Fi Zilal al-Quran — الأنفال 8:1 – الأنفال 8:69
Contents
- الأنفال 8:1
- الأنفال 8:2
- الأنفال 8:3
- الأنفال 8:4
- الأنفال 8:5
- الأنفال 8:6
- الأنفال 8:7
- الأنفال 8:8
- الأنفال 8:9
- الأنفال 8:10
- الأنفال 8:11
- الأنفال 8:12
- الأنفال 8:13
- الأنفال 8:14
- الأنفال 8:15
- الأنفال 8:16
- الأنفال 8:17
- الأنفال 8:18
- الأنفال 8:19
- الأنفال 8:20
- الأنفال 8:21
- الأنفال 8:22
- الأنفال 8:23
- الأنفال 8:24
- الأنفال 8:25
- الأنفال 8:26
- الأنفال 8:27
- الأنفال 8:28
- الأنفال 8:29
- الأنفال 8:30
- الأنفال 8:31
- الأنفال 8:32
- الأنفال 8:33
- الأنفال 8:34
- الأنفال 8:35
- الأنفال 8:36
- الأنفال 8:37
- الأنفال 8:38
- الأنفال 8:39
- الأنفال 8:40
- الأنفال 8:41
- الأنفال 8:42
- الأنفال 8:43
- الأنفال 8:44
- الأنفال 8:45
- الأنفال 8:46
- الأنفال 8:47
- الأنفال 8:48
- الأنفال 8:49
- الأنفال 8:50
- الأنفال 8:51
- الأنفال 8:52
- الأنفال 8:53
- الأنفال 8:54
- الأنفال 8:55
- الأنفال 8:56
- الأنفال 8:57
- الأنفال 8:58
- الأنفال 8:59
- الأنفال 8:60
- الأنفال 8:61
- الأنفال 8:62
- الأنفال 8:63
- الأنفال 8:64
- الأنفال 8:65
- الأنفال 8:66
- الأنفال 8:67
- الأنفال 8:68
- الأنفال 8:69
الأنفال 8:1
(سورۃ کے تعارف کا بقیہ حصہ)
جو لوگ نظریہ جہاد اسلامی کے اخلاقی جواز کے لیے صرف دار الاسلام کی حفاظت کے اسباب و وجوہ تلاش کرتے ہیں ، انہوں نے در اصل نظام اسلامی کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ہی نہیں لگایا۔ وہ اس نظام کو ایک وطن سے بھی کم تر درجے کی کوئی چیز سمجھتے ہیں ، حالانکہ اسلامی نقطہ نظفر سے یہ خیال درست نہیں ہے۔ یہ بالکل ایک یا تصور ہے جو اسلامی تصور پر غالب ہورہا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام پہلے عقیدے کو اہمیت دیتا ہے ، پھر اس نظام کو جو اس عقیدے پر مبنی ہوتا ہے۔ پھر اس معاشرے کو جس میں وہ نظام قائم ہوتا ہے یہی چیزیں اسلامی تصور حیات میں اہمیت کی حامل ہیں۔۔۔ باقی رہی صرف کوئی سرزمین تو بذات خود اسلام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ کسی اسلامی سرزمین کو اہمیت صرف اس وجہ سے حاصل ہوتی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم ہوتی ہے اور وہ اسلامی عقیدے کا گہوارا اور اسلامی نظام حیات کے لیے ایک کھیت کی حیثیت اختیار کرکے دار الاسلام قرار پاتی ہے اور " تحریک آزادی انسان " کے لیے مرکز بن جاتی ہے۔
دار الاسلام کی حفاظت بھی اس لیے ہوتی ہے کہ اس عقیدے ، اس نظام حیات اور اس معاشرے کی حفاظت ہو ، جو اس دار الاسلام میں قائم ہوتا ہے۔ بذات خود دار الاسلام کوئی مستقل بالذات مقصد نہیں اور نہ تحریک جہاد اسلامی منتہائے نظر صرف دار الاسلام کی حفاظت ہی ہے۔ اس کی حفاظت تو محض اس لیے کی جاتی ہے کہ وہاں حکومت الہیہ کا قیام عمل میں لایا جاسکے اور اس کے بعد تمام روئے زمین پر پھیلنے اور تمام نوع انسانی تک دعوت اسلامی کو پہنچانے کے لیے اسے مرکز بتایا جاسکے۔ اس طرح گویا پوری انسانیت اس دین کا موضوع ہے اور پورا کرہ ارض اس کا میدان کار ہے۔
جیسا کہ اس سے پہلے ہم کہہ چکے ہیں ، جب بھی دین کو پھیلانے کا کام شروع ہوگا اس کے راستے میں اس وقت کی سیاسی طاقت ، اس وقت کے موجودہ اجتماعی نظام اور اس وقت کے معاشروں کی عادات واطوار کی جانب سے مادی رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں۔ پھر اسلام بھی ، ان تمام چیزوں کو اپنی قوت کے بل بوتے پر اپنے راستے سے ہٹاتا ہے تاکہ وہ براہ راست لوگوں کو اپیل کرسکے ، ان کے ضمیر اور ان کے افکار کو مخاطب کرسکے اور تبلیغ دین اور انسان کے درمیان کوئی مادی رکاوٹ نہ رہے۔ اس کے بعد انہیں اختیار دیا جائے کہ وہ اسلامی عقیدے کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔
ہمیں اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں ، کسی سے مرعوب نہ ہونا چاہیے اور نہ مستشرقین کی وسوسہ اندازیوں سے متاثر ہونا چاہیے۔ موجودہ بین الاقوامی حالات سے دب کر ، اسلام کے نظریہ جہاد کی جدید تعبیر کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس سے اس کی روح ختم ہوجائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ حالات اور واقعات جن کا وقتی دفاع سے تھا ، اگر وہ نہ بھی ہوتے تو بھی مسلمان اسی طرح جہاد کرتے جس طرح انہوں نے ان حالات کے ہوتے ہوئے کیا۔
براہ راست مطالعہ
ہمیں صرف اسلامی نظام حیات کا تاریخی جائزہ لینا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ وہ کن کن امور کو اولیت دیتا ہے۔ اس کا مزاج کیا ہے ، اور وہ کس چیز کا اعلان کرتا ہے۔ اس کا طریق کار کیا ہے ؟ ان تمام امور کے بارے میں کوئی حتمی فیصلے کرتے وقت ہمیں وقتی اور دفاعی اقدامات اور دائمی نصب العین میں فرق کرنا چاہیے۔
یہ بات اپنی جگہ بالکل درست کہ یہ دین حملہ آوروں کا دفاع بھی کرتا ہے کیونکہ جاہلیت کسی حال میں بھی اسے برداشت نہیں کرسکتی۔ محض یہ اعلان ہی جاہلیت کے ایک بڑا چیلنج ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الہ نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی انسان کسی کا غلام نہیں۔ خالی خولی اعلان ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک قیادت کے تحت عملی تحریک بھی منظم کرنا اور بالکل ایک نئے اور ممتاز معاشرہ کی بنیاد رکھنا ، جو سیاسی لحاظ سے اللہ کے سوا تمام حاکمیتوں کا انکار کرتا ہو ، یہ سب چیزیں ہمیشہ جاہلیت کے لیے ناقابل برداشت ہوتی ہیں۔ غرض اسلامی نظام زندگی کا وجود ہی اپنی اس تاریخی صورت میں ، جس میں حضور ﷺ نے اسے پیش کیا تھا ، اس بات کے لیے کافی تھا کہ اس وقت کے تمام جاہلی معاشرے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں ، جن کی بنیاد ہی اس بات پر تھی کہ انسان انسان کی غلامی کرے اور کوشش کرکے اس دین کو ختم کریں اور اپنے وجود کا دفاع کریں۔ ان حالات میں اسلامی نظام زندگی کے لیے بھی یہ ضروری تھا کہ وہ اپنا دفاع کرے اور پر خطر حالات میں بچاؤ کی تدابیر اختیار کرے۔ یہ ایک ناگزیر ضرورت تھی ، اسلام کے وجود کے ساتھ اس کا دفاع بھی ضروری تھا۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ کوئی نئی ابھرنے والی طاقت فوراً ہی اقدامی پوزیشن حاصل کرلے۔ ایک دور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی نئی ابھرنے والی طاقت فورا ہی اقدامی پوزیشن حاصل کرلے۔ ایک دور ایسا بھی ہوتا ہے جس میں اپنا دفاع کرن اپڑتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اسلام ابد الآباد تک اپنا دفاع ہی کرتا رہے۔ بلکہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے وجود کا تقاضا ہی یہ ہے کہ وہ مناسب حالات میں ، آگے بڑھے اور پوری انسانیت کو غیر اللہ کی غلامی سے رہائی دلائے۔ اس معاملہ میں اسلام کسی جغرافیائی حد بندی کا قائل نہیں ہے ، یہ اسلام کے مزاج کے خلاف ہے کہ پوری انسانیت کو جہالت اور گمراہی کے اندھیرے میں بھٹکتا اور ظلم و ستم میں پستا چھوڑ کر صرف ایک نسل یا ایک مخصوص قوم کی اصلاح پر قانع ہوجائے۔
بعض اوقات ایسے حالات میں بھی پیش آسکتے ہیں کہ جاہلیت کے حامی نظام اسلام کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرتے ہیں۔
بعض اوقات ایسے حالات بھی پیش آسکتے ہیں کہ جاہلیت کے حامی نظام اسلام کے بارے میں نرم رویہ اختیار کرتے ہیں اور اس پر حملہ آور نہیں ہوتے اور اسلام بھی انہیں ان کی جغرافیائی حدود کے اندر آزاد چھوڑ دیتا ہے تاکہ وہ انسانوں کو غلام بنا کر ان پر حکمرانی کریں اور مداخلت نہیں کی جاتی اور نہ ہی تحریک اسلامی کو ان حدود تک وسیع کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ وقفہ عارضی ہوتا ہے ، اصل پالیسی یہی ہوتی ہے کہ اسلام ان جاہلی معاشروں کے ساتھ اس وقت تک مصالحت نہیں کرتا ، جب تک وہ اسلام کے اقتدار اعلیٰ کے سامنے سر تسلیم خم نہ کردیں اور جزیہ ادا کرکے یہ ثبوت فراہم نہ کردیں کہ ان کے ملک کے دروازے تحریک اسلامی کے لیے کھلے ہیں اور ان کی حدود میں قائم حکومت ، اسلام کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ یہ ہے اس دین کا مزاج اور اس کی اصل غرض وغایت یعنی تمام انسانیت کو غیر اللہ کی غلامی سے چھڑا کر صرف اللہ کی غلامی میں داخل کرنا ہے۔
دین اسلام کے اس تصور اور اس تصور کے درمیان میں زمین و آسمان کا فرق ہے جو اسے ایک محدود علاقے کے اندر بند کرکے رکھ دیتا ہے۔ اگر ہم اسلام کے اس محدود تصور کو اپنا لیں تو اس صورت میں ہمارے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ قرن اول میں اسلام کی وسعت پذیری کے لیے وجوہ جواز تلاش کریں۔
لیکن اگر ہمارے سامنے اسلامی نظام زندگی کا تصور یہ ہے کہ اسلام تمام انسانوں کے لیے ، اللہ کا تجویز کردہ نظام زندگی ہے اور اس کا تعلق انسانوں کے کسی خاص گروہ اور نسل سے نہیں ہے تو اسلامی کی وسعت پسندی کی حقیقی وجوہات خود بخود ہمارے سامنے آجاتی ہیں اور جب تک یہ حقیقت ہمارے ذہنوں سے اوجھل رہتی ہے ، ہم اس وسعت پذیر کے لیے خارجی اسباب تلاش کرتے پھرتے ہیں حالانکہ مسئلہ کی اصلیت صرف اس قدر ہے کہ اسلام کا نصب العین پوری انسانیت کی حریت اور اللہ کی غلامی ہے اور جس کسی کے ذہن میں یہ حقیقت بیٹھ جائے اسے کسی اور اخلاقی جواز کے تلاش کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔
دو نقطہ ہائے نظر
اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں دو نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں ، ایک یہ کہ اسلام مجبور تھا کہ وہ معرکہ جہاد میں کود پڑے کیونکہ جاہلی معاشرے اس کو مٹانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ، دوسرا تصور یہ ہے کہ اسلام از خود اقدام کرتا ہے اور معرکہ جہاد میں داخل ہوتا ہے۔ اگرچہ ابتدائی دور میں ان دونوں تصورات کے درمیان امتیاز کرنا دشوار نظر آتا ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں اسلام کو معرکہ جہاد میں کودنا پڑا ہے لیکن آگے جا کر دونوں میں فرق واضح ہوجاتا ہے ، جس سے اسلام کے بارے میں مسلمانوں کے نقطہ نظر اور احساس و شعور میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہے اور اس کے دور رس نتائج مرتب ہوتے ہیں۔
دوسرے نقطہ نظر کے مطابق اسلام ایک ایسا نظام زندگی بن جاتا ہے جسے خود اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ پوری انسانیت اللہ کی بندگی میں داخل ہو ، انسان پر صرف اللہ کا حکم چلے اور اس کی شریعت ملک کا قانون ہو اور الوہیت کا مستحق صرف اللہ ہو ، جب اسلام کے بارے میں یہ نقطہ نظر اختیار کیا جائے تو یہ اس کا طبیعی حق ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے راستے میں حائل ہونے والی تمام مشکلات کو دور کرے تاکہ وہ براہ راست لوگوں کی عقل و شعور اور وجدان کو اپیل کرسکے۔ اسلام کے اس جامع تصور اور اس تصور کے درمیان بہت بڑآ فرق ہے ، جس کی رو سے اسے ایک " علاقائی اور مقامی " تصور کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اگر ہم اسے ایک علاقائی نظام سمجھیں تو پھر اس کا حق صرف یہ رہ جائے گا کہ وہ اپنے ان علاقائی حدود کے اندر اپنے وجود اور اپنی بقاء کے لیے مدافعت کرسکے۔ اسلام کے یہ دونوں تصورات نظریہ جہاد پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر دونوں میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ دونوں صورتوں میں مسلمانوں کو معرکہ جہاد میں کودنا پڑتا ہے لیکن دونوں تصورات کے نتیجے میں نظریہ جہاد کی نوعیت اور حقیقت بدل جاتی ہے۔
جب اسلام کسی ایک قوم اور نسل کا دین نہیں ہے تو پھر اس کا یہ فطری حق ہے کہ وہ متحرک ہو ، کیونکہ وہ ایک الہی نظام ہے اور پورے جہان کے لیے ہے۔ لہذا اس کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ آگے بڑھے اور زندگی کے باطل نظاموں کو ختم کردے۔ غلط اوضاع واطوار کے پردوں کو چاک کردے اور ان بندشوں کو ختم کردے جنہوں نے عوام الناس سے آزادانہ رد و قبول کے اختیار کو سلب کر رکھا ہے۔ اس معاملے میں اسلام نے صرف یہ احتیاط برتی ہے کہ وہ کسی ایک فرد پر جبر نہیں کرتا۔ بلکہ وہ زندگی کے اجتماعی نظم اور اجتماعی عادات واطوار پر حملہ آور ہوتا ہے تاکہ زندگی پر اثر انداز ہونے والے غلط اثرات سے افراد کو محفوظ رکھا جاسکے جو انسان کی فطرت کو بگاڑ کر اس کی آزادی کو سلب کرلیتے ہیں۔
اسلام کا یہ حق ہے کہ وہ لوگوں کو غیر اللہ کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی غلامی میں داخل کرے اور اپنے اس مطمح نظر کو ایک حقیقت بنا دے کہ اللہ کے سوا کوئی رب اور آقا نہیں ہے۔ تمام لوگ اب جھوٹے آقاؤں کی غلامی سے آزاد ہیں۔ یہ کام صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ اس دنیا میں اسلامی نظام زندگی قائم ہو ، کیونکہ صرف یہی ایک نظام ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہی تمام انسانوں کے لیے قانون سازی کرتا ہے ، خواہ وہ انسان حکمران ہوں یا محکوم ہوں ، سفید رنگ ہوں یا سیاہ فام ہوں ، دور کے رہنے والے ہوں یا قریب کے رہنے والے ہوں ، فقیر ہوں یا امیر ہوں۔ غرض ایک ہی قسم کی قانون سازی ہے جس کے سامنے سب کے سب سر تسلیم خم کیے ہوئے ہیں۔ جب اسلام کے سوا تمام دوسرے نظاموں میں حالت یہ ہے کہ بعض انسان انسانوں کی بندگی کر رہے ہیں ، کیونکہ ان کے لیے انسان قانون بناتے ہیں اور قانون سازی در اصل الوہیت کا ایک اہم خاصہ ہے ، جو شخص بھی یہ دعوے کرتا ہے کہ اسے انسان کے لیے قانون سازی کا حق ہے تو وہ در اصل ربوبیت کا دعویدار ہے ، خواہ وہ اپنے اس دعوے کا صریح الفاظ میں اعلان کرے یا نہ کرے اور جو شخص بھی کسی ایسے شخص کے دعوے کو تسلیم کرلیتا ہے وہ در اصل اسے اپنا الہ مان لیتا ہے خواہ وہ اس کا اعلان کرے یا نہ کرے۔
یہ بات اچھی طرح یاد رکھیے کہ اسلام محض فلسفہ اور نظریہ نہیں ہے کہ وہ فقط وعظ وبیان پر اکتفاء کرے اور اپنے تصورات کو لوگوں کے گوش گزار کردے بلکہ وہ ایک اجتماعی نظام زندگی ہے اور بڑی قوت اور زور سے آگے بڑھ کر لوگوں کو غیر اللہ کی غلامی سے آزاد کرنا چاہتا ہے اور دوسرے اجتماعی نظام اس کے اہل نہیں ہیں کہ وہ انسانوں کی اجتماعی زندگی کی تنظیم ان خطوط پر کرسکیں جو اسلام کو مطلوب ہیں۔ اس لیے اسلام اپنے آپ کو اس میں حق بجانب سمجھتا ہے کہ وہ ان باطل نظاموں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے تاکہ وہ انسان کی حریت فکر کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ یہی مفہوم ہے ویکون الدین کلہ للہ کا۔ یعنی اسلامی نظام میں قانون سازی اور حاکمیت کے اصلی اختیارات صرف اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہوتے ہیں۔
زمانہ حال کے بعض اہل قلم اسلامی نظام زندگی کی اس خصوصیت کو نہیں پا سکے اور اسلام کے نظریہ جہاد کو محض دفاعی نظریہ قرار دیتے ہیں۔ یہ لوگ مستشرقین کے اس پروپیگنڈے سے دب گئے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا رہا ہے اور وہ بہ جبر لوگوں کو مسلمان کرتا ہے۔ اپنی جگہ مستشرقین اسلامی نظام کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں لیکن اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے نظریہ جہاد کی حقیقت کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کردی جائیں۔ اس صورت حال کے مقابلے میں یہ اہل قلم اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ان سوالات کا جواب دیتے ہیں اور ان کے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں ہوتا کہ وہ دفاعی جنگ کے وجوہ و اسباب تلاش کریں۔ یہ حضرات اسلام کے مزاج اور اس کے نصب العین کو یکسر نظر انداز کردیتے ہیں حالانکہ اسلامی نظریہ حیات کی رو سے اسلام کا یہ فرض ہے کہ وہ اقدام کرے نہ کہ دفاع۔ ان شکست خوردہ اہل قلم کے دل و دماغ میں مذہب کا مغربی تصور اس قدر راسخ ہوچکا ہے کہ وہ اسلامی نظام زندگی کو بھی ایک مذہبی عقیدہ سمجھتے ہیں ، جسے زندگی کے عملی اور اجتماعی نظام سے کوئی سرورکار نہ ہو ، اس لیے دینی جہاد (Holy War) کے معنے ان کی نظروں میں صرف یہ رہ جاتے ہیں کہ لوگوں کو دین میں داخل کرنے کے لیے جہاد کیا جائے اور ان پر ایک خاص عقیدہ مسلط کردیا جائے ، حالانکہ صورت حال بالکل اس کے برعکس ہے۔ اسلام پوری زندگی کے لیے ایک مکمل نظام حیات ہے اور اس کی اساس اس عقیدے پر ہے کہ اس کائنات کا ایک خالق ہے جو خود حاکم اور فرمان روا بھی ہے اور اس نے یہ مکمل نظام پوری انسانیت کے لیے تجویز کیا ہے اور اس کے مطابق جہاد کے معنے یہ ہیں کہ انسانوں پر اس نظام کو نافذ کیا جائے۔ رہا یہ سوال کہ کوئی اسلامی عقائد کو اپناتا ہے یا نہیں تو یہ بالکل اس کے آزادانہ اختیار تمیزی پر موقوف ہے۔ البتہ یہ بات ضروری ہے کہ آزادانہ غور و فکر کے لیے اسے آزاد فضاء میسر ہو اور ایسی فضا میسر ہونے کے لیے اسلامی نظام زندگی کا نفاذ ضروری ہے۔ یہ ہے مذہب کا وہ حقیقی اسلامی تصور جو مذہب کے مغربی تصور سے بالکل مختلف ہے۔
اسلامی معاشرے کے ظہور کے بعد اور اس میں اسلامی نظام زندگی کے قیام کے بعد اللہ تعالیٰ اس معاشرے کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اقتدار پر قابض ہو اور اس نظام کو پورے کرہ ارض پر جہاں تک ممکن ہو ، نافذ کردے ، رہا یہ شعوری طور پر کوئی اس نظام زندگی کو قبول کرتا ہے یا نہیں تو اس میں ہر کوئی آزاد ہے۔ حالات اور مواقع کے اعتبار سے بعض اوقات یوں بھی ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جہاد بالسیف سے روکا ہے۔ یہ مستقل پالیسی نہ تھی بلکہ وقتی حالات اور مصالح کا تقاضا تھا۔ تحریک کے عملی تقاضوں کی بناء پر ایسا کیا گیا۔ ہم نے اس مضمون میں مختلف ادوار کی آیات پر بحث کرکے ان کا مفہوم متعین کردیا ہے۔ اس کی روشنی میں ہمیں چاہیے کہ وہ پالیسیان جو مختلف مواقع پر طے ہوئیں اور وہ نظریہ اور نصب العین جو ابد الآباد کے لیے طے ہوا ہے ، ان کے درمیان فرق کریں اور وقتی احکامات کے پیش نظر دائمی احکامات کو پس پشت نہ ڈالیں۔
اب ہمارے سامنے صرف یہ نکتہ رہ گیا ہے کہ اسلام کے نظریہ جہاد کا مزاج کیا ہے ؟ اور اسلامی نظام زندگی کی نوعیت کیا ہے تو اس سلسلے میں امیر جماعت اسلامی پاکستان سید ابو الاعلی مودودی کی نہایت ہی مختصراً مگر قیمتی بحث ہماری بہت ہی اچھی راہنمائی کرتی ہے۔ یہ بحث انہوں نے اپنی کتاب " جہاد فی سبیل اللہ " میں کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں اس کتاب سے قدرے طویل اقتباسات نقل کرنے کی ضرورت ہے۔ جو شخص اس موضوع کو اچھی طرح سمجھنا چاہتا ہے اس کے لیے اس کتاب کا پڑھنا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اس مسئلے کی گہرائی میں جا کر اسے اچھی طرح سمجھ سکے اور اس بات کا ادراک کرسکے کہ تحریک اسلامی کے برپا کرنے میں اس کا کیا کردار ہے ، فرماتے ہیں :
" عموما لفظ " جہاد " کا ترجمہ انگریزی زبان میں (Holy War) مقدس جنگ " کیا جاتا ہے اور اس کی تشریح و تفسیر مدتہائے دراز سے کچھ اس انداز میں کی جاتی رہی ہے کہ اب یہ لفظ " جوش جنوں " کا ہم معنی ہوکر رہ گیا ہے۔ اس کو سنتے ہی آدمی کی آنکھوں میں کچھ اس طرح کا نقشہ پھرنے لگتا ہے کہ مذہبی دیوانوں کا ایک گروہ ننگی تلواریں ہاتھ میں لیے داڑھیاں چڑھائے ، خونخوار آنکھوں کے ساتھ اللہ اکبر کے نعرے لگاتا ہوا چلا آرہا ہے۔ جہاں کسی کافر کو دیکھ پاتا ہے ، پکڑ لیتا ہے اور تلوار اس کی گردن پر رکھ کر کہتا ہے کہ بول لا الہ اللہ ورنہ ابھی سر تن سے جدا کردیا جاتا ہے۔ ماہرین نے ہماری یہ تصویر بڑی قلمکاریوں کے ساتھ بنائی ہے اور اس کے نیچے موٹے حرفوں میں لکھ دیا ہے کہ :
بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے انسانوں سے
لطف یہ ہے کہ اس تصویر کے بنانے والے ہمارے وہ مہربان ہیں جو خود کئی صدیوں سے انتہا درجہ کی غیر مقدس جنگ (Unholy War) میں مشغول ہیں۔ ان کی اپنی تصویر یہ ہے کہ دولت اور اقتدار کے بھوکے ہر قسم کے اسلحہ سے مسلح ہوکر قزاقوں کی طرح ساری دنیا پر پل پڑے ہیں اور ہر طرف تجارت کی منڈیاں ، خام پیداوار کے ذخیرے ، نو آبادیاں بسانے کے قابل زمینیں اور معدنیات کی کانیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں تاکہ اپنی حرص کی کبھی نہ بجھنے والی آگ کے لیے ایندھن فراہم کریں۔ ان کی جنگ خدا کی راہ میں نہیں بلکہ پیٹ کی راہ میں ہے۔ ہوس اور نفس امارہ کی راہ میں ہے۔ ان کے نزدیک کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے بس یہ کافی وجہ جواز ہے کہ اس کی زمین میں کانیں ہیں ، یا جن اس کافی پیدا ہوتی ہیں ، یا وہاں تیل نکل آیا ہے ، یا ان کے کارخانوں کا مال وہاں اچھی طرح کھپایا جاسکتا ہے ، یا اپنی زائد آبادی کو وہاں آسانی کے ساتھ بسایا جاسکتا ہے۔ کچھ اور نہیں تو اس قوم کا یہ گناہ بھی کوئی معمولی گناہ نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے ملک کے راستے میں رہتی ہے جس پر یہ پہلے قبضہ کرچکے ہیں یا اب قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم نے تو جو کچھ کیا وہ زمانہ ماضی کا قصہ ہے۔ اور ان کے کارنامے حال کے واقعات ہیں جو شب و روز دنیا کی آنکھوں کے سامنے گزر رہے ہیں۔ ایشیا ، افریقہ ، امریکہ ، غرض کرۂ زمین کا کون سا حصہ ایسا بچا رہ گیا ہے جو ان کی اس غیر مقدس جنگ سے لالہ زار نہیں ہوچکا ، مگر ان کی مہارت قابل داد ہے۔ انہوں نے ہماری تصویر اتنی بری بنائی کہ خود ان کی تصویر اس کے پیچھے چھپ گئی اور ہماری سادہ لوحی بھی قابل داد ہے۔ جب ہم نے غیروں کی بنائی ہوئی اپنی یہ تصویر دیکھی تو ایسے دہشت زدہ ہوئے کہ ہمیں اس تصویر کے پیچھے جھانک کر خود مصورروں کی صورت دیکھنے کا ہوش ہی نہ آیا اور لگے معذرت کرنے کہ حضور ! بھلا ہم جنگ و قتال کیا جانیں۔ ہم تو بھکشووؤں اور پادریوں کی طرح پر امن مبلغ لوگ ہیں۔ چند مذہبی عقائد کی تردید کرنا اور ان کی جگہ کچھ دوسرے عقائد لوگوں سے تسلیم کرالینا ، بس یہ ہمارا کام ہے۔ ہمیں تلوار سے کیا واسطہ ؟ البتہ اتنا قصور کبھی کبھار ہم سے ضرور ہوا ہے کہ جب کوئی ہمیں مارنے آیا تو ہم نے بھی جواب میں ہاتھ اٹھا دیا۔ سو اب تو ہم اس سے بھی توبہ کرچکے ہیں۔ حضور کی اطمینان کے لیے تلوار والے جہاد کو سرکاری طور پر منسوخ کردیا گیا ہے۔ اب تو جہاد فقط زبان و قلم کی کوشش کا نام ہے۔ بندق چلانا سرکار کا کام ہے اور زبان و قلم چلانا ہمارا کام۔
جہاد کے متعلق غلط فہمی کے اسباب
خیر یہ تو سیاسی چالوں کی بات ہے مگر خالص علمی حیثیت سے جب ہم ان اساب کا تجزیہ کرتے ہیں جن کی وجہ سے " جہاد فی سبیل اللہ " کی حقیقت کو سمجھنا غیر مسلموں ہی کے لیے نہیں ، خود مسلمانوں کے لیے بھی دشوار ہوگیا ہے تو ہمیں دو بڑی اور بنیادی غلط فہمیوں کا سراغ ملتا ہے۔
پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اسلام کو ان معنوں میں ایک مذہب سمجھ لیا گیا ہے جن میں لفظ مذہب عموماً بولا جاتا ہے۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان معنوں میں محض ایک قوم سمجھ لیا گیا ہے جن میں یہ لفظ عموماً مستعمل ہوتا ہے۔
ان دو غلط فہمیوں نے صرف ایک جہاد ہی کے مسئلہ کو نہیں بلکہ مجموعی حیثیت سے پورے اسلام کے نقشہ کو بدل ڈالا ہے اور مسلمانوں کی پوزیشن کلی طور پر غلط کرکے رکھ دی ہے۔
" مذہب کے معنی عام اصطلاح کے اعتبار سے بجز اس کے اور کیا ہیں کہ وہ چند عقائد اور عبادات اور مراسم کا مجموعہ ہوتا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے مذہب کو واقعی ایک پرائیویٹ معاملہ ہی ہونا چاہیے۔ آپ کو اختیار ہے کہ جو عقیدہ چاہیں ، رکھیں اور آپ کا ضمیر جس کی عبادت کرنے پر راضی ہو ، اس کو جس طرح چاہیں پکاریں۔۔ زیادہ سے زیادہ اگر کوئی جوش اور سرگرمی آپ کے اندر اس مذہب کے لیے موجود ہے تو آپ دنیا بھر میں اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے پھر یے اور دوسرے عقائد والوں سے مناظرے کیجیے۔ اس کے لیے تلوار ہاتھ میں پکڑنے کا کون سا موقع ہے ؟ کیا آپ لوگوں کو مار مار کر اپنا ہم عقیدہ بنانا چاہتے ہیں ؟ یہ سوال لازمی طور پر پیدا ہوتا ہے جبکہ آپ اسلام کو عام اصطلاح کی رو سے ایک " مذہب " قرار دے لیں۔ یہ پوزیشن اگر واقعی اسلام کی ہو تو جہاد کے لیے حقیقت میں کوئی وجہ جواز ثابت نہیں کی جاسکتی۔
اسی طرح " قوم " کے معنی اس کے سوا کیا ہیں کہ وہ ایک متجانس گروہ اشخاص (A homogencous Grup of men) کا نام ہے جو چند بنیادی امور میں مشترک ہونے کی وجہ سے باہم مجتمع اور دوسرے گروہوں سے ممتاز ہوگیا ہے۔ اس معنی میں جو گروہ ایک قوم ہو وہ دو ہی وجوہ سے تلوار اٹھاتا ہے اور اٹھا سکتا ہے۔ یا تو اس کے جائز حقوق چھیننے کے لیے کوئی اس پر حملہ کرے ، یا وہ خود دوسروں کے جائز حقوق چھیننے کے لیے کوئی اس پر حملہ کرے یا وہ خود دوسروں کے جائز حقوق چھینے کے لیے حملہ آور ہو۔ پہلی صورت میں تو خیر تلوار اٹھانے کے لیے کچھ نہ کچھ اخلاقی جواز موجودہ بھی ہے (اگرچہ بعض درھماتماؤں کے نزدیک یہ بھی ناجائز ہے) لیکن دوسری صورت کو تو بعض ڈکٹیٹروں کے سوا کوئی بھی جائز نہیں کہہ سکتا ، حتی کہ برطانیہ اور فرانس جیسی وسیع سلطنتوں سے مدبرین بھی آج اس کو جائز کہنے کی جرات نہیں رکھتے۔
جہاد کی حقیقت
پس اگر اسلام ایک " مذہب " اور مسلمان ایک " قوم " ہے تو جہاد کی ساری معنویت جس کی بنا پر اسلام میں افضل العبادات کہا گیا ہے ، سرے سے ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام کسی " مذہب " کا اور مسلمان کسی " قوم " کا نام نہیں ہے۔ وہ در اصل اسلام ایک انقلابی نظریہ و مسلک ہے جو تمام دنیا کے اجتماعی نظم (Social Order) کو بدل کر اپنے نظریہ و مسلک کے مطابق اسے تعمیر کرنا چاہتا ہے۔ اور مسلمان اس بین الاقوامی انقلابی جماعت (International Revolution Party) کا اور اس تنہائی صرف طاقت کا نام ہے ، جو اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اسلامی جماعت عمل میں لاتی ہے۔
تمام انقلابی مسلکوں کی طرح اسلام بھی عام مروج الفاظ کو چھوڑ کر اپنی ایک خاص اصطلاحی (Terminology) اختیار کرتا ہے تاکہ اس کے انقلابی تصورات عام تصورات سے ممتاز ہوسکیں۔ لفظ جہاد بھی اسی مخصوص اصطلاحی زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ اسلام نے حرب اور اسی نوعیت کے دوسرے عربی الفاظ جو جنگ (War) کے مفہوم کو ادا کرتے ہیں ، قصداً ترک کردیے اور ان کی جگہ " جہاد " کا لفظ استعمال کیا جو (Struggle) کا ہم معنی ہے بلکہ اس سے زیادہ مبالغہ رکھتا ہے۔ انگریزی میں اس کا صحیح مفہوم یوں ادا کیا جاسکتا ہے :
(To exort Onc's Utmost endcavour in promoting a Cause) اپنی تمام طاقتیں کسی مقصد کی تحصیل میں صرف کردینا۔
سوال یہ ہے کہ پرانے الفاظ کو چھوڑ کر یہ نیا لفظ کیوں اختیار کیا گیا ؟ اس کا جواب بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ " جنگ " کا لفظ قوموں اور سلطنتوں کی ان لڑائیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا اور آج تک ہو رہا ہے۔ جو اشخاص یا جماعتوں کی نفسانی اغراض کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ ان لڑائیوں کے مھرک محض اپنے شخصی یا اجتماعی مقاصد ہوتے ہیں جن کے اندر کسی نظرئیے اور کسی اصول کی حمایت کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ اسلام کی لڑائی چونکہ اس نوعیت کی نہیں ہے اس لیے وہ سرے سے اس لفظ ہی کو ترک کردیتا ہے۔ اس کے پیش نظر ایک قوم کا مفاد یا دوسری قوم کا مفاد نہیں ہے۔ وہ اس سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا کہ زمین پر ایک سلطنت کا قبضہ رہے یا دوسری سلطنت کا۔ اس کی دلچسپی جس چیز سے ہے وہ انسانیت کی فلاح ہے۔ اس فلاح کے لیے وہ اپنا ایک خاص نظریہ اور ایک عملی مسلک رکھتا ہے۔ اس نظرئیے اور مسلک کے خلاف جہاں کی حکومت بھی ہے ، اسلام اسے مٹانا چاہتا ہے۔ قطع نظر اس سے کہ وہ کوئی قوم ہو اور کوئی ملک ہو۔ اس کا مدعا اپنے نظریے اور مسلک کی حکومت قائم کرنا ہے۔ بلا لحاظ اس کے کہ کون اس کا جھنڈا لے کر اٹھتا ہے اور کس کی حکمرانی پر اس کی ضرب پڑتی ہے۔ وہ زمین مانگتا ہے۔ زمین کا ایک حصہ نہیں بلکہ پورا کرہ ارض۔۔ اس لیے نہیں کہ ایک قوم یا بہت سی قوموں کے ہاتھ سے نکل کر زمین کی حکومت کسی خاص قوم کے ہاتھ میں آجائے۔ بلکہ صرف اس لیے کہ انسانیت کی فلاح کا جو نظریہ اور پروگرام اس کے پاس ہے یا بالفاظ صحیح تر یوں ہے کہ فلاح انسانیت کے جس پروگرام کا نام " اسلام " ہے اس سے تمام نوع انسانی متمتع ہو۔ اس غرض کے لیے وہ تمام ان طاقتوں سے کام لینا چاہتا ہے جو انقلاب برپا کرنے کے لیے کارگر ہوسکتی ہیں ، اور ان سب طاقتوں کے استعمال کا ایک جامع نام وہ " جہاد " رکھتا ہے۔ زبان و قلم کے زور سے لوگوں کے نقطہ نظر کو بدلنا اور ان کے اندر ذہنی انقلاب پیدا کرنا بھی جہاد ہے۔ تلوار کے زور سے پرانے ظالمانہ نظام زندگی کو بدل دینا اور نیا عادلانہ نظام مرتب کرنا بھی جہاد ہے اور اس راہ میں مال صرف کرنا اور جسم سے دوڑ دھوپ کرنا بھی جہاد ہے۔
" فی سبیل اللہ " کی لازمی قید
لیکن اسلام کا جہاد نرا " جہاد " نہیں ہے بلکہ " جہاد فی سبیل الہ " ہے۔ " فی سبیل اللہ " کی قید اس کے ساتھ ایک لازمی قید ہے۔ یہ لفظ بھی اسلام کی اسی مخصوص اصطلاح زبان سے تعلق رکھتا ہے جس کی طرف ابھی میں اشارہ کرچکا ہوں۔ اس کا لفظی ترجمہ ہے " راہ خدا میں " اس ترجمے سے لوگ غلط فہمی پڑگئے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ زبردستی لوگوں کو اسلام کے مذہبی عقائد کا پیرو بنانا جہاد فی سبیل اللہ ہے کیونکہ لوگوں کے تنگ دماغوں میں " راہ خدا " کا کوئی مفہوم اس کے سوا نہیں سما سکتا۔ مگر اسلام کی زبان میں اس کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ ہر وہ کام جو اجتماعی فلاح و بہبود کے لیے کیا جائے اور جس کے کرنے والے کا مقصد اس سے خود کوئی دنیوی فائدہ اٹھانا نہ ہو بلکہ محض خدا کی خوشنودی حاصل کرنا ہو ، اسلام ایسے کام کو فی سبیل اللہ قرار دیتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ خیرات دیتے ہیں۔ اس نیت سے کہ اس دنیا میں مادی یا اخلاقی طور پر اس خیرات کا کوئی فائدہ آپ کی طرف پلٹ کر آئے تو یہ فی سبیل اللہ نہیں ہے۔ اور اگر خیرات سے اپ کی نیت یہ ہے کہ ایک غریب انسان کی مدد کرکے آپ خدا کی خوشنودی حاصل کریں تو یہ فی سبیل اللہ ہے۔ پس یہ اصطلاح مخصوص ہے ایسے کاموں کے لیے جو کامل خلوص کے ساتھ ، ہر قسم کی نفسانی اغراض سے پاک ہوکر ، اس نظرئیے پر کیے جائیں کہ انسان کا دوسرے انسانوں کی فلاح کے لیے کام کرنا خدا کی خوشنودی کا موجوب ہے اور انسان کی زندگی کا نصب العین مالک کائنات کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے۔
" جہاد " کے لیے بھی " فی سبیل اللہ " کی قید اسی غرض کے لیے لگائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص یا گروہ جب نظام زندگی میں انقلاب برپا کرنے اور اسلامی نظرئیے کے مطابق نیا نظام مرتب کرنے کے لیے اٹھے تو اس قیام اور اس سربازی و جاں نثاری میں اس کی اپنی کوئی نفسانی غرض نہ ہو۔ اس کا یہ مقصد ہر گز نہ ہو کہ قیصر کو ہٹا کر وہ خود قیصر بن جائے۔ اپنی ذات کے لیے مال و دولت ، یا شہرت و ناموری ، یا عزت و جاہ حاصل کرنے کا شائبہ تک اس کی جدوجہد کے مقاصد میں شامل نہ ہو۔ اس کی تمام قربانیوں اور ساری محنتوں کا مدعا صرف یہ ہو کہ بندگان خدا کے درمیان ایک عادلانہ نظام زندگی قائم کیا جائے۔ اس کے معاوضہ میں اسے خدا کی خوشنودی کے سوا کچھ بھی مطلوب نہ ہو۔ قرآن کہتا ہے۔
الذین آمنوا یقاتلون فی سبیل اللہ والذین کفروا یقاتلون فی سبیل الطاغوت۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں "۔
" طاغوت " کا مصدر " طغیان " ہے جس کے معنی حد سے گزر جانے کے ہیں۔ دریا جب اپنی حد سے گزر جاتا ہے تو آپ کہتے ہیں طغیانی آگئی ہے۔ اسی طرح جب آدمی اپنی جائز حد سے گزر کر اس غرض کے لیے اپنی طاقت استعمال کرتا ہے کہ انسانوں کا خدا بن جائے یا اپنے مناسب حصہ زائد فوائد حاصل کرے تو یہ طاغوت کی راہ میں لڑنا ہے۔
اور اس کے مقابلہ میں راہ خدا کی جنگ وہ ہے جس کا مقصد صرف یہ ہو کہ خدا کا قانون عدل دنیا میں قائم ہو ، لڑنے والا خود بھی اس کی پابندی کرے اور دوسروں سے بھی بھی اس کی پابندی کرائے۔ چناچہ قرآن کہتا ہے :
تلک الدار الاخرۃ نجعلہا للذین لایریدون علوا فی الارض ولا فسادا والعاقبۃ للمتقین۔ آخرت میں عزت کا مقام تو ہم نے صرف ان لوگوں کے لیے رکھا ہے جو زمین میں اپنی بڑائی قائم کرنا اور فساد کرنا نہیں چاہتے۔ عاقبت کی کامیابی صرف خدا ترس لوگوں کے لیے ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا۔ " راہ خدا کی جنگ سے کیا مراد ہے ؟ ایک شخص مال کے لیے جنگ کرتا ہے۔ دوسرا شخص بہادری کی شہرت حاصل کرنے کے لیے جنگ کرتا ہے۔ تیسرے شخص کو کسی سے عداوت ہوتی ہے یا قومی حمیت کا جوش ہوتا ہے اس لیے جنگ کرتا ہے۔ ان میں سے کس کی جنگ فی سبیل اللہ ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے جواب دیا۔ کسی کی بھی نہیں۔ فی سبیل اللہ تو صرف اس شخص کی جنگ ہے جو خدا کا بول بالا کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں رکھتا۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ " اگر کسی شخص نے جنگ کی اور اس کے دل میں اونٹ باندھنے کی ایک رسی حاصل کرنے کی بھی نیت ہوئی تو اس کا اجر ضائع ہوگیا " اللہ صرف اس عمل کو قبول کرتا ہے جو محض اس کی خوشنودی کے لیے ہو اور کوئی شخصی یا جماعتی غرض پیش نظر نہ ہو۔ پس جہاد کے لیے فی سبیل اللہ کی قید اسلامی نقطہ نظر سے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مجرد جہاد تو دنیا میں سب ہی جاندار کرتے ہیں۔ ہر ایک اپنے مقصد کی تحصیل کے لیے اپنا پورا زور صرف کر رہا ہے لیکن " مسلمان " جس انقلابی جماعت کا نام ہے اس کے انقلابی نظریات میں سے ایک اہم ترین نظریہ بلکہ بنیادی نظریہ یہ ہے کہ اپنی جان و مال کھپاؤ، دنیا کی ساری سرکش طاقتوں سے لڑو ، اپنے جسم و روح کی ساری طاقتیں خرچ کردو ، اس لیے کہ دوسرے سرکشوں کو ہٹا کر تم ان کی جگہ لے لو ، بلکہ صرف اس لیے کہ دنیا سے سرکشی و طغیانی مٹ جائے اور خدا کا قانون دنیا میں نافذ ہو۔
جہاد کے اس مفہوم اور فی سبیل اللہ کی اس معنویت کو مختصراً بیان کردینے کے بعد اس دعوت انقلاب کی تھوڑی سی تشریح کرنا چاہتا ہوں جو اسلام لے کر آیا ہے تاکہ آسانی کے ساتھ یہ سمجھا جاسکے کہ اس دعوت کے لیے جہاد کی حاجت کیا ہے اور اس کی غایت (Objective) کیا ہے۔
اسلام کی دعوت انقلاب
اسلام کی دعوت انقلاب کا خلاصہ یہ ہے :
یا ایہا الناس اعبدوا ربکم الذی خلقکم۔ لوگوں ! صرف اپنے اس رب کی بندگی کرو جس نے تمہیں پیدا کیا۔
اسلام مزدوروں یا زمینداروں یا کاشت کاروں یا کارخانہ داروں کو نہیں پکارتا ، بلکہ تمام انسانوں کو پکارتا ہے۔ اس کا خطاب انسان سے بحیثیت انسان ہے اور وہ کہتا یہ ہے کہ اگر تم خدا کے سوا کسی کی بندگی و اطاعت اور فرماں برداری کرتے ہو تو اسے چھوڑ دو ۔ اگر خود تمہارے اندر خدائی کا داعیہ ہے تو اسے بھی دماغ سے نکال دو ۔ کیونکہ دوسروں سے اپنی بندگی کرانے اور دوسروں اک سر اپنے آگے جھکوانے کا حق بھی تم میں سے کسی کو حاصل نہیں ہے۔ تم سب کو ایک خدا کی بندگی قول کرنی چاہیے اور اس بندگی میں سب کو ایک سطح پر آجانا چاہیے۔
تعالیٰ الی کلمۃ سواء بیننا و بینکم الا نعبد الا اللہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللہ۔ آؤ ہم اور تم ایک ایسی بات پر جمع ہوجائیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔ وہ یہ کہ ہم خدا کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اور خداوندی میں کسی کو خدا کا شریک بھی نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے بجائے امر و نہی کا مالک بھی نہ بنائے۔
یہ عالمگیر اور کلی انقلاب کی دعوت تھی۔ اس نے پکار کر کہا ان الحکم الا اللہ حکومت سوائے خدا کے اور کسی کی نہیں ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ بذات خود انسانوں کا حکمران بن جائے اور اپنے اختیار سے جس چیز کا چاہے حکم دے اور جس چیز سے چاہے روک دے۔ کسی انسان کو بالذات امر و نہی کا ملک سمجھنا در اصل خدائی میں اسے شریک کرنا ہے۔ اور دنیا میں یہی اصل بنائے فساد ہے۔ اللہ نے انسان کو جس صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے اور زندگی بسر کرنے کا جو سیدھا راستہ اسے بتایا ہے اس سے انسان کے ہٹنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگ خدا کو بھول جاتے ہیں اور نتیجۃ خود اپنی حقیقت کو بھی فراموش کردیتے ہیں۔ اس کا انجام پھر لازمی طور پر یہی ہوتا ہے کہ ایک طرف بعض اشخاص یا خاندان یا طبقے خدائی کا کھلا یا چھپا داعیہ لے کر اٹھتے ہیں اور اپنی طاقت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں کو اپنا بندہ بنا لیتے ہیں۔ اور دوسری طرف اسی خدا فروشی و خود فراموشی کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ لوگوں کا ایک حصہ طاقتوروں کی خداوندی مان لیتا ہے اور ان کے اس حق کو تسلیم کرلیتا ہے کہ وہ حکم کریں اور یہ اس حکم کے آگے سر جھکا دیں۔ یہ دنیا میں ظلم و فساد اور ناجائز انتفاع (Exploitation) کی بنیاد ہے اور اسلام پہلی ضرب اسی پر لگاتا ہے۔ وہ ہانکے پکارے کہتا ہے : ولا تطیعوا امر المسرفین۔ الذین یفسدون فی الارض ولا یصلحون۔ ان لوگوں کا حکم ہر گز نہ مانو جو اپنی جائز حد سے گزر گئے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے "۔
لاتطع من اغفلنا قلبہ عن ذکرنا واتبع ھواہ و کان امرہ فرطا۔ اس شخص کی اطاعت ہر گز نہ کر جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جو اپنی خواہشات نفس کا بندہ بن گیا ہے اور جس کا کام افراط وتفریط پر مبنی ہے۔
الا لعنۃ اللہ علی الظلمین۔ الذین یصدون عن سبیل اللہ و یبغونہا عوجا۔ خدا کی لعنت ان ظالموں پر جو خدا کے بنائے ہوئے زندگی کے سیدھے راستے میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں اور اس کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں۔
وہ لوگوں سے پوچھتا ہے کہء ارباب متفرقون خیر ام اللہ الواحد القہار۔ یہ بہت سے چھوٹے خدا ، جن کی بندگی میں تم پسے جا رہے ہو ، ان کی بندگی قبول ہے ، یا اس ایک خدا کی جو سب سے زبردست ہے ؟ اگر اس خدائے واحد کی بندگی قبول نہ کروگے تو ان چھوٹے اور جھوٹے خداؤں کی آقائی سے تمہیں کبھی نجات نہ مل سکے گی۔ یہ کسی نہ کسی طور سے تم پر تسلط پا لیں گے ، اور فساد برپا کرکے رہیں گے : ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدوھا وجعلوا اعزۃ اھلہا اذلۃ وکذلک یفعلون۔ یہ بادشاہ جب کسی بستی میں گھستے ہیں تو اس کے نظام حیات کو تہ وبالا کر ڈالتے ہیں اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں اور ان کا یہی وطیرہ ہے۔
و اذا تولی سعی فی الارض لیفسدو فیہا و یھلک الحرث و النسل واللہ لا یحب الفساد۔ اور جب وہ اقتدار پا لیتا ہے تو زمین میں فساد پھیلاتا ہے کھیتوں کو خراب اور نسلوں کو تباہ کرتا ہے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔
یہاں پوری تفصیل کا موقع نہیں۔ مختصراً میں یہ بات آپ کے ذہن نشین کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام کی دعوت توحید و خدا پرستی محض اس معنی میں ایک مذہبی عقیدے کی دعوت نہ تھی جس میں عام طور پر مذہبی عقائد کی دعوت ہوا کرتی ہے ، بلکہ حقیقت میں یہ ایک اجتماعی انقلاب (Social Revolution) کی دعوت تھی۔ اس کی ضرب بلا واسطہ ان طبقوں پر پڑتی تھی جنہوں نے مذہبی رنگ میں پروہت بن کر ، یا سیاسی رنگ میں بادشاہ اور رئین اور حکمران گروہ بن کر ، یا معاشری نگ میں مہاجن اور زمیندار اور اجارہ دار بن کر عامۃ الناس کو اپنا بندہ بنا لیا تھا۔ یہ کہیں علانیہ ارباب من دون اللہ بنے ہوئے تھے۔ دنیا سے اپنے پیدائشی یا طبقاتی حقوق کی بنا پر اطاعت و بندگی کا مطالبہ کرتے تھے اور صاف کہتے تھے کہ ما لکم من الہ غیرہ اور انا ربکم الاعلی اور انا احی و امیت اور من اشد منا قوۃ اور کسی جگہ انہوں نے عامۃ لناس کی جہالت کو استعمال (Exploit) کرنے کے لیے بتوں اور ہیکلوں کی شکل میں مصنوعی خدا بنا رکھے تھے جن کی آڑ پکڑ کر یہ اپنے خداوندی حقوق بندگان خدا سے تسلیم کراتے تھے۔ پس کفر و شرک اور بت پرستی کے خلاف اسلام کی دعوت ، اور خدائے واحد کی بندگی و عبودیت کے لیے اسلام کی تبلیغ ، براہ راست حکومت اور اس کو سہارا دینے والے یا اس کے سہارے چلنے والے طبقوں کی اغراض سے متصادم ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے جب کبھی کسی نبی نے یا قوم اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ کی صدا بلند کی ، حکومت وقت فوراً اس کے مقابلے میں آن کھڑی ہوئی اور تمام ناجائز انتفاع کرنے والے طبقے اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہوگے۔ کیونکہ یہ محض ایک ما بعد الطبیعی قضیہ (Mataphysical Proposition) کا بیان نہ تھا ، بلکہ ایک اجتماعی انقلاب کا اعلان تھا اور اس میں پہلی اواز سنتے ہی سیاسی شورش کی بو سونگھ لی جاتی تھی۔
اسلامی دعوت انقلاب کی خصوصیت
اس میں شک نہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) سب کے سب انقلابی لیڈر تھے اور سیدنا محمد ﷺ سب سے بڑے انقلابی لیڈر ہیں۔ لیکن جو چیز دنیا کے عام انقلابیوں اور ان خدا پرست انقلابی لیڈروں کے درمیان واضح خط امتیاز کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے انقلابی لوگ خواہ کتنے ہی نیک نیت کیوں نہ ہو ، عدل اور توسط کے صحیح مقام کو نہیں پا سکتے۔ وہ یا تو خود مظلوم طبقوں میں سے نہ اٹھتے ہیں یا ان کی حمایت کا جذبہ لے کر اٹھتے ہیں اور پھر سارے معاملات کو انہی طبقوں کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر غیر جانبدارانہ اور خلاص انسانیت کی نظر نہیں ہوتی بلکہ ایک طبقے کی طرف غصہ و نفرت کا اور دوسرے طبقے کی طرف حمایت کا جذبہ لیے ہوئے ہوتی ہے۔ وہ ظلم کا ایسا علاج سوچتے ہیں جو نتیجہ ایک جوابی ظلم ہوتا ہے۔ ان کے لیے انتقام ، حسد اور عداوت کے جذبات سے پاک ہو کر ایک ایسا معتدل اور متوازن اجتماعی نظام تجویز کرنا ممکن نہیں ہوتا جس میں مجموعی طور پر تمام انسانوں کی فلاح ہو۔ بخلاف اس کے انبیاء (علیہم السلام) خواہ کتنے ہی ستائے گئے ہوں اور کتنا ہی ان پر اور ان کے ساتھیوں پر ظلم کیا گیا ہو ، ان کی انقلابی تحریک میں کبھی ان کے شخصی جذبات کا اثر آنے نہیں پایا۔ وہ براہ راست خدا کی ہدایت کے تحت کام کرتے تھے اور خدا چونکہ انسانی جذبات سے منزہ ہے ، کسی انسانی طبقے سے اس کا مخصوص رشتہ نہیں ، نہ کسی دوسرے انسانی طبقے سے اس کو کوئی شکایت یا عداوت ہے۔ اس لیے خدا کی ہدایت کے تحت انبیاء (علیہم السلام) تمام معاملات کو بےلاگ انصاف کے ساتھ اس نظر سے دیکھتے تھے کہ تمام انسانوں کی مجموعی فلاح و بہبود کس چیز میں ہے۔ کس طرح ایک نظام بنایا جائے جس میں ہر شخص اپنی جائز حدود کے اندر رہ سکے۔ اپنے جائز حقوق سے متمتع ہوسکے اور افراد کے باہمی روابط ، نیز فرد اور جماعت کے باہمی تعلق میں کامل توازن قائم ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کی انقلابی تحریک کبھی طبقاتی نزاع (Class War) میں تبیل نہ ہونے پائی۔ انہوں نے اجتماعی تعمیر نو (Social Reconstruction) اس طرز پر نہیں کی کہ ایک طبقے کو دوسرے طبقے پر مسلط کردیں ، بلکہ اس کے لیے عدل کا ایسا طریقہ اختیار کیا جس میں تمام انسانوں کے لیے ترقی اور مادی و روحانی سعادت کے یکساں امکانات رکھے گئے تھے۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
الأنفال 8:2
(سورۃ کے تعارف کا تیسرا حصہ)
حضور ﷺ نے عمار ابن یاسر اور عبداللہ ابن مسعود کو بھیجا تاکہ وہ دشمن کے بارے میں معلومات حاصل کریں۔ انہوں نے دشمن کی قیام گاہ کے گرد چکر لگایا اور واپس آکر حضور ﷺ کو یہ رپورٹ دی کہ دشمن بہت پریشان حال ہے اور یہ کہ بارش ان پر خوب برس رہی ہے۔
جب رسول اللہ ﷺ کنویں پر اترے تو آپ کے لیے ایک چبوترہ بنایا گیا ، کھجور کی شاخوں سے اور حضرت سعد ابن معاذ اپنی تلوار سونت کر اس کے دروازے پر کھڑے ہوگئے۔ حضور ﷺ نے میدان جنگ میں گشت کیا۔ اور آپ نے اپنے ساتھیوں کو قریش کے سرداروں میں سے ایک ایک کی قتل گاہ بتائی۔ آپ فرماتے یہاں فلان قتل ہوگا ، یہاں فلاں قتل ہوگا ، یہ سب قتل ہوئے اور ان میں سے کوئی بھی حضور اکرم ﷺ کی مقرر کردہ جگہ سے آگے نہ بڑھ سکا۔ آپ ﷺ نے مسلمانوں کی صفوں کو درست کیا اور اپنے چبوترے کی طرف لوٹے۔ آپ کے ساتھ صرف حضرت ابوبکر تھے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں ، قریش ساری رات سفر کرتے رہے اور صبح کے وقت مقابلے پر آگئے۔ جب حضور ﷺ نے قریش کو دیکھا تو آپ نے اس ٹیلے سے منہ پھیر کر اپنا چہرہ وادی کی طرف موڑ دیا اور اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی " اے اللہ یہ ہے قبیلہ قریش جو نہایت ہی کبر و غرور کے ساتھ بڑھتا چلا آ رہا ہے اور یہ تیری دشمنی میں آیا ہے ، اور تیرے رسول کی تکذیب کر رہا ہے۔ آج میں تیری اس امداد کا طلبگار ہوں جس کا تونے میرے ساتھ وعدہ کیا تھا۔ اے اللہ کل انہیں پیس کر رکھ دیجیے "۔ حضور ﷺ یہ کہہ رہے تھے۔ آپ کی نظر عتبہ ابن ربیعہ پر پری جو سرخ اونٹ پر سوار تھے۔ وہ قریش کے ساتھ تھے۔ آپ نے فرمایا اگر اہل قریش میں سے کسی کے ہاں کوئی بھلائی ہوسکتی ہے تو صرف سرخ اونٹ والے سوار کے ہاں ہوسکتی ہے۔
حفاف ابن ایما ابن رحضہ الغفاری نے یا اس کے باپ ایما نے اہل قریش کو اپنے بیٹے کے ہاتھ کچھ مویشی برائے ذبح بھیجے اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا کہ اگر تم چاہو تو ہم تمہیں اسلحہ اور افراد کی امداد بھی دے سکتے ہیں۔ قریش نے اس کے بیٹے کے ذریعے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تونے صلہ رحمی کا حق ادا کردیا ہے۔ اور تم پر جو حق تھا وہ تم نے ادا کردیا ہے اور کہا خدا کی قسم اگر ہم انسانوں سے لڑنے نکلے ہیں تو انسانوں کے مقابلے میں ہم اپنے اندر کوئی کمزوری محسوس نہیں کرتے۔ اور اگر ہماری یہ جنگ خدا کے خلاف ہے جس طرح محمد سمجھتے ہیں تو خدا کے مقابلے میں کسی کی کوئی طاقت نہیں ہے۔
جب لوگ اپنی منزل پر اترے تو حضور ﷺ کے تیار کردہ حوض پر کچھ لوگ پانی لینے آئے۔ ان میں حکیم ابن حزام بھی تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : " انہیں پانی پینے دو "۔ غرض اس حوض سے جس نے بھی پانی پیا۔ وہ مارا گیا ماسوائے حکیم ابن حزام کے ، یہ بعد میں مسلمان ہوگئے اور بہت اچھے مسلمان بنے اور جب حلف اٹھاتے اور بہت تاکید کرتے تو کہتے اس خدا کی قسم جس نے مجھے بدر کے دن نجات دی۔
ابن اسحاق کہتے ہیں : مجھے ابو اسحاق ابن یسار جمحی انصار کے دوسرے اکابر نے بتایا کہ جب اہل قریش نے اطمینان سے پڑاؤ کرلیا تو انہوں نے عمر ابن وہب جمحی کو بھیجا کہ وہ اصحاب محمد کا اندازہ لگا کر بتائیں کہ اسلامی لشکر کی کوئی خفیہ فوج بھی ہے یا کوئی امدادی فوج ہے۔ کہتے ہیں کہ وہ دو بار وادی میں دور تک گیا۔ اسے کچھ نظر نہ آیا اور واپس آ کر رپوٹ دی کہ مجھے کچھ سراغ نہیں ملا۔ لیکن اے اہل قریش میں ایک ایسی مصیبت دیکھ رہا ہوں جس میں بہت لوگوں کی موت ہے۔ یثرت کے ترشح میں موت واضح طور پر نظر آرہی ہے۔ ہمارا مقابلہ ایسی قوم سے ہے جن کا دفاع اور جن کا قلعہ صرف ان کی تلواریں ہیں۔ خدا کی قسم میں یہ نہیں سمجھتا کہ ان میں سے کوئی شخص مارا جائے گا الا یہ کہ وہ ہم سے ایک آدمی کو قتل کردے۔ اگر وہ اپنی تعداد جتنے لوگ بھی ہم سے مار لیں تو ہمارے لیے زندہ رہنے میں کوئی مزہ نہ ہوگا۔ اس لیے مناسب ہے کہ آپ لوتگ اس جنگ کے بارے میں سوچ لیں۔
جب حکیم ابن حزام نے یہ باتیں سنیں تو وہ لوگوں میں گھوما اور اس نے سب سے پہلے عتبہ بن ربیعہ سے ملاقات کی۔ اس نے کہا : " اے ابو الولید ! تم قریش کے معمر بزرگ اور سردار ہو اس میں تمہاری بات بھی چلتی ہے۔ کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ تمہاری ایک بھلائی کو قوم قیامت تک یاد رکھے "۔ اس نے کہا " حکیم وہ کیا بھلائی ہے "۔ حکیم نے کہا بھلائی یہ ہے کہ تم لوگوں کو لے کر واپس ہوجاؤ۔ اور تمہارے حلیف عمرو ابن الحضرمی کا معاملہ تمہارے اوپر عائد ہو۔ اس نے جواب دیا مجھے یہ منظور ہے۔ تم اس پر میرے گواہ ہو۔ وہ میرا حلیف ہیے ، اس لیے اس کی دیت میرے ذمہ ہوگی۔ (یعنی اس کے بھائی کی دیت جو مسلمانوں کے ہاتھوں عبداللہ ابن جحش کے سریہ میں مارا گیا تھا) ۔ نیز مسلمانوں نے اس سے جو مال لیا تھا وہ بھی میرے ذمہ ہے۔ لیکن مناسب ہے کہ تم حنطیہ کے بیٹے کے پاس جاؤ کیونکہ مجھے یہ ڈر ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کے اندر اختلافات پیدا ہوجائیں گے۔ اس سے ان کی مراد ابوجہل سے تھی۔ اس کے بعد عتبہ ابن ربیعہ نے ایک تقریر کی۔
" اے اہل قریش خدا کی قسم تم محمد اور اصحاب محمد سے کیا لوگے ، اگر تم نے انہیں قتل کردیا تو تم سے کوئی شخص پسند نہ کرے گا کہ وہ مقتول کو دیکھے اس لیے کہ اس کا مقتول یا اس کا چچا زاد ہوگا یا خالہ زاد ہوگا یا اس کے خاندان میں سے کوئی ہوگا۔ لہذا مناسب یہ ہے کہ تم لوگ لوٹ جاؤ اور محمد اور تمام عربوں کو مقابلہ کرنے دو ، اگر عربوں نے اسے قتل کردیا تو تمہاری مراد پوری ہوئی اور اگر اس کے سوا کوئی اور صورت حال ہو تو تم اسے اس حال میں ملوگے کہ تم نے اس کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا ہوگا۔
اس تقریر کے بعد میں ابوجہل کے پاس آیا۔ میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی زرہ تھیلے سے نکالی ہوئی ہے اور اسے وہ تیار کر رہا ہے۔ میں نے اسے کہا اے ابوالحکم مجھے عتبہ نے آپ کے پاس یہ تجاویز دے کر بھیجا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کو دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہوگئے ہیں ، ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ خدا کی قسم ہم ہر گز واپس نہ ہوں گے ، جب تک کہ اللہ ہمارے اور محمد کے درمیان فیصلہ نہیں کردیتا اور عتبہ جو باتیں کرتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے دیکھ لیا ہے کہ محمد اور اس کے ساتھی جانور ذبح کرکے کھا کر رہے اور ان میں ان کے بیٹے ابوحذیفہ بھی ہیں جو مسلمان ہوگئے اور عتبہ کو ڈر ہے کہ لشکر قریش کے ہاتھوں وہ قتل نہ ہوجائیں۔
اس کے بعد اس نے عامر الحضرمی کو یہ پیغام بھیجا کہ دیکھو عتبہ تمہارا حلیف ہے اور وہ لوگوں کو لے کر واپس جانا چاہتا ہے حالانکہ تم نے اپنے شکار کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے ، اس لیے آپ انہیں اور اپنے عہد کا واسطہ دلائیں اور لوگوں کو یاد دلائیں کہ تمہارے بھائی قتل ہوچکے ہیں۔ اس پر عامر الحضرمی اٹھا اور اپنے آپ کو ننگا کرکے چلایا " اے عمر ، اب جنگ شروع ہوگئی اور لوگوں کے درمیان معرکہ تیز ہونے لگا ، اور انہوں نے جس فتنے کا فیصلہ کر رکھا تھا اس پر پر عزم ہوگئے اور لوگوں کے ذہنوں سے وہ بات نکل گئی جس کی طرف عتبہ لوگوں کو بلا رہے تھے۔ جب عتبہ کو معلوم ہوا کہ ابوجہل یہ باتیں کرتا ہے تو اس نے کہا کہ عنقریب اس کے چوتروں کی زردی کو معلوم ہوجائے گا کہ کس کے اوسان خطا ہوگئے ہیں۔ میرے یا اس کے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اسود بن عبدالاسد مخزومی ایک نہایت ہی جری اور بد مزاج شخص تھے۔ انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم میں ان کے حوض سے پانی پیوں گا یا اسے منہدم کردوں گا اور یا اس حوض کے پاس قتل ہوجاؤں گا۔ جب وہ نکلا تو حمزہ ابن عبدالمطلب اس کی طرف بڑھے۔ جب حضرت حمزہ نے اس پر وار کیا تو اس کی ایک ٹانگ کو اڑا دیا۔ یہ اس وقت حوض کے قریب تھے۔ وہ پشت کی جانب پر گر پڑے اور اس کی ٹانگ سے خون کے فوارے اپنے ساتھیوں کی جانب چھوٹ رہے تھے لیکن وہ پیٹ کے بل حوض کی طرف بڑھا اور حوض میں گھس گیا۔ مقصد یہ تھا کہ اس نے اپنی قسم پوری کردی ہے ، لیکن حضرت حمزہ نے اس کا پیچھا کیا اور ایک ہی وار کرکے اسے حوض کے اندر قتل کردیا۔
اس کے بعد عتبہ ابن ربیعہ نکلے ، اس کے ساتھ اس کے بھائی شیبہ اور بیٹا ولید ابن عتبہ بھی تھے۔ جب یہ لوگ اپنی صف سے جدا ہوئے تو انہوں نے دعوت مبارزت دی۔ ان کے مقابلے میں انصار میں سے تین نوجوان آگے بڑھے جن کے نام عوف ، معوذ بسران حارث جن کی والدہ عفرا تھی اور ایک شخص دوسرا تھا۔ یعنی عبداللہ ابن رواحہ۔ عتبہ کے گروپ نے کہا کہ تم کون ہو ؟ تو انہوں نے کہا ہم انصاری ہیں۔ اس پر عتبہ نے کہا کہ ہمیں تم سے کوئی کام نہیں ہے۔ ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ عتبہ نے ان انصاری حضرات سے کہا کہ تم ہمارے معزز ہم پلہ ہو لیکن ہمارا مقصد اپنے بھائیوں سے لڑنا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے آواز دی اے محمد تم ہمارے مقابلے میں ہماری قوم کے ہم پلہ لوگوں کو سامنے لاؤ۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : عبیدہ ابن الحارث ، حمزہ اور علی تم نکلو۔ جب یہ لوگ نکلے اور عتبہ گروپ کے قریب گئے تو انہوں نے یہی سوال کیا تم کون ہو ؟ عبیدہ نے کہا میں عبیدہ ہوں ، حمزہ نے کہا میں حمزہ ہوں۔ اور علی کہا میں علی ہوں۔ اس پر انہوں نے کہا ہاں تم معزز ہم پلہ ہو۔ عبیدہ نے جو سن رسیدہ تھے عتبہ ابن ربیعہ کو دعوت مبارزت دی اور حمزہ نے شیبہ ابن ربیعہ کو اور حضرت علی ، نے ولید بن عتبہ کو۔ حمزہ نے تو شیبہ کو ایک وار ہی میں ختم کردیا۔ اور علی نے ولید کو ایک ہی وار میں قتل کردیا۔ عبیدہ اور عتبہ کے درمیان دو دو وار ہوئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو ایسا زخمی کردیا کہ جگہ سے حرکت ممکن نہ رہی۔ لیکن حضرت اور حضرت حمزہ عتبہ کی طرف لوٹے اور اس کا کام تمام کرکے اپنے ساتھی کو اٹھا کر اپنے کیمپ میں لے گئے۔
اب لوگ آگے بڑھے اور جنگ شروع ہوگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ اس وقت تک حملہ نہ کریں جب تک آپ انہیں حکم نہ دیں۔ اور اگر وہ لوگ حملہ آور ہوں تو نیزوں کے ذریعہ مدافعت کریں۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے صفیں درست کیں اور آپ اپنے چبوترے کی طرف لوٹ گئے۔ آپ اندر گئے اور اس وقت آپ کے ساتھ صرف ابوبکر تھے اور کوئی نہ تھا۔ حضور ﷺ اپنے رب کو پکار رہے تھے اور وہ وعدہ یاد دلا رہے تھے جو آپ کے ساتھ نصرت کے بارے میں ہوا تھا۔ اور باتوں کے علاوہ آپ نے اس پکار کے موقعہ پر یہ باتیں کہیں۔ " اے اللہ ! اگر یہ مٹھی بھر لوگ آج قتل ہوگئے تو تیری بندگی کبھی نہ ہوگی " حضرت ابوبکر فرما رہے تھے۔ آپ اپنی دعا کو کم کردیں۔ اللہ اپنا وعدہ پورا کرنے والا ہے۔
امتاع الاسماع مصنفہ مقریزی میں ہے کہ عبداللہ ابن روحہ نے حضور اکرم ﷺ سے کہا کہ حضور میں آپ یہ مشورہ دیتا ہوں حالانکہ آپ کو کسی مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ کہ اللہ کو اس کے وعدوں کی یاد دہانی کی ضرورت نہیں ہے۔ تو آپ نے فرمایا ابن رواحہ ، کیا میں اللہ تعالیٰ کو وعدہ یاد نہ دلاؤں۔ اللہ تو وعدہ پورا کرنے والے ہیں ، کبھی خلاف نہیں کرتے۔
ابن اسحاق نے کہا ، جب رسول اللہ ﷺ چبوترے میں تھے تو آپ کو قدرے اونگھ نے آ لیا۔ جب آپ جاگے تو فرمایا : ابوبکر مبارک ہو ، اللہ کی مدد اگئی۔ یہ ہیں جبرئیل اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے چلے آ رہے ہیں اور اس کی دونوں جانب غبار اٹھ رہا ہے۔
حضرت عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام مہجع کو ایک تیر لگا اور وہ شہید ہوگیا۔ یہ مسلمانوں میں سے پہلا مقتول تھا۔ اس کے بعد حارثہ ابن سراقہ نے بنی عدی ابن نجار کے ایک شخص کو تیر مارا اور اسے ہلاک کردیا۔ یہ شخص حوض سے پانی پی رہے تھے۔ تیر اس شخص کی گردن میں لگا اور وہ شہید ہوگیا۔
اس کے بعد حضور ﷺ چبوترے سے نکلے اور آپ نے لوگوں کو جنگ کرنے پر اکسایا۔ آپ نے فرمایا : " خدا کی قسم آج جو شخص بھی صبر ، تحمل سے فی سبیل اللہ لڑا اور وہ آگے ہی بڑھتا رہا اور پیٹھ نہ پھیری وہ لازماً جنت میں دخل ہوگا "
ایک شخڑ عمر ابن الہمام بنی سلمہ کے بھائی تھے جو اس وقت کھجوریں کھا رہے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی یہ بات سنی اور کہا بہت خوب ! حضور کیا میرے اور جنت کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہے کہ یہ لوگ مجھے قتل کردیں ؟ اس کے بعد اس نے وہ کھجوریں پھینک دیں۔ تلوار لی اور خوب لڑا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔
ابن اسحاق نے یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص عوف ابن الحارث نے جو " عفرا " کا بیٹآ تھا ، نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ اللہ اپنے بندے کے کس فعل پر ہنس دیتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اللہ اس بات سے ہنس پڑتا ہے کہ ایک شخص کے جسم پر زرہ بھی نہ ہو اور وہ تلوار لے کر دشمن کی صفوں میں گھس جائے۔ چناچہ اس نے جو زرہ پہنی ہوئی تھی اسے اتار پھینکا۔ اس کے بعد تلوار لی اور دشمن کی صفوں میں گھس گیا اور اس قدر لڑا کہ شہید ہوا۔
ابن اسحاق نے زہری سے ایک روایت نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جب لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوئے تو ابوجہل نے کہا ، اے اللہ ہم سے جو قطع رحمی کرنے والا ہو اور ایسے کام کرنے والا ایسے کام کرنے والا ہو جو معروف نہ ہو تو کل اسے شکست دے دے ، چناچہ اس کی دعا قبول ہوئی۔
ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مٹھی ریت لی اور اسے قریش کی طرف پھینکا اور فرمایا شاہت الوجوہ اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ زور لگاؤ اور اس کے بعد مخالفین کو شکست ہوئی اور قریش کے سرداروں میں سے اکثر مارے گئے اور باقی گرفتار ہوئے۔
جب لوگوں نے قتل سے ہاتھ کھینچ لیے اور لوگوں کو گرفتار کرنے لگے اور رسول خدا ﷺ نے دیکھا کہ سعد ابن معاذ کے چہرے پر کراہت کے آثار نظر آتے ہیں کیونکہ لوگ مخالفین کو قتل کرنے کے بجائے گرفتار کر رہے تھے تو حضور ﷺ نے انہیں مخاطب کر کے کہا " خدا کی قسم اور شاید تم لوگوں کی اس حرکت کو ناپسند کرتے ہو "
اس نے کہا ہاں جناب میں اسے ناپسند کرتا ہوں۔ یہ پہلا معرکہ ہے جس میں کفر و اسلام کا تصادم ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس معرکے میں دشمن کا پوری طرح کچل دینا ہمارے لیے اس سے بہتر تھا کہ ہم انہیں گرفتار کرتے۔
ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس کی ایک روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو یہ حکم دیا تھا کہ بنی ہاشم میں سے بعض لوگ مجبوراً اس لشکر میں آئے ہیں اور وہ ہمارے خلاف لڑنا نہیں چاہتے۔ اس لیے تم میں سے جو شخص بنی ہاشم میں سے کسی کے سامنے آئے تو انہیں قتل نہ کرے۔ اور جو شخص ابوالبختری ابن ہشام ابن الحارث ابن اسد کو پائے اسے بھی قتل نہ کرے۔ اور جو شخص عباس ابن عبدالمطلب کو پائے اسے بھی قتل نہ کرے۔ کیونکہ حضرت عباس مجبورا لشکر کے ساتھ آگئے ہیں۔ اس پر ابوحذیفہ ابن عتبہ ابن ربیعہ نے کہا (یہ مسلمان تھے) " کیا ہم اپنے باپوں ، بھائیوں اور بیٹوں اور خاندان کو قتل کریں اور عباس کو چھور دیں۔ خدا کی قسم اگر وہ مجھے ملا تو اسے مزہ چکھاؤں گا "۔ تو یہ بات حضر نبی ﷺ تک پہنچ گئی تو آپ نے حضرت عمر بن الخطاب سے کہا " اے ابو حفص (اور یہ پہلا دن تھا کہ حضور ﷺ نے مجھے اس کنیت کے ساتھ خطاب فرمایا " کیا رسول اللہ کے چچا کے چہرے کو تلوار سے مارا جائے گا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا رسول خدا مجھے اجاز دیجیے کہ میں اس کی گردن کو اڑا دوں۔ خدا کی قسم یہ منافق ہے۔ اس گفتگو کے بعد ابوحذیفہ کہا کرتے تھے کہ اس وقت میں نے جو بات کی میں آج تک اس سے ڈرتا ہوں اور میں ہمیشہ اس سے ڈرتا رہوں گا۔ الا یہ کہ شہادت پا کر میں اس کا کفارہ ادا کروں۔ بعد میں ابوحذیفہ مرتدین کے ساتھ جنگ میں یوم الیمامہ میں شہید ہوئے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ حضور نے ابوالبختری کے قتل سے اس لیے روکا تھا کہ جب آپ مکہ میں تھے تو وہ لوگوں کو آپ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے روکتا تھا۔ وہ حضور ﷺ نے کوئی ایسی بات نہ سنی تھی جو آپ کے لیے موجب اذیت ہوتی۔ اور قریش نے بنی ہاشم کے ساتھ بائیکاٹ کا جو معاہدہ لکھا تھا اس کے توڑنے والوں میں وہ بھی تھا۔ لیکن اس دن وہ اس لیے مارا گیا کہ اس نے قیدی بننے سے انکار کردیا۔
ابن اسحاق نے یحی ابن عباد سے ایک روایت نقل کی ہے کہ ان کے والد نے کہا کہ امیہ ابن خلف میرا دوست تھا۔ اور میرا نام جاہلیت میں عبد عمرو تھا۔ میں نے جب اسلام قبول کیا تو نام عبدالرحمن رکھ لیا۔ اس وقت ہم مکہ میں تھے۔ امیہ مجھے کہتا عبد عمرو تونے اپنے اس نام کو چھوڑ دیا جس کے ساتھ تمہارے باپ نے تجھے موسوم کیا تھا۔ میں کہتا ہاں۔ اس نے کہا میں رحمن کو نہیں جانتا اس لیے تم میرے لیے آپس کا کوئی نام تجویز کردو تاکہ میں تمہیں اس کے ساتھ پکاروں۔ اس لیے کہ تم پہلے نام کے ساتھ پکارنے کا جواب نہیں دیتے اور میں دوسرا نام نہیں لیتا جسے میں جانتا نہیں ہوں۔ جب وہ مجھے عبد عمرو کہتا ، میں جواب نہ دیتا۔ میں نے اسے کہا کہ تم ہی کوئی نام رکھ دو ، چناچہ اس نے میرا نام عبد الالہ رکھ دیا۔ اور جب ہم ملتے تو وہ مجھے عبدالالہ کہتا اور ہم باتیں کرتے۔ بدر کے دن میں نے دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے علی ابن امیہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ اور میں بعض زرہیں اٹھا کر جا رہا ہوں جو میں نے جنگ کے بعد لوٹ لی تھیں۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو اس نے کہا اے عبد عمرو ، تو میں نے جواب نہ دیا۔ اس پر اس نے کہا اے عبدالالہ تو میں نے کہا ہاں۔ کیا تمہیں ہمارے اندر کوئی دلچسپی ہے۔ میں سمجھتا ہوں میں تمہارے لیے ان زر ہوں سے زیادہ مفید رہوں گا جو تونے اٹھا رکھی ہیں۔ میں نے کہا ہاں۔ تو انہوں نے کہ کہ میں نے زرہیں پھینک دیں۔ اور ان دونوں کو میں نے ہاتھ سے پکڑ لیا اور دونوں کو قیدی بنا لیا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ایسا دن کبھی نہیں دیکھا۔ کیا تمہیں دودھ کی ضرورت نہیں ہے۔ یعنی مجھے جس نے قیدی بنایا تو میں اسے دودھ دینے والی اونٹنیاں فدیہ میں دوں گا۔ میں انہیں لے کر کیمپ میں چلا گیا۔
ابن اسحاق روایت کرتے ہیں کہ عبدالرحمن ابن عوف نے بتایا کہ مجھے امیہ ابن خلف نے کہا ، اس وقت میں اس کے اور اس کے بیٹے کے درمیان تھا اور میں نے دونوں کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ عبد الالہ ، تم میں سے وہ شخص کون تھا جس نے اپنے سینے پر شتر مرغ کے پر لگا رکھے تھے ؟ کہتے ہیں ، میں نے کہا کہ وہ حمزہ ابن عبدالمطلب ہے۔ اس نے کہا کہ اس شخص نے ہمارے خلاف سخت کارہائے نمایاں کیے۔
عبدالرحمن کہتے ہیں ، کدا کی قسم میں ان لوگوں کو لے کر جا رہا تھا کہ اچانک اسے حضرت بلال نے میرے ساتھ دیکھ لیا اور یہ وہی شخص تھا جو حضرت بلال کو اذیت دیتا تھا اور مکہ میں اسے ترک اسلام پر مجبور کیا کرتا تھا۔ وہ اسے مکہ کے ریگستان کی طرف لے جاتا۔ جب یہ ریت گرم ہوتی ، تو یہ شخص انہیں الٹے لیٹاتا اور اس کے بعد ان کے سینے پر بڑا پتھر رکھ دیتا اور اس کے بعد کہتا کہ تم اسی طرح پڑے رہوگے الا یہ کہ تم دین محمد کو چھوڑ نہ دو ۔ اور بلال کہتے جاتے۔ احد احد۔ کہتے ہیں جب اسے بلال نے دیکھا وہ چلایا ، یہ تو رئیس الکفار امیہ ابن خلف ہے۔ اگر یہ بچ نکلا تو میں نے نجات نہ پائی۔ میں نے کہا کہ بلال تم میرے اسیر کے ساتھ یہ کرتے ہو۔ اس نے پھر کہا اگر یہ نجات پا گیا تو گویا مجھے نجات نہ ملی۔ میں نے پھر سختی سے کہا " اے کالی کے بیٹے تم سنتے نہیں ، اس نے پھر کہا اگر یہ نجات پا گیا تو میں مرا۔ کہتے ہیں اس کے بعد بلال نہایت ہی بلند آواز سے پکارا۔ اے اللہ کے انصار یہ ہے رئیس الکفار امیہ ابن خلف۔ اگر یہ بچ نکلا تو میں مر گیا۔ کہتے ہیں کہ لوگوں نے ہمیں گھیر لیا۔ لیکن میں ان دونوں سے لوگوں کو روکتا ہی رہا۔ پیچھے سے ایک آدمی آیا اور اس نے اس کے بیٹے پر وار کیا اور وہ گر گیا۔ اس کے بعد امیہ ابن خلف نے ایک چیخ نکالی۔ اس پر میں نے کہ جان بچاؤ تاکہ میں بھی بچ جاؤں خدا کی قسم اب میں کچھ نہیں کرسکتا۔ کہتے ہیں کہ لوگوں نے اپر تلواروں سے پے در پے وار کیے اور ان سے فارغ ہوگئے۔ عبدالرحمن کہا کرتے تھے۔ اللہ بلال پر رحم کرے کہ میری زرہیں بھی گئیں اور میرے قیدیوں کو بھی قتل کرکے اس نے مجھے دکھ پہنچایا۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب حضور ﷺ دشمن سے فارغ ہوئے تو حکم دیا گیا کہ مقتولوں میں سے ابوجہل کو تلاش کیا جائے۔ اور جیسا کہ روایات میں آتا ہے کہ معاذ ابن عمرو ابن الجموح بنی سلمہ کے بھائی نے کہا کہ میں نے لوگوں سے سنا کہ ابوجہل تک پہنچنا بہت مشکل ہے اور وہ اس وقت ایک درخت کی اوٹ میں تھا۔ جب میں نے یہ سنا تو میں نے ارادہ کرلیا کہ میں یہ کام کروں گا۔ میں اس کی طرف بڑھا۔ جب میرے لیے ممکن ہوا تو میں نے اس پر حملہ کردیا۔ میں نے اس پر ایک ایسا وار کیا کہ میں نے اس کے پاؤں کو نصف پنڈلی کے ساتھ اڑا دیا۔ جب اس کا پاؤں اڑا تو مجھے ایسا لگا جس طرح گٹھلی توڑنے والے پتھر کے نیچے سے گٹھلی اڑتی ہے۔ اس وار کے بعد اس کے بیٹے عکرمہ نے مجھے مارا اور میرے کاندھے پر ایسی چوٹ آئی کہ میرا بازو کٹ گیا اور وہ ایک جانب سے میرے پہلو میں چمڑے کے ساتھ لٹک رہا تھا۔ اب لڑائی میں جلدی اور تیزی آگئی۔ میں نے اس کی طرف توجہ نہ دی اور پورا دن لڑتا رہا۔ اور یہ ہاتھ میری پشت کے ساتھ لٹکا رہا۔ جب اس نے مجھے بہت تنگ کیا تو میں اس پر اپنا پاؤں رکھا اور اسے کاٹ کر پھینک دیا۔
