Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الأعراف 7:94 – الأعراف 7:190

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الأعراف 7:94
  2. الأعراف 7:95
  3. الأعراف 7:96
  4. الأعراف 7:97
  5. الأعراف 7:98
  6. الأعراف 7:99
  7. الأعراف 7:100
  8. الأعراف 7:101
  9. الأعراف 7:102
  10. الأعراف 7:103
  11. الأعراف 7:104
  12. الأعراف 7:105
  13. الأعراف 7:106
  14. الأعراف 7:107
  15. الأعراف 7:108
  16. الأعراف 7:109
  17. الأعراف 7:110
  18. الأعراف 7:111
  19. الأعراف 7:112
  20. الأعراف 7:113
  21. الأعراف 7:114
  22. الأعراف 7:115
  23. الأعراف 7:116
  24. الأعراف 7:117
  25. الأعراف 7:118
  26. الأعراف 7:119
  27. الأعراف 7:120
  28. الأعراف 7:121
  29. الأعراف 7:122
  30. الأعراف 7:123
  31. الأعراف 7:124
  32. الأعراف 7:125
  33. الأعراف 7:126
  34. الأعراف 7:127
  35. الأعراف 7:128
  36. الأعراف 7:129
  37. الأعراف 7:130
  38. الأعراف 7:131
  39. الأعراف 7:132
  40. الأعراف 7:133
  41. الأعراف 7:134
  42. الأعراف 7:135
  43. الأعراف 7:136
  44. الأعراف 7:137
  45. الأعراف 7:138
  46. الأعراف 7:139
  47. الأعراف 7:140
  48. الأعراف 7:141
  49. الأعراف 7:142
  50. الأعراف 7:143
  51. الأعراف 7:144
  52. الأعراف 7:145
  53. الأعراف 7:146
  54. الأعراف 7:147
  55. الأعراف 7:148
  56. الأعراف 7:149
  57. الأعراف 7:150
  58. الأعراف 7:151
  59. الأعراف 7:152
  60. الأعراف 7:153
  61. الأعراف 7:154
  62. الأعراف 7:155
  63. الأعراف 7:156
  64. الأعراف 7:157
  65. الأعراف 7:158
  66. الأعراف 7:159
  67. الأعراف 7:160
  68. الأعراف 7:161
  69. الأعراف 7:162
  70. الأعراف 7:163
  71. الأعراف 7:164
  72. الأعراف 7:165
  73. الأعراف 7:166
  74. الأعراف 7:167
  75. الأعراف 7:168
  76. الأعراف 7:169
  77. الأعراف 7:170
  78. الأعراف 7:171
  79. الأعراف 7:172
  80. الأعراف 7:173
  81. الأعراف 7:174
  82. الأعراف 7:175
  83. الأعراف 7:176
  84. الأعراف 7:177
  85. الأعراف 7:178
  86. الأعراف 7:179
  87. الأعراف 7:180
  88. الأعراف 7:181
  89. الأعراف 7:182
  90. الأعراف 7:183
  91. الأعراف 7:184
  92. الأعراف 7:185
  93. الأعراف 7:186
  94. الأعراف 7:187
  95. الأعراف 7:188
  96. الأعراف 7:189
  97. الأعراف 7:190

الأعراف 7:94

جلد نمبر 3 آغاز۔ درس نمبر 78 ایک نظر میں اس سورة میں اب تک کے مضمون میں یہ سبق گویا ایک وقفہ ہے۔ اس سے قبل قوم حضرت نوح ، قوم ہود ، قوم صالح ، قوم لوط ، اور قوم شعیب (علیہم السلام) کے جو قصے بیان کئے گئے۔ اس وقفے میں ان پر مجموعی تبصرہ کیا گیا ہے۔ اور یہ وقفہ اس لئے کیا گیا تاکہ اس میں اس سنت الٰہیہ کا بیان کیا جائے جو اس کرۂ ارض پر جاری وساری ہے اور اس دنیا کی بستی کے مکذبین پر تقدیر الٰہی نے اسے نافذ کیا ہے ، یہاں لفظ " قریہ " استعمال کیا گیا جس سے مراد کوئی بڑا شبہہ ہے ، یا کوئی موجود مرکزی تہذیب ہے۔ یہ سنت الٰہیہ کا واحد اور اٹل قانون ہے اور اس کا نفاذ اللہ کی جانب سے تمام مکذبین پر ہوتا ہے۔ اور اسی سنت الٰہیہ سے انسانی تاریخ بنتی ہے ، بلکہ انسانی تاریخ کا اصلی پہلو ہی سنت الٰہیہ ہے۔ اور سنت الٰہیہ کا یہ کام اور غرض وغایت ہے کہ وہ جھٹلانے والوں کو رنج و الم میں مبتلا کرتی ہے۔ شاید کہ ان کے دل پسیج جائیں اور نرم ہوکر اللہ کی طرف مائل ہوجائیں اور اللہ کی حقیقت الوہیت اور اپنی حقیقت عبودیت کو اچھی طرح معلوم کرلیں۔ اور اگر وہ پھر بھی متوجہ نہ ہوں اور انہیں ہوش نہ آئے تو پھر اللہ ان مکذبین پر انی نعمتوں کی فراوانی کردیتا ہے۔ اور ان پر ہر طرف سے سہولیات اور نعمتوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور ان کو ڈھیل دی جاتی ہے اور پھر ان کی آبادی بڑھ جاتی ہے۔ وہ ناز و نعمت میں گھر کر عیاشیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور یہ ان کے لئے آزمائش ہوتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں وہ جن مشکلات میں مبتلا ہوئے ہیں ایسی ہی مشکلات ان سے قبل ان کے آباؤ اجداد پر بھی نازل ہوئی تھیں اور دنیا کے حالات ایسی ہی ڈگر پر نشیب و فراز کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔ وقالوا قدمس اباءنا الضراء والسراء (اور وہ کہتے ہیں کہ ایسی ہی مشکلات میں ہمارے آباء بھی متبلا ہوئے تھے اور ایسی ہی خوشحالی بھی ان پر آئی تھی) وہ ایسی ہی سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں اور غفلت کی زندگی بسر کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کو اللہ کی پکڑ آلیتی ہے اور ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ فراخیوں اور فراوانیوں اور مشکلات و مصائب میں اللہ کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اس آمائش میں اللہ کی جو حکمت ہوتی ہے وہ اس کا ادراک نہیں کرپاتے اور اللہ کے غضب میں جو لوگ مبتلا ہوتے ہیں۔ اور جو غافل اور لاپرواہ ہوتے ہیں ان کے انجام سے وہ نہیں ڈرتے اور وہ اسی طرح عیش و عشرت میں زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح حیوان زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ اسی مدہوشی کی حالت میں ہوتے ہیں کہ ان پر عذاب الٰہی کا نزول ہوجاتا ہے۔ اگر وہ ایمان لاتے اور خدا خوفی کا رویہ اختیار کرتے تو ان کا یہ حال نہ ہوگا بلکہ ان پر آسمانوں سے مزید و برکات نازل ہوتیں اور زمین سے اور آسمانوں سے ان پر رزق نازل ہوتا اور ان پر اللہ اپنی طمانیت کی وہ حالت نازل کرتا جس سے ان کی زندگی نہایت اطمینان سے بسر ہوتی اور اس اطمینان اور فراخی کے بعد ان پر زوال اور بربادی کی کوئی حالت نہ آتی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو ان ہلاک کئے جانے والے کے بعد زمین کے وارث اور اہل اقتدار بنائے گئے۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ غفلت اور غرور سے اپنے آپ کو بچاؤ اور ہر وقت بیدار رہو اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ ان کو اس تاریخی حقیقت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ انسانی تاریخ میں اللہ نے کئی اقوام کو پے در پے ہلاک کیا اور ان کی جگہ دوسری اقوام کو مواقع فراہم کئے مگر انہوں نے ہلاک ہونے والوں کے انجام سے نصیحت نہ پکڑی لہذا بستیوں والوں کا انتظار اللہ کا قانون مکافات کر رہا ہے اور انسانی تاریخ میں اس کی واضح مثالیں موجود ہیں۔ یہ وقفہ ، حضور ﷺ سے خطاب پر ختم ہوتا ہے۔ آپ کو کہا جاتا ہے تلک القری نقص علیک من انبیائہا۔ (یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سنا رہے ہیں) تاکہ آپ کو ان لوگوں کی حقیقت سے آگاہ کیا جائے اور یہ بتایا جائے کہ ان کا یہ انجام سنت الٰہیہ کے مطابق ہوا۔ فرمایا جاتا ہے۔ وما وجدنا لاکثرہم من عہد وان وجدنا اکثرہم لفسقین۔ (ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا) یہ آخری رسول اور اس آخری رسول کی امت تمام رسولوں کی اخلاقی دولت کے وارث ہیں اور صرف یہ رسول اور ان کی امت ہی ان تاریخی واقعات و اطلاعات سے فائدہ اور نصیحت لیتے حاصل کرتے ہیں۔ تشریح آیات 94 تا 102: یہاں سیاق کلام سے غرض وغایت یہ نہیں ہے کہ کسی متعین حادثے کو بیان کیا جائے بلکہ یہاں مقصد عمومی سنت الٰہیہ کا بیان ہے۔ یہاں کسی خاص قوم کے خدو خال بیان کرنا مطلوب نہیں ہیں ، بلکہ اللہ کے نظام قضا و قدر کے اقدامات کا بیان مقصود ہے۔ چناچہ یہاں اللہ کے اس ناموس کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ جس کے مطابق یہ پورا نظام کائنات چل رہا ہے اور تمام واقعات اس کے مطابق رونما ہوتے ہیں اور اس ناموس کی وجہ سے اس جہان میں انسانی تاریخ اپنا سفر کرتی ہے اور " رسالت " بھی اس کرہ ارض پر ناموس الٰہی کا ایک حصہ ہے ، کیونکہ ناموس الٰہی بھی در اصل ایک وسیع تر اور عظیم تر رسالت ہے۔ یہ کہ اس جہان میں واقعات بغیر کسی پروگرام کے وقوع پذیر ہوتا ہے وہ تقدیر الٰہی کے مطابق ہوتے ہیں ، اس کی حکمت کے عین مطابق ہوتا ہے اور اس کے مقرر کردہ مقاصد و اہداف کے مطابق ہوتا ہے اور آخری نتائج مشیت الٰہیہ کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں اور یہ مشیت سنت الٰہیہ کے مطابق کام کرتی ہے اور یہ ناموس اور سنت دونوں مشیت الٰہیہ کے وضع کردہ ہیں۔ ماضی کی ان بستیوں کو جو واقعات پیش آئے وہ اللہ کی بےقید مشیت کی وضع کردہ سنت کے مطابق پیش آئے اور اسی طرح بعد میں آنے والی اقوام کو بھی اسی عالمی ناموس کے مطابق چلایا جائے گا۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق انسان کا ارادہ اور اس کی جدوجہد ، اس کی تاریخ کی تشکیل میں ایک اہم عنصر ہے ، لیکن انسانی جدوجہد اور انسانی ارادے کی بےقید مشیت کے وسیع دائرے کے اندر رہتے ہیں اور اللہ کا نظام قضا و قدر ان کو گھیرے ہوئے ہوتا ہے۔ واللہ بکل شیئ محیط۔ اور اللہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ انسان کا یہ ارادہ اور اس کی یہ جدوجہد اللہ کے نظام مشیئت اور نظام قضا وقدر کے اندر رہتے وہئے اس پوری کائنات کی حرکت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ یہ انسان اور اس کی جدو جہد اس کائنات سے متاثر بھی ہوتے ہیں اور متاثر کرتے بھی ہیں ، گویا عوامل اور مناظر کا ایک بڑا عجوبہ ہے جس سے انسانی تاریخ تشکیل پاتی ہے اور یہ دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی تاریخ کی اقتصادی تعبیر اور انسانی تاریخ کی طبیعاتی تعبیر اور انسانی تاریخ کی جغرافیائی تعبیر نہایت ہی محدود اور چھوٹے دائرے نظر آتے ہیں جبکہ اسلامی تصور تاریخ کا دائرہ بہت ہی وسیع ہے اور اس کے مقابلے میں یہ محدود دائرے انسان کے بنائے ہوئے کھیل نظر آتے ہیں اور بےڈھب لکیریں دکھائی دیتی ہیں۔ وَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْ قَرْيَةٍ مِّنْ نَّبِيٍّ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُوْنَ ۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو ، اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اتر آئیں۔ یہ بات محض کھیل تماشے کے طور پر نہیں ہوتی ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت ہی بلند ہے کہ وہ لوگوں کو تنگی اور سختی میں محض کھیل تماشے کی غرض سے مبتلا کرے اور ان پر جسمانی اور مالی پریشانیاں آئیں۔ اللہ کی شان سے یہ تصور مطابقت ہی نہیں رکھتا کہ لوگوں کو رنج ومحن میں اس لئے مبتلا کیا جائے کہ الٰہ ان سے انتقام لیتا ہے اور کینہ کی تسکین کرتا ہے۔ جیسا کہ تمام بت پرستانہ مذاہب میں الٰہوں کی طرف اس قسم کے قصے مشہور ہیں اور جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان الٰہوں کا کام یہ ہے کہ وہ عبث مشغلوں اور انتقامی کارروائیوں میں ہر وقت لگے رہتے ہیں۔ اور انسانوں کے معمولی جرائم پر سخت سے سخت انتقامی کارروائی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے پھر لوگوں کو سختیوں اور مشکلات سے کیوں دو چار کیا جاتا ہے ؟ صرف اس لئے کہ جن لوگوں کی فطرت بالکل مسخ نہ ہوچکی ہو اور اس میں بھلائی کی کچھ نہ کچھ رمق موجود ہو ، وہ فطرت جاگ اٹھے اور وہ دل نرم ہوجائیں جن میں کچھ بھی لچک موجود ہے اور جو بالکل ہی پتھر نہ بن گئے ہوں اور یہ کہ یہ ضعیف انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوجائے جو قہار و جبار ہے اور وہ عاجزی اور تضرع سے اللہ کی طرف متوجہ ہوں ، اور اس کی رحمت کے طلبگار ہوں۔ اور اس عاجزی اور تضرع کے اظہار کے ذریعے اس بات کا اعلان کردیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں کیونکہ اللہ کی بندگی کرنا انسانی وجود کی اصل غرض وغایت ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو انسانوں کی جانب سے عاجزی کرنے اور بندگی کے اظہار کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ انسان کی ضرورت اور اس کا مقصد وجود ہے۔ وما خلقت الجن والنس الا لیعبدون۔ ما ارید منہم من رزق وما ارید ان یطعمون۔ ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین۔ " میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ میں ان سے رزق نہیں چاہتا اور نہ ان سے کھانے کا طلبگار ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ رازق اور پختہ قوت کا مالک تو صرف اللہ ہی ہے "۔ اور حدیث قدسی میں آتا ہے کہ " اگر تمام انسان اور جن ، ایک شخص کے دل کی طرح اللہ کی عبادت اور بندگی پر جمع ہوجائیں تو یہ مکمل اجتماع اللہ کی حکومت میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کرسکتا اور اگر تمام جن و انس ایک شخص کے دل کی طرح اللہ کی معصیت پر جمع ہوجائیں تو بھی اللہ کی حکومت سے کسی چیز کو کم نہیں کرسکتے "۔ لیکن لوگوں کی جانب سے اعلان بندگی اور اللہ کے سامنے عجز و نیاز مندی کا اظہار خود ان کے لئے مفید ہے۔ انسان کی زندگی اور انسان کا معاشی نظام بھی اس سے اصلاح پذیر ہوتا ہے جب لوگ صرف اللہ کی بندگی اکا اظہار کرتے ہیں تو وہ اللہ کی بندگی اور غلامی کے سوا تمام بندگیوں اور غلامیوں سے نجات پا لیتے ہیں ، وہ شیطان کی غلامی سے بھی بچ جاتے ہیں جو انسان کو گمراہ کرنے کے درپے ہے ، اور اس سورة کے آغاز ہی میں بتا دیا گیا تھا کہ شیطان کا مقصد ہی یہ ہے کہ وہ انسانوں کو گمراہ کردے۔ اسی طرح اللہ کی غلامی اختیار کرکے انسان اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے بھی نجات پاتے ہیں اور وہ شیطان کی پیروی کرنے سے حیا کرتے ہیں اور اس طرح ان کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے کسی قول وعمل سے اللہ کے غضب کے مستحق نہیں ہوتے۔ وہ مشکل حالات میں بھی اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور عاجزی کرتے ہیں اور اس راہ پر استقامت کے ساتھ گامزن ہوتے ہیں جو انہیں آزادی کی طرف لے جاتی ہے ، جس میں ان کی اخلاقی تطہیر ہوتی ہے اور وہ ہوا و ہوس کے غلام بھی نہیں ہوتے اور دوسرے افراد کی غلامی سے بھی بالا ہوجاتے ہیں۔ چناچہ اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ ہر بستی کے باشندوں کے لئے ایک نبی بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ اسے جھٹلائیں اور پھر انہیں پکڑا جائے اور اس پکڑ کا آغاز اس طرح ہو کہ ان کو نفسیاتی اور روحانی مصائب میں مبتلا کردیا جائے اور ان کو بدنی اور مالی تاوان کی اذیت کا مزہ چکھایا جائے تاکہ یہ اذیتیں سہ کر ان کے دل دوبارہ زندہ ہوں۔ یہ قاعدہ ہے کہ جب انسان رنج و الم میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کی شخصیت کے اندر سے کمزوریاں دور ہوجاتی ہیں اور اس کے اندر تہذیب آجاتی ہے اور اندر سے خیر و برکت کے خشک سوتے تازہ ہو کر پھوٹ نکلتے ہیں۔ زندہ دلوں کے اندر احساس تیز ہوجاتا ہے اور انسان اللہ کی رحمتوں کے سائے کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور پھر جب اندوہناک لمحات میں گھرے ہوئے ضعیف آدمی پر اللہ کی رحمت کی ہواؤں کے خوشگوار جھونکے چلنے لگتے ہیں تو ایسا انسان نہایت ہی اطمینان اور سکینت محسوس کرتا ہے۔ لعلہم یضرعون۔ شاید کہ وہ عاجزی پر اتر آئیں۔

الأعراف 7:95

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ ۔ " اس کے بعد ہم نے ان کی بد حالی کو خوشحالی سے بدل دیا "۔ سختی کی جگہ نرمی آگئی ، تنگی کی جگہ فراوانی آگئی۔ غربت کی جگہ انعامات آگئے ، بیماری کی جگہ صحت آگئی ، اولاد کی کمی کی جگہ کثرت اولاد آگئی ، ہر چیز میں کمی کی جگہ کثرت نے لے لی ، اور خوف کی جگہ امن آگیا۔ چناچہ عیش و آرام کے تمام ساز و سامان مہیا ہوگئے ، ناز و نعمت اور کھانے پینے کے لئے سامان فراہم ہوگئے۔ لیکن اللہ کے اس اصول کے مطابق در اصل یہ سب کچھ ایک قسم کی ازمائش تھی۔ اگر کسی کو مصائب میں مبتلا کر کے آزمائش میں ڈالا جائے تو بعض اوقات اس پر لوگ صبر کرتے ہیں اور اکثر لوگ اس کو برداشت کرتے ہیں۔ کیونکہ شدت سے فریق مخالف میں دفاعی قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ ظلم اور شدت کا شکار شخص بعض اوقات اللہ کو یاد کرکے قوت حاصل کرتا ہے۔ بشرطیکہ اس میں بھلائی کی کوئی رمق ابھی باقی ہو۔ ایسا شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے عاجزی اور زاری کرتا ہے اور ذکر الٰہی کے سایہ میں وہ اطمینان و سکون حاصل کرلیتا ہے۔ یاد رہے کہ ذکر الٰہی کے آفاق وسیع ہیں اور اس کے میدان طویل و عریض ہیں اور اللہ کی جانب سے ذاکرین کے لئے جو وعدے ہوتے ہیں ، ان میں ان کے لئے خشخبری ہوتی ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی کو مال کی فراوانی کے ذریعے آزماتا ہے تو یہ ازمائش غربت و افلاس کے مقابلے میں بہت سخت ہوتی ہے۔ دولت مندی کی وجہ سے انسان غفلت کا شکار ہوجاتا ہے۔ پھر وہ سرکشی اختیار کرلیتا ہے اور بہت ہی کم لوگ ایسے حالت میں صبر کرسکتے ہیں اور ایسے کم لوگ ہی پھر اللہ کے صحیح بندے ہوتے ہیں۔ ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰي عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ ۔ " پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ " ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہتے ہیں " یعنی یہ لوگ پھلے پھولے اور زمین میں پھیل گئے ، عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے لگے ، ان کو زندگی کی تمام سہولیات فراہم ہوگئیں اور انہوں نے سب کرنا شروع کردیا۔ کسی معاملے میں احتیاط یا ڈر ان کی راہ میں حائل نہ رہا۔ عَفَوْا کے لفظ سے جہاں کسی چیز کی کثرت کا اظہار ہوتا ہے وہاں اس سے لاپرواہی کی نفسیات کا اظہار بھی ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز کو خفیف اور ہلکی سمجھنے لگے۔ ہر معاملے میں خواہ و شعوری دنیا سے متعلق ہو یا طرز عمل کے ساتھ متعلق ہو ، اس میں وہ سہل انگار ہوگئے تھے۔ یہ نفسیاتی اور عملی صورت حالات ان تمام لوگوں کے اندر پائی جاتی ہے جن لوگوں کو مال و دولت کی فراوانی حاصل ہو اور وہ بڑے آرام کی زندگی بسر کر رہے ہوں۔ خصوصاً جبکہ عیش کوشی میں وہ ایک طویل عرصے تک غرق رہے ہوں ، خواہ افراد ہوں یا اقوام ہوں گویا ان کے دل و دماغ سے سنجیدگی اور احساس جاتا رہا ہے اور وہ بڑے بڑے معاملات میں بھی سنجیدہ ہونا پسند نہیں کرتے۔ وہ کھلے ہاتھوں خرچ کرتے ہیں ، وسیع پیمانے پر داد عیش دیتے ہیں ، عیش و عشرت میں ہر وقت گم رہتے ہیں اور نہایت ہی لاپرواہی سے معاملات کو لیتے ہیں اور ایسے ایسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں جس کے بارے میں سن کر بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ لوگ ایسے افعال کا ارتکاب بڑی بےباکی سے کرتے ہیں وہ اللہ کے غضب سے نہیں ڈرتے۔ وہ عوام سے شرم محسوس نہیں کرتے۔ ان سے ہر قسم کی ذلت کا صدور بڑی لاپرواہی سے ہوتا ہے۔ وہ اس کائنات میں جاری سنت الٰہیہ کو نہیں پاتے۔ ان آزمائشوں کو نہیں سمجھتے ، اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ معاملات یہاں یونہی چلتے رہتے ہیں ، ان کا کوئی معلوم سبب نہیں ہے اور نہ یہ کائنات کسی منصوبے کے ساتھ چل رہی ہے اور یہ کہ (ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے رہے ہیں) قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ ہم نے مشکلات کا دور گزار لیا ہے ، اب ہمارے اچھے دن آئے ہیں اور یہ دن بہت ہی اچھی طرح بسر ہو رہے ہیں اور یہ بغیر کسی منصوبے کے گزر رہے ہیں۔ یہ وہ آخری حد ہے کہ جب یہ لوگ غفلت میں ڈوب جاتے ہیں ، ہر نصیحت کو بھول کر لہو و لعب اور سرکشی میں مبتلا ہوجاتے ہیں تو اس حد پر انجام بد ان کو آ لیتا ہے اور یہ سنت الٰہیہ کے مطابق ہوتا ہے۔ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ ۔ آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا اور انہیں خبر تک نہ ہوئی " ان کی غفلت ، غرور اور اللہ سے ان کی دوری پر ان کو یہ سزا دی گئی۔ انہوں نے اپنی خواہشات کو کھلی چھٹی دے دی تھی۔ وہ کسی بھی برے کام کے ارتکاب میں کوئی باک نہ کرتے تھے۔ اور ان کے دلوں کے پیمانے سئے خدا خوفی کا آخری قطرہ بھی ختم ہوگیا تھا۔ یہی ہے اللہ کی سنت ، اس کائنات میں اور وہ اسی ڈگر پر چلتی رہتی ہے۔ یہ سنت اللہ کی مخلوق میں اس کی مشیت کے مطابق کام کرتی ہے۔ انسانی تاریخ کا قافلہ انسان کے ارادے اور عمل کے ساتھ ، اللہ کی قدرت اور مشیت کے وسیع دائرے میں آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اور قرآن کریم اس سنت الٰہیہ کو لوگوں کے لئے کھول کھول کر بیان کرتا ہے اور بار بار انہیں اس سے ڈراتا اور متنبہ کرتا ہے۔ یہ فتنہ عذاب الٰہی کا فتنہ ہے اور اس میں انسان کو مصائب و مشکلات میں مبتلا کرکے آزمایا جاتا ہے اور اس میں انسان کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ ہر وقت چوکنا رہے اور برے انجام سے بچتا رہے ، کیونکہ یہاں مکافات عمل کا قانون جاری وساری ہے اور مکافات عمل کا قانون اٹل ہے۔ اس لئے جو شخص چوکنا نہ رہے ، جس نے خدا خوفی کا راستہ نہ اپنایا ، اور احتیاط نہ کی وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا۔ اور وہ اپنے آپ کو ایسے عذاب سے دوچار کرلے گا جو ٹلنے والا نہ ہوگا۔ اور اللہ کسی نفس پر کوئی حکم نہیں کرتا۔

الأعراف 7:96

یہ اللہ کی سنت جاریہ کا ایک دوسرا پہلو ہے ، اگر بستیوں کے لوگ جھٹلانے کے بجائے مان لیتے اور بدکرداری کے بجائے تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو اللہ ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا۔ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ۔ اور بلا حساب ان کو دیتا رہتا ، آسمانوں سے اور زمین سے ان پر برکات کی بارش ہوتی۔ قرآن نے جو انداز تعبیر اختیار کیا ہے ، اس کے پیش نظر ہم اسے ہر طرح کی فراوانی سے تعبیر کرسکتے ہو جو کسی ایک جنس ضرورت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ ہر قسم اور ہر نوع کی فراوانی۔ اس آیت اور اس سے قبل کی آیت میں ہم ایک عظیم حقیقت سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کا تعلق بیک وقت انسانی نظریات اور انسانی زندگی کے حقائق سے بھی ہے اور اس پوری کائنات کے حقائق سے بھی ہے۔ اور ان کے اندر انسانی تاریخ کا اہم عنصر اور عامل بھی بیان کیا گیا ہے۔ اس اہم فیکٹر کو دنیا کے انسانوں کے وضع کردہ نظامہائے حیات نے پوری طرح نظر انداز کیا ہے بلکہ اس کا انکار کیا ہے۔ وہ فیکٹر ہے ایمان و عقیدہ اور خدا خوفی کا۔ ایمان و عقیدے اور خدا خوفی کا مسئلہ انسانی زندگی کے حقائق سے جدا چیز نہیں ہے اور نہ وہ انسانی تاریخ سے کوئی الگ چیز ہے بلکہ ایمان باللہ اور خدا خوفی وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی برکات نازل فرماتے ہیں یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ ایفائے عہد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ہم لوگ جو اللہ پر ایمان لانے والے ہیں ، ہماری شیوہ تو یہ ہے کہ اللہ کے اس عہد کو مومنانہ دل سے لیتے ہیں۔ اس کی تصدیق کرتے ہیں اور اس کے علل و اسباب کو سمجھنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے ، اور اس آیت کے مدلول و مفہوم کی تصدیق میں لمحہ بھر تردد بھی نہیں کرتے۔ اس لئے کہ ہمارا ایمان تو ہے ہی ایمان بالغیب اور اس ایمان کے تقاضے کے طور پر ہم اللہ کے اس عہد کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس کے بعد ہم پھر اللہ کے اس عہد پر غور و فکر کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے خود حکم دیا ہے کہ تم قرآن میں غور و فکر کرو اور غور و فکر کے بعد ہمیں اس بات کی ماہیت و حقیقت کا علم بھی ہوجاتا ہے۔ اللہ پر ایمان لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی فطرت زندہ ہے اور فطری حقائق کے ادراک اور قبول کرنے کی اہلیت اس میں موجود ہے۔ ایسے شخص کا ادراک سچا ہے اور اس کی انسانی بنیاد صحیح وسالم ہے۔ اور اس شخص کے دماغ میں اس قدر وسعت ہے کہ وہ اس کائنات کے حقائق کا ادراک کرسکے۔ یہ تمام امور ایسے ہیں جو عملی زندگی میں انسان کی کامیابی کے ضامن ہیں۔ اللہ پر ایمان ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو آگے بڑھاتی ہے ، یہ انسانی شخصیت کی منتشر قوتوں کو جمع کرکے انہیں ایک جہت اور رخ پر ڈال دیتی ہے اور اس جہت میں انسانی شخصیت اللہ کی قوت کی مدد سے آگے بڑھتی ہے اور اس زمین پر اللہ کے اقتدار اعلی کے قیام کے لئے جدوجہد کرتی ہے۔ اس کرہ ارض کی تعمیر میں لگ جاتی ہے۔ نتیجۃ اس کرۂ ارض سے فتنہ و فساد کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جاتا ہے اور انسان اس زمین کی ترقی اور تعمیر میں لگ جاتا ہے اور اس طرح انسان عملی زندگی میں کامیاب رہتا ہے۔ اللہ پر پختہ ایمان انسان کو خود اپنی خواہشات کی غلامی اور دوسرے انسانوں کی غلامی سے نجات دیتا ہے کہ اور اس میں شک نہیں کہ صرف اللہ کا غلام اور دوسری تمام غلامیوں سے آزاد انسان ہی اس کرۂ ارضپر خلافت راشدہ کا صحیح نظام قائم کرسکتا ہے۔ ایسا شخص ان لوگوں سے قوی تر ہوگا جو ایک دوسرے کے غلام ہیں یا اپنی خواہشات کے غلام ہیں۔ خدا کا خوف ایک دانشمندانہ بیداری ہے۔ اس سے انسام سرکشی ، غرور ، بےراہ روی جیسے اخلاقی عیوب سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس کی سرگرمیاں اعتدال اختیار کرلیتی ہیں اور اس کی زندگی کا اسلوب سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ انسان کی پوری جدوجہد محتاط ہوجاتی ہے۔ اور وہ سرکشی کا ارتکاب کرکے اپنی حدود سے آگے نہیں بڑھتا اور اپنی زندگی کو صالحانہ حدود میں رکھتا ہے۔ ایک صالح انسان کی زندگی کا نقشہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی زندگی متوازن اور اعتدال پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ آگے بڑھنے اور رکاوٹوں کے درمیان توازن پیدا کرلیتا ہے۔ وہ زمین پر محنت کرتا ہے اور آسمان کی طرف نظریں اٹھائے ہوئے ہوتا ہے۔ وہ ہوائے نفس ، سرکشی اور تجاوز سے آزاد ہوتا ہے اور اس کے دل میں ہر وقت خوف خدا ہوتا ہے۔ ایسا شخص ایک صالح ، نتیجہ خیز اور مفید کردار کا مالک ہوتا ہے اور ایسا ہی شخص اللہ کی امداد کا مستحق ہوتا ہے اور اس کے دل میں خدا کا خوف ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے اوپر برکات الٰہی کے سائے نزول کرتے ہیں۔ ان کے کام میں خیر و برکت عام ہوتی ہے اور اس کی زندگی پر فلاح سایہ فگن ہوتی ہے۔ اس کی زندگی بظاہر اسباب کے مطابق چل رہی ہوتی ہے لیکن درحقیقت ایک غیبی قوت اس کی مددگار ہوتی ہے۔ وہ برکات جو مومنین اور اہل تقوی پر سایہ فگن ہوتی ہیں وہ مختلف النوع ہوتی ہیں اور اس آیت میں ان کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں لیکن وہ یقیناً موجود ہوتی ہیں۔ اس آیت میں جو اشارات ہیں ان سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان پر ہر جانب سے برکات کا نزول ہورہا ہوتا ہے۔ ہر طرف سے برکت کے چشمے پھوٹتے ہیں جن کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ لہذا اس سے مراد ہر قسم و نوع کی برکات ہیں ، ہر شکل و صورت میں ان کا نزول ہوتا ہے ، بعض ایسی ہیں جو لوگوں کے وہم و خیال میں بھی نہیں ہوتیں اور بعض ایسی ہوتی ہیں کہ ان کو وہ سمجھتے ہیں۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ پر ایمان لانا اور اللہ سے خوف کھانا محض پرائیویٹ عبادت کا مسئلہ ہے اور اس کا انسان کی عملی اور اجتماعی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایسے لوگوں نے در اصل حقیقت ایمان کو سمجھا ہی نہیں ہے۔ ان کا گرض ہے کہ وہ دیکھیں کہ اللہ کے نزدیک تو ایمان کا عملی اور اجتماعی زندگی کے ساتھ تعلق موجود ہے۔ اور اس پر اللہ گواہی دے رہا ہے اور اللہ کی شہادت کافی شہادت ہے۔ اور اللہ اسے ان باتوں سے متعلق کرتا ہے جن کے بارے میں لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ عملی اور اجتماعی زندگی کے معاملات ہیں۔ وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ ۔ " اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے مگر انہوں نے تو جھٹلایا ، لہذا ہم نے اس بری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے۔ بعض لوگ دیکھتے ہیں کہ بعض اقوام کا نقطہ نظر اس معاملے میں یوں ہے : " ہم مسلمان ہیں اور ہمارے اوپر رزق کے دروازے بند ہیں اور ہمارے حصے میں خشک سالی اور تباہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ اقوام ایسی ہیں جو نہ مومن باللہ ہیں اور نہ اہل تقویٰ میں سے ہیں لیکن ان پر ہر طرف سے رزق کی بارش ہو رہی ہے۔ ان کے پاس بےپناہ قوت ہے اور وہ دنیا میں با اثر ہیں۔ لہذ سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا آیت میں جس سنت الٰہیہ کا ذکر ہوا ہے وہ ہم پر صادق کیوں نہیں آتی ؟ " در اصل ایسے لوگوں نے اس مسئلے کے صرف ظاہری اور سطحی پہلو کو لیا ہے۔ یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ، وہ مومن اور متقی ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے۔ نہ ان لوگوں نے خالصتاً اللہ کی بندگی اور غلامی کا رویہ اپنایا ہے۔ ان کی عملی زندگی میں لا الہ الا اللہ کی شہادت موجود نہیں ہے بلکہ یہ لوگ اپنے میں سے بعض غلاموں کی غلامی کر رہے ہیں۔ " یہ " غلام ان کے الٰہ بنے ہوئے ہیں اور ان کے لئے قانون بناتے ہیں۔ نہ صرف قوانین بلکہ ان کے لئے حسن و قبح کی اقدار بھی تجویز کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ ایسے لوگ کہاں مومن ہیں۔ مومن کا تو فریضہ ہی یہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو ختم کردے جو ان پر مقتدر اعلیٰ بنے ہوئے ہیں۔ مومون کا تو پہلا عمل یہ ہے کہ وہ اپنے میں سے کسی کو بھی الٰہ و رب نہ بنائے جو ان پر اپنے قوانین اور اپنا نظام نافذ کرے۔ جب ایسے مدعیان کے اسلاف حقیقی مومن اور مسلم تھے تو ان کے سامنے پوری دنیا سرنگوں تھی اور ان پر آسمان اور زمین کی برکات کی بارش ہوتی تھی اور ان کے ساتھ ان کے رب کا وعدہ سچا تھا ، کیونکہ وہ خود سچے تھے۔ رہے وہ لوگ جن پر رزق کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں تو یہ بھی سنت الٰہیہ کا ایک حصہ ہے۔ ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰي عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَاۗءَنَا الضَّرَّاۗءُ وَالسَّرَّاۗءُ " پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ " ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں "۔ ان لوگوں پر جو انعامات ہوتے ہیں وہ در اصل ان کے لئے ابتلاء و آزمائش ہے اور یہ ابتلاء مصیبت کی ابتلاء سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ کفار پر جو انعامات ہوتے ہیں اور اہل ایمان پر جو انعامات ہوتے ہیں ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ برکت الٰہی بعض اوقات ایک قلیل چیز میں بھی اپنے رنگ دکھاتی ہے۔ جب انسان ایک تھوڑی چیز سے اچھی طرح فائدہ اٹھاتا ہے اور امن و سکون کے ساتھ خوشی اور اطمینان محسوس کرتا ہے ، دوسری جانب بڑی بڑی ترقی یافتہ اور مالدار اقوام ایسی ہیں جو پریشانی اور عدم اطمینان کی زندگی بسر کرتی ہیں حالانکہ بظاہر وہ نہایت ہی امن وامان سے زندگی بسر کرتی ہیں اور ان کے افراد کے درمیان کوئی تعلق باقی نہیں ہے۔ افراد معاشرہ کے درمیان بےچینی کا دور دورہ ہے۔ اور قریب ہے کہ یہ اقوام مکمل طور پر تباہ ہوجائیں۔ سازوسمان بسیار مگر اطمینان مفقود ہے۔ ہر چیز کی فراوانی ہے ، لیکن لوگ بدکردار ہیں ، ان کی خوشحالی ہی ان کے لئے برے مستقبل کا پتہ دے رہی ہے اور یہ خوشحالی ان کے لئے انتقام الٰہی کا سبب ہے۔ اہل ایمان کو جو برکات ملتی ہیں ، ان کے کئی رنگ ہیں ، ان کی ضروریات کی چیزوں میں برکت ہوتی ہے ، ذات انسانی میں برکت ہوتی ہے ، انسانی شعور میں برکت ہوتی ہے ، پاکیزہ زندگیوں میں برکت ہوتی ہے اور ان برکات کے نتیجے میں زندگی بڑھتی ہے اور اس کے اندر سکون و اطمینان پیدا ہوتا ہے ، یہ نہیں کہ ہر طرف سہولیات تو وافر ہوں اور انسان جہنم میں ہو جسمانی اور نفسیاتی اضمحلال میں مبتلا ہو۔ سنت جاریہ جس پر تاریخ انسانی بھی ایک گواہ ہے اور جس کے بیان کے متصل بعد اب روئے سخن اہل غفلت کی طرف مڑتا ہے۔ ان حالات کے جاننے اور دیکھنے کے بعد جن میں مکذبین کو تباہ و برباد کیا گیا اور ان پر عذاب نازل ہوا جن کی وجہ سے پڑھنے والے کے شعور اور وجدان کے اندر ایک ہمہ گیر ارتعاش پیدا ہوگیا کیونکہ ان لوگوں نے اپنی نرمی اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے آزمائش انعامات اور زندگی کے سازو سامان میں غفلت کا مظاہرہ کیا اور حکمت الٰہیہ کو نہ سمجھ سکے کہ یہ تو در اصل ان کی آزمائش ہے۔ ایسے حالات میں اب سیاق کلام ان اہل غفلت کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو اپنے حال میں مست ہیں۔ ایسے لوگوں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ رات اور دن کے کسی بھی وقت میں ان کو عذاب الٰہی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے ، ایسے حالات میں کہ لہو و لعب اور خواب غفلت میں ڈرے ہوئے ہوں۔

الأعراف 7:97

یعنی کیا لوگ سنت الٰہیہ کو دیکھتے ہوئے بھی اس قدر بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو خوشحالی اور فراوانی دے کر اور شدائد و مصائب میں مبتلا کرکے آزماتا ہے۔ اس کے بعد ناشکروں اور نافرمانوں اور جھٹلانے والون کو تباہ و برباد کرتا ہے اور ان کی تباہی اور ہلاکت کے میدان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں جو تباہ ہوئے اور جنہوں نے ان بستیوں کو خوب آباد کیا اور تباہی کے بعد پیچھے آنے والوں کے لئے چھوڑ دیا ، کیا وہ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر بھی اچانک عذاب الٰہی آجائے اور وہ غفلت اور بیخبر ی میں مبتلا ہوں اور تباہ و برباد ہوجائیں۔ عذاب دن کے کسی وقت میں آئے یا رات کو کسی ایسے وقت میں آئے کہ وہ غافل ہوں یاد رہے کہ نیند میں انسان اس طرح غرق ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی شعور اور ارادہ نہیں رہتا اور نہ کوئی کام کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ نہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرسکتا ہے۔ نہ کسی معمولی کیڑے مکوڑے کے خلاف مدافعت کرسکتا ہے۔ اللہ جیسی عظیم قوت کے مقابلے میں تو وہ کیا کرے گا ؟ جس کے مقابلے میں کوئی انسان نہایت بیداری اور قوت و حکمت کے ساتھ بھی کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ غرض ان پر یہ عذاب دن کو بھی آسکتا ہے جب یہ کھیل رہے ہوں ، کھیل کے وقت انسان کو کوئی ہوش نہیں ہوتا۔ وہ کھیل میں غرق ہوتا ہے اور اس کی توجہ صرف مد مقابل کی طر فہوتی ہے۔ رہا وہ حملہ جو اللہ کی جانب سے ہو تو اس کا مقابلہ تو وہ پوری تیاری اور پوری بیداری کے ساتھ بھی نہیں کرسکتا اور جب وہ غافل ہو تو کیا کرے گا۔ اللہ کا عذاب اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں کسی حالت میں وہ اس کے آگے ٹک نہیں سکتے۔ وہ کھیل میں ہوں یا سنجیدہ حالت میں ہوں ، اس کا مقابلہ تو وہ نہیں کرسکتے ، لیکن قرآنی سیاق انسان کے سامنے اس کی زندگی کے وہ لمحات پشی کرتا ہے تاکہ انسانی شعور میں پوری طرح انسان کے ضعف اور کمزوری کا احساس پیدا کردیا جائے اور وہ محتاط ہوجائے اور اپنے بچاؤ کی فکر کرے جب تباہ کن حملہ ہو اور ایسے حالات میں ہو کہ انسان پوری طرح غفلت اور لاپرواہی میں ہو اور مکمل بیخبر ی میں اسے آ لیا جائے تو ایسے حالات میں اس کا دفاع نہایت ہی کمزور ہوتا ہے۔ رہا عذاب الٰہی تو انسان باخبر ہو یا بیخبر ہو ، اس کے مقابلے میں اس کی بےبسی بیکراں ہوگی۔

الأعراف 7:98

یعنی کیا لوگ سنت الٰہیہ کو دیکھتے ہوئے بھی اس قدر بےخوف ہوگئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو خوشحالی اور فراوانی دے کر اور شدائد و مصائب میں مبتلا کرکے آزماتا ہے۔ اس کے بعد ناشکروں اور نافرمانوں اور جھٹلانے والون کو تباہ و برباد کرتا ہے اور ان کی تباہی اور ہلاکت کے میدان تمہاری نظروں کے سامنے ہیں جو تباہ ہوئے اور جنہوں نے ان بستیوں کو خوب آباد کیا اور تباہی کے بعد پیچھے آنے والوں کے لئے چھوڑ دیا ، کیا وہ اس سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر بھی اچانک عذاب الٰہی آجائے اور وہ غفلت اور بیخبر ی میں مبتلا ہوں اور تباہ و برباد ہوجائیں۔ عذاب دن کے کسی وقت میں آئے یا رات کو کسی ایسے وقت میں آئے کہ وہ غافل ہوں یاد رہے کہ نیند میں انسان اس طرح غرق ہوتا ہے کہ اس کے اندر کوئی شعور اور ارادہ نہیں رہتا اور نہ کوئی کام کرنے کی قوت ہوتی ہے۔ نہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کرسکتا ہے۔ نہ کسی معمولی کیڑے مکوڑے کے خلاف مدافعت کرسکتا ہے۔ اللہ جیسی عظیم قوت کے مقابلے میں تو وہ کیا کرے گا ؟ جس کے مقابلے میں کوئی انسان نہایت بیداری اور قوت و حکمت کے ساتھ بھی کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔ غرض ان پر یہ عذاب دن کو بھی آسکتا ہے جب یہ کھیل رہے ہوں ، کھیل کے وقت انسان کو کوئی ہوش نہیں ہوتا۔ وہ کھیل میں غرق ہوتا ہے اور اس کی توجہ صرف مد مقابل کی طر فہوتی ہے۔ رہا وہ حملہ جو اللہ کی جانب سے ہو تو اس کا مقابلہ تو وہ پوری تیاری اور پوری بیداری کے ساتھ بھی نہیں کرسکتا اور جب وہ غافل ہو تو کیا کرے گا۔ اللہ کا عذاب اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں کسی حالت میں وہ اس کے آگے ٹک نہیں سکتے۔ وہ کھیل میں ہوں یا سنجیدہ حالت میں ہوں ، اس کا مقابلہ تو وہ نہیں کرسکتے ، لیکن قرآنی سیاق انسان کے سامنے اس کی زندگی کے وہ لمحات پشی کرتا ہے تاکہ انسانی شعور میں پوری طرح انسان کے ضعف اور کمزوری کا احساس پیدا کردیا جائے اور وہ محتاط ہوجائے اور اپنے بچاؤ کی فکر کرے جب تباہ کن حملہ ہو اور ایسے حالات میں ہو کہ انسان پوری طرح غفلت اور لاپرواہی میں ہو اور مکمل بیخبر ی میں اسے آ لیا جائے تو ایسے حالات میں اس کا دفاع نہایت ہی کمزور ہوتا ہے۔ رہا عذاب الٰہی تو انسان باخبر ہو یا بیخبر ہو ، اس کے مقابلے میں اس کی بےبسی بیکراں ہوگی۔

الأعراف 7:99

اللہ کے مکر سے مراد وہ خفیہ تدبیر ہے جس سے وہ بیخبر ہوں تاکہ انسان اللہ سے ڈرتے رہیں اور اللہ کے احکام میں محتاط رہیں۔ اور جو لوگ نہ ڈریں گے وہ خسارے میں رہیں کیونکہ عافیت کوشی ، غفلت اور حد سے گزرجانے اور لاپرواہی کا نتیجہ خسران مبین ہی ہوسکتا ہے۔ کیا یہ لوگ اللہ کی چال اور تدبیر سے بےخوف ہوگئے ہیں حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے آباؤ اجداد کو ہلاک کردیا گیا اور ان کے بعد یہ اس دنیا کے وارث بنائے گئے اور جنہیں ان کی غفلت ہی کی وجہ سے برباد کیا گیا کہ ان کی بربادی میں ان کے لئے کوئی ہدایت اور عبرت نہیں ہے ؟

الأعراف 7:100

یعنی ، بیشک اللہ کی سنت اٹل ہوتی ہے اور اللہ کی مشیت جاری رہتی ہے۔ اگر اللہ ان لوگوں کے گناہوں کے سبب انہیں اسی طرح پکڑے جس طرح ان کے آباؤ اجداد پکڑے گئے تھے تو انہیں کون بچا سکتا ہے ؟ یا اگر اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے اور ان سے ہدایت کی توفیق ہی سلب کرلے اور وہ ہدایت سے ہمیشہ ہی کے لئے محروم ہوجائیں اور دلائل ہدایت کی طرف سے ان کا رخ ہی پھرجائے اور ان کی دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوجائیں تو کون ان کی مدد کو پہنچ سکے گا۔ سباقہ لوگوں کی ہلاکت اور ان کے بعد ان موجودہ لوگوں کی جانشینی اور اس بارے میں اللہ کی سنت کی کارفرمائیاں یہ سب امور ان کے لئے غور و فکر و ہدایت وتقویٰ کا وافر ساماں مہیا کرتے تھے اور ان سے یہ توقع تھی کہ وہ اللہ سے ڈرتے اور اس عارضی مصنوعی عافیت کو چھوڑ دیتے ہیں جس میں وہ اپنے آپ کو سمجھتے تھے۔ اس لاپرواہی کو ایک طرف چھوڑ دیتے تو وہ اصلاح پذیر ہوجاتے اور ان واقعات سے عبرت لیتے۔ کاش ! کہ وہ ایسا کرتے۔ اس آیت میں جو تنبیہ کی گئی ہے ، اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگ ہر وقت نامعلوم عذاب اور مستقبل کی اچانک تباہی اور بربادی کے خوف سے کانپتے ہی رہیں اور وہ ہر وقت غیر یقینی صورت حالات سے دوچار رہیں کہ کسی بھی وقت ان پر کوئی عذاب نازل ہوسکتا ہے۔ کیونکہ ہر وقت کا جزع و فزع ، کسی بھی وقت آجانے والے عذاب کا ڈر ، اور ہر وقت یہ خطرہ کہ کسی بھی وقت کوئی آفت نازل ہوسکتی ہے ، ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے انسانی قوتیں شل ہوجاتی ہیں اور انسان علم و عمل کی خوبی سے محروم ہوسکتا ہے۔ اور اس طرح مایوس ہوکر انسان اس کرۂ ارض کی تعمیر اور ترقی کے مسلسل عمل سے دستکش ہوسکتا ہے۔ اس تنبیہ کی غرض وغایت انسان کو شل کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ انسان بیدار ہو ، اس کے اندر ہر وقت خدا خوفی کا احساس ہو ، وہ ہر وقت اپنے نفس کے اوپر نگراں رہے ، اور دنیا میں گزرے ہوئے واقعات سے سبق لے وہ انسانی تاریخ کے محرکات کو معلوم کرلے۔ اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہر وقت قائم رہے اور عیش و عشرت کی زندگی اسے غافل اور مغرور نہ کردے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے لوگوں کے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ وہ انہیں آخرت میں امن ، اطمینان ، اپنی رضا مدنی ، دنیا و آخرت کی رضامندی عطا کرے گا لیکن یہ اس وقت ہوگا جب انہوں نے اللہ کے بارے میں اپنے احساس کو تیز رکھا۔ اور انہوں نے تقویٰ اور خدا خوفی کی وجہ سے اپنے آپ کو آلودگیوں میں ملوث نہ کیا۔ انہوں نے اپنی مادی قوت کے مقابلے میں اللہ پر اعتماد کیا۔ انہوں نے اپنے محدود و مادی وسائل کے مقابلے میں ان وسائل پر بھروسہ کیا جو اللہ کے ہاں موجود ہیں۔ اور جو اللہ کے سوا کسی پر بھروسہ نہ کرتے ، ان کے دل دولت ایمان سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ اللہ کے ذکر پر مطمئن تھے ، وہ اپنی خواہشات اور شیطانی حرکات پر کنٹرول کیے ہوئے تھے۔ وہ اس کرہ ارض پر مصلح کے طور پر اللہ کی ہدایات کے مطابق زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ لوگوں سے نہ ڈرتے تھے اور صرف اللہ سے ڈرتے تھے اور اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ اس انداز میں ہم اللہ کے عذاب سے اس دائمی ڈراوے کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ، ایسا عذاب جو اٹل ہوتا ہے اور وہ اللہ کی ان تدابیر کے مطابق ہوتا ہے جس کا ادراک انسان کو نہیں ہوتا۔ اس طرح ہم سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کی ان آیات کا مطلب محض خوف و ہراس پھیلانا نہیں ہے بلکہ لوگوں کے اندر بیداری پیدا کرنا ہے ، لوگوں کے اندر بےچینی پیدا کرنا نہیں بلکہ ان کے اندر احساس زیاں پیدا کرنا مطلوب ہے۔ زندگی کو معطل کرنا مطلوب نہیں ہے ، بلکہ اسے لاپرواہی اور سرکشی سے بچانا مطلوب ہے۔ اسلامی اور قرآنی منہاج تربیت کا یہ طریقہ کار ہے کہ وہ انسانی نفسیات کے بدلتے ہوئے طور طریقوں کی اصلاح بھی کرتا ہے ، اقوام اور سوسائٹیوں کے مسائل واطوار کو بھی درست کرتا ہے۔ اور ہر ایک کا علاج اس کے حالات کے مطابق کرتا ہے۔ کسی کو امن ، اطمینان اور اللہ پر بھروسے کی امید کی دولت دیتا ہے۔ اور کسی کے لئے خوف بیداری اور سٹینڈ ٹو کا نسخہ تجویز کرتا ہے کہ وہ اپنی بد اعمالیوں سے باز آجائے اور اللہ کے عذاب سے ڈرے جو کسی بھی وقت انہیں گھیر سکتا ہے۔ خصوصاً اس وقت جب وہ مادی زندگی پر بھروسہ کرکے غرے میں مبتلا ہوجائے۔ اللہ بہرحال اپنی مخلوق سے اچھی طرح باخبر ہے اللہ لطیف وخبیر ہے۔ یہاں سنت جاریہ کا بیان ختم ہوجاتا ہے۔ انسانی وجدان کو اس سنت کے شعور کا ٹچ دیا گیا اور نہایت ہی اچھے اشارات دئیے گئے۔ اب روئے سخن حضرت نبی ﷺ کی طرف پلٹ جاتا ہے اور آپ کو بتایا جاتا ہے کہ ان بستیوں کے باشندوں کا مجموعی طور پر کیا انجام ہوا اور اس انجام سے کفر کا کیا مزاج سامنے آتا ہے اور ایمان کا مزاج کس رنگ میں سامنے آتا ہے اور اقوام عالم کی تاریخ سے ان دو قسم کے انسانوں کی عمومی روش کیا معلوم ہوتی ہے ؟

الأعراف 7:101

یہ قصے اللہ کی جانب سے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کا کوئی علم نہ تھا۔ آپ کو یہ قصے بذریعہ وحی تعلیم کئے گئے تھے۔ وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ " ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے " لیکن ان نشانیوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بدستور رسولوں کو جھٹلاتے رہے جس طرح وہ ان نشانیوں سے پہلے بھی جھٹلاتے تھے۔ یہ نشانیاں اور معجزات بھی ان کو ایمان تک نہ پہنچا سکے۔ یہ نہ تھا کہ ان کے سامنے دلائل کی کمی تھی بلکہ حقیقی صورت حالات یہ تھی کہ ان کے دلوں کو تالے لگے ہوئے تھے ، ان کا احساس مردہ ہوگیا تھا ، اور ہدایت کی طرف وہ متوجہ ہی نہ تھے۔ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ ان کی فطرت مر چکی تھی ، وہ متاثر ہی نہ ہوتے تھے ، لہذا وہ دعوت کو قبول ہی نہ کرتے تھے۔ جب ان کے دل دلائل ایمان کی طرف متوجہ ہی نہ تھے اور ہدایت کے اشارات ان تک پہنچ ہی نہ پا رہے تھے تو اللہ نے بھی انہیں اس حال پر چھوڑ کر ان کے دلوں پر مہر لگا دی اور ان کے لئے قبولیت حق کے تمام راستے بند ہوگئے۔ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ " دیکھو اس طرح اللہ تعالیٰ منکرین حق کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں "۔ یہ مزاج ان میں سے اکثریت کا تھا۔

الأعراف 7:102

یہاں جس عہد کا ذکر ہے وہ فطرت انسانی کا عہد بھی ہوسکتا ہے جس کا ذکر اس سورة کے آخر میں ہوا ہے (واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظہورہم ذریتہم واشہدہم علی انفسہم الست بربکم قالوا بلی شہدنا) " اے نبی لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی ادم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا : " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ " انہوں نے کہا : " ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ " ہم اس پر گواہی دیتے ہیں "۔ اس عہد سے وہ عہد بھی مراد ہوسکتا ہے جو ان لوگوں کے اسلاف نے اپنے رسولوں سے کیا تھا کہ وہ ایمان لائیں گے مگر بعد میں آنے والے لوگ اس سے منحرف ہوگئے جیسا کہ ہر جاہلیت میں یہی ہوتا رہا ہے کہ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ اہل ایمان جاہلیت کی طرف بڑھتے رہتے ہیں اور آخر کار پوری طرح جاہلیت میں داخل ہوجاتے ہیں۔ بہرحال عہد سے مراد جو بھی ہو ، لیکن ہلاک ہونے والوں کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ کسی عہد و پیمان کے پابند نہ تھے ، نہ وہ کسی بات پر قائم رہتے تھے۔ یہ لوگ اپنی ذاتی خواہشات کے ساتھ بدلتے رہتے تھے۔ ان کا مزاج بھی ایسا ہوگیا تھا کہ وہ اپنی بات پر جمتے نہ تھے اور نہ سچا طرز عمل اختیار کرتے تھے۔ بلکہ اکثر کو فاسق پایا گیا یعنی اپنے دین سے منحرف پایا گیا۔ اور یہ اس لئے کہ وہ ہر وقت بدلتے رہتے تھے اور کسی عہد کا پاس نہ رکھتے تھے بلکہ وہ اغراض کے بندے ہوگئے تھے جو قوم اللہ کے ساتھ اپنے وعدے پر قائم نہیں رہتی اور اپنے دین اور راہ ہدایت پر قائم نہیں رہتی اور اللہ سے ہدایت اخذ نہیں کرتی تو ظاہر ہے کہ ایسی قوم تتر بتر ہوجاتی ہے۔ راہ حق سے منحرف ہوجاتی ہے اور ظاہر ہے کہ وہ فاسق بن جاتی ہے چناچہ ان بستیوں والوں کی یہی حالت ہوگئی تھی اس لئے ان کا یہ انجام ہوا۔

الأعراف 7:103

درس نمبر 79 ایک نظر میں اس سبق میں فرعون اور اس کے درباریوں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات و واقعات بیان کئے گئے ہیں ، ان واقعات کی وہ کڑیاں جو اس کے دعوائے ربوبیت اور اس کے لشکر سمیت اس کی غرق یابی کے واقعات پر مشتمل ہیں۔ ان کڑیوں کی درمیانی کڑیاں مثلاً جادوگروں کے ساتھ مقابلہ اور حق کا باطل پر غالب آنا ، جادوگروں کا ایمان لانا ، اور ان کے الفاظ کے ساتھ کہ ہم رب موسیٰ اور رب ہارون پر ایمان لاتے ہیں ، پھر فرعون کی جانب سے انہیں سخت عذاب کی دھمکی ، اور ان کے دل و دماغ میں ایمان و اسلام کی سر بلندی کا مظاہرہ اور ان کی جانب سے اپنی زندگی کے مقابلے میں ایمان و اسلام کو ترجیح دینا ، اس کے بعد بنی اسرائیل پر فرعون کی جانب سے مظالم کا ذکر ، پھر اللہ کی جانب سے آل فرعون اور اہل مصر پر خشک سالی وغیرہ کے عذاب کا نزول اور ہر قسم کی پیداوار کی تباہی ، پھر طوفان ، پسوؤں اور مینڈکوں کے حملے اور خون کی بارش اور ہر باران کی کی جانب سے حضرت موسیٰ کی روحانی قوت کے سامنے جھکنا کہ وہ رب العالمین سے سوال کریں تاکہ انہیں اس عذاب سے نجات ملے۔ لیکن جب ان پر سے یہ مصیبت دور کی جاتی تو جلد ہی وہ لوگ دوبارہ اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹ جاتے اور اعلان کردیتے کہ جس قدر آیات و معجزات بھی وہ دکھائیں ہم اسے ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ چناچہ ان بار بار کی بدعملیوں کی وجہ سے ان پر حجت تمام ہوجاتی ہے اور وہ غرق کردئیے جاتے ہیں کیونکہ وہ معجزات کو جھٹلاتے ہیں اور اس آزمائش میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور یہ تمام امور سنت جاریہ کے مطابق انجام پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان پر سختی کرکے اور مصائب میں مبتلا کرکے بھی آزماتے ہیں اور ان کو خوشحالی اور فراوانی عطا کرکے بھی آزماتے ہیں۔ اس کے بعد وہ واقعات آتے ہیں کہ جب قوم موسیٰ ان آزمائشوں میں پوری اترتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو خلافت فی الارض عطا فرماتے ہیں اور غلامی کی اس شدت اور مصیبت کے بعد خلافت فی الارض عطا کرکے پھر ان کو آزمایا جاتا ہے اور فراوانی عطا کی جاتی ہے۔ ہم نے مذکورہ بالا واقعات پر مشتمل ایک سبق تجویز کیا ہے اور اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی جانب سے جو واقعات درپیش ہوئے اسے دوسرا درس بنایا ہے کیونکہ دونوں کا موضوع مختلف ہے۔ یہ قصہ یہاں جس انداز سے شروع کیا جاتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس قصے کو لانے کے مقاصد کیا ہیں ؟ اس کا آغاز ان الفاظ سے کیا جاتا ہے۔ ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰي بِاٰيٰتِنَآ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَا۟ىِٕهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا ۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ ۔ " پھر ان قوموں کے بعد (جن کا ذکر اوپر کیا گیا) ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا۔ مگر انہوں نے ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا ، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا ؟ " یہ تصریح کی جاتی ہے کہ یہاں اس قصے کو لانے کی غرض وغایت کیا ہے۔ یعنی یہ کہ اس دنیا میں ہمیشہ مفسدین کا انجام ایک ہی جیسا ہوتا رہا ہے۔ چناچہ قصے کی غرض وغایت کے اظہار کے بعد اس کے ضروری مضمون و موضوع کے ساتھ مناسب حلقے پے در پے لائے جاتے ہیں۔ اس قصے میں زندہ اور متحرک مناظر بھی دکھائے گئے ہیں۔ ان میں حرکت بھی ہے اور مکالمات بھی ہیں۔ تاثرات بھی ہیں اور مختلف لوگوں اور کرداروں کے خدوخال اور ان کی شناخت بھی ہے۔ اس کے درمیان جگہ جگہ ہدایات و اشارات بھی ہیں اور عبرت آموزی بھی ہے اور اس بات کی صفائی بھی ہے کہ دعوت الی اللہ کے خدوخال کیا ہوتے ہیں اور دعوت الی الطاغوت کا مزاج کیا ہوتا ہے اور یہ کہ تمام طاغوتی قوتیں در اصل ربوبیت اور حاکمیت کی مدعی ہوتی ہیں اور دعوت الی رب العالمین کی تڑپ جس نفس میں گہرائی تک بیٹھ جاتی ہے ، اس نفس سے طاغوتی قوتوں کا خوف یکسر غائب ہوجاتا ہے۔ پھر وہ اس راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں اور کسی وعدہ و وعید کو خاطر میں نہیں لاتے۔ درس نمبر 79 ۔ تشریح آیات 103 ۔ تا ۔ 137 ۔۔۔ اس سے پہلے اس سورت میں جن بستیوں کا ذکر ہوا تھا ، ان کے اہالیان نے دعوت حق کی تکذیب کی تھی اور ان کو ہلاک کیا گیا تھا ، ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مبعوث ہوئے۔ قصے کا آغاز اس مقام سے ہوتا ہے جہاں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے ہیں اور خلاصہ یہاں دے دیا جاتا ہے کہ فرعون اور اس کا ٹولہ دعوت حق کا استقبال کس طرح کرتا ہے اور اس انجام کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے جس تک وہ پہنچے۔ انہوں نے ان آیات و معجزات کے ساتھ ظلم اس طرح کیا کہ ان کا انکار کردیا۔ یعنی انہوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کیا۔ قرآن کریم میں بارہا کفر کے لئے فسق کا لفظ اور شرک کے لئے ظلم کا لفظ استعمال ہوتا ہے کیونکہ کفر و شرک سے بڑا ظلم اور بڑا فسق اور نہیں ہے جو لوگ کفر کرتے ہیں یا شرک کرتے ہیں وہ در اصل ایک عظیم سچائی کے ساتھ ظلم کرتے ہیں یعنی اللہ کی حاکمیت اور عقیدہ توحید کے ساتھ۔ اور یہ لوگ در اصل خود اپنے آپ پر بھی ظلم کرتے ہیں کیونکہ اپنے آپ کو یہ لوگ ہلاکت و بربادی کا مستحق ٹھہراتے ہیں ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ پھر ایسے لوگ عوام الناس پر یہ ظلم کرتے ہیں کہ انہیں ایک اللہ وحدہ کی غلام اور بندگی سے نکال کر مختلف طاغوتی طاقتوں کے بندے بناتے ہیں اور ان کو رب اور مقتدر اعلیٰ تسلیم کرتے ہیں اور اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے ؟ چناچہ کفر ظلم ہے اور کافرون ظالمون ہیں جیسا کہ قرآن کریم ایسا انداز بیان اختیار کرتا ہے نیز جو شخص کفر اور ظلم اختیار کرتا ہے وہ راہ مستقیم کو چھوڑ کر غلط راستوں پر چلتا ہے اور مختلف بےراہ رویوں میں پڑ کر فاسق اور بدکار بن جاتا ہے اور آخر کار جنت کے بجائے جہنم کا مستحق قرار پاتا ہے۔ فرعون اور اس کے ٹولے نے آیات الٰہی کے ساتھ ظلم کیا یعنی ان کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس لئے وہ برے انجام تک پہنچے۔ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ " پس دیکو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا ؟ " ہر وہ طاغوتی نظام جس میں اللہ کی شریعت کو چھوڑ کر کسی دوسرے قانون کی اطاعت کی جاتی ہو وہ فسادی نظام ہے اور اسی کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ ایسی طاغوتی قوتیں مصلحین میں نہیں ہوسکتیں بلکہ یہ فسادی قوتیں ہوتی ہیں۔

الأعراف 7:104

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان پہلی ملاقات میں جو مکالمات ہوئے اور واقعات پیش آئے تھے وہ اس طرح تھے۔ " موسیٰ نے کہا " اے فرعون ، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں۔ میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں ، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں ، لہذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔ فرعون نے کہا " اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر "۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ " یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے "۔ تمہیں تمہاری زمین سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔ اب کہو کیا کہتے ہو ؟ "۔ پھر ان سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجئے۔ کہ ہر ماہر فن جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں "۔ حق و باطل اور ایمان و کفر کے مابین یہ پہلا معرکہ ہے ، اس منظر میں ایک جانب رب العالمین کی طرف سے دعوت دی جار رہی ہے مد بالمقابل وہ طاغوتی طاقت ہے جس نے ربوبیت کے تمام حقوق اپنے لیے خاص کیے ہوئے ہیں اور زندگی کے ان معاملات میں رب العالمین کی اطاعت نہیں کی جاتی۔ وَقَالَ مُوْسٰي يٰفِرْعَوْنُ اِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ موسیٰ نے کہا " اے فرعون ، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں ذرا انداز خطاب ملاحظہ ہو۔ " اے فرعون !" آپ نے اسے مائی لارڈ سے خطاب نہیں فرمایا۔ جس طرح عموماً لوگ اس لفظ کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرتے ہیں اور انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوتا کہ فی الحقیقت لارڈ اور مولیٰ کون ہے ؟ ہاں آپ نے بادشاہ کو بڑی عزت سے اس کے لقب سے پکارا ، اس لفظ کے استعمال کے ذریعہ آپ نے فرعون کو بتا دیا کہ آپ صرف فرعون ہیں اور دوسری یہ حقیقت بھی اس کے سامنے کھول دی کہ اِنِّىْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، " میں اس کائنات کے مالک کا نمائندہ ہوں " حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جو حقیقت پیش کی یہی حقیقت آپ سے پہلے آنے والے تمام رسولوں نے بھی پیش کی تھی اور وہ یہ تھی کہ تمام جہانوں کا اب صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ ایک ہی حاکم ہے اور پوری زندگی میں اس کی اطاعت ضروری ہے۔ آج کل کے ماہرین ادیان جو کچھ کہتے ہیں عقائد میں بھی تغیر اور ارتقاء کا عمل ہوتا رہا ہے اور وہ سماوی ادیان کو بھی اس اصول سے مستثنی نہیں کرتے تو ان حضرات کا یہ نظریہ باطل ہے ، کیونکہ ادم (علیہ السلام) سے نبی آخر الزماں تک تمام رسولوں کا عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، اس میں صرف اللہ حاکم اور مطاع رہا ہے ، اور یہ نہیں رہا کہ پہلے متعدد الٰہوں کے نظریات تھے پھر تین خداؤں اور پھر ایک خدا کا عقیدہ جاری ہوگیا۔ یہ تو تھی صورت اسلام کی۔ رہی جاہلیت تو اس کے اندر جو اختلاف و اضطراب رہا ہے اس کی کوئی حد نہیں ہے۔ روح پرستی ، متعدد الہوں کی پرستش ، سورج کی پرستش ، دو خداؤں کی پرستش ، ایک خدا کی مشرکانہ پرستش اور بے خدا جاہلیت وغیرہ۔ لہذا سماوی ادیان رسولوں کی تعلیمات اور جاہلی ادیان کے افکار کو ایک ہی اصول پر نہیں پرکھا جاسکتا۔ غرض حضرت موسیٰ اور فرعون اور اس کے ٹولے کے درمیان جو آمنا سامنا ہوا ، یہی صورت ہر نبی کو اپنے اپنے دور میں پیش آئی۔ حضرت موسیٰ سے پہلے آنے والوں کو بھی اور ان کے بعد آنے والوں کو بھی۔ ہر دور میں حکمرانوں نے یہ سمجھا کہ یہ دعوت ان کے اقتدار کے خلاف سازش ہے جس طرح فرعون نے یہ سمجھا کہ یہ درحقیقت ان کے اقتدار اعلی کے خلاف ایک تحریک ہے۔ جب کوئی یہ عقیدہ پیش کرتا ہے کہ اللہ وحدہ رب العالمین ہے تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی حاکمیت کے سوا تمام دوسری حاکمیتیں باطل نہیں اور اللہ کے سوا وہ تمام لوگ جو عوام سے اپنا قانون منواتے ہیں وہ وہ در اصل طاغوت ہیں۔ اور اس اعلان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس دعوے کے ساتھ پیش فرمایا کہ وہ اللہ رب العالمین کی جانب سے رسول ہیں اور وہ جو بات کرتے ہیں وہ اللہ کی جانب سے کرتے ہیں اور ان کا اللہ کی جانب سے یہ فریضہ ہے کہ وہ لوگوں تک یہ دعوت پہنچائیں

