل تک بھی گر سکتا ہے ۔ اس کی ایک کمزوری تو یہ ہے کہ وہ یہاں باقی رہنا چاہتا ہے ۔ پھر وہ اقتدار کا بھی بھوکا ہے اور اس اندر اقتدار کی سخت خواہش ہے ۔ جب وہ اللہ کی ہدایت کو پس پشت ڈال دیتا ہے تو اس کی کمزریوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ خالص خواہشات نفسانیہ کا بندہ بن جاتا ہے یا وہ ایسے دشمن شیطان کا پیرو کار بن جاتا ہے ‘ جس نے یہ ڈیوٹی اپنے ذمے لے رکھی ہے کہ وہ اسے گمراہ کرے گا ‘ اس مقصد کے لئے انتھک کوشش جاری رکھے گا اور اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تمام ذرائع ووسائل کام میں لائے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی رحمت اور اپنے فضل وکرم کی وجہ سے اسے پوری طرح اس کی فطرت کے سپرد نہیں کردیا ۔ نہ اسے اپنی عقل اور سوچ کے حوالے کردیا ہے ۔ بلکہ اس کی ہدایت کے لئے اور اسے انجام بد سے ڈرانے کے لئے رسولوں کا سلسلہ بھیجا ہے ۔ چناچہ اس قصے پر بغور تبصرہ اگلی آیات کی تفسیر میں آرہا ہے ۔ اور یہ انسان کی کامیابی کا پہلا زینہ ہے ۔ اس طرح وہ اپنی خواہشات کے جنگل سے آزاد ہو کر اللہ کی جانب چلا آتا ہے اور اس طرح اپنے خفیہ دشمن سے نجات پا جاتا ہے ۔ یہ نجات اسے اللہ کے ذکر ‘ اس کی یاد ‘ اس کی رحمت اور اس کے اجر کے حصول کے داعیہ اور اس کی سرزنش سے ڈر کی وجہ سے ملتی ہے ۔ یہ تمام باتیں اسے قوت بخشتی ہیں اور ان کے ذریعے وہ اپنی کمزوریوں اور شہوات پر قابو پا لیتا ہے ۔ اس سلسلے میں اس کی پہلی ٹریننگ یہ تھی کہ جنت میں اس کے لئے ایک درخت کو حرام کردیا گیا تاکہ وہ اس سے بچ کر اپنے ارادے کو قوت بخشے اور کمزوریوں اور نافرمانیوں کی کشش کا مقابلہ کرے اگرچہ وہ اس پہلے تجربے اور پہلی آزمائش میں کامیاب نہیں رہا لیکن بعد میں یہ ناکامی اس کے لئے سبق آموز ثابت ہوئی ۔ اس کی ان کمزوریوں کی وجہ سے اللہ نے رحم فرمایا اور اس کے لئے توبہ کے دروازے کو کھلا رکھا ۔ جب وہ بھول جائے اور پھر اسے یاد آجائے اور وہ پشیمان ہو ۔ جب وہ گر جائے اور پھر اٹھے ‘ جب وہ راہ راست سے ہٹ جائے اور توبہ کرلے اور مڑ کر سیدھی راہ اختیار کرلے تو اس کے لئے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ‘ اس کی غلطی کو معاف کرتا ہے اور یہ نہیں کہ اگر کسی سے غلطی ہوجائے تو ضرور اسے پکڑے ۔ یا اس کے لئے لعنت ہو اور اس کی اولاد بھی اس تہمت سے متہمم ہو ‘ کیونکہ کوئی گناہ ابدی نہیں ہوتا ۔ کوئی بوجھ اٹھانے والے دوسرے کا بوجھ کس طرح اٹھائے گا۔ ؟ اسلامی نظام حیات کا یہ تصور اس کہانی کو رد کردیتا ہے جو انسانیت پر کینسہ کے غلط تصورات نے مسلط کی تھی اور جس کے نتیجے میں عیسائی مذہب پر کئی غیر فطری عقائد اور رسومات مسلط ہوگئے اور یہ مذہب درست عقائد کے بجائے خرافات میں گم ہوگیا ۔ یہ عجیب تصور ہے کہ آدم کی لغزش اب پوری انسانیت کی گردن میں لٹکی ہوئی ہے ‘ اور ایک دائمی لعنت ہے ۔ یہاں تک کہ وہ ان کے خود ساختہ خدا مسیح کے ساتھ بھی لگی ہوئی ہے ۔ ان کی جان بھی اس سے تب چھوٹتی ہے اور انسانیت کا دامن بھی تب صاف ہوتا ہے جب یہ انسانی خدا سولی پر چڑھ جاتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے ؟ جو لوگ قیامت تک عیسائیت کو قبول کرتے ہیں ان کے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں ۔ بہت خوب ! اس کے مقابلے میں اسلامی تصور حیات میں یہ معاملہ کس قدر آسان اور قابل فہم ہے کہ حضرت آدم بھول گئے اور ان سے لغزش کا صدور ہوگیا ۔ انہوں نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے بخش دیا اور یوں اس پہلی لغزش کا معاملہ ختم ہوگیا اور یہ لغزش انسان کے لئے ایک سبق آموز تجربہ کے طور پر تاریخ میں محفوظ ہوگئی اور بس تاکہ انسان اس سے سبق حاصل کرے ذرا دیکھئے یہ تصور کس قدر سادہ ہے ۔ کس قدر واضح ہے اور اس تصور کا اپنا ناکس قدر سادہ ہے اور آسان ہے ۔ چوتھی حقیقت یہ ہے کہ یہاں انسان اور شیطان کی کشمکش ایک حقیقی کشمکش ہے ۔ یہ مسلسل اور سخت ترین کشمکش ہے ۔ اس قصے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دشمن انسان نے ہر حالت میں انسان کے خلاف اپنی کاروائی جاری رکھنے کا اعلان کردیا ہے اور اس نے برملا کہہ دیا ہے کہ وہ ہر طرف اور ہر جہت سے انسان پر حملہ آور ہوگا اور پنے حملوں کو مسلسل جاری رکھے گا وہ ان الفاظ میں اعلان جنگ کرتا ہے ۔ ” اچھا تو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا ‘ آگے اور پیچھے ‘ دائیں اور بائیں ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا ۔ “ شیطان ملعون نے یہ راہ اپنائی کہ وہ انسانوں کے خلاف اپنی اس فریب کاری کو جاری رکھے گا ۔ اسے اس کاروائی کے لئے مہلت ملنی چاہئے ۔ اس کے مقابلے میں اس کے سامنے جو سیدھی راہ تھی اسے اس نے ترک کردیا ۔ سیدھی راہ یہ تھی کہ اس نے ذات باری کے سامنے اللہ کے احکام کو درست طرح سن کر جو معصیت کی اس پر وہ نادم ہوتا اور اللہ سے بخشش طلب کرتا ۔ اس کے برعکس اس نے یہ اعلان کیا کہ وہ ہر راہ گزر پر بیٹھ کر ان کو گمراہ کرے گا اور ہر جہت اور ہر طرف سے ان پر حملہ آور ہوگا اور ان کو گمراہ کر کے چھوڑے گا ۔ شیطان انسانوں پر ان مقامات سے حملہ کرتا ہے جو دفاعی اعتبار سے کمزور ہوتے ہیں ۔ یہ کمزور مقامات جنسی خواہشات اور مرتبے کے حصول کی خواہشات ہیں ۔ ان کمزور مقامات کو انسان صرف خدا خوفی اور ذکر الہی کے ذریعے درست کرسکتا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی ذاتی خواہشات کو دبائے اور اپنی خواہشات کے خلاف جنگ ہے اور اللہ کی جانب سے آئی ہوئی ہدایت کا اتباع ہے ۔ اور مادی خواہشات پر قابو پا کر صرف وہ لوگ بلندی حاصل کرسکتے جو بلند نظریات اور بلند ارادے رکھتے ہوں اس لئے کہ یہاں شیطان اپنے لاؤ لشکر سمیت ایک طرف میدان میں ہے اور اس کا مقابلہ تب ہی کیا جاسکتا ہے کہ اس کرہ ارض پر شریعت کو نافذ کردیا جائے ۔ پس یہ معرکہ نظریات اور ضمیر کے میدان میں بھی جاری ہے اور زندگی کے عملی میدان میں بھی جاری ہے ۔ دونوں میدانوں میں یکبارگی یہ کشمکش ضروری ہے ۔ وہ شیاطین جو دنیا میں براجمان ہیں وہ لوگوں کو اپنی شریعت ‘ اپنی وضع کردہ اقدار کے مطابق چلاتے ہیں ۔ انہوں نے یہاں حسن وقبح کے اپنے پیمانے بنا رکھے ہیں ۔ جو اللہ کی حاکمیت ‘ اس کے اقتدار اعلی اور اس کی شریعت کی نفی کرتے ہیں اور ان اقتدار کے خلاف چلتے ہیں جو دین اسلام سے نکلتی ہیں ۔ یہ انسانی شیاطین ہیں اور ان کو جنی شیاطین ہدایات دیتے ہیں ۔ ان انسانی شیاطین کے ساتھ یہ سیاسی معرکہ بھی خود شیطان اصلی کے خلاف معرکہ ہے ۔ یہ اس سے کوئی علیحدہ بات نہیں ہے ۔ اس طرح اس دنیا میں برپا یہ عظیم کشمکش دراصل شیطان کے ساتھ ایک عظیم معرکہ ہے ۔ شیطان کے دوستوں کے ساتھ معرکہ ہے ۔ جب ایک صحیح الفکر مسلمان اس معرکے میں کودتا ہے تو وہ فی الحقیقت اپنی مادی خواہشات کے ساتھ برسر جنگ ہوتا ہے ۔ پھر وہ شیطان کے ان دوستوں کے خلاف برسرجنگ ہوتا ہے جنہوں نے اس کرہ ارض پر خود اپنا اقتدار اعلی قائم کر رکھا ہے ۔ وہ ان تمام شرارتوں کے ساتھ برسرجنگ ہوتا ہے جو ان شیاطین اور ان کے دوستوں نے دنیا میں برپا کر رکھی ہیں اور جب ایک مومن اس ہمہ جہت جنگ میں مصروف ہوتا ہے تو وہ پوری طرح یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ یہ ہمہ جہت جنگ شیطان کے ساتھ لڑ رہا ہے جو اس کا حقیقی دشمن ہے اور جس نے اس کے خلاف مسلسل جنگ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ یہ جنگ قیامت تک ہوگی اور یہی وجہ ہے کہ حدیث میں آتا ہے ۔ (الجھاد ماض الی یوم القیامۃ (حدیث) کہ ” جہاد قیامت تک جاری رہے گا اور ہر صورت اور ہر میدان میں جاری رہے گا ۔ “ آخری بات اس قصے سے یہ معلوم ہوتی ہے جیسا کہ تفصیلات آگے آرہی ہیں ‘ کہ خود انسان کی فطرت ‘ طبیعت اور مزاج میں ایک چیز موجود ہے اور وہ ہے شرم وحیاء انسان عریانی کو فطرتا ناپسند کرتا ہے ۔ خصوصٓ شرمگاہ کی عریانی کو ۔ آیت ” فَوَسْوَسَ لَہُمَا الشَّیْْطَانُ لِیُبْدِیَ لَہُمَا مَا وُورِیَ عَنْہُمَا مِن سَوْء َاتِہِمَا (7 : 20) ” شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ ڈالا تاکہ وہ ننگا کر دے ان کی ان شرمگاہوں کو جو پوشیدہ تھیں “۔ آیت ” فَدَلاَّہُمَا بِغُرُورٍ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتْ لَہُمَا سَوْء َاتُہُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْْہِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّۃِ وَنَادَاہُمَا “۔ (7 : 22) ” اس طرح دھوکہ دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پر لے آیا ۔ آخر کار جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنت کے پتوں سے ڈھانپنے لگے ۔ “ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْء َاتِکُمْ وَرِیْشاً وَلِبَاسُ التَّقْوَیَ ذَلِکَ خَیْْرٌ ذَلِکَ مِنْ آیَاتِ اللّہِ “ (7 : 26) ” اے اولاد آدم ‘ ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو ‘ اور بہترین لباس تقوی کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے “۔ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْْطَانُ کَمَا أَخْرَجَ أَبَوَیْْکُم مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْء َاتِہِمَا “ (7 : 27) ” اے بنی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کردے جس نے اس سے پہلے تمہارے والدین کو اس نے جنت سے نکلوایا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرمگائیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے ۔ “ یہ تمام ہدایات وتبصرے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ مسئلہ بہت ہی اہم اور نہایت ہی فطری مسئلہ ہے اور یہ داعیہ انسانی فطرت کی انتہائی گرائیوں میں ہے کہ وہ لباس پہنے اور اپنی شرمگاہ کو چھپائے لباس انسان کے لئے زینت اور پردہ ہے جبکہ لباس تقوی انسان کی روحانی شرمگاہوں کے لئے ستر ہے فطرت سلیمہ نے ہمیشہ اپنی جسمانی اور روحانی شرمگاہوں کو چھپانے کی سعی کی ہے اور وہ ہمیشہ ان کمزوریوں کو چھپانے پر حریص رہی ہے ۔ جو لوگ انسانی جسم کو لباس سے عاری کرنا چاہتے ہیں ‘ نفس انسانی کو لباس تقوی سے محروم کرکے ننگا کرنا چاہتے ہیں ‘ اللہ اور انسانوں سے شرم وحیاء کو ختم کرنا چاہتے ہیں ‘ جن لوگوں کی زبانیں ‘ جن کے قلم ‘ اور جن کے ذرائع ابلاغ اور میڈیا اس بات میں رات اور دن مصروف ہو کہ مختلف طریقوں سے اور مختلف خبیث اور شیطانی ذرائع سے ان کو اپنے ان فطری دواعی سے عاری کردیں ‘ وہ درحقیقت انسان سے وہ فطری خواص چھین لینا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے ۔ یہ لوگ انسان کو اس شیطان کے سامنے جھکانا چاہتے ہیں ‘ جو ان کا دشمن ہے جس نے سب سے پہلے انسان کی شرمگاہ کو ننگا کرنے سے اپنی شیطنت کا آغاز کیا تھا ۔ پھر یہ لوگ ان صہیونی منصوبوں کو مکمل کرنا چاہتے ہیں جو یہودیوں نے انسانیت کی بربادی کے لئے تیار کر رکھے ہیں اور ان کے مطابق وہ پوری انسانیت کو اس قدر مضمحل کردینا چاہتے ہیں کہ وہ انکے مقابلے میں اٹھ نہ سکے اور اس کی حالت یہ ہوجائے کہ اس کے اندر کوئی انسانی خصوصیت نہ رہے ۔ عریانی فطرتا ایک حیوانی خاصہ ہے ۔ اس کی طرف انسان صرف اس وقت آمادہ ہو سکتا ہے جب وہ مقام انسانیت سے گر کر حیوانی مرتبے میں آجائے ۔ نیز عریانیت کو خوبصورتی صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں ‘ جن کا ذوق انسانی ختم ہوچکا ہو۔ چناچہ وسطی افریقہ کے نہایت ہی پسماندہ لوگ مادر زاد ننگے ہوتے ہیں اور جب اسلام ان میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے وہ انہیں کپڑے پہناتا ہیں ۔ آج مغرب کے نام نہاد ترقی پسند دانشور انسان کو عریانی کے اس گڑھے میں گرا رہے ہیں جہاں سے اسلام نے انہیں نکالا تھا وہ نکالنے کے بعد انکو نہایت ہی متمدن بنا دیا تھا اور انکو اسلامی مفہوم اور اہداف کے مطابق متمدن بنایا تھا ۔ اسلام میں تمدن اور ترقی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کے اندر انسانی خصائص کو ترقی دی جائے اور ان کو زیادہ سے زیادہ ظاہر کیا جائے ۔ نفس کی عریانی یہ ہے کہ انسان شرم وحیاء کو خیر باد کہہ دے اور یہ وہ مقصد ہے جس کے لئے یورپ کا میڈیا ‘ قلم ‘ آواز اور اسکرین کام کر رہی ہے ۔ یہ اس قدر پسماندگی اور جاہلیت کی طرف رجعت قہقہری ہے جو کبھی تھی ‘ اسے کسی مفہوم میں بھی ترقی ‘ حضارت اور تمدن نہیں کہا جاسکتا جیسا کہ آج مغرب کا شیطانی میڈیا مسلمانوں کو یاد کررہا ہے ۔ تخلیق انسانیت کا قصہ ان تمام اقدار اور پیمانوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مسلمانوں کو اس طرف ہدایت کی اور تمام شیطانی وساوس سے نجات دی اور جاہلیت کے گندے تالاب سے مسلمانوں کو نکالا ۔ قرآن نے یہ قصہ انہیں مقاصد کے لئے پیش کیا ہے ۔

الأعراف 7:25

درس نمبر 74 ایک نظر میں : زیر نظر سبق اس سورة کے وقفوں میں سے ایک وقفہ ہے ۔ پہلے منظر کے بعد یہ ایک طویل وقفہ ہے جس میں تخلیق انسانیت کی ایک عظیم روئیداد بیان کی گئی ہے ۔ اس سورة میں جگہ جگہ ایسے وقفے آتے ہیں گویا سامعین سے کہا جاتا ہے ‘ ذرا رکیں ‘ کہا یہاں تک جو کچھ آپ نے دیکھا اس پر غور کریں اور آگے بڑھنے سے پہلے یہ جان لیں کہ اس منظر میں انسانیت کے لئے کیا کیا نصائح ہیں اور کیا کیا عبرت آموزیاں ہے ۔ یہ وقفہ ان دستوں کی موجودگی میں ہے جو ایک طرف انسانیت کی جانب سے اور دوسری جانب شیطان کی جانب سے باہم معرکہ آرائی کے لئے تیار کھڑے ہیں ۔ اس وقفے میں بتایا جاتا ہے کہ شیطان کس اسلوب سے اور کس گزر گاہ سے داخل ہوتا ہے اور یہ کہ اس کا منصوبہ کیا ہے اور کس شکل و صورت میں ہے ۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ صرف اس صورت میں ہدایت دیتا ہے جب کوئی صورت عملا قائم ہو ‘ موجود ہو اور مسئلہ پیدا ہوگیا ہو ۔ وہ جو قصص بھی بیان کرتا ہے ‘ اس لئے بیان کرتا ہے کہ تحریک اسلامی کے اندر کچھ واقعی حالات موجود ہوتے ہیں جن پر وہ قصہ منطبق ہوتا ہے ۔ قرآن کے قصص جیسا کہ اوپر کہہ آئے ہیں محض فنی اور ادبی مقاصد کے لئے نہیں ہوتے اور نہ قرآن کسی مسئلے پر محض نظریاتی زاوے سے بحث کرتا ہے ۔ اسلام کی حقیقت پسندی اور اس کی سنجیدگی اس بات کی متقاضی تھی کہ اس کی ہدایات ایسے مسائل کے بارے میں ہوں جو عملا تحریک اسلامی کو اس وقت درپیش تھے ۔ قصہ آدمیت کے اس پہلے مرحلے کے بعد آنے والے اس وقفے کا تعلق عرب جاہلیت کی واقعی صورت حال کے ساتھ ہے ۔ قریش نے دوسروں عربوں کے مقابلے میں اپنے لئے کچھ حقوق مختص کئے ہوئے تھے ۔ لوگ باہر سے حج بیت اللہ کے لئے آتے تھے جسے قریش نے بت خانہ بنا دیا تھا اور یہ حقوق وہ اپنے لئے بعض جعلی تصورات کی اساس پر مختص کرتے تھے اور اسے اللہ کی شریعت قرار دیتے تھے ۔ ان تصورات کو انہیں نے قانون شکل دے رکھی تھی اور اسے شریعت کہتے تھے تاکہ دوسرے مشرکین ان قوانین کی پیروی کریں ۔ ہر جاہلیت میں کاہن ‘ سردار ‘ گدی نشین لوگ عوام الناس کے لئے ایسے ہی اصول گھڑ لیتے ہیں ۔ قریش نے اپنے لئے ایک خاص لقب اختیار کیا ہوا تھا ۔ وہ اپنے آپ کو ” حمس “ کہتے تھے ۔ اور اپنے لئے انہوں نے بعض حقوق مختص کر رکھے تھے جو دوسرے عربوں کو حاصل نہ تھے ۔ ان حقوق میں سے بعض طواف بیت اللہ کے بارے میں تھے ۔ صرف ان کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ اپنے زیر استعمال کپڑوں میں طواف کرسکتے تھے ‘ رہے دوسرے عرب تو وہ ان کپڑوں میں حج نہ کرسکتے تھے جو کبھی کسی نے پہنے ہوں ۔ اب ان لوگوں کیلئے دو صورتیں تھیں یا تو وہ قریش سے کپڑے مستعار لیتے تھے تاکہ وہ طواف کرلیں اور یا اپنے لئے نئے کپڑے بنواتے تھے اور اگر وہ ان دونوں صورتوں پر عمل نہ کرسکتے تو پھر وہ ننگے طواف کرتے اور ان میں عورتیں بھی شامل ہوتیں ۔ علامہ ابن کثیر کہتے ہیں ” ماسوائے قریش کے دوسرے عرب ان کپڑوں میں طواف نہ کرسکتے تھے جو انہوں نے اس سے پہلے پہن لئے ہوتے تھے ۔ اس بات کے پیچھے ان کا یہ نظریہ تھا کہ چونکہ ان کپڑوں میں وہ اللہ کی نافرمانی کرتے رہے ہیں اس لئے ان میں ہمارے طواف کرنا درست نہیں ہے ۔ قریش جو حمس کہلاتے تھے ‘ ان کا یہ حق تھا کہ وہ اپنے طواف کرلیتا ‘ کسی کے پاس جدید کپڑے ہوتے تو بھی وہ طواف کرلیتا ‘ لیکن طواف کے بعد اسے پھینک دیتا اور وہ کسی کی ملکیت نہ ہوتا ۔ اگر کسی کو نہ نیا کپڑا ملتا اور نہ عاریتا اہل قریش میں سے دستیاب ہوتا تو وہ ننگا طواف کرتا ۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ ایک عورت ننگی حالت میں طواف کر رہی ہے ‘ اس صورت میں وہ اندام نہائی کو ڈھانپ لیتی ۔ لیکن جن عورتوں کو ایسی حالت میں طواف کرنا پڑتا وہ اکثر اوقات رات کے وقت طواف کرتیں ۔ یہ رسوم انہوں نے اپنی جانب سے گھڑ لی تھیں اور آباؤ اجداد کے وقت سے وہ ان پر عمل پیرا تھے ۔ وہ عقیدہ یہ رکھتے تھے کہ ان کا یہ جدی فعل شریعت الہیہ پر مبنی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انکی اس بات پر حرف گیری فرمائی ۔ آیت ” وَإِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَۃً قَالُواْ وَجَدْنَا عَلَیْْہَا آبَاء نَا وَاللّہُ أَمَرَنَا بِہَا “۔ (7 : 28) ” اور جب وہ کوئی فحش کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے آباء کو ایسا ہی کرتے پایا ہے اور یہ کہ اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے ۔ “ (قل ای) ’ اے پیغمبر کہہ دے (ان اللہ لا یامر بالفحشاء (7 : 28) ” بیشک اللہ فحاشی کا حکم نہیں دیتا ۔ “ یعنی تم جو کچھ کر رہے ہو یہ ایک فحش کام ہے اور قابل نفرت ہے اور اللہ ایسے قابل نفرت کاموں کا کبھی حکم نہیں دیتا ۔ آیت ” أَتَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (28) ” کیا تم اللہ پر وہ افتراء باندھتے ہو جو تمہارے علم نہیں ہے ۔ “ یعنی تم اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرتے ہو جن کی صحت کا خود تمہیں بھی یقین نہیں ہے ۔ آیت ” قل امر ربی بالقسط “۔ (7 : 29) ” کہہ دے کہ مجھے میرے رب نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے ۔ “ آیت ” قُلْ أَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَأَقِیْمُواْ وُجُوہَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ “۔ (7 : 29) ” اس کا حکم یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لئے خالص رکھ کر “۔ یعنی اس نے جو حکم دیا ہے وہ یہ ہے کہ عبادت اور عبادت کے مقامات کو درست رکھو اور ان رسولوں کی اطاعت کرو جو معجزات لے کر آئے ہیں اور عبادت صرف اللہ کی کرو ‘ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان دوبنیادی ارکان کے سوا کسی کی عبادت کو قبول نہیں کرتا یعنی یہ کہ وہ عمل شریعت کے مطابق ہو اور دوسرے یہ کہ وہ شرک سے خالص ہو۔ عبادت ‘ طواف اور لباس کے بارے میں شرعی قوانین اور خوراک کے معاملات میں عربوں کی جاہلی سوسائٹی میں جو عملی صورت حال اس وقت موجود تھی اور جسے وہ شریعت منجانب اللہ سمجھتے تھے ‘ اس عملی صورت حال کے بارے میں یہ تبصرہ آیا ہے یہ تبصرہ انسانیت کی تخلیق کی عظیم کہانی کے ضمن میں آیا ہے ۔ کھانے کا ذکر شجر ممنوعہ کے ضمن میں اور لباس کا ذکر واقعہ نزع لباس میں تھا جو شیطان کی سازش سے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا سے اتار دیا گیا ۔ اس سازش کا شکار ہو کر وہ اس ممنوعہ درخت کے پھل کو کھا گئے تھے اور انسان کی فطری حیا کا ذکر بھی اس میں آگیا تھا کہ جب ان سے لباس جنت اتار دیا گیا تو پھر وہ جنت کے درختوں کے پتے اوپر لپٹینے لگے اور یوں وہ ستر پوشی کرنے لگے ۔ غرض اس قصے میں جو واقعات آئے اور اس کے بعد ان پر جو تبصرہ ہوا ‘ وہ عربوں کے اندر موجود جاہلی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ قصہ قرآن کی دوسری سورتوں میں بھی آئے گا۔ لیکن اس وقت اس کے لانے کے مقاصد اور ہوں گے اور اس پر پھر تبصرے اور نتائج بھی اور ہوں گے ۔ قرآن کریم ہر جگہ جو قصہ بھی لاتا ہے وہ انسانوں کی کسی عملی صورت حال پر ہی پیش کرتا ہے اور اس پر پھر تبصرے بھی ان مقاصد اور صورت حالات کے مطابق کرتا ہے ۔ چناچہ قرآن کریم ہر مقام کے حالات کے مطابق قصے کی متعلقہ کڑی پیش کرتا ہے اور ہر مقام کے مزاج کے مطابق اس کی تفصیلات دیتا ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے فصل قصص ‘ میری کتاب التصویر الغنی فی القرآن میں)

الأعراف 7:26

آیت ” نمبر 26۔ یہ اللہ کی جانب سے انسانوں کے نام ایک درد انگیز پکار ہے اور یہ پکار تخلیق انسانیت کی کہانی کے منظر کے بعد آئی ہے ۔ خصوصا اس کے اس حصے کے بعد جس میں شیطان کی سازش سے حضرت آدم اور حوا کے جسموں سے جنت کا لباس اتار دیا گیا اور جس میں دونوں اس طرح دکھائی دیتے تھے کہ وہ اپنے جسموں کے اوپر جنت کے پتوں کو چسپاں کر رہے تھے ۔ یہ دن انہیں اللہ کی حکم عدولی کرنے کی وجہ سے دیکھنے پڑے تھے کیونکہ انہیں ایک خاص درخت کا پھل کھانے کی صریح ممانعت کی گئی تھی ۔ یہ ایک لغزش تھی اور اس کی نوعیت ایسی نہ تھی جس کی تفصیلات اہل کتاب کی منحرف کتابوں تورات وانجیل کے اندر موجود ہیں اور جن کا پر تو آج مغرب کے تمام علوم وفنون پر صاف صاف نظر آتا ہے ۔ دور جدید میں فرائڈ کے افکار اس پر مستزاد ہیں ۔ ان اساطیر اور فضول قصوں میں یہ کہا گیا ہے کہ شجر ممنوعہ شجر علم تھا اور شجر حیات تھا اور اگر آدم وحوا اس کا پھل کھالیتے تو اللہ کو یہ ڈر تھا کہ وہ بھی خدا کی طرح الہ بن جاتے ۔ نہ یہ ممانعت جنسی ملاپ کی ممانعت تھی جس طرح فرائڈ اور مغربی علوم وفنون اور مغربی ارٹ اس بات کا انعکاس کرتے ہیں اور انہوں نے ان کہانیوں کی اساس پر جنسی بےراہ روای کا فلسفہ فرائڈ کے خیالات کی شکل میں اپنا رکھا ہے ۔ غرض حضرت آدم (علیہ السلام) کی لغزش کے نتیجے میں ان کے لباس کے اتر جانے کے منظر اور پھر دور جاہلیت میں عریانی کی حالت میں طواف کرنے کی صورت حال کے پیش نظریہ پکار آتی ہے کہ اے انسان اللہ نے تم پر کس قدر رحمت اور شفقت کی ہے کہ تمہاری زینت اور شرمگاہوں کو چھپانے کے لئے لباس کا انتظام کیا اور اسے تمہارے ستر کے لئے ایک لازمی قانون کی شکل دی ۔ اگر لباس نہ ہوتا تو تم برہنگی کی حالت میں نہایت ہی مکروہ نظر آتے ۔ (انزلنا) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ لباس بطور قانون لازم ہے ۔ لباس کا اطلاق کبھی تو ستر پر ہوتا ہے یعنی داخل ستر اور ریاش کا اطلاق اس لباس پر ہوتا ہے جو زیب وزینت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ یعنی ظاہری لباس ۔ لفظ ریاش کے معنی میں عیش و عشرت اور مال و دولت ہے ان سب معانی کا ایک دوسرے سے تعلق ہے اور یہ لازم وملزوم ہیں ۔ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَیْْکُمْ لِبَاساً یُوَارِیْ سَوْء َاتِکُمْ وَرِیْشاً “۔ (7 : 26) ” اے اولاد آدم ‘ ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو “۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ تقوی کے لباس کا ذکر فرماتے ہیں اور ساتھ یہ اضافہ بھی کردیتے ہیں کہ لباس تقوی کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ عبدالرحمن ابن اسلم نے یہ کہا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنی شرمگاہ کو چھپائے تو یہ لباس تقوی ہے ۔ “ لباس ستر اور لباس تقوی شریعت میں لازم وملزوم ہیں ۔ لباس ستر جسم کو چھپانے اور زینت کے لئے ہے اور لباس تقوی دل کے قابل شرم حالات کو چھپاتا ہے اور قلب کی زیب وزینت بنتا ہے ۔ دونوں لازم وملزوم ہیں اس لئے کہ خدا کے خوف اور خدا سے حیاء کرنے کے شعور کے نتیجے ہی میں انسان جسم کے قابل شرم حصوں کو کھلا رکھنا قبیح سمجھتا ہے اور جو شخص اللہ سے حیا نہیں کرتا اور اس نہیں ڈرتا ‘ اس کے لئے جسمانی عریانی کوئی قابل ملامت بات نہیں ہوتی ۔ چناچہ اسلام کی نظر میں تقوی اور حیا سے عاری ہونا اور لباس کو اتار دینا ایک ہی جیسا قبیح فعل ہے ۔ جسم کا چھپانا فطری حیاء ہے اور اس کا تعلق محض کسی خاندان اور سوسائٹی کے رواج کے ساتھ نہیں ہے ۔ جیسا کہ بعض اور لوگ اس کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں جو اسلامی معاشرے سے حیاء کو ختم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہو امسلمانوں کی انسانیت کو ختم کردیں اور یہ عین اس منصوبے کے مطابق ہے جو صہیونی لیڈروں نے انسانیت کی تباہی کے لئے بنایا تھا ۔ بلکہ یہ ایک فطری داعیہ ہے جس اللہ نے انسان کے اندر ودیعت کر رکھا ہے ۔ پھر یہ ایک شرعی اور قانون تقاضا ہے جو اللہ نے نازل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو یہ توفیق دی ہے کہ وہ دنیا میں اس قانون کو نافذ کریں کیونکہ یہ زمین اللہ نے انسانوں کے اختیار میں دی ہے اور اسے انکے لئے جائے رزق بنا دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ اس لباس اور ستر پوشی کا قانون دے کر تم پر عظیم رحمت کی گئی ہے ۔ اس طرح اللہ نے ان کی ۔۔۔۔ متاع انسانیت کو اس انجام سے بچایا کہ وہ حیوانات کی سطح تک نیچے چلی جائے ۔ پھر اللہ تعالیٰ انہیں وہ تمام مسائل یاد دلا کر ان سے توقع کرتے ہیں کہ آیت ” لعلھم یذکرون “۔ (7 : 26) ” شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں “۔ اس مقام پر آ کر ایک مسلمان اچھی طرح معلوم کرسکتا ہے کہ زیب وزینت ‘ فیشن ‘ ترقی پسندی اور محبت کے نام پر انسانوں کے اخلاق کو بگاڑنے اور انہیں جسمانی طور پر ننگا کرنے کے لئے جو عظیم کوشش ہو رہی ہے وہ اس یہودی سازش کے عین مطابق ہے جو انہوں نے انسانیت کی تباہی کے لئے تیار کر رکھی ہے ۔ یہ سازش یہودیوں نے اس لئے تیار کی ہے کہ مسلمانوں کی قوت جلدی سے تباہ ہوجائے اور انہیں جلدی سے غلام بنایا جاسکے ، نیز دین اسلام کے ساتھ لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں جو محبت ابھی تک باقی ہے یہ منصوبہ اس کی مکمل بیخ کنی کے لئے بھی بنایا گیا ہے اور اس مقصد کے لئین یہ یہودیوں اور ان کے ایجنٹوں کی قلمیں ‘ فلمیں ‘ تمام تعلیمی ادارے اور میڈیا مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں حالانکہ انسان کے لئے زینت عریانی میں نہیں ستر میں پوشیدہ ہے ۔ یہ حیوانات کی زینت ہے کہ وہ ننگے رہیں ‘ لیکن آج کا انسان جاہلیت اور پسماندگی کی طرف لوٹ رہا ہے اور انسان کے بجائے حیوان بنا رہا ہے ۔ کیا انسان اس نعمت کو یاد نہیں کر رہا ہے جو اللہ نے اسے انسان بنانے کے حوالے سے کی ہے ۔

الأعراف 7:27

آیت ” نمبر 27 تا 30۔ یہ اللہ کی جانب سے انسان کے نام دوسری پکار ہے ۔ یہ غور وفکر کے اس وقفے میں ہے جو ان کے والدین حضرت آدم وحوا کے قصے کے دوران کیا گیا ہے ۔ اور خصوصا اس منظر پر بطور تبصرہ کیا گیا ہے جس میں شیطان نے اپنی گہری سازش کے ذریعے انہیں بےلباس کردیا کہ انہوں نے اس سازش کا شکار ہو کر اللہ کے صریح حکم کو بھلا دیا اور شیطان کی وسوسہ اندازی کے نتیجے میں ان سے لغزش سرزد ہوگئی ۔ نیز ہم نے جاہلیت عربیہ کے دور میں برہنہ طواف کے بارے میں جو کچھ کہا اس کی روشنی میں بھی یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ اللہ نے کیوں اس انداز میں بنی نوع انسان کو پکارا کیونکہ وہ اس عریانی کو منجانب اللہ شریعت سمجھتے تھے ۔ پہلی ندا میں تو بنی آدم کو یہ یاد دلایا گیا کہ ان کے ابو الآباء کے ساتھ کیا پیش آیا اور کس طرح اللہ نے انکی شرمگاہوں کے چھپانے اور پھر ان کی زیب وزینت کا انتظام فرمایا ۔ رہی یہ دوسری پکار تو یہ بنی آدم کو عموما اور مشرکین مکہ کو خصوصا یہ یاد دہانی ہے جس سے اسلام سب سے پہلے خطاب کررہا تھا کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں اور اپنے لئے خود نظام زندگی اور رسم و رواج اور شریعت تصنیف نہ کریں اور اس طرح شیطان کے فتنے کا شکار نہ ہوں کیونکہ اس نے تمہارے باپ کے خلاف یہی سازش کی تھی ‘ اس کو سازش کے ذریعے جنت سے نکلوایا تھا ‘ اور انہیں جنت کے لباس سے محروم کر کے ان کی شرمگاہوں کو ان کے سامنے ننگا کردیا تھا ۔ لہذا ہر وہ تحریک جو عریانی کی دعوت دیتی ہے وہ شیطانی تحریک ہے اور جاہلی تحریک ہے خواہ یہ زمانہ قدیم کی ہو یا دور جدید کی ۔ یہ تحریک تمہارے دشمن کی تحریک ہے ۔ شیطان تو تمہارا کھلا دشمن تھا اور وہ آدم اور اس کی اولاد کا دائمی دشمن ہے ۔ عریانی کی تحریک بھی انسان اور شیطان کی دشمنی کی ہمی گیر تحریک کا ایک پہلو ہے ۔ لہذا بنی آدم کو اپنے دشمن کو یہ موقع نہ دینا چاہئے کہ وہ اس معرکہ میں کامیاب ہو اور اس طرح انسانوں اور جنوں نے جہنم کو بھر دیئے جانے کا باعث بن سکے ۔ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْْطَانُ کَمَا أَخْرَجَ أَبَوَیْْکُم مِّنَ الْجَنَّۃِ یَنزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوْء َاتِہِمَا “۔ (7 : 27) ” اے بنی آدم ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کردے جس نے اس سے پہلے تمہارے والدین کو اس نے جنت سے نکلوایا اور ان کے لباس ان پر سے اتروا دیئے تھے تاکہ ان کی شرمگائیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے ۔ “ انسانوں کو زیادہ ڈرانے کے لئے اللہ تعالیٰ انہیں یہ اطلاع بھی دیتے ہیں کہ شیطان اور اس کا قبیلہ تو تمہیں دیکھ رہا ہے اور تم اسے نہیں دیکھ سکتے ‘ لہذا وہ اپنے پوشیدہ وسائل کے ذریعے تمہارے بدراہ کرنے پر زیادہ قدرت رکھتا ہے ۔ لہذا انہیں ڈرنا چاہئے اور شدید احتیاط کرنا چاہئے ۔ ہر وقت چوکنا رہنا اور حد درجہ محتاط رہنا چاہئے ۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں آلے اور تمہیں پتہ ہی نہ ہو۔ آیت ” إِنَّہُ یَرَاکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہُ مِنْ حَیْْثُ لاَ تَرَوْنَہُمْ “۔ (7 : 27) ” وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ “ ۔ اور اب اس فقرے کا آخری بند آتا ہے جو نہایت ہی موثر ہے اور اس طرف ہدایت کرتا ہے کہ تم احتیاط کرو کیونکہ تقدیر الہی کے نظام نے ان لوگوں کے ساتھ شیطان کو بطور دوست لگا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے ‘ اور اس شخص کی بربادی کی کیا انتہا ہوگی جس کا دوست شیطان ہو ۔ ظاہر ہے کہ وہ ان پر قبضہ کرلے گا گمراہ کرے گا اور ان کی نکیل تھام کر جدھر چاہے گا ‘ لے جائے گا اور ان کا کوئی مددگار اور معاون نہ ہوگا ۔ اور نہ اللہ ان کا دوست ہوگا ۔ آیت ” إِنَّا جَعَلْنَا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ (27) ” ان شیاطین کو ہم نے ان لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ “ یہ ایک عظیم حقیقت ہے جو لوگ ایمان نہیں لاتے ‘ شیطان ان کا یار اور مددگار ہوتا ہے ۔ اور اس کے بالمقابل حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لاتے ہیں اللہ ان کا ولی اور ناصر ہوتا ہے ۔ یہ ایک خوفناک حقیقت ہے اور اس کے نتائج بھی خوفناک ہیں اور اس حقیقت کو یہاں ایک کلیہ کے طور پر پیش کیا جارہا ہے ۔ اس کے بعد اس کلیہ کی ایک مثال بھی پیش کردی جاتی ہے ۔ جو عملا مشرکین کی زندگیوں میں موجود ہوتی ہے ۔ چناچہ معلوم ہوجاتا ہے کہ شیطان کس طرح ولی اور مددگار ہوتا ہے ۔ اور اس کی ولایت لوگوں کے تصورات اور عملی زندگی میں کس طرح کام کرتی ہے۔ نمونہ ملاحظہ ہو۔ آیت ” وَإِذَا فَعَلُواْ فَاحِشَۃً قَالُواْ وَجَدْنَا عَلَیْْہَا آبَاء نَا وَاللّہُ أَمَرَنَا بِہَا “۔ (7 : 28) یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ “ مشرکین عرب اس کے قائل تھے اور اس پر عمل پیرا بھی تھے وہ برہنگی کی حالت میں طوائف کرکے بیت الحرام میں اس فحاشی کا ارتکاب کرتے تھے اور اس میں ان کی عورتیں بھی شامل ہوتی تھیں لیکن وہ زعم یہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ۔ اس طرح کہ اللہ نے ہمارے آباء کو اس کا حکم دیا تھا اس لئے وہ ایسا ہی کرتے چلے آئے تھے اور ہم کو یہ رسم وراثت میں ملی ہے اس لئے ہم بھی ایسا کرتے ہیں ۔ باوجود اس کے کہ وہ مشرک تھے ‘ لیکن وہ دور جدید کی جاہلیت کی طرح مغرور اور سرکش نہ تھے ۔ آج کے لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ مذہب کا معاملات زندگی کے ساتھ تعلق ہی کیا ہے ‘ یہ تو عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے لئے جو قوانین ‘ جو اقتدار اور جو رسومات چاہیں وضع کرلیں۔ اس میں اللہ کا کوئی دخل نہیں ہے ۔ پرانی جاہلیت کے پیروکار تو فقط یہ جرم کرتے تھے کہ اپنے لئے خود قوانین اور دستور حیات وضع کرتے اور پھر کہتے کہ یہ امر الہی ہے ۔ یہ غلطی زیادہ بھیانک تو ہو سکتی ہے اور زیادہ قابل ملامت بھی ہو سکتی ہے کیونکہ یہ دین کے نام پر دھوکہ اور فریب ہے اور لوگوں کے جذبہ دین سے بھی غلط فائدہ اٹھانا ہے لیکن خود سری اور غرور کے اعتبار سے یہ ان لوگوں سے کم تھے جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ لوگوں کے لئے قانون سازی کا حق صرف ان کو حاصل ہے اور وہی یہ فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں کہ لوگوں کے لئے کیا مفید ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ وہ ان سے یوں مخاطب ہوں کہ یہ تم اللہ پر خالص افترا باندھتے ہو اور یہ کہ اللہ کی شریعت اور اس کا قانونی نظام اپنے مزاج کے اعتبار سے فحاشی کو پسند نہیں کرتا ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کس طرح تمہیں یہ حکم دے سکتا ہے کہ تم فحاشی وعریانی کا ارتکاب کرو۔

الأعراف 7:28

آیت ” قُلْ إِنَّ اللّہَ لاَ یَأْمُرُ بِالْفَحْشَاء أَتَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (28) ” ان سے کہو اللہ بےحیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا ۔ کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں ؟ “۔ اللہ تعالیٰ مطلقا فحاشی کے خلاف ہیں اور فحاشی کا مفہوم یہ ہے کہ انسان کسی بھی معاملے میں مقررہ حد سے گزر جائے ۔ عریانی بھی اسی کی تعریف میں آتی ہے اس لئے اللہ اس کا حکم کیسے دے سکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کئے ہیں اور وہ یہ حکم نہیں دیتا کہ اس کے مقرر کردہ حدود توڑے جائیں ۔ اس نے شرم ‘ حیاء اور تقوی کا حکم دیا ہے تو پھر عریانی کا حکم کیسے صادر ہو سکتا ہے ۔ پھر سوال یہ ہے کہ ان کو اللہ کے اس حکم کی اطلاع کس نے دی ہے ۔ کیونکہ اللہ کے احکام اور قوانین محض دعوی سے تو ثابت نہیں ہوتے ۔ اللہ کے احکام اور قوانین تو اس کی کتابوں اور رسولوں کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس سے اللہ کے احکام معلوم ہوں ۔ کوئی انسان کسی بات کے اللہ اور رسول کی جانب سے آنے کا دعوی اس وقت تک نہیں کرسکتا جب تک وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے ثابت نہ ہو ۔ اس لئے اللہ کے دین میں سند کے بغیر کوئی قول نہیں کیا جاسکتا ‘ ورنہ اس فکری انتشار کا کوئی فیصلہ نہیں ہو سکے گا کہ لوگ بات تو خود کریں مگر اسے اللہ کی طرف منسوب کردیں ۔ جاہلیت بہرحال جاہلیت ہوتی ہے اور اس کے جو بنیادی عناصر ہوتے ہیں وہ ہر جاہلیت میں موجود ہوتے ہیں ۔ جب بھی لوگ جاہلیت کی طرف لوٹتے ہیں وہ ایک ہی طرح کی بات کرتے ہیں اور ان کی سوچ ایک ہی طرح کی ہوتی ہے ۔ باوجود اس کے کہ قدیم اور جدید دونوں جاہلیتوں کے درمیان ایک طویل زمانہ حائل ہے اور وہ مکان کے اعتبار سے بھی ایک دوسرے سے بہت ہی دور ہیں ۔ آج ہم جس جاہلیت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ‘ اس میں کوئی ایک جھوٹا اٹھاتا ہے اور وہ باتیں کہنا شروع کردیتا جو اس کی خواہشات نفسانیہ سے ڈکٹیٹ کرتی ہیں اور پھر کہتا ہے کہ یہ ہے اللہ کی شرعیت ۔ پھر ایک اور خود سر اور سرکش اٹھتا ہے اور اللہ کے دین کے صریح اور بدیہی امور کا انکار کرتا ہے ۔ وہ یہ دعوی کرتا ہے کہ اللہ کا دین اس قسم کے احکام پر مشتمل نہیں ہوسکتا ۔ دین کس طرح یہ احکام دے سکتا ہے ‘ دین ان امور سے کس طرح منع کرسکتا ہے اور ایسے لوگوں سے اگر دلیل پوچھی جائے تو انکی خواہش نفس کے سوا اور کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوتی ۔ ہم کہتے ہیں ۔ آیت ” أَتَقُولُونَ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (28) ان کے اس دعوی کی تردید کے بعد کہ اللہ نے اس قسم کی فحاشی کا حکم نہیں دیا ‘ اب اللہ کے احکام تو اس کے بالکل متضاد اور برعکس ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو عدل اعتدال کا حکم دیتا ہے اور حد سے تجاوز کرنے سے روکتا ہے وہ حدود سے تجاوز اور فحاشی کا حکم ہر گز نہی دیتا ۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ عبادت یا شعائر زندگی اور پکارنے کے معاملے میں صرف اللہ کی بندگی کرو جیسا کہ اللہ نے اپنی نازل کردہ کتاب میں صریح ہدایات دی ہیں۔ اللہ نے اس مسئلے کو یوں نہیں چھوڑ دیا کہ اس کے بارے میں ہر انسان جو چاہے رائے رکھے اور پھر یہ دعوی کرے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے ۔ بلکہ اللہ نے یہ حکم دے دیا ہے کہ دین خالص اللہ کے لئے ہوگا اور صرف اللہ کی مکمل بندگی ہوگی ۔ نہ کوئی کسی کا غلام اور مطیع ہوگا اور نہ کوئی کسی کے ذاتی احکام کا پابند ہوگا ۔ آیت ” قُلْ أَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ وَأَقِیْمُواْ وُجُوہَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِدٍ وَادْعُوہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ “۔ (7 : 29) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو ! میرے رب نے تو راستی و انصاف کا حکم دیا ہے ‘ اور ان کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو۔ اس کے دین کو اس کے لئے خالص رکھ کر ۔ “ یہ تو ہیں اللہ کی جانب سے مامورات اور یہ اس صورت حال کے برعکس ہے جس پر وہ قائم ہیں ۔ یہ اس کے بھی خلاف ہیں کہ وہ اپنے آباء کی اطاعت کریں اور آباء کے قوانین کی اطاعت کریں کیونکہ یہ بھی تو ہماری طرح کے بندے تھے اور پھر اس پر مستزاد یہ کہ اسے سمجھتے بھی منجانب اللہ ہیں۔ نیز یہ احکام اس عریانی اور ننگے پن کے بھی خلاف ہیں ‘ جبکہ اللہ نے آدم وحوا پر یہ احسان کیا تھا کہ انہیں لباس دے کر اور زیب وزینت کا سامان دے کر ان کو حکم دیا تھا کہ اپنے آپ کو ڈھانپ لو اور اپنی شکل و صورت اچھی بناؤ پھر یہ احکام اس صورت حال کے بھی خلاف تھے جس میں انہوں نے اپنے عقائد اور نظام زندگی میں شرک کو داخل کردیا ہے ۔ یہاں آکر اب لہجہ ذرا سخت ہوجاتا ہے اور سخت الفاظ میں سبق یاد دلایا جاتا ہے ۔ انجام بد سے بھی ڈرایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس چند روزہ زندگی کے خاتمے پر تمہیں اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے ۔ ان کی پیشی کا منظر یہ ہوگا کہ وہ دو فریق بن جائیں گے ۔ ایک وہ فریق جو اللہ کی راہ پر ہوگا اور امر الہی کا پابند ہوگا اور دوسرا فریق وہ ہوگا جو شیطان کے احکام کا پیروکار ہوگا۔