اس کے بعد معوذ ابن عفرا ابوجہل تک جا پہنچا اور اس وقت اس کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی۔ اس نے اسے اس قدر زخمی کردیا کہ وہ اب حرکت کے قابل نہ رہا۔ اور معوذ لڑتا رہا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگیا۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود ابوجہل تک جا پہنچا۔ یہ اس وقت ہوا جب حضور ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ابوجہل کو مردوں میں تلاش کیا جائے۔ تلاش کرنے والوں کو رسول اللہ ﷺ نے کہا تھا کہ اسے تلاش کرو۔ اگر اسے پہچاننے میں دقت ہو ، تو اس کے گھٹنے پر ایک زخم ہے اسے دیکھو اس لیے کہ میں اور وہ دونوں ایک دن عبداللہ ابن جدعان کی دعوت میں شریک تھے اور اس وقت ہم دونوں لڑکپن میں تے۔ اژدھام میں ، میں نے اسے دھ کہ دیا اور اگرچہ میں اس کے مقابلے میں دبلا پتلا تھا ، وہ گھٹنوں کے بل گرا۔ اس کا ایک گھٹنا اس قدر زخمی ہوا کہ زخم کے اثرات زائل نہ ہوئے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں نے اس اس حال میں تلاش کرلیا کہ وہ زندگی کے آخری سانس لے رہا تھا۔ میں نے اپنا پاؤں اس کی گردن پر رکھا۔ اس نے مکہ میں ایک بار میرے ساتھ بدسلوکی کی تھی۔ مجھے مارا تھا اور مکہ لگائے تھے۔ اس کے بعد میں نے اسے کہا : اللہ کے دشمن تم نے جان لیا کہ آج اللہ نے تجھے ذلیل کیا ہے ؟ " مجھے کیوں ذلیل کیا ہے ؟ " اس نے کہا ، کیا تم نے مجھے سے کسی بڑے آدمی کو بھی قتل کردیا ہے۔ اس نے کہا یہ تو بتاؤ آج کی جنگ کس نے جیتی ؟ میں نے جواب دیا اللہ اور رسول اللہ نے۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ بنی مخزوم کے بعض لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ ابن مسعود نے کہا کہ اس نے مجھے یہ کہا کہ اے چرواہے ، تم ایک عظیم آدمی کی گردن پر سوار ہو ، جس پر سوار ہونا کوئی آسان کام نہ تھا۔ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے اس کی گردن کو تن سے جدا کیا اور لا کر رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈال دیا اور کہا اے رسول خدا یہ رہا خدا کے دشمن کا سر۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کیا۔
ابن ہشام کہتے ہیں کہ مجھے مقامی کے ماہرین اہل علم نے بتایا کہ حضرت عمر ابن لخطاب نے سعید ابن العاص کو ایک مرتبہ یہ کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ تجھے میرے بارے میں غلط فہمی ہے کہ شاید میں نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے۔ اگر میں نے اسے قتل کیا ہوتا تو میں اس کے قل کی ہرگز معذرت نہ کرتا۔ لیکن میں نے اپنے ماموں عاص ابن ہشام ابن المغیرہ کو قتل کیا تھا۔ رہا تمہارا باپ تو میں جنگ میں اس کے پاس سے گزرا تا۔ اس طرح لڑ رہا تھا جس طرح ایک بیل جنگ کے وقت اپنے سینگوں کے ساتھ زمین کو چیرتا ہے۔ تو میں اس سے ایک طرف ہوگیا اور مجھ سے آگے بڑھ کر اس کے چچا زاد نے اس کا رخ کیا اور اسے قتل کردیا۔
ابن اسحاق ، یزید ابن رومان ، عروہ ابن الزبیر کے واسطے سے حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں ، جب حضور نے حکم دیا کہ مقتولین کو ایک گڑے میں پھینکا جائے تو ایک گڑھا کھود کر سب کو اس میں پھینک دیا گیا ، ماسوائے امیہ ابن خلف کے کیونکہ وہ اپنی زرہ کے اندر پھول گیا تھا اور زوہ کو بھر دیا تھا ، لوگ اس کے پاس گئے اور اسے حرکت دی تو اس کا گوشت اپنی جگہ چھوڑ گیا۔ لوگوں نے اسے اسی جگہ چھوڑ دیا اور اس کے اوپر مٹی ڈال دی۔ جب تمام مقتولین کو گڑھے میں ڈال دیا گیا تو رسول اللہ ﷺ گڑھے کے دہانے پر کھڑے ہوئے اور کہا : " اے گڑھے والو ، کیا تم نے وہ انجام دیکھ لیا جو تم سے تمہارے رب نے اس کا وعدہ کیا تھا۔ میں نے تو وہ انجام دیکھ لیا جو مجھ سے میرے رب نے وعدہ کیا تھا پوری طرح۔ کہتے ہیں کہ اصحاب رسول نے آپ سے سوال کیا : " کہ آپ تو مردوں سے بات کر رہے ہیں " آپ کہا " حقیقت یہ ہے کہ وہ اب جانتے ہیں کہ ان سے ان کے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ سچ تھا " حضرت عائشہ کہتی ہیں لوگ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہ فرمایا : در حقیقت میں نے جو کہا وہ سنتے ہیں " حالانکہ حضور نے فرمایا تھا : " در اصل وہ جانتے ہیں کہ رب کا وعدہ سچا تھا "۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ جب حضور ﷺ نے حکم دیا کہ انہیں گڑھے میں پھینک دیا جائے تو عتبہ ابن ربیعہ کو گڑھے کی طرف کھینچا گیا تو حضور نے ان کی طرف دیکھا (یہ بات مجھ تک پہنچی ہے) کہ ابوحذیفہ ابن عتبہ نہایت ہی غمگین ہیں اور ان کا رنگ بدل گیا ہے تو آپ نے فرمایا : ابو حذیفہ ، شاید تمہارے باپ کی وجہ سے تم پر اثر ہوگیا ہے۔ یا جو الفاظ حضور نے کہے۔ ابوحذیفہ نے کہا " حضور خدا کی قسم ! ایسا نہیں ہے۔ مجھے اپنے باپ کے بارے میں کوئی شک نہیں اور نہ اس کے قتل کے بارے میں شک ہے ، لیکن میں جانتا تھا کہ میرا باپ بڑا مدبر ، بردبار اور صاحب علم آدمی تھا۔ اور میری دلی خواہش تھی کہ اللہ اسے اسلام کی طرف ہدایت دے۔ جب میں نے دیکھا کہ اس کی یہ حالت ہے اور مجھے جب یہ خیال آیا کہ یہ تو کفر کی حالت میں دیا سے چلا گیا اور میری آرزو پوری نہ ہوئی تو اس وجہ سے مجھے یہ دکھ ہوا۔ اس پر آپ ﷺ نے اس کے باپ کے لیے دعائے خیر فرمائی اور اس کے لیے بھی بہت اچھے کلمات کہے۔
اس کے بعد حضور ﷺ نے لشکر گاہ میں جو کچھ تھا ، اسے یکجا کرنے کا حکم دیا۔ تمام مال غنیمت یکجا کردیا گیا۔ اس کے بارے میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف ہوگیا۔ جن لوگوں نے مال جمع کیا تھا ، انہوں نے کہا کہ اس پر پورا ہمارا حق ہے کیونکہ ہم نے جمع کیا ہے اور جو لوگ دشمن کو مار رہے تھے اور اس کا تعاقب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ اگر ہم نہ ہوتے تو تم کہا جمع کرتے۔ ہم نے دشمن کو مشغول رکھا ، اور تم نے مال جمع کیا۔ اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی حفاظت پر مامور تھے انہوں نے کہا ہم نے رسول اللہ ﷺ کو دشمن کے حملے سے بچایا ہے۔ لہذا تمہارے مقابلے میں ہمارا حق زیادہ ہے ، ہم نے یہ سامان اس وقت دیکھ لیا تھا ، مگر آپ کا محافظ کوئی نہ تھا۔ ہم اس بات سے ڈر گئے کہ اگر ہم چلے گئے تو دشمن آپ پر حملہ نہ کردے۔ لہذا ہم حفاظت میں رہے۔ چناچہ تم لوگ ہم سے زیادہ مستحق نہیں ہو۔
ابن اسحاق کہتے کہ عبدالرحمن ابن الحارث وغیرہ نے سلیمان ، مکحول اور ابو امامہ باہلی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبادہ بن الصامت سے انفال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ سورة ہم اصحاب بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت ہمارے درمیان انفال کے بارے میں اختلافات ہوگئے تھے اور اس کے بارے میں ہماری اخلاقی حالت اچھی نہ رہی تھی تو اس وجہ سے اللہ نے انفال کو ہم سے لے کر اسے رسول اللہ کے اختیار میں دے دیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کے درمیان مساویانہ تقسیم کردی۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ بنی عبدالدار کے بھائی نبیہ ابن وہب نے بتایا کہ حضور جب قیدیوں کی طرف لوٹے تو آپ نے انہیں اپنے ساتھیوں کے درمیان تقسیم کردیا۔ اور آپ نے ان کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو ابو عزیر ابن ہاشم ، مصعب ابن عمیر کے سگے بھائی تھے اور قیدی تھے۔ ابو عزیر نے بتایا کہ ایک انصاری مجھے گرفتار کر رہے تھے اور مصعب ابن عمیر میرے بھائی آگئے تو انہوں نے انصاری سے کہا کہ اسے خوب باندھیے کیونکہ ان کی والدہ مالدار خاتون ہیں وہ اس کا خوب فدیہ دیں گی۔ کہتے ہیں کہ جب میدان جنگ سے مجھے لے کر آئے تو میں انصاریوں کے پاس تھا۔ جب کھانے کا وقت ہوتا تو وہ لوگ مجھے روٹی دیتے اور خود کھجوروں پر اکتفاء کرتے کہ انہیں حضور نے ہمارے بارے میں وصیت کی تھی کہ حسن سلوک کرو ، ان میں سے جس کے ہاتھ بھی روٹی آتی وہ مجھے دے دیتا۔ میں شرمندہ ہو کر انہیں واپس کرتا مگر وہ مجھے دوبارہ واپس کردیتے اور اسے ہاتھ بھی نہ لگاتے۔
ابن ہشام کہتے ہیں ابو عزیر بدر کے دن مشرکین کے علم بردار تھے۔ اور یہ علم انہیں نضر ابن الحارث کے بعد ملا تھا۔ جب ان کے بارے میں ، اس کے گرفتار کرنے والے ابوالیسیر کو مصعب ابن عمیر نے وہ بات کہی (جو اوپر مذکور ہے) تو ابو عزیر نے کہا اے بھائی ، تم میرے بارے میں یہ سفارش کرتے ہو ، تو مصعب نے کہا کہ یہ انصاری تم سے پہلے میرا بھائی ہے۔ اس پر اس کی ماں نے معلوم کیا کہ کسی قریش کا زیادہ سے زیادہ فدیہ کیا رہا ہے ؟ تو اسے بتایا گیا کہ چار ہزار درہم تو اس نے چار ہزار درہم بھیجے اور اس کا فدیہ دیا۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ اس کے بعد قریش نے اسیروں کا تاوان بھیجا۔
۔۔۔۔
یہ تھا غزوہ بدر کا واقعاتی نقشہ ، ہم نے بقدر استطاعت اسے مختصراً بیان کرنے کی سعی کی ہے۔ سورة انفال اسی غزوہ پر بطور تبصرہ نازل ہوئی۔ اسی میں اس غزوہ کے ظاہری واقعات پر بھی تبصرہ ہے۔ اس کے تاریخی پس منظر کا بھی ذکر ہے۔ اور یہ تمام تبصرے قرآن کے منفرد اور معجزانہ انداز بیان میں ہیں جن کی تفصیلات ہم آئندہ تشریح آیات کے درمیان بیان کریں گے۔ یہاں ہم نے صرف اس سورة کے مضامین کے اساسی خدوخال مختصراً دے دئیے ہیں۔
یہ سورة کس لائن پر جا رہی ہے ؟ اس کے اندر ایک مضمون اس کی پوری طرح وضاحت کرتا ہے۔ ابن اسحاق نے حضرت عبادہ ابن الصامت سے روایت کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ سورة بدری لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ جب ہم مال غنیمت کے بارے میں باہم اختلاف کرنے لگے اور اس سلسلے میں ہمارے اخلاق بھی خراب ہوئے تو اللہ نے انفال کا اختیار ہمارے ہاتھ سے لے لیا اور رسول اللہ ﷺ کو دے دیا اور آپ نے انفال کو مساویانہ اصول کے مطابق تقسیم کردیا۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اس سورة کا آغاز کس طرح ہوا اور اس کی لائن کیا ہے۔ لوگوں نے اس واقعہ میں حاصل ہونے والے مال غنیمت کے بارے میں اختلاف کیا تھا جسے اللہ تعالیٰ نے انسانی تاریخ میں قیامت تک فرقان قرار دیا تھا۔
اللہ کو مطلوب یہ تھا کہ ان کو اور ان کے بعد آنے والوں کو بعض اہم تعلیمات دیں۔ یہی تعلیم یہاں پوری طرح انہیں دی گئی اور یہ تعلیم اللہ نے جس تدبیر اور نظام قضا و قدر کے مطابق دی ، ہر اقدام ایسا نظر آتا ہے جس کے پیچھے کوئی اصلاحی تدبیر ہے۔ اس لیے کہ جنگ بدر اور اس کے نتیجے میں جو عظیم فیصلے ہوئے اس کے بارے میں خود مسلمانوں کی منصوبہ بندی کو کوئی دخل نہ تھا۔ نہ انہوں نے جنگ بدر کے معمولی اموال غنیمت کے متعلق کوئی اپنی تدبیر کی تھی اور نہ اس جنگ کے عظیم نتائج انہوں نے سوچے تھے۔ یہ سب کام اللہ تعالیٰ کی منشا اور تدبیر کے ذریعے ہوئے۔ اس واقعہ میں اللہ نے مسلمانوں کو خوب ازمایا اور یہ اس کا فضل و کرم تھا۔
اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ لوگ اپنے بارے میں کیا سوچتے تھے۔ وہ یہ سوچتے تھے کہ قافلے کو لوٹ لیں۔ مگر اللہ نے ان کے لیے قافلے کے مقابلے میں ایک مسلح لشکر لا کھڑا کردیا۔ دونوں میں کس قدر فرق ہے تاکہ لوگ دیکھ لیں کہ خود ان کی اپنی سوچ کس قدر موثر ہے اور ان کے بارے میں اللہ کی تدبیر کس قدر دور رس حکمت کی حامل ہے۔ اور دونوں کے اندر کس قدر فرق ہے۔
سورة کا آغاز اس طرح ہے کہ انفال کے بارے میں عوام کی جانب سے ایک سوال ہے اور اللہ کی طرف سے مختصر جواب ہے کہ یہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول اللہ کا ہے۔ اس کے بعد کہا گیا ہے کہ وہ خدا سے ڈریں اور باہم تعلقات کو درست کریں۔ جس طرح حضرت عبادہ ابن الصامت نے کہا کہ ہمارے اخلاق پر اثر پڑگیا تھا۔ اسے دور کردیں اور اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ کیونکہ سمع و اطاعت ایمان کا مقتضا ہے۔ سورة کے آغاز میں اہل ایمان کے لیے ایک نہایت ہی موثر تصویر کشی کی گئی ہے۔
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأنْفَالِ قُلِ الأنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (1)إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (4)
اے پیغمبر لوگ تم سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دو کہ یہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کی ہیں ، پس اللہ سے ڈرو اور آپ سکے باہم تعلقات ٹھیک رکھو۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ مومت تو وہ ہے کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب ان پر آیات الہی کی تلاوت ہوتی ہے تو ان کے ایمان کو زیادہ کردیتی ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں اور مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔ (الانفال ، آیات 1 تا 4)
اس کے بعد بدر کے معاملے کو یاد دلایا جاتا ہے۔ یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے کیا سوچتے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کے لیے سوچ رہا تھا اور وہ زمین پر دنیاوی معیار کے مطابق جو کچھ دیکھ رہے تھے اور اللہ کا نظام تقدیر جو کچھ کر رہا تھا :۔
كَمَا أَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ وَإِنَّ فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَكَارِهُونَ (5) يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ (6) وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ (7) لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُونَ (8)
جیسا کہ تمہارے رب نے تجھے حق کے ساتھ اپنے گھر سے نکال دیا اور مومنوں کے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ حق بات کے سلسلے میں تم سے جھگڑ رہے تھے۔ حالانکہ واضح ہوچکا تھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں اور وہ موت اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جب اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دو گروہوں میں سے کوئی ایک گروہ تمہارے ہاتھ آجائے گا۔ اور تم چاہ رہے تھے کہ کمزور گروہ تمہارے ہاتھ آئے لیکن اللہ چاہتا تھا کہ اپنے احکام سے حق کا حق ہونا ثابت کردے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے تاکہ حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھائے خواہ مجرموں کو ناگوار ہی کیوں نہ لگے۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
الأنفال 8:3
درس نمبر 83 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع انفال اور اموال غنیمت کی تقسیم ہے۔ اموال غنیمت اور انفال میں وہ تمام چیزیں شامل ہوتی ہیں جو میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ لگتی ہیں ، جبکہ یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہو۔ سب سے پہلے اہل بدر کے درمیان اموال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں اختلافات پھوٹ پڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خدا خوفی اور اطاعت رسول کے معاملے کی طرف بھی متوجہ کیا اور لوگوں کے دلوں میں ایمان اور تقوی کے جذبات ابھارے گئے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں یاد دلایا کہ تم تو آغاز ہی سے یہ چاہتے تھے کہ قافلے پر حملہ کرکے مال غنیمت حاصل کرلو۔ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ تمہیں نصرت اور عزت سے نوازے۔ پھر انہیں یاد دلاای کہ ذرا اس معرکے کے مراحل پر غور کرو کہ تمہاری تعداد اور سازوسامان دشمن کے مقابلے میں بہت ہی کم تھا ، وہ تم سے کہیں زیادہ تھا۔ مگر اللہ نے فرشتوں کے ذریعے تمہارے قدم مضبوط کیے۔ پھر اس نے بارش برسا کر تمہارے لیے لڑنا آسان کردیا۔ تمہارے پاؤں مضبوطی سے جمتے تھے ، تم بارش کے پانی سے مویشیوں کو سیراب کرائے تھے اور غسل کرتے تھے کیونکہ جنگ بدر ریت کے میدان میں لڑی گئی تھی اور ریت میں انسانوں اور گھوڑوں کے قدم دھنس جایا کرتے ہیں۔ پھر یاد دلایا گیا کہ تم کو ایک قسم کی نیند نے آ لیا اور نیند آتے ہی تم مطمئن ہوگئے۔ پھر اللہ نے تمہارے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور ان پر شدید عذاب نازل کردیا۔
ان تجربات کی روشنی میں قرآن ان کو حکم دیتا ہے کہ تم ہر جنگ میں ثابت قدمی اختیار کرو۔ اگرچہ بظاہر تمہیں دشمنوں کی قوت زیادہ نظر آئے کیونکہ قتل کرنے والا اللہ ہوتا ہے۔ اللہ ہی دراصل تیر چلاتا ہے وہی معاملات کی تدبیر کرتا ہے ، تم تو در اصل تقدیر الہی کے لیے ایک پردہ ہو ، وہ تمہیں جس طرح چاہتی ہے ، چلاتی ہے۔ اس کے بعد اس سبق میں مشرکین کی اس احمقانہ حرکت پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اس واقعہ سے قبل اللہ کے سامنے دست بدعا تھے کہ اے اللہ آپ آج کی جنگ میں اس فرقے کو تباہ کردیں جو گمراہ ہو اور جو صلہ رحمی کا قاطع ہو۔ اللہ فرماتے ہیں ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح۔ اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔
مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ اپنی زندگیوں سے نفاق کو دور کرو اور منافقوں کا رویہ اختیار نہ کرو۔ جو کہتے تو یہ تھے کہ ہم سنتے ہیں لیکن سنتے نہ تھے اس لیے کہ وہ سن کر مانتے نہ تھے۔
اس سبق کے آخر میں مسلمانو کو بار بار پکارا جاتا ہے کہ مسلمانو ! رسول تمہیں جب بھی پکارے تو لبیک کہو ، اس لیے کہ وہ تمہیں ایک ایسی دعوت دیتا ہے جس کے نتیجے میں تمہیں زندگی دوام حاصل ہوگی۔ اگرچہ بظاہر وہ تمہیں موت اور قتل کی طرف بلا رہا ہو۔ اللہ اہل ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ وقت یاد کرو جب تم قلیل اور کمزور تھے۔ تمہیں ہر وقت ہر طرف سے ڈر لگا رہتا تھا کہ دشمن کہیں تمہیں اچک نہ جائے۔ ان حالات میں اللہ نے تمہیں پناہ دی ، نصرت دی۔ اور اب تمہارے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ اگر تم تقویٰ کی راہ اختیار کرو تو اللہ تمہیں فیصلہ کن طرز عمل اور فیصلہ کن رائے عطا کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا ، تمہاری تقصیرات سے درگذر کرے گا اور اللہ کے ہاں جو کچھ تمہارے لیے دار آخرت میں تیار ہے وہ اس جہاں کے تمام غنائم و اموال سے کہیں زیادہ ہے۔
۔۔۔
درس نمبر 83 تشریح آیات : 1 ۔۔ تا۔۔ 29:۔
تفسیر آیات 1 تا 4 ۔
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأنْفَالِ قُلِ الأنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (1)إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (4)
اے پیغمبر لوگ تم سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دو کہ یہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کی ہیں ، پس اللہ سے ڈرو اور آپ سکے باہم تعلقات ٹھیک رکھو۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ مومت تو وہ ہے کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب ان پر آیات الہی کی تلاوت ہوتی ہے تو ان کے ایمان کو زیادہ کردیتی ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں اور مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔
ان آیات کے نزول کے بارے میں جو روایات وارد ہیں ، ان کا ایک بڑا حصہ ہم نے اس سورة کے تعارف کے ضمن میں نقل کیا تھا۔ یہاں ہم بعض دوسری روایات کا اضافہ کرتے ہیں۔ تاکہ وہ حالات قاری کے پیش نظر رہیں جن میں عموماً یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ خصوصا جن حالات میں وہ آیات نازل ہوئیں جن کا تعلق اموال غنیمت سے ہے۔ ان روایات سے یہ بات بھی معلوم ہوگی کہ مدینہ میں پہلی اسلامی حکومت کے قیام کے وقت جماعت مسلمہ کے خدوخال کیا تھے ؟ اور وہ کن عملی دشواریوں سے گزر رہی تھی۔
ابن کثیر فرماتے ہیں : ابو داود ، نسائی ، ابن جریر ، ابن مردویہ (الفاظ ان کے ہیں) ابن حبان ، اور حاکم نے بواسطہ داود ابن ابو ہند اور عکرمہ ، ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بدر کا دن آیا تو حضور ﷺ نے فرمایا " جس نے یہ یہ کیا ، اسے یہ یہ جزا ہوگی "۔ اسی طرح قوم کے نوجوان آگے بڑھ گئے اور بوڑھے لوگ جھنڈوں کے آس پاس رہے۔ جب اموال غنیمت کا وقت آیا تو انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے وہ مطالبات شروع کردئیے جن کا وعدہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا۔ تو بڑے لوگوں نے یہ کہا کہ تم لوگ ترجیحات کا مطالبہ نہ کرو کیونکہ ہم لوگ تمہارے لیے چادر تھے ، اگر تمہیں شکست ہوتی تو تم ہمارے پاس پناہ لیتے۔ اس پر ان دو گروہوں کے درمیان تنازعہ ہوگیا۔ اس موقعہ پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ یسئلونک عن الانفال تا واطیعو اللہ ورسولہ ان کنتم مومنین۔ اور ثوری نے کلبی سے ، ابو صالح سے ، ابن عباس سے یہ روایت کی ہے۔ کہتے ہیں : جب بدر کی جنگ ہوئی ، تو حضور نے فرمایا کہ جس نے کسی کو قتل کیا تو اس کے لیے یہ یہ انعام ہوگا اور جس نے کسی کو قید کیا تو اسے یہ یہ انعام دیا جائے گا "۔ اس موقع پر ابو الیسیر نے دو آدمیوں کو قیدی بنا لیا تو انہوں نے عرض کیا یہ لیجیے حضور آپ نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ اس پر سعد ابن عبادہ کھڑے ہوئے اور فرمایا حضور اگر آپ نے ان لوگوں کو اس طرح غنائم دیے تو آپ کے ساتھیوں کے لیے کچھ نہ رہے گا۔ نیز ہم لوگ لڑائی کرنے سے اس لیے باز نہیں رہے کہ ہمیں اجر کی ضرورت نہ تھی یا ہم دشمن سے ڈرتے تھے۔ ہم یہاں اس لیے کھرے رہے کہ آپ کی حفاظت ہو۔ یہ نہ ہو کہ دشمن پیچھے سے آپ پر حملہ کردے۔ چناچہ اس پر کافی تنازعہ ہوگیا اور اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول۔ انہوں نے کہا اور اسی سلسلے میں یہ آیات بھی نازل ہوئیں واعلموا انما غنمتم من شیئ فان للہ خمسہ الخ۔
امام احمد نے ایک روایت نقل کی۔ فرماتے ہیں : ابو معاویہ نے روایت کی ہے ، ابو اسحاق شیبانی سے ، محمد ابن عبیداللہ ثقفی سے ، سعد بن ابو وقاص سے ، یہ کہتے ہیں : بدر کی جنگ کے موقعہ پر میرے بھائی عمر قتل ہوگئے تھے ، میں نے سعید ابن العاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار لے لی۔ اس تلوار کا نام " ذوالکثیفہ " تھا۔ میں یہ تلوار لے کر حضور کے پاس آیا۔ حضور نے فرمایا جاؤ اور اسے مقبوضات میں پھینک دو ۔ کہتے ہیں ، میں تلوار پھینک کر لوٹا لیکن میرے حال کو صرف خدا ہی جانتا تھا کہ میرا بھائی بھی قتل ہوگیا اور میرے ہاتھ جو قیمتی چیز لگی تھی وہ بھی نہ مل سکی۔ میں تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ سورة انفال نازل ہوگئی۔ حضور نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ وہ تلوار لے لو جو تمہارے ہاتھ لگی تھی۔
امام احمد فرماتے ہیں ، اسود ابن عامر نے روایت کی ، ابوبکر سے ، عاصم ابن ابو النجود سے ، مصعب ابن سعد سے ، سعد ابن مالک سے۔ یہ کہتے ہیں : میں نے حضور سے کہا کہ آج اللہ نے مشرکین سے مجھے شفا عطا کی تو یہ تلوار آپ مجھے بخش دیں۔ حضور نے فرمایا یہ تلوار نہ میرے لیے ہے اور نہ تیرے لیے۔ اسے ادھر رکھ دو ۔ تو اس نے کہا کہ میں تلوار رکھ دی اور واپس ہوگیا۔ ممکن ہے کہ یہ تلوار اس شخص کو ملے جس نے میری طرح اس کا حق ادا نہ کیا ہو۔ اچانک میں نے سنا کہ ایک شخص پیچھے سمجھے پکار رہا ہے۔ کہتے ہیں میں نے یہی سمجھا کہ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوگئی۔ حضور نے فرمایا تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی ، اور یہ میری ملکیت نہ تھی اور اب یہ مجھے بخش دی گئی ہے لہذا اب یہ تمہاری ہے " اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۔ ابو داود ، ترمذی ، نسائی نے ابوبکر ابن عیاش سے یہ روایت نقل کی ہے۔ متعدد طریقوں سے امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔
ان روایات سے وہ فضا معلوم ہوجاتی ہے جس میں سورة انفال نازل ہوئی۔ انسان یہ روایات پڑھ کر ایک بار حیران سا ہوجاتا ہے کہ اہل بدر اور یہ باتیں ! اس لیے کہ ان میں تو وہ لوگ تھے جو یا تو مہاجرین تھے جنہوں نے مکہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا اور محض اپنے نظریات کی وجہ سے مدینہ چلے آئے تھے اور ان کی نظروں میں اس دنیا کے مفادات بہرحال ہیچ تھے۔ یا ان میں وہ انصار سابقین تھے جنہوں نے ان مہاجریین کو پناہ دی تھی اور انہیں اپنے علاقے اور اموال میں شریک کرلیا تھا۔ وہ ان کے ساتھ اس دنیا کے مفادات میں سے کسی مفاد میں بھی بخل نہ کرتے تھے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ: یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ محتاج ہوں۔
اس صورت حالات کی تشریح کی طرف اشارہ خود ان روایات میں موجود ہے۔ اس وقت مال غنیمت کا تعلق اس بہادری اور شجاعت سے تھا ، جس کا مظاہرہ ایک فوجی میدان جنگ میں کرتا تھا اور یہ مالی انعام اس بات کی علامت بھی ہوا کرتا تھا کہ انعام پانے والے نے داد شجاعت دی ہے اور اس دور میں لوگ اس بات کی خواہش رکھتے تھے کہ انہیں رسول اللہ کے ہاتھوں انعام خصوصی ملے جو براہ راست اللہ کی طرف سے انعام تصور ہوگا۔ خصوصاً اس پہلے معرکے میں جو اسلام اور کفر کے درمیان برپا ہوا۔ اس حرص اور انعام کے اس لالچ میں ایک دوسری صفت دب کر رہ گئی اور بعض لوگوں نے اموال غنیمت کے بارے میں بات کی اور اللہ نے ان کو اس صفت کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا۔ وہ یہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ معاملات میں ذرا حسن معاملت کی ضرورت ہے اور تمہاری قلبی اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ چناچہ انہوں نے اس بات کو اچھی طرح محسوس کرلیا اور سمجھ گئے۔ ایک موقع پر حضرت عبادہ ابن الصامت نے فرمایا : " یہ آیات ہم اصحاب بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ جب ہم نے اموال غنیمت میں اختلاف کیا اور اس میں ہم اخلاقی حدود سے آگے نکل گئے۔ اللہ ان اموال کو ہمارے اختیار سے نکال لایا اور رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں دے دیا "
اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کی عملی اور لسانی تربیت فرمائی۔ چناچہ اموال غنیمت کی تقسیم کے اختیارا ان سے لے لیے اور کلی طور پر نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دئیے۔ یہاں تک کہ تقسیم غنائم کے بارے میں تفصیلی احکامات نازل ہوئے۔ لہذا اس معاملے میں ان کے لیے کسی تنازعے کا کوئی حق ہی نہ رہا۔ یہ اللہ کا فضل ہوگیا۔ رسول اللہ نے ان کے درمیان ان کی تقسیم اس طرح فرمائی جس طرح رب تعالیٰ نے آپ کو ہدایت دی۔ اس عملی اصلاح کے ساتھ ساتھ یہ طویل اور مسلسل ہدایت بھی ان کو دی گئیں اور یہ ہدایت اس سورة میں دور تک چلی گئیں۔ آغاز یوں ہوا :
يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : لوگ تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو " یہ انفال تو اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اگر تم مومن ہو "
یہ سوال ان لوگوں کی جانب سے تھا جنہوں نے غنائم پر تنازعہ کیا تھا اور یہ پکار بھی انہی کے نام ہے کہ اللہ کا خوف کرو ، اللہ تمہارے دلوں کا خالق ہے اور تمہارے دلوں میں جو باتیں آتی ہیں ان کو وہ جانتا ہے۔ اللہ اس بات پر گرفت نہیں کرتا کہ کسی کے دل میں دنیاوی مقاصد کی خواہش کیوں آتی ہے۔ اور اس پر نزاع کیوں واقع ہوگیا۔ اگرچہ اس نزاع کی تہ میں یہ جذبہ تھا کہ رسول کے ہاتھوں ان کو انعام ملے جو ان کے حسن کار کردگی پر دلیل وبرہان ہو۔ لیکن اللہ نے دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے یہ ضروری قرار دیا کہ تم اپنے دلوں میں تقوی اور خدا خوفی کا جذبہ پیدا کرو ، اس لیے کہ جس دل کا تعلق باللہ نہ ہو اور وہ اللہ کے غضب سے نہ ڈرتا ہو اور اسے رضائے الہی کے حصول کی خواہش نہ ہو تو وہ ہر گز دنیاوی مفادات کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور وہ کبھی بھی شعوری طور پر ان آلودگیوں سے دور نہیں ہوسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ تقوی دلوں کی لگام ہے اور تقویٰ ہی کے ذریعے دلوں کی قیادت کی جاسکتی ہے اور بڑی ہی سہولت کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ قرآن کریم اول سے آخر تک انسان کی قیادت اسی تقوی اور تعلق باللہ کی لگام کے ذریعے کرتا ہے اور اس کو اصلاح کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
قرآن کہتا ہے فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ : تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔ اور آگے کہا جاتا ہے کہ یہی وہ ذریعہ ہے جس کی وجہ سے تم اطاعت رسول کرسکتے ہو۔ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو "
اور اور رسول کی پہلی اطاعت یہ ہے کہ تم ان احکام کو تسلیم کرو جو اللہ کی طرف انفال کے بارے میں آ رہے ہیں۔ مثلاً اموال غنیمت کو اب مجاہدین کی ملکیت سے نکال دیا گیا ہے اور ان کی ملکیت اللہ اور رسول کو دے دی گئی ہے۔ لہذا اب ان کے بارے میں تصرف کا حق صرف اللہ اور رسول کو ہے۔ اہل ایمان کا فرض یہ ہے کہ اس کے بارے میں اللہ اور رسول کے احکام کو تسلیم کریں۔ اور اللہ کی ہدایات کے مطابق رسول اللہ کی تقسیم کو قبول کریں اور بطیب خاطر قبول کریں ، راضی برضا ہوں اور اپنے ما بین کے تعلقات کی اصلاح کریں اور اپنے شعور اور احساسات کو درست کریں اور اپنے دلوں کو ایک دوسرے کے معاملے میں صاف کرلیں۔ ان کنتم مومنین : اگر تم مومن ہو۔
یہ ضروری ہے کہ ایمان کی کوئی عملی اور واقعی صورت ہو۔ اور اس عملی صورت میں ایمان نظر آئے اور واضح طور پر نمایاں ہو۔ وہ مجسم شکل میں نظر آئے اور انسان کے اعمال اس کے ایمان کے ترجمان ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لیس الایمان بالتمنی ولکن ھو ما وقرنی فی القلب و صدقۃ لاعمال : ایمان صرف تمنا نہیں ، یہ دل میں جاگزیں ہوتا ہے اور اعمال ایمان کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اس قسم کے فقرے فیصلہ کن انداز میں بار بار آتے ہیں اور ان سے مقصود یہی ہوتا ہے کہ ایمان کی حقیقت کیا ہے اور اس کا اعمال کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ ایمان صرف الفاظ کا نام نہیں ہے جو زبان پر جاری ہوتے ہیں ، یا وہ محض تمنا بھی نہیں ہے جو نہ عالم واقعہ میں کچھ حقیقت رکھتی ہو اور نہ عالم اعمال میں اس کا وجود ہو۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ایک سچے مومن کی حقیق صفات کیا ہوتی ہیں تاکہ ان کو یہ بتایا جائے کہ ان کنتم مومنین سے مراد کیا ہے ؟ چناچہ بتایا جاتا ہے کہ رب العالمین کے نزدیک مومن ایسا ہوتا ہے۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ ۔ الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ ۔ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭلَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ ۔ سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب پاس بڑے درجے ہیں (قصوروں سے درگذر ہے اور بہترین رزق ہے) ۔
لفظی اور نحوی اعتبار سے ان آیات کا طرز تعبیر نہایت ہی معنی خیز ہے اور نہایت ہی گہری معنویت رکھتا ہے۔ یہاں لفظ قصر (انما) استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہاں کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ ہم لفظ انما کی قصر کی تاویل کریں جبکہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی تاکید سے ایک بات کہنا چاہتے ہیں ، تاویلات یوں کی گئی ہیں کہ اس سے مراد ایمان کامل ہے۔ اگر اللہ اس طرح کہنا چاہتا تو کہتا کہ کامل مومن وہ ہیں جو ایسے ایسے ہوں ، در حقیقت یہ ایک نہایت مفصل تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کا احساس و شعور ایسا ہو اور جن کے صفات و اعمال ایسے ہوں وہی درحقیقت مومن ہوتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ صفات و اعمال نہیں ہیں وہ مومن نہیں ہیں اس لیے کہ اس آیت کے آخر میں اس نکتے کی بتکرار تاکید کی گئی ہے : اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا : ایسے ہی لوگ فی الحقیقت مومن ہیں۔ اور جو لوگ فی الحقیقت مومن نہیں ہوتے وہ پھر کس طرح کے مومن کہلاتے ہیں۔ قرآن کی تعبیرات خود ایک دوسرے کی تشریح و تفسیر کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فماذا بعد الحق الا الضلال : حق سے آگے گمراہی کے سوا اور ہو کیا سکتا ہے۔ اس لیے جو حق نہ ہوگا وہ ضلالت ہوگی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ المومنون حقا کے مقابلے کی تعبیر یہ نہیں ہوسکتی۔ المومنون ایمانا غیر۔۔۔ لہذا قرآن مجید کی اس قدر واضح اور دقیق انداز تعبیر کو تاویلات کے خراد پر نہیں چڑھانا چاہیے جن کی وجہ سے ہر صحیح تصور اور ہر صحیح تعبیر اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض سلف صالحین یہ کہتے تھے کہ جس شخص کے عقیدے کے اندر اور اعمال کے اندر یہ صفات نہ ہوں اس نے ایمان نہیں پایا۔ اور وہ سرے سے مومن ہی نہیں ہے۔ ابن کثیر میں ہے ، علی بن طلحہ حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آیت اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ میں درحقیقت منافقین کا ذکر ہے ، وہ جب نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کے دلوں میں کچھ بھی داخل نہیں ہوتا اور در حقیقت آیات الہیہ پر ایمان ہی نہیں رکھتے اور اللہ پر توکل ہی نہیں کرتے۔ اور جب لوگوں کے سامنے نہ ہوں تو ان کے ساتھ صلہ رحمی بھی نہیں کرتے اور وہ اپنے اموال کی زکوۃ بھی نہیں دیتے۔ تو اللہ نے ان منافقین کے بارے میں خبر دی کہ وہ مومن نہیں ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے حقیقی مومنوں کی صفات گنوا دیں۔ مثلاً :
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ " اہل ایمان وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں " اس طرح وہ اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا : " جب ان پر آیات الہیہ پڑھی جائیں تو ان کا ایمان زیادہ ہوجاتا ہے۔ یعنی ان کی تصدیق میں اضافہ ہوتا ہے۔ وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ : " اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں "
آئندہ سطور میں ہم یہ ثابت کریں گے کہ ان حقائق کے بغیر سرے سے ایمان کا وجود ہی نہیں قائم رہتا۔ اور اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے اور نہ ہونے سے ناقص ہوتا ہے بلکہ سوال ایمان کے عدم یا وجود کا ہے : " اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں "۔ جب کوئی مومن کسی امر یا نہی کے سلسلے میں اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے دل کے اندر ایک وجدانی ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ان کے دل پر اللہ کی جلالت شان کی وجہ سے ہیت طاری ہوجاتی ہے اور ان کے دل میں خوف خدا کی لہریں اٹھتی ہیں ، اس طرح ان کی تقصیرات اور گناہوں کے بالمقابل اللہ کی ہیبت آ کھڑی ہوتی ہے اور اس طرح وہ باعث بنتی ہے عمل اور طاقت کا۔ جیسا کہ ام الدرداء ؓ نے کہا : الوجل فی القلب کافراق السعفۃ اما تجد لہ قشطریرہ ؟ قال بلی قالت اذا وجدت فاذا وجدت ذلک فادع اللہ عند ذلک فان الدعاء یذھب ذلک۔ " وجل " کا مطلب یوں سمجھیے کہ جب کسی کو پھنسیاں نکل آئیں تو اسے جلن ہوتی ہے۔ کیا تم ایسی حالت میں کپکپی محسوس نہیں کرتے۔ کہاں ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ فرمایا جب تم ایسی حالت کو پاؤ تو اللہ کو پکارو ، دعا کے نتیجے میں یہ حالت چلی جاتی ہے۔
غرض یہ وہ حالت ہے جس میں دل میں بےقرار پیدا ہوجاتی ہے اور ایسے حالات میں ذکر اور دعاء کے نتیجے میں انسان کو راحت اور قرار نصیب ہوتا ہے اور یہ وہ حالت ہے جب انسان کسی امر اور نہی کے معاملے میں اللہ کو یاد کرتا ہے۔ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا : اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ قلب مومن کے لیے فی الحقیقت ان آیات میں وہ نکات ہیں جو اس کے ایمان کے لیے اضافے کا باعث ہوتے ہیں اور جن کی وجہ سے مومن کو اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے۔ قرآن قلب مومن کے ساتھ براہ راست سلوک اور برتاؤ کرتا ہے اور قرآن اور قلب مومن کے درمیان صرف کفر کا پردہ حائل ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے قرآن سے قلب محجوب ہوجاتا ہے اور قلب سے قرآن۔ جب ایمان کی وجہ سے حجاب اٹھتا ہے تو دل حلاوت قرآن کو محسوس کرنے لگتا ہے اور اس طرح قرآنی اثرات پڑتے پڑتے ایمان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کامل اطمینان کے مقام تک پہنچا جاتا ہے۔ جس طرح قرآن کے اثرات دل میں ایمان کی زیادتی کا باعث ہوتے ہیں۔ اسی طرح دل بھی قرآن کے اثرات کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ فقرہ بار بار آتا ہے۔ ان فی ذلک لایات للمومنین۔ بیشک اس میں مومنین کے لیے نشانیاں ہیں۔ اس فقرے میں اسی حقیقت کو دہرایا جاتا ہے۔ ان فی ذلک لایات لقوم یومنون۔ اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو ایمان لاتی ہے۔ اور بعض صحابہ کرام کے اس قول کا یہی مطلب ہے کہ " ہمیں قرآن دیے جانے سے قبل ایمان دیا جاتا تھا "۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام قرآن کے ساتھ ایک مخصوص تعلق اور ذوق رکھتے تھے۔ اور اس میں ان کی مدد وہ فضا کرتی تھی جس میں وہ باد نسیم کے جھونکے پاتے تھے جبکہ قرآن ان کی عملی زندگی تھا۔ ایک عمل تھا ، محض ذوق و ادراک نہ تھا۔ اس آیت کے نزول کی روایات میں ایک روایت سعد ابن مالک کا قول ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ درخواست کی تھی کہ ان کو مال غنیمت کے طور پر ایک تلوار دے دیں۔ اس وقت قرآن کی وہ آیات نازل نہ ہوئی تھیں جن میں غنائم کو حضور ﷺ کے اختیارات کی طرف لوٹا دیا گیا تھا۔ آپ کو نہ یہ اختیار دیا گیا تھا کہ آپ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں۔ اور حضور نے انہیں جواب دیا تھا : بیشک یہ تلوار نہ میری اور نہ تیری ہے۔ اسے اموال کے ساتھ رکھ دیں " جب سعد کو دوبارہ پیچھے سے پکارا گیا حالانکہ وہ تلوار رکھ کر واپس ہوگئے تھے تو وہ توقع رکھتے تھے کہ شاید اللہ نے اس معاملے میں کچھ آیات اتار دی ہیں۔ کہتے ہیں : " میں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں کچھ آیات نازل کردی ہیں ؟ " تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، تم نے مجھ سے تلوار کے لیے درخواست کی تھی ، حالانکہ اس وقت وہ میرے اختیار میں نہ تھی ، اب چونکہ اللہ نے غنائم مجھے دے دیے ہیں لہذا میں نے تجھے دے دی " یہ تھا ان لوگوں کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ اور یہ تھا ان کا سلوک اس قرآن کے ساتھ جو مسلسل نازل ہورہا تھا۔ یہ ایک عظیم طرز عمل ہے۔
انسانی تاریخ میں یہ ایک عجیب دور تھا۔ اس لیے وہ قرآن کو اس طرح چکھتے تھے اور اسے سنتے ہی اپنی عملی زندگی میں واقعیت دے دیتے تھے۔ ان کا یہ ذوق خاص اس واقعیت کو ایک نہایت ہی اچھی کیفیت عطا کردیتا تھا اور سامع اور قاری دونوں کو ایک دوسرے سے متاثر ہوتے تھے۔ اگرچہ یہ پہلا تجربہ تو دہرایا نہیں جاسکتا لیکن جب بھی اس کرہ ارض پر کوئی مومن گروہ وجود میں آتا ہے تو ایسے ہی تجربات سامنے آتے رہتے ہیں بشرطیکہ اٹھنے والی تحریکات دین کو اسی طرح قائم کرنے کا مقصد پیش نظر رکھتی ہوں جس طرح جماعت مسلمہ اولی کا مقصد تھا اور ایسی ہی جماعتیں جو کہیں کہیں اٹھتی ہیں اور جماعت اول کی طرح اقامت دین کا نصب العین رکھتی ہیں ، انہی کے اندر قرآن فہمی کا وہ ذوق پیدا ہوتا ہے ، جو جماعت اولیٰ کے مماثل ہوتا ہے۔ اس کی تلاوت سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان جماعتوں کے نزدیک دین اس تحریک کا نام ہوتا ہے جس کا مقصد دین کی اقامت ہو اور اس پہلے تجربے کو دہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے نزدیک ایمان محض تمنا نہیں ہوتا بلکہ ایمان اس حقیقت کو کہا جاتا ہے جو دل میں اچھی طرح جاگزیں ہو اور عمل کی صورت میں اس کا ظہور ہو۔ وعلی ربہم یتوکلون اور وہ اپنے رب پر اعتماد کرتے ہیں۔ صرف رب پر۔ نحوی ترکیب کی رو سے اس کا یہی معنی ہے یعنی حصری۔
وہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرکے اس سے نہ استعانت کرتے ہیں اور نہ اس پر توکل کرتے ہیں۔ امام ابن کثیر نے لکھا ہے " وہ اس کے سوا کسی سے امید نہیں رکھتے ، کسی کی طرف قصد ہی نہیں کرتے ، کسی کے ہاں پانہ ہی نہیں لیتے ، کسی سے حوائج طلب نہیں کرتے ، کسی کی طرف ان کی رغبت اور میلان ہی نہیں ہوتا اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ جو کچھ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو کچھ نہیں چاہتا ، نہیں ہوتا۔ وہ اس کائنات میں اکیلا صاحب اختیار ہے ، اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، نہ اس کے حکم سے کوئی سرتابی کرسکتا ہے۔ وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ چناچہ حضرت سعید ابن جبیر کہتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ایمان کی لذت ہے۔
یہ تو ہے اللہ کی وحدانیت کے عقیدے کا اخلاص ، اللہ کی بندگی کا اخلاص ، لہذا اب یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک دل میں عقیدہ توحید بھی ہو اور اس کے ساتھ وہ شخص اللہ کے سوا اوروں پر بھروسہ بھی کرتا ہو۔ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں اور دوسروں پر تکیہ کرتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ذرا غور سے اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور دیکھیں کہ آیا ان میں ایمان بھی ہے یا نہیں۔
ہاں اللہ پر توکل مانع اساب نہیں ہے کیونکہ مومن اسباب کو بھی ایمان اور اطاعت کی راہ سے لیتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ مسبب الاسباب بھی اللہ ہے اور اسی نے انسان کو راہ اسباب اختایر کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن مومن کا یہ ایمان بھی ہوتا ہے کہ نتائج کا نکلنا اسباب پر موقوف نہیں ہے۔ جس طرح اسباب اللہ کی مخلوق و مقدور میں ہیں اسی طرح نتائج بھی اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ مومن کے شعور و عقیدہ میں یہ بات لازمی نہیں ہے کہ خدا کے مہیا کردہ اسباب کے بعد بھی نتائج نمودار ہوں۔ لہذا اسباب کا اختیار کرنا عبادت و اطاعت ہے اور نتائج اللہ کی تقدیر پر نمودار ہوں گے۔ نتائج کا صدور اللہ کی تقدیر کے تابع ہے۔ صرف اللہ چاہے تو نتائج نمودار ہوں گے۔ ایک مومن کے شعور میں اسباب و نتائج کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک مومن کا شعور اسباب کی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے اور اس آزادی کے ساتھ ساتھ ایک مومن اسباب کو برائے حصول ثواب اختیار کرتا ہے تاکہ وہ اللہ کا مطیع ہو۔
جاہلیت جدیدہ ابھی تک اپنے اس نظریہ کے تاریک سمندر میں غوطے کھا رہی ہے کہ اسباب و مسبب کا باہم تعلق قطع ہے اور قوانین طبعی اٹل ہیں تاکہ اللہ کی تقدیر اور اللہ کی غیبی قوت کی نفی کرسکیں۔ لیکن جونہی اس جاہلیت نے اس راہ پر ایک حد تک سفر طے کیا اسے معلوم ہوگیا کہ اس کے آگے تو اللہ کی تقدیر کی حدود شروع ہوگئی ہیں اور اس سرحد پر یہ جاہلیت حیران و پریشان کھڑی ہے اب اس نے عالم مادی میں قوانین طبیعت کے اٹل ہونے کے نظریے کو ترک کرکے " احتمالات " کا نظریہ اپنا لیا ہے۔ گویا پہلے جس چیز کو وہ اٹل کہتے تھے اب محتمل ہوگئی ہے اور عالم غیب کی جس سرحد پر یہ جاہلیت کھڑی ہے۔ اس سے آگے اس کے تمام راستے بند ہیں اور یہی حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ یہ تقدیر الٰہی ہی ہے جو اس عالم میں کام کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ آیت اس عالم غیب پر حکمران ہے۔ لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا تمہیں نہیں معلوم کہ شاید اللہ اس کے بعد کوئی بات پیدا کردے۔ تقدیر الہیہ کا نظریہ ہی حتمی اور آخری نظریہ ہے۔ اور یہ نظریہ صاف کہتا ہے کہ اس دنیا کے مادی قوانین کے پیچھے ارادہ الہیہ کار فرما ہے اور اللہ کا ارادہ بےقید ہے۔ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے اور اس کا ارادہ مطلق اور آزاد ہے ۔ اپنے بنائے ہوئے نظام اسباب و مسبب کا پابند نہیں ہے۔
سر جیمس طبیعات اور ریاضی کے پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں : " قدیم سائنس یہ بات وثوق سے کہتی تھی کہ طبیعت صرف ایک ہی راہ لے سکتی ہے اور وہ وہی راہ ہے جو اس کے لیے اس کے چلنے سے پہلے ہی تجویز کردی گئی ہے۔ اس پر اسے آغاز سے لے کر انجام تک چلنا ہے۔ اور مسلسل اور دائما علل اور معلول کا قانون اس کائنات میں جاری ہے۔ اس بات میں تخلف نہیں ہوسکتا کہ حالت (الف) کے بعد حالت (ب) پیدا ہوگی۔ رہی جدید سائنس تو اس کی رو سے صرف ہی بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ حالت (ب) کے بعد اس بات کا احتمال ہے کہ حالت (ب) کے ظہور کا احتمال دوسرے احتمالات سے زیادہ ہے۔ یا ج کا احتمال (د) سے زیادہ ہے علی ھذا القیاس۔
نیز سائنس کے دائرہ قدرت کے اندر یہ بات بھی ہے کہ وہ (ب) ، (ج) اور (د) کے احتمالات کی نسبت کا تعین کردے۔ لیکن نتیجے کے بارے میں کوئی یقینی بات کہنا مشکل ہے۔ کہ (الف) کی حالت کے بعد کون سی حالت کا ظہور ہوگا کیونکہ احتمال بہرحال احتمال ہوتا ہے لیکن کون سی حالت صادر ہوئی ہے۔ یہ پھر تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اب تقدیر کی حقیقت کیا ہے ، جو حقیقت بھی ہو " (تفصیلی بحث ہم آیت عندہ مفاتح الغیب میں کر آے ہٰں) (دیکھیے پارہ ہفتم ص)
جب قلب مومن اسباب ظاہریہ کے دباؤ سے آزاد ہوجائے تو پھر غیر اللہ پر بھروسہ کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں رہتا۔ اس لیے کہ یہ اللہ کی تقدیر ہی ہے ، جس کے پیچھے سے سب کچھ نمودار ہورہا ہے اور یہی یقینی حقیقت ہے۔ رہے ظاہری اسباب تو ان کے نتیجے میں صرف حتمی احتمالات ہی وجود میں آسکتے ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم انقلاب جو اسلامی نظریہ حیات انسانی قلب کے اندر پیدا کردیتا ہے اور اسی کے مطابق انسانی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ جدید جاہلیت تین سو سال تک اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتی رہی اور پورے تین سو سال کے بعد وہ اس ابتدائی حقیقت کے دروازے تک پہنچ سکی ہے۔ یعنی کالص عقلی اعتبار سے۔ لیکن ابھی تک شعوری طور پر وہ اس حقیقت میں داخل نہیں ہوئی ہے اور نہ انسانیت نے ابھی تک وہ طرز عمل اختیار کیا ہے جو اللہ کے نظام قضا وقدر کے ساتھ اختیار کیا جانا چاہیے یا جو اسباب ظاہریہ کے ساتھ اختیار کیا جانا چاہیے۔ یہ انقلاب در اصل عقلی آزادی اور عقلی انقلاب ہے۔ شعوری انقلاب ، سیاسی انقلاب ہے۔ معاشرتی انقلاب ہے اور اخلاقی انقلاب ہے۔ اور کوئی انسان جب تک وہ اسباب کا غلام ہے اور طبیعت کو اٹل سمجھتا ہے ، آزاد نج ہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ جب وہ اسباب کو اٹل سمجھتا ہے تو پھر وہ انسانوں کے ارادے کا غلام بن جائے گا یا طبیعت کے ارادے کا غلام تصور ہوگا۔ کیونکہ اگر کوئی شخص اللہ کے ارادے اور تقدیر کے سوا کسی اور چیز کو بھی حتمی سمجھتا ہے تو اسے سمجھ لینا چاہی کہ وہ آزاد نہیں ہے ، غلام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا کہ صرف اللہ پر بھروسہ کرو اور اللہ اور صرف اللہ پر بھروسہ ہی ایمان اور عدم ایمان پر دلالت ہے اسلام کا نظام تصورات ایک کل اور اکائی ہے۔ اور اس تصور حیات پر جو نظام تجویز ہوا ہے وہ بھی ایک کل ، متکامل اور اکائی ہے۔ الذین یقیمون الصلوۃ جو نماز قائم کرتے ہیں۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان ایک متحرک صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اس سے قبل جو حقائق بیان ہوئے ، ان میں ایمان ایک قلبی اور ذہنی حقیقت تھی ، جو نظر نہ آتی تھی۔ کیونکہ ایمان کی تعریف ہی یہ ہے جو دل میں پروقار طریقے سے بیٹھا ہو اور اعمال جوارح ہی اس کی تصدیق کر رہے ہوں کہ وہ ہے۔ لہذا عمل ایمان کی دلالت ظاہری ہے۔ اور یہ ظاہری علامات کا ظہور لابدی ہے تاکہ یہ گواہی فراہم ہوسکے کہ دلوں کے اندر ایمان موجود ہے۔
اقامت صلوۃ کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ نماز کو ادا کرلیا جائے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نماز کو حقیقی معنوں میں ادا کیا جائے یوں کہ نظر آے کہ نمازی اللہ کے حضور کھڑا ہے۔ نماز محض قیام قعود اور قراۃ ہی نہ ہو کہ رکوع و سجود ہو اور دل غافل ہو۔ نماز اگر صحیح طرح قائم ہو تو وہ ایمان پر گواہ ہے۔ و مما رزقنہم ینفقون۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے ، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ عام ہے خواہ زکوۃ ہو یا دوسرے صدقات ہوں جو بھی خرچ کیا جائے وہ اللہ کے دیے ہوئے سے ہوگا۔ اس لیے وہ اللہ کے دین کا حصہ تصور ہوگا۔ قرآن کی ہدایت کا اپنا رنگ ہوتا ہے اور اس کے اندر خاص تعبیری اشارات ہوتے ہیں۔ یہاں یہ اشارہ ہے کہ اس مال و دولت کو تم نے نہیں پیدا کیا۔ یہ تو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور تمہیں جو بھی دیا گیا ہے وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے اور اللہ کا دیا ہوا اس قدر زیادہ ہے کہ انسان اسے گن ہی نہیں سکتا۔ اور جب انسان اللہ کے دیے ہوئے میں سے دیتا ہے تو ظاہر ہے اس کا ایک حصہ دیتا ہے اور باقی کو اپنے لیے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کا دیا ہوا ہوتا ہے۔
یہ وہ صفات ہیں جن کے اندر اللہ نے ایمان کو محدود کردیا ہے۔ ان صفات میں ایک تو اللہ کی وحدانیت کا اعتقاد ہے اور اس کی وحدانیت کو قبول کرتے ہوئے ذکر الہی اور پھر اللہ کی آیات اور ذکر الہی سے قلبی تاثر لینا ، پھر اللہ وحدہ پر توکل کرنا ، پھر اقامت صلوۃ کما حقہ ، اور سب سے آخر میں یہ کہ اللہ کے دیے ہوئے میں سے کچھ حصہ اس کی راہ میں صرف کرنا ، یہ ہیں اس مقام پر علامات ایمان۔
یہ آیات وصفات در حقیقت ایمان کے اجزاء اور تفصیلات نہیں ہیں۔ جیسا کہ دوسری آیات میں ذکر ہوا ہے بلکہ یہاں ایمان کی واقعی صورت حالات کو بیان کیا گیا ہے یعنی وہ واقعی صورت حالات جن میں انفال و غنائم کے بارے میں اختلاف ہوگیا اور اہل ایمان کے باہم تعلقات خراب ہوگئے۔ لہذا یہاں اہل ایمان کو مومنین کی صفات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ اہل ایمان کی صفات ایسی ہوتی ہیں لیکن اگر ان صفات میں سے کسی میں کوئی صفت بھی موجود نہ ہو تو ایسے لوگوں سے حقیقت ایمان عملا منفی ہوسکتی ہے۔ لہذا یہ صفات ایمان کی اساسی علامات ہیں ، چاہے یہ ایمان کی پوری صفات ہوں یا پوری نہ ہوں ، کیونکہ یہ اسلامی نظام کی تربیت کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ مخصوص حالات کے لیے ایمان کی کون سی شائط کا تذکرہ کرتا ہے اور کون سی شرائط کا نہیں کرتا۔ کیونکہ اسلامی منہاج تربیت ایک عملی اور حقیقت پسندانہ منہاج ہے۔ یہ محض نظریاتی طریقہ کار نہیں ہے کہ وہ ایک نظریہ کو وضع کرے اور اسے پھیلائے فقط۔ اسی قاعدے کے مطابق یہ آخری تبصرہ ہوتا ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭلَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ ۔
ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں۔ قصور سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔
یہ وہ صفات ہیں جو کوئی بھی حقیقی مومن اپنے نفس اور اپنے اعمال کے اندر موجود پاتا ہے۔ اگر یہ تمام صفات کسی کی ذات سے غآئب ہوں تو گویا اس میں ایمان کی کوئی صفت نہیں ہے۔ یہ آیات چونکہ ایک واقعی صورت حالات کی طرف مخاطب ہیں اس لیے ان کا تقاضا یہ ہے کہ مخصوص حالات میں جس کار کردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے اجر عظیم ہے اور جن لوگوں کے اندر یہ صفات ہیں ان کے لی اللہ کے نزدیک اجر عظیم ہے اور بڑے درجے ہیں۔ اسی طرح ان میں ان واقعات کی طرف بھی اشارہ ہے جو اس وقت اہل ایمان کے درمیان رونما ہوئے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے فرمایا تو ان آیات میں کہا گیا کہ ان لوگوں کے لیے مغفرت ہے۔ اور جن لوگتوں نے اموال کے لیے نزاع کیا ان کے لیے بہترین رزق ہے۔ لہذا ان آیات میں ان جزوی واقعات کی طرف بھی اشارہ ہے۔ اور اپنی جگہ بات اصولی طور پر کہہ دی گئی ہے کہ مومن ایسے ہوتے ہیں۔ یہ ان کی صفات ہیں اور جس میں یہ نہ ہوں وہ اپنے ایمان کی خبر لے۔ اولئک ھم المومنون حقا۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔
پہلی اسلامی جماعت کو یہ بات سکھائی جا رہی ہے کہ ایمان کی ایک حقیقت ہے اور ہر مومن کو چاہیے کہ اس کے نفس میں وہ حقائق پائے جائیں ، ایمان محض دعای نہیں ہے۔ نہ ایمان چند کلمات کا نام ہے اور نہ چند معصوم تمناؤں کا نام ہے۔ حافظ طبرانی ایک روایت کرتے ہیں محمد بن عبداللہ حضرمی سے ، ابوبکر سے ، ابن بن الحباب سے ، ابن لہیعہ سے ، خالد ابن یزید سس کی سے ، سعید ابن بلال سے ، محمد ابن ابوالجہم سے ، حارث ابن مالک انصاری سے ، یہ کہتے ہیں : کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور رسول اللہ نے کہا : حارث تم صبح کیسے اٹھے ؟ تو حارث نے کہا " میں ایک سچے مومن کی طرح اٹھا ہوں "۔ آپ نے فرمایا ذرا دیکھو کیا کہہ رہے ہو ؟ کیونکہ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ بتاؤ تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ حارث نے کہا " میں نے دنیا سے نفرت کرلی ہے ، رات کو جاگتا ہوں اور دن کو مطمئن رہتا ہوں۔ میری حالت یہ ہے کہ گویا میں اللہ کے عرش عظیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ گویا میں اہل جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور میں اہل جہنم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کر رہے ہیں۔
حضور نے فرمایا : " حارث تم نے پا لیا ہے لہذا اسے پکڑے رکھو " یہ بات آپ نے تین بار کہی۔ یہ صحابی جو رسول اللہ کی طرف سے سند معرفت کے مستحق قرار پائے انہوں نے اپنے نفس کا حال بیان کرتے ہوئے ایسی باتوں کا ذکر کیا جس سے اس کے شعور کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے اور اس نے ایسی چیزوں کا تذکرہ بھی کیا جن کا تعلق اعمال و حرکات سے ہے ، گویا وہ عرش ربی کو دیکھ رہا ہے۔ اہل جنت کو دیکھ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اہل جہنم کو دیکھ رہا ہے۔
یہ صحابی محض نظریات کی بات نہیں کرتے۔ وہ مسلسل اعمال کی بات کرتے ہیں۔ یہ اعمال اور حرکات اسی شعور سمیت اس کی زندگی پر حاوی ہیں۔ وہ رات کو جاگتے اور دن کو اطمینان کے ساتھ سوتے ہیں اور یقین ایسا ہے کہ انہیں سب کچھ نظر آ رہا ہے۔
حقیقت ایمان کے بارے میں ہمیں بہت ہی سنجیدہ ہونا چاہیے۔ اس لیے اس معاملے میں ہمیں اس قدر لبرل نہیں ہونا چاہیے۔ ایمان چند کلمات کا نام رہ جائے جو زبان پر جاری ہوتے رہیں لیکن عملی زندگی اس کے برعکس گواہی دے رہی ہو۔ تو یہ حالت حقیقت ایمان سے خالی ہے احتیاط کے معنی یہ نہیں کہ ہم ایمان کے بارے میں صرف لبرل ہوجائیں۔ ایمان کی شعوری حقیقت کا وجود لازمی ہے۔ اور اس کے تصور میں احتیاط ضروری ہے۔ خصوصا ان لوگوں کے معاملے میں جن کا دعوی یہ ہے کہ وہ امامت دین کا فریضہ سر انجام دینے کے لیے اٹھے ہیں جبکہ آج یہ لوگ جس آبادی میں اقامت دین کا کام کرنے اٹھے وہ مکمل جاہلیت میں ڈوبی ہوئی ہے اور جاہلیت کے قالب میں ڈھل چکی ہے۔
۔۔۔
الأنفال 8:4
درس نمبر 83 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا پہلا سبق ہے۔ اس کا موضوع انفال اور اموال غنیمت کی تقسیم ہے۔ اموال غنیمت اور انفال میں وہ تمام چیزیں شامل ہوتی ہیں جو میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ لگتی ہیں ، جبکہ یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہو۔ سب سے پہلے اہل بدر کے درمیان اموال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں اختلافات پھوٹ پڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خدا خوفی اور اطاعت رسول کے معاملے کی طرف بھی متوجہ کیا اور لوگوں کے دلوں میں ایمان اور تقوی کے جذبات ابھارے گئے۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں یاد دلایا کہ تم تو آغاز ہی سے یہ چاہتے تھے کہ قافلے پر حملہ کرکے مال غنیمت حاصل کرلو۔ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ تمہیں نصرت اور عزت سے نوازے۔ پھر انہیں یاد دلاای کہ ذرا اس معرکے کے مراحل پر غور کرو کہ تمہاری تعداد اور سازوسامان دشمن کے مقابلے میں بہت ہی کم تھا ، وہ تم سے کہیں زیادہ تھا۔ مگر اللہ نے فرشتوں کے ذریعے تمہارے قدم مضبوط کیے۔ پھر اس نے بارش برسا کر تمہارے لیے لڑنا آسان کردیا۔ تمہارے پاؤں مضبوطی سے جمتے تھے ، تم بارش کے پانی سے مویشیوں کو سیراب کرائے تھے اور غسل کرتے تھے کیونکہ جنگ بدر ریت کے میدان میں لڑی گئی تھی اور ریت میں انسانوں اور گھوڑوں کے قدم دھنس جایا کرتے ہیں۔ پھر یاد دلایا گیا کہ تم کو ایک قسم کی نیند نے آ لیا اور نیند آتے ہی تم مطمئن ہوگئے۔ پھر اللہ نے تمہارے دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور ان پر شدید عذاب نازل کردیا۔
ان تجربات کی روشنی میں قرآن ان کو حکم دیتا ہے کہ تم ہر جنگ میں ثابت قدمی اختیار کرو۔ اگرچہ بظاہر تمہیں دشمنوں کی قوت زیادہ نظر آئے کیونکہ قتل کرنے والا اللہ ہوتا ہے۔ اللہ ہی دراصل تیر چلاتا ہے وہی معاملات کی تدبیر کرتا ہے ، تم تو در اصل تقدیر الہی کے لیے ایک پردہ ہو ، وہ تمہیں جس طرح چاہتی ہے ، چلاتی ہے۔ اس کے بعد اس سبق میں مشرکین کی اس احمقانہ حرکت پر تبصرہ کیا گیا ہے کہ یہ لوگ اس واقعہ سے قبل اللہ کے سامنے دست بدعا تھے کہ اے اللہ آپ آج کی جنگ میں اس فرقے کو تباہ کردیں جو گمراہ ہو اور جو صلہ رحمی کا قاطع ہو۔ اللہ فرماتے ہیں ان تستفتحوا فقد جاء کم الفتح۔ اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔
مسلمانوں کو کہا جاتا ہے کہ اپنی زندگیوں سے نفاق کو دور کرو اور منافقوں کا رویہ اختیار نہ کرو۔ جو کہتے تو یہ تھے کہ ہم سنتے ہیں لیکن سنتے نہ تھے اس لیے کہ وہ سن کر مانتے نہ تھے۔
اس سبق کے آخر میں مسلمانو کو بار بار پکارا جاتا ہے کہ مسلمانو ! رسول تمہیں جب بھی پکارے تو لبیک کہو ، اس لیے کہ وہ تمہیں ایک ایسی دعوت دیتا ہے جس کے نتیجے میں تمہیں زندگی دوام حاصل ہوگی۔ اگرچہ بظاہر وہ تمہیں موت اور قتل کی طرف بلا رہا ہو۔ اللہ اہل ایمان کو یاد دلاتا ہے کہ وہ وقت یاد کرو جب تم قلیل اور کمزور تھے۔ تمہیں ہر وقت ہر طرف سے ڈر لگا رہتا تھا کہ دشمن کہیں تمہیں اچک نہ جائے۔ ان حالات میں اللہ نے تمہیں پناہ دی ، نصرت دی۔ اور اب تمہارے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ اگر تم تقویٰ کی راہ اختیار کرو تو اللہ تمہیں فیصلہ کن طرز عمل اور فیصلہ کن رائے عطا کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا ، تمہاری تقصیرات سے درگذر کرے گا اور اللہ کے ہاں جو کچھ تمہارے لیے دار آخرت میں تیار ہے وہ اس جہاں کے تمام غنائم و اموال سے کہیں زیادہ ہے۔
۔۔۔
درس نمبر 83 تشریح آیات : 1 ۔۔ تا۔۔ 29:۔
تفسیر آیات 1 تا 4 ۔
يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأنْفَالِ قُلِ الأنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (1)إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (2) الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ (3) أُولَئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَاتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ (4)
اے پیغمبر لوگ تم سے غنیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دو کہ یہ غنیمتیں اللہ اور اس کے رسول کی ہیں ، پس اللہ سے ڈرو اور آپ سکے باہم تعلقات ٹھیک رکھو۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ مومت تو وہ ہے کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب ان پر آیات الہی کی تلاوت ہوتی ہے تو ان کے ایمان کو زیادہ کردیتی ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اس میں خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں اور مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔
ان آیات کے نزول کے بارے میں جو روایات وارد ہیں ، ان کا ایک بڑا حصہ ہم نے اس سورة کے تعارف کے ضمن میں نقل کیا تھا۔ یہاں ہم بعض دوسری روایات کا اضافہ کرتے ہیں۔ تاکہ وہ حالات قاری کے پیش نظر رہیں جن میں عموماً یہ سورت نازل ہوئی ہے۔ خصوصا جن حالات میں وہ آیات نازل ہوئیں جن کا تعلق اموال غنیمت سے ہے۔ ان روایات سے یہ بات بھی معلوم ہوگی کہ مدینہ میں پہلی اسلامی حکومت کے قیام کے وقت جماعت مسلمہ کے خدوخال کیا تھے ؟ اور وہ کن عملی دشواریوں سے گزر رہی تھی۔
ابن کثیر فرماتے ہیں : ابو داود ، نسائی ، ابن جریر ، ابن مردویہ (الفاظ ان کے ہیں) ابن حبان ، اور حاکم نے بواسطہ داود ابن ابو ہند اور عکرمہ ، ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب بدر کا دن آیا تو حضور ﷺ نے فرمایا " جس نے یہ یہ کیا ، اسے یہ یہ جزا ہوگی "۔ اسی طرح قوم کے نوجوان آگے بڑھ گئے اور بوڑھے لوگ جھنڈوں کے آس پاس رہے۔ جب اموال غنیمت کا وقت آیا تو انہوں نے حضور اکرم ﷺ سے وہ مطالبات شروع کردئیے جن کا وعدہ حضور ﷺ نے فرمایا تھا۔ تو بڑے لوگوں نے یہ کہا کہ تم لوگ ترجیحات کا مطالبہ نہ کرو کیونکہ ہم لوگ تمہارے لیے چادر تھے ، اگر تمہیں شکست ہوتی تو تم ہمارے پاس پناہ لیتے۔ اس پر ان دو گروہوں کے درمیان تنازعہ ہوگیا۔ اس موقعہ پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ یسئلونک عن الانفال تا واطیعو اللہ ورسولہ ان کنتم مومنین۔ اور ثوری نے کلبی سے ، ابو صالح سے ، ابن عباس سے یہ روایت کی ہے۔ کہتے ہیں : جب بدر کی جنگ ہوئی ، تو حضور نے فرمایا کہ جس نے کسی کو قتل کیا تو اس کے لیے یہ یہ انعام ہوگا اور جس نے کسی کو قید کیا تو اسے یہ یہ انعام دیا جائے گا "۔ اس موقع پر ابو الیسیر نے دو آدمیوں کو قیدی بنا لیا تو انہوں نے عرض کیا یہ لیجیے حضور آپ نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ اس پر سعد ابن عبادہ کھڑے ہوئے اور فرمایا حضور اگر آپ نے ان لوگوں کو اس طرح غنائم دیے تو آپ کے ساتھیوں کے لیے کچھ نہ رہے گا۔ نیز ہم لوگ لڑائی کرنے سے اس لیے باز نہیں رہے کہ ہمیں اجر کی ضرورت نہ تھی یا ہم دشمن سے ڈرتے تھے۔ ہم یہاں اس لیے کھرے رہے کہ آپ کی حفاظت ہو۔ یہ نہ ہو کہ دشمن پیچھے سے آپ پر حملہ کردے۔ چناچہ اس پر کافی تنازعہ ہوگیا اور اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ یسئلونک عن الانفال قل الانفال للہ والرسول۔ انہوں نے کہا اور اسی سلسلے میں یہ آیات بھی نازل ہوئیں واعلموا انما غنمتم من شیئ فان للہ خمسہ الخ۔
امام احمد نے ایک روایت نقل کی۔ فرماتے ہیں : ابو معاویہ نے روایت کی ہے ، ابو اسحاق شیبانی سے ، محمد ابن عبیداللہ ثقفی سے ، سعد بن ابو وقاص سے ، یہ کہتے ہیں : بدر کی جنگ کے موقعہ پر میرے بھائی عمر قتل ہوگئے تھے ، میں نے سعید ابن العاص کو قتل کیا اور اس کی تلوار لے لی۔ اس تلوار کا نام " ذوالکثیفہ " تھا۔ میں یہ تلوار لے کر حضور کے پاس آیا۔ حضور نے فرمایا جاؤ اور اسے مقبوضات میں پھینک دو ۔ کہتے ہیں ، میں تلوار پھینک کر لوٹا لیکن میرے حال کو صرف خدا ہی جانتا تھا کہ میرا بھائی بھی قتل ہوگیا اور میرے ہاتھ جو قیمتی چیز لگی تھی وہ بھی نہ مل سکی۔ میں تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ سورة انفال نازل ہوگئی۔ حضور نے مجھے حکم دیا کہ جاؤ وہ تلوار لے لو جو تمہارے ہاتھ لگی تھی۔
امام احمد فرماتے ہیں ، اسود ابن عامر نے روایت کی ، ابوبکر سے ، عاصم ابن ابو النجود سے ، مصعب ابن سعد سے ، سعد ابن مالک سے۔ یہ کہتے ہیں : میں نے حضور سے کہا کہ آج اللہ نے مشرکین سے مجھے شفا عطا کی تو یہ تلوار آپ مجھے بخش دیں۔ حضور نے فرمایا یہ تلوار نہ میرے لیے ہے اور نہ تیرے لیے۔ اسے ادھر رکھ دو ۔ تو اس نے کہا کہ میں تلوار رکھ دی اور واپس ہوگیا۔ ممکن ہے کہ یہ تلوار اس شخص کو ملے جس نے میری طرح اس کا حق ادا نہ کیا ہو۔ اچانک میں نے سنا کہ ایک شخص پیچھے سمجھے پکار رہا ہے۔ کہتے ہیں میں نے یہی سمجھا کہ شاید میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوگئی۔ حضور نے فرمایا تم نے مجھ سے تلوار مانگی تھی ، اور یہ میری ملکیت نہ تھی اور اب یہ مجھے بخش دی گئی ہے لہذا اب یہ تمہاری ہے " اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۔ ابو داود ، ترمذی ، نسائی نے ابوبکر ابن عیاش سے یہ روایت نقل کی ہے۔ متعدد طریقوں سے امام ترمذی نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔
ان روایات سے وہ فضا معلوم ہوجاتی ہے جس میں سورة انفال نازل ہوئی۔ انسان یہ روایات پڑھ کر ایک بار حیران سا ہوجاتا ہے کہ اہل بدر اور یہ باتیں ! اس لیے کہ ان میں تو وہ لوگ تھے جو یا تو مہاجرین تھے جنہوں نے مکہ میں اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا اور محض اپنے نظریات کی وجہ سے مدینہ چلے آئے تھے اور ان کی نظروں میں اس دنیا کے مفادات بہرحال ہیچ تھے۔ یا ان میں وہ انصار سابقین تھے جنہوں نے ان مہاجریین کو پناہ دی تھی اور انہیں اپنے علاقے اور اموال میں شریک کرلیا تھا۔ وہ ان کے ساتھ اس دنیا کے مفادات میں سے کسی مفاد میں بھی بخل نہ کرتے تھے۔ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ: یہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں اور جو کچھ بھی ان کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ محتاج ہوں۔
