Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — الأنفال 8:70 – التوبة 9:41

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. الأنفال 8:70
  2. الأنفال 8:71
  3. الأنفال 8:72
  4. الأنفال 8:73
  5. الأنفال 8:74
  6. الأنفال 8:75
  7. التوبة 9:1
  8. التوبة 9:2
  9. التوبة 9:3
  10. التوبة 9:4
  11. التوبة 9:5
  12. التوبة 9:6
  13. التوبة 9:7
  14. التوبة 9:8
  15. التوبة 9:9
  16. التوبة 9:10
  17. التوبة 9:11
  18. التوبة 9:12
  19. التوبة 9:13
  20. التوبة 9:14
  21. التوبة 9:15
  22. التوبة 9:16
  23. التوبة 9:17
  24. التوبة 9:18
  25. التوبة 9:19
  26. التوبة 9:20
  27. التوبة 9:21
  28. التوبة 9:22
  29. التوبة 9:23
  30. التوبة 9:24
  31. التوبة 9:25
  32. التوبة 9:26
  33. التوبة 9:27
  34. التوبة 9:28
  35. التوبة 9:29
  36. التوبة 9:30
  37. التوبة 9:31
  38. التوبة 9:32
  39. التوبة 9:33
  40. التوبة 9:34
  41. التوبة 9:35
  42. التوبة 9:36
  43. التوبة 9:37
  44. التوبة 9:38
  45. التوبة 9:39
  46. التوبة 9:40
  47. التوبة 9:41

الأنفال 8:70

اب سیاق کلام قیدیوں کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ان کو زندگی عطا کرنے اور خوب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے چٹکی بھری جاتی ہے۔ ان کے احساس کو جگایا جاتا ہے تاکہ ان کے شعور میں امید کی کرن روشن ہو ، اور وہ پر امید ہو کر روشنی کی طرف آجائیں اور ماضی کے مقابلے میں ان کا مستقبل سنور جائے اور وہ جس زندگی میں ہیں ، اس کے مقابلے میں اچھی زندگی حاصل کرلیں اور ان کو جو مالی تاوان ہوا ہے اور ان کا جو علاقہ ہے ، اس سے وہ اچھی جگہ آجائیں اور اس پر اللہ کی رحمت اور مغفرت مستزاد۔ یہ ہے کہ ان کے لیے ہمہ گیر بھلائی لیکن یہ بھلائی ان تک تب ہی پہنچ سکتی ہے جب ان کے دل نور ایمان کے لیے کھل جائیں۔ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ ان کے اندر بھلائی کا عنصر موجود ہے اور یہ عنصر ایمان کا عنصر ہے۔ یہ اس قدر عام اور ہمہ گیر خیر ہے کہ اس میں ایمان کے لفظ کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ ایمان گویا خیر محض ہے اور کوئی بات اس وقت تک خیر اور بھلائی نہیں ہوسکتی جب تک وہ ایمان کے حوالے سے نہ ہو اور جس کا وجود ایمان کے عنصر کے نتیجے میں نہ ہو۔ اور وہ ایمان پر قائم نہ ہو۔ اسلام قیدیوں کا صرف اس لیے روادار ہے کہ وہ ان کے دلوں میں بھلائی کی تلاش کرے۔ اگر ان کے اندر کوئی خفیہ چنگاری ہو تو اسے جگا دے۔ ان کی فطرت کو خواب غفلت سے بیدار کرے اور وہ اسلامی نظریہ حیات کو قبول کرنے ، اس سے متاثر ہونے کے لیے تیار ہوجائیں اور آخر کار نور ایمان سے منور ہوجائیں۔ اسلام دشمن کو اس لیے قید نہیں کرتا کہ وہ ان سے انتقام لے کر ان کو ذلیل کرے یا ان کا استحصال کرے جس طرح حضور کے دور میں رومی اور دوسری اقوام اور نسلوں میں یہ مقاصد عام طور پر مروج تھے۔ حضرت ابوہریرہ نے کچھ لوگوں سے نقل کیا ہے اور انہوں نے ان کا نام بھی لیا ہے کہ اہل قریش نے اپنے قیدیوں کو چھڑنے کے لیے اور فدیہ کی ادائیگی کے لیے ایک وفد بھیجا۔ ہر قوم نے اپنے قیدی کو چھڑایا۔ جس پر لوگ راضی ہوئے۔ حضرت عباس نے فرمایا رسول خدا میں تو مسلم تھا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آپ کے اسلام کے بارے میں صحیح علم اللہ کو ہے۔ اگر معاملہ ایسا ہے جس طرح تم کہتے ہو تو اللہ تمہیں جزا دے گا۔ جہاں تک ظاہر داری کا تعلق ہے تو تم ہمارے خلاف تھے۔ لہذا آپ پنا ، اپنے دو بھتیجوں نوفل ابن حارث ابن عبدالمطلب اور عقیل ابن ابی طالب ابن عبد المطلب کا فدیہ دیں۔ نیز اپنے حلیف عتبہ ابن عمر بنی الحارث ابن فہر کے بھائی کا فدیہ بھی دیں۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس ان لوگوں کا فدیہ کہاں ہے ؟ تو اس پر رسول اللہ نے فرمایا وہ مال کہاں ہے جو تم نے اور ام الفضل نے دفن کیا تھا اور تم نے اسے کہا تھا کہ اگر میں اس سفر میں مر گیا تو یہ مال جو دفن کیا گیا ہے بنی فضل ، عبداللہ اور قثم کا ہوگا۔ اس پر اس نے کہا : خدا کی قسم رسول خدا میں جانتا ہوں کہ آپ رسول خدا ہیں۔ یہ تو وہ راز ہے جو میرے اور ام الفضل کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ لہذا آپ لوگوں نے مجھ سے جو چوبیس اوقیہ مال لیا ہے اسے فدیہ کی رقم میں حساب کرلیں۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا : یہ نہیں ہوسکتا۔ یہ تو مال غنیمت تھا جو اللہ نے آپ سے ہمیں دلا دیا۔ اس پر عباس نے اپنا فدیہ دیا۔ اپنے دو بھتیجوں کا فدیہ بھی دیا اور اپنے حلیف کا فدیہ بھی دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ " یا ایہا النبی قل لمن فی ایدیکم " " اے نبی تم لوگوں کے قبضے میں جو قیدی ہی ، ان سے کہو کہ اگر اللہ کو معلوم ہو کہ تمہارے دلوں میں کچھ خیر ہے ، تو وہ اس سے تمہیں بڑھ چڑھ کر دے جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا ، اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ لیکن روشنی کی یہ کرن دکھاتے ہوئے اور امید کا دروازہ کھولتے ہوئے اللہ ان کو متنبہ بھی کرتا ہے کہ اگر انہوں نے رسول کے ساتھ خیانت کی تو پھر ان کا حال یہی ہوگا جو ہوا۔

الأنفال 8:71

انہوں نے اللہ کے ساتھ یوں خیانت کی کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا۔ اور اللہ وحدہ کو اپنا رب تسلیم نہ کیا حالانکہ اس نے ان کی فطرت سے یہ عہد لیا تھا۔ اور اگر انہوں نے حضور ﷺ سے بھی خیانت کا ارادہ کیا۔ حالانکہ اب وہ آپ کی قید میں ہیں تو ان کو پہلی خیانت کے نتائج پر غور کرنا چاہئے کہ اب وہ مسلمانوں کے ہاں قید ہیں اور اللہ نے ان کو رسول اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے۔ امام قرطبی نے اپنی تفسیر میں ابن عربی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ جب مشرکین قید ہوئے تو ان میں سے بعض لووں نے اسلام کے متعلق بات کی۔ لیکن وہ دل سے مسلمان نہ تھے۔ اسلام کے بارے میں انہوں نے جو بات کی ، وہ بھی دو ٹوک نہ تھی۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کے قریب آجائیں لیکن مشرکین سے بھی دور نہ ہوں۔ ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اگر کوئی کافر ایمان کی بات کرے ، زبان سے اقرار بھی کرے لیکن وہ اس میں صاحب عزیمت نہ ہو تو وہ مومن تصور نہ ہوگا ، لیکن اگر مومنین میں سے کوئی اس قسم کی مذبذب بات کرے تو وہ کافر ہوگا۔ الا یہ کہ دل میں کوئی ایسا وسوسہ آجائے جو انسان کی قدرت سے ابہر ہوتا ہے ، کیونکہ اسے تو خود اللہ نے معاف کردیا ہے۔ اللہ نے اپنے رسول کے سامنے یہ حقیقت کھول دی ہے۔ و ان یریدوا خیانتک یعنی یہ بات اگر ان کی جانب سے بطور مکر و فریب اور خیانت ہے تو انہوں نے اس سے قبل بھی اللہ کی خیانت کا ارتکاب کیا ہے کہ انہوں نے کفر کو اپنایا ، اسلام کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کے خلاف آمادہ جنگ ہوگئے۔ اگرچہ ان کی یہ بات برائے ظاہر داری اچھی ہے اور اللہ بھی جانتا ہے کہ اس کی پشت پر کوئی بھلائی موجود ہے تو اللہ ان کو معاف کردے گا اور ان کے سابقہ کرتوتوں کو ساقط کردے گا۔

الأنفال 8:72

تفسیر آیات 72 تا 75:۔ اب یہ درس ختم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ سورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس میں اسلامی معاشرے کے اندرونی حالات و تعلقات اور اسلامی معاشرے اور دوسرے معاشروں کے مابین تعلقات کو منضبط کیا گیا ہے۔ اور اس بارے میں منظم بین الاقوامی قانون کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ان احکام و ضوابط پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے۔ وہ کیا بنیاد ہے جس کے اوپر اس کی عمارت اٹھتی ہے اور وہ کیا انتہا ہے جس تک یہ نظام بڑھتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد خونی رشتوں پر نہیں ہے۔ زمین اور علاقائی رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ رنگ و سنل کے رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ تاریخی مشترکہ ورثے کے تعلقات پر بھی نہیں ہے۔ مشترکہ زبان اور مشترکہ اقتصادی نظام کے تعلقات پر بھی نہیں ہے۔ یہ نظام نہ رشتہ داری کا نظام ہے ، نہ وطنیت ہے ، نہ قومیت ہے اور نہ اقتصادی مصالح کا نام ہے۔ بلکہ یہ نظام ایک نظریے پر بنا ہے۔ یہ ایک رسول کی قیادت پر وجود میں آیا ہے۔ یہ ایک تحریک کا نام ہے ، لہذا جو لوگ ایمان لائے ، انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر دار ہجرت میں آگئے ، اور انہوں نے اپنے تمام زمینی رشتے کاٹ دیے ، اپنی زمین کو چھوڑ دیا ، قوم کو چھوڑ دیا ، مفادات کو چھوڑ دیا اور اپنے مالوں اور اپنی جان کے ذریعے جہاد فی سبیل اللہ کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور امداد دی اور وہ ان لوگوں کے قریب ہوگئے ، نظریات کی وجہ سے ، اور انہوں نے اسلامی قیادت کو قبول کرکے تحریک میں شامل ہوگئے۔ یہی لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے بھائی اور ولی ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے مگر دار الاسلام کی طرف ہجرت نہ کی تو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ولایت نہیں کیونکہ اسلامی عقیدے کے قبول کرنے کے بعد وہ اس عقیدے کے لیے وقف نہ ہوئے اور اس عقیدے کے نظام کو قبول نہ کیا اور اجتماعی تحریک کی قیادت کے احکامات قبول نہ کیے ، کیونکہ اسلامی معاشرے میں پائے جانے والے نظریاتی دو افراد کے درمیان پائے جانے والے تعلقات وراثت سے زیادہ اہم ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں کفار ایک دوسرے کے ولی بھی ہیں اور وارث بھی ہیں۔ یہ ہیں وہ اہم خطوط جن پر اسلامی معاشرے کی عمارت اٹھتی ہے۔ اور ان لائنوں پر افراد معاشرہ کے درمیان تعلقات بنتے اور بگڑتے ہیں جیسا کہ ان قرآنی آیات میں ضبط کیا گیا ہے۔ یوم بدر تک اسلام کے آغاز میں مسلمانوں کے درمیان ولایت کی نوعیت یہ تھی کہ ان کے درمیان توارث اور تکافل کے تعلقات تھے اور وہ اس کے تحت دیت ادا کرتے تھے اور ان کے درمیان ایک دوسرے کی نصرت اور اخوت کی ولایت قائم تھی اور یہ ولایت قرابت ، نسبت اور خون کی ولایت کے قائم مقام تھی۔ لیکن جب یوم بدر کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو استحکام بخش دیا اور اسلامی مملکت مستحکم ہوگئی تو ولایت اور نصرت رہ گئی اور میراث اور دیات میں تکافل کو اسلامی معاشرے کے اندر خورنی رشتوں کی طرف لوٹا دیا۔ اس آیت میں جس ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور جسے اس ولایت کے لیے شرط قرار دیا گیا خواہ ولایت عامہ ہو یا خاصہ ہو ، تو اس سے مراد دار الشرک سے دار الاسلام کی طرف ہجرت ہے جس کی استطاعت ہو ، جو لوگ ہجرت کرسکتے ہیں اور نہ کریں اور اس لیے نہ کریں کہ انہیں دار الشرک میں مفادات اور رشتہ داریاں عزیز ہوں تو ایسے لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ولایت نہیں ہے۔ اور یہی مسئلہ ان دیہاتی لوگوں کا تھا جو اسلام کو قبول کرچکے تھے لیکن ایسے ہی حالات کی وجہ سے انہوں نے ہجرت نہ کی۔ اس قسم سے بعض لوگ مکہ میں بھی تھے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اللہ نے ان کی نصرت لازم کی ہے بشرطیکہ وہ نصرت طلب کریں اور ان کی جس قوم کے ساتھ دشمنی ہو ، مسلمانوں اور اس قوم کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو کیونکہ اسلامی معاشرے کا عہد و پیمان اور اس کا تحریکی منصوبہ انفرادی ضرورتوں سے زیادہ اہم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکور احکام و ضوابط سے اسلامی معاشرے کے خدوخال اچھی طرح واضح ہوجاتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی ترجیحات کیا ہیں ؟ اس کی عضوی ترکیب کیا ہے اور اس کی بنیادی اقدار کیا ہیں ؟ لیکن یہ بات اس وقت پوری طرح واضح نہیں ہوسکتی جب تک اسلامی معاشرے اور اس کے تاریخی ارتقا پر ایک نوٹ نہ دے دیا جائے اور یہ وضاحت نہ کردی جائے کہ ایک اسلامی معاشرے کے کیا اساسی قواعد ہیں اور اس کی حرکت اور جدوجہد اور اس کی ترجیحات کا منہاج کیا ہے۔ دعوت اسلامی جسے حضرت محمد ﷺ لے کر اٹھے تھے۔ در اصل اس عالمگیر دعوت اسلامی کے طویل سلسلے کی آخری کڑی ہے جسے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد تک تمام انبیاء کرام پیش کرتے رہے۔ انسانیت کی اس طویل تاریخ میں دعوت اسلامی کا مطمع نظر اور نصب العین ایک ہی رہا ہے ، یعنی لوگوں کو شرک و بت پرستی سے ہٹآ کر صرف ایک رب ذوالجلال کی ذات سے متعارف کرانا اسی کا بندہ و غلام بنانا اور اس کے سوا تمام الا ہوں اور بندگیوں سے نجات دینا۔ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ معدودے چند افراد کو چھوڑ کر اور چند مختصر وقفوں کے سوا ، پوری انسانیت نے کبھی بھی الوہیت کے اصل سرچشمے ، اللہ کی ذات کا انکار نہیں کیا۔ تمام اقوام و ملل میں یہ عقیدہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور پایا جاتا رہا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ لوگ کبھی تو اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کرنے میں ٹھوکریں کھاتے رہے ہیں اور یا اس کی الوہیت اور ربوبیت میں کسی نہ کسی کو شریک کرتے رہے ہیں۔ یہ شرک یا تو پرستش اور عقیدے میں ہوا ہے اور یا یہ حاکمیت اور اطاعت کے دائرہ میں ہوا ہے اور اپنی نوعیت اور نتائج کے لحاظ سے دونوں قسم کے شرک ایک ہی جیسے ہیں۔ لوگ اس کا ارتکاب کرکے اللہ کے دین سے نکل جاتے رہے۔ تاریخ کے ہر دور میں رسولوں کے ذریعہ لوگوں تک دین پہنچتا رہا۔ پھر رفتہ رفتہ یوں ہوا کہ لوگ دین حق سے خارج ہو ہو کر اس جاہلیت کی طرف پلٹتے جس سے دین حق نے انہیں نکالا تھا۔ اگرچہ یہ لوگ مکمل طور پر خدا کا انکار نہ کرتے بلکہ اس کی ذات میں شرک کرتے یا عقائد و نظریات میں اور یا پھر اطاعت و حاکمیت میں یا ان سب میں۔ یہ ایک مقصد ہی دعوت اسلامی کا نصب العین رہا ہے اور پوری تاریخ انسانی میں تمام انبیاء کرام کی دعوت کا مقصد بھی ایک ہی رہا ہے یعنی اسلام۔ دوسرے لفظوں میں ایک اللہ اور رب کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ، لوگوں کو تمام الہوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت میں داخل کرنا یعنی لوگوں کی حاکمیت ، شریعت ، حکومت اور زندگی کی تمام عادات واطوار میں صرف اللہ وحدہ کی اطاعت میں داخل کرنا یہی وہ مقصد تھا جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ لے کر تشرف لائے اور آپ سے قبل تمام انبیاء کا نصب العین بھی یہی رہا ہے۔ اس کا نام ہے اسلام ، جو لوگوں کو دوبارہ صرف اللہ کی حاکمیت کے دائرہ میں لانا چاہتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ اس پوری کائنات میں تکوینی طور پر اللہ کی حاکمیت جاری ہے۔ ایک پتہ بھی حکم الہی کے بغیر اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔ سورج چاند اس کے حکم سے گردش کر رہے ہیں بعینہ اسی طرح تشریعی امور بھی سب کے سب اسی ذات برتر کے حکم کے مطابق چلیں اور لوگ اپنے لیے کوئی نظآم زندگی کوئی حکومت اور ایسی تدابیر اختیار نہ کریں جو اللہ کے تجویز کردہ نظام حیات ، طرز حکومت اور تدبیر سے مختلف ہو یا ان کے متضاد ہو۔ کیونکہ اللہ ہی اس پوری کائنات پر متصرف ہے بلکہ وہ خود انسانی زندگی کے طبعی حصے پر بھی متصر ہے۔ جو انسان کے دائرہ اختیار اور ارادے سے باہر ہے۔ مثلاً پیدائش نشوونما صحت و مرض حیات و ممات اور دوسرے وہ امور جو براہ راست اللہ کے تجویز کردہ طبیعی قوانین کے تابع ہیں اور انسان اپنی طبیعی اور اجتماعی زندگی میں ان فطری اصولوں کا طوعاً و کرھاً پابند ہے۔ اور کسی صورت میں بھی ان فطری اور طبیعی قوانین کو نہیں ندل سکتا اور نہ آج تک کوئی طاقت ان قوانین کو بدل سکی ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ بعینہ اسی طرح زندگی کے اختیاری حصے میں بھی انسان الہی قوانین کا پابند ہو اور اپنی پوری زندگی میں صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا حاکم اور مطاع بنا لے اور اس کی زندگی کا یہ اختیاری حصہ بھی زندگی کے تکوینی حصے اور کائنات سے ہم آہنگ ہوجائے اور اس طرح ان تینوں میں ہم آہنگی پائے جائے۔ مزید تشریح کے لیے مولانا ابو الاعلی مودودی کی کتاب " مبادی اسلام " غالبا رسالہ دینیات مراد ہے۔ جاہلیت جس کی بنیاد انسانی حاکمتی پر رکھی گئی ہے۔ جو جمہوریہ یا ڈکٹیٹر کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قانون بنائے۔ ظاہر ہے کہ جاہلیت کی یہ شکل ایک طرف کائنات کی فطرت سے باہر نکلی جا رہی ہے اور دوسری طرف انسانی زندگی کے اختیار اور غیر اختیار دائروں میں تصادم برپا کردیتی ہے۔ اس جاہلیت کا ہر اک پیغمبر نے مقابلہ کیا ہے اور انسانی تاریخ کے ہر دور میں لوگوں کو صرف اللہ وحدہ لا شریک کی اطاعت کی دعوت دی ہے۔ نبی ﷺ نے بھی اس جاہلیت کا مقابلہ کیا ہے۔ جاہلیت کی یہ شکل صرف نظریہ کی شکل میں موجود نہیں تھی بلکہ بسا اوقات اس کے لیے کوئی مرتب دستور ہیئت بھی نہیں رہی ہے۔ یہ جاہلیت " اجتماعی تحریک " کی شکل میں موجود رہی ہے۔ ایک منظم سوسائٹی میں اس کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے۔ یہ اجتماعی تحریک اس سو سائٹی کی فراہم کردہ قیادت کے تابع فرمان رہی ہے۔ ایک منظم سوسائٹی میں اس کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے۔ یہ اجتماعی تحریک اس سوسائٹی کی فراہم کردہ قیادت کے تابع فرمان رہی ہے۔ یہ تحریک جاہلی سوسائٹی کے افکار ، اقدار ، مطلوبات حیات ، رسوم اور عادات پوری طرح اپنا لیتی ہے۔ پھر یہ جاہلی سوسائٹی شیرازہ بند سوسائٹی رہی ہے۔ اس کے افراد میں عملی اشتراک ، مل کر پروگرام کی تکمیل کرنا ، نظم ، باہمی قرب کا احساس اور آپس کا ایسا تعاون رہا ہے جو کسی پارٹی کے ارکان میں ہوا کرتا ہے۔ افراد کی یہ شیرازہ بندی اس جاہلی سوائٹی کو شعوری یا غیر شعوری طور پر متحرک رکھتی رہی ہے تاکہ سوسائٹی اپنا تحفظ کرسکے اور اپنی ذات کے دفاع کا انتظام کرسکے اور اپنے وجود کے خلاف خطرات کی ان تمام بنیادوں کو ملیا میٹ کرسکے جو اسے کسی بھی صورت میں چیلنج کر رہی ہیں۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ جاہلیت محض ایک عقیدے اور نظریہ کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک معاشرے اور اجتماعی تحریک کی شکل میں آتی ہے ، تو اس سے یہ بات از خود واضح ہوجاتی ہے کہ اس جاہلیت سے لوگوں کو دوبارہ اسلامی نظام حیات اور اللہ کی بندگی میں داخل کرنے کا کام محض نظریہ کی شکل میں ہرگز نہ ہوسکے گا اور نہ اس صورت میں کسی درجے میں یہ مفید ہوسکتا ہے کیونکہ اس شکل میں دعوت اسلامی کا نظریہ محض جاہلیت کے قائم شدہ نظام حیات کی برابری بھی نہ کرسکے گا۔ جس کے پیچھے ایک فعال معاشرہ ہوگا۔ چہ جائیکہ اسلامی نظریہ حیات جاہلیت پر غالب آجائے اور اپنے آپ کو اس سے برتر ثابت کرے کیونکہ ایک قائم اور پر شوکت وجود کو گرانے اور اس کی جگہ ایک نئے وجود کو کھڑا کرنے کے لیے یہ بےحد ضروری ہے کہ دوسرا وجود غالب ہو اور یہ نیا نظام حیات اپنے مزاج ، اپنے طریق کار ، اپنی ہستی اور اس کی جزئیات تک میں اس جاہلیت قائمہ سے بنیادی اختلاف رکھتا ہو ، نیز یہ قائم ہونے والا نظام حیات ایک جاندار اور متحرک اور پرشوکت معاشرے کی شکل میں قائم ہو اور اس کے اساسی نظریات اور تفصیلی نظم کی بنیاد نہایت ٹھوس اصولوں پر ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ایہ نظام اپنے روابط تعلقات اور ربط و ضبط اور تنظیم میں بھی اس جاہلی نظام حیات سے زیادہ مضبوط ہو۔ یہاں آ کر یہ سوال سامنے آجاتا ہے کہ وہ فکری اور نظریاتی اساس کیا ہے۔ جس پر تمام ادوار میں اسلامی نظام حیات کی عمارت تعمیر ہوتی رہی ہے ؟ یہ ہے لا الہ اللہ یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ اپنی الوہیت ، قیومیت ، بادشاہی اور حاکمیت میں وحدہ لاشریک ہے۔ انسان اپنے عقیدے اور ضمیر اسے ایک سمجھے۔ صرف اسی کی عبادت بجا لائے اور عملی زندگی میں صرف اسی کے قانون کی اطاعت کرے۔ یہ شہادت جب تک اس مفہوم میں نہ ہو شرعاً وہ غیر موجود تصور ہوگی۔ اس کا شرعی وجود اس بات پر موقوف ہے کہ اس کا عملی میدان میں بھی ایک خارجی وجود ہو جس کی بنا پر فیصلہ کیا جاسکتا ہو کہ شہادت دینے والا مسلم ہے یا غیر مسلم ہے۔ اور اس نظریہ کے وجود میں آنے کے معنی یہ ہیں کہ لوگ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی جانب لوٹ جائیں۔ زندگی کے ہر معاملے اور ہر شعبے میں صرف خدا کے فیصلے کو تسلیم کریں اور از خود فیصلہ نہ کریں بلکہ ہر معاملہ میں خدا کے حکم کی طرف رجوع کریں ، اس کی اطاعت کریں اور یہ ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو معلوم کرنے کے لیے حضرت محمد ﷺ کی طرف رجوع کریں۔ آپ ہی نے اللہ تعالیٰ کا حکم ہم تک پہنچایا اور آپ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ اسلام کے رکن اول کے دو اجزاء میں سے یہ دوسرا جزو ہے وج اس اقرار سے وجود پذیر ہوجاتا ہے۔ یہ اسلام کا وہ بنیادی نظام عقیدہ ہے جس سے اسلامی نظام حیات تشکیل پاتا ہے۔ اس بنیادی عقیدہ کو جب پوری زندگی پر منطبق کیا جاتا ہے تو اس سے ایک مفصل نظام حیات جنم لیتا ہے۔ جسے اپنا کر ایک مسلمان آدمی زندگی کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو حل کرلیتا ہے۔ ملک کے داخلی مسائل بھی اس سے حل ہوجاتے ہیں اور خارجی مسائل بھی اسے معلوم ہوجاتے ہیں کہ اس مسلم سوسائٹی سے کس قسم کا تعلق رکھنا ہے اور غیر مسلم سوسائٹیوں سے اس کے روابط کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں۔ اسلامی نظام حیات کو یہ مطلوب نہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو نظریہ محض کی شکل میں پیش کرے اور صورت یہ ہو کہ لوگوں میں سے جس کی مرضی ہو ، اس کو قبول کرے۔ چند مراسم عبادت بجا لائے اور اس کے بعد اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے جاہلی اور غالب معاشرے میں ضم ہوکر جاہلیت کے زیر سایہ زندگی بسر کرے۔ اس لیے کہ ایسے حالات میں مسلمان اگر ایک ایک عظیم تعداد میں بھی ہوں تو بھی وہ اسلامی نظام حیات کو بالفعل اور عملاً قائم نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ایسے افراد جو اسلامی نظام حیات پر ایمان بھی لا چکے ہوں اور اس کے بعد ایک جاہلی معاشرے کا جزو بھی بن رہے ہیں وہ شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر طوعاً و کرھاً اپنے آپ کو اس جاہلی معاشرے کے مقاصد بروئے کار لانے میں مجوبر پائیں گے اور ان کی زندگی کی ہر تگ و دو در اصل اس جاہلی معاشرے کے اساسی تقاضے پورے کر رہی ہوگی ، جو اس کے وجود کے لیے ضروری ہوں۔ بلکہ اسے بڑھ کر ایسے لوگ اس جاہلی معاشرے کے وجود کے لیے خطرناک ہوں گے۔ کیونکہ ایک اجتماعی نظام اپنے تمام اجزاء کو ہمیشہ اپنے دفاع میں لگائے رکھتا ہے۔ خواہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ، دوسرے الفاظ میں یون کہا جاسکتا ہے کہ ایسے افراد اسلامی نظریہ حیات پر ایمان رکھنے اور جاہل نظآم حیات کا دشمن ہونے کے باوجود اس جاہلی معاشرے کی تعمیر اور خدمت میں مصروف ہوں گے اور ہر وقت اسے تقویت پہنچاتے رہیں گے۔ چلتی پھرتی زندہ لاشوں کی طرح یہ جاہلی معاشرے کی بقا اور دوام کے لیے اپنے وسائل صرف کریں گے۔ ان کی قابلیتیں ، ان کے تجربات اور ان کی چستی اس جاہلی معاشرے کے زندہ اور مضبوط بنانے میں صرف ہوگی حالانکہ ان کی ساری تگ و دو اسی امر کے لی ہونی چاہیے کہ جاہلی معاشرہ کو توڑ کر اسلامی سوسائٹی کو برپا کیا جائے۔ اس لیے یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ اسلام کا بنیادی عقیدہ پہلے ہی مرحلہ میں ایک ایسی اجتماعی تحریک کی شکل میں نمودار ہونا چاہیے جو اس جاہلی تحریک سے الگ اور مستقل بالذات ہو۔ جسے اسلام مٹانے کے لیے آیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس اجتماعی تحرک کا محور ایسی قیادت ہو جو نبی ﷺ او سلف صالحین کے رنگ میں رنگی ہوئی ہو ، جس کا نصب العین یہ ہو کہ وہ لوگوں کو اللہ وحدہ لا شریک کی الوہیت ، ربوبیت ، قوامیت حاکمتی اور اس کے غلبہ و اقتدار اور شریعت کی طرف دعوت دے۔ اور جو شخص بھی پورے شعور کے ساتھ کلمہ شہادت ادا کرکے اس تحریک میں شامل ہو ، وہ اس جاہلی سوسائٹی سے ربط وتعلق کو کاٹ کر الگ ہوجائے۔ یہ وہی جاہلی سوسائٹی ہے جس سے کٹ کر وہ یہاں آیا ہے۔۔ اسی طرح اسے جاہلی سوسائٹی کی قیادت سے بھی الگ ہونا پڑے گا۔۔۔ یہ جاہلی قیادت مذہبی شکل میں بھی ہوتی ہے ، یہ کاہن ہیں ، پجاری ہیں اور مجاور ہیں۔ جادوگر اور قیافہ شناس ہیں اور یہ جاہلی قیادت سیاسی ، قبائلی اور معاشی رنگ میں بھی ہوتی ہے۔ اسلامی کے عہد اول اول میں دونوں طرح کی یہ قایدت قریش کی جاہلی سوسائٹی میں موجود تھی اسے اس جاہلی قیادت سے الگ ہونا پڑے گا اور اسے اپنی وفادار اسلامی تحریک اور اس کے قائدین تک محدود رکھنی پڑے گی۔ بنیادی عقیدہ اجتماعی تحریک کی شکل میں پہلے ہی مرحلہ میں نمودار ہوجانا چاہیے۔ جب کہ ایک مسلمان آدمی شعور کے ساتھ از سر نو اپنے ایمان کو تازہ کرتے ہوئے " شہادتیں " ادا کرے کیونکہ مسلم سوسائٹی کا وجود خارجی اس کے بغیر متحقق ہی نہیں ہوسکتا۔ اس بنیادی عقیدہ کا محض دلوں میں راسخ ہوجانے سے ہی مسلم سوسائٹی وجود میں نہیں آجاتی۔ چاہے اس کے افراد کی تعداد کتنی زیادہ ہی کیوں نہ ہو جب تک کہ یہ افراد اجتماعی تحریک کی شکل میں منظ ہو کر باہمی تعاون کے ساتھ کام نہ کریں۔ یہ اجتماعی تحریک اپنے ذاتی وجود کے ساتھ مستقل طور پر قائم نہ ہو۔ اس کے ممبر تحریک کے ارکان کی حیثیت سے اپنا اجتماعی فریضہ انجام نہ دیں۔ جس طرح کہ ایک زندہ جسم کے اعضاء اپنا تکوینی وظیفہ عمل ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ ارکان مسلم سوسائٹی اپنے وجود کو برقرار رکھنے ، اس کی جڑوں کو اور گہرا کرنے اور اسے مزید وسعت دینے کا کام کریں۔ نیز انہیں ان عوامل کے مقابلہ میں اپنا دفاع بھی کرنا ہوگا ، جو اس سوسائٹی کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہیں اور یہ سارا کارنامہ انہیں جاہلی قیادت کے مقابلہ میں اپنی مستقل قیادت کی راہنمائی میں انجام دینا ہوگا جو انہیں منظم اور متحرک رکھے گی اور انہیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے تحریک کی جڑوں کو اور گہرا کرنے اسے اور وسیع کرنے کی طرف متوجہ کرے گی اور اس طرح جاہلی تحیرکات مقابلہ میں کھڑا کرے گی۔ اسلام اسی طرح وجود میں آیا کہ لوگوں کے سامنے پہلے ایک مجمل مگر جامع اصول اور نظریہ حیات رکھا گیا اور پھر ایک تحریک اٹھی اور ایک نئے معاشرے کی بنیاد پڑگئی اور یہ نیا معاشرہ نہ صرف یہ کہ اس جاہلی معاشرے سے مختلف تھا بلکہ اس کے وجود کے لیے چیلنج بن گیا اور اس کے بالمقابل آکھڑا ہوا۔ کسی دور میں بھی اسلام ایک مجرد نظریہ کی شکل میں نہیں آیا۔ وہ ہمیشہ ایک فعال تحریک کی شکل میں آیا اور آئندہ بھی اس کا احیاء ہوسکتا ہے تو وہ صرف اس صورت ہی میں ہوسکتا ہے کہ اس کی پشت پر ایک فعال تحریک ہو اور یہ ہر گز ممکن نہیں ہے کہ ایک غالب جاہلی معاشرہ کے زیر سایہ اسلامی معاشرہ کا از سر نو احیاء ہوسکے۔ محض نظریاتی بنیاد پر اسلام کا احیاء کسی وقت اور کسی جگہ بھی ممکن نہیں جب تک کہ اس کی پشت پر عملاً تحریک موجود نہ ہو۔ جب ہم یہ سمجھ گئے کہ اس دین کا فطری ارتقاء یوں ہوتا ہے اور اس کا یہ فلسفہ ہے تو ہم اس وقت اس دین کی حقیقت اور اس کے تحریکی مزاج کو سمجھ سکیں گے۔ جب ہم نے اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیا جس کی پوری تفصیلات ہم نے سورت انفال کے مقدمے میں دے دی ہیں۔ نیز صرف اس پس منظر ہی کے نتیجے میں ہم ان آیات کی حقیقت اور ان احکام کے مفہوم کو سمجھ سکیں گے جو اس سورت کے خاتمے پر دیے گئے ہیں۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام معاشرے کی تنظیم کیا ہوگی ؟ مہارجین اور انصار کے تعلقات کیا ہوں گے ؟ ان کی طبقاتی حیثیت کیا ہوگی ؟ مقامی معاونین اور انصار کے تعلقات مہاجرین کے ساتھ کیا ہوں گے۔ نیز ان لوگوں کے ساتھ ان دونوں کے تعلقات کیسے ہوں گے جنہوں نے اس مرحلے پر ہجرت نہیں کی اور دوسرے کفار کے ساتھ اس اسلامی معاشرے کے بین الاقوامی تعلقات کیا ہوں گے ؟ اور یہ تمام تدبر اور ادراک اس دین کے عضویاتی تشخص اور اس کے تحریکی ارتقاء کے تصورات کے رنگ میں ضروری ہوگا۔ اب ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ ہم ان اصولوں کی روشنی میں ان آیات (72 تا 75) پر تفصیلی بحث کرسکیں۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُهَاجِرُوْا ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭاِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ ۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے ، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، وہی در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آے مگر ہجرت کرکے (دار الاسلام مٰں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے ، جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے ، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔ جو لوگ منکر حق ہیں ، وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر یہ نہ کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، یقینا اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں جو شخص کلمہ شہادت پڑھ لیتا تھا ، وہ اپنے خاندان ، اپنے قبیلے ، اپنے رشتہ داروں اور دور جاہلیت کی قیادت سے اپنے تعلقات ولایت توڑ دیتا تھا ، اور اپنی ولایت اور قیادت کی زمام حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں دے دیتا تھا۔ اور وہ اس معاشرے اور خاندان کا فرد بن جاتا تھا جو حضرت محمد ﷺ کی قیادت میں اٹھ رہا تھا اور قریش کا معاشرہ اپنے ذاتی قائم جو جاہلی وجود کی مدافعت کر رہا تھا کیونکہ یہ نیا معاشرہ در حقیقت سابق قائم معاشرے کے خلاف بغاوت کر رہا تھا اور یہ کشمکش ان دونوں معاشروں کے درمیان جنگ بدر کے میدانی معرکے سے بہت پہلے برپا تھی اور قریش کا معاشرہ یہ چاہتا تھا کہ اس جدید معاشرے کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے۔ ان حالات میں حضور ﷺ نے اس جدید معاشرے کے افراد کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ اس طرح کہ قریش کے جاہلی معاشرے سے جو جو افراد ٹوٹ کر آئے تھے ، وہ اس جدید باہم متکافل (Secure) معاشرے کے فرد بنتے چلے جاتے تھے اور یہ نیا معاشرہ خون اور نسب کے رشتوں کے بجائے نظریات و عقائد کے رشتوں پر قائم تھا۔ اور لوگوں کی وفا داریاں اس جدید قیادت کے ساتھ وابستہ ہوتی چلی جاتی تھیں اور قدیم جاہلی قیادت سے کٹتی چلی جاتی تھیں۔ نیز ان کی محبت اس قدیم جاہلی معاشرے سے کٹ کر اس جدید اسلامی معاشرے سے وابست ہوجاتی تھی۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے دار الہجرت (مدینہ) کے دروازے کھول دیے۔ مدینہ میں اہل ایمان کا ایک سا گروہ پیدا ہوگیا جس نے اسلامی قیادت کے ہاتھ پہ غیر مشروط بیعت کرلی اور خوشی اور ناخوشی ہر حالت میں سمع و اطاعت کا عہد کرلیا اور یہ ذمہ لے لیا کہ وہ ہر حالت میں رسول اللہ کی حفاظت و حمایت کریں گے ، جس طرح وہ اپنے اموال ، اولاد اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرتے ہیں اور پھر مدینہ میں رسول اللہ کی قیادت میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے انصار مہاجرین کے درمیان دوبارہ مواخات قائم کی اور یہ مواخات بھی خون اور نسب کے رشتوں کے مقابلے میں اسلامی تصورت پر قائم ہوئی۔ اس مواخات میں بھی سابقہ مواخات کے پورے تقاضے ملحوظ رکھے گئے تھے یعنی وراثت دیت اور دوسرے معاوضوں میں اس کے افراد ایک دوسرے کے شریک ہوتے تے بعینہ اسی طرح جس طرح خون اور نسب کے رشتوں کے تحت سابقہ نظام میں مواخات قائم تھی۔ اس سلسلے میں حکم یہ تھا : " جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، وہی در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں " یہ لوگ ایک دوسرے کی نصرت میں بھی ولی ہیں ، ایک دوسرے کی میراث میں بھی ولی ہیں ، دیت معاوضے اور تمام اجتماعی ادائیگیوں میں بھی ایک دوسرے کے ولی ہیں جو سابقہ ادوار میں خون اور نسب کے رابطے پر عائد ہوتی تھیں۔ ایک قسم کے لوگ وہ تھے جو دین اسلام میں تو داخل ہوگئے تھے لیکن وہ عملاً ہجرت کرکے اسلامی معاشرے میں داخل نہ ہوتے تھے۔ یعنی انہوں نے مدینہ کی اسلامی ریاست کی طرف ہجرت نہ کی جہاں اسلامی شریعت نافذ تھی۔ جہاں اسلامی قیادت کا انتظام و انصرام تھا۔ اور وہ اس معاشرے کی طرف نہ آئے جہاں شرعی قوانین حکمران تھے۔ اور جس میں مکمل اسلامی تشخص اور وجود قائم تھا۔ جبکہ مکہ میں اس معاشرے کا وجود نسبتاً کم درجے میں قائم تھا یعنی وہاں بھی لوگ جدید قیادت کے وفادار تھے اور ایک اجتماعی تحریکی شکل میں وہ یکجا ہوگئے تھے اور اپنا ایک مستقل وجود رکھتے تھے جو اس وقت کے قائم جاہلی وجود سے کٹ گئے تھے اور اپنے اس نئے وجود کے ساتھ پورے جاہلی معاشرے کا مقابلہ کر رہے تے۔ غرض ایسے لوگ مکہ کے ارد گرد بھی موجود تھے اور مدینہ کے ارد گرد بھی موجود تھے۔ جنہوں نے عقیدہ قبول کرلیا تھا لیکن وہ جاہلی معاشرے سے کٹ کر اسلامی معاشرے میں داخل نہ ہوئے تے۔ اور وہ پوری طرح مدینہ میں قائم اسلامی حکومت اور قیادت کے ماتحت نہ تے اور نہ وہ اس کے تابع تھے۔ یہ لوگ اسلامی معاشرے کے ممبر تصور نہ ہوتے تے ، اس لیے اللہ نے ان کو اسلامی معاشرے کی ولایت کے حقوق نہ دیے ، کیونکہ یہ عملاً اسلامی معاشرے کے افراد نہ تھے اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا : " رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے (دار الاسلام میں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے ، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو " یہ حکم جیسا کہ ہم نے کہا ، اس دین کے مزاج کے ساتھ اور اس کی عملی تحریکی سرگرمیوں کے ساتھ منطقی ربط رکھتا ہے کیونکہ یہ لوگ در اصل اسلام کے عملی معاشرے کے اجزاء نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے اور اسلامی معاشرے کے درمیان ولایت کا تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ ہاں ایسے لوگوں کے ساتھ چونکہ عقائد و نظریات کا رابطہ موجود ہے لیکن محض نظریاتی رابطے کے نتیجے میں ان لوگوں کی ذمہ داری اسلامی معاشرے پر عائد نہیں ہوتی۔ الا یہ کہ ان کے دین اور نظریہ پر کوئی دست درازی ہو رہی ہو مثلاً ان پر ان کے نظریات کی وجہ سے تشدد ہوتا ہو۔ ایسے حالات میں اگر وہ مسلمانوں سے امداد طلب کریں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان کو امداد دیں۔ بشرطیکہ اس امداد کا کا اثر اس معاہدے پر نہ پڑتا ہو جو اسلامی معاشرے نے کسی دوسری قوم کے ساتھ کیا ہو۔ اگرچہ یہ معاہدہ کرنے والی حکومت ہی یہ تشدد کر رہی ہو۔ اس لیے کہ اصل اہمیت اسلامی معاشرے اور اس کے معاہدات کی ہے ، افراد کی نہیں ہے۔ کیونکہ معاہدات سے اسلامی معاشرے کے تحریکی منصوبے متاثر ہوتے ہیں ، اس لیے معاہدات کی ہے ، افراد کی نہیں ہے۔ کیونکہ معاہدات سے اسلامی معاشرے کے تحریکی منصوبے متاثر ہوتے ہیں ، اس لیے معاہدوں کو افراد کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اگرچہ معاملہ نظریات کی اساس پر تشدد سے ہو لیکن چونکہ تشدد کا شکار ہونے والے مسلمان خود اپنی مرضی سے اسلامی دار الہجرت کی طرف نہیں آئے اس لیے ان پر شاید ظالم کو ترجیح دی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں اجتماعی تحریکی مفادات کو افراد کے مقابلے میں کس قدر زیادہ اہمیت حاصل ہے ، کیونکہ اسلام کا اجتماعی وجود زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، بمقابلہ ایک فرد اور اس کے مفادات کے۔ اس پوری اسکیم پر تبصرہ آتا ہے واللہ بما تعملوان بصیر وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ لہذا تمہارا پورا عمل اس کی نظروں میں ہے۔ وہ ان اعمال کی ظاہری صورت اور باطنی مقاصد سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ان کے مقدمات اور ان کے نتائج سب کو جانتا ہے۔ ان کے اسباب اور ان کے آثار کو بھی اچھی طرح سمجھتا ہے۔ جس طرح اسلامی معاشرہ باہم متوازن ، متکافل اور معاون اور ذمہ دار ہوتا ہے ، اسی طرح جاہلی معاشرہ بھی اپنے افراد کو سوشل سیکورٹی فراہم کرتا ہے۔ والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ اور جن لوگوں نے کفر یا وہ ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ہم نے تشریح کی۔ دو محاذوں کی پوزیشن ایسی ہی ہے۔ جاہلی معاشرہ بھی فردا فردا نہیں چلتا۔ وہ بھی ایک عضویاتی تشخص کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے اعضاء جوارح اسی طرح کام کرتے ہیں جس طرح افراد کرتے ہیں اور وہ بھی اپنے ذاتی تشخص کا دفاع اسی طرح کرتا ہے جس طرح اسلامی معاشرہ کرتا ہے ، لہذا کفار ایک دوسرے کے دوست اور ولی ہیں اور اسلامی بھی اہل کفر کے مقابلے میں اپنے آپ کو ایک محاذ تصور کرتا ہے اور اسلام بھی ان کے معاشرے کے مقابلے میں اپنے آپ کو ایک معاشرے کی شکل میں پیش کرتا ہے لیکن اسلامی معاشرہ کفر کے مقابلے میں زیادہ گہری ، مضبوط اور قوی اساس پر قائم ہوتا ہے۔ اگر اسلامی معاشرہ کفار کے مقابلے میں ایک ایسا ہی اجتماعی معاشرہ کھڑا کرکے نہ لائے گا تو جاہلی معاشرے کی طرف سے اسے ہر وقت فتنہ و فساد کا خطرہ درپیش رہے گا کیونکہ انفرادی طور پر مسلمان جاہلیت کے مضبوط اور باہم پیوستہ اجتماعی معاشرے کا مقابلہ نہ کرسکیں گے اور دنیا میں ایک عظیم فتنہ و فساد برپا ہوجائے گا کیونکہ جاہلیت کا معاشرہ اسلام پر غالب آجائے گا اور اس صورت میں جاہلیت اسلام پر دست درازی اور سرکشی کرے گی اور بندوں کو خدائی اللہ تعالیٰ کی خدائی پر غالب آجائے گی۔ اور لوگ پھر سے انسانوں کی غلامی میں چلے جائیں گے۔ ظاہر ہے اس سے بڑا فساد اور کیا ہوسکتا ہے ؟ الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر " اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ و فساد برپا ہوگا۔ اس تنبیہ کے بعد اور کیا تنبیہ ہوگی اور اس ڈراوے کے بعد اور کیا ڈراوا ہوگا۔ وہ مسلمان جو اپنے اجتماعی وجود کی اساس اس قسم کے عضویاتی اور تحریکی اتحاد پر نہیں رکھتے جس کے افراد کے درمیان گہری اخوت ہو اور جس کی ایک قیادت ہو ، وہ اللہ کے سامنے اس عظیم فساد کے ذمہ دار ہوں گے جو ان کے اجتماعی وجود لا حق ہوگا اور قیامت کے دن تو بہرحال تمام ذمہ داریاں ان پر ہوں گی کیونکہ اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو ان کا معاشرہ فساد کا شکار ہوگا۔

الأنفال 8:73

تفسیر آیات 72 تا 75:۔ اب یہ درس ختم ہوتا ہے اور اس کے ساتھ یہ سورت بھی ختم ہوجاتی ہے۔ اس میں اسلامی معاشرے کے اندرونی حالات و تعلقات اور اسلامی معاشرے اور دوسرے معاشروں کے مابین تعلقات کو منضبط کیا گیا ہے۔ اور اس بارے میں منظم بین الاقوامی قانون کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ان احکام و ضوابط پر غور کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا مزاج کیا ہے۔ وہ کیا بنیاد ہے جس کے اوپر اس کی عمارت اٹھتی ہے اور وہ کیا انتہا ہے جس تک یہ نظام بڑھتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد خونی رشتوں پر نہیں ہے۔ زمین اور علاقائی رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ رنگ و سنل کے رشتوں پر بھی نہیں ہے۔ تاریخی مشترکہ ورثے کے تعلقات پر بھی نہیں ہے۔ مشترکہ زبان اور مشترکہ اقتصادی نظام کے تعلقات پر بھی نہیں ہے۔ یہ نظام نہ رشتہ داری کا نظام ہے ، نہ وطنیت ہے ، نہ قومیت ہے اور نہ اقتصادی مصالح کا نام ہے۔ بلکہ یہ نظام ایک نظریے پر بنا ہے۔ یہ ایک رسول کی قیادت پر وجود میں آیا ہے۔ یہ ایک تحریک کا نام ہے ، لہذا جو لوگ ایمان لائے ، انہوں نے اپنا وطن چھوڑ کر دار ہجرت میں آگئے ، اور انہوں نے اپنے تمام زمینی رشتے کاٹ دیے ، اپنی زمین کو چھوڑ دیا ، قوم کو چھوڑ دیا ، مفادات کو چھوڑ دیا اور اپنے مالوں اور اپنی جان کے ذریعے جہاد فی سبیل اللہ کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور امداد دی اور وہ ان لوگوں کے قریب ہوگئے ، نظریات کی وجہ سے ، اور انہوں نے اسلامی قیادت کو قبول کرکے تحریک میں شامل ہوگئے۔ یہی لوگ ہیں جو ایک دوسرے کے بھائی اور ولی ہیں۔ اور جو لوگ ایمان تو لے آئے مگر دار الاسلام کی طرف ہجرت نہ کی تو ان کے اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ولایت نہیں کیونکہ اسلامی عقیدے کے قبول کرنے کے بعد وہ اس عقیدے کے لیے وقف نہ ہوئے اور اس عقیدے کے نظام کو قبول نہ کیا اور اجتماعی تحریک کی قیادت کے احکامات قبول نہ کیے ، کیونکہ اسلامی معاشرے میں پائے جانے والے نظریاتی دو افراد کے درمیان پائے جانے والے تعلقات وراثت سے زیادہ اہم ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں کفار ایک دوسرے کے ولی بھی ہیں اور وارث بھی ہیں۔ یہ ہیں وہ اہم خطوط جن پر اسلامی معاشرے کی عمارت اٹھتی ہے۔ اور ان لائنوں پر افراد معاشرہ کے درمیان تعلقات بنتے اور بگڑتے ہیں جیسا کہ ان قرآنی آیات میں ضبط کیا گیا ہے۔ یوم بدر تک اسلام کے آغاز میں مسلمانوں کے درمیان ولایت کی نوعیت یہ تھی کہ ان کے درمیان توارث اور تکافل کے تعلقات تھے اور وہ اس کے تحت دیت ادا کرتے تھے اور ان کے درمیان ایک دوسرے کی نصرت اور اخوت کی ولایت قائم تھی اور یہ ولایت قرابت ، نسبت اور خون کی ولایت کے قائم مقام تھی۔ لیکن جب یوم بدر کے بعد اللہ نے مسلمانوں کو استحکام بخش دیا اور اسلامی مملکت مستحکم ہوگئی تو ولایت اور نصرت رہ گئی اور میراث اور دیات میں تکافل کو اسلامی معاشرے کے اندر خورنی رشتوں کی طرف لوٹا دیا۔ اس آیت میں جس ہجرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور جسے اس ولایت کے لیے شرط قرار دیا گیا خواہ ولایت عامہ ہو یا خاصہ ہو ، تو اس سے مراد دار الشرک سے دار الاسلام کی طرف ہجرت ہے جس کی استطاعت ہو ، جو لوگ ہجرت کرسکتے ہیں اور نہ کریں اور اس لیے نہ کریں کہ انہیں دار الشرک میں مفادات اور رشتہ داریاں عزیز ہوں تو ایسے لوگوں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی ولایت نہیں ہے۔ اور یہی مسئلہ ان دیہاتی لوگوں کا تھا جو اسلام کو قبول کرچکے تھے لیکن ایسے ہی حالات کی وجہ سے انہوں نے ہجرت نہ کی۔ اس قسم سے بعض لوگ مکہ میں بھی تھے۔ ایسے لوگوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اللہ نے ان کی نصرت لازم کی ہے بشرطیکہ وہ نصرت طلب کریں اور ان کی جس قوم کے ساتھ دشمنی ہو ، مسلمانوں اور اس قوم کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو کیونکہ اسلامی معاشرے کا عہد و پیمان اور اس کا تحریکی منصوبہ انفرادی ضرورتوں سے زیادہ اہم ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکور احکام و ضوابط سے اسلامی معاشرے کے خدوخال اچھی طرح واضح ہوجاتے ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی ترجیحات کیا ہیں ؟ اس کی عضوی ترکیب کیا ہے اور اس کی بنیادی اقدار کیا ہیں ؟ لیکن یہ بات اس وقت پوری طرح واضح نہیں ہوسکتی جب تک اسلامی معاشرے اور اس کے تاریخی ارتقا پر ایک نوٹ نہ دے دیا جائے اور یہ وضاحت نہ کردی جائے کہ ایک اسلامی معاشرے کے کیا اساسی قواعد ہیں اور اس کی حرکت اور جدوجہد اور اس کی ترجیحات کا منہاج کیا ہے۔ دعوت اسلامی جسے حضرت محمد ﷺ لے کر اٹھے تھے۔ در اصل اس عالمگیر دعوت اسلامی کے طویل سلسلے کی آخری کڑی ہے جسے حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد تک تمام انبیاء کرام پیش کرتے رہے۔ انسانیت کی اس طویل تاریخ میں دعوت اسلامی کا مطمع نظر اور نصب العین ایک ہی رہا ہے ، یعنی لوگوں کو شرک و بت پرستی سے ہٹآ کر صرف ایک رب ذوالجلال کی ذات سے متعارف کرانا اسی کا بندہ و غلام بنانا اور اس کے سوا تمام الا ہوں اور بندگیوں سے نجات دینا۔ انسانی تاریخ شاہد ہے کہ معدودے چند افراد کو چھوڑ کر اور چند مختصر وقفوں کے سوا ، پوری انسانیت نے کبھی بھی الوہیت کے اصل سرچشمے ، اللہ کی ذات کا انکار نہیں کیا۔ تمام اقوام و ملل میں یہ عقیدہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور پایا جاتا رہا ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ لوگ کبھی تو اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل کرنے میں ٹھوکریں کھاتے رہے ہیں اور یا اس کی الوہیت اور ربوبیت میں کسی نہ کسی کو شریک کرتے رہے ہیں۔ یہ شرک یا تو پرستش اور عقیدے میں ہوا ہے اور یا یہ حاکمیت اور اطاعت کے دائرہ میں ہوا ہے اور اپنی نوعیت اور نتائج کے لحاظ سے دونوں قسم کے شرک ایک ہی جیسے ہیں۔ لوگ اس کا ارتکاب کرکے اللہ کے دین سے نکل جاتے رہے۔ تاریخ کے ہر دور میں رسولوں کے ذریعہ لوگوں تک دین پہنچتا رہا۔ پھر رفتہ رفتہ یوں ہوا کہ لوگ دین حق سے خارج ہو ہو کر اس جاہلیت کی طرف پلٹتے جس سے دین حق نے انہیں نکالا تھا۔ اگرچہ یہ لوگ مکمل طور پر خدا کا انکار نہ کرتے بلکہ اس کی ذات میں شرک کرتے یا عقائد و نظریات میں اور یا پھر اطاعت و حاکمیت میں یا ان سب میں۔ یہ ایک مقصد ہی دعوت اسلامی کا نصب العین رہا ہے اور پوری تاریخ انسانی میں تمام انبیاء کرام کی دعوت کا مقصد بھی ایک ہی رہا ہے یعنی اسلام۔ دوسرے لفظوں میں ایک اللہ اور رب کے سامنے سر تسلیم خم کردینا ، لوگوں کو تمام الہوں کی بندگی اور غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت میں داخل کرنا یعنی لوگوں کی حاکمیت ، شریعت ، حکومت اور زندگی کی تمام عادات واطوار میں صرف اللہ وحدہ کی اطاعت میں داخل کرنا یہی وہ مقصد تھا جسے حضرت محمد صلی اللہ علیہ لے کر تشرف لائے اور آپ سے قبل تمام انبیاء کا نصب العین بھی یہی رہا ہے۔ اس کا نام ہے اسلام ، جو لوگوں کو دوبارہ صرف اللہ کی حاکمیت کے دائرہ میں لانا چاہتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ اس پوری کائنات میں تکوینی طور پر اللہ کی حاکمیت جاری ہے۔ ایک پتہ بھی حکم الہی کے بغیر اپنی جگہ سے نہیں ہلتا۔ سورج چاند اس کے حکم سے گردش کر رہے ہیں بعینہ اسی طرح تشریعی امور بھی سب کے سب اسی ذات برتر کے حکم کے مطابق چلیں اور لوگ اپنے لیے کوئی نظآم زندگی کوئی حکومت اور ایسی تدابیر اختیار نہ کریں جو اللہ کے تجویز کردہ نظام حیات ، طرز حکومت اور تدبیر سے مختلف ہو یا ان کے متضاد ہو۔ کیونکہ اللہ ہی اس پوری کائنات پر متصرف ہے بلکہ وہ خود انسانی زندگی کے طبعی حصے پر بھی متصر ہے۔ جو انسان کے دائرہ اختیار اور ارادے سے باہر ہے۔ مثلاً پیدائش نشوونما صحت و مرض حیات و ممات اور دوسرے وہ امور جو براہ راست اللہ کے تجویز کردہ طبیعی قوانین کے تابع ہیں اور انسان اپنی طبیعی اور اجتماعی زندگی میں ان فطری اصولوں کا طوعاً و کرھاً پابند ہے۔ اور کسی صورت میں بھی ان فطری اور طبیعی قوانین کو نہیں ندل سکتا اور نہ آج تک کوئی طاقت ان قوانین کو بدل سکی ہے۔ اسلام چاہتا ہے کہ بعینہ اسی طرح زندگی کے اختیاری حصے میں بھی انسان الہی قوانین کا پابند ہو اور اپنی پوری زندگی میں صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا حاکم اور مطاع بنا لے اور اس کی زندگی کا یہ اختیاری حصہ بھی زندگی کے تکوینی حصے اور کائنات سے ہم آہنگ ہوجائے اور اس طرح ان تینوں میں ہم آہنگی پائے جائے۔ مزید تشریح کے لیے مولانا ابو الاعلی مودودی کی کتاب " مبادی اسلام " غالبا رسالہ دینیات مراد ہے۔ جاہلیت جس کی بنیاد انسانی حاکمتی پر رکھی گئی ہے۔ جو جمہوریہ یا ڈکٹیٹر کو یہ حق دیتی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے قانون بنائے۔ ظاہر ہے کہ جاہلیت کی یہ شکل ایک طرف کائنات کی فطرت سے باہر نکلی جا رہی ہے اور دوسری طرف انسانی زندگی کے اختیار اور غیر اختیار دائروں میں تصادم برپا کردیتی ہے۔ اس جاہلیت کا ہر اک پیغمبر نے مقابلہ کیا ہے اور انسانی تاریخ کے ہر دور میں لوگوں کو صرف اللہ وحدہ لا شریک کی اطاعت کی دعوت دی ہے۔ نبی ﷺ نے بھی اس جاہلیت کا مقابلہ کیا ہے۔ جاہلیت کی یہ شکل صرف نظریہ کی شکل میں موجود نہیں تھی بلکہ بسا اوقات اس کے لیے کوئی مرتب دستور ہیئت بھی نہیں رہی ہے۔ یہ جاہلیت " اجتماعی تحریک " کی شکل میں موجود رہی ہے۔ ایک منظم سوسائٹی میں اس کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے۔ یہ اجتماعی تحریک اس سو سائٹی کی فراہم کردہ قیادت کے تابع فرمان رہی ہے۔ ایک منظم سوسائٹی میں اس کا مظاہرہ ہوتا رہا ہے۔ یہ اجتماعی تحریک اس سوسائٹی کی فراہم کردہ قیادت کے تابع فرمان رہی ہے۔ یہ تحریک جاہلی سوسائٹی کے افکار ، اقدار ، مطلوبات حیات ، رسوم اور عادات پوری طرح اپنا لیتی ہے۔ پھر یہ جاہلی سوسائٹی شیرازہ بند سوسائٹی رہی ہے۔ اس کے افراد میں عملی اشتراک ، مل کر پروگرام کی تکمیل کرنا ، نظم ، باہمی قرب کا احساس اور آپس کا ایسا تعاون رہا ہے جو کسی پارٹی کے ارکان میں ہوا کرتا ہے۔ افراد کی یہ شیرازہ بندی اس جاہلی سوائٹی کو شعوری یا غیر شعوری طور پر متحرک رکھتی رہی ہے تاکہ سوسائٹی اپنا تحفظ کرسکے اور اپنی ذات کے دفاع کا انتظام کرسکے اور اپنے وجود کے خلاف خطرات کی ان تمام بنیادوں کو ملیا میٹ کرسکے جو اسے کسی بھی صورت میں چیلنج کر رہی ہیں۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ جاہلیت محض ایک عقیدے اور نظریہ کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک معاشرے اور اجتماعی تحریک کی شکل میں آتی ہے ، تو اس سے یہ بات از خود واضح ہوجاتی ہے کہ اس جاہلیت سے لوگوں کو دوبارہ اسلامی نظام حیات اور اللہ کی بندگی میں داخل کرنے کا کام محض نظریہ کی شکل میں ہرگز نہ ہوسکے گا اور نہ اس صورت میں کسی درجے میں یہ مفید ہوسکتا ہے کیونکہ اس شکل میں دعوت اسلامی کا نظریہ محض جاہلیت کے قائم شدہ نظام حیات کی برابری بھی نہ کرسکے گا۔ جس کے پیچھے ایک فعال معاشرہ ہوگا۔ چہ جائیکہ اسلامی نظریہ حیات جاہلیت پر غالب آجائے اور اپنے آپ کو اس سے برتر ثابت کرے کیونکہ ایک قائم اور پر شوکت وجود کو گرانے اور اس کی جگہ ایک نئے وجود کو کھڑا کرنے کے لیے یہ بےحد ضروری ہے کہ دوسرا وجود غالب ہو اور یہ نیا نظام حیات اپنے مزاج ، اپنے طریق کار ، اپنی ہستی اور اس کی جزئیات تک میں اس جاہلیت قائمہ سے بنیادی اختلاف رکھتا ہو ، نیز یہ قائم ہونے والا نظام حیات ایک جاندار اور متحرک اور پرشوکت معاشرے کی شکل میں قائم ہو اور اس کے اساسی نظریات اور تفصیلی نظم کی بنیاد نہایت ٹھوس اصولوں پر ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ایہ نظام اپنے روابط تعلقات اور ربط و ضبط اور تنظیم میں بھی اس جاہلی نظام حیات سے زیادہ مضبوط ہو۔ یہاں آ کر یہ سوال سامنے آجاتا ہے کہ وہ فکری اور نظریاتی اساس کیا ہے۔ جس پر تمام ادوار میں اسلامی نظام حیات کی عمارت تعمیر ہوتی رہی ہے ؟ یہ ہے لا الہ اللہ یعنی اس بات کی گواہی کہ اللہ تعالیٰ اپنی الوہیت ، قیومیت ، بادشاہی اور حاکمیت میں وحدہ لاشریک ہے۔ انسان اپنے عقیدے اور ضمیر اسے ایک سمجھے۔ صرف اسی کی عبادت بجا لائے اور عملی زندگی میں صرف اسی کے قانون کی اطاعت کرے۔ یہ شہادت جب تک اس مفہوم میں نہ ہو شرعاً وہ غیر موجود تصور ہوگی۔ اس کا شرعی وجود اس بات پر موقوف ہے کہ اس کا عملی میدان میں بھی ایک خارجی وجود ہو جس کی بنا پر فیصلہ کیا جاسکتا ہو کہ شہادت دینے والا مسلم ہے یا غیر مسلم ہے۔ اور اس نظریہ کے وجود میں آنے کے معنی یہ ہیں کہ لوگ اپنی پوری زندگی میں اللہ کی جانب لوٹ جائیں۔ زندگی کے ہر معاملے اور ہر شعبے میں صرف خدا کے فیصلے کو تسلیم کریں اور از خود فیصلہ نہ کریں بلکہ ہر معاملہ میں خدا کے حکم کی طرف رجوع کریں ، اس کی اطاعت کریں اور یہ ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو معلوم کرنے کے لیے حضرت محمد ﷺ کی طرف رجوع کریں۔ آپ ہی نے اللہ تعالیٰ کا حکم ہم تک پہنچایا اور آپ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں۔ اسلام کے رکن اول کے دو اجزاء میں سے یہ دوسرا جزو ہے وج اس اقرار سے وجود پذیر ہوجاتا ہے۔ یہ اسلام کا وہ بنیادی نظام عقیدہ ہے جس سے اسلامی نظام حیات تشکیل پاتا ہے۔ اس بنیادی عقیدہ کو جب پوری زندگی پر منطبق کیا جاتا ہے تو اس سے ایک مفصل نظام حیات جنم لیتا ہے۔ جسے اپنا کر ایک مسلمان آدمی زندگی کے انفرادی اور اجتماعی مسائل کو حل کرلیتا ہے۔ ملک کے داخلی مسائل بھی اس سے حل ہوجاتے ہیں اور خارجی مسائل بھی اسے معلوم ہوجاتے ہیں کہ اس مسلم سوسائٹی سے کس قسم کا تعلق رکھنا ہے اور غیر مسلم سوسائٹیوں سے اس کے روابط کی نوعیت کیا ہونی چاہیے۔ جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں۔ اسلامی نظام حیات کو یہ مطلوب نہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو نظریہ محض کی شکل میں پیش کرے اور صورت یہ ہو کہ لوگوں میں سے جس کی مرضی ہو ، اس کو قبول کرے۔ چند مراسم عبادت بجا لائے اور اس کے بعد اپنے ارد گرد پھیلے ہوئے جاہلی اور غالب معاشرے میں ضم ہوکر جاہلیت کے زیر سایہ زندگی بسر کرے۔ اس لیے کہ ایسے حالات میں مسلمان اگر ایک ایک عظیم تعداد میں بھی ہوں تو بھی وہ اسلامی نظام حیات کو بالفعل اور عملاً قائم نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ایسے افراد جو اسلامی نظام حیات پر ایمان بھی لا چکے ہوں اور اس کے بعد ایک جاہلی معاشرے کا جزو بھی بن رہے ہیں وہ شعوری طور پر یا لاشعوری طور پر طوعاً و کرھاً اپنے آپ کو اس جاہلی معاشرے کے مقاصد بروئے کار لانے میں مجوبر پائیں گے اور ان کی زندگی کی ہر تگ و دو در اصل اس جاہلی معاشرے کے اساسی تقاضے پورے کر رہی ہوگی ، جو اس کے وجود کے لیے ضروری ہوں۔ بلکہ اسے بڑھ کر ایسے لوگ اس جاہلی معاشرے کے وجود کے لیے خطرناک ہوں گے۔ کیونکہ ایک اجتماعی نظام اپنے تمام اجزاء کو ہمیشہ اپنے دفاع میں لگائے رکھتا ہے۔ خواہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ، دوسرے الفاظ میں یون کہا جاسکتا ہے کہ ایسے افراد اسلامی نظریہ حیات پر ایمان رکھنے اور جاہل نظآم حیات کا دشمن ہونے کے باوجود اس جاہلی معاشرے کی تعمیر اور خدمت میں مصروف ہوں گے اور ہر وقت اسے تقویت پہنچاتے رہیں گے۔ چلتی پھرتی زندہ لاشوں کی طرح یہ جاہلی معاشرے کی بقا اور دوام کے لیے اپنے وسائل صرف کریں گے۔ ان کی قابلیتیں ، ان کے تجربات اور ان کی چستی اس جاہلی معاشرے کے زندہ اور مضبوط بنانے میں صرف ہوگی حالانکہ ان کی ساری تگ و دو اسی امر کے لی ہونی چاہیے کہ جاہلی معاشرہ کو توڑ کر اسلامی سوسائٹی کو برپا کیا جائے۔ اس لیے یہ نہایت ہی ضروری ہے کہ اسلام کا بنیادی عقیدہ پہلے ہی مرحلہ میں ایک ایسی اجتماعی تحریک کی شکل میں نمودار ہونا چاہیے جو اس جاہلی تحریک سے الگ اور مستقل بالذات ہو۔ جسے اسلام مٹانے کے لیے آیا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ اس اجتماعی تحرک کا محور ایسی قیادت ہو جو نبی ﷺ او سلف صالحین کے رنگ میں رنگی ہوئی ہو ، جس کا نصب العین یہ ہو کہ وہ لوگوں کو اللہ وحدہ لا شریک کی الوہیت ، ربوبیت ، قوامیت حاکمتی اور اس کے غلبہ و اقتدار اور شریعت کی طرف دعوت دے۔ اور جو شخص بھی پورے شعور کے ساتھ کلمہ شہادت ادا کرکے اس تحریک میں شامل ہو ، وہ اس جاہلی سوسائٹی سے ربط وتعلق کو کاٹ کر الگ ہوجائے۔ یہ وہی جاہلی سوسائٹی ہے جس سے کٹ کر وہ یہاں آیا ہے۔۔ اسی طرح اسے جاہلی سوسائٹی کی قیادت سے بھی الگ ہونا پڑے گا۔۔۔ یہ جاہلی قیادت مذہبی شکل میں بھی ہوتی ہے ، یہ کاہن ہیں ، پجاری ہیں اور مجاور ہیں۔ جادوگر اور قیافہ شناس ہیں اور یہ جاہلی قیادت سیاسی ، قبائلی اور معاشی رنگ میں بھی ہوتی ہے۔ اسلامی کے عہد اول اول میں دونوں طرح کی یہ قایدت قریش کی جاہلی سوسائٹی میں موجود تھی اسے اس جاہلی قیادت سے الگ ہونا پڑے گا اور اسے اپنی وفادار اسلامی تحریک اور اس کے قائدین تک محدود رکھنی پڑے گی۔ بنیادی عقیدہ اجتماعی تحریک کی شکل میں پہلے ہی مرحلہ میں نمودار ہوجانا چاہیے۔ جب کہ ایک مسلمان آدمی شعور کے ساتھ از سر نو اپنے ایمان کو تازہ کرتے ہوئے " شہادتیں " ادا کرے کیونکہ مسلم سوسائٹی کا وجود خارجی اس کے بغیر متحقق ہی نہیں ہوسکتا۔ اس بنیادی عقیدہ کا محض دلوں میں راسخ ہوجانے سے ہی مسلم سوسائٹی وجود میں نہیں آجاتی۔ چاہے اس کے افراد کی تعداد کتنی زیادہ ہی کیوں نہ ہو جب تک کہ یہ افراد اجتماعی تحریک کی شکل میں منظ ہو کر باہمی تعاون کے ساتھ کام نہ کریں۔ یہ اجتماعی تحریک اپنے ذاتی وجود کے ساتھ مستقل طور پر قائم نہ ہو۔ اس کے ممبر تحریک کے ارکان کی حیثیت سے اپنا اجتماعی فریضہ انجام نہ دیں۔ جس طرح کہ ایک زندہ جسم کے اعضاء اپنا تکوینی وظیفہ عمل ادا کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ ارکان مسلم سوسائٹی اپنے وجود کو برقرار رکھنے ، اس کی جڑوں کو اور گہرا کرنے اور اسے مزید وسعت دینے کا کام کریں۔ نیز انہیں ان عوامل کے مقابلہ میں اپنا دفاع بھی کرنا ہوگا ، جو اس سوسائٹی کو ملیا میٹ کرنے کے درپے ہیں اور یہ سارا کارنامہ انہیں جاہلی قیادت کے مقابلہ میں اپنی مستقل قیادت کی راہنمائی میں انجام دینا ہوگا جو انہیں منظم اور متحرک رکھے گی اور انہیں اپنے وجود کو برقرار رکھنے تحریک کی جڑوں کو اور گہرا کرنے اسے اور وسیع کرنے کی طرف متوجہ کرے گی اور اس طرح جاہلی تحیرکات مقابلہ میں کھڑا کرے گی۔ اسلام اسی طرح وجود میں آیا کہ لوگوں کے سامنے پہلے ایک مجمل مگر جامع اصول اور نظریہ حیات رکھا گیا اور پھر ایک تحریک اٹھی اور ایک نئے معاشرے کی بنیاد پڑگئی اور یہ نیا معاشرہ نہ صرف یہ کہ اس جاہلی معاشرے سے مختلف تھا بلکہ اس کے وجود کے لیے چیلنج بن گیا اور اس کے بالمقابل آکھڑا ہوا۔ کسی دور میں بھی اسلام ایک مجرد نظریہ کی شکل میں نہیں آیا۔ وہ ہمیشہ ایک فعال تحریک کی شکل میں آیا اور آئندہ بھی اس کا احیاء ہوسکتا ہے تو وہ صرف اس صورت ہی میں ہوسکتا ہے کہ اس کی پشت پر ایک فعال تحریک ہو اور یہ ہر گز ممکن نہیں ہے کہ ایک غالب جاہلی معاشرہ کے زیر سایہ اسلامی معاشرہ کا از سر نو احیاء ہوسکے۔ محض نظریاتی بنیاد پر اسلام کا احیاء کسی وقت اور کسی جگہ بھی ممکن نہیں جب تک کہ اس کی پشت پر عملاً تحریک موجود نہ ہو۔ جب ہم یہ سمجھ گئے کہ اس دین کا فطری ارتقاء یوں ہوتا ہے اور اس کا یہ فلسفہ ہے تو ہم اس وقت اس دین کی حقیقت اور اس کے تحریکی مزاج کو سمجھ سکیں گے۔ جب ہم نے اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیا جس کی پوری تفصیلات ہم نے سورت انفال کے مقدمے میں دے دی ہیں۔ نیز صرف اس پس منظر ہی کے نتیجے میں ہم ان آیات کی حقیقت اور ان احکام کے مفہوم کو سمجھ سکیں گے جو اس سورت کے خاتمے پر دیے گئے ہیں۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ اسلام معاشرے کی تنظیم کیا ہوگی ؟ مہارجین اور انصار کے تعلقات کیا ہوں گے ؟ ان کی طبقاتی حیثیت کیا ہوگی ؟ مقامی معاونین اور انصار کے تعلقات مہاجرین کے ساتھ کیا ہوں گے۔ نیز ان لوگوں کے ساتھ ان دونوں کے تعلقات کیسے ہوں گے جنہوں نے اس مرحلے پر ہجرت نہیں کی اور دوسرے کفار کے ساتھ اس اسلامی معاشرے کے بین الاقوامی تعلقات کیا ہوں گے ؟ اور یہ تمام تدبر اور ادراک اس دین کے عضویاتی تشخص اور اس کے تحریکی ارتقاء کے تصورات کے رنگ میں ضروری ہوگا۔ اب ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ ہم ان اصولوں کی روشنی میں ان آیات (72 تا 75) پر تفصیلی بحث کرسکیں۔ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَــصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَايَتِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ حَتّٰي يُهَاجِرُوْا ۚ وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰي قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِّيْثَاقٌ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۔ وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۭاِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْاَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيْرٌ ۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۔ جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے ، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، وہی در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آے مگر ہجرت کرکے (دار الاسلام مٰں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے ، جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملہ میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے ، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔ جو لوگ منکر حق ہیں ، وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر یہ نہ کروگے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، یقینا اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ مکہ مکرمہ میں جو شخص کلمہ شہادت پڑھ لیتا تھا ، وہ اپنے خاندان ، اپنے قبیلے ، اپنے رشتہ داروں اور دور جاہلیت کی قیادت سے اپنے تعلقات ولایت توڑ دیتا تھا ، اور اپنی ولایت اور قیادت کی زمام حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ میں دے دیتا تھا۔ اور وہ اس معاشرے اور خاندان کا فرد بن جاتا تھا جو حضرت محمد ﷺ کی قیادت میں اٹھ رہا تھا اور قریش کا معاشرہ اپنے ذاتی قائم جو جاہلی وجود کی مدافعت کر رہا تھا کیونکہ یہ نیا معاشرہ در حقیقت سابق قائم معاشرے کے خلاف بغاوت کر رہا تھا اور یہ کشمکش ان دونوں معاشروں کے درمیان جنگ بدر کے میدانی معرکے سے بہت پہلے برپا تھی اور قریش کا معاشرہ یہ چاہتا تھا کہ اس جدید معاشرے کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے۔ ان حالات میں حضور ﷺ نے اس جدید معاشرے کے افراد کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔ اس طرح کہ قریش کے جاہلی معاشرے سے جو جو افراد ٹوٹ کر آئے تھے ، وہ اس جدید باہم متکافل (Secure) معاشرے کے فرد بنتے چلے جاتے تھے اور یہ نیا معاشرہ خون اور نسب کے رشتوں کے بجائے نظریات و عقائد کے رشتوں پر قائم تھا۔ اور لوگوں کی وفا داریاں اس جدید قیادت کے ساتھ وابستہ ہوتی چلی جاتی تھیں اور قدیم جاہلی قیادت سے کٹتی چلی جاتی تھیں۔ نیز ان کی محبت اس قدیم جاہلی معاشرے سے کٹ کر اس جدید اسلامی معاشرے سے وابست ہوجاتی تھی۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے دار الہجرت (مدینہ) کے دروازے کھول دیے۔ مدینہ میں اہل ایمان کا ایک سا گروہ پیدا ہوگیا جس نے اسلامی قیادت کے ہاتھ پہ غیر مشروط بیعت کرلی اور خوشی اور ناخوشی ہر حالت میں سمع و اطاعت کا عہد کرلیا اور یہ ذمہ لے لیا کہ وہ ہر حالت میں رسول اللہ کی حفاظت و حمایت کریں گے ، جس طرح وہ اپنے اموال ، اولاد اور اپنی عورتوں کی حفاظت کرتے ہیں اور پھر مدینہ میں رسول اللہ کی قیادت میں اسلامی مملکت قائم ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ نے انصار مہاجرین کے درمیان دوبارہ مواخات قائم کی اور یہ مواخات بھی خون اور نسب کے رشتوں کے مقابلے میں اسلامی تصورت پر قائم ہوئی۔ اس مواخات میں بھی سابقہ مواخات کے پورے تقاضے ملحوظ رکھے گئے تھے یعنی وراثت دیت اور دوسرے معاوضوں میں اس کے افراد ایک دوسرے کے شریک ہوتے تے بعینہ اسی طرح جس طرح خون اور نسب کے رشتوں کے تحت سابقہ نظام میں مواخات قائم تھی۔ اس سلسلے میں حکم یہ تھا : " جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، وہی در اصل ایک دوسرے کے ولی ہیں " یہ لوگ ایک دوسرے کی نصرت میں بھی ولی ہیں ، ایک دوسرے کی میراث میں بھی ولی ہیں ، دیت معاوضے اور تمام اجتماعی ادائیگیوں میں بھی ایک دوسرے کے ولی ہیں جو سابقہ ادوار میں خون اور نسب کے رابطے پر عائد ہوتی تھیں۔ ایک قسم کے لوگ وہ تھے جو دین اسلام میں تو داخل ہوگئے تھے لیکن وہ عملاً ہجرت کرکے اسلامی معاشرے میں داخل نہ ہوتے تھے۔ یعنی انہوں نے مدینہ کی اسلامی ریاست کی طرف ہجرت نہ کی جہاں اسلامی شریعت نافذ تھی۔ جہاں اسلامی قیادت کا انتظام و انصرام تھا۔ اور وہ اس معاشرے کی طرف نہ آئے جہاں شرعی قوانین حکمران تھے۔ اور جس میں مکمل اسلامی تشخص اور وجود قائم تھا۔ جبکہ مکہ میں اس معاشرے کا وجود نسبتاً کم درجے میں قائم تھا یعنی وہاں بھی لوگ جدید قیادت کے وفادار تھے اور ایک اجتماعی تحریکی شکل میں وہ یکجا ہوگئے تھے اور اپنا ایک مستقل وجود رکھتے تھے جو اس وقت کے قائم جاہلی وجود سے کٹ گئے تھے اور اپنے اس نئے وجود کے ساتھ پورے جاہلی معاشرے کا مقابلہ کر رہے تے۔ غرض ایسے لوگ مکہ کے ارد گرد بھی موجود تھے اور مدینہ کے ارد گرد بھی موجود تھے۔ جنہوں نے عقیدہ قبول کرلیا تھا لیکن وہ جاہلی معاشرے سے کٹ کر اسلامی معاشرے میں داخل نہ ہوئے تے۔ اور وہ پوری طرح مدینہ میں قائم اسلامی حکومت اور قیادت کے ماتحت نہ تے اور نہ وہ اس کے تابع تھے۔ یہ لوگ اسلامی معاشرے کے ممبر تصور نہ ہوتے تے ، اس لیے اللہ نے ان کو اسلامی معاشرے کی ولایت کے حقوق نہ دیے ، کیونکہ یہ عملاً اسلامی معاشرے کے افراد نہ تھے اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا : " رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے (دار الاسلام میں) آ نہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں۔ ہاں اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے ، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ ہو " یہ حکم جیسا کہ ہم نے کہا ، اس دین کے مزاج کے ساتھ اور اس کی عملی تحریکی سرگرمیوں کے ساتھ منطقی ربط رکھتا ہے کیونکہ یہ لوگ در اصل اسلام کے عملی معاشرے کے اجزاء نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان کے اور اسلامی معاشرے کے درمیان ولایت کا تعلق قائم نہیں ہوسکتا۔ ہاں ایسے لوگوں کے ساتھ چونکہ عقائد و نظریات کا رابطہ موجود ہے لیکن محض نظریاتی رابطے کے نتیجے میں ان لوگوں کی ذمہ داری اسلامی معاشرے پر عائد نہیں ہوتی۔ الا یہ کہ ان کے دین اور نظریہ پر کوئی دست درازی ہو رہی ہو مثلاً ان پر ان کے نظریات کی وجہ سے تشدد ہوتا ہو۔ ایسے حالات میں اگر وہ مسلمانوں سے امداد طلب کریں تو مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان کو امداد دیں۔ بشرطیکہ اس امداد کا کا اثر اس معاہدے پر نہ پڑتا ہو جو اسلامی معاشرے نے کسی دوسری قوم کے ساتھ کیا ہو۔ اگرچہ یہ معاہدہ کرنے والی حکومت ہی یہ تشدد کر رہی ہو۔ اس لیے کہ اصل اہمیت اسلامی معاشرے اور اس کے معاہدات کی ہے ، افراد کی نہیں ہے۔ کیونکہ معاہدات سے اسلامی معاشرے کے تحریکی منصوبے متاثر ہوتے ہیں ، اس لیے معاہدات کی ہے ، افراد کی نہیں ہے۔ کیونکہ معاہدات سے اسلامی معاشرے کے تحریکی منصوبے متاثر ہوتے ہیں ، اس لیے معاہدوں کو افراد کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ اگرچہ معاملہ نظریات کی اساس پر تشدد سے ہو لیکن چونکہ تشدد کا شکار ہونے والے مسلمان خود اپنی مرضی سے اسلامی دار الہجرت کی طرف نہیں آئے اس لیے ان پر شاید ظالم کو ترجیح دی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں اجتماعی تحریکی مفادات کو افراد کے مقابلے میں کس قدر زیادہ اہمیت حاصل ہے ، کیونکہ اسلام کا اجتماعی وجود زیادہ اہمیت رکھتا ہے ، بمقابلہ ایک فرد اور اس کے مفادات کے۔ اس پوری اسکیم پر تبصرہ آتا ہے واللہ بما تعملوان بصیر وہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ لہذا تمہارا پورا عمل اس کی نظروں میں ہے۔ وہ ان اعمال کی ظاہری صورت اور باطنی مقاصد سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ان کے مقدمات اور ان کے نتائج سب کو جانتا ہے۔ ان کے اسباب اور ان کے آثار کو بھی اچھی طرح سمجھتا ہے۔ جس طرح اسلامی معاشرہ باہم متوازن ، متکافل اور معاون اور ذمہ دار ہوتا ہے ، اسی طرح جاہلی معاشرہ بھی اپنے افراد کو سوشل سیکورٹی فراہم کرتا ہے۔ والذین کفروا بعضہم اولیاء بعض۔ اور جن لوگوں نے کفر یا وہ ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ جیسا کہ اوپر ہم نے تشریح کی۔ دو محاذوں کی پوزیشن ایسی ہی ہے۔ جاہلی معاشرہ بھی فردا فردا نہیں چلتا۔ وہ بھی ایک عضویاتی تشخص کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے اعضاء جوارح اسی طرح کام کرتے ہیں جس طرح افراد کرتے ہیں اور وہ بھی اپنے ذاتی تشخص کا دفاع اسی طرح کرتا ہے جس طرح اسلامی معاشرہ کرتا ہے ، لہذا کفار ایک دوسرے کے دوست اور ولی ہیں اور اسلامی بھی اہل کفر کے مقابلے میں اپنے آپ کو ایک محاذ تصور کرتا ہے اور اسلام بھی ان کے معاشرے کے مقابلے میں اپنے آپ کو ایک معاشرے کی شکل میں پیش کرتا ہے لیکن اسلامی معاشرہ کفر کے مقابلے میں زیادہ گہری ، مضبوط اور قوی اساس پر قائم ہوتا ہے۔ اگر اسلامی معاشرہ کفار کے مقابلے میں ایک ایسا ہی اجتماعی معاشرہ کھڑا کرکے نہ لائے گا تو جاہلی معاشرے کی طرف سے اسے ہر وقت فتنہ و فساد کا خطرہ درپیش رہے گا کیونکہ انفرادی طور پر مسلمان جاہلیت کے مضبوط اور باہم پیوستہ اجتماعی معاشرے کا مقابلہ نہ کرسکیں گے اور دنیا میں ایک عظیم فتنہ و فساد برپا ہوجائے گا کیونکہ جاہلیت کا معاشرہ اسلام پر غالب آجائے گا اور اس صورت میں جاہلیت اسلام پر دست درازی اور سرکشی کرے گی اور بندوں کو خدائی اللہ تعالیٰ کی خدائی پر غالب آجائے گی۔ اور لوگ پھر سے انسانوں کی غلامی میں چلے جائیں گے۔ ظاہر ہے اس سے بڑا فساد اور کیا ہوسکتا ہے ؟ الا تفعلوہ تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر " اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ و فساد برپا ہوگا۔ اس تنبیہ کے بعد اور کیا تنبیہ ہوگی اور اس ڈراوے کے بعد اور کیا ڈراوا ہوگا۔ وہ مسلمان جو اپنے اجتماعی وجود کی اساس اس قسم کے عضویاتی اور تحریکی اتحاد پر نہیں رکھتے جس کے افراد کے درمیان گہری اخوت ہو اور جس کی ایک قیادت ہو ، وہ اللہ کے سامنے اس عظیم فساد کے ذمہ دار ہوں گے جو ان کے اجتماعی وجود لا حق ہوگا اور قیامت کے دن تو بہرحال تمام ذمہ داریاں ان پر ہوں گی کیونکہ اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو ان کا معاشرہ فساد کا شکار ہوگا۔