الأعراف 7:29

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) فَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ إِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ (30) ” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ “ یہ آیت ایک خوشنما خوشے کی طرح ہے جس کے اندر اس عظیم سفر انسانیت کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام دونوں آگئے ہیں۔ آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) ” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ “ تمہاری زندگی کا آغاز جوڑے کی شکل میں ہوا ‘ آدم اور حوا شیطان اور اس کے حواری ‘ اسی طرح دوبارہ تمہیں پیدا کیا جائے گا ۔ ایک فریق مسلم اور مطیع ہوگا اور یہ آدم اور حوا کے زمرے میں ہوگا اور مومن ہوگا۔ دوسرا گروہ ابلیس کے حواریوں اور متبعین کا ہوگا اور اللہ ان کے ساتھ جہنم کو بھر دے گا ۔ یہ ابلیس کے دوست ہوں گے اور ابلیس ان کا دوست ہوگا اور اسی وجہ سے وہ جہنم میں جائیں گے اگرچہ ان کا خیال یہ ہوگا کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔ جس شخص کا دوست اللہ ہو وہ ہدایت پر ہوگا اور جس شخص کا دوست شیطان ہو وہ گمراہ ہوگا اور اس طرح یہ دونوں فریق لوٹ کر آئیں گے ۔ (فریقا ھدی ۔۔۔۔۔۔۔ ) ” ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ بنا لیا ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر رہیں ۔ “ اسی طرح وہ واپس آرہے ہوں گے ۔ غرض ایک ہی لمحے میں سفر کا آغاز ہوا اور دوسرے میں انجام کی منظر کشی کردی گئی ۔ یہ ہے قرآن کریم کا معجزاہ انداز بیان اور قرآن کے علاوہ آج تک کسی عبارت میں یہ اسلوب نہیں پایا گیا ۔ اب بنی آدم کو دوبارہ پکارا جاتا ہے اور یہ تیسری پکار بھی اسی وقفے میں ہے ۔ آگے انسانیت کا عظیم سفر دوبارہ شروع ہونے والا ہے جو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہے گا ۔

الأعراف 7:30

آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) فَرِیْقاً ہَدَی وَفَرِیْقاً حَقَّ عَلَیْْہِمُ الضَّلاَلَۃُ إِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیَاطِیْنَ أَوْلِیَاء مِن دُونِ اللّہِ وَیَحْسَبُونَ أَنَّہُم مُّہْتَدُونَ (30) ” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھایا ہے ‘ مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہو کر رہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں ۔ “ یہ آیت ایک خوشنما خوشے کی طرح ہے جس کے اندر اس عظیم سفر انسانیت کا نقطہ آغاز اور نقطہ اختتام دونوں آگئے ہیں۔ آیت ” کَمَا بَدَأَکُمْ تَعُودُونَ (29) ” جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا اسی طرح تم پھر پیدا کئے جاؤ گے ۔ “ تمہاری زندگی کا آغاز جوڑے کی شکل میں ہوا ‘ آدم اور حوا شیطان اور اس کے حواری ‘ اسی طرح دوبارہ تمہیں پیدا کیا جائے گا ۔ ایک فریق مسلم اور مطیع ہوگا اور یہ آدم اور حوا کے زمرے میں ہوگا اور مومن ہوگا۔ دوسرا گروہ ابلیس کے حواریوں اور متبعین کا ہوگا اور اللہ ان کے ساتھ جہنم کو بھر دے گا ۔ یہ ابلیس کے دوست ہوں گے اور ابلیس ان کا دوست ہوگا اور اسی وجہ سے وہ جہنم میں جائیں گے اگرچہ ان کا خیال یہ ہوگا کہ وہ ہدایت پر ہیں ۔ جس شخص کا دوست اللہ ہو وہ ہدایت پر ہوگا اور جس شخص کا دوست شیطان ہو وہ گمراہ ہوگا اور اس طرح یہ دونوں فریق لوٹ کر آئیں گے ۔ (فریقا ھدی ۔۔۔۔۔۔۔ ) ” ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ بنا لیا ہے۔ وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر رہیں ۔ “ اسی طرح وہ واپس آرہے ہوں گے ۔ غرض ایک ہی لمحے میں سفر کا آغاز ہوا اور دوسرے میں انجام کی منظر کشی کردی گئی ۔ یہ ہے قرآن کریم کا معجزاہ انداز بیان اور قرآن کے علاوہ آج تک کسی عبارت میں یہ اسلوب نہیں پایا گیا ۔ اب بنی آدم کو دوبارہ پکارا جاتا ہے اور یہ تیسری پکار بھی اسی وقفے میں ہے ۔ آگے انسانیت کا عظیم سفر دوبارہ شروع ہونے والا ہے جو اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری رہے گا ۔

الأعراف 7:31

آیت ” نمبر 31 تا 33۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کے اساسی عقائد پر تاکید مزید ہے۔ زور اس بات پر دیا جارہا ہے کہ عرب جاہلیت کے مقابلے میں اسلام کی اساس ان امور پر ہے ۔ یہ نظریہ پوری انسانیت کے لئے تجویز کیا گیا ہے اور اسے اس بحث کے ضمن میں لایا گیا ہے جو اس کرہ ارض پوری انسانیت کی تخلیق کے قصے سے متعلق ہے۔ ان حقائق میں سے اہم ترین حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس مخلوق ‘ انسان کے لئے جن چیزوں کو پیدا کیا ہے ‘ اس میں سے بعض چیزوں کو خود بعض انسان حرام قرار دیتے ہیں اور کام بھی وہ اذن الہی کے بغیر کرتے ہیں اور اللہ کے قانون میں سے کسی سند کے بغیر جبکہ ان کا یہ فعل یعنی یہ تحریم وتحلیل ایک شرکیہ فعل ہے ۔ پھر یہ اللہ تعالیٰ پر ایک افتراء بھی ہے اور ان کا ذاتی زعم بھی ۔ چناچہ اللہ ان کو پکارتے ہیں کہ اللہ نے تمہاری زیب وزینت کے لئے جو سامان پیدا کیا ہے اس سے آراستہ رہو۔ عربی میں اسے ” ریش “ کہتے ہیں خصوصا عبادت کے وقت اور عبادات میں طواف بھی شامل ہے ‘ جسے وہ برہنہ حالت میں ادا کرتے تھے ۔ وہ ایسے لباسوں کو حرام قرار دیتے تھے جنہیں اللہ نے حرام قرار نہیں دیا بلکہ وہ بندوں کے لئے انعام واکرام تھا ۔ لہذا ان کے لئے بہتر ہے کہ وہ اللہ کے فراہم کردہ زیب وزینت میں اس کی عبادت کریں ‘ نہ کہ ننگے ہو کر اور نہ ہی فحاشی کرتے ہوئے ۔ آیت ” یَا بَنِیْ آدَمَ خُذُواْ زِیْنَتَکُمْ “۔ (7 : 31) ” اے بنی آدم ‘ ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو۔ “ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ پوری انسانیت کو یہ بھی حکم دیتے ہیں کہ یہاں پاکیزہ چیزوں کو استعمال کرو اور کھانے پینے کی قسم کی تمام چیزوں کو کام میں لاؤ ۔ لیکن اسراف نہ کرو ‘ اور دوسرے یہ کہ پاکیزہ چیزیں استعمال میں لاؤ ۔ آیت ” وکُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ (31) ” اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو ‘ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ “ احادیت میں وارد ہے کہ جس طرح وہ لوگ بعض اوقات لباس کو حرام قرار دیتے تھے ‘ اسی طرح وہ بعض کپڑوں کو پہننا بھی حرام سمجھتے تھے ۔ اور یہ باتیں قریش نے اپنی طرف سے گھڑ لی تھیں ۔ صحیح مسلم مٰن ہشام ابن عروہ کی روایت ہے کہ عرب بیت اللہ کا طواف عریانی کی حالت میں کرتے تھے ماسوائے قریش اور ان کی اولاد کے ۔ یہ لوگ ننگے ہو کر طواف کرتے تھے ‘ الا یہ کہ قریش انہیں کپڑے دیں ۔ چناچہ قریش کے مرد مردوں کو کپڑے دیتے تھے اور عورتیں عورتوں کو ‘ نیز قریش مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے جبکہ دوسرے لوگ عرفات تک جاتے تھے ۔ قریش یہ کہتے تھے کہ ہم حرم والے ہیں اس لئے کسی عرب کو یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ہمارے کپڑوں کے سوا کسی اور کپڑے میں طواف کرے ۔ اسی طرح جب کوئی عرب حرم میں داخل ہو تو وہ سرف اہل قریش کا کھانا کھا سکتا ہے اس لئے کہ اگر کسی عرب کا مکہ میں دوست نہ ہوتا جو اسے کپڑے عاریتا دے سکتا ‘ اور یا اگر اسے یہ سہولت حاصل نہ ہوتی کہ وہ کرایہ کے کپڑے خرید سکتا تو اس کے لئے دو راستے کھلے ہوئے تھے ‘ ایک یہ کہ وہ عریانی کی حالت میں طواف کرے اور یا کپڑوں میں طواف کرکے کپڑے پھینک دے ۔ ایسے کپڑوں کو لقی کہا جاتا تھا اور پھر انہیں کوئی بھی ہاتھ نہ لگاتا ۔ “ قرطبی ‘ احکام القرآن میں لکھتے ہیں : کہا جاتا ہے کہ عرب ایمان حج میں مرغن غذا نہ کھاتے تھے اور تھوڑا بہت کھاتے تھے اور برہنہ حالت میں طواف کرتے تھے ۔ انہیں کہا گیا ” ہر عبادت کے وقت اپنے آپ کو زینت سے آراستہ کرو اور کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ “ یعنی جو چیزیں تم پر حرام نہیں قرار دی گئی ہیں ان کو حرام کرنے میں اسراف نہ کرو۔ اس لئے کہ اسراف کے معنی ہیں حد سے تجاوز کرنا اور حد سے تجاوز یہ بھی ہے کہ حلال چیزوں کو حرام قرار دیا جائے ۔ جائز کرنے میں حدود توڑنا اور حرام کرنے میں حدود سے آگے بڑھنا دونوں تجاوزات میں آتے ہیں۔ یہاں قرآن کریم صرف اس بات پر اکتفاء نہیں کرتا کہ ہر عبادت گاہ میں صرف لباس زیب تن کر کے جاؤ اور اللہ کے پیدا کردہ پاکیزہ رزق سے فائدہ اٹھاؤ اور کھاؤ پیو ‘ بلکہ بطور استکار ان لوگوں سے پوچھتا ہے کہ اللہ نے لوگوں کے لئے زیب وزینت کی جو چیزیں پیدا کی ہیں انہیں کس نے حرام قرار دیا ہے اور جو پاکیزہ خوراک پیدا کی ہے اسے کس نے حرام قرار دیا ہے ۔ اس لئے کہ لوگوں کی جانب سے از خود رزق کو حلال قرار دینا اور اپنے اوپر زیب وزینت کو حرام قرار دینا کس کے اذن سے ہے ‘ کیونکہ حلال و حرام کا تعین من جانب شارع ہوتا ہے ۔ آیت ” قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَۃَ اللّہِ الَّتِیَ أَخْرَجَ لِعِبَادِہِ وَالْطَّیِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ “۔ (7 : 32) ” اے نبی ﷺ ان سے کہو کس نے اللہ کی اس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کیلئے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں ؟ “ اس تنبیہ آمیز سوال کے بعد یہ قرار دیا جاتا ہے کہ یہ لباس اور یہ پاکیزہ رزق اہل ایمان کا حق ہے ‘ اس لئے کہ وہ مومن ہیں اور وہ اس رب پر ایمان لانے والے ہیں جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے ‘ اگرچہ ان چیزوں میں غیر مومن اس دنیا کی حد تک انکے ساتھ شریک ہیں لیکن قیامت میں اور اگلے جہاں میں تو یہ چیزیں خالصتا مومنین کے لئے ہیں اور وہاں کفار کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ آیت ” قُلْ ہِیْ لِلَّذِیْنَ آمَنُواْ فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا خَالِصَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ “ (7 : 32) ” کہو ‘ یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لئے ہیں ‘ اور قیامت کے روز تو خالصتا انہیں کے لئے ہوں گی ۔ “ اس لئے اگر صورت حال یہ ہے تو یہ حرام کیسے ہوسکتی ہیں ؟ ایک چیز قیامت میں تو مسلمانوں کے لئے خاص ہو اور یہاں پر حرام ہو ۔

الأعراف 7:32

آیت ” کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (32) ” اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھنے والے ہیں ۔ “ اور جو لوگ اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہی اس بیان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ رہی وہ چیز جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو اگر اس کا تعلق لباس سے ہے تو بھی وہ صحت مند لباس نہیں ہے ۔ اگر اس کا تعلق خوراک واسکاک سے ہے تو وہ طیب نہیں ہے ماسوائے اسراف اور کبروغرور کے ۔ حرام تو وہ چیزیں ہیں جن کا ارتکاب وہ رات دن کر رہے ہیں۔ آیت ” قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِکُواْ بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (33) اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں : بےشرمی کے کام ۔۔۔۔۔۔ خواہ کھلے ہوں یا چھپے ۔۔۔۔۔ اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لئے اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ‘ اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو ۔ (کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے) یہ ہیں وہ چیزیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ وہ فحش افعال جو حدود الہیہ سے متجاوز ہوں ۔ چاہے وہ ظاہر ہوں یا خفیہ ہوں ‘ (اثم) ہر معصیت کو کہتے ہیں ۔ (بغی بغیر الحق) وہ ظلم جو حق و انصاف کے خلاف ہو ‘ اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا جبکہ شرک کی پست پر کوئی قوت دلیل نہیں ہوتی ۔ اس شرک میں وہ بھی شامل ہے جو عرب جاہلیت میں بھی تھی اور اس کے علاوہ بھی تمام جاہلیتوں میں تھی کہ قانون سازی میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے حالانکہ قانون سازی اور شریعت سازی اللہ کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے ۔ اللہ کی طرف ایسی باتوں کی نسبت کرنا جو خود نسبت کرنے والے کے علم میں بھی نہ ہوں ‘ مثلا وہ جن چیزوں کو حلال و حرام قرار دیتے تھے وہ ان کے علم میں نہ تھیں اور وہ بغیر علم ویقین کے ان کی نسبت اللہ کی طرف کرتے تھے ۔ یہ بجائے خود شرک ہے ۔ اس سلسلے میں کلبی نے ایک عجیب روایت نقل کی ہے کہ جب مشرکین کو یہ خطاب کیا گیا اور ان پر یہ گرفت کی گئی تو اس وقت ان کی حالت یہ تھی کہ ” جب مسلمانوں نے لباس پہن کر بیت اللہ کا طواف کیا تو مشرکین نے ان کو غیرت دلائی اور انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر جاہلیت اپنے پیروکاروں کو کس حد تک پہنچا دیتی ہے۔ بعض لوگ ننگے بیت اللہ کا طواف کرتے تھے ۔ ان کی فطرت نے اپنی حالت بدل دی تھی اور ان کی فطرت اس حقیقی شرم وحیا سے محروم ہوچکی تھی جس کے بارے میں قصہ آدم وابلیس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ شرم وحیا آدم وحوا میں موجود تھا کیونکہ ” جب انہوں نے درخت کو چکھا تو انکی شرمگائیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے درختوں کے پتے لپیٹنے لگے ۔ جب کفار نے دیکھا کہ مسلمان تو لباس پہن کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں اور زیب وزینت کے ساتھ طواف کر رہے ہیں اور ستر و شرافت کے ساتھ کر رہے ہیں تاکہ ان میں فطرت کے عین مطابق انسانی خصوصیات پروان چڑھیں اور وہ حیوانوں کی طرح عریانی سے محفوظ رہیں۔ جب مسلمانوں نے یہ فطری حال اختیار کی تو انہوں نے اس پر نکتہ چینی شروع کردی ۔ یہ ہے جاہلیت کا کارنامہ ۔ وہ لوگوں کی فطرت ‘ ان کی روح ‘ انکے تصورات اور انکی اقدار اور پیمانوں کو مسخ کردیتی ہے ۔ آج دور جدید کی جاہلیت لوگوں کے ساتھ وہی کچھ کررہی ہے جو ان کے ساتھ جاہلیت عربیہ کر رہی تھی یا اس سے پہلے یونانی جاہلیت کر رہی تھی یا رومی جاہلیت کر رہی تھی یا فارس کی مشرک جاہلیت کر رہی تھی غرض ہر خطے اور ہر دور میں جاہلیت کے یہی خدوخال رہے ہیں ۔ دور جدید کی جاہلیت کیا کر رہی ہے ‘ صرف یہ کہ وہ لوگوں کو ننگا کر رہی ہے ۔ ان کے جسم سے شرم وحیا اور تقوی کے لباس کا اتار رہی ہے ۔ اس کام کو وہ ترقی اور تہذیب و تمدن کا نام دیتی ہے ۔ اس کے بعد وہ شریف زادوں اور شریف زادیوں کو طعنہ دیتی ہے کہ وہ رجعت پسند ‘ مقلد روایت پسند اور دیہاتی ہیں۔ مسخ فطرت کو مسخ کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے ۔ فطرت سے روگردانی کرنے کو فطرت کا فساد ہی کہا جاسکتا ہے ۔ حسن وقبح کے پیمانے بدل جانے کو ضمر کا بدلنا ہی کہا جاسکتا ہے اور اس پر اگر کوئی فخر بھی کرتا ہے تو وہ اس کا احمقانہ غرور ہی ہوگا بلکہ صریح سرکشی ہوگی ۔ کیونکہ اس بیماری اس حیوانیت اور اس سرکشی کا تعلق شرک کے ساتھ ہے ‘ یہ دراصل اربابا من دون اللہ کی طرف سے ان کے قانون سازی اور ضابطہ بندی ہے اور انہوں نے مل کر ایک دوسرے کو اس کی وصیت کی ہے ۔ عرب مشرکین اس قسم کی ہدایات اپنے علاقے کے حاکموں سے اخذ کرتے تھے اور یہ حکام ان کا استحصال کرتے تھے ‘ محض ان کی جہالت کی وجہ سے اور ان سے اس قسم کے غیر معقول کام کروا کر ان پر اپنی قیادت وسیادت مسلط کرتے جن میں کاہن سردار اور امراء سب شامل تھے ۔ آج بھی لوگ اپنی دنیاوی قیادتوں سے ایسی ہی ہدایات اخذ کرتے ہیں اور ان کی ہدایات کی تعمیل خدائی احکام کی طرح فرض ہوتی ہے ۔ کوئی انہیں رد نہیں کرسکتا ۔ آج آرائش کی دکانیں اور ان کی منصوبہ بندی کرنے والے ‘ اسی طرح فیشن کی منصوبہ بندی کرنے والے وہ ارباب ہیں جن کے جال میں دورجدید کی جاہلیت میں بسنے والی تمام عورتیں اور مرد پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ ارباب اپنے احکام صادر کرتے ہیں اور ان کی تعمیل وہ تمام لوگ کرتے ہیں جو پوری دنیا میں ننگی ٹکڑیوں کی شکل میں موجود ہیں اور یہ لوگ ان منصوبہ سازوں کے احکام کی تعمیل نہایت ہی بےبسی کی حالت میں کرتے ہیں ۔ یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے نئے سال کے لئے جو فیشن تیار کرلیا گیا ہے وہ انکے حالات اور ضروریات کے لئے مناسب بھی ہے یا نہیں ۔ یہ لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ لباس ان کیلئے مفید ہے یا نہیں بلکہ نہایت ہی عاجزی سے یہ لوگ ان کے اشاروں پر چلتے ہیں ۔ اگر یہ نہ چلیں تو ان پر دوسرے مویشی اور حیوانات حرف گیری کرتے ہیں اور طعنے دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آرائش وزیبائش اور فیشن ہاؤس کے پیچھے کون سے قوتیں کام کر رہی ہیں ؟ اور یہ کون سی قوتیں ہیں جو لوگوں کو ننگا کر رہی ہیں ۔ ناولوں اور فلموں کے پیچھے کیا مقاصد کام کررہے ہیں ؟ رسالوں اور اخباروں کی پشت پر کون سی قوتیں کار فرما ہیں ۔ بعض اخبارات تو مسلسل اخلاقی پستی اور اخلاقی فساد پھیلا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کی پشت پر وہ کون سی خفیہ قوت ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ تمام عالمی فساد کی پشت پر یہودیوں کی قوت ہے ۔ یہ یہودی ہی ہیں جو دراصل ان لوگوں کے خدا بنے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی نکیل ان کے ہاتھ میں دے دی ہے ۔ وہ اپنے مقاصد دنیا میں اس قسم کی لہریں پیدا کرکے حاصل کرتے ہیں اور پوری دنیا ان مقاصد کیلئے بھاری قیمت ادا کرکے کام کر رہی ہے ۔ ان مقاصد کے لئے وہ لوگوں کے اندر نفسیاتی بےچینی پھیلاتے ہیں ‘ انسانی فطرت کو بدلتے ہیں اور انسان کو فیشن اور جنسی بےراہ روی کے ہاتھ میں ایک کھلونا بنادیا گیا ہے ۔ اس اسراف وتبذیر اور اخلاقی فساد کے ذریعے یہ یہودی قوت اپنے معاشی مقاصد پورے کرتی ہے ۔ کیونکہ فیشن اور میک اپ اور سامان تعیش کے کارخانے عالمی یہودیت نے لگا رکھے ہیں اور یہ لوگوں کے اندر مانگ پیدا کرکے پھر ان اشیاء کو ان پر ہی فروخت کرتے ہیں ۔ لباس اور فیشن کا معاملہ اسلامی شریعت سے جدا نہیں ہے ۔ اسلامی نظام حیات میں اس کے لئے بھی ضابطہ مقرر ہے ۔ اور اسی لئے اسے ایمان اور توحید وشرک کے اساسی مسئلے کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے ۔ مختلف اسباب کی بناء پر یہ مسئلہ نظریات اور شریعت کے ساتھ مربوط ہے ۔ ٭ لباس کا تعلق اللہ کے اقتدار اعلی سے ہے کیونکہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس کی طرف ہمیں اس معاملے میں رجوع کرنا ہے کیونکہ لباس ایک ایسی چیز ہے جس کے اثرات اخلاق ‘ معیشت اور زندگی کے دوسرے اہم معاملات پر پڑتے ہیں ۔ ٭ لباس ہی کے ذریعے انسان کی انسانی خصوصیات کا ظہور ہوتا ہے اور انسانی شخصیت کے حیوانی پہلو کو دبا کر انسانی پہلو کو نمایاں کیا جاتا ہے ۔ ہر جاہلیت کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ عوام الناس کے ذوق ‘ ان کے اخلاق اور ان کے حسن وقبح کے پیمانے بدل دیتی ہے اور عریانی اور حیوانیت کو ترقی کا نام دیتی ہے ۔ اور ستر اور حیاچشمی کو رجعت پسندی اور پسماندگی کہتی ہے ۔ ایسی صورت میں انسانی فطرت کو مسخ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ہمارے ہاں آج اس قسم کے جاہل موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ لباس کا دین اور مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ دین کا عورتوں کے لباس کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ دین و مذہب اور آرائش وزیبائش کا آپس میں تعلق ہی کیا ہے ؟ یہ ہے وہ فکری بگاڑ جو جاہلیت ہر دور میں اور ہر جگہ پیدا کرتی ہے ۔ بظاہر تو لباس کا مسئلہ ایک جزئی مسئلہ نظر آتا ہے لیکن اسلام اور رب تعالیٰ کے ہاں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ایک تو اس کا تعلق توحید وشرک کے مسئلے سے ہے ‘ دوسرے اس کا تعلق انسان کے اخلاق ومعاشرے کی اصلاح و فساد کے ساتھ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس پر ایک نہایت ہی موثر اور پرزور تبصرہ کیا گیا ہے ۔ یہ تبصرہ عموما قرآن کریم میں بڑے بڑے اور اہم مسائل پر بحث کے بعد کیا گیا ہے ۔ اس تبصرے میں بنی آدم کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ انہیں اپنی اصل حقیقت پر بھی غور کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ان کا رہنا اور سہنا بہرحال ایک محدود مدت تک کے لئے ہے اور ایک دن انہیں یہاں سے جانا ہے جس کا وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک منٹ کی تاخیر وتقدیم نہیں ہو سکتی ۔

الأعراف 7:33

آیت ” کَذَلِکَ نُفَصِّلُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ (32) ” اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھنے والے ہیں ۔ “ اور جو لوگ اس دین کی حقیقت کو سمجھتے ہیں وہی اس بیان سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ رہی وہ چیز جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے تو اگر اس کا تعلق لباس سے ہے تو بھی وہ صحت مند لباس نہیں ہے ۔ اگر اس کا تعلق خوراک واسکاک سے ہے تو وہ طیب نہیں ہے ماسوائے اسراف اور کبروغرور کے ۔ حرام تو وہ چیزیں ہیں جن کا ارتکاب وہ رات دن کر رہے ہیں۔ آیت ” قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالإِثْمَ وَالْبَغْیَ بِغَیْْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِکُواْ بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً وَأَن تَقُولُواْ عَلَی اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (33) اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں : بےشرمی کے کام ۔۔۔۔۔۔ خواہ کھلے ہوں یا چھپے ۔۔۔۔۔ اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لئے اس نے کوئی سند نازل نہیں کی ‘ اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو ۔ (کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے) یہ ہیں وہ چیزیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے ۔ وہ فحش افعال جو حدود الہیہ سے متجاوز ہوں ۔ چاہے وہ ظاہر ہوں یا خفیہ ہوں ‘ (اثم) ہر معصیت کو کہتے ہیں ۔ (بغی بغیر الحق) وہ ظلم جو حق و انصاف کے خلاف ہو ‘ اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا جبکہ شرک کی پست پر کوئی قوت دلیل نہیں ہوتی ۔ اس شرک میں وہ بھی شامل ہے جو عرب جاہلیت میں بھی تھی اور اس کے علاوہ بھی تمام جاہلیتوں میں تھی کہ قانون سازی میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے حالانکہ قانون سازی اور شریعت سازی اللہ کی اہم خصوصیات میں سے ایک ہے ۔ اللہ کی طرف ایسی باتوں کی نسبت کرنا جو خود نسبت کرنے والے کے علم میں بھی نہ ہوں ‘ مثلا وہ جن چیزوں کو حلال و حرام قرار دیتے تھے وہ ان کے علم میں نہ تھیں اور وہ بغیر علم ویقین کے ان کی نسبت اللہ کی طرف کرتے تھے ۔ یہ بجائے خود شرک ہے ۔ اس سلسلے میں کلبی نے ایک عجیب روایت نقل کی ہے کہ جب مشرکین کو یہ خطاب کیا گیا اور ان پر یہ گرفت کی گئی تو اس وقت ان کی حالت یہ تھی کہ ” جب مسلمانوں نے لباس پہن کر بیت اللہ کا طواف کیا تو مشرکین نے ان کو غیرت دلائی اور انہیں شرمندہ کرنے کی کوشش کی ۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر جاہلیت اپنے پیروکاروں کو کس حد تک پہنچا دیتی ہے۔ بعض لوگ ننگے بیت اللہ کا طواف کرتے تھے ۔ ان کی فطرت نے اپنی حالت بدل دی تھی اور ان کی فطرت اس حقیقی شرم وحیا سے محروم ہوچکی تھی جس کے بارے میں قصہ آدم وابلیس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ شرم وحیا آدم وحوا میں موجود تھا کیونکہ ” جب انہوں نے درخت کو چکھا تو انکی شرمگائیں ظاہر ہوگئیں اور وہ اپنے اوپر جنت کے درختوں کے پتے لپیٹنے لگے ۔ جب کفار نے دیکھا کہ مسلمان تو لباس پہن کر بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں اور زیب وزینت کے ساتھ طواف کر رہے ہیں اور ستر و شرافت کے ساتھ کر رہے ہیں تاکہ ان میں فطرت کے عین مطابق انسانی خصوصیات پروان چڑھیں اور وہ حیوانوں کی طرح عریانی سے محفوظ رہیں۔ جب مسلمانوں نے یہ فطری حال اختیار کی تو انہوں نے اس پر نکتہ چینی شروع کردی ۔ یہ ہے جاہلیت کا کارنامہ ۔ وہ لوگوں کی فطرت ‘ ان کی روح ‘ انکے تصورات اور انکی اقدار اور پیمانوں کو مسخ کردیتی ہے ۔ آج دور جدید کی جاہلیت لوگوں کے ساتھ وہی کچھ کررہی ہے جو ان کے ساتھ جاہلیت عربیہ کر رہی تھی یا اس سے پہلے یونانی جاہلیت کر رہی تھی یا رومی جاہلیت کر رہی تھی یا فارس کی مشرک جاہلیت کر رہی تھی غرض ہر خطے اور ہر دور میں جاہلیت کے یہی خدوخال رہے ہیں ۔ دور جدید کی جاہلیت کیا کر رہی ہے ‘ صرف یہ کہ وہ لوگوں کو ننگا کر رہی ہے ۔ ان کے جسم سے شرم وحیا اور تقوی کے لباس کا اتار رہی ہے ۔ اس کام کو وہ ترقی اور تہذیب و تمدن کا نام دیتی ہے ۔ اس کے بعد وہ شریف زادوں اور شریف زادیوں کو طعنہ دیتی ہے کہ وہ رجعت پسند ‘ مقلد روایت پسند اور دیہاتی ہیں۔ مسخ فطرت کو مسخ کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے ۔ فطرت سے روگردانی کرنے کو فطرت کا فساد ہی کہا جاسکتا ہے ۔ حسن وقبح کے پیمانے بدل جانے کو ضمر کا بدلنا ہی کہا جاسکتا ہے اور اس پر اگر کوئی فخر بھی کرتا ہے تو وہ اس کا احمقانہ غرور ہی ہوگا بلکہ صریح سرکشی ہوگی ۔ کیونکہ اس بیماری اس حیوانیت اور اس سرکشی کا تعلق شرک کے ساتھ ہے ‘ یہ دراصل اربابا من دون اللہ کی طرف سے ان کے قانون سازی اور ضابطہ بندی ہے اور انہوں نے مل کر ایک دوسرے کو اس کی وصیت کی ہے ۔ عرب مشرکین اس قسم کی ہدایات اپنے علاقے کے حاکموں سے اخذ کرتے تھے اور یہ حکام ان کا استحصال کرتے تھے ‘ محض ان کی جہالت کی وجہ سے اور ان سے اس قسم کے غیر معقول کام کروا کر ان پر اپنی قیادت وسیادت مسلط کرتے جن میں کاہن سردار اور امراء سب شامل تھے ۔ آج بھی لوگ اپنی دنیاوی قیادتوں سے ایسی ہی ہدایات اخذ کرتے ہیں اور ان کی ہدایات کی تعمیل خدائی احکام کی طرح فرض ہوتی ہے ۔ کوئی انہیں رد نہیں کرسکتا ۔ آج آرائش کی دکانیں اور ان کی منصوبہ بندی کرنے والے ‘ اسی طرح فیشن کی منصوبہ بندی کرنے والے وہ ارباب ہیں جن کے جال میں دورجدید کی جاہلیت میں بسنے والی تمام عورتیں اور مرد پھنسے ہوئے ہیں ۔ یہ ارباب اپنے احکام صادر کرتے ہیں اور ان کی تعمیل وہ تمام لوگ کرتے ہیں جو پوری دنیا میں ننگی ٹکڑیوں کی شکل میں موجود ہیں اور یہ لوگ ان منصوبہ سازوں کے احکام کی تعمیل نہایت ہی بےبسی کی حالت میں کرتے ہیں ۔ یہ لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے نئے سال کے لئے جو فیشن تیار کرلیا گیا ہے وہ انکے حالات اور ضروریات کے لئے مناسب بھی ہے یا نہیں ۔ یہ لوگ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ لباس ان کیلئے مفید ہے یا نہیں بلکہ نہایت ہی عاجزی سے یہ لوگ ان کے اشاروں پر چلتے ہیں ۔ اگر یہ نہ چلیں تو ان پر دوسرے مویشی اور حیوانات حرف گیری کرتے ہیں اور طعنے دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آرائش وزیبائش اور فیشن ہاؤس کے پیچھے کون سے قوتیں کام کر رہی ہیں ؟ اور یہ کون سی قوتیں ہیں جو لوگوں کو ننگا کر رہی ہیں ۔ ناولوں اور فلموں کے پیچھے کیا مقاصد کام کررہے ہیں ؟ رسالوں اور اخباروں کی پشت پر کون سی قوتیں کار فرما ہیں ۔ بعض اخبارات تو مسلسل اخلاقی پستی اور اخلاقی فساد پھیلا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کی پشت پر وہ کون سی خفیہ قوت ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ تمام عالمی فساد کی پشت پر یہودیوں کی قوت ہے ۔ یہ یہودی ہی ہیں جو دراصل ان لوگوں کے خدا بنے ہوئے ہیں جنہوں نے اپنی نکیل ان کے ہاتھ میں دے دی ہے ۔ وہ اپنے مقاصد دنیا میں اس قسم کی لہریں پیدا کرکے حاصل کرتے ہیں اور پوری دنیا ان مقاصد کیلئے بھاری قیمت ادا کرکے کام کر رہی ہے ۔ ان مقاصد کے لئے وہ لوگوں کے اندر نفسیاتی بےچینی پھیلاتے ہیں ‘ انسانی فطرت کو بدلتے ہیں اور انسان کو فیشن اور جنسی بےراہ روی کے ہاتھ میں ایک کھلونا بنادیا گیا ہے ۔ اس اسراف وتبذیر اور اخلاقی فساد کے ذریعے یہ یہودی قوت اپنے معاشی مقاصد پورے کرتی ہے ۔ کیونکہ فیشن اور میک اپ اور سامان تعیش کے کارخانے عالمی یہودیت نے لگا رکھے ہیں اور یہ لوگوں کے اندر مانگ پیدا کرکے پھر ان اشیاء کو ان پر ہی فروخت کرتے ہیں ۔ لباس اور فیشن کا معاملہ اسلامی شریعت سے جدا نہیں ہے ۔ اسلامی نظام حیات میں اس کے لئے بھی ضابطہ مقرر ہے ۔ اور اسی لئے اسے ایمان اور توحید وشرک کے اساسی مسئلے کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے ۔ مختلف اسباب کی بناء پر یہ مسئلہ نظریات اور شریعت کے ساتھ مربوط ہے ۔ ٭ لباس کا تعلق اللہ کے اقتدار اعلی سے ہے کیونکہ اللہ ہی وہ ذات ہے جس کی طرف ہمیں اس معاملے میں رجوع کرنا ہے کیونکہ لباس ایک ایسی چیز ہے جس کے اثرات اخلاق ‘ معیشت اور زندگی کے دوسرے اہم معاملات پر پڑتے ہیں ۔ ٭ لباس ہی کے ذریعے انسان کی انسانی خصوصیات کا ظہور ہوتا ہے اور انسانی شخصیت کے حیوانی پہلو کو دبا کر انسانی پہلو کو نمایاں کیا جاتا ہے ۔ ہر جاہلیت کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ عوام الناس کے ذوق ‘ ان کے اخلاق اور ان کے حسن وقبح کے پیمانے بدل دیتی ہے اور عریانی اور حیوانیت کو ترقی کا نام دیتی ہے ۔ اور ستر اور حیاچشمی کو رجعت پسندی اور پسماندگی کہتی ہے ۔ ایسی صورت میں انسانی فطرت کو مسخ کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ہمارے ہاں آج اس قسم کے جاہل موجود ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ لباس کا دین اور مذہب کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ دین کا عورتوں کے لباس کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ دین و مذہب اور آرائش وزیبائش کا آپس میں تعلق ہی کیا ہے ؟ یہ ہے وہ فکری بگاڑ جو جاہلیت ہر دور میں اور ہر جگہ پیدا کرتی ہے ۔ بظاہر تو لباس کا مسئلہ ایک جزئی مسئلہ نظر آتا ہے لیکن اسلام اور رب تعالیٰ کے ہاں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے کیونکہ ایک تو اس کا تعلق توحید وشرک کے مسئلے سے ہے ‘ دوسرے اس کا تعلق انسان کے اخلاق ومعاشرے کی اصلاح و فساد کے ساتھ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس پر ایک نہایت ہی موثر اور پرزور تبصرہ کیا گیا ہے ۔ یہ تبصرہ عموما قرآن کریم میں بڑے بڑے اور اہم مسائل پر بحث کے بعد کیا گیا ہے ۔ اس تبصرے میں بنی آدم کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ انہیں اپنی اصل حقیقت پر بھی غور کرنا چاہئے اور وہ یہ ہے کہ یہاں ان کا رہنا اور سہنا بہرحال ایک محدود مدت تک کے لئے ہے اور ایک دن انہیں یہاں سے جانا ہے جس کا وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک منٹ کی تاخیر وتقدیم نہیں ہو سکتی ۔

الأعراف 7:34

آیت ” نمبر 34۔ اسلامی تصورحیات کا یہ ایک اساسی عقیدہ ہے۔ اور قرآن کریم بار بار غافل اور ناشکرے دلووں کے اندر اس کا جگاتا رہتا ہے تاکہ وہ اپنی اس زندگی اور اس کی محدود مہلت کو دائمی نہ سمجھ لیں اور سرکشی اختیار نہ کریں ۔ یہاں اس مہلت سے مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آج کی نسل انسانی کے لئے طبیعی زندگی کی ایک حد ہے اور اس سے مراد ملت اور تہذیب کی عمر طبیعی بھی ہو سکتی ہے ۔ جس میں اس کے اقتدار اعلی اور دنیا میں اس کی برتری کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ مراد کسی نسل کی عمر طبیعی ہو یا کسی ملت کی عمر طبیعی ہو ‘ بہرحال جب مہلت ختم ہو تو اس کے بعد ان کا زندہ رہنا مقتدر اعلی رہنا ممکن نہیں ہوتا ۔ ۔ یہاں بحث کے خاتمہ سے پہلے ایک عجیب نکتے پر اظہار خیال ضروری ہے۔ سورة انعام اور سورة اعراف میں جاہلیت کے زاوے سے نذر ونیاز ‘ حلال و حرام کے تعین کے مسائل پر قرآن نے جو منہاج بحث اختیار کیا اور مسائل لباس اور خوراک اور کھانوں کے مسائل پر جو بحث کی گئی اس میں ایک عجیب مماثلت پائی جاتی ہے ۔ وہاں ذبیحوں ‘ نذر ونیاز ‘ مویشیوں اور کھانوں پر بحث کا آغاز اس طرح کیا گیا کہ سب سے پہلے اس صورت حالات کو سامنے لایا گیا جو عملا موجود تھی اور کہا گیا کہ یہ اللہ پر افتراء ہے کہ اس صورت حالات کو منجانب اللہ شریعت سے تعبیر کیا جائے ۔ اس کے بعد کہا گیا کہ تم اس پر کوئی دلیل پیش کرو اگر تمہارے اس کوئی سند ہے تو ۔ کہا گیا ۔ آیت ” ام کنتم شھدا اذ وصکم اللہ بھذا “۔ کہ جب اللہ نے یہ شریعت بنائی اور تمہیں تلقین کی کہ اس پر عمل کرو کیا تم خود اس وقت موجود تھے ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ بولے اور جھوٹ اس لئے بولے کہ لوگوں کو بغیر علم کے وہ گمراہ کرے ‘ ایسا شخص ظالم ہے اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ اس کے بعد بیان یوں آگے بڑھا کہ کفار نے کہا کہ وہ جو شرک کر رہے ہیں وہ امر الہی کے نتیجے میں ہے ‘ اگر اللہ نہ چاہتا تو ایسا نہ ہوتا آیت ” سیقول الذین اشرکوا۔۔۔۔۔۔۔۔ ) وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا ہے وہ یہ کہیں گے کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے آباء کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرتے ۔ اسی طرح ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا ۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے کہ تم اسے ہمارے لئے نکال لاؤ ‘ تم تو ماسوائے ظن وتخمین کے کسی اور چیز کی پیروی نہیں کر رہے ہو ‘ بلکہ تم اپنی جانب سے باتیں گھڑتے ہو ‘ کہہ دو اللہ ہی کے پاس حجت بالغہ ہے ۔ اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔ کہہ دو ‘ لاؤ اپنے گواہوں کو جو یہ شہادت دیں کہ اللہ نے ان چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اے پیغمبر اگر کوئی گواہ یہ شہادت دے بھی تو تم اس کے ساتھ شہادت نہ دو اور ان لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے اور جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر قرار دیتے ہیں ۔ اس کے بعد وہاں ان کے ان مزعومات اور مفتریات کو مضحکہ خیز بتایا گیا اور کہا گیا کہ آؤ ‘ ہم تمہیں بتائیں کہ اللہ کی جانب سے کیا حرام ہے ‘ کیونکہ حلال و حرام کا اختیار اللہ کے پاس ہے۔ اور وہی کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دے سکتا ہے ۔ فرمایا آیت ” قل تعالواـ۔۔۔۔۔۔ “۔ کہہ دو آؤ میں تمہیں سناؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا حرام کیا ہے ؟ یہ کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ “۔ یہاں بھی اسی منہاج بحث کو اختیار کیا گیا ہے ۔ وہی مدارج بیان یہاں بھی ہیں ۔ پہلے ان کی صورت حالات کو پیش کیا گیا کہ وہ شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور از خود حلال و حرام کے حدود مقرر کرتے ہیں ‘ خصوصا لباس اور کھانوں کے معاملات میں ۔ پھر انہیں تنبیہ کی گئی کہ وہ فحاشی اور شرک جیسے خطرناک گناہوں میں مبتلا ہیں اور ان کے سامنے یہ حقیقت رکھی گئی کہ شیطان نے جنت میں کس طرح تمہارے باپ کو بےلباس کیا اور پھر یہ کہا گیا کہ لباس ستر اور لباس زینت تمہارے لئے اتارا گیا ہے اور یہ رب کی نعمت ہے ۔ اس کے بعدان کو یہ تنبیہ کی گئی کہ تمہارا یہ دعوی غلط ہے کہ یہ حلال و حرام جس پر تم عمل پیرا ہو یہ اللہ نے مقرر کئے ہوئے ہیں اور اللہ کی شریعت ہیں ۔ آیت ” قل من حرم زینۃ اللہ “۔ ” کہہ دیجئے کہ اللہ نے اپنے بندوں کے لئے جو زینت پیدا کی ہے اسے کس نے حرام قرار دیا ہے ؟ اور پھر پاکیزہ رزق ۔۔۔۔۔ کہہ دیجئے یہ دنیا کی زندگی میں ان لوگوں کے لئے ہیں جو ایمان لائیں ہیں اور قیامت میں تو خالصتا ان کے لئے ہیں ۔ ہم آیات کو مفصل ان لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جو ایمان لائیں ۔ “ تفصیل آیات میں یقینی علم کی طرف اشارہ ہے اور ان کی پیروی ضروری ہے۔ لوگ عبادات و شریعت کے بارے میں جس ظن وتخمین کی پیروی کرتے ہیں ۔ وہ درست نہیں ہے اور اس سلسلے میں ان کے تمام دعوے غلط ہیں ۔ اس کے بعد آخر میں بتایا جاتا ہے کہ آؤ تمہیں بتائیں اللہ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ۔ آیت ” قل انما حرم ربی الفواحش “۔ ” کہہ دیجئے میرے رب نے تو صرف ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام قرار دیا ہے ‘ مطلق گناہ ‘ بغیر حق کے دست درازی ‘ اور یہ کہ تم بےدلیل شرک کرو اور اللہ کی طرف ایسی باتیں منسوب کرو جن کے بارے میں تمہارے پاس علم نہیں ہے ۔ “ ۔ اور جس طرح اللہ نے لباس وطعام کے بارے میں احکام دیئے اسی طرح اس نے عبادت اور اکل وشرب کے بارے میں بھی دیئے ہیں ۔ آیت ” قل امر ربی بالقسط “۔ (7 : 29) ” کہہ دیجئے میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور عبادت کے وقت اپنے چہروں کو درست رکھو ‘ کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو ‘ اللہ اسراف کرنے والوں کو محبوب نہیں رکھتا۔ “۔ ان دونوں مباحث میں مسائل حلال و حرام کا تعلق ایمان اور شرک کے ساتھ جوڑا گیا ہے کیونکہ تحلیل وتحریم کا تعلق مسئلہ اقتدار اعلی سے ہے اور انسانوں میں سے کوئی مقتدر اعلی نہیں ہو سکتا ۔ نیز ان مسائل کا تعلق اس معاملے سے ہے کہ یہاں لوگ کس کی بندگی کریں گے ؟ غرض دونوں مقامات پر مسئلہ بھی ایک ہے اور منہاج بحث بھی ایک ہے اور اس بحث کے لئے جو درجے (Steps) رکھے گئے ہیں وہ بھی وہی ہیں ۔ (صدق اللہ العظیم) اور یہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہ قرآن کریم اگر اللہ کی جانب سے نہ ہوتا تو دیکھنے والا دیکھتا کہ اس میں اختلافات ہیں ۔ وحدت منہاج کی اہمیت اس وقت دوچند ہوجاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ سورة انعام اور سورة اعراف کے موضوعات بحث مختلف ہیں ۔ لیکن جاہلیت کے ساتھ جب اسلامی نظام کا مقابلہ ہوتا ہے تو منہاج بحث ایک جیسا ہوجاتا ہے ۔ ‘ خصوصا جبکہ بات اساسی موضوعات و تصورات پر ہو۔

الأعراف 7:35

درس نمبر 75 تشریح آیات : 35۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 53۔ قصہ تخلیق انسانیت پر تبصرہ کرنے کے لئے یہ ایک طویل وقفہ تھا ۔ اس تبصرے میں کہا گیا تھا کہ اس وقت انسانیت کس قسم کی جاہلیت میں ڈوبی ہوئی ہے اور اس کے مقابلے میں عرب جاہلیت کس مقام پر ہے ۔ جاہلیت کا موازنہ چند اساسی مسائل کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔ یعنی جسم کی ستر پوشی اور روح کی ستر پوشی لباس تقوی کے ساتھ ۔ جسم وروح کی سترپوشی کا تعلق اسلامی نظریہ حیات کے اساسی عقیدے ‘ عقیدہ توحید وشرک کے ساتھ ہے جو اسلامی نظریہ حیات کا بنیادی عقیدہ ہے ۔ اب یہاں سے انسانیت کے نام ایک دوسری پکار شروع ہوتی ہے ۔ اس ندا اور پکار کا تعلق مسئلہ لباس کے ساتھ بھی ہے اور انسانوں کے لئے زندگی کے تمام معاملات میں ہدایات لینے اور ان کا اتباع کرنے کے معاملے سے بھی ہے ۔ قانون سازی کے مسئلے سے بھی ہے اور دنیا میں اللہ کے اقتدار اعلی کے قیام کے مسئلے سے بھی ہے تاکہ لوگوں کو اچھی طرح از سر نو یہ بات معلوم ہوجائے کہ انہوں نے ان موضوعات پر ہدایات لینے کا قوام رسالت کا قوام ہے۔ اور زندگی کے موجودہ مرحلے کے اختتام پر قیامت کے دن حساب و کتاب اسی نقطہ نظر سے ہوگا کہ کس نے رسولوں سے ہدایات لے کر ان کی پیروی کی اور کس نے ان کی نافرمانی کی ؟ آیت ” نمبر 35 تا 36۔ اللہ کی جانب سے بنی آدم کو آغاز تخلیق ہی میں یہ صاف ہدایت تھی اور یہ اس کرہ ارض پر بنی آدم کے اقتدار اور خلافت کے لئے لازمی شرط بھی تھی ‘ کیونکہ یہ زمین اللہ نے پیدا کی ہے ۔ اس میں انسانوں کی زندگی کی ضروریات اس نے پیدا کی ہیں اور اس کے اوپر اقتدار واختیار اللہ ہی نے انسان کو عطا کیا ہے تاکہ انسان یہاں مناسب رول ادا کرسکے ‘ ورنہ انسان کا ہر قسم کا عمل مردود ہوگا اور اسے کوئی مسلمان قبول نہ کرے گا ۔ آخرت میں بھی وہ گناہ ہوگا اور موجب جہنم ہوگا اور کوئی بدلہ اس عذاب سے چھڑا نہ سکے گا ۔ آیت ” فَمَنِ اتَّقَی وَأَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ (35) ” تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویے کی اصلاح کرلے گا اس کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ۔ “ اس لئے کہ تقوی ہی انہیں گناہوں اور فواحش سے دور رکھ سکتا ہے ۔ سب سے بڑی فحاشی اللہ کے ساتھ شرک کا ارتکاب ہے ‘ پھر اللہ کے اقتدار اعلی کے حق پر ہاتھ ڈالنا ہے اور خدائی خصوصیات کا دعوی کرنا ہے ۔ تقوی ہی انسان کو خدا کی اطاعت اور نیک کاموں پر آمادہ کرتا ہے اور خوف سے نجات دے کر درالامان میں داخل کرتا ہے اور اسی کے ذریعے حصول رضائے الہی ممکن ہے ۔

