Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الأعراف 7:191 – الأعراف 7:206

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الأعراف 7:191
  2. الأعراف 7:192
  3. الأعراف 7:193
  4. الأعراف 7:194
  5. الأعراف 7:195
  6. الأعراف 7:196
  7. الأعراف 7:197
  8. الأعراف 7:198
  9. الأعراف 7:199
  10. الأعراف 7:200
  11. الأعراف 7:201
  12. الأعراف 7:202
  13. الأعراف 7:203
  14. الأعراف 7:204
  15. الأعراف 7:205
  16. الأعراف 7:206

الأعراف 7:191

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔

الأعراف 7:192

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔

الأعراف 7:193

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔

الأعراف 7:194

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔

الأعراف 7:195

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔

الأعراف 7:196

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔

الأعراف 7:197

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔

الأعراف 7:198

تفسیر آیات 189 تا 198:۔ عقیدہ توحید کے بارے میں ایک بار پھر اس کا آغاز قصے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اور اس میں یہ بتایا جاتا ہے کہ توحید سے شرک کی طرف انتقال میں کیا کیا مراحل پیش آتے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے انحراف کے مراحل ہیں جو دین ابراہیم سے پھر کر موجودہ مشرکانہ عقائد و اعمال کے پیرو بن گئے ہیں۔ اور آخر میں بتایا جاتا ہے کہ وہ جن الہوں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کی عبادت کس قدر بودا اور احمقانہ فعل ہے۔ پہلی نظر ہی میں اور معمولی غور و فکر کے بعد ہی نظر آجاتا ہے کہ ان کی سوچ و عمل باطل ہیں۔ اس فقرے کے آخر میں حضور اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان کو چیلنج دیں کہ یہ الہ آپ کا جو بگاڑنا چاہیں بگاڑ لیں اور آپ یہ بھی اعلان کردیں کہ میرا والی اور مددگا اللہ رب العالمین ہے۔ وہ میری نصرت کے لیے کافی ہے۔ ذرا ایک نظر ملاحظہ ہو۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ فَلَمَّآ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَاۗءَ فِيْمَآ اٰتٰىهُمَا ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَتَّبِعُوْكُمْ ۭ سَوَاۗءٌ عَلَيْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ۔ اَلَهُمْ اَرْجُلٌ يَّمْشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَيْدٍ يَّبْطِشُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اَعْيُنٌ يُّبْصِرُوْنَ بِهَآ ۡ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا ۭقُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے مگر جب اللہ نے ان کو ایک صیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے۔ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ی سے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو ، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں " کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں ؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سنیں ؟ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ جاہلیت اور اس کے تصورات کے ساتھ ایک ٹکر ہے ، جاہلیت جب اللہ وحدہ کی غلامی اور بندگی سے منحرف ہوجاتی ہے تو وہ ضلالت اور گمراہی کی حدوں کو پار کرلیتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ تدبر اور غور و فکر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس ٹکڑے میں ان مراحل کی تصویر کشی کی گئی ہے جب ابتدائی طور پر انسان راہ انحراف اختیار کرتا ہے اور آخر کار مکمل گمراہی کے گڑھے میں جا گرتا ہے۔ ۔۔۔ هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ اِلَيْهَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِيْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ ۚ فَلَمَّآ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَىِٕنْ اٰتَيْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِيْنَ ۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جسے لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔ یہ ہے فطرت جس کے مطابق اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اس کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اللہ کی طرف متوجہ ہو ، اور اللہ وحدہ کی ربوبیت کا اس طرح اعتراف کرے کہ اس میں کوئی اور شریک نہ ہو ، اور خوف اور رجا دونوں میں یہ اعتراف ہو۔ یہاں اللہ نے اس فطرت کی جس مثال کو بیان کیا ہے ، وہ تخلیق انسان سے شروع ہوتی ہے اور نظام تخلیق میں خاوند اور بیوی کے تعلق کی نوعیت کو لیا ہے۔ ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ وجعل منہا زوجہا لیسکن الیہا۔ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کی اور اس کی جسن سے اس کا جوڑ بنانا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ مرد اور عورت تخلیقی اعتبار سے ایک ہیں اس لیے انہیں نفس واحد کہا گیا ، اگرچہ مرد اور عورت کا فطری وظیفہ جدا جدا ہے۔ فرائض طبیعہ کا یہ اختلاف اللہ نے اسلیے پیدا کیا ہے تاکہ مرد عورت کے پاس سکون حاصلکرے اور وہ اس کے لیے راحت کا سبب ہو۔ انسان کی حققت کے بارے میں اسلام کا یہ تصور ہے اور زوجین کے باہم تعلق اور فرائض کے بارے میں اسلام یہ تاثر دیتا ہے۔ یہ ایک مکمل اور سچا تصور ہے ، جو صرف اسلام نے پیش کیا ہے۔ اور آج سے چودہ سو سال قبل پیش کیا گیا ہے جبکہ تحریف شدہ ادیان سماوی میں تصور یہ تھا کہ تمام انسانی مصائب کی ذمہ دار عورت ہے۔ اسے نجاست اور لعنت سمجھا جاتا تھا۔ اور گمراہی کا ایک خطرناک پھندا اسے کہا جاتا تھا اور ہر وقت یہ تلقین کی جاتی کہ اس سے ہر وقت خطرہ محسوس کیا جائے۔ جبکہ قدیم و جدید بت پرست ادیان اور تہذیبوں میں اس کا مقام کنڈم مال کا سا تھا یا اگر کہیں اسے کوئی رتبہ دیا جاتا تو وہ صرف یہ ہوتا کہ وہ مرد کی خادمہ ہے اور اس کی کوئی ذاتی حیثیت نہیں ہے۔ زوجین کے ملاپ کا اصل مقصد ، اسلام میں یہ ہے کہ وہ باہم ملیں ، سکون حاصل کریں اور امن و محبت کی فضا میں آرام کی زندگی بسر کریں۔ تاکہ یہ کائنات اور گھر کے امن کی فضا میں بچے کے سر پر سایہ ہوں اور انسانیت کے قیمتی اثاثے کے لیے سہولت فراہم ہو۔ اور نئی نسل انسانی تہذیب و تمدن کی حامل بن کر اس امانت کو اگلی پشتوں تک منتقل کرنے کی اہل ہوسکے۔ اور اس میں مناسب اضافہ بھی کرسکے۔ اسلام نے زوجین کے اس مالپ کی غرض وغایت وقتی لذت اور عارضی جذبات کو قرار نہیں دیا ہے اور نہ اسے مرد اور عورت کے درمیان دشمنی اور نزاع تصور کیا ہے۔ نہ مرد اور عورت کے فرائض میں سے کسی ایک کو اہم قرار دے کر دوسرے کے ساتھ متعارض قرار دیا ہے۔ نہ عورت کو مرد کے فرائض کی دعویدار بنایا ہے اور نہ مرد کو عورت کے فرائض سپرد کیے ہیں جیسا کہ قدیم و جدید جاہلیت نے ان میں التباس کرنے کی سعی کی ہے۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضارہ) یہاں مرد اور عورت کی پہلی ملاقات کے لیے قرآن کریم نے نہایت ہی لطیف و دقیق انداز بیان اختیار کیا ہے۔ تغاشاہا مرد نے عورت کو ڈھانک لیا۔ اس لفظ سے مباشرت کی تصویر کے ساتھ ساتھ امن و سکون کی فضا کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ بات کو دو جنسوں کے درمیان ملاپ کا رنگ دیا گیا ہے ، صرف اجسام کے ملاپ کا تصور نہیں دیا گیا تاکہ انسانی جنسی ملاپ اور جوانی جنسی ملاپ میں فرق و امتیاز بتایا جاسکے۔ اسی طرح حمل کی تصویر کشی بھی نہایت ہی اچھے پیرائے میں دی گئی ہے۔ ابتداء میں وہ نہایت ہی خفیف شکل میں ہوتا ہے اور بعد میں بوجھ بنتا ہے۔ حمل کا دوسرا درجہ بوجھل ہوتا ہے فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن اتیتنا صالحا لنکونن من الشکرین۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے اب اس دوسرے مرحلے میں حمل واضح ہوگیا ہے اور زوجین کے دل اس کے ساتھ اٹک گئے ہیں اور ان امیدوں کا وقت آگیا ہے کہ بچہ صحیح وسالم اور خوبصورت اور صالح ہو اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی تمنا سب والدین ، اولاد کے بارے میں کرتے ہیں جبکہ وہ ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں جنین ہوتی ہے اور وہ عالم غیب میں ہوتی ہے۔ امید کے اس عالم میں انسانی فطرت جاگ اٹھتی ہے۔ اور والدین اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، وہ اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کرتے ہیں اور اللہ وحدہ کے فضل و کرم کے امیدوار ہوتے ہیں ، کیونک انسانی فطرت کو ذاتی طور پر یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کائنات میں قوت ، نعمت اور فضل و کرم کا واحد سرچشمہ ذات باری ہے۔ چناچہ دعوا اللہ۔ دونوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اگر اس نے ہمیں صالح بچہ دیا تو ہم شکر ادا کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ فلما اتھما صالحا جعلا لہ شکراء فیما اتھما۔ مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح وسالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ تھا۔ یہ واقعہ حضرت آدم اور حوا کو پیش آیا ، کیونکہ ان کے جو بچے پیدا ہو رہے تھے وہ بد شکل اور بگڑی ہوئی صورت کے ہوتے تھے۔ شیطان نے حضرت حوا کو اس طرح ورغلایا کہ اس کے پیٹ میں جو کچھ ہے اس کا نام عبدالحارث رکھ دے۔ حارث ابلیس کا نام تھا۔ اس طرح یہ بچہ صحیح وسالم پیدا ہوگا۔ اس نے حضرت آدم کو بھی ورغلا کر ایسا ہی کہا۔ بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت اسرائیلی طرز کی ہے۔ کیونکہ اسرائیلی اور یہودی تصور کے مطابق وہ آدم کے ورغلانے میں حوا کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ اسلام اس تصور کو جڑ سے اکھاڑتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہودی اور عیسائی ادیان میں حقیقت سے انحراف کیا گیا ہے۔ ہمیں اس آیت کی تشریح میں اسی اسرائیلی روایات کی طرف کوئی احتیاج نہیں ہے۔ اس آیت میں در اصل ان انحرافات کی طرف اشارہ ہے جو نفس انسانی میں بتدریج راہ پاتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے دور میں اور آپ سے پہلے ادوار میں بھی یہ رواج تھا کہ مشرکین اپنے بچوں کی بتوں کے نام پر نذر مانتے تھے یا گرجوں اور عبادت گاہوں کی خدمت کے لیے وقف کرتے تھے۔ یہ کام وہ بطور تقرب الی اللہ کرتے تھے۔ اس معاملے میں پہلے تو ان کی توجہ کا مرکز ذات باری ہوتی تھی کیونکہ توحید کے بلند مقام سے گرنے اور بت پرستی کے گڑھے میں نیچے چلے جانے کے بعد وہ اس قسم کی نذر و نیاز مختلف آستانوں پر گزارتے تھے تاکہ ان کے بچچے زندہ رہیں اور صحیح وسالم ہوں اور وہ خطرات سے دوچار نہ ہوں ، جس طرح آج بھی لوگ اپنے بچوں میں سے بعض کو اولیاء اور مذہبی شخصیات کے لیے وقف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ بچوں کے بال اس وقت تک نہیں منڈواتے جب تک پہلی مرتبہ کسی ولی اور پاکباز شخص کی درگار پر نہ لے جائیں۔ ، بعض اوقات اس کا ختنہ بھی نہیں کرتے اور یہ ختنہ بھی کسی گدی اور درگاہ پر لے جا کر کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر اللہ وحدہ لا شریک کو تسلیم کرتے ہیں اور اس اقرار اور اعتراف کے باوجود یہ مشرکانہ رجحانات رکھتے ہیں۔ غرض وہی لوگ اور وہی ان کے خیالات مشرکانہ : فتعلی اللہ عما یشرکون۔ اللہ بہت بلندو برتر ہے ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یعنی وہ پاک ہے ان تصورات سے جو وہ اس کے بارے میں رکھتے اور ان باتوں سے جو اس کے حوالے سے وہ کرتے ہیں۔ لیکن ہم اپنے دور جدید میں بھی دیکھتے ہیں کہ لوگ انواع و اقسام کے شرک میں مبتلا ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا زعم یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور موحد ہیں اور ان لوگوں کے یہ جدید شرک اور بت پرستیاں بھی اسی شکل و صورت جیسی ہیں جن کا ذکر ان آیات میں کیا گیا ہے۔ آج لوگ اپنے لیے نئے نئے بت گھڑتے ہیں ، بعض اسے " قوم " کا نام دیتے ہیں ، بعض اسے " وطن " کا نام دیتے ہیں بعض اسے " شعب کا نام دیتے ہیں وغیرہ۔ یہ بھی بت ہیں لیکن یہ غیر مجسم بت ہیں یہ سابقہ بت پرستوں کی طرح سادہ اور مجسم بت نہیں۔ یہ بھی در اصل ان لوگوں کے خدا ہیں جو ان کو پوجتے ہیں۔ یہ ان بتوں کو اللہ کی تخلیق اور نذر و نیاز میں اسی طرح شریک کرتے ہیں جس طرح اسی سے قبل قدیم الہوں کی پوجا کی جاتی تھی۔ یہ ان بتوں کی چوکھٹ پر اسی طرح قربانیاں دیتے ہیں جس طرح قدیم بتروں اور بت خانوں پر خون بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ اور وسیع پیمانے پر بہایا جاتا تھا۔ لوگ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اللہ ان کا رب ہے ، لیکن وہ اللہ کے اوامرو احکام اور شریعت کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں جبکہ ان جدید غیر مجسم بتوں کے احکام اور قوانین کی وہ پوری طرح پابندی کرتے ہیں اور انہیں مقدس سمجھتے ہیں اور ان کے مقابلے میں اللہ کے احکام و شرائع کو مکمل طور پر ترک کردیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ الہ نہیں ہیں ، اگر یہ شرک نہیں ہے ، اور لوگوں کی اولاد میں یہ لوگ شریک نہیں ہیں تو اور کیا ہیں۔ آخر جاہلیت جدید کی اس بت پرستی کو ہم کن الفاظ سے تعبیر کریں۔ ظاہر ہے کہ یہ بت پرستی ہی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جاہلیت قدیم اللہ کے معاملے میں زیادہ با ادب تھی۔ اس کا کہنا تو یہ تھا کہ ہم اپنی اولاد ، اپنی پیداوار اور اپنے مویشیوں میں ان الہوں کا حصہ اس لیے مقرر کرتے ہیں تاکہ ان ذرائع سے ہم اللہ کا قرب اور نزدیکی حاصل کرلیں۔ ان کے احساس و شعور میں ان بتوں اور الہوں سے اللہ بلند تھا۔ رہی جاہلیت جدیدہ تو اس کے احساس و شعور میں یہ غیر مجسم بت اللہ سے اعلی وارفع ہیں ، اس طرح کہ جاہلیت جدید اللہ کے احکام و شرائع کو ترک کر رہی ہے وار ان بتوں کے احکام و شرائع کو سینے سے لگا رہی ہے۔ ہم بت پرستی کے بارے میں یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ ساری بت پرستی ہے جو قدیم زمانے کی طرح کوئی کسی بت کی طرف اشارہ کرے یا وہ مراسم ادا کرے جو بتوں کے حوالے سے قدیم زمانے کے لوگ کرتے تھے۔ دور جدید کی بت پرستی میں بتوں کی شکل و صورت اور ان کے سامنے مراسم ادا کرنے کی شکل اگرچہ بدل گئی ہے لیکن ان کی تہ میں جو شرک ہے وہ ہرگز نہیں بدلا اور وہ علی حالہ قائم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس حقیقت کو نوٹ کریں اور اس معاملے میں دھوکے کا شکار نہ ہوں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ عورت عفت وقار اور شرافت کو اپنا زیور بنائے اور " وطن " کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے کے لی عورت گھر سے نکل آئے اور جاہلیت کی زیب وزینت اختیار کرے۔ وہ عریاں ہو ، ہوٹلوں میں خادمہ کا کام کرے ، جس طرح بت پرست جاپان میں " جیثا " عورتیں کرتی ہیں لہذا کون الہ ہے جس کے احکام مانے جاتے ہیں ، اللہ کے احکام مانے جاتے ہیں یا الہ وطن اور الہ پیداوار کے۔ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اجتماع کا مدار عقیدے پر ہونا چاہیے ، سوسائٹی کا مدار لا الہ پر ہو لیکن قومیت اور وطن کا حکم یہ ہے کہ اجتماعی زندگی سے اسلام عقائد و تصورات کی نفی کی جائے اور سوسائٹی کا مدار قوم پرستی یا نسل پرستی پر ہو۔ یہاں بھی یہی سوال ہے کہ الہ کون ہے اللہ یا وطن اور نسل۔ اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس کی شریعت کی پابندی ہوگی لیکن انسانوں میں سے ایک انسان ڈکٹیٹر اٹھتا ہے یا لوگوں کا ایک گروپ اٹھتا ہے (اسمبلی) کہ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ قانون تو اسمبلی کا چلے گا۔ اب آپ بتائیں کہ اسمبلی الہہ ہے یا اللہ جل شانہ الہ ہے۔ یہی وہ مثالیں ہیں جن کے مطابق پوری دنیا چل رہی ہے اور پوری انسانیت ان مثالوں سے متاعرف ہے اور گمراہ ہوچکی ہے اور یہ ہے اس وقت کی مروج اور چلتی ہوئی بت پرستی اور یہ ہیں آج کے بت۔ قدیم بتوں کے مقابلے میں یہ جدید بت سامنے آگئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ بت نظر نہیں آتے اور وہ سابقہ بت مجسم تھے ، نظر آتے تھے لیکن دونوں کی حقیقت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن کریم کا خطاب اس سادہ ببت پرستی سے تھا۔ قدیم جاہلیت سے جو بالکل واضح تھی۔ قرآن انہیں اس کم عقلی سے جگا رہا تھا۔ وہ انسان جیسی مخلوق کے شایان شان نہ تھی۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کے لیے ایسی مثال دی جس میں ان کی ذہنی کیفیات کو آشکارا کردیا۔ اَيُشْرِكُوْنَ مَا لَا يَخْلُقُ شَـيْــــًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ ۔ وَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ قرآن انہیں یہ سمجھاتا ہے کہ جو خالق ہے وہ اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کی بندگی کی جائے اور جن الہوں کی وہ بندگی کرتے ہیں ان میں سے کوئی بھی اس جہاں کا خالق نہیں ہے بلکہ وہ خود مخلوق میں تو آخر کیا جواز ہے کہ یہ لوگ ان بتوں کی بندگی کرتے ہیں۔ کس لئے وہ اپنے نفوس اور اپنی اولاد میں ان بتوں کو کیوں شریک کرتے ہیں۔ تخلیق کی دلیل اور حجت جس طرح جاہلیت قدیمہ کے خلاف حجت تھی ، اسی طرح یہ جاہلیت جدیدہ کے خلاف بھی حجت ہے۔ جاہلیت جدید نے جو نئے بت تراشے ہیں ان میں سے کس بت نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے کہ وہ لوگ انہیں اپنی جان ، اپنی اولاد اور اپنے اموال میں شریک کرتے ہیں۔ پھر ان جدید بتوں میں سے کون بت ایسا ہے جو نفع و نقصان کا مالک بن سکتا ہے۔ اگر انسانی عقل اور سوچ کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ اس صورت حالات کو یکسر رد کردے اور کبھی اسے قبول نہ کرے۔ یہ تو لوگوں کی خواہشات اور میلانات اور خارجی گمراہی اور فریب کاری ہے کہ لوگ ان جدید بتوں کی پرستش کرتے ہیں۔ یہ خارجی اثرات اور سازشیں ہیں کہ وہ لوگوں کو مرتد کرکے اس جدید جاہلیت کی طرف لوٹا رہی ہیں اور اس جدید شکل میں اسے شرک و بت پرستی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ اس لیے لوگ ان بتوں کو پوجتے ہیں جو انہوں نے خود گھڑے ہیں (قوم ، نسل ، وطن) اور یہ بت لوگوں کے نفع و نقصان کے بھی مالک نہیں ہیں۔ دور جدید کی انسانیت اسبات کی محتاج ہے کہ اسے قرآن کی تعلیمات سے مخاطب کیا جائے۔ جس طرح قدیم ادوار میں اس تک قرآنی تعلیمات پہنچائی گئی تھیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ جاہلیت کی قیادت کرکے اسے اسلام کی طرف لایا جاے۔ اسے اندھروں سے نکال کر روشنی کی طرف لایا جائے۔ اور اس کے عقل و شعور کو اس جدید جاہلیت سے نجات دی جاے۔ اسے اس جدید فکری گندگی سے اسی طرح نجات دی جائے جس طرح آج سے صدیوں قبل اسلام نے انسانیت کو جات دی تھی۔ قرآن کریم نے قدیم جاہلیت کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ان میں یہ اشارہ بھی ہے کہ انسانوں میں سے بھی کسی کو الہ نہیں بنایا جاسکتا۔ ذرا دوبارہ غور کریں۔ " کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں ، نہ آپ اپنی مدد پر ہی قادر ہیں " ان آیات کے صیغوں میں جمع مذکور کے صیغے اور ہم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان بتوں میں سے کچھ عقلا بھی تھے۔ یہ بات ہم نہیں کہ سکتے کہ عرب کچھ انسانوں کو بھی اپنا الہ اس معنی میں تسلیم کرتے تھے کہ وہ ان کی بندگی کرتے ہوں اور ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے ہوں ، انسانوں کو وہ الہ اس معنی میں بناتے تھے کہ وہ اجتماعی امور میں ان کے رسم و رواج اور ہدایات کی اطاعت کرتے تھے اور اپنے نزاعات میں ان کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے تھے یعنی زمینی حاکمیت کے اعتبار سے قرآن کریم اسی عمل کو شرک کہتا ہے اور وہ اس معنوی بت پرستی اور ان کی مجسم بت پرستی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ دونوں شرک ہیں اور اسی معنی میں یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے مذہبی لیڈروں کو رب بنا رکھا تھا کہ وہ ان کے احکام و قوانین کو خدا کے احکام و قوانین کی طرح مانتے اور جانتے تھے جبکہ ان میں سے کوئی بھی خدا کی طرح ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا تھا لیکن قرآن نے ان کے اس فعل کو شرک اور خروج عن التوحید سے تعبیر کیا۔ اس توحید سے خروج جس کا ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ سے کیا گیا ہے اور یہ تعبیر اس نکتے کے عین مطابق ہے جو ہم نے جاہلیت جدیدہ کے بارے میں اوپر بیان کیا۔ احادیث کے مطابق حضور نے آیات اتخذوا احبارم و ربانہم اربابا من دون اللہ کی یہی تعبیر فرمائی ہے۔ زوجین کے قصے کی شکل میں اوپر جس شرک کا ذکر کیا گیا تھا ، وہ در اصل ہر شرک کی بات تھی۔ ان لوگوں کو بت پرستی کے خلاف منظم کرنا مطلوب تھا ، جن کو قرآن مخاطب کر رہا تھا۔ اور ان کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ وہ جس بت پرستی میں مبتلا ہیں وہ نہایت ہی کمزور اور احمقانہ ہے کہ وہ ایسی چیزوں کو الہ بنا رہے ہیں جو کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتے بلکہ خود مخلوق ہیں ، نہ صرف یہ کہ وہ چیزیں تمہیں نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتیں بلکہ وہ خود اپنے نفع و نقصان کی مالک ہی نہیں ہیں۔ خواہ یہ چیزیں زندہ انسان ہوں یا مردہ بت ہوں۔ یہ سب کی سب نہ تخلیق کرسکتی ہیں اور نہ کسی کی نصرت پر قادر ہیں۔ چونکہ قرآن کا مقصد اس تمثیل سے صرف یہی تھا ، اس لیے تمثیل کے بعد روئے سخن براہ راست مشرکین مکہ کی طرف مڑجاتا ہے اور حکایت کے اسلوب کو ترک کرکے اچانک خطاب شروع کردیا جاتا ہے۔ بات وہی سابقہ ہے ، پہلے تمثیل و قصہ تھا اور اب براہ راست خطاب ہے۔ ان الہوں کی حقیقت کے بارے میں۔ ۔۔۔ جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا۔ مشرکین عرب کی بت پرستی ایک سادہ بت پرستی تھی ، انسانی عقل کے ترازو میں بالکل بےوزن تھی ، اگرچہ یہ عقل نہایت ہی ابتدائی اور پتھرو کے دور کی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کریم عقل کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ ان بتوں کے بارے میں جن شرکیہ خیالات کو سچا سمجھتے ہیں یہ نہایت ہی کم عقلی کی دلیل ہے۔ ذرا اپنے بتوں کے بارے میں غور تو کرو ، بظاہر ان کے پاؤں چلنے کے قابل نہیں ہیں ، ان کے پاتھ پکڑنے والے نہیں ہیں۔ ان کی آنکھوں میں نظر نہیں ہے۔ ان کے کانوں میں قوت سماعت نہیں ہے جبکہ تمہارے پاس جو اعضاء ہیں ان میں یہ قوتیں موجود ہیں ، تو پھر تم ایسے بےجان اعضاء والے بتوں کی کیوں پوجا کرتے ہو ؟ بعض اوقات بت پرست یہ کہتے ہیں کہ ان بتوں سے ان کا اصل مدعا اشارہ ہے بعض رشتوں کی عزت یا آباء و اجداد کی طرح تو قرآن کہتا ہے کہ وہ بھی تو تمہاری طرح کے بندے ہیں اور اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ خود کوئی چیز پیدا کرنے والے نہ تھے اور نہ ہیں اور نہ نفع و نقصان کے مالک ہیں اور نہ خود اپنے نفع و نقصان کے مالک ہیں۔ چونکہ عرب بت پرستی میں ظاہری بت پرستی بھی تھی اور سابقہ انسانوں کی طرف اشارہ بھی تھا۔ اس لیے قرآن کریم نے ان کے لیے ذوی العقول کے صیغے استعمال کیے اور یوں آدمیوں کی طرف خطاب کیا۔ ذوی العقول کی ضمیر میں اشارہ ان شخصیات کی طرف ہے جن کی طرف بتوں میں رمز تھا۔ کبھی تو براہ راست بتوں کی بات کی گئی اور کبھی عباد امثالکم کیا گیا۔ بہرحال دونوں طرز کا شرک اسلامی نظر میں باطل ہے۔ اور قرآن انسانیت کو اس ذلت سے نکالنے کے درپے ہے۔ اور اسے انسانیت کے شایان شان عقیدہ توحید کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ اس مباحثے اور نقد و جرح کے آخر میں اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ کو یہ ہدایت فرماتے ہیں کہ آپ ان کو چیلج کریں۔ ان لا چار خداؤں کو بھی چیلنج کریں اور ان کے سامنے واشگاف الفاظ میں اپنے صاف اور ستھرے نظریات رکھیں۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ یہ ہے وہ بات جو ہر داعی کو کسی بھی جاہلیت کے سامنے کرنی چاہئے۔ اور یہ بات نبی ﷺ نے اسی طرح کی جس طرح ان کے رب نے ان کو حکم دیا۔ اور اپنے دور میں آپ نے بت پرستوں اور ان کے بتوں کو اسی انداز میں چیلنج کیا۔ قل ادعوا شرکاء کم ثم کیدون فلا تنظرون۔ اے نبی ان سے کہو کہ بلا لو اپنے ٹھہراے ہوے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔ آپ نھے اس تحدی کو ان کے اور ان کے بتوں کے منہ پر دے مارا اور فرمایا کہ میرے خلاف جو تدابیر تم کرسکتے ہو ، وہ کرو۔ جس قدر کرسکتے ہو ، کوئی کمی نہ چھوڑو ، مجھے کوئی مہلت نہ دو ، اور یہ تحدی آپ نے اس شخص کی طرح دی جسے اپنے مقصد پر یقین ہوتا ہے اور اپنے خالق اور الہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اور مخالفین کی سازشوں اور قوتوں کے مقابلے میں وہ اپنے خدا پر بھروسہ کرتا ہے۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ آپ نے اعلان کردیا کہ وہ کس پر بھروسہ کرتے ہیں ، صرف اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں جس نے کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب کے نزول سے معلوم ہوا کہ آپ کا ارادہ کیا ہے۔ یہ کہ سچائی پر مشتمل اس کتاب کو رسول لوگوں کے سامنے پیش کریں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ نے یہ بات طے کردی ہے کہ وہ اس سچائی کو ہر باطل اور اہل باطل پر بلند اور غالب کردیں گے اور دعوت کے حاملین بندگان کی حفاظت اور ولایت وہ خود کریں گے جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ رسول اللہ کے بعد ہر دور اور ہر علاقے میں دعوت کے حاملین کا یہی نعرہ اور یہ نصب العین ہوگا۔ اے نبی ان سے کہو " بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھ ہر گز مہلت نہ دو ، میر حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے ، ہر صاحب دعوت کا یہ فرض ہے کہ وہ دنیا کے تکیوں اور بھروسوں پر اعتماد نہ کرے اور وہ دنیا کے بھروسوں کو کوئی اہمیت نہ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے سہاروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، وہ بہت ہی کچے سہارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ دنیاوی سہارے نہایت ہی قوی ہوں اور بظاہر نہایت ہی طاقتور نظر آئیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : یا ایہا الناس ضرب مثل فاستمعوا لہ ان الذین تدعون من دون اللہ لن یخلقوا ذبابا و لواجتمعوا لہ ان یسلبہم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب و المطلوب۔ لوگوں ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہی کرسکتے بلکہ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین کرلے جائے تو وہ اسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ مثل الذین اتخذوا من دون اللہ اولیاء کمثل العنکبوت اتخذت بیتا وان اوھن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون۔ جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے ، جو اپنا گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزوسر گھر مکڑ کا گھر ہوتا ہے ، کاش کہ یہ لوگ علم رکھتے۔ غرض جو شخص اللہ کی طرف دعوت دیتا ہے ، وہ بھرسہ بھی اللہ پر کرتا ہے لہذا اللہ کے سوا دوسرے سرپرستوں اور سہاروں کی حیثیت ہی کیا رہتی ہے۔ اور ایسے شخص کے شعور میں ان کی گنجائش کیا رہتی ہے۔ اگرچہ دوسرے لوگ داعی کو اذیت دینے پر بھی قدرت رکھتے ہوں داعی کو اگر کوئی اذیت دیتا ہے تو یہ بھی اذن الہی سے ہوتا ہے ، جو داعی کا والی ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ داعی کی حمایت سے عاجز و لاچار ہوتا ہے اور نہ اس لیے کہ داعی کی حمایت سے اللہ تعالیٰ دست کش ہوگیا ہے۔ نہ یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کی مدد نہٰں کرسکتا۔ آخر اللہ تعالیٰ داعیوں کے مخالفین کو یہ مہلت اور اجازت کیوں دیا ہے کہ وہ اللہ کے دوستوں کو اذیت دیں ؟ ان کی تربیت کے لیے کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے اور ان کو مجرب بنانے کے لیے۔ نیز اللہ کے دشمنوں کی رسی دراز کرنے کے لیے انہیں مہلت دینے کے لیے اور ان کے خلاف سخت ترین اقدامات اور تدابیر اختیار کرنے کے لیے اللہ ان کو ڈھیل دیتا ہے۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشرکین مکہ اذیت دے رہے تھے اور آپ کو جوتوں کے تلووں کے ساتھ مار رہے تھے۔ آپ کے چہرے پر انہوں نے اس قدر ضربات لگائیں کہ آپ کے چہرہ مبارک پر آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کے اس کرہ ارض پر اس عظیم ترین ہستی پر اس قدر بےرحمانہ تشدد ہو رہا تھا لیکن اس پورے تشددد کے دوران آپ یہی کہتے رہے " اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں ! اے اللہ آپ کس قدر حلیم ہیں " وہ دل جان سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اس اذیت کے پیچھے رب کا حکم کام کرتا ہے۔ ان کو پورا یقین تھا کہ رب تعالیٰ عاجز نہ تھا کہ وہ اپنے ان دشمنوں کو تہس نہس کردے۔ نیز ان کو یہ یقین بھی تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں کو بھی بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ جب مشرکین نے حضرت عبداللہ ابن مسعود پر تشدد کیا اور یہ تشدد انہوں نے محض اس لیے کیا کہ انہوں نے کعبہ کے سائے میں ، مشرکین کی ایک محل کے سامنے قرآن کریم کی تلاوت شروع کردی تھی۔ انہوں نے اسے اس قدر مارا کہ ان کا سر چکرانے لگا اور ان کے لیے کھڑا ہونا مشکل ہوگیا۔ اس سنگدلانہ تشدد کے بعد وہ کہتے " خدا کی قسم کہ یہ لوگ میرے لیے اس وقت سے زیادہ کبھی بھی قابل برداشت اور آسان نہ تھے " آپ کو علم تھا کہ یہ اللہ کے دشمن تھے اور ان کو یہ بھی یقنی تھا کہ اللہ کا دشمن ایک مومن کے لیے بہت ہی آسان اور خفیف ہوتا ہے۔ لہذا اللہ کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے دشمنوں کو خاطر ہی میں نہ لائیں۔ حضرت عبداللہ ابن مظعون عتبہ ابن ربیعہ مشرک کی پناہ میں تھے انہوں نے اپنے آپ کو عتبہ کی پناہ سے نکال دیا۔ کیونکہ وہ پسند نہ کرتے تھے کہ وہ عتبہ کی مشرکی پناہ میں مزے سے رہیں اور دوسرے مسلمانوں پر تشدد جاری ہو ، جب انہوں نے عتبہ کی پناہ کو حقارت سے پھینک دیا تو مشرکین ان پر ٹوٹ پڑے۔ انہوں نے ان پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ ایک آنکھ سے محروم ہوگئے۔ عتبہ دیکھتے تھے کہ ان پر یہ تشدد ہو رہا ہے اور ان کو دعوت دیتے تھے کہ وہ دوبارہ اس کی پناہ میں آجائیں۔ انہوں نے کہا " میں ایک ایسی ذات کی پناہ میں ہوں جو تم سے زیادہ طاقتور ہے " عتبہ کہتا " اے بھائی تمہاری آنکھ اس سے مستغنی اور محفوظ تھی جو اذیت اسے پہنچی۔ تو وہ جواب دیتے۔ ہر گز نہیں خدا کی قسم ! میری دوسری آنکھ بھی اس بات کی متمنی کہ اسے بھی اللہ کے راستے میں وہ کچھ پہنچے جو اس کے لیے بہتر ہو۔ وہ جانے تھے کہ اللہ کی پناہ بندوں کی پناہ سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کو یقین تھا کہ رب تعالیٰ ہر گز انہیں بےسہارا نہ چھوڑیں گے۔ اگرچہ وہ نفس کو سربلند کرنے اور آزمانے کے لیے ان مشکلات سے دوچار کرتا ہے۔ کیا خوب کہا " خدا کی قسم میری دوسری آنکھ بھی اس صورت حال کی مستحق ہے جو اس کے لیے اللہ کے راستے میں بہتر ہو۔ یہ ہیں مثالیں اس گروہ کی جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کے مدرسہ میں تربیت پائی۔ اور اللہ کی ان ہدایات کے سائے میں پلے۔ اے نبی ان سے کہہ دو کہ بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ، پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو ، اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو ، میرا حامی اور ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس تشدد کا نتیجہ کیا تھا ؟ انہوں نے مشرکین کی جانب سے یہ تشدد برداشت کیا۔ انہوں نے اللہ پر بھروسہ کیا ، جس نے کتاب نازل کی تھی اور جو نیک بندوں کا حامی تھا۔ تاریخ اس نتیجے سے اچھی طرح واقف ہے۔ مسلمانوں کو غلبہ ، عزت اور شوکت نصیب ہوئی کیونکہ وہ اللہ کے دوست تھے۔ ہزیمت ، شکست اور ہلاکت و بربادی ان لوگوں کے حصے میں آئی جو نیک لوگوں کے دشمن تھے اور طاغوت تھے اور ان میں سے جن لوگوں کے نصیب میں ایمان لانا مقدر تھا ، وہ ایمان لے آئے اور ان سابقین اولین کے تابع ہوگئے۔ جنہوں نے خود ان کے ہاتھوں تکالیف اٹھائی تھیں۔ لیکن ان کے عزم و استقلال میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اللہ نے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان کو چیلنج کریں تو آپ نے ان کو چیلنج دے دیا اور حکم دیا کہ آپ ان کے الہوں کی کمزوری اور عاجزی کو ان الفاظ میں بیان کریں اور آپ نے اس کی تعمیل فرمائی۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں۔ بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ اگر یہ موقف عربوں کی سادہ جاہلیت پر پوری طرح منطبق تھا ، تو آج کی جدید اور نظریاتی جاہلیت پر بھی اسی اعلان اور موقف کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ جدید مشرکین بھی در اصل اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو اپنا ولی سمجھتے ہیں۔ اس لیے کہ ان کے ہاتھوں میں دنیا کا اقتدار ہوتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے ان سرکشوں اور فرعونوں کے اندر اس کی قدر قوت نہیں ہوتی کہ وہ ان کی کوئی امداد کرسکیں۔ اور اللہ کی تقدیر اور اس کی سنت اپنے بندوں کے بارے میں اپنے مقررہ طریقے پر چلتی رہی ہے۔ عربوں کے مصنوعی الہ اپنی سادہ شکل میں سنتے نہ تھے حالانکہ ان کی دھاتوں یا موتیوں کی بنی ہوئی آنکھیں تھیں ، تو دور جدید کے بعض الہ بھی نہ سنتے ہیں اور نہ دیکھتے ہیں۔ الہ وطن بھی اندھا ہے اور الہ القوم بھی بہرا ہے۔ اور الہ پیداوار بھی گونگا بہرا ہے۔ اور ان کے بارے میں بھی تاریخ کا فیصلہ اٹل ہوگا۔ جدید دور کے الہوں سے صرف وہ الہ سنتے اور سمجھتے ہیں جو انسانوں میں سے ہیں ، جنہیں اقتدار دیا گیا ہے اور جو اللہ حقیقی کے مقابلے میں قانون سازی بھی کرتے ہیں اور اس کے احکام کے بعکس احکام بھی صادر کرتے ہیں ، تو یہ اللہ بھی در حقیقت نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید نے کہہ دیا ہے۔ وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ڮ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا ۡ وَلَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا ۭاُولٰۗىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ۔ اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔ ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔ ہر داعی کو ہی ایک صورت حال پیش آتی ہے۔ تمام جاہلیتوں کے مقابلے میں اسے ایک ہی جیسے حالات سے سابقہ پڑتا ہے اور اسے چاہیے کہ وہ ہر جاہلیت کو وہی چیلنج دے جو اللہ نے نبی آخر الزمان کو بتایا۔ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَاۗءَكُمْ ثُمَّ كِيْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ ۔ اِنَّ وَلِيّۦ اللّٰهُ الَّذِيْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ ڮ وَهُوَ يَتَوَلَّى الصّٰلِحِيْنَ ۔ وَالَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَلَآ اَنْفُسَهُمْ يَنْصُرُوْنَ ۔ وَاِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا يَسْمَعُوْا ۭوَتَرٰىهُمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ان سے کہو کہ "" بلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو " میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے بخلاف اس کے تم جنہیں خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔ غرض یہ الہ اب وہی ہیں جو مکہ میں تھے ، ہر دور اور ہر مقام پر در اصل یہ وہی کچھ ہیں اور ان کو اسی قسم کا چیلنج درکار ہے جو حضور نے بحکم خدا دیا۔