الأنفال 8:74

اس کے بعد قرآن کریم صریح الفاظ میں ان کو بتاتا ہے کہ حقیقی ایمان کا تحقق یوں ہوتا ہے وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَالَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّنَصَرُوْٓا اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا ۭ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطاؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے۔ وہی سچے مومن ہیں ، بلکہ وہی مومن ہیں ، کے الفاظ پر غور کریں۔ گویا ایمان کی حقیقی صورت یہی ہے۔ اور اسی صورت میں اور اسی شکل میں حققی دین نشوونما پاتا ہے۔ دین اسلام کی حقیقت محض اعلان نظریہ سے وجود میں نہیں آتی۔ نہ مجرد عقیدے کو قبول کرلینے سے دین کی حقیقت وجود میں آجاتی ہے ، نہ صرف دین کے شعائر اور مراسم عبودیت کے بجا لانے ہی سے دین وجود میں آجاتا ہے۔ یہ دین ایک ایسا نظام حیات ہے اور وہ عملاً تب ہی وجود میں آتا ہے کہ جب وہ اجتماعی تحریکی معاشرے کی شکل میں وجود میں آئے۔ صرف عقیدے کی صورت میں اقرار سے حکماً تو دین وجود میں آجاتا ہے لیکن حقیقتاً وجود میں نہیں آتا۔ حقیقتاً تب وجود میں آتا ہے جب وہ ایک عملی تحریکی معاشرے اور اجتماعیت کی شکل اختیار کرے۔ ایسے ہی لوگ حقا مومن ہیں اور ان کے لیے مغفرت اور رزق کریم واجب ہے۔ یہاں رزق کریم کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ یہاں جہاد فی سبیل اللہ ، انفاق فی سبیل اللہ ، پناہ گاہ کی فراہمی اور امداد کی فراہمی اور دوسری مشکلات کا موضوع چل رہا ہے اور ان سب کاموں کے اوپر اجر و صلہ اللہ کی مغفرت ہے جو عظیم انعام اور مہمان نوازی ہے۔

الأنفال 8:75

اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین کا درجہ بلند ہے ، لیکن بعد میں آنے والے لوگ بھی انہی کے ساتھ اور ان کے حکم میں شامل ہیں اور یہ بعد میں آنے والے بھی ولایت اور اسلامی تحریکی معاشرے کی ممبری کے مستحق ہیں۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۔ اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں۔ ہجرت کا یہ نظام اس وقت تک قائم رہا جب تک مکہ فتح نہ ہوچکا۔ فتح مکہ کے بعد عرب کی سرزمین اسلامی قیادت کے زیر نگیں آگئی۔ اور لوگ سب کے سب اسلامی معاشرے میں منظ ہوگئے۔ لیکن فتح مکہ کے بعد ہجرت کا یہ حکم ختم کردیا گیا اور جہاد کو جاری رکھا گیا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ پوزیشن 12 سو سال تک قائم رہی اور اسلام اس کرہ ارض پر حکمران رہا۔ اسلامی نظام قانون نافذ رہا اور اسلامی قیادت حاکم اور حکمران رہی۔ لیکن آج اس پوری دنیا پر جاہلیت پھر سے غآلب اور حکمران ہوگئی ہے اور اس وقت کرہ ارض کے کسی خطے میں بھی لوگوں کی زندگیوں پر اللہ کی شریعت نافذ نہیں بلکہ اقتدار اور قانونی نظام پوری دنیا میں طاغوت کا چل رہا ہے۔ لوگ اپنے جیسے انسانوں کی غلامی میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ اسلام نے ان کو انسانوں کی غلامی سے نکال دیا تھا۔ لہذا اب تحریک اسلامی دوبارہ انہی ادوار سے گزرے گی جس طرح پہلے وہ گزری تھی۔ اس نے تنظیم شروع کی تھی ، مرحلہ وار تحریک آگے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ دار الہجرت قائم ہوگا اور پھر وہ دار الاسلام اور دار الہجرت سے پھیلاؤ شروع کرے گی اور پھر ہجرت ختم ہوگی مگر جہاد جاری رہے گا جس طرح پہلی بار میں ہوا۔ پہلی بار جب تحریک اسلامی برپا ہوئی تو اس تحریکی عمل کے لیے کچھ مخصوص احکام تھے۔ اس تحریک پر مخصوص حالات کی وجہ سے کچھ مخصوص ذمہ داریاں تھیں۔ اس وقت اخوت اور برادری کے تعلقات کو خون اور نسب کی بنیادوں سے ہٹا کر اسلامی نظریات کی اساس پر رکھ دیا گیا تھا۔ مواخات کی تمام شکلوں ، تمام ذمہ داریوں یعنی برائے اجتماعی تکافل دیت اور دوسرے معاہدات تاوان کو اسلامی اخوت پر قائم کردیا گیا تھا لیکن جب اسلامی معاشرہ قائم ہوگیا۔ اور جنگ بدر میں مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہوگیا تو بعض عبوری احکامات میں تبدیلی کردی گئی کیونکہ یہ عبوری احکامات وقتی اور استثنائی حالات کے لیے تھے۔ اور ان میں سے اہم تبدیلیاں یہ تھیں کہ اجتماعی کفالت ، دیت کی ادائیگی اور وراثت کے تعلقات کو لوٹا کر قرابت اور رشتہ داری کی بنیادوں پر قائم کردیا لیکن اسلامی معاشرے کے اندر اور اسلامی خطوط کے اوپر۔ واولوا الارحام بعضہم اولی ببعض فی کتاب اللہ " مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں "۔ لہذا اسلام کے عملاً قیام کے بعد ، اسلام کے دائرے کے اندر اقربا کو اہمیت دی جاسکتی ہے۔ یہ انسان کی فطری خواہش کا ایک پہلو ہے۔ اور اسلام اس بات پر پابندی عائد نہیں کرتا کہ انسان کی فطری خواہشات کو دبایا جائے بشرطیکہ انسان کے یہ فطری میلانات معاشرے کے اسلامی اور اجتماعی پہلو کو نقصان نہ پہنچاتے ہوں اور اسی طرح کے دوسرے فطری احساس و شعور کے لیے مضر نہ ہوں۔ اسلام فطری میلانات کو توڑتا نہیں بلکہ ان کو منضبط کرتا ہے اور منضبط اس طرح کرتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے اعلی وجود کے لیے وہ مفید بن جائیں۔ وہ ان کو منضبط بھی اسلامی معاشرے کے اجتماعی وجود کے لیے کرتا ہے۔ اگر اسلامی معاشرے کے اجتماعی وجود کی ضروریات نہ ہوں تو پھر اسلام انسان کے فطری میلانات کو آزاد چھوڑتا ہے۔ اسلامی نظام کے عمومی دائرے کے اندر۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں بعض احکامات عارضی اور عبوری ہوتے ہیں اور یہ اسلام کے تحریکی عمل کے ہوتے ہیں۔ ایسے احکام کو اسلام کے فائنل قانونی احکام تصور نہیں کیا جاتا جو اسلامی معاشرے کے قیام ، جاری اور غالب وجود کو جاری رکھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ لہذا ہمیں ہمیں ان احکام کو جو اسلام کے ابتدائی قیام کے مرحلے میں وارد ہوئے اور اس کے ان فائنل احکام کے درمیان فرق کو اچھی طرح سمجھنا چاہیے جو قائم معاشرے کو دائم رکھنے کے لیے دیے گئے ہیں۔ ان اللہ بکل شیئ علیم۔ یقینا اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ یہ تبصرہ اور تعقیب ان احکام کے آخری میں نہایت ہی موزوں ہے کہ یہ مختلف احکام اور انتظامی ہدایات اللہ کی طرف سے ہیں اور اللہ نہایت ہی وسیع علم کا مالک ہے۔ وہ ہر حکم علم سے دیتا ہے۔ یہاں ضروری ہے کہ اس قسم کے اسلامی معاشرے کے قیام و نظآم پر ایک نوٹ دے دیا جائے۔ اسلام ، امت مسلمہ کو ، بنیادی عقیدہ دے کر اپنے مخصوص طریق کار کے تحت ، اجتماعی تحریک کے ذریعہ اسے خارجی وجود بخش کر اور اس اجتماعی تحریک کے لیے بنیادی عقیدہ کو اساس بنا کر اس لیے برپا کرتا ہے کہ اس کے ذریعہ وہ انسان کی انسانیت کو نمودار کردے۔ اسلام اپنے مخصوص طریق کار کے تحت اپنے بنیادی نظریات کو نمودار کردے۔ اسلام اپنے مخصوص طریق کار کے تحت اپنے بنیادی نظریات اپنی تعلیمات اور اپنے شرائع اور احکام میں انسانیت کی اسی نشوونما کو اصل ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ چونکہ انسان تمام حیوانات بلکہ جمادات کے ساتھ بھی وجود میں اشتراک رکھتا ہے۔ اس لیے سائنٹف جہالت کے علمبردار کبھی کہتے ہیں کہ انسان ایک حیوان ہی تو ہے اور کبھی کہتے ہیں کہ اس کا وجود محض ایک مادی وجود ہے لیکن یہ بالکل ظاہر بات ہے کہ حیوانات اور مادہ کے ساتھ وجود میں اشتراک کے باوجود انسان ایسی خصوصیات کا حامل ہے جو اسے عام مادیات اور حیوانات سے ممتاز کرتی ہیں اور اسے ایک مفرد وجود بخشتی ہیں۔ اب آ کر کہیں اس سائنٹیفک جہالت علمبرداروں کو اس حقیقت کا اعتراف کرنا پڑا ہے اور وہ واقعات حقائق اور مشاہدوں اور تجربوں نے ان کی گردن غرور کو توڑ دیا ہے اور اب وہ بےبس ہو کر اس بات پر مجبور ہوگئے ہی کہ اخلاص اور تصریح کے بغیر اشاروں اشاروں میں اس حقیقت کا اعتراف کریں۔ جن لوگوں نے اسلام تاریخ کا مطالعہ غیر جانبداری سے کیا ہے۔ اور پھر پوری تاریخ انسانی پر بھی ان کی نظر ہے ، وہ جانتے ہیں کہ اسلامی نظام حیات اور اس کے قیام کے طریق کار کے نتائج کسی قدر شاندار رہے ہیں۔ اسلام نے جدید معاشرے کی تعمیر ، رنگ ، وطن ، قومیت ، ملکی مصالح اور علاقائی تعلقات جیسے کمزور رشتوں کے بجائے صرف ایمان و نظریات اور عقائد و تصورات پر کی ہے اور اس نقنہ نظر سے اس نے انسانی وجود کے حیوانی اور مادی پہلو کو نظر انداز کیا اور انسان کی انسانیت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا پہلا فائدہ تو یہ ہوا کہ اسلامی سوسائٹی میں داخل ہونے کے دروازے ہر جنس اور ہر طبقہ کے انسانوں کے لیے کھل گئے اور اس طرح محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے اور حیوانی بندشوں اور باہمی امتیازات میں سے کوئی بندش اور امتیاز درمیان میں نہ رہا۔ اس طرح اسلامی معاشرے کی کٹھالی میں بشریت کے مخلتف اجناس کی خصوصیات اور قابلیتیں انڈیل دی گئیں اور کٹھالی میں ان تمام خصائص نے ایک حسین امتزاج کی شکل اختیار کی اور اس خام مواد سے ایک نیا وجود سامنے آیا۔ یہ سب کام ایک نہایت مختصر عرصہ میں ہوا اور اس سے انسانوں کا ایک عجیب یک رنگ و ہم آہنگ گروہ تیار ہوگیا۔ جس نے ایک تابندہ اور عظیم الشان تہذیب کو جنم دیا۔ وہ تہذیب جو اپنے دور میں انسانیت کے استعداد جوہر کا خلاصہ تھی ، حالانکہ اس زمانہ میں آبادیوں کے درمیان بڑے بڑے فاصلے تھے اور مواصلات کا نظام نہ ہونے کے برابر تھا۔ اس اعلی ترین معاشرے میں بیک وقت عربی ، فارسی ، شامی ، مصری ، مغربی ، ترکی ، چینی ہندوستانی ، رومی ، یونانی ، انڈونیشی اور افریقی اور بیشمار دوسری قوموں اور نسلوں کے لوگ شامل ہو کر اس میں ضم ہوگئے تھے۔ اسلامی تہذیب اور اسلامی معاشرہ کی نشوونما میں ان تمام لوگوں کی قابلیتیں اور ذہانتیں مل کر باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے ساتھ مصروف عمل ہوگئیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ کسی وقت بھی یہ عظیم الشان تہذیب صرف عربی تہذیب نہیں رہی اور نہ ہی کبھی معروف معنوں میں قومی تہذیب رہی ہے بلکہ یہ ہمیشہ سے فکری تہذیب ہی رہی ہے۔ یہ سب لوگ اس تہذیب میں خالص مساوات کے اصولوں پر جمع ہوئے۔ باہمی مروت اور شفقت نے انہیں جوڑا ، منزل مقصود کے اتحاد کی وجہ سے وہ باہم ملے اور اس مقصد اور نصب العین کے لیے انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو صرف کر ڈالا جو مساوات پر مبنی ان سب کا اپنا ہی معاشرہ تھا۔ انہوں نے اپنی تمام صلاحیتوں کو صرف کر ڈالا اور اپنے تمام قومی اور تاریخی خصائص کو ظاہر کیا اور اپنے ذاتی اور موروثی کمالات کو نئے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں صرف کر ڈالا جو مساوات پر مبنی ان سب کا اپنا ہی معاشرہ تھا ، مساوات و اتحاد کی بنیاد پر ان کا یہ عقیدہ تھا کہ ان سب کا رب حاکم مالک اور خالق ایک ہی ہے۔ اس عقیدہ کے پس منظر میں بلا روک ٹوک انسانیت ابھر آئی۔ وحدت الہ کا عقیدہ " وحدت انسان " کا عقیدہ رکھتی ہو۔ معاشرہ مشہور ترین معاشرہ رہا ہے لیکن اس میں بھی متعدد رنگ بیشمار زبانیں اور کئی قومیتیں نظر آتی ہیں اور ہر ایک کا مزاج اور طرز فکر مختلف ہے۔ اس کے باوجود اس معاشرے کی اساس انسانیت یا بلند تر نظریات پر نہیں رکھی گئی تھی بلکہ یہ ایک قسم کا طبقاتی گٹھ جوڑ تھا جس میں ایک طرف اشراف کا طبقہ تھا اور ایک طرف غلاموں اور کمزوروں کا گروہ تھا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ روم امپائر میں فاتح اور مفتوح اقوام علیحدہ علیحدہ نظر آتی ہیں۔ رومن فاتح ہر لحاظ سے بزرگ و برتر ہیں اور مفتوح اقوام غلام اور زیر دست ہیں۔ یہی وہ اسباب تھے جن کی وجہ سے رومی معاشرہ ان بلندیوں تک نہ پہنچ سکا جہاں تک اسلامی معاشرہ پہنچا اور نہ ہی اس نے انسانی تاریخ میں وہ کارنامے سر انجام دیے جو صحت مند اسلامی معاشرہ کے شایان شان ہوتے ہیں۔ اس کے بعد بھی کئی معاشرے عالم وجود میں آئے مثلاً انگریزی تہذیب کا قائم کردہ جدید معاشرہ ، یہ معاشرہ بھی در اصل رومی معاشرے کا جانشین اور وارث تھا اور عملی میدان میں آ کر یہ بھی طبقاتی اور استحصالی معاشرہ ثابت ہوا اور اس کا اصل الاصول یہ رہا کہ انگریز قوم کو قیادت اور برتری کا مقام حاصل رہے۔ اس کا بین ثبوت ان نو آبادیوں کے معاشری اور معاشرتی جائزے سے ملتا ہے جو کسی وقت انگریزوں کے زیر نگیں رہے ہیں اور بعینہ یہی طرز عمل یورپ کی دوسری شہنشاہیتوں اور معاشروں کا رہا ہے۔ انہوں نے بھی اپنے نو آبادیوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ ہسپانوی ، پرتگالی اور فرانسیسی معاشروں نے اپنی تمام کالونیوں میں وہاں کے اصل باشندوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا اور ان کے طرز عمل نے خود بتا دیا کہ یہ معاشرے کس قدر گھناؤنے ، مہلک اور گرے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ہمارے سامنے اشتراکی معاشرہ نمودار ہوتا ہے۔ اگرچہ اس نے اپنے اساسی اصولوں میں سے رنگ و قوم و جنس اور زبان وطن کو خارج کردیا لیکن اس کی اساس بھی خالص انسانی بنیادوں پر نہ اٹھی بلکہ ان کی نئی طبقاتی کشمکش پر اٹھی۔ یہ معاشرہ بھی رومی طرز کا طبقاتی معاشرہ بن گیا۔ فرق صرف یہ ہوا کہ رومی معاشرہ اشراف (Lords) کی حمایت پر سامنے آیا اور اشتراکی معاشرہ مساکین (Labours) کی حمایت میں نمودار ہوا۔ اس کی تکنیک یہ تھی کہ مزدوروں کے کام میں تمام دوسرے طبقات کے خلاف نفرت کے بیج بو دیے جائیں۔ چناچہ خونی کشمکش کا ایک طویل دور شروع ہوگیا ، اور اس میں انسانیت ایسے ایسے مصائب سے دوچار ہوئی جس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی ، کیونکہ اس کی بنیاد انسانیت کے بجائے خالص حیوانی زندگی پر تھی۔ اس نے یہ دعوی کیا کہ جنسی تعلقات خوراک اور مسکن ہی انسانیت کے بڑے مسائل ہیں اور انہی کے حل میں انسانیت کی فلاح مضمر ہے۔ اسی طرح اشتراکیت نے تاریخ کا جدلی فلسفہ پیش کرکے اسے تاریخ تلاش معاشر قرار دے دیا۔ لیکن دنیا پر اسلامی معاشرہ کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے اپنے نظآم حیات میں انسان کی صرف ان خصوصیات کو اجاگر کیا جو خالص انسانی ہیں۔ اس طرح اس نے انسان کو محض ایک مادے اور ایک حیوان کی سطح سے بہت اونچا کردیا اور پوری تاریخ انسانیت میں اس پہلو سے اسلامی نظام حیات بےمثال ہے۔ اس لیے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ جو لوگ اسلامی نظام حیات کو چھوڑ کر دوسرے نظام اختیار کرتے ہیں ، وہ در اصل انسانیت کے دشمن ہیں اور وہ اعلی انسانی قدروں کی جگہ قوم ، وطن ، جنس اور طبقات کی بنیاد پر انسانی زندگی کو منظم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ان سے زیادہ کمزور اور گھناؤنی ذلیل چیز کوئی اور نہیں ہے۔ یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں اور فطری اصولوں کے مطابق انسانی معاشرہ کی تعمیر ، خالص انسانی بنیادوں پر نہیں چاہتے اور نہ ہی یہ انسانی سوسائٹی کو یہ موقعہ دیتے ہیں کہ وہ تمام انسانی تجربوں اور تمام انسانی خصائص و کمالات سے فائدہ اٹھائے اور ایسے ہی لوگوں کے بارے میں باری تعالیٰ فرماتے ہیں : قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالا۔ الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعا۔ اولئک الذین کفرو بایات ربہم ولقائہ فحبطت اعمالہم فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا۔ ذلک جزائہم جھنم بما کفروا واتخذوا آیاتی و رسلی ھزوا۔ " اے محمد ان سے کہو ، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں ؟ وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سع و جہد راہ راست سے بھٹکی رہی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہیں کیا۔ اس لیے ان کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔ قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ ان کی جزا جہنم ہے کہ اس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اور میرے رسولوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ ترقی کے انسانی خطوط کے خلاف کام کرتے ہیں اور انسانی معاشرے کو دوبارہ بہائم کے معاشرے کی صورت میں بدلنا چاہتے ہیں جس کا مقصد صرف گھاس اور دانے کی تلاش ہوتی ہے اور یہ لوگ ایسے حالات میں یہ کام کرتے ہیں کہ اللہ نے اپنی آخری کتاب کے ذریعہ لوگوں کو ایسی ہدایات دے دی ہیں جن پر تمام انسان مجتمع ہوسکت ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ جو لوگ اعلی انسانی قدروں پر انسانی معاشرے کو استوار کرنا چاہتے ہیں ان کو یہ لوگ جو خالص حیوانی نظریات پر معاشرے چلانا چاہتے ہیں ، جامد رجعت پسند اور دوسرے ناموں سے پکارتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کی یہ تمام خوش نما باتیں اور تمام الزامات اس لیے ہیں کہ یہ اعلی انسانی قدروں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔ لیکن اللہ اپنے امور پر خود اختیار رکھتا ہے۔ اس لیے یہ پستیاں جو انسانی معاشروں پر غالب آگئی ہیں اور انسان کو حیوان محض بنا دیا گیا ہے ، ان کے لیے دوام مقدر نہیں ہے۔ عنقریب وہ روشنی پھیلے گی اور وہ معاشرے وجود میں آئیں گے جن کو اللہ پسند کرتا ہے۔ انسانیت عنقریب عزت کا مقام دوبارہ پا لے گی جس طرح پہلی بار انسانیت انسانی قدروں پر اکٹھی ہوئی تھی اور تاریخ میں اس کی مثال نہیں ہے۔ وہ آج بھی تاریخ کے افق پر روشن ہے اور لوگوں کے لیے ایک مثال ہے اور دوبارہ وہ معاشرہ منظم ہوگا اور کسی نہ کسی دن ایک مثالی معاشرہ ہوگا۔ انشاء اللہ !

التوبة 9:1

سورة التوبہ ایک نظر میں یہ مدنی سورت ہے اور اگر یہ نہ کہا جائے کہ قرآن کے آخری سورت ہے تو اس کا تعلق نزول قرآن کے بالکل آخری دور سے بہرحال ہے۔ کیونکہ راجح روایات میں ہے کہ سورت النصر آخری سورت ہے۔ چناچہ اس میں امت مسلمہ اور کرہ ارض پر رہنے والی دوسری اقوام کے درمیان تعلقات سے متعلق جو احکام وقوانین ہیں ، وہ آخری اور فائنل قوانین ہیں۔ اس سورت میں خود مسلم معاشرے کے اندر پائے جانے والے مختلف طقبات کی قدر و قیمت کا تعین بھی کیا گیا ہے۔ ہر ایک کے حالات و کوائف بیان کیے ہیں۔ یہاں طبقات سے مراد وہ طبقات نہیں ہیں جن کے لیے آج کل یہ لفظ استعمال ہوتا ہے بلکہ ان سے مراد وہ گروہ ہیں جو اسلامی تصورات کے مطابق مختلف گروہ قرار پائے ہیں ، مثلا انصار ، مہاجرین ، اہل بدر ، اصحاب بیعت رضوان ، وہ لوگ جنہوں نے قبل فتح مکہ مال و دولت اسلام کی راہ میں خرچ کیے ، وہ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد اپنا مال خرچ کیا ، وہ جو جہاد میں جانے کے بجائے گھر بیٹھ گئے اور پھر وہ جو منافق رہے ، غرض اس سورت میں اسلامی معاشرے کے شب و روز اور ان میں مذکور تمام طبقات اور گروہوں کے حالات بڑی تفصیل اور تجدید کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ اس پہلو سے اس سورت کی اہمیت بہت زیادہ ہے کہ اس میں تحریک اسلامی کے مختلف مراحل ، اقدامات بیان ہوئے ہیں۔ خصوصا جب اس کے فائنل احکامات کا مقابلہ ان احکامات سے کیا جائے جو اس سے متصلا پہلی سورت میں تھے اور جو وقتی تھے۔ یہ تقابلی مطالعہ بتائے گا کہ یہ انداز تفسیر کس قدر مضبوط اور فیصلہ کن ہے۔ اور اگر یہ انداز مطالعہ اختیار نہ کیا جائے تو احکام و ضوابط کی شکل ہی بدل جاتی ہے۔ مثلاً کوئی شخص ان آیات کو لے جو ایک خاص مرحلے کے ساتھ مخصوص تھیں اور ان کو آخری اور فائنل احکام قرار دے اور ان آیات میں تاویل شروع کردے جن آخری اور فائنل ہدایات دی گئی تھیں تاکہ یہ فائنل ہدایات ان آیات کے ساتھ ہم آہنگ ہوجائیں جو وقتی تھیں۔ خصوصاً جہاد اسلامی اور مسلم معاشرے اور دوسرے معاشروں کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے موضوع سے متعلق۔ امید ہے کہ ہم ان میں سے بعض موضوعات کی وضاحت تشریح آیات کے ضمن میں اور سورت توبہ کے اس مقدمے میں کرسکیں گے۔ یہ سورت کب نازل ہوئی ؟ اس سورت کے موضوعات کے مطالعے ، ان کے بارے میں روایات و احادیث کے مطالعے اسباب نزول کی روایات کے ملاحظے اور ان تاریخی حالات و واقعات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورت پوری کی پوری نویں صدی ہجری میں نازل ہوئی ہے۔ لیکن یہ دفعۃ نازل نہیں ہوئی ہے۔ ہم جزم کے ساتھ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس سورت کے مختلف حصے کس کس وقت نازل ہوئے ، البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ سورت تین مرحلوں میں نازل ہوئی ہے۔ پہلا حصہ نویں سال ہجری میں غزوہ تبوک سے قبل ماہ رجب میں نازل ہوا۔ دوسرا حصہ اس جنگ کے لیے تیاریوں کے دور میں اور جنگ کے دوران نازل ہوا اور تیسرا حصہ اس وقت نازل ہوا جب مسلمان اس غزوہ سے واپس ہوگئے۔ البتہ سورت کا ابتدائی حصہ یعنی آیت 1 تا 28 آخر میں سن نو ہجری کے آخری ایام میں نازل ہوئے یعنی حج سے قبل ذوالقعدہ یا ذوالحجہ میں۔ اجمالاً اسی قدر بات کہی جاسکتی ہے جس پر دل مطمئن ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔ اس سورت کے پہلے حصے میں یعنی آیت تا 1 تا 28 جزیرۃ العرب میں بسنے والے مشرکین اور مسلمانوں کے تعلقات کی فائنل ضابطہ بندی کی گئی ہے۔ اس ضابطہ بندی کے حقیقی اور عملی اسباب ، اس کی تاریخی وجوہات اور نظریاتی اساسوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ اور یہ سب کچھ قرآن میں اشاراتی اسلوب اور موثر انداز بیان ، فیصلہ کن اور واضح طرز تعبیر کے ساتھ پیش کیا گیا۔ مناسب ہوگا کہ اس کے چند نمونے برائے غور آپ کے سامنے پیش کیے جائیں۔ بَرَاءَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ (1) فَسِيحُوا فِي الأرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَأَنَّ اللَّهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ (2) وَأَذَانٌ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الأكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُهُ فَإِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ وَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ وَبَشِّرِ الَّذِينَ كَفَرُوا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (3)إِلا الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوكُمْ شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَأَتِمُّوا إِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَى مُدَّتِهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (4) فَإِذَا انْسَلَخَ الأشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ وَخُذُوهُمْ وَاحْصُرُوهُمْ وَاقْعُدُوا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (5) وَإِنْ أَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَأَجِرْهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ أَبْلِغْهُ مَأْمَنَهُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَعْلَمُونَ (6) كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ إِلا الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (7) كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلا وَلا ذِمَّةً يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ (8) اشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (9) لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلا وَلا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ (10) فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَنُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ (11) وَإِنْ نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُونَ (12) أَلا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (13) قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ (14) وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (15) أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تُتْرَكُوا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلا رَسُولِهِ وَلا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (16) مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ (17)إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلا اللَّهَ فَعَسَى أُولَئِكَ أَنْ يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ (18) أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لا يَسْتَوُونَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (19) الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ أَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللَّهِ وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَائِزُونَ (20) يُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَرِضْوَانٍ وَجَنَّاتٍ لَهُمْ فِيهَا نَعِيمٌ مُقِيمٌ (21) خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ (22) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الإيمَانِ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (23) قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (24) لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ (25) ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (26) ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (27) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا وَإِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيكُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ إِنْ شَاءَ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (28) ترجمہ : جن لوگوں کے ساتھ تم نے صلح و امن کا معاہدہ کیا تھا اب اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان کو صاف صاف جواب ہے۔ پس اے مشرکو ملک میں چار مہینے چل پھر لو ، کوئی روک ٹوک نہیں اور جان لو کہ تم اللہ کو کبھی عاجز نہ کرسکوگے اور اللہ کافروں کو رسوا کرنے والا ہے۔ اور حج اکبر کے دن اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے منادی کی جاتی کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری الذمہ ہے۔ اگر تم توبہ کرلو تو تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر روگردانی کرتے رہے تو جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور اے پیغمبر کافروں کو دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دے۔ ہاں مشرکین میں سے جن لوگوں کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا تھا پھر انہوں نے تمہارے ساتھ کسی قسم کی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی وہ مستثنی ہیں۔ تو ان کے ساتھ جو معاہدہ ہے اس کی مدت تک پورا کرو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔ پھر جب حرمت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور انہیں گرفتار کرو اور ان کا محاصرہ کرو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھو پھر اگر وہ توبہ کرلیں ، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو کیونکہ وہ اللہ غفور و رحیم ہے اور اے پیغمبر مشرکین میں سے کوئی پناہ مانگے تو پناہ دے دو تاکہ وہ اچھی طرح کلام الہی سن لے پھر اسے اس کے امن کی جگہ پہنچا دو یہ اس وجہ سے ہے کہ وہ علم نہیں رکھتے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان مشرکین کا عہد اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عہد ہو ؟ ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد حرام کے قریب عہد کیا تھا اور انہوں نے اسے نہیں توڑا تو جب تک وہ تمہارے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہیں ، تم بھی ان کے ساتھ اپنے عہد پر قائم رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے مگر ان کے سوا دوسرے مشرین کے ساتھ عہد کیسے ہوسکتا ہے۔ جن کا حال یہ ہے کہ اگر تم پر غلبہ پائیں تو تمہارے بارے میں نہ تو قرابت کا پاس کریں اور نہ عہد و پیمان کا یہ لوگ اپنی زبانوں سے تمہیں راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ان کے دل ان باتوں سے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ ان لوگوں نے اللہ کی آیتیں تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالیں۔ پھر اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنے لگے۔ افسوس ان پر بہت ہی برے کام تھے جو یہ کرتے رہے۔ یہ کسی مومن کے بارے میں نہ قرابت کا پاس کرتے ہیں نہ عہد و پیمان کا اور یہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔ بہرحال اگر یہ توبہ کرلیں ، نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جو لوگ سمجھ دار ہیں ان کے لیے ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کردیتے ہیں اور اگر یہ لوگ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعن کریں تو ان کفر کے سرغنوں سے جنگ کرو۔ ان کی قسمیں ، قسمیں نہیں اور تمہیں ان سے جنگ اس لیے کرنی چاہئے کہ یہ اپنی شرارتوں سے باز آجائیں۔ مسلمانو کیا تم ان سے نہ لڑو گے جنہوں نے عہد کرنے کے بعد اپنی قسمیں توڑ ڈالیں اور اللہ کے رسول کو اس کے وطن سے نکال دینے کا قصد کیا اور تم سے لڑائی ہیں پہل بھی انہوں نے کی۔ کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ مسلمانو ان لوگوں سے بلا تامل لڑو۔ اللہ تمہارے ہی ہاتھوں انہیں عذاب دے گا اور ان کو رسوا کرے گا اور ان پر تمہیں غلبہ دے گا اور مومنوں کو اور ان کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا اور ان کے دلوں میں کافروں کی طرف سے جو غصہ بھرا ہوا ہے اس کی خلش کو بھی دور کرے گا اور جس کی چاہے توبہ قبول فرمائے گا اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ مسلمانو کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ سستے چھوٹ جاؤگے حالانکہ ابھی اللہ نے ان لوگوں کو جانا ہی نہیں جنہوں نے جہاد کیا اور اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا جگری دوست نہ بنایا۔ اور یاد رکھو جو کچھ بھی تم لوگ کرتے ہو ، اللہ کو اس کی سب خبر ہے۔ مشرکین کو یہ حق نہیں کہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں اور مشرکانہ اقوال و افعال سے اپنے اوپر کفر کی گواہی بھی دیتے جائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے سارے عمل اکارت گئے اور یہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اللہ کی مسجدوں کو آباد کرنا تو ان لوگوں کا کام ہے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں۔ نماز قائم کرتے ہوں ، زکوۃ دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں سو ایسے لوگوں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ہدایت پانے والے ہوں گے۔ لوگو کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے والے اور مسجد حرام کو آباد رکھنے کو اس شخص کے عمل کے برابر سمجھ لیا ہے۔ جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان لایا اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ اللہ کے نزدیک تو یہ لوگ ایک دوسرے کے برابر نہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا۔ اللہ کے نزدیک درجے میں بڑے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ہجرت کی اور اپنے جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ کامیاب ہیں۔ ان کا رب انہیں اپنی رحمت اور خوشنود کی بشارت دیتا ہے۔ نیز ایسے باغوں کی جن میں ان کی دائمی آسائش ملے گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ بیشک اللہ کے پاس نیک کرداروں کے لیے بڑا اجر ہے۔ اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اگر تمہارے باپ اور تمہارے بھائی ایمان کے مقابلے میں کفر کو عزیز رکھیں تو ان کو اپنا رفیق نہ بناؤ اور تم میں سے جو انہیں رفیق بنائیں گے تو ایسے ہی لوگ ظالم ہیں اے پیغمبر مسلمانوں سے کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہاری برادری اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس کے مندا پڑجانے کا تمہیں اندیشہ ہے اور وہ مکانات جو تمہیں پسند ہیں اگر یہ ساری چیزیں اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ پیاری ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ کا مقررہ قانون ہے کہ وہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ مسلمانو ! اللہ نے بہت سے موقعوں پر تمہاری مدد کی ہے اور خاص کر جنگ حنین کے وہ جب کہ تم اپنی کثرت پر اترا گئے تھے مگر وہ کثرت تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے۔ پھر اللہ نے اپنے رسول اور مومنوں پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل فرمایا اور مدد کو فرشتوں کے ایسے لشکر اتارے جو تمہیں نظر نہیں آتے تھے اور اس طرح ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا تھا ، سخت سزا دی اور کافروں کی یہی جزا ہے۔ پھر تم دیکھ چکے ہو کہ سزا کے بعد اللہ جسے چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی دیتا ہے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، یہ حقیقت ہے کہ مشرک ناپاک ہیں۔ لہذا اس کے بعد وہ مسجد حرام کے پاس بھی نہ آنے پائیں۔ اگر ان کے ساتھ لین دین بند ہوجانے سے تمہیں مفلسی کا اندیشہ ہے تو اللہ پر بھروسہ رکھو وہ چاہے گا تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے گا بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ درج بالا جن آیات کا ہم نے اقتباس پیش کیا۔ ان میں اور اس سبق کی تمام دوسری آیات میں اس بات پر نہایت ہی تاکید اور شدت سے زور دیا گیا ہے کہ مشرکین عرب کے خلاف فیصلہ کن قدم اٹھاؤ اور مسلمانوں کو اس بات پر برانگیختہ کیا گیا ہے کہ مشرکین کے ساتھ بائیکاٹ کرو اور پورے جزیرۃ العرب میں ان کے خلاف جنگی کاروائی شروع کردو۔ اس شدید تاکید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جماعت مسلمہ یا ان میں سے بعض افراد کے رویوں میں یہ خوف تھا کہ پورے جزیرۃ العرب میں مشرکین کے خلاف بیک وقت اس قسم کی کاروائی شروع کرنا مناسب امر نہیں ہے یا ان کو فیصلہ کن انداز میں اس قسم کی کاروائی خوفناک نظر آتی تھی اور وہ اس بارے میں یکسو نہ تھے۔ اور اس کی بعض وجوہات بھی تھیں جن کے بارے میں ہم عنقریب اس تبصرے اور پھر تشریح آیات کے وقت کلام کریں گے۔ ان شاء اللہ۔ اس سورت کے دوسرے حصے میں ، اسلامی معاشرے اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی حد بندی کی گئی اور اس میں جو احکامات دیے گئے ہیں ، وہ فائنل ہیں اور ان فیصلوں کے نظریاتی ، تاریخی اور عملی اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے اسلام نے ان تعلقات کی ایسی ضابطہ بندی کی ہے۔ اس حصے میں اسلام اور اسلام کی مستقل حقیقت کو بھی بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب نے نظریاتی اور عملی ہر لحاظ سے اپنے صحیح دین سے انحراف کرلیا ہے۔ اس لیے اب وہ عملاً اس دین پر قائم نہیں رہے جو اللہ نے ان کی طرف بھیجا تھا اور جس کی وجہ سے وہ اہل کتاب قرار پائے تھے مثلاً درج ذیل آیات پر غور فرمائیں : قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ (29): جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے۔ اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے ، اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں مانتے۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (30) اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لا إِلَهَ إِلا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (31): یہود کہتے کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹآ ہے۔ یہ بےحقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں۔ ان لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تھے۔ خدا کی مار ان پر یہ کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں۔ پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (32) هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (33) : یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔ مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے۔ خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہ اللہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کردے۔ خواہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِنَ الأحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (34) يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لأنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ (35) : اے ایمان لانے والو ! ان اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ دردناک عذاب کی خوشخبری دو ، ان کو جو سونے اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ایک دن آئے گا کہ اس سونے اور چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔ اس حصے میں جو اسلوب گفتگو اپنایا گیا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات لوگوں کے اس خلجان کو دور کرنے کے لیے نازل ہوئیں ، جو وہ اہل کتاب کے خلاف کسی سخت ایکشن کے سلسلے میں اپنے اندر پاتے تھے ، یا یہ تردد اور خوف ان میں سے بڑی اکثریت کے دلوں میں پایا جاتا تھا کہ وہ اہل کتاب کے حوالے سے پہلی آیت کے مطابق تعلق کا آغآز کس طرح کریں ، لیکن درحقیقت ان آیات میں روئے سخن رومیوں کی طرف تھا جن کے ساتھ شام اور عرب کے عیسائیوں کے حلیفانہ تعقلات تھے۔ رومیوں کے حوالے سے یہ تردد اور خوف بجا بھی تھا ، اس لیے کہ جزیرۃ العرب کے باشندوں کے ہاں رومیوں کی تاریخی شہرت تھی۔ اگرچہ آیت کے الفاظ تمام اہل کتاب کے لیے عام ہیں اور آیت میں مذکور ہونے والے اوصاف سب ان پر منطبق تھے جیسا کہ آیت کی تشریح کے وقت ہم بتائیں گے۔ اس سورت کے تیسرے حصے میں ان کاہل اور سست لوگوں کا ذکر ہے جن کو جب جہاد کے لیے دعوت دی جاتی ہے تو وہ اپنے آپ کو بوجھل بنا کر زمین پر گرا دیتے ہیں اور نفیر عام سے سستی برتتے ہیں۔ یہ سستی کرنے والے سب کے سب منافق نہ تھے جیسا کہ بعد میں واضح ہوگا بلکہ یہ مہم چونکہ پر مشقت تھی اور بعض لوگ مشکلات راہ کی وجہ سے سست پڑگئے تھے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انْفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الأرْضِ أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الآخِرَةِ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الآخِرَةِ إِلا قَلِيلٌ (38) إِلا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلا تَضُرُّوهُ شَيْئًا وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (39) إِلا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (40) انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (41) : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم اسے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے ؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ دنیا کی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا۔ تم نہ اٹھوگے تو خدا تمہیں دردناک عذاب دے گا۔ اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اٹھائے گا اور تم خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ تم نے اگر نبی کی مدد نہ کی ، تو کچھ پروا نہیں اللہ اس کی مدد اس وقت کرچکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا۔ جب وہ صرف دو میں دوسرا تھا ، جب وہ دونوں غار میں تھے ، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ " غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے " اس وقت اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کا بول نیچا کردیا اور اللہ کا بول تو اونچا ہی ہے۔ اللہ زبردست دانا و بینا ہے۔ نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل ، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ (اگر تم جانو) یہاں بار بار تاکید ، تہدید اور ملامت کے الفاظ لائے جاتے ہیں۔ یہ کہا جاتا ہے کہ جہاں تک رسول اللہ کی امداد کا تعلق ہے تو کسی انسان کی شرکت کے بغیر بھی اللہ نے ان کی مدد کی ہے۔ ذرا وہ وقت یاد کرو کہ جب مکہ سے کافروں نے انہیں نکالا تھا۔ کوئی فوج ان کے ساتھ نہ تھی لیکن وہ کامیاب رہے۔ پھر یہ تاکید کہ تم بوجھل ہو یا ہلکے بہرحال اس مہم میں نکلو ، یہ سب امور بتاتے ہیں کہ یہ مہم بہت سخت تھی ، لوگوں کے اندر سستی اور تردد بلکہ خوف طاری تھا۔ اس لیے یہاں سخت ترین الفاظ میں تاکید کی گئی ہے کہ لازماً اس مہم میں نکلو۔ اس کے بعد اس سورت کا چوتھا حصہ آتا ہے اور وہ قدے طویل ہے۔ اس سورت کے نصف حصے پر مشتمل ہے۔ اس میں منافقین اور اسلامی معاشرے کے خلاف ان کی ریشہ دوانیوں کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ غزوہ تبوک ، اس سے پہلے اور اس کے بعد کے ادوار میں ان کی نفسیاتی حالت اور ان کی عملی بوکھلاہٹ کو لیا گیا ہے۔ ان کی نیات ، ان کے حیلوں بہانوں اور ان کے عذرات لنگ کا مضحکہ اڑایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ کس طرح وہ اس جہاد سے پیچھے رہے۔ کس طرح اسلامی صفوں میں کمزوری ، افتراق اور بےچینی پھیلاتے رہے۔ رسول اللہ ﷺ اور مخلص مومنین کو ایذائیں دیتے رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مخلص مومنین کو ان کی ریشہ دوانیوں سے متنبہ کیا جاتا ہے۔ چناچہ ان کے ساتھ تعلقات کے سلسلے میں تجویز کیا جاتا ہے کہ مخلصین کو ان سے دور رہنا چاہیے۔ یہ حصہ سورت کا بنیادی حصہ ہے۔ اور بنیادی وجود ہے۔ اس حصے معلوم ہوتا ہے کہ نفاق جو فتح مکہ کے بعد قریبا قریباً ختم ہوگیا تھا کس طرح دوبارہ پھیل گیا تھا اور اگلے پیرا گراف میں آپ دیکھیں گے کہ اس نفاق کے پھیلنے کے اسباب کیا تھے۔ یہاں ہم اس پورے حصے کو تو نقل نہیں کرسکتے البتہ بطور نمونہ چند فقرات ملاحظہ ہوں۔ لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لاتَّبَعُوكَ وَلَكِنْ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ يُهْلِكُونَ أَنْفُسَهُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ (42) : اے نبی اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہوجاتے مگر ان پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہوگیا۔ اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر ہم چل سکتے تو یقیناً تمہارے ساتھ چلتے۔ وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔ وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لأعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَكِنْ كَرِهَ اللَّهُ انْبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِينَ (46) لَوْ خَرَجُوا فِيكُمْ مَا زَادُوكُمْ إِلا خَبَالا وَلأوْضَعُوا خِلالَكُمْ يَبْغُونَكُمُ الْفِتْنَةَ وَفِيكُمْ سَمَّاعُونَ لَهُمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ (47) لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَكَ الأمُورَ حَتَّى جَاءَ الْحَقُّ وَظَهَرَ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ كَارِهُونَ (48): اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا۔ اس لیے ان کو سست کردیا گیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔ اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر سوائے خرابی کے کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے۔ وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے اور تمہپارے گروہ کا یہ حال ہے کہ ابھی اس میں بہت سے لوگ موجود ہیں جو ان کی باتیں کان لگا کر سنتے ہیں۔ اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں اور تمہیں ناکام کرنے کے لیے ہر طرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کرچکے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی مرضی کے خلاف حق آگیا اور اللہ کا کام ہوکر رہا۔ وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (61): ان میں سے کچھ لوگ اپنی باتوں سے نبی کو دیکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ کہا " وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے ، اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں میں سے جو تم میں ایماندار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لیے دردناک سزا ہے " وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ ائْذَنْ لِي وَلا تَفْتِنِّي أَلا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيطَةٌ بِالْكَافِرِينَ (49)إِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَإِنْ تُصِبْكَ مُصِيبَةٌ يَقُولُوا قَدْ أَخَذْنَا أَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَيَتَوَلَّوْا وَهُمْ فَرِحُونَ (50): ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ " مجھے رخصت دیجئے اور مجھ کو فتنہ میں نہ ڈالیے " سن رکھو ! فتنے میں ہی تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے۔ تمہارا بھلا ہوتا ہے تو انہیں رنج ہوتا ہے۔ اور تم پر کوئی وصیت آتی ہے تو یہ منہ پھیر کر خوش خوش پلٹتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اچھا ہوا ہے ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کرلیا تھا۔ وَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ وَمَا هُمْ مِنْكُمْ وَلَكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَفْرَقُونَ (56) لَوْ يَجِدُونَ مَلْجَأً أَوْ مَغَارَاتٍ أَوْ مُدَّخَلا لَوَلَّوْا إِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُونَ (57): وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہیں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ ہر گز تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل وہ تو ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوفزدہ ہیں۔ اگر وہ کوئی جائے پناہ لیں یا کوئی کھول یا گھس بیٹھنے کی جگہ تو بھاگ کر اس میں جا چھپیں۔ وَمِنْهُمْ مَنْ يَلْمِزُكَ فِي الصَّدَقَاتِ فَإِنْ أُعْطُوا مِنْهَا رَضُوا وَإِنْ لَمْ يُعْطَوْا مِنْهَا إِذَا هُمْ يَسْخَطُونَ (58) وَلَوْ أَنَّهُمْ رَضُوا مَا آتَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ سَيُؤْتِينَا اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَرَسُولُهُ إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاغِبُونَ (59): اے نبی ان میں بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراض کرتے ہیں۔ اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خوش ہوجائیں۔ اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا ، اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے۔ اور وہ اپنے فضل سے اور بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا۔ ہم اللہ ہی کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں۔ وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (61): ان میں سے کچھ لوگ اپنی باتوں سے نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ کہو " وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا ہے ، اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے اور سراسر رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایماندار ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو دکھ دیتے ہیں ان کے لیے دردناک سزا ہے "۔ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ أَنْ يُرْضُوهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ (62) أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ (63): یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کریں ، حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ و رسول اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی کوشش کریں۔ کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ جو اللہ اور رسول کا مقابلہ کرتا ہے۔ اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ يَحْذَرُ الْمُنَافِقُونَ أَنْ تُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ قُلِ اسْتَهْزِئُوا إِنَّ اللَّهَ مُخْرِجٌ مَا تَحْذَرُونَ (64) وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ (65) لا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ إِنْ نَعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ (66): یہ منافق ڈر رہے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے دلوں کے بھید کھول کر رکھ دے۔ اے نبی ان سے کہو " اور مذاق اڑاؤ، اللہ اس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کھل جانے سے تم ڈرتے ہو " اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کر رہے تھے ، تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کررہے تھے۔ ان سے کہو " تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اس کے آیات اور اس کے رسول ہی کے ساتھ تھی۔ اب عذرات نہ تراشو ، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے ، اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کرد بھی دیا تو دوسرے گروہ کو ہم ضرور سزا دیں گے ، کیونکہ وہ مجرم ہیں۔ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ هُمُ الْفَاسِقُونَ (67) وَعَدَ اللَّهُ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا هِيَ حَسْبُهُمْ وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُقِيمٌ (68): منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں۔ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں۔ یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ یقیناً یہ منافق ہی فاسق ہیں۔ ان منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لیے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ وہی ان کے لیے موزوں ہے۔ ان پر اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (73) يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلامِهِمْ وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا وَمَا نَقَمُوا إِلا أَنْ أَغْنَاهُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنْ يَتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَهُمْ وَإِنْ يَتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ عَذَابًا أَلِيمًا فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ وَمَا لَهُمْ فِي الأرْضِ مِنْ وَلِيٍّ وَلا نَصِيرٍ (74): اے نبی کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ، آخر کار ان کا ٹکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے۔ یہ لوگ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی ، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے۔ وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اور انہوں نے وہ کچھ کرنے کا ارادہ کیا جسے کر نہ سکے۔ یہ ان کا سارا غصہ اس بات پر ہے ، تاکہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا ہے۔ اب اگر یہ اپنی روش سے باز آجائیں تو انہی کے لیے بہتر ہے اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت دردناک سزا دے گا۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی اور مددگار ہو۔ وَمِنْهُمْ مَنْ عَاهَدَ اللَّهَ لَئِنْ آتَانَا مِنْ فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ الصَّالِحِينَ (75) فَلَمَّا آتَاهُمْ مِنْ فَضْلِهِ بَخِلُوا بِهِ وَتَوَلَّوْا وَهُمْ مُعْرِضُونَ (76) فَأَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِي قُلُوبِهِمْ إِلَى يَوْمِ يَلْقَوْنَهُ بِمَا أَخْلَفُوا اللَّهَ مَا وَعَدُوهُ وَبِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ (77): ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کر رہیں گے۔ مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولتمند کردیا تو وہ بخل پر اتر آئے اور اپنے عہد سے ایسے پھرے کہ انہیں اس کی پروا تک نہیں ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اس بدعہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے ، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا ، جو اس کے حضور انکی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا۔ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (79) اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَهُمْ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ (80): جو لوگ برضا ورغبت دینے والے اہل ایمان کی مالی قربانیوں پر باتیں چھانٹتے ہیں اور ان لوگوں کا مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ اے نبی تم ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو ، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کروگے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا۔ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا ہے۔ فَرِحَ الْمُخَلَّفُونَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلافَ رَسُولِ اللَّهِ وَكَرِهُوا أَنْ يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالُوا لا تَنْفِرُوا فِي الْحَرِّ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ أَشَدُّ حَرًّا لَوْ كَانُوا يَفْقَهُونَ (81) فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (82) فَإِنْ رَجَعَكَ اللَّهُ إِلَى طَائِفَةٍ مِنْهُمْ فَاسْتَأْذَنُوكَ لِلْخُرُوجِ فَقُلْ لَنْ تَخْرُجُوا مَعِيَ أَبَدًا وَلَنْ تُقَاتِلُوا مَعِيَ عَدُوًّا إِنَّكُمْ رَضِيتُمْ بِالْقُعُودِ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوا مَعَ الْخَالِفِينَ (83) وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ (84) وَلا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَأَوْلادُهُمْ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ (85): جن لوگوں کو پیچے رہنے کی اجازت دی گئی تھی وہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دینے اور گھر پر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کریں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ " اس سخت گرمی میں نہ نکلو " ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے۔ کاش انہیں اس کا شعور ہوتا۔ اب چاہئے کہ یہ لوگ ہنسنا کم کریں اور روئیں زیادہ۔ اس لیے کہ جو بدی یہ کما رہے ہیں اس کی جزا ایسی ہی ہے۔ اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا کہ " اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑسکتے ہو ، تم نے پہلے بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا تو اب گھر میں بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔ اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ مرے ہیں اس حال میں کہ وہ فاسق تھے۔ ان کی مالداری اور ان کی کثرت اولاد تم کو دھوکے میں نہ ڈالے۔ اللہ نے تو ارادہ کرلیا ہے کہ اس مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کو اسی دنیا میں سزا دے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔ یہ طویل تنقید جس میں بیشمار انکشافات کیے گئے اس بات کی مظہر ہے کہ اس وقت منافقین کی طرف سے اسلامی جماعت کی ایذا رسانی کے لیے رات دن کوششیں ہوتی رہتی تھیں۔ یہ منافق مختلف قسم کی سازشوں ، فتنہ انگیزیوں اور جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے مسلمانوں کو اپنے نصب العین سے ہٹآنے کی سعی کرتے رہتے تھے۔ نیز اس تنقیدی تقریر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اسلامی صفوں میں ہم آہنگی اور مکمل اتحاد کی کمی تھی اور جماعت مسلمہ کی عضویاتی تکمیل ابھی تک ادھوری تھی۔ اس کی طرف اس فقرے کے ذریعے اشارہ بھی کیا گیا ہے۔ و فیکم سمعون لہم " اور تم میں ان کی بات پر کان دھرنے والے موجود ہیں " نیز ایسے لوگوں کے لیے دعا کرنے کی سخت ممانعت اور ان کا نماز جنازہ نہ پڑھنے کی تاکید سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ایسے لوگوں کے لیے ہمدردی کے جذبات اسلامی صفوں میں موجود تھے۔ یہ صورت حال اس لیے پیدا ہوگئی تھی کہ فتح مکہ کے بعد لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوگئے تھے اور ان کے دلوں میں ابھی تک ایمان اچھی طرح جاگزیں نہ ہوا تھا۔ نہ وہ ابھی تک پوری طرح اسلامی رنگ میں رنگے گئے تھے۔ اس کی تفصیلات ہم اس سورت میں ان آیات کے ضمن میں دیں گے جن میں اسلامی جماعت کے اجزائے ترکیبی پر بحث کی گئی ہے جن سے اس وقت جماعت کی تالیف ہوئی تھی۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