الأعراف 7:36

آیت ” وَالَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَاسْتَکْبَرُواْ عَنْہَا أُوْلَـَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ (36) ” اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور ان کے مقابلے میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ “ کیونکہ اللہ کے عہد ونصیحت کو فراموش کرنے اور استکبار اور تکذیب کی وجہ سے یہ لوگ اپنے دوست شیطان سے مل چکے ہیں اور ان پر اللہ کا یہ فیصلہ نافذ ہوگیا ہے کہ ” جو لوگ تم میں سے اس کی اطاعت کریں گے تو ان سب سے میں جہنم کو بھر دوں گا ۔ “ اب یہاں سے اللہ کے سامنے پیشی کا منظر شروع ہوتا ہے ۔ جس کی طرف سابقہ سبق کے آخر میں اشارہ کیا گیا تھا ۔ آیت ” وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ أَجَلٌ فَإِذَا جَاء أَجَلُہُمْ لاَ یَسْتَأْخِرُونَ سَاعَۃً وَلاَ یَسْتَقْدِمُونَ (34) ” ہر قوم کے لئے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے ‘ پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر وتقدیم بھی نہیں ہوتی ۔ “ اس کے بعد یوم و حساب کا منظر شروع ہوتا ہے ‘ فیصلے اور سزا وجزاء کے مناظر آتے ہیں ۔ گویا یہ متقین اور مستکبرین کے انجام کی تفصیل ہے ۔ یہ منظر اسی طرح ہے جس طرح قرآن کریم مناظر قیامت کو پیش کرتا ہے ،۔ قارئین کو یوں نظر آتا ہے کہ واقعات عملا رونما ہو رہے ہیں ۔ قرآن کریم نے مناظر قیامت کے بیان میں ایک خاص اسلوب اپنایا ہے ۔ حشر ونشر ‘ حساب و کتاب ‘ انعام واکرام اور عذاب اور سزا کے بیان میں نہایت ہی موثر اسلوب اپنایا ہے ۔ یہاں صرف یہ نہیں ہے کہ قرآن نے موجودہ دنیا کے بعد آنے والے جہان کچھ اوصاف گنوا دیئے ہیں بلکہ اس کے مناظر کو اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ وہ مناظر محسوس اور مجسم نظر آتے ہیں ۔ انکے اندر افراد چلتے پھرتے اور زندہ نظر آتے ہیں اور نہایت ہی واضح شکل و صورت میں ۔ قرآن کریم کی دنیا میں جب ایک مسلم زندگی بسر کرتا ہے تو وہ ان مشاہدات اور مناظر کو اپنی آنکھوں سے جگہ جگہ دیکھتا ہے ۔ وہ ان سے متاثر ہوتا ہے ۔ کبھی اس کا دل دھڑکتا ہے ‘ کبھی اس کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ‘ کبھی وہ بری طرح خوفزدہ ہوجاتا ہے ۔ کبھی وہ پوری طرح مطمئن اور ہشاش وبشاش ہوجاتا ہے ۔ کبھی اسے آگے کے شعلہ ہائے جو الہ نظر آتے ہیں ۔ اور کبھی اسے جنت کی باد نسیم محسوس ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں زندہ رہنے والا مومن اس دن سے پوری طرح واقف ہوتا ہے اور جو لوگ ان مناظر کے بارے میں آیات کو غور سے پڑھتے ہیں ‘ وہ محسوس کرتے ہیں کہ وہ اس دنیا کے مقابلے میں درحقیقت میدان حشر میں زندہ رہ رہے ہیں ۔ وہ قرآن کی دنیا میں اس طرح گم ہوجاتے ہیں جس طرح کوئی انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتا ہے ۔ ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں چلا جاتا ہے اور یہ انتقال محسوس طور پر ہوتا ہے۔ غرض اس کے احساس و شعور میں عالم آخرت آنے والا مستقبل نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسا حال ہوتا ہے جس کا وہ مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے ۔ یہاں جن مناظر کو پیش کیا گیا ہے وہ طویل ترین مناظر میں سے ہیں اور ان میں زندگی بھرپور نظر آتی ہے ۔ یہ مسلسل مناظر ہیں اور ان لوگوں کے ڈائیلاگ بھی موجود ہیں اور زندہ اور بھرپور مکالمات کو حیرت انگیز الفاظ میں منتقل کیا گیا ہے ۔ اس طرح مکمل طور پر جس طرح آنکھوں سے دیکھ کر کوئی کسی منظر کو محفوظ کرلیتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اس سے قبل کہا یہ مناظر قصہ آدم پر تبصرے کے بعد آئے ہیں جبکہ آدم جنت سے نکال دیئے گئے تھے ۔ انکے ساتھ بیوی کا اخراج بھی ہوگیا تھا اور یہ اخراج شیطان کی وسوسہ اندازی کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا ۔ اس کے بعد بنی آدم کو یہ تنبیہ بھی کردی گئی تھی کہ شیطان کے فتنوں سے بچو وہ تمہیں اس طرح نقصان نہ پہنچا دے جس طرح تمہارے باپ کو اپنی دیسہ کاریوں سے جنت سے نکلوایا ۔ اس تنبیہ کے ساتھ کہ اگر انہوں نے آنے والے رسولوں کو چھوڑ کر شیطان کا اتباع اختیار کیا تو وہ جہنم کی سزا کے مستحق ہوں گے ۔ ان باتوں کے بعد قیامت کے دن اللہ کے سامنے حضوری کے شاہد پیش کئے گئے ۔ یہ شاہد اس طرح پیش کئے گئے کہ گویا یہ قصہ آدم کے متصلا پیش آ رہے ہیں ۔ اچانک رسولوں کی بعثت اور ان کے مقاصد سامنے آجاتے ہیں ‘ اچانک ان لوگوں کا منظر سامنے آجاتا ہے جو شیطان کے پیروکار ہیں ‘ اچانک وہ لوگ سامنے آجاتے ہیں جو شیطان کے مخالف ہیں اور جنت کے وارث ہیں ۔ وہ عالم بالا سے یہ پکار سنتے ہیں ” کہ یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث ہو ‘ اس لئے کہ تمہارے عمل اچھے تھے ۔ “ آیت ” ان تلکم الجنۃ التی “ ۔ یوں نظر آتا ہے کہ مسافر گھروں کو واپس آرہے ہیں ‘ مہاجر اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں اور اب انہوں نے اس دارالنعیم میں ہمیشہ رہنا ہے ۔ اس قصے اور اس تبصرے کے اندر جو ہم آہنگی ہے وہ یہ ہے کہ پہلے قصہ آتا ہے اور اس کے مناظر عالم بالا میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد اس پر تبصرہ اور شاید قیامت آئے اس ہم آہنگی میں جو خوبصورتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ یہ کہانی عالم بالا میں فرشتوں کے سامنے شروع ہوتی ہے ۔ اس وقت آدم وحوا کی تخلیق کی تقریب سعید تھی ۔ آدم اور حوا کو جنت میں رکھا گیا تھا ‘ اور شیطان کی وسوسہ اندازی سے جنت سے ان کے اخراج کے واقعات پیش آئے اخراج اس لئے ہوا کہ انہوں نے مکمل اطاعت اور بندگی نہ کی اور عالم بالا ہی میں یہ مناظر آغاز و انجام یکجا ہوجاتے ہیں اور انکے درمیان انسانی زندگی کے طویل مناظر پیوست ہیں۔ گویا ایک ہی اسٹیج پر یہ تمام مناظر آغاز ‘ درمیان اور انجام پیش ہوگئے ۔ نہایت ہی ہم آہنگی اور مناسب انداز وپیرائے ہیں۔ اب ہم میدان حشر میں آگئے ہی اور اس میں اللہ کے سامنے ان لوگوں کو پیش کیا گیا ہے جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں۔ ان لوگوں کا افتراء اور بہتان یہ ہے کہ انہوں نے آباؤ اجداد سے کچھ رسومات اور ضابطے ورثے میں پائے ہیں اور کچھ ضابطے اور قوانین خود انہوں نے اپنی جانب سے وضع کئے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ من جانب اللہ ہیں۔ ان لوگوں کی بھی پیشی ہے جن لوگوں نے اللہ کے بھیجے ہوئے رسولوں کو جھٹلایا حالانکہ وہ یقینی شریعت کر آئے تھے ۔ اس کے مقابلے میں انہوں نے ظن وتخمین سے کام لے کر علم ویقین کو رد کردیا ‘ یہ لوگ دنیا میں عیش و عشرت کرتے رہے اور زمانہ ابتلاء خوب مستی سے گزارا اور رسولوں نے انکے سامنے جو پیغام پیش کیا وہ بھی ان تک پہنچا جسے قبول کرنا انکی قسمت میں نہ تھا ۔

الأعراف 7:37

آیت ” نمبر 37۔ دیکھئے اب ہم ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جنہوں نے اللہ پر بہتان باندھا اور اللہ کی آیات کو جھٹلایا ۔ حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کے رسول آچکے تھے ۔ اس منظر میں پہلے تو ان کی روح قبض کی جاتی ہے گویا ملزم گرفتار ہوتے ہیں ۔ پھر ان کے درمیان یہ مکالمہ ہوگا : فرشتے کہیں گے ” بتاؤ اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم خدا کے بجائے پکارتے تھے ؟ “ وہ کہیں گے کہ ” وہ سب ہم سے گم ہوگئے ۔ “ اب تمہارے وہ دعوے کہاں ہیں جن کے ذریعے تم اللہ پر افتراء باندھتے تھے ‘ اور وہ الہ کہاں ہیں جن کو تم نے دنیا میں دوست بنا رکھا تھا ‘ جن کی وجہ سے تم فتنے میں پڑگئے اور رسولوں کی لائی ہوئی دعوت کو چھوڑ دیا ۔ یہ قوتیں اس آڑے وقت میں تمہاری مدد کو کیوں نہیں آرہی ہیں کہ اب تمہاری جان لی جارہی ہے اور تمہیں کوئی ایسا مددگار نہیں مل رہا جو اس وقت سے لمحہ بھر کے لئے موت کو مؤخر کردے ۔ ایسے حالات میں ظاہر ہے کہ ان یہی جواب ہو سکتا ہے ۔ آیت ” قالوا ضلوا عنا “۔ (7 : 37) ” وہ سب ہم سے گم ہوگئے ۔ “ وہ ہم سے اس طرح گم ہوگئے اور اس طرح غائب ہوگئے کہ ہمیں ان کا کوئی اتاپاتا نہیں مل رہا ۔ اب وہ ہماری طرف نہیں آ رہے ۔ غرض وہ لوگ اس قدر بدحال ہوں گے کہ ان کے خدا بھی انکی طرف متوجہ نہ ہو سکیں گے اور نہ وہ ایسے برے حالات میں ان کوئی مدد کرسکیں گے اور ایسے خداؤں سے زیادہ گھاٹے میں اور کون ہوگا جو اپنے بندوں تک نہ پہنچ سکتے ہوں اور ایسے مشکل حالات میں ۔ آیت ” وشھدوا علی انفسھم “۔ (7 : 37) ” وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکر حق تھے ۔ “ اس سے قبل جب ان پر دنیا میں عذاب آیا تھا تو بھی انہوں نے یہی اعتراف کیا تھا ۔ (فما کانت دعوھم) ” جب ہمارا عذاب آیا تو انکی پکار صرف یہی تھی کہ حقیقت میں ہم ظالم تھے ۔ “۔ اب حاضری دو بار الہی کا منظر ختم ہے اور اس کے بعد دوسرا منظر سامنے آتا ہے ۔ یہ مجرم اب جہنم کی آگ میں ہیں ۔ ان دونوں مناظر کی درمیان کڑیاں غائب ہیں ۔ موت کے واقعات ‘ نشر وحشر کے واقعات درمیان میں سے غائب ہیں گویا ان کو پکڑ کر سیدھا جہنم میں ڈال دیا گیا ۔

الأعراف 7:38

آیت ” نمبر 38 تا 39۔ آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّارِ “۔ (7 : 38) ” اللہ فرمائے گا جاؤ ‘ تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “ یعنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملو ‘ انسانوں اور جنوں میں تمہارے جو دوست ہیں ان میں شامل ہوجاؤ ‘ لیکن جہنم میں ۔ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ کہ ابلیس نے اپنے رب کی نافرمانی کی تھی ؟ کیا اس نے آدم اور اس کی بیوی کو جنت سے نہ نکلوایا تھا ؟ کیا شیطان نے اولاد آدم کو گمراہ نہ کیا تھا کیا اللہ نے اسی شیطان کو دھمکی نہ دی تھی کہ وہ اور اس کے تمام متبعین جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ؟ لہذا اب تم سب جہنم میں خوشی سے داخل ہوجاؤ‘ کچھ پہلے جاؤ اور کچھ ان کے پیچھے ان کا اتباع کرو ‘ تم سب ایک دوسرے کے دوست ہو اور سب کے سب برابری کی بنیاد پر اس کے مستحق ہو۔ ۔ یہ تمام امتیں اور یہ تمام اقوام اور جماعتیں باہم دگر اس طرح دوست ‘ حلیف اور پیوست تھیں کہ ان میں سے آخری قوم سب سے پہلی قوم کی متبع تھی اور ان میں سے تابع جماعت اپنی متبوع جماعت سے ہدایات لیتی تھی لیکن آج صورت حالات یہ ہے کہ ان کے درمیان دشمنی ہوگئی ہے اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں۔ آیت ” کُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّۃٌ لَّعَنَتْ أُخْتَہَا “۔ (7 : 38) ” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا “ ‘۔ ملاحظہ کیجئے کہ بیٹا باپ پر لعنت بھیج رہا ہوگا کس قدر برا ہے یہ انجام ۔ دوست دوست کو کوس رہا ہوگا ۔ پیچھلے لوگ اگلوں سے مل جائیں گے اور دور اور قریب والے سب ایک جگہ ہوں گے تو انکے درمیان اب جدل وجدال یوں شروع ہوگا۔ آیت ” حَتَّی إِذَا ادَّارَکُواْ فِیْہَا جَمِیْعاً قَالَتْ أُخْرَاہُمْ لأُولاَہُمْ رَبَّنَا ہَـؤُلاء أَضَلُّونَا فَآتِہِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّار “ (7 : 38) ” حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب ‘ یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا ‘ لہذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ “ یوں ان لوگوں کے مصائب کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس منظر میں دوست اور یار بھی سامنے آتے ہیں ‘ یہ لوگ ایکدوسرے کو کو ستے ہیں ‘ اب یہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں ۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ایک دوسرے کے خلاف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں سخت عذاب دیا جائے ۔ حالانکہ وہ ” رب “ پر دنیا میں افتراء باندھتے تھے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے تھے ۔ اب اسی کو ” ربنا “ کہتے ہیں ۔ اب تو وہ صرف اسی کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ اور صرف اسی کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں لیکن اللہ کی جانب سے ان کو جو جواب دیا جاتا ہے اور ان کی دعا جس طرح قبول ہوتی ہے وہ یہ ہے ۔ آیت ” ِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـکِن لاَّ تَعْلَمُونَ (38) ” جواب میں ارشاد ہوگا ۔ ہر ایک کے لئے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہوں ۔ “ تمہارے اور ان سب کے لئے دوگنا عذاب ہے ۔ جب ان لوگوں نے یہ فیصلہ سنا تو جنکے خلاف یہ شکایت کی گئی تھی انہوں نے دعا کرنے والوں کا خوب مذاق اڑایا اور انکی طرف متوجہ ہو کہ کہا کہ ہم سب برابر کے مجرم ہیں۔ آیت ” وَقَالَتْ أُولاَہُمْ لأُخْرَاہُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ (39) ” اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے تو) تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی ‘ اب اپنی کمائی کے نتیجے میں عذاب کا مزا چکھو۔ “ اب یہاں یہ المناک منظر ختم ہوجاتا ہے اور اسکے بعد ان لوگوں کے اس انجام کو ایک منطقی انجام ثابت کرنے کے لئے تبصرہ آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے ۔ یہ تبصرہ اس منظر سے پہلے آتا ہے جو مومنین صادقین کا منظر ہے اور اس المناک منظر کے بالکل برعکس ہے ۔

الأعراف 7:39

آیت ” نمبر 38 تا 39۔ آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّارِ “۔ (7 : 38) ” اللہ فرمائے گا جاؤ ‘ تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “ یعنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملو ‘ انسانوں اور جنوں میں تمہارے جو دوست ہیں ان میں شامل ہوجاؤ ‘ لیکن جہنم میں ۔ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ کہ ابلیس نے اپنے رب کی نافرمانی کی تھی ؟ کیا اس نے آدم اور اس کی بیوی کو جنت سے نہ نکلوایا تھا ؟ کیا شیطان نے اولاد آدم کو گمراہ نہ کیا تھا کیا اللہ نے اسی شیطان کو دھمکی نہ دی تھی کہ وہ اور اس کے تمام متبعین جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ؟ لہذا اب تم سب جہنم میں خوشی سے داخل ہوجاؤ‘ کچھ پہلے جاؤ اور کچھ ان کے پیچھے ان کا اتباع کرو ‘ تم سب ایک دوسرے کے دوست ہو اور سب کے سب برابری کی بنیاد پر اس کے مستحق ہو۔ ۔ یہ تمام امتیں اور یہ تمام اقوام اور جماعتیں باہم دگر اس طرح دوست ‘ حلیف اور پیوست تھیں کہ ان میں سے آخری قوم سب سے پہلی قوم کی متبع تھی اور ان میں سے تابع جماعت اپنی متبوع جماعت سے ہدایات لیتی تھی لیکن آج صورت حالات یہ ہے کہ ان کے درمیان دشمنی ہوگئی ہے اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں۔ آیت ” کُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّۃٌ لَّعَنَتْ أُخْتَہَا “۔ (7 : 38) ” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا “ ‘۔ ملاحظہ کیجئے کہ بیٹا باپ پر لعنت بھیج رہا ہوگا کس قدر برا ہے یہ انجام ۔ دوست دوست کو کوس رہا ہوگا ۔ پیچھلے لوگ اگلوں سے مل جائیں گے اور دور اور قریب والے سب ایک جگہ ہوں گے تو انکے درمیان اب جدل وجدال یوں شروع ہوگا۔ آیت ” حَتَّی إِذَا ادَّارَکُواْ فِیْہَا جَمِیْعاً قَالَتْ أُخْرَاہُمْ لأُولاَہُمْ رَبَّنَا ہَـؤُلاء أَضَلُّونَا فَآتِہِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّار “ (7 : 38) ” حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب ‘ یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا ‘ لہذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ “ یوں ان لوگوں کے مصائب کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس منظر میں دوست اور یار بھی سامنے آتے ہیں ‘ یہ لوگ ایکدوسرے کو کو ستے ہیں ‘ اب یہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں ۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ایک دوسرے کے خلاف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں سخت عذاب دیا جائے ۔ حالانکہ وہ ” رب “ پر دنیا میں افتراء باندھتے تھے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے تھے ۔ اب اسی کو ” ربنا “ کہتے ہیں ۔ اب تو وہ صرف اسی کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ اور صرف اسی کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں لیکن اللہ کی جانب سے ان کو جو جواب دیا جاتا ہے اور ان کی دعا جس طرح قبول ہوتی ہے وہ یہ ہے ۔ آیت ” ِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـکِن لاَّ تَعْلَمُونَ (38) ” جواب میں ارشاد ہوگا ۔ ہر ایک کے لئے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہوں ۔ “ تمہارے اور ان سب کے لئے دوگنا عذاب ہے ۔ جب ان لوگوں نے یہ فیصلہ سنا تو جنکے خلاف یہ شکایت کی گئی تھی انہوں نے دعا کرنے والوں کا خوب مذاق اڑایا اور انکی طرف متوجہ ہو کہ کہا کہ ہم سب برابر کے مجرم ہیں۔ آیت ” وَقَالَتْ أُولاَہُمْ لأُخْرَاہُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ (39) ” اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے تو) تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی ‘ اب اپنی کمائی کے نتیجے میں عذاب کا مزا چکھو۔ “ اب یہاں یہ المناک منظر ختم ہوجاتا ہے اور اسکے بعد ان لوگوں کے اس انجام کو ایک منطقی انجام ثابت کرنے کے لئے تبصرہ آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے ۔ یہ تبصرہ اس منظر سے پہلے آتا ہے جو مومنین صادقین کا منظر ہے اور اس المناک منظر کے بالکل برعکس ہے ۔

الأعراف 7:40

آیت ” نمبر 40 تا 41۔ اب ذرا اپنے تصورات کو لے کر رکیے ۔ یہ ایک عجیب منظر ہے ۔ ایک اونٹ ہے اور اسے سوئی کے ناکے میں داخل کرانے کے لئے تیار کیا جارہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ انتظار کرو کہ یہ ناکہ اس قدر کھل جائے کہ اس سے اونٹ پار ہوجائے تب ہی ان کفار کے لئے جنت کے دروازے کھل سکتے ہیں ۔ تب ہی ان کی توبہ قبول ہو سکتی ہے ۔ لیکن وقت تو گزر چکا ہے ۔ اب یہ جنت میں اس طرح داخل نہیں ہوسکتے جس طرح سوئی کے ناکے سے ایک اونٹ پار نہیں ہو سکتا ‘ لہذا یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور اس میں یہ لوگ پے درپے جمع ہوں گے ۔ اسی میں یہ لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے کے لئے سزا کا مطالبہ کرتے رہیں گے لیکن سب کے سب اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔ آیت ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُجْرِمِیْنَ (40) ” یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “ آیت ” لَہُم مِّن جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَمِن فَوْقِہِمْ غَوَاش “۔ (7 : 41) ” ان کے لئے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا ہے ۔ “ یعنی ان کے لئے فرش بھی جہنم کی آگ کا ہوگا اور مہاد کا اطلاق اس پر بطور مذاق کیا گیا ہے ۔ بچھونا ایسا ہوگا جس میں نہ نرمی ہوگی اور نہ ہی وہ فروخت بخش ہوگا اور آگ ہی کا اڑھنا ہوگا ۔ یعنی ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوں گے ۔ آیت ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُجْرِمِیْنَ (40) ” یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “ ظالم ہی مجرم ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں اور آیات الہی کی تکذیب کرتے ہیں ۔ قرآن کی تعبیر کی رو سے یہ اوصاف مترادف ہیں ۔ اب اس منظر کے بالمقابل دوسرا منظر دیکھئے ۔ :

الأعراف 7:41

آیت ” نمبر 40 تا 41۔ اب ذرا اپنے تصورات کو لے کر رکیے ۔ یہ ایک عجیب منظر ہے ۔ ایک اونٹ ہے اور اسے سوئی کے ناکے میں داخل کرانے کے لئے تیار کیا جارہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ انتظار کرو کہ یہ ناکہ اس قدر کھل جائے کہ اس سے اونٹ پار ہوجائے تب ہی ان کفار کے لئے جنت کے دروازے کھل سکتے ہیں ۔ تب ہی ان کی توبہ قبول ہو سکتی ہے ۔ لیکن وقت تو گزر چکا ہے ۔ اب یہ جنت میں اس طرح داخل نہیں ہوسکتے جس طرح سوئی کے ناکے سے ایک اونٹ پار نہیں ہو سکتا ‘ لہذا یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور اس میں یہ لوگ پے درپے جمع ہوں گے ۔ اسی میں یہ لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے کے لئے سزا کا مطالبہ کرتے رہیں گے لیکن سب کے سب اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔ آیت ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُجْرِمِیْنَ (40) ” یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “ آیت ” لَہُم مِّن جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَمِن فَوْقِہِمْ غَوَاش “۔ (7 : 41) ” ان کے لئے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا ہے ۔ “ یعنی ان کے لئے فرش بھی جہنم کی آگ کا ہوگا اور مہاد کا اطلاق اس پر بطور مذاق کیا گیا ہے ۔ بچھونا ایسا ہوگا جس میں نہ نرمی ہوگی اور نہ ہی وہ فروخت بخش ہوگا اور آگ ہی کا اڑھنا ہوگا ۔ یعنی ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوں گے ۔ آیت ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُجْرِمِیْنَ (40) ” یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “ ظالم ہی مجرم ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں اور آیات الہی کی تکذیب کرتے ہیں ۔ قرآن کی تعبیر کی رو سے یہ اوصاف مترادف ہیں ۔ اب اس منظر کے بالمقابل دوسرا منظر دیکھئے ۔ :

الأعراف 7:42

آیت ” نمبر 42 تا 43۔ یہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنی استطاعت کے مطابق عمل کیا (کیونکہ اللہ کی جانب سے صرف وہی فرائض عائد کئے جاتے ہیں جن پر عمل ممکن ہوتا ہے) تو یہ لوگ ان باغوں کی طرف لوٹیں گے جو ان کیلئے تیار کیے گئے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ کے فضل وکرم کی وجہ سے ان جنتوں کے مالک ہوں گے اور اس نے ان لوگوں کو ان جنتوں کا وارث ومالک بنا دیا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے بعد عمل صالح کو اپنایا اور یہ باغات اس بات کا صلہ ہیں کہ انہوں نے رسولوں کا اتباع کیا اور شیطان کے مخالف چلے ۔ انہوں نے اللہ رحیم وکریم کے احکام مانے اور شیطان رجیم کی معصیت کی لیکن یہ سب کچھ اللہ کی رحمت سے ممکن ہوا ۔ اگر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو ان کے لئے یہ سب کچھ ممکن نہ تھا ۔ اور اس مضمون کو حضور ﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان کیا ہے کہ ” تم میں سے کوئی ایک بھی صرف اپنے عمل کی وجہ سے جنت کو نہ جائے گا “ ۔ کہا کہ حضور ﷺ آپ بھی نہ جائیں گے ؟ ” نہیں میں بھی نہیں الا یہ کہ مجھے اللہ کی رحمت اور فضل ڈھانپ لے۔ “ ۔ ؛۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ اس آیت اور حضور ﷺ کے قول مبارک کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اس لئے کہ حضور ﷺ کے اقوال بھی وحی پر مبنی ہوتے ہیں اور اسلامی فرقوں نے اس موضوع پر جو اختلافی مباحث کیے ہیں وہ غلط فہمی پر مبنی ہیں ۔ یہ اختلاف محض ذاتی خواہشات پر مبنی تھے ۔ اللہ کے علم میں تھا کہ انسان ضعیف کمزور اور عاجز مخلوق ہے ۔ وہ صرف اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت کے استحقاق کے مقام تک نہیں پہنچ سکتی اور نہ وہ دنیا میں کسی ایک نعمت کے استحقاق پر جنت میں داخل ہو سکتی ہے ۔ اس لئے اللہ نے اپنے اوپر یہ فرض کرلیا کہ وہ رحیم وکریم ہوگا اور انسانوں کی جانب سے تھوڑے بہت اچھے اعمال بھی قبول کرلے گا ۔ اور ان تھوڑے بہت اعمال ہی کی بناء پر ان کے نام جنت لکھ دے گا مگر یہ محض اس کا فضل وکرم ہوگا ۔ پس وہ اپنے عمل ہی کی وجہ سے جنت کے مستحق قرار پائیں گے لیکن ان تھوڑے اعمال پر استحقاق کی عطاء محض رحمت الہی کی وجہ سے ہوگی ۔ ایک طرف یہ مفتری ‘ جھوٹے ‘ مجرم ‘ ظالم کافر اور مشرک اہل جہنم ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے ‘ باہم جھگڑیں گے ‘ ان کے دل کینہ پروری اور دشمنی سے جوش ماریں گے ‘ حالانکہ دنیا میں وہ ہم نشین اور دوست تھے ۔ دوسری جانب وہ لوگ جو ایمان لائے تھے ‘ نیک عمل والے تھے وہ جنت میں بھائی بھائی محبت کرنے والے دوست ‘ اولیائے باصفا اور ہم نشنیاں دلسوز ہوں گے اور ان پر محبت کا سایہ ہوگا۔ آیت ” وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُورِہِم مِّنْ غِلٍّ “۔ (7 : 43) ” ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ۔ “ بہرحال ایمان والے انسان ہی تو تھے ‘ انسانوں کی حیثیت سے انہوں نے زندگی بسر کی ۔ بارہا ایسا ہوا کہ وہ ایک دوسرے پر دنیا میں خفا ہوئے مگر انہوں نے اس خفگی کو چھپایا اور انکے دل میں ایک دوسرے کی خلاف کدورت پیدا ہوئی مگر انہوں نے اس کدورت غلبہ پایا البتہ کچھ اثرات آخر تک ان کے دلوں میں موجود رہے ۔ قرطبی اپنی تفسیر احکام القرآن میں کہتے ہیں : ” حضور ﷺ نے فرمایا کہ غل (کدورت) جنت کے دروازوں کے باہر پڑی ہوگی جس طرح اونٹوں کی مینگنیاں ۔ اللہ نے مومنین کے دلوں سے اس کو نکال پھینکا ہوگا۔ “ اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے ۔ انہوں نے فرمایا ” میں امید کرتا ہوں کہ میں ” عثمان ‘ طلحہ ‘ اور زبیررضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں فرمایا (ونزعنا) ” ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ۔ “ اہل جہنم جب ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوئے ہوں گے تو دوسری جانب اہل جنت میں جن باغات میں ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور انکی وجہ سے پوری فضا پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جاری ہوگی ۔ آیت ” تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمُ الأَنْہَارُ “۔ (7 : 43) ” ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی “ ایک طرف اہل جہنم ایکدوسرے کو کوس رہے ہوں گے اور دست دگریبان ہوں گے اور دوسری جانب اہل جنت اللہ کی تعریف اس کے احسانات کو اعتراف کررہے ہوں گے ۔ آیت ” وَقَالُواْ الْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہَـذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلا أَنْ ہَدَانَا اللّہُ لَقَدْ جَاء تْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ “۔ (7 : 43) ” اور وہ کہیں گے کہ ” تعریف خدا ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا ‘ ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا ‘ ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول حق ہی لے کر آئے تھے۔ “ ایک طرف اہل جہنم کو بطور تحقیر وطنز اور برائے شرمساری یہ کہا جائے گا ۔ آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّار “۔ (7 : 38) ” تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “ آیت ” وَنُودُواْ أَن تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ أُورِثْتُمُوہَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (43) ” اس وقت ندا آئے گی کہ ” یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں ان اعمال کے بدلے مین ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے ۔ “ اسی طرح اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان مکمل تقابل ان آیات میں دے دیا گیا ہے ۔ غرض یہ مناظر مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اب ہمارے سامنے ایک نیا منظر ہے ۔ اہل جنت جنت میں اترچکے ہیں اور مطمئن ہیں اور اہل جہنم کو بھی یقین ہوچکا ہے کہ اب یہی ان کا دائمی انجام ہے۔ چناچہ اہل جنت اب ان پر یہ آوازہ کستے ہیں اور وہ بھی بےبسی میں یہ جواب دیتے ہیں ۔

الأعراف 7:43

آیت ” نمبر 42 تا 43۔ یہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنی استطاعت کے مطابق عمل کیا (کیونکہ اللہ کی جانب سے صرف وہی فرائض عائد کئے جاتے ہیں جن پر عمل ممکن ہوتا ہے) تو یہ لوگ ان باغوں کی طرف لوٹیں گے جو ان کیلئے تیار کیے گئے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ کے فضل وکرم کی وجہ سے ان جنتوں کے مالک ہوں گے اور اس نے ان لوگوں کو ان جنتوں کا وارث ومالک بنا دیا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے بعد عمل صالح کو اپنایا اور یہ باغات اس بات کا صلہ ہیں کہ انہوں نے رسولوں کا اتباع کیا اور شیطان کے مخالف چلے ۔ انہوں نے اللہ رحیم وکریم کے احکام مانے اور شیطان رجیم کی معصیت کی لیکن یہ سب کچھ اللہ کی رحمت سے ممکن ہوا ۔ اگر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو ان کے لئے یہ سب کچھ ممکن نہ تھا ۔ اور اس مضمون کو حضور ﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان کیا ہے کہ ” تم میں سے کوئی ایک بھی صرف اپنے عمل کی وجہ سے جنت کو نہ جائے گا “ ۔ کہا کہ حضور ﷺ آپ بھی نہ جائیں گے ؟ ” نہیں میں بھی نہیں الا یہ کہ مجھے اللہ کی رحمت اور فضل ڈھانپ لے۔ “ ۔ ؛۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ اس آیت اور حضور ﷺ کے قول مبارک کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اس لئے کہ حضور ﷺ کے اقوال بھی وحی پر مبنی ہوتے ہیں اور اسلامی فرقوں نے اس موضوع پر جو اختلافی مباحث کیے ہیں وہ غلط فہمی پر مبنی ہیں ۔ یہ اختلاف محض ذاتی خواہشات پر مبنی تھے ۔ اللہ کے علم میں تھا کہ انسان ضعیف کمزور اور عاجز مخلوق ہے ۔ وہ صرف اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت کے استحقاق کے مقام تک نہیں پہنچ سکتی اور نہ وہ دنیا میں کسی ایک نعمت کے استحقاق پر جنت میں داخل ہو سکتی ہے ۔ اس لئے اللہ نے اپنے اوپر یہ فرض کرلیا کہ وہ رحیم وکریم ہوگا اور انسانوں کی جانب سے تھوڑے بہت اچھے اعمال بھی قبول کرلے گا ۔ اور ان تھوڑے بہت اعمال ہی کی بناء پر ان کے نام جنت لکھ دے گا مگر یہ محض اس کا فضل وکرم ہوگا ۔ پس وہ اپنے عمل ہی کی وجہ سے جنت کے مستحق قرار پائیں گے لیکن ان تھوڑے اعمال پر استحقاق کی عطاء محض رحمت الہی کی وجہ سے ہوگی ۔ ایک طرف یہ مفتری ‘ جھوٹے ‘ مجرم ‘ ظالم کافر اور مشرک اہل جہنم ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے ‘ باہم جھگڑیں گے ‘ ان کے دل کینہ پروری اور دشمنی سے جوش ماریں گے ‘ حالانکہ دنیا میں وہ ہم نشین اور دوست تھے ۔ دوسری جانب وہ لوگ جو ایمان لائے تھے ‘ نیک عمل والے تھے وہ جنت میں بھائی بھائی محبت کرنے والے دوست ‘ اولیائے باصفا اور ہم نشنیاں دلسوز ہوں گے اور ان پر محبت کا سایہ ہوگا۔ آیت ” وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُورِہِم مِّنْ غِلٍّ “۔ (7 : 43) ” ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ۔ “ بہرحال ایمان والے انسان ہی تو تھے ‘ انسانوں کی حیثیت سے انہوں نے زندگی بسر کی ۔ بارہا ایسا ہوا کہ وہ ایک دوسرے پر دنیا میں خفا ہوئے مگر انہوں نے اس خفگی کو چھپایا اور انکے دل میں ایک دوسرے کی خلاف کدورت پیدا ہوئی مگر انہوں نے اس کدورت غلبہ پایا البتہ کچھ اثرات آخر تک ان کے دلوں میں موجود رہے ۔ قرطبی اپنی تفسیر احکام القرآن میں کہتے ہیں : ” حضور ﷺ نے فرمایا کہ غل (کدورت) جنت کے دروازوں کے باہر پڑی ہوگی جس طرح اونٹوں کی مینگنیاں ۔ اللہ نے مومنین کے دلوں سے اس کو نکال پھینکا ہوگا۔ “ اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے ۔ انہوں نے فرمایا ” میں امید کرتا ہوں کہ میں ” عثمان ‘ طلحہ ‘ اور زبیررضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں فرمایا (ونزعنا) ” ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ۔ “ اہل جہنم جب ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوئے ہوں گے تو دوسری جانب اہل جنت میں جن باغات میں ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور انکی وجہ سے پوری فضا پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جاری ہوگی ۔ آیت ” تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمُ الأَنْہَارُ “۔ (7 : 43) ” ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی “ ایک طرف اہل جہنم ایکدوسرے کو کوس رہے ہوں گے اور دست دگریبان ہوں گے اور دوسری جانب اہل جنت اللہ کی تعریف اس کے احسانات کو اعتراف کررہے ہوں گے ۔ آیت ” وَقَالُواْ الْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہَـذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلا أَنْ ہَدَانَا اللّہُ لَقَدْ جَاء تْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ “۔ (7 : 43) ” اور وہ کہیں گے کہ ” تعریف خدا ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا ‘ ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا ‘ ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول حق ہی لے کر آئے تھے۔ “ ایک طرف اہل جہنم کو بطور تحقیر وطنز اور برائے شرمساری یہ کہا جائے گا ۔ آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّار “۔ (7 : 38) ” تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “ آیت ” وَنُودُواْ أَن تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ أُورِثْتُمُوہَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (43) ” اس وقت ندا آئے گی کہ ” یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں ان اعمال کے بدلے مین ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے ۔ “ اسی طرح اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان مکمل تقابل ان آیات میں دے دیا گیا ہے ۔ غرض یہ مناظر مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اب ہمارے سامنے ایک نیا منظر ہے ۔ اہل جنت جنت میں اترچکے ہیں اور مطمئن ہیں اور اہل جہنم کو بھی یقین ہوچکا ہے کہ اب یہی ان کا دائمی انجام ہے۔ چناچہ اہل جنت اب ان پر یہ آوازہ کستے ہیں اور وہ بھی بےبسی میں یہ جواب دیتے ہیں ۔

الأعراف 7:44

آیت ” نمبر 44 تا 45۔ یہ آوازہ کس قدر تو ہیں آمیز اور کس قدر تلخ ہے ؟ اہل زبان ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ اہل ایمان کو تو اچھی طرح یقین ہے کہ اللہ کا وعدہ بھی سچا ہے اور اس کی وعید بھی اٹل ہے لیکن وہ پھر بھی اہل جہنم سے سوال کرتے ہیں اور جواب میں وہ صرف لفظ ” ہاں “ منہ سے نکال سکتے ہیں ۔ صرف ایک ہاں پر جواب ختم اور بات کٹ جاتی ہے اور آواز آتی ہے : آیت ” فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْْنَہُمْ أَن لَّعْنَۃُ اللّہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ (44) الَّذِیْنَ یَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَیَبْغُونَہَا عِوَجاً وَہُم بِالآخِرَۃِ کَافِرُونَ (45) ” تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ” خدا کی لعنت ان ظالموں پر۔ جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے رہے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے ۔ “ اس آیت سے معلوم ہوجاتا ہے ظالموں کا مفہوم کافروں کے مترادف ہے ۔ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو سیدھی راہ سے ہٹا کر ٹیڑھی راہ پر ڈال دیں اور یہی لوگ منکر قیامت ہیں۔ یہ صفت کہ وہ اللہ کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں بتاتی ہے کہ جو لوگ عوام کو اللہ کے راستے سے روکنا چاہتے ہیں ان کا منصوبہ کیا ہے ‘ ان کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیڑھا راستہ تجویز کرتے ہیں ‘ لوگوں کو سیدھے راستے پر نہیں ڈالتے ۔ وہ ٹیڑھ چاہتے ہیں اور ” سیدھ “ سے بھاگتے ہیں ۔ استقامت کی صورت ایک ہی ہے ۔ وہ یہ کہ انسان اللہ کے منہاج اور شریعت کو اپنا لے ۔ اس کے سوا تمام راستے ٹیڑھے ہیں اور جو کوئی دوسری راہ کا ارادہ کرے گا وہ آخر کار دار کفر میں پہنچ جائے گا ۔ کفر یہ ہے کہ انسان آخرت کی جواب دہی کا منکر ہوجائے اس لئے کہ اگر کسی کو آخرت میں ملاقات رب کا یقین ہو تو وہ ہر گز کسی کو اللہ کی راہ سے نہیں روکتا اور نہ وہ خود اللہ کے منہاج اور شریعت سے ایک طرف جاتا ہے ۔ غرض اللہ کی راہ سے روکنے والوں کی تصویر کشی اس آیت میں نہایت ہی صحیح اور جامع ومانع کی گئی ہے اور ہر دور میں دشمنان دین کی نفسیات یہی ہوتی ہیں ۔ اب منظر پر ایک نیا خطہ آتا ہے ‘ یہ جنت و جہنم کے درمیان حد فاصل ہے ۔ اس حدفاصل کے اوپر بھی کچھ مخلوق خدا بیٹھی ہے ‘ یہ لوگ اہل جنت کو بھی ان کی علامات سے پہچانتے ہیں اور اہل جہنم کو بھی انکی علامات سے پہچان لیتے ہیں ۔ دیکھئے ! یہ اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے کیا تاثرات پیش کرتے ہیں ۔

الأعراف 7:45

آیت ” نمبر 44 تا 45۔ یہ آوازہ کس قدر تو ہیں آمیز اور کس قدر تلخ ہے ؟ اہل زبان ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ اہل ایمان کو تو اچھی طرح یقین ہے کہ اللہ کا وعدہ بھی سچا ہے اور اس کی وعید بھی اٹل ہے لیکن وہ پھر بھی اہل جہنم سے سوال کرتے ہیں اور جواب میں وہ صرف لفظ ” ہاں “ منہ سے نکال سکتے ہیں ۔ صرف ایک ہاں پر جواب ختم اور بات کٹ جاتی ہے اور آواز آتی ہے : آیت ” فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْْنَہُمْ أَن لَّعْنَۃُ اللّہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ (44) الَّذِیْنَ یَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَیَبْغُونَہَا عِوَجاً وَہُم بِالآخِرَۃِ کَافِرُونَ (45) ” تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ” خدا کی لعنت ان ظالموں پر۔ جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے رہے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے ۔ “ اس آیت سے معلوم ہوجاتا ہے ظالموں کا مفہوم کافروں کے مترادف ہے ۔ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو سیدھی راہ سے ہٹا کر ٹیڑھی راہ پر ڈال دیں اور یہی لوگ منکر قیامت ہیں۔ یہ صفت کہ وہ اللہ کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں بتاتی ہے کہ جو لوگ عوام کو اللہ کے راستے سے روکنا چاہتے ہیں ان کا منصوبہ کیا ہے ‘ ان کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیڑھا راستہ تجویز کرتے ہیں ‘ لوگوں کو سیدھے راستے پر نہیں ڈالتے ۔ وہ ٹیڑھ چاہتے ہیں اور ” سیدھ “ سے بھاگتے ہیں ۔ استقامت کی صورت ایک ہی ہے ۔ وہ یہ کہ انسان اللہ کے منہاج اور شریعت کو اپنا لے ۔ اس کے سوا تمام راستے ٹیڑھے ہیں اور جو کوئی دوسری راہ کا ارادہ کرے گا وہ آخر کار دار کفر میں پہنچ جائے گا ۔ کفر یہ ہے کہ انسان آخرت کی جواب دہی کا منکر ہوجائے اس لئے کہ اگر کسی کو آخرت میں ملاقات رب کا یقین ہو تو وہ ہر گز کسی کو اللہ کی راہ سے نہیں روکتا اور نہ وہ خود اللہ کے منہاج اور شریعت سے ایک طرف جاتا ہے ۔ غرض اللہ کی راہ سے روکنے والوں کی تصویر کشی اس آیت میں نہایت ہی صحیح اور جامع ومانع کی گئی ہے اور ہر دور میں دشمنان دین کی نفسیات یہی ہوتی ہیں ۔ اب منظر پر ایک نیا خطہ آتا ہے ‘ یہ جنت و جہنم کے درمیان حد فاصل ہے ۔ اس حدفاصل کے اوپر بھی کچھ مخلوق خدا بیٹھی ہے ‘ یہ لوگ اہل جنت کو بھی ان کی علامات سے پہچانتے ہیں اور اہل جہنم کو بھی انکی علامات سے پہچان لیتے ہیں ۔ دیکھئے ! یہ اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے کیا تاثرات پیش کرتے ہیں ۔

الأعراف 7:46

روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان سکیں گے کیونکہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ہوائیاں اڑ رہی ہوگی یا وہ ان لوگوں کو اس داغ کی وجہ سے پہچان لیں گے جو ان کی ناک پر لگایا جائے گا ۔ جس طرح سورة قلم میں ہے ۔ آیت ” سنسمہ علی الخرطوم “۔ (68 : 16) ” ہم عنقریب ان کی ناک پر داغ لگائیں گے ۔ “ تو یہ اہل اعراف اہل جنتکو سلام کریں گے “۔ اور سلام اس انداز کا ہوگا کہ وہ امید کریں گے کہ جلد ہی وہ بھی داخلہ جنت کے مستحق قرار پائیں گے اور جب وہ اہل جہنم کو دیکھیں گے تو انکی یہ نظر اچٹتی ہوگی ‘ بالاارادہ وہ ان پر نگاہ ڈالنا پسند نہ کریں گے ۔ وہ انہیں دیکھتے ہی اللہ کی پناہ مانگنے لگیں کہ بار الہا ! ہمیں ان کا ساتھی نہ بنا ۔ آیت ” وَبَیْْنَہُمَا حِجَابٌ وَعَلَی الأَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلاًّ بِسِیْمَاہُمْ وَنَادَوْاْ أَصْحَابَ الْجَنَّۃِ أَن سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوہَا وَہُمْ یَطْمَعُونَ (46) وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُہُمْ تِلْقَاء أَصْحَابِ النَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ (47) ” ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے ۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ” سلامتی ہو تم پر “ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔ اور جب انکی نگائیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے ” اے رب ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو۔ “ اس کے بعد اصحاب اعراف بڑے بڑے مجرموں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ یہ لوگ معروف قسم کے لوگ تھے اور ان پر بھی علامات جہنم عیاں تھیں ۔ ان پر وہ یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ دنیا میں تمہاری جو جمعیت اور شوکت تھی اب وہ کہاں گئی ؟ ان کو یوں شرمندہ کرتے ہیں ۔ آیت ” وَنَادَی أَصْحَابُ الأَعْرَافِ رِجَالاً یَعْرِفُونَہُمْ بِسِیْمَاہُمْ قَالُواْ مَا أَغْنَی عَنکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ (48) ” پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ” دیکھ لیا تم نے آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے ۔ “ اب ذرا اپنی حالت کو دیکھو کہ کہاں پڑے ہو ‘ تمہاری جمعیت نے تمہیں کیا فائدہ دیا اور تمہاری استکبار نے تمہیں کیا تحفظ دیا ؟ اب یہ لوگ ان اکابر مجرمین کو یاد دلاتے ہیں کہ تم تو اہل ایمان کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے محروم ہیں۔ آیت ” أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمْتُمْ لاَ یَنَالُہُمُ اللّہُ بِرَحْمَۃٍ “۔ (7 : 49) ” اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ نہ دے گا ؟ “۔ اب دیکھو کہ تم کہاں کھڑے ہو اور یہ بھی دیکھو کہ ان کے بارے میں اللہ کے احکام کیا ہیں ؟ یہ ہیں : آیت ” ادْخُلُواْ الْجَنَّۃَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْْکُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ (49) ” آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہوجاؤ جنت میں ‘ تمہارے لئے نہ خوف ہے نہ رنج۔ “ ہاں ایک آواز اہل جن ہم کی طرف سے بھی سنائی دیتی ہے ۔ یہ پرامید بھی ہے اور رحم طلب بھی ۔ دوسری جانب سے اس کا جو جواب دیا جاتا ہے وہ نہایت ہی تلخ درد ناک اور عبرت آموز ہے ۔ ذرا غور کیجئے ۔

الأعراف 7:47

روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان سکیں گے کیونکہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ہوائیاں اڑ رہی ہوگی یا وہ ان لوگوں کو اس داغ کی وجہ سے پہچان لیں گے جو ان کی ناک پر لگایا جائے گا ۔ جس طرح سورة قلم میں ہے ۔ آیت ” سنسمہ علی الخرطوم “۔ (68 : 16) ” ہم عنقریب ان کی ناک پر داغ لگائیں گے ۔ “ تو یہ اہل اعراف اہل جنتکو سلام کریں گے “۔ اور سلام اس انداز کا ہوگا کہ وہ امید کریں گے کہ جلد ہی وہ بھی داخلہ جنت کے مستحق قرار پائیں گے اور جب وہ اہل جہنم کو دیکھیں گے تو انکی یہ نظر اچٹتی ہوگی ‘ بالاارادہ وہ ان پر نگاہ ڈالنا پسند نہ کریں گے ۔ وہ انہیں دیکھتے ہی اللہ کی پناہ مانگنے لگیں کہ بار الہا ! ہمیں ان کا ساتھی نہ بنا ۔ آیت ” وَبَیْْنَہُمَا حِجَابٌ وَعَلَی الأَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلاًّ بِسِیْمَاہُمْ وَنَادَوْاْ أَصْحَابَ الْجَنَّۃِ أَن سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوہَا وَہُمْ یَطْمَعُونَ (46) وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُہُمْ تِلْقَاء أَصْحَابِ النَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ (47) ” ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے ۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ” سلامتی ہو تم پر “ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔ اور جب انکی نگائیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے ” اے رب ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو۔ “ اس کے بعد اصحاب اعراف بڑے بڑے مجرموں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ یہ لوگ معروف قسم کے لوگ تھے اور ان پر بھی علامات جہنم عیاں تھیں ۔ ان پر وہ یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ دنیا میں تمہاری جو جمعیت اور شوکت تھی اب وہ کہاں گئی ؟ ان کو یوں شرمندہ کرتے ہیں ۔ آیت ” وَنَادَی أَصْحَابُ الأَعْرَافِ رِجَالاً یَعْرِفُونَہُمْ بِسِیْمَاہُمْ قَالُواْ مَا أَغْنَی عَنکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ (48) ” پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ” دیکھ لیا تم نے آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے ۔ “ اب ذرا اپنی حالت کو دیکھو کہ کہاں پڑے ہو ‘ تمہاری جمعیت نے تمہیں کیا فائدہ دیا اور تمہاری استکبار نے تمہیں کیا تحفظ دیا ؟ اب یہ لوگ ان اکابر مجرمین کو یاد دلاتے ہیں کہ تم تو اہل ایمان کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے محروم ہیں۔ آیت ” أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمْتُمْ لاَ یَنَالُہُمُ اللّہُ بِرَحْمَۃٍ “۔ (7 : 49) ” اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ نہ دے گا ؟ “۔ اب دیکھو کہ تم کہاں کھڑے ہو اور یہ بھی دیکھو کہ ان کے بارے میں اللہ کے احکام کیا ہیں ؟ یہ ہیں : آیت ” ادْخُلُواْ الْجَنَّۃَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْْکُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ (49) ” آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہوجاؤ جنت میں ‘ تمہارے لئے نہ خوف ہے نہ رنج۔ “ ہاں ایک آواز اہل جن ہم کی طرف سے بھی سنائی دیتی ہے ۔ یہ پرامید بھی ہے اور رحم طلب بھی ۔ دوسری جانب سے اس کا جو جواب دیا جاتا ہے وہ نہایت ہی تلخ درد ناک اور عبرت آموز ہے ۔ ذرا غور کیجئے ۔