اس صورت حالات کی تشریح کی طرف اشارہ خود ان روایات میں موجود ہے۔ اس وقت مال غنیمت کا تعلق اس بہادری اور شجاعت سے تھا ، جس کا مظاہرہ ایک فوجی میدان جنگ میں کرتا تھا اور یہ مالی انعام اس بات کی علامت بھی ہوا کرتا تھا کہ انعام پانے والے نے داد شجاعت دی ہے اور اس دور میں لوگ اس بات کی خواہش رکھتے تھے کہ انہیں رسول اللہ کے ہاتھوں انعام خصوصی ملے جو براہ راست اللہ کی طرف سے انعام تصور ہوگا۔ خصوصاً اس پہلے معرکے میں جو اسلام اور کفر کے درمیان برپا ہوا۔ اس حرص اور انعام کے اس لالچ میں ایک دوسری صفت دب کر رہ گئی اور بعض لوگوں نے اموال غنیمت کے بارے میں بات کی اور اللہ نے ان کو اس صفت کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا۔ وہ یہ کہ ایک دوسرے کے ساتھ معاملات میں ذرا حسن معاملت کی ضرورت ہے اور تمہاری قلبی اصلاح کی سخت ضرورت ہے۔ چناچہ انہوں نے اس بات کو اچھی طرح محسوس کرلیا اور سمجھ گئے۔ ایک موقع پر حضرت عبادہ ابن الصامت نے فرمایا : " یہ آیات ہم اصحاب بدر کے بارے میں نازل ہوئیں۔ جب ہم نے اموال غنیمت میں اختلاف کیا اور اس میں ہم اخلاقی حدود سے آگے نکل گئے۔ اللہ ان اموال کو ہمارے اختیار سے نکال لایا اور رسول اللہ ﷺ کے اختیار میں دے دیا "
اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کی عملی اور لسانی تربیت فرمائی۔ چناچہ اموال غنیمت کی تقسیم کے اختیارا ان سے لے لیے اور کلی طور پر نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دئیے۔ یہاں تک کہ تقسیم غنائم کے بارے میں تفصیلی احکامات نازل ہوئے۔ لہذا اس معاملے میں ان کے لیے کسی تنازعے کا کوئی حق ہی نہ رہا۔ یہ اللہ کا فضل ہوگیا۔ رسول اللہ نے ان کے درمیان ان کی تقسیم اس طرح فرمائی جس طرح رب تعالیٰ نے آپ کو ہدایت دی۔ اس عملی اصلاح کے ساتھ ساتھ یہ طویل اور مسلسل ہدایت بھی ان کو دی گئیں اور یہ ہدایت اس سورة میں دور تک چلی گئیں۔ آغاز یوں ہوا :
يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : لوگ تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو " یہ انفال تو اللہ اور اس کے رسول کے ہیں۔ پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو ، اگر تم مومن ہو "
یہ سوال ان لوگوں کی جانب سے تھا جنہوں نے غنائم پر تنازعہ کیا تھا اور یہ پکار بھی انہی کے نام ہے کہ اللہ کا خوف کرو ، اللہ تمہارے دلوں کا خالق ہے اور تمہارے دلوں میں جو باتیں آتی ہیں ان کو وہ جانتا ہے۔ اللہ اس بات پر گرفت نہیں کرتا کہ کسی کے دل میں دنیاوی مقاصد کی خواہش کیوں آتی ہے۔ اور اس پر نزاع کیوں واقع ہوگیا۔ اگرچہ اس نزاع کی تہ میں یہ جذبہ تھا کہ رسول کے ہاتھوں ان کو انعام ملے جو ان کے حسن کار کردگی پر دلیل وبرہان ہو۔ لیکن اللہ نے دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے یہ ضروری قرار دیا کہ تم اپنے دلوں میں تقوی اور خدا خوفی کا جذبہ پیدا کرو ، اس لیے کہ جس دل کا تعلق باللہ نہ ہو اور وہ اللہ کے غضب سے نہ ڈرتا ہو اور اسے رضائے الہی کے حصول کی خواہش نہ ہو تو وہ ہر گز دنیاوی مفادات کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور وہ کبھی بھی شعوری طور پر ان آلودگیوں سے دور نہیں ہوسکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ تقوی دلوں کی لگام ہے اور تقویٰ ہی کے ذریعے دلوں کی قیادت کی جاسکتی ہے اور بڑی ہی سہولت کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ قرآن کریم اول سے آخر تک انسان کی قیادت اسی تقوی اور تعلق باللہ کی لگام کے ذریعے کرتا ہے اور اس کو اصلاح کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔
قرآن کہتا ہے فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ : تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔ اور آگے کہا جاتا ہے کہ یہی وہ ذریعہ ہے جس کی وجہ سے تم اطاعت رسول کرسکتے ہو۔ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو "
اور اور رسول کی پہلی اطاعت یہ ہے کہ تم ان احکام کو تسلیم کرو جو اللہ کی طرف انفال کے بارے میں آ رہے ہیں۔ مثلاً اموال غنیمت کو اب مجاہدین کی ملکیت سے نکال دیا گیا ہے اور ان کی ملکیت اللہ اور رسول کو دے دی گئی ہے۔ لہذا اب ان کے بارے میں تصرف کا حق صرف اللہ اور رسول کو ہے۔ اہل ایمان کا فرض یہ ہے کہ اس کے بارے میں اللہ اور رسول کے احکام کو تسلیم کریں۔ اور اللہ کی ہدایات کے مطابق رسول اللہ کی تقسیم کو قبول کریں اور بطیب خاطر قبول کریں ، راضی برضا ہوں اور اپنے ما بین کے تعلقات کی اصلاح کریں اور اپنے شعور اور احساسات کو درست کریں اور اپنے دلوں کو ایک دوسرے کے معاملے میں صاف کرلیں۔ ان کنتم مومنین : اگر تم مومن ہو۔
یہ ضروری ہے کہ ایمان کی کوئی عملی اور واقعی صورت ہو۔ اور اس عملی صورت میں ایمان نظر آئے اور واضح طور پر نمایاں ہو۔ وہ مجسم شکل میں نظر آئے اور انسان کے اعمال اس کے ایمان کے ترجمان ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لیس الایمان بالتمنی ولکن ھو ما وقرنی فی القلب و صدقۃ لاعمال : ایمان صرف تمنا نہیں ، یہ دل میں جاگزیں ہوتا ہے اور اعمال ایمان کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہ وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اس قسم کے فقرے فیصلہ کن انداز میں بار بار آتے ہیں اور ان سے مقصود یہی ہوتا ہے کہ ایمان کی حقیقت کیا ہے اور اس کا اعمال کے ساتھ کیا تعلق ہے۔ ایمان صرف الفاظ کا نام نہیں ہے جو زبان پر جاری ہوتے ہیں ، یا وہ محض تمنا بھی نہیں ہے جو نہ عالم واقعہ میں کچھ حقیقت رکھتی ہو اور نہ عالم اعمال میں اس کا وجود ہو۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ایک سچے مومن کی حقیق صفات کیا ہوتی ہیں تاکہ ان کو یہ بتایا جائے کہ ان کنتم مومنین سے مراد کیا ہے ؟ چناچہ بتایا جاتا ہے کہ رب العالمین کے نزدیک مومن ایسا ہوتا ہے۔
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ ۔ الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ ۔ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭلَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ ۔ سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں۔ جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب پاس بڑے درجے ہیں (قصوروں سے درگذر ہے اور بہترین رزق ہے) ۔
لفظی اور نحوی اعتبار سے ان آیات کا طرز تعبیر نہایت ہی معنی خیز ہے اور نہایت ہی گہری معنویت رکھتا ہے۔ یہاں لفظ قصر (انما) استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہاں کوئی ایسی وجہ نہیں ہے کہ ہم لفظ انما کی قصر کی تاویل کریں جبکہ اللہ تعالیٰ نہایت ہی تاکید سے ایک بات کہنا چاہتے ہیں ، تاویلات یوں کی گئی ہیں کہ اس سے مراد ایمان کامل ہے۔ اگر اللہ اس طرح کہنا چاہتا تو کہتا کہ کامل مومن وہ ہیں جو ایسے ایسے ہوں ، در حقیقت یہ ایک نہایت مفصل تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کا احساس و شعور ایسا ہو اور جن کے صفات و اعمال ایسے ہوں وہی درحقیقت مومن ہوتے ہیں۔ اور جن لوگوں کے اندر یہ صفات و اعمال نہیں ہیں وہ مومن نہیں ہیں اس لیے کہ اس آیت کے آخر میں اس نکتے کی بتکرار تاکید کی گئی ہے : اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا : ایسے ہی لوگ فی الحقیقت مومن ہیں۔ اور جو لوگ فی الحقیقت مومن نہیں ہوتے وہ پھر کس طرح کے مومن کہلاتے ہیں۔ قرآن کی تعبیرات خود ایک دوسرے کی تشریح و تفسیر کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فماذا بعد الحق الا الضلال : حق سے آگے گمراہی کے سوا اور ہو کیا سکتا ہے۔ اس لیے جو حق نہ ہوگا وہ ضلالت ہوگی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ المومنون حقا کے مقابلے کی تعبیر یہ نہیں ہوسکتی۔ المومنون ایمانا غیر۔۔۔ لہذا قرآن مجید کی اس قدر واضح اور دقیق انداز تعبیر کو تاویلات کے خراد پر نہیں چڑھانا چاہیے جن کی وجہ سے ہر صحیح تصور اور ہر صحیح تعبیر اپنی جگہ سے ہٹ جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض سلف صالحین یہ کہتے تھے کہ جس شخص کے عقیدے کے اندر اور اعمال کے اندر یہ صفات نہ ہوں اس نے ایمان نہیں پایا۔ اور وہ سرے سے مومن ہی نہیں ہے۔ ابن کثیر میں ہے ، علی بن طلحہ حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ آیت اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ میں درحقیقت منافقین کا ذکر ہے ، وہ جب نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کے دلوں میں کچھ بھی داخل نہیں ہوتا اور در حقیقت آیات الہیہ پر ایمان ہی نہیں رکھتے اور اللہ پر توکل ہی نہیں کرتے۔ اور جب لوگوں کے سامنے نہ ہوں تو ان کے ساتھ صلہ رحمی بھی نہیں کرتے اور وہ اپنے اموال کی زکوۃ بھی نہیں دیتے۔ تو اللہ نے ان منافقین کے بارے میں خبر دی کہ وہ مومن نہیں ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے حقیقی مومنوں کی صفات گنوا دیں۔ مثلاً :
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ " اہل ایمان وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں " اس طرح وہ اپنے فرائض ادا کرتے ہیں۔ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا : " جب ان پر آیات الہیہ پڑھی جائیں تو ان کا ایمان زیادہ ہوجاتا ہے۔ یعنی ان کی تصدیق میں اضافہ ہوتا ہے۔ وَّعَلٰي رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ : " اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں "
آئندہ سطور میں ہم یہ ثابت کریں گے کہ ان حقائق کے بغیر سرے سے ایمان کا وجود ہی نہیں قائم رہتا۔ اور اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان کی وجہ سے ایمان کامل ہوتا ہے اور نہ ہونے سے ناقص ہوتا ہے بلکہ سوال ایمان کے عدم یا وجود کا ہے : " اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جاتے ہیں "۔ جب کوئی مومن کسی امر یا نہی کے سلسلے میں اللہ کو یاد کرتے ہیں تو ان کے دل کے اندر ایک وجدانی ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ان کے دل پر اللہ کی جلالت شان کی وجہ سے ہیت طاری ہوجاتی ہے اور ان کے دل میں خوف خدا کی لہریں اٹھتی ہیں ، اس طرح ان کی تقصیرات اور گناہوں کے بالمقابل اللہ کی ہیبت آ کھڑی ہوتی ہے اور اس طرح وہ باعث بنتی ہے عمل اور طاقت کا۔ جیسا کہ ام الدرداء ؓ نے کہا : الوجل فی القلب کافراق السعفۃ اما تجد لہ قشطریرہ ؟ قال بلی قالت اذا وجدت فاذا وجدت ذلک فادع اللہ عند ذلک فان الدعاء یذھب ذلک۔ " وجل " کا مطلب یوں سمجھیے کہ جب کسی کو پھنسیاں نکل آئیں تو اسے جلن ہوتی ہے۔ کیا تم ایسی حالت میں کپکپی محسوس نہیں کرتے۔ کہاں ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔ فرمایا جب تم ایسی حالت کو پاؤ تو اللہ کو پکارو ، دعا کے نتیجے میں یہ حالت چلی جاتی ہے۔
غرض یہ وہ حالت ہے جس میں دل میں بےقرار پیدا ہوجاتی ہے اور ایسے حالات میں ذکر اور دعاء کے نتیجے میں انسان کو راحت اور قرار نصیب ہوتا ہے اور یہ وہ حالت ہے جب انسان کسی امر اور نہی کے معاملے میں اللہ کو یاد کرتا ہے۔ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰيٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا : اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ قلب مومن کے لیے فی الحقیقت ان آیات میں وہ نکات ہیں جو اس کے ایمان کے لیے اضافے کا باعث ہوتے ہیں اور جن کی وجہ سے مومن کو اطمینان قلب نصیب ہوتا ہے۔ قرآن قلب مومن کے ساتھ براہ راست سلوک اور برتاؤ کرتا ہے اور قرآن اور قلب مومن کے درمیان صرف کفر کا پردہ حائل ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے قرآن سے قلب محجوب ہوجاتا ہے اور قلب سے قرآن۔ جب ایمان کی وجہ سے حجاب اٹھتا ہے تو دل حلاوت قرآن کو محسوس کرنے لگتا ہے اور اس طرح قرآنی اثرات پڑتے پڑتے ایمان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان کامل اطمینان کے مقام تک پہنچا جاتا ہے۔ جس طرح قرآن کے اثرات دل میں ایمان کی زیادتی کا باعث ہوتے ہیں۔ اسی طرح دل بھی قرآن کے اثرات کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ فقرہ بار بار آتا ہے۔ ان فی ذلک لایات للمومنین۔ بیشک اس میں مومنین کے لیے نشانیاں ہیں۔ اس فقرے میں اسی حقیقت کو دہرایا جاتا ہے۔ ان فی ذلک لایات لقوم یومنون۔ اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لیے جو ایمان لاتی ہے۔ اور بعض صحابہ کرام کے اس قول کا یہی مطلب ہے کہ " ہمیں قرآن دیے جانے سے قبل ایمان دیا جاتا تھا "۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام قرآن کے ساتھ ایک مخصوص تعلق اور ذوق رکھتے تھے۔ اور اس میں ان کی مدد وہ فضا کرتی تھی جس میں وہ باد نسیم کے جھونکے پاتے تھے جبکہ قرآن ان کی عملی زندگی تھا۔ ایک عمل تھا ، محض ذوق و ادراک نہ تھا۔ اس آیت کے نزول کی روایات میں ایک روایت سعد ابن مالک کا قول ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ درخواست کی تھی کہ ان کو مال غنیمت کے طور پر ایک تلوار دے دیں۔ اس وقت قرآن کی وہ آیات نازل نہ ہوئی تھیں جن میں غنائم کو حضور ﷺ کے اختیارات کی طرف لوٹا دیا گیا تھا۔ آپ کو نہ یہ اختیار دیا گیا تھا کہ آپ جس طرح چاہیں اس میں تصرف کریں۔ اور حضور نے انہیں جواب دیا تھا : بیشک یہ تلوار نہ میری اور نہ تیری ہے۔ اسے اموال کے ساتھ رکھ دیں " جب سعد کو دوبارہ پیچھے سے پکارا گیا حالانکہ وہ تلوار رکھ کر واپس ہوگئے تھے تو وہ توقع رکھتے تھے کہ شاید اللہ نے اس معاملے میں کچھ آیات اتار دی ہیں۔ کہتے ہیں : " میں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں کچھ آیات نازل کردی ہیں ؟ " تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، تم نے مجھ سے تلوار کے لیے درخواست کی تھی ، حالانکہ اس وقت وہ میرے اختیار میں نہ تھی ، اب چونکہ اللہ نے غنائم مجھے دے دیے ہیں لہذا میں نے تجھے دے دی " یہ تھا ان لوگوں کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ اور یہ تھا ان کا سلوک اس قرآن کے ساتھ جو مسلسل نازل ہورہا تھا۔ یہ ایک عظیم طرز عمل ہے۔
انسانی تاریخ میں یہ ایک عجیب دور تھا۔ اس لیے وہ قرآن کو اس طرح چکھتے تھے اور اسے سنتے ہی اپنی عملی زندگی میں واقعیت دے دیتے تھے۔ ان کا یہ ذوق خاص اس واقعیت کو ایک نہایت ہی اچھی کیفیت عطا کردیتا تھا اور سامع اور قاری دونوں کو ایک دوسرے سے متاثر ہوتے تھے۔ اگرچہ یہ پہلا تجربہ تو دہرایا نہیں جاسکتا لیکن جب بھی اس کرہ ارض پر کوئی مومن گروہ وجود میں آتا ہے تو ایسے ہی تجربات سامنے آتے رہتے ہیں بشرطیکہ اٹھنے والی تحریکات دین کو اسی طرح قائم کرنے کا مقصد پیش نظر رکھتی ہوں جس طرح جماعت مسلمہ اولی کا مقصد تھا اور ایسی ہی جماعتیں جو کہیں کہیں اٹھتی ہیں اور جماعت اول کی طرح اقامت دین کا نصب العین رکھتی ہیں ، انہی کے اندر قرآن فہمی کا وہ ذوق پیدا ہوتا ہے ، جو جماعت اولیٰ کے مماثل ہوتا ہے۔ اس کی تلاوت سے ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان جماعتوں کے نزدیک دین اس تحریک کا نام ہوتا ہے جس کا مقصد دین کی اقامت ہو اور اس پہلے تجربے کو دہرانا مقصود ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے نزدیک ایمان محض تمنا نہیں ہوتا بلکہ ایمان اس حقیقت کو کہا جاتا ہے جو دل میں اچھی طرح جاگزیں ہو اور عمل کی صورت میں اس کا ظہور ہو۔ وعلی ربہم یتوکلون اور وہ اپنے رب پر اعتماد کرتے ہیں۔ صرف رب پر۔ نحوی ترکیب کی رو سے اس کا یہی معنی ہے یعنی حصری۔
وہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرکے اس سے نہ استعانت کرتے ہیں اور نہ اس پر توکل کرتے ہیں۔ امام ابن کثیر نے لکھا ہے " وہ اس کے سوا کسی سے امید نہیں رکھتے ، کسی کی طرف قصد ہی نہیں کرتے ، کسی کے ہاں پانہ ہی نہیں لیتے ، کسی سے حوائج طلب نہیں کرتے ، کسی کی طرف ان کی رغبت اور میلان ہی نہیں ہوتا اور وہ جانتے ہیں کہ اللہ جو کچھ چاہے وہی ہوتا ہے اور جو کچھ نہیں چاہتا ، نہیں ہوتا۔ وہ اس کائنات میں اکیلا صاحب اختیار ہے ، اور اس میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، نہ اس کے حکم سے کوئی سرتابی کرسکتا ہے۔ وہ جلد حساب لینے والا ہے۔ چناچہ حضرت سعید ابن جبیر کہتے ہیں اللہ پر توکل کرنا ایمان کی لذت ہے۔
یہ تو ہے اللہ کی وحدانیت کے عقیدے کا اخلاص ، اللہ کی بندگی کا اخلاص ، لہذا اب یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک دل میں عقیدہ توحید بھی ہو اور اس کے ساتھ وہ شخص اللہ کے سوا اوروں پر بھروسہ بھی کرتا ہو۔ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں پر بھروسہ کرتے ہیں اور دوسروں پر تکیہ کرتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ ذرا غور سے اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور دیکھیں کہ آیا ان میں ایمان بھی ہے یا نہیں۔
ہاں اللہ پر توکل مانع اساب نہیں ہے کیونکہ مومن اسباب کو بھی ایمان اور اطاعت کی راہ سے لیتا ہے۔ ہمارا ایمان ہے کہ مسبب الاسباب بھی اللہ ہے اور اسی نے انسان کو راہ اسباب اختایر کرنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن مومن کا یہ ایمان بھی ہوتا ہے کہ نتائج کا نکلنا اسباب پر موقوف نہیں ہے۔ جس طرح اسباب اللہ کی مخلوق و مقدور میں ہیں اسی طرح نتائج بھی اللہ کے پیدا کردہ ہیں۔ مومن کے شعور و عقیدہ میں یہ بات لازمی نہیں ہے کہ خدا کے مہیا کردہ اسباب کے بعد بھی نتائج نمودار ہوں۔ لہذا اسباب کا اختیار کرنا عبادت و اطاعت ہے اور نتائج اللہ کی تقدیر پر نمودار ہوں گے۔ نتائج کا صدور اللہ کی تقدیر کے تابع ہے۔ صرف اللہ چاہے تو نتائج نمودار ہوں گے۔ ایک مومن کے شعور میں اسباب و نتائج کے درمیان کوئی لازمی تعلق نہیں ہوتا۔ اسی طرح ایک مومن کا شعور اسباب کی غلامی سے آزاد ہوجاتا ہے اور اس آزادی کے ساتھ ساتھ ایک مومن اسباب کو برائے حصول ثواب اختیار کرتا ہے تاکہ وہ اللہ کا مطیع ہو۔
جاہلیت جدیدہ ابھی تک اپنے اس نظریہ کے تاریک سمندر میں غوطے کھا رہی ہے کہ اسباب و مسبب کا باہم تعلق قطع ہے اور قوانین طبعی اٹل ہیں تاکہ اللہ کی تقدیر اور اللہ کی غیبی قوت کی نفی کرسکیں۔ لیکن جونہی اس جاہلیت نے اس راہ پر ایک حد تک سفر طے کیا اسے معلوم ہوگیا کہ اس کے آگے تو اللہ کی تقدیر کی حدود شروع ہوگئی ہیں اور اس سرحد پر یہ جاہلیت حیران و پریشان کھڑی ہے اب اس نے عالم مادی میں قوانین طبیعت کے اٹل ہونے کے نظریے کو ترک کرکے " احتمالات " کا نظریہ اپنا لیا ہے۔ گویا پہلے جس چیز کو وہ اٹل کہتے تھے اب محتمل ہوگئی ہے اور عالم غیب کی جس سرحد پر یہ جاہلیت کھڑی ہے۔ اس سے آگے اس کے تمام راستے بند ہیں اور یہی حقیقت تسلیم کرنا پڑتی ہے کہ یہ تقدیر الٰہی ہی ہے جو اس عالم میں کام کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی یہ آیت اس عالم غیب پر حکمران ہے۔ لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا تمہیں نہیں معلوم کہ شاید اللہ اس کے بعد کوئی بات پیدا کردے۔ تقدیر الہیہ کا نظریہ ہی حتمی اور آخری نظریہ ہے۔ اور یہ نظریہ صاف کہتا ہے کہ اس دنیا کے مادی قوانین کے پیچھے ارادہ الہیہ کار فرما ہے اور اللہ کا ارادہ بےقید ہے۔ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے اور اس کا ارادہ مطلق اور آزاد ہے ۔ اپنے بنائے ہوئے نظام اسباب و مسبب کا پابند نہیں ہے۔
سر جیمس طبیعات اور ریاضی کے پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں : " قدیم سائنس یہ بات وثوق سے کہتی تھی کہ طبیعت صرف ایک ہی راہ لے سکتی ہے اور وہ وہی راہ ہے جو اس کے لیے اس کے چلنے سے پہلے ہی تجویز کردی گئی ہے۔ اس پر اسے آغاز سے لے کر انجام تک چلنا ہے۔ اور مسلسل اور دائما علل اور معلول کا قانون اس کائنات میں جاری ہے۔ اس بات میں تخلف نہیں ہوسکتا کہ حالت (الف) کے بعد حالت (ب) پیدا ہوگی۔ رہی جدید سائنس تو اس کی رو سے صرف ہی بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ حالت (ب) کے بعد اس بات کا احتمال ہے کہ حالت (ب) کے ظہور کا احتمال دوسرے احتمالات سے زیادہ ہے۔ یا ج کا احتمال (د) سے زیادہ ہے علی ھذا القیاس۔
نیز سائنس کے دائرہ قدرت کے اندر یہ بات بھی ہے کہ وہ (ب) ، (ج) اور (د) کے احتمالات کی نسبت کا تعین کردے۔ لیکن نتیجے کے بارے میں کوئی یقینی بات کہنا مشکل ہے۔ کہ (الف) کی حالت کے بعد کون سی حالت کا ظہور ہوگا کیونکہ احتمال بہرحال احتمال ہوتا ہے لیکن کون سی حالت صادر ہوئی ہے۔ یہ پھر تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اب تقدیر کی حقیقت کیا ہے ، جو حقیقت بھی ہو " (تفصیلی بحث ہم آیت عندہ مفاتح الغیب میں کر آے ہٰں) (دیکھیے پارہ ہفتم ص)
جب قلب مومن اسباب ظاہریہ کے دباؤ سے آزاد ہوجائے تو پھر غیر اللہ پر بھروسہ کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں رہتا۔ اس لیے کہ یہ اللہ کی تقدیر ہی ہے ، جس کے پیچھے سے سب کچھ نمودار ہورہا ہے اور یہی یقینی حقیقت ہے۔ رہے ظاہری اسباب تو ان کے نتیجے میں صرف حتمی احتمالات ہی وجود میں آسکتے ہیں۔ یہ ہے وہ عظیم انقلاب جو اسلامی نظریہ حیات انسانی قلب کے اندر پیدا کردیتا ہے اور اسی کے مطابق انسانی سوچ پروان چڑھتی ہے۔ جدید جاہلیت تین سو سال تک اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارتی رہی اور پورے تین سو سال کے بعد وہ اس ابتدائی حقیقت کے دروازے تک پہنچ سکی ہے۔ یعنی کالص عقلی اعتبار سے۔ لیکن ابھی تک شعوری طور پر وہ اس حقیقت میں داخل نہیں ہوئی ہے اور نہ انسانیت نے ابھی تک وہ طرز عمل اختیار کیا ہے جو اللہ کے نظام قضا وقدر کے ساتھ اختیار کیا جانا چاہیے یا جو اسباب ظاہریہ کے ساتھ اختیار کیا جانا چاہیے۔ یہ انقلاب در اصل عقلی آزادی اور عقلی انقلاب ہے۔ شعوری انقلاب ، سیاسی انقلاب ہے۔ معاشرتی انقلاب ہے اور اخلاقی انقلاب ہے۔ اور کوئی انسان جب تک وہ اسباب کا غلام ہے اور طبیعت کو اٹل سمجھتا ہے ، آزاد نج ہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ جب وہ اسباب کو اٹل سمجھتا ہے تو پھر وہ انسانوں کے ارادے کا غلام بن جائے گا یا طبیعت کے ارادے کا غلام تصور ہوگا۔ کیونکہ اگر کوئی شخص اللہ کے ارادے اور تقدیر کے سوا کسی اور چیز کو بھی حتمی سمجھتا ہے تو اسے سمجھ لینا چاہی کہ وہ آزاد نہیں ہے ، غلام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے حکم دیا کہ صرف اللہ پر بھروسہ کرو اور اللہ اور صرف اللہ پر بھروسہ ہی ایمان اور عدم ایمان پر دلالت ہے اسلام کا نظام تصورات ایک کل اور اکائی ہے۔ اور اس تصور حیات پر جو نظام تجویز ہوا ہے وہ بھی ایک کل ، متکامل اور اکائی ہے۔ الذین یقیمون الصلوۃ جو نماز قائم کرتے ہیں۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان ایک متحرک صورت میں ہمارے سامنے ہے۔ اس سے قبل جو حقائق بیان ہوئے ، ان میں ایمان ایک قلبی اور ذہنی حقیقت تھی ، جو نظر نہ آتی تھی۔ کیونکہ ایمان کی تعریف ہی یہ ہے جو دل میں پروقار طریقے سے بیٹھا ہو اور اعمال جوارح ہی اس کی تصدیق کر رہے ہوں کہ وہ ہے۔ لہذا عمل ایمان کی دلالت ظاہری ہے۔ اور یہ ظاہری علامات کا ظہور لابدی ہے تاکہ یہ گواہی فراہم ہوسکے کہ دلوں کے اندر ایمان موجود ہے۔
اقامت صلوۃ کا مفہوم صرف یہ نہیں ہے کہ نماز کو ادا کرلیا جائے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نماز کو حقیقی معنوں میں ادا کیا جائے یوں کہ نظر آے کہ نمازی اللہ کے حضور کھڑا ہے۔ نماز محض قیام قعود اور قراۃ ہی نہ ہو کہ رکوع و سجود ہو اور دل غافل ہو۔ نماز اگر صحیح طرح قائم ہو تو وہ ایمان پر گواہ ہے۔ و مما رزقنہم ینفقون۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے ، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ عام ہے خواہ زکوۃ ہو یا دوسرے صدقات ہوں جو بھی خرچ کیا جائے وہ اللہ کے دیے ہوئے سے ہوگا۔ اس لیے وہ اللہ کے دین کا حصہ تصور ہوگا۔ قرآن کی ہدایت کا اپنا رنگ ہوتا ہے اور اس کے اندر خاص تعبیری اشارات ہوتے ہیں۔ یہاں یہ اشارہ ہے کہ اس مال و دولت کو تم نے نہیں پیدا کیا۔ یہ تو اللہ نے تمہیں دیا ہے اور تمہیں جو بھی دیا گیا ہے وہ اللہ کا دیا ہوا رزق ہے اور اللہ کا دیا ہوا اس قدر زیادہ ہے کہ انسان اسے گن ہی نہیں سکتا۔ اور جب انسان اللہ کے دیے ہوئے میں سے دیتا ہے تو ظاہر ہے اس کا ایک حصہ دیتا ہے اور باقی کو اپنے لیے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہوتی ہے کہ وہ اللہ کا دیا ہوا ہوتا ہے۔
یہ وہ صفات ہیں جن کے اندر اللہ نے ایمان کو محدود کردیا ہے۔ ان صفات میں ایک تو اللہ کی وحدانیت کا اعتقاد ہے اور اس کی وحدانیت کو قبول کرتے ہوئے ذکر الہی اور پھر اللہ کی آیات اور ذکر الہی سے قلبی تاثر لینا ، پھر اللہ وحدہ پر توکل کرنا ، پھر اقامت صلوۃ کما حقہ ، اور سب سے آخر میں یہ کہ اللہ کے دیے ہوئے میں سے کچھ حصہ اس کی راہ میں صرف کرنا ، یہ ہیں اس مقام پر علامات ایمان۔
یہ آیات وصفات در حقیقت ایمان کے اجزاء اور تفصیلات نہیں ہیں۔ جیسا کہ دوسری آیات میں ذکر ہوا ہے بلکہ یہاں ایمان کی واقعی صورت حالات کو بیان کیا گیا ہے یعنی وہ واقعی صورت حالات جن میں انفال و غنائم کے بارے میں اختلاف ہوگیا اور اہل ایمان کے باہم تعلقات خراب ہوگئے۔ لہذا یہاں اہل ایمان کو مومنین کی صفات سے آگاہ کیا جاتا ہے اور انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ اہل ایمان کی صفات ایسی ہوتی ہیں لیکن اگر ان صفات میں سے کسی میں کوئی صفت بھی موجود نہ ہو تو ایسے لوگوں سے حقیقت ایمان عملا منفی ہوسکتی ہے۔ لہذا یہ صفات ایمان کی اساسی علامات ہیں ، چاہے یہ ایمان کی پوری صفات ہوں یا پوری نہ ہوں ، کیونکہ یہ اسلامی نظام کی تربیت کی حکمت کا تقاضا ہے کہ وہ مخصوص حالات کے لیے ایمان کی کون سی شائط کا تذکرہ کرتا ہے اور کون سی شرائط کا نہیں کرتا۔ کیونکہ اسلامی منہاج تربیت ایک عملی اور حقیقت پسندانہ منہاج ہے۔ یہ محض نظریاتی طریقہ کار نہیں ہے کہ وہ ایک نظریہ کو وضع کرے اور اسے پھیلائے فقط۔ اسی قاعدے کے مطابق یہ آخری تبصرہ ہوتا ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭلَهُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ ۔
ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑے درجے ہیں۔ قصور سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔
یہ وہ صفات ہیں جو کوئی بھی حقیقی مومن اپنے نفس اور اپنے اعمال کے اندر موجود پاتا ہے۔ اگر یہ تمام صفات کسی کی ذات سے غآئب ہوں تو گویا اس میں ایمان کی کوئی صفت نہیں ہے۔ یہ آیات چونکہ ایک واقعی صورت حالات کی طرف مخاطب ہیں اس لیے ان کا تقاضا یہ ہے کہ مخصوص حالات میں جس کار کردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کے لیے اجر عظیم ہے اور جن لوگوں کے اندر یہ صفات ہیں ان کے لی اللہ کے نزدیک اجر عظیم ہے اور بڑے درجے ہیں۔ اسی طرح ان میں ان واقعات کی طرف بھی اشارہ ہے جو اس وقت اہل ایمان کے درمیان رونما ہوئے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے فرمایا تو ان آیات میں کہا گیا کہ ان لوگوں کے لیے مغفرت ہے۔ اور جن لوگتوں نے اموال کے لیے نزاع کیا ان کے لیے بہترین رزق ہے۔ لہذا ان آیات میں ان جزوی واقعات کی طرف بھی اشارہ ہے۔ اور اپنی جگہ بات اصولی طور پر کہہ دی گئی ہے کہ مومن ایسے ہوتے ہیں۔ یہ ان کی صفات ہیں اور جس میں یہ نہ ہوں وہ اپنے ایمان کی خبر لے۔ اولئک ھم المومنون حقا۔ ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔
پہلی اسلامی جماعت کو یہ بات سکھائی جا رہی ہے کہ ایمان کی ایک حقیقت ہے اور ہر مومن کو چاہیے کہ اس کے نفس میں وہ حقائق پائے جائیں ، ایمان محض دعای نہیں ہے۔ نہ ایمان چند کلمات کا نام ہے اور نہ چند معصوم تمناؤں کا نام ہے۔ حافظ طبرانی ایک روایت کرتے ہیں محمد بن عبداللہ حضرمی سے ، ابوبکر سے ، ابن بن الحباب سے ، ابن لہیعہ سے ، خالد ابن یزید سس کی سے ، سعید ابن بلال سے ، محمد ابن ابوالجہم سے ، حارث ابن مالک انصاری سے ، یہ کہتے ہیں : کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس سے گزرا اور رسول اللہ نے کہا : حارث تم صبح کیسے اٹھے ؟ تو حارث نے کہا " میں ایک سچے مومن کی طرح اٹھا ہوں "۔ آپ نے فرمایا ذرا دیکھو کیا کہہ رہے ہو ؟ کیونکہ ہر چیز کی ایک حقیقت ہوتی ہے۔ بتاؤ تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ حارث نے کہا " میں نے دنیا سے نفرت کرلی ہے ، رات کو جاگتا ہوں اور دن کو مطمئن رہتا ہوں۔ میری حالت یہ ہے کہ گویا میں اللہ کے عرش عظیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔ گویا میں اہل جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور میں اہل جہنم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک دوسرے پر لعنت کر رہے ہیں۔
حضور نے فرمایا : " حارث تم نے پا لیا ہے لہذا اسے پکڑے رکھو " یہ بات آپ نے تین بار کہی۔ یہ صحابی جو رسول اللہ کی طرف سے سند معرفت کے مستحق قرار پائے انہوں نے اپنے نفس کا حال بیان کرتے ہوئے ایسی باتوں کا ذکر کیا جس سے اس کے شعور کا اچھی طرح اظہار ہوتا ہے اور اس نے ایسی چیزوں کا تذکرہ بھی کیا جن کا تعلق اعمال و حرکات سے ہے ، گویا وہ عرش ربی کو دیکھ رہا ہے۔ اہل جنت کو دیکھ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اہل جہنم کو دیکھ رہا ہے۔
یہ صحابی محض نظریات کی بات نہیں کرتے۔ وہ مسلسل اعمال کی بات کرتے ہیں۔ یہ اعمال اور حرکات اسی شعور سمیت اس کی زندگی پر حاوی ہیں۔ وہ رات کو جاگتے اور دن کو اطمینان کے ساتھ سوتے ہیں اور یقین ایسا ہے کہ انہیں سب کچھ نظر آ رہا ہے۔
حقیقت ایمان کے بارے میں ہمیں بہت ہی سنجیدہ ہونا چاہیے۔ اس لیے اس معاملے میں ہمیں اس قدر لبرل نہیں ہونا چاہیے۔ ایمان چند کلمات کا نام رہ جائے جو زبان پر جاری ہوتے رہیں لیکن عملی زندگی اس کے برعکس گواہی دے رہی ہو۔ تو یہ حالت حقیقت ایمان سے خالی ہے احتیاط کے معنی یہ نہیں کہ ہم ایمان کے بارے میں صرف لبرل ہوجائیں۔ ایمان کی شعوری حقیقت کا وجود لازمی ہے۔ اور اس کے تصور میں احتیاط ضروری ہے۔ خصوصا ان لوگوں کے معاملے میں جن کا دعوی یہ ہے کہ وہ امامت دین کا فریضہ سر انجام دینے کے لیے اٹھے ہیں جبکہ آج یہ لوگ جس آبادی میں اقامت دین کا کام کرنے اٹھے وہ مکمل جاہلیت میں ڈوبی ہوئی ہے اور جاہلیت کے قالب میں ڈھل چکی ہے۔
۔۔۔
الأنفال 8:5
اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب کے سب تقدیر الہی کے کرشمے تھے ، اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایت کے مطابق سب کچھ رونما ہوا۔ اس جنگ کے بارے میں خود مسلمانوں کی جو پلاننگ تھی یا جو ارادے تھے وہ بہت ہی معمولی سی بات تھی ، نہایت ہی محدود۔ اور اللہ نے جو چاہا تھا وہ نہایت ہی بڑا اور لا محدود تھا۔ کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ یہ معرکہ عظیم ہو اور فیصلہ کن (یوم الفرقان) ہو۔ اور زمین اور آسمان دونوں پر اس کے اثرات ہوں۔ اس سے مالء اعلی ا کے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں اور زمین کی مخلوق بھی متاچر ہو۔ اس کے ذریعے انسانی تاریخ کا داھارا بدل کر رکھ دیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک فریق تو نہایت ہی بد دلی کے ساتھ اس معرکے میں جا رہا تھا۔ بعض نے انفال پر تنازعہ شروع کردیا۔ تو دیکھو کہ تم جو کچھ سوچ رہے تھے اور جسے تم پسند یا ناپسند کرتے تھے۔ وہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہو رہے تھے ان کی نسب سے بہت ہی حقیر تھا۔ تمام امور آخر کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔
۔۔۔
اللہ نے اموال غنیمت کا اختیار نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ آپ ان کے درمیان برابری کے اصول پر تقسیم کریں۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا کہ قومی مصارف کے لیے خمس حضور کے لیے مختص کردیا گیا اور یہ انتظام اس لیے کیا گیا کہ جہاد کے مقدس فریضے میں مسلمانوں کے دلوں سے یہ لالچ بھی جاتی رہے کہ انہیں اموال غنیمت میں سے بھی کچھ ملے گا۔ تاکہ اموال غنیمت پر آئندہ اس قسم کے تنازعات پیدا نہ ہوں۔ اس میں حق تصرف حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ حضور کی تقسیم کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ کسی کو کوئی شکایت پیدا ہونے کا سوال ہی نہ تھا اور تاکہ ان لوگوں کے دلوں سے خلش دور ہوجائے جنہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا تھا کیونکہ وہ بہرحال تمام لوگوں کے ساتھ اصول مساوات کے مطابق برابر کے شریک تھے۔
اب اللہ تعالیٰ یہاں خود ان کے طرز عمل سے ایک مثال پیش کرکے سمجھاتے ہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی بہتر ہے۔ اور جو وہ خود چاہتے ہیں وہ اللہ کی اسکیم کے مقابلے میں حقیر ہوتا ہے۔ لہذا ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ انفال کے بارے میں اللہ جو اسلامی قانون نازل کر رہا ہے وہی بہتر رہے گا۔ اس لیے کہ لوگ تو سامنے کے فائدے کو دیکھ سکتے ہیں ، عالم غیب پر ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہے اور اللہ یہ تبصرہ اللہ اسی واقعہ کو موضوع بنا کر فرما رہا ہے جو ان کے سامنے ہے اور اسی معرکے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غنائم ملے اور انہوں نے جھگڑا شروع کردیا۔ اس معرکے کے بارے میں وہ کیا ارادہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کس کا ارادہ کرلیا۔ اب ذرا دیکھو اپنے ارادے کو بھی اور اللہ کے ارادے کو بھی۔ دونوں میں قدر و قیمت کے اعتبار سے کس قدر فرق ہے۔ دونوں ارادوں کا یہ فرق کس قدر بعید ہے۔
كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۔ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۔ وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ ۔ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (اس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی وسی ہی صورت پیش آرہی ہے جیسی اس وقت پیش آئی تھی جب کہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ اس حق کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑ رہے تھے۔ در آں حالیکہ وہ صاف صاف نمایاں ہوچکا تھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جاے گا۔ تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہوکر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
اموال غنیمت کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹانا اور پھر ان کو جمع کرکے مسلمانوں کے درمیان اصول مساوات کے مطابق تقسیم کرنا اور اس اصول مساوات کو بعض لوگوں کا ناپسند کرنا اور اس سے قبل نبی ﷺ کی جانب سے بعض نوجوانوں کو دوسرے کے مقابلے میں بہتر حصہ دینا اسی طرح لوگوں کو پسند نہ تھا جس طرح ان لوگوں کو میدان جنگ کی طرف نکلنا پسند نہ تھا۔ کیونکہ مد مقابل بہتر ساز و سامان سے لیس تھا۔ اسلیے بعض مومنین اس وقت جنگ کو پسند نہ کرتے تھے لیکن نتائج سب کے سب ان کے سامنے تھے۔
الأنفال 8:6
اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب کے سب تقدیر الہی کے کرشمے تھے ، اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایت کے مطابق سب کچھ رونما ہوا۔ اس جنگ کے بارے میں خود مسلمانوں کی جو پلاننگ تھی یا جو ارادے تھے وہ بہت ہی معمولی سی بات تھی ، نہایت ہی محدود۔ اور اللہ نے جو چاہا تھا وہ نہایت ہی بڑا اور لا محدود تھا۔ کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ یہ معرکہ عظیم ہو اور فیصلہ کن (یوم الفرقان) ہو۔ اور زمین اور آسمان دونوں پر اس کے اثرات ہوں۔ اس سے مالء اعلی ا کے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں اور زمین کی مخلوق بھی متاچر ہو۔ اس کے ذریعے انسانی تاریخ کا داھارا بدل کر رکھ دیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک فریق تو نہایت ہی بد دلی کے ساتھ اس معرکے میں جا رہا تھا۔ بعض نے انفال پر تنازعہ شروع کردیا۔ تو دیکھو کہ تم جو کچھ سوچ رہے تھے اور جسے تم پسند یا ناپسند کرتے تھے۔ وہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہو رہے تھے ان کی نسب سے بہت ہی حقیر تھا۔ تمام امور آخر کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔
۔۔۔
اللہ نے اموال غنیمت کا اختیار نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ آپ ان کے درمیان برابری کے اصول پر تقسیم کریں۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا کہ قومی مصارف کے لیے خمس حضور کے لیے مختص کردیا گیا اور یہ انتظام اس لیے کیا گیا کہ جہاد کے مقدس فریضے میں مسلمانوں کے دلوں سے یہ لالچ بھی جاتی رہے کہ انہیں اموال غنیمت میں سے بھی کچھ ملے گا۔ تاکہ اموال غنیمت پر آئندہ اس قسم کے تنازعات پیدا نہ ہوں۔ اس میں حق تصرف حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ حضور کی تقسیم کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ کسی کو کوئی شکایت پیدا ہونے کا سوال ہی نہ تھا اور تاکہ ان لوگوں کے دلوں سے خلش دور ہوجائے جنہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا تھا کیونکہ وہ بہرحال تمام لوگوں کے ساتھ اصول مساوات کے مطابق برابر کے شریک تھے۔
اب اللہ تعالیٰ یہاں خود ان کے طرز عمل سے ایک مثال پیش کرکے سمجھاتے ہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی بہتر ہے۔ اور جو وہ خود چاہتے ہیں وہ اللہ کی اسکیم کے مقابلے میں حقیر ہوتا ہے۔ لہذا ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ انفال کے بارے میں اللہ جو اسلامی قانون نازل کر رہا ہے وہی بہتر رہے گا۔ اس لیے کہ لوگ تو سامنے کے فائدے کو دیکھ سکتے ہیں ، عالم غیب پر ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہے اور اللہ یہ تبصرہ اللہ اسی واقعہ کو موضوع بنا کر فرما رہا ہے جو ان کے سامنے ہے اور اسی معرکے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غنائم ملے اور انہوں نے جھگڑا شروع کردیا۔ اس معرکے کے بارے میں وہ کیا ارادہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کس کا ارادہ کرلیا۔ اب ذرا دیکھو اپنے ارادے کو بھی اور اللہ کے ارادے کو بھی۔ دونوں میں قدر و قیمت کے اعتبار سے کس قدر فرق ہے۔ دونوں ارادوں کا یہ فرق کس قدر بعید ہے۔
كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۔ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۔ وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ ۔ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (اس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی وسی ہی صورت پیش آرہی ہے جیسی اس وقت پیش آئی تھی جب کہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ اس حق کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑ رہے تھے۔ در آں حالیکہ وہ صاف صاف نمایاں ہوچکا تھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جاے گا۔ تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہوکر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
اموال غنیمت کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹانا اور پھر ان کو جمع کرکے مسلمانوں کے درمیان اصول مساوات کے مطابق تقسیم کرنا اور اس اصول مساوات کو بعض لوگوں کا ناپسند کرنا اور اس سے قبل نبی ﷺ کی جانب سے بعض نوجوانوں کو دوسرے کے مقابلے میں بہتر حصہ دینا اسی طرح لوگوں کو پسند نہ تھا جس طرح ان لوگوں کو میدان جنگ کی طرف نکلنا پسند نہ تھا۔ کیونکہ مد مقابل بہتر ساز و سامان سے لیس تھا۔ اسلیے بعض مومنین اس وقت جنگ کو پسند نہ کرتے تھے لیکن نتائج سب کے سب ان کے سامنے تھے۔
الأنفال 8:7
اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب کے سب تقدیر الہی کے کرشمے تھے ، اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایت کے مطابق سب کچھ رونما ہوا۔ اس جنگ کے بارے میں خود مسلمانوں کی جو پلاننگ تھی یا جو ارادے تھے وہ بہت ہی معمولی سی بات تھی ، نہایت ہی محدود۔ اور اللہ نے جو چاہا تھا وہ نہایت ہی بڑا اور لا محدود تھا۔ کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ یہ معرکہ عظیم ہو اور فیصلہ کن (یوم الفرقان) ہو۔ اور زمین اور آسمان دونوں پر اس کے اثرات ہوں۔ اس سے مالء اعلی ا کے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں اور زمین کی مخلوق بھی متاچر ہو۔ اس کے ذریعے انسانی تاریخ کا داھارا بدل کر رکھ دیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک فریق تو نہایت ہی بد دلی کے ساتھ اس معرکے میں جا رہا تھا۔ بعض نے انفال پر تنازعہ شروع کردیا۔ تو دیکھو کہ تم جو کچھ سوچ رہے تھے اور جسے تم پسند یا ناپسند کرتے تھے۔ وہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہو رہے تھے ان کی نسب سے بہت ہی حقیر تھا۔ تمام امور آخر کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔
۔۔۔
اللہ نے اموال غنیمت کا اختیار نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ آپ ان کے درمیان برابری کے اصول پر تقسیم کریں۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا کہ قومی مصارف کے لیے خمس حضور کے لیے مختص کردیا گیا اور یہ انتظام اس لیے کیا گیا کہ جہاد کے مقدس فریضے میں مسلمانوں کے دلوں سے یہ لالچ بھی جاتی رہے کہ انہیں اموال غنیمت میں سے بھی کچھ ملے گا۔ تاکہ اموال غنیمت پر آئندہ اس قسم کے تنازعات پیدا نہ ہوں۔ اس میں حق تصرف حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ حضور کی تقسیم کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ کسی کو کوئی شکایت پیدا ہونے کا سوال ہی نہ تھا اور تاکہ ان لوگوں کے دلوں سے خلش دور ہوجائے جنہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا تھا کیونکہ وہ بہرحال تمام لوگوں کے ساتھ اصول مساوات کے مطابق برابر کے شریک تھے۔
اب اللہ تعالیٰ یہاں خود ان کے طرز عمل سے ایک مثال پیش کرکے سمجھاتے ہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی بہتر ہے۔ اور جو وہ خود چاہتے ہیں وہ اللہ کی اسکیم کے مقابلے میں حقیر ہوتا ہے۔ لہذا ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ انفال کے بارے میں اللہ جو اسلامی قانون نازل کر رہا ہے وہی بہتر رہے گا۔ اس لیے کہ لوگ تو سامنے کے فائدے کو دیکھ سکتے ہیں ، عالم غیب پر ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہے اور اللہ یہ تبصرہ اللہ اسی واقعہ کو موضوع بنا کر فرما رہا ہے جو ان کے سامنے ہے اور اسی معرکے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غنائم ملے اور انہوں نے جھگڑا شروع کردیا۔ اس معرکے کے بارے میں وہ کیا ارادہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کس کا ارادہ کرلیا۔ اب ذرا دیکھو اپنے ارادے کو بھی اور اللہ کے ارادے کو بھی۔ دونوں میں قدر و قیمت کے اعتبار سے کس قدر فرق ہے۔ دونوں ارادوں کا یہ فرق کس قدر بعید ہے۔
كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۔ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۔ وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ ۔ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (اس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی وسی ہی صورت پیش آرہی ہے جیسی اس وقت پیش آئی تھی جب کہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ اس حق کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑ رہے تھے۔ در آں حالیکہ وہ صاف صاف نمایاں ہوچکا تھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جاے گا۔ تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہوکر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
اموال غنیمت کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹانا اور پھر ان کو جمع کرکے مسلمانوں کے درمیان اصول مساوات کے مطابق تقسیم کرنا اور اس اصول مساوات کو بعض لوگوں کا ناپسند کرنا اور اس سے قبل نبی ﷺ کی جانب سے بعض نوجوانوں کو دوسرے کے مقابلے میں بہتر حصہ دینا اسی طرح لوگوں کو پسند نہ تھا جس طرح ان لوگوں کو میدان جنگ کی طرف نکلنا پسند نہ تھا۔ کیونکہ مد مقابل بہتر ساز و سامان سے لیس تھا۔ اسلیے بعض مومنین اس وقت جنگ کو پسند نہ کرتے تھے لیکن نتائج سب کے سب ان کے سامنے تھے۔
الأنفال 8:8
اب آیت نمبر 5 سے 14 تک معرکے کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اموال غنیمت ہاتھ آئے تھے اور نتیجۃً مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ الجھ گئے تھے جیسا کہ حضرت عبادہ ابن الصامت نے نہایت ہی خلوص ، وضاحت اور صاف گوئی سے بتایا۔ یہاں حالات و واقعات پر اجمالی تبصرہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں مختلف لوگوں کے موقف اور احساس کو قلم بند کیا گیا ہے۔ اس پورے تبصرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معرکے میں مسلمان دست قدرت کے لیے گویا ایک پردہ تھے اور جو واقعات بھی پیش آئے اور ان کے جو نتائج بھی رونما ہوئے ان میں اموال غنیمت اور ان کے بارے میں تنازعات بھی شامل ہیں۔ یہ سب کے سب تقدیر الہی کے کرشمے تھے ، اللہ کی تدبیر ، تقدیر اور ہدایت کے مطابق سب کچھ رونما ہوا۔ اس جنگ کے بارے میں خود مسلمانوں کی جو پلاننگ تھی یا جو ارادے تھے وہ بہت ہی معمولی سی بات تھی ، نہایت ہی محدود۔ اور اللہ نے جو چاہا تھا وہ نہایت ہی بڑا اور لا محدود تھا۔ کیونکہ اللہ چاہتا تھا کہ یہ معرکہ عظیم ہو اور فیصلہ کن (یوم الفرقان) ہو۔ اور زمین اور آسمان دونوں پر اس کے اثرات ہوں۔ اس سے مالء اعلی ا کے لوگ بھی فائدہ اٹھائیں اور زمین کی مخلوق بھی متاچر ہو۔ اس کے ذریعے انسانی تاریخ کا داھارا بدل کر رکھ دیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ایک فریق تو نہایت ہی بد دلی کے ساتھ اس معرکے میں جا رہا تھا۔ بعض نے انفال پر تنازعہ شروع کردیا۔ تو دیکھو کہ تم جو کچھ سوچ رہے تھے اور جسے تم پسند یا ناپسند کرتے تھے۔ وہ اللہ کے ہاں جو فیصلے ہو رہے تھے ان کی نسب سے بہت ہی حقیر تھا۔ تمام امور آخر کار اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔
۔۔۔
اللہ نے اموال غنیمت کا اختیار نبی ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا تاکہ آپ ان کے درمیان برابری کے اصول پر تقسیم کریں۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے کہ آپ کو اختیار دیا گیا کہ قومی مصارف کے لیے خمس حضور کے لیے مختص کردیا گیا اور یہ انتظام اس لیے کیا گیا کہ جہاد کے مقدس فریضے میں مسلمانوں کے دلوں سے یہ لالچ بھی جاتی رہے کہ انہیں اموال غنیمت میں سے بھی کچھ ملے گا۔ تاکہ اموال غنیمت پر آئندہ اس قسم کے تنازعات پیدا نہ ہوں۔ اس میں حق تصرف حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ میں دے دیا جائے۔ حضور کی تقسیم کے نتیجے میں ظاہر ہے کہ کسی کو کوئی شکایت پیدا ہونے کا سوال ہی نہ تھا اور تاکہ ان لوگوں کے دلوں سے خلش دور ہوجائے جنہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا تھا کیونکہ وہ بہرحال تمام لوگوں کے ساتھ اصول مساوات کے مطابق برابر کے شریک تھے۔
اب اللہ تعالیٰ یہاں خود ان کے طرز عمل سے ایک مثال پیش کرکے سمجھاتے ہیں کہ جو اللہ چاہتا ہے وہی بہتر ہے۔ اور جو وہ خود چاہتے ہیں وہ اللہ کی اسکیم کے مقابلے میں حقیر ہوتا ہے۔ لہذا ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ انفال کے بارے میں اللہ جو اسلامی قانون نازل کر رہا ہے وہی بہتر رہے گا۔ اس لیے کہ لوگ تو سامنے کے فائدے کو دیکھ سکتے ہیں ، عالم غیب پر ان کی نظروں کے سامنے نہیں ہے اور اللہ یہ تبصرہ اللہ اسی واقعہ کو موضوع بنا کر فرما رہا ہے جو ان کے سامنے ہے اور اسی معرکے کا حصہ ہے جس کے نتیجے میں غنائم ملے اور انہوں نے جھگڑا شروع کردیا۔ اس معرکے کے بارے میں وہ کیا ارادہ رکھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کس کا ارادہ کرلیا۔ اب ذرا دیکھو اپنے ارادے کو بھی اور اللہ کے ارادے کو بھی۔ دونوں میں قدر و قیمت کے اعتبار سے کس قدر فرق ہے۔ دونوں ارادوں کا یہ فرق کس قدر بعید ہے۔
كَمَآ اَخْرَجَكَ رَبُّكَ مِنْۢ بَيْتِكَ بِالْحَقِّ ۠ وَاِنَّ فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ لَكٰرِهُوْنَ ۔ يُجَادِلُوْنَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَمَا تَبَيَّنَ كَاَنَّمَا يُسَاقُوْنَ اِلَى الْمَوْتِ وَهُمْ يَنْظُرُوْنَ ۔ وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ ۔ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (اس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی وسی ہی صورت پیش آرہی ہے جیسی اس وقت پیش آئی تھی جب کہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ وہ اس حق کے معاملہ میں تجھ سے جھگڑ رہے تھے۔ در آں حالیکہ وہ صاف صاف نمایاں ہوچکا تھا۔ ان کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جاے گا۔ تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہوکر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
اموال غنیمت کو اللہ اور رسول کی طرف لوٹانا اور پھر ان کو جمع کرکے مسلمانوں کے درمیان اصول مساوات کے مطابق تقسیم کرنا اور اس اصول مساوات کو بعض لوگوں کا ناپسند کرنا اور اس سے قبل نبی ﷺ کی جانب سے بعض نوجوانوں کو دوسرے کے مقابلے میں بہتر حصہ دینا اسی طرح لوگوں کو پسند نہ تھا جس طرح ان لوگوں کو میدان جنگ کی طرف نکلنا پسند نہ تھا۔ کیونکہ مد مقابل بہتر ساز و سامان سے لیس تھا۔ اسلیے بعض مومنین اس وقت جنگ کو پسند نہ کرتے تھے لیکن نتائج سب کے سب ان کے سامنے تھے۔
الأنفال 8:9
تفسیر آیات 9 تا 14:
اب سیاق کلام میں اس فیصلہ کن جنگ کے مناظر میں سے ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جماعت مسلمہ کا حال کیسا تھا ، اور اللہ نے ان کے لیے کیسی تدابیر اختیار کیں اور اللہ کی تائید و نصرت ان کو محض مشیت الہیہ اور تائید ایزدی کی وجہ سے نصیب ہوئی۔ قرآن کریم کا بےمثال انداز بیان اس معرکے کے مشاہدات ، تاثرات ، واقعات ، پریشانیوں اور امیدوں کو نہایت ہی دقت سے قلم بند کرتا ہے اس طرح کہ قاری گویا اپنے اپ کو اس معرکے کے اندر محسوس کرے مگر قرآنی تبصرے کے ساتھ ، تاکہ وہ حقائق کو بدر سے وسیع تر دائرے میں سمجھیں۔ جزیرۃ العرب سے بھی ان کی نظر وسیع بلکہ ان کا نقطہ نظر پوری کائنات سے بھی زیادہ وسیع ہو۔ اس بیان میں اب اس معرکے کا پس منظر ملاء اعلی تک وسیع ہوجاتا ہے۔ اب یہ معرکہ یوم بدر سے بھی آگے ، پوری انسانی تاریخ سے بھی آگے بڑھ کر ، پوری دنیاوی زندگی کے دائرے سے بھی وسیع تر دار آخرت تک پہنچ جاتا ہے اور اس پیش منظر میں جماعت مسلمہ کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں اس کی کیا قدروقیمت ہے ، اس کے اعمال کس قدر اہم ہیں اور اس کی اقامت دین کی جدو جہد اور حرکت کس قدر مقدس ہے۔
یہ ایک معرکہ ہے جو اللہ کے امر اور اس کی مشیت کے مطابق چل رہا ہے۔ اللہ کا نظام قضا و قدر اور اس کی تدبیر خود کر رہا ہے۔ اللہ کے خاص دستے اس میں شریک ہیں۔ اس معرکے میں حرکت الابزن کے مناظر اور اس کی خطرناکیاں اور اس کی کامیابیاں قرآنی عبارات میں صاف نظر آرہی ہیں۔ یہ ایک زندہ منظر ہے اور یوں نظر آتا ہے کہ شاید یہ نظر ابھی آنکھوں کے سامنے ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس معرکے میں اہل ایمان کی فریاد کی تھی ؟ امام احمد حضرت عمر ابن الخطاب سے روایت کرتے ہیں ، جب بدر کا واقعہ درپیش ہوا ، تو نبی ﷺ نے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا کہ وہ تین سو سے کچھ اوپر ہیں اور جب کفار کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک ہزار سے کچھ اوپر ہیں تو حضور ﷺ نے قبلہ کی طرف چہرہ مبارک پھیرا ، آپ چادر اور تہہ بند اوڑھے ہوئے تھے اور کہا : اے اللہ آپ نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا ہے اسے پورا کردیجیے۔ اے اللہ اگر آج آپ نے اہل اسلام کے اس گروہ کو ہلاک کردیا تو پھر دنیا میں کبھی تیری بندگی نہ ہوگی " کہتے ہیں آپ اللہ کے سامنے اسی طرح فریاد کرتے رہے اور پکارتے رہے ، یہاں تک کہ آپ کے کاندھوں سے چادر گرگئی۔ حضرت ابوبکر آئے ، انہوں نے چادر کو پکڑا اور اسے اپنی جگہ پر رکھ دیا اور پیچھے سے اسے پکڑے رکھا اور اس کے بعد آپ نے کہا " اے اللہ کے نبی ، بس اللہ کے سامنے آپ کی یہ فریاد کافی ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرے گا۔ اس پر اللہ نے یہ آیات نازل کیں۔
"إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ (9): اور وہ موقع جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں " یوم بدر میں فرشتوں کی تعداد اور ان کے طریقہ جنگ کے بارے میں متعدد اور مفصل روایات وارد ہیں۔ اور ان میں بتایا گیا ہے کہ وہ اہل ایمان کو کیا کہتے تھے اور کس طرح ان کو جرات دلاتے تھے اور کفار کو کیا کہتے تھے اور کس طرح انہیں شرمندہ کرتے تھے۔ لیکن ظلال القرآن میں ہمارا جو طریقہ ہے ، اس کے مطابق ہم اسی پر اکتفاء کرتے ہیں کیونکہ یہ معاملہ عالم غیب سے تعلق رکھتا ہے اور اس کے بارے میں قرآن و سنت کی نصوص واضح ہیں۔ یہاں قرآنی آیات بالکل واضح ہیں۔ مثلاً :
"إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُرْدِفِينَ (9): اور وہ موقع جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں "۔ یہ تو تھی ان کی تعداد۔ اور ان کا طریقہ جنگ یہ تھا :
"إِذْ يُوحِي رَبُّكَ إِلَى الْمَلائِكَةِ أَنِّي مَعَكُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِينَ آمَنُوا سَأُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ فَاضْرِبُوا فَوْقَ الأعْنَاقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ (12): اور وہ وقت جب کہ تمہارا رب فرشتوں کو اشارہ کر رہا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو ، میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں ، پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ "
یہ تھا ان کا عملی کام۔ اس سے مزید تفصیلات کی سرے سے ضرورت نہیں ہے کیونکہ آیت اپنے مفہوم میں واضح ہے۔ ہمیں اس قدر یقین کرلینا چاہیے کہ اس معرکے میں اللہ نے مسلمانوں کو اپنے حال پر نہ چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ تعداد و اسباب کے اعتبار سے بہت کم تھے اور جس طرح قرآن کریم کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے ، اسی انداز سے فرشتوں نے اس جنگ میں شرکت کی۔
امام بخاری باب ثہود الملائکہ بدر میں کہتے ہیں : ابن اسحاق سے ، جریر سے ، یحییٰ ابن سعید سے ، معاز ابن رفاعہ ابن رافع الرزقی سے ، اس کے باپ سے (اور یہ اہل بدر میں سے تھے) کہتے ہیں کہ جبرئیل نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا تم اہل بدر کے بارے میں کیا خیال کرتے ہو ، آپ نے فرمایا " ہم ان کو افضل المسلمین سمجھتے ہیں۔ تو جبرئیل نے کہا اسی طرح ہم فرشتوں میں سے جو بدری تھے ، ان کو افضل سمجھتے ہیں۔ (بخاری)
الأنفال 8:10
مسلمان اللہ کے دربار میں زاری کر رہے تھے تو اللہ نے ان کو جواب دیا کہ میں ایک ہزار فرشتوں کی امداد تمہارے لیے بھیج رہا ہوں جو لگاتار نازل ہوتے رہیں گے۔ اس اعلان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بہت عظیم تھا ، اور اللہ کے نزدیک اقامت دین کی بہت اہمیت تھی ، لیکن اللہ تعالیٰ یہاں اس بات کی وضاحت بار بار فرماتے ہیں کہ دنیا میں اسباب کی اس قدر اہمیت نہیں کہ ان سے تخلف ممکن نہ ہو۔ اصل اختیار اللہ کی مشیت کا ہوتا ہے۔ لہذا اسباب کے معاملے میں مومن کو اپنا ذہن صاف رکھنا چاہیے۔ اللہ کی جانب سے مدد کی قبولیت اور پھر اس کی اطلاع محض ایک خوشخبری تھی جس کے ذریعے مومنین کو اطمینان دلانا مقصود تھا۔ رہی نصرت تو وہ اللہ کی جانب سے تھی۔
یہ ہے وہ حقیقت جو یہاں قرآن مومنین کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہے تاکہ وہ کلی تکیہ اسباب پر نہ کریں۔
مسلمانوں کا یہ فرض تھا کہ وہ اپنی پوری قوت کو اس معرکے میں جھونک دیں اور کچھ بھی باقی نہ رکھیں۔ ابتدائی طور پر بعض لوگوں کے اندر جو تزلزل پیدا ہوگیا تھا اس پر قابو پا لیں۔ کیونکہ اس وقت وہ واقعی اور حقیقی خطرے سے دوچار تھے۔ وہ اللہ کا حکم بجا لاتے ہوئے اگے بڑھیں اور اللہ کی نصرت پر یقین رکھیں۔ بس یہی ان کے لیے کافی تھا تاکہ وہ اپنے حصے کا کردار اچھی طرح ادا کرلی۔ آگے پھر قدرت الہیہ کا کام آتا ہے اور قدرت الہی اپنے معاملات کی تدبیر خود کرتی ہے۔ اس کے علاوہ جو اقدامات ہوئے اور اطلاعات دی گئیں وہ محض مسلمانوں کے اطمینان کے لیے ہیں۔ ان کے قدموں کو ثابت کرنے کے لیے تھیں کیونکہ وہ ایک حقیقی خطرے سے دوچار تھے۔ جماعت مسلمہ کے لیے یہ بات کافی تھی کہ اسے یہ اطمینان ہو کہ اللہ کے لشکر اس کے ساتھ ہیں اور یہ کہ نصرت ان کے لیے مقدر ہے۔ کیونک نصر اللہ کی جانب سے ہوتی ہے اور اللہ ان کے ساتھ ہے ، وہ عزیز ہے اور وہی غالب ہے ، وہی حکیم ہے اور وہ ہر بات کو اپنے حقیقی مقام پر رکھتا ہے۔
الأنفال 8:11
یہ غنودگی کا واقعہ بھی نہایت ہی عجیب اور حیرت انگیز ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حالت تھی اور جنگ سے قبل مسلمانوں پر طاری ہوگئی تھی۔ یہ صرف امر الہی اور اللہ کی خاص تدبیر اور تقدیر کا کارنامہ تھا۔ جب لشکروں کا آمنا سامنا ہوا تو مسلمانوں پر قدرے خوف طاری ہوگیا کیونکہ ان کی توقع نہ تھی کہ اس قدر عظیم لشکر امنڈ آئے گا۔ اور اس وجہ سے ان کی تیاری بھی نہ تھی ، اچانک انہیں غنودگی نے آ لیا۔
جب یہ غنودگی دور ہوئی تو وہ بالکل فریش اور تروتازہ تھے۔ ان کے دل اطمینان سے بھرے ہوئے تھے۔ یہ حالات ان پر احد میں طاری ہوگئی تھی۔ لوگوں کے اندر بےچینی آگئی ، اور اللہ نے ان پر غنودگی طاری کردی۔ اور انہیں اطمینان ہوگیا ۔ میں ان آیات کو پڑھ کر گذر جاتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ یہ دور ماضی کا ایک واقعہ ہے۔ میں اس واقعہ کے بارے میں قران کریم کے اس قصے کو پڑھتا اور یہ سمجھتا کہ اس کا راز اللہ ہی جانتا ہے جس نے ہمیں اس کی اطلاع دی ہے۔ لیکن جب مجھ پر مشکلات آئیں اور بعض لمحات نہایت ہی تنگی اور پریشانی کے بھی گذرے تو مجھے ان آایت کا مفہوم سمجھ میں آیا۔ ایک بار میں نامعلوم خوف سے دوچار ہوگیا ، غروب شمس کا وقت تھا ، اچانک چند منٹوں کے لیے مجھ پر غنودگی آجاتی ہے اور جب یہ حالت دور ہوتی ہے تو میں محسوس کرتا ہوں کہ میں وہ نہیں ہوں جو اس غنودگی سے پہلے تھا۔ میرا نفس نہایت ہی پرسکون تھا۔ دل مطمئن تھا اور میں گہرے اطمینان میں غرق تھا۔ چند لمحات میں یہ عمل کیسے طے ہوگیا۔ یہ اچانک کس طرح انقلاب برپا ہوگیا۔ یہ میں نہیں جانتا۔ لیکن یہ بات ضرور ہوگئی کہ قصہ بدر و احد میری سمجھ میں آگیا۔ اس واقعہ کے بعد میں اپنی پوری شخصیت کے ساتھ اس قصے کو سمجھ لیا ، محض عقلی طور پر نہیں یہ اب میرے وجود میں ایک زندہ حقیقت تھی۔ محض تصور اور خیال نہ تھا۔ مجھے صاف نظر آیا کہ اس میں دست قدر کی کارفرمائی ہے اور نہایت ہی خفی طور پر مجھے اطمینان عطا ہوگیا۔
بدر کے دن جماعت مسلمہ کے لیے یہ غنودگی اللہ کی غیبی امداد تھی۔ اذ یغشکیم النعاس امنۃ ۔ اس وقت کو یاد کرو کہ تمہار رب اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان و بےخوفی کی کیفیت طاری کر رہا تھا۔ اس آیت میں یغشیکم النعاس اور امنۃ تینوں لفظ اس فضا پر ایک لطیف اور شفاف پرتو ڈالتے ہیں اور اس منظر کی عام فضا کی نقشہ کشی کرتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے شب و روز کیا تھے اور یہ کہ مسلمانوں کے عام حالات کے مقابلے میں اور ان کی اس نفسیاتی کیفیت میں فرق کیا تھا۔
اب بارش کا قصہ ملاحظہ فرمائیں۔
وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الأقْدَامَ (11): اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جما دے۔
یہ واقعہ معرکہ سے قدرے پہلے پیش ٓیا۔ اور یہ بھی امت مسلمہ کے لیے ایک قسم کی خاص امداد تھی۔
علی ابن طلحہ نے حجرت ابن عباس سے روایت کی ہے ، کہ یوم بدر میں حضور ﷺ نے جس جگہ پر قیام کیا اس کی پوزیشن یہ تھی کہ مشرکین اور پانی کے درمیان ایک ریت کا ٹیلہ تھا جو ایک پتھریلی جگہ تھی۔ اس دن مسلمان بہت ہی تھکے ہوئے تھے۔ ایسے حالات میں شیطان نے ان کے دلوں میں وسوسہ اندازی شروع کردی کہ تم دعویٰ تو یہ کرتے ہو کہ تم اللہ کے دوست ہو اور تمہارے اندر اللہ کے رسول موجود ہیں۔ حالانکہ مشرکین پانی پر قبضہ کرچکے ہیں اور تمہاری حالت یہ ہے کہ تم حالت جنابت میں نماز پڑھتے ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے شدید بارش برسائی۔ مسلمانوں نے پانی بھی پیا اور طہارت بھی حاصل کی اور اللہ نے شیطانی نجاست سے ان کو پاک کردیا۔ جب بارش ہوئی تو ریت بھی بیٹھ گئی اور لوگ اور جانور اس کے اوپر آسانی سے چلنے لگے۔ اس طرح وہ آگے بڑھے۔ ـاللہ نے نبی کو ایک ہزار فرشتوں کی امداد حضرت جبریل کی کمان میں پانچ صد فرشتے تھے جو ہر قسم کے سامان سے لیس تھے۔ اور میکائیل کی کمان میں بھی پانچ صد فرشتے تھے۔
یہ حالت اس وقت پیش آئی جب کہ حضور ﷺ نے حباب ابن منذر کے مشور پر کیمپ نہیں بدلا تھا۔ انہوں نے شمورہ دیا کہ مناسب یہ ہے کہ ہم بدر کے پانیوں کے قریب فروکش ہوں اور پانی کا حوض بنا کر مخالف کیمپ کا پانی بند کردیں۔
” معروف یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب بدر کی طرف چلے تو آپ نے ابتدائی اور پہلے پانی پر قیام کیا لیا۔ اس پر حباب ابن منذر آگے بڑھے کہ جس مقام پر قیام کا حکم دیا گیا ہے آیا یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ ہم اس میں رد و بدل کرسکتے ہیں اور یہ مقام بطور جنگی چال اور تدبیر ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے یہ مقام محض جنگی سوچ کی بنا پر تجویز کیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا پھر یہ جگہ ٹھیک نہیں ہے فوجی کیمپ کے لیے۔ مناسب یہ ہے کہ آپ ہمیں آخری پانی پر لے چلیں جو مشرکین کے قریب ہے اور اس آخری پانی سے پیچھے جس قدر پانی ہیں ، ان کو ہم دشمن سے روک لیں گے۔ ہم خود پئیں گے اور مویشیوں کو پلائیں گے۔ یوں ہمارے پاس پانی ہوگا اور ان کے پاس پانی نہ ہوگا۔ اس پر حضور نے لشکر کو ایسا ہی کا حکم دیا اور اس مشورے پر عمل کیا۔
حباب ابن المنذر کے مشورے سے قبل کی رات میں مسلمانوں کی یہ حالت تھی جس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ بطور احسان اس جماعت سے کر رہے ہیں جو بدر میں شریک ہوئی۔ یہ جو امداد اللہ نے کی یہ دوسری امداد تھی۔ یہ روحانی بھی تھی اور مادی بھی تھی اس لیے کہ صحراؤں میں پانی پر زندگی موقوف ہوتی ہے۔ پانی فتح کا سامان ہوتا ہے اور صحراؤں میں جس لشکر کے پاس پانی نہ ہو وہ ذہنی طور پر شکست کھا جاتا ہے۔ اور روحانی اس طرح کہ مسلمان شیطانی وسوسوں سے بھی نکل آئے۔ وہ حالت جنابت میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اس وقت تک ان کو تیمم کی اجازت بھی نہ تھی۔ یہ اجازت بہت بعد میں غزوہ بنی المصطلق میں دی گئی یعنی 5 ہجری میں۔ ایسے حالات میں شیطان نے نفسیاتی وسوسے ڈالے اور لوگوں کے اندر نفسیاتی اور روحانی بےچینی پیدا کردی تھی تاکہ جب یہ لوگ اس معرکے میں داخل ہوں تو روحانی اعتبار سے پریشان ہوں اور مادی شکست سے پہلے ان کو اندرونی طور پر شکست ہوچکی ہو اور وہ اندر سے ٹوت چکے ہوں۔ ایسے حالات میں اللہ کی یہ امداد خاص آئی ہے۔
” وَيُنَزِّلُ عَلَيْكُمْ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لِيُطَهِّرَكُمْ بِهِ وَيُذْهِبَ عَنْكُمْ رِجْزَ الشَّيْطَانِ وَلِيَرْبِطَ عَلَى قُلُوبِكُمْ وَيُثَبِّتَ بِهِ الأقْدَامَ (11): اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسا رہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جما دے “
یوں مادی امداد کے ساتھ ساتھ روحانی امداد بھی پوری پوری ہوجاتی ہے۔ پانی کی وجہ سے دلوں کو اطمینان ہوگیا اور روح کی پاکیزگی کی وجہ سے وہ تروتازہ ہوگئے۔ بارش کی وجہ سے ریت بیٹھ گئی اور قدم بھی مضبوط ہوگئے۔
یہ تدابیر اس کے علاوہ تھیں کہ اللہ نے فرشتوں کو خصوصی ہدایت دے دیں کہ تم اہل ایمان کے قدموں کو مضبوط کرو اور کفار کے دلوں میں ان کا رعب ڈالو ، اور فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ تم عملاً جنگ میں شرکت کرو۔
الأنفال 8:12
یہ ایک عظیم معاملہ ہے ، اس معرکے میں فوج ملائکہ کے ساتھ خود اللہ بھی موجود ہیں اور ملائکہ اہل ایمان کی مدد کے لیے آ رہے ہیں۔ یہ اس قدر عظیم معاملہ ہے جو کسی صورت میں بھی نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں ہے۔ سوچئے ! ملائکہ کس طرح شریک ہوئے ؟ انہوں نے کتنے افراد کو مارا ؟ کس طرح مارا ؟ یہ ایک عظیم معاملہ ہے اور بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ جو جماعت اقامت دین کا کام کرتی ہے اس میں اس کے ساتھ ملائکہ شریک ہوتے ہیں اور ملائکہ اس میں حصہ لیتے ہیں۔
ہمارا ایمان ہے کہ مخلوقات رب العالمین میں ایک مخلوق ایسی ہے جسے ملائکہ کہا جاتا ہے کہ ان کی طبیعت اور ماہیت کیا ہے ؟ اس کے بارے میں ہمیں صرف اس قدر علم دیا گیا ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ لہذا ہمیں اس کیفیت کا بھی علم نہیں جس کے مطابق اس مخلوق نے مومنین کی امداد کی۔ قرآن یہ کہتا ہے کہ رب تعالیٰ نے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ مومنین کے لیے ثابت قدمی کا باعث ہوں اور میں بھی تمہارے ساتھ ہوں اور انہوں نے یہ کام کیا ، کیونکہ یہ وہ مخلوق ہے جو امر الہی کی پابند ہے۔ لیکن ہمیں معلوم نہیں ہے کہ انہوں نے یہ کام کیسے کیا ؟ اللہ نے یہ حکم بھی دیا کہ کفار کی گردنوں پر وار کرو اور ان کے ایک ایک جوڑ پر وار کرو تاکہ یہ کام کے ہی نہ رہیں اور انہوں نے ایسا کیا۔ لیکن کیسے کیا ؟ یہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ ہمیں ان کے بارے میں اسی قدر علم ہے جو اللہ نے بتایا۔ پھر اللہ کا حکم یہ تھا کہ کفار کے دلوں کے اندر رعب ڈالا جائے اور یہ ڈال دیا گیا اور ایسا کردیا گیا۔ کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ لیکن ہمیں اس کی کیفیات کا بھی علم نہیں ہے کیونکہ یہ کفار اللہ کی مخلوق ہیں اور وہ اپنی مخلوق کے بارے میں خوب جانتا ہے کہ اس پر کس طرح اثر ہوگا۔ وہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور وہ شاہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔
ان افعال کی کیفیات سے بحث کرنا ، دین اسلام کے مزاج کے خلاف ہے اور اس دین کی سنجیدگی کے ساتھ یہ طرز عمل لگا نہیں کھاتا۔ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ یہ ایک عملی دین ہے اور یہ عقیدہ اور نظریات و تصورات کو بھی عملی حد تک رکھتا ہے۔ لیکن بعد کے ادوار میں مسلمانوں کے علم الکلام کے اندر یہ مباحث زیادہ اہم ہوگئے اور یہ اس وقت ہوا کہ جب لوگ اسلام کے مثبت اور عملی کام سے فارغ ہوگئے اور علمی اور ثقافتی رنگ ان پر غالب ہوگیا۔ لیکن اصل بات تو یہ تھی کہ مسلمان میدان معرکہ ہوتے ، فرشتے ان کے ساتھ بزن کے عالم میں ہوتے اور فرشتوں اور مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہوتے تو یہ عملی صورت حال مسلمانوں کے لیے ، اس ثقافتی جدل وجدال سے زیادہ نفع بخش ہوتی۔
الأنفال 8:13
اس تقریر کے آخر میں اور اس عظیم اور ہولناک حقیقت کے انکشاف کے آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اس معرکے کا پس منظر کیا تھا اور کن حقائق کی وجہ سے کسی کو نصرت ملی اور کسی کے حصے میں ہزیمت آئی۔ وہ عظیم پس منظر یہ تھا :۔
” ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاۗقُّوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۚ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے “
یہ کوئی ایسا واقعہ نہ تھا کہ اچانک پیش آگیا اور نہ ہی یہ اتفاقی حادثہ تھا جو پیش آگیا اور چلا گیا۔ اللہ نے جماعت مسلمہ کی نصرت کی اور اسے اس کے دشمنوں پر مسلط کردیا اور اس کے دشمنوں کے دلوں کے اندر رعب بٹھا دیا۔ مسلح فرشتے ان کی امداد کے لیے پہنچ گئے۔ یہ اس لیے تھا کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنے لیے وہ محاذ چن لیا جو اللہ کا محاذ نہ تھا اور وہ اللہ اور رسول کی مخالف صفوں میں چلے گئے۔ انہوں نے خدا اور رسول سے محاذ آرائی شروع کردی اور وہ اسلامی نظام حیات کے قیام کے لیے رکاوٹ بن گئے تھے۔
” وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ : اور جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے “ یعنی ایسے لوگوں پر وہ سخت عذاب نازل کرتا ہے۔ اللہ اس قدر طاقتور ہے کہ وہ ان پر عذاب نازل کرسکتا ہے اور وہ اس قدر ضعیف ہیں جو اس عذاب کو برداشت کرنے کی قدرت اپنے اندر نہیں رکھتے۔
یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے ، اور اس کا اصول ہے۔ یہ کوئی اچانک یا کوئی حادثہ یا اتفاق نہیں ہے۔ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے کہ اس کرہ ارض پر جب بھی کوئی جماعت اس لیے اٹھے کہ وہ یہاں اللہ کے اقتدار اعلی کو قائم کرے گی اور یہاں صرف اسلامی نظام حیات قائم ہوگا اور اس جماعت کے خلاف اللہ کا کوئی دشمن اٹھ کھرا ہوا اور اس نے اس جماعت کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی اور ایسے لوگ قوت اور رعب و داب کے مالک بھی ہوتے تو اللہ کی مدد اس جماعت کے ساتھ ہوا کرتی ہے بشرطیکہ یہ جماعت ثابت قدمی سے اپنے مقصد کی طرف گامزن ہو اور رب تعالیٰ کی راہ میں مطمئن ہو۔ اس پر توکل کرنے والی ہو اور اپنی راہ پر اس کا سفر جاری ہو۔
الأنفال 8:14
اس منطر کے آخر میں ان لوگوں کو مخاطب کیا جاتا ہے جنہوں نے اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ محاذ آرائی شروع کردی ہے کہ یہ رعب اور پھر یہ ہزیمت جو تمہیں اس دنیا میں اٹھانی پڑی اس پر یہ بات ختم نہیں ہوگئی ہے کیونکہ یہ دین ، اس کا قیام اور اس کی جماعت صرف اس مختصر سے زمانہ دنیا پر ختم ہوجانے والا معاملہ ہی نہٰں ہے۔ یہ معاملہ اس دنیا اور اس کائنات سے بہت آگے تک جاتا ہے۔ اس زندگی کے بعد دوسری زندگی پر بھی اس کے اثرات ہیں اور وہ یہ ہیں۔ ” ذٰلِكُمْ فَذُوْقُوْهُ وَاَنَّ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابَ النَّارِ : یہ ہے تم لوگوں کی سزا ، اب اس کا مزہ چکھو ، اور تمہیں معلوم ہو کہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے “۔ یہ ہوگا اصلی انجام اور یہ عذاب اس عذاب سے بہت ہی مختلف قسم کا اور زیادہ ہوگا جو تمہیں مرعوب کرکے اور تمہاری گردنوں پر اور جوڑوں پر ضربات لگا کر تمہیں دیا گیا۔
۔۔۔۔
جنگ بدر کے واقعات اور حالات کی منظر کشی کے بعد اور یہ دکھانے کے بعد کہ اس کے پس منطر میں دست قدرت کام کر رہا تھا اور اللہ کی معاونت اور امداد اس میں شامل تھی اور یہ جان لینے کے بعد کہ مسلمان کو اس پوری تگ و دو میں دست قدرت کے لیے ایک پردہ تھے ، کیونکہ اللہ ہی نے رسول کو گھر سے نکالا۔ یہ محض نمائش قوت کے لیے نہ نکلے تھے اور نہ ہی مظالم کے لیے نکلے تھے ، یہ اللہ ہی نے فیصلہ کیا کہ دو گروہوں میں سے کون سا گروہ مسلمانوں کے ہاتھ لگے اور وہی ہے جس نے مجرموں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی تاکہ حق ، حق ہوجائے اور باطل ، باطل ہوجائے۔ اگرچہ مجرم اس بات کو پسند نہ کرتے تھے اور یہ اللہ ہی تھا جس نے ان کی مدد کے لیے وہ فرشتے بھیجے جو لگاتار آ رہے تھے۔ پھر وہ اللہ ہی تھا جس نے ان پر غنودگی طاری کردی تھی اور آسمانوں سے ان پر پانی اتارا تاکہ ان کو پاک کردے اور ان کو شیطانی نجاست سے پاک کردے ان کے دلوں کو مطمئن کردے اور قدم مضبوط کردے۔ اور یہ اللہ ہی تھا کہ اس نے فرشتوں کو حکم دیا کہ مسلمانوں کے قدم مضبوط کردیں ، اور کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دیں اور وہ اللہ ہی تھا جس نے اس معرکے میں فرشتوں کو شریک کیا۔ ان کو حکم دیا کہ ان کی گردنوں پر ضربات لگاؤ اور ان کے جوڑوں میں چوٹیں لگاؤ اور پھر اللہ ہی تھا جس نے ان کو اموال غنیمت عطا کیے حالانکہ جب وہ گھر سے نکلے تھے تو ان کے پاس نہ مال تھا اور نہ سازوسامان تھا۔
الأنفال 8:15
اب جبکہ سابقہ واقعات بیان ہوگئے تو اس حقیقت کو ان کے ذہن نشین کرنے کے لیے دوبارہ بیان کیا جاتا ہے تاکہ یہ ان کی نظروں کے سامنے رہے کہ فیصلہ کن جنگ صرف سازوسامان اور زاد و عتاد پر موقوف نہیں ، بلکہ اس میں نصرت الٰہی اور اللہ کی تدبیر اور مشیت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ اس راہ میں اصل سازوسامان توکل علی اللہ ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف التجا اور اللہ کے ہاں فریاد وزاری اور اللہ کی تدبیر اور تقدیر اس میں فیصلہ کن ہوتی ہے۔
یہ منظر ابھی تک ان لوگوں کے ذہنوں میں اچھی طرح بیٹھا ہوا ہے۔ ایسے حالات اور ایسا ماحول اس بات کے لیے نہایت ہی مناسب ہوتا ہے اور اس میں بات مانی جاتی ہے۔ چناچہ ایسے ماحول میں مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا جاتا ہے کہ ان کی صفت ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ جب کفار کے بالمقابل کھڑے ہوں تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں اور فرار اور ہزیمت کو ہرگز قبول نہ کریں۔ خصوصاً جبکہ نصرت اور ہزیمت اللہ کے اختیار میں ہوتی ہے اور اس پر تمہارا ایمان ہے۔ نصرت اور ہزیمت کا فیصلہ صرف اسباب ظاہریہ پر ہی نہیں ہوتا ، خصوصاً جبکہ کسی معرکے کی تدبیر اور کمان خود اللہ نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی ہو۔ جیسا کہ تمام امور کی تدبیر وہی کرتا ہے اور وہی ہے جو مومنین کے ہاتھوں کفار کو قتل کراتا ہے۔ وہی ہے جو تیرے کو نشانے پر بٹھاتا ہے۔ اہل ایمان تو دست قدرت کے لیے ایک پردہ اور بہانہ ہیں اور اللہ اس بہانہ سے انہیں جہاد کا ثواب عطا کرتا ہے اور کافروں کو مسلمانوں کی نسبت سے مرعوب کرتا ہے۔ ان کی تدبیر کی چولیں ڈھیلی کرتا ہے اور دنیا و آخرت میں انہیں عذاب سے دوچار کرتا ہے اس لیے کہ وہ درحقیقت اللہ اور رسول سے محاذ آرائی کیے ہوئے ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔
” يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دو چار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو “
قرآن نے اس معاملے میں جو سخت انداز گفتگو اختیار کیا ہے اور سخت سزا تجویز کی ہے اور فیصلہ یہ کیا ہے کہ جو شکست کھاتے ہوئے بھاگے وہ غضب الہی کا مستحق ہوگا اور اس کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا۔ یہ ڈراوا ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دو چار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الا یہ کہ نگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت بری جائے باز گشت ہے۔
اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب تم حالت ” زحف “ میں ہو یعنی جنگ میں دوبدو مقابلہ آن پڑے تو اس وقت فرار اختیار نہ کرو الا یہ کہ یہ فرار کسی جنگی چال کی صورت میں ہو ، کہ تم بہترین مواقع کے لیے فرار اختیار کر رہے ہو یا کوئی اور بہترین منصوبے کی خاطر فرار کا حکم دیا گیا ہو۔ یا تم کسی دوسری جنگی کمپنی سے ملنے کے لیے فرار اختیار کر رہے ہو۔ یا تم جنگی ہیڈ کو ارٹرز کی طرف بھاگ رہے ہو تاکہ دوبارہ حملہ کرسکو۔ ان حالات کے سوا کسی اور صورت میں اگر تم دشمن کو پیٹھ دکھاؤ گے تو تم عذاب کے مستحق بن جاؤگے تم پر اللہ کا غضب ہوگا اور تمہارا ٹھکانا جہنم ہوگا۔
بعض اقوال ایسے منقول ہوئے ہیں کہ یہ حکم صرف اہل بدر کے لیے تھا یا ایسے غزوات کے لیے تھا کہ جن میں حضور اکرم ﷺ بذات خود شریک ہوا کرتے تھے لیکن جمہور علماء اور مفسرین کا قول یہ ہے کہ یہ آیت اور حکم عام ہے اور یہ کہ دو بدو مقابلے سے بھاگنا ان سات گناہ ہائے کبیرہ میں سے ایک ہے جن کے بارے میں حضور نے لفظ ” مولفات “ استعمال کیا ہے۔ بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ کی روایت نقل کی ہے کہ حضور نے فرمایا سات ان گناہوں سے اجتناب کرو جو مولفات ہیں۔ کہا گیا حضور وہ کیا ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا الشرک باللہ ، سحر ، ایسے شخص کا قتل جس کا قتل حرام ہو ، اکل ربا ، اکل مال یتیم ، دو بدو جنگ میں پیٹھ پھیرنا اور محض بیخبر مومن عورتوں پر الزام لگانا۔
امام ابوبکر الجصاص نے احکام القرآن میں اس کے بارے میں تفصیلات دی ہیں یہاں ان پر نظر ڈالنا مفید رہے گا۔ ” اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ” وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ “ ابو نضرہ نے اوب سعید سے یہ نقل کیا ہے کہ یہ یوم بدر کے معاملے میں تھا کیونکہ اس دن وہ بھاگ کر کس سے ملتے ؟ صرف یہ صورت تھی کہ وہ مشرکین سے ملتے۔ کیونکہ مسلمان تو ان کے سوا کوئی تھا نہیں۔ اور حجور نے سب لوگوں کو حکم نہ دیا تھا کہ وہ نکلیں ، اور نہ ان لوگوں کی رائے تھی کہ جنگ ہوجائے۔ سب کا خیال یہ تھا کہ قافلے کے ساتھ ہی مڈ بھیڑ ہوگی۔ حضور ایک خفیف سی قوت لے کر نکلے۔ لہذا ابو نضرہ کا کہنا کہ اس دن ان لوگوں کے سوا اور کوئی مسلمان نہ تھا اور اگر وہ بھاگتے تو صرف کفار کی طرف بھاگ جاتے ، غلط ہے اور دلیل وہی ہے جو ہم نے بیان کی۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جنگ بدر کے دن ان کے لیے بھاگنا اور پیٹھ پھیرنا اس لیے جائز نہ تھا کہ اس دن حضور ﷺ ان میں موجود تھے اور حضور کو چھوڑ کر بھاگنا جائز نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولہم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبو بانفسہم عن نفسہ : اہل مدینہ اور اس کے ماحول میں رہنے والے اعراب مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو چھور کر بیٹھے رہتے اور اس کی طرف سے بےپرواہ ہو کر اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے “۔ اس لیے ان کے لیے یہ جائز نہ تھا کہ وہ اپنے نبی کو ناکام بناتے اور اسے چھور کر دشمن کے حوالے کردیتے۔ اگرچہ اللہ اس کا کفیل تھا اور ان کا مددگار تھا۔ اس نے ذمہ داری قبول کی تھی کہ اسے کافروں سے بچائے گا۔ جیسا کہ کہا گیا واللہ یعصمک من الناس۔ اللہ ٓپ کو لوگوں سے بچائے گا۔ لہذا ان پر حضور کی مدد کرنا فرض تھا۔ چاہے دشمن زیادہ ہو یا قلیل ہو۔ اور ان لوگوں کی دلیل یہ بھی ہے کہ اس دن حجور ہی ایک دستہ تھے اور جنگ میں پیٹھے پھیرنا اس شرط پر جائز تھا کہ وہ مجاہدین کی کسی دوسری کمپنی کی طرف پیٹھ پھیر کر بھاگے۔ حضور اس دن واحد گروہ تھے ، کوئی اور گروہ بدریوں کے علاوہ کسی جگہ تعینات نہ تھا۔ حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ میں ایک لشکر میں تھا۔ لوگوں نے یکبارگی حملہ کیا اور ہم مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ ہم نے کہا کہ ہم تو بھاگنے والوں میں سے ہیں۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا میں تمہارے لیے فئہ ہوں۔ اس لیے جو شخص نبی ﷺ سے دور ہو اور وہ واپس آجائے تو اس کا نبی ﷺ کے پاس واپس ہونا جائز ہے۔ اور اگر حضور جنگ میں موجود ہوں تو پھر کوئی ایسا گروہ موجود نہ ہوگا جس کے ساتھ ملنے کے لیے فوجیوں کے لیے بھاگنا جائز ہو۔ وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ۔ اور جو شخص اس دن پیٹھ کفار کی طرف پھیرے گا۔ اس آیت کے بارے میں ابن الحسن کہتے ہیں کہ اہل بدر پر بہت ہی سختی سے احکامات نافذ کرائے گئے اور یہ آیت ان الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعان انما استزلہم الشیطن ببعض ما کسبوا۔ وہ لوگ جو اس دن بھاگ گئے جس دن دو فوجوں کا آمنا سامنا ہوا ، ان کو شیطان نے ان کی بعض بد اعمالیوں کی وجہ سے پھسلا دیا۔ اس لیے کہ یہ لوگ حضور سے بھاگ گئے تھے۔ نیز حنین کی جنگ میں بھی یہ لوگ نبی ﷺ کو چھور کر بھاگ گئے تھے۔ اس لیے اللہ نے اس فعل پر ان کو سزا دی۔
” ویوم حنین اذ اعجبتکم کثرتکم فلم تغن عنکم شیئا و ضاقت علیکم الارض بما رحبت ثم و لیتم مدبرین۔ اور حنین کے دن کو یاد کرو جب تمہاری کثرت نے تمہیں غرور میں ڈال دیا تھا لیکن اس کثرت نے تمہیں کوئی فائدہ نہ دیا۔ اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ تو یہ تھا حکم اس حالت کے لیے جب حضور ان کے ساتھ تھے۔ چاہے دشمن کم ہو یا زیادہ۔ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی رعایت نہیں دی۔ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا : اے نبی مومنوں کو جنگ پر ابھارو ، اگر تم میں بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے۔ یہ حکم اس وقت کے لیے تھا کہ حضور ﷺ ان کے پاس نہ ہوتے ، واللہ اعلم۔ ایسے حالات میں پہلے حکم یہ تھا کہ بیس دو سو سے مقابلہ کریں گے اور میدان چھوڑ کر نہ بھاگیں گے اور اگر دشمن اس تعداد سے زیادہ ہو تو پھر بہترین صورت میں حملے کے لیے پیچھے ہٹنا جائز ہوگا۔ لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہوگیا اور دوسری آیت نازل ہوئی۔ ” الآنَ خَفَّفَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا فَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ : اچھا اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا ، اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے ، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابر ہوں وہ دو سو پر اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو وہ تو دوہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں گے “
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ پہلے فرض یہ کیا گیا تھا کہ ایک آدمی دس سے نہیں بھاگے گا۔ پھر اسے کم کردیا گیا اور کہا گیا کہ الئٰن خفف اللہ عنکم و علم ان فیکم ضعفا : اچھا رب نے تمہارا بوجھ ہلکا کردیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے۔
اب فرض یہ عائد ہوا کہ ایک صد دو صد سے نہ بھاگیں گے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ اب حکم یہ ہے کہ اگر ایک شخص دو سے بھاگے تو یہ فرار ہوگا اور اگر کوئی تین کے مقابلے میں بھاگ جائے تو فرار نہ ہوگا۔ شیخ کہتے ہیں کہ یہاں فرار سے مراد وہ فرار ہے جو اس آیت میں مقصود ہے۔ ٓآیت نے یہ فرض کیا ہے کہ ایک آدمی دو کے مقابلے میں ڈٹ جائے گا اور اگر دو سے زیادہ تعداد ہو تو پھر مجاہد کے لیے دوبارہ جنگ کی تیار کی نیت سے اور فوج کے ساتھ ملنے کی غرض سے فرار جائز ہے۔ لیکن اگر ایک شخص ایسے غیر مسلم مسلمانوں کی طرف فرار کرتا ہے تو بھی وہ اس وعید کا مستحق ہوگا جو اس آیت میں وارد ہے۔ کیونکہ آیت میں حکم ہے : وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ ۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الا یہ کہ نگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں ہر مسلمان کے لیے دوسری فوج (فئہ) ہوں۔ حضرت عمر ابن الکطاب وک جب معلوم ہوا کہ ابو عبید ابن مسعود نے ایک لشکر کے ساتھ جنگ کی اور شہید ہوگئے لیکن بھاگے نہیں تو انہوں نے کہا ” اللہ ابو عبید پر رحم کرے اگر وہ میری طرف واپس آجاتا تو میں اس کے لیے دوسری فوج ہوتا۔ اور جب ابو عبید کے ساتھی واپس آئے تو حضرت عمر نے کہا میں تمہارے لیے دوسری فوج ہوں۔ آپ نے ان رپ کوئی سختی نہ کی اور نہ باز پرس کی۔ یہی حکم ہمارے ہاں ہے (یعنی حنفیہ کے نزدیک جب تک مسلمانوں کی فوج کی تعداد 21 ہزار تک نہیں پہنچ جاتی کیونکہ 21 ہزار کے لیے اپنے مقابلے میں ہٹنا جائز نہیں ہے۔ اگر ان کی تعداد دگنی ہو الا یہ کہ وہ جنتگی چال کے طور پر ایسا کریں جنگی چال یہ کہ وہ ایک مورچے سے دوسرے مورچے میں چلے جائیں ، یا کوئی دوسری چال اختیار کریں جس میں جنگ سے فرار کا عنصر نہ ہو۔ یا دوسری فوج اور یونٹوں سے ملیں۔ محمد ابن الحسن سے مذکور ہے کہ اگر فوج 21 ہزار تک پہنچ جائے تو اس پر فرض ہے کہ ہر صورت میں دشمن کا مقابلہ کرے۔ اس بارے میں حنفیہ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حنفیہ نے حدی زہری سے استدلال کیا ہے جو انہوں نے عبیداللہ ابن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ ابن عباس نے حضور سے یہ روایت کی ہے۔ آپ نے فرمایا : ” اچھے ساتھی چار ہیں اور اچھے فوجی دستے چار سو ہیں اور اچھے لشکر چار ہزار ہیں اور 21 ہزار افراد کے لشکر کو قلیل نہ سمجھا جائے گا اور نہ ہی وہ مغلوب ہوں گے “ بعض روایات کے الفاظ یہ ہیں : ” کہ تم میں سے کوئی قوم بھی اگر 21 ہزار ہو تو مغلوب نہ ہوگی بشرطیکہ کہ اس میں اتحاد ہو “ امام طحاوی نے یہ نقل کیا ہے کہ امام مالک سے پوچھا گیا : ” کیا ہمارے لیے ایسے شخص کے خلاف جہاد و قتال سے رکنا جائز ہے جو احکام الہی کی پیروی نہیں کرتا اور اللہ کے سوا دوسروں کے احکام کے مطابق فیصلے کرتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر تمہارے جیسے 21 ہزار افراد موجود ہوں تو پیچھے ہٹنا منع ہے۔ اور اگر اس قدر افراد نہ ہوں تو تمہارے لی گنجائش ہے کہ قتال نہ کرو “۔ اور یہ سائل عبداللہ ابن عمر ابن عبدالعزیز تھے۔ ابن عبداللہ ابن عمر تھے۔ اور یہ بات اس رائے کے مطابق ہے جو محمد ابن الحسن سے نقل کی گئی۔ نبی ﷺ سے 12 ہزار کے بارے میں جو روایت ہے وہ اس موضوع پر اصل اور اصول ہے۔ اگرچہ کافروں کی تعداد بہت زیادہ ہو۔ ایسی صورت میں مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ فرار اختیار کریں۔ اگرچہ وہ ان سے کئی گنا زیادہ ہوں کیونکہ حضور نے جو شرط لگائی ” اگر ان کے اندر اتحاد ہوـ تو اس سے حضور اکرم ان پر اتحاد کرنا فرض کردیا ہے۔
اس طرح ابن عربی نے بھی اپنی کتاب احکام القرآن میں یہ تفصیلات دی ہیں۔ انہوں نے اس حکم کے بارے میں یہ کہا ہے : اس بارے میں اختلاف ہے کہ جنگ کے میدان سے فرار کی ممانعت یوم بدر کے لیے مخصوص تھی یا قیامت تک یہی حکم ہے۔
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ یہ ممانعت یوم بدر کے ساتھ مخصوص تھی۔ کیونکہ اس دن کے لیے دوسری فوج صرف رسول اللہ کی ذات ہی تھی۔ یہی رائے نافع ، حسن ، قتادہ ، یزید ، ابن حبیب اور ضحاک کی ہے۔
” حضرت ابن عباس اور تمام دوسرے علماء سے یہ روایت ہے کہ یہ حکم قیامت تک کے لیے باقی ہے اور جن لوگوں نے اسے یوم بدر کے ساتھ مخصوص کیا ہے انہوں نے ومن یولہم یومئذ دبرہ سے استدلال کیا ہے کہ اس سے مراد بدر ہے حالانکہ یومئذ سے مراد یوم الزحف ہے یعنی مطلق جنگ کا دن۔
” اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ آیات یوم بدر کی قتال کے بعد نازل ہوئیں اور ان کے نزول کے وقت جنگ بدر ختم ہوچکی تھی۔ اور اس دن جو ہونا تھا ، وہ ہوچکا اور نبی صلی اللہ سے یہ بات ثابت ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم حدیث نقل کر آئے کہ کبائر یہ ہیں۔ اور ان میں سے جنگ کے دن بھاگنے کو بھی شمار کیا گیا اور یہ اس مسئلہ پر نص صریح ہے جس کے بعد اختلاف رفع ہوجانا چاہیے اور ہم نے اس نکتے پر متنبہ کردیا ہے جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو یہ اشکال پیش آیا کہ اس سے مراد یوم بدر ہے۔
ہمارے خیال میں ابن عربی نے تمام علماء کی جو رائے نقل کی ہے اور ابن عباس سے بھی وہی منقول ہے ، ہم بھی اسی کی طرف جاتے ہیں۔ اس لیے کہ جنگ کی صفوں سے بھاگ نکلنا ایک نہایت ہی برا فعل ہے اور اس کے دور رس اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ تحریکی اعتبار سے بھی اور اعتقادی اور نظریاتی اعتبار سے بھی۔
الأنفال 8:16
مومن کا دل و دماغ نہایت ہی پختہ ہونا چاہیے ۔ اس طرح کہ وہ زمین کی کسی بھی قوت کے سامنے متزلزل نہ ہو اور اس کا رابطہ ایسی قوت کے ساتھ ہونا چاہیے جسے اپنے امور پر مکمل کنٹرول حاصل ہو اور وہ بندوں کے اوپر مکمل غلبہ رکھتی ہو اور جب کسی مومن کا دل و دماغ خطرات کو دیکھ کر متزلزل ہوگیا تو یہ تزلزل فرار پر منتج نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ موت اللہ کے اختیار میں ہے۔ اس لیے کسی مومن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ موت کے ڈر سے پیٹھ پھیرے۔ یہ حکم ایسا نہیں ہے کہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ حکم دیا جا رہا ہے ، کیونکہ مومن بھی انسان ہے اور اس کا دشمن بھی انسان ہے۔ اس لحاظ سے وہ گویا ایک ہی سطح پر کھڑے ہیں۔ پھر مومن کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ربط ایسی قوت کے ساتھ ہے جس پر کوئی غالب نہیں ہے۔ اگر وہ زندہ ہے تو پھر وہ اللہ کا بندہ ہے اور اسی طرف متوجہ ہے اور اگر مر گیا تو بھی اللہ کی طرف لوتنے والا ہے۔ اگر اس کے لیے شہادت رکھ دی گئی ہے تو بھی وہ اس پوزیشن سے بہت اچھی ہے ، جو اس کے دشمن کی ہے کیونکہ دشمن تو اللہ اور رسول اللہ کے مقابلے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ قطعی حکم دیا جاتا ہے۔ وَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَيِّزًا اِلٰي فِئَةٍ فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَمَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ ۭوَبِئْسَ الْمَصِيْرُ ۔ جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری۔ الا یہ کہ نگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جا ملنے کے لیے۔ تو وہ اللہ کے غضب میں گھر جائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت بری جائے باز گشت ہے۔
۔۔۔ یہاں قرآن کریم نے جو اسلوب گفتگو اپنایا ہے اس میں بہت سے اشارات ہیں۔ فَلَا تُوَلُّوْهُمُ الْاَدْبَارَ ۔ اوروَمَنْ يُّوَلِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ دُبُرَهٗٓ۔ یہ در اصل ہزیمت اور شکست کی حسی تعبیر ہے اور نہایت ہی حقارت آمیز نقشہ دیا گیا ہے بھاگنے والوں کا۔ اور یہ تصور دیا گیا ہے کہ دشمن کو منہ دکھانا چاہیے مقعد نہیں۔ پھر فَقَدْ بَاۗءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ گویا شکست کھانے والا در اصل پیٹھ پھیرتا ہے اور اس کے ساتھ غضب الہی ہوتا ہے اور یہ غضب الہی اسے جہنم تک لے جاتا ہے جو برا ٹھکانا ہے۔ وماواہ جہنم وبئس المصیر۔ یوں انداز کلام میں بھی جنگ کے دن پیٹھ پھیرنے کی منظر کشی اس طرح کی گئی ہے جس سے اس فعل کی قباحت اور کراہت بالکل واضح معلوم ہوتی ہے اور کوئی غیرت مند شخص اسے پسند نہیں کرتا۔
جنگ کے دن پیٹھ پھیرنے کی ممانعت کے بعد اب سیاق کلام میں یہ حقیقت بتائی جاتی ہے کہ اس معرکے کے پیچھے در اصل دست قدرت کام کر رہا ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے دشمنوں کو قتل کیا۔ وہی ہے جو تمہارے تیر کو درست نشانے پر پہنچاتا ہے۔ اور تمہیں جو اجر دیا جاتا ہے وہ تو محض اس لیے ہے کہ اہل ایمان اس آزمائش میں کامیاب رہے اور انہوں نے جدوجہد کی اور اللہ نے ان کو اس ثواب کا مستحق بنایا اور اجر عطا کیا۔
الأنفال 8:17
روایات میں آتا ہے کہ اس مارنے سے وہ مارنا مراد ہے کہ حضور نے کنکریاں اور ریت ہاتھ میں لیں اور انہیں کفار کے لشکر کی طرف پھینکا اور حضور نے اس وقت یہ الفاظ کہے شاھت الوجوہ۔ شاھت الوجوہ۔ ان کے چہرے بد شکل ہوجائیں ، قبیح ہوجائیں۔ اور یہ آیت اور کنکریاں ان چہروں پر جا کر لگیں جن کا اس جنگ میں قتل ہونا مقدر تھا۔
لیکن اس آیت کا مفہوم عام ہے۔ مقصد یہ ہے کہ بظاہر نبی ﷺ اور لشکر اسلام جو کچھ کر رہا تھا ، اس کے پیچے دست قدرت کام کر رہا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد آیت میں یہ فقرہ ہے : وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِيْنَ مِنْهُ بَلَاۗءً حَسَـنًا۔ تاکہ مومنین کو اس آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے۔ یعنی تاکہ وہ مومنین کو آزمائش کا یہ موقعہ دے اور اس پر وہ اجر کے مستحق ہوجائیں جبکہ فتح تو اس نے لکھ دی تھی۔ گویا یہ کامیابی ہر حال میں مزید اجر کا باعث تھی ، پہلے بھی اور بعد میں بھی۔ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے۔ وہ تمہاری دعاؤں کو سن رہا تھا ، اور تمہارے حالات سے اچھی طرح با خبر تھا۔
الأنفال 8:18
یہ سب معاملہ تو یہ تھا کہ تمہیں اس نے اپنی قدرت کے لیے ایک راہ بنایا۔ لیکن یہ اس وقت بنایا جب تم نے خلوص کا اظہار کردیا۔ اسی لیے اس نے تمہیں نصرت بھی دی اور تم اجر کے مستحق بھی ٹھہرے۔ ہمیشہ اللہ ایسا ہی کرتا ہے جیسا کہ اس نے بدر میں کیا۔ ذٰلِكُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ مُوْهِنُ كَيْدِ الْكٰفِرِيْنَ ۔ یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے۔
یہ اللہ کی جانب سے دوسری امادا ہے ، اللہ کی تدبیر اس بات پر ختم نہیں ہوجاتی کہ وہ تمہارے دشمنوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرتا ہے۔ اور تمہارے تیروں کو ٹھیک نشانے پر بٹھاتا ہے ، اور تمہارے لی آزمائش کا اچھا میدان فراہم کرتا ہے تاکہ وہ تمہیں اجر دے۔ وہ یہ کام بھی کرتا ہے کہ کفار جو جو سازشیں کرتے ہیں ان کے بند بھی ڈھیلے کرتا جاتا ہے اور ان کی تدابیر کو کمزور کرتا ہے۔ لہذا تمہیں ڈرنا نہیں چاہیے اور اس معرکے میں اہل ایمان کی شکست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ مسلمانوں کی جانب سے پیٹھ پھیرنے کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
چناچہ ان فقرات سے تمام سوالات کا جواب خود بخود سامنے آجاتا ہے۔ اگر اللہ خود کفار کو قتل کرتا ہے اور اگر اللہ خود تیر یا پتھروں کو مارنے والا ہے اور خود وہ یہ میدان آزمائش سجانے والا ہے تاکہ مسلمانوں کو انعام دے ، اور اگر وہ خود شمنوں کی تدابیر کو کمزور کرنے والا ہے ، تو پھر انفال اور اموال غنیمت کے بارے میں نزاع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، کیونکہ معاملات کا اختیار بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور آغاز و انجام بھی اسی کی تدابیر کے مطابق ہے۔ رہے انسان اور مسلمان تو وہ صرف تقدیر الہی کے نشانات و علامات ہیں۔
الأنفال 8:19
جب بات یہاں تک پہنچی کہ ” اللہ کافروں کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے “ یہاں سے روئے سخن کفار کی طرف موڑ دیا جاتا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو اس معرکے سے پہلے ہی فیصلہ چاہتے تھے اور اللہ کے سامنے دست بدعا تھے کہ اے اللہ دو مقابل فریقین میں سے جو گمراہ ہے ، یہ جنگ اس کے خلاف کردے۔ جو ایسی باتیں کرتا ہے جو معروف نہیں ہیں ، اسے تباہ کردے اور جو صلہ رحمی کے خلاف ہے ، اسے ہلاک کردے۔ یہ دعاء ابوجہل نے کی تھی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کا فیصلہ ان کے خلاف کردیا اور اب ان کو خطاب کرکے ان پر طنز کیا جاتا ہے کہ تم ہی تو تھے جو بد دعاء کرتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ بدر میں جو کچھ ہوا ، وہ اللہ کی سنت جاریہ کے مطابق ہوا اور یہ کہ کفار کی کثرت اور اجتماع نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ کیونکہ اللہ کی سنت جاریہ کو وہ بدل نہ سکتے تھے اور اللہ مومنین کے ساتھ تھا۔
۔۔۔
اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ۔۔۔
تم یہ دعائے فیصلہ کرتے تھے کہ مسلمانوں اور مشرکوں میں سے جو بھی حق پر ہو ، اللہ یہ جنگ اس کے حق میں کردے یا یہ کہ فریقین میں سے جو گمراہ اور صلہ رحمی کے خلاف موقف اختیار کر رہا ہو اس کے خلاف کردے۔ اللہ نے یہ دعا قبول کرلی۔ جنگ تمہارے خلاف کردی۔ اس سے تمہاری بات کی تصدیق ہوگئی اور جنگ گمراہ تر فریق کے خلاف فیصل ہوگئی۔ اگر تم فی الواقعہ گمراہ فریق کو معلوم کرنا چاہتے تھے ، بھائی چارے کے خلاف فریق کو معلوم کرنا چاہتے تھے ، تو تمہیں معلوم ہوگیا کہ یہ کون سا فریق ہے۔ لہذا تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم نتائج جنگ دیکھ کر اسلام کی طرف آجاؤ اور شرک و کفر کو ترک کردو اور مسلمانوں اور رسول اللہ کے خلاف معاندانہ رویہ چھوڑ دو ۔
اِنْ تَسـْتَفْتِحُوْا فَقَدْ جَاۗءَكُمُ الْفَتْحُ ۚ وَاِنْ تَنْتَهُوْا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۔ (ان کافروں سے کہہ دو ) ـاگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو ، فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔ اب باز آجاآ ، تمہارے ہی لیے بہتر ہے۔
اور کے بعد ایک ڈراوا بھی وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ ـورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کرو گے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے۔
اور انجام سب کو معلوم ہے۔ حق و باطل کے معرکے میں کثرت افواج فیصلہ کن نہیں ہوا کرتی اور نہ نتائج اس طرح بدل سکتے ہیں۔ وَلَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمْ فِئَتُكُمْ شَـيْــــًٔـا وَّلَوْ كَثُرَتْ ۔ اور تمہاری جمعیت ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو ، تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی۔
اگر اللہ مسلمانوں کی طرف ہو تو کفار کی جمعیت کچھ بھی نہیں کرسکتی اور یہاں صورت یہ ہے : وَاَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُؤْمِنِيْنَ ۔ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔
اس لیے کہ اس رنگ میں جو معرکہ ہوگا ، اس میں دونوں اطراف کی قوتوں کے درمیان کوئی توازن نہیں ہے۔ مومنین کے ساتھ اللہ ہے اور اللہ ان کے ساتھ صف میں ہوگا اور کفار کے ساتھ صرف ان ہی جیسے آدمی ہیں۔ یہ دوسری صف میں ہوں گے اور ایسے فریقین کے درمیان معرکے کا نتیجہ پہلے سے معلوم ہے۔
مشرکین عرب بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے تھے۔ اللہ کے بارے میں ان کا تصور اور معرفت اس قدر سطحی نہ تھی اور نہ پیچیدہ تھی جس طرح بعد کے ادوار میں کفار نے اللہ کے بارے میں سطحی نظریات اختیار کیے۔ کیو کہ عربوں کا شرک اس نوعیت کا نہ تھا کہ وہ ذات باری کے صاف منکر ہوں۔ نہ یہ کہ وہ حقیقت سے بالکل بےبہرہ ہوں۔ ان کا شرک صرف یہ تھا کہ وہ عبودیت اور بندگی صرف اللہ کے لیے مخصوص نہ کرتے تھے اس طرح کہ وہ ہدایت اور قوانین صرف اللہ سے اخذ کرتے ہوں۔ اس قدر شرک بھی در اصل ان کی معرفت الوہیت کے ساتھ لگا نہ کھاتا تھا۔
اس سے قبل ہم اس معرکے واقعات میں یہ بات نقل کر آئے ہیں کہ خفاف بن ایما ابن رحضۃ الغفاری یا ان کے والد ایما ابن رحضۃ الغفاری نے لشکر قریش کو اپنے بیتے کے ہاتھ کچھ مویشی دے کر بھیجا اور یہ مویشی بطور ہدایہ ان کو دیے۔ اور یہ پیشکش بھی کی کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اسلحہ اور جوان بھی دے دوں۔ قریش نے اس کے بیٹے کے ذریعے یہ جواب دیا کہ ” تم نے صلہ رحمی کا حق ادا کردیا اور تم پر جو فرض تھا وہ تم نے ادا کردیا۔ خدا کی قسم اگر ہماری جنگ انسانوں سے ہو تو ہم اس قدر کمزور نہیں ہیں اور اگر ہماری جنگ خدا کے ساتھ ہو۔۔ جیسا کہ محمد خیال کرتے ہیں۔۔ تو اللہ کے مقابلے میں کوئی انسان نہیں لڑ سکتا “۔
اسی طرح کی ایک بات اخنس ابن شریق کی کتب سیرت میں موجود ہے۔ انہوں نے بنی زہرہ سے کہا اور یہ دونوں اس وقت مشرک تھے ” اے بنی زہرہ ، اللہ نے تمہارے اموال کو بچا لیا اور تمہارے ساتھی مخرقہ ابن نوفل بسلامت آگئے۔ اور خود ابوجہل (جسے حضور ﷺ نے امت مسلمہ کا فرعون قرار دیا ، کی ایک دعا کتب سیرت میں منقول ہے : ” اے اللہ ہم میں سے جو بھائی چارے کے خلاف ہے ، اور ایسی باتیں کرتا ہے جو معروف نہیں ہیں تو کل اس کے دشمن بن جائیں “۔
اسی طرح حکیم ابن حزام کا قول ، جب ان کے پاس عتبہ ابن ربیعہ کا پیغام آیا کہ اس جنگ سے لوٹ آؤ۔ اس نے کہا : ” خدا کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا۔ ہم واپس نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور محمد کے درمیان فیصلہ نہ کردے “۔
ذات باری کے متعلق ان کا یہ تصور بہرحال تھا اور ہر موقعہ پر وہ اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے تھے۔ یہ بات نہ تھی کہ وہ ملحد تھے اور خدا کو مانتے اور جانتے نہ تھے۔ یا یہ نہ سمجھتے تھے کہ اللہ کے ساتھ کوئی جنگ نہیں کرسکتا۔ یا وہ یہ نہ سمجھتے تھے کہ فریقین میں فیصلہ کرنے والا اللہ ہے اور اس کے حکم کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے۔ ان کے شرک کی ابتداء یہاں سے ہوئی تھی کہ وہ نظام زندگی کے بارے میں ہدایات صرف اللہ سے نہ لیتے تھے ، غیر اللہ سے بھی لیتے تھے حالانکہ وہ ذات باری کا بھی جیسا کہ ہم نے بیان کیا ، اعتراف کرتے تھے۔ اور یہ وہ بات ہے جس میں آج کے مسلمان اور اس وقت کے مشرک برارب ہیں۔ حالانکہ آج کے مسلمان یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ دین محمد پر ہیں جبکہ اس وقت کے مشرکین مکہ میں یہ عقیدہ رکھتے تھے اور اس بات کے مدعی تھے کہ وہ اپنے باپ ابراہیم کے دین پر ہیح۔ اور یہی وجہ ہے کہ ابوجہل ، ابوجہل ہونے کے باوجود اللہ سے فیصلہ طلب کر رہا تھا۔ ” اے اللہ ، ہم میں سے جو زیادہ بھائی چارے کے خلاف ہو ، اور جس کی بات زیادہ عرف کے خلاف ہو ، کل اس کے دشمن بن جائیں “ یہ تھے اس کے الفاظ۔
رہے وہ بت جن کے بارے میں یہ بات متعارف ہے کہ وہ ان کی پرستش کرتے تھے ، ان کے بارے میں ان کا اعتقاد یہ تھا کہ وہ بھی اسی طرح الہ میں جس طرح اللہ الہ ہے ، خدا کے بارے میں ان کے اعتقادی تصورات کے بارے میں قرآن کریم نے یہ تصریح کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ وہ ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے تھے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : والذین اتخذوا من دونہ اولیاٗ مانعبدہم الا لیقربونا الی اللہ زلفی۔ وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے سوا اوروں کو ولی بنایا (کہتے ہیں) ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔ یہ تھا ان کا تصور الہ یعنی یہ الہ ان کے سفارشی ہیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو ان کا حقیقی شرک یہی تھا کہ وہ اپنے معبودوں کو اللہ کے دربار میں سفارشی تصور کرتے تھے اور نہ ان کا اسلام صرف یہ تھا کہ وہ ان سفارشیوں کا انکار کردیتے تھے ، ورنہ وہ لوگ جو حنفاٗ کہلاتے تھے اور جو بتوں کو نہ پوجتے تھے وہ مسلمان تصور ہوتے لیکن ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اسلام کی حقیقت یہ ہے کہ اعتقاد اور عمل میں اللہ وحدہ کو حاکم تصور کیا جائے ، اور جو لوگ اللہ کو وحدہ حاکم اور مطاع تصور نہیں کرتے وہ چاہے جس زمان و مکان میں ہوں ، وہ شرک میں ہیں۔ ان کو اس شرک سے ان کا یہ عقیدہ نہیں نکال سکتا کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے یعنی محض اعتقادی تصور اور صرف یہ بات بھی ان کو شرک سے نہیں نکال سکتی کہ وہ بندگی کے مراسم صرف اللہ کے سامنے بجا لائیں کیونکہ اس حد تک آج کے مسلمانوں کو صرف حنفاء جاسکتا ہے۔ مسلمان ، مسلمان تب تصور ہوں گے جب اسلام کے تمام حلقوں اور کڑیوں کو ملا سکیں۔ یعنی وہ اللہ کو ایک سمجھنے اس کی عبادت بجا لانے اور اسے الہ سمجھنے کے ساتھ ساتھ اس کی حاکمیت کا اقرار بھی کریں۔ اس کے احکام ، اس کے قوانین ، اس کی مقرر کردہ اقدار کو تسلیم کریں۔ صرف یہی اسلامی حقیقی اسلام ہے اور یہی اسلام کلمہ شہادت میں بیان ہوا ہے۔ لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کا یہی مفہوم ہے۔ اور یہی مفہوم اسلامی عقائد اور اسلامی معاشرے میں معروف اور معتبر ہے۔ اس کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ وہ لوگ جو اس مفہوم کے اعتبار سے کلمہ طیبہ کا اقرار کریں وہ ایک اجتماعی شکل میں منظم اور متحرک ہوں اور ان کی اپنی مسلم قیادت ہو اور وہ تمام جاہلی آلودگیوں سے اس طرح نکل کر باہر آجائیں جس طرح مکھن سے بال نکل آتا ہے۔
جو لوگ حقیقتاً مسلمان بننا چاہتے ہیں ، ان کو چاہئے کہ وہ اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں۔ اس لیے ان کو اس بات سے دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ وہ محض عقیدے یا محض مراسم عبودیت کی وجہ سے مسلمان ہوگئے ہیں۔ صرف ان باتوں سے لوگ حقیقی مسلمان نہیں بن جاتے ، جب تک وہ اللہ وحدہ کو اپنا حاکم تصور نہ کریں۔ اور تمام دوسرے لوگوں کی حاکمیت کا اقرار نہ کردیں۔ اور جب تک وہ پنی تمام ہمدردیاں اور دوستیاں جاہلی معاشروں سے واپس نہیں لے لیتے۔
یہ غلط فہمی بہت سے مخلص اور نیک مسلمانوں کو لاحق ہے۔ در اصل ایسے مخلص لوگ فی الحقیقت اسلام چاہتے ہیں لیکن وہ دھوکے میں مبتلا ہیں ، لہذا ایسے مخلص مسلمانوں کا فرض ہے کہ پہلے وہ اسلام کی ماہیت کے بارے میں ذہنوں سے غلط فہمی دور کردیں اور یہ معلوم کرلیں کہ جن لوگوں کو وہ مشرکین عرب کہتے ہیں وہ عقائد اور اعمال میں وہ ان سے مختلف نہ تھے وہ اللہ کی ذات کو مانتے تھے۔ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ، اپنے بتوں کو وہ اللہ کے ہاں سفارش تصور کرتے تھے۔ ان کا اصلی شرک ، شرک فی الحاکمیت تھا ، اعتقادی نہ تھا۔
جب عام مخلص مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اسلام کی اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھیں تو پھر وہ لوگ جو اقامت دین کا کام کرتے ہیں اور عالم واقعہ میں اسلامی نظام زندگی اور اللہ کی حاکمیت کا احیاٗ چاہتے ہیں ان پر تو فرض ہے کہ اس حقیقت کو نہایت ہی واضح طور پر اور اس کی گہرائی تک سمجھیں۔ اور اس بارے میں وہ کوئی مجمل بات نہ کریں اور نہ شف شف کریں۔ لوگوں کو دو ٹوک انداز میں اور واضح طور پر بتا دیں کہ حقیقی اسلام یہ ہے۔ یہ ان کے کام کا نقطہ آغاز ہے۔ اگر کوئی تحریک اس سے ادنی انحراف بھی کرے گی تو وہ گمراہ ہوجائے گی اور وہ غلط اساسوں پر تعمیر شروع کردے گی۔ اگرچہ اس کے رکن مخلص ہوں اور تحریک خود عظیم جدوجہد کرنے والی ہو۔
الأنفال 8:20
تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن راہ ہدایت نہیں پاتے۔
یہ پکار ان لوگوں کو ہے جو ایمان لائے ہیں۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ اللہ کی آیات و کلمات سنتے ہوئے روگردانی نہ کریں۔ یہ پکار ان اشارات کے بعد آئی ہے جو بطور مقدمہ و تمہید اس سے پہلے آنا ضروری تھے۔ اس سے قبل اس معرکے کے بڑے بڑے واقعات بیان کردئیے گئے تھے۔ ذات باری کو دیکھنا ، اس کی تدبیر کا تصور ، اس کی معاونت اور امداد کی یقین دہانی ، اور یہ تصریح کہ اللہ مومنین کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ کافروں کی تمام تدابیر کو ڈھیلا کرنے والا ہے لہذا اس کے بعد سمع و اطاعت کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں رہتا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے بھی اللہ اور رسول اللہ سے روگردانی کرنا نہایت ہی قبیح اور منکر فعل نظر آتا ہے۔ کوئی عقلمند انسان ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں چوپایوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے ، کیونکہ لفظ (دواب) میں طبیعت کے لحاظ سے انسان بھی شامل ہیں۔ لیکن دواب کا لفظ انسانوں کے مقابلے میں مویشیوں پر زیادہ بولا جاتا ہے۔ اس لیے اس لفظ کا بعض انسانوں پر اطلاق کرنے سے حیوانات کا تصور خود بخود سامنے آجاتا ہے اور جو لوگ گونگے اور بہرے ہیں اور علم نہیں رکھتے ان کے بارے میں حیوانیت کا تصور دیا جاتا ہے۔ گویا جہلاء درحقیقت جانور ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جانوروں کے کان تو ہیں لیکن وہ چند مبہم کلمات ہی سن سکتے ہیں۔ ان کی زبان بھی ہے لیکن وہ معانی پر مشتمل کلمات نہیں بول سکتے۔ ہاں بہائم کو فطری صلاحیت دے دی گئی اور وہ اس فطری صلاحیت کے مطابق اپنا کاروبار زندگی چلاتے ہیں جبکہ انسان مویشی اپنی ضروریات زندگی بھی خود اپنی عقل سے تجویز کرتے ہیں۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۔ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ۔ اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور رسول کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے۔ یقیناً خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔
اور یہ لوگ کیوں شر الدواب ہیں ؟
وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا ۔ اس لیے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ ان کو سماع اور قبولیت کی توفیق دے دیتا لیکن انہوں نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی فطری استعداد کو ختم کردیا ہے۔ چونکہ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کردئیے تھے ، اس لیے اللہ نے بھی ان کو سماعت کی توفیق سے محروم کردیا۔ اگر اللہ ان کو سمجھا بھی دیتا تو بھی ان کا رویہ ایسا ہوگیا تاھ کہ وہ مان کر نہ دیتے۔
وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سنوارتا تو وہ بےرخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عقل ایک بات کو پا لیتی ہے لیکن دل اس قدر مسخت ہوچکے ہوتے ہیں کہ وہ مان کر نہیں دیتے۔ اگر محض فہم و ادراک کی حد تک اللہ ان کو سنا بھی دے تو بھی یہ قبولیت سے محروم ہی رہتے ہیں۔ دنیا میں بیشمار ایسے لو ہیں جن کی عقل حق پر مطمئن ہوتی ہے لیکن ان کے دل قبول نہیں کرتے۔
الأنفال 8:21
تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن راہ ہدایت نہیں پاتے۔
یہ پکار ان لوگوں کو ہے جو ایمان لائے ہیں۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ اللہ کی آیات و کلمات سنتے ہوئے روگردانی نہ کریں۔ یہ پکار ان اشارات کے بعد آئی ہے جو بطور مقدمہ و تمہید اس سے پہلے آنا ضروری تھے۔ اس سے قبل اس معرکے کے بڑے بڑے واقعات بیان کردئیے گئے تھے۔ ذات باری کو دیکھنا ، اس کی تدبیر کا تصور ، اس کی معاونت اور امداد کی یقین دہانی ، اور یہ تصریح کہ اللہ مومنین کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ کافروں کی تمام تدابیر کو ڈھیلا کرنے والا ہے لہذا اس کے بعد سمع و اطاعت کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں رہتا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے بھی اللہ اور رسول اللہ سے روگردانی کرنا نہایت ہی قبیح اور منکر فعل نظر آتا ہے۔ کوئی عقلمند انسان ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں چوپایوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے ، کیونکہ لفظ (دواب) میں طبیعت کے لحاظ سے انسان بھی شامل ہیں۔ لیکن دواب کا لفظ انسانوں کے مقابلے میں مویشیوں پر زیادہ بولا جاتا ہے۔ اس لیے اس لفظ کا بعض انسانوں پر اطلاق کرنے سے حیوانات کا تصور خود بخود سامنے آجاتا ہے اور جو لوگ گونگے اور بہرے ہیں اور علم نہیں رکھتے ان کے بارے میں حیوانیت کا تصور دیا جاتا ہے۔ گویا جہلاء درحقیقت جانور ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جانوروں کے کان تو ہیں لیکن وہ چند مبہم کلمات ہی سن سکتے ہیں۔ ان کی زبان بھی ہے لیکن وہ معانی پر مشتمل کلمات نہیں بول سکتے۔ ہاں بہائم کو فطری صلاحیت دے دی گئی اور وہ اس فطری صلاحیت کے مطابق اپنا کاروبار زندگی چلاتے ہیں جبکہ انسان مویشی اپنی ضروریات زندگی بھی خود اپنی عقل سے تجویز کرتے ہیں۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۔ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ۔ اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور رسول کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے۔ یقیناً خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔
اور یہ لوگ کیوں شر الدواب ہیں ؟
وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا ۔ اس لیے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ ان کو سماع اور قبولیت کی توفیق دے دیتا لیکن انہوں نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی فطری استعداد کو ختم کردیا ہے۔ چونکہ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کردئیے تھے ، اس لیے اللہ نے بھی ان کو سماعت کی توفیق سے محروم کردیا۔ اگر اللہ ان کو سمجھا بھی دیتا تو بھی ان کا رویہ ایسا ہوگیا تاھ کہ وہ مان کر نہ دیتے۔
وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سنوارتا تو وہ بےرخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عقل ایک بات کو پا لیتی ہے لیکن دل اس قدر مسخت ہوچکے ہوتے ہیں کہ وہ مان کر نہیں دیتے۔ اگر محض فہم و ادراک کی حد تک اللہ ان کو سنا بھی دے تو بھی یہ قبولیت سے محروم ہی رہتے ہیں۔ دنیا میں بیشمار ایسے لو ہیں جن کی عقل حق پر مطمئن ہوتی ہے لیکن ان کے دل قبول نہیں کرتے۔
الأنفال 8:22
تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن راہ ہدایت نہیں پاتے۔
یہ پکار ان لوگوں کو ہے جو ایمان لائے ہیں۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ اللہ کی آیات و کلمات سنتے ہوئے روگردانی نہ کریں۔ یہ پکار ان اشارات کے بعد آئی ہے جو بطور مقدمہ و تمہید اس سے پہلے آنا ضروری تھے۔ اس سے قبل اس معرکے کے بڑے بڑے واقعات بیان کردئیے گئے تھے۔ ذات باری کو دیکھنا ، اس کی تدبیر کا تصور ، اس کی معاونت اور امداد کی یقین دہانی ، اور یہ تصریح کہ اللہ مومنین کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ کافروں کی تمام تدابیر کو ڈھیلا کرنے والا ہے لہذا اس کے بعد سمع و اطاعت کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں رہتا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے بھی اللہ اور رسول اللہ سے روگردانی کرنا نہایت ہی قبیح اور منکر فعل نظر آتا ہے۔ کوئی عقلمند انسان ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں چوپایوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے ، کیونکہ لفظ (دواب) میں طبیعت کے لحاظ سے انسان بھی شامل ہیں۔ لیکن دواب کا لفظ انسانوں کے مقابلے میں مویشیوں پر زیادہ بولا جاتا ہے۔ اس لیے اس لفظ کا بعض انسانوں پر اطلاق کرنے سے حیوانات کا تصور خود بخود سامنے آجاتا ہے اور جو لوگ گونگے اور بہرے ہیں اور علم نہیں رکھتے ان کے بارے میں حیوانیت کا تصور دیا جاتا ہے۔ گویا جہلاء درحقیقت جانور ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جانوروں کے کان تو ہیں لیکن وہ چند مبہم کلمات ہی سن سکتے ہیں۔ ان کی زبان بھی ہے لیکن وہ معانی پر مشتمل کلمات نہیں بول سکتے۔ ہاں بہائم کو فطری صلاحیت دے دی گئی اور وہ اس فطری صلاحیت کے مطابق اپنا کاروبار زندگی چلاتے ہیں جبکہ انسان مویشی اپنی ضروریات زندگی بھی خود اپنی عقل سے تجویز کرتے ہیں۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۔ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ۔ اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور رسول کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے۔ یقیناً خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔
اور یہ لوگ کیوں شر الدواب ہیں ؟
وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا ۔ اس لیے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ ان کو سماع اور قبولیت کی توفیق دے دیتا لیکن انہوں نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی فطری استعداد کو ختم کردیا ہے۔ چونکہ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کردئیے تھے ، اس لیے اللہ نے بھی ان کو سماعت کی توفیق سے محروم کردیا۔ اگر اللہ ان کو سمجھا بھی دیتا تو بھی ان کا رویہ ایسا ہوگیا تاھ کہ وہ مان کر نہ دیتے۔
وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سنوارتا تو وہ بےرخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عقل ایک بات کو پا لیتی ہے لیکن دل اس قدر مسخت ہوچکے ہوتے ہیں کہ وہ مان کر نہیں دیتے۔ اگر محض فہم و ادراک کی حد تک اللہ ان کو سنا بھی دے تو بھی یہ قبولیت سے محروم ہی رہتے ہیں۔ دنیا میں بیشمار ایسے لو ہیں جن کی عقل حق پر مطمئن ہوتی ہے لیکن ان کے دل قبول نہیں کرتے۔
الأنفال 8:23
تفسیر آیات 20 تا 23:۔ اب روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرجاتا ہے اور مسلسل يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا سے انہیں مخاطب کیا جاتا ہے۔ اور یہ خطاب ان مضامین کے بعد آتا ہے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے ، اور اس خطاب میں ان کو یہ وصیت کی جاتی ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ ان کو اللہ اور رسول سے سرکشی کرنے سے خبردار کیا جتا ہے اور انہیں ایسا نہیں ہونا چاہیے جو اللہ کی آیات کو سنتے ہیں اور ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں گویا انہوں نے سنا ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ گونگے اور بہرے ہیں اگرچہ وہ آنکھیں اور کان رکھتے ہیں اور زبان رکھتے ہیں۔ یہ لوگ بدترین جانور ہیں۔ اس لیے کہ یہ جانوروں کی طرح سنتے تو ہیں لیکن راہ ہدایت نہیں پاتے۔
یہ پکار ان لوگوں کو ہے جو ایمان لائے ہیں۔ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کریں۔ اللہ کی آیات و کلمات سنتے ہوئے روگردانی نہ کریں۔ یہ پکار ان اشارات کے بعد آئی ہے جو بطور مقدمہ و تمہید اس سے پہلے آنا ضروری تھے۔ اس سے قبل اس معرکے کے بڑے بڑے واقعات بیان کردئیے گئے تھے۔ ذات باری کو دیکھنا ، اس کی تدبیر کا تصور ، اس کی معاونت اور امداد کی یقین دہانی ، اور یہ تصریح کہ اللہ مومنین کے ساتھ ہے اور یہ کہ وہ کافروں کی تمام تدابیر کو ڈھیلا کرنے والا ہے لہذا اس کے بعد سمع و اطاعت کے سوا اور کوئی چارہ کار ہی نہیں رہتا۔ ان حقائق کے ہوتے ہوئے بھی اللہ اور رسول اللہ سے روگردانی کرنا نہایت ہی قبیح اور منکر فعل نظر آتا ہے۔ کوئی عقلمند انسان ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں چوپایوں کا بھی ذکر کیا جاتا ہے ، کیونکہ لفظ (دواب) میں طبیعت کے لحاظ سے انسان بھی شامل ہیں۔ لیکن دواب کا لفظ انسانوں کے مقابلے میں مویشیوں پر زیادہ بولا جاتا ہے۔ اس لیے اس لفظ کا بعض انسانوں پر اطلاق کرنے سے حیوانات کا تصور خود بخود سامنے آجاتا ہے اور جو لوگ گونگے اور بہرے ہیں اور علم نہیں رکھتے ان کے بارے میں حیوانیت کا تصور دیا جاتا ہے۔ گویا جہلاء درحقیقت جانور ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ جانوروں کے کان تو ہیں لیکن وہ چند مبہم کلمات ہی سن سکتے ہیں۔ ان کی زبان بھی ہے لیکن وہ معانی پر مشتمل کلمات نہیں بول سکتے۔ ہاں بہائم کو فطری صلاحیت دے دی گئی اور وہ اس فطری صلاحیت کے مطابق اپنا کاروبار زندگی چلاتے ہیں جبکہ انسان مویشی اپنی ضروریات زندگی بھی خود اپنی عقل سے تجویز کرتے ہیں۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ ۔ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ قَالُوْا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ۔ اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور رسول کے رسول کی اطاعت کرو اور حکم سننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے۔ یقیناً خدا کے نزدیک بد ترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔
اور یہ لوگ کیوں شر الدواب ہیں ؟
وَلَوْ عَلِمَ اللّٰهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَهُمْ ۔ اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا ۔ اس لیے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے اور اگر ان میں بھلائی ہوتی تو اللہ ان کو سماع اور قبولیت کی توفیق دے دیتا لیکن انہوں نے اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی فطری استعداد کو ختم کردیا ہے۔ چونکہ انہوں نے اپنے دل و دماغ کے دروازے بند کردئیے تھے ، اس لیے اللہ نے بھی ان کو سماعت کی توفیق سے محروم کردیا۔ اگر اللہ ان کو سمجھا بھی دیتا تو بھی ان کا رویہ ایسا ہوگیا تاھ کہ وہ مان کر نہ دیتے۔
وَلَوْ اَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَّهُمْ مُّعْرِضُوْنَ (لیکن بھلائی کے بغیر) اگر وہ ان کو سنوارتا تو وہ بےرخی کے ساتھ منہ پھیر جاتے۔ کیونکہ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عقل ایک بات کو پا لیتی ہے لیکن دل اس قدر مسخت ہوچکے ہوتے ہیں کہ وہ مان کر نہیں دیتے۔ اگر محض فہم و ادراک کی حد تک اللہ ان کو سنا بھی دے تو بھی یہ قبولیت سے محروم ہی رہتے ہیں۔ دنیا میں بیشمار ایسے لو ہیں جن کی عقل حق پر مطمئن ہوتی ہے لیکن ان کے دل قبول نہیں کرتے۔
الأنفال 8:24
اب دو بارہ اہل ایمان کو مخاطب کیا جاتا ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہیں۔ کیونکہ رسول کی پکار پر لبیک کہنا تمہارے لیے مفید ہے اور اگر تم نے انکار کیا تو یہ تمہارے برا ہوگا۔
اس دعوت میں ان عقائد و تصورات کو پیش کیا گیا ہے جن سے دل و دماغ زندگی سے بھر جاتے ہیں اور تمام خرافات اور جہالتوں سے پاک و صاف ہوجاتے ہیں۔ اوہام اور افسانوں سے نجات پاتے ہیں اور ظاہری اسباب اور طبیعی قوانین کی جکڑ بندیوں سے بھی نجات پاتے ہیں اور غیر اللہ کی بندگی اور اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے انسان کو نجات دلاتے ہیں۔
یہ دعوت تمہارے سامنے ایک ایسا قانونی نظام پیش کرتی ہے جو اللہ کی طرف سے ہے ۔ اس قانونی نظام میں انسانیت کی آزادی اور انسانیت کے احترام کے وہ اصول پیش کیے گئے ہیں جو من جانب اللہ ہیں۔ اس کے اجتماعی نظام میں تمام انسان صف واحد میں کھڑے ہیں۔ بالکل مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس نظام میں کسی فرد کی حکوت نہیں ہے ، کسی طبقے کی حکومت کا تصور نہیں ہے۔ کسی نسل کی حکومت کا تصور نہیں ہے۔ کسی قوم کی حکومت کا تصور نہیں ہے ، بلکہ اس نظام میں تمام لوگ آزاد اور باہم مساوی ہیں اور سب کے سب صرف قانون رب العالمین کے پابند ہیں۔
یہ دوات انہیں ایک ایسے نظام حیات کی طرف بلاتی ہے ، ایک ایسے نظام فکر کی طرف بلاتی ہے اور ایک ایسے نظام تصورات کی طرف بلاتی ہے کہ وہ انہیں ماسوائے ضوابط فطرت کے ہر قسم کی جکڑ بندیوں سے رہا کرتی ہے۔ یہ ضوابط فطرت وہی قوانین و ضوابط ہیں جسے خالق فطرت نے منظم کیا ہے۔ یہ خالق اپنی مخلوقات کو اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ قواعد و ضوابط انسان کی تخلیقی قوتوں کو باہم ٹکر اور مقابلے سے بچاتے ہیں اور یہ تخلیقی قوتوں کو ضائع بھی نہیں کرتے اور ان کا قلع قمع بھی نہیں کرتے اور نہ ان پر کوئی منفی پابندیاں لگاتے ہیں۔
یہ دعوت تمہیں قوت ، عزت اور سربلندی کی دعوت دیتی ہے اور انہیں یہ سکھاتی ہے کہ وہ اپنے عقائد ، اپنے نظام کو مضبوط کریں۔ اپنے رب اور اپنے دین پر پورا بھروسہ کریں۔ اس دعوت کو لے کر اٹھیں اور دنیا کے تمام انسانوں کو یہ آزادی عطا کردیں۔ تمام لوگوں کو خود ان جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی عطا کردیں کیونکہ تمام دنیا میں انسانوں کو باغیوں اور سرکشوں نے غلام بنا رکھا ہے۔
یہ دعوت انہیں جہاد فی سبیل اللہ کی طرف بلاتی ہے تاکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کا نظام قائم کیا جاسکے۔ لووں کی زندگیاں اس نظام کے مطابق استوار کی جاسکیں۔ اور دنیا سے اقتدار اعلیٰ کے ان نام نہاد مدعیوں کے اقتدار کو ختم کیا جاسکے۔ جن لوگوں نے اللہ کے حق حاکمیت اور منصب مقتدر اعلیٰ کو اپن لیے خاص کر رکھا ہے یہاں تک کہ وہ اس کرہ ارض پر اللہ کے امر اور اقتدار کو تسلیم کرلیں اور یہ جہاد اس وقت تک جاری رہے جب تک دین صرف اللہ کا رئج نہ ہوجائے۔ اگر اس جہاد کے عمل میں ان کی جان بھی چلی جائے تو انہیں شہید کا درجہ حاصل ہوجائے گا۔
یہ ہے اجماعلی تعارف اس دعوت کا جو حضور اکرم دے رہے ہیں اس لیے یہ دعوت ہر مفہوم اور ہر پہلو کے اعتبار سے زندگی عطا کرنے کی دعوت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ کوئی خفیہ عقیدہ نہیں ہے۔ یہ ایک عملی نظام ہے اور اس نظام کے سائے میں در اصل انسانیت زندگی اور ترقی حاصل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ کہا گیا کہ رسول کی دعوت در اصل تمہیں زندہ کرنے کی دعوت ہے۔ اور یہ ہر میدان میں اور ہر پہلو سے کسی بھی سوسائٹی کو زندہ جاوید کرنے والی ہے۔ قرآن کریم اس عظیم حقیقت کو چند الفاظ میں سمو دیتا ہے۔ ذرا دوبارہ غور کیجیے :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے تو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔
اس کی دعوت پر اس طرح لبیک کہو کہ اس کو بطیب خاطر قبول کرو اور مطیع فرمان بندے بنو۔ اللہ تعالیٰ اگرچہ تمہیں مجبور کرکے راہ ہدایت پر ڈال سکتا تھا مگر اس نے اس طرح نہیں کیا۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ ۔ اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے۔ وہ قادر مطلق ہے اور اس کی قدرت نہایت ہی خوفناک قدرت ہے۔ خود انسان اور اس کے دل و دماغ کے درمیان بھی وہ حائل ہوجاتا ہے اور فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ اس پر حاوی ہوجاتا ہے۔ اس کی راہ روک دیتا ہے اور جس طرف چاہتا ہے اسے پھیر دیتا ہے۔ جس طرح چاہتا ہے اس کے رخ کو پھیر دیتا ہے۔ جس شخص کے پہلو میں دل ہوتا ہے اسے اس پر کوئی دسترس حاصل نہیں ہوتی۔
فی الواقعہ یہ ایک خوفناک قدرت ہے اور قرآن کریم اس کا نقشہ کیسے الفاظ میں کھینچتا ہے۔ انسانی طرز تعبیر فی الواقعہ اس قسم کی حسی ، لفظی اور معنوی اور موثر تعبیر سے بالکل عاجز ہے۔
یہ خوفناک تصویر ایک مسلمان کی دائمی بیداری کی ضامن ہے۔ مومن بروقت چوکنا رہتا ہے۔ محتاط رہتا ہے اور اپنے دل کی دھڑکن ، اس کے میلانات اور اس کے رجحانات کو قابو میں رکھتا ہے۔ وہ ہر قسم کے وسوسے اور ہر برے رجحان کو قابو میں رکھتا ہے تاکہ اس سے لغزش نہ ہوجائے۔ وہ ہر وقت اپنی راہ پر نظر رکھتا ہے کہ اس راہ میں کس کس جگہ ٹھوکر لگنے کا خطرہ ہے۔ کہاں کہاں وسوسے اور پر کشش مقامات ہیں ، اس لیے کہ ایک مومن اللہ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط رکھتا ہے کہ کسی بھی غفلت کے وقت ، کسی معمولی سی لغزش کے ذریعے ، کسی بھی اقدام کی وجہ سے وہ بھٹک نہ جائے۔
رسول اللہ ﷺ رسول خدا ہونے کے باوجود یہ دعا اکثر اوقات پڑھا کرتے تھے۔
یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک۔ اے دلوں کے پھیرنے والے ، میرے دل کو اپنے دین پر جما دے۔ اگر رسول اللہ کا حال یہ تھا تو پھر ہم لوگوں کا کیا حال ہوگا جو نہ رسول ہیں اور نہ معصوم ہیں۔
یہ وہ منظر ہے جس سے دل اٹھتے ہیں اور جب ایک مومن اپنے آپ کو قرآنی آیات کا مخاطب پاتا ہے تو اس کا پورا جسم لرز اٹھتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کے پہلو میں اس کا دل بھی اس کا نہیں ہے ، اللہ کے قبضے میں ہے تو پھر اس کی کیا حیثیت ہے ؟ آیت پر ذرا دو بار غور فرمائیں :
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسول تمہیں اس چیز کی طرف بلائے تو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے
اس آیت کو پیش کرکے اللہ تعالیٰ ان کو یہ کہتے ہیں کہ اللہ اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ وہ تمہیں بیک کہنے پر مجبور کردیں۔ تم قہراً اس دعوت کو ماننے پر مجبور کیے جاسکتے ہو ، اگر وہ چاہے ، لیکن اللہ تمہیں یہ اعزاز دینا چاہتا ہے کہ تم مطیع فرمان ہو کر اور اپنے ارادے اور اختیار سے اس دعوت کو قبول کرلو۔ تاکہ اس پر تمہیں اجر وثواب ملے اور تمہاری انسانیت کا مقام ایک مجبور کی سطح سے بلند ہوجائے۔ تم انسانیت کے ارفع مقام تک پہنچ جاؤ اور اپنے اختیار سے ہدایت پا لینے والی مخلوق میں داخل ہوجاؤ۔ ایک فہیم اور مدبر مخلوق بن جاؤ، اور اپنے مقصد و ارادے اور علم و معرفت سے اس راہ پر چل نکلو۔
کیونکہ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ” اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤگے “۔ تمہارے دل اس کے ہاتھ میں ہیں۔ تم نے اٹھ کر حشر کے میدان میں کھڑا ہونا ہے۔ اس کے سوا تمہارے لیے اور کوئی راہ نہیں ہے۔ نہ دنیا میں اور نہ آخرت میں لیکن اس صورت حالات کے باوجود اللہ تم کو دعوت دیتا ہے کہ تم آزادانہ طور پر اس راہ پر چلو ، مقہور اور مجبور بندے کی صورت میں نہیں۔
الأنفال 8:25
اس کے بعد اہل ایمان کو اس بات سے ڈرایا جاتا ہے کہ وہ کہیں جہاد فی سبیل اللہ کے عمل کو چھوڑ نہ دیں اور اس دعوت کو چھوڑ نہ دیں جو آب حیات ہے۔ کیونکہ جہاد کا مطلب دنیا سے منکر کو مٹانا ہے ، جو سب کے لیے مضر ہے۔
فتنہ کیا ہے ؟ ابتلا اور مصیبت فتنہ ہے۔ اور وہ سوسائٹی جو اپنے بعض نادانوں کو کسی بھی صورت میں ظلم کرنے دیتی ہے ، اور ظالموں کی راہ نہیں روکتی ان کا مقابلہ نہیں کرتی ، یہ سوسائٹی اس بات کی مستحق ہے کہ وہ پوری کی پوری فساد کی لپیٹ میں آجائے۔ یاد رہے کہ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام کی راہ میں رکاوت ڈالنے سے اور کوئی بڑا فساد نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اسلام ایک نظام ہے جس کے تمام اجزاء ایک دوسرے کے لیے کفیل ہیں۔ یہ ایک مثبت نظام ہے اور یہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کے ماننے والے افراد باہم ظلم کریں اور اس سوسائٹی میں فساد پھیلے چہ جائیکہ اس سوسائٹی میں اللہ کا مکمل دین ہی معطل ہو ، بلکہ اللہ کا اقتدار اعلیٰ ، اس کی حاکمیت اور الوہیت کا انکار ہو۔ اس کی جگہ انسانوں کی بندگی قائم ہو اور یہ سوسائٹی خاموش رہے اور پھر یہ توقع بھی ہو کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو فتنے اور مصیبت سے بچائے گا۔ اس لیے کہ ذاتی طور پر وہ صالح ہیں۔
الأنفال 8:26
ظلم کا مقابلہ کرتے ہوئے چونکہ جانی اور مالی قربانی دینا پڑتی ہے اس لیے قرآن کریم اپنی مخاطب پہلی جماعت مسلمہ کو یہ یاد دلاتا ہے کہ تم یاد کرو کہ تم ضعیف تھے اور سازوسامان کے اعتبار سے قلیل تھے۔ تم مصائب سے دوچار تھے اور ہر وقت تم پر خوف و ہراس کی فضا چھائی رہتی تھی ، لیکن دعوت اسلامی کی پناہ میں تم آئے تو تم معزز مالدار اور رزق طیب کے مالک بن گئے۔ لہذا تم اس دعوت کی طرف سے غافل نہ ہوجاؤ جس میں تمہارے لیے آب حیات ہے ، جو اللہ کا عطیہ ہے اور اللہ ہی اس کا حامی ہے۔
وَاذْكُرُوْٓا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ یاد کرو وہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے ، زمین میں تم کو بےزور سمجھا جاتا تھا ، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی ، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا ، شاید کہ تم شکر گزار ہو
اپنی یہ پوزیشن یاد کرو تاکہ تمہیں یہ یقین آجائے کہ دعوت اسلامی در حقیت آب حیات ہے۔ یہ یاد رکھتے جاؤ تاکہ دعوت اسلامی کی راہ میں جدوجہد کرنے اور مشکلات کو انگیز کرنے سے تم رک نہ جاؤ۔ ذرا اپنے ایام ضعف اور خوف کو یاد کرو۔ اب تو اللہ نے حکم دے دیا ہے کہ تم مشرکین کے ساتھ لڑو اور رسول نے تمہیں مشورہ دیا کہ قریش کے مسلح لشکر سے لڑو اور تم اس دعوت کو پسند نہیں کرتے لیکن مکہ کے وہ دن بھی یاد کرو کہ تمہیں ہر طرف سے خطرات لاحق ہوتے تھے اور اب تم انقلابی ، فاتح ، اجر اخروی کے مستحق اور رزق حسن کے پانے والے ہو۔ کیا اچھے اچھے سامان خوراک تمہیں دے دیے گئے ہیں۔ تم اس پر اللہ کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔
ھالت خوف اور ضعف کی تعبیر قرآن نے ان الفاط میں کی ہے۔ تخافون ان یتخطفکم الناس۔ تم ڈرتے تھے کہ لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہے جس میں کوئی شخص کسی بھی وقت نازل ہونے والی مصیبت کا انتظار کر رہا ہو۔ وہ حالت خوف میں کسی بھی وقوعہ کا انتظار کر رہا ہو ، گویا وہ اپنی آنکھوں سے آنے والی مصیبت کو دیکھ رہا ہو۔ خوفناک ہلچل میں اس کی آنکھیں بےقرار ہیں۔ نظر آتا ہے کہ خوفناک ہاتھ آگے بڑھ رہے ہیں اور مسلمانوں کی ایک قلیل تعداد ہے جو خوفناک حالت میں دبکی بیٹھی ہے۔
اس خوفناک منظر سے تمہیں نکال کر امن ، فتح و نصرت اور عیش و عشرت اور سازوسامان کی زندگی میں لاای گیا ، اللہ کے سائے میں اور اللہ کی حمایت میں فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ ” پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی۔ اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا شاید کہ تم شکر گزار بنو “