التوبة 9:2

(سورۃ براء ۃ/ توبہ پر ایک نظر کا دوسرا حصہ ) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا (9)إِذْ جَاءُوكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا (10) هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالا شَدِيدًا (11) وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلا غُرُورًا (12) وَإِذْ قَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ إِنْ يُرِيدُونَ إِلا فِرَارًا (13) وَلَوْ دُخِلَتْ عَلَيْهِمْ مِنْ أَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لآتَوْهَا وَمَا تَلَبَّثُوا بِهَا إِلا يَسِيرًا (14) اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے اوپر اللہ کا احسان یاد کرو ، جب لشکر تم پر چڑھ آئے ہو تو ہم نے ان پر آندھی بھیج دی۔ اور ایسی فوجیں جو تم کو دکھائی نہیں دیتی تھیں اور جو کچھ تم کر رہے تھے ، اللہ دیکھ رہا تھا۔ جب تمہارے اوپر کی طرف سے اور تمہارے نیچے کی طرف سے تم پر چڑھ آئے اور جب آنکھیں پتھرا گئیں ، کلیجے منہ کو آگئے اور اللہ کے بارے میں تم لوگ گمان کرنے لگے۔ اس موقعہ پر ایمان والے آزمائے گئے اور بری طرح جھنجھوڑے گئے اور جب منافقین نے اور ان لوگوں نے جن کے دلوں میں روگ تھا ، کہنا شروع کیا کہ اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ نرا دھوکہ تھا اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے یثرب کے لوگو ، تمہارے لیے اب ٹھہرنے کا موقعہ نہیں ہے ، پس اپنے گھروں کو واپس جاؤ اور ان میں سے ایک فریق نبی سے یہ کہہ کر رخصت مانگ رہا تھا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں حالانکہ وہ غیر محفوظ نہ تھے۔ وہ جنگ سے بھاگنا چاہتے تھے۔ اگر وہ شہر کے اطراف سے گھس آئے ہوتے۔ اور ان سے فساد کو کہا جاتا تو یہ اسے مان لیتے اور اس میں ذرا بھی دیر نہ کرتے " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوا ثُبَاتٍ أَوِ انْفِرُوا جَمِيعًا (71) وَإِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَيُبَطِّئَنَّ فَإِنْ أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَالَ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ إِذْ لَمْ أَكُنْ مَعَهُمْ شَهِيدًا (72) وَلَئِنْ أَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَنْ لَمْ تَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ مَوَدَّةٌ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا (73): اے لوجو جو ایمان لائے ہو۔ اپنی حفاظت اور تیاری میں لگے رہو۔ پھر نکلو الگ الگ گروہوں میں ہو کر یا اکٹھے ہو کر اور یقینا تم میں کوئی ایسا بھی ہے جو دیر کرے۔ پھر اگر کوئی مصیبت آپڑے تو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا ہی احسان کیا کہ ان لوگوں کے ساتھ نہ تھا اور اگر تم پر اللہ کا فضل ہو تو بول اٹھے کہ گویا تمہارے اس کے درمیان محبت کا کوئی رشتہ تھا ہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرلیتا۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلا أَخَّرْتَنَا إِلَى أَجَلٍ قَرِيبٍ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَى وَلا تُظْلَمُونَ فَتِيلا (77) أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكُكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَمَالِ هَؤُلاءِ الْقَوْمِ لا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا (78): کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ، جن کو حکم دیا گیا کہ تم اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ، پھر جب ان پر قتال فرض کردیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے ایسا ڈرنے لگا جسے اللہ سے ڈرا جاتا ہے یا اس سے بھی بڑھ کر۔ وہ کہتے ہیں اے ہمارے رب تونے ہم پر جنگ کیوں فرض کردی اور مہلت کیوں نہ دی ، کہہ دو ، اس دنیا کا سرمایہ بہت قلیل ہے اور جو شخص تقوی اختیار کرے اس کے لیے آخرت ہی بہتر ہے۔ اور تم لوگوں کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہوگی۔ تم کہیں بھی ہو ، موت تمہیں پا لے گی۔ اگرچہ تم مضبوط قلعوں میں کیوں نہ ہو۔ اور ان لوگوں کو اگر کچھ فائدہ پہنچ جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ تمہاری طرف سے ہے۔ تم کہو کہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ بات ہی نہیں سمجھتے۔ إِنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَإِنْ تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا يُؤْتِكُمْ أُجُورَكُمْ وَلا يَسْأَلْكُمْ أَمْوَالَكُمْ (36)إِنْ يَسْأَلْكُمُوهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوا وَيُخْرِجْ أَضْغَانَكُمْ (37) هَا أَنْتُمْ هَؤُلاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنْكُمْ مَنْ يَبْخَلُ وَمَنْ يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَنْ نَفْسِهِ وَاللَّهُ الْغَنِيُّ وَأَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ (38): دنیا کی زندگی تو بس نرا کھیل تماشا ہے۔ اور اگر تم ایمان لاؤ گے اور تقوی اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے اجر تمہیں عطا کرے گا۔ اور تمہارے مال تم سے طلب نہیں کرے گا اور اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے پھر انتہا درجے تک تم سے طلب کرتا رہے تو تم ضرور بخل کرنے لگو اور وہ تمہاری ناگواری ضاطر ہکردے۔ تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اس پر بھی تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جو بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو درحقیقت وہ خود اپنے سے بخل کرتا ہے۔ ورنہ اللہ تو بےنیاز ہے اور تم محتاج ہو اور اگر تم منہ موڑوگے تو وہ دوسری قوم کو لا بٹھائے گا اور وہ تم جیسی نہ ہوگی۔ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَا هُمْ مِنْكُمْ وَلا مِنْهُمْ وَيَحْلِفُونَ عَلَى الْكَذِبِ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (14) أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (15) اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ (16) لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوَالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا أُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (17) يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ أَلا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ (18) اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَأَنْسَاهُمْ ذِكْرَ اللَّهِ أُولَئِكَ حِزْبُ الشَّيْطَانِ أَلا إِنَّ حِزْبَ الشَّيْطَانِ هُمُ الْخَاسِرُونَ (19)إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَئِكَ فِي الأذَلِّينَ (20) كَتَبَ اللَّهُ لأغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (21) لا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الإيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (22) : کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ جنہوں نے ایسے گروہ کو دوست بنایا جن پر اللہ کا غضب ہے اور وہ لوگ نہ تم میں سے اور نہ ان میں سے اور باوجود یہ کہ وہ جانتے ہیں اور پھر بھی جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ وہ بہت برا کر رہے ہیں انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ لہذا ان کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ سے انہیں ذرا نہ بچا سکیں گے۔ وہ ہیں دوزخ والے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جس دن اللہ ان کو اٹھائے گا تو وہ اس کے آگے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے آگے اٹھاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ خوب کر رہے ہیں۔ خوب جان لو وہ جھوٹ ہیں۔ ان پر شیطان مسلط ہوچکا ہے اور اس نے ان کو اللہ کی یاد بھلا دی ہے۔ وہ شیطان کے گروہ کے لوگ ہیں ، سن لو ، شیطان کا گروہ ہی خسارے میں رہنے والا ہے۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یقینا وہ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں ، اللہ تو لکھ چکا ہے کہ ہم اور ہمارے پیغمبر ہی غالب ہو کر رہیں گے۔ بلاشبہ اللہ ہی بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ تم کبھی یہ پاؤگے کہ جو لوگ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں وہ ایسوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور اسکے رسول کی مخالفت کرتے ہیں خواہ وہ لوگ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبے کے ہی ہوں ، یہی ہیں جن کے دلوں میں ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کی مدد کی ہے اور وہ ان کو باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ، ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، وہ اللہ کا گروہ ہیں اور اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے۔ (سورۃ الحشر) َيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (51) فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَنْ تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَى مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ (52) وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا أَهَؤُلاءِ الَّذِينَ أَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَأَصْبَحُوا خَاسِرِينَ (53): اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، یہود و نصاری کو اپنا دوست نہ بناؤ۔ یہ لوگ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان کو دوست بنائے گا تو وہ بیشک ان ہی میں سے ہوگا۔ یقینا اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ تم دیکھتے ہو کہ جن لوگوں کے دلوں میں روگ ہے ، وہ ان لوگوں کی طرف دوڑے جا رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم ڈرتے ہیں کہ کسی مصیبت کے پھیر میں نہ آجائیں۔ تو وہ وقت دور نہیں جب اللہ تمہیں فتح دے یا اپنی طرف سے کوئی بات لے آئے تو یہ لوگ اس بات پر نادم ہوجائیں جو وہ اپنے دلوں میں چھپائے ہوئے تھے۔ اور اہل ایمان کہیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو بڑے زور و شور سے اللہ کی قسمیں کھایا کرتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ان کے تمام اعمال اکارت گئے اور یہ سراسر نقصان میں آگئے۔ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي تُسِرُّونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنْتُمْ وَمَنْ يَفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ (1)إِنْ يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ (2) لَنْ تَنْفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلا أَوْلادُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (3) قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّى تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ إِلا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لأبِيهِ لأسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ (4): اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر تم ہماری راہ میں جہاد کرنے اور ہماری رضا جوئی کے لیے نکلے ہو تو ہمارے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ کہ لگو ان کے ساتھ دوستی ڈالنے۔ حالانکہ تمہارے پاس جو حق آیا ہے وہ اس کا انکار کرچکے ہیں۔ رسول کو اور تم کو صرف اس بات پر نکالتے ہیں کہ تم اپنے رب پر ایمان لائے ہو۔ تم چپکے چپکے ان کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو ، حالانکہ ہم جانتے ہیں جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو اور جو تم میں سے ایسا کرے وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا۔ اگر یہ تم پر قابو پائیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور تم پر برائی کے ساتھ دست درازی کریں اور زبان درازی کریں۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم بھی کافر ہوجاؤ۔ قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں تمہارے کام آئیں گی اور نہ تمہاری اولاد۔ اس دن اللہ تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا اور جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ تمہارے لیے اچھا نمونہ تو ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ہے۔ جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جن کی تم عبادت کرتے ہو ، قطعی بیزار ہیں۔ ہم تمہارا انکار کرتے ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت ہوگئی۔ جب تک تم اللہ وحدہ رپ ایمان نہ لاؤ مگر ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا کہ میں آپ کے لیے مغفرت کی دعا ضرور کروں گا ، اگرچہ آپ کے لیے اللہ کی طرف سے کسی چیز پر کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے رب ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیری ہی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔ مختلف سورتوں میں یہ دس شواہد ہمارے مدعا کے لیے کافی ہیں کہ اسلامی معاشرہ میں بعض اوقات اس قسم کے عارضی حالات پیش آتے تھے اور یہ اس لیے پیش آتے تھے کہ اسلامی معاشرے میں اچانک نئے لوگوں کا ایک ریلا داخل ہوگیا تھا جو اپنے ساتھ اپنی پرانی عادات لے کر آئے تھے۔ اور یہ عادات مسلسل تربیت اور تطہیر کے بعد ہی دور ہوسکتی تھیں اور اس کے لیے مسلسل تربیتی جدوجہد کی ضرورت تھی۔ لیکن مدینہ طیبہ میں مسلم معاشرے کا بنیادی ڈھانچہ درست تھا ، اس لیے کہ اس ڈھانچے میں بنیادی اہمیت صرف ان لوگوں کو حاصل تھی جو مہاجرین وانصار میں سے سابقین اولین تھے اور نہایت ہی مضبوط لوگ تھے۔ نیز اس معاشرے کی تعمیر و تربیت میں اتحاد و اتفاق اور اس کے ڈھانچے میں اس قدر پختگی تھی اس نے ان کمزوریوں اور عوارض اور انتشار پر قابو پا لیا تھا اور وہ عناصر جو خوف اور پریشانی سے متاثر ہوجاتے تھے اور جن کی ابھی تک پوری تربیت نہ ہوئی تھی اور وہ اس جدید معاشرے میں ابھی تک ڈھل نہ گئے اور ان کے اندر پوری ہم آہنگی پیدا نہ ہوئی تھی ان کو بھی اجتماعی معاشرتی نظام سنبھالا دیتا تھا۔ بہرحال آہستہ آہستہ یہ جدید عناصر تربیت پا رہے تھے۔ اس معاشرے میں ڈھل رہے تھے اور ان کی تطہیر مسلسل ہو رہی تھی اور وہ اسلامی معاشرے کی اصل قوت کے ساتھ ملتے رہتے تھے۔ اور ضعیف القلب ، نافرمانی کرنے والوں اور ڈھل مل یقین قسم کے لوگوں کی تعداد روز بروز کم ہو رہی تھی۔ مفادات سے ڈرنے والے اور ایسے لوگ جن کے دلوں میں ابھی تک اسلامی نظریہ حیات پوری طرح نہ بیٹھا تھا تاکہ وہ اپنے سوشل روابط بھی اسی نظریہ کی اساس پر استوار کریں۔ یہاں تک کہ فتح مکہ سے پہلے حالت یہ ہوگئی تھی کہ اسلامی معاشرہ تعلیم وتربیت اور اپنی ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے مقام کمال کے قریب پہنچ گیا تھا اور اکثر لوگ مہاجرین وانصار میں سے سابقین اولین کے نقش قدم پر چل پڑے تھے۔ اور یہ معاشرہ اس قدر پاک اور تربیت یافتہ ہوگیا تھا کہ وہ اسلامی نظام حیات کے پیش نظر مطلوبہ معیار کے قریب تر تھا۔ یہ بات درست ہے کہ ابھی تک اس معاشرے میں ایسی قدریں نشوونما پا چکی تھیں کہ جن کا تعلق براہ راست اسلامی نظریات کے ساتھ تھا۔ ان اقدار کی وجہ سے تحریک کے اندر کچھ لوگ زیادہ ممتاز تھے اور زیادہ ثابت قدم تھے اور تحریک کی صفوں میں اوروں سے آگے تھے۔ مثلاً مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین ، اہل بدر ، حدیبیہ میں بیعت رضوان کرنے والے۔ پھر جن لوگوں نے فتح مکہ سے قبل جہاد ، انفاق اور قتال میں حصہ لیا اور جنہوں نے بعد میں لیا۔ نصوص کتاب اللہ ، احادیث نبوی اور تحریک کے بعض عملی اقدامات سے یہ تفاوت مراتب اور اقدار کا ثبوت ملتا ہے۔ یہ اسلامی اقدار اور تفاوت اسلامی نظریہ حیات کو آگے بڑھانے کے نقطہ نظر سے متعین ہوئیں۔ قرآن مجید کی تصریحات : وَالسَّابِقُونَ الأوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (100) وہ مہاجرین و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اللہ نے ان کے لیے ایسے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔ (التوبہ) ایک حدیث کے الفاظ میں یہ بھی ہے " شاید اللہ نے اہل بدر کو یہ اطلاع کردی ہو کہ تم جو چاہو کرو ، بس درحقیقت تمہارے لیے جنت واجب ہوچکی ہے " یہ بخاری کی حدیث کا ایک حصہ ہے۔ ان الفاظ میں حضرت عمر کی اس تجویز کو مسترد فرمایا جس میں انہوں نے ایک بدری صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی گردن اڑانے کی اجازت طلب فرمائی تھی ، جنہوں نے یہ کمزوری دکھائی تھی کہ قریش کو فتح مکہ کی تیاریوں کے سلسلے میں اطلاع دی تھی جسے پکڑ لیا گیا تھا۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ فَعَلِمَ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَنْزَلَ السَّكِينَةَ عَلَيْهِمْ وَأَثَابَهُمْ فَتْحًا قَرِيبًا (18) وَمَغَانِمَ كَثِيرَةً يَأْخُذُونَهَا وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا (19): اللہ مومنین سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے اور اللہ کو معلوم تھا ، جو کچھ ان کے دلوں میں تھا ، اس لیے ان پر سکینت نازل فرمائی اور ان کو فتح بھی دے دی ، اور بہت سی غنیمتیں بھی دیں جنہیں یہ لوگ لے رہے ہیں اور اللہ زبردست اور حکمت والا ہے۔ (الفتح) لا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُولَئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَكُلا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (10): تم میں سے جن لوگوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور دشمنوں سے لڑے وہ لوگ بڑا درجہ رکھتے ہیں ان سے جنہوں نے بعد میں خرچ کیا اور دشمن سے لڑے۔ اگرچہ دونوں سے اللہ نے اچھے وعدے فرمائے ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔ (الحدید) " خالد ذرا آرام سے رہو ، میرے ساتھیوں کو چھوڑ دو ، خدا کی قسم اگر تمہارے پاس اور جتنا سونا بھی ہو اور تم اسے فی سبیل اللہ خرچ کردو تو تم وہ ثواب نہیں کما سکتے جو انہوں نے صبح و شام جہاد میں حصہ لے کر کمایا "۔ یہ حدیث ابن قیم نے زاد المعاد میں نقل کی ہے۔ یہ الفاظ حضور نے حضرت خالد کو متنبہ کرتے ہوئے کہے۔ جب انہوں نے حضرت عبدالرحمن ابن عوف کے ساتھ تلخ کلامی کی۔ خالد اگرچہ سیف اللہ تھے مگر ابن عوف سابقون اولون میں سے تھے۔ " میرے ساتھیوں کو چھوڑ دو " حضور ﷺ و آلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی معاشرہ میں یہ ممتاز طبقہ ہے۔ اسلامی تحریک نے ان حضرات کے دلوں میں جو ایمان پیدا کیا اور اس کے نتیجے میں ان کے اندر جو قریں پیدا ہوئیں ان کے اختلاف کے مطابق ان کے درجے بھی مختلف تھے ، لیکن فتح مکہ سے قبل یہ تفاوت بہت کم ہوگیا تھا اور اسلامی معاشرہ پوری طرح ہم آہنگ تھا اور اس کی ناہمواریاں پوری طرح چھپ گئی تھیں۔ ان کی اکثر کمزوریاں دور ہوگئی تھیں اور جان و مال کے سلسلے میں ان کی شخصیات میں سے بخل دور ہوگیا تھا۔ ان کے عقائد واضح ہوگئے تھے اور ان کی زندگی سے نفاق پوری طرح دور ہوگیا تھا اور فتح مکہ سے قبل مدنی معاشرہ کی حالت یہ تھی کہ وہ ایک مکمل اسلامی معاشرہ بن گیا تھا جو اسلامی انقلاب کی اساس تھا۔ مگر جب سن آٹویں ہجری میں مکہ فتح ہوا اور اس کے بعد جنگ حنین کے نتیجے میں ہوازن ثقیف اور دوسرے قبائل فتح ہوگئے۔ یہ دو قبائل قریش کے بعد عرب کی ممتاز قوتیں تھیں۔ تو انسانوں کا ایک سیلاب اسلامی معاشرے میں داخل ہوگیا تھا۔ ایمان و اخلاق کے اعتبار سے یہ مختلف سطح کے لوگ تھے۔ ان لوگوں میں منافقین کی ایک بڑی تعداد بھی تھی جو اسلام کو دل سے ناپسند کرتے تھے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اسلام کی شوکت کو دیکھ کر بہہ گئے تھے۔ ان میں مؤلفۃ القلوب بھی تھے اور یہ طبقات ایسے تھے کہ وہ اسلامی قالب میں ابھی تک ڈھل نہ گئے تھے اور نہ ان کی پوری تربیت ہوئی تھی۔ اسلام کی حقیقی روح سے یہ نئے لوگ نابلد تھے۔ جزیرۃ العرب میں اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں قریش ایک دیوار اور بند کی طرح کھڑے تھے ، کیونکہ دینی اور دنیاوی معاملات میں قریش کو ایک بڑا مقام حاصل تھا۔ پھر ادبی ، ثقافتی اور علمہ و اقتصادی اعتبار سے بھی وہ دوسرے عربوں کے لیے قابل تقلید تھے۔ اس وجہ سے ان کا مقابلے پر اتر آنا اور اس دین کی راہ روک دینا اس بات کا باعث ہوا کہ تمام عرب نے اس دین سے منہ پھیرلیا۔ اور اسلام میں داخل نہ ہوئے یا اگر انہوں نے صرف نظر نہ کیا تو کم از کم یہ صورت حالات ضرور تھی کہ لوگ تردد میں رہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ انتظار کیا جائے ، تاکہ مسلمانوں اور قریش کی کشمکش کا کوئی فیصلہ ہوجائے۔ جب فتح مکہ کے بعد قریش سرنگوں ہوئے تو ہوازن ثقیف بھی سرنگوں ہوگئے۔ مدینہ میں جو قوی یہودی قبائل تھے ، ان کی قوت اس سے پہلے ہی ٹوٹ گئی تھی۔ بنی قینقاع ، اور بنو نضیر شام کی طرف جلا وطن ہوگئے۔ بنو قریظہ بھی ختم ہو کر رہ گئے اور خیبر کا معاملہ بھی صاف ہوگیا تھا۔ خیبر کو فتح کرلیا گیا۔ ان واقعات کی وجہ سے اب پورے جزیرۃ العرب میں اسلام پھیل گیا اور لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہونے لگے اور صرف ایک سال کے عرصے میں لوگ دین اسلام میں داخل ہوگئے۔ اسلام کا گراف افقی طور پر بلند ہونے کی وجہ سے وہ کمزوریاں اسلامی صفوں میں در آئیں جو جنگ بدر کی حیران کن کامیابی کی وجہ سے آگئی تھیں۔ اب یہ کمزوریاں بہت بڑے پیمانے پر تھیں۔ بدر الکبری کے بعد جو کمزور عناصر اسلامی صفوں میں در آئے تھے ان کو تعلیم و تربیت کے ذریعے اس قدر پاک و صاف کردیا گیا کہ بدر الکبری کے بعد فتح مکہ تک سات سالوں میں قریب تھا کہ مدنی معاشرہ تمام کمزوریوں سے پاک ہوجائے اور اہل مدینہ اسلامی انقلاب کے لیے مضبوط بیس اور مضبوط بنیاد بن جائے۔ یہاں اولین ، مہاجرین و انصار کی ایک ایسی جمعیت تیار بیٹھی تھی کہ وہ ہر وقت اسلامی نظام کے لیے امین تھی۔ اگر یہ جمعیت نہ ہوتی تو اس عظیم انقلاب کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا۔ لیکن بدر الکبری کے بعد اس جمعیت نے جو مہاجرین و انصار کے سابقین اولین پر مشتمل تھی اس عظیم انقلابی امانت کی مسلسل نگہبانی کی۔ ان سات سالوں میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ طیبہ کی اس جمعیت کو اس کام کے لیے تیار کیا اور تربیت دی کہ یہ لوگ فتح عظیم کے بعد اسلام میں داخل ہونے والے انسانوں کے سیلاب کو کنٹرول کرسکیں۔ اللہ خوب جانتا تھا کہ وہ اپنی اس رسالت اور انقلابی رسالت کی حفاظت کا کام کس کے سپرد کرے۔ ان کمزوریوں کا سب سے پہل ظہور یوم حنین میں ہوا۔ اس کا تذکرہ سورت توبہ میں ان الفاظ میں ہوا ہے : لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ (25) ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (26): " اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کرچکا ہے۔ ابھی غزوہ حنین کے روز۔ اس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرہ تھا۔ مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔ پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے۔ اور منکرین حق کو سزا دی کہ یہی بدلہ ہے ان لوگوں کا جو حق کا انکار کریں "۔ اس جنگ میں ابتدائی شکست کا پہلا سبب یہ تھا کہ دس ہزار اسلامی لشکر میں دو ہزار طلقاء شریک تھے۔۔۔ یہ یوم فتح مکہ پر ایمان لائے تھے اور اسلامی لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے تھے۔ چناچہ اسلامی لشکر کے ساتھ ان دو ہزار افراد کا وجود ہی اس اتنشار کا سبب بنا۔ دوسرا سبب یہ تھا کہ ہوازن نے بالکل اچانک حملہ کیا اور لشکر اسلام چونکہ صرف مدینہ طیبہ کی حقیقی تربیت یافتہ فوج پر مشتمل نہ تھا ، جن کی تربیت گذشتہ سات سالوں میں مکمل ہوچکی تھی اور جو اس تحریک کی اصل اساس اور سرمایہ تھے۔ اس لیے انتشار پیدا ہوگیا۔ غزوۂ حنین میں جو کمزوریاں سامنے آئیں وہ اسلام کی عددی قوت کے گراف اچانک عمودی بلندی کی وجہ سے تھیں۔ جدید لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے۔ جو ایمان اور اخلاص کے اعتبار سے مختلف درجات کے لوگ تھے۔ جن کے درمیان تفاوت درجات تھا۔ اور سورت توبہ میں ان کمزوریوں سے بحث کی گئی ہے۔ اور پھر مختلف زاویوں سے اور مختلف پہلوؤں سے سخت تنقید کی گئی ہے۔ جن کے تفصیلی اقتباسات ہم اس سے قبل دے آئے ہیں۔ اسلامی معاشرے کی تشکیل اور اس کی تربیت کی تاریخ کے مطالعے کے لیے ضروری ہے کہ ہم فتح مکہ کے ٹھیک دو سال بعد کی تاریخ کے واقعات پر نظر ڈالیں۔ ٹھیک دو سال بعد جب حضور اکرم ﷺ کا انتقال ہوا تو تمام جزیرۃ العرب ایک بار مرتد ہوگیا۔ صرف مدینہ کی تربیت یافتہ اسلامی سوسائٹی اپنی جگہ پر قائم رہی اور جیسا کہ ہم نے کہا ، یہی اسلامی معاشرے کی مضبوط بنیاد تھی۔ چناچہ ان حالات کو اگر نظر میں رکھا جائے تو ان کمزوریوں کے ظہور کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ فتح مکہ کے بعد صرف دو سال کے عرصے میں یہ ممکن نہ تھا کہ اسلام میں داخل ہونے والے لوگوں کی اخلاقی تربیت اور تطہیر کردار کے کام کو مکمل کیا جاسکے۔ جبکہ آنے والوں کا معیار درجہ ایمانی کے اعتبار سے مختلف تھا۔ حضور ﷺ کے انتقال کے بعد حالت یہ تھی کہ پورا جزیرۃ العرب فکری انتشار و خلفشار کا شکار تھا اور مدینہ طیبہ کا بیس (Base) اپنے موقف پر سختی سے قائم تھا۔ اپنی مضبوطی اور پختگی کے بل بوتے پر اور اپنے اتحاد اور یگانگت کے ذریعے سے اس انتشار اور سیلاب کے مقابلے میں یہ سوسائٹی جم گئی اور انسانوں کے سیلاب کو غلط بہاؤ سے روک کر اس کا دھارا پھر اسلام کی طرف پھیر دیا۔ ان حقائق کو اس زاویہ سے دیکھنے کے بعد ہمیں اچھی طرح یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ مکہ میں دعوت اسلامی کو جن مشکلات اور مصائب سے دوچار کیا گیا تھا وہ اللہ کی تعمیری حکمت کے تحت ایک با مقصد امر تھا تاکہ یہ سوسائٹی جو اسلام کی بنیاد تھی ، ان مشکلات سے کندن ہوکر نکلے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مکہ میں مشرکین نے مسلمانوں کو کس قدر اذیت دی۔ فتنوں میں مبتلا کیا ، ان کا خون بہایا اور ان کے ساتھ کیا کیا ، کیا۔ اللہ کو معلوم تھا کہ مضبوط اسلامی تحریک کے قیام کے لیے یہی منہاج تربیت ہے تاکہ جماعت کی بنیاد مضبوط ہو ، کیونکہ اس مضبوطی کے بغیر جو بھی عمارت کھڑی ہے ، اس کا بوجھ برداشت کرنا مشکل تھا۔ کیونکہ تحریک کے آغاز کے لیے اس قدر مضبوطی ، خلوص ، نصب العین کے حصول پر اصرار ، اللہ کی راہ میں مشکلات انگیز کرنا ، قلت جلا وطنی ، بھوک اور افلاس ، قلت تعداد اور زمینی وسائل کی کمی جیسی مشکلات کو برداشت کرنے کی صلاحیت ضروری تھی۔ تحریک کے آغاز کے لیے اسی معیار کی پختگی ضروری تھی۔ جب یہ ابتدائی گروہ مدینہ پہنچا تو اس گروہ کے ساتھ انصار میں سے سابقون اولون آ ملے۔ اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ اسلامی تحریک کے لیے بنیاد بنیں اور بدر الکبری کے بعد آنے والوں کو سنبھال سکیں جن کی مکمل تربیت نہ ہوئی تھی۔ فتح مکہ سے پہلے مدینہ طیبہ کی سوسائٹی کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ یہاں کے باسیوں کی اکثیرت تکمیل و تربیت کے اعلی مدارج طے کرچکی تھی۔ اور یہی تربیت یافتہ صحابہ کا گروہ تھا جنہوں نے فتح مکہ کے بعد آنے والی افواج کو سنبھالا اور پھر حضور ﷺ کی وفات کے بعد ارتداد کے سیلاب کا مقابلہ کیا۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ پورے مکی دور میں اللہ تعالیٰ نے جو اسلامی تحریک کو سخت ترین مشکلات میں مبتلا کیا اور پھر مکی دور میں صلح حدیبیہ تک بروقت اس تحریک کو مشکلات ، جنگوں اور خوف کی حالت میں رکھا۔ اس کی حقیقی حکمت کیا تھی اس سے تحریکی عمل سے ہم یہ اصول اخذ کرسکتے ہیں کہ ہمارے دور میں اسلام کے تحریکی عمل کا منہاج کیا ہونا چاہئے۔ ابتدائی مراحل میں ، تمام اسلامی تحریکات کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ زیادہ توجہ اسلامی تحریک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے پر صرف کریں۔ ابتدائی گروہ کی تربیت اور اخلاقی تطہیر پر توجہ دیں تاکہ تحریک کی عمارت کو مضبوط بنیادوں پر اٹھا یا جائے۔ ان کے اندر ایمان کو گہرائی تک اتارا جائے تاکہ ان کے اندر پختگی پیدا ہو ، وہ تحریک کے ساتھ لگن رکھتے ہوں اور ان کو اپنے نصب العین کا اچھی طرح شعور حاصل ہو۔ اور جب تک تحریک کے اندر ابتدائی گروہ کی اچھی طرح تربیت نہ ہوجائے ، دعوت کی توسیع کا کام نہ شروع کیا جائے کیونکہ بنیادی گروہ کی اچھی تیاری سے قبل ہی کسی تحریک کو سعت دے دینے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس آغاز ہی میں انتشار شروع ہوجائے۔ اگر کوئی اس طرح کرے گا تو وہ ربانی طریقہ تربیت کے خلاف کرے گا اور سنت نبوی اور طریقہ نبوی کے خلاف چلے گا۔ اس دعوت کی کامیابی کا کفیل اللہ ہے۔ جب اللہ کو منظور ہوتا ہے کہ کسی تحریک کو مضبوط بنیادوں پر اٹھایا جائے تو اللہ تعالیٰ تحریک کے اتبدائی دستوں کو بےپناہ مشکلات سے دوچار کرکے ان کو کردار کی پختگی عطا کردیتا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ ان کو کامیابی کا طویل انتظار کراتا ہے۔ ان کی تعداد قلیل ہوتی ہے۔ لوگ ان سے دور رہتے ہیں لیکن جب معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ اب صبر کرنے والے ہیں۔ یہ ثابت قدم ہوچکے ہیں۔ اور انہوں نے تیار مکمل کرلی ہے اور وہ صلاحیت پیدا کرچکے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ ان کو ذریعہ بناتا ہے کہ ان سے اس عظیم کام کا آغاز ہوسکے۔ اور وہ اس کے امین اور علمبردار ہوں۔ پھر اللہ ان کو قدم بقدم آگے بڑھاتا ہے۔ اللہ اپنے کاموں پر غالب ہے۔ لیکن لوگ در حقیقت نہیں جانتے۔ ان مباحث کے بعد ہم اس طرح آتے ہیں کہ اس سورت کے مضامین کا اجمالی خلاصہ یہاں دے دیں۔ اس کے بڑے بڑے موضوعات اور خصوصا وہ احکام جن میں مشرکین اور کافرین کے ساتھ اسلامی ریاست کے آئندہ تعلقات کی ضابطہ بندی کی گئی ہے کیونکہ اس موضوع پر جو احکام آئے ہیں ، وہ آخری احکام ہیں۔ لہذا ان میں بلند ترین تحریکی خطوط کھینچے گئے ہیں۔ پارہ نہم میں سورت انفال کے تعارف میں ہم نے کفار و مشرکین کے ساتھ آخری ضابطہ کے بارے میں جو کچھ نقل کیا تھا ، میں سمجھتا ہوں یہاں اس کا خلاصہ دوبارہ نقل کردیا جائے۔ اگرچہ امام ابن قیم کا یہ اقتباس مکرر یہاں آجائے گا لیکن اس تکرار کے باوجود اس کے چند فقرے یہاں نہایت ہی موزوں اور سیاق کلام کے ساتھ مناسب رہیں گے اور ان کی وجہ سے بات میں جان پیدا ہوگی۔ امام ابن قیم جوزی نے اپنی مشہور کتاب زاد المعاد میں حضور ﷺ کی مجاہدانہ زندگی کے بارے میں ایک عنوان قائم کیا ہے ، " بعثت سے لے کر وفات تک کفار اور منافقین کے ساتھ آپ کا طرز عمل " اس عنوان کے تحت وہ رقم طراز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کی طرف یہ وحی نازل کی کہ " آپ اپنے رب کے نام سے پڑھیں " یوں ہوا آپ کی نبوت کا آغاز ، اس وقت جو حکم دیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ آپ اپنے دل میں پڑھیں۔ ابھی آپ کو تبلیغ کا حکم نہ ملا تھا ، کچھ عرصہ بعد یہ آیت نازل ہوئی یا ایہا المدثر قم فانذر یعنی اقراء سے آپ کو نبوت ملی اور یا ایہا المدثر سے آپ کو منصب رسالت عطا ہوا اور حکم دیا گیا کہ آپ اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیں ، رشتہ داروں کے بعد آپ نے اپنی قوم کو انجام بد سے ڈرایا۔ قوم کے بعد مکہ مکرمہ کے ارگرد پھیلے ہوئے قبائل کو تبلیغ کی۔ اس کے بعد یہ پیغام پوری عرب دنیا تک عام کردیا گیا اور بالآخر اس دعوت کو بین الاقوامی دعوت بنا دیا گیا۔ دعوت اسلامی کا کام شروع کرنے کے بعد نبی ﷺ کئی سال تک صرف وعظ اور تبلیغ کرتے رہے اور طاقت کا استعمال نہ کیا ، بلکہ آپ کو حکم دیا گیا کہ آپ صبر اور درگزر سے کام لیں اور اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیں۔ ایک عرصہ بعد آپ کو ہجرت کی اجازت دی گئی اور ساتھ ہی دشمنوں سے لڑنے کی بھی اجازت دی گئی تاہم یہ اجازت اس حد تک تھی کہ صرف ان لوگوں سے جنگ کی جائے جو لڑنے کے لیے میدان میں اتر آئیں اور دوسروں سے نہ لڑا جائے۔ سب سے آخر میں یہ حکم دیا گیا کہ کفار اور مشرکین سے اس وقت تک جنگ جاری رکھی جائے جب تک دین اللہ کے لیے خالص نہیں ہوجاتا۔ (لیکون الدین کلہ للہ) جس وقت آپ کو جہاد کا حکم دیا گیا ، اس وقت حضور اور کفار کے درمیان تعلقات کی صرف تین شکلیں تھیں ، اہل صلح ، اہل حرب اور اہل ذمہ ، اہل صلح یعنی جن کے ساتھ امن کے معاہدات ہوئے تھے ، ان کے بارے میں حکم ہوا کہ عہد کو آخر تک نبھایا جائے ، لیکن صرف اس صورت میں کہ جانب مخالف اپنے معاہدے کا پابند ہو اور اگر وہ عہد شکنی اور غداری کریں تو آپ بھی معاہدہ ان کے منہ پر دے ماریں ، البتہ ایسے لوگوں کے ساتھ عملاً جنگ اس وقت تک نہ چھیڑی جائے جب تک انہیں باقاعدہ اطلاع نہ دی جائے کہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے۔ جب سورة براءت نازل ہوئی تو ان تمام اقسام کے احکام علیحدہ علیحدہ بیان ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ، نبی ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اہل کتاب (یہود و نصاری) سے اس وقت تک لڑیں کہ یا وہ جزیہ قبول کریں اور یا اسلام میں داخل ہوجائیں اور مشرکین اور منافقین سے بھی جہاد کا حکم دیا گیا۔ نیز منافقین سے مزید سختی برتنے کا حکم دیا گیا۔ کفار کے ساتھ آپ کا جہاد مسلح جنگ کی شکل میں تھا اور منافقین کے ساتھ زبان اور دلیل سے۔ سورة براۃ میں یہ حکم بھی دیا گیا کہ کفار کے ساتھ کیے ہوئے تمام معاہدات کو ختم کردیا جائے اور علی الاعلان ان سے براءت کا اظہار کردیا جائے۔ اس اعلان کے بعد اہل عہد کی تین اقسام قرار پائیں ، وہ جن کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے عہد شکنی کی تھی اور اپنے عہد پر قائم نہیں رہے تھے ، ان لوگوں کے ساتھ حضور نے جنگ کی اور ان پر فتح پائی۔ دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جن کے ساتھ عہد تھا اور وہ اسے نبھاتے بھی رہے۔ آپ کو حکم دیا گیا کہ ان کے ساتھ جو معاہدہ ہے اسے مقرر مدت تک برقرار رکھا جائے اور شرائط کی پابندی کی جائے۔ تیسری قسم ایسے لوگوں کی تھی کہ جن کے ساتھ اگرچہ معاہدہ تو نہ تھا لیکن یہ لوگ آپ کے خلاف کسی جنگ میں بھی شریک نہ ہوئے تھے یا ان کے ساتھ تعین مدت کے بغیر معاہدہ طے پا گیا تھا ، ایسے لوگوں کے بارے میں حکم ہوا کہ انہیں چار ماہ کی مہلت دی جائے اور ان سے کہہ دیا جائے کہ اس کے بعد کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ یا مسلمان ہوجاؤ ورنہ لڑنے کے لیے تیارہ ہوجاؤ۔ (یہ حکم صرف مشرکین عرب کے لیے ہے انہیں جزیہ دے کر اسلامی ریاست کے زیر سایہ ذمی کی حیثیت سے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ اس لیے کہ حق کے پورے انکشاف کے بعد ان کے انحراف کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا تھا۔ نبی ﷺ کے متعلق یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ نبی ہیں اور قرآن ان کی اپنی زبان میں نازل ہونے کی وجہ سے انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ محض ہٹ دھرمی کی بناء پر یہ انکار کیے جا رہے تھے اس لیے یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں تھے۔ عرب اہل کتاب اور غیر عرب مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ یہ رعایت رکھی گئی کہ اگر وہ چاہیں تو حفاظت جان و مال کا معاوضہ یا جزیہ دے کر اسلام حکومت کے زیر سایہ باعزت شہری کے طور پر رہیں۔ ) چناچہ انہی ہدایات کے مطابق آپ نے عہد شکنوں کے ساتھ جنگ کی ، اور جن کے ساتھ کوئی عہد نہ تھا انہیں چار ماہ کی مہلت دی اور راست باز معاہدین کے ساتھ اپنا عہد پورا کیا اور ایسے تمام لوگ معاہدہ کی مدت پوری ہونے سے پہلے ہی اہل ایمان اور مسلمانوں کا جزو بن گئے اور اہل ذمہ پر جزیہ عائد ہوا۔ جیسا کہ کہا گیا سورة براءت کے نزول کے بعد کفار کے ساتھ آپ کے تعلقات تین قسم کے رہ گئے تھے یعنی محارب ، اہل ذمہ اور اہل عہد اور چونکہ اہل سب کے سب اسلام میں داخل ہوگئے تھے ، اس طرح صرف اہل ذمہ اور اہل حرب ہی باقی رہ گئے۔ اہل حرب کی حالت یہ رہتی تھی کہ آپ کے دور میں وہ ہمیشہ آپ سے خائف رہتے تھے۔ چناچہ حضور ﷺ کی عمر کے آخری دور میں حضور اور تمام انسانوں کے تعلقات کی نوعیت صرف یہ رہ گئی تھی کہ ان میں سے بعض مسلم اور مومن تھے ، بعض آمن اور مسالم تھے اور بعض آپ سے خائف اور محارب تھے۔ منافقین کے ساتھ آپ کا طرز عمل یہ تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا کہ آپ ان کے اعلان اسلام کو قبول فرمائیں اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیں اور ان کے مقابلے میں علم و استدلال کے ہتھیار ہی استعمال کریں اور ان کے ساتھ سرد مہری کا رویہ اختیار کریں اور ان سے سختی برتیں اور ان کی نفسی کیفیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے ارشادات عالیہ سے ان کی اصلاح کی سعی کریں۔ ان کی نماز جنازہ میں شرکت نہ کریں اور نہ حضور ان کی قبر پر کھڑے ہوکر دعا کریں اور یہ کہ اگر آپ ان کے لیے دعائے مغفرت مانگ بھی لیں تو بھی اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا۔ یہ تھا مختصر بیان حضور کے طرز عمل کا اپنے کفار اور منافق دشمنوں کے ساتھ " علامہ ابن قیم نے اسلامی جہاد کے مختلف مراحل کی یہ بہترین تلخیص پیش کی ہے اور اس سے دین حق کے تحریکی پہلو کی مستقل اور گہری بنیادیں واضح ہوجاتی ہیں جو اس لائق ہیں کہ خاصی دیر ٹھہر کر ان پر اچھی طرح غور کرلیا جائے۔ اس مختصر سی بحث میں ہم صرف چند اشارات پر ہی اکتفاء کریں گے۔ 1 ۔ ابن قیم کے اس " سیرت پارہ " سے " اسلامی جہاد کی جو پہلی بنیاد سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ دین حق اپنے طریق کار میں بھرپور واقعیت پسند ہے ، یہ طریق کار در اصل اس حرکت کا نام ہے ، جو زمین پر موجود کسی انسانی سوسائٹی کا سامنا کرتی ہے اور ایسے سب ذرائع سے اس کا سامنا کرتی ہے ، جو سوسائٹی کے واقعی وجود کے مقابلہ میں کام آسکیں۔ وہ جاہلیت کے اس فکری دائرہ پر یلغار کرتی ہے جس پر عملاً زندگی کا چلتا پھرتا ایک نظام قائم ہے جسے وقت کا اقتدار مادی قوت کے ذریعہ سہارا دئیے چلا جاتا ہے۔ اسلامی تحریک عالم واقع میں اس واقعی صورت حال کا مقابلہ کرتی ہے۔ ان تمام ذرائع و وسائل کو کام لاکر جن سے کہ یہ جاہلیت کام لیتی ہے۔ وہ اس جاہلیت کا سامنا بیان و تقریر سے بھی کرتی ہے ، تاکہ سوسائٹی کے افکار و عقائد کی اصلاح ہوسکے اور وہ غایت درجہ سعی کے ساتھ طاقت بھی استعمال کرتی ہے ، تاکہ جاہلیت کے نظام و اقتدار کو ملیا میٹ کیا جاسکے۔ وہی اقتدار جو عوام اور تعمیر افکار کی اصلاح کے کام میں روگ بن کر کھڑا ہے اور جو جبراً ان پر مسلط ہے اور انہیں اندھیرے میں رکھے ہوئے ہے اور جو انہیں رب اکبر کے مقابلہ میں دوسروں کا بندہ بنائے ہوئے ہے۔ یہ ایک ایسی تحریک ہے جو صرف بیان و اظہار پر اکتفاء کرکے ختم نہیں ہوجاتی جس طرح کہ اس تحریک میں یہ بھی نہیں ہے کہ مادی غلبہ حاصل کرکے لوگوں سے جبراً اپنی بات منوالے۔ یہ رد و قبول میں جبر کی قائل ہی نہیں لا اکراہ فی الدین دین حق کے طریق کار میں یہ دنوں ہی باتیں نہیں ہیں وہ تو ایک تحریک ہے۔ اس لیے برپا کی گئی ہے کہ لوگوں کو بندوں کی غلامی سے نجات دلا کر اللہ وحدہ لا شریک کی بندگی میں داخل کردے۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

التوبة 9:3

(درس نمبر 87 کا بقیہ حصہ) اور دین کے معاملے میں ہر قسم کے جبر اور اکراہ کے استعمال کو ممنوع قرار دیا جس طرح ہم نے آیات (256:2، ص 26 ۔ 40 ، ج 3) میں تفصیل سے دیا ہے۔ چناچہ مشرکین نے حضور کا مقابلہ کیا اور مسلمانوں کو فتنہ میں مبتلا کرکے ان پر تشدد کیا۔ اور ان کو اللہ کی راہ سے روکنے کی کوشش کی۔ اور حضور ﷺ کو بھی انہوں نے تبلیغ کرنے سے جبراً منع کردیا۔ اور حالات ایسے ہوگئے کہ آپ کے متبعین میں سے کوئی بھی مامون نہ تھا۔ ہر کسی کو تشدد اور جان کا خطرہ لاحق تھا۔ الا یہ کہ وہ کسی کی پناہ میں ہوں یا کسی کے حلیف ہوں۔ لہذا مسلمانوں نے کئی بار ہجرت کی۔ اس کے بعد ان کی ایذا رسانی اور نیش زنی میں مزید اضافہ ہوگیا ، چناچہ انہوں نے خفیہ فیصلہ کیا کہ آپ کو دائمی طور پر قید کردیا جائے یا ملک بدر کردیا جائے یا قتل کردیا جائے اور یہ مشورہ انہوں نے دار الندوہ میں علانیہ کیا۔ لیکن آخری فیصلہ یہ کیا کہ آپ کو قتل کردیا جائے۔ چناچہ اللہ نے آپ کو ہجرت کا حکم دیا جیسا کہ اس کی تفصیلات ہم نے آیت (3:8) میں دے دی ہیں۔ واذ یمکر بک الذین (ج 9، ص 650) چناچہ آپ نے ہجرت فرمائی اور جن دوسرے لوگوں کی قسمت میں یہ اعزاز لکھا تھا انہوں نے بھی ہجرت فرمائی اور ان لوگوں کو مدینہ میں انصار ملے جن کے دلوں میں رسول اللہ اور ہجرت کرنے والوں کی محبت بسی ہوئی تھی۔ ان لوگوں نے مثالی ایثار سے کام لیا اور اہل ہجرت اور رسول اللہ اور کفار مکہ کے درمیان اس وقت کے عرف کے مطابق حالت جنگ تھی۔ مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے اہل کتاب نے آپ کے ساتھ معاہدہ امن کیا لیکن انہوں نے اس معاہدے کو پورا نہ کیا اور خیانت اور غداری کی۔ اور مشرکین عرب کے ساتھ ساز باز کرکے وہ ہمیشہ رسول اللہ اور مسلمانوں کے خلاف قوتوں کی حمایت کرتے رہے جس کی تفصیلات ہم نے سورت انفال میں دی ہیں۔ دیکھئے اسی جلد کے صفحات (53 تا 68) اس قبل آپ نے حدیبیہ میں مشرکین کے ساتھ دس سالہ معاہدہ کیا تھا اور یہ معاہدہ آپ نے کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ قوت اور غلبے کے باوجود مشرکین کے شرائط پر کیا۔ محض اس لیے کہ آپ امن و سلامتی کو پسند فرماتے تے۔ اور اپنے دین کو حجت و دلیل کے ساتھ پھیلانا چاہتے تھے۔ (یہ بات اس حد تک درست ہے کہ تحریکی انداز میں تبلیغ اسلام بھی حجت و دلیل کے ساتھ ہے۔ لیکن اگر اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام میں جہاد صرف دفاع کے لیے ہے تو یہ درست نہیں ہے۔ دفاع کے سوا بھی جہاد مسلمانوں پر فرض ہے۔ ) بنو خزاعہ نے آپ کے ساتھ عہد کیا اور بنوبکر نے قریش کے ساتھ عہد کیا۔ اور اس کے بعد قریش نے بنوبکر کی حمایت کرتے ہوئے خزاعہ پر حملہ کردیا اور اس طرح نقض عہد کے مستحق قرار پائے۔ اور اس نقض عہد کی وجہ سے مسلمانوں اور مشرکین مکہ کے درمیان دوبارہ حالت جنگ عود کر آئی۔ اس کے نتیجے میں مکہ فتح ہوا۔ جس کی وجہ سے شوکت اسلامی قائم ہوئی اور مشرکین ذلیل ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود جس وقت بھی ممکن ہوا یہ لوگ حضور اکرم کے ساتھ غداری کرتے رہے۔ اور یہ بات تجربے سے ثابت ہوگئی کہ وہ قوی ہوں یا ضعیف ہوں ، مسلمانوں کے ساتھ غداری ان کے دلوں میں بیٹھی ہوئی ہے اور وہ ہر گز پاس عہد نہیں رکھتے۔ جیسا کہ اسی سورت کی آیت کی تشریح میں آئے گا کہ وہ ہر وقت نقض عہد کے لیے آمادہ تھے۔ کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ تا آخر آیت 12 فقاتلوا ائمۃ الکفر انھم لا ایمان لھم لعلھم ینتھون۔ تک یعنی ان کے بارے میں یہ سمجھ لو کہ وہ کسی عہد کو پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ یعنی ان لوگوں کے ساتھ مسلمانوں کا بذریعہ معاہدہ یکجا رہنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس طرح کہ ان میں سے ہر فریق دوسرے کے شرر اور فتنہ سے محفوظ و مامون ہو اور مشرکین اپنے نظریات پر رہیں اور قانون ان کا نہ چلے۔ اور اس طرح باہم مل کر دونوں فریق زندہ رہ سکیں۔ کیونکہ ان کی سابقہ غداریوں اور مکاریوں کی وجہ سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے حالانکہ ان کے حسب حال یہ تھا کہ وہ اہل کتاب ہونے کے ناطے وفائے عہد کرتے۔ (تعجب کی بات ہے کہ مصنف اس گہری حقیقت تک پہنچ گئے ہیں جو ان اقدامات کا اصل سبب ہے اور یہ کہ ان معاہدات کا جو حشر ہوا اس سے ثابت ہوگیا کہ اسلامی محاذ اور مشرکین کے محاذ کے درمیان باہم سلامتی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ الا یہ کہ چند مختصر عرصے کے لیے کوئی وقفہ ایسا ہو ، لیکن اس کے باوجود مصنف اسلامی نظام اور شرکیہ نظام کے درمیان ایسے معاہدات کے قائل ہیں ، جن کی وجہ سے دار الاسلام میں دونوں نظام یکجا ہوکر رہ سکتے ہیں۔ یہ ان کے نزدیک دائماً ممکن ہے اور اس کے خلاف اگر کوئی صورت ہوئی ہے تو وہ استثنائی ہے۔ الا یہ کہ امر مشرکین مکہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ (کسی حد تک یہ بات درست ہے کہ یہ حکم مشرکین مکہ تک محدود ہے لیکن دوسرے مشرکین کی حالت بھی جزیرۃ العرب کے مشرکین سے مختلف کس طرح ہوسکتی ہے۔ تفصیلات ہم آگے دے رہے ہیں۔ ) " یہ ہے وہ حقیقی شرعی اصول جس کے مطابق مطلق معاہدات کی منسوخی کے احکا امت وارد ہوئے اور جن لوگوں نے معاہدے کی خلاف ورزی نہ کی تھی ان کے ساتھ معاہدات کو اپنی مدت تک پورا کرنے کی ہدایت آئی اور ان احکام کی حکمت یہ تھی کہ جزیرۃ العرب سے شرک جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے اور جزیرۃ العرب کو مسلمانوں کے لیے مخصوص کردیا جائے ، لیکن سابقہ اصول اپنی جگہ قائم رکھے گئے مثلاً بقرہ 190 میں کہا گیا وقاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم (یعنی اللہ کی راہ میں ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی جائے جو تمہارے ساتھ لڑتے ہیں) اور دوسری وان جنحوا لسلم فاجنح لھا (یعنی اگر وہ سلامتی و امن کے لیے جھکیں تو تم بھی ان کی طرف جھکو) ۔ حتی الامکان یہ پالیسی رہی۔ اگرچہ جمہور علماء کی رائے یہی ہے کہ یہ سابقہ آیات اس سورت کی آیت سیف کے ذریعے منسوخ ہیں اور اہل شرک کے ساتھ تمام عہد منسوخ ہیں۔ اس اقتباس اور اس پر آخری تعقیب اور تفسیر منار کی دوسری تشریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ مصنف معاہدات کی منسوخی اور مشرکین و اہل کتاب کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف آغاز جنگ کے حقیقی اسباب تک بہرحال پہنچ گئے ہیں لیکن وہ اس سبب کی حقیقی جڑوں تک نہیں پہنچے اور نہ اس سبب کو وہ وسعت دے کر اسے عام پالیسی بنانا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ اس معاملے میں دین کی حقیقت اور اس کے تحریکی مزاج تک نہیں پہنچ سکتے اور وہ اس نکتے تک بھی نہیں پہنچ سکے کہ اسلامی نظام حیات اور انسانوں کے بنائے ہوئے نظامہائے حیات کے درمیان بنیادی اور حقیقی تضاد پایا جاتا ہے اور ان دونوں کا ایک جگہ زندہ رہنا ممکن نہیں ہے۔ تفسیر منار کے علاوہ اس مسئلے پر استاد محمد عزہ کی تصریحات بھی قابل غور ہیں۔ وہ اپنی تفسیر " التفسیر و الحدیث " میں جو کچھ فرماتے ہیں وہ اس حقیقت کبریٰ سے بہت دور ہے اور وہ ان واقعات و احکامات کے حقیقی اسباب کو پا ہی نہیں سکے۔ استاد محمد عزہ زمانہ حال کے دوسرے اہل قلم کی طرح رات دن اس تلاش میں رہتے ہیں کہ وہ اسلام کو امن و آشتی کا دین ثابت کریں اور اس کے لیے دلائل تلاش کریں ، یہ لوگ آج کل جب ان نسلوں کے برے دنوں کو دیکھتے ہیں جن کے آباؤاجداد مسلان تھے اور پھر اس کے مقابلے میں دیکھتے ہیں کہ آج کل کے بےدین ، ملحدین اور نام نہاد اہل کتاب مادی لحاظ سے عروج پر ہیں تو یہ لوگ رات دن یہ ثابت کرنے بیٹھ جاتے ہیں کہ اسلام تو نہایت ہی گوسفندانہ مذہب ہے اور وہ اپنے حدود کے اندر دبک کر رہنے والا ہے۔ اور جب بھی اس کے ساتھ کوئی امن و سلامتی کے سلسلے میں بات کرے وہ قبول کرتا ہے۔ یہ لوگ سورت توبہ کی ان آیات کا سبب نزول صرف اس بات کو قرار دیتے ہیں کہ بعض لوگوں نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ چونکہ نقض عہد کردیا تھا لہذا ان کے خلاف یہ اقدام ہوا اور جن لوگوں نے نقض عہد نہ کیا تھا چاہے ان کے معاہدے موقت ہوں یا دائمی ہوں ان کو یہ سورت بحال رکھتی ہے۔ اور اگر کسی نے نقض عہد کر بھی لیا تھا تو یہ سورت اجازت دیتی ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ از سر نو عہد کرلیا جائے۔ یہ لوگ ابتدائی مراحل کی آیات کو اصل الاصول قرار دیتے ہیں اور اس سورت کی ان آخری آیات کو مفید قرار دیتے ہیں۔ اس لیے یہ صاحب اس آیت 4، 5 توبہ کی تشریح اس طرح کرتے ہیں۔ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ ۔ فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ وَجَدْتُّمُــوْهُمْ وَخُذُوْهُمْ وَاحْصُرُوْهُمْ وَاقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْم : " بجز ان مشرکین کے جن سے تم نے معاہدے کیے۔ پھر انہوں نے اپنے عہد کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تک وفا کرو کیونکہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے۔ جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پاؤ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں ان کی خبر لینے کے لیے بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں کریں اور زکوۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو ۔ اللہ در گزر فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے " ان دو آیات میں اور ان سے پہلی آیات میں حضور اکرم ﷺ کی زندگی کے مدنی دور کے آخری دنوں کا ایک رنگ ہے۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان فتح مکہ کے بعد یا فتح مکہ کے قبل کے دور میں منعقد ہونے والے کچھ معاہدے تھے۔ مشرکین میں سے کچھ لوگ تو ایسے تھے کہ وہ اپنے معاہدوں کو پورا کرتے رہے اور بعض لوگ ایسے تے جنہوں نے عہد شکنی کی اور مسلمانوں کے خلاف اٹھنے والی قوتوں کی طرفداری کرتے رہے۔ اور غداری اور نقض عہد کے مرتکب ہوتے رہے "۔ ہم اس سے قبل کہہ آئے ہیں کہ مفسرین اور اہل تاویل زیر تفسیر دو آیتوں میں سے دوسری آیت کو آیت السیف کہتے ہیں۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ آیت ان تمام آیات کو منسوخ کردیتی ہے جن میں مشرکین کے حوالے سے تسامح ، تساہل ، چشم پوشی اور صرف نظر کے احکام یا اشارے موجود ہیں۔ بلکہ اس آیت کے بموجب علی الاطلاق ان کا قتل واجب ہے۔ بعض مفسرین نے اتنا کہا ہے کہ جن لوگوں کے ساتھ معاہدہ ہے ، ان کے بارے یہ حکم دیا ہے کہ وہ لوگ اپنی مدت معاہدہ تک اس کے حکم سے مستثنی ہوں گے اور بعض لوگ ان کو بھی مستثنی نہیں کرتے اور ماسوائے قبول اسلام کے ان سے کوئی اور صورت قبول نہیں کرتے۔ ہم نے اس پر اس سے قبل متنبہ کردیا ہے کہ اس رائے میں غلو پایا جاتا ہے اور یہ رائے قرآن مجید کے صریح احکام کے خلاف ہے۔ جن میں واضھ طور پر کہا گیا ہے کہ ماسوائے اعداء کے کسی اور کو قتل نہ کیا جائے اور یہ کہ دوستی کرنے والوں اور معاہدے کرنے والوں کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے۔ مفسرین نے اپنے اقوال اور روایات مکرر اسی حوالے سے قدیم اہل تفسیر و تاویل سے نقل کیے ہیں۔ علامہ ابن کثیر نے حضرت ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو حکم دیا ہے کہ آپ ان تمام لوگوں کی گردن پر تلوار رکھ دیں جن کے ساتھ معاہدات ہوئے تھے یہاں تک کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں اور ان کے ساتھ جو معاہدات ہوئے تھے ان کو ختم کردیا جائے۔ خود اس مصنف نے سلیمان ابن عیینہ کا ایک عجیب قول نقل ہے جنہوں نے آیات اور سورت اور دوسری سورتوں میں آنے والی دوسری آیات جن میں مشرکین کے ساتھ قتال کا حکم نہیں ہے ، کے درمیان تطابق اس طرح پیدا کیا ہے کہ یہ آیات تین تلواریں ہیں اور یہ کہ حضور نے حج اکبر کے دن حضرت علی ابن ابوطالب کو یہ تین آیات دے کر بھیجا تھا اور ان میں سے یہ آیت بھی ہے اور اسے انہوں نے عرب مشرکین کے لیے تلوار کہا ہے اور ایک تلوار اہل کتاب کے لیے ہے اور وہ سورت توبہ کی آیت 29 ہے یعنی قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ (29): " جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے ، اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہٰں بتاتے یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں " ایک تلوار منافقین کے لیے ہے اور وہ سورت توبہ کی آیت (73) ہے۔ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ (73): " اے نبی کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ آخر کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے " اور ایک تلوار باغیوں کے خلاف ہے اور وہ سورت الحجرات کی آیت (9) ہے۔ و ان طائفتان من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما فان بغت احداھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفیء الی امر اللہ " اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ جائیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے " اور مزید تعجب کی بات یہ ہے کہ امام طبری اس طرف گئے ہیں کہ اس آیت کا اطلاق معاہدین اور غیر معاہدین سب پر ہوتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں۔ حالانکہ سورت ممتحنہ کی آیت (8) کی تفسیر میں انہوں نے یہ قرار دیا کہ یہ آیت محکم ہے۔ آیت یہ ہے۔ لاینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم و تقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین " اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے "۔ لہذا اللہ مسلمانوں کو اس بات سے نہیں منع کرتا کہ جو شخص ان کے معاملات سے غیر جانبدار رہتا ہے اور امن و سلامتی کا معاہدہ کرتا ہے خواہ جس مذہب و ملت کا ہو ، اس کے ساتھ تم احسان و انصاف کا رویہ اختیار کرو۔ ہو سکتا ہے کہ ایسے لوگ معاہد بھی نہ ہوں "۔ " یہ تمام دلائل اور اس آیت کے سیاق وسباق سے یہ بات واضح ہے کہ یہ حکم صرف ان لوگوں کے لیے آای ہے جو معاہد تھے اور جنہوں نے اپنے عہد سے روگردانی کرلی تھی اس کے سوا کسی اور گروہ سے مطلق قتال جائز نہیں ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ یہ آیت السیف ہے اور ہر مشرک پر اس کا عموماً اطلاق ہوتا ہے۔ یہ ایسی بات ہے جس کی متحمل یہ آیت نہیں ہے اور نہ ہی سیاق کلام سے یہ مطلب نکلتا ہے اور نہ یہ کہنا درست ہے کہ یہ آیت متعدد آیات کی ناسخ ہے۔ خصوصاً ان آیات کی ناسخ ہے جن کا مضمون اصولی اور عمومی ہے۔ مثلاً لا اکراہ فی الدین یا الدعوت بالحکمت اور بذریعہ وعظ حسن یا مباحثہ و مجادلہ بطریق احسن ، یا نیکی اور انصاف کی تلقین کرنے والی آیات خصوصاً جبکہ بعد میں اس مضمون کی آیات آرہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ مسجد حرام کے پاس تمہارے ساتھ جن لوگوں نے معاہدہ کیا ہے ، جب تک وہ معاہدے پر قائم رہیں اس معاہدے کا احترام کیا جائے جس پر ہم عنقریب تفصیلی بحث کریں گے " " ان آیات میں جو احکامات ہیں ان کے بارے میں دو سوالات اٹھتے ہیں ؟ پہلا یہ کہ پہلی آیت میں جو استثناء ہے وہ معاہدے کی مدت کے ختم ہونے تک ہے تو کیا معاہدہ کرنے والے مشرکین اس مدت کے خاتمے پر اللہ اور رسول اللہ کی ذمہ داری سے نکل جائیں گے اور اب ان کے ساتھ جنگ فرض ہوگی۔ مفسرین کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ لیکن اس سلسلے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ سے کوئی قابل اعتبار روایت نہیں ملی ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ اگر آیت اول کے مفہوم کو علی الاطلاق لیا جائے تو مفسرین کا اخذ کردہ مفہوم درست ہے۔ اس کی پھر وضاحت کی ضرورت ہے۔ اس لیے یہ دیکھا جائے گا کہ جن لوگوں نے معاہدہ کیا تھا ان کی پوزیشن اس معاہدے سے پہلے کیا تھی ؟ یا تو وہ معاہدے سے پہلے دشمن تھے اور ان کے ساتھ جنگ اور مقاتلہ ہوا تھا۔ پھر مسلمانوں نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا جس طرح قریش کے ساتھ حضور ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر صلح کی تھی۔ یا وہ ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے بغیر جنگ وجدال اور مقاتلہ کے مسلمانوں کے ساتھ امن اور دوستی کا معاہدہ کرلیا تھا۔ سورت نساء کی یہ آیت (90) انہی لوگوں کے بارے میں ہے : إِلا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَى قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ أَوْ جَاءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَنْ يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلا (90): " البتہ وہ منافق اس حکم سے مستچنی ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے ، اسی طرح وہ منافق بھی مستثنی ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں ، نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں اور نہ اپنی قوم سے ، اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے لہذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کرنے کی کوئی سبیل نہیں رکھی) "۔ تو ایسے لوگوں کا حکم اس آیت میں بطور واقعہ ذکر ہے۔ سیرت کے بعض واقعات میں بھی ایسے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں۔ ابن اسحاق نے نقل کیا کہ حضور نے کنانہ کی شاخ بنو صخر سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ آپ ان پر حملہ نہ کریں۔ اور نہ وہ مدینہ پر حملہ کریں گے۔ نہ وہ کسی قوم کی تعداد آپ کے خلاف بڑھائیں گے نہ آپ کے دشمن کی معاونت کریں۔ اسی سلسلے میں آپ نے ان کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ بھی کیا تھا۔ پھر اس آیت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ کسی کے ساتھ تجدید عہد نہ کیا جاسکتا ہو یا یہ کہ کسی ایسی قوم کے ساتھ معاہدے کی مدت کو نہ بڑھایا جاسکتا ہو جبکہ ایسی قوم نے نہ وعدہ خلافی کی ہو اور نہ غداری کا ارتکاب کیا ہو۔ اور مسلمانوں کو اس کا کوئی اختیار بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ان کو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑیں یا کسی نہ کسی شکل میں دست درازی کریں۔ خصوصاً اس آیت میں جو عنقریب آرہی ہے۔ بصراحت کہا گیا ہے کہ مشرکین کے ساتھ عہد کو پورا کرو جب تک وہ عہد کو پورا کرتے ہیں ، اس آیت میں بھی اس بات پر قرینہ موجود ہے جو تم کہہ رہے ہو۔ ان شاء اللہ۔ " دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ دوسری آیت کے آخر میں کہا گیا ہے اگر وہ نماز پڑھیں اور زکوۃ دیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے اور ان کے ساتھ قتال کو ختم کردیا جائے "۔ " اس سوال کے سلسلے میں جو بات ذہن میں آتی ہے وہ یہ ہے جن مشرکین نے نقض عہد کیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی تو اب وہ اس بات کے مستحق نہیں رہے کہ ان کے ساتھ دوبارہ کوئی معاہدہ کیا جائے لہذا مسلمانوں پر یہ فرض ہوگیا کہ ان پر ایسی شائط مسلط کردیں جن کے نتیجے میں علاقے میں امن و سلامتی کی ضمانت دی جاسکے اور وہ شرائط یہی ہو سکتی ہیں کہ وہ شرک سے توبہ کرلیں۔ اور اسلام میں داخل ہوجائیں اور اسلامی عبادات ادا کریں اور مالی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اور ایسے اقدامات کو اکراہ فی الدین تصور نہ کیا جائے گا۔ قطع نظر اس بات سے کہ جس نظام شرک میں وہ پڑے ہوئے ہیں وہ انسانیت کو نہایت ہی ذلت کے مقام تک گراتا ہے اور انسانوں کو ایسے عقائد و اعمال دیتا ہے جو نہایت ہی بودے اور عقل و منطق کے خلاف ہوتے ہیں اور ان نظریات کے نتیجے میں ایک ایسا جاہلی نظام رائج ہوتا ہے جو نہایت ہی ظالمانہ نظام ہوتا ہے۔ جس میں نہایت ہی مکروہ اور منکر فعال کا ارتکاب ہوتا ہے اور لوگ عجیب قسم کے تعصبات کا شکار ہوتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں اسلام ان پر جس نظام اسلامی میں داخلے کی شرائط عائد کرتا ہے اس میں ان کے لیے آزادی ، ترقی عقلی اور عملی کمال کی ضمانت دی گئی ہے۔ اسلامی نظام ان کو عبادت کے اچھے طریقے ، اخلاق کا اعلی معیار اور فکر و نظر کا منطقی نظام دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم یہ نہیں سمجھتے کہ ایسے نقض عہد کرنے والوں کے ساتھ دوبارہ کسی معاہدے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اگر فریقین کی مصلحت اسی میں ہو اور بعض اوقات ایسا ہو سکتا ہے کہ مسلمان جنگ کرنے کے قابل ہی نہ ہوں یا ایسے لوگوں کو وہ جنگ کے ذریعے زیر نگیں لانے کی قوت ہی نہ کر رکھتے ہوں واللہ اعلم "۔ مصنف کی تفسیر سے ہم نے جو فقرے اوپر منتخب کیے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مصنف اور ان جیسے دوسرے لوگ اسلام کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ اٹھے اور اس پوری دنیا سے انسانوں کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے آزاد کرے اور انہیں اللہ کی غلامی میں داخل کردے ، جہاں جہاں بھی اسلام کے لیے یہ ممکن ہو اور جب بھی ممکن ہو ، قطع نظر اس سے کہ کہیں مسلمانوں پر زیادتی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو اور یہ زیادتی مسلمانوں پر ان کے اقلیمی حدود کے اندر ہوئی ہو یا باہر۔ ایسے لوگ اس اصول ہی کو مسترد کردتے ہیں حالانکہ اس اصول پر اسلامی کا نظام جہاد مرتب ہوتا ہے اور اس اصول کے سوا دین اسلام کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اپنی راہ سے وہ تمام مادی رکاوٹیں دور کردے۔ اگر اس اصول کی نفی کردی جائے تو پھر اسلامی نظام واقعیت اور سنجیدگی کے ساتھ مساوی وسائل و مواقف کے ساتھ انسانیت کا مقابلہ نہیں کرسکتا اور نہ وہ مختلف حالات اور مراحل میں ان کے حسب حال اور حالات کے مطابق کوئی حکمت عملی اختیار کرسکتا ہے اور اسلام کے لیے صرف یہی راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ مادی قوتوں کے سامنے صرف وعظ و ت تبلیغ سے کام لے۔ یہ ایک ایسی کمزور پوزیشن ہے جو اللہ اپنے دین کے لیے ہرگز پسند نہیں کرتا۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے مولانا ابو الاعلی مودودی کی کتاب الجہاد فی الاسلام اور اس تفسیر کے نویں پارے میں ہم نے اس کتاب کے جو اقتباسات دیے ہیں) ان اقتباسات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مصنف کے فکر و نظر میں احیائے اسلام کا تحریکی منہاج نہیں ہے جس میں ہر موقع پر دشمن کے مقابلے میں برابر کے ہتھیار استعمال کیے جانے ضروری ہیں۔ مصنف نے جو انداز تفسیر اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ تحریک اسلامی کے سابقہ مراحل والی آیات کو فائنل قرار دے کر آخری دور میں آنے والی آیات کو ان کے ذریعے مقید کرتا ہے۔ اور وہ یہ نہیں دیکھتے کہ سابقہ ادوار میں جو آیات نازل ہوئیں وہ سابقہ مراحل اور حالات جیسے کے لیے ہیں۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ یہ احکام در اصل منسوخ نہیں ہیں بایں معنی کہ اب بھی کسی جگہ اگر ایسے حالات درپیش ہوں جس طرح کے حالات سابقہ آیات کے وقت تھے تو ان آیات کے احکام پر عمل نہ ہوگا اور سورتوبہ کی ان آخری آیات ہی کو لیا جائے گا۔ سابقہ آیات اب بھی باقی رہیں لیکن یہ آیات مسلمانوں کو اس بات کے لیے پابند نہیں کرتیں کہ اگر وہ سورت توبہ کی آخری آیات جیسے حالات میں داخل ہوچکے ہیں تو بھی وہ مناسب اقدامات نہ کرسکیں۔ اور زیر بحث آیات کو نافذ نہ کریں۔ یہ موضوع نہایت ہی وسعت قلبی اور گہری سوچ کا تقاضا کرتا ہے اور اس کا حق ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ احیائے اسلام میں اسلام کے مزاج اور اس کے تحریکی منہاج کو سمجھا جائے جیسا کہ ہم نے اوپر کہا۔ اب میں سمجھتا ہوں ان سطور پر ایک بار پھر نظر ڈالی جائے جن سے ہم نے اس سبق پر تبصرے کا آغاز کیا تھا۔ " جو لوگ سیرت النبی کے احوال و واقعات کا اچھی طرح مطالعہ کریں تو انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ احیائے اسلام کا تحریکی منہاج کیا ہے۔ اس کی نوعیت اور مزاج کیا ہے اور اس عمل میں مختلف اقدامات کے لیے مراحل کیا ہیں ؟ اور اس کے آخری اہداف کیا ہیں۔ نیز وہ بآسانی معلوم کرسکتے ہیں کہ اسلامی محاذ اور جزیرۃ العرب کے مشرکین اور اہل کتاب کے مختلف کیمپوں کے درمیان اس سورت میں تعلقات کے جو آخری خطوط کھینچے گئے ہیں وہ بالکل بروقت تھے۔ ان کے لی زمین تیار ہوگئی تھی ، حالات سازگار تھے اور یہی خطوط اور اقدامات فیصلہ کن تھے اور ان کو اپنے وقت پر ہونا تھا "۔ بار بار کے تجربات سے یہ اصول اور قانون متعین ہو رہا تھا کہ ایک ایسے معاشرے جس میں حاکمیت اور اقتدار اعلی صرف اللہ کے لیے مخصوص ہو اور جس کے قوانین اللہ کے بنائے ہوئے ہوں اور ایک ایسے معاشرے کے درمیان جو جاہلی معاشرہ ہو جس میں یہ تمام امور غیر اللہ کے لیے مخصوص ہوں یا ان میں اللہ کے ساتھ کوئی غیر اللہ بھی شریک ہو ، کے درمیان تعلقات کی آخری نوعیت کیا ہو اور یہ تعلقات کا حتمی اصول وہ دائمی کشمکش ہے جو ایک اسلامی اور کسی بھی جاہلی معاشرے کے درمیان ہر وقت برپا ہوتی ہے۔ جس کا تذکرہ سورت الحج کی اس آیت میں کیا گیا ہے۔ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ إِلا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ (40): " اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ریعے سے دفع نہ کرتا رہے تو زمین میں فساد برپا ہوجائے) اس آخری اور حتمی قانون کے آثار دو طرح ظاہر ہوئے۔ ایک یہ اسلام قدم بقدم آگے بڑھتا رہا۔ ایک غزوے کے بعد دوسرا غزوہ پیش آیا۔ ایک مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ آیا اور اسلام ارد گرد کے علاقے میں پھیلتا رہا۔ اور اللہ کا کلمہ علاقوں کے بعد دوسرے علاقوں اور قبیلے کے بعد دوسرے قبائل تک پھیلتا رہا۔ اس طرح پورے کرہ ارض تک دعوت اسلامی کو پہنچانا اور اس تبلیغ اور اشاعت کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرنا تاکہ دنیا کے تمام انسانوں تک یہ دعوت بغیر کسی مادی رکاوٹ کے پہنچ سکے۔ ان مراحل کے آخر میں مسلمانوں نے مکہ مکرمہ کو فتح کرلیا اور اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں آنے والی بڑی رکاوٹ دور ہوگئی اور ہوازن اور ثقیف جو قریش کے بعد طاقتور قبیلے تھے ، انہوں نے بھی اسلام کی برتری کو قبول کرلیا۔ اور اس مرحلے میں اسلام ایک ایسی قوت بن گیا جس سے اسلام کے دشمن خوف کھانے لگے اور اس طرح جزیرۃ العرب میں آخری اور فیصلہ کن اقدام کے لی راہ ہموار ہوگئی اور یہ بات جزیرۃ العرب تک موقوف نہ تھی بلکہ یہی پالیسی تھی۔ پوری دنیا میں کوئی فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ دوسرا مظہر یہ ہے کہ جاہلی کیمپ بار بار ان معاہدوں کو تور دیتا تھا ، جو معاہدے وہ خود اسلامی محاذ سے کرتا تھا اور جب بھی اسے موقعہ ملتا وہ یہ عہد توڑ دیتا تھا۔ جب بھی اہل جاہلیت کو یہ احساس ہوتا اسلامی محاذ خطرے میں ہے اور زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے یا کم از کم عہد تڑنے والے مشرکین اور اہل کتاب کو یہ یقین ہو کہ ان کا مستقبل محفوظ ہے۔ جس قدر بھی معاہدے ان لوگوں نے کیے ان کے پیچھے یہ خواہش نہ تھی کہ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ فی الواقعہ امن و آشتی چاہتے تھے بلکہ یہ انہوں نے نہایت ہی مجبوری کی حالت میں کیے تھے اور ایک مناسب وقت کے لیے تھے۔ یہ معاہدے تو وہ کرلیتے لیکن وہ جب دیکھتے کہ اسلام موجود ہے اور ترقی کر رہا ہے تو وہ بےبس ہوجاتے اور ان معاہدوں کو توڑ دیتے تھے۔ کیونکہ اسلام اپنے وجود کے اعتبار سے ان کے وجود کے لیے متضاد تھا۔ اور زندگی کے چھوٹے اور بڑے معاملات میں ان کے طور طریقوں کے متضاد تھا۔ اسلام میں چونکہ سچائی ، زندگی ، حرکت ، پھیلاؤ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ اس لیے وہ ان کے وجود کے لیے خطرہ تھا کیونکہ اسلام کا مقصد وحید ہی یہ تھا کہ تمام لوگوں کو الل کی غلامی میں داخل کیا جائے۔ یہ آخری مطہر اور وہ اصول جس کے نتیجے میں یہ رنگ ظاہر ہوتا تھا اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے متعدد آیات میں اشارہ کیا ہے۔ ولا یزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا (اور وہ مسلسل تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں ، اگر وہ ایسا کرسکیں) یہ تو تھا مشرکین کے بارے میں اور اہل کتاب کے بارے میں۔ ود کثیر من اھل الکتب لو یردونکم من بعد ایمانکم کفارا حسدا من عند انفسہم من بعد ما تبین لھم الحق " اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا ہے ، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لی ان کی یہ خواہش ہے) اور دوسری جگہ ہے ولن ترضی عنک الیھود والنصری حتی تتبع ملتھم (یہودی اور عیسائی تم سے ہر گز راضی نہ ہوں گے جب تک کہ تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو) چناچہ ان قطعی نصوص کے ذریعے اللہ تعالیٰ خود اسلام کے خلاف تمام محاذوں کی سرگرمیوں کی اطلاع دیتا ہے ، کہ وہ اسلام کے خلاف متحد ہیں اور ان کا یہ موقف عارضی نہیں ہے بلکہ دائمی ہے اور عالم گیر موقف ہے اور کسی زمان و مکان کا پابند نہیں ہے۔ اسلامی معاشرے اور اس کی حکومت اور جاہلی نظاموں اور حکومتوں کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اسلام کے حتمی اور آخری قانون اور ضابطے کو سمجھے بغیر اور اس قانون اور ضابطے کے تاریخی مظاہر پر غور کیے بغیر اور اسلامی تاریخ کے حوالے سے دونوں محاذوں کے موقف کو سمجھے بغیر اسلام کے نظریہ جہاد کو بالکل نہیں سمجھا جاسکتا۔ نہ اس طویل تاریکی کشمکش کو سمجھا جاسکتا ہے۔ موجودہ سو سال سے اسلامی کیمپ اور جاہلیت کے کیمپوں کے درمیان قائم رہی ہے۔ نہ یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ صحابہ کرام کے مجاہد گروہ نے کیوں یہ کارروائیاں کیں ، نہ بعد کے ادوار میں ہونے والی اسلامی فتوحات کو سمجھا جاسکتا ہے ، نہ بت پرستی اور اسلام کی جنگ کو سمجھا جاسکتا ہے ، نہ اسلام اور صلیبی جنگوں کی طویل جنگوں کی طویل کشمکش کو سمجھا جاسکتا ہے ، جو چودہ سو سال تک رہیں اور آج یہ جنگیں مسلمانوں کی اولاد کے خلاف بھی جاری ہیں ، اگرچہ بدقسمتی کی وجہ سے انہوں نے اسلام کی حقیقت کو ایک عرصہ ہوا ہے ، خیر باد کہہ دیا ہے ، ان کے ہاں اسلام کا صرف نام اور عنوان ہی رہ گیا ہے۔ مسلمانوں کی اولاد کے خلاف یہ صلیبی جنگ روسی علاقوں اور عیسائی صلیبی علاقوں میں آج بھی جاری ہے۔ روس میں ، چین میں ، یوگو سلاویہ میں ، جاپان میں ، ہندوستان اور کشمیر میں غرض ہر جگہ یہ جنگ جاری ہے۔ حبشہ ، زنجبار ، کینیا ، جنوبی افریقہ اور امریکہ ہر جگہ اسلام کے خلاف صلیبی جنگ جاری ہے۔ پھر جہاں جہاں اسلامی تحریکات اٹھتی ہیں ان کو سر اٹھانے نہیں دیا جاتا۔ خود عالم اسلام کے اندر یا اس خطے میں جو کبھی اسلامی تھا ، اسلام کی احیاء کی تحریکات اٹھتی ہیں ان کو سر اٹھانے نہیں دیا جاتا۔ خود عالم اسلام کے اندر یا اس خطے میں جو کبھی اسلامی تھا ، اسلام کی احیاء کی تحریکات کو ختم کیا جاتا ہے بلکہ کچلا جاتا ہے۔ اور اس معاملے میں بت پرست ، مغرب کے صلیبی اور مشرق کے کمیونسٹ بالکل متفق اور متحد ہیں۔ اور جو حکومتیں یہ فریضہ سر انجام دیتی ہیں ان کو اس قدر امداد دی جاتی ہے کہ ان کی تمام ضروریات کے لیے کفیل ہوتی ہے اور پھر یہ حکمران جو اسلامی لیڈوں پر ظلم کرتے ہیں ان کے بارے میں ان نام نہاد ترقی یافتہ اور بنیادی حقوق کے داعی ممالک مکمل خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ حالانکہ احیائے اسلام کا کام کرنے والے لوگ نہایت ہی معزز شہری ہوتے ہیں۔ یہ اسلامی قانون بین الممالک سورت توبہ کے نزول سے قدرے پہلے ہی واضح ہوکر سامنے آگیا تھا اور فتح مکہ کے بعد یہ درج بالا دو مناظر و مظاہر کی شکل میں عیاں ہوگیا تھا ، اس لیے جزیرۃ العرب میں مشرکین کے حوالے سے جو اقدامات بھی کیے گئے یا اہل کتاب کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا گیا اس کی تصیلات سورت توبہ کے اس حصہ میں دی گئی ہیں۔ اس قانون اور ان اقدامات کے بارے میں تو اسلامی قیادت کو شرح صدر حاصل تھا لیکن اس وقت اسلامی جماعت کے اندر جو مختلف گروہ تھے ، خصوصاً وہ لوگ جو ابھی ابھی ایمان لائے تھے یا مؤلفۃ القلوب میں شامل تھے یا ضعیف الایمان مسلمان یا منافقین تھے ان کی سمجھ میں اسلام کا نظریہ جہاد یا جزیرۃ العرب میں یہ پالیسی نہ آرہی تھی۔ اسلامی معاشرے میں ایسے لوگ بھی تھے اور شاید وہ مسلمانوں میں معزز ترین اور مدبر و فہیم لوگ تھے۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ تمام مشرکین کے ساتھ کیے ہوئے معاہدوں کو کیوں ختم کیا جا رہا ہے۔ یعنی جن لوگوں نے نقض عہد کیا تھا ، ان کو چار ماہ کی مہلت دی گئی۔ جن کے معاہدے میں کوئی وقت مقرر نہ تھا ، یا ایسے لوگ جن کے ساتھ نہ معاہدہ تھا اور نہ ہی انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی تھی ، یا جن کے ساتھ چار ماہ سے کم کے لیے تھا ، یا جن لوگوں کے ساتھ موقت معاہدے تھے لیکن انہوں نے معاہدوں کی خلاف ورزی نہ کی تھی اور نہ مسلمانوں کے خلاف محاذ میں شریک ہوتے تھے۔ مسلمانوں کے یہ گروہ اگرچہ نقض عہد کرنے والوں یا جن سے خیانت کا خطرہ ہوتا ان کے ساتھ معاہدوں کے ختم کرنے کے اس حکم کو سمجھ رہے تھے جیسا کہ سورت انفال میں آچکا ہے۔ و اما تخافن من قوم خیانۃ فانبذ الیھم علی سواء ان اللہ لا یحب الخائنین " اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا " لیکن دوسرے لوگوں کے معاہدوں کو چار ماہ کے بعد ختم کردینا یا ان کو مقررہ مدت کے بعد ختم کردینا ان کی سمجھ میں نہ آ رہا تھا کیونکہ وہ دور جاہلیت میں اس قسم کے احکام کے عادی ہیں کیونکہ جاہلیت میں جب تک فریقین معاہدے کی پابندی کرتے یا ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کرتے یا امن و سلامتی سے رہتے تو ایسے لوگوں کے ساتھ یہ سلوک نہ کیا جاتا تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی اسکیم اس عادی اسکیم سے زیادہ دور رس تھی اور عربوں کے اندر انقلاب جہاں تک ہپنچ گیا تھا یہ اس کا طبیعی مرحلہ اور اقدام تھا۔ پھر اسلامی صٖوں میں ایسے لوگ بھی موجود تھے اور ہوسکتا ہے کہ سربرآوردہ اور اہم لوگوں میں بھی ایسے لوگ ہوں جن کے خیال میں تمام مشرکین جزیرہ کے ساتھ قتال اور جنگ شروع کردینا مناسب نہ تھا۔ خصوصاً یہ جنگ اس وقت تک جاری رکھنا جب تک یہ لوگ اسلام کے سامنے جھک نہیں جاتے جبکہ اسلام جزیرۃ العرب میں فاتح و غآلب ہوگیا تھا۔ صرف چند منتشر دور دراز علاقے رہ گئے جو اسلام کے زیر نگیں نہ تھے اور ان علاقوں سے اسلام کو کوئی ڈر نہ تھا۔ اور یہ توقع بھی تھی کہ یہ علاقے بھی اسلام کو قبول کرلیتے۔ خصوصاً پر امن حالات کے اندر خصوصاً ایسے لوگ اپنے اقرباء ، ہم قبیلہ اور سماجی اور اقتصادی تعلقات رکھنے والے گروہوں اور لوگوں سے بھی لڑنا مناسب نہ سمجھتے ہوں۔ جبکہ وہ سمجھتے تھے کہ اس سخت کارروائی کے بغیر بھی ان لوگوں کے داخل اسلام ہونے کی راہ ہموار ہوگئی ہے لیکن اللہ کی منشا یہ تھی کہ دار الاسلام میں لوگوں کے باہم تعلقات صرف اسلامی نظریہ حیات کی اساس پر رہ جائیں۔ دوسرے تمام روابط کٹ جائیں اور جزیرۃ العرب اسلام کے لیے خالص ہوجائے اور یہ اسلام کا محفوظ مرکز بن جائے۔ جبکہ اللہ کو معلوم تھا کہ رومی شام کی جانب سے اسلام پر حملہ آور ہونے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اسلامی معاشرے میں بعض ایسے لوگ بھی تھے ، شاید یہ ان میں سے معزز اور معتبر لوگ ہوں ، جو یہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح مکہ و مدینہ کی منڈیاں کساد بازاری کا شکار ہوجائیں گی اور جزیرۃ العرب کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات بگڑ جائیں گے کیونکہ اب مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان ہر جگہ جنگ اور قتل و مقاتلہ شروع ہوجائے گا۔ خصوصا موسم حج اس سے متاثر ہوگا جبکہ اس اعلان میں یہ بات بھی ہے کہ مشرک اور ننگے حج نہ کریں گے۔ اور اب مشرکین کا حصہ تعمیر مساجد میں بھی نہ ہوگا جبکہ ایسے لوگوں کے خیال میں اسی اقدام کی کوئی جنگی ضرورت نہ تھی۔ اور اس مقصد کو تدریجی اور پر امن طریقوں سے بھی حاصل کیا جاسکتا تھا۔ لیکن اللہ کا منشا یہ تھا کہ اجتماعی معاملات و تعلقات صرف نظریات کی اساس پر ہوں اور یہ کہ مومنین کے دلوں میں عقائد و نظریات کی اہمیت تمام دوسرے مقاصد و اہداف سے برتر ہو ، چاہے یہ تعلقات قرابت داری کے ہوں ، چاہے یہ صدقوں اور تجارتی منافع کے ہوں ، چناچہ اللہ نے فرمایا کہ وہی رزاق ہے اور اسباب رزق اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اللہ جس طرح چاہتا ہے انہیں پھیر دیتا ہے۔ پھر اسلامی معاشرے میں اس وقت ضعیف العقیدہ ، متردد ، مؤلفۃ القلوب ، منافقین اور دوسرے غیر جانبدار عافیت کوش لوگ بھی تھے اور یہ دین اسلام میں فوج در فوج داخل ہوگئے تھے اور یہ پوری طرح اسلامی رنگ میں نہ رنگے گئے تھے ، اور یہ لوگ مشرکین کے خلاف عمومی اعلان جنگ سے ذرا خوف کھاتے تھے۔ خصوصاً تجارتی کساد بازاری اور جنگ کی حالت میں مواصلات کی خرابی اور تجارتی راستوں کی بندش اور سب سے زیادہ یہ کہ جہاد کی مشکلات کو برداشت کرنا ، جبکہ وہ اپنے اندر اس کی قوت نہ پاتے تھے ، کیونکہ عوام کا جم غفیر اسلام کے غلبے کو دیکھ کر داخل ہوگیا تھا۔ کیونکہ یہ نفع کا سودا تھا۔ لیکن یہ اعلان عام تو ان کے حاشیہ خیال ہی میں نہ تھا کیونکہ یہ لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اس راہ کی مشکلات سے ابھی خبردار ہی نہ تھے اور اللہ یہ چاہتا تھا کہ اسلامی صفوں کو پاک و صاف کردے اس کا فرمان تو یہ تھا۔ أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تُتْرَكُوا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلا رَسُولِهِ وَلا الْمُؤْمِنِينَ وَلِيجَةً وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ (16): " کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤگے اور اللہ ان لوگوں کو ممتاز نہ کردے گا جو تم میں سے جہاد کرتے ہیں اور جنہوں نے اللہ اور رسول اللہ اور مومنین کے سوا کسی اور کو ولی نہیں بنایا اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے خبردار ہے " غرض اس مخلوط اسلامی معاشرے میں فتح مکہ کے بعد مختلف الاغراض لوگ تھے ، اس لیے سورت توبہ کے اس حصے میں اس قدر مفصل اور مختلف اسلوب کلام میں ہدایات دی گئیں اور اشارات دیے گئے تاکہ لوگوں کے دلوں میں جو کمزوریاں یا غلط خیالات رہ گئے تھے ان کو دور کیا جاسکے ، اسلامی صفوں میں سے بےچینی ، انتشار اور خیالات و افکار سے شبہات کو پاک کیا جاسکے ، جو بعض مخلص ترین لوگوں کے دلوں میں بھی تھے۔ چناچہ ایسے حالات میں اس سورت کا آغاز اس دو ٹوک اعلان سے ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول مشرکین سے اب بری الذمہ ہیں۔ اور ایک آیت کے بعد اعلامیہ میں دوبارہ بتکرار یہ بات دہرائی گئی کہ اللہ اور رسول اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہیں اور نہایت ہی پر زور الفاظ میں تاکہ کوئی مسلمان ان لوگوں سے کسی قسم کا تعلق نہ رکھے جن سے اللہ اور رسول اللہ نے براءت کا اظہار کردیا ہے۔ بَرَاۗءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ : " اعلان براءت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان کو مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کیے تھے " اور مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے اور کافروں کو ڈرانے کے لیے یہ ضروری تھا کہ یہ اعلان بھی کردیا جائے کہ اللہ منکرین حق کو رسوا کرنے والا ہے اور جو لوگ روگردانی کریں گے وہ اللہ کے عذاب سے بچ کر نکلنے والے نہیں ہیں۔ وَاَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖٓ اِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِيْۗءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ڏ وَرَسُوْلُهٗ : " اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن تمام لوگوں کے لیے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہ ہے اور اس کا رسول بھی " فَسِيْحُوْا فِي الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۙ وَاَنَّ اللّٰهَ مُخْزِي الْكٰفِرِيْنَ : " ملک میں چار مہینے چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو الا یہ کہ اللہ منکرین حق کو رسوا کرنے والا ہے " فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللّٰهِ ۭ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِــيْمٍ : " اب اگر تم توبہ کرلو ، تو تمہارے ہی لیے بہتر ہے اور جو منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ اور اے نبی انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوشخبری سنا دو " اس بات پر سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا کہ ان مشرکین کے ساتھ اللہ اور رسول اللہ کا عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ ماسوائے ان لوگوں کے جنہوں نے عہد کیا اور پھر اس پر پوری طرح قائم رہے ، تو یہ عہد بھی مدت عہد تک جاری رہے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو متنبہ کردیا گیا کہ یہ مشرکین جب بھی قدرت پائیں گے وہ عہد و پیمان کا کوئی پاس نہ رکھیں گے۔ اور وہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی اقدام کو مذموم نہیں سمجھتے۔ بشرطیکہ وہ اس پر قادر ہوں۔ چناچہ ان کے کفر کا نقشہ کھینچا گیا اور کہا گیا کہ یہ لوگ بڑے جھوٹے ہیں۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ إِلا الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (7) كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلا وَلا ذِمَّةً يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ (8) اشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (9) لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلا وَلا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ (10): " ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی آخر کیسے ہوسکتا ہے ؟ بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے مگر ان کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ، جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پاجائیں تو تمہارے معاملے میں نہ کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدے کی ذمہ درای کا ؟ وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کر رہے ہیں۔ کسی مومن کے معاملے میں یہ نہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا اور زیادتی ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوتی ہے " مسلمانوں کے دلوں میں جو تلخ یادیں تھیں یا ان کے شعور اور جذبات میں انتقام کے لیے جو غیظ و غضب تھا ، حالات کا تقاضا یہ تھا کہ ذرا اسے ابھارا جائے ، اس طرح اللہ کے دشمنوں ، اللہ کے دین کے دشمنوں اور خود مسلمانوں کے دشمنوں کو کچل کر دلوں کو ٹھنڈا کیا جائے۔ أَلا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (13) قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ (14) وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (15): " کیا تم نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہتے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں ، ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے دے گا۔ اللہ سب کچھ جانے والا اور دانا ہے " حالات کا تقاضا یہ تھا کہ نظریات کی اساس پر مکمل جدائی ہوجائے اور ذاتی مصلحوں اور رشتہ داری کے جذبات کا مقابلہ کیا جائے اور ان کو اللہ ، رسول اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کی راہ میں رکاوٹ بننے نہ دیا جائے۔ چناچہ مسلمانوں کو دو راستوں کے درمیان کھڑا کردیا جاتا ہے کہ وہ ایک کے بارے میں فیصلہ کریں۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

