Fi Zilal al-Quran — التوبة 9:42 – التوبة 9:129
Contents
- التوبة 9:42
- التوبة 9:43
- التوبة 9:44
- التوبة 9:45
- التوبة 9:46
- التوبة 9:47
- التوبة 9:48
- التوبة 9:49
- التوبة 9:50
- التوبة 9:51
- التوبة 9:52
- التوبة 9:53
- التوبة 9:54
- التوبة 9:55
- التوبة 9:56
- التوبة 9:57
- التوبة 9:58
- التوبة 9:59
- التوبة 9:60
- التوبة 9:61
- التوبة 9:62
- التوبة 9:63
- التوبة 9:64
- التوبة 9:65
- التوبة 9:66
- التوبة 9:67
- التوبة 9:68
- التوبة 9:69
- التوبة 9:70
- التوبة 9:71
- التوبة 9:72
- التوبة 9:73
- التوبة 9:74
- التوبة 9:75
- التوبة 9:76
- التوبة 9:77
- التوبة 9:78
- التوبة 9:79
- التوبة 9:80
- التوبة 9:81
- التوبة 9:82
- التوبة 9:83
- التوبة 9:84
- التوبة 9:85
- التوبة 9:86
- التوبة 9:87
- التوبة 9:88
- التوبة 9:89
- التوبة 9:90
- التوبة 9:91
- التوبة 9:92
- التوبة 9:93
- التوبة 9:94
- التوبة 9:95
- التوبة 9:96
- التوبة 9:97
- التوبة 9:98
- التوبة 9:99
- التوبة 9:100
- التوبة 9:101
- التوبة 9:102
- التوبة 9:103
- التوبة 9:104
- التوبة 9:105
- التوبة 9:106
- التوبة 9:107
- التوبة 9:108
- التوبة 9:109
- التوبة 9:110
- التوبة 9:111
- التوبة 9:112
- التوبة 9:113
- التوبة 9:114
- التوبة 9:115
- التوبة 9:116
- التوبة 9:117
- التوبة 9:118
- التوبة 9:119
- التوبة 9:120
- التوبة 9:121
- التوبة 9:122
- التوبة 9:123
- التوبة 9:124
- التوبة 9:125
- التوبة 9:126
- التوبة 9:127
- التوبة 9:128
- التوبة 9:129
التوبة 9:42
درس نمبر 91 تشریح آیات
42 ۔۔۔۔ تا۔۔۔ 91
یہاں سے ان لوگوں کے بارے میں تبصرہ شروع ہوتا ہے جن سے اس موقعہ پر کمزوریوں اور کوتاہیوں کا ظہور ہوا۔ اس پورے سبق میں ان منافقین کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو اسلام کے نام پر اسلامی صفوں میں گھستے ہوئے تھے ، خصوصا اس وقت جب اسلام غالب ہوگیا تھھا اور ان لوگوں کی سلامتی اور ان کے مفادات کا تقاضا یہ تھا کہ یہ لوگ اسلام کے سامنے سرنگوں ہوجائیں اور اسلامی صفوں میں داخل ہو کر اسلام کے خلاف سازشیں کریں کیونکہ ظاہری حالات ایسے ہوگئے تھے کہ اسلام سے باہر رہ کر وہ اسلام کے خلاف کچھ نہ کرسکتے تھے۔
اس سبق میں وہ تمام حال ہمارے سامنے آئیں گے جن کی طرف سے ہم نے اس سورت کے مقدمے میں اشارہ کیا تھا ، ان حالات کی تصویر کشی قرآن کے الفاظ میں ہوگی۔ سورت کے آغاز میں ہم نے جو اصولی بحث کی تھی اس کی روشنی میں اب ان نصوص کو سمجھنا کوئی زیادہ مشکل کام ہرگز نہ ہوگا جیسا کہ پہلے ہم کہہ آئے ہیں :
لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيْبًا وَّسَفَرًا : اگر یہ معاملہ دنیاوی مفادات کا ہوتا اور ہوتا بھی سہل الحصول ، یا کوئی مختصر اور نفع بخش سفر ہوتا جس کے نتائج یقینی ہوتے تو یہ لوگ ضرور آپ کے ساتھ ہولیتے۔ لیکن یہ سفر دور کا سفر ہے اور پر مشقت ہے اور ہمت شکن سفر ہے۔ کمزور ہمتوں اور ضعیف العزم لوگ جراءت کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہ سفر اس عظیم اور بلند نصب العین کی طرف ہے جس کو دیکھ کر کمزور ارواح کے لوگ ڈرجاتے ہیں ، کمزور دل والوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور کم ظرف لوگ اس سے پیچے رہ جاتے ہیں۔ یہ مہم در اصل ایک مثالی مہم تھی اور انسانیت کی تاریخ میں ایسی مہمات ہمیشہ مثالی حیثیت رکھی ہیں اور کسی بھی ملک کے لیے فخریہ حکایات و روایات فراہم کرتی ہیں۔
لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِيبًا وَسَفَرًا قَاصِدًا لاتَّبَعُوكَ وَلَكِنْ بَعُدَتْ عَلَيْهِمُ الشُّقَّةُ " اے نبی اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہوجاتے ، مگر ان پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہوگیا "
اگر مقام شرف و منزلت کی طرف بسہولت آگے بڑھا جاسکتا ہو ، تو امیدواران منزل بکثرت سامنے آجاتے ہیں لیکن راستہ دشوار گزار ہو تو لوگوں کی بڑی تعداد پہلو تہی کرتی ہے۔ اور راستے کی مشکلات کی خاطر لشکر سے پیچھے رہ جاتی ہے اور ان کے پیش نظر دنیا کا نہایت ہی بےقیمت اور بےحقیقت مقصد ہوتا ہے۔ ہر دور اور ہر زمانے میں ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں اور مشہور و معروف ہوتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ شاذ و نادر نہیں بلکہ ایسے لوگ تو ہر زمانے میں بکثرت ائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ زندگی کے ایک کنارے پر بےوقعت مقام کے مکین ہوتے ہیں۔ گرچہ یہ لوگ اپنے زعم میں یہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے مفادات حاصل کیے ، انہوں نے اعلی دنیاوی مقاصد پا لیے اور وہ کسی بھی مقصد کے لیے اعلی قربانیاں دینے سے بچ گئے۔ لیکن انہیں معلوم نہیں کہ کوئی جس قدر قیمت دے گا ، اسے اس کی قیمت ہی کے مطابق مقام ملے گا۔ اس دنیا میں بھی کسی کو ہی کچھ ملتا ہے جس کی وہ قیمت ادا کرتا ہے۔
وَسَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ : " اب وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہیں گے کہ اگر چل سکتے تو یقینا تمہارے ساتھ چلتے " یہ وہ جھوٹا عذر ہے جو ہمیشہ کمزور لوگ پیش کیا کرتے ہیں۔ عذرات پیش کرنے والے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں۔ اگرچہ بظاہر عذرات پیش کرنے والے قوی اور بہادر نظر آئیں لیکن در حقیقت یہ کمزور قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ بہادر وہ ہوتا ہے جو مشکلات کا سامنا کرتا ہے اور ضعیف وہ ہوتا ہے جو پہلو تہی کرتا ہے یہ وہ اصول ہے جس میں کوئی استثناء نہیں ہے۔ یہ اصول ہمیشہ جاری رہتا ہے۔
يُهْلِكُونَ أَنْفُسَهُمْ : " وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں " یہ جھوٹ بول کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر ، وہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں کے نزدیک گویا کامیاب ہوگئے ، حالانکہ حقیقت حال کا علم تو اللہ کو ہے کہ یہ کامیاب نہیں ہیں اور اللہ ان کی حقیقت کو لوگوں کے سامنے کھول بھی سکتا ہے ، لہذا یہ لوگ دنیا میں بھی اپنے جھوٹے عذرات کی وجہ سے بےوقعت ہوں گے اور آخرت میں بھی کیونکہ آخرت میں تو کوئی بہانہ نہ چلے گا۔
وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ : " اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں "
التوبة 9:43
اللہ تعالیٰ اپنے رسول پر اس قدر مہربان ہے کہ عتاب سے پہلے ہی معافی کا اعلان فرماتا ہے۔ جب ان لوگوں نے جھوٹے عذرات پیش کیے تو رسول اللہ نے ان کے عذرات قبول کرلیے اور ایسے لوگوں نے ان عذرات کی اوٹ میں اپنے آپ کو چھپایا۔ حجور نے ان لوگوں کے عذرات کو اس لیے قبول کرلیا تھا کہ اس وقت سچے اور جھوٹے عذرات کی تحقیقات کا موعہ نہ تھا اور یہ بھی ممکن تھا کہ بعض لوگ لشکر سے بلا کسی عذر کے پیچھے رہ جائیں اور اس طرح ان کی حقیقت کھل جائے اور ان کے لیے اذن رسول کا بہانہ بھی نہ رہے۔
التوبة 9:44
حضور نے چونکہ منافقین کے نفاق کا انکشاف نہ کیا تھا ، اس لیے اللہ نے یہاں ایسے اصول اور ایسی صفات کو بیان کردیا جن کی روشنی میں منافقین کو اچھی طرح پہانا جاسکے۔ اور یہ صفات مومنین اور منافقین کے درمیان امتیازی سفات ہوں۔
لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ الخ : جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔
اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے ، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں
یہ وہ اصول ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ جو لوگ صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لے آتے ہیں اور جن کو یقین ہوتا ہے کہ ایک دن انہوں نے اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ وہ اس بات کا انتظار نہیں کرتے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت لیں۔ اور جب بھی ان کو اللہ کی راہ میں جان اور مال قربان کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ ایک منٹ کے لیے بھی پس و پیش نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ہلکے ہوں یا بوجھل ہوں ، اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ، اطاعت امیر کرتے ہیں اور ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کو پوری پوری جزا دے گا اور ان سے راضی ہوگا وہ جہاد کے لیے اس قدر بےتاب ہوتے ہیں کہ از خود اس عمل کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کی ضرور نہیں پڑتی کہ کوئی انہیں اس کے لیے جوش دلائے ، جہاد سے پیچھے رہنے کے لیے عذرات پیش کرنا تو بہت بڑی بات ہے۔ عذرات تو صرف وہ لوگ پیش کرتے ہیں جن کے دل ایمان و یقین کی دولت سے خالی ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ پس و یش کرتے ہیں اور عذرات تلاش کرکے چھٹیاں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس عقیدے کا انہوں نے اظہار کیا ہے اس کے تقاضے پورے کرنے سے ان کی راہ میں رکاوٹیں ہیں در حقیت وہ شک کے مریض ہوتے ہیں اور متردد ہوتے ہیں۔
اللہ کی طرف جو راستہ جاتا ہے وہ واضح ہے اور بالکل سیدھا ہے۔ اس سلسلے میں تردد اور پس و پیش وہی شخص کرسکتا ہے جو دولت یقین سے محروم ہو یا وہ شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول برحق ہیں۔ لیلکن ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے وہ مشکلات کی راہ سے گھبرا جاتا ہے۔
التوبة 9:45
حضور نے چونکہ منافقین کے نفاق کا انکشاف نہ کیا تھا ، اس لیے اللہ نے یہاں ایسے اصول اور ایسی صفات کو بیان کردیا جن کی روشنی میں منافقین کو اچھی طرح پہانا جاسکے۔ اور یہ صفات مومنین اور منافقین کے درمیان امتیازی سفات ہوں۔
لَا يَسْتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ الخ : جو لوگ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان و مال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔
اِنَّمَا يَسْـتَاْذِنُكَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان نہیں رکھتے ، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردد ہو رہے ہیں
یہ وہ اصول ہے جو کبھی نہیں ٹوٹتا۔ جو لوگ صحیح معنوں میں اللہ پر ایمان لے آتے ہیں اور جن کو یقین ہوتا ہے کہ ایک دن انہوں نے اللہ کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ وہ اس بات کا انتظار نہیں کرتے کہ وہ جہاد سے پیچھے رہنے کی اجازت لیں۔ اور جب بھی ان کو اللہ کی راہ میں جان اور مال قربان کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ ایک منٹ کے لیے بھی پس و پیش نہیں کرتے۔ بلکہ وہ ہلکے ہوں یا بوجھل ہوں ، اس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں ، اطاعت امیر کرتے ہیں اور ان کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اللہ سے ملنے والے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کو پوری پوری جزا دے گا اور ان سے راضی ہوگا وہ جہاد کے لیے اس قدر بےتاب ہوتے ہیں کہ از خود اس عمل کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور انہیں اس بات کی ضرور نہیں پڑتی کہ کوئی انہیں اس کے لیے جوش دلائے ، جہاد سے پیچھے رہنے کے لیے عذرات پیش کرنا تو بہت بڑی بات ہے۔ عذرات تو صرف وہ لوگ پیش کرتے ہیں جن کے دل ایمان و یقین کی دولت سے خالی ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ پس و یش کرتے ہیں اور عذرات تلاش کرکے چھٹیاں لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جس عقیدے کا انہوں نے اظہار کیا ہے اس کے تقاضے پورے کرنے سے ان کی راہ میں رکاوٹیں ہیں در حقیت وہ شک کے مریض ہوتے ہیں اور متردد ہوتے ہیں۔
اللہ کی طرف جو راستہ جاتا ہے وہ واضح ہے اور بالکل سیدھا ہے۔ اس سلسلے میں تردد اور پس و پیش وہی شخص کرسکتا ہے جو دولت یقین سے محروم ہو یا وہ شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ رسول برحق ہیں۔ لیلکن ذاتی کمزوریوں کی وجہ سے وہ مشکلات کی راہ سے گھبرا جاتا ہے۔
التوبة 9:46
اس موقعہ پر جو لوگ پیچھے رہ گئے تھے وہ لشکر کشی کی قدرت رکھتے تھے۔ ان کے پاس وسائل سفر موجود تھے ، سازوسامان بھی موجود تھا۔
وَلَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا : " اگر واقعی ان کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے " ایسے لوگوں کے سرخیل عبداللہ ابن ابی ابن سلول تھے ، جد ابن قیس بھی ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ یہ اپنے قبائل کے معتبرین میں سے تھے اور با اثر اور مالدار تھے۔
وَّلٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِيْنَ : " لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا۔ اس لیے اس نے انہیں سست کردیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ "
اللہ کو ان لوگوں کے مزاج اور ان کے نفاق کا علم تھا اور ان لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض و عداوت جس طرح کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اس کا تذکرہ آگے آ رہا ہے۔ اس لیے اللہ نے انہیں اس موقع پر بٹھا دیا اور ان کی ہمت ہی ختم کردی۔ یہ لوگ گھروں اور عورتوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ بچوں اور ناداروں کے ساتھ وہ پیچھے رہ گئے جو حقیقتاً اس لشکر میں جانے کی طاقت و وسائل نہ رکھتے تھے۔ لہذا گری ہوئی ہمتوں ور کمزور یقین رکھنے والوں کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ بیٹھے رہیں اور اس اعزاز سے محروم رہیں۔ اور اس میں دعوت اسلامی کی بھلائی تھی۔
التوبة 9:47
پست ہمت اور بزدل وری فوج کو پست ہمت اور بزدل بنا دیتے ہیں اور خیانت کار پوری سوسائٹی کو خائن بنا دیتے ہیں۔ اگر یہ منافقین مسلمانوں کے ہمراہی بن بھی جاتے تو اسلام صفوں کے اندر بےچینی ، بد دلی اور انتشار پیدا کردیتے اور اسلامی فوج کے اندر فتنہ و فساد اور تفرقہ اور خذلان پیدا کردیتے ، یہ اس لیے کہ مسلمانوں کے اندر بھی ایسے لوگ موجود تھے جن کے ان سابقہ قائدین کے ساتھ سماجی تعلقات تھے اور ابھی تک مسلمان ان لوگوں کی باتوں پر کان دھرتے تھے لیکن اللہ اپنی دعوت کا محافظ خود تھا اور وہ داعیوں کی نگہبانی بھی اپنی نگرانی میں کر رہا تھا۔ اللہ نے موممنین کو فتنے سے اس طرح بچایا کہ منافقین اور ذلیل لوگ بی تھے ہی رہ گئے۔
وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالظّٰلِمِيْنَ : " اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے " یہاں ظالموں سے مراد مشرک ہیں۔ زیر بحث لوگوں کو بھی اللہ نے مشرکین کے زمرے میں ڈال دیا ہے۔ ان کا ماضی ان کے دلوں کا غماز ہے۔ اور ان کی بدفطرتی پر ان کی تاریخ گواہ ہے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول خدا کی راہ روکی۔ اور تحریک اسلامی کی مخالفت میں انہوں نے وہی کچھ کیا جو ان لوگوں کے بس میں تھا۔ لیکن جب تحریک اسلامی غالب ہوئی تو انہوں نے سر تسلیم خم کردیا البتہ ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری موجود رہی۔
التوبة 9:48
یہ واقعہ اس وقت ہوا جب حضور ﷺ عوامی تائید کے ذریعے مدینہ تشریف لائے اور حالات یہ تھے کہ ابھی تک انہیں اپنے دشمنوں پر فیصلہ کن غلبہ حاصل نہ ہوا تھا اور مدینہ میں جب حضور کو کامیابی نصیب ہوتی رہیں تو ان اعداء نے بھی سر جھکا دئیے لیکن دل سے وہ تحریک جدید کو بدستور ناپسند کرتے رہے اور انتظار کرتے رہے کہ اسلام پر کوئی برا وقت آئے اور انہیں ریشہ دوانیوں کا موقع ملے۔
التوبة 9:49
اب قرآن کریم ان لوگوں کی مختلف اقسام کی طرف اشارات کرتا ہے اور ان کے جعلی عذرات پر بھی کلام ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رسول اللہ کے خلاف ان کے سینوں میں کیا کیا عناد اور بغض بھرے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف وہ کس قدر کینہ رکھتے ہیں۔
محمد بن اسحاق نے زہری وغیرہ سے روایت کی ہے کہ ایک دن حضور ﷺ جہاد کی تیاریوں میں مصروف تھے (تبوک کے موقع پر) تو آپ نے بنو سلمہ کے بھائی جد ابن قیس سے کہا کہ جد کیا تم کو بنی اصغر (رومیوں) کے ساتھ جہاد میں دلچسپی ہے ؟ تو اس نے کہا حضور آپ مجھے اجازت ہی دے دیں اور فتنے میں نہ ڈالیں ؟ کدا کی قسم میری قوم کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھ سے زیادہ یعورتوں کے ساتھ دلچسپی لینے والا کوئی نہیں ہے۔ اور مجھے یہ خوف ہے کہ اگر میں نے بنی الاصغر (رومیوں) کی عورتوں کو دیکھا تو میں صبر نہ کرسکوں گا۔ رسولا للہ نے اس سے منہ پھیرلیا اور کہا " میں نے تمہیں اجات دے دی " تو اس جد ابن قیس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔
تمام منافقین اسی قسم کے عذرات پیش کرتے اور اللہ نے ان کو یہی جواب دیا۔ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّيْ وَلَا تَفْتِنِّىْ ۭ اَلَا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا ۭوَاِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِيْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ : " ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ " مجھے رخصت دے دیجئے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے " سن رکھو ! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے "۔ منظر کشی اس طرح ہے کہ گویا جہنم ایک فتنہ ہے۔ اور یہ لوگ اس میں گرتے جا رہے ہیں۔ جہنم ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور ان کے بچنے کے تمام راستے بند ہوچکے ہیں۔ اور جہنم کا واحد رستہ کھلا ہے اور یہ لوگ آتے جاتے ہیں اور گرتے جاتے ہیں۔ یہ انداز تعبیر اس بات سے کنایہ ہے کہ انہوں نے پیچھے رہ کر ایک عظیم غلطی کا ارتکاب کرلیا ہے اور اب عذاب جہنم ان کے لیے حتمی ہے۔ اور یہ جزاء ان کے لیے جہاد سے پیچھے رہ جانے ، گرا ہوا موقف اپنانے اور بھونڈے عذرات پیش کرنے کی وجہ سے مقدر ہوچکی ہے۔ اس میں اس کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اگرچہ یہ لوگ اظہار اسلام کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ منافق ہیں اور کافروں سے بد تر ہیں۔
التوبة 9:50
ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ یہ رسول اللہ اور مسلمانوں کی بھلائی نہیں چاہتے اور اس بات پر بہت کڑھتے ہیں کہ رسول اللہ اور مسلمانوں کو کوئی برتری نصیب ہو۔ اگر مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئے تو یہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے تو پہلے سے احتیاطی تدابیر اختیار کرلی تھیں اس لیے ہم بچ گئے اور ہمیں ان مشکلات سے دوچار ہونا نہ پڑا اور اپنی جگہ یہ خوشیاں مناتے ہیں۔
لیکن یہ بہت ہی کم عقل ہیں صرف ظاہری باتوں پر ان کی نظر ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ مصائب ہر حال میں برے ہوتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں گھروں میں بیٹھ کر اور جہاد سے پیچھے رہ کر انہوں نے بھلائی کما لی۔ حالانکہ ان کے دلوں میں اطاعت الٰہی نہ رہی اور انہوں نے رضائے الہی کے مقصد عظیم کو گنوادیا۔ حالانکہ ان کی بھلائی تو تسلیم و رضا اور جہاد میں تھی۔ ایک سچا مسلمان تو ہوتا ہی وہ ہے جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے ، آگے ہی بڑھتا ہے اور ڈرتا نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ خیر و شر تو اللہ کی طرف سے آتا ہے اور اللہ ہی ناصر اور معین ہے۔
التوبة 9:51
اور اللہ نے تو مومنین کے حق میں فتح لکھ دی ہے اور ان کے ساتھ آخری فتح کا وعدہ بھی کر رکھا ہے۔ ان کو چاہئے جس قدر مشکلات بھی پیش آئیں ، وہ عظیم ابتلاؤں کے ساتھ دوچار کیوں نہ ہوں ، آخر کار ان کو فتح نصیب ہوگی اور یہ مشکلات اس فتح کی تمہید ہیں تاکہ مسلمانوں کو جب فتح نصیب ہو تو نظر آئے کہ وہ اس کے مستحق ہیں۔ اور یہ کہ وہ ان کی صفوں کو چھان کر صاف کردیا جائے اور یہ فتح و نصرت ، دنیاوی ذرائع اور وسائل کے اندر ہو اور مشکلات کے بعد ہو تاکہ مسلمان اس قدر و منزلت کا احساس کریں ، اور یہ فتح بلند ہمت لوگوں کی عظی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہو۔ ابتلاؤں کے بعد حاصل ہو اور لوگوں نے اس کے لیے قربانیاں دی ہوں۔ اور حقیقی و ناصر چونکہ اللہ ہی ہے اس لیے مسلمان ہمیشہ اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ، اپنی قربانیوں پر نہیں کرتے۔ علی اللہ فلیتوکل المومنون۔ لیکن اللہ کی تقدیر پر ایمان اور اللہ پر بھروسہ اس بات کے منافی نہیں ہیں کہ کوئی کسی کام کے لیے تیاری کرے اور ضروری وسائل جمع کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاد کے بارے میں اللہ کا صریح حکم ہے کہ و اعدوا لہم ماستطعتم من قوۃ کہ تیار رکھو دشمنوں کے لیے اس قدر قوت جو تمہاری استطاعت کے اندر ہو۔ اور جو شخص اللہ کے احکام کو نافذ نہ کرے گا ، اس کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ متوکل ہے۔ پر توکل باز و استر بیند اور جو شخص حکم الہی کے مطابق اسباب مہیا نہیں کرتا وہ سنت الہی کے ادراک سے قاصر ہے جو اس کائنات میں جاری وساری ہے۔ یہ سنت اٹل ہے اور وہ کسی کی رو رعایت نہیں کرتی۔
مومن پر تو ہر حال میں وارے نیارے ہیں ، اگر اسے فتح ملے تو بھی کامیاب شہادت ملے تو بھی کامیاب۔ رہا کافر تو وہ ہر طرح ناکام ہے۔ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں دنیا ہی میں عذاب پا لے اور جہنم رسید ہو تو بھی ناکام اور طبعی موت مرنے کے بعد جہنم رسید ہو تو بھی ناکام۔
التوبة 9:52
ان سے کہو تم ہمارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی ہے۔ اور ہم تمہارے معاملہ میں جس چیز کے منتظر ہیں۔ وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزا دیتا ہے یا ہمارے ساتھ دلواتا ہے ؟ اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔
آخر منافقین مسلمانوں کے بارے میں کس بات کا انتظار کریں۔ مسلمانوں کو ہر حال میں بھالئی اور کامیابی کی توقع ہے۔ یا تو فتح مند ہوں گے اور اللہ کا کلمہ بلند کردیں گے اور یہ کامرانی اس جہاں کی ہے۔ یا انہیں شہادت نصیب ہوگی اور شہید اعلی درجات پر فائز ہوتا ہے۔ ہاں مومنین ضرور انتظار کریں کہ منافقین کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ان کو اس طرح عذاب سے دوچار ہونا ہوگا۔ جس طرح تمام مکذبین عذاب سے دو چار ہوئے یعنی آخرت میں اور یا یہ ہوگا کہ وہ اس دنیا ہی میں پکڑے جائیں گے جس طرح تمام اہل باطل پکڑے جاتے ہیں۔ لہذا دونوں گروہوں کا انجام مشہور و معروف ہے۔
التوبة 9:53
پیچھے رہنے والوں میں سے اور انتظار کرنے والون میں سے بعض ایسے لوگ بھی تے جنہوں نے اپنا مالی تعاون پیش کردیا تھا لیکن ذاتی طور پر جہاد میں شرکت سے وہ معذوری کا اظہار کر رہے تے اور یہ رویہ وہ اس لیے اختیار کر رہے تھے کہ وہ بدنام بھی نہ ہوں اور بین بین رہیں نہ ادھرکے نہ ادھر کے۔ چنانہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان جیسے لوگوں کے مالی تعاون کو مسترد کردیں کیونکہ یہ لوگ مالی تعاون کی پیشکش خوف اور دکھاوے کے لیے کرتے ی۔ ایمان کے تقاضوں اور اللہ پر بھروسے کی وجہ سے وہ یہ انفاق نہٰں کر رہے۔ خواہ وہ یہ کام دکھاوے کے لیے کر رہے ہوں اور اہل ایمان کو دھوکہ دے رہے ہوں یا مشرکین کے ڈر کی وجہ سے کر رہے ہوں۔ دونوں صورتوں میں ان کا یہ فعل اللہ کے نزدیک مردود ہے اور اللہ کے ہاں اس کا کوئی اجر نہیں ہے۔
ہر دور میں منافقین کے یہی خدوخال ہوتے ہیں۔ وہ ہر وقت خوف اور پیچ و تاب میں ہوتے ہیں۔ ان کے دل خالی خالی اور ضمیر اور ان کی سوچ یکسوئی سے تہی دامن ہوتی ہے۔ ان کے مظاہر میں حقیقت کی روح نہیں ہوتی اور ان کا ظاہر ان کے باطن سے بالکل جدا ہوتا ہے۔
ذرا قرآن کے انداز تعبیر کو دیکھو و لا یاتون الصلوۃ الا وھم کسالی (نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے) ۔ وہ نماز دکھاوے کے لیے پڑھتے ہیں وہ ظاہراً تو نماز ہوتی ہے لیکن ان کے اندر نماز کی روح نہیں ہوتی۔ وہ نماز کو درست کرکے استقامت کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ کیونکہ نماز پڑھنے پر جو جذبہ مجبور کرتا ہے وہ ان کے دل اور اندرون میں نہیں ہوتا بلکہ بعض بیرونی اسباب کے دباؤ کی وجہ سے وہ اس طرف مجبور ہوتے ہیں۔ لہذا وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں یہ فعل مجبوراً کرن اپڑ رہا ہے۔ اس طرح وہ اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے وہ بھی محض ظار داری کے لیے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقبول نہیں ہیں کیونکہ اللہ کسی بھی عبادت کو قبول نہیں کرتا جو دلی جذبہ اور شعوری ایمان کے نتیجے میں نہ ہو۔ لہذا معیار یہ ہے کہ اچھا عمل ہو اور اچھی نیت سے کیا جائے۔
التوبة 9:54
پیچھے رہنے والوں میں سے اور انتظار کرنے والون میں سے بعض ایسے لوگ بھی تے جنہوں نے اپنا مالی تعاون پیش کردیا تھا لیکن ذاتی طور پر جہاد میں شرکت سے وہ معذوری کا اظہار کر رہے تے اور یہ رویہ وہ اس لیے اختیار کر رہے تھے کہ وہ بدنام بھی نہ ہوں اور بین بین رہیں نہ ادھرکے نہ ادھر کے۔ چنانہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان جیسے لوگوں کے مالی تعاون کو مسترد کردیں کیونکہ یہ لوگ مالی تعاون کی پیشکش خوف اور دکھاوے کے لیے کرتے ی۔ ایمان کے تقاضوں اور اللہ پر بھروسے کی وجہ سے وہ یہ انفاق نہٰں کر رہے۔ خواہ وہ یہ کام دکھاوے کے لیے کر رہے ہوں اور اہل ایمان کو دھوکہ دے رہے ہوں یا مشرکین کے ڈر کی وجہ سے کر رہے ہوں۔ دونوں صورتوں میں ان کا یہ فعل اللہ کے نزدیک مردود ہے اور اللہ کے ہاں اس کا کوئی اجر نہیں ہے۔
ہر دور میں منافقین کے یہی خدوخال ہوتے ہیں۔ وہ ہر وقت خوف اور پیچ و تاب میں ہوتے ہیں۔ ان کے دل خالی خالی اور ضمیر اور ان کی سوچ یکسوئی سے تہی دامن ہوتی ہے۔ ان کے مظاہر میں حقیقت کی روح نہیں ہوتی اور ان کا ظاہر ان کے باطن سے بالکل جدا ہوتا ہے۔
ذرا قرآن کے انداز تعبیر کو دیکھو و لا یاتون الصلوۃ الا وھم کسالی (نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے) ۔ وہ نماز دکھاوے کے لیے پڑھتے ہیں وہ ظاہراً تو نماز ہوتی ہے لیکن ان کے اندر نماز کی روح نہیں ہوتی۔ وہ نماز کو درست کرکے استقامت کے ساتھ نہیں پڑھتے۔ کیونکہ نماز پڑھنے پر جو جذبہ مجبور کرتا ہے وہ ان کے دل اور اندرون میں نہیں ہوتا بلکہ بعض بیرونی اسباب کے دباؤ کی وجہ سے وہ اس طرف مجبور ہوتے ہیں۔ لہذا وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں یہ فعل مجبوراً کرن اپڑ رہا ہے۔ اس طرح وہ اللہ کی راہ میں جو کچھ خرچ کرتے وہ بھی محض ظار داری کے لیے کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقبول نہیں ہیں کیونکہ اللہ کسی بھی عبادت کو قبول نہیں کرتا جو دلی جذبہ اور شعوری ایمان کے نتیجے میں نہ ہو۔ لہذا معیار یہ ہے کہ اچھا عمل ہو اور اچھی نیت سے کیا جائے۔
التوبة 9:55
یہ منافقین اصحاب مال و اولاد تھے لیکن یہ جہاد کو ناپسند کرتے تھے اور بڑے با اثر لوگ تھے۔ لیکن اللہ کے نزدیک مال و دولت اور جاہ و شرف کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لہذا رسول اور اہل ایمان کے نزدیک بھی مال و دولت اور جاہ و شرف کی کوئی اہمیت نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ چیزیں اللہ کے ایسے انعامات نہیں ہیں کہ وہ ان کے ذریعے مزے لوٹتے رہیں اور ان سے کوئی باز پرس نہ ہو بلکہ یہ تو ایک فتنہ اور آزمائش ہے۔ اس پر ان سے باز پرس ہوگی اور ان کو سزا ہوگی۔
مال و اولاد کبھی ایک نعمت ہوتے ہیں اور اس سے اللہ نے اپنے بندوں میں سے کسی کو نوازتے ہیں اور پھر اسے توفیق دیتے ہیں کہ وہ اس کا شکریہ ادا کرے۔ اور اپنی اس قوت کو اصلاح فی الارض کے لی استعمال کرے۔ اس کے ذریعے اللہ کی طرف متوجہ ہو اور اس طرح اس کا ضمیر مطمئن ہو۔ اس کے نفس میں سکون و اطمینان ہو اور اسے اپنے انجام ، اچھے انجام کا پورا پورا یقین ہو۔ اور اس کا طرز عمل ایسا ہو کہ وہ نہایت اخلاص کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کرتا ہو اور آخرت کے لیے توشہ جمع کرتا ہو اور جب اسے مالی یا جانی نقصان ہو تو بھی وہ اسے اللہ کی طرف سے سمجھتے اور اللہ کی رحمت کا امیدوار ہوتا ہے اور یہی مال و اولاد کبھی اللہ کی جانب سے سزا ہوتے ہیں اور ہی سزا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے کسی کو دنیا ہی میں دے دیتا ہے۔ چناچہ یہ اموال اور اولاد اس کے لیے موجب قلق اور اذیت ہوتے ہیں اور اس قلق اور پریشانیوں کی وجہ سے وہ جہنم میں ہوتا ہے اور زیادہ مال و دولت کو مزید بڑھانے کے لیے اس کی راتوں کی نیند ختم ہوجاتی ہے اور وہ اعصابی طور پر شل ہوجاتا ہے۔ اب اسے انفاق مال اتلاف مال کے برابر نظر آتا ہے۔ اگر اس کی اولاد بیمار ہو تو بھی وہ کڑھتا ہے اور اگر اولاد تندرست ہو تب بھی اس کے لیے باعث اذیت ہوتی ہے۔ بیشمار ایسے لوگ موجود ہیں کہ ان کے لی خود ان کی اولاد وبال جان ہوتی ہے۔
اس قسم کے لوگ رسول اللہ کے دور میں موجود تھے۔ اب بھی یہ موجود ہیں اور ہمیشہ موجود رہیں گے۔ ان کے پاس دولت ہوگی ، ان کی اولاد ہوگی ، لوگ ان کی ظاہری پوزیش کو دیکھ کر ان سے متاثر ہوں گے لیکن درحقیقت یہ سب کچھ ان کے لیے عذاب ہوگا ، اس دنیا میں عذاب اور ان کے اندرون اور انجام سے چونکہ اللہ خوب واقف ہے ، اس لیے وہ جہنم کے لیے پا بہ رکاب ہوتے ہیں۔ پس حالت کفر پر ان کی موت کی دیر ہوتی ہے۔ جان دیتے ہی وہ جہنم رسید ہوجاتے ہیں۔
قرآن کا انداز تعبیر و تزھق انفسہم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ لوگ نفسیاتی طور پر فراڈ اور ہلاکت کی حالت میں ہیں۔ ان کی حالت کچھ اس طرح ہے کہ وہ سکون ، ٹھہراؤ اور اطمینان کی دولت سے محروم ہیں۔ لہذا جس طرح وہ آخرت میں سخت عذاب میں ہوں گے ، اسی طرح یہ دنیا بھی ان کے لیے جہنم سے کم نہیں ہے۔ تو گویا دنیا میں وہ آخرت میں سخت عذاب میں ہوں گے ، اسی طرح یہ دنیا بھی ان کے لیے جہنم سے کم نہیں ہے۔ تو گویا دنیا و آخرت دنوں میں وہ عذاب میں ہوں گے۔ اور اس قسم کے مال و دولت اور اسی اولاد کی ، ظاہر ہے کہ کوئی معقول شخص خواہش مند نہ ہوگا جس کے اندر عذاب ہی عذاب پوشیدہ ہو۔
التوبة 9:56
اس قسم کے منافقین اسلامی صٖوں میں اپنے لیے مقام پیدا کر رہے تھے۔ وہ اسلامی صفوں میں اپنے اعتقادات اور اپنے ایمان کی وجہ سے نہیں گس رہے تے بلکہ وہ نفاق کے مرض میں مبتلا تے اور خوف کی وجہ سے بھی وہ مسلمانوں کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ ان کے کچھ مفادات اور نظریات کی وجہ سے ایمان کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس سورت نے ان کے اندرون کو ظاہر کردیا ہے۔ اسی وجہ سے اسے " کاشفہ " اور " فاضحہ " بھی کہا جاتا کہا جاتا ہے۔ اس نے منافقین کا پردہ چاک کرکے انہیں اچھی طرح شرمندہ کردیا ہے۔
وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ ۭوَمَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَّفْرَقُوْنَ : " وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں ، حالانکہ وہ ہر گز تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل میں تو وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوفزدہ ہیں۔ یہ پرلے درجے کے بزدل ہیں اور انداز بیان ایسا ہے کہ یہ لوگ مجسم طور بھاگنے اور سہمے ہوئے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے نفس اور دل میں فرار ہے۔ ان کے رویے میں فرار اور خوف ہے۔
لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُوْنَ اگر وہ کوئی جائے پناہ پا لیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ ، تو بھاگ کر اس میں جا چھپیں " یہ ہر وقت چھپ جانے کی جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں اور جائے امن کی تلاش میں رہتے ہیں۔ قلعہ بند جگہ یا غار اور تہہ خانہ۔ یہ خوفزدہ اور فرار کی حالت میں ہوتے ہیں۔ گویا کوئی ان دیکھی قوت یا اچانک آنے والی مصیبت ان کا پیچھا کر رہی ہو۔ یہ روحانی طور پر شکست خوردہ اور بزدل ہیں۔
وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ ۭوَمَا هُمْ مِّنْكُمْ : " وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں " بہت بہت تاکیدوں کے ساتھ حلف اٹھاتے ہیں تاکہ یہ لوگ وہ باتیں چھپا دیں جو ان کے دلوں میں ہیں اور ان کا کسی طرح انکشاف نہ ہونے پائے اور ان کی جان و مال محفوظ رہ جائیں۔ ان کی صورت حال نہایت ہی قابل رحم ہے۔ بزدل ، ریاکاری اور چاپلوسی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور قرآن ان کے لیے ایسے ہی اسالیب استعمال کر رہا ہے۔ عجیب تصویر کشی ہے جس کے ذریعے ان کے خفیہ بھیدوں کا ایکسرے ہوجاتا ہے اور نہایت ہی موثر انداز میں۔
التوبة 9:57
اس قسم کے منافقین اسلامی صٖوں میں اپنے لیے مقام پیدا کر رہے تھے۔ وہ اسلامی صفوں میں اپنے اعتقادات اور اپنے ایمان کی وجہ سے نہیں گس رہے تے بلکہ وہ نفاق کے مرض میں مبتلا تے اور خوف کی وجہ سے بھی وہ مسلمانوں کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ ان کے کچھ مفادات اور نظریات کی وجہ سے ایمان کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس سورت نے ان کے اندرون کو ظاہر کردیا ہے۔ اسی وجہ سے اسے " کاشفہ " اور " فاضحہ " بھی کہا جاتا کہا جاتا ہے۔ اس نے منافقین کا پردہ چاک کرکے انہیں اچھی طرح شرمندہ کردیا ہے۔
وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ ۭوَمَا هُمْ مِّنْكُمْ وَلٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ يَّفْرَقُوْنَ : " وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں ، حالانکہ وہ ہر گز تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل میں تو وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوفزدہ ہیں۔ یہ پرلے درجے کے بزدل ہیں اور انداز بیان ایسا ہے کہ یہ لوگ مجسم طور بھاگنے اور سہمے ہوئے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کے نفس اور دل میں فرار ہے۔ ان کے رویے میں فرار اور خوف ہے۔
لَوْ يَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَيْهِ وَهُمْ يَجْمَحُوْنَ اگر وہ کوئی جائے پناہ پا لیں یا کوئی کھوہ یا گھس بیٹھنے کی جگہ ، تو بھاگ کر اس میں جا چھپیں " یہ ہر وقت چھپ جانے کی جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں اور جائے امن کی تلاش میں رہتے ہیں۔ قلعہ بند جگہ یا غار اور تہہ خانہ۔ یہ خوفزدہ اور فرار کی حالت میں ہوتے ہیں۔ گویا کوئی ان دیکھی قوت یا اچانک آنے والی مصیبت ان کا پیچھا کر رہی ہو۔ یہ روحانی طور پر شکست خوردہ اور بزدل ہیں۔
وَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ ۭوَمَا هُمْ مِّنْكُمْ : " وہ خدا کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہی میں سے ہیں " بہت بہت تاکیدوں کے ساتھ حلف اٹھاتے ہیں تاکہ یہ لوگ وہ باتیں چھپا دیں جو ان کے دلوں میں ہیں اور ان کا کسی طرح انکشاف نہ ہونے پائے اور ان کی جان و مال محفوظ رہ جائیں۔ ان کی صورت حال نہایت ہی قابل رحم ہے۔ بزدل ، ریاکاری اور چاپلوسی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور قرآن ان کے لیے ایسے ہی اسالیب استعمال کر رہا ہے۔ عجیب تصویر کشی ہے جس کے ذریعے ان کے خفیہ بھیدوں کا ایکسرے ہوجاتا ہے اور نہایت ہی موثر انداز میں۔
التوبة 9:58
ان آیات میں بھی منافقین پر تبصرہ جاری ہے۔ اور ان کے اقوال اعمال اور نیات پر کلام ہے۔ ان کی نیتوں کے بارے میں انکشافات ہیں جن کو چھپانے کا انہوں نے بہت ہی احتیاط کے ساتھ اہتمام کیا تھا۔ لیکن وہ پھر بھی چھپا نہ سکے۔ کیونکہ وہ حضور کی جانب سے تقسیم صدقات کے بارے اعتراض کرتے ہیں حضور اکرم ﷺ کی عدالت پر نکتہ چینی آخر ایک مسلمان کیسے کرسکتا ہے۔ آپ تو معصوم ہیں اور خلق عظیم کے مالک ہیں۔ پھر ان میں سے بعض حضور کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ ہر شخص کی بات سنتا ہے اور ہر شخص کو سچا سمجھتا ہے۔ حالانکہ حضور نبی اور صاحب بصیرت ہیں ، مفکر و مدبر ہیں اور ان کو حکمت کے خزانے دیے گئے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو اپنے کافرانہ اور فاجرانہ عقائد و اعمال کو اچھی طرح چھپاتے ہیں لیکن جب ان کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے تو جھوٹی قسموں کا سہارا لیتے ہیں تاکہ اپنے معاملات و اعمال کو چھپا سکیں۔ اور بعض تو ایسے سہمے اور ڈرے رہتے ہیں کہ کہیں ان کے بارے میں نبی پر سورت ہی نازل نہ ہوجائے۔
ان جیسے لوگوں پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ منافقین کے یہ خدوخال ہیں اور ان میں اور ان سے پہلے گزرے ہوئے منافقین کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور جس طرح اللہ نے ازمنہ سابقہ کے منافقین کو ہلاک کیا تھا ان کو بھی ہلاک کردے گا اور جس طرح اللہ نے ان کو مہلت دی تھی ان کو بھی دی جا رہی تاکہ معلوم ہوجائے کہ جھوٹے منافقین کون ہوتے ہیں اور سچے مومنین کیسے ہوتے ہیں۔
فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَاِنْ لَّمْ يُعْطَوْا مِنْهَآ اِذَا هُمْ يَسْخَطُوْنَ : " اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خوش ہوجائیں ، اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں " اگر ان کو دیا جائے تو خوش ہوجاتے ہیں پھر انہیں عدل و انصاف کی کوئی پروا نہیں ہوتی اور نہ ان کی دینی غیرت جاگتی ہے۔ ان آیات کے نزول کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں جن میں بعض متعین لوگوں کے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جنہوں نے حضور کے منصفانہ تقسیم صدقات پر اعتراضات کیے تھھے۔
بخاری اور نسائی نے ابوسعید خدری سے روایت کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ صدقات کی تقسیم میں مصروف تھے کہ ذوالخویصرہ تمیمی آئے اور کہا رسول اللہ ! انصاف کیجیے۔ حضور نے فرمایا تم ہلاک ہوجاؤ، اگر میں نے انصاف نہ کیا تو پھر کون کرے گا۔ اس موقع پر حضرت عمر ؓ نے کہا حضور مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ اس پر حضور نے فرمایا چھوڑ دو اسے ، اس کے کچھ ساتھی ایسے ہیں جن کی نمازوں کے ساتھ تم میں سے ایک شخص اپنی نماز کو حقیر بناتا ہے اور اپنے روزوں کو ان کے روزہ کے ساتھ حقیر بناتا ہے۔ وہ دین سے اس طرح نکل جاتے ہیں جس طرح تیر اپنی کمان سے تیزی سے نکل جاتا تھا۔ ابو سعید کہتے ہیں اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ ۔ ان مردویہ نے حضرت ابن مسود سے روایت کی ہے " جب حضور ﷺ نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کرنا شروع کیا تو میں نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا " یہ تو ایسی تقسیم ہے جو خدا کے لیے نہیں ہے۔ میں حضور کے پاس آیا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا ، اللہ حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے ، ان کو اس سے بھی زیادہ اذیت دی گئی اور انہوں نے صبر کیا " اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی و منہم من یلمزک فی الصدقات ۔ ابن جریر نے داود ابن عاصم سے روایت کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور کے پاس صدقات آئے تو آپ نے وہیں ان کو تقسیم کردیا۔ کسی کو کچھ دیا اور کسی کو کچھ دیا۔ ایک انصاری نے انہیں دیکھا اور کہا یہ منصفانہ تقسیم نہیں ہے۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
قتادہ کہتے ہیں کہ آیت وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي الصَّدَقٰتِ کے معنی یہ ہیں کہ ان میں سے بعض لوگ صدقات کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ ایک شخص تازہ تازہ دیہات سے وارد ہوا تھا اور اس نے دیکھا کہ حضور سونا اور چاندی تقسیم کر رہے ہیں۔ تو اس نے کہا حضور اگر اللہ نے آپ کو عدل کا حکم دیا ہے تو پھر آپ نے عدل نہیں کیا۔ اس پر حضور نے فرمایا : تم ہلاک ہوجاؤ اگر میں نے عدل نہ کیا تو پھر کون عدل کرے گا۔
بہرحال آیت اس بات پر منصوص ہے کہ یہ قول منافقین کا تھا۔ اور یہ بات وہ دینی غیرت کی وجہ سے نہ کہتے تھے بلکہ وہ اپنے آپ کو زیادہ کا مستحق سمجھتے تھے یا اگر ان کو کسی موقع پر کچھ نہ دیا گیا تو وہ آپے سے باہر ہوگئے۔ اور یہ بات ان کے نفاق پر واضح دلیل تھی۔ کیونکہ اگر کوئی شخص دین اسلام پر سچا مومن ہو اور یقین رکھتا ہو تو وہ رسول اللہ کے بارے میں اس قدر سوء ظن نہیں کرسکتا۔ حالانکہ حضور ﷺ تو رسالت سے قبل ہی صادق و امین کے نام سے معروف تھے۔ خصوصاً جبکہ عدل تمام اہل ایمان کا فریضہ ہے چہ جائکہ رسول اللہ عدل نہ کریں۔ ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان میں ان واقعات اور ان باتوں پر تبصرہ ہوا ہے جو واقعہ ہوچکی تھیں اور غزوہ تبوک سے بھی پہلے واقعہ ہوچکی تھیں مگر ان کو یہاں بھی لایا گیا تاکہ معلوم ہوسکے کہ منافقین کے دائمی خدوخال کیا ہوتے ہیں اور ان کی ذہنیت کیا ہوتی ہے۔ اس موقع رپ قرآن کریم ایل ایمان کو بتاتا ہے کہ ان کا طرز عمل کیا ہونا چاہیے۔
التوبة 9:59
وَلَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا الخ۔ کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول نے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پر وہ راضی رہتے اور کہتے کہ " اللہ ہمارے لیے کافی ہے ، وہ اپنے فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کا رسول بھی ہم پر عنایت فرمائے گا ، ہم اللہ کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں۔
یہ ہے اسلام کی سوچ کا طریقہ اور یہ ہیں اسلام میں انداز گفتگو اور یہ ہیں اسلام میں آداب ایمان۔ یہ کہ انسان اللہ اور رسول اللہ کی تقسیم پر راضی ہو۔ وہ اللہ اور رسول کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کردے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ مھض دباؤ کی وجہ سے یا ماحول کے غلبہ کی وجہ سے بات مانے۔ اللہ پر بھروسہ کرنا ادب اسلامی ہے کیونکہ اپنے بندوں کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ انسان کو اللہ اور رسول اللہ کی دین کا امیدوار رہنا چاہیے اور وہ ہر کام محض رضائے الہی کے لیے کرے اور اس کے سامنے کوئی مادی مفاد نہ ہو۔ کوئی دنیوی لالچ اس کے پیش نظر نہ ہو۔ یہ ہیں ایمانی آداب جن کی وجہ سے انسان کا قلب و ضمیر تروتازہ اور سرشار ہوتا ہے۔ منافقین کے دل اور ان کا طرز عمل ان آداب سے خالی اور نابلد ہوتا ہے۔ کیونکہ ان کی ارواح میں ایمان کی تازگی اور خوشی داخل ہی نہیں ہوا کرتی اور ان کے دل نور یقین سے خالی ہوتے ہین۔
التوبة 9:60
اللہ اور رسول اللہ کی بارگاہ کے لائق آداب کے بیان کے بعد یعنی ، مکمل اطاعت ، مکمل اطاعت ، مکمل تسلیم و رضا اور مکمل سپردگی کے بیان کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ کرتے ہیں وہ خود اپنی مرضی سے نہیں کرتے۔ وہ امر اللہ سے ہر کام کرتے ہیں۔ اللہ کے احکام بابت تقسیم صدقات یہ ہیں اور رسول ان احکام کی پیروی کرتے ہیں اور یہ احکام رب العالمین کی طرف سے ہیں یعنی صدقات اور زکوۃ ایک فریضہ ہے جو اغنیاء سے لیا جاتا ہے اور یہ بھی فرض ہے کہ اسے فقراء میں تقسیم کیا جائے۔ اس کی تقسیم چند قسم کے لوگوں کے درمیان کی جانی ہے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی صوابدید پر اسے تقسیم کرے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ بھی اسے ان مدات کے علاوہ اپنی صوابدید سے تقسیم نہیں کرسکتے۔
اس آیت کے ذریعے اسلامی شریعت میں زکوۃ کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اب زکوۃ محض نفلی صدقہ اور رضاکارانہ چندہ نہیں رہی۔ اب یہ حتمی فریضہ اور واجبی ٹیکس ہے۔ نیز زکوۃ کے تقسیم کنندہ گان کی جانب سے بھی یہ کوئی عطیہ تصور نہ ہوگا نہ دینے والوں کی جانب سے عطیہ ہوگا بلکہ معلوم فریضہ ہوگا۔ اسلامی حکومت کا یہ ایک اہم مالی فریضہ ہے۔ اس کی وصولی کا ایک نظام ہوگا اور تقسیم کا بھی ایک ضابطہ جاری ہوگیا ہے۔ غرض زکوۃ دینے والوں پر فریضہ ہے اور لینے والوں کے لیے ان کا حق ہے۔ یہ خیرات اور سوال نہیں ہے کیونکہ اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ کوئی زکوۃ گداگری کے تصور سے وصول کرے۔
اسلامی نظم میں زندگی کو عملی اور سعی پر استوار کیا گیا ہے۔ عمل کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ اسلامی حکومت کا یہ فرض اور اس کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر اس شخص کے لیے روزگار کا بندوبست کرے جو عمل اور محنت پر قدرت رکھتا ہو ، وہ اسے کام کے لیے ہنر مندی سکھائے اور اس کے لیے موقع فراہم کرے اور پھر یہ مزدور اور محنت کش کو یہ ضمانت دے کہ اس کو اس کی محنت کی پوری اجرت ملے۔
اسلامی نظام کے ضوابط کی رو سے عمل پر قدرت رکھنے والوں کا زکوۃ میں کوئی حق نہیں زکوۃ ایک ایسا ٹیکس ہے جو اہل ثروت سے لیا جاتا ہے اور محتاجوں کو دیا جاتا ہے اور اس کی وصولی اور تقسیم کا انتظام حکومت کے ہاتھوں میں رہتا ہے۔ بشرطیکہ حکومت اسلامی اصولوں پر قائم ہو ، نظام شریعت کو نافذ کرنے والی ہو اور زکوۃ کو بھی وہ مکمل اسلامی ضوابط کے مطابق وصول کرتی ہو اور خرچ کرتی ہو۔
حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا لا تحل الصدقۃ لغنی ولا لذی مرۃ سوی " زکوۃ غنی کے لیے حلال نہیں ہے اور نہ تندرست و توانا کے لیے " (احمد ، ابو داود ، ترمذی)
عبداللہ ابن عدی ابن خیار سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ دو آدمیوں نے مجھے بتایا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور انہوں نے زکوۃ کے لیے درخواست کی تو حضور ﷺ ان کا جائز لیا اور دیکھا کہ وہ دونوں تندرست و توانا ہیں تو فرمایا " اگر تم چاہو تو میں تمہیں زکوۃ دیے دیتا ہوں لیکن ضاطے کی رو سے اس میں غنی اور اسے شخص کا حصہ نہین ہے جو قوی ہو اور کمائی کرسکتا ہو۔ (احمد ، ابو داود ، نسائی
اسلام کے اجتماعی نظام نے اسلامی سوسائٹی کے لیے سوشل سیکورٹی کا جو نظام تجویز کیا زکوۃ اس کا ایک حصہ ہے۔ یہ نظام زکوۃ سے زیادہ وسیع اور جامع ہے کیونکہ اسلام کے سوشل سیکورٹی کے نظام کے کئی شعبے ہیں۔ یہ شعبے پوری انسانی زندگی تک پھیلے ہوئے ہیں۔ زکوۃ بہرحال اس نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔
زکوۃ کی شرح دسواں ، بیسواں اور چالیسواں حصہ ہے۔ مختلف اموال میں اس کی شرح مختلف ہے۔ جو شخص 20 مصری دینار سے زیادہ مال رکھتا ہو اور مال اس کی ضروریات سے زیادہ ہو تو وہ صاحب نصاب تصور ہوگا اور اس پر زکوۃ فرض ہوگی۔ اس طرح اس مد میں دینے والوں کی ایک بڑی تعداد فراہم ہوجاتی ہے اور اس کو ان مدات میں خرچ کیا جاتا ہے جن کی تصریح اس آیت میں کردی گئی ہے۔ اس کا پہلا مستحق فقیر و مسکین ہیں۔ فقراء وہ ہیں جن کے پاس بقدر ضرورت سے کم ہو ، مساکین بھی ایسے ہی ہوتے ہیں ، لیکن یہ فقراء کے مقابلے میں سفید پوش ہوتے ہیں۔ وہ اپنی ضرورت کا اظہار نہیں کرتے اور سوال بھی نہیں کرتے۔
یہ اس قدر وسیع ٹیکس ہے کہ ایک سال جو زکوۃ دیتا ہے وہ دوسرے سال اس کا مستحق بھی بن جاتا ہے جبکہ زکوۃ دینے والے کی آمدن اس کی ضروریات سے کم ہوجائے۔ اس اعتبار سے یہ ایک بہترین اجتماعی فنڈ ہے۔ بعض لوگ اسے بھی ہوتے ہیں جو اگرچہ کبھی بھی اس فنڈ میں ادائیگی نہیں کرتے لیکن مستحق ضرور ہوتے ہیں اس اعتبار سے یہ اجتماعی ضمانت ہے۔ لیکن اجتماعی فنڈ یا ضمانت ہونے سے پہلے ہی اللہ کی جانب سے ایک فریضہ ہے۔ اس سے تزکیہ نفس اور تزکیہ اموال ہوتا ہے۔ انسان اللہ کی بندگی کرتا ہے اور دل کا بخل اس سے دور ہوتا ہے اور انسان دے کر خوشی پاتا ہے اور اس کے اندر احساس برتری پیدا ہوتا ہ۔
زکوۃ کی مدات
1 ۔ الفقراء والمساکین۔ فقیر اور مسکین کی تعریف اور فرق ہم بیان کرچکے ہیں۔
2 ۔ والعاملین علیہا۔ (جو صدقات کام پر مامور ہیں)
3 ۔ والمؤلفۃ قلوبہم۔ (جن کی تالیف قلب مطلوب ہو)
مؤلفۃ القلوب کئی قسم کے ہوتے ہیں وہ لوگ جو ابھی ابھی اسلام میں داخل ہوئے تے اور اس مد سے ان کی امداد کی غرض وغایت یہ تھی کہ وہ اسلام پر ثابت قدم ہوجائیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی تالیف قلب کرکے ان کو اسلام میں داخل کرنا مطلوب ہو۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کی تالیف قلب کرکے ان کو اسلام میں داخل کرنا مطلوب ہو۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں کہ جو اسلام پختگی کے ساتھ داخل ہوگئے لیکن ان کو انعامات اور اعزازات دے کر ان کے اہل قوم کو یہ تاثر دینا مطلوب تھا کہ وہ بھی اسلام کی طرف راغب ہوجائیں۔ جب وہ دیکھیں کہ ان کے بھائی اسلامی نظام کے برکات سے فائدے اٹھا رہے ہیں لیکن اس مد کے بارے میں فقہاء کے درمیان فقہی اختلافات پائے جاتے ہیں کہ آیا مولفۃ القلوب کی مد غلبہ اسلام کے بعد باقی رہی تھی یا نہیں۔ لیکن اسلام کا تحریکی مزاج اس بات کا متقاضی ہے کہ یہ مد جاری ہے کیونکہ مختلف حالات میں تحریک اسلامی کے کارکنوں کو تحریک کی وجہ سے مالی نقصانات ہوتے ہیں اور ان کا مداوا ضروری ہوتا ہے اور بعض اوقات بعض لوگوں کی تالیف قلب سے اسلام کو فائدہ ہوتا ہے۔ یہ ایک عظیم حکمت ربانی ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو اپنے مسائل حل کرنے کے لیے یہ خصوصی فنڈ فراہم کیا ہے تاکہ مختلف ظروف و احوال میں اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ )
5 ۔ وفی الرقاب (گردنوں کے چھڑانے میں) یہ اس وقت کی بات ہے جب غلامی ایک عالمی نظام تھا۔ اور یہ نظام بیک وقت مسلمانوں اور ان کے مخالفین میں رائج تھا۔ کیونکہ جنگی قیدیوں کو غلام بنا لیا جاتا تھا۔ اور اسلام اس وقت کے بین الاقوامی حالات میں مجبور تھا کہ وہ قیدیوں کے معاملے میں وہ فیصلے کرے جو اس کے قیدیوں کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اس مد میں ان لوگوں کی امداد بھی ہوتی تھی جو اپنے آقا کے ساتھ آزادی کا معاوضہ طے کرکے مکاتبت کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کو اقساط مکاتبت ادا کرنے کے لیے زکوۃ سے رقم دی جاتی تھی۔ نیز اس مد کی رقم سے غلاموں کو خرید کر آزاد بھی کردیا جاتا تھا یعنی اسلامی حکومت کی طرف سے۔
6 ۔ والغارمین (قرض داروں کی مدد میں) وہ قرضدار جو بدکاریوں کی وجہ سے مقروض نہ ہوئے ہوں۔ ان لوگوں کو زکوۃ سے رقم ادا کی جاتی تھی تاکہ وہ اپنے قرضے دا کرسکیں۔ آج کل کے جددی معاشی نظام جو نام نہاد مغربی تہذیب کے پیدا کردہ ہیں اس قدر ظالمانہ ہیں کہ لوگوں کے قرضے لے کر کھا جاتے ہیں اور بڑی آسانی کے ساتھ اپنے اپ کو دیوالیہ کردیتے ہیں اور لوگوں کو رقومات ڈوب جاتی ہیں۔ لیکن اسلام ایک متکافل اور ضامن نظام ہے۔ اس میں شرفاء کو آسانی کے ساتھ لوٹا نہیں جاسکتا اور نہ اس میں امانت داروں کو اس طرح تباہ کرکے دیوالیہ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے اور نہ لوگوں کو یہ اجازت دی جاتی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مال کھا جائیں۔ اور قوانین ان کے لیے خود راستہ ہموار کریں جب کہ آج کل دنیا کے تمام مالی قوانین کی رو سے ایسا ہوتا ہے۔
7 ۔ وفی سبیل اللہ (اور راہ خدا مٰں) یہ ایک وسیع مد ہے۔ اس میں سے ہر اس موقع پر خرچ کیا جاسکتا ہے جس میں اسلامی معاشرے کی بھلائی ہو جیسا کہ لفظ فی سبیل اللہ کی وسعت سے معلوم ہوتا ہے۔