اور اللہ کی یہ راہنمائی ان کے شامل حال رہی تاکہ وہ شکر بجا لائیں اور اجر آئیں لعلکم تشکرون ” شاید کہ تم شکر گزار بنو “ کون ہے جو اس عظیم انقلاب پر غور و تامل کرے اور پھر اس مضبوط ، پر امن اور مکمل آواز پر لبیک نہ کہے یعنی حضرت نبی ﷺ کی پکار پر ، اور کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے ان انعامات و اکرامات اس کی جانب سے نصرت و امداد اور اس کے ان مناظر پر غور کرے جو قرآن کریم میں پیش کیے گئے اور ان پر لبیک نہ کہے۔ اس لیے ان مناظر میں نہایت ہی قوی اثرات ہیں اور سامع کے لیے واضح اشارات و ہدایات ہیں۔
پھر جماعت مسلمہ کا یہ پہلا گروہ ان لوگوں پر مشتمل تھا ، جو بذات خود ان حالات سے عملاً گزرا تھا اور سختی و ترشی اور فراوانی اور امن کے یہ دونوں مناطر ان کے پردہ خیال پر تازہ تھے۔ وہ اپنے ماضی اور حال سے اچھی طرح باخبر تھے۔ اور اس طرح قرآن کریم کی یہ پکار ان پر زیادہ اثرات چھوڑتی تھی۔
آج کی ہر اسلامی تحریک جس کے پیش نظر یہ نصب العین ہو کہ اس نے مسلمانوں کی زندگیوں میں اس دین کو عملاً زندہ کرنا ہے اور اس کرہ ارض پر اس کے مطابق اجتماعی نظام قائم کرنا ہے۔ اگرچہ وہ ان دو مراحل سے عملاً نہ گزر رہی ہو اور اس نے عملاً یہ دو حالات نہ بھی دیکھے ہوں۔ لیکن قرآن کریم اس سے بھی یہی خطاب کر رہا ہے اور آج ہم اللہ کے اس قول کے مصداق ہیں : اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ. یاد کرو وہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے ، زمین میں تم کو بےزور سمجھا جاتا تھا ، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹا نہ دیں۔ لہذا آج کی تحریک اسلامی کے لیے بہتر ہے کہ وہ اس دعوت حیات جدید پر لبیک کہے جس کی طرف رسول اللہ ﷺ دعوت دے رہے ہیں اور نہایت ہی یقین اور اعتماد کے ساتھ اس وقت کا انتظار کریں جس میں اللہ کا سچا وعدہ سامنے آئے گا۔ جو اس نے پہلی تحریک اسلامی کے ساتھ کیا تھا اور وہ پورا ہوا تھا۔ یہی وعدہ ہے اس کا ہر اس تحریک کے لیے جو اللہ کے نام برپا ہو اور جو اس راہ کی مشکلات کو برداشت کرے اور اس انجام کا انتظار کرے۔
فَاٰوٰىكُمْ وَاَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَرَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ۔ پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی ، اپنی مدد سے تمہارے ہاتھ مضبوط کیے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا ، شاید کہ تم شکر گزار ہو۔
ظاہری حالت نظر فریب ہوتے ہیں لیکن تحریک اسلامی کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ اللہ کے وعدے پر بھروسہ کرتی ہے اور اللہ کا وعدہ پورا ہونے والا ہوتا ہے۔ اور اس تحریک اسلامی کے حق میں ہوتا ہے جس کا نصب العین اسلامی انقلاب برپا کرنا ہوتا ہے۔
الأنفال 8:27
اب پھر اہل ایمان کو دوبارہ پکارا جاتا ہے۔ انسان کے مالی حالات معاملات اور اس کی اولاد کے مفادات بعض اوقات انسان کو خوف اور بخل کی وجہ سے جدوجہد کرنے سے روک دیتے ہیں۔ جس زندگی کی طرف رسول اللہ دعوت دے رہے ہیں وہ ایک باعز زندگی ہے اور اس زندگی کے حصول کی راہ میں مشکلات لازماً پیش آتی ہیں اور اس کے لیے قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ لہذا قرآن کریم ان کمزوریوں کی اصلاح اس طرح کرتا ہے کہ وہ تحریک اسلامی کو فتنہ مال اور فتنہ اولاد کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں اس طرح فتنہ ہیں کہ ان سے انسان کا امتحان مقصود ہوتا ہے۔ اس امتحان اور آزمائش سے گزرنا مشکل کام ہے۔ ان کی وجہ سے دعوت جہاد سے انسان رک جتا ہے اور امانت ، عہد اور بیعت کے تقاضوں وک پورا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے۔ لہذا تم خبردار رہو کہ جہاد سے پیچھے رہ جانا رسول اللہ سے غداری ہے اور اس امانت سے غداری اور اس میں خیانت ہے جو مسلمانوں کے سپرد کی گئی ہے یعنی مقصد اعلائے کلمۃ اللہ اور قیام حاکمیت الہیہ اور لوگوں کو سچائی اور انسان کی دعوت اور ان کو یہ بھی یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں جو اجر عطیم ہے ، اس تحریک جہاد پر وہ مال اور اولاد سے زیادہ قیمتی ہے۔
اس کرہ ارض پر امت مسلمہ کے ذمہ جو فرائض عائد کیے گئے ہیں ، ان کو ترک کرنا اور ان سے دست بردار ہوجانا خدا اور رسول کے ساتھ خیانت ہے۔ اسلام کی اساس کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک حاکم ہے۔ اور یہ حاکمیت اس شکل میں ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علی ہوسلم نے پیش کی۔ انسانوں نے اپنی پوری تاریخ میں کسی وقت بھی ذات باری سے بالکل انکار نہیں کیا بلکہ انسان یہ غلطی کرتے رہے ہیں کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کرتے رہے ہیں۔ کبھی تو یہ شراکت محدود پیمانے پر اعتقادات اور عبادات میں ہوتی ہے اور کبھی نہایت ہی وسیع پیمانے پر اللہ کے اقتدار اعلیٰ اور حق حاکمیت میں بھی ہوتی ہے۔ اور یہ دوسری صورت عظیم شرک کی صورت ہے لہذا اسلام کے سامنے کبھی یہ مسئلہ اہم نہیں رہا ہے کہ لوگ خدا کو تسلیم کریں اور ان کو یہ دعوت دی جائے کہ خدا موجود ہے ، بلکہ مسئلہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ یہ خدا وحدہ لاشریک ہے اور اسے اس حیثیت کے ساتھ تسلیم کیا جائے اور لا الہ الا اللہ کا مفہوم یہی ہے کہ اس کرہ ارض پر حق حاکمیت بھی صرف اسے حاصل ہے اور جس طرح تمام لوگ اقرار کرتے ہیں کہ اس کائنات کا حاکم اللہ ہے ، اسی طرح وہ یہ اقرار بھی کریں کہ زمین پر بھی وہ الہ ہے۔ اور آسمان پر بھی ھوالذی فی السماٗ الہ و فی الارض الہ۔ اللہ وہ ہے جو آسمانوں پر بھی الہ ہے ، اور زمین پر بھی الہ ہے “۔ یہ ہے اصل قضیہ۔ مزید یہ کہ رسول اللہ ﷺ بھی اللہ کا پیغام لانے والے ہیں لہذا رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔
یہ ہے دین اسلام کا اصل مسئلہ یعنی نظریات جن کا دل دماغ میں جاگزیں ہونا ضروری ہے اور وہ عملی جد وجہد جس کے ذریعے اس کرہ ارض پر عملی نظام قائم کیا جائے۔ لہذا ان مقاصد سے دستکش ہونا خیانت ہے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یہاں متنبہ کرتے ہیں کہ تم ہر گز انمقاصد سے دستکش نہ ہونا۔ یہ خیانت تصور ہوگی۔ لہذا جو گروہ اپنے اس نظریہ کا اعلان کردے اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے لیے جدوجہد کرے۔ اس راہ میں جو جہاد اور اس کی مشکلات ییش آئیں انہیں برداشت کرے۔ چاہے مال دینا پڑے ، چاہے اولاد کو قربان کرنا پڑے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ اس امانت میں خیانت کرنے سے بھی مسلمانوں کو خبردار کرتا ہے جس کے وہ اس وقت سے حامل ہیں جب سے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا گیا ہے ، کیونکہ اسلام صرف چند کلمات سے عبارت نہیں ہے جن کو جس زبان سے ادا کردیا جائے ، اور نہ چند عبادات اور دعاؤں کا نام ہے بلکہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو پوری انسانی زندگی پر حاوی ہے۔ اس کے قیام کی راہ میں بڑی بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔ اسلام در حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی پوری عملی زندگی کو کلمہ طیبہ کے اصولوں پر استوار کردے۔ اور لوگوں کو اللہ کی بندگی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ انسانی معاشرے کو اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون اور اخلاقی نظام کی طرف لوٹا دیا جائے۔ ان لوگوں کو رد کردیا جائے جو اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرتے ہیں۔ اپنی الوہیت قائم کرتے ہیں اور اس نظام میں لوگوں کے درمیان مکمل عدل اور انصاف نافذ کیا جائے اور کرہ ارض پر انسان فریضہ خلافت الہیہ ادا کرتے ہوئے یہ سب کچھ کرے۔
یہ ہیں وہ فرائض جو ہر مسلمان پر عائد ہوتے ہیں اور جو ان کو ادا نہیں کرتا وہ گویا خائن ہے۔ وہ اس عہد کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی بیعت کو توڑ رہا ہے اور اس میں خیانت کر رہا ہے۔
اور یہ فرائض کچھ قربانیوں کا تقاضا کرتے ہیں ، ان کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان مال اور اولاد کے فتنوں اور آزمائشوں میں کامیاب نکلے اور اس کا نصب العین رضائے الہی اور اجر اخروی ہو ، جو عظیم اجر ہے اور جو ان لوگوں کے لیے محفوظ ہے جو امین ہیں ، صابرین ہیں ، قربانیاں دینے والے ہیں اور آخرت کو ترجیح دینے والے ہیں۔
الأنفال 8:28
قرآن کریم انسانی حقیقت سے مخاطب ہے۔ کیونکہ خالق کائنات انسان کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اسے اس کی ظاہری اور باطنی صلاحیتوں اور کمزوریوں کا علم ہے۔ وہ اس راہ کے نشیب و فراز سے خوب واقف ہے۔
وہ اس مخلوق کے کمزور پہلوؤں سے بھی واقف ہے اور وہ جانتا ہے کہ مال کے لالچ اور اولاد کے مفادات اس کی ذات میں رچے بسے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انسان کو خبردار کرتا ہے کہ مال و اولاد کی حقیقت کیا ہے۔ اللہ نے انسان کو یہ دو محبوب عطیات اس کی آزمائش کے لیے دیے ہیں۔ یہ دنیا کی زندگی کی زینت ہیں اور آزمائش ہیں۔ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ بندہ مال اور اولاد میں کس طرح تصرف کرتا ہے۔ آیا شکر ادا کرکے حق نعمت پورا کرتا ہے یا غفلت اور نافرمانی کرتا ہے۔ ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ۔ اور ہم تم کو خیر و شر کے ذریعے آزما کر فتنے میں ڈالتے ہیں۔ فتنہ فقط مشکلات اور محرومیت کی شکل ہی میں نہیں آتا بلکہ یہ خوشحالی اور اللہ کے عطیات کی شکل میں بھی آتا ہے اور مال و اولاد کی شکل میں بھی آزمائشیں آتی ہیں۔
یہ نہایت ہی اہم تنبیہ ہے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَآ اَمْوَالُكُمْ وَاَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ : اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامان آزمائش ہیں اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ جب انسان کو دل سے یہ معلوم ہوجائے کہ کس بات سے اس کا امتحان لیا جا رہا ہے تو یہ بات اس کے لیے معاون ثابت ہوتی ہے تاکہ وہ بیدار رہے اور محتاط رویہ اختیار کرے۔ یہ نہ ہو کہ امتحان میں اس سے بھول چوک ہوجائے اور وہ امتحان میں پیچھے رہ جائے۔
لیکن اس امتحان میں بھی اللہ بندے کو بےسہارا نہیں چھوڑتا۔ اللہ کو معلوم ہے کہ انسان امتحان میں فیل بھی ہوسکتا ہے۔ باوجود انتباہات کے ۔ اس لیے کہ اس راہ کی مشکلات بہت زیادہ ہیں ، خصوصا جب معاملہ مال اور اولاد کا درپیش ہو لہذا اللہ انسان کو یہ روشنی دکھاتا ہے۔ مال و اولاد کے مقابلے میں اللہ کا اخروی اجر عظیم یہی تو ہے۔
وَّاَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗٓ اَجْرٌ عَظِيْمٌ۔ اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یہ مال اور دولت دینے والا تو اللہ ہی ہے اور اللہ کے ہاں جو اجر ہے وہ اولاد اور دنیاوی مال سے زیادہ قیمتی ہے۔ لہذا کوئی شخص بھی اس امانت کبریٰ کے حق ادا کرنے سے پیچھے نہ رہے اور یہ اللہ کی طرف سے ایک قسم کا تعاون ہے۔ اس ضعیف انسان کے ساتھ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ خلق الانسان ضعیفا ” اور انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے “۔
غرض اسلامی نظام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ، اس میں اعتقادات و تصورات بھی ہیں ، اس میں ہدایت و تربیت کے سامان بھی ہیں ، اس میں رائض و واجبات بھی ہیں۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا نظام ہے اور اللہ علیم وخبیر ہے۔ الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر۔ کیا وہ نہ جانے گا جس نے پیدا کیا جبکہ وہ لطیف وخبیر بھی ہے۔
الأنفال 8:29
اب اہل ایمان کے نام یہ آخری پکار ہے اور اس سبق کے آخیر میں ہے۔ یہ پکار اس خاطر ہے کہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔ اس لیے کہ اس عظیم ذمہ داری کا حق صرف وہ لوگ ادا کرسکتے ہیں جن کے اندر نور تقویٰ ہو اور اس کے ذریعے وہ شیطانی شبہات اور وسوسوں کا مقابلہ کرسکیں اور اس راہ پر ان کے قدم مضبوط ہوں اور ان کو یہ فکر یکسوئی تب ہی نصیب ہوسکتی ہے جب وہ تقوی کے ذریعے حاصل کردہ ربانی نورانیت اور روشنی کو کام میں لائیں۔
یہ ہے زاد راہ اور حقیقی سامان سفر۔ زاد تقوی جو دلوں کو زندہ کرتا ہے ان کو بیدار کرتا ہے اور ان کے اندر ولولہ پیدا کرتا ہے۔ نیز اس کی وجہ سے دلوں کے اندر احتیاط اور بیداری پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان کو ایسا نور بصیرت ملتا ہے جس کی وجہ سے اس راہ کے نشیب و فراز سب روشن ہوجاتے ہیں۔ انسانی سوچ پر ان شبہات و وساوس کا اثر نہیں ہے جن کی وجہ سے راہ تاریک ہوجاتی ہے نیز تقوی کی وجہ سے انسان کو اس کی کوتاہیوں پر معافی بھی مل جاتی ہے۔ اور انسان کی زندگی میں سنجیدگی اور ثبات پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان پر امید ہوتا ہے اور مشکلات اور تقصیرات کی وجہ سے وہ مایوس نہیں ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ کی وجہ سے انسان کے دل میں وہ دو ٹوک بصیرت پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انسان اپنی راہ کی مشکلات میں صحیح فیصلے کرسکتا ہے۔ لیکن یہ وہ حقیقت ہے کہ تمام روحانی تجربات کی طرح اس کو بھی عملاً اپنانے کے بعد ہی اس کی پوری ماہیت انسان پر منکشف ہوتی ہے۔ صرف کلام وبیان سے اس کی ماہیت کو پوری طرح بیان نہیں کیا جاسکتا۔ خصوصاً ان لوگوں پر جن کا کوئی ذوق ہی نہ ہو۔
بعض امور حسن اور عمل کے درمیان پیچیدہ ہوتے ہیں۔ اور انسان کی فکر و نظر ہمیشہ جادہ حق کی نشاندہی میں پیچیدگی کا شکار رہی ہے۔ زندگی کی اہم راہوں پر انسان حق و باطل کے اندر مشکل سے تمیز کرسکتا ہے۔ بڑے بڑے دلائل بھی انسان کو اطمینان قلبی عطا کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ آخر کار خاموشی چھا جاتی ہے اور قلب و نظر مطمئن نہیں ہوتے۔ دلائل وبراہین کا یہ جدل وجدال بےفائدہ ہوتا ہے لیکن آخر کار تقوی ہی سامنے آتا ہے۔ تقوی کے ذریعہ ہی عقل کو روشنی ملتی ہے۔ تقوی ہی حق کی شکل و صورت وضع کرتا ہے اور راستہ منکشف ہوتا ہے ، دل مطمئن ہوتا ہے ، ضمیر کے اندر استراحت آجاتی ہے اور قدم جم جاتے اور انسان راستے پر چل نکلتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ بذات خود سچائی فطرت سے اوجھل نہیں ہوتی ، فطرت کی بنا اور تعمیر سچائی پر ہے اور اس سچائی ہی کے ساتھ زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا ہے لیکن انسانی خواہشات سچائی اور فطرت کے درمیان حائل ہوجاتی ہیں۔ ذاتی خواہشات فضا میں آلودگی پیدا کردیتی ہیں اور انسان کی حقیقی نظر کام نہیں کرتی اور انسان کو جادہ حق نظر نہیں آتا۔ محض دلیل وبرہان سے ذاتی خواہشات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تقویٰ اور خدا خوفی ہی ہے جس کے ذریعے خواہشات کو دبایا جاسکتا ہے۔ اور خوف خدا اور تقویٰ بروقت اپنا کام کرتے ہیں۔ خفیہ حالت میں بھی اور اعلانیہ حالات میں بھی۔ یہی وجہ ہے کہ تقویٰ کو مبداء فرقان بتایا گیا ہے جس سے بصیرت منور ہوتی ہے اور ہر قسم کا التباس اور شک دور ہوجاتا ہے۔
یہ وہ قوت اور صلاحیت ہے جو بازار سے خریدی نہیں جاسکتی۔ یہ اللہ کا فضل عظیم ہی ہوتا ہے جسے چاہتا ہے عطا کردیتا ہے اور اس فضل عظیم ہی کے نتیجے میں خطائیں معاف ہوتی ہیں۔ اور یہ وہ عمومی بخشش ہے جو رب العالمین اپنے خصوصی کرم سے جس پر چاہتا ہے ، کردیتا ہے۔
الأنفال 8:30
درس نمبر 84 ایک نظر میں
اس سورة میں سلسلہ کلام آگے بڑھتا ہے۔ حالات حاضرہ پر تبصرہ واقعات ماضی کی روشنی میں جاری ہے۔ امت مسلمہ کے سامنے اس عظیم فتح کی تصویر کشی کرکے بتایا جاتا ہے کہ ذرا سوچو کہ تمہارا حال تمہارے ماضی کے مقابلے میں کس قدر بدل چکا ہے۔ کس قدر عظیم انقلاب چشم زدن میں برپا کردیا گیا ہے لیکن یہ کیونکر ہوا۔۔۔ ؟ محض فضل ربی اور تدبیر الہی کے ذریعے۔ اس عظیم انقلاب کو دیکھو ! اس کے مقابلے میں اموال و غنائم کس قدر حقیر ہیں۔ نیز تم نے جو قربانیاں دیں اور جو مشقتیں اٹھائیں وہ تمہیں تو بہت بڑی نظر آتی ہوں گی مگر اب نتائج کے مقابلے میں کس قدر حقیر ہیں۔
درس سابق میں یہ بیان کردیا گیا تھا کہ مکہ میں مسلمانوں کے حالات کس قدر خراب رہتے تھے ، اس جنگ سے قبل مدینہ میں بھی تمہاری پوزیشن کچھ اچھی نہ تھی۔ تم قلیل و ضعیف تھے۔ تم ہر وقت خطرات میں گھرے ہوئے تھے۔ خطرہ تھا کہ تمہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ مدینہ میں آ کر تم مامومن ہوئے اور اس جنگ اور نصرت کے بعد ، محض تدبیر الہی سے تم عزیز اور مقتدر ہوگئے۔
اس سبق میں مشرکین کے موقف کی تصویر کشی کی جاتی ہے اور بتایا جاتا ہے کہ دیکھو یہ لوگ تمہارے خلاف چالیں چل رہے تھے۔ ہجرت سے قدرے پہلے اور یہ دعوے کرتے تھے کہ یہ شخص جو آیات الہی پڑھتا ہے اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام گھڑ سکتے ہیں اور وہ بغض وعناد میں اس قدر آگے بڑھ گئے کہ عذاب الہی کا خود مقابلہ کرنے لگے کہ اگر دعوت اسلامی حق ہے تو ہم پر عذاب آجائے۔ اس کے بعد کہا جاتا ہے کہ دیکھو یہ لوگ دعوت اسلامی کی راہ روکنے کے لیے اپنی قیمتی دولت بھی فضول خرچ کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جنگ کے لیے تیاریاں کر رہے ہیں۔ لیکن یہ دنیا میں ناکام ہوں گے۔ اور آخرت میں جہنم کا ایندھن ہوں گے نیز دنیا اور آخرت دونوں میں خسارے سے دوچار ہوں گے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو یہ حکم دیتے ہیں کہ وہ کافروں سے بات کرکے ان کو یہ اختیار دیں کہ وہ دو امور میں سے ایک کو قبول کرلیں۔ یا تو وہ کفر ، عناد اور اللہ اور رسول کے خلاف صف آرائی سے باز آجائیں ، اگر وہ ایسا کریں تو اللہ ان کی سابقہ کو تاہیاں جو دور جاہلیت میں کی گئیں ان کو معاف کردے گا۔ یا وہ لوٹ کر اس حالت میں چلے جائیں جس میں وہ تھے اور اس برے انجام سے دوچار ہوں جو ہر اس شخص کو نصیب ہوا جس نے اس راہ کو اختیار کیا۔ تب ان پر اللہ کی وہی سنت جاری ہوگی جس کا اللہ ارادہ کریں اور جس میں اس کی رضا ہو۔
آخر میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ ہدایت دیتے ہیں کہ وہ ان ہدایت دیتے ہیں کہ وہ ان کفار کے ساتھ جنگ اس وقت تک جاری رکھیں یہاں تک کہ کفار کے ہاتھ میں ایسی قوت نہ رہے جس میں مسلمانوں کے لیے خطرہ ہو۔ اس جہاں پر اللہ کی الوہیت قائم ہوجائے اور دین پر اللہ کے لیے خالص ہوجائے۔ اگر وہ سر تسلیم خم کردیں تو حضور ان سے یہ قبول کرلیں گے۔ رہی ان کی نیت تو اس پر معاملہ اللہ کے ہاں ہوگا۔ کیو کہ اللہ خبیر وبصیر ہے۔ اگر وہ روگردانی کریں ، اسلام کے خلاف یہ جنگ جاری رکھیں اور اسلام کے خلاف ان کے بغض وعناد کا یہی عالم رہے اور اللہ وحدہ کی حاکمیت کا اعتراف نہ کریں اور اللہ کے اقتدار اعلیٰ کے سانے نہ جھکیں تو مسلمان کے خلاف جہاد جاری رکھیں گے۔ اس میں وہ صرف اللہ پر بھروسہ کریں گے جو ان کا سرپرست ہے۔ وہ اچھا سرپرست اور بہترین مددگار ہے۔
درس نمبر 84 تشریح آیات : 30 ۔۔ تا۔۔ 40
تفسیر آیت 30 ۔
وَاِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِيُثْبِتُوْكَ اَوْ يَقْتُلُوْكَ اَوْ يُخْرِجُوْكَ ۭوَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ۭوَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ ۔ وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ منکرین حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کرلیں یا قتل کر ڈالیں یا جلا وطن کردیں۔ وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے۔
اب حالات مکہ معظمہ کی اسکرین پر لائے جاتے ہیں ، جبکہ حالات کے اندر وہ انقلاب برپا نہ ہوا تھا جواب ہوچکا ہے۔ اہل مکہ اپنے موقف پر سختی سے جمے ہوئے تھے مقصد یہ ہے کہ حالات بہت اچھے رخ پر جا رہے ہیں اور مستقبل تابناک ہے ، لیکن اس میں تمہارا کوئی ذاتی کمال نہیں ہے یہ تو اللہ کی تدبیر اور تقدیر کی کارستانیاں ہیں۔ دنیا میں وہی کچھ ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ ابتداء میں جن لوگوں کو مخاطب کیا جا رہا تھا وہ تو حالات کے ان دونوں ادوار کو اچھی طرح جانتے تھے کیونکہ وہ ان ادوار سے ہوکر گزرے تھے۔ ان کے لیے تو سابقہ دور ماضی قریب تھا اور اس دور میں وہ جس خوف قلق میں مبتلا تھے وہ انہیں اچھی طرح یاد تھا حال میں جو اطمینان تھا وہ ان کے سامنے تھا۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے اور رسول اللہ ﷺ کے خلاف کیا مکاریاں کی گئی تھیں اور کی جا رہی ہیں اور کس طرح وہ ان میں سے کامیاب ہوکر گزرے ہیں۔ انہوں نے مشکلات سے نجات ہی نہیں پائی بلکہ ان میں کامیاب بھی رہے ہیں۔
ان کی تدبیر یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ کو قید کرکے بیڑیاں پہنا دیں یہاں تک کہ وہ رحلت کر جائیں یا انہیں قتل کردیں یا آپ کو مکہ سے خارج کردیں۔ انہوں نے ان تمام تجاویز پر غور کیا تھا اور آخر میں وہ اس نتیجے پر پہنچ گئے تھے کہ آپ کو قتل ہی کردیں۔ اس کام کو تمام قبائل کے نوجوان سر انجام دیں تاکہ آپ کا کون تمام قبائل پر منقسم ہوجائے۔ بنو ہاشم آپ کا بدلہ نہ لے سکیں آخر کار دیت پر راضی ہوجائیں۔
امام احمد نے روایت کی ہے۔ عبدالرزاق سے ، معمر سے ، عثمان جریر سے ، ۔۔ مولی عباس سے ، کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا کہ و اذ یمکر بک کی تفسیر یہ ہے کہ ایک رات قریش نے مکہ میں باہم مشورہ کیا تو بعض نے کہا کہ جب وہ صبح نکلیں تو انہیں باندھ دیں یعنی نبی ﷺ کے بارے میں۔ بعض نے کہا اسے قتل کردیا جائے ، بعض نے کہا کہ انہیں جلا وطن کردیا جائے۔ حضور ﷺ کو اس کی اطلاع دے دی گئی۔ حضرت علی رات کو آپ کے بستر پر سوئے اور حضور نکل کر غار میں چھپ گئے لیکن مشرکین رات کو حضور کی چوکی کرتے رہے۔ جب صبح ہوئی تو وہ حملہ آور ہوئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ بستر پر حضرت علی سوئے ہوئے ہیں اور اللہ نے ان کی اس تدبیر کو ان پر الٹ دیا ہے تو انہوں نے حضرت علی پوچھا کہ تمہارے صاحب کہاں ہیں تو حضرت علی نے فرمایا : ” مجھے معلوم نہیں ہے “۔ چناچہ انہوں نے آپ کی پتہ براری شروع کی اور نقش قدم پر چل پڑے۔ جب وہ پہاڑ کے پاس پہنچے تو ان سے آپ کے قدموں کے آثار خلط ملط ہوگئے۔ وہ پہاڑ پر چڑھ گئے ، غار کے اوپر گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ دروازے پر عنکبوت نے تانا بانا بن دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ یہاں داخل ہوئے ہوتے تو یہاں عنکبوت کا جالا نہ ہوتا۔ چناچہ حضور نے وہاں تین راتیں گزر دیں۔
وَيَمْكُرُوْنَ وَيَمْكُرُ اللّٰهُ ۭوَاللّٰهُ خَيْرُ الْمٰكِرِيْنَ : ” وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا ، اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے والا ہے “۔ قرآن نے ان حالات کو جن الفاظ میں بیان کیا ، وہ نہایت ہی موثر ہیں جس سے قریش کی مجلس کا نقشہ ذہن میں آجاتا ہے ان کی تدابیر ، تجاویز اور چالیں سامنے آتی ہیں لیکن اللہ ان پر محیط ہے۔ ان کے معاملے میں اللہ کی چالیں سامنے آتی ہیں اور ان کی وجہ سے مشرکین کی تمام چالیں خاک میں مل جاتی ہیں لیکن انہیں آخر دم تک اس کا شعور ہی نہیں ہوتا۔
یہ نہایت ہی مسحور کن تصویر کشی ہے ، اور نہایت خوفناک بھی ، کیونکہ کمزور انسان قادر مطلق کے مقابلے میں کر ہی کیا سکتے ہیں۔ اللہ قہار و جبار ہے اور ہر چیز پر محیط ہے۔ قرآن کریم اس حقیقت کو اپنے مخصوص انداز و طرز پر بیان کرتا ہے کہ اسے پڑھ کر دل لرز اٹھتے ہیں اور انسانی شعور گہرائیوں تک متاثر ہوجاتا ہے۔
الأنفال 8:31
اب یہاں سے آگے سیاق کلام میں کفار کے افعال اور احوال بیان کیے جاتے ہیں۔ ان کے دعوے اور ان کے اعترافات کا بیان کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کا یہ دعویٰ بھی یہاں ریکارڈ کردیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو وہ اس قسم کا کلام پیش کرسکتے ہیں جبکہ یہ قرآن ان کے زعم میں محض پرانے قصوں پر مشتمل کتاب ہے۔
علامہ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں سعید ، سدی اور ابن جریج وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ یہ بات کہنے والا نضر ابن الحارث تھا۔ ” یہ ملعون فارس کے علاقوں میں پھرتا رہا تھا۔ اس نے ملوک فارس کی تاریخ اور رستم و اسفند یار کے قصے یاد کر رکھے تھے۔ جب وہ فارس سے واپس ہوا تو حضور ﷺ کی بعثت ہوگئی تھی اور آپ لوگوں کے سامنے قرآن مجید پڑھتے تھے۔ جب حضور ﷺ کسی مجلس سے تبلیغ کرکے اٹھتے تو وہاں نضر ابن الحارث پہنچ جاتا اور لوگوں کو یہ قصے سناتا اور کہتا تمہیں خدا کی قسم سچ کہو ہم میں سے کن اچھا قصہ گو ہے۔ میں یا محمد ؟ جب بدر کی جنگ پیش آئی تو اللہ نے اسے گرفتار کیا۔ حضور ﷺ نے حکم دیا کہ میرے سامنے اس کی گردن اڑا دی جائے اور ایسا ہی ہوا۔ اسے مقداد ابن الاسود نے گرفتار کیا تھا۔ اس بارے میں ابن جریر محمد ابن بشار سے محمد ابن جعفر سے ، شعبہ سے ، ابو بشر سے ، سعید ابن جبیر سے روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے بدر کے دن ، عقبہ بن ابومعیط ، طعیمہ ابن عدی اور نضر ابن الحارث کی گردن اڑانے کا حکم دیا تھا۔ مقداد نے نضر کو گرفتار کیا تھا۔ جب حضور ﷺ نے اس کے قتل کے احکام صادر کیے تو حضرت مقداد نے کہا ” رسول اللہ ، یہ تو میرا قیدی ہے “ اس پر حضور نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ اس پر دوبارہ حضرت مقداد نے کہا حضور یہ میرا قیدی ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا ” اے اللہ مقداد کو اپنے فضل سے غنی بنا دے “ اس پر حضرت مقداد نے کہا ” یہی تو میں چاہتا تھا “۔ کہتے ہیں ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے : وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَاۗءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَآ ۙ اِنْ هٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ ۔ جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھی تو کہتے تھے کہ ” ہاں سن لیا ہم نے ، ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بنا سکتے ہیں ، یہ تو وہی پرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آ رہے ہیں “۔
قرآن کریم میں مشرکین کی اس بات کو بار بار لایا گیا ہے کہ قرآن کریم میں پرانے لوگوں کی کہانیاں ہیں :
قالوا اساطیر الاولین اکتتبھا فھی تملی علیہ بکرۃ واصلیا۔ وہ کہتے ہیں یہ پرانی کہانیاں ہیں جو اس نے لکھ لی ہیں اور یہ صبح شام اسے لکھوائی جاتی ہیں “۔
یہ ان رکاوٹوں میں سے ایک ہے جو وہ قرآن کی انقلابی تعلیمات کے مقابلے میں کھڑی کرتے تھے ، حالانکہ قرآن کریم کا خطاب فطرت انسانی سے تھا اور یہ کلمات انسانی فطرت پر ایسا اثر کرتے تھے کہ وہ جھوم اٹھتی اور لبیک کہتی ۔ جب دلوں پر یہ کلمات پڑتے تو وہ لرز اٹھتے اور اس کے مقابلے میں ٹھہر نہ سکتے۔ چناچہ اس کلام کے مقابلے میں قریش کے لیڈر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے۔ لیکن وہ خود بھی جانتے تھے کہ یہ چالیں کارگر نہ ہوں گی۔ بہرحال انہوں نے کلام الہی میں ایک ایسی چیز تلاش کرلی جو ان کی پرانی کہانیوں کے مشابہ تھی۔ اس سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے جاہل عربوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اس انقلابی تحریک سے متاثر نہ ہوجائیں اور عوام جس طرح ان کبراء کی غلامی میں چلے آ رہے تھے ، بدستور چلتے رہیں۔
قریش کے لیڈر یہ بھی جانتے تھے کہ دعوت اسلامی کی حقیقت کیا ہے ، وہ عرب تھے اور قرآن کے مضامین سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا مفہوم و رماد کیا ہے ؟ اس کا مقصد یہ ہے کہ شہادت دینے والا تمام انسانوں کے اقتدار اور حاکمیت کا انکار کر رہا ہے۔ یہ اپنے آپ کو تمام انسانوں کی حاکمیت سے نکال رہا ہے اور یہ اعلان کر رہا ہے کہ آج سے وہ صرف اللہ کی بندگی اور حاکمیت میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر وہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ آج سے نہ صرف اللہ کی بندگی اور حاکمیت میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر وہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ آج سے وہ صرف اللہ کی بندگی اور حاکمیت میں داخل ہوگیا ہے۔ پھر وہ یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ آج کے بعد وہ ہر قسم کی ہدایات رسول اللہ ﷺ سے اخذ کرے گا۔ اب وہ ان لوگوں سے کوئی ہدایت نہ لے گا جو بتوں کے نام پر بات کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جو لوگ یہ شہادت دے دیں وہ کلمہ پڑھتے ہی ریش کی غلامی ، ان کے اثر اور ان کے اقتدار سے کل جاتے ہیں وہ اس اجتماعی نظام کے کل پرزے بن جاتے ہیں جس کی قیادت حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ حضور کی قیادت و سیادت کے تابع اور مطیع ہوجاتے ہیں۔ خواہ وہ جس قبیلے کے افراد ہوں ان کا تعلق ولدیت اور معاشرت اس قبیلے سے ختم ہوجاتا ہے اور وہ جدید قیادت کے وفادار اور ذمہ دار بن جاتے ہیں جس کا نام قیادت محمدی ہے۔
یہ تھا کلمہ طیبہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا مفہوم۔ یہ مفہوم انہوں نے مکہ کی گلیوں میں چلتا پھرتا دیکھا تھا۔ وہ رات دن اس مفہوم سے خطرہ محسوس کرتے تھے۔ ان کا اجتماعی نظام ، ان کا قبائلی وجود اور ان کی قیادت و سیادت انہیں ختم ہوتی نظر آتی تھی۔
لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کا وہ کمزور ، بےمقصد اور بےاثر مفہوم کبھی بھی نہ تھا جو آج ہم اس کلمے سے سمجھتے ہیں یہ زعم رکھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں۔ محض اس لیے کہ ہم زبان سے کلمہ شہادت کو ادا کر رہے ہیں ار بعض مراسم عبودیت بھی بجا لاتے ہیں جبکہ زمین پر اقتدار اعلیٰ اور لوگوں کی زندگیوں میں اسلامی نظام کا اتہ پتہ ہی نہیں ہے۔ اسلامی معاشرے پر جاہلی قیادتیں اور جاہلیت کے پیروکار سربراہ حکمران ہیں اور اپنی مرضی سے تمام امور سر انجام دیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مکہ میں نہ تو اسلام کی حکومت نہیں ور نہ وہاں شریعت نافذ تھی۔ لیکن جو لوگ کلمہ طیبہ کا اقرار کرتے تھے وہ اپنی پوری قیادت و اختیارات حضور ﷺ کے ہاتھ میں دے دیتے تھے اور ان کی وفاداریاں خود اپنے معاشرے سے کٹ کر جماعت مسلمہ کے ساتھ وابستہ ہوجاتی تھیں۔ یہ لوگ نہ صرف یہ کہ جاہلی قیادت کا جوا اپنی گردنوں سے اتار پھینکتے تھے بلکہ یہ جاہلی اقدار سے باغی ہوجاتے تھے۔ اپنے قبیلے ، اپنے خاندان اور جاہلی قیادت سے فوراً کٹ جاتے تھے وہ کلمہ شہادت پڑھتے ہیں۔ لہذا ان لوگوں کی طرف سے کلمہ طیبہ محض خالی خولی بات ہی نہ تھی بلکہ وہ ایک مفہوم تھا اور وہ مفہوم جماعت مسلمہ کی زنگیوں میں نمودار ہوا کرتا تھا۔
یہ تھی وہ اصل بات جس سے قریش خوفزدہ تھے۔ وہ دیکھتے تھے کہ اسلام سیلاب کی طرح امنڈتا چلا آرہا ہے۔ اس سے قبل حنفاء کی بھی ایک جماعت تھی مشرکین کے عقائد اور اعمال سے علیحدہ رہتے تھے اور ان کی طرح عبادت بھی نہ کرتے تھے۔ اللہ کو وحدہ لا شریک سمجھتے تھے ، صرف اللہ کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے کوئی بھی بتوں کی عبادت نہ کرتا تھا۔ یہاں تک تو جو شخص جو رویہ چاہے اختیار کرے کوئی جاہلی نظام اسے نہ چھیڑے گا کیونکہ اس قدر رویہ اہل جاہلیت کے نظام کے لیے کوئی خطرہ نہ تھا۔ یہ تو محض مخالفانہ عقائد تھے اور ایک علیحدہ طریقہ عبادت تھا لیکن صرف یہ اسلام نہیں ہے جیسا کہ بعض پاکباز اور بھلائی پسند لوگ سمجھتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ وہ اچھے مسلمان بن گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ بھولے بھالے لوگ ہیں اور انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ اسلام کی حقیقت کیا ہے۔ اسلام صرف درست کلمہ کی تلاوت کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایک تحریک کا نام بھی ہے اور تحریک یہ کہ انسان فوراً جاہلی تصورات اور جاہلی معاشرے اور جاہلی قیادت کی گرفت سے باہر نکل آئے اور جاہلی قیادت کے قوانین و شریعت سے نکل کر اپنی پوری وفاداری کو اسلامی قیادت کے ساتھ وابستہ کردے جو کسی خطہ زمین پر اسلام کو عملاً نافذ کرنا چاہتی ہے۔ یہی وہ بات تھی جس کی وجہ سے قریش کے کبراٗ کی نیند حرام تھی اور وہ کانٹوں پر لوٹ رہے تھے۔ اور تحریک اسلامی کے خلاف قسم قسم کے حربے لے کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ ان حربوں میں سے ایک حربہ یہ بھی تھا کہ قرآن کریم کے بارے میں یہ شکوک پھیلائے جائیں کہ یہ پرانی کہانیاں ہی تو ہیں اور اگر وہ چاہیں تو ایسی کہانیاں تصنیف کرسکتے ہیں۔ لیکن اس سے قبل قرآن نے ان کو بار بار چیلنج دیا تھا اور وہ ایسا کوئی کلام پشی کرنے سے عاجز ہوگئے تھے۔ اساطیر کا واحد اسطورہ ہے۔ اس سے مراد وہ قصص ہیں جن کے اندر مذہبی خرافات بھی ہوں یعنی خداؤں کی کہانیاں ، پرانے لوگوں کے قصے ، اور مذہبی لیڈروں کی بہادریاں اور ایسے محیر العقول واقعات جو تخیلات پر مشتمل ہوں ، تخیل ان قصوں کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔
قریش قرآن کریم میں بیان کردہ اقوام سابقہ کے قصص کی نشاندہی کرکے ، ان میں سے معجزات کو لیتے اور اللہ تعالیٰ نے سابقہ زمانوں میں جھٹلانے والوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ واقعات لیتے اور مکہ کے غافل اور جاہل لوگوں کو یہ باور کراتے کہ تم خود پڑھو ، یہ پرانے قصے ہیں۔ یہ قصص محمد نے ان لوگوں سے اخذ کیے ہیں جو اس میدان کے باہر ہیں۔ اور مہارین سے لے کر وہ یہاں آ کر تمہارے سامنے پڑھتا ہے۔ اور یقین یہ رکھتا ہے کہ یہ اس پر وحی ہوتے ہیں۔ یوں نضر ابن الحارث خود رسول اللہ کی مجلس میں بیٹھ کر یہ باتیں کرتا یا حضور کی مجلس کے بالمقابل اپنی مجلس جماتا اور اس میں ایسی باتیں کرتا۔ اس میں اہل فارس کے پرانے تاریخی قصے بیان کرتا اور پھر لوگوں کو کہتا یہ دیکھو یہ بھی ویسے ہی قصص ہیں جیسے قرآن کریم بیان کرتا ہے۔ دیکھو ان قصوں کے بل بوتے پر وہ نبوت کا مدعی ہے اور میں یہ دعوی نہیں کرتا لیکن ہیں یہ دونوں صرف پرانے قصے۔
یہ تھی اس ملعون کی تقریر اور ضروری ہے کہ مکہ کے حلقوں میں خصوصاً ابتدائی دور میں ضرور اس کے کچھ اثرات بھی ہوں گے۔ اس ابتدائی دور میں جس میں ابھی تک قرآن کریم کے قصص اور فارس والوں کی پرانی کہانیوں کے درمیان فرق و امتیاز لوگوں کے ذہنوں میں واضح نہ ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ حضور کے منادی نے معرکہ بدر سے قدرے پہلی یہ اعلان کروا دیا تھا کہ نضر ابن الحارث بچنے نہ پائے اور قتل کردیا جائے اور جب وہ اسیر ہو کر آیا تو آپ نے اسے قتل کرادیا اور اس سے فدیہ قبول نہ کیا جس طرح دوسرے قیدیوں سے قبول کیا تھا۔
لیکن ابتدائی حملے کے بعد مکہ میں یہ سب تدابیر بیکار ہوگئیں ، یہ اندر مخالفت جلد ہی ختم ہوگیا۔ اور لوگوں پر اس کی حقیقت کھل گئی۔ قرآن کریم کی چھا جانے والی قوت جو اسے اللہ کی جانب سے دی گئی ہے اور وہ قوت جو اس کے اندر پیش کردہ سچائی کے اندر پوشیدہ ہے وہ انسانی فطرت کو اپنے قبضے میں لے لیتی ہے۔ چناچہ اس کے مقابلے میں جلد ہی اس قسم کے ہتھکنڈے فیل ہوگئے اور اس کے مقابلے میں جلد ہی میدان صاف تھا۔ اب قریش حیرانی و رپیشانی کی حالت میں اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور ہوگئے۔ پہلے تو وہ لوگوں کو دعوت موازنہ دیتے تھے۔ اب کہنے لگے لا تسمعوا لھذا القران والغو فیہ لعلکم تغلبون۔ اس قرآن کو مت سنو اور جب وہ پڑھا جا رہا ہو تو شور مچا ، شاید یہ کہ اس طرح تم غلبہ پا لو۔ لیکن ان میں نہایت ہی سرکردہ لوگ مثلاً ابوسفیان ، ابوجہل ، اور اخنس ابن شریق جیسے لوگ بھی اس حکم پر عمل نہ کرسکے اور وہ ایک دوسرے سے چھپ کر رات کو جاتے اور قرآن کی تلاوت سنتے۔ وہ رات کو تلاوت قرآن کے مقررہ وقت میں صبر نہ کرسکتے اور دوسروں سے چھپ کر پہنچ جاتے تھے۔ لیکن جب ان کا راز ایک دوسرے پر کھلا تو پھر انہوں نے کہا نہایت ہی سخت عہد کیا کہ ہر گز نہ آئیں گے ورنہ وہ قرآن کا شکار ہوجائیں گے۔
یہ بات یاد رہے کہ قرآن کے خلاف نضر ابن الحارث کی تحریک ختم نہیں ہوگئی اور نہ ہوگی اور نہ یہ کوئی آخری تحریک تھی۔ یہ تحریک بھی مختلف شکلوں میں انسانی تاریخ میں ہمیشہ رہی ہے۔ دین اسلام کے دشمنوں نے اہل اسلام کو ہمیشہ قرآن سے باز رکھنے کی سعی کی ہے۔ جب وہ اور طریقوں سے قرآن کو ختم نہ کرسکے تو انہوں نے اسے گانا شروع کردیا۔ قراٗ کرام اسے خوش الحانی سے پڑھتے ہیں اور یہ لوگ اس پر جھومتے ہیں اور انہوں نے اس کے احکام و آیا سے گنڈے اور تعویذ بنانے شروع کردیے۔ کسی نے بازو پر باندھ لیا ، کسی نے گلے میں لٹکا لیا اور کسی نے تکیے کے نیچے رک لیا۔ اور سمجھے کہ ہم تو مسلمان ہیں اور ہم نے قرآن کا حق ادا کردیا ہے اور اس طرح اس دین کا حق ادا ہوگیا ہے۔
آج صورت حالات یہ ہے کہ قرآن لوگوں کی زندگی کے لیے مصدر رشد و ہدایت نہیں ہے۔ دشمنان دین نے قرآن کے مقابلے میں بعض اور مصادر اور مراجع وضع کردیے ہیں جہاں سے لوگ ہدایات لیتے ہیں۔ یہ ان نئے مراجع سے اپنے تصورات ، اور مقاصد اخذ کرتے ہیں اور قوانین و ضوابط بھی یہ لوگ ان دوسرے مصادر سے لیتے ہیں۔ اقدار حیات اور حسن و قبح کے پیمانے بھی ان مصادر سے لیتے ہیں لیکن زبان سے یہ لوگ کہتے ہیں کہ دین اسلام محترم ہے۔ قرآن محفوظ ہے اور وہ صبح و شام لوگوں پر پڑھایا جاتا ہے۔ گانے والے اسے گاتے ہیں۔ قراٗ اس کی تلاوت کرتے ہیں اس ترنم اور اس ترتیل کے بعد آخر لوگ اور کیا چاہتے ہیں ؟ رہے تصورات اور مطالب ، حسن و قبح کے پیمانے اور اقدار حیات ، اجتماع نظم اور معاشرتی طور طریقے ، قوانین و ضوابط اور اصول و دستور تو مان کے بارے میں تو مسلمانوں نے کچھ اور قرآن گھڑ رکھے ہیں اور یہ لوگ اصل قرآن کی طرف لوٹتے ہی نہیں
کیا اس ہتھکنڈے اور نضر ابن الحارث کے ہتھکنڈوں میں کوئی فرق ہے ؟ ہاں جدید ہتھکنڈے جدید اسلوب میں ہیں۔ یہ اس کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ اور زیادہ پوشیدہ ہیں اور یہ جدید چالیں جدید پیچیدیگی زندگی میں زیادہ کامیاب ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی ویسی ہی سازشیں ہیں جیسی قریش کرتے تھے یا اسلام کی طویل تاریخ میں ہوتی رہیں۔
لیکن قرآن کے بھی کیا کہنے ؟ یہ ایک عجیب کتاب ہے اس کی طویل تاریخ میں اسکے خلاف یہ کھیل اور پیچیدہ سازشیں ہوتی رہی ہیں لیکن آخر کار فتح قرآن ہی کی ہوتی ہے۔ یاد رکھو ، قآن کریم کی عجیب خصوصیات ہیں ، انسانی فطرت پر اس کی گرفت بہت ہی مضبوط ہے۔ اس کے خلاف یہود و ہنود اور انسانوں اور شیطانوں کی کوئی چال کامیاب نہیں ہوتی۔ آج اس کے خلاف جو عالمی سازشیں ہو رہی ہیں جن کا سر رشتہ عالمی یہودیت اور عالمی صیہونیت کے ہاتھ میں وہ جاری وساری ہیں اور قرآن غالب و ناصر ہے۔
یہ قرآن آج بھی اس پورے کرہ ارض پر اپنے دشمنوں کو شکست دے رہا ہے۔ یہ دشمن مجبور ہیں کہ اس کی تلاوت کو پوری دنیا میں نشر کریں۔ یہود و نصاری اور ہندو وغیرہ اسے اپنے میڈیا سے نشر کرتے ہیں اور یہودیوں اور عیسائیوں کے وہ ایجنٹ حکران بھی اسے نشریات کا حصہ بناتے ہیں ، وہ ایجنٹ جو مسمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔
بیشک یہ لوگ قرآن کو اپنی نشریات کا حصہ تو بناتے ہیں لیکن انہوں نے قرآن مجید کو محض قراٗت اور ترنم اور ترتیل کا ذریعہ بنا دیا ہے یا اس سے آگے اسے تعویذوں اور گنڈوں کے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ قرآن کریم کو انہوں نے مسلم فکر سے نکال دیا ہے اور اسے مسلمانوں کی فکر اور عملی راہنمائی کے مقام سے ہٹا دیا ہے مسلمانوں کی فکری اور عملی راہنمائی کے لیے ان دشمنوں نے جدید فلسفے اور نظریات گھڑ لیے ہیں لیکن یہ کتاب بدستور تمام سازشوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ یہ بدستور اپنا کام کر رہی ہے اور اس دنیا کے ہر حصے ایسے گروہ موجود ہیں جو اس کو اپنا صحیح مقام عطا کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ جدوجہد کر رہے ہیں کہ یہ کتاب رشد و ہدایت کا مرجع ہو۔ یہ گروہ ہر جگہ مصروف کار ہیں اور اللہ کی جانب سے تائید و نصر کے طلبگار اور امیدوار ہیں کہ اللہ ان کو اس کرہ ارض کا اقتدار نصیب کرے اور قرآن کریم اپنے اصل مقام کو پالے۔ ایک موقع پہلے اگر یہ کامیاب ہوچکا ہے تو انشاء اللہ دوبارہ بھی ہوکر رہے گا۔ ان شاء اللہ۔
الأنفال 8:32
ذرا آگے ملاحظہ کیجیے۔ جب قرآن کے مقابلے سے یہ دشمن عاجز آجاتے ہیں اور ان کی سازش ناکام ہوجاتی ہے تو یہ اس کے مقابلے میں عجیب طرز عمل اختیار کرتے ہیں اور ان کا جذبہ عناد اور ان کا غرور انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ یہ رویہ اختیار کریں اور کسی صورت میں بھی مان کر نہ دیں۔ اب یہ لوگ تمناؤں کی دنیا میں داخل ہوجاتے ہیں کہ اگر یہ حق ہے تو اے اللہ ہم پر پتھر برسا دے۔ یا اور کوئی دردناک عذاب ہم پر نازل کردے۔ لیکن وہ حق کے اتباع اور حق کی حمایت کے لیے ہرگز تیار نہیں ہیں۔
یہ عجیب و غریب دعاء ہے ۔ اس سے اس کٹر بغض وعناد کا اندازہ ہوجاتا ہے جو ان لوگوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف پایا جاتا تھا کہ وہ ہلاکت اور بربادی کو دعوت دیتے ہیں۔ لیکن اسلام کو ماننے اور اس کی حمایت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگرچہ وہ حق ہو۔ فطرت سلیمہ کا رویہ تو یہ ہوتا ہے کہ جب اسے کسی معاملے میں خلجان ہو تو ایسا شخص دعا کرتا ہے کہ اے اللہ مجھے اس معاملے میں راہ راست دکھا۔ وہ کبھی بھی اس معاملے میں تلخی محسوس نہیں کرتا۔ لیکن جب کبر و غرور اور بغض وعناد فطرت سلیمہ کو بگاڑ دیں پھر عالم یہ ہوتا ہے کہ غرور وعناد انسان کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ لوگ مرنا پسند کرتے ہیں لیکن سچائی کو قبول کرنا پسند نہیں کرتے۔ حالانکہ ان کے سامنے حق و باطل واضح ہوکر رہ جاتا ہے۔ اور اس میں خود ان کو کوئی شک نہیں رہتا۔ اس کی واضح مثال مشرکین مکہ کا رویہ ہے۔ یہ آخر دم تک رسول اللہ ﷺ کی دعوت کا مقابلہ کرتے رہے لیکن ان کے اس بغض وعناد کے باوجودع یہ دعوت فتح یاب ہوئی۔
الأنفال 8:33
اس عناد اور اس دعاء کے جواب میں قرآن کیا کہتا ہے ؟ ٹھیک ہے کہ یہ لوگ پتھروں کی بارش کے مستحق ہیں اور اس کا مطالبہ وہ اس شرط کے ساتھ کرتے ہیں کہ اگر یہ قرآن سچا ہو اور ظاہر ہے کہ قرآن سچا ہے اور شرط پوری ہے۔ لیکن ان کی جانب سے بربادی کی دعوت دینے کے باوجود اللہ ان پر یہ عمومی عذاب اس لیے نازل نہیں کرتا کہ حبیب خدا ان میں موجود ہیں اور مسلسل ان کو دعوت حق دے رہے ہیں اور اللہ نے کسی قوم کو بھی اس وقت تک مکمل بربادی سے دوچار نہیں کیا جب تک رسول ان میں موجود ہوتا ہے۔ دعوت دے رہا ہوتا ہے اور لوگوں کو بھی اللہ اس وقت تک ہلاک نہیں کرتا جب تک وہ اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے رہتے ہیں۔ اور ان پر یہ عذاب صرف اس لیے نیں نازل ہورہا ہے کہ یہ لوگ بیت اللہ کے مکین ہیں اگرچہ وہ اس گھر کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں۔
یہ اللہ کی عظیم رحمت ہے کہ انہیں مہلت دے دی اور ان کے اس گہرے عناد کی وجہ سے ان پر عذاب نہیں ٓ رہا ہے۔ مسجد حرام سے یہ لوگ لوگوں کو روکتے ہیں اور پھر بھی ان کے لیے مہلت کی رسی دراز ہو رہی ہے۔ اس دور میں یہ مسلمانوں کو حج کرنے سے بھی روکتے تھے۔ جبکہ مسلمان کسی کو نہ روکتے تھے اور نہ کسی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔
یہ رحمت خداوندی ان کو اس لیے مہلت دیے جا رہی تھی کہ شاید ان میں سے جن لوگوں کے دلوں میں مادہ ایمان موجود ہے وہ ایمان لے آئیں اگرچہ وہ قدے بعد میں آئیں۔ اور رسول اللہ ﷺ بھی تو ابھی تک موجود ہیں اور کام کر رہے ہیں۔ بعض لوگوں سے ابھی تک توقعات وابستہ تھیں۔ لہذا حضور ﷺ کے وجود بابرکت کی وجہ سے ان کو مہلت مل رہی تھی۔ ابھی تک عظیم عذاب سے بچنے کا دروازہ کھلا تھا ، اگر وہ مان لیں ، دعوت اسلامی کو قبول کرلیں اور اپنے رویے سے باز آجائیں۔
وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ ۭ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ۔ اس وقت تو اللہ ان پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جب کہ تو ان کے درمیان موجود تھا اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے۔
لیکن اللہ اگر ان کے ساتھ ان کے حالات کے مطابق معاملہ کرنا چاہے تو وہ بیشک عذاب الہی کے مستحق ہیں۔
الأنفال 8:34
ان پر یہ عذاب اس لیے نہیں لیٹ ہورہا ہے جس کا وہ دعوی کرتے تھے کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں یا وہ بیت اللہ کے متولی ہیں۔ یہ تو ان کا محض دعوی ہی دعوی تھا ، اس کی کوئی اساس نہ تھی۔ یہ لوگ در اصل اس گھر کے خادم اور متولی تھے ہی نہیں۔ یہ تو اس گھر کے دشمن تھے۔ انہوں نے زبردستی اس پر قبضہ کرلیا تھا۔ یہ کوئی ترکہ تو تھا نہیں جو آباؤ اجداد سے وراثت میں لیا جاتا۔ بیت اللہ کی تولیت کا حق تو اللہ کے متقی بندوں کا حق ہے۔ ان کا یہ دعوی کہ وہ حضرت ابراہیم کے وارث ہیں ، یہ بھی غلط ہے۔ اس لیے کہ سچائی کا تعلق خون اور نسب سے نہیں ہوتا۔ سچائی میں وراثت تو دین اور عقیدے کی وراثت ہوتی ہے۔
کہ دریں راہ فلان ابن فلاں چیزی نیست
حضرت ابراہیم کے وارث تو اہل تقوی ہیں۔ حضرت ابراہیم نے اس گھر کو تعمیر کیا تاکہ لوگ اس کی زیارت کریں اور تم اس سے روکتے ہو اور تم نے اس کی تولیت کو بھی مستحق لوگوں سے چھین لیا ہے۔
الأنفال 8:35
یہ لوگ ، اگرچہ اس گھر میں اپنی نماز پڑھتے ہیں۔ اس گھر کی تولیت کے مستحق نہیں ہیں۔ پھر ان کی نماز ہی کیا ہے ؟ سیٹیاں بجانا اور تالیاں بجانا۔ ایسا شور و شغب اور ہائے ہو جس میں کوئی متانت اور سنجیدگی نہیں ہے نہ اس گھر کے احترام کا شعور ہے اور نہ اس میں اللہ کے تقدس اور کبریائی کا کچھ احساس ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ یہ لوگ اپنی گالوں کو زمین پر رکھتے تھے اور سیٹیاں اور تالیاں بجاتے تھے۔ اور اس سے عالم اسلام ، نام نہاد عالم اسلام کی وہ تصویر ذہن میں آجاتی ہے جس میں لوگ آستانوں پر گاتے بجاتے ہیں ، شور شغب کرتے ہیں اور اللہ ہو کے نعرے لگاتے ہیں اور قبروں کی چوکھٹوں پر چہرے رگڑتے ہیں۔ غرض یہ سب جاہلیت کے مظاہرے ہیں جو کبھی اس صورت میں ظاہر ہوتے تھے اور کبھی اس صورت میں طاہر ہوتے ہیں۔ لیکن ان تمام صورتوں کی اصل اور بھنیادی صورت یہ ہے کہ دنیا میں انسانوں کی حاکمیت قائم ہو اور لوگوں پر انسان حکمران ہوں۔ یہ بڑی اور عظیم ہمہ گیر جاہلیت ہے جو تمام چھوٹی بڑی جاہلیتوں کو گھیرے ہوئے ہوتی ہے اور یہ دوسری جاہلیتیں اس کی شاخ اور فریم ہوتی ہیں۔
فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ۔ پس اب لو ، اس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اس انکار حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو۔
اور یہ عذاب کون سا عذاب ہے ، وہی جو میدان بدر میں جماعت مسلمہ کے ہاتھوں ان کو پہنچتا رہا وہ عذاب جو انہوں نے خود طلب کیا تھا کہ ان کی جڑ کاٹ دی جائے تو اللہ نے ان پر وہ عذاب اس لیے نازل نہیں کیا کہ اللہ رحیم و کریم ہے اور نبی ﷺ کی موجودگی میں اس قسم کے عذاب کا نزول مناسب نہ تھا کیونکہ آپ نبی رحمت ہیں اور کفار میں سے کئی لوگوں کی جانب سے توبہ و استغفار کی امید ابھی باقی ہے۔
الأنفال 8:36
اب ذرا ان کفار کے طرز عمل کو دیکھو یہ لوگ اپنے اموال اس مقصد کے لیے صرف کرتے ہیں کہ لوگوں کو راہ خدا سے روکیں۔ بدر میں ان کے مقاصد کیا تھے ، یہی کہ اس جنگ سے ان کے پیش نظر صرف یہ تھا کہ اس گروہ کو ختم کر کے دین داری کی تحریک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے جس طرح پہلے کیا گیا۔ بدر کے بعد بھی ان کی سوچ یہی رہی۔ اللہ تعالیٰ انہیں خبر دار فرماتے ہیں کہ آخر کار تم نے ناکام ہونا ہے اور تمہیں اپنے رویے پر بےحد افسوس ہوگا اس لیے کہ تم نے دنیا میں شکست سے دوچار ہونا ہے اور آخرت میں تمہارے لیے دردناک عذاب ہوگا۔
محمد بن اسحاق نے زہری وغیرہ سے نقل کیا ہے۔ ان لوگوں نے کہا کہ جب قریش کو بدر میں شکست ہوئی اور ان کا یہ شکست خوردہ لشکر مکہ پہنچا اور ابو سفیان قافلے کو لے کر وہاں پہنچا تو عبداللہ بن ربیعہ ، عکرمہ ابن ابوجہل ، صفوان ابن امیہ چند دوسرے لوگوں کو لے کر ان لوگوں کے گھروں میں گئے جن کے آباء اور اولاد اور بھائی اس جنگ میں قتل ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے ابو سفیان ابن حرب اور ان تمام لوگوں سے بات چیت کی جن کے اموال اس قافلے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ اے اہل قریش ، محمد نے تم سے خوب بدلہ لیا اور اس میں حد سے بڑھ گئے۔ اور تمہارے بہترین لوگوں کو قتل کیا۔ لہذا تم قافلہ تجارت کے اموال چندے میں دے دو تاکہ ہم بدر کا بدلہ لے سکیں۔ انہوں نے یہ تجویز قبول کرلی۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ انہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ ۔ یہ جو بدر میں ہوا یا بدر کے بعد ہوا یہ دین کے دشمنوں کا معمولی حربہ ہے۔ یہ لوگ اپنے اموال اور اپنی قوتوں کو دین کی بیخ کنی کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ دین کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور یہ لوگ ہر جگہ اور ہر دور میں اسلام کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ معرکہ ختم نہیں ہوا ہے ، دین کے دشمن کسی بھی وقت آرام سے نہیں بیٹھے اور انہوں نے کبھی ایک لمحہ بھر کے لیے بھی ، حامیان دین کو آرام سے بیٹھنے نہیں دیا۔ اس لیے کہ اس دین کی واحد راہ ہی یہی ہے کہ وہ متحرک رہے اور جاہلیت پر ہجوم کرے۔ اہل دین کی صفت اور نصب العین ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ ہر وقت متحرک رہیں اور اہل جاہلیت کی کمر توڑ کر رکھ دیں۔ اللہ کے جھنڈے کو اس قدر بلند اور غالب کردیں کہ کسی دشمن دین کو اس کی طرف دیکھنے کی جرات نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خبردار فرماتے ہیں جو اپنے مال دین کی راہ روکنے میں صرف کرتے ہیں ان کا یہ فعل ان کے لیے حیرت کا باعث ہوگا۔ یہ تمام نفقات جلد ہی اکارت جائیں گے اور اہل حق اسی دنیا میں غالب و فتح یاب ہوں گے اور آخرت میں تو یہ لوگ جہنم کی طرف رواں دواں ہوں گے اور یہ ان کے لیے عظیم حیرت ہوگی۔
الأنفال 8:37
یہ عمل کس طرح جاری ہوگا ، یہ مال جو خرچ کیا جا رہا ہے یہ باطل کی قوتوں کو مجتمع کرتا ہے اور ان کو حق پر دست درازی کے لیے آمادہ کرتا ہے۔ اور حق اس کا مقابلہ کرتا ہے اور سعی و جہد کا میدان گرم ہوتا ہے۔ حق ایک تحریک کی شکل میں آگے بڑھتا ہے اور باطل کا سر پھوڑ دیتا ہے اس کشمکش اور کڑوے عمل میں ہی حق و باطل کا امتیاز ہوجاتا ہے۔ اہل حق اور اہل باطل متمیز ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ جو لوگ اسلامی صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں ، ان کے درمیان سے بھی کمزور لوگ چھٹ جاتے ہیں اور وہی لوگ رہ جاتے ہیں جو ثابت قدم ، صابر اور بہادر اور اللہ کی نصرت کے مستحق ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ ایسے ہی لوگ اس عظیم امانت کے اٹھانے کے قابل ہوتے ہیں۔ وہ کسی فتنے اور کسی بھی مشکل کی وجہ سے اپنے موقف سے نہیں ہٹتے۔ اسی عمل سے خباثت کے پلندوں کو جمع کرکے جہنم رسید کیا جاسکتا ہے اور یہی صورت اہل باطن کے خسران کا سبب بنتی ہے۔
قرآن کریم نے یہاں خباثت کو مجسم شکل میں پیش کیا ہے گویا اس کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں اور اسے جہنم میں لے جا کر ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے سوا اس کے ختم کرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے۔
فَيَرْكُمَهٗ جَمِيْعًا فَيَجْعَلَهٗ فِيْ جَهَنَّمَ ۔ اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے۔ پھر اس پلندے کو جہنم میں جھونک دے۔ کسی مفہوم کو اس طرح مجسم شکل میں پیش کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ و احساس و شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ قرآن کریم کا ایک منفرد اسلوب ہے۔
الأنفال 8:38
اب بات فیصلہ کن نکتے تک آپہنچتی ہے اور اہل کفر کا انجام طے کردیا جاتا ہے ، اور گندگی کے ڈھیر کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ متعین کردیا جاتا ہے۔ اب بات کا رخ حضور اکرم ﷺ کی طرف پھرتا ہے کہ اہل کفر کو آخری تنبیہ کردو ، اور اہل ایمان کو بھی حکم دے دیا جاتا ہے کہ تمہارے لیے جو راہ اور طریقہ کار متعین کردیا گیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھو۔ جہاد و قتال ہی اسلام کا واحد راستہ ہے۔ اور یہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کرہ ارض سے ہر قسم کا فتنہ و فساد ختم نہیں ہوجاتا ، اور دین خالص غالب نہیں ہوجاتا۔ اور تحریک اسلامی مطمئن اور مامون نہیں ہوجاتی۔ اسی صورت میں اللہ تحریک کا حامی و ناصر ہوگا اور لوگوں میں سے کوئی بھی بذریعہ جنگ یا بذریعہ سازش تحریک کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
لہذا تمہارے لیے اب بھی موقع ہے کہ تم اپنے آپ کو اس انجام بد سے بچا لو ، اور اسلام کے خلاف اکٹھ نہ کرو اور اس میں اپنے اموال تجارت کو جھونکنے سے بچا لو ، توبہ کا دروازہ اب بھی تمہارے سامنے ہے اور کھلا ہے۔ اللہ کی راہ کی طرف واپس آجاؤ۔ اللہ تمہاری تمام کو تاہیاں معاف کردے گا۔ اور اگر اس تنبیہ کے بعد پھر یہ لوگ وہی رویہ اختیار کریں تو سنت الہیہ لازما اپنی راہ لے گی۔ وہی ان کا انجام ہوگا جو اس راہ پر چلنے والوں کا زمانہ قدیم سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے دوستوں کو غلبہ اور اقتدار اعلی نصیب ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اب اے اہل کفر تم ایک فیصلہ کن دو را ہے پر کھڑے ہو۔ یہ فیصلے کی گھڑی ہے۔
اب (اگلی آیت میں) اہل کفر کے ساتھ ہم کلامی ختم کرکے اہل ایمان کو اسلامی انقلاب کا طریقہ کار بتلایا جاتا ہے
الأنفال 8:39
تفسیر آیات 39 ۔ 40 ۔ یہ ہیں اسلامی جہاد کے حدود وقیود۔ یہ ہر جگہ اور ہر دور کے لیے ہیں۔ یہ احکام حضور کے زمانے کے ساتھ مخصوص نہ تھے۔ اس سورة میں میں جہاد کے متعلق جو احکام آئے ہیں وہ اپنی آخری صورت میں نہیں آئے۔ اسلام کا قانون جنگ سورة توبہ میں مکمل ہوا ہے جو 9 ہجری میں نازل ہوئی۔ جیسا کہ ہم نے اس سورة کے آغاز میں کہا ہے کہ اسلام ایک مثبت تحریک ہے اور وہ پوری انسانیت کے مقابلے میں وہی وسائل اختیار کرتی ہے جو اس وقت کے حالت کے مطابق مناسب ہوں پھ ریہ تحریک ایک مرحلہ وار تحریک ہے اور ہر مرحلے کے لیے اس کے مخصوص احکام ہیں اور ہر مرحلے کے واضح اہداف و تقاضے ہیں۔
ان تمام باتوں کے باوجود یہ بات فیصلہ کن ہے کہ یہ حکم وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ” ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے “ یہ تحریک اسلامی کے لیے دائمی حکم ہے اور جاہلیت کے مقابلے کے لیے ایک مستقل پالیسی ہے۔
اس سورة کے آغاز میں ، اس کے تعارف کے دوران ہم نے کہا تھا کہ دنیا میں اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ انسان کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نجات دلائے اور اس طرح کہ کوئی اپنے جیسے بندوں کی غلامی نہ کرے ، اسی طرح کوئی شخص اپنی خواہشات نفسانیہ کی غلامی بھی نہ کرے اور یہ مقصد صرف اس صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اس کرہ ارض پر صرف اللہ وحدہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ قائم کیا جائے اور صرف اللہ ہی اس کرہ ارض پر تمام انسانوں کے حاکم اور رب ہوں۔ یہ اعلان در اصل تمام انسانوں کی مروجہ حاکمیتوں اور اقتداروں کے خلاف اعلان بغاوت ہوتا ہے اور ان تمام صورتوں کے خلاف عملی جنگ ہوتی ہے جن میں کسی بھی شکل میں انسان کو حکومت انسان پر چل رہی ہو۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے اس پارے کے صفحات ۔۔ )
لہذا اس عظیم نصب العین کے حصول کے لیے دو باتوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس دین پر اعتقاد رکھنے والے لوگ فتنہ و فساد سے مامون اور محفوظ ہوں۔ وہ اس پوزیشن میں ہوں کہ اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی کا اعلان کرسکتے ہوں اور صرف اللہ وحدہ کی غلامی کا اعلان کرسکتے ہوں۔ ان پر انسانوں میں سے کسی کا اقتدار اعلی نہ ہو۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ایک ایسا گروہ موجود نہ ہو اور جس کی اپنی قیادت نہ ہو اور جو اس نظریہ کو کسی خطہ ارض پر عملاً نافذ نہ کر رہی ہو ، اور اس خطے کے وہ عملاً ہر طاغوت کے مقابلے میں صف آرا نہ ہو رہی ہو۔ اور وہ ایسی قوتوں کا سدباب نہ کرے جو ایسی جماعت کو دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے سے روکتی ہو ، یا ایسے لوگوں پر تشدد کرتی ہو۔
دوسری شرط یہ ہے کہ دنیا میں ایسی کوئی قوت نہ ہو اور اگر ہو تو اسے پاش پاش کردیا جائے جو مقصد اولیٰ کی راہ میں سد راہ ہو۔ یعنی ایسی تمام قوتوں کو ختم کردیا جائے جو اس کرہ ارض پر حکومت الہیہ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔ غرض اس کرہ ارض پر الہ کا اقتدار اعلی پوری طرح قائم کردیا جائے۔
یہاں یہ ضروری ہے کہ ایک اہم سوال کا جواب دے دیا جائے۔ وہ یہ کہ قرآن کریم میں اللہ کا حکم ہے۔ لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ راہ ہدایت ، گمراہی سے ممتاز ہوچکا ہے۔
اس کے باوجود کہ اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں ہم بحث کر آئے ہیں۔ خصوصا استاذ مولانا سید ابو الاعلی مودودی محترم کی کتاب الجہاد فی الاسلام سے ہم نے جو طویل اقتباس دیا تھا ، اس کے بعد اس موضوع پر کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہاں ہم چاہتے ہیں کہ اس مضمون کی قدرے مزید وضاحت کردی جائے اس لیے اس نکتے پر اسلام کے مکار دشمن ہر طرف سے پروپیگنڈہ کرکے شبہات پھیلاتے ہیں۔
اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ " دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے ، اس سے مراد یہ ہے کہ دین کے مقابلے میں ایسی مادی رکاوٹیں نہ رہیں جو اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کریں۔ اور یہ مادی رکاوٹیں در اصل ان نظاموں کی شکل میں ہوتی ہیں جو طاغوتی نظام ہوتے ہیں اور ان کے حالات ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان جبر کے شکنجوں میں کسے ہوتے ہیں۔ لہذا اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا نظام نہ ہو جس میں ماسوی اللہ کا اقتدار اعلی نافذ ہو اور نہ ایسا نظام ہو جس میں لوگ اللہ کے سوا کسی اور کے مطیع فرمان ہوں۔ جب اس قسم کی تمام رکاوٹیں انسان کی راہ سے دور کردی جائیں تو پھر انسان آزاد ہوں گے۔ ان پر کوئی بھی عقیدہ اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ یعنی ایسی صورت باقی نہ ہوگی کہ اسلام کے نظریہ حیات کے مخالف کسی نظریہ کی پشت پر مادی قوت ہو جو عوام کو متاثر کر رہی ہو اور جو لوگ اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرنا بھی چاہیں تو ڈر سے ایسا نہ کرسکتے ہوں جو لوگ اختیار کرچکے ہوں ان کے لیے کسی فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو۔ اس طرح انسان تمام طاغوتی فتنوں سے عملاً آزاد ہوگا اس لیے کہ لوگ عقیدہ و نظریہ اختیار کرنے میں آزاد ہوں گے اور ان پر رب العالمین کے اقتدار اعلی کے سوا کوئی اور اقتدار نہ ہوگا۔
یاد رہے کہ انسانیت اس وقت تک شرف و عزت کے مقام پر فائز نہیں ہوسکتی جب تک وہ ماسوا اللہ کے کسی اور اقتدار سے آزاد نہ ہو۔ صرف اسی صورت میں یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے کہ دین صرف اللہ کا ہو اور مسلمانوں کے لیے کوئی فتنہ نہ ہو۔
الأنفال 8:40
تفسیر آیات 39 ۔ 40 ۔ یہ ہیں اسلامی جہاد کے حدود وقیود۔ یہ ہر جگہ اور ہر دور کے لیے ہیں۔ یہ احکام حضور کے زمانے کے ساتھ مخصوص نہ تھے۔ اس سورة میں میں جہاد کے متعلق جو احکام آئے ہیں وہ اپنی آخری صورت میں نہیں آئے۔ اسلام کا قانون جنگ سورة توبہ میں مکمل ہوا ہے جو 9 ہجری میں نازل ہوئی۔ جیسا کہ ہم نے اس سورة کے آغاز میں کہا ہے کہ اسلام ایک مثبت تحریک ہے اور وہ پوری انسانیت کے مقابلے میں وہی وسائل اختیار کرتی ہے جو اس وقت کے حالت کے مطابق مناسب ہوں پھ ریہ تحریک ایک مرحلہ وار تحریک ہے اور ہر مرحلے کے لیے اس کے مخصوص احکام ہیں اور ہر مرحلے کے واضح اہداف و تقاضے ہیں۔
ان تمام باتوں کے باوجود یہ بات فیصلہ کن ہے کہ یہ حکم وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ” ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے “ یہ تحریک اسلامی کے لیے دائمی حکم ہے اور جاہلیت کے مقابلے کے لیے ایک مستقل پالیسی ہے۔
اس سورة کے آغاز میں ، اس کے تعارف کے دوران ہم نے کہا تھا کہ دنیا میں اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ انسان کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے نجات دلائے اور اس طرح کہ کوئی اپنے جیسے بندوں کی غلامی نہ کرے ، اسی طرح کوئی شخص اپنی خواہشات نفسانیہ کی غلامی بھی نہ کرے اور یہ مقصد صرف اس صورت میں حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اس کرہ ارض پر صرف اللہ وحدہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ قائم کیا جائے اور صرف اللہ ہی اس کرہ ارض پر تمام انسانوں کے حاکم اور رب ہوں۔ یہ اعلان در اصل تمام انسانوں کی مروجہ حاکمیتوں اور اقتداروں کے خلاف اعلان بغاوت ہوتا ہے اور ان تمام صورتوں کے خلاف عملی جنگ ہوتی ہے جن میں کسی بھی شکل میں انسان کو حکومت انسان پر چل رہی ہو۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے اس پارے کے صفحات ۔۔ )
لہذا اس عظیم نصب العین کے حصول کے لیے دو باتوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس دین پر اعتقاد رکھنے والے لوگ فتنہ و فساد سے مامون اور محفوظ ہوں۔ وہ اس پوزیشن میں ہوں کہ اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی کا اعلان کرسکتے ہوں اور صرف اللہ وحدہ کی غلامی کا اعلان کرسکتے ہوں۔ ان پر انسانوں میں سے کسی کا اقتدار اعلی نہ ہو۔ یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک ایک ایسا گروہ موجود نہ ہو اور جس کی اپنی قیادت نہ ہو اور جو اس نظریہ کو کسی خطہ ارض پر عملاً نافذ نہ کر رہی ہو ، اور اس خطے کے وہ عملاً ہر طاغوت کے مقابلے میں صف آرا نہ ہو رہی ہو۔ اور وہ ایسی قوتوں کا سدباب نہ کرے جو ایسی جماعت کو دین اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے سے روکتی ہو ، یا ایسے لوگوں پر تشدد کرتی ہو۔
دوسری شرط یہ ہے کہ دنیا میں ایسی کوئی قوت نہ ہو اور اگر ہو تو اسے پاش پاش کردیا جائے جو مقصد اولیٰ کی راہ میں سد راہ ہو۔ یعنی ایسی تمام قوتوں کو ختم کردیا جائے جو اس کرہ ارض پر حکومت الہیہ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہوں۔ غرض اس کرہ ارض پر الہ کا اقتدار اعلی پوری طرح قائم کردیا جائے۔
یہاں یہ ضروری ہے کہ ایک اہم سوال کا جواب دے دیا جائے۔ وہ یہ کہ قرآن کریم میں اللہ کا حکم ہے۔ لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی۔ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ راہ ہدایت ، گمراہی سے ممتاز ہوچکا ہے۔
اس کے باوجود کہ اسلام کے نظریہ جہاد کے بارے میں ہم بحث کر آئے ہیں۔ خصوصا استاذ مولانا سید ابو الاعلی مودودی محترم کی کتاب الجہاد فی الاسلام سے ہم نے جو طویل اقتباس دیا تھا ، اس کے بعد اس موضوع پر کسی تفصیل کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہاں ہم چاہتے ہیں کہ اس مضمون کی قدرے مزید وضاحت کردی جائے اس لیے اس نکتے پر اسلام کے مکار دشمن ہر طرف سے پروپیگنڈہ کرکے شبہات پھیلاتے ہیں۔
اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ " دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے ، اس سے مراد یہ ہے کہ دین کے مقابلے میں ایسی مادی رکاوٹیں نہ رہیں جو اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کریں۔ اور یہ مادی رکاوٹیں در اصل ان نظاموں کی شکل میں ہوتی ہیں جو طاغوتی نظام ہوتے ہیں اور ان کے حالات ایسے ہوتے ہیں جن میں انسان جبر کے شکنجوں میں کسے ہوتے ہیں۔ لہذا اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا میں کوئی ایسا نظام نہ ہو جس میں ماسوی اللہ کا اقتدار اعلی نافذ ہو اور نہ ایسا نظام ہو جس میں لوگ اللہ کے سوا کسی اور کے مطیع فرمان ہوں۔ جب اس قسم کی تمام رکاوٹیں انسان کی راہ سے دور کردی جائیں تو پھر انسان آزاد ہوں گے۔ ان پر کوئی بھی عقیدہ اختیار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔ یعنی ایسی صورت باقی نہ ہوگی کہ اسلام کے نظریہ حیات کے مخالف کسی نظریہ کی پشت پر مادی قوت ہو جو عوام کو متاثر کر رہی ہو اور جو لوگ اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرنا بھی چاہیں تو ڈر سے ایسا نہ کرسکتے ہوں جو لوگ اختیار کرچکے ہوں ان کے لیے کسی فتنہ و فساد کا اندیشہ نہ ہو۔ اس طرح انسان تمام طاغوتی فتنوں سے عملاً آزاد ہوگا اس لیے کہ لوگ عقیدہ و نظریہ اختیار کرنے میں آزاد ہوں گے اور ان پر رب العالمین کے اقتدار اعلی کے سوا کوئی اور اقتدار نہ ہوگا۔
یاد رہے کہ انسانیت اس وقت تک شرف و عزت کے مقام پر فائز نہیں ہوسکتی جب تک وہ ماسوا اللہ کے کسی اور اقتدار سے آزاد نہ ہو۔ صرف اسی صورت میں یہ مقصد حاصل ہوسکتا ہے کہ دین صرف اللہ کا ہو اور مسلمانوں کے لیے کوئی فتنہ نہ ہو۔
الأنفال 8:41
پارہ نمبر 10 ایک نظر میں
اس پارے میں سورت انفال کا باقی حصہ ہے ، جس کا ابتدائی حصہ نویں پارے میں گزر گیا ہے۔ اس کے بقیہ حصے میں سورت توبہ کا بیشتر حصہ ہے۔ یہاں ہم سورت انفال کے زیر بحث حصے کا تعارف کرائیں گے اور سورت توبہ کا تعارف آگاز سورت توبہ میں حسب دستور آئے گا۔ انشاء اللہ !