التوبة 9:4

عام اصول کے بیان کے بعد اب وقتی استثنائی حالت کی طرف آتے ہیں یعنی یہ استثنائی حالت بھی ختم ہوکر پہلی آیت میں آنے والی اصولی حالت کی طرف لوٹنے والی ہے۔ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّلَمْ يُظَاهِرُوْا عَلَيْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : " بجز ان مشرکین کے جن سے تم نے معاہدے کیے ، پھر انہوں نے اپنے عہد کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تک وفا کرو کیونکہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے "۔ یہ استثنائی دفعہ جن لوگوں کے بارے میں آئی ؟ اس بارے میں صحیح روایات یہی ہیں کہ بنی بکر کی ایک شاخ کے بارے میں ہے یعنی بنی خزیمہ ابن عامر ، یہ بکر ابن کنانہ کی ایک شاخ تھی۔ حدیبیہ میں قریش اور اس کے حلفاء کے ساتھ جو عہد ہوا تھا انہوں نے اسے قائم رکھا اور یہ لوگ بنی بکر کے ساتھ خزاعہ کے خلاف لشکر کشی میں شریک نہ ہوئے تھے جبکہ قریش نے بنی بکر کی حمایت کی تھی اور ان کی حمایت ہی سے انہوں نے خزاعہ پر حملہ کیا تھا۔ اس طرح بنی بکر اور قریش نے صلح حدیبیہ کو توڑ دیا تھا اور اس معاہد حدیبیہ کے دو سال بعد مکہ فتح ہوا تھا۔ حالانکہ یہ معاہدہ دس سالوں کے لیے تھا۔ یہ جماعت بنی بکر یعنی بنی خزیمہ ابن عامر نے عہد قائم رکھا اور شرک پر بھی قائم رہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ان کے ساتھ عہد کو اپنی مدت تک پورا کیا جائے۔ ہماری اس رائے کی تائید محمد ابن عباد ابن جعفر کی روایت سے بھی ہوئی ہے۔ سدی کہتے ہیں : " کہ یہ لوگ بنی ضمرہ اور بنو مدلج تھے۔ یہ بنی کنانہ سے دو قبیلے تھے " اور مجاہد کہتے ہیں : " بنی مدلج و خزاعہ کے ساتھ عہد تھا اور انہی کے بارے میں اللہ نے فرمایا فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم " ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدت معاہدہ تک وفا کرو " لیکن یہ بات بھی قابل ملاحظہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد خزاعہ نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ لہذا یہ بات ان مشرکوں پر صادق ہوگی جو شرک پر قائم رہے۔ اس کی تائید اس آیت سے بھی ہوتی ہے۔ كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : " مشرکین کے ساتھ رسول اللہ کا کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے۔۔ بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا تھا تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے " چناچہ یہ دو قبیلے تھے بنی کناہ سے جنہوں نے حدیبیہ کے دن مسجد حرام کے پاس رسول اللہ سے عہد کیا تھا اور انہوں نے اس عہد میں کوئی کمی نہ کی تھی اور انہوں نے رسول اللہ کے مقابلے میں کسی دشمن کی مدد نہ کی تھی چناچہ اس استثنائی دفعہ سے مراد یہی لوگ تھے اور بس اور تمام مفسرین نے یہی رائے قبول کی ہے۔ استاذ رشید رضا نے یہی قول اختیار کیا ہے لیکن استاد عزہ و روزہ نے اپنی تفسیر میں ان سے مراد استثناء اول میں مراد لوگوں کے مقابلے میں اور لوگ لیے ہیں۔ اور یہ رائے انہوں نے اس لیے اختیار کی ہے کہ وہ دائمی طور پر مشرکین کے ساتھ معاہدات کے قائل ہیں۔ چناچہ اس نے اپنے نظریے کی بنیاد اس فقرے پر رکھی ہے۔ فماستقاموا لکم فاستقیموا لھم " جب تک وہ تم سے سیدھے رہیں ، تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو "۔ اور وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ مشرکین کے ساتھ معاہدہ دائمی طور پر ہوسکتا ہے۔ یہ در اصل ایک بعید قول ہے اور یہ قول ان آیات اور اسلامی نظام کے حقیقی موقف اور خود اس دین کے مزاج کے خلاف ہے جیسا کہ ہم نے بار بار کہا ہے۔ اسلام نے یہ استثنائی دفعہ اس لیے رکھی ہے کہ جن لوگوں نے تحریک اسلامی کے ساتھ وفاداری کی ان سے وفاداری کی جائے۔ اس لیے اسلام نے ان کی مہلت کو چار مہینوں تک محدود نہ کیا۔ جیسا کہ دوسرے لوگوں کے لیے چار ماہ کی مہلت مقرر کردی گئی تھی۔ بلکہ ان لوگوں کو مدت معاہدہ تک مہلت دی گئی کیونکہ انہوں نے نقص عہد نہ کیا تھا اور نہ دشمنوں کے ساتھ معاونت کی تھی۔ اس وفاداری کا تقاضا تھا کہ ان کے ساتھ وفا داری کی جائے اور یہ طویل مدت اس پالیسی کے باوجود دی گئی کہ اللہ تعالیٰ جزیرۃ العرب کو مشرکین سے پاک کرنا چاہتے تھے۔ اور اسے اسلام کا محفوظ مرکز بنانا چاہتے تھے۔ کیونکہ جزیرۃ العرب کی حدود کے ساتھ متصل دوسرے دشمنوں نے اسلام کو ایک عظیم خطرہ تصور کرلیا تھا اور جیسا کہ غزوہ تبوک کی تفصیلات میں بات آئے گی۔ انہوں نے اس نوئی قوت کے مقابلے کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔ اس سے قبل موتہ کا واقعہ ہوچکا تھا۔ اور اس نے آنکھیں کھول دی تھیں کہ رومی کس قدر تیاریوں میں مصروف ہیں۔ پھر یہ مشرکین جنوبی یمن میں اہل ایران سے ہمدردی رکھتے تھے اور ایران کی حمایت سے دین جدید پر حملہ آور ہونے کا ارادہ رکھتے تھے۔ علامہ ابن قیم نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ جن لوگوں کو اس آیت کے ذریعے مستثنی کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ وفائے عہد کا حکم دیا گیا ہے وہ مدت عہد ختم ہونے سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے تھے ، بلکہ دوسرے لوگ جنہوں نے نقض عہد کا ارتکاب کیا تھا اور جن کو چار ماہ کی مہلت دی گئی تھی کہ وہ چار ماہ تک چل پھر لیں ، انہوں نے بجائے چلنے پھرنے اور جلا وطنی کے اسلام قبول کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کو خوب علم تھا اور اللہ تعالیٰ تحریک اسلامی کو اپنے دست قدرت سے آگے بڑھا رہا تھا یہ جانتا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جزیرۃ العرب سے شرک و کفر کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے ۔ اس آخری ضرب کے لیے حالات تیار ہوگئے تھے اور صحیح وقت آپہنچا تھا اور یہ اقدام صحیح اور مناسب وقت پر کیا گیا تھا۔ حقیقی حالات و واقعات کے عین مطابق ، اللہ کے قانون قضا و قدر کے مطابق۔ اللہ نے وفائے عہد کا جو حکم دیا ہے وہ یہاں قابل غور ہے کہ وفا کرنے والوں کے ساتھ وفا کیا جائے۔ فَاَتِمُّــوْٓا اِلَيْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : " ان لوگوں کے ساتھ مدت عہد تک وفا کرو ، بیشک اللہ متقین کو محبوب رکھتا ہے " جہاں وفائے عہد کو خوف خدا ڈر اور محبت الٰہی سے منسلک کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ متقین کو محبوب رکھتا ہے۔ لہذا وفائے عہد بھی ایک قسم کی عبادت ہے ، تقوی ہے اور اللہ تقوی کو محبوب رکھتا ہے۔ یہ ہے اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر۔ اسلام کے نظام قانون و اخلاق میں مصلحت اور مفادات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ نہ اس میں رسم و رواج کی کوئی گنجائش ہے کیونکہ رسم و رواج بھی بدلتے رہتے ہیں۔ اسلامی نظام اخلاق کی بنیاد اللہ کی بندگی اور خدا خوفی پر رکھی گئی ہے۔ ایک مسلمان کا اساسی فرض ہے کہ وہ ان امور پر عمل پیرا ہو جسے اس کا رب پسند کرتا ہے۔ چناچہ اسلامی اخلاق خوف خدا اور رضائے الٰہی کی بنیاد پر مرتب ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام میں اخلاقیات اپنے اندر مضبوط قوت رکھتے ہیں۔ ان کو اس حقیقی اور وجدانی شعور سے قوت ملتی ہے۔ اس شعور کے ساتھ ساتھ عملاً اسلامی اخلاق لوگوں کے لیے مفید بھی ہوتے ہیں۔ اور ان میں ان کی مصلحت بھی پوشیدہ ہوتی ہے اور ان کے نتیجے میں ایک ایسا اجتماعی معاشرہ اور سوسائٹی وجود میں آتی ہے جس میں باہم مفادات کی کشمکش کم سے کم ہوتی ہے۔ اس نظام میں انسان کی شخصیت بلند ہوجاتی ہے۔ اور وہ زمین کی آلودگیوں کے مقابلے میں عالم بالا سے متعلق ہوتی ہے۔ اللہ اور رسول اللہ کی جانب سے مشرکین کے بارے میں اعلان براءت کے بعد ، یہ مشرکین چاہے معاہدہ کرنے والے ہوں یا غیر معاہد ہوں ، ماسوائے ان لوگوں کے جنہوں نے عہد نہ توڑا اور نہ مسلمانوں کے خلاف کسی کی معاونت کی۔

التوبة 9:5

اب یہا بتایا جاتا ہے کہ مسلمان اس مدت کے اختتام پر کیا اقدامات کریں گے ؟ یہاں لفظ الاشہر الحرام (حرام مہینے) کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں کہ ان سے مراد کون سے مہینے ہیں ؟ عام مشہور حرام مہینے ہیں یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور پھر رجب تو پھر چار مہینوں سے مراد تین ماہ اور ذوالحجہ کے باقی بیس دن ہوں گے۔ یہ پچاس دن ہوئے ، یعنی اعلان کے بعد یا اس سے مراد مردت چار ماہ ہے اور اس کا آغاز دس ذوالحجہ سے ہے اور اختتام دس ربیع الاخر تک ہے یا اس سے مراد یہ ہے کہ پہلی مدت ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے عہد توڑا اور دوسری مدت ان لوگوں کے لیے جن کے ساتھ اس سے قبل کوئی معاہدہ ہی نہ تھا۔ یہ ہیں مختلف اقوال۔ میرے نزدیک یہاں جن چار مہینوں کا تذکرہ ہوا ہے اس سے اصطلاحی اشہر حرم مراد نہیں ہیں اور ان چار مہینوں کو اشہر حرم (محترم مہینے) اس لیے کہا گیا ہے کہ ان میں قتل و مقاتلہ حرام قرار دے دیا گیا تھا تاکہ اس عرصے میں مشرکین چل پھر سکیں۔ یہ عام میعاد تھی۔ البتہ جن لوگوں کے معاہدوں میں مدت مقرر تھی اور ان کے لیے مدت تک مہلت دے دی گئی تھی۔۔ چونکہ اللہ نے ان کو چار مہینے آزادی کا اختیار دے دیا تھا۔ اس لیے اس مدت کا آغاز اس کے اعلان سے ہونا چاہیے اور جس نوعیت کا یہ اعلامیہ تھا اس کی نسبت سے یہی راجح ہے کہ اس مدت کا آغاز روز اعلان سے چار ماہ تصور کیا جائے۔ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس مدت کے خاتمے کے بعد جہاں بھی مشرک ملے ، اسے قتل کردیں یا قید کردیں اور ہر راہ اور گھات پر بیٹھ جائیں تاکہ ان میں سے کوئی بھاگ کر نکلنے نہ پائے ، ماسوائے ان لوگوں کے جن کے بارے میں استثناء وارد ہے۔ اور وہ اس کے سوا کوئی دوسرا سلوک ان کے ساتھ نہیں کرسکتے۔ کیونکہ مشرکین کو ایک عرصہ تک انجام بد سے ڈرایا گیا اور انہیں مہلت دی گئی۔ اس لیے ان کے خلاف یہ ایکشن نہ اچانک ہے اور نہ ہی غیر منصفانہ ہے۔ جبکہ ان کے ساتھ طے شدہ معاہدے ختم کردیے گئے ہیں۔ اب ان کے لیے کوئی بات غیر متوقع نہیں ہے۔ بہرحال مشرکین کے خلاف یہ ایکشن اس غرض کے لیے نہ تھا کہ ان کو نییست و نابود کردیا جائے بلکہ اس لیے تھا کہ وہ اسلام قبول کرلیں۔ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَــلُّوْا سَـبِيْلَهُمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: " پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو ۔ اللہ در گزر فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے " اس سے قبل ان کے ساتھ تحریک اسلامی کے 12 سال گزرے تھے اور اس عرصے میں دعوت و تبلیغ کا حق ادا کردیا گیا تھا۔ اس عرصے میں انہوں نے مسلمانوں کو بےپناہ اذیتیں پہنچائیں۔ انہوں نے مسلمانوں کے خلاف لشکر کشیاں کیں اور ان کی حکومت کو ختم کرنے کی کوششیں کیں۔ پھر دین اسلام نے ان کے ساتھ جس قدر نرم رویہ اختیار کیا (اللہ کے رسول نے ان کے ساتھ جس قدر شریفانہ سلوک کیا وہ ایک طویل تاریخ ہے۔ اس کے باوجود اسلام کے دروازے ان کے لیے کھلے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں کو جن کی اذیت دی گئی ، جن کے ساتھ جنگ کی گئی اور جن کو ملک سے نکالا گیا اور قتل کیا گیا ایسے مسلمانوں اور نبی ﷺ کو اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اگر یہ مشرکین توبہ کرلیں تو ان سے ہاتھ کھینچ لو اگر وہ سچے دل سے اسلام کو قبول کرلیں اور اسلامی شعائر کو قبول کرلیں۔ جس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہو کہ وہ سچے دل سے مسلمان ہوگئے ہیں اس لیے کہ اللہ کسی بھی ایسے شخص کو مایوس نہیں کرتا جو سچی توبہ کرکے لوٹ آتا ہے۔ ان اللہ غفور رحیم " بیشک اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے " اس آیت کے بارے میں فقہاء کے درمیان جو فقہی مباحث چلے ہیں ، ہم ان سے کوئی تعرض نہیں کرتے یعنی فان تابوا و اقاموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ " یعنی اگر توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں " فقہاء نے یہ بحثیں کی ہیں کہ آیا ادائے نماز اور ادائے زکوۃ شروط اسلام میں سے ہیں یا ان کے تارک کو کافر کہا جائے گا ؟ اور کب وہ کافر ہوگا ؟ اور کیا نماز اور زکوۃ ہی کو علامت توبہ سمجھا جائے گا یا دوسرے ارکان اسلام کا مطالبہ بھی ان سے کیا جائے گا میں سمجھتا ہوں کہ ان سوالات میں سے کسی سوال کے حل کے لیے یہ آیت نازل ہی نہیں ہوئی ہے۔ یہ نص اس وقت مشرکین عرب کے واقعی حالات کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور اس وقت یہ تصور ہی نہ تھا کہ کوئی توبہ کرے تو صرف نماز اور زکوۃ پر عمل پیرا ہو اور دوسرے اعمال کو نظر انداز کردے ، جو توبہ کرتا تھا وہ پورے اسلام میں داخل ہوتا تھا بلکہ اس آیت نے اگرچہ ان دو باتوں کا ذکر کیا ہے لیکن یہ اس لیے کہ اسوقت جو لوگ اسلام میں داخل ہوتے تھے وہ اسلام کی تمام شرائط کے ساتھ اس میں داخل ہوتے تھے۔ اور ان میں سے پہلی شرط یہ ہوتی کہ وہ پوری زندگی میں اللہ کا دین نافذ کریں گے۔ اور محمد ﷺ کی رسالت پر ایمان لے آئیں۔۔۔ لہذا فقہاء اور مفسرین نے جو بحثیں کی ہیں۔ اس آیت کے وہ پیش نظر نہ تھیں بلکہ یہ ایک عملی کارروائی کے سلسلے میں ہدایت تھی۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ چار ماہ کی مدت کے بعد بھی اسلام رواداری ، سنجیدگی اور واقعیت پسندی کا دامن نہیں چھوڑتا ، جیسا کہ ہم نے کہا اسلام کی یہ جنگ نسل کشی کے لیے نہیں ہے ، بلکہ وہ ہدایت کی ایک مہم ہے۔ وہ مشرکین جو جاہلی سوسائٹی کی صورت میں جتھ بند نہیں ہیں ، افراد کی شکل میں ہیں ، اور وہ اسلام کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے ، ان کے لیے دار الاسلام میں مکمل امن وامان کے حقوق محفوظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ اور مسلمانوں کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ان کو پناہ دیں اور وہ اللہ کے کلام کو سنیں اور سمجھیں اور پھر ان کو ایسے علاقے میں پہنچا دیں جہاں وہ امن سے ہوں۔

التوبة 9:6

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی بےحد خواہش ہے کہ ہر شخص ہدایت پائے اور راہ راست پر آجائے اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص دار الاسلام میں پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دینا دار الاسلام کا فرض ہے ، کیونکہ جب مشرکین دار الاسلام پناہ گیر ہوں گے تو پھر وہ دار الاسلام کے ساتھ جنگ نہ کرسکیں گے۔ لہذا ان کو پناہ دینا اور قرآن سنان اور دین اسلام کے اصولوں سے ان کو شناسا کرنا مفید مطلب ہے۔ ممکن ہے کہ اس طرح ان کے دل کھل جائیں ، وہ ہدایت پا لیں اور قبول کرلیں۔ اگر وہ نہ بھی قبول کریں تب بھی اللہ نے اہالیان دار الاسلام پر یہ فرض کردیا ہے کہ وہ ان کی حفاظت کریں اور ایسے ملک تک پہنچا دیں جہاں وہ امن وامان سے رہ سکیں۔ مشرکین کے لیے دار السلام کی یہ پناہ گاہ در اصل اسلام کے مقامات بلند سے ایک اعلی مقام تھا۔ اور اس کے علاوہ بھی اسلام میں ایک بلند چوٹی سے اگے دوسری بلند چوٹیاں اور رفعتیں نظر آتی ہیں ، اور ان میں سے یہ ایک نہایت ہی بلند مقام ہے کہ ایک مسلمان ایک مشرک کا محافظ ہے۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن کا محافظ ہے۔ جس نے مسلمان اور اسلام کو سخت اذیتیں دی ہیں اور مشکلات میں مبتلا کیا اور یہاں تک کہ حفاظت کی جا رہی ہے کہ وہ دار الاسلام سے باہر کسی مقام پر پہنچ جائے یہ رواداری کا ایک نہایت ہی بلند مقام ہے۔ معلوم ہوا کہ اسلام ہدایت کا نظام ہے اور یہ نسل کشی کا نظام نہیں ہے۔ اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام کے لیے ایک نہایت ہی مامون اور محفوظ مرکز کا بندوبست کرے۔ جو لوگ اسلامی نظام کے نظریہ جہاد پر یہ اعتراضات کرتے ہیں کہ اس کے ذریعے لوگوں کو زبردستی اسلامی عقائد قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے اور پھر مسلمانوں میں سے جو لوگ مشتشرقین کے یہ الزامات پڑھتے ہیں تو وہ خائف ہوجاتے ہیں اور ھر ان الزامات کے جواب میں دفاعی انداز اختیار کرتے ہیں اور پھر یہ موقف اختیار کرلیتے ہیں کہ اسلام تو صرف دفاع میں لڑتا ہے اور وہ دفاع بھی اپنی ریاستی حدود کے اندر کرتا ہے۔ ان دونوں طبقات یعنی الزامات لگانے والوں اور ان کا دفاع کرنے والوں کو ذرا اسلام کے اس مقام بلند پر جا کر دنیا پر نظر ڈالنا چاہیے اور پھر دوبارہ اس آیت کو پڑھ کر غور کرنا چاہیے۔ انہیں انسان کی پوری تاریخ پست نظر آئے گی ، تہی دامن نظر آئے گی۔ وَاِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِيْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَعْلَمُوْنَ : " اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہئے تاکہ اللہ کا کلام سنے تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ کلام سن لے۔ پھر اسے اس کے مامن تک پہنچا دے۔ یہ اس لیے کرنا چاہیے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے " گویا یہ دین ان لوگوں کے لیے ایک خبرداری ہے جو جانتے نہیں ہیں۔ اور یہ دین ان لوگوں کے لیے جائے پناہ ہے جو پناہ چاہتے ہیں۔ بلکہ ان اعدا کے لیے بھی جنہوں نے اس کے خلاف تلوار اٹھائی ، اس کے خلاف جنگ کی اور اس کے ساتھ عناد رکھا۔ اسلام علم جہاد اس وقت بلند کرتا ہے جب دعوت اسلامی اور عوام الناس کے درمیان مادی قوتیں حائل ہوجاتی ہیں اور ان کے کان تک دعوت پہنچنے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔ اور کلام الٰہی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ہدایت کی راہ روکتی ہیں۔ نیز یہ مادی قوتیں لوگوں کو انسانی کی غلامی اور بندگی سے رہا کرنے کی راہ میں مزاحم ہوتی ہیں اور لوگوں کو مجبور کرتی ہیں کہ وہ غیر اللہ کی بندگی کرتی رہیں۔ اور جب ان قوتوں کو توڑ دیا جائے اور یہ رکاوٹیں دعوت اسلامی کی راہ سے دور ہوجائیں تو پھر تمام افراد آزاد ہوجاتے ہیں " اپنی رائے میں آزاد ہیں۔ اسلام پھر انہیں صرف تعلیم دیتا ہے ، نہ مجبور کرتا ہے اور نہ خواہ مخواہ کسی کو قتل کرتا ہے بلکہ ان کو پہنچا دیتا ہے ، ان کی حفاظت کرتا ہے اور پھر ان کو ان کے جائے امن تک پناہ دیتا ہے۔ یہ سلوک باوجود ان کے اس طرز عمل کے ہوتا ہے کہ وہ اسلامی نظام کا انکار کرتے ہیں۔ اس وقت دنیا میں ایسے نظام اور ایسے طور طریقے رائج ہیں جنہیں خود انسانوں نے تشکیل دیا ہے۔ اگر ان انسان کے بنائے ہوئے نظاموں اور طور طریقوں کی کوئی مخالفت کرے تو اس کی جان محفوظ نہیں رہتی ، نہ اس کا مال محفوظ رہتا ہے ، نہ اس کی عزت محفوظ رہتی ہے اور نہ اس کے دوسرے انسانی حقوق محفوظ رہتے ہیں۔ بعض لوگ عملاً ایسی صورت حال کو دنیا میں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ور پھر بھی اسلام کے خلاف ان بےبنیاد الزامات اور اتہامات کے جواب میں شف شف کرتے ہیں اور ان کے جواب میں شکست خوردہ ذہنیت ، کمزور موقف اور تلوار اور توپ کے مقابلے میں محض معذرت اور قلم کو کام میں لاتے ہیں اور پھر ہمارے دور جدید ہیں۔

التوبة 9:7

سابقہ آیات میں ، اسلامی حکومت اور جزیرۃ العرب کے دوسرے معاشروں اور مشرکین جزیرۃ العرب کے مابین تعلقات کی آخری شکل کو منضبط کیا گیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی حکومت اور ان دوسرے گروپوں کے درمیان معاہدے اور امن کی حالت ختم ہوجائے اور ان میں سے بعض کو چار ماہ کی مہلت دے دی جائے اور بعض کو انتہائے مدت معاہدہ تک کی مہلت دی جائے اور ان حالات میعاد کے ختم ہونے کے بعد تعلقات کی صرف دو صورتیں رہ جائیں یا تو اسلام قبول کرکے نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں یعنی اسلام قبول کرکے تمام فرائض کے پابند ہوجائیں اور قتال ، قیدی اور مورچہ بندی کے لیے تیار ہوجائیں۔ جب صورت حالات ایسی ہوجائے تو پھر اگلی آیات میں بطور استفہام انکار اور سخت الفاظ میں یہ تنبیہ کی جاتی ہے کہ یہ بات اب نہ مناسب ہے اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے کہ کسی مشرک کے ساتھ رسول اللہ کوئی معاہدہ کریں یعنی اصولاً ایسا ہونا ہی نہ چاہیے۔ یہ بات بنیادی طور پر اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔ كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ " ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے ؟ " موجودہ آیات کے اندر استفہام انکاری سے یہ متبادر ہوسکتا تھا کہ پہلی آیات میں جن لوگوں کے معاہدات کے لیے مدت معاہدہ تک مہلت دی گئی تھی ، جنہوں نے معاہدات کی پاسداری کی تھی اور مسلمانوں کے ساتھ کوئی دشمنی نہ کی تھی ، شاید موجودہ آیات اور حکم سے وہ مہلت بھی واپس لے لی گئی ہے اس لیے یہاں بتکرار یہ کہا گیا کہ ایسے لوگوں کی مہلت باقی ہے۔ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ " بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے "۔ لیکن اس جدید تاکید میں ایک اضافہ بھی آگیا ہے۔ پہلے حکم میں یہ تھا کہ ان کو مہلت دے دی گئی ہے کیونکہ انہوں ماضی میں نقص عہد نہ کیا تھا۔ یہاں یہ شرط عائد کردی گئی کہ نزول آیت سے لے کر مدت معاہدہ تک بھی وہ عہد کا پاس رکھنے کے پابند ہوں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے بین الاقوامی معاملات کو منضبط کرنے میں بڑی باریکی سے کام لیا ہے۔ محض ضمنی اشارے اور قیاس کے بجائے صریح نص کا لانا ضروری سمجھا گیا۔ اس سورت کے تعارف اور اس سبق کے تعارف میں ہم نے جو کچھ کہا اور نزول سورت کے وقت جو حالات اور جو مظاہر اسلامی معاشرے کے اندر موجود تھے ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے کہ یہ فیصلہ کن قدم کیوں اٹھایا گیا ، اب یہاں سے آگے کی آیات میں ممان نوں کو تسلی دیتے ہوئے ان کے دلوں میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات اور تردد اور پریشان کو دور کرتے ہوئے انہی اس حقیقت سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ مسلمانوں اور اسلامی نظام کے سلسلے میں خود ان مشرکین کے خیالات اور نیات کیسی ہیں ؟ وہ مسلمانوں کے ساتھ کیے ہوئے کسی عہد کا کوئی پاس نہیں رکھتے۔ اس معاملے میں وہ ہر کارروائی کرنے کو جائز سمجھتے ہیں اور ان معاہدات کی خلاف ورزی کے لیے وہ ہر وقت تیار رہتے ہیں ، وہ کبھی وفا نہیں کرتے ، وہ کبھی اپنے عہد کے مطابق اپنے آپ کو پابند نہیں کرتے اور جب بھی وہ قدرت پائیں وہ مسلمانوں پر حملہ آور ہونے کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔ اس لیے ان کے ساتھ سالمیت ، امن کی صورت حال پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی ان پر اس سلسلے میں کوئی اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ الا یہ کہ وہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ كَيْفَ يَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَعِنْدَ رَسُوْلِهٖٓ: " ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے ؟ "۔ مشرکین صرف ایک اللہ کی بندگی نہیں کرتے۔ وہ رسالت محمدی کا اعتراف بھی نہیں کرتے۔ تو کیسے ممکن ہے رسول اللہ کے نزدیک ان کا کوئی عہد ہو۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اپنے جیسے بندوں کی حیثیت کا انکار نہیں کرسکتے ، نہ وہ انسانوں کے بنائے ہوئے نظاموں کا انکار کرسکتے ہیں لیکن دوسری طرف وہ اپنے خالق اور رازق حقیقی کا انکار کرتے ہیں۔ وہ اللہ اور رسول کے ساتھ عداوت کرتے ہیں لہذا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ کے ہاں ان کا کوئی عہد ہو۔ اس استفہام انکاری میں اس مسئلے کو اٹھایا گیا ہے اور یہ مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ یہ اصولاً اس بات ہی کو رد کردیتا ہے کہ کسی مسلمان اور اللہ اور رسول اور مشرک کے درمیان سرے سے کوئی معاہدہ ہو۔ قطع نظر موجودہ معاہدات سے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے وقت تو عملاً مشرکین کے ساتھ معاہدات موجود تھے۔ اور ان میں سے بعض معاہدوں کے بارے میں تو خود اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ان کو اپنی مدت تک پورا کیا جائے اور مدینہ میں اسلامی مملکت کے قیام کے ساتھ ہی کفار کے ساتھ معاہدات ہوئے تھے۔ یہودیوں کے ساتھ معاہدات ہوئے تھے ، مشرکین کے ساتھ معاہدات ہوئے تھے۔ چھٹی صدی ہجری میں معاہدہ حدیبیہ ہوا تھا اور سابقہ آیات میں ایسے معاہدات کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ اگرچہ ان آیات میں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ اگر خیانت کا اندیشہ ہو تو ان معاہدات کو منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ اگر آیت زیر بحث میں اصولاً اس بات ہی کو مستبعد قرار دیا گیا ہے کہ مشرکین کے ساتھ معاہدہ کیسے ہوسکتا ہے تو پھر ان معاہدات کی اجازت کیوں دی گئی اور یہ معاہدات طے کیوں پا گئے اور پھر ان پر یہ استفہام انکاری کیوں آیا ؟ اگر اسلام کے تحریکی منہاج کو اس طرح سمجھا جائے جس طرح ہم نے سابقہ صفحات کے اندر سمجھانے کی سعی کی ہے۔ اس سورت کے آغاز میں اور سورت انفال کے آغاز میں تو یہ اشکال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ در حقیقت یہ معاہدات ایک متعین وقت میں ، بعض عملی حالات کی وجہ سے طے پائے تھے اور یہ موزوں وقت پر موزوں وسائل جنگ تھے۔ عبوری دور کے لیے تھے۔ آخری اور انتہائی اور فائنل ہدایت بہرحال یہ ہے کہ مشرکین کے ساتھ کوئی عہد نہ ہو اور اللہ اور رسول اللہ کے ہاں اب کوئی عہد مشرکین کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ تحریک اسلامی کا آخری ہدف یہی تھا کہ اسلامی نظام کے سوا کوئی نظام نہ ہو اور اللہ کے ساتھ کرہ ارض پر کوئی شریک نہ ہو لیکن معاہدات عبوری دور کے لیے کیے گئے۔ جہاں تک اسلام کا آخری ہدف ہے تو اس کا اعلان تو اول روز سے کردیا گیا تھا۔ ابتدائی اور عبوری دور کا تقاضا یہ تھا کہ جو مشرک مسلمانوں کے ساتھ نہ لڑتے تھے انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور ان سے نمٹا جائے جو لڑتے تھے۔ اور یہ کہ جو لوگ تحریکی ادوار میں سے کسی دور میں دوستی چاہتے ہیں تو ان سے دوستی کی جائے۔ جو معاہدے کرنا چاہئے ان سے معاہدے کیے جائیں جو غیر جانبدار رہنا چاہتے ہیں ان کو رہنے دیا جائے لیکن آخری ہدف تو بہرحال یہ تھا کہ اور اس سے تحریکی حضرات کسی وقت بھی غافل نہیں رہے کہ پورے کرہ ارض اور خصوصاً جزیرۃ العرب سے شرک کا خاتمہ کردیا جائے۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ خود مشرکین نے جو معاہدات اہل اسلام سے کیے وہ بھی وقت مقرر کے لیے تھی اور یہ بات لازمی تھی کہ میعاد ختم ہونے کے بعد وہ حملہ آور ہوسکتے تھے۔ وہ کیسے حضور کو چھوڑ سکتے تھے جبکہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آپ کے اہداف کیا ہیں ، وہ حضور سے امن کی حالت اس لیے قائم کرتے تھے کہ وہ اس دوران آپ کے خلاف تیاریاں کرلیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دائمی ہدایت تو دے دی تھی اور وہ کسی زمان و مکان کے ساتھ مخصوص نہ تھی۔ ولا یزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا " اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تمہیں اپنے دین سے لوٹا دیں اگر وہ ایسا کرسکیں "۔ یہ ایک دائمی قول ہے ، دائمی نصیحت ہے ، جو کسی زمانے ، کسی معاشرے اور کسی بھی دور کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ اصولاً تمام معاہدات کے انکار کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے معاہدات کو مدت معاہدہ تک باقی رکھا جنہوں نہ تو معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور نہ ہی انہوں نے مسلمانوں کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا تھا ، بشرطیکہ وہ آئندہ بھی ایسا ہی طرز عمل جاری رکھیں ، یہ شرط یہاں نئی عائد کی گئی ہے۔ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : " بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے " یہ لوگ جن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ جنہوں نے مسجد حرام کے پاس آپ سے معاہدہ کیا ، وہی ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اِلَّا الَّذِيْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِيْمُوْا لَهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِيْنَ : " بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے " اس آیت میں ان کے سوا کوئی اور مراد نہیں ہے جس طرح بعض مفسرین نے سمجھا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر آیت چار میں عمومی براءت سے استثنائی کے لیے ہوا تھا ، اور دوسری مرتبہ ان کا تذکرہ اس لیے ہوا کہ اللہ نے کیف یکون کے ساتھ اصولاً بھی ہر مشرک کے ساتھ معاہدے کی نفی کردی۔ تو دوبارہ استثناء کی گئی کہ اس اصولی آیت سے کہیں سابقہ استثناء کو منسوخ تصور نہ کرلیا جائے۔ یہاں بھی تقویٰ کا ذکر ہوا اور اظہار کیا گیا کہ اللہ متقین کو پسند کرتا ہے اور وہاں بھی ایسا ہی اظہار کیا گیا تھا ، اشارہ یہ مطلوب تھا کہ مضمون ایک ہے ، موضوع آیت وہی ہے جبکہ دوسری آیت میں استثناء میں یہ اضافہ کردیا گیا کہ جس طرح ماضی میں وہ رویہ درست رکھے ہوئے تھے اسی طرح مستقبل میں بھی انہیں اپنا رویہ درست رکھنا ہوگا۔ جیسا کہ ہم نے کہا یہ نہایت ہی باریک قانونی عبارت یعنی (Proviso) ہے اور دونوں آیات کو ملا کر پڑھنے سے یہ لازم آتا ہے کہ جس طرح وہ پہلے وفائے عہد کرتے رہے اسی طرح مہلت تب جاری رہے گی جب وہ آئندہ بھی درست رہیں یعنی دوران مہلت۔

التوبة 9:8

اب یہ بات بتائی جاتی ہے کہ اصولاً مشرکین کے ساتھ کے ساتھ اب معاہدے کیوں ممنوع کردیے گئے ؟ اس کے تاریخی اسباب یہاں گنوائے جاتے ہیں۔ عملی ضرورت بتائی جا رہی ہے اور فریقین کے درمیان نظریاتی اور ایمانی جدائیاں اور تضادات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ ۔۔۔ مشرکین کے ساتھ اللہ اور رسول اللہ کا کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ وہ تو عہد کرتے بھی اس وقت ہیں جھب وہ تمہارے مقابلے سے عاجز ہوجائیں اور اگر وہ تم پر غالب آجائیں اور فاتح ہوجائیں تو تمہارے ساتھ وہ کام کریں جن کا تم تصور ہی نہیں کرسکتے۔ پھر وہ کسی معاہدے کا بھی خیال نہ رکھیں ، اپنی کسی ذمہ داری کا کوئی پاس نہ رکھیں ، وہ تمہارے خلاف مذموم افعال کے ارتکاب سے بھی نہ ہچکچائیں کیونکہ وہ فطرتاً کسی عہد اور کسی رشتہ داری کا کوئی پاس نہیں رکھتے اور ظلم و زیادتی میں حدیں پار کر جاتے ہیں اور تمہارے معاملے میں تو اپنے ان مذموم افعال کو بھی مذموم نہیں سمجھتے جو عموماً وہ اپنے معاشرے میں بہت ہی مذموم سمجھتے ہیں اور ان کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ان کے دل میں تمہارے خلاف اس قدر بغض بھرا ہوا ہے کہ وہ تم پر ہر ظلم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ قدرت پا لیں اگرچہ معاہدے قائم ہوں۔ یہ نہیں کہ وہ اپنے معاشرے میں بہت ہی مذموم سمجھتے ہیں اور ان کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ان کے دل میں تمہارے خلاف اس قدر بغض بھرا ہوا ہے کہ وہ تم پر ہر ظلم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ قدرت پا لیں اگرچہ معاہدے قائم ہوں۔ یہ نہیں کہ وہ محض معاہدوں کی وجہ سے تمہارے خلاف ایکشن نہیں لیتے بلکہ وہ قدرت ہی نہیں رکھتے۔ آج جبکہ تم طاقتور ہو ، وہ بظاہر تم سے نرم بات کرتے ہیں اور اظہار وفا کرتے ہیں لیکن ان کے دل تمہارے عناد کی وجہ سے کھول رہے ہیں اور وہ عہد پر قائم رہنے کا کوئی داعیہ نہیں رکھتے کیونکہ ان میں نہ وفا داری ہے اور نہ محبت ہے۔ ان کی حالت یہ ہے۔ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ ان کے دلوں میں تمہارے خلاف حسد اور کینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس کی یہی حقیقی وجہ ہے اور اسی وجہ سے وہ تمہارے ساتھ طے پاجانے والے معاہدات کے معاملے میں وفا کرنے والے نہیں ہیں۔ اور جس وقت بھی وہ قوت محسوس کریں وہ تم سے انتقام لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے۔ اس معاملے میں وہ کوئی خلجان اور کوئی حجرج محسوس نہیں کرتے۔ ان وجوہات سے وہ فاسق قرار پاتے ہیں اور اللہ کی ہدایت سے خارج متصور ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اللہ کی آیات آئیں اور انہوں نے چند ٹکوں کے عوض انہیں پس پشت ڈال دیا۔ یہ دنیا جس میں وہ رہتے ہیں انہیں اس قدر عزیز ہے کہ اس کے مفادات کو آایت الہیہ پر انہوں نے ترجیح دی۔ ان کو یہ خوف دامن گیر تھا کہ اسلام کے اصلاح نظام کی وجہ سے ان کے مفادات پر زد پڑجائے گی۔ یا انہیں کچھ مزید ادائیگیاں کرنی پڑیں گی۔ اس لیے وہ دوسرے لوگوں کو بھی اسلام کی طرف آنے سے روکتے تھے اور خود بھی اس طرف نہ آتے تھے۔ اسی طرح یہ لوگ آئمہ کفر بن گئے تھے۔ اس لیے ان کے اس کرتوت کو اللہ نے اصل برائی یا برائیوں کی جڑ قرار دیا۔ انھم ساء ما کانوا یعملون " بہت برے کرتوت ہیں جو یہ کرتے ہیں " ان لوگوں کے دلوں میں پایا جانے والا بغض اور حقد تمہاری ذات تک محدود نہیں ہے اور ان کا یہ مکروہ منصوبہ صرف تم تک محدود نہیں ہے۔ یہ حسد انہوں نے تمام مومنین کے لیے چھپا رکھا ہے۔ ہر مسلم کے ساتھ وہ یہی مکروہ سلوک کے ساتھ وہ یہی مکروہ سلوک کرتے ہیں در اصل ان کا یہ سلوک تمہاری صفت کے ساتھ ہے یعنی صفت ایمان و اسلام کے ساتھ ، اور صفت ایمان اور اسلام۔ اسلامی تاریخ میں جن لوگوں کے اندر پائی گئی ہے ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا اور اس بات کا اظہار ان ایمان لانے والے جادوگروں نے کیا تھا جو فرعون کے جذبہ انتقام اور غضب کا شکار بن گئے تھے۔ انہوں نے کہا وما تنقم منا الا ان امنا بایات ربنا لما جاء تنا۔ اور تم ہم سے یہ انتقام جو لے رہے ہو تو یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم نے اپنے رب کی آیات کو مان لیا۔ جب وہ ہمارے سامنے آگئیں۔ اور رسول اللہ نے اپنے رب کی ہدایت کے مطابق اہل کتاب سے یہی کہا قل یا اھل الکتب ھل تنقمون منا الا ان امنا باللہ " اے اہل کتاب تم جو ہم سے انتقام لیتے ہو تو یہ صرف اس لیے ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور اللہ نے اصحاب الاخدود کے بارے میں یہی کہا تھا ، جب ان کو جلایا گیا تھا۔ وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باللہ العزیز الحمید۔ اور ان لوگوں سے انتقام صرف اس لیے لیا کہ وہ اللہ عزیز وحمید پر ایمان لے آئے تھے۔ غرض مشرکین کی طرف سے انتقام کا سبب ماسوائے صفت ایمان کھے اور کوئی بات نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنان اسلام نے صرف ایمان کی وجہ سے ہر مومن سے دشمنی رکھی اور اس بارے میں کسی عہد و پیمان اور رشتہ داری کا کوئی خیال نہ رکھا۔

التوبة 9:9

اب یہ بات بتائی جاتی ہے کہ اصولاً مشرکین کے ساتھ کے ساتھ اب معاہدے کیوں ممنوع کردیے گئے ؟ اس کے تاریخی اسباب یہاں گنوائے جاتے ہیں۔ عملی ضرورت بتائی جا رہی ہے اور فریقین کے درمیان نظریاتی اور ایمانی جدائیاں اور تضادات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ ۔۔۔ مشرکین کے ساتھ اللہ اور رسول اللہ کا کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے ؟ وہ تو عہد کرتے بھی اس وقت ہیں جھب وہ تمہارے مقابلے سے عاجز ہوجائیں اور اگر وہ تم پر غالب آجائیں اور فاتح ہوجائیں تو تمہارے ساتھ وہ کام کریں جن کا تم تصور ہی نہیں کرسکتے۔ پھر وہ کسی معاہدے کا بھی خیال نہ رکھیں ، اپنی کسی ذمہ داری کا کوئی پاس نہ رکھیں ، وہ تمہارے خلاف مذموم افعال کے ارتکاب سے بھی نہ ہچکچائیں کیونکہ وہ فطرتاً کسی عہد اور کسی رشتہ داری کا کوئی پاس نہیں رکھتے اور ظلم و زیادتی میں حدیں پار کر جاتے ہیں اور تمہارے معاملے میں تو اپنے ان مذموم افعال کو بھی مذموم نہیں سمجھتے جو عموماً وہ اپنے معاشرے میں بہت ہی مذموم سمجھتے ہیں اور ان کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ان کے دل میں تمہارے خلاف اس قدر بغض بھرا ہوا ہے کہ وہ تم پر ہر ظلم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ قدرت پا لیں اگرچہ معاہدے قائم ہوں۔ یہ نہیں کہ وہ اپنے معاشرے میں بہت ہی مذموم سمجھتے ہیں اور ان کا ارتکاب نہیں کرتے۔ ان کے دل میں تمہارے خلاف اس قدر بغض بھرا ہوا ہے کہ وہ تم پر ہر ظلم کرنے کے لیے تیار ہیں بشرطیکہ قدرت پا لیں اگرچہ معاہدے قائم ہوں۔ یہ نہیں کہ وہ محض معاہدوں کی وجہ سے تمہارے خلاف ایکشن نہیں لیتے بلکہ وہ قدرت ہی نہیں رکھتے۔ آج جبکہ تم طاقتور ہو ، وہ بظاہر تم سے نرم بات کرتے ہیں اور اظہار وفا کرتے ہیں لیکن ان کے دل تمہارے عناد کی وجہ سے کھول رہے ہیں اور وہ عہد پر قائم رہنے کا کوئی داعیہ نہیں رکھتے کیونکہ ان میں نہ وفا داری ہے اور نہ محبت ہے۔ ان کی حالت یہ ہے۔ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ۔ اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ ان کے دلوں میں تمہارے خلاف حسد اور کینہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اس کی یہی حقیقی وجہ ہے اور اسی وجہ سے وہ تمہارے ساتھ طے پاجانے والے معاہدات کے معاملے میں وفا کرنے والے نہیں ہیں۔ اور جس وقت بھی وہ قوت محسوس کریں وہ تم سے انتقام لینے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے۔ اس معاملے میں وہ کوئی خلجان اور کوئی حجرج محسوس نہیں کرتے۔ ان وجوہات سے وہ فاسق قرار پاتے ہیں اور اللہ کی ہدایت سے خارج متصور ہوتے ہیں۔ ان کے پاس اللہ کی آیات آئیں اور انہوں نے چند ٹکوں کے عوض انہیں پس پشت ڈال دیا۔ یہ دنیا جس میں وہ رہتے ہیں انہیں اس قدر عزیز ہے کہ اس کے مفادات کو آایت الہیہ پر انہوں نے ترجیح دی۔ ان کو یہ خوف دامن گیر تھا کہ اسلام کے اصلاح نظام کی وجہ سے ان کے مفادات پر زد پڑجائے گی۔ یا انہیں کچھ مزید ادائیگیاں کرنی پڑیں گی۔ اس لیے وہ دوسرے لوگوں کو بھی اسلام کی طرف آنے سے روکتے تھے اور خود بھی اس طرف نہ آتے تھے۔ اسی طرح یہ لوگ آئمہ کفر بن گئے تھے۔ اس لیے ان کے اس کرتوت کو اللہ نے اصل برائی یا برائیوں کی جڑ قرار دیا۔ انھم ساء ما کانوا یعملون " بہت برے کرتوت ہیں جو یہ کرتے ہیں " ان لوگوں کے دلوں میں پایا جانے والا بغض اور حقد تمہاری ذات تک محدود نہیں ہے اور ان کا یہ مکروہ منصوبہ صرف تم تک محدود نہیں ہے۔ یہ حسد انہوں نے تمام مومنین کے لیے چھپا رکھا ہے۔ ہر مسلم کے ساتھ وہ یہی مکروہ سلوک کے ساتھ وہ یہی مکروہ سلوک کرتے ہیں در اصل ان کا یہ سلوک تمہاری صفت کے ساتھ ہے یعنی صفت ایمان و اسلام کے ساتھ ، اور صفت ایمان اور اسلام۔ اسلامی تاریخ میں جن لوگوں کے اندر پائی گئی ہے ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا اور اس بات کا اظہار ان ایمان لانے والے جادوگروں نے کیا تھا جو فرعون کے جذبہ انتقام اور غضب کا شکار بن گئے تھے۔ انہوں نے کہا وما تنقم منا الا ان امنا بایات ربنا لما جاء تنا۔ اور تم ہم سے یہ انتقام جو لے رہے ہو تو یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ ہم نے اپنے رب کی آیات کو مان لیا۔ جب وہ ہمارے سامنے آگئیں۔ اور رسول اللہ نے اپنے رب کی ہدایت کے مطابق اہل کتاب سے یہی کہا قل یا اھل الکتب ھل تنقمون منا الا ان امنا باللہ " اے اہل کتاب تم جو ہم سے انتقام لیتے ہو تو یہ صرف اس لیے ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور اللہ نے اصحاب الاخدود کے بارے میں یہی کہا تھا ، جب ان کو جلایا گیا تھا۔ وما نقموا منہم الا ان یؤمنوا باللہ العزیز الحمید۔ اور ان لوگوں سے انتقام صرف اس لیے لیا کہ وہ اللہ عزیز وحمید پر ایمان لے آئے تھے۔ غرض مشرکین کی طرف سے انتقام کا سبب ماسوائے صفت ایمان کھے اور کوئی بات نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ دشمنان اسلام نے صرف ایمان کی وجہ سے ہر مومن سے دشمنی رکھی اور اس بارے میں کسی عہد و پیمان اور رشتہ داری کا کوئی خیال نہ رکھا۔

التوبة 9:10

لا یرقبون فی مومن الا ولا ذمۃ و لا ذمۃ والئک ھم المعتدون " یہ لوگ تمہارے بارے میں کسی قرابت داری اور کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا کو یئ لحاظ نہیں رکھتے اور یہی لوگ زیادتی کرنے والے ہیں۔ ان کے اندر زیادتی کرنے کی صفت رچی بسی ہے۔ اور اس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایمان کو ناپسند کرتے ہیں۔ ایمان سے لوگوں کو روکتے ہیں اور ایمان کی تحریک کے سامنے دیوار بن رہے ہیں۔ اور وہ ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ مومنین پر وار کرنے کا موقعہ مل جائے۔ اور وہ اہل ایمان سے نہ رشتہ داری کا تعلق رکھتے ہیں اور نہ معاہدے کی پروا کرتے ہیں بشرطیکہ ان کو غلبہ نصیب ہوجائے اور موقع مل جائے اور ان کو یہ خطرہ نہ ہو کہ مسلمان ان پر حملہ کریں گے۔ اور اگر ان کو معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کے اندر قوت نہیں ہے تو یہ ان کے ساتھ کیا کیا کر گزریں۔ صرف موقعہ ہاتھ آنے کی دیر ہے ، پھر نہ حقوق کا پاس ہے نہ رشتہ داری کا لحاظ ہے اور نہ کوئی معاہدہ ان کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ بڑے سے بڑا فعل کرنے کے لی یہ لوگ تیار ہیں بشرطیکہ خود مامون ہوں۔

التوبة 9:11

11 ۔ 12:۔ اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں اہل ایمان مشرین کے حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کریں۔ ۔۔۔ مسلمانوں کا مقابلہ ایسے دشمنوں سے ہے جو ہر وقت تاک میں بیٹھا ہے اور وہ مسلمانوں پر بےرحم وار کرنے کے لیے محض اس لیے رکے ہوئے ہوتے ہیں کہ اندر وار کرنے کی سکت نہیں ہوتی۔ یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے ہوتے ہیں یا کسی ذمہ داری کا احساس کرنے والے ہوتے ہیں یا ان پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت و مذمت کا کوئی اثر ہوتا ہے ، نہ وہ کسی رشتہ داری یا تعلق کا خیال رکھتے ہیں۔ دین اور لادینی کی کشمکش کی یہ ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تاریخ اسی راہ پر چلتی رہی ہے۔ اس شاہراہ سے اگر کوئی انحراف ہوا ہے تو وہ محض عارضی اسباب کی وجہ سے اور جلدی تاریخ اپنے اسی خط پر رکتی ہے جو مقرر و مرسوم رہا ہے۔ ایک تو ہمارے سامنے یہ عملی تاریخ ہے ، دوسرے یہ کہ اسلام نظام حیات کے اہداف کی نوعیت ہے کہ اس کے پیش نطر لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی غلامی میں دینا ہے ، جبکہ اسلامی نظام حیات کے مقابلے میں تمام جاہلی نظام ہائے حیات کے اہداف یہ ہیں کہ لوگ لوگوں کے غلام رہیں۔ ایسے حالات میں اسلامی نظام حیات کا تحریکی عمل دنیا کو اس طرح خطاب کرتا ہے۔ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : " پس اگر ہی توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں " وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ : " اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے " پھر صورت یہ ہوگی کہ یا تو وہ اس دین میں داخل ہوجائیں گے جس میں مسلمان داخل ہوئے ہیں اور سابقہ گناہوں سے تائب ہوجائیں گے اور شرک اور ظلم کو چھوڑ دیں گے۔ تو مسلمان ان کے شرک اور ظلم سے صرف نظر کردیں گے۔ اور ان کے درمیان نظریاتی تعلق قائم ہوجائے گا۔ اور یہ جدید مسلمان بھی قدیم مسلمانوں کے بھائی بن جائیں گے اور ان کا تمام ماضی بھلا دیا جائے گا۔ تاریخ سے بھی اور دلوں سے بھی۔ اور یہ کہا کہ و نفصل الایت لقوم یعلمون۔ یعنی ان احکام کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی حکمت تک وہی لوگ رسائی حاصل کرسکتے ہیں جو اہل علم ہوں۔ یا پھر یہ صورت ہوگی کہ وہ دین اسلام سے روگردانی کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اس کا عہد کیا تھا۔ اور دین اسلام پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں تو یہ کفر کے علمبردار ہوں گے۔ اور ان کے دلوں میں نہ ایمان ہوگا نہ ان کے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار ہوگا۔ اور اب ہمارے لیے ماسوائے اس کے کہ ان کے ساتھ جنگ شروع کردیں اور کوئی راستہ ہی نہ ہوگا۔ شاید بزور تلوار یہ باز آجائیں۔ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں کہ اسلامی کیمپ کی قوت اور اس کا جنگی غلبہ بعض اوقات لوگوں کو اس بات پر مائل کردیتا ہے کہ وہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ حق غالب ہے لہذا وہ اسے قبول کرلیتے ہیں اور ان کا استدلال یہ ہوتا ہے چونکہ یہ نظام غالب ہے لہذا برحق ہے۔ اور یہ کہ اس کی پشت پر قوت الہیہ ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخر کار اللہ اور اس کے رسولوں نے غالب ہونا ہے۔ اس طرح یہ لوگ ذہنا قائل ہو کر ہدایت کو قبول کرلیں گے اور توبہ کرلیں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنگ کی وجہ سے ان کا دین زبردستی تبدیل کردیا جائے گا۔ بلکہ وہ اس طرح مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ دین اسلام کامیاب شکل میں ان کے سامنے چل رہا ہوگا اور بسا اوقات کسی بات کا عملی تجربہ ایسے ہی نتائج پیدا کرتا ہے۔ ۔۔۔۔ اب ہم یہاں اس نکتے کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس پالیسی کا دائرہ عمل کیا ہے ؟ تاریخ کے کس دور میں یہ پالیسی رو بعمل تھی ، کس خاندان میں کس معاشرے میں اسے چلایا گیا۔ آیا یہ پالیسی آغاز اسلام کے زمانے میں جزیرۃ العرب کے باشندوں کے ساتھ مخصوص تھی یا کہ اس کا دائرہ عمل اور میدان نفاذ تاریخ میں اور کسی زمان و مکان میں بھی ہوا ہے۔ ابتدا میں تو یہ آیات جب نازل ہوئی تھیں تو ان کا نفاذ جزیرۃ العرب میں اسلام اور شرک کی کشمکش کے آخری دور میں ہوا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان احکام کا اطلاق پہلے پہل اسی صورت حالات پر ہوا تھا۔ اور ان آیات میں مشرکین سے مراد وہی مشرکین ہیں جن سے حضور کو واسطہ تھا۔ یہ بات تو بالکل برحق ہے کہ تاریخی پس منظر تو یہی تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی ان آیات کا آخری دائرہ تھا اور یہ آیات اسی تک محدود ہیں ؟ یہاں مناسب ہے کہ ہم مسلمانوں کے حوالے سے مشرکین کے موقف اور طرز عمل کا تاریخی جائزہ لیں ، تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ ان آیات میں جس پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے اس کے اغراض و مقاصد اور حدود کیا ہیں اور ان کا دائرہ کہاں تک وسیع ہے۔ ہمیں چاہئے کہ تاریخ کے اوراق الٹ کر ذرا دیکھیں۔ جہاں تک جزیرۃ عربیہ کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں فی ظلال القرآن کے اسی حصے میں کافی مواد موجود ہے۔ سیرت کے واقعات مشہور ہیں۔ مکہ میں مشرکین نے دین اسلام کے ساتھ جو سلوک کیا پھر مدینہ طیبہ کی اسلامی حکومت کے خلاف وہ جو کچھ کرتا رہے۔ ایمان لانے والوں پر انہوں نے جس قدر مظالم ڈھائے جن کا تفصیلی تذکرہ ان نصوص کے اندر مفصل آگیا ہے۔ یہ بات بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام اور شرک کی کشمکش اس قدر طویل اور شدید نہیں رہی ہے جس قدر اسلام اور اہل کتاب یہود و نصاری کے درمیان یہ کشمکش شدید رہی ہے۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ مشرکین نے بھی اسلام کے خلاف ہمیشہ وہی موقف اختیار کیا جس کی تصویر ان آیات میں کھینچی گئی ہے : كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ يُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَتَاْبٰي قُلُوْبُهُمْ ۚ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ. اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ. لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ ۔ مگر ان کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا ؟ وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ کسی مومن کے معاملہ نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا۔ اور زیادہ ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوئی ہے۔ مشرکین اور اہل کتاب کی طرف سے مسلمانوں کے مقابلے میں یہ دائمی اور طے شدہ موقف رہا ہے۔ اہل کتاب نے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا اس کا تذکرہ ہم اس سورت کے دوسرے سبق کے ضمن میں کریں گے اور جہاں تک مشرکین کا تعلق ہے تو وہ مسلمانوں کے مقابلے میں پوری اسلامی تاریخ میں اسی پالیسی پر گامزن رہے۔ اگر ہم اس بات پر غور کریں کہ اسلام حضرت محمد ﷺ کی رسالت سے شروع نہیں ہوا بلکہ دعوت اسلامی کا خاتمہ آپ پر ہوا ہے اور پوری انسانی تاریخ میں مشرکین کا موقف دین رب العالمین کے مقابلے میں ایک ہی رہا ہے تو پوری اسلامی تاریخ کے ڈانڈے ، باہم مل جائیں گے۔ اور اس طرح یہ موقف اچھی طرح سمجھ میں آجائے گا اور یہ اسی طرح ایک حقیقت کی طرح ثابت ہوگا جس طرح ان نصوص میں اسے بیان کیا گیا ہے اور پوری اسلامی اور انسانی تاریخ اس پر گواہ ہوگی۔ مشرکین نے حضرت نوح ، حضرت ھود ، حضرت صالح ، حضرت ابراہیم ، حضرت شعیب ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ علیہم صلوۃ اللہ کے خلاف کیا کارروائیاں کیں ، پھر ان کی امتوں کے ساتھ کیا سلوک وہ کرتے رہے ، اپنے اپنے ادوار میں ، پھر آخر کار مشرکین نے حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا ، اور آپ کے بعد اہل ایمان کے ساتھ انہوں نے کیا سلوک کیا ، حقیقت یہ کہ انہوں نے مسلمانوں کے حوالے سے کسی رشتہ داری ، اور کسی معاہدے کی کوئی پروا نہیں کی۔ جب بھی انہیں موقعہ ملا اور جب بھی انہوں نے قوت پکڑی انہوں نے دین رب العالمین کے مامن پر حملہ کیا۔ مشرین نے تاتاریوں کی صورت میں مسلمانوں کے خلاف دوسری بار حملہ کیا تھا۔ اس کے حالات و واقعات کو ذرا ذہن میں رکھیے اور آج چودہ سو سال کے بعد تک بھی وہ مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کر رہے اور زمین کے کس حصے میں نہیں کر رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے حوالے سے کسی رشتے اور کسی معاہدے کا کوئی پاس نہیں رکھتے۔ اور یہ آیات الہیہ دائمی حقیقت سے پردہ کشائی کرتی ہیں۔ جب بت پرستوں نے بغداد پر غلبہ حاصل کیا تو اس وقت جو المیہ پیش آیا تاریخ کی کتابوں میں اس کی بعض جھلکیاں قلم بند ہوچکی ہیں۔ ہم تاریخ ابو الفداء سے کچھ جھلکیاں دیتے ہیں۔ ابو الفداء نے البدایہ والنہایہ میں 656 ھ کے واقعات میں لکھا ہے : " یہ لوگ اس شہر (بغداد) پر ٹوٹ پڑے جس قدر بچوں ، عورتوں اور مردوں ، بوڑھوں اور معمر افراد کو وہ قتل کرسکتے تھے انہوں نے قتل کیے۔ بہت سے لوگ ڈر کے مارے کنوؤں میں چھپ گئے ، جھاڑیوں میں پناہ گزین ہوگئے ، گندے تالابوں میں۔ یہ لوگ ایک عرصے تک ان جگہوں میں پوشیدہ رہے اور ظاہر نہ ہوئے۔ بعض لوگ دکانوں میں اپنے آپ کو بند کرلیتے تھے ، دروازے بند کردیتے ، تاتاری دروازے توڑتے یا آگ لگا دیتے اور اندر داخل ہوتے ، یہ لوگ چھتوں پر چڑھ جاتے چناچہ مکان کی سطح پر یہ لوگ ان کو قتل کردیتے اور ان کا خون پر نالوں سے بہہ کر گلیوں میں بہتا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مساجد ، مدارس اور سراؤں میں لوگوں کا قتل عام جاری رہا اور ماسوائے اہل ذمہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اور کوئی شخص زندہ نہ رہا یا وہ لوگ زندہ رہے جنہوں نے تاتاریوں کی پناہ لے لی یا وہ لوگ زندہ رہے جنہوں نے ابن علقمی وزیر کے ہاں پناہ لی جو رافضی تھا ، بعض تاجروں کو بھی بھاری رشوتوں کے عوض امان مل گئی تھی۔ اس طرح وہ اور ان کی دولت بچ گئی تھی اور اس حادثے کے بعد وہ بغداد جو شہروں کا سرتاج تھا اس طرح ہوگیا کہ گویا وہ ایک ویرانہ ہے ، چند لوگ اس میں رہ گئے۔ وہ بھی حالت خوف میں۔ بھوک اور ذلت اور افلاس میں ڈوبا ہوا۔ " اس واقعہ میں بغداد میں جو مسلمان تہہ تیغ کیے گئے ان کی صحیح تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ آٹھ لاکھ انسان قتل ہوئے۔ بعض نے یہ تعداد دس لاکھ بتائی ہے اور بعض نے اسے بیس لاکھ بتایا ہے۔ انا اللہ وان الیہ راجعون۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ تاتاری بغداد میں محرم کے آخری دنوں میں داخل ہوئے۔ یہ لوگ پورے چالیس دنوں تک لوگوں کو تہہ تیغ کرتے رہے۔ خلیفہ معتصم امیر المومنین کو بروز منگل 14 صفر قتل کیا گیا۔ یہ سولہ سال کے تھے۔ پھر ان کے دوسرے بیٹے ابوالفضل عبدالرحمن کو قتل کیا گیا۔ یہ تیرہ سال کے تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے مبارک اور تین بیٹوں فاطمہ ، خدیجہ اور مریم کو قیدی بنا لیا گیا "۔ " دار الخلافہ کے استاذ محی الدین یوسف ابن شیخ الفرج ابن الجوزی کو بھی قتل کیا گیا۔ یہ وزیر کے دشمن تھے۔ ان کے تین بچوں کو بھی قتل کیا گیا جن کے نام عبدالرحمن عبدالکریم اور عبداللہ تھے۔ اور حکومت کے اکابرین کو ایک ایک کرکے قتل کیا گیا۔ جن میں دو یدار صیغر مجاہد الدین ایبک ، شہاب الدین سلیمان شاہ اور اہل سنت کے اکابرین اور شہر کے معززین شامل تھے۔ ان لوگوں کا طریقہ واردات یہ تھا کہ یہ لوگ دار الخلافت سے لوگوں کو ان کے اہل و عیال کے ساتھ بلاتے۔ ان کے ساتھ ان کے بچے اور عورتیں بھی ہوتیں۔ اے مقبرہ خلال کی طرف لے جا جا جاتا۔ المنظرہ کی جانب اور انہیں اس طرح ذبح کیا جاتا جس طرح بکری کو ذبح کیا جاتا ہے۔ ان کی لڑکیوں اور لونڈیوں سے جسے وہ پسند کرتے اسے قیدی بنا لیتے۔ خلیفہ کے مودب اور شیخ الشیوخ صدر الدین علی ابن النیار کو بھی قتل کیا گیا۔ خطباء ائمہ اور حافظین قرآن سب کو قتل کردیا گیا۔ " جب نوشہ دیوار ہوا اور چالیس دن پورے ہوگئے تو بغداد مکمل تباہی سے دو چار ہوچکا تھا۔ پورے شہر میں خال خال لوگ نظر آتے تھے۔ راستوں میں کشتوں کے پشتے لگے ہوئے تھے۔ اس پر بارش ہوگئی۔ لوگوں کے اجسام پھول گئے۔ پورا شہر بدبو اور تعفن میں ڈوب گیا۔ ہوا بدل گئی اور علاقے میں شدید وبا پھیل گئی اور خلق کثیر لقمہ اجل بن گئی۔ پورے علاقے کے عوام وبا اور قحط میں گرفتار ہوگئے۔ تلوار اور طاعون کے ذریعے راہ عدم کو روانہ ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ " اور جب چالیس دنوں کے بعد بغداد میں امان کا اعلان ہوا اور لوگ تہ خانوں ، کمین گاہوں اور قبرستانوں سے نکلے تو وہ ایسے تھے جس طرح مردے قبروں سے نکل آئے ہوں۔ وہ ایک دوسرے کو پہچان نہ سکے یہاں تک کہ باپ نے بیٹوں کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ بھائی بھائی کو پہچان نہ سکا۔ لوگوں میں شدید وبا پھیل گئی اور اس طرح وہ بھی اس راہ پر چل بسے جس پر مقتولین گئے تھے " وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک تاریخی واقعہ کی صورت حالات تھی کہ جب مشرکین مسلمانوں پر غالب آگئے تو انہوں نے کسی رشتہ داری اور کسی معاہدے کا کوئی خیال نہ رکھا اور کسی ذمہ داری کا کوئی ثبوت نہ دیا۔ تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ ماضی بعید کی ایک تاریخی صورت حالات تھی اور اس کا ارتکاب مشرکین میں سے صرف تاتاریوں نے کیا۔ اور ان کا خاصہ تھا ؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جدید دور کے واقات بھی اپنے خدوخال کے لحاظ سے اس سے مکتلف نہیں ہیں۔ جب تشکیل پاکستان کے وقت مسلمانوں کا علاقہ ہند سے علیحدہ ہو تو اس وقت کے دلدوز واقعات کسی طرح بھی تباہی بغداد کے واقعات سے کم نہ تھے۔ اس موعہ پر آٹھ ملین مسلمانوں نے ہجرت کی۔ ہندستان کے اطراف و اکناف میں وہاں بسنے والے مسلمانوں پر حملے کیے گئے۔ اس لیے انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں۔ ان میں سے صرف تین ملین لوگ پاکستان پہنچ سکے اور باقی پانچ ملین کو راستے ہی میں تہہ تیغ کردیا گیا۔ ان پناہ گیروں اور راہ گیر پر حکومت ہند کو معلوم ہندو دستوں نے حملے کیے اور یہ دستے حکومت ہند کے اکابرین کے زیر نگرانی یہ قتل عام کرتے رہے۔ ہجرت کے اس پورے راستے میں ان مسلمانوں کو مویشیوں کی طرح ذبح کیا گیا اور ان کے جسموں کو کھلے پرندوں کے لیے چھوڑ دیا گیا جبکہ قتل کے بعد ان پر بدترین تشدد کیا گیا اور ان لوگوں پر جو مظالم ڈھائے وہ تاتاریوں سے کسی طرح بھی کم نہ تھے۔ اس سے بڑھ کر مظالم اس وقت ہوئے جب ایک ریل گاری پر ہوئے جو ہندوستان سے مسلمان مہاجر ملازمین کو لے کر پاکستان جا رہی تھی۔ یہ لیاقت نہرو معاہدے کے تحت ان ملازمین کو لے جا رہی تھی جنہوں نے پاکستان جانا پسند کیا تھا۔ اس گاڑی پر پچاس ہزار افراد سوار تھے۔ اور جب یہ گاڑی بعض حدود (پنجاب کے علاقے) تک پہنچی تو تجربہ کار ہندوسکھ دستے اس پر حملہ آور ہوئے اور جب وہ پاکستان پہنچی تو اس کے اندر لاشوں اور کٹے ہوئے اعضاء کے سوا کچھ نہ تھا۔ اللہ نے کیا خوب کہا ہے کیف و ان یظھروا علیکم لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمہ " یہ کیسے ہوسکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب غالب ہوجائیں تو وہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری اور ذمہ داری کا کوئی لحاظ نہ رکھیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق اور مختلف صورتوں میں یہ قتل عام ہوتا ہی رہتا ہے۔ اس زمانے میں فسادات پنجاب اس کی واضح مثال تھے۔ " اس کے بعد تاتاریوں کے خلفاء نے کمیونسٹ روس اور کمیونسٹ چین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا انہوں نے ان علاقوں میں صرف پچیس سال کے عرصے میں 26 ملین مسلمانوں کو نیست و نابود کیا۔ گویا وہ ایک سال میں روس لاکھ مسلمانوں کو قتل کرتے رہے۔ اور یہ عمل ابھی تک جای ہے۔ اور مظالم و تشدد کے وہ واقعات اس کے علاوہ ہیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں چین میں اس قسم کے واقعات رونما ہوئے جن کے سامنے تاتاریوں کے مظالم بھی ماند پڑجاتے ہیں۔ مسلمانوں کے ایک لیڈر کو پکڑ کر لایا گیا۔ شارع عام پر ایک گڑھا کھودا گیا اور مسلمانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ انسانی غلاظت کو ٹوکریوں میں لے کر آئیں۔ ان علاقوں میں یہ رواج ہے کہ کھاد بنانے کے لیے لوگوں سے غلاظت اور کوڑا کرکٹ جمع کرایا جاتا ہے اور اس کے بدلے ان کو روٹی دی جاتی ہے تاکہ اس سے کھاد تیار کی جاسکے۔ غرض ان لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ یہ غلاظت اس مسلم لیڈر پر پھینکیں۔ یہ عمل تین تک جاری رہا یہاں تک کہ اس طرح اس کی موت واقع ہوگئی۔ کمیونسٹ یوگوسلاویہ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا اور جب دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں کمیونسٹ نظام جاری ہوا تو کئی ملین مسلمانوں کو نیست و نابود کردیا گیا۔ یہاں تک کہ بعض مقامات پر مسلمان مردوں اور عورتوں کو قیمہ بنانے کے کارخانوں میں پھینکا گیا تاکہ دوسری جانب سے ہڈیا اور گوشت بر آمد ہو اور یہ عمل ابھی تک جاری ہے۔ یوگو سلاویہ میں جو کچھ ہو رہا ہے ، مسلمانوں کے خلاف تمام اشتراکی ممالک میں یہ عمل رات دن جاری ہے۔ ابھی تک اور اس دور جدید میں یہ ہو رہا ہے۔ اور اس سے باری تعالیٰ کے اس قول کی تصدیق ہوتی ہے كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً : " یہ کیسے ہوسکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب غالب ہوجائیں تو وہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری اور ذمہ داری کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ جزیرۃ العرب میں یہ نہ تو کوئی وقتی صورت حالات تھی اور نہ عارضی۔ نہ بغداد میں یہ کوئی وقت حادثہ یا حالت تھی۔ یہ ایک دائمی اور مستقل طرز عمل ہے۔ جب بھی اہل شرک کسی مومن پر قابو پائیں ایسا مومن جو صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرتا ہو تو ان کا طرز عمل اس مومن کے ساتھ یہی ہوتا ہے ، ہر جگہ اور ہر زمانے میں۔