الأعراف 7:105

حَقِيْقٌ عَلٰٓي اَنْ لَّآ اَقُوْلَ عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ ۔ " میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں " اس لئے کہ جو رسول حقیقت الوہیت سے خبردار ہے وہ اللہ کے بارے میں سچ کے سوا اور کہہ بھی کیا سکتا ہے کیونکہ وہ مقام خدائی اور مرتبہ کبریائی سے خبردار ہوتا ہے۔ " میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں " اور یہ ایسی دلیل ہے جو میری بات کی صداقت پر بین دلیل ہے کہ میں رب العالمین کی طرف سے ہوں "۔ اب اس عظیم حقیقت کے عنوان سے اور اللہ کی ربوبیت عامہ اور حاکمیت شاملہ کے نظریہ کے تحت حضرت موسیٰ نے یہ مطالبہ کیا کہ فرعون بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ کے ساتھ واپس اپنے وطن جانے کی اجازت دے دے۔ بنی اسرائیل صرف اللہ کے بندے اور غلام تھے۔ لہذا فرعون کو یہ حق نہ پہنچتا تھا کہ وہ انہیں اپنا بندہ اور غلام بنا لے کیونکہ کوئی بھی انسان دو آقاؤں کا غلام نہیں بن سکتا۔ نہ وہ دو الہوں کا معبود بن سکتا ہے ، جو شخص عبداللہ ہو وہ کسی اور کا عبد نہیں ہوسکتا۔ ایک طرف فرعون بنی اسرائیل کو اپنی خواہشات کا غلام بنا رہا تھا اور دوسری جانب حضرت موسیٰ یہ اعلان کر رہے تھے کہ صرف اللہ ہی رب العالمین ہے صرف ربوبیت الہیہ کے اعلان ہی سے اس بات کی نفی ہوجاتی ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو جو غلام بنا رکھا ہے وہ کالعدم ہے۔ یہ اعلان کہ صرف اللہ رب العالمین ہی ہمارا حاکم اور رب ہے ، بذات خود ہی انسان کی آزادی کا چارٹر ہے اور اس اعلان کے ساتھ ہی ایک انسان غیر اللہ کی غلامی ، اطاعت اور قانون سے آزاد ہوجاتا ہے۔ وہ انسانی غلامی ، اپنی خواہشات کی غلامی ، انسانی رسومات کی غلامی اور انسانی قانون و حرکت کی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے۔ لہذا یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی اللہ کی رب العالمینی کا اعلان بھی کرے اور پھر غیر اللہ میں سے کسی کی غلامی کا دم بھی بھرے۔ اس اعلان کے ساتھ کسی غیر اللہ کی حکومت و اقتدار جمع ہوسکتا اور نہ کسی اور کا قانون جمع ہوسکتا ہے۔ جو لوگ یہ اعلان کرتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں اور اس کے بعد وہ اپنے ہاں وہ قوانین جاری کئے ہوئے ہیں جو انہی جیسے انسانوں نے بنائے ہیں یا خود انہوں نے بنائے ہیں اور ان کے ہاں اللہ کے سوا کسی اور کی حاکمیت رہی ہے تو یہ لوگ ایک بڑی غلط فہمی کا شکار ہیں اور وہ ایک لحظہ کے لئے بھی مسلمان نہیں ہوسکتے۔ یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ان پر حاکمیت غیر اللہ کی ہو اور وہ دین اللہ میں داخل ہوں۔ ان کے ہاں رائج قانون ، قانون شریعت نہ ہو اور وہ مسلمان بھی ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں وہ اپنے ملوک اور حکام کے دین پر تو ہوتے ہیں لیکن اللہ کے دین پر نہیں ہوتے۔ یہی وہ نظریہ تھا جس کی بنا پر حضرت موسیٰ نے فرعون سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ان کے ساتھ بنی اسرائیل کو واپس جانے دے۔ ذرا ان فقرات کو دوبارہ پڑھئے " اے فرعون میں رب العالمین کا رسول ہوں ""۔۔۔ " لہذا میرے ساتھ بنی اسرائیل کو رخصت کیجئے "۔ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ اس اساس پر ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور رسالت کا یہ منطقی نتیجہ ہے کہ لوگوں کو غلامی سے رہا کیا جائے۔ یہ لازم و ملزوم امور ہیں۔

الأعراف 7:106

فرعون اور اس کے ٹولے نے بھی اس اعلان کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا کہ اللہ کی ربوبیت کے اعلان کا مفہوم کیا ہے ؟ یہ بات ان کی نظروں سے اوجھل نہ تھی۔ وہ اچھی طرح سمجھتے تھے کہ اس دعوت کے نتیجے میں ان کی حکومت خاتمہ یقینی ہے۔ اس دعوت سے ایک عظیم انقلاب برپا ہوجائے گا۔ اس کی حکومت کے قانونی جواز کے لیے یہ اعلان ایک چیلنج ہے اور یہ کھلی بغاوت اور مخالفت ہے۔ لیکن انہوں نے سوچا کہ وہ موسیٰ کو جھوٹا ثابت کرسکتے ہیں کہ وہ رسول رب العالمین ہیں اس لئے انہوں نے فی الفور معجزات کا مطالبہ کردیا۔ قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰيَةٍ فَاْتِ بِهَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ۔ فرعون نے کہا " اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر " فرعون نے مطالبہ معجزات کا راستہ اس لئے اختیار کیا کہ اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ حضرت موسیٰ رب العالمین کے رسول نہیں اور جھوٹا دعویٰ کر رہے ہیں تو آپ کی دعوت یہاں ہی ختم ہوجائے گی اور آپ کی ہوا اکھڑ جائے گی اور جن لوگوں کو یقین ہی نہ رہے گا تو پھر جو چاہیں کہتے پھریں۔ وہ ایک بےدلیل دعویٰ کے مدعی ہوں گے اور اس کے لئے کوئی خطرہ نہ ہوں گے۔

الأعراف 7:107

حضرت موسیٰ کا جواب یہ تھا = فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۔ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ ۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں اچانک عظیم معجزات کے صدور سے وہ لوگ ششدر رہ گئے۔ عصا ایک سانپ بن گیا تھا اور اس کی حقیقت یوں بدل گئئی تھی کہ اب اس کے سانپ ہونے میں شک ہی نہ رہا تھا۔ (مُّبِيْنٌ) کے معنی واضح طور پر ، جیتا جاگتا۔ دوسری صورت میں کہا گیا (فاذا ھی حیۃ تسعی) " تو وہ اچانک چلنے پھرنے والا سانپ بن گیا "۔ حضرت موسیٰ سرخ رنگ والے تھے۔ انہوں نے اپنا گندم گوں ہاتھ نکالا تو وہ بلب کی طرح چمکتا ہوا باہر آیا۔ لیکن یہ سفیدی بوجہ بیماری نہ تھی بلکہ معجزانہ سفیدی تھی۔ جب آپ نے ہاتھ دوبارہ اپنے کپڑوں میں چھپایا تو دوبارہ اپنی اصلی حالت میں چلا گیا یعنی گندم گوں رنگ کا ہوگیا۔ یہ تھی حضرت موسیٰ کے دعوائے نبوت پر دلیل۔ آپ کا دعویٰ یہ تھا کہ آپ رب العالمین کے نمائندے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ درعون اور اس کے ٹولے نے ان معجزانہ دلائل کو تسلیم کیا ؟ کیا انہوں نے رب العالمین کی ربوبیت اور اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرلیا ؟ اگر وہ ایسا کرتے تو پھر فرعون کی ربوبیت ، اقتدار اور تاج و تخت کا جواز کیا رہ جاتا اور اس کے ٹولے کے لئے مراکز و مناصب پر مقتدر رہنے کا کیا جواز رہ جاتا جو ان کو فرعون نے عطا کئے تھے اور وہ فرعون کی حکومت کے کل پرزے تھے۔ اگر وہ اللہ کو رب العالمین تسلیم کرتا تو عملاً اس کا اقتدار ختم ہوجاتا۔ اگر اللہ کو رب العالمین تسلیم کیا جائے تو اس کا منطقی تقاضا یہ وہتا ہے کہ پھر ملک کے اندر اللہ کی شریعت اور قانون نافذ ہو ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق اللہ کے سوا کسی اور کے احکام کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ اس لئے اس نظریہ کے مطابق فرعون کا قانون اور اس کے احکام بےاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ احکام جو شریعت کے خلاف ہوں اور نہ شریعت پر مبنی ہوں۔ اگر لوگوں کے رب اللہ رب العالمین قرار پائیں تو پھر ان کا کوئی اور رب نہیں رہتا جس کے احکام اور قوانین کے وہ مطیع ہوں اور لوگ فرعون کے احکام اور شریعت کی جو اطاعت کرتے ہیں تو اس لئے کرتے ہیں کہ انہوں نے اسے اپنا رب تسلیم کرلیا ہے۔ لوگوں کا رب وہ شخص ہوتا ہے جس کے قوانین کی وہ اطاعت کرتے ہیں اور یہ لوگ اس رب کے دین میں ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات تو اس قدر جلدی سے نہیں مانی جاسکتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ طاغوت ٹھنڈے پیٹوں اپنے اقتدار اعلیٰ سے دست بردار ہوجائے اور اس کا نظام باطل اور کالعدم قرار پاجائے ؟

الأعراف 7:108

حضرت موسیٰ کا جواب یہ تھا = فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۔ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ ۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں اچانک عظیم معجزات کے صدور سے وہ لوگ ششدر رہ گئے۔ عصا ایک سانپ بن گیا تھا اور اس کی حقیقت یوں بدل گئئی تھی کہ اب اس کے سانپ ہونے میں شک ہی نہ رہا تھا۔ (مُّبِيْنٌ) کے معنی واضح طور پر ، جیتا جاگتا۔ دوسری صورت میں کہا گیا (فاذا ھی حیۃ تسعی) " تو وہ اچانک چلنے پھرنے والا سانپ بن گیا "۔ حضرت موسیٰ سرخ رنگ والے تھے۔ انہوں نے اپنا گندم گوں ہاتھ نکالا تو وہ بلب کی طرح چمکتا ہوا باہر آیا۔ لیکن یہ سفیدی بوجہ بیماری نہ تھی بلکہ معجزانہ سفیدی تھی۔ جب آپ نے ہاتھ دوبارہ اپنے کپڑوں میں چھپایا تو دوبارہ اپنی اصلی حالت میں چلا گیا یعنی گندم گوں رنگ کا ہوگیا۔ یہ تھی حضرت موسیٰ کے دعوائے نبوت پر دلیل۔ آپ کا دعویٰ یہ تھا کہ آپ رب العالمین کے نمائندے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ درعون اور اس کے ٹولے نے ان معجزانہ دلائل کو تسلیم کیا ؟ کیا انہوں نے رب العالمین کی ربوبیت اور اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کرلیا ؟ اگر وہ ایسا کرتے تو پھر فرعون کی ربوبیت ، اقتدار اور تاج و تخت کا جواز کیا رہ جاتا اور اس کے ٹولے کے لئے مراکز و مناصب پر مقتدر رہنے کا کیا جواز رہ جاتا جو ان کو فرعون نے عطا کئے تھے اور وہ فرعون کی حکومت کے کل پرزے تھے۔ اگر وہ اللہ کو رب العالمین تسلیم کرتا تو عملاً اس کا اقتدار ختم ہوجاتا۔ اگر اللہ کو رب العالمین تسلیم کیا جائے تو اس کا منطقی تقاضا یہ وہتا ہے کہ پھر ملک کے اندر اللہ کی شریعت اور قانون نافذ ہو ، کیونکہ اسلامی نظریہ حیات کے مطابق اللہ کے سوا کسی اور کے احکام کی اطاعت جائز نہیں ہے۔ اس لئے اس نظریہ کے مطابق فرعون کا قانون اور اس کے احکام بےاثر ہوجاتے ہیں۔ وہ احکام جو شریعت کے خلاف ہوں اور نہ شریعت پر مبنی ہوں۔ اگر لوگوں کے رب اللہ رب العالمین قرار پائیں تو پھر ان کا کوئی اور رب نہیں رہتا جس کے احکام اور قوانین کے وہ مطیع ہوں اور لوگ فرعون کے احکام اور شریعت کی جو اطاعت کرتے ہیں تو اس لئے کرتے ہیں کہ انہوں نے اسے اپنا رب تسلیم کرلیا ہے۔ لوگوں کا رب وہ شخص ہوتا ہے جس کے قوانین کی وہ اطاعت کرتے ہیں اور یہ لوگ اس رب کے دین میں ہوتے ہیں۔ لیکن یہ بات تو اس قدر جلدی سے نہیں مانی جاسکتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ طاغوت ٹھنڈے پیٹوں اپنے اقتدار اعلیٰ سے دست بردار ہوجائے اور اس کا نظام باطل اور کالعدم قرار پاجائے ؟

الأعراف 7:109

فرعون اور اس کا ٹولہ اس قدر بیوقوف نہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان اور مطالبے کے نتائج سے با خبر نہ ہو بلکہ وہ واضح طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان کو سمجھ جاتے ہیں اور اس کا اعلان کردیتے ہیں۔ لیکن اس انداز میں کہ لوگوں کی نظریں حضرت موسیٰ کے معجزانہ دلائل سے پھرجائیں۔ چناچہ فرعوان اور اس کے ٹولے نے حضرت موسیٰ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ایک عظیم جادوگر ہیں۔ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۔ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ " یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے " تمہیں تمہاری زمین سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔ اب کہو کیا کہتے ہو ؟ "۔ وہ چلا چلا کر کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے جو دعوی کیا ہے وہ کس قدر دور رس نتائج کا حامل ہے اور کس قدر خطرناک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ہمیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے ، حکومت چھیننا اس کا مطلب ہے۔ وہ ہمارے نظام حکومت کے خلاف سازش کر رہا ہے بلکہ وہ انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے۔ دور جدید میں اسے یہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ زمین اللہ کی ہے ، عوام الناس اللہ کے پیدا کردہ ہیں ، اگر اللہ کی سرزمین پر اللہ کے بندوں پر حکومت بھی اللہ کی قائم ہوجائے تو وہ تمام طاغوتی حکمرانیاں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں جو اللہ کی شریعت کے برعکس قائم ہوں۔ اور ان لوگوں کا اقتدار خود بخود ختم ہوجاتا ہے جو از خود لوگوں کے خدا بنے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کا اقتدار بھی خود بخود ختم ہوجاتا ہے جنہیں ان طاغوتی حکمرانوں نے صاحب منصب اور اہلکار بنا رکھا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے ٹولے نے معلوم کرلیا کہ حضرت موسیٰ کی دعوت کس قدر خطرناک ہے۔ اور یہی بات تمام طاغوتی قوتیں ہر دور میں اچھی طرح جان لیتی ہیں۔ ایک عرب نے اپنے فطری فہم و ادراک کی اساس پر یہ کہا کہ حضور ﷺ جو لوگوں کو (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کی دعوت دیتے ہیں یہ ایک ایسی دعوت ہے جسے بادشاہ پسند نہیں کرتے۔ اور ایک دوسرے عرب دانشور نے اپنی فطری معاملہ فہمی کی اساس پر یہ کہا اگر تم نے اس دعوت کو جاری رکھا تو عرب و عجم تمہارے ساتھ برسر پیکار ہوجائیں گے۔ یہ دونوں عرب دانشور در اصل عربی زبان کے مفاہم کو اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ (لا الہ الا اللہ) کا اعلان حکمرانوں کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ کیونکہ وہ عربی کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ جانتے کہ ایک دل میں ایک سرزمین پر کلمہ طیبہ کی شہادت اور پھر غیر اللہ کی اور خلاف شریعت حکمرانی قائم نہیں ہوسکتی۔ اس وقت کے عرب کلمہ شہادت کو اس طرح نہ سمجھتے تھے جس طرح آج کے نام نہاد مسلمان اسے سمجھتے ہیں۔ آج کے لوگوں کا مفہوم کلمہ شہادت بہت ہی ناقص ، کم درجے کا اور کمزور درجے کا ہے۔

الأعراف 7:110

فرعون اور اس کا ٹولہ اس قدر بیوقوف نہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان اور مطالبے کے نتائج سے با خبر نہ ہو بلکہ وہ واضح طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان کو سمجھ جاتے ہیں اور اس کا اعلان کردیتے ہیں۔ لیکن اس انداز میں کہ لوگوں کی نظریں حضرت موسیٰ کے معجزانہ دلائل سے پھرجائیں۔ چناچہ فرعوان اور اس کے ٹولے نے حضرت موسیٰ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ایک عظیم جادوگر ہیں۔ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۔ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ " یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے " تمہیں تمہاری زمین سے بےدخل کرنا چاہتا ہے۔ اب کہو کیا کہتے ہو ؟ "۔ وہ چلا چلا کر کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے جو دعوی کیا ہے وہ کس قدر دور رس نتائج کا حامل ہے اور کس قدر خطرناک ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ہمیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے ، حکومت چھیننا اس کا مطلب ہے۔ وہ ہمارے نظام حکومت کے خلاف سازش کر رہا ہے بلکہ وہ انقلاب برپا کرنا چاہتا ہے۔ دور جدید میں اسے یہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ زمین اللہ کی ہے ، عوام الناس اللہ کے پیدا کردہ ہیں ، اگر اللہ کی سرزمین پر اللہ کے بندوں پر حکومت بھی اللہ کی قائم ہوجائے تو وہ تمام طاغوتی حکمرانیاں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں جو اللہ کی شریعت کے برعکس قائم ہوں۔ اور ان لوگوں کا اقتدار خود بخود ختم ہوجاتا ہے جو از خود لوگوں کے خدا بنے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کا اقتدار بھی خود بخود ختم ہوجاتا ہے جنہیں ان طاغوتی حکمرانوں نے صاحب منصب اور اہلکار بنا رکھا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے ٹولے نے معلوم کرلیا کہ حضرت موسیٰ کی دعوت کس قدر خطرناک ہے۔ اور یہی بات تمام طاغوتی قوتیں ہر دور میں اچھی طرح جان لیتی ہیں۔ ایک عرب نے اپنے فطری فہم و ادراک کی اساس پر یہ کہا کہ حضور ﷺ جو لوگوں کو (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) کی دعوت دیتے ہیں یہ ایک ایسی دعوت ہے جسے بادشاہ پسند نہیں کرتے۔ اور ایک دوسرے عرب دانشور نے اپنی فطری معاملہ فہمی کی اساس پر یہ کہا اگر تم نے اس دعوت کو جاری رکھا تو عرب و عجم تمہارے ساتھ برسر پیکار ہوجائیں گے۔ یہ دونوں عرب دانشور در اصل عربی زبان کے مفاہم کو اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ (لا الہ الا اللہ) کا اعلان حکمرانوں کے خلاف کھلی بغاوت ہے۔ کیونکہ وہ عربی کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔ وہ جانتے کہ ایک دل میں ایک سرزمین پر کلمہ طیبہ کی شہادت اور پھر غیر اللہ کی اور خلاف شریعت حکمرانی قائم نہیں ہوسکتی۔ اس وقت کے عرب کلمہ شہادت کو اس طرح نہ سمجھتے تھے جس طرح آج کے نام نہاد مسلمان اسے سمجھتے ہیں۔ آج کے لوگوں کا مفہوم کلمہ شہادت بہت ہی ناقص ، کم درجے کا اور کمزور درجے کا ہے۔

الأعراف 7:111

اب فرعون اور اس کے ٹولے کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔ اس وقت مصر میں کاہن اور جادوگر بڑی تعداد میں تھے۔ خود کاہن جادوگری کا کام بھی کرتے تھے۔ تمام بت پرستانہ مذاہب میں جادو دین کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ چناچہ ان ادیان کے کاہن اور مجاور جادوگری کا کام بھی کرتے تھے۔ آج کل ادیان کے جدید ماہرین اس صورت حالات کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا بھی رہا ہے کہ جادوگری سے دین کا آغاز ہوا۔ اور زیادہ پکے ملحد یہ یا وہ گوئی کرتے ہیں کہ جس طرح جادو بالکل دین قرار پا گیا ہے اسی طرح ہر ایک دین بھی ختم ہوجائے گا اور جس طرح سائنس نے جادگروی کے دور کو ختم کردیا ہے اسی طرح ایک وقت ایسا آئے گا کہ مذہب بھی ختم ہوجائے گا۔ بہرحال یہ ان کا خطب ہے جس میں وہ سائنس کے عنوان سے مبتلا ہیں۔ فرعون کے مشیروں نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ حضرت موسیٰ اور آپ کے بھائی کو وقت دے دیں اور اپنی ریاست کے اطراف و اکناف سے بڑے بڑے جادوگروں کو طلب کریں تاکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جادو گری کا مقابلہ کریں۔ (نعوذ باللہ) فرعون نے اپنی معروف و مشہور فرعونیت کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے میں سرکشی کا مظاہرہ نہ کیا اور اس کا رویہ بیسویں صدی کے بعد کے فرعونوں سے زیادہ معقول رہا۔ آج کل کے فرعون دعوت اسلامی کا مقابلہ تشدد اور قید و بند اور باطل طریقوں سے کرتے ہیں۔

الأعراف 7:112

اب فرعون اور اس کے ٹولے کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے۔ اس وقت مصر میں کاہن اور جادوگر بڑی تعداد میں تھے۔ خود کاہن جادوگری کا کام بھی کرتے تھے۔ تمام بت پرستانہ مذاہب میں جادو دین کا ایک حصہ ہوتا ہے۔ چناچہ ان ادیان کے کاہن اور مجاور جادوگری کا کام بھی کرتے تھے۔ آج کل ادیان کے جدید ماہرین اس صورت حالات کو دیکھ کر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ایک دور ایسا بھی رہا ہے کہ جادوگری سے دین کا آغاز ہوا۔ اور زیادہ پکے ملحد یہ یا وہ گوئی کرتے ہیں کہ جس طرح جادو بالکل دین قرار پا گیا ہے اسی طرح ہر ایک دین بھی ختم ہوجائے گا اور جس طرح سائنس نے جادگروی کے دور کو ختم کردیا ہے اسی طرح ایک وقت ایسا آئے گا کہ مذہب بھی ختم ہوجائے گا۔ بہرحال یہ ان کا خطب ہے جس میں وہ سائنس کے عنوان سے مبتلا ہیں۔ فرعون کے مشیروں نے اسے یہ مشورہ دیا کہ وہ حضرت موسیٰ اور آپ کے بھائی کو وقت دے دیں اور اپنی ریاست کے اطراف و اکناف سے بڑے بڑے جادوگروں کو طلب کریں تاکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی جادو گری کا مقابلہ کریں۔ (نعوذ باللہ) فرعون نے اپنی معروف و مشہور فرعونیت کے باوجود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معاملے میں سرکشی کا مظاہرہ نہ کیا اور اس کا رویہ بیسویں صدی کے بعد کے فرعونوں سے زیادہ معقول رہا۔ آج کل کے فرعون دعوت اسلامی کا مقابلہ تشدد اور قید و بند اور باطل طریقوں سے کرتے ہیں۔

الأعراف 7:113

قرآن کریم اب درمیانی تفصیلات چھوڑ کر ایک دوسرے منظر کو پیش کرتا ہے کہ کس طرح فرعون کے ٹولے نے لوگوں کو جمع کیا اور کن کن کو جمع کیا بلکہ پردہ اٹھتے ہی جادوگر سامنے آجاتے ہیں اور یہ قرآن کریم کا بیان کردہ قصص میں نہایت ہی موثر اور پیارا اسلوب ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک منظر کو لپیٹ کر دوسرا منظر سامنے لایا جاتا ہے۔ وَجَاۗءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ ۔ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ۔ چناچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے۔ انہوں نے کہا " اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا ؟ " فرعون نے جواب دیا " ہاں ، اور تم مقرب بارگاہ ہوگے "۔ یہ لوگ پیشہ ور جادوگر تھے اور اسی طرح پیشہ ور کاہن تھے اور دونوں کاموں سے ان کا مقصد پیسے کمانا تھا۔ دنیا میں ہمیشہ پیشہ ور علمائے دین نے طاغوتی طاقتوں اور ظالم بادشاہوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا ہے۔ نیز دنیا میں جب بھی اللہ کی حاکمیت کا نظام معطل ہوا ہے اور اللہ وحدہ کی بندگی ختم ہوئی ہے اس کی جگہ طاغوتی نظام قائم ہوگیا ہے اور جب طاغوتی نظام قائم ہوا ہے تو ایسے حکمرانوں کو پیشہ ور اہل دین کی ضرورت پیش آئی ہے اور ان حکمرانوں نے اہل پیشہ کو ان کے پیشے پر اجر دیا ہے اور انہوں نے دینی اعتبار سے اس طاغوتی نظام کو قبول کیا ہے۔ یوں دونوں کے درمیان باہم معاہدہ رہا ہے اور طاغوتی حکمرانوں نے ان پیشہ ور اہل دین کو پیسہ بھی دیا ہے اور مقرب بھی بنایا ہے۔ فرعون نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس کام پر انہیں اجرت بھی دے گا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کے مقربین میں سے بھی ہوں گے۔ یوں فرعون نے ان کو آمادہ کیا کہ وہ صرف موسیٰ کا بےجگری سے مقابلہ کریں اور سخت جدوجہد کریں۔ لیکن ان کو کیا پتہ تھا کہ معاملہ اس قدر آسان نہیں ہے کہ وہ چرب زبانی یا چالاکی سے حضرت موسیٰ کو شکست دے دیں گے یہاں تو ان کا واسطہ خدا ، خدا کے رسول ، خدائی معجزات اور خوارق عادت ، حقائق و واقعات سے تھا ، محض شعبدہ بازی اور تخیلاتی جادوگری نہ تھی۔

الأعراف 7:114

قرآن کریم اب درمیانی تفصیلات چھوڑ کر ایک دوسرے منظر کو پیش کرتا ہے کہ کس طرح فرعون کے ٹولے نے لوگوں کو جمع کیا اور کن کن کو جمع کیا بلکہ پردہ اٹھتے ہی جادوگر سامنے آجاتے ہیں اور یہ قرآن کریم کا بیان کردہ قصص میں نہایت ہی موثر اور پیارا اسلوب ہے۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک منظر کو لپیٹ کر دوسرا منظر سامنے لایا جاتا ہے۔ وَجَاۗءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْٓا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِيْنَ ۔ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ۔ چناچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے۔ انہوں نے کہا " اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا ؟ " فرعون نے جواب دیا " ہاں ، اور تم مقرب بارگاہ ہوگے "۔ یہ لوگ پیشہ ور جادوگر تھے اور اسی طرح پیشہ ور کاہن تھے اور دونوں کاموں سے ان کا مقصد پیسے کمانا تھا۔ دنیا میں ہمیشہ پیشہ ور علمائے دین نے طاغوتی طاقتوں اور ظالم بادشاہوں کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا ہے۔ نیز دنیا میں جب بھی اللہ کی حاکمیت کا نظام معطل ہوا ہے اور اللہ وحدہ کی بندگی ختم ہوئی ہے اس کی جگہ طاغوتی نظام قائم ہوگیا ہے اور جب طاغوتی نظام قائم ہوا ہے تو ایسے حکمرانوں کو پیشہ ور اہل دین کی ضرورت پیش آئی ہے اور ان حکمرانوں نے اہل پیشہ کو ان کے پیشے پر اجر دیا ہے اور انہوں نے دینی اعتبار سے اس طاغوتی نظام کو قبول کیا ہے۔ یوں دونوں کے درمیان باہم معاہدہ رہا ہے اور طاغوتی حکمرانوں نے ان پیشہ ور اہل دین کو پیسہ بھی دیا ہے اور مقرب بھی بنایا ہے۔ فرعون نے یقین دہانی کرائی کہ وہ اس کام پر انہیں اجرت بھی دے گا اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کے مقربین میں سے بھی ہوں گے۔ یوں فرعون نے ان کو آمادہ کیا کہ وہ صرف موسیٰ کا بےجگری سے مقابلہ کریں اور سخت جدوجہد کریں۔ لیکن ان کو کیا پتہ تھا کہ معاملہ اس قدر آسان نہیں ہے کہ وہ چرب زبانی یا چالاکی سے حضرت موسیٰ کو شکست دے دیں گے یہاں تو ان کا واسطہ خدا ، خدا کے رسول ، خدائی معجزات اور خوارق عادت ، حقائق و واقعات سے تھا ، محض شعبدہ بازی اور تخیلاتی جادوگری نہ تھی۔

الأعراف 7:115

جادوگر اجر کے بارے میں مطمئن ہوگئے اور فرعون کی ہمنشینی کی لالچ میں ان کی گردنیں بلند ہوگئیں اور مقابلے کے لئے تیار ہوگئے۔ اب یہ حضرت موسیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور آپ کو چلینج دیتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں وہ اس مقام بلند تک جا پہنچتے ہیں جو اللہ نے ان کے لئے مقرر کیا تھا اور جس کے بارے میں انہیں تصور بھی نہ تھا اور وہ اس اجر کے مستحق قرار پائے جس کی انہیں توقع ہی نہ تھی۔ قَالُوْا يٰمُوْسٰٓي اِمَّآ اَنْ تُلْقِيَ وَاِمَّآ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِيْن۔ پھر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں ؟ موسیٰ نے جواب دیا۔ تم ہی پھینکو۔ انہوں نے اختیار حضرت موسیٰ کو دے دیا کہ چاہو تو تم اپنا عصا کو پھینکو یا ہم پھینکیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نہایت اعتماد سے چیلنج کر رہے تھے۔ ان کو اپنی کامیابی کا پورا یقین تھا اور اپنی فنکاری پر اعتماد تھا۔ اس کے مقابلے میں حضرت موسیٰ بھی نہایت ہی پر اعتماد تھے اور انہوں نے لاپرواہی سے جواب دیا۔ تم پھینکو۔ انہوں نے صرف ایک لفظ میں جواب دیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ان کے کرتب کو کوئی اہمیت نہ دیتے تھے۔ حضرت موسیٰ کے نفس کے اندر پورا یقین و اطمینان تھا۔ یہ امور اور یہ معانی قرآن کریم کے طریقہ کلام کے مطابق الفاظ کے استعمال سے ظاہر ہوتے ہیں۔

الأعراف 7:116

جس طرح حضرت موسیٰ اچانک صورت حالات سے دو چار ہوے ، سیاق کلام اور انداز بیان ایسا ہے کہ ہر قاری اچانک ایک خوفناک صورت حال سے دو چار ہوجاتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑی لاپرواہی سے جواب دے رہے ہیں لیکن اچانک انہیں بھی ایک نہایت ہی خوفناک اور مرعوب کن صورت حال سے دوچار ہونا پڑا ہے جسے دیکھ کر انسان خائف ہوجاتے ہیں اور کانپ اٹھتے ہیں۔ قَالَ اَلْقُوْا ۚ فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْٓا اَعْيُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوْهُمْ وَجَاۗءُوْ بِسِحْرٍ عَظِيْمٍ ۔ انہوں نے جو اپنے آلچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحور اور دلوں کو خوفزدہ کردیا اور بڑٓ ہی زبردست جادو بنا لائے۔ ہمارے لئے یہ بات کافی ہے کہ ان لوگوں کے فن کے بارے میں قرآن کریم نے بھی سحر عظیم کا لفظ استعمال کیا اور اس سے ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ ان کا جادو کس قدر عظیم تھا۔ انہوں نے لوگوں کی نگاہوں کو مسحور کردیا اور لوگوں کے دلوں کو رعب سے بھر دیا اور ماحول پر خوف کی فضا طاری ہوگئی۔ لفظ استرھب کے استعمال سے ماحول کا ایک نقشہ سامنے آجاتا ہے یعنی انہوں نے لوگوں کے اندر خائف ہونے کا تاثر پیدا کردیا۔ اس طرح کہ وہ ڈرنے پر مجبور ہوگئے۔ اور سورت طہ میں تو یہ بھی بتایا گیا کہ حضرت موسیٰ بھی دل ہی دل میں خائف ہوگئے تے۔ ان تمام الفاظ سے ان لوگوں کی خوفناک جادوگری کے بارے میں یقین آجاتا ہے۔

الأعراف 7:117

لیکن اب ایک دوسری سرپرائز سامنے آتی ہے۔ ایک عظیم واقعہ پیش آتا ہے۔ فرعون اور اس کا ٹولہ اور جادوگر سب کے سب ششدر رہ جاتے ہیں۔ تمام لوگ دم بخود رہ جاتے ہیں اور اس عظیم میدان کے بیشمار اور عظیم سکتہ طاری ہوجاتا ہے جنہوں نے جادوگری کے اس عظیم عمل کو دیکھا۔ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ ۔ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نکلتا چلا گیا۔ اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ انہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہوکر رہ گیا۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے) الٹے ذلیل ہوگے۔ باطل ہمیشہ پھول جاتا ہے اور آنکھوں کو چکا چوند کردیتا ہے ، دلوں کو مرعوب کردیتا ہے اور اکثر لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ باطل غالب ہی رہے گا۔ یہ سیلاب کی طرح بہا کرلے جائے گا۔ اور تمام چیزوں کو نیست و نابود کردے گا لیکن جونہی اس کا واسطہ ایک سنجیدہ ، پر عزم اور مضبوط سچائی سے ہوتا ہے تو اس سے غبارے کی طرح ہوا نکل جاتی ہے اور وہ بلبلے کی طرح بیٹھ جاتا ہے ، خارپشت کی طرح سکڑ جاتا ہے اور محض گھاس کے شعلے کی طرح ہوتا ہے جو ایک منٹ میں بجھ جاتا ہے۔ اب سچائی کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے۔ اس کی بنیادیں مضبوط ہوجاتی ہیں اور جڑیں گہری ہوجاتی ہیں۔ قرآن کریم نے یہاں جو انداز تعبیر اختیار کیا ہے ، اس میں اس مفہوم کا پرتو موجود ہے۔ یہ تاثر ملتا ہے کہ حق ایک عظیم اور بھاری وجود کا مالک ہے اور اس کی زد بڑے زور سے پڑتی ہے اور وہ مستقلاً ثابت ہوجاتا ہے اور حق کے سوا تمام دوسرے امور ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں اور باطل کے تار و پود بکھر جاتے ہیں۔ سچائی باطل اور اس کے پیروکاروں پر غالب آجاتی ہے اور نہایت پھلنے پھولنے اور آنکھوں کو چندھیانے کے بعد یہ باطل بڑی تیزی سے سکڑ جاتا ہے۔ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور فتح مند ہونے کے بجائے الٹا ذلیل ہوئے۔ لیکن ابھی تک یہ سر پر ائز ختم نہیں ہوئی۔

الأعراف 7:118

لیکن اب ایک دوسری سرپرائز سامنے آتی ہے۔ ایک عظیم واقعہ پیش آتا ہے۔ فرعون اور اس کا ٹولہ اور جادوگر سب کے سب ششدر رہ جاتے ہیں۔ تمام لوگ دم بخود رہ جاتے ہیں اور اس عظیم میدان کے بیشمار اور عظیم سکتہ طاری ہوجاتا ہے جنہوں نے جادوگری کے اس عظیم عمل کو دیکھا۔ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ ۔ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نکلتا چلا گیا۔ اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ انہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہوکر رہ گیا۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے) الٹے ذلیل ہوگے۔ باطل ہمیشہ پھول جاتا ہے اور آنکھوں کو چکا چوند کردیتا ہے ، دلوں کو مرعوب کردیتا ہے اور اکثر لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ باطل غالب ہی رہے گا۔ یہ سیلاب کی طرح بہا کرلے جائے گا۔ اور تمام چیزوں کو نیست و نابود کردے گا لیکن جونہی اس کا واسطہ ایک سنجیدہ ، پر عزم اور مضبوط سچائی سے ہوتا ہے تو اس سے غبارے کی طرح ہوا نکل جاتی ہے اور وہ بلبلے کی طرح بیٹھ جاتا ہے ، خارپشت کی طرح سکڑ جاتا ہے اور محض گھاس کے شعلے کی طرح ہوتا ہے جو ایک منٹ میں بجھ جاتا ہے۔ اب سچائی کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے۔ اس کی بنیادیں مضبوط ہوجاتی ہیں اور جڑیں گہری ہوجاتی ہیں۔ قرآن کریم نے یہاں جو انداز تعبیر اختیار کیا ہے ، اس میں اس مفہوم کا پرتو موجود ہے۔ یہ تاثر ملتا ہے کہ حق ایک عظیم اور بھاری وجود کا مالک ہے اور اس کی زد بڑے زور سے پڑتی ہے اور وہ مستقلاً ثابت ہوجاتا ہے اور حق کے سوا تمام دوسرے امور ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں اور باطل کے تار و پود بکھر جاتے ہیں۔ سچائی باطل اور اس کے پیروکاروں پر غالب آجاتی ہے اور نہایت پھلنے پھولنے اور آنکھوں کو چندھیانے کے بعد یہ باطل بڑی تیزی سے سکڑ جاتا ہے۔ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور فتح مند ہونے کے بجائے الٹا ذلیل ہوئے۔ لیکن ابھی تک یہ سر پر ائز ختم نہیں ہوئی۔

الأعراف 7:119

لیکن اب ایک دوسری سرپرائز سامنے آتی ہے۔ ایک عظیم واقعہ پیش آتا ہے۔ فرعون اور اس کا ٹولہ اور جادوگر سب کے سب ششدر رہ جاتے ہیں۔ تمام لوگ دم بخود رہ جاتے ہیں اور اس عظیم میدان کے بیشمار اور عظیم سکتہ طاری ہوجاتا ہے جنہوں نے جادوگری کے اس عظیم عمل کو دیکھا۔ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ ۚ فَاِذَا هِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ ۔ فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طلسم کو نکلتا چلا گیا۔ اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ انہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہوکر رہ گیا۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے) الٹے ذلیل ہوگے۔ باطل ہمیشہ پھول جاتا ہے اور آنکھوں کو چکا چوند کردیتا ہے ، دلوں کو مرعوب کردیتا ہے اور اکثر لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ باطل غالب ہی رہے گا۔ یہ سیلاب کی طرح بہا کرلے جائے گا۔ اور تمام چیزوں کو نیست و نابود کردے گا لیکن جونہی اس کا واسطہ ایک سنجیدہ ، پر عزم اور مضبوط سچائی سے ہوتا ہے تو اس سے غبارے کی طرح ہوا نکل جاتی ہے اور وہ بلبلے کی طرح بیٹھ جاتا ہے ، خارپشت کی طرح سکڑ جاتا ہے اور محض گھاس کے شعلے کی طرح ہوتا ہے جو ایک منٹ میں بجھ جاتا ہے۔ اب سچائی کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے۔ اس کی بنیادیں مضبوط ہوجاتی ہیں اور جڑیں گہری ہوجاتی ہیں۔ قرآن کریم نے یہاں جو انداز تعبیر اختیار کیا ہے ، اس میں اس مفہوم کا پرتو موجود ہے۔ یہ تاثر ملتا ہے کہ حق ایک عظیم اور بھاری وجود کا مالک ہے اور اس کی زد بڑے زور سے پڑتی ہے اور وہ مستقلاً ثابت ہوجاتا ہے اور حق کے سوا تمام دوسرے امور ہوا میں تحلیل ہوجاتے ہیں اور باطل کے تار و پود بکھر جاتے ہیں۔ سچائی باطل اور اس کے پیروکاروں پر غالب آجاتی ہے اور نہایت پھلنے پھولنے اور آنکھوں کو چندھیانے کے بعد یہ باطل بڑی تیزی سے سکڑ جاتا ہے۔ فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوْا صٰغِرِيْنَ ۔ فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور فتح مند ہونے کے بجائے الٹا ذلیل ہوئے۔ لیکن ابھی تک یہ سر پر ائز ختم نہیں ہوئی۔

الأعراف 7:120

اس منظر میں ایک کے بعد خلاف توقع دوسرے مناظر آتے ہیں۔ اب ایک عظیم منظر اچانک نظروں کے سامنے ہے۔ وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ہم نے مان لیا رب العالمین کو۔ اس رب کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔ یہ ہے انسانی ضمیر میں سچائی کا رعب اور دبدبہ۔ انسانی شعور اچانک روشن ہوجاتا ہے اور جب کوئی دل قبولیت حق کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اس کے اندر اچانک سچائی کا چراغ روشن ہوجاتا ہے اور وہ یقین سے بھر جاتا ہے۔ یہ جادوگر اپنے فن کی حدود سے اور اس کی ماہیت سے اچھی طرح باخبر تے اور اگر حضرت موسیٰ جادوگر ہوتے تو وہ اور لوگوں کے مقابلے میں انہیں بہت جلد پہچان لیتے۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں جس معجزے کا ظہور ہوا وہ انسانی قدرت اور جادو کے دائرے سے ورا تھا۔ ایک ماہر فنکار اپنے فن کے بارے میں حقیقت کو بہت جلد تسلیم کرلیتا ہے ، بشرطیکہ حقیقت اس پر منکشف ہوجائے۔ اس لئے کہ صاحب فن حقیقت کے قریب ہوتا ہے ، اور اس کا علم ان لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے جو صرف سطحی معلومات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جادوگر چیلنج اور تحدی کے موقف کو چھوڑ کر تسلیم و رضا کا پیکر بن گئے کیونکہ وہ اپنے دلوں کے اندر یقین پا رہے تھے اور یہ حقیقت ان کے شعور کا حصہ بن گئی تھی۔ لیکن کوئی بھی طاغوتی طاقت اس بات کو نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کا دل کس طرح نور سے بھر جاتا ہے یا یہ کہ انسان کو ایمان کی یہ شرح صدر کس طرح ہوجاتی ہے اور انسان کے دل میں یقین کی گرمی کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ طاغوتی قوتیں چونکہ طویل عرصے تک لوگوں کو غلام بنائے رکھتی ہیں اس لئے انہیں یہ زعم ہوجاتا ہے کہ وہ معاملات کو اپنے ڈھب پر ڈالنے کی قوت رکھتی ہیں اور لوگوں کے دل و دماغ و پھر بدل سکتی ہیں۔ حالانکہ انسان کا دل تو رحمن کی انگلیوں میں ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اسے پھیر دے۔ جادوگروں کی جانب سے اعلان شکست اور اعلان ایمان فرعون کے لئے ناقابل تصور اور تعجب خیز تھا۔ کیونکہ ان لوگوں کے دلوں میں تو ایمان کا شائبہ تک نہ تھا اور نہ ان کے ضمیر میں ایمان کا کوئی دخل و عمل اس کے علم میں تھا۔ پھر اس کے لئے یہ اچانک اعلان ایمان اس قدر خطرناک تھا کہ اس سے اس کی حکومت خطرے میں پڑگئی۔ اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے۔ جادوگر صرف جادوگر ہی نہ تھے بلکہ وہ اس وقت کی عبادت گاہوں کے کاہن اور علماء و خطباء تھے ، جب کسی ملک کے تمام مذہبی راہنما ایمان لے آئیں تو پھر حکومت کے لئے اپنی جگہ پر ٹھہرنا ممکن نہیں رہتا۔ خصوصاً ایسے حالات مبارزت میں کہ وہ مقابلے کے لئے میدان میں آئے ہوں۔ ایسے حالات میں کہ جب طاغوتی نظام بذات خود خطرے میں ہو تو اہل طاغوت سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

الأعراف 7:121

اس منظر میں ایک کے بعد خلاف توقع دوسرے مناظر آتے ہیں۔ اب ایک عظیم منظر اچانک نظروں کے سامنے ہے۔ وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ہم نے مان لیا رب العالمین کو۔ اس رب کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔ یہ ہے انسانی ضمیر میں سچائی کا رعب اور دبدبہ۔ انسانی شعور اچانک روشن ہوجاتا ہے اور جب کوئی دل قبولیت حق کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اس کے اندر اچانک سچائی کا چراغ روشن ہوجاتا ہے اور وہ یقین سے بھر جاتا ہے۔ یہ جادوگر اپنے فن کی حدود سے اور اس کی ماہیت سے اچھی طرح باخبر تے اور اگر حضرت موسیٰ جادوگر ہوتے تو وہ اور لوگوں کے مقابلے میں انہیں بہت جلد پہچان لیتے۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں جس معجزے کا ظہور ہوا وہ انسانی قدرت اور جادو کے دائرے سے ورا تھا۔ ایک ماہر فنکار اپنے فن کے بارے میں حقیقت کو بہت جلد تسلیم کرلیتا ہے ، بشرطیکہ حقیقت اس پر منکشف ہوجائے۔ اس لئے کہ صاحب فن حقیقت کے قریب ہوتا ہے ، اور اس کا علم ان لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے جو صرف سطحی معلومات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جادوگر چیلنج اور تحدی کے موقف کو چھوڑ کر تسلیم و رضا کا پیکر بن گئے کیونکہ وہ اپنے دلوں کے اندر یقین پا رہے تھے اور یہ حقیقت ان کے شعور کا حصہ بن گئی تھی۔ لیکن کوئی بھی طاغوتی طاقت اس بات کو نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کا دل کس طرح نور سے بھر جاتا ہے یا یہ کہ انسان کو ایمان کی یہ شرح صدر کس طرح ہوجاتی ہے اور انسان کے دل میں یقین کی گرمی کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ طاغوتی قوتیں چونکہ طویل عرصے تک لوگوں کو غلام بنائے رکھتی ہیں اس لئے انہیں یہ زعم ہوجاتا ہے کہ وہ معاملات کو اپنے ڈھب پر ڈالنے کی قوت رکھتی ہیں اور لوگوں کے دل و دماغ و پھر بدل سکتی ہیں۔ حالانکہ انسان کا دل تو رحمن کی انگلیوں میں ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اسے پھیر دے۔ جادوگروں کی جانب سے اعلان شکست اور اعلان ایمان فرعون کے لئے ناقابل تصور اور تعجب خیز تھا۔ کیونکہ ان لوگوں کے دلوں میں تو ایمان کا شائبہ تک نہ تھا اور نہ ان کے ضمیر میں ایمان کا کوئی دخل و عمل اس کے علم میں تھا۔ پھر اس کے لئے یہ اچانک اعلان ایمان اس قدر خطرناک تھا کہ اس سے اس کی حکومت خطرے میں پڑگئی۔ اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے۔ جادوگر صرف جادوگر ہی نہ تھے بلکہ وہ اس وقت کی عبادت گاہوں کے کاہن اور علماء و خطباء تھے ، جب کسی ملک کے تمام مذہبی راہنما ایمان لے آئیں تو پھر حکومت کے لئے اپنی جگہ پر ٹھہرنا ممکن نہیں رہتا۔ خصوصاً ایسے حالات مبارزت میں کہ وہ مقابلے کے لئے میدان میں آئے ہوں۔ ایسے حالات میں کہ جب طاغوتی نظام بذات خود خطرے میں ہو تو اہل طاغوت سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

الأعراف 7:122

اس منظر میں ایک کے بعد خلاف توقع دوسرے مناظر آتے ہیں۔ اب ایک عظیم منظر اچانک نظروں کے سامنے ہے۔ وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ہم نے مان لیا رب العالمین کو۔ اس رب کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔ یہ ہے انسانی ضمیر میں سچائی کا رعب اور دبدبہ۔ انسانی شعور اچانک روشن ہوجاتا ہے اور جب کوئی دل قبولیت حق کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اس کے اندر اچانک سچائی کا چراغ روشن ہوجاتا ہے اور وہ یقین سے بھر جاتا ہے۔ یہ جادوگر اپنے فن کی حدود سے اور اس کی ماہیت سے اچھی طرح باخبر تے اور اگر حضرت موسیٰ جادوگر ہوتے تو وہ اور لوگوں کے مقابلے میں انہیں بہت جلد پہچان لیتے۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں جس معجزے کا ظہور ہوا وہ انسانی قدرت اور جادو کے دائرے سے ورا تھا۔ ایک ماہر فنکار اپنے فن کے بارے میں حقیقت کو بہت جلد تسلیم کرلیتا ہے ، بشرطیکہ حقیقت اس پر منکشف ہوجائے۔ اس لئے کہ صاحب فن حقیقت کے قریب ہوتا ہے ، اور اس کا علم ان لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے جو صرف سطحی معلومات رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جادوگر چیلنج اور تحدی کے موقف کو چھوڑ کر تسلیم و رضا کا پیکر بن گئے کیونکہ وہ اپنے دلوں کے اندر یقین پا رہے تھے اور یہ حقیقت ان کے شعور کا حصہ بن گئی تھی۔ لیکن کوئی بھی طاغوتی طاقت اس بات کو نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کا دل کس طرح نور سے بھر جاتا ہے یا یہ کہ انسان کو ایمان کی یہ شرح صدر کس طرح ہوجاتی ہے اور انسان کے دل میں یقین کی گرمی کس طرح پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ طاغوتی قوتیں چونکہ طویل عرصے تک لوگوں کو غلام بنائے رکھتی ہیں اس لئے انہیں یہ زعم ہوجاتا ہے کہ وہ معاملات کو اپنے ڈھب پر ڈالنے کی قوت رکھتی ہیں اور لوگوں کے دل و دماغ و پھر بدل سکتی ہیں۔ حالانکہ انسان کا دل تو رحمن کی انگلیوں میں ہوتا ہے ، وہ جس طرح چاہے اسے پھیر دے۔ جادوگروں کی جانب سے اعلان شکست اور اعلان ایمان فرعون کے لئے ناقابل تصور اور تعجب خیز تھا۔ کیونکہ ان لوگوں کے دلوں میں تو ایمان کا شائبہ تک نہ تھا اور نہ ان کے ضمیر میں ایمان کا کوئی دخل و عمل اس کے علم میں تھا۔ پھر اس کے لئے یہ اچانک اعلان ایمان اس قدر خطرناک تھا کہ اس سے اس کی حکومت خطرے میں پڑگئی۔ اس کے قدم ڈگمگانے لگے تھے۔ جادوگر صرف جادوگر ہی نہ تھے بلکہ وہ اس وقت کی عبادت گاہوں کے کاہن اور علماء و خطباء تھے ، جب کسی ملک کے تمام مذہبی راہنما ایمان لے آئیں تو پھر حکومت کے لئے اپنی جگہ پر ٹھہرنا ممکن نہیں رہتا۔ خصوصاً ایسے حالات مبارزت میں کہ وہ مقابلے کے لئے میدان میں آئے ہوں۔ ایسے حالات میں کہ جب طاغوتی نظام بذات خود خطرے میں ہو تو اہل طاغوت سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔

الأعراف 7:123

ذرا انداز ملاحظہ ہو۔ تم اس پر ایمان لائے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ گویا یہ ان کا قانونی فرض تھا کہ وہ اس سے اجازت لیں کہ وہ ایمان قبول کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ خود مختار نہیں ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے شعور و وجدان کو کوئی حرکت نہیں کرنا چاہئے اور وہ اپنے شعور کے معاملے میں بھی خود مختار نہیں ہیں۔ اگر ان کے قلب و نظر پر کوئی روشنی پڑتی ہے تو انہیں حجاب کرنا چاہئے اور اس معاملے میں بھی فرعون سے پوچھنا چاہئے۔ اگر ان کے دلوں میں کوئی عقیدہ یا یقین بیٹھتا ہے تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ فرعون کے اذن کے بغیر ایسا کریں غرض ان کا فرض ہے کہ ہر قسم کی نئی روشنی سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ لیکن ہر طاغوتی طاقت جاہل اور غبی ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہر طاغوتی طاقت متکبر ، مغرور اور انتہا پسند ہوتی ہے۔ نیز ہر طاغوتی طاقت اپنے اقتدار کے بارے میں نہایت حساس ہوتی ہے اور اسے ایسی باتوں سے اپنا اقتدار خطرے میں نظر آتا ہے اور طاغوتی تخت اور اقتدار متزلزل نظر آتا ہے۔ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا ۔ یقینا کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اس دار السلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بےدخل کردو۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔ اور ایک دوسری آیت میں ہے (انہ لکبیرکم الذی علمکم السحر) یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ بہرحال یہ مسئلہ بالکل واضح ہے۔ حضرت موسیٰ کی دعوت رب العالمین کی طرف تھی اور ہر وہ دعوت جو رب العالمین کی طرف ہوتی ہے وہ نہایت خوفناک ہوتی ہے ۔ جہاں بھی رب العالمین کی طرف دعوت پھیل جائے وہاں طاغوتی نظام باقی ہی نہیں رہتا۔ اس لئے کہ طاغوتی نظام قائم ہی اس بات پر ہوتا ہے کہ اس میں رب العالمین کے اقتدار اور قانون کے بجائے دوسرے انسانوں کا اقتدار اور قانون نافذ ہوتا ہے اور انسان زمین پر بطور رب کام کرتے ہیں۔ انسانوں کو اپنا غالم بناتے ہیں اور ان کے لئے جو چاہتے ہیں قوانین بناتے ہیں۔ در اصل یہ دو مستقل نظام حیات ہوتے ہیں جو ایک جگہ جمع ہو ہی نہیں ہوسکتے۔ بلکہ یہ دو الگ الگ دین ہوتے ہیں اور ان کے دو الگ الگ رب ہوتے ہیں۔ اس حقیقت کو فرعون اچھی طرح جانتا تھا۔ اس کی جماعت بھی اچھی طرح جانتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ حجرت موسیٰ کی دعوت کے نتیجے میں فرعون کا اقتدار متزلزل ہوگیا تھا اور اب جبکہ جادوگر سب کے سب سجدے میں گر گئے اور انہوں نے اعلان کردیا کہ انہوں نے رب العالمین کی دعوت تسلیم کرلی ہے اور وہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے رب پر ایمان لائے ہیں۔ یہ جادوگر اس وقت کے مذہبی لیڈر اور کاہن تھے اور انہوں نے دینی اعتبار سے فرعون کو رب الناس کا مقام دیا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے ان کو اس قدر وحشیانہ اور عبرت آموز سزا کی دھمکی دی۔

الأعراف 7:124

تشدد ، تعذیب اور سخت اور عبرت آموز سزا۔ یہ ہیں وہ وسائل جو ہر طاغوتی نظام ، حق کے مقابلے میں لاتا ہے۔ اس لئے کہ حق کا مقابلہ کبھی بھی حجت اور استدلال سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ تشدد کے ہتھیار ہمیشہ سچائی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن جب نفس انسانی کو ایمانی سربلندی حاصل ہوجاتی ہے اور اس کے اندر ایمان کی حقیقت جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس کرہ ارض کی عظیم قوتوں کے مقابلے میں آکھڑا ہوتا ہے اور اسے سرکشوں اور طاغوتوں کے انتقام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور ایسے افراد کی زندگی میں نظریہ حیات کو دنیاوی زندگی پر برتری حاصل ہوجاتی ہے اور یہ فانی زندگی آنے والی دائمی زندگی کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ جب نفس انسانی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ کیا ہے اور کیا چھوڑے یا کیا ہے یا وہ کیا پائے گا اور کیا کھوئے گا اور اس کو اس راہ میں کیا کیا مشکلات انگیز کرنی ہوں گی ؟ اور کیا کیا مشقتیں اٹھانی ہوں گی ؟ کیونکہ اس کا نصب العین دور افق پر روشن نظر آتا ہے اور اس کی نظر بلند ہوجاتی ہے اور وہ پھر نیچے راستے کے کانٹوں کی طرف دیکھتا ہی نہیں ہے۔

الأعراف 7:125

تشدد ، تعذیب اور سخت اور عبرت آموز سزا۔ یہ ہیں وہ وسائل جو ہر طاغوتی نظام ، حق کے مقابلے میں لاتا ہے۔ اس لئے کہ حق کا مقابلہ کبھی بھی حجت اور استدلال سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ تشدد کے ہتھیار ہمیشہ سچائی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن جب نفس انسانی کو ایمانی سربلندی حاصل ہوجاتی ہے اور اس کے اندر ایمان کی حقیقت جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس کرہ ارض کی عظیم قوتوں کے مقابلے میں آکھڑا ہوتا ہے اور اسے سرکشوں اور طاغوتوں کے انتقام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور ایسے افراد کی زندگی میں نظریہ حیات کو دنیاوی زندگی پر برتری حاصل ہوجاتی ہے اور یہ فانی زندگی آنے والی دائمی زندگی کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ جب نفس انسانی اس مقام پر پہنچ جاتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا کہ وہ کیا ہے اور کیا چھوڑے یا کیا ہے یا وہ کیا پائے گا اور کیا کھوئے گا اور اس کو اس راہ میں کیا کیا مشکلات انگیز کرنی ہوں گی ؟ اور کیا کیا مشقتیں اٹھانی ہوں گی ؟ کیونکہ اس کا نصب العین دور افق پر روشن نظر آتا ہے اور اس کی نظر بلند ہوجاتی ہے اور وہ پھر نیچے راستے کے کانٹوں کی طرف دیکھتا ہی نہیں ہے۔

الأعراف 7:126

یہ ہے وہ ایمان حقیقی کا حامل انسان ، جو نہ خائف ہوتا ہے اور نہ اس کے پاؤں ڈگمگاتے ہیں۔ نہ وہ جھکتا ہے اور نہ غلام ہے۔ جو اپنے انجام کے بارے میں مطمئن ہے اور اس راہ پر راضی ہوگیا ہے۔ اسے یقین ہے کہ وہ رب العالمین کی طرف لوٹنے والا ہے اور وہ اس راہ کو اب نہیں چھوڑ سکتا۔ قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ انہوں نے جواب دیا۔ بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے۔ جو شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کے اور طاغوتی نظام کے درمیان برپا معرکے کی نوعیت کیا ہے ؟ اور یہ کہ یہ معرکہ ایک نظریاتی معرکہ ہے ، وہ پھر مداہنت نہیں کرتا اور نہ جنگی داؤ پیچ سے کام لیتا ہے نہ درگزر اور عفو سے کام لیتا ہے۔ خصوصاً ایسے دشمن کے مقابلے میں جس کا مقصد یہ ہو کہ اہل ایمان اپنے ایمان اور نظرئیے سے دستبردار ہوجائیں۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاۗءَتْنَا۔ تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔ جو شخص یہ جانتا ہو کہ وہ کس کے خلاف صف آرا ہے ، اور وہ کس کے مقابلے میں آگے بڑھ رہا ہے ، پھر وہ اپنے دشمن سے امن و عافیت کا سوال نہیں کیا کرتا۔ وہ صرف اپنے رب سے سوال کرتا ہے اور وہ بھی اس ات کا کہ اسے اس فتنے میں صبر و استقامت عطا کی جائے اور یہ کہ وہ اسلام کا وفادار ہے۔ رَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ " اے رب ، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمان بردار ہوں "۔ اب سرکشی ایمان کے مقابلے میں بےبس ہوجاتی ہے ، اسے ایک فہم سے اور اطمینان کے ایک پہاڑ سے واسطہ پڑتا ہے۔ سرکشی اور طغیان کی ذہنیت یہ ہوتی ہے کہ اسے اختیار کرنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح اسے انسان کے جسم پر غلبہ اور کنٹرول حاصل ہے ، اس طرح اسے لوگوں کے دل و دماغ پر بھی تسلط حاصل ہے۔ اور جس طرح وہ لوگوں کے جسموں پر حکم چلاتے ہیں اسی طرح وہ لوگوں کے دماغوں کو بھی کنٹرول کرتے ہیں ، لیکن یہ بات ان کے لئے انہونی ہوتی ہے کہ کوئی دل ان کی نافرمانی کرے حالانکہ ایسا ہوتا ہے ، اس لیے کہ دل تو اللہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اور جب کسی دل کا رابطہ اللہ سے ہوجائے اور وہ سرکشی کے مقابلے میں ڈٹ جائے تو یہ سرکشی بےبس ہوجاتی ہے۔ جب دل اللہ کے ہوجائیں اور ان کا ربط اللہ سے ہوجائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی بےبس ہوجاتی ہے۔ ایمانی قوت کے مقابلے میں بڑے بڑے سلطان اور جبار عاجز آجاتے ہیں۔ یہ انسانی تاریخ کا ایک فیصلہ کن موقف ہے۔ ایک طرف فرعون ، اس کا طاغوتی نظام اور اس کے پیروکار ہیں اور دوسری جانب بےبس مومن جادوگر ہیں جو کبھی جادوگر تھے۔ اب وہ ایک تاریخی موقف کے حامل ہیں۔ ان کا نظریہ حیات زندگی پر فاتح ہوکر برتری حاصل کرچکا ہے۔ انسانی عزیمت نے جسمانی رنج والم پر برتری حاصل کرلی ہے۔ انسان شیطان پر غالب آگیا ہے۔ بیشک یہ انسانی تاریخ کا ایک دو ٹوک موقف ہے۔ اس موقف کے ذریعے ایک حقیقی آزادی کا اعلان کیا گیا ہے۔ آزادی کی ماہیت کیا ہے ؟ آزادی یہ ہے کہ ایک انسان اپنے عقیدے اور نظریات کو لے کر سرفراز ہوجائے اور جباروں اور سرکشوں کے مقابلے میں ڈٹ جائے۔ اور اس مادی قوت کو ہیچ سمجھ لے جو انسانی جسموں پر تو کنٹرول کرتی ہے لیکن جسے انسان کی روح اور نظریات تک رسائی نہیں ہوتی ، اور جب مادی قوتیں دلوں کو مسخر کرنے سے عاجز آجائیں تو اس مقام سے حقیقی حریت اور آزادی کا جنم شروع ہوتا ہے اور یاد رہے کہ یہ جنم آزاد دلوں میں ہوتا ہے۔ یہ ایک دو ٹوک موقف ہے اور پوری انسانی تاریخ میں یہ موقف واضح طور پر بتاتا ہے کہ مادی قوت بےکس و بےبس ہے۔ ذرا دیکھیے کہ یہ جادوگر ابھی تو فرعون سے معمولی اجرت کے طلبگار تھے اور پھر یہ تمنا رکھتے تھے کہ اس کے دربار میں کرسی نشین ہوجائیں اور بادشاہ کے ساتھ انہیں قرب نصیب ہو۔ یہ حقیر گروہ ، ایمان کے بعد ، اب فرعون کے مقابلے میں سرفرازی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور دار و رسن کے مقابل کے تیار کھڑا ہے۔ حالانکہ مادی اعتبار سے ان کے ماحول ہر چیز اسی حالت میں ہے جو تغیر ہوا ہے۔ وہ صرف یہ ہے کہ ایک حقیر ستارے کو خفیہ اجالا مل گیا ہے ، اور اب یہ حقیر ستارہ نہیں بلکہ حقیر ذرہ ایک مستحکم برج میں داخل ہوگیا ہے اور ایک فانی فرد ازلی اور ابدی قوت تک رسائی حاصل کرچکا ہے۔ قلب مومن پر ایک سوئی رکھ دی گئی ، اب دل مومن قدرت کے اثرات قبول کر رہا ہے ، اس کے ضمیر میں سے قدرتی آوازیں آرہی ہیں ، اور انسانی بصیرت پر انوار پڑتے ہیں ، یہ سوء قلب مومن کو احساس دلاتی ہے جبکہ عالم مادیت میں کچھ بھی تغیر پذیر نہیں ہوتا۔ لیکن انسان عالم مادیت سے سربلند ہوکر ایسے جہان نو میں چلا جاتا ہے جن کے بارے میں پہلے وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ اب دھمکی اپنا راہ لیتی ہے اور ڈراوا تلاش میں رہتا ہے لیکن ایمان اپنی راہ پر دور نکل چکا ہوتا ہے۔ وہ پیچھے کی طرف دیکھا ہی نہیں ، اسے کوئی تردد نہیں ہوتا اور نہ وہ بےراہ ہوتا ہے۔ اس حد تک جب منظر چلتا ہے تو پردہ گر جاتا ہے اور مزید تفصیلات نہیں دی جاتیں کیونکہ یہاں اس منظر کی خوبصورتی اپنے عروج کو پہنچ کر ایک بات بھی مکمل ہوجاتی ہے اور ایک فنی خوبصورتی بھی اپنے کمال تک پہنچ جاتی ہے۔ قرآن کا فنی کمال یہاں پر بھی اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے اور قاری کا وجدان بھی قصے کے نفسیاتی مقاصد کو پا لیتا ہے۔ نہایت ہم آہنگی کے ساتھ اور قرآن کریم کے مخصوص اسلوب اظہار میں۔ (دیکھیے میری کتاب التصویر الفنی) قرآن کے سائے میں اس دلچسپ منظر کے سامنے کھڑے ہو کر ہمیں چاہئے کہ قدرے غور و فکر کریں۔ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے جادوگروں کی جانب سے ایمان اور رب موسیٰ اور ہارون کو تسلیم کرلینے کے فعل کو اپنے نظام حکومت کے خلاف ایک سازش سمجھا اور اس بات کا اظہار کیا کہ ان کی حکومت اور اقتدار خطرے میں ہے۔ اس لیے کہ جس اصول پر ایمان کا نظام قائم ہوتا ہے وہ اصول فرعونی نظام کے اساسی اصول سے متضاد ہے۔ اس بات کی تشریح اس سے قبل ہم کرچکے ہیں۔ یہاں بطور تکرار و تاکید دوبارہ یہ بات لائی جاتی ہے ، کسی ایک دل ، کسی ایک ملک ، کسی ایک نظام میں یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ بھی رب العالمین ہو اور اس کے ساتھ ساتھ کوئی انسان بھی رب الناس ہو ، اور اس کے قوانین لوگوں میں رائج اور نافذ ہوں اس لیے کہ اللہ کا دین بھی ایک مکمل نظام ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فرعونی دین بھی ایک مکمل دین ہے۔ جب جادوگروں کے دلوں میں شمع ایمان روشن ہوگئی اور انہوں نے ایمان و کفر کی حقیقت کو پا لیا تو انہوں نے اچھی طرح سمجھ لیا کہ ان کے اور فرعون کے درمیان ایسا نظریاتی اور اصولی اختلاف ہے ، اور یہ کہ فرعون جو انتقامی کارروائی کی دھمکی دے رہا ہے وہ محض اس لیے دے رہا ہے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ہم نے اللہ کو رب العالمین تسلیم کرلیا ہے۔ اور اس انداز میں ایمان لانا فرعون کے نظام حکومت کے لیے چیلنج ہے۔ اسی طرح فرعون کی حکومت کے اعلی ڈھانچے اور دستوری نظام کے لیے بھی یہ ایک چیلنج ہے۔ یعنی فرعون کا نظام ربوبیت جس بت پرستانہ تصورات پر قائم تھا وہ جڑ سے اکھڑ گئے تھے۔ جو شخص بھی رب العالمین وحدہ لا شریک کی طرف دعوت دیتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لے۔ اس لئے کہ اس ادراک ہی کی وجہ سے اہل ایمان کے لیے تمام مصائب و شدائد قابل برداشت بن گئے۔ اب وہ دار و رسن کے لیے تیار ہوگئے اس لیے کہ انہوں نے ایمان کا دعوی کردیا ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ان کا اور فرعون کا دین ان سے جدا ہے اس لیے کہ فرعون نے لوگوں کو غلام بنا کر اور اپنا قانون جاری کرکے اللہ کی رب العالمینی کا انکار کردیا ہے لہذا فرعون کافر ہے۔ اس طرح ہر داعی کو یہ حقیقت اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ وہ ایمان کی طرف دعوت دے رہا ہے اور اس کی راہ میں روڑے اٹکانے والے کافر ہیں اور فرعونی نظام کے داعی ہیں۔ اور یہ دشمنی محض (البغض فی اللہ) ہے۔ اس کی تہ میں کوئی اور داعیہ ، داعیہ ایمان کے سوا نہیں ہے۔ اس کے بعد اس منظر میں ہمیں نظر آتا ہے کہ ایمان کے سامنے پوری زندگی اور اس کی آسائشوں کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ عزم و ارادے کے سامنے رنج والم کے پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔ انسانی قوت شیطانی پر فتح یاب ہوتی ہے۔ یہ ایک نہایت ہی فحت بخش اور حیران کن منظر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس منظر کی خوبصورتی کا بیان ممکن نہیں ہے۔ خود نصوص قرآن ہی کو پڑھیے۔