8 ۔ وابن السبیل (مسافر نوازی میں) یعنی وہ مسافر جو اپنے مال سے دور ہو اگرچہ اپنے مقام پر وہ غنی ہو۔
یہ ہے نظام زکوۃ جس پر آج کے دور میں بعض لوگ نکتہ چینی کرتے ہیں ۔ اور یہ الزام لگاتے ہیں کہ یہ گداگری اور احسان کرنے والے اور دوسروں کی دست نگری کا نظام ہے۔ حالانکہ یہ ایک اجتماعی فریضہ ہے اور اسے بطور اسلامی فرض اور عبادت ادا کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کے مال پاک ہوں اور لوگوں کے دلوں سے کنجوسی کا زنگ صاف ہو۔ اور یہ نظام لوگوں کی بھلائی اور افراد امت کے درمیان محبت اور بھائی چارے کا سبب بنے۔ انسانی سوسائٹی کی فضا اس سے تروتازہ ہو اور انسانیت کے زخموں کے لیے مرہم کا کام کرے۔ اور ان برکات کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر سوشل سیکورٹی کا بھی انتظام کردے۔ لیکن اس کا حقیقی رنگ عبادت اور تقرب الی اللہ رہے۔ اور اللہ اور لوگوں کے درمیان ایک رابطہ ہو۔ فریضۃ من اللہ (اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے) اور یہ احکام اللہ نے عائد کیے کیونکہ وہ حکیم و دانا ہے۔ واللہ علیم حکیم (اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا و بینا ہے)
التوبة 9:61
زکوۃ و صدقات کے اصول وضع کرنے کے بعد ، اور ان کے مصارف کی نشاندہی کے بعد اب سیاق کلام پھر منافقین کے اعمال و افعال کی طرف مڑ جاتا ہے اور یہاں آیت صدقات کو اس لیے لایا گیا کہ جو لوگ تقسیم صدقات کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ پر نکتہ چینی کرتے تھے ان کے موقف کی کمزوری واضح ہوجائے۔
وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ وَيَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ: " ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی کو دکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا ہے۔ "
یہ رسول اللہ کے بارے میں سوٗ ادب ، ایک صرح گستاخی ، معلوم ہوتا ہے کہ یہ گستاخی صدقات کے معاملے کے علاوہ ہے۔ یہ دیکھتے تھے کہ حضور اکرم ﷺ لوگوں کی باتیں کس قدر سلیقے ، شرافت اور سنجیدگی کے ساتھ سنتے ہیں اور یہ کہ حضور ﷺ شریعت کے قانون کے مطابق لوگوں کی ظاہری حالت کے مطابق ان سے معاملہ کرتے تھے۔ لوگوں کی طرف اچھی طرح متوجہ ہوتے تھے اور ان کے ساتھ دل کھول کر بات فرماتے تھے۔ لیکن ان نکتہ چینی کرنے والوں نے حضور کی اس شائستگی کو آپ کی کمزوری سے تعبیر کیا اور اچھائی کو برائی کہہ دیا۔ کہنے لگے کہ حضور کان کے کچے ہیں۔ یعنی ہر کسی کی بات سنتے ہیں اور یہ ممکن ہے کہ کوئی آپ سے جھوٹ کہے ، دھوکہ دے اور چرب لسانی سے کام نکالے اور آپ بات کو سمجھ نہ سکیں۔ وہ یہ باتیں اپنی اس خام خیالی کی وجہ سے کہتے تھے کہ حضور ان کے معاملے کو کسی طرح کھول سکتے ہیں یا یہ کہ حضور ان کے نفاق کو کس ذریعے سے معلوم کرلیں گے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان منافقین کے اعمال و اقوال کے بارے میں مخلص مومنین آپ کو جو اطلاعات فراہم کرتے تے اور آپ ان پر یقین کرتے تھے تو یہ لوگ اس صورت حال پر نکتہ چینی کرتے تھے۔ اس آیت کے سبب نزول کے سلسلے میں اس قسم کی بعض روایات بھی وارد ہیں۔ یہ دونوں امر یہاں اس آیت کا پس منظفر ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ دونوں امر منافقین میں موجود تھے۔
قرآن کریم پہلے ان کا قول نقل کرتا ہے : " یقولون ھو اذن " (کہتے ہیں کہ یہ شخص کان کا کچا ہے ہاں یہ درست ہے لیکن کہو تمہارے بھلائی کے لیے ایسا ہے) کیا اس میں تمہاری بھلائی نہیں ہے کہ وہ غور سے وحی سنتا ہے اور پھر تم تک اسے پہنچاتا ہے جس میں تمہاری بھلائی ہے اور تمہاری اصلاح ہے۔ پھر کان کا کچا ہونا تمہارے لیے یوں بھی بہتر ہے کہ تمہاری بات کو غور سے سنتا ہے اور شرافت سے سنتا ہے اور تمہیں یہ تاثر نہیں دیتا کہ تم و منافق ہو۔ یہ اشارہ بھی نہیں دیتا کہ تم دھوکہ دیتے ہو اور تم اس کے جو ریاکارانہ برتاؤ کرتے ہو جانتے ہوئے بھی وہ تمہاری سرزنش نہیں کرتا۔
یومن باللہ (وہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے) اور اللہ تعالیٰ اس کو تمہارے بارے میں جو اطلاع دیتا ہے اس پر اسے پور پورا یقین ہے۔ دوسرے لوگوں کے بارے میں اس کو جو اطلاع دی جاتی ہے ، اس پر بھی اسے یقین ہے)
و یومن للمومنین (اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا ہے) وہ پورے اطمینان سے ان کی باتوں کو سچ تسلیم کرتا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہ سچے مسلمان ہیں اور ان کا ایمان اس قدر مضبوط ہے کہ جھوٹ ، ریاکاری اور بہانہ سازی سے انہیں روکتا ہے۔
ورحمۃ للذین امنوا (اور تم میں سے ایماندار لوگوں کے لیے سراسر رحمت ہے) اس لیے کہ اللہ غیور ہے۔ وہ کس طرح برداشت کرسکتا ہے کہ لوگ اس کے رسول کو اذیت دیں حالانکہ وہ ان تک اللہ کا پیغام پہنچانے والا ہے۔
التوبة 9:62
یہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں کھا کر تم کو راضی کرنا چاہتے ہیں اور منافقین کا ہر دور میں یہی وطیرہ رہا ہے۔ یہ لوگ ہمیشہ کہتے کچھ ین اور کرتے کچھ ہیں۔ سامنے ان کا رویہ اور ہوتا ہے اور پیٹھ پیچھے ان کا رویہ اور ہوتا ہے۔ پھر ایک وقت یہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ مومنین صادقین کے ساتھ آنکھیں بھی نہیں ملا سکتے۔ نہ ان کے ساتھ بات کرسکتے ہیں چناچہ پھر وہ قسموں کا سہارا لے کر چاپلوسی اور ذلت اختیار کرکے لوگوں کی رضامندی حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ، اگر یہ سچے مومن ہیں تو اللہ و رسول اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں۔ کیونکہ لوگوں کا مقام ہی کیا ہے ؟ لوگوں کی حیثیت ہی کیا ہے ؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو شخص اللہ پر ایمان نہیں لاتا اور اس کے سامنے نہیں جھکتا ، وہ لوگوں پر ایمان لاتا ہے اور اپنے جیسے انسان سے ڈرتا ہے۔ ان کے لیے بہتر تو یہ تھا کہ یہ لوگ اللہ کے سامنے سرنگوں ہوتے جو سب کا خدا ہے۔ اس میں ان کے لیے کوئی ذلت نہیں ہے۔ ذلت تو اس میں ہے کہ کوئی اپنے جیسے انسان کے سامنے جھکے جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے۔ وہ جھوٹا نہیں ہوتا بلکہ جو شخص اللہ کے سوا دوسروں سے ڈرتا ہے وہ جھوٹا ہوتا ہے۔
التوبة 9:63
یہ استفہام انکار ہے اور مخاطبین کو جھڑکنا اور متنبہ کرنا مطلوب ہے کہ یہ لوگ دعائے ایمان کرتے ہیں اور پھر بھی اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ محاربت اور جنگ کرتے ہیں۔ لہذا انہیں معلوم ہونا چاہی کہ اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ جنگ کرنا ایک عظیم گناہ ہے اور جو شخص اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ دشنی رکھتا ہے ، جہنم اس کے انتظار میں ہے۔ اور ان کے اس غرور اور سرکشی کے بدلے انہیں ذلت اور رسوائی کی سزا دی جائے گی۔ اگر وہ سچے مومن ہیں جیسا کہ وہ دعوائے ایمان کرتے ہیں تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اس حقیقت سے بیخبر ہوں۔
یہ اللہ کے بندوں سے تو ڈرتے ہیں اور ڈر کر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ ان کو راضی کریں اور ان خبروں کی تردید کریں جو ان بندوں تک ان کی بابت پہنچ رہی ہیں۔ لیکن یہ بات حیرت انگیز ہے کہ وہ خالق کائنات سے نہیں ڈرتے کہ اس کے رسول کو اذیت دیتے ہیں اور اس کے دین کی دشمنی کرتے ہیں۔ گویا وہ اللہ سے لڑتے ہیں اور اس کی طاقت اس قدر برتر ہے کہ اس سے کوئی نہیں لڑ سکتا۔ بلکہ وہ شرمناک گناہ کا ارتکاب کرتے اور یہ ایک عظیم غلطی ہے جو یہ کر رہے ہیں اور یہ بات ان کے لیے بہت ہی خطرناک ہے کہ وہ دین کے خلاف سازشیں کریں اور رسول اللہ کو اذیت دیں۔
یہ لوگ بزدل اس قدر ہیں کہ یہ دین اور اہل دین اور رسول اللہ کے مقابلے میں کھل کر نہیں آسکتے۔ پھر یہ اس سے بھی ڈرتے ہیں کہ اللہ ان کے راز اہل ایمان پر بھی کھول نہ دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولسم کو ان کی خفیہ نیتوں سے مطلع نہ کردیا جائے۔
التوبة 9:64
یحذر المنافقون ۔۔۔ کانوا مجرمین (آیت 64 تا 66) یہ آیات تمام منافقین کے عمومی رویے پر تبصرہ ہے کہ وہ اس بات سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں جو کھوٹ ہے اس کے بارے میں کہیں آیات نازل نہ ہوجائیں۔ اور ان کی دلی کیفیات کا انکشاف نہ ہوجائے۔ ان کے راز لوگوں پر کھل نہ جائیں۔ اس موضوع پر کئی روایات میں متعدد واقعات متعین طور پر بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول یہ خاص واقعات ہیں۔
ابو معشر مدینی نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ میرے خیال میں ہم سے جو لوگ زیادہ قرآن پڑھتے ہیں وہ ہم سے پیٹ کے بارے میں زیادہ لالچی ہیں اور بات میں ہم سے زیادہ جھوٹے ہیں اور جنگ کے وقت بزدل ہیں (ان کا تبصرہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو قاری قرآن تھے) یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی۔ تو یہ منافق رسول اللہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ سفر پر روانہ ہونے کے لیے ناقہ پر سوار ہوگے تھے۔ اس منافق نے کہا رسول خدا ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ تو حضور نے فرمایا کیا تم اللہ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کی بابت گپ شپ لگا رہے تھے۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں قل اباللہ تا کانوا مجرمین اس شخص کے پاؤں پتھر پر رگڑے جا رہے تھے اور رسول اللہ اس کی طرف دیکھ بھی نہ رہے تھے اور یہ شخص رسول اللہ کی تلوار کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ محمد ابن اسحاق نے یہ نقل کیا ہے کہ منافقین کی ایک جماعت تھی جن میں ودیعہ ابن ثابت بنی امیہ کے بھائی ، ولد زید ولد عمرو ، ولد عوف تھے اور ایک شخص مخشی ابن حمیر بھی تھا جو اشجع قبیلے کا فرد تھا اور اشجع بنی سلمہ کا حلیف تھا۔ یہ جماعت حضور کے ساتھ تبوک کی طرف جا رہی تھی۔ ان میں سے بعض نے دوسروں سے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ رومی اس طرح لڑتے ہیں جس طرح عرب عربوں کے ساتھ لڑتے ہیں ؟ خدا کی قسم ہم تو دیکھتے ہیں کہ کل ہم رسیوں میں بندھے ہوں گے۔ یہ لوگ اہل ایمان کے اندر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کہتے تھے۔ اس موقع پر مخشی ابن حمیر نے کہا خدا کی قسم میں تو اپنے لی یہ سزا تجویز کرتا ہوں کہ ہم میں ہر شخص کو سو کوڑے مارے جائیں مگر ہمارے بارے میں تمہاری ان باتوں کی وجہ سے قرآن مجید نازل نہ ہوجائے ، مجھ تک جو اطلاعات بھی پہنچی ہیں ، ان میں یہ بھی ہے کہ حضور نے عمار ابن یاسر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کی مدد کو ہنچو یہ تو جہنم رسید ہوگئے ہیں۔ اور ان سے پوچھو کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ اگر وہ انکار کردیں تو پھر بتا دو کہ تم نے تو یہ کہا تھا۔ عمار ان تک گئے اور ان سے یہ بات کی۔ یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور معذرت کرنے لگے۔ رسول اللہ اپنی سواری پر بیٹھ چکے تھے اور ودیعہ ابن ثابت پہنچے۔ اس نے سواری کا کجاوا پکڑآ ہوا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ مخشی ابن حمیر نے رسول اللہ سے کہا فعد بی اسمی اور اسم ابی چناچہ اس آیت میں جسے معافی ملی وہ مخشی ابن حمیر تھے۔ بعد اس نے اپنا نام عبدالرحمن رکھ دیا تھا۔ اور اس نے خدا سے سوال کیا تھا کہ وہ خدا کی راہ میں اس طرح شہید ہوں کہ اس کا نام و نشان بھی معلوم نہ ہو۔ چناچہ یمامہ کی جنگ میں وہ شہید ہوا اور اس کا کوئی اتا پتا نہ ملا۔
ابن منذر ، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ غزوہ تبوک کے لیے پا بہ رکاب تھے کہ آپ کے ساتھ ایک گروہ منافقین بھی تھا۔ جنہوں نے کہا : کیا یہ شخص یہ امید لگائے بیٹھا کہ شام کے محلات اور قلعے اس کے لیے کھل جائیں گے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے حضور کو اس کی اطلاع دے دی تو حضور نے حکم دیا کہ ان لوگوں کی سواریوں کو روک دو ۔ حضور نے ان لوگوں سے جا کر دریافت کیا کہ کیا تم نے یہ کہا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ہم تو ہنسی مذاق کر رہے تے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
ہم ہنسی مذاق کر رہے تھے یعنی جن موضوعات پر وہ بات کر رہے تھے ان کا تو تعلق تو اصل ایمان سے تھا اور یہ ایسے مسائل نہ تھے جن کے بارے میں محض گپ شپ کے انداز میں بات کی جائے۔ قل اباللہ وایاتہ ورسولہ کنتم تستہزءون (کیا تم اللہ ، اس کے رسول اور اس کی آیات کے بارے میں ہنسی مذاق کرتے ہو) چونکہ انہوں نے ایک عظیم جرم کا ارتکاب کیا تھا ، اس لیے ان پر کفر کا فتوی صادر ہوا کہ انہوں نے کفریہ کلمات کہے ہیں۔ اور ایمان کے اظہار کے بعد انہوں نے کفر کیا ہے۔ چناچہ ان کو خوفناک انجام سے ڈرایا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ جلدی توبہ کرلیں اور صحیح ایمان لے آئیں تو یہ عذاب ان سے ٹل بھی سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ نفاق پر قائم رہے اور بدستور استہزائیہ انداز ان کا باقی رہا تو وہ عذاب کے مستحق ہوں گے کیونکہ انہم کانوا مجرمین (یہ مجرم تھے)
التوبة 9:65
یحذر المنافقون ۔۔۔ کانوا مجرمین (آیت 64 تا 66) یہ آیات تمام منافقین کے عمومی رویے پر تبصرہ ہے کہ وہ اس بات سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں جو کھوٹ ہے اس کے بارے میں کہیں آیات نازل نہ ہوجائیں۔ اور ان کی دلی کیفیات کا انکشاف نہ ہوجائے۔ ان کے راز لوگوں پر کھل نہ جائیں۔ اس موضوع پر کئی روایات میں متعدد واقعات متعین طور پر بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول یہ خاص واقعات ہیں۔
ابو معشر مدینی نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ میرے خیال میں ہم سے جو لوگ زیادہ قرآن پڑھتے ہیں وہ ہم سے پیٹ کے بارے میں زیادہ لالچی ہیں اور بات میں ہم سے زیادہ جھوٹے ہیں اور جنگ کے وقت بزدل ہیں (ان کا تبصرہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو قاری قرآن تھے) یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی۔ تو یہ منافق رسول اللہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ سفر پر روانہ ہونے کے لیے ناقہ پر سوار ہوگے تھے۔ اس منافق نے کہا رسول خدا ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ تو حضور نے فرمایا کیا تم اللہ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کی بابت گپ شپ لگا رہے تھے۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں قل اباللہ تا کانوا مجرمین اس شخص کے پاؤں پتھر پر رگڑے جا رہے تھے اور رسول اللہ اس کی طرف دیکھ بھی نہ رہے تھے اور یہ شخص رسول اللہ کی تلوار کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ محمد ابن اسحاق نے یہ نقل کیا ہے کہ منافقین کی ایک جماعت تھی جن میں ودیعہ ابن ثابت بنی امیہ کے بھائی ، ولد زید ولد عمرو ، ولد عوف تھے اور ایک شخص مخشی ابن حمیر بھی تھا جو اشجع قبیلے کا فرد تھا اور اشجع بنی سلمہ کا حلیف تھا۔ یہ جماعت حضور کے ساتھ تبوک کی طرف جا رہی تھی۔ ان میں سے بعض نے دوسروں سے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ رومی اس طرح لڑتے ہیں جس طرح عرب عربوں کے ساتھ لڑتے ہیں ؟ خدا کی قسم ہم تو دیکھتے ہیں کہ کل ہم رسیوں میں بندھے ہوں گے۔ یہ لوگ اہل ایمان کے اندر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کہتے تھے۔ اس موقع پر مخشی ابن حمیر نے کہا خدا کی قسم میں تو اپنے لی یہ سزا تجویز کرتا ہوں کہ ہم میں ہر شخص کو سو کوڑے مارے جائیں مگر ہمارے بارے میں تمہاری ان باتوں کی وجہ سے قرآن مجید نازل نہ ہوجائے ، مجھ تک جو اطلاعات بھی پہنچی ہیں ، ان میں یہ بھی ہے کہ حضور نے عمار ابن یاسر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کی مدد کو ہنچو یہ تو جہنم رسید ہوگئے ہیں۔ اور ان سے پوچھو کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ اگر وہ انکار کردیں تو پھر بتا دو کہ تم نے تو یہ کہا تھا۔ عمار ان تک گئے اور ان سے یہ بات کی۔ یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور معذرت کرنے لگے۔ رسول اللہ اپنی سواری پر بیٹھ چکے تھے اور ودیعہ ابن ثابت پہنچے۔ اس نے سواری کا کجاوا پکڑآ ہوا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ مخشی ابن حمیر نے رسول اللہ سے کہا فعد بی اسمی اور اسم ابی چناچہ اس آیت میں جسے معافی ملی وہ مخشی ابن حمیر تھے۔ بعد اس نے اپنا نام عبدالرحمن رکھ دیا تھا۔ اور اس نے خدا سے سوال کیا تھا کہ وہ خدا کی راہ میں اس طرح شہید ہوں کہ اس کا نام و نشان بھی معلوم نہ ہو۔ چناچہ یمامہ کی جنگ میں وہ شہید ہوا اور اس کا کوئی اتا پتا نہ ملا۔
ابن منذر ، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ غزوہ تبوک کے لیے پا بہ رکاب تھے کہ آپ کے ساتھ ایک گروہ منافقین بھی تھا۔ جنہوں نے کہا : کیا یہ شخص یہ امید لگائے بیٹھا کہ شام کے محلات اور قلعے اس کے لیے کھل جائیں گے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے حضور کو اس کی اطلاع دے دی تو حضور نے حکم دیا کہ ان لوگوں کی سواریوں کو روک دو ۔ حضور نے ان لوگوں سے جا کر دریافت کیا کہ کیا تم نے یہ کہا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ہم تو ہنسی مذاق کر رہے تے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
ہم ہنسی مذاق کر رہے تھے یعنی جن موضوعات پر وہ بات کر رہے تھے ان کا تو تعلق تو اصل ایمان سے تھا اور یہ ایسے مسائل نہ تھے جن کے بارے میں محض گپ شپ کے انداز میں بات کی جائے۔ قل اباللہ وایاتہ ورسولہ کنتم تستہزءون (کیا تم اللہ ، اس کے رسول اور اس کی آیات کے بارے میں ہنسی مذاق کرتے ہو) چونکہ انہوں نے ایک عظیم جرم کا ارتکاب کیا تھا ، اس لیے ان پر کفر کا فتوی صادر ہوا کہ انہوں نے کفریہ کلمات کہے ہیں۔ اور ایمان کے اظہار کے بعد انہوں نے کفر کیا ہے۔ چناچہ ان کو خوفناک انجام سے ڈرایا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ جلدی توبہ کرلیں اور صحیح ایمان لے آئیں تو یہ عذاب ان سے ٹل بھی سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ نفاق پر قائم رہے اور بدستور استہزائیہ انداز ان کا باقی رہا تو وہ عذاب کے مستحق ہوں گے کیونکہ انہم کانوا مجرمین (یہ مجرم تھے)
التوبة 9:66
یحذر المنافقون ۔۔۔ کانوا مجرمین (آیت 64 تا 66) یہ آیات تمام منافقین کے عمومی رویے پر تبصرہ ہے کہ وہ اس بات سے ہر وقت ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے دلوں میں جو کھوٹ ہے اس کے بارے میں کہیں آیات نازل نہ ہوجائیں۔ اور ان کی دلی کیفیات کا انکشاف نہ ہوجائے۔ ان کے راز لوگوں پر کھل نہ جائیں۔ اس موضوع پر کئی روایات میں متعدد واقعات متعین طور پر بھی نقل ہوئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان آیات کا سبب نزول یہ خاص واقعات ہیں۔
ابو معشر مدینی نے محمد ابن کعب قرظی سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ منافقین میں سے ایک شخص نے یہ کہا کہ میرے خیال میں ہم سے جو لوگ زیادہ قرآن پڑھتے ہیں وہ ہم سے پیٹ کے بارے میں زیادہ لالچی ہیں اور بات میں ہم سے زیادہ جھوٹے ہیں اور جنگ کے وقت بزدل ہیں (ان کا تبصرہ ان لوگوں کے بارے میں تھا جو قاری قرآن تھے) یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی۔ تو یہ منافق رسول اللہ کے پاس پہنچا۔ اس وقت رسول اللہ سفر پر روانہ ہونے کے لیے ناقہ پر سوار ہوگے تھے۔ اس منافق نے کہا رسول خدا ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ تو حضور نے فرمایا کیا تم اللہ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کی بابت گپ شپ لگا رہے تھے۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں قل اباللہ تا کانوا مجرمین اس شخص کے پاؤں پتھر پر رگڑے جا رہے تھے اور رسول اللہ اس کی طرف دیکھ بھی نہ رہے تھے اور یہ شخص رسول اللہ کی تلوار کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ محمد ابن اسحاق نے یہ نقل کیا ہے کہ منافقین کی ایک جماعت تھی جن میں ودیعہ ابن ثابت بنی امیہ کے بھائی ، ولد زید ولد عمرو ، ولد عوف تھے اور ایک شخص مخشی ابن حمیر بھی تھا جو اشجع قبیلے کا فرد تھا اور اشجع بنی سلمہ کا حلیف تھا۔ یہ جماعت حضور کے ساتھ تبوک کی طرف جا رہی تھی۔ ان میں سے بعض نے دوسروں سے کہا کیا تم سمجھتے ہو کہ رومی اس طرح لڑتے ہیں جس طرح عرب عربوں کے ساتھ لڑتے ہیں ؟ خدا کی قسم ہم تو دیکھتے ہیں کہ کل ہم رسیوں میں بندھے ہوں گے۔ یہ لوگ اہل ایمان کے اندر خوف و ہراس پھیلانے کے لیے کہتے تھے۔ اس موقع پر مخشی ابن حمیر نے کہا خدا کی قسم میں تو اپنے لی یہ سزا تجویز کرتا ہوں کہ ہم میں ہر شخص کو سو کوڑے مارے جائیں مگر ہمارے بارے میں تمہاری ان باتوں کی وجہ سے قرآن مجید نازل نہ ہوجائے ، مجھ تک جو اطلاعات بھی پہنچی ہیں ، ان میں یہ بھی ہے کہ حضور نے عمار ابن یاسر کو حکم دیا کہ ان لوگوں کی مدد کو ہنچو یہ تو جہنم رسید ہوگئے ہیں۔ اور ان سے پوچھو کہ وہ کیا کہہ رہے تھے۔ اگر وہ انکار کردیں تو پھر بتا دو کہ تم نے تو یہ کہا تھا۔ عمار ان تک گئے اور ان سے یہ بات کی۔ یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور معذرت کرنے لگے۔ رسول اللہ اپنی سواری پر بیٹھ چکے تھے اور ودیعہ ابن ثابت پہنچے۔ اس نے سواری کا کجاوا پکڑآ ہوا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ہم تو گپ شپ لگا رہے تھے۔ مخشی ابن حمیر نے رسول اللہ سے کہا فعد بی اسمی اور اسم ابی چناچہ اس آیت میں جسے معافی ملی وہ مخشی ابن حمیر تھے۔ بعد اس نے اپنا نام عبدالرحمن رکھ دیا تھا۔ اور اس نے خدا سے سوال کیا تھا کہ وہ خدا کی راہ میں اس طرح شہید ہوں کہ اس کا نام و نشان بھی معلوم نہ ہو۔ چناچہ یمامہ کی جنگ میں وہ شہید ہوا اور اس کا کوئی اتا پتا نہ ملا۔
ابن منذر ، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے قتادہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ غزوہ تبوک کے لیے پا بہ رکاب تھے کہ آپ کے ساتھ ایک گروہ منافقین بھی تھا۔ جنہوں نے کہا : کیا یہ شخص یہ امید لگائے بیٹھا کہ شام کے محلات اور قلعے اس کے لیے کھل جائیں گے۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے حضور کو اس کی اطلاع دے دی تو حضور نے حکم دیا کہ ان لوگوں کی سواریوں کو روک دو ۔ حضور نے ان لوگوں سے جا کر دریافت کیا کہ کیا تم نے یہ کہا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ ہم تو ہنسی مذاق کر رہے تے تو ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں۔
ہم ہنسی مذاق کر رہے تھے یعنی جن موضوعات پر وہ بات کر رہے تھے ان کا تو تعلق تو اصل ایمان سے تھا اور یہ ایسے مسائل نہ تھے جن کے بارے میں محض گپ شپ کے انداز میں بات کی جائے۔ قل اباللہ وایاتہ ورسولہ کنتم تستہزءون (کیا تم اللہ ، اس کے رسول اور اس کی آیات کے بارے میں ہنسی مذاق کرتے ہو) چونکہ انہوں نے ایک عظیم جرم کا ارتکاب کیا تھا ، اس لیے ان پر کفر کا فتوی صادر ہوا کہ انہوں نے کفریہ کلمات کہے ہیں۔ اور ایمان کے اظہار کے بعد انہوں نے کفر کیا ہے۔ چناچہ ان کو خوفناک انجام سے ڈرایا جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ جلدی توبہ کرلیں اور صحیح ایمان لے آئیں تو یہ عذاب ان سے ٹل بھی سکتا ہے۔ لیکن جو لوگ نفاق پر قائم رہے اور بدستور استہزائیہ انداز ان کا باقی رہا تو وہ عذاب کے مستحق ہوں گے کیونکہ انہم کانوا مجرمین (یہ مجرم تھے)
التوبة 9:67
منافقین تصورات ، اعمال اور اقوال پر یہاں تک تبصرہ کرنے کے بعد اب یہاں منافقین کی عمومی حقیقت کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ان کی وہ عمومی صفات بیان کردی جاتی ہیں جن کی بنا پر وہ مومنین صادقین سے جدا تصورت ہوتے ہیں۔ اور بتایا جاتا ہے کہ ان کے لیے کس قسم کا عذاب انتظار میں ہے۔
منافقین اور منافقات کی اک ہی فطرت اور خمیر ہے۔ ان کا مزاج بھی یکساں ہے۔ ہر زمان و مکان اور ہمیشہ ان کے یہی خدوخال رہے ہیں۔ ان کے اقوال و اعمال اگرچہ مختلف ہیں لیکن وہ ایک ہی مزاج اور ایک ہی سرچشمے سے ماخوذ ہوتے ہیں یعنی کینہ پروری اور بدفطرتی ، خفیہ سازشیں کرنا اور بےجا تنقیدیں کرنا اور کھل کر سامنے آنے سے کترانا اور کھل کر بات کرنے کی جرات نہ کرنا۔ یہ ہیں منافقین کی اصل علامتیں۔ اب ان کا طرز عمل کیا ہے۔ وہ منکر کا حکم دیتے ہیں اور معروف سے روکتے ہیں اور وہ پرلے درجے کے بخیل ہیں۔ اور اگر خرچ کرتے ہیں تو لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور وہ جب امر بالمنکر اور نہی عن المعروف کرتے ہیں۔ تو یہ کام وہ چھپ چھپا کر کرتے ہیں۔ اشاروں کنایوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے اندر اس قدر جراءت نہیں ہے کہ یہ لوگ کھل کر کام کریں یہ کھل کر کام اس وقت کرتے ہیں جب ان کو یقین ہو کہ حالات درست ہیں اور ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ اور اس کی رضا کو بھلا دیا ہے۔ نسو اللہ لہزا ان کے ہر کام کی غرض وغایت لوگوں کی رضا یا مالی مفاد ہوتا ہے۔ یہ لوگ جب خدا سے نہیں ڈرتے تو پھر یہ زمین کے زور آور لوگوں سے بہت ہی ڈرتے ہیں۔ یہ ان کے سامنے ذلیل ہو کر رہتے ہیں اور ان کی خوشامد کرتے ہیں۔ لہذا اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا فنسیہم لہذا اب ان کا کوئی وزن و اعتبار نہیں ہے۔ یہ دنیا میں لوگوں کے سامنے بھی بےوزن اور بےاعتبار ہوں گے اور آخرت میں بھی اللہ کے ہاں بےوزن اور بےاعتبار ہوں گے۔ کیونکہ دنیا میں لوگ تو جاندار اور زور آور لوگوں کو اہمیت دیتے ہیں جو صاف صاف بات کرتے ہیں اور علی الاعلان بات کرتے ہیں جو اپنے نظریات پر رہتے ہیں اور جو اپنے نظریات کے معاملے میں لوگوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ اگر جنگ کرتے ہیں تو پھر بھی علانیہ اور اگر صلح کرتے ہیں تو پھر بھی علانیہ۔ یہ لوگ لوگوں کو بھول جاتے ہیں اور لوگوں کے الہہ العالمین کو یاد رکھتے ہیں لہذا وہ حق کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے وار وہ چونکہ اللہ کو یاد کرتے ہیں اس لیے لوگ انہیں یاد کرتے ہیں اور ان کی قدر کرتے ہیں۔
بیشک منافق ہی فاسق ہوتے ہیں ان المنفقین ھم الفسقون لہذا وہ دائرہ ایمان سے خارج ہوتے ہیں۔ یہ اصل راہ سے منحرف ہیں اور اللہ نے ان کے لیے ایسا انجام تجویز کردیا ہے جو کفار کے لیے تجویز ہوا ہے۔
التوبة 9:68
پس یہ انجام ان کے لیے اور ان کے اس مجرمانہ طرز عمل کے لیے کافی ہے۔ اس انجام اور جہنم کے ساتھ ساتھ ان پر لعنت بھی ہوتی رہے گی اور اس عذاب میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
التوبة 9:69
منافقوں کا بےعمل ، منحرف اور گمراہ طبقہ انسانی تاریخ میں ہمیشہ رہتا ہے۔ یہ کسی بھی وقت انوکھا نہیں رہا ہے۔ اسلام سے قبل بھی انسانی تاریخ میں اس کے نمونے موجود رہے ہیں اور ادوار سابقہ کے منافقین کا انجام بھی ان کے فسق و فجور کے مطابق ایسا ہی رہا ہے۔ کیونکہ ان لوگوں کی فطرت میں کجی آجاتی ہے اور وہ صحیح راہ پر نہیں چلتے۔ اس سے قبل جو کافر اور منافق گزرے ہیں وہ حضور کے دور کے منافقین سے زیادہ مادار اور زیادہ افرادی قوت کے مالک تھے۔ لیکن یہ مالی اور افرادی وسائل انہیں نہ بچا سکے۔
قرآن کریم امم سابقہ کے منافقین کی طرف اشارہ کرکے انہیں بتاتا ہے کہ دیکھو تم ان لوگوں ہی کے راستے پر تو چل رہے ہو۔ آخر کیوں تمہارا انجام ان سے مختلف ہوگا۔
قوت کا فتنہ بھی خطرناک فتنہ ہوتا ہے۔ مالی قوت اور افرادی قوت سے انسان فتنے میں پڑجاتا ہے۔ جن لوگوں کا رابطہ بڑی قوت سے ہوتا ہے وہ چھوٹی قوتوں کو خاطر میں نہیں لاتے۔ وہ صرف قوی تر قوت سے ڈرنے والے ہوتے ہیں۔ لہذا وہ سمع و اطاعت اس بڑی قوت کی کرتے ہیں اور اس بڑی قوت کی بات کو اونچا کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر مالی قوت اور افرادی قوت اثر نہیں کرتی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مال و دولت اور انصآر و اولاد دینے والا تو اللہ ہے جو برتر قوت ہے۔ لہذا اگر ان کے پاس نعمت آجائے تو وہ شکر ادا کرنے میں بہت حریص ہوتے ہیں اور وہ مالی قوت اور افرادی قوت کو بھی اللہ کی اطاعت میں کھپا دیتے ہیں اور جن لوگوں کی فطرت میں انحراف ہوتا ہے اور وہ نہیں جانتے کہ اس قوت کا سرچشمہ کیا ہے۔ تو وہ تکبر ، غرور اور سرکشی اختیار کرلیتے ہیں اور اپنی سرگرمیوں کو کھانے پینے تک محدود کردیتے ہیں جس طرح مویشی کھاتے تپیتے ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۚ وَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ : " سو ان کا انجام یہ ہوا کہ دنیا اور آخرت میں ان کا سب کیا دھرا ضائع ہوگیا اور وہی خسارے میں ہیں "
حبط اعمال کا مطلب یہ ہے کہ ان کے اعمال بنیاد ہی سے باطل ہوگئے۔ کیونکہ وہ ایک ایسے پودے کے مانند تھے جس کی جڑیں نہ تھیں۔ اس قسم کا پودا نہ سرسبز ہوا ہے اور منہ پھلتا پوھلتا ہے۔ اور ایسا پودا لگانے والے آخر کار گھاٹے میں ہوتے ہیں اور ان کا گھاٹا ہمہ گیر ہوتا ہے۔
التوبة 9:70
اب منافقین کو چھوڑ کر روئے سخن عام ہوجاتا ہے۔ یہ عام خطاب تعجب کرتے ہوئے کیا جاتا ہے کہ عجیب ہیں یہ لوگ کہ سابقہ لوگوں کے انجام کو دیکھتے ہوئے اور جانتے ہوئے یہ لوگ اس راہ پر بدستور چلتے ہیں۔
یہ لوگ اس دنیا کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اس کو اپنی حالت کا اچھی طرح شعور نہی ہے۔ یہ لوگ ہلاکت کی راہ پر مسلسل چل رہ ہی اور کسی نصیحت کو پلے نہیں باندھتے۔
الم یاتھم نبا الذین من قبلہم " کیا ان لوگوں کو اپنے پیش روؤں کی تاریخ نہیں پہنچی ؟ " جو اسی راہ پر چلے جس پر یہ چلتے ہیں۔ ذرا قوم نوح کی تاریخ کو پڑھیں کہ کس طرح انہیں طوفان نے گھیر لیا اور ہلاک کیے گئے اور یہ سخوت خوفناک ہلاکت تھی۔ قوم عاد جسے ایک شدید آندھی نے آ لیا۔ قوم ثمود جسے ایک زبردست چیخ اور آواز نے ہلاک کردیا۔ قوم ابراہیم عع جو بڑے بڑے جباروں پر مشتمل تھی ، اسے ہلاک کرکے اللہ نے حضرت ابراہیم کو معجزانہ طور پر نجات دی۔ اصحاب مدین جن کو شدید زلزلے نے آ لیا۔ اور قوم لوط جن کی نسل کو اللہ نے کاٹ کر رکھ دیا اور چند لوگ ہی اس عذاب سے بچے۔ کیا ان لوگوں کو ان تاریخی واقعات کا علم نہیں ہے۔ ان اقوام کے پاس بھی رسول روشن دلائل دے کر بھیجے گئے تھے۔ لیکن ان اقوام نے ناحق ان کی تکذیب کی اور اللہ نے ان کو پکڑا۔
فما کان اللہ لیظلمہم ولکن کانوا انفسہم یظلمون " پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے "۔ ایک منحرف انسان کو قوت اور اقتدار مزید سرکش بنا دیتا ہے۔ پھر مال و دولت کی وجہ سے ایسے لوگ اندھے ہوجاتے ہیں۔ لہذا ماضی کے تاریخی واقعات صرف ان لوگوں کو فائدے دیتے ہیں۔ لہذا ماضی کے تاریخ واقعات صرف ان لوگوں کو فائدے دیتے ہیں جن کی چشم بصیرت وا ہوتی ہے اور وہ لوگ سنت الہی کو سمجھنے کی استعداد رکھتے ہیں کیونکہ سنت الہی اٹل ہوتی ہے۔ اور ہمیشہ کام کرتی رہتی ہے۔ اور وہ کسی شخص کی کوئی رعایت بھی نہیں کرتے۔ اکثر لوگ جو قوت و اقتدار اور انعام و کرام سے نوازے جاتے ہیں اور ان کو آزماش میں ڈآلا جاتا ہے ، اندھے ہوجاتے ہیں اور ان کی قوت بصارت و بصیرت پر پردے پڑجاتے ہیں اور وہ حقائق کے ادراک سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ دیکھ نہیں سکتے کہ تاریخ میں بڑی بڑی قوتیں کس طرح سرنگوں ہوئیں۔ اکثر لوگ ان باغیوں اور سرکشوں کے انجام پر غور نہیں کرتے۔ جب انسان اپنے آپ کو اس طرح اندھا اور بہرا بنا دے۔ تو پھر وہ اللہ کے عذاب کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اب سنت الہیہ اپنا کام کرتی ہے اور مکافات عمل کا اصول سامنے اٹا ہے اور ایسے لوگ اور اقوام پکڑی جاتی ہیں۔ ان کو اپنی قوت پر غرہ ہوتا ہے اور انعامات و عیاشیوں میں سرکش ہوکر غفلت میں ہوتے ہیں اور اچانک اللہ کے گھیرے میں آجاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ غفلت ، نادانی اور نابینی مال و دولت کے ساتھ چمٹی رہتی ہے اور اس کا انجام ہر دور میں اچھا نہیں ہوتا اور اس برے انجام سے جو لوگ بچ نکلتے ہیں وہ وہی ہوتے ہیں جن پر اللہ کا خصوصی کرم ہو۔
التوبة 9:71
اور کفار و منافقین کا محاذ بالمقابل کیا ہے ، اور اس کا انجام کیا ہوگا یہ مومنین و صادقین ہیں۔ ان کا مزاج منافقین اور کفار سے یکدم مختلف ہے۔ ان کا طرز عمل ان سے بالکل الٹ ہے۔ اور ان کا انجام بھی ان کے انجام سے بالکل مختلف ہے۔
اگر منافقین ایک دوسرے کے دوست ہیں اور ایک ہی فطرت رکھتے ہیں اور ایک ہی مزاج رکھتے ہیں تو مومنین و مومنات بھی ایک ہی مزاج اور ایک ہی نظریات کے قائل ہیں اور ایک دوسرے کے محب اور دوست ہیں۔ لیکن منافقین باوجود ہم طبع اور ہم جنس ہونے کے مومنین اور مومنات کی طرح شیر و شکر نہیں ہیں کیونکہ دوست تو وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو بہادر ہوں ، جو ایک دوسرے کی مدد کو پہنچنے والے ہوں اور باہم معاون و انصار ہوں جبکہ منفاقت کا مزاج ہی ان باتوں سے مختلف ہوتا ہے۔ کیونکہ بہادری کے مقابلے میں منافق بزدل اور ذلیل ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کے ہمدرد نہیں ہوتے اور نہ ہی باہم جڑے ہوئے ہوتے ہیں اور نہ باہم معاون و کفیل ہوتے ہیں۔ حالانکہ ان کے خیالات اور ان کا طرز عمل ایک دوسرے کے ساتھ ملتا جلتا ہوتا ہے۔ قرآن کریم دونوں کے لیے قدرے مختلف اسلوب اختیار کرتا ہے۔ منافقین کے لی صرف یہ لفظ ہیں بعضھم من بعض (وہ ایک دوسرے سے ہیں اور اہل ایمان کے لیے الفاظ ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ بعضھم اولیاء بعض ایک مومن کا مزاج امت مومنہ کا مزاج ہوتا ہے وہ اجتماعی ذہن رکھتا ہے۔ وہ اتحاد ، باہم متکافل اور مددگار ہوتا ہے اور اس کا یہ اتحاد اور باہم نصرت حصول خیر اور دفع شر کے لی ہوتی ہے۔
وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِيَاۗءُ بَعْضٍ ۘ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ ۔ مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں ، بھلائی کا حک دیتے اور برائی سے روکتے ہیں۔ اور یہ مقاصد یعنی خیر کو حاصل کرنا اور شر کی مدافعت کرنا اس قدر اونچے اور مشکل مقاصد ہیں جن کے لیے ایک ایسی جماعت کی ضرورت ہے جو یک جان دو قلب ہو۔ اس کے افراد باہم محبت کرنے والے اور مدد کرنے والے ہوں اور وہ شر کے مقابلے میں ایک صف میں صٖف آرا ہونے والے ہون اور ان میں تفرقہ اور جدائی اور عدم اتفاق کا کوئی عامل موجود نہ ہو۔ اور جب جماعت مسلمہ کے اندر تفرقہ پیدا ہوجائے تو وہاں لازما جماعت کے اندر کوئی ایسا عنصر داخل ہوگا جو اس کے مزاج کے خلاف ہوگا ، جو اس کے نظریات کے ساتھ لگا نہ کھاتا ہوگا اور اسی عنصر کی وجہ سے تفرقہ جماعت کے اندر داخل ہوگا۔ تفرقے کی وجہ سے جماعت کے اندر پھر امراض اور اعراض پیدا ہوں گی اور اب اس کے پیش نظر نہ وہ مقصد رہے گا جو اس کا اصل مقصد ہے اور نہ اس کے اندر امت کی صف اول موجود رہے گی یعنی بعضھم اولیاء بعض۔ غرض اس صفت کی وجہ سے یعنی سٖت ولایت ہی کی وجہ سے جماعت مسلمہ اپنا فرض امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ادا کرتی ہے اور وہ دنیا کے اندر اعلائے کلمۃ الہ کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ و یقیموں الصلوۃ۔ اقامت صلوۃ اس کی علامت ہوتی ہے۔
و یوتون الزکوۃ ادائے زکوۃ وہ فریضہ ہے جو افراد جماعت کو باہم مربوط کرتا ہے اور اس کے ذریعے افراد جماعت کے اندر روحانی اور جسمانی رابطے پیدا ہوتے ہیں اور وہ اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے ہیں۔
و یطیعون اللہ و رسولہ " وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں " اور یہ ہے ایک مومن کا اصلی ہدف۔ لہذا حکم الہی اور حکم رسول کے سوا ان کے لیے کوئی اور حکم قانون نہیں ہوتا۔ اور اللہ کی شریعت اور رسول کی سنت کے سوا ان کے لیے کوئی دستور نہیں ہوتا۔ اور اللہ اور رسول کے دین کے سوا ان کے لیے کوئی اور نظام نہیں ہوتا اور جب کسی قضیے کا فیصلہ اللہ اور رسول اللہ کردیں تو وہ چون و چرا نہیں کرتے۔ ان کے سامنے ایک ہی راہ ، راہ مستقیم ہوتی ہے اور وہ ادھر ادھر کی پگڈنڈیوں کی طرف نہیں لپکتے۔ اولئک سیرحمہم اللہ " یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہوگی " اور یہ رحمت صرف عالم آخرت تک ہی محدود نہیں ہے۔ اس رحمت کا آغآز اس جہاں سے ہی ہوجاتا ہے اور یہ رحمت اس فرد پر بھی ہوتی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضۃ سر انجام دیتا ہے اور نماز کی اقامت اور زکوۃ کی ادائیگی کرتا ہے۔ اور ایسے افراد سے جو جماعت تشکیل پاتی ہے اس پر بھی رحمت کی بارش ہوتی ہے۔ یہ رحمت اطمینان قلوب کی شکل میں بھی ہوتی ہے ، تعلق باللہ کی شکل میں بھی ہوتی اور حادثات اور فتنوں سے بچانے کی شکل میں بھی ہوتی ہے اور جماعت کی اصلاح ، اس کی ثابت قدمی اور اطمینان اور اس کے افراد کے درمیان باہم محبت اور تکافل کی شکل میں بھی ہوتی ہے اور جذبہ اخلاص اور رضائے الہی پیدا ہوجانے کی صورت میں بھی ہوتی ہے۔
مومنین کی یہ چار صٖات منافقین کی چار صٖات کے بالمقابل ہیں۔ مومنین کی صفات امر بالمعروف ، نہی عن المنکر ، ادائے صلوۃ ، اداء زکوۃ ہیں اور منافقین کی صٖات نہی عن المعروف ، امر بالمنکر اللہ کو بھلانا اور بخل کرنا۔ نتیج یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی جانب سے مومنین پر نزول رحمت ہوتا ہے اور۔ اور منافقین کے لیے اس کے بدلے میں لعنت ہوتی ہی اور ان صفات کے نتیجے ہی میں اللہ نے مومنین کے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ انہیں فتح و نصرت اور زمین کے اوپر اقتدار و برتری ملے گی اور اس طرح وہ پوری انسانیت کے صالح اور مصلح نگران ہوں۔
ان اللہ عزیز حکیم " یقینا الہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے "۔ وہ اس پر قادر ہے کہ جماعت مومنین کو ایک دوسرے کا دوست بنائے اور ان کو اعزاز بخشے اور وہ پھر اللہ کے احکام و فرائض ادا کریں۔ اور وہ حکیم ہے اور اپنی حکمت کے ذریعے اس جماعت کی نصرت کرتا ہے اور اسے اعزاز دیتا ہے تاکہ یہ جماعت برسر اقتدار آ کر زمین میں اصلاح کا کام کرے اور لوگوں کے درمیان اللہ کے کلمے کی حفاظت کرے۔
ایک طرف جہنم کا عذاب منافقین اور کافرین کے انتظار میں ہے۔ اور اللہ کی جانب سے لعنت و ملامت ان کے گھات میں بیٹھی ہے۔ اور یہ وعید بھی ان کے لیے سوہان روح ہے کہ اللہ ان کو نسیا منسیا کردے گا تو دوسری جانب اہل ایمان کے لیے خوشیوں کے سامان ہیں اور یہ دائمی خوشیاں ان کے انتظار میں ہیں۔
التوبة 9:72
یہ لوگ ان جنات میں باعز طور پر رہیں گے۔ لیکن ان کے لیے ان اعلی رہائش گاہوں سے بھی بڑآ انعام اللہ کی رضا مندی ہے اور جنت اپنی تمام آسائشوں کے ساتھ اس بڑے انعام کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ اور یہ خوشی یعنی رضائے الہی کی خوشی سب سے بڑی خوش ہے۔
اللہ کے ساتھ رابطے کا اعلی مقام انسان کو اس وقت ملتا ہے کہ جب وہ اللہ اپنی آنکھوں سے نظر آئے یعنی حالت شہود۔ اس مقام میں انسان دنیا کی کثافتوں ، اس کی پریشانیوں اور اس کی دلچسپیوں سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ اس مقام میں انسان کے دل کی گہرائیوں سے ایک روشنی نکلتی ہے۔ انسانی آنکھیں اس نور کو نہیں دیکھ سکتیں اور یہ نور ، نور الہی ہوتا ہے اور اس کا تعلق روح اللہ سے ہوتا ہے۔ یہ مقام انسانوں میں سے نہایت ہی قلیل تعداد کو نصیب ہوتا ہے۔ اس مقام کا ایک لحظہ اور ایک چمک ہی پوری زندگی کے مال و متاع سے زیادہ قیمتی ہوتا ہے۔ جبکہ اللہ کی رضا مندی کا مقام تو اس سے بھی بلند مقام ہے اور اس میں انسان کی روح کا پیمانہ لبریز ہوجاتا ہے اور انسان تسلسل کے ساتھ اس کا شعور اپنے اندر پاتا ہے۔
التوبة 9:73
رسول اللہ ﷺ نے منافقین کے ساتھ بہت نرمی کا سلوک کیا۔ ایک عرصے تک آپ ان سے صرف نظر کرتے رہے اور چشم پوشی فرمائی۔ لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے۔ خوش اخلاقی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ خداوند قدوس کی طرف سے اب حکم آ اجتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ اپنے رویے میں اب ذرا سنجیدگی پیدا کریں۔ اور اب ان کے ساتھ وہ سلوک اختیار کیا جائے جو کفار کے ساتھ ہوتا ہے اور حکم دیا جاتا ہے کہ اب جہاد کا اطلاق دونوں پر کیا جائے اور ان کے ساتھ ایسا سخت رویہ اختیار کیا جائے جس میں کوئی نرمی نہ ہو۔
تحریک اسلامی کو کئی مرحل درپیش ہوتے ہیں۔ بعض مواقع پر نرمی ضروری ہوتی ہے اور بعض حالات میں سکتی مفید ہوتی ہے۔ جب نرمی کا دور ختم ہوا اور سختی کا تقاضا ہو تو سختی ضروری ہے۔ صبر بھی ایک دور کے لیے ہوتا ہے جس صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو پھر سختی کا دور شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ تحریک کو مختلف حالات درپیش ہوتے ہیں اور مختلف حالات کے مختلف تقاضے ہوتے ہیں۔ نرمی اور مہلت پر مہلت دیے چلے جانے سے بعض اوقات حالات اور خراب ہوتے ہیں۔
منافقین کے ساتھ سختی اور جہاد کے بارے میں اہل علم کے درمیان اختلاف رائے واقعہ ہوا ہے۔ ایک رائے یہ ہے کہ ان کے ساتھ سختی کی جائے جس طرح حضرت علی سے روایت ہے اور ابن جریر نے اسے ترجیح دی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ان کو معاشرے میں ننگا کردیا جائے اور ان کے ساتھ رویے میں سختی کی جائے جیسا کہ حضرت ابن عباس سے نقل ہے کہ حضور نے کسی منافق کو قتل نہیں کیا۔
التوبة 9:74
یہ آیت منافقین کی عمومی حالت کو ریکارڈ کرتی ہے۔ ان کا عمومی موقف کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ہر وقت رسول اللہ اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے میں مصروف رہتے تھے لیکن بعض روایات میں ان آیات کے نزول کا ایک خاص سبب اور واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔
قتادہ نے کہا ہے کہ یہ عبداللہ ابن ابی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ ایک جہنی اور انصاری کے درمیان جنگ ہوگئی اور جہنی نے انصاری پر غلبہ حاصل کرلیا۔ اس پر عبداللہ نے انصاریوں سے کہا کہ تم اپنے بھائی کی مدد نہیں کرتے ہو۔ خدا کی قسم ہماری اور محمد کی مثال اس طرح ہے جس طرح کسی نے کہا ہے کہ اپنے کتے کو خوب موٹا کرو تاکہ تمہیں کاٹے۔ اس نے اس پر مزید یہ بھی کہا کہ ہمیں مدینہ کی طرف لوٹنے دیں ، وہاں ہم میں سے معزز لوگ ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے۔ یہ بات کسی مسلمان نے رسول اللہ تک پہنچا دی۔ حضور نے عبداللہ سے دریافت کیا تو وہ قسمیں کھانے لگا کہ اس نے یہ بات نہیں کہی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
امام ابو جعفر ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ایک درخت کی چھاؤں میں بیٹھے تے تو آپ نے فرمایا " تمہارے پاس ایک شخص آے گا اور وہ تمہیں شیطان جیسی نظروں سے دیکھے گا۔ جب وہ آئے تو اس سے کوئی شخص بات نہ کرے۔ چناچہ تھوڑی دیر بعد ایک شخص نیلی آنکھوں والا سامنے آیا۔ اسے رسول اللہ نے بلایا اور کہا تم اور تمہارے ساتھی کس پر چلتے ہو۔ یہ شخص گیا اور اپنے ساتھیوں کو بلا کر لایا اور سب قسمیں کھانے لگے کہ ہم نے یہ باتیں نہیں کی ہیں۔ چناچہ حضور نے ان سے درگزر فرما دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی یحلفون باللہ ما قالوا۔ عروہ ابن الزبیر وغیرہ سے روایت ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت جلاس ابن الصامت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس کا ایک پروردہ تھا جو اس کی بیوی کا بیٹآ تھا۔ اس کا نام عمیر ابن سعد تھا۔ جلاس نے کہا کہ اگر محمد پر جو کلام نازل ہوا ہے یہ برحق ہے تو ہم ان گدھوں سے زیادہ بد تر ہیں جن پر ہم سوار ہیں۔ اس پر عمیر نے کہا۔ جلاس میں تمام لوگوں کے مقابلے میں تم سے محبت کرتا ہوں اور میرے نزدیک تم بہت بڑے بہادر ہو اور مجھے یہ گوارا نہیں ہے کہ تمہیں کوئی دکھ پہنچے لیکن تم نے اسی بات کہہ دی ہے کہ اگر میں اسے افشا کرتا ہوں تو اس سے مجھے شرمندگی ہوگی اور اگر اسے چھپاتا ہوں تو خود ہلاک ہوتا ہوں۔ ان دونوں صورتوں میں سے ایک میرے لی قابل برداشت ہے۔ چناچہ اس نے رسول اللہ کو اس بات کی اطلاع کردی۔ لیکن جلاس نے اس کا انکار کردیا اور قسم اٹھا لی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس پر جلاس نے کہا میں نے بیشک یہ بات کہی ہے لیکن اللہ نے میرے لی توبہ کی گنجائش رکھ دی ہے۔ اس لیے میں توبہ کرتا ہوں چناچہ اس کی توبہ قبول ہوگئی۔
لیکن یہ تمام روایات قرآن مجید کی عبارت وھمو بما لم ینالوا " اور انہوں نے کچھ کرنے کا ارادہ کیا مگر نہ کرسکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روایات پیچیدہ ہیں۔ اور اس سے مراد وہ حادثہ ہے کہ جو غزوہ تبوک سے واپسی پر پیش آیا۔ بعض منافقین اچانک چھپ کر رسول اللہ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ ان میں سے ایک روایت یہ جسے ہم یہاں اختیار کرتے ہیں۔
۔۔۔۔
امام احمد نے یزد ، ولید ابن عبداللہ ابن جمیع ، ابوطفیل کے ذریعے روایت نقل کی ہے۔ یہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ تبوک سے واپس ہو رہے تھے تو حضور نے منادی کو حکم دیا کہ وہ اعلان کردیں کہ حضور تنگ گھاٹی سے گزرنے والے ہیں۔ لہذا اس راہ پر کوئی نہ گزرے۔ حضور کی سواری کی لگام حضرت حذیفہ کے ہاتھ میں تھی اور حضرت عمار اسے ہانک رہے تھے کہ کچھ لوگ اپنی سواریوں پر نقاب پہنے ہوئے آئے۔ انہوں نے عمار کو دبا لیا۔ یہ حضور کی سواری کو چلا رہے تھے۔ عمار پہنچے اور انہوں نے ان سواریوں کا منہ پھیرلیا۔ رسول اللہ نے حذیفہ سے کہا (روکو روکو) یہاں تک کہ حضور ﷺ اتر گئے اور عمار واپس آگئے تو حضور نے عمار سے پوچھا کیا تم نے ان لوگوں کو پہنچانا۔ انہوں نے کہا میں نے تمام سواریوں کو تو پہچان لیا ہے لیکن لوگ نقاب پوش تھے۔ تو حضور نے فرمایا کہ یہ لوگ رسول اللہ کی سواری کو بگھا کر رسول اللہ کو گرانا چاہتے تھے۔ عمار نے رسول اللہ کے ساتھیوں میں سے ایک ایک سے دریافت کیا کہ عقبہ کے دن سوار کتنے تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ چودہ تھے تو عمار نے کہا کہ اگر تم ان میں سے تھے تو وہ پندرہ تھے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے ان میں سے تین آدمیوں کی نشاندہی کی تو انہوں نے قسم اٹھائی کہ ہم نے رسول اللہ کی منادی کا اعلان نہیں سنا۔ اور نہ ہمیں علم ہے کہ لوگ کیا چاہتے تھے۔ اس پر عمار نے کہا باقی 12 افراد اللہ اور رسول اللہ کے ساتھ برسر پیکار تھے۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
یہ حادثہ بتاتا ہے کہ ان لوگوں کے ارادے کیا تھے ؟ بہرحال اس آیت میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہو یا کسی دوسرے واقعہ کی طرف ، بہرحال ابھی تک مسلمانوں میں ایسے کینہ پرور موجود تھے۔ اس لیے آیت میں ان کے رویے پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے۔
وما نقموا الا ان اغنٰھم اللہ و رسولہ من فضلہ " یہ ان کا سارا غصہ اسی بات پر ہے تاکہ اللہ اور اس کے رسول نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیا ہے " غرض اسلام نے ان کے ساتھ کوئی دشمنی نہ کی تھی جس کی وجہ سے وہ اسے یہ بدلہ دینا چاہتے تھے۔ ان کے ساتھ اگر کوئی برائی کی گئی تھی تو صرف یہ تھی اسلام کے بعد ان کو مالدار بنا دیا تھا اور وہ آسودہ حال ہوگئے تھے اور اس آسودہ حالی کی وجہ سے یہ بدمستیاں کر رہے تھے۔
اور اس تعجب اور معنی خیز تعجب کے بعد اور فیصلہ کن بات کی جاتی ہے۔
فان یتوابوا یک خیرا لھم وان یتولوا یعذبھم اللہ عذابا الیما فی الدنیا والاخرۃ وما لھم فی الارض من ولی ولا نصیر " اب اگر یہ اپنی اس روش سے باز آئیں تو انہی کے لی بہتر ہے ، اور اگر یہ باز نہ آئے تو اللہ ان کو نہایت دردناک سزا دے گا ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ، اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی اور مددگار ہو "
ان حرکات کے باوجود توبہ کا دروازہ پوری طرح کھلا ہے۔ لہذا جو اپنا بھلا چاہتا ہے تو دوڑ کر اندر داخل ہوجائے اور جو بدستور ٹیڑھی راہ پر چلنا چاہے تو انجام واضح ہے۔ دنیا اور آخرت میں اسے دردناک عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ اور اس دنیا میں بھی اس کا کوئی ناصر و مددگار نہ ہوگا۔ لہذا اگر کوئی یہ راستہ اپناتا ہے تو وہی خود ملامت زدہ ہوگا۔
التوبة 9:75
سیاق کلام بدستور آگے بڑھ رہا ہے اور منافقین کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے افعال و اقوال پر تبصرہ ہورہا ہے۔
منافقین میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازا تو وہ راہ خدا میں خوب خرچ کریں گے اور اچھے اعمال کریں گے۔ لیکن یہ عہد فقر و فاقہ کے حالات میں تھا۔ اور اس وقت تھا جب کچھ ملنے کی امید تھی لیکن جب اللہ نے ان کی آرزو کو پورا کردیا تو یہ لوگ اپنے وعدوں کو بھول گے۔ ان لوگوں نے بخل اور کنجوسی کو اپنا لیا اور ہاتھ روک لیا۔ بلکہ وفائے عہد سے سرکشی کرنے لگا گویا اس نے کوئی عہد کیا ہی نہیں ہے۔ چناچہ وعدہ خلافی اور پھر جھوٹ کی وجہ سے اللہ نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق کو اچھی طرح بٹھا دیا۔ یہ لوگ آخر تک منافق رہے اور برے انجام تک پہنچے۔
نفس انسانی بہت ہی بخیل ہے۔ اس سے صرف وہ لوگ بچ نکلتے ہیں جنہیں اللہ بچاتا ہے۔ صرف وہی لوگ بخل سے بچ سکتے ہیں جن کا دل ایمان سے لبریز ہو۔ وہ دنیاوی ضروریات سے اپنے آپ کو سربلند کردیں۔ اور تمام لالچوں اور مفادات پر لات مار دیں اور ان کی آنکھیں آخرت کے عہد پر ہوں۔ اور رضامندی خالق ان کا نصب العین ہو۔ اور ان کے ایمان کی وجہ سے مطمئن ہوجائیں اور انفاق کی وجہ سے وہ مسکین ہونے سے نہ ڈرتے ہوں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور اللہ کے خزانے میں جو کچھ ہے ، وہ باقی رہنے والا ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو انسان کو راہ خدا میں خرچ کرنے پر ابھارتا ہے اور انسان خوشی خوشی سے مال خرچ کرتا ہے۔ ایک مومن یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے اگر مال چلا بھی جائے تو بھی آخرت کا اجر اجر عظیم ہے۔
لیکن جب کسی کا دل ایمان سے تہی دامن ہو تو وہ فطرتاً بخیل ہوجاتا ہے جب بھی اسے پکارا جائے کہ راہ خدا میں انفاق کی ضرورت ہے تو وہ فقر کے ڈر کے مارے بخل کرتا ہے اور ہاتھ روک لیتا ہے لیکن اسے کبھی بھی چین وقرار نصیب نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ بےقرار رہتا ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ عہد کرتا ہے اور پھر اسی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جو اللہ کے ساتھ جھوٹ کرتا ہے وہ کسی کے ساتھ کبھی سچ نہیں کرسکتا۔ اور اس کا دل نفاق سے پاک نہیں ہوسکتا ، جس کی تین علامات جو رسول نے متعین کی ہیں۔ جب بولے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو توڑ دے۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