التوبة 9:12

11 ۔ 12:۔ اب تفصیلاً بتایا جاتا ہے کہ ان حالات میں اہل ایمان مشرین کے حوالے سے کیا طرز عمل اختیار کریں۔ ۔۔۔ مسلمانوں کا مقابلہ ایسے دشمنوں سے ہے جو ہر وقت تاک میں بیٹھا ہے اور وہ مسلمانوں پر بےرحم وار کرنے کے لیے محض اس لیے رکے ہوئے ہوتے ہیں کہ اندر وار کرنے کی سکت نہیں ہوتی۔ یہ وجہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی عہد و پیمان کا لحاظ کرنے والے ہوتے ہیں یا کسی ذمہ داری کا احساس کرنے والے ہوتے ہیں یا ان پر کسی ملامت کرنے والے کی ملامت و مذمت کا کوئی اثر ہوتا ہے ، نہ وہ کسی رشتہ داری یا تعلق کا خیال رکھتے ہیں۔ دین اور لادینی کی کشمکش کی یہ ایک طویل تاریخ ہے اور یہ تاریخ اسی راہ پر چلتی رہی ہے۔ اس شاہراہ سے اگر کوئی انحراف ہوا ہے تو وہ محض عارضی اسباب کی وجہ سے اور جلدی تاریخ اپنے اسی خط پر رکتی ہے جو مقرر و مرسوم رہا ہے۔ ایک تو ہمارے سامنے یہ عملی تاریخ ہے ، دوسرے یہ کہ اسلام نظام حیات کے اہداف کی نوعیت ہے کہ اس کے پیش نطر لوگوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ کی غلامی میں دینا ہے ، جبکہ اسلامی نظام حیات کے مقابلے میں تمام جاہلی نظام ہائے حیات کے اہداف یہ ہیں کہ لوگ لوگوں کے غلام رہیں۔ ایسے حالات میں اسلامی نظام حیات کا تحریکی عمل دنیا کو اس طرح خطاب کرتا ہے۔ فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِي الدِّيْنِ ۭوَنُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْلَمُوْنَ : " پس اگر ہی توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کیے دیتے ہیں " وَاِنْ نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ فَقَاتِلُوْٓا اَىِٕمَّةَ الْكُفْرِ ۙ اِنَّهُمْ لَآ اَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ : " اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کرو کیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوار ہی کے زور سے) وہ باز آئیں گے " پھر صورت یہ ہوگی کہ یا تو وہ اس دین میں داخل ہوجائیں گے جس میں مسلمان داخل ہوئے ہیں اور سابقہ گناہوں سے تائب ہوجائیں گے اور شرک اور ظلم کو چھوڑ دیں گے۔ تو مسلمان ان کے شرک اور ظلم سے صرف نظر کردیں گے۔ اور ان کے درمیان نظریاتی تعلق قائم ہوجائے گا۔ اور یہ جدید مسلمان بھی قدیم مسلمانوں کے بھائی بن جائیں گے اور ان کا تمام ماضی بھلا دیا جائے گا۔ تاریخ سے بھی اور دلوں سے بھی۔ اور یہ کہا کہ و نفصل الایت لقوم یعلمون۔ یعنی ان احکام کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں اور ان کی حکمت تک وہی لوگ رسائی حاصل کرسکتے ہیں جو اہل علم ہوں۔ یا پھر یہ صورت ہوگی کہ وہ دین اسلام سے روگردانی کرتے ہیں حالانکہ انہوں نے اس کا عہد کیا تھا۔ اور دین اسلام پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں تو یہ کفر کے علمبردار ہوں گے۔ اور ان کے دلوں میں نہ ایمان ہوگا نہ ان کے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار ہوگا۔ اور اب ہمارے لیے ماسوائے اس کے کہ ان کے ساتھ جنگ شروع کردیں اور کوئی راستہ ہی نہ ہوگا۔ شاید بزور تلوار یہ باز آجائیں۔ اس سے پہلے ہم کہہ آئے ہیں کہ اسلامی کیمپ کی قوت اور اس کا جنگی غلبہ بعض اوقات لوگوں کو اس بات پر مائل کردیتا ہے کہ وہ سچائی کو قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوجائیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ حق غالب ہے لہذا وہ اسے قبول کرلیتے ہیں اور ان کا استدلال یہ ہوتا ہے چونکہ یہ نظام غالب ہے لہذا برحق ہے۔ اور یہ کہ اس کی پشت پر قوت الہیہ ہے اور یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آخر کار اللہ اور اس کے رسولوں نے غالب ہونا ہے۔ اس طرح یہ لوگ ذہنا قائل ہو کر ہدایت کو قبول کرلیں گے اور توبہ کرلیں گے۔ یہ نہ ہوگا کہ جنگ کی وجہ سے ان کا دین زبردستی تبدیل کردیا جائے گا۔ بلکہ وہ اس طرح مطمئن ہوجائیں گے کیونکہ دین اسلام کامیاب شکل میں ان کے سامنے چل رہا ہوگا اور بسا اوقات کسی بات کا عملی تجربہ ایسے ہی نتائج پیدا کرتا ہے۔ ۔۔۔۔ اب ہم یہاں اس نکتے کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس پالیسی کا دائرہ عمل کیا ہے ؟ تاریخ کے کس دور میں یہ پالیسی رو بعمل تھی ، کس خاندان میں کس معاشرے میں اسے چلایا گیا۔ آیا یہ پالیسی آغاز اسلام کے زمانے میں جزیرۃ العرب کے باشندوں کے ساتھ مخصوص تھی یا کہ اس کا دائرہ عمل اور میدان نفاذ تاریخ میں اور کسی زمان و مکان میں بھی ہوا ہے۔ ابتدا میں تو یہ آیات جب نازل ہوئی تھیں تو ان کا نفاذ جزیرۃ العرب میں اسلام اور شرک کی کشمکش کے آخری دور میں ہوا تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان احکام کا اطلاق پہلے پہل اسی صورت حالات پر ہوا تھا۔ اور ان آیات میں مشرکین سے مراد وہی مشرکین ہیں جن سے حضور کو واسطہ تھا۔ یہ بات تو بالکل برحق ہے کہ تاریخی پس منظر تو یہی تھا لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی ان آیات کا آخری دائرہ تھا اور یہ آیات اسی تک محدود ہیں ؟ یہاں مناسب ہے کہ ہم مسلمانوں کے حوالے سے مشرکین کے موقف اور طرز عمل کا تاریخی جائزہ لیں ، تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ ان آیات میں جس پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے اس کے اغراض و مقاصد اور حدود کیا ہیں اور ان کا دائرہ کہاں تک وسیع ہے۔ ہمیں چاہئے کہ تاریخ کے اوراق الٹ کر ذرا دیکھیں۔ جہاں تک جزیرۃ عربیہ کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں فی ظلال القرآن کے اسی حصے میں کافی مواد موجود ہے۔ سیرت کے واقعات مشہور ہیں۔ مکہ میں مشرکین نے دین اسلام کے ساتھ جو سلوک کیا پھر مدینہ طیبہ کی اسلامی حکومت کے خلاف وہ جو کچھ کرتا رہے۔ ایمان لانے والوں پر انہوں نے جس قدر مظالم ڈھائے جن کا تفصیلی تذکرہ ان نصوص کے اندر مفصل آگیا ہے۔ یہ بات بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام اور شرک کی کشمکش اس قدر طویل اور شدید نہیں رہی ہے جس قدر اسلام اور اہل کتاب یہود و نصاری کے درمیان یہ کشمکش شدید رہی ہے۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ پر ہے کہ مشرکین نے بھی اسلام کے خلاف ہمیشہ وہی موقف اختیار کیا جس کی تصویر ان آیات میں کھینچی گئی ہے : كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ يُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَتَاْبٰي قُلُوْبُهُمْ ۚ وَاَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَ. اِشْتَرَوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَـمَنًا قَلِيْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ ۭاِنَّهُمْ سَاۗءَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ. لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً ۭ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ ۔ مگر ان کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا ؟ وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ کسی مومن کے معاملہ نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا۔ اور زیادہ ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوئی ہے۔ مشرکین اور اہل کتاب کی طرف سے مسلمانوں کے مقابلے میں یہ دائمی اور طے شدہ موقف رہا ہے۔ اہل کتاب نے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کیا اس کا تذکرہ ہم اس سورت کے دوسرے سبق کے ضمن میں کریں گے اور جہاں تک مشرکین کا تعلق ہے تو وہ مسلمانوں کے مقابلے میں پوری اسلامی تاریخ میں اسی پالیسی پر گامزن رہے۔ اگر ہم اس بات پر غور کریں کہ اسلام حضرت محمد ﷺ کی رسالت سے شروع نہیں ہوا بلکہ دعوت اسلامی کا خاتمہ آپ پر ہوا ہے اور پوری انسانی تاریخ میں مشرکین کا موقف دین رب العالمین کے مقابلے میں ایک ہی رہا ہے تو پوری اسلامی تاریخ کے ڈانڈے ، باہم مل جائیں گے۔ اور اس طرح یہ موقف اچھی طرح سمجھ میں آجائے گا اور یہ اسی طرح ایک حقیقت کی طرح ثابت ہوگا جس طرح ان نصوص میں اسے بیان کیا گیا ہے اور پوری اسلامی اور انسانی تاریخ اس پر گواہ ہوگی۔ مشرکین نے حضرت نوح ، حضرت ھود ، حضرت صالح ، حضرت ابراہیم ، حضرت شعیب ، حضرت موسیٰ ، حضرت عیسیٰ علیہم صلوۃ اللہ کے خلاف کیا کارروائیاں کیں ، پھر ان کی امتوں کے ساتھ کیا سلوک وہ کرتے رہے ، اپنے اپنے ادوار میں ، پھر آخر کار مشرکین نے حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا ، اور آپ کے بعد اہل ایمان کے ساتھ انہوں نے کیا سلوک کیا ، حقیقت یہ کہ انہوں نے مسلمانوں کے حوالے سے کسی رشتہ داری ، اور کسی معاہدے کی کوئی پروا نہیں کی۔ جب بھی انہیں موقعہ ملا اور جب بھی انہوں نے قوت پکڑی انہوں نے دین رب العالمین کے مامن پر حملہ کیا۔ مشرین نے تاتاریوں کی صورت میں مسلمانوں کے خلاف دوسری بار حملہ کیا تھا۔ اس کے حالات و واقعات کو ذرا ذہن میں رکھیے اور آج چودہ سو سال کے بعد تک بھی وہ مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کر رہے اور زمین کے کس حصے میں نہیں کر رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے حوالے سے کسی رشتے اور کسی معاہدے کا کوئی پاس نہیں رکھتے۔ اور یہ آیات الہیہ دائمی حقیقت سے پردہ کشائی کرتی ہیں۔ جب بت پرستوں نے بغداد پر غلبہ حاصل کیا تو اس وقت جو المیہ پیش آیا تاریخ کی کتابوں میں اس کی بعض جھلکیاں قلم بند ہوچکی ہیں۔ ہم تاریخ ابو الفداء سے کچھ جھلکیاں دیتے ہیں۔ ابو الفداء نے البدایہ والنہایہ میں 656 ھ کے واقعات میں لکھا ہے : " یہ لوگ اس شہر (بغداد) پر ٹوٹ پڑے جس قدر بچوں ، عورتوں اور مردوں ، بوڑھوں اور معمر افراد کو وہ قتل کرسکتے تھے انہوں نے قتل کیے۔ بہت سے لوگ ڈر کے مارے کنوؤں میں چھپ گئے ، جھاڑیوں میں پناہ گزین ہوگئے ، گندے تالابوں میں۔ یہ لوگ ایک عرصے تک ان جگہوں میں پوشیدہ رہے اور ظاہر نہ ہوئے۔ بعض لوگ دکانوں میں اپنے آپ کو بند کرلیتے تھے ، دروازے بند کردیتے ، تاتاری دروازے توڑتے یا آگ لگا دیتے اور اندر داخل ہوتے ، یہ لوگ چھتوں پر چڑھ جاتے چناچہ مکان کی سطح پر یہ لوگ ان کو قتل کردیتے اور ان کا خون پر نالوں سے بہہ کر گلیوں میں بہتا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ مساجد ، مدارس اور سراؤں میں لوگوں کا قتل عام جاری رہا اور ماسوائے اہل ذمہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اور کوئی شخص زندہ نہ رہا یا وہ لوگ زندہ رہے جنہوں نے تاتاریوں کی پناہ لے لی یا وہ لوگ زندہ رہے جنہوں نے ابن علقمی وزیر کے ہاں پناہ لی جو رافضی تھا ، بعض تاجروں کو بھی بھاری رشوتوں کے عوض امان مل گئی تھی۔ اس طرح وہ اور ان کی دولت بچ گئی تھی اور اس حادثے کے بعد وہ بغداد جو شہروں کا سرتاج تھا اس طرح ہوگیا کہ گویا وہ ایک ویرانہ ہے ، چند لوگ اس میں رہ گئے۔ وہ بھی حالت خوف میں۔ بھوک اور ذلت اور افلاس میں ڈوبا ہوا۔ " اس واقعہ میں بغداد میں جو مسلمان تہہ تیغ کیے گئے ان کی صحیح تعداد کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض نے کہا کہ آٹھ لاکھ انسان قتل ہوئے۔ بعض نے یہ تعداد دس لاکھ بتائی ہے اور بعض نے اسے بیس لاکھ بتایا ہے۔ انا اللہ وان الیہ راجعون۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ تاتاری بغداد میں محرم کے آخری دنوں میں داخل ہوئے۔ یہ لوگ پورے چالیس دنوں تک لوگوں کو تہہ تیغ کرتے رہے۔ خلیفہ معتصم امیر المومنین کو بروز منگل 14 صفر قتل کیا گیا۔ یہ سولہ سال کے تھے۔ پھر ان کے دوسرے بیٹے ابوالفضل عبدالرحمن کو قتل کیا گیا۔ یہ تیرہ سال کے تھے۔ ان کے چھوٹے بیٹے مبارک اور تین بیٹوں فاطمہ ، خدیجہ اور مریم کو قیدی بنا لیا گیا "۔ " دار الخلافہ کے استاذ محی الدین یوسف ابن شیخ الفرج ابن الجوزی کو بھی قتل کیا گیا۔ یہ وزیر کے دشمن تھے۔ ان کے تین بچوں کو بھی قتل کیا گیا جن کے نام عبدالرحمن عبدالکریم اور عبداللہ تھے۔ اور حکومت کے اکابرین کو ایک ایک کرکے قتل کیا گیا۔ جن میں دو یدار صیغر مجاہد الدین ایبک ، شہاب الدین سلیمان شاہ اور اہل سنت کے اکابرین اور شہر کے معززین شامل تھے۔ ان لوگوں کا طریقہ واردات یہ تھا کہ یہ لوگ دار الخلافت سے لوگوں کو ان کے اہل و عیال کے ساتھ بلاتے۔ ان کے ساتھ ان کے بچے اور عورتیں بھی ہوتیں۔ اے مقبرہ خلال کی طرف لے جا جا جاتا۔ المنظرہ کی جانب اور انہیں اس طرح ذبح کیا جاتا جس طرح بکری کو ذبح کیا جاتا ہے۔ ان کی لڑکیوں اور لونڈیوں سے جسے وہ پسند کرتے اسے قیدی بنا لیتے۔ خلیفہ کے مودب اور شیخ الشیوخ صدر الدین علی ابن النیار کو بھی قتل کیا گیا۔ خطباء ائمہ اور حافظین قرآن سب کو قتل کردیا گیا۔ " جب نوشہ دیوار ہوا اور چالیس دن پورے ہوگئے تو بغداد مکمل تباہی سے دو چار ہوچکا تھا۔ پورے شہر میں خال خال لوگ نظر آتے تھے۔ راستوں میں کشتوں کے پشتے لگے ہوئے تھے۔ اس پر بارش ہوگئی۔ لوگوں کے اجسام پھول گئے۔ پورا شہر بدبو اور تعفن میں ڈوب گیا۔ ہوا بدل گئی اور علاقے میں شدید وبا پھیل گئی اور خلق کثیر لقمہ اجل بن گئی۔ پورے علاقے کے عوام وبا اور قحط میں گرفتار ہوگئے۔ تلوار اور طاعون کے ذریعے راہ عدم کو روانہ ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ " اور جب چالیس دنوں کے بعد بغداد میں امان کا اعلان ہوا اور لوگ تہ خانوں ، کمین گاہوں اور قبرستانوں سے نکلے تو وہ ایسے تھے جس طرح مردے قبروں سے نکل آئے ہوں۔ وہ ایک دوسرے کو پہچان نہ سکے یہاں تک کہ باپ نے بیٹوں کو پہچاننے سے انکار کردیا۔ بھائی بھائی کو پہچان نہ سکا۔ لوگوں میں شدید وبا پھیل گئی اور اس طرح وہ بھی اس راہ پر چل بسے جس پر مقتولین گئے تھے " وغیرہ وغیرہ۔ یہ ایک تاریخی واقعہ کی صورت حالات تھی کہ جب مشرکین مسلمانوں پر غالب آگئے تو انہوں نے کسی رشتہ داری اور کسی معاہدے کا کوئی خیال نہ رکھا اور کسی ذمہ داری کا کوئی ثبوت نہ دیا۔ تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ ماضی بعید کی ایک تاریخی صورت حالات تھی اور اس کا ارتکاب مشرکین میں سے صرف تاتاریوں نے کیا۔ اور ان کا خاصہ تھا ؟ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ جدید دور کے واقات بھی اپنے خدوخال کے لحاظ سے اس سے مکتلف نہیں ہیں۔ جب تشکیل پاکستان کے وقت مسلمانوں کا علاقہ ہند سے علیحدہ ہو تو اس وقت کے دلدوز واقعات کسی طرح بھی تباہی بغداد کے واقعات سے کم نہ تھے۔ اس موعہ پر آٹھ ملین مسلمانوں نے ہجرت کی۔ ہندستان کے اطراف و اکناف میں وہاں بسنے والے مسلمانوں پر حملے کیے گئے۔ اس لیے انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ وہ پاکستان کی طرف ہجرت کر جائیں۔ ان میں سے صرف تین ملین لوگ پاکستان پہنچ سکے اور باقی پانچ ملین کو راستے ہی میں تہہ تیغ کردیا گیا۔ ان پناہ گیروں اور راہ گیر پر حکومت ہند کو معلوم ہندو دستوں نے حملے کیے اور یہ دستے حکومت ہند کے اکابرین کے زیر نگرانی یہ قتل عام کرتے رہے۔ ہجرت کے اس پورے راستے میں ان مسلمانوں کو مویشیوں کی طرح ذبح کیا گیا اور ان کے جسموں کو کھلے پرندوں کے لیے چھوڑ دیا گیا جبکہ قتل کے بعد ان پر بدترین تشدد کیا گیا اور ان لوگوں پر جو مظالم ڈھائے وہ تاتاریوں سے کسی طرح بھی کم نہ تھے۔ اس سے بڑھ کر مظالم اس وقت ہوئے جب ایک ریل گاری پر ہوئے جو ہندوستان سے مسلمان مہاجر ملازمین کو لے کر پاکستان جا رہی تھی۔ یہ لیاقت نہرو معاہدے کے تحت ان ملازمین کو لے جا رہی تھی جنہوں نے پاکستان جانا پسند کیا تھا۔ اس گاڑی پر پچاس ہزار افراد سوار تھے۔ اور جب یہ گاڑی بعض حدود (پنجاب کے علاقے) تک پہنچی تو تجربہ کار ہندوسکھ دستے اس پر حملہ آور ہوئے اور جب وہ پاکستان پہنچی تو اس کے اندر لاشوں اور کٹے ہوئے اعضاء کے سوا کچھ نہ تھا۔ اللہ نے کیا خوب کہا ہے کیف و ان یظھروا علیکم لا یرقبوا فیکم الا ولا ذمہ " یہ کیسے ہوسکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب غالب ہوجائیں تو وہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری اور ذمہ داری کا کوئی لحاظ نہ رکھیں۔ مختلف اندازوں کے مطابق اور مختلف صورتوں میں یہ قتل عام ہوتا ہی رہتا ہے۔ اس زمانے میں فسادات پنجاب اس کی واضح مثال تھے۔ " اس کے بعد تاتاریوں کے خلفاء نے کمیونسٹ روس اور کمیونسٹ چین میں مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا انہوں نے ان علاقوں میں صرف پچیس سال کے عرصے میں 26 ملین مسلمانوں کو نیست و نابود کیا۔ گویا وہ ایک سال میں روس لاکھ مسلمانوں کو قتل کرتے رہے۔ اور یہ عمل ابھی تک جای ہے۔ اور مظالم و تشدد کے وہ واقعات اس کے علاوہ ہیں جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں چین میں اس قسم کے واقعات رونما ہوئے جن کے سامنے تاتاریوں کے مظالم بھی ماند پڑجاتے ہیں۔ مسلمانوں کے ایک لیڈر کو پکڑ کر لایا گیا۔ شارع عام پر ایک گڑھا کھودا گیا اور مسلمانوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ انسانی غلاظت کو ٹوکریوں میں لے کر آئیں۔ ان علاقوں میں یہ رواج ہے کہ کھاد بنانے کے لیے لوگوں سے غلاظت اور کوڑا کرکٹ جمع کرایا جاتا ہے اور اس کے بدلے ان کو روٹی دی جاتی ہے تاکہ اس سے کھاد تیار کی جاسکے۔ غرض ان لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ یہ غلاظت اس مسلم لیڈر پر پھینکیں۔ یہ عمل تین تک جاری رہا یہاں تک کہ اس طرح اس کی موت واقع ہوگئی۔ کمیونسٹ یوگوسلاویہ میں بھی مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا اور جب دوسری عالمی جنگ کے بعد وہاں کمیونسٹ نظام جاری ہوا تو کئی ملین مسلمانوں کو نیست و نابود کردیا گیا۔ یہاں تک کہ بعض مقامات پر مسلمان مردوں اور عورتوں کو قیمہ بنانے کے کارخانوں میں پھینکا گیا تاکہ دوسری جانب سے ہڈیا اور گوشت بر آمد ہو اور یہ عمل ابھی تک جاری ہے۔ یوگو سلاویہ میں جو کچھ ہو رہا ہے ، مسلمانوں کے خلاف تمام اشتراکی ممالک میں یہ عمل رات دن جاری ہے۔ ابھی تک اور اس دور جدید میں یہ ہو رہا ہے۔ اور اس سے باری تعالیٰ کے اس قول کی تصدیق ہوتی ہے كَيْفَ وَاِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّةً : " یہ کیسے ہوسکتا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جب غالب ہوجائیں تو وہ تمہارے بارے میں کسی رشتہ داری اور ذمہ داری کا کوئی لحاظ نہیں رکھتے۔ جزیرۃ العرب میں یہ نہ تو کوئی وقتی صورت حالات تھی اور نہ عارضی۔ نہ بغداد میں یہ کوئی وقت حادثہ یا حالت تھی۔ یہ ایک دائمی اور مستقل طرز عمل ہے۔ جب بھی اہل شرک کسی مومن پر قابو پائیں ایسا مومن جو صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرتا ہو تو ان کا طرز عمل اس مومن کے ساتھ یہی ہوتا ہے ، ہر جگہ اور ہر زمانے میں۔

التوبة 9:13

تفسیر آیات 13 تا 16:۔ تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔ ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید کے واقعات سامنے کر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کیا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جب مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا۔ جو قسمیں وہ کھاتے تھے وہ کس قدر سچی تھیں پھر رسول اللہ کو انہوں نے کس بےدردی کے ساتھ ملک بدر کیا۔ مکہ سے آپ کو مجبوراً نکلنا پڑا۔ پھر مدینہ پر پہلے انہوں ہی نے چڑھائی کی۔ اس کے بعد ان کو شرم دلائی گئی ہے اور ان کی خودی کو جگایا گیا اور پوچھا گیا کہ تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اس کے بعد ان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرو شاید اللہ کو منظور یہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ یوں تمہیں ست قدر کا آلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ اور تمہارے ذریعے اللہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور وہ ذلت اور اللہ کے قہر کے مستحق بنیں گے۔ اور ان مومنین کے دل خوش ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں اذیت دی گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تمناؤں کو غلط بتایا جاتا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید بغیر قتال کے یہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں شکست دلا کر اور ذلیل کرکے اسلام میں داخل کرائے۔ شکست کی صورت میں جس کے مقدر میں لکھا ہوا ہو وہ توبہ کرلے گا اور غالب اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نیک جماعتوں کو ایسی آزمائشوں میں ڈالتا رہتا ہے اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ مسلمانوں اور مشرکین کے تعلقات کی تاریخ میں دو الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ایمان سے روگردانی اور معاہدوں کی خلاف ورزی اور زیر بحث آیات کے وقت قریب ترین مثال صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی۔ نبی ﷺ نے نے الہام ربانی اور ہدایت ربانی کے تحت اس صلح کو مشرکین کے شرائط کے مطابق تسلیم کیا تھا۔ اور جسے بعض مقتدر اصحاب رسول اللہ نے نہایت ہی ذلت آمیز شرائط قرار دیا تھا۔ اور اس میں مشرکین نے جو سخت شرائط عائد کی تھیں حضور ﷺ نے ان کی سختی سے پابندی کی اور نہایت ہی شریفانہ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ لیکن خود انہوں نے اس صلح کی مخالفت کی۔ اور صرف دو سال کے بعد ہی اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ پھر یہ مشرکین ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے شہر سے نکالا اور ہجرت سے پہلے مکہ میں انہوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے بیت الحرام میں کیا جہاں قاتل کو بھی پناہ ملتی تھی۔ اور جہاں قاتل کا خون اور مال بھی محفوظ ہوتے تھے اور یہ قانون اس قدر محترم تھا کہ ایک شخص بیت الحرام میں اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو پاتا لیکن وہ اسے وہاں کوئی گزند نہ پہنچاتا۔ رسول اللہ کا جرم کیا تھا۔ آپ تو لوگوں کو دعوت ایمان دیتے تھے کہ اللہ وحدہ گی بندگی کرو لیکن انہوں نے بیت اللہ کا بھی کوئی احترام نہ کیا۔ انہوں نے رسول اللہ کو وہاں سے نکالنے کی سعی کی۔ پھر آپ کے قتل کی سازش کی اور یہ حرکت انہوں نے بےدھڑک اور بغیر کسی جھجک کے کی۔ پھر انہوں نے مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے۔ انہوں نے ابوجہل کی سرکردگی میں یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ سے جنگ ضروری کریں گے چاہے ہمارا قافلہ بچ کر نکل گیا ہے۔ پھر جنگ احد اور جنگ خندق میں تو واضح طور پر جارح تھے پھر حنین میں بھی وہ پوری طرح جنگ کے لیے تیار ہوگئے تھے اور نزول آیات کے وقت یہ سب تازہ واقعات تھے جو ان کی ایدوں کا حصہ تھے اور ان سب واقعات میں اس رویہ کی تصدیق تھی جو قرآن نے بیان کیا۔ ولایزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا۔ اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر وہ ایسا کرسکیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو محاذ صرف اللہ وحدہ کی غلامی رکتا ہے اور جو اللہ کے سو ان کئی اور الہوں کی بندگی اور شرک کرتا ہے ان دونوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت ہمیشہ کیا رہی ہے۔ ؟ واقعات اور تلخ یادوں کی اس فہسرت کو نہایت ہی اختصار اور سرعت اور نہایت ہی موثر انداز کے ساتھ پیش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آخر میں ان سے یوں مخاطب ہوتے ہیں اتخشونہم کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ تم مشرکین کے خلاف جنگ اور جہاد نہیں شروع کرتے تو تمہارا یہ بیٹھا رہنا بغیر خوف اور کسی وجہ سے تو ہو نہیں سکتا۔ اور اس کے بعد اس سوالیہ فقرے کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے۔ جو مسلمانوں کے لیے نہایت ہی حوصلہ افزا ہے۔ فاللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مومنین : " حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ مسحتق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو " مومن ہوتا وہی ہے جو بندوں سے نہیں ڈرتا لہذا مومن وہی ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ تو یہ لوگ اگر مشرکین سے ڈرتے ہیں تو اللہ سے انہیں بہت زیادہ ڈرنا چاہیے۔ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ لوگ اس سے ڈریں اور اللہ کے سوا کسی اور کا کوئی ڈر کم از کم مومنین کے دل میں نہیں ہونا چاہیے۔ غرض مسلمانوں کے اسلام شعور کو جگایا جاتا ہے اور ان واقعات اور ان کی یادوں کو تازہ کرکے ان کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ یہ مشرکین وہی ہیں جنہوں نے ذات نبی کے خلاف سازش کی۔ پھر انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ جو معاہدے بھی کیے انہیں توڑا اور جب بھی مسلمانوں کو غافل پایا یا ان کی صفوں کے اندر کوئی سوراخ دیکھا۔ انہوں نے وار کرنے کی کوشش کی۔ پھر انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جارحیت کرنے میں پہل کی اور چناچہ ان وجوہات اور اسباب کی بنا پر مسلمانوں کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے خلاف جنگی کارروائی کریں۔ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ۔ ان لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۔ ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔ تم ان کے ساتھ جنگ کرو ، تم دست قدرت کے لیے پردہ بنوگے اور اللہ کی مشیئت کی صورت بنوگے۔ اس طرح تمہارے ہاتھوں اللہ ان پر عذاب نازل کرے گا۔ ان کو ہزیمت دے کر ذلیل کرے گا جبکہ وہ اپنے آپ کو نہایت ہی قوی سمجھتے ہوں گے لیکن اللہ ان کے مقابلے میں تمہاری نصرت کرے گا ، تمہارے دلوں کو شفا دے گا کیونکہ اہل ایمان کو انہوں نے بہت ہی اذیتیں دی تھیں اور مسلمانوں کے دلوں میں وہ غیظ و غضب ابھی تک موجود تھا۔ اس طرح کفار و مشرکین کی شکست سے ان کے دل ہلکے ہوجائیں گے کیونکہ مشرکین نے ان کو اذیت دی گھروں سے نکالا۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ اس سے بڑا انعام ان کے انتظار میں ہے۔ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا اور جسے چاہے گا ، توبہ کی توفیق بھی گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔ مسلمانوں کی فتح کے نتیجے میں کئی لووں کے دل اسلام کی طرف مائل ہوسکتے ہیں اور ان کی بصیرت انہیں اس طرف لا سکتی ہے کہ مستقبل اسلام کا ہے کیونکہ مسلمانوں کو فتح نصیب ہو رہی ہے اور ظہار ہے کہ انسانوں کی قوت سے اوپر کوئی اور قوت ہے جو مسلمانوں کی تائید میں ہے اور عملاً ایسا بھی ہوا کہ بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے اور اسی طرح مجاہدین کو دو اجر ملے۔ ایک اجر ان کے جہاد فی سبیل اللہ کا اور دوسرا اجر ان گمراہ لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا اور گمراہوں کو ہدایت دینے کا جو جہاد کی وجہ سے ہوا اور ان لوگوں سے اسلام کی افرادی اور جنگی قوت میں اضافہ ہوا۔ کہا گیا کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ وہ ان اقدامات کے اچھے نتائج کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ حکیم ہے وہ جن اقدامات کا حکم دیتا ہے وہ گہری حکمت پر مبنی ہوتے۔ اسلام جب زوردار شکل میں سامنے آتا ہے تو وہ زیادہ پرکشش ہوتا ہے ، اس اسلام کے مقابلے میں جس کی قوت لوگوں کو معلوم نہ ہو یا وہ ضعیف و ناتواں نظر آئے لیکن اسلامی جماعت جب قوت اور زور سے سامنے آئے اور وہ اپنے نظریہ و عمل پر سختی سے جمی ہو تو تحریک اسلامی کا نصف راستہ خود بخعد طے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو مکہ مکرمہ میں اسلامی جماعت کی تربیت اور نگرانی کر رہا تھا ، وہاں اس نے جماعہ مسلمہ کے ساتھ صرف جنت کا وعدہ کیا تھا ، جبکہ مکہ میں جماعت قلیل تھی اور اس میں ضعیف لوگ تھے اور یہاں مسلمانوں کے لیے صرف ایک ہی ہدایت تھی وہ یہ کہ صرف کا دامن مضبوطی سے پکڑو اور جب جماعت نے کما حقہ صبر کیا اور صرف جنت کی طلبگار بن گئی تو اللہ نے اسے نصرت عطا کی اور وہ فاتح ہوگئی تو اللہ نے اسے سیاسی غلبے اور جہاد کے لیے ابھارا ، اس لیے کہ یہ سیاسی غلبہ اس جماعت کا غلبہ نہ تھا بلکہ اللہ کے دین کا غلبہ تھا اور اس کی وجہ سے اللہ کا کلمہ بلند ہو رہا تھا۔ اس وقت صورت حال بھی ایسی تھی کہ اس میں مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ وہ تمام مشرکین کے خلاف جنگ کریں اور مشرکین کے تمام معاہدوں کو منسوخ کردیں اور ان کے مقابلے میں صف و احد بن کر کھڑے ہوجائیں اور یہ اس لیے ضروری تھا کہ مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے خفیہ پیکٹ ختم ہوجائیں اور جن لوگوں کی نیت میں فور تھا وہ کھل کر سامنے آجائیں اور وہ پردے دور کردیے جائیں جن کے پیچھے منافق لوگ کھڑے ہوکر اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے تھے اور ان تعلقات کو بھی ختم کردیا جوائے جو رشتہ داری اور قرابت داری کے عنوان سے بعض لوگوں کے ساتھ قائم رکھے ہوئے تھے۔ ان پردوں کو گرانا ضروری تھا اور ان عذرات کو یکسر کتم کردینا ضروری تھا۔ اس لیے اس قسم کے تمام لوگوں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ ان لوگوں کا انکشاف ہوجائے جن کے دلوں میں کوئی خباثت خفیہ تھی اور جو اللہ اور رسول اللہ کے سوا اور لوگوں کو بھی دوست بنا رہے تھے اور ان عذرات کے نتیجے میں وہ مخالف اسلام کیمپ کے لوگوں کے ساتھ روابط رکھے ہوئے تھے اور ان روابط کی نوعیت واضح نہ تھی ، بلکہ مشکوک تھی اس لیے یہ حکم دیا گیا۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : کیا تم لوگوں نے یہ سمئجھ رکھا ہے کہ یونی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اس کی راہ میں) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جگر دوست نہ بنایا ، جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے۔ جیسا کہ بالعموم ہوا کرتا ہے ، اسلامی معاشرے میں بھی ایسے لوگ تھے جو چلتے پھرتے تھے ، جو حدود سے آگے نکلتے تھے اور ان کے پاس بہت زیادہ عذرات ہوتے تھے ، وہ جماعت کے علم و مشورہ کے بغیر اس کے دشمنوں سے بھی ملتے تھے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرتے تھے اگرچہ اس میں اسلامی تحریک کا نقصان ہو۔ اور یہ لوگ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پائے جانے والے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے تھے کیونکہ ابھی تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان مکمل قطع تعلق نہ ہوا تھا لیکن جب واضح طور پر اعلان کردیا گیا کہ اب مشرکین عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا اور اب رابطے کٹ گئے ہیں ، اب ایسے لوگوں کے لیے کوئی بہانہ نہ رہا اور ان کی خفیہ ریشہ دوانیاں سامنے آگئیں۔ اسلامی جماعت اور اسلامی نظریہ حیات کے مفاد میں یہ بات ہے کہ پردے اٹھ جائیں اور تعلقات بالکل علی الاعلان اور چور دروازے ختم کردئیے جائیں تاکہ مخلص جدوجہد کرنے والوں اور ہر طرف پھرنے پھرانے والوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز ہوجائے اور دونوں کیمپوں کے لوگ اچھی طرح معلوم اور معروف ہوجائیں اور ان کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہوجائے اگرچہ اللہ تو علیم وخبیر ہے۔ اسے تو پہلے سے معلوم ہے کہ کون کیا ہے ، لیکن اللہ لوگوں کو تب پکڑتا ہے جب ان کی حقیقت تمام دیکھنے والوں پر واضح ہوجائے۔ یہی ہے سنت الہیہ کہ اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے دونوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز کردیتا ہے اور کھرے اور کھوٹے کا امتیاز اس طرح ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو مصائب و شدائد میں مبتلا کردیتا ہے۔

التوبة 9:14

تفسیر آیات 13 تا 16:۔ تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔ ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید کے واقعات سامنے کر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کیا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جب مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا۔ جو قسمیں وہ کھاتے تھے وہ کس قدر سچی تھیں پھر رسول اللہ کو انہوں نے کس بےدردی کے ساتھ ملک بدر کیا۔ مکہ سے آپ کو مجبوراً نکلنا پڑا۔ پھر مدینہ پر پہلے انہوں ہی نے چڑھائی کی۔ اس کے بعد ان کو شرم دلائی گئی ہے اور ان کی خودی کو جگایا گیا اور پوچھا گیا کہ تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اس کے بعد ان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرو شاید اللہ کو منظور یہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ یوں تمہیں ست قدر کا آلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ اور تمہارے ذریعے اللہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور وہ ذلت اور اللہ کے قہر کے مستحق بنیں گے۔ اور ان مومنین کے دل خوش ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں اذیت دی گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تمناؤں کو غلط بتایا جاتا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید بغیر قتال کے یہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں شکست دلا کر اور ذلیل کرکے اسلام میں داخل کرائے۔ شکست کی صورت میں جس کے مقدر میں لکھا ہوا ہو وہ توبہ کرلے گا اور غالب اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نیک جماعتوں کو ایسی آزمائشوں میں ڈالتا رہتا ہے اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ مسلمانوں اور مشرکین کے تعلقات کی تاریخ میں دو الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ایمان سے روگردانی اور معاہدوں کی خلاف ورزی اور زیر بحث آیات کے وقت قریب ترین مثال صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی۔ نبی ﷺ نے نے الہام ربانی اور ہدایت ربانی کے تحت اس صلح کو مشرکین کے شرائط کے مطابق تسلیم کیا تھا۔ اور جسے بعض مقتدر اصحاب رسول اللہ نے نہایت ہی ذلت آمیز شرائط قرار دیا تھا۔ اور اس میں مشرکین نے جو سخت شرائط عائد کی تھیں حضور ﷺ نے ان کی سختی سے پابندی کی اور نہایت ہی شریفانہ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ لیکن خود انہوں نے اس صلح کی مخالفت کی۔ اور صرف دو سال کے بعد ہی اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ پھر یہ مشرکین ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے شہر سے نکالا اور ہجرت سے پہلے مکہ میں انہوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے بیت الحرام میں کیا جہاں قاتل کو بھی پناہ ملتی تھی۔ اور جہاں قاتل کا خون اور مال بھی محفوظ ہوتے تھے اور یہ قانون اس قدر محترم تھا کہ ایک شخص بیت الحرام میں اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو پاتا لیکن وہ اسے وہاں کوئی گزند نہ پہنچاتا۔ رسول اللہ کا جرم کیا تھا۔ آپ تو لوگوں کو دعوت ایمان دیتے تھے کہ اللہ وحدہ گی بندگی کرو لیکن انہوں نے بیت اللہ کا بھی کوئی احترام نہ کیا۔ انہوں نے رسول اللہ کو وہاں سے نکالنے کی سعی کی۔ پھر آپ کے قتل کی سازش کی اور یہ حرکت انہوں نے بےدھڑک اور بغیر کسی جھجک کے کی۔ پھر انہوں نے مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے۔ انہوں نے ابوجہل کی سرکردگی میں یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ سے جنگ ضروری کریں گے چاہے ہمارا قافلہ بچ کر نکل گیا ہے۔ پھر جنگ احد اور جنگ خندق میں تو واضح طور پر جارح تھے پھر حنین میں بھی وہ پوری طرح جنگ کے لیے تیار ہوگئے تھے اور نزول آیات کے وقت یہ سب تازہ واقعات تھے جو ان کی ایدوں کا حصہ تھے اور ان سب واقعات میں اس رویہ کی تصدیق تھی جو قرآن نے بیان کیا۔ ولایزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا۔ اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر وہ ایسا کرسکیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو محاذ صرف اللہ وحدہ کی غلامی رکتا ہے اور جو اللہ کے سو ان کئی اور الہوں کی بندگی اور شرک کرتا ہے ان دونوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت ہمیشہ کیا رہی ہے۔ ؟ واقعات اور تلخ یادوں کی اس فہسرت کو نہایت ہی اختصار اور سرعت اور نہایت ہی موثر انداز کے ساتھ پیش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آخر میں ان سے یوں مخاطب ہوتے ہیں اتخشونہم کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ تم مشرکین کے خلاف جنگ اور جہاد نہیں شروع کرتے تو تمہارا یہ بیٹھا رہنا بغیر خوف اور کسی وجہ سے تو ہو نہیں سکتا۔ اور اس کے بعد اس سوالیہ فقرے کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے۔ جو مسلمانوں کے لیے نہایت ہی حوصلہ افزا ہے۔ فاللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مومنین : " حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ مسحتق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو " مومن ہوتا وہی ہے جو بندوں سے نہیں ڈرتا لہذا مومن وہی ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ تو یہ لوگ اگر مشرکین سے ڈرتے ہیں تو اللہ سے انہیں بہت زیادہ ڈرنا چاہیے۔ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ لوگ اس سے ڈریں اور اللہ کے سوا کسی اور کا کوئی ڈر کم از کم مومنین کے دل میں نہیں ہونا چاہیے۔ غرض مسلمانوں کے اسلام شعور کو جگایا جاتا ہے اور ان واقعات اور ان کی یادوں کو تازہ کرکے ان کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ یہ مشرکین وہی ہیں جنہوں نے ذات نبی کے خلاف سازش کی۔ پھر انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ جو معاہدے بھی کیے انہیں توڑا اور جب بھی مسلمانوں کو غافل پایا یا ان کی صفوں کے اندر کوئی سوراخ دیکھا۔ انہوں نے وار کرنے کی کوشش کی۔ پھر انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جارحیت کرنے میں پہل کی اور چناچہ ان وجوہات اور اسباب کی بنا پر مسلمانوں کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے خلاف جنگی کارروائی کریں۔ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ۔ ان لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۔ ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔ تم ان کے ساتھ جنگ کرو ، تم دست قدرت کے لیے پردہ بنوگے اور اللہ کی مشیئت کی صورت بنوگے۔ اس طرح تمہارے ہاتھوں اللہ ان پر عذاب نازل کرے گا۔ ان کو ہزیمت دے کر ذلیل کرے گا جبکہ وہ اپنے آپ کو نہایت ہی قوی سمجھتے ہوں گے لیکن اللہ ان کے مقابلے میں تمہاری نصرت کرے گا ، تمہارے دلوں کو شفا دے گا کیونکہ اہل ایمان کو انہوں نے بہت ہی اذیتیں دی تھیں اور مسلمانوں کے دلوں میں وہ غیظ و غضب ابھی تک موجود تھا۔ اس طرح کفار و مشرکین کی شکست سے ان کے دل ہلکے ہوجائیں گے کیونکہ مشرکین نے ان کو اذیت دی گھروں سے نکالا۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ اس سے بڑا انعام ان کے انتظار میں ہے۔ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا اور جسے چاہے گا ، توبہ کی توفیق بھی گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔ مسلمانوں کی فتح کے نتیجے میں کئی لووں کے دل اسلام کی طرف مائل ہوسکتے ہیں اور ان کی بصیرت انہیں اس طرف لا سکتی ہے کہ مستقبل اسلام کا ہے کیونکہ مسلمانوں کو فتح نصیب ہو رہی ہے اور ظہار ہے کہ انسانوں کی قوت سے اوپر کوئی اور قوت ہے جو مسلمانوں کی تائید میں ہے اور عملاً ایسا بھی ہوا کہ بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے اور اسی طرح مجاہدین کو دو اجر ملے۔ ایک اجر ان کے جہاد فی سبیل اللہ کا اور دوسرا اجر ان گمراہ لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا اور گمراہوں کو ہدایت دینے کا جو جہاد کی وجہ سے ہوا اور ان لوگوں سے اسلام کی افرادی اور جنگی قوت میں اضافہ ہوا۔ کہا گیا کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ وہ ان اقدامات کے اچھے نتائج کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ حکیم ہے وہ جن اقدامات کا حکم دیتا ہے وہ گہری حکمت پر مبنی ہوتے۔ اسلام جب زوردار شکل میں سامنے آتا ہے تو وہ زیادہ پرکشش ہوتا ہے ، اس اسلام کے مقابلے میں جس کی قوت لوگوں کو معلوم نہ ہو یا وہ ضعیف و ناتواں نظر آئے لیکن اسلامی جماعت جب قوت اور زور سے سامنے آئے اور وہ اپنے نظریہ و عمل پر سختی سے جمی ہو تو تحریک اسلامی کا نصف راستہ خود بخعد طے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو مکہ مکرمہ میں اسلامی جماعت کی تربیت اور نگرانی کر رہا تھا ، وہاں اس نے جماعہ مسلمہ کے ساتھ صرف جنت کا وعدہ کیا تھا ، جبکہ مکہ میں جماعت قلیل تھی اور اس میں ضعیف لوگ تھے اور یہاں مسلمانوں کے لیے صرف ایک ہی ہدایت تھی وہ یہ کہ صرف کا دامن مضبوطی سے پکڑو اور جب جماعت نے کما حقہ صبر کیا اور صرف جنت کی طلبگار بن گئی تو اللہ نے اسے نصرت عطا کی اور وہ فاتح ہوگئی تو اللہ نے اسے سیاسی غلبے اور جہاد کے لیے ابھارا ، اس لیے کہ یہ سیاسی غلبہ اس جماعت کا غلبہ نہ تھا بلکہ اللہ کے دین کا غلبہ تھا اور اس کی وجہ سے اللہ کا کلمہ بلند ہو رہا تھا۔ اس وقت صورت حال بھی ایسی تھی کہ اس میں مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ وہ تمام مشرکین کے خلاف جنگ کریں اور مشرکین کے تمام معاہدوں کو منسوخ کردیں اور ان کے مقابلے میں صف و احد بن کر کھڑے ہوجائیں اور یہ اس لیے ضروری تھا کہ مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے خفیہ پیکٹ ختم ہوجائیں اور جن لوگوں کی نیت میں فور تھا وہ کھل کر سامنے آجائیں اور وہ پردے دور کردیے جائیں جن کے پیچھے منافق لوگ کھڑے ہوکر اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے تھے اور ان تعلقات کو بھی ختم کردیا جوائے جو رشتہ داری اور قرابت داری کے عنوان سے بعض لوگوں کے ساتھ قائم رکھے ہوئے تھے۔ ان پردوں کو گرانا ضروری تھا اور ان عذرات کو یکسر کتم کردینا ضروری تھا۔ اس لیے اس قسم کے تمام لوگوں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ ان لوگوں کا انکشاف ہوجائے جن کے دلوں میں کوئی خباثت خفیہ تھی اور جو اللہ اور رسول اللہ کے سوا اور لوگوں کو بھی دوست بنا رہے تھے اور ان عذرات کے نتیجے میں وہ مخالف اسلام کیمپ کے لوگوں کے ساتھ روابط رکھے ہوئے تھے اور ان روابط کی نوعیت واضح نہ تھی ، بلکہ مشکوک تھی اس لیے یہ حکم دیا گیا۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : کیا تم لوگوں نے یہ سمئجھ رکھا ہے کہ یونی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اس کی راہ میں) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جگر دوست نہ بنایا ، جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے۔ جیسا کہ بالعموم ہوا کرتا ہے ، اسلامی معاشرے میں بھی ایسے لوگ تھے جو چلتے پھرتے تھے ، جو حدود سے آگے نکلتے تھے اور ان کے پاس بہت زیادہ عذرات ہوتے تھے ، وہ جماعت کے علم و مشورہ کے بغیر اس کے دشمنوں سے بھی ملتے تھے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرتے تھے اگرچہ اس میں اسلامی تحریک کا نقصان ہو۔ اور یہ لوگ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پائے جانے والے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے تھے کیونکہ ابھی تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان مکمل قطع تعلق نہ ہوا تھا لیکن جب واضح طور پر اعلان کردیا گیا کہ اب مشرکین عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا اور اب رابطے کٹ گئے ہیں ، اب ایسے لوگوں کے لیے کوئی بہانہ نہ رہا اور ان کی خفیہ ریشہ دوانیاں سامنے آگئیں۔ اسلامی جماعت اور اسلامی نظریہ حیات کے مفاد میں یہ بات ہے کہ پردے اٹھ جائیں اور تعلقات بالکل علی الاعلان اور چور دروازے ختم کردئیے جائیں تاکہ مخلص جدوجہد کرنے والوں اور ہر طرف پھرنے پھرانے والوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز ہوجائے اور دونوں کیمپوں کے لوگ اچھی طرح معلوم اور معروف ہوجائیں اور ان کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہوجائے اگرچہ اللہ تو علیم وخبیر ہے۔ اسے تو پہلے سے معلوم ہے کہ کون کیا ہے ، لیکن اللہ لوگوں کو تب پکڑتا ہے جب ان کی حقیقت تمام دیکھنے والوں پر واضح ہوجائے۔ یہی ہے سنت الہیہ کہ اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے دونوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز کردیتا ہے اور کھرے اور کھوٹے کا امتیاز اس طرح ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو مصائب و شدائد میں مبتلا کردیتا ہے۔

التوبة 9:15

تفسیر آیات 13 تا 16:۔ تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔ ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید کے واقعات سامنے کر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کیا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جب مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا۔ جو قسمیں وہ کھاتے تھے وہ کس قدر سچی تھیں پھر رسول اللہ کو انہوں نے کس بےدردی کے ساتھ ملک بدر کیا۔ مکہ سے آپ کو مجبوراً نکلنا پڑا۔ پھر مدینہ پر پہلے انہوں ہی نے چڑھائی کی۔ اس کے بعد ان کو شرم دلائی گئی ہے اور ان کی خودی کو جگایا گیا اور پوچھا گیا کہ تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اس کے بعد ان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرو شاید اللہ کو منظور یہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ یوں تمہیں ست قدر کا آلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ اور تمہارے ذریعے اللہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور وہ ذلت اور اللہ کے قہر کے مستحق بنیں گے۔ اور ان مومنین کے دل خوش ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں اذیت دی گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تمناؤں کو غلط بتایا جاتا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید بغیر قتال کے یہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں شکست دلا کر اور ذلیل کرکے اسلام میں داخل کرائے۔ شکست کی صورت میں جس کے مقدر میں لکھا ہوا ہو وہ توبہ کرلے گا اور غالب اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نیک جماعتوں کو ایسی آزمائشوں میں ڈالتا رہتا ہے اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ مسلمانوں اور مشرکین کے تعلقات کی تاریخ میں دو الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ایمان سے روگردانی اور معاہدوں کی خلاف ورزی اور زیر بحث آیات کے وقت قریب ترین مثال صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی۔ نبی ﷺ نے نے الہام ربانی اور ہدایت ربانی کے تحت اس صلح کو مشرکین کے شرائط کے مطابق تسلیم کیا تھا۔ اور جسے بعض مقتدر اصحاب رسول اللہ نے نہایت ہی ذلت آمیز شرائط قرار دیا تھا۔ اور اس میں مشرکین نے جو سخت شرائط عائد کی تھیں حضور ﷺ نے ان کی سختی سے پابندی کی اور نہایت ہی شریفانہ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ لیکن خود انہوں نے اس صلح کی مخالفت کی۔ اور صرف دو سال کے بعد ہی اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ پھر یہ مشرکین ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے شہر سے نکالا اور ہجرت سے پہلے مکہ میں انہوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے بیت الحرام میں کیا جہاں قاتل کو بھی پناہ ملتی تھی۔ اور جہاں قاتل کا خون اور مال بھی محفوظ ہوتے تھے اور یہ قانون اس قدر محترم تھا کہ ایک شخص بیت الحرام میں اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو پاتا لیکن وہ اسے وہاں کوئی گزند نہ پہنچاتا۔ رسول اللہ کا جرم کیا تھا۔ آپ تو لوگوں کو دعوت ایمان دیتے تھے کہ اللہ وحدہ گی بندگی کرو لیکن انہوں نے بیت اللہ کا بھی کوئی احترام نہ کیا۔ انہوں نے رسول اللہ کو وہاں سے نکالنے کی سعی کی۔ پھر آپ کے قتل کی سازش کی اور یہ حرکت انہوں نے بےدھڑک اور بغیر کسی جھجک کے کی۔ پھر انہوں نے مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے۔ انہوں نے ابوجہل کی سرکردگی میں یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ سے جنگ ضروری کریں گے چاہے ہمارا قافلہ بچ کر نکل گیا ہے۔ پھر جنگ احد اور جنگ خندق میں تو واضح طور پر جارح تھے پھر حنین میں بھی وہ پوری طرح جنگ کے لیے تیار ہوگئے تھے اور نزول آیات کے وقت یہ سب تازہ واقعات تھے جو ان کی ایدوں کا حصہ تھے اور ان سب واقعات میں اس رویہ کی تصدیق تھی جو قرآن نے بیان کیا۔ ولایزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا۔ اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر وہ ایسا کرسکیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو محاذ صرف اللہ وحدہ کی غلامی رکتا ہے اور جو اللہ کے سو ان کئی اور الہوں کی بندگی اور شرک کرتا ہے ان دونوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت ہمیشہ کیا رہی ہے۔ ؟ واقعات اور تلخ یادوں کی اس فہسرت کو نہایت ہی اختصار اور سرعت اور نہایت ہی موثر انداز کے ساتھ پیش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آخر میں ان سے یوں مخاطب ہوتے ہیں اتخشونہم کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ تم مشرکین کے خلاف جنگ اور جہاد نہیں شروع کرتے تو تمہارا یہ بیٹھا رہنا بغیر خوف اور کسی وجہ سے تو ہو نہیں سکتا۔ اور اس کے بعد اس سوالیہ فقرے کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے۔ جو مسلمانوں کے لیے نہایت ہی حوصلہ افزا ہے۔ فاللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مومنین : " حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ مسحتق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو " مومن ہوتا وہی ہے جو بندوں سے نہیں ڈرتا لہذا مومن وہی ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ تو یہ لوگ اگر مشرکین سے ڈرتے ہیں تو اللہ سے انہیں بہت زیادہ ڈرنا چاہیے۔ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ لوگ اس سے ڈریں اور اللہ کے سوا کسی اور کا کوئی ڈر کم از کم مومنین کے دل میں نہیں ہونا چاہیے۔ غرض مسلمانوں کے اسلام شعور کو جگایا جاتا ہے اور ان واقعات اور ان کی یادوں کو تازہ کرکے ان کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ یہ مشرکین وہی ہیں جنہوں نے ذات نبی کے خلاف سازش کی۔ پھر انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ جو معاہدے بھی کیے انہیں توڑا اور جب بھی مسلمانوں کو غافل پایا یا ان کی صفوں کے اندر کوئی سوراخ دیکھا۔ انہوں نے وار کرنے کی کوشش کی۔ پھر انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جارحیت کرنے میں پہل کی اور چناچہ ان وجوہات اور اسباب کی بنا پر مسلمانوں کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے خلاف جنگی کارروائی کریں۔ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ۔ ان لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۔ ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔ تم ان کے ساتھ جنگ کرو ، تم دست قدرت کے لیے پردہ بنوگے اور اللہ کی مشیئت کی صورت بنوگے۔ اس طرح تمہارے ہاتھوں اللہ ان پر عذاب نازل کرے گا۔ ان کو ہزیمت دے کر ذلیل کرے گا جبکہ وہ اپنے آپ کو نہایت ہی قوی سمجھتے ہوں گے لیکن اللہ ان کے مقابلے میں تمہاری نصرت کرے گا ، تمہارے دلوں کو شفا دے گا کیونکہ اہل ایمان کو انہوں نے بہت ہی اذیتیں دی تھیں اور مسلمانوں کے دلوں میں وہ غیظ و غضب ابھی تک موجود تھا۔ اس طرح کفار و مشرکین کی شکست سے ان کے دل ہلکے ہوجائیں گے کیونکہ مشرکین نے ان کو اذیت دی گھروں سے نکالا۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ اس سے بڑا انعام ان کے انتظار میں ہے۔ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا اور جسے چاہے گا ، توبہ کی توفیق بھی گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔ مسلمانوں کی فتح کے نتیجے میں کئی لووں کے دل اسلام کی طرف مائل ہوسکتے ہیں اور ان کی بصیرت انہیں اس طرف لا سکتی ہے کہ مستقبل اسلام کا ہے کیونکہ مسلمانوں کو فتح نصیب ہو رہی ہے اور ظہار ہے کہ انسانوں کی قوت سے اوپر کوئی اور قوت ہے جو مسلمانوں کی تائید میں ہے اور عملاً ایسا بھی ہوا کہ بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے اور اسی طرح مجاہدین کو دو اجر ملے۔ ایک اجر ان کے جہاد فی سبیل اللہ کا اور دوسرا اجر ان گمراہ لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا اور گمراہوں کو ہدایت دینے کا جو جہاد کی وجہ سے ہوا اور ان لوگوں سے اسلام کی افرادی اور جنگی قوت میں اضافہ ہوا۔ کہا گیا کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ وہ ان اقدامات کے اچھے نتائج کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ حکیم ہے وہ جن اقدامات کا حکم دیتا ہے وہ گہری حکمت پر مبنی ہوتے۔ اسلام جب زوردار شکل میں سامنے آتا ہے تو وہ زیادہ پرکشش ہوتا ہے ، اس اسلام کے مقابلے میں جس کی قوت لوگوں کو معلوم نہ ہو یا وہ ضعیف و ناتواں نظر آئے لیکن اسلامی جماعت جب قوت اور زور سے سامنے آئے اور وہ اپنے نظریہ و عمل پر سختی سے جمی ہو تو تحریک اسلامی کا نصف راستہ خود بخعد طے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو مکہ مکرمہ میں اسلامی جماعت کی تربیت اور نگرانی کر رہا تھا ، وہاں اس نے جماعہ مسلمہ کے ساتھ صرف جنت کا وعدہ کیا تھا ، جبکہ مکہ میں جماعت قلیل تھی اور اس میں ضعیف لوگ تھے اور یہاں مسلمانوں کے لیے صرف ایک ہی ہدایت تھی وہ یہ کہ صرف کا دامن مضبوطی سے پکڑو اور جب جماعت نے کما حقہ صبر کیا اور صرف جنت کی طلبگار بن گئی تو اللہ نے اسے نصرت عطا کی اور وہ فاتح ہوگئی تو اللہ نے اسے سیاسی غلبے اور جہاد کے لیے ابھارا ، اس لیے کہ یہ سیاسی غلبہ اس جماعت کا غلبہ نہ تھا بلکہ اللہ کے دین کا غلبہ تھا اور اس کی وجہ سے اللہ کا کلمہ بلند ہو رہا تھا۔ اس وقت صورت حال بھی ایسی تھی کہ اس میں مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ وہ تمام مشرکین کے خلاف جنگ کریں اور مشرکین کے تمام معاہدوں کو منسوخ کردیں اور ان کے مقابلے میں صف و احد بن کر کھڑے ہوجائیں اور یہ اس لیے ضروری تھا کہ مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے خفیہ پیکٹ ختم ہوجائیں اور جن لوگوں کی نیت میں فور تھا وہ کھل کر سامنے آجائیں اور وہ پردے دور کردیے جائیں جن کے پیچھے منافق لوگ کھڑے ہوکر اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے تھے اور ان تعلقات کو بھی ختم کردیا جوائے جو رشتہ داری اور قرابت داری کے عنوان سے بعض لوگوں کے ساتھ قائم رکھے ہوئے تھے۔ ان پردوں کو گرانا ضروری تھا اور ان عذرات کو یکسر کتم کردینا ضروری تھا۔ اس لیے اس قسم کے تمام لوگوں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ ان لوگوں کا انکشاف ہوجائے جن کے دلوں میں کوئی خباثت خفیہ تھی اور جو اللہ اور رسول اللہ کے سوا اور لوگوں کو بھی دوست بنا رہے تھے اور ان عذرات کے نتیجے میں وہ مخالف اسلام کیمپ کے لوگوں کے ساتھ روابط رکھے ہوئے تھے اور ان روابط کی نوعیت واضح نہ تھی ، بلکہ مشکوک تھی اس لیے یہ حکم دیا گیا۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : کیا تم لوگوں نے یہ سمئجھ رکھا ہے کہ یونی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اس کی راہ میں) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جگر دوست نہ بنایا ، جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے۔ جیسا کہ بالعموم ہوا کرتا ہے ، اسلامی معاشرے میں بھی ایسے لوگ تھے جو چلتے پھرتے تھے ، جو حدود سے آگے نکلتے تھے اور ان کے پاس بہت زیادہ عذرات ہوتے تھے ، وہ جماعت کے علم و مشورہ کے بغیر اس کے دشمنوں سے بھی ملتے تھے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرتے تھے اگرچہ اس میں اسلامی تحریک کا نقصان ہو۔ اور یہ لوگ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پائے جانے والے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے تھے کیونکہ ابھی تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان مکمل قطع تعلق نہ ہوا تھا لیکن جب واضح طور پر اعلان کردیا گیا کہ اب مشرکین عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا اور اب رابطے کٹ گئے ہیں ، اب ایسے لوگوں کے لیے کوئی بہانہ نہ رہا اور ان کی خفیہ ریشہ دوانیاں سامنے آگئیں۔ اسلامی جماعت اور اسلامی نظریہ حیات کے مفاد میں یہ بات ہے کہ پردے اٹھ جائیں اور تعلقات بالکل علی الاعلان اور چور دروازے ختم کردئیے جائیں تاکہ مخلص جدوجہد کرنے والوں اور ہر طرف پھرنے پھرانے والوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز ہوجائے اور دونوں کیمپوں کے لوگ اچھی طرح معلوم اور معروف ہوجائیں اور ان کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہوجائے اگرچہ اللہ تو علیم وخبیر ہے۔ اسے تو پہلے سے معلوم ہے کہ کون کیا ہے ، لیکن اللہ لوگوں کو تب پکڑتا ہے جب ان کی حقیقت تمام دیکھنے والوں پر واضح ہوجائے۔ یہی ہے سنت الہیہ کہ اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے دونوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز کردیتا ہے اور کھرے اور کھوٹے کا امتیاز اس طرح ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو مصائب و شدائد میں مبتلا کردیتا ہے۔

التوبة 9:16

تفسیر آیات 13 تا 16:۔ تو یہ پیرا گراف اس لیے آیا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں مختلف سطح لوگ تھے اور بعض لوگوں کے دلوں میں یہ کھٹک تھی کہ وہ اس قدر فیصلہ کن اور سخت اقدام کیوں کریں۔ اس نکتے کے بارے میں ہم اس سے قبل تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش تھی اور وہ یہ امید بھی رکھتے تھے کہ شاید بقیہ مشرکین بھی اسلام قبول کرلیں گے اور شاید یہ قتال اور سختی ضروری نہ ہو۔ اس کے علاوہ دوسری مصلحتیں بھی ان کے پیش نظر ہوں گی اور وہ یہ ہی سمجھتے ہیں کہ آسان راستہ کیوں اختیار نہ کیا جائے۔ ان آیات میں انہی تصورات ، اندیشوں اور وجوہات کو دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اور ماضی قریب و بعید کے واقعات سامنے کر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے اور مسلمانوں کے دلوں کو صاف کیا گیا ہے اور سمجھایا گیا ہے کہ جب مشرکین کے ساتھ معاہدے کیے گئے تو ان کا حشر کیا ہوا۔ جو قسمیں وہ کھاتے تھے وہ کس قدر سچی تھیں پھر رسول اللہ کو انہوں نے کس بےدردی کے ساتھ ملک بدر کیا۔ مکہ سے آپ کو مجبوراً نکلنا پڑا۔ پھر مدینہ پر پہلے انہوں ہی نے چڑھائی کی۔ اس کے بعد ان کو شرم دلائی گئی ہے اور ان کی خودی کو جگایا گیا اور پوچھا گیا کہ تم ان لوگوں سے ڈرتے ہو۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ سے ڈرو۔ اس کے بعد ان کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرو شاید اللہ کو منظور یہ ہے کہ وہ تمہارے ہاتھوں ان کو عذاب دینا چاہتا ہے۔ یوں تمہیں ست قدر کا آلہ بننے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ اور تمہارے ذریعے اللہ اپنے دشمنوں کو ذلیل کرے گا۔ اور وہ ذلت اور اللہ کے قہر کے مستحق بنیں گے۔ اور ان مومنین کے دل خوش ہوں گے جن کو اللہ کے راستے میں اذیت دی گئی۔ اس کے بعد ان لوگوں کی تمناؤں کو غلط بتایا جاتا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ شاید بغیر قتال کے یہ لوگ دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی پالیسی یہ ہے کہ وہ انہیں شکست دلا کر اور ذلیل کرکے اسلام میں داخل کرائے۔ شکست کی صورت میں جس کے مقدر میں لکھا ہوا ہو وہ توبہ کرلے گا اور غالب اسلام کے سامنے سرنگوں ہوگا۔ آخر میں اللہ تعالیٰ اپنی اس سنت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کی نیک جماعتوں کو ایسی آزمائشوں میں ڈالتا رہتا ہے اور سنت الہیہ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْٓا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ اَتَخْشَوْنَهُمْ ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : کیا تم نہ لڑوگے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ مسلمانوں اور مشرکین کے تعلقات کی تاریخ میں دو الفاظ کو بڑی اہمیت حاصل ہے ، ایمان سے روگردانی اور معاہدوں کی خلاف ورزی اور زیر بحث آیات کے وقت قریب ترین مثال صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی تھی۔ نبی ﷺ نے نے الہام ربانی اور ہدایت ربانی کے تحت اس صلح کو مشرکین کے شرائط کے مطابق تسلیم کیا تھا۔ اور جسے بعض مقتدر اصحاب رسول اللہ نے نہایت ہی ذلت آمیز شرائط قرار دیا تھا۔ اور اس میں مشرکین نے جو سخت شرائط عائد کی تھیں حضور ﷺ نے ان کی سختی سے پابندی کی اور نہایت ہی شریفانہ طرز عمل اختیار کیا تھا۔ لیکن خود انہوں نے اس صلح کی مخالفت کی۔ اور صرف دو سال کے بعد ہی اس کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ پھر یہ مشرکین ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے شہر سے نکالا اور ہجرت سے پہلے مکہ میں انہوں نے آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور یہ فیصلہ انہوں نے بیت الحرام میں کیا جہاں قاتل کو بھی پناہ ملتی تھی۔ اور جہاں قاتل کا خون اور مال بھی محفوظ ہوتے تھے اور یہ قانون اس قدر محترم تھا کہ ایک شخص بیت الحرام میں اپنے باپ اور بھائی کے قاتل کو پاتا لیکن وہ اسے وہاں کوئی گزند نہ پہنچاتا۔ رسول اللہ کا جرم کیا تھا۔ آپ تو لوگوں کو دعوت ایمان دیتے تھے کہ اللہ وحدہ گی بندگی کرو لیکن انہوں نے بیت اللہ کا بھی کوئی احترام نہ کیا۔ انہوں نے رسول اللہ کو وہاں سے نکالنے کی سعی کی۔ پھر آپ کے قتل کی سازش کی اور یہ حرکت انہوں نے بےدھڑک اور بغیر کسی جھجک کے کی۔ پھر انہوں نے مدینہ میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی اور مسلمانوں کو ختم کرنے کے منصوبے بنائے۔ انہوں نے ابوجہل کی سرکردگی میں یہ فیصلہ کیا کہ رسول اللہ سے جنگ ضروری کریں گے چاہے ہمارا قافلہ بچ کر نکل گیا ہے۔ پھر جنگ احد اور جنگ خندق میں تو واضح طور پر جارح تھے پھر حنین میں بھی وہ پوری طرح جنگ کے لیے تیار ہوگئے تھے اور نزول آیات کے وقت یہ سب تازہ واقعات تھے جو ان کی ایدوں کا حصہ تھے اور ان سب واقعات میں اس رویہ کی تصدیق تھی جو قرآن نے بیان کیا۔ ولایزالون یقاتلونکم حتی یردوکم عن دینکم ان استطاعوا۔ اور وہ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں اگر وہ ایسا کرسکیں۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو محاذ صرف اللہ وحدہ کی غلامی رکتا ہے اور جو اللہ کے سو ان کئی اور الہوں کی بندگی اور شرک کرتا ہے ان دونوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت ہمیشہ کیا رہی ہے۔ ؟ واقعات اور تلخ یادوں کی اس فہسرت کو نہایت ہی اختصار اور سرعت اور نہایت ہی موثر انداز کے ساتھ پیش کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آخر میں ان سے یوں مخاطب ہوتے ہیں اتخشونہم کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ ظاہر ہے کہ تم مشرکین کے خلاف جنگ اور جہاد نہیں شروع کرتے تو تمہارا یہ بیٹھا رہنا بغیر خوف اور کسی وجہ سے تو ہو نہیں سکتا۔ اور اس کے بعد اس سوالیہ فقرے کا جواب خود ہی دے دیا جاتا ہے۔ جو مسلمانوں کے لیے نہایت ہی حوصلہ افزا ہے۔ فاللہ احق ان تخشوہ ان کنتم مومنین : " حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ مسحتق ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم مومن ہو " مومن ہوتا وہی ہے جو بندوں سے نہیں ڈرتا لہذا مومن وہی ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے۔ تو یہ لوگ اگر مشرکین سے ڈرتے ہیں تو اللہ سے انہیں بہت زیادہ ڈرنا چاہیے۔ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ لوگ اس سے ڈریں اور اللہ کے سوا کسی اور کا کوئی ڈر کم از کم مومنین کے دل میں نہیں ہونا چاہیے۔ غرض مسلمانوں کے اسلام شعور کو جگایا جاتا ہے اور ان واقعات اور ان کی یادوں کو تازہ کرکے ان کے اندر جوش پیدا کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ یہ مشرکین وہی ہیں جنہوں نے ذات نبی کے خلاف سازش کی۔ پھر انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ جو معاہدے بھی کیے انہیں توڑا اور جب بھی مسلمانوں کو غافل پایا یا ان کی صفوں کے اندر کوئی سوراخ دیکھا۔ انہوں نے وار کرنے کی کوشش کی۔ پھر انہوں نے مسلمانوں پر حملہ کرنے اور جارحیت کرنے میں پہل کی اور چناچہ ان وجوہات اور اسباب کی بنا پر مسلمانوں کو آمادہ کیا جاتا ہے کہ وہ ان کے خلاف جنگی کارروائی کریں۔ قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِيْنَ ۔ ان لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۔ ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔ تم ان کے ساتھ جنگ کرو ، تم دست قدرت کے لیے پردہ بنوگے اور اللہ کی مشیئت کی صورت بنوگے۔ اس طرح تمہارے ہاتھوں اللہ ان پر عذاب نازل کرے گا۔ ان کو ہزیمت دے کر ذلیل کرے گا جبکہ وہ اپنے آپ کو نہایت ہی قوی سمجھتے ہوں گے لیکن اللہ ان کے مقابلے میں تمہاری نصرت کرے گا ، تمہارے دلوں کو شفا دے گا کیونکہ اہل ایمان کو انہوں نے بہت ہی اذیتیں دی تھیں اور مسلمانوں کے دلوں میں وہ غیظ و غضب ابھی تک موجود تھا۔ اس طرح کفار و مشرکین کی شکست سے ان کے دل ہلکے ہوجائیں گے کیونکہ مشرکین نے ان کو اذیت دی گھروں سے نکالا۔ صرف یہی نہیں ، بلکہ اس سے بڑا انعام ان کے انتظار میں ہے۔ وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوْبِهِمْ ۭ وَيَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ۔ اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا اور جسے چاہے گا ، توبہ کی توفیق بھی گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔ مسلمانوں کی فتح کے نتیجے میں کئی لووں کے دل اسلام کی طرف مائل ہوسکتے ہیں اور ان کی بصیرت انہیں اس طرف لا سکتی ہے کہ مستقبل اسلام کا ہے کیونکہ مسلمانوں کو فتح نصیب ہو رہی ہے اور ظہار ہے کہ انسانوں کی قوت سے اوپر کوئی اور قوت ہے جو مسلمانوں کی تائید میں ہے اور عملاً ایسا بھی ہوا کہ بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے اور اسی طرح مجاہدین کو دو اجر ملے۔ ایک اجر ان کے جہاد فی سبیل اللہ کا اور دوسرا اجر ان گمراہ لوگوں کے دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا اور گمراہوں کو ہدایت دینے کا جو جہاد کی وجہ سے ہوا اور ان لوگوں سے اسلام کی افرادی اور جنگی قوت میں اضافہ ہوا۔ کہا گیا کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔ وہ ان اقدامات کے اچھے نتائج کو اچھی طرح جانتا ہے اور وہ حکیم ہے وہ جن اقدامات کا حکم دیتا ہے وہ گہری حکمت پر مبنی ہوتے۔ اسلام جب زوردار شکل میں سامنے آتا ہے تو وہ زیادہ پرکشش ہوتا ہے ، اس اسلام کے مقابلے میں جس کی قوت لوگوں کو معلوم نہ ہو یا وہ ضعیف و ناتواں نظر آئے لیکن اسلامی جماعت جب قوت اور زور سے سامنے آئے اور وہ اپنے نظریہ و عمل پر سختی سے جمی ہو تو تحریک اسلامی کا نصف راستہ خود بخعد طے ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو مکہ مکرمہ میں اسلامی جماعت کی تربیت اور نگرانی کر رہا تھا ، وہاں اس نے جماعہ مسلمہ کے ساتھ صرف جنت کا وعدہ کیا تھا ، جبکہ مکہ میں جماعت قلیل تھی اور اس میں ضعیف لوگ تھے اور یہاں مسلمانوں کے لیے صرف ایک ہی ہدایت تھی وہ یہ کہ صرف کا دامن مضبوطی سے پکڑو اور جب جماعت نے کما حقہ صبر کیا اور صرف جنت کی طلبگار بن گئی تو اللہ نے اسے نصرت عطا کی اور وہ فاتح ہوگئی تو اللہ نے اسے سیاسی غلبے اور جہاد کے لیے ابھارا ، اس لیے کہ یہ سیاسی غلبہ اس جماعت کا غلبہ نہ تھا بلکہ اللہ کے دین کا غلبہ تھا اور اس کی وجہ سے اللہ کا کلمہ بلند ہو رہا تھا۔ اس وقت صورت حال بھی ایسی تھی کہ اس میں مسلمانوں کے لیے یہ ضروری ہوگیا تھا کہ وہ تمام مشرکین کے خلاف جنگ کریں اور مشرکین کے تمام معاہدوں کو منسوخ کردیں اور ان کے مقابلے میں صف و احد بن کر کھڑے ہوجائیں اور یہ اس لیے ضروری تھا کہ مسلمانوں کے خلاف پائے جانے والے خفیہ پیکٹ ختم ہوجائیں اور جن لوگوں کی نیت میں فور تھا وہ کھل کر سامنے آجائیں اور وہ پردے دور کردیے جائیں جن کے پیچھے منافق لوگ کھڑے ہوکر اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے تھے اور ان تعلقات کو بھی ختم کردیا جوائے جو رشتہ داری اور قرابت داری کے عنوان سے بعض لوگوں کے ساتھ قائم رکھے ہوئے تھے۔ ان پردوں کو گرانا ضروری تھا اور ان عذرات کو یکسر کتم کردینا ضروری تھا۔ اس لیے اس قسم کے تمام لوگوں کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ ان لوگوں کا انکشاف ہوجائے جن کے دلوں میں کوئی خباثت خفیہ تھی اور جو اللہ اور رسول اللہ کے سوا اور لوگوں کو بھی دوست بنا رہے تھے اور ان عذرات کے نتیجے میں وہ مخالف اسلام کیمپ کے لوگوں کے ساتھ روابط رکھے ہوئے تھے اور ان روابط کی نوعیت واضح نہ تھی ، بلکہ مشکوک تھی اس لیے یہ حکم دیا گیا۔ اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَلَمْ يَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلَا رَسُوْلِهٖ وَلَا الْمُؤْمِنِيْنَ وَلِيْجَةً ۭ وَاللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ : کیا تم لوگوں نے یہ سمئجھ رکھا ہے کہ یونی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اس کی راہ میں) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جگر دوست نہ بنایا ، جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اس سے باخبر ہے۔ جیسا کہ بالعموم ہوا کرتا ہے ، اسلامی معاشرے میں بھی ایسے لوگ تھے جو چلتے پھرتے تھے ، جو حدود سے آگے نکلتے تھے اور ان کے پاس بہت زیادہ عذرات ہوتے تھے ، وہ جماعت کے علم و مشورہ کے بغیر اس کے دشمنوں سے بھی ملتے تھے اور اپنے مفادات کا تحفظ کرتے تھے اگرچہ اس میں اسلامی تحریک کا نقصان ہو۔ اور یہ لوگ مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان پائے جانے والے تعلقات سے فائدہ اٹھاتے تھے کیونکہ ابھی تک مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان مکمل قطع تعلق نہ ہوا تھا لیکن جب واضح طور پر اعلان کردیا گیا کہ اب مشرکین عرب کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا اور اب رابطے کٹ گئے ہیں ، اب ایسے لوگوں کے لیے کوئی بہانہ نہ رہا اور ان کی خفیہ ریشہ دوانیاں سامنے آگئیں۔ اسلامی جماعت اور اسلامی نظریہ حیات کے مفاد میں یہ بات ہے کہ پردے اٹھ جائیں اور تعلقات بالکل علی الاعلان اور چور دروازے ختم کردئیے جائیں تاکہ مخلص جدوجہد کرنے والوں اور ہر طرف پھرنے پھرانے والوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز ہوجائے اور دونوں کیمپوں کے لوگ اچھی طرح معلوم اور معروف ہوجائیں اور ان کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہوجائے اگرچہ اللہ تو علیم وخبیر ہے۔ اسے تو پہلے سے معلوم ہے کہ کون کیا ہے ، لیکن اللہ لوگوں کو تب پکڑتا ہے جب ان کی حقیقت تمام دیکھنے والوں پر واضح ہوجائے۔ یہی ہے سنت الہیہ کہ اللہ تعالیٰ کھرے اور کھوٹے کو جدا کرنے کے لیے دونوں کے درمیان اچھی طرح امتیاز کردیتا ہے اور کھرے اور کھوٹے کا امتیاز اس طرح ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو مصائب و شدائد میں مبتلا کردیتا ہے۔