الأعراف 7:48

روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان سکیں گے کیونکہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ہوائیاں اڑ رہی ہوگی یا وہ ان لوگوں کو اس داغ کی وجہ سے پہچان لیں گے جو ان کی ناک پر لگایا جائے گا ۔ جس طرح سورة قلم میں ہے ۔ آیت ” سنسمہ علی الخرطوم “۔ (68 : 16) ” ہم عنقریب ان کی ناک پر داغ لگائیں گے ۔ “ تو یہ اہل اعراف اہل جنتکو سلام کریں گے “۔ اور سلام اس انداز کا ہوگا کہ وہ امید کریں گے کہ جلد ہی وہ بھی داخلہ جنت کے مستحق قرار پائیں گے اور جب وہ اہل جہنم کو دیکھیں گے تو انکی یہ نظر اچٹتی ہوگی ‘ بالاارادہ وہ ان پر نگاہ ڈالنا پسند نہ کریں گے ۔ وہ انہیں دیکھتے ہی اللہ کی پناہ مانگنے لگیں کہ بار الہا ! ہمیں ان کا ساتھی نہ بنا ۔ آیت ” وَبَیْْنَہُمَا حِجَابٌ وَعَلَی الأَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلاًّ بِسِیْمَاہُمْ وَنَادَوْاْ أَصْحَابَ الْجَنَّۃِ أَن سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوہَا وَہُمْ یَطْمَعُونَ (46) وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُہُمْ تِلْقَاء أَصْحَابِ النَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ (47) ” ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے ۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ” سلامتی ہو تم پر “ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔ اور جب انکی نگائیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے ” اے رب ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو۔ “ اس کے بعد اصحاب اعراف بڑے بڑے مجرموں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ یہ لوگ معروف قسم کے لوگ تھے اور ان پر بھی علامات جہنم عیاں تھیں ۔ ان پر وہ یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ دنیا میں تمہاری جو جمعیت اور شوکت تھی اب وہ کہاں گئی ؟ ان کو یوں شرمندہ کرتے ہیں ۔ آیت ” وَنَادَی أَصْحَابُ الأَعْرَافِ رِجَالاً یَعْرِفُونَہُمْ بِسِیْمَاہُمْ قَالُواْ مَا أَغْنَی عَنکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ (48) ” پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ” دیکھ لیا تم نے آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے ۔ “ اب ذرا اپنی حالت کو دیکھو کہ کہاں پڑے ہو ‘ تمہاری جمعیت نے تمہیں کیا فائدہ دیا اور تمہاری استکبار نے تمہیں کیا تحفظ دیا ؟ اب یہ لوگ ان اکابر مجرمین کو یاد دلاتے ہیں کہ تم تو اہل ایمان کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے محروم ہیں۔ آیت ” أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمْتُمْ لاَ یَنَالُہُمُ اللّہُ بِرَحْمَۃٍ “۔ (7 : 49) ” اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ نہ دے گا ؟ “۔ اب دیکھو کہ تم کہاں کھڑے ہو اور یہ بھی دیکھو کہ ان کے بارے میں اللہ کے احکام کیا ہیں ؟ یہ ہیں : آیت ” ادْخُلُواْ الْجَنَّۃَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْْکُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ (49) ” آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہوجاؤ جنت میں ‘ تمہارے لئے نہ خوف ہے نہ رنج۔ “ ہاں ایک آواز اہل جن ہم کی طرف سے بھی سنائی دیتی ہے ۔ یہ پرامید بھی ہے اور رحم طلب بھی ۔ دوسری جانب سے اس کا جو جواب دیا جاتا ہے وہ نہایت ہی تلخ درد ناک اور عبرت آموز ہے ۔ ذرا غور کیجئے ۔

الأعراف 7:49

روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان سکیں گے کیونکہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ہوائیاں اڑ رہی ہوگی یا وہ ان لوگوں کو اس داغ کی وجہ سے پہچان لیں گے جو ان کی ناک پر لگایا جائے گا ۔ جس طرح سورة قلم میں ہے ۔ آیت ” سنسمہ علی الخرطوم “۔ (68 : 16) ” ہم عنقریب ان کی ناک پر داغ لگائیں گے ۔ “ تو یہ اہل اعراف اہل جنتکو سلام کریں گے “۔ اور سلام اس انداز کا ہوگا کہ وہ امید کریں گے کہ جلد ہی وہ بھی داخلہ جنت کے مستحق قرار پائیں گے اور جب وہ اہل جہنم کو دیکھیں گے تو انکی یہ نظر اچٹتی ہوگی ‘ بالاارادہ وہ ان پر نگاہ ڈالنا پسند نہ کریں گے ۔ وہ انہیں دیکھتے ہی اللہ کی پناہ مانگنے لگیں کہ بار الہا ! ہمیں ان کا ساتھی نہ بنا ۔ آیت ” وَبَیْْنَہُمَا حِجَابٌ وَعَلَی الأَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلاًّ بِسِیْمَاہُمْ وَنَادَوْاْ أَصْحَابَ الْجَنَّۃِ أَن سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوہَا وَہُمْ یَطْمَعُونَ (46) وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُہُمْ تِلْقَاء أَصْحَابِ النَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ (47) ” ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے ۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ” سلامتی ہو تم پر “ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔ اور جب انکی نگائیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے ” اے رب ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو۔ “ اس کے بعد اصحاب اعراف بڑے بڑے مجرموں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ یہ لوگ معروف قسم کے لوگ تھے اور ان پر بھی علامات جہنم عیاں تھیں ۔ ان پر وہ یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ دنیا میں تمہاری جو جمعیت اور شوکت تھی اب وہ کہاں گئی ؟ ان کو یوں شرمندہ کرتے ہیں ۔ آیت ” وَنَادَی أَصْحَابُ الأَعْرَافِ رِجَالاً یَعْرِفُونَہُمْ بِسِیْمَاہُمْ قَالُواْ مَا أَغْنَی عَنکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ (48) ” پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ” دیکھ لیا تم نے آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے ۔ “ اب ذرا اپنی حالت کو دیکھو کہ کہاں پڑے ہو ‘ تمہاری جمعیت نے تمہیں کیا فائدہ دیا اور تمہاری استکبار نے تمہیں کیا تحفظ دیا ؟ اب یہ لوگ ان اکابر مجرمین کو یاد دلاتے ہیں کہ تم تو اہل ایمان کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے محروم ہیں۔ آیت ” أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمْتُمْ لاَ یَنَالُہُمُ اللّہُ بِرَحْمَۃٍ “۔ (7 : 49) ” اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ نہ دے گا ؟ “۔ اب دیکھو کہ تم کہاں کھڑے ہو اور یہ بھی دیکھو کہ ان کے بارے میں اللہ کے احکام کیا ہیں ؟ یہ ہیں : آیت ” ادْخُلُواْ الْجَنَّۃَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْْکُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ (49) ” آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہوجاؤ جنت میں ‘ تمہارے لئے نہ خوف ہے نہ رنج۔ “ ہاں ایک آواز اہل جن ہم کی طرف سے بھی سنائی دیتی ہے ۔ یہ پرامید بھی ہے اور رحم طلب بھی ۔ دوسری جانب سے اس کا جو جواب دیا جاتا ہے وہ نہایت ہی تلخ درد ناک اور عبرت آموز ہے ۔ ذرا غور کیجئے ۔

الأعراف 7:50

روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان سکیں گے کیونکہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ہوائیاں اڑ رہی ہوگی یا وہ ان لوگوں کو اس داغ کی وجہ سے پہچان لیں گے جو ان کی ناک پر لگایا جائے گا ۔ جس طرح سورة قلم میں ہے ۔ آیت ” سنسمہ علی الخرطوم “۔ (68 : 16) ” ہم عنقریب ان کی ناک پر داغ لگائیں گے ۔ “ تو یہ اہل اعراف اہل جنتکو سلام کریں گے “۔ اور سلام اس انداز کا ہوگا کہ وہ امید کریں گے کہ جلد ہی وہ بھی داخلہ جنت کے مستحق قرار پائیں گے اور جب وہ اہل جہنم کو دیکھیں گے تو انکی یہ نظر اچٹتی ہوگی ‘ بالاارادہ وہ ان پر نگاہ ڈالنا پسند نہ کریں گے ۔ وہ انہیں دیکھتے ہی اللہ کی پناہ مانگنے لگیں کہ بار الہا ! ہمیں ان کا ساتھی نہ بنا ۔ آیت ” وَبَیْْنَہُمَا حِجَابٌ وَعَلَی الأَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلاًّ بِسِیْمَاہُمْ وَنَادَوْاْ أَصْحَابَ الْجَنَّۃِ أَن سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوہَا وَہُمْ یَطْمَعُونَ (46) وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُہُمْ تِلْقَاء أَصْحَابِ النَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ (47) ” ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے ۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ” سلامتی ہو تم پر “ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔ اور جب انکی نگائیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے ” اے رب ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو۔ “ اس کے بعد اصحاب اعراف بڑے بڑے مجرموں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ یہ لوگ معروف قسم کے لوگ تھے اور ان پر بھی علامات جہنم عیاں تھیں ۔ ان پر وہ یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ دنیا میں تمہاری جو جمعیت اور شوکت تھی اب وہ کہاں گئی ؟ ان کو یوں شرمندہ کرتے ہیں ۔ آیت ” وَنَادَی أَصْحَابُ الأَعْرَافِ رِجَالاً یَعْرِفُونَہُمْ بِسِیْمَاہُمْ قَالُواْ مَا أَغْنَی عَنکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ (48) ” پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ” دیکھ لیا تم نے آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے ۔ “ اب ذرا اپنی حالت کو دیکھو کہ کہاں پڑے ہو ‘ تمہاری جمعیت نے تمہیں کیا فائدہ دیا اور تمہاری استکبار نے تمہیں کیا تحفظ دیا ؟ اب یہ لوگ ان اکابر مجرمین کو یاد دلاتے ہیں کہ تم تو اہل ایمان کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے محروم ہیں۔ آیت ” أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمْتُمْ لاَ یَنَالُہُمُ اللّہُ بِرَحْمَۃٍ “۔ (7 : 49) ” اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ نہ دے گا ؟ “۔ اب دیکھو کہ تم کہاں کھڑے ہو اور یہ بھی دیکھو کہ ان کے بارے میں اللہ کے احکام کیا ہیں ؟ یہ ہیں : آیت ” ادْخُلُواْ الْجَنَّۃَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْْکُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ (49) ” آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہوجاؤ جنت میں ‘ تمہارے لئے نہ خوف ہے نہ رنج۔ “ ہاں ایک آواز اہل جن ہم کی طرف سے بھی سنائی دیتی ہے ۔ یہ پرامید بھی ہے اور رحم طلب بھی ۔ دوسری جانب سے اس کا جو جواب دیا جاتا ہے وہ نہایت ہی تلخ درد ناک اور عبرت آموز ہے ۔ ذرا غور کیجئے ۔

الأعراف 7:51

اس طرح اس طویل منظر کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ۔ ابھی آخرت کی جھلکی ہے اور ساتھ ہی دنیا کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ ایک لمحہ ہم اس ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو آگ میں جل رہے ہیں ‘ جن کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے حضور پیش نہ ہوں گے اور جنہوں نے آیات الہی کا انکار کردیا تھا حالانکہ ان کے پاس کتاب مفصل آچکی تھی جو بالکل واضح تھی اور اس کی تفصیلات اللہ کے علم پر مبنی تھیں ۔ انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اپنی پسند کے ادہام اور شکوک کو اختیار کرلیا ۔ دوسرے ہی لمحہ ہم دیکھے ہیں کہ یہ یہی لوگ دنیا میں اس کتاب کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں اس میں جو ڈراوے درج ہیں ان کے ظہور کے منتظر ہیں ۔ انہیں اس انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے مگر اس منظر میں وہ واقع ہوچکا ہے ۔ یہ عجیب مناظر ہیں جو اس کتاب کے صفحات میں پیش کئے گئے اور انہیں اس انداز میں یہی کتاب معجز بیان پیش کرسکتی تھی ۔ اس طرح یہ طویل منظر کشی یہاں ختم ہوجاتی ہے اور اس پر اللہ کی جانب سے یہ آخر تبصرہ آتا ہے ‘ جس میں لوگوں کو ان مناظر قیامت کی روشن یاد دہانی کرائی جاتی ہے اور لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کی آیات کی تکذیب کا انجام کیا ہو گا ؟ کہا جاتا ہے کہ لوگ اس کتاب میں دیئے گئے انجام کے بارے میں انتظار کرتے ہیں تو یہ ہے اس کا انجام اور اس انجام کے دنتوبہ کی کوئی گنجائش نہ ہوگی ۔ مشکلات میں کوئی سفارش نہ چلے گی اور یہ بھی ممکن نہ ہوگا کہ آزمائش کے لئے دوبارہ چانس دیا جائے ۔ یوں یہ منظر ختم ہوتا ہے اور انسان اس منظر میں گم رہتا ہے ۔ جب یہ منظر ختم ہوتا ہے تو دیکھنے والا یہ محسوس کرتا ہے گویا وہ قیامت کے میدان سے لوٹ کر دنیا میں آگیا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلک جھپکتے ہی ہم آخرت میں چلے گئے اور واپس آگئے ۔ یہ پورے مناظر زندگی کے سفرپر مشتمل ہیں ۔ زندگی کا طویل سفر ‘ حشر ونشر اور حساب و کتاب اور جزا و سزاء جبکہ اس سے قبل کے سبق میں انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا جبکہ انسان کے جد امجد جنت میں تھے ان کی لغزش کی وجہ سے انسان جنت سے اترا تھا ۔ یوں قرآن کریم انسان کو اور اس کے تصورات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں ‘ زمان ومکان کے دفتر لپیٹ دیئے جاتے ہیں ‘ فاصلے مٹ جاتے ہیں اور انسان کو ملکوت السماوات کی سیرکرائی جاتی ہے اور یہ سیر چند لمحات میں کرا دی جاتی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑے اور ڈرانے والوں کی باتوں کی طرف توجہ کرے اور سورة اعراف کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے کیا خوب کہا ۔ آیت ” کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِہِ أَوْلِیَاء قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُونَ (3) ” یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد ﷺ تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے ڈراؤ اور ایمان والے لوگوں کو نصیحت ہو ۔ “

الأعراف 7:52

اس طرح اس طویل منظر کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ۔ ابھی آخرت کی جھلکی ہے اور ساتھ ہی دنیا کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ ایک لمحہ ہم اس ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو آگ میں جل رہے ہیں ‘ جن کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے حضور پیش نہ ہوں گے اور جنہوں نے آیات الہی کا انکار کردیا تھا حالانکہ ان کے پاس کتاب مفصل آچکی تھی جو بالکل واضح تھی اور اس کی تفصیلات اللہ کے علم پر مبنی تھیں ۔ انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اپنی پسند کے ادہام اور شکوک کو اختیار کرلیا ۔ دوسرے ہی لمحہ ہم دیکھے ہیں کہ یہ یہی لوگ دنیا میں اس کتاب کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں اس میں جو ڈراوے درج ہیں ان کے ظہور کے منتظر ہیں ۔ انہیں اس انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے مگر اس منظر میں وہ واقع ہوچکا ہے ۔ یہ عجیب مناظر ہیں جو اس کتاب کے صفحات میں پیش کئے گئے اور انہیں اس انداز میں یہی کتاب معجز بیان پیش کرسکتی تھی ۔ اس طرح یہ طویل منظر کشی یہاں ختم ہوجاتی ہے اور اس پر اللہ کی جانب سے یہ آخر تبصرہ آتا ہے ‘ جس میں لوگوں کو ان مناظر قیامت کی روشن یاد دہانی کرائی جاتی ہے اور لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کی آیات کی تکذیب کا انجام کیا ہو گا ؟ کہا جاتا ہے کہ لوگ اس کتاب میں دیئے گئے انجام کے بارے میں انتظار کرتے ہیں تو یہ ہے اس کا انجام اور اس انجام کے دنتوبہ کی کوئی گنجائش نہ ہوگی ۔ مشکلات میں کوئی سفارش نہ چلے گی اور یہ بھی ممکن نہ ہوگا کہ آزمائش کے لئے دوبارہ چانس دیا جائے ۔ یوں یہ منظر ختم ہوتا ہے اور انسان اس منظر میں گم رہتا ہے ۔ جب یہ منظر ختم ہوتا ہے تو دیکھنے والا یہ محسوس کرتا ہے گویا وہ قیامت کے میدان سے لوٹ کر دنیا میں آگیا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلک جھپکتے ہی ہم آخرت میں چلے گئے اور واپس آگئے ۔ یہ پورے مناظر زندگی کے سفرپر مشتمل ہیں ۔ زندگی کا طویل سفر ‘ حشر ونشر اور حساب و کتاب اور جزا و سزاء جبکہ اس سے قبل کے سبق میں انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا جبکہ انسان کے جد امجد جنت میں تھے ان کی لغزش کی وجہ سے انسان جنت سے اترا تھا ۔ یوں قرآن کریم انسان کو اور اس کے تصورات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں ‘ زمان ومکان کے دفتر لپیٹ دیئے جاتے ہیں ‘ فاصلے مٹ جاتے ہیں اور انسان کو ملکوت السماوات کی سیرکرائی جاتی ہے اور یہ سیر چند لمحات میں کرا دی جاتی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑے اور ڈرانے والوں کی باتوں کی طرف توجہ کرے اور سورة اعراف کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے کیا خوب کہا ۔ آیت ” کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِہِ أَوْلِیَاء قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُونَ (3) ” یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد ﷺ تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے ڈراؤ اور ایمان والے لوگوں کو نصیحت ہو ۔ “

الأعراف 7:53

درس نمبر 76 ایک نظر میں : پہلے دو اسباق میں ہم نے قصہ آغاز انسانیت ‘ جنت سے اس کے نزول اور پھر حشر ونشر کے میدان اور جنت اور دوزخ کے مناظر کی سیر کی ۔ اب اگلے سبق میں ملکوت السموات والارض کی سیر ہے ۔ اس پھیلی ہوئی کائنات کے ضمیر کی سیر مطلوب ہے ۔ انسان کی تخلیق سے ذرا پیچھے جا کر اس پوری کائنات کی تخلیق کی روئیداد بھی سن لیجئے ۔ متوجہ کیا جاتا ہے کہ ذرا اس کائنات کے اسرار و رموز پر بھی غور کرو اور یہ سمجھو کہ اس کا قصہ تخلیق کیا ہے ؟ ذرا اس کے مناظر ومظاہر پر بھی غور کرو ۔ گردش افلاک میں مناظر لیل ونہار کی دوڑ پر غور کرو۔ سورج اور چاند کو دیکھو اور فضا کی وسعتوں میں سیاروں اور ستاروں کی بندش کو ملاحظہ کرو۔ فضا میں ہواؤں کی گردش اور ان کے اثرات ‘ بادل اور بارش اور پھر مردہ زمین اور باران رحمت کے بعد اس کی تازگی اور روئیدگی ‘ ایک لمحہ مردہ اور ایک لمحہ فصلوں اور پھلوں سے بھرپور۔ اللہ کی بادشاہت کی وادیوں سے قبل قصہ تخلیق انسانیت بیان ہوچکا ہے ۔ اس کے بعدانسانیت کے اس طویل سفر کا آغاز و انجام بیان ہوچکا ہے اور اس سے قبل یہ بات بتائی جا چکی ہے کہ اتباع شیطان اور اللہ کی آیات اور احکام کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے استکبار کا انجام کیا ہوگا ۔ نیز یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ جاہلی تصورات ورسومات کیا ہیں اور انسان کی جانب سے اپنے لئے شریعت ساری اللہ کی نظر میں کی حیثیت رکھتی ہے ۔ ان موضوعات کے بعد انسان کو کائنات کی وسعتوں میں لے جایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے اس رب کی طرف لوٹ سکے جو ان وسعتوں کا خالق ہے اور پھر ان کو مسخر کرنے والا ہے ‘ جو اس وسیع و عریض کائنات کو اپنے نظام قضاوقدر سے چلاتا ہے ‘ اس کے لئے اس نے ایک ناموس تجویز کر رکھا ہے ۔ لہذا وہی ہے جس نے اس کائنات کو پیدا کیا اور وہی ہے جو سیاسی اقتدار اعلی کا مالک ہے ۔ ملکوت السموات کی اس سیر کے ذریعے یہ گہرا تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ پوری کائنات رب کائنات کی مطیع ہے ‘ لہذا اس ناقابل تصور طویل و عریض کائنات کے اندر اس چھوٹے سے انسان کی سرکشی اور استکبار فطرت کائنات سے نافرمانی ہے ۔ اس طرز عمل سے انسان ناموس فطرت اور ناموس شریعت سے بیک وقت سرکشی اختیار کرتا ہے لہذا انسان کو اس کائنات کے اندر رہتے ہوئے یہ رویہ اختیار نہ کرنا چاہئے ۔ آیت ” ادْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (55) وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (56) ” اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ‘ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے ۔ اور خدا ہی کو پکار وخوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں کے قریب ہے ۔ “ دین کو اللہ کے لیئے خالص کردینا ‘ اور تمام انسانوں کی جانب سے اللہ کی بندگی اختیار کرنا اس عظیم بندگی اور سرنگونی کا ایک معمولی سا جزء اور ایک چھوٹی سی شاخ ہے جو اس عظیم اور بیکران کائنات کی طرف سے رب ذوالجلال کے حضور کی جاری ہے ۔ یہ ہے وہ سوچ اور وہ تصور جسے پورا قرآن کریم انسان کے دل و دماغ اور اس کی نظریات و تصورات میں نہایت ہی عمدگی سے بٹھانا چاہتا ہے ۔ میں کہتا ہوں کہ جو دل و دماغ بھی سوچ اور ادراک کے دروازے کھول کر اس پوری کائنات اور اس کے ان نوامیس کی طرف متوجہ ہوگا جو اس کائنات میں پوشیدہ ہیں یا بالکل ظاہر ہیں تو لابدی ہے کہ وہ نہایت ہی پختہ انداز میں اور نہایت ہی گہرائی کے ساتھ اس سے متاثر ہوگا اور دل کی گہرائیوں سے یہ شعور پائے گا کہ وہ نہایت ہی عظیم ہے جس نے اس کائنات اور اس کے نوامیس کو بنایا ہے اور وہی بنانے والی ذات سیاسی اقتدار اعلی کی بھی سزاوار ہے ۔ یہ غور وفکر وہ پہلا قدم ہے جو انبیاء کی دعوت کی قبولیت کی طرف انسان کو لے جاتا ہے اور پھر انسان پوری طرح اللہ رب العالمین کے احکام کے سامنے سرتسلیم خم کردیتا ہے جس طرح سے پوری کائنات سرتسلیم خم کئے ہوئے ہے اور پھر انسان کائنات کا ہم قدم ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم حقیقت الوہیت کو سمجھانے کے لئے حقیقت کائنات کے ادراک کو پہلا زینہ قرار دیتا ہے اور اس طرح پوری انسانیت کو اللہ وحدہ کی غلامی کے لئے تیار کرتا ہے ۔ اس طرح انسانی شعور اور انسانی شخصیت کو حقیقت عبودیت سے روشناس کراتا ہے ۔ انسان بڑے اطمینان سے ذوق بندگی پاتا ہے اور وہ یقین کرلیتا ہے کہ وہ اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی یہ کائنات دونوں ہم قدم ہو کر بندگی رب کی راہ پر چل رہے ہیں ۔ پوری کائنات کی جانب سے اللہ کی بندگی کے ثبوت کا مقصد قرآن کے پیش نظر محض عقلی استدالال ہی نہیں ہے کہ چونکہ کائنات اللہ کے ہاتھ میں مسخر ہے ‘ وہ پوری طرح مطیع فرمان ہے ‘ اور نہایت ہی فرمانبرداری سے ‘ نہایت ہی گہرائی اور مکمل طور پر اللہ کے حکم اور امر کی پابند ہے لہذا انسان کو بھی ایسا ہونا چاہئے ۔ صرف عقلی استدلال ہی پیش نظر نہیں بلکہ اس سے ایک دوسرا ذوق بھی انسان کے اندر پیدا کرنا مطلوب ہے ۔ وہ یہ ذوق واحساس ہے کہ انسان اور یہ پوری کائنات اس بندگی اور غلامی میں باہم شریک ورفیق ہیں اور نہایت ہی اطمینان کے ساتھ انسان یہ بندگی کرسکتا ہے گویا اس طرح انسان اس قافلہ کائنات کا ایک فرد ہوگا جو مطیع رب ہوگا ۔ گویا ہر انسان راضی برضا بندگی کر رہا ہے ۔ کوئی امر اسے مجبور نہیں کر رہا ہے ‘ وہ جبر کے تحت نہیں بلکہ محبت اور اطمینان کی وجہ سے بندگی کر رہا ہے ۔ اس بندگی کی وجہ سے وہ اس پوری کائنات سے ہم آہنگ ہو رہا ہے ۔ لہذا ایسا انسان بندگی سے فرار کی راہیں تلاش نہیں کرتا ‘ نہ اس جبر سے اپنے آپ کو آزاد کرنا چاہتا ہے ۔ کیونکہ اس تصور سے بندگی ‘ اس کی فطرت قرار پاتی ہے اور اس کے لئے خوشی کا باعث ہوتی ہے ۔ یہ ایسی بندگی ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان تمام غیر اللہ کی بندگیوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اور رب رفیع وذوالجلال ہی کا بندہ بن جاتا ہے جو رب العالمین ہے ۔ یہی بندگی ایمان کی تمثیل ہوتی ہے اور اسے پر ذائقہ بناتی ہے ۔ اسی بندگی سے اسلام کا مفہوم ظہور پذیر ہوتا ہے اور اسلام کے اندر روح اور زندگی اور تروتازگی پیدا ہوتی ہے ۔ یہ وہ اساس ہے جس پر اسلام کو قائم ہونا چاہئے اس اساس کو اچھی طرح پختہ کرنا چاہئے اور اس کے بعد کسی بندے کو احکام و شریعت دینا چاہئے ۔ اس کے بعد ہی قوانین و ضوابط کا اقرار ہونا چاہئے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کا منہاج اور اسلوب سب سے پہلے انسان کے اندر یہ شعور اور ذوق پیدا کرتا ہے ۔ اسے پختہ کرتا ہے اور یہ نہایت ہی متین اور پختہ منہاج ہے ۔

الأعراف 7:54

آیت ” نمبر 54۔ اسلام کا نظریہ توحید ایسا عقیدہ ہے جو اللہ کی ذات وصفات کے بارے میں ہر قسم کے انسانی تصورات کا قلع قمع کردیتا ہے ۔ اللہ کے افعال کی کیفیات کی بھی وہ نفی کرتا ہے ‘ کیونکہ اللہ ایسا ہے جیسا کوئی بھی نہیں ہے ۔ چناچہ انسانی تصور اللہ کی کوئی تصویر نہیں کھینچ سکتا ‘ کیونکہ انسانی تصور اور انسانی عقل وہی تصاویر اللہ پر چسپاں کرے گا جو وہ اپنے ماحول سے اخذ کرے گا اور اس میں ان اشکال کا دخل ہوگا جو انسان دیکھتا ہے اور اللہ کی ذات ایسی ہے جیسا کوئی اور ذات نہیں ہے لہذا انسانی تصور اللہ کی کوئی تصویر نہیں کھینچ سکتا ۔ اور جب ذات باری انسانی تصور کے دائرہ تصویر کشی سے باہر ہے تو اللہ کے افعال کی کیفیات بھی دائرہ عقل سے وراء ہیں ۔ انسان صرف یہی کرسکتا ہے کہ ذات باری اور افعال باری کے آثار ہی ہمارے فہم وادراک کا موضوع ہو سکتے ہیں ۔ چناچہ ایسے سوالات کہ اللہ نے آسمان و زمین کو کس طرح پیدا کیا ؟ اللہ پھر عرش پر کیسے متمکن ہوا ؟ اور وہ عرش کیسا ہے جس پر باری تعالیٰ متمکن ہوا ؟ یہ تمام سوالات لغو سوالات ہیں اور اسلامی تصورات و عقائد کے اصول کے خلاف ہیں ۔ ایسے سوالات سے بھی لغو بات ہے اور کوئی شخص جو اسلامی تصورات و عقائد کے ان اصولوں سے واقف ہے ‘ وہ کبھی ان سوالات کا جواب دینے کی سعی نہیں کرے گا ۔ اسلامی فرقوں میں سے بعض لوگوں نے ان سوالات کے جوابات دینے کی سعی کی ہے ‘ جو نہایت ہی افسوسناک مشغلہ تھا ۔ اسلامی افکار کی تاریخ ایسے مباحث سے بھری پڑی ہے اور یہ مباحث اس وقت پیدا ہوئے جب اسلامی فکر کو یونان کی اکفار کی بیماری لاحق ہوئی ۔ رہے وہ چھ دن جن میں اللہ تعالیٰ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا تو یہ بھی ایک غیبی حقیقت ہے ۔ جس کا صحیح علم صرف اللہ کو ہے ۔ اس وقت انسان موجود نہ تھا کہ وہ اس تخلیق اور زمانہ تخلیق کے بارے میں کچھ کہہ سکتا ہو۔ نہ اللہ کی دوسری مخلوق کے بارے میں انسان کچھ کہہ سکتا ہے ۔ آیت ” ما اشھدتم خلق السموت ولا خلق انفسھم “۔ تم نے تخلیق سماوات اور زمین اور خود اپنے نفوس کی تخلیق کا مشاہدہ نہیں کیا ۔ “ اس کے بعد ان موضوعات پر کوئی شخص جو بھی کہے گا وہ کسی یقینی اصول پر مبنی نہ ہوگا ۔ یہ چھ مراحل بھی ہو سکتے ہیں ‘ چھ طریقے بھی ہو سکتے ہیں ۔ اور اللہ کے ایام میں سے چھ یوم بھی ہو سکتے ہیں ۔ ایام الہی ان ایام جیسے نہیں ہوتے جو اجرام سماوی کی حرکات کے نتیجے میں ہم لوگ دیکھتے ہیں کیونکہ تخلیق کائنات سے قبل یہ اجرام فلکی تو موجود ہی نہ تھے جن سے ہم وقت کا تعین کرتے ہیں ۔ ان کے علاوہ یہ ایام اور کوئی چیز بھی ہو سکتے ہیں ۔ لہذا کوئی انسان متعین طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ چھ ایام کے عدد سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں انسانوں نے جو کچھ کہا ہے وہ بہرحال انسانی مفروضے ہیں جو ظن وتخمین پر مبنی ہیں اور تعجب ہے کہ بعض لوگ ان اندازوں کو علم اور سائنس قرار دیتے ہیں جو کھلا تحکم ہے اور ذہنی وروحانی شکست پر مبنی ہے ۔ یہ سائنس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے برابر ہے جو بذات خود غیر یقینی چیز ہے اور اکثر اوقات مفروضات پر مبنی ہوتی ہے ۔ ہم اس آیت کو ان مفروضوں سے آلودہ نہیں کرتے ‘ کیونکہ ان مفروضوں کی وجہ سے اس کے مفہوم میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ آئیے ہم اس وسیع و عریض کائنات کی سیر شروع کرتے ہیں ۔ آیت پر دوبارہ نگاہ ڈالیں ۔ آیت ” إِنَّ رَبَّکُمُ اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ (54) ” درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے ۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں ۔ خبردار رہو اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے ۔ بڑا بابرکت ہے اللہ ‘ سارے جہانوں کا مالک و پروردگار ۔ “ یہ عظیم کائنات جو ہمیں نظر آتی ہے اور جو نہایت ہی وسیع ہے ‘ یہ اللہ کی پیدا کردہ ہے اور اللہ اس پر حاوی اور سربلند ہے۔ وہ قدرت اور تدبیر کے ساتھ اسے چلاتا ہے ‘ جو رات کو دن پر ڈھانپ دیتا ہے اور پھر رات کو دن کے پیچھے دوڑاتا ہے ۔ یہ سلسلہ مسلسل دوران کی شکل میں چلتا ہی رہتا ہے لیل ونہار آگے پیچھے چلتے رہتے ہیں ۔ جس نے سورج چاند اور ستاروں کو اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے ۔ وہ نگہبان ‘ متصرف اور مدبر ہے ‘ وہی تمہارا رب ہے ۔ وہی اس بات کا مستحق ہے کہ وہ رب ہو ‘ وہ اپنے طبیعی نظام کے ذریعے تمہاری تربیت کرتا ہے ‘ تم اس کے نظام کے مطابق اکٹھے ہو ‘ وہ اپنے حکم سے تمہارے لئے قانون بناتا ہے ‘ وہ اپنے قانون کے مطابق تمہارے درمیان فیصلے کرتا ہے ‘ وہی خالق ہے اور وہی حاکم ہے۔ جس طرح اس کے ساتھ خلق میں کوئی شریک نہیں ۔ اسی طرح اس کے ساتھ سیاسی حاکمیت میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ یہی وہ اصل مسئلہ ہے جو اس سبق کی روح ہے ۔ الوہیت ‘ ربوبیت ‘ سیاسی حاکمیت ‘ اور اقتدار اعلی میں اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھنا وغیرہ ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی میں اللہ کی شریعت کا پابند ہو اور اس پوری سورة کا اصلی موضوع یہی ہے ‘ کبھی تو اسے لباس اور خوراک کے مسائل کے ضمن میں لیا جاتا ہے اور کبھی دوسری شکل میں جس طرح سورة انعام میں مویشیوں اور فصلون اور نذر ونیاز کے موضوع کے ضمن میں اسے بیان کیا گیا ۔ قرآن کریم کے پیش نظر جو ہدف ہے اسے سمجھتے ہوئے ہمیں اس بات کو بھی نظروں سے اوجھل نہ ہونے دینا چاہئے کہ ان مناظر کی خوبصورتی کا معیار کس قدر اونچا ہے ۔ یہ مناظر زندگی اور حرکت سے کس قدر پھر پور ہیں اور ان کے اندر کس قدر اشاریت اور راہنمائی پائی جاتی ہے ۔ اس عظیم ہدف کے حصول کے لئے قرآن کریم نے کس قدر اچھا اسلوب اختیار کیا ہے ۔ گردش لیل ونہار کے ساتھ ساتھ گردش افکار و تصورات اور اس کائنات میں فکر کی جو لانی ‘ دن کے پیچھے رات کا تعاقب اور اس کے پکڑنے میں اس کی ناکامی ایک ایسی تگ ودو ہے کہ انسانی وجدان اس پر سے غفلت اور لاپرواہی کے ساتھ نہیں گزر سکتا ‘ اس گردش پیہم سے انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ بلکہ انسان ہر وقت انتظار اور امید میں رہتا ہے ۔ اس کائنات میں گردش اور زندگی قدرتی طور پر حسین لگتی ہے ‘ پھر گردش لیل ونہار کو ایک زندہ اور صاحب ارادہ ذات انسان کے ملاحظہ کے لئے پیش کرنا ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت طرز تعبیر ہے ۔ کوئی انسانی طرز تعبیر اسے اس حسن کے ساتھ پیش نہیں کرسکتا یہ قرآن کا مطلق اعجاز ہے۔ جب انسان کسی منظر کا عادی ہوجاتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے حسن اور خوبصورتی کے اثرات ختم ہوجاتے ہیں ۔ انسان ان مناظر سے یونہی ایک بلید الطبع شخص کی طرح متاثر ہوئے بغیر ہی گرز جاتا ہے ۔ قرآن کریم عادی مناظر ومشاہد کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ وہ عادی اور روٹین کے مناظر نہیں رہتے ‘ وہ انہیں ایسے نئے انداز میں پیش کرتا ہے اور اس انداز تعبیر کے اثرات اس طرح مرتب ہوتے ہیں کہ گویا یہ منظر انسان نے بالکل پہلی مرتب دیکھا ہے ۔ زیر نظر گردش لیل ونہار کے مناظر کو دیکھئے ‘ یہ عام عادی اور پیش پا افتادہ مناظر نہیں ہیں بلکہ لیل ونہار زندہ انسانوں کی طرح ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے نظر آتے ہیں اور ارادہ اور روح کے حامل حقائق واشخاص نظر آتے ہیں ۔ اپنی اس حرکت اور دوڑ میں لیل ونہار انسان کے ساتھ شریک اور مانوس ہیں اور ان کی حرکت کو ایسی حرکت سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں لوگ ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہیں ۔ اسی طرح سورج ‘ چاند اور ستارے بھی اس منظر میں اس طرح پیش ہوئے ہیں گویا زندہ ارواح ہیں اور اللہ کے احکام ان پر آتے ہیں وہ ان احکام کے مطابق حرکت کرتے ہیں اور پوری اطاعت اور وفا کیثی کے ساتھ حرکت پذیر ہیں ۔ وہ اس طرح ڈسپلن میں ہیں کہ احکام لیتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں ‘ جہاں ان کو حکم دیا جاتا ہے وہاں جاتے ہیں ‘ جس طرح زندہ باوردی فوجیوں کو احکام ملتے ہیں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اس انداز تعبیر سے انسان جھوم اٹھتا ہے ‘ فورا احکام الہی کی تعمیل کے لئے آمادہ ہوجاتا ہے اور انسان اپنے آپ کو قافلہ وفا کیثاں کائنات کا فرد سمجھتا ہے اور انسان پر قرآن کی گرفت اس طرح نظر آتی ہے جس طرح کوئی کسی بادشاہ کی قید میں ہوتا ہے ۔ یاد رکھئے کہ قرآن انسانی فطرت سے مخاطب ہوتا ہے ۔ یہ فطرت اس خالق نے پیدا کی ہے ‘ جو قرآن کی شکل میں انسان سے ہمکلام ہے اور اللہ انسان کی فطرت کے اسرار و رموز سے خوب واقف ہے ۔ جب بات اس مقام تک پہنچی ہے ‘ جب انسانوں کے اندر شعور وجدان پیدا ہوجاتے ہیں اور وہ اس کائنات کے زندہ جاوید مناظر کے ہمرکاب ہوجاتے ہیں ۔ اس سے قبل وہ ایک غافل اور بلید الطبع انسان کی طرح ان حسین مناظر سے متاثر ہوئے بغیر گزر جاتے تھے ۔ اور جب انسان کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ یہ مناظر اللہ کے ہاتھ میں مسخر ہیں ۔ اس کے مطیع فرمان ہیں اور اپنے خالق کے احکام ونوامیس سے ذرہ برابر سرتابی نہیں کرتے تو اس مقام پر قرآن انسان کو اپنے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ اپنے رب کو نہایت ہی خضوع وخشوع کے ساتھ پکارو ‘ چونکہ وہ تمہارا رب ہے ‘ لہذا اس کے ساتھ جڑ جاؤ اور اللہ کی حدود قیود کی پابندی کرو۔ اللہ کے سیاسی اقتدار اعلی پر دست درازی نہ کرو۔ اور اس زمین پر اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر اپنی ہوائے نفس کی پیروی نہ کرو ۔ خصوصا جبکہ اللہ نے اپنے نظام کے ذریعے انسانی مصالح کا انتظام فرما دیا ہے ۔

الأعراف 7:55

آیت ” نمبر 55 تا 56۔ یہ ہدایات ایسے وقت میں دی جارہی ہیں جبکہ مطالعہ کرنے والا نفسیانی طور پر ان کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح آمادہ ہوجاتا ہے ۔ وہ دعاء اور رجوع الی اللہ کی حالت میں ہوتا ہے اور اس عظیم کارخانہ قدرت کے مطالعہ کے بعد اللہ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کی حالت میں ہوتا ہے ۔ خفیہ سے مراد یہ ہے کہ چیخ و پکار نہ کرو ‘ دھیمی آواز سے پکارو کیونکہ اللہ کی جلالت شان کے لائق یہ ہے کہ انسان اسے نہایت ہی نرم اور دھیمی آواز میں پکارے اور اس انداز میں جس سے معلوم ہو کہ اللہ قریب ہے اور سن رہا ہے ۔ مسلم کی روایت ہے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ ایک روایت میں آتا ہے ایک غزوہ میں تھے ‘ لوگوں نے زور زور سے اللہ اکبر کہنا شروع کردیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوذرا نرمی کے ساتھ اور اپنے دل میں پکارو ‘ تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ کسی ایسے شخص کو پکار رہے ہو جو غائب ہے ‘ تم تو سننے والی قریب ذات کو پکار رہے ہو جو تمہارے ساتھ ہے ۔ یہاں قرآن کریم کا یہ اسلوب لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کر رہا ہے کہ اللہ کی ذات جلیل القدر ہے اور قریب ہے اور دعا اور پکارنے کے وقت قرآن کریم عملا ایسی ہئیت اور شکل پیدا کرنا چاہتا ہے جس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ پکارنے والا ذات باری کی برتری کی وجہ سے چیخنے اور چلانے سے حیا کرتا ہے ۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کی جلالت قدر بیٹھی ہوئی ہے وہ اللہ کی جناب میں شور وشغب سے دور رہتے ہیں ۔ غرض اس عاجزانہ دعا اور انکساری اور خشوع و خضوع کی فضا میں ‘ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس بات کی ممانعت کردیتے ہیں کہ وہ اپنے لئے اس حاکمیت کا دعوی کریں جو وہ ایام جاہلیت میں کیا کرتے تھے کیونکہ حاکمیت اور اقتدار اعلی کا حق صرف اللہ کو ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ممانعت بھی آجاتی ہے کہ فساد فی الارض سے باز رہو ‘ جبکہ اسلامی شریعت کے نظام کے ذریعے اللہ نے اس کی اصلاح کردی ہے ۔ جو شخص عاجزی ‘ تضرع اور نہایت ہی خفیہ طریقے سے اللہ کو پکارتا ہے جو قریب بھی ہے اور سننے والا بھی ہے تو ظاہر ہے کہ ایسا شخص زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہیں پھیلاتا کیونکہ ان دونوں تاثرات کے درمیان ایک گہرا داخلی اور نفسیانی ربط ہے ۔ قرآن کا منہاج اصلاح یہ ہے کہ وہ دلوں کی گہری سوچوں اور نفسیاتی میلانات کو لے کر چلتا ہے اور یہ منہاج وہی ذات اختیار کرسکتی ہے جو لطیف وخبیر ہے ۔ آیت ” ادْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (55) وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (56) اپنے رب کو پکارو گڑ گڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ‘ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو ‘ جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے ۔ “ خوف اس لئے کہ تم اس کے غضب سے بچ جاؤ اور طمع اس لئے کرو کہ وہ تم سے راضی ہوگا اور اجر دے گا ۔ جو لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس طرح کرتے ہیں کہ گویا اللہ کو دیکھ رہے ہیں اور اگر وہ اسے دیکھ نہیں رہے تو ان کی حالت ایسی ہو کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے ۔ جیسا کہ حدیث کے مضمون میں آتا ہے تو یہ ہے احسان ۔ حضور ﷺ کی تعریف کے مطابق ۔ ایک بار پھر قرآن کریم اس کھلی کائنات کا ایک دوسرا ورق انسان کے مطالعے کیلئے الٹتا ہے ۔ یہ ورق تو ہمارے سامنے ہر وقت کھلا رہتا ہے لیکن ہم غفلت میں اس کے پاس سے گزر جاتے ہیں ہیں ہم اس سے کوئی تاثر نہیں لیتے ‘ ہم اس کی پکار کو نہیں سنتے ۔ یہ وہ صفحہ ہے کہ آیت سابقہ میں رحمت الہیہ کے ضمن میں اس کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے ۔ یہاں رحمت الہیہ کے ایک نمونے کے طور پر اسی صفحے کو کھولا جا رہا ہے ۔ آسمانوں سے پانی گر رہا ہے ‘ زمین سے مختلف قسم کی فصلیں اگ رہی ہیں اور زمین مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھتی ہے یعنی سرسبز ہوجاتی ہے ۔

الأعراف 7:56

آیت ” نمبر 55 تا 56۔ یہ ہدایات ایسے وقت میں دی جارہی ہیں جبکہ مطالعہ کرنے والا نفسیانی طور پر ان کو قبول کرنے کے لئے پوری طرح آمادہ ہوجاتا ہے ۔ وہ دعاء اور رجوع الی اللہ کی حالت میں ہوتا ہے اور اس عظیم کارخانہ قدرت کے مطالعہ کے بعد اللہ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کی حالت میں ہوتا ہے ۔ خفیہ سے مراد یہ ہے کہ چیخ و پکار نہ کرو ‘ دھیمی آواز سے پکارو کیونکہ اللہ کی جلالت شان کے لائق یہ ہے کہ انسان اسے نہایت ہی نرم اور دھیمی آواز میں پکارے اور اس انداز میں جس سے معلوم ہو کہ اللہ قریب ہے اور سن رہا ہے ۔ مسلم کی روایت ہے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھے ۔ ایک روایت میں آتا ہے ایک غزوہ میں تھے ‘ لوگوں نے زور زور سے اللہ اکبر کہنا شروع کردیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوذرا نرمی کے ساتھ اور اپنے دل میں پکارو ‘ تم کسی بہرے کو نہیں پکار رہے اور نہ کسی ایسے شخص کو پکار رہے ہو جو غائب ہے ‘ تم تو سننے والی قریب ذات کو پکار رہے ہو جو تمہارے ساتھ ہے ۔ یہاں قرآن کریم کا یہ اسلوب لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا کر رہا ہے کہ اللہ کی ذات جلیل القدر ہے اور قریب ہے اور دعا اور پکارنے کے وقت قرآن کریم عملا ایسی ہئیت اور شکل پیدا کرنا چاہتا ہے جس سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ پکارنے والا ذات باری کی برتری کی وجہ سے چیخنے اور چلانے سے حیا کرتا ہے ۔ جن لوگوں کے دل میں اللہ کی جلالت قدر بیٹھی ہوئی ہے وہ اللہ کی جناب میں شور وشغب سے دور رہتے ہیں ۔ غرض اس عاجزانہ دعا اور انکساری اور خشوع و خضوع کی فضا میں ‘ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس بات کی ممانعت کردیتے ہیں کہ وہ اپنے لئے اس حاکمیت کا دعوی کریں جو وہ ایام جاہلیت میں کیا کرتے تھے کیونکہ حاکمیت اور اقتدار اعلی کا حق صرف اللہ کو ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ممانعت بھی آجاتی ہے کہ فساد فی الارض سے باز رہو ‘ جبکہ اسلامی شریعت کے نظام کے ذریعے اللہ نے اس کی اصلاح کردی ہے ۔ جو شخص عاجزی ‘ تضرع اور نہایت ہی خفیہ طریقے سے اللہ کو پکارتا ہے جو قریب بھی ہے اور سننے والا بھی ہے تو ظاہر ہے کہ ایسا شخص زمین میں اصلاح کے بعد فساد نہیں پھیلاتا کیونکہ ان دونوں تاثرات کے درمیان ایک گہرا داخلی اور نفسیانی ربط ہے ۔ قرآن کا منہاج اصلاح یہ ہے کہ وہ دلوں کی گہری سوچوں اور نفسیاتی میلانات کو لے کر چلتا ہے اور یہ منہاج وہی ذات اختیار کرسکتی ہے جو لطیف وخبیر ہے ۔ آیت ” ادْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ (55) وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ (56) اپنے رب کو پکارو گڑ گڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ‘ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو ‘ جبکہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے ۔ “ خوف اس لئے کہ تم اس کے غضب سے بچ جاؤ اور طمع اس لئے کرو کہ وہ تم سے راضی ہوگا اور اجر دے گا ۔ جو لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اس طرح کرتے ہیں کہ گویا اللہ کو دیکھ رہے ہیں اور اگر وہ اسے دیکھ نہیں رہے تو ان کی حالت ایسی ہو کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ انہیں دیکھ رہا ہے ۔ جیسا کہ حدیث کے مضمون میں آتا ہے تو یہ ہے احسان ۔ حضور ﷺ کی تعریف کے مطابق ۔ ایک بار پھر قرآن کریم اس کھلی کائنات کا ایک دوسرا ورق انسان کے مطالعے کیلئے الٹتا ہے ۔ یہ ورق تو ہمارے سامنے ہر وقت کھلا رہتا ہے لیکن ہم غفلت میں اس کے پاس سے گزر جاتے ہیں ہیں ہم اس سے کوئی تاثر نہیں لیتے ‘ ہم اس کی پکار کو نہیں سنتے ۔ یہ وہ صفحہ ہے کہ آیت سابقہ میں رحمت الہیہ کے ضمن میں اس کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے ۔ یہاں رحمت الہیہ کے ایک نمونے کے طور پر اسی صفحے کو کھولا جا رہا ہے ۔ آسمانوں سے پانی گر رہا ہے ‘ زمین سے مختلف قسم کی فصلیں اگ رہی ہیں اور زمین مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھتی ہے یعنی سرسبز ہوجاتی ہے ۔