چناچہ عہد شکنی اور اللہ پر جھوٹ بولنے کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں پر نفاق مسلط ہوجائے اور وہ آیت کے فیصلے کے مطابق اس انجام تک پہنچیں۔
فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی ، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے ، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا ، جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا
التوبة 9:76
سیاق کلام بدستور آگے بڑھ رہا ہے اور منافقین کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے افعال و اقوال پر تبصرہ ہورہا ہے۔
منافقین میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازا تو وہ راہ خدا میں خوب خرچ کریں گے اور اچھے اعمال کریں گے۔ لیکن یہ عہد فقر و فاقہ کے حالات میں تھا۔ اور اس وقت تھا جب کچھ ملنے کی امید تھی لیکن جب اللہ نے ان کی آرزو کو پورا کردیا تو یہ لوگ اپنے وعدوں کو بھول گے۔ ان لوگوں نے بخل اور کنجوسی کو اپنا لیا اور ہاتھ روک لیا۔ بلکہ وفائے عہد سے سرکشی کرنے لگا گویا اس نے کوئی عہد کیا ہی نہیں ہے۔ چناچہ وعدہ خلافی اور پھر جھوٹ کی وجہ سے اللہ نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق کو اچھی طرح بٹھا دیا۔ یہ لوگ آخر تک منافق رہے اور برے انجام تک پہنچے۔
نفس انسانی بہت ہی بخیل ہے۔ اس سے صرف وہ لوگ بچ نکلتے ہیں جنہیں اللہ بچاتا ہے۔ صرف وہی لوگ بخل سے بچ سکتے ہیں جن کا دل ایمان سے لبریز ہو۔ وہ دنیاوی ضروریات سے اپنے آپ کو سربلند کردیں۔ اور تمام لالچوں اور مفادات پر لات مار دیں اور ان کی آنکھیں آخرت کے عہد پر ہوں۔ اور رضامندی خالق ان کا نصب العین ہو۔ اور ان کے ایمان کی وجہ سے مطمئن ہوجائیں اور انفاق کی وجہ سے وہ مسکین ہونے سے نہ ڈرتے ہوں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور اللہ کے خزانے میں جو کچھ ہے ، وہ باقی رہنے والا ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو انسان کو راہ خدا میں خرچ کرنے پر ابھارتا ہے اور انسان خوشی خوشی سے مال خرچ کرتا ہے۔ ایک مومن یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے اگر مال چلا بھی جائے تو بھی آخرت کا اجر اجر عظیم ہے۔
لیکن جب کسی کا دل ایمان سے تہی دامن ہو تو وہ فطرتاً بخیل ہوجاتا ہے جب بھی اسے پکارا جائے کہ راہ خدا میں انفاق کی ضرورت ہے تو وہ فقر کے ڈر کے مارے بخل کرتا ہے اور ہاتھ روک لیتا ہے لیکن اسے کبھی بھی چین وقرار نصیب نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ بےقرار رہتا ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ عہد کرتا ہے اور پھر اسی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جو اللہ کے ساتھ جھوٹ کرتا ہے وہ کسی کے ساتھ کبھی سچ نہیں کرسکتا۔ اور اس کا دل نفاق سے پاک نہیں ہوسکتا ، جس کی تین علامات جو رسول نے متعین کی ہیں۔ جب بولے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو توڑ دے۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
چناچہ عہد شکنی اور اللہ پر جھوٹ بولنے کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں پر نفاق مسلط ہوجائے اور وہ آیت کے فیصلے کے مطابق اس انجام تک پہنچیں۔
فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی ، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے ، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا ، جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا
التوبة 9:77
سیاق کلام بدستور آگے بڑھ رہا ہے اور منافقین کے خدوخال سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے افعال و اقوال پر تبصرہ ہورہا ہے۔
منافقین میں سے بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اللہ کے ساتھ یہ عہد کر رکھا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازا تو وہ راہ خدا میں خوب خرچ کریں گے اور اچھے اعمال کریں گے۔ لیکن یہ عہد فقر و فاقہ کے حالات میں تھا۔ اور اس وقت تھا جب کچھ ملنے کی امید تھی لیکن جب اللہ نے ان کی آرزو کو پورا کردیا تو یہ لوگ اپنے وعدوں کو بھول گے۔ ان لوگوں نے بخل اور کنجوسی کو اپنا لیا اور ہاتھ روک لیا۔ بلکہ وفائے عہد سے سرکشی کرنے لگا گویا اس نے کوئی عہد کیا ہی نہیں ہے۔ چناچہ وعدہ خلافی اور پھر جھوٹ کی وجہ سے اللہ نے ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق کو اچھی طرح بٹھا دیا۔ یہ لوگ آخر تک منافق رہے اور برے انجام تک پہنچے۔
نفس انسانی بہت ہی بخیل ہے۔ اس سے صرف وہ لوگ بچ نکلتے ہیں جنہیں اللہ بچاتا ہے۔ صرف وہی لوگ بخل سے بچ سکتے ہیں جن کا دل ایمان سے لبریز ہو۔ وہ دنیاوی ضروریات سے اپنے آپ کو سربلند کردیں۔ اور تمام لالچوں اور مفادات پر لات مار دیں اور ان کی آنکھیں آخرت کے عہد پر ہوں۔ اور رضامندی خالق ان کا نصب العین ہو۔ اور ان کے ایمان کی وجہ سے مطمئن ہوجائیں اور انفاق کی وجہ سے وہ مسکین ہونے سے نہ ڈرتے ہوں کیونکہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ انسان کے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور اللہ کے خزانے میں جو کچھ ہے ، وہ باقی رہنے والا ہے۔ یہی وہ نظریہ ہے جو انسان کو راہ خدا میں خرچ کرنے پر ابھارتا ہے اور انسان خوشی خوشی سے مال خرچ کرتا ہے۔ ایک مومن یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کے ہاتھ سے اگر مال چلا بھی جائے تو بھی آخرت کا اجر اجر عظیم ہے۔
لیکن جب کسی کا دل ایمان سے تہی دامن ہو تو وہ فطرتاً بخیل ہوجاتا ہے جب بھی اسے پکارا جائے کہ راہ خدا میں انفاق کی ضرورت ہے تو وہ فقر کے ڈر کے مارے بخل کرتا ہے اور ہاتھ روک لیتا ہے لیکن اسے کبھی بھی چین وقرار نصیب نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ بےقرار رہتا ہے۔ جو شخص اللہ کے ساتھ عہد کرتا ہے اور پھر اسی کی خلاف ورزی کرتا ہے اور جو اللہ کے ساتھ جھوٹ کرتا ہے وہ کسی کے ساتھ کبھی سچ نہیں کرسکتا۔ اور اس کا دل نفاق سے پاک نہیں ہوسکتا ، جس کی تین علامات جو رسول نے متعین کی ہیں۔ جب بولے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو توڑ دے۔ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے۔
چناچہ عہد شکنی اور اللہ پر جھوٹ بولنے کا نتیجہ یہی ہوسکتا ہے کہ اس قسم کے لوگوں پر نفاق مسلط ہوجائے اور وہ آیت کے فیصلے کے مطابق اس انجام تک پہنچیں۔
فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَآ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَبِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اس بد عہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی ، اور اس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے ، اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق بٹھا دیا ، جو اس کے حضور ان کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھا نہ چھوڑے گا
التوبة 9:78
کیا ان کے دعوائے ایمان کے باوجود ان کو اس قدر علم نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کے دلوں سے خبردار ہے ، ان کے دلوں میں جو خیالات گزرتے ہیں وہ باہم جو گفتگو کرتے ہیں ، جو وہ خفیہ باتیں کرتے ہیں ، ان سے خبردار ہے کیونکہ الل پوشیدہ سے پوشیدہ امور کا بھی عالم ہے۔ دلوں کی نیات سے بھی باخبر ہے۔ ان کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے پھر بھی چھپاتے ہیں۔ اور پھر بھی وعدہ خلافی کرتے ہیں۔ یہ خود ان کے علم کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ ان کے علم کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ نہ کوئی بات چھپاتے اور نہ وعدہ خلافی کرتے اور اللہ پر کوئی جھوٹ نہ باندھتے۔
اس آیت کے نزول کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں۔ ان میں سے ہم ابن جریر کی روایت نقل کرتے ہیں۔ انہوں نے اور ابن ابو حاتم نے معاون سے نقل کیا ہے انہوں نے ابو امامہ باہلی سے انہوں نے ثعلبہ ابن حاطب انصاری سے کہ انہوں نے حضور سے یہ درخواست کی کہ ان کے حق میں بہت سے مال کی دعا کریں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " ثعلبہ وہ تھوڑا مال جس کی تم شکر گزاری کرسکو۔ اس سے زیادہ بہتر ہے جس کی تم شکر گزاری نہ کرسکو " کہتے ہیں کہ اس نے دوبارہ درخواست کی تو حضور نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم اللہ کے نبی کے مانند ہو۔ خدا کی قسم اگر میں چاہتا کہ میرے لیے پہاڑ سونے چاندی کے ہوجائیں تو ہوجاتے۔ اس نے پھر درخواست کی کہ خدا کی قسم اگر آپ نے میرے حق میں دعا کی اور اللہ نے مجھے مال کثیر دے دیا تو میں اس سے میں سے ہر صاحب حق کو حق دوں گا۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا " اے اللہ ثعلبہ کو مال دے دے " کہتے ہیں کہ اس نے بکریاں پالنا شروع کیں اور وہ کیڑے مکورؤں کی طرح بڑھنے لگیں۔ یہاں تک کہ مدینہ میں ان کا سمانا مشکل ہوگیا۔ چناچہ وہ مدینہ سے ہٹ کر ایک وادی میں چلا گیا اور ظہر و عصر کی نماز باجماعت پڑھتا اور باقی نمازیں ترک ہوگئیں۔ اس کے بعد اس کے مال میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ اس قدر دور چلا گیا کہ صرف جمعے کی نماز کو حاضر ہوتا۔ یہ مال اس طرح بڑھتا رہا جس طرح کیڑے بڑھتے ہیں یہاں تک کہ جمعے کی نماز بھی چھوٹ گئی۔ اب وہ ان سواروں سے راستے میں ملتا جو جمعہ پڑھنے جاتے تھے تاکہ حالات دریافت کرے۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا کہ " ثعلبہ کا کیا ہوا ؟ " حضور کو بتایا گیا کہ اس نے بکریاں پا لیں۔ مدینہ میں ان کا سمانا مشکل ہوا اور اس طرح وہ دور چلا گیا اور اس کے حالات انہوں نے بتائے۔ حضور نے فرمایا ثعلبہ ہلاک ہوا ، ثعلبہ ہلاک ہوا ، ثعلبہ ہلاک ہوا۔ اس کے بعد اللہ کا یہ حکم نازل ہوا خذ من اموالھم صدقۃ (ان کے اموال سے زکوۃ وصول کرو) اور زکوۃ ک احکام نازل ہوئے۔ تو حضور نے زکوۃ کی وصولی کے لی دو مسلمان بھیجے۔ ایک جھینہ سے تھا اور دوسرا سلیم سے۔ آپ نے ان کو تحریری احکام دیے کہ وہ مسلمانوں سے کس حساب سے زکوۃ وصول کریں گے اور خصوصاً فرمایا کہ ثعلبہ اور فلاں کے پاس ہوتے ہوئے جاؤ (یہ فلاں بنو سلیم کا ایک شخص تھا) اور ان سے زکوۃ وصول کرو۔ یہ لوگ پہلے ثعلبہ کے پاس آئے اور اس سے زکوۃ کا مطالبہ کیا اور رسول اللہ ﷺ کا حکم پڑھ کر سنایا تو ثعلبہ نے کہا یہ تو فقط جزیہ ہے۔ اگر نہیں تو جزیہ کی بہن ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ یہ کیا ہے۔ تم جاؤ اور دوسرے لوگوں سے فارغ ہو کر میرے پاس آؤ۔ دوسرے شخص سلیمی نے یہ حکم سنا تو اس نے اپنے اونٹوں میں سے بہت اچھے اونٹ زکوۃ کے لیے علیحدہ کیے اور رسول اللہ کے تحصیلداروں کا انتظار کیا۔ جب انہوں نے ان اونٹوں کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ تم پر اس قسم کے اچھے اونٹؤں کی زکوۃ واجب نہیں ہے اس لیے ہم ان کو وصول نہیں کرسکتے۔ اس شخص نے کہا تم لوگ ان اونٹوں کو وصول کرلو۔ میں بطیب خاطر یہ دے رہا ہوں۔ یہ ان کے لیے ہیں۔ چناچہ انہوں نے اونٹ لے لیے اور دوسرے لوگوں سے وصولی کرتے ہوئے دوبارہ پھر ثعلبہ کے پاس آئے۔ اس نے کہا تم اپنا حکم مجھے دکھاؤ۔ اس نے رسول اللہ کا حکم پڑھا تو پھر کہا کہ یہ تو جزیہ ہے یا جزیہ کی بہن ہے۔ تم جاؤ میں سوچ کر فیصلہ کروں گا۔ یہ لوگ رسول اللہ کے پاس آئے اور جب حضور نے ان کو دیکھا تو فرمایا " وہ ہلاک ہوگیا " حضور نے ان کی بات سے پہلے ہی بتا دیا اور سلیمی نے برکت کی دعا فرمائی۔ ان لوگوں نے حضور کو ثعلبہ اور سلیمی دونوں کی روائیداد سنائی۔ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ومنھم من عاھد اللہ اس وقت رسول اللہ کے پاس ثعلبہ کے رشتہ داروں میں سے ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے یہ سب کچھ سن لیا۔ وہ مدینہ سے چلا۔ اس سے ملا۔ اسے کہا ثعلبہ تم تباہ ہوجاؤ۔ تمہارے بارے میں تو یہ آیات نازل ہوگئی ہیں۔ ثعلبہ حضور کے پاس آیا اور درخواست کی کہ میری زکوۃ قبول کریں۔ تو حضور نے فرمایا مجھے تو اللہ نے آپ کی زکوۃ لینے سے منع کردیا ہے۔ ثعلبہ اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا گتو حضور نے فرمایا یہ تو تمہارا اپنا کرنا ہے۔ میں نے تو تمہیں مشورہ دیا تھا مگر تم نے میری بات نہ مانی۔ جب رسول اللہ نے اس سے زکوۃ لینے سے انکار کردیا تو وہ اپنی رہائش گاہ کی طرف واپس ہوا۔ تو حضور فوت ہوگئے اور اس سے زکوۃ وصول نہ کی۔ پھر حضرت ابوبکر کا دور آیا تو ثعلبہ نے ان سے درخواست کی کہ تم رسول اللہ کے ساتھ میرے تعلق سے بھی واقف ہو اور انصار میں میرا جو مقام ہے اس سے بھی واقف ہو ، میری زکوۃ وصول کیجئے۔ اس پر ابوبکر نے فرمایا چونکہ حضور نے آپ کی زکوۃ کو قبول نہیں فرمایا اس لیے میں نہیں لے سکتا۔ چناچہ حضرت ابوبکر نے زندگی بھر ان سے زکوۃ نہ لی۔ پھر ان کے بعد حضرت عمر خلیفہ بنے اور ان کے پاس بھی ثعلبہ زکوۃ لے کر آئے اور درخواست کی امیر المومنین میری زکوۃ قبول فرمائیں تو انہوں نے فرمایا کہ رسول نے قبول نہ کی ، حضرت ابوبکر نے قبول نہ کی میں کیسے قبول کرسکتا ہوں۔ چناچہ وہ بھی فوت ہوئے اور ثعلبہ سے زکوۃ نہ لی۔ جب حضرت ثمانہ خلیفہ بنے تو ان کے پاس ثعلبہ آئے تو ان سے بھی درخواست کی کہ میری زکوۃ وصول کریں۔ چناچہ انہوں نے بھی یہی کہا کہ رسول اللہ نے قبول نہ کی ابوبکر نے قبول نہ کی ، عمر نے قبول نہ کی کیا میں اسے لوں ؟ چناچہ انہوں نے بھی وصول نہ کی۔ چناچہ حضرت عثمان کے زمانہ میں خلافت میں وہ فوت ہوگیا۔
ان آیات کے نزول کا تعلق اس واقعہ کے ساتھ ہو یا کسی دوسرے واقعہ کے ساتھ ، آیت بہرحال عام ہے اور ایک عام حالت کی نشاندہی کر رہی ہے۔ یہ آیت ایک ایک شخص کی نفسیاتی تصویر کشی کرتی ہے جو بےیقینی کی کیفیت سے دوچار ہو اور ان کے دل و دماغ میں ابھی تک ایمان متمکن نہ ہوا ہو۔ اگر ان آیات کا شان نزول یہی ہو تو پھر ہم یہ کہیں گے کہ رسول اللہ ﷺ کو چونکہ علم تھا کہ ثعلبہ قیام تک منافق رہے گا اس لیے اس کی جانب سے زکوۃ کو قبول نہ کیا گیا اور اس کے ساتھ عام شرعی اصول کے مطابق معاملہ نہ فرمایا۔ عام شرعی اصول یہ ہے کہ منافقین کے ساتھ ان کے ظاہر کے مطابق معاملہ کیا جائے گا۔ ثعلبہ کے معاملے میں چونکہ اللہ کی جانب سے حضور کو خصوصی معلومات فراہم کی گئی تھیں۔ اس لیے ان کے ساتھ حضور نے سخت تادیبی معاملہ کیا تاکہ دوسروں کے لیے عبرت ہو۔ چناچہ ان کو مرتد بھی قرار نہ دیا گیا تاکہ انہیں ارتداد کی سزا دی جائے اور مسلمان تصور کرکے ان سے زکوۃ بھی قبول نہ کی گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ازروئے شریعت منافقی پر زکوۃ واجب نہیں ہے ، کیونکہ شریعت ان لوگوں کے ساتھ ان کے ظاہر کے مطابق معاملہ کرتی ہے ، کیونکہ زیر نظر معاملے میں ایک نبی کو خصوصی علم تھا۔ اس پر کوئی دوسرا شخص قیاس کرکے ایسا طرز عمل اختیار نہیں کرسکتا۔
ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دور اول کے مسلمان زکوۃ کو کن نظروں سے دیکھتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان پر اللہ کی جانب سے ایک رحمت ہے۔ جو شخص اس کے ادا کرنے سے محروم ہوا یا اج سکی طرف سے قبول نہ کی گئی وہ گویا عظیم بھلائی سے محروم رہا وہ اس قدر محروم اور گھاٹے میں رہا کہ اس پر رحم کیا جانے لگا۔ قرون اولیٰ کے مسلمان اس آیت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھتے تھے۔
خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم و تزکیھم بھا ان کے اموال سے زکوۃ وصول کرو جو تم ان کی تطہیر کرتے ہو اور جس کے ذریعے تم ان کا تزکیہ کرتے ہو۔ ان کے نزدیک زکوۃ ایک غنیمت تھی ٹیکس نہیں تھا جس سے ان کا تاوان ہوتا۔ لہذا جو مال فرض اللہ کی جانب سے عاید ہوتا ہے اور اس سے اللہ کی رضا مندی مطلوب ہوتی ہے اس میں اور اس مالی فریضے میں جو لوگوں پر بطور جبر عاید ہوتا ہے ، بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔
التوبة 9:79
منافقین زکوۃ کے بارے میں کیا تصورات رکھتے تھے اور سچے اہل ایمان زکوۃ و صدقات کے بارے میں کیا سوچتے تھے۔ ان دونوں تصورات کی ایک جھلکی ملاحظہ ہو۔ منافقین مخلص اور غریب اہل ایمان کے انفاق کا مذاق اڑاتے تھے تھے۔
اس آیت ۔۔ الذین یلمزون المطوعین الخ کے نزول کا بھی ایک خاص قصہ ہے۔ جس سے اظہار ہوتا ہے کہ منافقین کی بگڑی ہوئی طبیعت انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں کیا سوچتی تھی ؟
ابن جریر نے بواسطہ یحییٰ ابن کثیر اور سعید ابن قتادہ اور ابن ابی حاتم ، حکم ابن ابان سے ، عکرمہ سے نقل کیا ہے (روایت کے الفاظ مختلف ہیں) کہتے ہیں کہ حضور نے تبوک کے موقعہ پر چندے کے لیے لوگوں کو آمادہ کیا۔ عبدالرحمن ابن عوف نے چار ہزار دیے۔ انہوں نے کہا حضور مری کل جائیدادا آٹھ ہزار ہے اس میں سے نصٖ لایا ہوں۔ نصف چھوڑ رکھا ہے تو حضور نے فرمایا اللہ اس میں بھی برکت دے جو تونے دیا اور اس میں بھی برکت دے جو پس اندا ا کردیا ہے۔ ابوعقیل ایک صاع کھجوریں لائے اور کہا رسول خدا میں دو صاع کھجور کما کر لایا ہوں۔ ایک صاع میں اللہ کو قرض دیتا ہوں اور ایک اپنے بچوں کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ ان دونوں کے ساتھ منافقین نے مذاق کیا۔ عبدالرحمن ابن عوف کے بارے میں کہا کہ اس نے دکھاوے کے لیے اتنا مال دیا اور ابوعقیل کے بارے میں کہا ہی اللہ اور سول کو ایک صاع کی ضرورت ہی کیا تھی۔
ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے ابو عقیل کے بارے میں کہا کہ یہ شخص خواہ مخواہ اپنے آپ کو یاد کرانا چاہتا ہے ، حالانکہ اس جنے ساری رات مزدوری کی اور دو صاع کمائے تھے اور ایک صاع حضور کے سامنے پیش فرمایا۔
منافقین اہل ایمان کے بارے میں اس قسم کی باتیں کرتے تھے حالانکہ وہ دل و جان سے فدا ہو رہے تھے اور بطیب خاطر خرچ کر رہے تھے اور جس کے مقدر میں جس قدر تھا وہ جہد میں حصے کے طر پر فنڈ میں دیتے تھے لیکن منافقین کی سمجھ میں مسلمانوں کا اخلاص اور ان کے پاکیزہ جذبات نہ آتے تھے۔ ان کے دل بجھے ہوئے تھے اس لیے وہ مسلمانوں کے حساس دلوں کا ادراک نہ کرسکتے تھے۔ وہ مسلمانوں کی بےتابی کو نہ پا سکتے تھے جو وہ راہ خدا میں انفاق کے لیے دکھا رہے تھے۔ وہ داعیہ ایمانی کے نتیجے میں تھوڑا یا بہت ملا کر پیش کرتے تھے اور یہ لوگ داعیہ ایمانی سے محروم تھے۔ چناچہ وہ اس کے سوا اور کہہ کیا سکتے تھے کہ اگر زیادہ دیا جائے تو ریاکار ہے اور اگر قلیل دیا جائے تو نام لکھوا رہا ہے۔ اگر کوئی زیادہ دیتا تو وہ بھی مجرم اور اگر کوئی تھوڑا دیتا تو بھی مجرم۔ لہذا ان کی اس تنقید کو صالح ذہن قبول ہی نہ کرتا تھا۔ اس لیے کہ وہ ذاتی طور پر جہاد سے پیچھے رہنے والے تھے ، پشت کی طرف سے نقب لگانے والے تے اور ایک پیشہ جہاد میں دینے کے لی تیار نہ تھے۔ وہ اگر کچھ دیتے بھی تو محض ظاہر داری کے قیام کے لیے اور بری نیت سے اور حقیر اور ذلیل اسباب کی وجہ سے۔
چناچہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو خوب جواب دیتا ہے سخر اللہ منھم ولھم عذاب الیم اللہ ان مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ کس قدر ہولناک انجام ہے یہ۔ اور کس قدر ہولناک مذاق ہوگا خالق کی جانب سے۔ ایک طرف ایک چھوٹی سی جماعت ، ضعیف و ناتواں ، ذلیل اور فانی اور اس کے مقابلے میں خالق کائنات اور اس کا دردناک عذاب کس قدر خوفناک عذاب کے لیے یہ ضعیف و ناتواں انسان اپنے آپ کو پیش کرتا ہے۔
التوبة 9:80
یہ منافقین جو مخلص اور رضاکار مومنین کا مذاق اڑاتے تھے ، کہ یہ لوگ اس کا کیوں مال لٹاتے ہیں ان کا انجام یہ ہے کہ خود حضور کے جانب سے طلب مغفرت بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگی۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی شفقت کی وجہ سے ان خطاکاروں کے لی بھی مغفرت طلب کرتے تھے شاید کہ اللہ معاف کردے۔
لیکن ان لوگوں کے بارے میں اللہ نے صاف صاف بتا دیا کہ ان منافقین کا انجام طے شدہ ہے۔ اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ان لوگوں نے صیح راہ سے انحراف کرلیا ہے ، لہذا ان کا اب اچھے انجام تک پہنچنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ان کے دل اس قدر فاسد ہوچکے ہیں کہ ان کی اصلاح ممکن ہی نہیں ہے۔
لہذا حضور کو کہا جاتا ہے کہ اب اگر ستر مرتبہ بھی طلب مغفرت کریں ، کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ستر مرتبہ سے مراد کوئی متعین عدو نہیں ہے۔ اس سے مراد کثرت ہوتی ہے یعنی اب ان کی مغفرت کی کوئی امید نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔ کیونکہ انسانی دل اگر فجور اور فساد کی ایک حد سے آگے بڑھ جائے تو پھر اصلاح کی کوئی امید نہیں رہتی اور انسان جب گمراہی میں حد سے گزر جائے تو پھر راہ راست پر واپس آنے کی کوئی امید نہیں رہتی۔ اور اللہ تو دلوں کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔
التوبة 9:81
اب سیاق کلام ایک بار پھر ان لوگوں کی طرف پھرجاتا ہے جو رسول اللہ سے پیچھے رہ گئے تھے یعنی غزوہ تبوک کے اہم مرحلے میں۔
یہ لوگ جو پیچھے رہ گئے تھے ان سے یہ جرم دنیا پرستی کی وجہ سے سرزد ہوا۔ انہوں نے آرام اور راحت کو پسند کیا۔ انہوں نے انفاق فی سبیل اللہ سے پہلو تہی کی۔ کم ہمتی اور بےحمیتی اور بےایمانی اور دلی کمزور نے ان کو اس پر آمادہ کیا کہ وہ یہ موقف اختیار کریں۔ ان کے لیے جو لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ بھی نہایت ہی حقارت امیز ہے یعنی یہ کوئی سامان ہے جو پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ کو چھوڑ کر اس کے مقابلے میں امن و سکون اور عیش و راحت کو قبول کیا۔ انہوں نے رسول اللہ اور مجاہدین کو اکیلے چھوڑ کر سخت ترین گرمی کی مشقتوں کے لیے چھوڑ دیا اور اس بات کو پسند نہ کیا کہ اپنی جان و مال کے ذریعے اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس " جھلسا دینے والی گرمی میں مت نکلو " یہی اقوال ان تمام لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں جو عیش کوش ہوتے ہیں۔ یہ پست ہمت زنانہ چال والے لوگ ہوتے ہیں اور ان کو کسی صورت میں بھی مرد نہیں کہا جاسکتا۔
یہ لوگ ضعف ہمت کا نمونہ ہیں ۔ یہ کمزور ارادے کے لوگ ہیں۔ دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مشکلات سے گھبراتے ہیں اور جدوجہد سے نفرت کرتے ہیں اور جہد و مشقت کے مقابلے میں ذلت آمیز راحت کو پسند کرتے ہیں۔ اور جہد و مشقت کی باعزت زندگی انہیں گوارا نہیں ہوتی۔ وہ شیر کی زندگی کی مقابلے میں گیدڑ کی زندگی کے خوگر ہوتے ہیں۔ یہ لوگ آگے بڑھنے والی صٖفوں کے پیچھے تھکے ماندے پڑے رہتے ہیں۔ لیکن باہمت لوگوں کی یہ اگلی صفیں پر خطر اور کانٹوں والی راہوں کو چیرتی ہوئی اگے بڑھتی ہیں۔ اس لیے ان کی فطرت زندہ ہوتی ہے اور جانتے ہیں مشکلات کو انگیز کرنا اور آگے ہی بڑھتے چلے جانا انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ پیچھے رہنے اور گھروں میں بیٹھنے کے مقابلے میں ایسے لوگوں کو دشمن کا سامنا کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے۔
فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَكَرِهُوْٓا اَنْ يُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَاَنْفُسِهِمْ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَقَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِي الْحَرِّ ۭ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ۭ لَوْ كَانُوْا يَفْقَهُوْنَ ۔
جن لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسول کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارا نہ ہوا کہ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کریں۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ " اس سخت گرمی میں نہ نکلو " ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے ، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا۔
دنیا میں تو وہ گرمی سے جان بچا کر چھاؤں میں بیٹھ جائیں گے لیکن آخرت کی گرمی کا کیا علاج کریں گے۔ وہاں تو وہ دائما آگ میں رہیں گے۔ اللہ کی جانب سے یہ ایک حقیقت پسندانہ طنز ہے۔ دنیا میں اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنا تو بہت قلیل مدت کی مشقت ہے بمقابلہ جہنم کی گرمی کے جہاں جو بھی جائے گا ایک طویل عرصہ تک رہے گا اور معلوم کہ کس قدر وہاں رہے گا
التوبة 9:82
یہاں اگر کوئی ہنسے گا تو اس کی ہنسی مختصر ہوگی کیونکہ دنیا کی زندگی محدود ہے۔ اور آخرت میں پھر اسے ہمیشہ کے لیے رونا ہوگا۔ اور جیسا کرے گا ویسے بھرے گا۔ یہ نہایت ہی منصفانہ جزا ہے۔
یہ لوگ جنہوں نے جہاد کے مقابلے میں آرام کو پسند کیا اور اپنایا۔ اور مشکل حالات میں قافلہ اسلام سے پیچھے رہ گئے۔ یہ کسی بھی مشکل مہم کے لیے نااہل ثابت ہوچکے ہیں۔ یہ جہاد کے قابل ہی نہیں رہے۔ اس لیے ان کے ساتھ کسی قسم کی نرمی مناسب نہیں ہے۔ لہذا اب کسی بھی موقعہ پر انہیں شریک جہاد کرکے ان کو عزت نہ دی جائے کیونکہ اس اہم موقعہ پر انہوں نے خود اس اعزاز کو لات مار دی۔
التوبة 9:83
دعوت اسلامی اور اسلامی تحریکات کو نہایت ہی مضبوط ، نہایت ہی سلیم الفطرت اور نہایت ہی راست باز لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے ، جن کے ارادے مصمم ہوں ، جو مشکلات کو انگیز کرنے والے ہوں ، دشمن کے سامنے سینہ سپر ہونے والے ہوں اور ایک طویل اور پر مشقت جدوجہد کے لیے تیار ہوں۔ لیکن جب اسلامی تحریکات کی صفوں میں عیش پسند ، راحت طلب ، اور کمزور یقین کے لوگ گھس آئیں تو وہ مشکل وقت میں اس کی شکست کا باعث بنتے ہیں۔ مشکل وقت وہ اضطراب اور انتشار کا سبب بنتے ہیں۔ لہذا اس قسم کے لوگ جن سے تحریک کے دوران ضعف و کمزوری کا صدور ہوجائے ان کو تحریک سے دور پھینکنا چاہیے تاکہ مشکل اوقات میں وہ کمزوری اور انتشار کا باعث بنیں اور یہ نہ ہو کہ جب خوشحالی کا دور دور ہو اور فتھ و کامرانی کا دور ہو اور تو یہ لوگ لوٹ کر مزے لوٹتے رہیں۔ صاف صاف کہہ دو اب تم میں ساتھ ہر گز نہیں چل سکتے نہ تم میری معیت میں کسی دشمن کے ساتھ لڑ سکتے ہو۔ تم نے خود پہلے بیٹھے رہنے کو پسند کیا۔
انکم رضیتم بالقعود اول مرۃ۔ تم نے جنگ تبوک کے لیے نکلنے کا شرف کھو دیا ہے۔ لشکر تبوک میں شمولیت کے اعزاز سے تم محروم ہوچکے ہو ، کیونکہ یہ شرف وہی حاصل کرسکتا تھا جو اس کے لیے اہل تھا۔ لہذا اس معاملے میں تمہارے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جاسکتی۔ اور نہ تم حسن سلوک اور معافی کے مستحق رہے ہو۔ لہذا اب تم انہی لوگوں کے ساتھ بیٹھے رہو جو تمہارے ہم جنس اور ہم محفل اور ہم مشرب تھے۔ فاقعدوا مع الخالفین لہذا پیچھے رہنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو۔ یہ تھی وہ راہ جو اللہ نے اپنے نبی کے لیے تجویز کی تھی اور آج بھی نبی کے نقش قدم پر جو دعوت و تحریک برپا ہوگئی ہے۔ اس کی بھی یہی راہ و روش ہوگی۔ لہذا تحریک اسلام کے داعیوں اور کارکنوں دونوں کو یہ نکتہ یاد رکھنا چاہیے۔ ہر دور میں اور ہر جگہ۔
جس طرح حضور کو یہ حکم بھی دیا گیا کہ ان لوگوں کو دوبارہ اسلامی صفوں میں شامل نہ کیا جائے ، کیونکہ انہوں نے مشکل حالات میں ساتھ چھوڑا ، اسی طرح یہ حکم بھی دیا گیا۔ آئندہ کے لیے ان کو اسلامی معاشرے میں کوئی اعزازو امتیاز نہ دیا جائے۔
التوبة 9:84
اس آیت کے پس منظر کے بارے میں بھی مفسرین نے متعین واقعات ذکر کیے ہیں لیکن اس آیت کا مفہوم ان واقعات سے عام ہے۔ یہاں اسلامی نظریہ حیات کی راہ میں جدوجہد کرنے والے گروہ کے بارے میں ایک اصول وضع کیا گیا ہے۔ یہ کہ اس جدوجہد کے معاملے میں جو لوگ عیش کوش ، آرام پسند ہیں اور مشکلات کو انگیز نہیں کرتے اور مشکل مہمات میں شامل نہیں ہوتے ، اسلامی قیادت کی طرف سے ایسے لوگوں کے ساتھ نہ نرمی برتی جائے اور نہ ایسے لوگوں کو اعزاز دیا جائے۔ اسلامی صفوں سے ایسے لوگوں کو دور رکھا جائے یا نہایت ہی پچھلی صفوں اور میں اور اس معاملے میں کوئی نرمی ، حسن سلوک یا رواداری نہ برتی جائے۔
یہاں اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کا جنازہ نہ پڑھا جائے اور ان کی قبر پر آپ کھڑے نہ ہوں کیونکہ انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا اور یہ لا عمل فاسق تھے اور منافق تھے۔ لیکن اس حکم سے جو عمومی اصول نکلتا ہے وہ زیادہ عام ہے۔ کیونکہ نماز جنازہ اور قبر پر کھڑے ہونے سے میت کو اعزاز ملتا ہے اور اسی اعزاز کے یہ لوگ مستحق نہیں ہیں۔ خصوصً جو لوگ نہایت ہی مشکل وقت میں مجاہدین کی صفوں میں کھڑے نہیں ہوتے ان کو اعزاز نہ دیا جائے تاکہ لوگوں کو اسلامی جدوجہد کی اہمیت معلوم ہو۔ اور کارکنوں کو معلوم ہو کہ اس معاملے میں اعزاز کے مستحق وہی لوگ ہوتے ہیں جو عملی جدوجہد کریں گے ، مشکلات کو انگیز کریں گے۔ مشکلات میں ثابت قدم رہیں گے۔ تب جا کر وہ اسلامی صفوں میں معزز ، مکرم اور ممتاز ہوں گے۔ اسلامی تحریک میں ایسے لوگوں کو نہ ظاہری اعزاز دیا جائے اور نہ باطنی۔
التوبة 9:85
تحریک اقامت دین کے لیے یہ ہمہ گیر ہدایت ہے کہ کسی کے مال و دولت کی وجہ سے اسے اعزاز نہ دیا جائے۔ نہ دل اور شعور میں ایسے لوگوں سے کوئی تاثر لیا جائے۔ یہ مال خود ان کے لیے وبال جان ہوں گے۔ کیونکہ اگر کوئی ان کے ظاہری مال سے متاثر ہوگا تو یہ بھی ان کے لیے اکرام ہوگا۔ دل کے اندر بھی ایسے لوگوں کی تکریم کا شعور نہ آنے پائے۔ ان کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے۔
التوبة 9:86
یہاں دو مزاجوں کا ذکر ہے۔ ایک ہے مزاج نفاق ، کمزوری اور ذلت کا اور دوسرا مزاج ہے ایمان ، قوت آزمائش کا۔ ایک مزاج کی منصوبہ بندی چالاکی ، پیچھے رہ جانے اور ذلت قبول کرنے کے خطوط پر ہوتی ہے اور دوسرے مزاج کی منصوبہ بندی استقامت ، خرچ اور عزت و شرف کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔
جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا حکم ہوتا ہے تو بعض لوگ جو استطاعت رکھتے ہیں جن کے پاس جہاد کے اخراجات کے لیے مناسب وسائل ہوتے ہیں ، وہ اپنی پوزیشن کے مطابق آگے نہیں بڑھتے۔ اس طرح اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ ذلت ، شرمندگی کی روش اختیار کرتے ہیں ، یہ لوگ عورتوں اور معذوروں کے ساتھ بیٹھے رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی عزت اور اپنے مقام کی مدافعت نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کو یہ شعور ہی نہیں ہوتا ، نہ وہ یہ احساس کرتے ہیں کہ ان کی اس روش کی وجہ سے وہ کس قدر ذلیل و خوار سمجھتے جاتے ہیں۔ پس وہ یہی چاہتے ہیں کہ ہر قیمت پر زندہ رہیں۔ کیا وہ نہیں سمجھتے کہ ہر قیمت پر زندہ رہنا ذلیلوں کا کام ہے۔
التوبة 9:87
رضو بان یکوانوا ۔۔۔۔ الفوز العظیم ۔۔۔ اگر یہ سمجھتے تو اس حقیقت کو پا لیتے کہ جہاد میں قوت ، عزت اور باعزت زندگی کا راز ہے اور جہاد سے پیچھے رہنے میں کمزوری ذلت اور ذلت کی موت ہے۔
یاد رہے کہ ذلت کے لیے بھی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے اور عزت و شرف کے لیے بھی انسان کو قیمت دینا ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان شرف کے مقابلے میں ذلت کے لیے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔ بعض کمزور مزاج کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عزت کے لیے بہت بڑی قیمت دینا پڑتی ہے اور ہم اس قدر قیمت کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ اس لیے یہ لوگ ذلت کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں اور مشکلات اور تکالیف دیکھ کر بھاگ نکلتے ہیں۔ ایسے لوگ نہایت ہی ذلیلانہ اور حقیرانہ اور خوفناک زندگی بسر کرتے ہیں۔ خود اپنے سائے سے ڈرتے رہتے ہیں۔ خود اپنی آواز سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ہر آوازے کو یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر ہے۔ ان لوگوں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ زندگی انہیں بہت محبوب ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ عز و شرف کے مقابلے میں اس ذلت کی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔ پوری پوری قیمت جان کی قیمت ، عزت و آبرو کی قیمت ، شہرت کی قیمت ، اطمینان کی قیمت اور خوف اور دولت کی قیمت۔ لیکن ان بدبختوں کو اس کا شعور نہیں ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں وہ لوگ شامل تھے جو مدینہ میں عورتوں کے ساتھ بیٹھے رہے ، ان کے دلوں پر مہر لگ گئی اور ان کی فہم و ادراک نے کام کرنا چھوڑ دیا۔
لیکن رسول اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے تھے وہ دوسرے طرز کے لوگ تھے۔ جاھدوا باموالھم وانفسھم (انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا) انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کیے اور نظریات کی قیمت ادا کی اور وہ عزت کمائی جو بیٹھنے والے نہ کما سکے۔ یہی لوگ ہیں جو اس زمین کا کریم ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کے سامنے سب خزانے کھلے ہیں اور ان کا نام اور ان کی شہرت دور دراز تک ہے۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ دنیا میں بھی جبکہ وہ باعزت زندگی بسر کر رہے ہوں گے اور آخرت میں بھی جن کے لیے اللہ نے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی فوز عظیم ہے۔
التوبة 9:88
رضو بان یکوانوا ۔۔۔۔ الفوز العظیم ۔۔۔ اگر یہ سمجھتے تو اس حقیقت کو پا لیتے کہ جہاد میں قوت ، عزت اور باعزت زندگی کا راز ہے اور جہاد سے پیچھے رہنے میں کمزوری ذلت اور ذلت کی موت ہے۔
یاد رہے کہ ذلت کے لیے بھی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے اور عزت و شرف کے لیے بھی انسان کو قیمت دینا ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان شرف کے مقابلے میں ذلت کے لیے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔ بعض کمزور مزاج کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عزت کے لیے بہت بڑی قیمت دینا پڑتی ہے اور ہم اس قدر قیمت کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ اس لیے یہ لوگ ذلت کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں اور مشکلات اور تکالیف دیکھ کر بھاگ نکلتے ہیں۔ ایسے لوگ نہایت ہی ذلیلانہ اور حقیرانہ اور خوفناک زندگی بسر کرتے ہیں۔ خود اپنے سائے سے ڈرتے رہتے ہیں۔ خود اپنی آواز سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ہر آوازے کو یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر ہے۔ ان لوگوں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ زندگی انہیں بہت محبوب ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ عز و شرف کے مقابلے میں اس ذلت کی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔ پوری پوری قیمت جان کی قیمت ، عزت و آبرو کی قیمت ، شہرت کی قیمت ، اطمینان کی قیمت اور خوف اور دولت کی قیمت۔ لیکن ان بدبختوں کو اس کا شعور نہیں ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں وہ لوگ شامل تھے جو مدینہ میں عورتوں کے ساتھ بیٹھے رہے ، ان کے دلوں پر مہر لگ گئی اور ان کی فہم و ادراک نے کام کرنا چھوڑ دیا۔
لیکن رسول اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے تھے وہ دوسرے طرز کے لوگ تھے۔ جاھدوا باموالھم وانفسھم (انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا) انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کیے اور نظریات کی قیمت ادا کی اور وہ عزت کمائی جو بیٹھنے والے نہ کما سکے۔ یہی لوگ ہیں جو اس زمین کا کریم ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کے سامنے سب خزانے کھلے ہیں اور ان کا نام اور ان کی شہرت دور دراز تک ہے۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ دنیا میں بھی جبکہ وہ باعزت زندگی بسر کر رہے ہوں گے اور آخرت میں بھی جن کے لیے اللہ نے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی فوز عظیم ہے۔
التوبة 9:89
رضو بان یکوانوا ۔۔۔۔ الفوز العظیم ۔۔۔ اگر یہ سمجھتے تو اس حقیقت کو پا لیتے کہ جہاد میں قوت ، عزت اور باعزت زندگی کا راز ہے اور جہاد سے پیچھے رہنے میں کمزوری ذلت اور ذلت کی موت ہے۔
یاد رہے کہ ذلت کے لیے بھی قیمت ادا کرنا ہوتی ہے اور عزت و شرف کے لیے بھی انسان کو قیمت دینا ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات انسان شرف کے مقابلے میں ذلت کے لیے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔ بعض کمزور مزاج کے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ عزت کے لیے بہت بڑی قیمت دینا پڑتی ہے اور ہم اس قدر قیمت کی ادائیگی نہیں کرسکتے۔ اس لیے یہ لوگ ذلت کی زندگی اختیار کرلیتے ہیں اور مشکلات اور تکالیف دیکھ کر بھاگ نکلتے ہیں۔ ایسے لوگ نہایت ہی ذلیلانہ اور حقیرانہ اور خوفناک زندگی بسر کرتے ہیں۔ خود اپنے سائے سے ڈرتے رہتے ہیں۔ خود اپنی آواز سے کانپ اٹھتے ہیں۔ ہر آوازے کو یہ سمجھتے ہیں کہ ان پر ہے۔ ان لوگوں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ زندگی انہیں بہت محبوب ہوتی ہے۔ لیکن یہ لوگ عز و شرف کے مقابلے میں اس ذلت کی زیادہ قیمت ادا کرتے ہیں۔ پوری پوری قیمت جان کی قیمت ، عزت و آبرو کی قیمت ، شہرت کی قیمت ، اطمینان کی قیمت اور خوف اور دولت کی قیمت۔ لیکن ان بدبختوں کو اس کا شعور نہیں ہے۔ ایسے ہی لوگوں میں وہ لوگ شامل تھے جو مدینہ میں عورتوں کے ساتھ بیٹھے رہے ، ان کے دلوں پر مہر لگ گئی اور ان کی فہم و ادراک نے کام کرنا چھوڑ دیا۔
لیکن رسول اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے تھے وہ دوسرے طرز کے لوگ تھے۔ جاھدوا باموالھم وانفسھم (انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کیا) انہوں نے ایمان کے تقاضے پورے کیے اور نظریات کی قیمت ادا کی اور وہ عزت کمائی جو بیٹھنے والے نہ کما سکے۔ یہی لوگ ہیں جو اس زمین کا کریم ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان کے سامنے سب خزانے کھلے ہیں اور ان کا نام اور ان کی شہرت دور دراز تک ہے۔ یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ دنیا میں بھی جبکہ وہ باعزت زندگی بسر کر رہے ہوں گے اور آخرت میں بھی جن کے لیے اللہ نے ایسے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی فوز عظیم ہے۔
التوبة 9:90
پہلے لوگ تو وہ ہیں جن کے عذرات حقیقی ہیں۔ لہذا ان کو اجازت دے دی گئی اور وہ مجبوراً رہ گئے ، رہے دوسرے تو وہ بلا عذر رہے۔ کیونکہ انہوں نے اور رسول اللہ کے سامنے جھوٹے عذرا پیش کیے۔ ان میں سے جن لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا وہ تو عذاب الیم سے دوچار ہوں گے۔ ہاں جن لوگوں نے توبہ کرلی تو ان کا ذکر یہاں نہیں ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔
التوبة 9:91
آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اس لشکر میں خروج کا حکم اندھیرے کا سوٹا نہ تھا بلکہ اس میں معذوروں کا خیال رکھا گیا تھا۔ کیو کہ اسلام تو ایک معقول اور سہولت کا دین ہے۔ اس میں کسی سے اس کی استطاعت سے زیادہ کا مطالبہ نہیں ہوتا۔ لہذا معذوروں سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا۔
جو لوگ ضعیف ہیں ، بوڑھے ہیں ، معذور ہیں اور بیٹھے ہیں ان سے کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ وہ بیمار جو عارضی طور پر اس مہم میں شریک نہ ہوسکتے تھے ، قابل ملامت نہیں ہیں۔ وہ لوگ بھی معذور تصور ہوں گے جو سواری اور زاد راہ نہیں رکھتے۔ یہ لوگ اگر میدان معرکہ سے دور رہے تو ان کا کیا قصور ہے۔ لیکن ان کے دل اور ضمیر اور ان کے جذبات اللہ اور رسول کے ساتھ ہیں۔ ان لوگوں نے کسی بات کو چھپا نہیں رکھا ، دھوکہ نہیں کرتے اور مدینہ میں رہ کر وہ حفاظت ، چوکیداری اور دار الاسلام کی دوسری خدمات سر انجام دے رہے ہیں جو اسلامی ریاست کے لیے مفید اور ضروری ہیں۔ ایسے لوگ معذور ہونے کے ساتھ محسن بھی ہیں ان سے کوئی مواخذہ نہ ہوگا اور نہ وہ قابل ملامت ہوں گے۔
التوبة 9:92
اس طرح جنگی قوت رکھنے والے لیکن سواری نہ رکھنے والے بھی معذور ہوں گے جو پیادہ اس دور دراز سفر پر نہیں جاسکتے تھے۔ ایسے لوگ مجبوراً رہ گئے لیکن ان کے دل پھٹے جا رہے تھے اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے کہ وہ مجبوراً اس اعزاز سے محروم ہورہے ہیں۔
جہاد کی سچی چاہت کی یہ کس قدر اچھی تصویر کشی ہے۔ دلی رنج و الم کو کن خوبصورت الفاظ میں ادا کیا گیا ہے۔ رسول اللہ کے زمانے میں بعض عملی واقعات کی یہ اس آیت میں تصویر کھینچی گئی ہے۔ مختلف روایات میں مختلف فدایان اسلام کا ذکر ہے لیکن یہ سب اس آیت کا صحیح مصداق ہیں۔
وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ۠ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ : " اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود اگر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں ، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتطام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے "
عوفی نے ابن عباس سے روایت کی ہے " یہ کہ رسول اللہ نے حکم دیا کہ لوگ آپ کے ساتھ جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ ایک جماعت آپ کے پاس آئی جن میں عبداللہ ابن مغفل ابن مقوی المازنی بھی تھا۔ تو انہوں نے مطالبہ کیا رسول خدا ہمیں سواری عنایت کیجیے ، تو حضور نے فرمایا خدا کی قسم میرے پاس کچھ نہیں ہے کہ میں تمہاری سواری کا بندوبست کروں۔ یہ لوگ واپس ہوئے اور ان کی آنکھوں سے انسو جاری تھے۔ ان کے لیے یہ بات بہت ہی گراں تھی کہ وہ جہاد سے پیچھے رہ جائیں لیکن کوئی نفقہ اور سواری نہیں ہے۔ جب اللہ نے دیکھا کہ ان کو اللہ اور رسول اللہ سے کس قدر محبت ہے تو ان کے اعزاز میں یہ آیت نازل ہوئی۔
مجاہد کہتے ہیں کہ یہ مزینہ کے بنی مقرن کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ محمد ابن کعب فرماتے ہیں کہ یہ سات آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ بنی عمر ابن عوف کے سالم ابن عوف ، بنی وافق سے حری ابن عمر ، بنی مازن ابن نجار سے ، عبدالرحمن ابن کعب جس کی کنیت ابویعلی ہے ، بنی معلی سے فضل اللہ بنی سلمہ سے عمر ابن عتمہ اور عبداللہ ابن عمر المزنی۔
ابن اسحاق نے واقعات غزوہ تبوک میں کہا ہے " اس کے بعد مسلمانوں میں سے بعض لوگ رسول اللہ کے پاس آئے ، یہ لوگ انصار وغیرہ کے ساتھ آدمی تھے۔ بنی عمر ابن عوف سے سالم ابن عمیر اور علیہ ابن زید بنی حارثہ کے بھائی اور ابعیعلی عبدالرحمن ابن کعب بنی مازن کے بھائی اور عمرو بن حمام ابن جموح بنی سلمہ کے بھائی ، عبداللہ ابن مغل مزنی ، بعض نے اسے عبداللہ ابن عمر مزنی بتایا ہے۔ حرمی ابن عبداللہ ، بنی وافق کے بھائی اور عیاض ابن ساریہ الفزاری تو ان لوگوں نے رسول اللہ سے سواری کا مطالبہ کیا اور یہ لوگ فی الواقع غریب تھے تو حضور نے فرمایا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں کہ میں تمہاری سواری کا بندوبست کردوں۔ یہ لوگ واپس ہوگئے اور حال یہ تھا کہ آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ سواری نہ ملنے پر یہ لوگ دکھیا تھے۔
یہ روح اور جذبہ تھا جس کی وجہ سے اسلام غالب ہوا۔ اور ان قربانیوں کی وجہ سے اسلام کا جھنڈا بلند ہوا۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ان لوگوں کے مقابلے میں ہماری حالت کیا ہے۔ ہمیں اپنے جذبہ اسلام کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہمیں اگر کمزوری نر آئے تو ہمیں اللہ کے سامنے دست بدعا ہونا چاہیے کہ ہماری یہ کمزوری دور کردے۔ اور ہمیں اسلامی جہاد کے جذبے سے اس طرح سرشار کردے جس طرح صحابہ کرام تھے۔ واللہ المستعان۔
التوبة 9:93
آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔
پارہ 11 ایک نظر میں
یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت کے تعین کے حوالے سے اس سورت کی اہمیت کیا ہے اور اس سوت سے اسلامی نظام کے قیام کے لیے جو تحریکی منہاج انقلاب سمجھ میں آتا ہے وہ کیا ہے۔ لہذا ان اہم فقرات کا یہاں دہرانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔
" یہ مدنی سورت ہے اور نزول قرآن کی آخری جھلکیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اسے آخری قرآن نہیں کہہ سکتے۔ آخری جھلکیاں اس لیے کہ اس میں امت مسلمہ اور دوسری اقوام عالم کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے ضوابط کو آخری شکل دی گئی ہے۔ نیز اس کے اندر خود اسلامی سوسائٹی کی تشکیل اس کی اقدار کا تعین ، اس میں مختلف طبقات کی قدروقیمت کا تعین اور مجموعی طور پر اس میں کسی اسلامی معاشرے کے بنیادی خدوخال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اپئے جانے والے تمام طبقات اور ان کے اوصاف کی بڑی گہری تصویر کشی کی گئی ہے۔
اس زاویہ سے یہ سورت توبہ بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں اسلامی نظام کے قیام کے منہاج کے تحریکی عمل کے کدوخال کو اور اس کے تمام مراحل کو بڑی تفصیل کے ساتھ متعین طور پر بیان کیا گیا ہے اس سلسلے میں اس موضوع پر اس سورت میں آخری اور فائنل احکام دیے گئے ہیں۔ اس جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منہاج کس قدر ٹھوس ہے اور کس قدر فیصلہ کن ہے۔ اس جائز کے بغیر احکام شریعت و قواعد شریعت کی اصل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اگر اس مجموعی جائزے کے بغیر آیات کو اپنے سیاق وسباق سے علیحدہ کرکے دیکھا جائے تو عبوری دور کے لیے جو احکام نازل ہوئے تھے وہ دائمی اور فائنل احکام نظر آئیں گے۔ اور پھر جو شخص چاہے ان آخری آیات و ہدایات کی تاویل کرکے بھی انہیں عبوری دور کے لیے آنے والے احکام کے تابع اور مطابق کردے۔ خصوصاً جہاد اسلامی موضوع رپ اس قسم کی مساعی عملاً بھی کی گئیں اور اسلامی معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں کے باہم تعلقات کے سلسلے میں بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا۔
اس سورت کے تعارف میں ہم نے یہ بات بتائی تھی کہ باوجود اس کے کہ اس سورت کا موضوع ایک ہے اور وہ ایک جیسے حالات میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے کوئی حصے ہیں اور ہر حصے میں آخری اور فائنل احکام بیان کیے گئے ہیں۔
اس کے پہلے حصے میں کسی مسلم معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں اور حکومتوں کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں ان لوگوں کے حالات پر تبصرہ ہے جنہیں غزوہ تبوک میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی اور سستی کی تھی۔ یہ غزوہ ان اہل کتاب کے خلاف تھا جزیرۃ العرب کے مغربی کنارے پر بستے تھے اور جو اس نئی اسلامی مملکت پر فیصلہ کن وار کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ، چوتھے حصے میں اسلامی معازشرے میں رہنے والے منافقین کی سازشوں اور کرتوتوں کو بےنقاب کیا گیا تھا۔ ان کی نفسیات اور عملی کیفیات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ نیز غزوہ تبوک سے قبل اس غزوے کے دوران اور اس کے بعد ان کے رویے کو قلم بند کرکے ان کی اصل نیتوں ، حیلہ سازیوں اور ان عذرات لنگ کی نقاب کشائی کی گئی جو وہ غزوہ تبوک کی عدم شمولیت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔ نیز یہ لوگ اسلامی صفوں میں جو فتنے پھیلاتے تھے۔ فساد برپا کرتے تھے ، جو انتشار پھیلاتے تھے اور حضور اور مخلص مومنین کے لیے جس اذیت کا باعث بنے ہوئے تھے۔ یہ تمام حالات اس میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مومنین کو ان کے رویے سے متنبہ بھی کیا گیا اور مومنین اور منافقین کے درمیان سماجی تعلقات کی نوعیت کو بھی متعین کیا گیا اور بتایا گیا کہ ان کے ساتھ سماجی بائیکاٹ ہونا چاہیے تاکہ ہر طقہ اپنی صفات کی وجہ سے متمیز ہوجائے۔
…
یہ چار حصے اپنے مضامین کے ساتھ پارہ دہم میں گزر چکے ہیں۔ البتہ آخری حصے کے کچھ مضامین جو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے متعلق ہیں اور جہاد سے پیچھے رہنے والوں کی سزا اور ان کے انجام کے بارے میں اس حصے میں آگئے ہیں۔
دسویں پارے کی آخری آیت یہ تھی۔
لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ۠ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ ۔ ضعیف ور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے زاد راہ نہیں پاتے ، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جب کہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں۔ ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود اگر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں ، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتطام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے۔
اور وہ تکملہ جس سے اس پارے کا آغاز ہوتا ہے ، وہ یہ ہے :
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لا يَعْلَمُونَ (93) يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (94) سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (95) يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ (96): البتہ اعتراض ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواستیں کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھا جائے۔ انہوں نے گھر بیٹھنے والوں میں رہنا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے۔ تم پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے مگر تم صاف کہہ دینا کہ بہانے نہ کرو ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دئیے۔ اب اللہ اور رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا۔ پھر تم اس کی طرف پلاٹائے جاؤگے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو۔ تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو ، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصل مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی۔ یہ تمہارے سامنئ قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ۔ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہر گز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا۔
یہ تو اللہ کی جانب سے اطلاعات تھیں جو اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو دیں کہ مدینہ واپسی پر پیچھے رہنے والے کیا کیا عذرات پیش کریں گے۔ یہاں بتا دیا گیا ہے۔ کہ جب آ صحیح وسالم واپس ہوں گے تو آپ رہ جانے والے کے ساتھ یہ اور یہ سلوک کریں۔
۔۔۔۔