الأعراف 7:127

اب اس قصے کا مزید مطالعہ کیجئے۔ پردہ اٹھتا ہے اور ایک جدید اور دوسرا خوبصورت منظر ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔ اس میں کفر کی پارلیمنٹ نظر آتی ہے۔ مشورہ اور نجوہ ہوتا ہے اور کسی سخت اقدام کے لیے ایک دوسرے کو جوش دلایا جاتا ہے۔ پہلے اور کھلے میدان کے معرکے میں کھلی کھلی شکست میں خفت اٹھائے ہوئے اعیان دولت بپھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کے لیے یہ صورت حالات ناقابل برداشت ہے کہ موسیٰ اور ہارون اس طرح کامیاب و کامران ہوجاء یں۔ اور یہ ایمان لانے والے لوگ بھی مزے مزے سے ان کے ہمرکاب ہوں۔ حالانکہ حضرت موسیٰ پر ایمان لانے والوں میں چند کمزور لوگ شامل تھے اور وہ فرعون سے ہر وقت ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں فرعون ان کو فتنے میں نہ ڈال دے۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر قرآن نے تصریح کی ہے۔ یہ پارلیمنٹ سختی کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ یہ لوگ حضرت موسیٰ کے خلاف فرعون کو برانگیختہ کر رہے ہیں اور اسے ڈراتے ہیں کہ اگر اس کے خلاف سخت ایکشن نہ لیا گیا تو نتائج خطرناک ہوں گے۔ حکومت کا رعب جاتا رہے گا۔ جدید خطرناک نظریات پھیل جائیں گے۔ لوگ فرعون کے بجائے اللہ کو رب العالمین سمجھیں گے۔ چناچہ وہ تیار ہوجاتا ہے اور اس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔ وہ فیصلہ کردیتا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف شدید ایکشن لے اور قوت کا استعمال کرے اور اخلاقی شکست کے بعد پوری مادی قوت استعمال کرے۔ مادی قوت کے مالکان ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ ۭقَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ۔ فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھیں ؟ " فرعون نے جواب دیا " میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے "۔ فرعون کا دعوی یہ نہ تھا کہ وہ اس کائنات کا الہ اور خالق اور اس کائنات کو وہ چلاتا ہے یا یہ کہ اسے اس کائنات کے طبیعی نظام پر قدرت حاصل ہے بلکہ وہ اپنے آپ کو اپنی کمزور پبلک پر الہ اور رب سمجھتا تھا۔ اس معنی میں کہ وہ حاکم اور مقن ہے اور یہ کہ اس کا حکم اور ارادہ قانون ہیں اور ان پر عمل ہوتا ہے اور ہونا چاہیے اور تمام حکام اور بادشاہوں کا بھی یہی دعوی ہوتا ہے کہ ان کا قانون چلتا ہے اور ان کے حکم سے امور طے ہوتے رہیں اور یہی مفہوم ہے ربوبیت کا ازروئے لغت۔ مصر میں لوگ فرعون کی بندگی اس معنی میں نہ کرتے تھے کہ وہ فرعون کی نمازیں پڑھتے تھے یا فرعون کے روزے رکھتے تھے بلکہ ان کے اپنے الہ تھے جس طرح فرعون نے اپنے لیے الہ بنا رکھے تھے اور یہ لوگ ان الہوں کی بندگی بجا لاتے تھے اور اس حقیقت کا اظہار درباریوں کے اس قول سے بھی ہوتا ہے۔ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ " تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے ہیں " اور یہ حقیقت مصر کی فرعونی تاریخ سے بھی ثابت ہے کہ فرعون کا الہ تھا۔ لہذا فرعون اس معنی میں ان کا رب اور الہ تھا کہ یہ لوگ اس کے اوامرو نواہی کے پابند تھے اور اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے کسی قانون کی خلاف ورزی کرسکتے تھے اور عبادت کا یہی لغوی ، حقیقی اور اصطلاحی مفہوم ہے بلکہ یہی واقعی مفہوم ہے جو شخص کسی انسان کے وضع کردہ قانون کی اطاعت کرے وہ گویا اس کی عبادت کر رہا ہے۔ اور حضور ﷺ نے یہی تشریح فرمائی ہے۔ اتخذوا احبارہم ورھبانہم اربابا من دون اللہ کی تشریح کے بارے میں ایک صحابی عدی ابن حاتم نے حضور ﷺ سے دریافت فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت تو نہ کرتے تھے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ احبارو رہبان ان کے لیے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرتے تھے اور یہ لوگ اس میں ان کی اطاعت کرتے تھے ، یہی تو ان کی جانب سے ان کی عبادت ہے۔ (ترمذی) رہی یہ بات جو اس نے کہا ما علمت لکم من الہ غیری۔ میرے علم میں تمہارے لیے میرے سوا کوئی الہ نہیں ہے ؟۔ تو اس کی تفسیر خود قرآن نے کردی ہے۔ قرآن نے فرعون کی زبانی یہ بات نقل کردی۔ (الیس لی ملک مصر و ھذہ الانھار تجری من تحتی افلا تبصرون۔ ام انا خیر من ھذا الذی ھو مھین ولا یکاد یبین۔ فلولا القی علیہ اسورۃ من ذھب او جاء معہ الملئکۃ مقترنین) " لوگو کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا کہ میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کرسکتا ؟ کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی (معیت) میں نہ آیا "۔ ظاہر ہے کہ وہ اس میں اپنا اور حضرت موسیٰ کا موازنہ پیش کر رہا تھا۔ اس کے پاس کنگن نہیں ہیں اور میں نے کنگن پہنے ہوئے ہیں یعنی میں بادشاہ ہوں اور زیب وزینت کا مالک ہوں اور موسیٰ کے پاس یہ خوبی نہیں۔ لہذا اس کے اس قول سے مراد یہ ہے کہ میرے سوا تمہارا کوئی حاکم نہیں ہے۔ میں ہی حاکم ہوں اور جس طرح چاہتا ہوں اس مملکت کو چلاتا ہوں اور لوگ میری بات سے سرتابی نہیں کرسکتے اور اس مفہوم میں حاکمیت الوہیت کے مترادف ہے۔ اور فی الحقیقت الوہیت کا مفہوم ہی یہی ہے۔ الہ ہوتا ہی وہ ہے جو لوگوں کے لیے قانون بناتا ہے۔ چاہے وہ الوہیت کا دعوی کرے یا نہ کرے۔ اس تفسیر کے مطابق ہم فرعون کے امراء کے اس قول کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں جس میں وہ کہتے ہیں۔ وَقَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰي وَقَوْمَهٗ لِيُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَيَذَرَكَ وَاٰلِهَتَكَ " فرعون سے اس کی قوم کے سرداروں نے کہا " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھیں۔ ان لوگوں کے نقطہ نظر سے فساد فی الارض یہ ہے کہ انسان اللہ وحدہ کی ربوبیت اور حاکمیت کی طرف لوگوں کو بلائے ، کیونکہ جب کوئی اللہ رب العالمین کو الہ اور حاکم تسلیم کرتا ہے تو اس سے از خود تمام دوسرے نظاموں اور حاکموں کی نفی ہوجاتی ہے۔ کیونکہ فرعونی نظام حاکمیت غیر اللہ کے اصول پر قائم ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ نظام فرعون کی ربوبیت کے اصول پر قائم ہوتا ہے اور یہ شخص اللہ کی ربوبیت کا داعی ہوتا ہے۔ لہذا اب ہر شخص فرعونیوں کی نظروں میں مفسد فی الارض ہوتا ہے۔ وہ باغی اور انقلابی ہوتا ہے اور ملک کے موجودہ قائم حالات کے اندر اکھاڑ پچھاڑ چاہتا ہے۔ اور موجود مستحکم حالات کی جگہ نئے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ جن میں ربوبیت اور حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہو کسی انسان کو یہ حقوق حاصل نہ ہوں۔ لہذا ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ یہ مفسدین فی الارض ہیں اور فرعون اور اس کے الہوں کی بندگی کو ترک کرنا چاہتے ہیں۔ دراصل فرعون نے اپنے تمام حقوق اس دین سے اخذ کیے تھے جس کا وہ پیروکار تھا۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ وہ ان الہوں کا محبوب بیٹا ہے اور باپ بیٹے کے جس تعلق کا وہ داعی تھا وہ کوئی حسی اور طبیعی تعلق نہ تھا ، کیونکہ لوگوں کو معلوم تھا کہ فرعون جس ماں باپ سے پیدا ہوا تھا وہ مصری باشندے تھے اور انسان تھے۔ یہ ایک اشاراتی اور رمزی ابنیت تھی جس کے ذریعے وہ اپنے لیھے وہ تمام حقوق حاصل کرتا تھا ، جو اس نے اپنے لیے مخصوص کر رکھے تھے۔ جب موسیٰ اور آپ کی قوم نے رب العالمین کی براہ راست بندگی شروع کردی اور فرعونی الہوں کو ترک کردیا جن کی عبادت مصری لوگ کرتے تھے ، تو اس فعل سے وہ نظریاتی اساس ہی ختم ہوجاتی تھی جس پر فرعون کی مملکت کی تعمیر ہوئی تھی۔ پھر وہ اپنے نظام مملکت میں اپنی قوم کو کچھ حیثیت بھی نہ دیتا تھا اور وہ لوگ بھی اس کی اطاعت کرتے تھے وہ اللہ کے دین سے خارج تھے اور فاسق تھے۔ دوسری جگہ میں ہے (فاستخف قومہ فاطاعوہ۔۔ انہم کانوا قوم فاسقین) " اس نے اپنی قوم کو ہلکا کردیا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔۔۔ بیشک یہ لوگ فاسق تھے " یہ تاریخ کی صحیح تفسیر ہے۔ اگر فرعون کی قوم ہلکے لوگوں پر مشتمل نہ ہوتی اور فسق و فجور کی عادی نہ ہوتی تو ہر گز فرعون کی اطاعت نہ کرتی۔ اللہ پر جو شخص ایمان لے آتا ہے طاغوت اسے ہلکا نہیں سمجھ سکتا۔ اور نہ کوئی مومن طاغوت کی اطاعت کرسکتا ہے بشرطیکہ مومن یہ جانتا ہو کہ یہ معاملہ شریعت کے خلاف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون اور تمام لوگوں کو رب العالمین کی طرف دعوت دینا ، پھر میدان مبارزت میں جادوگروں کو شکست دینا اور ان کا ایمان لے آنا اور اس کے بعد قوم موسیٰ کی طرف سے رب العالمین پر ایمان لانا اور رب واحد کی عبادت کرنا یہ سب امور ایسے تھے جو فرعون کے نظام حکومت کے لیے نہایت ہی خطرناک تھے اور جہاں بھی کوئی ایسا نظام قائم ہو جس میں انسان انسان کا غلام اور مطیع ہو اور ایسے نظام کے اندر کوئی صرف رب العالمین کی بندگی اور اطاعت کی دعوت شروع کردے تو یہ اس نظام کے لیے چیلنج ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شہادت لا الہ الا اللہ کی طرف دعوت دے اور یہ دعوت اس کلمہ کے حقیقی مفہوم کی طرف ہو کہ لوگ پورے پورے اسلام میں داخل ہوجائیں اور یہ مفہوم نہ لیا جائے کہ جزوی طور پر مراسم عبودیت اللہ کے سامنے بجا لائیں تو یہ دعوت کسی بھی موجود نظام کفر کے لیے چیلنج ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرعون نے اس صورت حالات میں سخت الفاظ میں اس خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کا اعلان کردیا کیونکہ اس کا پورا نظام مملکت خطرے میں تھا۔ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَاۗءَهُمْ وَنَسْتَحْيٖ نِسَاۗءَهُمْ ۚ وَاِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ ۔ فرعون نے جواب دیا " میں ان کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے " حضرت موسیٰ کی پیدائش کے دور میں بھی بنی اسرائیل کے خلاف نسل کشی کی یہ پالیسی اختیار کی گئی تھی۔ فرعون اور اس کا نظام مملکت ان کے لڑکوں کو قتل کر رہا تھا۔ سورة قصص میں اس کی تفصیلات یوں دی گئی ہیں :۔ ان فرعون علا فی الارض و جعل اھلھا شیعا یستضعف طائفھ منہم یذبح ابناءہم و یستحیی نساءہم انہ کان من المفسدین " واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا ، اس کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا ، اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔ فی الواقعہ وہ مفسد لوگوں میں سے تھا "۔ یہ سرکشی ہر دور میں رہتی ہے اور ہر جگہ رہتی ہے۔ آج بھی وہ یہی ذرائع و وسائل اختیار کرتی ہے اور صدیاں پہلے بھی اس کے یہی ذرائع تھے۔

الأعراف 7:128

اب پھر پردہ گرتا ہے ، فرعون اور اس کے حوالی و موالی کو سازش اور دھمکیوں اور سخت تندی کی حالت میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور اب اس قصے کا ایک دوسرا خاص منظر سامنے آتا ہے ، معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے تشدد کی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔ اس منظر میں حضرت موسیٰ اپنی قوم میں نظر آتے ہیں ، آپ اپنی قوم کے ساتھ ایک نبی کے قلب کے ساتھ ایک نبی کی زبان میں بات کررہے ہیں ، آپ کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنے رب کی پوری پوری معرفت حاصل ہے۔ آپ رب تعالیٰ کی سنت جاریہ کو بھی اچھی طرح جانتے ہیں ، آپ کو علم ہے کہ اللہ کے منصوبھے اور اس کی تقدیر کے فیصلوں پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں کہ آپ یہ مشکلات انگیز کریں۔ صبر سے کام لیں اور اللہ سے ان مشکلات کی برداشت کے لیے مدد اور معاونت طلب کریں۔ آپ انہیں اس کائنات کی اصل صورت حال سے آگاہ کرتے ہیں۔ وہ یہ کہ زمین اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور آخری انجام ان لوگوں کا اچھا ہوتا ہے جو اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ، صرف اللہ سے ڈرتے ہیں۔ اور جب وہ لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ اے موسیٰ تمہارے آنے سے پہلے بھی ہم یہ مصائب تھے اور آپ کے آنے کے بعد بھی ہم ان مشکلات سے دو چار ہیں اور یہ مشکلات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتیں تو آپ ان کو ان الفاظ میں تسلی دیتے ہیں کہ ممکن ہے کہ اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور اس کرہ ارض کی خلافت تمہیں دے دے لیکن پھر تمہاری بھی آزمائش کا دور شروع ہوگا۔ قَالَ مُوْسٰي لِقَوْمِهِ اسْتَعِيْنُوْا بِاللّٰهِ وَاصْبِرُوْا ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ ڐ يُوْرِثُهَا مَنْ يَّشَاۗءُ مِنْ عِبَادِهٖ ۭوَالْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا ۭ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا " اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو ، زمین اللہ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے ، اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں " اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں " اس نے جواب دیا " قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو "۔ نبی کی بصیرت دیکھ رہی ہے کہ اللہ کی قوتیں اس کائنات میں کس طرح متصرف ہیں۔ اور اللہ کی حقیقت اور قوت کس قدر عظیم ہے۔ اور اس کائنات میں سنت الہیہ کس طرح جاری وساری ہے اور اللہ کی راہ میں مشکلات برداشت کرنے والے لوگوں کے لیے اس میں کیا کیا مراعات ہیں ؟ جو لوگ رب العالمین کی طرف دعوت دیتے ہیں ، ان کے لیے جائے پناہ صرف ایک ہے اور وہ مامون محفوظ اور قابل بھروسہ جائے پناہ ہے۔ ان کا صرف ایک ہی ولی اور آقا ہوتا ہے جو بڑی قوت والا اور ناقابل شکست ہے۔ لہذا ایسے لوگوں کو اس وقت تک صبر اور مصابرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے جب تک ان کا آقا ان کے لیے فتح و کامرانی کے احکام صادر نہیں کرتا ، انہیں اس معاملے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ انسان کو معلوم نہیں ہے کہ غیب میں اس کے لیے کیا کیا پوشیدہ ہے اور اس کی بھلائی کس چیز میں ہے ؟ یہ زمین اللہ کی ہے۔ فرعون اور اس کی قوم یہاں مسافرین ہیں اور ان کے چلے جانے کے بعد یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ یہاں کس قوم کو لاتا ہے اور اسے اس زمین کا وارث بناتا ہے۔ یہ کام اللہ اپنے سنن جاریہ کے مطابق کرتا ہے ، لہذا جو لوگ رب العالمین کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ اس بات کو خاطر میں نہیں لاتے کہ ان کا جس طاغوتی طاقت سے مقابلہ ہے ، وہ اس سرزمین پر بظاہر بڑی مستحکم نظر آتی ہے اور اس کی بنیادوں میں کوئی تزلزل نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس زمین کا مالک اللہ ہے اور وہ کسی مناسب وقت میں کسی سے اقتدار چھین کر کسی دوسرے بندے کے حوالے کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آخری اچھا انجام بہرحال متقین کا ہوتا ہے ، چاہے طویل عرصے کے بعد یہ انجام ظاہر ہو یا جلدی ظاہر ہو۔ لہذا رب العالمین کی طرف دعوت دینے والوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دلوں سے اپنے انجام کے بارے میں ہر خلجان کو نکال دیں اور یہ گمان نہ کریں کہ آج جن اہل باطل کی زمین پر چلت پھرت ہے وہ ہمیشہ اسی طرح رہیں گے۔ یہ تو نبی کی چشم بصیرت تھی جو اس کائنات میں ہونے والے واقعات کو دور تک دیکھ رہی تھی لیکن بنی اسرائیل بھی تو بنی اسرائیل تھے۔

الأعراف 7:129

(قَالُوْٓا اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا وَمِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا) اس کی قوم کے لوگوں نے کہا " تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جا رہے ہیں " ان الفاظ کے پیچھے ایک خاص ذہنیت ہے ، ان کے اندر قطعیت کے ساتھ ان کی مایوسی کا اظہار ہے۔ کہتے ہیں کہ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم پر مظالم ہوتے رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی جاری ہیں۔ ان کے تسلسل میں کوئی فرق نہیں آرہا ہے۔ یہ ختم ہوتے نظر نہیں آتے۔ لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور تمہیں مقام خلافت فی الارض ضرور نصیب ہوگا لیکن نبی اپنی نہج اور ڈگر پر جاری رہتا ہے۔ وہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ ذکر الہی میں مشغول ہوں ، پر امید رہیں ، نبی انہیں اشارہ بھی دیتے ہیں کہ دشمن ضرور ہلاک ہوگا اور تمہیں مقام خلافت فی الارض ضرور نصیب ہوگا لیکن جسے یہ مقام ملتا ہے وہ در اصل بڑی آزمائش میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ قَالَ عَسٰي رَبُّكُمْ اَنْ يُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَيَسْتَخْلِفَكُمْ فِي الْاَرْضِ فَيَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ۔ اس نے جواب دیا۔ قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رب تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ حضرت موسیٰ نبوت کے دل و دماغ اور بصیرت کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ، آپ سنت الہیہ کو مٹآ مٹآ دیکھ رہے ہیں۔ یہ سنت حسب وعدہ صابرین کے حق میں فیصلہ کرتی ہے ، اسی طرح منکرین حق کے لیے بھی اس کے فیصلے وقت پر ہوتے ہیں۔ آپ کو صاف صاف نظر آتا ہے کہ طاغوتی طاقتوں نے تباہ و برباد ہونا ہے اور ان کی جگہ صابرین و مجاہدین نے لینی ہے ، لہذا آپ اپنی قوم کو راہ مصابرت پر آگے بڑھاتے ہیں تاکہ سنت الہیہ ان کے حق میں فیصلے کردے۔ آپ کو تو آغاز ہی سے معلوم ہے کہ بنی اسراء یل کو زمین کا وارث بنانا ان کے لیے یہ آزمائش ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور محبوب ہیں ، جیسا کہ بعض بنی اسرائیل کو زمین کا وارث بنانا ان کے لیے آزمائش ہے۔ یہ نہیں کہ وہ اللہ کے چہیتے ہیں اور محبوب ہیں ، جیسا کہ بعض بنی اسرائیل اپنے بارے میں زعم رکھتے ہیں۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان سے ان کے گناہوں کی وجہ سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا ، اس لیے کہ یہ دنیا یونہی بےمقصد بھی نہیں بنائی گئی اور نہ یہ ازلی اور ابدی ہے بلکہ یہاں ہر قوم کا عروج انسان کے لیے ہے۔ فینظر کیف تعملون۔ تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ اللہ تو کسی چیز کے واقعہ ہونے سے بھی پہلے جانتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی جانب سے ارتکاب جرم سے پہلے سزا نہیں دیتا۔ جب تک کہ وہ بات ان سے واقعہ نہیں ہوجاتی جس کا اللہ کو پہلے سے عالم الغیب ہونے کی حیثیت سے علم ہوتا ہے۔

الأعراف 7:130

اب سیاق کلام موسیٰ اور ان کی قوم کو چھوڑ دیتا ہے۔ اس منظر پر پردہ گر جاتا ہے۔ اب ایک دوسرا منظر سامنے آجاتا ہے۔ اس منظر میں فرعون اور اس کی قوم نظر آتے ہیں۔ فرعون اپنی قوم پر انتہائی ظلم کرتے ہوئے نظر آتا ہے اور حضرت موسیٰ کا وہ وعدہ سچ ہوجاتا ہے جو اس نے اپنی قوم سے کیا تھا اور جس کی انہیں امید تھی۔ اب رسول کی تمام باتوں کی تصدیق ہوجاتی ہے اس لیے کہ یہ قصہ یہاں اسی مقصد کے لیے لایا گیا ہے۔ یہ منظر نہایت ہی معمول کے حالات میں شروع ہوتا ہے اور اس کے بعد دھیرے دھیرے فضا میں تندی اور تیزی آتی جاتی ہے اور پردہ گرنے سے پہلے ہم فضا میں ایک خوفناک طوفان دیکھتے ہیں۔ ہر چیز تباہ و برباد کردی جاتی ہے۔ روئے زمین کو صاف کردیا جاتا ہے۔ اب یہاں کوئی طاغوت و سرکش نہیں رہتا۔ اور نہ طاغوت کے اہالی و موالی کا کوئی اتہ پتہ نظرآتا ہے اور ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ بنی اسرائیل نے مشکلات پر صبر کیا اور اللہ تعالیٰ نے انہیں جزائے خیر دے دی۔ فرعون اور اس کی پارٹی نے فسق و فجور کی راہ لی اور ظلم کیا اور وہ بھی اپنے کیے پر مناسب انجام تک پہنچ گئے۔ اللہ کا وعدہ بھی پورا ہوا اور اس کی وعید نے بھی رنگ دکھایا۔ اور ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے حق کو جھٹلایا۔ سنت الہیہ کے مطابق سلوک ہوا۔ اللہ نے انہیں نہایت ہی مشکل حالات میں مبتلا کیا۔ ذرا تفصیلا مطالعہ کریں۔ ( وَلَقَدْ اَخَذْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِيْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ ) " ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے " یہ اللہ کی طرف سے ان کے لیے ابتدائی تنبیہ تھی۔ ملک کو خشک سالی نے آ لیا اور ہر قسم کی فصلیں ضائع ہوگئیں اور پیداوار ختم ہوگئی۔ سنین عربی اصطلاح میں خشک سالوں اور قحط اور شدت کے لیے بولا جاتا ہے۔ قحط سالی مصر جیسے سرسبز اور گل گلزار ملک میں عذاب الہی تصور ہوتی ہے۔ لوگوں کے اندر اس سے خوف و ہراس پیدا ہوجاتا تھا اور وہ پریشان ہو کر عالم بالا کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔ لیکن چونکہ طاغوتی قوتیں اور ان کے اہلکار لوگوں کو غافل کرتے ہیں ، دین سے دور کرتے ہیں اور لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں ، اس لیے وہ اس لائن پر نہیں سوچتے کہ یہ عذاب الہی ہے جو ان پر بصورت خشک سالی وغیرہ آیا ہے۔ طاغوتی قوتوں کی وجہ سے لوگوں کے اندر اس قدر غفلت اور لا پرواہی پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اللہ کی تنبیہات کو بھول جاتے ہیں اور یہ اعتراف نہیں کرتے کہ ایمان اور روحانی اقدار اور طبیعی حالات کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اور عالم الغیب کی نظر لوگوں کی اخلاقی زندگی اور ان کے طبیعی حالات دونوں پر ہوتی ہے۔ طاغوتی نظام کے تحت لوگوں کا دماغ اس قدر موٹا ہوجاتا ہے کہ وہ محسوسات کے علاوہ کچھ دیکھ ہی نہیں سکتے اور وہ بہائم کی سطح تک اتر آتے ہیں کیونکہ بہائم بھی صرف محسوسات کو دیکھ سکتے ہیں۔ اگر اس قسم کے لوگ کچھ ایسے واقعات دیکھیں بھی جن کی وہ طبیعی تعبیر نہیں کرسکتے تو بھی ان اہم واقعات کو وہ اتفاقات اور مصاونات کے حوالے کردیتے ہیں۔ اور ان واقعات کے پیچھے کام کرنے والی سنت الہیہ اور ناموس قدرت کو وہ نہیں سمجھ پاتے ، جو اس کائنات میں جاری وساری ہے۔ (جب خروچیف کے دور میں روس خشک سالی کا شکار ہوا اور ہر قسم کی زرعی پیداوار ختم ہوگئی تو اس نے کہا کہ قدرت ہمارے خلاف جا رہی ہے۔ حالانکہ وہ لا مذہب کمیونزم کا قائل تھا اور کسی غیبی طاقت کو تسلیم نہ کرتا تھا۔ غرض یہ لوگ زبردستی اپنے آپ کو اندھا کرتے ہیں اور دست قدرت کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ سوال یہ ہے کہ وہ ندرت کیا ہے جو ان کے خلاف جا رہی ہے ؟ یہی تو رب تعالیٰ ہے) ۔ غرض قوم فرعون کو اللہ نے متنبہ کرنے کی کوشش کی حالانکہ وہ کافر اور فاسق و فاجر تھے۔ بت پرستی کے خرافات نے ان کی فطرت کو تبدیل کردیا تھا اور اس کائنات میں جو ناموس قدرت جاری ہے اور جس کے مطابق خود انسانوں کی زندگی بھی رواں دواں ہے اس کے ساتھ ان کا کوئی ربط وتعلق نہ تھا۔ کیونکہ اس ناموس قدرت کا صحیح ادراک صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جنہیں صحیح ایمان اور نور ایمان نصیب ہوا ہو۔ اہل ایمان ہی یہ ادراک کرسکتے ہیں کہ یہ کائنات یونہی پیدا نہیں کی گئی اور نہ ہمیشہ کے لئے یونہی بےمقصد رہے گی بلکہ اس کے اوپر اللہ کے سچے قوانین حاوی ہیں۔ یہ ہے حقیقی علمی سوچ۔ یہ سوچ اللہ کے عالم مغیبات کا انکار نہیں کرتی۔ اس لئے کہ حقیقی علم و سائنس اور علم غیب کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ کیونکہ کائنات اور انسانی زندگی دونوں کے پیچھے اللہ ذات کام کرتی ہے جو (فعال لما یرید) ہے اور ذات الٰہی کا مطالبہ یہ ہے کہ بندے ایمان لائیں اور اللہ خلافت فی الارض کا منصب ان کے سپرد کردے۔ اور جس نے ہمیشہ انسانوں کے لئے ایسی شریعتیں تجویز کی ہیں جو ان قوانین فطرت اور نوامیس قدرت سے ہم آہنگ رہی ہیں اور انہوں نے اس کائنات میں انسانی زندگی اور اخلاق زندگی کے درمیان توازن پیدا کیا ہے۔ فرعون اور اس کے اہالی و موالی یہ نہ سمجھ سکے کہ ان کے کفر و فسق اور آل موسیٰ پر ان کے مظالم اور قحط سالی کے عذاب کا ایک دوسرے کے ساتھ تعلق ہے۔ خصوصاً مصر میں جہاں ہمیشہ تازگی ، سرسبزی اور بہار رہتی ہے اور ہر قسم کے پھلوں اور زرعی پیداوار کی کثرت اور فراوانی ہوتی ہے۔ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ مشکلات ان کے فسق و فجور کی وجہ سے ان پر نازل ہو رہی ہیں۔ غرض اہل فرعون مصر میں عظیم خشک سالی کے مہلک آثار کو دیکھ کر بھی متنبہ نہ ہوئے اور انہوں نے اپنی آنکھیں بند کیے رکھیں۔ ان کی سوچ یہ تھی کہ جب کبھی ان پر اچھے دن آتے تو کہتے کہ یہ تو ان کا حق ہے اور وہ اس کے مستحق ہیں لیکن جب خشک سالی اور مشکلات در پیش ہوتیں تو یہ کہتے کہ یہ سب کچھ موسیٰ کی وجہ سے ہورہا ہے۔ حضرت موسیٰ کے ساتھیوں کی وجہ سے یہ مشکلات ان پر آرہی ہیں۔

الأعراف 7:131

جب انسانی فطرت جادۂ مستقیم سے منحرف ہوجاتی ہے تو اسے نظر نہیں آتا کہ اس کائنات کو دست قدرت چلا رہا ہے۔ ان کو اللہ کا نظام قضا و قدر نظر نہیں آتا جس کے تحت تمام چیزیں پیدا ہو رہی ہیں اور تمام واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جب یہ فطرت اس حد تک خراب ہوجائے تو پھر وہ اس کائنات میں پائے جانے والے نوامیس قدرت کا ادراک نہیں کرسکتی۔ حالانکہ یہ قوانین قدرت مستقلاً یہاں رواں دواں ہیں۔ ایسے لوگ پھر کائنات کے واقعات کی تفسیر اور تشریح انفرادی واقعہ کے طور پر کرتے ہیں۔ وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ اس واقعہ کا کسی کلی اصول کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ ایسے لوگ دفتر خرافات لئے ہوئے بےآب وگیاہ وادیوں میں سرگرداں پھرتے رہتے ہیں۔ کسی اصول پر متفق نہیں ہوتے اور یہ کسی ایک راہ و رسم کے قائل نہیں ہوتے ، ان کی سوچ منطقی نہیں ہوتی۔ خروشیف جیسے لوگ بھی یہ کہتے ہیں کہ " طبیعت " ہمارے خلاف جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ مادہ کس طرح ان کے خلاف جا رہا ہے۔ لیکن وہ (فعال لما یرید) کا قائل ہی نہیں ہے۔ تعجب ہے کہ بعض لوگ اصول الدین کا انکار کرتے ہوئے اور خدا اور خدا کی غیبی قدرت کا انکار کرکے بھی اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ فرعون اور اس کے ساتھی دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کی ایسی تشریح کرتے تھے کہ اگر دنیا کے حالات اچھے ہوں تو کہتے کہ بس یہ ہمارا حسن کار کردگی ہے اور ہم اس سکے مستحق ہیں۔ اور اگر حالات خراب ہوں تو وہ کہتے کہ یہ حضرت موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کی وجہ سے ہوئے ہیں ، یعنی ان سے بدشگونی لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ بدشگونی کیا چیز ہے۔ اس کے لئے یہاں جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ وطیرہ ہے۔ اس کے لغوی معنی پرندے کا اڑنا ہیں۔ اہل جاہلیت کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی تھی کہ اس کائنات میں سنت الہیہ جاری ہے اور قدرت کے بعض ضوابط کے مطابق یہاں واقعات رونما ہوتے ہیں ، وہ ظاہری حالات کو دیکھ کر اور بت پرستی کے زیر اثر بعض عجیب توہمات پر یقین رکھتے تھے۔ اگر کوئی شخص کسی کام کا ارادہ کرتا تو کسی پرندے کے گھونسلے کے قریب جاتا اور گھونسلے سے پرندے کو اڑاتا۔ اگر پرندہ اس کے دائیں جانب سے اڑتا تو اسے " سانح " کہتے۔ اس سے وہ خوش ہوتے اور اس کام کو کر گزرتے ۔ اگر پرندہ بائیں جانب سے اڑتا تو اسے وہ " بارح " کہتے اور اسے بدشگونی سمجھ کر اس کام سے باز آجاتے۔ تو اسلام نے اس خرافاتی سوچ کو کالعدم کردیا۔ اور اس کی جگہ غور و فکر کا سائنٹیفک انداز دیا۔ اور نتائج کو اللہ کے سنن جاریہ پر چھوڑ دیا کہ نتائج جو بھی نکلیں گے وہ اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطابق ظاہر ہوں گے۔ اسلام نے تمام معاملات کو سائنسی اور علمی انداز پر چھوڑ دیا جس میں اہمیت انسان کے ارادے اور اس کی نیت ، اس کی حرکت اور اس کی جدوجہد کو دی گئی۔ اور اللہ کے دائرہ قضا و قدر پر اللہ کی مشیت محیط ہے۔ (اَلَآ اِنَّمَا طٰۗىِٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ ) " حالانکہ درحقیقت ان کی فال بد تو اللہ کے پاس تھی ، مگر ان میں سے اکثر بےعلم تھے " اس دنیا میں جو واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ان کا سبب واحد یہ ہے کہ یہ اللہ کے حکم سے واقع ہوتے ہیں اور اللہ ہی کے ہاں سے ان کو اچھی بات نصیب ہوتی ہے جس میں ان کے لئے آزمائش ہے اور اللہ ہی کی طرف سے ان پر مصائب آتے ہیں اور یہ بھی آزمائش کے لیے ہیں۔ و نبلوکم بالشر والخیر فتنۃ والینا ترجعون " اور ہم خیر و شر میں مبتلا کرکے انہیں آزمائیں گے اور یہ آزمائش بڑا فتنہ ہے اور تم ہماری جانب لوٹوگے " انسان پر جو مشکلات آتی ہیں وہ اس کی شامت اعمال ہیں لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے اور اکثر تو ایسے ہیں جو سرے سے تقدیر الٰہی کے قائل ہی نہیں ہیں وہ اپنے نظریات کا اظہار سائنٹیف سوچ کے لفظ سے کرتے ہیں اور بعض اسے " قدرت کا عدم تعاون " کہتے ہیں مثلاً اشتراکی لوگ لیکن یہ سب حضرات حقیقت سے جاہل اور لا علم ہیں

الأعراف 7:132

ذرا آگے بڑھیے : فرعون اور اس کے حواری اپنی سرکشی میں آگے بڑھ رہے ہیں ، عزت نفس کے مجروح ہوجانے کی وجہ سے بہت ہی طیش میں ہیں اور غصے اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ کہتے ہیں : وَقَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰيَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِيْنَ ۔ انہوں نے موسیٰ سے کہا کہ " تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے ، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں " یہ وہ حیوانی خود سری ہے جسے سدھایا نہیں جاسکتا ، جس پر نصیحت کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، جسے کسی دلیل سے رد نہیں کیا جاسکتا ، وہ نہ فکر و نظر جانتی ہے اور نہ غور و تدبر سے کام لیتی ہے ، دلیئل کا سانا کرنے سے بھی پہلے وہ بات کو رد کردیتی ہے ، وہ دلیل کا راستہ ہی روک دیتی ہے۔ یہ وہ نفسیاتی حالت ہے جس میں ہر وہ شخص مبتلا ہوجاتا ہے جو جابرانہ انداز میں اور اپنی مصلحتوں کے لیے اقتدار میں ہوتا اور جسے دلیل نے شکست دے دی ہوتی ہے بلکہ دلیل وبرہان اس کا پیچھا کر رہے ہوتے ہیں لیکن اپنی مصلحتوں کی وجہ سے سچائی دلیل اور ثبوت کا سامنا نہیں کرسکتا۔ جب ایسے حالات ہوں تو پھر قادر مطلق اپنے خاص وسائل کام میں لاتا ہے

الأعراف 7:133

یہ تھا ڈرامہ " ابتلاء "۔ آیات متصلات کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نشانیاں واضح واضح طور پر بتا رہی تھیں۔ ایک کے بعد ایک ابتلا آرہی تھی ، اور پچھلی آنے والی اگلی کا منطقی نتیجہ تھی۔ قرآن کریم نے ان تمام آیات کو ایک جگہ جمع کردیا ہے حالانکہ یہ مصائب ان پر یکے بعد دیگرے آئے تھے۔

الأعراف 7:134

جب بھی کوئی مصیبت آتی تو مشکلات کے دباؤ کے تحت وہ حضرت موسیٰ کے آگے جھکتے اور وعدہ کرتے کہ اگر تمہاری دعا سے ہمیں اس سے نجات ملی تو بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔ لیکن جب بھی عذاب ٹلتا تو ان کی روش وہی رہتی۔ ہر بار وہ وعدہ خلافی کرتے ، اور دوبارہ وہ اسی حالت میں چلے جاتے جو ان کے لیے ایک مہلت تھی اور ان کے لیے اللہ نے ایک وقت مقرر کردیا تھا۔

الأعراف 7:135

سیاق کلام میں ان تمام نشانیوں کو ایک جگہ لایا گیا ، اس طرح کہ گویا بیک وقت ان سب کا ظہور ہوا ، اور ان کے بعد جب اللہ نے ان مشکلات کو رفع فرمایا تو ایک ہی بات فرعونیوں نے بد عہدی کی ، یہ انداز اس لیے اختیار کیا گیا کہ جب بھی کوئی نشانی آئی اور دور ہوئی تو انہوں نے پھر عہد وفا نہ کیا۔ یہ انداز بیان قرآن کے اسالیب میں سے ایک ہے ، چونکہ واقعات ایک ہی جیسے تھے ، اس لیے ایک ہی جگہ ان کے آغاز کی طرف اشارہ کردیا گیا گویا ایک ہی دل کے ساتھ یہ تمام تجربات پیش آئے اور وہ دل اس قدر سخت ہوچکا تھا کہ کسی تجربے نے بھی اس کے اندر راہ نہ پایا۔ اور کسی نے عبرت نہ حاصل کی۔ یہ تمام نشانیاں جن تفصیلات کے ساتھ آتی رہتی ہیں ، قرآن کریم نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ احادیث مرفوع میں بھی ان کا تذکرہ نہیں آیا۔ ہم بھی فی ظلال القرآن میں اختیار کیے ہوئے اسلوب کے مطابق ان کو یونہی مجمل چھوڑتے ہیں اس لیے کہ قرآن کی تشریح یا قرآن سے ہوگی یا سنت ثابتہ سے۔ یہ اسلوب ہم نے اسرائیلیت سے بچنے کے لیے اپنایا ہے کیونکہ اسرائیلی روایات بےاصل روایات ہوتی ہیں۔ اس قسم کی اسرائیلی روایات تمام سابقہ تفاسیر کا حصہ بن گئی ہیں۔ کوئی ایسی تفسیر نہیں ہے جو ان سے خالی ہو۔ امام طبری کی تفسیر باوجود اس کے کہ وہ ایک نفیس تفسیر ہے اور نہایت ہی قیمتی تفسیر ہے ، ابن کثیر کی تفسیر باوجود اس کے کہ وہ قابل قدر کی تفسیر ہے ، دونوں اسرائیلیت سے خالی نہیں ہیں۔ اس بارے میں حضرت ابن عباس بہت سے بھی روایات منقول ہیں۔ ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ اور تفسیر دونوں میں ذکر کی ہیں اور ان میں سے ایک روایت یہ ہے۔ سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ جب موسیٰ فرعون کے دربار میں آئے تو انہوں نے اس سے یہ مطالبہ کیا کہ میرے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ اس نے انکار کردیا۔ تو اللہ نے ان پر طوفان بھیجا ، یعنی سخت بارش ہوئی۔ جب یہ بارش طویل عرصے تک برستی رہی تو یہ لوگ ڈر گئے کہ شاید یہ کوئی عذاب نہ ہو ، اہل فرعون نے حضرت موسیٰ سے عرض کی کہ آپ اپنے خدا کے سامنے سوال کریں کہ وہ اس بارش کو بند کردے۔ اگر یہ بند ہوجائے تو ہم تم پر ایمان لائیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے۔ آپ نے رب تعالیٰ سے دعا کی لیکن وہ ایمان نہ لائے اور نہ ہی بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیجا۔ تو اس سال ان کے ہاں فصلیں ، پھل اور چارہ اس قدر ہوا کہ اس سے قبل نہ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی تو ہماری تمنا تھی۔ تو اللہ نے ان پر ٹڈی دل بھیج دیے۔ ٹڈی دلوں نے گھاس کو صاف کردیا۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ٹڈی دل نے گھاس کو چاٹ لیا ہے تو اب ظاہر ہے کہ یہ فصل کو بھی نہ چھوڑے گی۔ اب پھر انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ رب تعالیٰ سے دست بدعا ہوں کہ ہمیں اس بلا سے نجات ملے۔ اگر نجات مل گئی تو ہم ایمان بھی لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔ اللہ نے ٹڈی دل کو بھی ختم کردیا اور یہ لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے اور نہ ہی بنی اسرائیل کو آپ کے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے فصل کاتی اور گھروں میں ڈال دی اور کہا اب تو ہم نے فصل گھروں تک پہنچا دی ہے۔ اس پر اللہ نے ان پر سرسریاں پھیلا دیں۔ چناچہ ان میں سے ایک شخص دس پیمانے دانے لے کر پن چکی پر جاتا اور جب آتا واپس ہوتا تو وہ صرف تین پیمانے ہوتا۔ اب پھر انہوں نے حضرت موسیٰ سے درخواست کی کہ اے موسیٰ اللہ سے سوال کریں کہ اگر وہ سرسریوں کو دفع کردیں تو ہم ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔ حضرت نے دعا کی اور ان سے یہ عذاب بھی دور ہوگیا۔ اب بھی وہ لوگ ایمان نہ لائے اور انہوں نے آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیجنے سے انکار کردیا۔ یوں ہوا کہ حضرت موسیٰ فرعون کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے مینڈک کی آواز سنی۔ حضرت موسیٰ نے فرعون سے کہا " تم اور تمہاری قوم کو اس سے تکلیف پہنچنے والی ہے "۔ فرعون نے کہا کہ یہ مینڈک کیا سازش کرسکتے ہیں ؟ شام ہونے سے پہلے اس قدر مینڈک امنڈ آئے کہ جب کوئی بات کرتا تو منہ میں مینڈک سے گر جاتا ہے۔ اب پھر انہوں نے حضرت موسیٰ سے عرض کی کہ آپ دعا کریں کہ اللہ ہم سے اس عذاب کو دور کرے۔ ہم ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔ اللہ نے یہ عذاب بھی دور کردیا۔ لیکن اہل فرعون نہ ایمان لائے اور نہ بنی اسرائیل کو بھیجا۔ اب اللہ نے ان پر خون بھیج دیا۔ اب ان کی نہروں میں ، کنوؤں میں ، برتنوں میں تازہ بہ تازہ خون تھا۔ لوگوں نے فرعون کے پاس شکایت کی کہ اب تو آزمائش کی حد ہوگئی ہے ، ہمارے پینے کے لیے بھی پانی نہیں رہا تو فرعون نے کہا کہ درحقیقت موسیٰ نے جادو کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر سحر کہاں سے ہوا ، ہمارے برتنوں میں جو پانی تھا وہ بھی تازہ خون ہے۔ اب پھر وہ حضرت موسیٰ کے پاس آئے کہا اے موسیٰ اپنے رب کو پکارو ، اگر یہ عذاب ہم سے دور ہوجائے تو ہم ضرورت تم پر ایمان لائیں گے۔ آپ نے رب تعالیٰ کو پکارا ، اللہ تعالیٰ نے یہ عذاب بھی دور کردیا۔ انہوں نے پھر بھی یہی کیا کہ نہ ایمان لائے اور نہ بنی اسرائیل کو بھیجا "۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ کیا واقعات ہوئے ، بہرحال اس حدیث میں جو واقعات ذکر ہوئے وہ قرآن سے متضاد نہیں ہیں۔ یہ عذاب اللہ نے بیشک ان پر نازل کیے تاکہ ان کو آزمائے اور جھٹلانے والوں کے ساتھ اللہ کی روش ایسی ہی ہوتی ہے بار بار آزماتا ہے تاکہ وہ مان جائیں۔ فرعون کی قوم ، اپنی بت پرستی اور جاہلیت کے باوجود اور فرعون کی جانب سے ان پر ظلم و تشدد اور ان کی ذلت و خواری کے باوجود ، حضرت موسیٰ کے دامن میں پناہ لیتی تھی کہ وہ اپنے رب سے سوال کرے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ساتھ یہ عہد کیا ہوا تھا کہ وہ دعا قبول کرے گا اور آپ یہ دعا کریں کہ ان سے یہ مصیبت دور ہو۔ اگرچہ ، مصر کے حکام وعدہ خلافی کرتے اور ایمان نہ لاتے کیونکہ اس وقت کا نظام حکومت اس نظریہ پہ قائم تھا کہ فرعون ان کا رب اور حاکم ہے۔ یہ لوگ فرعون کی جگہ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت کے قیام سے خوف کھاتے تھے۔ اس لیے کہ وہ سمجھتے تھے کہ موسیٰ پر ایمان لانے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ فرعون کا نظام حکومت ختم ہوجائے اور ملک کے اندر صرف اللہ کی حاکمیت قائم ہوجائے۔ رہے وہ لوگ جو جاہلیت جدیدہ کے داعی ہیں تو اللہ تعالیٰ بار بار ان کے رزق پر آفات و بلیات نازل کرتا ہے لیکن وہ اپنی روش سے باز نہیں آتے۔ اور جب زمیندار اور اہل دیہات اس بات کو محسوس کریں اور اللہ کے سامنے دس بدعا ہوں جس طرح کافروں کے تحت الشعور میں بھی اللہ کی جانب رجوع کا داعیہ ہوتا ہے تو آج کل کے جاہلیت زدہ اور اپنے آپ کو سائنٹیفک کہنے والے لوگ کہتے ہیں کہ یہ خرافات میں یقین رکھنا ہے اور جہالت ہے اور یہ کام اہل جاہلیت جدیدہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ان لوگوں کی یہ حرکت قدیم بت پرستوں سے زیادہ بری ہے۔

الأعراف 7:136

اب اللہ کی سنت کے مطابق قدرتی انجام سامنے آتا ہے۔ ان لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کرکے بھی آزمایا گیا ، انہیں فراوانی دے کر بھی آزمایا گیا لیکن وہ باز نہ آئے۔ اب وہ واقعہ پیش آتا ہے جو یقین بنا۔ فرعون اور اس کے حاشیہ نشین ہلاک ہوتے ہیں۔ اب ان کی مہلت ختم ہے اور جس انجام تک انہوں نے پہنچنا تھا ، وہ قریب آگیا ہے۔ اور ضعفاء اور صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ کا جو عہد ہوتا ہے اس کا وقت بھی آپہنچا ہے لہذا سر کشوں اور جابروں کو ہلاک کردیا جاتا ہے۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ ۔ وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ بِمَا صَبَرُوْا ۭوَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ ۔ تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہ ہوگئے تھے۔ اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے ، اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کردیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے " یہاں سیاق کلام میں فرعون کی غرق یابی کے واقعہ کو مختصراً بیان کردیا گیا ہے اور اس کی وہ تفصیلات نہیں دی گئیں جو دوسرے مقامات میں دی گئی ہیں۔ اس لیے کہ یہاں مضمون صرف یہ ہے کہ اللہ سرکشوں کو مہلت کے بعد پکڑتا ہے۔ لہذا اس موضوع کو قصوں کی تفصیلات کی ضرورت نہیں تھی اور ایسے موقعے میں محض اشارات زیادہ اثر انگیز ہوتے ہیں اور احساس پر ایسے واقعات کا زیادہ اچھا اثر ہوتا ہے۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَاَغْرَقْنٰهُمْ فِي الْيَمِّ ۔ " تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا " ایک ہی وار میں ان کا کام تمام کردیا۔ وہ سرکش ، دست دراز اور متکبر تھے۔ اللہ نے انہیں سمندر کی تہہ میں ڈال کر یہ دکھایا کہ تم اب پستیوں سے بھی پست ہو۔ اور یہ تمہارے لیے مناسب جزا ہے۔ یہ کیوں ؟ اس لیے بانہم کذبو بایتنا وکانو عنہا غافلین کیونکہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہ ہوگئے تھے "

الأعراف 7:137

اس فیصلہ کن انداز کی مناسبت سے تصویر کا دوسرا رخ بھی اختصار کے ساتھ فیصلہ کن انداز میں دے دیا جاتا ہے۔ یہ نہیں کہ کوئی دوسرا جابر آگیا بلکہ مستضعفین نے ملک میں اپنا اقتدار قائم کردیا یعنی بنی اسرائیل حکمران بن گئے۔ اس لیے کہ اس وقت وہ اصلاح کے معیار پر پورے اترے تھے۔ لیکن اس کے بعد جلد ہی وہ بگڑ گئے۔ اور اللہ نے ان پر ذلت اور جلا وطنی مسلط کردی۔ بنی اسرائیل کا یہ استخلاف مصر میں نہ تھا کہ وہ فرعون کے تخت پر بیٹھ گئے ، ان کا نظام حکومت شام میں برپا ہوا اور فرعون کی غرقابی کے بعد کئی سال کے بعد۔ اس وقت حضرت موسیٰ فوت ہوچکے تھے اور بنی اسرائیل تیہ کے صحرا میں چالیس سال خانہ بدوشی کی زندگی بسر کرچکے تھے جیسا کہ قرآن نے دوسرے مقامات پر دیا ہے۔ یہاں قصے کے بیان میں ان کڑیوں کو حذف کردیا گیا ہے اور فرعون کی غرقابی کے بعد جلد ہی ، موقعہ و موضوع کی مناسبت سے بنی اسرائیل کے اقتدار کے قیام کا ذکر کردیا گیا۔ وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِيْنَ كَانُوْا يُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا ۭ وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ الْحُسْنٰى عَلٰي بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ڏ بِمَا صَبَرُوْا ۭوَدَمَّرْنَا مَا كَانَ يَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهٗ وَمَا كَانُوْا يَعْرِشُوْنَ ۔ اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے ، اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا۔ اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رب کا وعدہ خیر پورا ہوا کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کردیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے " یعرشون کا مفہوم یہ ہے کہ وہ تعمیرات کرتے تھے ، اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ انگوروں کی بیلیں اپنی چھتوں پر چڑھاتے تھے۔ ہم انسان صرف زمان و مکان کے حدود کے اندر ہی سوچ سکتے ہیں اور ہم کہتے ہیں کہ یہ واقعہ فلاں کے بعد یا اس سے پہلے ہوا کیونکہ ہم واقعات کو وقوع اور مرور کے بعد ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا عروج اور ان کا اقتدار فرعون کی غرقابی کے بعد پیش آیا۔ لیکن اللہ علیم وخبیر اور ماکان و ما یکون اس کے سامنے کھلے صفحات میں ہے۔ علم الٰہی مکان و زمان سے وراء ہے۔ اس کا عالم مثال بھی بلند ہے اور عالم علم تو اس کے عالم مثال تک بھی ایسا نہیں ہے۔ اب پردہ گرتا ہے ، ایک طرف ہلاکت و بربادی کے مناظر تھے ، دوسری جانب ضعفاء مسند اقتدار پر براجمان ہورہے تھے۔ ایک سرکش اور متکبر اور گردن فراز سمندر میں سرنگوں تھے۔ ان سے وہ تمام برتریاں ، تعمیرات اور سہولیات حیات چھوٹ گئیں۔ تمام باغ و راغ نظروں سے اوجھل ہوگئے ، چشم زدن میں سب کچھ ان کی نظروں میں نابود تھا ، اور اس منظر کشی میں قرآن نے چند الفاظ استعمال کیے اور اسے آڈیو کردیا۔ یہ مثال اللہ تعالیٰ مکہ کی ایک قلیل جماعت کے سامنے رکھتے ہیں۔ اہل شرک ان پر مظالم ڈھا رہے ہیں ، شہر بدر کر رہے ہیں۔ چناچہ ان کے لیے شمع امید روشن کی جا رہی ہے۔ آج دنیا میں جہاں جہاں بھی لوگ اسلامی انقلاب کے لیے کام کر رہے ہیں ان کے لیے یہ شمع امید ہے۔ آج جو عواقب وہ جھیل رہے اور دار و رسن کو چوم رہے ہیں تو یقیناً اللہ اس دنیا کے مشرق و مغرب کو ان کے اقتدار میں دینے والا ہے کیونکہ انہوں نے صبر کیا مگر انعام کے طور پر نہیں آزمائش کے طور پر کہ دیکھا جائے کہ وہ کیا کرتے ہیں ؟

الأعراف 7:138

درس نمبر 80 ایک نظر میں اس سبق میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کی ایک دوسری کڑی چلتی ہے۔ اب آپ کا معاملہ اپنی قوم بنی اسرائیل سے ہے۔ یہ لوگ اب دشمن سے نجات پا چکے ہیں۔ اللہ نے فرعون اور اس کے ساتھیوں کو ہلاک کردیا ہے۔ اور وہ تمام ترقی اور تعمیر جسے وہ سب کچھ سمجھتے تھے ، تباہ و برباد کردی گئی ہے۔ آج حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کے طاغوتی نظام سے واسطہ نہیں پڑا ہوا ، طاغوت کے ساتھ جو معرکہ تھا وہ تو سر ہوچکا ہے۔ آج آپ کو ایک نئے محاذ میں لڑنا ہے۔ انسانی شخصیت کے اندر جو جاہلیت رچی بسی ہوتی ہے۔ آج اس کے ساتھ معرکہ درپیش ہے۔ آج حضرت موسیٰ اس ذلت اور پستی سے برسر پیکار ہیں جو بنی اسرائیل کی شخصیت میں ، دور غلامی کے اندر تہ بہ تہ بیٹھی ہوئی ہے۔ ان کے مزاج میں کجی آگئی ہے ، ان کے دل پتھر کی طرح سخت ہوگئے ہیں اور میدان جنگ میں وہ سخت بزدل نظر آتے ہیں۔ زندگی اور بلند تر زندگی کی راہ میں جو مشکلات ہوتی ہیں ان کے انگیز کرنے میں وہ نہایت ہی کمزور ہیں۔ اور وہ شخصی میلانات کے بندے ہوگئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذلت ، غلامی اور مظلومیت انسان کی شخصیت کو تباہ کردیتی ہیں۔ طویل عرصے تک خائف زندگی گزارنا۔ ، خفیہ سرگرمیاں ، کج فطرتی اور تشدد اور عذاب سے بچنے کے لیے مخفی رہنا۔ اور رات کے اندھیرے میں کام کرنا ہر وقت تشدد اور مصیبت میں ابتلاء کا ڈر ایک ایسا ماحول ہوتا ہے جس سے انسان کی فطرت میں سخت بگاڑ اور عدم توازن پیدا ہوجاتا ہے۔ بنی اسرائیل ایک طویل عرصے تک سخت ترین تشدد کا شکار رہے تھے۔ طویل عرصے تک ان پر خوف ، ڈر ، بت پرستی اور فرعونیت کا سایہ رہا۔ فرعون کی ان بچیوں کو زندہ رکھتا اور لڑکوں کو ذبح کردیتا۔ یہ سنگ دلانہ تشدد کبھی موقوف بھی ہوتا لیکن ذلت غلامی اور توہین آمیز زندگی تو مستقلاً ان کی قسمت میں تھی۔ ان کی شخصیت میں بگاڑ پیدا ہوگیا تھا۔ ان کا مزاج غیر معتدل ہوگیا تھا۔ فطرت میں کجی داخل ہوگئی تھی۔ خیالات بگڑ گئے تھے۔ ان کی نفسیات میں ذلت ، بزدلی ، کینہ پروری ، نفرت رچی بسی تھی۔ جب بھی کوئی انسانی طبقہ اس قسم کے مظالم کا شکار ہو تو ان میں اسی صفات پیدا ہوجاتی ہیں۔ حضرت عمر ؓ کو اللہ تعالیٰ نے ربانی بصیرت عطا کی تھی۔ آپ انسانوں کی نفسیات سے اچھی طرح باخبر تھے۔ انہوں نے اپنے تمام حکام سے کہہ رکھا تھا اور یہ وصیت کردی تھی " آپ لوگوں کے چہرے پر مار مار کر سزا مت دو ، اس طرح تم لوگوں کو ذلیل کردوگے " ان کو علم تھا کہ چہرے پر مار کی وجہ سے لوگ ذلیل ہوجاتے ہیں اور اسلام کی تو یہ بنیادی پالیسی ہے کہ رعیت کو ذلیل و خوار نہیں کرنا ہے ۔ کیونکہ اسلامی مملکت میں لوگ باعزت تصور ہوتے ہیں۔ اسلام کی پالیسی اور خواہش یہ ہے کہ لوگ باعزت ہوں۔ اور حکام کو اس بات سے منع کیا گیا کہ وہ لوگوں کو مار مار کر ذلیل کریں۔ اسلام نے یہ کہا کہ لوگ حکام کے غلام نہیں ہوتے۔ وہ اللہ کے غلام اور معزز لوگ ہوتے ہیں۔ وہ تمام غیر اللہ سے محترم ہیں۔ فرعونیت کے طاغوتی نظام میں فرعونیوں نے بنی اسرائیل کو مار مار کر ذلیل کردیا تھا۔ بلکہ ان پر جو مظالم ڈھائے گئے ان کے مقابلے میں یہ مار بالکل معمولی بات نظر آتی تھی۔ بنی اسرائیل کے بعد تمام مصری قوم کو بعد میں آنے والے حکمرانوں نے مار مار کر ذلیل کیا ، فرعونی طاغوت کے بعد رومی طاغوت نے مصریوں کو اسی طرح مار مار کر ذلیل کیا۔ ان مصائب سے مصری قوم کو صرف اسلام نے نجات دی۔ جب اسلام آیا تو اس نے مصری قوم کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نجات دی۔ عمرو ابن العاص حاکم مصر اور فاتح مصر کے بیٹے نے جب ایک قبطی کو صرف ایک کوڑا مارے جانے پر بہت ہی غصہ آیا اور وہ بھی فاتح مصر اور گورنر کے بیٹے کی طرف سے۔ اس نے اونٹنی پر سوار ہوکر ایک ماہ تک سفر کیا اور یہ شکایت حضرت عمر ابن خطاب تک پہنچائی۔ صرف ایک کوڑا مارنے کی شکایت۔ حالانکہ فتح مصر سے پہلے رومیوں کی جانب سے مارے جانے والے کئی کوڑوں پر وہ صبر کرتا تھا۔ یہ تھا اسلامی انقلاب کا معجزہ۔ جس نے قبطیوں کے اندر بھی انقلاب پیدا کردیا۔ اگرچہ وہ مسلمان نہ ہوں۔ اسلام نے انسانیت کو ذلت و خواری کی جمی ہوئی تہوں کے نیچے سے نکالا اور آزادی دی۔ لوگ اس طرح اٹھے کہ ان کا جسم و روح آزاد ہوگیا اور انہوں نے اپنے آپ سے ذلت کے غبار کو ایک دم جھاڑ دیا۔ کسی غیر اسلامی نظام نے انسانیت کو اس قدر آزادی نہیں دی تھی۔ اب حضرت موسیٰ کا واسطہ اس مہم سے تھا کہ انہوں نے اپنی قوم کی شخصیت سے صدیوں کی غلامی وجہ سے اور طاغوتی نظام کے تحت ذلت کی زندگی بسر کرنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو دور کرنا تھا۔ بنی اسرائیل مصر سے نکل چکے تھے اور انہوں نے سمندر کو عبور کرلیا تھا۔ قرآن کریم کے بیان کردہ قصص میں ان لوگوں کی شخصیات صاف صاف نظر آتی ہیں۔ یہ غلامی کے گرد و غبار سے اٹی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آثار جاہلیت سے مقابلہ ہے۔ حضرت موسیٰ کا مقابلہ اب ان لوگوں کی کٹ حجتی ، اخلاقی بےراہ روی ، فکر و نظر کی جہالت سے ہے جو ان کی شخصیت میں ، اس طویل عرصہ اسیری میں کوٹ کوٹ بھری ہوئی تھیں۔ اس سلسلے میں ہمیں معلوم ہوگا کہ ان کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے حضرت موسیٰ کس قدر ان تھک مصائب برداشت کررہے ہیں۔ ان کو ایسے لوگوں سے واسطہ ہے جن کی فطرت صدیوں تک زمین بوس رہی ہے۔ ان کی حالت یہ تھی جس طرح غلاظت کا کیڑا غلاظت سے نکلنا پسند نہیں کرتا اور ذلت اور غلاظت کو اپنے لیے معمولی سمجھتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی جدوجہد میں ہر صاحب دعوت کے لیے ایک سبق ہے۔ خصوصاً ایسے صاحب دعوت کے لیے جسے ایسے لوگوں سے واسطہ ہو ، جو صدیوں تک ذلت اور غلامی میں رہے ہوں اور جنہوں نے ایسے طاغوتی نظام میں زندگی بسر کی جو ظالم بھی ہو اور متشدد بھی۔ خصوصاً ایسے حالات میں جبکہ لوگ یہ بھی جانتے ہوں کہ داعی جس طرف بلا رہا ہے وہ راہ نجات ہے۔ بلکہ وہی راہ نجات ہے لیکن ایک طویل عرصہ عالم ہونے اور مومن ہونے کی وجہ سے ان کے لیے یہ دعوت ایک عادی دعوت بن گئی ہو اور ان کا دین ایک بےروح روسمی دین بن گیا ہو۔ ایسے حالات میں ایک داعی کے کاندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ دگنا ہوجاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایسے داعی کے لیے صبر کی بھی بڑی مقدار کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے داعی کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کی کج فہمی ، ان کی بد اخلاقی ، ان کے مزاج کی سہل انگاری اور ان کے اقدام کی سست رفتاری پر صبر کرے۔ ہر مرحلے پر ایسے لوگوں میں شکست اور دوبارہ جاہلیت کی طرف لوٹ جانے کی خواہشات پر نہایت ہی سنجیدگی کے ساتھ صبر کرے۔ قصہ بنی اسرائیل کو امت مسلمہ کے لیے قرآن کریم میں اسی لیے ثبت کردیا گیا ہے کہ امت مسلمہ کے لیے اس میں بڑی عبرتیں ہیں اور اسی حکمت کے تحت اسے بار بار مختلف پہلوؤں سے لایا گیا ہے۔ تاکہ امت مسلمہ اس تجربے سے فائدہ اٹھائے اور حضور اکرم ﷺ کے بعد آنے والے تمام داعیوں کے لیے بھی اس قصے میں بڑی مقدار میں زاد راہ موجود ہے۔ درس نمبر 80 تشریح آیات۔ 138 ۔ تا۔ 171 ۔۔۔ اس قصے کا یہ ساتواں منظر ہے۔ اس میں بنی اسرائیل اس وقت نظر آتے ہیں جب وہ نجات پا کر بحر قلزم سے اس پار چلے گئے ہیں۔ اب ہمیں فرعونی مناظر کے برعکس اس میں بنی اسرائیل کی سرکش ، معصیت کیش اور نہایت ہی کج مزاج شخصیت کا سامنا ہے۔ اور یہ اخلاقی کمزوریاں ان کے مزاج میں تہ بہ تہ صدیوں کی تاریخ کے دوران جمی ہوئی ہیں۔ اس پر کوئی طویل عرصہ نہ گزرا تھا کہ اللہ نے انہیں فرعون سے نجات دی تھی جس نے انہیں خوب ذلیل کرکے رکھا ہوا تھا۔ فرعون کی قوم بھی اس کام میں شریک تھی اور یہ نجات انہیں حضرت موسیٰ کی وجہ سے ملی تھی ، حضرت موسیٰ نے یہ تحریک اللہ رب العالمین کے نام سے چلائی تھی۔ رب العالمین نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور ان کی نجات کے لیے سمندر کے ٹکڑے کیے اور انہیں اس ذلت آموز زندگی سے نجات دی۔ وہ تو مصر کی بت پرستی اور سرزمین ظلم سے ابھی رہا ہوکر آئے تھے۔ لیکن سمندر کو پار کرتے ہی جب وہ ایک ایسی قوم کے پاس سے گزرتے ہیں جس کا ایک بت ہے اور وہ اس کی پوجا کرتی ہے اور ہر شخص اپنے بتوں کی پوجا پاٹ میں مشغول ہے تو وہ جھٹ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ آپ ان کے لیے بھی ایسا ہی بت تجویز کردیں تاکہ وہ بھی اسی طرح پوجا پاٹ شروع کردیں حالانکہ حضرت موسیٰ اور فرعون کی کشمکش خالص نظریہ توحید پر مبنی تھی اور اسی نظریہ کے تحت فرعون کی ہلاکت ہوئی تھی اور ان کو نجات ملی تھی۔ (وَجٰوَزْنَا بِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰي قَوْمٍ يَّعْكُفُوْنَ عَلٰٓي اَصْنَامٍ لَّهُمْ ۚ قَالُوْا يٰمُوْسَى اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰـهًا كَمَا لَهُمْ اٰلِهَةٌ ) ۔ بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا ، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر ان کا گزر ہوا جو اپنے چند بتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے " اے موسیٰ ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جسیے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ متعدی بیماریاں جس طرح جسم کو آ لیتی ہیں اسی طرح روحانی بیماریاں بھی متعدی ہوتی ہیں ، لیکن متعدی بیماریاں تب ہی پھیلتی ہیں جب لوگوں کے اندر ان کے پھیلاؤ کے لیے جراثیم موجود ہوں اور قرآن کریم نے جس طرح بنی اسرائیل کے مزاج کا نہایت ہی سچا ، گہرا اور ہمہ جہت نقشہ کھینچا ہے اس سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ خلاقی اعتبار سے نہایت ہی بودے ، ضعیف الاعتقاد اور توہم پرست تھے ، وہ گمراہی کو اسی طرح قبول کرتے تھے جس طرح پٹرول کو آگ لگتی ہے۔ وہ اٹھتے ہی گر جاتے تھے ، چند قدم ہی راہ مستقیم پر چلتے تھے کہ اچانک ادھر ادھر بھاگنا شروع کردیتے تھے ، اس لیے کہ ان کے کلیجے میں گمراہی کے جراثیم داخل ہوچکے تھے۔ وہ سچائی سے دور تھے۔ ان کا احساس مر چکا تھا ، اور ان کا شعور بجھ چکا تھا۔ اچانک جب وہ ایک بت پرست قوم کو بت پرستی میں مشغول دیکھتے ہیں تو وہ حضرت موسیٰ کی بیس یا تئیس سالہ جدوجہد اور اپنی غلامی کی صدیاں بھول جاتے ہیں اور مطالبہ کردیتے ہیں کہ ان کے لیے بھی بت تجویز کیے جائیں۔ سابقہ معجزات کو تو چھوڑ دیں ایک طرف ، ابھی ابھی تو وہ سمندر پھٹا اور بڑے بڑے تودوں سے گزر کر آئے ہیں۔ جس میں ان کی آنکھوں کے سامنے ان کا دشمن ہلاک کیا گیا۔ فرعون اور اس کا ظالم عملہ سب بت پرست تھے اور وہ بنی اسرائیل کے خلاف فرعون کو اسی بت پرستی کے نام پر ابھارتے تھے۔ وہ اہل فرعون کی یہ باتیں بھول گئے جو وہ کہتے تھے۔ " ا تذر موسیٰ و قومہ لیفسدوا فی الارض و یذرک و الھتک " کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو چھوڑ رہا ہے کہ وہ زمین میں فساد کریں اور وہ تمہیں اور تمہارے الہوں کو چھوڑ دیں " یہ سب کچھ بھول بھلا کر وہ اپنے نبی اور رسول سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح تمہارے کہنے پر وسرے تمہارے کہنے پر دوسرے معجزات سرزد ہوئے اب اپنے رب سے ہمارے لیے بتوں کی منظوری بھی لے لے تاکہ ہم بھی بت پرستی شروع کردیں۔ اگر یہ لوگ خود ہی بت پرستی شروع کردیتے تو پھر بھی کوئی بات تھی مگر انہیں اس قدر حیا نہ آئی نبی اور رب العالمین سے بت پرستی کی اجازت چاہی لیکن یہ بنی اسرائیل ہیں ، ان سے سب کچھ متوقع ہے۔ اس مطالبے پر حضرت موسیٰ کو بہت غصہ آتا ہے ، جس طرح رب العالمین کے کسی رسول کو اپنے رب کے بارے میں آنا چاہئے۔ اس لیے کہ کوئی بھی رسول عقیدہ توحید کے بارے میں سخت غیرت مند ہوتا ہے اور اس کے لیے شرک ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ چناچہ آپ ان کو ایسا جواب دیتے ہیں جو ان کے لیے مناسب ہے۔ قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْـهَلُوْنَ ۔ " موسیٰ نے کہا تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو "۔ یہاں ان کی جہالت کو مخصوص نہیں کیا گیا۔ لہذا مفہوم یہ ہوا کہ تم غایت درجے کے جاہل ہو ، اگر یہ علم کے مقابلے میں استعمال ہو تو مراد بےعلمی ہوتی ہے اور اگر یہ غلط عقل کے مقابلے میں آئے تو مراد حماقت ہوتی ہے یعنی تم غایت درجہ کے احمق اور غایت درجے کے کورے اور علم ہو۔ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ عقیدہ توحید سے جو لوگ منحرف ہوتے ہیں وہ جاہل بھی ہوتے ہیں اور احمق بھی ہوتے ہیں اور یہ کہ علم اور سائنس اور عقلمندی انسان کو عقیدہ توحید پر پہنچاتی ہے۔ علم اور عقل کبھی بھی عقیدہ توحید کے سوا کسی اور عقیدہ تک نہیں پہنچ سکتے۔ علم اور عقل تو اس پوری کائنات کا مشاہدہ کرکے یہ شہادت پاتے ہیں کہ اس کا ایک خالق اور مدبر ہے ، یہ خالق اور مدبر ہے بھی وحدہ لاشریک۔ اس لیے کہ اس پوری کائنات کے ضوابط و قوانین اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ اس کا مدبر ایک ہے۔ اور جس قدر اس کائنات میں غور و فکر کیا جاتا ہے اور اس کے اندر جستجو کی جاتی ہے یہی بات سامنے آتی ہے کہ ضوابط و آثار کی یک رنگی دلیل ہے وحدت خالق کی۔ اس سے اعراض اور صرف نظر وہی لوگ کرسکتے ہیں جو پرلے درجے کے جاہل ہوں یا احمق ہوں۔ اگرچہ وہ اپنے آپ کو عالم اور سائنس دان کہتے ہیں۔

الأعراف 7:139

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قوم کو سمجھاتے ہیں کہ جس بت پرستی میں وہ پڑے ہوئے ہیں وہ نہایت ہی بری چیز ہے اور ان کی جانب سے یہ سراسر غیر معقول مطالبہ ہے ، کیا تم ایسے لوگوں کی پیروی کرتے ہو جو خود ہلاک و برباد ہونے والے ہیں ؟ اِنَّ هٰٓؤُلَاۗءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ وَبٰطِلٌ مَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے " یہ شرک و بت پرستی ، یہ بتوں کی پوجا پاٹ ، یہ بت پرستانہ تہذیب و تمدن جس میں کئی رب ہوں اور ان ارباب کے نیچے پھر مسند نشستیں اور مذہبی لیڈر ہوں اور حاکم و محکوم ہوں اور وہ بت پرستی سے اپنے حقوق کا تعین کرتے ہوں۔ یہ تمام خرافات اور توہمات زندگی کے فاسد تصور پر مبنی ہیں اور باطل اور بےاصل ہیں۔ اور ان تصورات اور اعمال نے دنیا سے ختم ہونا ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے ہلاکت ہے۔

الأعراف 7:140

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام میں اپنے نظریہ حیات اور اپنے رب کے بارے میں غیرت کی وجہ سے مزید جوش آجاتا ہے۔ ان کا نغمہ تیز تر ہوجاتا ہے اور وہ برہمی کے ساتھ ان کو یاد دلاتے ہیں کہ ابھی ابھی سمندر کے کنارے جو کچھ ہوا تم بھول گئے ہو ، تم اپنے مرتبہ ومقام کا خیال بھی نہیں رکھتے۔ (قَالَ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْكُمْ اِلٰهًا وَّهُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَي الْعٰلَمِيْنَ ) ۔ : " پھر موسیٰ نے کہا " کیا اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قومیں پر فضیلت بخشی ہے " اس دور میں تمام اقوام پر بنی اسرائیل کی فضیلت واضح ہے کہ تمام مشرک اقوام میں سے بنی اسرائیل کو منصب رسالت دیا گیا۔ اس سے بڑی فضیلت اور اس سے زیادہ احسان اور کیا ہوسکتا ہے۔ رسالت ایک عظیم فضل اور عظیم احسان ہے۔ نیز اس وقت بنی اسرائیل کو اس منصب کے لیے بھی چنا گیا۔ کہ وہ اس زمین پر مقتدر اعلیٰ ہوں گے۔ خصوصاً ارض مقدس کو ان کے ہاتھوں واگزار کرنے کا فیصلہ بھی ہوا ، کیونکہ اس دور میں ارض مقدس پر غیر قوموں کا قبضہ تھا۔ سوال یہ ہے کہ ان اعزازات کے بعد وہ کس منہ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کے لیے کوئی الہ تجویز کیا جائے جیسا کہ دوسری قوم نے اپنے لیے الہ تجویز کر رکھے ہیں ، جبکہ ان پر اللہ کا بڑا فضل و کرم تھا۔

الأعراف 7:141

قرآن کا یہ انداز کلام ہے کہ انبیاء کے کلام کے ساتھ متصلاً اللہ کے کلام کو بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کلام کی حکایت کے ساتھ متصلاً اللہ کا کلام بھی آجاتا ہے۔ وَاِذْ اَنْجَيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ۚ يُقَتِّلُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَ يَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ۭوَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ ۔ اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی ، جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ اللہ کے کلام اور اللہ کے نبیوں کے کلام کو یجا کرنے سے در اصل نبیوں کی تکریم مقصود ہے اور یہ در اصل اعزازو تکریم کا یہ نہایت ہی بہترین انداز ہے۔ یہ احسان جو بنی اسرائیل پر کیے گئے اور یہاں جتلائے گئے وہ ان کے دل و دماغ میں موجود تھے۔ اور ان کا مشاہدہ تازہ تھا۔ محض ان احسانات کی یاد دہانی ہی اس بات کے لیے کافی تھی کہ وہ سجدہ شکر بجا لاتے۔ اللہ تعالیٰ ان کو متوجہ کرتے ہیں کہ یہ عبرت کا مقام ہے اور انسانوں پر مشکلات اور اس کے بعد مشکلات سے نجات سب کچھ انسان کے لیے ایک آزمائش ہے۔ وَفِيْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ " اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش ہے "۔ اس لیے کہ ان میں سے کوئی واقعہ بھی اتفاقی نہ تھا۔ سب کچھ تقدیر الہی کے مطابق تھا اور آزمائش تھی اور آزمائش سے مقصد عبرت آموزی تھی اور مسلمانوں کو تجربات سے دوچار کرکے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنا مطلوب تھا اور یہ مقصد تھا کہ جب ان کو سزا دی جائے تو ان کے لیے گلے شکوے کا کوئی موقعہ نہ رہے ، اس وقت جب یہ تمام آزمائشیں ان پر کارگر نہ ہوں۔ اب یہ منظر بھی ختم ہوجاتا ہے ، اس سے بڑا دلچسپ دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔

الأعراف 7:142

یہ آٹھواں منظر ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ اور آپ کے رب العالمین کے درمیان ملاقات ہونے والی ہے۔ حضرت موسیٰ اس عظیم تقریب کے لیے بڑا اہتمام کرتے ہیں۔ حضرت ہارون کو وصیت کرکے اپنا قائم مقام بناتے ہیں اور اس کے بعد آپ اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھتے ہیں۔ حضرت موسیٰ کی مہم کا پہلا مرحلہ اب مکمل ہوگیا ہے ، اس مرحلے میں بنی اسرائیل کو ذلت اور زبردستی کی زندگی سے نکال دیا گیا ہے۔ اب وہ قوم فرعون کی ایذا رسانیوں اور تشدد کے دائرے سے باہر نکل آتے ہیں۔ ذلت اور غلامی کی شہری زندگی کو ترک کرکے اب وہ صحرا کی آزاد فضاؤں میں گھوم رہے ہیں۔ اور ارض مقدس کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ابھی تک وہ ارض مقدس کی بازیابی کی عظیم اور اصلی مہم کے اہل ہی نہیں بنے۔ یہ تو نہایت ہی عظیم اور کانٹوں سے پر راہ ہے کہ کوئی کرہ ارض پر اقتدار کے مناصب حاصل کرکے فریضہ خلافت ارضی کا منصب سنبھال لے۔ اس سے قتبل کے منظر میں ہم نے دیکھ لیا ہے کہ ان کے دلوں میں بت پرستی اور شرک نے کس طرح گھر کرلیا ہے کہ ایک بت پرست قوم کو دوران سفر دیکھتے ہی اپنے لیے بتوں کا مطالبہ کردیا۔ ان کے اذہان و قلوب سے عقیدہ توحید متزلزل ہوگیا جس کے لیے حضرت موسیٰ کو خاص طور پر رسول بنا کر بھیجا گیا اور اس پر کچھ زیادہ عرصہ بھی نہ گزرا تھا۔ لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ حضرت موسیٰ کو تفصیلی ہدایات دے کر ان کے پاس واپس بھیجا جائے اور آپ نئی ہدایات کے تحت اس قوم کی تنظیم و تربیت کریں تاکہ وہ ارض مقدس کی آزادی کا عظیم فریضہ ادا کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک مقررہ وقت و مقام میں ملاقات کی دعوت دی تاکہ آپ اللہ تعالیٰ سے براہ راست کوئی ہدایات لیں۔ اور اس ملاقات میں خود حضرت موسیٰ کی بھی مزید تربیت مقصود تھی تاکہ آپ بھی آنے والے مشکل حالات اور مشکل مہمات کے لیے تیار ہوجائیں۔ آپ کی تربیت کا کورس تیس دن مقرر ہوا تھا۔ اس میں دس دن کا مزید اضافہ کردیا گیا۔ یوں چالیس دن تک یہ سلسلہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے اس عرصے میں ملاقات الٰہی کے لیے ریاض کیا۔ آپ اس دنیا کی دلچسپیوں سے دور ہوگئے۔ اور عالم بالا کی طرف قریب ہوگئے ، لوگوں سے دور اور رب العالمین سے قرب حاصل کیا۔ آپ کی روح صاف ہوگئی اور آپ کا اندرون روشن ہوگیا اور یوں آپ کو براہ راست رب العالمین کی تربیت میں آنے والے فرائض منصب رسالت کے لیے تیار کردیا گیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی روانگی سے قبل اپنے بھائی اور جانشین حضرت ہارون کو ان الفاظ میں وصیت کی۔ وَقَالَ مُوْسٰي لِاَخِيْهِ هٰرُوْنَ اخْلُفْنِيْ فِيْ قَوْمِيْ وَاَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيْلَ الْمُفْسِدِيْنَ ۔ موسیٰ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ " میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا " حضرت موسیٰ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت ہارون بھی اللہ کی جانب سے نبی مسل ہیں۔ لیکن ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کو نصیحت کرے بلکہ نصیحت ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر فرض ہے۔ پھر حضرت موسیٰ کو ان بھاری ذمہ داریوں کا اچھی طرح احساس تھا اور آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو بھی اچھی طرح جانتے تھے۔ حضرت ہارون نے کشادہ دلی سے نصیحت کو سنا اور قبول کیا۔ انہوں نے اس پر برا نہ منایا ، کیونکہ نصیحت برے لوگوں کو اچھی معلوم نہیں ہوتی ، کیونکہ یہ لوگ بھلائی سے چھٹکارا چاہتنے والے ہوتے ہیں اور ان چھوٹے قد والوں پر بھی نصیحت گراں گزرتی ہے جو اپنے آپ کو بہت ہی بڑی چیز سمجھتے ہیں اور ان کو نصیحت کی جائے تو یہ چھوٹے قد کے لوگ اس میں اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ چھوٹے قد والے متکبر وہ ہوتے ہیں کہ تم ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہو کہ ان کی امداد کرو اور وہ تمہارے ہاتھکو جھٹک دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو بڑا دکھا سکیں۔ یہ تیس راتیں اور پھر ان میں دس دن کی مزید وسعت میں کیا حالات پیش آئے ؟ ان کے بارے میں ابن کثیر کہتے ہیں " اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ساتھ تیس راتیں مقرر کی تھیں۔ مفسرین کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ نے اس عرصے میں روزے رکھے اور کچھ نہ کھایا۔ اور جب میعاد پوری ہوگئی تو آپ نے درخت کے چھلکے سے مسواک کی۔ اس پر اللہ نے ان کو حکم دیا کہ آپ چالیس دن پورے کریں "

الأعراف 7:143

اب تو یہ منظر آپ کے سامنے ہے۔ یہ منظر ایک منفرد منظر ہے اور یہ حضرت موسیٰ کا خاصہ ہے اس میں رب ذوالجلال اور رب العالمین براہ راست اپنے بندے سے مخاطب ہیں۔ اس منظر میں ایک ذرہ ، ایک محدود ذرہ اور ایک فانی وجود ایک ازلی اور ابدی ذات کے ساتھ جڑ جاتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر ایک بندہ اپنے خالق سے براہ راست ہدایت اخذ کرتا ہے جبکہ خالق ابدی و ازلی وراء الوراء ہے اور بندہ زمین پر ہے۔ لیکن اس التقاء کی کیفیت کیا تھی ؟ اس کے ادراک سے ہم عاجز ہیں۔ اللہ کے ساتھ ہمکلام ہونے کی کیفیت کیا تھی ، اس کے بارے میں ہم نہیں بتا سکتے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کن ذرائع ادراک سے یہاں ہدایات اخذ کرتے تھے ، کلمات کس طرح تے ؟ یہ سب تصورات ہم بندوں اور محدود قوت کے مالک انسان کے لیے ناقابل تصور ہیں۔ اس لیے کہ ہماری قوت مدرکہ محدود ہے۔ ہمارا سرمایہ ادراک محدود ہے۔ ہمارے تجربے واقعاتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے اندر جو لطیف راز اور جو لطیف شعور و دیعت کر رکھا ہے اس کے ذریعے ہم معلوم کرتے ہیں کہ یہ ہمکلامی واقع ہوئی اور ہمیں اس کا یقین ہے اور شعوری یقین ہے لیکن کیفیت کے بارے میں سوال کرتے ہمیں اپنے یقین کو گدلا نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ تعلق ، محدود اور لامحدود کا تعلق ہمارے محدود پیمانہ ادراک میں سما نہیں سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ اس منفرد منظر کو ہم اپنے خیال ، اپنے اعصاب اور اپنے وجود میں پوری طرح مستحضر کرلیں۔ اپنی پوری قوتوں ، فہم و ادراک کی پوری قوتوں کو مستحضر کرکے اور اس کا منظر کے تصورات کے قریب جانے کی کوشش کریں۔ اور حضرت موسیٰ جس حقیقت کا ادراک کرتے تھے اور اس کا شعور پاتے تھے ، اس میں ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہوسکیں۔ (وَلَمَّا جَاۗءَ مُوْسٰي لِمِيْقَاتِنَا وَكَلَّمَهٗ رَبُّهٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِيْٓ اَنْظُرْ اِلَيْكَ ) " جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رب نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ " اے رب ! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں " یہ ایک خوفناک منظر ہے۔ حضرت موسیٰ اللہ کی طرف سے کلمات سن رہے ہیں اور ان کو جس بات کا شوق ہے اور جس طرف وہ کھنچے چلے جا رہے ہیں اور ان کی روح جس سمت میں بلند ہو رہی ہے ایسے حالات میں حضرت موسیٰ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بساط کیا ہے اور ان کی روح جس سمت میں بلند ہو رہی ہے ایسے حالات میں حضرت موسیٰ بھول جاتے ہیں کہ ان کی بساط کیا ہے اور یہ کہ اللہ کی جلالت شان کیا ہے ، وہ مطالبہ کردیتے ہیں ، ایک ایسے امر کا جوا اس کرۂ کی بشریت کے لیے ممکن ہی نہیں ہے۔ اور اگر اسے ممکن بنا دیا جائے تو کسی انسان کی طاقت ہی میں یہ نہیں ہے۔ یعنی آپ رویت ذات باری کا مطالبہ فرماتے ہیں۔ شوق وامید کے ان حالات میں اور محبت و وصال کے اس ماحول میں وہ عالم شہود میں ذات باری کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن جواب میں دو ٹوک بات آتی ہے۔ قَالَ لَنْ تَرٰىنِيْ ، فرمایا " تو مجھے نہیں دیکھ سکتا "۔ اور اس کے بعد اللہ کی شفقت سامنے آتی ہے۔ اور آپ کو یہ بات پڑھا دی جاتی ہے کہ لَنْ تَرٰىنِيْ کی وجہ کیا ہے یہ کہ آپ کے اندر اس کی طاقت ہی نہیں ہے۔ وَلٰكِنِ انْظُرْ اِلَى الْجَبَلِ فَاِنِ اسْـتَــقَرَّ مَكَانَهٗ فَسَوْفَ تَرٰىنِيْ ۔ " ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا " اس لیے کہ پہاڑ انسان کے مقابلے میں زیادہ جمنے والا ہے۔ پھر وہ متاثر ہونے والا بھی نہیں ہے اور وہ انسان کے مقابلے میں قبولیت کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ لیکن اس کے باوجود جو واقعہ ہوا وہ یہ تھا۔ فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ " چناچہ ان کے رب نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ غش کھا کر گر پڑا "۔ سوال یہ ہے کہ یہ تجلی کیسی تھی ، ہم اس پر قدرت نہیں رکھتے کہ اس کی کوئی صفت بیان کرسکیں۔ نہ ہم اس کے ادراک کرسکتے ہیں ، نہ ہم اس تجلی کو دیکھ سکتے ہیں ، ہم اسے صرف اس لطیف روحانی تعلق کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں اور یہ روحانی رویت بھی اس وقت ممکن ہے جب انسان کی روح صاف و شفاف ہوجائے اور پوری طرح اپنے اس اصل اور مصدر کی طرف متوجہ ہوجائے۔ صرف الفاظ اور بےمعنی الفاظ کے ذریعے ہم کسی کیفیت کو قارئین کے اذہان میں منتقل نہیں کرسکتے۔ لہذا ہم کوشش نہیں کرتے کہ ہم اس کو الفاظ کے ذریعے سمجھائیں۔ نیز اس موضوع پر جو روایات وارد ہیں ان کو بھی ہم ایک طرف رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان روایات میں سے کوئی بھی حضور ﷺ تک مرفوع نہیں ہے۔ قرآن کریم نے اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی ہے۔ اس تجلی کے آثار کے بارے میں قرآن یہ کہتا ہے کہ وہ ریزہ ریزہ ہوگیا اور زمین پر ہموار۔ حضرت موسیٰ انسانی ضعف کی وجہ سے بےہوش ہوگئے۔ فَلَمَّآ اَفَاقَ قَالَ سُبْحٰنَكَ تُبْتُ اِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ جب ہوش آیا تو بولا " پاک ہے تیری ذات ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں " جب انہیں ہوش آیا " انہیں معلوم ہوا کہ انسانی قوت ادراک کی حدود کیا ہیں اور انہیں عملاً معلوم ہوگیا کہ انہوں نے یہ سوال کرکے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے تو اعتراف کیا کہ اے اللہ تیری ذات پاک ہے ، میں توبہ کرتا ہوں ، میں حد سے تجاوز کیا ، میں پہلا مسلمان ہوں اور رسول ہمیشہ پہلا مسلمان ہوا کرتا ہے ، وہ اللہ کی عظمت پر سب سے پہلے ایمان لاتا ہے ، سب سے پہلے وہ اپنی رسالت اور اپنے اوپر نازل ہونے والے کلام پر ایمان لاتا ہے ، پیغمبروں کو اللہ کا حکم ہوتا ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے ایمان کا اعلان کریں۔ یہ مضمون قرآن کریم میں کافی مقامات پر آیا ہے۔

الأعراف 7:144

حضرت موسیٰ نے دوسری بار رحمت الہیہ کا یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ، اب انہیں خوشخبری مل رہی ہے کہ وہ منتخب روزگار ہیں۔ آپ میرے کلام اور پیغام کے حامل ہیں۔ فرعون سے مطالبہ یہ تھا کہ میری قوم کو رہا کرو ، اب آپ نے اپنی قوم میں کام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ بتایا " میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا ہے کہ میری پیغمبری کرے " اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے زمانے کے سب لوگوں میں سے آپ کو رسول بنانے کے لیے منتخب کیا۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے بھی رسول گزرے ہیں اور بعد میں بھی۔ لہذا انتخاب اور اصطفاء سے مراد ہے ، قرائن کے مطابق اس دور کے لوگوں کے مقابلے میں ہے۔ رہی صفت ہم کلامی باری تعالیٰ تو اس صفت میں حضرت موسیٰ منفرد ہیں۔ وہی یہ بات کہ اللہ نے حضرت موسیٰ کو یہ حکم دیا کہ آپ وہ ہدایات پکڑیں اور شکر ادا کریں تو یہ اللہ کی جانب سے ہدایت اور راہنمائی اور یہ تذکیر ہے کہ اللہ کے ان انعامات کا جواب ایک ہی ہے یعنی شکر ادا کرنا۔ رسول چونکہ قائد ہوتے ہیں اور قائدین لوگوں کے لیے نمونہ ہوتے ہیں ، اس لئے لوگوں کا بھی فرض بن جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کی ہدایات کو لیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کریں۔ یوں ان پر اللہ کے مزید انعامات نازل ہوں گے ، ان کی اصلاح ہوگی اور وہ اللہ سے جڑ کر سرکشی سے بچ جائیں گے۔

الأعراف 7:145

اب چند الفاظ اس رسالت کے مضمون اور طریقہ کار کے بارے میں ہیں کہ یہ رسالت کس طرح دی گئی : (وَكَتَبْنَا لَهٗ فِي الْاَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْعِظَةً وَّتَفْصِيْلًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ) " اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبہ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی " روایات اور مفسرین کے درمیان ان تختیوں کے بارے میں اختلافات ہیں ، بعض نے ان کے بارے میں تفصیلات دی ہیں۔ ان تفصیلات کا بیشتر حصہ ان اسرائیلی روایات پر مشتمل ہے جو اسلامی تفاسیر کے اندر داخل ہوگئی ہیں۔ ان روایات میں رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات مرفوع نہیں ہے۔ چناچہ ہم اس آیت کو پڑھ کر آگے جانے سے رک جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ان روایات میں جو تفصیلات ہیں ان سے ان الواح کی حقیقت میں نہ اضافہ ہوتا ہے اور نہ کمی۔ یہ تختیاں کیسی تھیں ، کس چیز کی بنی ہوئی تھیں۔ ان پر کس انداز کی تحریر درج تھی ، اس کے بارے میں ہمارے پاس تفصیلات نہیں ہیں ، نہ ان کی کوئی ضرورت ہے ، کیونکہ اصل مقصد تو یہ تھا کہ ان تختیوں میں لکھا ہوا کیا ہے اور کیا تھا ؟ ان میں وہ تمام تفصیلات تھیں جن کا تعلق حضرت موسیٰ کی رسالت سے تھا۔ مثلاً اللہ کا بیان ، اللہ کی شریعت کے احکام ، لوگوں کی اصلاح کے لیے مزید ہدایات ، امت کے حالات اور جن امور کی وجہ سے ان کے اندر بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، یعنی ان کی تاریخ وغیرہ۔ فَخُذْهَا بِقُوَّةٍ وَّاْمُرْ قَوْمَكَ يَاْخُذُوْا بِاَحْسَنِهَا۔ اور اس سے کہا " ان ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں " اللہ کی جانب سے اہم حکم یہ تھا کہ آپ نہایت ہی قوت اور عزم سے ان الواح و ہدایات کو لیں اور اپنی قوم کو سختی سے حکم دیں کہ وہ ان ہدایات پر عمل کریں۔ اگرچہ وہ مشکل ہوں اس لیے کہ وہ ان کی اصلاح حال کے لیے نہایت ہی موزوں تھیں اور احسن تھیں۔ حضرت موسیٰ کو اس انداز میں ہدایات لینے کا حکم دینے کے دو مقصد ہیں۔ ایک یہ ، بنی اسرائیل نے ایک طویل عرصہ تک غلامی کی زندگی بسر کی تھی ، ایک طویل عرصہ تک غلامی کی زندگی بسر کرتے کرتے ان کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا ہوگیا تھا ، لہذا ان کے ساتھ معاملہ کرتے وقت سختی اور سنجیدگی کی اشد ضرور تھی ، تاکہ وہ ان کے اندر فرائض رسالت اچھی طرح ادا کرسکیں اور پھر فرائض منصب خلافت ادا کرسکیں اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ تمام وہ لوگ جو نظریہ حیات کی اساس پر کام کرتے ہوں ان کو اپنے نظریات پر صحیح طرح جم جانا چاہیے۔ اللہ کے نزدیک عقیدہ بہت ہی اہم ہوتا ہے۔ اس پوری کائنات کے نقطہ نظر سے بھی نظریہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ یعنی اس کائنات کے تصرفات اور انسانی تاریخ کے بارے میں انسان کا صاف ستھرا نقطہ نظر ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس دنیاوی زندگی اور اخروی زندگی کے بارے میں انسان کے افکار صاف ہونے ضروری ہیں۔ یوں انسان کی بندگی صرف اللہ وحدہ کی الوہیت کے لیے مخصوص ہو۔ اس کے بعد اس نظریہ پر مبنی ایک ایسا نظام زندگی قائم ہو جو انسانی زندگی کو یکسر تبدیل کردے اور زندگی کے لیے بالکل ایک نیا انداز مقرر کردے۔ وہ نظام ایسا نہ ہو جس کے تحت جاہلیت چلتی ہے ، جس میں اللہ کے سوا کسی اور کی الوہیت قائم ہوتی ہو۔ غرض پوری زندگی کا ایک ایسا تفصیلی اور جامع نظام جو اس نظریہ حیات پر مبنی ہو۔ ایسے نظام کا قیام ضروری ہے۔ اللہ کے نزدیک واضح عقیدہ اور اس پر مبنی نظام کی بڑی اہمیت ہے۔ اس پوری کائنات کی تخلیق ، اس کے اندر انسان کے وجود اور پھر اس انسان کی تاریخ کے بارے اسلامی نظریہ حیات پر انسان کو بڑی سختی سے جم جانا چاہئے۔ انسان کو اس کے بارے میں سنجیدہ ہونا چاہئے واضح طور پر وہ اپنے نظریات کا اعلان کرے اور دو ٹوک الفاظ میں کرے۔ اس معاملے میں سہل انگاری سے کام نہ لے۔ نرمی اختیار نہ کرے ، رخصتیں تلاش نہ کرے۔ اس لیے کہ یہ بہت ہی اہم اور بنیادی معاملہ ہے۔ اس معاملے کے تقاضے بھی اس قدر مشکل ہیں کہ نرم مزاج ، لچک والے اور رخصتیں تلاش کرنے والے لوگ ان کو پورے نہیں کرسکتے۔ لیکن اسلامی نظریہ حیات پر جمنے اور اسے سختی سے پکڑنے کے معنی یہ بھی نہیں کہ انسان متشدد ، پیچیدہ مزاج اور خشک مزاج ہوجائے۔ اس لیے کہ دین اسلام کی یہ نفسیات نہیں ہیں۔ دین صرف یہ تقاضا کرتا ہے کہ دین کے لیے ایک شخص سنجیدہ ہو ، بات صاف کرتا ہو ، دو ٹوک نظریات رکھتا ہو اور صاف گو ہو۔ یہ باتیں تشدد ، سختی ، خشکی اور بد مزاجی سے الگ ہیں۔ نظریات پر جمنے اور بد مزاجی میں بہرحال فرق ہونا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ مصر کی طویل غلامانہ زندگی نے بنی اسرائیل میں ایسی اخلاقی کمزوریاں پیدا کردی تھیں ، جن کے لیے سختی پر مبنی ہدایات ضروری تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ بنی اسرائیل کو جس قدر ہدایات بھی دی گئیں ان میں نہایت ہی سختی پائی جاتی ہے۔ تاکہ روایتی سہل انگاری ، کمزور اخلاقی قوت اور بےراہ روی کا علاج کیا جاسکے اور وہ دین کے معاملے میں درست فکر ، صریح آواز اور واضح انداز اختیار کریں۔ وہ تمام اقوام جو ایک طویل عرصے تک غلام رہی ہوں ان کے اندر ایسی ہی اخلاقی کمزوریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ غلامی ذلت ، عاجزی ، ڈر ، طاغوت کی غلامی وغیرہ جن کی وجہ سے ایسے لوگ کج فہم ، دھوکہ باز ، سہل انگار اور محنت و مشقت سے بھاگنے والے ہوتے ہیں۔ آج کل ہمارے دور میں جو اقوام بھی غلام رہی ہیں ان کے اندر یہ صفات موجود ہیں کیونکہ غلامی لوگوں کے ضمیر بدل جاتے ہیں۔ ایسے لوگ نظریات سے دور بھاگتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ نظریات کے تقاضے پورے نہیں کرسکتے۔ جس طرف دنیا چلتی ہے ، یہ لوگ اسی طرف چلتے ہیں اور جدھر کی ہوا ہو انسان اس طرف بڑی آسانی کے ساتھ چل سکتا ہے۔ یہ ہدایات دینے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ کو یہ بشارت بھی دیتے ہیں کہ اگر تم نے اپنے نظریہ حیات کو سختی سے تھامے رکھا تو تمہیں زمین کا اقتدار اعلیٰ نصیب ہوگا اور تم فاسقون کے گھروں کے مالک بن جاؤ گے۔ سَاُورِيْكُمْ دَارَ الْفٰسِقِيْنَ " عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاؤں گا " آیات کے اس ٹکڑے کا اقرب مفہوم یہ ہے کہ اس سے مراد ارض مقدس ہے جو اس دور میں بت پرستوں کے قبضے میں تھی۔ یہ حضرت موسیٰ کو بشارت تھی کہ تم اس پر قابض ہوگے۔ اگرچہ حضرت موسیٰ کے عہد میں بنی اسرائیل اس میں داخل نہ ہوئے کیونکہ آپ کے دور میں ابھی تک ان کی اخلاقی تربیت مکمل نہ ہوئی تھی۔ ان کے اخلاق ابھی تک درست نہ تھے کیونکہ وہ جب ارض مقدس کے سامنے آئے تو انہوں نے اپنے نبی سے کہہ دیا " اے موسیٰ ! اس میں تو ایک جبار قوم بستی ہے اور ہم اس وقت تک اس میں داخل نہ ہوں گے جب تک وہ اس سے نکل نہیں جاتے۔ ہاں اگر وہ نکل جائیں تو ہم ضرور داخل ہوں گے " ان میں ایک دو شخص سچے مومن تھے ، انہوں نے اصرار کیا کہ شہر میں داخل ہوجاؤ اور حملہ کردو ، یہ دو شخص در اصل الہ سے ڈرنے والے تھے۔ اس پر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ جواب دیا " ہم تو اس شہر میں ہرگز داخل نہ ہوں گے جب تک یہ قوم وہاں موجود ہے۔ تم اور تمہارا رب جاؤ، لڑو ، ہم یہاں بیٹھے ہیں انتظار میں "۔ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ بنی اسرائیل کا مزاج کس قدر بگڑا ہوا تھا۔ وہ کس قدر کج رو تھے اور حضرت موسیٰ ان کی دعوت اور ان کی شریعت کن لوگوں کی اصلاح کے لیے تھی۔ ایسے حالات میں یہ نہایت ہی موزوں ہدایت تھی کہ تورات کی ہدایات کو قوت سے پکڑو اور اپنی قوم سے ان پر سختی سے عمل کراؤ۔

الأعراف 7:146

اب اس منظر کے آخر میں اور موسیٰ اور رب موسیٰ کے مکالمے کے اختتام پر ان لوگوں کے انجام کے بارے میں بتایا جاتا ہے جو متکبر ہیں ، جو اللہ کے معجزات و ہدایات سے منہ موڑتے ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں اور ان لوگوں کی تصویر کشی بڑے واضح رنگ اور قرآن کریم کے انداز تصویر کشی کے عین مطابق۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان لوگوں کے بارے میں اپنی مشیت کا اعلان فرماتے ہیں جو اس زمین میں بغیر جواز کے تکبر کرتے ہیں اور بڑے بنتے ہیں۔ یہ لوگ کس قسم کے ہوتے ہیں ؟ ایسے کہ چاہے جو معجزانہ استدلال ان کے سامنے پیش کیا جائے وہ ماننے والے نہیں ہیں۔ ان کو کسی اچھے کام کی دعوت دی جائے تو اس پر لبیک نہیں کہتے ، اگر وہ برائی کا کوئی کام بھی دیکھیں اس کی طرف لپکیں لہذا ایسے لوگوں کا صحیح علاج یہ ہے کہ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ایسے لوگوں پر کام کیا جائے جو مانتے ہیں ، یہ تو ماننے والے نہیں ، آیات و دلائل جو اس کائنات میں ظاہر و باہر ہیں اور وہ آیات و دلائل جو اللہ کی کتابوں میں ہیں ، اس لیے کہ انہوں نے پہلے سے تکذیب کا فیصلہ کرلیا ہے اور اعراض کا فیصلہ کرلیا ہے۔ قرآن کے الفاظ بتاتے ہیں کہ یہ لوگ کیسے ہوں گے ان کی حرکات اور ان کی صفات یہ ہیں : الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۔ جو بغیر کسی حق کے زمین پر بڑے بنتے ہیں۔ اس لیے کہ اللہ کے بندوں میں سے کسی بندے کا حق نہیں ہے کہ وہ اللہ کی زمین پر خود بڑا بنے۔ بڑائی تو اللہ کی صفت ہے ، اور کبریائی میں اللہ کسی کو شریک نہیں کرتا کیونکہ یہ اللہ کی چادر ہے۔ لہذا کوئی انسان جو اس کرہ ارض پر بڑا بنتا ہے وہ بغیر جواز کے تکبر کرتا ہے اور سب سے بڑا تکبر یہ ہے کہ کوئی اس سرزمین پر قانون سازی کا حق اپنے لیے مخصوص کرلے اور اللہ کے بندوں پر اللہ کے بجائے اپنا اقتدار اعلیٰ استعمال کرے۔ اور لوگوں سے اپنے قوانین پر عمل کرائے۔ اس تکبر اور بڑائی سے تمام دوسری برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ تمام شرارتوں کی بنیاد ہے اور ہر قسم کا فساد اس سے برپا ہوتا ہے اور اس کے بعد دوسری صفات ایسے لوگوں کی یہ آتی ہیں۔ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۚ وَاِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ۔ اگر سیدھا راستہ سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں۔ ان کی یہ فطرت ہے کہ سیدھے راستے کو دیکھ کر ہی اس سے ایک طرف ہوجاتے ہیں اور ٹیڑھے راستے کو دیکھتے ہی اس پر روانہ ہوجاتے ہیں اور یہ ان کی فطرت کا حصہ ہے۔ اور اس کے خلاف وہ نہیں جاسکتے۔ یہ ہے ان کی صفت۔ قرآن کریم اس انداز میں اس کی تعبیر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ اللہ کی مشیت نے ایسے لوگوں کو سزا دینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور وہ سزا یہ ہے کہ ہدایت کے دروازے ان کے لیے بند کردیے گئے ہمیشہ کے لیے۔ اس قسم کے لوگ ہمیں ہر معاشرے میں ملتے رہتے ہیں۔ یوں نظر آتا ہے کہ یہ لوگ حق سے اجتناب کرتے ہیں اور باطل کی طرف سخت میلان رکھتے ہیں اور بغیر تدبیر اور بغیر سوچے باطل کی طرف لپکتے ہیں۔ سچائی کا مستقیم راستہ ان کو مشکل اور باطل کا ٹیڑھا راستہ ان کو آسان نظر آتا ہے اور ایسے لوگ اللہ کی آیات و دلائل اور معجزات سے دور بھاگتے ہیں ، ان پر غور و فکر نہیں کرتے ، ان کے ذرائع فہم و ادراک پر ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اور نہ فطرت اور حق کے اشارات ان پر اثر کرتے ہیں۔ سبحان اللہ ، اس عجیب قرآنی ہدایات کی ان جھلکیوں سے اس قسم کے لوگ ممتاز طور پر نظر آتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کو اپنے ماحول اور معاشرے میں دیکھتے ہی ایک قاری کہہ اٹھتا ہے۔ ہاں ہاں اس قسم کے لوگوں کو میں جانتا ہوں۔ فلاں فلاں شخص ان قرآنی کلمات کا مصداق ہے۔ اس قسم کے لوگوں کو ایسی ایسی تباہ کن اور مہلک سزا دے کر اللہ تعالیٰ ان پر کوئی ظلم نہیں کرتا۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں۔ یہ وہ سزا و جزا ہے جس کے وہ لوگ ٹھیک طور پر مستحق ہیں جو آیات الہیہ کی تکذیب کرتے ہیں۔ اور ان کے بارے میں غفلت برتتے ہیں اور زمین میں بغیر حق اپنی بڑائی جماتے ہیں۔ ان کی روش یہ ہے کہ ہر اس راستے سے ایک طرف ہوجاتے ہیں جو ہدایت کا راستہ ہو اور ہر اس راستے کی طرف لپکتے ہیں جو گمراہی کا راستہ ہو ، ایسے لوگوں کو تو ان کے عمل کی سزا مل رہی ہے اور یہ لوگ اپنے طرز عمل کی جہ سے ہلاکت کے دروازے تک آپہنچے ہیں۔ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَكَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ ۔ اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپرواہی کرتے رہے " ا

الأعراف 7:147

ور یہ کہ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا " ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا آخرت کی ہستی کا انکار کیا اور اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے ، کیا لوگ اس کے سوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں۔ حبطت کا لفظ حبوط سے ہے۔ کہتے ہیں حبطت اعمالہم۔ جب وہ زہریلی گھاس چرے اور اس کا پیٹ پھول جائے اور پھر اس سے گیس نکل جائے۔ اس لفظ کو باطل کی قوت کے لیے اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ باطل کے اعمال بظاہر بہت ہی پھلتے پھولتے نظر آتے ہیں لیکن ان کی حقیقت کچھ نہیں ہوتی جب غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے تو پھر کچھ نہیں رہتا۔ یہ تو مناسب سزا ہے ان لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور آخرت کی جوابدہی سے انکار کیا لیکن سوال یہ ہے کہ ان کے اعمال کس طرح ختم ہوجاتے ہیں اور برباد ہوجاتے ہیں ؟ نظریاتی اور اعتقادی لحاظ سے تو ہمارا ایمان ہے کہ ان کے اعمال ضائع ہوں گے ، اگرچہ ظاہری حالات ایسے نظر آئیں کہ ان میں ، ان لوگوں کے اعمال کا یہ انجام متوقع نہ نظر آتا ہو۔ لیکن جو کوئی بھی اللہ کی آیات کی تکذیب کرے اور آخرت کی جوابدہی کا یقین نہ رکھے اس کے اعمال آخر کار ضائع اور برباد ہوں گے اور ان کی حیثیت اسی ہوگی جیسے کہ وہ کچھ نہیں ہیں۔ لیکن نظری پہلو سے بھی یہ بات واضح ہے کہ جو لوگ ان آیات و معجزات کی تکذیب کرتے ہیں جو اس پوری کائنات کے صفحات میں بکھرے پڑے ہیں اور ان کی تائید میں وہ آیات و دلائل بھی موجود ہیں جو اللہ کے پیغمبروں نے پیش کیے ، اور اس کے ساتھ ساتھ یہ لوگ آخرت کی جوابدہی کا بھی انکار کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کی روح در اصل مسخ شدہ ہے اور ایسے لوگ اس کائنات کے مزاج اور اس کے قوانین سے سرکش ہیں۔ اس کائنات سے ایسے شخص کا کوئی حقیقی رابطہ نہیں ہوتا اور نہ اس قسم کے لوگ اس سچی جدوجہد کی راہ سے ہم آہنگ ہیں۔ ایسے لوگوں کے اعمال چونکہ کائنات کے رخ ، اس کے مقاصد اور اللہ کے قوانین کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ اعمال اگرچہ بظاہر خیرہ کن ہوں بےحقیقت ہیں۔ اگرچہ بظاہر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہوں ، اس لئے کہ یہ اعمال ان دائمی مضبوط دواعی اور نظریات پر مبنی نہیں ہوتے جو اس پوری کائنات کی بنیاد ہیں۔ ان اعمال کا ہدف اور نصب العین وہ نہیں ہوتا جو اس پوری کائنات کا ہدف اور نصب العین ہے۔ ان کی مثال اس نہر جیسی ہے جو اپنے سرچشمے سے کٹ گئی ہو اور اس نے جلد یا بدیر لامحالہ خشک ہونا ہے۔ جو لوگ ان ایمانی اقدار اور انسانی تاریخ کے درمیان گہرے رابطے کا ادراک نہیں کرسکتے اور جو لوگ تقدیر کے اس اٹل فیصلے کو نہیں پا سکتے جو ان لوگوں کے حق میں صاد ہوچکا ہے جو ان ایمانی اقدار کے منکر ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ غافل ہیں۔ اور انہی کے بارے میں یہ سزا سنائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی سنت جاریہ اور ناموس کلی کو نہ پا سکیں گے۔ کیونکہ ان کا رخ پھر گیا ہے اور اب ان کے بارے میں آخری فیصلے کا ظہور باقی ہے۔ جن لوگوں کو اس دنیا کی عمر مختصر نے غرے میں ڈال دیا ہے اور وہ یہ دیکھتے ہیں کہ آخرت سے غافل لوگ بظاہر اس دنیا میں بڑی کامیابی سے زندگی بسر کر رہے ہیں ، ان کو یہ دھوکہ اس سو جن سے ہوگیا جو کسی جانور کو مسوم گھاس کھانے کی وجہ سے لاحق ہوجاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ جانور تازہ اور موٹا ہوگیا اور وہ بہت ہی صحت مند ہے۔ حالانکہ در حقیقت وہ مرنے والا ہوتا ہے۔ اس دنیا میں جو اقوام نابود ہوکر مٹ چکی ہیں ، اور ان کی جگہ جو دوسری اقوام آکر آباد ہوگئی ہیں۔ وہ ان سابقہ اقوام سے عبرت نہیں لیتیں۔ وہ اللہ کی اس سنت کو نہیں دیکھ رہی ہیں کہ وہ کس طرح اس کائنات میں کام کرتی ہے۔ اللہ کی یہ تقدیر اور اس کا نظام جاری وساری ہے۔ اسی میں کسی وقت بھی ٹھہراؤ نہیں آتا۔ اللہ سب لوگوں پر احاطہ کیے ہوئے۔

الأعراف 7:148

جس دوران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دربار میں تھے ، یہ ایک منفرد ملاقات تھی اور ہماری محدود آنکھوں کے لیے ظاہر ہے کہ اس منظر کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں نہ ہماری روح اس منظر کو دیکھ سکتی ہے اور ہماری فکر اور قوت مدرکہ اس کے بارے میں حیران ہے۔ حضرت موسیٰ کی عدم موجودگی میں ان کی قوم نے گمراہی اختیار کرلی۔ وہ دوبارہ مصری بیماریوں میں مبتلا ہوگئے اور بت پرستی کے گڑھے میں گر گئے۔ انہوں نے ایک بولتے ہوئے بچھڑے کے بت کو اپنا الہ بنا لیا اور اس کی عبادت شروع کردی۔ ان حالات میں اب اس قصے کے نویں منظر سے ہم آگے بڑھتے ہیں اور ہمارے سامنے اس کا دسواں منظر آتا ہے۔ نواں منظر بلند عالم بالا میں ہے ، جس کے مناظر میں خوشی اور روشنی کا ماحول ہے ، محبتوں اور بہار کے مکالمات ہمارے سامنے تھے ، لیکن اچانک ایسا منظر نظر آتا ہے کہ لوگ سربلندیوں سے پستیوں میں گرتے ہیں ، وہ صحت مندی کے بعد وہ دوبارہ بیمار بیمار نظر آتے ہیں۔ واضح سوچ کے بجائے خرافات کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ ۔۔۔۔ وَاتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰي مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِيِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ۔ موسیٰ کے پیچھے اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا جس میں بیل کی سی آواز نکلتی تھی یہ ہے بنی اسرائیل کا مزاج ، وہ قدم قدم پر بےراوہ روی اختیار کرتے ہیں۔ وہ ظاہری اور معنوی کسی بھی اعتبار سے بلندی کی طرف نہیں جاتے بلکہ ان کی فطرت میں پستی کی طرف گرنا ہی لکھا ہے۔ جونہی ہدایت و راہنمائی کا سلسلہ منقطع ہوتا ہے وہ غلط راہوں پر چل پڑتے ہیں۔ انہوں نے بحر قلزم کو معجزانہ طور پر پار کرتے ہی دیکھا کہ ایک قوم بت پرستی میں مشغول ہے تو انہوں نے پیغمبر سے مطالبہ کردیا کہ ہمارے لیے بھی ایسا ہی الہ بنا دیا جائے۔ اس پر حضرت موسیٰ نے انہیں روکا اور ان کے اس خیال کو سختی سے رد کردیا۔ جب حضرت موسیٰ طور پر گئے اور انہوں نے دیکھا کہ ایک سنہری بچھڑا آواز نکال رہا ہے اور اس میں زندگی کے آثار بھی نہیں محض ایک جسد ہے ، یہ سامری کی مصنوعات میں سے ایک عجیب صنعت تھی۔ یہ شخص سامرہ کا رہنے والا تھا ، اس کے بارے میں سورت طلہ میں تفصیلات درج ہیں۔ اس نے اس بچھڑے کو اس طرح ڈیزائن کیا کہ اس سے بیلوں جیسی آواز نکل رہی تھی۔ جب انہوں نے اسے دیکھا تو ہر طرف سے امنڈ آئے اور جب سامری نے ازروئے شیطنت یہ کہا کہ یہ تمہارے موسیٰ اور تمہارا الہ ہے تو یہ اس پر ٹوٹ پڑے۔ اس نے کہا کہ موسیٰ جس الہ کی ملاقات کے لیے گئے ہیں وہ تو یہ رہا۔ موسیٰ نے مقام اور وقت کے تعین میں غلطی کی ہے۔ انہوں نے خصوصاً اس لیے بھی یقین کرلیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ گزار لیا۔ جب حضرت موسیٰ تیس دنوں کے بعد بھی نہ لوٹے تو سامری نے کہا کہ موسیٰ (علیہ السلام) غلطی کر گئے ہیں الہ تو یہ رہا۔ حالانکہ حضرت موسیٰ نے ان کو ایک ایسے رب کی عبادت کی تعلیم دی تھی جو نظر نہیں آتا تھا ، جو رب العالمین تھا۔ انہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ جسد تو ان میں سے ایک شخص سامری کی صنعت ہے۔ بنی اسرائیل اپنے کردار کا جو نقشہ پیش کر رہے تھے وہ انسانیت کی ایک نہایت ہی بھونڈی تصویر تھی ، قرآن کریم اس تصویر پر تعجب کا اظہار کرکے مشرکین مکہ کو یہ تصور دیتا ہے کہ تم دیکھتے نہیں ہو کہ جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو ان کی حالت کیا ہے ؟ اَلَمْ يَرَوْا اَنَّهٗ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيْهِمْ سَبِيْلًا ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَكَانُوْا ظٰلِمِيْنَ ۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے۔ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو ایک ایسے جسد کی عبادت کرتا ہے جسے خود اس نے بنایا ہو ، حالانکہ خود انسانوں کو اور ان کی مصنوعات کو اللہ بناتا ہے ، حقیقی خالق اللہ ہے۔ ان میں حضرت ہارون موجود تھے ، وہ اس بھونڈی گمراہی سے ان کو نہ روک سکے۔ ان میں بعض عقلاء اور مومنین بھی موجود تھے ، لیکن وہ بھی بتے عقل عوام کے اس ریلے کے ٓگے بند نہ باندھ سکے۔ خصوصاً جبکہ وہ سونے کا بنا ہوا تھا۔

الأعراف 7:149

آخر میں جب جوش و خروش ختم ہوا اور لوگوں کے حواس بحال ہوئے اور حقیقت سامنے آگئی اور انہوں نے جان لیا کہ وہ تو گمراہ ہوگئے اور انہوں نے کھلے شرک کا ارتکاب کرلیا تو وَلَمَّا سُقِطَ فِيْٓ اَيْدِيْهِمْ وَرَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا ۙ قَالُوْا لَىِٕنْ لَّمْ يَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَيَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ۔ پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ " اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے " سقط فی یدہ اس وقت کہا جاتا ہے جب کسی کا حیلہ اور تدبیر اس کے سامنے فیل ہوجائے۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ وہ جس گمراہی میں ملوث ہوگئے اب تو وہ اس سے صاف نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ جو ہونا تھا وہ ہوچکا ، تو ایسے حالات میں ببے بس ہو کر انہوں نے کہا :" اگر ہمارے رب نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے " اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ان میں اصلاح پذیری کا مادہ بہرحال موجود تھا۔ اور ان کے دل اس قدرت سخت نہ ہوگئے تھے جس طرح بعد میں ہوئے کہ قرآن مجید کو کہنا پڑا کہ وہ پتھر بن گئے یا پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ بہرحال اس وقت جب انہیں معلوم ہوگیا کہ وہ غلطی پر ہیں اور اللہ کی رحمت اور مغفرت کے سوا ان کے لیے فلاح کا اور کوئی راستہ نہیں ہے تو انہوں نے اس طرح توبہ کی اور اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ اس دور میں یہ لوگ قابل اصلاح تھے۔

الأعراف 7:150

یہ واقعات اس وقت ہوئے جب حضرت موسیٰ رب ذوالجلال کے دربار میں کھڑے تھے ، اور اللہ سے ہمکلام تھے۔ آپ کو معلوم نہ تھا کہ ان کے پیچھے ان کی قوم کیا کر رہی ہے۔ اگر اللہ ان کو بتاتے تو انہیں اس وقت علم ہوجاتا ، بہرحال اب حضرت موسیٰ کی واپسی پر گیا ہواں منظر سامنے آتا ہے۔ ۔۔۔ وَلَمَّا رَجَعَ مُوْسٰٓي اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا۔ ادھر سے موسیٰ غصے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے تو ان حالات کو دیکھ کر آگ بگولا ہوگئے۔ آپ کے اقوال اور آپ کے اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ سخت غصے میں تھے۔ اور آپ کے غصے کا اظہار ان الفاظ سے ہوتا ہے۔ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ مِنْۢ بَعْدِيْ ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ ۔ آتے ہی اس نے کہا " بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد ! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے " اسی طرح آپ کے اقدامات سے بھی غصہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اپنے بھائی کو داڑھی سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا۔ وَاَخَذَ بِرَاْسِ اَخِيْهِ يَجُرُّهٗٓ اِلَيْهِ. اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔ حضرت موسیٰ کا یہ غصہ بالکل برحق تھا۔ اس لیے کہ وہ اچانک ایسی صورت حال سے دوچار ہوگئے تھے جن کی انہیں توقع نہ تھی۔ یہ ایک انقلابی صورت حالات تھی۔ بئسما خلفتمونی من بعدی۔ بہت بری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد۔ میں تمہیں ٹھیک راستے پر چھوڑ کر گیا تھا ، تم نے اسے ضلالت سے بدل دیا۔ میں تمہیں اس حال میں چھوڑ کر گیا کہ تم خدا کی عبادت کر رہے تھے اور جب واپس ہوا تو تم بچھڑے کی عبادت کر رہے تھے حالانکہ وہ صرف ایک جس تھا اور بیل جیسی آواز نکال رہا تھا۔ اعجلتم امر ربکم۔ کیا تم سے اس قدر صبر نہ ہوا کہ اپنے رب کے حکم کا انتظار کرلیتے۔ یعنی تم نے اپنے رب کے فیصلے کا انتظار نہ کیا ، اس کے عذاب کا انتظار نہ کیا اور اس نے جس عرصے کے لیے مجمع بلایا تھا اس کا انتظار نہ کیا۔ والقی الالواح واخذ براس اخیہ یجرہ الیہ۔ اس نے تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔ اس اقدام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سخت مشتعل تھے۔ اس لیے کہ ان تختیوں میں اللہ کا کلام تھا ، اور ان کے پاس ادب کا تقاضا یہ تھا کہ آپ ان کو زمین پر نہ پھینکتے لیکن اس وقت آپ سخت غصے میں تھے اور آپ ضبط نہ کرسکے۔ بھائی کو بھی بالوں سے پکڑ کر کھینچا حالانکہ ان کے بھائی عبد صالح اور پیغمبر تھے۔ حضرت ہارون نے برادرانہ جذبات سے اپیل کی تاکہ آپ کا غصہ ٹھنڈا ہوجائے اور آپ موافقانہ رویہ اختیار کریں۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی صفائی پیش کی اور یہ بتایا کہ انہوں نے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ قال ابن امر ان القوم استضعفونی وکادوا یقتلوننی۔ ہارون نے کہا " اے میری ماں کے بیٹے ، ان لوگوں نے مجے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے۔ اب میری ماں کے بیٹے کے الفاظ استعمال کرکے حضرت ہارون ان کے جذبہ کی طرف نہایت ہی جوش و خروش سے لپک رہے تھے۔ اور ایسے حالات موجود تھے کہ اگر حضرت ہارون ان کی زیادہ مزاحمت کرتے تو وہ تشدد پر اتر آتے اور اس صورت حال کی تصویر وہ اس طرح کھینچتے ہیں " قریب تھا کہ وہ مجھے مار ڈالتے " اس لیے وہ بےقصور تھے۔ فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْاَعْدَاۗءَ وَلَا تَجْعَلْنِيْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ۔ پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر " اس دوسرے فقرے سے بھی حضرت ہارون اپنے بھائی کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر دونوں بھائیوں کے مشترکہ دشمن ہوں تو بھائی ایک دوسرے کی پوزیشن کا خیال رکھتے ہیں۔ اور تیسری بات یہ کہ وہ کہتے ہیں کہ آپ مجھے اور ظالموں کو ایک صف میں کھڑا نہ کریں۔ ظالم وہ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور میں نے تو ان کے ساتھ ظلم میں شرکت نہیں کی۔ میں تو بری الذمہ ہوں۔

الأعراف 7:151

اب حضرت موسیٰ کے جذبات ٹھنڈے ہوجاتے ہیں اور آپ معذرت کو معقول سمجھ لیتے ہیں ، اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور مغفرت اور شفقت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَلِاَخِيْ وَاَدْخِلْنَا فِيْ رَحْمَتِكَ ڮ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ ۔ تب موسیٰ نے کہا " اے رب ، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما ، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے "

الأعراف 7:152

اب فیصلہ کن بات سامنے آتی ہے اور آخری فیصلہ بہرحال اللہ سبحانہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی بات کو اپنے بندے حضرت موسیٰ کی بات سے متصلا لاتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی عزت افزائی کا ایک انداز ہے۔ ۔۔۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔ یہ حکم بھی ہے او وعدہ بھی ہے۔ بیشک جن لوگوں نے بچھرے کو الہ بنایا۔ عنقریب ان پر غضب آنے والا ہے اور اس دنیا کی زندگی میں وہ ذلت سے رہیں گے۔ اور یہ اللہ کا ایک دائمی اصول اور اس کی سنت ہے کہ جو لوگ برے کام کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں تو اللہ ان کی مغفرت کردیتا ہے ، اللہ کو چونکہ علم تھا کہ بچھڑے کے پجاری توبہ نہ کریں گے۔ اس لیے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا گیا کیونکہ اللہ کو علم تھا کہ وہ اپنی روشن درست نہ کریں گے اور اس اصول سے استفادہ نہ کریں گے اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ بنی اسرائیل ایک کے بعد ایک نافرمانی کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ انہیں بار بار معاف کرتے رہے یہاں تک کہ وہ دائمی غضب کے مستحق ہوئے۔ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِيْنَ ۔ جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ قیامت تک جو بھی افتراء باندھیں گے یہ ایک مسلسل سزا ہے جب بھی جرم ہوگا یہی سزا ہوگی۔ چاہے افتراء بنی اسرائیل کی طرف سے ہو یا غیر بنی اسرائیل کی طرف سے ہو۔ اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے جن لوگوں نے بچھرے کو الہ بنایا ، ان پر اللہ نے ذلت لکھ دی ہے اور وہ ہمیشہ مغضوب علیہ رہیں گے اور غضب کی شکل یہ ہے کہ قیامت تک ان پر ایسی اقوام کو مسلط کردیا جائے گا جو ان کو بدترین عذاب دیتی رہیں گی۔ جب بھی معلوم ہوا کہ یہ لوگ زمین میں سرکشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان پڑھ اور پسماندہ لوگوں پر برتری حاصل کر رہے ہیں اور جیسا کہ تلموذ کی زبان میں ایسے ایسے لوگوں کے لیے " گوئم " کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ لوگ اپنی مالی اور پروپیگنڈے کی قوت سے غلط فائدہ لینے لگے یا انہوں نے ایسے نظامہائے حکومت قائم کیے اور ان کے ذریعے سے اپنے منصوبے جاری کرنا شروع کیے یا انہوں نے اللہ کے بندوں کو اپنے گھروں سے نکالنا شروع کردیا اور ان پر مظالم شروع کردیے اور جب کبھی گمراہ حکومتوں نے ان کے ہمرکاب چلنا شروع کردیا جیسا کہ آج کے دور میں ان کی یہ پوزیشن بظاہر نظر آتی ہے۔ گو یہ تمام امور ان کے خلاف اللہ کے مذکورہ فیصلے کے خلاف یا متضاد نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں کے مذکورہ بالا خود اپنے اقدامات کی وجہ یہ دنیا کے لوگوں کے اندر قابل نفرت ہیں اور اس مواد کو جمع کر رہے ہیں جو آخر کار ان کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔ اہل فلسطین ان کے ان مظالم کا شکار اس لیے ہیں کہ اہل فلسطین کا کوئی دین نہیں ہے ، اور اہل فلسطین صحیح مسلمان نہیں ہیں۔ یہ لوگ دین اسلام کے علاوہ بعض دوسرے جھنڈوں کے نیچے لڑتے ہیں ، جمع ہوتے ہیں اور متفرق ہوتے ہی۔ یہ لوگ اسلامی نظریہ حیات کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ناکام و نامراد ہیں اور اسرائیل کی چھوٹی سی جمعیت اگرچہ بظاہر ترقی پذیر نظر آتی ہے ، لیکن یہ حالات دائماً نہ رہیں یہ ایک عارضی دور ہے ، اور اس میں مسلمانوں سے وہ قوت اور وہ اسلحہ گم ہوگیا ہے جو ان کا واحد ہتھیار ہے۔ وہ واح دنظام ہے ، واحد جھنڈا ہے ، یعنی اسلامی جھنڈا جس کے تحت انہوں نے ہزار سال تک دنیا پر غلبہ حاصل کیا۔ اسی جھنڈے تلے وہ غالب آئے اور اس کے سوا ہمیشہ مغلوب ہوں گے۔ اس وقت امت مسلمہ سکڑنے اور غائب ہونے کے دور سے گزر رہی ہے۔ اور یہ گمشدگی اس زہر کی وجہ سے ہے جو امت مسلمہ کے اندر عالمی یہودیت اور عالمی صلیبیت نے پھیلائی ہے۔ اور یہ عالمی جمہوریت اور صیہونیت اور صلیبیت نے عالم اسلام پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے کہ یہاں کے حالات درست نہ ہوں لیکن یہ حالات ہمیشہ یونہی نہ رہیں گے اس گمشدگی کے بعد امت مسلمہ کو نمود اور ظہور ضرور نصیب ہوگا۔ آخر کار آنے والے مسلمان اپنے اسلام کے ہتھیار کو پائیں گے۔ کون جانتا ہے کہ کب پوری دنیا ہوش کے ناخن لیتی ہے اور یہودی مظالم کے خلاف اٹھتی ہے تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور وہ دنیا میں دوبارہ ذلت کے اس گڑھے میں جا گریں جو اللہ نے ان پر لکھ دیا ہے۔ اگر پوری انسانیت یہودیوں کے خلاف بیدار نہیں ہوتی تو ہمارا یقین کہ امت مسلمہ ضرور بیدار ہوگی۔

الأعراف 7:153

اب فیصلہ کن بات سامنے آتی ہے اور آخری فیصلہ بہرحال اللہ سبحانہ کے ہاتھ میں ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی بات کو اپنے بندے حضرت موسیٰ کی بات سے متصلا لاتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان کی عزت افزائی کا ایک انداز ہے۔ ۔۔۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔ یہ حکم بھی ہے او وعدہ بھی ہے۔ بیشک جن لوگوں نے بچھرے کو الہ بنایا۔ عنقریب ان پر غضب آنے والا ہے اور اس دنیا کی زندگی میں وہ ذلت سے رہیں گے۔ اور یہ اللہ کا ایک دائمی اصول اور اس کی سنت ہے کہ جو لوگ برے کام کرتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں تو اللہ ان کی مغفرت کردیتا ہے ، اللہ کو چونکہ علم تھا کہ بچھڑے کے پجاری توبہ نہ کریں گے۔ اس لیے ان کے بارے میں فیصلہ کردیا گیا کیونکہ اللہ کو علم تھا کہ وہ اپنی روشن درست نہ کریں گے اور اس اصول سے استفادہ نہ کریں گے اور تاریخ شاہد ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ بنی اسرائیل ایک کے بعد ایک نافرمانی کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ انہیں بار بار معاف کرتے رہے یہاں تک کہ وہ دائمی غضب کے مستحق ہوئے۔ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِيْنَ ۔ جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ قیامت تک جو بھی افتراء باندھیں گے یہ ایک مسلسل سزا ہے جب بھی جرم ہوگا یہی سزا ہوگی۔ چاہے افتراء بنی اسرائیل کی طرف سے ہو یا غیر بنی اسرائیل کی طرف سے ہو۔ اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے جن لوگوں نے بچھرے کو الہ بنایا ، ان پر اللہ نے ذلت لکھ دی ہے اور وہ ہمیشہ مغضوب علیہ رہیں گے اور غضب کی شکل یہ ہے کہ قیامت تک ان پر ایسی اقوام کو مسلط کردیا جائے گا جو ان کو بدترین عذاب دیتی رہیں گی۔ جب بھی معلوم ہوا کہ یہ لوگ زمین میں سرکشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان پڑھ اور پسماندہ لوگوں پر برتری حاصل کر رہے ہیں اور جیسا کہ تلموذ کی زبان میں ایسے ایسے لوگوں کے لیے " گوئم " کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ لوگ اپنی مالی اور پروپیگنڈے کی قوت سے غلط فائدہ لینے لگے یا انہوں نے ایسے نظامہائے حکومت قائم کیے اور ان کے ذریعے سے اپنے منصوبے جاری کرنا شروع کیے یا انہوں نے اللہ کے بندوں کو اپنے گھروں سے نکالنا شروع کردیا اور ان پر مظالم شروع کردیے اور جب کبھی گمراہ حکومتوں نے ان کے ہمرکاب چلنا شروع کردیا جیسا کہ آج کے دور میں ان کی یہ پوزیشن بظاہر نظر آتی ہے۔ گو یہ تمام امور ان کے خلاف اللہ کے مذکورہ فیصلے کے خلاف یا متضاد نہیں ہیں بلکہ ان لوگوں کے مذکورہ بالا خود اپنے اقدامات کی وجہ یہ دنیا کے لوگوں کے اندر قابل نفرت ہیں اور اس مواد کو جمع کر رہے ہیں جو آخر کار ان کی ہلاکت کا سبب بنے گا۔ اہل فلسطین ان کے ان مظالم کا شکار اس لیے ہیں کہ اہل فلسطین کا کوئی دین نہیں ہے ، اور اہل فلسطین صحیح مسلمان نہیں ہیں۔ یہ لوگ دین اسلام کے علاوہ بعض دوسرے جھنڈوں کے نیچے لڑتے ہیں ، جمع ہوتے ہیں اور متفرق ہوتے ہی۔ یہ لوگ اسلامی نظریہ حیات کے جھنڈے تلے جمع نہیں ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ ناکام و نامراد ہیں اور اسرائیل کی چھوٹی سی جمعیت اگرچہ بظاہر ترقی پذیر نظر آتی ہے ، لیکن یہ حالات دائماً نہ رہیں یہ ایک عارضی دور ہے ، اور اس میں مسلمانوں سے وہ قوت اور وہ اسلحہ گم ہوگیا ہے جو ان کا واحد ہتھیار ہے۔ وہ واح دنظام ہے ، واحد جھنڈا ہے ، یعنی اسلامی جھنڈا جس کے تحت انہوں نے ہزار سال تک دنیا پر غلبہ حاصل کیا۔ اسی جھنڈے تلے وہ غالب آئے اور اس کے سوا ہمیشہ مغلوب ہوں گے۔ اس وقت امت مسلمہ سکڑنے اور غائب ہونے کے دور سے گزر رہی ہے۔ اور یہ گمشدگی اس زہر کی وجہ سے ہے جو امت مسلمہ کے اندر عالمی یہودیت اور عالمی صلیبیت نے پھیلائی ہے۔ اور یہ عالمی جمہوریت اور صیہونیت اور صلیبیت نے عالم اسلام پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے کہ یہاں کے حالات درست نہ ہوں لیکن یہ حالات ہمیشہ یونہی نہ رہیں گے اس گمشدگی کے بعد امت مسلمہ کو نمود اور ظہور ضرور نصیب ہوگا۔ آخر کار آنے والے مسلمان اپنے اسلام کے ہتھیار کو پائیں گے۔ کون جانتا ہے کہ کب پوری دنیا ہوش کے ناخن لیتی ہے اور یہودی مظالم کے خلاف اٹھتی ہے تاکہ اللہ کا وعدہ پورا ہو اور وہ دنیا میں دوبارہ ذلت کے اس گڑھے میں جا گریں جو اللہ نے ان پر لکھ دیا ہے۔ اگر پوری انسانیت یہودیوں کے خلاف بیدار نہیں ہوتی تو ہمارا یقین کہ امت مسلمہ ضرور بیدار ہوگی۔

الأعراف 7:154

غرض یہ تو ایک وقفہ اور لمحہ فکریہ تھا تاکہ بچھڑنے کو الہ بنانے والوں کے انجام پر قدرے غور کرایا جائے اب سابقہ منظر ہی اختتام کو یوں پہنچتا ہے۔ وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ ۔ پھر جب موسیٰ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھا لیں قرآن کا ذرا انداز تعبیر ملاحظہ ہو " گویا غضب اور غصہ ایک شخصی چیز ہے ، جس نے حضرت موسیٰ پر تسلط حاصل کرلیا ہے اور اپنی مرضی سے ان کو چلاتا ہے اور حرکت میں لاتا ہے۔ اور جب یہ خاموش ہوگیا اور حضرت موسیٰ کو اس نے آزاد چھوڑ دیتا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی اپنے اختیار میں آگئے۔ غصے کی وجہ سے جو تختیاں انہوں پھینک دی تھیں۔ وہ دوبارہ ہاتھ میں لے لیں۔ اب بتایا جاتا ہے کہ ان تختیوں میں اللہ کی ہدایات تھیں۔ اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے تھے ان کے لیے یہ رحمت تھیں ان کے دل راہ راست پر آنے کے لیے کھل گئے تھے۔ اور انہوں نے اللہ کی رحمتوں سے دامن بھر لیے تھے۔ اور ایک گمراہ اور بےراہ شخص سے اور کون بدبخت ہوگا جو اپنے سامنے کوئی راہ نہیں پاتا۔ اور اس روح سے اور کوئی بدبخت نہیں ہے جو ماری ماری پھرتی ہے اور جسے نہ کوئی صحیح راہ نظر آتی اور نہ اسے دولت یقین ملتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ اور خدا خوفی ہی وہ صفت ہے جس سے دل کھلتے ہیں اور جس سے غفلت دور ہوتی ہے اور انسان راہ راست پر آتا ہے اور حق کو قبول کرتا ہے۔ اللہ ان ربوں کا خالق ہے۔ اور وہی اس حقیقت کا فیصلہ اور اعلان کرنے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ دلوں کا حال رب العالمین سے زیادہ اور کوئی نہیں جانتا۔

الأعراف 7:155

اب یہ قصہ ذرا آگے بڑھتا ہے ایک نیا منظر اسکرین پر آتا ہے۔ اس قصے کا یہ بارہواں منظر ہے۔ اس میں حضرت موسیٰ اپنے منتخب ستر افراد کے ساتھ رواں دواں ہیں ؟ وَاخْتَارَ مُوْسٰي قَوْمَهٗ سَبْعِيْنَ رَجُلًا لِّمِيْقَاتِنَا۔ اور اس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں۔ اللہ کے ساتھ تعین وقت کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ شاید یہ وقت اس لیے متعین ہوا تھا کہ اس میں بنی اسرائیل توبہ کریں اور انہوں نے جس کفر اور شرک کا ارتکاب کیا تھا ، اس پر اللہ سے معافی چاہیں۔ سورة بقرہ میں ہے کہ اس جرم کے عوض بنی اسرائیل کے لیے بطور کفارہ جو سزا مقرر کی گئی تھی وہ یہ تھی کہ وہ خود اپنے لوگوں کو قتل کریں یعنی ان میں سے مطیع فرمان لوگ نافرمانوں کو قتل کریں ، انہوں نے ایسا ہی کیا اور یہاں تک وہ قتل کرتے رہے کہ جب تک اللہ نے ان کو معاف کرکے یہ حکم نہیں دے دیا کہ اب بس کرو۔ یہ ستر آدمی ان کے زیرک اور سمجھدار لوگ تھے ، یا ان کے نمائندے تھے۔ " یہ الفاظ کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے ستر آدمیوں کو منتخب کیا کہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نائب یا نمائندے تھے۔ یہ سوال اپنی جگہ ہے کہ یہ لوگ کون تھے ؟ انہیں سخت زلزلے نے آ لیا اور یہ بےہوش ہوگئے جیسا کہ دوسری سورتوں میں ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اللہ کو کھلا دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہم آپ پر اترنے والی ہدایات اور الواح کو تسلیم کرلیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کا مزاج کیا تھا۔ ان کے منتخب لوگوں کا یہ حال تھا تو دوسرے عام لوگوں کا حال کیسا ہوگا اور اس سے زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ یہ لوگ گئے ہیں توب قبول کرانے کے لیے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ آپ درخواست فرما رہے ہیں کہ آپ قصور معاف کردیں اور رحمت فرمائی۔ آپ عاجزی کر رہے ہیں اور قصور کا اعتراف کر رہے ہیں۔ فَلَمَّآ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَاِيَّايَ ۭاَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاۗءُ مِنَّا۔ جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ نے عرض کیا " اے میرے سرکار ، آپ چاہتے تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے۔ کیا آپ اس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کردیں گے ؟۔ اللہ کی قدرت کے سامنے یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار ہے کہ پہلے بھی آپ چاہتے تو ہمیں ہلاک کرسکتے تھے ، اور یہ مکمل تسلیم و رضا کا اظہار وہ دعائے مغفرت سے پہلے بطور تمہید کرتے ہیں۔ دعا یہ ہے کہ اے اللہ آپ کیا ہم میں سے چند نادانوں کی وجہ سے ہم سب کو ہلاک فرما رہے ہیں۔ استفہام کا صیغہ استعمال کرکے حضرت موسیٰ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اے اللہ تیری شان کریمی سے یہ مستبعد ہے کہ تو ایسا کرے۔ گویا یہ دعا بشکل استفہام ہے۔ اِنْ هِىَ اِلَّا فِتْنَتُكَ ۭ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاۗءُ وَتَهْدِيْ مَنْ تَشَاۗءُ ۔ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کردیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) یہ بتاتے ہیں کہ اس جہاں میں جو کچھ واقعہ ہوتا ہے اس کی نوعیت کیا ہے ؟ یہ کہ جو بھی پیش آئے وہ اللہ کی جانب سے ابتلا ہوتا ہے اور آپ بتاتے ہیں کہ وہ دوسروں کی طرح اللہ کی مشیت سے غافل نہیں ہیں۔ تمام آزمائشوں کا یہی حال ہوتا ہے ، جو لوگ ان کی حقیقت کو جان لیتے ہیں اور یہ سمجھتے کہ یہ ان کے رب کی طرف سے ابتلاء ہے اور ایک امتحان ہے جس سے انہوں نے گزرنا ہے اچھی طرح جانتے ہوئے اور ببانگ دہل۔ اور جو لوگ ان واقعات کی حقیقت سے غافل ہوتے ہیں ان کے لیے یہ واقعات و مشکلات گمراہی کا سبب بنتے ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس حقیقت کا اظہار اس مقصد کے لیے کرتے ہیں جو آگے آتا ہے یعنی اللہ کے سامنے یہ درخواست اور دعا کہ وہ اس امتحان میں انہیں کامیاب کرے۔ اَنْتَ وَلِيُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغٰفِرِيْنَ ۔ ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں۔ پس ہمیں معاف کردیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے ، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانتے والے ہیں۔ آپ ہمارے سرپرست ہیں اس لیے ہماری مدد کیجیے۔ اس آزمائش سے ہم آپ کی مدد اور معاونت کے بغیر کامیابی سے نہیں نکل سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں آپ کی مغفرت اور آپ کی رحمت کی بھی ضرورت ہے۔

الأعراف 7:156

وَاكْتُبْ لَنَا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةً وَّفِي الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَآ اِلَيْكَ ۔ اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ، ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا۔ ہم مکمل طور پر تیری طرف لوٹ گئے ہیں ، تیری رحمت میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور تیری جانب سے نصرت کے امیدوار ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تسلیم و رضا اور حکمت ابتلاء کو سمجھتے ہوئے مغفرت اور رحمت کی درخواست پیش فرمائی اور یہ حتمی اعلان کردیا کہ ہم اللہ کی پناہ گاہ کی طرف لوٹ گئے ہیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ کی یہ دعا ہر مسلمان کے لیے خضوع و خشوع اور مقام کبریائی کے آداب کے عین مطابق ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بندے کو اپنی درخواست کس طرح شروع کرنا چاہیے اور کس طرح اس کا اختتام ہونا چاہیے۔ اور اس کے بعد جواب یہ آتا ہے۔ قال عذابی اصیب بہ من اشاء و رحمتی وسعت کل شیئ۔ جواب میں ارشاد ہوا۔ سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں ، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے۔ یہ اللہ کی بےقید مشیت کی حکمرانی کا اعلان ہے جس نے اس کائنات کے لیے اپنے اختیار سے ایک قانون وضع کیا ہے اور اسے اپنی مرضی سے جاری کیا ہے اور اس نے اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ وہ اسے عدل و انصاف کے ساتھ چلائے گا۔ اور سچائی پر وہ چلے گا۔ کیونکہ عدل اللہ کی صفات میں سے اہم صفت ہے اور اللہ کی مشیت نہایت عدل کے ساتھ جاری رہتی ہے۔ اس لیے کہ اللہ نے اسی طرح کرنا چاہا ہے۔ لہذا عذاب اسی شخص پر آتا ہے جو اللہ کے نزدیک مستحق عذاب ہو ، یہی اس کی مشیت کا تقاضا ہے۔ اس کی رحمت نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور رحمت بھی مستحق رحمت کو ملتی ہے۔ یہ بھی اسی کی مشیت ہے ، کسی کو سزا دینے میں یا کسی پر انعامات کی بارش کرنے میں اللہ کی مشیت یونہی بغیر کسی منصوبے اور اتفاق کے نہیں چلتی۔ اللہ اس سے بہت برتر ہے۔