نویں پارے کے آخر میں ہم نے سورت انفال کے تعارف میں اس سورت کے مباحث کے اہم خطوط کو واضح کردیا۔ اس سورت کے حصہ زیر بحث کے خدو خال وہی ہیں جو کے پہلے حصے کے تھے۔ لیکن چونکہ موضوعات بحث مختلف ہیں ، اس لیے ان میں تکرار بالکل محسوس نہیں ہوتا۔ موضوعات کی ترتیب ایسی ہے کہ نظر آتا ہے کہ اس کا پہلا حصہ اس کا پہلا دور تھا اور یہ حصہ دوسرا دور ہے۔ کیونکہ مباحث و موضوعات کے اندر بےحد ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
پہلے حصے کا آغاز یوں ہوا تھا کہ لوگ انفال کے بارے میں سولاات کرتے ہیں اور اس کے بارے میں مسلمانوں کے مابین تنازع کا ذکر ہوا اور اس کے نتیجے میں انفال کی ملکیت اور اختیار تقسیم رسول اللہ کی طرف لوٹا دیا گیا۔ اور لوگو سے کہا گیا کہ ذرا خدا کا خوف کرو اور بتایا گیا کہ حقیقی ایمان کیا ہوتا ہے ؟ اور انہیں دعوت دی گئی کہ اس حقیقی ایمان کی سطح تک بلند ہوجاؤ۔ اس کے بعد انہیں بتایا گیا کہ بدر کے تمام واقعات اللہ کی تقدیر و تدبیر کا مظاہرہ تھا ، سب اسکیم اللہ کی تھی ، امداد سب کی سب اللہ کی طرف سے تھی۔ تمام معرکہ اس لیے درپیش ہوا کہ اللہ کا ارادہ ظاہر ہو ، جہاں تک لوگوں کا تعلق ہے ، وہ محض کردار تھے۔ اور اللہ کی تقدیر کے آلات تھے۔ اس معرکے کی حققت کے انکشاف کے بعد ان کو پکارا گیا کہ جنگ کے وقت ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کرو اور انہیں اطمینان دلایا کہ اللہ تمہاری نصرت اور معاونت کرے گا۔ اور تمہارے دشمنوں کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا دے گا۔ اس کے بعد انہیں اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ خیانت کرنے سے ڈرایا گیا۔ فتنہ مال اور فتنہ اولاد کے بارے میں خبردار کیا گیا اور حضور ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ کفار کو اس انجام سے خبر دار کردیں جس سے وہ دو چار ہونے والے ہیں۔ اور اگر وہ توبہ کرکے بظاہر دعوت کو قبول کرتے ہیں تو ان کے اقرار کو مان لیا جائے اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا جائے اور اگر وہ مان کر نہ دیں تو پھر ان سے اس وقت تک لڑآ جائے جب تک دنیا فتنے سے پاک نہیں ہوجاتی اور نظام زندگی صرف اسلامی نہیں ہوجاتا۔
یہ تو تھا خلاصہ پہلے حصے کا ، اب ذرا دیکھئے کہ اس دوسرے حصے میں بھی بات کا آغاز غنائم ہی سے ہوتا ہے اور پھر انہیں ایمان باللہ کی طرف دعوت دی جاتی ہے اور اس کلام پر ایمان لانے کی دعوت دی جاتی ہے جو اس دن نازل ہوا جس دن دو گروہوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ جن حالات میں یہ غنائم تمہارے ہاتھ لگے اس کے لیے اللہ کی تقدیر نے منصوبہ بندی کی تھی اور اس معرکے کے مواقف اور مشاہدات کے کچھ دوسرے پہلو پیش کیے جاتے ہیں جن سے اس تقدیر و تدبیر کی فعالیت نمایاں نظر آتی ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان در اصل دست قدرت کا پردہ تھے اور بطور آلات کام کرتے تھے۔ اس کے بعد ان کو پکارا جاتا ہے کہ تم کو جب کفار کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑے تو میدان جنگ میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا کرو کیونکہ واقعات کی حقیقت تو تم جان چکے ہو ، اللہ کو ہر وقت یاد رکھو اور اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، اور ہر قسم کے تنازعات سے بچو ، کیونکہ تنازعات کی صورت میں تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تم کمزور ہوجاؤ گے۔ پھر ان کو صبر کی تلقین کی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ جہاد میں کبر و غرور اور خود نمائی سے بچو۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کی طرح رویہ نہ اختیار کرو جو گھروں سے گھمنڈ میں نکلے ، طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، حالانکہ ان کے اس فعل کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے تھے۔ اور یہ لوگ شیطان کی مکاری کے جال میں پھنس گئے تھے۔ پھر ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ صرف اللہ پر بھروسہ کریں ، جو قادر ، حکیم اور مدبر ہے اور تمام کام اس کے حکم سے سر انجام پاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو بتایا جاتا ہے کہ وہ کافرین ہیں اور مکذبین کو کس طرح پکڑتا ہے اور یہ پکڑ ان کے اعمال کی وجہ سے ہوتی ہے۔ حصہ اول میں بتایا گیا تھا کہ فرشتے کس طرح میدان جنگ میں اترے تھے اور کس طرح کفار کی گردنیں اڑا رہے تھے اور ان کو آگے اور پیچھے سے مار رہے تھے ، تو اس دوسرے حصے میں یہ کہا گیا کہ جب فرشتے کفار کی روح قبض کرتے ہیں ، ان کو خوب مارتے ہیں اور حصہ اول میں کہا گیا کہ وہ برے حیوان ہیں اسی طرح اس حصے میں بتایا گیا کہ یہ لوگ عہد کی پابندی نہیں کرتے اور اس موقعہ پر ان کی صفت حیوانیت کا ذکر کیا جاتا ہے۔ اس حصے میں نبی ﷺ کو بعض احکام بابت قانون بین الاقوام دیے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض قوانین حتمی ہیں اور بعض عبوری ہیں۔ اور بعض کی تفصیلات بعد میں سورت توبہ میں آئیں گی۔
یہاں تک تو یہ دوسرا حصہ پہلے حصے کے مماثل ہے۔ یہاں تک کہ موضوعات اور واقعات کی بھی ایک ہی جیسی ترتیب ہے۔ ہاں بعض موضوعات پر ایک جگہ کلام مجمل ہے اور دوسری جگہ مفصل ہے۔ مثلاً اسلامی کیمپ اور غیر اسلامی کیمپوں کے بارے میں بعض احکامات اور معاملات کو مفصل لایا گیا ہے۔
سورت کے آخر میں بعض متفرق موضوعات اور احکامات بھی دیے گئے ہیں جو انہی موضوعات کا تکملہ بحث ہیں جو ان دونوں حصوں میں آگئے ہیں۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نبی ﷺ اور اہل ایمان پر اپنا یہ احسان واضح کرتے ہیں کہ اس نے تمہارے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا ہے۔ حالانکہ فطرتاً یہ لوگ سرکش تھے اور اگر اللہ کا فضل و کرم نہ ہوتا تو ان کے درمیان یہ تالیف قلب پیدا کرنا کارے دارد۔
اللہ اہل ایمان کو یہ اطمینان بھی دلاتا ہے کہ وہ ان کے لیے کافی ہے۔ اور وہ ان کا حامی و مددگار ہے۔ اس لیے رسول اللہ کے واسطہ سے ان کو کم دیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو قتال پر ابھارو۔ اور انہیں یہ یقین دلایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ایمان کی وجہ سے اپنے سے کئی گنا کفار پر غالب ہوں گے۔ اس لیے کہ کفار نافہم قوم ہوتے ہیں اور نافہم اس لیے ہوتے ہیں کہ یہ ایمان نہیں لاتے اور سمجھداری ایمان کے بغیر آ ہی نہیں سکتی بشرطیکہ تم لوگ صبر کرو اور اللہ بھی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
اس کے بعد قیدیوں کے فدیے کے مسائل و احکام ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اے نبی ابھی تم نے کفار کو روند نہیں ڈالا اور نہ ہی ان کی قوت اور شوکت کو توڑا ہے ، لیکن تم نے فدیہ قبول کرلیا ہے ، یہ اچھا نہیں کیا ہے۔ کیونکہ تمہاری قوت اور سلطنت ابھی مضبوط نہیں ہوئی ہے۔ لہذا یہاں بتایا جاتا ہے کہ مختلف حالات میں مختلف منہاج اختیار کیا جاتا ہے ، لہذا تحریک اسلامی کی پالیسی کے اندر لچک رکھی گئی ہے تاکہ مختلف حالات میں مختلف پالیسیاں اختیار کی جاسکیں۔ یہاں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ قیدیوں کے ساتھ کیا سلوک کریں ؟ کس طرح انہیں ایمان کی طرف مائل کریں اور ان کے دلوں میں ایمان کو مزین کریں۔ اگر یہ قیدی پھر خیانت کریں گے تو جس طرح اللہ نے پہلے انہیں شکست دی اسی طرح دوبارہ بھی شکست دے گا۔ اور وہ رسول اللہ کے سامنے ذلیل ہوں گے۔
آخر میں وہ اصول ذکر ہوتے ہیں جن کے اوپر جماعت مسلمہ کے افراد نے باہم تعلقات کو استوار رکھنا ہے۔ نیز ان لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھنے میں جو دار الاسلام کو تو نہیں آے لیکن اسلام قبول کرلیتے ہیں۔ پھر کفار کے ساتھ تعلقات کے احکام ، ان تمام احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا اجتماعی نظام کیا نوعیت رکھتا ہے ؟ اور اسلامی نظام کی پالیسی کیا ہے ؟ ان احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی نظام ایک متحرک نظام ہے۔ اور یہ اسلامی نظام کا بنیادی اصول ہے کہ وہ متحرک رہے گا۔ اور اس کی اس حرکت سے ہی اس کے داخلی اور خارجی احکام وضع ہوتے رہیں گے۔ اس لیے اسلامی نظام میں اسلامی نظریات کو تحریکیت اور عملی وجود سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اسلامی معاشرے کا ہر دور اور ہر قسم کے حالات میں ایک عملی وجود ضروری ہے۔
اس مختصر تمہید میں اس قدر تبصرہ کافی ہے ، لہذا اب ہم آیات کی تفصیلات کو لیتے ہیں۔
درس نمبر 85 ایک نظر میں
اس سبق کے آغاز اور سابق سبق کے خاتمے کے درمیان سلسلہ کلام مسلسل اور مربوط ہے۔ نویں پارے کے آخر میں قتال کا حکم دیا گیا تھا۔ اور اس سبق میں احکام قتال کا بیان جاری ہے۔ سابق پارے کے آخر میں خاتمہ کلام یہ تھا۔
قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ يَّنْتَهُوْا يُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ ۚ وَاِنْ يَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّةُ الْاَوَّلِيْنَ ۔ وَقَاتِلُوْهُمْ حَتّٰي لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّيَكُوْنَ الدِّيْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ ۚ فَاِنِ انْتَهَـوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ ۭنِعْمَ الْمَوْلٰى وَنِعْمَ النَّصِيْرُ ۔ اے نبی ! ان کافروں سے کہو کہ اگر اب بھی باز آجائیں تو جو کچھ پہلے ہوچکا ہے اس سے درگزر کرلیا جائے گا۔ لیکن اگر یہ اسی پچھلی روش کا اعادہ کریں گے تو گزشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہوچکا ہے ، وہ سب کو معلوم ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پورا اللہ کے لیے ہوجائے۔ پھر اگر وہ فتنہ سے رک جائیں تو ان کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے۔ اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سر پرست ہے اور وہ بہترین حامی و مددگار ہے۔
اس حقیقت کے باوجود کہ اس نص صریح کے ذریعے جہاد کے مقاصد کو متعین کردیا گیا کہ یہ جہاد و قتال اللہ کے لیے۔ یہ دعوت اسلامی کے مقاصد کے لیے ہے۔ اور اسلامی نظام حیات قیام کے لیے ہے۔ اور اس کے باوجود کہ انفال کی ملکیت کے بارے میں سورت کے آغاز ہی میں ایک دو ٹوک فیصلہ کردیا گیا کہ یہ اللہ اور رسول اللہ کی ملکیت ہیں۔ اور مجاہدین کو ان کے بارے میں دلچسپی لینے سے پاک کردیا گیا تاکہ ان کے اندر خلص نیت پیدا ہو اور ان کی تمام حرکات و سکنات اللہ کے لیے ہوجائیں ، لیکن ان سب امور کے باوجود اسلامی نظام حیات کے ان اموال کے بارے میں منظم اور حققت پسندانہ احکام بھی عطا کرتا ہے ، کیونکہ اموال غنیمت موجود ہیں اور مستحق مجاہدین بھی موجود ہیں اور یہ مجاہدین اپنے اموال اور اپنی جانوں کو اللہ کی راہ میں کھپا رہے ہیں۔ وہ رضاکارانہ طور پر جہاد میں شریک ہیں اور اپنے اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں اور دوسرے رضا کار مجاہدین میں سے جو لوگ نادار ہیں ان کے اخراجات بھی وہ خود برداشت کرتے ہیں۔ پھر یہ لوگ اس معرکے میں اموال غنیمت پر قبضہ کرتے ہیں۔ اور اپنے صبر و ثبات اور سعی و جہاد کی وجہ سے یہ اموال حاصل کرپاتے ہیں اور ان کے دلوں کو اللہ نے ان اموال غنیمت کے بارے میں ہر قسم کی حرص و آز سے پاک بھی کردیا ہے کہ ان کی ملکیت اللہ رسول اللہ کی طرف منتقل کردی ہے۔ لہذا اب اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ ان اموال میں سے ایسے لوگوں کو بھی حصہ دیا جائے جبکہ وہ سمجھتے ہوں کہ یہ اللہ اور رسول اللہ کی طرف سے خالص عطیہ ہے۔ اور یہ محض اس لیے دیا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کی حققی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ ان کے جذبات انسانی کی تسکین بھی ہو اور اس میں کوئی انفرادی یا اجتماعی چھینا جھپٹی بھی نہ ہو۔ کوئی تنازعہ نہ ہو کیونکہ سورت کے آغاز میں حکم دے دیا گیا ہے کہ اصل مالک اللہ و رسول اللہ ہیں۔
یہ اسلامی نظام حیات ہے اور یہ انسانوں کے مزاج کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اس لیے وہ اس متوازن اور جامع انداز میں اس کے ساتھ معاملہ کرتا ہے۔ اس سے انسان کے جذبات کی تسکین بھی ہوتی ہے اور اس کی حقیقی حاجات بھی پوری ہوتی ہیں۔ اور اس کے ساتھ معاشرے کے افراد کے دل بھی ایک دوسرے سے صاف رہیں۔ اجتماعی عدل کے تقاضے بھی پورے ہوں اور اموال غنیمت باعث شر نہ ہوں ، بلکہ باعث رحمت ہوں۔
درس نمبر 85 تشریح آیات 41 تا 54 ۔
تفسیر آیت نمبر 41:
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ۔
اور ت میں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو فیصلے کے روز ، یعنی دونوں فوجوں کی مڈ بھیڑ کے دن ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی ، (تو یہ حصہ بخوشی ادا کرو) اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اس آیت کے بارے میں جو روایات آئی ہیں ان میں طویل فقہی اختلافات مذکور ہیں۔ پہلا اختلاف غنائم کے مفہوم و مدلول کے بارے میں ہے۔ پھر انفال کے مدلول و مفہوم کے بارے میں ہے کہ آیا یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں یا دو مختلف چیزیں ہیں۔ دوسرے یہ کہ پھر چار حصے مجاہدین میں تقسیم کرنے کے بعد پانچویں حصے کے بارے میں بھی اختلافات ہیں کہ یہ حصہ کیسے تقسیم ہوگا۔ تیسرے یہ کہ پانچویں کے پانچویں حصے کے بارے میں جو اللہ کے لیے ہے کہ آیا یہ مستقل خمس ہے یا وہی ہے جو رسول اللہ کے لیے ہے۔ چوتھے یہ کہ آیا رسول اللہ کا حصہ خاص آپ کی ذات کے لیے ہے یا آپ کے بعد دوسرے ائمہ کو بھی یہ حق حاصل ہوگا۔ پانچویں یہ کہ قرابت داروں کا جو حصہ ہے کیا وہ اب بھی رسول اللہ کے قرابت داروں کے لیے باقی ہے یعنی بنوہاشم اور بنی عبدالمطلب کے لیے جیسے کہ آپ کے دور میں تھا یا اب یہ ختم ہے۔ اور اس کا تصر بھی رسول اللہ اور آپ کے بعد خلفاء کو حاصل ہے۔ اور اسی قسم کے دوسرے فروعی اختلافات ہیں۔
فی ظلال القرآن میں ہم نے جو طریقہ اختیار کیا ہے ، اس کے مطاباق ہم ان فروعی فقہی اختلافات میں نہیں جاتے ، کیونکہ مناسب یہی ہے کہ یہ فقہی اختلافات ان کتابوں میں پڑھے جائیں جو مخصوص طور پر ان موضوعات پر لکھی گئی ہیں۔ یہ تو تھی ایک عمومی بات۔ لیکن اموال غنیمت کے بارے میں خصوصاً اب جو صورت حالات موجودہ وہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں ہمارے سامنے کوئی واقعی اور عملی مسئلہ موجود نہیں ہے۔ جو حل طلب ہو ، نہ کوئی عملی مسئلہ موجود ہے ، نہ کوئی اسلامی مملکت موجود ہے ، نہ کوئی ایسی جماعت موجود ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کر رہی ہو اور ان کے ہاتھ کچھ مال غنیمت لگ گیا ہو۔ اور اسے ضرورت پیش آگئی ہو کہ ان کو کس طرح تقسیم کیا جائے۔ زمانہ اس طرح پھر گیا کہ اس دین کی حالت وہ ہوگئی جس طرح یہ پہلے دن دنیا میں اتارا گیا تھا۔ اس وقت لوگمکمل طور پر جاہلیت کی طرف لوٹ گئے تھے۔ وہ اللہ کے ساتھ کئی ارباب کو شریک کر رہے تھے۔ یہ ارباب لوگوں کو قانونی نظام دے رہے تھے۔ اس دین کی حالت بعینہ ابتدائی حالات جیسی ہوگئی ہے اور ہمارا فرض یہ ہے کہ لوگ اس میں نئے سرے سے داخل ہوں۔ وہ نئے سرے سے کلمہ شہادت لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھیں۔ اللہ کو وحدہ لا شریک اور واحد حاکم مطلق سمجھیں۔ صرف رسولا للہ ﷺ کی سنت سے ہدایات حاصل کریں اور ایک ایسی جماعت کی صورت میں زندگی بسر کریں جس کا نصب العین یہ ہو کہ یہ دین از سر نو قائم ہوجائے اور ایسے تمام لوگ اپنی اس جدید جماعت اور قیادت کے پوری طرح وفادار ہوں اور ایسی وفاداری اور اطاعت وہ کسی بھی جاہلی قیادت و شہادت کے ساتھ نہ رکھیں۔
یہ ایک واقعی اور زندہ مسئلہ ہے جو اس دین کو درپیش ہے۔ ابتدائی طور پر اس کے سوا اس دین کو کوئی اور مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ یہاں اموال غنیمت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ اس وقت کسی جگہ بھی جہاد کا عمل جاری نہیں ہے بلکہ کسی بھی جگہ اسلام کو کوئی انتظامی مسئلہ درپیش نہیں ہے نہ داخلی تعلقات میں اور نہ خارجی تعلقات میں اور اس کی وجہ بہت سادی اور سمجھ میں آنے والی ہے۔ وہ یہ کہ اس دنیا میں کسی بھی ملک میں اسلامی معاشرہ موجود نہیں ہے جس کا مستقل وجود ہو اور جس کے اندر باہی تعلقات کے لیے اور دوسرے معاشروں کے ساتھ اس کے روابط کے لیے کچھ احکام و ہدایات کی ضرورت ہو۔
اسلامی نظام حیات ایک عملی نظام ہے۔ اسلامی نظام ایسے مسائل و قضایا سے بحث ہی نہیں کرتا جو عملاً موجود نہ ہوں۔ اس لیے وہ ایسے مسائل سے بحث نہیں کرتا جو عملاً موجود نہ ہوں۔ یہ اس قدر حقیقت پسندانہ ، عملی نظام ہے جو اس قسم کی لاحاصل بحثوں سے اجتناب کرتا ہے۔ محض خیالی باتیں کرنا اس نظام کا طریقہ کار نہیں ہے۔ یہ ان نکمے لوگوں کا کام ہے جو فارغ ہوتے ہیں اور جن کے سامنے کرنے کا کوئی عملی کام نہیں ہوتا۔ اور اپنے خالی اوقات کو وہ محض نظری اور خالص تصوراتی باتوں میں صرف کرتے ہیں۔ ایسے موضوعات جن کا عملی وجود اس دنیا میں نہیں ہوتا ایسے لوگوں کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنی مساعی اور اپنی قوتوں کو اسلامی نظام حیات کے قیام کے کام میں کھپائیں۔ اور ایک اسلامی معاشرہ عملاً وجود میں لائیں۔ اور یہ کام بھی وہ اسلامی نظام کے قیام کے طریقہ کار کے مطابق سر انجام دیں۔ یعنی سب سے پہلے وہ لوگوں کو کلمہ شہادت کی طرف بلائیں۔ لوگ دین اسلام میں از سر نو داخل ہونے کا اعلان کریں۔ جس طرح مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے اس کام کا آغاز ہوا تھا۔ ایک تحریک برپا ہوئی تھی ، اس کی اپنی ایک قیادت تھی ، اور یہ جماعت اپنے ارگرد پھیلے ہوئے جاہلی معاشرے سے کٹ کر آئی تھی۔ پھر اس کے اور اس جاہلی معاشرے کے درمیان کشمکش برپا ہوئی اور اس کے بعد اللہ نے حق کو سر بلندی نصب فرما دی اور ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی۔ تب جا کر ایسے لوگوں کو غنائم اور انفال کے مسائل کی ضرورت ہوگی جب وہ عملاً ان کے سامنے پڑے ہوں گے تاکہ لوگوں کے درمیان معاملات کا تصفیہ اسلامی قانون کے مطابق ہو ، اور جب اسلامی ریاست قائم ہوگی تو پھر اس کے اور دوسری ریاستوں کے درمیان تعلقات کے لیے احکام سامنے آئیں گے۔ اب دور جدید میں اگر کچھ مسائل پدا ہوگئے تو وقت کے مجتہدین ان کے لیے حل تلاش کریں گے ، خواہ یہ مسائل داخلی ہوں یا خارجی۔ صرف اسی وقت اجتہادات کی کوئی قدر و قیمت ہوگی ، کیونکہ یہ ایک حقیقت پسندانہ اور واقعی اجتہاد ہوگا۔
ہم چونکہ اسلامی نظام حیات کے اس عملی پہلو کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ اس لیے ہم یہاں غنائم و انفال کے بارے میں ان فقہی اختلافات میں نہیں پڑتے جو ان کے بارے میں فقہی کتابوں میں موجود ہیں۔ ایک وقت ضرور آئے گا کہ ان کے بارے میں تحقیقات ہوں گی۔ اسلامی معاشرہ موجود ہوگا اور وہ عملاً جہاد پر عمل پیرا ہوگا اور اس میں غنائم و انفال کے احکام ہمارے سامنے آئیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم تحریک اسلامی کے تاریخی عمل کو دیکھتے ہوئے ایمانی اصول کو اپنائی اور اسلام کے منہاج تربیت کو پیش نظر رکھیں۔ اس کتاب کا یہ ایک دائمی خاصہ ہے جو مرور زمانہ سے متاثر نہیں ہوتا۔ دوسرے جو بھی طریق کار اور مسائل ہیں وہ اس کی تشریحات ہیں حکم عام جو اس آیت سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے : وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ " اور تمہیں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے "
خلاصہ حکم یہ ہے کہ غنیمت کی ہر چیز سے چار حصے مجاہدین میں تقسیم ہوں گے اور پانچویں حصے میں رسول اللہ کو اختیار ہوگا کہ جس طرح چاہیں تصرف کریں اور آپ کے بعد ایسے سربراہان مملکت کو یہ اختیار ہوگا جو شریعت پر قائم ہوں اور اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتے ہوں اور وہ اس حصے کو ان مصارف پر خرچ کریں گے۔ اللہ کی راہ میں ، رسول اللہ پر ، رشتہ داروں پر ، یتیموں پر ، مسکینوں پر۔ اس طرح یہ مد موجودہ لوگوں کی حقیقی ضروریات کو پورا کرے گی۔ یہاں بس اس قدر کہنا ہی کافی ہے۔
اس کے بعد کوئی دائمی ہدایت یہ ہے یعنی آیت کا دوسرا حصہ۔
اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ۭوَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ " اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو فیصلے کے روز ، یعنی دونوں فوجوں کی مڈ بھیڑ کے دن ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی (تو یہ حصہ بخوشی ادا کرو) اللہ ہر چیز پر قادر ہے "۔
ایمان کی بعض علامات ہوتی ہیں جو بتاتی ہیں کہ یہ شخص مومن ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے ایمان کے اعتراف کے لیے بھی دلیل یہ دیتا ہے کہ انہوں نھ غنائم و اموال کے بارے میں اللہ کی شریعت کو چونکہ تسلیم کرلیا ہے اس لیے وہ مومن حالانکہ اہل بدر اہل بدر تھے اور وہ مومن اس لیے بن گئے کہ انہوں نے یوم الفرقان میں اللہ کے بندے پر نازل ہونے والے احکام کو تسلیم کیا۔ گویا قانون شریعت کو تسلیم کرنا اللہ کے نزدیک شرط ایمان ٹھہرا اور اطاعت شریعت کو ان کے ایمان کا مقتضا قرار دیا تاکہ معلوم ہو کہ ان کا اعلان ایمان درست ہے۔
غرض ایمان کا مفہوم قرآن کریم میں بہرحال دو ٹوک ہے ، اس میں کوئی لچک نہیں ہے ، نہ اس میں تاویل اور پیوند کاری کی ضرورت ہے۔ نہ ان موشگافیوں کی ضرورت ہے جو بعض میں فقہی مباحث کی وجہ سے پیدا کردی گئیں۔ اس وقت جبکہ فقہی مذاہب وجود میں آئے اور انہوں نے نصوص کے اندر طرح طرح کی تاویلات پیدا کیں اور لوگوں نے ان فقہی اور دینی موضوعات پر منطقی اور کلامی انداز میں مفروضوں کی شکل میں جدل وجدال شروع کردیا۔ بعد کے ادوار میں انہی فقہی اور کلامی اختلافات کی وجہ سے ہر فرقے نے دوسرے پر الزامات لگائے اور دوسروں نے ان الزامات کے جوابات دیے۔ پھر لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف کفر کی نسبت کرنا شروع کردی اور دوسروں نے جواب دینا شروع کردیا اور یہ تمام جدل وجدال دین کے واضح اصولوں پر قائم نہ تھا ، بلکہ یہ سب مباحث ذاتی اغراض ، ہوا و ہوس اور مخالفین کے عناد اور دشمنی پر مبنی تھا۔ اور اب کیا تھا کفر کے فتو وں کے بازار گرم ہوئے اور فروعی مسائل پر بحثیں ہوئیں۔ پھر ان الزامات کا جواب تشدد سے دیا جانے لگا اور لوگ ان الزامات میں بہت ہی سختی کرنے لگے۔ یہ غلو ان خاص تاریخی اسباب و عوامل کی وجہ سے ہوتا رہا۔ دین اسلام تو وہ بالکل واضح ہے۔ اس میں کوئی لچک نہیں ہے ، نہ اس میں پیوند کاری ہے اور اس میں غلو ہے حدیث میں آتا ہے لیس الایمان۔۔۔ ایمان محض تمناؤں کا نام نہیں ہے ، بلکہ ایمان یہ ہے کہ وہ دل میں بیٹھ جائے اور عمل اس کی تصدیق کرے۔ ایمان کے قیام کے لیے یہ ضروری ہے کہ اللہ نے جو قانون بنایا ہے اس کو عملاً زندگی میں نافذ کیا جائے اور کفر یہ ہوگا کہ اللہ نے جو قانون بنایا ہے ، اسے ترک کردیا جائے ، اللہ کے قوانین کے ماسوا دوسرے قوانین کے مطابق فیصلے کرنا اور شریعت کے سوا دوسری عدالتوں سے فیصلے کرانا کفر ہے۔ خواہ چھوٹے معاملات ہوں یا بڑے معاملات ہوں۔ یہ ہیں خدا و رسول کے سادہ ، دو ٹوک اور واضح احکام۔ اس کے ما سوا جو بھی آرا ہوں گی وہ محض تاویلات اور مذہبی اختلافات کا نتیجہ ہیں۔
یہ ہے ایک واضح مثال ، جس میں اللہ تعالیٰ واضح ، دو ٹوک ، تاکیدی انداز میں فرماتے ہیں ۔
وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ : اور ت میں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو فیصلے کے روز ، یعنی دونوں فوجوں کی مڈ بھیڑ کے دن ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی۔
بعینہ ہی مثال ہے ان تمام ہدایات و اعلانات کی جو قرآن مجید میں ایمان اور اس کی حدود وقیود اور اس کے تقاضوں کے بارے میں بالکل واضح طور پر دی گئی ہیں اور جو بالکل دو ٹوک اور فیصلہ کن ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اموال غنیمت کی ملکیت ان لوگوں سے لے کر جنہوں نے ان کو جمع کیا تھا اللہ اور رسول اللہ کے ہاتھ میں دے دی تھی۔ جیسا کہ سورت کے آغاز میں بصراحت بتلایا گیا تاکہ اس معاملے کا مکمل اختیار اللہ اور رسول اللہ کی طرف منتقل ہوجائے اور مجاہدین کے دل اور عزائم ان آلودگیوں سے بالکل پاک ہوجائیں جن کا تعلق اس دنیا سے ہے اور اپنا معاملہ اول سے لے کر آخر تک اللہ اور رسول اللہ کے سپرد کردیں۔ اللہ ان کا رب ہے اور رسول ان کا قائد ہے اور وہ صرف اللہ کے لیے اس معرکہ میں شریک ہوں ، صرف اللہ کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں۔ اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے وہ اپنی روح ، اپنے جسم اور اپنے اموال میں اللہ و رسول اللہ کے احکام کو تسلیم کریں۔ اور اپنے تمام امور میں اللہ و رسول اللہ کے فیصلوں کو بےچون و چرا تسلیم کریں۔ یہ ہے حقیقت ایمان۔ اس سورت کے آغاز میں جب لوگوں سے ان کا حق ملکیت غنیمت لے کر رسول اللہ ﷺ کو دیا جا رہا تھا تو ان سے یوں خطاب کیا گیا تھا۔
يَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ۭقُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَالرَّسُوْلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ۠ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗٓ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ۔ " تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں کہو یہ انفال تو اللہ اور اس کے رسول کے ہیں ، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر تم مومن ہو "
اور اس کے بعد جب انہوں نے سر تسلیم خم کرلیا اور اللہ کے اس حکم پر راضی ہوگئے ان کے دلوں میں حقیقت ایمان جاگزیں ہوگئی تو اللہ نے پانچ حصوں میں چار پھر ان تک لوٹا دیے اور پانچویں حصے کو علی حالہ چھوڑ دیا کہ اس میں رسول اللہ ﷺ جس طرح چاہیں تصرف فرمائیں اس حصے سے جماعت مسلمہ کے مستحقین رشتہ داروں ، یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کیا جائے گا۔ اب چار حصے جب ان کی طرف لوٹائے گئے تو اس وقت ان کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ اللہ کا مال ہے۔ یہ جہاد اور فتح و نصرت کی وجہ سے ان کی ملکیت نہیں بن گیا۔ کیونکہ جہاد و غزی اللہ کے لیے ہے اور فتح و نصرت ان کی نہیں اللہ کے دین کی ہے۔ یہ جو اس کے مستحق ہوگئے ہیں تو یہ محض عطائے الٰہی ہے۔ جیسا کہ فتح و نصرت بھی عطائے الٰہی ہے۔ کیونکہ اس معرکے کی تمام اسکیم اللہ نے اپنے ہاتھوں سے تیار فرمائی اور مکرر ان کے ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی اللہ کے اس جدید حکم کو تسلیم کرنا بھی امر الہی کا تقاضا ہے اور عین ایمان ہے یہ ایمان کی شرط ہے۔ یہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ ذرا دوبارہ غور کیجیے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِي الْقُرْبٰي وَالْيَتٰمٰي وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ۔ اور ت میں معلوم ہو کہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جو فیصلے کے روز ، یعنی دونوں فوجوں کی مڈ بھیڑ کے دن ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی۔
یہ آیات مسلسل ایک واضح دو ٹوک اور فیصلہ کن اصول کو متعین کرتی ہیں جس کا تعلق اصول دین سے ہے۔ ان میں ایمان کے مفہوم و مدلول کو متعین کیا گیا ہے۔ ایمان کی حقیقت اس کی شرائط اور اس کے تقاضوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہاں حضور اکرم ﷺ کے لی لفظ " عبدنا " کا استعمال کیا گیا ہے۔ " اپنے بندے " اور یہ لفظ اس صورت حال کے درمیان استعمال ہوا ہے جبکہ ابتداء تمام انفال و غنائم کا اختیار رسول اللہ کو دے دیا گیا اور پھر چار حصوں کو چھوڑ کر پانچویں حصے کا اختیار آپ کو دے دیا گیا (علی عبدنا) میں بھی یہی اشارہ ہے کہ عبدیت اور بندگی بھی حقیقت ایمان کا ایک حصہ ہے اور (عبدنا) کا مقام وہ بلند مقام ہے جس تک کبھی کوئی بندہ پہنچ سکتا ہے۔ اور یہ بات اس ماحول میں کی جا رہی ہے جس میں حضور کا رم کو تبلیغ دین کے ساتھ ساتھ دنیا کے انتظامی اختیارات بھی دیے جا رہے ہیں۔۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مقام فی الواقعہ ایک بلند مقام ہے جس کتب کبھی کوئی پہنچ سکتا ہے کہ وہ دین دنیا کے اختیارات کا بھی مالک ہو اور مقام عبدیت پر بھی فائز ہو۔
صرف اللہ کی بندگی ہی انسان کو اپنی خواہشات کی بندگی کے مقام سے بلند کرسکتی ہے۔ اسی طرح یہی بندگی انسان کو دوسرے انسانوں کی بندگی سے بچا سکتی ہے۔ اور انسان انسانیت کی اعلی شرف و برتری پر صرف اسی صورت میں فائز ہوسکتا ہے جب وہ اللہ کے سوا تمام لوگوں کی غلامی سے محفوظ ہو۔
جو لوگ اللہ وحدہ کے غلام بننے سے سرتابی کرتے ہیں ، وہ اسی وقت ذلیل ترین غلامیوں کا جوا پہن لیتے ہیں۔ وہ اپنی خواہشات نفسانیہ اور سفلی میلانات کے غلام بن جاتے ہیں اور اس کا فوری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے صرف انسان کو جو وصف دیا تھا کہ وہ متحرک بالارادہ ہے ان کا یہ وصف اسی وقت ختم ہوجاتا ہے جب ان کو اپنے ارادے پر کنٹرول نہیں رہتا تو وہ مطلق حیوان بن جاتے ہیں بلکہ وہ ان حیوانات سے بھی ذلیل تر ہوجاتے ہیں اور وہ اسفل سافلین بن جاتے ہیں جبکہ اللہ نے انہیں احسن تقویم میں پیدا کیا تھا۔
نیز جو لوگ اللہ کی غلامی سے روگردانی کرتے ہیں وہ دوسری خطرناک غلامیوں میں جکڑ جاتے ہیں۔ وہ اپنے جیسے انسانوں کی غلامی اختیار کرتے ہیں۔ یہ انسان آقا ان لوگوں کی زندگیوں کو اپنی خواہشات اور مقاصد کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ ان کی نظر کوتاہ جن نظریات کو پا سکتی ہے وہ ان لوگوں کی راہنمائی ان نظریات کی طرف کرتے ہیں اور ان نظریات کے پیچھے صرف یہ نظریات اور مقاصد ہوتے ہیں کہ ان کی وجہ سے انسان آقا اپنی برتری قائم کرتے ہیں اور لوگوں کی زندگی جاہلانہ نقائص سے پر اور خود سری پر مبنی ہوتی ہے۔
یہ انسان آقا ان کے لیے اصول موضوعہ تجویز کرتے ہیں اور کہتے ہیں اور انہیں باور کراتے ہیں کہ ان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ ان کو چاہیے کہ وہ ان کے سامنے سرتسلیم خم کردیں او ان اصولوں کی مخالفت نہ کریں۔ بعض اصول تاریخی جدلیات پر مبنی ہیں بعض اقتصادی حقائق پر مبنی ہیں ، بعض طبیعی ارتقاء پر مبنی ہیں غرض یہ اور اس قسم کی دوسری غلامیاں جو مادیت نے انسان پر مسلط کردی ہیں اور انسان ان کی دلدل میں اس طرح پھنس گیا ہے کہ نہ وہ ان سے نکلنا چاہتا ہے اور اگر چاہے تو اسے کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ اور وہ ان خود ساختہ اٹل اصولوں میں جکڑا ہوا ہے۔ اور خوفناک جبریت کے تحت زندگی بسر کر رہا ہے۔
اس کے بعد یہاں دوسرا لفظ بھی نہایت ہی اہم ہے۔ یہاں بدر کے لیے یوم الفرقان کہا گیا ہے۔ یوم الفرقان یوم التقی الجعن " فیصلے کے دن یعنی دونون فوجوں کی مڈ بھیڑ کے دن "۔ حقیقت یہ ہے کہ بدر کا دن فی الواقعہ ایک فیصلہ کن دن تھا۔ اس دن کے بارے میں پوری اسکیم اللہ نے تیار کی تھی اور اللہ کی نصرت و ہدایت کے مطابق اس میں کام ہوا۔ یہ دن حق و باطل کے درمیان فیصلے کا دن تھا۔ یہی بات مفسرین نے اجمالاً کہی ہے۔ یہ دن فیصلے کا دن تھا۔ اس لیے کہ اس کے نتائج نہایت ہی گہرے ، دور رس اور ہمہ گیر تھے۔
یہ دن عملاً حق و باطل کے درمیان فیصلے کا دن تھا۔ لیکن اس دن فیصلہ اس حقیقی سچائی اور باطل کے درمیان تھا۔ جس پر زمین و آسمان عملاً برپا ہیں۔ اس سچائی پر تمام اشیاء اور تمام زندہ مخلوقات کی فطرت استوار ہوئی ہے۔ وہ سچائی جو اللہ کی ذات کو وحدہ تسلیم کرتی ہے ، اللہ ہی کو بادشاہ تسلیم کرتی ہے اور اسے اس عالم کا مدبر متصرف تسلیم کرتی ہے ، وہ سچائی جو یہ سکھاتی ہے کہ یہ پوری کائنات اللہ کی بندہ و غلام ہے۔ اس کائنات کے آسمان اس کی زمین ، اس کی چیزوں اور اس کی زندہ مخلوق سب میں اللہ وحدہ متصرف ہے۔ اور یہ سب چیزیں اللہ کی الوہیت ، اس کی بادشاہت اور اس کی تکوینی حکومت کے تحت ہیں اور کوئی اس سے سرتابی نہیں کرسکتا۔ اور باطل کون سا باطل ہے ؟ اس سے مراد وہ باطل ہے جو کھوٹا ہے اور جو اس وقت یوم بدر کے وقت دنیا پر چھایا ہوا تھا ، اور اس نے اس عظیم سچائی کو دبایا ہوا تھا۔ اور اس باطل نے کرہ ارض کے اوپر ایسی طاغوتی طاقتیں پیدا کردی تھیں جو لوگوں کی زندگی کے معاملات میں جس طرح چاہتی تھیں ، فیصلے کرتی تھیں۔ اس نظام باطل میں یہ لوگوں کی خواہشات ہی تھیں جو اشیاء و احیاء سب کی قسمتوں کے فیصلے کرتی تھیں۔ یہ تھا وہ عظیم فیصلہ جو اس دن ہوا۔ یعنی عظیم بدر کے دن یعنی اس دن اس عظیم سچائی اور اس ہمہ گیر باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ پیش آیا۔ ان کے درمیان یوم بدر میں ایسا فیصلہ اور فاصلہ ہوا کہ آئندہ کبھی ان کے درمیان کوئی التباس اس اشتراک نہ ہوا۔
یہ دن حق و باطل کے درمیان نہایت ہی وسیع اور گہرے معنوں میں ایک فیصلہ کن دن تھا۔ نہایت ہی دقیق اور لطیف معنوں میں۔ انسان کے ضمیر کی گہرائیوں میں حق و باطل کے درمیان فیصلہ تھا۔ انسانی تصورات اور شعور کے میدان میں وحدانیت اور شرک کے درمیان یہ فرقان تھا۔ انسانی اخلاق اور طرز عمل میں حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن دن تھا ، اللہ کی عبادت اور بندگی میں حق و باطل کے درمیان یہ فیصلہ کن معرکہ تھا۔ توحید اور شرک کی تمام شکلوں اور صورتوں کے درمیان یہ فیصلہ کن دن تھا ، چاہے اس کا تعلق اشخاص سے ہوا ، اقدار سے ہو ، رسم و رواج اور عادات سے ہو یا کسی اور شکل سے ہو۔ اور ظاہری واقعہ کے اعتبار سے بھی اس حق اور اس باطل کے درمیان یہ فیصلہ کن دن تھا۔ اس دن خواہشات اور اشخاص کی بندگی اور اقدار اور تہذیب کے درمیان جنگ تھی ، ایک طرف ذاتی اغراض تھیں اور دوسری طرف الہی قوانین تھے اور ایک طرف صرف اللہ وحدہ کی حاکمیت ، الوہیت اور اقتدار اعلی کے نظریات تھے اور دوسری جانب انسان پر انسانوں کی برتری تھی۔ چناچہ یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ کے سوا کوئی نفع و نقصان دینے والا نہیں ہے۔ اس کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے ، اس کے سوا کوئی قانون ساز نہیں ہے۔ اب لوگوں کے سر بلند ہوگئے۔ اب وہ کسی غیر کے سامنے نہ جھکتے تھے ، لوگ سب کے سب باہم مساوی قرار پائے۔ ان پر اگر کوئی برتری تھی تو اللہ اور اس کے قانون کی تھی۔ اب لوگ غول در غول اٹھتے اور آزادی کے جھنڈے بلند کرتے ، اور ظالموں اور سرکشوں سے نجات پاتے۔
یہ دن تحریک اسلامی کی تاریخ میں دو ادوار کے درمیان ایک حد فاصل تھا۔ پہلے تحریک صبر اور برداشت کے اصولوں پر عمل پیرا تھی ، وہا پنی قوتوں کو مجتمع کر رہی تھی۔ اب تحریک اسلامی کی قوت ، آغاز کار اور ترقی کا دور شروع ہوا ، اسلام نے پوری زندگی کے لیے ایک جدید تصور دیا۔ انسانی معاملات کے طے کرنے کے لیے ایک جدید نظام دیا ایک جدید اجتماعی نظام پیش کیا گیا ۔ حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی نظام اور دستور تجویز ہوا۔ اور یہ اعلان کردیا گیا کہ اب کوئی انسان دوسرے انسان کا غلام نہ ہوگا۔ سب کے سب صرف اللہ رب العالمین کے غلام ہوں گے۔ اور اب ان طاغوتی قوتوں کو زندہ رہنے کے لیے کوئی جواز نہیں ہے جنہوں نے اللہ کے حق حاکمیت کو غصب کرلیا ہے۔ اسلام کے ایسے نظریہ کے لیے ضروری تھا کہ اس کی اپنی قوت ہو ، وہ ایک تحریک ہو ، وہ اقدامی پوزیشن رکھتا ہو اور آگے پڑھنے کی سکت اس میں ہو ، اس لیے کہ اسلام ایسے نظریات رکھتے ہوئے خاموش تماشا ائی بن کر رہنے کی پوزیشن اختیار نہیں کرسکتا اور پھر غیر معین عرصے تک۔ اسلام کا منشا یہ نہ تھا کہ وہ اس کے حاملین کے لیے محض ایک تصور اور عقیدہ رہے۔ یا اس کا ظہور چند مراسم عبودیت ہی میں ہو یا اس کے مخصوص انفرادی اخلاق ضوابط ہوں ، لہذا اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ جدید اخلاقی تصورات دے ، وہ جدید نظام دے ، جدید حکومت دے اور ایک جدید معاشرے کی بنیاد رکھے ، اور یہ سب مظاہر عملی ہوں۔ پھر وہ اپنے ان اہداف کے حصول کے لیے وہ تمام رکاوٹیں دور کردے جو ان مقاصد کی راہ میں رکاوٹ بنیں اور مذکورہ بالا اصول کو مسلمانوں کی زندگی میں نافذ نہ ہونے دیں یا اس کرہ ارض پر اسے رائج نہ کرنے دیں حالانکہ اسلام اللہ کی طرف سے آیا ہی اس لیے تھا کہ دنیا میں نافذ ہو (تفصیلات کے لیے دیکھیے سورت انفال)
یہ دن پوری انسانی تاریخ میں بھی یوم الفرقان تھا۔ اس لیے کہ اس سے قبل جو انسانیت کرہ ارض پر بستی تھی ، مجموعی اعتبار سے وہ اس انسانیت سے مختلف تھی۔ جو اس دن کے بعد آنے والے نظام میں نمودار ہوئی۔ یہ جدید تصور اور نظریہ جس کے نتیجے میں یہ جدید نظام تشکیل پایا اس جدید نظام نے انسان کو جو تصورات عطا کیے اور اس کے نتیجے میں جو نیا انسان نمودار ہوا ، یہ در اصل پوری انسانیت کے لیے ایک نیا جنم تھا۔ یہ اقدار جن پر پوری زندگی استوار ہوتی ہے ، اسی کی اساس پر اجتماعی نظام بھی تیار ہوتا ہے اور اسی کی اساس پر قانونی نظام بھی تیار ہوتا ہے۔ یہ تمام امور جنگ بدر کے صرف مسلمانوں کا اثاثہ نہ رہے جبکہ جدید اجتماعی نظام قائم ہوگیا تھا بلکہ آہستہ آہستہ یہ اقدار تمام انسانیت کا اثاثہ بن گئیں۔ اس تبدیلی سے انسانیت جس طرح دار الاسلام کے اندر متاثر ہوئی ، اسی طرح دار الاسلام کے باہر بھی انسانیت اس سے متاثر ہوئی۔ اسلام کی دوستی میں بھی لوگ اس سے متاثر ہوئے اور اسلام کی دشمنی میں بھی لوگ اس سے متاثر ہوئے۔ وہ صلیبی قوتیں جنہوں نے مغرب کی جانب سے اسلام کے خلاف لشکر کشی کی اور جن کا مقصد یہ تھا کہ وہ اسلام کے خلاف جنگ کریں اور اسلام کی برتری کو ختم کردیں ، وہ اسلامی معاشرے کے رسم و رواج اور اصول و قوانین سے متاثر ہوئے۔ یہاں سے واپس جا کر انہوں نے مغرب میں رائج جاگیردارانہ نظام کے خلاف جدوجہد شروع کردی ، اس لیے کہ انہوں نے اگرچہ حقیقی اسلامی نظام تو نہ دیکھا تھا مگر اسلامی اصولوں کے جو آثار شرق اوسط کے معاشرے میں باقی تھے ، ان سے وہ متاثر ہوئے ، تاراری جنہوں نے مشرق سے اسلام پر حملے شروع کیے اور ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ اسلام کو بیخ و بن سے اکھاڑ دیں اور اس کام پر ان کو یہودیون اور صلیبیوں نے آمادہ کیا تھا۔ وہ اسلامی نظریات سے متاثر ہوگئے اور انہوں نے اسلام کو مزید نئے علاقوں تک پھیلایا اور انہوں نے ایک ایسا نظام حکومت یعنی اسلامی خلافت قائم کیا جو پندرہویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک یورپ کے دل میں قائم رہا ، الغرض بدر کے بعد تمام انسانی تاریخ اسلامی افکار سے متاثر ہوئی اور یہ دن قدیم اور جدید تاریخ کے درمیان بھی حد فاصل اور فرقان تھا۔ اور انسانیت عالم اسلام کے اندر اور اس کے مخالف بلاک کے اندر بھی اسلام سے متاثر ہوئی۔ اسی طرح یہ دن فتح و نصرت کے دو تصورات کے درمیان بھی حد فاصل تھا۔ یہاں مشرکین کے حق میں فتح و نصرت کے تمام ضروری عناصر موجود تھے اور مسلمانوں کے محاذ پر بظاہر شکست کے تمام عوامل موجود تھے۔ ، یہاں تک کہ منافقین اور بیمار دل لوگوں نے یہ ریمارک پاس کیا کہ (غر ھولاء دینہم) ان کے نئے دین نے ان کو غرے میں مبتلا کردیا ہے۔ لیکن اللہ کا ارادہ یہی تھا کہ اسی انداز پر یہ جنگ ہوجائے۔ کفار کی ایک کثیر تعداد اور اہل ایمان کی ایک قلیل تعداد کے درمیان معرکہ تھا ، تاکہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ فتح و نصرت کے معیار وہ نہیں ہیں جو عام لوگوں کے درمیان معروف ہیں۔ بلکہ اللہ نے چاہا کہ یہاں قومی نظریات قلت سازوسامان کے ساتھ ایک عظیم لشکر پر فتح یاب ہو ، جو بےعقیدہ ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ نصرت ایک صالح عقیدے اور برحق نظریات کے لیے مقدر ہوتی ہے ، محض تعداد اور اسلحہ کی بنیاد پر فتح نصیب نہیں ہوتی اور یہ بتانا بھی مقصد تھا کہ نظریاتی لوگوں کو چاہئے کہ وہ کفر کے خلاف معرکے میں کود جائیں اور اس وقت کا انتظار نہ کریں کہ فریقین کی ظاہر قوت برابر ہوجائے کیونکہ برحق نظریات رکھنے والے لوگوں کی پشت پر سچائی کی طاقت ہوتی ہے۔ یہ محض خالی خولی دعویٰ ہی نہیں ہے بلکہ جنگ بدر کے اندر اس کا دو ٹوک فیصلہ ہوا اور لوگوں نے آنکھوں سے دیکھا۔
آخر میں میں کہتا ہوں کہ جنگ بدر ایک دوسرے زاوئیے سے بھی حق و باطل کے درمیان فرقان تھا اور اس پہلو کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا۔
وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّاۗىِٕفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُوْنُ لَكُمْ وَيُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ ۔ لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَيُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جاے گا۔ تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے۔ مگر اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔ تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہوکر رہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔
جو لوگ بدر کے لیے نکلے تھے وہ صرف اس ارادے سے نکلے تھے کہ ابوسفیان کے قافلے کو لے لیں جو غیر مسلح تھا۔ لیکن اللہ نے ان کی آرزو کو پورا نہ کیا۔ اللہ نے ابوسفیان کے قافلے کو بچ نکل کر جانے کا موقعہ دیا۔ اور اہل اسلام کو ابوجہل کے پر شوکت لشکر سے ٹکرا دیا۔ اور اس کے نتیجے میں جنگ ہوئی ، مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور کفار قید ہوئے اور قتل ہوئے۔ اور یہ نہ ہوا کہ مسلمان بطور تفریح نکلیں اور قافلے پر قبضہ کرکے آسان طریقے سے مال غنیمت حاصل کرلیں۔ اور یہ کام اللہ نے اس لیے کیا لیحق الحق ویبطل الباسل " تاکہ حق ، حق ہوجائے اور باطل ، باطل " اس میں اللہ تعالیٰ یہ بتانا چاہتے تھے کہ اللہ کی اسکیم کے مطابق احقاق حق کا طریقہ کیا ہے ؟ مطلب یہ تھا کہ محض وعظ و تبلیغ اور نظریاتی اور حکیمانہ تبلیغ ہی سے احقاق حق نہیں ہوتا اور نہ نظریاتی بحث وجدال کے نتیجے میں احقاق حق ہوتا ہے کہ کوئی دلائل سے یہ بات کرے کہ حق یہ ہے اور باطل یہ ہے۔ حق اس وقت تک عملی شکل اختیار نہیں کرتا اور باطل لوگوں کی عملی زندگی سے اس وقت تک خارج نہیں ہوتا جب تک باطل کی قوت اور اقتدار کو ختم نہ کردیا جائے اور اس کی جگہ حق کا اقتدار اعلی قائم نہ کردیا جائے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوتا جب تک حق کی فوجوں کو نصرت اور فتح مندی نصیب نہ ہو اور بطل کو شکست نہ ہوجائے یعنی کسی جنگی معرکے میں۔ غرض یہ دین ایک حرکتی منہاج ہے ، محض نظریہ نہیں ہے ، محض علمی بحث وجدال نہیں ہے اور نہ ہی محض منفی اعتقاد ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہہ نہیں ہے بلکہ اس کا مثبت پہلو بھی ہے۔ احقاق حق اور ابطال باطل میدان جنگ میں ہوتا ہے اور عملاً حق کو نصرت نصیب ہوتی ہے اور یہ عملی نصرت فرقان ہوتی ہے اور اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم کیا چاہتے تھے اور یہ کہ الہ نے رسول الہ کو اس دن حق کے ساتھ گھر سے نکالا تھا اور حق یہ تھا کہ قافلہ چلا جائے اور سازوسامان سے لیس لشکر سے تمہاری مڈ بھیڑ ہوجائے۔
یہ تھی اس دین اور اس دن کی حیثیت فرقانیت ، جس سے اس دین کی حقیقت ، اس کا مزاج واضح ہوتا ہے اور مسلمانوں کے احساس و شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ ایسی فرقانیت ہے جس کی ضرورت آج محسوس کی جاتی ہے کیونکہ مسلمانوں کے احساس و شعور کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ ایسی فرقانیت ہے جس کی ضرورت آج محسوس کی جاتی ہے کیونکہ مسلمانوں کے احساس و شعور کے اندر آج اسلام کے صحیح تصور کے اندر انحراف اور لچک پیدا ہوگئی ہے اور یہ ڈھیل اس قدر پھیل گئی ہے کہ بعض لوگ دعوت دین اور تبلیغ دین کا دعوی کرتے ہیں لیکن احقاق حق کے اس منہاج کو وہ نہیں پا سکے۔
یہ تھی یوم بدر کی حیثیت فرقانیت جس کے بارے کہا گیا کہ وہ (یوم الفرقان) اور (یوم التقی الجمعان) ہے جس کے اندر گہری معنویت پائی جاتی ہے۔ واللہ علی کل شیئ قدیر " اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے " اور یوم بدر قدرت الہیہ کی بہترین مثال ہے۔ ایسی مثال جس میں کوئی مقال نہیں ہے اور نہ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہے۔ یہ ایک مشاہدہ ہے اور اس کی تفسیر کے لیے کسی طویل کلام کی ضرورت نہٰں ہے۔ بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
الأنفال 8:42
اب سیاق کلام یوم الفرقان کی مزید تفصیلات میں چلا جاتا ہے۔ معرکے کی جھلکیاں دی جاتی ہیں۔ ان میں اس معرکے کو نہایت ہی عجیب موثر اور منظر کشی کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کہ گویا یہ منظر اسکرین پر چل رہا ہے اور اس کے مناظر میں اللہ کی تدبیر اور تقدیر عیاں و نمایاں ہیں۔ اس طرح کہ دست قدرت صاف صاف نظر آتا ہے کہ وہ اپنا کام کرتا ہے۔ نیز ان جھلکیوں سے وہ مقاصد صاف صاف عیاں ہیں جو اللہ کو مطلوب ہیں اور ابھی ایمان کا مقصود ہیں۔
اس معرکے میں فریقین کے کیمپ سامنے نظر آتے ہیں اور اس میں دست قدرت رواں دواں ہے۔ اللہ کی قدرت کا ہاتھ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہ ان لوگوں کا کیمپ ہے اور وہ دوسری جانب فریق مخالف ہے اور قافلہ دور سمندر کے ساحل سے گزر رہا ہے۔ الفاظ قرآن رسول اللہ کی خواب کا نقشہ کھینچ رہے ہیں ، س نقشے میں مسلمانوں کو کفار کم نظر آتے ہیں اور کفار کو مسلمان۔ یہ مناظر چند الفاظ میں صرف قرآن کریم ہی کا خاصہ ہے۔ مشاہد و مناظر اور ان کا پس منظر دونوں صاف و شفاف نظر آتے ہیں۔ منظر میں حرکات اور تگ و دو صاف نظر آتی ہے ، صرف چند فقرات میں۔
یہ مناظر جن کو ان آیات نے پیش کیا ہے۔ ان مناظر کی طرف ہم اس سے قبل سیرت سے تفصیلات دے چکے ہیں جب مسلمان مدینہ سے نکلے تو وہ وادی میں مدینہ کے قریب اترے اور اسی وادی کی دوسری طرف اہل کفار نے کیمپ لگایا۔ ان دونوں کے درمیان ایک اونچا ٹیلہ تھا جو ان دونوں کے درمیان جدائی کر رہا تھا۔ رہا قافلہ ، تو ابو سفیان اسے ساحل کی جانب لے چلا تھا۔ دونوں افواج سے نیچے کی طرف۔
کوئی فوج یہ نہ جانتی تھی کہ فریق مخالف کہاں ہے۔ اللہ نے ان کو ایک ٹیلے کے دونوں طرف جمع کردیا۔ یہ اللہ کی خاص منشا تھی۔ اگر ان کے درمیان جگہ کا تعین پہلے ہوچکا ہوتا تو وہ اس طرح ایک دوسرے کے قریب نہ آسکتے۔ شاید ایک دوسرے سے پہلوتہی کرجاتے۔ اللہ تعالیٰ یہاں اسی بات کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کی خاص تدبیر تھی۔
اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰي وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ۭوَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعٰدِ ۙ وَلٰكِنْ لِّيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا : یاد کرو وہ وقت جبکہ تم وادی کے اس جانب تھے اور وہ دوسری جانب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل) کی طرف تھا۔ اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلہ کی قرار داد ہوچکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے ، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کرچکا تھا اسے ظہور میں لے آئے۔
یوں ایک دوسرے کے ساتھ آمنا سامنا ہوجانا اور اس قدر قریب کہ بھاگنے کی صورت ہی نہ ہو۔ یہ بھی اللہ کی منشا تھی ، کچھ نتائج تھے جن کا ظہور پذیر ہونا منشائے الہی تھا۔ اس لیے اللہ نے اس قدر خفیہ اور اچانک آمنا سامنا کرادیا۔ اور تمہیں ذریعہ بنا دیا۔ ان نتائج کے ظہور کے لیے اور تمہارے لیے تمام حالات سازگار بنا دیے گئے۔
آخر وہ کیا امر تھا ؟ وہ کیا بات تھی جس کے لیے یہ تمام تدابیر عالم بالا کے ذریعے ہوئیں ؟ لیھلک من ھلک عن بینۃ و یحییٰ من حی عن بینۃ " تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے ، وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے "
ہلاکت سے اس کا ظاہر مفہوم بھی لیا جاتا ہے اور کفر پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اسی طرح لفظ حیات بھی اپنے لغوی اور براہ راست مفہوم میں بھجی استعمال ہوتا ہے اور ایمان پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہاں یہ دوسرا مفہوم مراد ہے۔ اس مفہوم میں یہ لفظ قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی استعمال ہوا ہے۔ اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمات لیس بخارج منہا " وہ شخص جو مردہ ہو ، اور ہم نے اسے زندہ کردیا اور اس کو ایک اسی روشنی دے دی جس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے۔ وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھیروں میں ہے اور ان سے نکلنے والا نہیں ہے "۔ یہاں کفر کو موت ، ایمان کو حیات قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح اسلام کا نظریہ حیات حقیقت ایمان اور حقیقت کفر کے بارے میں اپنا نقطہ نظر متعین کرتا ہے اور مذکورہ بالا آیت کی تشریح کرتے وقت ہم نے ، سورت انعام میں اس پر قدرے تفصیلی بحث کی ہے۔ دیکھیے سورة انعام۔
یہاں اس مفہوم کو ہم اس لیے ترجیح دیتے ہیں کہ یوم بدر قرآن کے مطابق یوم الفرقان تھا۔ اس جنگ میں اللہ نے حق و باطل کے درمیان خوب جدائی کردی۔ جس کا تذکرہ ہم کر آئے ہیں۔ اس لیے اب جو شخص کفر اختیار کرتا ہے تو گویا وہ دلیل وبرہان کا منکر ہے اور جو شخس ایمان لاتا ہے تو وہ دلیل روشن پر ایمان لاتا ہے۔ اور یہ دلائل اب اس لیے روشن اور واضح ہیں کہ اس معرکہ نے سب کچھ کھول کر رکھ دیا ہے۔
یہ جنگ جن حالات میں ہوئی اور جن ظرفور و احوال میں وہ لڑی گئی بذات خود ایک ایسی محبت ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس میں ایسے اشارات ہیں کہ انسانی تدابیر کے پیچھے دست قدرت کام کر رہی ہے ، یہ اشارات نہایت واضح اشارات تھے اور بتا رہے تھے کہ انسانی قوت کے علاوہ اور بھی فیصلہ کن قوتیں ہیں جو کام کرتی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس دین کا ایک رب ہے اور وہ اپنے مخلص مجاہد بندون کی پشت پر ہوتا ہے بشرطیکہ وہ صبر کریں اور ثابت قدمی اختیار کریں۔ اگر فیصلہ ظاہری مادی قوت کے مطابق ہوتا تو مشرکین کو شکست نہ ہوتی اور جماعت مسلمہ کو اس قدر عظیم کامیابی نصیب نہ ہوتی۔
مشرکین نے خود اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے ، جب وہ جنگ کے لیے جا رہے تھے تو ان کے حلیف نے ان کو امداد کی پیش کش کی تو انہوں نے کہا : " خدا کی قسم اگر ہمیں صرف انسانوں سے جنگ کرنا پڑتی تو ہم کمزور نہیں اور اگر یہ جنگ ہم خدا کے خلاف لڑ رہے ہیں ، جیسا کہ محمد کا دعوی ہے ، تو خدا کے مقابلے میں کسی کی کوئی بات نہیں ہے " وہ خود بھی یقین رکھتے کہ وہ خدا کے خلاف لڑ رہے ہیں جیسا کہ محمد کا دعوی ہے ، تو خدا کے مقابلے میں کسی کی کوئی بات نہیں ہے "۔ وہ خود بھی یقین رکھتے کہ وہ خدا کے خلاف لڑ رہے ہیں کیونکہ حضرت محمد نے ان کو یہ حقیقت بتا دی تھی اور وہ اس بات کو بھی تسلیم کرتے تھے کہ حضرت محمد صادق و امین ہیں۔ اب اگر وہ ہلاک ہوئے تو برحق ہلاک ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات پر یہ تبصرہ جو کیا ہے لیھلک من ھلک عن بینۃ و یحییٰ من حی عن بینہ۔ تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ رہے۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہاں ایک دوسرا اشارہ بھی نظر آتا ہے ، وہ یہ کہ میدان کارزار میں حق و باطل کا معرکہ آرائی کرنا ، اور میدان میں حق کا فاتح ہونا ، جبکہ نظریاتی اعتبار سے حق نے میدان مار لیا ہو ، اس بات کا سبب بنتا ہے کہ یہ لوگوں کی نظروں میں بالکل واضح اور نمایاں ہوجائے اور لوگوں کے دل و دماغ میں اس کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ اس طرح کہ میدان میں حق کی فتح بالکل واضح ہوجائے اور اس وضاحت کے بعد بھی اگر کوئی ہلاکت اور کفر اختیار کرتا ہے تو اسے کوئی شبہ نہ ہو۔ اب اگر کوئی کفر کرتا ہے تو خود کشی کرتا ہے اور اسلام قبول کرتا ہے تو وہ بھی علی وجہ البصیرت زندگی اور سچائی کو قبول کرتا ہے اور اللہ کی نصرت کا اسے یقین ہوتا ہے کیونکہ وہ حق پر ہوتا ہے۔ اور اسے اللہ کی نصرت حاصل ہوتی ہے اور اس کے دشمنوں کو ہزیمت اور شکست ملتی ہے۔
اب ذرا پیچھے چلیے۔ نویں پارے اور سورت انفال کے تعارف میں ہم نے یہ بتایا تھا کہ جہاد اس لیے ضروری ہے کہ کرۂ ارض کے اوپر سے شر کی قوتوں کی کمر توڑ دی جائے اور طاغوتی اقتدار کو ختم کردیا جائے اور اللہ کے کلمے اور اللہ کے جھنڈے کو بلند کردیا جائے۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ حق واضح اور جلی ہوجائے اور پھر اگر کوئی ہلاک ہوتا ہے تو علی وجہ البصیرت ہلاک ہو اور اگر کوئی زندہ ہوتا ہے تو علی وجہ البصیرت وہ زندہ ہو۔ اور اس سے اس سورت میں دی جانے والی ہدایت کے دور رس اثرات کا بھی اندازہ ہوتا ہے جس میں حکم دیا گیا ہے۔ واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ و من رباط الخیل ترھبون بہ عدو اللہ و عدوکم " اور تم لوگ ، جہاں تک تمہارا بس چلے زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ، ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعے سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو خوفزدہ کرو جنہٰں تم نہیں جانتے "۔ قوت کا تیار کرنا اور دشمنوں کو ڈرانا بھی ایک ذریعہ ہے جس کے باعث حق و اضح ہوتا ہے۔ بعض لوگ اس طرح حق کو قبول کرتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو قوت سے مرعوب ہوکر اور حق کی ضربات کو دیکھ کر سمجھتے ہیں اور انہیں ایسا دیکھ کر نظر آتا ہے کہ یہ تحریک در حقیقت انسان کی آزادی کی تحریک ہے اور اس کے نتیجے میں انسان پوری کائنات میں آزادی حاصل کرتا ہے۔
اس پورے مضمون پر اس پہلو سے یہ تعقیب آتی ہے کہ اس معرکے میں تدبیر الہی ان مقاصد کے لی کام کر رہی تھی۔ وان اللہ لسمیع علیم " یقینا خدا سننے اور جاننے والا ہے " اللہ وہ ذات ہے کہ اس پر کوئی چیز مخفی نہیں ہے خواہ وہ سچے فریق کی ہو یا بر سر باطل فریق کی طرف سے ہو۔ اور اپنے افعال واقوال کی پشت پر جو سوچ وہ رکھتے ہیں اس سے بھی وہ باخبر ہے۔ اس لیے وہ جو تدبیر کرتا ہے وہ ظاہر و باطن کی اطلاعات پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ تو سمیع وعلیم ہے۔
یہ تو تھا تبصرہ نظام تدبیر الہیہ پر کہ اس کی تدابیر کس قدر گہری ، خفیہ اور لطیف تھیں۔ اب بتایا جاتا ہے کہ ان تدابیر کی شکل و صورت کیا تھی ؟ (دیکھیے اگلی آیت)
الأنفال 8:43
اللہ کی تدابیر خفیہ میں سے ایک یہ تھی کہ اللہ کے رسول اللہ کو خواب میں کفار کی تعداد کم بتلائی۔ وہ یوں نظر آئے کہ ان کے پاس نہ قوت ہے اور نہ ان کا کوئی وزن ہے۔ حضور نے اپنے ساتھیوں کے سامنے اپنا خواب بیان فرمایا۔ انہوں نے اسے بشارت سمجھا اور ان کے حوصلے بڑھ گئے اور معرکے میں کود پڑے۔ اللہ تعالیٰ یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ نبی کو دشمن کی تعداد کم کیوں بتائی گئی ! اس لیے کہ اگر ان کی تعداد زیادہ بتلائی جاتی تو ان کی نظریں اپنی قلت تعداد اور قلت سامان جنگ پر مرکوز ہوجاتیں جبکہ وہ نکلے بھی قافلے کے مقابلے کے لیے تھے اور جنگ کی توقع نہ رکھتے تھے۔ اس طرح وہ ضعف اور کمزوری کا شکار ہوسکتے تھے۔ اور دشمن کے سامنے ٹکرا جانے میں بحث وجدال شروع ہوجاتا۔ بعض لوگ کہتے لڑنا اچھا ہے اور بعض کہتے مڈبھیڑ سے بچنا مفید ہے۔ اور ایسے حالات میں فوج کے درمیان یہ فکری انتشار ایسی فوج کے لیے مہلک ہوتا ہے جو جنگ کے لیے تیار ہو۔ " لیکن اللہ نے اس سے تمہیں بچا لیا۔ یقیناً وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے " اللہ تو دلوں کا حال جانتا ہے ، اس نے مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی مہربانی کی کہ ان کو اس انتشار کی کیفیت سے بچایا جو باعث ضعف ہوتی ہے لہذا مشرکین کو خواب میں قلیل دکھایا گیا اور زیادہ نہ دکھایا گیا۔
اور نبی ﷺ کی خواب کا مدلول بھی حقیقی تھا۔ حضور نے دیکھا کہ کفار قلیل ہیں۔ اگرچہ تعداد میں زیادہ تھے ، لیکن وزن کے اعتبار سے وہ ہلکے تھے۔ ان کی حقیقت کچھ نہ تھی ، ان کے دل دماغ ٹھوس نظریات سے خالی تھے۔ ان کے دل ایمان سے خالی تھے اور وہ نفع بخش سازوسامان سے تہی دامن تھے۔ ان کی ظاہری حیثیت اگرچہ آنکھوں کو دھوکہ دے رہی تھی لیکن اندر سے وہ بےحقیقت و بےوزن تھے۔ اللہ کے رسول اللہ ﷺ کو ان کی باطنی حیثیت دکھائی تھی۔ اور اس طرح لوگوں کے دلوں کو اطمینان سے بھر دیا گیا۔ اس لیے کہ اللہ دلوں کے بھیدوں سے واقف تھا۔ اللہ جانتا تھا کہ مسلمانوں کی تعداد اور سازوسامان دشمن کے مقابلے میں کم ہے۔ اگر ان کو صیح علم ہوجائے تو ان کے دلوں میں کیا خیالات ابھریں گے۔ یہ اللہ کی تدابیر میں سے ایک عظیم تدبیر تھی اس لیے کہ اللہ سمعی وعلیم تھا۔
الأنفال 8:44
اب جب فوجیں آمنے سامنے میدان بدر میں تیار کھڑی ہیں تو حضور کا سچا خواب پھر سامنے آتا ہے اور یہ جانبین کی صٖ آرائی کی حالت میں آتی ہے۔ یہ بھی اللہ کی تدابیر میں سے ایک خاص تدبیر تھی۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ ذرا اس کو دوبارہ پیش نظر رکھو ، اس معرکے کے واقعات پر تبصرے کے دوران یہ یاد دلایا جاتا ہے کہ۔ اور یاد کرو جب کہ مقابلے کے وقت خدا نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کرکے پیش کیا تاکہ جو بات ہونی تھی ، اسے اللہ ظہور میں لے آئے اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں "
تدابیر الہیہ میں سے اہم تدابیر یہ تھی کہ یہ معرکہ ٹل نہ جائے اور فریقین اس معرکے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ مسلمان جو دشمنوں کو قلیل دیکھ رہے تھے تو یہ دشمنوں کو ان کی حقیقت کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے۔ اور کفار جو مسلمانوں کو قلیل دیکھ رہے تھے تو یہ بھی ظاہری آنکھ کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے۔ دونوں کی نگاہ اپنے اپنے زاویہ سے تھی ، دونوں میں تدبیر الہی کے مقاصد کام کر رہے تھے۔ یوں یہ واقعات امر الہی اور منشائے الہی کے مطابق رونما ہوئے۔
والی اللہ ترجع الامور " اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں " یہ تبصرہ اس حققت کے اظہار کے لیے نہایت ہی مناسب ہے کہ تمام نتائج قضا و قدر کے نظآم کے مطابق باہر ہوتے ہیں۔ تمام امور کا مرجع اللہ ہے ، وہ جس طرح چاہتا ہے اپنی کائنات میں تصرف کرتا ہے ، اپنے اقتدار ، اور اپنے ارادے اور اپنی قدرت و حکمت کے ساتھ اور اس کائنات میں کوئی بات بھی اللہ کی تقدیر کے تقاضوں کے سوا ظہور پذیر نہیں ہوسکتی۔
۔۔۔
الأنفال 8:45
اگر معاملہ ایسا ہی ہے ، تدبیر سب کی سب اللہ کی ہے۔ نصرت اللہ کی جانب سے ہے۔ محض کثرت عداد ہی فیصلہ کن فیکٹر نہیں ہے اور محض مادی سازوسامان ہی کسی معرکے کے لیے فیصلہ کن نہیں ہوتا ، لہذا جو لوگ ایمان لا چکے ہیں ان کو چاہئے کہ جب کفار کے ساتھ ان کی مڈ بھیڑ ہوجائے تو وہ ثابت قدمی اختیار کریں۔ اور ان کو چاہی کہ وہ حق و باطل کے درمیان معرکہ آرائی کے لیے حقیقی سازوسامان تیار کریں اور ان کو وہ سائل اختار کرنے چاہئیں جن کا تعلق صاب تدبیر اور صاحب تقدیر کے اسلحہ خانہ سے ہو۔ اور فتح و نصرت اور صاب عون مالک حقیقی سے امداد حاصل کریں۔ اس ذات کی طرف رجوع کریں جو مقتدر اعلی اور قوت و سطوت کا مالک ہے۔ اور ان باتوں سے بچیں جو کفار مشرکین کے لیے باعث شکست ہوتی ہیں حالانکہ ان کی تعداد اور سازوسامان بہت زیادہ ہے۔ اور ان کو چاہیے کہ وہ کبر و غرور اور اترانے اور دکھانے سے بچیں شیطان کے دھوکوں سے ہوشیار رہیں جس نے کفار کو مار ڈالا۔ لہذا ان کو چاہی کہ وہ اللہ پر توکل کریں جو عزیز و حکیم ہے۔
ان قلیل فقروں میں معانی و اشارات کا ایک سمندر موجزن ہے۔ اہم اصول و ہدایات منضبط کردی گئی ہیں۔ مناظر اور مشاہد اس طرح نظر آتے ہیں کہ گویا اسکرین پر چل رہے ہیں۔ اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہو۔ الفاظ دل کے خیالات ، ضمیر کے جذبات اور دماغ کے نہاں خانوں کی کیفایت کے ظہر ہیں۔ اگر انہی معانی کو کوئی انسان اور ادیب قلم بند کرنا چاہے تو دفتر درکار ہیں اور پھر بھی ممکن نہیں ہے کہ وہ حق ادا کرسکے۔ غرض یہ حیرت انگیز تصویر کشی ہے جو قرآن کرتا ہے۔
اہل ایمان کو پکارا جاتا ہے ، جس طرح اس صورت میں مسلسل پکاریں منضبط ہیں۔ ہدایات دی جاتی ہیں کہ جب بھی کسی دشمن سے آمنا سامنا ہو تو ثابت قدم رہنے کی سعی کرو۔ اور فتح و نصرت کے حققی وسائل اپنے اند رپیدا کرو۔ اصل تیاری یہ تیاری ہے۔
يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ وَاصْبِرُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۔ وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ ۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت دے یاد کرو ، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی۔ اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ صبر کام لو ، یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ اور ان لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ، جو کچھ وہ کر رہے ہیں ، وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔
یہ ہیں فتح و نصرت کے حقیقی اساب کہ دشمن کے مقابلے میں فوج اسلام ثابت قدم ہو ، اس کے دل اللہ کے ساتھ مربوط ہو ، وہ رسول اور اپنے قائد کی مطیع فرمان ہو۔ اور اس کے افراد باہم نزاعات اور اختلاف سے مجتنب ہوں۔ اس راہ میں ان کو جو مشکلات در پیش ہوں ان کو برداشت کرنے والے ہوں اور اترانے اور دکھانے والے نہ ہوں اور نہ اپنی قوت کی وجہ سے سرکشی کرنے والے ہوں۔
جہاں تک ثبات اور جم جانے کا تعلق ہے تو یہ فتح ونصرت کی راہ میں پہلا قدم ہے۔ جو بھی میدان میں جم جائے گا وہی نصرت پائے گا۔ پھر جبکہ مسلمانوں کو اس کا بھی علم نہیں ہے کہ ان کا دشمن کس قدر مشکلات انگیز کر رہا ہے اور جس طرح ان کو دکھ پہنچ رہے ہیں ، دشمن کو بھی پہنچ رہے ہیں جبکہ اہل ایمان اللہ کی جانب سے عزا اور شہادت کی صورت میں مرتبوں کے امیدوار ہیں اور ان کو یہ امید بھی نہیں بلکہ جہنم یقینی ہے۔ مومن اللہ کے ہاں سے اجر پانے کی صورت میں امید کرتا ہے ۔ اس لیے وہ ثابت قدم رہتا ہے جبکہ ان کو کوئی امید ہی نہیں ہے۔ اگر وہ ذرا بھی صبر و ثبات کا مظاہرہ کریں تو دشمن ٹوٹنے ہی والا ہے۔ اہل اسلام تو دو بھلائیوں میں ایک ضرور پائیں گے۔ اور ان کو گارنٹی دے دی گئی ہے یا شہادت اور یا فتح و نصرت۔ جبکہ ان کے دشمن کو اس دنیاوی زندگی کی بھی گارنٹی نہیں ہے۔ جس پر وہ فدا ہے ، اس لیے کہ آخرت میں تو اس کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔
پھر جنگ میں ذکر الہی تو ایک دائمی زاد راہ ہے اور مومنین کو اس کی سخت تاکید کردی گئی ہے اور اہل ایمان مجاہدین نے ہمیشہ ذکر الہی کو زبان اور دل میں زندہ رکھا اور قرآن کریم میں اہل ایمان کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ، اس کا ذکر خصوصیت سے کیا ہے۔
اہل ایمان کی جانب سے ذکر الہی کا تذکرہ قرآن کریم بار بار کرتا ہے۔ ساحروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جب ایمان قبول کیا اور فرعون نے ان سے دھمکی آمیز خطاب کیا۔ تو ان کا جواب یہ تھا : وما تنقم منا الا ان امنا بایات ربنا لما جاء تنا ربنا افرغ علینا صبرا وتوفنا مسلمین اور تم ہم سے انتقام محض اس لیے لوگے کہ ہم اپنے رب کی آیات پر ایمان لائے ہیں ، جبکہ یہ آیت ہم تک پہنچ گئیں۔ اے ہمارے رب ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں اس حال میں مار کہ ہم مسلمان ہوں۔
اسی طرح بنی اسرائیل کی ایک قلیل فوج کے واقعات میں بھی اس صفت کا ذکر آیا ہے ۔ اس قلیل تعداد کا مقابلہ جب جالوت اور اس کی افواج کثیرہ سے آیا تو انہوں نے کہا ولما برزوا لجالوت و جنودہ قالوا ربنا افرغ علینا صبرا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکفرین۔ جب وہ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابلے پر نکلے تو انہوں نے دعا کی " اے ہمارے رب ہم پر صبر کا فیضان کر ، ہمارے قدم جما دے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر "
اسی طرح اسلامی تاریخ میں بیشمار مومن دستوں نے کفار کے مقابلے میں جو مواقف اختیار کیے ان کے بارے میں قرآن کریم یہ کہتا ہے :
وکاین من نبی قتل معہ ربیون کثیر فما وھنوا لما اصابہم فی سبیل اللہ وما ضدفوا وما استکانوا واللہ یحب الصبرین۔ وماکان قولہم الا ان قالوا ربنا اغفر لنا ذنوبنا واسرافنا فی امرنا وثبت اقدامنا وانصرنا علی القوم الکفرین : اس سے پہلے کتنے ہی نبی ایسے گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے ، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی اور وہ باطل کے آگے سرنگوں نہیں ہوئے۔ ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے۔ ان کی دعا بس یہی تھی " اے ہمارے رب ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرما۔ ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہوگیا ہو اسے معاف کردے ، ہمارے قدم جما دے اور کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر "
جماعت مومنہ کے دلوں میں یہ تعلیم خوب بیٹھ گئی۔ جب بھی اس کا مقابلہ دشمن سے ہوا کرتا تھا اس کا رویہ ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔ اس کے بعد جنگ احد میں جماعت مسلمہ کو مشکلات در پیش ہوئیں اور وہ دل شکستہ ہوگے اور بدر کے عین دوسرے دن جب اس شکست خوردہ لشکر کو دوبارہ پکارا گیا تو یہ تعلیم ان کے نفوس پر پوری طرح حاوی تھی۔ ان الذین قال لہم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوھم فزادھم ایمانا و قالوا حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔ وہ لوگ جن سے لوگوں نے کہا کہ لوگ تمہارے خلاف جمع ہوگئے ، لہذا ان سے ڈرو ، تو ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوگیا اور انہوں نے کہا : اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور اچھا مددگار ہے
دشمن کے آمنے سامنے ہونے کے وقت ذکر الہی کے بیشمار فوائد ہی ، ایک فائدہ یہ ہے کہ انسان کا رابطہ ایک ایسی قوت سے ہوجاتا ہے جس پر کوئی غالب قوت نہیں ہے ، پھر یہ اللہ پر بھروسہ ہے جو اپنے دوستوں کی بھرپور نصرت کرتا ہے۔ اس سے اس معرکے کی حقیقت ، اس کے اسباب اور اس کے مقاصد ذہن میں مستحضر رہتے ہیں ، کیونکہ یہ معرکہ اللہ کی خاطر لڑا جاتا ہے۔ اس کرہ ارض پر اللہ کی حکومت کے قیام کے لیے لڑا جاتا ہے اور ان طاغوتی طاقتوں کو ختم کرنے کے لیے لڑا جاتا ہے جنہوں نے ان کے حق اقتدار پر زبردستی قبضہ کرلیا ہے ، کیونکہ اس معرکے کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کیا جائے۔ یہ جنگ نہ ملک گیری کے لیے ہے نہ اموال غنیمت اور لوٹ مار کے لیے ہے۔ نہ شخصی حکومت کے قیام کے لیے ہے اور نہ قومی حکومت کے قیام کے لیے ہے۔ نیز اس حکم سے یہ تاکید بھی مقصود ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی انسان کو ذکر الہی سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔ یہ تمام اشارات نہایت ہی قیمتی اشارات ہیں اور اللہ کی ان تعلیمات کی وجہ سے یہ حقیقت کا روپ اختیار کرتے ہیں۔
الأنفال 8:46
رہا اللہ کی اطاعت اور اللہ کے رسول کی اطاعت کا حکم تو ان کا مقصد یہ ہے کہ معرکے میں داخل ہوتے ہی انسان سر تسلیم خم کردے اور وہ دواعی ہی ختم ہوجائیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان باہم نزاع پیدا ہوجاتی ہے۔ اور حکم یہ ہے ولا تنازعوا فتفشلوا و تذھب ریحکم " آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہوجائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی " لوگوں کے درمیان تنازعات صرف اس وقت سر اٹھاتے ہیں جب ان کی قیادت کے مراجع ایک سے زیادہ ہوجائیں اور وہ مختلف جہتوں سے ہدایات لینے والے ہوں یا وہ صرف اپنی خواہشات کے پیروکار ہوں اور ان کے افکار اور تصورات کا ماخذ صرف ان کے سفلی جذبات ہوں۔ اس کے مقابلے میں جب لوگ صرف اللہ اور رسول اللہ کے مطیع فرمان ہوں تو نزاع کی پہلی بڑی وجہ سرے سے ختم ہوجاتی ہے ، اگرچہ لوگوں کا نقطہ نظر مختلف ہے کیونکہ نزاع صرف اختلاف نقطہ نظر ہی کی وجہ سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس کا مبدا ہوائے نفس ہوتی ہے۔ ہوائے نفس کی وجہ سے ہر نقطہ نظر رکھنے والا شخص اپنے موقف پر اصرار شروع کردیتا ہے۔ اگرچہ اسے نظر آجائے کہ سچائی دوسری جانب ہے۔ اب ترازو کے ایک پلڑے میں ایک شخص کی ذات ہوتی ہے اور دوسرے پلڑے میں سچائی ہوتی ہے۔ اور ابتداء کے طور پر لوگ اپنی ذات کو سچائی پر ترجیح دے دیتے ہیں لہذا یہاں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ لوگ جنگ کے وقت اللہ اور رسول کی اطاعت کریں۔ یہ امر ڈسپلن کا تقاضا ہے اور معرکوں میں ڈسپلن اولین فیکٹر ہوتا ہے۔ یعنی اعلی کمان کی اطاعت اور پھر اس امیر کی اطاعت جو اس اعلی کمان کو چلاتا ہے۔ اسلام میں جو اطاعت ہوتی ہے وہ دلی اطاعت ہوتی ہے اور عام دنیاوی افواج کی طرح کی اطاعت نہیں ہوتی ، کیونکہ عام افواج کی معرکہ آرائی اللہ کے لی نہیں ہوتی۔ اور نہ ان کے افراد کے درمیان للہ فی اللہ اخوت ہوتی ہے۔ لہذا اسلامی افواج کے ڈسپلن اور سیکولر افواج کے ڈسپلن کے درمیان بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔
رہا صبر تو وہ معرکہ آرائی خصوصا اسلام کے لیے جنگ کرنے والوں کی اہم صفت ہوتی ہے۔ چاہے یہ معرکہ انسانی نفسیات کے اندر حق و باطل کے درمیان ہو یا قتال کے میدانمیں ہو۔ واصبرو ان اللہ مع الصابرین صبر سے کام لینے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
الأنفال 8:47
یہ ہدایات امت مسلمہ اور جماعت مجاہدین کی تطہیر کے لیے دی جا رہی ہیں کہ وہ قتال اور جہاد میں شرکت ایسے حالات میں نہ کریں کہ اپنی قوت اور کثرت پر اترا رہے ہوں اور اپنی قوت کو جو انہیں اللہ نے عطا کی ہے ان راہوں میں خرچ نہ کریں جن کے بارے میں اللہ کا حکم نہیں ہے۔ کیونکہ مومنین کے دستے قتال فی سبیل اللہ کے لیے نکلتے ہیں ، ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں اللہ کی بادشاہت نافذ ہو۔ لوگ صرف اللہ کے غلام ہوں اور یہ اس لیے علم جہاد بلند کرتے ہیں کہ ان تمام طاغوتی طاقتوں کو کرش کرکے رکھ دیں جنہوں نے لوگوں کو اپنا غلام بنا کر رکھا ہوا ہے اور جو طاقتیں زمین پر خدا کے مقابلے میں اپنی الوہیت قائم کر رہی ہیں حالانکہ اللہ کی جانب سے ان کو ایسا کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے۔ نہ اللہ کی شریعت ان کے اس فعل کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ علم اس لیے بلند ہوتا ہے کہ پورے کرہ ارض کے تمام انسانوں کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد کردیا جائے ، کیونکہ یہ غلامیاں انسان کی کرامت اور شرافت کے خلاف ہیں اور اسلامی دستے جہاد و قتال کے لیے نکلتے ہی اس لیے ہیں کہ لوگوں کی شرافت اور ان کی آزادی کا تحفظ ہو۔ ان کا مقصد اپنا اقتدار قائم کرنا ، زمین میں علو حاصل کرنا نہیں ہوتا۔ نہ ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا غلام بنائیں یا اتراتے پھریں اور انہیں اللہ نے جو قوت دی ہے اسے غلط مد میں صرف کریں۔ اس طرح اسلامی دستوں کے مقاصد میں ذاتی مقاصد کا کوئی حصہ نہیں ہوتا اور اگر انہیں نصرت نصیب ہوتی ہے اور وہ غالب ہوجاتے ہیں تو انہوں نے امتثال امر کیا ہوتا ہے ، اسلامی نظام حیات قائم کرتے ہیں ، اللہ کا کلمہ بلند کرتے ہیں اور اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کے طلبگار ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ معرکے کے نتیجے میں جو اموال غنیمت ملتے ہیں ، وہ ان سے بھی بےنیاز ہوتے ہیں۔
کون اترا کر نکلا تھا ، کون لوگوں کے سامنے اپنی قوت کی نمائش کر رہا تھا ؟ اور کون لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتا تھا ، یہ لوگ مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ یہ قریش کے لشکر کی شکل میں موجود تھے۔ جس طرح کہ یہ لشکر نکلا تھا۔ اور جو قریش فخر و مباہات کے ساتھ نکلے تھے ، ان کا انجام بھی مسلمانوں کے سامنے تھا اور جس طرح ذلیل و خوار ٹوٹ پھوٹ کا وہ شکار ہوچکے تے وہ بھی اہل اسلام کے سامنے تھی۔ اللہ تعالیٰ نے خود دستوں سے جو خطاب کیا اس کا مصداق ان کے سامنے تھا۔ ذرا دوبارہ ملاحظہ فرمائیں۔
وَلَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ بَطَرًا وَّرِئَاۗءَ النَّاسِ وَيَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭوَاللّٰهُ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ۔ اور ان لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ، جو کچھ وہ کر رہے ہیں ، وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔
اترانا اور شان دکھانا اور اللہ کے راستے سے روکنا ، یہ سب امور ابوجہل کے اس تبصرے سے ظاہر ہوتے ہیں۔ ابوجہل کے پاس جب ابوسفیان کا پیغام آیا ہے کہ میں ساحل کی جانب سے بچ کر نکل آیا ہوں اور آپ اپنے لشکر کو لے کر واپس ہوجائیں اس لیے کہ تمہیں محمد اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ قریش کی حالت یہ تھی کہ وہ ساتھ گانے والی لونڈیوں کو بھی لے کر چلے تھے۔ راستے پر گاتے بجاتے اور مویشی کاٹتے اور شراب و کباب کے دور چلاتے ہوئے آ رہے تھے۔ ابوجہل نے اس پیغام کے جواب میں کہا : " ہم اس وقت تک واپس نہ ہوں گے جب تک ہم بدر کے میدان میں پہنچ نہ جائیں ، تین دن قیام نہ کریں ، جانور نہ کاٹیں ، شراب نہ پئیں اور گانے بجانے کی محفلیں منعقد نہ کریں ، اگر ہم نے ایسا کیا تو تمام عرب ہم سے خوف کھائیں گے۔ جب ابو سفیان کا ایلچی واپس ہوا اور ابوجہل کا جواب پہنچایا تو ابوسفیان نے کہا : " افسوس کہ میری قوم کا کیا بنے گا ! یہ ابوجہل کی حرکت ہے۔ اس نے واپسی کو نہ پسند کیا کیونکہ ہی قوم کا لیڈر تھا ، اور اس نے سرکشی اختیار کی۔ سرکشی بہرحال ایک نقص ہے اور شگون بد ہے۔ اگر محمد نے اس لشکر کو کرش کردیا تو ہم ہمیشہ کے لیے ذلیل ہوجائیں گے۔ ابو سفیان کی فرات درست نکلی۔ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے اس لشکر کو تہس نہس کردیا اور اس اترانے کی وجہ سے لشکر کفار ذلیل ہوا ، اس لیے کہ وہ سرکشی ، دکھاوے اور راہ خدا کو روکنے کے مقاصد لیے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بدر میں ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ واللہ بما یعملون محیط۔ " جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ اللہ کی گرفت میں ہے " اللہ سے ان کی کوئی تدبیر بچ کر نہیں نکل سکتی۔ ان کی کوئی قوت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ان کی قوت اور ان کا علم سب کچھ اس کی گرفت میں ہے۔
اس سے آگے بیان کیا جاتا ہے کہ شیطان مشرکین کو مسلسل ابھار رہا تھا کہ وہ یہ جنگ لڑیں اور چونکہ یہ لوگ شیطان کے دھوکے میں آگئے تھے ، اس لیے ان کو اس طرح ذلیل ہونا پڑا۔ اور وہ شکست و ریخت کا شکار ہوئے۔
الأنفال 8:48
یہاں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے بارے میں متعدد روایات منقول ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی روایت بھی رسول اللہ ﷺ کی حدیث کا درجہ نہیں رکھتی۔ صرف ایک حدیث ہے جو امام مالک نے موطا میں نقل کی ہے۔ احمد روایت کرتے ہیں ، عبدالمالک ابن عبدالعزیز سے ، ابن الماجشون سے ، مالک سے ، ابراہیم ابن ابو عبلہ سے ، طلحہ ابن عبیداللہ ابن کریز سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ابلیس یوم عرفہ میں جس قدر چھوٹا سا ، حقیر سا غضبناک ہوتا ہے۔ اس قدر عام حالات میں نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ وہ دیکھتا ہے کہ اس دن رحمت نازل ہوتی ہے۔ اللہ گناہوں کو معاف فرماتے ہیں۔ ہاں یوم بدر کے دن بھی وہ ایسا ہی تھا۔ صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ حضور بدر کے دن اس نے کیا دیکھا تھا کہ ایسا تھا۔ اس نے اس دن دیکھا کہ حضرت جبرائیل ملائکہ کو تقسیم کر رہے ہیں۔
یہ حدیث مرسل بھی ہے اور اس میں عبدالمالک ابن عبد العزیز الماجشون راوی ہے جو ضعیف ہے۔
اس کے علاوہ جو آثار ہیں وہ حضرت ابن عباس سے ہیں اور ان سے یہ روایات بذریعہ علی ابن ابو طلحہ اور بذریعہ ابن جریج نقل ہیں۔ یا عروہ ابن زبیر بذریعہ ابن اسحاق ، قتادہ سے بذریعہ سعید ابن جبیر ، حسن اور محمد ابن کعب سے ان سب کو ابن جریر طبری نے روایت کیا ہے۔
مثنی سے ، عبداللہ ابن صالح سے ، معاویہ سے ، علی بن ابو طلحہ سے ، حضرت ابن عباس سے کہتے ہیں کہ ابلیس یوم بدر میں شیاطین کا ایک لشکر لے کر آیا۔ اس کے پاس جھنڈآ بھی تھا۔ یہ شخص بنی مدلج کے ایک شخص کی شکل میں تھا۔ خود شیطان سراقہ بن مالک ابن جعشم کی شکل میں تھا شیطان نے مشرکین سے کہا : " آج تم پر کوئی غآلب نہ ہوگا اور میں تمہارا پڑوسی ہوں " جب لوگوں نے صف آرائی کی تو رسول اللہ ﷺ نے مٹی کی ایک مٹھی لی۔ اور اسے مشرکین کے چہروں پر مارا۔ ان کو شکست ہوئی۔ حضرت جبرئیل ابلیس کی طرف متوجہ ہوئے تو اسکا ہاتھ مشرکین میں سے ایک شخص کے ہاتھ میں تھا تو اس نے اپنا ہاتھ اس مشرک سے چھڑایا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا ، اس کے ساتھ بھی بھاگے۔ ایک شخص نے کہا : اے سراقہ ! تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم ہمارے پڑوسی ہو۔ تو اس نے جواب دیا : " کہ میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھتے۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ، بیشک اللہ سخت عذاب دینے والے ہیں " یہ اس نے اس وقت کہا جب اس نے فرشتوں کو دیکھا۔
ابن حمید سے ، سلمہ سے ، ابن اسحاق سے ، یزید ابن رومان سے ، عروہ ابن الزبیر سے ، کہتے ہیں کہ جب قریش جمع ہو کر نکلنے لگے تو میں نے ان کے اور بنی بکر کے درمیان معاملات کا ذکر کیا ، یعنی جنگ کا۔ قریب تھا کہ وہ واپس ہوجائیں ، ہمیں اس وقت ابلیس سراقہ ابن مالک ، ابن جعشم المدلجی کی شکل میں ظاہر ہوا۔ یہ شخص کنانہ کے شرفاء میں سے تاھ۔ اس نے کہا کہ میں تمہارا ساتھی ہوں۔ اگر کنانہ تمہارے پیچھے کچھ اقدام کریں تو تم اسے پسند نہ کروگے۔ اس پر وہ بڑی تیزی سے نکلے۔