اس کے بعد سورت کا حصہ پنجم آتا ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی تشکیل میں کیسے کیسے عناصر موجود ہیں یعنی فتح مکہ سے جنگ تبوک تک کیسے کیسے عناصر اسلامی صفوں میں جمع ہوگئے ہیں ، جیسا کہ ہم نے اس سورت کے اتبدائی تبصرے میں واضح کیا کہ ایک تو وہ لوگ تھے جو سابقین اولین تھے اور جو اسلامی معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی تھے اور انہی لوگوں پر اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیاد تھی لیکن ان کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے گروہ بھی اسلامی صفوں میں جمع ہوگئے تھے۔ اعراب اور بدوی لوگ جن میں مخلصین بھی تے اور مفاد پرست منافقین بھی تھے۔ اہل مدینہ میں بھی منافقین کا ایک بڑا طبقہ موجود تھا۔ کچھ ایسے لوگ تھے کہ جن کے بعض اعمال اچھے تھے اور بعض باتیں خلاف شریعت تھیں۔ اور ابھی یہ لوگ اچھی طرح اسلامی سانچے میں نہ ڈھلے تھے اور نہ پوری طرح اسلامی رنگ میں رنگے گئے تے اور کچھ ایسے لوگ تھے جن کے بارے میں کچھ نہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد تھا۔ بعض ایسے سازشی تھے جو اسلام کے نام کے پردے میں سب کچھ کرتے تھے ، سازش تیار کرتے تھے۔ بیرونی دشمنان اسلام سے بھی ان کا رابطہ تھا۔ قرآنی آیات نے بڑے اختصار کے ساتھ ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان سب اور مختلف الاقسام لوگوں کے ساتھ اسلامی نظام حکومت میں کس طرح کا سلوک کیا جائے گا۔ اللہ نے اس حصے میں رسول اللہ اور مخلص مسلمانوں کو ہدایات دی ہیں کہ انہوں نے ان طبقات کے ساتھ کیا اور کس طرح معاملہ کرنا ہے۔ چند آیات ملاحظہ فرمائیں :
الأعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (97) وَمِنَ الأعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (98) وَمِنَ الأعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ أَلا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَهُمْ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (99)
یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملے میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو الہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے۔ ان بدویوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی چٹی سمجھتے ہیں۔ اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشوں کا انتظار کر رہے ہیں حالانکہ بدی کا چکر خود ان پر مسلط ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرب کا اور رسول کی طرف سے رحمت کی دعا لینے کا ذریعہ بتاتے ہیں۔ ہاں وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
وَالسَّابِقُونَ الأوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (100): وہ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔
وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الأعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ (101): تمہارے گردوپیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں۔ اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دہری سزا دیں گے۔ پھر وہ دوبارہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (102) خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (103): " اور کچھ اور لوگ ہی جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کرلیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے ، کچھ نیک ہے اور کچھ بد۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور انہیں بڑھاؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمہاری دعا ان کے لیے وجہ تسکین ہوگی ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے "
وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لأمْرِ اللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (106): " کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ بھی خدا کے حکم پر ٹھہرا ہوا ہے ، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے تو ان پر از سر نو مہربان ہوجائے۔ اللہ سب کچھ جانتا اور حکیم و دانا ہے۔
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلا الْحُسْنَى وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ (107) لا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ (108): " کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں ، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں ، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں ، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہوچکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔ تم ہرگز اس عمار میں کھڑے نہ ہونا۔ جو مسجد اول روز سے تقوی پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہیں پسند ہیں "۔ تشریح آیات کے وقت ہم تفصیلات بتائیں گے کہ ان گروہوں سے کون کون لوگ مراد ہیں :
اس سورت کے آخری اور چھٹے حصے میں اسلام کے نظریہ بیعت جہاد فی سبیل اللہ کی نوعیت بتائی گئی ہے۔ اس جہاد کی حقیقت اور اس کے حدود و کیفیات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ اہل مدینہ ، مدینہ کے ارد گرد بدوی آبادی کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ذہناً اور عملاً ہر لحاظ سے اہل کفر سے دور کرلیں۔ اور اپنے تمام روابط اسلامی نظریہ حیات کے عقیدے پر استوار کریں اور دوسرے تمام روابط کاٹ دیں۔ خون اور قرابت کے رشتوں کو نظر انداز کر دین۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ جو لوگ سازشی نہ تھے اور نہ منافق تھے مگر دوسری وجوہات سے وہ اس غزوہ میں میں شریک نہ ہوئے تھے ان کا انجام کیا ہوگا۔ منافقین کے بعض خدوخال بھی بیان کیے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا رویہ احکام الہیہ کے ساتھ کیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (111): " حققت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال ، جنت کے بدلے خرید لیے ہیں ، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے مرتے ہیں۔ ان سے اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراتۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو ؟ بس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے ، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے "
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لأوَّاهٌ حَلِيمٌ (114): " نبی اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، جبکہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں۔ ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا۔ مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگیا۔ حق یہ ہے کہ ابراہیم بڑا رقیق القلب ، خدا ترس اور بردبار آدمی تھا "
لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (117) وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (118): " اللہ نے معاف کردیا نبی کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا تھا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچکے تھے مگر اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ بیشک اس کا معاملہ اس کے شفقت و مہربانی کا ہے۔ اور ان تینوں کو بھی اس نے معاف کردیا تھا جن کے معاملے کو ملتوی کردیا تھا۔ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں ، یقینا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے "
مَا كَانَ لأهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الأعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلا نَصَبٌ وَلا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلا إِلا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (120) وَلا يُنْفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً وَلا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (121) وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (122): " مدینہ کے باشندوں اور گردونواح کے بدویوں کے لیے یہ ہرگز زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بےپروا ہو کر اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے۔ اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک ، پیاس ، اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں اور کسی دشمن سے کوئی انتقام وہ لیں اور ان کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے۔ یقینا اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے۔ اس طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ تھوڑا یا بہت کوئی خرچ وہ اٹھائیں اور کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تاکہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے۔ اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ پرہیز کریں "
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (123): " اے لوگو جو ایمان لاے ہو ، جنگ کرو ان منکرین حق سے جو تم سے قریب ہیں۔ اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں اور جان لو کہ اللہ متقوں کے ساتھ ہے "
وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ نَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُمْ مِنْ أَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَفْقَهُونَ (127): " جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے۔ پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں "
اس سورت کا خاتمہ حضور ﷺ کی تعریف پر ہوتا ہے اور آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ صرف اپنے رب پر بھروسہ کریں اور اسی کی طرف متوجہ ہوں۔
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (128) فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (129): " دیکھو تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے ، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے ، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے۔ ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق و رحیم ہے۔ اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبی ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ بس کرتا ہے ، کوئی معبود نہیں مگر وہ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا " اب اس مختصر تشریح کے بعد ہم آیات کی تفصیلی تشریح کی طرف آتے ہیں۔
درس نمبر 92 تشریح آیات
93 ۔۔۔ تا۔۔۔ 96:
ضعیفوں ، مریضوں اور فقیروں سے کوئی مواخذہ نہیں ہے اور نہ ان کو دل میں اپنی کوتاہی کا احساس کرنا چاہیے۔ وہ لوگ جن کے پاس زاد سفر اور سواری کے لی کچھ نہیں ، حضور اکرم یا اسلامی حکومت بھی اس کو ضروریات مہیا نہیں کرسکتی تاکہ وہ میدان جنگ تک پہنچ سکیں۔ یہ مواخذہ ان لوگوں سے ہے اور وہ لوگ قابل مواخذہ ہیں جو حضور سے چھٹیاں لیتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں ، تنومند و توانا ہیں اور ان کے پاس کوئی حقیقی عذر نہیں ہے۔ یہ لوگ سخت قابل مواخذہ ہیں کیونکہ انہوں نے قدرت شرکت جہاد کے باوجود پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ بیٹھنا پسند کیا ، گھروں میں عیش کرتے رہے۔
ان لوگوں سے مواخذہ کیوں ہورہا ہے ، اس لیے کہ یہ لشکر اسلام سے پیچھے رہ گئے ، اس لیے کہ انہوں نے جھوٹے عذرات کی بنا پر چھٹی لی۔ انہوں نے عہد شکنی کی ، ان کو اللہ نے غنی بنایا لیکن انہوں نے حق نہ ادا کیا ، ان کو اللہ نے اسلامی نظام سے نوازا لیکن انہوں نے اسلامی نظام کا حق ادا نہ کیا ، کیونکہ اسلام نے ان کو تحفیظ دیا اور عزت بخشی اور انہوں نے اس سوسائٹی کا حق نہ ادا کیا حالانکہ اس سوسائٹی نے بھی انہیں عزت بخشی تھی اور مکرم بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ قابل شرم فرقہ استعمال کیا :
رضوا بان یکونوا مع الخوالف " انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا " جو پرلے درجے پست ہمتی ہے ، کمزوری ہے ، اور اس ذلت آمیز پوزیشن کو قبول کرنا ہے کہ ہمت و مردانگی کے مقام پر کوئی عاجزوں ، عرورتوں ، بچوں کے ساتھ بغیر عذر کے بیٹھ جائے اور گھروں میں رہ جائے اور ناحق معذوروں کے زمرے میں شامل ہوجائے اور واضح طور پر نظر آ رہا ہو کہ وہ معذور نہ ہو۔
و طبع اللہ علی قلوبھم فھم لا یعلمون : " اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی اس روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے "
یہ پوزیشن انہوں نے اس لیے اختیار کی اللہ نے علم و شعور کے دروازے ان پر بند کردئیے۔ اور ان کے فہم و ادراک کے ادوات معطل کردئیے گئے کیونکہ انہوں نے خود اپنے لیے بلادت ، کم ذہنی اور ذلت کو پسند کیا اور اپنے آپ کو زندہ اور متحرک اور فعال ہونے سے محروم کیا اور ان کے اندر آگے بڑھنے ، جرات کرنے اور جارح ہونے کا جذبہ ہی نہ رہا۔ دنیا میں جو انسان بھی عافیت کوش ہوجائے ، آرام طلب ہوجائے اور کند ذہن بن جائے تو وہ ذوق اکتشاف ، ذوق تجربہ اور ذسوق علم سے محروم ہوجاتا ہے اور اپنی سوسائٹی میں ایک عضو معطل کی طرح بن جاتا ہے جو نہ کسی کو متاثر کرسکتا ہے اور نہ اچھا اثر کسی اور سے قبول کرسکتا ہے اور اظہار ذات سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔
عیش و عشرت اور سلامت کوشی ایک ایسی بیماری ہے جو انسان پر شعور و آگہی کے دروازے بند کردیتی ہے۔ اور انسای فہم و ادراک کی قوت مرجاتی ہے جبکہ حرکت اور اگے بڑھنا زندگی کی دلیل ہے ، حرکت زندگی کا سبب اول ہے ، اور مشکلات کو چیلنج کرنے سے نفس انسانی اور عقل انسانی کے چند گوشے اجاگر ہوجاتے ہیں۔ انسان کے اعصاب قوی ہوجاتے ہیں اور وہ خفیہ قوتیں سامنے آجاتی ہیں جو ہمیشہ خطرات کے وقت وجود میں آ کر مدافعت کرتی ہیں۔ اور انسانی قوتوں کو عمل اور کسی پکار پر لبیک کہنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ یہ سب گوشے علم اور ادراک کے مختلف پہلو ہیں اور ان سے وہ لوگ محروم ہوجاتے ہیں جو ذلت اور سلامتی اختیار کرلیتے ہیں اور عافیت کوش ہوجاتے ہیں۔ ہر شخص عافیت کا طلبگار ہوتا ہے لیکن ذلت آمیز عافیت ہے ، باوقار عافیت نہیں ہے۔
انہی مالداروں اور جہاد پر قدرت رکھنے والوں کے امور پر بحث جاری ہے جنہوں نے عورتوں کے سامنے رہنے کو پسند کیا کہ عیش کوشی ، دوں ہمتی ، پست ہمتی اور مشکلات سے فرار کے علاوہ یہ کس قدر ذلیل ہیں اور کہتے کیا ہیں : یعتذرون الیکم اذا رجعتم " تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچوگے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے " یہ اللہ کی جانب سے رسول اللہ کو پیشگی کے طور پر بتایا جا رہا ہے اور مخلصین اہل ایمان کو متنبہ یا جا رہا ہے کہ جب تم اس مہم سے واپس لوٹو گے تو تمہارے ساتھ ان کا طرز عمل کیا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات مدینہ کو پہنچنے سے پہلے دوران سفر یا اس سے بھی پہلے نازل ہوگئی تھیں۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ تمہارے پہنچتے ہی عذرات پیش کرنا شروع کردیں گے۔ کیونکہ وہ محسوس کریں گے کہ ان کی یہ حرکت ایک ننگا نفاق ہے۔ اور ان کی اس حرکت کے اسباب بھی واضح تھے کہ ان کا ایمان ضعیف تھا۔ انہوں نے عافیت کوشی کی ، اور مشکلات جہاد سے گھبرا گئے۔
قل لا تعتذروا لن نومن لکم قد نبانا اللہ من اخبارکم " مگر تم صاف کہہ دینا کہ بہانے نہ کرو ، ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دئیے ہیں "
تم جس قدر بھی عذرات پیش کرو ، ہم تمہارے بارے میں اب مطمئن نہیں ہوسکتے۔ ہم تمہاری تصدیق نہیں کرسکتے ، اب تمہارے ساتھ وہ معاملہ جاری نہیں رہ سکتا ، جو ہم منافقین کے ساتھ اس سے قبل ان کے ظاہری اسلام کے مطابق رکھ رہے تھے۔ کیونکہ اللہ نے اپنی مہربانی سے تمہارے حالات ہم پر منکشف کردئیے ہیں۔ تمہارے دلوں میں جو گندگی بھری ہوئی ہے اس کا بھی اللہ نے انکشاف کردیا ہے اور تمہارے اعمال کے پیچھے جو جذبہ کام کر رہا ہے۔ وہ بھی اب واضح ہوگیا ہے۔ اللہ نے تو تمہارے سب حالات طشت از بام کردئیے ہیں۔ اب تم چھپ نہیں سکتے ہو ، چاہ جو رنگ اختیار کرو۔
قرآن کریم نے ان پر اعتبار نہ کرنے ، ان کی جانب سے عدم اطمینان اور ان کے عذرات کو قبول نہ کرنے کا حکم جن الفاظ میں دیا ہے۔
لن نومن لکم " ہم ہرگز اعتبار نہ کریں گے " اس کا ایک خاص مفہوم ہے ، تصدیق ، اعتبار ، اعتماد اور اطمینان کے لیے ایمان کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ دل میں رب پر یقین و اعتماد اور انسانی شعور اس پر مطمئن ہو۔ زبان سے ایمان کا اظہار ہو اور تصدیق و تسلیم اور عقل و ضمیر اس کی تصدیق کر رہی ہو۔ قرآن تعبیرات میں ہمیشہ اس قسم کے اشاراتی مفہوم پائے ہیں۔
اے پیغمبر تم کہہ دو کہ اب عذرات پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب صرف باتوں سے یہ فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ اب ضرورت عمل کی ہے۔ اگر تمہارے اعمال نے تمہارے اقوال کی تصدیق کی تو تب معاملہ بنے گا۔ خالی خولی باتیں اب بیکار ہیں۔
وسیری اللہ عملکم و رسولہ " اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا " اور اللہ کی ذات تو ایسی ہے کہ نہ اس سے بندوں کے اعمال پوشیدہ ہیں اور نہ وہ داعیہ پوشیدہ ہیں جو ان اعمال کی پشت پر ہے۔ اور رسول اللہ تمہاری بات کو تمہارے عمل کے ترازو میں پرکھے گا۔ اب اس اصول کی بنیاد پر اسلامی سوسائٹی تمہارے ساتھ معاملہ کرے گی۔ لیکن یاد رکھو کہ تمہارے تمام معاملات صرف اس دنیا ہی میں طے نہیں ہوجاتے۔ یہاں تو زندگی کا نہایت ہی مختصر حصہ گزرتا ہے۔ حقیقی اور طویل زندگی اور سزا و جزاء تو آنے والے ہیں جہاں ہر بات کا فیصلہ اللہ کے تیار کیے ہوئے ریکارڈ پر ہوگا۔
ثم تردون الی علم الغیب والشہادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون " پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو "
غیب کیا ہے ، وہ جو انسانی ذرائع ادراک سے ورا ہے ، عالم شہادت وہ ہے جس کا انسام علم و ادراک کرسکتا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے اللہ عالم الغیب بھی ہے اور عالم الشہادۃ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اعتبار سے عالم الشہادۃ اور عالم الغیب ہے۔ ان دونوں کا اللہ کو علم ہے ، یہاں جو اللہ نے فرمایا۔
فینبئکم بما کنتم تعملون " وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو " اس میں بظاہر بتانے کی کوئی بات نہیں کیونکہ وہ خود اپنے اعمال کو تو جانتے ہی تھے لیکن اشارہ یہ ہے کہ تمہارے اعمال کی بابت بنسبت تمہارے اللہ کو زیادہ علم ہے۔ ان کی حقیقت وہ تمہیں بتائے گا۔ انسان کے اعمال کے بعض اسباب و علل ایسے بھی ہیں جو خود صاحب عمل پر بھی عیاں نہیں ہوتے۔ اور ان کی نسبت اللہ کا علم انسان سے زیادہ ہوتا ہے۔ پھر انسان کے اعمال کے بعض اثرات اس قدر دور رس ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں خود انسان کو بھی علم نہیں لیکن اللہ کو ان کا علم ہوتا ہے۔ لہذا اصل مقصد یہ ہے کہ اس علم و اطلاع کے نتیجے میں تمہارے اعمال کا حساب و کتاب عمل میں آئے گا۔ اور یہ نہایت ہی سچا حساب و کتاب ہوگا۔ لیکن یہاں جزاء و سزا کا ذکر نہیں صرف یہ بتا کر آیت خاموش ہوگئی ہے کہ اللہ تم کو اصل صورت حالات بتا دے گا۔
سَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭفَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭاِنَّھُمْ رِجْسٌ ۡ وَّمَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۚجَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ : " تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو۔ تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو ، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی "
یہ دوسری پیشگی اطلاع ہے جو اللہ اپنے رسول کو دے رہا ہے کہ جب تم اور تمہارے ساتھی مخلص مومنین صحیح و سلامت مدینہ لوٹوگے جبکہ منافقین کو سوفیصدی یقین تھا کہ رومیوں کے ساتھ مڈبھیڑ کے بعد ان میں سے ایک بھی واپس نہ ہوگا۔
تو اللہ رسول اللہ کو اطلاع کرتے ہٰں کہ یہ لوگ اپنے عذرات کو موکد بنانے کے لی بیان حلفی دیں گے تاکہ مسلمان ان کے ان برے کرتوتوں سے صرف نظر کرلیں۔ اس طرح عفو و درگزر کے نتیجے میں یہ لوگ محاسبے سے بچ جائیں اور ان معاملات سے چشم پوش ہوجائے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ عملاً تو ان سے منہ موڑ لو ، لیکن معافی اور درگزر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور ان سے دور رہو ، جس طرح گندگی سے ایک آدمی دور رہتا ہے اور اپنے آپ کو بچاتا ہے۔
فاعرضوا عنہم انھم رجس " ان سے صرف نظر ہی کرو کیونکہ یہ گندگی ہیں " یعنی یہ لوگ بذات خود ہی مجسم گندگی ہیں ، اگرچہ ان کا جثہ عطر بیز ہے ، گندہ اور بدبو دار نہیں ہے لیکن ان کی حقیقت اور ان کے اعمال اور ان کی روح گندی ہے لیکن ان کے جسم کو گندگی کہہ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ لوگ قابل نفرت ہیں اور حقیر ہیں اور ان سے دور رہنا ہی عین فطرت ہے۔
وہ تحریک جو اسلامی انقلاب کے لیے قائم کی گئی ہو ، اس کے وہ کارکن جو جہاد اور قتال اور عملی جدوجہد سے محض اس لیے اپنے آپ کو دور رکھیں کہ وہ کہیں ہلاک نہ ہوجائیں تو یہ لوگ گندگی ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس گندگی نے ان کی روح کو گھیر رکھا ہے۔ ان کا شعور اور ان کے تصورات گندے ہیں جس طرح ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندہ کردیتی ہے ، یہی ان کی مثال ہے۔
وماواھم جھنم جزاء بما کانوا یکسبون " ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی " وہ یہ سمجھتے تھے کہ پیچھے رہ کر وہ کمائی کر رہے ہیں اور فائدے میں ہیں اور آرام اور سلامتی اور عافیت میں ہیں اور وہ مالی تاوان سے بھی بچ گئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں وہ گندگی ہیں اور آخرت میں جو صلہ ان کو ملے گا وہ حسرت ناک ہوگا کیونکہ یہ بہر رنگ و بہر قدر خسارہ ہوگا۔ یہ ہے بات اللہ کی اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ سچا ہوسکتا ہے۔
تمہاری واپسی پر ان بیٹھنے والوں کا طرز عمل کیا ہوگا ؟
یحلفون لکم لرضوا عنہم فان ترضوا عنہم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین " یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ رہ گز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا "
ان کی اسکیم یہ ہے کہ پہلے تو یہ لوگ یہ چاہیں گے کہ مسلمان ان کے اس جرم کو معاف کرکے درگزر کردیں اور اس کے بعد یہ کوشش کریں گے یہ مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرلیں تاکہ مسلمان ان کے ساتھ اسلامی سوسائٹی میں وہی معاملہ جاری رکھیں جو ان کی ظاہر داری پر اس سے قبل تھا۔ اور یہ لوگ ان امکانات کی زد سے بچ جائیں جو اس سورت میں مسلمانوں کو دیے گئے ہیں کہ کفار اور منافقین دونوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور اس طرح سکھوں اور غیر مسلموں کے باہم تعلقات کے لیے یہ آخرت شکل طے کردی گئی یعنی منافقین کو غیر مسلموں میں شامل کردیا گیا۔
لیکن یہاں یہ تصریح کردی گئی کہ یہ لوگ اس جہاد سے پیچھے رہ کر فاسق ہوچکے ہیں اور اللہ ایسے فاسقوں سے کبھی راضی نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ چند بار قسمیں کھائیں اور مسلمانوں کو راضی کرنے کی سعی کریں۔ پس ان کے بارے میں اللہ کا حکم ہی صحیح حکم ہے اور بشمولیت مسلمین اگر تمام دنیا بھی ان سے راضی ہوجائے تو اللہ کے نزدیک ایک کوڑی کے برابر بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگی۔ اللہ و رسول اللہ اور مسلمانوں کو راضی کرنے کی واحد سبیل ہے کہ یہ لوگ اس فسق سے ہٹ کر اور تائب ہوکر عمل جہاد میں شرکت کریں اور دین اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے بغیر عذر کے جہاد سے پیچے رہنے والوں کی حقیقت کو طشت از بام کردیا۔ اور جماعت مسلمہ سے ان کو دور کردیا اور مسلمانوں اور منافقوں کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی فیصلہ کردیا جس طرح اس سے قبل مسلمانوں اور مشرکین کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی فیصلہ کردیا جس طرح اس سے قبل مسلمانوں اور مشرکین کے باہم تعلق کی ضابطہ بندی کی گئی تھی یا مسلمانوں اور اہل کتاب کے باہم تعلقات کو منضبط کیا گیا تھا اور اس موضوع پر یہ آخری اور فائنل احکام تھے۔
التوبة 9:94
آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔
پارہ 11 ایک نظر میں
یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت کے تعین کے حوالے سے اس سورت کی اہمیت کیا ہے اور اس سوت سے اسلامی نظام کے قیام کے لیے جو تحریکی منہاج انقلاب سمجھ میں آتا ہے وہ کیا ہے۔ لہذا ان اہم فقرات کا یہاں دہرانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔
" یہ مدنی سورت ہے اور نزول قرآن کی آخری جھلکیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اسے آخری قرآن نہیں کہہ سکتے۔ آخری جھلکیاں اس لیے کہ اس میں امت مسلمہ اور دوسری اقوام عالم کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے ضوابط کو آخری شکل دی گئی ہے۔ نیز اس کے اندر خود اسلامی سوسائٹی کی تشکیل اس کی اقدار کا تعین ، اس میں مختلف طبقات کی قدروقیمت کا تعین اور مجموعی طور پر اس میں کسی اسلامی معاشرے کے بنیادی خدوخال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اپئے جانے والے تمام طبقات اور ان کے اوصاف کی بڑی گہری تصویر کشی کی گئی ہے۔
اس زاویہ سے یہ سورت توبہ بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں اسلامی نظام کے قیام کے منہاج کے تحریکی عمل کے کدوخال کو اور اس کے تمام مراحل کو بڑی تفصیل کے ساتھ متعین طور پر بیان کیا گیا ہے اس سلسلے میں اس موضوع پر اس سورت میں آخری اور فائنل احکام دیے گئے ہیں۔ اس جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منہاج کس قدر ٹھوس ہے اور کس قدر فیصلہ کن ہے۔ اس جائز کے بغیر احکام شریعت و قواعد شریعت کی اصل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اگر اس مجموعی جائزے کے بغیر آیات کو اپنے سیاق وسباق سے علیحدہ کرکے دیکھا جائے تو عبوری دور کے لیے جو احکام نازل ہوئے تھے وہ دائمی اور فائنل احکام نظر آئیں گے۔ اور پھر جو شخص چاہے ان آخری آیات و ہدایات کی تاویل کرکے بھی انہیں عبوری دور کے لیے آنے والے احکام کے تابع اور مطابق کردے۔ خصوصاً جہاد اسلامی موضوع رپ اس قسم کی مساعی عملاً بھی کی گئیں اور اسلامی معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں کے باہم تعلقات کے سلسلے میں بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا۔
اس سورت کے تعارف میں ہم نے یہ بات بتائی تھی کہ باوجود اس کے کہ اس سورت کا موضوع ایک ہے اور وہ ایک جیسے حالات میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے کوئی حصے ہیں اور ہر حصے میں آخری اور فائنل احکام بیان کیے گئے ہیں۔
اس کے پہلے حصے میں کسی مسلم معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں اور حکومتوں کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں ان لوگوں کے حالات پر تبصرہ ہے جنہیں غزوہ تبوک میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی اور سستی کی تھی۔ یہ غزوہ ان اہل کتاب کے خلاف تھا جزیرۃ العرب کے مغربی کنارے پر بستے تھے اور جو اس نئی اسلامی مملکت پر فیصلہ کن وار کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ، چوتھے حصے میں اسلامی معازشرے میں رہنے والے منافقین کی سازشوں اور کرتوتوں کو بےنقاب کیا گیا تھا۔ ان کی نفسیات اور عملی کیفیات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ نیز غزوہ تبوک سے قبل اس غزوے کے دوران اور اس کے بعد ان کے رویے کو قلم بند کرکے ان کی اصل نیتوں ، حیلہ سازیوں اور ان عذرات لنگ کی نقاب کشائی کی گئی جو وہ غزوہ تبوک کی عدم شمولیت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔ نیز یہ لوگ اسلامی صفوں میں جو فتنے پھیلاتے تھے۔ فساد برپا کرتے تھے ، جو انتشار پھیلاتے تھے اور حضور اور مخلص مومنین کے لیے جس اذیت کا باعث بنے ہوئے تھے۔ یہ تمام حالات اس میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مومنین کو ان کے رویے سے متنبہ بھی کیا گیا اور مومنین اور منافقین کے درمیان سماجی تعلقات کی نوعیت کو بھی متعین کیا گیا اور بتایا گیا کہ ان کے ساتھ سماجی بائیکاٹ ہونا چاہیے تاکہ ہر طقہ اپنی صفات کی وجہ سے متمیز ہوجائے۔
…
یہ چار حصے اپنے مضامین کے ساتھ پارہ دہم میں گزر چکے ہیں۔ البتہ آخری حصے کے کچھ مضامین جو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے متعلق ہیں اور جہاد سے پیچھے رہنے والوں کی سزا اور ان کے انجام کے بارے میں اس حصے میں آگئے ہیں۔
دسویں پارے کی آخری آیت یہ تھی۔
لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ۠ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ ۔ ضعیف ور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے زاد راہ نہیں پاتے ، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جب کہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں۔ ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود اگر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں ، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتطام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے۔
اور وہ تکملہ جس سے اس پارے کا آغاز ہوتا ہے ، وہ یہ ہے :
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لا يَعْلَمُونَ (93) يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (94) سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (95) يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ (96): البتہ اعتراض ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواستیں کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھا جائے۔ انہوں نے گھر بیٹھنے والوں میں رہنا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے۔ تم پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے مگر تم صاف کہہ دینا کہ بہانے نہ کرو ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دئیے۔ اب اللہ اور رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا۔ پھر تم اس کی طرف پلاٹائے جاؤگے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو۔ تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو ، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصل مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی۔ یہ تمہارے سامنئ قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ۔ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہر گز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا۔
یہ تو اللہ کی جانب سے اطلاعات تھیں جو اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو دیں کہ مدینہ واپسی پر پیچھے رہنے والے کیا کیا عذرات پیش کریں گے۔ یہاں بتا دیا گیا ہے۔ کہ جب آ صحیح وسالم واپس ہوں گے تو آپ رہ جانے والے کے ساتھ یہ اور یہ سلوک کریں۔
۔۔۔۔
اس کے بعد سورت کا حصہ پنجم آتا ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی تشکیل میں کیسے کیسے عناصر موجود ہیں یعنی فتح مکہ سے جنگ تبوک تک کیسے کیسے عناصر اسلامی صفوں میں جمع ہوگئے ہیں ، جیسا کہ ہم نے اس سورت کے اتبدائی تبصرے میں واضح کیا کہ ایک تو وہ لوگ تھے جو سابقین اولین تھے اور جو اسلامی معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی تھے اور انہی لوگوں پر اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیاد تھی لیکن ان کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے گروہ بھی اسلامی صفوں میں جمع ہوگئے تھے۔ اعراب اور بدوی لوگ جن میں مخلصین بھی تے اور مفاد پرست منافقین بھی تھے۔ اہل مدینہ میں بھی منافقین کا ایک بڑا طبقہ موجود تھا۔ کچھ ایسے لوگ تھے کہ جن کے بعض اعمال اچھے تھے اور بعض باتیں خلاف شریعت تھیں۔ اور ابھی یہ لوگ اچھی طرح اسلامی سانچے میں نہ ڈھلے تھے اور نہ پوری طرح اسلامی رنگ میں رنگے گئے تے اور کچھ ایسے لوگ تھے جن کے بارے میں کچھ نہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد تھا۔ بعض ایسے سازشی تھے جو اسلام کے نام کے پردے میں سب کچھ کرتے تھے ، سازش تیار کرتے تھے۔ بیرونی دشمنان اسلام سے بھی ان کا رابطہ تھا۔ قرآنی آیات نے بڑے اختصار کے ساتھ ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان سب اور مختلف الاقسام لوگوں کے ساتھ اسلامی نظام حکومت میں کس طرح کا سلوک کیا جائے گا۔ اللہ نے اس حصے میں رسول اللہ اور مخلص مسلمانوں کو ہدایات دی ہیں کہ انہوں نے ان طبقات کے ساتھ کیا اور کس طرح معاملہ کرنا ہے۔ چند آیات ملاحظہ فرمائیں :
الأعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (97) وَمِنَ الأعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (98) وَمِنَ الأعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ أَلا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَهُمْ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (99)
یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملے میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو الہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے۔ ان بدویوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی چٹی سمجھتے ہیں۔ اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشوں کا انتظار کر رہے ہیں حالانکہ بدی کا چکر خود ان پر مسلط ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرب کا اور رسول کی طرف سے رحمت کی دعا لینے کا ذریعہ بتاتے ہیں۔ ہاں وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
وَالسَّابِقُونَ الأوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (100): وہ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔
وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الأعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ (101): تمہارے گردوپیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں۔ اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دہری سزا دیں گے۔ پھر وہ دوبارہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (102) خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (103): " اور کچھ اور لوگ ہی جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کرلیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے ، کچھ نیک ہے اور کچھ بد۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور انہیں بڑھاؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمہاری دعا ان کے لیے وجہ تسکین ہوگی ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے "
وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لأمْرِ اللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (106): " کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ بھی خدا کے حکم پر ٹھہرا ہوا ہے ، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے تو ان پر از سر نو مہربان ہوجائے۔ اللہ سب کچھ جانتا اور حکیم و دانا ہے۔
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلا الْحُسْنَى وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ (107) لا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ (108): " کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں ، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں ، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں ، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہوچکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔ تم ہرگز اس عمار میں کھڑے نہ ہونا۔ جو مسجد اول روز سے تقوی پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہیں پسند ہیں "۔ تشریح آیات کے وقت ہم تفصیلات بتائیں گے کہ ان گروہوں سے کون کون لوگ مراد ہیں :
اس سورت کے آخری اور چھٹے حصے میں اسلام کے نظریہ بیعت جہاد فی سبیل اللہ کی نوعیت بتائی گئی ہے۔ اس جہاد کی حقیقت اور اس کے حدود و کیفیات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ اہل مدینہ ، مدینہ کے ارد گرد بدوی آبادی کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ذہناً اور عملاً ہر لحاظ سے اہل کفر سے دور کرلیں۔ اور اپنے تمام روابط اسلامی نظریہ حیات کے عقیدے پر استوار کریں اور دوسرے تمام روابط کاٹ دیں۔ خون اور قرابت کے رشتوں کو نظر انداز کر دین۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ جو لوگ سازشی نہ تھے اور نہ منافق تھے مگر دوسری وجوہات سے وہ اس غزوہ میں میں شریک نہ ہوئے تھے ان کا انجام کیا ہوگا۔ منافقین کے بعض خدوخال بھی بیان کیے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا رویہ احکام الہیہ کے ساتھ کیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (111): " حققت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال ، جنت کے بدلے خرید لیے ہیں ، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے مرتے ہیں۔ ان سے اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراتۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو ؟ بس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے ، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے "
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لأوَّاهٌ حَلِيمٌ (114): " نبی اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، جبکہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں۔ ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا۔ مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگیا۔ حق یہ ہے کہ ابراہیم بڑا رقیق القلب ، خدا ترس اور بردبار آدمی تھا "
لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (117) وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (118): " اللہ نے معاف کردیا نبی کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا تھا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچکے تھے مگر اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ بیشک اس کا معاملہ اس کے شفقت و مہربانی کا ہے۔ اور ان تینوں کو بھی اس نے معاف کردیا تھا جن کے معاملے کو ملتوی کردیا تھا۔ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں ، یقینا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے "
مَا كَانَ لأهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الأعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلا نَصَبٌ وَلا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلا إِلا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (120) وَلا يُنْفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً وَلا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (121) وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (122): " مدینہ کے باشندوں اور گردونواح کے بدویوں کے لیے یہ ہرگز زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بےپروا ہو کر اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے۔ اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک ، پیاس ، اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں اور کسی دشمن سے کوئی انتقام وہ لیں اور ان کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے۔ یقینا اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے۔ اس طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ تھوڑا یا بہت کوئی خرچ وہ اٹھائیں اور کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تاکہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے۔ اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ پرہیز کریں "
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (123): " اے لوگو جو ایمان لاے ہو ، جنگ کرو ان منکرین حق سے جو تم سے قریب ہیں۔ اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں اور جان لو کہ اللہ متقوں کے ساتھ ہے "
وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ نَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُمْ مِنْ أَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَفْقَهُونَ (127): " جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے۔ پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں "
اس سورت کا خاتمہ حضور ﷺ کی تعریف پر ہوتا ہے اور آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ صرف اپنے رب پر بھروسہ کریں اور اسی کی طرف متوجہ ہوں۔
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (128) فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (129): " دیکھو تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے ، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے ، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے۔ ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق و رحیم ہے۔ اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبی ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ بس کرتا ہے ، کوئی معبود نہیں مگر وہ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا " اب اس مختصر تشریح کے بعد ہم آیات کی تفصیلی تشریح کی طرف آتے ہیں۔
درس نمبر 92 تشریح آیات
93 ۔۔۔ تا۔۔۔ 96:
ضعیفوں ، مریضوں اور فقیروں سے کوئی مواخذہ نہیں ہے اور نہ ان کو دل میں اپنی کوتاہی کا احساس کرنا چاہیے۔ وہ لوگ جن کے پاس زاد سفر اور سواری کے لی کچھ نہیں ، حضور اکرم یا اسلامی حکومت بھی اس کو ضروریات مہیا نہیں کرسکتی تاکہ وہ میدان جنگ تک پہنچ سکیں۔ یہ مواخذہ ان لوگوں سے ہے اور وہ لوگ قابل مواخذہ ہیں جو حضور سے چھٹیاں لیتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں ، تنومند و توانا ہیں اور ان کے پاس کوئی حقیقی عذر نہیں ہے۔ یہ لوگ سخت قابل مواخذہ ہیں کیونکہ انہوں نے قدرت شرکت جہاد کے باوجود پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ بیٹھنا پسند کیا ، گھروں میں عیش کرتے رہے۔
ان لوگوں سے مواخذہ کیوں ہورہا ہے ، اس لیے کہ یہ لشکر اسلام سے پیچھے رہ گئے ، اس لیے کہ انہوں نے جھوٹے عذرات کی بنا پر چھٹی لی۔ انہوں نے عہد شکنی کی ، ان کو اللہ نے غنی بنایا لیکن انہوں نے حق نہ ادا کیا ، ان کو اللہ نے اسلامی نظام سے نوازا لیکن انہوں نے اسلامی نظام کا حق ادا نہ کیا ، کیونکہ اسلام نے ان کو تحفیظ دیا اور عزت بخشی اور انہوں نے اس سوسائٹی کا حق نہ ادا کیا حالانکہ اس سوسائٹی نے بھی انہیں عزت بخشی تھی اور مکرم بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ قابل شرم فرقہ استعمال کیا :
رضوا بان یکونوا مع الخوالف " انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا " جو پرلے درجے پست ہمتی ہے ، کمزوری ہے ، اور اس ذلت آمیز پوزیشن کو قبول کرنا ہے کہ ہمت و مردانگی کے مقام پر کوئی عاجزوں ، عرورتوں ، بچوں کے ساتھ بغیر عذر کے بیٹھ جائے اور گھروں میں رہ جائے اور ناحق معذوروں کے زمرے میں شامل ہوجائے اور واضح طور پر نظر آ رہا ہو کہ وہ معذور نہ ہو۔
و طبع اللہ علی قلوبھم فھم لا یعلمون : " اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی اس روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے "
یہ پوزیشن انہوں نے اس لیے اختیار کی اللہ نے علم و شعور کے دروازے ان پر بند کردئیے۔ اور ان کے فہم و ادراک کے ادوات معطل کردئیے گئے کیونکہ انہوں نے خود اپنے لیے بلادت ، کم ذہنی اور ذلت کو پسند کیا اور اپنے آپ کو زندہ اور متحرک اور فعال ہونے سے محروم کیا اور ان کے اندر آگے بڑھنے ، جرات کرنے اور جارح ہونے کا جذبہ ہی نہ رہا۔ دنیا میں جو انسان بھی عافیت کوش ہوجائے ، آرام طلب ہوجائے اور کند ذہن بن جائے تو وہ ذوق اکتشاف ، ذوق تجربہ اور ذسوق علم سے محروم ہوجاتا ہے اور اپنی سوسائٹی میں ایک عضو معطل کی طرح بن جاتا ہے جو نہ کسی کو متاثر کرسکتا ہے اور نہ اچھا اثر کسی اور سے قبول کرسکتا ہے اور اظہار ذات سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔
عیش و عشرت اور سلامت کوشی ایک ایسی بیماری ہے جو انسان پر شعور و آگہی کے دروازے بند کردیتی ہے۔ اور انسای فہم و ادراک کی قوت مرجاتی ہے جبکہ حرکت اور اگے بڑھنا زندگی کی دلیل ہے ، حرکت زندگی کا سبب اول ہے ، اور مشکلات کو چیلنج کرنے سے نفس انسانی اور عقل انسانی کے چند گوشے اجاگر ہوجاتے ہیں۔ انسان کے اعصاب قوی ہوجاتے ہیں اور وہ خفیہ قوتیں سامنے آجاتی ہیں جو ہمیشہ خطرات کے وقت وجود میں آ کر مدافعت کرتی ہیں۔ اور انسانی قوتوں کو عمل اور کسی پکار پر لبیک کہنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ یہ سب گوشے علم اور ادراک کے مختلف پہلو ہیں اور ان سے وہ لوگ محروم ہوجاتے ہیں جو ذلت اور سلامتی اختیار کرلیتے ہیں اور عافیت کوش ہوجاتے ہیں۔ ہر شخص عافیت کا طلبگار ہوتا ہے لیکن ذلت آمیز عافیت ہے ، باوقار عافیت نہیں ہے۔
انہی مالداروں اور جہاد پر قدرت رکھنے والوں کے امور پر بحث جاری ہے جنہوں نے عورتوں کے سامنے رہنے کو پسند کیا کہ عیش کوشی ، دوں ہمتی ، پست ہمتی اور مشکلات سے فرار کے علاوہ یہ کس قدر ذلیل ہیں اور کہتے کیا ہیں : یعتذرون الیکم اذا رجعتم " تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچوگے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے " یہ اللہ کی جانب سے رسول اللہ کو پیشگی کے طور پر بتایا جا رہا ہے اور مخلصین اہل ایمان کو متنبہ یا جا رہا ہے کہ جب تم اس مہم سے واپس لوٹو گے تو تمہارے ساتھ ان کا طرز عمل کیا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات مدینہ کو پہنچنے سے پہلے دوران سفر یا اس سے بھی پہلے نازل ہوگئی تھیں۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ تمہارے پہنچتے ہی عذرات پیش کرنا شروع کردیں گے۔ کیونکہ وہ محسوس کریں گے کہ ان کی یہ حرکت ایک ننگا نفاق ہے۔ اور ان کی اس حرکت کے اسباب بھی واضح تھے کہ ان کا ایمان ضعیف تھا۔ انہوں نے عافیت کوشی کی ، اور مشکلات جہاد سے گھبرا گئے۔
قل لا تعتذروا لن نومن لکم قد نبانا اللہ من اخبارکم " مگر تم صاف کہہ دینا کہ بہانے نہ کرو ، ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دئیے ہیں "
تم جس قدر بھی عذرات پیش کرو ، ہم تمہارے بارے میں اب مطمئن نہیں ہوسکتے۔ ہم تمہاری تصدیق نہیں کرسکتے ، اب تمہارے ساتھ وہ معاملہ جاری نہیں رہ سکتا ، جو ہم منافقین کے ساتھ اس سے قبل ان کے ظاہری اسلام کے مطابق رکھ رہے تھے۔ کیونکہ اللہ نے اپنی مہربانی سے تمہارے حالات ہم پر منکشف کردئیے ہیں۔ تمہارے دلوں میں جو گندگی بھری ہوئی ہے اس کا بھی اللہ نے انکشاف کردیا ہے اور تمہارے اعمال کے پیچھے جو جذبہ کام کر رہا ہے۔ وہ بھی اب واضح ہوگیا ہے۔ اللہ نے تو تمہارے سب حالات طشت از بام کردئیے ہیں۔ اب تم چھپ نہیں سکتے ہو ، چاہ جو رنگ اختیار کرو۔
قرآن کریم نے ان پر اعتبار نہ کرنے ، ان کی جانب سے عدم اطمینان اور ان کے عذرات کو قبول نہ کرنے کا حکم جن الفاظ میں دیا ہے۔
لن نومن لکم " ہم ہرگز اعتبار نہ کریں گے " اس کا ایک خاص مفہوم ہے ، تصدیق ، اعتبار ، اعتماد اور اطمینان کے لیے ایمان کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ دل میں رب پر یقین و اعتماد اور انسانی شعور اس پر مطمئن ہو۔ زبان سے ایمان کا اظہار ہو اور تصدیق و تسلیم اور عقل و ضمیر اس کی تصدیق کر رہی ہو۔ قرآن تعبیرات میں ہمیشہ اس قسم کے اشاراتی مفہوم پائے ہیں۔
اے پیغمبر تم کہہ دو کہ اب عذرات پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب صرف باتوں سے یہ فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ اب ضرورت عمل کی ہے۔ اگر تمہارے اعمال نے تمہارے اقوال کی تصدیق کی تو تب معاملہ بنے گا۔ خالی خولی باتیں اب بیکار ہیں۔
وسیری اللہ عملکم و رسولہ " اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا " اور اللہ کی ذات تو ایسی ہے کہ نہ اس سے بندوں کے اعمال پوشیدہ ہیں اور نہ وہ داعیہ پوشیدہ ہیں جو ان اعمال کی پشت پر ہے۔ اور رسول اللہ تمہاری بات کو تمہارے عمل کے ترازو میں پرکھے گا۔ اب اس اصول کی بنیاد پر اسلامی سوسائٹی تمہارے ساتھ معاملہ کرے گی۔ لیکن یاد رکھو کہ تمہارے تمام معاملات صرف اس دنیا ہی میں طے نہیں ہوجاتے۔ یہاں تو زندگی کا نہایت ہی مختصر حصہ گزرتا ہے۔ حقیقی اور طویل زندگی اور سزا و جزاء تو آنے والے ہیں جہاں ہر بات کا فیصلہ اللہ کے تیار کیے ہوئے ریکارڈ پر ہوگا۔
ثم تردون الی علم الغیب والشہادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون " پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو "
غیب کیا ہے ، وہ جو انسانی ذرائع ادراک سے ورا ہے ، عالم شہادت وہ ہے جس کا انسام علم و ادراک کرسکتا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے اللہ عالم الغیب بھی ہے اور عالم الشہادۃ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اعتبار سے عالم الشہادۃ اور عالم الغیب ہے۔ ان دونوں کا اللہ کو علم ہے ، یہاں جو اللہ نے فرمایا۔
فینبئکم بما کنتم تعملون " وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو " اس میں بظاہر بتانے کی کوئی بات نہیں کیونکہ وہ خود اپنے اعمال کو تو جانتے ہی تھے لیکن اشارہ یہ ہے کہ تمہارے اعمال کی بابت بنسبت تمہارے اللہ کو زیادہ علم ہے۔ ان کی حقیقت وہ تمہیں بتائے گا۔ انسان کے اعمال کے بعض اسباب و علل ایسے بھی ہیں جو خود صاحب عمل پر بھی عیاں نہیں ہوتے۔ اور ان کی نسبت اللہ کا علم انسان سے زیادہ ہوتا ہے۔ پھر انسان کے اعمال کے بعض اثرات اس قدر دور رس ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں خود انسان کو بھی علم نہیں لیکن اللہ کو ان کا علم ہوتا ہے۔ لہذا اصل مقصد یہ ہے کہ اس علم و اطلاع کے نتیجے میں تمہارے اعمال کا حساب و کتاب عمل میں آئے گا۔ اور یہ نہایت ہی سچا حساب و کتاب ہوگا۔ لیکن یہاں جزاء و سزا کا ذکر نہیں صرف یہ بتا کر آیت خاموش ہوگئی ہے کہ اللہ تم کو اصل صورت حالات بتا دے گا۔
سَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭفَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭاِنَّھُمْ رِجْسٌ ۡ وَّمَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۚجَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ : " تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو۔ تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو ، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی "
یہ دوسری پیشگی اطلاع ہے جو اللہ اپنے رسول کو دے رہا ہے کہ جب تم اور تمہارے ساتھی مخلص مومنین صحیح و سلامت مدینہ لوٹوگے جبکہ منافقین کو سوفیصدی یقین تھا کہ رومیوں کے ساتھ مڈبھیڑ کے بعد ان میں سے ایک بھی واپس نہ ہوگا۔