الأعراف 7:157

اس اصول کے تعین کے بعد اب اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت موسیٰ کو بعض آنے والے واقعات کے بارے میں اطلاع دیتے ہیں۔ یہ امت مسلمہ اور آخری امت کے بارے میں ہے جن پر اللہ کی رحمت کی بارش ہوگی ، اس انداز تعبیر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کی رحمت اس پوری کائنات سے وسیع ہے۔ انسان اس کی انتہاؤں کو نہیں پا سکتا۔ اس کی وسعتوں سے اللہ ہی واقف ہے ، کیا ہی عظیم رحمت ہوگی یہ۔ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَالَّذِيْنَ هُمْ بِاٰيٰتِنَا يُؤْمِنُوْن۔ اَلَّذِيْنَ يَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِيَّ الْاُمِّيَّ الَّذِيْ يَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ وَالْاِنْجِيْلِ ۡ يَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ ۭفَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَعَزَّرُوْهُ وَنَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ مَعَهٗٓ ۙ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ اور اسے میں ان لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے ، زکوۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے۔ (پس آج یہ رحمت ان لوگوں کا حصہ ہے) جو اس پیغمبر ، نبی امی (ﷺ) کی پیروی اختیار کریں۔ جس کا ذکر انہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے ، بدی سے روکتا ہے ، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔ لہذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے ، وہی فلاح پانے والے ہیں۔ یہ ایک عظیم خبر تھی ، اس سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ نبی آخر الزمان کے بارے میں بنی اسرائیل کو پہلے ہی اطلاع دے دی گئی تھی۔ اور یہ اطلاع ان کے بڑے نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی دی گئی تھی اور نبی آخر الزمان کے عملاً آنے سے بہت ہی پہلے یہ اطلاع کردی گئی تھی۔ یہ یقینی خبر تھی کہ آپ مبعوث ہوں گے ، آپ کی یہ صفات ہوں گی ، آپ کی رسالت اس منہاج پہ ہوگی۔ آپ کی امت کی صفات یہ ہوں گی۔ وہ نبی امی ہوگا۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرے گا۔ وہ تمام پاک چیزوں کو حلال کرے گا اور تمام ناپاک چیزوں کو حرام قرار دے گا۔ اور بنی اسرائیل پر ان کی معصیتوں کی وجہ سے جو بوجھ ڈال دیے گئے ، انہیں اتار دے گا اور جن پابندیوں میں انہوں نے اپنے آپ کو جکڑ لیا تھا وہ بھی کھول دے گا ، بشرطیکہ وہ اس پر ایمان لے آئیں ، اس نبی کے متبعین رب سے ڈرنے والے ہوں گے۔ وہ اپنے مالوں سے زکوۃ دیں گے اور اللہ کی آیات پر یقین رکھیں گے۔ اور اس نبی پر جو لوگ ایمان لائیں گے وہ اس کی نہایت درجے کی تعظیم کریں گے ، اس کی عزت کریں گے۔ اس کی مدد کریں گے ، ہر معاملے میں اس کی تائید کریں گے اور کتاب اللہ کی صورت میں جو نور اس پر نازل ہوگا وہ اس کے متبع ہوں گے اور یہی لوگ فلاح پانے والوں میں سے ہوں گے۔ بنی اسرائیل کو اس بڑے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے ، نہایت ہی قبل از وقت اطلاع دے کر اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو بتا دیا تھا کہ اس کا آئندہ کا دین کیا ہوگا ، آئندہ اس کا جھنڈا بلند کرنے والے کون لوگ ہوں گے ، اس کے متبعین کوں ہوں گے اور اس کی رحمت کن لوگوں پر ہوگی ، لہذا تمام ادیان سماوی کے متبعین کے پاس اب کوئی عذر نہیں ہے کہ وہ اس یقینی اطلاع پر عمل نہ کریں۔ یہ خبر رب العالمین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعہ سے بھیجی ہے ، اور ایسے اہم وقت میں اس کا اعلان کیا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ اپنے ستر منتخب لوگوں کے ساتھ اللہ کی ملاقات کے لیے مقررہ وقت پر گئے ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس نبی کے ساتھ جو سلوک کیا وہ کس قدر گھناؤنا جرم تھا اور یہ کہ اگر وہ ایمان لے آتے تو اس میں خود ان کے لیے بہت سی بھلائیاں تھیں اور مومنین کے ساتھ شامل ہو کر وہ فلاح پاتے۔ علم اور دلیل کے باوجود اس جرم کا ارتکاب ہورہا ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ بنی اسرائیل وہ شرمناک لوگ ہیں جنہوں نے ہمیشہ نبی آخر الزمان اور آپ کے لائے ہوئے دین کی مخالفت کی۔ پہلے یہودی یہ دشمنی کرتے رہے اور ان کے بعد صلیبیوں نے یہ کام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اور یہ نہایت ہی مکارانہ لڑائی ہے جس کا اعلان انہوں نے اس نبی اور اس کے دین کے خلاف کر رکھا ہے۔ وہ مسلسل اس جنگ میں مشغول ہیں اور انہوں نے اسے اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے۔ جو شخص صرف ان نصوص کا مطالعہ کرے جو قرآن کریم میں اہل کتاب کے بارے میں اور ان کی اسلام دشمنی کے بارے میں آئے ہوئے ہیں جن کا تفصیلی تذکرہ سورة بقرہ ، سورة آل عمران ، سورة نساء اور سورة مائدہ میں ہوا ہے اسے معلوم ہوجائے گا کہ ان لوگوں نے اس دین کے خلاف کس قدر ہمہ گیر جنگ کی ہے اور کس قدر بےرحمی اور بےجگری کے ساتھ وہ اس دین کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ اور جو شخص قرآن کے بعد کی تاریخ کو غور سے پڑے کہ جب مدینہ میں اسلام کے جھنڈے بلند ہوئے ، اسلام کی ایک مملکت قائم ہوئی اور تب سے لے کر آج تک جو زمانہ بھی گزرا ہے ، اس سے معلوم ہوگا کہ ان لوگوں نے اسلام کو مٹانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ہے اور وہ ہمیشہ اس بات پر مصر رہے ہیں۔ دور جدید کی عالمی صیہونیت اور صلیبیت نے اسلام کے خلاف وہ کارروائیاں کی ہیں جو کبھی وہ پوری اسلامی تاریخ میں نہ کرسکے تھے۔ اس دور میں انہوں نے اسی سازشیں کی ہیں اس دین کو سرے سے مٹا دیا جائے۔ ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ اسلام کے خلاف آخری فیصلہ کن معرکہ لڑیں گے۔ اور اس کے لیے وہ تمام تدابیر اختیار کر رہے ہیں۔ جس کا وہ اس سے قبل پوری تاریخ میں تجربہ کرچکے ہیں اور وہ تمام جدید طریقہ ہائے کار بھی اختیار کریں گے جو انہوں نے اب ایجاد کیے ہیں۔ آج بعض سادہ لوح انسان جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں ، وہ یہ تجویز کرتے ہیں کہ دنیا کے ملحدین کے خلاف تمام اہل ادیان کو باہم مل کر تعاون کرنا چاہئے ، حالانکہ یہ اہل ادیان ہر اس شخص کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہیں جو اپنے آپ کو صرف اسلام کی طرف منسوب کرتا ہے اور اہل اسلام کے خلاف وہ ایسی جنگیں لڑ رہے ہیں جن کے خدوخال صلیبی جنگو اور اندلس کی تفتیشی عدالتوں جیسے ہیں مثلا وہ دوسرے ممالک میں استعماری اور نو آبادیاتی نظام قائم کرکے ایسا کریں یا آزاد ممالک کے اندر ایسے حالات پیدا کرکے جن کے ذریعہ اسلامی تصورات کا قلع قمع کرنے کے لیے ہر وقت لگے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ہر قسم کے غیبی تصور کے منکر ہیں ، سائنس اور تجربے کے سوا کسی چیز کو نہیں مانتے ، ترقی کے نام پر اخلاقی بگاڑ پیدا کرتے ہیں ، فقہ اسلامی میں تبدیلیوں کے لیے مستشرقین کی کانفرنسیں منعقد کرتے ہیں ، ربا کو حلال قرار دیتے ہیں اور اس کے علاوہ تمام محرمات کے سلسلے میں عالم اسلام کو غلط راہ پر ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک وحشیانہ جنگ ہے جو یہ لوگ اسلام کے خلاف جاری کیے ہوئے ہیں حالانکہ انہیں اسلام اور نبی اسلام کے بارے میں بہت پہلے خوشخبری دی گئی تھی ، لیکن انہوں نے اسے ماننے کے بجائے اسلام اور نبی اسلام کے خلاف یہ عناد اور کینہ شروع کردیا۔

الأعراف 7:158

قبل اس کے کہ سیاق کلام اگلے منظر کی نقاب کشائی کرے ، یہاں قدرے وقفہ کیا جاتا ہے اور اس وقفے میں روئے سخن نبی ﷺ کی طرف مڑ جاتا ہے کہ آپ پوری انسانیت کو دعوت دیتے رہیں اور یہ اللہ کا وعدہ قدیم ہے۔ قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ اے محمد ان سے کہو کہ " اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے یہ آخری رسالت ہے ، یہ پوری دنیا کے لیے عام ہے ، یہ کسی نوع یا کسی نسل کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، اس رسالت سے پہلے جو رسالتیں گزری ہیں وہ مقامی تھیں یا محدود اور ایک محدود زمانے کے لیے تھیں اور زمانہ وہی تھا جو کسی رسول کے بعد دوسرے رسول کے آنے کے درمیان ہوتا ہے۔ ان رسالتوں کے دور میں انسانیت نے ترقی کی طرف چند ہی قدم رکھے تھے ، تاکہ انسانیت رفتہ رفتہ ترقی کرتی چلی جائے اور آخری رسالت تک یہ قافلہ پہنچ جاے۔ ہر رسالت میں شریعت کے بعض احکام کے اندر اضافے و ترمیم کا کام ہوتا رہا ہے۔ یہاں تک کہ جب آخری رسالت کا دور آیا تو یہ آخری رسالت اپنے اصول اور فروع کے اعتبار سے ایک مکمل رسالت تھی اور یہ ایسی تھی کہ اس کے اصول نئے قوانین کی شکل میں دنیا میں نافذ ہوسکتے تھے اور یہ آخری رسالت ساری دنیا کے لیے آئی۔ اس لیے کہ اس آخری رسالت پر سلسلہ رسل ختم ہوگیا ہے۔ اب اور کوئی رسالت کے لیے نبی امی منتخب ہوا تاکہ اس کا پیغام فطری پیغام ہو اور اللہ کی جانب سے جو کچھ آئے وہ پہنچا دے اور اس کا معلم صرف اللہ ہو ، اس لیے اس آخری رسالت کے اوپر کسی دنیاوی تعلیم کی چھاپ نہیں ہے ، نہ وہ انسانی افکار سے متاثر ہے تاکہ فطری رسالت لوگوں کی فطرت تک پہنچے اور اپیل کرے۔ قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعَۨا ۔ اے محمد ان سے کہو۔ اے انسانو ، میں تم سب کی طرف اس خدا کا پیغمبر ہوں۔ یہ آیت مکی سورة میں ایک مکی آیت ہے۔ اس میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ پوری دنیا کے لیے اپنی رسالت کا اعلان کردیں ، یہ ان اہل کتاب اور مستشرقین کا مسکت جواب ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ مکہ مکرمہ میں ، اہل مکہ اور قریش سے آگے وسیع علاقے میں اپنی رسالت کے بارے میں نہ سوچتے تھے۔ یہ کہ قریش سے آگے اہل عرب اور پھر اہل عرب سے آگے اہل کتاب تک اپنی دعوت کو وسعت انہوں نے اس وقت دی اور جزیرۃ العرب سے بھی باہر پوری دنیا تک دعوت پھیلانے کا انہوں نے اس وقت سوچا جبکہ کامیاب حالات نے ان کو اس پر آمادہ کیا۔ یہ حقیقت میں ایک عظیم افتراء ہے اور اسلام کے خلاف ان کی ایک قدیم نظریاتی جنگ ہی کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ نظریاتی جنگ وہ ہر وقت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پریشانی کی بات یہ نہیں ہے کہ اہل کتاب اس دین کے خلاف یہ سازشیں کیوں کرتے ہیں اور مستشرقین جو اہل کتاب کے سرخیل ہیں اور اسلام کے خلاف لڑنے والی ایک زبردست قوت ہیں وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ، پریشانی اور عظیم پریشانی کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں وہ ان ملمع سازوں سے اپنا دین سیکھتے ہیں اور بڑے فخر سے ان کی شاگردی اختیار کرتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو اپنا استاد سمجھتے ہیں۔ وہ ان کے لکھے ہوئے ان خرافات کے حوالے اپنی کتابوں میں دیتے ہیں۔ وہ اسلامی تاریخ بھی ایسے ملمع کاروں سے لیتے ہیں اور اس قسم کے دھوکہ کھائے ہوئے احمق پھر اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور مہذب بھی کہتے ہیں۔ اب ہم دوبارہ آیت کی تشریح کی طرف آتے ہیں۔ رسول اللہ کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ اعلان کردیں کہ آپ کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے ، یہ بتایا جاتا ہے کہ جس رب کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اس کی پہچان کیا ہے ؟ الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۚ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ ۔ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ نبی ﷺ تمام لوگوں کے لیے رسول ہیں اور آپ اس رب کے فرستادہ ہیں جو تمام مخلوقات کا رب ہے اور وہ بھی اسی کائنات کا ایک حصہ ہیں۔ اللہ وحدہ الہ اور حاکم ہے۔ تمام لوگ اس کے بندے ہیں۔ اور آپ کی بادشاہت اور قدرت کا اظہار اس امر سے ہوتا ہے کہ آپ واحد پیدا کرنے والے اور زندہ کرنے والے ہیں۔ اللہ تمام کائنات کا مالک ہے ، وہ تمام موجودات پر حاکم ہے ، وہ موت وحیات کا مالک ہے۔ لہذا وہی اس بات کا مستحق ہے کہ لوگ اس کے دین پر چلیں اور اس کے فرستادے سب کے سب اسی دین کو پھیلانے والے ہیں۔ اس طرح قرآن کریم لوگوں کو ان کے رب کی شناخت کراتا ہے۔ تاکہ وہ اپنی زندگی کا نظام اس رسول کی اطاعت پر قائم کریں۔ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ الَّذِيْ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَكَلِمٰتِهٖ وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے ، اور پیروی اختیار کرو اس کی ، امید ہے کہ تم راہ راست پا لوگے۔ اس پکار اور دعوت کے اندر نہایت ہی لطیف اشارے ہیں چاہیے کہ ہم ذرا وقفہ کرکے ان پر غور کریں۔ ٭ اس پکار اور دعوت میں سب سے پہلا امر یہ ہے کہ اللہ اور رسول اللہ پر ایمان لاؤ اور یہ ایمان لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے کلمہ طیبہ میں منضبط کیا گیا ہے۔ ٭ اور اس پر ایمان و اقرار کے بغیر اسلام اور ایمان کا تصور بھی ممکن نہیں ہے لیکن یہاں ایمان لانے کی دعوت سے پہلے اللہ کی تعریف کی گئی اور اس کی شناخت دی گئی کہ ایسے اللہ پر ایمان لاؤ۔ یعنی وہ " جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اس کے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے ، وہ زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے " لہذا یہاں جس خدا پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے اس کی صفا پہلے بیان کردی گئی ہیں۔ اسی طرح جس رسول پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے کہ سب لوگ اس کو مانیں اور اطاعت کریں اس کی صفات بھی پہلے بیان کردی گئیں۔ ٭۔ دوسری بات یہ کہ نبی امی بھی اللہ پر اور اللہ کے کلام پر ایمان لاتے ہیں۔ یہ بات واضح ہے لیکن اس کے اندر یہ اہم حقیقت بیان کی گئی ہے کہ کسی بھی دعوت سے پہلے اس بات کی ضرورت ہے کہ داعی کا خود اس پر یقین ہو ، اس کے دین میں دعوت کا مفہوم واضح ہو ، اسے اس پر پورا یقین ہو ، ہی وجہ ہے کہ جس رسول کو تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہے وہ " اللہ پر بھی ایمان لاتا ہے اور اس کے کلمات پر بھی " اور اسی کی طرف وہ لوگوں کو بھی دعوت دیتا ہے۔ ٭ پھر یہاں ایمان کے تقاضے بھی دیے گئے ہیں ، کہ سب لوگ رسول کی اطاعت بھی کریں اور اس کی لائی ہوئی شریعت کو بھی اپنے ہاں جاری کریں۔ اس کی سنت کو مشعل راہ بنائیں۔ اور اس بات کی نشاندہی یوں کی گئی ہے " لہذا اس کی پیروی اختیار کرو ، اس کی امید ہے کہ شاید تم راہ راست پا لوگے " اس سے معلوم ہوا کہ اگر لوگ رسول کی اطاعت نہیں کرتے تو ان کی فلاح کی کوئی امید نہیں ہے۔ یہ بات کافی نہیں ہے کہ لوگ دلوں میں ایمان لے آئیں اور پھر رسول کا اتباع نہ کریں۔ عملی اتباع ہی در اصل اسلام ہے۔ دین اسلام اپنے مزاج اور اپنی ماہیت کی وضاحت ہر موقع و محل میں کرتا ہے۔ اس طرح کہ اسلام مجرد عقیدہ و نظریہ نہیں ہے ، نہ اسلام صرف مراسم عبودیت کا نام ہے۔ اسلام رسول اللہ ﷺ کے مکمل اتباع کا نام ہے ، تمام ہدایات جو رسول پہ اترے ، تمام شرعی قوانین جو رسول نے وضع کیے ان کا اتباع ضروری ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے صرف یہ حکم نہیں دیا کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ، اور نہ صرف یہ حکم دیا ہے کہ اس طرح مراسم عبودیت بجا لاؤ بلکہ اسلام نے ایک مکمل قانون اور نظام دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ جب تک تم پورے نظام شریعت اور اسلامی قانون اور نظام کو اپنی عملی زندگی میں واضح نہ کروگے اس وقت تک تمہاری فلاح کی کوئی امید نہیں۔ یہ ہے دین اسلام اور اس دین کی کوئی اور تصویر قابل قبول نہیں ہے ، صرف اس کی یہی شکل قابل قبول ہے جس میں کہا گیا (واتبعوہ) اس کی اطاعت کرو ، شاید کہ تم فلاح پاؤ۔ اگر صرف اعتقادی تصور ہی مطلوب ہوتا تو اللہ صرف یہ بات کہنے پر اکتفا کرتے۔ فامنوا باللہ ورسولہ۔

الأعراف 7:159

شدید زلزلے کے بعد کیا واقعات پیش آئے جس میں بنی اسرائیل کے ستر لیڈر ہلاک کرد دیے گئے ؟ یاں صرف یہ بات آتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی اس اچانک موت پر الہ کے ہاں نہایت ہی عاجزی سے دعا کی ، یہ نہیں بتایا کہ ان لوگوں کا کیا بنا لیکن دوسری سورتوں میں یہ قصہ جس طرح لایا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعاء کی وجہ سے اللہ نے انہیں زندہ کردیا اور یہ لوگ پکے مومن کی طرح اپنی قوم کی طرح اپنی قوم کی طرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ لوٹے۔ لیکن قصے کی اگلی کڑیاں لانے سے قبل یہاں اس حقیقت کو بیان کردیا جاتا ہے کہ حضرت موسیٰ کی قوم میں سے کچھ لوگ اچھے بھی تھے ، وہ حق کو قبول کرتے تھے۔ حضرت موسیٰ کے دور میں ان میں اچھے لوگ بھی تھے۔ ان میں سے ایک طبقہ ایسا تھا جو حق بات کرتا تھا اور انصاف سے کام لیتا تھا۔ اور خود حضور کے دور میں بھی ان میں سے بعض حق پرستوں نے اسلام کو قبول کیا۔ خصوصاً ان لوگوں نے جو اپنے ہاں موجود تورات میں نبی امی کے بارے میں لکھا ہوا پاتے تھے۔ ان کے سرخیل آپ کے صحابی حضرت عبداللہ ابن سلام تھے اور یہ اس وقت کے یہودیوں کا مقابلہ ان پیشین گوئیوں سے کرتے تھے جو نبی آخر الزمان کے بارے میں تورات میں موجود تھیں۔ نیز ان کے ہاں جو شریعت کے نصوص تھے وہ بھی اسلامی نظام قانون کے ساتھ ہم رنگ تھے۔ اب اس اہم ضمنی بات کے بعد اصل قصے کا مضمون یوں آگے بڑھتا ہے۔

الأعراف 7:160

یہ اللہ کی خاص مہربانی تھی جس کا سایہ حضرت موسیٰ پر قائم و دائم رہا۔ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کرکے کفر کیا اور اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرکے غلطی معاف کروائی۔ انہوں نے اللہ کو دیکھنے کا مطالبہ کیا اور زلزلے کی وجہ سے ان کی جان نکل گئی۔ اور حضرت موسیٰ کی آہ وزاری کے بعد دوبارہ ان کو زندگی ملی۔ اسی طرح ان کو 12 گروہوں میں ان کی شاخوں کے اعتبار سے تقسیم کیا گیا۔ ان کے 12 گروہ تھے اور ہر گروہ حضرت یعقوب کے پوتوں میں سے کسی ایک کی شاخ تھا۔ ان لوگوں نے قبائل کی طرح اپنے سلسلہ انساب کو اچھی طرح محفوظ کر رکھا تھا۔ وَقَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا۔ اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کرکے انہیں مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو ان بارہ فرقوں میں محض انتظامی اعتبار سے پانی کی تقسیم کے لیے بانٹا گیا تاکہ وہ ایک دوسرے کے حقوق پر دست درازی نہ کریں۔ وَاَوْحَيْنَآ اِلٰي مُوْسٰٓي اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗٓ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۭقَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُم۔ اور جب موسیٰ سے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو۔ چناچہ اس چٹان سے یکایک بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہر گروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعین کرلی۔ ان پر بادلوں کا سایہ اس لیے کیا گیا کہ صحرا کے اندر بےپناہ تپش تھی۔ من ایک قسم کا بری شہد ہے اور سلوی ایک چربہ پرندہ ہوتا ہے۔ اس طرح پانی فراہم کرنے کے بعد ان کے لیے زندگی کی تمام ضروریات فراہم ہوگئیں۔ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭكُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ ۭوَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ ۔ ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور ان پر من وسلوی اتارا۔ " کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں " مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے اوپر ظلم کرتے رہے " یہاں ان کو حکم دیا گیا کہ تمام طیبات کو کھاؤ، معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک ان پر ، ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے بعض طیبات کو حرام نہ کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ یہ تمام مراعات بالکل واضح ہیں لیکن یہ لوگ بہرحال بدفطرت تھے اور ہر وقت معصیت اور نافرمانی کے لیے تیار رہتے تھے۔ اور اس آیت کے آخری حصے وما ظلمونا سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام انعامات و اکرامات ، ان کے لیے معجزانہ انداز میں چشمے نکالنے اور حضرت موسیٰ کے عصا مارنے کے نتیجے میں 21 چشمے ابل پڑنے ، اور تپتے ہوئے صحرا میں ان پر بادلوں کے سائے اور پھر صحرا میں اس قدر قابل فخر غذا فراہم کرنے کے باوجود انہوں نے " آپ اپنے اوپر ظلم کیا " یعنی وہ کفر و ظلم کرکے خود اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے اور خود اپنے آپ کو سزا و عذاب کا مستحق ٹھہرا رہے تھے۔ عنقریب سیاق کلام میں ان کے ظلم کے کچھ نمونے آئیں گے۔ مثلا اللہ کے احکام کی نافرمانی کرنا ، ان سے پہلو تہی کرنا ، یہ سب کام وہ اپنے خلاف کرتے تھے ، اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے ، اللہ تو غنی بادشاہ ہے۔ اگر تمام مخلوقات اس کی نافرمانی کرے تو اس کی بادشاہت میں کچھ کمی نہیں آتی۔ اور اگر تمام مخلوقات مطیع فرمان ہوجائے تو اللہ کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ معصیتوں کا ارتکاب کرکے در اصل وہ اپنا ہی گھاٹا کرتے ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

الأعراف 7:161

اب ذرا ملاحظہ فرمائیے کہ بنی اسرائیل اللہ کے انعامات و اکرامات کے جواب میں کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اور ان کے کج رو قدم کس طرح کی روش اختیار کرتے ہیں۔ ۔۔۔ انہوں نے بچھڑے کی عبادت کی اور اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ انہوں نے اللہ کو دیکھنا چاہا اور زلزلے سے جان ہی چلی گئی۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کرکے دوبارہ زندہ کیا۔ اللہ نے ان پر بہت بڑے انعامات کیے۔ لیکن دیکھیے ان کی کج رو طبیعت صراط مستقیم کی راہ پر جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ بغیر جواز کے انہوں نے نافرمانی شروع کردی۔ بات کو بدلنے کی جسارت کی۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اس شہر میں داخل ہوجاؤ، یہ شہر تمہارا ہے ، یہ کون سا شہر تھا ، اس کا یہاں نام نہیں لیا گیا ، کیونکہ سیاق کلام میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ شرط صرف یہ عائد کی گئی کہ اس شہر میں داخل ہوتے وقت ایک مخصوص دعا مخصوص کلمات کی صورت میں پڑھتے جاؤ، اور اس شہر میں داخل ہوتے وقت سجدہ ریز ہوتے جاؤ اور تمہیں جو فتح و نصرت عطا ہوئی اس پر شکر ادا کرو ، بعینہ اسی طرح جس طرح حضور اکرم ﷺ مکہ میں داخل ہوئے تھے اور آپ اپنی سواری کے اوپر سجدہ ریز تھے۔ ان لوگوں سے اللہ وعدہ کر رہے تھے کہ اگر تم اس حالت میں اس شہر میں داخل ہوگے تو اللہ تمہاری تمام غلطیاں معاف کردے گا اور اگر تم م میں سے کوئی مزید نیکی کا راستہ اختیار کرے گا تو اللہ مزید بارش کرے گا اپنے انعامات کی۔ لیکن ان لوگوں کی حالت یہ تھی کہ ان میں بعض نے گستاخانہ انداز میں دعا کے الفاظ ہی بدل دئیے اور بعض نے داخلے کے لیے مقرر شکل بدل دی۔ انہوں نے یہ نافرمانی کیوں کی ؟ الفاظ بدلنے یا سجدہ ریز نہ ہونے سے انہیں کیا فائدہ مل رہا تھا ؟ محض سرکشی اور کج مزاجی کی تسکین !

الأعراف 7:162

فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَهُمْ ۔ مگر جو لوگ ان میں سے ظالم تھے انہوں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی ، بدل ڈالا۔ لہذا اب ان پر عالم بالا کی طرف سے عذاب آتا ہے ، وہ اللہ جو ان پر من وسلوی اتار رہا تھا ، اور ان پر اس کے بھیجے ہوئے بادل سایہ فگن تھے ، اب ان پر عذاب نازل فرما رہا ہے۔ فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ ۔ اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔ اس طرح ان میں جنہوں نے ظلم کیا یعنی کفر کیا انہوں نے خود اپنے آپ پر ظلم کیا ، کیونکہ وہ عذاب الٰہی کے مستحق ٹھہرے۔ اس بار قرآن مجید نے اس عذاب کی تصریح نہیں کی جو انہیں دیا گیا۔ کیونکہ عذاب کے تعین کے بغیر ہی اس قصے کی غرض وغایت پوری ہوجاتی ہے۔ قصے سے اصل غرض وغایت یہ بتانا ہے کہ اللہ کی معصیت کرنے والے عذاب کے مستحق ہوتے ہیں اور اللہ کا ڈراوا حقیقت بن جاتا ہے اور کوئی نافرمان اللہ کے انصاف سے بچ کر نہیں نکل سکتا۔

الأعراف 7:163

اب پھر بنی اسرائیل معصیت اور سرکشی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس بار وہ کھلے بندے احکام الٰہی کی خلاف ورزی نہیں کر رہے بلکہ تاویل سے کام لے رہے اور احکام سے گلو خلاصی کر رہے ہیں۔ جب ان کو آزمایا جاتا ہے تو صبر نہیں کرتے کیونکہ ابتلاء اور مشکلات پر وہ لوگ صبر کرتے ہیں جن کی طبیعت سنجیدہ ہو اور جو ذاتی خواہشات اور ہر قسم کی لالچ کے مقابلے میں ضبط رکھتے ہوں۔ ۔۔ یہاں قرآن نے بنی اسرائیل کے احوال ماضی کے بیان کو چھوڑ کر ، اب ان بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کرنا شروع کیا ہے جو سابقہ بنی اسرائیل کی اولاد تھے اور حضور کے دور میں موجود تھے۔ یہ لوگ مدینہ میں بھی تھے۔ یہ آیات آیت واذ نتقنا الجبل فوقہم تک مدنی آیات ہیں۔ یہ مدینہ میں یہودیون کے ساتھ مکالمے کے طور پر نازل ہوئیں اور انہیں مضمون کے اعتبار سے اس مکی سورت میں رکھ دیا گیا تاکہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا مضمون مکمل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ان سے اس واقعہ کے بارے میں دریافت کریں جو ان کے ہاں بہت ہی مشہور و معروف ہے اور ان کی تاریخ میں درج ہے۔ قرآن کریم اگلے اور پچھلے بنی اسرائیل کو ایک ہی امت سمجھتا ہے۔ ان کو وہ جرائم بھی یاد دلاتا ہے جو مختلف ادوار میں ان سے سرزد ہوئے اور اس کے بدلے میں اللہ نے انہیں بندر بنا دیا اور ان پر مسخ جیسا عذاب نازل ہوا۔ ان پر ذلت اور اللہ کا غضب مسلط ہوگئے۔ ہاں ان سب عذابوں سے وہ لوگ بہرحال محفوظ رہے ہوں گے جنہوں نے نبی آخر الزمان کی مطابقت اختیار کی اور اس کی وجہ سے ان کے کاندھوں سے بوجھ اتر گئے اور جو بیڑیاں انہیں لگی ہوئی تھیں ، وہ کھل گئیں۔ سمندر کے کنارے والی بستی کون سی تھی۔ قرآن نے اس کا نام نہیں لیا کیونکہ نام لینے کی ضرورت ہی نہ تھی اور گاؤں کا نام مخاطبین کے ذہنوں میں تھا۔ اس واقعہ کے کردار بنی اسرائیل کے سرکردہ لوگ تھے اور یہ کسی ساحلی شہر میں آباد تھے۔ بنی اسرائیل نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہفتے میں ان کے لیے ایک چھٹی کا دن مقرر کیا جائے جو آرام اور عبادت کا دن ہو۔ اور اس میں ان کے لیے معاشی سرگرمیاں منع ہوں۔ ہفتے کا دن ان کے لیے ایسا دن مقرر کیا گیا۔ اب اللہ نے اس دن کے بارے میں انہیں آزمائش میں ڈال کر یہ سمجھانا چاہا کہ وہ زندگی کی دلکشیوں اور لالچوں سے کس طرح چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔ اور بنی اسرائیل کے لیے یہ ضروری بھی تھا اس لیے کہ وہ ایک طویل عرصے تک غلامی کی زندگی بسر کرتے رہے تھے اور غلاموں کے ضمیر بدل جاتے ہیں اور ان کے اندر اخلاقی کمزوریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ ذلت اور غلامی سے بدنی نجات کے بعد یہ ضروری ہے کہ انسان ذہناً اور اخلاقاً بھی غلامی سے نجات پا جائے تاکہ وہ صحیح اور صالح زندگی بسر کرسکے۔ خصوصاً وہ لوگ جو داعی کے مقام پر فائز ہوں۔ ان کے لیے تو ایسی اخلاقی تربیت فرض عین ہے۔ پھر خصوصاً ان لوگوں کے لیے جن کے ذمے خلافت فی الارض کی ذمہ داری بھی ہے اور وہ مناصب حکمرانی پر فائز ہوں۔ ارادے کی پختگی اور نفس پر ضطب کے معاملے میں پہلی آزمائش آدم و حوا کی ہوئی اور ان سے لغزش ہوگئی اور انہوں نے شیطان کے ورغلانے کی وجہ سے شجرۂ خلد کو چکھ لیا اور یہ لالچ کیا کہ ان کی حکمرانی دائمی ہوجائے اور ان کے بعد بھی ہر وہ جماعت جسے اللہ نے منصب خلافت فی الارض عطا کیا اسے آزمایا گیا۔ مختلف اقوام کو مختلف انداز اور مختلف حالات میں ضرور آزمایا گیا۔ لیکن اس آزمائش میں بنی اسرائیل پورے نہ اترے۔ اس لیے کہ وہ اس سے قبل بار بار وعدہ خلافی کرچکے تھے اور بار بار انہوں نے سرکشی اختیار کی تھی۔ آزمائش یوں ہوئی کہ ہفتے کے روز مچھلیاں ساحل کے قریب آجاتیں۔ ان کا شکار سہل ہوجاتا ، لیکن وہ یہ مچھلیاں اس لیے نہ پکڑ سکتے تھے کہ ہفتے کو شکار کرنا حرام تھا۔ اور اس حرمت میں خود ان کی خواہش شامل تھی۔ جب ہفتہ نہ ہوتا اور وہ شکار کے لیے نکلتے تو مچھلیاں قریب نہ ہوتیں جیسا کہ ہفتے کو وہ دیکھا کرتے تھے۔ یہ وہ بات تھی جسے حضور اکرم کے ذریعے اللہ انہیں یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ذرا یاد کریں کہ انہوں نے اس حرمت کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ۘاِذْ يَعْدُوْنَ فِي السَّبْتِ اِذْ تَاْتِيْهِمْ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّيَوْمَ لَا يَسْبِتُوْنَ ۙ لَا تَاْتِيْهِمْ ڔ كَذٰلِكَ ڔ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ ۔ اور ذرا ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ انہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سب کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ مچھلیوں کا یہ واقعہ کیسے پیش آگیا ، تو اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ یہ خارق عادت اور ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ مچھلیاں ساحل کے قریب بڑی تعداد میں دوڑتی پھرتیں اور اگر کوئی پکڑتا تو بسہولت پکڑ سکتا۔ آج کل بعض لوگ خود اللہ کے جاری کیے ہوئے قوانین کونیہ کو قوانین طبعیہ کا نام دے کر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی بات نہیں ہوسکتی تو یہ ان کا مجرد دعویٰ ہے۔ اسلامی تصور حیات کے مطابق بات ایسی نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ نے خود اس کائنات کو بنایا ہے اور اس کے اندر جو طبعی قوانین جاری کیے ہیں وہ اس نے یہاں ودیعت کیے ہیں۔ یہ اللہ کی مشیت ہے۔ اللہ کی یہ مشیت خود اپنے بنائے ہوئے قوانین کی پابند نہیں ہے کہ وہ صرف اپنے بنائے ہوئے قوانین کے خلاف نہ جاسکتی ہو۔ ان قوانین کے بعد بھی مشیت الہیہ آزاد ہے۔ جن لوگوں کو اللہ نے حقیقی علم دیا ہے وہ اس نکتے سے غافل نہیں ہوتے۔ اگر اللہ کی حکمت اور مشیت کا تقاضا یہ تھا کہ انسانوں کی بھلائی اس میں ہے کہ یہ قوانین فطرت درست طور پر کام کرتے رہیں تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ اللہ کی مشیت ان قوانین کے ہاتھ میں قید ہوگئی۔ جس وقت بھی اللہ کی مشیت یہ چاہے کہ کوئی واقعہ ان قوانین کے خلاف وقوع پذیر ہوجائے تو ایسا ہوسکتا ہے۔ خصوصاً ان قوانین کے مطابق جو جزئی واقعہ بھی ہوتا ہے۔ (اگر کوئی پتا بھی گرتا ہے) تو وہ اللہ کے نظام تقدیر کے مطابق واقع ہوتا ہے۔ یوں نہیں ہے کہ یہ اسباب و مسببات اب مشیت الہیہ سے آزاد ہوگئے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نظام قوانین طبعی بھی مشیت کا پابند ہے لہذا جو جزئی واقعہ قوانین طبعیہ کے مطابق ہوتا ہے یا خلاف یہ اللہ کے علم و قدر کے مطابق ہوتا ہے۔ لہذا مطابق عادت واقعہ اور خارق عادت واقعہ اصل میں دونوں ایک ہیں۔ اس نظام کائنات میں خود کاری نہیں ہے جیسا کہ بعض سطح میں لوگوں کو نظر آتا ہے۔ بعض فلاسفہ نے اب اس بات کو سمجھنا شروع کردیا ہے۔ (دیکھئے فی ظلال القرآن ج 7، ص 520، 522) بہرحال بنی اسرائیل کی ایک ساحلی آبادی پر یہ واقعہ پیش آیا۔ چناچہ اس آزمائش میں بعض لوگ گر جاتے ہیں۔ ان کے عزائم شکست کھا جاتے ہیں۔ وہ اپنے رب کے ساتھ کیے ہوئے اپنے پختہ عہد کو بھول جاتے ہیں ، یہ حیلہ سازی شروع کردیتے ہیں اور حیلے بہانے یہودیوں کا پرانا طریقہ ہے۔ جب دلوں میں کجی آجائے اور خدا خوفی ختم ہوجائے تو انسان حیلے بہانے ہی تلاش کرتا ہے۔ پھر لوگ نصوص کی عبادات کے ساتھ کھیلتے ہیں اور مقصد اور معانی نظروں سے اوجھل ہوجاتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ کسی قانون کی حفاظت اس کے دفعات و عبارات کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ قانون اور ضابطے کی پابندی دلوں کے ساتھ ہوتی ہے اور دل تب قانون کی پابندی کرتے جب ان کے اندر تقوی اور خشیت ہو۔ ایک متقی اور خدا سے ڈرنے والا دل ہی قانون کی حفاظت کرسکتا ہے۔ اور جب کوئی قوم دل و جان سے کسی قانون کی حفاظت کرنا چاہے تو اس کے بارے میں لوگ حیلے بہانے نہیں کرسکتے۔ لیکن اگر کسی قانون کی حفاظت صرف حکومتی ذرائع سے مغلوب ہو ، محض خوف سزا سے پابندی کرائی جائے تو اس طرح کبھی نہیں ہوسکتا۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی حکومت ہر فرد پر ایک نگراں مقرر کردے۔ اور وہ نگراں تنہائی اور مجمع دونوں میں پوری پوری نگرانی کرسکتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام قانونی اسکیمیں فیل ہوجاتی ہیں جن کی قوت نافذہ لوگوں کا دلی تقویٰ اور دلی میلان نہ ہو اور اسی طرح وہ تمام نظامہائے زندگی ناکام رہتے ہیں جو بعض انسانوں نے دوسرے انسانوں کے لیے بنائے ہیں اور جس میں قوت نافذہ خوف خدا پر مبنی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تمام ادارے ناکام ہوجاتے ہیں جن کے ذمے قوانین کا نفاذ ہوتا ہے۔ پھر ان اداروں پر نگران ادارے بھی ناکام ہوجاتے ہیں (کرپشن میں ترقی ہوتی ہے اور انٹی کرپشن ادارہ کرپٹ ہوتا ہے) اور ان کا کام اول سے آخر تک سطحی ہوجاتا ہے۔ چناچہ اس گاؤں کے باسیوں نے اس قانون کی خلاف ورزی کے سلسلے میں حیلہ سازیاں شروع کردیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ہفتے کے دن مچھلیوں کو گھیرنے کے لیے بند باندھ دیتے اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو یہ لوگ جلدی سے آکر مچھلیاں پکڑ لیتے۔ اب دل کو تسلی یوں دیتے کہ انہوں نے ہفتے کے دن بہرحال مچھلیوں کو ہاتھ نہیں لگایا۔ مچھلیاں بہرحال بندوں کے اندر پانی میں ہوتیں۔ اور ان میں سے اچھے لوگوں کا ایک گروہ سامنے آیا۔ اس نے ان لوگوں پر تنقید کی جو یہ حیلہ سازی کرتے تھے ، یہ لوگ انہیں تلقین کرتے تھے ، خدا سے ڈروا اور ایسا نہ کرو ، اور ایک تیسرا گروہ ایسے نیک لوگوں کا بھی سامنے آگیا جو کہتا کہ یہ تنقید کرنے والے لوگ بےفائدہ کام کر رہے ہیں کیونکہ یہ لوگ جس کام میں پڑگئے ہیں ان کے لیے نصیحت و تنقید سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ اللہ نے ان کو سزا دینا اور ہلاک کرنا لکھ دیا ہے۔

الأعراف 7:164

ان لوگوں کے خیال کے مطابق ان حیلہ سازوں کو وعظ و نصیحت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور نہ اس کا فائدہ ہے۔ کیونکہ اللہ نے ان کے لیے ہلاکت و بربادی کا فیصلہ کرلیا ہے اس لیے کہ انہوں نے احکام الٰہی کو مذاق بنایا ہے۔ لیکن منع کرنے والے گروہ نے جواب دیا کہ یہ ان پر ایک فریضہ ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور لوگوں کو انجام بد سے ڈرانا پیغمبروں کا فریضہ ہے اور اگر ہم نہ ادا کریں تو ہم قیامت میں معقول عذر پیش نہ کرسکیں گے۔ ایک تو یہ ہوگا کہ اللہ کے ہاں ہم سرخرو ہوں گے۔ دوسرے یہ امکان بھی ہے کہ شاید یہ لوگ راہ راست پر آجائیں اور ان کے دل میں خدا کا خوف پیدا ہوجائے۔ یو اس ساحلی بستی کے لوگ تین گروہوں میں بٹ گئے یا تین جماعتیں بن گئیں۔ اسلامی تصورات کے مطابق امت " لوگوں کا وہ مجموعہ ہے جو ایک نظریہ رکھتا ہو ، جس کی سوچ ایک جیسی ہو ، جس کی قیادت ایک ہو " امت سے مراد وہ قدیم جاہلی دور کی امت نہیں ہے اور نہ جدید جاہلی تصورات کے مطابق امت ہے ، جاہلی تصورات کے مطابق امت " لوگوں کا وہ مجموعہ ہے ، جو کسی ایک علاقے میں رہتا ہو ، اور اس پر ایک حکومت ہو " یہ مفہوم امت کا اسلامی مفہوم نہیں ہے۔ یہ قدیم یا جدید جاہلیت کی اصطلاح ہے۔ امت کا لفظ عربی لغت میں محض آبادی یا لوگوں کے ایک گروہ کے لیے بھی آتا ہے۔ مثلا (ولما ورد ماء مدین وجد علیہ امۃ من الناس یسقون) جب وہ مدین کے پانی کے پاس آئے تو انہوں نے لوگوں کے ایک گروہ کو پانی پلاتے ہوئے پایا "۔ اور امت بمعنی قیادت اور امامت کے معنی میں بھی مستعمل ہے (ان ابراہیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ایک علیحدہ امت تھے یعنی قائد تھے۔ لیکن یہ لغوی مفہوم اس لفظ کے اصطلاح مفہوم کے متضاد نہیں ہیں " یعنی لوگوں کا وہ مجموعہ جس کا عقیدہ ایک ہو اور تصور ایک ہو " غرض اس گاؤں کے لوگ تین جماعتوں میں بٹ گئے ، ایک جماعت سرکشی اختیار کرنے والی ، دوسری جماعت اس کا راہ روکنے والی جو اصلاح اور نصیحت کا فریضہ انجام دے رہی تھی ، تیسری جماعت غیر جانبدار تھی ، وہ نہ تو سرکشوں کا ساتھ دیتی تھی اور نہ ہی امر بالمعروف کرنے والوں کا ساتھ دیتی تھی۔ خیالات و سرگرمیوں کے ان تین طریقوں کو یہاں تین امتوں سے تعبیر کیا گیا۔ جب نصیحت اور وعظ سے ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا اور گمراہی کی راہ پر چلنے والے چلتے ہی رہے تو ان پر اللہ کا عذاب آنا ہی ٹھہرا۔ اور اللہ نے جو ڈراوا ان تک پہنچایا تھا اس کا وقت آپہنچا۔ صرف وہ لوگ نجات پانے والوں میں شامل رہے جو ینھون عن السوء برائیوں سے روکنے والے تھے اور جو سرکش تھے ان کو عذاب نے آ لیا۔ تفصیلات آگے آرہی ہیں۔ رہی وہ تیسری جماعت جو غیر جانبدار تھی اس کے بارے میں قرآن نے کچھ نہیں کہا۔ شاید ان غیر جانبداروں کو اس لیے یہاں نسیاً منسیا کردیا کہ ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے اور یہ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ان کا یہاں ذکر کیا جائے۔ اس لیے کہ انہوں نے مثبت رویہ اختیار نہ کیا۔ محض منفی انکار کا کمزور موقف اختیار کیا۔ لہذا اللہ نے بھی ان کا تذکرہ نہ کیا۔ اگرچہ وہ سزا سے بچ گئے ہوں۔

الأعراف 7:165

ان لوگوں کو یہ سخت سزا اس لیے دی گئی تھیں کہ یہ لوگ معصیت اور نافرمانی میں ڈوب گئے تھے اور قرآن نے اسے کفر سے تعیر کیا ہے۔ کبھی اسے ظلم کہا گیا ، کبھی فسق کہا گیا اور قرآن کریم میں بارہا یہ انداز اختیار کیا جاتا ہے کہ کفر اور شرک کو ظلم اور فسق سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ انداز تعبیر اس فقہی اور قانونی انداز تعبیر سے مختلف ہے جو ازمنہ مابعد میں اختیار کیا گیا۔ لہذا قرآنی انداز تعبیر اس فقہی اصطلاح کا پابند نہیں ہے کیونکہ اصطلاحات کا تعین بعد میں ہوا اور یہ شدید عذاب کیا تھا ؟ یہ کہ آدمیون کی شکل کو بندروں کی شکل میں بدل دیا گیا ، کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو مرتبہ انسانیت سے گرا دیا تھا ، اس لیے کہ انسانیت کی مخصوص ترین خصوصیت یعنی قوت ارادی کا انسانی خواہشات پر غالب رہنا انہوں نے ترک کردیا تھا اور وہ حیوانات کی طرح خواہشات کے پابند ہوگئے تھے ، لہذا ان سے کہا گیا کہ اچھا تو پھر حیوان ہی بن جاؤ، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جو تم نے اپنے لیے پسند کیا ہے۔ یہ کہ وہ کس طرح بندر بن گئے ، ان کی شکل کس طرح بدل گئی۔ کیا وہ بذات خود بدل کر بندر بن گئے یا ان سے بندر پیدا ہونا شروع ہوگئے۔ اس سلسلے میں تفاسیر میں متعدد روایات ہیں اور اس نکتے کے بارے میں قرآن خاموش ہے ، اور اس سلسلے میں حضور اکرم ﷺ سے بھی کوئی روایت منقول نہیں ہے۔ لہذا ہم اس معاملے میں زیادہ گہرائی میں نہیں جاتے۔

الأعراف 7:166

انسان کی تخلیق بھی لفظ (کن) سے ہوئی تھی اور اس کی خلق میں تبدیلی بھی لفظ کو نو قردۃ خاسئین سے ہوئی یعنی " ذلیل و خوار بندر بن جاؤ " چناچہ وہ ذلیل و خوار بندر بن گئے کیونکہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں کوئی حکم نہیں۔ اور نہ اسے کوئی رد کرسکتا ہے۔ اس سزا کے بعد ، سب پر اللہ تعالیٰ نے ابدی لعنت کا حکم فرمایا اور صرف ان لوگوں کو مستثنی کیا جو نبی آخر الزمان پر ایمان لائیں گے ، اس لیے کہ وہ ایک عرصے تک یہی نافرمانیاں کرتے رہے اور اب ان کا زمانہ معصیت ختم ہوگیا اور مشیت الہیہ نے ان کے حق میں یہ دائمی حکم صادر کردیا جو اٹل ہے۔

الأعراف 7:167

یہ ایک دائمی اعلان (Standing Order) ہے اور جب سے یہ صادر ہوا ہے۔ یہ حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ وقفے وقفے سے یہودیوں کی سرکوبی کے لیے کسی نہ کسی طاقت کو بھیجتا رہا ہے۔ اور عمومی اعتبار سے یہ حکم آئندہ بھی رد بعمل ہوتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ان پر ایسی قوتوں کو مسلط کرتے رہیں گے۔ اور یہ قوتیں ان کو ایسا ہی عذاب دیتی رہیں گی جب بھی وہ پھلیں پھولیں گے اور سرکشی کا رویہ اختیار کریں گے۔ اللہ ان پر ایسی ہی قوتوں کو بھیجتے رہیں گے۔ اور وہ ان پر اچھی ضرب لگاتے رہیں گے کیونکہ یہ ایک ایسا باغی اور سرکش گروہ ہے کہ جب یہ ایک نافرمانی سے نکلتا ہے تو دوسری میں داخل ہوجاتا ہے ، ان کی ایک ٹیڑھ کو اگر درست کردیا جائے تو ان کے اندر دوسری ٹیڑھ پیدا ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات اس طرح نظر آتا ہے کہ ان پر یہ مسلسل لعنت شاید ختم ہوگئی ہے اور شاید یہودی اب باعزت اور صاحب قوت ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ تاریخ کے وقفوں میں سے بعض وقفے ہیں۔ اب معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر کس کو مسلط کرتا ہے اور سابقہ ادوار ذلت کے بعد ان پر کون سی قوم مسلط ہوتی ہے۔ اللہ نے تو ان کے لیے یہ آرڈر قیامت تک کے لیے نافذ کردیا ہے اور قرآن میں اپنے نبی کو اور اس کی امت کو اس کی اطلاع بھی کردی ہے لیکن اس دائمی فیصلے کے باوجود اللہ کی صفت رحمت ور عفو و درگذر اپنی جگہ قائم ہے۔ ان ربک لسریع العقاب وانہ لغفور رحیم اپنی صفت سرعت عذاب کی وجہ سے وہ ان لوگوں کو پکڑ لیتا ہے جن پر نزول عذاب برحق ہوچکا ہے۔ جیسا کہ ساحلی بستی والوں کو اس نے پکڑا۔ اور اپنی صفت رحمت و مغفرت کی وجہ سے وہ ہر اس شخص کو معاف کرتا ہے جو تائب ہوگیا مثلاً بنی سرائیل میں سے وہ لوگ جو نبی آخر الزمان کو تسلیم کرتے ہوئے ایمان لائے کیونکہ ان کے ہاں تورات میں نبی آخر الزمان کے بارے میں لکھا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی سے انتقام نہیں لیا جاتا اور نہ اس دربار میں کسی کے ساتھ ظلم ہوتا ہے۔ وہاں تو سب کے ساتھ انصاف ہوتا ہے ، بلکہ وہاں تو معافی اور رحمت کے لیے بہانہ درکار ہے۔

الأعراف 7:168

اس کے بعد یہ قصہ تاریخی خطوط پر آگے بڑھتا ہے۔ حضرت موسیٰ آپ کے خلفاء انبیاء اور آپ کے بعد نسلاً بعد نسل آنے والے لوگوں سے آگے بڑھ کر اب اس نسل سے بات ہو رہی ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں موجود ہے اور جماعت مسلمہ اور اس کے درمیان مقابلہ ہے یہ آیات بھی مدنی ہے اور ان کو یہاں اس لیے رکھا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بنی اسرائیل کے قصے کو مکمل کردیا جائے۔ یہ اس وقت کے حالات ہیں جب یہودی اس کرۂ ارض پر دور تک پھیل گئے تھے۔ ان کی مختلف جماعتیں بن گئی تھیں اور انہوں نے مختلف مذاہب اور عقائد اپنا لیے تھے۔ ان کے مسلک اور مشرب مختلف ہوگے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ نیک تھے اور کچھ عام لوگ تھے ، کہیں ان کی آزمائشیں ہوتی رہیں ، کبھی خوشحال بن کر انہیں آزمایا جاتا اور کبھی بد حال بنا کر ، تاکہ وہ راہ راست کی طرف لوٹ آئیں اور راہ ہدایت پا لیں اور سیدھے راستے پر چلیں۔ وَقَطَّعْنٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اُمَمًا ۚمِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ ۡ وَبَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَالسَّيِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ۔ ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے بہت سی قوموں میں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم ان کو اچھے اور برے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں اللہ کی طرف سے آزمائش بھی ایک قسم کی رحمت ہوتی ہے اور ان آزمائشوں کی وجہ سے انسان مسلسل اللہ کو یاد کرتا رہتا ہے اور انسان غافل نہیں رہتا ، کیونکہ غافل لوگ ہلاکت میں جا پڑتے ہیں

الأعراف 7:169

بعد میں آنے والوں کی صفات یہاں یہ دی گئی ہیں کہ یہ لوگ کتاب کے وارث تھے ، اسے پڑھتے تھے ، لیکن وہ اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق نہ ڈھالتے تھے ، اور ان کے دل اور ان کا طرز عمل اس کتاب سے متاثر نہ ہوتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کی حالت یہ ہوگئی تھی کہ ان کا ایمان ان کی ثقافت بن گیا تھا۔ ایک علم تھا جسے وہ پڑھتے تھے لیکن جب وہ مقاصد دنیاوی میں سے کوئی بھی مقصد دیکھتے تو اس کی طرف لپکتے چاہے جائز ہوتا یا ناجائز اور خوش فہمی یہ رکھتے تھے کہ امید ہے کہ اللہ ہمیں معاف کردے گا۔ لیکن عفو کی امیدواری کے بعد پھر اگر کوئی دنیاوی اغراض ان کے سامنے آتیں تو پھر ان کی طرف لپکتے۔ اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا يَقُوْلُوْا عَلَي اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوْا مَا فِيْهِ ۔ کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو ؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔ کیا کتاب میں ان سے وعدہ نہ لیا گیا تھا کہ وہ کتاب اللہ میں بےجا دلیل اور حجت نہ کریں گے اور نصوص کے تقاضوں سے بچنے کے لیے حیلہ سازی نہ کریں گے اور اللہ کی جانب سے سوائے سچائی کے اور کوئی بات نہ کریں گے۔ اس کے برعکس ان کا طرز عمل تو یہ ہے کہ دنیاوی مفادات دیکھتے ہی ان کی طرف لپکتے ہیں اور امیدیں یہ لگائے بیٹھے ہیں کہ شاید اللہ ہمیں بخش دے۔ اور وہ جو اللہ کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں اس میں اپنے آپ کو حق بجانب اس لیے قرار دیتے ہیں کہ وہ مغفرت کے بےجا امیدوار ہیں حالانکہ ان کو اس بات کا علم ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بیشک معاف فرماتا ہے لیکن صرف ان لوگوں کو جو فی الحقیقت تائب ہوگئے ہوں اور انہوں نے عملاً معصیت کو چھوڑ دیا ہو جبکہ ان کا طرز عمل ایسا نہیں ہے۔ ان کا حال تو یہ ہے کہ کوئی ناجائز مفاد سامنے آتے ہی یہ لوگ بےچین ہوجاتے ہیں اور اس کی طرف لپکتے ہیں حالانکہ انہیں کتاب اللہ کے احکام اور تقاضوں کا اچھی طرح علم ہوتا ہے۔ ہاں ! وہ پڑھتے ہیں لیکن پڑھنا صرف اس شخص کے لیے مفید ہوتا جس کے دل میں تعلیم اتر جائے ، کئی ایسے پڑھنے والے ہیں جن کے دلوں سے قرآن بہت دور ہے۔ یہ لوگ کتاب اللہ کی تدریس اس لیے کرتے ہیں کہ اس کی تاویل بھی کریں۔ اور اس کے مفہومات کو بدل دیں اور اپنے مطلب کے فتویٰ کے ذریعے دنیاوی مفادات حاصل کرتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ دین کو محض پڑھنے کی خاطر پڑھیں ، اسے اپنا نظریہ اور عقیدہ نہ بنائیں نہ وہ اللہ سے ڈریں اور اس کی سزا سے خائف ہوں۔ وَالدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔ آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے ، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے ؟ ہاں یہ اصل بات دار آخرت کی ہے ، جو اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔ صرف ان کی روش میں آخرت کی بات ہوتی ہے اور یہی لوگ دنیاوی مفادات کی کشش کے دائرے سے باہر نکل سکتے ہیں۔ کوئی دل اور کوئی نظام زندگی اس کے سوا درست نہیں ہوسکتا۔ انسان کے نفس اور اس کی نفسیات اور اس کی عملی زندگی کی اصلاح بھی صرف فکر آخرت سے ہوسکتی ہے۔ ورنہ بتایا جائے کہ وہ کون سا جذبہ ہوسکتا ہے جو انسان کو وہ تمام اغراض گھیر لینے سے روک سکتا ہے۔ وہ کیا چیز ہوسکتی ہے جو انسان کو طمع اور لالچ سے روک دے اور دوسروں کے حقوق پر دست درازی سے روک دے۔ اور وہ کیا چیز ہے جو دل کو مرغوبات روکے اور نفس انسانی شہوتوں پر کنٹرول کرے۔ زندگی کی اس ہیجان خیز کشمکش میں انسان کو ایک اطمینان بخش سکے۔ صرف اجر اخروی کی امید ہے جس کی وجہ سے انسان اخروی مفاد کی خاطر دنیا کی محرومیاں برداشت کرسکتا ہے مزید یہ کہ حق و باطل کے معرکے میں ، خیر و شر کی جنگ میں ، دنیوی اغراض اور اخروی مفادات کے درمیان فیصلے میں انسان ثابت قدم رہ سکتا ہے۔ جبکہ شر سرکشی میں مبتلا ہو اور باطل حد سے آگے بڑھ رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی اس ہیجان خیز کشمکش میں صرف فکر آخرت اور عقیدہ آخرت انسان کے لیے یقین اور سکون کا سبب بن سکتا ہے۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کے لیے یہ نہایت ہی مفید ہے۔ ایسے لوگ عفو و درگزر سے کام لیتے ہیں ، آلودگیوں سے بالا رہتے ہیں اور جادہ حق پر ثابت قدم رہتے ہیں ، قدم پھسلا دینے والے اور جھنجھوڑنے والے فتنے صرف اس شخص پر اثر انداز نہیں ہوتے جو متقی اور آخرت پر ایمان لانے والا ہو۔ ایسے لوگوں کے دل مطمئن اور ثابت قدم ہوتے ہیں اور یہ لوگ کامیابی کا پوری طرح یقین رکھتے ہیں۔ آج کے دور میں اشتراکیت کے داعی اس غائبانہ حقیقت کو ہمارے دلوں کے پردے سے محو کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے عقائد و نظریات سے آخرت کے تصور کو مٹانا چاہتے ہیں اور یہ ہمارے دلوں میں جنون کی وہ آگ کا روشن کرنا چاہتے ہیں جو صرف یقین آخرت سے بجھ سکتی ہے۔ کفر آخرت کے سوا رشوت ، فساد ، لالچ ، ظلم اور لاپرواہی کی بیماریاں زیادہ ہی ہوتی ہیں اور ایسے لوگ جہاں بھی ہوں خائن اور چور ہوتے ہیں۔ یہ بات کہ عالم غیب اور الم مشاہدہ ، یعنی سائنس اور عالم غیب کے درمیان مکمل تضاد ہے۔ یہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی جہالت کی وبا ہے جہاں تک حقیقی سائنس دانوں اور اہل علم کا تعلق ہے انہوں نے تو اس نظریے کو ایک عرصے سے رد کردیا ہے۔ صرف بیسویں صدی کے جاہل کبھی کبھار اس کا ورد کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسی جہالت ہے جو انسانی فطرت سے موڑ نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس جہالت کے شکار لوگوں کی زندگی میں بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ اور یہ اب ہمہ گیر بگار ہے۔ جس کے نتیجے میں پوری انسانیت کی تباہی کا خطرہ ہے۔ لیکن افسوس ہے کہ یہ نہایت ہی عیارانہ صیہونی منصوبہ ہے۔ صیہونی کے اس منصوبے کی پشت پر یہ عرض کار فرما ہے کہ تمام دنیا کے انسانوں سے وہ اصلی قوت سلب کرلی جائے جو انسانوں کی زندگی کی ریڑھ کی ہڈی ہے تاکہ یہ صیہونی پوری دنیا کو اپنے مقاصد کے مطیع بنا سکیں اور صیہونی منصوبہ سازوں کے اس منصوبے کو یہ لوگ جگہ جگہ اپنے ڈھنڈورچیوں کے ذریعے پھیلاتے ہیں۔ پوری دنیا میں صیہونیوں نے جو صورت حال پیدا کردی ہے اس میں تمام لوگ خود بخود اس منصوبے کو عملاً چلا رہے ہیں۔ فکر آخرت اور خدا خوفی ، انسانی زندگی کے دو نہایت ہی اہم مسئلے ہیں ، جو لوگ دنیاوی مفادات کے پیچھے سرپٹ بھاگ رہے ہیں قرآن کریم ان کو یہ تصور دیتا ہے کہ وہ عقل کے ناخن لیں " آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے " اگر فیصلہ کرنے کا موقعہ عقل کو دیا جائے اور خواہشات نفسانیہ کا اس میں دخل نہ ہو۔ اگر علم اور سائنس کو حققی معنوں میں لیا جائے اور جہالت کا نام علم نہ رکھا جائے تو آخری فیصلہ حتماً یہی ہو کہ اس دنیائے دنی کے مقابلے میں آخرت ہی بہتر ہے۔ تقویٰ اور خدا خوفی مومنین کے لیے دنیا و آخرت کا توشہ بن جائے۔

الأعراف 7:170

وَالَّذِيْنَ يُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ ۭاِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِيْنَ ۔ جو لوگ کتاب کی پابندی کرتے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم کر رکھی ہے ، یقیناً ایسے نیک لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے " یہ ان لوگوں پر ایک طنز ہے جن سے یہ عہد لیا گیا تھا کہ وہ کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں اور اسے پڑھیں اور انہوں نے عہد کے باوجود کتاب کو مضبوطی سے نہ پکڑا حالانکہ وہ اسے پکڑ تو لیتے ہیں لیکن عمل نہیں کر تھے اور اپنے نظریہ و عمل میں اسے نافذ نہیں کرتے ، نہ اپنے نظام زندگی میں اسے جاری کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک تعریض ہے لیکن آنے والی تمام نسلوں کے لیے اس میں طے کردہ اصول باقی ہے۔ تمسک کے لفظ سے ایسے مفہوم کا اظہار ہوتا ہے جو ذہن کے سامنے ایک عملی نقشہ اسکرین پیش کردیتا ہے۔ ایک معنوی چیز کو قرآن نے تمسک کے ذریعے حسی بنا دیا ہے۔ معنی یہ ہیں کہ قوت کے ساتھ اس کتاب کو پکڑ لو اور سختی اور سنجیدگی کے ساتھ اس کے اصولوں کو رائج کرو۔ جس طرح اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ اس کی کتاب کو لیا جائے ، بغیر ہٹ دھرمی کے ، بغیر شکن کے اور بغیر گھٹن کے۔ اس لیے سنجیدگی ، قوت اور پختگی اور چیز ہے اور ہٹ دھمری اور گھٹن اور دل گرفتگی اور چیز ہے۔ سنجیدگی ، قوت اور پختگی یسر کے متضاد نہیں ہے البتہ سہل انگاری اور کردار کے بودے پن سے متضاد ہے۔ یہ صورت حال وسعت قلبی کے متضاد نہیں ہے۔ البتہ بےدینی کے متضاد ہے ، حالات کی رعایت اور حکمت کے متضاد نہیں البتہ وہ حالات اور واقعات کی رو میں نہیں بہتی۔ واقعات کو شریعت کے مطابق ہونا تو پالیسی ہے۔ یہ پالیسی نہیں ہے کہ ہم شریعت کو واقعی صورت حالات کے مطابق بناتے چلے جائیں۔ کتاب اللہ کو پختگی سے پکڑ لینا ، نماز اور دوسرے مراسم عبودیت کی پابندی کرنا یہ اسلامی نظام حیات کے دو اہم پہلو ہیں۔ یہاں تمسک بالکتاب کو ایک خاص رنگ یعنی مراسم عبودیت کے ساتھ معتین کیا گیا یعنی پورے اسلامی نظام حیات کے ساتھ ساتھ مراسم عبودیت کو لوگوں کی اصلاح کے لیے لازم کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام معاشرے کی اصلاح اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس میں تمسک بالکتاب ہو اور اس میں عبادات کی پابندی ہو ، اس کی طرف اشارہ ان الفاظ میں ہے۔ لا نضیع اجر المصلحین۔ ہم نیک اور مصلحین کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ یعنی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنا پوری کتاب کو اور عبادات پر عمل پیرا ہونا ہی اصلاح معاشرہ کا ذریعہ ہے۔ کسی معاشرے میں ان دو باتوں میں سے کوئی ایک مفقود ہوجائے تو وہ بگاڑ کا شکار ہوجات ہے۔ یعنی اس میں کتاب اللہ کو مضبوطی سے نہ پکڑا جائے اور لوگ اپنے فیصلے کتاب اللہ کے مطابق نہ کریں۔ دوسرے یہ کہ اس سے عبادت الٰہی مفقود ہوجائے جو دلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے کہ اگر دل صاف نہ ہوں تو لوگ اللہ کے احکام کے ساتھ یہودیوں جیسی حیلہ سازی کریں گے۔ اس لیے کہ ان کے دلوں میں تقویٰ اور خدا خوفی نہ ہوگی۔ اسلامی نظام ایک مکمل نظام ہے ، وہ باہم مربوط ہے۔ عبادات کے ذریعے دلوں کا زنگ صاف ہوتا ہے اور پھر انسانی جسم احکام کتاب کو درستگی سے مانتے ہیں یوں عملی اور روحانی اصلاحی مکمل ہوتی ہے۔ یہ اللہ کا طریقہ اصلاح ہے اور اس کے سوا ہم اصلاح کا کوئی اور طریقہ اختیار نہیں کرسکتے۔ اگر کوئی ایسا کرے گا تو بدبختی اور عذاب اس کی قسمت میں ہوگا۔

الأعراف 7:171

اس قصے کے آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ نے بنی اسرائیل کو کس طرح پکڑا۔ ۔۔۔ وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ ۔ یہ ناقابل فراموش عہد تھا ، کیونکہ یہ ایسے ظروف و احوال میں لیا گیا تھا جسے بھلا نہیں جاسکتا۔ یہ عہد اس وقت لیا گیا کہ جب پہاڑ ان پر اس طرح چھا گیا کہ گویا چھتری ہے۔ وہ یہی گمان کر رہے تھے کہ ابھی گرا۔ اس لیے کہ عہد لیتے ہی وہ سرکشی کرنے لگے تھے۔ اس لیے ان سے ایسی صورت میں عہد لیا گیا تھا کہ اس کے بعد وہ دوبارہ عہد شکنی کے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔ ان غیر معمولی حالات میں ان سے کہا گیا کہ کتاب اللہ کو سنجیدگی سے لو۔ سختی سے اس پر عمل کرو ، اس میثاق کے بعد بد عہدی ، سست روی اور پسپائی اختیار نہ کرو ، کتاب اللہ کی ہدایات کو یاد رکھو۔ ہوسکتا ہے کہ اس طرح تمہارے دل پسیج جائیں اور تمہارا تعلق باللہ قائم رہے۔ لیکن بنی اسرائیل ، بنی اسرائیل ہی رہے۔ ان پر اللہ کی بات سچ ثابت ہوگئی تھی ، اللہ نے انہیں اپنے وقت کی سپر پاور بنا دیا تھا۔ ان پر نعمتوں کی بارش کردی تھی۔ لیکن انہوں نے اللہ کا شکر ادا نہ کیا۔ اللہ کے عہد کا کوئی پاس نہ رکھا۔ ان کو میثاق الٰہی یاد ہی نہ رہا اس لیے وہ اس انجام تک پہنچے ورنہ اللہ تو کسی پر ظلم نہیں کرتا۔