التوبة 9:17

اعلان براءت کے بعد کسی کے لیے اب کوئی حجت باقی نہ رہی کہ کیوں وہ مشرکین کے ساتھ نہ لڑے۔ اب لوگوں کے ذہن میں یہ خلجان بھی نہ رہے کہ مشرکین زیارت حرم سے مھروم ہوں گے الا یہ کہ وہ اب مسجد حرام کی عمارت میں حصہ نہ لے سکیں گے جبکہ جاہلیت میں یہ مشرکین ان کاموں میں شریک ہوا کرتے تھے۔ اس لیے کہ مشرکین کا حق ہی نہیں ہے کہ وہ مسجدیں تعمیر کریں۔ یہ صرف اہل ایمان کا حق ہے کہ وہ مساجد تعمیر کریں اور ان میں فرائض دینی ادا کریں۔ دور جاہلیت میں تو وہ یہ کام کرتے تھے۔ مسجد حرام کی تعمیر اور حاجیوں کو پانی پلانے کا تو اب اس قاعدہ کلیہ سے مستثنی نہیں کیا جاسکتا۔ ان آیات میں ان خلجانات کو رفع کیا گیا ہے جو بعض مسلمانوں کے دلوں میں تھیں کہ اسی اصول نے ایک نیک کام سے لوگوں کو روک دیا ہے۔ مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِيْنَ اَنْ يَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِيْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ : " مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں در آں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں "۔ یہ نہایت ہی مکروہ امر ہے اور اصول فطرت سے متضاد ہے کہ مشرکین مساجد کی تعمیر میں حصہ لیں۔ مساجد تو صرف ذکر الٰہی کے ہیے ہوتی ہیں اور اللہ کے سوا ان میں کسی اور کا نام نہیں لیا جاتا۔ لہذا تعمیر مساجد میں وہ لوگ کیسے حصہ لے سکتے ہیں جن کے دل میں توحید ہی نہ ہو اور وہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہوں۔ پھر ان کی زندگی بھی شہادت حق کے بجائے شہادت کفر دے رہی ہو اور زندگی کی عملی شہادت ایسی شہادت ہوتی ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اس کا تو اقرار ہی کرنا پڑتا ہے۔ اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ ښ وَفِي النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ : " ان کے تو سارے اعمال ضاعئ ہوگئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے "۔ ان کے تو سب اعمال باطل ہیں۔ تعمیر مساجد پر بھی ان کو کوئی اجر ملنے والا نہیں ہے ، کیونکہ انہوں نے عقیدہ توحید قبول کرنے کے بجائے کفر و شرک کو اختیار کیا ہے۔

التوبة 9:18

عبادات و اعمال میں سے معتبر وہ ہوتے ہیں جو عقائد صحیحہ پر مبنی ہوں۔ اگر عقیدہ ہی ٹھیک نہ ہو تو اعمال کیسے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے جب تک ایمان و عقیدہ درست نہ ہوگا مسجد حرام کی تعمیر اور اس میں مراسم عبودیت بجا لانا کوئی معنی نہیں رکھتے۔ لہذا اعمال کو خالص عقیدہ توحید پر مبنی ہونا چاہیے اور یہ اعمال خالص اللہ کے لیے ہونے ضروری ہیں ، تب قبول ہوں گے۔ یہاں دو شرائط ، یعنی ایمان باللہ جو باطنی صفت ہے اور اعمال ظاہریہ کے ساتھ ایک شرط یہ ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی چیز سے خائف نہ ہو ، لازمی شرط ہے۔ یہ نفلی شرط نہیں ہے۔ لہذا اللہ کے لیے خالص ہونا لازمی ہے۔ اور انسان کے شعور ، اس کے طرز عمل میں شرک کا شائبہ تک نہ ہونا چاہیے۔ غیر اللہ سے ڈرنا بھی در اصل شرک خفی کا ایک رنگ ہے۔ اور یہاں قصدا اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تاکہ شعور و اعتقاد اور عمل اور سلوک میں انسان مکمل طور پر خالص اور پاک و صاف ہو۔ اس خلوص کے بعد اب مومن اس بات کا مستحق ہوجاتا ہے کہ وہ مساجد کی دیکھ بھال اور تعمیر کرے اور ایسے ہی لوگ ہدایت کی امید کرسکتے ہیں۔ فَعَسٰٓى اُولٰۗىِٕكَ اَنْ يَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِيْنَ : " انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے "۔ اسی لیے کہ قلب متوجہ ہوتا ہے ، تب اعضاء عمل کرتے ہیں اور یہ سب کچھ تب ہوسکتا ہے کہ اللہ راضی ہو ، اللہ کی مشیئت ہو تو توجہ بھی ہوگی اعمال بھی ہوں گے اور ہدایت و کامیابی بھی ہوگی۔ یہ ہے اصول تعمیر مساجد کا اور یہ ہے اصل ذریعہ عبادات اور مراسم کی درستگی کا۔

التوبة 9:19

اور مسلمانوں اور مشرکوں دونوں کے سامنے یہ اصول رکھا جاتا ہے۔ لہذا وہ لوگ جو جاہلیت میں خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے تھے اور اس میں حاجیوں کو پانی پلاتے تھے ، لیکن ان کے عقائد خالص نہ تھے اور انہوں نے نیک اعمال اور جہاد فی سبیل اللہ میں حصہ بھی نہیں لیا اور لوگ جنہوں نے بیت اللہ کی تعمیر میں حصہ لیا اور جن کا ایمان صحیح کیا اور اس صحیح ایمان پر انہوں نے اچھے اعمال بھی کیے اور اللہ کی راہ میں جہاد بھی کیا باہم برابر نہیں ہوسکتے۔ اَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاۗجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰهَدَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰه ِ ۭ لَا يَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ : " کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھہرا لیا جو ایمان لایا اللہ پر اور روز آخر پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں ؟ اللہ کے نزدیک تو یہ دنوں برابر نہیں ہیں " بیشک برابر نہیں ، کیونکہ اللہ کے میزان اور پیمانوں کے مطابق نہیں اور پیمانے اور اقدار تو اللہ ہی کی ہوتی ہیں۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ : " اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا "۔ وہ مشرک جو دین حق کو قبول نہیں کرتے اور جو اپنے عقائد کو شرک سے پاک نہیں کرتے۔ اگرچہ وہ بیت اللہ کے معمار ہوں اور حاجیوں کے ساقی و خادم ہوں۔

التوبة 9:20

20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔ اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی نعمتوں میں ہوں گے۔

التوبة 9:21

20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔ اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی نعمتوں میں ہوں گے۔

التوبة 9:22

20 ۔ 22: یہ مضمون اب اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین بلند مرتبہ لوگ ہیں۔ اللہ کی رحمت اور رضامندی ان کے انتظار میں ہے اور ان کے لیے جنت میں نعیم مقیم ہے۔ اور اس کے علاوہ اجر عظیم بھی ہے۔ اس آیت میں افضل تفضیل کے صیغے استعمال ہوئے ہیں اعظم درجۃ ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگوں کے درجے اسفل ہیں بلکہ اس سے مطلق فضیلت مراد ہے کیونکہ ان لوگوں کے بالمقابل وہ لوگ جن کے اعمال اکارت گئے اور جہنم میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ لہذا ایسے لوگوں کے درمیان اعمال و درجات کا کوئی تناسب نہیں ہے۔ ایک طرف کافر ہیں اور دوسری جانب مومنین مہاجرین اور مجاہدین ہیں جو اعلی درجوں میں اور دائمی نعمتوں میں ہوں گے۔

التوبة 9:23

اب اگلی آیات میں مسلمانوں کی سوچوں ، شعور اور باہمی روابط کو پاک وصاف کردیا جاتا ہے اس طرح کہ وہ دین رب العالمین کے لیے یکسو ہوجائیں چناچہ تمام رشتہ داریوں کی محبت ، ہر قسم کے مفادات اور تمام انسانی لذات اور خوشیوں کو ترازوں کے ایک پلڑے میں رکھا جاتا ہے اور اللہ ، رسول اللہ اور جہاد فی سبیل اللہ کو دوسرے پلڑے میں رکھا جاتا ہے اور مسلمانوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ آپ اب جو چاہیں ، پسند کرلیں۔ اسلامی نظریہ حیات بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ قلب مومن میں کوئی شریک ہو ، یا تو ہم اپنے دل میں صرف اسلامی نظریہ حیات کو جگہ دیں گے اور یا پھر ہم اسے ترک کرکے دوسری محبتوں کو دل میں جگہ دیں۔ لیکن یہاں مطلوب یہ نہیں ہے کہ ایک مسلمان اپنے اہل و عیال ، اپنے خاندان ، اپنی بیوی خاندان ، اپنی بیوی خاوند ، اپنے مال و اولاد ، اپنے مال و اولاد ، اپنے کاروبار و سامان اور دنیاوی لذتوں سے قطع تعلق کرلے اور وہ رہبان اور تارک الدنیا بن جائے ، یہ ہر گز نہیں ہے ، لیکن اسلامی نظریہ حیات کا مطالبہ یہ ہے کہ ایک مسلمان اسلام کو عزیز و محبوب رکھے ، اس کے دل اور اس کی سوچ پر فکر جائے تو پھر ایسا مومن دنیا کی تمام سرگرمیوں میں شریک ہوسکتا ہے لیکن معیار یہ ہے کہ جب اسلامی انقلاب کا تقاضا ہو تو وہ اپنی تمام سرگرمیاں چھوڑ کر اس تقاضے کو پورا کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ ان دو پوزیشنوں میں کیا لائن ہے ، جو فرق و امتیاز کرتی ہے ؟ یہ کہ آپ کے دل و دماغ اور زندگی پر نظریہ چھایا ہوا ہے یاد دنیا کا ساز و سامان۔ آپ کا پہلا نعرہ اور پہلی گفتگو اسلام کے لیے ہے یا اس دنیا کے اغراض و مطالبات میں سے کسی غرض کے لیے ہے۔ جب ایک مومن مطمئن ہوجائے کہ اس کا دل اور اس کی سوچ پر اسلامی نظریہ حیات چھا گیا ہے تو اس کے بعد اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی۔ اگر وہ بچوں ، بھائیوں ، بیوی خاوند ، خاندان اور مال و دولت اور سازوسامان لطف اندوز ہو اور زندگی کے تمام کاروبار میں شریک ہو ، وہ زیب وزینت بھی اختیار کرسکتا ہے اور اچھا کھا پی سکتا ہے ، بغیر اسراف کے اور بغیر تکبر کے۔ بلکہ ایسے حالات اور ایسے تصورات کے درمیان اس کے لیے یہ تلذذ اور متاع کا استعمال مستحب ہے۔ اس طرح کہ یہ بھی شکر الہی کا ایک رنگ ہوتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو یوں بھی نوازتا ہے جبکہ ان کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ رزق منعم اور وہاب ہے۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْٓا اٰبَاۗءَكُمْ وَاِخْوَانَكُمْ اَوْلِيَاۗءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَي الْاِيْمَانِ : " اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بناؤ، اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں " یوں خالص خون اور نسب کے رابطوں کو توڑ دیا جاتا ہے۔ اگر ایسے افراد کے درمیان نظریاتی روابط ٹوٹ جاتے ہیں ، اگر اللہ کی قرابت داری ختم ہوجائے تو خاندانی رشتے بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ اصل دوستی اللہ کی ہے اور اللہ ہی کے نام پر پوری انسانیت جمع ہوسکتی ہے اور اگر نظریاتی اتحاد نہ ہو تو تمام اتحاد اور رابطے ٹوٹ جاتے ہیں۔ رسی ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتی ہے۔ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ : " تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے " یہاں ظالمون سے مراد ہے مشرکون۔ اگر قوم اور خاندان ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتا ہو تو اس قوم اور خاندان کی دوستی کرنا کفر اور شرک ہے۔ یہ صورت حال ایمان کی کیفیات کے ساتھ لگا نہیں کھاتی۔

التوبة 9:24

یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں کہا گیا کہ اس اصول کو بیان کردیا جائے بلکہ محبتوں کی مثالیں اور رنگ بھی بتا دیے جاتے ہیں۔ کون سے تعلقات ، کون سے روابط اور کون سے لذائذ ایمان کے خلاف ہوں گے تاکہ انہیں ترازو کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور ایمان اور اسلام کے تقاضون کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر مشخص اور ممثل انداز میں بتایا جائے۔ مثلاً اباء ، ابناء ، اخوان ، میاں بیوی اور خاندان یعنی عام خون اور نسب کے رشتے اور قرابت داریاں اور اموال تجارت جن کے ساتھ فطری رغبت ہوتی ہے اور مکانات اور کوٹھیاں جہاں آرام کیا جاتا ہے اور زندگی کی لذتوں سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے ہے ان سب کو ایک پلڑے میں رکھ کر اور حب خدا ، حب رسول اور جہاد کی دلچسپیوں کو دوسرے پلڑے میں رکھ کر دعوت انتخاب دی جاتی ہے یہاں جہاد کے معنی اس قدر سادہ نہیں ہیں۔ جہاد میں مشقتیں ہوتی ہیں اور اس کے مخصوص تقاضے ہوتے ہیں۔ اس میں مشکلات اور واماندگیاں ہوتی ہیں ، اس میں تنگی اور ترشی ہوتی ہے اس میں قربانیاں اور محرومیاں بھی ہوتی ہیں اور اس میں زخم بھی کھائے جاتے ہیں اور جان بھی دینی ہوتی ہے۔ یہ سب کچھ جہاد کے لفظ میں آتا ہے اور یہ سب کچھ اس کیفیت کے ساتھ ہو کہ اس میں شہرت اور نود و نمائش کا شائبہ تک نہ ہو ، جس میں فخر و غرور اور تکبر کا شائبہ تک نہ ہو۔ اس میں ملک گیری اور منصب گیری کا بھی کوئی شائبہ اور اشارہ نہ ہو۔ اگر ان بیماریوں میں سے کوئی بیمار بھی ہو تو مجاہد اجر اخروی سے محروم ہوگا۔ ذرا دوبارہ غور سے پڑھیے :۔ قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ : " اے نبی ﷺ ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ ، اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز و اقارب اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماند پڑجانے کا تم کو خوف ہے ، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے " خبردار ! یہ نہایت ہی مشقت آمیز راہ ہے ، یہ نہایت ہی عظیم ذمہ داری ہے ! لیکن بات یہی ہے ، اگر یہ ذمہ داری پوری نہ کرو گے تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے " اور واللہ لا یہدی القوم الفسقین اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ صرف ایک فرد ہی سے مطالبہ نہیں ہے کہ وہ اس قدر خلوص کا مظاہرہ کرے۔ پوری جامعت مسلمہ سے اس قسم کے خلوص کا مطالبہ ہو رہا ہے۔ اسلامی مملکت کو بھی اس طرح مخلص ہونا چاہیے۔ اس لیے اسلامی معاشرے میں کوئی ترجیح اور کوئی نصب العین اسلامی نظریہ حیات اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقتضیات سے اہم نہیں ہونا چاہیے۔ کیا فطرت انسانی اس معیار پر جاسکتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ اللہ نے جب اہل ایمان سے اس معیار کا تقاضا کیا تو ایسا معیار پیش کرنا ممکن ہے ، تبھی تو کیا ہے۔ کیونکہ اللہ کسی بھی نفس سے وہ مطالبہ نہیں فرماتے جو اس کے دائرہ طاقت میں نہ ہو۔ یہ اللہ کی نہایت کریمی ہے کہ اس نے اس ضعیف انسان کے اندر اس قدر صلاحیت اور طاقت رکھی ہے کہ وہ اس قدر مخلصانہ معیار پیش کرے اور اس قدر مشکلات برداشت کرے اور اس کو اس شعور اور خلوص کے اندر اس قدر لذت دی ہے کہ وہ اس کے لیے تمام لذات ارضی کو خیر آباد کہہ سکتا ہے۔ خدا کے ساتھ اتصال اور خدا رسیدگی کا شعور۔ اللہ کی رضا کے حصول کا شعور۔ انسان کو انسانی ضعف ، گراوٹ اور خون اور گوشت و پوست کی لذتوں سے بلند کردیتا ہے اور اس کی نظر دور افق پر کسی بلند مقام پر مرکوز ہوتی ہے۔ جب بھی اس دنیا کی سفلی لذات اس کا دامن کھینچتی ہیں تو وہ نظریں بلند افق پر ایک روشن نصب العین پر مرکوز کردیتا ہے اور اس طرح وہ دامن چھڑا لیتا ہے۔ ۔۔۔

التوبة 9:25

25 ۔ تا۔ 27: اب ذرا ماضی قریب کی یادوں کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں۔ مسلمان قریب ہی کے زمانے میں ان حالات ہو کر گزرے تھے۔ ان حالات میں اللہ کی خاص نصرت نے کرشمہ دکھایا تھا۔ یہ کرشمہ ان کی قوت اور تعداد کا نہ تھا۔ حنین کے دن تو وہ بڑی تعداد میں تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے مگر شکست کھا گئے۔ بعد میں اللہ کی نصرت جب آئی تو حالات کا نقشہ بدل گیا۔ اس دن فتح مکہ کے دو ہزار طلقاء اسلامی لشکر میں گھل مل گئے تھے۔ چند لمحے مسلمانوں پر ایسے آگئے تھے جب وہ قوت اور کثرت کے نشے غافل ہوگئے تھے۔ محض تعداد اور سازوسامان کی وجہ سے۔ یہ سبق تھا اہل ایمان کے لیے کہ خلوص اور للہ فی اللہ جہاد کے کیا معنی ہوتے ہیں کہ جب اللہ سے رابطے ہوں تو قلت تعداد میں بھی فتح ہے لیکن اگر اعتماد سازوسامان اور غیر مخلص بڑی تعداد پر کرلیا جائے تو میدان مارنا مشکل ہوگا۔ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات و ایام میں مسلمانوں کی نصرت کی تھی اور ان ایام کی یادیں ان کے ذہن میں تازہ تھیں۔ حنین کی جنگ شوال آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے بعد پیش آئی جب حضور فتح مکہ کے معاملات سے فارغ ہوئے اور فتح مکہ کے امور درست ہوگئے اور عام اہل مکہ مسلمان ہوگئے۔ اور حضور نے ان کو معاف کردیا اور اس طرح وہ " طلقاء " کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اس موقعہ پر اپ کو یہ اطلاع ملی کہ قبائل ہوازن آپ کے خلاف جنگی کاروائی کرنے والے ہیں اور ان کے امیر مالک ابن عوف نضری قبائل ثقیف بن جثم و بنو سعد ابن بکر اور کچھ لوگ بنی بلالا اور کچھ ہبنی عمر ابن عامر اور عوف ابن عامر کے ، اس کی تائید میں ہیں۔ یہ لوگ عورتوں اور بچوں اور مال مویشی کو بھی ساتھ لائے ہیں اور سب کے سب اس لشکر میں نکل آئے۔ حضور اکرم ﷺ فتح مکہ کے لشکر کو لے کر ان کے مقابلے میں نکلے۔ یہ لشکر دس ہزار انصار و مہاجرین پر مشتمل تھا۔ اور کئی عرب قبائل اس میں شریک تھے۔ اور ان لوگوں میں وہ لوگ بھی تھے جو کل ہی مکہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ جنہیں طلقاء کہا جاتا تھا اور ان کی تعداد دو ہزار تھی۔ اس لشکر کو لے کر حضور دشمن کی طرف نکلے۔ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی میں ان دونوں لشکوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اس وادی کو وادی حنین کہا جاتا تھا۔ یہ مڈ بھیڑ دن کے آغاز ہی میں صبح کی ساہی میں ہوگئی۔ مسلمان جب سے وادی میں اترے تو آگے ہوازن کمین گاہوں میں چھپے ہوئے تھے۔ جب مسلمان وادی میں اترے تو انہیں پتہ چلا کہ ہوازن حملہ آور ہوگئے۔ انہوں نے تیروں کی بارش کردی اور تلواریں سونت لیں اور اس طرح حملہ کیا جس طرح ایک انسان حملہ کرتا ہے۔ یہ یکبارگی حملہ تھا اور اس کی پلاننگ ان کے بادشاہ نے کی تھی۔ پہلے حملے میں مسلمان بھاگ گئے جیسا کہ اللہ نے نص میں فرمایا۔ حضور ﷺ شہبا خچر پر سوار تھے۔ آپ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ حضور ﷺ کے خچر کا دایاں لگام حضرت عباس نے پکڑا ہوا تھا اور بائیں جانب سے ابو سفیان لگام کو تھامے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اس خچر کو روک رہے تھے کہ وہ جلدی دشمن کے درمیان تک نہ پہنچ جائے۔ حضور ﷺ اپنا نام لے کر لوگوں کو کو پکارا اور دعوت دی کہ لوٹ آؤ۔ " اے لوگو میری طرف آؤ میں رسول اللہ ہوں " اور ایسے ہی حالات میں آپ نے رجز پڑھا انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب۔ تقریباً سو افراد آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اسی افراد تھے۔ ان میں سے حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، عباس ، علی ، فضل ابن عباس ، ابو سفیان ابن الحارث ، ایمن ابن ام ایمن ، اسامہ بن زید وغیرہ ؓ اس کے بعد حضور ﷺ نے حضرت عباس سے کہا ، یہ بہت بلند آواز تھے کہ بلند آواز سے پکاریں۔ اے درخت کے نیچے بیعت رضوان کرنے والو ! اس درخت کے نیچے مسلمانوں نے بیعت کی تھی کہ وہ جنگ میں فرار اختیار نہ کریں گے۔ اس طرح اس نام سے بھی ان کو پکارا گیا ، اے اصحاب سمرہ ، اے اصحاب سورت بقرہ ، اس طرح لوگ سنتے اور یا لبیک یا لبیک کہتے ہوئے لوٹتے۔ چناچہ سب لوگ واپس ہوئے اور رسولا للہ کے پاس جمع ہوگئے۔ لوگ اس طرح لوٹے کہ اگر کسی کا اونٹ واپس نہ ہوتا تو وہ اپنی زرہ پہن کر کود پڑتا اور اونٹ کو چھوڑ دیتا۔ اور اپنی ذات کو رسول اللہ تک پہنچاتا۔ جن لوگوں کی ایک تعداد حضور ﷺ کے پاس جمع ہوگئی تو آپ نے ان کو سچائی کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا۔ چناچہ کفار کو شکست ہوئی اور وہ بھاگنے لگے۔ مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کو قتل کیا اور گرفتار کیا اور لوگ تب واپس ہوئے کہ رسول اللہ کے سامنے قیدیوں کی ایک فوج جم گئی۔ یہ تھی وہ جنگ جس میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کے پاس 12 ہزار کی ایک عظیم تعداد جمع ہوگئی تھی۔ یہ تعداد انہیں ناقابل شکست نظر آئی۔ وہ پہلی فتح یابیوں کی وجہ سے غافل ہوگئے۔ اللہ نے اس معرکے کے آغاز میں ان کو شکست سے دوچار کردیا۔ اس طرح ان کی غفلت دور ہوئی اور اس کے بعد جب حضور ﷺ کے پاس ایک نسبتاً قلیل تعداد جمع ہوئی تو اللہ نے کامیابی عطا کی کیونکہ یہ تعداد حضور کے ساتھ جم گئی تھی۔ آیت میں اس معرکے کے بعض مناظر کو دہرایا گیا ہے اور اس کے شعوری تاثرات یہاں نقل کیے ہیں۔ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ : " اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کرچکا ہے۔ ابھی غزوہ حنین کے روز (اس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے ہو) سا روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرہ تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے " پہلا تاثر یہ کہ ہم بہت زیادہ ہیں۔ پھر روحانی شکست کہ جب انسان پر عرصہ زمین تنگ محسوس ہونے لگتا ہے۔ پھر وہ مشکل وقت کہ جس میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس پر ہمہ جہت دباؤ ہے۔ پھر حسی شکست کہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ان تمام تاثرات کے بعد یہ تاثر ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ : "" پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنین پر نازل فرمائی "۔ گویا سکینہ ایک چادر ہے جو آسمان سے اتری۔ اس نے دلوں کو مضبوط کردیا اور اس نے ان عارضی تاثرات کو ٹھنڈا کردیا۔ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا : " اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے " یہ کیسے لشکر تھے ، ان کی ماہیت اور طبیعت سے ہم واقف نہیں اور اللہ کی قوتوں اور افواج کو اللہ ہی جانتا ہے۔ وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا " اور منکرین حق کو سزا دی " ان کو قتل ہونے ، لٹنے اور شکست کے ذریعے سزا دی گئی۔ و ذلک جزاء الکفرین کہ یہی بدلہ ہے ان لوگوں کے لیے جو حق کا انکار کریں " ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: پھر (تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ) اس طرح سزا دینے کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی بخش دیتا ہے ، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ کیونکہ مغفرت کا دروازہ اللہ کے ہاں ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور خطا کار جس وقت چاہیں توبہ کرکے واپس آسکتے ہیں۔ یہاں غزوہ حنین کی اس جھلکی کو اس لیے پیش کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ جو لوگ اللہ سے غافل ہوجاتے ہیں ، اور اللہ کے بجائے دوسری قوتوں پر اعتماد کرنے لگتے ہیں اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ لیکن اس واقعہ سے ہمارے سامنے ایک دوسری ضمنی حقیقت بھی آجاتی ہے۔ اور یہ دوسری حقیقت ہی ہے کہ وہ کون سی قوت ہے جس جس پر کوئی نظریہ اعتماد کرسکتا ہے۔ نظریاتی تحریکات میں تعدادی کثرت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ ثابت قدم اور نظریات کے جاننے والے مخلص لوگوں کی ایک چھوٹی تعداد ہی اہمیت رکھتی ہے۔ بعض اوقات بڑی تعداد ہزیمت کا سبب بنتی ہے کیونکہ بعض وقتی قسم کے لوگ اس میں داخل ہوجاتے ہیں اور انہوں نے نظریہ حیات کو اچھی طرح سمجھا ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ حالات کے دھارے میں بہہ نکلے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر جب مشکل حالات آتے ہیں تو ان کے قدم متزلزل ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ نظریاتی صفوں میں اضطراب پیدا کردیتے ہیں اور ہزیمت اور شکست کا باعث بنتے ہیں پھر ایک بھیڑ قیادت کے لیے بھی دھوکے کا سبب بمنتی ہے۔ اور بھیڑ میں لوگوں کا باہم مضبط روابط اور تعلقات نہیں ہوتے نہ وہ اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتے ہیں اور یوں قیادت کو دھوکہ ہوتا ہے کہ نصرت اور کامیابی تعداد کی وجہ سے ہے ، حالانکہ راز یہ ہے کہ فتح و نصرت ، اخلاص اور تربیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ہمیشہ یوں ہوا ہے کہ مخلصین کی ایک چھوٹی سی پاکیزہ تعداد کسی نظریہ کو لے کر اٹھتی ہے۔ عوام کی بھیڑ جو پانی پر جھاگ کی طرح ہوتی ہے کسی نظریہ کی حامل نہیں ہوسکتی اور گھاس اور کوڑا کرکٹ مشکلات کی مشکلات کی آندھیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ جب بات یہاں تک آپہنچتی ہے اور مسلمانوں کے شعور میں تاریخی واقعات بٹھا دیے جاتے ہیں تو اب مشرکین کے بارے میں فائنل پالیسی کو آخری الفاظ دیے جاتے ہیں جو پالیسی قیامت تک رہے گی۔ (دیکھیے آیت 28)

التوبة 9:26

25 ۔ تا۔ 27: اب ذرا ماضی قریب کی یادوں کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں۔ مسلمان قریب ہی کے زمانے میں ان حالات ہو کر گزرے تھے۔ ان حالات میں اللہ کی خاص نصرت نے کرشمہ دکھایا تھا۔ یہ کرشمہ ان کی قوت اور تعداد کا نہ تھا۔ حنین کے دن تو وہ بڑی تعداد میں تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے مگر شکست کھا گئے۔ بعد میں اللہ کی نصرت جب آئی تو حالات کا نقشہ بدل گیا۔ اس دن فتح مکہ کے دو ہزار طلقاء اسلامی لشکر میں گھل مل گئے تھے۔ چند لمحے مسلمانوں پر ایسے آگئے تھے جب وہ قوت اور کثرت کے نشے غافل ہوگئے تھے۔ محض تعداد اور سازوسامان کی وجہ سے۔ یہ سبق تھا اہل ایمان کے لیے کہ خلوص اور للہ فی اللہ جہاد کے کیا معنی ہوتے ہیں کہ جب اللہ سے رابطے ہوں تو قلت تعداد میں بھی فتح ہے لیکن اگر اعتماد سازوسامان اور غیر مخلص بڑی تعداد پر کرلیا جائے تو میدان مارنا مشکل ہوگا۔ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات و ایام میں مسلمانوں کی نصرت کی تھی اور ان ایام کی یادیں ان کے ذہن میں تازہ تھیں۔ حنین کی جنگ شوال آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے بعد پیش آئی جب حضور فتح مکہ کے معاملات سے فارغ ہوئے اور فتح مکہ کے امور درست ہوگئے اور عام اہل مکہ مسلمان ہوگئے۔ اور حضور نے ان کو معاف کردیا اور اس طرح وہ " طلقاء " کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اس موقعہ پر اپ کو یہ اطلاع ملی کہ قبائل ہوازن آپ کے خلاف جنگی کاروائی کرنے والے ہیں اور ان کے امیر مالک ابن عوف نضری قبائل ثقیف بن جثم و بنو سعد ابن بکر اور کچھ لوگ بنی بلالا اور کچھ ہبنی عمر ابن عامر اور عوف ابن عامر کے ، اس کی تائید میں ہیں۔ یہ لوگ عورتوں اور بچوں اور مال مویشی کو بھی ساتھ لائے ہیں اور سب کے سب اس لشکر میں نکل آئے۔ حضور اکرم ﷺ فتح مکہ کے لشکر کو لے کر ان کے مقابلے میں نکلے۔ یہ لشکر دس ہزار انصار و مہاجرین پر مشتمل تھا۔ اور کئی عرب قبائل اس میں شریک تھے۔ اور ان لوگوں میں وہ لوگ بھی تھے جو کل ہی مکہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ جنہیں طلقاء کہا جاتا تھا اور ان کی تعداد دو ہزار تھی۔ اس لشکر کو لے کر حضور دشمن کی طرف نکلے۔ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی میں ان دونوں لشکوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اس وادی کو وادی حنین کہا جاتا تھا۔ یہ مڈ بھیڑ دن کے آغاز ہی میں صبح کی ساہی میں ہوگئی۔ مسلمان جب سے وادی میں اترے تو آگے ہوازن کمین گاہوں میں چھپے ہوئے تھے۔ جب مسلمان وادی میں اترے تو انہیں پتہ چلا کہ ہوازن حملہ آور ہوگئے۔ انہوں نے تیروں کی بارش کردی اور تلواریں سونت لیں اور اس طرح حملہ کیا جس طرح ایک انسان حملہ کرتا ہے۔ یہ یکبارگی حملہ تھا اور اس کی پلاننگ ان کے بادشاہ نے کی تھی۔ پہلے حملے میں مسلمان بھاگ گئے جیسا کہ اللہ نے نص میں فرمایا۔ حضور ﷺ شہبا خچر پر سوار تھے۔ آپ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ حضور ﷺ کے خچر کا دایاں لگام حضرت عباس نے پکڑا ہوا تھا اور بائیں جانب سے ابو سفیان لگام کو تھامے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اس خچر کو روک رہے تھے کہ وہ جلدی دشمن کے درمیان تک نہ پہنچ جائے۔ حضور ﷺ اپنا نام لے کر لوگوں کو کو پکارا اور دعوت دی کہ لوٹ آؤ۔ " اے لوگو میری طرف آؤ میں رسول اللہ ہوں " اور ایسے ہی حالات میں آپ نے رجز پڑھا انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب۔ تقریباً سو افراد آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اسی افراد تھے۔ ان میں سے حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، عباس ، علی ، فضل ابن عباس ، ابو سفیان ابن الحارث ، ایمن ابن ام ایمن ، اسامہ بن زید وغیرہ ؓ اس کے بعد حضور ﷺ نے حضرت عباس سے کہا ، یہ بہت بلند آواز تھے کہ بلند آواز سے پکاریں۔ اے درخت کے نیچے بیعت رضوان کرنے والو ! اس درخت کے نیچے مسلمانوں نے بیعت کی تھی کہ وہ جنگ میں فرار اختیار نہ کریں گے۔ اس طرح اس نام سے بھی ان کو پکارا گیا ، اے اصحاب سمرہ ، اے اصحاب سورت بقرہ ، اس طرح لوگ سنتے اور یا لبیک یا لبیک کہتے ہوئے لوٹتے۔ چناچہ سب لوگ واپس ہوئے اور رسولا للہ کے پاس جمع ہوگئے۔ لوگ اس طرح لوٹے کہ اگر کسی کا اونٹ واپس نہ ہوتا تو وہ اپنی زرہ پہن کر کود پڑتا اور اونٹ کو چھوڑ دیتا۔ اور اپنی ذات کو رسول اللہ تک پہنچاتا۔ جن لوگوں کی ایک تعداد حضور ﷺ کے پاس جمع ہوگئی تو آپ نے ان کو سچائی کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا۔ چناچہ کفار کو شکست ہوئی اور وہ بھاگنے لگے۔ مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کو قتل کیا اور گرفتار کیا اور لوگ تب واپس ہوئے کہ رسول اللہ کے سامنے قیدیوں کی ایک فوج جم گئی۔ یہ تھی وہ جنگ جس میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کے پاس 12 ہزار کی ایک عظیم تعداد جمع ہوگئی تھی۔ یہ تعداد انہیں ناقابل شکست نظر آئی۔ وہ پہلی فتح یابیوں کی وجہ سے غافل ہوگئے۔ اللہ نے اس معرکے کے آغاز میں ان کو شکست سے دوچار کردیا۔ اس طرح ان کی غفلت دور ہوئی اور اس کے بعد جب حضور ﷺ کے پاس ایک نسبتاً قلیل تعداد جمع ہوئی تو اللہ نے کامیابی عطا کی کیونکہ یہ تعداد حضور کے ساتھ جم گئی تھی۔ آیت میں اس معرکے کے بعض مناظر کو دہرایا گیا ہے اور اس کے شعوری تاثرات یہاں نقل کیے ہیں۔ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ : " اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کرچکا ہے۔ ابھی غزوہ حنین کے روز (اس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے ہو) سا روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرہ تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے " پہلا تاثر یہ کہ ہم بہت زیادہ ہیں۔ پھر روحانی شکست کہ جب انسان پر عرصہ زمین تنگ محسوس ہونے لگتا ہے۔ پھر وہ مشکل وقت کہ جس میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس پر ہمہ جہت دباؤ ہے۔ پھر حسی شکست کہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ان تمام تاثرات کے بعد یہ تاثر ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ : "" پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنین پر نازل فرمائی "۔ گویا سکینہ ایک چادر ہے جو آسمان سے اتری۔ اس نے دلوں کو مضبوط کردیا اور اس نے ان عارضی تاثرات کو ٹھنڈا کردیا۔ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا : " اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے " یہ کیسے لشکر تھے ، ان کی ماہیت اور طبیعت سے ہم واقف نہیں اور اللہ کی قوتوں اور افواج کو اللہ ہی جانتا ہے۔ وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا " اور منکرین حق کو سزا دی " ان کو قتل ہونے ، لٹنے اور شکست کے ذریعے سزا دی گئی۔ و ذلک جزاء الکفرین کہ یہی بدلہ ہے ان لوگوں کے لیے جو حق کا انکار کریں " ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: پھر (تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ) اس طرح سزا دینے کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی بخش دیتا ہے ، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ کیونکہ مغفرت کا دروازہ اللہ کے ہاں ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور خطا کار جس وقت چاہیں توبہ کرکے واپس آسکتے ہیں۔ یہاں غزوہ حنین کی اس جھلکی کو اس لیے پیش کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ جو لوگ اللہ سے غافل ہوجاتے ہیں ، اور اللہ کے بجائے دوسری قوتوں پر اعتماد کرنے لگتے ہیں اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ لیکن اس واقعہ سے ہمارے سامنے ایک دوسری ضمنی حقیقت بھی آجاتی ہے۔ اور یہ دوسری حقیقت ہی ہے کہ وہ کون سی قوت ہے جس جس پر کوئی نظریہ اعتماد کرسکتا ہے۔ نظریاتی تحریکات میں تعدادی کثرت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ ثابت قدم اور نظریات کے جاننے والے مخلص لوگوں کی ایک چھوٹی تعداد ہی اہمیت رکھتی ہے۔ بعض اوقات بڑی تعداد ہزیمت کا سبب بنتی ہے کیونکہ بعض وقتی قسم کے لوگ اس میں داخل ہوجاتے ہیں اور انہوں نے نظریہ حیات کو اچھی طرح سمجھا ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ حالات کے دھارے میں بہہ نکلے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر جب مشکل حالات آتے ہیں تو ان کے قدم متزلزل ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ نظریاتی صفوں میں اضطراب پیدا کردیتے ہیں اور ہزیمت اور شکست کا باعث بنتے ہیں پھر ایک بھیڑ قیادت کے لیے بھی دھوکے کا سبب بمنتی ہے۔ اور بھیڑ میں لوگوں کا باہم مضبط روابط اور تعلقات نہیں ہوتے نہ وہ اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتے ہیں اور یوں قیادت کو دھوکہ ہوتا ہے کہ نصرت اور کامیابی تعداد کی وجہ سے ہے ، حالانکہ راز یہ ہے کہ فتح و نصرت ، اخلاص اور تربیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ہمیشہ یوں ہوا ہے کہ مخلصین کی ایک چھوٹی سی پاکیزہ تعداد کسی نظریہ کو لے کر اٹھتی ہے۔ عوام کی بھیڑ جو پانی پر جھاگ کی طرح ہوتی ہے کسی نظریہ کی حامل نہیں ہوسکتی اور گھاس اور کوڑا کرکٹ مشکلات کی مشکلات کی آندھیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ جب بات یہاں تک آپہنچتی ہے اور مسلمانوں کے شعور میں تاریخی واقعات بٹھا دیے جاتے ہیں تو اب مشرکین کے بارے میں فائنل پالیسی کو آخری الفاظ دیے جاتے ہیں جو پالیسی قیامت تک رہے گی۔ (دیکھیے آیت 28)

التوبة 9:27

25 ۔ تا۔ 27: اب ذرا ماضی قریب کی یادوں کی ایک جھلکی ملاحظہ فرمائیں۔ مسلمان قریب ہی کے زمانے میں ان حالات ہو کر گزرے تھے۔ ان حالات میں اللہ کی خاص نصرت نے کرشمہ دکھایا تھا۔ یہ کرشمہ ان کی قوت اور تعداد کا نہ تھا۔ حنین کے دن تو وہ بڑی تعداد میں تھے اور بڑی قوت رکھتے تھے مگر شکست کھا گئے۔ بعد میں اللہ کی نصرت جب آئی تو حالات کا نقشہ بدل گیا۔ اس دن فتح مکہ کے دو ہزار طلقاء اسلامی لشکر میں گھل مل گئے تھے۔ چند لمحے مسلمانوں پر ایسے آگئے تھے جب وہ قوت اور کثرت کے نشے غافل ہوگئے تھے۔ محض تعداد اور سازوسامان کی وجہ سے۔ یہ سبق تھا اہل ایمان کے لیے کہ خلوص اور للہ فی اللہ جہاد کے کیا معنی ہوتے ہیں کہ جب اللہ سے رابطے ہوں تو قلت تعداد میں بھی فتح ہے لیکن اگر اعتماد سازوسامان اور غیر مخلص بڑی تعداد پر کرلیا جائے تو میدان مارنا مشکل ہوگا۔ ۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات و ایام میں مسلمانوں کی نصرت کی تھی اور ان ایام کی یادیں ان کے ذہن میں تازہ تھیں۔ حنین کی جنگ شوال آٹھ ہجری میں فتح مکہ کے بعد پیش آئی جب حضور فتح مکہ کے معاملات سے فارغ ہوئے اور فتح مکہ کے امور درست ہوگئے اور عام اہل مکہ مسلمان ہوگئے۔ اور حضور نے ان کو معاف کردیا اور اس طرح وہ " طلقاء " کے نام سے مشہور ہوگئے۔ اس موقعہ پر اپ کو یہ اطلاع ملی کہ قبائل ہوازن آپ کے خلاف جنگی کاروائی کرنے والے ہیں اور ان کے امیر مالک ابن عوف نضری قبائل ثقیف بن جثم و بنو سعد ابن بکر اور کچھ لوگ بنی بلالا اور کچھ ہبنی عمر ابن عامر اور عوف ابن عامر کے ، اس کی تائید میں ہیں۔ یہ لوگ عورتوں اور بچوں اور مال مویشی کو بھی ساتھ لائے ہیں اور سب کے سب اس لشکر میں نکل آئے۔ حضور اکرم ﷺ فتح مکہ کے لشکر کو لے کر ان کے مقابلے میں نکلے۔ یہ لشکر دس ہزار انصار و مہاجرین پر مشتمل تھا۔ اور کئی عرب قبائل اس میں شریک تھے۔ اور ان لوگوں میں وہ لوگ بھی تھے جو کل ہی مکہ میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ جنہیں طلقاء کہا جاتا تھا اور ان کی تعداد دو ہزار تھی۔ اس لشکر کو لے کر حضور دشمن کی طرف نکلے۔ مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی میں ان دونوں لشکوں کا آمنا سامنا ہوا۔ اس وادی کو وادی حنین کہا جاتا تھا۔ یہ مڈ بھیڑ دن کے آغاز ہی میں صبح کی ساہی میں ہوگئی۔ مسلمان جب سے وادی میں اترے تو آگے ہوازن کمین گاہوں میں چھپے ہوئے تھے۔ جب مسلمان وادی میں اترے تو انہیں پتہ چلا کہ ہوازن حملہ آور ہوگئے۔ انہوں نے تیروں کی بارش کردی اور تلواریں سونت لیں اور اس طرح حملہ کیا جس طرح ایک انسان حملہ کرتا ہے۔ یہ یکبارگی حملہ تھا اور اس کی پلاننگ ان کے بادشاہ نے کی تھی۔ پہلے حملے میں مسلمان بھاگ گئے جیسا کہ اللہ نے نص میں فرمایا۔ حضور ﷺ شہبا خچر پر سوار تھے۔ آپ اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ حضور ﷺ کے خچر کا دایاں لگام حضرت عباس نے پکڑا ہوا تھا اور بائیں جانب سے ابو سفیان لگام کو تھامے ہوئے تھے۔ یہ لوگ اس خچر کو روک رہے تھے کہ وہ جلدی دشمن کے درمیان تک نہ پہنچ جائے۔ حضور ﷺ اپنا نام لے کر لوگوں کو کو پکارا اور دعوت دی کہ لوٹ آؤ۔ " اے لوگو میری طرف آؤ میں رسول اللہ ہوں " اور ایسے ہی حالات میں آپ نے رجز پڑھا انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب۔ تقریباً سو افراد آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اسی افراد تھے۔ ان میں سے حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، عباس ، علی ، فضل ابن عباس ، ابو سفیان ابن الحارث ، ایمن ابن ام ایمن ، اسامہ بن زید وغیرہ ؓ اس کے بعد حضور ﷺ نے حضرت عباس سے کہا ، یہ بہت بلند آواز تھے کہ بلند آواز سے پکاریں۔ اے درخت کے نیچے بیعت رضوان کرنے والو ! اس درخت کے نیچے مسلمانوں نے بیعت کی تھی کہ وہ جنگ میں فرار اختیار نہ کریں گے۔ اس طرح اس نام سے بھی ان کو پکارا گیا ، اے اصحاب سمرہ ، اے اصحاب سورت بقرہ ، اس طرح لوگ سنتے اور یا لبیک یا لبیک کہتے ہوئے لوٹتے۔ چناچہ سب لوگ واپس ہوئے اور رسولا للہ کے پاس جمع ہوگئے۔ لوگ اس طرح لوٹے کہ اگر کسی کا اونٹ واپس نہ ہوتا تو وہ اپنی زرہ پہن کر کود پڑتا اور اونٹ کو چھوڑ دیتا۔ اور اپنی ذات کو رسول اللہ تک پہنچاتا۔ جن لوگوں کی ایک تعداد حضور ﷺ کے پاس جمع ہوگئی تو آپ نے ان کو سچائی کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا۔ چناچہ کفار کو شکست ہوئی اور وہ بھاگنے لگے۔ مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کو قتل کیا اور گرفتار کیا اور لوگ تب واپس ہوئے کہ رسول اللہ کے سامنے قیدیوں کی ایک فوج جم گئی۔ یہ تھی وہ جنگ جس میں پہلی مرتبہ مسلمانوں کے پاس 12 ہزار کی ایک عظیم تعداد جمع ہوگئی تھی۔ یہ تعداد انہیں ناقابل شکست نظر آئی۔ وہ پہلی فتح یابیوں کی وجہ سے غافل ہوگئے۔ اللہ نے اس معرکے کے آغاز میں ان کو شکست سے دوچار کردیا۔ اس طرح ان کی غفلت دور ہوئی اور اس کے بعد جب حضور ﷺ کے پاس ایک نسبتاً قلیل تعداد جمع ہوئی تو اللہ نے کامیابی عطا کی کیونکہ یہ تعداد حضور کے ساتھ جم گئی تھی۔ آیت میں اس معرکے کے بعض مناظر کو دہرایا گیا ہے اور اس کے شعوری تاثرات یہاں نقل کیے ہیں۔ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِيْ مَوَاطِنَ كَثِيْرَةٍ ۙ وَّيَوْمَ حُنَيْنٍ ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْــــًٔـا وَّضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ : " اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کرچکا ہے۔ ابھی غزوہ حنین کے روز (اس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے ہو) سا روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرہ تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے " پہلا تاثر یہ کہ ہم بہت زیادہ ہیں۔ پھر روحانی شکست کہ جب انسان پر عرصہ زمین تنگ محسوس ہونے لگتا ہے۔ پھر وہ مشکل وقت کہ جس میں انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس پر ہمہ جہت دباؤ ہے۔ پھر حسی شکست کہ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ان تمام تاثرات کے بعد یہ تاثر ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلٰي رَسُوْلِهٖ وَعَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ : "" پھر اللہ نے اپنی سکینت اپنے رسول پر اور مومنین پر نازل فرمائی "۔ گویا سکینہ ایک چادر ہے جو آسمان سے اتری۔ اس نے دلوں کو مضبوط کردیا اور اس نے ان عارضی تاثرات کو ٹھنڈا کردیا۔ وَاَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا : " اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے " یہ کیسے لشکر تھے ، ان کی ماہیت اور طبیعت سے ہم واقف نہیں اور اللہ کی قوتوں اور افواج کو اللہ ہی جانتا ہے۔ وَعَذَّبَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا " اور منکرین حق کو سزا دی " ان کو قتل ہونے ، لٹنے اور شکست کے ذریعے سزا دی گئی۔ و ذلک جزاء الکفرین کہ یہی بدلہ ہے ان لوگوں کے لیے جو حق کا انکار کریں " ثُمَّ يَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰي مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: پھر (تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ) اس طرح سزا دینے کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی بخش دیتا ہے ، اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ کیونکہ مغفرت کا دروازہ اللہ کے ہاں ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور خطا کار جس وقت چاہیں توبہ کرکے واپس آسکتے ہیں۔ یہاں غزوہ حنین کی اس جھلکی کو اس لیے پیش کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ جو لوگ اللہ سے غافل ہوجاتے ہیں ، اور اللہ کے بجائے دوسری قوتوں پر اعتماد کرنے لگتے ہیں اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ لیکن اس واقعہ سے ہمارے سامنے ایک دوسری ضمنی حقیقت بھی آجاتی ہے۔ اور یہ دوسری حقیقت ہی ہے کہ وہ کون سی قوت ہے جس جس پر کوئی نظریہ اعتماد کرسکتا ہے۔ نظریاتی تحریکات میں تعدادی کثرت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ ثابت قدم اور نظریات کے جاننے والے مخلص لوگوں کی ایک چھوٹی تعداد ہی اہمیت رکھتی ہے۔ بعض اوقات بڑی تعداد ہزیمت کا سبب بنتی ہے کیونکہ بعض وقتی قسم کے لوگ اس میں داخل ہوجاتے ہیں اور انہوں نے نظریہ حیات کو اچھی طرح سمجھا ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ حالات کے دھارے میں بہہ نکلے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر جب مشکل حالات آتے ہیں تو ان کے قدم متزلزل ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ نظریاتی صفوں میں اضطراب پیدا کردیتے ہیں اور ہزیمت اور شکست کا باعث بنتے ہیں پھر ایک بھیڑ قیادت کے لیے بھی دھوکے کا سبب بمنتی ہے۔ اور بھیڑ میں لوگوں کا باہم مضبط روابط اور تعلقات نہیں ہوتے نہ وہ اللہ کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتے ہیں اور یوں قیادت کو دھوکہ ہوتا ہے کہ نصرت اور کامیابی تعداد کی وجہ سے ہے ، حالانکہ راز یہ ہے کہ فتح و نصرت ، اخلاص اور تربیت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ ہمیشہ یوں ہوا ہے کہ مخلصین کی ایک چھوٹی سی پاکیزہ تعداد کسی نظریہ کو لے کر اٹھتی ہے۔ عوام کی بھیڑ جو پانی پر جھاگ کی طرح ہوتی ہے کسی نظریہ کی حامل نہیں ہوسکتی اور گھاس اور کوڑا کرکٹ مشکلات کی مشکلات کی آندھیوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ جب بات یہاں تک آپہنچتی ہے اور مسلمانوں کے شعور میں تاریخی واقعات بٹھا دیے جاتے ہیں تو اب مشرکین کے بارے میں فائنل پالیسی کو آخری الفاظ دیے جاتے ہیں جو پالیسی قیامت تک رہے گی۔ (دیکھیے آیت 28)

التوبة 9:28

مشرکین نجس عین ہیں ، ان کی روح اس قدر ناپاک ہے کہ یہ ناپاکی ان کے خون اور گوشت میں بھی سرایت کرگئی ہے۔ لہذا وہ کلیۃً نجس ہیں۔ پاکیزہ احساس ان کا تصور کرتے ہی ابا کرتا ہے۔ کراہت محسوس کرتا ہے اور پاکیزہ مزاج لوگ ان سے دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ یہ معنوی نجاست ہے جو حسی نجاست سے زیادہ تیز ہے۔ ان کے اجسام نجس نہ ہوگے یہ قرآن کریم کا نہایت ہی موثر انداز تعبیر ہے جو روحانیات کو بھی حسی بنا دیتا ہے۔ جب نجس ہیں تو پھر کیا حکم ہے ؟ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، مشرکین ناپاک ہیں ، لہذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔ چونکہ مسجد حرام پاک ہے اور یہ ناپاک ہیں اس لیے ان کو مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے دیا جائے۔ حکم کو ان کی شخصیت سے متعلق کردیا گیا۔ لیکن اس اقدام کے معاشی نتائج بھی تو بھیانک تھے۔ موسم حج اور موسم تجارت آنے ہی والا تھا ، جس پر ان کا سالانہ بجٹ چلتا تھا۔ جزیرۃ العرب کے اکثر لوگ اس میں تجارت کرتے تھے اور ان کی گرمیوں اور سردیوں کے سفر بھی اسی نظام پر موقوف تھے۔ اور یہ ان کی معاشی زندگی کا خلاصہ تھا۔ اگر مشرکین کو یوں یکلخت منع کردیا جائے تو پوری زندگی کا متاثر ہونا لازمی ہے۔ پھر جب کفار اور مشرکین کے خلاف اعلان جنگ بھی کردیا جائے۔ یہ سب واقعات و حقائق درست ہیں لیکن اس مسئلے کا تعلق نظریات سے ہے۔ اللہ چاہتا ہے کہ تم اس نظرئیے کے لیے مخلص ہوجاؤ اور قربانی کے لیے تیار ہوجاؤ۔۔ رہا رزق اور تجارتی مفادات تو اس کا کفیل کوئی نظام نہیں ہے ، اللہ ہے اور اللہ ایسے اسباب کے ذریعے رزق پہنچاتا ہے جو عادی اور معروف نہیں ہوتے۔ و ان خفتم عیلۃ فسوف یغنیکم اللہ من فضلہ ان شاء ان اللہ علیم حکیم۔ (9:28) اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے ، اللہ علیم و حکیم ہے۔ اللہ جب چاہتا ہے ، اسباب بدل دیتا ہے اور وہ ایک دروازہ بند کرکے دوسرے دروازے کھول دیتا ہے ، وہ علیم و حکیم ہے وہ اپنے علم اور اپنی حکمت کی وجہ سے اور اپنے اندازے اور حساب کی وجہ سے یہ انتظامات کرتا رہتا ہے۔ ۔۔۔ غرض اب اسلامی نظام ایک ایسے معاشرے میں کام کر رہا تھا جو فاتح تھا اور اس کے اندر مختلف درجات ایمانیہ کے لوگ شامل ہوگئے تھے اور جیسا کہ اس پورے سبق میں ہم نے بتایا کہ اس معاشرے میں مختلف مقامات پر کمزور پہلو موجود تھے اور قرآن کریم ان کمزوریوں کو دور کرکے اس سوسائٹی کی ترتبیت کر رہا تھا۔ اس طرح قرآن کریم امت مسلمہ کی اصلاح میں اپنے منہاج کے مطابق مسلسل جدو جہد کر رہا تھا تاکہ یہ کمزور پہلو مضبوط ہوجائیں۔ قرآن کریم اس امت کو پاکیزگی اور اخلاص کے اعلی ترین مقام اور بلندی تک لے جانے کی جدوجہد کر رہا تھا تاکہ وہ اس دین اور اس نظام کے لیے مخلص ترین امت بن جائے۔ اس کی محبتیں ، اس کے روابط اور اس کی ترجیحات مکمل طور پر اس نظام کے لیے علیحدہ ہوجائیں اور یہ کام صرف اس صورت میں ممکن تھا کہ ایک ایسا سیاسی نظام قائم کیا جائے جس میں لوگ اپنے جیسے انسانوں کی بندگی کے نظام سے نکل کر اسلامی نظام میں داخل ہوجائیں جس میں صرف رب ذوالجلا کی بندگی ہم اور لوگ مکمل طور پر دو کیمپوں میں تقسیم ہوجائیں چونکہ ان ہی دو کیمپوں کے درمیان ملاپ ممکن ہی نہیں ہے۔

التوبة 9:29

درس نمبر 88 ایک نظر میں اس سورت کا یہ دوسرا سبق ہے۔ اس دوسرے حصے میں اسلامی مملکت اور اہل کتاب کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی آخری شکل بتائی گئی ہے۔ جیسا کہ پہلے حصے میں اسلامی مملکت اور جزیرۃ العرب کے مشرکین کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی آخری نوعیت کی حد بندی کی گئی تھی۔ پہلے حصے کی آیت کا تعلق جزیرۃ العرب کے مشرکین کے ساتھ تھا اور ان آیات میں ان صفات کا ذکر تھا جو مشرکین میں پائی جاتی تھیں۔ وہ واقعات اور حادثات جو عملاً اس وقت جزیرۃ العرب میں واقع ہوئے تھے پہلے سبق کے موضوع بحث تھے اور یہ آیات ان پر براہ راست منطبق تھیں جبکہ اس حصے کی آیات کا تعلق عموماً اہل کتاب کے ساتھ ہے۔ اور اس حصے کی آیات لفظاً اور معنی عام ہیں خواہ اہل کتاب جزیرۃ العرب میں ہوں یا اس سے خارج کسی جگہ ہوں۔ ان نصوص کے ذریعے ان تعلقات میں بنیادی تبدیلی کردی گئی ہے جو اس سے قبل مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان قائم تھے ، خصوصاً نصاری کے ساتھ۔ یہودیوں کے ساتھ تو جنگی حالت اس سے پہلے بھی کوئی بار قائم ہوگئی تھی لیکن نصاری کے ساتھ اعلان جنگ کی حالت نہ تھی۔ کیا تبدیلی ہوئی ؟ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ حکم دیا گیا منحرل اہل کتاب کے ساتھ جنگ کی جائے جو دین الٰہی کے منکر ہیں اور یہ جنگ اس وقت تک جاری رکھی جائے جب تک وہ چھوٹے ہو کر جزیہ ادا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اب وہ وقت گزر گیا کہ کہ ان کے ساتھ معاہدے کیے جائیں یا دوستی اور امن کے تعلقات قائم ہوں ان کے ساتھ اب یا جنگ ہے اور یا ان کی جنگ ہے اور یا ان کی جانب سے قبول جزیہ ہے۔ اور ان کے لیے صرف یہ حق محفوظ ہے کہ وہ اسلامی مملکت کے تحت ذمی ہو کر رہیں اور ان کے اور مسلم رعایا کے درمیان امن قائم ہو۔ ہاں جب وہ اسلامی نظریہ کو قبول کرلیں اور پوری طرح اسلام میں داخل ہوجائیں تو پھر وہ دوسرے مسلمانوں کی طرح مسلمان ہیں۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ اسلامی ریاست کے تحت وہ اپنا عقیدہ آزادانہ رکھ سکتے ہیں اور انہیں اسلام لانے پر مجبور نہ کیا جائے گا کیونکہ اسلام کا محکم اور طے شدہ اصول یہ ہے لا اکراہ فی الدین " دین قبول کرنے میں کوئی زبردستی نہیں ہے " لیکن وہ اپنا دین صرف اس صورت میں عالم اسلام میں جاری رکھ سکتے ہیں جب تک وہ جزیہ ادا کرتے رہیں۔ اور اس سلسلے میں ان کے اور اسلامی ریاست کے درمیان معاہدہ طے ہوجائے۔ اسلامی معاشرے اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی اس تبدیل شدہ نوعیت کو تب ہی سمجھا جاسکتا ہے جب اسلامی نظام حیات اور جاہلی نظاموں کے درمیان تعلقات کی اس حتمی شکل کو اسلام کے تحریکی مزاج کے مطابق سمجھنے کی سعی کی جائے۔ اچھی طرح سمجھ کر بصیرت کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کی جائے۔ خصوصا اس زاویہ سے کہ ان بین الاقوامی تعلقات کے قوانین کو کئی مراحل سے گزر کر اس آخری شکل تک پہنچا پڑا ہے۔ اور اس میں عملی حالات کی وجہ سے اور نئے نئے مراحل کی وجہ سے ترمیم اور تبدیلی ہوتی رہی ہے۔ یہ آخری شکل کیا ہے ؟ وہ یہ کہ اسلامی نظام حیات اور جاہلی نظامہائے حیات چند مخصوص شرائط کے تحت باہم زندہ رہ سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ جاہلی نظام اسلام نظام کے اس ہدف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والا نہ ہو کہ اس کرہ ارض پر کوئی شخص دوسرے اشخاص کا غلام اور بندہ نہ ہوگا۔ کوئی انسان اپنے جسے انسان کی غلامی نہ کرے گا۔ اور اس کرہ ارض پر کوئی نظام کوئی حکومت اور کوئی معاشرہ ایسا نہ ہوگا جو اسلام کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ اس لیے کہ اسلام کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ غالب ہونا چاہتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں داخل کرے۔ اور یہ اسلام کا اعلان عام ہے جبکہ جاہلی نظامہائے حیات کا اولین ہدف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنا دفاعی کریں کیونکہ یہ اعلان ان کے لیے اعلان موت ہے اور اس لیے وہ اس قسم کی ہر تحریک کو ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ ہر جاہلی نظام اسلام کی راہ نہ روکیں۔ اسلامی نظام حیات اور اسلامی تحریک کا مزاج ہی یہ ہے کہ وہ جاہلیت کے مقابلے میں ایسے ہتھیار لے کر آئے جو جاہلیت کے ہتھیاروں کے ساتھ ہم پلہ ہوں یا اس ہتھیار سے زیادہ موثر ہتھیار ہوں اور اسلامی نظام جاہلیت کے مقابلہ میں مرحلہ وار پروگرام کے تحت مناسب رویہ اور طرز عمل اختیار کرے۔ اور جب آخری مرحلہ ہو تو اس مرحلے میں وہ حتمی ضوابط اور قوانین پر عمل کرے جو اسلام نے آخری مراحل کے لیے وضع کردیے ہیں۔ اس سورت کے اس حصے میں قرآن کریم نے مسلمانوں اور اسلامی ریاست اور اہل کتاب کے دمیان تعلقات کی آخری اور فائنل صورت متعین کی ہے۔ اہل کتاب کی بھی آخری پوزیشن بتائی گئی ہے۔ اور یہ کہا ہے کہ وہ شرک ، کفر اور باطل پر عمل پیرا ہیں۔ اور ان واقعات اور اسباب کی نشاندہی کی ہے۔ جن کی وجہ یہ حکم دیا گیا ہے۔ چاہے وہ سبب یہ ہو کہ ان کے معتقدات کفریہ ہیں جس طرح کہ دوسرے کفار کے عقائد تھے اور دونوں کے درمیان مکمل مماثلت پائی جاتی ہے یا ان کا طرز عمل ، ان کے تصرفات اور ان کی حقیقی صورت حالات ایسی ہے۔ درج ذیل وجوہات یہاں گنوائی گئی ہیں۔ 1 ۔ یہ کہ یہ لوگ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ 2 ۔ یہ کہ وہ اللہ اور رسول اللہ کے حرام کردہ امور کو حرام نہیں سمجھتے۔ 3 ۔ یہ کہ وہ دین حق (اسلامی نظام) کے مطیع نہیں ہیں۔ ۔ ان اہل کتاب میں سے یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عزیر ابن اللہ ہیں۔ اور نصاریٰ کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ ابن اللہ ہیں۔ اور ان دو اقوال میں یہ اہل کتاب دوسرے کفار اور مشرکین کے مشابہ تھے۔ چاہے وہ یونانی بت پرست ہوں یا رومی بت پرست ہوں ، یا ہندو بت پرست ہوں یا فرعونی بت پرست ہوں یا دوسرے اہل کفر ہوں۔ (بعد میں ہم یہ توضیح کریں گے کہ نصاریٰ کے نزدیک تثلیث اور ابنیت کا دعویٰ یا یہودیوں کی طرف سے ابنیت کا دعوی سابقہ بت پرستیوں سے ماخوذ ہے۔ اصل نصرانیت اور اصل یہودیت کے اندر یہ عقیدہ ہرگز نہ تھا۔ 5 ۔ یہ کہ ان لوگوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا رب قرار دے دیا تھا۔ جیسا کہ انہوں نے مسیح کو رب قرار دے دیا تھا حالانکہ انہیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی توحید پر قائم رہیں اور دین صرف اللہ کے لیے خالص کریں ورنہ وہ مشرک ہوں گے۔ 6 ۔ یہ کہ وہ اللہ کے دین کے خلاف برسر پیکار ہیں اور ان کا ارادہ یہ ہے کہ اس نئے چراغ کو اپنی منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں لہذا یہ کافر ہیں۔ 7 ۔ اکثر احبارو رہبان لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور اللہ کے دین سے لوگوں کو روکتے ہیں ان اوصاف کی وجہ سے اور اہل کتاب جس موقف پر قائم تھے اس کی وجہ سے قرآن کریم نے اہہل کتاب کے حوالے سے درج بالا آخری موقف متعین کیا۔ اب اس آخری ضابطے کے مطابق اسلامی مملکت اور اسلامی معاشرہ اور اہل کتاب کے درمیان بین الاقوامی ضابطہ مرتب ہوا ہے۔ یہاں یہ بات واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے کہ قرآن کریم کے سابقہ فیصلوں کے برعکس یہ فیصلہ بالکل مختلف نوعیت کا حامل ہے۔ اور مستشرقین اور عیسائی مشنریوں نے یہ کہا بھی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے محسوس کیا کہ ان کی تحریک زور پکڑ گئی ہے تو آپ نے " اپنے " سابقہ احکام کو بدل دیا۔ یعنی اہل کتاب کے بارے میں پہلے اور رویہ تھا اور حصول قوت کے بعد اب یہ احکام آگئے۔ ہم یہ کہیں گے کہ اہل کتاب کے بارے میں تمام مکی آیات اور مدنی آیات پر اچھی طرح غور کرلیجیے۔ اس سے اچھی طرح معلوم ہوگا کہ اہل کتاب کے موقف اور نظریات کے بارے میں اسلام کے نقطہ نظر کے اندر کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اسلام ان کو اب آخری مرحلے میں اسی طرح گمراہانہ نظریات سمجھتا ہے جس طرح ابتدائی مراحل میں ان کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر تھا۔ یعنی یہ کہ مشرکانہ عقائد ہیں اور دین حق کے انکار کے مترادف ہیں۔ اور اس دین کے بھی خلاف جس کے متبع ہونے کے وہ خود مدی ہیں۔ جو تبدیلی ہوئی ہے وہ صرف یہ ہے کہ بحیثیت بین الاقوامی کمیونٹی ان کے ساتھ اسلامی ریاست کا آئندہ سلوک کیا ہوگا ، اور بین الاقوامی تعلقات ایک ایسا موضوع ہے جس کے بارے احکام اور پالیسی کسی بھی وقت کے موجودہ حالات کے مطابق ہوتی اور حالات ظاہر ہے کہ بدلتے رہتے ہیں۔ رہے وہ عقائد جو اہل کتاب رکھتے ہیں تو ان کے بارے میں اسلام کا نقطہ نظر وہی تھا جو پہلے روز سے تھا۔ اب ہم یہاں مناسب سمجھتے ہیں کہ اہل کتاب کے عقائد و نظریات کے بارے میں قرآن کریم کے بعض تبصرے پیش کریں۔ پھر ہم اسلام کے بارے میں ان کے عملی طرز عمل کو پیش کریں گے جس کے نتیجے میں ان کے بارے میں یہ آخری اور فائنل پالیسی طے کی گئی۔ مکہ میں تو یہودی کمیونٹی موجود ہی نہ تھی نہ نصرانی بڑی تعداد میں موجود تھے نہ کوئی زر ہی رکھتے تھے۔ چند افراد نصرانی ضرور تھے۔ قرآن کریم نے یہ بتایا ہے کہ مکہ کے نصرانیوں نے بڑی خوشی سے اسلام کو قبول کرلیا تھا۔ وہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ اور انہوں نے اس کی صداقت کی شہادت دی کہ یہ دین اور یہ رسول برحق ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جو نصاریٰ میں سے اہل توحید تھے۔ اور ان کے پاس انجیل کی اصل تعلیمات بھی موجود تھی۔ ان کے بارے میں قرآن مجید نے یہ تبصرے کیے ہیں : الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِهِ هُمْ بِهِ يُؤْمِنُونَ (52) وَإِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ قَالُوا آمَنَّا بِهِ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهِ مُسْلِمِينَ (53): " جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی ، وہ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جب یہ ان کو سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں " ہم اس پر ایمان لائے ، یہ واقعی حق ہے ہمارے رب کی طرف سے ، ہ تو پہلے ہی سے مسلم ہیں " قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَى عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلأذْقَانِ سُجَّدًا (107) وَيَقُولُونَ سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُولا (108) وَيَخِرُّونَ لِلأذْقَانِ يَبْكُونَ وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعًا (109): " اے نبی تم لوگوں سے کہہ دو کہ اسے مانو ، یا نہ مانو جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے۔ انہیں جب یہ سنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں اور پکار اٹھتے ہیں " پاک ہے ہمارا راب ، اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا ، اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گر جاتے ہیں اور اسے سن کر ان کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے : قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَكَفَرْتُمْ بِهِ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (10): " اے نبی ان سے کہو " کبھی تم نے سوچا بھی کہ یہ قرآن اگر اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا ؟ اور اس جیسے کلام پر بنی اسرائیل کا ایک واہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے اور ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا " وَكَذَلِكَ أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ فَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمِنْ هَؤُلاءِ مَنْ يُؤْمِنُ بِهِ وَمَا يَجْحَدُ بِآيَاتِنَا إِلا الْكَافِرُونَ (47): " ہم نے اسی طرح تمہاری طرف یہ کتاب نازل کی ہے ، اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں ، اور ان لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لا رہے ہیں اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں " أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنْزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلا وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ فَلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (114): " کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ، حالانکہ اس نے تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے ؟ اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو " وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَفْرَحُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمِنَ الأحْزَابِ مَنْ يُنْكِرُ بَعْضَهُ قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ وَلا أُشْرِكَ بِهِ إِلَيْهِ أَدْعُو وَإِلَيْهِ مَآبِ (36): " اے نبی جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی تھی ، وہ اس کتاب سے جو تم پر ہم نے نازل کی ہے ، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے۔ تم صاف کہہ دو کہ " مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراؤں اور اس کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے " یہ تو تھے مکی نصاری مدینہ میں بھی بعض نصاری نے دعوت اسلامی کو قبول کیا اور مدنی سورتوں میں قرآن نے ان کے شواہد کو نقل کیا ہے۔ بعض آیات میں منصوص طور پر بتایا گیا ہے کہ یہ نصاری تھے۔ اس لیے کہ مدینہ میں یہودیوں نے وہ موقف اختیار نہ کیا جو ان کے بعض افراد نے مکہ میں کیا تھا۔ اس لیے کہ مدینہ میں اسلام ان کے دنیاوی مفادات کے لیے خطرہ بن گیا تھا۔ وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّهِ لا يَشْتَرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلا أُولَئِكَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ (199): " اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں اور اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی۔ اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر فروخت نہیں کردیتے۔ ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا " لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً لِلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَى ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لا يَسْتَكْبِرُونَ (82) وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ (83) وَمَا لَنَا لا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ (84) فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ (85): " تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود مشرکین کو پاؤگے اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤگے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور ان میں غرور نفس نہیں ہے جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔ وہ بول اٹھتے ہیں کہ " پروردگار ، ہم ایمان لائے ، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے " اور وہ کہتے ہیں کہ " آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اسے کیوں نہ مان لیں جبکہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے " ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزا ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لیے " لیکن یہ چند افراد کا رویہ تھا اور یہ جزیرۃ العرب میں بسنے والے اہل کتاب کی اکثریت کے رویے کی عکاسی نہیں کرتا۔ خصوصاً یہودیوں کے رویے کی۔ ان لوگوں نے مدینہ طیبہ کے اندر جب محسوس کیا کہ ان کے مفادات اور ان کا دین خطرے میں ہے تو انہوں نے اسلام کے خلاف زبردست حملہ شروع کردیا۔ اور وہ اسلام کے خلاف وہ تمام اوچھے ہتھیار استعمال کرنے لگے جن کی تفصیل قرآن نے دی ہے۔ اسلام میں داخل ہونا تو بہت بڑی بات تھی۔ انہوں نے ان پیش گوئیوں کا بھی صاف صاف انکار کردیا جو رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ان کی کتابوں میں موجود تھیں۔ حالانکہ قرآن کریم ان کے پاس موجود کتابوں کی تصدیق کر رہا تھا۔ اور یہ اس حقیقت کے باوجود کہ خود ان میں سے پاک فطرت لوگوں نے اسلام کی حقانیت کا اعتراف کیا تھا ، اور منکرین اور مخالفین کے سامنے علی الاعلان انہوں نے اسلام کی اقرار اور اعلان کیا تھا۔ چناچہ اسلام نے ان کے اس عام رویے اور طرز عمل کو بھی قلم بند کردیا اور متعدد سورتوں میں یہ تبصرہ کیا کہ اہل کتاب کس قدر فسادی ، کس قدر باطل پرست اور خود اپنے دین سے کس قدر منحرف ہوگئے ہیں بلکہ عام اہل کتاب کے رویے کو مکی قرآن مجید نے بھی لیا ہے۔ ذرا ملاحظہ فرمائیں۔ وَلَمَّا جَاءَ عِيسَى بِالْبَيِّنَاتِ قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ وَلأبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِي تَخْتَلِفُونَ فِيهِ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ (63)إِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُسْتَقِيمٌ (64) فَاخْتَلَفَ الأحْزَابُ مِنْ بَيْنِهِمْ فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ أَلِيمٍ (65): " اور جب عیسیٰ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تو اس نے کہا تھا کہ میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض ان باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو ، لہذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تماہرا رب بی ، اسی کی تم عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے " گر گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب کی " وَإِذْ قِيلَ لَهُمُ اسْكُنُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِطَّةٌ وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَغْفِرْ لَكُمْ خَطِيئَاتِكُمْ سَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ (161) فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَظْلِمُونَ (162) وَاسْأَلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِمْ حِيتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَيَوْمَ لا يَسْبِتُونَ لا تَأْتِيهِمْ كَذَلِكَ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (163): " یاد کرو وہ وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ " اس بستی میں جا کر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے اپنے حسب منشا روزی حاصل کرو اور حطہ حطہ کہتے جاؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو ، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں کو مزید فضل سے نوازیں گے " مگر جو لوگ ان میں سے ظالم تھے انہوں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی ، بدل ڈالا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔ اور ذرا اس بستی کا حال پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔ انہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لو سبت (ہفتہ) کے دن احکام الہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے تھے۔ وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَنْ يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورٌ رَحِيمٌ (167): " اور یاد کرو جب تمہارے رب نے اعلان کردیا کہ " وہ قیامت تک ایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے " یقینا تمہارا رب سزا دینے میں تیز دست ہے اور یقیناً وہ درگزر اور رحم کرنے والا ہے " فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا الْكِتَابَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الأدْنَى وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِنْ يَأْتِهِمْ عَرَضٌ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ أَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمْ مِيثَاقُ الْكِتَابِ أَنْ لا يَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلا الْحَقَّ وَدَرَسُوا مَا فِيهِ وَالدَّارُ الآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ أَفَلا تَعْقِلُونَ (169): " پھر اگلی نسلوں کے بعد ناخلف ان کے جانشین ہوئے جو کتاب الہی کے وارث ہو کر اس دنیائے دنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کردیا جائے گا اور اگر وہی متاع دنیا سامنے آتی ہے تو پھر لبیک کہہ کر اسے لیتے ہیں کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جا چکا کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں گے جو حق ہوگا ؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔ آخرت کی قیام گاہ خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے۔ کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے ؟ " مدنی دور کی آخری سورتوں میں پھر اہل کتاب کے بارے میں آخری اور فیصلہ کن پالیسی بتا دی گئی۔ اور تفصیلا بتایا گیا کہ اسلام کی جنگ میں یہ لوگ کس قدر برے اور اوچھے ہتھیار استعمال کرتے ہیں اور ان سورتوں میں ان کے کردار پر مفصل تبصرے کیے گئے ہیں۔ مثلاً سورة بقرہ ، آل عمران ، سورت نساء ، مائدہ وغیرہ میں اور ان کے بارے میں آخری اور دائمی پالیسی ، پھر سورت توبہ میں بتائی گئی۔ ان کے بارے میں احکام اور تبصرے یہ ہیں : أَفَتَطْمَعُونَ أَنْ يُؤْمِنُوا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَسْمَعُونَ كَلامَ اللَّهِ ثُمَّ يُحَرِّفُونَهُ مِنْ بَعْدِ مَا عَقَلُوهُ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (75) وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلا تَعْقِلُونَ (76) أَوَلا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ (77) وَمِنْهُمْ أُمِّيُّونَ لا يَعْلَمُونَ الْكِتَابَ إِلا أَمَانِيَّ وَإِنْ هُمْ إِلا يَظُنُّونَ (78) فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ (79): " اے مسلمانو ، اب کیا ان لوگوں سے تم توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔ ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس میں ایک دوسرے سے تخلیے کی بات کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو ؟ ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں ؟ اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ، اللہ سب باتوں سے باخبر ہے ؟ ان میں سے ایک دوسرا گروہ امیوں کا ہے جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں بس اپنی بےبنیاد امیدوں اور آرزوؤں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم و گمان پر چلے جا رہے ہیں۔ یہی ہلاکت اور تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے۔ تاکہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سا فائدہ حاصل کرلیں۔ ان کے ہاتھوں یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجب ہلاکت ہے "۔ وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَقَفَّيْنَا مِنْ بَعْدِهِ بِالرُّسُلِ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَأَيَّدْنَاهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ أَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولٌ بِمَا لا تَهْوَى أَنْفُسُكُمُ اسْتَكْبَرْتُمْ فَفَرِيقًا كَذَّبْتُمْ وَفَرِيقًا تَقْتُلُونَ (87) وَقَالُوا قُلُوبُنَا غُلْفٌ بَلْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَقَلِيلا مَا يُؤْمِنُونَ (88) وَلَمَّا جَاءَهُمْ كِتَابٌ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَهُمْ وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا فَلَمَّا جَاءَهُمْ مَا عَرَفُوا كَفَرُوا بِهِ فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ (89) بِئْسَمَا اشْتَرَوْا بِهِ أَنْفُسَهُمْ أَنْ يَكْفُرُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ بَغْيًا أَنْ يُنَزِّلَ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ عَلَى مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ فَبَاءُوا بِغَضَبٍ عَلَى غَضَبٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُهِينٌ (90) وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ آمِنُوا بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا نُؤْمِنُ بِمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَيَكْفُرُونَ بِمَا وَرَاءَهُ وَهُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَهُمْ قُلْ فَلِمَ تَقْتُلُونَ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ مِنْ قَبْلُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (91): " ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ، اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے ، آخر کار عیسیٰ ابن مریم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور روح پاک سے اس کی مدد کی۔ پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا تو تم نے اس کے مقابلے میں سرکشی کی ، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا۔ وہ کہتے ہیں ہمارے دل محفوظ ہیں۔ نہیں ، اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے ، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے ؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی۔ باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے ، مگر جب وہ چیز آگئی جسے وہ پہچان بھی گئے تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ خدا کی لعنت ان منکرین پر ، کیسا برا ذریعہ ہے جس پر وہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے ، اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل سے اپنے بندے کو خود چاہا نواز دیا۔ لہذا یہ اب غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لیے سخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اس پر ایمان لاؤ تو وہ کہتے ہیں " ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتے ہیں ، جو ہمارے ہاں اتری ہے " اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے ، اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے اور اس کی تعلیم کی تصدیق و تائید کر رہا ہے جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی۔ اچھا ان سے کہو : " اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہارے ہاں آئی تھی تو اس سے پہلے اللہ کے ان پیغمبروں کو کیوں قتل کرتے رہے ؟ " يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ شَهِيدٌ عَلَى مَا تَعْمَلُونَ (98) قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَهَا عِوَجًا وَأَنْتُمْ شُهَدَاءُ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (99): " کہو اے اہل کتاب ، تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو ؟ جو حرکتیں تم کر رہے ہو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ کہو اے اہل کتاب یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے بھی تم اللہ کی راہ سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے حالانکہ تم خود گواہ ہو۔ تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں " أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَؤُلاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلا (51) أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ وَمَنْ يَلْعَنِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا (52): " کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ کی لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کردے پھر تم اس کا مددگار نہیں پاؤگے " لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَقَالَ الْمَسِيحُ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ (72) لَقَدْ كَفَرَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ ثَالِثُ ثَلاثَةٍ وَمَا مِنْ إِلَهٍ إِلا إِلَهٌ وَاحِدٌ وَإِنْ لَمْ يَنْتَهُوا عَمَّا يَقُولُونَ لَيَمَسَّنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (73) أَفَلا يَتُوبُونَ إِلَى اللَّهِ وَيَسْتَغْفِرُونَهُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (74) مَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ كَانَا يَأْكُلانِ الطَّعَامَ انْظُرْ كَيْفَ نُبَيِّنُ لَهُمُ الآيَاتِ ثُمَّ انْظُرْ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (75): " یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے۔ حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ ' اے بنی اسرائیل اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ' جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔ یقیناً کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا اللہ تین میں کا ایک ہے حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے۔ اس کو دردناک سزا دی جائے گی۔ پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے ؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے۔ اس کی ماں ایک راست عورت تھی۔ اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں " ان جیسی دوسری قرآنی آیات مکی اور مدنی قرآن کے اندر بیشمار ہیں ، جو واضح طور پر یہ بتاتی ہیں کہ اہل کتاب نے اپنے حقیقی دین سے انحراف اختیار کرلیا ہے اور اہل کتاب کے بارے میں قرآن کا جو نقطہ نظر پہلے روز سے تھا اس میں آخر میں نازل ہونے والی سورتوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ اگرچہ ان پر انحراف ، فسوق ، شرک اور کفر کے جو الزامات لگائے گئے ہیں ان میں کوئی بات بھی جدید نہیں ہے۔ جہاں تک ان کے عقائد و نظریات کا تعلق ہے اس کے بارے میں پہلے دن سے قرآن کریم نے یہی موقف اختیار کیا ہے۔ اس کے باوجود یہ بات اپنی جگہ ہے کہ ان میں سے جو لوگ اچھے اور صالح تھے اور صحیح عقائد پر قائم تھے اس کا بھی قرآن نے اعتراف کیا ہے۔ مثلاً درج ذیل آیات پر غور کریں : ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق و بہ یعدلون " موسیٰ کی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو حق کے مطابق ہدایت کرتا تھا اور حق کے مطابق ہی انصاف کرتا " وَمِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ وَمِنْهُمْ مَنْ إِنْ تَأْمَنْهُ بِدِينَارٍ لا يُؤَدِّهِ إِلَيْكَ إِلا مَا دُمْتَ عَلَيْهِ قَائِمًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا لَيْسَ عَلَيْنَا فِي الأمِّيِّينَ سَبِيلٌ وَيَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَهُمْ يَعْلَمُونَ (75): " اہل کتاب میں سے کوئی ایسا ہے کہ اگر اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ یقیناً تمہارا مال ادا کردے گا اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا۔ الا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہوجاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں " امیوں کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں " اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے کوئی ایسی بات نہیں کہی " ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ مَا ثُقِفُوا إِلا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ النَّاسِ وَبَاءُوا بِغَضَبٍ مِنَ اللَّهِ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ الأنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ (112) لَيْسُوا سَوَاءً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ أُمَّةٌ قَائِمَةٌ يَتْلُونَ آيَاتِ اللَّهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَهُمْ يَسْجُدُونَ (113) يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَأُولَئِكَ مِنَ الصَّالِحِينَ (114) وَمَا يَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُكْفَرُوهُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ (115): یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مار پری ، کہیں اللہ کے ذمہ یا انسانوں کے ذمہ میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے۔ یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں ، ان پر محتاجی اور مغلوبی مسلط کردی گئی ہے اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے۔ مگر سارے اہل کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں۔ راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ نیکی کا حکم دیتے ہیں ، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سر گرم رہتے ہیں۔ یہ صالح لوگ ہیں اور جو نیکی بھی یہ کریں گے ان کی ناقدری نہ کی جائے گی۔ اللہ پرہیز گار لوگوں کو خوب جانتا ہے " جس بات میں تبدیلی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ اب اسلامی مملکت کا طرز عمل اور سلوک کیا ہوگا۔ یہ طرز عمل اور سلوک حالات کے ساتھ بدلتا رہا ہے۔ مختلف مراحل میں اس میں تبدیلی آتی رہی ہے اور یہ تبیدلی ان کی جانب سے پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے آتی رہی ہے۔ کیونکہ دین اسلام کا قیام ایک تحریک کی شکل میں تھا اور اس تحریک کے ساتھ اہل کتاب نے جو عملی رویہ اختیار کیا ، اسلامی ریاست نے بھی اسی کے مطابق ان کے ساتھ طرز عمل اختیار کیا۔ ایک وقت یہ تھا کہ اہل کتاب کے ساتھ طرز عمل یہ تھا۔ وَلا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَأُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَهُنَا وَإِلَهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (46): " اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں اور ان سے کہو کہ " ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی۔ ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اس کے مسلم ہیں " قُولُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالأسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَى وَعِيسَى وَمَا أُوتِيَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ (136) فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا هُمْ فِي شِقَاقٍ فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (137): " مسلمانو ، کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم ، اسماعیل ، یعقوب اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی اور ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے۔ اور ہم اللہ کے مسلم ہیں۔ پھر اگر وہ اس طرح ایمان لے آئیں جس طرح تم ایمان لائے ہو تو وہ ہدایت پر ہیں اور اگر اس سے منہ پھیریں تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں لہذا اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے " قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (64): " اے نبی کہو ، اے اہل کتاب آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے ، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائی۔ اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ اس دعوت کو قبول کرنے سے وہ منہ موڑیں تو صاف صاف کہہ دو کہ گواہ رہو کہ ہم تو مسلم ہیں " وَدَّ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُمْ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (109): " اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہوچکا ہے مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لی ان کی یہ خواہش ہے۔ اس کے مقابلے میں تم عفو و درگزر سے کام لو تو یہاں تک کہ اللہ خود اپنا فیصلہ نافذ کردے۔ مطمئن رہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے " اور ان حالات اور پالیسیوں کے بعد وہ احکام آئے جن پر اللہ نے اہل ایمان کو مامور کیا۔ چناچہ کئی واقعات پیش آئے۔ ان واقعات کی وجہ سے طرز عمل کے بارے میں احکام بدلتے رہے اور اسلام کا مثبت اور تحریکی عمل اپنی نہج پر جاری رہا اور وہ آخری احکام نازل ہوئے جن کے بارے میں اس سورت میں ہم نے تفصیلی بحث کی ہے۔ اہل کتاب کے جو عقائد و نظریات تھے ، ان کے بارے میں قرآن کا نظریہ اول روز سے ایک ہی تھا۔ کہ یہ کفریہ اور شرکیہ نظریات ہیں۔ جو تبدیلی آئی ہے وہ صرف یہ کہ اہل کتاب کے مشرکین اور کفار کے ساتھ ہمارا سلوک کیا اور اسلامی ریاست کا سلوک کیا ہو۔ اس سورت کے تعارف میں ہم نے اسی کے بارے میں جو محاکمہ پیش کیا تھا ، اس پر زرا دوبارہ نظر ڈالیں۔ " یہ آخری تبدیلی جو اسلامی معاشرے اور اہل کتاب کے درمیان محض سلوک اور طرز کے بارے میں آئی ہے۔ اسے صرف اس صورت میں سمجھا جاسکتا ہے کہ اسے اسلامی ریاست اور اہل کتاب کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے زاویہ سے دیکھا جائے پھر یہ دیکھا جائے کہ اسلامی نظام کا قیام ایک عملی تحریکی عمل کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے۔ اور اس میں جدید وسائل کے مقابلے میں جدید وسائل اکتیار کیے گئے اور سوسائٹی کی بدلتی ہوئی تحریکی صورت ھال کے مختلف مراحل میں مختلف طرز ہائے عمل اختیار کیے گئے۔۔ " اب ہم تفصیل سے یہ بتائیں گے کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت اور اہل کتاب کے درمیان مستقل نظریاتی مواقف کیا ہیں اور تاریخی اعتبار سے مختلف مواقع پر کیا طرز عمل اختیار کیا ہے۔ اور اس کے نتیجے میں اسلام نے آخری احکام کیا دئیے ہیں۔ اسلامی ریاست اور اہل کتاب کے درمیان حقیقی موقف کے بارے میں اگر کوئی تحقیقات کرنا چاہے تو اسے درج ذیل حدود کے اندر یہ تحقیق کرنا چاہئے۔ اولاً یہ کہ اس سلسلے میں اللہ نے جو تصریحات کی ہیں وہ فائنل ہیں اور محفوظ ہیں اور برحق ہیں۔ ان میں کسی باطل کی آمیزش نہیں ہے۔ اور یہ تصریحات چونکہ اللہ رب العالمین کی طرف سے ہیں تو ان کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انسانی تصریحات کی طرح ان میں کوئی غلطی ہوسکتی ہے۔ یا ان کے بارے میں انسانی مواقف کی طرح کوئی تاویل اور استنباط اور استدلال کیا جاسکتا ہے۔ ثانیاً یہ کہ اہل کتاب کے بارے میں اور ان کے ھوالے سے مسلمانوں کی جو تاریخ رہی ہے ، اس کی روشنی میں ان دونوں کے درمیان طرز عمل ، سلوک اور ضوابط کا تعین کیا جائے۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