تو اللہ رسول اللہ کو اطلاع کرتے ہٰں کہ یہ لوگ اپنے عذرات کو موکد بنانے کے لی بیان حلفی دیں گے تاکہ مسلمان ان کے ان برے کرتوتوں سے صرف نظر کرلیں۔ اس طرح عفو و درگزر کے نتیجے میں یہ لوگ محاسبے سے بچ جائیں اور ان معاملات سے چشم پوش ہوجائے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ عملاً تو ان سے منہ موڑ لو ، لیکن معافی اور درگزر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور ان سے دور رہو ، جس طرح گندگی سے ایک آدمی دور رہتا ہے اور اپنے آپ کو بچاتا ہے۔
فاعرضوا عنہم انھم رجس " ان سے صرف نظر ہی کرو کیونکہ یہ گندگی ہیں " یعنی یہ لوگ بذات خود ہی مجسم گندگی ہیں ، اگرچہ ان کا جثہ عطر بیز ہے ، گندہ اور بدبو دار نہیں ہے لیکن ان کی حقیقت اور ان کے اعمال اور ان کی روح گندی ہے لیکن ان کے جسم کو گندگی کہہ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ لوگ قابل نفرت ہیں اور حقیر ہیں اور ان سے دور رہنا ہی عین فطرت ہے۔
وہ تحریک جو اسلامی انقلاب کے لیے قائم کی گئی ہو ، اس کے وہ کارکن جو جہاد اور قتال اور عملی جدوجہد سے محض اس لیے اپنے آپ کو دور رکھیں کہ وہ کہیں ہلاک نہ ہوجائیں تو یہ لوگ گندگی ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس گندگی نے ان کی روح کو گھیر رکھا ہے۔ ان کا شعور اور ان کے تصورات گندے ہیں جس طرح ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندہ کردیتی ہے ، یہی ان کی مثال ہے۔
وماواھم جھنم جزاء بما کانوا یکسبون " ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی " وہ یہ سمجھتے تھے کہ پیچھے رہ کر وہ کمائی کر رہے ہیں اور فائدے میں ہیں اور آرام اور سلامتی اور عافیت میں ہیں اور وہ مالی تاوان سے بھی بچ گئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں وہ گندگی ہیں اور آخرت میں جو صلہ ان کو ملے گا وہ حسرت ناک ہوگا کیونکہ یہ بہر رنگ و بہر قدر خسارہ ہوگا۔ یہ ہے بات اللہ کی اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ سچا ہوسکتا ہے۔
تمہاری واپسی پر ان بیٹھنے والوں کا طرز عمل کیا ہوگا ؟
یحلفون لکم لرضوا عنہم فان ترضوا عنہم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین " یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ رہ گز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا "
ان کی اسکیم یہ ہے کہ پہلے تو یہ لوگ یہ چاہیں گے کہ مسلمان ان کے اس جرم کو معاف کرکے درگزر کردیں اور اس کے بعد یہ کوشش کریں گے یہ مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرلیں تاکہ مسلمان ان کے ساتھ اسلامی سوسائٹی میں وہی معاملہ جاری رکھیں جو ان کی ظاہر داری پر اس سے قبل تھا۔ اور یہ لوگ ان امکانات کی زد سے بچ جائیں جو اس سورت میں مسلمانوں کو دیے گئے ہیں کہ کفار اور منافقین دونوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور اس طرح سکھوں اور غیر مسلموں کے باہم تعلقات کے لیے یہ آخرت شکل طے کردی گئی یعنی منافقین کو غیر مسلموں میں شامل کردیا گیا۔
لیکن یہاں یہ تصریح کردی گئی کہ یہ لوگ اس جہاد سے پیچھے رہ کر فاسق ہوچکے ہیں اور اللہ ایسے فاسقوں سے کبھی راضی نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ چند بار قسمیں کھائیں اور مسلمانوں کو راضی کرنے کی سعی کریں۔ پس ان کے بارے میں اللہ کا حکم ہی صحیح حکم ہے اور بشمولیت مسلمین اگر تمام دنیا بھی ان سے راضی ہوجائے تو اللہ کے نزدیک ایک کوڑی کے برابر بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگی۔ اللہ و رسول اللہ اور مسلمانوں کو راضی کرنے کی واحد سبیل ہے کہ یہ لوگ اس فسق سے ہٹ کر اور تائب ہوکر عمل جہاد میں شرکت کریں اور دین اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے بغیر عذر کے جہاد سے پیچے رہنے والوں کی حقیقت کو طشت از بام کردیا۔ اور جماعت مسلمہ سے ان کو دور کردیا اور مسلمانوں اور منافقوں کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی فیصلہ کردیا جس طرح اس سے قبل مسلمانوں اور مشرکین کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی فیصلہ کردیا جس طرح اس سے قبل مسلمانوں اور مشرکین کے باہم تعلق کی ضابطہ بندی کی گئی تھی یا مسلمانوں اور اہل کتاب کے باہم تعلقات کو منضبط کیا گیا تھا اور اس موضوع پر یہ آخری اور فائنل احکام تھے۔
التوبة 9:95
آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔
پارہ 11 ایک نظر میں
یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت کے تعین کے حوالے سے اس سورت کی اہمیت کیا ہے اور اس سوت سے اسلامی نظام کے قیام کے لیے جو تحریکی منہاج انقلاب سمجھ میں آتا ہے وہ کیا ہے۔ لہذا ان اہم فقرات کا یہاں دہرانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔
" یہ مدنی سورت ہے اور نزول قرآن کی آخری جھلکیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اسے آخری قرآن نہیں کہہ سکتے۔ آخری جھلکیاں اس لیے کہ اس میں امت مسلمہ اور دوسری اقوام عالم کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے ضوابط کو آخری شکل دی گئی ہے۔ نیز اس کے اندر خود اسلامی سوسائٹی کی تشکیل اس کی اقدار کا تعین ، اس میں مختلف طبقات کی قدروقیمت کا تعین اور مجموعی طور پر اس میں کسی اسلامی معاشرے کے بنیادی خدوخال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اپئے جانے والے تمام طبقات اور ان کے اوصاف کی بڑی گہری تصویر کشی کی گئی ہے۔
اس زاویہ سے یہ سورت توبہ بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں اسلامی نظام کے قیام کے منہاج کے تحریکی عمل کے کدوخال کو اور اس کے تمام مراحل کو بڑی تفصیل کے ساتھ متعین طور پر بیان کیا گیا ہے اس سلسلے میں اس موضوع پر اس سورت میں آخری اور فائنل احکام دیے گئے ہیں۔ اس جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منہاج کس قدر ٹھوس ہے اور کس قدر فیصلہ کن ہے۔ اس جائز کے بغیر احکام شریعت و قواعد شریعت کی اصل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اگر اس مجموعی جائزے کے بغیر آیات کو اپنے سیاق وسباق سے علیحدہ کرکے دیکھا جائے تو عبوری دور کے لیے جو احکام نازل ہوئے تھے وہ دائمی اور فائنل احکام نظر آئیں گے۔ اور پھر جو شخص چاہے ان آخری آیات و ہدایات کی تاویل کرکے بھی انہیں عبوری دور کے لیے آنے والے احکام کے تابع اور مطابق کردے۔ خصوصاً جہاد اسلامی موضوع رپ اس قسم کی مساعی عملاً بھی کی گئیں اور اسلامی معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں کے باہم تعلقات کے سلسلے میں بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا۔
اس سورت کے تعارف میں ہم نے یہ بات بتائی تھی کہ باوجود اس کے کہ اس سورت کا موضوع ایک ہے اور وہ ایک جیسے حالات میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے کوئی حصے ہیں اور ہر حصے میں آخری اور فائنل احکام بیان کیے گئے ہیں۔
اس کے پہلے حصے میں کسی مسلم معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں اور حکومتوں کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں ان لوگوں کے حالات پر تبصرہ ہے جنہیں غزوہ تبوک میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی اور سستی کی تھی۔ یہ غزوہ ان اہل کتاب کے خلاف تھا جزیرۃ العرب کے مغربی کنارے پر بستے تھے اور جو اس نئی اسلامی مملکت پر فیصلہ کن وار کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ، چوتھے حصے میں اسلامی معازشرے میں رہنے والے منافقین کی سازشوں اور کرتوتوں کو بےنقاب کیا گیا تھا۔ ان کی نفسیات اور عملی کیفیات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ نیز غزوہ تبوک سے قبل اس غزوے کے دوران اور اس کے بعد ان کے رویے کو قلم بند کرکے ان کی اصل نیتوں ، حیلہ سازیوں اور ان عذرات لنگ کی نقاب کشائی کی گئی جو وہ غزوہ تبوک کی عدم شمولیت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔ نیز یہ لوگ اسلامی صفوں میں جو فتنے پھیلاتے تھے۔ فساد برپا کرتے تھے ، جو انتشار پھیلاتے تھے اور حضور اور مخلص مومنین کے لیے جس اذیت کا باعث بنے ہوئے تھے۔ یہ تمام حالات اس میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مومنین کو ان کے رویے سے متنبہ بھی کیا گیا اور مومنین اور منافقین کے درمیان سماجی تعلقات کی نوعیت کو بھی متعین کیا گیا اور بتایا گیا کہ ان کے ساتھ سماجی بائیکاٹ ہونا چاہیے تاکہ ہر طقہ اپنی صفات کی وجہ سے متمیز ہوجائے۔
…
یہ چار حصے اپنے مضامین کے ساتھ پارہ دہم میں گزر چکے ہیں۔ البتہ آخری حصے کے کچھ مضامین جو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے متعلق ہیں اور جہاد سے پیچھے رہنے والوں کی سزا اور ان کے انجام کے بارے میں اس حصے میں آگئے ہیں۔
دسویں پارے کی آخری آیت یہ تھی۔
لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ۠ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ ۔ ضعیف ور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے زاد راہ نہیں پاتے ، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جب کہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں۔ ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود اگر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں ، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتطام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے۔
اور وہ تکملہ جس سے اس پارے کا آغاز ہوتا ہے ، وہ یہ ہے :
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لا يَعْلَمُونَ (93) يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (94) سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (95) يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ (96): البتہ اعتراض ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواستیں کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھا جائے۔ انہوں نے گھر بیٹھنے والوں میں رہنا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے۔ تم پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے مگر تم صاف کہہ دینا کہ بہانے نہ کرو ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دئیے۔ اب اللہ اور رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا۔ پھر تم اس کی طرف پلاٹائے جاؤگے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو۔ تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو ، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصل مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی۔ یہ تمہارے سامنئ قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ۔ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہر گز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا۔
یہ تو اللہ کی جانب سے اطلاعات تھیں جو اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو دیں کہ مدینہ واپسی پر پیچھے رہنے والے کیا کیا عذرات پیش کریں گے۔ یہاں بتا دیا گیا ہے۔ کہ جب آ صحیح وسالم واپس ہوں گے تو آپ رہ جانے والے کے ساتھ یہ اور یہ سلوک کریں۔
۔۔۔۔
اس کے بعد سورت کا حصہ پنجم آتا ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی تشکیل میں کیسے کیسے عناصر موجود ہیں یعنی فتح مکہ سے جنگ تبوک تک کیسے کیسے عناصر اسلامی صفوں میں جمع ہوگئے ہیں ، جیسا کہ ہم نے اس سورت کے اتبدائی تبصرے میں واضح کیا کہ ایک تو وہ لوگ تھے جو سابقین اولین تھے اور جو اسلامی معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی تھے اور انہی لوگوں پر اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیاد تھی لیکن ان کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے گروہ بھی اسلامی صفوں میں جمع ہوگئے تھے۔ اعراب اور بدوی لوگ جن میں مخلصین بھی تے اور مفاد پرست منافقین بھی تھے۔ اہل مدینہ میں بھی منافقین کا ایک بڑا طبقہ موجود تھا۔ کچھ ایسے لوگ تھے کہ جن کے بعض اعمال اچھے تھے اور بعض باتیں خلاف شریعت تھیں۔ اور ابھی یہ لوگ اچھی طرح اسلامی سانچے میں نہ ڈھلے تھے اور نہ پوری طرح اسلامی رنگ میں رنگے گئے تے اور کچھ ایسے لوگ تھے جن کے بارے میں کچھ نہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد تھا۔ بعض ایسے سازشی تھے جو اسلام کے نام کے پردے میں سب کچھ کرتے تھے ، سازش تیار کرتے تھے۔ بیرونی دشمنان اسلام سے بھی ان کا رابطہ تھا۔ قرآنی آیات نے بڑے اختصار کے ساتھ ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان سب اور مختلف الاقسام لوگوں کے ساتھ اسلامی نظام حکومت میں کس طرح کا سلوک کیا جائے گا۔ اللہ نے اس حصے میں رسول اللہ اور مخلص مسلمانوں کو ہدایات دی ہیں کہ انہوں نے ان طبقات کے ساتھ کیا اور کس طرح معاملہ کرنا ہے۔ چند آیات ملاحظہ فرمائیں :
الأعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (97) وَمِنَ الأعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (98) وَمِنَ الأعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ أَلا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَهُمْ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (99)
یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملے میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو الہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے۔ ان بدویوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی چٹی سمجھتے ہیں۔ اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشوں کا انتظار کر رہے ہیں حالانکہ بدی کا چکر خود ان پر مسلط ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرب کا اور رسول کی طرف سے رحمت کی دعا لینے کا ذریعہ بتاتے ہیں۔ ہاں وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
وَالسَّابِقُونَ الأوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (100): وہ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔
وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الأعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ (101): تمہارے گردوپیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں۔ اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دہری سزا دیں گے۔ پھر وہ دوبارہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (102) خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (103): " اور کچھ اور لوگ ہی جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کرلیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے ، کچھ نیک ہے اور کچھ بد۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور انہیں بڑھاؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمہاری دعا ان کے لیے وجہ تسکین ہوگی ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے "
وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لأمْرِ اللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (106): " کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ بھی خدا کے حکم پر ٹھہرا ہوا ہے ، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے تو ان پر از سر نو مہربان ہوجائے۔ اللہ سب کچھ جانتا اور حکیم و دانا ہے۔
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلا الْحُسْنَى وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ (107) لا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ (108): " کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں ، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں ، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں ، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہوچکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔ تم ہرگز اس عمار میں کھڑے نہ ہونا۔ جو مسجد اول روز سے تقوی پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہیں پسند ہیں "۔ تشریح آیات کے وقت ہم تفصیلات بتائیں گے کہ ان گروہوں سے کون کون لوگ مراد ہیں :
اس سورت کے آخری اور چھٹے حصے میں اسلام کے نظریہ بیعت جہاد فی سبیل اللہ کی نوعیت بتائی گئی ہے۔ اس جہاد کی حقیقت اور اس کے حدود و کیفیات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ اہل مدینہ ، مدینہ کے ارد گرد بدوی آبادی کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ذہناً اور عملاً ہر لحاظ سے اہل کفر سے دور کرلیں۔ اور اپنے تمام روابط اسلامی نظریہ حیات کے عقیدے پر استوار کریں اور دوسرے تمام روابط کاٹ دیں۔ خون اور قرابت کے رشتوں کو نظر انداز کر دین۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ جو لوگ سازشی نہ تھے اور نہ منافق تھے مگر دوسری وجوہات سے وہ اس غزوہ میں میں شریک نہ ہوئے تھے ان کا انجام کیا ہوگا۔ منافقین کے بعض خدوخال بھی بیان کیے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا رویہ احکام الہیہ کے ساتھ کیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (111): " حققت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال ، جنت کے بدلے خرید لیے ہیں ، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے مرتے ہیں۔ ان سے اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراتۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو ؟ بس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے ، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے "
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لأوَّاهٌ حَلِيمٌ (114): " نبی اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، جبکہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں۔ ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا۔ مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگیا۔ حق یہ ہے کہ ابراہیم بڑا رقیق القلب ، خدا ترس اور بردبار آدمی تھا "
لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (117) وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (118): " اللہ نے معاف کردیا نبی کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا تھا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچکے تھے مگر اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ بیشک اس کا معاملہ اس کے شفقت و مہربانی کا ہے۔ اور ان تینوں کو بھی اس نے معاف کردیا تھا جن کے معاملے کو ملتوی کردیا تھا۔ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں ، یقینا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے "
مَا كَانَ لأهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الأعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلا نَصَبٌ وَلا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلا إِلا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (120) وَلا يُنْفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً وَلا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (121) وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (122): " مدینہ کے باشندوں اور گردونواح کے بدویوں کے لیے یہ ہرگز زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بےپروا ہو کر اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے۔ اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک ، پیاس ، اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں اور کسی دشمن سے کوئی انتقام وہ لیں اور ان کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے۔ یقینا اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے۔ اس طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ تھوڑا یا بہت کوئی خرچ وہ اٹھائیں اور کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تاکہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے۔ اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ پرہیز کریں "
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (123): " اے لوگو جو ایمان لاے ہو ، جنگ کرو ان منکرین حق سے جو تم سے قریب ہیں۔ اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں اور جان لو کہ اللہ متقوں کے ساتھ ہے "
وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ نَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُمْ مِنْ أَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَفْقَهُونَ (127): " جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے۔ پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں "
اس سورت کا خاتمہ حضور ﷺ کی تعریف پر ہوتا ہے اور آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ صرف اپنے رب پر بھروسہ کریں اور اسی کی طرف متوجہ ہوں۔
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (128) فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (129): " دیکھو تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے ، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے ، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے۔ ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق و رحیم ہے۔ اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبی ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ بس کرتا ہے ، کوئی معبود نہیں مگر وہ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا " اب اس مختصر تشریح کے بعد ہم آیات کی تفصیلی تشریح کی طرف آتے ہیں۔
درس نمبر 92 تشریح آیات
93 ۔۔۔ تا۔۔۔ 96:
ضعیفوں ، مریضوں اور فقیروں سے کوئی مواخذہ نہیں ہے اور نہ ان کو دل میں اپنی کوتاہی کا احساس کرنا چاہیے۔ وہ لوگ جن کے پاس زاد سفر اور سواری کے لی کچھ نہیں ، حضور اکرم یا اسلامی حکومت بھی اس کو ضروریات مہیا نہیں کرسکتی تاکہ وہ میدان جنگ تک پہنچ سکیں۔ یہ مواخذہ ان لوگوں سے ہے اور وہ لوگ قابل مواخذہ ہیں جو حضور سے چھٹیاں لیتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں ، تنومند و توانا ہیں اور ان کے پاس کوئی حقیقی عذر نہیں ہے۔ یہ لوگ سخت قابل مواخذہ ہیں کیونکہ انہوں نے قدرت شرکت جہاد کے باوجود پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ بیٹھنا پسند کیا ، گھروں میں عیش کرتے رہے۔
ان لوگوں سے مواخذہ کیوں ہورہا ہے ، اس لیے کہ یہ لشکر اسلام سے پیچھے رہ گئے ، اس لیے کہ انہوں نے جھوٹے عذرات کی بنا پر چھٹی لی۔ انہوں نے عہد شکنی کی ، ان کو اللہ نے غنی بنایا لیکن انہوں نے حق نہ ادا کیا ، ان کو اللہ نے اسلامی نظام سے نوازا لیکن انہوں نے اسلامی نظام کا حق ادا نہ کیا ، کیونکہ اسلام نے ان کو تحفیظ دیا اور عزت بخشی اور انہوں نے اس سوسائٹی کا حق نہ ادا کیا حالانکہ اس سوسائٹی نے بھی انہیں عزت بخشی تھی اور مکرم بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ قابل شرم فرقہ استعمال کیا :
رضوا بان یکونوا مع الخوالف " انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا " جو پرلے درجے پست ہمتی ہے ، کمزوری ہے ، اور اس ذلت آمیز پوزیشن کو قبول کرنا ہے کہ ہمت و مردانگی کے مقام پر کوئی عاجزوں ، عرورتوں ، بچوں کے ساتھ بغیر عذر کے بیٹھ جائے اور گھروں میں رہ جائے اور ناحق معذوروں کے زمرے میں شامل ہوجائے اور واضح طور پر نظر آ رہا ہو کہ وہ معذور نہ ہو۔
و طبع اللہ علی قلوبھم فھم لا یعلمون : " اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی اس روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے "
یہ پوزیشن انہوں نے اس لیے اختیار کی اللہ نے علم و شعور کے دروازے ان پر بند کردئیے۔ اور ان کے فہم و ادراک کے ادوات معطل کردئیے گئے کیونکہ انہوں نے خود اپنے لیے بلادت ، کم ذہنی اور ذلت کو پسند کیا اور اپنے آپ کو زندہ اور متحرک اور فعال ہونے سے محروم کیا اور ان کے اندر آگے بڑھنے ، جرات کرنے اور جارح ہونے کا جذبہ ہی نہ رہا۔ دنیا میں جو انسان بھی عافیت کوش ہوجائے ، آرام طلب ہوجائے اور کند ذہن بن جائے تو وہ ذوق اکتشاف ، ذوق تجربہ اور ذسوق علم سے محروم ہوجاتا ہے اور اپنی سوسائٹی میں ایک عضو معطل کی طرح بن جاتا ہے جو نہ کسی کو متاثر کرسکتا ہے اور نہ اچھا اثر کسی اور سے قبول کرسکتا ہے اور اظہار ذات سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔
عیش و عشرت اور سلامت کوشی ایک ایسی بیماری ہے جو انسان پر شعور و آگہی کے دروازے بند کردیتی ہے۔ اور انسای فہم و ادراک کی قوت مرجاتی ہے جبکہ حرکت اور اگے بڑھنا زندگی کی دلیل ہے ، حرکت زندگی کا سبب اول ہے ، اور مشکلات کو چیلنج کرنے سے نفس انسانی اور عقل انسانی کے چند گوشے اجاگر ہوجاتے ہیں۔ انسان کے اعصاب قوی ہوجاتے ہیں اور وہ خفیہ قوتیں سامنے آجاتی ہیں جو ہمیشہ خطرات کے وقت وجود میں آ کر مدافعت کرتی ہیں۔ اور انسانی قوتوں کو عمل اور کسی پکار پر لبیک کہنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ یہ سب گوشے علم اور ادراک کے مختلف پہلو ہیں اور ان سے وہ لوگ محروم ہوجاتے ہیں جو ذلت اور سلامتی اختیار کرلیتے ہیں اور عافیت کوش ہوجاتے ہیں۔ ہر شخص عافیت کا طلبگار ہوتا ہے لیکن ذلت آمیز عافیت ہے ، باوقار عافیت نہیں ہے۔
انہی مالداروں اور جہاد پر قدرت رکھنے والوں کے امور پر بحث جاری ہے جنہوں نے عورتوں کے سامنے رہنے کو پسند کیا کہ عیش کوشی ، دوں ہمتی ، پست ہمتی اور مشکلات سے فرار کے علاوہ یہ کس قدر ذلیل ہیں اور کہتے کیا ہیں : یعتذرون الیکم اذا رجعتم " تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچوگے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے " یہ اللہ کی جانب سے رسول اللہ کو پیشگی کے طور پر بتایا جا رہا ہے اور مخلصین اہل ایمان کو متنبہ یا جا رہا ہے کہ جب تم اس مہم سے واپس لوٹو گے تو تمہارے ساتھ ان کا طرز عمل کیا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات مدینہ کو پہنچنے سے پہلے دوران سفر یا اس سے بھی پہلے نازل ہوگئی تھیں۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ تمہارے پہنچتے ہی عذرات پیش کرنا شروع کردیں گے۔ کیونکہ وہ محسوس کریں گے کہ ان کی یہ حرکت ایک ننگا نفاق ہے۔ اور ان کی اس حرکت کے اسباب بھی واضح تھے کہ ان کا ایمان ضعیف تھا۔ انہوں نے عافیت کوشی کی ، اور مشکلات جہاد سے گھبرا گئے۔
قل لا تعتذروا لن نومن لکم قد نبانا اللہ من اخبارکم " مگر تم صاف کہہ دینا کہ بہانے نہ کرو ، ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دئیے ہیں "
تم جس قدر بھی عذرات پیش کرو ، ہم تمہارے بارے میں اب مطمئن نہیں ہوسکتے۔ ہم تمہاری تصدیق نہیں کرسکتے ، اب تمہارے ساتھ وہ معاملہ جاری نہیں رہ سکتا ، جو ہم منافقین کے ساتھ اس سے قبل ان کے ظاہری اسلام کے مطابق رکھ رہے تھے۔ کیونکہ اللہ نے اپنی مہربانی سے تمہارے حالات ہم پر منکشف کردئیے ہیں۔ تمہارے دلوں میں جو گندگی بھری ہوئی ہے اس کا بھی اللہ نے انکشاف کردیا ہے اور تمہارے اعمال کے پیچھے جو جذبہ کام کر رہا ہے۔ وہ بھی اب واضح ہوگیا ہے۔ اللہ نے تو تمہارے سب حالات طشت از بام کردئیے ہیں۔ اب تم چھپ نہیں سکتے ہو ، چاہ جو رنگ اختیار کرو۔
قرآن کریم نے ان پر اعتبار نہ کرنے ، ان کی جانب سے عدم اطمینان اور ان کے عذرات کو قبول نہ کرنے کا حکم جن الفاظ میں دیا ہے۔
لن نومن لکم " ہم ہرگز اعتبار نہ کریں گے " اس کا ایک خاص مفہوم ہے ، تصدیق ، اعتبار ، اعتماد اور اطمینان کے لیے ایمان کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ دل میں رب پر یقین و اعتماد اور انسانی شعور اس پر مطمئن ہو۔ زبان سے ایمان کا اظہار ہو اور تصدیق و تسلیم اور عقل و ضمیر اس کی تصدیق کر رہی ہو۔ قرآن تعبیرات میں ہمیشہ اس قسم کے اشاراتی مفہوم پائے ہیں۔
اے پیغمبر تم کہہ دو کہ اب عذرات پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب صرف باتوں سے یہ فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ اب ضرورت عمل کی ہے۔ اگر تمہارے اعمال نے تمہارے اقوال کی تصدیق کی تو تب معاملہ بنے گا۔ خالی خولی باتیں اب بیکار ہیں۔
وسیری اللہ عملکم و رسولہ " اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا " اور اللہ کی ذات تو ایسی ہے کہ نہ اس سے بندوں کے اعمال پوشیدہ ہیں اور نہ وہ داعیہ پوشیدہ ہیں جو ان اعمال کی پشت پر ہے۔ اور رسول اللہ تمہاری بات کو تمہارے عمل کے ترازو میں پرکھے گا۔ اب اس اصول کی بنیاد پر اسلامی سوسائٹی تمہارے ساتھ معاملہ کرے گی۔ لیکن یاد رکھو کہ تمہارے تمام معاملات صرف اس دنیا ہی میں طے نہیں ہوجاتے۔ یہاں تو زندگی کا نہایت ہی مختصر حصہ گزرتا ہے۔ حقیقی اور طویل زندگی اور سزا و جزاء تو آنے والے ہیں جہاں ہر بات کا فیصلہ اللہ کے تیار کیے ہوئے ریکارڈ پر ہوگا۔
ثم تردون الی علم الغیب والشہادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون " پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو "
غیب کیا ہے ، وہ جو انسانی ذرائع ادراک سے ورا ہے ، عالم شہادت وہ ہے جس کا انسام علم و ادراک کرسکتا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے اللہ عالم الغیب بھی ہے اور عالم الشہادۃ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اعتبار سے عالم الشہادۃ اور عالم الغیب ہے۔ ان دونوں کا اللہ کو علم ہے ، یہاں جو اللہ نے فرمایا۔
فینبئکم بما کنتم تعملون " وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو " اس میں بظاہر بتانے کی کوئی بات نہیں کیونکہ وہ خود اپنے اعمال کو تو جانتے ہی تھے لیکن اشارہ یہ ہے کہ تمہارے اعمال کی بابت بنسبت تمہارے اللہ کو زیادہ علم ہے۔ ان کی حقیقت وہ تمہیں بتائے گا۔ انسان کے اعمال کے بعض اسباب و علل ایسے بھی ہیں جو خود صاحب عمل پر بھی عیاں نہیں ہوتے۔ اور ان کی نسبت اللہ کا علم انسان سے زیادہ ہوتا ہے۔ پھر انسان کے اعمال کے بعض اثرات اس قدر دور رس ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں خود انسان کو بھی علم نہیں لیکن اللہ کو ان کا علم ہوتا ہے۔ لہذا اصل مقصد یہ ہے کہ اس علم و اطلاع کے نتیجے میں تمہارے اعمال کا حساب و کتاب عمل میں آئے گا۔ اور یہ نہایت ہی سچا حساب و کتاب ہوگا۔ لیکن یہاں جزاء و سزا کا ذکر نہیں صرف یہ بتا کر آیت خاموش ہوگئی ہے کہ اللہ تم کو اصل صورت حالات بتا دے گا۔
سَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭفَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭاِنَّھُمْ رِجْسٌ ۡ وَّمَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۚجَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ : " تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو۔ تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو ، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی "
یہ دوسری پیشگی اطلاع ہے جو اللہ اپنے رسول کو دے رہا ہے کہ جب تم اور تمہارے ساتھی مخلص مومنین صحیح و سلامت مدینہ لوٹوگے جبکہ منافقین کو سوفیصدی یقین تھا کہ رومیوں کے ساتھ مڈبھیڑ کے بعد ان میں سے ایک بھی واپس نہ ہوگا۔
تو اللہ رسول اللہ کو اطلاع کرتے ہٰں کہ یہ لوگ اپنے عذرات کو موکد بنانے کے لی بیان حلفی دیں گے تاکہ مسلمان ان کے ان برے کرتوتوں سے صرف نظر کرلیں۔ اس طرح عفو و درگزر کے نتیجے میں یہ لوگ محاسبے سے بچ جائیں اور ان معاملات سے چشم پوش ہوجائے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ عملاً تو ان سے منہ موڑ لو ، لیکن معافی اور درگزر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور ان سے دور رہو ، جس طرح گندگی سے ایک آدمی دور رہتا ہے اور اپنے آپ کو بچاتا ہے۔
فاعرضوا عنہم انھم رجس " ان سے صرف نظر ہی کرو کیونکہ یہ گندگی ہیں " یعنی یہ لوگ بذات خود ہی مجسم گندگی ہیں ، اگرچہ ان کا جثہ عطر بیز ہے ، گندہ اور بدبو دار نہیں ہے لیکن ان کی حقیقت اور ان کے اعمال اور ان کی روح گندی ہے لیکن ان کے جسم کو گندگی کہہ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ لوگ قابل نفرت ہیں اور حقیر ہیں اور ان سے دور رہنا ہی عین فطرت ہے۔
وہ تحریک جو اسلامی انقلاب کے لیے قائم کی گئی ہو ، اس کے وہ کارکن جو جہاد اور قتال اور عملی جدوجہد سے محض اس لیے اپنے آپ کو دور رکھیں کہ وہ کہیں ہلاک نہ ہوجائیں تو یہ لوگ گندگی ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس گندگی نے ان کی روح کو گھیر رکھا ہے۔ ان کا شعور اور ان کے تصورات گندے ہیں جس طرح ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندہ کردیتی ہے ، یہی ان کی مثال ہے۔
وماواھم جھنم جزاء بما کانوا یکسبون " ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی " وہ یہ سمجھتے تھے کہ پیچھے رہ کر وہ کمائی کر رہے ہیں اور فائدے میں ہیں اور آرام اور سلامتی اور عافیت میں ہیں اور وہ مالی تاوان سے بھی بچ گئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں وہ گندگی ہیں اور آخرت میں جو صلہ ان کو ملے گا وہ حسرت ناک ہوگا کیونکہ یہ بہر رنگ و بہر قدر خسارہ ہوگا۔ یہ ہے بات اللہ کی اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ سچا ہوسکتا ہے۔
تمہاری واپسی پر ان بیٹھنے والوں کا طرز عمل کیا ہوگا ؟
یحلفون لکم لرضوا عنہم فان ترضوا عنہم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین " یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ رہ گز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا "
ان کی اسکیم یہ ہے کہ پہلے تو یہ لوگ یہ چاہیں گے کہ مسلمان ان کے اس جرم کو معاف کرکے درگزر کردیں اور اس کے بعد یہ کوشش کریں گے یہ مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرلیں تاکہ مسلمان ان کے ساتھ اسلامی سوسائٹی میں وہی معاملہ جاری رکھیں جو ان کی ظاہر داری پر اس سے قبل تھا۔ اور یہ لوگ ان امکانات کی زد سے بچ جائیں جو اس سورت میں مسلمانوں کو دیے گئے ہیں کہ کفار اور منافقین دونوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور اس طرح سکھوں اور غیر مسلموں کے باہم تعلقات کے لیے یہ آخرت شکل طے کردی گئی یعنی منافقین کو غیر مسلموں میں شامل کردیا گیا۔
لیکن یہاں یہ تصریح کردی گئی کہ یہ لوگ اس جہاد سے پیچھے رہ کر فاسق ہوچکے ہیں اور اللہ ایسے فاسقوں سے کبھی راضی نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ چند بار قسمیں کھائیں اور مسلمانوں کو راضی کرنے کی سعی کریں۔ پس ان کے بارے میں اللہ کا حکم ہی صحیح حکم ہے اور بشمولیت مسلمین اگر تمام دنیا بھی ان سے راضی ہوجائے تو اللہ کے نزدیک ایک کوڑی کے برابر بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگی۔ اللہ و رسول اللہ اور مسلمانوں کو راضی کرنے کی واحد سبیل ہے کہ یہ لوگ اس فسق سے ہٹ کر اور تائب ہوکر عمل جہاد میں شرکت کریں اور دین اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے بغیر عذر کے جہاد سے پیچے رہنے والوں کی حقیقت کو طشت از بام کردیا۔ اور جماعت مسلمہ سے ان کو دور کردیا اور مسلمانوں اور منافقوں کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی فیصلہ کردیا جس طرح اس سے قبل مسلمانوں اور مشرکین کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی فیصلہ کردیا جس طرح اس سے قبل مسلمانوں اور مشرکین کے باہم تعلق کی ضابطہ بندی کی گئی تھی یا مسلمانوں اور اہل کتاب کے باہم تعلقات کو منضبط کیا گیا تھا اور اس موضوع پر یہ آخری اور فائنل احکام تھے۔
التوبة 9:96
آیات 93 ۔۔۔ تا 96 ۔۔۔
پارہ 11 ایک نظر میں
یہ پارہ سورت توبہ کے بقیہ حصہ اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر مشتمل ہے۔ سورت توبہ کا بڑا حصہ پارہ دہم میں گزر چکا ہے۔ یہاں ہم سورت توبہ کے بقیہ حصہ پر تبصرہ کریں گے اور سورت یونس پر تبصرہ اس کے آغاز میں ہوگا۔ ان شاء اللہ۔
سورت توبہ کے بارے میں بصرہ کرتے ہیں ہم نے چن دفقرے کہے تھے ، کہ اس سورت کا موضوع اور اس کے مضامین کی نوعیت کی ہے۔ پھر یہ کہ کن حالات میں اس کا نزول ہوا ، اور یہ کہ اسلامی معاشرے اور اسلامی حکومت کے دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ دوسرے معاشروں اور حکومتوں کے ساتھ بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت کے تعین کے حوالے سے اس سورت کی اہمیت کیا ہے اور اس سوت سے اسلامی نظام کے قیام کے لیے جو تحریکی منہاج انقلاب سمجھ میں آتا ہے وہ کیا ہے۔ لہذا ان اہم فقرات کا یہاں دہرانا فائدہ سے خالی نہ ہوگا۔
" یہ مدنی سورت ہے اور نزول قرآن کی آخری جھلکیاں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ اسے آخری قرآن نہیں کہہ سکتے۔ آخری جھلکیاں اس لیے کہ اس میں امت مسلمہ اور دوسری اقوام عالم کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کے ضوابط کو آخری شکل دی گئی ہے۔ نیز اس کے اندر خود اسلامی سوسائٹی کی تشکیل اس کی اقدار کا تعین ، اس میں مختلف طبقات کی قدروقیمت کا تعین اور مجموعی طور پر اس میں کسی اسلامی معاشرے کے بنیادی خدوخال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اپئے جانے والے تمام طبقات اور ان کے اوصاف کی بڑی گہری تصویر کشی کی گئی ہے۔
اس زاویہ سے یہ سورت توبہ بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں اسلامی نظام کے قیام کے منہاج کے تحریکی عمل کے کدوخال کو اور اس کے تمام مراحل کو بڑی تفصیل کے ساتھ متعین طور پر بیان کیا گیا ہے اس سلسلے میں اس موضوع پر اس سورت میں آخری اور فائنل احکام دیے گئے ہیں۔ اس جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منہاج کس قدر ٹھوس ہے اور کس قدر فیصلہ کن ہے۔ اس جائز کے بغیر احکام شریعت و قواعد شریعت کی اصل تصویر سامنے نہیں آتی۔ اگر اس مجموعی جائزے کے بغیر آیات کو اپنے سیاق وسباق سے علیحدہ کرکے دیکھا جائے تو عبوری دور کے لیے جو احکام نازل ہوئے تھے وہ دائمی اور فائنل احکام نظر آئیں گے۔ اور پھر جو شخص چاہے ان آخری آیات و ہدایات کی تاویل کرکے بھی انہیں عبوری دور کے لیے آنے والے احکام کے تابع اور مطابق کردے۔ خصوصاً جہاد اسلامی موضوع رپ اس قسم کی مساعی عملاً بھی کی گئیں اور اسلامی معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں کے باہم تعلقات کے سلسلے میں بھی ایسا ہی رویہ اختیار کیا گیا۔
اس سورت کے تعارف میں ہم نے یہ بات بتائی تھی کہ باوجود اس کے کہ اس سورت کا موضوع ایک ہے اور وہ ایک جیسے حالات میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے کوئی حصے ہیں اور ہر حصے میں آخری اور فائنل احکام بیان کیے گئے ہیں۔
اس کے پہلے حصے میں کسی مسلم معاشرے اور دوسرے جاہلی معاشروں اور حکومتوں کے درمیان بین الاقوامی تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے جبکہ دوسرے حصے میں مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعلقات کی حد بندی کی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں ان لوگوں کے حالات پر تبصرہ ہے جنہیں غزوہ تبوک میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی اور انہوں نے اس فریضے کی ادائیگی میں کوتاہی اور سستی کی تھی۔ یہ غزوہ ان اہل کتاب کے خلاف تھا جزیرۃ العرب کے مغربی کنارے پر بستے تھے اور جو اس نئی اسلامی مملکت پر فیصلہ کن وار کرنے کی تیاریاں کر رہے تھے ، چوتھے حصے میں اسلامی معازشرے میں رہنے والے منافقین کی سازشوں اور کرتوتوں کو بےنقاب کیا گیا تھا۔ ان کی نفسیات اور عملی کیفیات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ نیز غزوہ تبوک سے قبل اس غزوے کے دوران اور اس کے بعد ان کے رویے کو قلم بند کرکے ان کی اصل نیتوں ، حیلہ سازیوں اور ان عذرات لنگ کی نقاب کشائی کی گئی جو وہ غزوہ تبوک کی عدم شمولیت کے بارے میں پیش کرتے تھے۔ نیز یہ لوگ اسلامی صفوں میں جو فتنے پھیلاتے تھے۔ فساد برپا کرتے تھے ، جو انتشار پھیلاتے تھے اور حضور اور مخلص مومنین کے لیے جس اذیت کا باعث بنے ہوئے تھے۔ یہ تمام حالات اس میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مومنین کو ان کے رویے سے متنبہ بھی کیا گیا اور مومنین اور منافقین کے درمیان سماجی تعلقات کی نوعیت کو بھی متعین کیا گیا اور بتایا گیا کہ ان کے ساتھ سماجی بائیکاٹ ہونا چاہیے تاکہ ہر طقہ اپنی صفات کی وجہ سے متمیز ہوجائے۔
…
یہ چار حصے اپنے مضامین کے ساتھ پارہ دہم میں گزر چکے ہیں۔ البتہ آخری حصے کے کچھ مضامین جو جنگ سے پیچھے رہ جانے والے لوگوں کے متعلق ہیں اور جہاد سے پیچھے رہنے والوں کی سزا اور ان کے انجام کے بارے میں اس حصے میں آگئے ہیں۔
دسویں پارے کی آخری آیت یہ تھی۔
لَيْسَ عَلَي الضُّعَفَاۗءِ وَلَا عَلَي الْمَرْضٰى وَلَا عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ مَا يُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭمَا عَلَي الْمُحْسِنِيْنَ مِنْ سَبِيْلٍ ۭوَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۔ وَّلَا عَلَي الَّذِيْنَ اِذَا مَآ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَآ اَجِدُ مَآ اَحْمِلُكُمْ عَلَيْهِ ۠ تَوَلَّوْا وَّاَعْيُنُهُمْ تَفِيْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا يَجِدُوْا مَا يُنْفِقُوْنَ ۔ ضعیف ور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے زاد راہ نہیں پاتے ، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جب کہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے وفادار ہوں۔ ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اسی طرح ان لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود اگر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لیے سواریاں بہم پہنچائی جائیں ، اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لیے سواریوں کا انتطام نہیں کرسکتا تو وہ مجبوراً واپس گئے اور حال یہ تھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے۔
اور وہ تکملہ جس سے اس پارے کا آغاز ہوتا ہے ، وہ یہ ہے :
إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ وَهُمْ أَغْنِيَاءُ رَضُوا بِأَنْ يَكُونُوا مَعَ الْخَوَالِفِ وَطَبَعَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لا يَعْلَمُونَ (93) يَعْتَذِرُونَ إِلَيْكُمْ إِذَا رَجَعْتُمْ إِلَيْهِمْ قُلْ لا تَعْتَذِرُوا لَنْ نُؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّأَنَا اللَّهُ مِنْ أَخْبَارِكُمْ وَسَيَرَى اللَّهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ ثُمَّ تُرَدُّونَ إِلَى عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ (94) سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوا عَنْهُمْ فَأَعْرِضُوا عَنْهُمْ إِنَّهُمْ رِجْسٌ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (95) يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ (96): البتہ اعتراض ان لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواستیں کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھا جائے۔ انہوں نے گھر بیٹھنے والوں میں رہنا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ، اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے۔ تم پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے مگر تم صاف کہہ دینا کہ بہانے نہ کرو ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دئیے۔ اب اللہ اور رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا۔ پھر تم اس کی طرف پلاٹائے جاؤگے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔ تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو۔ تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو ، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصل مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی۔ یہ تمہارے سامنئ قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ۔ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہر گز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا۔
یہ تو اللہ کی جانب سے اطلاعات تھیں جو اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو دیں کہ مدینہ واپسی پر پیچھے رہنے والے کیا کیا عذرات پیش کریں گے۔ یہاں بتا دیا گیا ہے۔ کہ جب آ صحیح وسالم واپس ہوں گے تو آپ رہ جانے والے کے ساتھ یہ اور یہ سلوک کریں۔
۔۔۔۔
اس کے بعد سورت کا حصہ پنجم آتا ہے۔ اس میں بتایا جاتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی تشکیل میں کیسے کیسے عناصر موجود ہیں یعنی فتح مکہ سے جنگ تبوک تک کیسے کیسے عناصر اسلامی صفوں میں جمع ہوگئے ہیں ، جیسا کہ ہم نے اس سورت کے اتبدائی تبصرے میں واضح کیا کہ ایک تو وہ لوگ تھے جو سابقین اولین تھے اور جو اسلامی معاشرے کے لیے ریڑھ کی ہڈی تھے اور انہی لوگوں پر اسلام کے اجتماعی نظام کی بنیاد تھی لیکن ان کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے گروہ بھی اسلامی صفوں میں جمع ہوگئے تھے۔ اعراب اور بدوی لوگ جن میں مخلصین بھی تے اور مفاد پرست منافقین بھی تھے۔ اہل مدینہ میں بھی منافقین کا ایک بڑا طبقہ موجود تھا۔ کچھ ایسے لوگ تھے کہ جن کے بعض اعمال اچھے تھے اور بعض باتیں خلاف شریعت تھیں۔ اور ابھی یہ لوگ اچھی طرح اسلامی سانچے میں نہ ڈھلے تھے اور نہ پوری طرح اسلامی رنگ میں رنگے گئے تے اور کچھ ایسے لوگ تھے جن کے بارے میں کچھ نہ کہا جاسکتا تھا کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد تھا۔ بعض ایسے سازشی تھے جو اسلام کے نام کے پردے میں سب کچھ کرتے تھے ، سازش تیار کرتے تھے۔ بیرونی دشمنان اسلام سے بھی ان کا رابطہ تھا۔ قرآنی آیات نے بڑے اختصار کے ساتھ ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان سب اور مختلف الاقسام لوگوں کے ساتھ اسلامی نظام حکومت میں کس طرح کا سلوک کیا جائے گا۔ اللہ نے اس حصے میں رسول اللہ اور مخلص مسلمانوں کو ہدایات دی ہیں کہ انہوں نے ان طبقات کے ساتھ کیا اور کس طرح معاملہ کرنا ہے۔ چند آیات ملاحظہ فرمائیں :
الأعْرَابُ أَشَدُّ كُفْرًا وَنِفَاقًا وَأَجْدَرُ أَلا يَعْلَمُوا حُدُودَ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (97) وَمِنَ الأعْرَابِ مَنْ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ مَغْرَمًا وَيَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَائِرَ عَلَيْهِمْ دَائِرَةُ السَّوْءِ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (98) وَمِنَ الأعْرَابِ مَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَيَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبَاتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَوَاتِ الرَّسُولِ أَلا إِنَّهَا قُرْبَةٌ لَهُمْ سَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (99)
یہ بدوی عرب کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملے میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو الہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے۔ ان بدویوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی چٹی سمجھتے ہیں۔ اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشوں کا انتظار کر رہے ہیں حالانکہ بدی کا چکر خود ان پر مسلط ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرب کا اور رسول کی طرف سے رحمت کی دعا لینے کا ذریعہ بتاتے ہیں۔ ہاں وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے۔ اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
وَالسَّابِقُونَ الأوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الأنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (100): وہ مہاجر اور انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔
وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِنَ الأعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لا تَعْلَمُهُمْ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ (101): تمہارے گردوپیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں۔ اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دہری سزا دیں گے۔ پھر وہ دوبارہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔
وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ (102) خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (103): " اور کچھ اور لوگ ہی جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کرلیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے ، کچھ نیک ہے اور کچھ بد۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور انہیں بڑھاؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو کیونکہ تمہاری دعا ان کے لیے وجہ تسکین ہوگی ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے "
وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لأمْرِ اللَّهِ إِمَّا يُعَذِّبُهُمْ وَإِمَّا يَتُوبُ عَلَيْهِمْ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (106): " کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ بھی خدا کے حکم پر ٹھہرا ہوا ہے ، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے تو ان پر از سر نو مہربان ہوجائے۔ اللہ سب کچھ جانتا اور حکیم و دانا ہے۔
وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَإِرْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُنَّ إِنْ أَرَدْنَا إِلا الْحُسْنَى وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ (107) لا تَقُمْ فِيهِ أَبَدًا لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَنْ تَقُومَ فِيهِ فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ (108): " کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو) نقصان پہنچائیں ، اور (خدا کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں ، اور اہل ایمان میں پھوٹ ڈالیں ، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو) اس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اس سے پہلے خدا اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہوچکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں۔ تم ہرگز اس عمار میں کھڑے نہ ہونا۔ جو مسجد اول روز سے تقوی پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے) کھڑے ہو ، اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہیں پسند ہیں "۔ تشریح آیات کے وقت ہم تفصیلات بتائیں گے کہ ان گروہوں سے کون کون لوگ مراد ہیں :