الأعراف 7:172

درس نمبر 81 ایک نظر میں اس سبق کا موضوع عقیدہ توحید اور رد شرک ہے۔ اس پوری سورة میں لائے جانے والے قصوں کا موضوع بھی یہی عقیدہ توحید تھا ، اس پہلو سے کہ تمام رسولوں نے اسی عقیدے کی طرف دعوت دی تھی اور تمام رسولوں نے لوگوں کو شرک کے انجام بد سے ڈاریا تھا۔ لیکن یاد دہانی اور ڈراوے کے بعد وہ حالات پیش آئے جن سے ڈرایا گیا تھا۔ لیکن اس سبق میں توحید کے مسئلے کو ایک نئے زاوئیے سے لیا گیا ہے۔ گہرے رخ سے اس پر بات کی گئی ہے۔ انسانی فطرت کے زاویہ سے جس پر اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ انسان جب عالم ذریت میں تھا تو اللہ تعالیٰ نے تمام کائنات اور بشرتی سے یہ عہد لیا تھا کہ آیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ، اقرار ربوبیت کو فطرت انسانی میں ودیعت کردیا گیا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ بشریت انسانی وجود کی گہرائیوں میں اپنے خالق اور رب کے وجود کا شعور رکھتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے بعد رسول کیوں آئے ہیں تو رسولوں کی آمد محض تذکیر کے لیے ہوتی ہے اور ایک رسول بشیر و نذیر کی حیثیت سے آتا ہے۔ ان لوگوں کی اصلاح کے لیے آتا ہے جو فطرت سے انحراف کرچکے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یاد دہانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ عقیدہ توحید در اصل ایک میثاق ہے جو فطرت انسانی اور خالق فطرت کے درمیان انسان کے ابتدائی دور کے وقت سے طے شدہ ہے۔ لہذا اس عہد کے توڑنے کے لیے انسان کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ اگرچہ تذکیر اور یاد دہانی کے لیے ان کے پاس کوئی رسول نہ آیا ہو ، لیکن یہ اللہ کی خالص رحمت اور احسان ہے کہ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے منحرفین کی اصلاح کے لیے رسولوں کو ارسال کیا اور لوگوں کو محض ان کے عقول پر نہیں چھوڑ دیا گیا کیونکہ عقل غلطی کرسکتی ہے۔ چناچہ اللہ نے رسول بھیجے تاکہ لوگوں کے لیے کوئی حجت ہی نہ رہے کہ فطرت کے تقاضے کے علاوہ اب تو رسول بھی آگئے۔ اس سبق میں مسئلہ توحید کو اس زاویہ سے لیا گیا ہے اور اس زاویہ سے کئی خطوط کھینچے گئے ہیں۔ ایک تاریخی لکیر ہے۔ اس میں ایک شخص کے تاریخی کردار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس کا تعلق بھی تاریخ بنی اسرائیل کے ساتھ ہے۔ لیکن راجح بات یہ ہے کہ اس کا کسی خاص اور متعین واقعہ یا خاص زمان و مکان کے ساتھ تعلق نہیں ہے۔ یہ در اصل ایک نفسیاتی حالت کی تصویر کشی ہے جو بار بار پیش آتی رہتی ہے۔ مثلاً جس شخص کو اللہ نے علم دیا ہے تو اس علم کا تقاضا اور اس سے توقع یہی ہے۔ یہ شخص ہدایت یافتہ ہو اور حق پر قائم ہونے والا ہو۔ لیکن اچانک یہ غیر متوقع صورت حالات سامنے آتی ہے کہ وہ اپنے علم کے تقاضوں سے بھاگ نکلتا ہے۔ وہ اپنے علم سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اور وہ راہ ضلالت پر اس شخص کے دوش بدوش چلتا ہے جو بالکل بےعلم ہے۔ بلکہ یہ عالم شخص اس بےعلم سے بھی زیادہ شر پسند ، گمراہ اور بدبخت ثابت ہوتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے کہ علم کو ایمان کی چاشنی نہ دی گئی ہو۔ کیونکہ ایمان کے رنگ سے ہی یہ علم کا چراغ روشن بن جاتا ہے۔ اور مسافر کے لیے روشنی کا مینار ہوتا ہے۔ ایک دوسرا خط یا دوسری لکیر ملاحظہ ہو۔ اس میں انسانی فطرت کے انحراف کا ایک دوسرا قصہ یا نمونہ بتایا گیا ہے کہ انسان کس ڈھٹائی کے ساتھ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیتا ہے۔ ایک شادی شدہ جوڑا ہے وہ اللہ کے سامنے دست بدعاء ہوتا ہے کہ اگر انہیں ایک صالح بچہ دیا گیا تو وہ صرف اللہ کا شکر ادا کریں گے۔ یہاں تک تو فطرت کے تقاضوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو یہ لوگ بھی خلاف توقع بچے کی پیدائش کے عمل میں دوسروں کو بھی شریک ٹھہراتے ہیں اور ان کی فطرت میں کجی آجاتی ہے۔ ایک تیسری لائن خود انسانی وجود کے اندر پائے جانے والی ادراکی قوتوں کے بارے میں ہے کہ اگر ان قوتوں کو صحیح طرح کام میں نہ لایا جائے تو ایک معقول انسان انسانیت کے مرتبہ اور مقام سے گر کر حیوانی سطح پر اتر آتا ہے اور پھر نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جہنم کا مستحق ہو کر اس کا ایندھن بن جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی حالت یہ ہوتی کہ وہ دل رکھتے ہیں لیکن اس کے اندر جذبہ ادراک نہیں ہوتا۔ وہ آنکھیں رکھتے ہیں لیکن بینائی نہیں ہوتی ، وہ کان رکھتے ہیں لیکن سنتے ہی نہیں ہیں۔ ایسے لوگ ضلالت کے پیچھے اس طرح بھاگتے ہیں کہ نہ واپسی ہوتی ہے اور نہ واپسی کا موقع رہتا ہے۔ ایک اشاراتی لائن ہے ، ہدایت کی جاتی کہ دل و دماغ کو بیدار رکھو اور ہر معاملے میں غور و فکر کرتے رہو ، اس زمین و آسمان کے نظام مملکت کو دیکھو۔ ان میں اللہ تعالیٰ نے کیا کیا پیدا کیا ہے اور پھر ہر چیز کے خاتمے کے لیے ایک وقت مقرر کردیا ہے۔ اس لیے تم رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر توجہ کرو اور غور کرو کہ اس دعوت کے حامل کو مجنون اور گمراہ کہا جاتا ہے۔ ایک لائن میں ان پر سخت تنقید لی گئی ہے اور یہ تنقید ان الہوں کے بارے میں ہے جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں۔ حالانکہ وہ جن کو پکارا جاتا ہے الہیت کی ابتدائی خصوصیات سے بھی عاری ہیں بلکہ ان میں تو زندگی کے معمولی آثار بھی ناپید ہیں۔ یہ سبق اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ آپ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ انہیں اور ان کے خداؤں کو چیلنج دیں کہ وہ کچھ تو پکاریں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ ان سے مکمل بائیکاٹ کا اعلان فرما دیں اور ان کے معبودوں اور عبادت سے علیحدہ ہوجائیں اور اس مولیٰ کے ہاں پناہ لیں جس کے سوا کوئی مولی نہیں۔ الذی نزل الکتب وھو یتولی الصالحین۔ میرا ناصر وہ ہے جس نے کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس سے پہلے سبق کے آخر میں بنی اسرائیل کے اور پہاڑ کو چھتری کرکے ان سے عہد لیا گیا تھا ، اور اس سبق کا آغاز انسانیت کے ساتھ میثاق اکبر کے ذکر سے کیا گیا جو فطرت انسانی کے ساتھ طے پایا تھا۔ یہ عہد بھی ایسے منظر کی شکل میں ہے کہ اپنی خوبصورتی اور جلالت کے اعتبار سے اس منظر سے کہیں زیادہ بلند ہے۔ ۔۔۔۔ درس نمبر 81 ۔ تشریح آیات 172 تا 198 ۔ ۔۔۔ وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰي ڔ شَهِدْنَا ڔ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ ۔ اور اے نبی لوگو کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ " انہوں نے کہا " ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ " ہم تو اس بات سے بیخبر تھے " یہ ایک حیران کن کائناتی منظر ہے۔ ہم تک تمام زبانوں کے اندر جو تصورات منتقل ہوئے ہیں اس تصور کی کوئی مثال کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ جب انسانی تصورات اور قوائے مدرکہ اس تصور کا صحیح طرح احاطہ کرلیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ عجیب تصور ہے۔ انسانی خلیے تمام کائنات سے اخذ کرلیے گئے ہیں۔ اور ان سے اس طرح بات ہو رہی جس طرح ایک مکمل انسان سے بات ہوتی ہے اور وہ بھی ایک عقلمند انسان کی طرح بات کرتے ہیں ، کیونکہ ان میں بات کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے۔ یہ خلیے اعتراف کرتے ہیں اور شہادت توحید دیتے ہیں اور اس عظیم میثاق پر دستخط کرتے ہیں اور ہیں وہ انسانوں کے صلب میں۔ جب انسان اس خوبصورت ، حیران کن اور منفرد منظر کو دیکھتا ہے تو وہ اپنی شخصیت کی گہرائیوں سے متاثر ہوتا ہے۔ وہ باریک خلیوں کے اندر انسانی نسل کے ذرات کو دیکھ رہا ہے جو فضا میں تیر رہے ہیں۔ ہر ذرہ اس وقت زندہ ہے اور ہر ایک میں مکمل استعداد موجود ہے ، ہر ذرے کے اندر مکمل انسانی صفات موجود ہیں صرف وہ نشوونما کی اجازت کا منتظر ہے۔ اس کائنات کی نامعلوم وسعتوں سے وہ ظہور اور شہادت کا منتظر ہے۔ یہ ذری موجودات اس میثاق کو قبول کرتی ہے۔ اگرچہ ہماری نظروں میں آنے والے عالم معلوم ہیں یہ موجود ذرہ ابھی تک منصہ شہود پر نہیں آیا۔ قرآن کریم نے اس خوبصورت ، حیران کن اور منفرد منظر کو اس عظیم حقیقت کے ذہن نشین کرانے کے لیے پیش کیا جو اس کائنات کی حقیقت میں نہایت ہی گہرائی پر موجود اور مستحکم ہے۔ یہ منظر قرآن کریم نے آج سے 1400 سو سال قبل پیش کیا۔ اس وقت انسانوں کو اس کائنات کی تخلیق کے بارے میں کچھ زیادہ سائنسی معلومات نہ تھیں۔ اس موضوع پر انسانی معلومات چند اوہام پر مشتمل تھیں۔ انسانی مزاج اور تخلیق انسانیت کے بارے میں زمانہ مابعد میں انسان نے کچھ حقائق دریافت کیے۔ چناچہ ان سائنسی انکشافات نے کہ جین کے اندر وہ تمام خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو کسی انسان میں بعد کے ادوار میں نمودار ہوتی ہیں اور ان میں ایک مکمل فرد کی خصوصیات بھی موجود ہوتی ہیں جو بعد میں فرد کی صورت میں سامنے آتا ہے حالانکہ یہ خلیے کی شکل میں ہوتا ہے۔ ان خلیوں میں تین ہزار ملین انسانوں کا ریکارڈ محفوظ ہوتا ہے جس میں ان کی تمام خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔ ان خلیوں کا حجم ایک مکعب سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں ہوتا یعنی سوئی کے ناکے کے برابر اور یہ وہ معلومات ہیں کہ اگر اس وقت لوگوں کو یہ بتائی جائیں تو لوگ کہتے کہ یہ شخص مجنوں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے سچ کہا سنریہم ایاتنا فی الافاق و فی انفسہم حتی یتبین لہم انہ الحق۔ ہم عنقریب ان کو آفاق میں اور خود ان کے نفسوں میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے یہاں تک کہ ان پر یہ بات ظاہر ہوجائے گی کہ یہ حق ہے۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے۔ " حضور نے فرمایا تمہارے رب نے آدم کی پشت کو چھوا ، اس سے وہ تمام جرثومے برآمد ہوئے جنہیں اللہ تعالیٰ قیامت تک پیدا کرنے والا تھا ، اب اللہ نے ان سے پختہ وعدہ لیا اور انہیں خود ان کے خلاف گواہ ٹھہرایا اور سوال کیا ، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ تو ان سب نے جواب دیا ہاں ! یہ روایت حضرت ابن عباس سے مرفوعاً اور موقوفاً دونوں طرح سے مروی ہے۔ لیکن حضرت ابن عباس کی موقوف روایت زیادہ قوی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ منظر کیسے تھا ، اور اللہ نے کس طرح تمام پیدا ہونے والی مخلوقات کو نکال لیا اور ان کی گواہی خود ان کے خلاف ثبت کرلی۔ اور ان کو مخاطب کرنے کا انداز اور سوال و جواب کس طرح تھا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ افعال الہی کی کیفیت بھی غیوب میں سے ایک غیب ہے ، جب تک انسان کے اندر ذات باری کے ادراک ذہنی کی قوت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک انسان کے لیے افعال الہیہ کی کفیت کا ادراک بھی ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ جب کسی ماہیت کا ادراک نہیں ہوسکتا تو اس کے فروعات یعنی کیفیات کا ادراک کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔ اور وہ تمام افعال جن کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے مثلا ثم استوی الی السماء وھی دخان۔ " پھر اللہ آسمانوں پر متمکن ہوا اور یہ ایک دھواں تھا "۔ ثم استوی علی العرش " پھر عرش پر متمکن ہوا "۔ یمحوا اللہ ما یشاء و یثبت " اللہ جسے چاہتا ہے ، مٹاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ٹھہراتا ہے "۔ والسموات مطویات بیمینہ " اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے "۔ وجاء ربک والملک صفا صفا " تمہارا رب آئے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے "۔ وما یکون من نجوی ثلاثۃ الا ھو رابعہم " جو تین آدمیوں کا مشور ہو ، ان کا چوتھا اللہ ہوتا ہے "۔ وغیرہ ، یہ سب آیات جو افعال الہیہ کے بارے میں وارد ہیں ، یہ افعال تو لازماً صادر ہوئے اور ہوں گے لیکن ان کی کیفیت کا ادراک مشکل ہے۔ اس لیے کہ کیفیت کا تصور بھی ماہیت کے تصور کا فرع ہوتا ہے۔ اور اللہ کی ذات ایسی ہے کہ اس جیسی کوئی ذات نہیں ہے۔ لہذا اللہ کی ماہیت اور اس کے افعال کی کیفیت کا ادراک ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ اس صورت میں تشبیہ لازم آتی ہے اور اس کے مشابہ کوئی نہیں ہے۔ اللہ کے افعال کو انسانی افعال کے ذریعے سمجھنے کی جو کوشش بھی کی گئی وہ گمراہی پر منتج ہوئی ہے۔ کیونکہ اللہ اور مخلوق اللہ کی ماہیت میں فرق ہے۔ فلاسفہ اور سائنس دانوں نے انسانی افعال کے رنگ میں اللہ کے افعال کی کیفیات کو سمجھنے کی جو کوششیں کی ہیں وہ نامراد ثابت ہوئی ہیں۔ نیز اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اس سے مراد فطرت انسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فطرت انسانی کے اندر اعتراف ربوبیت الٰہی ودیعت کردیا ہے اور فطرتاً ایک شخص اعتراف رب کرتا ہے ، البتہ بعض خارجی عوامل اسے فطرت کی راہ مستقیم سے بد راہ کرتے ہیں۔ ابن کثیر فرماتے ہیں " سلف اور خلف کے مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے لوگوں کو توحید کی فطرت پر پیدا کیا ہے جیسا کہ اس سے قبل حضرت ابوہریرہ اور عیاض ابن حمار المجاشعی کی حدیث میں منقول ہے۔ ان سے حسن بصری نے روایت کی ہے۔ جس نے اس آیت کی تفسیر اس کے مطابق کی ہے۔ ان لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ نے آدم کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ بنی آدم کا لفظ استعمال کیا ہے اور من ظھرہ نہیں کیا بلکہ من ظہورہم " ان کی پشتوں سے " کیا ہے۔ (ذریاتہم) کے لفظ سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد لوگ ہیں جو نسلاً بعد نسل اس دنیا میں مختلف زمانوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا وھو الذی جعلکم خلفاء الارض " اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہیں زمین کا خلیفہ بنایا۔ جعلکم خلفاء الارض " وہ تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے " اور دوسری آیت میں ہے کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین " جیسا کہ تمہیں دوسری قوم کی پشت سے پیدا کیا "۔ پھر اللہ نے فرمایا واشھدہم علی انفسہم " انہیں اپنے اوپر گواہ بنا کر پوچھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو انہوں نے کہا ہاں ! یعنی ان کو جود میں لا کر ان سے پوچھا اور انہوں نے اسے تسلیم کیا یعنی پیدائش کے وقت۔ علماء کہتے ہیں کہ شہادت کبھی تو قولی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ہے قالوا شہدنا علی انفسنا و غرتہم الخیاۃ الدنیا وشہدوا علی انفسہم انہم کانوا کافرین " انہوں نے کہا ہمہ اپنے اوپر شہادت دیتے ہیں اور ان وک دنیا کی زندگی نے غرے میں ڈال دیا ہے اور انہوں نے اپنے اوپر شہادت دی کہ وہ کافر تھے " اور کبھی حالاتی شہادت ہوتی ہے مثلاً قالوا شھدنا علی انفسنا و غرتہم الحیاۃ الدنیا و شھدوا علی انفسہم انہم کانوا کافرین " مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مساجد کو تعمیر کریں۔ در آں حالیکہ وہ اپنے کفر کی شہادت دے رہے ہیں " یعنی ان حالات میں کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔ اگرچہ وہ زبان سے اپنے آپ کو کافر نہیں کہتے۔ و انہ علی ذلک لشہید " اور وہ اس پر گواہ ہے " اسی طرح سوال بھی کبھی تو قولی ہوتا ہے اور کبھی حالاتی ہوتا ہے۔ واتاکم من کل ما سالتموہ " اور تمہیں وہ سب کچھ دیا جس کا تم نے سوال کیا " مفسرین کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو عملاً اٹھا کر ان سے اقرار لیا گیا تھا اور یہ اقرار ان کے خلاف بائنڈنگ تھا تو پھر چاہئے کہ لوگوں کو وہ یاد بھی ہوتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ کی جانب سے اس واقعہ کی اطلاع ہی کافی ہے تو جواب یہ ہے کہ مشرکین تو اس حدیث کے ساتھ حضور اکرم کے تمام اخبار کو جھٹلاتے ہیں اور یہ ان کے خلاف حجت کے طور پر پیش کیا گیا۔ لہذا معلوم ہوا کہ اس سے مراد وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو پیدا کیا گیا ہے کہ وہ توحید کا اقرار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد تمام انسانوں کو کہا ان تقولوا یہ نہ ہو کہ تم کہو۔ یعنی قیامت کے دن تم یہ کہہ سکو کہ ہم تو اس سے غافل تھے۔ یا یہ نہ کہو انما اشرک اباؤنا " در اصل ہمارے آباء مشرک تھے " بعض احادیث میں بھی اس فطرت کی طرف اشارہ موجود ہے۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا " ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے " (بعض روایات میں ہے کہ ملت پر پیدا ہوتا ہے " بعد میں اس کے باپ اسے یہودی بنا دیتے ہیں یا عیسائی یا مجوسی جیسا کہ تمام جانوروں کے بچے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں۔ کیا اس میں کوئی کان کٹا ہوتا ہے ؟ صحیحین میں عیاض ابن حمار کی روایت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے بندوں کو سیدھا پیدا کیا ، اس کے بعد شیاطین آئے اور انہوں نے بندوں کو ان کو دین سے پھیر دیا اور ان پر وہ باتیں حرام کردیں جو حلال تھیں۔ ابن جریر نے اسود ابن سریع کی حدیث نقل کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے حضور اکرم کے ساتھ چار غزوات میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں نے جنگ کے بعد بچوں کو بھی قتل کیا۔ یہ بات رسول اللہ تک پہنچی اور یہ ان پر بہت ہی گراں گزری۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کیا حال ان لوگوں کا ، جو بچوں کو قتل کرتے ہیں۔ اس پر ایک شخص نے کہا کہ حضور کیا یہ لوگ مشرکین کے بچے نہیں ہیں۔ اس پر حضور نے فرمایا کہ تم میں سے بہتر سے بہتر لوگ بھی تو مشرکین کے بچے ہیں ، جو بچہ بھی پیدا ہوتا ہے وہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے اور وہ اس فطرت پر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ باتیں کرنے لگتا ہے۔ اس کے بعد والدین اسے یہودی بناتے ہیں یا نصرانی۔ حسن نے کہا " اللہ تعالیٰ کے فرمان کا یہی مطلب ہے واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورہم ذریتہم " جب اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا " الی الی آخرہ۔ جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس آیت کو اپنے حقیقی معنوں میں بھی مستبعد نہیں سمجھتا ، کیونکہ جس طرح اللہ نے فرمایا ہے اسی طرح اس کا وقوع ممکن ہے " اور لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور انہیں خود ان پر گواہ بنایا تھا " اور کوئی بات بھی اس میں خلاف عقل نہیں ہے لیکن اوپر جن مفسرین نے اسے حالات فطرت کے معنوں میں لیا ہے وہ تفسیر بھی مستبعد نہیں ہے۔ ابن کثیر ، حسن بصری وغیرہ نے اسے اختیار کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ بہرحال یہ بات پیش نظر رہے کہ انسانی فطرت نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا ہے کہ وہ اللہ کو وحدہ لا شریک ٹھہرائے گی۔ حقیقت توحید انسانی فطرت میں ودیعت ہے۔ ہر بچہ جب زندگی پاتا ہے تو یہ عہد اس کی فطرت کے ساتھ آتا ہے وہ اس وقت تک اس فطرت پر قائم رہتا ہے جب تک کوئی خارجی عامل اسے اس فطرت سے پھیر نہیں دیتا۔ اور یہ خارجی عوامل انسان کی فطری استعداد کو استعمال کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے جس طرح فطرت میں توحید و ودیعت کی ہے اسی طرح فطرت کو یہ صلاحیت بھی دی ہے کہ وہ ہدایت قبول کرے یا ضلالت۔ اور جن حالات میں بچہ پیدا ہوتا ہے وہ حالات اور ظروف احوال اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حقیقت توحید صرف فطرت انسانی کے اندر ہی ودیعت نہیں کی گئی بلکہ نظریہ توحید اس پوری کائنات کے اندر بھی رکھا ہوا ہے کیونکہ انسانی فطرت بہرحال اس وسیع فطری نظام ہی کا ایک حصہ ہے۔ انسانی وجود اس کائنات کے وجود سے منقطع نہیں ہے۔ یہ بھی اسی قانون کے مطابق چل رہا ہے جس کے مطابق پوری کائنات چل رہی ہے۔ جس طرح یہ پوری کائنات اللہ کے احکام اور اشارات قبول کرتی ہے اسی طرح اس چھوٹے سے انسان کی فطرت بھی تکوینی اثرات کو قبول کرتی ہے۔ وہ ناموس توحید جو اس کائنات پر حکمران ہے وہ اس کائنات کی شکل و صورت میں بالکل نمایاں ہے۔ اس میں کائنات کی ہم آہنگی ، اس کے اجزاء کا باہم ربط اور تناسب ، اس پوری کائنات اور اس کے اجزاء کی حرکت کا نظام ، اس کے قوانین کا تسلسل اور پوری کائنات کا ان قوانین کے مطابق مسلسل رواں دواں ہونا اور پھر ان قلیل معلومات کے مطابق جن تک انسان اب تک پہنچ سکا ہے کہ وہ ذرات جن سے یہ کائنات مرکب ہے اور ان ذرات کی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں نکلنے والی شعاعیں یہ سب کچھ اس کائنات کے خالق کی وحدت پر دلیل ہیں۔ اس ہمہ گیر وحدت کے راز ہائے نہفتہ کو انسان رات دن کھول رہا ہے جن سے اس کائنات کے مزاج کی وحدت معلوم ہوتی ہے ، اس کے قوانین کی یک رنگی معلوم ہوتی ہے اور یہ یک رنگی آٹومیٹک نہیں ہے بلکہ سب کچھ اللہ کی مشیت اور اس کے نظام تقدیر کے مطابق ہو رہا ہے۔ ہم بہر حال انسانی انکشافات پر بھی بھروسہ نہیں کرتے کیونکہ انسان کا علم بہرحال ظن وتخمین پر مبنی ہے۔ اور انسان کا علم یقینی علم نہیں ہے ، اس لیے کہ انسان کو جو ذرائع ادراک دئیے گئے ہیں وہ بھی یقینی نہیں ہیں اور ہم یقینا یہ نہیں معلوم کرسکتے کہ ناموس الہی کیا ہے ؟ جہاں تک انسانی علم اور ذرائع علم کا تعلق ہے انسان صرف حقیقت سے مانوس ہوسکتا ہے۔ ہمارے پاس اس کائنات کے ناموس اکبر کے بارے میں بھی حقیقی ذریعہ اطلاع اور ذریعہ علم صرف خالق کائنات کا پیغمبر ہے۔ قرآن کریم بہرحال یقینی طور پر یہ بتاتا ہے کہ اس کائنات کے اندر ایک قانون توحید جاری وساری ہے۔ اور اس قانون توحید کو اللہ رب العزت نے جاری کیا ہے اور یہ کائنات اور اس کے اندر بسنے والی تمام مخلوقات صرف اسی رب واحد کی غلام ہے۔ اور اس کا فرض ہے کہ وہ رب کی بندگی کرے۔ جہاں تک ہمارے علم کا تعلق ہے تو ہم صرف اس کائنات کے جاری وساری نظام ہی کو دیکھ سکتے ہیں جو ایک قاعدے کے مطابق چل رہا ہے۔ یہ ناموس اکبر جو اس عظیم کائنات کے اندر اللہ کی مشیت اور تقدیر نے جاری کیا ہے ، یہی خود انسان کے اس چھوٹے سے وجود میں بھی جاری ہے ، کیونکہ انسان بھی اس کائنات کا ایک کارکن ہے۔ یہ بھی اپنی فطرت میں جھگڑا ہوا ہے جسے اپنی فطری حرکات کا عقلی احساس بھی ضروری نہیں ہے کہ ہو ، اس لیے وہ اپنی فطرت کے اعتبار سے ادارک رکھتا ہے اور یہ ادراک حقیقت اس کی فطرت کی گہرائیوں میں ہے اس کی ذات اس کا شعور بھی رکھتی ہے۔ وہ اس کے مطابق تصرف کرتا ہے۔ جب تک کہ خلل و فساد اس پر طاری نہ ہوجائے۔ اس خلل و فسادگی کی وجہ سے اس کا ذاتی ادراک ماند پڑجاتا ہے اور انسان عارضی حالات کے تابع ہوجاتا ہے ۔ اور اب وہ بیرونی عوامل کے مطابق چلتا ہے۔ اور اس کا اندرونی عامل اپنا کام چھوڑ دیتا ہے۔ یہ ناموس فطرت بذات خود اللہ اور بندے کے درمیان ایک عقد ہے اور یہ عقد انسان کے وجود کی گہرائیوں میں موجود ہے۔ اپنی پیدائش کے وقت سے وہ ہر خلیے میں رکھ دیا جاتا ہے اور یہ عقد آدم (علیہ السلام) کے وقت سے آج تک جاری وساری ہے۔ انسان کا ہر حلیہ ربوبیت کا اقرار کرتا ہے اور اسی اقرار اور عقد یعنی ناموس قدرت کے مطابق دنیا میں آتا ہے۔ لہذا اس فطری عقد کے بعد مزید کسی دلیل وحجت کی انسان کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ چاہے یہ دلیل بلسان الحال ہو یا بلسان القول ہو۔ لہذا اب انسان کے لیے یہ بات مفید نہ ہوگی کہ وہ کہے کہ میں تو غفلت کا شکار ہوگیا تھا اور میں نے کتاب اللہ اور رسول اللہ کی تعلیمات سے لاپرواہی برتی تھی۔ یا کوئی شخص یہ بہانہ نہیں پیش کرسکتا کہ جب وہ کائنات میں وارد ہوا تو میرے آباء و اجداد اور ماحول میں شرک ہی شرک تھا اور عقیدہ توحید کی قبولیت کے لیے اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا۔ لہذا وہ اپنے عقائد و اعمال کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ نے صاف صاف وضاحت فرما دی۔

الأعراف 7:173

لیکن یہ اللہ کی نہایت ہی مہربانی ہے کہ اللہ کو معلوم تھا کہ انسان میں ہدایت اور ضلالت دونوں کی استعداد ہے۔ اور یہ کہ انسان اپنے اس فطری عہد کے باوجود انحراف اختیار کرسکتا ہے۔ جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اسے صحیح راہ سے شیاطین جن و انس منحرف کرتے ہیں اور یہ جن و انس کے شیاطین بڑی ہوشیاری سے انسان کی کمزوریوں کو کام میں لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رحم یہ فرمایا کہ اس نے انسان کو محض اپنی فطری صلاحیت پر ہی ذمہ دار ہدایت نہیں ٹھہرایا۔ اور نہ اپنی عقلی اور فطری قوت ادراک اور تمیز پر اس سے جواب طلبی فرمائی۔ بلکہ سا کے باوجود اللہ نے رسول بھیجے ، جنہوں نے تفصیلات کے ساتھ آیات و دلائل پیش کیے تاکہ وہ فطرت کے اوپر چڑھے ہوئے زنگ کو اتاریں۔ اسے صیقل کریں اور انسان کو خواہشات اور شہوات کی بندگی سے چھڑائیں۔ اگرچہ اللہ کو معلوم تھا کہ رسولوں اور دعوتوں کے بغیر بھی انسان کی ہدایت کے لیے اس کی فطری استعداد اور عقلی قوت کافی ہے۔ لیکن اس کے باوجود اللہ نے حساب و کتاب کا مدار رسالت اور دعوت پر رکھا ہے۔

الأعراف 7:174

یہ آیات و ہدایات اس لیے اتاری گئیں کہ انسان راہ فطرت پر واپس آجائے اور اس صلاحیت کو کام میں لائے جو اس کی فطرت کے اندر موجود ہے۔ یعنی ان فطری صلاحیتوں اور عقلی ادراک کی وجہ سے بھی وہ بجا طور پر حقیقت کا ادراک کرسکتا تھا لیکن اللہ نے رسول اور ہدایات اس لیے ارسال کیں کہ وہ راہ ہدایت پا لے۔ اور یاد دہانی اور ڈراوے سے استفادہ کرے۔

الأعراف 7:175

تفسیر آیات 175 ۔ 177: اب فطرت کی راہ سے انحراف کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے ، جس میں ایک شخص اپنا عہد فطرت توڑتا ہے اور ہدایت کے بعد اللہ کی آیات اور نشانات سے پھرجاتا ہے۔ اللہ نے اپنی آیات اور دلائل اس کے سامنے بکھیر دئیے ، وہ اپنی فکر و نظر سے انہیں دیکھ سکتا تھا اور ان میں غور کرسکتا تھا۔ لیکن وہ اس سے نکل بھاگا اور وہ اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی اپنے لباس سے نکل جائے اور زمین پر گر جائے اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوجائے اس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور نہ ان آیات نے اس کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ شیطان اس پر حاوی ہوگیا اور وہ اللہ کے دائرہ امن سے نکل گیا۔ گمراہ ، بےقرار اور ادھر ادھر بھاگتا رہا۔ لیکن قرآن کریم نے اس شخص کی مثال نہایت ہی معجزانہ انداز میں دی ہے۔ اس مثال میں ایک متحرک منظر ہے۔ جس میں اس شخص کے خدوخال بالکل واضح نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے تاثرات نہایت حقیقی اور واقعات فطری اور عبارت نہایت ہی زندہ اور اشاریت سے بھرپور ہے۔ ۔۔۔ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ یہ ایک عجیب منظر ہے ، جدید ترین فنی تصویر کشی۔ الفاظ کی تصویر کشی۔ ایک شخص کو آیات و نشانات دئیے جاتے ہیں ، اسے فضل و کرم کی خلعت پہنائی جاتی ہے ، اس کو علم کا لباس دیا جاتا ہے اور اسے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت لے ، اللہ سے جڑے اور سربلندی اختیار کرے لیکن وہ اس صورت حالات سے اپنے آپ کو نکال دیتا ہے۔ لباس فاخرہ کو اتار کر ننگا ہوجاتا ہے اور سربلندی اور طہارت کے بجائے کیچڑ میں اپنے آپ کو لت پت کردیتا ہے۔ خواہشات نفس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس نے پہلا فطری عہد بھی توڑ دیا۔ پھر اس نے ان آیات و دلائل کو بھی ترک کردیا جن میں اس کے لیے سامان ہدایت تھا۔ وہ آیات و ہدایات سے نکل رہا ہے یوں کہ یہ آیات و ہدایات اس کے لیے گویا گوشت پوست ہیں اور یہ زبردست جدوجہد نہایت مشقت کے ساتھ ان سے نکل رہا ہے۔ یوں جس طرح زندہ انسان سے چمڑا کھینچا جا رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دلائل ایمان انسانی جسم کے ساتھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں جس طرح چمڑا جسم کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے۔ وہ آیات سے نکل رہا ہے۔ وہ گویا ننگا ہورہا ہے ، اپنے آپ کو بچانے والے گوشت و پوست سے نکل رہا ہے اور راہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفسانیہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ گویا وہ آفاق کی سر بلندیوں سے گر کر کیچڑ میں لت پت ہورہا ہے۔ یوں شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اب اس کے بچانے والا کوئی ذریعہ نہیں۔ چناچہ شیطان اس کے پیچھے پڑتا ہے اور اسے اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ اب ہم اچانک ایک نہایت ہی خوفناک منظر کے سامنے ہیں۔ یہ نہایت ہی برا اور پریشان کن منظر ہے۔ ہمارے سامنے اس قسم کی مخلوق ہے جو کیچڑ میں لت پت ہے۔ زمین پر گری پڑی ہے۔ اچانک یہہ مخلوق مسخ ہو کر کتے کی شکل میں آجاتی ہے ، تم اسے دھتکارتے ہو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے اور اگر تم اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے۔ غرض یہ متحرک مناظر تسلسل کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہماری قوت متخیلہ ان مناظر کے ساتھ ساتھ چلتی ہے نہایت روشن تاثرات لیے ہوئے چلتی ہے۔ اور جب ہماری متخیلہ اس آخری منظر پر پہنچتی ہے جس میں ایک کتاب زبان لٹکائے ہوئے نظر آتا ہے تو اچانک اس پورے منظر پر درج ذیل تبصرہ سنا جاتا ہے۔ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو ، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں یہ ہے ان کی مثال۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت کے دلائل اور ایمان کے موجبات خود ان کی فطرت میں ملے ہوئے تھے اور یہ دلائل اور اشارات ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر بھی موجود تھے ، لیکن یہ لوگ اپنے آپ کو کھینچ کر ان سے نکال لائے۔ اب یہ مسخ شدہ اجسام تھے ، جو ٹنگے تھے اور مقام انسانیت سے گر کر یہ لوگ حیوانیت تک اتر آئے تھے۔ یہ اس کتے کی طرح تھے جو کیچر میں لت پت ہو۔ ان کے پاس تو ایمان اور دلائل ہدایت کے وہ پر تھے جن کے ذریعے یہ اعلیٰ علیین تک پرواز کرسکتے تھے۔ ان کی تخلیق بھی بہترین ڈیزائن میں ہوئی تھی لیکن افسوس ہے کہ انہوں نے اعلی علیین کے مقابل میں اسفل سافلین کے مقام کو اپنے لیے پسند کیا۔ بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا اور وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔ کیا اس مثال سے کوئی اور بری مثال ہوسکتی ہے کہ کوئی خود اپنی کھال سے کھینچ کر باہر نکل آئے اور ہدایت سے بالکل ننگا ہپوجائے اور یہ کہ کوئی خواہشات نفسانیہ کی تسکین کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو۔ ان لوگوں سے زیادہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا اور کون ہوگا کہ وہ خود اپنی ہی کھال کھینچ کر اپنی ہڈیوں اور گوشت کو ننگا کردے۔ اپنے حامی اور مددگار کو تباہ کردے اور اپنے گوشت کو شیطانی درندوں کے نوچنے کے لیے ننگا اور آسان کردے۔ اور پھر شیطان ایسے شخص کو مرتبہ انسانیت سے گرا کر مرتبہ حیوانیت تک لے آئے اور وہ اسی طرح حیران و پریشان ہوجائے جس طرح باؤلا کتا زبان لٹکائے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے ایسی صورت حالات کی تصویر کشی ایسے موثر الفاظ میں کی ، اس طرح کہ اس کا اعجاز بالکل واضح ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ایسے لوگوں کی کوئی مخصوص مثال بھی اس وقت تھی یا ایک عمومی بات کو یہاں مثال کی شکل میں لایا گیا ہے ؟ کیا ان مثالوں کے مصداق کے بارے میں ذخیرہ روایات میں کچھ ہے ؟ بعض روایات میں آتا ہے کہ فلسطین میں ایک صالح شخص تھا۔ یہ اس سے قبل گزرا ہے جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تھے۔ اس شخص کے انحراف اور اس کی اخلاقی بربادی کا ایک طویل قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ بہرحال وہ شخص بھی اس مثال کا مصداق بن سکتا ہے لیکن چونکہ یہ اسرائیلی روایات اسلامی تفاسیر میں داخل ہوگئی ہیں لہذا اس قصے کی تمام تفصیلات کو درست تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے۔ پھر ان اسرائیلی روایات کے اندر چونکہ بےحد اختلاف و اضطراب ہے ، اس لیے بھی ان کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص بلعام ابن باعور نامی تھا ، یہ شخص فلسطین کے جابر حکمرانوں میں سے تھا۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ عربوں کا امیہ ابن الصلت تھا۔ بعض روایات میں ابو عامر فاسق کو اس کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ شخص حضرت موسیٰ کے معاصر تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ حضرت یوشع ابن نون کے دور میں تھا۔ اور حضرت یوشع ابن نون نے تیہ میں بنی اسرائیل کی چالیس سالہ سرگردانی کے بعد ان جابر حکمرانوں کے ساتھ معرکہ آرائی کی تھی۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ان جباروں کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے سے بنی اسرائیل نے معذرت کردی تھی۔ انہوں نے حضرت موسیٰ سے کہہ دیا تھا کہ جاؤ تم اور تمہارے رب دونوں لڑو ، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص کو جو آیات دی گئی تھیں وہ اسم اعظم تھا۔ جس کے ساتھ ہر دعا مستجاب ہوتی ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص کو کتاب الہی دی گئی تھی۔ یہ نبی تھا اور اس کے بعد اس کے بارے میں بڑی اختلافی بحثیں ہوئیں۔ یہاں ظلال القرآن میں اپنے منہاج کے مطابق ہم ان تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لیے کہ قرآن کریم نے نص میں ان تفصیلات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ، نہ حضور ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی مرفوع حدیث منقول ہے۔ بہرحال قرآن کریم نے جس واقعی صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس دنیا میں انسانی تاریخ میں بار بار دہرائی جاتی ہے کہ ایک شخص کے سامنے آیات دلائل پیش ہوئے ہیں۔ وہ ان کی حقانیت کو جانتے ہیں لیکن ان کو تسلیم کرکے اپنی زندگی کو ان کے مطابق درست نہیں کرتے۔ اکثر لوگ جنہیں دینی علم دیا جاتا ہے لیکن وہ خود اپنے علم سے ہدایت نہیں لیتے بلکہ وہ اپنے علم کو تحریف کتاب کا ذریعہ بناتے ہیں اور یہ لوگ ذاتی خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ان لوگوں کی خواہشات اور ان لوگوں کے اوپر تسلط حاصل کرنے والوں کی خواہشات یعنی اس عارضی دنیا کے مفادات کے ہاتھ ہی میں ان کی نکیل ہوتی ہے۔ ہم نے کئی علمائے دین کو دیکھا ہے کہ وہ ایک حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن وہ لائن پر نہیں آتے۔ ادھر ادھر ہوجاتے ہیں بلکہ اپنی زبان سے ایسی باتوں کا اعلان کرتے ہیں جنہیں خود بھی سچا نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ اپنے علم کو تحریف و انحراف کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے فتاوی اہل اقتدار کے حق میں استعمال کرتے ہیں اور اس طرح وہ ایسے اہل اقتدار کے اقتدار کو اور مضبوط کرتے ہیں جو اس زمین پر اللہ کے اقتدار کے لیے چیلنج ہوتے ہیں۔ ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قانون صرف اللہ کا حق ہے ، اور جو شخص قانون سازی کا حق اپنے لیے مخصوص کرے وہ در اصل مدعی الوہیت ہے اور جو شخص بھی خدائی کا دعوی کرے وہ کافر ہے۔ جو شخص کسی انسان کے لیے اس حق کو تسلیم وہ بھی کافر ہے۔ اس کے باوجود اور اس بات کو جانتے ہوئے وہ ان لوگوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتا جو اپنے آپ کو قانون ساز کہتے ہیں اور الوہیت اور خدائی کے مدعی ہیں اور جن کے بارے میں خود اس عالم دین نے فتوی دے رکھا ہے کہ وہ کافر ہیں بلکہ یہ عالم دین ایسے لوگوں کو مسلمان بھی کہتا ہے اور جو وہ کرتے ہیں اس کو اسلام کہتا ہے اور اس کے بعد وہ ایک سال جو کچھ لکھتا ہے تو سود کو حرام قرار دیتا ہے اور دوسرے سال اپنی تحریروں میں سود کو حرام قرار دیتا ہے۔ ان میں سے بعض لوگ فسق و فجور کو ایک مبارک امر قرار دیتے ہیں۔ فسق و فجور کو اسلام نام اور عنوان دیتے ہیں اور اسے اسلام لباس میں لاتے ہیں۔ اب یہ شخص کیا اس تبصرے کا مصداق نہ ہوگا کہ جسے اللہ نے ایسی آیات دیں اور علم دیا اور وہ اللہ کے دلائل و علم سے نکل بھاگا ، شیطان نے اسی پر گرفت مضبوط کرلی اور یہ شخص گمراہیوں میں سے ہوگیا۔ قرآن کریم جس شخص کے بارے میں خبر دے رہا وہ شخص اسی کا مصداق ہوگا۔ اس کو اللہ نے علم دیا ، سربلندی کے ذرائع دئیے لیکن وہ بلندیوں کی طرف سفر کرنے کے بجائے پستیوں کی طرف گرتا رہا۔ ذرا قرآن کریم کے اس تبصرے اور اس خبر کو پڑھییے۔ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ ۔ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔ سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَهُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے ، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا ، لہذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھڑو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔ جس شخص کی خبر قرآن دے رہا ہے یہی ہمارے دور کے ایسے لوگوں پر صادق آتی ہے۔ یہ مثال ہر اس شخص پر فٹ ہے جسے اللہ نے علم دیا نکال کے لیکن وہ اس علم کے تقاضوں پر نہ چلا۔ اس نے ایمان کی راہ اختیار نہ کی ، اللہ کی نعمتوں سے کھینچ کر نکل گیا۔ اور شیطان کا تابع مہمل ہوگیا۔ اب وہ باؤلے کتے کی طرح زبان لٹکائے پھرتا رہے گا۔ جس طرح قرآن ہمارے احساس میں ڈالتا ہے۔ یہ شخص اغراض دنیا کے پیچھے زبان لٹکائے بھاگ رہا ہے اور اغراض دنیا ہی کی وجہ سے یہ انعامات الہیہ سے اپنے آپ کو کھینچ کر باہر لے آیا ہے ، اور یہ کتے کی طرح زبان لٹکائے ہوئے ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایسا شخص اغراض دنیا کی جانب سے کبھی بھی مطمئن نہ ہوگا۔ جس شخص کی نکیل اغراض دنیا کے ہاتھ میں چلی جائے وہ ان سے چھوٹ نہیں سکتا ، چاہے تم انہیں ہزار وعظ و نصیحت کرو۔ وہ اس راہ پر زبان لٹکائے سرکاری دفاتر کا طواف کرے گا اور کرتا رہے گا۔ انسانی زندگی کا گہرا مطالعہ کیجئے۔ اس مثال کا مصداق تو ہر جگہ اور ہر زمانے میں موجود ہے۔ بلکہ زمانے گزر جاتے ہیں اور ایسے لوگ ہر طرف نظر آتے ہیں۔ ہر طرف سے بڑھے چلے آتے ہیں اور جن لوگوں کو اللہ بچا لیتا ہے وہ قدرت نادرہ ہوتے ہیں۔ جو آیات الہیہ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں ، جو زمین کی پستیوں کی طرف آنے کے بجائے بلندیوں کی طرف اٹھتے ہیں ، جو خواہشات نفسانیہ کو دباتے ہیں جنہیں شیطان ذلیل نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ اپنی ناک میں ای کسی نکیل نہیں ڈالتے۔ اس سمت نہیں جاتے جس کا سرا اہل اقتدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ غرض یہ ایک ایسی تمثیل ہے جس کے مصداق کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو بہت دور بنی اسرائیل کی تاریخ میں تلاش کرتے ہیں۔ حضور کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنی قوم پر یہ آیات پڑھیں اور انہیں خبردار کریں کہ وہ ان آیات الہیہ سے اپنے آپ کو کھینچ کر باہر نہ کردیں۔ لہذا حضور کے بعد ہمیں ان آیات کی تلاوت کرکے لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ وہ ان آیات کی مضبوط پناہ گاہ سے اپنے آپ کو باہر نہ نکالیں۔ اور ان کو اللہ کے علوم میں سے جو حصہ ملا ہے ، اسے ترک کرکے وہ اس انجام تک اپنے آپ کو نہ پہنچائیں۔ نیز اپنے آپ کو اس صورت حال میں مبتلا نہ کریں کہ انسان کتوں کی طرح زبان لٹکائے خواہشات دنیا کے پیچھے بھاگتا پھرے ، جن کی کوئی انتہا نہیں ہے اور اپنے آپ پر وہ ظلم نہ کریں جو ایک دشمن اپنے دشمن پر بھی نہیں کرتا کیونکہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈال کر وہ صرف اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے دور میں ایسے اہل علم کو دیکھا ہے کہ جو اپنے اوپر اس قسم کے ظلم کرنے میں بہت ہی حریص ہیں۔ ایسے لوگ ہیں جو جہنم کے ٹھکانے کے حصول کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ صبح سے شام تک اپنے لیے جہنم کے ٹھکانے کو مضبوط کر رہے ہیں اور رات دن زبان لٹکائے اس کے پیچھے پھر رہے ہیں نہ ان پر نصیحت کا اثر ہوتا ہے اور نہ کسی کی دھتکار کا۔ ایسی ہی حالت میں یہ لوگ آخر کار اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ اے اللہ ہمیں بچائیو ! ہمارے قدم مضبوط کیجیو۔ اور ہم پر صبر کی بارش کیجیو اور ہمیں اہل اسلام کے ساتھ موت اور خیر نصیب کیجیے۔ ۔۔۔۔ قرآن کریم نے ایک شخص کے بارے جو خبر ایک تمثیل کی صورت میں دی ہے ہمیں چاہے کہ ہم اس پر قدرے طویل اور دوبارہ غور کریں۔ یہ ایک ایسے صاحب علم کی تمثیل ہے ، جس پر خواہشات نفس اور لذات دنیاوی اس قدر بوجھ ڈال دیں کہ وہ اس بوجھ کو نہ سہار سکے اور زمین پر گر جائے اور ان شہوات کی جاذبیت کی وجہ سے وہ براہ راست ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکے۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے پڑجائے اور شیطان اس کے پیچھے پڑجائے اور اسے اپنی گرفت میں لے کر اپنی مرضی سے چلانا شروع کردے اور اس کے منہ میں خواہشات نفسانیہ کی لگام پڑی ہو۔ چونکہ صرف علم انسان کو نجات نہیں دے سکتا۔ اسی لیے قرآنی منہاج تربیت نفس انسانی کی تربیت اور اسلامی زندگی کی ترویج کے لیے ایک خاص منہاج وضع کرتا ہے۔ اسلام صرف علم پیش نہیں کرتا بلکہ علم کو ایک زندہ اور متحرک شکل دیتا ہے تاکہ اسلامی مقاصد ذہنی اور فکری دنیا میں بھی سامنے آئیں اور عملی زندگی میں بھی سامنے آئیں۔ اسلامی منہاج یہ نہیں ہے کہ اسلامی عقائد کو محض نظریات کی شکل میں پیش کرے۔ محض تحقیق و توفیق کے لیے۔ اور انسان کے فکر و نظر اور اس کے عمل اور تگ و دو پر اس کا کوئی اثر نہ ہو۔ اس قسم کی مجرد تحقیقات محض جامہ علم ہوتی ہیں ، ایسا علم انسان کو اپنی خواہشات نفسانیہ کی زد سے نہیں بچا سکتا۔ نہ دنیا میں اسے سربلند کرسکتا ہے ، خصوصا سفلی جذبات و خواہشات سے۔ ایسا علم شیطان کا مقابلہ نہیں کرسکتا بلکہ یہ شیطان کے لیے راہ ہموار کرتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان شیطان کی غلامی اختیار کرلیتا ہے۔ اسلام دین کے بارے میں محض تحقیقات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ مثلاً اسلامی نظام کے بارے میں " تحقیقات " اسلامی فقہ کے بارے میں " تحقیقات " اسلام کے اقتصادی نظام کے بارے میں " تحقیقات " اسلام کے سائنسی نظریات کے بارے میں تحقیقات ، علوم نفس کے بارے میں اسلامی تحقیقات وغیرہ وغیرہ۔ اسلام عقائد اسلامی کو ایک متحرک ، ترقی پذیر ، زندہ اور بیدار اور غالب اور سربلند ہونے والے عقائد کی شکل میں لاتا ہے۔ عقل و نظریہ پر چھانے کے بعد یہ عقائد فوراً ایک مسلمان کو اسلام مقاصد پورے کرنے کے لیے متحرک کردیتے ہیں۔ جب کسی مردہ ضمیر آدمی کے قلب و نظر میں بھی یہ عقائد جاگزیں ہوتے ہیں تو اسے زندہ کردیتے ہیں اور یہ عقائد قبول کرنے والا اپنے آپ کو جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد شروع کردیتا ہے۔ اس کی فطرت فوراً پہلے فطری عہد کی طرف لوٹ جاتی ہے اور یہ شخص بلند مقاصد کے لیے متحرک ہوجاتا ہے اور اسے دنیا کی آلودگیاں اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں۔ یہ کبھی فسق وفجور کے کیچڑ میں لت پت نہیں ہوتا۔ قرآن اسلام کو ایک منہاج فکر و تدبر کی صورت میں پیش کرتا ہے اور یہ دنیا کے تمام مناہج سے ممتاز نظر آتا ہے۔ یہ آیا ہی اس لیے ہے کہ دنیا کے بوجھ اتار دے اور انہیں شیطان کی گمراہیوں سے نجات دے۔ قرآن اسلام کو حق و باطل کے لیے ایک معیار اور میزان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس معیار کے ذریعہ لوگوں کے ذرائع ادراک اور ان کی عقلوں کو پرکھا جاتا ہے ، لوگوں کی حرکات ، ان کے رجحانات اور ان کے تصورات کو اس کے مطابق جانچا جاتا ہے۔ اسلام سے قبل دنیا میں کوئی ایسا معیار نہ تھا کہ اسے کام میں لایا جاتا اور یہ میزان اور معیار جسے رد کردے وہ ردی ہوگا اسے پھینک دیا جائے گا۔ اسلام انسانیت کو ترقی دے کر ایک نہایت ہی بلند مقام تک لے جانا چاہتا ہے لیکن شاہراہ ترقی پر اسلام اسے نہایت ہی دھیمی رفتار سے لے جانا چاہتا ہے۔ یہ کام وہ اپنے منصوبے اور اپنے اندازوں کے مطابق کرتا ہے ، ترقی کی اس شاہراہ پر چلنے کے لیے اسلام لوگوں کو اپنا ایک مفصل نظام زندگی دیتا ہے۔ ان کو ایک مفصل نظام قانون دیتا ہے ، ان کو ایک مستقل نظام اقتصاد دیتا ہے ، ان کے لیے سوسائٹی کے اصول اور سیاست کے اصول منضبط کرتا ہے ، اس کے بعد وہ لوگوں کو وضع اصول کے بعد آزادی دیتا ہے کہ ان اصول کی روشنی میں وہ اپنے لیے تفصیلی نظام وضع کریں۔ یہ اس دنیا میں رات و دن ترقی کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں حرارت ایمان موجود رہتی ہے۔ وہ ایک حقیقی نظام قانون وضع کرتے ہیں اور اس سے وہ اپنی تمام ضروریات کا حل نکالتے ہیں۔ اس طرح سلامی نظام حیات ، اسلامی زندگی کی شکل میں نفس انسان کی قیادت کرتا ہے ، رہی وہ تحقیقات جو محض نظری قیل و قال تک محدود ہوتی ہیں تو ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ نہ تو شیطان کے مقابلے میں ایک فرد کو فائدہ دے سکتا ہے اور نہ اسلامی خطوط پر انسانی زندگی کو عملاً منظم کرسکتا ہے ، نہ انسانی زندگی کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے اس منظر میں جو مثال دی گئی ہے ، اب اس پر یہاں ایک مختصر تبصرہ کیا جاتا ہے (ملاحظہ ہو اگلی آیت کی تفسیر)

الأعراف 7:176

تفسیر آیات 175 ۔ 177: اب فطرت کی راہ سے انحراف کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے ، جس میں ایک شخص اپنا عہد فطرت توڑتا ہے اور ہدایت کے بعد اللہ کی آیات اور نشانات سے پھرجاتا ہے۔ اللہ نے اپنی آیات اور دلائل اس کے سامنے بکھیر دئیے ، وہ اپنی فکر و نظر سے انہیں دیکھ سکتا تھا اور ان میں غور کرسکتا تھا۔ لیکن وہ اس سے نکل بھاگا اور وہ اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی اپنے لباس سے نکل جائے اور زمین پر گر جائے اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوجائے اس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور نہ ان آیات نے اس کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ شیطان اس پر حاوی ہوگیا اور وہ اللہ کے دائرہ امن سے نکل گیا۔ گمراہ ، بےقرار اور ادھر ادھر بھاگتا رہا۔ لیکن قرآن کریم نے اس شخص کی مثال نہایت ہی معجزانہ انداز میں دی ہے۔ اس مثال میں ایک متحرک منظر ہے۔ جس میں اس شخص کے خدوخال بالکل واضح نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے تاثرات نہایت حقیقی اور واقعات فطری اور عبارت نہایت ہی زندہ اور اشاریت سے بھرپور ہے۔ ۔۔۔ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ یہ ایک عجیب منظر ہے ، جدید ترین فنی تصویر کشی۔ الفاظ کی تصویر کشی۔ ایک شخص کو آیات و نشانات دئیے جاتے ہیں ، اسے فضل و کرم کی خلعت پہنائی جاتی ہے ، اس کو علم کا لباس دیا جاتا ہے اور اسے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت لے ، اللہ سے جڑے اور سربلندی اختیار کرے لیکن وہ اس صورت حالات سے اپنے آپ کو نکال دیتا ہے۔ لباس فاخرہ کو اتار کر ننگا ہوجاتا ہے اور سربلندی اور طہارت کے بجائے کیچڑ میں اپنے آپ کو لت پت کردیتا ہے۔ خواہشات نفس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس نے پہلا فطری عہد بھی توڑ دیا۔ پھر اس نے ان آیات و دلائل کو بھی ترک کردیا جن میں اس کے لیے سامان ہدایت تھا۔ وہ آیات و ہدایات سے نکل رہا ہے یوں کہ یہ آیات و ہدایات اس کے لیے گویا گوشت پوست ہیں اور یہ زبردست جدوجہد نہایت مشقت کے ساتھ ان سے نکل رہا ہے۔ یوں جس طرح زندہ انسان سے چمڑا کھینچا جا رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دلائل ایمان انسانی جسم کے ساتھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں جس طرح چمڑا جسم کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے۔ وہ آیات سے نکل رہا ہے۔ وہ گویا ننگا ہورہا ہے ، اپنے آپ کو بچانے والے گوشت و پوست سے نکل رہا ہے اور راہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفسانیہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ گویا وہ آفاق کی سر بلندیوں سے گر کر کیچڑ میں لت پت ہورہا ہے۔ یوں شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اب اس کے بچانے والا کوئی ذریعہ نہیں۔ چناچہ شیطان اس کے پیچھے پڑتا ہے اور اسے اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ اب ہم اچانک ایک نہایت ہی خوفناک منظر کے سامنے ہیں۔ یہ نہایت ہی برا اور پریشان کن منظر ہے۔ ہمارے سامنے اس قسم کی مخلوق ہے جو کیچڑ میں لت پت ہے۔ زمین پر گری پڑی ہے۔ اچانک یہہ مخلوق مسخ ہو کر کتے کی شکل میں آجاتی ہے ، تم اسے دھتکارتے ہو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے اور اگر تم اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے۔ غرض یہ متحرک مناظر تسلسل کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہماری قوت متخیلہ ان مناظر کے ساتھ ساتھ چلتی ہے نہایت روشن تاثرات لیے ہوئے چلتی ہے۔ اور جب ہماری متخیلہ اس آخری منظر پر پہنچتی ہے جس میں ایک کتاب زبان لٹکائے ہوئے نظر آتا ہے تو اچانک اس پورے منظر پر درج ذیل تبصرہ سنا جاتا ہے۔ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو ، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں یہ ہے ان کی مثال۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت کے دلائل اور ایمان کے موجبات خود ان کی فطرت میں ملے ہوئے تھے اور یہ دلائل اور اشارات ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر بھی موجود تھے ، لیکن یہ لوگ اپنے آپ کو کھینچ کر ان سے نکال لائے۔ اب یہ مسخ شدہ اجسام تھے ، جو ٹنگے تھے اور مقام انسانیت سے گر کر یہ لوگ حیوانیت تک اتر آئے تھے۔ یہ اس کتے کی طرح تھے جو کیچر میں لت پت ہو۔ ان کے پاس تو ایمان اور دلائل ہدایت کے وہ پر تھے جن کے ذریعے یہ اعلیٰ علیین تک پرواز کرسکتے تھے۔ ان کی تخلیق بھی بہترین ڈیزائن میں ہوئی تھی لیکن افسوس ہے کہ انہوں نے اعلی علیین کے مقابل میں اسفل سافلین کے مقام کو اپنے لیے پسند کیا۔ بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا اور وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔ کیا اس مثال سے کوئی اور بری مثال ہوسکتی ہے کہ کوئی خود اپنی کھال سے کھینچ کر باہر نکل آئے اور ہدایت سے بالکل ننگا ہپوجائے اور یہ کہ کوئی خواہشات نفسانیہ کی تسکین کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو۔ ان لوگوں سے زیادہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا اور کون ہوگا کہ وہ خود اپنی ہی کھال کھینچ کر اپنی ہڈیوں اور گوشت کو ننگا کردے۔ اپنے حامی اور مددگار کو تباہ کردے اور اپنے گوشت کو شیطانی درندوں کے نوچنے کے لیے ننگا اور آسان کردے۔ اور پھر شیطان ایسے شخص کو مرتبہ انسانیت سے گرا کر مرتبہ حیوانیت تک لے آئے اور وہ اسی طرح حیران و پریشان ہوجائے جس طرح باؤلا کتا زبان لٹکائے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے ایسی صورت حالات کی تصویر کشی ایسے موثر الفاظ میں کی ، اس طرح کہ اس کا اعجاز بالکل واضح ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ایسے لوگوں کی کوئی مخصوص مثال بھی اس وقت تھی یا ایک عمومی بات کو یہاں مثال کی شکل میں لایا گیا ہے ؟ کیا ان مثالوں کے مصداق کے بارے میں ذخیرہ روایات میں کچھ ہے ؟ بعض روایات میں آتا ہے کہ فلسطین میں ایک صالح شخص تھا۔ یہ اس سے قبل گزرا ہے جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تھے۔ اس شخص کے انحراف اور اس کی اخلاقی بربادی کا ایک طویل قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ بہرحال وہ شخص بھی اس مثال کا مصداق بن سکتا ہے لیکن چونکہ یہ اسرائیلی روایات اسلامی تفاسیر میں داخل ہوگئی ہیں لہذا اس قصے کی تمام تفصیلات کو درست تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے۔ پھر ان اسرائیلی روایات کے اندر چونکہ بےحد اختلاف و اضطراب ہے ، اس لیے بھی ان کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص بلعام ابن باعور نامی تھا ، یہ شخص فلسطین کے جابر حکمرانوں میں سے تھا۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ عربوں کا امیہ ابن الصلت تھا۔ بعض روایات میں ابو عامر فاسق کو اس کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ شخص حضرت موسیٰ کے معاصر تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ حضرت یوشع ابن نون کے دور میں تھا۔ اور حضرت یوشع ابن نون نے تیہ میں بنی اسرائیل کی چالیس سالہ سرگردانی کے بعد ان جابر حکمرانوں کے ساتھ معرکہ آرائی کی تھی۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ان جباروں کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے سے بنی اسرائیل نے معذرت کردی تھی۔ انہوں نے حضرت موسیٰ سے کہہ دیا تھا کہ جاؤ تم اور تمہارے رب دونوں لڑو ، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص کو جو آیات دی گئی تھیں وہ اسم اعظم تھا۔ جس کے ساتھ ہر دعا مستجاب ہوتی ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص کو کتاب الہی دی گئی تھی۔ یہ نبی تھا اور اس کے بعد اس کے بارے میں بڑی اختلافی بحثیں ہوئیں۔ یہاں ظلال القرآن میں اپنے منہاج کے مطابق ہم ان تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لیے کہ قرآن کریم نے نص میں ان تفصیلات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ، نہ حضور ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی مرفوع حدیث منقول ہے۔ بہرحال قرآن کریم نے جس واقعی صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس دنیا میں انسانی تاریخ میں بار بار دہرائی جاتی ہے کہ ایک شخص کے سامنے آیات دلائل پیش ہوئے ہیں۔ وہ ان کی حقانیت کو جانتے ہیں لیکن ان کو تسلیم کرکے اپنی زندگی کو ان کے مطابق درست نہیں کرتے۔ اکثر لوگ جنہیں دینی علم دیا جاتا ہے لیکن وہ خود اپنے علم سے ہدایت نہیں لیتے بلکہ وہ اپنے علم کو تحریف کتاب کا ذریعہ بناتے ہیں اور یہ لوگ ذاتی خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ان لوگوں کی خواہشات اور ان لوگوں کے اوپر تسلط حاصل کرنے والوں کی خواہشات یعنی اس عارضی دنیا کے مفادات کے ہاتھ ہی میں ان کی نکیل ہوتی ہے۔ ہم نے کئی علمائے دین کو دیکھا ہے کہ وہ ایک حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن وہ لائن پر نہیں آتے۔ ادھر ادھر ہوجاتے ہیں بلکہ اپنی زبان سے ایسی باتوں کا اعلان کرتے ہیں جنہیں خود بھی سچا نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ اپنے علم کو تحریف و انحراف کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے فتاوی اہل اقتدار کے حق میں استعمال کرتے ہیں اور اس طرح وہ ایسے اہل اقتدار کے اقتدار کو اور مضبوط کرتے ہیں جو اس زمین پر اللہ کے اقتدار کے لیے چیلنج ہوتے ہیں۔ ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قانون صرف اللہ کا حق ہے ، اور جو شخص قانون سازی کا حق اپنے لیے مخصوص کرے وہ در اصل مدعی الوہیت ہے اور جو شخص بھی خدائی کا دعوی کرے وہ کافر ہے۔ جو شخص کسی انسان کے لیے اس حق کو تسلیم وہ بھی کافر ہے۔ اس کے باوجود اور اس بات کو جانتے ہوئے وہ ان لوگوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتا جو اپنے آپ کو قانون ساز کہتے ہیں اور الوہیت اور خدائی کے مدعی ہیں اور جن کے بارے میں خود اس عالم دین نے فتوی دے رکھا ہے کہ وہ کافر ہیں بلکہ یہ عالم دین ایسے لوگوں کو مسلمان بھی کہتا ہے اور جو وہ کرتے ہیں اس کو اسلام کہتا ہے اور اس کے بعد وہ ایک سال جو کچھ لکھتا ہے تو سود کو حرام قرار دیتا ہے اور دوسرے سال اپنی تحریروں میں سود کو حرام قرار دیتا ہے۔ ان میں سے بعض لوگ فسق و فجور کو ایک مبارک امر قرار دیتے ہیں۔ فسق و فجور کو اسلام نام اور عنوان دیتے ہیں اور اسے اسلام لباس میں لاتے ہیں۔ اب یہ شخص کیا اس تبصرے کا مصداق نہ ہوگا کہ جسے اللہ نے ایسی آیات دیں اور علم دیا اور وہ اللہ کے دلائل و علم سے نکل بھاگا ، شیطان نے اسی پر گرفت مضبوط کرلی اور یہ شخص گمراہیوں میں سے ہوگیا۔ قرآن کریم جس شخص کے بارے میں خبر دے رہا وہ شخص اسی کا مصداق ہوگا۔ اس کو اللہ نے علم دیا ، سربلندی کے ذرائع دئیے لیکن وہ بلندیوں کی طرف سفر کرنے کے بجائے پستیوں کی طرف گرتا رہا۔ ذرا قرآن کریم کے اس تبصرے اور اس خبر کو پڑھییے۔ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ ۔ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔ سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَهُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے ، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا ، لہذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھڑو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔ جس شخص کی خبر قرآن دے رہا ہے یہی ہمارے دور کے ایسے لوگوں پر صادق آتی ہے۔ یہ مثال ہر اس شخص پر فٹ ہے جسے اللہ نے علم دیا نکال کے لیکن وہ اس علم کے تقاضوں پر نہ چلا۔ اس نے ایمان کی راہ اختیار نہ کی ، اللہ کی نعمتوں سے کھینچ کر نکل گیا۔ اور شیطان کا تابع مہمل ہوگیا۔ اب وہ باؤلے کتے کی طرح زبان لٹکائے پھرتا رہے گا۔ جس طرح قرآن ہمارے احساس میں ڈالتا ہے۔ یہ شخص اغراض دنیا کے پیچھے زبان لٹکائے بھاگ رہا ہے اور اغراض دنیا ہی کی وجہ سے یہ انعامات الہیہ سے اپنے آپ کو کھینچ کر باہر لے آیا ہے ، اور یہ کتے کی طرح زبان لٹکائے ہوئے ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایسا شخص اغراض دنیا کی جانب سے کبھی بھی مطمئن نہ ہوگا۔ جس شخص کی نکیل اغراض دنیا کے ہاتھ میں چلی جائے وہ ان سے چھوٹ نہیں سکتا ، چاہے تم انہیں ہزار وعظ و نصیحت کرو۔ وہ اس راہ پر زبان لٹکائے سرکاری دفاتر کا طواف کرے گا اور کرتا رہے گا۔ انسانی زندگی کا گہرا مطالعہ کیجئے۔ اس مثال کا مصداق تو ہر جگہ اور ہر زمانے میں موجود ہے۔ بلکہ زمانے گزر جاتے ہیں اور ایسے لوگ ہر طرف نظر آتے ہیں۔ ہر طرف سے بڑھے چلے آتے ہیں اور جن لوگوں کو اللہ بچا لیتا ہے وہ قدرت نادرہ ہوتے ہیں۔ جو آیات الہیہ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں ، جو زمین کی پستیوں کی طرف آنے کے بجائے بلندیوں کی طرف اٹھتے ہیں ، جو خواہشات نفسانیہ کو دباتے ہیں جنہیں شیطان ذلیل نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ اپنی ناک میں ای کسی نکیل نہیں ڈالتے۔ اس سمت نہیں جاتے جس کا سرا اہل اقتدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ غرض یہ ایک ایسی تمثیل ہے جس کے مصداق کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو بہت دور بنی اسرائیل کی تاریخ میں تلاش کرتے ہیں۔ حضور کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنی قوم پر یہ آیات پڑھیں اور انہیں خبردار کریں کہ وہ ان آیات الہیہ سے اپنے آپ کو کھینچ کر باہر نہ کردیں۔ لہذا حضور کے بعد ہمیں ان آیات کی تلاوت کرکے لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ وہ ان آیات کی مضبوط پناہ گاہ سے اپنے آپ کو باہر نہ نکالیں۔ اور ان کو اللہ کے علوم میں سے جو حصہ ملا ہے ، اسے ترک کرکے وہ اس انجام تک اپنے آپ کو نہ پہنچائیں۔ نیز اپنے آپ کو اس صورت حال میں مبتلا نہ کریں کہ انسان کتوں کی طرح زبان لٹکائے خواہشات دنیا کے پیچھے بھاگتا پھرے ، جن کی کوئی انتہا نہیں ہے اور اپنے آپ پر وہ ظلم نہ کریں جو ایک دشمن اپنے دشمن پر بھی نہیں کرتا کیونکہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈال کر وہ صرف اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے دور میں ایسے اہل علم کو دیکھا ہے کہ جو اپنے اوپر اس قسم کے ظلم کرنے میں بہت ہی حریص ہیں۔ ایسے لوگ ہیں جو جہنم کے ٹھکانے کے حصول کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ صبح سے شام تک اپنے لیے جہنم کے ٹھکانے کو مضبوط کر رہے ہیں اور رات دن زبان لٹکائے اس کے پیچھے پھر رہے ہیں نہ ان پر نصیحت کا اثر ہوتا ہے اور نہ کسی کی دھتکار کا۔ ایسی ہی حالت میں یہ لوگ آخر کار اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ اے اللہ ہمیں بچائیو ! ہمارے قدم مضبوط کیجیو۔ اور ہم پر صبر کی بارش کیجیو اور ہمیں اہل اسلام کے ساتھ موت اور خیر نصیب کیجیے۔ ۔۔۔۔ قرآن کریم نے ایک شخص کے بارے جو خبر ایک تمثیل کی صورت میں دی ہے ہمیں چاہے کہ ہم اس پر قدرے طویل اور دوبارہ غور کریں۔ یہ ایک ایسے صاحب علم کی تمثیل ہے ، جس پر خواہشات نفس اور لذات دنیاوی اس قدر بوجھ ڈال دیں کہ وہ اس بوجھ کو نہ سہار سکے اور زمین پر گر جائے اور ان شہوات کی جاذبیت کی وجہ سے وہ براہ راست ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکے۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے پڑجائے اور شیطان اس کے پیچھے پڑجائے اور اسے اپنی گرفت میں لے کر اپنی مرضی سے چلانا شروع کردے اور اس کے منہ میں خواہشات نفسانیہ کی لگام پڑی ہو۔ چونکہ صرف علم انسان کو نجات نہیں دے سکتا۔ اسی لیے قرآنی منہاج تربیت نفس انسانی کی تربیت اور اسلامی زندگی کی ترویج کے لیے ایک خاص منہاج وضع کرتا ہے۔ اسلام صرف علم پیش نہیں کرتا بلکہ علم کو ایک زندہ اور متحرک شکل دیتا ہے تاکہ اسلامی مقاصد ذہنی اور فکری دنیا میں بھی سامنے آئیں اور عملی زندگی میں بھی سامنے آئیں۔ اسلامی منہاج یہ نہیں ہے کہ اسلامی عقائد کو محض نظریات کی شکل میں پیش کرے۔ محض تحقیق و توفیق کے لیے۔ اور انسان کے فکر و نظر اور اس کے عمل اور تگ و دو پر اس کا کوئی اثر نہ ہو۔ اس قسم کی مجرد تحقیقات محض جامہ علم ہوتی ہیں ، ایسا علم انسان کو اپنی خواہشات نفسانیہ کی زد سے نہیں بچا سکتا۔ نہ دنیا میں اسے سربلند کرسکتا ہے ، خصوصا سفلی جذبات و خواہشات سے۔ ایسا علم شیطان کا مقابلہ نہیں کرسکتا بلکہ یہ شیطان کے لیے راہ ہموار کرتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان شیطان کی غلامی اختیار کرلیتا ہے۔ اسلام دین کے بارے میں محض تحقیقات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ مثلاً اسلامی نظام کے بارے میں " تحقیقات " اسلامی فقہ کے بارے میں " تحقیقات " اسلام کے اقتصادی نظام کے بارے میں " تحقیقات " اسلام کے سائنسی نظریات کے بارے میں تحقیقات ، علوم نفس کے بارے میں اسلامی تحقیقات وغیرہ وغیرہ۔ اسلام عقائد اسلامی کو ایک متحرک ، ترقی پذیر ، زندہ اور بیدار اور غالب اور سربلند ہونے والے عقائد کی شکل میں لاتا ہے۔ عقل و نظریہ پر چھانے کے بعد یہ عقائد فوراً ایک مسلمان کو اسلام مقاصد پورے کرنے کے لیے متحرک کردیتے ہیں۔ جب کسی مردہ ضمیر آدمی کے قلب و نظر میں بھی یہ عقائد جاگزیں ہوتے ہیں تو اسے زندہ کردیتے ہیں اور یہ عقائد قبول کرنے والا اپنے آپ کو جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد شروع کردیتا ہے۔ اس کی فطرت فوراً پہلے فطری عہد کی طرف لوٹ جاتی ہے اور یہ شخص بلند مقاصد کے لیے متحرک ہوجاتا ہے اور اسے دنیا کی آلودگیاں اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں۔ یہ کبھی فسق وفجور کے کیچڑ میں لت پت نہیں ہوتا۔ قرآن اسلام کو ایک منہاج فکر و تدبر کی صورت میں پیش کرتا ہے اور یہ دنیا کے تمام مناہج سے ممتاز نظر آتا ہے۔ یہ آیا ہی اس لیے ہے کہ دنیا کے بوجھ اتار دے اور انہیں شیطان کی گمراہیوں سے نجات دے۔ قرآن اسلام کو حق و باطل کے لیے ایک معیار اور میزان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس معیار کے ذریعہ لوگوں کے ذرائع ادراک اور ان کی عقلوں کو پرکھا جاتا ہے ، لوگوں کی حرکات ، ان کے رجحانات اور ان کے تصورات کو اس کے مطابق جانچا جاتا ہے۔ اسلام سے قبل دنیا میں کوئی ایسا معیار نہ تھا کہ اسے کام میں لایا جاتا اور یہ میزان اور معیار جسے رد کردے وہ ردی ہوگا اسے پھینک دیا جائے گا۔ اسلام انسانیت کو ترقی دے کر ایک نہایت ہی بلند مقام تک لے جانا چاہتا ہے لیکن شاہراہ ترقی پر اسلام اسے نہایت ہی دھیمی رفتار سے لے جانا چاہتا ہے۔ یہ کام وہ اپنے منصوبے اور اپنے اندازوں کے مطابق کرتا ہے ، ترقی کی اس شاہراہ پر چلنے کے لیے اسلام لوگوں کو اپنا ایک مفصل نظام زندگی دیتا ہے۔ ان کو ایک مفصل نظام قانون دیتا ہے ، ان کو ایک مستقل نظام اقتصاد دیتا ہے ، ان کے لیے سوسائٹی کے اصول اور سیاست کے اصول منضبط کرتا ہے ، اس کے بعد وہ لوگوں کو وضع اصول کے بعد آزادی دیتا ہے کہ ان اصول کی روشنی میں وہ اپنے لیے تفصیلی نظام وضع کریں۔ یہ اس دنیا میں رات و دن ترقی کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں حرارت ایمان موجود رہتی ہے۔ وہ ایک حقیقی نظام قانون وضع کرتے ہیں اور اس سے وہ اپنی تمام ضروریات کا حل نکالتے ہیں۔ اس طرح سلامی نظام حیات ، اسلامی زندگی کی شکل میں نفس انسان کی قیادت کرتا ہے ، رہی وہ تحقیقات جو محض نظری قیل و قال تک محدود ہوتی ہیں تو ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ نہ تو شیطان کے مقابلے میں ایک فرد کو فائدہ دے سکتا ہے اور نہ اسلامی خطوط پر انسانی زندگی کو عملاً منظم کرسکتا ہے ، نہ انسانی زندگی کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے اس منظر میں جو مثال دی گئی ہے ، اب اس پر یہاں ایک مختصر تبصرہ کیا جاتا ہے (ملاحظہ ہو اگلی آیت کی تفسیر)