التوبة 9:30

(سابقہ آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ) اسلام اس کرہ ارض پر ایک دین برحق ہے۔ اور اس یہ حق ہے کہ وہ اپنی راہ سے ناجائز مادی رکاوٹوں کو دور کرے۔ اور تمام انسانوں کو دین حق (اسلام) کے علاوہ تمام دینوں سے آزاد کرکے چھوڑے کہ وہ جبری حالت سے نکل کر آزادانہ ، جو دین چاہیں اختیار کریں۔ ہر انسان کو آزادانہ طور پر یہ اختیار ہو کہ وہ جو دین چاہے اختیار کرے۔ کوئی بھی دین اختیار کرنے کے سلسلے میں اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔ یہ حق کہ کوئی انسان کسی مادی رکاوٹ کے ہاتھوں مجبور نہ ہو اور اسلام یا گیر اسلام کوئی بھی دین قبول کرنے کے لیے آزاد ہو ، تب ہی متحقق ہوسکتا ہے کہ جاہلیت کی قوت اور شوکت کو تور دیا جائے۔ تمام غیر اسلامی قوتیں اسلامی مملکت کے تابع ہوں اور اسلامی نظام کی باج گزار ہوں۔ باج گزاری کے عمل سے انسان کی آزادی اپنی تکمیل کو پہنچ جاتی ہے۔ ہر فرد جس دین کو چاہے اختیار کرتا ہے جو اسلام پر مطمئن ہو وہ اسلام میں داخل ہوجاتا ہے۔ اور جو شخص مطمئن نہ ہو وہ اپنے دین پر باقی رہتا ہے۔ لیکن اس آزادی کی فیس اسے بطور جزیہ ادا کرنی ہوگی اور اس سے درج ذیل مقاصد حاصل ہوں گے۔ 1 ۔ جزیہ دے کر وہ اعلان کر رہا ہوگا کہ اب وہ اسلام کی دشمنی میں کوئی مادی قوت بطور رکاوٹ کھڑی نہ کرے گا اور دعوت اسلامی کا سد راہ نہ ہوگا۔ 2 ۔ وہ اپنے مال اور عزت کے دفاع اور آازی کے حق جس کی ضمانت اسے اسلام دیتا ہے ، کے عوض اخراجات میں مملکت میں اپنا حصہ ادا کرے گا۔ کیونکہ جو لوگ جزیہ دیتے ہیں اسلامی نظام مملکت ان کے مال اور جان اور آبرو کا محافظ ہوتا ہے۔ اور ان کی جانب سے دفاع کرتا ہے۔ خواہ خارجی حملہ ہو یا داخلی امن وامان ہو۔ 3 ۔ پھر یہ کہ وہ بیت المال میں اپنا حصہ ادا کرے گا جس سے مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں کی کفالت کا بندوبست ہوتا ہے ہے۔ تمام ایسے لوگوں کو بیت المال سے وظیفہ دیا جاتا ہے جو کسب و عمل پر قادر نہ ہوں خواہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ہو جبکہ غیر مسلموں پر زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔ ہم اس سے آگے فقہی اختلافات میں نہیں پڑتے کہ کن کن غیر مسلموں سے جزیہ لیا جائے گا اور یہ کہ جزیہ کی مقدار کیا ہوگی اور یہ کہ اس کی وصلی کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟ کیونکہ آج ہمارے سامنے کوئی عملی مسائل اس قسم کا درپیش نہیں ہے۔ فقہاء کے دور میں یہ مسئلہ عملاً درپیش تھا اس لیے انہوں اپنے دور کے لیے احکام جاری کیے اور فتوے دیے اور ان مسائل پر اجتہادی کلام کیا۔ آج یہ مسئلہ ایک تاریخی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعی سوال نہیں ہے اس لیے کہ آج مسلمان عمل جہاد میں سرگرم نہیں ہیں۔ اور یہ اس لیے کہ حقیقی مسلمان ہمارے دور میں کمیاب ہیں۔ آج ہمارے سامنے حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ آج اسلام موجود ہے یا دنیا میں موجود ہیں یا نہیں۔ اسلامی نظام حیات کیا ہے ؟ جیسا کہ ہم نے بار بار اس سوال کا جواب دیا کہ وہ ایک سنجیدہ اور عملی نظام ہے۔ یہ نظام محض ہوائی باتوں پر بحث وجدال نہیں کرتا۔ نہ وہ ایسے فقہی مباحث میں دماغ سوزی کو ضروری سمجھتا ہے جو عملاً موجود نہ ہوں کیونکہ عالم واقعہ میں مسلمانوں کی کوئی سوسائٹی موجود نہیں ہے۔ جس میں اسلامی شریعت نافذ ہو۔ اور اسلامی فقہ اس کی عملی زندگی پر متصرف ہو۔ اسلام ایسے لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے جو مفروضے گھڑتے ہیں اور پھر ان پر مباث کے سلسلے اٹھاتے ہیں۔ ان کو اسلامی اصطلاح میں " ارئیتی " کہا جاتا ہے جو اس طرح سوال کرتے ہیں " دیکھو ، اگر یوں صورت حالات واقعہ ہوجائے تو کیا حکم ہوگا ؟ " آج ہمیں احیاء اسلام کے کام کا آغاز اسی مقام سے کرنا ہے جس سے حجور اکرم نے کیا تھا اور وہ یہ کہ دیا میں کوئی ایسی سوسائٹی وجود میں آئے جو حکومت الہیہ قائم کرکے اس میں دین اسلام نافذ کردے۔ وہ پہلے شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی اور حاکم نہیں ہے اور محمد رسول اللہ ہیں ، شارع ہیں۔ لہذا ہماری سوسائٹی مٰ اللہ حاکم اور شارع ہے۔ اور ہم اللہ و رسول کے احکام کو اس سوسائٹی میں نافذ کرنے وال ہیں اور پھر وہ اس نظر کو لے کر پوری دنیا میں آزادی انسان کا بیڑا اٹھائیں اور پھر جب حکومت الہیہ قائم ہوگی اور کسی اسلامی سوائٹی میں نافذ و جاری ہوگی تو تب جا کر یہ سوال اٹھے گا کہ اس سوائٹی کے تعلقات دوسری ملل و نحل کے ساتھ کیا ہوں گے اور اسی وقت ان فقہی تحقیقات کی ضرورت ہوگی اور اس وقت پھر ماہرین اور اہل فکر و نظر اس وقت کے متعین حالات میں یہ فیصلہ کریں گے کہ اب دوسری ملتوں کے افراد اور حکومت کے ساتھ ہمارے تعلقات کیا ہوں گے "۔ ہم نے اصولی طور پر اس آیت کی تشریح یہاں کردی ہے جس اصول اعتقاد اور اسلامی نظام کے منہاج کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے۔ اور اسی پر ہم یہاں اپنی بات کو روک دیتے ہیں۔ آج ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ یہاں فروعی مباحث پر کلام شروع کردیں کیونکہ اسلامی نظام حیات ایک حقیقت پسندانہ اور عملی نظام ہے۔ وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ ۚ يُضَاهِــــُٔـوْنَ قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ ۭ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ ffاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ ۔ یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ بےحقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں۔ ان لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تھے۔ خدا کی مار ان پر ، یہ کہاں سے دھوکا کھا رہے ہیں جب اللہ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اہل کتاب کے ساتھ جنگ شروع کردیں اور یہ جنگ اس وقت تک جاری رکھیں جب وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دے کر اپنے آپ کو چھوٹا ثابت نہیں کرتے۔ تو اس وقت مدینہ طیبہ کی اسلامی حکومت کچھ عملی حالت در پیش تھے اور اس سورت کے آغاز میں ہم نے ان پر تفصیلی بحث کی ہے۔ پھر ان کے بارے میں سورت کے حصہ اول پر اجمالی تبصرے میں بھی ہم نے بحث کی ہے۔ یہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ ان حالات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیا جائے نیز ان اسباب کو بھی اچھی طرح متعین کرنا چاہی جن کی وجہ سے وہ حالات پیدا ہوئے۔ تاکہ ان تمام شبہات و خلجانات کو رفع کردیا جائے جو بعض لوگوں کے اذہان میں پیدا ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکم پر تعمیل کا تقاضا یہ تھا کہ مسلمان رومیوں کے مقابلے میں نکل آئیں جو اس وقت اطراف شام پر قابض تھے۔ اسلام سے پہلے بھی رومی عرب قبائل سے خوف کھاتے تھے کیونکہ یہ لوگ ایک طویل عرصے سے عرب کے شمالی علاقوں پر قابض تھے۔ عرب قبائل کے اندر بھی ان کی دوستیاں اور تعلقات تھے۔ شمال میں غسانیوں کی حکومت ان کی باجگزار تھی۔ لہذا مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان یہ پہلی مڈبھیڑ نہ تھی۔ یعنی جب عربوں کو اللہ نے اسلام کے ذریعہ سے عزت بخشی اور وہ ایک عظیم قوم کی شکل میں فارس اور روم جیسی عظیم قوتوں کے مقابلے میں اتر آئے اور اس سے پہلے تو وہ منتشر قبائل تھے اور ان کی بہادری اور جنگجوئی کے قصے صرف باہم قتل و قتال ، ڈاکوؤں اور لوٹ مار کی کہانیوں پر مشتمل تھے لیکن اس کے باوجود رومیوں کے دلوں میں عربوں کا خوف بہرحال بیٹھا ہوا تھا۔ خصوصاً ان لوگوں کا خوف جنہوں نے ابھی تک پوری طرح اسلامی رنگ اختیار نہ کیا تھا۔ رومیوں کے ساتھ آخری ٹکراؤ اور جھڑپ غزوہ موتہ کی شکل میں ہوا تھا جس میں روایات کے مطابق دو لاکھ سے زیادہ رومی جمع ہوئے تھے اور اس غزوہ کا نتیجہ مسلمانوں کے مقاصد کے مطابق بر آمد بھی نہ ہوا تھا۔ ایک تو یہ حالات تھے کہ اسلامی معاشرے کے اندر بھی تک تطہیز افکار کا کام مکمل نہ ہوا تھا ، دوسرے یہ کہ رومیوں کی جانب سے ایک عام خوف بھی مسلمانوں کے دلوں میں تھا اور پھر یہ غزوہ تبوک جن حالات میں درپیش تھا ، معاشی لحاظ سے اور دوسرے حالات کے لحاظ سے بھی یہ بہت ہی تنگی کا وقت تھا۔ اسی لیے اسے غزوہ عسرت کہا گیا ہے۔ تفصیلی حالات بعد میں بیان ہوں گے۔ پھر مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات بھی تھی کہ رومی اور ان کے ایجنٹ عرب بہرحال اہل کتاب میں سے تو ہیں۔ یہ تھے وہ وجوہات جن کی بنا پر یہاں اس بارے میں زیادہ سے زیادہ وضاحتیں کی گئیں اور فیصلہ کن اور دوٹوک انداز بیان اختیار کیا گیا ۔ اور تمام ذہنی خلجان اور نفسیاتی الجھنوں کو دور کردیا گیا۔ اور ان احکام کے حقیقی اسباب اور عوامل بھی بتائے گئے۔ چناچہ آیت زیر بحث میں قرآن کریم ان اہل کتاب کی فکری ضلالت کی وضاحت کرتا ہے کہ ان کا نظریہ اور عرب گمراہوں کا نظریہ اور بت پرستوں کا نظریہ باطل باہم مماثل اور ہم رنگ ہے۔ عرب بت پرستوں اور قدیم رومی بت پرستوں اور ان عیسائیوں کے درمیان کوئی نظریاتی فرق نہیں ہے۔ حضرت عیسیٰ نے ان کو جو صحیح عقیدے دیے تھے اس پر اس پر وہ ثابت قدم نہیں ہیں لہذا ان کی حیثیت اہل کتاب محض نام کی رہ گئی ہے۔ ان کی کتابوں کے اندر ان کو جو صحیح اور درست نظریات و اعتقادات دیے گئے تھے وہ انہوں نے ترک کردیے ہیں۔ یہاں یہودیوں کے اس قول کا بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ وہ عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیتے ہیں حالانکہ روئے سخن اور عملاً مقابلہ صرف رومیوں کے ساتھ تھا جو عیسائی اور نصاریٰ تھے۔ یہاں یہودیوں کو دو وجوہات سے بیچ میں لایا گیا ہے۔ 1 ۔ یہ کہ پہلی آیت عام تھی۔ کیونکہ اہل کتاب کا اطلاق یہودی و عیسائی دونوں پر ہوتا تھا۔ اور آیت سابقہ میں لڑنے کے بارے میں اور جزیہ وصول کرنے اور ان کو چھوٹا بنا کر رکھنے کا جو حکم دیا گیا تھا وہ تمام اہل کتاب کے برخلاف تھا۔ لہذا یہاں اہل کتاب کی نظریاتی اور اعتقادی ضلالت کے ذکر میں بھی دونوں کو شامل کیا گیا کہ نظریاتی اعتبار سے دونوں برابر ہیں۔ 2 ۔ دوسرے یہ کہ عرب کے تمام یہودی نے ہجرت کرکے اطراف شام میں آباد ہوگئے تھے۔ جب سے رسول اللہ اور مسلمانوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تھی ، یہودیوں نے اسلام کے خلاف جنگ جاری رکھی تھی جس کے نتیجے میں بنی قینقاع اور بنی نضیر اطراف شام کی طرف جلاوطن ہوگئے تھے۔ بنی قریظہ کے بعض افراد بھی۔ لہذا شام کی طرف اسلامی انقلاب کی وسعت کی راہ میں یہودی رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ لہذا اس حکم میں یہودیوں کو شامل کرنا بھی ضروری تھا۔ نصاری کا قول کہ مسیح ابن اللہ ہیں ، مشہور و معروف ہے۔ اور جب سے پولوس نے ان کو گمراہ کیا ہے ، اس کے بعد آج تک وہ اسی عقیدے پر قائم ہیں۔ پھر پولوس کے بعد ان کی مذہبی کانفرنسوں نے پولوس کے عقائد کو سرکاری شکل دے کر ان کو مکمل گمراہ کردیا۔ لیکن یہودیوں کا یہ عقیدہ کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں ، بہت مشہور ہے۔ یہودیوں کی کتب مقدسہ میں ایک شخص عزرا کے نام سے مذکور ہے۔ اور اس کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ حضرت موسیٰ کی تورات کا ماہر کاتب تھا۔ یہ کہ اس نے اپنے دل کو شریعت ربانی کی تلاش کی طرف متوجہ کیا لیکن قرآن نے ان کی جانب سے جو عقیدہ نقل کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض یہودی اس کے قائل تھے خصوصاً وہ یہودی جو اطراف مدینہ میں بستے تھے۔ قرآن کریم مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ عملاً ہمکلام تھا۔ اس نے یہ عقیدہ نقل کیا ہے۔ اگر یہودیوں کے اندر یہ عیقدہ نہ ہوتا تو وہ فٹ کہہ دیتے کہ قرآن نے یہ غلط کہا ہے ، ہمارا تو یہ عقیدہ نہیں ہے۔ لیکن مدینہ کے یہودیوں کی جانب سے اس موضوع پر مکمل سکوت ہے۔ لہذا کم از کم اس وقت کے یہودیوں میں یہ عقیدہ مروج تھا۔ تفسیر منار کی ج 10 میں مرحوم رشید رضا نے ص 385 تا 387 عزرا کے بارے میں یہودیوں کے نظریات پر مفید بحث کی ہے۔ یہاں ہم اس سے چند فقرات نقل کرتے ہیں جو نہایت ہی مفید رہیں گے۔ وہ کہتے ہیں۔ " جیوس انسائیکلو پیڈیا طبع 1903 ء میں ہے کہ عزرا کا زمانہ یہودیوں کی تاریخ کا موسم بہار تھا۔ جس میں ہر طرف پھول کھلے ہوئے تھے ، اسے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا تھا کہ اس نے شریعت کی گاڑی چلائی۔ اگر موسیٰ (علیہ السلام) پر شریعت نازل نہ ہوئی ہوتی۔ کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد شریعت کو بھلا دیا گیا تھا۔ عزرا نے شریعت کو دوبارہ پیش کیا اور زندہ کیا۔ اگر بنی اسرائیل غلطیاں نہ کرتے تو وہ اسی طرح کے معجزات دیکھتے جس طرح انہوں نے حضرت موسیٰ کے عہد میں دیکھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے آشوری رسم الخط میں شریعت کو لکھا۔ جن الفاظ میں اسے شک گزرتا ان پر وہ علامت ڈال دیتا۔ یہودیوں کی تحریری تاریخ کے لیے ان کا عہد ماخذ ہے۔ جارج لوسٹ کتاب مقدس کی ڈکشنری میں لکھتے ہیں : عزرا یہودی کاہن ہے اور مشہور اہل قلم تھا جو طویل القامت ارتختشاہ کے دور میں بابل میں رہائش پذیر تھا۔ اس بادشاہ نے اپنی تخت نشینی کے ساتویں سال عزرا کو اجازت دی کہ اپنی قوم کی ایک بڑی تعداد کو لے کر یروشلم چلا جائے۔ یہ تقریباً 457 ق م کا واقعہ ہے۔ یہ لوگ چار ماہ میں وطن پہنچے۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ یہودیوں کے عقائد کے مطابق عزرا کا مقام موسیٰ اور ایلیا کے برابر ہے۔ کہتے ہیں کہ اس نے ایک بہت بڑی اکیڈمی قائم کی اور کتاب المقدس کے مختلف اسفار کو جمع کیا اور قدیم عبرانی حروف کے بجائے اسے کلدانی حروف میں لکھا۔ انہوں نے الایام اور عزرا اور نحمیاہ کے اسفار تالیف کیے۔ مزدی کہتے ہیں کہ " عزرا " کی زبان ص 6-8:4 : 19 کلدانی ہے اسی طرح ص 7:1 ۔ 27 ۔ یہ لوگ غلامی سے واپس آنے کے بعد عبرانی مقابلے میں کلدانی زبان اچھی طرح سمجھتے تھے۔ " میں کہتا ہوں کہ تمام اقوام اور خصوصاً اہل کتاب کے درمیان مشہور یہ ہے کہ جس تورات کو حجرت موسیٰ نے لکھا تھا اور جسے تابوت میں یا اس کے پاس رکھا تھا۔ وہ عہد سلیمان سے گم ہوگئی تھی۔ کیونکہ ان کے زمانے میں جب تاتبوت کھولا گیا تو اس میں صرف وہ دو تختیاں تھیں جن میں دس وصیتیں تحریر تھیں۔ جیسا کہ سفر ملوک میں درج ہے۔ اور در اصل بعد میں تورات وغیرہ کو عزرا نے لکھا اور یہ بابل کی غلامی کے دور کے بعد کلدانی رسم الخط میں تحریر ہوئی۔ کلدانی زبان میں کچھ عبرانی الفاظ بھی شامل تھے جسے یہودیوں نے بھلا دیا تھا۔ اہل کتاب کہتے ہیں کہ عزرا نے اس طرح لکھا کہ گویا وہ اللہ کی طرف سے وحی ہے یا الہام ہے لیکن غیر لوگ اسے تسلیم نہیں کرتے۔ اس سلسلے میں بہت بڑے شکوک و شبہات اور اعتراضات کیے گئے ہیں جو تفصیل کے ساتھ ان کتابوں میں مذکور ہیں جو اس موضوع پر لکھی گئی ہیں۔ خود اہل کتاب کی کتابوں میں بھی یہ مذکور ہیں مثلاً کیتھولک دین وغیرہ) جو فرانسیسی میں لکھ گئی جس کے فصل گیارہ اور بارہ میں خصوصا یہ اعتراضات میں تفصیل کے ساتھ مذکورہ ہیں کہ آیا موسیٰ کے اسفار خمسہ اس میں سے ہیں یا نہیں۔ سفر عزرا میں ہے (414 نمبر 21) کہ تمام مقدس اسفار آگ میں جل گئے تھے اور یہ بخت نصر کے دور میں۔ اس میں ہے " آگ نے تمہاری شریعت کو باطل کردیا ہے ، اس لیے کسی کے لیے یہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ تم نے کیا کیا (میں سمجھتا ہوں کہ قرآن کلام صادق ہے ، اور اس نے یہ خبر دی ہے کہ تابوت میں بقیہ تھا) مزید یہ کہ عزرا نے روح القدس کی وحی کے ذریعہ ان اسفار مقدسہ کو دوبارہ جمع کیا جنہیں آگ نے جلا دیا تھا۔ اور ان کی تالیف میں ، ان کے معاصر پانچ لکھنے والوں نے ان کی امداد کی۔ اور یہی وجہ ہے کہ پادری تر ترلیانوس ، پادری ایر بناؤس ، ایرونیموس اور پادری یوحنا ، پادر باسیلوس وغیرہ۔ کہتے ہیں کہ عزرا معروف اسفار مقدسہ کا ترمیم کنندہ ہے۔ آخر میں لکھتے ہیں۔ " میں سمجھتا ہوں یہاں اس قدر کافی ہے لیکن یہاں ہم دو باتیں عرض کریں گے ، ایک کہ یہ تمام اہل کتاب اس عزرا کے مرہون منت ہیں جس نے ان کے دین کی اساس کو قائم کیا۔ اور ان کے دین کتب مقدسہ کو مرتب کیا۔ دوسرے کہ یہ ان کی یہ مستند کتب نسیاں اور غلطی سے محفوظ نہیں ہیں اور یہ بات آزاد یورپین محققین نے تسلیم کی ہے۔ (ہم فی ظلال القرآن میں محمد عبدہ کی مدرسہ فکر کے اس طرقہ اظہار طرف تنیہ کرتے رہے ہیں۔ یہ لوگ مغرب کی آزاد فکر کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جو اسلامی طرز فکر سے اجنبی ہے۔ یہ لوگ اپنی اس طرز فکر کی وجہ سے یورپ کے آزاد خیال مفکرین کو اہمیت دیتے ہیں۔ اسی طرح یہ لوگ مغرب کے جمہوری اداروں ، بنیادی حقوق اور طرز حیات کو بنظر استحسان دیکھتے ہیں۔ ہم نے بارہا اس طریقے اور طرز عمل کی خطرناکیوں کی طرف فی ظلال القرآن میں قارئین کو متنبہ کیا ہے۔ ہمیں مغربی افکار کا نہایت ہی عمیق نظر سے جائزہ لینا چاہیے۔ برٹش انسائکلو پیڈیا میں ان کی سوانح اور ان کے " سفر " اور لحمیاہ کے سفر میں لکھا ہے کہ انہوں نے تلف شدہ اسفار کو بھی لکھا اور اس کے علاوہ ستر جعلی اسفار بھی تحریر کیے۔ اس کے بعد مقالہ نگار نے ان کے بارے میں لکھا۔ " جب حال یہ ہو کہ عزرا کی کہانی کو بعض مورخین نے اپنی جانب سے لکھا ہو اور اسے کسی دوسری کتاب کی طرف منسوب بھی نہ کیا ہو تو جدید دور کے اہل قلم یہ سمجھیں گے کہ ان اسفار کو راوی نے ازخود گھڑ لیا ہے۔ (دیکھئے ج 9، ص 14) " غرض یہودی پہلے بھی حضرت زیر کا احترام کرتے تھے اور اب بھی کرتے ہیں یہاں تک کہ بعض نے اسے ابن اللہ بھی کہا۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے ان کے لیے ابن اللہ کا لقب بطور احتارم اس طرح استعمال کیا جس طرح انہوں نے سلیمان اور داود کے لیے استعمال کی اتھا یاس اس معنی میں استعمال کی اجو ان کے ایک فیلفوف (فیلو) سمجھتے ہیں جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ جو ہندوستانیوں کا اصل فلسفہ ہے اور جو عقائد نصاری کی بنیاد ہے۔ البتہ مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ تمام یہودی عزیر کو ابن اللہ نہ سمجھتے تھے بلکہ بعض لوگ ایسے تھے " " ان کے بارے میں ابن اللہ ہونے کا عقیدہ کون لوگ رکھتے تھے۔ مدینہ کے بعض یہودیوں کا یہی عقیدہ تھا۔ جیسا کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے صراحت کی۔ اور جس طرح وہ یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے۔ ید اللہ مغلولۃ اور یہ عقیدہ لقد کفر الذین قالوا ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء۔ یہ بات وہ لوگ قرآن کی اس آیت کے جواب میں کہتے تھے۔ من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا اور یہ بھی ممکن ہے کہ مدینہ کے یہودیوں کے علاوہ بھی کوئی فرقہ ان کو ابن اللہ سمجھتا ہو ، لیکن ان کا عقیدہ ہم تک نہ پہنچا ہو۔ " ابن اسحاق نے اور ابن جریر نے ابن ابو حاتم ، ابو الشیخ ، و ابن مردویہ نے ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کے پاس سلام ابن مشکم ، نعمان بن اوفی اور ابو انس ، مالک ابن الضیف اور شاس ابن قیس آئے اور کہا : ہم کس طرح تمہاری اطاعت میں آجائیں۔ تم نے ایک تو ہمارا قبلہ ترک کردیا دوسرے یہ کہ تم حضرت عزیر کو ابن اللہ نہیں سمجھتے " یہ بات بھی معلوم ہے کہ بعض نصاری جو حضرت مسیح کو ابن اللہ سمجھتے تھے وہ یہودی الاصل تھے (فیلو) اسکندریہ کا معروف فلسفی جو میسح کے معاصر تھے ، یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ کا ایک بیٹا ہے اور یہ بیٹا اس کا وہ کلمہ ہے جس کے ذریعے اس نے تمام اشیاء کی تخلیق کی۔ لہذا یہ بعید از امکان نہیں ہے کہ بعثت محمد کے وقت یہودیوں میں کچھ ایسے لوگ ہوں جنہوں نے عرب کے بارے میں ابنیت کا عقیدہ اپنایا ہوا ہو۔ اگرچہ اس مفہوم میں " اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم نے یہودیوں کے بارے میں جو یہ کہا ہے کہ وہ عزیر کو ابن اللہ سمجھتے ہیں ، ان کا پس منظر کیا ہے ، اس موقع پر سیاق کلام سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے لہذا قرآن کریم نے جس حوالے سے بات کی ہے وہ یہ ہے کہ بعض یہودی یہ عقیدہ رکھتے تھے اور ان میں سے بعض لوگوں کا عقیدہ اس قدر فاسد ہوگیا تھا کہ وہ اپنے اس عقیدہ ابنیت کے ساتھ ساتھ مومن نہ کہلا سکتے تھے اور نہ ان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا تھا کہ وہ دین حق پر تھے اور اہل کتاب کے ساتھ یہاں قتال کا جو حکم دیا گیا کہ اس کی بنیادی صف اور سبب بھی یہی فساد عقیدہ ہے۔ قتال کا مقصد یہ نہیں ہے کہ انہیں اپنا مذہب ترک کرنے پر مجبور کیا جائے اور پھر اسلام میں داخلے پر مجبور کیا جائے۔ بہرحال مقصد صرف یہ ہے کہ ان کی قوت اور شوکت کو توڑ کر ان کو ایک ایسے نظام مملکت کا تابع کردیا جاے جس میں ہر انسان کے لیے مکمل حریت اور آزادی ہو اور وہ مملکت اسلامی کے پھیلاؤ کی راہ میں رکاوٹ نہ ہوسکے۔ اور ان کے سامنے حریت اختیار عقیدہ کے حوالے سے کوئی رکاوٹ نہ ہو اور نہ ان پر کسی جانب سے کوئی دباؤ ہو کہ وہ کیا عقیدہ اختیار کریں۔ رہا نصاری کا یہ عقیدہ کہ مسیح ابن اللہ ہیں اور وہ تینوں میں سے ایک ہیں۔ تو یہ ان کا مشہور عقیدہ ہے۔ جب سے پولس نے عیسائیت کو رسولوں کے عام عقیدہ توحید سے نکال کر انہیں شرکیہ عقائد دیے اور اس کے بعد ان کی مختلف مجالس نے اس تحریف کو مکمل کرکے عیسائیت کے نظام تصور سے عقیدہ توحید کو مکمل طور پر نکال دیا ہے۔ تب سے وہ عقیدہ تثلیث پر قائم ہیں اور ان کے تمام مذاہب نے اس عقیدے کو اپنا رکھا ہے۔ میں یہاں پھر استاد محمد رشید رضا کی تفسیر کے اقتباسات پر اکتفا کروں گا۔ وہ تثلیث (Trinity) کے بارے میں لکھتے ہیں :۔ " یہ لفظ عیسائیوں کے ہاں اقانیم ثلاثہ پر بولا جاتا ہے۔ ان کے لاہوتی مباحث میں اب ، ابن اور روح القدس کے نام سے مشہور ہیں۔ یہ مشرقی کیتھولک کنیسا کے عقائد ہیں اور عموماً تمام پروٹسٹنٹ بھی اسی کے قائل ہیں۔ شاذ و نادر افراد ہی اس کے خلاف ہوں گے جو لوگ اس عقیدے پر جمے ہوئے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کتاب مقدس کے نصوص پر یہ عقیدہ قریب تر کرے۔ لاہوتی علماء نے اس عقیدے کے حوالے سے نہایت ہی پیچیدہ فلسفیانہ تشریحات کا اضافہ بھی کیا ہے جو ان کی قدیم مجالس اور بڑے علماء کی تحریروں پر بنی تھیں۔ اکثر مباحث کا تعلق اقنوم ثانی کی پیدائش کے طریقوں اور پھر اس سے اقنوم ثالث کے پھوٹنے کے طریق کار سے متعلق ہیں۔ پھر ان تین اقانیم کے درمیان جو نسبت ہے۔ اس پر مباحث ہیں۔ پھر ہر اقنوم کی صفات اور القاب کے بارے میں کلام ہے۔ لیکن لفظ " ثالث " انجیل میں موجود نہیں ہے۔ اسی طرح عہد قدیم میں کوئی آیت بھی ایسی نہیں ہے جس میں تثلیث کی تصریح کی گئی ہو۔ قدیم مسیحی مولفین نے ایسی آیات نقل کی ہیں جن میں اس عقیدے کی اجتماعی صورت نظر آتی ہے لیکن ان تمام آیات کی مختصر تفسیر اور تشریح بھی کی جاسکتی ہے لہذا ان آیات کو عقیدہ تثلیث پر قطعی دلیل کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا ، بلکہ وہ واضح وحی کی طرف اشارہ ہے جو ان کے عقیدے کے مطابق عہد جدید میں موجود ہے۔ عہد جدید آیات کے دو بڑے مجموعے اس عقیدے کے ثبوت کے لیے نقل کیے گئے ہیں۔ ایک مجموعہ ان آیات کا ہے جن میں اب ، ابن اور روح القدس کا یکجا ذکر ہے۔ اور دوسرا مجموعہ ان آیات کا ہے جن میں ہر ایک کا ذکر علیحدہ علیحدہ ہوا ہے اور جن میں ان کی اہم خصوصی صفات کا ذکر ہے اور ان کے باہم نسبت کا ذکر ہے " " ذات باری میں اقانیم کا تنازعہ رسولوں کے زمانے میں پیدا ہوا۔ یہ ہیلانی اور غنوسطی فلسفوں کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ دوسری صدی میں تھیو فیلوس اسقف انطاکیہ نے یونانی کا لفظ تریاس استعمال کیا۔ اس کے بعد ترتلیانوس نے لفظ ترینیت اس استعمال کیا۔ یہ لفظ ثالوث کے مترادف تھا۔ اس عقیدے کے بارے میں نیقیا کی پہلی مجلس سے ما قبل سے زمانے میں زبرست جدل وجدال رہا۔ خصوصاً مشرقی کلیسا مٰں۔ اور مشرقی کلیسا نے ان تمام آراء کو بدعتی آرا قرار دیا۔ ان میں ابیونیوں کی آرا شامل ہیں۔ جن کا عقیدہ یہ تھا کہ مسیح انسان محض ہیں۔ اسی طرح سابلیوں کے عقائد بھی اسی میں شامل تھے جو یہ عقیدہ رکھتے تھے اب ، ابن اور روح القدس تینوں مختلف اوصاف جن کا اطلاق اللہ نے اپنی ذات پر کیا ہے۔ اسی طرح اریوسی بھی تھے جن کے عقائد یہ تھے کہ بیٹا ازلی نہیں ہے بلکہ باپ کی مخلوق ہے۔ لیکن اس کی تخلیق ، تخلیق عالم سے پہلے ہوئی ہے۔ لہذا اس کا درجہ رب سے کم ہے۔ بلکہ یہ رب کے تابع اور مطیع ہے۔ ان میں مقدونی بھی تھے جن کا عقیدہ یہ تھا کہ روح القدس سرے سے اقنوم ہی نہیں ہے " آج کل کلیسا کے جو عقائد ہیں 325 میں نیقیا کی مجلس نے وضع کیا ہے۔ اس کے بعد قسطنطنیہ کی کانفرنس نے 381 ء میں اس کی توثیق کی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ابن اور روح القدس دونوں خدائی اور الوہیت میں باپ کے برابر ہیں اور ابن ازل ہی میں باپ کے ساتھ ہی پیدا ہوا۔ جبکہ روح القدس رب سے نکلا۔ پھر طلیطہ کی مجلس نے 589 میں یہ فیصلہ کردیا کہ روح باپ کے ساتھ بیٹے سے بھی پھوٹا۔ چناچہ پورے لاطینی کلیسا نے اس ترمیم کو قبول کرلیا۔ رہا یونانی کلیسا تو وہ پہلے خاموش رہا۔ لیکن بعد میں اس نے یہ دلائل دیے کہ یہ ترمیم بدعتی ہے۔ عقائدگی کا فقرہ (اور بیٹے سے بھی) یونانی اور کیتھولک کلیسا کے درمیان ہمیشہ باعث اختلاف رہا۔ لوتھرین اور دوسرے اصلاح پسند کلیساؤں کیتھولک کلیسا کے اصل عقائد کو جاری رکھا لیکن تیرہویں صدی کے جمہور اہل کلیسا نے ان کی مخالفت کی اور بعض جدید علمائے الہیات اور اور بعض جدید فرقوں مثلاً سوسینین جرمانین ، محصدین ، عمومیوں وغیرہ نے یہ قرار دیا کہ یہ عقائد کتاب مقدس اور عقل دونوں کے ساتھ لگا نہیں کھاتے۔ مسٹر سویڈ تیرگ نے حضرت مسیح کے اوپر تثلیث کے لفظ کا اطلاق بطور نشان کیا۔ یعنی انہوں نے مختلف اقنونوں کی تثلیث کے بجائے ایک اقنوم کی تثلیث کا نظریہ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا مسیح کی ذات میں جو الوہیت تھی ، وہ رب تھا۔ اور مسیح کی طبیعی ذات کے ساتھ جس کا تعلق تھا وہ ابن تھا اور اس سے جو پھوٹا وہ روح القدس تھا۔ لوتھرین کلیسوں میں جو خیالات ایک عرصے تک پھیلے ان کی وجہ سے جرمانی علماء الہیات کے اعتقادات میں بڑا تزلزل پیدا ہوا اور ایک عرصے تک رہا " " کنٹ کا نظریہ یہ تھا کہ الہیہ میں جو تین صفات تھیں نا کا نام رب ، ابن اور روح القدس ہے۔ ان سے مراد قدرت ، حکمت اور محبت ہے۔ یا ان سے مراد تین اعلی افعال ہیں یعنی تخلیق ، حفاظت اور کنٹرول ہیں۔ ہیبجین اور شلنگ نے ایک تخلیاتی اساس دی ہے اور نتاحر جرمانی علمائے الہیات نے اس کی تقلید کی ہے۔ انہوں نے نظریہ تثلیث کا دفاع تخیلاتی اساس پر کیا۔ بعض علماء لاہوت جو وحی پر اعتماد کرتے ہیں وہ تحقیق کی بنیادوں پر اہل کلیسا کی آراء کو درست نہیں سمجھتے۔ یعنی ان آراء کو جن کا فیصلہ مجالس نیقیا ، قسطنطنیہ ، ماضی قریب میں سابیلیوں کی حمایت بہت لوگوں نے کی ہے " اس اجمالی بحث کے بعد معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل کنیسا کے تمام فرقے اور مذاہب دین حق پر نہیں ہیں۔ کسی کے ہاں عقیدہ توحید صحیح معنوں میں نہیں پایا جاتا۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جیسا کوئی نہیں ہے اور یہ کہ اللہ لم یلد و لم یولد کا مصداق ہے۔ اریوسی بارہا یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ موحد ہیں ، ان لوگوں کا یہ دعوی گمراہ کن ہے کیونکہ وہ اس طرح موحد نہیں جس طرح مسلمان موحد ہیں بلکہ انہوں نے اپنے عقائد کے اندر اختلاط کردیا ہے۔ وہ ایک طرف یہ اقرار کرتے ہیں کہ حضرت مسیح اللہ کی طرح ازلی نہیں ہے اور ان کی یہ بات درست بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ابنیت کے بھی قائل ہیں اور اس کے بھی قائل ہیں کہ حضرت مسیح عالم سے بھی پہلے کی مخلوق تھے۔ لہذا یہ عقیدہ عقیدہ توحید نہیں کہلایا جاسکتا۔ اللہ نے تو ان لوگوں کو صریحاً کافر کہہ دیا ہے کہ مسیح ابن اللہ ہے یا وہ تینوں میں سے ایک ہے۔ لہذا کفر کی صفت اور ایمان کی صفت ایک ہی عقیدے میں کس طرح جمع ہوسکتے ہیں جبکہ یہ متضاد صفات اور متضاد امور ہیں۔ قرآن کریم نے یہودیوں کے قول (عزیر ابن اللہ ہیں) اور عیسائیوں کے قول کہ (عیسی ابن اللہ ہیں) پر جو تبصرہ کیا ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ان کی بات دوسرے کفار کے تصورات اور معتقدات کے برابر ہے۔ وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ عُزَيْرُۨ ابْنُ اللّٰهِ وَقَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِيْحُ ابْنُ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ " یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ بےحقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں۔ ان لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تھے " اس سے معلوم ہوا کہ یہ بات ان سے صادر ہوئی تھی ، محض ان کی طرف منسوب ہی نہیں ہے۔ اور یہاں (افواھھم) کے لفظ کو بےمقصد نہیں لایا گیا بلکہ جب وہ یہ قول کر رہے تھے تو اس وقت ان کے چہرے کی جو حسی کیفیت تھی اس کی طرف بھی اشارہ مقصود تھا لہذا یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ افواھھم کا لفظ زائد ہے اور بےمقصد ہے کیونکہ اللہ کے شایان شان یہ نہیں کہ وہ کوئی بےمقصد بات کرے۔ نہ یہ طوالت ہے۔ کیونکہ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ تصویر کشی میں حقیقی صورت حال کو سامنے لاتا ہے۔ پھر اس لفظ سے یہ اشارہ دینا بھی مطلوب ہے کہ یہ ان کی جانب سے محض ہوائی بات ہے۔ اس کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ صرف قول ہی قول ہے۔ اس کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ " یہ باتیں ان لوگوں کے دیکھا دیکھی یہ کر رہے ہیں جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے "۔ مفسرین یہ کہتے تھے کہ ان لوگوں کا عقیدہ ابنیت اسی طرح ہے جس طرح مشرکین کا عقیدہ ابنیت ملائکہ تھا۔ اور ملائکہ کی ابنیت کے عرب قائل تھے۔ یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن آیت کا مفہوم اس سے وسیع تر ہے۔ اور اس کی وضاحت اچھی طرح تب ہوئی جب لوگوں تک ہندو بت پرستوں کے عقائد پہنچے۔ یہ عقائد قدیم مصری بت پرستوں اور یونانیوں کے عقائد سے ملتے جلتے ہیں۔ اور یہی عقائد اہل کتاب کے اندر سرایت کرگئے۔ خصوصاً نصاری کے عقائد کے اندر۔ سب سے پہلے " پولوس رسول " کے عقائد میں یہ تصورات داخل ہوئے اور اس کے بعد نصاریٰ کی نظریاتی مجالس میں غلبہ پا کر یہ پھیل گئے۔ مصری تثلیث کے اجراء اور زوریس (رب) ایزیس اور موریس (ابن) فرعون بت پرستی کا اصل الاصول ہے۔ حضرت مسیح کی پیدائش سے بھی پہلے جو فلسفہ الہیات اسکندریہ میں پڑھایا جاتا تھا اس میں " کلمہ " کو دوسرا الہہ کہا گیا تھا۔ اور اسے " اللہ کا کنوارا بیٹا " بھی کہا جاتا تھا۔ ہندو بھی تین اقانیم کے قائل تھے یا وہ ان کو الہہ کے تین حالات سے تعبیر کرتے تھے جن میں اللہ تجلی فرماتا ہے۔ تخلیق وتکوین کی حالت میں اسے برہما کہا جاتا ہے۔ حفاظت اور قیم کی حیثیت سے وہ " وشنو " ہے اور ہلاک کرنے اور برابد کرنے کی حالت میں " وسیقا " کہا جاتا ہے۔ اس عقیدے کے مطابق وشنو (ابن) ہوتا ہے اور وہ برنیما کی الوہیت سے پھوٹتا ہے۔ اشوری بھی کلمہ کے قائل تھے۔ اسے وہ " مردوخ " کہتے تھے اور وہ مردوخ کو " اللہ کا کنوارا بیٹا " کہتے تھے۔ یونانی بھی مثلث الا قانیم الہہ کے قائل تھے۔ جب ان کے کہاں زبیح کرتے تو ان پر تین بار مقدس پانی چھڑکتے اور اسی طرح وہ خوشبو کے برتن سے تین انگلیوں میں خوشبو لیتے۔ اور اس ذبیحے کے ارد گرد جتنے لوگ ہوتے۔ ان پر اس خوشبو کو تین بار چھڑکتے اور یہ سب اشارات و تثلیث کی طرف کرتے تھے۔ کنیسہ نے یہی اشارات اخذ کرکے اپنے ہاں رسوم و عبادات کو اس طرح منطم کیا کہ وہ دوسرے کفار کے اقوال سے مشابہ ہوگئے۔ نزول قرآن کے وقت قدیم مشرکین کے یہ عقائد عام نہ تھے لیکن اس کے باوجود علیم وخبیر نے فرمایا یضاھئون قول الذین کفرو من قبل " یہ لوگ یہ باتیں ان لوگوں کی دیکھا دیکھی کرتے ہیں جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے "۔ نیز ان عقائد سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل کتاب دین حق پر نہیں ہیں اور ان کا ایمان ، ایمان صحیح نہیں ہے اور اس کے علاوہ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے قرآن مجید علیم وخبیر کی جانب سے ایک کلام معجز نما ہے اور اس کا سرچشمہ صرف ذات باری ہے۔ اس فیصلے اور وضاحت کے بعد آیت کے آخر میں یہ بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب شرک و کفر کے کس موقف پر قائم ہیں ؟ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ " خدا کی مار ہو ان پر کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہیں "۔ ان کو خدا تباہ کرے ، کس طرح وہ حق سے روگردانی کرتے ہیں حالانکہ وہ سیدھا سادھا اور واضح ہے اور بت پرستی کو اپنانے میں جو نہایت ہی پیچیدہ اور گنجلک ہے اور کوئی عقلمند اور ذی ہوش انسان بت پرستی کو سمجھ ہی نہیں سکتا۔

التوبة 9:31

اب قرآن کریم اہل کتاب کی گمراہیوں اور انحرافات کا ایک دوسرا ورق الٹتا ہے۔ یہاں اب ان کی گمراہی محض اعتقاد اور اقوال تک محدود نہیں ہے بلکہ اس فاسد اعتقادات و تصورات پر ان کی جو عملی صورت حال بنتی ہے اس کے اعتبار سے بھی وہ گمراہ اور منحرف ہیں۔ ۔۔۔ اس آیت میں بھی یہی بات جاری ہے جو اس سبق کا اصلی موضوع یعنی یہ کہ یہ لوگ در اصل اہل کتاب ہی نہیں۔ لہذا اس حوالے سے ان کو دین حق پر نہیں سمجھا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ دین اسلام پر نہیں ہیں۔ اس بات کی شہادت ان کی عملی زندگی دے رہی ہے۔ اس کی شہادت ان کے تصورات دے رہے ہیں ، ان کو حکم تو یہ دیا گیا تھا کہ وہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کریں مگر انہوں نے اپنے احبارو رہبان کو اللہ کے سوا الہ بنا دیا جیسا کہ انہوں نے حضرت مسیح کو رب بنایا جو ان کی جانب سے صریح شرک ہے۔ ج کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شرک سے پاک ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے اعتقادات و تصورات کے اعتبار سے اور اپنے اعمال اور واقعی زندگی کے اعتبار سے دین حق پر نہیں ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے احبارو رہبان کو کس طرح ، اللہ کے مقابلے میں رب قرار دیا تھا ؟ اس کی تشریح کرنے سے قبل ہم چاہتے ہیں کہ اس آیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے منقول تفسیری روایات یہاں نقل کردیں۔ کیونکہ خود حضور کی تفسیر قول فیصل ہے۔ احبار لغت کے اعتبار سے حبر یا حبر کی جمع ہے۔ یعنی حاء کے کسرے یا فتح کے ساتھ۔ یہ اہل کتاب کے علماء کا لقب ہے۔ اور علمائے یہود پر اس کا اطلاق زیادہ ہے۔ رہبان راہب کی جمع ہے۔ یہ عیسائیوں کے نزدیک اس شخص کو کہا جاتا ہے جو عبادت کے لیے اپنے آپ کو وقف کردے اور تمام دوسری سرگرمیوں سے کٹ جائے۔ بالعموم ایسا شخص شادی نہیں کرتا ، نہ کوئی روزگار کرتا ہے۔ لہذا وہ معاشی تکلفات سے بےغم ہوتا ہے۔ در منثور میں امام ترمذی کی روایت ہے جسے انہوں نے حدیث حسن کہا ہے۔ نیز ابن منذر ، ابن ابی حاتم ، ابو الشیخ اور ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ نے بھی اسے روایت کیا ہے۔ یہ روایت حضرت عدی ابن حاتم کی ہے۔ کہتے ہیں کہ میں حضور کے پاس آیا تو آپ سورة توبہ پڑھ رہے تھے۔ آپ نے یہ آیت پڑھی اتخذوا احبارھم و رھبانہم اربابا من دون اللہ۔ تو حضور نے فرمایا " یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ وہ ارباب و رہبان کی عبادت نہ کرتے تھے لیکن یہ بات تھی کہ جب وہ ان کے لیے کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو یہ اسے حلال سمجھتے اور جس چیز کو وہ حرام قرار دیتے تو یہ اسے حرام سمجھتے " ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں حضرت عدی ابن حاتم کی یہ روایت نقل کی ہے۔ کہتے ہیں کہ جب ان تک حضور اکرم ﷺ کی دعوت پہنچی تو وہ شام کی طرف بھاگ نکلے۔ یہ صاحب جاہلیت میں عیسائی بن گئے تھے۔ چناچہ ان کی بہن اپنی قوم کے لوگوں کے ساتھ گرفتار ہوئی ، تو حضور اکرم نے ان کے ساتھ بہت ہی کریمانہ برتاؤ کیا اور اسے عطیات دئیے۔ یہ اپنے بھائی کے پاس واپس گئی اور اسے اسلام کی طرف رغبت دلائی اور اس پر آمادہ کیا کہ وہ مدینہ جائیں۔ چناچہ حضرت عدی مدینہ گئے۔ یہ اپنی قوم دلی کے رئیس تھے اور ان کے والد حاتم الطائی جود و کرم میں مشہور زمانہ تھے۔ لوگوں کے اندر مدینہ میں اس کی آمد کا چرچا ہوا۔ یہ رسول اللہ ﷺ سے ملے۔ ان کے گلے میں سونے کی صلیب تھی حضور یہ آیت پڑھ رہے تھے اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ۔ تو وہ کہتے ہیں کہ میں نے سوال کیا کہ حضور عیسائی تو احبارو رہبان کی عبادت نہیں کرتے۔ تو حضور نے فرمایا یہ درست ہے کہ وہ ان کی عبادت نہیں کرتے۔ لیکن انہوں نے ان کے لیے حلال اور حرام کی حدود خود متعین کی ہیں اور لوگ اس معاملے میں ان کی اطاعت کرتے ہیں لہذا یہ ان عوام کی طرف سے ان کی بندگی ہے۔ امام سدی کہتے ہیں کہ انہوں نے انسانوں کو اپنا مقتدا بنا لیا تھا اور اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے : وما امروا الا لیعبدوا الھا واحدا " حالانکہ ان کو صرف اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ صرف اللہ کی بندگی کریں " یعنی اللہ جس چیز کو حلال قرار دے اسے حلال سمجھیں اور اللہ جسے حرام قرار دے اسے حرام سمجھیں۔ یعنی اللہ نے جو قانون بنایا اس کی اطاعت ہو اور جو حکم دیا وہ نافذ ہو۔ امام آلوسی اپنی مشہور تفسیر میں کہتے ہیں " مفسرین کی اکثریت نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ وہ احبارو رہبان کو الہہ العالم سمجھتے تھے بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ ان کے اوامرو نواہی میں ان کی اطاعت کرتے تھے "۔ اس واضح ترین آیت اور پھر حضور اکرم کی توضیح و تشریح پر قدماء مفسرین اور متاخرین مفسرین کی تشریحات سے ہمارے سامنے دین اسلام کے اصلی تصورات و عقائد کے حوالے سے یہ نتائج سامنے آتے ہیں۔ اور یہ نتائج نہایت ہی اہم اور مختصر ہیں۔ نص قرآن اور تشریحات رسول کے مطابق عبادت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کا اتباع کیا جائے۔ کیونکہ یہود و نصاری اپنے احبار اور رہبان کو عقیدۃ الہ نہ سمجھتے تھے اور نہ ان کے سامنے مراسم عبودیت بجا لاتے تھے لیکن اس حقیقت کے باوجود اللہ نے ان پر کفر کا الزام لگایا۔ محض اس لیے کہ یہ لوگ شریعت کو اپنے مذہبی مقتداؤں سے اخذ کرتے تھے اور پھر اس کی اطاعت کرتے تھے۔ لہذا اگر کوئی کسی کو الہہ نہیں بھی سمجھتا اور اس کے سامنے مراسم عبودیت نہیں بھی بجا لاتا لیکن اگر اس سے قانون و شریعت اخذ کرتا ہے کہ تو یہ شخص مشرک و کافر ہے اور جس سے وہ قانون اخذ کرتا ہے وہ بمنزلہ رب ہے۔ یہود جو اپنے احبار سے قانون اخذ کرتے تھے اور نصاری جو مسیح کو الہ بھی سمجھتے تھے اور رہبان سے قانون لیتے تھے دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی درجے میں رکھا ہے اور دونوں کے درمیان کوئی فرق و امتیاز نہیں فرمایا کیونکہ دونوں ارتکاب شرک میں برابر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جونہی ایک شخص اللہ کے سوا کسی اور کو حق قانون سازی دیتا ہے وہ مشرک ہوجاتا ہے۔ اگرچہ وہ اسے الہہ یا معبود نہ سمجھتا ہو اور اس کے سامنے مراسم عبودیت بجا نہ لاتا ہو۔ جیسا کہ درج بالا تشریحات سے واضح ہوگیا ہے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس نکتے کی مزید تشریح کریں۔ یہ حقائق جب مسلمانوں کے سامنے پیش کیے گئے تو اس وقت امت مسلمہ کو مخصوص حالات درپیش تھے۔ اس میں رومیوں کے ساتھ جنگ کا مسئلہ درپیش تھا۔ اور بعض مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ تردد اور خلجان تھا کہ رومی بہرحال اہل کتاب تو ہیں ، اس لیے اس تردد اور شبہہ کو دور کرنے کے لیے یہ آیات اتریں اور یہ بتایا گیا کہ اگرچہ اہل کتاب مومن باللہ ہیں اور یہ کہ ان کے ایمان کی حالت یہ ہے لیکن مخصوص حالات میں نزول کے باوجود ان آیات میں دین اسلام کے عام اصول اور مطلق حقائق بتائے گئے ہیں۔ اللہ کے نزدیک دین حق صرف اسلام ہے اور اللہ تعالیٰ دین اسلام کے سوا لوگوں کی جانب سے کوئی اور دین قبول نہیں کرتا۔ اور دین اسلام دنیا میں مکمل طور پر قائم تب ہوگا جب اس زمین پر اللہ کی شریعت نافذ ہوجائے اور اس شریعت کے نفاذ سے بھی پہلے یہ کہ لوگ اللہ وحدہ کو الہہ سمجھیں اور مراسم عبودیت بھی صرف اس کے سامنے بجا لائیں۔ تو اگر لوگ اللہ کی شریعت کے سوا کسی اور قانون کے متبع ہوں تو ان میں وہ شرط موجود ہوگئی جو یہود و نصاری میں موجود تھی اور اس وجہ سے ان کو غیر مومن قرار دیا گیا تھا۔ اگرچہ وہ بار بار مومن ہونے کا دعویٰ کرتے تھے۔ کیونکہ اللہ کے سوا کسی انسان کی شریعت کو قبول کرتے ہی وہ لوگ مشرک ٹھہرے۔ الا یہ کہ کوئی ایسی صورت حال ہو کہ وہ غیر اسلامی قانون نظام میں مجبوراً رو رہے ہوں اور مجبوراً اس کا اتباع کر رہے ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اس نظام کو دور کرنے کی جدوجہد بھی کر رہے ہوں لفظ دین کا مفہوم اس قدر سکڑ گیا ہے کہ لوگ اسے صرف دینی عقیدے کے مترادف سمجھنے لگے ہیں۔ یا زیادہ سے زیادہ مراسم عبودیت اور پرستش تک وسیع کرتے ہیں۔ اس حد تک تو یہودی بھی اپنے دین کے متبع تھے اور اس محدود معنی میں اپنے آپ کو دین دار کہتے تھے لیکن حضور ﷺ کی تشریح تو یہ بتاتی ہے کہ حقیقی عنوں میں وہ نہ مومن تھے اور نہ دیندار تھے کیونکہ انہوں نے احبارو رہبان کو اللہ کے سوا رب بنا لیا تھا۔ دین کا پہلا مفہوم یہ ہے کہ کسی کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے اور اس کا تحقق تب ہوسکتا ہے جب کوئی خدا کے قانونی نظام کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔ لہذا یہ معاملہ بہت ہی سنجیدہ ہے اور یہ مفہوم ان لوگوں کے اہل دین ہونے کو تسلیم نہیں کرتا جو شریعت کے علاوہ دوسرے قانونی نظاموں کے متبع ہیں ، الا یہ وہ مجبور ہوں۔ نہ اسلام میں ایسے لوگ مسلم اور مومن ہیں صرف اس لیے کہ وہ اللہ کو الہ واحد سمجھتے ہیں اور اس کی پرستش کرتے ہیں۔ ہمارے دور میں عوام کو جو ڈھیل دے دی گئی ہے یہ دین اسلام کے لیے بہت ہی خطرناک ڈھیل ہے۔ یہ در اصل ایک خطرناک ہتھیار ہے جو اسلام کے دشمن اسلام کی بیخ کنی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ ان حالات اور ان افراد پر اسلام کی تختی نصب کرتے ہیں جن کے بارے میں اور ان جیسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر بتاتے ہیں کہ یہ اہل دین نہیں ، یہ تو مومن نہیں۔ کیونکہ انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو رب بنایا ہوا ہے۔ جب دشمنان دین کو یہ اصرار ہے کہ ایسے لوگوں کو وہ دیندار ثابت کریں جو درحقیقت دیندار نہیں ہیں۔ تو اسلام کے حامیوں کا بھی یہ فرض ہے کہ ایسے حالات کو غیر اسلامی حالات ثابت کریں۔ ایسے افراد اور ایسے معاشروں کو غیر اسلامی افراد اور معاشرے ثابت کریں۔ اور اس مسئلے کی حقیقت کو کھول کر بیان کریں کہ ایسے لوگوں نے دوسرے افراد کو رب بنا رکھا ہے۔ حالانکہ ان کو حکم یہ دیا گیا تھا : تَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لا إِلَهَ إِلا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ " انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ، وہ جس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ، پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں "

التوبة 9:32

اس کے بعد سیاق کلام یوں بڑھتا ہے : " یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔ مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو " یعنی اہل کتاب کا قصور صرف یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے حقیقی دین سے منحرف ہوگئے ہیں جو سچا دین تھا اور ان کا جرم صرف یہ نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا اور شخصیات کو رب بنا رکھا تھا اور آخرت پر ایمان نہ لاتے تھے جیسا کہ آخرت کے صحیح مفہوم کے تقاضے ہیں بلکہ اس کے علاوہ ان کا ایک اور ناقابل معافی جرم بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ انہوں نے دین حق کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہے اور حضرت محمد ﷺ دین حق کی شکل میں جو نئی روشنی پھیلا رہے ہیں وہ اپنی آنکھوں سے اس چراغ کو بجھانا بھی چاہتے اور اس دعوت کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ اور اس نظام زندگی کو برباد کرنا چاہتے ہیں جو اس جدید دعوت کے مطابق تشکیل پایا ہے۔ يُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ " یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں " لہذا یہ لوگ اللہ کے نور کے دشمن ہیں۔ وہ اپنے جھوٹ ، سازش اور فتنہ پردازی کی وجہ سے اس نور کو بجھانا چاہتے ہیں یا وہ اپنے متبعین اور اپنی جماعتوں اور اہالی و موالی کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اس دین کے خلاف جنگ کریں اور اس کی راہ روکین۔ جس وقت یہ آیات نازل ہو رہی تھیں اس وقت یہی صورت حال تھی اور آج بھی یہی صورت حال ہے۔ ان آیات سے اس وقت غرض وغایت یہ تھی کہ مسلمان اپنے دفاع کی تیاری جوش و خروش سے کریں لیکن اس وقت کے حالات کے بعد آج تک اسلام کے بارے میں اہل کتاب کا موقف یہی ہے۔ وہ اسلام کی روشنی کو ہر وقت بجھانے کی سعی کرتے ہیں لیکن اللہ کا موقف یہ ہے : وَيَأْبَى اللَّهُ إِلا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ " مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو " یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور یہ وعدہ اللہ کی ناقابل تغیر سنت پر مبنی ہے کہ اگرچہ کافر اس بات کو ناپسند کریں گے لیکن اللہ اپنی روشنی کو پوری طرح چمکائے گا۔ یہ وعدہ ایمانداروں اور اسلامی انقلاب کے کارکنوں کے لیے باعث اطمینان ہے۔ انہیں اپنی پسندیدہ راہ پر مزید آگے بڑھنا چاہیے اور قدم بڑھاتے چلے جانا چاہیے اور مشکلات راہ کو انگیز کرنا چاہیے اور دشمن کی سازشوں اور دشمن کی مسلسل جنگ کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ ابتدا میں مراد تو اہل کتاب تھے لیکن مراد عام دشمن ہیں جو اسلام کی راہ روکنا چاہتے ہیں۔ چاہے جس عنوان سے روکیں اور چاہے جس کی امان میں روکیں۔ اب اگلی آیت میں اس مضمون کی مزید تاکید کی جاتی ہے