اس سورت کے آخری اور چھٹے حصے میں اسلام کے نظریہ بیعت جہاد فی سبیل اللہ کی نوعیت بتائی گئی ہے۔ اس جہاد کی حقیقت اور اس کے حدود و کیفیات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ بتایا گیا ہے کہ اہل مدینہ ، مدینہ کے ارد گرد بدوی آبادی کے ساتھ کیا سلوک کریں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ذہناً اور عملاً ہر لحاظ سے اہل کفر سے دور کرلیں۔ اور اپنے تمام روابط اسلامی نظریہ حیات کے عقیدے پر استوار کریں اور دوسرے تمام روابط کاٹ دیں۔ خون اور قرابت کے رشتوں کو نظر انداز کر دین۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ جو لوگ سازشی نہ تھے اور نہ منافق تھے مگر دوسری وجوہات سے وہ اس غزوہ میں میں شریک نہ ہوئے تھے ان کا انجام کیا ہوگا۔ منافقین کے بعض خدوخال بھی بیان کیے گئے ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا رویہ احکام الہیہ کے ساتھ کیا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔
إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالإنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (111): " حققت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال ، جنت کے بدلے خرید لیے ہیں ، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے مرتے ہیں۔ ان سے اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراتۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو ؟ بس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے ، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے "
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (113) وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لأبِيهِ إِلا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لأوَّاهٌ حَلِيمٌ (114): " نبی اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں۔ چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، جبکہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں۔ ابراہیم نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا۔ مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ خدا کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگیا۔ حق یہ ہے کہ ابراہیم بڑا رقیق القلب ، خدا ترس اور بردبار آدمی تھا "
لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (117) وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الأرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (118): " اللہ نے معاف کردیا نبی کو اور ان مہاجرین و انصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی کا ساتھ دیا تھا۔ اگرچہ ان میں کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچکے تھے مگر اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ بیشک اس کا معاملہ اس کے شفقت و مہربانی کا ہے۔ اور ان تینوں کو بھی اس نے معاف کردیا تھا جن کے معاملے کو ملتوی کردیا تھا۔ جب زمین اپنی ساری وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی اپنی جانیں بھی ان پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تاکہ وہ اس کی طرف پلٹ آئیں ، یقینا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے "
مَا كَانَ لأهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُمْ مِنَ الأعْرَابِ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ وَلا يَرْغَبُوا بِأَنْفُسِهِمْ عَنْ نَفْسِهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ لا يُصِيبُهُمْ ظَمَأٌ وَلا نَصَبٌ وَلا مَخْمَصَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَيْلا إِلا كُتِبَ لَهُمْ بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ إِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (120) وَلا يُنْفِقُونَ نَفَقَةً صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً وَلا يَقْطَعُونَ وَادِيًا إِلا كُتِبَ لَهُمْ لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ (121) وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنْفِرُوا كَافَّةً فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (122): " مدینہ کے باشندوں اور گردونواح کے بدویوں کے لیے یہ ہرگز زیبا نہ تھا کہ اللہ کے رسول کو چھوڑ کر بیٹھ رہتے اور اس کی طرف سے بےپروا ہو کر اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے۔ اس لیے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک ، پیاس ، اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں اور کسی دشمن سے کوئی انتقام وہ لیں اور ان کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے۔ یقینا اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے۔ اس طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ تھوڑا یا بہت کوئی خرچ وہ اٹھائیں اور کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تاکہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ انہیں عطا کرے۔ اور کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کی آبادی کے ہر حصے میں سے کچھ لوگ نکل آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جا کر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تاکہ وہ پرہیز کریں "
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قَاتِلُوا الَّذِينَ يَلُونَكُمْ مِنَ الْكُفَّارِ وَلْيَجِدُوا فِيكُمْ غِلْظَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (123): " اے لوگو جو ایمان لاے ہو ، جنگ کرو ان منکرین حق سے جو تم سے قریب ہیں۔ اور چاہیے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں اور جان لو کہ اللہ متقوں کے ساتھ ہے "
وَإِذَا مَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ نَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ هَلْ يَرَاكُمْ مِنْ أَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَفْقَهُونَ (127): " جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے۔ پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں۔ اللہ نے ان کے دل پھیر دے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں "
اس سورت کا خاتمہ حضور ﷺ کی تعریف پر ہوتا ہے اور آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ صرف اپنے رب پر بھروسہ کریں اور اسی کی طرف متوجہ ہوں۔
لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (128) فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ (129): " دیکھو تم لوگوں کے پاس ایک رسول آیا ہے جو تم ہی میں سے ہے ، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے ، تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے۔ ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق و رحیم ہے۔ اب اگر یہ لوگ تم سے منہ پھیرتے ہیں تو اے نبی ان سے کہہ دو کہ میرے لیے اللہ بس کرتا ہے ، کوئی معبود نہیں مگر وہ اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا " اب اس مختصر تشریح کے بعد ہم آیات کی تفصیلی تشریح کی طرف آتے ہیں۔
درس نمبر 92 تشریح آیات
93 ۔۔۔ تا۔۔۔ 96:
ضعیفوں ، مریضوں اور فقیروں سے کوئی مواخذہ نہیں ہے اور نہ ان کو دل میں اپنی کوتاہی کا احساس کرنا چاہیے۔ وہ لوگ جن کے پاس زاد سفر اور سواری کے لی کچھ نہیں ، حضور اکرم یا اسلامی حکومت بھی اس کو ضروریات مہیا نہیں کرسکتی تاکہ وہ میدان جنگ تک پہنچ سکیں۔ یہ مواخذہ ان لوگوں سے ہے اور وہ لوگ قابل مواخذہ ہیں جو حضور سے چھٹیاں لیتے ہیں اور کھاتے پیتے ہیں ، تنومند و توانا ہیں اور ان کے پاس کوئی حقیقی عذر نہیں ہے۔ یہ لوگ سخت قابل مواخذہ ہیں کیونکہ انہوں نے قدرت شرکت جہاد کے باوجود پیچھے رہنے والی عورتوں کے ساتھ بیٹھنا پسند کیا ، گھروں میں عیش کرتے رہے۔
ان لوگوں سے مواخذہ کیوں ہورہا ہے ، اس لیے کہ یہ لشکر اسلام سے پیچھے رہ گئے ، اس لیے کہ انہوں نے جھوٹے عذرات کی بنا پر چھٹی لی۔ انہوں نے عہد شکنی کی ، ان کو اللہ نے غنی بنایا لیکن انہوں نے حق نہ ادا کیا ، ان کو اللہ نے اسلامی نظام سے نوازا لیکن انہوں نے اسلامی نظام کا حق ادا نہ کیا ، کیونکہ اسلام نے ان کو تحفیظ دیا اور عزت بخشی اور انہوں نے اس سوسائٹی کا حق نہ ادا کیا حالانکہ اس سوسائٹی نے بھی انہیں عزت بخشی تھی اور مکرم بنایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے یہ قابل شرم فرقہ استعمال کیا :
رضوا بان یکونوا مع الخوالف " انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا " جو پرلے درجے پست ہمتی ہے ، کمزوری ہے ، اور اس ذلت آمیز پوزیشن کو قبول کرنا ہے کہ ہمت و مردانگی کے مقام پر کوئی عاجزوں ، عرورتوں ، بچوں کے ساتھ بغیر عذر کے بیٹھ جائے اور گھروں میں رہ جائے اور ناحق معذوروں کے زمرے میں شامل ہوجائے اور واضح طور پر نظر آ رہا ہو کہ وہ معذور نہ ہو۔
و طبع اللہ علی قلوبھم فھم لا یعلمون : " اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی اس روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے "
یہ پوزیشن انہوں نے اس لیے اختیار کی اللہ نے علم و شعور کے دروازے ان پر بند کردئیے۔ اور ان کے فہم و ادراک کے ادوات معطل کردئیے گئے کیونکہ انہوں نے خود اپنے لیے بلادت ، کم ذہنی اور ذلت کو پسند کیا اور اپنے آپ کو زندہ اور متحرک اور فعال ہونے سے محروم کیا اور ان کے اندر آگے بڑھنے ، جرات کرنے اور جارح ہونے کا جذبہ ہی نہ رہا۔ دنیا میں جو انسان بھی عافیت کوش ہوجائے ، آرام طلب ہوجائے اور کند ذہن بن جائے تو وہ ذوق اکتشاف ، ذوق تجربہ اور ذسوق علم سے محروم ہوجاتا ہے اور اپنی سوسائٹی میں ایک عضو معطل کی طرح بن جاتا ہے جو نہ کسی کو متاثر کرسکتا ہے اور نہ اچھا اثر کسی اور سے قبول کرسکتا ہے اور اظہار ذات سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔
عیش و عشرت اور سلامت کوشی ایک ایسی بیماری ہے جو انسان پر شعور و آگہی کے دروازے بند کردیتی ہے۔ اور انسای فہم و ادراک کی قوت مرجاتی ہے جبکہ حرکت اور اگے بڑھنا زندگی کی دلیل ہے ، حرکت زندگی کا سبب اول ہے ، اور مشکلات کو چیلنج کرنے سے نفس انسانی اور عقل انسانی کے چند گوشے اجاگر ہوجاتے ہیں۔ انسان کے اعصاب قوی ہوجاتے ہیں اور وہ خفیہ قوتیں سامنے آجاتی ہیں جو ہمیشہ خطرات کے وقت وجود میں آ کر مدافعت کرتی ہیں۔ اور انسانی قوتوں کو عمل اور کسی پکار پر لبیک کہنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ یہ سب گوشے علم اور ادراک کے مختلف پہلو ہیں اور ان سے وہ لوگ محروم ہوجاتے ہیں جو ذلت اور سلامتی اختیار کرلیتے ہیں اور عافیت کوش ہوجاتے ہیں۔ ہر شخص عافیت کا طلبگار ہوتا ہے لیکن ذلت آمیز عافیت ہے ، باوقار عافیت نہیں ہے۔
انہی مالداروں اور جہاد پر قدرت رکھنے والوں کے امور پر بحث جاری ہے جنہوں نے عورتوں کے سامنے رہنے کو پسند کیا کہ عیش کوشی ، دوں ہمتی ، پست ہمتی اور مشکلات سے فرار کے علاوہ یہ کس قدر ذلیل ہیں اور کہتے کیا ہیں : یعتذرون الیکم اذا رجعتم " تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچوگے تو یہ طرح طرح کے عذرات پیش کریں گے " یہ اللہ کی جانب سے رسول اللہ کو پیشگی کے طور پر بتایا جا رہا ہے اور مخلصین اہل ایمان کو متنبہ یا جا رہا ہے کہ جب تم اس مہم سے واپس لوٹو گے تو تمہارے ساتھ ان کا طرز عمل کیا ہوگا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات مدینہ کو پہنچنے سے پہلے دوران سفر یا اس سے بھی پہلے نازل ہوگئی تھیں۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ تمہارے پہنچتے ہی عذرات پیش کرنا شروع کردیں گے۔ کیونکہ وہ محسوس کریں گے کہ ان کی یہ حرکت ایک ننگا نفاق ہے۔ اور ان کی اس حرکت کے اسباب بھی واضح تھے کہ ان کا ایمان ضعیف تھا۔ انہوں نے عافیت کوشی کی ، اور مشکلات جہاد سے گھبرا گئے۔
قل لا تعتذروا لن نومن لکم قد نبانا اللہ من اخبارکم " مگر تم صاف کہہ دینا کہ بہانے نہ کرو ، ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتا دئیے ہیں "
تم جس قدر بھی عذرات پیش کرو ، ہم تمہارے بارے میں اب مطمئن نہیں ہوسکتے۔ ہم تمہاری تصدیق نہیں کرسکتے ، اب تمہارے ساتھ وہ معاملہ جاری نہیں رہ سکتا ، جو ہم منافقین کے ساتھ اس سے قبل ان کے ظاہری اسلام کے مطابق رکھ رہے تھے۔ کیونکہ اللہ نے اپنی مہربانی سے تمہارے حالات ہم پر منکشف کردئیے ہیں۔ تمہارے دلوں میں جو گندگی بھری ہوئی ہے اس کا بھی اللہ نے انکشاف کردیا ہے اور تمہارے اعمال کے پیچھے جو جذبہ کام کر رہا ہے۔ وہ بھی اب واضح ہوگیا ہے۔ اللہ نے تو تمہارے سب حالات طشت از بام کردئیے ہیں۔ اب تم چھپ نہیں سکتے ہو ، چاہ جو رنگ اختیار کرو۔
قرآن کریم نے ان پر اعتبار نہ کرنے ، ان کی جانب سے عدم اطمینان اور ان کے عذرات کو قبول نہ کرنے کا حکم جن الفاظ میں دیا ہے۔
لن نومن لکم " ہم ہرگز اعتبار نہ کریں گے " اس کا ایک خاص مفہوم ہے ، تصدیق ، اعتبار ، اعتماد اور اطمینان کے لیے ایمان کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ دل میں رب پر یقین و اعتماد اور انسانی شعور اس پر مطمئن ہو۔ زبان سے ایمان کا اظہار ہو اور تصدیق و تسلیم اور عقل و ضمیر اس کی تصدیق کر رہی ہو۔ قرآن تعبیرات میں ہمیشہ اس قسم کے اشاراتی مفہوم پائے ہیں۔
اے پیغمبر تم کہہ دو کہ اب عذرات پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اب صرف باتوں سے یہ فیصلہ نہیں ہوسکتا۔ اب ضرورت عمل کی ہے۔ اگر تمہارے اعمال نے تمہارے اقوال کی تصدیق کی تو تب معاملہ بنے گا۔ خالی خولی باتیں اب بیکار ہیں۔
وسیری اللہ عملکم و رسولہ " اب اللہ اور اس کا رسول تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا " اور اللہ کی ذات تو ایسی ہے کہ نہ اس سے بندوں کے اعمال پوشیدہ ہیں اور نہ وہ داعیہ پوشیدہ ہیں جو ان اعمال کی پشت پر ہے۔ اور رسول اللہ تمہاری بات کو تمہارے عمل کے ترازو میں پرکھے گا۔ اب اس اصول کی بنیاد پر اسلامی سوسائٹی تمہارے ساتھ معاملہ کرے گی۔ لیکن یاد رکھو کہ تمہارے تمام معاملات صرف اس دنیا ہی میں طے نہیں ہوجاتے۔ یہاں تو زندگی کا نہایت ہی مختصر حصہ گزرتا ہے۔ حقیقی اور طویل زندگی اور سزا و جزاء تو آنے والے ہیں جہاں ہر بات کا فیصلہ اللہ کے تیار کیے ہوئے ریکارڈ پر ہوگا۔
ثم تردون الی علم الغیب والشہادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون " پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو "
غیب کیا ہے ، وہ جو انسانی ذرائع ادراک سے ورا ہے ، عالم شہادت وہ ہے جس کا انسام علم و ادراک کرسکتا ہے۔ اس معنی کے اعتبار سے اللہ عالم الغیب بھی ہے اور عالم الشہادۃ بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اعتبار سے عالم الشہادۃ اور عالم الغیب ہے۔ ان دونوں کا اللہ کو علم ہے ، یہاں جو اللہ نے فرمایا۔
فینبئکم بما کنتم تعملون " وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو " اس میں بظاہر بتانے کی کوئی بات نہیں کیونکہ وہ خود اپنے اعمال کو تو جانتے ہی تھے لیکن اشارہ یہ ہے کہ تمہارے اعمال کی بابت بنسبت تمہارے اللہ کو زیادہ علم ہے۔ ان کی حقیقت وہ تمہیں بتائے گا۔ انسان کے اعمال کے بعض اسباب و علل ایسے بھی ہیں جو خود صاحب عمل پر بھی عیاں نہیں ہوتے۔ اور ان کی نسبت اللہ کا علم انسان سے زیادہ ہوتا ہے۔ پھر انسان کے اعمال کے بعض اثرات اس قدر دور رس ہوتے ہیں کہ ان کے بارے میں خود انسان کو بھی علم نہیں لیکن اللہ کو ان کا علم ہوتا ہے۔ لہذا اصل مقصد یہ ہے کہ اس علم و اطلاع کے نتیجے میں تمہارے اعمال کا حساب و کتاب عمل میں آئے گا۔ اور یہ نہایت ہی سچا حساب و کتاب ہوگا۔ لیکن یہاں جزاء و سزا کا ذکر نہیں صرف یہ بتا کر آیت خاموش ہوگئی ہے کہ اللہ تم کو اصل صورت حالات بتا دے گا۔
سَيَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَيْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭفَاَعْرِضُوْا عَنْھُمْ ۭاِنَّھُمْ رِجْسٌ ۡ وَّمَاْوٰىھُمْ جَهَنَّمُ ۚجَزَاۗءًۢ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ : " تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو۔ تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو ، کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی "
یہ دوسری پیشگی اطلاع ہے جو اللہ اپنے رسول کو دے رہا ہے کہ جب تم اور تمہارے ساتھی مخلص مومنین صحیح و سلامت مدینہ لوٹوگے جبکہ منافقین کو سوفیصدی یقین تھا کہ رومیوں کے ساتھ مڈبھیڑ کے بعد ان میں سے ایک بھی واپس نہ ہوگا۔
تو اللہ رسول اللہ کو اطلاع کرتے ہٰں کہ یہ لوگ اپنے عذرات کو موکد بنانے کے لی بیان حلفی دیں گے تاکہ مسلمان ان کے ان برے کرتوتوں سے صرف نظر کرلیں۔ اس طرح عفو و درگزر کے نتیجے میں یہ لوگ محاسبے سے بچ جائیں اور ان معاملات سے چشم پوش ہوجائے۔ حکم دیا جاتا ہے کہ عملاً تو ان سے منہ موڑ لو ، لیکن معافی اور درگزر کے طور پر نہیں بلکہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور ان سے دور رہو ، جس طرح گندگی سے ایک آدمی دور رہتا ہے اور اپنے آپ کو بچاتا ہے۔
فاعرضوا عنہم انھم رجس " ان سے صرف نظر ہی کرو کیونکہ یہ گندگی ہیں " یعنی یہ لوگ بذات خود ہی مجسم گندگی ہیں ، اگرچہ ان کا جثہ عطر بیز ہے ، گندہ اور بدبو دار نہیں ہے لیکن ان کی حقیقت اور ان کے اعمال اور ان کی روح گندی ہے لیکن ان کے جسم کو گندگی کہہ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ لوگ قابل نفرت ہیں اور حقیر ہیں اور ان سے دور رہنا ہی عین فطرت ہے۔
وہ تحریک جو اسلامی انقلاب کے لیے قائم کی گئی ہو ، اس کے وہ کارکن جو جہاد اور قتال اور عملی جدوجہد سے محض اس لیے اپنے آپ کو دور رکھیں کہ وہ کہیں ہلاک نہ ہوجائیں تو یہ لوگ گندگی ہیں۔ اس حقیقت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس گندگی نے ان کی روح کو گھیر رکھا ہے۔ ان کا شعور اور ان کے تصورات گندے ہیں جس طرح ایک گندی مچھلی پورے تالاب کو گندہ کردیتی ہے ، یہی ان کی مثال ہے۔
وماواھم جھنم جزاء بما کانوا یکسبون " ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی " وہ یہ سمجھتے تھے کہ پیچھے رہ کر وہ کمائی کر رہے ہیں اور فائدے میں ہیں اور آرام اور سلامتی اور عافیت میں ہیں اور وہ مالی تاوان سے بھی بچ گئے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں وہ گندگی ہیں اور آخرت میں جو صلہ ان کو ملے گا وہ حسرت ناک ہوگا کیونکہ یہ بہر رنگ و بہر قدر خسارہ ہوگا۔ یہ ہے بات اللہ کی اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ سچا ہوسکتا ہے۔
تمہاری واپسی پر ان بیٹھنے والوں کا طرز عمل کیا ہوگا ؟
یحلفون لکم لرضوا عنہم فان ترضوا عنہم فان اللہ لا یرضی عن القوم الفسقین " یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے راضی ہوجاؤ حالانکہ اگر تم ان سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ رہ گز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا "
ان کی اسکیم یہ ہے کہ پہلے تو یہ لوگ یہ چاہیں گے کہ مسلمان ان کے اس جرم کو معاف کرکے درگزر کردیں اور اس کے بعد یہ کوشش کریں گے یہ مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کرلیں تاکہ مسلمان ان کے ساتھ اسلامی سوسائٹی میں وہی معاملہ جاری رکھیں جو ان کی ظاہر داری پر اس سے قبل تھا۔ اور یہ لوگ ان امکانات کی زد سے بچ جائیں جو اس سورت میں مسلمانوں کو دیے گئے ہیں کہ کفار اور منافقین دونوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور اس طرح سکھوں اور غیر مسلموں کے باہم تعلقات کے لیے یہ آخرت شکل طے کردی گئی یعنی منافقین کو غیر مسلموں میں شامل کردیا گیا۔
لیکن یہاں یہ تصریح کردی گئی کہ یہ لوگ اس جہاد سے پیچھے رہ کر فاسق ہوچکے ہیں اور اللہ ایسے فاسقوں سے کبھی راضی نہیں ہوتا۔ اگرچہ وہ چند بار قسمیں کھائیں اور مسلمانوں کو راضی کرنے کی سعی کریں۔ پس ان کے بارے میں اللہ کا حکم ہی صحیح حکم ہے اور بشمولیت مسلمین اگر تمام دنیا بھی ان سے راضی ہوجائے تو اللہ کے نزدیک ایک کوڑی کے برابر بھی ان کے لیے مفید نہ ہوگی۔ اللہ و رسول اللہ اور مسلمانوں کو راضی کرنے کی واحد سبیل ہے کہ یہ لوگ اس فسق سے ہٹ کر اور تائب ہوکر عمل جہاد میں شرکت کریں اور دین اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے بغیر عذر کے جہاد سے پیچے رہنے والوں کی حقیقت کو طشت از بام کردیا۔ اور جماعت مسلمہ سے ان کو دور کردیا اور مسلمانوں اور منافقوں کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی فیصلہ کردیا جس طرح اس سے قبل مسلمانوں اور مشرکین کے باہمی تعلق کے بارے میں بھی فیصلہ کردیا جس طرح اس سے قبل مسلمانوں اور مشرکین کے باہم تعلق کی ضابطہ بندی کی گئی تھی یا مسلمانوں اور اہل کتاب کے باہم تعلقات کو منضبط کیا گیا تھا اور اس موضوع پر یہ آخری اور فائنل احکام تھے۔
التوبة 9:97
درس نمبر 93 ایک نظر میں
یہ سبق غزوہ تبوک سے قبل اسلامی معاشرے کے عناصر ترکیبی سے بحث کرتا ہے۔ نیز اس وقت اسلامی معاشرے میں جس قدر طبقات اہل ایمان شامل تھے۔ ان کی تفصیلات بتاتا ہے اور اس میں اسلامی معاشرے کی عضویاتی تشکیل سے بحث کی گئی ہے۔ مختلف طبقات کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان کے خدوخال بیان کیے گئے ہیں۔
اس سورت کے آغاز میں ہم نے تفصیل کے ساتھ بتایا تھا کہ وہ کیا تاریخی اسباب تھے جن کی وجہ سے اسلامی معاشرے میں اس قسم کے مختلف مزاج کے لوگ جمع ہوگئے تھے۔ یہاں مناسب ہے کہ چند پیرا گراف یہاں دوبارہ نقل کردیے جائیں تاکہ وہ حالات ذہن کے سامنے آجائیں جن سے اس وقت اسلامی معاشرہ گزر رہا تھا۔ جزیرۃ العرب میں اسلام کے پھیلاؤ کی راہ میں قریش ایک دیوار اور بند کی طرح کھڑے تھے ، کیونکہ دینی اور دنیاوی معاملات میں قریش کو ایک بڑا مقام حاصل تھا۔ پھر ادبی ، ثقافتی اور علمی و اقتصادی اعتبار سے بھی وہ دوسرے عربوں کے لیے قابل تقلید تھے۔ اس وجہ سے ان کا مقابلے پر اتر آنا اور اس دین کی راہ روک دینا اس بات کا باعث ہوا کہ تمام عرب نے اس دین سے منہ پھیرلیا اور اسلام میں داخل نہ ہوئے ، یا اگر انہوں نے صرف نظر نہ کیا تو کم از کم یہ صورت حالات ضرور تھی کہ لوگ تردد میں رہے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ انتظار کیا جائے ، تاکہ مسلمانوں اور قریش کی کشمکش کا کوئی فیصلہ ہوجائے۔ جب فتح مکہ کے بعد قریش سرنگوں ہوئے ہوازن و ثقیف بھی سرنگوں ہوگئے۔ مدینہ میں جو قوی یہودی قبائل تھے ، ان کی قوت اس سے پہلے ہی ٹوٹ گئی تھی۔ بنی قینقاع اور اور بنو نظیر شام کی طرف جلا وطن ہوگئے۔ بنو قریظہ بھی ختم ہوکر خیبر کا معاملہ بھی صاف ہوگیا تھا۔ ان واقعات کی وجہ سے اب پورے جزیرۃ العرب میں اسلام پھیل گیا اور لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہونے لگے اور صرف ایک سال کے عرصے میں لوگ دین اسلام میں داخل ہوگئے۔
اسلام کا گراف افقی طور پر بلند ہونے کی وجہ سے وہ کمزوریاں اسلامی صفوں میں در آئیں جو جنگ بدر کی حیران کن کامیابی کی وجہ سے آگئی تھی۔ اب یہ کمزوریاں بہت بڑے پیمانے پر تھیں۔ بدر الکبری کے بعد جو کمزور عناصر اسلامی صفوں میں در آئے تھے۔ ان کو تعلیم وتربیت کے ذریعے اس قدر پاک و صاف کردیا گیا کہ بدر الکبری کے بعد فتح مکہ تک سات سالوں میں قریب تھا کہ مدنی معاشرہ تمام کمزوریوں سے پاک ہوجائے اور اہل مدینہ اسلامی انقلاب کے لیے مضبوط بیس اور مضبوط بنیاد بن جائے۔ یہاں اولین ، مہاجرین و انصار کی ایسی ایسی جمعیت تیار بیٹھی تھی کہ وہ ہر وقت اسلامی نظام کے لیے امین تھی۔ اگر یہ جمعیت نہ ہوتی تو اس عظیم انقلاب کو سنبھالنا مشکل ہوجاتا۔ لیکن بدر الکبری کے بعد اس جمعیت نے جو مہاجرین و انصار کے سابقین اولین پر مشتمل تھی اس عظیم انقلابی امانت کی مسلسل نگہبانی کی۔ ان سات سالوں میں اللہ تعالیٰ نے مدینہ طیبہ کی اس جمعیت کو اس کام کے لیے تیار کیا اور تربیت دی کہ یہ لوگ فتح عظیم کے بعد اسلام میں داخل ہونے والے انسانوں کے سیلاب کو کنٹرول کرسکیں۔ اللہ خوب جانتا تھا کہ وہ اپنی رسالت اور انقلابی رسالت کی حفاظت کا کام کس کے سپرد کرے۔
ان کمزوریوں کا سب سے پہلے ظہور یوم حنین میں ہوا۔ اس کا تذکرہ سورت توبہ میں ان الفاظ میں ہوا ہے :
لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الأرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ (25) ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (26): " اللہ اسے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد کرچکا ہے۔ ابھی غزوہ حنین کے روز۔ اس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غرور تھا مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اور زمین اس وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔ پھر اللہ نے اپنی سینت اپنے رسول پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور منکرین حق کو سزا دی کہ یہی بدلہ ہے ان لوگوں کا جو حق کا انکار کریں۔
اس جنگ میں ابتدائی شکست کا پہلا سبب یہ تھا کہ دس ہزار اسلامی لشکر میں دوہزار طلقاء شریک تھے۔ یہ فتح ، مکہ کے موقع پر ایمان لائے تھے اور اسلامی لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے نکلے تھے۔ چناچہ اسلامی لشکر کے ساتھ ان دوسرے افراد کا وجود بھی اس انتشار کا سبب بنا۔ دوسرا سبب یہ تھا کہ ہوازن نے بالکل اچانک حملہ کیا اور لشکر اسلام چونکہ صرف مدینہ طیبہ کی حققی تربیت یافتہ فوج پر مشتمل نہ تھا ، جن کی تربیت گزشتہ سات سالوں میں مکمل ہوچکی تھی اور جو اس تحریک کی اصل اساس اور سرمایہ تھے ، اس لیے انتشار پیدا ہوگیا۔
غزوہ حنین میں جو کمزوریاں سامنے آئیں وہ اسلام کی عددی قوت کے گراف اچانک عمودی بلندی کی وجہ سے تھیں۔ جدید لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے ، جو ایمان اور اخلاص کے اعتبار سے مختلف درجات کے لوگ تھے۔ جن کے درمیان تفاوت درجات تھا اور سورت توبہ میں ان کمزوریوں سے بحث کی گئی ہے اور پھر مختلف زاویوں سے اور مختلف پہلوؤں سے سخت تنقید کی گئی ہے جن کے تفصیلی اقتباسات ہم اس سے قبل دے آئے ہیں۔
اس اجمال کی تفصیل میں اب ہم آیات کی تشریح کرتے ہیں۔
اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ ۭوَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ: یہ بدوی عرب کفر ونفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے۔ اور حکیم ودانا ہے۔
یہاں سے بدوی عربوں کی انواع و اقسام پر تبصرہ شروع ہوتا ہے۔ یہ بدوی عرب مدینہ کے ارگرد سکونت پذیر تے۔ اسلام لانے سے قبل ان لوگوں نے اسلام کے خلاف ہر کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اسلام لانے کے بعد وہ عموماً دو قسم کے تھے جن کا تذکرہ ان آیات میں ہوا ہے۔ یہاں ان دونوں اقسام کے بیان سے قبل ان بدوی لوگوں پر ایک عمومی تبصرہ ہے۔
ان عمومی الفاظ میں بدویوں کی تعریف کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ بدویت کی صفات کیا ہوتی ہیں ، لہذا ہر بدوی کی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ سخت کافر اور پرلے درجے کے منافق ہوتے ہیں اور ان کے حالات ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں وہ زیادہ جاہل اور حدود اللہ سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اور ان تعلیمات سے دور رہتے ہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہیں۔
یعنی ان کے عدم علم اور ناواقفیت کی اصل وجہ ہی ان کے ظروف و احوال ہیں۔ مشکل حالات میں رہ رہ کر یہ لوگ سخت جان ، اجڈ اور دین کے راہ و رسم سے ناواقف رہتے ہیں۔ ان کا تعلق چونکہ ہر وقت حسی مادی اشیاء سے ہوتا ہے ، اس لیے وہ اعلی اقدار اور اخلاقی اصولوں سے زیادہ مادی اشیاء کو اہمیت دتے ہٰں۔ اگرچہ ایمان ان کے مزاج میں تبدیلی پیدا کردیتا ہے۔ اور ان کی اقدار اور ترجیحات کو بلند کردیتا ہے اور حسی افق سے ان کو بلند کرکے معنوی آفاق پر ان کی نظریں مرکوز کردیتا ہے۔
بدویوں کی سنگدلی کے بیشمار واقعات ، احادیث و روایات میں نقل ہوئے ہیں۔ علامہ ابن کثیر نے ان میں اکثر واقعات کو نقل فرمایا ہے۔
۔۔۔
اعمش نے ابراہیم سے نقل کیا ہے ، کہتے ہیں کہ ایک بدوی زید ابن صومان کے پاس آ کر بیٹھا۔ وہ اپنے ساتھیوں سے باتیں کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ ان کا ہاتھ جنگ نہاوند میں زخمی ہوگیا تھا۔ تو بدوی نے کہا تمہاری باتیں تو مجھ عجیب لگ رہی ہیں لیکن تمہارا ہاتھ مجھے شب ہے میں ڈآل رہا ہے تو زید نے کہا تم میرے ہاتھ کی وجہ سے شک میں کیوں پڑگئے ؟ دیکھتے نہیں کہ یہ تو بایاں ہے ؟ اس پر بدوی نے کہا : خدا کی قسم مجھے یہ معلوم نہیں کہ مجرمین کا بایاں ہاتھ کاٹا جاتا ہے یا دایاں۔ اس زید ابن صومان نے فرمایا
اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّنِفَاقًا وَّاَجْدَرُ اَلَّا يَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ : یہ بدوی عرب کفر ونفاق میں زیادہ سخت ہیں اور ان کے معاملہ میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کیا ہے۔ امام احمد روایت کرتے ہیں عبدالرحمن ابن مہدی سے ، سفیان نے ، ابوموسی سے ، وھب ابن منبہ نے ، ابن عباس نے ، رسول اللہ ﷺ سے ، فرماتے ہیں کہ جو شخص دیہات میں رہائش رکھتا ہے ، وہ خشک ہوجاتا ہے اور جو شکار کا پیچھا کرتا ہے وہ غافل ہوجاتا ہے ، اور جو بادشاہوں کے ہاں جاتا ہے ، فتنے میں پڑتا ہے۔ شدت اور ظلم چونکہ چونکہ بدوی لوگوں میں بہت زیادہ پایا جاتا ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بدویوں میں سے کبھی رسول نہیں بھیجا۔ تمام رسول قصبوں اور شہروں سے مبعوث ہوئے ہٰں۔
وما ارسلنا من قبلک الا رجالا انوحی الیہم من اھل القری " اور آپ سے پہلے بھی اہل قریہ میں سے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا گیا جن کے طرف وحی کی گئی۔ ایک بار جب ایک بدوی نے رسول اللہ کو ہدیہ دیا تو رسول اللہ نے جواب میں کئی گنا دیا " چناچہ وہ راضی ہوگیا۔ حضور نے فرمایا کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں کسی قریشی ، ثقفی انصاری اور دوسی کے سوا کسی اور کا ہدیہ قبول نہ کروں۔ کیونکہ یہ لوگ شہروں میں رہتے تھے یعنی مکہ ، طائف ، مدینہ اور یمن میں رہتے تھے۔ یہ لوگ نہایت نرم مزاج تھے جبکہ بدوی لوگوں کے مزاج میں درشتی ہوتی ہے۔
امام مسلم نے ابوبکر ابن ابو شیبہ سے اور ابوکریب سے ، انہوں نے ابو امامہ سے اور ابن تمیر سے ، ہشام سے ، اس کے باپ سے انہوں نے ، عائشہ سے ، فرماتی ہیں : بعض دیہاتی حضور سے ملاقات کے لیے آئے تو انہوں نے کہا " کیا تم لوگ اپنے چبوں کو بوسہ دیتے ہو تو لوگوں نے کہا : " ہاں " تو انہوں نے کہا : " خدا کی قسم ہم تو بوسہ نہٰں دیتے " اس پر حضور اکرم نے فرمایا : " میں کیا کرسکتا ہوں کہ اللہ نے تمہارے دلوں سے شفقت نکال دی ہے۔
غرض بیشمار روایات میں عرب دیہاتیون کی درشت مزاجی اور سنگدلی کے واقعات نقل ہوئے ہیں۔ اور بعض واقعات کا تعلق ان واقعات سے ہے جو اسلام کے بعد کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا ان کی یہ صفت بجا طور پر اسلام کے بعد بھی ہوسکتی ہے کہ بعض بدوی کفر میں اور نفاق میں زیادہ شدید ہوں ، اور ان کے بارے میں زیادہ امکان اس بات کا ہو کہ وہ حدود اللہ سے لاعلم ہوں ، جو رسول اللہ پر نازل ہوئے تھے کیونکہ انہوں نے پوری زندگی دیہاتوں میں درشتی اور سختی کے ماحول میں گزاری تھی ، جس میں وہ دوسروں کو کنٹرول میں رکھتے تھے اور جب کمزور زیر دست ہوتے تھے تو وہ اظہار نفرت میں نفاق اور عیاری سے کام لیتے تھے۔ یہ لوگ چونکہ دین جدید کی راہ و رسم سے واقف نہ تھے اس لیے وہ بسا اوقات حدود سے تجاوز کر جاتے تھے۔
واللہ علیم حکیم " اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے " اسے اپنے بندوں کے حالات کا اچھی طرح علم ہے۔ ان کی صفات اور ان کے مزاج کا اچھی طرح علم رکھتا ہے اور وہ حکیم دانا ہے ، اس نے مختلف لوگوں کو مختلف خصوصیات ، صفات اور استعداد سے نوازا ہے اور اس نے لوگوں کو مختلف نسلوں ، جنسوں اور خاندانوں اور اقوام کی شکل میں منقسم کررکھا ہے۔
بدوی لوگو کی عمومی صفات کے بیان کے بعد اب اسلامی تحریک اسلامی تربیت کے نتیجے میں جو تغیرات ہوئے ، اس زاویہ سے ان کے درمیان جو فرق پیدا ہوگیا ہے ، اس کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔ بعض دل بہرحال ایسے تھے جن میں حقیقی ایمان داخل ہوگیا تھا ، اور بعض ایسے تھے جو ابھی تک اپنی سابقہ حالت پر قائم تے اور حالت کفر و نفاق ان کے اندر موجود تھی۔
التوبة 9:98
چونکہ اس سے پہلے کے پورے سبق میں منافقین مدینہ کا ذکر تھا اس لیے یہاں مومنین سے بھی پہلے منافقین کا ذکر کیا گیا تاکہ بدوی منافقین اور مدینہ کے منافقین کا ذکر ایک جگہ ہوجائے۔
ومن الاعراب من یتخذ ما ینفق مغرما " اور ان بدویوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو راہ خدا میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اپنے اوپر زبردستی کی چٹی سمجھتے ہیں " اپنے ظاہری اعلان ایمان کی وجہ سے یہ لوگ مجبور ہیں کہ زکوۃ ادا کریں اور مسلمانوں کی جنگی مہمات کے لیے مالی امداد دیں کیونکہ اس ظاہر داری کے بغیر وہ اسلامی معاشرے میں پر امن زندگی کے ثمرات سے متمتع نہ ہوسکتے تھے۔ نیز مدینہ میں چونکہ اسلامی حکومت قائم تھی اور اس کے ساتھ بھی انہیں ہاں میں ہاں ملانا تھی۔ لیکن در حقیقت وہ ان تمام اخراجات کو زبردستی کی چٹی سمجھتے تھے ، وہ دل کی خوشی سے یہ اخراجات نہ کرتے تھے کیونکہ ان کو مسلمانوں کی فتح اور نصرت سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔
و یتربص بکم الدوائر " اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشون کا انتظار کر رہے ہیں تھے " وہ انتظار کرتے تھے کہ مسلمان کسی چکر میں پھسن جائیں اور ان کو شکست ہو اور ان کے غازی صحیح سلامت واپس نہ لوٹیں۔
ان یہاں ان کے حق میں اللہ کی جانب سے بد دعا آجاتی ہے۔ اللہ کی جانب سے بد دعا کا مفہوم تو یہ ہے کہ بددعا کا مفہوم عملاً ان پر واقعہ ہوجاتا ہے۔
علیہم دائرۃ السوء " حالانکہ بدی کا چکر ان پر مسلط ہے " گویا بدی ایک دائرہ ہے جس نے انہیں گھیرے میں لے لیا ہے ، اور اس سے وہ کسی طرح بچ کر نکل نہیں سکتے۔ وہ مکمل گھیرے میں ہیں۔ یہاں یہ معنی و مفہوم کو مجسم شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ یالی تجسیم ہے جس کے ذریعے مفہوم زیادہ موثر اور زندہ نظر آتا ہے ۔
واللہ سمیع علیم " اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے " یہاں اللہ کی صٖات سمع اور علم کو لایا گیا ہے ، جو زیر بحث صورت حال میں نہایت موزوں اور مناسب ہے۔ یہ لوگ دلوں میں خفیہ خواہشات بسائے اور چھپائے ہوے ہیں کہ کوئی مصیبت مسلمانوں پر نازل ہو ، نیز کفر کو چھپا کر ایمان کو ظاہر کر رہے تے اس لیے اللہ ان کی خفیہ باتوں کو سنتا ہے اور چھپائے ہوئے بھیدوں اور کفر کا علم رکھتا ہے۔ اور دوسرا گروہ جن کے دلوں کے اندر ایمان کی چمک پیدا ہوگئی :
التوبة 9:99
اللہ پر ایمان اور جزائے یوم آخرت کی امیدواری کی وجہ سے یہ لوگ خرچ کرتے ہیں ، عوام الناس کے خوف کی وجہ سے نہیں اور نہ اہل اقتدار کو خوش کرنے کے لیے ۔ نہ ان لوگوں کے پیش نظر دنیا کا سود و زیاں ہے۔ بلکہ یہ فریق اللہ اور یوم آخرت پر پختہ ایمان رکھتا ہے اور جو کچھ خرچ کرتا ہے محض رضائے الہی کے لیے خرچ کرتا ہے۔ اور اس بات کا طلبگار ہے کہ رسول خدا ان کے حق میں دعائے خیر کردیں اور حضور کسی کے لیے تب ہی دعا کرتے ہیں جب وہ کسی سے راضی ہوں اور جب آپ کسی کے لیے دعا کردیں تو یقینی ہے کہ وہ شخص مفہوم دعا کو پا گیا۔ کیونکہ حضور کی دعا ہی ان کے ایمان ، بعد ، ایمان بالآخرت اور طلب رضائے الٰہی اور خلوص کی گارنٹی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ فوراً اعلان کردیا جاتا ہے کہ ایسے لوگو کی یہ سعی مشکور ہوئی۔
الا انہا قربۃ لہم " بیشک وہ ضرور ان کے لیے تقرب کا ذریعہ ہے " اور ساتھ ہی یہ اعلان ہوجاتا ہے کہ یہ لوگ مقصد کو پا گئے۔
سیدخلھم اللہ فی رحمتہ " اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا " یہاں قرآن کریم اللہ کی رحمت کو بھی مجسم شکل میں پیش کرتا ہے کہ وہ گویا ایک محل ہوگا جس میں یہ لوگ داخل ہوجائیں گے ، جس طرح اس سے قبل فریق مخالف کے ان منافقین اور کفار کے لیے مصیبت کو ایک دائرے کی شکل میں مجسم کرکے انہیں اس میں گھیرے ہوئے دکھایا تھا ، جو مسلمانوں کے لیے دل میں کینہ رکھتے تھے۔
ان اللہ غفور رحیم " یقینا اللہ در گزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے " وہ توبہ بھی قبول کرتا ہے ، نفقہ بھی قبول کرتا ہے ، اور جو تقصیرات اسلام کی راہ میں ہوگئی ہوں ان کو بھی معاف کرتا ہے اور جو رحمت کا طلبگا رہے اسے مایوس نہیں کرتا۔
التوبة 9:100
بدوی معاشرے کے اس تجزیے کے بعد اب اگلی آیات میں اس وقت کے پورے اسلامی معاشرے کی پوزیشن کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں چار طبقات تھے۔ انصار و مہاجرین کے سابقین اولین مسلمان اور وہ لوگ جو صحیح معنوں میں ان کے متبع تھے۔ دوسرے وہ منافقین جو مدینہ کے باشندوں میں سے بھی تھے اور مدینہ کی اردگرد کی آبادیوں میں بھی پھیلے ہوئے تھے اور عمل نفاق میں خوب طاق ہوگئے تھے ، تیسرے وہ لوگ تھے جن کے کچھ کام اچھے تھے اور کچھ برے تھے اور چہارم وہ تھے جن کے بارے میں اللہ نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ اس فیصلے کا انتظار تھا۔
پہلا گروہ : وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : " وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔ "
دوسرا گروہ : وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ ړ وَمِنْ اَھْلِ الْمَدِيْنَةِ ڀ مَرَدُوْا عَلَي النِّفَاقِ ۣ لَا تَعْلَمُھُمْ ۭ نَحْنُ نَعْلَمُھُمْ ۭ سَنُعَذِّبُھُمْ مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِيْمٍ : تمہارے گردوپیش میں جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ، ہم انہیں جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزادیں گے ، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لئے واپس لائے جائیں گے۔
تیسرا گروہ : وَاٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَـيِّـــًٔـا ۭعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّتُوْبَ عَلَيْهِمْ ۭاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: کچھ اور لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے ، کچھ نیک ہے اور کچھ بد۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اے نبی تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں) انہیں بڑھاؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو ، کیوں کہ تمہاری دعا ان کے لئے وجہ تسکین ہوگی ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے ؟ اور اے نبی تم ان لوگوں سے کہ دو کہ عمل کرو ، اللہ اور اس کا رسول اور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل اب کیا رہتا ہے ، پھر تم اس کی طرف پلٹائے جاؤگے جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے ، اور وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔
چوتھا گروہ : وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا يُعَذِّبُھُمْ وَاِمَّا يَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ: کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی خدا کے حکم پر ٹھرا ہوا ہے ، چاہے انہیں سزا دے اور چاہے ان پر ازسرنو مہربان ہوجائے۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم ودانا ہے۔
بظاہر یوں نظر آتا ہے کہ اس وقت کے اسلامی معاشرے کے عناصر ترکیبی پر یہ تبصرہ تبوک کی واپسی کے بعد اور لوگوں کے عذرات سننے کے بعد نازل ہوا۔ یہ عذرات ان منافقین نے بھی پیش کیے تھے جو اس غزوے کے باوجود تاکیدی حکم کے پیچھے رہ گئے تھے اور بعض مخلص مومنین نے بھی پیش کیے تھے۔ ان میں بعض لوگ وہ تے جنہوں نے سچے عذرات پیش کیے ، بعض نے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستون سے باندھ لیا تھا اور وہ اس وقت تک بندھے رہنے پر مصر تھے جب تک رسول اللہ انہیں نہیں کھولتے۔ اور بعض ایسے تھے جنہوں نے کوئی عذر پیش نہیں کیا تھا اور امید رکھتے تھے کہ اللہ انہیں معاف کردے گا۔ اور یہ وہ تین افراد تھے جو پیچھے رہ گئے تھے تو ان کے بارے میں حضور نے کوئی فیصہ ہی نہ فرمایا تھا ، یہاں تک کہ ان کے بارے میں اللہ نے معافی نازل کردی اور ان کی توبہ قبول کرلی۔ جیسا کہ عنقریب ان کے بارے میں تفصیلات آجائیں گی۔ یہ لوگ اس وقت تحریک اسلامی میں شامل ہونے والے مختلف اصناف میں سے تھے اور غزوہ تبوک کے مابعد یہ سب قسم کے لوگ اسلامی صفوں میں شامل تھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت نبی ﷺ کو اس وقت کی تحریکی صفوں سے اچھی طرح آگاہ فرما رہے تھے کہ اسلامی تحریک کے شب و روز کیا ہیں اور تحریک اسلامی کے اس پہلے مرحلے کے اختتام پر یعنی جزیرۃ العرب میں تکمیل انقلاب کے اختتام پر اور عالمی انقلاب کے مرحلے کے آغاز کے موقعہ پر آپ کو بتایا جا رہا تھا کہ اگلے مرحلے میں کم کے لوگ کون ہوں گے تاکہ اسلامی تحریک ان کو لے کر عالمی سطح پر اللہ وحدہ کی بندگی کا نظام قائم کردے اور اس طرح تمام کرہ ارض پر ہر انسان کو کسی بھی انسان کی غلامی سے آزاد کردے اور زمین پر کوئی انسان بھی کسی طرح کسی دوسرے انسان کا غلام نہ رہے۔
تحریک اسلامی کے لی اس بات کی شد ضرورت تھی کہ اسے اچھی طرح معلوم ہو کہ اسے کس گراؤنڈ پر کھیلنا ہے۔ ہر مرحلے اور ہر قدم پر اسے کیا کرنا ہے۔ اور یہ معلومات اس کے لیے ضروری تھیں تاکہ لوگ یہ جان سکیں کہ ان کی پوزیشن کیا ہے اور اگلے مرحلے کے لیے اس نے کیا اقدامات کرنے ہیں ؟
وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِيْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِيْنَ اتَّبَعُوْھُمْ بِاِحْسَانٍ ۙ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْهُ وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ :
وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔
مسلمانوں کا یہ طبقہ جو تین عناصر پر مشتمل تھا ، سابقون اولون از ماہرجین ، سابقوں اولین از انصار اور وہ لوگ جو ان کے بعد راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آے ، یہ تین طبقات اس وقت کی تحریک اسلامی کی ریڑھ کی ہڈی تھے اور فتح مکہ کے بعد جزیرۃ العرب میں یہی لوگ حقیقی حاملین دعوت تھے۔ دسویں پارے میں اس سورت پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے اس کی تفصیلات دے دی ہیں۔ غرض یہی لوگ تھے جنہوں نے اس دعوت کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا اور اس سوسائٹی پر ان کو پورا کنٹرول حاصل تھا۔ اور ہی لوگ ہر اچھی حالت اور ہر بری حالت میں اس سوسائٹی کو تھامے ہوئے تھے اور یہ بات ہر تحریک کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہی کہ مشکلات کی ازمائشیں بمقابلہ خوشحالی اور فتح کی آزمائش کے بہت ہی آسان ہوتی ہیں۔
مہاجرین میں سے سابقون اولون کو لوگ ہیں ؟ ہماری رائے میں یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر سے قبل ہجرت فرمائی۔ اسی طرح انصآر سے سابون اولون وہ لوگ ہیں جو جنگ بدر سے قبل ایمان لائے ، رہے وہ لوگ جو ان کے بعد راست بازی کے ساتھ ایمان لائے ، وہ وہی لوگ ہیں جو غزوہ تبوک کی آزمائش میں پورے اترے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلامی نظام زندگی اختیار کیا ، پوری طرح ایمان لائے اور اس کے بعد ایمانی تقاضے پورے کیے۔ اور اعلی ایمانی معیار تک پہنچ کیے۔ اگرچہ ان پر ان لوگوں کو سبقت حاصل ہے جنہوں نے نہایت ہی شدید حالات میں اسلام کے دامن کو تھاما۔
روایات اس بارے میں مختلف ہیں کہ انصار اور مہاجرین میں سے سابقون اولون کون ہیں ؟ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر سے قبل ہجرت کی اور نصرت کی۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اہل بدر ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دو قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی۔ بعض نے کہا ہے کہ وہ اہل بدر ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے صلح حدیبیہ سے قبل ہجرت کی اور نصرت کی۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ بیعت رضوان والے ہیں۔ ہماری رائے وہی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اور اس رائے کو ہم نے اسلامی معاشرے کی تشکیل مراحل اور اہل ایمان کے مختلف مراحل اور اہل ایمان کے مختلف طبقات کی تشکیل کے مراحل کے گہرے مطالعے کے بعد قائم کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
بہتر ہوگا کہ ہم یہاں دسویں پارے سے چند فقرے نقل کردیں جو ہم نے وہاں اسلامی معاشرے کی تشکیل اور اس کے اندر اہل ایمان کے مراتب کے تعین کے بارے میں وہاں لکھے تھے تاکہ قارئین کے ذہن میں وہ نکات دوبارہ تازہ ہوجائیں اور اسے دوبارہ پارہ دہم کی ورق گردانی نہ کرنی پڑے۔ اور ان نکات کی روشنی میں قارئین اسلام معاشرے کی طبقاتی تقسیم (Classification) کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ یہ اسلامی معاشرے کی آخری تقسیم تھی کیونکہ زیر بحث آیات قرآن کریم کی آخری دور کی آیات ہیں۔
" تحریک اسلامی مکہ مکرمہ میں نہایت ہی شدید حالات میں ابھری ، اس کا مقابلہ قریش کے جاہلی معاشرے سے تھا۔ تحریک اسلامی کا کلمہ دعوت لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کو قریش کے اس جاہلی معاشرے نے اپنے لیے ایک خطرہ سمجھا ، اس لیے کہ یہ کلمہ درحقیقت ان تمام معاشروں اور ان کے اقتدار اعلی کے لیے ایک گونہ بغاوت کا اعلان تھا جن کا اقتدار اعلی اللہ کے اقتدار اعلی اور اللہ کی حکومت سے ماخوذ نہ تھا۔ یہ کلمہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ کلمہ گو نے تمام طاغوتی قوتوں کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا ہے اور وہ صرف اللہ کی حکومت اور اقتدار کا وفادار ہے۔ پھر قریش کے جاہلی معاشرے نے فوراً ہی محسوس کرلیا کہ یہ نئی دعوت ایک نئی قیادت ، قیادت محمد ﷺ کے تحت ایک منظر تحریک کی شکل میں ابھر رہی ہے۔ اور اس نئی تحریک کا شعار پہلے دن سے یہ ہے کہ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کی جائے اور قریش کی جاہلی اور سرکش اور ظالم قیادت کی اطاعت کا انکار کردیا جائے۔
جونہی قریش نے درج بالا خطرہ محسوس کیا کہ موجودہ نظام ، اس کے مفادات اور اصولوں کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے تو اس جاہلی معاشرے نے تحریک اسلامی کے افراد کے خلاف تشدد اور ظلم کا طوفان کھڑا کردیا۔ انہوں نے ایک جدید تحریک اور اس جدید سوسائٹی اور اس جدید قیادت کے خلاف وہ تمام ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کردیے جو ان کے بس میں تھے۔ جن میں ایذا رسانی ، سازشیں ، اوچھے ہتھیار اور فتنہ پردازیاں سب کچھ شامل تھے۔
قریش کا جاہلی معاشرہ یکلخت اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے اپنا دفاع شروع کردیا اور اس معاشرے نے بعینہ اسی طرح اپنا بچاؤ شروع کردیا جس طرح ایک زندہ انسان اپنے آپ کو موت کے خطرات سے بچانا چاہتا ہے۔ اور قریش کے اس جاہلی معاشرے کا یہ رد عمل بالکل فطری تھا ، اور جب بھی کوئی دعوت لوگوں کو صرف رب العالمین کی بندگی ، ربوبیت اور اقتدار اعلیٰ کی طرف بلانا شروع کرتی ہے ، اس وقت کی قائم جاہلی سوسائٹی کا رد عمل ایسا ہی ہوتا ہے ، کیونکہ جاہلی سوسائٹی میں انسان انسانوں کے غلام ہوتے ہیں اور اسلامی دعوت صرف رب العالمین کی بندگی کی طرف ہوتی ہے۔ جب بھی دعوت اسلامی ایک عضویاتی تحریک کی شکل میں اٹھے گی جاہلیت ، اس کے مقابلے میں اٹھ کھڑی ہوگی جس طرح نقیض نقیض کے مقابلے میں ہوتا ہے۔ اور اس قسم کی تحریک کا ہر کارکن جاہلی معاشرے کی زد میں آجاتا ہے اور اسے ہر قسم کے فتنوں اور مشقتوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اور بسا اوقات اس تشدد کے نتیجے میں کارکنوں کا خون بھی بہایا جاتا ہے ، جب ایسے حالات ہوتے ہیں تو تحریک اسلامی کی صفوں میں آ کر شہادت حق دینے والے صرف وہی لوگ ہوتے ہیں ، جنہوں نے فیصلہ کرلیا ہو کہ وہ اللہ کی راہ میں جان تک کا نذرانہ پیش کریں گے۔ اس دعوت اور تحریک اور اس جدید سوسائٹی کی رکنیت ایسے سرفروش ہی اختیار کرتے ہیں جو اذیت ، فتنہ سامانیوں ، بھوک افلاس اور شدائد و مصائب برداشت کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض اوقات انہیں قید و بند اور موت کے لیے بھی تیار ہونا پڑتا ہے۔
مکہ مکرمہ کے عربی معاشرے میں ایسے ہی مضبوط ، طاقتور اور اولوالعزم لوگ ہی اسلامی قیادت کی بنیاد بنے۔ وہ لوگ جو مشکلات برداشت کرکے اور شدائد و مصائب انگیز نہ کرکے تحریک میں فوج در فوج داخل ہوگئے تھے وہ دوبارہ جاہلیت کی طرف مرتد ہوکر لوٹ گئے تھے۔ یہ اولوالعزم لوگ تعداد میں بہت ہی کم تھے اور یہ بات بالکل معروف اور کھلی ہے۔ اس لیے کہ ابتداء جاہلیت کو چھوڑ کر اسلام کی مشکل اور پر خطر راہ کو اپنانے کے لیے کوئی تیار نہ تھا ماسوائے ان ممتاز اور مختار اور برگزیدہ لوگوں کے جن کو اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا۔
سابقین مہاجرین ایسے ہی لوگوں میں سے تھے جو نادرہ روزگار تھے اور یہ اس دین کا بنیادی اثاثہ تھے اور مضبوط بنیاد تھے اور انہوں نے ابتدائی مکی دور میں لبیک کہا۔ یہی لوگ جب مدینہ پہنچے تو یہ اس تحریک کے روح رواں اور دین کے مرکزی ستون تھے۔ ان کے ساتھ مدینہ میں انصار میں سے ایسے ہی اولوعزم افراد مل گئے۔ ان لوگوں نے اگرچہ وہ مشکلات برداشت نہ کی تھیں جو مہاجرین نے کیں لیکن ان لوگوں نے چونکہ نہایت ہی مشکل حالات میں عقبہ کے مقام پر حضور کے ساتھ بیعت کی تھی ، اس لیے یہ لوگ بھی پاک طینت اور اصلی مزاج کے لوگ تھے اور ان کے اندر وہ بنیادی اوصاف موجود تھے جو اس دین کے حاملین اولین میں ضروری تھے۔ علامہ ابن کثیر اپنی تفسیر میں کہتے ہیں " محمد ابن کعب قرظی نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن رواحہ نے بیعت عقبہ کے موقعہ پر حضور اکرم ﷺ سے کہا : آپ اپنے لیے اور اپنے رب کے لیے جو شائط ہم پر عائد کرنا چاہیں ، عائد کردیں۔ تو اس پر حضور نے فرمایا میں رب کے لیے تو یہ شرائط عائد کرتا ہوں کہ تم اس کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو ، اور اپنے لیے یہ شرط عائد کرتا ہوں کہ تم میری مدافعت اس طرح کروگے جس طرح تم اپنی جان و مال کی مدافعت کرتے ہو ، اس پر لوگوں نے کہا کہ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہمارے لیے کیا اجر ہوگا ؟ تو حضور نے فرمایا الجنۃ تو انہوں نے کہا یہ بہت ہی اچھا سودا ہے ، نہ ہم اقالہ کرتے ہیں اور نہ دوسرے فریق سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اقالہ کرے۔