بشر ابن معاذ سے ، یزید سے ، سعید سے ، قتادہ سے۔ کہتے ہیں کہ آیت و اذ زین لہم الشیطن اعمالہم۔ سے واللہ شدید العقاب تک کی تفسیر میں یہ بات ذکر ہوئی ہے کہ شیطان نے دیکھا کہ حضرت جبرئیل نازل ہو رہے ہیں اور آپ کے ساتھ اور فرشتے ہیں۔ اس اللہ کے دشمن کو یہ یقین ہوگیا کہ فرشتوں کے مقابلے میں وہ تو کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ تو اس نے کہا " میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ، میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں " یہ الفاظ اس دشمن خدا نے جھوٹ بولے ہیں۔ اس کے دل میں خدا کا خوف نہیں ہے لیکن اس کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ وہ مقابلہ نہیں کرسکتا اور اللہ کے اس دشمن کی عات ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں کی قیادت کرتا ہے لیکن جب حق و باطل کا آمنا سامنا ہوتا ہے تو یہ اپنے ساتھیون کو بری طرح چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے اور ان سے اپنی براءت کا اعلان کرتا ہے۔
فی ظلال القرآن میں ہم نے جو منہاج اختیار کیا ہے اس کے مطابق ہم ان غیبی امور کے سات تعرض نہیں کرتے جن کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی کیونکہ غیبی امور کا تعلق اعتقادات سے ہوتا ہے اور اعتقادی امور کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن سے ثابت ہو یا سنت نبوی سے ثابت ہوں لیکن ہمارا یہ طریقہ بھی نہیں ہے کہ ہم ہر غیبی امر کا انکار کردیں اسلیے کہ یہ غیبی ہے۔
یہاں قرآن کریم کی آیت اس بات کی صراحت کرتی ہے کہ شیطان نے مشرکین کے اعمال کو ان کے لیے مزین بنا دیا تھا۔ شیطان نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف لشکر کشی کریں اور یہ کہ وہ ان کی امداد کرے گا۔ اور بعدہ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے اور انہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو یہ شیطان الٹے پاؤں بھاگا اور کہا کہ میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نے نہیں دیکھا۔ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔ اس طرح شیطان نے ان کو ذلیل کیا اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ تاکہ وہ اپنے انجام تک خود پہنچیں اور اس نے ان کے ساتھ جو عہد کیا اس کو پورا نہ کیا۔
اب یہ کیفیت کیسی ہے کہ شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے مزین کیا اور کس طرح اس نے باور کرایا کہ آج مشرکین کے خلاف کوئی غالب و برتر نہیں ہے اور کس طرح اس نے امداد کا وعدہ کیا اور کس طرح وہ بھاگا۔ یہ سب تفصیلات قرآن میں نہیں ہیں۔
یعنی ان واقعات کی تفصیلی کیفیت کے بارے میں ہم جزم کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے اس لیے کہ شیطان اور اس کی سرگرمیاں سب کی سب غیبی امور سے متعلق ہیں۔ اور ہم اس کے بارے میں کوئی جزمی اور یقینی بات نہیں کہہ سکے جب تک کوئی صریح نص نہ ہو۔ نص قرآن میں حادثہ اور واقعہ کا ذکر تو ہے لیکن تفصیلی کیفیات یہاں مذکور نہیں ہیں۔
یہاں آکر ہمارا اجتہاد ختم ہوجاتا ہے۔ ہم اس معاملہ میں جناب محمد عبدہ کے مکتب فکر کی رائے کو اختیار نہیں کرتے جو اس قسم کے تمام غیبی امور کے سلسلے میں ایک متعین انداز تاویل اختیار کرتے ہیں کہ ان غیبی جہانوں میں وہ ہر قسم کے حسی اعمال کا انکار کرتے ہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں شیخ رشید رضا یہ فرماتے ہیں :
و اذ زین لھم الشیطن اعمالھم " اے پیغمبر مومنین کو یہ بات یاد دلائیں کہ شیطان نے اپنے وسوسوں کے ذریعہ ان مشرکین کے سامنے ان کے اعمال کو خوشنما بنا دیا تھا۔ اور ان کے دلوں میں یہ جذبات ڈال دیے تھے کہ وہ یہ کہتے تھے کہ آج ان پر کوئی غالب نہیں ہے۔ محمد کے ضعیف و ناتواں متبعین بھی اور عربوں کے دوسرے قبائل بھی اس لیے کہ تم تعداد اور سازوسامان میں ان سے زیادہ ہو اور تمہارے فوجی ان سے زیادہ جنگجو ہیں اور ان حالات کے ساتھ ساتھ میں تمہارا مدگار ہوں۔ بیضاوی نے کہا ہے کہ اس نے ان کے وہم میں یہ بات ڈال دی کہ وہ جو اس کی اطاعت کرتے ہیں تو یہ ان کا مددگار ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ یہ دعا کرتے تھے " اے اللہ ان دو گروہوں میں سے جو زیادہ ہدایت پر ہو ، اس کی مدد کر اور ان دو ادیان میں سے جو دین زیادہ حق پر ہو اس کی امداد کر "۔
فَلَمَّا تَرَاۗءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰي عَقِبَيْهِ ۔ یعنی جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہوئے اور وہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور حالات کو سمجھنے لگے۔ اس سے پہلے کہ لوگ ایک دوسرے پر وار کریں اور قبل اس کے کہ میدان کارزار گرم ہو ، شیطان بھاگ گیا اور الٹے پاؤں لوٹا یعنی پیچھے کی طرف اور جن مفسرین نے تری کا معنی یہ کیا کہ جب لوگ میدان کارزار میں ٹکرا گئے تو ان کی مراد غلط ہے۔ معنی یہ ہوا کہ شیطان اب ان کے لیے ان کے اعمال کی تزئین بند کردیتا ہے اور اب انہیں ورغلانا ترک کردیتا ہے۔ اب یہ کلام ایک قسم کی تمثیل ہے اور اس میں شیطان کی وسوسہ اندازی کو آنے والے شخص سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس وسوسہ اندازی کو ترک کرنے کے فعل کو اس شخص سے تشبیہ دی گئی جو پیچھے کی طرف الٹے پاؤں پھرتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کردیا کہ اس کی جانب سے ان لوگوں کے ساتھ اپنے تعلق کی براءت کا ذکر کردیا اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا۔ وَقَالَ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّنْكُمْ ۔ یعنی اس نے اعلان کردیا کہ وہ ان سے بری الذمہ ہے۔ اور جب اس نے دیکھا کہ فرشتے مسلمانوں کی امداد کر رہے ہیں ، وہ مایوس ہوگیا۔ واللہ شدید العقاب۔ یہ شیطان کا قول بھی ہوسکتا ہے اور جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ان سب باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ شیطان کی فوجیں مشرکین کی صفوں میں پھیلی ہوئی تھیں اور ان کے دلوں میں وسوسے ڈال رہی تھیں یعنی ان کے ارواح سے مل کر ان کو دھوکہ دے رہی تھیں اور دوسری جانب سے فرشتے مسلمانوں کی صفوں میں پھیلے ہوئے تھے اور یہ مسلمانوں کی پاک روحوں میں وہ ڈالتے تھے کہ جس سے ان کے دل مضبوط ہوتے تھے اور اللہ کی جانب سے ان کو نصرت کا جو وعدہ تھا ، اس پر ان کا یقین اور مضبوط ہوجاتا تھا۔
یہ رجحان کہ ملائکہ کے افعال اور ان کا حصہ اس جنگ میں صرف یہی تھا کہ وہ مسلمانوں کو روحانی امداد دیتے تھے۔ مصنف دوسری جگہ صراحت سے یہ اظہار کرتے ہیں کہ یوم بدر میں فرشتوں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ یہ ایک غلط رجحان ہے کیونکہ قرآن مجید میں دوسری جگہ آتا ہے۔ فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منھم کل بنان۔ " پس تم ان کی گردنوں پر مارو اور ان کے ہر جوڑ پر ضرب لگاؤ " شیطان کے افعال کی ایسی تشریح کہ وہ محض روحانی اتصال ہو یہ معنی محمد عبدہ کہ مکتب فکر کی اہم خصوصیت ہے۔ ایسی ہی تاویل وہ ابابیل سے متعلق بھی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دراصل چیچک کے جراثیم تھے اور یہ استاد محمد عبدہ کی تفسیر پارہ عم میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان آیات کی تاویل میں یہ بہت ہی مبالغہ ہے اور اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہاں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو الفاظ کی ظاہری تفسیر کو ناممکن بناتی ہو۔ ہاں ہم صرف اسی قدر کہہ سکتے ہیں کہ ان آیات میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو ان واقعات کی تفصیلی کیفیت کو ظاہر کرتی ہو اور یہی طریق کار ہم نے اختیار کیا ہے۔
غرض اس طرف شیطان ان مشرکین کو دھوکہ دے رہا تھا جو اتراتے ہوئے اپنے گھروں سے نکلے تھے اور اپنی پوزیشن لوگوں کو دکھاتے آ رہے تھے اور ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں ، شیطان ان کو لشکر کشی پر آمادہ کر رہا تھا۔ اور پھر عین موقعہ میں ان کو چھوڑ کر بھاگ گیا۔ دوسری جانب مدینہ کے منافقین اور مریض لوگ دل ہی دل میں خوش تھے اور کہتے تھے کہ یہ لشکر تباہی کے راستے پر چل نکلا ہے۔ مشرکین کی عظیم قوت سے اس کا مقابلہ ٹھہرا ہے۔ جبکہ یہ لوگ قلیل تعداد میں ہیں اور ان کی تیار بھی کوئی نہیں ہے۔ یہ لوگ امور کو صرف ظاہری طور پر دیکھتے تھے۔ اور بظاہر یہ بات نظر آتی تھی کہ اہل ایمان نے اپنے آپ کو بڑی تباہی سے دوچار کردیا تھا یہ لوگ اپنے نئے دین کی وجہ سے دھوکے میں تھے اور انہیں اپنی نصرت کا پورا پورا یقین تھا۔ یہ تھے منافقین کے خیالات۔
الأنفال 8:49
منافقین جو دل کے مریض ہوتے ہیں یہ تعداد میں اکثر کم ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو مکہ میں تھے اور اسلام کی طرف مائل ہوگئے تھے لیکن ان کے عقائد صحیح نہ تھے اور نہ ہی ان کے دل اسلام پر مطمئن ہوئے تھے۔ یہ لوگ بھی اس مکی لشکر کے ساتھ چلے آئے تھے۔ لیکن یہ مذبذب تھے۔ ڈھل مل یقین۔ یہ تبصرہ ایسے لوگوں کا تھا کہ جنہوں نے دیکھا کہ مسلمان کم ہیں اور مشرکین بہت زیادہ ہیں۔
یہ منافقین جن کے دلوں میں بیماری ہوتی ہے۔ در اصل فتح و نصرت کے حقیقی اسباب سے باخبر ہی نہ تھے۔ یہ صرف ظاہری حالات کو دیکھ پاتے تھے اور ان کو اس قدر بصیرت یہ دی گئی تھی کہ وہ پوشیدہ امور کو یا ان حقائق کو سمجھتے جو بظاہر نظر نہیں آتے۔ ان کو پتہ نہ تھا کہ نظریات کے اندر کس قدر قوت ہوتی ہے۔ مومن کو اللہ پر بھروسہ کس قدر ہوتا ہے۔ وہ کس قدر متوکل ہوتا ہے اور اگر بڑے بڑے لشکر ہوں اور ایمان باللہ نہ ہو تو ان کے اندر کوئی قوت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ اگرچہ مسلمانوں کو فریب خوردہ کہتے تھے اور اپنے دین کے بارے میں ان کو مغرور کہتے تھے۔ یہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ اپنے اپ کو ہلاکت کے گڑھے کے دہانے پر لا رہے ہیں کیونکہ مشرکین سیلاب کی طرح بہے چلے آ رہے تھے لیکن ان کا یہ نقطہ نظر غلط تھا۔
ایک نظر آنے والی صورت حال ایک مومن کی نظر میں اور ایک غیر مومن دیکھنے والے کی نظر میں بظاہر یکساں ہوتی ہے۔ رہا باطن اور حقیقی قدر و قیمت تو اس اعتبار سے دونوں کے نزدیک وزن و پیمانے میں فرق ہوجاتا ہے۔ ایک غیر مومن ذہن کو صرف ظاہری صورت حالات ہی نظر آتی ہے اور پس منظر اس کی نظروں سے اوجھل ہوتا ہے۔ لیکن ایک مومن کی نظر دور رس ہوتی ہے اور اسے ظاہری صورت حالات سے آگے بھی کچھ حقائق نظر آتے ہیں۔ مومن ظاہری صورت حال سے وراء اس کی حقیقت کا ادراک بھی رکھتا ہے اور وہ حقیقی وزن اور قدر متعین کرتا ہے۔
وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ۔ " حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔ یہ ہے وہ بات جسے قلب مومن سمجھ سکتا ہے اور اس حقیقت پر وہ مطمئن ہوجاتا ہے اور جن دلوں میں ایمان نہیں ہوتا ، ان سے یہ حقیقت اوجھل ہوتی ہے۔ اس لیے وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ اس وجہ سے مومن کا پلڑا بھاری ہوتا ہے اور نتیجہ اس کے حق میں ہوتا ہے اور آخر کار ہر معاملے میں یہ حقیقت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ ہر دور اور ہر جگہ یہ حقیقت فیصلہ کن ہوتی ہے۔
بدر کے سلسلے میں منافقین اور دل کے روگی جو یہ کہتے ہیں " کہ ان لوگوں کو ان کے دین نے خبط میں مبتلا کردیا ہے " یہ بات ہر دور کے منافقین اور مریض ذہنیت کے لوگ کہتے رہتے ہیں۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ طاغوتی قوتیں زوروں پر ہیں۔ لیکن اس دین کا اصل سازوسامان اس کا یہ عقیدہ ہے جس کے اندر بذات قوت دافعہ ہے۔ یہ کہ جماعت مومن اللہ کی عزت اور برتری کی خاطر لڑ رہی ہوتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اللہ غیور ہے اور وہ اپنے دوستوں کی ہر وقت مدد کرتا ہے۔
منافقین اور مریض ذہنیت کے لوگ تماشے کر رہے ہیں اور وہ دیکھتے ہیں کہ جماعت مسلمہ طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ یہ لوگ ان کو حقارت آمیز نظر سے دیکھتے ہیں جبکہ جماعت مسلمہ خطرات کا مقابلہ کر رہی ہے اور ان کو ہیچ سمجھتی ہے۔ یہ مریض اور منافقین جب دیکھتے ہیں کہ جماعت مسلمہ خطرات میں کودتی ہے تو ان کو پہلے تعجب ہوتا ہے اور پھر ان پر دہشت طاری ہوجاتی ہے۔ کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ واضح خطرات میں کود رہے ہیں۔ اس قدر جرات اور تہور کی کوئی حققی وجہ ان کی سمجھ میں نہیں آتی اور نہ ان کو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو کیوں ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ یہ لوگ دین اور نظریہ کو بازار کی تجارت سمجھتے ہیں ، اگر اس میں ان کو واضح فائدہ نظر آئے تو یہ اس میں اقدام کرتے اور اگر واضح فائدہ نظر نہ آئے تو سلامتی میں عافیت سمجھتے ہیں۔ یہ معاملات کو مومنانہ نظر سے نہیں دیکھتے اور نتائج کو بھی ایمان کے پیمانے سے نہیں ناپتے۔ لیکن مومن کے نقطہ نظر سے تو یہ کاروبار ہمیشہ ہی نفع بخش رہتا ہے۔ دو اچھے نتائج میں سے کوئی ایک نتیجہ ضرور ظاہر ہوتا ہے یا تو مومن فتح یاب اور غالب ہوتا ہے اور یا وہ سیدھا جنت میں داخل ہوتا ہے۔ رہی ذات باری تو منافقین اور مریض ذہنیت کے لوگوں کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔
قرآن کریم اہل ایمان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ تمام امور کو دین و ایمان کے نقطہ نظر سے دیکھیں اور مومنانہ بصیرت کے ساتھ معاملات کا جائزہ لیں۔ اللہ کے نور اور اس کی ہدایات کی روشنی میں امور کو دیکھیں اور طاغوتی قوتوں کی عظمت کو خاطر میں نہ لائیں اور اپنی قوت اور اپنے وزن کو کم نہ سمجھیں کیونکہ اللہ کی ذات ان کے ساتھ ہے۔ اور ان کے دل میں ہمیشہ یہ بات تازہ رہنی چاہیے کہ " جس نے اللہ پر توکل اور بھروسہ کیا تو یقیناً اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے "۔
الأنفال 8:50
اب اللہ اس معرکے میں ربانی قوتوں کے عمل و دخل کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ اس منظر میں فرشتے کام کر رہے ہیں۔ چشم بصیرت سے اس منظر کو دیکھو۔ فرشتے اس معرکے میں شریک ہیں۔ اور کفار کی پکڑ دھکڑ انہوں نے شروع کردی ہے۔ ان کی روحوں کو نہایت ہی حقارت سے قبض کر رہے ہیں اور ان کو سخت سے سخت اذیت دے رہے ہیں۔ یہ محض اس لیے کہ یہ لوگ نہایت ہی تکبر سے اتراتے ہوئے شان و شوکت سے آ رہے تھے۔ اس میں ان کو بتایا جاتا ہے کہ اس سخت اور مشکل وقت میں تمہارے ساتھ یہ سلوک تمہارے اعمال بد کی وجہ سے ہورہا ہے اور اس میں تم پر کوئی بھی ظلم نہیں ہے۔ پھر اس منظر کشی کے بعد بتایا جاتا ہے کہ جھٹلانے کی وجہ سے کفار کو جو سزا دی جاتی ہے یہ اللہ کی ایک جاری سنت ہے۔ جس طرح آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔
اور یہ اس اصول کے مطابق کہ اللہ جب کسی قوم پر انعام کرتا ہے تو وہ اس وقت تک اپنے انعامات کو واپس نہیں لیتا ، جب خود ان اقوام کا رویہ بدل نہیں جاتا۔ اسی اصول کے مطابق اللہ نے فرعون اور اس سے پہلے کی اقوام کے ساتھ معاملہ کیا۔ اور آئندہ بھی جو قوم ایسی روشن اختیار کرے گی ، اللہ کا سلوک بھی ویسا ہی ہوگا۔
تفسیر آیت 50 ، 51 ۔
ان دو آیات سے مراد یوم بدر میں کام آنے والے مشرکین سے ہے۔
کیونکہ ملائکہ اس معرکے میں شریک تھے۔ جس طرح کہا گیا : فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منہم کل بنان۔ ذلک بانہم شاقوا اللہ ورسولہ و من یشاقق اللہ ورسولہ فان اللہ شدید العقاب : " پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ۔ یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت ہی سخت گیر ہے۔
اگرچہ ہمیں اس مار اور جوڑ جوڑ پر ضرب لگانے کی تفصیلی کیفیت کا علم نہیں ہے ، جس طرح نویں پارے میں اس آیت پر بحث کرتے ہوئے ہم نے کہا تھا۔ لیکن اگر ہمیں کسی مفہوم کی تفصیلی کیفیت کا علم نہ ہو یا ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم آیت کو اپنے ظاہری مفہوم سے پھیر دیں۔ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ملائکہ کو حکم تھا کہ وہ ماریں ، اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ملائکہ اللہ کے کسی حکم سے سرتابی ہی نہٰں کرتے۔ وہ تو وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ تو یہ دونوں آیات گویا واقعات بدر کو یاد رکھنے کی طرف اشارہ ہوگا اور یہ بتانا مقصود ہوگا کہ یہ بات بھی واقعات بدر میں شامل ہے کہ اس دن کفار کے ساتھ یہ یہ سلوک ہوا۔
لیکن یہ آیات بتا رہی ہیں کہ جب بھی کفار پر موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے ان کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں فرشتوں کا یہ سلوک مقتولین بدر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اور یہ خطاب ولوتری گویا تمام اہل ایمان کے لیے ہوگا۔ اور یہ انداز کلام قرآن ہر اس مقام پر اختیار کرتا ہے جہاں لوگوں کو ایک کھلے منظر کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ جسے ہر دیکھنے والا دیکھ سکتا ہو۔
بہرحال ان دو آیات کی جو تفسیر بھی ہو اہل کفر کے قبض روح کا نظارہ نہایت ہی خوفناک ہے۔ ملائکہ ان کے اجسام سے ان کی روح کو نہایت ہی توہین آمیز انداز میں کھینچ لیتے ہیں اور اس حقارت و توہین کے ساتھ ساتھ یہ لوگ عذاب شدید میں مبتلا ہوتے ہیں۔
" کاش تم اس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے مقتول کافروں کی روحیں قبض کر رہے تھے۔ وہ ان کے چہروں اور ان کے کو لہوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے "
اب یہاں سے آگے بیانیہ انداز کے بجائے براہ راست خطاب شروع ہوتا ہے :
" لو اب جلنے کی سزا بھگتو " اور انداز خطاب اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ منظر آنکھوں کے سامنے آجائے ، گویا جہنم اس کی اگ اور جلنے کے عمل کے ساتھ موجود ہے اور لوگوں کو اس میں پھینکا جا رہا ہے۔ لعنت و پھٹکار بھی ہو رہی ہے۔
" یہ وہ جزاء ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا " اس لیے تمہیں جو سزا دی جا رہی ہے یہ عادلانہ سزا ہے۔ تم اس کے مستحق ہو اور تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے ورنہ " اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے "
یہ آیت جو جہنم کئ جلانے والے عذاب کی تصویر کشی کرتی ہے ، اس کو پڑھ کر ایک سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ آیا یہ تہدید جو ملائکہ کی طرف سے انہیں دی جا رہی ہے آیا اس عذاب کی ہے جو قیامت کے دن انہیں حساب و کتاب کے بعد دیا جائے گا یا کفار کے مجرد قبض روح کے ساتھ ہی جہنم رسید ہوجاتے ہیں۔
یہ دونوں صورتیں ممکن ہیں اور جائز ہیں۔ اور دنوں مفہوم ان آیات سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ اس سے زیادہ ہم اس پر کوئی بحث نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ ایک غیبی امر ہے اور اللہ نے اسے اپنے علم میں محفوظ کرلیا ہے۔ ہم پر فرض یہی ہے کہ ہم اس پر یقین کرلیں۔ ایسا ہوگا اور کوئی بات اس میں مانع نہیں ہے۔ ایسا کب ہوگا۔ مرتے وقت یا بعد الحساب تو یہ اللہ کے علم میں ہے جو علام الغیوب ہے۔
الأنفال 8:51
اب اللہ اس معرکے میں ربانی قوتوں کے عمل و دخل کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ اس منظر میں فرشتے کام کر رہے ہیں۔ چشم بصیرت سے اس منظر کو دیکھو۔ فرشتے اس معرکے میں شریک ہیں۔ اور کفار کی پکڑ دھکڑ انہوں نے شروع کردی ہے۔ ان کی روحوں کو نہایت ہی حقارت سے قبض کر رہے ہیں اور ان کو سخت سے سخت اذیت دے رہے ہیں۔ یہ محض اس لیے کہ یہ لوگ نہایت ہی تکبر سے اتراتے ہوئے شان و شوکت سے آ رہے تھے۔ اس میں ان کو بتایا جاتا ہے کہ اس سخت اور مشکل وقت میں تمہارے ساتھ یہ سلوک تمہارے اعمال بد کی وجہ سے ہورہا ہے اور اس میں تم پر کوئی بھی ظلم نہیں ہے۔ پھر اس منظر کشی کے بعد بتایا جاتا ہے کہ جھٹلانے کی وجہ سے کفار کو جو سزا دی جاتی ہے یہ اللہ کی ایک جاری سنت ہے۔ جس طرح آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کے ساتھ یہی کچھ ہوتا رہا ہے۔
اور یہ اس اصول کے مطابق کہ اللہ جب کسی قوم پر انعام کرتا ہے تو وہ اس وقت تک اپنے انعامات کو واپس نہیں لیتا ، جب خود ان اقوام کا رویہ بدل نہیں جاتا۔ اسی اصول کے مطابق اللہ نے فرعون اور اس سے پہلے کی اقوام کے ساتھ معاملہ کیا۔ اور آئندہ بھی جو قوم ایسی روشن اختیار کرے گی ، اللہ کا سلوک بھی ویسا ہی ہوگا۔
تفسیر آیت 50 ، 51 ۔
ان دو آیات سے مراد یوم بدر میں کام آنے والے مشرکین سے ہے۔
کیونکہ ملائکہ اس معرکے میں شریک تھے۔ جس طرح کہا گیا : فاضربوا فوق الاعناق واضربوا منہم کل بنان۔ ذلک بانہم شاقوا اللہ ورسولہ و من یشاقق اللہ ورسولہ فان اللہ شدید العقاب : " پس تم ان کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ۔ یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور رسول کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت ہی سخت گیر ہے۔
اگرچہ ہمیں اس مار اور جوڑ جوڑ پر ضرب لگانے کی تفصیلی کیفیت کا علم نہیں ہے ، جس طرح نویں پارے میں اس آیت پر بحث کرتے ہوئے ہم نے کہا تھا۔ لیکن اگر ہمیں کسی مفہوم کی تفصیلی کیفیت کا علم نہ ہو یا ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہم آیت کو اپنے ظاہری مفہوم سے پھیر دیں۔ ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے ملائکہ کو حکم تھا کہ وہ ماریں ، اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ملائکہ اللہ کے کسی حکم سے سرتابی ہی نہٰں کرتے۔ وہ تو وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ تو یہ دونوں آیات گویا واقعات بدر کو یاد رکھنے کی طرف اشارہ ہوگا اور یہ بتانا مقصود ہوگا کہ یہ بات بھی واقعات بدر میں شامل ہے کہ اس دن کفار کے ساتھ یہ یہ سلوک ہوا۔
لیکن یہ آیات بتا رہی ہیں کہ جب بھی کفار پر موت کا وقت آتا ہے تو فرشتے ان کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں فرشتوں کا یہ سلوک مقتولین بدر کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اور یہ خطاب ولوتری گویا تمام اہل ایمان کے لیے ہوگا۔ اور یہ انداز کلام قرآن ہر اس مقام پر اختیار کرتا ہے جہاں لوگوں کو ایک کھلے منظر کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ جسے ہر دیکھنے والا دیکھ سکتا ہو۔
بہرحال ان دو آیات کی جو تفسیر بھی ہو اہل کفر کے قبض روح کا نظارہ نہایت ہی خوفناک ہے۔ ملائکہ ان کے اجسام سے ان کی روح کو نہایت ہی توہین آمیز انداز میں کھینچ لیتے ہیں اور اس حقارت و توہین کے ساتھ ساتھ یہ لوگ عذاب شدید میں مبتلا ہوتے ہیں۔
" کاش تم اس حالت کو دیکھ سکتے جبکہ فرشتے مقتول کافروں کی روحیں قبض کر رہے تھے۔ وہ ان کے چہروں اور ان کے کو لہوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے "
اب یہاں سے آگے بیانیہ انداز کے بجائے براہ راست خطاب شروع ہوتا ہے :
" لو اب جلنے کی سزا بھگتو " اور انداز خطاب اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ یہ منظر آنکھوں کے سامنے آجائے ، گویا جہنم اس کی اگ اور جلنے کے عمل کے ساتھ موجود ہے اور لوگوں کو اس میں پھینکا جا رہا ہے۔ لعنت و پھٹکار بھی ہو رہی ہے۔
" یہ وہ جزاء ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کر رکھا تھا " اس لیے تمہیں جو سزا دی جا رہی ہے یہ عادلانہ سزا ہے۔ تم اس کے مستحق ہو اور تمہارے اعمال کا نتیجہ ہے ورنہ " اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے "
یہ آیت جو جہنم کئ جلانے والے عذاب کی تصویر کشی کرتی ہے ، اس کو پڑھ کر ایک سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ آیا یہ تہدید جو ملائکہ کی طرف سے انہیں دی جا رہی ہے آیا اس عذاب کی ہے جو قیامت کے دن انہیں حساب و کتاب کے بعد دیا جائے گا یا کفار کے مجرد قبض روح کے ساتھ ہی جہنم رسید ہوجاتے ہیں۔
یہ دونوں صورتیں ممکن ہیں اور جائز ہیں۔ اور دنوں مفہوم ان آیات سے اخذ کیے جاسکتے ہیں۔ اس سے زیادہ ہم اس پر کوئی بحث نہیں کرتے۔ کیونکہ یہ ایک غیبی امر ہے اور اللہ نے اسے اپنے علم میں محفوظ کرلیا ہے۔ ہم پر فرض یہی ہے کہ ہم اس پر یقین کرلیں۔ ایسا ہوگا اور کوئی بات اس میں مانع نہیں ہے۔ ایسا کب ہوگا۔ مرتے وقت یا بعد الحساب تو یہ اللہ کے علم میں ہے جو علام الغیوب ہے۔
الأنفال 8:52
بدر کے حالات پر ایک سرسری نظر ڈالنے کے بعد اب سیاق کلام ایک قاعدہ کلیہ کے بیان کی طرف منتقل ہوجاتا ہے یہ واقعہ اور یہ منظر اسی کلیہ کا ایک جزئیہ ہے۔ یہ کہ اہل کفر کو نہایت ہی توہین آمیز انداز میں گرفت میں لینا ایک جاری وساری سنت ہے اور اس میں کوئی تبدیلی کبھی بھی نہیں ہوتی۔ یہ سلوک اس وقت سے جاری ہے جب سے اللہ نے حق و باطل کی کشمکش کو اس جہاں میں چلایا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت نہیں ہے کہ لوگوں کو سمندر کی لہروں کے حوالے کردے یا ان کو اتفاقات زمانہ کے سپرد کردے اور وہ کسی اصول اور ضابطے کے پابند نہ ہوں۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات کو اپنے ضابطہ قضا و قدر کا پابند کیا ہے۔ مشرکین کو یوم بدر میں جو حالات پیش آئے یا آئندہ بھی وہ جن حالات سے دو چار ہوں گے۔ وہ اللہ اور اس کے نظآم قضا و قدر کے مطابق ہیں۔ اور اسی نظام کے مطابق فرعون اور اس سے پہلے کے اہل کفر کے ساتھ ہوا۔
" انہوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اللہ نے ان کے گناہوں پر ان کو پکڑ لیا " اور انہوں نے اللہ کی پکڑ میں اپنی کوئی مدافعت نہ کرسکی اور نہ وہ اس عذاب سے بچ سکے ، اس لیے کہ " بیشک اللہ قوت رکھتا ہے اور سخت سزا دینے والا ہے "
اللہ نے ان لوگوں پر انعامات کی بارش کی۔ ان پر فضل و کرم کرکے انہیں بہت کچھ دیا۔ زمین پر ان کا اقتدار قائم کیا اور وہ اس اقتدار کے وارث بنے ، لیکن اللہ یہ سب چیزیں جسے بھی دیتا ہے وہ برائے امتحان دیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ یہ لوگ شکر کرتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے شکر نہ کیا بلکہ ناشکری کا مظاہر کیا بلکہ انہوں نے بغاوت و سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ ان انعامات اور قوتوں کی وجہ سے وہ جبار وقہار بن گئے۔ اور فسق و فجور میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو طاغوتی قوت کی شکل دے دی۔ ان کے پاس اللہ کی آیات و معجزات آئے تو انہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا۔ لہذا اب وہ اس بات کے مستحق ہوگئے کہ انہیں اس قانون کے تحت پکڑا جائے جو اس کائنات کے لیے سنت جاریہ ہے کہ جب اللہ کی آیات کسی تک پہنچ جاتی ہیں اور لوگ ان کی تکذیب کرتے ہیں تو اللہ انہیں پکڑتا ہے اور ان کو پیش کرکے رکھ دیتا ہے۔
الأنفال 8:53
اللہ نے انہیں تب ہلاک کیا جب انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔ اس سے قبل ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی۔ باوجودیکہ وہ کافر تھے کیونکہ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے اور اس کا کرم ہے کہ اس نے یہ اصول مقرر کیا ہے۔ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیج دیں۔ یہاں آل فرعون اور ان سے پہلے یہ اقوام جن کے پاس آیات الہی بھیجی گئیں اور انہوں نے تکذیب کی اور اللہ نے ان پر ہلاکت و بربادی نازل کی۔ یہ کارروائی ان کے خلاف کیون کی گئی ، اس لیے کہ (وہ ظالم تھے) یہاں لفظ ظلم بمعنی کفر یا شرک استعمال ہوا ہے۔ اور قرآن کریم میں یہ لفظ اکثر انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
یہاں اس آیت پر قدے گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے :
" یہ اس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو ، اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی "
اللہ کی جانب سے بندوں کے ساتھ عدل و انصاف کا یہ ایک اہم پہلو ہے۔ اللہ نے جس بندے کو بھی کوئی نعمت دی ہے ، وہ اس سے اللہ اس وقت تک نہیں چھینتا جب خود بندہ اپنی نیت نہیں بدل دیتا۔ اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتا ، اور اپنے طور طریقوں کو نہیں بدل دیتا۔ اور اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں بنا لیتا کہ اللہ ان سے وہ نعمت چھین لے جو ان کو دی گئی۔ کیونکہ یہاں جسے بھی جو کچھ دیا جاتا ہے ، وہ آزمائش اور ابتلا کے لیے دیا جاتا ہے اور جب بندے اس عطا کی قدر نہیں کرتے اور اس کا شکر نہیں بجا لاتے تو وہ ان سے یہ عطا واپس لے لیتا ہے۔ اور اس میں ایک پہلو انسان کی عظمت اور تکریم کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نظام قضا و قدر اور اخذ و عطا کو خود انسان کے طرز عمل کے ساتھ منسلک کردیا ہے اور اپنے نظام قضا و قدر کو یوں چلاتا ہے کہ جس طرح انسان چلے اور کرے ویسا بھرے۔ انسان جو عمل اختیار کرے ، اس کی نیت جس طرح کام کرتی ہے اور وہ اپنے لیے جو راہ ، جو طرز عمل اور جو رویہ اختیار کرتے ہیں اس کے مطابق نظام قضاوقدر ان کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ ایک تیسرا پہلو یہ ہے کہ یہاں حضرت انسان پر اس کے اعمال کی عظیم ذمہ داری بھی عائد کی جاتی ہے۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ اسے یہ موقعہ بھی دیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اللہ کے انعامات اور اس کے فضل و کرم کے جواب میں شکر نعمت کرکے ان میں اور اضافہ کرالے جس طرح ناشکری کے نتیجے میں یہ انعامات زائل بھی ہوجاتے ہیں۔
یہ ایک اہم حقیقت ہے اور اسلام کے تصور انسان میں یہ حقیقت تو بہت اہم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کائنات میں نظام قضا و قدر کا مقام انسانیت کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ اور انسان کا اس کائنات کے ساتھ کیا رابطہ ہے جس میں وہ رہا ہے ؟ اس نظام قضا و قدر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں انسان کی اہمیت کس قدر ہے۔ اور اس پہلو سے اسلام نے انسان کو کس قدر اعزاز بخشا ہے کہ انسان کے اپنے معاملات میں اور اس کائنات میں رونما ہونے والے بڑے بڑے انقلابات میں انسان کی روش کو اہم فیکٹر قرار دیا گیا ہے۔ اور انسان کی اس مثبت روش ہی سے مثبت نتائج اور اس کی منفی روش سے اسے منفی اور ناخوشگوار نتائج سے دوچار ہونا پڑتا ہے جبکہ انسان کے بارے میں آج کا مادی تصور یہ ہے کہ اس میں وہ ایک ذلیل و حقیر مخلوق ہے اور وہ مادیت کے جبری قوانین میں جکڑا ہوا ہے۔ وہ اقتصادی عوامل کے ہاتھوں میں بھی مجبور ہے۔ تاریخ کے حتمی اصولوں کے سامنے بھی مجبور محض ہے ، اور ترقی کے جبری قواعد میں بھی اسے مجبور دکھایا گیا ہے۔ غرض دور جدید کے مادی تصور میں جو جبریات ہیں ، ان کے مقابلے میں انسان کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہے۔ اس لیے اس کو یہ تصور دیا جاتا ہے کہ وہ ان طبیعی جبریات کے سامنے ایک بےبس ، ذلیل اور کمزور مخلوق ہے۔
یہ حقیقت یہ تصور دیتی ہے کہ عمل اور جزاء کا باہم تعلق ہے اور اس کائنات میں انسان ایک موثر مخلوق ہے۔ اور اللہ اس کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کرتا۔ اللہ کی سنت اور اس کے قوانین طبیعی اس کے نظام قضا و قدر سے کے مطابق چلتے ہیں جن میں انسانوں پر کوئی ظلم نہیں ہوتا۔
وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ اس لیے اللہ نے آل فرعون کو بھی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کیا۔ محض بےوجہ ان پر ظلم نہیں کیا ہے۔ ایک بار پھر آیت پر غور فرمائیں۔
" یہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو ، اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی "
الأنفال 8:54
اللہ نے انہیں تب ہلاک کیا جب انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا۔ اس سے قبل ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی۔ باوجودیکہ وہ کافر تھے کیونکہ یہ اللہ کی سنت جاریہ ہے اور اس کا کرم ہے کہ اس نے یہ اصول مقرر کیا ہے۔ وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا اور ہم اس وقت تک عذاب نہیں دیتے جب تک رسول نہ بھیج دیں۔ یہاں آل فرعون اور ان سے پہلے یہ اقوام جن کے پاس آیات الہی بھیجی گئیں اور انہوں نے تکذیب کی اور اللہ نے ان پر ہلاکت و بربادی نازل کی۔ یہ کارروائی ان کے خلاف کیون کی گئی ، اس لیے کہ (وہ ظالم تھے) یہاں لفظ ظلم بمعنی کفر یا شرک استعمال ہوا ہے۔ اور قرآن کریم میں یہ لفظ اکثر انہی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
یہاں اس آیت پر قدے گہرے غور و فکر کی ضرورت ہے :
" یہ اس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو ، اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی "
اللہ کی جانب سے بندوں کے ساتھ عدل و انصاف کا یہ ایک اہم پہلو ہے۔ اللہ نے جس بندے کو بھی کوئی نعمت دی ہے ، وہ اس سے اللہ اس وقت تک نہیں چھینتا جب خود بندہ اپنی نیت نہیں بدل دیتا۔ اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتا ، اور اپنے طور طریقوں کو نہیں بدل دیتا۔ اور اپنے آپ کو اس بات کا مستحق نہیں بنا لیتا کہ اللہ ان سے وہ نعمت چھین لے جو ان کو دی گئی۔ کیونکہ یہاں جسے بھی جو کچھ دیا جاتا ہے ، وہ آزمائش اور ابتلا کے لیے دیا جاتا ہے اور جب بندے اس عطا کی قدر نہیں کرتے اور اس کا شکر نہیں بجا لاتے تو وہ ان سے یہ عطا واپس لے لیتا ہے۔ اور اس میں ایک پہلو انسان کی عظمت اور تکریم کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نظام قضا و قدر اور اخذ و عطا کو خود انسان کے طرز عمل کے ساتھ منسلک کردیا ہے اور اپنے نظام قضا و قدر کو یوں چلاتا ہے کہ جس طرح انسان چلے اور کرے ویسا بھرے۔ انسان جو عمل اختیار کرے ، اس کی نیت جس طرح کام کرتی ہے اور وہ اپنے لیے جو راہ ، جو طرز عمل اور جو رویہ اختیار کرتے ہیں اس کے مطابق نظام قضاوقدر ان کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ ایک تیسرا پہلو یہ ہے کہ یہاں حضرت انسان پر اس کے اعمال کی عظیم ذمہ داری بھی عائد کی جاتی ہے۔ اور عزت و تکریم کے ساتھ اسے یہ موقعہ بھی دیا جاتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اللہ کے انعامات اور اس کے فضل و کرم کے جواب میں شکر نعمت کرکے ان میں اور اضافہ کرالے جس طرح ناشکری کے نتیجے میں یہ انعامات زائل بھی ہوجاتے ہیں۔
یہ ایک اہم حقیقت ہے اور اسلام کے تصور انسان میں یہ حقیقت تو بہت اہم ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کائنات میں نظام قضا و قدر کا مقام انسانیت کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ اور انسان کا اس کائنات کے ساتھ کیا رابطہ ہے جس میں وہ رہا ہے ؟ اس نظام قضا و قدر سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے ہاں انسان کی اہمیت کس قدر ہے۔ اور اس پہلو سے اسلام نے انسان کو کس قدر اعزاز بخشا ہے کہ انسان کے اپنے معاملات میں اور اس کائنات میں رونما ہونے والے بڑے بڑے انقلابات میں انسان کی روش کو اہم فیکٹر قرار دیا گیا ہے۔ اور انسان کی اس مثبت روش ہی سے مثبت نتائج اور اس کی منفی روش سے اسے منفی اور ناخوشگوار نتائج سے دوچار ہونا پڑتا ہے جبکہ انسان کے بارے میں آج کا مادی تصور یہ ہے کہ اس میں وہ ایک ذلیل و حقیر مخلوق ہے اور وہ مادیت کے جبری قوانین میں جکڑا ہوا ہے۔ وہ اقتصادی عوامل کے ہاتھوں میں بھی مجبور ہے۔ تاریخ کے حتمی اصولوں کے سامنے بھی مجبور محض ہے ، اور ترقی کے جبری قواعد میں بھی اسے مجبور دکھایا گیا ہے۔ غرض دور جدید کے مادی تصور میں جو جبریات ہیں ، ان کے مقابلے میں انسان کی کوئی حیثیت اور وقعت نہیں ہے۔ اس لیے اس کو یہ تصور دیا جاتا ہے کہ وہ ان طبیعی جبریات کے سامنے ایک بےبس ، ذلیل اور کمزور مخلوق ہے۔
یہ حقیقت یہ تصور دیتی ہے کہ عمل اور جزاء کا باہم تعلق ہے اور اس کائنات میں انسان ایک موثر مخلوق ہے۔ اور اللہ اس کے ساتھ کوئی ظلم نہیں کرتا۔ اللہ کی سنت اور اس کے قوانین طبیعی اس کے نظام قضا و قدر سے کے مطابق چلتے ہیں جن میں انسانوں پر کوئی ظلم نہیں ہوتا۔
وان اللہ لیس بظلام للعبید۔ اللہ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ اس لیے اللہ نے آل فرعون کو بھی ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کیا۔ محض بےوجہ ان پر ظلم نہیں کیا ہے۔ ایک بار پھر آیت پر غور فرمائیں۔
" یہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو ، اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی "
الأنفال 8:55
درس نمبر 86 ایک نظر میں
سورت انفال کا یہ چوتھا اور آخری سبق ہے۔ اس میں دوسرے ممالک اور بلاکوں کے ساتھ صلح و جنگ کے کچھ قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی معاشرے کی داخلی تنظیم اور دوسری تنظیموں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت کو منضبط کیا گیا ہے۔ مختلف احوال میں اسلام اور دوسری اقوام کے ساتھ معاہدوں کی نوعیت پر بحث ہے۔ نیز خون رنگ و نسل ، علاقائیت اور قائد و نظریات کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کو متعین کیا گیا ہے
اس سبق میں ان موضوعات کے بارے میں ایسے احکام بھی دیے گئے ہیں جو اپنے موضوع پر فائنل ہیں۔ اور بعض ایسے ہیں جو اس مرحلے کے لیے تھے جن میں یہ صورت اتری ہے اور متعین حالات کے لیے تھے۔ یا ایک متعین واقعہ کے لیے تھے اور جن میں بعد میں ترمیمیں کی گئیں اور انہوں نے بعد میں آخری صورت اختیار کی۔ یعنی سورت توبہ میں ان احکامات نے آخری شکل اختیار کی۔ سورت توبہ مدنی دور کی آخری سورتوں میں سے ہے۔
ان احکامات نے آخری شکل اختیار کی۔ سورت توبہ مدنی دور کی آخری سورتوں میں سے ہے۔
ان احکامات اور قواعد میں درج ذیل امور شامل ہیں۔
جو لوگ اسلامی بلاک سے معاہدے کرتے ہیں اور بعد میں اپنے عہد کو توڑ دیتے ہیں وہ اس کرہ ارض پر بد ترین جانور ہیں۔ لہذا اسلامی بلاک کے فرائض میں یہ بات شامل ہے کہ وہ ان کی سبق آموز تربیت کرے۔ اور ان کو ایسا سبق سکھائے کہ یہ لوگ اور ان کے بعد آنے والے یا ان کی پشت پر جو قوتیں کھڑی ہوں ان کے لیے بھی وہ اچھی عبرت ہو۔
جن معاہد اقوام سے اسلامی حکومت کو یہ خطرہ لاحق ہو کہ وہ بد عہدی کریں گی یا عہد میں امانت داری کے مقابلے میں خیانت کریں گی تو اسلامی قیادت کا یہ حق ہوگا کہ وہ اس عہد کو ان کے سامنے رکھ دے اور اعلان کردے کہ اس کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے اور اس کے بعد اگر اسلامی حکومت ان لوگوں کی سرزنش کرے تو وہ آزاد ہے تاکہ وہ ان لوگوں کو خوفزدہ کرسکے جو اسلامی حکومت کے خلاف سرگرم ہوں اور تیاریاں کر رہے ہوں کہ حملہ کردیں۔
یہ کہ اسلامی بلاک کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی دفاعی افواج کو ہر وقت چوکس رکھیں اور انتہائی ممکن حد تک اپنی فوجی قوت کو ترقی دیں۔ اس طرح کہ اس کرہ ارض پر ہدایت یافتہ قوت ہی بڑی قوت ہو اور اس سے تمام باطل قوتیں لرزہ بر اندام ہوں اور ان کی قوت کے بارے میں زمین میں تمام باطل قوتیں جانتی ہوں اور خائف ہوں اور یہ جراءت نہ کرسکیں کہ وہ حملہ آور ہوں اور وہ اللہ کی سلطنت کے سامنے سر تسلیم خم کردیں اور صورت حال یہ ہوجائے کہ پوری دنیا میں کسی داعی اسلام کے لیے کوئی رکاوٹ نہ ہو اور کوئی رکاوٹ ان لوگوں کے سامنے نہ رہے جو دعوت اسلامی کو قبول کرنا چاہتے ہیں اور کوئی قوت سیاسی اقتدار اعلی اپنے لیے مخصوص کرنے والی نہ ہو بلکہ نظام حکومت صرف اللہ کا چلتا ہو۔
٭۔ یہ کہ اگر غیر مسلموں میں سے کوئی اسلامی کمپ کے ساتھ کوئی معاہدہ امن کرنا چاہے اور وہ اسلامی حکومت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے تو اسلامی حکومت کی قیادت کا یہ فرض ہوگا کہ وہ اسے قبول کرلے اور معاہدہ کرلے۔ اگر وہ کوئی خفیہ سازش کرنا چاہتے ہوں اور بظاہر دھوکے کی کوئی علامت نظر نہ آتی ہو تو ان کا فرض ہے کہ ان کے خفیہ ارادوں کو اللہ پر چھوڑ دے۔ اللہ اس قسم کے فریب کاروں کے شر سے بچانے والا ہے۔
٭۔ جہاد مسلمانوں پر فرض ہے۔ اگرچہ دشمن کی تعداد مسلمانوں کی تعداد سے دوگنا ہو۔ خدا کے فضل سے مسلمانوں کو اپنے دشمنوں پر فتح نصیب ہوگی۔ ان میں سے ایک آدمی بیس کا مقابلہ کرسکتا ہے اور کمزور حالات میں بھی ان میں سے ایک آدمی دو آدمیوں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ لہذا جہاد کا فریضہ اس موقوع کے لیے انتظار کی مہلت نہیں دیتا کہ مومنین اور ان کے دشمن کی تعداد برابر ہو۔ اس لیے مسلمانوں کی تیار قوت ہی کافی ہے اور ان پر فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ قوت تیار رکھیں۔ اللہ پر بھروسہ کریں معرکے میں ثابت قدم رہیں۔ مشکلات میں صبر سے کام لیں اور نتائج اللہ پر چھوڑ دیں۔ اس لیے کہ وہ مادی قوتوں کے علاوہ روحانی قوت بھی رکھتے ہیں۔
٭۔ اسلامی محاذ کا پہلا ہدف یہ ہونا چاہی کہ وہ طاغوتی قوت کے تمام سرچشموں کو پاش پاش کرکے رکھ دے۔ اگر وہ سمجھتے ہوں کہ فوجیوں کو قید کرنا اور پھر تاوان جنگ لے کر چھوڑ دینا مفید مطلب نہیں ہے تو پھر ایسا ہر گزنہ کرنا چاہیے ، اس لیے کہ رسول اور مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ طاغوتی قوتوں کو اچھی طرح پاش پاش کرنے سے چاہئے ، اس لیے کہ رسول اور مسلمانوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ طاغوتی قوتوں کو اچھی طرح پاش پاش کرکے علاقے میں اپنا اقتدار اعلی نافذ کردیں۔ اس سے پہلے قیدی بنا کر فدیہ لینے سے بہتر ہے کہ وہ دشمن کو پیس کر رکھ دیں۔
٭۔ مسلمانوں کے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا ہے اور اسی طرح مسلمانوں کے لیے بھی یہ جائز کردیا گیا ہے کہ وہ قیدیوں کو رہا کرکے جنگی تاوان وصول کریں لیکن اس وقت جب وہ دشمن کی قوت کو اچھی طرح توڑ دیں اور اپنا اقتدار اعلی قائم کردیں اور ان کے اقتدار کی شان و شوکت قائم ہوجائے۔
٭۔ اسلامی کیمپ میں قید ہونے والے کفار سے کہا جاتا ہے کہ وہ اسلام میں دلچسپی لیں اور یاد رکھیں کہ تم سے جو اموال غنیمت لیے گئے ہیں اگر مسلمان ہوجاؤ تو اللہ تمہیں اس سے اچھا دینے والا ہے۔ لیکن اگر تم خیانت کروگے تو جس طرح تمہارا انجام جنگ بدر میں ہوا ہے وہی دوبارہ ہوگا۔
٭۔ اسلامی معاشرہ میں اکٹھ نظریات پر ہوتا ہے لیکن تعلق مولات تو خصوصاً نظریات اور مشترکہ تحریک کی اساس پر ہوتا ہے ، لہذا جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی اور جن لوگوں نے پناہ دی اور نصرت دی یہی لوگ در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جنہوں نے نظریہ تو قبول کرلیا اور ایمان بھی لائے مگر ہجرت نہ کی تو ان اور مومنین مہاجرین کے درمیان کوئی ولایت نہیں ہے۔ یعنی دار الاسلام ان کی نصرت اور ان کی کفالت اور ہمدردی کا پابند نہیں ہے۔ اور ان کی مسلمانوں پر نصرت اور ہمدردی صرف اس وت فرض ہے جبکہ ان کا عقیدہ اور نظریہ زد میں ہو اور نظریات و عقائد کی وجہ سے ان پر ظلم ہو رہا ہو۔ ۔ یکن اس بارے میں بھی ایک مزید شرط ہے اور وہ یہ ہے کہ ظلم اور زیادتی قوم کی طرف سے نہ ہو جن کا اہل اسلام کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو۔
٭۔ اسلامی معاشرے کے اندر بھی دوستی اور ہمدردی کا تعلق صرف اس اکٹھ کے دائرے کے اندر ہے جس کا عقیدہ و نظریہ حقیقی ایمان کا ہو اور ان کے اندر اسلامی انقلاب کے لیے مشترکہ تحریک کا تعلق بھی ہو۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رشتہ دار (اولو الارحام) دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ترجیح کے مستحق تصور نہ ہوں گے ، لہذا و ہزیادہ قریب تصور ہوں گے۔ بشرطیکہ یہ رشتہ دار سب کے سب اسلامی نظریہ حیات کے قائل ہوں اور باہم مل کر اسلام کے لیے کام کر رہے ہوں۔ صرف رشتہ داری کافی نہیں ہے ، یعنی ایسی رشتہ داری جس میں نظریات و عقائد کا اشتراک نہ ہو اور جس میں ایک مقصد کے لیے حرکت نہ پائی جاتی ہو۔
اجمالاً اس سبق میں یہی بڑے مضامین ہیں اور یہ مضامین و موضوعات اسلامی معاشرے کی تنظیم کے داخلی اور خارجی موضوعات کے اہم مضامین ہیں۔ اور تفصیلات آیات کی تشریح کے دوران ملاحظہ فرمائیں۔
درس نمبر 86 تشریح آیات۔ 55 ۔ تا۔ 75
تفسیر آیات 55 تا 63:
یہ آیات ایک قسم کی عملی ہدایات ہیں ، اس وقت جبکہ جماعت مسلمہ ایسے حالات سے عملاً دو چار تھی۔ اس وت مدینہ میں اسلامی مملکت کی بیناد رکھی جا رہی تھی۔ ان عملی حالات میں ، امت مسلمہ کو ضروری احکامات دیے گئے۔
ان میں سے اکثر ہدایات اس وقت کی قائم اسلامی مملکت یا اسلامی محاذ اور اس وقت کی اسلامی حکومت کے ارد گرد قائم مملکتوں اور محاذوں کے درمیان قانون بین الممالک کے موضوع پر ہیں۔ ان آیات کے بعد ، قرآن کریم نے ان میں معمولی ترمیمات کی ہیں لیکن یہ ہدایات اسلام کے قانون بین الممالک کے سلسلے کی اساسی ہدایات ہیں۔
ان ہدایات میں اس بات کی گنجائش رکھی گئی ہے کہ مختلف بین الاقوامی گروہوں اور مملکتوں کے درمیان باہم سلامتی کے معاہدات ہوسکتے ہیں ، بشرطیکہ فریقین معاہدہ اس کی شرائط کی نیک دلی کے ساتھ پابندی کرتے ہوں۔ اگر کوئی فریق اس معاہدے کے پردے میں غداری اور خیانت کی تدابیر کر رہا ہو اور حملے اور شر انگیزیوں کی تیار کر رہا ہو تو اسلامی مملکت کے سربراہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ ان معاہدوں کو علی الاعلان منسوخ کردے اور اس کی اطلاع فریق مخالف کو بھی دے دے اور پھر اس کا اختیار ہے کہ وہ جس وقت چاہے اس قسم کے خائنوں اور غداروں پر ضرب لگائے اور یہ ضرب اس قدر شدید ہو اور اس قدر سبق آموز ہو کہ کوئی کینہ پرور کھلے طور پر یا خفیہ طور پر اسلامی مملکت کے خلاف کسی راہ میں رکاوٹ بھی نہ بنیں یا یہ کہ وہ ہر شخص تک دعوت اسلامی کے پہنچنے میں مزاحم نہ ہوں تو اسلامی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی معاہدہ کرے اور جب تک ان سے کسی بدنیتی کا ظہور نہ ہو وہ ان کے ساتھ عہد پر قائم رہے۔
پڑوسی مملکتوں کے درمیان عملی حالات کا یہ ایک عملی ضابطہ ہے۔ یہ ضابطہ باہم تعلقات کو اس وقت تک ختم نہیں کرتا جب تک اسلامی مملکت کے پڑوسی ممالک دعوت اسلامی کے پھیلاؤ کی راہ میں کوئی مادی رکاوٹ کھڑی نہیں کردیتے اور لوگوں کے کانوں تک اسلام کی تبلیغ کی رسائی کو ختم نہیں کردیا جاتا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ تحفظ بھی دیا جاتا ہے کہ یہ معاہدے دشمن کے یے سازشوں اور یشہ دوانیوں کا سبب نہ بن جائیں اور ان معاہدوں کے پس پردہ یہ لوگ اسلامی مملکت پر اچانک اور غدارانہ ضرب لگانے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں۔
وہ عملی حالات کیا تھے جن میں یہ ہدایات نازل ہوئیں۔ جب امت مسلمہ ہجرت کرکے مدینہ کو گئی تو اس وقت وہاں مسلمانوں کو جو حالات درپیش تھے ان کی تلخیص امام ابن قیم نے زاد المعاد میں یوں کی ہے : " جب حضور مدینہ تشریف لائے تو ان کے اور کفار کے درمیان تین قسم کے تعلقات تھے۔ ایک قسم کے لوگ وہ تھے جنہوں نے حضور کے ساتھ مصالحت کی اور وعدہ کیا کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں گے۔ آپ کے ساتھ جنگ نہ کریں گے نہ آپ کے دشمنوں کے ساتھ موالات کریں گے اور امداد دیں گے اور وہ اپنے کفریہ نظریات پر قائم رہیں گے اور پر امن رہیں گے۔ ان کا خون اور مال محفوظ ہوگا۔ دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جو آپ کے دشمن اور محارب تھے اور تیسری قسم ان لوگوں کی تھی جنہوں نے نہ تو عہد کیا اور نہ ہی آپ کے ساتھ جنگ کی بلکہ وہ انتظار کرتے رہے کہ دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ان لوگوں میں سے بعض تو ایسے تھے جو آپ کی کامیابی کے دل سے خواہاں تھے اور بعض ایسے تھے جو آپ کے دشمنوں کی کامیابی اور فتح چاہتے تھے۔ اور بعض ایسے تھے جو مسلمانوں کی صفوں میں بظاہر شریک ہوگئے تھے لیکن فی الباطن وہ دشمنوں کے ساتھ تھے۔ یہ منافقین تھے ، تو حضور نے ان لوگوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جس کا رب تعالیٰ نے حکم دیا۔
جن لوگوں نے آپ کے ساتھ عہد امن کیا اور وعدہ کیا وہ مدینہ کے ارگرد رہنے والے تین یہودی قبائل تھے۔ بنی قینقاع ، بنو النضیر اور بنو قریظہ اور ان کے علاوہ بعض مشرک قبائل بھی تھے جو مدینہ کے ارد گرد بستے تھے۔
بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ حالات وقتی حالات تھے اور عملی حالات تھے ، جو مسلمانوں کو درپیش تھے۔ اور اسلامی مملکت یا اسلامی نظام کے مستقل بین الاقوامی ضوابط نہ تھے۔ کیونکہ بعد میں ان کے اندر ترمیمات کی گئیں۔ اور سورت براءت میں جو احکام وارد ہوئے وہ آخری احکام تھے۔
بین الاقوامی تعلقات جن مراحل سے گزرے ان کا ذکر ہم نے امام ابن القیم کی کتاب زاد المعاد سے پارہ نہم میں نقل کیا تھا " یہاں مناسب ہے کہ دوبارہ وہ اقتباس دے دیا جائے۔
" بعثت سے لے کر وفات تک کفار اور منافقین کے ساتھ آپ کا طرز عمل " اس عنوان کے تحت وہ رقم طراز ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کی طرف یہ وحی نازل کی کہ " آپ اپنے رب کے نام سے پڑھیں " یوں ہوا آپ کی نبوت کا آغاز ، اس وقت جو حکم دیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ آپ اپنے دل میں پڑھیں۔ ابھی آپ کو تبلیغ کا حکم نہ ملا تھا ، کچھ عرصہ بعد یہ آیت نازل ہوئی یا ایہا المدثر قم فانذر یعنی اقراء سے آپ کو نبوت ملی اور یا ایہا المدثر سے آپ کو منصب رسالت عطا ہوا اور حکم دیا گیا کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں ، رشتہ داروں کے بعد آپ نے اپنی قوم کو انجام بد سے ڈرایا۔ قوم کے بعد مکہ مکرمہ کے ارگرد پھیلے ہوئے قبائل کو تبلیغ کی۔ اس کے بعد یہ پیغام پوری عرب دنیا تک عام کردیا گیا اور بالآخر اس دعوت کو بین الاقوامی دعوت بنا دیا گیا۔
دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد نبی ﷺ کئی سال تک صرف وعظ اور تبلیغ کرتے رہے اور طاقت کا استعمال نہ کیا ، بلکہ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ صبر اور درگزر سے کام لیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیں۔ ایک عرصہ بعد آپ کو ہجرت کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی دشمنوں سے لڑنے کی بھی اجازت دی گئی تاہم یہ اجازت اس حد تک تھی کہ صرف ان لوگوں سے جنگ کی جائے جو لڑنے کے لیے میدان میں اتر آئیں اور دوسروں سے نہ لڑا جائے۔ سب سے آخر میں یہ حکم دیا گیا کہ کفار اور مشرکین سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب تک دین اللہ کے لیے خالص نہیں ہوجاتا۔ (لیکون الدین کلہ للہ) جس وقت آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ، اس وقت حضور اور کفار کے درمیان تعلقات کی صرف تین شکلیں تھیں ، اہل صلح ، اہل حرب اور اہل ذمہ ، اہل صلح یعنی جن کے ساتھ امن کے معاہدات ہوئے تھے ، ان کے بارے میں حکم ہوا کہ عہد کو آخر تک نبھایا جائے ، لیکن صرف اس صورت میں کہ جانب مخالف اپنے معاہدے کا پابند ہو اور اگر وہ عہد شکنی اور غداری کریں تو آپ بھی معاہدہ ان کے منہ پر دے ماریں ، البتہ ایسے لوگوں کے ساتھ عملاً جنگ اس وقت تک نہ چھیڑی جائے جب تک انہیں باقاعدہ اطلاع نہ دی جائے کہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے۔ جب سورة براءت نازل ہوئی تو ان تمام اقسام کے احکام علیحدہ علیحدہ بیان ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ، نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اہل کتاب (یہود و نصاری) سے اس وقت تک لڑیں کہ یا وہ جزیہ قبول کریں اور یا اسلام میں داخل ہوجائیں اور مشرکین اور منافقین سے بھی جہاد کا حکم دیا گیا۔ نیز منافقین سے مزید سختی برتنے کا حکم دیا گیا۔ کفار کے ساتھ آپ کا جہاد مسلح جنگ کی شکل میں تھا اور منافقین کے ساتھ زبان اور دلیل سے۔
سورة براۃ میں یہ حکم بھی دیا گیا کہ کفار کے ساتھ کیے ہوئے تمام معاہدات کو ختم کردیا جائے اور علی الاعلان ان سے براءت کا اظہار کردیا جائے۔ اس اعلان کے بعد اہل عہد کی تین اقسام قرار پائیں ، وہ جن کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے عہد شکنی کی تھی اور اپنے عہد پر قائم نہیں رہے تھے ، ان لوگوں کے ساتھ حضور نے جنگ کی اور ان پر فتح پائی۔ دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جن کے ساتھ عہد تھا اور وہ اسے نبھاتے بھی رہے۔ آپ کو حکم دیا گیا کہ ان کے ساتھ جو معاہدہ ہے اسے مقرر مدت تک برقرار رکھا جائے اور شرائط کی پابندی کی جائے۔ تیسری قسم ایسے لوگوں کی تھی کہ جن کے ساتھ اگرچہ معاہدہ تو نہ تھا لیکن یہ لوگ آپ کے خلاف کسی جنگ میں بھی شریک نہ ہوئے تھے یا ان کے ساتھ تعین مدت کے بغیر معاہدہ طے پا گیا تھا ، ایسے لوگوں کے بارے میں حکم ہوا کہ انہیں چار ماہ کی مہلت دی جائے اور ان سے کہہ دیا جائے کہ اس کے بعد کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ یا مسلمان ہوجاؤ ورنہ لڑنے کے لیے تیارہ ہوجاؤ۔
چناچہ انہی ہدایات کے مطابق آپ نے عہد شکنوں کے ساتھ جنگ کی ، اور جن کے ساتھ کوئی عہد نہ تھا انہیں چار ماہ کی مہلت دی اور راست باز معاہدین کے ساتھ اپنا عہد پورا کیا اور ایسے تمام لوگ معاہدہ کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اہل ایمان اور مسلمانوں کا جزو بن گئے اور اہل ذمہ پر جزیہ عائد ہوا۔
جیسا کہ کہا گیا سورة براءت کے نزول کے بعد کفار کے ساتھ آپ کے تعلقات تین قسم کے رہ گئے تھے یعنی محارب ، اہل ذمہ اور اہل عہد اور چونکہ اہل سب کے سب اسلام میں داخل ہوگئے تھے ، اس طرح صرف اہل ذمہ اور اہل حرب ہی باقی رہ گئے۔ اہل حرب کی حالت یہ رہتی تھی کہ آپ کے دور میں وہ ہمیشہ آپ سے خائف رہتے تھے۔
چناچہ حضور ﷺ کی عمر کے آخری دور میں حضور اور تمام انسانوں کے تعلقات کی نوعیت صرف یہ رہ گئی تھی کہ ان میں سے بعض مسلم اور مومن تھے ، بعض آمن اور مسالم تھے اور بعض آپ سے خائف اور محارب تھے۔
منافقین کے ساتھ آپ کا طرز عمل یہ تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ آپ ان کے اعلان اسلام کو قبول فرمائیں اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیں اور ان کے مقابلے میں علم و استدلال کے ہتھیار ہی استعمال کریں اور ان کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیار کریں اور ان سے سختی برتیں اور ان کی نفسی کیفیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے ارشادات عالیہ سے ان کی اصلاح کی سعی کریں۔ ان کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کریں اور نہ حضور ان کی قبر پر کھڑے ہوکر دعا کریں اور یہ کہ اگر آپ ان کے لیے دعائے مغفرت مانگ بھی لیں تو بھی اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا۔ یہ تھا مختصر بیان حضور کے طرز عمل کا اپنے کفار اور منافق دشمنوں کے ساتھ "
اس تلخیص کے مطالعہ ، واقعات سیر کے مطالعہ اور ان آیات کے شان نزول کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جن حالات میں سورت انفال نازل ہوئی وہ حالات ، مدینہ کے ابتدائی حالات اور سورت توبہ میں پیش کردہ آخری حالات کے درمیان ایک عبوری مرحلہ تھا۔ لہذا ان تاریخی مراحل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان آیات کا مطالعہ ضروری ہے۔ اگرچہ ان میں بعض حتمی اصول بھی موجود ہیں لیکن یہ آخری شکل میں سورت توبہ میں دی گئی اور عملی طور پر ان اصولوں کو حضور ﷺ کی سیرت کے آخری ایام میں نافذ کیا گیا۔
ابن قیم کے اس تفصیلی بیان کی روشنی میں اب ہم ان نصوص قرآنی کی تشریح کرتے ہیں :
اِنَّ شَرَّ الدَّوَاۗبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔ اَلَّذِيْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ يَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِيْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّهُمْ لَا يَتَّقُوْنَ ۔ یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا۔ پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ (خصوصا) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تونے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے۔
لفظ دواب کا اطلاق اگرچہ لغوی طور پر ان تمام چیزوں پر ہوتا ہے جو زمین پر چلتی پھرتی ہیں۔ لہذا انسان پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے ، لیکن جب اس کا اطلاق انسانوں پر کیا جائے تو اس وقت بات کو ایک خاص رنگ دینا بھی مطلوب ہوتا ہے۔ یعنی انسانیت کو حیوانیت کا رنگ اور شیڈ دینا مطلوب ہوتا ہے۔ اس طرح جن انسانوں پر اس لفظ کا اطلاق کیا جاتا ہے ، ان کے بارے میں یہ تاثر دے دیا جاتا ہے کہ وہ بدترین بہائم ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کی روش اختیار کرلی ہے اور ان کے حالات ان کو یہاں تک لے آے ہیں کہ اب وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ کیونکہ ان لوگوں کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ عہد کو تو توڑتے ہیں اور اللہ سے نہیں ڈرتے۔
اس آیت سے مراد کون لوگ ہیں ؟ اس کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ بنو قریظہ ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ بنونضیر ہیں۔ بعض روایات میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ بنوقینقاع ہیں۔ بعض میں یہ کہا گیا کہ اس سے وہ عرب مراد ہیں جو مدینہ کے اردگرد رہتے تھے۔ اس آیت کے الفاظ اور تاریخی واقعات دونوں بناتے ہیں کہ اس سے مراد یہ سب لوگ ہوسکتے ہیں کیونکہ یہودیوں میں سے ہر گروہ نے اپنی اپنی جگہ حضور کے ساتھ عہد شکنی کی۔ اور مدینہ کے ارد گرد مشرکین نے بھی بار بار عہد شکنی کی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں بدر سے پہلے اور بعد میں پیش ہونے والے سب واقعات پر تبصرہ کیا ہے۔ لیکن جو حکم دیا گیا ہے وہ قیامت تک کے لیے ہے اور ان تمام لوگوں پر اور تمام حالات پر صادق ہوگا جو قیامت تک اسی نہج پر پیش آئیں گے۔
یہ لوگ جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی یہ لوگ کفر میں دور تک چلے گئے ہیں اور انہوں نے ایسی روش اختیار کی ہے کہ اب ان کے ایمان کا کوئی امکان نہیں رہا ہے۔ اس طرح ان کی فطرت میں بگاڑ داخل ہوگیا ہے۔ اور وہ جانوروں میں سے بدترین جانور بن گئے۔
الأنفال 8:56
ان لوگوں کا رویہ یہ ہے کہ یہ جو عہد بھی کرتے ہیں اسے توڑتے ہیں۔ تو اس طرح وہ انسانیت کے ایک اہم خاصہ یعنی وفائے عہد سے پاک ہوگئے ہیں ، یہ ہر قید و بند سے اس طرح آزاد ہوگئے ہیں جس طرح بہائم آزاد ہوتے ہیں ، اگرچہ بہائم تو اپنے فطری ضابطے کے اندر جکڑے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کے لیے چونکہ کوئی جبری فطری ضابطہ نہیں اس لیے وہ اللہ کے نزدیک بہائم سے بھی بد تر مخلوق تصور ہوتے ہیں۔
ایسے لوگ کہ جن کے عہد و پیمان پر کوئی مطمئن نہ ہو اور ان کی ہمسائیگی محفوظ نہ ہو۔ ان کے لیے یہی موزوں جزاء و سزا ہے کہ ان کو امن و اطمینان سے محروم کردیا جائے۔ جس طرح خود انہوں نے دوسرے لوگوں کو امن سے محروم کردیا ہے۔ ان کی سزا یہ ہے کہ ان کو خوفزدہ کردیا جائے ، علاقے سے نکال دیا جائے اور ان کے ہاتھ توڑ کر رکھ دیے جائیں۔ ان پر ایسی ضرب لگائی جائے کہ نہ صرف و خوفزدہ ہوجائیں بلکہ ان کے پیچے رہنے والے تمام لوگوں کے لیے یہ ضرب عبرت بن جائے۔ جس طرح رسول اللہ ﷺ کے لیے یہ حکم ہے۔ اسی طرح آپ کے بعد کے آنے والوں کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ اگر ان کو ایسے لوگوں سے واسطہ پڑے تو یہی رویہ اختیار کریں۔
الأنفال 8:57
یہ ایک عجیب انداز کلام ہے۔ اس میں ایک خوفناک گرفت اور ہولناک رعب و دبدبہ کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ اس کے سنتے ہی انسان بھاگنے اور اپنا مقام چھوڑنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ یہ حال تو ان لوگوں کا ہوجائے گا جو سنیں اور دیکھیں۔ رہے وہ لوگ جن کو یہ سزا دی جائے تو ان کی حالت تو معلوم ہے کہ کیا ہوگی ؟ یہ وہ ضرب ہے جس کا حکم اللہ نے اپنے رسول کو دیا ہے اور خوفناک ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ان لوگوں کے لیے عبرتناک بھی ہے جنہوں نے نقص عہد کی تیاری کر رکھی ہو ، جنہوں نے انسانی قواعد و ضوابط کو چھوڑ دیا ہو۔ یہ ہدایات اس لیے دی گئیں تاکہ اسلامی محاذ امن کا سانس لے اور اس کی ہیبت کی وجہ سے خارجی قوتیں ، جو بھی ہوں ، اس قدر سہم جائیں کہ وہ اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں خواہ وہ قریب کی ہوں یا دور کی ہوں۔
اسلامی نظام حیات کا یہ مزاج ہے اور اسلامی تحریک کے ذہن میں اسے اچھی طرح بیٹھ جانا چاہیے کہ اس دین کے لیے ہیبت اور رعب ضروری ہے ، اس کے لیے قوت ضروری ہے۔ اس کے لیے خوفناک شان لازمی ہے اور یہ ضروری ہے کہ ان طاغوتی قوتوں کو مرعوب کردیا جائے تاکہ وہ اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں ، اس لیے کہ اسلام پورے کرہ ارض پر انسانوں کی آزادی کا علمبردار ہے اور وہ انسان کو ہر طاغوتی قوت سے نجات دینا چاہتا ہے ، جن لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اس دین کا طریق کار یہ ہے کہ محض دعوت و تبلیغ سے کام لیا جائے اور ان مادی رکاوٹوں کو نہ چھیڑا جائے جو طاغوت نے کھڑی کردی ہیں ، وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس دین کے مزاج کو بالکل نہیں سمجھا ہے۔
یہ تو تھا پہلا حکم ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے عملاً نقص عہد کا ارتکاب کرلیا تھا۔ ان کے بارے میں یہ کہا گیا کہ ان کی ایسی خبر لی جائے اور ان پر ایسی فیصلہ کن ضرب لگائی جائے کہ ان کے لیے اور کے بعد دوسرے دیکھنے سننے والوں کے لیے عبرت ہو اور ان کے کیمپوں میں خوف طاری کردے۔
الأنفال 8:58
دوسرا حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جس سے نقص عہد کی علامات کا ظہور ہوچکا ہو اور یہ توقع پیدا ہوگئی ہو کہ وہ جلدہی نقص عہد کا ارتکاب کریں گے۔ اور یہ علامات واضح ہوں تو ایسے لوگوں کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو ، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔
اسلام معاہدہ اس لیے کرتا ہے کہ وہ اس پر عمل کرے ، جب فریق دوم عمل کا ارادہ نہ رکھتا ہو تو وہ اس عہد کو منسوخ کرنے کا اعلان اس کے سامنے رکھ دیتا ہے اور علانیہ اس کو ختم ردیتا ہے۔ خیانت اور غداری کا اسلام قائل نہیں ہے۔ دھوکے اور چالبازی کا بھی اسلام روادار نہیں ہے۔ اسلام فریق دوئم کو علانیہ ببانگ دہل کہتا ہے کہ اس نے اس عہد کو منسوخ کردیا ہے لہذا اب کوئی فریق بھی اس عہد کے مشمولات کا پابند نہیں ہے۔ اس طرح اسلام انسانیت شرف اور ثابت قدمی کا مقام و مرتبہ عطا کرتا ہے اور امن و اطمینان کا وسیع دائرہ عطا کرتا ہے۔ اسلام یہ گوارا نہیں کرتا کہ وہ شب خون اور وعدہ خلافی کرکے ایسے لوگوں پر حملہ کردے جو عہد و میثاق کی بنا پر مطمئن بیٹے ہوں اور ان وک یہ نوٹس نہ ہو کہ حملہ آور فریق نے عہد ختم کردیا ہے۔ اسی طرح اسلام ایسے لوگوں کو خوفزدہ کرنا بھی نہیں چاہتا۔ جنہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی ہوں اور جن سے اسلام کو صرف خیانت کا خطرہ درپیش ہو ، ہاں عہد کے ختم کردیے جانے کے بعد جنگ کے دوران چالیں چلی جاسکتی ہیں کہ جنگ کے دوران جنگی چالیں جائز ہیں کیونکہ دشمن کو نوٹس مل گیا ہے۔ اس نے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی ہیں۔ اب اگر اس کے خلاف کوئی جنگی چال چلی جاتی ہے تو وہ معذور نہیں ہے بلکہ غافل ہے اور غافلوں کے خلاف اگر کوئی جنگی چال چلی جاتی ہے تو وہ غداری نہیں ہے۔
اسلام انسانیت کی سطح کو بلند کرنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ انسانیت آلودگیوں سے پاک ہو۔ لہذا غلبے کے لیے غداری کو اسلام جائز نہیں سمجھتا۔ جبکہ وہ اعلی مقاصد کے لیے جدوجہد کر رہا ہو ، کیونکہ اعلی مقاصد کے لیے شریفانہ اسلوب اختیار کرنا ضروری ہے۔
اسلام خیانت کے سخت خلاف ہے اور وہ ان لوگوں کو بہت ہی حقیر سمجھتا ہے جو نقص عہد کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا اسلام اپنے پیروکاروں کو عہد میں خیانت کی اجازت نہیں دیتا۔ اگرچہ جن اہداف و غآیات کے لیے یہ حرکت کی جارہی ہو ، وہ بہت ہی بلند ہوں۔ نفس انسانی کے حصے بخرے نہیں کیے جاسکتے۔ ایک بار انسان حقیر اور خسیس طریقے کرنا شروع کردے وہ کبھی بھی اعلی اور شریفانہ طرز عمل اختیار نہیں کرسکتا۔ وہ شخص مسلمان نہیں ہے جو اچھے مقاصد کے لی ہر قسم کے ذرائع استعمال کرنے کو جائز سمجھتا ہو۔ لہذا یہ اصول اسلامی سوچ اور اسلامی شعور کے لیے بالکل اجنبی ہے کیونکہ اسلامی ذہنیت میں مقاصد اور وسائل کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ، کیونکہ ایک مسلمان اگر پاک و صاف جگہ پر پہنچنا چاہتا ہے تو وہ گندے کیچڑ سے ہو کر نہ گزرے گا کیونکہ ان کے گندے پاؤں صاف جگہ کو بھی گندا کردیں گے۔ اگر کوئی اسے جائز سمجھتا ہے تو وہ خائن ہے اور اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ ان اللہ لایحب الخائنین ہمیں یہاں ذرا یہ غور کرنا چاہیے کہ جن حالات میں یہ احکام نازل ہو رہے تھے۔ ان حالات میں انسانیت کا مقام کیا تھا۔ ان میں انسانیت کے سامنے اس قدر بلند نصب العین نہ تھا۔ اس دور میں باہم لڑنے والے جنگل کے قانون پر عمل پیرا ہوتے تھے۔ اس وقت ڈنڈے کا قانون چل رہا تھا اور ڈنڈے اور لوٹ پر کوئی قید و بند نہ تھا اور اس وقت سے لے کر اٹھارہویں صدی تک دنیا میں یہی جنگل کا قانون مروج رہا ہے اور یورپ تو خصوصاً اس قدر اندھیرے میں تھا کہ اسے اس وقت تک قانون بین الاقوام کا علم ہی نہ تھا۔ یہ روشنی اس نے اس وقت حاصل کی تھی جب اس کا واسطہ اسلامی ممالک سے بڑا اور آج تک بین الاقوامی معاملات میں یورپ اس مقام تک نہیں پہنچ سکا جس تک اسلامی نظام ایک جست میں پہنچا۔ حالانکہ یورپ نے کم از کم بین الاقوامی قانون کا نام سن لیا تھا۔ جو لوگ آج یورپ کی صنعتی ترقی سے مروعب ہیں ان کو اس موضوع پر غور کرنا چاہیے اور اسلام کے بین الاقوامی قانون اور دور جدید کے قانون نظاموں کا تقابلی مطالعہ کرنا چاہیے۔ تاکہ وہ حقیقی صورت حال سے آگاہ ہوں۔
الأنفال 8:59
ان ہدایات اور صاف ستھری پالیسی کے نتیجے میں اللہ وعدہ کرتا ہے کہ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو فتح و سرخروئی حاصل ہوگی اور یہ کہ ان کے لیے کفار کی قوت کا مقابلہ بہت ہی آسان ہوجائے گا۔
ان لوگوں کے خفیہ مشورے اور بد عہدی کے ارتکاب کے بارے میں منصوبے ان کو کامیاب اور مسلمانوں پر برتری عطا نہ کرسکیں گے کیونکہ اللہ مسلمانوں کی پشت پر ہے۔ اور خائن لوگ اللہ سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ کفار کو جب اللہ پکڑنا چاہے تو وہ اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اور جب اللہ مسلمانوں کی مدد کرنا چاہے تو یہ ان کو شکست نہیں دے سکتے۔
اس لیے وہ لوگ جو اچھے مقاصد کے لیے اچھے ذرائع اختیار کرتے ہیں ، اگر ان کی نیت درست ہے تو انہیں مطمئن رہنا چاہیے کہ اوچھے ہتھیار استعمال کرنے والے ان سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔ اس لیے کہ انہیں اللہ کی امداد حاصل ہے اور وہ اس کراہ ارض پر سنت الہی قائم کرنا چاہتے ہیں ، وہ اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔ وہ اللہ کا نام لے کر چلتے ہیں اور ان کا نصب العین یہ ہے کہ لوگوں کو تمام غلامیوں سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی اور غلامی میں داخل کردیں اور اس میں اللہ کے ساتھ کوئی بھی شریک نہ ہو۔
الأنفال 8:60
لیکن اسلام یہ حکم بھی دیتا ہے کہ جماعت مسلمہ کے دائرہ قوت کے اندر جو بھی ہوسکے وہ جائز ذرائع اختیار کرے اور تیاری کرے ، اگرچہ ان کو یہ اطمینان ہے کہ انہیں نصرت خداوندی حاصل ہے ، تاہم پھر بھی ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی تیاری مکمل رکھیں اور وہ وسائل فراہم کریں جن کو انسانی فطرت جانتی ہے اور جو انسانوں کے تجربے کے اندر ہیں ، اسلام ان لوگوں کو عالم بالا کی نصرت کی طرف دیکھنے کا مشورہ اس وقت دیتا ہے جب وہ ظاہری اعتبار سے اپنی مکمل تیاری کرلیں اور حقیقت پسندانہ جدوجہد کے لیے تیار ہوں تاکہ وہ اعلی اہداف حاصل کیے جاسکتے ہوں جو اسلام کے پیش نظر ہیں۔
اپنی قوت اور مقدرت کے مطابق تیاری کرنا فریضہ جہاد کے ساتھ ساتھ ضروری ہے۔ یہ آیت حکم دیتی ہے مسلمانوں کو مختلف قسم کی جنگی تیاریاں اور سازوسامان فراہم رکھنا چاہئے اور یہاں خصوصا تیار بندھے رہنے والے گھوڑوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ اس وقت کے جنگی سامان کا اہم حصہ تھے ، جس وقت قرآن کریم نازل ہو رہا تھا۔ اگر قرآن کریم اس وقت گھوڑوں کے بجائے موجودہ دور کے سازوسامان کی تیاری کا حکم دیتا تو یہ ایک نامعلوم اور حیران کن سازوسامان کا حکم ہوتا اور وہ سن کر ہی حیران ہوجاتے۔ اس لیے اللہ نے لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق بات کی اور اللہ سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ ایسی بات کرے جسے مخاطب سمجھ ہی نہ سکیں۔ مناسب بات یہی ہے ، عام حکم دیا جائے اور وہ یہ ہے واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ " اور تم جہاں تک تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت تیار رکھو "۔ اسلام کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس ضروری قوت موجود ہو اور وہ اس قوت کے بل بوتے پر آگے بڑھے اور تمام انسانوں کو تمام غلامیوں سے رہا کرائے۔ چناچہ اس قوت کا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کو اس قدر آزاد کرادے کہ وہ کوئی بھی نظریہ قبول کرنے میں آزاد ہوں۔ انہیں کوئی روکنے والا نہ ہو اور نہ دنیا میں ایسی قوت ہو کہ کسی کسی مخصوص عقیدے کے اختیار پر مجبور کرسکتی ہو۔ دوسرا فریضہ یہ ہے کہ یہ قوت دین اسلام کے دشمنوں کو اس قدر خوفزدہ کردے کہ وہ اسلامی قوت کے مرکز دار الاسلام پر حملے کے بارے میں سوچ ہی نہ سکیں۔ اور تیسرا فریضہ یہ ہے کہ دین اسلام کے دشمنوں کو اس قدر مرعوب کردیا جائے کہ وہ اسلام کی راہ روکنے کے بارے میں کسی بھی وقت نہ سوچیں۔ تاکہ اسلامی تحریک اس کرہ ارض پر بسنے والے تمام انسانوں کو آزاد کرسکے۔ اور چوتھا فریضہ یہ ہے کہ ہی اسلامی قوت ان تمام قوتوں کو پاش پاش کرکے رکھ دے جو اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت قائم کرتی ہیں اور لوگوں پر اللہ کے مقابلے میں اپنی حاکمیت اور اپنا قانون جاری کرتی ہیں اور وہ یہ اعتراف نہیں کرتیں کہ حق حاکمیت صرف اللہ کو حاصل ہے۔ کیونکہ وہی الہ ہے ، وحدہ لاشریک۔
اسلام کوئی اس لاہوتی نظام نہیں ہے جس کا تعلق صرف عقائد و نظریات سے ہو ، یا وہ کچھ مراسم عبودیت میں دخیل ہو اور آگے بس اس کا کام ختم ہو۔ بلکہ اسلام پوری زندگی کا ایک عملی نظام ہے اور وہ تمام دوسرے نظاموں کے مقابلے میں آکر کھڑا ہوتا ہے اور وہ ان تمام قوتوں سے برسر پیکار ہوجاتا ہے جو ان باطل نظآموں کی پشت پر کھڑی ہوتی ہیں۔ لہذا اس کے سوا اسلام کے لیے اور کوئی راستہ ہی نہیں ہے کہ وہ اپنی راہ میں حائل ہونے والی تمام قوتوں کو پاش پاش کرکے رکھ دے کیونکہ یہ قوتیں اسلام کی راہ روکتی ہیں اور اسے قائم ہونے نہیں دتیں بلکہ یہ قوتیں ، اسلام کے بالمقابل دوسرے نظآم قائم کرتی ہیں۔
اس عظیم حقیقت کے اعلان کے وقت کسی بھی مسلمان کو شف شف نہیں کرنا چاہئے اور نہ جلدی جلدی سرسری بات کرنا چاہئے کہ کوئی سمجھ بھی نہ سکے۔ پھر اس حقیقت کا اعلان کرتے ہوئے مسلمانوں کو شرم بھی محسوس نہ کرنا چاہیے بلکہ انہیں اس حقیقت کا اعلان سر اٹھا کر کرنا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ یہ در اصل انسان کی آزادی کی تحریک ہے اور وہ اس کا علمبردار ہے۔ یہ کسی انسانی نظام حیات کا علمبردار نہیں ہے ، نہ کسی لیڈر کی حکومت کا قیام چاہتا ہے۔ نہ کسی طبقے کی نسلی گروہ اور فرقے کی حکومت چاہتا ہے۔ اس کا نصب العین یہ نہیں ہے کہ وہ مزارعین کو غلام بنائے تاکہ وہ جاگیر داروں کی خدمت کریں جیسا کہ رومی تہذیب والوں کا مقصد تھا ، اور اس کا مقصد یہ بھی نہیں ہے کہ دنیا پر قبضہ کرکے تمام دنیا کے خام مال پر قبضہ کیا جائے اور اپنی صنعتوں کو فیڈ کیا جائے جس طرح مغربی استعمال کا یہ مقصد تھا اور نہ وہ اس لیے اٹھا ہے کہ کسی علاقے میں کسی پارٹی کی ڈکٹیٹر شپ قائم کرکے دوسرے لوگوں کو مویشیوں کی طرح غلام بنا دے جیسا کہ نظام اشتراکیت میں تھا۔ یہ تو علیم وخبیر اور حکیم وبصیر کے اقتدار اعلی کے قیام کا علمبردار ہے۔ وہ اللہ کی حاکمیت کا قیام چاہتا ہے اور دنیا میں تمام انسانوں کو تمام غلامیوں سے نجات دینا چاہتا ہے ۔ اس طرح کہ کوئی بندہ کسی بندے کا غلام نہ ہو۔
یہ ہے وہ عظیم حقیقت جسے شکست خوردہ ذہنیت کے مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے ، جو دین اسلام اور نظآم اسلامی کی بےجا مدافعت کرتے ہیں اور اس مدافعت میں بھی وہ محض شف شف کرتے ہیں اور کوئی بات صاف ستھری اور واضح نہیں کرسکتے اور اسلام کے نظریہ جہاد کے لیے عذر لنگ تلاش کرتے ہیں۔ ـ(تفصیلات کے لیے دیکھئے ابو الاعلی مودودی امیر جماعت اسلامی پاکستان کا قیمتی رسالہ الجہاد فی الاسلام) نیز ہم نے سورت انفال کے مقدمے میں اسلام کے نظریہ جہاد پر جو تفصیلی بحث کی ہے اس کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔
پھر اس آیت میں ہمیں جس حد تک تیاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی حدود کا بھی ہمیں اچھی طرح علم ہونا چاہی کہ و اعدوا لھم ما ستطعتم۔ یعنی جس قدر تمہاری استطاعت میں ہو یعنی تیاری میں اپنی پوری قوت صرف کردو ، یعنی جنگ اور فتح کے تمام وسائل فراہم کیے جائیں یعنی ممکن حد تک۔
پھر اس آیت میں تیار کی غرض وغایت بھی بتا دی گئی ہے کہ اس کی غرض یہ ہے ترھبون بہ عدو اللہ و عدوکم و اخرین من دونہم لا تعلمونہم اللہ یعلمہم۔
تاکہ اس کے ذریعے تم اپنے دشمنوں اور اللہ کے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعدا کو خوفزدہ کرسکو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ یعنی اس تیار کے مقاصد یہ ہیں کہ اس سے تمہارے دشمن جو اللہ کے دشمن ہیں ، خوفزہ ہوجائیں۔ ان میں وہ ظاہری دشمن بھی شامل ہیں جن کو مسلمان جانتے ہیں اور کچھ ان کی پشت پر دشمن طاقتیں ہیں جن کا علم مسلمانوں کو تو نہیں ہے لیکن اللہ کو ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنی دشمنی کا اظہار نہیں کیا ہے اور اللہ ان کے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے۔ ان لوگوں کو اسلام کی قوت مرعوب کردے گی۔ اگرچہ ابھی ان کو مسلمانوں کی جنگی قوت عملاً نہ پہنچی ہو۔ غرض مسلمانوں پر یہ بات فرض ہے کہ وہ صاحب قوت ہوں اور ان پر یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنی استطاعت کی حد تک قوت جمع کریں تاکہ وہ زمین کے تمام لوگوں کے لی باعث خوف ہوں اور یہ اس لیے کہ دنیا پر اللہ کا کلمہ بلند ہو اور دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے۔
اب جنگی تیاریوں کے لیے چونکہ اخراجات ہوں گے اور تھے۔ پھر اس وقت اسلام معاشرہ صرف باہم تکافل پر چل رہا تھا۔ لہذا جنگی تیاریوں کے حکم کے ساتھ ہی حکم دیا گیا کہ اللہ کی راہ میں اپنی دولت کو خرچ کرو۔ وما تنفقوا من شیء فی سبیل اللہ یوف الیکم وانتم لا تظلمون " اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کروگے وہ پورے کا پورا تمہیں مل جائے گا اور تم پر ظلم نہ ہوگا " اس طرح اسلام جہاد فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کو تمام دنیاوی اغراض و مقاصد سے پاک کردیتا ہے۔ ان مقاصد کو ذاتی خواہشات سے بلند کردیتا ہے۔ ہر قسم کی قومی ، طبقاتی اور وطنی شعور اور جذابت سے انہیں جدا کردیتا ہے تاکہ وہ محض فی سبیل اللہ ہوں اور اللہ کی رضا مندی کے لیے ہوں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام آغاز ہی سے ان تمام جنگوں کی ممانعت کردیتا ہے جو بعض اشخاص کی برتری کے لیے لڑی جاتی ہیں ، یا بعض حکومتوں کی برتری کے لی لڑی جاتی ہیں یا منڈیوں پر قبضے کے لیے لڑی جاتی ہیں یا لوگوں پر غالب ہونے اور انہیں ذلیل کرنے کے لیے لڑی جاتی ہیں۔ یا ایک ملک کی دوسرے ملک پر برتری کے لیے لڑی جاتی ہیں ، یا ایک قوم کی دوسری قوم پر برتری کے لی لڑی جاتی ہیں یا ایک نسل کی برتری کے لیے یا ایک طبقے کی دوسرے طبقات پر برتری کے لیے لڑی جاتی ہیں اسلام صرف ایک جنگ کی اجازت دیتا ہے یعنی جہاد فی سبیل اللہ۔ اور اللہ یہ نہیں چاہتا کہ کوئی نسل دوسری نسلوں ، یا کوئی وطن اور دوسرے اوطان پر یا کوئی ایک طبقہ دوسرے طبقات پر ، یا فرد دوسرے افراد پر یا کوئی دوسری قوم دوسری اقوام پر غالب ہو کر اپنی حاکمیت ، اپنی حکومت اور اپنا اقتدار اعلی کو قائم کرے۔ وہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز ہے۔ وہ تو صرف یہ چاہتا ہے کہ اس کی حاکمیت دنیا میں قائم ہو تاکہ دنیا میں خیر و برکت ، آزادی اور شرافت کا دور دورہ ہو۔ اور یہ صرف اللہ کی حاکمیت کے زیر سایہ ہوسکتا ہے۔
الأنفال 8:61
ان آیات میں تیسرا حکم ان اقوام کے بارے میں ہے جو اسلامی کیمپ کے ساتھ دوستی اور امن کا عہد کرنا چاہتے ہیں اور امن و سلامتی کی طرف مائل ہیں اور ان کے ظاہری حالات بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ لوگ فی الواقعہ امن چاہتے ہیں۔
اور اے نبی اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو ، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے
یہ ایک لطیف انداز تعبیر ہے۔ یعنی پرندے پر امن اور آشتی کی طرف مائل ہیں اور پرندہ اپنے پروں کو نرم کر رہا ہے اور حالت امن اور مصالحت اور موانست کا اظہار ہوتا ہے۔ پھر مصالحت اور موادعت میں توکل علی اللہ کا حکم بھی دیا گیا ہے ، جو سمیع اور علیم ہے وہ ہر بات کو سنتا ہے اور پوشیدہ ارادوں کو دیکھ سکتا ہے اور اللہ پر توکل ایک بہت بڑا ضامن ہے۔