الأعراف 7:199

درس نمبر 82 ایک نظر میں اس سورة کے آخر میں یہ ربانی ہدایت ہیں ، اللہ کی جانب سے خاص اپنے دوستوں کو یہ نصیحت کی جا رہی ہے۔ ان میں حضور اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں سے خطاب ہے۔ اس وقت یہ لوگ ابھی مکہ ہی میں تھے۔ یہ ہدایات انہیں اس ہمہ گیر جاہلیت کے مقابلے کے لیے دی جا رہی ہیں جو مکہ اور اس کے ارد گرد پوری دنیا پر چھائی ہوئی تھی۔ یہ ہدایات اس ہمہ گیر جاہلیت کے مقابلے کے لیے خاص طور پر جاری ہوئی ہیں اور گمراہ انسانیت کو راہ ہدایت دکھانے کے لیے ہیں۔ حضور اکرم ﷺ کو بحیثیت قائد دعوت یہ حکم دیا جاتا ہے کہ لوگوں کے لیے نہایت ہی یسر اور نرمی کے ساتھ پیش آئیں اور ایسی باتوں کا حکم دیں جنہیں سلیم فطرت انسانی افعال خیر سمجھتی ہو۔ تمہارے احکام و ہدایات میں تعقید اور تشدید نہ ہو ، اور جہاں جاہلیت اصلاح پذیر نہ ہو وہاں اس کے ساتھ الجھنے کے بجائے اس سے پہلو تہی کیا جائے ، لوگوں سے مجادلہ نہ کیا جاے ، ان کی فضول محفلوں میں شریک نہ ہوں اور اگر اہل جاہلیت آپ کو غصہ دلائیں اور حدود پار کریں اور ضد وعناد کا مظاہرہ کریں اور شیطان کی وسوسہ اندازیوں کے نتیجے میں آپ کو طیش آجائے تو آپ شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کریں اور تعوذ کے ذریعے اطمینان حاصل کرکے صبر کریں۔ خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ ۔ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰۗىِٕفٌ مِّنَ الشَّيْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَا هُمْ مُّبْصِرُوْنَ ۔ اے نبی ! نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ الجھو اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال اگر انہیں چھو بھی جاتا ہے تو فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کار کیا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ کو ان جاہلوں کے مزاج سے متعارف کرایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ وہ کس قوت کی وسوسہ اندازی ہے جو ان لوگوں کو سرکشی اور گمراہی پر ابھار رہی ہے اور حضور ﷺ سے وہ جو سلوک کر رہے ہیں اس کا ایک حصہ بھی یہاں بتایا جاتا ہے کہ وہ آپ سے خوارق عادت امور طلب کرتے ہیں چناچہ حضور کو ہدایت کی جاتی ہے کہ ان کے اس سلوک اور مطالبوں کا یہ جواب دیا جائے تاکہ ان کو معلوم ہو کہ رسالت کی حقیقت کیا ہے ؟ رسول کا مقام کیا ہے ؟ تاکہ رسالت اور رسول کے مقام و ماہیت کے بارے میں ان کے تصورات کی اصلاح کردی جائے۔ اور یہ بتایا جائے کہ رسول اور رب العالمین کے تعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ وَاِخْوَانُهُمْ يَمُدُّوْنَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُوْنَ ۔ وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا ۭقُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ ۚ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ۔ رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند ، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ اے نبی ! جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کرلی ؟ ان سے کہو " میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔ بذریعہ وحی قرآن کے نزول کی طرف آیت سابقہ میں اشارہ کیا گیا تھا۔ اس مناسبت سے یہاں مسلمانوں کو وہ آداب سکھائے جاتے ہی جو تلاوت قرآن کے وقت ملحوظ رکھے جائیں گے۔ اللہ کے ذکر کے آداب اور یاد الہی پر دوام اور اسے عادت بنا لینے کی ہدایت اور کسی بھی وقت یاد الہی سے غافل نہ ہونے کی ہدایت ، بعینہ اسی طرح ہے جس طرح ملائکہ ہر وقت اللہ کی یاد کرتے رہتے ہیں ، تسبیح کرتے ہیں اور سجدہ ریز ہوتے ہیں لہذا انسانوں کے لیے یہ ضروری اور بہتر ہے کہ وہ غفلت نہ کریں اور تسبیح و تہلیل اور رکوع و سجود میں مشغول رہیں۔ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ ۔ اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَيُسَبِّحُوْنَهٗ وَلَهٗ يَسْجُدُوْنَ جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جاے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے۔ اے نبی اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو ، دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں ، جو فرشتے تمہارے رب کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آخر اس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے اور اس کی تسبیح کرتے ہیں ، اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں۔ درس نمبر 82: تشریح آیات 199 تا 206:۔ تفسیر آیت 99: خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بِالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ ۔ اے نبی ! نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کیے جاؤ اور جاہلوں سے نہ الجھو مطلب یہ ہے کہ ممکن حد تک لوگوں کے ساتھ نرمی کرو۔ معاشرت ، باہم میل جول میں لوگوں سے اخلاق عالیہ کا بدرجہ کمال توقع نہ کرو۔ اور ایسے اخلاق بھی ان پر مسلط نہ کرو جو ان پر شاق گزریں اور ان کے لیے ان کا مظاہرہ ممکن نہ ہو۔ ان کے اندر جو غلطیاں پائی جاتی ہوں۔ ان میں جو کمزوریاں اور جو نقائص پائے جاتے ہوں ان کے بارے میں عفو و درگذر سے کام لو۔ لیکن یہ عفو و درگذر کی پالیسی ذاتی اور شخصی معاملات کے اندر ہے۔ شرعی فرائض و واجبات میں عفو و درگذر کی پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ اسلامی عقائد میں سے کوئی عقیدہ ایسا نہیں ہے جس سے چشم پوشی کی جاسکتی ہو۔ اور اسلامی شریعت میں کوئی قانون ایسا نہیں ہے جس سے چھوٹ دی جاسکتی ہو۔ ہاں لوگ لین دین کے معاملات می ایک دوسرے کے ساتھ میل و جول اور معاشرت میں نرمی اور تسامح کرسکتے ہیں۔ باہم معاشرت میں نرمی سے لوگوں کی زندگی بہت ہی اچھے اسلوب میں گزر سکتی ہے ، خصوصاً بڑے لوگوں کی جانب سے چھوٹ لوگوں کی غلطیوں سے چشم پوشی کرنا ، انسانی کمزوریوں سے درگزر کرنا اور ان پر رحم کرنا اور ان کے ساتھ دریا دلی کا رویہ اختیار کرنا ، ان کے فرائض میں شامل ہے اور ان کے شایان شان تصور ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ایک عظیم شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ معلم ، مر بھی ور مصلح بھی ہیں۔ اس لیے ان اوصاف حمیدہ کی رعایت کرنا ان کے شایان شان ہی نہیں ان کے فرائض میں سے ہے۔ حضور ﷺ اپنے ذاتی معاملات کبھی بھی کسی شخص پر طیش پر نہیں آئے ، لیکن اگر معاملہ دین کا ہوتا تو آپ کا چہرہ سرخ ہوجاتا۔ یہی حکم ان تمام افراد کے لیے ہے جو دعوت دین کا کام کرتے ہیں ، ان کے لیے بھی وہی حکم ہے جو حضور ﷺ کے لیے ۔ اس لیے انسانی نفوس کو راہ ہدایت پر لانے کے لیے ان کے ساتھ وسعت قلبی کا سلوک ہونا چاہئے۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ خوش اخلاقی اور نرمی کا برتاؤ ہونا چاہیے مگر شرط یہ ہے کہ دین کے معاملے میں کوئی نرمی نہیں کی جاسکتی ، نہ اللہ کے دین میں افراط وتفریط سے کام لیا جاسکتا۔ وامر بالعرف۔ " معروف کی تلقین کر "۔ معروف سے مراد وہ کام ہے جو اچھا ہو ، جس کی بھلائی میں کوئی شبہ نہ ہو ، اور اس میں کسی کا اختلاف اور جھگڑا نہ ہو اور جس میں تمام سلیم الفطرت اور درست فکر و نظر رکھنے والے لوگوں کا اختلاف نہ ہو۔ جب نفس انسانی ان معروف امور کا عادی بن جائے تو پھر اس کی قیادت اور راہنمائی آسان ہوجاتی ہے اور وہ بغیر کسی مشقت کے اچھے کاموں کی طرف آگے بڑھتا ہے۔ حققت یہ ہے کہ جب آغاز ہی میں نفس انسانی کو مشقت ، مشکلات اور شدت اور سختی سے دوچار کردیا جائے تو اس اچانک سخت صورت حالات سے نفس انسانی بدک جاتا ہے اور اس کی اصلاح کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں۔ نفس انسانی کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ آغاز کار میں اسے آسان کام دئیے جائیں جو معروف اور مشہور ہوں تاکہ وہ خود مشکل کاموں کی طرف بڑھنے کا حوصلہ کرے اور بڑی سہولت سے وہ کام کر گزرے۔ و اعرض عن الجاھلین۔ " اور جاہلوں سے نہ الجھو "۔ جہالت رشد و ہدایت کے مقابلے میں ہے ، جہالت علم کے بالمقابل بھی ہے ، گمراہی اور بےعلمی گویا ہمسائے ہیں۔ اعراض کس طرح کریں ، یعنی جاہلوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ نیز جو باتیں وہ کرتے اور جو برے اعمال وہ کرتے ہیں ان کو اہمیت نہ دیں اور اگر ایسے حالات سامنے آجائیں تو شریفانہ انداز اختیار کرکے گزر جائیں۔ ان کے ساتھ بحث و تکرار نہ کریں جس کا نتیجہ ماسوائے کشیدگی کے اور کچھ نہیں ہوتا اور جس میں محض وقت اور قوت ضائع ہوتی ہے۔ بعض اوقات سکون اور اعراض کی وجہ سے ان کا نفسیاتی علاج بھی ہوجاتا ہے۔ یوں ان کے سرکش نفوس کی اصلاح ہوجاتی ہے اور یہ اصلاح بدکلامی اور بحث و مناظرے کے مقابلے میں زیادہ موثر ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں عناد اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ الجھاؤ کے نتیجے میں مخاطبین کی اصلاح ہوگی یا نہ ہوگی یہ بات مشکوک ہے البتہ الجھنے والا داعی بہرحال ان لوگوں سے دور ہوجاتا ہے جن میں اصلاح احوال اور قبولیت حق کا مادہ ہوتا ہے۔ اور جب داعی لغو اور بدکلام لوگوں سے اعراض کردے۔ تو وہ پروقارنظر آتا ہے اور لوگ دیکھتے ہیں کہ داعی کے مخالف لوگ جہالت میں مبتلا ہیں ، احمقانہ کام کرتے ہیں تو اس وجہ سے وہ عوام الناس کی نظروں میں گر جاتے ہیں۔ ہر صاحب دعوت کو چاہئے کہ وہ اللہ کی ان ہدایات پر اچھی طرح غور و فکر کرے کیونکہ رب العالمین انسانی نفسیات کی داخلیات سے بھی اچھی طرح واقف ہے اسی لیے اس نے یہ ہدایات دی ہیں۔

الأعراف 7:200

لیکن رسول اللہ ﷺ بہرحال بشر تھے۔ بارہا ایسا ہوتا تھا کہ جاہلوں کی جہالت کی وجہ سے آپ غصہ ہوجاتے تھے۔ بعض احمق اور سفیہ اس قسم کے افعال کا ارتکاب کرتے تھے کہ وہ آپ کے لیے ناقابل برداشت ہوتے تھے ، اور اگرچہ آپ ان کو برداشت ہی کرلیتے لیکن آپ کے بعد آنے والے اصحاب دعوت ہوسکتا ہے کہ اس قدر برداشت کا مادہ نہ رکھتے ہوں ، ایسے حالات میں شیطان اکساتا اور ورغلاتا ہے۔ اور نفس انسانی جوش میں آکر بےقابو ہوجاتا ہے لہذا اللہ تعالیٰ پیغمبر ﷺ اور آپ کے بعد تمام داعیوں کو یہ حکم دیتے ہیں کہ اعوذ باللہ کے ذریعے اپنے غضب اور جوش پر قابو پانے کی سعی کریں تاکہ شیطان اپنی راہ لے۔ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے اس آیت پر یہ تبصرہ کہ اللہ سمیع وعلیم ہے ، نہایت ہی بامعنی اور برمحل ہے۔ معنی یہ ہیں کہ اللہ جاہلوں کے جہل اور ان کی حماقت کو سن رہا ہے اور ان کی جہالتوں اور حماقتوں کی وجہ سے تمہیں جو تکلیف ہو رہی ہے اس سے بھی اللہ واقف ہے۔ لہذا تم تسلی رکھ۔ تمہارے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے یا جو حالات تم کو پیش آ رہے ہیں اللہ انہیں جانتا ہے اس سے بڑی اور تسلی کیا ہوگی کہ ایک شخص لوگوں کو اللہ کی طرف بلا رہا ہو اور وہ داعی الی اللہ ہو اور اس کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہو اور اللہ کہہ دے کہ بہر حال ہم جانتے ہیں جو کچھ ہو رہا ہے تسلی رکھو۔

الأعراف 7:201

قرآن کریم ایک داعی کی نفسیاتی تسلی کے لیے ایک دوسرا تاثر بھی دیتا ہے کہ داعی کی مشکلات اس کے حق میں اللہ کے نزدیک سامان قبولیت ہیں اور شیطان کے وسوسوں اور اکساہٹؤں کے دفعیے کے لیے اہم ہتھیار تقوی اور ذکر الٰہی ہے۔ ۔۔۔۔ اس مختصر آیت میں عجیب تاثرات دئیے گئے ہیں۔ جو گہرے حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور یہ تاثرات قرآن کریم کے خوبصورت انداز کلام سے معلوم ہوتے ہیں۔ آیت کے آخر کو ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ فاذا ھم مبصرون۔ " انہیں اچانک نظر آنے لگتا ہے کہ صحیح طریق کار کیا ہے " یہ آخری فقرہ پوری آیت کو بیشمار معانی عطا کرتا ہے حالانکہ سابقہ آیات کے الفاظ میں ان معانی کے لیے کوئی لفظ اشارہ تک نہیں کرتا۔ اس آخری فقرے نے یہ بات بتائی کہ جب انسان کے احساس کو شیطانی خیال چھوتا ہے تو انسان کی فکر و نظر ایک مختصر وقت کے لیے معطل ہوجاتی ہے۔ لیکن تقویٰ ، خدا خوفی اور اللہ کی یاد اور خشیت الٰہی وہ گہرا رابطہ ہے جو دلوں کو اللہ سے جوڑے رکھتا ہے اور انہیں بار بار غفلت سے جگاتا ہے اور ہدایت دیتا رہتا ہے۔ اہل تقوی کو جب حقیقت یاد آجاتا ہے تو ان کی فکر و نظر اور شعور سے پردے اٹھ جاتے ہیں اور وہ اچانک وہ راہ دیکھ لیتے ہیں جن پر انہیں چلنا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان کا مس انسان کو اندھا کردیتا ہے اور اللہ کی یاد انسان کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ مس شیطان ظلمت اور تاریکی ہے اور اللہ کی طرف رجحان نور اور روشنی ہے۔ مس شیطان کا علاج صرف تقوی اور یاد لۃٰ سے ہوسکتا ہے اور جن لوگوں میں تقوی اور ذکر الہی ہو ان پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا۔ متقین کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب شیطان کے اثر سے برا خیال انہیں چھو بھی لے تو وہ چوکنے ہوجاتے ہیں اور صحیح راہ دیکھنے لگتے ہیں۔

الأعراف 7:202

یعنی شیاطین کے بھائی ان کو ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں ، اور بعض اوقات ان کے بھائی شیاطین انس بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ ان کی گمراہی میں ان کو ترقی ہی دیتے ہیں ، نہ تھکتے ہیں ، نہ آرام کرتے ہیں اور نہ خاموش ہوتے ہیں اور یہ لوگ حماقت اور جہالت اور کج روی میں مسلسل آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