الأعراف 7:57

آیت ” نمبر 57۔ یہاں اس کائنات میں شان ربوبیت کے آثار کو قلم بند کیا گیا ہے ‘ مثلا کائنات میں فعالیت ‘ اس پر کنٹرول اس کا مدبرانہ نظام اور اس کی قوتوں کی تحدید وتقدیر ۔ یہ سب امور اللہ کی عظیم کارفرمائیوں کے مظہر ہیں اور ایسے امور ہیں جو بتاتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں ہو سکتا ۔ وہی خالق اور رازق ہے ‘ مسبب الاسباب ہے اور یہ اسباب اس نے اپنی مخلوق کے لئے تیار کئے ہیں ۔ ہوا ہر وقت چلتی رہتی ہے ‘ ہر وقت وہ اس کائنات میں بادلوں کو اٹھاتی اور دوڑاتی ہے ۔ ہر وقت بادلوں سے بارش برستی رہتی ہے ۔ لیکن یہ سب امور اللہ کے فضل وکرم کے مظہر ہیں جیسا کہ یہ حقیقت ہے ۔ یہ بات ہمارے مشاہدے سے وراء ہے ۔ اور نئی ہے جسے سیاق کلام میں سمو دیا گیا ہے اور نہایت ہی موثر ‘ متحرک اور مشخص انداز میں اسے یہاں پیش کیا جارہا ہے ‘ یوں کہ گویا منظر آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے اور وہ اللہ کی رحمت لئے ہوئے ہوتی ہیں ۔ لوگوں کے لئے سامان مسرت فراہم کرتی ہیں ۔ یہ ہوائیں ان نوامیس فطرت کے مطابق چلتی ہیں جو اللہ نے اس کائنات پر حاوی کردیئے ہیں ۔ اس بات کو سمجھنے کے لئے عقل کی کسی بڑی مقدار کی ضرورت نہیں ہے کہ یہ کائنات اپنے آپ کو وجود میں خود نہیں لائی اور نہ اس نے اپنے لئے یہ نوامیس فطرت خود وضع کئے ہیں ‘ جب کہ اسلام کے معقول تصور حیات میں ہے کہ اس کائنات میں جو واقعات رونما ہوتے ہیں وہ ان قوانین تکوینی کے مطابق ہوتے ہیں جو اللہ نے اس کائنات کے لئے وضع کئے ہیں اور مقدر کردیئے ہیں ۔ تمام حادثات کا ظہور ان قوانین کے مطابق ہوتا ہے ‘ تمام انفرادی حوادث کا ظہور بھی اسی ناموس کے مطابق ہوتا ہے ‘ لہذا ہواؤں کا کسی معین وقت اور معین خطے میں چلنا بھی اسی قاعدے کلیہ اور اللہ کی تقدیر کے مطابق ہوتا ہے ۔ چناچہ یہ ہوائیں بھی سنت الہیہ اور ناموس الہی کے مطابق چلتی ہیں لیکن ایک خاص مقدار کے مطابق ان ہواؤں کو مردہ علاقے اور صحراؤں کی طرف چلایا جاتا ہے اور یہ سب کچھ امر الی کے مطابق ہوتا ہے ۔ کسی جگہ جو بارش برستی ہے وہ مقررہ مقدار کے مطابق برستی ہے ۔ اس سے جو روئیدگی اور پیداوار حاصل ہوتی ہے ‘ وہ بھی تقدیر الہی کے مطابق بطور خاص ہوتی ہے اور یہ تمام عمل اس کائنات کے نظام کے مطابق ہوتا ہے ۔ غرض اسلامی تصور حیات کے مطابق یہاں کوئی واقعہ آزادنہ یا بطور اتفاق وقوع پذیر نہیں ہوتا ۔ تخلیق سے لے کر ظہور واقعات تک ہر حرکت ‘ ہر تغیر اور ہر تبدیلی بروقت مقررہ تقدیر اور سنت کے مطابق ہوتی ہے ۔ اسی طرح یہاں اسلامی نقطہ نظر سے یہ تصور بھی غلط ہے کہ یہ کائنات مجبور محض ہے اور اللہ نے اسے پیدا کرکے اپنے طور پر اسے چھوڑ دیا ہے ۔ اس نے اس کی حرکت کے قوانین وضع کردیئے ہیں ‘ اب وہ اس کی حرکت کے قوانین میں جکڑی ہوئی ہے اور اس حرکت کے پیچھے کوئی ارادہ اب نہیں ہے ۔ اسلامی تصور یہ ہے کہ تخلیق اللہ کی مشیت اور ارادے سے ہوتی ہے ۔ اس کے بعد مخلوقات میں اللہ کی سنت جاری کا نفاذ ہوتا ہے ۔ لیکن اس کائنات کی ہر حرکت تقدیر الہی کے مطابق ہوتی ہے ۔ اور ہر دفعہ کی حرکت میں سنت الہیہ جاری وساری نظر آتی ہے اور ہر حرکت کی مقدار مقرر ہے ۔ یہ سب کچھ اس مشیت الہیہ کے مطابق ہوتا ہے جس کو نوامیس الہیہ پر بھی بالا دستی حاصل ہوتی ہے ۔ یہ ایک زندہ اور روشن دل و دماغ کا حامل تصور ہے اور اس کے مطابق ۔۔۔۔ ۔۔ یہ کائنات مجبور محض اور مردہ نہیں ہیں ۔ یہ کائنات سوتی نہیں ‘ جاگتی ہے اور خود سر نہیں بلکہ اس کا قیم اور نگران ہر وقت اس کی طرف متوجہ ہے۔ یہاں جو کچھ واقعہ ہوتا ہے اور ارادہ مدبرہ کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ ہر حرکت ناموس کے مطابق ہوتی ہے ‘ اور ہر حرکت سے قبل مومن جاگ اٹھتا ہے وہ اللہ کی تقدیر اور سنت کو دیکھتا ہے کہ وہ اپنے کام کر رہی ہے ۔ چناچہ قلب مومن اللہ کی حمد میں رطب اللسان ہوتا ہے ‘ اللہ کو یاد کرتا ہے ۔ وہ مردہ آلات کی طرح غافل ہو کر حرکت نہیں کرتا اندھا اور بہرا ہو کر ۔ یہ تصور حیات مومن کے دل میں حیاء اور دماغ میں جوش ادراک پیدا کرتا ہے ۔ وہ تمام حرکات وواقعات میں دست قدرت کی کارفرمائیاں دیکھتا ہے اور ہر حرکت ‘ ہر حادثے میں رات اور دن اللہ کی تسبیح وتہلیل کرتا ہے ۔ اب اس مقام پر قرآن کریم اس رواں دوں زندگی کا ربط حیات اخروی کے ساتھ جو ڑدیتا ہے ۔ یہاں کی تخلیق اور آخرت میں دوبارہ اٹھانا ‘ ایک ہی عمل نظر آتا ہے ۔ اللہ کی مشیت کے مطابق یہ اسی طرح ممکن ہے جس طرح اس جہاں میں یہ زندگی رواں دواں ہوئی ۔ آیت ” کَذَلِکَ نُخْرِجُ الْموْتَی لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ (57) ” دیکھو ‘ اسی طرح ہم مردوں کو حالت موت سے نکالتے ہیں ‘ شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو۔ “ اس کرہ ارض پر زندگی کے رنگ ڈھنگ مختلف ہیں لیکن زندگی کی اس بوقلمونی کے باوجود اس کائنات پر وجود حیات کا معجزہ ایک ہی جیسا ہے ۔ اس تبصرے میں اسی طرف اشارہ پایا جاتا ہے جس طرح یہاں مردے سے زندہ اجسام نکلتے ہیں اسی طرح آخرت میں مردوں کو زندہ کردیا جائے گا ‘ جس اللہ نے اس کرہ ارض پر زندگی کے یہ مختلف رنگ ڈھنگ پیدا کئے وہ اس بات پر قادر ہے کہ آخرت میں انسان کو دوبارہ زندہ کر دے ۔ جو قوت اور جو قدرت یہاں مردے سے زندہ کو وجود میں لا سکتی ہے ‘ وہ ذات آخرت میں مردے کو دوبارہ زندگی کیوں نہیں بخش سکتی ۔ آیت ” لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ (57) ” شاید کے اس مشاہدے سے تم سبق لو۔ “ یہ ایک پیش پا افتادہ اور عظیم حقیقت ہے ‘ لیکن لوگ دیکھتے ہوئے بھی اسے دیکھنا نہیں چاہتے اور لایعنی ادہام وخرامات کو حقیقت بتانے کے درپے ہیں ۔ اس کائنات کی وسعتوں کے اس سفر اور اسرار کائنات کے اس غور وفکر کو قرآن کریم ایک مثال پر ختم کرتا ہے ۔ یہ تمثیل ایک صالح اور پاک اور غیر صالح اور ناپاک دل کے بارے میں ہے ۔ اور یہ تمثیل بھی اس کائنات کے مشاہدے اور اس مطالعاتی سفر سے اخذ کی گئی ہے تایہ یہ تمثیل اس مطالعاتی سفر سے ہم آہنگ نظر آئے اور انسانی طبیعت اسے اچھی طرح ذہن نشین کرلے ۔

الأعراف 7:58

آیت ” نمبر 58۔ اچھے دل کو قرآن وسنت میں زرخیز مٹی اور صالح زمین سے مشابہت دی جاتی ہے ‘ اور برے دلوں کو بیکار مٹی اور بنجر زمین سے۔ اس لئے اچھی زمین میں اچھی فصل پیدا ہوتی ہے اور وہ پھل پھول لاتی ہے اور اسی طرح اچھے دل میں صالح خیالات اور اچھے تصورات پیدا ہوتے ہیں ۔ اور وہ ایک پاکیزہ شعور و تصورات کا مسکن ہوتا ہے ۔ اس کے اندر انسانی رجحانات میلانات اور ادارے اور عزائم جاگزیں ہوتے ہیں جو بعد میں عملی شکل اختیار کرتے ہیں بعینہ اس طرح جس طرح زمین سے ہر قسم کی پیداوار حاصل ہوتی ہے اور مختلف رنگوں اور مختلف ذائقوں کے پھل نمودار ہوتے ہیں۔ آیت ” وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہُ بِإِذْنِ رَبِّہِ وَالَّذِیْ خَبُثَ لاَ یَخْرُجُ إِلاَّ نَکِداً “۔ (7 : 58) ” جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رب کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔ “ اچھی زمین وہ ہوتی ہے جو نرم اور آسان ہوتی ہے اور جو بری ہوتی ہے وہ اذیت دہ ‘ سخت مشقت خیز اور تنگ ہوتی ہے ۔ ایک اچھے دل پر ہدایت ‘ نصیحت اور یاد دہائی کی بارش نازل ہوتی ہے ‘ جس طرح اچھی زمین پر بادلوں سے بارش برستی ہے ۔ اگر دل پاکیزہ ہو ‘ ایک اچھی اور زرخیز زمین کی طرح تو وہ کھل جاتا ہے ۔ وہ ہدایت اور نصیحت کو قبول کرتا ہے اور مزید پاکیزہ ہو کر کامیاب ہوجاتا ہے ۔ اگر دل فاسد ہو ‘ جس طرح خبیث اور بنجر زمین ہوتی ہے تو اس دل کے دریچے بند ہوجاتے ہیں ‘ وہ سخت ہوجاتا ہے اور شروفساد کی راہ لیتا ہے ۔ یقین کے بجائے اس دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں جس طرح بنجز زمین میں جھاڑیاں پیدا ہوتی ہیں۔ آیت ” کَذَلِکَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ لِقَوْمٍ یَشْکُرُونَ (58) ” اس طرح ہم اپنی نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لئے شکر گزار ہونے والے ہیں۔ “ شکر کا پودار پاکیزہ دل ہی میں اگ سکتا ہے ‘ اور اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ دل پر نصیحت کا اثر ہوگیا ہے اور وہ قبولیت کی راہ لے رہا ہے ۔ ایسے دل رکھنے والے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی آیات اور دلائل بار بار ور مختلف انداز میں بیان کرتا ہے ۔ کیونکہ صرف ایسے ہی لوگ ان بیانات سے نفع اٹھاتے ہیں اور اپنے شب وروز کو درست کرتے ہیں ۔ شکر الہی ‘ اس سورة کا خاص مضمون ہے ۔ اس سورة میں انذار وتذکیر کے ساتھ ساتھ اس کا خصوصا ذکر ہوا ہے اس سے پہلے بھی ہم اس کی طرف اشارہ کرچکے ہیں اور آئندہ بھی اسی سورة کی دوسری خصوصیات یعنی انذار وتذکیر کے ساتھ ساتھ اس کا ذکر کریں گے ۔ درس نمبر 77 ایک نظر میں : اس سبق میں ہم قافلہ ایمان کے ہمرکاب ہیں ۔ یہ ہیں اس کے لیڈر اور یہ ہیں اس کے جھنڈے اور یہ ہیں ان کے نشانات رہ ۔ یہ قافلہ اس کرہ ارض کی تاریخ کے طویل میدانوں میں رواں دواں ہے ۔ اور پوری انسانیت کے ساتھ ہمکلام ہے۔ اس طویل سفر میں انسانیت جب بھی بےراہ روی اختیار کرتی ہے ‘ یہ قافلہ اہل حق اس کی راہ روکتا ہے اور اسے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے ۔ انسانیت راہ مستقیم سے اس وقت ہٹ جاتی ہے کہ جب اس پر شیطانی خواہشات کا غلبہ ہوجائے ۔ شیطان ہر وقت اس تاک میں لگا رہتا ہے کہ انسانیت کو بدراہ کرکے اپنے جذبہ انتقام کو ٹھنڈا کرتا رہے اور انسانیت کے منہ میں شہوات نفسانیہ کی لگام ڈال کر اسے جہنم رسید کر دے ۔ جب شیطان یہ اسکیم شروع کرتا ہے پیغمبروں کا قافلہ ایمان نمودار ہوجاتا ہے پیغمبر اور ان کے پیروکار انسانیت کے سامنے روشنی کے مینار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور انسانیت کے لئے جنت کی باد نسیم کے جھونکے کھل جاتے ہیں ۔ یہ پروقار قافلہ جہنم کی گرم لو سے انہیں ڈرانے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے ۔ اور شیطان رجیم کے وسوسوں سے اسے نجات دیتا ہے کیونکہ وہ انسانوں کا ازلی دشمن ہے ۔ یہ نہایت ہی خوبصورت منظر ہے ۔ ایک طویل شاہراہ حیات پر حق و باطل کی گھمسان کی جنگ جاری ہے حقیقت یہ ہے کہ انسانی تاریخ نہایت ہی پیچیدہ انداز می گزر رہی ہے ‘ اس لئے کہ انسان تو تاریخ بناتا ہے جو بذات خود ایک پیچیدہ مخلوق ہے ۔ یہ دو عناصر سے بنا ہے ایک تو وہ خاکی مادہ ہے جس سے اس کا خمیر تیار ہوا اور دوسرا عنصر وہ روح ہے جو اس جسد خاکی کے اندر پھونکی گئی اور اس نفخ روح کی وجہ سے انسان انسان کہلایا ۔ اس طرح دو متضاد عناصر کا یہ اتحاد ازواج اللہ کے دست قدرت کے ذریعے تکمیل کو پہنچا ۔ اس لئے حضرت انسان تاریخ میں بڑی پیچیدگی سے آگے بڑھتا ہے ۔ اس کی ذات اور اس کے اعمال ونظریات بھی پیچیدہ ہیں۔ انسان اپنی اس مخصوص طبیعت اور مزاج کے ساتھ اس وسیع کائنات اور اس کے آفاق کے تعلق کا ایک خاص زاویہ رکھتا ہے جس کی تفصیلات ہم نے قصہ آدم وابلیس میں دے دی ہیں ۔ یہ ایک طرح حقیقت الہیہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اللہ کی تقدیر ‘ اس کی مشیت ‘ اللہ کی قدرت اس کی طاقت اور اس کے رحم وکرم کا موضوع بنتا ہے ۔ وہ عالم بالا اور ملائکہ کے ساتھ بھی مربوط ہے ۔ پھر وہ ابلیس اور شیطان اعظم کے ساتھ بھی معاملہ کرتا ہے وہ اس قابل مشاہدہ کائنات اور اس کے قوانین فطرت کے ساتھ بھی ملحق ہے ۔ وہ اس کرہ ارض کی تمام چیزوں کے ساتھ بھی طرز عمل اختیار کرتا ہے اور دوسرے ہم جنس انسانوں کے ساتھ بھی اس کے روابط قائم ہوتے ہیں اور یوں وہ اپنی اس طبیعت کے ساتھ پورے عالم مشہود کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے ۔ اس کائنات کی ہم آہنگ قوتوں کے ساتھ بھی اس کا واسطہ ہے اور اسکی مخالف اور متضاد قوتوں کے ساتھ بھی اس کا معاملہ ہے ۔ غرض تاریخ کے اس باہم متلاطم اور پیچیدہ سمندر میں انسانی تاریخ دنیا کا سفر طے کرتی ہے ۔ کبھی اس کی ذات قوی نظر آتی ہے اور کبھی گم کردہ راہ کبھی وہ متقی اور ہدایت یافتہ ہوتا ہے اور کبھی ضعیف ہوتا ہے کبھی وہ عالم غیب سے جڑ جاتا ہے ۔ اور کبھی عالم مشاہدہ میں ہی گم رہتا ہے ۔ کبھی وہ عالم مادیات میں سرگرم رہتا ہے اور کبھی عالم روح اور دل کی دنیا میں پھرتا ہے لیکن آخر کار وہ اللہ کی تقدیر کے سامنے بےبس نظر آتا ہے ۔ یہ سب رنگ اس کی تاریخ میں نظر آتے ہیں ۔ لہذا انسانی تاریخ کی تشریح صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ اس کے یہ متضاد عناصر ترکیبی پیش نظر رہیں۔ آج کل بعض لوگ انسانی تاریخ کی تشریح محض اقتصادی زاویہ سے کرتے ہیں ۔ بعض اس کی تاریخ محض سیاسی زاویہ سے لکھتے ہیں ‘ بعض لوگ اس کی تاریخ بیالوجی اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے لکھتے ہیں ۔ بعض لوگ محض روح اور بعض دوسرے محض نفس اور بعض دوسرے محض عقل کے اعتبار سے تاریخ لکھتے ہیں ۔ جو لوگ انسان کا مطالعہ نہایت ہی سطحی ہوتا ہے حالانکہ انسان کا ہمہ گیر مطالعہ ضروری ہے ۔ اسی طرح اس کی تاریخ کی تشریح بھی ہمہ پہلو اور ہمہ جہت ہونا چاہئے ۔ انسانیت کی تاریخ کی اسلامی تشریح ہی وہ ہمہ جہت تشریح ہے جس کا مؤرخ انسانیت کے وسیع سمندر میں گہرائی تک غوطے لگاتا ہے اور ہر حقیقت نکال لاتا ہے ۔ اسلامی مؤرخ اس ہمہ گیر اور گہرے مطالعے کے بعد اس کے واقعات پر نظر ڈالتا ہے ۔ (دیکھئے اسلامی تصور حیات کے بنیادی عناصر کی فصل حقیقت انسان) ۔ یہاں ہم اب ایک عظیم تاریخی سمندر کے سامنے کھڑے ہیں ۔ اس سے قبل ہم تخلیق انسانیت کے مناظر دیکھ چکے ہیں ۔ اس منظر میں تمام جہانوں کا اکٹھ تھا ۔ وہ تمام مخلوقات جمع تھی جس کے ساتھ انسان کا واسطہ پڑنامقرر تھا ۔ تمام آفاق اور تمام مخلوق وعناصر ظاہر تھے یا خفیہ ‘ سب کے ساتھ حاضر مجلس تھے ۔ اس محفل میں پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ اس نئی مخلوق کی صلاحیت کیا ہے اور اس کی اساسی خصوصیات کیا ہیں ۔ عالم بالا کی یہ مجلس اس کے اعزاز میں منعقد ہوئی ہے اور اس میں اسے آخری اعزاز ملا یعنی ملائکہ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اسے سجدہ کریں ۔ اس وقت اللہ نے اعلان کیا کہ یہ ہے جدید مخلوق ۔ پھر ہم نے اس منظر کی ایک دوسری جھلک بھی دیکھی جس میں اس کی کمزوری سامنے آئی اور وہ دشمن کے ہتھے چڑھ گیا ۔ پھر کیا ہوا ؟ وہ جو ہونا تھا کہ اسے زمین پر اتار دیا گیا اور آزاد چھوڑ دیا گیا کہ وہ اس کرہ ارض کے تمام عناصر کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت متعین کرے ۔ ہم نے دیکھا کہ حضرت انسان اس کرہ ارض پر بطور مومن اتر رہا ہے ۔ وہ اپنی کوتاہی اور لغزش پر اللہ سے مغفرت طلب کر رہا ہے اس سے عہد لیا جاتا ہے کہ وہ فرائض خلافت فی الارض پورے کرے گا اور اللہ کی جانب سے جو احکام آئیں گے ان کی پیروی کرے گا ۔ شیطان یا نفسانی خواہشات کے تابع نہ ہوگا اور اس سلسلے میں اسے جنت سے نکلنے کا جو تجربہ ہوا اسے زاد راہ بنائے گا ۔ اب صدیاں گزر گئی ہیں اور تاریخ کے ناپیدا کنار سمندر کی متلاطم امواج کے تھپیڑوں نے اسے اچھا خاصا تجربہ کار بنا دیا ہے ۔ اس پوری کائنات اس کے ماحول اور اس میں باہم برسرپیکار متضاد عوامل میں رہتے ہوئے اسے ایک عرصہ گزر گیا ہے ۔ وہ اپنے ضمیر اور اپنے میلانات کے ساتھ بھی کشمکش میں رہا ہے ۔ چناچہ اس سبق میں حضرت انسان کی طویل تاریخ کی بعض جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں کہ وہ کس طرح اس کرہ ارض کے متضاد میلانات کی کشاکش میں زندگی بسر کرتا رہا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان بھول جاتا ہے ۔ بارہا وہ اپنا سبق بھول گیا ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس سے بارہا کمزوریاں سرزد ہوتی رہیں اور ہوئیں ۔ شیطان اس پر غالب آجاتا ہے اور بارہا ایسا ہوتا ہے ۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ بار بار اس کی راہنمائی کی جائے اور اسے مصیبتوں سے نجات دلائی جائے ۔ جب وہ اس کرہ ارض پر اتارا تو وہ توبہ کرچکا تھا ‘ ہدایت یافتہ تھا اور عقیدہ توحید پر قائم تھا لیکن اگلے ہی منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ پھر گمراہ ہوگیا ہے ‘ مشرک بن گیا ہے اور اللہ پر افتراء باندھ رہا ہے ۔ لیکن تاریخی امواج کے اس تلاطم میں اس کے لئے ایک نشان راہ اور ارادہ رسالت کا انتظام کردیا گیا ہے ۔ اسے بار بار اپنے رب کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے اور یہ اللہ کا عظیم رحم وکرم ہے کہ اس نے اسے بےسہارا نہیں چھوڑا ۔ اس سورة میں ہم قافلہ ایمان کے طویل سفر کا مشاہدہ کررہے ہیں ۔ اس قافلے کی ہدایت کے لئے انبیاء ورسل نے ہدایت کے جھنڈے بلند کر رکھے ہیں ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ‘ حضرت ہود (علیہ السلام) ‘ حضرت صالح (علیہ السلام) ‘ حضرت لوط (علیہ السلام) ‘ حضرت شعیب (علیہ السلام) ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ‘ اور حضرت محمد ﷺ انسان کی ہدایت کے لئے تشریف لائے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ حضرات اللہ کی ہدایات کے مطابق ہاتھ پکڑ پکڑ کر انسان کو اس راہ سے روکتے ہیں جس راہ پر چلا کر شیطان انہیں وارد جہنم کرنا چاہتا ہے ۔ شیطان کے ساتھ اس کے مددگار بھی اس کام میں مصروف نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ مستکبرین ہیں جو ہر زمانے میں اپنے آپ کو حق سے بالا سمجھتے رہے ہیں۔ پھر ہم ہدایت وضلالت کے درمیان جو مسلسل کشمکش برپا ہے ‘ اس کی جھلکیاں بھی ان مناظر میں دیکھتے ہیں۔ ایک طرف حق ہے اور دوسری جانب باطل ‘ حق کے لیڈر انبیاء رسل ہیں اور باطل کے لیڈر شیاطین جن وانس ہیں ۔ اس سفر کے آخری مرحلے میں ہم دیکھتے ہیں کہ جھٹلانے والے کس طرح مار کھاتے ہیں ‘ ان کے لاشے ہر طرف بکھرے نظر آتے ہیں اور یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اہل ایمان کامیاب اور پر مسرت ہیں۔ یادہانی اور تذکیر کا یہ ایک طویل سلسلہ ہے جو اس سبق میں نظر آتا ہے ۔ قرآن میں قصص کا بیان لازما تاریخی ترتیب کے مطابق نہیں ہوتا ‘ لیکن اس سورة میں قصص کی تاریخی ترتیب کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے ‘ اس لئے کہ اس سورة میں انسانیت کے طویل سفر کو بھی پیش نظر رکھنا مطلوب ہے ۔ یہ بھی مطلوب ہے کہ نظر آئے کہ کس طرح اس طویل انسانی سفر میں انبیاء ورسل بار بار انسان کو ہدایت فراہم کرتے ہیں ۔ جب بھی وہ راہ راست سے بھٹک جاتا ہے یہ لوگ اس کا ہاتھ پکڑتے ہیں ۔ جب بھی شیطان نے انسانیت کی قیادت سنبھالی ہے اور اسے جہنم کی طرف لے چلنے کا حکم دیا ہے انبیاء ورسل نے اسے روکنے کی سعی کی ہے ۔ اس سبق میں جو نشانانت راہ دکھائے گئے ہیں ان کا خلاصہ ہم یوں پیش کرتے ہیں : یہ کہ انسانیت کا آغاز ایک مومن ہدایت یافتہ اور عقیدہ توحید پر ایمان رکھنے والے انسان کے ساتھ ہوا ۔ بعد کے ادوار میں انسان بھٹک کر مشرکانہ عقائد کا حامل بن گیا ۔ انسان کے بھٹکنے کا سبب وہ عوامل اور رجحانات ومیلانات بنے جو اسن کی ذات کے اندر اللہ نے ودیعت کئے تھے یا وہ عناصر اور اسباب اس کی گمراہی کا سبب بنے جو اس جہان میں پنہاں تھے ۔ جب بھی انسان گمراہی میں مبتلا ہوا ایک رسول دنیا کی اسٹیج پر نمودار ہوا اور وہ وہی دعوت اس کے سامنے پیش کرنے لگا جس کا یہ گمراہ انسان اپنی گمراہی سے قبل ماننے والا اور اس کا حامل تھا ۔ رسول کی دعوت آنے کے بعد لوگ ہمیشہ دو گرہوں میں بٹ گئے ۔ ایک گروہ نے ہلاکت کی راہ لی اور دوسرا گروہ از سرنو زندہ ہوگیا ۔ زندہ وہ لوگ ہوئے جو راہ ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور انہوں نے جان لیا کہ ان کا الہ الہ واحدہ ہے اور وہ پوری طرح اس الہ وحد کے سامنے سرتسلیم خم کرنے لگے ۔ انہوں نے اس رسول کی پکار کو سنا جو انہیں کہہ رہا تھا ” اے میری قوم صرف اللہ کی بندگی کرو ‘ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی اور حاکم نہیں ہے ۔ “ پس یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جس پر اللہ کا پورا دین قائم ہے اور انسان کی طویل تاریخ میں تمام رسولوں نے صرف اسی عقیدے کی طرف دعوت دی ہے ۔ جو رسول بھی آیا اس نے قوم کے سامنے یہی کلمہ پیش کیا ۔ ایسے حالات میں جب اس کی قوم کو شیطان نے گمراہی کے جال میں پھنسا لیا تھا ۔ وہ اصل عقیدے کو بھول گئے تھے اور گمراہ ہوچکے تھے ۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ بیشمار شریک ٹھہرائے ہوئے تھے ۔ مختلف جاہلیتوں کے اندر یہ شریک مختلف نوعیت کے تھے ۔ ان بت پرستیوں کی اساس پر انسانی تاریخ میں حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی قائم رہی ہے اور اسی معرکہ آرائی کی اساس پر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ جھٹلانے والوں کو پکڑا اور ایمان لانے والوں کو نجات دی ہے ۔ قرآن کریم نے ان دعوتوں کو ایک ہی جیسے الفاظ میں منضبط کیا ہے حالانکہ انبیاء مختلف زبانوں میں دعوت دیتے چلے آئے تھے ۔ انہوں نے مختلف ادوار اور مختلف زبانوں میں جو دعوت دی ‘ قرآن نے اس کی تعبیر ان الفاظ میں کی ہے ۔ ” اے قوم صرف اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارا اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے ۔ “ اس سے اس حقیقت کا اظہار مقصود تھا کہ پوری انسانی تاریخ میں دعوت اسلامی ایک ہی رہی ہے بلکہ اسے ایک جیسے الفاظ ہی میں پیش کیا گیا ہے ۔ یہ عبارت اور یہ الفاظ اس عقیدے کو پوری طرح اور جامع ومانع انداز میں پیش کرتے ہیں ۔ جس طرح سیاق کلام سے بھی اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ ایک کے بعد ایک رسول اسٹیج پر آتا ہے اور وہی الفاظ دہراتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے اسلامی نظریہ حیات کے بیان کے لئے کیا منہاج اسٹیج پر آتا ہے اور وہی الفاظ دہراتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن نے اسلامی نظریہ حیات کے بیان کے لئے کیا منہاج اختیار کیا ہے ؟ اس بات سے یہ حقیقت خود بخود سامنے آجاتی ہے کہ جدید دور میں ادیان کا تقابلی مطالعہ کرنے والے مفکرین اور قرآن کے منہاج کے درمیان بہت بڑا فرق ہے ۔ قرآنی منہاج یہ ہے کہ رسول جو عقائد لے کر آئے ان کے اندر کوئی ترقی یا تغیر وتبدیلی نہیں ہونی ہے نہ ان عقائد کے اندر غور وفکر کے کوئی ابتدائی یا انتہائی مدارج رہے ہیں ۔ جو لوگ ادیان کے بنیادی عقائد کی ارتقائی اور تدریجی ارتقائی سوچ بیان کرتے ہیں اور اس کے ساتھ اسلامی نظریات کو بھی رتقانی شکل میں پڑھتے ہیں اور ایسی بات کرتے ہیں جو اللہ نے قرآن کے اندر نہیں کی ہے ۔ جس طرح قرآن کریم واضح طور پر اظہار کرتا ہے کہ انبیاء نے ہمیشہ ایک ہی دعوت دی ہے ۔ قرآن اس دعوت کو ایک ہی عبارت میں بیان کرتا ہے یعنی ” اے قوم صرف اللہ کی بندگی کرو ‘ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی اور حاکم نہیں ہے ۔ “ آیت ” ِ اعْبُدُواْ اللَّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 59) اور یہ الہ جس کی طرف تمام رسول دعوت دیتے رہے ‘ وہ رب العالمین ہے اور لوگوں سے ایک عظیم دن حساب و کتاب لے گا ۔ رسولوں میں سے کوئی ایک رسول بھی ایسا نہیں گزرا جس نے لوگوں کو اپنے قبیلے کی طرف دعوت دی ہو ‘ یا کسی قوم یا کسی نسل کے رب کی طرف لوگوں کو بلایا ہو ۔ نہ رسولوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا گزرا ہے جس نے دو الہوں کی طرف دعوت دی ہو یا متعدد الہوں کا پرچار کیا ۔ رسولوں میں سے کسی رسول نے بھی سورج ‘ چاند ‘ ستاروں ‘ ارواح یا بتوں کی پوجا اور غلامی کی طرف نہیں بلایا ۔ اسی طرح اللہ کی جانب سے کوئی ایسا نظام وضع نہیں ہوا جس میں آخرت کا تصور نہ ہو جس طرح بعض وہ لوگ کہتے ہیں جو اپنے آپ کو ماہرین ادیان کہتے ہیں اور جو دنیا کی مختلف جاہلیتوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ جن نتائج تک پہنچے ہیں وہی اس دنیا کے معروف ادیان تھے اور اس کے علاوہ کوئی اور دین ان ادوار میں نہ تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر پے درپے رسول آتے رہے اور انہوں نے صرف اور صرف عقیدہ توحید اور خالص توحید کا عقیدہ پیش کیا ۔ انہوں نے یہ نظریہ دیا کہ صر اللہ رب العالمین ہے ‘ اور وہ لازما قیامت کے دن سب سے حساب لے گا ۔ لیکن ہر رسالت کے خاتمے کے بعد جاہلیت دوبارہ دنیا پر چھا گئی اور اس کے چھانے کے اسباب کچھ تو انسانوں کے اندر تھے اور کچھ وہ عوامل ودواعی تھے جو انسان کو فراہم کردہ ماحول میں نہایت ہی پیچیدہ شکل میں موجود تھے ۔ یہ انحرافات مختلف تصورات و عقائد کی صورت میں سامنے آئے اور آج کل کے ماہرین ادیان درحقیقت اصل دین کو چھوڑ کر ان ہی منحرف ادیان کا مطالعہ کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ انکے اخذ کردہ خطوط پر دنیا میں دین اور مذہب نے بتدریج ارتقائی سفر کے ذریعے موجودہ شکل اختیار کی ہے ۔ بہرحال اللہ کا فرمان زیادہ قابل تقلید ہے ‘ خصوصا ان لوگوں کے لئے جو دین کے موضوع پر لکھتے ہیں جو اسلام کے حق میں کہتے ہیں اور اس کی جانب سے دفاع کرتے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جو سرے سے قرآن پر ایمان ہی نہیں لاتے تو ہم ان سے مخاطب ہی نہیں ہیں ‘ اللہ بہرحال سچائی بیان کرتا ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ تمام رسول جب بھی وہ آئے تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی قوم کو دعوت دی ہے ۔ انہوں نے قوم میں دعوت اسلامی کا کام اس وقت شروع کیا ہے جب قوم صراط مستقیم اور اس عقیدے سے منحرف ہوگئی جس پر سابقہ رسول نے انہیں چھوڑا تھا ۔ چناچہ پہلے انسان اہل توحید تھے اور وہ رب العالمین کو تسلیم کرتے تھے ۔ ان کا عقیدہ وہی تھا جو آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کا تھا ۔ اس کے بعد مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اور ان اسباب کی وجہ سے جن کا تذکرہ ہم نے کیا وہ اس عقیدے سے منحرف ہوگئے ۔ اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) تشریف لائے ۔ انہوں نے لوگوں کو دوبارہ رب العالمین کے عقیدہ توحید پر قائم ہونے کی دعوت دی ۔ ان کی دعوت کے اختتام پر ایک عظیم طوفان آیا اہل ایمان نے نجات پائی اہل تکذیب کو طوفان میں غرق کردیا گیا ۔ اس کرہ ارض پر اہل توحید نے قبضہ کیا اور اسے آباد کردیا ۔ دنیا کی اس تعمیر نو کی تعلیم ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کے واسطے سے دی تھی ۔ جب مزید وقت گزرا تو یہ لوگ پھر گمراہ ہوگئے اور اس کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) تشریف لائے اور انکی دعوت کے اختتام پر انہیں ایک سخت ہوائی طوفان نے آلیا یوں یہ قصہ اسی طرح آگے بڑھتا رہا اور تاریخ کا سفر جاری رہا ۔ ان رسولوں میں سے ہر رسول اپنی قوم کی طرف بھیجا گیا ۔ اس نے یوں خطاب کیا ” اے برادران قوم ‘ صرف اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے ۔ “ اور ہر رسول نے اپنی قوم سے کہا آیت ” انا لکم ناصح امین “۔ میں تمہارے لئے ناصح امین ہوں ۔ “ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کو اپنی عظیم ذمہ داریوں کا کس قدر شدید احساس تھا وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ان کی قوم کے لوگ جس صورت حالات میں پھنسے ہوئے ہیں دنیا اور آخرت میں اس کا انجام کس قدر برا ہونے والا ہے ۔ رسولوں کے دلوں میں شدید خواہش تھی کہ ان کی قوم ہدایت پائے اس لئے کہ وہ قوم میں سے تھے اور قوم ان سے تھی مگر اس وقت قوم کے سرداروں نے ان کی راہ روکی اور حکم حق کے مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوئے ۔ اللہ رب العالمین کے سامنے سرتسلیم خم کرنے سے انکار کردیا ۔ ان سرداروں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ نظام زندگی صرف اللہ کا جاری ہو اور اس نظام میں صرف اللہ کی بندگی ہو ۔ یہی وہ اساس ہے جس کے اوپر تمام رسالتوں کا مدار رہا اور اسی کے اوپر اللہ کے ہاں سے تمام ادیان استوار ہوئے ۔ لیکن رسولوں نے تمام طاغوتی طاقتوں اور تمام سرداروں کے منہ پر کلمہ حق نہایت ہی وضاحت اور صاف گوئی کے ساتھ بلند کیا اور ہر بار انکی قوم دو نظریاتی دھڑوں میں تقسیم ہوئی ۔ لوگوں کے درمیان قومیت اور رشتہ داری کے روابط کٹ گئے اور ان کی جگہ ایک نظریہ کی اساس پر اخوت استوار ہوگئی ۔ جو لوگ ایک قوم کے افراد تھے وہ دو امتوں کی شکل اختیار کرگئے اور یوں نظر آنے لگے کہ ان کے درمیان نہ تو کوئی قرابت ہے اور نہ ہی متحدہ قومیت کا کوئی تعلق ہے ۔ اس کشمکش کے بعد فتح آتی ہے اور اس کے ذریعے دونوں امتوں کے درمیان فیصلہ ہوجاتا ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ امت ہدایت اور امت ضلالت کے درمیان جدائی کردیتا ہے ۔ اب جھٹلانے والے مستکبرین اور سردار پکڑے جاتے ہیں اور مطیع فرمان اور سرتسلیم خم کرنے والے نجات پاتے ہیں ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی قوم نظریاتی اعتبار سے بٹی نہ ہو اور اللہ کی جانب سے فتح آگئی ہو ۔ ہمیشہ یہی ہوا کہ کوئی قوم نظریاتی اعتبار سے بٹ جاتی ہے ۔ اور پھر دونوں میں سے اہل حق فتح پاتے ہیں اہل اللہ ‘ اللہ کی بندگی اور غلامی میں خالص ہوجاتے ہیں ۔ وہ طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں صف آرا ہوجاتے ہیں اور خود اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں ۔ یہ وہ مشاہدہ ہے جو دعوت انبیاء کی تاریخ کے مطالعے کے دوران واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ ان تمام رسالتوں میں ایک بات پر فوکس کیا گیا ہے ۔ یہ کہ تمام لوگ رب واحد کی بندگی اور غلامی اختیار کریں اس لئے کہ صرف رب العالمین ہی بندگی کا مستحق ہے ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم بندگی اور اقتدار اعلی کا حق دوسری تمام مخلوق سے لے کر رب العالمین کو دے دیں ۔ انسانی زندگی کا کوئی پہلو بھی اس کے عقیدے کے بغیر اصلاح پذیر نہیں ہوسکتا ۔ تمام رسالتوں کے اس مشترکہ اصول کے بیان کے بعد قرآن کریم نے ان رسالتوں کی دعوت کی تفصیلات نہیں دی ہیں اس لئے کہ تمام رسولوں کے ادیان کی تفصیلات اسی مرکزی اصول پر مبنی تھیں ۔ کوئی بات اس عقیدے سے خارج نہ تھی ۔ یہ اصول چونکہ نہایت ہی اہم اور اساسی تھا اس لئے قرآن کریم نے اس پاس قدر زور دیا ہے کہ اسے علیحدہ بیان کیا ہے ۔ جس طرح ہم نے سورة انعام پر تبصرے میں کہا کہ تمام مکی قرآن کا اصل مبحث ہی یہی ہے لیکن مدنی حصے میں بھی جہاں جہاں موقع آیا ہے اس کی مناسبت سے اس موضوع پر بات ہوئی ۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام ایک ٹھوس حقیقت ہے ایک نظام ہے اور اس حقیقت کو پیش کرنے کے لئے ایک منہاج اور طریقہ کار ہے ۔ اور منہاج اسلام دین اسلام سے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں ہے ۔ اس لئے ہمیں یہ معلوم کرنا چاہئے کہ وہ عظیم حقیقت کیا ہے جسے یہ دین لے کر دنیا میں آیا ہے ؟ اسی طرح ہمیں دین اسلام کو سمجھنے کے لئے اور اس کے قیام کے لئے وہی منہاج اپنانا چاہئے جس میں اس حقیقت کو پیش کیا گیا ہے ۔ اور اس منہاج کا خلاصہ یہ ہے کہ عقیدہ توحید کو مکرر مؤکد اور منفرد انداز میں پیش کرنا چاہئے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورة میں اس منہاج کو بار بار مؤکد سے مؤکد الفاظ میں اور نہایت ہی واضح اور سادہ اسلوب میں بیان کیا گیا ہے اور یہ منہاج اس سورة کے تمام قصص میں واضح ہے ۔ اس سورة میں جو قصص بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا مزاج کیا ہوتا ہے اور کفر کا مزاج کیا ہوتا ہے اور نفس انسانی پر دونوں کے اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں۔ یہاں بتکرار بتایا جاتا ہے کہ جو قلوب ایمان کے لئے مستعد ہوتے ہیں وہ کس قسم کے ہوتے ہیں اور جو دل کفر اور انکار پر آمادہ ہوتے ہیں وہ کس قسم کے ہوتے ہیں ؟ جن لوگوں نے رسولوں کی دعوت کو قبول کیا ان کے دلوں میں کبر و غرور نہ تھا اور وہ رسولوں کی دعوت کو قبول کرنے اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنے میں کوئی رکاوٹ محسوس نہ کرتے تھے ۔ ان کو یہ بات انوکھی نہ لگتی تھی کہ اللہ ان میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر بھیج دے جو ان تک اس کا پیغام پہنچائے اور انہیں انجام بد سے خبردار کرے ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے کسی بھی رسول کو ماننے سے انکار کیا ‘ وہ ہمیشہ اس قسم کے لوگ رہے ہیں جنہوں نے گناہ کی راہ اس لئے اختیار کی کہ وہ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے تھے اور صاحب مرتبہ لوگ تھے ۔ انہوں نے اللہ کے اقتدار اعلی کے قیام کے بجائے خود اپنا اقتدار لوگوں پر مسلط کردیا تھا اور کسی صورت میں بھی اس غاصبانہ اقتدار سے دست بردار ہونے کے لئے تیار نہ تھے ۔ نہ اس کے لئے تیار تھے کہ وہ خود اپنے ایک عام آدمی کی سمع و اطاعت کریں ۔ یہی لوگ تھے جن کے لئے قرآن کریم ” ملاء “ کا لفظ استعمال کرتا ہے ۔ یہ حکام بڑے لوگ صاحب قوت اقتدار لوگ تھے اور یہیں سے اس دین کا اصل راز معلوم ہوتا ہے ۔ یہ راز اللہ کا اقتدار اعلی اور اللہ کی حاکمیت کے قیام کا مسئلہ ہے ۔ یہ بڑے لوگ رسول کے ان الفاظ کے نتائج کو اچھی طرح سمجھتے تھے ” اے بردران قوم ! صرف اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا اور کوئی حاکم نہیں ہے ۔ “ اور ” میں تو رب العالمین کا فرستادہ ہوں “۔ وہ سمجھتے تھے کہ اقتدار اور حاکمیت اللہ کی ہوجائے اور اللہ کا رسول یہ شخص ہو تو ظاہر ہے کہ ان کی تمام بڑائی ختم اور ان کے تمام اختیارات از خود اس شخص کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں جو رب العالمین کا نمائندہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس دعوت کے لئے سد راہ بن گئے تھے اور نتیجۃ ان لوگوں میں شامل ہوگئے تھے جو ہلاک ہونے والے تھے ۔ یہ لوگ اس اقتدار اعلی کے شیدانی ہوگئے تھے کہ ان کی آنے والی نسلیں بھی انہی کی راہ پر چلتی تھیں اور انہی کی طرح جہنم کی راہ پر پڑگئی تھیں جس کا انجام ہلاکت کے سوا کچھ نہ تھا ۔ غرض جھٹلانے والوں کی مقتل گاہوں کے جو نقشے ان قصص میں کھینچے گئے ہیں وہ اللہ رب العالمین کی اس سنت کے مطابق ہیں جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ یہ لوگ اللہ کی آیات کو یکسر بھلا دیتے تھے اور اللہ کی راہ سے انحراف کرلیتے تھے ۔ اللہ کی جانب سے رسولوں کے ذریعے ڈراوا آتا تھا اور وہ اللہ کی بندگی کے اقرار کو اپنے لئے ہتک سمجھتے تھے ۔ وہ اپنی خوشحالی پر فخر کرتے اور مطالبہ کرتے کہ جلدی عذاب لاؤ ۔ اس کے برعکس وہ رسول اور اہل ایمان کو دھمکیاں دیتے اور ایذا پہنچاتے ‘ جس کے مقابلے میں اہل ایمان ثابت قدم رہتے اور اپنے نظریات پر جم جاتے ۔ اس کے بعد پھر عذاب الہی آجاتا ۔ یہ ہے تاریخ انسانیت ۔ سب سے آخری بات یہ ہے کہ باطل کی سرکش قوت کا مزاج ہی یہی ہے کہ وہ سچائی کے وجود ہی کو برداش کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ سچائی اگر باطل کے مقابلے میں گوشہ نشین ہو کر حق و باطل کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دے تو بھی باطل اسے برداشت نہ کرے گا ۔ بلکہ باطل اس کا پیچھا کرے گا اور اسے آخری حدوں تک بھگانے کی سعی کرے گا ۔ اسے شکست دینے کی کوشش کرے گا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا : ” تم میں سے اگر ایک گروہ اس دعوت پر ایمان لایا ہے جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا تو تم صبر کرو کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ‘ وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ لیکن انہوں نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی اس پیشکش کو قبول نہیں کیا اور وہ اس بات کو برداشت نہ کرسکے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے سچائی موجود ہو اور وہ پھلے پھولے نہ کوئی باطل یہ برداشت کرسکتا ہے کہ کوئی ایسی جماعت میدان میں موجود رہے جو صرف اللہ کی بندگی کرتی ہو اور تمام طاغوتی طاقتوں کے اقتدار اعلی کی منکر ہو ۔ “ شیعب (علیہ السلام) کی قوم سے ان لوگوں نے جو مستکبرین تھے ‘ انہوں نے یہ کہا ” اے شعیب ہمیں تو تم کو اور ان لوگوں کو جو تم پر ایمان لے آئے ہیں اپنے اس گاؤں سے نکالنا پڑے گا ۔ یا تمہیں ہمارے نظام وملت میں واپس آنا ہوگا ۔ “ لیکن حضرت شعیب (علیہ السلام) بھی ان کی اس تجویز کو صاف صاف رد کردیتے ہیں ۔ ’ انہوں نے کہا ‘ تب بھی کہ ہم ایسا نہ چاہ رہے ہوں ۔ اگر ہم تمہارے نظام اور ملت میں واپس لوٹ آئیں گے تو ہم تو اللہ پر افتراء پردازی کر رہے ہوں گے جبکہ اس سے اللہ نے ہمیں نجات دے دی ہے ۔ “ یہ مکالمہ بتاتا ہے کہ اہل دعوت پر طاغوتی طاقتوں کے ساتھ یہ معرکہ آرائی فرض ہے اور انہیں اس کی نوعیت کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے ۔ کوئی اٹکل اور کوئی حکمت حاملین دعوت اسلامی کو اس معرکے سے بچا نہیں سکتی اس لئے کہ طاغوتی طاقتیں تب آرام کریں گی جب وہ دعوت اسلامی کو اپنے نظریات سے منحرف کرلیں گی یہ قوتیں تب دم لیں گی جب تک داعیان حق واپس ان کی گمراہ ملت کی طرف لوٹ نہ آئیں گے حالانکہ اللہ نے انکے دل سے یہ منحرف ملی نظریات نکال کر ان کے دل میں صرف اللہ کے اقتدار اعلی کے نظریات بٹھا دیئے ہیں ۔ لہذا ان دونوں قوتوں کے درمیان معرکہ آرائی لابدی ہے اور اس سے نہیں بچا جاسکتا ۔ جب معرکہ لابدی ہے تو پھر اس کی مشکلات کو برداشت کرنا بھی لابدی ہے ۔ اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک فتح نصیب نہیں ہوجاتی اور جب تک وہ کشتیاں جلا کر شعیب (علیہ السلام) کا یہ نغمہ نہیں الاپتے ۔ ” ہم نے اللہ پر بھروسہ کرلیا ہے ۔ اے اللہ اب تو ہی ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان فیصلہ فرما کیونکہ تو بہترین فیصلے کرنے والا ہے ۔ “ (علی اللہ توکلنا “۔ (7 : 89) اب اللہ کی سنت چلتی ہے اور پوری انسانی تاریخ میں یہ چلتی رہی ہے ۔ ان قصص پر یہ تبصرہ کافی ہے ۔ اب آیات قرآن تفصیلات کے ساتھ ۔