الأعراف 7:177

تفسیر آیات 175 ۔ 177: اب فطرت کی راہ سے انحراف کی ایک مثال پیش کی جاتی ہے ، جس میں ایک شخص اپنا عہد فطرت توڑتا ہے اور ہدایت کے بعد اللہ کی آیات اور نشانات سے پھرجاتا ہے۔ اللہ نے اپنی آیات اور دلائل اس کے سامنے بکھیر دئیے ، وہ اپنی فکر و نظر سے انہیں دیکھ سکتا تھا اور ان میں غور کرسکتا تھا۔ لیکن وہ اس سے نکل بھاگا اور وہ اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی اپنے لباس سے نکل جائے اور زمین پر گر جائے اپنی نفسانی خواہشات کے تابع ہوجائے اس نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے میثاق کو مضبوطی سے نہ پکڑا اور نہ ان آیات نے اس کے لیے ہدایت کا سامان فراہم کیا۔ شیطان اس پر حاوی ہوگیا اور وہ اللہ کے دائرہ امن سے نکل گیا۔ گمراہ ، بےقرار اور ادھر ادھر بھاگتا رہا۔ لیکن قرآن کریم نے اس شخص کی مثال نہایت ہی معجزانہ انداز میں دی ہے۔ اس مثال میں ایک متحرک منظر ہے۔ جس میں اس شخص کے خدوخال بالکل واضح نظر آتے ہیں۔ اس منظر کے تاثرات نہایت حقیقی اور واقعات فطری اور عبارت نہایت ہی زندہ اور اشاریت سے بھرپور ہے۔ ۔۔۔ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ یہ ایک عجیب منظر ہے ، جدید ترین فنی تصویر کشی۔ الفاظ کی تصویر کشی۔ ایک شخص کو آیات و نشانات دئیے جاتے ہیں ، اسے فضل و کرم کی خلعت پہنائی جاتی ہے ، اس کو علم کا لباس دیا جاتا ہے اور اسے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ راہ ہدایت لے ، اللہ سے جڑے اور سربلندی اختیار کرے لیکن وہ اس صورت حالات سے اپنے آپ کو نکال دیتا ہے۔ لباس فاخرہ کو اتار کر ننگا ہوجاتا ہے اور سربلندی اور طہارت کے بجائے کیچڑ میں اپنے آپ کو لت پت کردیتا ہے۔ خواہشات نفس کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس نے پہلا فطری عہد بھی توڑ دیا۔ پھر اس نے ان آیات و دلائل کو بھی ترک کردیا جن میں اس کے لیے سامان ہدایت تھا۔ وہ آیات و ہدایات سے نکل رہا ہے یوں کہ یہ آیات و ہدایات اس کے لیے گویا گوشت پوست ہیں اور یہ زبردست جدوجہد نہایت مشقت کے ساتھ ان سے نکل رہا ہے۔ یوں جس طرح زندہ انسان سے چمڑا کھینچا جا رہا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دلائل ایمان انسانی جسم کے ساتھ اس طرح چمٹے ہوئے ہیں جس طرح چمڑا جسم کے ساتھ پیوستہ ہوتا ہے۔ وہ آیات سے نکل رہا ہے۔ وہ گویا ننگا ہورہا ہے ، اپنے آپ کو بچانے والے گوشت و پوست سے نکل رہا ہے اور راہ ہدایت کو چھوڑ کر خواہشات نفسانیہ کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ گویا وہ آفاق کی سر بلندیوں سے گر کر کیچڑ میں لت پت ہورہا ہے۔ یوں شیطان اس پر حملہ آور ہوتا ہے اور اب اس کے بچانے والا کوئی ذریعہ نہیں۔ چناچہ شیطان اس کے پیچھے پڑتا ہے اور اسے اپنے قابو میں لے آتا ہے۔ اب ہم اچانک ایک نہایت ہی خوفناک منظر کے سامنے ہیں۔ یہ نہایت ہی برا اور پریشان کن منظر ہے۔ ہمارے سامنے اس قسم کی مخلوق ہے جو کیچڑ میں لت پت ہے۔ زمین پر گری پڑی ہے۔ اچانک یہہ مخلوق مسخ ہو کر کتے کی شکل میں آجاتی ہے ، تم اسے دھتکارتے ہو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے اور اگر تم اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے ہوئے ہے۔ غرض یہ متحرک مناظر تسلسل کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہماری قوت متخیلہ ان مناظر کے ساتھ ساتھ چلتی ہے نہایت روشن تاثرات لیے ہوئے چلتی ہے۔ اور جب ہماری متخیلہ اس آخری منظر پر پہنچتی ہے جس میں ایک کتاب زبان لٹکائے ہوئے نظر آتا ہے تو اچانک اس پورے منظر پر درج ذیل تبصرہ سنا جاتا ہے۔ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔ یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں ، تم یہ حکایات ان کو سناتے رہو ، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں یہ ہے ان کی مثال۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت کے دلائل اور ایمان کے موجبات خود ان کی فطرت میں ملے ہوئے تھے اور یہ دلائل اور اشارات ان کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے اندر بھی موجود تھے ، لیکن یہ لوگ اپنے آپ کو کھینچ کر ان سے نکال لائے۔ اب یہ مسخ شدہ اجسام تھے ، جو ٹنگے تھے اور مقام انسانیت سے گر کر یہ لوگ حیوانیت تک اتر آئے تھے۔ یہ اس کتے کی طرح تھے جو کیچر میں لت پت ہو۔ ان کے پاس تو ایمان اور دلائل ہدایت کے وہ پر تھے جن کے ذریعے یہ اعلیٰ علیین تک پرواز کرسکتے تھے۔ ان کی تخلیق بھی بہترین ڈیزائن میں ہوئی تھی لیکن افسوس ہے کہ انہوں نے اعلی علیین کے مقابل میں اسفل سافلین کے مقام کو اپنے لیے پسند کیا۔ بڑی ہی بری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا اور وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔ کیا اس مثال سے کوئی اور بری مثال ہوسکتی ہے کہ کوئی خود اپنی کھال سے کھینچ کر باہر نکل آئے اور ہدایت سے بالکل ننگا ہپوجائے اور یہ کہ کوئی خواہشات نفسانیہ کی تسکین کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو۔ ان لوگوں سے زیادہ اپنے اوپر ظلم کرنے والا اور کون ہوگا کہ وہ خود اپنی ہی کھال کھینچ کر اپنی ہڈیوں اور گوشت کو ننگا کردے۔ اپنے حامی اور مددگار کو تباہ کردے اور اپنے گوشت کو شیطانی درندوں کے نوچنے کے لیے ننگا اور آسان کردے۔ اور پھر شیطان ایسے شخص کو مرتبہ انسانیت سے گرا کر مرتبہ حیوانیت تک لے آئے اور وہ اسی طرح حیران و پریشان ہوجائے جس طرح باؤلا کتا زبان لٹکائے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ قرآن کریم ہی کا حصہ ہے کہ اس نے ایسی صورت حالات کی تصویر کشی ایسے موثر الفاظ میں کی ، اس طرح کہ اس کا اعجاز بالکل واضح ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا ایسے لوگوں کی کوئی مخصوص مثال بھی اس وقت تھی یا ایک عمومی بات کو یہاں مثال کی شکل میں لایا گیا ہے ؟ کیا ان مثالوں کے مصداق کے بارے میں ذخیرہ روایات میں کچھ ہے ؟ بعض روایات میں آتا ہے کہ فلسطین میں ایک صالح شخص تھا۔ یہ اس سے قبل گزرا ہے جب بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تھے۔ اس شخص کے انحراف اور اس کی اخلاقی بربادی کا ایک طویل قصہ بیان کیا جاتا ہے۔ بہرحال وہ شخص بھی اس مثال کا مصداق بن سکتا ہے لیکن چونکہ یہ اسرائیلی روایات اسلامی تفاسیر میں داخل ہوگئی ہیں لہذا اس قصے کی تمام تفصیلات کو درست تسلیم کرنا ضروری نہیں ہے۔ پھر ان اسرائیلی روایات کے اندر چونکہ بےحد اختلاف و اضطراب ہے ، اس لیے بھی ان کے بارے میں محتاط رویہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص بلعام ابن باعور نامی تھا ، یہ شخص فلسطین کے جابر حکمرانوں میں سے تھا۔ اور بعض نے کہا ہے کہ یہ عربوں کا امیہ ابن الصلت تھا۔ بعض روایات میں ابو عامر فاسق کو اس کا مصداق قرار دیا گیا ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ شخص حضرت موسیٰ کے معاصر تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ یہ حضرت یوشع ابن نون کے دور میں تھا۔ اور حضرت یوشع ابن نون نے تیہ میں بنی اسرائیل کی چالیس سالہ سرگردانی کے بعد ان جابر حکمرانوں کے ساتھ معرکہ آرائی کی تھی۔ جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ان جباروں کے ساتھ معرکہ آرائی کرنے سے بنی اسرائیل نے معذرت کردی تھی۔ انہوں نے حضرت موسیٰ سے کہہ دیا تھا کہ جاؤ تم اور تمہارے رب دونوں لڑو ، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص کو جو آیات دی گئی تھیں وہ اسم اعظم تھا۔ جس کے ساتھ ہر دعا مستجاب ہوتی ہے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اس شخص کو کتاب الہی دی گئی تھی۔ یہ نبی تھا اور اس کے بعد اس کے بارے میں بڑی اختلافی بحثیں ہوئیں۔ یہاں ظلال القرآن میں اپنے منہاج کے مطابق ہم ان تفصیلات میں نہیں جاتے۔ اس لیے کہ قرآن کریم نے نص میں ان تفصیلات کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا ، نہ حضور ﷺ سے اس سلسلے میں کوئی مرفوع حدیث منقول ہے۔ بہرحال قرآن کریم نے جس واقعی صورت حال کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اس دنیا میں انسانی تاریخ میں بار بار دہرائی جاتی ہے کہ ایک شخص کے سامنے آیات دلائل پیش ہوئے ہیں۔ وہ ان کی حقانیت کو جانتے ہیں لیکن ان کو تسلیم کرکے اپنی زندگی کو ان کے مطابق درست نہیں کرتے۔ اکثر لوگ جنہیں دینی علم دیا جاتا ہے لیکن وہ خود اپنے علم سے ہدایت نہیں لیتے بلکہ وہ اپنے علم کو تحریف کتاب کا ذریعہ بناتے ہیں اور یہ لوگ ذاتی خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ان لوگوں کی خواہشات اور ان لوگوں کے اوپر تسلط حاصل کرنے والوں کی خواہشات یعنی اس عارضی دنیا کے مفادات کے ہاتھ ہی میں ان کی نکیل ہوتی ہے۔ ہم نے کئی علمائے دین کو دیکھا ہے کہ وہ ایک حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں لیکن وہ لائن پر نہیں آتے۔ ادھر ادھر ہوجاتے ہیں بلکہ اپنی زبان سے ایسی باتوں کا اعلان کرتے ہیں جنہیں خود بھی سچا نہیں سمجھتے۔ ایسے لوگ اپنے علم کو تحریف و انحراف کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے فتاوی اہل اقتدار کے حق میں استعمال کرتے ہیں اور اس طرح وہ ایسے اہل اقتدار کے اقتدار کو اور مضبوط کرتے ہیں جو اس زمین پر اللہ کے اقتدار کے لیے چیلنج ہوتے ہیں۔ ہم نے ایسے لوگ دیکھے ہیں جو جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ قانون صرف اللہ کا حق ہے ، اور جو شخص قانون سازی کا حق اپنے لیے مخصوص کرے وہ در اصل مدعی الوہیت ہے اور جو شخص بھی خدائی کا دعوی کرے وہ کافر ہے۔ جو شخص کسی انسان کے لیے اس حق کو تسلیم وہ بھی کافر ہے۔ اس کے باوجود اور اس بات کو جانتے ہوئے وہ ان لوگوں سے کوئی سروکار نہیں رکھتا جو اپنے آپ کو قانون ساز کہتے ہیں اور الوہیت اور خدائی کے مدعی ہیں اور جن کے بارے میں خود اس عالم دین نے فتوی دے رکھا ہے کہ وہ کافر ہیں بلکہ یہ عالم دین ایسے لوگوں کو مسلمان بھی کہتا ہے اور جو وہ کرتے ہیں اس کو اسلام کہتا ہے اور اس کے بعد وہ ایک سال جو کچھ لکھتا ہے تو سود کو حرام قرار دیتا ہے اور دوسرے سال اپنی تحریروں میں سود کو حرام قرار دیتا ہے۔ ان میں سے بعض لوگ فسق و فجور کو ایک مبارک امر قرار دیتے ہیں۔ فسق و فجور کو اسلام نام اور عنوان دیتے ہیں اور اسے اسلام لباس میں لاتے ہیں۔ اب یہ شخص کیا اس تبصرے کا مصداق نہ ہوگا کہ جسے اللہ نے ایسی آیات دیں اور علم دیا اور وہ اللہ کے دلائل و علم سے نکل بھاگا ، شیطان نے اسی پر گرفت مضبوط کرلی اور یہ شخص گمراہیوں میں سے ہوگیا۔ قرآن کریم جس شخص کے بارے میں خبر دے رہا وہ شخص اسی کا مصداق ہوگا۔ اس کو اللہ نے علم دیا ، سربلندی کے ذرائع دئیے لیکن وہ بلندیوں کی طرف سفر کرنے کے بجائے پستیوں کی طرف گرتا رہا۔ ذرا قرآن کریم کے اس تبصرے اور اس خبر کو پڑھییے۔ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ الَّذِيْٓ اٰتَيْنٰهُ اٰيٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّيْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِيْنَ ۔ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ۭ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ ۔ سَاۗءَ مَثَلَۨا الْقَوْمُ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَاَنْفُسَهُمْ كَانُوْا يَظْلِمُوْنَ اور اے نبی ان کے سامنے اس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی ٓیات کا علم عطا کیا تھا مگر وہ ان کی پابندے سے نکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے یچھے پڑگیا۔ یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔ اگر ہم چاہتے تو اسے ان آیتوں کے ذریعے سے بلندی عطا کرتے ، مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا ، لہذا اس کی حالت کتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھڑو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔ جس شخص کی خبر قرآن دے رہا ہے یہی ہمارے دور کے ایسے لوگوں پر صادق آتی ہے۔ یہ مثال ہر اس شخص پر فٹ ہے جسے اللہ نے علم دیا نکال کے لیکن وہ اس علم کے تقاضوں پر نہ چلا۔ اس نے ایمان کی راہ اختیار نہ کی ، اللہ کی نعمتوں سے کھینچ کر نکل گیا۔ اور شیطان کا تابع مہمل ہوگیا۔ اب وہ باؤلے کتے کی طرح زبان لٹکائے پھرتا رہے گا۔ جس طرح قرآن ہمارے احساس میں ڈالتا ہے۔ یہ شخص اغراض دنیا کے پیچھے زبان لٹکائے بھاگ رہا ہے اور اغراض دنیا ہی کی وجہ سے یہ انعامات الہیہ سے اپنے آپ کو کھینچ کر باہر لے آیا ہے ، اور یہ کتے کی طرح زبان لٹکائے ہوئے ہونا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایسا شخص اغراض دنیا کی جانب سے کبھی بھی مطمئن نہ ہوگا۔ جس شخص کی نکیل اغراض دنیا کے ہاتھ میں چلی جائے وہ ان سے چھوٹ نہیں سکتا ، چاہے تم انہیں ہزار وعظ و نصیحت کرو۔ وہ اس راہ پر زبان لٹکائے سرکاری دفاتر کا طواف کرے گا اور کرتا رہے گا۔ انسانی زندگی کا گہرا مطالعہ کیجئے۔ اس مثال کا مصداق تو ہر جگہ اور ہر زمانے میں موجود ہے۔ بلکہ زمانے گزر جاتے ہیں اور ایسے لوگ ہر طرف نظر آتے ہیں۔ ہر طرف سے بڑھے چلے آتے ہیں اور جن لوگوں کو اللہ بچا لیتا ہے وہ قدرت نادرہ ہوتے ہیں۔ جو آیات الہیہ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوتے ہیں ، جو زمین کی پستیوں کی طرف آنے کے بجائے بلندیوں کی طرف اٹھتے ہیں ، جو خواہشات نفسانیہ کو دباتے ہیں جنہیں شیطان ذلیل نہیں کرسکتا۔ یہ لوگ اپنی ناک میں ای کسی نکیل نہیں ڈالتے۔ اس سمت نہیں جاتے جس کا سرا اہل اقتدار کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ غرض یہ ایک ایسی تمثیل ہے جس کے مصداق کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ آپ ایسے لوگوں کو بہت دور بنی اسرائیل کی تاریخ میں تلاش کرتے ہیں۔ حضور کو حکم دیا گیا کہ آپ اپنی قوم پر یہ آیات پڑھیں اور انہیں خبردار کریں کہ وہ ان آیات الہیہ سے اپنے آپ کو کھینچ کر باہر نہ کردیں۔ لہذا حضور کے بعد ہمیں ان آیات کی تلاوت کرکے لوگوں کو سمجھانا چاہیے کہ وہ ان آیات کی مضبوط پناہ گاہ سے اپنے آپ کو باہر نہ نکالیں۔ اور ان کو اللہ کے علوم میں سے جو حصہ ملا ہے ، اسے ترک کرکے وہ اس انجام تک اپنے آپ کو نہ پہنچائیں۔ نیز اپنے آپ کو اس صورت حال میں مبتلا نہ کریں کہ انسان کتوں کی طرح زبان لٹکائے خواہشات دنیا کے پیچھے بھاگتا پھرے ، جن کی کوئی انتہا نہیں ہے اور اپنے آپ پر وہ ظلم نہ کریں جو ایک دشمن اپنے دشمن پر بھی نہیں کرتا کیونکہ اپنے آپ کو ایسی شکل میں ڈال کر وہ صرف اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں۔ ہم نے اپنے دور میں ایسے اہل علم کو دیکھا ہے کہ جو اپنے اوپر اس قسم کے ظلم کرنے میں بہت ہی حریص ہیں۔ ایسے لوگ ہیں جو جہنم کے ٹھکانے کے حصول کے لیے اپنی پوری قوت صرف کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ صبح سے شام تک اپنے لیے جہنم کے ٹھکانے کو مضبوط کر رہے ہیں اور رات دن زبان لٹکائے اس کے پیچھے پھر رہے ہیں نہ ان پر نصیحت کا اثر ہوتا ہے اور نہ کسی کی دھتکار کا۔ ایسی ہی حالت میں یہ لوگ آخر کار اس دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں۔ اے اللہ ہمیں بچائیو ! ہمارے قدم مضبوط کیجیو۔ اور ہم پر صبر کی بارش کیجیو اور ہمیں اہل اسلام کے ساتھ موت اور خیر نصیب کیجیے۔ ۔۔۔۔ قرآن کریم نے ایک شخص کے بارے جو خبر ایک تمثیل کی صورت میں دی ہے ہمیں چاہے کہ ہم اس پر قدرے طویل اور دوبارہ غور کریں۔ یہ ایک ایسے صاحب علم کی تمثیل ہے ، جس پر خواہشات نفس اور لذات دنیاوی اس قدر بوجھ ڈال دیں کہ وہ اس بوجھ کو نہ سہار سکے اور زمین پر گر جائے اور ان شہوات کی جاذبیت کی وجہ سے وہ براہ راست ایک قدم بھی آگے نہ بڑھ سکے۔ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے پڑجائے اور شیطان اس کے پیچھے پڑجائے اور اسے اپنی گرفت میں لے کر اپنی مرضی سے چلانا شروع کردے اور اس کے منہ میں خواہشات نفسانیہ کی لگام پڑی ہو۔ چونکہ صرف علم انسان کو نجات نہیں دے سکتا۔ اسی لیے قرآنی منہاج تربیت نفس انسانی کی تربیت اور اسلامی زندگی کی ترویج کے لیے ایک خاص منہاج وضع کرتا ہے۔ اسلام صرف علم پیش نہیں کرتا بلکہ علم کو ایک زندہ اور متحرک شکل دیتا ہے تاکہ اسلامی مقاصد ذہنی اور فکری دنیا میں بھی سامنے آئیں اور عملی زندگی میں بھی سامنے آئیں۔ اسلامی منہاج یہ نہیں ہے کہ اسلامی عقائد کو محض نظریات کی شکل میں پیش کرے۔ محض تحقیق و توفیق کے لیے۔ اور انسان کے فکر و نظر اور اس کے عمل اور تگ و دو پر اس کا کوئی اثر نہ ہو۔ اس قسم کی مجرد تحقیقات محض جامہ علم ہوتی ہیں ، ایسا علم انسان کو اپنی خواہشات نفسانیہ کی زد سے نہیں بچا سکتا۔ نہ دنیا میں اسے سربلند کرسکتا ہے ، خصوصا سفلی جذبات و خواہشات سے۔ ایسا علم شیطان کا مقابلہ نہیں کرسکتا بلکہ یہ شیطان کے لیے راہ ہموار کرتا ہے اور اس کی وجہ سے انسان شیطان کی غلامی اختیار کرلیتا ہے۔ اسلام دین کے بارے میں محض تحقیقات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ مثلاً اسلامی نظام کے بارے میں " تحقیقات " اسلامی فقہ کے بارے میں " تحقیقات " اسلام کے اقتصادی نظام کے بارے میں " تحقیقات " اسلام کے سائنسی نظریات کے بارے میں تحقیقات ، علوم نفس کے بارے میں اسلامی تحقیقات وغیرہ وغیرہ۔ اسلام عقائد اسلامی کو ایک متحرک ، ترقی پذیر ، زندہ اور بیدار اور غالب اور سربلند ہونے والے عقائد کی شکل میں لاتا ہے۔ عقل و نظریہ پر چھانے کے بعد یہ عقائد فوراً ایک مسلمان کو اسلام مقاصد پورے کرنے کے لیے متحرک کردیتے ہیں۔ جب کسی مردہ ضمیر آدمی کے قلب و نظر میں بھی یہ عقائد جاگزیں ہوتے ہیں تو اسے زندہ کردیتے ہیں اور یہ عقائد قبول کرنے والا اپنے آپ کو جھاڑ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور اسلام کی سربلندی کے لیے جدوجہد شروع کردیتا ہے۔ اس کی فطرت فوراً پہلے فطری عہد کی طرف لوٹ جاتی ہے اور یہ شخص بلند مقاصد کے لیے متحرک ہوجاتا ہے اور اسے دنیا کی آلودگیاں اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکتیں۔ یہ کبھی فسق وفجور کے کیچڑ میں لت پت نہیں ہوتا۔ قرآن اسلام کو ایک منہاج فکر و تدبر کی صورت میں پیش کرتا ہے اور یہ دنیا کے تمام مناہج سے ممتاز نظر آتا ہے۔ یہ آیا ہی اس لیے ہے کہ دنیا کے بوجھ اتار دے اور انہیں شیطان کی گمراہیوں سے نجات دے۔ قرآن اسلام کو حق و باطل کے لیے ایک معیار اور میزان کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس معیار کے ذریعہ لوگوں کے ذرائع ادراک اور ان کی عقلوں کو پرکھا جاتا ہے ، لوگوں کی حرکات ، ان کے رجحانات اور ان کے تصورات کو اس کے مطابق جانچا جاتا ہے۔ اسلام سے قبل دنیا میں کوئی ایسا معیار نہ تھا کہ اسے کام میں لایا جاتا اور یہ میزان اور معیار جسے رد کردے وہ ردی ہوگا اسے پھینک دیا جائے گا۔ اسلام انسانیت کو ترقی دے کر ایک نہایت ہی بلند مقام تک لے جانا چاہتا ہے لیکن شاہراہ ترقی پر اسلام اسے نہایت ہی دھیمی رفتار سے لے جانا چاہتا ہے۔ یہ کام وہ اپنے منصوبے اور اپنے اندازوں کے مطابق کرتا ہے ، ترقی کی اس شاہراہ پر چلنے کے لیے اسلام لوگوں کو اپنا ایک مفصل نظام زندگی دیتا ہے۔ ان کو ایک مفصل نظام قانون دیتا ہے ، ان کو ایک مستقل نظام اقتصاد دیتا ہے ، ان کے لیے سوسائٹی کے اصول اور سیاست کے اصول منضبط کرتا ہے ، اس کے بعد وہ لوگوں کو وضع اصول کے بعد آزادی دیتا ہے کہ ان اصول کی روشنی میں وہ اپنے لیے تفصیلی نظام وضع کریں۔ یہ اس دنیا میں رات و دن ترقی کرتے ہیں لیکن ان کے دلوں میں حرارت ایمان موجود رہتی ہے۔ وہ ایک حقیقی نظام قانون وضع کرتے ہیں اور اس سے وہ اپنی تمام ضروریات کا حل نکالتے ہیں۔ اس طرح سلامی نظام حیات ، اسلامی زندگی کی شکل میں نفس انسان کی قیادت کرتا ہے ، رہی وہ تحقیقات جو محض نظری قیل و قال تک محدود ہوتی ہیں تو ان سے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ نہ تو شیطان کے مقابلے میں ایک فرد کو فائدہ دے سکتا ہے اور نہ اسلامی خطوط پر انسانی زندگی کو عملاً منظم کرسکتا ہے ، نہ انسانی زندگی کو ترقی کی راہ پر ڈال سکتا ہے اس منظر میں جو مثال دی گئی ہے ، اب اس پر یہاں ایک مختصر تبصرہ کیا جاتا ہے (ملاحظہ ہو اگلی آیت کی تفسیر)

الأعراف 7:178

اس شخص کی مثال جسے اللہ نے اپنی ہدایات دیں مگر وہ ان سے نکل گیا ، تبصرہ یہ ہے کہ ہدایت در اصل وہی ہوتی ہے جو من جانب اللہ ہو ، جسے اللہ ہدایت دینا چاہے وہی ہدایت پر ہے اور جسے اللہ ہدایت دینا چاہے وہی ہدایت پر ہے اور جسے اللہ گمراہ کردے وہ ہمیشہ کے لیے خسارے میں پڑجاتا ہے۔ اب وہ کسی معاملے میں بھی نفع نہیں کما سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ صرف اس شخص کو ہدایت دیتا ہے جو ہدایت کے لیے جدوجہد کرتا ہے۔ دوسری سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے والذین جاھدوا فینا لنہدینہم سبلنا۔ جو لوگ ہمارے بارے میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستوں کی طرف راہنمائی کریں گے۔ اور دوسری جگہ ہے۔ ان اللہ لایغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسہم۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کے بدلنے کی سعی نہ کرے اور دوسری جگہ ہے۔ ونفس و ما سواہا فالہمہا فجورہا وتقواھا قد افلح من زکاھا و قد خاب من دساھا۔ اور وہ نفس کی اور یہ جو اسے برابر کیا اور اسے برائی اور خدا خوفی سے آگاہ کیا۔ وہ کامیاب ہوا جس نے اس نفس کو پاک کیا اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے ناپاک کیا "۔ جو شخص دلائل ہدایت کو ترک کرکے اپنے لیے راہ ضلالت کو پسند کرلیتا ہے۔ اللہ بھی اسے گمراہ کردیتا ہے کیونکہ ایسا شخص اپنے دل ، اپنی آنکھوں اور اپنے کانوں کو ہدایت کے لیے بند کردیتا ہے اور اسی سیاق وسباق میں درج ذیل آیت اسی مفہوم کو ظاہر کر رہی ہے۔ اور دوسری جگہ فرمایا گیا فی قلوبھم مرض فزادھم اللہ مرضا۔ ان کے دل میں بیماری ہے ، پس اللہ نے بھی ان کی بیماری کو زیادہ کردیا "۔ اور ایک دوسری آیت میں ہے۔ ان الذین کفروا و ظلموا لم یکن اللہ لیغفرلہم ولا لیھدیہم طریقا الا طریق جھنم خالدین فیہا " وہ لوگ جنہوں نے کفر کو اختیار کیا اور اپنی جانوں پر ظلم کیا ، اللہ بھی ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں صحیح راستے کی ہدایت دیتا ہے ، ما سوائے جہنم کے راستے کے جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے "۔ ان تمام آیات پر غور وفکر کرنے کے بعد جن میں ہدایت و ضلالت کا ذکر ہے اور ان کے مفہوم کے اندر تطبیق اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے بعد صرف ایک ہی تشریح و تطبیق ممکن ہے جس میں دل کا اطمینان بھی ہے اور وہ ان لاہوتی جدلیات سے بھی پاک ہے جن میں اسلامی متکلمین ، یہودی مسیحی اور دوسرے مذاہب فلسفہ ہمیشہ باہم دست و گریبان رہے ہیں ، وہ یہ کہ اس کائنات میں اللہ کا نظام قضا و قدر اللہ کی مشیت کے ایک وسیع دائرے کے اندر کام کرتا ہے۔ اس دائرے کے اندر انسان کی تخلیق ہوئی ہے اور اس نظام قدر کے مطابق انسان کے اندر ہدایت اور ضلالت کی دہری صلاحیت رکھ دی گئی ہے۔ انسان کی فطرت مخلوق کے اندر ہی یہ فطری عہد رکھ دیا گیا ہے کہ وہ اللہ وحدہ کی معرفت حاصل کرے اور ربوبیت کا اعتراف کرے ، پھر انسان کو ہدایت و ضلالت کی دہری صلاحیت کے ساتھ عقل کی قوت تمیزہ بھی دی گئی ہے جو ہدایت و ضلالت کو پہچانتی ہے۔ اس پر مستزاد اسے رسولوں کے ذریعے دلائل و نشانات ہدایت بھی سمجھا دیے گئے تاکہ اگر اس کی فطرت پر موٹی تہ جم گئی ہو تو اسے صاف کرتا جائے لیکن ان تمام انتظامات کے ساتھ ساتھ اس میں قبولیت ہدایت و ضلالت کی دہری صلاحیت قائم رہتی ہے اور یہ تمام انتظام اللہ کے دائرہ مشیت ، وسیع تر دائرہ مشیت کے اندر ہے۔ اللہ کی مشیت کے اندر اللہ کا نظام قضا و قدر جاری رہتا ہے اور اپنا کام کرتا ہے لہذا اس دائرے کے اندر جو شخص ہدایت کا انتخاب کرتا ہے وہ ہدایت کی راہ لیتا ہے ، تقدیر اسے ہدایت دیتی ہے اور اگر وہ دلائل ہدایت اور اشارات فطرت کے مطابق نہیں چلتا تو یہ تقدیر اسے راہ ضلالت پر ڈال دیتی ہے۔ اس لیے کہ اس شخص نے اس عقل سے کام نہ لیا جو اسے عطا ہوئی تھی۔ اپنی آنکھوں اور کانوں سے کام نہ لیا جو اس کائنات کے اندر بکھری ہوئی نشانیوں کو دیکھنے کے لیے اسے دی گئی تھی۔ پھر ان ہدایات میں بھی موجود تھیں جو رسولوں کے ذریعے بھیجی گئیں۔ لیکن کوئی شخص جو راہ بھی اختیار کرکے وہ اللہ کے دائرہ مشیت کے اندر رہتا ہے اور جو واقعہ بھی ہوتا ہے اللہ کے نظام قضا و قدر کے اندر رہتا ہے اور اللہ کی قوت کے برعکس نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ کسی انسان کا کسی طرح کا علم بھی چلتا ہو اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہی رہتا ہے ، کیونکہ جو کچھ ہوتا ہے تقدیر کے مطابق ہوتا ہے۔ کیونکہ کائنات میں صرف اللہ کی مشیت کام کرتی ہے اور تقدیر اس دائرے کے اندر ہے۔ کیونکہ اللہ کی قوت کے سوا کوئی اور قوت نہیں ہے جو اس قسم کے نظام و واقعات کو جود میں لا سکتی ہو۔ غرض انسان اس وسیع دائرے کے اندر متحرک ہے اور اسی دائرے کے اندر وہ جو راہ چلتا رہتا ہے۔ یہ ہے وہ تصور جو ان تمام آیات کے مطالعے سے ذہن میں آتا ہے بشرطیکہ ان آیات کو ایک دوسرے کے بالمقابل بطور مناظرہ نہ پیش کیا جائے اور انہیں یکجا پڑھ کر ان کی تطبیق کرکے ان کے درمیان ہم آہنگی پیدا کی جائے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے کتاب الخصائص التصور الاسلامی) آخر میں یہ تبصرہ آتا ہے۔ من یہد اللہ فھو المہتد و من یضلل اللہ فاولئک ہم الخسرون۔ جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہ راست پر ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کردے وہی ناکام و نامراد ہوکر رہتا ہے۔ یعنی مذکورہ بالا تفسیر کے مطابق جو راہ ہدایت لیتا ہے تو اللہ اسے ہدایت دے دیتا ہے ، وہ اپنے مطلوب تک پہنچ جاتا ہے۔ اسے راستہ بھی معلوم ہوتا ہے ، وہ اسی راستے پر چلتا ہے۔ اور دنیا و آخرت میں فلاح پاتا ہے۔ اور جسے اللہ اپنی سنت کے اصولوں کے مطابق گمراہ کرتا ہے۔ وہ گمراہ ہوتا ہے۔ تو وہ ہمہ پہلو خسارے میں رہتا ہے اگرچہ وہ بظاہر مالدار نظر آئے۔ لیکن وہ خسارے میں ہوتا ہے ، کیونکہ اس کی دولت بےحقیقت ہوتی ہے ، محض ہوا ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس شخص نے اپنی ذات کو گنوا دیا ہے ، اور جس کی شخصیت گم ہوجائے ، اپنی ذات کو ہار جائے اسے کیا نفع ہوگا۔ مذکورہ بالا آیات کی تفسیر میں ہم نے جو کچھ کہا ہے۔ اس کی تائید اگلی آیت سے بھی ہوتی ہے۔

الأعراف 7:179

جن و انس میں سے اکثریت جہنم کے لیے پیدا کی گئی ہے ، اس کے لیے وہ تیار ہو رہے ہیں ، تو ان لوگوں کا یہ انجام کیوں ہے ؟ اس اعلان کے دو پہلو ہیں ، ایک یہ کہ اللہ کو پیشگی علم تھا کہ وہ یہ مخلوق جہنم کی راہ لے گی اور جہنم تک پہنچے گی۔ ان لوگوں کا عملاً جہنم کی راہ لینا اللہ کے علم سے متاثر نہیں ہوتا۔ اللہ کا علم تو ہر شے پر محیط اور ازلی ہے۔ اللہ کو پیدائش انسان اور عمل انسان سے بھی بہت پہلے معلوم تھا کہ فلاں فلاں یہ راہ لے گا۔ اللہ کا علم وقوع واقعات پر موقوف نہیں ہے بلکہ پہلے سے ذات باری کا حصہ ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ اپنے علم ازلی سے جو ذات باری کے ساتھ ہے لوگوں کو عالم واقعہ میں اس امر پر مجبور نہیں کرتا کہ وہ یہ کریں اور دوسری راہ اختیار نہ کریں بلکہ وہ خود اپنی صلاحیت اور ذات کی وجہ سے خود ایسا کرتے ہیں۔ چناچہ اللہ فرماتے ہیں " ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں ، ان کے پاس آنکھیں ہیں ، مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں ہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان کے ساتھ سنتے نہیں "۔ ان کو دل و دماغ اس لیے دئیے گئے تھے کہ وہ انہیں کھولیں اور بات کو سمجھنے کی کوشش کریں ، جبکہ پورا کائنات میں دلائل ایمان بکھیرے پڑے ہیں ، پھر رسولوں نے جو پیغام دیا اس میں بھی دلائل و معجزات موجود ہیں اگر دل بصیرت رکھتا ہو اور آنکھیں کھلی ہوں تو ہدایت پا سکتے تھے مگر انہوں نے آنکھیں بند کرلیں اور آیات الہیہ کو نہ دیکھا۔ انہوں نے کان بند کرلیے اور پیغمبروں کی دعوت کو نہ سنا۔ انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو معطل کرلیا۔ حالانکہ وہ ان کے فائدے کے لیے دی گئی تھیں۔ وہ حیوانات کی طرح غافل رہے لہذا وہ جانوروں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے ہوئے ہیں " وہ لوگ جو ان آیات و نشانات سے غفلت برتتے ہیں جو ان کے ارگرد کائنات میں بکھری پڑی ہیں ، جو لوگ اپنی آنکھوں سے ایسے واقعات اور عبرت آموز حادثات دیکھتے ہیں لیکن ان میں ان کو اللہ کا ہاتھ نظر نہیں آتا ، یہ لوگ بیشک جانوروں کی طرح ہیں بلکہ یہ لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ اس لیے کہ مویشیوں کے بھی کچھ فطری وظائف ہوتے ہیں اور ہر جانور انہیں پورا کرتا ہے۔ رہے جن و انس تو انہیں ایک سوچنے والا دل دیا گیا اور دیکھنے والی آنکھ دی گئی ، سننے والے کان دئیے گئے جب انہوں نے دلوں سے نہ سوچا ، آنکھوں سے نہ دیکھا ، اور کانوں سے نہ سنا اور اس پوری کائنات کی رفتار پر سے غافل ہوکر گزر گئے اور اس کے مقاصد و معانی نہ سمجھے ، ان کی آنکھوں نے ان اشارات کو نہ دیکھا جو یہاں ہیں ، ان کی سماعت پر اس پوری کائنات کی چیخ و پکار نے بھی اثر نہ کیا تو یقینا یہ لوگ اور اس قسم کے دوسرے لوگ جانوروں سے بھی بدتر ٹھہرے جو کم از کم اپنے فطری وظائف تو سر انجام دیتے ہیں۔ اور یہ لوگ جہنم کے لیے پیدا ہوئے میں اور اللہ کی مشیت کے وسیع دائرے میں اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطالبہ پر جہنم کے مستحق ٹھہرے ہیں۔ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ یہ راہ اختیار کریں بلکہ اللہ کو اس کے علم قدیم کے ذریعے اس کا علم تھا کہ وہ ایسا کریں گے اور بھریں گے اور جہنم کا ایندھن ہوں گے۔

الأعراف 7:180

توحید کے فطری اور کائناتی میثاق کے منظر کو پیش کرنے کے بعد اور اس میثاق سے انحراف کرنے والو کی تمثیل کے بعد جو ان لوگوں کے بارے میں ہے جنہیں آیات الہیہ دی جاتی ہیں اور وہ ان سے نکل بھاگتے ہیں۔ اب یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جو لوگ محرف اور گمراہ ہیں اور جو دعوت اسلامی کا مقابلہ کرتے ہوئے شرک اور کفر کے نمائندے ہیں ، جو اللہ کے ناموں کو بگاڑ کر غلط استعمال کرتے ہیں اور ان سے اپنے بتوں کو موسوم کرتے ہیں۔ وَلِلّٰهِ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا ۠ وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْٓ اَسْمَاۗىِٕهٖ ۭ سَيُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں ، اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے الحاد کے معنی یہ ہیں کہ کوئی راستی سے منحرف ہوجائے۔ جزیرۃ العرب میں منحرفین مشرکین نے اللہ کے اموں میں انحراف اور تبدیلی کردی تھی اور اللہ کے نام انہوں نے قدرے تغیر کے ساتھ اپنے الہوں اور بتوں کے رکھ دئیے تھے ۔ اللہ کو اللات کرکے بت کا نام رکھ دیا۔ العزیز کو العزی بنا کر ایک دوسرے بت کا نام رکھ دیا۔ یہاں بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نام کسی اور کے لیے استعمال نہ کرو اور اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ ان ناموں کے ساتھ صرف اللہ کو پکاریں اور الفاظ میں بھی کوئی تحریف اور تبدیلی نہ کریں اور نہ امالہ کریں۔ اور اگر منحرفین ان ناموں کو غلطہ استعمال کرتے ہیں تو ان کے ہم محفل نہ ہوں۔ وہ جانیں اور ان کا خدا جانے۔ عنقریب انہوں نے اللہ کے سامنے جانا ہے۔ ان کے ساتھ اللہ حساب و کتاب کرلے گا۔ یہ حکم کہ جو لوگ اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں ان سے قطع تعلق کرلو صرف اس تاریخی صورت حال تک ہی محدود نہیں جس میں وہ لات اور عزی کے لیے اللہ العزیز کو استعمال کرتے تھے ، یہ اسماء الہی کے تحریف لفظی تک محدود ہے۔ یہ کہ اس کا اطلاق ہر قسم کی لفظی اور معنوی تحریف پر بدستور ہوتا ہے۔ چاہے وہ تحریف کریں یا انحراف کریں۔ وہ تصور الہ میں انحراف کریں مثلا اللہ کے لیے اولاد کے قائل ہوں یا یہ معنوی انحراف کریں کہ اللہ کی مشیت قوانین فطرت میں مقید ہے یا وہ اللہ کے اعمال اور اعمال کی کیفیات کو انسانوں کے اعمال کی کیفیت سے مشابہ قرار دیتے ہیں۔ یا وہ اللہ کو زمین و آسمان اور آخرت کا الہ تو قرار دیتے ہیں لیکن ان کے نزدیک زمین پر اللہ کی سیاسی اور قانونی حکمرانی نہیں ہے۔ اللہ کا یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قانون سازی کرے۔ لوگ بذات خود یہ حق رکھتے ہیں کہ اپنے لیے قانون سازی کریں اور یہ قانون سازی وہ اپنی عقل ، تجربے اور مفادات کے مطابق کریں۔ لہذا سیاسی اعتبار سے ایسے لوگوں کے نزدیک انسان خود اپنے خدا اور معبود ہیں۔ یا بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں کے خدا اور الہ ہیں۔ یہ تمام افکار اللہ کی ذات وصفات میں الحاد کے ضمن میں آتے ہیں۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ان امور سے اپنے آپ کو بچائیں اور دور رکھیں۔ اور جو لوگ اس قسم کا الحاد کرتے ہیں ان کے لیے یہ وعید ہے کہ انہیں سخت سزا دی جائے گی بوجہ اس الحاد کے۔

الأعراف 7:181

تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ ایسا ہے جو ضد کی وجہ سے حق کا انکار کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ پہلا گروہ تو وہ ہے کہ ان کا وجود اس سرزمین پر مستحکم ہے۔ یہ لوگ جمے ہوئے ہیں اور یہ حق کے نگہبان ہیں۔ اور جو لوگ انحراف کرتے ہیں اور جو ٹیرھی راہوں پر چلتے ہیں یہ ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور جب دوسرے لوگ حق کی تکذیب کرتے ہیں اور حق کو چھوڑ دیتے یہ لوگ حق کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔ رہے فریق مخالف تو ان کا انجام خوفناک ہوگا اور ان کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر مستحکم ہوگی۔ وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ یہ جو حاملین حق ہیں اگر انسانیت میں یہ نہ ہوں تو انسانیت عزت اور شرف کی مستحق ہی نہ ہو ، یہ گروہ جسے قرآن کریم اسلامی اصطلاح کے مطابق امت کہتا ہے اس دنیا میں ہر وقت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ یہ وہ جماعت ہوتی ہے جس کا ایک ہی نظریہ ہوتا ہے ، جو اس نظریہ اور عقیدے پر باہم منظم اور مربوط ہوتی ہے اور اس کی قیادت بھی ایک ہی ہوتی ہے۔ یہی امت ہے جو حق پر جمی ہوئی ہے۔ جو حق پر عمل پیرا ہوتی ہے ، اور یہ اس سچائی کی نگہبان ہوتی ہے۔ اور یہ اس نظریہ کی شہادت لوگوں پر دیتی ہے اور گمراہیوں کے خلاف اللہ اس امت کے ذریعے شہادت اور حجت قائم کرتے ہیں۔ اور ذرا اس کی صفت پر غور کریں۔ یہدون بالحق و بہ یعدلون۔ یہ گروہ حق سے ہدایت لیتا ہے اور حق کی ہدایت دیتا ہے اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کرہ ارض پر سے اس امت کا وجد ختم نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ اس کے افراد کی تعداد کم ہوجائے۔ یہ لوگ سچائی کی ہدایت دیتے اور اس کے پیرو میں ہیں اور یہ لوگ کسی بھی وقوت اس دعوت سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ اس حق پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو اس طرف بلاتے ہیں۔ وہ اس حق کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ ان کے اردگرد ایسی قیادت موجود ہوتی ہے اور اس قیادت نے حق کو ترک کردیا ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے اس فطری عہد کو بھی بھلا دیا ہوتا ہے جو انہوں نے اللہ سے کر رکھا تھا۔ غرض اس گروہ کا عمل مثبت ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے آپ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے حامل ہوتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اور وہ اس سچائی کے ساتھ قیادت کرتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہاں تک ہی ختم نہیں ہوجاتی کہ بس وہ حق کی دعوت دے دیں بلکہ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں میں اس حق کو قائم کریں۔ اس کے مطابق فیصلے کریں۔ دنیا میں نظام عدل قائم کریں اور ظاہر ہے کہ نظام عدل اس حق کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ حق اس لیے نہیں آیا کہ اسے صرف پڑھایا جائے اور ایک علمی مشغلہ ہو ، یہ حق اس لیے بھی نہیں آیا کہ یہ محض وعظ اور نصیحت ہو ، بلکہ یہ اس لیے آیا ہے کہ حق لوگوں کے درمیان فیصلے کردے۔ پہلے وہ لوگوں کے اعتقادی تصورات اور نظریات کے فیصلے کرے کہ کیا عقیدہ درست ہے اور کیا نظریہ غلط ہے۔ چناچہ حق سب سے پہلے تطہیر افکار کا کام کرتا ہے اور لوگوں کی فکری اساس کو درست کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ حق لوگوں کا ربط اللہ سے قائم کرکے اللہ کے سامنے جو مراسم عبودیت ادا کیے جاتے ہیں ان کو درست کرتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ حق لوگوں کا ربط اللہ سے قائم کرکے اللہ کے سامنے جو مراسم عبودیت ادا کیے جاتے ہیں ان کو درست کرتا ہے۔ اور اس کے بعد لوگوں کی اجتماعی زندگی کو اس حق پر استوار کرکے اسے ایک نظام زندگی کی شکل میں قائم کرتا ہے۔ لوگوں کی اجتماعی زندگی اور ان کی سوسائٹی کو حق کے اصولوں پر قائم کرکے ، اس اجتماعی نظام میں حق کے قوانین اور شریعت کو نافذ کرتا ہے۔ چناچہ لوگوں کے اخلاق و عادات ، ان کے رسم و رواج ، ان کے طرز عمل اور سلوک کو سچائی پر ، منظم اور استوار کیا جاتا ہے یہ سب کچھ درست تصورات اور عقائد کی اساس پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے طرز فکر ، ان کے علوام اور ان کی ثقافتی سرگرمیوں کو بھی اس نظام حق پر ترقی دی جاتی ہے۔ یہ ہے وہ ڈیوٹی جو اس امت کو دی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ امت ممتاز اور متعارف ہے اور یہ اس امت کی شناخت ہے۔ غرض اس دین کا مزاح بالکل واضح ہے اور اس کے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی یا التباس ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ٹھوس مزاج ہے اور یہ بدل ہی نہیں سکتا ، جو لوگ دین میں الحد کی مساعی کرنا چاہتے ہیں وہ بسیار سعی نامسعود کے ساتھ دین کے اس سخت مزاج کو بدل نہیں سکتے۔ یہ لوگ اس سلسلے میں ان تھک مساعی کرتے ہیں ، مسلسل اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ، یہ لوگ ہر قسم کے وسائل و ذرائع کام میں لا کر اس دین کے نقطہ نظر کو بدلنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں تمام تجربات سے استفادہ کرتے ہیں ، اس پوری دنیا میں جو لوگ احیائے اسلام کا کام کرتے ہیں اور جو اس سچائی کو سینے سے لگا کر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ان کے خلاف اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہر حربے کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کو مٹانے کی سعی کرتے ہیں اور انہوں نے تمام اسلامی علاقوں میں اپنے ایجنٹوں کی تنظیمیں اور حکومتیں قائم کر رکھی ہیں ، پھر یہ لوگ ان علاقوں پر دین فروش علماء کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یہ علماء دین اسلام کی تحریف کا کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ حرام کو حلال کرتے ہیں اور حلال کو حرام کرتے ہیں ، اللہ کی شریعت کو نرم کرتے ہیں اور ہر قسم کے فسق و فجور کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، اور فحاشی کو رواج دیتے ہیں ، اور فحاشی اور فسق و فجور کو اسلامی عنوانات دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جو جدید مادی ترقیات سے متاثر ہوں ، اور جدید نظریات سے مرعوب ہوں اور انہیں اپنے جھولوں میں بٹھا کر ورغلاتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اسلام کو اپنی ٹھوس اساس سے ہٹا کر جدید نظریات کا رنگ دیتے ہیں یوں اسلام کے اندر جدید نظریات ، تہذیب جدید کے شعارات اور جدید رسوم اور قوانین اسلام کے نام سے داخل کرتے ہیں۔ یہ لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اسلامی تہذیب ایک تاریخی خادثہ تھا اور اسے کسی صورت میں بھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔ نہ اس حادثے کا اعادہ ممکن ہے۔ یہ لوگ اسلام کی عظمت رفتہ کو رفت و گزشت سے تعبیر کرکے مسلمانوں کے جذبات کو سن کرنا چاہتے ہیں اور پھر ان کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ آج اسلام اگر زندہ رہنا چاہتا ہے تو وہ ایک عقیدے اور مراسم عبودیت تک محدود ہو کر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کا سیاسی اور قانونی نظام نہیں چل سکتا۔ اسلام کے لیے عظمت رفتہ کے قصے کہانیاں ہی بہتر اور کافی و شافی ہیں۔ اگر یہ نہیں تو پھر یہ ممکن ہے کہ اسلام کے اندر اس قدر تغیرات پیدا کیے جائیں کہ وہ جدید دور کے حالات کے تابع ہوجائے اور وہ اپنے آپ کو لوگوں کی خواہشات اور ان کی واقعی صورت حالات کے مطابق ڈھال لے ، اور عالم اسلام میں یہ لوگ خود جو لادینی نظریات رائج کر رہے ہیں ان کو وہ اسلام قرار دینے کے درپے ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی ایسی تعبیرات کرتے ہیں جو قدیم قرآن میں متعارف نہ تھیں بلکہ خدا اور جبریل اور مصطفیٰ کو بھی ان کا پتہ نہ تھا۔ یہ لوگ جس طرح قرآن کو بدلنا چاہتے ہیں اسی طرح اسلامی معاشروں کو بھی بدلنا چاہتے ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ دین اسلام کو ایسے افراد کار ہی نہ ملیں جو اس کے کام کے ہوں۔ عالم اسلام میں یہ لوگ ایسا معاشرہ وجود میں لانا چاہتے ہیں جو جنسی بےراہ روی گندے کے تالاب میں غرق ہو اور لوگ فحاشی اور بدکاری اور بد اخلاقی میں غرق ہوں اور جنہیں دنیاوی عیش و مستی کے سوا کسی اور غرض سے سروکار نہ ہو اور وہ دنیا میں اس قدر غرق ہوں کہ انہیں حق و صلاحیت اور اصل قرآنی ہدایات سننے کے مواقع ہی نہ ہوں ، اس طرح کہ غلطی سے بھی ان کے کانوں تک اسلامی ہدایات نہ پہنچ سکیں۔ یہ وہ ہمہ گیر معرکہ ہے جو اس وقت امت کے خلاف اور اس دین کے خلاف چار دانگ عالم میں برپا ہے ، وہ امت جو اس دین سے ہدایت لیتی ہے اور اس کی داعی ہے اور جو اس کا نظام عدل دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ وہ ہمہ گیر معرکہ آرائی ہے جس میں دشمنان اسلام ہر قسم کا ہتھیار کام میں لا رہے ہیں۔ بےحد و حساب وسائل اس میں جھونک رہے ہیں۔ اس لیے دشمن اپنی تمام تر قوتوں کو منظر کرکے انہیں وسائل دے کر اور نشر و اشاعت کے تمام ذرائع اور جدید سے جدید ذرائع ابلاغ دے کر میدان میں لایا ہے۔ ان قوتوں کی پشت پر عالمی تنظیمیں اور ادارے ہیں ، اور یہ عالمی کفالت اور ضمانت نہ ہو تو دشمنان اسلام کے یہ ایجنٹ اور یہ ادارے اور حکومتیں اس امت کے داعیوں کے سامنے ایک دن بھی ٹک نہ سکیں۔ لیکن اس ہمہ گیر معرکہ آرائی اور وسیع و عریض مہمات کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین نہایت ہی سخت جان دین ہے۔ یہ امت جو اس دین کے لیے کوشاں ہے ، نہایت ہی سخت جان ہے۔ اپنی قلت تعداد اور اپنے قلت وسائل کے باوجود اور اپنی کمزوریوں کے باوجود وہ اس وحشیانہ حملے کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے۔ ذرا دوبارہ غور کیجیے۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ یہ لوگ اس قوت ، اس الہی قوت کو خاطر میں نہیں لاتے ، اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مذکورہ بالا مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ، حالانکہ امت مسلمہ نے اسلام کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے وہ اسلام کی قوت پر مجتمع ہے۔ یہ وہ قوت ہے کہ آیات الہیہ کی تکذیب کرنے والے اس کو سمجھ نہیں پا رہے ۔ وہ لوگ اس حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے کہ اللہ نے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے ، اور یہ ڈھیل ایک مقررہ وقت تک ہے ، اور ان کو یہ یقین ہی نہیں ہے کہ اللہ کی تدبیر نہایت ہی مستحکم ہوتی ہے۔ ان دشمنان اسلام نے ایک دوسرے کے ساتھ دوستیاں گانٹھ رکھی ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ان کا راج ہے۔ لیکن یہ لوگ خدا کی قوت کبری کو دیکھ نہیں پا رہے۔ غرض جھٹلانے والوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اللہ ان کو ڈھیل دئیے رکھتا ہے اور سرکشی اور نافرمانی کے لیے انہیں طویل مہلت دیتا ہے۔ چناچہ یہ لوگ اللہ کی اسکیم میں پوری طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ تدبیر عام شخص کی نہیں ہوتی کہ اللہ جیسے جبار اور صاحب قوت متین کی تدبیر ہوتی ہے۔ لیکن دشمنان اسلام غافل ہیں اس بات سے کہ آخری انجام ان لوگوں کا ہی ہوگا جو متقین ہیں اور جو حق پر ہیں اور حق کے داعی ہیں اور حق کا نظام عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

الأعراف 7:182

تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ ایسا ہے جو ضد کی وجہ سے حق کا انکار کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ پہلا گروہ تو وہ ہے کہ ان کا وجود اس سرزمین پر مستحکم ہے۔ یہ لوگ جمے ہوئے ہیں اور یہ حق کے نگہبان ہیں۔ اور جو لوگ انحراف کرتے ہیں اور جو ٹیرھی راہوں پر چلتے ہیں یہ ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور جب دوسرے لوگ حق کی تکذیب کرتے ہیں اور حق کو چھوڑ دیتے یہ لوگ حق کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔ رہے فریق مخالف تو ان کا انجام خوفناک ہوگا اور ان کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر مستحکم ہوگی۔ وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ یہ جو حاملین حق ہیں اگر انسانیت میں یہ نہ ہوں تو انسانیت عزت اور شرف کی مستحق ہی نہ ہو ، یہ گروہ جسے قرآن کریم اسلامی اصطلاح کے مطابق امت کہتا ہے اس دنیا میں ہر وقت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ یہ وہ جماعت ہوتی ہے جس کا ایک ہی نظریہ ہوتا ہے ، جو اس نظریہ اور عقیدے پر باہم منظم اور مربوط ہوتی ہے اور اس کی قیادت بھی ایک ہی ہوتی ہے۔ یہی امت ہے جو حق پر جمی ہوئی ہے۔ جو حق پر عمل پیرا ہوتی ہے ، اور یہ اس سچائی کی نگہبان ہوتی ہے۔ اور یہ اس نظریہ کی شہادت لوگوں پر دیتی ہے اور گمراہیوں کے خلاف اللہ اس امت کے ذریعے شہادت اور حجت قائم کرتے ہیں۔ اور ذرا اس کی صفت پر غور کریں۔ یہدون بالحق و بہ یعدلون۔ یہ گروہ حق سے ہدایت لیتا ہے اور حق کی ہدایت دیتا ہے اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کرہ ارض پر سے اس امت کا وجد ختم نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ اس کے افراد کی تعداد کم ہوجائے۔ یہ لوگ سچائی کی ہدایت دیتے اور اس کے پیرو میں ہیں اور یہ لوگ کسی بھی وقوت اس دعوت سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ اس حق پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو اس طرف بلاتے ہیں۔ وہ اس حق کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ ان کے اردگرد ایسی قیادت موجود ہوتی ہے اور اس قیادت نے حق کو ترک کردیا ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے اس فطری عہد کو بھی بھلا دیا ہوتا ہے جو انہوں نے اللہ سے کر رکھا تھا۔ غرض اس گروہ کا عمل مثبت ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے آپ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے حامل ہوتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اور وہ اس سچائی کے ساتھ قیادت کرتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہاں تک ہی ختم نہیں ہوجاتی کہ بس وہ حق کی دعوت دے دیں بلکہ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں میں اس حق کو قائم کریں۔ اس کے مطابق فیصلے کریں۔ دنیا میں نظام عدل قائم کریں اور ظاہر ہے کہ نظام عدل اس حق کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ حق اس لیے نہیں آیا کہ اسے صرف پڑھایا جائے اور ایک علمی مشغلہ ہو ، یہ حق اس لیے بھی نہیں آیا کہ یہ محض وعظ اور نصیحت ہو ، بلکہ یہ اس لیے آیا ہے کہ حق لوگوں کے درمیان فیصلے کردے۔ پہلے وہ لوگوں کے اعتقادی تصورات اور نظریات کے فیصلے کرے کہ کیا عقیدہ درست ہے اور کیا نظریہ غلط ہے۔ چناچہ حق سب سے پہلے تطہیر افکار کا کام کرتا ہے اور لوگوں کی فکری اساس کو درست کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ حق لوگوں کا ربط اللہ سے قائم کرکے اللہ کے سامنے جو مراسم عبودیت ادا کیے جاتے ہیں ان کو درست کرتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ حق لوگوں کا ربط اللہ سے قائم کرکے اللہ کے سامنے جو مراسم عبودیت ادا کیے جاتے ہیں ان کو درست کرتا ہے۔ اور اس کے بعد لوگوں کی اجتماعی زندگی کو اس حق پر استوار کرکے اسے ایک نظام زندگی کی شکل میں قائم کرتا ہے۔ لوگوں کی اجتماعی زندگی اور ان کی سوسائٹی کو حق کے اصولوں پر قائم کرکے ، اس اجتماعی نظام میں حق کے قوانین اور شریعت کو نافذ کرتا ہے۔ چناچہ لوگوں کے اخلاق و عادات ، ان کے رسم و رواج ، ان کے طرز عمل اور سلوک کو سچائی پر ، منظم اور استوار کیا جاتا ہے یہ سب کچھ درست تصورات اور عقائد کی اساس پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے طرز فکر ، ان کے علوام اور ان کی ثقافتی سرگرمیوں کو بھی اس نظام حق پر ترقی دی جاتی ہے۔ یہ ہے وہ ڈیوٹی جو اس امت کو دی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ امت ممتاز اور متعارف ہے اور یہ اس امت کی شناخت ہے۔ غرض اس دین کا مزاح بالکل واضح ہے اور اس کے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی یا التباس ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ٹھوس مزاج ہے اور یہ بدل ہی نہیں سکتا ، جو لوگ دین میں الحد کی مساعی کرنا چاہتے ہیں وہ بسیار سعی نامسعود کے ساتھ دین کے اس سخت مزاج کو بدل نہیں سکتے۔ یہ لوگ اس سلسلے میں ان تھک مساعی کرتے ہیں ، مسلسل اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ، یہ لوگ ہر قسم کے وسائل و ذرائع کام میں لا کر اس دین کے نقطہ نظر کو بدلنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں تمام تجربات سے استفادہ کرتے ہیں ، اس پوری دنیا میں جو لوگ احیائے اسلام کا کام کرتے ہیں اور جو اس سچائی کو سینے سے لگا کر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ان کے خلاف اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہر حربے کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کو مٹانے کی سعی کرتے ہیں اور انہوں نے تمام اسلامی علاقوں میں اپنے ایجنٹوں کی تنظیمیں اور حکومتیں قائم کر رکھی ہیں ، پھر یہ لوگ ان علاقوں پر دین فروش علماء کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یہ علماء دین اسلام کی تحریف کا کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ حرام کو حلال کرتے ہیں اور حلال کو حرام کرتے ہیں ، اللہ کی شریعت کو نرم کرتے ہیں اور ہر قسم کے فسق و فجور کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، اور فحاشی کو رواج دیتے ہیں ، اور فحاشی اور فسق و فجور کو اسلامی عنوانات دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جو جدید مادی ترقیات سے متاثر ہوں ، اور جدید نظریات سے مرعوب ہوں اور انہیں اپنے جھولوں میں بٹھا کر ورغلاتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اسلام کو اپنی ٹھوس اساس سے ہٹا کر جدید نظریات کا رنگ دیتے ہیں یوں اسلام کے اندر جدید نظریات ، تہذیب جدید کے شعارات اور جدید رسوم اور قوانین اسلام کے نام سے داخل کرتے ہیں۔ یہ لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اسلامی تہذیب ایک تاریخی خادثہ تھا اور اسے کسی صورت میں بھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔ نہ اس حادثے کا اعادہ ممکن ہے۔ یہ لوگ اسلام کی عظمت رفتہ کو رفت و گزشت سے تعبیر کرکے مسلمانوں کے جذبات کو سن کرنا چاہتے ہیں اور پھر ان کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ آج اسلام اگر زندہ رہنا چاہتا ہے تو وہ ایک عقیدے اور مراسم عبودیت تک محدود ہو کر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کا سیاسی اور قانونی نظام نہیں چل سکتا۔ اسلام کے لیے عظمت رفتہ کے قصے کہانیاں ہی بہتر اور کافی و شافی ہیں۔ اگر یہ نہیں تو پھر یہ ممکن ہے کہ اسلام کے اندر اس قدر تغیرات پیدا کیے جائیں کہ وہ جدید دور کے حالات کے تابع ہوجائے اور وہ اپنے آپ کو لوگوں کی خواہشات اور ان کی واقعی صورت حالات کے مطابق ڈھال لے ، اور عالم اسلام میں یہ لوگ خود جو لادینی نظریات رائج کر رہے ہیں ان کو وہ اسلام قرار دینے کے درپے ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی ایسی تعبیرات کرتے ہیں جو قدیم قرآن میں متعارف نہ تھیں بلکہ خدا اور جبریل اور مصطفیٰ کو بھی ان کا پتہ نہ تھا۔ یہ لوگ جس طرح قرآن کو بدلنا چاہتے ہیں اسی طرح اسلامی معاشروں کو بھی بدلنا چاہتے ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ دین اسلام کو ایسے افراد کار ہی نہ ملیں جو اس کے کام کے ہوں۔ عالم اسلام میں یہ لوگ ایسا معاشرہ وجود میں لانا چاہتے ہیں جو جنسی بےراہ روی گندے کے تالاب میں غرق ہو اور لوگ فحاشی اور بدکاری اور بد اخلاقی میں غرق ہوں اور جنہیں دنیاوی عیش و مستی کے سوا کسی اور غرض سے سروکار نہ ہو اور وہ دنیا میں اس قدر غرق ہوں کہ انہیں حق و صلاحیت اور اصل قرآنی ہدایات سننے کے مواقع ہی نہ ہوں ، اس طرح کہ غلطی سے بھی ان کے کانوں تک اسلامی ہدایات نہ پہنچ سکیں۔ یہ وہ ہمہ گیر معرکہ ہے جو اس وقت امت کے خلاف اور اس دین کے خلاف چار دانگ عالم میں برپا ہے ، وہ امت جو اس دین سے ہدایت لیتی ہے اور اس کی داعی ہے اور جو اس کا نظام عدل دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ وہ ہمہ گیر معرکہ آرائی ہے جس میں دشمنان اسلام ہر قسم کا ہتھیار کام میں لا رہے ہیں۔ بےحد و حساب وسائل اس میں جھونک رہے ہیں۔ اس لیے دشمن اپنی تمام تر قوتوں کو منظر کرکے انہیں وسائل دے کر اور نشر و اشاعت کے تمام ذرائع اور جدید سے جدید ذرائع ابلاغ دے کر میدان میں لایا ہے۔ ان قوتوں کی پشت پر عالمی تنظیمیں اور ادارے ہیں ، اور یہ عالمی کفالت اور ضمانت نہ ہو تو دشمنان اسلام کے یہ ایجنٹ اور یہ ادارے اور حکومتیں اس امت کے داعیوں کے سامنے ایک دن بھی ٹک نہ سکیں۔ لیکن اس ہمہ گیر معرکہ آرائی اور وسیع و عریض مہمات کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین نہایت ہی سخت جان دین ہے۔ یہ امت جو اس دین کے لیے کوشاں ہے ، نہایت ہی سخت جان ہے۔ اپنی قلت تعداد اور اپنے قلت وسائل کے باوجود اور اپنی کمزوریوں کے باوجود وہ اس وحشیانہ حملے کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے۔ ذرا دوبارہ غور کیجیے۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ یہ لوگ اس قوت ، اس الہی قوت کو خاطر میں نہیں لاتے ، اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مذکورہ بالا مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ، حالانکہ امت مسلمہ نے اسلام کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے وہ اسلام کی قوت پر مجتمع ہے۔ یہ وہ قوت ہے کہ آیات الہیہ کی تکذیب کرنے والے اس کو سمجھ نہیں پا رہے ۔ وہ لوگ اس حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے کہ اللہ نے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے ، اور یہ ڈھیل ایک مقررہ وقت تک ہے ، اور ان کو یہ یقین ہی نہیں ہے کہ اللہ کی تدبیر نہایت ہی مستحکم ہوتی ہے۔ ان دشمنان اسلام نے ایک دوسرے کے ساتھ دوستیاں گانٹھ رکھی ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ان کا راج ہے۔ لیکن یہ لوگ خدا کی قوت کبری کو دیکھ نہیں پا رہے۔ غرض جھٹلانے والوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اللہ ان کو ڈھیل دئیے رکھتا ہے اور سرکشی اور نافرمانی کے لیے انہیں طویل مہلت دیتا ہے۔ چناچہ یہ لوگ اللہ کی اسکیم میں پوری طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ تدبیر عام شخص کی نہیں ہوتی کہ اللہ جیسے جبار اور صاحب قوت متین کی تدبیر ہوتی ہے۔ لیکن دشمنان اسلام غافل ہیں اس بات سے کہ آخری انجام ان لوگوں کا ہی ہوگا جو متقین ہیں اور جو حق پر ہیں اور حق کے داعی ہیں اور حق کا نظام عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