الأعراف 7:203

مشرکین مکہ حضور ﷺ سے معجزات کا مطالبہ ہر وقت کرتے رہتے تھے۔ یہاں ان کے بعض اقوال کو نقل کرکے دکھایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر جاہل تھے اور رسالت کی حقیقت سے کس قدر بیخبر تھے۔ وَاِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰيَةٍ قَالُوْا لَوْلَا اجْتَبَيْتَهَا۔ اے نبی جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانیوں کیوں نہ انتخاب کرلی۔ یعنی تم نے اصرار رب العالمین کے سامنے کیوں نہ کیا کہ مجھے یہ نشانی اور معجزہ دیا جائے یا یہ مطلب تھا کہ تم نے از خود معجزے کا صدور کیوں نہ کیا۔ کیا تم نبی نہیں ہو ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ رسالت کی ماہیت اور رسول کے فرائض منصبی سے واقف ہی نہ تھے۔ اسی طرح وہ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ رب العالمین کے دربار میں حضور ﷺ کس قدر با ادب تھے اور آپ کا طریقہ یہ تھا کہ اللہ کی جانب سے جو کچھ ملتا آپ اسے لے لیتے اور اگر کچھ نہ ملتا تو آپ از ٰخود مطالبہ نہ کرتے نہ کوئی تجویز دیتے۔ نہ آپ میں اس قدر طاقت تھی کہ کسی معجزے کا صدور وہ اپنی طرف ہی سے کرلیتے۔ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے سامنے یہ اعلان کردیا جائے۔ قُلْ اِنَّمَآ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ ۔ ان سے کہو میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب نے میری طرف بھیجی ہے۔ میں نہ تو رب العالمین کے سامنے کوئی تجویز دیتا ہوں ، نہ اپنی طرف سے کوئی معجزہ ایجاد کرتا ہوں۔ میرے بس میں وہی کچھ ہے جو اچھے لوگوں کی جو تصویر پیش کی تھی وہ لوگوں کی نظروں کے سامنے تھی۔ حیقی رسالت اور رسول کے اصل منصب کی ماہیت کے ادراک کے لیے ان کے پاس کوئی علم نہ تھا۔ چناچہ حضور کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان لوگوں کے سامنے وہ علمی حقائق پیش کریں جو ان کے لیے چشمہ بصیرت ہوں اور جن کو قرآن میں نازل کیا گیا ہے اور وہ ان سے جاہل ہیں۔ ان حقائق پر غور کرنے کے بجائے وہ معجزات طلب کرتے ہیں حالانکہ وہ قرآن پڑھ کر ان حقائق کو پا سکتے ہیں۔ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت و رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔ بیشک قرآن بصیرت کی روشنی ہے ، اور رحمت الہی ہے لیکن ان لوگوں کے لیے جو اسے تسلیم کرلیں اور ایمان لائیں اور اس مال غنیمت کو لوٹ لیں کیونکہ یہ تو ہے ہی عامۃ الناس کی بھلائی کے لیے۔ وہ عرب جو جاہلیت میں ڈوبے ہوئے تھے وہ اس قرآن سے روگردانی کرکے اس کے بجائے نبی ﷺ سے خارق عادت معجزات طلب کرتے تھے جس طرح اس وقت لوگ نبیوں سے معجزات طلب کرتے تھے جب انسانیت دور طفولیت میں تھی اور اس وقت لوگ اپنے اپنے علاقوں میں محدود تھے اور عالمی سطح پر لوگوں کے درمیان علم و حکمت کا تبادلہ نہ ہوا تھا۔ اس وقت کی رسالتیں بھی علاقوں اور مختصر زمانوں کے لیے ہوا کرتی تھیں اور ان کا خطاب بھی ان ہی لوگوں تک محدود تھا جو اس وقت موجود تھے۔ بعد کے آنے والوں پر ان رسالتوں کا اطلاق نہ ہوتا تھا جنہوں نے ان معجزات کو نہ دیکھا تھا۔ وہ معجزات صرف ان لوگوں ہی کے لیے مفید تھے ، بعد میں آنے والوں کے لیے مفید نہ تھے ، جنہوں نے ان کو نہ دیکھا تھا اور شنیدہ کے بود مانند دیدہ۔ قرآن کریم اس قدر معجزہ ہے کہ کوئی مادی معجزہ اس کے مقابلے میں معجزہ نہیں ہے۔ جس دور کو لیا جائے اور جس پہلو سے لیا جائے قرآن مجید حران کن ہے۔ یہ کسی وقت یا کسی دور کے لوگوں کے لیے ہی معجز نہیں ہے بلکہ تاقیامت معجزہ ہے۔ لفظاً و معناً معجز ہے۔ ذرا اس کا لفظی اور اس تعبیری پہلو ملاحظہ کیجیے۔ جاہلیت کے دور میں عربوں کے اندر جو فصاحت و بلاغت پائی جاتی تھی وہ ان کے اعتبار سے بالکل واضح معجزہ تھا وہ جس طرز ادا کے عادی تھے اور جس طرح وہ اپنے بازاروں اور تہواروں میں اس پر باہم فخر کیا کرتے تھے۔ ذرا دیکھیے کہ اس پہلو سے جس طرح وہ اس وقت معجز رہا تھا ، آج بھی ہے اور کوئی انسان آج تک ان بلندیوں کو نہیں چھو سکا حالانکہ قرآن نے ان کو اس وقت بھی چیلنج دیا تھا اور آج بھی دے رہا ہے۔ انسانوں میں سے جو لوگ تعبیرات کلامی سے واقف ہیں اور جن کو ادراک ہے کہ انسان کس قدر فصاحت و بلاغت تک پہنچ سکتا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اپنی طرز ادا کے اعتبار سے قرآن معجز ہے اور معجز رہے گا۔ اور یہ ماہرین اسلوب چاہے قرآن مجید پر ایمان لائے ہوں۔ چاہے نہ لائے ہوں وہ اس کے اعجاز کو مانتے ہیں کیونکہ یہ چیلنج جن اصولوں پر قائم ہے ان کے سامنے مومن اور کافر دونوں برابر ہیں۔ کبرائے قریش قرآن کریم کے ان چیلنجوں کو رات دن پڑھتے تھے ، لیکن ان کے پاس ان کے جواب کی کوئی سبیل نہ تھی حالانکہ وہ قرآن کریم کے منکر تھے اور اسے بالکل پسند نہ کرتے تھے۔ آج بھی ہر جاہل قرآن کریم کے ان چیلنجوں کو پاتا ہے مگر اس کے پاس جواب کی کوئی سبیل نہیں ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ اس لفظی اور اسلوبی اعجاز کے ساتھ ساتھ اس کتاب کے فطرت انسانی پر معجزانہ اثرات ہیں۔ بشرطیکہ انسانی فطرت اور اس کتاب کے درمیان رکاوٹیں ایک لمحے کے لیے بھی دور ہوجائیں۔ وہ لوگ جن کے دل سیاہ ہوچکے ہیں اور جن کے دلوں پر تہ بہ تہ جاہلیت کی گرد پڑی ہوئی ہو ، ان کے دل بھی بعض اوقات گرد جھاڑ کر اٹھ جاتے ہیں اور جب وہ قرآن کو سنتے ہیں تو ان کے دل بھی تلملا اٹھتے ہیں اور ان کے دل قرآن کریم کے مسحور کن اثرات میں گھر جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ بات کرتے ہیں اور بعض لوگوں کے کلام میں اصول و مذاہب اور مختلف افکار اور رجحانات ہوتے ہیں لیکن انسانی فطرت پر قرآن مجید کا جو اثر ہوتا ہے وہ ایک منفرد اثر ہوتا ہے۔ انسانی دلوں پر اس کی تلاوت کے مخصوص اثرات پڑتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم پڑھنے والوں کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ قریش اپنے دیر دست متبعین کو یہ مشورہ دیتے اور در اصل وہ خود اپنے آپ کو بھی یہی مشورہ دیتے تھے۔ ' لاتسمعوا لہذا القران والغوا فیہ لعلکم تغلبون " اس قرآن کی طرف کان نہ دھرو ، بلکہ اس میں شور مچاؤ شاید کہ تم غلبہ پا لو۔ وہ قرآن کریم کے اثرات خود اپنے نفوس کے اندر محسوس کرتے تھے ، وہ سمجھتے تھے کہ وہ ان اثرات کا مقابلہ نہ کرسکیں گے۔ آج ہمارے دور جدید کے کبراء بھی یہ چاہتے ہیں کہ وہ لوگوں کی توجہ قرآن کریم سے ہٹائیں لیکن قرآن کریم آج بھی غالب اور موثر ہے اور انسانی کلام کے اندر اگر قرآن کریم کی ایک یا دو آیات کو رکھ دیا جائے تو وہ واضح طور پر منفرد نظر آتی ہیں۔ ان کا اثر دوسرے کلام سے علیحدہ ہوتا ہے۔ انسانی احساس پر ان کا اثر گہرائیوں تک ہوتا ہے اور اس سے انسانی کلام بالکل جدا اور علیحدہ نظر آتا ہے۔ حالانکہ انسانی کلام بڑے تکلف اور نقش و نگار سے مزین کیا گیا ہوتا ہے۔ اب ذرا اس کتاب کے موضوع اور مواد پر غور کریں۔ قرآن کے مواد اور موضوعات پر کلام کے لیے ظلال القرآن کے مختصر صفحات میں کلام کی گنجائش نہیں ہے۔ کیوں کہ موضوع اور مفہوم کے اعتبار سے تو وہ بحر ناپید اکنار ہے۔ اس قدر مختصر صفحات میں کہاں کہا جاسکتا ہے۔ بہرحال انسان اور انسانی شخصیت کے ہر پہلو کو قرآن نے موضوع بحث بنایا ہے۔ انسانی شخصیت کو قرآن نے ہر جہت سے لیا ہے۔ ایک ہی رو میں انسانی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر بات کی ہے۔ انسانی شخصیت کے ہر دروازے سے یہ کتاب اندر داخل ہوتی ہے۔ انسانی تفکرات میں سے ہر فکر اور انسانی جذبات میں سے ہر جذبے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ قرآن کریم جب ذات انسان کے مسائل پر بحث کرتا ہے تو اس کا منہاج بحث بڑا انوکھا ہوتا ہے۔ انسان کا دل و دماغ اور اس کی فطرت جس بات کو محسوس کرتی ہے ، قرآن اسے لیتا ہے ، اس کی واضح شکل سمانے لاتا ہے اور اس موضوع پر انسان کی فطری ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا فیصلہ دیتا ہے۔ انسان کی پوشیدہ قوتوں کو یہ کتاب جگاتی ہے اور ان کو صحت مند راستے پر ڈالتی ہے۔ پھر قرآن کا منہاج ایسا حکیمانہ ہے کہ وہ انسانی فطرت کو لے کر قدم بقدم ، مرحلہ وار ، نہایت ہی تدریج کے ساتھ ، نرمی اور سہولت کے ساتھ بلندی پر چڑھاتا جاتا ہے۔ انسان اس راستے پر نہایت ہی جوش اور پرجوش طریقے سے اگے بڑھتا ہے ، اسے اپنی راہ بالکل واضح اور صاف نظر آتی ہے اور وہ یوں ترقی کرتا ہے جس طرح ایک انسان بلندی پر ایک سیڑھی عبور کرکے چڑھتا ہے اور بلندیوں کی انتہا تک پہنچ جاتا ہے ار اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔ اور اس راہ پر بڑھتے ہوئے وہ علم و نظر ، جوش و خروش ، استقامت اور یقین ، اعتماد اور امید اور آرام اور اطمینان کے ساتھ ، اس کائنات کے پورے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ، خواہ بڑے ہوں یا چھوٹے ، آگے بڑھتا جاتا ہے۔ قرآن کا عجیب منہاج و انداز یہ ہے کہ وہ فطرت انسانی کو ایک ایسے مقام سے بیدار کرتا ہے جس کے بارے میں کوئی شخص یہ اندازہ ہی نہیں کرسکتا کہ یہ کس قدر بیدار اور حساس مقام ہے۔ یا یہ کہ اس زاویہ سے فطرت انسانی زیادہ قبولیت کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی فطرت اپنے اسی پہلو سے بیدار ہوتی ہے اور پرجوش انداز میں قرآنی ہدایات پر لبیک کہتی ہے ، اس لیے کہ جس ذات نے یہ قرآن نازل کیا ہے۔ وہی تو اس فطرت کی خالق ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کے ساتھ اس قدر رکھتا ہے جو قربت انسان کی شہ رگ نہیں رکھتی۔ یہ منہاج یا یہ مواد جسے قرآن کریم اس اسلوب و منہاج میں پیش کرتا ہے ، اس کے اس قدر وسیع پہلو ہیں جن پر قول و کلام حاوی نہیں ہوسکت۔ اسی لیے کہا گیا ہے : قل لوکان البحر مدادا لکلمات ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمات ربی ولو جئنا بمثلہ مدد۔ کہو کہ اگر اللہ کے کلمات کے لیے سمندروں کو سیاہی بنا دیا جائے تو یہ سمندر ختم ہوجائیں اور اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں ، اگرچہ ہم ان جیسے مزید سمندر ہی سے سیاہی بنائیں۔ اور دوسری آیت میں کہا گیا ہے : ولو ان ما فی الارض من شجرۃ اقلام ۔ اور سمندر سے سیاہی بنانے میں مزید سات سمندر استعمال کیے جائیں تو بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں۔ راقم الحروف ، اللہ کے فضل و کرم سے 15 سال تک قرآن کریم کا نہایت ہی گہرا مطالعہ کرتا رہا ہے۔ اس عرصے میں وہ اس کتاب کے موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر نگاہ دوڑاتا رہا ہے۔ انسان کے حاصل کردہ علوم کے مختلف میدانوں میں جہاں انسانی ذہن کی رسائی ہوئی ہے اور جہاں انسانی اذہان ابھی تک نہیں پہنچ سک کے۔ میں نے ان علوم کے بارے میں ان چیزوں کو مطالعہ بھی کیا جو انسانوں ان موضوعات کے بعض پہلوؤں کے بارے میں بطور انسانی کاوش پیس کی ہیں ، لیکن میں نے اس حقیقت کو پایا ہے کہ قرآن کریم کا فیض بہت ہی عام وسیع اور کھلا ہے۔ اس کے مقابلے میں انسانی علم ایک چھوٹا سا بحیرہ ہے ، بلکہ ایک چھوٹا سا کنوا یا سوراخ ہے بلکہ وہ ایک ایسا تالاب ہے جو مسلسل ٹھہراؤ کی وجہ سے بدبودار ہوگیا ہے۔ میں نے اس کائنات پر قرآن کی روشنی میں ایک کلی نگاہ ڈالی۔ اس کائنات کے مزاج ، اس کی ماہیت ، اس کی پیدائش و تخلیق اور اس کی ترقی اور اس کی پشت پر راز ہائے نہفتہ کو خوب پڑھا۔ اس کائنات کی خفیہ اور پشویشدہ صفات اور خصوصاً اس کی زندہ مخلوق پر غور کیا ، خصوصاً وہ تحریں بھی مطالعہ کیں جو اس کائنات کے بارے میں انسان نے اپنے علم و تجربے سے تحریر کیں۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے کتاب خصائص التصور الاسلامی وغیرہ) پھر انسان کے وجود ، اس کی نفسیات ، اس کی اصلیت ، اس کی نشوونما ، اس کی پوشیدہ صلاحیتوں ، اس کی سرگرمیوں کے دائروں ، اس کے وجود کی ساخت ، اس کے تاثرات ، اس کے میلانات اور دوسرے حالات اور راز جن کے بارے میں انسانوں نے بھی کچھ معلومات فراہم کی ہیں ، مثلاً علوم الحساب اور حیاتیات کے مختلف موضوع ، انسانی عقائد و ادیان اور اس کے اجتماعی فلسلفے ، ان موضوعات کا بھی میں نے بغور مطالعہ کیا۔ (دیکھئے الاسلام و مشکلات الحضار وغیرہ) پھر انسان کے وجود ، اس کی نفسیات ، اس کی اصلیت ، اس کی نشوونما ، اس کی پوشیدہ صلاحیتوں ، اس کی سرگرمیوں کے دائروں ، اس کے وجود کی ساخت ، اس کے تاثرات ، اس کے میلانات اور دوسرے حالات اور راز جن کے بارے میں انسانوں نے بھی کچھ معلومات فراہم کی ہیں ، مثلاً علوم الحساب اور حیاتیات کے مختلف موضوع ، انسانی عقائد و ادیان اور اس کے اجتماعی فلسفے ، ان موضوعات کا بھی میں نے بغور مطالعہ کیا۔ (دیکھیے الاسلام و مشکلات الحضار وغیرہ) پھر میں نے انسانی نظام ہائے حیات کا بھی مطالعہ کیا۔ ان نظاموں میں انسان کی سرگرمیوں کا بھی مطالعہ کیا ، اس میں انسانوں کے باہم روابط اور اختلافات کا بھی گہرا مطالعہ کیا۔ انسانی روابط کی تجدید و اصلاح کی اسکیموں پر بھی غور کیا۔ اور ان کے بارے میں ان موضوعات پر مطالعہ کیا جن کے بارے میں بہت سے مکاتیب فکر میں اور جن پر انسانوں نے کام کیا ہے مثلاً سیاسی ، اقتصادی اور اجتماعی مسائل (تفصیلات کے لیے دیکیے میری کتاب نحو مجتمع اسلامی) ان تمام شعبوں میں اور ان تمام موضوعات پر انسانی علوم و فنون کے مطالعے کے بعد جب میں نے قرآن مجید کو غور سے پڑھا تو معلوم ہوا کہ ان موضوعات کے بارے میں بڑی کثرت سے آیات موجود ہیں جن میں تفصیلی ہدایات دی گئی ہیں اور جو علم کا خزانہ قرآن میں ہے وہ نہایت ہی حقیقی ، ٹھوس اور وسیع ہے۔ ان موضوعات پر سالہا سال تک غور کرتے ہوئے میں نے کبھی بھی یہ ضرورت محسوس نہیں کی کہ قرآن سے باہر ، کسی حوالہ سے مدد لی جائے۔ ہاں رسول اللہ ﷺ کے احوال و احادیث کی ضرورت بہرحال پڑتی ہے کیونکہ وہ کلام بھی آثار کلام الہی میں سے ہے۔ قرآن و سنت کے سوا ان موضوعات پر انسانوں نے جو کہا ہے وہ نہایت ہی کمزور اور ناقص ہے۔ اگر صحیح بھی ہو تب بھی تشفی بخش نہیں ہے۔ راقم الحروف نے ہر انسانی تحریر کے مقابلے میں قرآن کو مفصل اور تشفی بخش پایا۔ میں جو بات کہہ رہا ہوں ، ایک طویل عرصہ تک قرآن پر غور و فکر کرنے اور انسانی مسائل کے حل میں قرآن وسنت کی روشنی میں تلاش کرنے کی ضرورت کے تحت عملاً قرآن کے سائے میں رہنے کے بعد کہہ رہا ہوں۔ میں قرآن کی خوبیاں بیان کرکے قرآن کے بارے میں آپ کی معلومات میں کوئی اضافہ نہیں کر رہا نہ تمام انسان قرآن کی تعریفیں کرکے اس کے کمال میں کوئی اضافہ کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں انسانوں کا ایک نہایت ہی منفرد گروہ اور نسل گراں قدر ہے ، یعنی صحابہ کرام ، ان کی تربیت ، ان کے علم اور ان کی راہنمائی کا سرچشمہ یہی کتاب تھی۔ اسی کتاب نے ان کو بنایا تھا۔ اس کے بعد انسانوں میں کوئی گراہ اس معیار کا تیار نہیں ہوسکا ، نہ اس سے قبل انسانی تاریخ میں صحابہ کی ٹکر کا کوئی گروہ ہمارے علم میں ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے انسانی تاریخ میں ایک گہرا اور وسیع انقلاب برپا کیا۔ لیکن اس عظیم انقلاب اور اس عظیم واقعہ کا انسانوں نے فی الحقیقت گہرا مطالعہ نہیں کیا۔ انسانی تاریخ میں گروہ صحابہ کے ذریعے جو انقلاب برپا کیا گیا اور جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ہے ، در حقیقت وہ اسی کتاب یعنی قرآن کے سرچشمے سے پھوٹا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر محمد ﷺ تک تمام رسولوں کے ہاتھوں جن معجزات کا صدور ہوا ، یہ معجزہ یعنی انسانیت کے انقلاب عظیم کا معجزہ ان تمام معجزات سے برتر اور ان پر بھاری ہے ، کیونکہ یہ ایک حقیقی ، قابل ملاحظہ اور زیر مشاہدہ معجزہ ہے۔ غرض گروہ صحابہ انسانی تاریخ کا ایک منفرد معجزہ تھے۔ اسلامی معاشرے کی پہلی ترکیب اس منفرد گروہ سے تھی ، اس کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے تک اسلامی معاشرہ زندہ و تابندہ رہا اور اس میں اسلامی شریعت کے قوانین نافذ رہے۔ یہ معاشرہ اسلامی اقدار ، اسلامی حسن و قبح کے پیمانوں اور اسلامی ہدایات اور اشارات کا پابند رہا۔ یہ ہزار سالہ اسلامی معاشرہ بھی درحقیقت ایک دوسرا تاریخی معجزہ تھا خصوصاً جبکہ کوئی تاریخی مبصر اس اسلامی معاشرے اور دوسرے انسانی معاشروں کے درمیان تاریخی موازنہ کرے۔ یہ دوسرے جاہلی معاشرے مادی ترقی میں تو اسلامی معاشرے سے برتری کا دعوی کرسکتے ہیں لیکن انسانی تہذیب و تمدن میں وہ برتری کا دعوی نہیں کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگ آج جدید جاہلیت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہ اپنی نفسیاتی ضروریات ، اپنی اجتماعی ضروریات اور اپنی زندگی کی بہبود قرآن کے بجائے کسی اور سرچشمے سے اخذ کرتے ہیں۔ بعینہ اسی طرح جس طرح عرب جاہلیت کے پیروکار قرآن کریم کے علاوہ خوارق و معجزات کا مطالبہ کرتے تھے۔ عرب کے سادہ جاہلوں کو تو قرآن مجید کا یہ عظیم معجزہ اس لیے نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہایت ہی گہری جاہلیت اور جہالت میں مبتلا تھے اور ان کے ذاتی مفادات بھی قرآنی تعلیمات سے متضاد تھے۔ لہذا وہ قرآنی عجائبات کو پانے سے محروم رہے۔ رہی جدید جاہلیت تو وہ جہالت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے تعلیمی معیار کے غرور کی وجہ سے قرآنی عجائبات کے دیکھنے سے محروم ہے ، حالانکہ علم کے یہ دروازے ، ان پر اللہ ہی نے کھولے ہیں لیکن انہوں نے علم کو مادی دنیا کے اندر محدود کردیا ، نیز انسانی ضروریات کے تحت آج دنیا کو جو ضروریات لاحق ہیں ان ضروریات کے حصول کے لیے انسانی زندگی بہت زیادہ منظم ہوچکی ہے اور تنظیم و تشکیل کے زاویہ سے جدید جاہلیت کے پرستار نہایت ہی غرور میں مبتلا ہیں۔ اس میں شک نہیں ہے کہ زیادہ تجربات کی وجہ سے دور جدید کی زندگی نہایت ہی منظم اور پختہ ہوچکی ہے اور مختل ضروریات کی وجہ سے پیچیدہ بھی ہوچکی ہے۔ اور اس جدید زندگی کے دلدادہ لوگ غرور میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ نیز چودہ سو سال سے یہودی اور صیہونی لابی اسلام دشمنی میں مبتلا ہے اور اس نے ان چودہ سو سالوں میں اسلام اور قرآن کے خلاف اپنی سازشوں کو لمحہ بھر کے لیے بھی موقوف نہیں کیا۔ یہودیوں کی پالیسی یہ رہی ہے کہ مسلمانوں کو ان کی اس کتاب سے غافل کردیں۔ وہ اس کتاب سے ہدایات نہ لیں ، کیونکہ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنے طویل تجربات کے ذریعے یہ بات معلوم ہچکی ہے کہ مسلمان جب تک قرآنی ہدایات کی پیروی کرتے رہیں گے یہ لوگ ان پر قابو نہیں پا سکتے۔ لیکن اس بات کے لیے ایک شرط ہے کہ مسلمان کتاب اللہ کو اس طرح پکڑیں جس طرح دور اول کی لاثانی جماعت ، جماعت صحابہ نے اسے پختہ طریقے سے پکڑا تھا۔ یہ نہ ہو کہ وہ اس کی آیات کو تو اچھی طرح گاتے ہوں اور خوش الحانی سے پڑتے ہوں لیکن ان کی عملی زندگی سو فیصد اس کی تعلیمات کے برعکس ہو۔ یہ یہودیوں کی نہایت ہی خبیث اور مذموم سازش ہے یہ مسلسل مسلمانوں کے خلاف بروئے کار لائی جا رہی ہے۔ اس سازش ہی کا آخری نتیجہ وہ حالات ہیں جن میں وہ اقوام مبتلا ہیں جو اپنے نام مسلمانوں جیسے رکھتی ہیں ، حالانکہ وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں شریعت الہیہ کو نافذ نہ کردیں۔ غرض اسی سازش کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر جگہ اس دین کے آثار کو مٹایا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ مواقع فراہم نہیں ہوتے کہ وہ اپنی زندگیوں کو قرآن کی ہدایات کے مطابق منظرم کریں اور اپنے تمام اختلافات و نزاعات میں بھی قرآن کو اس طرح حکم بنائیں جس طرح قرون اول کے مسلمان قرآن کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے تھے اور اپنے لیے قوانین و اصول قرآن کی روشنی میں بناتے تھے۔ آج حالت یہ ہے کہ اہل قرآن نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے۔ وہ ماسوائے حسن قراءت ، ترتیل کے اس کا مطالعہ نہیں کرتے ، اوہام اور تعویذوں کے سوا اس کا استعمال نہیں کرتے۔ یہ حالت گہری اور مذموم صیہونی اور صلیبی سازش کی وجہ سے ہے ، مسلمانوں کی جہالت اور غرور علم کی وجہ سے ہے اور مسلمانوں کے فکر و نظر کے عمومی فساد کی وجہ سے ہے۔ دور قدیمہ میں جاہلیت کے پرستار لوگوں کو اس سے اسی طرح غافل کرتے تھے کہ وہ اسے سننے اور اس پر غور کرنے کے بجائے خوارق عادت واقعات کے صدور کا مطالبہ کرتے تھے۔ دور جدید کے جاہل اس قرآن سے مسلمانوں کو دور رکھتے ہیں اور ان کے ہاتھ میں اپنے بنائے ہوئے قرآن دیتے ہیں اور ابلاغ اور میڈیا کے جدید وسائل کے ذریعے وہ اپنے بنائے ہوئے نظریات کو لوگوں کے ذہنوں پر مسلط کرتے ہیں اس قرآن کے بارے علیم وخبیر کا فیصلہ یہ ہے۔ هٰذَا بَصَاۗىِٕرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَّرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ ۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رب کی طرف سے اور ہدایت اور حمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔ اور قرآن کا مقام چونکہ یہی ہے ، اس لیے خود ہدایت دی جاتی ہے کہ تمہارا قرآن کے ساتھ رویہ یہ ہونا چاہیے۔ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ جب قران تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے

الأعراف 7:204

اس آیت پر یہ سورة ختم ہوجاتی ہے اور سورة کا آغاز اس طرح ہوا تھا کہ اسی کتاب والا صفات کی طرف اشارہ تھا۔ کتاب انزل الیک فلا یکن فی صدرک حرف منہ لتنذر بہ و ذکری للمومنین۔ یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ، پس اے نبی ، تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ، اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو نصیحت ہو "۔ ۔۔ جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو اس وقت خاموش رہنے کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اس سے مراد وہ قرآن مجید ہے جو نماز میں پڑھا جاتا ہے کہ امام جہراً قراءت کرتا ہے تو مقتدی پر فرض ہے کہ وہ خاموش رہے۔ جب وہ جہری نماز میں امام کو سن رہا ہو تو اس کے لیے پڑھنا منع ہے۔ لا ینازع الامام القرآن ، امام کے ساتھ قرآن میں تنازعہ نہ ہو۔ یہ روایت امام احمد اور اہل سنن نے نقل کی ہے۔ اور امام ترمذی نے اسے حدیث حسن کہا ہے اور ابو حاتم الرازی نے اسے حدیث صحیح کہا ہے۔ انہوں نے زہری ، ابو اکشمہ لیثی کے واسطہ سے ابوہریرہ سے نقل کیا کہ حضور جب ایک جہری نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کو مخاطب کرکے سوال کیا کہ ابھی میرے پیچھے تم میں سے کسی نے میرے ساتھ قراءت کی ؟ ایک شخص نے کہا " ہاں " رسول خدا میں نے پڑھا۔ حضور نے فرمایا " میں کہتا ہوں کہ مجھے کیا ہوا کہ میں قرآن کے ساتھ تنازعہ کر رہا ہوں " اس کے بعد لوگ حضور کے ساتھ جہری نمازوں میں قراءت کرنے سے باز آگئے۔ کیونکہ انہوں نے حضور کی یہ ہدایت سن لی۔ اسی طرح ابن جریر نے بھی اپنی تفسیر میں ابوداود ابن ابو الہند ، بشیر ابن جابر کی روایت سے حضرت ابن مسعود کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے سنا کہ بعض لوگ امام کے ساتھ پڑھتے ہیں ، تو جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : " کیا اب وقت نہیں آگیا کہ تم سمجھو ، کیا وقت نہیں آگیا کہ تم عقل سے کام لو ، اللہ کا حکم مانو ، اللہ فرماتے ہیں۔ " جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو "۔ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ اس آیت میں در اصل مسلمانوں کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مشرکین کی طرح رویہ نہ اختیار کریں کہ حضور ﷺ جب نماز میں قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو مشرکین آکر سنتے۔ اس لیے ان میں سے بعض لوگوں نے دوسروں سے کہا تم لوگ قرآن نہ سنو بلکہ جب تلاوت ہو رہی ہو تو اس میں خلل ڈالو شاید کہ اس طرح تم غالب آجاؤ۔ لا تسمعوا لہذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون۔ " اس قرآن کی طرف کان نہ دھرو ، بلکہ اس میں شور مچاؤ شاید کہ تم غلبہ پا لو " اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔ " واذا قرئ القران فاستمعوا لہ وانصتوا " جب قرآن مجید پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ نماز کے بارے میں ہوئی۔ انہوں نے حضرت ابوہریرہ ، ابن مسعود ، جابر ، زہری ، عبیداللہ ابن عمیر ، عطاء اور سعید بن مسیب سے اس سلسلے میں روایات نقل کی ہیں۔ علامہ ابن جریر نے اس کی بھی شان نزول نقل کی ہے۔ اس نے ابوکریب ، ابوبکر بن عیاش عاصم ، مسیب ابن رافع کے سلسلے کے ذریعے حضرت ابن مسعود سے روایت کی ہے۔ ہم میں سے بعض لوگ ایک دوسرے کو نماز میں سلام کرتے ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی واذا قرئ القران فاستعموا لہ وانصتوا لعلکم ترحمون۔ جب قرآن مجید پڑھا جا رہا ہو ، غور سے سنو اور خاموش ہوجاؤ۔ شاید کہ تم پر حم کیا جائے۔ اس کی تفسیر میں امام قرطبی کہتے ہیں کہ محمد ابن کعب قرظی نے یہ کیا ہے کہ جب حضور قرآن مجید پڑھتے تھے تو لوگ اسے دہراتے تھے جب آپ بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے تو لوگ بھی اسی طرح کہتے۔ پوری فاتحہ اور سورت کی تلاوت میں لوگ ایسا ہی کرتے۔ ایک عرصہ تک یہی معمول رہا۔ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ جب قران تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خاموشی کا مطلب یہ ہے کہ جہراً نہ پڑھا جائے جس طرح کہ وہ لوگ رسول اللہ کی اطاعت میں پڑھتے تھے۔ یہ تو تھی امام قرطبی کی رائے۔ اس آیت کے بارے میں۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب نماز ہو رہی ہوتی تھی تو ایک شخص آتا اور نمازیوں سے پوچھتا تم نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں اور کتنی باقی ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ ایسی ہی روایت مجاہد سے منقول ہے کہ مسلمان نماز میں حسب ضرورت بات کرلیا کرتے تھے ، اس لیے یہ آیت اتری لعلکم ترحمون۔ جن لوگوں کا خیال ہے کہ یہ حکم صرف اس تلاوت پر موقوف ہے ، جو نماز میں ہوتی ہے تو ان کا استدلال ابن جریر کی روایت سے ہے۔ انہوں نے حمید ابن مسعدہ ، بشر ابن جریری ، طلحہ ابن عبیداللہ بن عمیر سے روایت کی ہے۔ یہ صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عبیداللہ بن عمیر اور عطا بن ابی رباح کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ مباحثہ کر رہے تھے اور قاری قراءت کے ساتھ تلاوت کر رہا تھا۔ کیا تم کان نہیں دھرتے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ کیا ہے ، اس کے مستحق نہیں بنتے یعنی لعلکم ترحمون کے۔ اس پر انہوں نے میری طرف دیکھا اور پھر اپنی بات میں مشغول ہوگئے۔ کہتے ہیں ، میں نے دوبارہ اپنی بات کا اعادہ کیا ، انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر اپنی بات میں مشغول ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ میں نے تیسرے باری اپنی بات کا اعادہ کیا ، انہوں نے پھر میری طرف دیکھا اور پھر اپنی بات میں مشغول ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ میں نے تیسری بار اپنی بات کا اعادہ کیا تو انہوں نے میری طرف دیکھا اور کہا " یہ تو نماز کے بارے میں ہے " وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ " علامہ ابن کثیر اس روایت کو نقل کرکے کہتے ہیں کہ سفیان ثوری ابوہاشم اسماعیل ابن کثیر نے ، انہوں نے مجاہد سے یہی روایت کی ہے کہ آیت وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ ۔ نماز کے بارے میں ہے۔ کئی لوگوں نے مجاہد سے یہی روایت نقل کی ہے۔ عبدالرزاق نے ثوری سے یہ نقل کیا ہے کہ اگر نماز کے علاوہ قراءت ہو رہی ہو اور کوئی بات کر رہا ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ جس طرح نماز میں یہ حکم ہے اسی طرح خطبہ جمعہ اور عیدین میں بھی یہی حکم ہے۔ یہ سعید ابن ابوجیر ، مجاہد عطاء ، عمرو ابن دینار ، یزید ابن اسلم ، قاسم ابن مخیرہ ، سلمہ ابن بسار ، شہر بن حوشب اور عبداللہ ابن مبارک بھی اسی طرف گئے ہیں لیکن قرطبی کہتے ہیں " یہ مذہب ضعیف ہے۔ اس لیے کہ خطبات میں قرآن مجید کا حصہ کم ہوتا ہے۔ اور خاموشی سب میں واجب ہے۔ علامہ ابن عربی اور نقاش نے کہا ہے کہ یہ آیت مکی ہے اور مکہ میں نہ کوئی خطبہ تھا اور نہ جمعہ واجب تھا۔ امام قرطبی کہتے ہیں کہ اہل تفسیر کا اس پر اجماع ہے کہ قرآن کو کان لگا کر سننا اور خاموش رہنا جس طرح فرض نماز میں ہے ، اسی طرح غیر فرض میں بھی ہے۔ لغوی مفہوم کے اعتبار سے ہر معاملے میں قرآن کو سننا اور خاموش رہنا فرض ہے ، الا یہ کہ کوئی مخصوص دلیل ہو۔ اسباب نزول کے بارے میں اس سے قبل جو روایات دی گئی ہیں۔ ان میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو یہ بتاتی ہو کہ یہ آیت صرف نماز کے ساتھ مخصوص ہے یا فرض اور غیر فرض نماز میں فرق ہے۔ کیونکہ حکم تو آیت کے الفاظ کی عمومیت پر ہوتا ہے۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ آیت کس خصوصی موقعہ پر نازل ہوئی۔ اقرب بات یہ ہے کہ یہ آیت عام تصور ہو ، اور اس کے لیے کس نص کو مخصوص نہ سمجھا جائے ، قرآن کی عظمت اور احترام کے قرین قیاس اور قرین مرتبہ یہ ہے کہ جہاں بھی تلاوت قرآن ہو ، خاموشی اختیار کی جائے اور چونکہ اللہ کا کلام ہے ، اس لیے اللہ کا ادب بھی اسی میں ہے۔ جب خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب قرآن مجید پڑھا جا رہا ہوں تو خاموشی اختیار کرو اور سنو اور اسی میں تمہارے لیے رحمت کی امید ہے۔ لہذا کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ اس عمل کو نماز کے ساتھ مخصوص کردیا جائے بلکہ جہاں بھی قرآن پڑھا جائے وہاں اس کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے۔ نفس انسان کو ہمہ تن اس کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور یہ ادب اور احترام اسبات کا ضامن ہے کہ انسان پر دنیا و آخرت میں رحم ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم سے اعراض اور روگردانی کرکے لوگ عظیم خسارے میں جا پڑے ہیں۔ بعض اوقات انسان ایک آیت کو غور سے سنتا ہے اور اس کے نتیجے میں عجیب و غریب تاثرات اس کے دل و دماغ پر نقژ ہوجاتے ہیں اور اس پر عمل و ادراک کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ انسان کو اطمینان قلبی ، خوشی اور روحانی کیفیات نصیب ہوتی ہیں اور اس کی سوچ اور عمل میں بڑی تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور یہ تاثرات اور یہ خصوصیت صرف اس شخص کی سمجھ میں آسکتی ہیں ، جس نے انہیں کبھی چکھا ہو۔ قرآن کریم کا مسلسل مطالعہ ، اس پر غور و فکر اور تدبر ، صرف ترنم کے ساتھ قراءت ہی نہیں ، بلکہ یہ انسان کے قلب و نظر پر گہرا غور و فکر اور تدبر پیدا کردیتا ہے۔ اور انسان کو نہایت ہی دور رس قوت مدرکہ عطا ہوجاتی اور اس پر نہایت ہی یقینی علوم کا القا ہوتے ہیں۔ ان سان کے اندر زندگی کی حرارت اور اقدامی قوت پیدا ہوجاتی ہے ، وہ پر عزم ، مثبت سوچ اور مصمم ارادے کا مالک بن جاتا ہے۔ یہ علوم انسان کو تدبر قرآن کے علاوہ کسی اور مشق یا اور ذریعہ علم سے حاصل نہیں ہوتے۔ قرآنی تصورات کے بیچ میں سے انسان اس کائنات کے حقائق معلوم کرلیتا ہے۔ انسان زندگی کے بارے میں نئے نئے حقائق کا ادراک و انکشاف ہوتا ہے۔ انسان کو انسانی زندگی کے حقائق ، انسانی ضروریات ، انسان کے مزاج اور اس کی فطرت و طبیعت کا نہایت ہی واضح گہرا اور دقیق و عمیق شعور حاصل ہوجاتا ہے اور یہ شعور خالص قرآنی عبادات اور احکام کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اس کائنات اور انسانی زندگی کے ساتھ وہ انسان جس نے قرآن کا مطالعہ کیا ہو نہایت ہی مختلف روح کے ساتھ معاملہ کرتا ہے اور اب انسان کا طرق عمل اس کائنات اور انسان کے ساتھ وہ نہیں ہوتا جو اس انسان کا ہوتا ہے جس کی تربیت محض انسانی علم و معرفت کی فضا میں ہوئی ہو۔ یہ فضا اللہ کی رحمت کی امیدواری کی فضا ہے اور یہ نماز اور غیر نماز میں برابر ہے۔ لہذا اللہ کی رحمت کی فضا کو ہم نماز کے ساتھ کسی وجہ سے بھی مخصوص نہیں کرسکتے اور وہی رائے درست ہے جو قرطبی نے نقل کی ہے۔