الأعراف 7:59

درس نمبر 77 تشریح آیات : 59۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔ 93۔ انسانی تاریخ میں قافلہ انسانیت کے اس سفر کے بیان سے پہلے ‘ ایسے ہی ایک کائناتی مومن قافلے کا ذکر تھا ‘ جو اس کائنات میں رواں دواں نظر آتا ہے ۔ اس سے پہلے سبق کے آخر میں ایسے مومنین کا ذکر جو امر الہی سے ذرا بھی سرتابی نہیں کرتے مندرجہ ذیل الفاظ میں کیا گیا ہے ۔ آیت ” إِنَّ رَبَّکُمُ اللّہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ أَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِیْ اللَّیْْلَ النَّہَارَ یَطْلُبُہُ حَثِیْثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِہِ أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ (54) ۔ ” درحقیقت تمہارا رب اللہ ہی ہے جس نے آسمان و زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ۔ جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے ۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں ۔ خبردار رہو اسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے ۔ بڑا بابرکت ہے اللہ ‘ رب العالمین “۔ قرآن کریم میں بسا اوقات اس حقیقت کو کہ یہ پوری کائنات اللہ کی مطیع فرمان ہے اور یہ حقیقت کہ تمام انسانوں پر اللہ کا امر جاری ہونا چاہئے ایک ساتھ لایا جاتا ہے ۔ یعنی جس طرح وہ کائنات مطیع فرمان ہے جس میں انسان بستے ہیں اسی طرح انہیں بھی اللہ کا مطیع فرمان ہونا چاہئے ۔ تمہارا اسلام اس طرح ہونا چاہئے جس طرح کا اس پوری کائنات کا ہے ۔ اور جس کے قوانین میں وہ جکڑی ہوئی ہے ۔ اس طرح اس پوری کائنات کے مسلم ہونے کے اثرات قلب مومن پر پڑتے ہیں ‘ اسے خوب جھنجوڑتے ہیں اور اسے آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کی اطاعت کے لئے آمادہ ہوجائے اور یہ کہ اس کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے اردگرد یہ پھیلی ہوئی کائنات تو اللہ کی مطیع فرمان ہو اور اس کائنات میں وہ اللہ وحدہ کے مقابلے میں سرکشی کرے ۔ غرض رسولوں کی دعوت کوئی ایسی دعوت نہیں ہے جو انوکھی ہو ‘ بلکہ وہ تو اس حقیقت کی طرف بلاتے ہیں جو اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے ‘ اس پوری کائنات کے ضمیر میں رچی بسی ہے اور یہی حقیقت خود انسان کی فطرت کے اندر بھی موجود ہے ۔ جب بھی انسان کی فطرت پر شہوات اور خواہشات کا غلبہ ہوتا ہے یہ فطرت ضمیر کے اندر اسے پکارتی ہے اور اس طرح شیطان انسان کو گمراہ کر کے اس کی نکیل اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتا ۔ یہی وہ حقیقت ہے جو اس سبق کے تمام قصوں میں مختلف پیرائیوں میں بیان کی گئی ہے ۔ آیت ” نمبر 59 تا 64۔ یہاں اس قصے کو نہایت ہی اختصار کے ساتھ لیا گیا ہے ‘ جبکہ دوسرے مقامات پر جہاں تفصیلات کی ضرورت تھی اس کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں ۔ مثلا سورة ہود اور سورة نوح میں ‘ اس لئے کہ یہاں صرف ان نشانات راہ کی طرف اشارہ کرنا مطلوب تھا جن کے بارے میں ہم نے ابھی ذکر کیا ہے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کا مزاج کیا ہے اور اور اس کے پھیلانے اور دعوت اسلامی کا طریقہ تفہیم کیا ہے اور اس دعوت کے آغاز کے بعد لوگوں کا رد عمل کیا ہوتا ہے ؟ اس کے داعی کے جذبات کیا ہوتے ہیں۔ یہاں ہم صرف انہی نشانات رہ کی طرف اشارہ کریں گے جن کے لئے اس قصے کو یہاں لایا گیا ہے ۔ آیت ” لَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحاً إِلَی قَوْمِہِ “۔ (7 : 59) ” ہم نے نوح (علیہ السلام) کو اس کی قوم کی طرف بھیجا “۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ اللہ ہر قوم کی طرف رسول اس کی قوم سے بھیجتے ہیں ۔ وہ ان سے ان کی زبان میں بات کرتا ہے ۔ یہ رعایت اللہ نے ہر قوم کی تالیف قلب کے لئے دی ہے اور اس لئے دی ہے کہ ان کے پیغام کو سمجھنا آسان ہو اور ان کا باہم تعارف ہو لیکن یہ سہولتیں بھی ان لوگوں کے لئے مفید ہوتی ہیں کی فطرت بگڑ نہ چکی ہو ۔ رہے وہ لوگ جن کی فطرت بگڑی ہوئی ہوتی ہے انہیں یہ انتظام بھی عجیب لگتا ہے ۔ وہ دعوت کو قبول نہیں کرتے اور اپنے آپ کو اس مقام سے اونچا سمجھتے ہیں کہ وہ ایمان لائیں اور اطاعت کریں ‘ اس لئے وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ملائکہ اور فرشتے آکر انہیں تبلیغ کریں ۔ یہ بات محض بہانہ سازی ہے ۔ اگر فرشتے بھی آتے تب بھی یہ لوگ مان کر نہ دیتے ۔ چاہے جو بھی طریقہ اختیار کیا جاتا وہ ماننے والے نہ تھے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کو جب رسول بنا کر بھیجا گیا تو انہوں نے دعوت کا آغاز انہی کلمات سے کیا جن کے ساتھ بعد میں آنے والے تمام رسولوں نے کیا ۔ آیت ” فَقَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللَّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (8 : 59) ” اس نے کہا ” اے برادران قوم اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “ یہ کلمات آخر تک نہیں بدلتے ۔ یہ وہ اصولی قاعدہ ہے جس کے سوا اسلام متحقق نہیں ہو سکتا ۔ یہ انسانی زندگی کا بنیادی پتھر ہے اور اس کے بغیر انسانیت کی عمارت کھڑی ہی نہیں ہو سکتی ۔ یہی قاعدہ کلیہ اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ لوگوں کا نقطہ نظر ایک ہو ‘ ان کے مقاصد ایک ہوں اور ان کے درمیان رابطہ ایک طرح کا ہو ‘ یہی اصول ہے جس کے ذریعے کوئی انسان ہوا وہوس کی غلامی سے آزاد ہو سکتا ہے اور خود اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے بھی آزاد ہو سکتا ہے ۔ اسی کے ذریعے انسان بےپناہ انسانی خواہشات کو کنٹرول کرسکتا ہے اور انعام وسزا کو منضبط کرسکتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے ۔ اس کا اساسی قاعدہ یہ ہے کہ انسانوں کی پوری زندگی کے اندر اللہ کی حاکمیت اور بادشاہت کو قائم کیا جائے ۔ یہی ہے مفہوم اس بات کا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور یہی مفہوم ہے اس فقرے کا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ (حاکم) نہیں ہے ۔ اللہ کی بادشاہت جس طرح کائنات کی تخلیق میں ہے ‘ اس کی ربوبیت ‘ تدبیر اور تقدیر میں ہے اور جس طرح یہ بادشاہت انسان کی تخلیق ربوبیت اور اس کی تقدیر اس کے عناصر ترکیبی میں ہے اسی طرح یہ بادشاہت انسان کی عملی زندگی میں بھی قائم ہونا چاہیے اور اس کی عملی زندگی کو اللہ کی شریعت کے مطابق استوار ہونا چاہئے ۔ مثلا مراسم عبودیت میں اور زندگی کے تمام دوسرے معاملات میں بطور پیکیج اللہ کی بندگی ہونا چاہئے ۔ اگر ایسا نہ ہوگا تو پھر انسان شرک کا مرتکب ہوگا اور عملا وہ اس بات کا قائل ہوگا کہ اللہ کے سوا کوئی اور حاکم بھی ہیں ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہ مختصر بات کی اور انہیں ان کے انجام بد سے ڈرایا ۔ انہوں نے اس طرح نصیحت کی جس طرح ایک مشفق بھائی بھائی کو کرتا ہے ‘ اور جس طرح ایک مشفق سربراہ اپنی قوم اور خاندان کو کرتا ہے کہ اگر تم نے تکذیب کی تو انجام بہت ہی بھیانک ہوگا ۔ آیت ” إِنِّیَ أَخَافُ عَلَیْْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (59) ” میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ “ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قدیم ترین دین دین نوح میں بھی تصور آخرت اپنی مکمل شکل میں موجود ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں یوم الحساب میں تمہارے برے انجام سے کانپ رہا ہوں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی اور دینی عقائد کے بارے میں قرآن کا تصور کیا ہے اور ان نام نہاد ماہرین ادیان کا کیا تصور ہے جو تاریخ ادیان کو بھی ارتقائی انداز میں مرتب کرتے ہیں ۔ یہ لوگ قرآنی منہاج سے بیخبر ہیں۔

الأعراف 7:60

آیت ” قَالَ الْمَلأُ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ (60) ” قوم کے سرداروں نے جواب دیا : ” ہم کو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔ “ یہی بات مشرکین عرب نے حضور ﷺ کے بارے میں کہی تھی ۔ انہ صباء ” یہ کہ آپ بےدین ہوگئے ہیں۔ “ اور آپ نے دین ابراہیم سے روگردانی اختیار کرلی ہے ۔ جب کوئی شخص گمراہی کی حدیں پار کرلیتا ہے تو وہ ان لوگوں کو گمراہ سمجھتا ہے جو اسے راہ ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور جب کسی کی فطرت مسخ ہوجاتی ہے تو وہ بھی خود سری کے اس مقام تک جا پہنچتا ہے ۔ یوں اقدار بدل جاتی ہے اور حق و باطل کے پرکھنے کا معیار بدل جاتا ہے ۔ انسان نفسانی خواہشات کے تابع ہوجاتا ہے ۔ الا یہ کہ انسان اللہ کی اقدار اور پیمانوں کو نہیں اپنا لیتا اس لئے کہ یہ اقدار اور پیمانے غیر متبدل ہوتے ہیں اور ان کے اندر کبھی انحراف نہیں ہوتا ۔ جو لوگ آج کے دور میں ہدایات اللہ سے لیتے ہیں ان کو دور جدید کی جاہلیت گمراہ کہتی ہے اور جو محض جاہلیت جدید سے ہدایت اخذ کرے ‘ مغربی تہذیب کے گندے نالے میں گر جائے اور اس کریہہ ماحول میں اتر ائے اسے وہ ہدایت یافتہ اور ترقی یافتہ کہتے ہیں ۔ آج جو عورت اپنے گوشت کو ننگا نہیں کرتی ‘ اپنے جسم کو عریاں نہیں کرتی ‘ اور جو اس پست حالت کو قبول نہیں کرتی اس کے بارے میں جدید جاہلیت کیا کہتی ہے ؟ یہ دنیا جدید دور کی اس پاک وصاف اور صالح عورت کو رجعت پسند کہتی ہے اسے پسماندگی اور دیہاتی پن کا طعنہ دیا جاتا ہے اور جاہلیت جدید نے اپنے پورے ذرائع ابلاغ اور میڈیا کو اس مقصد کے لئے مصروف کر رکھا ہے کہ وہ ہماری عورت کی اس پاکیزگی نظافت اور سربلندی کو ختم کرکے اسے جنسیت کے اس گندے تالاب میں گرا دے جو نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ جن لوگوں کو ترجیحات کھیل کود سے بلند ہیں ‘ جو فلموں ‘ سینماؤں اور ٹیلی ویژن کے جنون سے سربلند ہیں اور جو لوگ رقص و سرود اور جام وسبو کی فحاشیوں اور عیاشیوں سے اپنے آپ کو دور رکھنا چاہتے ہیں ‘ یہ جاہلیت ان کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟ یہ کہتی ہے کہ یہ لوگ جامد اور کوڑ مغز ہیں ‘ اپنے آپ کو گم ‘ غیر مہذب اور غیر تعلیم یافتہ ہیں ۔ یہ جاہلیت ہر وقت اسی کام میں لگی ہوئی ہے کہ وہ تمام لوگوں کو اس گندگی میں ڈال دے اور لوگ سب کے سب عیاشی اور فحاشی میں زندگی بسر کریں ۔ غرض جاہلیت ہر دور میں جاہلیت ہوتی ہے وہ اشکال وظروف تو بدلتی ہے مگر اس کی ماہیت وہی رہتی ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ان کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ گمراہ نہیں ہیں ۔ وہ ان کے سامنے اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی دعوت کیا ہے اور اس دعوت کا سرچشمہ کیا ہے ؟ یہ کہ انہوں نے اپنی سوچ اور فکر سے اس دعوت کو نہیں شروع کیا نہ انکی شروع کیا نہ ان کی یہ ذاتی خواہش ہے ۔ وہ تو رب العالمین کے رسول ہیں اور حامل رسالت ہیں۔ وہ نہایت ہی امانت و دیانت سے اللہ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق نصیحت کرتے ہیں اور وہ جو تعلیمات دیتے ہیں وہ بھی رب العالمین کی طرف سے ہیں ۔ یہ تعلیمات ان کے قلب پر اترتی ہیں اور یہ کہ ان کا رب العالمین کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے جبکہ تم لوگ اللہ کے ساتھ رابطہ نہیں رکھتے ۔

الأعراف 7:61

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) ” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “ یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار ہی نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار آنے والی آیات سے ہوتا ہے ۔ آیت ” ْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون “۔ (7 : 63) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “ ۔ اللہ کی جانب سے کسی ایک شخص کی پیغامبری کے لئے چن لینا اگرچہ تعجب خیز ہے لیکن حضرت انسان کی پوری شان ہی نرالی ہے ، یہ تو جہانوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے ‘ ان سے مربوط ہے ۔ دوسری جانب یہ اللہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ نے خود اس کے جسم میں روح اور زندگی پھونکی ہے ‘ لہذا اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی انسان کو رسول بناتا ہے اور اس کام کو اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو اس منصب کے لئے منتخب کرے تو یہ انسان پھر اللہ سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ نے اس کے جسم کے اندر یہ استعداد اور قابلیت رکھ دی ہوتی ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے اور اسی وجہ سے وہ خالق کائنات کے ہاں معزز اور مکرم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ ” تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور پھر تم پر رحم کیا جائے ۔ “ رسول کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جائے اور ان کے دل دہل جائیں اور وہ تقوی کے لئے آمادہ ہوں اور آخر کار رحمت خداوندی سے بہرہ ور ہوں ۔ اس سے زیادہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کوئی اور مقصد نہ تھا ۔ یہی وہ بلند اور اعلی نصب العین ہے جس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کام کر رہے تھے ۔ لیکن انسان کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ جب وہ ایک معین حد سے گزر جائے تو تو وہ پھر غور وفکر اور سوچ سے کام نہیں لیتی اور اس کے لئے انذار اور نصیحت آموزی نفع بخش نہیں رہتی ۔ آیت ” فَکَذَّبُوہُ فَأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ فِیْ الْفُلْکِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا إِنَّہُمْ کَانُواْ قَوْماً عَمِیْنَ (64) ” مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔ “ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے مخلصانہ نصیحت اور حقیقی خطرے سے ڈراوے کو قبول نہ کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے تکذیب کی اور اسی وجہ سے وہ اس انجام تک پہنچے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے ۔ اب تاریخ کی گاڑی ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور قرآن اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ ہم اب حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کے سامنے ہیں ۔

الأعراف 7:62

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) ” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “ یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار ہی نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار آنے والی آیات سے ہوتا ہے ۔ آیت ” ْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون “۔ (7 : 63) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “ ۔ اللہ کی جانب سے کسی ایک شخص کی پیغامبری کے لئے چن لینا اگرچہ تعجب خیز ہے لیکن حضرت انسان کی پوری شان ہی نرالی ہے ، یہ تو جہانوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے ‘ ان سے مربوط ہے ۔ دوسری جانب یہ اللہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ نے خود اس کے جسم میں روح اور زندگی پھونکی ہے ‘ لہذا اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی انسان کو رسول بناتا ہے اور اس کام کو اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو اس منصب کے لئے منتخب کرے تو یہ انسان پھر اللہ سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ نے اس کے جسم کے اندر یہ استعداد اور قابلیت رکھ دی ہوتی ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے اور اسی وجہ سے وہ خالق کائنات کے ہاں معزز اور مکرم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ ” تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور پھر تم پر رحم کیا جائے ۔ “ رسول کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جائے اور ان کے دل دہل جائیں اور وہ تقوی کے لئے آمادہ ہوں اور آخر کار رحمت خداوندی سے بہرہ ور ہوں ۔ اس سے زیادہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کوئی اور مقصد نہ تھا ۔ یہی وہ بلند اور اعلی نصب العین ہے جس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کام کر رہے تھے ۔ لیکن انسان کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ جب وہ ایک معین حد سے گزر جائے تو تو وہ پھر غور وفکر اور سوچ سے کام نہیں لیتی اور اس کے لئے انذار اور نصیحت آموزی نفع بخش نہیں رہتی ۔ آیت ” فَکَذَّبُوہُ فَأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ فِیْ الْفُلْکِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا إِنَّہُمْ کَانُواْ قَوْماً عَمِیْنَ (64) ” مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔ “ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے مخلصانہ نصیحت اور حقیقی خطرے سے ڈراوے کو قبول نہ کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے تکذیب کی اور اسی وجہ سے وہ اس انجام تک پہنچے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے ۔ اب تاریخ کی گاڑی ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور قرآن اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ ہم اب حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کے سامنے ہیں ۔

الأعراف 7:63

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) ” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “ یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار ہی نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار آنے والی آیات سے ہوتا ہے ۔ آیت ” ْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون “۔ (7 : 63) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “ ۔ اللہ کی جانب سے کسی ایک شخص کی پیغامبری کے لئے چن لینا اگرچہ تعجب خیز ہے لیکن حضرت انسان کی پوری شان ہی نرالی ہے ، یہ تو جہانوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے ‘ ان سے مربوط ہے ۔ دوسری جانب یہ اللہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ نے خود اس کے جسم میں روح اور زندگی پھونکی ہے ‘ لہذا اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی انسان کو رسول بناتا ہے اور اس کام کو اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو اس منصب کے لئے منتخب کرے تو یہ انسان پھر اللہ سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ نے اس کے جسم کے اندر یہ استعداد اور قابلیت رکھ دی ہوتی ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے اور اسی وجہ سے وہ خالق کائنات کے ہاں معزز اور مکرم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ ” تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور پھر تم پر رحم کیا جائے ۔ “ رسول کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جائے اور ان کے دل دہل جائیں اور وہ تقوی کے لئے آمادہ ہوں اور آخر کار رحمت خداوندی سے بہرہ ور ہوں ۔ اس سے زیادہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کوئی اور مقصد نہ تھا ۔ یہی وہ بلند اور اعلی نصب العین ہے جس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کام کر رہے تھے ۔ لیکن انسان کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ جب وہ ایک معین حد سے گزر جائے تو تو وہ پھر غور وفکر اور سوچ سے کام نہیں لیتی اور اس کے لئے انذار اور نصیحت آموزی نفع بخش نہیں رہتی ۔ آیت ” فَکَذَّبُوہُ فَأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ فِیْ الْفُلْکِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا إِنَّہُمْ کَانُواْ قَوْماً عَمِیْنَ (64) ” مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔ “ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے مخلصانہ نصیحت اور حقیقی خطرے سے ڈراوے کو قبول نہ کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے تکذیب کی اور اسی وجہ سے وہ اس انجام تک پہنچے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے ۔ اب تاریخ کی گاڑی ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور قرآن اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ ہم اب حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کے سامنے ہیں ۔

الأعراف 7:64

آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ ضَلاَلَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (61) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) ” اے برادران قوم ! میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تمہیں اپنے رب کے پیغام پہنچاتا ہوں ‘ تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے ۔ “ یہاں سیاق قصہ میں ایک کڑی غائب ہے ‘ رسول کی اس دعوت پر انہوں نے گویا اس تعجب کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار ہی نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار کردیا کہ اللہ نے انسانوں میں سے ایک شخص کو رسول بنا کر کس طرح بھیج دیا ؟ اور یہ کہ کس طرح اللہ کا پیغام ایک شخص تک پہنچ جاتا ہے اور دوسرے لوگ اس پیغام کے آنے سے خبردار نہیں ہوتے ۔ واقعات کی اس کڑی کا اظہار آنے والی آیات سے ہوتا ہے ۔ آیت ” ْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَأَنصَحُ لَکُمْ وَأَعْلَمُ مِنَ اللّہِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ (62) أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُواْ وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون “۔ (7 : 63) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے سے تمہارے رب کی یاد دہانی آئی تاکہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟ “ ۔ اللہ کی جانب سے کسی ایک شخص کی پیغامبری کے لئے چن لینا اگرچہ تعجب خیز ہے لیکن حضرت انسان کی پوری شان ہی نرالی ہے ، یہ تو جہانوں کے ساتھ معاملات کرتا ہے ‘ ان سے مربوط ہے ۔ دوسری جانب یہ اللہ کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے ‘ کیونکہ اللہ نے خود اس کے جسم میں روح اور زندگی پھونکی ہے ‘ لہذا اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی انسان کو رسول بناتا ہے اور اس کام کو اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس کو اس منصب کے لئے منتخب کرے تو یہ انسان پھر اللہ سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے ‘ اس لئے کہ اللہ نے اس کے جسم کے اندر یہ استعداد اور قابلیت رکھ دی ہوتی ہے ۔ یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے انسان ‘ انسان ہے اور اسی وجہ سے وہ خالق کائنات کے ہاں معزز اور مکرم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) فرماتے ہیں ۔ ” تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاؤ اور پھر تم پر رحم کیا جائے ۔ “ رسول کا مشن یہ ہے کہ لوگوں کو ڈرایا جائے اور ان کے دل دہل جائیں اور وہ تقوی کے لئے آمادہ ہوں اور آخر کار رحمت خداوندی سے بہرہ ور ہوں ۔ اس سے زیادہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا کوئی اور مقصد نہ تھا ۔ یہی وہ بلند اور اعلی نصب العین ہے جس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کام کر رہے تھے ۔ لیکن انسان کی فطرت کا یہ خاصہ ہے کہ جب وہ ایک معین حد سے گزر جائے تو تو وہ پھر غور وفکر اور سوچ سے کام نہیں لیتی اور اس کے لئے انذار اور نصیحت آموزی نفع بخش نہیں رہتی ۔ آیت ” فَکَذَّبُوہُ فَأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ فِیْ الْفُلْکِ وَأَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا إِنَّہُمْ کَانُواْ قَوْماً عَمِیْنَ (64) ” مگر انہوں نے اس کو جھٹلایا ۔ آخر کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ‘ یقینا وہ اندھے لوگ تھے ۔ “ ہم نے دیکھا کہ انہوں نے مخلصانہ نصیحت اور حقیقی خطرے سے ڈراوے کو قبول نہ کیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔ اسی وجہ سے انہوں نے تکذیب کی اور اسی وجہ سے وہ اس انجام تک پہنچے جس کا ذکر قرآن کر رہا ہے ۔ اب تاریخ کی گاڑی ذرا اور آگے بڑھتی ہے اور قرآن اس کے ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ ہم اب حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کے سامنے ہیں ۔

الأعراف 7:65

آیت ” نمبر 65 تا 74۔ یہ وہی رسالت اور وہی پیغام بری ہے وہی معاملہ اور وہی انجام ہے۔ وہی سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہی قانون الہی ہے جس کے مطابق یہ کائنات قائم ہے ۔ ایک ہی قانون ہے اور ایک ہی ضابطہ ہے ۔ قوم عاد حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے ‘ یا ان لوگوں کی اولاد میں سے ہے جو آپ کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ان کی تعداد تیرہ ‘ ظاہر ہے کہ یہ سب لوگ دین نوح (علیہ السلام) کے پیرو تھے اور نوح (علیہ السلام) کا دین ‘ دین اسلام تھا ۔ یہ صرف اللہ وحدہ کو پکارتے تھے اور وہ اللہ کے سوا اپنے لئے کسی اور کو الہ نہ بناتے تھے ‘ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ ہی رب العالمین ہے ‘ اور حضرت نوح (علیہ السلام) نے انہیں یہی تعلیم دی تھی ۔ آیت ” وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) ” میں رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں “۔ لیکن جب طویل زمانہ گزر گیا اور یہ لوگ زمین کے مختلف علاقوں میں پھیل گئے تو شیطان نے انہیں اچھی طرح گمراہ کردیا اور انہیں اپنی خواہشات اور شہوات کے مطیع بنا دیا اور انسان کی سب سے بڑی خواہش ملکیت اور سازو سامان کی خواہش ہوتی ہے ۔ اور یہ مال و دولت اور سازو سامان وہ شریعت کے قانون کے علی الرغم جمع کرتے ہیں ‘ تو اس وجہ سے حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد نے اس دعوت کو بہت ہی نابسندیدہ سمجھا کہ وہ اب صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں ۔ آیت ” وَإِلَی عَادٍ أَخَاہُمْ ہُوداً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ أَفَلاَ تَتَّقُونَ (65) ” اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا ۔ اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز کرو گے ۔ “ اور یہ وہی بات ہے جو اس سے قبل حضرت نوح نے کہی تھی ‘ اور جس پر قوم نوح نے انکی تکذیب کی تھی اور اس کے نتیجے میں ان پر جو عذاب آیا وہ معلوم ہے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوم عاد کو ۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنا خلیفہ بنایا تاھ ۔ یہاں قرآن کریم نے قوم عاد کے مسکن کی نشاندہی نہیں فرمائی لیکن دوسری سورتوں میں یہ تصریح آئی ہے کہ یہ احقاف میں تھے ۔ یہ یمامہ اور حضر موت کے درمیان بڑے بڑے ٹیلے ہیں ۔ غرض یہ لوگ اسی راہ پر چل نکلے جس پر اس سے قبل قوم نوح چل رہی تھی ۔ چناچہ انہوں نے نہ تو نصیحت پر کان دھرا اور نہ ہی واقعات نوح سے عبرت پکڑی ۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) اپنے خطاب میں مزید یہ بھی کہتے ہیں کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے ؟ یہ ان کے رویے پر نکیر ہے ‘ اور انہیں اس خوفناک انجام بد سے ڈرایا جارہا ہے ۔ غرض اس قوم کے سرداروں کو یہ بات بہت ہی ناگوار گزری کہ ان میں سے ایک عام آدمی اٹھ کر انہیں ڈرائے اور یہ ہے اور ہمارے مقام ومنصب کا صحیح خیال نہیں رکھ رہا ہے ۔ چناچہ انہوں نے اپنے نبی کی طرف یہ باتیں منسوب کیں کہ وہ احمق اور جھوٹے ہیں اور اس قسم کے الزام لگانے میں انہوں نے ذرا بھر شرم محسوس نہ کی ۔

الأعراف 7:66

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ (66) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ “ یہ تھا ان اکابرین کا جواب جو محض ایک مذاق تھا اور تدبر اور دلیل سے خالی تھا ۔ حضرت کا جواب یہ تھا : آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاتِ رَبِّیْ وَأَنَاْ لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْنٌ(68) ” اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں بےعقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ‘ اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔ “ آپ نے بڑی سچائی اور سنجیدگی سے اس بات کی نفی کی کہ وہ بیوقوف یا سفیہ ہیں ۔ اسی طرح آپ نے اس بات کی نفی بھی کی کہ آپ گمراہ ہیں ‘ اس لئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح آپ نے بھی انہیں بتا دیا تھا کہ انکے پیغام کا سرچشمہ کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ ناصح امین ہیں اور یہ بات انہوں نے نہایت ہی درد بھرے لہجے میں ان سے کہی ‘ نہایت ہی سچائی اور صفائی کے ساتھ ۔ یہاں یہ بات لازمی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے نظریات پر تعجب کیا ‘ جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تعجب کیا تھا کہ کس طرح اللہ عام انسانوں میں سے کسی کو نبی چن سکتا ہے اور رسول بنا سکتا ہے چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) بھی وہی بات دہراتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ان دونوں شخصیتوں کی روح ایک ہے ‘ صرف اجسام میں اختلاف ہے ۔ آیت ” أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ “۔ (7 : 69) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی یاد دہائی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ “۔ اس کے بعد وہ ان کو اس صورت حال کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو انکی واقعی صورت حال سے واضح تھی کہ اللہ نے قوم نوح کے بعد ان کو خلافت فی الارض کا منصب عطا فرمایا تھا ‘ ان کو جسمانی قوت دی تھی اور پہاڑوں میں بسنے والوں کی طرح وہ جسمانی توانائی رکھتے تھے نیز سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی انکو زمین میں اقتدار دیا گیا تھا ۔

الأعراف 7:67

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ (66) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ “ یہ تھا ان اکابرین کا جواب جو محض ایک مذاق تھا اور تدبر اور دلیل سے خالی تھا ۔ حضرت کا جواب یہ تھا : آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاتِ رَبِّیْ وَأَنَاْ لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْنٌ(68) ” اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں بےعقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ‘ اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔ “ آپ نے بڑی سچائی اور سنجیدگی سے اس بات کی نفی کی کہ وہ بیوقوف یا سفیہ ہیں ۔ اسی طرح آپ نے اس بات کی نفی بھی کی کہ آپ گمراہ ہیں ‘ اس لئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح آپ نے بھی انہیں بتا دیا تھا کہ انکے پیغام کا سرچشمہ کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ ناصح امین ہیں اور یہ بات انہوں نے نہایت ہی درد بھرے لہجے میں ان سے کہی ‘ نہایت ہی سچائی اور صفائی کے ساتھ ۔ یہاں یہ بات لازمی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے نظریات پر تعجب کیا ‘ جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تعجب کیا تھا کہ کس طرح اللہ عام انسانوں میں سے کسی کو نبی چن سکتا ہے اور رسول بنا سکتا ہے چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) بھی وہی بات دہراتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ان دونوں شخصیتوں کی روح ایک ہے ‘ صرف اجسام میں اختلاف ہے ۔ آیت ” أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ “۔ (7 : 69) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی یاد دہائی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ “۔ اس کے بعد وہ ان کو اس صورت حال کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو انکی واقعی صورت حال سے واضح تھی کہ اللہ نے قوم نوح کے بعد ان کو خلافت فی الارض کا منصب عطا فرمایا تھا ‘ ان کو جسمانی قوت دی تھی اور پہاڑوں میں بسنے والوں کی طرح وہ جسمانی توانائی رکھتے تھے نیز سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی انکو زمین میں اقتدار دیا گیا تھا ۔

الأعراف 7:68

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِیْ سَفَاہَۃٍ وِإِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ (66) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے ‘ جواب میں کہا ” ہم تو تمہیں بےعقلی میں مبتلا سمجھتے تھے اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو ۔ “ یہ تھا ان اکابرین کا جواب جو محض ایک مذاق تھا اور تدبر اور دلیل سے خالی تھا ۔ حضرت کا جواب یہ تھا : آیت ” قَالَ یَا قَوْمِ لَیْْسَ بِیْ سَفَاہَۃٌ وَلَکِنِّیْ رَسُولٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (67) أُبَلِّغُکُمْ رِسَالاتِ رَبِّیْ وَأَنَاْ لَکُمْ نَاصِحٌ أَمِیْنٌ(68) ” اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ میں بےعقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رب العالمین کا رسول ہوں ‘ تم کو اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ‘ اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ۔ “ آپ نے بڑی سچائی اور سنجیدگی سے اس بات کی نفی کی کہ وہ بیوقوف یا سفیہ ہیں ۔ اسی طرح آپ نے اس بات کی نفی بھی کی کہ آپ گمراہ ہیں ‘ اس لئے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی طرح آپ نے بھی انہیں بتا دیا تھا کہ انکے پیغام کا سرچشمہ کیا ہے اور اس کے مقاصد کیا ہیں ؟ یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ ناصح امین ہیں اور یہ بات انہوں نے نہایت ہی درد بھرے لہجے میں ان سے کہی ‘ نہایت ہی سچائی اور صفائی کے ساتھ ۔ یہاں یہ بات لازمی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے نظریات پر تعجب کیا ‘ جس طرح اس سے قبل حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے تعجب کیا تھا کہ کس طرح اللہ عام انسانوں میں سے کسی کو نبی چن سکتا ہے اور رسول بنا سکتا ہے چناچہ حضرت ہود (علیہ السلام) بھی وہی بات دہراتے ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) نے کی تھی ۔ یوں نظر آتا ہے کہ ان دونوں شخصیتوں کی روح ایک ہے ‘ صرف اجسام میں اختلاف ہے ۔ آیت ” أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاء کُمْ ذِکْرٌ مِّن رَّبِّکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِّنکُمْ لِیُنذِرَکُمْ “۔ (7 : 69) ” کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی یاد دہائی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ “۔ اس کے بعد وہ ان کو اس صورت حال کی طرف متوجہ کرتے ہیں جو انکی واقعی صورت حال سے واضح تھی کہ اللہ نے قوم نوح کے بعد ان کو خلافت فی الارض کا منصب عطا فرمایا تھا ‘ ان کو جسمانی قوت دی تھی اور پہاڑوں میں بسنے والوں کی طرح وہ جسمانی توانائی رکھتے تھے نیز سیاسی اور سماجی اعتبار سے بھی انکو زمین میں اقتدار دیا گیا تھا ۔

الأعراف 7:69

آیت ” وَاذکُرُواْ إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاء مِن بَعْدِ قَوْمِ نُوحٍ وَزَادَکُمْ فِیْ الْخَلْقِ بَسْطَۃً فَاذْکُرُواْ آلاء اللّہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ (69) ” بھول نہ جاؤ کہ تمہارے رب نے نوح (علیہ السلام) کی قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا ‘ پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو ‘ امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ۔ “ انہیں زمین میں جو اقتدار اعلی عطا کیا گیا تھا اور جو جسمانی توانائی عطا ہوئی تھی اس کی وجہ سے ان کا فرض یہ تھا کہ وہ ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے اور اللہ کی پکڑ سے ڈرتے اور اس برے انجام سے خوف کھاتے جو ان سے پہلے آنے والی اقوام کا ہوا ۔ اس لئے کہ انہوں نے اللہ سے ایسا کوئی عہد تو نہیں کیا تھا کہ اللہ کی سنت کا اجراء ان پر نہ ہوگا ۔ کیونکہ اللہ کی ناقابل تغیر سنت میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ہے اور وہ اس کائنات میں اللہ کے جاری کردی ضابطے کے مطابق چلتی رہتی ہے ۔ نعمتوں کے ذکر سے یہ اشارہ کرنا مطلوب ہے کہ ان پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے اور شکر ادا کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ان نعمتوں کے اسباب کو قائم ودائم رکھا جائے کیونکہ دنیا وآخرت کی کامیابی اسی میں ہوتی ہے ۔ لیکن جب انسان کی فطرت میں فساد اور انحراف پیدا ہوجاتا ہے تو پھر وہ غور وفکر اور تدبر سے کام نہیں لیتا ‘ چناچہ یہ دعوت سن کر وہ آمادہ انکار وسرکشی ہوگئے اور برے طرز عمل کو اپنانے کے لئے آمادہ ہوگئے ۔ انہوں نے اب بات کو کاٹ کر مکالمہ ہی بند کردیا اور جلد ہی نزول عذاب چاہنے لگے ‘ ان کے لئے نصیحت بوجھل بن گئی اور ڈراوے کے ساتھ وہ مذاق کرنے لگے ۔

الأعراف 7:70

آیت ” قَالُواْ أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّہَ وَحْدَہُ وَنَذَرَ مَا کَانَ یَعْبُدُ آبَاؤُنَا فَأْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن کُنتَ مِنَ الصَّادِقِیْنَ (70) ” انہوں نے جواب دیا ” کیا تو ہمارے پاس اس لئے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور انہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں ؟ اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچا ہے ۔ “ یہ روایات اور ان کے موجودہ حالات کی ذلت آمیز غلامی کی ایک تصویر ہے۔ انسان کے دل و دماغ حالات کے اسیر ہیں ۔ یہ ایسی غلامی اور قید ہے جس میں انسان سے اس کے اعلی ترین خصائص گم ہوجاتے ہیں ۔ وہ آزادانہ غور وفکر سے محروم ہوجاتا ہے ۔ چناچہ وہ لوگ بھی آزادی رائے اور آزادی اعتقاد کے حق سے محروم ہوگئے ۔ نظر آتا ہے کہ یہ لوگ اپنی عادات ورسومات کے غلام ہیں ۔ تقلید آباء ان پر حکمران ہے اور ذاتی خواہشات اور شہوات نفسانیہ کے وہ اسیر ہیں اور ان لوگوں نے اپنے اوپر علم ومعرفت اور روشنی کے تمام دروازے بند کردیئے ہیں ۔ ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ وہ سچائی سے فرار اختیار کرنے کے لئے خود کشی پر آمادہ ہیں اور عذاب کو جلدی سے دیکھنا چاہتے ہیں ۔ وہ یہ سوچنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ کس قدر حماقت میں مبتلا ہیں اور جہالت کے اسیر ہیں ۔ چناچہ اپنے ناصح اور امین نبی کو کہتے ہیں ” اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس سے ہمیں ڈراتے ہو ؟ “ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت ہی جلد انہیں اپنے رسول کی طرف سے دو ٹوک جواب دلواتے ہیں ۔

الأعراف 7:71

آیت ” قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ أَتُجَادِلُونَنِیْ فِیْ أَسْمَاء سَمَّیْْتُمُوہَا أَنتُمْ وَآبَآؤکُم مَّا نَزَّلَ اللّہُ بِہَا مِن سُلْطَانٍ فَانتَظِرُواْ إِنِّیْ مَعَکُم مِّنَ الْمُنتَظِرِیْنَ (71) اس نے کہا ” تمہارے رب کی پھٹکار تم پر پڑگئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا ۔ کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا رکھ لئے ہیں ‘ جن کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟ اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔ “ حضرت ہود (علیہ السلام) نے انہیں اس انجام بد سے خبردار کردیا جس کی اطلاع انہیں ان کے رب نے دی تھی اور جس کا فیصلہ ان کے بارے میں ہوچکا تھا اور اب وہ ٹلنے والا نہ تھا ۔ یہ اللہ کا غضب تھا اور اللہ کا غضب جس پر آجائے وہ کبھی ٹلتا نہیں ۔ پھر کہا کہ تم تو جلدی عذاب چاہتے ہو لیکن اپنے معتقدات پر غور نہیں کرتے کہ وہ کس قدر بودے تصورات ہیں لیکن عذاب جلدی چاہتے ہو۔ ” کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باب دادا نے رکھ چھوڑے ہیں جن کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ۔ “ تم نے اللہ کے ساتھ جو شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں وہ تو محض نام ہی نام ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اور یہ نام تم نے اور تمہارے باپ دادا نے از خود گھڑ لیے ہیں ۔ محض اپنی طرف سے ‘ اللہ کی طرف سے اس پر تو کوئی سند نازل نہیں ہوئی ۔ نہ اللہ نے اس کی اجازت دی اور نہ تمہارے پاس کوئی دلیل وبرہان ہے ۔ قرآن کریم اس ضمن میں بار بار یہ کہتا ہے کہ ” جس کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے “ ۔ یہ تعبیر ایک عظیم حقیقت کا اظہار کر رہی ہے ۔ یعنی ہر وہ بات ‘ ہر وہ قانون ‘ ہر وہ رواج غرض ہر وہ فکر وتصور جس کی پشت پر اللہ کی جانب سے کوئی برہان نہ ہو ‘ وہ بےحقیقت ہلکا ‘ بےاثر ‘ زائل ہونے والا اور کالعدم ہے اور انسانی فطرت ایسی چیز کو ہلکا تصور کرتی ہے ۔ لیکن جب کوئی بات منجانب اللہ ہوتی ہے تو وہ بھاری ‘ نافذ العمل اور گہری ہوتی ہے اس لئے کہ اس کی پشت پر اللہ کی دلیل ہوتی ہے ۔ دنیا میں ہم نہایت ہی زرق وبرق الفاظ سنتے ہیں ‘ بیشمار مذاہب ونظریات پڑھتے ہیں ‘ بیشمار کھوٹے اور بےحقیقت تصورات دیکھتے ہیں اور بیشمار رسومات اور عادات کو دیکھتے ہیں ، جنہیں دنیا والوں کے لئے مزید مستحکم کیا جاتا ہے لیکن جب اللہ کا کلمہ آتا ہے تو یہ تمام چیزیں برف کی طرح پگھل جاتی ہیں اس لئے کہ اللہ کے کلمے کے اندر ایسی قوت و حرارت ہوتی ہے کہ اس کی تپش تو یہ چیزیں برداشت ہی نہیں کرسکتیں ۔ یہ وجہ ہے کہ حضرت ہود نہایت ہی اہتمام ‘ وثوق ‘ اطمینان اور چیلنج کے انداز میں جواب دیتے ہیں ۔ ” اچھا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ۔ “ جو لوگ بھی اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں ‘ ان کے اندر یہ اطمینان اور قوت ہوتی ہے ‘ انہیں یقین ہوتا ہے کہ باطل کمزور ‘ ہلکا اور بےوزن ہوتا ہے ۔ اگرچہ بظاہر وہ پھولا ہوا نظر آئے ‘ اگرچہ بہت عظیم نظر آئے ۔ داعی کو یہ یقین ہوتا ہے کہ اس کی پشت پر سچائی کی قوت ہے ار اس کو تائید ایزدی حاصل ہے ۔ چناچہ مزید انتظار کئے بغیر کہا جاتا ہے ۔

الأعراف 7:72

آیت ” َأَنجَیْْنَاہُ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ بِرَحْمَۃٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَمَا کَانُواْ مُؤْمِنِیْنَ (72) ” آخر کار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے ۔ “ یہ ہے وہ حقیقت جس سے کوئی بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ کہا گیا کہ ہم نے انکی جڑ کاٹ دی ۔ (دابر) عربی میں اس آخری شخص کہا جاتا ہے جو قافلے کے آخری سرے میں ہوتا ہے ۔ غرض جھٹلانے والوں کی تاریخ کا یہ دوسرا صفحہ بھی اب الٹ دیا جاتا ہے اور ایک بار پھر تاریخ دیکھتی ہے کہ جن لوگوں نے نصیحت سے استفادہ نہ کیا ان کا انجام کیا ہوتا ہے ۔ ان لوگوں کی ہلاکت کی وہ تفصیلات یہاں نہیں دی گئیں جو قرآن کریم نے دوسرے مقامات پر دی ہیں ‘ لہذا ہم بھی اس سرسری نظر میں قرآن کے انداز کا اتباع کرتے ہوئے یہاں ہی رک جاتے ہیں اور مزید تفصیلات وہی دیں گے جہاں اس قصے کی دوسری تفصیلات دی گئی ہیں ۔

الأعراف 7:73

آیت ” نمبر 73 تا 79۔ قصہ انسانیت کی کتاب کا اب ایک اور صفحہ الٹا جاتا ہے ۔ اس صفحہ میں تاریخ کے ناپیدار کنار سمندر کی گہرائیوں کی ایک عظیم لہر اٹھی ہے ۔ انسانیت کی کشتی ایک بار پھر منحرف ہو کر پیچھے چلی گئی ہے اور اب وہ مکمل جاہلیت کے چنگل میں ہے ۔ حق و باطل کے درمیان کشمکش کا ایک نیا منظر سامنے ہے اور مکذبیں اور جھٹلانے والوں کی ایک نئی قتل گاہ منظر پر آنے والی ہے ۔ آیت ” وَإِلَی ثَمُودَ أَخَاہُمْ صَالِحاً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 73) ” اور ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح کو بھیجا ۔ اس نے کہا ” اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “ یہ وہی کلمہ ہے جس سے اس جہان کا آغاز ہو اور اسی پر اس کا اختتام ہوگا ۔ اعتقاد طرز عمل اور نقطہ نظر کی وہی سمت ہے جو دعوت وتبلیغ میں اختیار کی جا رہی ہے ۔ وہی انداز کلام وگفتگو ہے جو روز اول سے جاری ہے ۔ تمام انبیاء کے ہاں یہی طرز تبلیغ ہے ۔ ہاں یہاں ایک عنصر کا اضافہ ہے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کی پشت پر اب استدلال کے ساتھ ساتھ ایک معجزہ بھی نظر آتا ہے اور یہ معجزہ خود قوم ثمود کے مطالبے کے نتیجے میں اللہ کی قدرت کاملہ کا مظہر ہے اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کی تصدیق و تائید کے لئے ہے ۔ آیت ” قَدْ جَاء تْکُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ ہَـذِہِ نَاقَۃُ اللّہِ لَکُمْ آیَۃً “ (7 : 73) ” تمہارے پاس تمہارے رب کی کھلی دلیل آگئی ہے ۔ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی کے طور پر ہے “۔ یہاں سیاق کلام سے اصل مطلوب یہ ہے کہ دعوت اسلامی اپنے اصولوں کے اعتبار سے ایک ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس پر جو لوگ ایمان لاتے ہیں ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور جو لوگ انکار کرتے ہیں اور اس دعوت کو جھٹلاتے ہیں ان کا حشر کیا ہوتا ہے ۔ اس لئے قصوں کی اہم اہم جھلکیاں دی گئی ہیں ۔ یہاں یہ تفصیل اس لئے نہیں دی گئی کہ انہوں نے اس طرح معجزے کا مطالبہ کیا اور اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انہیں معجزہ دکھایا بلکہ صرف یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ان کو دعوت دی گئی اور اس کے بعد معجزہ دکھایا گیا ۔ ناقہ کے بارے میں بھی صرف اسی قدر کہا گیا کہ وہ اللہ کی جانب سے ایک نشانی تھی ۔ یہ اللہ کی ناقہ تھی اور ایک معجزہ تھی ۔ اس انداز کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک غیر معمولی ناقہ تھی یا اس ناقے کی پیدائش معجزانہ انداز میں ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ اللہ کی نشانی کہلائی ۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ” اللہ کی اونٹنی “ کے الفاظ سے پکارا گیا اور وہ نشانی تھی اس بات کی کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی نبوت برحق ہے ۔ اس ناقہ کے بارے میں بس ہم اتنی ہی معلومات پر اکتفاء کرتے ہیں جو یقینی ہیں اور اس قدر اشارات ہی ان روایات سے بہتر ہیں جو یقینی نہیں ہیں ۔ چناچہ کہا جاتا ہے ۔ آیت ” فَذَرُوہَا تَأْکُلْ فِیْ أَرْضِ اللّہِ وَلاَ تَمَسُّوہَا بِسُوَء ٍ فَیَأْخُذَکُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ(73) ” لہذا اسے چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے ۔ اس کو کسی برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک دردناک عذاب تمہیں آلے گا ۔ “ یہ اللہ کی ناقہ ہے اور اسے اللہ کی زمین میں آزادنہ چرنے دو اور اگر تم نے اسے برے ارادے سے چھوا بھی تو تم پر عذاب الہی نازل ہوگا ۔ یہ معجزہ پیش کرنے اور اس نشانی کے بارے میں خبردار کرنے کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) قوم کو نصیحت اور یاد دہانی شروع کردیتے ہیں اور انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ انکی دعوت پر غور کرو اور ذرا انسانی تاریخ پر بھی نگاہ ڈالو ۔ اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے دوسری اقوام کو ہلاک کرکے تمہیں مواقع دیئے ہیں۔

الأعراف 7:74

آیت ” وَاذْکُرُواْ إِذْ جَعَلَکُمْ خُلَفَاء مِن بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّأَکُمْ فِیْ الأَرْضِ تَتَّخِذُونَ مِن سُہُولِہَا قُصُوراً وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُیُوتاً فَاذْکُرُواْ آلاء اللّہِ وَلاَ تَعْثَوْا فِیْ الأَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (74) ” یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قوم عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین یہ منزلت بخشی کہ آج تم ان کے ہموار میدانوں میں عالیشان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو ۔ پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہوجاؤ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔ “ یہاں یہ نہیں بتایا گیا کہ قوم ثمود کا مسکن کہاں تھا ؟ لیکن دوسری سورة میں ہے کہ یہ الحجر میں رہتے تھے ‘ جو حجاز اور شام کے درمیان کا علاقہ ہے حضرت صالح (علیہ السلام) ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ذرا دیکھو کہ اللہ نے تم پر کس قدر انعام کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمین پر نہایت ہی ترقی یافتہ اور سیاسی اعتبار سے ایک قوت تھے ۔ ان کے جغرافیہ کی طرف جو اشارہ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں پہاڑ بھی تھے اور ہموار علاقے بھی تھے ۔ وہ ہموار علاقوں میں عالیشان محل بناتے تھے اور پہاڑوں کو بھی تراش کر مکانات بناتے تھے ۔ گویا اس مختصر آیت میں ان کی تہذیب اور ان کے تمدن کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) یہ بھی بتاتے تھے ۔ گویا اس مختصر آیت میں ان کی تہذیب اور ان کے تمدن کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) یہ بھی بتاتے ہیں کہ عاد کے بعد قوم ثمود کو عروج حاصل ہوا ۔ اگرچہ یہ لوگ قوم کی سر زمین میں نہ رہتے تھے ۔ ہاں یہ حقیقت واضح ہے کہ وہ عاد کی تہذیب کے بعد نمودار ہونے والی تہذیب کے حامل تھے اور حجر سے باہر بھی دور دراز علاقوں تک ان کی مملکت پھیلی ہوئی تھی ۔ اس طرح وہ خلیفۃ اللہ فی الارض کے منصب پر فائز تھے اس لئے حضرت صالح ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ تمہارا کام فساد فی الارض نہیں ہے اور تمہیں اپنی شان و شوکت پر غرور نہیں کرنا چاہئے ۔ تمہیں چاہیے کہ ذرا پچھلی اقوام کے انجام کو نگاہ میں رکھو ۔ یہاں سیاق قصہ میں ایک دوسرا خلا بھی ہے جس کا ذکر نہیں ہوا ‘ یہ کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعوت کو بعض لوگوں نے قبول کرلیا اور مطیع فرمان لوگ تھے اور بعض لوگوں نے تکبر کرکے اسے رد کردیا ۔ کسی علاقے کے بااثر لوگ ہمیشہ دعوت اسلامی کو سب سے آخر میں قبول کرتے ہیں کیونکہ اس دعوت کا منشا یہ ہوتا ہے کہ لوگ اپنی بڑائیاں اور خدائیاں چھوڑ کر صرف الہہ واحد کو بڑا اور بادشاہ تسلیم کرلیں جو رب العالمین ہے ۔ اس سے قبل یہ بڑے لوگ ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ جن ضعفاء نے اپنی گردنوں سے طاغوت کی غلامی کا جوا اتار پھینکا ہے اور اللہ کے سوا تمام غلامیوں سے آزاد ہوگئے ہیں ان پر تشدد کریں ۔۔۔۔۔۔۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے بڑے اور بااثر لوگ ان ضعفاء پر تشدد کرتے ہیں جو ایمان لائے ہیں اور ان کے نئے قسم قسم کا فتنہ و فساد پیدا کرتے ہیں ۔