اب ہم ذرا واپس اس تلخیص کی طرف جاتے ہیں جو امام ابن قیم نے اسلامی مملکت کے خارجی تعلقات کے سلسلے میں پیش کی تھی کہ مدینہ کے ابتدائی دور میں حضور کے تعلقات کفار کے ساتھ کیا تھے یعنی جنگ بدر اور ان احکام کے نزول تک۔ تو اس تلخیص سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گروہ کا تعلق اس طبقے سے ہے جن کے ساتھ حضور ﷺ نے مسالمت اختیار کرلی تھی اور اس کے ساتھ جہاد و قتال نہ کیا تھا۔ کیونکہ یہ لوگ حضور کے ساتھ صلح پر مائل تھے اور انہوں نے دشمنی کا اظہار نہ کیا تھا۔ اور نہ ہی دعوت اسلامی کی راہ روک کر کھڑے ہوئے تھے۔ نہ وہ اسلامی مملکت کے خلاف کوئی کاروائی کرتے تھے۔ اللہ نے رسول اللہ کو حکم دے دیا تھا کہ ان لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان کی روشن مصالحت اور امن کو قبول کرلیا جائے (یہ حکم اس وقت تک تھا کہ جب سورت براءت نازل ہوئی اور جن لوگوں کے ساتھ بےقاعدہ معاہدہ نہ تھا ان لوگوں کو ایک متعین مہلت دے دی گئی یا ان لوگوں کے ساتھ عہد تھا مگر اس میں وقت کا تعین نہ کیا گیا تھا اور یہ مدت چار ماہ مقرر کردی گئی تھی اور اس کے اختتام پر بھی تعلقات کا از سر نعین کیا گیا تھا) ۔ لہذا مذکورہ بالا حکم انتہائی اور آخری حکم نہ تھا بلکہ وہ خاص حالات کے اندر مخصوص حکم تھا اور بعد میں آنے والے احکام نے اسے منسوخ کردیا اور خود نبی ﷺ نے بھی اس میں تبدیلیاں کیں۔
ہاں یہ آیت اپنے وقت پر ایک عمومی حکم تھا اور سورت براءت کے نزول تک یہی حکم معمول بہ تھا۔ چھٹی صدی ہجری میں ہونے والا صلح حدیبیہ بھی اس کی ایک مثال تھی۔
بعض فقہاء اس طرف گئے ہیں کہ یہ حکم فائنل اور حتمی ہے اور انہوں نے امن کی طرف میلان جنحوا للسلم کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ وہ جزیہ ادا کرنے کو قبول کرلیں۔ لیکن یہ رائے تاریخی واقعات کے خلاف ہے۔ کیونکہ جزیہ کے احکام سورت براءت میں نازل ہوئے اور یہ سورت آٹھویں سن ہجری میں نازل ہوئی ہے اور زیر تفسیر آیت تو جنگ بدر کے بعد سن دوئم ہجری میں نازل ہوئی ہے۔ اس وقت جزیہ کے احکام موجود نہ تھے۔ اسلامی نظام حیات کے تحریکی مزاج ، واقعات نزول قرآن اور سیرت کے واقعات کو مد نظر رکھ کر اگر سوچا جائے تو یہ بات قرین قیاس معلوم ہوتی ہے کہ یہ حکم فائنل نہیں ہے۔ اور اس میں سورت براءت میں نازل ہونے والے احکام کے ذریعہ تبدیلی اور ترمیم کی گئی ہے اور جس میں دوسری اقوام کے ساتھ مسلمانوں کے تعلقات کو یوں منضطب کیا گیا ہے کہ یا تو وہ اہل حرب ہوں گے اور مسلمانوں کے خلاف برسر جنگ ہوں گے یا مسلمان ہوں گے اور اللہ کی شریعت کو نافذ کرنے والے ہوں گے یا اہل ذمہ ہوں گے اور جزیہ ادا کرتے ہوں گے۔ اور وہ اس وقت تک اہل ذمہ رہیں گے۔ جب وہ اپنے ذمی ہونے کے عہد پر قائم رہیں گے۔ یہ ہے وہ آخری نوعیت بین الاقوامی تعلقات کی جس پر اسلامی تحریک جہاد منتہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر اور کوئی صورت حال موجود ہو تو وہ دراصل عملی صورت حال ہے اور عملاً موجود ہے لیکن اسلامی نظام اس کی تبدیلی کے لی جدوجہد کرتا ہے اور یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک مذکورہ بالا تین حالات متعین نہیں ہوجاتے جن کا ذکر سورت براءت میں ہوا اور جو آخری احکام ہیں اور یہ آخری احکام مسلم کی روایت میں موجود ہیں جس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
احمد روایت کرتے ہیں وکیع سے ، سفیان سے ، علقمہ ابن مرثد سے ، سلیمان ابن زید سے ، ان کے باپ سے ، یزید ابن الخطیب اسلمی سے ، یہ کہتے ہیں کہ جب حضور کسی کو لشکر بنا کر بھیجتے یا کسی دستے کا کپتان بنا کر بھیجتے تو اسے نصیحت کرتے کہ خدا خوفی اختیار کرنا اور اپنے ساتھ مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے جہاد کرو ، اللہ کی راہ میں کرو ، ان لوگوں سے قتال کرو جنہوں نے اللہ کا انکار کیا اور جب تم مشرکوں میں سے اپنے دشمنوں کے ساتھ آمنا سامنا کرو تو انہیں دعوت دو کہ وہ تین پوزیشنوں میں سے کوئی ایک اختیار کریں۔ وہ ان میں سے جو پوزیشن بھی قبول کریں تم اسے منظور کرلو۔ اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ ان کو اسلام کی دعوت دو ، اگر وہ مسلمان ہوجائیں تو قبول کرلو۔ پھر ان کو یہ دعوت دو کہ وہ اپنے علاقے سے مہاجرین کے علاقے میں آجائیں۔ اگر وہ یہ پوزیشن قبول کرلیں تو ان کے اور مہاجرین کے حقوق مساوی ہوں گے اور ان پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہوں گی۔ اگر وہ انکار کریں اور اپنے ہی علاقے میں رہنا پسند کریں تو ان کو یہ اطلاع کردو کہ ان کی حیثیت ان مسلمانوں کی طرح ہوگی جس طرح اعراب مسلمانوں کی ہے۔ ان پر بھی اللہ کے احکام جاری ہوں گے۔ جس طرح اعراب مسلمانوں پر ہوتے ہیں لیکن فئے اور غنیمت میں ان کا حق نہ ہوگا الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں شریک ہوں۔ اگر وہ اس پوزیشن کا بھی انکار کریں تو پھر ان کو یہ پیشکش کرو کہ وہ جزیہ دینا قبول کریں۔ اگر وہ قبول کرلیں تو تم بھی قبول کرلو ، اور جنگ سے باز آجاؤ، اور اگر وہ انکار کردیں تو اللہ کی استعانت لیں اور قتال شروع کردیں۔
اس حدیث میں مشکل بات یہ ہے کہ اس میں ہجرت اور دار المہاجرین کا ذکر ہے اور پھر جزیہ کا بھی ذکر ہے۔ جبکہ جزیہ فتح مکہ کے بعد فرض ہوا تھا اور فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہوگئی تھی (یعنی پہلی جماعت مسلمہ جب مدینہ آئی اور فتح تک اسے استقلال حاصل ہوگیا تو ہجرت اس وت ختم ہوگئی تھی) اور یہ بات احادیث اور تاریخ سے ثابت ہے کہ جزیہ آٹویں سن ہجرت میں فرض ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی عرب مشرک سے جزیہ نہیں لیا گیا۔ کیونکہ تمام عرب فرضیت جزیہ سے قبل ہی مسلمان ہوگے تھے۔ اس سن کے بعد مجوسیوں سے اور مشرکوں سے جزیہ لیا گیا اور اگر فرضیت جزیہ کے وقت عربوں میں کوئی مشرک ہوتا تو وہ بھی لازماً جزیہ ادا کرتا جیسا کہ امام ابن قیم نے تشریح کی۔ امام ابوحنیفہ اور ایک قول کے مطابق امام احمد کی رائے بھی یہی ہے۔ (قرطبی نے یہ قول امام اوزاعی ، مالک سے بھی نقل کیا ہے)
بہرحال آیت زیر بحث وان جنحوا میں کسی فائنل حکم کا ذکر نہیں ہے۔ اور اس سلسلے کے فائنل احکام بعد میں سورت براءت میں نازل ہوئے۔ اس میں الہ نے رسول اللہ کو حکم دیا کہ وہ ان لوگوں کی طرف سے مسالمت اور صلح کو قبول کرلیں جن کو آپ نے اپنے حال پر چھوڑ دیا تھا۔ اور ان کے ساتھ لڑآئی شروع نہ کی تھی چاہے اس وت تک ان سے کوئی معاہدہ ہوا تھا یا نہیں۔ تو آپ سورت براءت کے نزدیک تک کفار اور اہل کتاب کی جانب سے مسالمت کو قبول کرتے رہے اور براءت کے نزول کے بعد حکم یہ ہوگیا کہ یا تو اسلام قبول کروگے یا جزیہ دو گے اور یہ وہ حال تمسلمات ہے جو اس وقت تک قابل قبول ہوگی جب تک لوگ اپنے عہد پر قائم رہیں گے ورنہ مسلمان ان کے ساتھ جہاد کریں گے جب تک ان کی استطاعت ہو تاکہ دین تمام کا تمام اللہ کے لیے ہوجائے۔
میں نے اس آیت کے بیان اور تفسیر میں قدرے طوالت سے کام لیا ہے اور یہ اس لیے کہ ان لوگوں کے شبہات کو دور کردیا جائے جو ذہنی لحاظ سے شکست خوردہ ہیں۔ اس قسم کے لوگ جب اسلام کے نظریہ جہاد کے موضوع پر لکھنے بیٹھتے ہیں تو موجودہ حالات کے دباؤ میں آجاتے ہیں اور ان کی سوچ اور ان کی روح ان حالات کے دباؤ کے نیچے بیٹھ جاتی ہے۔ وہ اس بات کا یقین ہی نہیں کرسکتے کہ دین اسلام کا یہ کوئی مستقبل قاعدہ ہوسکتا ہے کہ یا اسلام قبول کرو یا جزیہ ادا کرو ورنہ جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ۔ یہ لوگ جب دیکھتے ہیں کہ اس وقت جاہلیت اور طاغوت کی تمام قوتیں اسلام کے خلاف برسر پیکار ہیں اور اسلام کا مقابلہ کر رہی ہیں اور اہل اسلام اپنے آپ کو مسلمان تو کہتے ہیں لیکن اسلام کی حقیقت سے بیخبر ہیں اور ان کے قلب و نظر میں اسلام کا حقیقی شعور نہیں ہے اور دوسرے مذاہب کی عظیم قوتوں کے سامنے اپنے آپ کو بہت ہی کمزور محسوس کرتے ہیں۔ دوسری جانب وہ دیکھتے ہیں کہ اسلام کے ہر اول دستے بہت ہی قلیل و نایاب ہیں اور اس کے ساتھ ضعیف و ناتواں ہیں۔ لہذا ان حالات میں یہ لکھنے والے قرآن و سنت کو توڑ موڑ کر ان میں تاویلات کرتے ہیں اور یہ حرکت وہ محض حالات کے دباؤ کے تحت کرتے ہیں۔ لہذا وہ ایسا موقف اختیار کرتے ہیں کہ اسلام اس موقف کا متحمل نہیں ہوسکتا ، نہ اسلامی نصوص سے یہ بات نکلتی ہے۔
یہ لوگ ان آیات سے ستدلال کرتے ہیں جو تحریک اسلامی کے لیے وقتی ہدایات کے طور پر نازل ہوئی ہیں۔ یہ لوگ ان آیات کو فائنل ہدایات تصور کرکے ان آخری ہدایات کی تاویل کرتے ہیں۔ حالانکہ جن آیات سے وہ استدلال کرتے ہیں وہ وقتی اور مفید نصوص تھے۔ یہ کام وہ کیوں کرتے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ اسلام کے نظریہ جہاد کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ صرف دار الاسلام اور جماعت مسلمہ کا دفاع کرتا ہے اور جہاد اس وقت شروع ہوسکتا ہے جب دشمن حملہ آور ہو اور یہ کہ اسلام ہر قسم کے امن وامان کی پیشکش کو قبول کرتا ہے۔ اور ان کے نزدیک امن وامان کا مفہوم صرف یہ ہے کہ کوئی دار الاسلام پر حملے سے باز رہنے کا معاہدہ کرلے۔ ان لوگوں کے تصور کے مطابق اسلام اپنی حدود کے اندر جو چاہے کرے لیکن اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسرے لوگوں سے مطالبہ کرے کہ وہ اسلامی کو قبول کریں۔ اور نہ اسے حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں سے اسلامی نظام کی اطاعت کرنے کا مطالبہ کرے۔ اسلام صرف تبلیغ کا حق رکھتا ہے۔ رہی وہ قوت ، طاغوتی قوت ، جو جاہلیت کی پشت پر کھڑی ہے تو اسلام کو یہ حق نیں ہے کہ وہ اس قوت کو چیلنج کرے یا اگر یہ قوت اسلام کو چیلنج کرے تو اسلام صرف دفاع کا حق رکھتا ہے۔
اگر اس قسم کے لوگ جنہوں نے موجودہ حالات کے مقابلے میں عقلاً اور روحاً شکست کھالی ہے ، ذرا سوچ کرتے اور موجودہ حالات کے مطابق قرآن و سنت میں اسے احکام تلاش کرتے اور ان تاویلات کا راستہ اختیار نہ کرتے جن میں قرآن و سنت کے نصوص کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہیں تو انہیں ان کے موجودہ حالات کے مماثل حالات کے بارے میں قرآن و سنت کے نصوص مل جاتے کیونکہ اسلام ایک حقیقت پسندانہ متحرک دین رہا ہے اور یہ کہتے کہ ایسے حالات میں اسلام نے یوں فیصلہ کیا تھا اور ہمیں بھی یسا ہی کرنا چاہیے تو ان حضرات کو قرآن کی آخری اور فائنل ہدایات اور نصوص میں اس قسم کی تاویلات کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ یہ لوگ کہہ سکتے تھے کہ موجودہ حالات میں اسلام کے یہ احکام مناسب ہیں لیکن یہ فائنل احکام نہیں ہیں۔ یہ وقتی تصرفات ہیں۔
اسلام نے فی الواقعہ مختلف حالات میں مختلف حکمت عملی اختیار کی۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں اور یہ مثالیں وقتی ضرورت کے مطابق تھیں۔
جب حضور اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے ارد گرد بسنے والے یہودیوں اور مشرکین کے ساتھ آپ سے ایک میثاق طے کیا جس میں باہم بھائی چارے ، امن اور مشترکہ دفاع کے امور طے کیے گئے اور یہ بھی طے کیا کہ مدینہ میں حق حاکمیت رسول اللہ ﷺ کو حاصل ہوگا اور یہ کہ قریش کے مقابلے میں دفاع میں یہ سب لوگ مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے۔ اور یہ کہ مدینہ پر جو کوئی بھی حملہ آور ہوگا یہ لوگ اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھیں گے۔ مشرکین کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کریں گے الا یہ کہ حضور ﷺ اس کی اجازت دیں۔ اسی دوران حضور کو اللہ نے حکم دیا تھا کہ جو قوم بھی مسالمت اور امن کا معاہدہ کرے اس کی پیشکش کو قبول کیا جائے۔ اگرچہ وہ باقاعدہ تحریری معاہدہ نہ کریں ، بہرحال جب تک وہ صلح چاہیں ، صلح رکھی جائے۔ اس کے بعد یہ تمام احکام بدل گئے تھے جس طرح ہم نے اوپر تفصیلات دیں۔
اسی طرح جب جنگ خندق کے زمانے میں تمام مشرکین نے حضور کے خلاف اشتراک کرلیا۔ بنو قریظہ نے بھی وعدہ کی خلاف ورزی کردی اور رسول اللہ ﷺ نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ مسلمانوں کو ختم ہی نہ کردیا جائے۔ تو حضور نے عیینہ ابن حصن الفزاری اور حارث ابن عوف المری رئیس غطفان کے سامنے مصالحت کی پیشکش کی اور طے کیا کہ وہ مدینہ کی ایک تہائی پیداوار ان کو دیں گے اور آپ لوگ اپنی اقوام کو لے کر واپس ہوجائیں اور قریش کو اکیلے چھوڑ دیں۔ حضور کی پیشکش ان کو خوش کرنے کے لیے تھی کوئی معاہدہ نہ تھا۔ جب حضور نے دیکھا کہ یہ دونوں لوگ راضی ہوگئے ہیں تو آپ نے سعد ابن معاذ اور سعد ابن عبادہ کے ساتھ مشورہ کیا۔ ان دونوں نے کہا کہ حضور یہ کام اگر آپ پسند کرتے ہیں تو ہم آپ کی وجہ سے قبول کرلیں گے اور اگر اللہ کا حکم ہے تو ہم اطاعت کریں گے اور اگر یہ کام آپ ہمارے لی کرتے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں یہ اقدام آپ لوگوں کو بچانے کے لیے کرن ا چاہتا ہوں کیونکہ تمام عرب آپ لوگوں پر ایک ہی کمان سے تیر پھینک رہے ہیں۔ اس پر سعد ابن معاذ نے فرمایا : یا رسول اللہ خدا کی قسم ہم لوگ شرک میں مبتلا تھے ، بت پرست تھے ، اللہ کی عبادت نہ کرتے تھے اور نہ ہمیں اللہ کی معرفت حاصل تھی تو یہ مشرک ہم سے یہ توقع نہ کرتے تھے کہ ہم ان کو ایک کھجور بھی دین ، الا یہ کہ وہ مول لیتے ہام ہم مہمان نوازی کے طور پر دیتے اور جب اللہ نے ہمیں بذریعہ اسلام عزت دے دی اور بذریعہ قرآن ہدایت دے دی اور آپ کے ذریعے ہم معزز ہوگئے تو کیا اب ہم ان کو اپنا مال دے دیں ؟ ہم ان کو تلوار دیں گے تاکہ وہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کردے۔ اس جواب سے حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا (تم جانو اور وہ) اور عیینہ اور حارث سے کہا ، چلو ہمارے پاس تمہارے لیے تلوار کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ بات جس کے بارے میں حضور نے مخصوص حالات میں سوچا ایک وقت تدبیر تھی جو مخصوص حالات میں ضرورت کے لیے تھی ، یہ کوئی فائنل حکم نہ تھا۔
ایک مثال یہ بھی ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر حضور ﷺ نے قریش کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ لوگ مشرک تھے اور اس معاہدے میں بعض شرطیں ایسی تھیں جن سے مسلمان خوش نہ تھے۔ مثلا یہ کہ مسلمانوں اور قریش کے درمیان بیس سال تک لڑائی نہ ہوگی۔ لوگ ایک دوسرے سے امن میں رہیں گے۔ مسلمان اس سال عمرہ کے بغیر واپس ہوں گے ، اور اگلے سال وہ مکہ آئیں گے۔ چناچہ انہوں نے اگلے سال مسلمانوں کو مکہ آنے دیا ، صرف تین دن کے لیے۔ اسلحہ وہی لائیں گے جو ایک سوار لاتا ہے اور وہ بھی نیام میں ہوگا اور یہ کہ اگر کوئی مسلمان مدینہ چلا جائے تو اسے واپس کرنا ہوگا اور اگر کوئی مدینہ سے مکہ چلا جائے تو مشرک واپس کرنے کے پابند نہ ہوں گے۔ اسمعاہدے پر حضور راضی ہوگئے کیونکہ حضور کو اللہ نے بذریعہ الہام بتا دیا تھا کہ یہ شرائط اگرچہ بظاہر قریش کے حق میں نظر آتی ہیں لیکن در اصل مسلمانوں کے لیے مفید ہیں۔ اس مثال میں بھی یہ گنجائش موجود ہے کہ اسلام قیادت خاص حالات میں خاص فیصلے کرسکتی ہے۔
اسلام ایک دائمی تحریک ہے اور اس کا طرز عمل بھی تحریکی ہے۔ وہ حالات کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی واضح ، پختہ اور آزمودہ کار قیادت رکھتا ہے۔ لوگ جن حالات سے بھی دو چار ہوں اور ان کو قرآن و سنت سے حسب حال ہدایت بہرحال ملتی ہے اور ان کو کسی قسم کی تاویل کی کوئی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اسلام میں جو چیز مطلوب ہے ، وہ یہ ہے کہ انسان میں تقوی ہو اور وہ اس بات سے محتاط ہو کہ وہ اپنے دین کو جاہلیت کی شرایرانہ قیادت کے حوالے کردے ، وہ شکست خوردہ ہو اور جاہلیت کے مقابلے میں معذرت خواہانہ دفاعی موقف اختیار کرے ، حالانکہ دین اسلام غالب ہے ، چھا جانے والا ہے۔ وہ انسان کی پوری ضروریات اور مسائل کو حل کرتا ہے اور وہ یہ مزاج رکھتا ہے کہ بلند ہو اور ہر کام اور ہر مسئلے کے حل میں اقدامی پوزیشن کا مالک ہو۔
جب اللہ نے حضور ﷺ کو حکم دیا کہ اگر کوئی دوستی کرنا چاہئے تو آپ دوستی قبول کریں اور اگر کوئی امن و سلامتی کی طرف مائل ہو تو آپ بھی اس طرف مائل ہوں ، تو ساتھ ہی یہ حکم بھی دے دیا کہ اللہ پر توکل کریں اور آپ کو مطمئن کردیا کہ اگر اس قسم کے معاہدے کرنے والے دل میں کھوٹے ہوں تو اللہ سے بہرحال ان کی کوئی بات پوشیدہ نہیں ہے۔
وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭاِنَّهٗ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ۔
الأنفال 8:62
62 ۔ 63:۔ اب اللہ ان لوگوں کے دھوکے سے حضور کو مطمئن اور مامون فرماتا ہے۔ اگر یہ لوگ خیانت کا ارادہ کریں اور کوئی سازش کریں اور صلح اور دوستی کی پشت پر غداری کا کوئی منصوبہ ہو تو فرمایا کہ آپ مطمئن رہیں ، اللہ کافی ہے ، وہ حافظ ہے ، وہی مددگار ہے اور بدر میں اسی کی نصرت تمہارے شامل حال رہی ہے۔ مومنین کے ذریعے اس نے تمہاری تائید کی۔ مومنین کو اتفاق و اتحاد عطا کیا حالانکہ جاہلیت میں ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کا پیدا ہونا ممکن ہی نہ تھا ، یہ اللہ حکیم و قدیر کا کارنامہ ہے۔
اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ آغاز تحریک میں اسی نے تو تمہاری امداد فرمائی اور تمہیں مومنین کا ایک ایسا سچا گروہ عطا کیا جنہوں نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو خوب نبھایا۔ اس نے ان کو متحدہ قوت کی شکل دے دی حالانکہ اس سے قبل ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے تھے۔ ان کی باہم دشمنی علانیہ تھی اور باہم لڑائی شدید ترین لڑائی تھی۔ اس سے مراد اوس و خزرج ہوں جو انصار تھے اور جاہلیت کے دور میں ان کے درمیان انتقام در انتقام کا لامنتاہی سلسلہ تھا اور ان کے درمیان مصالحت ہی ممکن نہ تھی ، چہ جائیکہ ان کے درمیان ایسی اخوت پیدا ہوجائے جس کی نظیر پوری دنیا کی تاریخ میں نہیں ہے یا اس سے مراد مہاجرین ہوں جو مکہ میں ویسے ہی حالات میں تھے جن میں انصار تھے یا اس سے تمام عرب ہوں کیونکہ اسلام سے قبل جزیرۃ العرب میں تمام عربوں کی حالت ویسی ہی تھی۔
بہرحال یہ معجزہ عربوں کی سرزمین پر رونما ہوا ، اللہ کے سوا درحقیقت کوئی طاقت اور کوئی ذریعہ اس معجزے کو رونما نہ کرسکتا تھا۔ اور یہ کام صرف اسلامی نظریہ حیات کے ذریعے ہوسکتا تھا۔ چناچہ باہم نفرت کرنے والے یہ دل اور باہم ناقابل برداشت مزاج رکھنے والے یہ لوگ ایک ایسا جتھا بن گئے جس کے درمیان بےحد بھائی چارہ پیدا ہوگیا اور ان کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گے اور وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں نہایت ہی نرم ہوگے ، یار غار بن گے ، اور ان کی اخوت ، دوستی اور اتفاق و اتحاد ایک تاریخی مثال بن گیا۔ ان کی اجتماعی زندگی کا اہم رنگ ، رنگ محبت تھا اور وہ جنگ کی زندگی کے لیے ایک تمہید و مثال تھے۔
و نزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ اور ان کے دلوں کے اندر جو کدورت تھی ، ہم وہ نکال دیں گے وہ بھائی بن جائیں گے اور تختوں پر ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھے ہوں گے۔
اسلامی نظریہ حیات ایک عجیب اور عملی عقیدہ ہے۔ جب یہ دلوں کے اندر گھل مل جاتا ہے تو یہ ایک ایسے مزاج کی شکل میں نمودار ہوتا ہے جس کا رنگ رنگ الفت و محبت ہوتا ہے۔ اس کے حامل جگری دوست بن جاتے ہیں۔ یہ اپنے ہم نشینوں کے لیے فرش بن جاتے ہیں ، ان کا پہلو نرم ہوجاتا ہے اور ان کے اخلاف اور طرز عمل سے خشونت دور ہوجاتی ہے۔ اور ان کے اندر گہرے رابطے اور تعلقات پیدا ہوجاتے ہیں۔ حالات یہ ہوجاتے ہیں کہ آنکھ کی ایک نظر ، ہاتھ کا معمولی چھونا ، زبان کی گفتگو ، دلوں کی دھڑکن ، باہم مہر و محبت ، دوستی اور ہمدردی اور ایثار و قربانی کے ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں جن کی حقیقت کو صرف وہ ذات جانتی ہے جس نے ان حالات کی تخلیق کی۔ اور ان کی حقیقت کا مزہ وہی شخص چکھ سکتا ہے جن کے اندر یہ انقلاب برپا ہوچکا ہوتا ہے۔
یہ عقیدہ انسانیت کو الحب فی اللہ کا خون دیتا ہے۔ انسانیت کے تاروں کو خلوص و محبت اور جوڑ و ملاپ کا نغمہ عطا کرتا ہے اور جب انسانیت اس نظریہ حیات کو قبول کرتی ہے تو یہ معجزہ رونما ہوجاتا ہے۔ اور صرف اللہ ہی ہے جو اس معجزے کو ظہور میں لاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : " اللہ کے بندوں میں سے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ وہ انبیاء اور شہداء نہیں ہیں لیکن قیامت کے دن انبیاء و شہداء ان کے مقام اور مرتبے کے لیے ترسیں گے۔ صحابہ کرام نے کہا کیا آپ بتائیں گے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہوں گے کہ وہ باہم اللہ کی روحانی قدروں کی وجہ سے محبت کرتے ہیں حالانکہ ان کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے ، نہ ان کے درمیان کوئی مالی مفاد موجود ہے۔ خدا کی قسم ایسے لوگوں کے چہرے نور ہیں اور وہ نور پر ہیں۔ یہ لوگ اس وقت خوف میں نہ ہوں گے جب تمام لوگ خوف میں ہوں گے اور یہ لوگ اس وقت بھی پریشان نہ ہوں گے جب تمام لوگ پریشان ہوں گے۔ (ابوداود)
اور ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " جب ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو ملتا ہے اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو ان دونوں کے گناہ اس طرح گرتے ہیں جس طرح سخت آندھی کے دن درختوں سے خشک پتے گرتے ہیں اور اللہ ان دونوں کے گناہ اس طرح بخش دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ سمندروں کی جھاگ کی طرح زیادہ ہوں۔ (طبرانی)
اس موضوع پر حضور صلی الہ علیہ وسلم کے اقوال بےحد زیادہ ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت میں باہم محبت و الفت کی اہمیت پر یہ تمام اقوال ایک شاہد عادل ہیں ، نیز اس کے علاوہ امت مسلمہ کی تشکیل اور ترقی سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اقوال محض نعرے نہ تھے اور نہ خوشنما باتیں تھیں۔ نہ یہ محض انفرادی اعمال اور شاذ مثالیں تھیں بلکہ یہ ایک واقعہ تھا اور امت مسلمہ اور اسلامی معاشرے کی صورت میں نمایاں تھا۔ اذن الہی سے یہ اونچا ہوا تھا اور یہ وہ مینار تھا جسے اللہ کے سوا کوئی کھڑا نہ کرسکتا تھا۔
الأنفال 8:63
62 ۔ 63:۔ اب اللہ ان لوگوں کے دھوکے سے حضور کو مطمئن اور مامون فرماتا ہے۔ اگر یہ لوگ خیانت کا ارادہ کریں اور کوئی سازش کریں اور صلح اور دوستی کی پشت پر غداری کا کوئی منصوبہ ہو تو فرمایا کہ آپ مطمئن رہیں ، اللہ کافی ہے ، وہ حافظ ہے ، وہی مددگار ہے اور بدر میں اسی کی نصرت تمہارے شامل حال رہی ہے۔ مومنین کے ذریعے اس نے تمہاری تائید کی۔ مومنین کو اتفاق و اتحاد عطا کیا حالانکہ جاہلیت میں ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کا پیدا ہونا ممکن ہی نہ تھا ، یہ اللہ حکیم و قدیر کا کارنامہ ہے۔
اللہ تمہارے لیے کافی ہے۔ آغاز تحریک میں اسی نے تو تمہاری امداد فرمائی اور تمہیں مومنین کا ایک ایسا سچا گروہ عطا کیا جنہوں نے اللہ کے ساتھ کیے ہوئے عہد کو خوب نبھایا۔ اس نے ان کو متحدہ قوت کی شکل دے دی حالانکہ اس سے قبل ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے تھے۔ ان کی باہم دشمنی علانیہ تھی اور باہم لڑائی شدید ترین لڑائی تھی۔ اس سے مراد اوس و خزرج ہوں جو انصار تھے اور جاہلیت کے دور میں ان کے درمیان انتقام در انتقام کا لامنتاہی سلسلہ تھا اور ان کے درمیان مصالحت ہی ممکن نہ تھی ، چہ جائیکہ ان کے درمیان ایسی اخوت پیدا ہوجائے جس کی نظیر پوری دنیا کی تاریخ میں نہیں ہے یا اس سے مراد مہاجرین ہوں جو مکہ میں ویسے ہی حالات میں تھے جن میں انصار تھے یا اس سے تمام عرب ہوں کیونکہ اسلام سے قبل جزیرۃ العرب میں تمام عربوں کی حالت ویسی ہی تھی۔
بہرحال یہ معجزہ عربوں کی سرزمین پر رونما ہوا ، اللہ کے سوا درحقیقت کوئی طاقت اور کوئی ذریعہ اس معجزے کو رونما نہ کرسکتا تھا۔ اور یہ کام صرف اسلامی نظریہ حیات کے ذریعے ہوسکتا تھا۔ چناچہ باہم نفرت کرنے والے یہ دل اور باہم ناقابل برداشت مزاج رکھنے والے یہ لوگ ایک ایسا جتھا بن گئے جس کے درمیان بےحد بھائی چارہ پیدا ہوگیا اور ان کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جڑ گے اور وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں نہایت ہی نرم ہوگے ، یار غار بن گے ، اور ان کی اخوت ، دوستی اور اتفاق و اتحاد ایک تاریخی مثال بن گیا۔ ان کی اجتماعی زندگی کا اہم رنگ ، رنگ محبت تھا اور وہ جنگ کی زندگی کے لیے ایک تمہید و مثال تھے۔
و نزعنا ما فی صدورہم من غل اخوانا علی سرر متقابلین۔ اور ان کے دلوں کے اندر جو کدورت تھی ، ہم وہ نکال دیں گے وہ بھائی بن جائیں گے اور تختوں پر ایک دوسرے کے بالمقابل بیٹھے ہوں گے۔
اسلامی نظریہ حیات ایک عجیب اور عملی عقیدہ ہے۔ جب یہ دلوں کے اندر گھل مل جاتا ہے تو یہ ایک ایسے مزاج کی شکل میں نمودار ہوتا ہے جس کا رنگ رنگ الفت و محبت ہوتا ہے۔ اس کے حامل جگری دوست بن جاتے ہیں۔ یہ اپنے ہم نشینوں کے لیے فرش بن جاتے ہیں ، ان کا پہلو نرم ہوجاتا ہے اور ان کے اخلاف اور طرز عمل سے خشونت دور ہوجاتی ہے۔ اور ان کے اندر گہرے رابطے اور تعلقات پیدا ہوجاتے ہیں۔ حالات یہ ہوجاتے ہیں کہ آنکھ کی ایک نظر ، ہاتھ کا معمولی چھونا ، زبان کی گفتگو ، دلوں کی دھڑکن ، باہم مہر و محبت ، دوستی اور ہمدردی اور ایثار و قربانی کے ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں جن کی حقیقت کو صرف وہ ذات جانتی ہے جس نے ان حالات کی تخلیق کی۔ اور ان کی حقیقت کا مزہ وہی شخص چکھ سکتا ہے جن کے اندر یہ انقلاب برپا ہوچکا ہوتا ہے۔
یہ عقیدہ انسانیت کو الحب فی اللہ کا خون دیتا ہے۔ انسانیت کے تاروں کو خلوص و محبت اور جوڑ و ملاپ کا نغمہ عطا کرتا ہے اور جب انسانیت اس نظریہ حیات کو قبول کرتی ہے تو یہ معجزہ رونما ہوجاتا ہے۔ اور صرف اللہ ہی ہے جو اس معجزے کو ظہور میں لاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں : " اللہ کے بندوں میں سے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ وہ انبیاء اور شہداء نہیں ہیں لیکن قیامت کے دن انبیاء و شہداء ان کے مقام اور مرتبے کے لیے ترسیں گے۔ صحابہ کرام نے کہا کیا آپ بتائیں گے کہ وہ لوگ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہوں گے کہ وہ باہم اللہ کی روحانی قدروں کی وجہ سے محبت کرتے ہیں حالانکہ ان کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے ، نہ ان کے درمیان کوئی مالی مفاد موجود ہے۔ خدا کی قسم ایسے لوگوں کے چہرے نور ہیں اور وہ نور پر ہیں۔ یہ لوگ اس وقت خوف میں نہ ہوں گے جب تمام لوگ خوف میں ہوں گے اور یہ لوگ اس وقت بھی پریشان نہ ہوں گے جب تمام لوگ پریشان ہوں گے۔ (ابوداود)
اور ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " جب ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو ملتا ہے اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو ان دونوں کے گناہ اس طرح گرتے ہیں جس طرح سخت آندھی کے دن درختوں سے خشک پتے گرتے ہیں اور اللہ ان دونوں کے گناہ اس طرح بخش دیتے ہیں۔ اگرچہ وہ سمندروں کی جھاگ کی طرح زیادہ ہوں۔ (طبرانی)
اس موضوع پر حضور صلی الہ علیہ وسلم کے اقوال بےحد زیادہ ہیں۔ اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت میں باہم محبت و الفت کی اہمیت پر یہ تمام اقوال ایک شاہد عادل ہیں ، نیز اس کے علاوہ امت مسلمہ کی تشکیل اور ترقی سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اقوال محض نعرے نہ تھے اور نہ خوشنما باتیں تھیں۔ نہ یہ محض انفرادی اعمال اور شاذ مثالیں تھیں بلکہ یہ ایک واقعہ تھا اور امت مسلمہ اور اسلامی معاشرے کی صورت میں نمایاں تھا۔ اذن الہی سے یہ اونچا ہوا تھا اور یہ وہ مینار تھا جسے اللہ کے سوا کوئی کھڑا نہ کرسکتا تھا۔
الأنفال 8:64
تفسیر آیات 64 تا 65:۔ اس کے بعد اب حضور ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے اور آپ کے واسطہ سے امت مسلمہ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ تمہارا دوست اور والی ہے اور تم اس کے دوست ہو۔ تم اس لیے کافی ہو اور وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لہذا تم اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے حریص بن جاؤ اور تمہارے اندر جو قوت ایمانی ہے اس کی وجہ سے تم میں سے ایک آدمی دس کے برابر قوت رکھتا ہے اور اگر اہل ایمان بہت ہی کمزور ہوجائیں تو بھی وہ اپنے سے دگنے دشمنوں کو شکست دیں گے۔
یہاں انسانی سوچ کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے۔ وہ اس ناقابل شکست قوت پر غور کرتی ہے۔ اور انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ یہ قوت اللہ کی قوت ہے جو نہایت ہی قوی اور غالب ہے۔ اور اللہ کی قوت کے مقابلے میں وہ حقیر انسانی قوت ہے جو اللہ کی افواج کو چیلنج کر رہی ہے۔ دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ معرکہ یقینی طور پر محفوظ انجام رکھتا ہے اور اس کا نتیجہ واضح ہے اور الہ کی ضمانت اس کی پشت پر ہے۔ اللہ کی ضمانت یہ ہے :
يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : اے نبی ! تمہارے لی اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لیے تو بس اللہ ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد مومنین کو کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں قتال کے لیے حریص بن جائیں۔ یہ حکم ایسے حالات میں دیا جاتا ہے کہ اس کے لیے ہر شخص تیار ہے ، ہر دل مستعد ہے ، تمام اہل ایمان کے اعصاب اس کے لیے تن گئے ہیں۔ رگ و ریشہ اس کے لیے آمادہ ہے اور کاسہ دل ایمان ، اطمینان اور اللہ پر بھروسے سے بھر گیا ہے۔ يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ ۭاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ ۔ اے نبی مومنوں کو جنگ پر ابھار ، ان کو آمادہ کرو کیونکہ وہ اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کے ہم پلہ ہیں۔ اگرچہ تعداد میں وہ کم ہیں اور دشمن زیادہ ہے اور ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آڈمیون پر بھاری رہیں گے۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ بات نہایت ہی اچانک اور عجیب ہے لیکن اس کے اندر گہرائی اور سچائی ہے۔ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ " کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے " بظاہر فقاہت اور جنگ میں غلبے کے درمیان کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ لیکن ان کے درمیان حقیقی اور نہایت ہی مضبوط تعلق ہے۔ مومن افواج اچھی طرح جانتی ہیں کہ ان کی راہ کیا ہے ؟ ان کا منہاج کیا ہے ؟ اس ذات کی حقیقت کیا ہے اور ان کا مقصد وجود کیا ہے ؟ در اصل اہل ایمان کا دستہ اچھی طرح جانتا ہے کہ الوہیت کا مقام کیا ہے اور بندگی کے آداب کیا ہیں ؟ وہ جانتے ہیں کہ الوہیت منفرد اور بلند ہوتی ہے اور بندگی کے آڈاب یہ ہیں کہ بندگی صرف اللہ کی جائے اور اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہ ہو۔ اہل ایمان کا دستہ یہ بھی جانتا ہے ، وہی امت مسلمہ ہے ، وہی اللہ کی ہدایت کا حامل ہے اور یہ دستہ دنیا میں اس لیے نکالا گیا ہے اور اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ انسانوں کو دوسرے انسانوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کردے اور صرف وہی اللہ کا خلیفہ ہے ، اس کرہ ارض پر اسے یہاں اس لیے نہیں بٹھایا گیا کہ وہ خود اپنے آپ کو سربلند کرے اور عیش و عشرت کرے ، بلکہ وہ اللہ کے کلمے کو سربلند کرے اور اس کی راہ میں جہاد کرے اور اس زمین کو سچائی سے بھر دے اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلے کرے اور اس زمین رپ ایک ایسی مملکت قائم کرے جس کا مقصد لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنا ہو۔ یہ ہے وہ فقہ جو اہل ایمان کے دلوں کو نور ، یقین اور قوت سے بھر دیتا ہے اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے آمادہ کرتا ہے اور وہ نہایت ہی قوت اور یقین کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے انجام کے بارے میں پہلے سے یقین ہوتا ہے جبکہ ان کے دشمن ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ان اہداف و مقاصد کو نہیں سمجھتے۔ ان کے دل و دماغ پر تالے پڑے ہوتے ہیں ، ان کی نظریں کمزور ہوتی ہیں ، ان کی قوتیں شل ہوتی ہیں اگرچہ بظاہر وہ قوی ہیکل و تنومند نظر آئیں۔ ان کی قوت در اصل اپنے اصلی سرچشمے سے منقطع ہوتی ہے۔
یہ نسبت کہ ایک آدمی دس آدمیوں کے برابر ہوگا ، یہ جاننے والے اہل ایمان اور نہ جاننے والے اہل کفر کے درمیان اللہ کے ترازو میں اصلی اور حقیقی نسبت ہے۔ لیکن اگر مسلمان بہت ہی کمزور و ناتواں ہوجائیں تو بھی ان کے اور کفار کے درمیان اور دو کی نسبت قائم رہے گی۔
الأنفال 8:65
تفسیر آیات 64 تا 65:۔ اس کے بعد اب حضور ﷺ کو اطمینان دلایا جاتا ہے اور آپ کے واسطہ سے امت مسلمہ کو اطمینان دلایا جاتا ہے کہ اللہ تمہارا دوست اور والی ہے اور تم اس کے دوست ہو۔ تم اس لیے کافی ہو اور وہ تمہارے لیے کافی ہے۔ لہذا تم اللہ کی راہ میں لڑنے کے لیے حریص بن جاؤ اور تمہارے اندر جو قوت ایمانی ہے اس کی وجہ سے تم میں سے ایک آدمی دس کے برابر قوت رکھتا ہے اور اگر اہل ایمان بہت ہی کمزور ہوجائیں تو بھی وہ اپنے سے دگنے دشمنوں کو شکست دیں گے۔
یہاں انسانی سوچ کھڑی کی کھڑی رہ جاتی ہے۔ وہ اس ناقابل شکست قوت پر غور کرتی ہے۔ اور انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ یہ قوت اللہ کی قوت ہے جو نہایت ہی قوی اور غالب ہے۔ اور اللہ کی قوت کے مقابلے میں وہ حقیر انسانی قوت ہے جو اللہ کی افواج کو چیلنج کر رہی ہے۔ دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ یہ معرکہ یقینی طور پر محفوظ انجام رکھتا ہے اور اس کا نتیجہ واضح ہے اور الہ کی ضمانت اس کی پشت پر ہے۔ اللہ کی ضمانت یہ ہے :
يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ : اے نبی ! تمہارے لی اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لیے تو بس اللہ ہی کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد مومنین کو کہا جاتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں قتال کے لیے حریص بن جائیں۔ یہ حکم ایسے حالات میں دیا جاتا ہے کہ اس کے لیے ہر شخص تیار ہے ، ہر دل مستعد ہے ، تمام اہل ایمان کے اعصاب اس کے لیے تن گئے ہیں۔ رگ و ریشہ اس کے لیے آمادہ ہے اور کاسہ دل ایمان ، اطمینان اور اللہ پر بھروسے سے بھر گیا ہے۔ يٰٓاَيُّھَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِيْنَ عَلَي الْقِتَالِ ۭاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ ۔ اے نبی مومنوں کو جنگ پر ابھار ، ان کو آمادہ کرو کیونکہ وہ اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کے ہم پلہ ہیں۔ اگرچہ تعداد میں وہ کم ہیں اور دشمن زیادہ ہے اور ارد گرد پھیلا ہوا ہے۔ اِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ يَغْلِبُوْا مِائَـتَيْنِ ۚ وَاِنْ يَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ يَّغْلِبُوْٓا اَلْفًا مِّنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آڈمیون پر بھاری رہیں گے۔ ایسا کیوں ہے ؟ یہ بات نہایت ہی اچانک اور عجیب ہے لیکن اس کے اندر گہرائی اور سچائی ہے۔ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ " کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے " بظاہر فقاہت اور جنگ میں غلبے کے درمیان کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ لیکن ان کے درمیان حقیقی اور نہایت ہی مضبوط تعلق ہے۔ مومن افواج اچھی طرح جانتی ہیں کہ ان کی راہ کیا ہے ؟ ان کا منہاج کیا ہے ؟ اس ذات کی حقیقت کیا ہے اور ان کا مقصد وجود کیا ہے ؟ در اصل اہل ایمان کا دستہ اچھی طرح جانتا ہے کہ الوہیت کا مقام کیا ہے اور بندگی کے آداب کیا ہیں ؟ وہ جانتے ہیں کہ الوہیت منفرد اور بلند ہوتی ہے اور بندگی کے آڈاب یہ ہیں کہ بندگی صرف اللہ کی جائے اور اس کے ساتھ کوئی بھی شریک نہ ہو۔ اہل ایمان کا دستہ یہ بھی جانتا ہے ، وہی امت مسلمہ ہے ، وہی اللہ کی ہدایت کا حامل ہے اور یہ دستہ دنیا میں اس لیے نکالا گیا ہے اور اس لیے قائم کیا گیا ہے کہ انسانوں کو دوسرے انسانوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کردے اور صرف وہی اللہ کا خلیفہ ہے ، اس کرہ ارض پر اسے یہاں اس لیے نہیں بٹھایا گیا کہ وہ خود اپنے آپ کو سربلند کرے اور عیش و عشرت کرے ، بلکہ وہ اللہ کے کلمے کو سربلند کرے اور اس کی راہ میں جہاد کرے اور اس زمین کو سچائی سے بھر دے اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلے کرے اور اس زمین رپ ایک ایسی مملکت قائم کرے جس کا مقصد لوگوں کے درمیان عدل قائم کرنا ہو۔ یہ ہے وہ فقہ جو اہل ایمان کے دلوں کو نور ، یقین اور قوت سے بھر دیتا ہے اور ان کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے آمادہ کرتا ہے اور وہ نہایت ہی قوت اور یقین کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے انجام کے بارے میں پہلے سے یقین ہوتا ہے جبکہ ان کے دشمن ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ان اہداف و مقاصد کو نہیں سمجھتے۔ ان کے دل و دماغ پر تالے پڑے ہوتے ہیں ، ان کی نظریں کمزور ہوتی ہیں ، ان کی قوتیں شل ہوتی ہیں اگرچہ بظاہر وہ قوی ہیکل و تنومند نظر آئیں۔ ان کی قوت در اصل اپنے اصلی سرچشمے سے منقطع ہوتی ہے۔
یہ نسبت کہ ایک آدمی دس آدمیوں کے برابر ہوگا ، یہ جاننے والے اہل ایمان اور نہ جاننے والے اہل کفر کے درمیان اللہ کے ترازو میں اصلی اور حقیقی نسبت ہے۔ لیکن اگر مسلمان بہت ہی کمزور و ناتواں ہوجائیں تو بھی ان کے اور کفار کے درمیان اور دو کی نسبت قائم رہے گی۔
الأنفال 8:66
بعض فقہاء اور مفسرین نے اس آیت سے یہ سمجھا ہے کہ اس آیت میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ قوی ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دس سے بھی نہ بھاگے گا اور اگر ضعیف ہوں تو ان میں سے ایک آدمی دو سے نہ بھاگے گا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے اختلافات ہیں جن کی تفصیل یہاں دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ناپ و تول کے جو پیمانے ہیں ، ان میں مسلمانوں اور ان کے دشمنوں کی قوت کا یہ حقیقی موازنہ ہے اور یہ حق ہے اور یہاں اللہ اہل ایمان کو یہ بتلانا چاہتا ہے تم اپنی قوت کا ذرا اچھی طرح اندازہ کرلو ، اپنے آپ کو کم نہ سمجھو اور اطمینان رکھو۔ اور اپنے قدموں کو میدان کارزار میں مضبوطی سے جما دو ، یہ موازنہ کوئی قانونی موازنہ نہیں ہے بلکہ نفسیاتی موازنہ ہے۔
الأنفال 8:67
67 ۔ 69:۔ قتال کے لیے ابھارنے اور جوش دلانے کے بعد اب قیدیوں کے احکام کی طرف بات کا رخ پھرجاتا ہے۔ اور یہ بات یہاں بدر میں رسول اللہ اور مسلمانوں کے اقدامات کے حوالے سے ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس جو قیدی ہیں ان کی ذہنی تربیت اس طرح کرو ، ان کو ایمان کی ترغیب دو اور کہو کہ اگر اب بھی وہ ایمان لائیں تو اس سے قبل ان سے جو مواقع جاتے رہے ہیں ، ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔
ابن اسحاق نے غزوہ بدر کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا ہے " جب لوگوں نے دشمن کو گرفتار کرنا شروع کردیا اور رسول خدا اپنے چبوترے میں تھے۔ اور سعد ابن معاذ اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ان کے ساتھ دوسرے انصآر بھی تھے۔ اور سعد نے تلوار سونتی ہوئی تھی۔ یہ سب لوگ رسول اللہ کی حفاظت پر مامور تھے۔ ان لوگوں کو ڈر تھا کہ دشمن کی جانب سے حضور پر کوئی حملہ آور نہ ہوجائے۔ مجھے بتایا گیا کہ حضور نے سعد کے چہرے پر کچھ ناگواری کے اثرات محسوس کیے کیونکہ وہ انہیں وہ پسند نہ تھا جو لوگ کر رہے تھے تو حضور نے فرمایا : سعد ! تم شاید لوگوں کے اس فعل کو پسند نہیں کر رہے ہو۔ انہوں نے فرمایا : رسول خدا آپ کی بات درست ہے۔ یہ پہلا واقعہ تھا جس میں اللہ نے مشرکین کو اس قسم کی شکست سے دوچار کردیا۔ میرے خیال میں اس معرکے میں لوگوں کو نیست و ناوبد کردینا ، ان کے زندہ گرفتار کرنے کے مقابلے میں زیادہ مناسب تھا۔
امام احمد نے اپنی سند سے روایت کی ہے ، ابن عباس سے ، انہوں نے حضرت عمر سے فرماتے ہیں ، جب اس دن افواج کی مڈ بھیڑ ہوئی تو اللہ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کردیا۔ ان میں سے ستر افراد قتل ہوئے اور ستر افراد گرفتار ہوئے۔ حضور نے ابوبکر ، عمر اور علی رضوان اللہ علیہم سے مشورہ کیا۔ ابوبکر نے فرمایا کہ حضور یہ لوگ چچازاد ، ہم قوم اور بھائی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، اس لیے جو ہم نے ان سے لیا وہ کفار کے خلاف بطور قوت استعمال ہوگا۔ اور یہ امکان ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا لیں ، اس لیے جو ہم نے ان سے لیا وہ کفار کے خلاف بطور قوت استعمال ہوگا۔ اور یہ امکان ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا لیں اور یہ ہمارے لیے امداد کا سبب بنیں۔ اس کے حضور نے فرمایا ابن خطاب تم بتاؤ ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اس موقعہ پر یہ مشورہ دیا ، خدا کی قسم میری رائے ابوبکر کی رائے کے مطابق نہیں ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ فلاں شخص (ان کے رشتہ دار) کو میرے حوالے کرو ، تاکہ میں اس کی گردن اتار دوں اور حضرت علی کے حوالے عقیل ابن ابی طالب کردیں تاکہ وہ ان کی گردن اڑادیں اور حمزہ کے حوالے ان کے بھائی کو کردیں تاکہ وہ اس کی گردن اڑا دیں ، تاکہ الہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دل میں مشرکین کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ یہ لوگ تو ان کے اکابر امام اور قائدین ہیں۔ تو حضور نے حضرت ابوبکر کی رائے کو اختیار کرلیا اور میری بات کو نہ تسلیم کیا اور لوگوں ن سے فدیہ قبول کرلیا۔ دوسرے دن میں صبح صبح حضور کے پاس گیا اور دیکھا کہ حضرت ابوبکر اور حضور رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ حضور آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اگر کوئی رونے کی بات ہو تو میں بھی روؤں گا۔ اور اگر کوئی بات نہ ہو تو میں تمہارے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔ اس پر حضور نے فرمایا : وہ مشورہ جو آپ کے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں دیا ، اس نے مجھے تمہارا عذاب اس قدر قریب کرکے دکھایا جس قدر یہ درخت قریب ہے۔ (آپ نے قریبی درخت کی طرف اشارہ کیا) اور اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۔۔۔ تا۔۔۔ فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے اموال غنیمت کو جائز قرار دے دیا۔ (روایت مسلم ، ابو داود ، ترمذی ، ابن جریر اور ابن مردویہ بطریق عکرمہ ابن عمار الیمانی)
امام احمد روایت کرتے ہیں علی ابن ہاشم سے ، حمید سے ، حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے ، اس پر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور مشورہ دیا کہ حضور ان سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ تو حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیرلیا اور پھر فرمایا لوگو ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے ، اس پر حضرت عمر کھڑے ہوگے اور مشورہ دیا کہ حضور ان سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ تو حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیرلیا اور پھر فرمایا لوگو ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے لیکن یہ بات پیش نظر رکھو کہ کل وہ تمہارے بھائی تھے۔ اس پر حضرت عمر پھر کھڑے ہوگئے اور کہا حضور میرا مشورہ ہے کہ ان کی گردن اڑا دی جائے۔ حضور نے پھر ان سے منہ پھیرلیا اور لوگوں کے سامنے پھر یہ مسئلہ رکھا۔ اس پر ابوبکر نے مشورہ دیا کہ حضور مناسب یہ ہے کہ آپ ان کو معاف کردیں اور ان سے فدیہ قبول کرلیں۔ اس مشورے کے بعد حضور کے چہرے پر پریشان کے جو آثار تھے وہ ختم ہوگئے۔ حضور نے ان کو معاف کردیا اور فدیہ قبول کرلیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں : لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ: اگر اللہ کی طرف سے پہلے کتاب نہ ہوتی تو تم نے جو لیا ، اس کی وجہ سے تمہیں عذاب عظیم چھو لیتا۔
اعمش عمران ، ابن مرہ سے ، عبیداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا تم لوگ قیدیوں کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو۔ ابوبکر نے کہا ، اے رسول اللہ یہ لوگ تمہاری قوم اور تمہارے رشتہ دار ہیں۔ ان کو زندہ رہنے دیں اور ان سے فدیہ قوبول کریں شاید اللہ انہیں معاف کردے۔ حضرت عمر نے فرمایا حضور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کو اپنے گھر سے نکالا۔ اٹھیں اور ان کی گردن اڑا دیں۔ عبداللہ ابن رواحہ نے کہا اے رسول خدا آپ ایک ایسی وادی میں مقیم ہیں جس میں خشک لکڑیاں بہت ہیں۔ مناسب ہے کہ پوری وادی کو آگ سے بھر دیں اور ان کو اس میں پھینک دیں۔ حضور خاموش ہوگئے اور کوئی بات نہ کہی اور اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہوگئے۔ بعض لوگوں نے کہا حضور ابوبکر کے مشورے کو قبول کریں گے۔ بعض نے کہا کہ آپ حضرت عمر کے مشورے کو قبول کریں گے۔ بعض نے کہا کہ حضور عبداللہ ابن رواحہ کے قول کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نکلے وار فرمایا : اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کردیتے ہیں اور وہ اس قدر نرم ہوجاتے ہیں کہ دودھ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں اور اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو سخت کردیتے ہیں اور وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ اے ابوبکر آپ کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہے۔ جنہوں نے فرمایا : فمن تبعنی فانہ منی و من عصانی فانک غفور رحیم " جس نے میری اطاعت کی تو وہ میرا ہوگا اور جس نے نافرمانی کی تو آپ غفور و رحیم ہیں " اور اسی طرح اے ابوبکر تم حضرت عیسیٰ کی طرح ہو ، جنہوں نے کہا : ان تعذبھم فانہم عبادک و ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم ج " اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو بخش دے تو تو ہی عزیز اور حکیم ہے " اور اے عمر تیری مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ۃ ے ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم۔ اے اللہ ان کے اموال کو تباہ کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ وہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں "۔ اور اے عمر تمہاری مثال نوح (علیہ السلام) کی طرح ہے ، جنہوں نے فرمایا : رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ اے رب زمین پر کافروں سے کوئی زندہ بشر نہ چھوڑ۔ تم قابل اعتماد ہو ، لہذا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی رہا نہ ہوگا ، الا یہ کہ فدیہ دے یا اس کی گردن اڑا دی جائے۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور " ماسوائے سہل ابن بیضاء کے کیونکہ وہ اسلام کی توہین کیا کرتا تھا " اس پر حضور خاموش ہوگئے۔ کبھی اس دن سے زیادہ مجھ پر حالت خوف طاری نہ ہوئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ ابھی مجھ پر آسمان سے پتھر برسنے لگیں گے۔ یہاں تک کہ حضور نے فرمایا " ماسوائے سہل ابن بیضاء کے " اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ " ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔
(احمد ، ترمذی نے ابو معاویہ ابن اعمش کے واسطہ سے ، حاکم نے کہا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن صحیحین نے اسے روایت نہیں کیا ہے) اثخان مطلوب یہ ہے کہ ان میں سے اس قدر آدمیوں کو قتل کیا جائے کہ ان کی قوت ٹوٹ جائے۔ اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی قوت برتر ہوجائے اور یہ بات اس سے قبل واقعہ ہوجانا چاہئے تھی یعنی گرفتاریوں سے قبل یعنی گرفتار کرکے اور فدیہ لے کر چھوڑنے کی پور کاروائی سے قبل ، اس لیے اللہ نے مسلمانوں کو سرزنش کی۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ لوگوں کو گرفتار ہی نہ کرتے۔
غزوہ بدر مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پہلا معرکہ تھا۔ اس وقت مشرکین کثیر تعداد میں تھے اور مسلمان قلیل تھے۔ اور ان میں سے زیادہ کو قتل کرنے سے ان کی عددی قوت میں کمی کرنا مطلوب تھا۔ اس طرح ان کے لیڈر ذلیل و خوار ہوجاتے اور ان کی قوت کم ہوجاتی اور وہ دوبارہ مسلمانوں پر حملے کی جراءت ہی نہ کرسکتے اور یہ اس قدر عظیم اور اہم ہدف تھا کہ اس کے مقابلے میں تاوان جنگ کی بڑی سے بڑی رقم بھی ہیچ تھی۔
نیز اس سے ایک اور غرض بھی مطلوب تھی۔ دلوں میں یہ نکتہ بٹھانا مقصود تھا ، جس کی طرف ، حضرت عمر نے واضح طور پر اشارہ فرمایا۔ دو ٹوک الفاظ میں اور نہایت ہی کھل کر " تاکہ اللہ کو معلوم ہو کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے "
ہم سمجھتے ہیں انہی دو مقاصد کی خاطر ، اللہ نے مسلمانوں کے اس فعل کو پسند نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو قید کریں اور رقم لے کر چھوڑ دیں۔ اور انہی عملی اقدامات کے بارے میں یہ آیت آئی ہے ، جب بھی مسلمانوں کو ایسے حالات کا سامنا ہو تو یہ آیت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔ کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ یکہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے پہلے ہی معرکے میں فدیہ قبول کیا اور دشمن کو قیدی بنایا ، ان کے بارے میں یہ ریمارکس دیے گئے : تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ واللہ عزیز حکیم : تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو ، حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ یعنی تم نے قتل کرنے کے بجائے دشمن کو قیدی بنایا اور فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ تم ان کو اس معرکے میں خوب کچل دیتے لہذا مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ اللہ کی اسکیم اور ارادے کے مطابق چلتے۔ کیونکہ اللہ آخرت کی بھلائی چہاتا ہے اور یہ تب ہی حاصل ہوسکتی ہے جب دنیا کے مفادات کو ترک کردیا جائے۔ اللہ عزیز و حکیم ہے۔ اسی نے تو تمہارے لیے فتح ونصرت کا سامان کیا۔ اور تمہیں اس کی توفیق دی۔ اور اس کی پشت پر حکمت یہ تھی کہ دشمنوں کی جڑ کٹ جائے ، حق حق ہوجائے اور باطل ، باطل ہوجائے۔ اگرچہ مجرم اس بات کو پسند نہیں کرتے۔
اس لیے پہلے اللہ نے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ اہل بدر میں جو غلطی بھی کریں اللہ انہیں معاف کردے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے نتیجے میں اسارائے بدر کے بارے میں انہوں نے جو نامناسب عمل اختیار کیا ، اس پر وہ عذاب عظیم سے بچ گئے۔ نہ صرف یہ کہ عذاب سے بچ گئے بلکہ ان کے لیے ایک مزید انعام کا اعلان ہوگیا۔ جنگ کے نتیجے میں آنے والا مال بھی ان کے لیے حلال ہوگیا ، جس میں فدیے کی آمدن بھی شامل ہے ، جس کے بارے میں عتاب مذکور بھی ہوا تھا جبکہ اس سے پہلے رسولوں کی امتوں پر یہ حرام تھا۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ تمہارا اصل سرمایہ تقوی ہے اور اگر تم تقوی اختیار کروگے تو اللہ غفور و رحیم ہے۔ یہ ایک عجیب توازن ہے ، اہل ایمان پر فرض کیا گیا کہ تم خدا خوفی کا رویہ ہر وقت اپنائے رکھو ، بیشک اللہ غفور و رحیم ہے لیکن تم ہر وقت اس سے ڈرتے رہو اور صفت غفوریت کی وجہ سے بد عمل نہ ہوجاؤ۔ پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ، یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
الأنفال 8:68
67 ۔ 69:۔ قتال کے لیے ابھارنے اور جوش دلانے کے بعد اب قیدیوں کے احکام کی طرف بات کا رخ پھرجاتا ہے۔ اور یہ بات یہاں بدر میں رسول اللہ اور مسلمانوں کے اقدامات کے حوالے سے ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس جو قیدی ہیں ان کی ذہنی تربیت اس طرح کرو ، ان کو ایمان کی ترغیب دو اور کہو کہ اگر اب بھی وہ ایمان لائیں تو اس سے قبل ان سے جو مواقع جاتے رہے ہیں ، ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔
ابن اسحاق نے غزوہ بدر کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا ہے " جب لوگوں نے دشمن کو گرفتار کرنا شروع کردیا اور رسول خدا اپنے چبوترے میں تھے۔ اور سعد ابن معاذ اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ان کے ساتھ دوسرے انصآر بھی تھے۔ اور سعد نے تلوار سونتی ہوئی تھی۔ یہ سب لوگ رسول اللہ کی حفاظت پر مامور تھے۔ ان لوگوں کو ڈر تھا کہ دشمن کی جانب سے حضور پر کوئی حملہ آور نہ ہوجائے۔ مجھے بتایا گیا کہ حضور نے سعد کے چہرے پر کچھ ناگواری کے اثرات محسوس کیے کیونکہ وہ انہیں وہ پسند نہ تھا جو لوگ کر رہے تھے تو حضور نے فرمایا : سعد ! تم شاید لوگوں کے اس فعل کو پسند نہیں کر رہے ہو۔ انہوں نے فرمایا : رسول خدا آپ کی بات درست ہے۔ یہ پہلا واقعہ تھا جس میں اللہ نے مشرکین کو اس قسم کی شکست سے دوچار کردیا۔ میرے خیال میں اس معرکے میں لوگوں کو نیست و ناوبد کردینا ، ان کے زندہ گرفتار کرنے کے مقابلے میں زیادہ مناسب تھا۔
امام احمد نے اپنی سند سے روایت کی ہے ، ابن عباس سے ، انہوں نے حضرت عمر سے فرماتے ہیں ، جب اس دن افواج کی مڈ بھیڑ ہوئی تو اللہ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کردیا۔ ان میں سے ستر افراد قتل ہوئے اور ستر افراد گرفتار ہوئے۔ حضور نے ابوبکر ، عمر اور علی رضوان اللہ علیہم سے مشورہ کیا۔ ابوبکر نے فرمایا کہ حضور یہ لوگ چچازاد ، ہم قوم اور بھائی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، اس لیے جو ہم نے ان سے لیا وہ کفار کے خلاف بطور قوت استعمال ہوگا۔ اور یہ امکان ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا لیں ، اس لیے جو ہم نے ان سے لیا وہ کفار کے خلاف بطور قوت استعمال ہوگا۔ اور یہ امکان ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا لیں اور یہ ہمارے لیے امداد کا سبب بنیں۔ اس کے حضور نے فرمایا ابن خطاب تم بتاؤ ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اس موقعہ پر یہ مشورہ دیا ، خدا کی قسم میری رائے ابوبکر کی رائے کے مطابق نہیں ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ فلاں شخص (ان کے رشتہ دار) کو میرے حوالے کرو ، تاکہ میں اس کی گردن اتار دوں اور حضرت علی کے حوالے عقیل ابن ابی طالب کردیں تاکہ وہ ان کی گردن اڑادیں اور حمزہ کے حوالے ان کے بھائی کو کردیں تاکہ وہ اس کی گردن اڑا دیں ، تاکہ الہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دل میں مشرکین کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ یہ لوگ تو ان کے اکابر امام اور قائدین ہیں۔ تو حضور نے حضرت ابوبکر کی رائے کو اختیار کرلیا اور میری بات کو نہ تسلیم کیا اور لوگوں ن سے فدیہ قبول کرلیا۔ دوسرے دن میں صبح صبح حضور کے پاس گیا اور دیکھا کہ حضرت ابوبکر اور حضور رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ حضور آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اگر کوئی رونے کی بات ہو تو میں بھی روؤں گا۔ اور اگر کوئی بات نہ ہو تو میں تمہارے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔ اس پر حضور نے فرمایا : وہ مشورہ جو آپ کے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں دیا ، اس نے مجھے تمہارا عذاب اس قدر قریب کرکے دکھایا جس قدر یہ درخت قریب ہے۔ (آپ نے قریبی درخت کی طرف اشارہ کیا) اور اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۔۔۔ تا۔۔۔ فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے اموال غنیمت کو جائز قرار دے دیا۔ (روایت مسلم ، ابو داود ، ترمذی ، ابن جریر اور ابن مردویہ بطریق عکرمہ ابن عمار الیمانی)
امام احمد روایت کرتے ہیں علی ابن ہاشم سے ، حمید سے ، حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے ، اس پر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور مشورہ دیا کہ حضور ان سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ تو حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیرلیا اور پھر فرمایا لوگو ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے ، اس پر حضرت عمر کھڑے ہوگے اور مشورہ دیا کہ حضور ان سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ تو حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیرلیا اور پھر فرمایا لوگو ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے لیکن یہ بات پیش نظر رکھو کہ کل وہ تمہارے بھائی تھے۔ اس پر حضرت عمر پھر کھڑے ہوگئے اور کہا حضور میرا مشورہ ہے کہ ان کی گردن اڑا دی جائے۔ حضور نے پھر ان سے منہ پھیرلیا اور لوگوں کے سامنے پھر یہ مسئلہ رکھا۔ اس پر ابوبکر نے مشورہ دیا کہ حضور مناسب یہ ہے کہ آپ ان کو معاف کردیں اور ان سے فدیہ قبول کرلیں۔ اس مشورے کے بعد حضور کے چہرے پر پریشان کے جو آثار تھے وہ ختم ہوگئے۔ حضور نے ان کو معاف کردیا اور فدیہ قبول کرلیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں : لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ: اگر اللہ کی طرف سے پہلے کتاب نہ ہوتی تو تم نے جو لیا ، اس کی وجہ سے تمہیں عذاب عظیم چھو لیتا۔
اعمش عمران ، ابن مرہ سے ، عبیداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا تم لوگ قیدیوں کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو۔ ابوبکر نے کہا ، اے رسول اللہ یہ لوگ تمہاری قوم اور تمہارے رشتہ دار ہیں۔ ان کو زندہ رہنے دیں اور ان سے فدیہ قوبول کریں شاید اللہ انہیں معاف کردے۔ حضرت عمر نے فرمایا حضور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کو اپنے گھر سے نکالا۔ اٹھیں اور ان کی گردن اڑا دیں۔ عبداللہ ابن رواحہ نے کہا اے رسول خدا آپ ایک ایسی وادی میں مقیم ہیں جس میں خشک لکڑیاں بہت ہیں۔ مناسب ہے کہ پوری وادی کو آگ سے بھر دیں اور ان کو اس میں پھینک دیں۔ حضور خاموش ہوگئے اور کوئی بات نہ کہی اور اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہوگئے۔ بعض لوگوں نے کہا حضور ابوبکر کے مشورے کو قبول کریں گے۔ بعض نے کہا کہ آپ حضرت عمر کے مشورے کو قبول کریں گے۔ بعض نے کہا کہ حضور عبداللہ ابن رواحہ کے قول کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نکلے وار فرمایا : اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کردیتے ہیں اور وہ اس قدر نرم ہوجاتے ہیں کہ دودھ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں اور اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو سخت کردیتے ہیں اور وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ اے ابوبکر آپ کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہے۔ جنہوں نے فرمایا : فمن تبعنی فانہ منی و من عصانی فانک غفور رحیم " جس نے میری اطاعت کی تو وہ میرا ہوگا اور جس نے نافرمانی کی تو آپ غفور و رحیم ہیں " اور اسی طرح اے ابوبکر تم حضرت عیسیٰ کی طرح ہو ، جنہوں نے کہا : ان تعذبھم فانہم عبادک و ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم ج " اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو بخش دے تو تو ہی عزیز اور حکیم ہے " اور اے عمر تیری مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ۃ ے ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم۔ اے اللہ ان کے اموال کو تباہ کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ وہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں "۔ اور اے عمر تمہاری مثال نوح (علیہ السلام) کی طرح ہے ، جنہوں نے فرمایا : رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ اے رب زمین پر کافروں سے کوئی زندہ بشر نہ چھوڑ۔ تم قابل اعتماد ہو ، لہذا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی رہا نہ ہوگا ، الا یہ کہ فدیہ دے یا اس کی گردن اڑا دی جائے۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور " ماسوائے سہل ابن بیضاء کے کیونکہ وہ اسلام کی توہین کیا کرتا تھا " اس پر حضور خاموش ہوگئے۔ کبھی اس دن سے زیادہ مجھ پر حالت خوف طاری نہ ہوئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ ابھی مجھ پر آسمان سے پتھر برسنے لگیں گے۔ یہاں تک کہ حضور نے فرمایا " ماسوائے سہل ابن بیضاء کے " اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ " ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔
(احمد ، ترمذی نے ابو معاویہ ابن اعمش کے واسطہ سے ، حاکم نے کہا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن صحیحین نے اسے روایت نہیں کیا ہے) اثخان مطلوب یہ ہے کہ ان میں سے اس قدر آدمیوں کو قتل کیا جائے کہ ان کی قوت ٹوٹ جائے۔ اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی قوت برتر ہوجائے اور یہ بات اس سے قبل واقعہ ہوجانا چاہئے تھی یعنی گرفتاریوں سے قبل یعنی گرفتار کرکے اور فدیہ لے کر چھوڑنے کی پور کاروائی سے قبل ، اس لیے اللہ نے مسلمانوں کو سرزنش کی۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ لوگوں کو گرفتار ہی نہ کرتے۔
غزوہ بدر مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پہلا معرکہ تھا۔ اس وقت مشرکین کثیر تعداد میں تھے اور مسلمان قلیل تھے۔ اور ان میں سے زیادہ کو قتل کرنے سے ان کی عددی قوت میں کمی کرنا مطلوب تھا۔ اس طرح ان کے لیڈر ذلیل و خوار ہوجاتے اور ان کی قوت کم ہوجاتی اور وہ دوبارہ مسلمانوں پر حملے کی جراءت ہی نہ کرسکتے اور یہ اس قدر عظیم اور اہم ہدف تھا کہ اس کے مقابلے میں تاوان جنگ کی بڑی سے بڑی رقم بھی ہیچ تھی۔
نیز اس سے ایک اور غرض بھی مطلوب تھی۔ دلوں میں یہ نکتہ بٹھانا مقصود تھا ، جس کی طرف ، حضرت عمر نے واضح طور پر اشارہ فرمایا۔ دو ٹوک الفاظ میں اور نہایت ہی کھل کر " تاکہ اللہ کو معلوم ہو کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے "
ہم سمجھتے ہیں انہی دو مقاصد کی خاطر ، اللہ نے مسلمانوں کے اس فعل کو پسند نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو قید کریں اور رقم لے کر چھوڑ دیں۔ اور انہی عملی اقدامات کے بارے میں یہ آیت آئی ہے ، جب بھی مسلمانوں کو ایسے حالات کا سامنا ہو تو یہ آیت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔ کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ یکہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے پہلے ہی معرکے میں فدیہ قبول کیا اور دشمن کو قیدی بنایا ، ان کے بارے میں یہ ریمارکس دیے گئے : تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ واللہ عزیز حکیم : تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو ، حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ یعنی تم نے قتل کرنے کے بجائے دشمن کو قیدی بنایا اور فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ تم ان کو اس معرکے میں خوب کچل دیتے لہذا مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ اللہ کی اسکیم اور ارادے کے مطابق چلتے۔ کیونکہ اللہ آخرت کی بھلائی چہاتا ہے اور یہ تب ہی حاصل ہوسکتی ہے جب دنیا کے مفادات کو ترک کردیا جائے۔ اللہ عزیز و حکیم ہے۔ اسی نے تو تمہارے لیے فتح ونصرت کا سامان کیا۔ اور تمہیں اس کی توفیق دی۔ اور اس کی پشت پر حکمت یہ تھی کہ دشمنوں کی جڑ کٹ جائے ، حق حق ہوجائے اور باطل ، باطل ہوجائے۔ اگرچہ مجرم اس بات کو پسند نہیں کرتے۔
اس لیے پہلے اللہ نے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ اہل بدر میں جو غلطی بھی کریں اللہ انہیں معاف کردے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے نتیجے میں اسارائے بدر کے بارے میں انہوں نے جو نامناسب عمل اختیار کیا ، اس پر وہ عذاب عظیم سے بچ گئے۔ نہ صرف یہ کہ عذاب سے بچ گئے بلکہ ان کے لیے ایک مزید انعام کا اعلان ہوگیا۔ جنگ کے نتیجے میں آنے والا مال بھی ان کے لیے حلال ہوگیا ، جس میں فدیے کی آمدن بھی شامل ہے ، جس کے بارے میں عتاب مذکور بھی ہوا تھا جبکہ اس سے پہلے رسولوں کی امتوں پر یہ حرام تھا۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ تمہارا اصل سرمایہ تقوی ہے اور اگر تم تقوی اختیار کروگے تو اللہ غفور و رحیم ہے۔ یہ ایک عجیب توازن ہے ، اہل ایمان پر فرض کیا گیا کہ تم خدا خوفی کا رویہ ہر وقت اپنائے رکھو ، بیشک اللہ غفور و رحیم ہے لیکن تم ہر وقت اس سے ڈرتے رہو اور صفت غفوریت کی وجہ سے بد عمل نہ ہوجاؤ۔ پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ، یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
الأنفال 8:69
67 ۔ 69:۔ قتال کے لیے ابھارنے اور جوش دلانے کے بعد اب قیدیوں کے احکام کی طرف بات کا رخ پھرجاتا ہے۔ اور یہ بات یہاں بدر میں رسول اللہ اور مسلمانوں کے اقدامات کے حوالے سے ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس جو قیدی ہیں ان کی ذہنی تربیت اس طرح کرو ، ان کو ایمان کی ترغیب دو اور کہو کہ اگر اب بھی وہ ایمان لائیں تو اس سے قبل ان سے جو مواقع جاتے رہے ہیں ، ان کی تلافی ہوسکتی ہے۔
ابن اسحاق نے غزوہ بدر کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہا ہے " جب لوگوں نے دشمن کو گرفتار کرنا شروع کردیا اور رسول خدا اپنے چبوترے میں تھے۔ اور سعد ابن معاذ اس کے دروازے پر پہرہ دے رہے تھے۔ ان کے ساتھ دوسرے انصآر بھی تھے۔ اور سعد نے تلوار سونتی ہوئی تھی۔ یہ سب لوگ رسول اللہ کی حفاظت پر مامور تھے۔ ان لوگوں کو ڈر تھا کہ دشمن کی جانب سے حضور پر کوئی حملہ آور نہ ہوجائے۔ مجھے بتایا گیا کہ حضور نے سعد کے چہرے پر کچھ ناگواری کے اثرات محسوس کیے کیونکہ وہ انہیں وہ پسند نہ تھا جو لوگ کر رہے تھے تو حضور نے فرمایا : سعد ! تم شاید لوگوں کے اس فعل کو پسند نہیں کر رہے ہو۔ انہوں نے فرمایا : رسول خدا آپ کی بات درست ہے۔ یہ پہلا واقعہ تھا جس میں اللہ نے مشرکین کو اس قسم کی شکست سے دوچار کردیا۔ میرے خیال میں اس معرکے میں لوگوں کو نیست و ناوبد کردینا ، ان کے زندہ گرفتار کرنے کے مقابلے میں زیادہ مناسب تھا۔
امام احمد نے اپنی سند سے روایت کی ہے ، ابن عباس سے ، انہوں نے حضرت عمر سے فرماتے ہیں ، جب اس دن افواج کی مڈ بھیڑ ہوئی تو اللہ نے مشرکین کو شکست سے دوچار کردیا۔ ان میں سے ستر افراد قتل ہوئے اور ستر افراد گرفتار ہوئے۔ حضور نے ابوبکر ، عمر اور علی رضوان اللہ علیہم سے مشورہ کیا۔ ابوبکر نے فرمایا کہ حضور یہ لوگ چچازاد ، ہم قوم اور بھائی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، اس لیے جو ہم نے ان سے لیا وہ کفار کے خلاف بطور قوت استعمال ہوگا۔ اور یہ امکان ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا لیں ، اس لیے جو ہم نے ان سے لیا وہ کفار کے خلاف بطور قوت استعمال ہوگا۔ اور یہ امکان ہے کہ یہ لوگ ہدایت پا لیں اور یہ ہمارے لیے امداد کا سبب بنیں۔ اس کے حضور نے فرمایا ابن خطاب تم بتاؤ ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اس موقعہ پر یہ مشورہ دیا ، خدا کی قسم میری رائے ابوبکر کی رائے کے مطابق نہیں ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ فلاں شخص (ان کے رشتہ دار) کو میرے حوالے کرو ، تاکہ میں اس کی گردن اتار دوں اور حضرت علی کے حوالے عقیل ابن ابی طالب کردیں تاکہ وہ ان کی گردن اڑادیں اور حمزہ کے حوالے ان کے بھائی کو کردیں تاکہ وہ اس کی گردن اڑا دیں ، تاکہ الہ کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے دل میں مشرکین کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ یہ لوگ تو ان کے اکابر امام اور قائدین ہیں۔ تو حضور نے حضرت ابوبکر کی رائے کو اختیار کرلیا اور میری بات کو نہ تسلیم کیا اور لوگوں ن سے فدیہ قبول کرلیا۔ دوسرے دن میں صبح صبح حضور کے پاس گیا اور دیکھا کہ حضرت ابوبکر اور حضور رو رہے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ حضور آپ کو اور آپ کے ساتھی کو کیا چیز رلا رہی ہے ؟ اگر کوئی رونے کی بات ہو تو میں بھی روؤں گا۔ اور اگر کوئی بات نہ ہو تو میں تمہارے رونے کی وجہ سے روؤں گا۔ اس پر حضور نے فرمایا : وہ مشورہ جو آپ کے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں دیا ، اس نے مجھے تمہارا عذاب اس قدر قریب کرکے دکھایا جس قدر یہ درخت قریب ہے۔ (آپ نے قریبی درخت کی طرف اشارہ کیا) اور اس پر اللہ نے یہ آیات نازل فرمائیں : مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۔۔۔ تا۔۔۔ فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَيِّبًا۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے اموال غنیمت کو جائز قرار دے دیا۔ (روایت مسلم ، ابو داود ، ترمذی ، ابن جریر اور ابن مردویہ بطریق عکرمہ ابن عمار الیمانی)
امام احمد روایت کرتے ہیں علی ابن ہاشم سے ، حمید سے ، حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے ، اس پر حضرت عمر کھڑے ہوگئے اور مشورہ دیا کہ حضور ان سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ تو حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیرلیا اور پھر فرمایا لوگو ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے ، اس پر حضرت عمر کھڑے ہوگے اور مشورہ دیا کہ حضور ان سب کی گردنیں اڑا دی جائیں۔ تو حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیرلیا اور پھر فرمایا لوگو ، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری قید میں دے دیا ہے لیکن یہ بات پیش نظر رکھو کہ کل وہ تمہارے بھائی تھے۔ اس پر حضرت عمر پھر کھڑے ہوگئے اور کہا حضور میرا مشورہ ہے کہ ان کی گردن اڑا دی جائے۔ حضور نے پھر ان سے منہ پھیرلیا اور لوگوں کے سامنے پھر یہ مسئلہ رکھا۔ اس پر ابوبکر نے مشورہ دیا کہ حضور مناسب یہ ہے کہ آپ ان کو معاف کردیں اور ان سے فدیہ قبول کرلیں۔ اس مشورے کے بعد حضور کے چہرے پر پریشان کے جو آثار تھے وہ ختم ہوگئے۔ حضور نے ان کو معاف کردیا اور فدیہ قبول کرلیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں : لَوْلَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِــيْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ: اگر اللہ کی طرف سے پہلے کتاب نہ ہوتی تو تم نے جو لیا ، اس کی وجہ سے تمہیں عذاب عظیم چھو لیتا۔
اعمش عمران ، ابن مرہ سے ، عبیداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ جب بدر کا دن تھا تو حضور ﷺ نے فرمایا تم لوگ قیدیوں کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو۔ ابوبکر نے کہا ، اے رسول اللہ یہ لوگ تمہاری قوم اور تمہارے رشتہ دار ہیں۔ ان کو زندہ رہنے دیں اور ان سے فدیہ قوبول کریں شاید اللہ انہیں معاف کردے۔ حضرت عمر نے فرمایا حضور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کو اپنے گھر سے نکالا۔ اٹھیں اور ان کی گردن اڑا دیں۔ عبداللہ ابن رواحہ نے کہا اے رسول خدا آپ ایک ایسی وادی میں مقیم ہیں جس میں خشک لکڑیاں بہت ہیں۔ مناسب ہے کہ پوری وادی کو آگ سے بھر دیں اور ان کو اس میں پھینک دیں۔ حضور خاموش ہوگئے اور کوئی بات نہ کہی اور اٹھ کر اپنے حجرے میں داخل ہوگئے۔ بعض لوگوں نے کہا حضور ابوبکر کے مشورے کو قبول کریں گے۔ بعض نے کہا کہ آپ حضرت عمر کے مشورے کو قبول کریں گے۔ بعض نے کہا کہ حضور عبداللہ ابن رواحہ کے قول کے مطابق فیصلہ کریں گے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نکلے وار فرمایا : اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو نرم کردیتے ہیں اور وہ اس قدر نرم ہوجاتے ہیں کہ دودھ سے زیادہ نرم ہوتے ہیں اور اللہ بعض لوگوں کے دلوں کو سخت کردیتے ہیں اور وہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔ اے ابوبکر آپ کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ہے۔ جنہوں نے فرمایا : فمن تبعنی فانہ منی و من عصانی فانک غفور رحیم " جس نے میری اطاعت کی تو وہ میرا ہوگا اور جس نے نافرمانی کی تو آپ غفور و رحیم ہیں " اور اسی طرح اے ابوبکر تم حضرت عیسیٰ کی طرح ہو ، جنہوں نے کہا : ان تعذبھم فانہم عبادک و ان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم ج " اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو بخش دے تو تو ہی عزیز اور حکیم ہے " اور اے عمر تیری مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ۃ ے ربنا اطمس علی اموالھم واشدد علی قلوبھم فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم۔ اے اللہ ان کے اموال کو تباہ کردے اور ان کے دلوں کو سخت کردے کہ وہ اس وقت تک ایمان نہ لائیں جب تک عذاب الیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لیں "۔ اور اے عمر تمہاری مثال نوح (علیہ السلام) کی طرح ہے ، جنہوں نے فرمایا : رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا۔ اے رب زمین پر کافروں سے کوئی زندہ بشر نہ چھوڑ۔ تم قابل اعتماد ہو ، لہذا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی رہا نہ ہوگا ، الا یہ کہ فدیہ دے یا اس کی گردن اڑا دی جائے۔ ابن مسعود کہتے ہیں کہ میں نے کہا حضور " ماسوائے سہل ابن بیضاء کے کیونکہ وہ اسلام کی توہین کیا کرتا تھا " اس پر حضور خاموش ہوگئے۔ کبھی اس دن سے زیادہ مجھ پر حالت خوف طاری نہ ہوئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ ابھی مجھ پر آسمان سے پتھر برسنے لگیں گے۔ یہاں تک کہ حضور نے فرمایا " ماسوائے سہل ابن بیضاء کے " اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ " ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔
(احمد ، ترمذی نے ابو معاویہ ابن اعمش کے واسطہ سے ، حاکم نے کہا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن صحیحین نے اسے روایت نہیں کیا ہے) اثخان مطلوب یہ ہے کہ ان میں سے اس قدر آدمیوں کو قتل کیا جائے کہ ان کی قوت ٹوٹ جائے۔ اور ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی قوت برتر ہوجائے اور یہ بات اس سے قبل واقعہ ہوجانا چاہئے تھی یعنی گرفتاریوں سے قبل یعنی گرفتار کرکے اور فدیہ لے کر چھوڑنے کی پور کاروائی سے قبل ، اس لیے اللہ نے مسلمانوں کو سرزنش کی۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ لوگوں کو گرفتار ہی نہ کرتے۔
غزوہ بدر مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پہلا معرکہ تھا۔ اس وقت مشرکین کثیر تعداد میں تھے اور مسلمان قلیل تھے۔ اور ان میں سے زیادہ کو قتل کرنے سے ان کی عددی قوت میں کمی کرنا مطلوب تھا۔ اس طرح ان کے لیڈر ذلیل و خوار ہوجاتے اور ان کی قوت کم ہوجاتی اور وہ دوبارہ مسلمانوں پر حملے کی جراءت ہی نہ کرسکتے اور یہ اس قدر عظیم اور اہم ہدف تھا کہ اس کے مقابلے میں تاوان جنگ کی بڑی سے بڑی رقم بھی ہیچ تھی۔
نیز اس سے ایک اور غرض بھی مطلوب تھی۔ دلوں میں یہ نکتہ بٹھانا مقصود تھا ، جس کی طرف ، حضرت عمر نے واضح طور پر اشارہ فرمایا۔ دو ٹوک الفاظ میں اور نہایت ہی کھل کر " تاکہ اللہ کو معلوم ہو کہ ہمارے دلوں میں مشرکین کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے "
ہم سمجھتے ہیں انہی دو مقاصد کی خاطر ، اللہ نے مسلمانوں کے اس فعل کو پسند نہیں کیا کہ وہ لوگوں کو قید کریں اور رقم لے کر چھوڑ دیں۔ اور انہی عملی اقدامات کے بارے میں یہ آیت آئی ہے ، جب بھی مسلمانوں کو ایسے حالات کا سامنا ہو تو یہ آیت ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ماکان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔ کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے۔ یکہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے پہلے ہی معرکے میں فدیہ قبول کیا اور دشمن کو قیدی بنایا ، ان کے بارے میں یہ ریمارکس دیے گئے : تریدون عرض الدنیا واللہ یرید الاخرۃ واللہ عزیز حکیم : تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو ، حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ یعنی تم نے قتل کرنے کے بجائے دشمن کو قیدی بنایا اور فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ اللہ کی اسکیم یہ تھی کہ تم ان کو اس معرکے میں خوب کچل دیتے لہذا مسلمانوں کا فرض تھا کہ وہ اللہ کی اسکیم اور ارادے کے مطابق چلتے۔ کیونکہ اللہ آخرت کی بھلائی چہاتا ہے اور یہ تب ہی حاصل ہوسکتی ہے جب دنیا کے مفادات کو ترک کردیا جائے۔ اللہ عزیز و حکیم ہے۔ اسی نے تو تمہارے لیے فتح ونصرت کا سامان کیا۔ اور تمہیں اس کی توفیق دی۔ اور اس کی پشت پر حکمت یہ تھی کہ دشمنوں کی جڑ کٹ جائے ، حق حق ہوجائے اور باطل ، باطل ہوجائے۔ اگرچہ مجرم اس بات کو پسند نہیں کرتے۔
اس لیے پہلے اللہ نے یہ فیصلہ کردیا تھا کہ اہل بدر میں جو غلطی بھی کریں اللہ انہیں معاف کردے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے نتیجے میں اسارائے بدر کے بارے میں انہوں نے جو نامناسب عمل اختیار کیا ، اس پر وہ عذاب عظیم سے بچ گئے۔ نہ صرف یہ کہ عذاب سے بچ گئے بلکہ ان کے لیے ایک مزید انعام کا اعلان ہوگیا۔ جنگ کے نتیجے میں آنے والا مال بھی ان کے لیے حلال ہوگیا ، جس میں فدیے کی آمدن بھی شامل ہے ، جس کے بارے میں عتاب مذکور بھی ہوا تھا جبکہ اس سے پہلے رسولوں کی امتوں پر یہ حرام تھا۔ اللہ ان کو یاد دلاتا ہے کہ تمہارا اصل سرمایہ تقوی ہے اور اگر تم تقوی اختیار کروگے تو اللہ غفور و رحیم ہے۔ یہ ایک عجیب توازن ہے ، اہل ایمان پر فرض کیا گیا کہ تم خدا خوفی کا رویہ ہر وقت اپنائے رکھو ، بیشک اللہ غفور و رحیم ہے لیکن تم ہر وقت اس سے ڈرتے رہو اور صفت غفوریت کی وجہ سے بد عمل نہ ہوجاؤ۔ پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اسے کھاؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ، یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