الأعراف 7:205

اس سورت کا خاتمہ اس ہدایت پر ہوتا ہے کہ ذکر الہی کی طرف منہ موڑ لو۔ خواہ یہ ذکر نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ عام حالات میں ہو۔ ابن کثیر فرماتے ہیں " اللہ حکم دیتے ہیں کہ اسے دن کے شروع میں یاد کیا جائے ، دن کے آخر میں یاد کیا جائے اور بڑی کثرت سے یاد کیا جائے۔ اور دوسری جگہ حکم دیا ہے کہ ان اوقات میں اللہ تسبیح اور بندگی کرو۔ فسبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس وقبل الغروب۔ پس اللہ کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ سورج نکلنے سے پہلے اور سورج غروب ہونے سے پہلے " یہ حکم اس وقت تھا جبکہ اسراء کی رات میں ابھی پانچ نمازیں فرض نہ ہوئی تھیں۔ یاد رہے کہ یہ آیت مکی ہے لیکن اس آیت میں لفظ غدو اور آصال استعمال ہوا ہے۔ غدو کے معنی دن کا اول حصہ ہے ، آصال اصل کی جمع ہے جس طرح ایمان جمع یمین ہے۔ تضرعا و خفیۃ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کو اپنے دل میں نہایت ہی عاجزی اور خوف و رجا کی حالت میں یاد کرو۔ زبان سے بھی ذکر الٰہی کرو مگر جہراً نہ کرو۔ اس لیے دون الجہر من القول کہا گیا۔ یعنی ہلکی آوز میں۔ ذکر الہی کا مستحب طریقہ یہی ہے کہ یہ چیخ و پکار کی صورت میں نہ ہو اور جب صحابہ کرام نے حضور ﷺ سے یہ دریافت کیا " کیا ہمارے رب قریب ہیں تاکہ ہم اس کو ہلکی آواز میں پکاریں یا دور رہیں تاکہ ہم اسے بلند آواز سے پکاریں ، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی۔ واذا سالک عبادی عنی فانی اقریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان جب آپ سے میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں تو کہہ دیجئے کہ میں قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارے۔ صحیحین میں حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت موجود ہے۔ کہتے ہیں کہ سفروں میں سے کسی سفر میں لوگوں نے خدا تعالیٰ کو بلند آواز سے پکارنا شروع کردیا۔ ان سے حضور ﷺ نے کہا " اے لوگو ، ذرا اپنی آواز کو اپنے تک محدود رکھو ، تم نہ کسی غائب ذات کو پکار رہے ہو اور نہ کسی گونگی بہری ذات کو۔ جسے تم پکار رہے وہ سمیع بھی ہے اور قریب بھی ہے ، وہ تم میں سے ہر شخص کی سواری کی گردن سے زیادہ قریب ہے۔ ابن کثیر اس بارے میں ابن جریر اور عبدالرحمن ابن زید ابن اسلم کی رائے کو قبول نہیں کرتے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص قرآن کریم کو سن رہا ہو وہ ہلکی آواز سے اللہ کو یاد کرے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے اس قول پر کوئی دلیل انہوں نے پیش نہیں کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس سے مراد بندوں کی طرف سے صبح و شام مطلق ذکر الہی ہے تاکہ وہ غافل نہ ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کے آخر میں فرشتوں کے ذکر میں کہا گیا ہے کہ وہ رات اور دن ذکر الہی میں مشغول رہتے ہیں۔ اور وہ اپنی بندگی اور ذکر میں نکلتے ہیں۔ اِنَّ الَّذِيْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ ۔ اس کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ مسلمان ان کی تقلید کریں اور اللہ کی اطاعت کریں اور کثرتے سے اسے یاد کریں اور بندگی بجا لائیں۔ امام ابن کثیر نے اس سلسلے میں جو کچھ لکھا ہے اور جو احادیث نقل کی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم دور اول کے مسلمانوں کی تربیت کس طرح کر رہا تھا۔ حضرت نبی ﷺ بھی عربوں کی نفسیاتی تربیت اور رب تعالیٰ کی معرفت میں انہیں نہایت ہی لطیف حقائق سے آگاہ کرتے رہے تھے نیز ان کو بتایا جاتا تھا کہ ان کے ارگرد پھیلی ہوئی کائنات کی حقیقت کیا ہے۔ ان لوگوں کے سوالات اور اللہ کی جانب سے اور رسول اللہ کی جانب سے جوابات کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے فکر و عمل میں کس قدر عظیم اور دور رس انقلاب برپا کردیا گیا تھا اور یہ کتاب اللہ اور سنت رسول کا حیرت انگیز کارنامہ تھا۔ یہ ایک عظیم اور دور رس انقلاب تھا جو ان لوگوں کے لیے باعث رحمت تھا لیکن اے کاش کہ لوگ جانتے۔ یہ بات نوٹ کرنے کے لائق ہے کہ ان نصوص میں جس ذکر کے بارے میں کہا گیا ہے وہ صرف زبانی ذکر نہیں ہے بلکہ اس سے مراد قلبی ذکر ہے ، اس لیے کہ جس ذکر سے مومن اور ذاکر کا دل مرتعش نہ ہو ، جس سے اس کا وجدان اور شعور متاثر نہ ہو ، جس ذکر کا اثر انسان کی ذات اور اعمال پر نہ ہو اور وہ ذکر عاجزی ، تضرع اور خوف کے ساتھ نہ کیا جائے تو اسے ذکر نہ سمجھا جائے گا بلکہ بعض حالات میں تو وہ اللہ کی شان میں گستاخی تصور ہوگا ذکر کا مفہوم تو یہ ہے کہ انسان نہایت ادب ، نہایت عاجزی اور نہایت ہی خوف و رجا کی حالت میں اللہ کو یاد کرے اور اللہ کی یاد کے ساتھ ساتھ اللہ کی عظمت اور جلالت شان کا تصور بھی کیا جائے اور دعا کی جائے کہ انسان اللہ کے غضب سے محفوظ ہوں ، صرف اس ذکر سے انسان کو روحانی جلا نصیب ہوسکتی ہے۔ جب زبان ضمیر اور قلب کے ساتھ حرکت کرتی ہو ، اور ہونٹ جب روح کے ہمرکاب ہوں تو یہ اس صورت میں ہوں کہ خشوع اور خضوع میں فرق نہ آئے ، نہایت ہی دھیمی آواز میں ہو اور چیخ و پکار اور شور و شغب کی صورت میں نہ ہو اور نہ ترنم اور غنا کی صورت مناسب ہے۔ اور نہ پریڈ میں اور طربیہ انداز میں۔ ذرا آیت پر دوبارہ نگاہ ڈالیں۔ وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِيْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً وَّدُوْنَ الْجَــهْرِ مِنَ الْقَوْلِ ۔ اے نبی اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو ، دل ہی دل میں ، زاری اور خوف کے ساتھ ، اور زبان سے بھی ہلکی آواز میں۔ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ " صبح و شام " یعنی دن طلوع ہوتے وقت اور دن کے آخری وقت ہیں ، اس طرح کہ دن کے دونوں حصوں میں۔ انسان کا قلب اللہ کے ساتھ جڑا ہوا ہو ، ذکر الہی ان اوقات کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ، اللہ کی یاد تو ہر وقت قلب و نظر میں ہونا چاہیے۔ ہر وقت دل پر اللہ کی نگرانی قائم رہنا چاہیے ، ان اوقات کا خصوصاً ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ ان میں کائنات کے صفحات پر ایک نمایاں تغیر رونما ہوتا ہے ، رات سے دن اور دن سے رات نمودار ہوتی ہے۔ اور ایک حساس انسان کا دل اپنے ماحول میں اللہ کے عظیم کارناموں میں تغیرات اور انقلابات دیکھتا ہے۔ اس کائنات کے ظاہری احوال بدلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ ان اوقات میں انسان کا دل اور اس کا نفس قبولیت کے قریب تر ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں بکثرت ایسے اوقات میں ذکر الٰہی کی ہدایت کی گئی ہے جن میں انسان کے قلب و نظر پر یہ کائنات بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ اور اس طرح انسان کا دل نرم ہوتا ہے۔ اور وہ باری تعالیٰ کی ذات سے تعلق قائم کرنے کے لیے خوب تیار ہوتا ہے۔ مثلا مشکلات کے وقت فاصبر علی ما یقولون و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس و قبل الغروب و من اللیل فسبحہ وادبار السجود۔ جو باتیں یہ لوگ کرتے ہیں ان پر صبرو کرو ، اپنے رب کی تعریف کرو ، اس کی تسبیح کرو طلوع شمس اور غروب سے پہلے۔ رات کو بھی اللہ کی تسبیح کو اور سجدوں کے بعد بھی۔ ومن اللیل فسبح و اطراف النہار لعلک یرضی ۔ اور رات کے حصے میں تسبیح کرو۔ دن کے اطراف کے وقت بھی ، شاید کہ تم راضی ہوجاؤ۔ واذکر السم ربک بکرۃ واصیلا و من اللیل فاسجد لہ ، و سبحہ لیلا طویلا۔ اور اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو ، رات کے ایک حصے میں اس کے سامنے سجدہ ریز ہوا کرو اور طویل رات میں اس کی تسبیح کرو۔ یہاں کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ ان اوقات میں ذکر الٰہی کا حکم فرضیت صلوۃ سے پہلے نازل ہوا تھا ، جس کے اوقات معلوم ہیں اور اب ان اوقات میں ذکر الہی کی ضرورت یا حکم نہیں ہے۔ اس لیے کہ یہاں جس ذکر کا بیان ہورہا ہے یہ نماز سے عام ہے اور اس ذکر کے اوقات فرض نمازوں کے اوقات کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ یہ ذکر نماز کی شکل کے علاوہ بھی ہوسکتا ہے ، یہ قلبی ذکر ہے ، یا قلب اور زبان دونوں کے ساتھ ہوسکتا ہے ، بلکہ یہ ان صورتوں سے بھی زیادہ عام ہے۔ ہر وقت اللہ کا مستحضر رہنا اور ہر وقت اللہ کی جلالت کا قلب و نظر پر جاری رہنا اور خفیہ اور اعلانیہ ہر حالت میں ، چھوٹے معاملے میں یا بڑے معاملے میں حرکت میں اور سکون میں ، نیت میں اور اعمال میں ، غرض ہر حال میں اللہ کو یاد کرنا ان آیات کا ماحصل ہے۔ صبح و شام کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لیے کیا گیا ہے کہ ان اوقات میں انسان کا قلب اور نظر قبولیت کے لیے تیار ہوتی ہے۔ اور اللہ جانتا ہے کہ اس وقت انسانی پر کائناتی اثرات ہوتے ہیں۔ وَلَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِيْنَ ۔ ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ جو غفلت کا شکار ہیں۔ یعنی ایسے لوگوں میں سے نہ بنو جو اللہ کی یاد سے غافل ہیں۔ جن ہونٹوں پر اور جن کی زبان پر اللہ کا نام نہیں آتا ، نہ ان کے قلب و نظر میں تصور خدا ہوتا ہے۔ جواب ذکر نہیں کرتے جس کے ساتھ دل کی دھڑکن وابستہ ہو ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان راہوں پر نہیں چلتے جن پر اللہ تعالیٰ چلنے کو پسند نہیں کرتے جسے اللہ دیکھے تو انہیں شرمندہ ہونا پڑے۔ وہ چھوٹی اور بڑی ہر بات میں اللہ کا لحاظ رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ذکر ان آیات کا مفہوم ہے۔ اگر کسی ذکر کا اثر انسان کے اعمال اور اس کے طرز عمل پر نہیں ہوتا اور وہ اللہ کا اتباع نہیں کرتا تو وہ ذکر ذکر بھی نہین ہے اور نہ اس آیت کا مطلوبہ ذکر ہے۔ یعنی ایسے لوگوں میں سے نہ بنو جو اللہ کی یاد سے غافل ہیں۔ جن ہونٹوں پر اور جن کی زبان پر اللہ کا نام نہیں آتا ، نہ ان کے قلب و نظر میں تصور خدا ہوتا ہے۔ جواب ذکر نہیں کرتے جس کے ساتھ دل کی دھڑکن وابستہ ہو ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ان راہوں پر نہیں چلتے جن پر اللہ تعالیٰ چلنے کو پسند نہیں کرتے جسے اللہ دیکھے تو انہیں شرمندہ ہونا پڑے۔ وہ چھوٹی اور بڑی ہر بات میں اللہ کا لحاظ رکھتے ہیں۔ ایسا ہی ذکر ان آیات کا مفہوم ہے۔ اگر کسی ذکر کا اثر انسان کے اعمال اور اس کے طرز عمل پر نہیں ہوتا اور وہ اللہ کا اتباع نہیں کرتا تو وہ ذکر ، ذکر بھی نہیں ہے اور نہ اس آیت کا مطلوبہ ذکر ہے۔ یعنی اللہ کو یاد کرو ، اور اس سے غفلت نہ کرو۔ تمہارا دل اس بات سے غافل نہ ہو کہ وہ مسلسل نگرانی کر رہا ہے انسان اس بات کا سخت محتاج ہے کہ ہر وقت اس کا جوڑ اللہ کے ساتھ رہے۔ صرف اس صورت میں وہ شیطانی وساوس سے بچ سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ ۭاِنَّهٗ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ اگر کبھی شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اس سورة کے آغاز میں آدم و ابلیس کے معرکے کا تفصیلی بیان آیا تھا۔ پھر اس پوری سورة میں قافلہ ایمان کی کہانی بیان ہوتی رہی ہے۔ اور اس قافلے کی راہ میں جنوں اور انسانوں کے شیاطین جو رکاوٹیں ڈالتے رہے ہیں ، مثلا اس شخص کی مثال کا بھی تفصیلی ذکر ہوا جسے اللہ نے اپنی نشانیاں دی تھیں۔ لیکن وہ ان سے نکل بھاگا۔ شیطان نے اس کا پیچھا کیا اور اسے گمراہوں کے ٹولے میں شامل کرکے چھوڑا۔ سورت کے آخر میں شیطان کے اکسانے کا ذکر ہوا اور حکم دیا گیا کہ ایسی حالت میں مداوا یہ ہے کہ تم اللہ کی پناہ میں چلے جاؤ۔ وہ جاننے اور سننے والا ہے۔ غرض قرآن مسلسل اور مربوط کلام ہے اور اس کے آخر میں حکم دیا جاتا ہے کہ ہر وقت نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اللہ کو یاد کیا کرو۔ اور غفلت سے بچو۔ یہ حکم اس بات کے دوران آتا ہے جس میں اللہ نبی ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ عفو و درگزر کو اپنا شعار بناؤ۔ معروف باتوں کا حکم دو اور جاہلوں سے پہلو تہی کرو۔ لہذا یاد الہی در حقیقت اسلامی انقلاب کے نشانات منزل کا تکملہ اور آخری منزل ہے۔ اور یہ راہ رو منزل کے لیے وہ توشہ ہے جس کے ذریعے وہ مشکل ترین منازل طے کرسکتا ہے۔

الأعراف 7:206

اب اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے سامنے ملائکہ مقربین کی مثال پیش کرتے ہیں۔ وہ جن پر شیطان کی اکساہٹ کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ان کے اندر تخلیقی اعتبار سے کوئی کمی نہیں ہوتی نہ ان کے اندر شہوات ہوتی ہیں اور نہ میلانات ہوتے ہیں۔ وہ رات دن ذکر الہی میں مشغول ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی بندگی میں نہ کوئی تقصیر کرتے ہیں اور نہ غرور کرتے ہیں حالانکہ اللہ کی بندگی اور تسبیح کرنے کے معاملے میں انسان ان سے زیادہ محتاج ہے۔ انسان کی راہ میں زیادہ مشکلات ہیں اور اس پر شیطان کی اکساہٹ کا اثر بھی جلد ہوتا ہے۔ انسان تباہ کن غفلت کا ارتکاب بھی کرسکتا ہے۔ انسان کی سعی بھی محدود ہے ، اگر ذکر الہی کا توشہ نہ ہو تو اس کے لیے منزل تک پہنچنا ہی دشوار ہے۔ ۔۔۔ عبادت اور ذکر الہی دین اسلام کے اساسی طریقوں میں شامل ہیں۔ یہ محض علم و معرفت کا طریق کار نہیں ہیں نہ لاہوتی جدلیات سے ان کا تعلق ہے بلکہ ان کا تعلق سلوک و عمل اور عملی حرکت کے ساتھ ہے۔ اور اس کے ذریعے انسان کی عملی دنیا کو بدلنا مطلوب ہوتا ہے۔ انسان کی عملی زندگی کی جڑیں لوگوں کے نفس کے اندر ہوتی ہیں ، عمل کی اساس کے خزانے انسان کے اندر ہوتے ہیں ، لوگوں کو عملاً جاہلیت سے نکالنا اور اسلامی منہاج میں داخل کرنا ایک مشکل کام ہے اور اس کے لیے نہایت ہی مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اس راہ کی مشکلات پر صبر ایوبی کی ضرورت ہے جبکہ داعی کی طاقت محدود ہوتی ہے۔ اس لیے داعی کے لیے اس محدود قوت کے ساتھ اضافی قوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ قوت محض علم و معرفت اور دلیل وبرہان سے حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس کا سرچشمہ عبادت ، تعلق باللہ اور اللہ کی نصرت میں ہوتا ہے۔ یہی وہ توشہ ہے جو ختم نہیں ہوتا۔ اور یہی سرچشمہ نصرت ہے جو اس طویل اور خطرناک راہ میں درکار ہوتا ہے۔ اس سورت کا آغاز ان الفاظ سے ہوا۔ کتاب انزل الیک " یہ کتاب ہے جو تمہاری جانب نازل کی گئی ہے۔ پس اے نبی تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے منکرین کو ڈراؤ اور ایمان لانے والوں کو نصیحت ہو " پوری سورة میں قافلہ اہل حق کی کہانیاں بیان ہوئی اور اس قافلے کی قیادت رسل کرام اپنے اپنے اوقات میں کرتے رہے۔ راستے پر شیطان رجیم ان کی راہ بار بار روکتا رہا۔ جنوں اور انسانوں کے شیاطین ان کو اذیت دیتے رہے ، اس دنیا کے جبار وقہار ان پر مظالم ڈھاتے رہے اور طاغوتی نظاموں کے ہر کارے ان کے آڑے آتے رہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوکر ان کو غلام بنا رہے تھے۔ بیشک یہی ہے اس راستے کا توشہ اور یہی ہے اس راستے کے معزز مسافروں کا سازوسامان۔