الأعراف 7:75

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ مِن قَوْمِہِ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ آمَنَ مِنْہُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحاً مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّہِ قَالُواْ إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِہِ مُؤْمِنُونَ (75) ” اس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کمزور طبقہ کے ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے ‘ کہا ” کیا واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کا پیغمبر ہے ؟ “ بااثر لوگوں کی طرف سے یہ سوال تہدید اور ڈرانے کے لئے کیا گیا تھا ۔ ان لوگوں نے اس بات کو بہت ہی برا سمجھا کہ یہ غریب لوگ بھی صالح کے جنبہ دار بن گئے ہیں اور یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تصدیق کر رہے ہیں ؟ ۔ لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ضعیف لوگ جب ایمان لے آتے ہیں تو وہ ضعیف نہیں رہتے ۔ ایمان ان کے دلوں کو قوت اور جرات سے بھر دیتا ہے ۔ ان کے دلوں کے اندر اطمینان اور یقین پیدا ہوجاتا ہے ‘ انہیں اپنے نظریات پر اعتماد ہوتا ہے ‘ لہذا اب دنیاوالوں کی تہدید و تخویف اور ڈراوے دھمکاوے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ نہ مذاق اور استہزاء کان ان پر اثر ہوتا ہے ۔ اب وہم مستکبرین کو خاطر میں نہیں لاتے اور ایمان کا اعلان کردیتے ہیں ۔ اور جواب میں یہ مستکبرین بھی تہدید آمیز لہجے میں یہ بتا دیتے ہیں کہ اچھا ہم تو اس دعوت کا صاف صاف انکار کر رہے ہیں ۔ آیت ” قَالُواْ إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِہِ مُؤْمِنُونَ (75) قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ إِنَّا بِالَّذِیَ آمَنتُمْ بِہِ کَافِرُونَ (76) ” انہوں نے جواب دیا ” بیشک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اسے ہم مانتے ہیں ۔ “ ان بڑائی کے مدعیوں نے کہا ” جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں۔ “ حالانکہ صالح (علیہ السلام) واضح دلائل لے کر آئے تھے ‘ ان دلائل ومعجزات کے بعد پھر شک کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔ حقیقت یہ تھی کہ یہ اکابرین قوم اس لئے انکار نہ کر رہے تھے کہ انکے سامنے دلائل ومعجزات کی کوئی کمی تھی بلکہ وہ اس لئے منکر تھے کہ وہ ایک ایسے نظام مملکت کو تسلیم نہ کرنا چاہتے تھے جس میں صرف رب العالمین کی اطاعت ہوتی ہو ۔ مسئلہ حاکمیت اور اقتدار اعلی کا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے دل میں حاکمیت واقتدار کی ایک اعلی اور گہری خواہش پائی جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے شیطان انسان پر حملہ آور ہوتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے قولی انکار کے بعد کافرانہ کاروائی کی اور اللہ کی اس ناقہ پر دست درازی کی جو درحقیقت نبی وقت کی تائید کیلئے بطور معجزہ لائی گئی تھی اور جس کے بارے میں نبی وقت نے قبل از وقت ان کو متنبہ کردیا تھا کہ وہ اس رپ دست درازی سے باز رہیں ورنہ وہ ایک دردناک عذاب سے دو چار ہوں گے ۔

الأعراف 7:76

آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ مِن قَوْمِہِ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُواْ لِمَنْ آمَنَ مِنْہُمْ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ صَالِحاً مُّرْسَلٌ مِّن رَّبِّہِ قَالُواْ إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِہِ مُؤْمِنُونَ (75) ” اس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کمزور طبقہ کے ان لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے ‘ کہا ” کیا واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح (علیہ السلام) اپنے رب کا پیغمبر ہے ؟ “ بااثر لوگوں کی طرف سے یہ سوال تہدید اور ڈرانے کے لئے کیا گیا تھا ۔ ان لوگوں نے اس بات کو بہت ہی برا سمجھا کہ یہ غریب لوگ بھی صالح کے جنبہ دار بن گئے ہیں اور یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تصدیق کر رہے ہیں ؟ ۔ لیکن حقیقت یہ ہوتی ہے کہ ضعیف لوگ جب ایمان لے آتے ہیں تو وہ ضعیف نہیں رہتے ۔ ایمان ان کے دلوں کو قوت اور جرات سے بھر دیتا ہے ۔ ان کے دلوں کے اندر اطمینان اور یقین پیدا ہوجاتا ہے ‘ انہیں اپنے نظریات پر اعتماد ہوتا ہے ‘ لہذا اب دنیاوالوں کی تہدید و تخویف اور ڈراوے دھمکاوے کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ نہ مذاق اور استہزاء کان ان پر اثر ہوتا ہے ۔ اب وہم مستکبرین کو خاطر میں نہیں لاتے اور ایمان کا اعلان کردیتے ہیں ۔ اور جواب میں یہ مستکبرین بھی تہدید آمیز لہجے میں یہ بتا دیتے ہیں کہ اچھا ہم تو اس دعوت کا صاف صاف انکار کر رہے ہیں ۔ آیت ” قَالُواْ إِنَّا بِمَا أُرْسِلَ بِہِ مُؤْمِنُونَ (75) قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ إِنَّا بِالَّذِیَ آمَنتُمْ بِہِ کَافِرُونَ (76) ” انہوں نے جواب دیا ” بیشک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اسے ہم مانتے ہیں ۔ “ ان بڑائی کے مدعیوں نے کہا ” جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں۔ “ حالانکہ صالح (علیہ السلام) واضح دلائل لے کر آئے تھے ‘ ان دلائل ومعجزات کے بعد پھر شک کی کوئی گنجائش نہ تھی ۔ حقیقت یہ تھی کہ یہ اکابرین قوم اس لئے انکار نہ کر رہے تھے کہ انکے سامنے دلائل ومعجزات کی کوئی کمی تھی بلکہ وہ اس لئے منکر تھے کہ وہ ایک ایسے نظام مملکت کو تسلیم نہ کرنا چاہتے تھے جس میں صرف رب العالمین کی اطاعت ہوتی ہو ۔ مسئلہ حاکمیت اور اقتدار اعلی کا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے دل میں حاکمیت واقتدار کی ایک اعلی اور گہری خواہش پائی جاتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے شیطان انسان پر حملہ آور ہوتا ہے ۔ چناچہ انہوں نے قولی انکار کے بعد کافرانہ کاروائی کی اور اللہ کی اس ناقہ پر دست درازی کی جو درحقیقت نبی وقت کی تائید کیلئے بطور معجزہ لائی گئی تھی اور جس کے بارے میں نبی وقت نے قبل از وقت ان کو متنبہ کردیا تھا کہ وہ اس رپ دست درازی سے باز رہیں ورنہ وہ ایک دردناک عذاب سے دو چار ہوں گے ۔

الأعراف 7:77

آیت ” فَعَقَرُواْ النَّاقَۃَ وَعَتَوْاْ عَنْ أَمْرِ رَبِّہِمْ وَقَالُواْ یَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن کُنتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (77) ” پھر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اور پورے تمرد کے ساتھ اپنے رب کے حکم کیخلاف ورزی کر گزرے اور صالح سے کہہ دیا کہ ” لے آ وہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے ۔ “ معصیت اور نافرمانی کے بعد یہاں ان کی خود سری بھی عیاں ہے ۔ یہاں ان کی معصیت اور خود سری کے لئے لفظ ” عتو “ استعمال ہوا ہے تاکہ انکی نفسیاتی حالت کی تصویر بھی اچھی طرح سامنے آجائے جس کی وجہ سے وہ عذاب کے نزول کا مطالبہ کرتے ہیں اور پیغمبر کو حقیر جانتے ہیں۔ بغیر کسی تاخیر کے اب ان کے خاتمے کا اعلان کردیا جاتا ہے ۔

الأعراف 7:78

آیت ” فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْنَ (78) ” آخر کار ایک دہلا دینے والی آفت نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔ “ چناچہ دہلا دینے والی مصیبت آگئی اور اس کے نتیجے میں ان کو اوندھا اس لئے گرایا گیا تاکہ انکی اکڑ اور سرکشی کے لئے مناسب سزا ان کو دے دی جائے کیونکہ کڑک اور جھنجوڑنے کے نتیجے میں وہ خوفزدہ ہوئے اور بےحس و حرکت اوندھے منہ گرے ۔ انکی یہ حالت ان کی سرکشی اور اکڑ کے لئے مناسب سزا تھی ۔ الفاظ کی نفسیاتی تصویر کشی قابل دید ہے ۔ اب ان کو اسی طرح اوندھے پڑے چھوڑ کر بات کا رخ حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف مڑ گیا ‘ جس کی انہوں نے تکذیب کی تھی اور چیلنج دیا تھا ۔ آپ کا تبصرہ یہ رہا ۔

الأعراف 7:79

آیت ” فَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلَکِن لاَّ تُحِبُّونَ النَّاصِحِیْنَ (79) ” اور صالح یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے میری قوم ‘ میں نے اپنے رب کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیرخواہی کی مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں ۔ “ یہ شہادت دے دی گئی کہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے پیغام پوری طرح پہنچا دیا تھا اور سرکشی اور نافرمانی کرکے انہوں نے خود اپنے آپ کو ان انجام کا مستحق بنایا تھا ۔ یہاں مکذبین کی تاریخ کا ایک دوسرا صفحہ لپیٹ دیا جاتا ہے ۔ اور کسی ڈرانے والے کی توہین وتکذیب کرنے والے برے انجام کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔ اب تاریخ کی گاڑی آگے بڑھتی ہے اور ہم عہد ابراہیم (علیہ السلام) میں پہنچ جاتے ہیں ۔ لیکن یہاں حضرت ابراہیم کا قصہ بیان نہیں کیا جاتا کیونکہ یہاں ان سرکش نافرمانوں کا ذکر مطلوب ہے جنہیں ہلاک کردیا گیا ۔ یہ اس آیت اور موضوع کی تفصیل ہے جسے آغاز سورت میں لایا گیا تھا ۔ آیت ” وکم من قریۃ اھلکنھا “۔ ”’ کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کیا “۔ یہ قصص گویا اس موضوع کی تفصیلات کے طور پر آ رہے ہیں جبکہ قوم ابراہیم کو ہلاک نہ کیا گیا چونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ سے ان کی ہلاکت کے لئے کوئی مطالبہ نہ کیا تھا بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کو اور ان کی بت پرستی کو چھوڑ کر ان سے علیحدگی اختیار کرلی تھی ۔ اس لئے یہاں قصہ لوط کو لایا جاتا ہے ۔ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے اور آپ کے معاصر تھے ۔ اس قصے میں ڈراوا ہے ‘ اور لوگوں کی طرف سے تکذیب ہے اور انجام میں قوم کی ہلاکت ہے اور یہ اس سلسلہ قصص اور موضوع سے مناسبت رکھتا ہے ۔

الأعراف 7:80

آیت ” نمبر 80 تا 84۔ قصہ لوط میں انسانی فطرت کے ایک ایسے بگاڑ کا ذکر ہے جسکی مخصوص نوعیت ہے ۔ سابقہ قصص میں تو اقوام کی ہلاکت نہایت ہی اساسی نظریہ حیات یعنی عقیدہ توحید اور وحدت حاکمیت الہ کے مسئلے پر ہوتی تھی ۔ لیکن فطرت کا یہ بگاڑ بھی نہایت ہی اساسی مسئلہ تھا اور یہ عقیدہ توحید اور مسئلہ حاکمیت سے متعلق تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت اور عبودیت کے اقرار کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قرآن وسنت کی مکمل اطاعت کی جائے ۔ سنت الہیہ یہ ہے کہ اللہ نے مرد اور عورت کو علیحدہ اصناف میں پیدا کیا اور مرد اور عورت کے اتصال کو ایسا ذریعہ بنایا جس کے نتیجے مین وہ ایک دوسرے کے لئے ذریعہ تکمیل ثابت ہوئے اور اس طرح نسل انسانی کے اجرا وامتداد کا سامان فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ نے دونوں اصناف کے وضائف مقرر کرکے انہیں ایک دوسرے کے لئے مناسب جسمانی اور نفسیاتی اہلیت دی اور باہم ملاپ سے نسل انسانی کی بقا کا انتظام فرمایا ۔ پھر اس ملاپ کے اندر دونوں کے لئے گہری لذت ودیعت کی اور اسے ایک فطری لذت قرار یدا تاکہ وہ دلکشی اور کشش کے ساتھ باہم ملیں اور بقائے نسل انسانی کی ذمہ داریاں قبول کریں اور اس راہ میں آنے والی تمام مشکلات کو بھی برداشت کریں ۔ حمل ‘ وضع حمل اور بچوں کی پرورش اور رضاعت ‘ نفقہ اولاد واہلیہ اور تربیت اولاد کی ذمہ داریاں اور کفالت اور اس کے بعد پورے خاندان کے افراد کی باہم ذمہ داریاں ۔ باوجود اس کے کہ دوسرے حیوانات کے مقابلے میں انسانی بچوں کی نشوونما اور تربیت کا علم نہایت ہی طویل اور صبر آزما ہوتا ہے ۔ یہ فریضہ چونکہ نہایت ہی اساسی اور بنیادی فریضہ ہے اور اس کے سوا نسل انسانی کی بقا ممکن نہیں ۔ اس لئے اس فریضے کے اندر انحراف کو بھی ایک اساسی جرم قرار دیا گیا جس طرح عقیدہ توحید کے اندر ذرا بھر انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اس لئے نظریہ حیات اور عقیدہ توحید کے اندر انحراف اور ہم جنسی پرستی کے انحراف کو ایک درجے کا جرم قرار دیا گیا۔ قوم لوط کے قصے میں انحراف واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ یہ فطرت سے انحراف ہے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ یہ ایک نئی اخلاقی بےراہ روی انہوں نے شروع کی ہے اور ان سے پہلے کسی قوم میں یہ اخلاقی فساد نہ تھا ۔ آیت ” وَلُوطاً إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُم بِہَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِیْنَ (80) إِنَّکُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّن دُونِ النِّسَاء بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ (81) ” اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ‘ پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا ” کیا تم ایسے بےحیا ہوگئے کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا ؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو ۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) ان پر حد سے گزرنے کا جو الزام لگاتے ہیں اور اس پر ان کی سرزنش کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت سلیمہ کا جو نظام انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اس سے آگے گزر جانا اسراف ہے ۔ پھر اللہ نے انہیں توالد وتناسل کے لئے جو قوتیں دی ہوئی ہیں ان کا صحیح مصرف یہ ہے کہ ان کو یہاں زندگی کی نشوونما کیلئے صرف کیا جائے جبکہ وہ ان قوتوں کو بنجر زمین میں ضائع کر رہے ہیں اور محض عارضی لذت اور شہوت رانی کے لئے کام میں لاتے ہیں ‘ حالانکہ شہوت اور لذت کا حصول بھی طبعی راہ سے ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی سنت الہیہ کے خلاف لذت کوشی کی سعی کرتا ہے تو اسے بےراہ روی ‘ اور خلاف فطرت عمل تصور کیا جائے گا ۔ مزید یہ کہ یہ عمل خلاف اخلاق بھی ہوگا ‘ اس لئے اسلامی اخلاق بھی فطری اخلاق ہوتے ہیں اور ان کے اندر کوئی فساد اور انحراف نہیں ہوتا ۔ عورت کی نفسیاتی اور عضویاتی ساخت ایسی ہوتی ہے جس سے مرد کو حقیقی لذت حاصل ہوتی ہے ۔ اس سے بھی مقصد صرف حصول لذت نہیں ہوتا بلکہ اس ملاپ کے نتیجے میں رحمت اور نعمت بھی حاصل ہوتی ہے ‘ اس طرح کہ اس ملاپ کے نتیجے میں سنت الہیہ کے مطابق سلسلہ حیات کی بقاء کا انتظام ہورہا ہے ۔ رہا یہ کہ مرد اور مرد کے درمیان جو عضویاتی یکسانیت ہوتی ہے تو اس سے کوئی صحت مند لذت حاصل نہیں ہوتی بلکہ انسان کو اس میں گندگی کا احساس ہوتا ہے اس لئے فطرت سلیمہ اس ملاپ کو قبول نہیں کرتی ۔ اس سلسلے میں انسان کے اعتقادات اور تصورات کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے ۔ آج کے دور میں یورپ میں جو جاہلیت مروج ہے ‘ وہ اس جنسی بےراہ روی کو بڑی بےحیائی کے ساتھ پھیلاتی ہے اور یہ بےراہ روی محض نظریاتی بےراہ روی کے نتیجے میں ہے ۔ ہمارے دور میں یہودی تمام غیر یہودی اقوام کو اخلاقی اعتبار سے برباد کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے نشرواشاعت کے ادارے رات اور دن کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ نظریاتی اور اخلاقی طور پر غیر یہودی اقوام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ دعوی کرتے رہے کہ یہ جنسی انتشار اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ عورت پردہ کرتی ہے ۔ لیکن واقعات اس کے برعکس بتاتے ہیں ‘ اس لئے کہ یورپ وامری کہ کے اندر کسی مرد اور عورت کے ملاپ کے لئے کوئی ضابطہ یا کوئی قید نہیں ہے ‘ بعینہ اسی طرح جس طرح بہائم بوقت ضرورت ملتے ہیں ۔ لیکن ان کھلے معاشروں میں خلاف وضع فطرت فعل بھی دوسرے معاشروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے بلکہ ہم جنسی پرستی صرف مردوں کے اندر ہی نہیں عورتوں کے درمیان بھی یہ فعل رائج ہے ۔ اگر کسی کو شبہ ہے تو وہ مسٹر کنزی کی کتابیں پڑھیں ۔ ” مردوں کے درمیان جنسی تعلقات “ اور ” عورتوں کے درمیان جنسی تعلقات “۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود یہ جھوٹے ذرائع ابلاغ اپنی اس جھوٹی بات کو دہراتے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فعل بد عورتوں کے پردے کی وجہ سے کسی سوسائٹی میں پھیلتا ہے ۔ یہ پروپیگنڈہ وہ ان مقاصد کے لئے کرتے ہیں جن کا اظہار انہوں نے اکابرین یہود کے پروٹوکول میں کیا ہے ۔ اب ذرا دوبارہ قرآنی قصے کی طرف آئیے اور سنئے کہ وہ اپنی نبی کو کیا جواب دیتے ہیں۔

الأعراف 7:81

آیت ” نمبر 80 تا 84۔ قصہ لوط میں انسانی فطرت کے ایک ایسے بگاڑ کا ذکر ہے جسکی مخصوص نوعیت ہے ۔ سابقہ قصص میں تو اقوام کی ہلاکت نہایت ہی اساسی نظریہ حیات یعنی عقیدہ توحید اور وحدت حاکمیت الہ کے مسئلے پر ہوتی تھی ۔ لیکن فطرت کا یہ بگاڑ بھی نہایت ہی اساسی مسئلہ تھا اور یہ عقیدہ توحید اور مسئلہ حاکمیت سے متعلق تھا ۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت اور عبودیت کے اقرار کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قرآن وسنت کی مکمل اطاعت کی جائے ۔ سنت الہیہ یہ ہے کہ اللہ نے مرد اور عورت کو علیحدہ اصناف میں پیدا کیا اور مرد اور عورت کے اتصال کو ایسا ذریعہ بنایا جس کے نتیجے مین وہ ایک دوسرے کے لئے ذریعہ تکمیل ثابت ہوئے اور اس طرح نسل انسانی کے اجرا وامتداد کا سامان فرمایا یہی وجہ ہے کہ اللہ نے دونوں اصناف کے وضائف مقرر کرکے انہیں ایک دوسرے کے لئے مناسب جسمانی اور نفسیاتی اہلیت دی اور باہم ملاپ سے نسل انسانی کی بقا کا انتظام فرمایا ۔ پھر اس ملاپ کے اندر دونوں کے لئے گہری لذت ودیعت کی اور اسے ایک فطری لذت قرار یدا تاکہ وہ دلکشی اور کشش کے ساتھ باہم ملیں اور بقائے نسل انسانی کی ذمہ داریاں قبول کریں اور اس راہ میں آنے والی تمام مشکلات کو بھی برداشت کریں ۔ حمل ‘ وضع حمل اور بچوں کی پرورش اور رضاعت ‘ نفقہ اولاد واہلیہ اور تربیت اولاد کی ذمہ داریاں اور کفالت اور اس کے بعد پورے خاندان کے افراد کی باہم ذمہ داریاں ۔ باوجود اس کے کہ دوسرے حیوانات کے مقابلے میں انسانی بچوں کی نشوونما اور تربیت کا علم نہایت ہی طویل اور صبر آزما ہوتا ہے ۔ یہ فریضہ چونکہ نہایت ہی اساسی اور بنیادی فریضہ ہے اور اس کے سوا نسل انسانی کی بقا ممکن نہیں ۔ اس لئے اس فریضے کے اندر انحراف کو بھی ایک اساسی جرم قرار دیا گیا جس طرح عقیدہ توحید کے اندر ذرا بھر انحراف ناقابل برداشت ہے ۔ اس لئے نظریہ حیات اور عقیدہ توحید کے اندر انحراف اور ہم جنسی پرستی کے انحراف کو ایک درجے کا جرم قرار دیا گیا۔ قوم لوط کے قصے میں انحراف واضح طور پر نظر آتا ہے ۔ یہ فطرت سے انحراف ہے اور حضرت لوط (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ یہ ایک نئی اخلاقی بےراہ روی انہوں نے شروع کی ہے اور ان سے پہلے کسی قوم میں یہ اخلاقی فساد نہ تھا ۔ آیت ” وَلُوطاً إِذْ قَالَ لِقَوْمِہِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُم بِہَا مِنْ أَحَدٍ مِّن الْعَالَمِیْنَ (80) إِنَّکُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ شَہْوَۃً مِّن دُونِ النِّسَاء بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُونَ (81) ” اور لوط کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا ‘ پھر یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا ” کیا تم ایسے بےحیا ہوگئے کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا ؟ تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو ۔ حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو ۔ “ حضرت لوط (علیہ السلام) ان پر حد سے گزرنے کا جو الزام لگاتے ہیں اور اس پر ان کی سرزنش کرتے ہیں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت سلیمہ کا جو نظام انسانوں کے لئے وضع کیا ہے اس سے آگے گزر جانا اسراف ہے ۔ پھر اللہ نے انہیں توالد وتناسل کے لئے جو قوتیں دی ہوئی ہیں ان کا صحیح مصرف یہ ہے کہ ان کو یہاں زندگی کی نشوونما کیلئے صرف کیا جائے جبکہ وہ ان قوتوں کو بنجر زمین میں ضائع کر رہے ہیں اور محض عارضی لذت اور شہوت رانی کے لئے کام میں لاتے ہیں ‘ حالانکہ شہوت اور لذت کا حصول بھی طبعی راہ سے ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی سنت الہیہ کے خلاف لذت کوشی کی سعی کرتا ہے تو اسے بےراہ روی ‘ اور خلاف فطرت عمل تصور کیا جائے گا ۔ مزید یہ کہ یہ عمل خلاف اخلاق بھی ہوگا ‘ اس لئے اسلامی اخلاق بھی فطری اخلاق ہوتے ہیں اور ان کے اندر کوئی فساد اور انحراف نہیں ہوتا ۔ عورت کی نفسیاتی اور عضویاتی ساخت ایسی ہوتی ہے جس سے مرد کو حقیقی لذت حاصل ہوتی ہے ۔ اس سے بھی مقصد صرف حصول لذت نہیں ہوتا بلکہ اس ملاپ کے نتیجے میں رحمت اور نعمت بھی حاصل ہوتی ہے ‘ اس طرح کہ اس ملاپ کے نتیجے میں سنت الہیہ کے مطابق سلسلہ حیات کی بقاء کا انتظام ہورہا ہے ۔ رہا یہ کہ مرد اور مرد کے درمیان جو عضویاتی یکسانیت ہوتی ہے تو اس سے کوئی صحت مند لذت حاصل نہیں ہوتی بلکہ انسان کو اس میں گندگی کا احساس ہوتا ہے اس لئے فطرت سلیمہ اس ملاپ کو قبول نہیں کرتی ۔ اس سلسلے میں انسان کے اعتقادات اور تصورات کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے ۔ آج کے دور میں یورپ میں جو جاہلیت مروج ہے ‘ وہ اس جنسی بےراہ روی کو بڑی بےحیائی کے ساتھ پھیلاتی ہے اور یہ بےراہ روی محض نظریاتی بےراہ روی کے نتیجے میں ہے ۔ ہمارے دور میں یہودی تمام غیر یہودی اقوام کو اخلاقی اعتبار سے برباد کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں ان کے نشرواشاعت کے ادارے رات اور دن کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ نظریاتی اور اخلاقی طور پر غیر یہودی اقوام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ دعوی کرتے رہے کہ یہ جنسی انتشار اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ عورت پردہ کرتی ہے ۔ لیکن واقعات اس کے برعکس بتاتے ہیں ‘ اس لئے کہ یورپ وامری کہ کے اندر کسی مرد اور عورت کے ملاپ کے لئے کوئی ضابطہ یا کوئی قید نہیں ہے ‘ بعینہ اسی طرح جس طرح بہائم بوقت ضرورت ملتے ہیں ۔ لیکن ان کھلے معاشروں میں خلاف وضع فطرت فعل بھی دوسرے معاشروں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے بلکہ ہم جنسی پرستی صرف مردوں کے اندر ہی نہیں عورتوں کے درمیان بھی یہ فعل رائج ہے ۔ اگر کسی کو شبہ ہے تو وہ مسٹر کنزی کی کتابیں پڑھیں ۔ ” مردوں کے درمیان جنسی تعلقات “ اور ” عورتوں کے درمیان جنسی تعلقات “۔ لیکن اس حقیقت کے باوجود یہ جھوٹے ذرائع ابلاغ اپنی اس جھوٹی بات کو دہراتے چلے جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ فعل بد عورتوں کے پردے کی وجہ سے کسی سوسائٹی میں پھیلتا ہے ۔ یہ پروپیگنڈہ وہ ان مقاصد کے لئے کرتے ہیں جن کا اظہار انہوں نے اکابرین یہود کے پروٹوکول میں کیا ہے ۔ اب ذرا دوبارہ قرآنی قصے کی طرف آئیے اور سنئے کہ وہ اپنی نبی کو کیا جواب دیتے ہیں۔

الأعراف 7:82

آیت ” وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُوہُم مِّن قَرْیَتِکُمْ إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَتَطَہَّرُونَ (82) ” مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ” نکالو ان لوگوں کو اپنی بسیتوں سے ‘ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔ “ عجیب بات ہے کہ ! جو پاکباز ہے اسے گاؤں سے نکالا جارہا ہے اور گندے ‘ غلیظ اور ناپاک لوگ بستیوں کے اندر رہنے کے مستحق بنتے ہیں لیکن یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے ۔ دور جدید کی جاہلیت یہی تو کررہی ہے کیا یہ ان لوگوں کو مسترد نہیں کر رہی ہے جو پاکبازی اختیار کرتے ہیں اور ان گندگیوں میں اپنے آپ کو آلودہ نہیں کرتے ۔ اس بات کو وہ ترقی پسندی کہتے ہیں اور اسے عورت اور مرد کی آزادی کا نام دیتے ہیں یہ جاہلیت آج کے دور میں ایسے پاکباز لوگوں پر رزق کے دورازے بند کررہی ہے انکا زندہ رہنا اس نے مشکل کردیا ہے ۔ ان کی دولت کے ذرائع سکیڑ دیئے گئے ہیں ‘ ان کے افکار و تصورات کو دبایا جاتا ہے ۔ جاہلیت اس بات کو دیکھ ہی نہیں سکتی کہ کوئی پاکبازی اختیار کرے کیونکہ اس جاہلیت کو صرف وہی لوگ قبول ہیں جو گندے ناپاک اور برائیوں میں ملوث ہوں ‘ پاک لوگوں کے لئے اس کا دل تنگ ہے ۔ ہر دور میں جاہلیت کی ذہنیت یہی رہی ہے ۔ چناچہ انکو جلدی اپنے انجام سے دو چار کردیا جاتا ہے اور تمام دوسری تفصیلات کو یہاں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔

الأعراف 7:83

آیت ” فَأَنجَیْْنَاہُ وَأَہْلَہُ إِلاَّ امْرَأَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِیْنَ (83) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْْہِم مَّطَراً فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (84) ” آخر کار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیا انجام ہوا ؟ “۔ اللہ کے نافرمان اللہ کے بندوں کے لئے خطرہ بن گئے تھے ‘ تو اللہ نے اپنے بندوں کو نجات دی اور نافرمان طبقات اور فرمان برداروں کے درمیان نظریاتی تفریق کردی گئی ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اگرچہ ان کی بیوی تھی لیکن وہ ہلاکت سے نہ بچ سکی کیونکہ اس کا نظریاتی اتحاد ان لوگوں کے ساتھ تھا جو ہلاک ہونے والے تھے ۔ ان لوگوں کو سخت بارشوں نے آلیا اور ان بارشوں میں زبردست طوفان تھے ‘ یوں نظر آتا تھا کہ سب لوگ بارش میں غرق ہوگئے اور پانی اس طرح امڈ رہا تھا جس طرح موجیں اور یوں اس سرزمین کو ان ناپاک لوگوں سے پاک کردیا گیا ۔ کیونکہ وہ روحانی طور پر ناپاک ہوگئے تھے اور گندگیوں میں آلودہ ہوگئے تھے ۔ چناچہ وہ گندگی میں زندہ رہے اور گندگی کے اندر ہی انکو موت نے آلیا ۔ اب تکذیب کرنے والی اقوام کی تاریخ کا آخری صفحہ الٹا جاتا ہے یہ صفحہ اس دور کی اقوام میں سے قوم شعیب یعنی اہل مدین سے متعلق ہے ۔

الأعراف 7:84

آیت ” فَأَنجَیْْنَاہُ وَأَہْلَہُ إِلاَّ امْرَأَتَہُ کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِیْنَ (83) وَأَمْطَرْنَا عَلَیْْہِم مَّطَراً فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیْنَ (84) ” آخر کار ہم نے لوط اور اس کے گھر والوں کو نجات دی بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی ۔۔۔۔۔۔۔ بچا کر نکال دیا اور اس قوم پر برسائی ایک بارش پھر دیکھو کہ ان مجرموں کا کیا انجام ہوا ؟ “۔ اللہ کے نافرمان اللہ کے بندوں کے لئے خطرہ بن گئے تھے ‘ تو اللہ نے اپنے بندوں کو نجات دی اور نافرمان طبقات اور فرمان برداروں کے درمیان نظریاتی تفریق کردی گئی ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی اگرچہ ان کی بیوی تھی لیکن وہ ہلاکت سے نہ بچ سکی کیونکہ اس کا نظریاتی اتحاد ان لوگوں کے ساتھ تھا جو ہلاک ہونے والے تھے ۔ ان لوگوں کو سخت بارشوں نے آلیا اور ان بارشوں میں زبردست طوفان تھے ‘ یوں نظر آتا تھا کہ سب لوگ بارش میں غرق ہوگئے اور پانی اس طرح امڈ رہا تھا جس طرح موجیں اور یوں اس سرزمین کو ان ناپاک لوگوں سے پاک کردیا گیا ۔ کیونکہ وہ روحانی طور پر ناپاک ہوگئے تھے اور گندگیوں میں آلودہ ہوگئے تھے ۔ چناچہ وہ گندگی میں زندہ رہے اور گندگی کے اندر ہی انکو موت نے آلیا ۔ اب تکذیب کرنے والی اقوام کی تاریخ کا آخری صفحہ الٹا جاتا ہے یہ صفحہ اس دور کی اقوام میں سے قوم شعیب یعنی اہل مدین سے متعلق ہے ۔

الأعراف 7:85

آیت ” نمبر 85 تا 93۔ یہ قصہ دوسروں کے مقابلے میں قدرے طویل ہے دوسرے قصص کی نسبت کیونکہ اس میں اسلامی نظریہ حیات کے علاوہ بعض دوسرے معاملات بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ اس میں بھی وہی طرز ادا اختیار کی گئی ہے ۔ جس طرح اس سے قبل دوسروں قصوں میں اختیار کی گئی ہے ۔ آیت ” وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْْباً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 85) ” اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ‘ اس نے کہا : ’ اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “ یہ دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ ہے اور یہ ہر پیغمبر کی دعوت کا اساسی کلمہ اور شعار رہا ہے ۔ ہر پیغمبر اس سے دعوت کا آغاز کر کے پھر دوسری تفصیلات میں جاتا ہے ۔ آیت ” قَدْ جَاء تْکُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ “۔ (7 : 85) ” تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف راہنمائی آگئی ہے ۔ “ سیاق کلام میں اس طرح شہادت اور راہنمائی کا ذکر نہیں ہے جس طرح قصہ صالح میں شہادت کا ذکر موجود ہے۔ قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی جانب سے کوئی معجزہ پیش کرنے کا ذکر نہیں ہوگا لیکن یہاں اس آیت میں معجزے کی طرف اشارہ موجود ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی دوسرے انبیاء کی طرح کوئی معجزہ پیش کیا تھا ۔ اس معجزے کے نتیجے میں اپنی قوم سے آپ کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ناپ اور تول میں کمی بیشی نہ کریں اور فساد فی الارض کے تمام طریقوں سے بچیں نیز راہ زنی اور ڈاکہ زنی جیسے برے افعال سے باز رہیں ۔ اور اہل دین کو محض انکی دین داری کی وجہ فتنے میں نہ ڈالیں۔ آیت ” فَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْیَاء ہُمْ وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (85) وَلاَ تَقْعُدُواْ بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَہَا عِوَجاً وَاذْکُرُواْ إِذْ کُنتُمْ قَلِیْلاً فَکَثَّرَکُمْ وَانظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ (86) لہذا وزن اور پیمانے پورے کرو ‘ لوگوں کو انکی چیزوں میں گھاٹا نہ دو ‘ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے ۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے ۔ اگر تم واقعی مومن ہو ‘ اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجاؤ ۔ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ تمہیں بہت کردیا اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے ۔ “ اس نہی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم مشرک قوم تھی ۔ وہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت نہ کرتی تھی ‘ وہ اللہ اقتدار الی میں اللہ کے بندوں کو شریک کرتی تھی ۔ یہ لوگ اپنے معاملات میں اللہ کے عادلانہ قانون کی پیروی نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے باہم معاملات طے کرنے کے لئے خود اپنی جانب سے قواعد گھڑ رکھے تھے ۔ شاید اسی معاملے میں وہ شرک کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ بیع وشری کے معاملات میں وہ بدمعاملہ تھے اور اس کے علاوہ فساد فی الارض ‘ رہزنی اور ڈاکہ زنی کے معاملات بھی ان میں عام تھے ۔ علاوہ ازیں جو لوگ دین دار اور پاکباز تھے انکو بھی وہ ستاتے تھے اور اللہ کی سیدھی راہ سے انہیں روکتے تھے ۔ اللہ کی راہ میں ہر قسم کی استقامت کو وہ ناپسند کرتے تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ غلط راہوں پر چلیں جس میں ان کے مالی مفادات تھے اور اسلامی نظام کو ترک کردیں جس میں ان کا نقصان تھا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) دعوت کا آغاز ہی اس کلمہ سے کرتے ہیں کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی اور غلامی کرو ‘ اس کے اقتدار اعلیٰ کو دنیا میں قائم کرو اور زندگی کے تمام امور میں اس کے دین اور حکم کو نافذ کرو ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس اصولی اور بنیادی بات سے اپنی دعوت کا آغاز کرتے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کے تمام معاملات کا دارومدار اسی اصول پر ہے اور انسان کے اخلاق اور اس کا باہمی طرز عمل اسی قاعدے اور سرچشمے سے پھوٹتے ہیں اور جب تک یہ اصول قائم و استوار نہ ہو ‘ انسان کا کوئی عمل قائم و استوار نہیں رہ سکتا ۔ اللہ وحدہ کی بندگی کی دعوت اور اپنی پوری زندگی کو توحید کے جادہ مستقیم پر قائم کرنے کی دعوت اور شریعت الہیہ کے نفاذ اور فساد فی الارض کو چھوڑنے کی دعوت کے ساتھ ساتھ ان کو حضرت شعیب (علیہ السلام) اس طرف بھی متوجہ فرماتے ہیں کہ تم پر اللہ کا جو فضل وکرم ہے اور اس نے جو انعامات تم پر کیے ہیں ان پر اللہ کا شکر بجا لاؤ ۔ ” یاد کرو وہ زمانہ جب تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کردیا ۔ “ ۔۔۔۔۔ اگر تم ان انعامات پر شکر ادا نہیں کرتے اور بدستور آمادہ فساد رہنے پر مصر ہو تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) چاہتے ہیں کہ ان کی قوم عدل و انصاف اور وسعت قلبی کا رویہ اختیار کرے ۔ ان لوگوں کو فتنے میں نہ ڈالے جو ایمان لا کر اللہ کی ہدایت کے پیروکار بن گئے ہیں اور جن کو اللہ نے اپنے دین کی طرف ہدایت کردی ہے ۔ یہ لوگ ہر طرف سے ان لوگوں کی راہ روکنے کی کوشش نہ کریں ۔ نہ ان پر زندگی کے دروازے بند کریں اور نہ انکو ڈرائیں دھمکائیں ۔ اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اہل ایمان اور اہل کفر کی اس کشمکش میں کم از کم غیر جانبدار ہو کر نتائج کا انتظار کریں ۔

الأعراف 7:86

آیت ” نمبر 85 تا 93۔ یہ قصہ دوسروں کے مقابلے میں قدرے طویل ہے دوسرے قصص کی نسبت کیونکہ اس میں اسلامی نظریہ حیات کے علاوہ بعض دوسرے معاملات بھی موجود ہیں ۔ اگرچہ اس میں بھی وہی طرز ادا اختیار کی گئی ہے ۔ جس طرح اس سے قبل دوسروں قصوں میں اختیار کی گئی ہے ۔ آیت ” وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْْباً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَـہٍ غَیْْرُہُ “۔ (7 : 85) ” اور مدین والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب کو بھیجا ‘ اس نے کہا : ’ اے برادران قوم ‘ اللہ کی بندگی کرو ‘ اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے ۔ “ یہ دعوت اسلامی کا بنیادی عقیدہ ہے اور یہ ہر پیغمبر کی دعوت کا اساسی کلمہ اور شعار رہا ہے ۔ ہر پیغمبر اس سے دعوت کا آغاز کر کے پھر دوسری تفصیلات میں جاتا ہے ۔ آیت ” قَدْ جَاء تْکُم بَیِّنَۃٌ مِّن رَّبِّکُمْ “۔ (7 : 85) ” تمہارے پاس تمہارے رب کی صاف راہنمائی آگئی ہے ۔ “ سیاق کلام میں اس طرح شہادت اور راہنمائی کا ذکر نہیں ہے جس طرح قصہ صالح میں شہادت کا ذکر موجود ہے۔ قرآن کریم کی دوسری سورتوں میں بھی حضرت شعیب (علیہ السلام) کی جانب سے کوئی معجزہ پیش کرنے کا ذکر نہیں ہوگا لیکن یہاں اس آیت میں معجزے کی طرف اشارہ موجود ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی دوسرے انبیاء کی طرح کوئی معجزہ پیش کیا تھا ۔ اس معجزے کے نتیجے میں اپنی قوم سے آپ کا مطالبہ یہ تھا کہ آپ ناپ اور تول میں کمی بیشی نہ کریں اور فساد فی الارض کے تمام طریقوں سے بچیں نیز راہ زنی اور ڈاکہ زنی جیسے برے افعال سے باز رہیں ۔ اور اہل دین کو محض انکی دین داری کی وجہ فتنے میں نہ ڈالیں۔ آیت ” فَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْیَاء ہُمْ وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (85) وَلاَ تَقْعُدُواْ بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوعِدُونَ وَتَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ مَنْ آمَنَ بِہِ وَتَبْغُونَہَا عِوَجاً وَاذْکُرُواْ إِذْ کُنتُمْ قَلِیْلاً فَکَثَّرَکُمْ وَانظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُفْسِدِیْنَ (86) لہذا وزن اور پیمانے پورے کرو ‘ لوگوں کو انکی چیزوں میں گھاٹا نہ دو ‘ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے ۔ اس میں تمہاری بھلائی ہے ۔ اگر تم واقعی مومن ہو ‘ اور (زندگی کے) ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ کہ لوگوں کو خوفزدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجاؤ ۔ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ تمہیں بہت کردیا اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے ۔ “ اس نہی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم مشرک قوم تھی ۔ وہ صرف اللہ وحدہ کی عبادت نہ کرتی تھی ‘ وہ اللہ اقتدار الی میں اللہ کے بندوں کو شریک کرتی تھی ۔ یہ لوگ اپنے معاملات میں اللہ کے عادلانہ قانون کی پیروی نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے باہم معاملات طے کرنے کے لئے خود اپنی جانب سے قواعد گھڑ رکھے تھے ۔ شاید اسی معاملے میں وہ شرک کرتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ بیع وشری کے معاملات میں وہ بدمعاملہ تھے اور اس کے علاوہ فساد فی الارض ‘ رہزنی اور ڈاکہ زنی کے معاملات بھی ان میں عام تھے ۔ علاوہ ازیں جو لوگ دین دار اور پاکباز تھے انکو بھی وہ ستاتے تھے اور اللہ کی سیدھی راہ سے انہیں روکتے تھے ۔ اللہ کی راہ میں ہر قسم کی استقامت کو وہ ناپسند کرتے تھے ۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ غلط راہوں پر چلیں جس میں ان کے مالی مفادات تھے اور اسلامی نظام کو ترک کردیں جس میں ان کا نقصان تھا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) دعوت کا آغاز ہی اس کلمہ سے کرتے ہیں کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی اور غلامی کرو ‘ اس کے اقتدار اعلیٰ کو دنیا میں قائم کرو اور زندگی کے تمام امور میں اس کے دین اور حکم کو نافذ کرو ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس اصولی اور بنیادی بات سے اپنی دعوت کا آغاز کرتے ہیں اس لئے کہ وہ جانتے ہیں کہ زندگی کے تمام معاملات کا دارومدار اسی اصول پر ہے اور انسان کے اخلاق اور اس کا باہمی طرز عمل اسی قاعدے اور سرچشمے سے پھوٹتے ہیں اور جب تک یہ اصول قائم و استوار نہ ہو ‘ انسان کا کوئی عمل قائم و استوار نہیں رہ سکتا ۔ اللہ وحدہ کی بندگی کی دعوت اور اپنی پوری زندگی کو توحید کے جادہ مستقیم پر قائم کرنے کی دعوت اور شریعت الہیہ کے نفاذ اور فساد فی الارض کو چھوڑنے کی دعوت کے ساتھ ساتھ ان کو حضرت شعیب (علیہ السلام) اس طرف بھی متوجہ فرماتے ہیں کہ تم پر اللہ کا جو فضل وکرم ہے اور اس نے جو انعامات تم پر کیے ہیں ان پر اللہ کا شکر بجا لاؤ ۔ ” یاد کرو وہ زمانہ جب تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کردیا ۔ “ ۔۔۔۔۔ اگر تم ان انعامات پر شکر ادا نہیں کرتے اور بدستور آمادہ فساد رہنے پر مصر ہو تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) چاہتے ہیں کہ ان کی قوم عدل و انصاف اور وسعت قلبی کا رویہ اختیار کرے ۔ ان لوگوں کو فتنے میں نہ ڈالے جو ایمان لا کر اللہ کی ہدایت کے پیروکار بن گئے ہیں اور جن کو اللہ نے اپنے دین کی طرف ہدایت کردی ہے ۔ یہ لوگ ہر طرف سے ان لوگوں کی راہ روکنے کی کوشش نہ کریں ۔ نہ ان پر زندگی کے دروازے بند کریں اور نہ انکو ڈرائیں دھمکائیں ۔ اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اہل ایمان اور اہل کفر کی اس کشمکش میں کم از کم غیر جانبدار ہو کر نتائج کا انتظار کریں ۔

الأعراف 7:87

آیت ” وَإِن کَانَ طَآئِفَۃٌ مِّنکُمْ آمَنُواْ بِالَّذِیْ أُرْسِلْتُ بِہِ وَطَآئِفَۃٌ لَّمْ یْْؤْمِنُواْ فَاصْبِرُواْ حَتَّی یَحْکُمَ اللّہُ بَیْْنَنَا وَہُوَ خَیْْرُ الْحَاکِمِیْنَ (87) ” اگر تم میں ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ‘ ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان کو منصفانہ منصوبے کو اپنانے کا مشورہ دیا اور یہ آخری حد تھی جہاں تک وہ انکورعایت دے سکتے تھے ‘ اس سے پیچھے وہ ایک قدم بھی نہ ہٹ سکتے تھے ۔ وہ یہ کہ ان کی قوم کفر واسلام کی اس کشمکش میں غیر جانبدار ہو کر انتظار کرے اور مسلمانوں کو اذیت نہ دے ۔ قوم جس دین کو چاہے اختیار کرے یہاں تک کہ اللہ خود کوئی فیصلہ کردے ۔ لیکن طاغوتی قوتیں اس بات کو ہر گز برداشت نہیں کرسکتیں کہ اس کرہ ارض پر ایمان کا معمولی وجود بھی ہو اور وہ ایسی جماعت کی شکل میں ہو جو طاغوت کی اطاعت نہ کرتی ہو ۔ اس کرہ ارض پر ایسی جماعت مسلمہ ‘ جو صرف اللہ کی غلام ہو ‘ جو اللہ کے اقتدار اعلی کے سوا کسی اور اقتدار کو نہ تسلیم کرتی ہو ‘ اپنی زندگی میں اللہ کے قانون کے سوا کسی اور کا قانون نہ مانتی ہو اپنی اجتماعی زندگی میں اللہ کے نظام کے سوا کسی اور نظام کی قائل نہ ہو ۔ ایسی جماعت کا مجرد پایا جانا ہی طاغوت کے وجود کے لئے خطرہ ہوتا ہے ۔ اگرچہ اس قسم کی جماعت خود اپنے دائرے کے اندر ہی محدود کیوں نہ ہو ‘ طاغوتی قوتوں کو فی الحال نہ بھی چھیڑتی ہو اور طاغوت کو وہ اپنی طبعی انجام تک پہنچنے کیلئے انتظار کررہی ہو۔ حقیقت یہ ہے طاغوتی قوتوں نے اپنے اوپر از خود یہ بات لازم کرلی ہے کہ وہ اسلامی قوتوں کے خلاف برسرجنگ رہیں گے اگرچہ اسلامی قوتیں جنگ سے بچنا چاہیں کیونکہ حق کا وجود ہی ان قوتوں کے لئے خوفناک ہوتا ہے اور طاغوت ہر وقت حق سے کانپتا رہتا ہے ۔ حق کا وجود ہی اس کشمکش کے آغاز کا باعث ہوتا ہے ۔ یہ اللہ کی سنت ہے ۔ اگر کوئی سمجھے کہ حق ہے اور باطل اس کے خلاف نہ اٹھ رہا ہو ‘ تو ایسے اہل حق کو غور کرنا چاہئے کہ وہ حق پر ہیں بھی کہ نہیں ؟ آیت ” قَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُواْ مِن قَوْمِہِ لَنُخْرِجَنَّکَ یَا شُعَیْْبُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ مَعَکَ مِن قَرْیَتِنَا أَوْ لَتَعُودُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا “۔ (7 : 88) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے ‘ اس سے کہا ” اے شعیب ہم تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ۔ “ یہ ہے طاغوت کی ننگی خود سری ۔ اسے اصرار ہے کہ وہ حق کے ساتھ یہ معرکہ جاری رکھے گا اور یہ بات ممکن ہی نہیں ہے کہ حق اور باطل باہم زندہ رہ سکیں یا ان کے درمیان فائز بندی ہو سکے۔ لیکن نظریاتی قوتوں پر باطل کی دھمکیوں کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا ۔ حق کے پاؤں میں کوئی لغزش نہیں آتی اور وہ بات کرنے میں جھجک محسوس نہیں کرتا ۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اس مقام سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہیں ۔ ان کی جانب سے یہ آخری رعایت تھی کہ لوگوں کو آزاد چھوڑ دیا جائے کہ وہ جو عقیدہ چاہیں اختیار کریں ‘ جس کے اقتدار میں چاہیں اپنے آپ کو داخل کردیں اور دونوں حریف اللہ کے فیصلے کا انتظار کریں ۔ یہ وہ مقام ہے جس سے مزید پیچھے کوئی حامل حق داعی نہیں ہٹ سکتا ۔ چاہے طاغوتی قوتوں کی طرف سے شدید دباؤ کیوں نہ ہو ۔ اگر کوئی داعی اس مقام سے پیچھے ہٹ جاتا ہے تو وہ گویا اس سچائی کو خیر باد کہہ دیتا ہے جس کا وہ نمائندہ ہے بلکہ اس سے خیانت کرتا ہے ۔ جب حضرت شعیب (علیہ السلام) کو ان مستکبرین کی طرف سے یہ دھمکی ملتی ہے کہ وہ یا تو اپنے نظریات کو ترک کرکے واپس ہماری ملت میں آجائیں ورنہ پھر ہمارے حلقے سے نکلنے کے لئے تیار ہوجائیں تو حضرت شعیب (علیہ السلام) صاف اعلان فرما دیتے ہیں کہ وہ ہر گز ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ نے انہیں جس برے دن سے نجات دی وہ پھر اسی میں داخل ہوجائیں ۔ اب وہ اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور دست بدعا ہوتے ہیں کہ اے اللہ ہمارے اور ہمارے دشمنوں کے درمیان اب تو ہی فیصلہ کردے ۔ اور ہماری مدد فرما ۔ کیونکہ تو ہی مدد کرنے والا ہے ۔