التوبة 9:33

اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دین حق سے مراد وہ دین ہے جو آیت قتال میں دین مراد ہے : قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ (29) جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ اور یہ دین حق وہی ہے جو حضرت محمد ﷺ کو دیا گیا ہے۔ جو لوگ اس دین حق کو قبول نہیں کرتے ان کے ساتھ قتال لازم ہے۔ اس آیت کی جو تاویل بھی ہم کریں یہ بات درست ہے۔ کیونکہ دین کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اللہ کی مکمل اطاعت کرے اور وہ مراسم عبادت اور قانون بھی اللہ کا تسلیم کرے۔ پورے دین میں شمولیت کا یہی اصول ہے۔ اور اس دین حق کی آخری صورت وہ ہے جو حضرت محمد ﷺ نے پیش کی ہے۔ لہذا جو شخص بھی اللہ کے دین ، اس کے مراسم عبودیت اور اس کی شریعت کو قبول نہیں کرتا ، اس پر اس بات کا اطلاق ہوگا کہ وہ دین کو قبول نہیں کرتا۔ اور اس پر آیت قتال مذکورہ کا اطلاق ہوگا لیکن آیت قتال کے انطباق کے وقت اسلام کے تحریکی اور تدریجی مراحل کو ضرور مدنظر رکھنا ہوگا کیونکہ اسلام میں ہر اقدام کے لیے وقت مقرر ہے جس کی تشریح ہم نے بار بار کی ہے۔ یہ آیت ہے یعنی هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰي۔ آیت سابقہ کے مضمون کی تاکید ہے جس میں کہا گیا تھا وَيَاْبَى اللّٰهُ اِلَّآ اَنْ يُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَلَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ ۔ مطلب یہ تھا کہ جس نور کو اللہ تعالیٰ مکمل کرنا چاہتے ہیں وہ اسلامی نظام حیات کا قیام اور غلبہ ہے بلکہ قیام کے بعد عالم میں قائم تمام نظاموں پر اس کے غلبے کی صورت میں یہ روشنی مکمل ہوگی۔ اب دین حق کیا ہے ؟ جیسا کہ اس سے قبل ہم بار بار کہہ چکے ، دین حق ہے اللہ وحدہ پر اعتقاد رکھنا ، اللہ وحدہ کی بندگی اور پرستش کرنا ، اور اللہ کی نازل کردہ شریعت کی اطاعت کرنا اور اسے نافذ کرنا۔ اور یہ اجزا ان تمام ادیان کا حصہ تھے جو رسولان برحق نے انسانوں کے سامنے کبھی پیش کیے۔ لہذا دین حق میں وہ بت پرستانہ منحرف ادیان شامل نہیں ہیں جن کا اصلا گرچہ درست عناصر ان کی موجودہ شکل مسخ شدہ شکل ہے۔ اور وہ درحقیقت بت پرستانہ ادیان ہیں مثلاً عالمی یہودیت اور عیسائیت۔ نیز دین حق میں وہ ادیان و مذاہب بھی شامل ہیں جنہوں نے دین کی تختی تو لگا رکھی ہے لیکن در اصل ان نظاموں میں اربابا من دون اللہ کی پرستش ہوتی ہے۔ یوں کہ ان میں انسان انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کی اطاعت کرتے ہیں۔ اور جن قوانین کو اللہ نے نازل نہیں فرمایا۔ جبکہ اللہ کا صریح حکم یہ ہے کہ اس نے اپنے رسول کو دین حق اور ہدایت دے کر بھیجا ہے تاکہ وہ اس دین حق کو تمام ادیان پر غالب کردے لہذا ہمارا فرض ہے کہ ہم دین کو اس کے وسیع مفہوم میں لیں تاکہ اللہ کے عہد کی وسعت ہمیں معلوم ہو۔ دین در اصل ایک نظام زندگی ہے۔ لہذا لوگ جس کسی نظام کو تسلیم کرتے ہوں ، اس کی اطاعت کرتے ہوں ، جن کے تصورات کو صحیح سمجھتے ہیں۔ اور جس کی اتباع کرکے اس کی وفاداری کا دم بھرتے ہوں وہی ان کا دین ہے۔ پھر اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ وہ اس دین کو تمام ادیان پر غالب کرنا چاہتے ہیں۔ یہاں بھی دین کا یہی وسیع مفہوم مراد ہے یعنی نظام زندگی۔ نظام زندگی صرف اللہ کا نظام زندگی ہے۔ اور تمام لوگوں نے اس کی اطاعت کرنی ہے۔ اور غالب بھی صرف اسی نظام کو کرنا مطلوب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک دفعہ تو یہ کام کرکے دکھایا۔ آپ کے بعد آپ کے خلفائے راشدین نے غلبہ دین کو قائم رکھا۔ ان ادوار میں دین حق غالب اور ممتاز رہا۔ اور تمام وہ ادیان جن میں اطاعت خالصتاً اللہ کے لیے نہ تھی ، وہ اس کے مقابلے میں لرزہ براندام تھے۔ اس کے بعد دین حق کے حاملین نے خود ہی اس دین کو چھوڑ دیا۔ آہستہ آہستہ وہ دین سے دور ہوتے گئے اور اسلامی نظام اور اسلامی معاشرے کے خلاف صلیبی اور بت پرستانہ ادیانی کی مسلسل ریشہ دوانیوں اور کفار اور اہل کتاب کی مشترکہ کارروائیوں کے نتیجے میں اس نظام کو ختم کیا گیا۔ لیکن معرکہ سٹاپ نہیں ہوگیا۔ اللہ کا وعدہ اپنی جگہ قائم ہے۔ اللہ مومنین کو دیکھ رہا ہے۔ انتظار میں ہے۔ وہ مومنین جنہوں نے اللہ کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔ انہوں نے اپنے کام کا آغاز نکتہ آغاز سے کیا ہے۔ جہاں سے حضور اکرم نے کام آغاز کیا تاھ اور دین حق کے احیاء کی یہ تحریک اب نور ربانی کی روشنی میں جادہ پیما ہے۔

التوبة 9:34

اس سورة کے اس سبق کی آخری یونٹ پر ہم پہنچ چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اہل کتاب اللہ کے حرا کیے ہوئے کو کس طرح حرام نہیں کرتے۔ جبکہ اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ اپنے احبارو رہبان کو رب سمجھتے ہیں۔ اللہ کے سوا رب قرار دیتے ہیں اور جس کی تفسیر رسول اللہ نے یہ فرمائی تھی کہ یہ اہل کتاب احبارو رہبان کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام سمجھتے ہیں۔ یہاں یہ بتایا گیا کہ یہ احبارو رہبان اللہ کے حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے۔ اللہ کے حلال کردہ کو حلال نہیں سمجھتے۔ ۔۔۔ آیت میں احبارو رہبان کے کردار کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ عوام نے تو ان کو اللہ کے علاوہ رب بنا رکھا ہے۔ اور یہ لوگ نتیجتاً لوگوں کے لیے حلال و حرام کے قوانین بنانے ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو لوگوں کے لیے بطور رب پیش کیا ہے اور لوگوں نے اسے قبول کیا ہے۔ اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کے اموال باطل طریقے سے کھاتے پیتے ہیں۔ اور لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں۔ لوگوں کے اموال کھانے کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ جو ابھی تک رائج ہیں۔ ان میں سے ایک تو وہ فیس ہے جو حرام کو حلال قرار دینے یا حلال کو حرام قرار دینے کے عوض لی جاتی تھی اور اس قسم کے فیصلے بالعموم مالداروں کے حق میں ہوتے تھے یا بادشاہوں کے حق میں جاری ہوتے تھے۔ ان میں وہ فیس بھی شامل ہے جو مذہبی پیشوا ایک معترف گناہ سے لیتے تھے اور پھر اسے بخش دیتے تھے اور ان مذہبی پیشواؤں کے زعم میں وہ یہ اختیارات ازروئے شریعت رکھتے تھے اور اس میں مشہور مسئلہ رہا ہے کہ وہ اسے حلال قرار دیتے تھے۔ اس میں وہ اموال بھی شامل ہیں جو وہ لوگوں سے دین حق کے مقابلے کے لیے لیتے تھے۔ احبار اور رہبان اسقف اور دوسرے مذہبی پیشوا صلیبی جنگوں کے لیے لاکھوں روپے جمع کرتے رہے ہیں اور اب وہ مستشرقین اور مبشرین کے لیے اربوں روپے جمع کرکے عالم اسلام میں خرچ کرتے ہیں ، یوں وہ لوگوں کو گمراہ کرکے اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ قرآن کریم کی درج ذیل آیت بڑے گہرے غور و فکر کی مستحق ہے۔ اس میں بات کس قدر عدل و انصاف کے ساتھ کی گئی ہے۔ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ یعنی احبارو رھبان میں سے بیشتر لوگ۔ اس سے ان لوگوں کی وہ قلیل تعداد نکل جاتی ہے جو اس غلطی کا ارتکاب نہیں کرتی۔ اس لیے کہ دنیا کے مختلف فرقوں اور جماعتوں میں اچھے لوگوں کا پایا جانا ایک فطری امر ہے۔ اور ذات باری تعالیٰ بہرحال ہر کسی کے ساتھ انصاف کرتی ہے۔ اکثر احبارو رہبان لوگوں سے حاصل کردہ اموال کو جمع کرتے تھے۔ یہود و نصاری کی تاریخ شاہد ہے کہ وہ لوگوں کے اموال کنیسوں میں جمع کرتے اور ان کے تکیوں پر بےحد شکرانے جمع ہوتے تھے۔ اور بعض اوقات مذہبی لیڈروں کے پاس بادشاہوں اور راجوں وہ مہاراجوں کے مقابلے میں بھی زیادہ دولت جمع ہوجاتی تھی۔ اس لیے یہاں سیاق کلام میں قیامت کے دن ان کی اس جمع کردہ دولت ہی کو ان کے لیے باعث عذاب بنایا ہے اور یہی سزا ان تمام لوگوں کو ملے گی جو دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے اور اس بات کی تصویر کشی نہایت ہی خوفناک انداز میں کی گئی ہے : وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (34) يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لأنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ (35) " دردناک سزا کی خوشخبری دو ۔ ان کو جو سونے اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں۔ اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا ، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو " تعذیب کے اس منظر کی یہاں بہت سی تفصیلات دے دی گئی ہیں اور تعذیب کے ابتدائی مراحل سے لیکر آخری مراحل کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے تاکہ حس و خیال میں یہ منظر اچھی طرح بیٹھ جائے لہذا تعذیب کی تفصیلات دینا با مقصد ہے۔ والذین یکنزون الذھب والفضۃ " دردناک سزا کی خوشخبری دو ان کو جو سونے اور چاندی جمع کرک رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے " اس کے بعد سیاق کلام پر خاموشی طاری ہوجاتی ہے اور اجمال اور ابہام کے بعد تفصیلات دوسری آیت میں دی جاتی ہیں۔

التوبة 9:35

يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ " ایک دن آئے گا کہ اسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی "۔۔ اب اس کے بعدسامع دیکھتا ہے کہ ان دھاتوں کو کس طرح گرم کیا جاتا ہے۔ اب اگلے منظر میں ہاتھوں میں گرم سلاخیں لیے ہوئے کارندے نظر آتے ہیں۔ سلاخیں تیار ہیں اور دردناک عذاب کا عمل شروع ہوتا ہے۔ اب ان مجرموں کے ہاتھوں اور چہروں کو داغا جاتا ہے اور جب ان کے چہروں کو اچھی طرح داغ دیا جاتا ہے تو اب ان کے پہلوؤں پر داغ لگائے جاتے ہیں اور جب ان کے پہلو داغ دیے جاتے ہیں تو ان کی پیٹھوں پر داغ دہی کا عمل شروع ہوتا ہے اور جب یہ جسمانی عذاب ختم ہوتا ہے تو اب ان کو سرزنش کی جاتی ہے تاکہ ان کی روحانی تذلیل ہو۔ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لأنْفُسِكُمْ " یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا " یہ تو تم نے لذت کے لیے جمع کیا تھا لیکن یہ اب تمہارے لیے عذاب الیم کا آلہ بن گیا ہے۔ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ " اب اپنی اس سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو " بذاتہ وہی دولت ہے۔ اب دیکھو کہ تمہارے چہروں ، تمہارے پہلوؤں اور تمہاری پیٹھوں کے ساتھ اس کا صرف مس ہی موجب اذیت ہے۔ غرض یہ ایک نہایت خوفناک منظر ہے اور اس میں ہر ہر حرکت کی تفصیلات دی گئی ہیں اور ان تفصیلات سے دوچار ہوں گے احبارو رہبان کی اکثریت۔ پھر وہ لوگ جو بلا ضرور مال و دولت جمع کرتے اور اسے اللہ کی راہ میں کرچ نہیں کرتے۔ یہ بات یہاں پیش نظر رہے کہ یہ آیات غزوہ تبوک کے موقع پر نازل ہوئیں جسے غزوۃ العسرۃ بھی کہا جاتا ہے۔ ۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں یہاں ہمیں قدرے رکنا چاہیے اور اس پوری بحث کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے اور ذہن میں اس پوزیشن کو مستحضر کرلینا چاہئے جو ان ربانی ہدایات کے مطابق اہل کتاب کی فی الحقیقت ہے کہ ان کے عقائد کیا ہیں ؟ ان کے اخلاف کیا ہیں ان کا طرز عمل کیا ہے ؟ خصوصاً ان اشارات کی روشنی میں جو ہم نے ان آیات کی تشریح کے دوران دیے۔ اہل کتاب کے بارے میں اس شبیہ کو صاف کردینا کہ آیا وہ دین حق پر ہیں ، نہایت ہی ضروری تھا۔ صریحا مشرک لوگ تو بہرحال مشرک ہوتے ہیں اور سب کو نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے عقائد ، اعمال اور مراسم عبودیت کے اعتبار سے نظر آتے ہیں کہ وہ مشرک ہیں لیکن اہل کتاب کے نام سے شبہ ہوسکتا تھا کہ شاید وہ دیندار ہیں۔ یہ شبہات دور کرنا اس لیے ضروری تھا کہ مسلمان اس جاہلیت کے مقابلے کے لیے اچھی طرح تیار ہوجائیں جہاں تک مشرکین کا تعلق ہے تو ہی بات ہر کسی کو معلوم ہے کہ وہ جاہلیت کے پیرو کار ہیں لیکن اہل کتاب کے بارے میں پوزیشن واضح نہ تھی کیونکہ اہل کتاب کا دعوی یہ تھا کہ وہ پہلے سے مسلمانوں کی طرح ایک دین سماوی کے پیرو ہیں۔ جس طرح آج کے نام نہاد مسلمانوں کی اکثریت دیہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ اس سورت کے آغآز ہی سے مشرکین سے مکمل بائکاٹ اور ان کے مکمل مقابلے کی بات تفصیلاً اس سورت کا موضوع رہی ہے اور ان حالات کا بھی تقاضا تھا جس کی تشریح ہم نے اس سورت کے مقدمے میں کردی ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ رَسُولِهِ إِلا الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (7) كَيْفَ وَإِنْ يَظْهَرُوا عَلَيْكُمْ لا يَرْقُبُوا فِيكُمْ إِلا وَلا ذِمَّةً يُرْضُونَكُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ وَتَأْبَى قُلُوبُهُمْ وَأَكْثَرُهُمْ فَاسِقُونَ (8) اشْتَرَوْا بِآيَاتِ اللَّهِ ثَمَنًا قَلِيلا فَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (9) لا يَرْقُبُونَ فِي مُؤْمِنٍ إِلا وَلا ذِمَّةً وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُونَ (10) ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے ؟ بجز ان لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا ، تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیونکہ اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے . مگر ان کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جبکہ ان کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پا جائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا ؟ وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل ان کے انکار کرتے ہیں اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی۔ پھر اللہ کے راستے میں سد راہ بن کر کھڑے ہوگئے۔ بہت برے کرتوت تھے جو یہ کرتے رہے۔ کسی مومن کے معاملہ نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا۔ اور زیادہ ہمیشہ انہی کی طرف سے ہوئی ہے۔ أَلا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ وَهُمْ بَدَءُوكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ أَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَوْهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (13) قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ وَيُخْزِهِمْ وَيَنْصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ (14) وَيُذْهِبْ غَيْظَ قُلُوبِهِمْ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (15): ے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول کو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتدا کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم ان سے ڈرتے ہو ؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس سے زیادہ مستحق ہے کہ اس سے ڈرو۔ ان سے لڑو ، اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزا دلوائے گا اور انہیں ذلیل و خوار کرے گا اور ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا اور ان کے قلوب کی جلن مٹا دے گا اور جسے چاہے گا ، توبہ کی توفیق بھی گا۔ اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے۔ مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَنْ يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ أُولَئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں در آں حالیکہ اپنے اوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔ ان کے تو سارے اعمال ضاعئ ہوگئے اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے یَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا آبَاءَكُمْ وَإِخْوَانَكُمْ أَوْلِيَاءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الإيمَانِ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ، : اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنے باپوں اور بھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ ناؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں۔ تم میں سے جو ان کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں۔ مشرکین کے خلاف جہاد کے لیے اٹھنے کا یہ لازمی تقاضا تھا کہ ان پر تنقید کی جائے اور ان کا کیس بھی سادہ تھا۔ کیونکہ اس وقت اسلامی جماعت کو جس قسم کے حالات درپیش تھے اس میں اسلامی معاشرے کے مد مقابل مشرکین تھے لیکن اہل کتاب کے خلاف جہاد کرنے کے لیے مشرکین سے بھی زیادہ شاید تنقیدی حملے کی ضرورت تھی اور اس بات کی ضرورت تھی کہ اہل کتاب پر اہل کتاب اور اہل دین ہونے کا جو بورڈ لگا ہوا تھا انہیں اس سے محروم کردیا جائے اور ان کی اصل حققت کو ظاہر کیا جائے کہ وہ مشرکین کی طرح مشرکین ہیں اور ان میں اور دوسرے مشرکین میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دوسرے کفار کی طرح وہ بھی کفار ہیں اور کفار و مشرکین دونوں کی طرح یہ بھی دین اسلام کے خلاف شب و روز جنگ میں مصروف ہیں۔ یہ گمراہ ہیں اور لوگوں کے اموال نہایت نہایت ہی باطل طریقوں سے کھاتے ہیں۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔ چناچہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے دو ٹوک موقف نازل فرمایا۔ قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلا بِالْيَوْمِ الآخِرِ وَلا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّى يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ (29) وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ وَقَالَتِ النَّصَارَى الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ بِأَفْوَاهِهِمْ يُضَاهِئُونَ قَوْلَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُونَ (30) اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا إِلَهًا وَاحِدًا لا إِلَهَ إِلا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ (31) يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَأْبَى اللَّهُ إِلا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (32) هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (33) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّ كَثِيرًا مِنَ الأحْبَارِ وَالرُّهْبَانِ لَيَأْكُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَيَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ أَلِيمٍ (34) يَوْمَ يُحْمَى عَلَيْهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوَى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ هَذَا مَا كَنَزْتُمْ لأنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُونَ " جنگ کرو ، اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچ اللہ اور اس کے سول نے حرام کیا ہے ، اسے حرام نہیں کرتے۔ اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (ان سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کر رہیں۔ یہودی کہتے ہیں کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔ یہ بےحقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبان سے نکالتے ہیں۔ ان لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تے خدا کی مار ان پر ، یہ کہاں سے دھوکہ کھا رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور اسی طرح مسیح ابن مریم کو بھی۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سوا کسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا۔ وہ جس کے سوا کوئی مستحق نہیں۔ پاک ہے وہ ان مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کیے بغیر ماننے والا نہیں ہے۔ خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے ، تاکہ اسے پوری جنس دین پر غالب کردے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو ، اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ ان اہل کتاب کے اکثر علماء درویشوں کا یہ حال ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں " دوسری مکی اور مدنی سورتوں میں ان اہل کتاب کے بارے میں جو دو ٹوک فیصلے کیے گئے ہیں وہ اس کے علاوہ ہیں۔ تمام مکی اور مدنی سورتوں میں ان کے بارے میں یہ قرار دیا گیا ہے کہ یہ لوگ مکمل طور پر کفر اور شرک میں داخل ہوگئے ہیں ہیں اور پوری طرح دین حق سے نکل چکے ہیں۔ انہوں نے اس دین کو پوری طرح چھوڑ دیا ہے جو ان کے نبی ان کے پاس لائے تھے۔ نیز انہوں نے نہ صرف یہ کہ موجودہ دین حق کو قبول نہیں کیا بلکہ وہ اس کی راہ روکنے کے لیے کمر بستہ ہیں۔ لہذا دین جدید کے حوالے سے اپنے موقف کی بنا پر بھی یہ مکمل طور پر کافر اور مشرک ہیں۔ اس سے پہلے آیات گزر چکی ہیں جن میں اہل کتاب کو یہ خطاب کیا گیا تھا کہ وہ دین سماوی اور دین الہی سے مکمل طور پر نکل چکے ہیں۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَسْتُمْ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْرَاةَ وَالإنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ وَلَيَزِيدَنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ طُغْيَانًا وَكُفْرًا فَلا تَأْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ (68): " صاف صاف کہہ دو کہ " اے اہل کتاب ، تم ہر گز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ تورات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں " ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھا دے۔ مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو " لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم " یقینا تقریبا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ میسح ابن مریم ہے لقد کفر الذین قالوا ان اللہ ثالث ثلثۃ " یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے " لم یکن اذین کفروا من اھل الکتب والمشرکین منفکین حتی تاتیہم البینۃ " اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے وہ اپنے کفر سے باز آجانے والے نہ تھے ، جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آجائے " یہ اور اس قسم کی دوسری کثیر آیات جن کو ہم نے اس سے پہلے نقل کیا۔ یہ آیات مکی قرآن میں بھی ہیں اور مدنی میں بھی ہیں اور کافی تعداد میں ہیں۔ صورت حال یہ تھی کہ قرآن کریم نے اہل کتاب کو بعض معاملات میں امتیازی پوزیشن دی تھی۔ مثلاً مسلمانوں پر ان کا کھانا حلال کیا تھا۔ اور ان کی پاک دامن عورتوں کے ساتھ نکاح کو جائز قرار دیا گیا تھا۔ لیکن یہ امتیازی پوزیشن ان کو اس لیے نہ دی گئی تھی کہ وہ دین حق کے کسی حصے پر عمل پیرا تھے۔ بلکہ یہ مراعات ان کو اس لیے دی گئی تھیں کہ اصلاً وہ دین حق کے حامل تھے اور تاریخ طور پر وہ تحریک اسلامی کا حصہ تھے۔ اگرچہ حالا وہ خود اپنے دین پر بھی قائم نہ تھے۔ اس طرح ان کے ساتھ مکالمے میں یہ بات ممکن تھی کہ ہمارا اور تمہارا اصل دین تو ایک ہے۔ لہذا قرآن نے ان کو بت پرستوں اور مشرکوں کے مقابلے میں یہ امتیازی پوزیشن دے دی جبکہ بت پرستوں کے ہاں کوئی ایسا اصول نہ تھا جس کو ہاتھ میں لے کر اسلام ان کے ساتھ کوئی مکالمہ کرسکے۔ رہی یہ بات کہ خود اہل کتاب کی لیڈری کی حقیقت کیا ہے ؟ ان کے عقائد کیا ہیں ؟ ان کی دینی حیثیت کیا ہے ؟ تو اس معاملے میں قرآن کریم نے کوئی اجمال نہیں چھوڑا ، بابل دو ٹؤک بات کی ہے کہ وہ دین سے خارج ہیں۔ انہوں نے اپنے اصل دین عقائد و اعمال کو چھوڑ دیا ہے اور اب ان کے عقائد و اعمال وہ ہیں جو ان کے لیے ان کے احبار اور رہان نے تصنیف کیے ہیں اور ان کو باقاعدہ مجالس عقائد و قانون میں طے کیا گیا ہے اس موضوع پر کلام الہی فیصلہ کن اور واضح ہے۔ اس مقام پر اہمبات یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے اس دو ٹوک فیصلے کے نتائج سے بحث کریں کہ اہل کتاب کے موجودہ نظریات اور دینی حالت کے ہوتے ہوئے ان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی ؟ یہ عنوان اور بورڈ جو ان پر لگا ہوا ہے ، غلط فہمی کا باعث ہے۔ اس بورڈ کے پیچے کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اس بورڈ کی وجہ سے ان لوگوں کی جاہلیت کے مقابلے میں اسلامی تحریک سامنے نہیں آتی۔ لہذا اس بات کی اشد ضرور ہے کہ اس بورڈ کو اتار پھینکا جائے اور اس خطاب سے جو غلط فہمی ہوئی اسے اچھی طرح دور کردیا جائے اور ان لوگوں کی اصل حقیقت اور ان کے اصل چہرے سے لوگوں کو شناسا کیا جائے۔ اس سے پہلے ہم اس بات کی طرف اشارہ کر آئے ہیں کہ اسلامی معاشرے میں اس وقت ایسے حالات پائے جاتے تھے کہ اسلامی معاشرے کے بعض عناصر ان کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے خصوصاً غزوہ تبوک کے وقت بعض مخصوص حالات بھی تے۔ نیز اس وقت عربوں کے دلوں پر روما کا رعب بھی چھایا ہوا تھا ، لیکن جیسا کہ اس سے قبل ہم تفصیلات دے آئے اصل بات یہ تھی کہ بعض مسلمان رومیوں کے ساتھ ایسی ہمہ گیر جنگ کو محض اس لیے سمجھ نہ پائے تھے کہ رومی بہرحال اہل کتاب تھے۔ آج دین کے دشمن جو اس وقت احیاء اسلام کے لیے چلنے والی تحریکات پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں ، یہ لوگ ان تحریکات کا مطالعہ نہایت ہی مہارت سے کرتے ہیں ، یہ لوگ ماہر نفسیات ہوتے ہیں ، ان کا اسلامی تحریکات کے بارے میں وسیع مطالعہ ہوتا ہے۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف بھی اگر کوئی اسکیم تیار کرتے ہیں تو اس پر بھی اسلامی بورڈ لگا دیتے ہیں ، یہ لوگ جدید حالات ، نئی تحریکات ، نئے رجحانات اور افکار و تصورات پر اسلامی لیبیل لگاتے ہیں اور اس اسلامی لیبل کے ساتھ وہ عالم اسلام میں حققی اسلامی تحریکات کے خلاف کام کرتے ہیں۔ یہ کاروبار انہوں نے پورے عالم اسلام کے خلاف کام کیا اور اپنے سیاہ چہرے کو کھول کر اسلام پر حملہ آور ہوئے یہ ماضی قریب میں مصطفیٰ کمال کی تحریک تھی جو ترکی میں کھلی بےدینی اور جاہلیت کی شکل میں نمودار ہوئی۔ اس معاملے میں وہ مجبوریوں ہوئے کہ ان کے لیے اسلام اجماعیت کی آخری نشانی یعنی خلافت اسلامیہ رکیہ کو مٹآنا ضروری ہوگیا تھا۔ یہ نظام خلافت بھی در اصل حققی خلافت نہ تھا۔ ایک قسم کا صرف نام اور عنوان ہی تھا۔ لیکن یہ اسلام اجتماعیت کی آخری رسی اور راطہ تھا اور ان کے لیے اس کا توڑنا لازم تھا۔ حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے۔ اسلام ایک ایک تار ہو کر ٹوٹ جائے گا۔ اس کا پہلا تار اس کا نظام حکم ہے اور آخری تار صلوۃ ہے۔ یہ عیار دشمنان اسلام جو اہل کتاب میں سے بھی ہیں اور ملحدین اور کافرین کی صورت میں بھی ہیں اور یہ آپس میں بھی کبھی اکٹھے نہیں ہوتے ، یہ آپس میں تب ہی اکٹھے ہوتے ہیں جب ان کو اسلام کے ساتھ کوئی معرکہ درپیش ہوتا ہے دورانیوں کو چھپا کر سر انجام دیتے ہیں۔ اتا ترک کی تحریک کے سوا ان کی تمام تحریکات دوبارہ اسلامی ٹبل اور اسلامی بورڈ کے تحت ہی چل رہی ہیں۔ یہ خفیہ ریشہ دوانیاں در اصل مصطفیٰ کمال کی علانیہ تحریک لادینی کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہیں۔ ان کے ذریعے وہ ایسے حالات کو پیدا کرنا اور قائم رکھنا چاہتے ہیں اور ان اجتماعی حالات کو قائم رکھنے کے لیے وہ اقتصادی اور سیاسی امداد بھی دیتے ہیں۔ ان کے فیہ ادارے اپنے تجربات ، خفیہ رپورٹوں اور پروپیگنڈے کے ذریعے ایسے اجتماعی حالات کے ممد و معاون ہوتے ہیں۔ اس کام میں وہ تمام وسائل اور تمام مہارتیں صرف کرتے ہیں۔ عالم اسلام میں ایسے حالات قائم رکھنے کے لی ملحد اور اہل کتاب دست بدست ہمقدم ہو کر چلتے ہیں اور ہم سفر ہیں۔ حقیقت ہے کہ اسلام کے خلاف قدیم صلیبی جنگوں کو یہ لوگ نئی شکل اور عنوان کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ جنگ قدیم جنگ سے اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ صلیبی جنگ بہرحال علانیہ تھی اور یہ خفیہ ہے۔ ان سادہ لوح جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں وہ اس عنوان اور لیبل سے خوب دھوکہ کھائے جا رہے ہیں۔ حتی کہ بعض داعیان اسلام بھی اس لیبل سے دھوکہ کھائے ہیں۔ یہ داعی بھی یہ کوشش نہیں کرتے کہ اس ننگی جاہلیت کے چہرے پر سے یہ پردہ اتار پھینکیں۔ بعض داعیان اسلام جو اس حقیقت کو سمجھتے ہیں وہ بھی یہ جرات نہیں کرتے کہ ان نام نہاد اسلامی عنوانات کے تحت کام کرنے والوں کی حقیقت کو اجاگر کریں۔ حالانکہ اسلامی لیبل کے تحت یہ لوگ کفر اور شرک کے لیے کام کرتے ہیں۔ یہ داعی لوگوں کو صورت حالات کی صیح تصویر نہیں دکھاتے حالانکہ عام لوگ دھوکہ کھا کر ان حالات پر راضی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ دور جدید میں عوام الناس اسلام کی جانب آگے اس لیے نہیں بڑھ رہے کیونکہ وہ موجودہ حالات ہی کو اور موجودہ جاہلیت ہی کو اسلام سمجھتے ہیں۔ اور اس کے باقی رہنے میں کوئی شرعی حرج محسوس نہیں کرتے۔ نہ وہ موجودہ حالات میں زندگی بسر کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں حالانکہ در حققت ہم سب کافرانہ اور مشرکانہ زندگی کے تحت چل رہے ہیں۔ غرض یہ لیبل اسلامی تحریکات کے احساس کی شدت کو کم کردیتا ہے اور ان کے احساسات کو سلا دیتا ہے۔ اسلام کی حققی سمجھ لوگوں میں پھیلنے نہیں دیتا۔ اور اس جاہلیت کے مقابلے میں مسلمانوں کے اٹھنے کی راہ میں بھی حائل ہے حالانکہ جاہلیت اس بات پر تلی ہوئی ہے ہے کہ اسلام کے باقی آثار کو بھی مٹا کر رکھ دے اور اس کی جڑیں بھی اکھاڑ پھینکے جو ابھی تک بچی ہوئی ہیں۔ (تفصیلات کے لیے دیکھئے کتاب جاہلیۃ القرن العشرین ، محمد قطب) اس قسم کے سادہ لوح داعیان اسلام ، میرے خیال میں اسلام کے کھلے دشمنوں کے مقابلے میں ، اسلام کے لیے زیادہ مضر ہیں ، جو ان حالات ، ان تحریکات ، ان رجحانات ان افکار اور ان اقدار پر اسلامی لیبل لگاتے ہیں ، جن کو دشمنان اسلام ، اسلام کی بخ کنی کے لیے رائج کر رہے ہیں۔ جب بھی مسلمان اس دین کی حقیقت اور اس کے بالمقابل جاہلیت کی حقیقت کو سمجھ جاتے ہیں ، اسلام دنیا میں غالب ہوجاتا ہے۔ جب اور جہاں بھی یہ صورت پیدا ہوجائے۔ اسلام کے لیے کبھی یہ امر خطرناک نہیں بنا کہ اس کے دشمن طاقتور ہیں اور تجربہ کار ہیں ، البتہ اسلام کے لی زیادہ خطرہ ، ان نادان دوتوں سے ہوتا ہے جو سادہ اور فریب کھانے والے ہوتے ہیں وہ غیر مضر چیزوں سے تو سختی سے بچتے ہیں لیکن اسلام کے لیبل میں ان کے سامنے جو زہر پیش کیا جاتا ہے اسے آسانی سے نگل جاتے ہیں۔ اور پھر اس لیبل کے تحت وہ اسلام کے خلاف برسر پیکار ہوتے ہیں اور انہیں خبر نہیں ہوتی۔ اس لیے احیائے اسلام کے لیے کام کرنے والوں کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اقدار جاہلیت کی بوتلوں سے اسلامی لیبل اتار پھینکیں جبکہ یہ اقدار اسلامی لیل اتار پھینکیں جبکہ یہ اقدار اسلامی لیبل کے تحت اسلام کی بیخ کنی کے لیے رائج کی جا رہی ہیں اور یہ عمل پوری دنیا میں رائج ہے۔ کسی اسلامی تحریک کا پہلا اقدام یہ ہونا چاہی کہ وہ جاہلیت کے چہرے سے اس جھوٹے لیبل کو اتار پھینکے۔ اور اس کی اصل حقیقت لوگوں پر کھول دے کہ یہ شرک ہے اور کفر ہے۔ اور واقعات کی ایسی تعبیر کرے جو حقیقت حال سے مطابق ہو۔ وہ اپنا جائزہ بھی اسی طرح لے جس طرح اس کا حال ہے جس طرح قرآن ے اہل کتاب کی حقیقت کو کھول کر بیان کردیا کہ اگرچہ وہ اہل کتاب تھے مگر اب وہ کافر اور مشرک ہیں۔ حالات کی اس حققت کو اسلامی تحریکات اگر اچھی طرح سمجھ لیں تو شاید وہ اپنے آپ کو بھی اچھی طرح سمجھ لیں کہ وہ کس حد تک اسلامی تحریکات ہیں تاکہ وہ اپنی موجودہ بدحالی ، تکلیفات اور اس عذاب الیم سے نجات پا لیں جس میں وہ خود مبتلا ہیں۔ کسی بھی اسلامی تحریک کے آغاز کے لی دو امور رکاوٹ بنا کرتے ہیں ، ایک یہ کہ تحریک اپنے موقف میں غیر ضروری سختی کرے دوسرے یہ کہ وہ ظاہر صورت حال سے دھوکہ کھا جائے اور معاملہ کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہ کرے۔ ان دو غلطیوں کی وجہ سے دشمن کے منصوبے کامیاب ہوتے ہیں ، ان کی سازشوں کو تقویت ملتی ہے۔ کیونکہ دشمن نے اپنا کام جعلی اسلامی لیبل کے تحت شروع کیا ہے ۔ جب سے اسے معلوم ہوا ہے کہ اسلام کی تاریخ جدید میں اتا ترک کا تجربہ بری طرح فیل ہوچکا ہے۔ اس نے اب اسلامی لیبل سے کام شروع کیا ہے۔ ترکی میں اسلام کی نظریاتی علامت نظام خلافت کو ختم کرنے کے بعد لادینیت کے لیبل کے تحت اس کے لی کام کرنا ناممکن ہوگیا تھا۔ زمانہ حال کے ایک مکار صلیبی مصنف ولفرڈ سمتھ اپنی کتاب " اسلام تاریخ جدید مٰں " یہ کوشش کرتے ہیں کہ اتا ترک کی تحریک کو ایک بار پھر اسلام رنگ میں پیش کریں۔ اور اس میں سے علانیہ الحاد کے عناصر کی نفی کردیں۔ اور یہ باور کرائیں کہ اسلام کے احیائے جدد کے باب میں یہ نہایت ہی موزوں اور اچھی تحریک تھی۔ بہت خوب ! ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ دشمنان اسلاب کس انداز اور کس لباس میں آتے ہیں ؟ ۔۔۔

التوبة 9:36

درس نمبر 89 ایک نظر میں سیاق کلام اپنے منطقی انداز میں ، رومیوں اور شمالی عرب میں ان کے حلیف نصرانی قبائل کے خلاف جنگ کی تیاریوں کی راہ میں رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ تیاریاں اور لشکر کشی بظاہر رجب کے مہینے میں ہو رہی تھی۔ لیکن در اصل یوں نہ تھا۔ اصل حقیقت یہ تھی کہ اس سال ماہ رجب اپنی حقیقی جگہ پر نہ تھا۔ اور یہ اس لیے کہ انہوں نے حساب و کتاب کے لیے النسی کا جو نظام رجاری کر رکھا تھا (تفصیلات آگے آرہی ہیں) تو اس کے مطابق ماہ ذوالحجہ اپنی جگہ پر نہ تھا۔ یہ ذوالقعدہ کی جگہ تھا اور رجب جمادی الاخری کی جگہ آ رہا تھا اور اس اضطراب کا اصل راز یہ تھا کہ جاہلیت کا نظام خود اپنے اصول و قواعد کی پابندی بھی نہ کرتا تھا۔ وہ قانون اور اصولوں کا احترام محض ظاہر داری کے طور پر کرتا تھا۔ ہر جاہلی نظام میں چونکہ حلال و حرام کے حدود وقیود خود انسان ہی مقرر کرتے ہیں۔ اس لیے وہ اپنے بنائے ہوئے حدود میں تاویلات کرکے خود حدود شکنی کا فریضۃ بھی سر انجام دیتے ہیں۔ اس کی کہانی یوں ہے کہ اللہ نے تو چار مہینوں کو حرام قرار دیا تھا۔ ان میں تین ملے ہوئے تھے یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا منفرد تھا یعنی رجب۔ یہ تحریم حج کے مشہور مہینوں میں تھی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے تھی۔ اگرچہ عربوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین میں بےحد تحریف کردی تھی اور جو دین صیح بھی تھا ، اس سے انہوں نے انحراف کرلیا تھا لیکن حرام چار مہینوں کی حرمت کو وہ بہرحال حضور کے دور تک ملحوظ رکھتے تھے۔ اس لیے کہ ان کا تعلق موسم حج سے تھا اور ججازیوں کی معاشی زندگی کا تو دار و مدار ہی ان مہینوں پر تھا۔ خصوصا اہل مکہ کے سکان کا۔ کیونکہ موسم حج میں تجارت کی کامیاب کا دارومدار ہی اس پر تھا کہ لوگوں کی نقل و حرکت آزادانہ طور پر جاری رہے اور تجارت ہوتی رہے۔ اس کے بعد یوں ہوا کہ بعض عربی قبائل کی ذاتی ضروریات کا ٹکراؤ اس تحریم سے ہوا ، اور ان کی خواہشات نے بھی اپنا اثر دکھانا شروع کیا اور ایسے لوگ پیدا ہوگئے جنہوں نے ان لوگوں کو باور کرایا کہ حرام مہینوں کے اندر اپنی خواہشات کے مطابق تقدیم و تاخیر کی جاسکتی ہے۔ اس طرح کہ کسی مہینے کو کسی سال میں مقدم کردیا جائے اور کسی سال میں موخر کردیاجائے۔ مہینوں کی تعداد و چار ہی رہے لیکن ان مہینوں کے نام بدل دیے جائیں۔ اس طرح وہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کردیں اور اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کو حلال بھی کردیں۔ لہذا جب 9 ہجری کا سال آیا تو اس میں ماہ رجب حقیقی رجب نہ تھا۔ سی طرح ماہ ذوالحجہ بھی حققی ذوالحجہ نہ تھا۔ رجب در اصل جمادی الاخری تھا اور ذوالحجہ در اصل ذیقعدہ تھا اور فی الحقیقت یہ لشکر کشی در حقیقت تو جمادی الاخری میں تھی لیکن نام کے اعتبار سے یہ رجب میں تھی اور یہ ان لوگوں کے نسیئ کے تصرفات کی وجہ سے ایسا تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان احکامات کی وجہ سے عمل نسیئ کو آئندہ کے لیے موقوف قرار دے دیا۔ اور اس بات کی وضاحت کی اس عمل نسیئ کے ذریعے یہ لوگ چونکہ خود مہینوں کو حال قرار دتے ہی یا حرام قرار دیتے ہیں یا حرام قرار دیتے ہیں اور یہ عمل چونکہ اصول دین کے خلاف ہے۔ کیونکہ دین کا یہ اصل الاصول ہے کہ حلال و حرام کے حدود کا عین صرف اللہ تعالیٰ کرسکتا ہے۔ یہ اللہ کا مخصوص حق ہے۔ اور اس حق اور اختیار کو اللہ کے اذن کے بغیر استعمال کرنا کفر اور شرک ہے۔ بلکہ یہ عمل کفر کے میدان میں آخری حدود تک بڑھ جانے کے مترادف ہے۔ اس طرح ان آیات کے ذریعے لوگوں کے دلوں سے خلجان کو دور کردیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ یہ اصول بھی واضح کردیا گیا کہ اسلام نظام زندگی میں حرام و حلال کے تعین کا اختیار صرف اور صرف اللہ کو ہے۔ اور اس عقیدے کا تعلق اس عظیم حقیقت سے ہے جو اس پوری کائنات کے ناموس کے اندر پوشیدہ حقیقت سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے اندر ودیعت کی ہے اور تخلیق کے پہلے دن سے۔ اس طرح اللہ کی جانب سے لوگوں کے لیے قانون سازی در اصل اس اصول پر مبنی ہے جو اللہ نے اس کائنات کے لیے ودیعت کیا ہے اس لیے لوگوں کے لیے کسی شخص کی جانب سے قانون سازی کا کام کرنا گویا کفر میں اغے بڑھنا ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنا ہے۔ آیات کے اس حصے میں اس حقیقت کو بھی دوبارہ ذہن نشین کرانا مطلوب ہے۔ جو ان آیات سے متصلا پہلے بھی بیان کی گئی ہیں۔ وہ یہ کہ اہل کتاب بھی مشرکین ہیں اور دشمنی اور جہاد کے زاویہ سے وہ مشرکین کے محاذ میں شامل ہیں اور حکم یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ جنگ کی جائے یعنی مشرکین اور اہل کتاب دونوں کے ساتھ۔ اس لیے کہ یہ سب کے سب اہل اسلام کے خلاف جہاد اور جنگ کرتے ہیں اور پوری اسلامی تاریخ سے ان کا یہ طرز عمل پایہ ثبوت کو پہنچ جاتا ہے اور قرآن کے الفاظ تو اس معاملے میں بالکل واضح ہیں کہ اہل کتاب اور مشرکین دونوں کا مشترکہ ہدف یہی ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہر وقت برسر پیکار رہتے ہیں۔ اور جب بھی ان کا سامنا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ اپنے درمیان کی عداوتوں کو بھول جاتے ہی ، چاہے یہ اختلافات باہم عداوتوں کے حوالے سے ہوں یا عقائد و نظریات کے حوالے سے ہوں چناچہ اسلام کی راہ روکنے کے لیے پھر ان کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اور وہ اسلام کی بیخ کنی کے لیے متحد اور متفق ہوجاتے ہیں۔ یہ حقیقت کہ اہل کتاب دوسرے مشرکوں کی طرح مشرک ہیں اور یہ کہ وہ مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی طرح لڑتے ہیں۔ اس بات کی متقاضی ہے کہ مسلمان بھی ان تمام مشرکوں کے خلاف لڑیں چاہے ان کا تعلق مشرکین اہل کتاب سے ہو یا مشرکین عرب سے ہو۔ اور دوسری یہ کہ نسیئ کا عمل کفر کی ایڈوانس شکل ہے کیونکہ ایک غلط کام ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں اللہ کے اختیار قانون سازی پر دست درازی بھی ہے اس لیے یہ سادہ کفر سے زیادہ کفر ہے۔ یہی وہ مناسبت ہے جس کی وجہ سے سابقہ مضمون کے ساتھ ان آیات کا تعلق پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ سابقہ آیات میں ان رکاوٹوں کا ذ کر تھا جو جہاد کے لیے نکلنے میں حائل ہوتی ہیں اور ظاہر ہے کہ جہاد اہل کتاب اور مشرکین دونوں کے خلاف تھا۔ درس نمبر 89 تشریح آیات 36 ۔۔۔ تا۔۔۔ 37 اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَآ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۭذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ : " حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ یہی ٹھیک ضابطہ ہے۔ " یہ آیت زمانے کو اس معیار اور قانون کی طرف لوٹا دتی ہے اور زمانے کا دوران اس نظام کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق کی ہے یعنی زمانے کا تعین تخلیق کائنات کے مطابق ہوگا۔ اس آیت میں اسی طرح بھی بھی اشارہ ہے کہ اس کائنات میں زمانے کا ایک نہایت ہی مستحکم دور کام کرتا ہے اور اس دوران میں سال کو بارہ مہینوں کے اندر تقسیم کیا گیا ہے۔ اس مستحکم دوران میں کمی و بیشی نہیں پیدا کی جاسکتی۔ اور یہ دوران زمان اور حولان حول میں نہایت ہی منضبط ہے اور یہ اس قانون قدرت کے مطابق ہے جس کے تحت اس کائنات کی تخلیق ہوئی ہے۔ یہ نظام اور ضابطہ یا ناموس یا قدر اس دقیق اور مستحکم ہے کہ اس میں کوئی کمی و بیشی نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ زمانے کا دوران نہایت ہی دقیق معیار کے مطابق سر انجام پاتا ہے۔ اور آغاز تخلیق کائنات سے اس ضابطے کو جاری وساری کیا گیا ہے اور یہ کبھی موقوف نہیں ہوا ہے۔ زمان و مکان کے قانون حرکت کے اس استحکام کو یہاں اس لیے لایا گیا ہے کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ حرام و حلال کے حدود وقیوم کا تعین کائنات کے اس مستحکم اصول پر مبنی ہے ۔ لہذا حلال و حرام کا تعین محض وقتی خواہشات اور میلانات کی اساس پر نہیں ہوسکتا۔ نہ اس کی حرکت میں تقدیم و تاخیر کی جاسکتی ہے کیونکہ یہ نہایت ہی غیر معمولی امر ہے۔ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ " یہی ٹھیک ضابطہ ہے " پس یہ دین اس کائنات کے مضبوط ضابطے کے مطابق ہے اور کائنات کا مضبوط ضابطہ وہ ہے جس کے مطابق یہ کائنا روز اول سے چل رہی ہے جب سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے۔ یہ ایک مختصر آیت ہے لیکن اس میں معانی و مدلولات کا ایک لامتناہی سلسلہ رکھ دیا گیا ہے۔ یہ معانی پے در پے چلے آ رہے ہیں۔ بعض ، بعض کے لیے شریح اور توسیع کا سامان فراہم کرتے ہیں ۔ بعض کی وجہ سے دوسرے مطالب قوی ہوتے ہیں۔ وہ تمام علمی اور سائنسی اکتشافات اس کے مفہوم میں داخل ہیں جو جدید انسان اس دنیا میں سائنس کے ذریعے سامنے لاتا ہے اور مسلسل تجربات کرکے مزید حقائق کو سامنے لا رہا ہے۔ اس طرح اصول دین اور اصول کائنات کے درمیان مسلسل تطابق کا اظہار ہوتا ہے اور دینی اصودل دور جدید میں اچھی طرح ذہنوں میں بیٹھ رہے ہیں اور اس کے اصول اور اس کی بنیادیں مضبوط ہو رہی ہیں۔ یہ تمام مدلولات صرف 12 الفاط کے ذریعے منضبط کیے گئے ہیں اور یہ الفاظ بھی بظآہر نہایت ہی معمولی اور سادہ ہیں اور عام فہم اور سادہ ہیں۔ فَلَا تَظْلِمُوْا فِيْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ " ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو " ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو " ان چار مہینوں میں ایک دوسرے کے اوپر ظلم نہ کرو کیونکہ یہ اصول اس اصول سے مربوط ہے جس کے اوپر کائنات کو منظم کیا گیا ہے اور یہ اصول اس اصول سے مربوط ہے جس کے اوپر کائنات کو منظم کیا گیا ہے اور یہ اصول اعظم یہ ہے کہ جس طرح اس کائنات کا قانون ساز اللہ ہے ، اسی طرح لوگوں کے لی بھی ضابطہ بندی کرنے والا اللہ ہے۔ لہذا ان ضوابط کی خلاف ورزی ظلم ہوگا لہذا تم ان حرام مہینوں کو اپنے لیے حلال کرکے امن و سلامتی کے خلاف اقدام مت کرو۔ یہ اللہ کے ارادے اور مشیئت کی خلاف ورزی ہوگی اور یہ خلاف ورزی ظلم ہے اور یہ ظلم کرکے اپنے آپ کو دنیا و آخرت کے عذاب کے لیے مستحق نہ ٹھہراؤ اور اپنے معاشرے کے اندر قلق و اضطراب نہ پیدا کرو اور اس دنیا کو اس جنگ کا شکار نہ بناؤ جس کا کوئی مقصد نہیں جو امن و سلامتی سے متضاد ہے۔ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً كَمَا يُقَاتِلُوْنَكُمْ كَاۗفَّةً ۭ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ : " اور مشرکوں سے سب سے مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے " یعنی حرام مہینوں کے علاوہ دوسرے مہینوں میں الا یہ کہ مشرکین حرام مہینوں میں تم پر حملہ کردیں۔ اگر وہ حرام مہینوں میں تم پر دست درازی کریں تو تم ان مہینوں میں اپنا دفاع کرسکتے ہو کیونکہ اگر یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کردیا جائے و اس طرح اچھے اخلاف کی حامل قوتیں کمزور پوزیشن میں چلی جائیں گی اور انسانی اخلاق کی حامل قوتیں اشرار کا مقابلہ نہ کرسکیں گی اور دنیا میں شر و فساد کا دور دورہ ہوجائے گا اور دنیا پر طوائف الملوکی کا غلبہ ہوجائے گا۔ لہذا حرام مہینوں میں جارحیت کا مقابلہ کرنا بھی در اصل ان مہینوں کی حرمت کو بچانا ہے تاکہ آئندہ ان کا احترام کیا جائے اور کوئی کسی کے خلاف جارحیت کا ارتکاب نہ کرے۔ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَاۗفَّةً : " اور مشرکوں سے سب مل کر لڑو جس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں " یعنی تم سب ان کے ساتھ لڑو ، بلا استثناء سب کے سب ، اس حکم سے کوئی جماعت بھی مستثنی نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ سب تم سے لڑتے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مستثنی نہیں ہے۔ اور وہ بھی تم میں سے کسی مستثنی نہیں کرتے۔ لہذا معرکہ جہاد درحقیقت شرک اور توحید کے نظریات کے درمیان معرکہ ہے۔ یہ ایمان اور کفر اور ہدایت و ضلالت کے درمیان معرکہ آرائی ہے۔ یہ ایسے دو بلاکوں کے درمیان محاذ آرائی ہے جن کے درمیان کسی بھی وقت امن قائم نہیں ہوسکتا ، نہ ان کے درمیان کوئی مکمل اتفاق ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ اختلاف کوئی عارضی اور جزوی اختلاف نہیں ہے بلکہ یہ دائمی اور بنیادی اختلاف ہے۔ یہ ایسے مصالح اور مفادات کا اختلاف نہیں ہے جن کے درمیان یگانگت پیدا کی جاسکتی ہو۔ نہ زمین کے کسی رقبے پر اختلاف ہے جسے تقسیم کرکے اس کی حد بندی کی جاسکتی ہو ، اگر امتت مسلمہ یہ سمجھے کہ اس کے اور کفار اہل کتاب اور بت پرستوں کے درمیان برپا جنگ اقتصادیات کی جنگ ہے یا کوئی قومی جنگ ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہوگی یا اگر اسے کوئی یہ بات سمجھاتا ہے تو وہ اسے دھوکہ دیتا ہے۔ یہ معرکہ محض وطنی یا پالیسی کا معرکہ نہیں ہے ، یہ تو ایک ہمہ گیر نظریاتی معرکہ ہے۔ اور یہ اس نظام اور دین اسلام اور کفر کے درمیان معرکہ ہے۔ اس ہمہ گیر معرکے کا فیصلہ انصاف اور کچھ لے اور کچھ دے کے اصول پر نہیں ہوسکتا ، نہ مذاکرات کے ذریعے اسے حل کیا جاسکتا ہے۔ اس کا حل تو صرف عمل جہاد میں مضمر ہے۔ مسلسل جدوجہد اور پیہم عمل میں اس کا حل مضمر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ سنت ہے جو کسی طرح بھی نہیں ٹل سکتی۔ یہ وہ نظام اور قانون ہے جس کے اوپر نظام کائنات کھڑآ ہے۔ آسمان و زمین اسی ناموس اکبر کے مطابق قائم اور رواں دواں ہیں۔ دنیا کے ادیان اور نظریات بھی اس ناموس کے مطابق چل رہے ہیں۔ دل اور دماگ کا نظام بھی یہی تکوینی نظام ہے اور یہ اسی روز سے قائم ہے جس روز سے اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق کی ہے۔ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِيْنَ " اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے " لہذا کامیابی ان متقین کے لیے لکھ دی گئی ہے جو اللہ کی حدود کا احترام کرتے ہیں ، اللہ جسے حرام قرار دے اسے حرام قرار دیتے ہیں اور اللہ کے قوانین سے انحراف نہیں کرتے۔ لہذا قانون قدرت یہ ہے کہ مسلمان مشرکین خلاف عمل جہاد کو لمحہ بھر کے لیے بھی موقوف نہ کریں ، اس سے انحراف نہ کریں اور اس مسلسل جہاد میں وہ حدود اللہ کو پامال نہ کریں اور حدود اللہ کا احترام کریں اور عمل جہاد کو اس کے پورے قوانین اور آداب کے مطابق جاری رکھیں اور اس جہاد میں ان کے پیش نظر صف رضائے الہی ہو ، دل میں بھی اور علانیہ طور پر بھی۔ اگر وہ ان اصولوں کے مطابق جہاد میں داخل ہوں تو فتح ان کے قدم چومے گی کیونکہ اس صورت میں اللہ ان کے ساتھ ہوگا اور جس کا ساتھی اللہ ہو ، اس کی کامیابی میں کوئی شک نہیں رہتا۔

التوبة 9:37

حضرت مجاہد کا کہنا ہے کہ " بنی کنانہ کا ایک شخص اپنے گدھے پر سوار ہوکر ہر سال موسم حج میں آتا ، اور یہ اعلان کرتا : لوگو ! مجھ پر نہ کوئی عیب جوئی کی جاسکتی ہے اور نہ میں ناکام ہوتا ہوں۔ نہ میری بات کو رد کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے محرم کو حرام قرار دیا اور صفر کو موخر کردیا ہے ۔ اس کے بعد وہ دوسرے سال آتا اور یہی بات کہتا۔ ہم نے صفر کو حرام قرار دیا ہے اور محرم کو موخر کردیا ہے اور یہ مطلب ہے۔ لیواطئوا عدۃ ما حرم اللہ : " تاکہ اللہ کے حرام کیے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری کردیں " یعنی چار ماہ کی تعداد پوری کردیں۔ اس طرح وہ حلال مہینوں کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیں۔ عبدالرحمن ابن زید ابن اسلم کا کہنا ہے کہ یہ شخص بنی کنانہ میں سے تا اور اس کام ؟ ؟ تھا۔ جاہلیت کا رواج یہ تھا کہ ان میں سے کوئی قبیلہ دوسرے پر حرام مہینوں میں ڈاکہ نہ ڈالتا تھا۔ بعض اوقات ہوتا کہ ایک شخص کے سامنے اس کے باپ کا قاتل آجاتا لیکن وہ اس پر ہاتھ نہ ڈالتا اگر حرام مہینوں کوئی مقاتلہ کے لی دوسروں سے امداد طلب کرتا تو لوگ کہتے ، دیکھتے نہیں حرام مہینہ ہے تو امداد طلب کرنے والا یہ کہتا کہ اسی سال ہم اسے ملتوی کردیں گے۔ چناچہ اس سال محرم کے بجائے دو صفر ہوں گے اور دوسرے سال ہم دو محرم کردیں گے۔ اس طرح وہ لوگ کرلیتے۔ اور اگلے سال وہ سفر کے مہینے کو بھی محرم کی طرح حرام قرار دیتے۔ اس طرح دو مہینے حرام قرار پاتے۔ اس آیت کی تفسیر میں یہی دو اقوال ہیں اور یہی نسیئ کی دو صورتیں رائج تھیں۔ پہلی صورت میں وہ محرم کے بدلے صفر کو رحرام قرار دیتے۔ اور چار کی تعداد پوری کرتے لیکن اللہ نے منصوص طور پر جن مہینوں کو حرام قرار دیا تھا۔ یہ چار بعینہ وہ نہ ہوتے کیونکہ اس میں محرم نہ ہوتا۔ اور دوسری صورت میں ایک سال تین مہینے حرام ہوتے اور دوسرے میں پانچ حرام ہوتے اور اس طرح دو سالوں کی اوسط آٹھ کی تعداد پوری ہوجاتی۔ لیکن اس طرح بھی محرم کا احترام بہرحال ٹوٹ جاتا۔ اور اس کی جگہ صفر حرام ہوجاتا۔ ان دونوں صورتوں میں حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دیا جاتا جو اسلامی شریعت کے خلاف عمل تھا۔ اسے زیادۃ فی الکفر قرار دیا گیا کیونکہ نظریاتی کفر کے ساتھ یہ از خود قانون سازی کرکے کفر کا ارتکاب کیا گیا۔ يُضَلُّ بِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا " جس سے یہ کافر لوگ گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں " وہ دھوکہ دیتے ہیں ، دین کو کھیل بناتے ہیں اور نصوص میں تاویل و تحریف کرتے ہیں۔ زُيِّنَ لَهُمْ سُوْۗءُ اَعْمَالِهِمْ " ان کے برے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں " اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کو برائی اچھائی نظر آتی ہے ، وہ بدزبانی کو زیبائش سمجھتے ہیں۔ اس طرح وہ گمراہی کو گمراہی سمجھتے ہی نہیں اور کفریہ اعمال میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكٰفِرِيْن : " اور منکرین حق کو اللہ کی ہدایت نہیں دیا کرتا " کیونکہ انہوں نے خود اپنے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں۔ انہوں نے دلائل ہدایت پر غور کرنا ہی چھوڑ دیا۔ لہذا نہوں نے اپنے آپ کو اس بات کا مستحق بنا لیا ہے کہ وہ جس حال میں ہیں ، اللہ انہیں اس میں چھوڑ دے۔ ۔۔۔

التوبة 9:38

درس نمبر 90 ایک نظر میں آیات کا یہ حصہ ، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر حکم نفیر عام کے بعد نازل ہوا ہوگا۔ جب حضور کو معلوم ہوا کہ رومی جزیرۃ العرب کے شمالی علاقے شام کی حدود پر جمع ہوگئے ہیں۔ الا یہ کہ ہر قل نے اپنے ساتھیوں اور فوجیوں کو ایک سال کا راشن فراہم کردیا ہے اور ان افواج کے ساتھ قبائل لخم ، جذاب ، عاملہ اور غسان بھی شامل ہوگئے ہیں جو شمالی عربی قبائل تھے۔ ان کے ہر اول دستے مقام بلقا تک آپہنچے ہیں۔ ان حالات میں حضور نے بھی مسلمانوں کو عام لشکر کشی کی تیاری کا حکم دے دیا۔ حضور جب بھی کسی غزوے کے لیے نکلتے تو آپ جنگ چال کے طور پر تیاریوں کا رخ دوسری جانب پھیرتے پتہ نہ ہوتا کہ آپ نشانہ کہاں لگائیں گے مگر آپ نے غزوہ تبوک میں اس اصول کو چھوڑ دیا چونکہ یہ دور کا سفر تھا اور موسم نہایت ہی سخت تھا۔ اس لیے حضور نے اس سفر کی بات صاف صاف بتا دی تھی۔ سخت گرمی پڑھ رہی تھی۔ چھاؤں خوشگوار تھی۔ باغات پک چکے تھے۔ اور لوگوں کے لیے سفر کے مقابلے میں گھروں پر قایم بہت ہی محبوب تھا۔ ان حالات میں اسلامی معاشرے میں ان کمزوریوں کا ظہور ہوا جن کے بارے میں ہم نے اس سورت کے مقدمے میں تفصیلا بتایا ہے۔ ان حالات میں منافقین کے لیے بھی اپنی ذلیلانہ حرکات کے لیے موقع پیدا ہوگئے ، انہوں نے یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ گرمی میں لشکر کشی نہ کی جائے۔ انہوں نے طویل سفر کی صعوبتوں کو بیان کرنا شروع کردیا۔ انہوں نے لوگوں کو رومیوں کی قوت سے بھی خوب ڈرایا۔ اور اس پروپیگنڈے کا اثر بھی اسلام معاشرے پر پڑا۔ چناچہ آیات کے اس حصے میں ان تمام باتوں کے خلاف متنبہ کیا گیا۔ درس نمبر 90 تشریح آیات 38 ۔۔۔ تا۔۔ 41 پیچھے رہ جانے والوں کے لیے یہ آغاز عتاب ہے ، ان کو یہاں سخت دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر انہوں نے جہاد کے معاملے میں سستی کی تو اس کے نتائج سخت ہوں گے۔ اس موقع پر انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ تم حضرت محمد کو اکیلا اور محتاج نہ سمجھو۔ ان کے ساتھ اللہ کی نصرت اور مدد ہر وقت موجود رہتی ہے۔ غار میں اس کے ساتھ تم میں سے کوئی نہ تھا اور تمہارے بغیر بھی اللہ نے اپنی قدرت سے ان کو بچایا۔ حضور کو تو تمہارے تخلف سے کوئی نقصان ہوگا یا نہ ہوگا ، تمہیں بہرحال گناہ ہوگا اور تم سے ایک بڑی کوتاہی کا صدور ہوجائے گا۔ يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَا لَكُمْ اِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ : " اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کر رہ گئے ؟ " یہ سب زمین کے بوجھ ہیں ، زمین کے لالچ ، زمین کے تصورات ، زندگی کے چلے جانے کا خوف ، مال کے نقصان کا خوف ، دنیاوی لذتوں اور مال و متاع کے ضائع ہوجانے کا خوف ، عیاشی آرام اور امن و سکون کے تباہ ہوجانے کا خوف۔ فنا ہونے والی لذتوں ، زندگی کے مکتصر اور عارضی مقاسد اور خود اس کرہ ارض کی مختصر زندگی کے ساتھ چمٹ جانے کی رکاوٹ۔ غرض تمام رکاوٹیں ، خون اور گوشت اور مٹی سے متعلق ہیں۔ اور ان تمام رکاوٹوں کو ایک نہایت ہی زمزمہ زنگیز لفظ اثاقلتم کے ذریعے بتایا گیا۔ اس میں ایک قرات ثقاقلتم بھی آئی ہے لیکن حفص کی عام قراءت نہایت ہی موثر ہے۔ یہ لفظ جس مفہوم کو ظاہر کرتا ہے کہ ایک جثہ ہے جو زمین پر گرنے کے لیے ڈھیلا پڑ رہا ہے۔ لوگ اسے مشکل سے اوپر کی طرف اٹھانے کی سعی کرتے ہیں لیکن وہ اس قدر بوجھل ہوچکا ہے کہ وہ زمین پر گرجاتا ہے۔ اثَّاقَلْتُمْ اِلَى الْاَرْضِ : ان الفاظ میں سے اظہار ہوتا ہے کہ زمین اسے اپنی جانب کھینچ رہی ہے لیکن روحانی قوت اور تحریک اور شوق کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اوپر اٹھے جہاد کے لیے اٹھنے کا عمل در اصل اپنے آپ کو اس زمین کی کشش ثقل سے آزاد کرنا ہے۔ زمین کے اندر پائی جانے والی گوشت و پوست کی آلودگیوں سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کا عمل ہے۔ انسان کو روحانی دنیا اور بلند مقاصد کی دنیا کی طرف مشتاق کرنے کا عمل ہے۔ انسانی روح کو دنیاوی قید و بند سے آزاد کردینے کا عمل ہے۔ اس عارضی اور مختصر زندگی کو ترک کرکے دائمی اور طویل زندگی میں داخل ہونے کا عمل ہے۔ اَرَضِيْتُمْ بِالْحَيٰوةِ الدُّنْيَا مِنَ الْاٰخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا فِي الْاٰخِرَةِ اِلَّا قَلِيْلٌ: " کیا تم نے آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم کہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا " کسی عقیدے اور نظریے کے پیروکار اگر جہاد فی سبیل اللہ سے روکتے ہیں یا اپنے نظریات کی خاطر جنگ نہیں کرتے تو اس کا صرف ایک ہی سبب ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے نظریہ اور عقیدہ کے اندر فتور اور کمزوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں من مات و لم یغزوا ولم یحدث نفسہ بغزو مات علی شعبۃ من شعب نفاق۔ جو شخص مر گیا اور اس نے نہ تو جہاد میں حصہ لیا اور نہ اس کو کبھی اس کا خیال گزرا تو ایسا شخص نفاق کے شعبوں میں سے ایک شعبے پر مرا لہذا نفاق جب کسی عقیدے میں داخل ہوتا ہے تو اسے بلندی اور کمال سے روکتا ہے۔ یہ نفاق ہی ہے جو انسان کو موت سے ڈرا کر ، فقر و فاقے سے ڈرا کر جہاد سے روکتا ہے حالانکہ موت اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور رزق ہر شخص کا اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آخرت کے مقابلے میں اس پوری زندگی کا مال و متاع شیئ قلیل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگے یہ بیان آتا ہے۔

التوبة 9:39

یہ خطاب ایک متعین واقعہ میں ایک متعین جماعت کو ہے۔ لیکن اپنے مفہوم کے اعتبار سے یہ ہر صاحب عقیدہ اور نظریہ کے لیے عام ہے۔ یہ عذاب جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے صرف آخرت کا عذاب ہی نہیں ہے۔ یہ دنیاوی عذاب بھی ہے۔ جو لوگ جہد و جہاد سے پہلو تہی کرتے ہیں اور غلبہ و سربلندی کے لیے جہد مسلسل نہیں کرتے وہ محروم رہتے ہیں اور ذلت کے عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھلائی کے کاموں میں حصہ لینے سے محروم رہتے ہیں۔ اور یہ میدان وہ اپنے دشمنوں کے لیے خالی چھوڑ دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ جہاد فی سبیل اللہ اور اسلام کی راہ میں جدوجہد کی راہ چھوڑ دینے کے نتیجے میں نظریاتی لوگوں کا جانی اور مالی نقصان جہاد و قتال میں حصہ لینے کی صورت میں ہوتا ہے۔ جہاد کا شریفانہ عمل ان سے جس قربانی کا مطالبہ کرتا ، اس کے مقابلے میں ذلت اور پست ہستی ان سے زیادہ قربانی کا مطالبہ کرتی ہے۔ غرض جس قوم نے بھی جہاد کے عمل کو ترک کیا ، اس کے مقدر میں ذلت لکھ دی جاتی ہے۔ وہ دشمن کے لیے لقمہ تر بن جاتی ہے اور دشمن اسے بڑی آسانی کے ساتھ غلام بنا لیتا ہے۔ ویستبدل قوما غیرکم : " تمہاری جگہ اور گروہ اٹھائے گا " یہ دوسرا گروہ ایسا ہوگا جو اپنے نظریات پر مضبوطی سے قائم ہوگا ، وہ اپنی عزت اور وقات کے لیے قربانی دینے والا ہوگا اور وہ اللہ کے دشمنوں پر سربلندی حاصل کرنے والا ہوگا۔ ولا تضروہ شیئا " تم خدا کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکوگے " پھر تمہاری کوئی حیثیت نہ ہوگی اور نہ صف اول میں تمہاری حیثیت ہوگی اور نہ صف آخر میں۔ واللہ علی کل شیئ قدیر " اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے " وہ اس بات سے عاجز نہیں ہے کہ تمہیں ختم کردے اور تمہاری جگہ دوسری اقوام کو اٹھا لائے اور تمہیں نظر انداز کرکے گوشہ گم نامی میں ڈال دے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیاوی مفادات سے بلند ہونا اور نفس انسانی کی کمزوریوں پر قابو پانا ، در اصل مقام شرافت و کرامت کو پانا ہے۔ اس کے نتیجے میں بلند ترین زندگی عطا ہوتی ہے لیکن ذلت کو اختیار کرکے زمین سے چمٹ جانا اور دشمن سے خائف ہونا کرامت اور شریعت اور عظمت کی زندگی کی نفی ہے۔ اور اللہ کے معیار کے مطابق یہ فنا اور ذلت ہے اور روحانی و اقدار کی تباہی ہے۔ اب اللہ تعالیٰ ایک تاریخی واقعہ کو ذکر کرکے ایک مثال بیان فرماتے ہیں۔ یہ مثال ان کے علم میں تھی۔ وہ جانتے تھے کہ بعض حساس مواقع پر دست قدر نے کس طرح رسول اللہ اور اسلامی تحریک کی دستگیری فرمائی۔ اس میں افراد تحریک کا وئی دخل نہ تھا۔ یہ خالص غیبی امداد تھی اور مہاجرین و انصار میں سے کوئی ایک شخص بھی اس وقت امداد کے لیے موجود نہ تھا۔

التوبة 9:40

جب حضرت محمد ﷺ کے بارے میں قریش کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا۔ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ سرکش قوتوں کو جب کامیابی نصیب نہیں ہوتی تو ان کا پیمانہ صبر لبریز ہوجاتا ہے اور وہ تشدد پر اتر آتی ہیں۔ چناچہ قریش نے بھی حضور کے خلاف تشدد کی سازشیں شروع کردیں۔ یہ فیصلہ کرلیا گیا کہ حضور کو قتل کرکے ان سے جان چھڑائی جائے اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم کو ان کی خفیہ سازشوں کی بابت اطلاع کردی۔ اور حکم دیا کہ آپ اب مکہ سے نکل جائیں۔ آپ کے ساتھ صرف ابوبکر صدیق رفیق تھے۔ آپ کے پاس نہ تو کوئی لشکر تھا اور نہ سامان جنگ تھا۔ آپ کے دشمن ہر طرف پھیلے ہوئے تھے اور وہ بہت ہی طاقتور تھے۔ یہاں سیاق کلام میں اس کی نہایت ہی خبوصورت منظر کشی کی گئی ہے۔ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ " جب وہ دونوں غار میں تھے " اور قوم ان کا پیچھا کر رہی تھی۔ حضرت صدیق سخت گھبرائے ہوئے تھے۔ وہ اپنی جان کے بارے میں فکر مند نہ تھے۔ ان کو قائد کی فکر تھی کہ وہ ان کے آثار نہ پا لیں اور ان کے حبیب تک رسائی حاصل نہ کرلیں۔ کہتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں کی جگہ سے نظر ڈالتا تو ہم اسے اس کے پاؤں کے نیچے نظر آجاتے۔ اس موقع پر حضور کے قلب پر اللہ کی جانب سے سکون و ثابت کی کیفیت نازل ہوچکی تھی۔ آپ نے صدیق اکبر کے خوف کو کم کرنے کی کوشش کی اور فرمایا : " ابوبکر تمہارا ان دو آدمیوں کے بارے میں کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہو " نتیجہ کیا نکلا ؟ حالات ایسے ہیں کہ ایک طرف پوری مادی قوتیں ہیں اور حضور اور ان کے اکیلے ساتھی ہر قسم کی مادی قوتیں ہیں اور حضور اور ان کے اکیلے ساتھ ہر قسم کی مادی قوتوں سے محروم ہیں۔ اب اللہ کی افواج میدان میں آتی ہیں۔ ان میں سے کوئی فوج اور کوئی قوت نظر نہیں آتی۔ اس منصوبے میں کفار کو بری طرح شکست ہوتی ہے اور وہ ذلیل ہو کر رہ جاتے ہیں۔ و جعل کلمۃ الذین کفرو السفلی " اور الللہ نے کافروں کا بول نیچا کردیا " اور اللہ کا کلمہ اپنی جگہ سر بلند رہا جیسا کہ وہ ہمیشہ سر بلند رہتا ہے ، قوی ہوتا ہے اور اسے نفوذ حاصل ہوتا ہے۔ و کلمۃ اللہ ہی العلیا۔ بعض قراءتوں کے مطابق۔ وکلمۃَ اللہ نصب کے ساتھ بھی آیا ہے لیکن وکلمۃُ اللہ رفع کے ساتھ زیادہ قوی ہے۔ مفہوم کے اعتبار سے بات زور دار ہوجاتی ہے کیونکہ اس میں تاکید اور دوام کا مفہوم ہوتا ہے۔ یعنی وکلمۃ اللہ کا مزاج اور اس کی حقیقی پوزیشن ہی یہ ہے کہ وہ سربلند ہوتا ہے۔ اس کی سربلندی کسی ایک واقعہ اور حادثہ میں محدود نہیں ہے۔ اللہ عزیز ہے اور اس کے دوست کبھی ذلیل نہیں ہوتے اور وہ بہت بڑا حلیم ہے۔ اس لیے وہ اپنے دوستوں کے لیے کامیاب پالیسی وضع فرماتا ہے اور اس نے ان کے مقدر میں کامیابی لکھ دی ہے۔ یہ ایک مثال تھی کہ کس طرح اللہ نے اپنے رسول اور اپنے کلمات کو کامیابی عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ ایسی مثالیں دہرا سکتا ہے لیکن اس قسم کی امداد صرف ان لوگوں کو پہنچ سکتی ہے جو سستی نہیں کرتے اور بیکار نہیں بیٹھے۔ اگر مسلمان ایسا نہ کریں گے تو اللہ دوسرے گروہ پیدا کرسکتا ہے۔ یہ ایک واقعی اور عملی مثال تھی اور اس کو سمجھانے کے لیے کسی بڑی دلیل اور منطقی استدلال کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اس مثال کی فضا میں اور اس گہرے تاثر کی حالت میں اب اللہ تعالیٰ حکم فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان اس مہم میں نکل کھڑے ہوں ، کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہ لائیں ، کوئی عذر ان کی راہ میں حائل نہ ہو ، نکل کھڑے ہوں اگر وہ دنیا میں کامرانی اور فتح مندی چاہتے ہیں اور آخرت میں دائمی فلاح چاہتے ہیں۔

التوبة 9:41

ہر حال میں نکلو ، خواہ ہلکے ہو یا بوجھل ، اور جہاد کرو الل کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ ، یہ تمہارے لیے بہتر ہے ، اگر تم جانو۔ ہر حال میں نکلو ، جانی اور مالی قربانی دو ، حجتیں نہ گڑھو اور عذرات نہ پیش کرو ، مشکلات اور رکاوٹوں کو پاٹتے جاؤ۔ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : " تمہارے لیے یہ بہتر ہے ، اگر تم جانتے ہو "۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ مخلص مومنین ان حقائق کو پا گئے۔ وہ تمام رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود نکل کھڑے ہوئے۔ ان کے پاس عذرات موجود تھے لیکن انہوں نے عذرات سے فائدہ نہ اٹھایا۔ تو اللہ نے ان کے سامنے زمین کے دروازے کھول دئیے۔ ان کے لیے لوگوں کے دل بھی کھل گئے اور ان مخلصین کے ذریعے اللہ نے اپنے کلمے کو بلند کردیا۔ اور اللہ کے کلمات کے ذریعے خود ان کو بلند اور ممتاز کردیا۔ اور ان کے ہاتھوں وہ وہ کارنامے وجود میں آئے کہ آج بھی وہ تاریخ انسانی کا اعجوبہ ہیں۔ حضرت ابوطلحہ سورت توبہ پڑھ رہے تھے ، جب وہ اس آیت پر آئے تو انہوں نے فرمایا : ہمارے رب نے ہمیں نکلنے کا حکم دیا ہے ، خواہ ہم بوڑھے ہوں یا نوجوان ! بیٹو ! مجھے تیار کرو ، اس کے بیٹوں نے کہا : ابو تم پر اللہ کا رحم ہو ، تم نے تو رسول اللہ کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے ، تم نے حضرت ابوبکر کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے ، تم نے حضرت عمر کے ساتھ جہاد کیا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے۔ اب تو ہم آپ کی طرف سے جہاد کریں گے۔ لیکن انہوں نے ایک نہ سنی اور بحری بیڑے میں چلے گئے۔ سمندر میں آپ کو موت نے آ لیا۔ بحریہ کو کوئی جزیرہ نہ ملا کہ اسے دفن کردے۔ نو دنوں کے بعد انہیں جزیرہ ملا۔ ان نو دنوں میں ان کے جسم میں کوئی تغیر واقع نہ ہوا تھا۔ چناچہ انہوں نے اسے اس جزیرے میں دفن کردیا۔ ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے۔ وہ ابوراشد حرانی سے روایت کرتے ہیں ، کہتے ہیں : " میں نے رسول اللہ کے سوا مقداد ابن اسود ؓ سے ملا۔ یہ ایک صراف کے تابوت پر بیٹھے ہوئے تھے اور جہاد کا ارادہ رکھتے تھے۔ میں نے ان سے کہا : چچا آپ تو عنداللہ معذور ہیں۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم پر سورت البعوث نازل ہوئی ہے (یعنی توبہ) اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِــقَالًا " نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل " حبان ابن زید الشرعی سے روایت ہے کہ ہم صفوان ابن عمرو کے ساتھ جہاد پر نکلے ، یہ حمص کے گورنر تھے۔ ہم افسوس کی جانب جراجمہ کی طرف گئے۔ میں نے ایک ایسے بوڑھے کو دیکھا جس کی بھنویں اس کی آنکھوں پر گری ہوئی تھیں اور یہ اہل دمشق کے لوگوں سے تھا اور گھورے پر سوار تھا۔ میں اس کی طرف متوجہ ہوا اور کہا اے چچا تم تو اللہ کے نزدیک رہو۔ کہتے ہیں اس بوڑھے نے اپنی دونوں بھنویں اوپر کو اٹھائیں اور کہا بھتیجے اللہ نے تو ہم سے مطالبہ کیا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں ہلکے ہو یا بوجھل۔ یاد رکھو ، جسے اللہ محبوب رکھتا ہے اسے مشکلات سے دو چار کرتا ہے اور پھر اسے صحیح و سلامت واپس لاتا ہے لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے صرف اس شخص کو آزمائش میں مبتلا کرتا ہے جو صبر کرے ، شکر کرے اور اسے یاد کرے اور اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرے۔ یہ تھی وہ جدوجہد اور جہاد مسلسل جس کے ذریعے اللہ نے اسلام کو دنیا میں پھیلایا اور اللہ کے ان بندوں نے تمام انسانیت کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر صرف اللہ وحدہ کی بندگی میں داخل کردیا۔ اور اسلام کی مدوجزر کی تاریخ میں وہ معجزہ رونما ہوا جس کی کوئی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ہے۔