الأعراف 7:183

تفسیر آیات 181 تا 183:۔ اس کے بعد اب ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے لوگوں کی اقسام بیان کی جا رہی ہیں ، اس سے پہلے بتایا جاتا چکا ہے کہ بعض لوگ پیدائشی طور پر جہنمی ہیں۔ ان کے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سوچتے نہیں ، ان کی آنکھیں ہیں مگر ان کے ساتھ دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں مگر ان کے ساتھ سنتے نہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں اور اللہ کے اس حسنیٰ کو غلط جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک گروہ ایسا بھی ہے جس نے سچائی کو پختگی کے ساتھ پکڑا ہوا ہے اور وہ لوگوں کو بھی سچائی کی طرف بلاتے ہیں۔ وہ سچائی کے مطابق فیصلے صادر کرتے ہیں اور اس سے ذرہ بھر انحراف نہیں کرتے۔ ایک گروہ ایسا ہے جو ضد کی وجہ سے حق کا انکار کرتا ہے۔ اللہ کی آیات کو جھٹلاتا ہے۔ پہلا گروہ تو وہ ہے کہ ان کا وجود اس سرزمین پر مستحکم ہے۔ یہ لوگ جمے ہوئے ہیں اور یہ حق کے نگہبان ہیں۔ اور جو لوگ انحراف کرتے ہیں اور جو ٹیرھی راہوں پر چلتے ہیں یہ ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور جب دوسرے لوگ حق کی تکذیب کرتے ہیں اور حق کو چھوڑ دیتے یہ لوگ حق کو مضبوطی سے پکڑتے ہیں۔ رہے فریق مخالف تو ان کا انجام خوفناک ہوگا اور ان کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر مستحکم ہوگی۔ وَمِمَّنْ خَلَقْنَآ اُمَّةٌ يَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَبِهٖ يَعْدِلُوْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ یہ جو حاملین حق ہیں اگر انسانیت میں یہ نہ ہوں تو انسانیت عزت اور شرف کی مستحق ہی نہ ہو ، یہ گروہ جسے قرآن کریم اسلامی اصطلاح کے مطابق امت کہتا ہے اس دنیا میں ہر وقت کسی نہ کسی شکل میں موجود ہوتا ہے۔ یہ وہ جماعت ہوتی ہے جس کا ایک ہی نظریہ ہوتا ہے ، جو اس نظریہ اور عقیدے پر باہم منظم اور مربوط ہوتی ہے اور اس کی قیادت بھی ایک ہی ہوتی ہے۔ یہی امت ہے جو حق پر جمی ہوئی ہے۔ جو حق پر عمل پیرا ہوتی ہے ، اور یہ اس سچائی کی نگہبان ہوتی ہے۔ اور یہ اس نظریہ کی شہادت لوگوں پر دیتی ہے اور گمراہیوں کے خلاف اللہ اس امت کے ذریعے شہادت اور حجت قائم کرتے ہیں۔ اور ذرا اس کی صفت پر غور کریں۔ یہدون بالحق و بہ یعدلون۔ یہ گروہ حق سے ہدایت لیتا ہے اور حق کی ہدایت دیتا ہے اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کرہ ارض پر سے اس امت کا وجد ختم نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ اس کے افراد کی تعداد کم ہوجائے۔ یہ لوگ سچائی کی ہدایت دیتے اور اس کے پیرو میں ہیں اور یہ لوگ کسی بھی وقوت اس دعوت سے خاموش نہیں ہوتے۔ وہ اس حق پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو اس طرف بلاتے ہیں۔ وہ اس حق کو اپنے تک ہی محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے دوسروں تک بھی پہنچاتے ہیں۔ ان کے اردگرد ایسی قیادت موجود ہوتی ہے اور اس قیادت نے حق کو ترک کردیا ہوتا ہے اور انہوں نے اپنے اس فطری عہد کو بھی بھلا دیا ہوتا ہے جو انہوں نے اللہ سے کر رکھا تھا۔ غرض اس گروہ کا عمل مثبت ہوتا ہے اور وہ صرف اپنے آپ تک محدود نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کے حامل ہوتے ہیں اور دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اور وہ اس سچائی کے ساتھ قیادت کرتے ہیں۔ ان کی ڈیوٹی یہاں تک ہی ختم نہیں ہوجاتی کہ بس وہ حق کی دعوت دے دیں بلکہ ان کے فرائض میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ لوگوں کی زندگیوں میں اس حق کو قائم کریں۔ اس کے مطابق فیصلے کریں۔ دنیا میں نظام عدل قائم کریں اور ظاہر ہے کہ نظام عدل اس حق کے بغیر قائم ہی نہیں ہوسکتا۔ یہ حق اس لیے نہیں آیا کہ اسے صرف پڑھایا جائے اور ایک علمی مشغلہ ہو ، یہ حق اس لیے بھی نہیں آیا کہ یہ محض وعظ اور نصیحت ہو ، بلکہ یہ اس لیے آیا ہے کہ حق لوگوں کے درمیان فیصلے کردے۔ پہلے وہ لوگوں کے اعتقادی تصورات اور نظریات کے فیصلے کرے کہ کیا عقیدہ درست ہے اور کیا نظریہ غلط ہے۔ چناچہ حق سب سے پہلے تطہیر افکار کا کام کرتا ہے اور لوگوں کی فکری اساس کو درست کرتا ہے۔ اس کے بعد یہ حق لوگوں کا ربط اللہ سے قائم کرکے اللہ کے سامنے جو مراسم عبودیت ادا کیے جاتے ہیں ان کو درست کرتا ہے۔ اور اس کے بعد یہ حق لوگوں کا ربط اللہ سے قائم کرکے اللہ کے سامنے جو مراسم عبودیت ادا کیے جاتے ہیں ان کو درست کرتا ہے۔ اور اس کے بعد لوگوں کی اجتماعی زندگی کو اس حق پر استوار کرکے اسے ایک نظام زندگی کی شکل میں قائم کرتا ہے۔ لوگوں کی اجتماعی زندگی اور ان کی سوسائٹی کو حق کے اصولوں پر قائم کرکے ، اس اجتماعی نظام میں حق کے قوانین اور شریعت کو نافذ کرتا ہے۔ چناچہ لوگوں کے اخلاق و عادات ، ان کے رسم و رواج ، ان کے طرز عمل اور سلوک کو سچائی پر ، منظم اور استوار کیا جاتا ہے یہ سب کچھ درست تصورات اور عقائد کی اساس پر ہوتا ہے۔ اس کے بعد لوگوں کے طرز فکر ، ان کے علوام اور ان کی ثقافتی سرگرمیوں کو بھی اس نظام حق پر ترقی دی جاتی ہے۔ یہ ہے وہ ڈیوٹی جو اس امت کو دی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ امت ممتاز اور متعارف ہے اور یہ اس امت کی شناخت ہے۔ غرض اس دین کا مزاح بالکل واضح ہے اور اس کے بارے میں کسی قسم کی غلط فہمی یا التباس ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ٹھوس مزاج ہے اور یہ بدل ہی نہیں سکتا ، جو لوگ دین میں الحد کی مساعی کرنا چاہتے ہیں وہ بسیار سعی نامسعود کے ساتھ دین کے اس سخت مزاج کو بدل نہیں سکتے۔ یہ لوگ اس سلسلے میں ان تھک مساعی کرتے ہیں ، مسلسل اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ، یہ لوگ ہر قسم کے وسائل و ذرائع کام میں لا کر اس دین کے نقطہ نظر کو بدلنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں تمام تجربات سے استفادہ کرتے ہیں ، اس پوری دنیا میں جو لوگ احیائے اسلام کا کام کرتے ہیں اور جو اس سچائی کو سینے سے لگا کر مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ ان کے خلاف اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ہر حربے کو استعمال کرتے ہیں۔ ان کو مٹانے کی سعی کرتے ہیں اور انہوں نے تمام اسلامی علاقوں میں اپنے ایجنٹوں کی تنظیمیں اور حکومتیں قائم کر رکھی ہیں ، پھر یہ لوگ ان علاقوں پر دین فروش علماء کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور یہ علماء دین اسلام کی تحریف کا کام کرتے ہیں۔ یہ لوگ حرام کو حلال کرتے ہیں اور حلال کو حرام کرتے ہیں ، اللہ کی شریعت کو نرم کرتے ہیں اور ہر قسم کے فسق و فجور کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ، اور فحاشی کو رواج دیتے ہیں ، اور فحاشی اور فسق و فجور کو اسلامی عنوانات دیتے ہیں۔ یہ لوگ ایسے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جو جدید مادی ترقیات سے متاثر ہوں ، اور جدید نظریات سے مرعوب ہوں اور انہیں اپنے جھولوں میں بٹھا کر ورغلاتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اسلام کو اپنی ٹھوس اساس سے ہٹا کر جدید نظریات کا رنگ دیتے ہیں یوں اسلام کے اندر جدید نظریات ، تہذیب جدید کے شعارات اور جدید رسوم اور قوانین اسلام کے نام سے داخل کرتے ہیں۔ یہ لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ اسلامی تہذیب ایک تاریخی خادثہ تھا اور اسے کسی صورت میں بھی دوبارہ زندہ نہیں کیا جاسکتا۔ نہ اس حادثے کا اعادہ ممکن ہے۔ یہ لوگ اسلام کی عظمت رفتہ کو رفت و گزشت سے تعبیر کرکے مسلمانوں کے جذبات کو سن کرنا چاہتے ہیں اور پھر ان کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ آج اسلام اگر زندہ رہنا چاہتا ہے تو وہ ایک عقیدے اور مراسم عبودیت تک محدود ہو کر زندہ رہ سکتا ہے۔ اس کا سیاسی اور قانونی نظام نہیں چل سکتا۔ اسلام کے لیے عظمت رفتہ کے قصے کہانیاں ہی بہتر اور کافی و شافی ہیں۔ اگر یہ نہیں تو پھر یہ ممکن ہے کہ اسلام کے اندر اس قدر تغیرات پیدا کیے جائیں کہ وہ جدید دور کے حالات کے تابع ہوجائے اور وہ اپنے آپ کو لوگوں کی خواہشات اور ان کی واقعی صورت حالات کے مطابق ڈھال لے ، اور عالم اسلام میں یہ لوگ خود جو لادینی نظریات رائج کر رہے ہیں ان کو وہ اسلام قرار دینے کے درپے ہیں۔ یہ لوگ قرآن کی ایسی تعبیرات کرتے ہیں جو قدیم قرآن میں متعارف نہ تھیں بلکہ خدا اور جبریل اور مصطفیٰ کو بھی ان کا پتہ نہ تھا۔ یہ لوگ جس طرح قرآن کو بدلنا چاہتے ہیں اسی طرح اسلامی معاشروں کو بھی بدلنا چاہتے ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ دین اسلام کو ایسے افراد کار ہی نہ ملیں جو اس کے کام کے ہوں۔ عالم اسلام میں یہ لوگ ایسا معاشرہ وجود میں لانا چاہتے ہیں جو جنسی بےراہ روی گندے کے تالاب میں غرق ہو اور لوگ فحاشی اور بدکاری اور بد اخلاقی میں غرق ہوں اور جنہیں دنیاوی عیش و مستی کے سوا کسی اور غرض سے سروکار نہ ہو اور وہ دنیا میں اس قدر غرق ہوں کہ انہیں حق و صلاحیت اور اصل قرآنی ہدایات سننے کے مواقع ہی نہ ہوں ، اس طرح کہ غلطی سے بھی ان کے کانوں تک اسلامی ہدایات نہ پہنچ سکیں۔ یہ وہ ہمہ گیر معرکہ ہے جو اس وقت امت کے خلاف اور اس دین کے خلاف چار دانگ عالم میں برپا ہے ، وہ امت جو اس دین سے ہدایت لیتی ہے اور اس کی داعی ہے اور جو اس کا نظام عدل دنیا میں قائم کرنا چاہتی ہے۔ یہ وہ ہمہ گیر معرکہ آرائی ہے جس میں دشمنان اسلام ہر قسم کا ہتھیار کام میں لا رہے ہیں۔ بےحد و حساب وسائل اس میں جھونک رہے ہیں۔ اس لیے دشمن اپنی تمام تر قوتوں کو منظر کرکے انہیں وسائل دے کر اور نشر و اشاعت کے تمام ذرائع اور جدید سے جدید ذرائع ابلاغ دے کر میدان میں لایا ہے۔ ان قوتوں کی پشت پر عالمی تنظیمیں اور ادارے ہیں ، اور یہ عالمی کفالت اور ضمانت نہ ہو تو دشمنان اسلام کے یہ ایجنٹ اور یہ ادارے اور حکومتیں اس امت کے داعیوں کے سامنے ایک دن بھی ٹک نہ سکیں۔ لیکن اس ہمہ گیر معرکہ آرائی اور وسیع و عریض مہمات کے باوجود معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین نہایت ہی سخت جان دین ہے۔ یہ امت جو اس دین کے لیے کوشاں ہے ، نہایت ہی سخت جان ہے۔ اپنی قلت تعداد اور اپنے قلت وسائل کے باوجود اور اپنی کمزوریوں کے باوجود وہ اس وحشیانہ حملے کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے۔ ذرا دوبارہ غور کیجیے۔ وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِيْ لَهُمْ ڵ اِنَّ كَيْدِيْ مَتِيْنٌ۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا ہے ، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔ میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ یہ لوگ اس قوت ، اس الہی قوت کو خاطر میں نہیں لاتے ، اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مذکورہ بالا مہم جاری رکھے ہوئے ہیں ، حالانکہ امت مسلمہ نے اسلام کو مضبوطی سے پکڑا ہوا ہے وہ اسلام کی قوت پر مجتمع ہے۔ یہ وہ قوت ہے کہ آیات الہیہ کی تکذیب کرنے والے اس کو سمجھ نہیں پا رہے ۔ وہ لوگ اس حقیقت کو سمجھ نہیں پا رہے کہ اللہ نے ان لوگوں کو ڈھیل دے رکھی ہے ، اور یہ ڈھیل ایک مقررہ وقت تک ہے ، اور ان کو یہ یقین ہی نہیں ہے کہ اللہ کی تدبیر نہایت ہی مستحکم ہوتی ہے۔ ان دشمنان اسلام نے ایک دوسرے کے ساتھ دوستیاں گانٹھ رکھی ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اس زمین پر ان کا راج ہے۔ لیکن یہ لوگ خدا کی قوت کبری کو دیکھ نہیں پا رہے۔ غرض جھٹلانے والوں کے ساتھ اللہ کا معاملہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اللہ ان کو ڈھیل دئیے رکھتا ہے اور سرکشی اور نافرمانی کے لیے انہیں طویل مہلت دیتا ہے۔ چناچہ یہ لوگ اللہ کی اسکیم میں پوری طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ تدبیر عام شخص کی نہیں ہوتی کہ اللہ جیسے جبار اور صاحب قوت متین کی تدبیر ہوتی ہے۔ لیکن دشمنان اسلام غافل ہیں اس بات سے کہ آخری انجام ان لوگوں کا ہی ہوگا جو متقین ہیں اور جو حق پر ہیں اور حق کے داعی ہیں اور حق کا نظام عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

الأعراف 7:184

قرآن کریم ان آیات میں ان لوگوں کو تنبیہ کر رہا ہے جو اس وقت مکہ میں اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے۔ لیکن یہ آیت مکہ کے لوگوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، ازمنہ مابعد میں بھی امت مسلمہ کے ساتھ اس کے دشمنوں کا یہی سلوک ہے اور ہوگا ، اللہ ان مخالفوں کو مہلت دیتا ہے لیکن اس کی تدبیر مستحکم ہوتی ہے۔ اس لیے اللہ انہیں مشورہ دیتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں آنکھیں کھول کر کریں۔ اپنے دل و دماغ سے کام لیں اور اپنے آپ کو جہنمی مخلوق میں شامل نہ کریں۔ اسلام اہل مکہ کو یہ مشورہ دے رہا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں اپنے رویے پر اچھی طرح غور کریں ، کیا وہ دیکھتے نہیں کہ آپ حق کے حامل اور حق کے داعی ہیں۔ نیز اہل مکہ زمین و آسمان کی ساخت اور بادشاہت پر غور کریں۔ کیا اس میں سچائی تک پہنچانے والی آیات و معجزات بکھرے ہوئے نہیں ہیں۔ یہ مہلت جو انہیں دی جا رہی ہے یہ بہت ابدی اور طویل نہیں ہے۔ اللہ کی تدبیر کے وقوع کا وقت بہت ہی قریب ہے۔ وہ کیوں اس قدر غافل ہوگئے ہیں ؟ اسلام یہ کوشش کرتا ہے کہ انسانوں کو مدہوشی سے ہوش میں لائے ، ان کو غفلت کے خواب گراں سے جگائے اور انسان کی فطرت کو ان تہوں کے نیچے سے نکال کر باہر لائے جو اس کے اوپر جمی ہوئی ہیں۔ انسانوں کے شعور کو تازہ کرے۔ قرآن انسان کی شخصیت اور انسانیت کو مخاطب کرتا ہے اور اس کی ان صلاحیتوں کو جگاتا ہے جن کے ذریعہ وہ دعوت اسلام کو قبول کرلیں۔ قرآن کریم محض جامد اور خشک قسم کا مناظرہ نہیں کرتا۔ وہ انسان کی حقیقی شخصیت کو گمراہی کی گہری تہوں کے نیچے سے نکالتا ہے۔ اَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوْا ۫مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْن۔ اور کیا ان لوگوں نے کبھی سوچا نہیں ؟ ان کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ تو ایک خبردار کرنے والا ہے (جو برا انجام سامنے ٓنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کر رہا ہے قریش کے پاس رسول اللہ ﷺ کے خلاف پروپیگنڈے کی جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار یہ تھا کہ وہ آپ پر یہ الزام لگاتے کہ آپ کو جنون لاحق ہوگیا ہے اور اس پر دلیل یہ دیتے تھے کہ تم دیکھتے نہیں کہ وہ ایسا کلام پیش کر رہا ہے جو عربوں کے معروف اسالیب کلام سے بالکل مختلف ہے۔ قریش جو یہ پر پیگنڈہ کرتے تھے ، اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بک رہے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ حضور جس دعوت کے حامل ہیں وہ دعوت حق ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ قرآن کریم کو سننے کے لیے بےتاب رہتے تھے اور اپنے آپ کو کنٹرول نہ کرسکتے تھے کہ اس کے سننے سے باز رہیں۔ اس سماع کے ان پر گہرے اثرات پڑتے تھے۔ اخنس ابن شریق ، ابو سفیان ابن حرب اور عمرو ابن ہشام ابوجہل کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ سب سے چھپ چھپ کر قرآن سنتے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ یہ تینوں حضرات چھپ کر قرآن سننے کے لیے آئے۔ اس واقعہ کو فی ظلال القرآن میں ہم ذکر کر آئے ہیں۔ نیز عتبہ ابن ربیعہ کا واقعہ بھی مشہور ہے کہ اس نے خود حضور ﷺ سے سورة فصلت کی آیات سنیں اور انہوں نے اسے متزلزل کردیا۔ اور یہ واقعات بھی مشہور ہیں کہ یہ لوگ موسم حج میں لوگوں کو قرآن سے دور رکھنے کی تدبیر کرتے۔ ولید ابن مغیرہ لوگوں سے کہتے کہ یہ نہایت ہی موثر جادو ہے۔ ان سب روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسلام ، دعوت اسلام اور قرآن کی حقانیت میں شک نہ رکھتے تھے بلکہ یہ لوگ اپنے آپ کو اس دعوت سے مقابلے میں بڑا سمجھتے تھے۔ پھر ان کو یہ خطرہ تھا کہ جب ہم لا الہ الا اللہ مھمد رسول اللہ کا اقرار کرلیں گے تو پھر محمد ہمارے حاکم اور مقتدر اعلی ہوں گے۔ کیونکہ اس کلمے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان انسانوں کی غلامی سے نکل کر اللہ کی غلامی میں آجائیں اور تمام طاغوتی طاقتوں کو ختم کردیں۔ قرآن مجید ایک عجیب اور منفرد کتاب ہے ، اور اس کا اسلوب بھی لوگوں کے اندر مروج اسالیب کلام سے زیادہ منفرد ہے ، اس لیے قریش اس سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے۔ نیز عربوں میں پیشین گوئی کرنے والوں اور مجنونوں کے درمیان یک رنگی ہوتی تھی ، مثلاً مجذوب لوگ عربوں میں بھی اپنے آپ کو عالم بالا سے متعلق قرار دیتے تھے جو اس قسم کی باتیں کیا کرتے تھے جن کی تاویل وہ حسب منشا کرسکتے تھے ، ان روایات کی وجہ سے قریش حضرت نبی ﷺ کو بھی ایک مجذوب یا مجنون قرار دیتے تھے اور آپ کے کلام کو مجذوب یا مجنون کا کلام کہتے تھے۔ قرآن کریم ان لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا تھا اور یہ مشورہ دیتا تھا کہ یہ لوگ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں غور و فکر کریں جنہیں وہ خوب جانتے تھے اور ان کو معلوم تھا کہ انہوں نے اس سے قبل کبھی ایسی مجذوبانہ باتیں نہیں کی تھیں۔ پھر وہ خود اس بات کے بھی گواہ تھے کہ آپ سچے اور زمین ہیں جبکہ آپ کی حکمت اور دانائی اور سنجیدگی کے بھی وہ قائل تھے۔ جب حجر اسود کے معاملے میں انہوں نے آپ کو حکم بنایا اور آپ نے جو فیصلہ کیا اس کی وجہ سے وہ ایک بہت ہی عظیم خانہ جنگی سے بچ گئے۔ پھر آپ کے پاس سب لوگ اپنی امانتیں رکھتے۔ اور یہ امانتیں اس وقت تک آپ کے پاس تھیں جب تک آپ مکہ میں تھے اور آپ کے چلے جانے کے بعد آپ کے ابن عم حضرت علی ؓ نے لوگوں تک پہنچائیں۔ قرآن مجید ان لوگوں کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ حضرت محمد کا ماضی کھلی کتاب ہے ، تم آپ کی زندگی کے بارے میں سب کچھ جانتے ہو ، آخر وہ کیا بات ہے کہ جس کی وجہ سے تم ، آبے کو مجنون کہتے ہو ، آبے جس معیار کا کلام آپ پیش کر رہے ہیں کیا یہ مجنونوں اور پاگلوں کا کام ہوسکتا ہے ؟ ہر گز نہیں۔ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ ۭاِنْ هُوَ اِلَّا نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ ۔ ان کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ، وہ ایک خبردار کرنے والا ہے جو صاف صاف متنبہ کر رہا ہے آپ کی عقل میں کوئی خلل نہیں ہے وہ تو واضح واضح بات کرنے والا ہے۔ آپ کا کلام مجنون کے کلام سے بالکل مختلف ہے۔ اور آپ کے حالات زندگی مجنونوں کے حالات زندگی سے مختلف ہیں۔

الأعراف 7:185

اس عجیب کائنات کے بارے میں یہ ایک دوسری کھڑکی ہے اور اس عظیم اور وسیع و عریض کائنات کو کھلی آنکھوں اور بیدار دل کے ساتھ دیکھنے کی دعوت ہے۔ اگر غور سے اس عظیم کائنات ہی پر نظر ڈال لی جائے تو انسانی فطرت جہالت کے جن دبیز پردوں کے نیچے گم ہے وہ باہر نکل آئے اور انسانی شخصیت کے سامنے حق کی راہیں کھل سکتی ہیں اس کائنات میں تخلیق کی عجیب و غریب کارفرمائیاں اور ایسے کارنامے جو معجز ہیں اور جو قادر مطلق اور وحدہ لاشریک کی ذات پر دال ہیں۔ کیا وہ کسی ایک چیز کی تخلیق پر غور نہیں کرتے ، جبکہ اس کائنات میں بیشمار قابل غور چیزیں ہیں جن پر غور کرنے سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے ، انسانی فکر عاجز رہ جاتی ہے اور عقل ان کاریگریوں کے صناع اور کاریگر کی تلاش میں نکل جاتی ہے۔ اور پھر وہ اس ارادے کو جاننا چاہتی ہے جس نے اس خلق کو پیدا کیا اور اس کے لیے اس نظام کو جاری کیا۔ یہ مخلوقات اس طرح کیوں ہے ؟ اس کے علاوہ اس کائنات کے لیے ہزاروں امکانیات تھے۔ یہ کائنات دوسری طرح کیوں نہ بنی۔ دوسرے طریقوں کو چھوڑ کر کیوں یہ کائنات اس موجودہ طریقے پر چل پڑی اور پھر وہ کون سی قوت ہے جو اسے اس نہج پر چلائے رکھتی ہے۔ اس پوری کائنات میں ایک ہی نظام طبیعت جاری وساری ہے ، یہ کیوں ؟ اگر اس کے پیچھے ایک ہی فعال لما یرید نہیں ہے تو اس پوری کائنات میں جاری وساری اور اس کے پیچھے کیوں ایک ہی ارادہ اور ایک ہی ناموس نظر آتا ہے۔ اور ایک ہی تقدیر اور اندازہ مسلسل چل رہا ہے۔ ایک زندہ جسم ! نہیں بلکہ ایک خلیہ ایک عظیم معجزہ ہے جس کے عجائبات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ اس کا وجود اس کی ترکیب اور اس کے تصرفات اور اس کے اندر پیدا ہونے والی مسلسل تبدیلیاں جو مسلسل اس کے وجود کا تحفظ کرتی ہیں اور اس کے اندر پھر کئی نسلوں تک تجدید نسل کا انتظام۔ پھر تمام نسلوں میں اس کے فرائض کا تعین ، جو شخص اس ایک خلیے کا مطالعہ کرے تو اس کا ضمیر اور اس کی عقل کبھی بھی اس بات پر مطمئن نہیں ہوسکتی کہ یہ کائنات بغیر کسی الہ اور مدبر کے نہیں چل سکتی یا کوئی عقل کبھی بھی اس نتیجے تک نہیں پہنچ سکتی کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ بھی ہوسکتا ہے۔ زندگی کا یہ تسلسل بذریعہ نظام نسل کشی بذات خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کائنات ایک خالق اور مدبر کے قانون کے مطابق چل رہی ہے ورنہ کروڑوں سال کے عرصہ میں وہ کون سی طاقت ہے جو نسل کشی کے لیے مرد اور عورت کا ایک تناسب قائم رکھے ہوئے ہے۔ ایسا دور کیوں نہیں آتا کہ مرد ہی مرد پیدا ہوں صرف عورتیں ہی پیدا ہوں۔ اگر کبھی ایسا واقعہ ہوجائے تو اس دور میں نسل کشی کا خاتمہ ہی ہوجائے۔ سوال یہ ہے کہ نسلاً بعد نسل اس تناسب اور توازن کو کس قوت نے قائم کر رکھا ہے۔ یہ توازن زمین و آسمان کے نظام میں مکمل طور پر کار فرما ہے۔ صرف اس زندہ مخلوق ہی اندر نہیں ہے۔ ایک ایٹم کی ساخت اور کسی مرکب چیز کی ساخت میں مکمل توازن موجود ہے۔ زندہ اور مردہ تمام مخلوقات کے اندر مکمل توازن موجود ہے۔ اور اگر ایک لمحہ بھر کے لیے یہ توازن بگڑ جائے تو یہ کائنات ڈھیر ہوکر رہ جائے۔ لہذا یہ بہت ہی اہم سوال ہے کہ وہ ذات کون سی ہے جس نے یہ توازن زمین و آسمان میں قائم کر رکھا ہے۔ جزیرۃ العرب کے باشندے جن کو سب سے پہلے اس قرآن نے مخاطب کیا ، وہ علوم و فنون میں اس قدر زیادہ ترقی یافتہ نہ تھے کہ وہ زمین اور آسمانوں کے نظام میں پائے جانے والے نہایت ہی لطیف توازن پر غور کرسکتے یا اللہ کی پیدا کردہ کسی ایک ہی چیز کا سائنسی تجزیہ کرسکتے۔ لیکن انسانی فطرت اس کائنات کے ساتھ اپنی گہرائیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ انسانی فطرت اور کائنات کی فطرت کے درمیان قائم ربط سائنسی مکالمات کا محتاج نہیں ہے۔ ان کے درمیان ایک توازن پایا جاتا ہے۔ ہر انسان جس کا دل کھلا ہوا اور آنکھوں میں بصیرت ہو وہ اس ہم آہنگی کو محسوس کرسکتا ہے اور اس کے اشارات کو قبول کرکے راہ ہدایت لے سکتا ہے۔ جب انسان اپنی فطرت صافی کے ذریعے فطرت کائنات ک کے ان اشارات کو پاتا ہے تو وہ یقین کرلیتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی الہ ضرور ہے اور اس کے احساس پر یہ حقیقت اور یقین اسی طرح چسپاں ہوجاتا ہے کہ کبھی غائب نہیں ہوتا۔ انسان نے اگر کوئی غلطی کی ہے تو اس نے الہ کی صفات میں کی ہے۔ رسولوں کی بعثت کا مقصد زیادہ تر یہی رہا ہے کہ انہوں نے اس لہ کا تعارف کرایا ہے۔ اس کی صفات کا صحیح تصور دیا ہے۔ رہے جدید ملحد ، یعنی سائنٹیفک اشتراکیت کے داعی تو یہ وہ مسخ شدہ لوگ ہیں جن کی فطرت بگڑ چکی ہے بلکہ در اصل وہ فطرت کے منکر ہیں اور ان کی اپنی فکر میں اگر کچھ اشارات پائے جاتے ہیں تو وہ ان کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص جب فضائے آسمان میں قدرے بلند ہوا اور وہاں سے اس نے یہ حیران کن منظر دیکھا کہ زمین اس عظیم فضا کے اندر ایک چھوٹی سی گیند نظر آتی ہے ، اس کی فطرت نے اس وقت اسے آواز دی کہ ذرا سوچو تو سہی ، اس فضا میں اسے کس چیز نے معلق کر رکھا ہے ، لیکن جب وہ زمین پر اترا اور حکومت کی جانب سے تشدد کا خوف اسے لاحق ہوا تو اس نے یہ بیان دیا کہ اسے فضا آسمانی میں خدا نہیں ملا۔ اس شخص نے اپنی فطرت کی آواز اور فطرت کی جانب سے اصرار کو دبا دیا اور آسمان و زمین کے نظام میں اس کے لیے جو سامان عبرت تھا ، اسے نظر انداز کردیا۔ اللہ تعالیٰ انسان سے مخاطب ہے کیونکہ انسان کی تخلیق اسی نے کی ہے۔ وہ اس کی فطرت سے اچھی طرح واقف ہے آخر میں ان کو حادثہ موت سے ڈرایا جاتا ہے ، جو مستقبل کے پردوں میں چھپا ہوا اور بہت قریب ہے اور عالم الغیب میں وہ وقت طے شدہ ہے اگرچہ یہ لوگ اس وقت سے غافل ہیں۔ وَّاَنْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ ۚ فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ ۔ اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آ لگا ہو ؟ پھر آخر پیغمبر کی اس تنبیہ کے بعد اور کون سی بات ایسی ہوسکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں ؟ ان کو کیا پتہ ہے کہ ان کا وقت قریب ہے یا دور ہے ، اور کیا وجہ ہے کہ وہ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیںَ حالانکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور ان کے کوچ کا وقت پردہ غیب میں مستور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کی یاد دہانی ، خصوصا جب وہ کسی بھی وقت میں آسکتی ہے ، انسان کے دل کو جھنجھوڑنے کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ اس کی یاد سے انسان کے دل کے دروازے ہدایت کے لیے کھل سکتے ہیں اور انسان معاملات کو حقیقت پسندی کے ساتھ دیکھ سکتا ہے۔ اللہ اس قرآن کو نازل کرنے والا اور انسان کو پیدا کرنے والا ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ موت کا تصور ہر انسان پر اپنا اثر ضرور کرتا ہے لیکن بعض لوگ اس قدر ضدی ہوتے ہیں کہ وہ یہ اثر قبول کرنے کے باوجود انکار کرتے ہیں اور مکابرے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو لوگ حدیث رحلت سے بھی متاثر نہیں ہوتے۔ آخر ان پر کیا چیز اثر کرسکتی ہے ؟ یہی تو بات ہے جو دلوں کو پگھلا دیتی ہے اور وہ نرم ہوجاتے ہیں۔ تذکرہ موت کا ٹچ جو انسانی شخصیت کو اس آیت میں دیا گیا ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم انسانی شخصیت کے خطاب میں کیا منہاج اختیار کرتا ہے۔ وہ انسانی شخصیت کے ہر پہلو کو مخاطب کرتا ہے۔ وہ ہر زاویہ اور ہر وتر سے اس پر اثرات چھوڑتا ہے۔ قرآن کریم انانی عقل کو مخاطب نہیں کرتا مگر عقل کو مہمل بھی نہیں چھوڑتا بلکہ وہ انسانی شخصیت کو ہمہ پہلو خطاب کرتا ہے اور اس کے ہر گوشے کو روشن کرتا ہے۔ قرآن کریم خشک بحث و مباحثے کا طریقہ بھی اختیار نہیں کرتا۔ قرآن کریم عقل اور سوچ زندہ کرتا ہے تاکہ انسان فکر کرے ، لیکن اس کی زندگی سرد اور جامد نہ ہو بلکہ حرارت سے پر ہو اور انسانی شخصیت بھرپور انداز میں آگے بڑھے۔ اسلام کی طرف دعوت دینے والوں کو یہی انداز اختیار کرنا چاہئے کیونکہ انسان بہرحال وہی انسان ہے اور اس کی تخلیق میں کوئی تبدیلی نہیں واقع ہوئی۔ قرآن بھی وہی قرآن ہے اور یہ قیامت تک باقی رہنے والا ہے۔ انسان کو اللہ نے جو خطاب کیا ہے وہ اسی طرح قائم ہے ، چاہے دنیا جس قدر بھی ترقی کرے اور حالات جس قدر بھی بدل جائیں۔

الأعراف 7:186

اب بات قدرے ایک مختصر وقفے کے لیے رک جاتی ہے اور اس وقفے میں اللہ کی اس سنت کی طرف بھی اشارہ کردیا جاتا ہے۔ جو اللہ نے ہدایت و ضلالت کے لیے اسی دنیا میں جاری کی ہوئی ہے۔ یعنی اس قانون کے مطابق کہ جو شخص ہدایت کے لیے جدوجہد کرے گا ، وہ ہدایت پائے گا ، طلب صادق کے ساتھ اور جو شخص منہ موڑے گا اور دلائل ایمان اور اشارات ہدایت کو پکڑنے کی سعی نہ کرے گا ، گمراہ ہوجائے گا۔ یہاں یہ اشاہ ان لوگوں کے حالات کی مناسبت سے کیا جا رہا ہے ، جن کو قرآن خطاب کر رہا تھا اور قرآن کا یہ انداز اور خاص طریق کار ہے کہ قرآن کریم ایک انفرادی واقعہ کے بیان کے بعد اس سے اصول عامہ اخذ کرتا ہے اور اسے بطور اٹل سنت الہیہ پیش کردیتا ہے۔ وہ واقعہ تو انفرادی ہوتا ہے اور وقوع کے بعد حصہ تاریخ بن جاتا ہے لیکن اصول اپنی جگہ رہتا ہے اور بار بار سامنے آتا رہتا ہے۔ جو لوگ گمراہ ہوجاتے ہیں ، وہ کیوں گمراہ ہوتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ نہ ہدایت کی فکر کرتے ہیں اور نہ واقعات و مسائل پر تدبر کرتے ہیں اور جو شخص آیات الہیہ سے غفلت کرتا ہے اور ان پر تدبر نہیں کرتا اسے اللہ گمراہ کردیتا ہے اور جسے اللہ نے اپنی سنت کے مطابق گمراہ کردیا پھر وہ ہدایت نہیں پا سکتا اور نہ اس کے لیے کوئی ہادی بن سکتا ہے۔ من یضلل اللہ فلا ھادی لہ جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کردے اس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے۔ اور جس شخص پر اللہ ضلالت مسلط کردے ، اپنی سنت جاریہ کے مطابق تو وہ ہمیشہ کے لیے گمراہ ہوجاتا ہے اور وہ ہدایت کے معاملے میں مادر زاد اندھا ہوجاتا ہے اور پھر کیا ہوتا ہے ؟ و یذرھم فی طغیانہم یعمھون۔ اور اللہ انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے۔ ان لوگوں کو اللہ نے اس تاریکی میں چھوڑ کر ، ان پر کوئی ظلم نہیں کیا ، کیونکہ ان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے خود اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں۔ انہوں نے اپنے دلوں کو معطل کردیا تھا۔ اپنے اعضائے مدرکہ سے کام لینا بند کردیا تھا۔ انہوں نے اس دنیا کی تخلیق کے عجائبات پر غور نہ کیا اس کائنات کے رازوں کو پانے کی سعی نہ کی۔ خصوصاً ہر ایک پیدا کردہ چیز کی حقیقت اور اس کے راز جس کی طرف سابقہ آیات میں اشارہ کیا گیا تھا ، انہوں نے اس حقیقت کی شہادت کو قبول نہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی انسان نے اس کائنات میں نظر دوڑائی اسے اس کے عجائبات نظر آئے۔ جب بھی اس نے آنکھیں کھولیں اسے کوئی نہ کوئی دلیل نظر آئی۔ جب بھی انسان نے اپنی ذات اور اپنے ماحول کا مطلاعہ کیا۔ اسے اپنی تخلیق کا اعجاز معلوم ہوا ، اسے اپنے ماحول کی ہر مخلوق ایک اعجاز نظر آئی ، لیکن جب انسان نے اپنے آپ کو اندھا کرلیا تو وہ اندھا ہوگیا اور اللہ نے بھی اسے اندھیرے میں چھوڑ دیا اور اس کے بعد جب اس نے سرکشی شروع کردی تو اللہ نے اسے اس میں ڈھیل دی۔ یہاں تک کہ وہ ہلاکت تک پہنچ جاتا ہے۔ " اور اللہ انہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑ دیتا ہے "

الأعراف 7:187

تفسیر آیات 187 تا 188:۔ یہ لوگ جو اپنے ماحول سے غافل ہیں ، اپنے ماحول سے انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ پردہ غیب میں مستور قیامت کب برپا ہوگی۔ ان لوگوں کا سوال اسی طرح ہے کہ ایک شخص کی بینائی اس قدر کمزور ہو کہ وہ اپنے قدموں میں کچھ نہ دیکھ سکتا ہو مگر خواہش یہ رکھتا ہو کہ وہ دور افق اعلی میں بھی کچھ دیکھے۔ ۔۔۔ عقیدہ آخرت اور اس میں میزان کا قیام اور سزا و جزا کا واقع ہونا یہ مشرکین مکہ کے لیے ایک انوکھا نظریہ تھا حالانکہ یہ عقیدہ دین ابراہیمی کا اساسی عقیدہ تھا اور مشرکین مکہ کا شجرہ نسب حضرت ابراہیم سے ملتا تھا۔ یہی عقیدہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے دین میں بھی ایک اساسی نظریہ تھا۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد زمانے گزر گے اور وہ اسلام کے ان اصولوں سے دور چلے گئے جو دین ابراہیم اور دین اسماعیل کے اساسی عقائد تھے۔ ایک ایسا دور بھی آیا کہ ان کے تصور ہی سے عقیدہ آخرت مٹ گیا۔ یہ عقیدہ انہیں اب عجیب و غریب نظر آنے لگا تھا اور ان کے شعور زندگی سے بالکل متضاد سا ہوگیا تھا۔ چناچہ جب وہ حضور کی زبان سے دعوت سنتے اور اس میں آپ ان کو بعث و نشر کے بارے میں بتاتے اور حساب و کتاب کے حالات ان کے سامنے رکھتے تو انہیں یہ بات نہایت ہی عجیب و غریب اور بعید الوقوع نظر آتی۔ ایک دوسری جگہ قرآن کریم نے ان کے اس تعجب کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ قال الذین کفرو ۔۔۔۔ البعید ( سورة سبا) منکرین حق لوگ کہتے ہیں۔ " ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارا جسم ذرہ ذرہ منتشر ہوچکا ہوگا اس وقت تم نئے سرے پیدا کردئیے جاؤگے ؟ نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنون لاحق ہوگیا ہے۔ نہیں بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں "۔ اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ کوئی امت پوری انسانی کی قیادت اس وقت تک نہیں کرسکتی جب تک اس کے نظام فکر میں عقیدہ بعث بعد موت اچھی طرح پختہ نہ ہوچکا ہو ، اور امت مسلمہ کا فریضۃ بہرحال یہی ہے کہ وہ پوری دنیا کی قیادت کرے۔ لہذا اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس دنیا کی زندگی کو ایک محدود زندگی تصور کرے ، جو اس محدود دنیا کے چھوٹے سے کرے پر ہے۔ عقیدہ آخرت کے بغیر اس قسم کی امت کا پیدا کرنا ممکن نہ تھا جس کے سامنے اس قدر عظیم نصب العین ہو۔ عقیدہ آخرت انسانی تصور میں وسعت پیدا کرتا ہے ، نفس انسانی میں کشادگی آجاتی ہے ، زندگی جس کے تسلسل کے بارے میں انسان کی شخصیت کے اندر تمنا پائی جاتی ہے ، وہ تمنا پوری ہوتی ہے اور پھر امت مسلمہ کے ذمہ جو فراض ہیں ان کی ادائیگی کے لیے یہ عقیدہ ضروری ہے۔ پھر اس عقیدے کی وجہ سے انسان کے سفلی جذبات اور محدود دنیاوی خواہشات پر بھی کنٹرول ہوتا ہے۔ نیز اس سے انسان کا دائرہ حرکت وسیع ہوجاتا ہے اور انسان کو دنیا کے محدود نتائج مایوس نہیں کرسکتے اور نہ اسے دردناک قربانیاں اپنے مقصد کے حصول سے روک سکتی ہے نیکی کے کاموں اور دعوت اسلامی کے پھیلانے اور بھلائی کی طرف لوگوں کی قیادت کرنے میں وہ کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔ اگرچہ اس کی جدوجہد کے فوری نتائج اس کی منشا کے خلاف ہوں اور اس کی راہ میں دردناک رکاوٹیں ہوں۔ یہ شعور اور یہ اوصاف ہر اس فرد اور جماعت کے لیے ضروری ہیں جس کے کاندھوں پر یہ عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہو۔ آخرت کا عقیدہ دو تصورات کے درمیان ایک دو راہا ہے۔ ایک تصور حیوانی تصور ہے ، جو احساس کے حدود کے اندر محدود ہے۔ دوسرا تصور ایک انسانی تصور ہے جو اس دنیا کو ایک وسیع دائرے کے اندر دیکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دینا ہے وہ حیوانی تصور کے ساتھ یہ فریضہ انجام نہیں دے سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں امت مسلمہ کے لیے عقیدہ آخرت کے یقین کو ایک اساسی عقیدہ قرار دیا گیا ہے۔ دین اسلام نے عقیدہ آخرت کو نہایت ہی گہرا ، نہایت ہی وسیع اور نہایت ہی واضح شکل میں پیش کیا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مسلمان کے شعور اور عمل میں عالم آخرت ، اس محدود دنیا کے مقابلے میں زیادہ گہرائی تک ، زیادہ وسعت کے ساتھ اور زیادہ واضح طور پر بیٹھا ہوا ہے۔ حالانکہ مسلمان بہرحال اس جہان میں رہ رہے ہیں ، اور یہی وہ خوبی تھی جس کی وجہ سے امت مسلمہ نے انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دیا اور یہ قیادت راشدہ تھی جسے اسلامی اور عالمی تاریخ نے خوب سمجھا۔ سورة اعراف میں اس موضوع پر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے اور یہ سوال نہایت ہی تعجب انگیزی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مشرکین نے فی الواقعہ عقیدہ آخرت کو ایک انوکھی بات سمجھا۔ ان کا سوال یہ بتاتا ہے کہ وہ وقوع قیامت کو مضحکہ خیز سمجھتے تھے اور اسے بالکل بعید از امکان سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے یہ سوال کیا۔ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرساھا۔ یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی ؟ قیامت ایک غیب ہے اور اس کا علم اللہ نے اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے ، اپنی مخلوق میں سے کسی کو اللہ نے قیام قیامت کی اطلاع نہیں دی کہ وہ کب ہوگی۔ اس کے باوجود مشرکین رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے کہ قیامت کب ہوگی ؟ یہ سوال یا تو بطور امتحان تھا ، یا تعجب کرنے والے شخص کا سوال تھا جو کسی بات کو عجیب و غریب سمجھتا ہو یا ایک ایسے شخص کا سوال تھا جو مسئول الیہ کی توہین کرنا چاہتا ہو اور حقارت کے ساتھ یہ سوال کر رہا ہوں۔ ایان مرساھا کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کی کشتی کب لنگر انداز ہوگی اور قیامت کب واقع ہوکر رک جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ بہراحال ایک بشر تے۔ آپ علم غیب کے مدعی نہ تے۔ آپ کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ غیبی امور عالم الغیب کے سپرد کردیں۔ اور لوگوں کو یہ بتا دیں کہ یہ موضوع الوہیت کے خصائص کے ساتھ متعلق ہے۔ آپ ایک بشر ہیں اور آپ بشریت کے دائرے سے باہر کسی چیز کے مدعی نہیں ہیں۔ نہ بشریت کے حدود سے باہرجانا چاہتے ہیں۔ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ رب کی جانب سے سکھایا ہوا ہے اور اللہ کی مرضی ہے کہ وہ رسول کو کیا بتائے اور کیا نہ بتائے۔ قل انما علمھا عند ربی لا یجلیہا لوقتھا الا ھو۔ کہو " اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے۔ اسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا " کیونکہ قیامت کا علم اللہ نے اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور اس کا علم لوگوں کو تب ہوگا جب اس کے وقوع کا آغاز ہوگا ، کسی دوسرے پر اس کا انکشاف نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد لوگوں کی توجہ اس کے وقت وقوع کے بجائے اس کی حقیقت اور ماہیت کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے اور یہ شعور دیا جاتا ہے کہ وہ ایک عظیم اور ہولناک واقعہ ہوگا اور اس کا بوجھ نہایت ہی بھاری ہوگا ، اس کا بوجھ زمین و آسمان کی موجودہ نظر آنے والی کائنات میں بہت ہی بھاری ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ اچانک واقعہ ہوگی اور اس سے غافل لوگ اپنی غفلت میں مارے جائیں گے۔ ثقلت فی السموات والارض لا تاتیکم الا بغتۃ۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا۔ وہ تم پر اچانک آجاے گا۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ تمہارا سب اہتمام اس پہلو سے ہو کہ تم اس کی تیاریاں کرو اور جب وہ اچانک آئے تو تم اس کے لیے تیار ہو۔ کیونکہ جب وہ اچانک آئے گی تو اس کو قت کوئی احتیاط اور کوئی قوت کام نہ دے گی ، اس وقت تم جو احتیاطی تدابیر کروگے ، وہی کام آسکیں گی ، وہی قوت کام آئے جو تم نے اس وقت تیار کی ہو۔ اس وقت عمر کافی ہے اور فرصت کے کافی اوقات تمہارے پاس ہیں۔ لہذا ابھی سے اس کے لیے تیاریاں شروع کردو اور ایک منٹ بھی ضائع نہ کرو ممکن ہے کہ اگلے ہی منٹ میں قیامت ہو۔ اس کے بعد ان لوگوں کے سوال پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے اس قسم کا سوال کرتے ہیں یہ لوگ رسالت کی نوعیت اور رسول کی حقیقت سے نابلد ہیں۔ نیز یہ لوگ اللہ عظیم کی بادشاہت کی حقیقت سے بھی لاعلم ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ رب عظیم کے سامنے اللہ کے پیغمبر کس قدر با ادب ہوتے ہیں۔ یسئلونک کانک حفی عنہا۔ یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں ، گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو۔ گویا حضور دائماً اسی کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں یا آپ کی ڈیوٹی یہ ہے کہ آپ قیامت کے وقوع کی گھڑی کا کھوج لگائیں۔ ظاہر ہے کہ حضور رب تعالیٰ سے ان موضوعات کے بارے میں پوچھتے ہی نہیں جو الہ العالمین کا مخصوص دائرہ ہے۔ قل انما علمھا عند اللہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ کیونکہ اللہ نے اسے اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور اس کی اطلاع کسی کو نہیں دی۔ ولکن اکثر الناس ۔ مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے۔ ۔۔ یہ صرف قیامت کے وقوع کی گھڑی کی بات نہیں ہے۔ یہ ہر غیبی امر کے متعلق اصولی بات ہے۔ علم غیب صرف اللہ کو ہے اور علم غیب میں سے کچھ بات اگر اللہ چاہے تو کسی کو بتا دیتا ہے اور جس قدر چاہے بتا دیتا ہے ، جس وقت چاہتا ہے بتا دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ بعض اوقات لوگ ایک کام کرتے ہیں اور ان کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کے لیے مفید ہوگا لیکن آخر کار وہ ان کے لیے مضر ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ ایک کام مضرت کے لیے کرتے ہیں لیکن انجام کار وہ ان کے لیے مفید ہوتا ہے۔ کبھی وہ کسی کام کو ناپسند کرتے ہوئے مجبورا کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے مفید ہوتا ہے اور کبھی وہ کسی کام کو بہت ہی دلچسپی سے محبوب رکھتے ہوئے کرتے ہیں لیکن وہ ان کے لیے مضر ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔ و عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم و عسی ان تحبوا شیئا وھو شر لکم ۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے خیر ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو محبوب رکھو اور وہ تمہارے لیے شر ہو۔ جس شاعر نے یہ کہا ہے اس کی بھی یہی مراد ہے۔ الا من یرینی غایتی قبل مذھبی ومن ابن والغایات بعد المذاھب کون ہے جو مجھے میرے مرنے سے پہلے میری منزل بتا سکے قبل اس کے کہ میں سفر کروں ایسا کب ہوسکتا ہے ؟ انجام تو سفر کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے۔ اس شعر میں غیب مستور کے بارے میں انسانی موقف کو بیان کیا گیا ہے ، انسان کا علم جس قدر وسیع ہو اور وہ تعلیم کے میدان میں چاہے جس قدر ترقی بھی کرلے تو اس کے سامنے غیب کا دروازہ بند ہے اور عالم غیب کے سامنے پردے گرے ہوئے ہیں ، اس کی انسانیت کی حدود اسے یہ بات یاد دلاتے رہیں گے کہ اس کی انسانیت کے سامنے غیب کی دنیا محبوب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی کیا شان ہے اور آپ کو اللہ کے ساتھ جو قرب ہے وہ بھی اپنی جگہ پر ہے۔ آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ عالم غیب کے دروازے پر آپ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک بشر ہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں کیونکہ آپ کو غیب کا علم نہیں ہے اور آپ کو راستوں پر چلنے سے پہلے منزل کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے ، کوئی بھی اپنے افعال کے انجام سے باخبر نہٰں ہے۔ اس طرح کہ اگر وہ کسی فعل کے انجام کو جانتا ہو کہ وہ اچھا ہوگا تو وہ اس کو کر گزرے اور یا وہ یہ جانتا ہو کہ اس فعل کا انجام برا ہوگا ، تو اس سے رک جائے۔ انسان تو سوچ کر ایک کام کرتا ہے مگر اس کا انجام اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اللہ کی تقدیر ہو۔ قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭوَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْر ِ ٻ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوْۗءُ ڔ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ۔ اے نبی ، ان سے کہو کہ " میں اپنی ذات کے لی کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا ، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا " یہ ایک اہم اعلان ہے اور اس کے ساتھ ہی اسلام کا نظریہ توحید بالکل صاف و شفاف ہوکر سامنے آگیا ہے اور وہ ہر قسم کے شرک کے معمولی شائبے سے بھی پاک ہوگیا ہے۔ ذات باری اپنے خصائص میں منفرد ہوگئی ہے اور اس کے خصائص میں اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں رہا ہے۔ اگرچہ وہ شریک حضرت محمد ﷺ ہی کیوں نہ ہوں۔ جو اللہ کے حبیب ہیں اور اللہ کے برگزیدہ ہیں۔ غیب کے دروازے پر آپ کا راستہ بھی بند ہے ، پوری انسانیت کا علم اس دروازے پر رک جاتا ہے۔ جہاں دوسرے انسان یہاں آکر رک جاتے ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے فرائض بھی یہاں پہنچ کر محدود ہوجاتے ہیں۔ ان انا الا نذیر و بشیر لقوم یومنون۔ میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں ، ان لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔ رسول اللہ ﷺ تو محض خبردار کرنے والے اور خوشخبری سنانے والے ہیں۔ لیکن آپ کی نذارت و بشارات سے وہی لوگ مستفید ہوسکتے ہیں جو اپنے دلوں میں ایمان رکھتے ہوں ، اہل ایمان ہی اس دعوت کی حققت کو سمجھتے ہیں جس کے آپ حامل ہیں۔ وہی سمجھتے ہیں کہ اس دعوت کے پیچھے کیا آنے والا ہے۔ اہل ایمان در اصل بشریت کا خلاصہ ہیں اور رسول اللہ ﷺ اہل ایمان کا خلاصہ ہیں۔ یہ فقرہ اس شخص کے لیے مفید ہوسکتا ہے جس کا دل کھلا ہو ، جس کا دماغ روشن ہو اور قبولیت حق کے لیے تیار ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کے خزانوں کے دروازے اس شخص کے لیے کھلتے ہیں جو مومن ہو ، اس کا پھل وہی شخص چکھ سکتا ہے ، جو مومن ہو اور اس کے اسرار تک رسائی اہل ایمان ہی کی ہوسکتی ہے۔ بعض صحابہ کرام سے مروی ہے کہ اللہ ہمیں قرآن دینے سے قبل ایمان دیتا تھا۔ یہ ایمان ہی تھا جس کے ذریعے ان کو قرآن کا وہ ذوق دیا گیا جس کی مثال نہیں ہے ، اور وہ اس کے معانی اور مقاصد کا وہ ادراک رکھتے تھے جس سے تمام دوسرے لوگ محروم ہیں اور یہ قرآن ہی تھا جس کے ذریعے انہوں نے انسانی تاریخ میں معجزات اور حیران کن کارناموں کا ایک ذخیرہ چھوڑا اور یہ عظیم کارنامے انہوں نے تاریخ کے نہایت ہی مختصر دور میں سر انجام دئیے۔ یہ منفرد گروہ قرآن کریم کی مٹھاس کا صحیح ذوق رکھتا تھا۔ ان کی آنکھیں اس کی روشنی میں دیکھتی تھیں ، وہ اس کے دلائل کو پاتے تھے اور خارق العادۃ پاتے تھے۔ لیکن مخاطبین محمد کے صرف وہی لوگ تھے جن کو حلاوت ایمان نصیب ہوتی تھی۔ یہ قرآن ہی تھا کہ جس کی کشش نے ان کی ارواح کو ایمان کی طرف کھینچا۔ لیکن اس ایمان ہی کی وجہ سے ان پر قرآن کے راز بھی کھلتے گئے۔ یہ لوگ قرآن میں زندہ رہے ، قرآن کے لیے زندہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گروہ منفرد رہا اور کبھی ایسے لوگ دوبارہ پیدا نہ ہوسکے ، یعنی اس قدر کثیر گروہ ، اس قدر نئی جدت کے ساتھ پوری اسلامی بلکہ انسانی تاریخ میں کبھی پیدا نہ ہوسکا ، ہاں چند افراد ، منفرد لوگ کبھی کبھار اسلامی تاریخ میں ضرور پیدا ہوتے رہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک قرآن کے لیے وقف ہوگئے تھے۔ وہ قرآن کے چشمہ صافی ہی سے سیراب ہوتے رہے اور اس میں انہوں نے کوئی انسانی کلام یا ہدایت شامل نہ کی۔ الا یہ کہ حضور اکرم کے اقوال و احادیث ان کے لیے ہادی ہے۔ آپ کے اقوال بھی بہرحال قرآن ہی کا حصہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کا یہ گروہ بےمثال رہا۔ جو لوگ وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے کیا تو ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ وہی انداز اختیار کریں جو انہوں نے کیا۔ وہ اس قرآن میں زندہ رہیں اور ایک طویل عرصہ وہ اس میں گم ہوجائیں اور وہ تمام انسانی تحریروں کو چھوڑ کر صرف قرآن کا مطالعہ کریں۔ صرف اسی صورت میں وہ وہی بن سکتے ہیں جو وہ تھے۔ (دیکھیے نشانات راہ باب اول)

الأعراف 7:188

تفسیر آیات 187 تا 188:۔ یہ لوگ جو اپنے ماحول سے غافل ہیں ، اپنے ماحول سے انہوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں وہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ پردہ غیب میں مستور قیامت کب برپا ہوگی۔ ان لوگوں کا سوال اسی طرح ہے کہ ایک شخص کی بینائی اس قدر کمزور ہو کہ وہ اپنے قدموں میں کچھ نہ دیکھ سکتا ہو مگر خواہش یہ رکھتا ہو کہ وہ دور افق اعلی میں بھی کچھ دیکھے۔ ۔۔۔ عقیدہ آخرت اور اس میں میزان کا قیام اور سزا و جزا کا واقع ہونا یہ مشرکین مکہ کے لیے ایک انوکھا نظریہ تھا حالانکہ یہ عقیدہ دین ابراہیمی کا اساسی عقیدہ تھا اور مشرکین مکہ کا شجرہ نسب حضرت ابراہیم سے ملتا تھا۔ یہی عقیدہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ کے دین میں بھی ایک اساسی نظریہ تھا۔ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد زمانے گزر گے اور وہ اسلام کے ان اصولوں سے دور چلے گئے جو دین ابراہیم اور دین اسماعیل کے اساسی عقائد تھے۔ ایک ایسا دور بھی آیا کہ ان کے تصور ہی سے عقیدہ آخرت مٹ گیا۔ یہ عقیدہ انہیں اب عجیب و غریب نظر آنے لگا تھا اور ان کے شعور زندگی سے بالکل متضاد سا ہوگیا تھا۔ چناچہ جب وہ حضور کی زبان سے دعوت سنتے اور اس میں آپ ان کو بعث و نشر کے بارے میں بتاتے اور حساب و کتاب کے حالات ان کے سامنے رکھتے تو انہیں یہ بات نہایت ہی عجیب و غریب اور بعید الوقوع نظر آتی۔ ایک دوسری جگہ قرآن کریم نے ان کے اس تعجب کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ قال الذین کفرو ۔۔۔۔ البعید ( سورة سبا) منکرین حق لوگ کہتے ہیں۔ " ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبر دیتا ہے کہ جب تمہارا جسم ذرہ ذرہ منتشر ہوچکا ہوگا اس وقت تم نئے سرے پیدا کردئیے جاؤگے ؟ نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے یا اسے جنون لاحق ہوگیا ہے۔ نہیں بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں "۔ اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ کوئی امت پوری انسانی کی قیادت اس وقت تک نہیں کرسکتی جب تک اس کے نظام فکر میں عقیدہ بعث بعد موت اچھی طرح پختہ نہ ہوچکا ہو ، اور امت مسلمہ کا فریضۃ بہرحال یہی ہے کہ وہ پوری دنیا کی قیادت کرے۔ لہذا اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس دنیا کی زندگی کو ایک محدود زندگی تصور کرے ، جو اس محدود دنیا کے چھوٹے سے کرے پر ہے۔ عقیدہ آخرت کے بغیر اس قسم کی امت کا پیدا کرنا ممکن نہ تھا جس کے سامنے اس قدر عظیم نصب العین ہو۔ عقیدہ آخرت انسانی تصور میں وسعت پیدا کرتا ہے ، نفس انسانی میں کشادگی آجاتی ہے ، زندگی جس کے تسلسل کے بارے میں انسان کی شخصیت کے اندر تمنا پائی جاتی ہے ، وہ تمنا پوری ہوتی ہے اور پھر امت مسلمہ کے ذمہ جو فراض ہیں ان کی ادائیگی کے لیے یہ عقیدہ ضروری ہے۔ پھر اس عقیدے کی وجہ سے انسان کے سفلی جذبات اور محدود دنیاوی خواہشات پر بھی کنٹرول ہوتا ہے۔ نیز اس سے انسان کا دائرہ حرکت وسیع ہوجاتا ہے اور انسان کو دنیا کے محدود نتائج مایوس نہیں کرسکتے اور نہ اسے دردناک قربانیاں اپنے مقصد کے حصول سے روک سکتی ہے نیکی کے کاموں اور دعوت اسلامی کے پھیلانے اور بھلائی کی طرف لوگوں کی قیادت کرنے میں وہ کوئی رکاوٹ محسوس نہیں کرتا۔ اگرچہ اس کی جدوجہد کے فوری نتائج اس کی منشا کے خلاف ہوں اور اس کی راہ میں دردناک رکاوٹیں ہوں۔ یہ شعور اور یہ اوصاف ہر اس فرد اور جماعت کے لیے ضروری ہیں جس کے کاندھوں پر یہ عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہو۔ آخرت کا عقیدہ دو تصورات کے درمیان ایک دو راہا ہے۔ ایک تصور حیوانی تصور ہے ، جو احساس کے حدود کے اندر محدود ہے۔ دوسرا تصور ایک انسانی تصور ہے جو اس دنیا کو ایک وسیع دائرے کے اندر دیکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس جماعت نے پوری انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دینا ہے وہ حیوانی تصور کے ساتھ یہ فریضہ انجام نہیں دے سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں امت مسلمہ کے لیے عقیدہ آخرت کے یقین کو ایک اساسی عقیدہ قرار دیا گیا ہے۔ دین اسلام نے عقیدہ آخرت کو نہایت ہی گہرا ، نہایت ہی وسیع اور نہایت ہی واضح شکل میں پیش کیا ہے۔ یہاں تک کہ ایک مسلمان کے شعور اور عمل میں عالم آخرت ، اس محدود دنیا کے مقابلے میں زیادہ گہرائی تک ، زیادہ وسعت کے ساتھ اور زیادہ واضح طور پر بیٹھا ہوا ہے۔ حالانکہ مسلمان بہرحال اس جہان میں رہ رہے ہیں ، اور یہی وہ خوبی تھی جس کی وجہ سے امت مسلمہ نے انسانیت کی قیادت کا فریضہ سر انجام دیا اور یہ قیادت راشدہ تھی جسے اسلامی اور عالمی تاریخ نے خوب سمجھا۔ سورة اعراف میں اس موضوع پر یہ سوال ہمارے سامنے آتا ہے اور یہ سوال نہایت ہی تعجب انگیزی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مشرکین نے فی الواقعہ عقیدہ آخرت کو ایک انوکھی بات سمجھا۔ ان کا سوال یہ بتاتا ہے کہ وہ وقوع قیامت کو مضحکہ خیز سمجھتے تھے اور اسے بالکل بعید از امکان سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے یہ سوال کیا۔ یسئلونک عن الساعۃ ایان مرساھا۔ یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی ؟ قیامت ایک غیب ہے اور اس کا علم اللہ نے اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے ، اپنی مخلوق میں سے کسی کو اللہ نے قیام قیامت کی اطلاع نہیں دی کہ وہ کب ہوگی۔ اس کے باوجود مشرکین رسول اللہ ﷺ سے پوچھتے تھے کہ قیامت کب ہوگی ؟ یہ سوال یا تو بطور امتحان تھا ، یا تعجب کرنے والے شخص کا سوال تھا جو کسی بات کو عجیب و غریب سمجھتا ہو یا ایک ایسے شخص کا سوال تھا جو مسئول الیہ کی توہین کرنا چاہتا ہو اور حقارت کے ساتھ یہ سوال کر رہا ہوں۔ ایان مرساھا کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کی کشتی کب لنگر انداز ہوگی اور قیامت کب واقع ہوکر رک جائے گی۔ رسول اللہ صلی اللہ بہراحال ایک بشر تے۔ آپ علم غیب کے مدعی نہ تے۔ آپ کو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ غیبی امور عالم الغیب کے سپرد کردیں۔ اور لوگوں کو یہ بتا دیں کہ یہ موضوع الوہیت کے خصائص کے ساتھ متعلق ہے۔ آپ ایک بشر ہیں اور آپ بشریت کے دائرے سے باہر کسی چیز کے مدعی نہیں ہیں۔ نہ بشریت کے حدود سے باہرجانا چاہتے ہیں۔ آپ کے پاس جو کچھ ہے وہ رب کی جانب سے سکھایا ہوا ہے اور اللہ کی مرضی ہے کہ وہ رسول کو کیا بتائے اور کیا نہ بتائے۔ قل انما علمھا عند ربی لا یجلیہا لوقتھا الا ھو۔ کہو " اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے۔ اسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا " کیونکہ قیامت کا علم اللہ نے اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور اس کا علم لوگوں کو تب ہوگا جب اس کے وقوع کا آغاز ہوگا ، کسی دوسرے پر اس کا انکشاف نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد لوگوں کی توجہ اس کے وقت وقوع کے بجائے اس کی حقیقت اور ماہیت کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے اور یہ شعور دیا جاتا ہے کہ وہ ایک عظیم اور ہولناک واقعہ ہوگا اور اس کا بوجھ نہایت ہی بھاری ہوگا ، اس کا بوجھ زمین و آسمان کی موجودہ نظر آنے والی کائنات میں بہت ہی بھاری ہے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ اچانک واقعہ ہوگی اور اس سے غافل لوگ اپنی غفلت میں مارے جائیں گے۔ ثقلت فی السموات والارض لا تاتیکم الا بغتۃ۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا۔ وہ تم پر اچانک آجاے گا۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ تمہارا سب اہتمام اس پہلو سے ہو کہ تم اس کی تیاریاں کرو اور جب وہ اچانک آئے تو تم اس کے لیے تیار ہو۔ کیونکہ جب وہ اچانک آئے گی تو اس کو قت کوئی احتیاط اور کوئی قوت کام نہ دے گی ، اس وقت تم جو احتیاطی تدابیر کروگے ، وہی کام آسکیں گی ، وہی قوت کام آئے جو تم نے اس وقت تیار کی ہو۔ اس وقت عمر کافی ہے اور فرصت کے کافی اوقات تمہارے پاس ہیں۔ لہذا ابھی سے اس کے لیے تیاریاں شروع کردو اور ایک منٹ بھی ضائع نہ کرو ممکن ہے کہ اگلے ہی منٹ میں قیامت ہو۔ اس کے بعد ان لوگوں کے سوال پر تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے اس قسم کا سوال کرتے ہیں یہ لوگ رسالت کی نوعیت اور رسول کی حقیقت سے نابلد ہیں۔ نیز یہ لوگ اللہ عظیم کی بادشاہت کی حقیقت سے بھی لاعلم ہیں اور یہ بھی نہیں جانتے کہ رب عظیم کے سامنے اللہ کے پیغمبر کس قدر با ادب ہوتے ہیں۔ یسئلونک کانک حفی عنہا۔ یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں ، گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو۔ گویا حضور دائماً اسی کے بارے میں پوچھتے رہتے ہیں یا آپ کی ڈیوٹی یہ ہے کہ آپ قیامت کے وقوع کی گھڑی کا کھوج لگائیں۔ ظاہر ہے کہ حضور رب تعالیٰ سے ان موضوعات کے بارے میں پوچھتے ہی نہیں جو الہ العالمین کا مخصوص دائرہ ہے۔ قل انما علمھا عند اللہ ولکن اکثر الناس لا یعلمون۔ کیونکہ اللہ نے اسے اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور اس کی اطلاع کسی کو نہیں دی۔ ولکن اکثر الناس ۔ مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے۔ ۔۔ یہ صرف قیامت کے وقوع کی گھڑی کی بات نہیں ہے۔ یہ ہر غیبی امر کے متعلق اصولی بات ہے۔ علم غیب صرف اللہ کو ہے اور علم غیب میں سے کچھ بات اگر اللہ چاہے تو کسی کو بتا دیتا ہے اور جس قدر چاہے بتا دیتا ہے ، جس وقت چاہتا ہے بتا دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ بعض اوقات لوگ ایک کام کرتے ہیں اور ان کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کے لیے مفید ہوگا لیکن آخر کار وہ ان کے لیے مضر ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ ایک کام مضرت کے لیے کرتے ہیں لیکن انجام کار وہ ان کے لیے مفید ہوتا ہے۔ کبھی وہ کسی کام کو ناپسند کرتے ہوئے مجبورا کرتے ہیں اور وہ ان کے لیے مفید ہوتا ہے اور کبھی وہ کسی کام کو بہت ہی دلچسپی سے محبوب رکھتے ہوئے کرتے ہیں لیکن وہ ان کے لیے مضر ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے۔ و عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم و عسی ان تحبوا شیئا وھو شر لکم ۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے خیر ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو محبوب رکھو اور وہ تمہارے لیے شر ہو۔ جس شاعر نے یہ کہا ہے اس کی بھی یہی مراد ہے۔ الا من یرینی غایتی قبل مذھبی ومن ابن والغایات بعد المذاھب کون ہے جو مجھے میرے مرنے سے پہلے میری منزل بتا سکے قبل اس کے کہ میں سفر کروں ایسا کب ہوسکتا ہے ؟ انجام تو سفر کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے۔ اس شعر میں غیب مستور کے بارے میں انسانی موقف کو بیان کیا گیا ہے ، انسان کا علم جس قدر وسیع ہو اور وہ تعلیم کے میدان میں چاہے جس قدر ترقی بھی کرلے تو اس کے سامنے غیب کا دروازہ بند ہے اور عالم غیب کے سامنے پردے گرے ہوئے ہیں ، اس کی انسانیت کی حدود اسے یہ بات یاد دلاتے رہیں گے کہ اس کی انسانیت کے سامنے غیب کی دنیا محبوب ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی کیا شان ہے اور آپ کو اللہ کے ساتھ جو قرب ہے وہ بھی اپنی جگہ پر ہے۔ آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ اعلان کردیں کہ عالم غیب کے دروازے پر آپ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک بشر ہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لیے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں کیونکہ آپ کو غیب کا علم نہیں ہے اور آپ کو راستوں پر چلنے سے پہلے منزل کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے ، کوئی بھی اپنے افعال کے انجام سے باخبر نہٰں ہے۔ اس طرح کہ اگر وہ کسی فعل کے انجام کو جانتا ہو کہ وہ اچھا ہوگا تو وہ اس کو کر گزرے اور یا وہ یہ جانتا ہو کہ اس فعل کا انجام برا ہوگا ، تو اس سے رک جائے۔ انسان تو سوچ کر ایک کام کرتا ہے مگر اس کا انجام اسی طرح ہوتا ہے جس طرح اللہ کی تقدیر ہو۔ قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ ۭوَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْر ِ ٻ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوْۗءُ ڔ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ۔ اے نبی ، ان سے کہو کہ " میں اپنی ذات کے لی کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا ، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا " یہ ایک اہم اعلان ہے اور اس کے ساتھ ہی اسلام کا نظریہ توحید بالکل صاف و شفاف ہوکر سامنے آگیا ہے اور وہ ہر قسم کے شرک کے معمولی شائبے سے بھی پاک ہوگیا ہے۔ ذات باری اپنے خصائص میں منفرد ہوگئی ہے اور اس کے خصائص میں اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں رہا ہے۔ اگرچہ وہ شریک حضرت محمد ﷺ ہی کیوں نہ ہوں۔ جو اللہ کے حبیب ہیں اور اللہ کے برگزیدہ ہیں۔ غیب کے دروازے پر آپ کا راستہ بھی بند ہے ، پوری انسانیت کا علم اس دروازے پر رک جاتا ہے۔ جہاں دوسرے انسان یہاں آکر رک جاتے ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے فرائض بھی یہاں پہنچ کر محدود ہوجاتے ہیں۔ ان انا الا نذیر و بشیر لقوم یومنون۔ میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں ، ان لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔ رسول اللہ ﷺ تو محض خبردار کرنے والے اور خوشخبری سنانے والے ہیں۔ لیکن آپ کی نذارت و بشارات سے وہی لوگ مستفید ہوسکتے ہیں جو اپنے دلوں میں ایمان رکھتے ہوں ، اہل ایمان ہی اس دعوت کی حققت کو سمجھتے ہیں جس کے آپ حامل ہیں۔ وہی سمجھتے ہیں کہ اس دعوت کے پیچھے کیا آنے والا ہے۔ اہل ایمان در اصل بشریت کا خلاصہ ہیں اور رسول اللہ ﷺ اہل ایمان کا خلاصہ ہیں۔ یہ فقرہ اس شخص کے لیے مفید ہوسکتا ہے جس کا دل کھلا ہو ، جس کا دماغ روشن ہو اور قبولیت حق کے لیے تیار ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم کے خزانوں کے دروازے اس شخص کے لیے کھلتے ہیں جو مومن ہو ، اس کا پھل وہی شخص چکھ سکتا ہے ، جو مومن ہو اور اس کے اسرار تک رسائی اہل ایمان ہی کی ہوسکتی ہے۔ بعض صحابہ کرام سے مروی ہے کہ اللہ ہمیں قرآن دینے سے قبل ایمان دیتا تھا۔ یہ ایمان ہی تھا جس کے ذریعے ان کو قرآن کا وہ ذوق دیا گیا جس کی مثال نہیں ہے ، اور وہ اس کے معانی اور مقاصد کا وہ ادراک رکھتے تھے جس سے تمام دوسرے لوگ محروم ہیں اور یہ قرآن ہی تھا جس کے ذریعے انہوں نے انسانی تاریخ میں معجزات اور حیران کن کارناموں کا ایک ذخیرہ چھوڑا اور یہ عظیم کارنامے انہوں نے تاریخ کے نہایت ہی مختصر دور میں سر انجام دئیے۔ یہ منفرد گروہ قرآن کریم کی مٹھاس کا صحیح ذوق رکھتا تھا۔ ان کی آنکھیں اس کی روشنی میں دیکھتی تھیں ، وہ اس کے دلائل کو پاتے تھے اور خارق العادۃ پاتے تھے۔ لیکن مخاطبین محمد کے صرف وہی لوگ تھے جن کو حلاوت ایمان نصیب ہوتی تھی۔ یہ قرآن ہی تھا کہ جس کی کشش نے ان کی ارواح کو ایمان کی طرف کھینچا۔ لیکن اس ایمان ہی کی وجہ سے ان پر قرآن کے راز بھی کھلتے گئے۔ یہ لوگ قرآن میں زندہ رہے ، قرآن کے لیے زندہ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گروہ منفرد رہا اور کبھی ایسے لوگ دوبارہ پیدا نہ ہوسکے ، یعنی اس قدر کثیر گروہ ، اس قدر نئی جدت کے ساتھ پوری اسلامی بلکہ انسانی تاریخ میں کبھی پیدا نہ ہوسکا ، ہاں چند افراد ، منفرد لوگ کبھی کبھار اسلامی تاریخ میں ضرور پیدا ہوتے رہے۔ وہ ایک طویل عرصے تک قرآن کے لیے وقف ہوگئے تھے۔ وہ قرآن کے چشمہ صافی ہی سے سیراب ہوتے رہے اور اس میں انہوں نے کوئی انسانی کلام یا ہدایت شامل نہ کی۔ الا یہ کہ حضور اکرم کے اقوال و احادیث ان کے لیے ہادی ہے۔ آپ کے اقوال بھی بہرحال قرآن ہی کا حصہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کا یہ گروہ بےمثال رہا۔ جو لوگ وہی کام کرنا چاہتے ہیں جو انہوں نے کیا تو ان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ وہی انداز اختیار کریں جو انہوں نے کیا۔ وہ اس قرآن میں زندہ رہیں اور ایک طویل عرصہ وہ اس میں گم ہوجائیں اور وہ تمام انسانی تحریروں کو چھوڑ کر صرف قرآن کا مطالعہ کریں۔ صرف اسی صورت میں وہ وہی بن سکتے ہیں جو وہ تھے۔ (دیکھیے نشانات راہ باب اول)

الأعراف 7:189

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔

الأعراف 7:190

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