الأعراف 7:88

آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88) قَدِ افْتَرَیْْنَا عَلَی اللّہِ کَذِباً إِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللّہُ مِنْہَا وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا إِلاَّ أَن یَشَاء َ اللّہُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً عَلَی اللّہِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَیْْرُ الْفَاتِحِیْنَ (89) ” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لئے تو اس طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ اس پر ہم نے اعتماد کرلیا۔ اے رب ‘ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ یہ مختصر ترین چند کلمات ہیں ‘ لیکن ان میں ایمان کی تجلیات واضح طور پر نظر آتی ہیں اور اہل ایمان کا ذوق وشوق ان سے عیاں ہے ۔ اسی طرح ان کلمات سے جاہلیت کا مزاج اور اس کی بدذوقی کا اظاہر بھی خوب ہوتا ہے ۔ رسول اللہ وقت کے دل کی خوبصورت مناظر بھی چمکتے نظر آتے ہیں اور ان میں ربانی حقائق صاف نظر آتے ہیں ۔ آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88) ” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کی اس دھمکی کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا ” شعیب ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا ہوگا ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا مطلب یہ ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اس صورت حال میں پھر داخل ہوجائیں جس سے اللہ نے ہمیں نجات دی ہے ۔ وہ تو ایک مکروہ اور ناپسندیدہ صورت حال ہے ۔ ” ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے ‘ اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ۔ جو شخص اس طاغوتی ملت کی طرف دوبارہ لوٹ جاتا ہے ۔ جس میں دین کے لئے خالص نہیں ہوتا ‘ جس میں اطاعت صرف اللہ کی نہیں ہوتی جس میں لوگ اللہ کے سوا کچھ دوسری شخصیات کو رب بنا لیتے ہیں اور ان کے اقتدار اعلیٰ کا قرار کرتے ہیں وہ صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے حالانکہ ایسے شخص کو اللہ نے ان تمام ملتوں سے نجات دے دی تھی ۔ وہ اللہ کی غلامی کے سوا تمام غلامیوں سے نکل آئے تھے اور اللہ نے انہیں راہ ہدایت بتا دی تھی ۔ ایسا شخص اگر پھر اسی ملت میں داخل ہوتا ہے تو وہ کلمہ شہادت جھوٹ موٹ پڑھ رہا ہے کیونکہ اس نے ملت ابراہیم کو ترک کرکے دوبارہ طاغوتی ملت میں داخلہ لے لیا ہے ۔ ایسی ملت میں دوبارہ جانے کا مدعا صرف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ طاغوتی ملت کو حق سمجھتا ہے اور ایسے لوگوں کے اقتدار اعلی کو جائز اور قانونی سمجھتا ہے ۔ ایسا شخص کلمہ شہادت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ طاغوتی ملت کا بھی فرد بن جاتا ہے ۔ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ طاغوتی نظام کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اس دنیا میں قائم رہے ‘ اور اپنا اقتدار اعلی قائم کردے اور یہ کہ اس کا وجود ایمان کے منافی نہیں ہے ۔ ایسا شخص طاغوتی ملت میں داخل ہو کر اسے تسلیم کرتا ہے ۔ ایسے شخص کا یہ طرز عمل اس شخص سے زیادہ خطرناک ہے جو سرے سے ہدایت قبول نہیں کرتا اور اسلام کے جھنڈے کو بلند ہی نہیں کرتا کیونکہ اس طرز عمل سے یہ شخص طاغوت کے اقتدار اعلی کے جھنڈے کو بلند کرتا ہے اور طاغوت کا اقتدار اعلی پر دست درازی کے مترادف ہوتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ آیت ” وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا “۔ (7 : 89) ” ہمارے لئے یہ سزاوار ہی نہیں ہے کہ ہم طاغوتی ملت کی طرف لوٹ آئیں ۔ “ یہ دینی شان ہی کے متضاد ہے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اس بات کا اعلان اس وقت کرتے ہیں جب کہ انکو کھلی دھمکی دی جارہی ہے کہ تمہیں ایسا کرنا ہوگا ایسی دھمکی طاغوتی قوتیں ہر دور اور ہر زمانے میں ہر اسلامی جماعت کو دیتی چلی آئیں ہیں ۔ ان تمام جماعتوں کو جو اپنے آپ کو طاغوتی نظام سے نکالنا چاہتی ہیں اور صرف اللہ کے دین اور نظام میں داخل ہونا چاہتی ہیں ہمیشہ ایسی دھمکیاں ملتی رہی ہیں ۔ طاغوتی نظام اور اس کی اطاعت سے نکلنے کی مشکلات اگرچہ بہت ہی زیادہ نظر آئیں ان مشکلات اور مصائب کے مقابلے میں بہت کم ہیں جو انسانوں پر طاغوت کی غلامی کی صورت میں پڑتی ہیں ۔ طاغوتی نظام کی جانب سے آنے والی مشکلات نہایت ہی رسواکن ہوتی ہیں اگرچہ بظاہر طاغوتی نظام میں امن وسلامتی اور اطمینان و سکون اور ہر چیز کی فراوانی نظر آئے ۔ طاغوتی نظام کی مشکلات نہایت ہی گہری اور دور رس ہوتی ہیں ۔ ان میں انسان کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے ۔ جب انسان انسان کا غلام ہو تو اس کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے ۔ اس سے بڑی اور کوئی غلامی نہیں ہو سکتی کہ کسی جگہ انسان ‘ انسان کے لئے قانون بنائے اور دوسرا اس کا مطیع فرمان ہو ۔ اس سے بڑی غلامی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک انسان کا ارادہ اسی جیسے ایک دوسرے انسان کے تابع ہو اور وہ اس کی مرضی اور حکم کا پابند ہو یا اس سے اور بڑی غلامی اور مصیبت کیا ہو سکتی ہے کہ انسان بعض انسانوں کی خواہشات اور رجحانات کے غلام ہوں اور ایک انسان کی لگام دوسرے انسانوں کے ہاتھ میں ہو ۔ وہ انہیں جس طرح چاہے چلائے اور جس طرف چاہے لے جائے ۔ لیکن طاغوتی نظام میں صرف اس قسم کی معنوی اور فلسفیانہ اعلی اقدار ہی کو پامال نہیں کیا جاتا بلکہ لوگوں کے اموال اور اولاد بھی طاغوتی نظام کے اختیار میں چلے جاتے ہیں ۔ وہ جس طرح چاہتا ہے لوگوں کے اموال میں تصرفات کرتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے انکی اولاد کو بری یا اچھی تربیت دیتا ہے ۔ انہیں اپنی مرضی کے تصورات و افکار اور مفہوم واقدار عطا کرتا ہے ۔ نیز ان کے اندر اخلاق اور عادات بھی اپنی مرضی کے مطابق رواج دیتا ہے ۔ اس کے علاوہ طاغوت لوگوں کی روح اور ان کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ ارواح کو ذبح کرتا ہے ‘ وہ لوگوں کے جسموں کو ذبح کرکے ان کی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کرتا ہے ۔ پھر ان کی جان ومال اور عزت وآبرو کا بھی وہ سودا کرتا ہے اور حالت یہ ہوجاتی ہے کہ ایک باپ اپنی بیٹی کو بھی بےراہ روی سے باز نہیں رکھ سکتا کیونکہ یہ بےراہ روی طاغوتی نظام کے اہلکاروں کے مفاد میں ہوتی ہے ۔ طاغوتی نظام لوگوں کی عزت وآبرو کے ساتھ یا تو بطور ظلم کھیلتا ہے اور لوگوں کے ضمیر کو بدل کر خوشی خوشی ان سے ان کی عزتیں لٹاتا ہے ۔ وہ تہذیب کے عنوان سے ان سے بےتہذیبی کراتا ہے ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طاغوتی نظام نظام میں رہتے ہوئے اپنا مال اور اپنی آبرو بچا لے جائیں اور ان کا ایمان ونظریہ بھی محفوظ رہے وہ درحقیقت ایک بہت بڑی غلطی فہمی کا شکار ہیں یا انہیں حقیقی صورت حال کا احساس ہی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ طاغوت کی غلامی نفس انسانی ‘ دولت انسانی اور عزت انسانی کو گہری مصیبت میں مبتلا کرتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں اللہ کی غلامی کے فرائض خواہ کتنے ہی زیادہ نظر آئیں ‘ وہ بہرحال اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کے لئے بہت ہی مفید ہے جبکہ آخرت میں اللہ کے ہاں اجر عظیم ہے ۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی اپنے ایک مقالے ” تحریک اسلامی کی بنیادیں “ میں فرمایا ہیں : ” انسانی زندگی کے مسائل میں جس کی تھوڑی سی بصیرت بھی حاصل ہو وہ اس حقیقت سے بیخبر نہیں رہ سکتا کہ انسانی معاملات کے بنا اور بگاڑ کا آخری فیصلہ جس مسئلے پر منحصر ہے وہ یہ سوال ہے کہ معاملات انسانی کی زمام کارکس کے ہاتھ میں ہے ۔ جس طرح گاڑی ہمیشہ اسی سمت چلا کرتی ہے جس سمت پر ڈرائیور اس کو لے جانا چاہتا ہے اور دوسرے لوگ جو گاڑی میں بیٹھے ہوں خواستہ وناخواستہ اسی سمت پر سفر کرنے کے لئے مجبور ہوتے ہیں ‘ اسی طرح انسانی تمدن کی گاڑی بھی اسی سمت پر سفر کیا کرتی ہے جس سمت پر وہ لوگ جانا چاہتے ہیں جن کی ہاتھ میں تمدن کی باگیں ہوتی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ زمین کے سارے ذرا ئع جن کے قابو میں ہوں قوت واقتدار کی باگیں جن کے ہاتھ میں ہوں ‘ عام انسانوں کی زندگی جن کے دامن سے وابستہ ہو ‘ خیالات و افکار اور نظریات کو بنانے اور ڈھالنے کے وسائع جن کے قبضے میں ہوں ‘ انفرادی سیرتوں کی تعمیر اور اجتماعی نظام کی تشکیل اور اخلاقی قدروں کی تعیین جن کے اختیار میں ہو ‘ ان کی رہنمائی و فرمان روائی کے تحت رہتے ہوئے انسانیت بحثییت مجموعی اس راہ پر چلنے سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتی جس پر وہ اسے چلانا چاہتے ہوں ۔ یہ رہنما وفرمانروا اگر خدا پرست اور صالح لوگ ہوں تو لامحالہ زندگی کا سارا نظام خدا پرستی اور خیر وصلاح پر چلے گا ۔ برے لوگ بھی اچھے بننے پر مجبور ہوں گے ‘ بھلائیوں کو نشوونما نصیب ہوگا اور برائیاں اگر مٹیں گی نہیں تو کم از کم پروان بھی نہ چڑھ سکیں گی ۔ لیکن اگر رہنمائی و قیادت اور فرمانروائی کا یہ اقتدار ان لوگوں نے ہاتھ میں ہو جو خدا سے برگشتہ اور فسق و فجور میں سرگشتہ ہوں تو آپ سے آپ سارا نظام زندگی خدا سے بغاوت اور ظلم وبداخلاقی پر چلے گا ۔ خیالات ونظریات علوم وآداب ‘ سیاست ومعیشت ‘ تہذیب ومعاشرت ‘ اخلاق ومعاملات ‘ عدل و قانون ‘ سب کے سب بحیثیت مجموعی بگڑ جائیں گے ۔ برائیاں خوب نشوونما پائیں گی ۔ “ ” اس تشریح کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ دین میں اس مسئلے کی کیا اہمیت ہے ۔ ظاہر بات ہے کہ اللہ کا دین اول تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ بالکلیہ بندہ حق بن کر رہیں اور ان کی گردن میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کا حلقہ نہ ہو۔ پھر وہ چاہتا ہے کہ اللہ ہی کا قانون لوگوں کی زندگی کا قانون بن کر رہے ۔ پھر اس کا مطالبہ یہ ہے کہ زمین سے فساد مٹے ۔ ان منکرات کا استیصال کیا جائے جو اہل زمین پر اللہ کے غضب کے موجب ہوتے ہیں اور ان خیرات وحسنات کو فروغ دیا جائے جو اللہ کو پسند ہیں ۔ ان تمام مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی اس طرح پورا نہیں ہو سکتا کہ نوع انسانی کی رہنمائی و قیادت اور معاملات انسانی کی سربراہ کاری ائمہ کفر وضلال کے ہاتھوں میں ہو اور دین حق کے پیرو محض ان کے ماتحت رہ کر ان کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں سے فائدہ اٹھا تے ہوئے یاد خدا کرتے رہیں ۔ یہ مقاصد تو لازمی طور پر اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام اہل خیر وصلاح جو اللہ کی رجا کے طالب ہوں ‘ اجتماعی قوت پیدا کریں اور سردھڑ کی بازی لگا کر ایسا نظام حق قائم کرنے کی سعی کریں جس میں امامت و راہنمائی اور قیادت و فرمان روائی کا منصب مومنین وصالحین کے ہاتھوں میں ہو۔ اس چیز کے بغیر وہ مدعا حاصل ہی نہیں ہو سکتا جو دین کا اصل مدعا ہے اسی لئے دین میں امام صالحہ کے قیام اور نظام حق کی اقامت کو مقصدی اہمیت حاصل ہے اور اس چیز سے غفلت برتنے کے بعد کوئی عمل ایسا نہیں ہو سکتا جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو پہنچ سکے ۔ غور کیجئے آخر قرآن و حدیث میں التزام جماعت اور سمع و اطاعت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جماعت سے خروج اختیار کرلے تو اس سے قتال واجب ہے خواہ وہ کلمہ توحید کا قائل اور نماز روزے کا پابند ہی کیوں نہ ہو ۔ کیا اس کی وجہ یہ اور صرف یہی نہیں ہے کہ امامت صالحہ اور نظام حق کا قیام وبقا دین کا حقیقی مقصود ہے ‘ اور اس مقصد کا حصول اجتماعی طاقت پر موقوف ہے ‘ لہذا جو شخص اجتماعی اطاقت کو نقصان پہنچاتا ہے وہ اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس کی تلافی نہ نماز سے ہو سکتی ہے اور نہ اقرار توحید سے ؟ پھر دیکھئے کہ آخر اس دین میں جہاد کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے کہ اس سے جی چرانے اور منہ موڑنے والوں پر قرآن مجید نفاق کا حکم لگاتا ہے ؟ جہاد نظام حق کی سعی کا ہی تو دوسرا نام ہے اور قرآن اسی جہاد کو وہ کسوٹی قرار دیتا ہے جس پر آدمی کا ایمان پرکھا جاتا ہے ۔ بالفاظ دیگر جس کے دل میں ایمان ہوگا وہ نہ تو نظام باطل کے تسلط سے راضی ہو سکتا ہے اور نہ نظام حق کے قیام کی جدوجہد میں جان ومال سے دریغ کرسکتا ہے ۔ اس معاملے میں جو شخص کمزوری دکھائے گا اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے پھر بھلا کوئی دوسرا عمل اسے کیا نفع پہنچا سکتا ہے ۔ “ ” اس وقت اتنا موقع نہیں ہے کہ میں آپ کے سامنے اس مسئلے کی پوری تفصیل بیان کروں مگر جو کچھ میں نے عرض کیا ہے وہ اس حقیقت کو ذہن نشین کرنے کے لئے بالکل کافی ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر سے امامت صالحہ کا قیام مرکزی اور مقصدی اہمیت رکھتا ہے جو شخص اس دین پر ایمان لایا ہو اس کا کام صرف اتنے ہی پر ختم نہیں ہوجاتا کہ اپنی زندگی کو حتی الامکان اسلام کے سانچے میں ڈالنے کی کوشش کرے بلکہ عین اس کے ایمان ہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی تمام سعی وجہد کو اس ایک مقصد پر مرکوز کر دے کہ زمام کار کفار وفساق کے ہاتھ سے نکل کر صالحین کے ہاتھ میں آئے اور وہ نظام حق قائم ہو جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق دنیا کے انتظام کو درست کرے اور درست رکھے ۔ اسلام جب یہ دعوت دیتا ہے کہ اقتدار اعلی ان غاصبوں سے چھین لیا جائے اور اسے دوبارہ اللہ کے لئے مخصوص کردیا جائے تو اس دعوت کی اصل غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ کہ انسانیت کو آزاد کیا جائے اور تمام انسانوں کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ وحدہ کی غلامی میں داخل کیا جائے ۔ اسی طرح اسلام کی اس دعوت کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کی روحانی ونظریاتی دنیا اور مالی اور مادی دنیا کو بھی ان طاغوتی قوتوں کے خلاف جدوجہد اور جہاد و قتال کریں اور ہر قسم کی قربانیاں دیں ۔ لیکن اس راہ میں قربانیاں دے کر دراصل وہ مسلسل ایسی قربانیاں دینے سے نجات پاتے ہیں جو ان کے مقابلے میں ذلیل اور حقیر ہیں ۔ اسلام تو لوگوں کو عزت اور شرف کے مقام کے لئے جدوجہد کرنے کی دعوت دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا : آیت ” قدافترینا علی اللہ ۔۔۔۔۔ (7 : 89) ” ہم اللہ پر جھوت گھڑنے والے ہوں گے ‘ اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ۔ ہمارے لئے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں “۔ لیکن حضرت شعیب جس قدر باطل کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں ‘ اپنی قوت سے آوازحق بلند کررہے ہیں اور اپنی سوسائٹی کے کبراء کو چیلنج کر رہے ہیں ‘ اسی قدر وہ اللہ کی مشیت اور رضا کے سامنے سرنگوں ہو رہے ہیں اور اللہ کی تقدیر کے سامنے راضی برضا ہو رہے ہیں اس لئے کہ اللہ کا علم وسیع اور حاوی ہے اور انسان کا علم محدود ہے ۔ اللہ کے علم کے سامنے کوئی انسان عزم اور جزم اختیار نہیں کرسکتا ۔ جہاں تک باری تعالیٰ کا تعلق ہے ۔ ایک مسلمان کیلئے اچھا رویہ یہی ہے کہ اس کے سامنے مکمل طور پر سرتسلیم خم کر دے ۔ آیت ” الا ان یشآء اللہ “۔ (7 : 89) ” الا یہ کہ ہمارا رب ہی ایسا چاہے ۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) تمام امور کو اللہ کے سپرد فرماتے ہیں ۔ مستقبل میں ان کے حالات جس رخ پر چلنے والے ہیں اور اہل ایمان کو جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ سب کے سب اللہ کے سپرد ہیں ۔ وہ تو صرف یہ کرسکتے ہیں کہ تمام طاغوتی نظریات اور طاغوتی پشیکشوں کا انکار کردیں ‘ ملت طاغوتی ہیں واپس چلے جانے سے صاف صاف انکار کر دے اور مسلمانوں کی جانب سے بھی عزم صمیم ظاہر کردیں ۔ اور اس بات کا اصولی طور پر قطعی انکار کردیں ۔ لیکن وہ مشیت الہیہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ معاملات کا دارومدار تو مشیت الہیہ پر ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور اہل ایمان کا علم محدود ہے اور رب ذوالجلال کا علم لامحدود ہے لہذا وہ اللہ کے وسیع اور محیط علم اور اس کی مشیت کی طرف اپنے معاملات کو سپرد کرتے ہیں ۔ یہ ہے اللہ کے ایک دوست کا طرز عمل اللہ کے ساتھ ۔ ان آداب کے ساتھ وہ اللہ کے اومرا نواہی کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اللہ کی مشیت اور تقدیر پر کوئی احسان نہیں جتلاتے ۔ نہ وہ اللہ کے ارادے اور مشیت میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہیں ۔ دوست کی جانب سے جو پیش آئے منظور ہے ۔ یہ ہے اللہ کے ایک دوست کا طرز عمل اللہ کے ساتھ ۔ ان آداب کے ساتھ وہ اللہ کے اوامر ونواہی کو تسلیم کرتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ اللہ کی مشیت اور تقدیر پر کوئی احسان نہیں جتلاتے ۔ نہ وہ اللہ کے ارادے اور میشت میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہیں ۔ دوست کی جانب سے جو پیش آئے منظور ہے۔ یہاں حضرت شعیب اپنی قوم کے طاغوتوں اور ان کے وعدو وعید اور دھمکیوں کو ایک طرف چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں نہایت ہی توکل اور نہایت ہی اعتماد کے ساتھ اور دعا کرتے ہیں کہ اے رب ہمارے اور ہماری اس طاغوتی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ آیت ” عَلَی اللّہِ تَوَکَّلْنَا “ (7 : 89) ” اللہ پر ہی ہم نے اعتماد کیا ہے ۔ اے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ یہاں ہم ایک خیرہ کن منظر دیکھتے ہیں۔ ایک نبی اور خدا کے ایک دوست کے قلب میں حقیقت الہیہ کی تجلیات صاف نظر آتی ہیں ۔ نبی جانتے ہیں کہ قوت کا منبع کہاں ہے اور ایک مومن کے لئے آخری پناہ گاہ کونسی ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ آخری فیصلے اور فتح وشکست کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے وہ رب واحد پر توکل کرتا ہے اور اس معرکے میں کود پڑتا ہے جو نبی اور اہل ایمان پر مسلط کردیا گیا ہے اور جو حالات نے لابدی کردیا ہے ۔ رب ذوالجلال کی جانب سے عطا کردہ فتح کے سوا یہ معرکہ سر نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ ہیں وہ حالات جن میں کفار اہل ایمان کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور ان کو اپنے دین سے دور کرنے کی سعی کرتے ہیں

الأعراف 7:89

آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88) قَدِ افْتَرَیْْنَا عَلَی اللّہِ کَذِباً إِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُم بَعْدَ إِذْ نَجَّانَا اللّہُ مِنْہَا وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا إِلاَّ أَن یَشَاء َ اللّہُ رَبُّنَا وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْْء ٍ عِلْماً عَلَی اللّہِ تَوَکَّلْنَا رَبَّنَا افْتَحْ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَیْْرُ الْفَاتِحِیْنَ (89) ” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ہمارے لئے تو اس طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں الا یہ کہ ہمارا رب ہی ایسا چاہے ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ اس پر ہم نے اعتماد کرلیا۔ اے رب ‘ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ یہ مختصر ترین چند کلمات ہیں ‘ لیکن ان میں ایمان کی تجلیات واضح طور پر نظر آتی ہیں اور اہل ایمان کا ذوق وشوق ان سے عیاں ہے ۔ اسی طرح ان کلمات سے جاہلیت کا مزاج اور اس کی بدذوقی کا اظاہر بھی خوب ہوتا ہے ۔ رسول اللہ وقت کے دل کی خوبصورت مناظر بھی چمکتے نظر آتے ہیں اور ان میں ربانی حقائق صاف نظر آتے ہیں ۔ آیت ” قَالَ أَوَلَوْ کُنَّا کَارِہِیْنَ (88) ” شعیب (علیہ السلام) نے جواب دیا ” کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کی اس دھمکی کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا ” شعیب ہم تمہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے یا تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا ہوگا ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا مطلب یہ ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم اس صورت حال میں پھر داخل ہوجائیں جس سے اللہ نے ہمیں نجات دی ہے ۔ وہ تو ایک مکروہ اور ناپسندیدہ صورت حال ہے ۔ ” ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے ‘ اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ۔ جو شخص اس طاغوتی ملت کی طرف دوبارہ لوٹ جاتا ہے ۔ جس میں دین کے لئے خالص نہیں ہوتا ‘ جس میں اطاعت صرف اللہ کی نہیں ہوتی جس میں لوگ اللہ کے سوا کچھ دوسری شخصیات کو رب بنا لیتے ہیں اور ان کے اقتدار اعلیٰ کا قرار کرتے ہیں وہ صراط مستقیم سے ہٹ جاتا ہے حالانکہ ایسے شخص کو اللہ نے ان تمام ملتوں سے نجات دے دی تھی ۔ وہ اللہ کی غلامی کے سوا تمام غلامیوں سے نکل آئے تھے اور اللہ نے انہیں راہ ہدایت بتا دی تھی ۔ ایسا شخص اگر پھر اسی ملت میں داخل ہوتا ہے تو وہ کلمہ شہادت جھوٹ موٹ پڑھ رہا ہے کیونکہ اس نے ملت ابراہیم کو ترک کرکے دوبارہ طاغوتی ملت میں داخلہ لے لیا ہے ۔ ایسی ملت میں دوبارہ جانے کا مدعا صرف یہی ہو سکتا ہے کہ وہ طاغوتی ملت کو حق سمجھتا ہے اور ایسے لوگوں کے اقتدار اعلی کو جائز اور قانونی سمجھتا ہے ۔ ایسا شخص کلمہ شہادت ادا کرنے کے ساتھ ساتھ طاغوتی ملت کا بھی فرد بن جاتا ہے ۔ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ طاغوتی نظام کا بھی یہ حق ہے کہ وہ اس دنیا میں قائم رہے ‘ اور اپنا اقتدار اعلی قائم کردے اور یہ کہ اس کا وجود ایمان کے منافی نہیں ہے ۔ ایسا شخص طاغوتی ملت میں داخل ہو کر اسے تسلیم کرتا ہے ۔ ایسے شخص کا یہ طرز عمل اس شخص سے زیادہ خطرناک ہے جو سرے سے ہدایت قبول نہیں کرتا اور اسلام کے جھنڈے کو بلند ہی نہیں کرتا کیونکہ اس طرز عمل سے یہ شخص طاغوت کے اقتدار اعلی کے جھنڈے کو بلند کرتا ہے اور طاغوت کا اقتدار اعلی پر دست درازی کے مترادف ہوتا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) فرماتے ہیں۔ آیت ” وَمَا یَکُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِیْہَا “۔ (7 : 89) ” ہمارے لئے یہ سزاوار ہی نہیں ہے کہ ہم طاغوتی ملت کی طرف لوٹ آئیں ۔ “ یہ دینی شان ہی کے متضاد ہے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اس بات کا اعلان اس وقت کرتے ہیں جب کہ انکو کھلی دھمکی دی جارہی ہے کہ تمہیں ایسا کرنا ہوگا ایسی دھمکی طاغوتی قوتیں ہر دور اور ہر زمانے میں ہر اسلامی جماعت کو دیتی چلی آئیں ہیں ۔ ان تمام جماعتوں کو جو اپنے آپ کو طاغوتی نظام سے نکالنا چاہتی ہیں اور صرف اللہ کے دین اور نظام میں داخل ہونا چاہتی ہیں ہمیشہ ایسی دھمکیاں ملتی رہی ہیں ۔ طاغوتی نظام اور اس کی اطاعت سے نکلنے کی مشکلات اگرچہ بہت ہی زیادہ نظر آئیں ان مشکلات اور مصائب کے مقابلے میں بہت کم ہیں جو انسانوں پر طاغوت کی غلامی کی صورت میں پڑتی ہیں ۔ طاغوتی نظام کی جانب سے آنے والی مشکلات نہایت ہی رسواکن ہوتی ہیں اگرچہ بظاہر طاغوتی نظام میں امن وسلامتی اور اطمینان و سکون اور ہر چیز کی فراوانی نظر آئے ۔ طاغوتی نظام کی مشکلات نہایت ہی گہری اور دور رس ہوتی ہیں ۔ ان میں انسان کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے ۔ جب انسان انسان کا غلام ہو تو اس کی انسانیت ختم ہوجاتی ہے ۔ اس سے بڑی اور کوئی غلامی نہیں ہو سکتی کہ کسی جگہ انسان ‘ انسان کے لئے قانون بنائے اور دوسرا اس کا مطیع فرمان ہو ۔ اس سے بڑی غلامی اور کیا ہو سکتی ہے کہ ایک انسان کا ارادہ اسی جیسے ایک دوسرے انسان کے تابع ہو اور وہ اس کی مرضی اور حکم کا پابند ہو یا اس سے اور بڑی غلامی اور مصیبت کیا ہو سکتی ہے کہ انسان بعض انسانوں کی خواہشات اور رجحانات کے غلام ہوں اور ایک انسان کی لگام دوسرے انسانوں کے ہاتھ میں ہو ۔ وہ انہیں جس طرح چاہے چلائے اور جس طرف چاہے لے جائے ۔ لیکن طاغوتی نظام میں صرف اس قسم کی معنوی اور فلسفیانہ اعلی اقدار ہی کو پامال نہیں کیا جاتا بلکہ لوگوں کے اموال اور اولاد بھی طاغوتی نظام کے اختیار میں چلے جاتے ہیں ۔ وہ جس طرح چاہتا ہے لوگوں کے اموال میں تصرفات کرتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے انکی اولاد کو بری یا اچھی تربیت دیتا ہے ۔ انہیں اپنی مرضی کے تصورات و افکار اور مفہوم واقدار عطا کرتا ہے ۔ نیز ان کے اندر اخلاق اور عادات بھی اپنی مرضی کے مطابق رواج دیتا ہے ۔ اس کے علاوہ طاغوت لوگوں کی روح اور ان کی زندگی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ وہ ارواح کو ذبح کرتا ہے ‘ وہ لوگوں کے جسموں کو ذبح کرکے ان کی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کرتا ہے ۔ پھر ان کی جان ومال اور عزت وآبرو کا بھی وہ سودا کرتا ہے اور حالت یہ ہوجاتی ہے کہ ایک باپ اپنی بیٹی کو بھی بےراہ روی سے باز نہیں رکھ سکتا کیونکہ یہ بےراہ روی طاغوتی نظام کے اہلکاروں کے مفاد میں ہوتی ہے ۔ طاغوتی نظام لوگوں کی عزت وآبرو کے ساتھ یا تو بطور ظلم کھیلتا ہے اور لوگوں کے ضمیر کو بدل کر خوشی خوشی ان سے ان کی عزتیں لٹاتا ہے ۔ وہ تہذیب کے عنوان سے ان سے بےتہذیبی کراتا ہے ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ طاغوتی نظام نظام میں رہتے ہوئے اپنا مال اور اپنی آبرو بچا لے جائیں اور ان کا ایمان ونظریہ بھی محفوظ رہے وہ درحقیقت ایک بہت بڑی غلطی فہمی کا شکار ہیں یا انہیں حقیقی صورت حال کا احساس ہی نہیں ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ طاغوت کی غلامی نفس انسانی ‘ دولت انسانی اور عزت انسانی کو گہری مصیبت میں مبتلا کرتی ہے ۔ اس کے مقابلے میں اللہ کی غلامی کے فرائض خواہ کتنے ہی زیادہ نظر آئیں ‘ وہ بہرحال اس کرہ ارض پر انسانی زندگی کے لئے بہت ہی مفید ہے جبکہ آخرت میں اللہ کے ہاں اجر عظیم ہے ۔ مولانا سید ابوالاعلی مودودی اپنے ایک مقالے ” تحریک اسلامی کی بنیادیں “ میں فرمایا ہیں : ” انسانی زندگی کے مسائل میں جس کی تھوڑی سی بصیرت بھی حاصل ہو وہ اس حقیقت سے بیخبر نہیں رہ سکتا کہ انسانی معاملات کے بنا اور بگاڑ کا آخری فیصلہ جس مسئلے پر منحصر ہے وہ یہ سوال ہے کہ معاملات انسانی کی زمام کارکس کے ہاتھ میں ہے ۔ جس طرح گاڑی ہمیشہ اسی سمت چلا کرتی ہے جس سمت پر ڈرائیور اس کو لے جانا چاہتا ہے اور دوسرے لوگ جو گاڑی میں بیٹھے ہوں خواستہ وناخواستہ اسی سمت پر سفر کرنے کے لئے مجبور ہوتے ہیں ‘ اسی طرح انسانی تمدن کی گاڑی بھی اسی سمت پر سفر کیا کرتی ہے جس سمت پر وہ لوگ جانا چاہتے ہیں جن کی ہاتھ میں تمدن کی باگیں ہوتی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ زمین کے سارے ذرا ئع جن کے قابو میں ہوں قوت واقتدار کی باگیں جن کے ہاتھ میں ہوں ‘ عام انسانوں کی زندگی جن کے دامن سے وابستہ ہو ‘ خیالات و افکار اور نظریات کو بنانے اور ڈھالنے کے وسائع جن کے قبضے میں ہوں ‘ انفرادی سیرتوں کی تعمیر اور اجتماعی نظام کی تشکیل اور اخلاقی قدروں کی تعیین جن کے اختیار میں ہو ‘ ان کی رہنمائی و فرمان روائی کے تحت رہتے ہوئے انسانیت بحثییت مجموعی اس راہ پر چلنے سے کسی طرح باز نہیں رہ سکتی جس پر وہ اسے چلانا چاہتے ہوں ۔ یہ رہنما وفرمانروا اگر خدا پرست اور صالح لوگ ہوں تو لامحالہ زندگی کا سارا نظام خدا پرستی اور خیر وصلاح پر چلے گا ۔ برے لوگ بھی اچھے بننے پر مجبور ہوں گے ‘ بھلائیوں کو نشوونما نصیب ہوگا اور برائیاں اگر مٹیں گی نہیں تو کم از کم پروان بھی نہ چڑھ سکیں گی ۔ لیکن اگر رہنمائی و قیادت اور فرمانروائی کا یہ اقتدار ان لوگوں نے ہاتھ میں ہو جو خدا سے برگشتہ اور فسق و فجور میں سرگشتہ ہوں تو آپ سے آپ سارا نظام زندگی خدا سے بغاوت اور ظلم وبداخلاقی پر چلے گا ۔ خیالات ونظریات علوم وآداب ‘ سیاست ومعیشت ‘ تہذیب ومعاشرت ‘ اخلاق ومعاملات ‘ عدل و قانون ‘ سب کے سب بحیثیت مجموعی بگڑ جائیں گے ۔ برائیاں خوب نشوونما پائیں گی ۔ “ ” اس تشریح کے بعد یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ دین میں اس مسئلے کی کیا اہمیت ہے ۔ ظاہر بات ہے کہ اللہ کا دین اول تو یہ چاہتا ہے کہ لوگ بالکلیہ بندہ حق بن کر رہیں اور ان کی گردن میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کا حلقہ نہ ہو۔ پھر وہ چاہتا ہے کہ اللہ ہی کا قانون لوگوں کی زندگی کا قانون بن کر رہے ۔ پھر اس کا مطالبہ یہ ہے کہ زمین سے فساد مٹے ۔ ان منکرات کا استیصال کیا جائے جو اہل زمین پر اللہ کے غضب کے موجب ہوتے ہیں اور ان خیرات وحسنات کو فروغ دیا جائے جو اللہ کو پسند ہیں ۔ ان تمام مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی اس طرح پورا نہیں ہو سکتا کہ نوع انسانی کی رہنمائی و قیادت اور معاملات انسانی کی سربراہ کاری ائمہ کفر وضلال کے ہاتھوں میں ہو اور دین حق کے پیرو محض ان کے ماتحت رہ کر ان کی دی ہوئی رعایتوں اور گنجائشوں سے فائدہ اٹھا تے ہوئے یاد خدا کرتے رہیں ۔ یہ مقاصد تو لازمی طور پر اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام اہل خیر وصلاح جو اللہ کی رجا کے طالب ہوں ‘ اجتماعی قوت پیدا کریں اور سردھڑ کی بازی لگا کر ایسا نظام حق قائم کرنے کی سعی کریں جس میں امامت و راہنمائی اور قیادت و فرمان روائی کا منصب مومنین وصالحین کے ہاتھوں میں ہو۔ اس چیز کے بغیر وہ مدعا حاصل ہی نہیں ہو سکتا جو دین کا اصل مدعا ہے اسی لئے دین میں امام صالحہ کے قیام اور نظام حق کی اقامت کو مقصدی اہمیت حاصل ہے اور اس چیز سے غفلت برتنے کے بعد کوئی عمل ایسا نہیں ہو سکتا جس سے انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کو پہنچ سکے ۔ غور کیجئے آخر قرآن و حدیث میں التزام جماعت اور سمع و اطاعت پر اتنا زور کیوں دیا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جماعت سے خروج اختیار کرلے تو اس سے قتال واجب ہے خواہ وہ کلمہ توحید کا قائل اور نماز روزے کا پابند ہی کیوں نہ ہو ۔ کیا اس کی وجہ یہ اور صرف یہی نہیں ہے کہ امامت صالحہ اور نظام حق کا قیام وبقا دین کا حقیقی مقصود ہے ‘ اور اس مقصد کا حصول اجتماعی طاقت پر موقوف ہے ‘ لہذا جو شخص اجتماعی اطاقت کو نقصان پہنچاتا ہے وہ اتنے بڑے جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس کی تلافی نہ نماز سے ہو سکتی ہے اور نہ اقرار توحید سے ؟ پھر دیکھئے کہ آخر اس دین میں جہاد کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے کہ اس سے جی چرانے اور منہ موڑنے والوں پر قرآن مجید نفاق کا حکم لگاتا ہے ؟ جہاد نظام حق کی سعی کا ہی تو دوسرا نام ہے اور قرآن اسی جہاد کو وہ کسوٹی قرار دیتا ہے جس پر آدمی کا ایمان پرکھا جاتا ہے ۔ بالفاظ دیگر جس کے دل میں ایمان ہوگا وہ نہ تو نظام باطل کے تسلط سے راضی ہو سکتا ہے اور نہ نظام حق کے قیام کی جدوجہد میں جان ومال سے دریغ کرسکتا ہے ۔ اس معاملے میں جو شخص کمزوری دکھائے گا اس کا ایمان ہی مشتبہ ہے پھر بھلا کوئی دوسرا عمل اسے کیا نفع پہنچا سکتا ہے ۔ “ ” اس وقت اتنا موقع نہیں ہے کہ میں آپ کے سامنے اس مسئلے کی پوری تفصیل بیان کروں مگر جو کچھ میں نے عرض کیا ہے وہ اس حقیقت کو ذہن نشین کرنے کے لئے بالکل کافی ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر سے امامت صالحہ کا قیام مرکزی اور مقصدی اہمیت رکھتا ہے جو شخص اس دین پر ایمان لایا ہو اس کا کام صرف اتنے ہی پر ختم نہیں ہوجاتا کہ اپنی زندگی کو حتی الامکان اسلام کے سانچے میں ڈالنے کی کوشش کرے بلکہ عین اس کے ایمان ہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی تمام سعی وجہد کو اس ایک مقصد پر مرکوز کر دے کہ زمام کار کفار وفساق کے ہاتھ سے نکل کر صالحین کے ہاتھ میں آئے اور وہ نظام حق قائم ہو جو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق دنیا کے انتظام کو درست کرے اور درست رکھے ۔ اسلام جب یہ دعوت دیتا ہے کہ اقتدار اعلی ان غاصبوں سے چھین لیا جائے اور اسے دوبارہ اللہ کے لئے مخصوص کردیا جائے تو اس دعوت کی اصل غرض وغایت یہ ہوتی ہے کہ کہ انسانیت کو آزاد کیا جائے اور تمام انسانوں کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ وحدہ کی غلامی میں داخل کیا جائے ۔ اسی طرح اسلام کی اس دعوت کا مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کی روحانی ونظریاتی دنیا اور مالی اور مادی دنیا کو بھی ان طاغوتی قوتوں کے خلاف جدوجہد اور جہاد و قتال کریں اور ہر قسم کی قربانیاں دیں ۔ لیکن اس راہ میں قربانیاں دے کر دراصل وہ مسلسل ایسی قربانیاں دینے سے نجات پاتے ہیں جو ان کے مقابلے میں ذلیل اور حقیر ہیں ۔ اسلام تو لوگوں کو عزت اور شرف کے مقام کے لئے جدوجہد کرنے کی دعوت دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا : آیت ” قدافترینا علی اللہ ۔۔۔۔۔ (7 : 89) ” ہم اللہ پر جھوت گھڑنے والے ہوں گے ‘ اگر تمہاری ملت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ۔ ہمارے لئے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں “۔ لیکن حضرت شعیب جس قدر باطل کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں ‘ اپنی قوت سے آوازحق بلند کررہے ہیں اور اپنی سوسائٹی کے کبراء کو چیلنج کر رہے ہیں ‘ اسی قدر وہ اللہ کی مشیت اور رضا کے سامنے سرنگوں ہو رہے ہیں اور اللہ کی تقدیر کے سامنے راضی برضا ہو رہے ہیں اس لئے کہ اللہ کا علم وسیع اور حاوی ہے اور انسان کا علم محدود ہے ۔ اللہ کے علم کے سامنے کوئی انسان عزم اور جزم اختیار نہیں کرسکتا ۔ جہاں تک باری تعالیٰ کا تعلق ہے ۔ ایک مسلمان کیلئے اچھا رویہ یہی ہے کہ اس کے سامنے مکمل طور پر سرتسلیم خم کر دے ۔ آیت ” الا ان یشآء اللہ “۔ (7 : 89) ” الا یہ کہ ہمارا رب ہی ایسا چاہے ۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ۔ “ حضرت شعیب (علیہ السلام) تمام امور کو اللہ کے سپرد فرماتے ہیں ۔ مستقبل میں ان کے حالات جس رخ پر چلنے والے ہیں اور اہل ایمان کو جو کچھ پیش آنے والا ہے وہ سب کے سب اللہ کے سپرد ہیں ۔ وہ تو صرف یہ کرسکتے ہیں کہ تمام طاغوتی نظریات اور طاغوتی پشیکشوں کا انکار کردیں ‘ ملت طاغوتی ہیں واپس چلے جانے سے صاف صاف انکار کر دے اور مسلمانوں کی جانب سے بھی عزم صمیم ظاہر کردیں ۔ اور اس بات کا اصولی طور پر قطعی انکار کردیں ۔ لیکن وہ مشیت الہیہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ معاملات کا دارومدار تو مشیت الہیہ پر ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) اور اہل ایمان کا علم محدود ہے اور رب ذوالجلال کا علم لامحدود ہے لہذا وہ اللہ کے وسیع اور محیط علم اور اس کی مشیت کی طرف اپنے معاملات کو سپرد کرتے ہیں ۔ یہ ہے اللہ کے ایک دوست کا طرز عمل اللہ کے ساتھ ۔ ان آداب کے ساتھ وہ اللہ کے اومرا نواہی کو تسلیم کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اللہ کی مشیت اور تقدیر پر کوئی احسان نہیں جتلاتے ۔ نہ وہ اللہ کے ارادے اور مشیت میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہیں ۔ دوست کی جانب سے جو پیش آئے منظور ہے ۔ یہ ہے اللہ کے ایک دوست کا طرز عمل اللہ کے ساتھ ۔ ان آداب کے ساتھ وہ اللہ کے اوامر ونواہی کو تسلیم کرتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ اللہ کی مشیت اور تقدیر پر کوئی احسان نہیں جتلاتے ۔ نہ وہ اللہ کے ارادے اور میشت میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہیں ۔ دوست کی جانب سے جو پیش آئے منظور ہے۔ یہاں حضرت شعیب اپنی قوم کے طاغوتوں اور ان کے وعدو وعید اور دھمکیوں کو ایک طرف چھوڑ دیتے ہیں اور اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں نہایت ہی توکل اور نہایت ہی اعتماد کے ساتھ اور دعا کرتے ہیں کہ اے رب ہمارے اور ہماری اس طاغوتی قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ آیت ” عَلَی اللّہِ تَوَکَّلْنَا “ (7 : 89) ” اللہ پر ہی ہم نے اعتماد کیا ہے ۔ اے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔ “ یہاں ہم ایک خیرہ کن منظر دیکھتے ہیں۔ ایک نبی اور خدا کے ایک دوست کے قلب میں حقیقت الہیہ کی تجلیات صاف نظر آتی ہیں ۔ نبی جانتے ہیں کہ قوت کا منبع کہاں ہے اور ایک مومن کے لئے آخری پناہ گاہ کونسی ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ آخری فیصلے اور فتح وشکست کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ اس لئے وہ رب واحد پر توکل کرتا ہے اور اس معرکے میں کود پڑتا ہے جو نبی اور اہل ایمان پر مسلط کردیا گیا ہے اور جو حالات نے لابدی کردیا ہے ۔ رب ذوالجلال کی جانب سے عطا کردہ فتح کے سوا یہ معرکہ سر نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ ہیں وہ حالات جن میں کفار اہل ایمان کو ڈراتے دھمکاتے ہیں اور ان کو اپنے دین سے دور کرنے کی سعی کرتے ہیں

الأعراف 7:90

آیت ” وَقَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قَوْمِہِ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْْباً إِنَّکُمْ إِذاً لَّخَاسِرُونَ (90) ” اس کی قوم کے سرداروں نے ‘ جو اس کی بات ماننے سے انکار کرچکے تھے ‘ آپس میں کہا ” اگر تم نے شعیب کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہوجاؤ گے ۔ “ یہ ہیں خدوخال اس معرکے کے جو انسانی تاریخ میں بار بار دہرایا جاتا ہے اگرچہ اس کی نوعیت کبھی نہیں بدلتی ۔ طاغوتی قوتیں سب سے پہلے داعی کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کہ وہ دعوت کو بند کر دے لیکن جب وہ اپنی ایمانی قوت پر اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے ڈٹ جاتا ہے ‘ دعوت کو جاری رکھتا ہے ‘ اس راہ میں ہر قسم کی مشکلات کو انگیز کرتا ہے اور دھمکیوں اور طاغوتی قوتوں کے حجم سے مرعوب نہیں ہوتا تو یہ قوتیں داعی کے متبعین کو اذیت دینا شروع کردیتی ہے۔ ان پر یہ مصائب محض انکے دین کی وجہ سے توڑے جاتے ہیں ۔ ان ظالموں کے پاس اپنے ظلم کے لئے کوئی جواز نہیں ہوتا لیکن انکے پاس مار دھاڑ اور پکڑ دھکڑ کی ظاہری قوتیں ہوتی ہیں ۔ انکے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی جس سے وہ اپنی جاہلیت پر عوام کو مطمئن کرسکیں ۔ خصوصا ان لوگوں کو مطمئن نہیں کرسکتے جنہوں نے حق کو پہچان لیا اور جن کی نظروں میں باطل خفیف و حقیر ٹھہرا کیونکہ ان لوگوں نے اپنا دین اللہ کے لئے خالص کردیا اور ہر قسم کا اقتدار اللہ کے حوالے کردیا ۔ ان کی نظروں میں اس کے سوا کوئی مقتدر اعلی ہوتا ہی نہیں ہے۔ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ جب حق و باطل علیحدہ علیحدہ متمیز ہوجاتے ہیں اور ایک دوسرے بالمقابل آجاتے ہیں تو پھر ان کے درمیان فیصلہ کن معرکہ ہوتا ہے اور اللہ خود فیصلہ کردیتا ہے ۔ چناچہ یہاں بھی ایسا ہی ہوا ۔

الأعراف 7:91

آیت ” فَأَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَأَصْبَحُواْ فِیْ دَارِہِمْ جَاثِمِیْنَ (91) ” مگر ہوا یہ ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے ۔ “ رجفہ ایسی آفت جو دہلا دیتی ہے اور اوندھا گرا دیتی ہے ‘ اس لئے کہ انہیں اپنی دھمکیاں اور دست درازیاں یاد آجائیں کہ وہی تو تھے جو اہل ایمان کو اذیتیں دیتے تھے ۔ اب اللہ تعالیٰ ان کے اس دعوے کا جواب انہیں الفاظ میں دیتے ہیں ۔ وہ کہتے تھے ۔ آیت ” لئن اتبعتم ۔۔۔۔ (7 : 91) ” اگر تم نے شعیب کا اتباع کیا تو تم برباد ہوجاؤ گے ۔ “ یہ بات وہ مومنین کو بطور تہدید کہتے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ ان کو ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہیں کہ جن لوگوں نے شعیب کی اطاعت کی وہ نہیں بلکہ وہ لوگ برباد ہوئے جنہوں نے مخالفت کی ۔

الأعراف 7:92

آیت ” الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ شُعَیْْباً کَأَن لَّمْ یَغْنَوْاْ فِیْہَا الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ شُعَیْْباً کَانُواْ ہُمُ الْخَاسِرِیْنَ (92) ” لوگوں نے شعیب کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں ہی نہ تھے ۔ شعیب کے جھٹلانے والے ہی آخرکار برباد ہوکر رہے “۔ آنکھ جھپکتے ہی ہم نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھروں میں اوندھے پڑے ہیں ‘ بےحس و حرکت گویا انہوں نے ان گھروں کو تعمیر نہیں کیا اور گویا اب ان گھروں میں ان کے کچھ آثار بھی باقی نہیں ہیں ۔ اب ان کی تاریخ کے ان صفحات کو اس طرح پست کرکے رکھ دیا جاتا ہے اور ان کو ذلیل و خوار کرکے چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ وہ رسول جو ان کا بھائی ہے ان سے جدا ہوجاتا ہے ‘ اس لئے کہ ان کی راہیں جدا ہیں ‘ اور ان کے نظریات جدا ہیں ۔ اب اس منظر میں نظر آتا ہے ۔ وہ رسول جو ان کا بھائی ہے ان سے جدا ہوجاتا ہے ‘ اس لئے کہ انکی راہیں ہیں ‘ اور انکے نظریات جدا ہیں ۔ اب اس منظر میں نظر آتا ہے کہ انکے انجام بھی جدا ہیں اور اب ان کے اس انجام بد پر ان کے حقیقی بھائی کو بھی کوئی تاسف نہیں ہوتا کہ کس طرح انہیں نیست ونابود کردیا گیا ہے ۔

الأعراف 7:93

آیت ” فَتَوَلَّی عَنْہُمْ وَقَالَ یَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُکُمْ رِسَالاَتِ رَبِّیْ وَنَصَحْتُ لَکُمْ فَکَیْْفَ آسَی عَلَی قَوْمٍ کَافِرِیْنَ (93) اور شعیب یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ” اے برادران قوم میں نے اپنے رب کے پیغامات تمہیں پہنچا دیئے اور تمہاری خیرخواہی کا حق ادا کردیا ۔ اب میں اس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے۔ “ اس لئے کہ وہ ایک ملت ہے اور یہ لوگ دوسری ملت ہیں ۔ اہل ایمان ایک قوم ہیں اور وہ دوسری قوم ہیں ۔ رہا سلسلہ نسب اور قوم تو اس دین میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ اللہ کے ہاں اس کا کوئی وزن نہیں ہے ۔ یہاں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے ۔ اس دین میں واحد رابطہ عقیدہ ونظریہ ہے اور اسی پر اتحاد وانفعال کا مدار ہے۔