یہ لوگ جو حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے ، یہ جنت کے بغیر اور کچھ نہ چاہتے تھے۔ انہوں نے بڑے وثوق کے ساتھ یہ اعلان بھی کردیا کہ نہ تو وہ اس سودے کو واپس کریں گے اور نہ ہی فریق ددوئم کو یہ اجازت دیں گے کہ وہ اس سودے وک ٹالیں۔ اور یہ جانتے تھے کہ یہ بیعت کوئی معمولی بیعت نہ تھی ، وہ جانتے تھے کہ اب قریش ان کے پیچھے پڑیں گے اور نہ صرف قریزش بلکہ تمام عرب ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور وہ اب جاہلیت کے ساتھ مل کر پرسکون زدنگی بسر نہ کرسکیں گے جو ان کے اردگرد خیمہ زن ہے اور جزیرۃ العرب اور مدینہ کے اطراف و اکناف پر حکمران ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا کہ انصار کو یہ علم تھا اور یہ یقینی علم تھا کہ اس بیعت کے نتائج کیا ہوں گے اور انہوں نے یہ بات بھی اچھی طرح جان لی تھی کہ حضور نے ان کے ساتھ اس دنیا کے اندر کسی اجر و صلہ کا وعدہ نہیں فرمایا۔ یہاں تک کہ حضور نے ان کے ساتھ یہ وعدہ بھی نہیں کیا کہ تمہیں اس دنیا میں اس مقصد میں کامیابی نصیب ہوگی ماسوائے جنت کے۔ ان کے ساتھ کوئی اور وعدہ نہ تھا۔ یہ تھی ان کے فہم دین کی انتہا اور یہ تھی ان کی چاہت جو وہ اس دین کے ساتھ رکھتے تھے۔ لہذا یہ لوگ سابقوان اولن کے مقام بلند پر فائز ہوئے اور یہ لوگ مہارجین کے اولین ساتھیوں میں قرار پائے جنہوں نے تعمیر دین کی بنیادوں میں حصہ لیا اور اس عمارت کو تیار کیا۔ یہ لوگ مدینہ کی سوسائٹی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے تھے۔
لیکن مدینہ کا معاشرہ اور جماعت اسی طرح مخلص اور صاف رہی۔ اسلام کا ظہور مدینہ سے ہوا۔ وہ اس کے اندر دور تک پھیل گیا اور بہت سے لوگ خصوصا ان میں سے صاحب مرتبہ اور سربراہ قسم کے لوگوں نے بھی اپنی قوم کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کردیا تاکہ ان کی لیڈر شپ قائم رہے۔ جب جنگ بدر کا عظیم واقعہ پیش آگیا تو اس قسم کے لوگوں کے سرخیل عبد ابن ابی ابن سلول نے اس پر یہ تبصرہ کیا کہ یہ معاملہ تو اب بہت آگے نکل گیا ہے۔ اس لیے اس نے نفاق کے طور پر اسلام قبول کرلیا۔ یہ بات ضروری ہے کہ بعض لوگوں کو اسلام کا سیلاب بہا کرلے گیا اور انہوں نے دوسروں کی تقلید میں اسلام قبول کرلیا۔ اگرچہ یہ مقلد قسم کے لوگ منافق نہ تھے لیکن ان لوگوں نے اسلام کو ابھی تک اچھی طرح نہ سمجھا تھا اور نہ وہ اسلامی قالب میں اچھی طرح ڈھل گئے تھے ، اس کی وجہ سے مدینہ کی اسلامی سوسائٹی میں افراتفری تھی کیونکہ مختلف لوگ ایمان کے مختلف درجات پر فائز تھے۔
قرآن کریم نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں اس قسم کے لوگوں کی تربیت شروع کی۔ چونکہ ایمان و اخلاق کے مختلف درجات کے لوگ اس سوسائٹی میں داخل ہوگئے تھے ، اس لیے ضروری تھا کہ ان مختلف عناصر کے اندر توازن اور توافق اور ہم آہنگی پیدا کی جائے اور جدید سوسائٹی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔
جب ہم مدنی سورتوں کا مطالعہ ترتیب نزولی کے مطابق کریں (اگرچہ یہ ترتیب اندازا معلوم ہے) تو معلوم ہوگا کہ قرآن نے اسلامی معاشرے میں مسلسل داخل ہونے والے جدید عناصر کی تربیت اور تطہیر کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی کیونکہ آنے والے لوگ مختلف عناصر کے اندر توازن اور توافق اور ہم آہنگی پیدا کی جائے اور جدید سوسائٹی مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔
جب ہم مدنی سورتوں کا مطالعہ ترتیب نزولی کے مطابق کریں (اگرچہ یہ ترتیب اندازاً معلوم ہے) تو معلوم ہوگا کہ قرآن نے اسلامی معاشرے میں مسلسل داخل ہونے والے جدید عناصر کی تربیت اور تطہیر کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھی کیونکہ آنے والے لوگ مختلف خاندانوں اور مزاجوں کے تھے اور مسلسل آ رہے تھے۔ قریش اگرچہ لوگوں کو دین اسلام میں داخل ہونے سے روکتے تھے اور تمام عرب قبائل کو وہ اس دین کے خلاف آمادہ جنگ کرتے تھے۔ اسی طرح یہودی بھی اس دین کی راہ میں رکاوٹ تھے اور وہ بھی رات دن لگے ہوئے تھے کہ تمام اقوام اس دین جدید پر حملہ آور ہوں اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ اس لیے جدید آنے والے لوگوں کی تربیت کی بہت ضرورت تھی۔
تربیت اور تطہیر کی اس مسلسل جد و جہد کے باوجود کبھی کبھار خصوصاً مشکل اور شدید وقت میں اسلامی صفوں میں کمزوریوں کا ظہور ہوجاتا تھا۔ بعض گوشوں میں نفاق ابھرتا بعض میں تردد اور غیر یقینی صورت حال ہوتی۔ بعض لوگ دین جدید کی راہ میں مال خرچ کرنے میں بخل کرتے۔ بعض لوگ خطرات کا سامنا کرنے سے ڈرتے۔ بعض اوقات لوگ یہ نہ سمجھ سکتے کہ ان کے مابین اسلامی رابطے اور تعلق کا کیا مقام ہے اور ان کی سابقہ جاہلی رشتہ داریوں اور روابط کی حیثیت اب کیا ہے ؟ وہ اسلام بھائی چارے کو اچھی طرح نہ سمجھتے تھے۔ اس سورت کی آیات سے ہمیں اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ آیات قرآنیہ مختلف طریقوں سے اور مختلف زاویوں سے ایسے لوگوں کی تربیت کس طرح کرتی ہیں اور اس کے لیے کیا کیا اسلوب اختیار کرتی ہیں۔ ان آیات میں سے ہم بعض آیات کو بطور مثال پیش کرتے ہیں۔
لیکن مدینہ طیبہ میں مسلم معاشرے کا بنیادی ڈھانچہ درست تھا ، اس لیے کہ اس ڈھانچے میں بنیادی اہمیت صرف ان لوگوں کو حاصل تھی جو مہاجرین وانصار میں سے سابقین اولین تھے اور نہایت ہی مضبوط لوگ تھے۔ نیز اس معاشرے کی تعمیر و تربیت میں اتحاد و اتفاق اور اس کے ڈھانچے میں اس قدر پختگی تھی اس نے ان کمزوریوں اور عوارض اور انتشار پر قابو پا لیا تھا اور وہ عناصر جو خوف اور پریشانی سے متاثر ہوجاتے تھے اور جن کی ابھی تک پوری تربیت نہ ہوئی تھی اور وہ اس جدید معاشرے میں ابھی تک ڈھل نہ گئے اور ان کے اندر پوری ہم آہنگی پیدا نہ ہوئی تھی ان کو بھی اجتماعی معاشرتی نظام سنبھالا دیتا تھا۔
بہرحال آہستہ آہستہ یہ جدید عناصر تربیت پا رہے تھے۔ اس معاشرے میں ڈھل رہے تھے اور ان کی تطہیر مسلسل ہو رہی تھی اور وہ اسلامی معاشرے کی اصل قوت کے ساتھ ملتے رہتے تھے۔ اور ضعیف القلب ، نافرمانی کرنے والوں اور ڈھل مل یقین قسم کے لوگوں کی تعداد روز بروز کم ہو رہی تھی۔ مفادات سے ڈرنے والے اور ایسے لوگ جن کے دلوں میں ابھی تک اسلامی نظریہ حیات پوری طرح نہ بیٹھا تھا تاکہ وہ اپنے سوشل روابط بھی اسی نظریہ کی اساس پر استوار کریں۔
یہاں تک کہ فتح مکہ سے پہلے حالت یہ ہوگئی تھی کہ اسلامی معاشرہ تعلیم وتربیت اور اپنی ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے مقام کمال کے قریب پہنچ گیا تھا اور اکثر لوگ مہاجرین وانصار میں سے سابقین اولین کے نقش قدم پر چل پڑے تھے۔ اور یہ معاشرہ اس قدر پاک اور تربیت یافتہ ہوگیا تھا کہ وہ اسلامی نظام حیات کے پیش نظر مطلوبہ معیار کے قریب تر تھا۔
یہ بات درست ہے کہ ابھی تک اس معاشرے میں ایسی قدریں نشوونما پا چکی تھیں کہ جن کا تعلق براہ راست اسلامی نظریات کے ساتھ تھا۔ ان اقدار کی وجہ سے تحریک کے اندر کچھ لوگ زیادہ ممتاز تھے اور زیادہ ثابت قدم تھے اور تحریک کی صفوں میں اوروں سے آگے تھے۔ مثلاً مہاجرین و انصار میں سے سابقین اولین ، اہل بدر ، حدیبیہ میں بیعت رضوان کرنے والے۔ پھر جن لوگوں نے فتح مکہ سے قبل جہاد ، انفاق اور قتال میں حصہ لیا اور جنہوں نے بعد میں لیا۔ نصوص کتاب اللہ ، احادیث نبوی اور تحریک کے بعض عملی اقدامات سے یہ تفاوت مراتب اور اقدار کا ثبوت ماتا ہے۔ یہ اسلامی اقدار اور تفاوت اسلامی نظریہ حیات کو آگے بڑھانے کے نقطہ نظر سے متعین ہوئیں "۔
مذکورہ بالا اقتباسات سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ انصار و مہاجرین میں سے جو لوگ سابقون اولون تھے ان کے ایمانی معیار اور ان کی تحریکی ازمائشوں نے انہیں کس مقام بلند تک پہنچایا اور اس سے ہمیں اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ تعمیر اسلام اور عملاً اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں صحابہ کرام کا کردار پوری انسانی تاریخ میں کس قدر اہم ہے اور مبنی بر حقیقت ہے۔ اور اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (ؓ و رضو عنہ) کا حقیقی مفہوم کیا۔
اللہ ان سے راضی ہوا اور اللہ کی رضا کا نتیجہ ہوتا ہے اللہ کی طرف اجر وثواب۔ اللہ کی رضا مندی بذات خود بھی بڑا انعام ہے۔ اور لوگوں کی طرف سے اللہ سے راضی ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اللہ سے مطمئن ہوتے ہیں ، اللہ کے فیصلوں پر راضی ہوتے ہیں اور اللہ کے فیصلوں کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں۔ اور اللہ نے انہیں جو انعامات دیے ہیں ان پر وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور اگر اللہ کی جانب سے ان پر کوئی آزمائش آجائے تو اس پر صبر کرتے ہیں۔ لیکن یہاں جن الفاظ اور اور جس انداز میں رضا مندی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مختار زمانہ گروہ اور ذات باری کے درمیان ایک عمومی ، گہری ، دو طرفہ ، وسیع الاطراف اور دونوں جوانب سے رضامندی کا تبادلہ ہوگا ، اور اللہ تعالیٰ نے اس برگزیدہ گروہ کو یہ مقام عطا فرمایا ہے کہ وہ بھی اس قابل ہوگئے کہ وہ اللہ سے راضی ہوں حالانکہ اللہ رب اور حاکم ہے اور یہ لوگ اس کی مخلوق اور بندے ہیں۔ فریقین کے درمیان یہ تعلق اس قدر گہرا اور اس قدر شاندار ہے کہ انانی الفاظ میں اسے بیان نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ صحابہ کرام کی یہ شان نصوص قرآنی کے بین السطور سے صرف اس شخص کے سامنے کھلتی ہے جو روحانی تڑپ رکھتا ہو اور جس کا سینہ معانی قرآن کے لیے کھلا ہو اور جس کا حس اور شعور عالم بالا کے ساتھ جڑا ہوا ہو۔
یہ ہے ان کا دائمی اور مخصوص تعلق اپنے رب کے ساتھ کہ وہ اللہ سے راضی ہوگئے اور اللہ ان سے راضی ہوگیا اس رضامندی کی علامت کیا ہے ؟ یہ کہ ! وَاَعَدَّ لَھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اَبَدًا ۭذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ : ان کے لیے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی عظیم الشان کامیابی ہ۔
یہ تو ہے ایک معیار اور اس کے مقابلے میں دوسری سطح کے لوگ بھی ہیں۔
التوبة 9:101
اس سے قبل منافقین کے بارے میں عمومی بات ہوچکی ہے اور ان کے احوال کا انکشاف کردیا گیا ہے ان کا علق اہل مدینہ سے بھی تھا اور اہل مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے بدوی منافقین سے بھی تھا۔ یہاں منفقین کی ایک خاص صنف کا تذکرہ ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہنر نفاق میں طاق ہوگئے ہی اور اس آرٹ میں انہوں نے بہت ہی اچھا تجربہ حاصل کرلیا ہے۔ یہ عمل نفاق میں ڈوب چکے ہیں اور وہ اس قدر فنکار بن گئے ہیں کہ خود رسول اللہ ﷺ اپنی پیغمبرانہ بصیرت کے باوجود ان کو نہیں پہچان سکے حالانکہ آپ نے اس دور تک ان کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل کرلی تھیں اور تجربات کے ایک طویل دور سے گزر چکے تھے۔
اللہ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے منافقین اہل مدینہ اور ارد گرد کی آبادی میں اب بھی موجود ہیں۔ اس قسم کے منافقین کی سازشون اور نیش زنیوں سے حضور اور اہل ایمان مطمئن ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک طرف حضور کو فرماتے ہیں کہ آپ کے علم میں ان کی ریشہ دوانیاں نہیں ہیں ان کے ساتھ ساتھ ان کو بھی سخت تنبیہہ کردی جاتی ہے کہ وہ اس سے بچ کر نہیں نکل سکتے۔ ان کی مکاری اور ہوشیاری اور شاطرانہ چالیں اللہ کے مقابلے میں کارگر نہیں ، اللہ ان کو اس دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل و خوار کرے گا جبکہ آخرت میں ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا۔
لا تعلمھم نحن نعلمہم سنعذبھم مرتین ثم یردون الی عذاب عظیم " تم انہیں نہیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے ، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔ دنیا میں ان کو دوگنا عذاب دیا جائے گا ؟ قریب الفہم مفہوم یہ ہے کہ ایک تو ان کو اس بات پر سخت قلق ہوگا کہ اسلامی سوسائٹی میں ان کی شاطرانہ چالوں کے باوجود ان کی حقیقت لوگوں پر واضح کردی گئی اور دوسرا عذاب یہ کہ ان کی موت اس حالت میں آئے گی کہ ان کو روح کو سختی سے قبض کیا جائے گا اور قبض روح کی حالت میں ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں رسید کی جائیں گی یا یہ عذاب کہ وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ مسلمانوں کو فتح پر فتح نصیب ہو رہی ہے اور وہ دل ہی دل میں جلتے ہیں اور دوسرا عذاب یہ کہ یہ لوگ ہر وقت اس ڈر میں رہتے ہیں کہ ان کی حالت کا انکشاف مسلمانوں پر نہ ہوجائے اور یہ کہ وہ عمل جہاد کا نشانہ نہ بن جائیں۔
یہ تو تھے دو انتہائی معیار اور ان کے درمیان کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بین بین ہیں۔
التوبة 9:102
1 :۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی رحمہم اللہ نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ دس آدمی تھے جو غزوہ تبوک میں رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے تھے جب رسول اللہ (ﷺ) واپس تشریف لے آئے تو ان میں سے سات آدمیوں نے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا جب نبی کریم (ﷺ) مسجد میں ان کے پاس سے گزرے اور ان کو دیکھ کر فرمایا کہ کون لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا ہے صحابہ کرام ؓ نے فرمایا یہ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی ہیں جو آپ سے یارسول اللہ (ﷺ) پیچھے رہ گئے تھے انہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور قسم اٹھائی کہ کوئی ان کو نہ کھولے گا یہاں تک کہ نبی کریم (ﷺ) ان کو کھولیں گے اور ان کا عذر قبول فرمائیں گے آپ نے فرمایا میں بھی اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کو نہیں کھولوں گا اور نہ ان کا عذر قبول کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کو کھولیں گے کیوں کہ انہوں نے مجھ سے اعراض کیا اور مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے سے پیچھے رہ گئے ۔ جب ان کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا ہم اپنے آپ کو نہیں کھولیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ہم کو کھولنے والے ہیں ہوں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت ) نازل فرمائی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا۔ عسی اللہ ان یتوب علیہم “ اور قریب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے توبہ قبول ہوجائے اور وہ بہت توبہ قبول کرنے والے اور رحم کرنے والے ہیں جب (یہ آیت) نازل ہوئی تو نبی کریم (ﷺ) نے ان تک یہ آیت پہنچائی ان کو کھول دیا اور ان کا عذر قبول کرلیا وہ مال لے آئے اور کہا یا رسول اللہ یہ ہمارے لئے مال ہیں ہماری طرف سے اس کو صدقہ کردیجئے اور ہمارے لئے استغفار فرمائیے آپ نے فرمایا مجھے تمہارا مال لینے کا حکم نہیں دیا گیا تو اللہ جل شانہ نے یہ نازل فرمایا (آیت) خذ من اموالہم صدقۃ تطھرھم وتزکیہم بھا وصل علیم “ فرمایا کہ ان کے لئے استغفار کیجئے (آگے فرمایا) (آیت) ” ان صلوتک سکن لہم “ یعنی آُ کی دعا ان کے لئے رحمت ہوگی آپ نے ان سے صدقہ لے لیا اور ان کے لئے استغفار فرمایا اور ان میں سے تین آدمی ایسے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے نہیں باندھا ان کا معاملہ ایک سال موخر کردیا گیا وہ نہیں جانتے تھے کیا ان کو عذاب دیا جائے گا یا ان کو توبہ قبول کی جائے گی تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت ) ” لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “ اتاری آیت کے آخر تک پھر فرمایا (آیت) وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے لے کر (آیت) ” ثم تاب علیہم لیتوبوا ، ان اللہ ھو التواب الرحیم (118) تک یعنی ” ان استقاموا “ اگر وہ صراط مستقیم پر قائم رہے ۔
2 :۔ ابوالشیخ (رح) نے ضحاک (رح) سے بغیر اسی طرح روایت بیان کی ۔
3 :۔ ابن ابی شیبہ وابن منذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے دلائل میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” اعترفوا بذنوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ ابولبابہ تھے جب انہوں نے قریظہ کو کچھ کہا تو ساتھ ہی اپنے گلے کی طرف اشارہ کردیا کہ محمد (ﷺ) تم ذبح کریں گے اگر تم ان کے حکم پر اتر آئے ۔
ابولبابہ ؓ کا اپنے آپ کو ستون سے باندھنا :
4 :۔ البیہقی (رح) نے دلائل میں سعید بن مسیب (رح) سے روایت کیا کہ بنوقریظہ (یہودی) ابو لبابہ کے حلیف تھے انہوں نے اوپر سے جھانک کر ان کی طرف دیکھا اور آپ ان کو رسول اللہ (ﷺ) کے حکم کی طرف دعوت دینے لگے انہوں نے کہا اے ابولبابہ کیا تو ہم کو حکم دیتا ہے کہ ہم نیچے اتر آئیں تو انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے گلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ذبح کردیئے جاؤ گے رسول اللہ (ﷺ) کو اس بات کی خبر ہوئی تو آپ نے ان سے فرمایا کیا تو خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ہاتھ سے غافل ہیں جب تو نے ان کی طرف اس کے ذریعہ اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا پس وہ کچھ وقت تک ٹھہرے رہے یہاں تک کہ رسول اللہ (ﷺ) غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے اور یہ تنگی والا جہاد تھا وہ لوگ جو پیچھے رہ گئے (غزوہ تبوک سے ) ابولبابہ بھی ان لوگوں میں سے تھے جب رسول اللہ (ﷺ) (غزوہ سے ) واپس تشریف لائے ابو لبابہ نے آکر سلام کیا آپ نے ان سے منہ پھیرلیا تو ابولبابہ گھبرائے گئے اور تو بہ کے ستون سے اپنے آپ کو باندھ دیا جو ام سلمہ کے دروازہ کے پاس ہے سات دن اور رات شدید گرمی میں اسی حال میں رہے ان دنوں میں کچھ کھایا اور نہ ایک قطرہ تک پیا اور کہا میں اس جگہ پر پڑا رہوں گا یہاں تک کہ اس دنیا سے جدا ہوجاؤں گا اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول فرما لیں وہ برابر اسی طرح رہے یہاں تک کہ کمزوری کے سبب کسی کی آواز بھی نہیں سن سکتے تھے اور رسول اللہ (ﷺ) انکی طرف صبح اور شام دیکھتے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی آواز دی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے تیری توبہ قبول کرلی رسول اللہ (ﷺ) نے ان کی طرف ایک آدمی بھیجا تاکہ ان کو ان کی رسی سے آزاد کردے انہوں نے انکار کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) کے بغیر مجھے کوئی نہ کھولے ۔ رسول اللہ (ﷺ) تشریف لائے اور اپنے ہاتھ مبارک سے ان کو کھولا جب تندرست ہوئے تو ابولبابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ (ﷺ) میں اپنی قوم کا وہ گھر کو دوں گا جس میں مجھ سے یہ غلطی ہوئی اور میں آپ کی طرف منتقل ہونا چاہتا ہوں آپ مجھ کو ٹھکانہ دیجئے اور میں اپنے مال میں سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف صدقہ نکالنا چاہتا ہوں آپ نے فرمایا تجھ سے مال کا تیسرا حصہ کافی ہے ابو لبابہ نے پانی قوم کے گھر سے ہجرت کرلی اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس سکونت اختیار کرلی اور انہوں نے اپنے تہائی مال کا صدقہ کیا پھر توبہ کی پھر اس کے بعد اسلام میں ان سے سوائے نیکی اور خیر کے عمل کے اور کچھ نہیں دیکھا گیا یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
5 :۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) غزوہ تبوک پر تشریف لے گئے تو ابو لبابہ اور ان کے ساتھ دو آدمی پیچھے رہ گئے نبی کریم (ﷺ) سے ( جہاد میں نہ جاسکے ) پھر ابو لبابہ اور ان کے ساتھ دو آدمیوں نے سوچا اور نادم ہوئے اور انہوں نے اپنی ہلاکت کا یقین کرلیا ۔ اور کہنے لگے کہ ہمسائے اور عورتوں کے ساتھ اطمینان اور راحت سے رہ رہے تھے اور رسول اللہ (ﷺ) اور ایمان والے لوگ آپ کے ساتھ جہاد میں مصروف ہیں ۔ اللہ کی قسم ہم اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ ضرور باندھ دیں گے ۔ اور پھر نہیں کھولیں گے یہاں تک کہ رسول اللہ (ﷺ) ہم کو کھولیں گے اور ہمارا عذر قبول فرمائیں گے ابو لبابہ چلے اور انہوں نے اپنے آپ کو باندھ دیا اور ان کے ساتھ دو آدمیوں نے بھی مسجد کے ستونوں سے (اپنے آپ کو ) باندھ دیا اور تین آدمی باقی رہ گئے کہ انہوں نے اپنے آپ کو نہ باندھا۔ رسول اللہ (ﷺ) جہاد سے واپس تشریف لائے اور آپ سیدھے مسجد میں پہنچے تو ان پر گزرتے ہوئے فرمایا یہ لوگ کون ہیں اپنے آپ کو ستونوں سے باندھنے والے ایک آدمی نے کہا یہ ابولبابہ اور ان کے دوساتھی ہیں جو رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کیا کہ ہم اپنے آپ کو نہ کھولیں گے یہاں تک کہ آپ ان کو نہ کھولیں گے اور ان سے راضی نہ ہوں گے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کیا کہ ہم اپنے آپ کو نہ کھولیں گے یہاں تک کہ آپ ان کو نہ کھولیں گے اور ان سے راضی نہ ہوں گے اور انہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا ہے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا اللہ کی قسم میں ان کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ میں ان کو نہ کھولوں گا یہاں تک کہ میں ان کو کھولنے کا حکم نہ دیا جاؤں اور ان کا عذر قبول نہ کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کا عذر قبول نہ فرمائیں گے کیونکہ یہ لوگ پیچھے رہ گئے مسلمانوں سے اور ان کے ساتھ جہاد کرنے سے اعراض کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم “ اور قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا ضرور ہوگا جب آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (ﷺ) نے ان کو کھولا اور ان کے عذر کو قبول فرمایا ۔ ابو لبابہ اور ان کے ساتھی اپنے مال لے کر آئے اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس آکر کہا ہمارے مالوں کو لے لیجئے اور ہماری طرف سے اس کو صدقہ کردیجئے اور ہمارے لئے رحمت کی دعا کیجئے وہ عرض کرنے لگے کہ ہمارے لئے استغفار کیجئے اور ہم کو پاک کیجئے ۔ آپ نے فرمایا میں اس میں سے کچھ بھی نہیں لوں گا ۔ یہاں تک اس کا حکم نہ کیا جاؤں ۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ “ راوی نے کہا کہ تین آدمی باقی رہ گئے جنہوں نے ابولبابہ کی مخالفت کی انہوں نے توبہ نہیں کی تھی ۔ اور نہ ہی کسی چیز کا انہوں نے ذکر کیا اور ان کے عذر کے بارے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی ۔ ان پر زمین تنگ ہوگئی کشادہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” واخرون مرجون لامر اللہ “ تو ان لوگوں نے کہنا شروع کیا وہ ہلاک ہوگئے جب ان کے لئے عذر نازل نہیں ہوا اور دوسرے لوگوں نے کہنا شروع کیا وہ ہلاک ہوگئے جب ان کے لئے عذر نازل نہیں ہوا اور دوسرے لوگوں نے کہنا شروع کیا تو قریب ہے اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائیں گے ۔ اور وہ انتظار کرنے لگے اللہ کے حکم کا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی “ سے لے کر (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ تک یعنی وہ انتظار کررہے تھے اللہ کے حکم کا پس ان پر توبہ کا حکم نازل ہوا اور اس کے ساتھ انہوں نے عمل کیا ۔
6 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ آٹھ آدمی تھے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ باندھ دیا تھا ان میں سے کردم ، مرداس اور ابولبابہ تھے ۔
7 :۔ ابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے قتادہ (رح) نے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا۔ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ سات آدمی تھے جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے چار ایسے تھے جنہوں نے کچھ اچھے عمل اور کچھ برے عمل آپس میں ملا دیئے (ان کے نام یہ تھے ) جد بن قیس ، ابولبابہ ، حرام اور اوس یہ سب انصار میں سے تھے ان کی توبہ قبول کی گئی اور یہ وہ لوگ تھے جن کے بارے میں کہا گیا (آیت ) ” خذ من اموالہم صدقۃ “
8 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” خلطوا عملا واخر سیئا “ کے بارے میں فرمایا (عمل صالح والے لوگ ہیں جنہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ جہاد کیا (آیت) ” واخر سیئا “ جو ان سے پیچھے رہ گئے۔
9 :۔ ابن ابی شیبہ وابن دنیا نے توبہ میں وابن جریر وابن منذر وابو الشیخ والبیہقی نے شعب الایمان میں ابو عثمان نہدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے قرآن میں کوئی آیت نہیں ہے جو میرے نزدیک اس امت کے لئے اس آیت سے بڑھ کر امید افزاء ہو (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ ۔
اعمال سیئہ سے توبہ کرنا :
10 :۔ ابوالشیخ والبیہقی (رح) نے مطرف (رح) سے روایت کیا کہ میں رات کو اپنے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور قرآن پر غور کررہا تھا تو میں نے اپنے اعمال کو اہل جنت کے اعمال کو اہل جنت کے اعمال پر پیش کیا اچانک ان کے اعمال شدید اور سخت تھے مثلا (آیت) ” کانوا قیلا من الیل ما یہجعون (17) “ (الذریات) اور (آیت) اور ” یبیتون لربہم سجدا و قیام ‘ (64) “ (فرقان آیت 64) اور (آیت) ” امن ھو قانت اناء الیل ساجدا وقائما “ تو میں اپنے آپ کو ان میں سے گمان نہ کرتا پھر میں نے اپنے آپ کو اسآیات پر پیش کیا (آیت) ” ما سلکم فی سقر (42) اور (آیت) ” قالوا لم نک من المصلین (42) “ المدثر) لے کر ”(آیت ) ” نکذب بیوم الدین (46) تک پس میں جھٹلانے والی قوم میں غور وفکر کرتا اور اپنے آپ کو ان میں گمان نہ کرتا پھر اس آیت کا حکم دیا گیا یعنی (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا “ پس میں امید کرسکتا ہوں کہ میں ان میں سے ہوں گا اور اے میرے بھائیو ! تم بھی ان میں سے ہوگے۔
11 :۔ ابو الشیخ وابو المنذر و ابونعیم نے المعرفۃ میں وابن عساکر نے ایک قومی سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ غزوہ تبوک میں چھ آدمی رسول اللہ (ﷺ) سے پیچھے رہ گئے تھے (وہ یہ تھے ) ابو لبابہ اوس بن جزام ، ثعلبہ بن ودیعہ ، کعب بن مالک ، مرارہ بن ربیع اور ھلال بن امیہ (ان میں سے ) ابو لبابہ اوس بن جزام اور ثعلبہ آئے اور انہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ دیا اور اپنا مال لے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ اس مال کو لے لیجئے جو ہم آپ سے پیچھے رک گئے اور ان کو چالیس دن مؤخر کردیا گیا وہ باہر نکلے اور انہوں نے اپنے خیمے لگائے اور ان میں سے آپ نے ان کو اپنی عورتوں سے بھی جدا کردیا کوئی مسلمان ان کا دوست نہیں تھا ۔ اور اس میں سے کوئی قریب بھی نہیں ہوا پھر اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ سے لے کر ” التواب الرحیم “ تک ام سلمہ نے کعب کی طرف ایک آدمی بھیجا اور ان کو خوشخبری دی ۔
12 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابن شوذب (رح) سے روایت کیا کہ احنف بن قیس نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو قرآن پر پیش کیا ۔ میں نے کسی آیت کو نہیں پایا جو میرے نزدیک اس آتی سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو ، یعنی (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا :۔
13 :۔ ابو الشیخ (رح) نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حسن بصری سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ” (آیت) ” خذ من اموالہم صدقۃ واخرون اعترفوا بذنوبہم خلطوا عملا واخر سیئا :۔ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا اے مالک انہوں نے توبہ کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائے ۔ اور امید ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ واجب ہے (یعنی ثابت ہے )
صحابہ کرام ؓ سے خواب کے متعلق دریافت کرنا :
14 :۔ بخاری ومسلم وترمذی والنسائی وابن مردویہ رحمہم اللہ نے سمرہ بن جندب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) اکثر اپنے صحابہ سے فرمایا کرتے تھے کیا تم سے کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ ایک صبح کو آپ نے ہم سے فرمایا اس رات دو آنے والے میرے پاس آئے مجھ سے کہا چلئے میں ان کے ساتھ چل پڑا ۔ وہ مجھے مقدس زمین کی طرف لے گئے ہم ایک آدمی پر تھے جو لیٹا ہوا تھا اور دوسرا ایک پتھر لے کر اس پر کھڑا ہوا تھا اچانک وہ پتھر کو اس کے سر پر مارتا ہے تو اس کا سرکچلا جاتا ہے اور پتھر لڑھک کر دور جاگرتا ہے۔ وہ پتھر کے پیچھے جاکر اس کو اٹھاتا ہے اور اس کی طرف واپس آتا ہے ۔ یہاں تک کہ اس کا سر ٹھیک ہوجاتا ہے جیسے تھا پھر وہ دوبارہ اس کے ساتھ وہی معاملہ کرتا ہے جو اس سے پہلی مرتبہ کیا تھا میں نے ان دونوں سے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں ؟ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا چلئے تو ہم چلے اور ایک اپنی گدی بل چت لیٹے ہوئے ایک آدمی کے پاس آئے اور دوسرا آدمی لوہے کی سلاخ لے کر اس پر کھڑا تھا اچانک وہ اس کی ایک جانب سے آکر اس کی باچھیں گدی تک چیر دیتا ہے ۔ اور اس کے نتھنوں کو اس کی گدی تک اور اس کی آنکھوں کو اس کی گدی تک چیر دیتا ہے پھر وہ دوسری جانب پھر آتا ہے اور اس جانب سے بھی اسی طرح کرتا ہے جیسے اس نے پہلی جانب کیا تھا اس جانب سے جب فارغ ہوتا ہے تو پہلی جانب ٹھیک ہوجاتی تھی جیسے تھی پھر وہ اس کی طرف لوٹتا ہے اور اس طرح کرتا ہے جیسے اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا میں نے کہا سبحان اللہ یہ دونوں کون ہیں ؟ میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے تو ہم چلے اور ہم تنور کی طرح ایک چیز پر آئے اچانک اس میں شور اور آوازیں تھیں ہم نے اس میں جھانکا اچانک اس میں مرد اور عورتیں ننگی تھیں آگ کا شعلہ ان کو نیچے سے بلند ہوتا تھا یہ شعلہ جب ان پر پڑتا تو وہ چیخ و پکار کرتے میں نے کہا یہ کون ہیں ؟ دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور خون کی طرح ایک سرخ نہر پر آئے اور تیرنے والے آدمی اس میں تیر رہا تھا اور نہر کے کنارہ پر ایک دوسرا آدمی تھا جس کے پاس بہت سے پتھر تھے جب وہ تیرنے والا تیر کر اس کے پاس آتا تھا جس کے پاس پتھر جمع تھے تو وہ اپنا منہ کھولتا تو یہ اس کے منہ میں پتھر ڈال دیتا پھر وہ آدمی چلا جاتا اور تیرنے لگتا پھر اس کی طرف لوٹتا جب کبھی لوٹتا تو اپنا منہ کھول دیتا اور وہ اس میں پتھر ڈال دیتا ۔ میں نے ان دونوں سے کہا یہ دونوں کون ہیں ؟
میرے دونوں ساتھیوں نے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک بہت ہی بدصورت آدمی کے پاس آئے جس سے بڑھ کر آپ نے انتہائی بدصورت آدمی کو نہیں دیکھا ہوگا اچانک اس کے پاس ایک آگ تھی جس کو وہ سلگاتا کہ اس کے اردگرد دوڑتا تھا ۔ میں نے اس سے کہا یہ کون ہے دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک گھنے سیاہ باغ پر آئے اس میں ہر جانب بہار کا نور تھا اور اچانک باغ کے راستوں کے درمیان ایک لمبے قد کا آدمی تھا قریب ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کے سر کی لمبائی آسمان کی طرف بڑھی ہوئی تھی جبکہ اس آدمی کے اردگرد اکثر (چھوٹے ) بچے تھے کہ میں نے ان کو کبھی نہیں دیکھا تھا میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے دونوں نے مجھ سے کہا آگے چلئے ہم چلے اور ایک بڑے باغ کی طرف پہنچے ۔ اس سے بڑا باغ میں نے کبھی نہیں دیکھا اور نہ اس سے اچھا دونوں نے مجھ سے کہا اس میں چڑھتے چلو ہم اس میں چڑھے ہم ایک ایسے شہر کی طرف پہنچے جو سونے اور چاندی کی اونٹینوں سے بنایا گیا تھا ہم اس شہر کے دروازہ پر آئے ہم نے کھولنے کو کہا تو ہمارے لئے کھول دیا گیا ہم اس میں داخل ہوئے اور وہاں بہت سے لوگوں سے ہم نے ملاقات کی ان میں کچھ اپنی تخلیق میں اتنے حسین تھے کہ ان سے بڑھ کر حسین تم نے نہیں دیکھے ۔ اور کچھ اتنے بدصورت تھے کہ ان سے بڑھ کر بدصورت تم نے نہیں دیکھے ۔ دونوں نے ان سے فرمایا تم جاؤ اور اس میں نہر میں اپنارنگ صاف کرلو اچانک یہ نہر چوڑائی میں تھی جو جاری تھی اور اس کا پانی دودھ کی طرح سفید تھا وہ لوگ گئے اور اس میں واقع ہوگئے پھر ہماری طرف لوٹ آئے ۔ ان سے ساری بدصورتی چلی گئی اور وہ انتہائی حسین ہوگئے دونوں نے مجھ سے کہا یہ آپ کو محل ہے اور آپ کی منزل ہے میں نے ان سے کہا تم دونوں میں اللہ تعالیٰ برکت دے مجھ کو چھوڑ دو میں اس میں داخل ہوجاؤں دونوں نے کہا ابھی نہیں لیکن تم ضرور اس میں داخل ہوگے۔
جہنم کی خواب میں دیکھنا :
میں نے ان دونوں سے کہا آج کی رات میں نے عجیب و غریب مناظر دیکھے رہیں ۔ وہ کیا ہے جو میں نے دیکھا دونوں نے مجھ سے کہا پہلا آدمی کہ جس پر ایک آدمی آکر اس کا سر کچل دیتا ہے پتھر کے ساتھ وہ آدمی ہے جو قرآن شروع کرتا پھر اسے چھوڑ دیتا تھا اور فرض نماز سے سو جاتا تھا (یعنی نماز نہیں پڑھتا تھا ) اس کے ساتھ قیامت کے دن تک ایسا کیا جاتا رہے گا اور آدمی جو اس کے جبڑے کو گدی تک چیر دیتا تھا اس کے نتھنوں کو اس کی گدی تک اور اس کی آنکھوں کو اس کی گدی تک کیونکہ یہ آدمی صبح سویرے نکل کر جھوٹ بولتا تھا اور اس کا جھوٹ آفاق میں پہنچ جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس طرح قیامت کے دن تک کیا جاتا رہے گا اور ننگے مرد اور عورتیں جو سب تنور میں تھے وہ زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورتیں ہیں اور وہ آدمی جو ایسے آدمی کے پاس آتا ہے جو نہر میں تیرتا ہے اور وہ اس کو پتھر مارتا ہے وہ سود کھانے والا ہے اور روہ بدصورت آدمی جس کے پاس آگ تھی ۔ اس کو سلگاتا تھا وہ داروغہ جہنم مالک تھا اور وہ لمبا آدمی جو باغ میں تھا ۔ وہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) تھے اور وہ لڑکے جو اس کے اردگرد تھے ایسے نومولود بچے تھے جو فطرت پر بھی وفات پاگئے اور وہ قوم جو آدھی ان میں سے خوبصورت تھی اور آدھی ان میں سے بدصورت تھی وہ ایسی قوم ہے جنہوں نے نیک اور برے اعمال ایسے ہی ملا دیئے اللہ تعالیٰ نے ان سے درگزر فرمایا اور میں جبرئیل اور یہ میکائل ہیں ۔
15 :۔ الخطیب (رح) نے اپنی تاریخ میں ابو موسیؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا میں نے کچھ آدمیوں کو دیکھا کہ ان کی کھالیں آگ کی کینچوں سے کاٹی جارہی تھیں ۔ میں نے کہا یہ کون ہیں ۔ بتایا یہ وہ لوگ ہیں جو ایسی چیزوں کے ساتھ زیب وزینت کرتے تھے جو ان کے لئے حلال نہیں تھی ۔ اور میں نے ایسا بدبودار خیمہ دیکھا جس میں چیخ و پکار تھی ۔ میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ وہ عورتیں ہیں جو ان کے لئے بناؤ سنگھار کرتی تھیں جو ان کے لئے حلال نہیں تھے ۔ اور میں نے ایک قوم کو دیکھا جو غسل کررہے تھے جنابت کے پانی سے میں نے کہا یہ کون ہیں بتایا یہ وہ قوم ہے جنہوں نے نیک اور برے کو آپس میں ملا دیا ۔
16 :۔ ابن سعد (رح) نے اسود بن قیس عدی (رح) نے روایت کیا کہ حسن بن علی ؓ ایک دن حبیب بن مسلمہ سے ملے اور فرمایا اے حبیب ! اللہ تعالیٰ کی اطاعت فرمانبرداری کے امور کے سوا کے لئے تجھے رب میسر آگیا ہے ۔ اس نے کہا لیکن میری پہنچ آپ کے باب تک ہے اور وہ ایسے نہیں ہیں فرمایا کیوں نہیں لیکن تو نے معاویہ کی اطاعت کی قلیل زائل ہونے والی دنیا کی شرط پر اگر وہ تیرے دنیوی (رح) معاملات میں تیرے ساتھ کھڑے ہیں وہ یقینی طور پر تو وہ تیرے ساتھ بیٹھے گا ۔ تیرے دین میں اور اگر وہ جو تو نے کیا ہے وہ تیرا کام ہے خیر اور بھلائی کی بات ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ” خلطو اعملا صالحا واخر سیئا “ لیکن تو اس طرح ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”(آیت ) ” کلا بل ران علی قلوبہم ما کانوا یکسبون (14) “
التوبة 9:103
خذ من اموالھم صدقۃً ان کے مالوں سے صدقہ لے لو۔ یعنی گناہوں کے کفارہ میں (جو مال وہ دے رہے ہیں) لے لو۔ بعض کے نزدیک صدقہ سے مراد زکوٰۃ ہے۔
تطھرھم (وہ صدقہ) ان کو گناہوں سے پاک کر دے گا ‘ یا تم ان کو مال صدقہ لے کر گناہوں سے پاک کر دو گے۔ پہلی صورت میں تطہر کی ضمیر مؤنث غائب صدقہ کی طرف راجع ہوگی۔ دوسری صورت میں خطاب کا صیغہ ہوگا اور رسول اللہ (ﷺ) کو خطاب ہوگا۔
فتزکیھم بھا اور تم ان کو صدقہ لے کر پاکیزہ و صاف کر دو گے۔ یعنی ان کی نیکیاں بڑھا دو گے اور مخلص اہل ایمان کے درجات پر پہنچا دو گے۔
ابن جریر نے علی بن ابی طلحہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول یہی نقل کیا ہے اور حضرت سعید بن جبیر ‘ ضحاک اور زید بن اسلم کے اقوال سے بھی یہی مقدار نقل کی ہے۔ لیکن بغوی نے لکھا ہے کہ عطیہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کے قول میں ستونوں سے خود بندھ جانے والے لوگوں کی تعداد صرف پانچ بیان کی گئی ہے جن میں ابولبابہ بھی تھے۔ اور حضرت سعید بن جبیر و زید بن اسلم کے اقوال میں آٹھ اور قتادہ و ضحاک کے اقوال میں سات بیان کی گئی ہے۔ ابن مردویہ اور ابن ابی حاتم نے بروایت عوفی ‘ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) (ایک) جہاد پر تشریف لے گئے مگر ابولبابہ اور ان کے ساتھ پانچ دوسرے آدمی پیچھے رہ گئے (جہاد پر نہ جاسکے) پھر ابو لبابہ نے اور پانچ میں سے دو آدمیوں نے غور کیا ‘ پشیمان ہوئے اور ان لوگوں کو اپنی تباہی (یعنی دین کی بربادی) کا یقین ہوگیا۔ کہنے لگے : ہم تو (ٹھنڈے) سایہ میں عورتوں کے ساتھ چین کریں اور رسول اللہ (ﷺ) کے ہمرکاب (دوسرے) مسلمان جہاد میں شریک ہوں (یہ بڑا گناہ ہے) خدا کی قسم ! ہم ستونوں سے خود اپنے کو باندھ دیں گے اور اس وقت تک نہ کھولیں گے جب تک رسول اللہ (ﷺ) خود نہ کھولیں۔ چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ تین آدمی رہ گئے جنہوں نے اپنے آپ کو نہیں بندھوایا تھا (الحدیث) ۔
عبد نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت سات آدمیوں کے حق میں نازل ہوئی جن میں سے چار یعنی ابو البابہ ‘ مرداس ‘ اوس اور جذام نے اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ دیا تھا۔
ابن مندہ نے الصحابہ میں اور ابو الشیخ نے بطریق ثوری از اعمش از ابو سفیان ‘ حضرت جابر کا بیان نقل کیا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ (ﷺ) کی ہمرکابی سے رہ گئے تھے ‘ ان میں سے ابو البابہ ‘ اوس بن جذام ‘ ثعلبہ بن ودیعہ ‘ کعب بن مالک ‘ مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ ابو لبابہ اور ثعلبہ (وغیرہ) نے اپنے آپ کو ستونوں سے بندھوا دیا تھا اور (رہائی کے بعد) اپنے مال لا کر خدمت گرامی میں پیش کئے تھے اور عرض کیا تھا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس کو لے لیجئے ‘ اسی نے ہم کو آپ کے ہمرکاب جانے سے روکا تھا۔ حضور (ﷺ) نے انہی حضرات کے متعلق فرمایا تھا : میں ان کو نہیں کھولوں گا جب تک اللہ ان کو نہ کھلوائے۔ انہی کے متعلق آیت وَاٰخَرُوْنَ اِعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِھِمْ الخ نازل ہوئی تھی۔ اس حدیث کی سند قوی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : تمام روایات حضرت ابو لبابہ کے نام پر متفق ہیں۔ بعض لوگوں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ آیت کا نزول صرف ابولبابہ کے حق میں ہوا۔
بغوی نے لکھا ہے : اس میں اختلاف ہے کہ ابو لبابہ کا جرم کونسا تھا جس کے سلسلہ میں یہ آیت اتری۔ مجاہد نے کہا : ابولبابہ نے بنی قریظہ سے کہا کہ اگر ان (یعنی حضرت معاذ) کے فیصلہ کی شرط پر راضی ہو کر تم اپنی گڑھی سے نیچے اترے تو (حلق پر انگلی پھیرتے ہوئے اشارہ کیا کہ یہ ہوجائے گا ‘ یعنی) ذبح کر دئیے جاؤ گے۔ ہم نے یہ قصہ سورة الانفال کی آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللّٰہَ الخ کی تفسیر کے ذیل میں ذکر کردیا ہے۔ ابن اسحاق اور بیہقی کا بھی یہی خیال ہے کہ حضرت ابو لبابہ کا ستون سے خود بندھنا بنی قریظہ کے واقعہ ہی سے متعلق تھا۔
زہری کا قول ہے کہ آیت کے نزول کا تعلق تبوک کے واقعہ سے ہے۔ میں کہتا ہوں : شاید دونوں قصوروں کی وجہ سے ابولبابہ نے اپنے آپ کو ستون سے باندھا ہو۔ اس کی تائید حضرت ابن عباس اور حضرت سعید بن مسیب کے اقوال مندرجۂ بالا سے ہوتی ہے۔ ابن مردویہ نے واقدی کے سلسلہ والی سند سے حضرت ام سلمہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ابولبابہ کی توبہ (قبول ہونے) کی آیت میرے گھر میں اتری تھی۔ سحر کے وقت میں نے رسول اللہ (ﷺ) کو ہنستے سنا تو عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہنسی کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا : ابولبابہ کی توبہ قبول ہوگئی۔ میں نے عرض کیا : کیا میں ان کو اس کی اطلاع دے دوں ؟ فرمایا : تمہاری مرضی۔ میں نے حجرہ کے دروازہ پر کھڑے ہو کر آواز دی : ابو لبابہ ! تم کو بشارت ہو ‘ اللہ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی۔ یہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آواز سنتے ہی لوگ ابولبابہ کو کھولنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ابولبابہ نے کہا : (ابھی نہیں) رسول اللہ (ﷺ) تشریف لے آئیں ‘ وہ ہی مجھے کھولیں گے۔ صبح کو جب حضور (ﷺ) گھر سے برآمد ہوئے تو آپ نے جا کر کھولا اور آیت وَاٰخَرُوْنَ اِعْتَرَفُوْاالخ نازل ہوئی۔
حضرت ام سلمہ کی اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ جس قصور کی معافی نازل ہوئی تھی ‘ وہ وہی قصور تھا جو بنی قریظہ کے متعلق حضرت ابو لبابہ سے صادر ہوگیا تھا ‘ کیونکہ تبوک کا جہاد تو پردہ کی آیت نازل ہونے کے بعد ہوا تھا۔ لہٰذا اولیٰ یہ ہے کہ ستون سے بندش کا واقعہ دونوں قصوں کے نتیجہ میں قرار دیا جائے کیونکہ روایتیں دونوں صحیح ہیں۔
وصل علیھم اور ان کیلئے دعائے مغفرت کرو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ صدقہ کا مال لیتے وقت کیا امام پر واجب ہے کہ دینے والے کیلئے دعا کرے ؟ بعض علماء نے نزدیک واجب ہے ‘ بعض کے نزدیک مستحب۔ بعض کے نزدیک واجب زکوٰۃ وصول کرتے وقت تو دعا دینی واجب ہے اور نفل صدقہ کے وصول کرتے وقت مستحب۔ بعض کا قول ہے کہ امام پر واجب ہے۔ مگر فقیر اگر مالدار سے لے تو دینے والے کو دعا دینی مستحب ہے۔
بخاری کا بیان ہے کہ حضرت عبد اللہ بن ابی اوفیٰ نے فرمایا (حضرت ابو اوفیٰ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حدیبیہ کے موقع پر درخت کے نیچے رسول اللہ (ﷺ) کے دست مبارک پر (تجدید) بیعت کی تھی) کہ رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں جب لوگ صدقہ کا مال پیش کرتے تھے تو حضور (ﷺ) (دعا دیتے اور) فرماتے : اے اللہ ! ان پر رحمت نازل فرما۔ چناچہ میرے باپ نے بھی جب اپنے صدقہ کا مال پیش کیا تو حضور (ﷺ) نے فرمایا : اے اللہ ! آل ابی اوفیٰ پر رحمت نازل فرما۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ لغت میں صلوٰۃ کا معنی ہے : دعاء ‘ رحمت ‘ استغفار اور اللہ کی طرف سے رسول (ﷺ) کی تعریف۔ جب لفظ صلوٰۃ کی نسبت بندوں کی طرف کی جاتی ہے تو دعا اور استغفار ہوتا ہے۔ آیت میں یہی معنی مراد ہے۔ ایک حدیث آتی ہے جس میں رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی کھانے کیلئے بلائے تو دعوت قبول کرلینا چاہئے (اور جانا چاہئے) پھر اگر روزہ نہ ہو تو کھا لینا چاہئے اور روزہ دار ہو تو (میزبان کیلئے) صلوٰۃ یعنی دعا کرنا چاہئے۔ رواہ احمد و مسلم وابو داؤد والترمذی عن ابی ہریرۃ۔
حضرت جابر کی روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ (ﷺ) سے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! میرے شوہر کیلئے صلوٰۃ کر دیجئے ‘ یعنی دعائے مغفرت فرما دیجئے۔ حضور (ﷺ) نے دعا کردی۔ اخرجہ احمد۔ اس روایت کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے : جب لفظ صلوٰۃ کی نسبت اللہ کی طرف کی جاتی ہے تو رحمت اور پسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے۔ حضرت ابو اوفیٰ کیلئے رسول اللہ (ﷺ) نے جو دعا کی تھی ‘ اس میں صلوٰۃ سے مراد رحمت ہی ہے۔ ابو داؤد اور نسائی نے حضرت قیس بن سعد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اے اللہ ! اپنی صلوٰۃ اور رحمت سعد بن عبادہ کی آل پر کر دے۔ اس روایت کی سند عمدہ ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ ملائکہ مؤمن کی روح سے کہتے ہیں : تجھ پر اور تیرے بدن پر اللہ کی رحمت ہو۔
احادیث مذکورہ کے الفاظ کی روشنی میں اور لغوی معنی کے پیش نظر یحییٰ بن یحییٰ نے کہا کہ انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے بھی اگر لفظ صلوٰۃ استعمال کرلیا جائے یعنی لفظ صلوٰۃ سے ان کیلئے دعا کی جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن محدثین اور فقہاء اسلام کی اصطلاح ہے کہ لفظ صلوٰۃ انبیاء کیلئے مخصوص ہے ‘ یا ہمارے نبی (ﷺ) کیلئے خاص ہے اور دوسروں کیلئے اس کا استعمال ذیلی طور پر کیا جاسکتا ہے۔ اسی اصطلاح کی بناء پر امام مالک نے فرمایا : میری رائے میں انبیاء کے سوا دوسروں کے واسطے لفظ صلوٰۃ کا استعمال مکروہ ہے۔ قاضی عیاض نے کہا کہ یہ قول امام مالک اور سفیان کا ہے اور یہی مسلک متکلمین اور فقہاء کا ہے۔ فقہاء اسلام نے کہا : انبیاء کے سوا دوسروں کیلئے رضاءٍ مغفرت اور رحمت وغیرہ کے الفاظ استعمال کئے جائیں (صلوٰۃ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے) انبیاء کے سوا دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ کا استعمال (خلافت راشدہ اور بنی امیہ کے عہد میں) معروف نہ تھا ‘ بنی ہاشم یعنی خلفاء عباسیہ کے دور میں اس کی ایجاد ہوئی (لہٰذا یہ بدعت ہے) ۔
امام ابوحنیفہ اور ایک جماعت کے علماء کا قول ہے کہ انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ کا استعمال مستقل طور پر (یعنی تنہا غیرانبیاء کیلئے) درست نہیں ‘ ذیلی طور پر (یعنی انبیاء کے بعد اگر دوسروں کا ذکر آیا ہو تو بالتبع) درست ہے ‘ کیونکہ اہل شریعت کی اصطلاح میں انبیاء خصوصاً رسول اللہ (ﷺ) کی عظمت کے اظہار کیلئے لفظ صلوٰۃ خاص کرلیا گیا ہے ‘ لہٰذا انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے اس کا استعمال جائز نہیں۔ اللہ نے فرمایا : لاَ تَجْعَلُوْا دُعَآء الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَآءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا۔ اسی بناء پر حضرت ابن عباس نے فرمایا : کسی کی طرف سے سوائے رسول اللہ (ﷺ) کے ‘ کسی اور پر صلوٰۃ بھیجنا (یعنی لفظ صلوٰۃ سے دعا کرنا) مناسب نہیں۔ رواہ ابن ابی شیبۃ من طریق عثمان بن حکیم عن عکرمۃ وہذا سند صحیح۔
بیہقی نے کہا : حضرت ابن عباس کے اس کلام کا یہ مطلب ہے کہ تعظیم کے طور پر انبیاء کے علاوہ دوسروں کیلئے لفظ صلوٰۃ نہ ذکر کیا جائے ‘ اگر دعاء کے طور پر ہو تو کوئی حرج نہیں۔ ابن قیم نے کہا : پسندیدہ بات یہ ہے کہ انبیاء ‘ ملائکہ ‘ امہات المؤمنین ‘ آل رسول ‘ ذریات رسول اور تمام اہل طاعت کیلئے بالاجمال (بغیر کسی شخصی تعین اور نام کے) لفظ صلوٰۃ کا استعمال صحیح ہے اور انبیاء کے علاوہ کسی معین شخصیت کیلئے اس کا استعمال مکروہ ہے۔ کسی معین شخصیت کیلئے اگر استعمال کیا جائے گا تو یہ شعار بن جائے گا۔ خصوصاً ایسی صورت میں تو کراہت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب اس لفظ کا (خصوصی) استعمال ایسی شخصیتوں کیلئے کیا جائے جن کے ہم پایہ بلکہ ان سے برتر فضائل رکھنے والے دوسرے افراد ہوں اور ان افضل یا مساوی المرتبہ افراد کیلئے تو لفظ صلوٰۃ استعمال نہ کیا جائے اور دوسروں کیلئے کیا جائے ‘ جیسے رافضی کرتے ہیں۔ کذا قال الحافظ ابن حجر۔
ان صلوتک سکن لھم بیشک تمہاری دعا ان کیلئے رحمت ہے۔ حضرت ابن عباس نے سکَنکا ترجمہ رحمت کیا ہے۔ ابو عبیدہ نے سکون خاطر اور طمانیت قلب ترجمہ کیا ہے ‘ یعنی تمہاری دعا ان کیلئے سکون خاطر اور دل کے ٹھیراؤ کا ذریعہ ہے۔ ان کو اطمینان ہوجائے گا کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔
میں کہتا ہوں : پاک باطن اور صاف قلب رکھنے والوں سے اگر کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو گناہ کی ظلمت ان کے دل پر چھا جاتی ہے اور اندر کچھ تاریکی محسوس ہونے لگتی ہے ‘ لیکن جب اللہ کے رسول (ﷺ) ان کیلئے دعائے مغفرت کردیتے ہیں اور اللہ ان کو معاف کردیتا ہے تو دل کی تاریکی اور گھٹن دور ہوجاتی ہے۔ یا دل کے اندر گناہ کی تاریکی اور گھٹن ایسی ہوتی ہے جیسے معدہ سے بخارات چڑھنے اور اطراف قلب میں جمع ہو کر دل پر دباؤ ڈالنے سے خفقان پیدا ہوجاتا ہے اور جب بخارات کا دباؤ معدہ کی اصلاح سے ختم ہوجاتا ہے تو خفقان جاتا رہتا ہے۔ یہی حالت گناہ سے پیدا ہونے والی تاریکی کی وجہ سے دل کی بےچینی کی ہوتی ہے اور مغفرت کی وجہ سے ان کا زوال ہو کر سکون و اطمینان پیدا ہوجاتا ہے۔ سچ فرمایا ہے کہ اللہ کی یاد سے دلوں کو سکون ہوجاتا ہے۔
وا اللہ سمیع اور اللہ سننے والا ہے ان کے اعتراف قصور اور ان کیلئے رسول اللہ (ﷺ) کی دعا و استغفار کو۔
علیم۔ خوب واقف ہے ان کی ندامت (اور توبہ) سے۔
بغوی نے (آیت ذیل کے سبب نزول کے متعلق) لکھا ہے کہ جب ان حضرات کی توبہ قبول ہوگئی تو وہ لوگ جو (سستی یا کسی اور وجہ سے) تبوک کو نہ گئے تھے اور انہوں نے (گناہ کا علی الاعلان اقرار کر کے) توبہ بھی نہیں کی تھی ‘ کہنے لگے : کل تک تو یہ لوگ ہمارے ساتھ تھے ‘ کوئی ان سے میل جول بھی نہیں رکھتا تھا نہ کوئی ان سے بات کرتا تھا۔ اب یہ نئی بات کیا ہوگئی ؟ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
التوبة 9:104
الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ یاخذ الصدقات کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور ان کے صدقات کو (قبول کے ہاتھوں سے) لے لیتا ہے۔ یعنی اس طرح قبول کرلیتا ہے جیسے کوئی کسی چیز کو معاوضہ ادا کرنے کیلئے لے لیتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! جو بندہ پاک کمائی سے خیرات کرتا ہے ‘ اور اللہ صرف پاک (کمائی کی خیرات) کو ہی قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف پاک (کلام ‘ عمل ‘ خیرات) کو ہی عروج نصیب ہوتا ہے تو وہ گویا اس خیرات کو اللہ کے ہاتھ میں رکھتا ہے ‘ اللہ اپنے ہاتھ میں اس کو (اس طرح) بڑھاتا ہے جس طرح تم اپنے بچے کو (اس کی پشت پر ہاتھ پھیر پھیر کر) پرورش کرتے ہو یہاں تک کہ ایک لقمہ قیامت کے دن بڑے پہاڑ کے برابر ہو کر سامنے آئے گا۔ یہ فرمانے کے بعد حضور (ﷺ) نے آیت اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَأخُذُ الصَّدَقٰتِ تلاوت فرمائی۔ رواہ الشافعی۔
صحیحین کی روایت بھی اسی روایت کی ہم معنی ہے ‘ اس میں اتنا اور ہے کہ جو شخص پاک کمائی سے ایک چھوارے برابر خیرات کرتا ہے اور اللہ پاک کو ہی قبول کرتا ہے تو اللہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو قبول فرما لیتا ہے الخ۔
وان اللہ ھو التواب الرحیم اور اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا ‘ رحم کرنے والا ہے۔ یعنی توبہ کرنے والوں کی توبہ قبول کرنا اور ان پر مہربانی کرنا اس کی شان ہے۔
التوبة 9:105
وقل اور آپ کہہ دیجئے۔ یہ خطاب رسول اللہ (ﷺ) کو ہے ‘ یا سب لوگوں کو۔
اعملوا (جو چاہو) کرو۔
فسیری اللہ عملکم اللہ تمہارے (اچھے برے) عمل کو دیکھ لے گا ‘ اس سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔
ورسولہ والمؤمنون اور اللہ کا رسول اور مسلمان بھی (دیکھ لیں گے) جو چیز تم چھپاؤ گے ‘ اللہ وحی کے ذریعے سے اپنے رسول پر اس کا اظہار کر دے گا اور پھر مسلمان بھی واقف ہوجائیں گے۔
مجاہد نے کہا : یہ دھمکی ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کے دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنے نبی کو اطلاع دے دے گا اور مؤمنوں کی واقفیت اس طرح ہوگی کہ اللہ ان کے دلوں میں اہل صلاح کی محبت پیدا کر دے گا اور جو لوگ مفسد ہوں گے ‘ ان کی نفرت اہل ایمان کے دلوں میں ڈال دے گا۔
وستر دون الی علم الغیب والشھادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون۔ اور ضرور تم کو ایسے کے پاس لے جایا جائے گا جو تمام کھلی اور چھپی چیزوں کا جاننے والا ہے ‘ سو وہ تم کو تمہارا سب کیا ہوا بتا دے گا۔
التوبة 9:106
واخرون مرجون لامر اللہ اما یعذبھم واما یتوب علیھم اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم آنے تک ملتوی ہے کہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کرے گا۔ یعنی مدینہ کے رہنے والے ان لوگوں میں سے جو تبوک کے جہاد پر نہیں گئے ‘ کچھ اور لوگ ہیں جن کا فیصلہ اللہ کے حکم آنے تک ڈھیل میں پڑا ہوا ہے۔ وہ چاہے تو عذاب دے ‘ اس کو صغیرہ گناہ پر بھی عذاب دینے کا اختیار ہے اور چاہے تو بغیر توبہ کے معاف کر دے ‘ وہ کبیرہ گناہوں کو بھی بغیر توبہ کے معاف کرسکتا ہے ‘ کوئی چیز اس پر لازم نہیں ہے ‘ لہٰذا بندوں کو امید بھی رکھنی چاہئے اور ڈرتے بھی رہنا چاہئے (ا اللہ کو تو کسی کو عذاب دینے یا بخش دینے میں کوئی تردد ہو نہیں سکتا ‘ اس کا علم تو یقینی ہے کہ کس کو معاف کرے گا اور کس کو سزا دے گا ۔ شک تو بندوں کے علم میں ہوتا ہے اور عذاب و مغفرت میں تردد تو بندوں کو ہی ہونا چاہئے ‘ اسلئے آیت میں) لفظ اِمَّا کا استعمال بندوں کے لحاظ سے کیا گیا ہے (یعنی اِمَّاشک و تردد کے موقع پر آتا ہے اور بندوں کو مغفرت و عذاب میں تردد ہو سکتا ہے ‘ اسلئے انہی کے علم کی مناسبت سے لفظ اِمَّا ذکر کیا گیا) ۔
وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ (ان کے احوال کو) خوب جاننے والا ہے اور (جو سلوک ان سے کرے گا اس کی) مصلحت سے بھی وہی واقف ہے۔ شیخین نے حضرت کعب بن مالک کی روایت سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وَاٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰہِسے مراد کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع ہیں۔ یہ ان دس آدمیوں میں سے تھے جو تبوک میں شریک نہیں ہوئے تھے اور مسجد کے ستونوں سے بھی انہوں نے اپنے آپ کو بندھوایا نہ تھا (مگر اپنے جرم کا کھل کر اقرار کرلیا تھا ‘ کوئی بہانہ نہیں کیا تھا) رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو حکم دے دیا تھا کہ ان تینوں حضرات سے سلام کلام ترک کردیں۔ ان حضرات نے جب سلوک دیکھا تو خلوص نیت کے ساتھ تائب ہوگئے اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیا۔ آخر اللہ نے ان پر رحم کیا (اور ان کا قصور بھی معاف کردیا گیا) ہم ان کا قصہ آگے لکھیں گے۔
محمد بن اسحاق نے حضرت ابو رہم کلثوم بن حصین غفاری کی روایت سے بیان کیا ہے۔ حضرت ابو رہم ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے حدیبیہ میں درخت کے نیچے حضور (ﷺ) کے دست مبارک پر (تجدید) بیعت کی تھی۔
ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ نیز ابن المنذر نے حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے اور محمد بن عمر نے یزید بن رومان کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ عمرو بن عوف کے قبیلہ نے ایک مسجد تعمیر کی اور رسول اللہ (ﷺ) کے پاس آدمی کو بھیجا کہ آپ (ﷺ) تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ غنم بن عوف کے قبیلہ نے جب یہ بات دیکھی تو ان کو حسد ہوا اور انہوں نے کہا : ہم بھی ایک مسجد بنائیں گے جیسی انہوں نے بنائی ہے (بات یہ ہوئی تھی کہ) شام کو روانہ ہونے سے پہلے ابو عامر فاسق نے ان سے کہا تھا : تم لوگ ایک مسجد تعمیر کرو اور جتنے اسلحہ ممکن ہوں اس میں (پوشیدہ طور پر) جمع کرلو۔ میں قیصر روم کے پاس جا رہا ہوں ‘ وہاں سے رومیوں کا ایک لشکر لا کر محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کو یہاں سے نکال باہر کر دوں گا۔ ابو عامر فاسق اللہ اور رسول (ﷺ) کے خلاف بغاوت کر کے رسول اللہ (ﷺ) سے لڑنے کے ارادہ سے مدینہ سے گیا تھا ‘ چناچہ یہ لوگ ابو عامر کے آنے (اور رومیوں کا لشکر ساتھ لانے) کے انتظار میں تھے۔ مسجد تیار ہوگئی تو انہوں نے چاہا کہ رسول اللہ (ﷺ) اس میں نماز پڑھیں تاکہ ان کا جو مقصد تھا یعنی فساد ‘ کفر اور اسلام سے عناد ‘ اس کو کامیاب ہونے کا موقع مل جائے۔ جب رسول اللہ (ﷺ) تبوک کو روانہ ہونے کی تیاری کر رہے تھے کہ ان کی طرف سے کچھ لوگوں نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہم نے ایک مسجد بنائی ہے۔ مقصد تعمیر یہ ہے کہ جو بیمار یا حاجت مند مسجد گرامی میں حاضر نہیں ہو سکتے ‘ یا سخت سردی کی رات ہو ‘ یا بارش کی رات ہو اور لوگ وہاں سے یہاں حاضر نہ ہو سکیں تو وہ اس مسجد میں نماز پڑھ لیں۔ ہماری خواہش ہے کہ حضور (ﷺ) تشریف لا کر اس مسجد میں نماز پڑھیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اب تو میں برسر سفر ہوں اور کام میں مشغول ہوں ‘ جب ہم انشاء اللہ واپس آئیں گے تو تمہاری مسجد میں نماز پڑھیں گے۔ چناچہ آپ جب تبوک سے واپس ہو کر مقام ذی اوان میں اترے تو مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔ یہ مقام مدینہ سے ایک گھنٹہ کی راہ کے فاصلہ پر تھا۔
التوبة 9:107
والذین اتخذوا مسجدًا اضرارًا اور بعض لوگ ایسے ہیں جنہوں نے (اسلام کو) ضرر پہنچانے کیلئے مسجد بنائی ہے۔ یعنی مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کیلئے۔ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ بارہ آدمیوں نے اس مسجد کی تعمیر کی تھی : (1) قبیلۂ بنی عبید بن زید کا حذام بن خالد ‘ یہ بنی عمرو بن عوف کا ایک فرد تھا (2) قبیلۂ بنی امیہ بن زید کا ثعلبہ بن حاطب (3) بنی صبیعہ بن زید کا معتب بن قشیر (4) حبیبہ بن ازعر اور (5) نبتل بن حارث (6) نجاد بن عثمان اور (7) قبیلۂ بنی عمرو بن عوف کا عباد بن حنیف جو سہل بن حنیف کا بھائی تھا اور (8) حارثہ بن عامر اور اس کے دونوں بیٹے (9) مجمع بن حارثہ اور (10) زید بن حارثہ اور (11) ودیعہ بن ثابت اور ایک اور شخص جس کو (12) بخرج کہا جاتا تھا۔ ان سب نے اس مسجد کی تعمیر مسجد قبا کو ضرر پہنچانے کیلئے کی تھی۔
وکفرًا اور اللہ و رسول کا انکار کرنے کے سبب۔
وتفریقًا بین المؤمنین اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کیلئے۔ مسلمان مسجد قبا میں نماز پڑھتے تھے ‘ مجمع بن حارثہ نماز پڑھتا تھا۔ ان لوگوں نے دوسری مسجد اس غرض سے بنائی کہ (مسجد قبا میں نماز پڑھنے والے) کچھ لوگ اس مسجد میں نماز پڑھنے لگیں اور اس طرح (دین کے نام پر) مسلمانوں کے ٹکڑے ہوجائیں اور اختلاف پیدا ہوجائے۔
وارصادًا لمن حارب اللہ و رسولہ من قبل اور اس شخص کے قیام کا سامان کرنے کیلئے جو پہلے سے ہی اللہ اور اس کے رسول کا مخالف تھا۔
بغوی نے لکھا ہے : مَنْ حَارَبَ اللّٰہَ سے مراد ابو عامر راہب ہے جو حضرت حنظلہ غسیل الملائکہ کا باپ تھا اور قبیلۂ بنی عمرو بن عوف کا ایک فرد تھا۔ اسلام آنے سے پہلے یہ شخص کمبل پوش عیسائی راہب ہوگیا تھا۔ جب رسول اللہ (ﷺ) مدینہ میں تشریف لائے تو ابو عامر نے پوچھا : آپ یہ کیا مذہب لے کر آئے ہیں ؟ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : یہ خالص دین توحید ہے جو ابراہیم کا دین تھا۔ ابو عامر نے کہا : دین حنیفیت پر تو میں ہوں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : تم دین حنیفیت (دین ابراہیمی) پر نہیں ہو۔ ابوعامر نے کہا : کیوں نہیں (میں یقیناً دین ابراہیمی پر ہوں) آپ نے حنیفیت کے اندر دوسری چیزوں کو شامل کرلیا ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : میں نے ایسا نہیں کیا ‘ میں تو خالص ‘ نکھری ہوئی ‘ روشن شریعت لے کر آیا ہوں۔ ابو عامر نے کہا : تو ہم میں سے جو جھوٹا ہو ‘ خدا کرے وہ یکہ و تنہا ‘ خانہ بدر ‘ مسافرت کی حالت میں مرے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : اللہ ایسا ہی کرے۔ حضور (ﷺ) نے (بجائے راہب کے) اس کا نام ابو عامر فاسق رکھ دیا۔ احد کی لڑائی کے دن ابو عامر نے رسول اللہ (ﷺ) سے کہا تھا : جو قوم بھی آپ سے لڑے گی ‘ میں اس کے ساتھ مل کر آپ سے لڑوں گا۔ چناچہ جنگ حنین تک وہ برابر رسول اللہ (ﷺ) کے خلاف دوسری قوموں سے مل کر لڑتا رہا۔ ہوازن کی شکست کے بعد شام بھاگ گیا اور منافقوں کو یہ پیام بھیجا گیا کہ تم لوگ تیار رہنا۔ ایک مسجد بنا کر جس قدر اسلحہ ہو سکیں ‘ اس میں جمع رکھنا۔ میں قیصر روم کے پاس جا رہا ہوں ‘ وہاں سے رومیوں کا ایک لشکر لا کر محمد (ﷺ) اور ان کے ساتھیوں کو نکال باہر کر دوں گا۔ ابو عامر کے مشورہ کے موافق ان لوگوں نے مسجد قبا کے برابر ایک مسجد بنا لی۔ مِنْ قَبْلُسے مراد یا تو یہ معنی ہیں کہ مسجد بنانے سے پہلے اس شخص نے اللہ اور رسول (ﷺ) کے خلاف بغاوت اور جنگ کی تھی ‘ یا یہ مطلب ہے کہ تبوک کے جہاد سے غیر حاضر ہونے سے پہلے ہی انہوں نے مسجد بنا لی تھی۔ اوّل مطلب پر مِنْ قَبْلُکا تعلق حارَبَ سے اور دوسری صورت میں اتّخذوا سے ہوگا۔
ولیحلفن ان اردنا الا الحسنٰی اور یہ لوگ قسمیں کھائیں گے کہ سوائے بھلائی کے ہماری اور کچھ نیت نہیں۔
الحسنٰی بھلائی یعنی سخت گرمی اور بارش میں مسلمانوں کا آرام اور جو ضعیف و کمزور رسول اللہ (ﷺ) کی مسجد تک نہ پہنچ سکتے ہوں ‘ ان کیلئے سہولت ہمارے پیش نظر تھی۔ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عوفی کی سند سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے جب مسجد قبا تعمیر کرائی تو کچھ انصار جن میں سے ایک شخص بخرج بھی تھا ‘ گئے اور انہوں نے مسجد نفاق بنائی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے بخرج سے فرمایا : اس سے تیرا مقصد کیا ہے ؟ کہنے لگا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! میرا مقصد تو صرف بھلائی ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
وا اللہ یشھد انھم لکذبون اور اللہ شاہد ہے کہ یہ لوگ اپنے قول و قسم میں جھوٹے ہیں۔
التوبة 9:108
لا تقسم فیہ ابدًا آپ (نماز کیلئے) اس میں کبھی نہ کھڑے ہوں۔ حضرت ابن عباس نے تفسیری مطلب یہی فرمایا۔
ابن النجار نے کہا : منافقوں نے یہ مسجد قبا والی مسجد کے مقابلہ میں بنائی تھی۔ سب وہاں جمع ہوتے اور رسول اللہ (ﷺ) کی برائی کرتے اور آپ کا مذاق بناتے تھے۔ جب (تبوک سے واپسی میں) رسول اللہ (ﷺ) مقام ذی اوان میں تھے تو یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن اسحاق نے بسلسلۂ زہری حضرت ابو رہم کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے بنی سالم بن عوف کے مالک بن دخشم کو اور قبیلۂ عاصم بن عدی کے معن بن عدی کو طلب فرمایا۔ بغوی نے مالک بن دخشم کے ساتھ عامر بن اسکن اور حضرت حمزہ کے قاتل وحشی کا بھی ذکر کیا ہے ‘ عاصم کا ذکر نہیں کیا اور ذہبی نے التجرید میں سوید بن عباس انصاری کا نام بھی بیان کیا ہے اور فرمایا : حق ناشناس لوگوں کی بنائی ہوئی اس مسجد کو جا کر ڈھا دو اور جلادو۔ حسب الحکم یہ حضرات تیزی کے ساتھ چلے گئے اور سالم بن عوف کے محلہ میں پہنچ کر مالک نے اپنے دونوں ساتھیوں سے کہا : آپ لوگ میرا انتظار کریں ‘ میں آتا ہوں۔ یہ کہہ کر اپنے گھر جا کر کھجور کی کچھ خشک ٹہنیاں لے کر ان میں آگ لگائی ‘ پھر سب حضرات دوڑ کر مغرب و عشاء کے درمیان مسجد میں پہنچے ‘ اس وقت مسجد والے مسجد میں موجود تھے۔ ان حضرات نے مسجد کو آگ لگا دی اور ڈھا کر زمین کے برابر کردیا۔ اہل مسجد ادھر ادھر منتشر ہوگئے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے حکم دیا : اس جگہ کوڑا گھر بنا دیا جائے جہاں مرد اور جانور اور غلاظتیں ڈالی جائیں۔ ابو عامر فاسق ملک شام میں یکہ و تنہا ‘ خانہ برباد ‘ مسافت کی حالت میں مر گیا۔
محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے عاصم بن عدی کو پیشکش کی کہ اس مسجد کے مقام پر وہ اپنا مکان بنا لیں۔ حضرت عاصم نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس مسجد کے بارے میں اللہ نے جو حکم نازل فرمایا ہے ۔ اس کے بعد تو میں اس میں مکان نہیں بنا سکتا۔ البتہ ثابت بن اقرم کو یہ جگہ عنایت فرما دیجئے ‘ ان کے پاس کوئی مکان نہیں ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ثابت کو وہ جگہ عطا فرما دی لیکن اس مکان میں ثابت کا کوئی بچہ پیدا نہ ہوا۔ نہ کسی کبوتر نے وہاں بچہ نکالا نہ کسی مرغی نے انڈے سیئے (یعنی انڈوں پر بیٹھ کر بچہ نہیں نکالا) ۔
بغوی نے بیان کیا : روایت میں آیا ہے کہ بنی عمرو بن عوف جنہوں نے مسجد قبا بنائی تھی ‘ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ مجمع بن حارثہ کو ان کی مسجد میں امام بنا دیں۔ حضرت عمر نے انکار کردیا اور فرمایا : (اس کی) آنکھ ٹھنڈی نہ ہو ‘ کیا یہ مسجد ضرار میں امام نہ تھا ؟ حضرت مجمع نے عرض کیا : امیر المؤمنین ! میرے خلاف فیصلہ کرنے میں جلدی نہ کیجئے۔ میں نے مسجد ضرار میں نماز ضرور پڑھی تھی لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ ان لوگوں کی نیت کیا ہے۔ اگر مجھے ان کا مخفی ارادہ معلوم ہوتا تو میں وہاں نماز نہیں پڑھتا۔ میں لڑکا تھا مگر قرآن پڑھا ہو اور وہ لوگ بوڑھے تھے مگر ناخواندہ ‘ اسلئے میں نے نماز پڑھا دی۔ میں یہ ہی خیال کرتا تھا کہ تعمیر مسجد سے ان کی غرض حصول ثواب ہے ‘ ان کے دلوں کے خیالات کا مجھے علم نہ تھا۔ حضرت عمر نے حضرت مجمع کے اس عذر کو قبول فرما لیا اور ان کے بیان کی تصدیق کی اور ان کو مسجد قبا میں نماز پڑھانے کا حکم دے دیا۔
لمسجد اسس علی التقویٰ من اول یوم احق ان تقوم فیہ پہلے دن سے جس مسجد کی بنیاد تقوے پر رکھی گئی اس میں نماز پڑھنی بلاشبہ تمہارے لئے زیادہ مناسب ہے۔ پہلے دن سے مراد ہے تعمیر و تاسیس کا پہلا دن ‘ یا ہجرت کے بعد رسول اللہ (ﷺ) کے مدینہ میں فروکش ہونے کا پہلا دن۔ کذا قال السہیلی۔ حضرت ابن عمر ‘ حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوسعید خدری نے فرمایا : لَمَسْجِدٌسے مراد مسجد نبوی ہے ‘ یعنی مدینہ والی مسجد۔ امام احمد ‘ ابن ابی شیبہ ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابو یعلی ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابو الشیخ ‘ حاکم ‘ ابن مردویہ اور بیہقی نے (دلائل میں) ذکر کیا کہ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا : میں امہات المؤمنین میں سے کسی کے گھر رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! وہ کونسی مسجد ہے (جس کے متعلق فرمایا گیا ہے) کہ اس کی تاسیس تقوے پر کی گئی ہے ؟ حضور (ﷺ) نے ایک مٹھی کنکریاں لے کر زمین پر ماریں اور فرمایا : یہ ہی تمہاری مسجد مدینہ کی مسجد۔
طبرانی اور ضیاء مقدسی نے المختارہ میں حضرت زید بن ثابث کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سے اس مسجد کے متعلق دریافت کیا گیا جس کی بناء تقوے پر رکھی گئی تھی ‘ فرمایا : وہ میری یہ ہی مسجد ہے۔
ابن ابی شیبہ اور ابن مردویہ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عمر سے دریافت کیا گیا : جس مسجد کی تاسیس تقوے پر ہوئی ‘ وہ کونسی مسجد ہے : فرمایا : رسول اللہ (ﷺ) کی مسجد۔
مسجد نبوی کی فضیلت میں وہ حدیث آئی ہے جس کو شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا منبر میرے حوض پر ہے (یا یوں ترجمہ کیا جائے کہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگا اور میرا منبر میرے حوض پر ہوگا۔ وا اللہ اعلم۔ بغوی کی روایت میں بجائے گھر کے قبر کا لفظ آیا ہے۔
شیخین اور احمد اور نسائی نے حضرت عبد اللہ بن زید مازنی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ایک باغ ہے جنت کے باغوں میں سے۔ ترمذی نے بھی حضرت علی کی روایت سے یہی بیان کیا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں سوائے مسجد حرام (کعبہ) کے ‘ ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ مسجد اُسِّس علی التقوٰی مسجد قبا ہے۔ عطیہ کی روایت میں حضرت ابن عباس کا یہی قول آیا ہے۔ حضرت عروہ بن زبیر ‘ حضرت سعید بن جبیر اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے مسجد قبا کی تاسیس کی تھی۔ ہجرت کر کے جب حضور (ﷺ) مدینہ کو آئے تو جتنے بھی دنوں یعنی پیر سے جمعہ تک قبا میں قیام فرمایا اور اس عرصہ میں یہاں نماز پڑھی۔ ابن جریر اور ابن المنذر اور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابو الشیخ نے ضحاک کی روایت سے یہی بیان کیا ہے۔
بخاری نے عبد اللہ بن دینار کی وساطت سے حضرت ابن عمر کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) ہر شنبہ کو پیدل یا سوار ہو کر مسجد قبا کو تشریف لے جاتے تھے۔ حضرت ابن عمر بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ نافع نے حضرت ابن عمر کا قول اتنا زائد نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) اس میں دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ داؤدی ‘ سہیلی اور حافظ ابن حجر نے کہا : یہ (تفسیری) اختلاف نہیں ہے کیونکہ دونوں میں سے ہر مسجد کی تاسیس تقوے پر ہوئی تھی۔
میں کہتا ہوں : مراد یہ ہے کہ مورد نزول گو خاص ہو مگر اعتبار الفاظ کے عموم کا ہوتا ہے اور مسجدٌ نکرہ موصوفہ ہے ‘ اس کی صفت اُسِّس علی التقوٰی ہے اور یہ بھی صفت عام ہے لیکن آیت کی رفتار بتا رہی ہے کہ آیت میں مسجد قبا مراد ہے اور اسی کے متعلق آیت کا نزول ہوا کیونکہ مسجد ضرار کی تعمیر مسجد قبا کو نقصان پہنچانے کیلئے ہی کی گئی تھی۔ پھر بعد والی آیت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے ‘ فرمایا ہے :
فیہ رجال یحبون ان یتطھروا وا اللہ یحب المتطھرین اس میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں۔ اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ خوب پاک ہونے سے مراد ہے ناپاکی ‘ جنابت ‘ نجاست (غلاظت) گناہ اور برے خصائل سے پاک ہونا۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ آیت فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْااہل قبا کے حق میں نازل ہوئی۔ یہ لوگ پانی سے استنجا کرتے تھے تو ان کی بابت یہ آیت نازل ہوئی۔ ترمذی کی بھی یہی روایت ہے۔
ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (ﷺ) مہاجرین کو ساتھ لے کر پیدل روانہ ہوئے اور مسجد قبا کے دروازے پر پہنچ کر کھڑے ہوگئے۔ اندر انصار بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : کیا تم لوگ مؤمن ہو ؟ انصار خاموش رہے۔ حضور (ﷺ) نے پھر یہی فرمایا ‘ اس پر حضرت عمر نے عرض کیا : یہ یقیناً مؤمن ہیں اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں۔ فرمایا : کیا تم قضاء (خداوندی) پر راضی ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : کیا تم مصیبت پر صبر کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : کیا تم راحت پر شکر کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں۔ فرمایا : قسم ہے مالک کعبہ کی ! تم مؤمن ہو۔ پھر آپ (ان کے پاس) بیٹھ گئے اور فرمایا : اے گروہ انصار ! اللہ نے تمہاری تعریف فرمائی ہے۔ تم وضو اور رفع حاجت کے وقت کیا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! رفع حاجت کے بعد ہم تین پتھروں کا استعمال کرتے ہیں اور پتھروں کے بعد پانی کا استعمال کرتے ہیں۔ اس پر حضور (ﷺ) نے آیت فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا تلاوت فرمائی۔
ابن خزیمہ نے صحیح میں حضرت عویمر بن ساعدہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) اہل قبا کے پاس مسجد قبا میں تشریف لے گئے اور فرمایا : تمہاری مسجد کے قصہ میں تمہاری پاکی کی اللہ نے بہت اچھی تعریف کی ہے۔ تم لوگ طہارت کیسے کرتے ہو (جس کی اللہ نے تعریف کی ہے) انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اللہ کی قسم ‘ اور کچھ تو ہمیں معلوم نہیں ‘ صرف اتنی بات تھی کہ ہمارے پڑوس میں جو یہودی رہتے تھے ‘ وہ رفع حاجت کے بعد پانی سے استنجا کرتے تھے سو ہم نے بھی پانی سے استنجا کرنا شروع کردیا۔ دوسری روایت میں آیا کہ ہم پتھروں کے استعمال کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں۔ فرمایا : وہ یہی ہے ‘ تم ایسا ضرور کیا کرو۔
عمر بن شیبہ نے اخبار المدینہ میں ولید بن ابی المنذر کی وساطت سے یحییٰ بن سہل انصاری کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت سہل انصاری نے فرمایا : یہ آیت اہل قبا کے حق میں نازل ہوئی جو رفع حاجت کے بعد پانی سے استنجا کرتے تھے۔
ابن جریر نے عطاء کا قول نقل کیا ہے کہ اہل قبا میں سے کچھ لوگوں نے پانی سے طہارت کرنے کی ایجاد کی۔ ان ہی کے متعلق آیت فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا نازل ہوئی۔
التوبة 9:109
افمن اسس بنیانہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر ام من اسس بنیانہ علی شفاجرف ھارٍ فانھا ربہ فی نار جھنم پھر کیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت (مسجد) کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی خوشنودی پر رکھی یا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کسی گھاٹی (غار) کے کنارے پر جو کہ گرنے ہی کو ہو ‘ رکھی پھر وہ عمارت اپنے بنانے والے کو لے کر دوزخ کی آگ میں گر پڑی۔
اَفَمَنْ میں سوال تقریری ہے اور جواب چونکہ واضح تھا ‘ اسلئے اس کو ذکر نہیں کیا۔ بُنْیَانَہٗ سے مراد ہے اپنے دین کی بنیاد یا اپنی عمارت کی بنیاد۔ عَلی اتقوٰی یعنی اللہ کے خوف اور اللہ کی رضا جوئی کی مضبوط دیواروں اور بنیادوں پر۔ عَلٰی شفاجُرُفٍ یعنی کمزور ترین بنیادوں اور ضعیف ترین دیواروں پر۔ شفا ۔ شفیر ۔ جرف سب کا معنی ہے کنارہ ‘ یعنی کسی وادی اور نالہ کا وہ کنارہ جس کے اندر سیلاب کی وجہ سے خلا پیدا ہوگیا ہو اور کنارے کی نوک باہر کو نکل آئی ہو۔ ہَارٍپھٹا ہوا جو گرنے کے قریب ہو۔ ہَارٍکی اصل ھَوِرٌ اور بقول بغوی ہائرتھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لفظ ہار یَھَارٌسے مشتق ہے۔ ہارَکا معنی ہے : گر گیا ‘ ڈھ گیا۔ اس جگہ ہارٍ سے مراد ہے : وہ کنارہ جو گر پڑنے کے قریب ہو۔
مطلب یہ ہے کہ جس نے مضبوط بنیادوں پر یعنی اللہ کے خوف اور رضا جوئی پر اپنی عمارت کی تاسیس کی ‘ وہ بہتر ہے یا وہ شخص بہتر ہے جس نے کمزور ترین بنیادوں پر یعنی باطل اور نفاق پر اپنی عمارت اٹھائی۔ تقویٰ کی ضد شرک و نفاق ہے ‘ اسلئے شفاجُرُفٍ سے بطور کنایہ شریک و نفاق مراد ہے۔ فَانْھَارَ بِہٖ حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی ان کا نفاق ان کو جہنم میں لے گیا۔ بغوی نے کہا : مراد یہ ہے کہ اس مسجد کی بناء نقصان رسانی کیلئے ایسی ہے جیسے جہنم کے آخری کنارہ (کڑاڑہ) پر تعمیر کی گئی ہو کہ کنارہ ڈھ کر اوپر عمارت بنانے والوں کو جہنم میں لے گرے گا۔
محمد بن یوسف صالحی نے ابن عطیہ کا قول نقل کیا ہے ‘ مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر نے فرمایا : وہ مسجد جس کی بناء و تاسیس تقویٰ پر قرار دی گئی ہے ‘ اس سے مراد رسول اللہ (ﷺ) کی مسجد ہے اور اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی تَقْوٰی مِنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٍ میں بینانِ سے مراد مسجد قبا ہے اور اَمْ مَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَہٗ عَلٰی شَفَاجُرُفٍ میں بنیانٍ سے مراد بالاجماع مسجد ضرار ہے۔
وا اللہ لا یھدی القوم الظالمین۔ اور اللہ ایسے ظالموں (کافروں) کو ہدایت نہیں فرماتا ‘ یعنی صلاح و نجات کا راستہ نہیں بتاتا۔
ابن المنذر نے حضرت سعید بن جبیر اور قتادہ اور جریج کا قول نقل کیا ہے ‘ نیز ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ کی روایت بیان کی ہے۔ ان تینوں حضرات کا بیان ہے : ہم سے ذکر کیا گیا کہ مسجد ضرار میں جب ایک جگہ کھو دی گئی تو لوگوں نے وہاں سے دھواں نکلتا دیکھا۔ بغوی نے حضرت جابر بن عبد اللہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ آپ نے فرمایا : میں نے مسجد ضرار سے دھواں نکلتے دیکھا۔
التوبة 9:110
لا یزال بینانھم الذی بنوا ریبۃ فی قلوبھم وہ عمارت جو انہوں نے بنائی ‘ ہمیشہ ان کے دلوں میں (کانٹا بن کر) کھٹکتی رہے گی۔ ریبۃً سے مراد ہے : شک و نفاق ‘ یعنی یہ عمارت ان کے دلوں میں شک و نفاق کے ترقی کرنے کا سبب بنی رہے گی اور وہ برابر یہی خیال کرتے رہیں گے کہ ہم نے یہ بھلائی کا کام کیا ‘ جیسے حضرت موسیٰ کی قوم کے دلوں میں بچھڑے کی محبت رچ گئی تھی (اسی طرح اس مسجد ضرار کی محبت ان منافقوں کے دلوں میں جم گئی ہے) حضرت ابن عباس نے یہی تفسیر فرمائی ہے۔ کلبی نے ریبۃً کا ترجمہ کیا : حسرت و پشیمانی ‘ کیونکہ ان لوگوں کو اس مسجد کی تعمیر پر پشیمانی ہوگئی تھی۔ سدی نے ریبۃً کا معنی کیا : غیظاً ‘ یعنی اس عمارت کو ڈھا دینا ہمیشہ ان کے دلوں کے اندر غصہ اور غضب کو بھڑکاتا رہے گا۔
الا ان تقطع قلوبھم ہاں ان کے دل پارہ پارہ ہوجائیں (تو شک و نفاق ان کے دلوں سے ختم ہوجائے گا) یعنی نفاق برابر ہر وقت ان کے دلوں میں جما رہے گا ‘ مگر اس وقت ختم ہوگا کہ ان کے دل ہی پھٹ جائیں اور ایسا وقت آجائے کہ ان کے دلوں میں جاننے کی صلاحیت ہی نہ رہے۔ بعض علماء نے کہا : دلوں کے پارہ پارہ ہونے سے مراد ہے : منافقوں کا قتل ہونا ‘ یا قبر میں چلا جانا ‘ یا دوزخ میں پہنچ جانا۔ ضحاک اور قتادہ نے کہا : مرتے دم تک یہ شک میں پڑے رہیں گے ‘ مر جائیں گے تو شک دور ہوگا اور حقیقت کا یقین ہوگا۔
وا اللہ علیم حکیم۔ اور اللہ (ان کی نیتوں کو) جاننے والا ہے (اور مسجد ضرار کو گرا دینے کا جو حکم اس نے دیا ‘ اس کی مصلحت سے واقف ہے) ۔
اہل سیر نے بیان کیا ہے کہ بعثت کے گیا رھویں سال حج کے زمانہ میں رسول اللہ (ﷺ) باہر نکلے ‘ یعنی مکہ سے برآمد ہوئے اور قبائل عرب پر اپنی نبوت پیش کی۔ ایک روز گھاٹی کے پاس تھے کہ قبیلۂ خزرج کی ایک جماعت سے ملاقات ہوگئی۔ حضور (ﷺ) نے پوچھا : آپ لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : خزرج کے لوگ ہیں۔ فرمایا : کیا (کچھ دیر) بیٹھ سکتے ہو ‘ میں تم سے کچھ بات کروں گا۔ خزرجیوں نے جواب دیا : بیشک۔ چناچہ حضور (ﷺ) کے ساتھ سب بیٹھ گئے۔ آپ نے ان کو اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی ‘ اسلام پیش کیا اور قرآن پڑھ کر سنایا۔
اللہ کی قدرت کہ یہودی ان لوگوں کے ساتھ ان بستیوں میں رہتے تھے اور اہل کتاب تھے۔ اوس و خررج تعداد میں یہودیوں سے زائد تھے مگر سب بت پرست تھے۔ یہودیوں سے جب ان لوگوں کا کچھ جھگڑا ہوا تھا تو یہودی کہتے تھے : ایک نبی کی بعثت اب ہونے ہی والی ہے ‘ اس کی بعثت کا زمانہ قریب آپہنچا ہے۔ ہم اس کے ساتھ مل کر تم کو قتل کریں گے۔
جب رسول اللہ (ﷺ) نے ان لوگوں سے بات کی تو وہ آپ کے اوصاف کو پہچان گئے (کیونکہ یہودیوں کی زبانی آنے والے پیغمبر کے اوصاف کا ان کو علم پہلے ہی سے تھا) اور آپس میں کہنے لگے : دیکھو ! یہودی ان کے پاس تم سے پہلے نہ پہنچنے پائیں۔ چناچہ سب نے رسول اللہ (ﷺ) کی دعوت کو قبول کرلیا اور قبیلۂ خزرج کے چھ آدمی مسلمان ہوگئے : اسعد بن زرارہ ‘ عوف بن حارث جن کی والدہ کا نام عفراء تھا ‘ رافع بن مالک ‘ قطبہ بن عامر بن جدیدہ ‘ عقبہ بن عامر بن نابی ‘ جابر بن عبد اللہ بن رباب۔ بعض روایات میں جابر کی جگہ عبادہ بن صامت کا نام آیا ہے۔ بعض نے سات آدمیوں کے مسلمان ہونے کی صراحت کی ہے ‘ گویا جابر اور عبادہ دونوں کو جمع کیا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : کیا تم میری پشت پناہی کرو گے کہ میں اپنے رب کا پیام پہنچا سکوں۔ ان لوگوں نے عرض کیا : (یا رسول اللہ (ﷺ) ! ) پچھلے سال ہی جنگ بعاث ہمارے آپس میں ہوچکی ہے ‘ اس روز ہم نے آپس میں خوب کشت و خون کیا تھا ۔ اگر ایسی حالت میں آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں گے تو ہماری پوری جماعت آپ کے ساتھ نہ ہو سکے گی۔ اب تو آپ ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم لوگ اپنے قبائل میں لوٹ کر چلے جائیں ‘ ممکن ہے کہ اللہ ہماری باہم صلح کرا دے اور ہم ان لوگوں کو اسی چیز کی دعوت دیں جس چیز کی طرف آپ نے ہم کو بلایا ہے۔ امید ہے کہ اس وقت اللہ سب کو آپ کی حمایت کرنے پر متفق کر دے گا اور اگر سب آپ کے پیرو ہوگئے تو پھر کوئی آپ کے خلاف نہ جائے گا۔ آئندہ سال حج کے زمانہ میں ہم آپ سے پھر ملیں گے۔ اس گفتگو کے بعد یہ حضرات مدینہ کو لوٹ گئے اور مدینہ کو واپس ہونے کے بعد انصاریوں کے ہر گھر میں رسول اللہ (ﷺ) کا تذکرہ پھیل گیا ‘ کوئی گھر ایسا نہ رہا جس میں آپ کا ذکر نہ ہوتا۔ پھر اگلے سال یعنی بعثت کے بارہویں برس بارہ یا گیارہ آدمیوں نے آ کر گھاٹی میں رسول اللہ (ﷺ) سے ملاقات کی۔ یہ گھاٹی دوسری گھاٹی تھی۔ ان بارہ میں پانچ تو جابر کے علاوہ وہی تھے جن کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے اور سات یہ تھے : عوف بن حارث کا بھائی معاذ بن حارث ‘ ذکوان ‘ عبادہ بن صامت ‘ یزید بن ثعلبہ ‘ عباس بن عبادہ بن فضلہ۔ یہ پانچوں خزرجی تھے اور دو شخص قبیلۂ اوس کے تھے : بنی الاشہل کا ابو الہثیم بن تیہان اور عویمر بن ساعدہ۔
سورة ممتحنہ میں) عورتوں کی بیعت کی جو تفصیل مذکور ہے ‘ اسی اقرار کے ساتھ ان سب نے بیعت کی یعنی یہ کہا کہ ہم شرک نہیں کریں گے ‘ چوری نہیں کریں گے الخ۔ جب سب مسلمان ہوگئے تو مدینہ کو لوٹ گئے۔ مدینہ پہنچ کر اسعد بن زرارہ ان تمام لوگوں کو مدینہ میں جمع کرنے لگے جو مسلمان ہوتے گئے۔ قبائل اوس و خزرج نے رسول اللہ (ﷺ) کو عرضداشت بھیجی کہ اب کوئی ایسا آدمی ہمارے پاس بھیج دیجئے جو ہم کو قرآن پڑھا دے۔ حضور (ﷺ) نے حضرت مصعب بن عمیر کو بھیج دیا۔ اس وقت تک مدینہ میں چالیس مسلمان تھے ‘ حضرت مصعب کی کوشش سے بہت لوگ مسلمان ہوگئے۔ سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر بھی مسلمان ہوگئے اور ان دونوں بزرگوں کے مسلمان ہونے سے بنی عبدالاشہل کے تمام آدمی کیا مرد کیا عورتیں ‘ سب کے سب مسلمان ہوگئے۔ پھر بعثت کے تیرہویں سال تیسری گھاٹی کے موقع پر ایام تشریق میں مدینہ والے حاضر ہوئے اور ستر یا تہتر مردوں اور دو عورتوں نے بیعت کی۔ حاکم نے پچھتر آدمی ہونے کی صراحت کی ہے۔
ابن جریر نے بروایت محمد بن کعب قرظی ‘ نیز بغوی نے ذکر کیا ہے کہ عبد اللہ بن رواحہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ جو چاہیں اپنے رب کے اور اپنے لئے ہم سے شرطیں لے لیجئے (ہم سب کچھ ماننے کو تیار ہیں) حضور (ﷺ) نے فرمایا : میں اپنے رب کے متعلق تو یہ شرط پیش کرتا ہوں کہ تم اس کی عبادت کرنا ‘ کسی چیز کو اس کا شریک نہ قرار دینا (یعنی کسی چیز کی پوجا نہ کرنا) اور اپنے لئے یہ شرط پیش کرتا ہوں کہ جس چیز سے تم اپنی جانوں اور مالوں کی حفاظت کرو ‘ اس سے میری بھی حفاظت کرنا (یعنی اپنی جان و مال کی طرح میری حفاظت کرنا) انصار نے کہا : اگر ہم نے ایسا کرلیا تو ہم کو کیا ملے گا ؟ فرمایا : جنت۔ انصار نے کہا : یہ نفع کا سودا ہے ‘ اب ہم اس سودے کو نہ پھیریں گے نہ پھیرنے دیں گے (یا نہ پھیرنے کی خواہش کریں گے) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
التوبة 9:111
ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم واموالھم بان لھم الجنۃ بلاشبہ اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور مال (اس وعدہ پر) خرید لئے ہیں کہ ان کیلئے (اس کے عوض) جنت ہے۔ جان و مال خرچ کرنے کے عوض عطائے جنت کو اللہ نے خرید وفروخت قرار دیا۔ اہل سیر نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے جس نے رسول اللہ (ﷺ) کے دست مبارک پر اپنا ہاتھ مارا ‘ وہ براء بن معرور یا ابوالہثیم یا اسعد تھے اور یہ شرط کی کہ جس (مصیبت) سے وہ اپنے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے ‘ اس سے رسول اللہ (ﷺ) کی بھی حفاظت کریں گے اور ہر گورے کالے (یعنی تمام انسانوں) کے مقابل آپ کی حمایت کریں گے۔ سب سے پہلے قتال و جہاد کے بارے میں یہی آیت نازل ہوئی ‘ اس کے بعد اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ الخ۔
جب گھاٹی کی رات کو ان حضرات کی یہ بیعت ختم ہوگئی اور کفار قریش سے چھپا کر یہ بیعت ہوئی تھی تو اس کے بعد رسول اللہ نے اپنے ساتھیوں کو مکہ چھوڑ کر مدینہ کو چلے جانے کا حکم دے دیا اور خود مکہ میں ٹھہر کر (ا اللہ کی طرف سے) اجازت ملنے کا انتظار کرتے رہے۔
تیسری گھاٹی کی بیعت سے ایک سال پہلے حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد جو حبشہ سے آئے تھے اور مکہ والوں نے ان کو بڑی تکلیفیں دی تھیں ‘ جب ان کو انصار کے مسلمان ہوجانے کی اطلاع ملی تو مدینہ کو ہجرت کر گئے۔ آپ کا نمبر مدنی مہاجرین میں سب سے پہلا تھا ‘ پھر حضرت عامر بن ربیعہ اور ان کی بیوی لیلیٰ نے ہجرت کی ‘ پھر حضرت عبد اللہ بن حجش نے ‘ پھر پے در پے دوسرے مسلمانوں نے ‘ پھر حضرت عمر بن خطاب اور آپ کے بھائی زید نے اور بیس سواروں کے ساتھ عباس بن ربیعہ نے۔ ان سب نے (مدینہ میں پہنچ کر) حوالی مدینہ میں پڑاؤ کیا۔ پھر حضرت عثمان بن عفان نے ہجرت کی۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بارہا حضور (ﷺ) سے ہجرت کی درخواست کی مگر حضور (ﷺ) فرماتے رہے : جلدی نہ کرو ‘ شاید اللہ کسی کو تمہارا ساتھی کر دے۔ خیال یہ تھا کہ شاید رسول اللہ (ﷺ) بھی ان کے ساتھ ہی ہجرت کریں۔ اس کے بعد چوپال میں قریش کا اجتماع ہوا (اور رسول اللہ (ﷺ) کو شہید کردینے کی انہوں نے خفیہ سازش کی) سورة الانفال میں قریش کی سازش کا اور رسول اللہ (ﷺ) کے ہجرت کرنے کا بیان آچکا ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مکی ہے۔
یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جس میں قتل کرتے ہیں اور قتل کئے جاتے ہیں۔ یہ کلام ابتدائی ہے ‘ اس میں خریدنے کی غرض کا اظہار کیا گیا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ یقاتلون (اگرچہ مضارع کا صیغہ ہے مگر) امر کے معنی میں ہے (یعنی لڑو ‘ مارو اور مارے جاؤ) ۔
وعدا علیہ حقًا اللہ نے (اس) خرید پر (جنت دینے کا) سچا پکا وعدہ کرلیا ہے۔ علیہ کی ضمیر شرائ کی طرف لوٹ رہی ہے اور وعدًا فعل محذوف کا مفعول مطلق (برائے تاکید) ہے۔ حقًّا ‘ وعدًاکی صفت ہے یا یہ بھی فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے۔
فی التورٰۃ والانجیل والقران توریت اور انجیل اور قرآن میں۔ توریت و انجیل میں وعدہ کرنے کی صراحت بتا رہی ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی جہاد پر مامور کیا گیا تھا اور اس کے بدلہ میں ان سے جنت کا وعدہ کیا گیا تھا۔
ومن اوفٰی بعھدہ من اللہ اور اللہ سے بڑھ کر اپنے وعدہ کو پورا کرنے والا اور کون ہے ؟ (استفہام انکاری ہے)
یعنی کوئی نہیں ہے۔ وعدہ کی خلاف ورزی بری ہے اور اللہ سے اس کا صدور ناممکن ہے۔ وعدہ کی وفا کرم ہے اور اللہ سے بڑھ کر کوئی کریم نہیں۔ نفی کو بصورت استفہام ذکر کرنے میں پرزور طور پر وفائے عہد کا اظہار کیا ہے اور تاکیدی طرز کلام کے ساتھ وعدۂ الٰہی کے حق ہونے کی صراحت ہے۔
فاستبشروا ببیعکم الذی بالعتم بہ پس تم لوگ اپنی اس بیع پر جس کا تم نے اللہ سے معاملہ ٹھہرایا ہے ‘ خوشی مناؤ۔
پس تم خوب خوش ہوجاؤ ‘ خوشیاں مناؤ۔ یہ جہاد کرنے والے مؤمنوں کو خطاب ہے۔ پہلے ان کا ذکر غائبانہ تھا ‘ اب مخاطب بنایا گیا۔ بشارت کی وجہ یہ ہے کہ زوال پذیر ‘ حقیر چیز کو دے کر انہوں نے لازوال ‘ اعلیٰ نعمت کو لے لیا۔ اس سے بڑھ کر فائدہ کا سودا اور کیا ہو سکتا ہے۔
حضرت عمر نے فرمایا : اللہ نے تجھ سے خریدو فروخت کی اور دونوں سودوں کا فائدہ تیرے ہی لئے کردیا۔ قتادہ نے کہا : اللہ نے ان کو قیمت دی اور بہت زیادہ دی۔ حسن نے کہا : سنو فائدہ رساں تجارت کا پیام جس میں اللہ نے ہر مؤمن کے ساتھ خریدو فروخت کر کے اس کو فائدہ پہنچایا ہے۔ یہ بھی حسن بصری کا قول ہے کہ اللہ نے تجھے دنیا عطا کی ‘ تو کچھ دنیا دے کر جنت خرید لے۔
وذلک ھو الفوز العظیم۔ اور یہ (فروخت) ہی بڑی کامیابی ہے جس کا حصول انتہائی مقصد ہے۔
التوبة 9:112
التآئبون (شرک سے) توبہ کرنے والے یعنی وہ لوگ جنہوں نے شرک سے توبہ کرلی اور نفاق سے پاک ہوگئے۔
التائبون خبر ہے ‘ مبتداء محذوف ہے یعنی وہ توبہ کرنے والے ہیں۔ یعنی جن لوگوں نے رسول اللہ (ﷺ) سے بیعت کرلی اور تمام احکام کی تعمیل کا عہد کرلیا ‘ وہ ان تمام اوصاف کے حامل ہیں ‘ جن کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ التائبون مبتداء ہو اور بعد کو ذکر ہونے والے اصاف خبر ہوں یعنی حقیقت میں کفر کرنے والے اوصاف کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ خبر محذوف ہو یعنی توبہ کرنے والے جنتی ہیں ‘ خواہ انہوں نے اس وقت جہاد میں شرکت نہ کی ہو مگر ان کے اندر عداوت وعناد کا جذبہ نہ ہو اور یہ ارادہ نہ ہو کہ جب اللہ جہاد کی طاقت دے گا تب بھی جہاد نہیں کریں گے۔ زجاج نے کہا : گویا (اس صورت میں) جنت کا وعدہ تمام مؤمنوں سے ہوگا ‘ جیسے اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے : وَکُلاَّ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی اور سب سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ فرما لیا ہے۔
العٰبدون (شرک جلی و خفی کو چھوڑ کر فقط اللہ کی) عبادت کرنے والے۔
الحامدون (دکھ سکھ میں اللہ کی) تعریف کرنے والے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : بہت زیادہ ثنائے خدا کرنے والوں کو جو دکھ سکھ میں (یعنی راحت ہو یا تکلیف ‘ ہر حال میں) اللہ کی تعریف کرتے ہیں ‘ سب سے پہلے جنت کی طرف بلایا جائے گا۔ رواہ الطبرانی ‘ والحاکم ‘ والبیہقی فی شعب الایمان بسند صحیح عن ابن عباس۔
السآئحون روزے رکھنے والے۔ ابن جریر نے حضرت عبید بن عمر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سے السائحون کا معنی دریافت کیا گیا۔ فرمایا : روزے رکھنے والے۔ بغوی نے حضرت ابن مسعود کا بھی یہی قول بیان کیا ہے۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ کا موقوف قول نقل کیا ہے کہ اس آیت میں سیاحت (کا معنی) روزے رکھنا ہے۔
سفیان بن عیینہ نے فرمایا : روزے دار کو سائح اسلئے کہا جاتا ہے کہ وہ تمام لذتیں ‘ کھانا ‘ پینا اور قربت صنفی کرنا ترک کردیتا ہے (جیسے مسافر ان لذتوں سے محروم ہوجاتا ہے) حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : آدم زاد کے ہر نیک عمل کا اجر دس گنے سے سات سو گنے تک بڑھا دیا جاتا ہے سوائے روزہ کے ‘ جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزاء دوں گا۔ بندہ میرے لئے اپنی خواہش صنفی اور کھانا ترک کرتا ہے (الحدیث ) متفق علیہ۔
عطاء نے کہا : السائحون سے مراد غازی ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔ جیسا کہ ابن ماجہ ‘ حاکم اور بیہقی نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : مروی ہے کہ حضرت عثمان بن مظعون نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! مجھے سیاحت کی اجازت دے دیجئے۔ فرمایا : میری امت کی سیاحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔
عکرمہ نے کہا : سیاحت کرنے والوں سے مراد طالب علم ہیں جو علم کی طلب میں ملکوں میں پھرتے ہیں۔ حضرت ابو درداء کا بیان ہے : میں نے خود سنا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) فرما رہے تھے : جو طلب علم کی راہ میں چلتا ہے ‘ اللہ اس کو جنت کے راستہ پر چلائے جائے گا اور فرشتے طالب علم کیلئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور عالم کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔ وہ (ملائکہ) جو آسمانوں میں ہیں اور وہ (ملائکہ اور انس و جن) جو زمین میں ہیں اور پانی کے اندر مچھلیاں۔ عالم کی برتری عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی فضیلت دوسرے ستاروں پر۔ علماء ‘ انبیاء کے (علم کے) وارث ہیں اور انبیاء نے کوئی درہم و دینار میراث میں نہیں چھوڑا بلکہ علم کی میراث چھوڑی ۔ اب جو اس ترکہ کا وارث ہوا ‘ وہ بڑا خوش نصیب ہوا۔ رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ وابو داؤد۔
الراکعون الساجدون رکوع کرنے والے ‘ سجدہ کرنے والے یعنی نماز پڑھنے والے۔ نماز پڑھنے والوں کا ذکر دو لفظوں سے کیا الرّاکعون الساجدون ہر ایک سے نماز پڑھنے والے مراد ہیں (تو گویا نماز پڑھنے والوں کا ذکر دو بار کیا) تکرار ذکر دلالت کر رہی ہے کہ نماز تمام عبادتوں پر فضیلت رکھتی ہے۔ حضرت ابن مسعود کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) سے پوچھا : کونسا عمل اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہے ؟ فرمایا : وقت پر نماز۔ میں نے عرض کیا : اس کے بعد کونسا ؟ فرمایا : ماں باپ کی فرمانبرداری کرنی۔ میں نے عرض کیا : اس کے بعد کونسا ؟ فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد۔ صحیح بخاری و مسلم۔ ابو نعیم نے فضل بن دکین کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : نماز دین کا ستون ہے۔
ابن عساکر نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ حضور (ﷺ) نے فرمایا : نماز مؤمن کا نور ہے۔ قضاعی نے حضرت علی کی روایت سے بیان کیا کہ حضور (ﷺ) نے فرمایا : ہر تقویٰ والے کیلئے نماز (ا اللہ کے) قرب کا ذریعہ ہے۔ مسلم ‘ ابوداؤد اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب سے سب حالتوں سے زیادہ قریب ہوتا ہے ‘ پس تم دعا زیادہ کیا کرو۔
الاٰمرون بالمعروف بھلائی کا حکم دینے والے ‘ یعنی ایمان اور اطاعت کا حکم دینے والے۔
والناھون عن المنکر اور برے کاموں سے ‘ یعنی شرک اور گناہ سے روکنے والے۔ بعض علماء نے کہا : المعروف سے مراد سنت اور المنکر سے مراد بدعت ہے۔ دونوں کے درمیان حرف عطف (واؤ) کا ذکر کرنا اس امر پر دلالت کر رہا ہے کہ ان دونوں اوصاف کا مجموعہ ایک ہی خصلت ہے۔
والحفظون لحدود اللہ اور اللہ کی بندشوں کی پابندی رکھنے والے۔ یعنی اللہ کے وہ ضوابط و قوانین جو بندہ اور خدا کے درمیان اللہ نے قائم کیے ہیں ‘ ان کی نگہداشت کرنے والے۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ الحافظون کو مستقل طور پر حرف عطف (واؤ) کے ساتھ ذکر کرنے سے اس امر پر تنبیہ کی گئی ہے کہ پہلے جن اعلیٰ خصائل کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے ‘ ان کا اجمالی مجموعہ حفظ حدود اللہ ہے۔ وہ تفصیل تھی ‘ یہ اجمال ہے۔
میں کہتا ہوں : شاید یہ وجہ بھی ہے کہ گزشتہ کلام میں جن صفات حمیدہ کا ذکر کیا گیا ہے ‘ ان کی حدبندی اس فقرہ میں کردی گئی ہے تاکہ اپنی طرف سے ان میں کچھ زیادتی بھی نہ کی جائے ‘ نہ رہبانیت ہو ‘ نہ ظاہری شکل اور باطنی معنی میں کوئی کمی کی جائے۔ گویا مذکورۂ بالا اوصاف کا مجموعہ ہوا ضوابط و قوانین کی تعمیل اور حفاظت حدود کا معنی ہوا اخلاص اور حضور کامل کیونکہ حدود کی پابندی قلبی حضور کامل کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اخلاص و حضور قلب دل والوں کی صحبت سے حاصل ہوتا ہے
وبشر المؤمنین۔ اور ایمان والوں کو بشارت دے دو ۔ یعنی ان لوگوں کو بشارت دے دو جن کے اندر صفات مندرجۂ بالا موجود ہیں۔ اَلْمُؤْمِنِیْنَ کے لفظ سے اس طرح اشارہ ہے کہ ایمان کا تقاضا صفات مذکورہ ہیں اور مؤمن کامل وہی ہوتا ہے جو صفات مذکورہ کا حامل ہو۔
کس بات کی بشارت دے دو ‘ اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ وہ نعمت جس کی بشارت دینے کا حکم دیا جا رہا ہے ‘ اتنی عظیم الشان ہے جو نہ بیان کی جاسکتی ہے ‘ نہ کسی کے دماغ میں اس کا تصور آسکتا ہے ‘ نہ کسی نے اس کو سنا ہے۔ وا اللہ اعلم
شیخین نے صحیحین میں حضرت سعید بن مسیب کے باپ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ابو طالب کے مرنے کے وقت رسول اللہ (ﷺ) ان کے پاس تشریف لائے۔ ابوجہل اور عبد اللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ کو وہاں موجود پایا۔ آپ نے ابو طالب سے فرمایا : چچا ! لا الٰہ الا اللہ ایک بار کہہ دیجئے تاکہ اللہ کے سامنے میں آپ کی طرف سے اس کو دلیل کے طور پر پیش کرسکوں۔ ابو جہل اور عبد اللہ بولے : ابو طالب ! کیا تم عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے ؟ رسول اللہ (ﷺ) (بار بار) کلمۂ توحید پیش کرتے رہے اور ابوجہل و عبد اللہ اپنی بات برابر کہتے رہے۔ آخر ابو طالب نے کہا : عبدالمطلب کے مذہب پر۔ ایک روایت میں اتنا اور بھی آیا ہے کہ ابو طالب نے لا الٰہ الا اللہ کہنے سے انکار کردیا تو رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : وا اللہ ! جب تک مجھے ممانعت نہیں کردی جائے گی ‘ میں آپ کی مغفرت کیلئے دعا کرتا رہوں گا۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
التوبة 9:113
ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی من بعد ماتبین لھم انھم اصحب الجحیم پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکوں کیلئے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں ‘ اس امر کے ظاہر ہونے کے بعد کہ یہ لوگ دوزخی ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ زندہ مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت جائز ہے کیونکہ ایسی دعاء کا معنی ہے مشرکوں کو توفیق ایمان ملنے کی درخواست (اور اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ مستحسن ہے) مسلم نے حضرت ابوہریرہ کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے چچا سے فرمایا تھا : لا الٰہ الا اللہ کہہ دیجئے ‘ میں قیامت کے دن آپ کیلئے اس کی شہادت دوں گا۔ چچا نے کہا : اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ قریش عار دلائیں گے اور کہیں گے کہ ابو طالب نے ڈر کر ایسا اقرار کرلیا تو میں یہ کلمہ کہہ کر تمہاری آنکھیں ٹھنڈی کردیتا۔ اس پر اللہ نے آیت اِنَّکَ لاَ تَھْدِیْ مَنْ اَجْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَھدِیْ مَنْ یَّشَاء نازل فرمائی۔
بخاری نے حضرت ابو سعید خدری کا قول نقل کیا ہے ‘ حضرت ابو سعید نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے چچا کا تذکرہ آنے کے وقت فرمایا : شاید قیامت کے دن ان کو میری شفاعت (کچھ) فائدہ پہنچائے اور ان کو ٹخنوں ٹخنوں تک آگ میں کردیا جائے جس سے ان کا دماغ ابلنے لگے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ حدیث سے ثابت ہو رہا ہے کہ آیت مندرجۂ بالا مکہ میں ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔
ترمذی اور حاکم نے بیان کیا اور ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا بھی ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : میں نے ایک شخص کو اپنے مشرک ماں باپ کیلئے دعائے مغفرت کرتے سنا تو میں نے کہا : کیا تو اپنے ماں باپ کیلئے دعائے مغفرت کر رہا ہے باوجودیکہ وہ مشرک تھے ؟ اس نے جواب دیا : حضرت ابراہیم نے بھی تو اپنے مشرک باپ کیلئے دعائے مغفرت کی تھی۔ میں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں کیا۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ الخ نازل ہوئی۔
ممکن ہے یہ قصہ بھی ابو طالب کی موت کے واقعہ ہی کے زمانہ میں ہوا ہو (اور دونوں واقعات آیت مذکورہ کے نزول کا سبب ہوں) ۔
بعض روایات میں آیا ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول رسول اللہ (ﷺ) کی والدہ آمنہ بی بی کے متعلق ہوا تھا۔ ان روایات میں سے کوئی روایت صحیح نہیں ہے ‘ نہ اس قابل ہے کہ جو قوی روایت ہم نے اوپر ذکر کی ہے (جس میں آیت کا نزول ابو طالب کے متعلق بیان کیا گیا ہے) اس کے مقابلہ میں پیش کی جاسکے ‘ اسلئے ایسی روایات کو قبول نہ کرنا ضروری ہے۔
حاکم نے اور بیہقی نے دلائل میں ایوب بن ہانی کے طریق سے بروایت مسروق ‘ حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ (ﷺ) قبرستان تشریف لے گئے ‘ ہم بھی ساتھ گئے۔ آپ نے ہم کو بیٹھ جانے کا حکم دیا ‘ ہم بیٹھ گئے۔ آپ قبروں کو پھلانگتے ہوئے ایک قبر کے پاس پہنچے اور دیر تک کچھ چپکے چپکے قبر سے فرمایا ‘ پھر روتے ہوئے اٹھ گئے۔ آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رونے لگے۔ پھر آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت عمر سامنے آگئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ کو کس بات سے رونا آگیا ؟ ہم بھی آپ کے رونے کی وجہ سے رونے لگے اور گھبرا گئے۔ حضور (ﷺ) تشریف لے آئے اور ہمارے پاس بیٹھ کر فرمایا : میرے رونے کی وجہ سے تم لوگ گھبرا گئے۔ ہم نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : جس قبر سے تم نے مجھے چپکے چپکے کچھ کہتے دیکھا تھا ‘ وہ (میری والدہ) آمنہ بنت وہب کی قبر ہے۔ میں نے اس کی زیارت کرنے کی اللہ سے اجازت مانگی تھی ‘ اللہ نے اجازت دے دی۔ پھر میں نے ان کیلئے دعائے مغفرت کرنے کی اللہ سے اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہیں ملی اور مجھ پر مَا کَان للنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سے دو آیات نازل ہوئیں۔ اس کی وجہ سے مجھ پر وہ رقت طاری ہوئی جو ماں کی وجہ سے اولاد پر طاری ہوتی ہے ‘ اسی بات نے مجھے رلایا۔
حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ لیکن ذہبی نے شرح مستدرک میں اس پر گرفت کی ہے اور لکھا ہے کہ ایوب بن ہانی کو ابن معین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
طبرانی اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) غزوۂ تبوک سے واپس آگئے اور عمرہ کرنے روانہ ہوئے اور عسفان کی گھاٹی سے نیچے اترے تو اپنی والدہ کی قبر پر جا کر فروکش ہوئے۔ اس سے آگے وہی بیان ہے جو حضرت ابن مسعود کی روایت میں آیا ہے۔ سیوطی نے کہا : اس حدیث کی سند ضعیف ہے ‘ ناقابل اعتماد۔
بغوی نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت بریدہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) (فتح کے بعد) مکہ میں تشریف لائے تو اپنی والدہ آمنہ کی قبر پر پہنچ کر اس انتظار میں کھڑے ہوگئے کہ آپ کو (ا اللہ کی طرف سے) اجازت مل جائے تو والدہ کیلئے دعائے مغفرت کریں یہاں تک کہ سورج میں گرمی آگئی۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ الخ نازل ہوئی۔
ابن سعد اور ابن شاہین نے یہ حدیث حضرت بریدہ کے ان الفاظ کے ساتھ بیان کی ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) نے مکہ فتح کرلیا تو اپنی والدہ کی قبر پر گئے اور جا کر بیٹھ گئے۔ ابن جریر نے حضرت بریدہ کی روایت ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے جو بغوی نے نقل کئے ہیں۔ ابن سعد نے طبقات میں اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد صراحت کی ہے کہ یہ غلط ہے۔ حضرت آمنہ کی قبر ابواء میں ہے ‘ مکہ میں نہیں ہے۔
امام احمد اور ابن مردویہ نے حضرت بریدہ کا بیان اس طرح نقل کیا ہے : میں رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ تھا۔ مجھے عسفان پر ٹھہرنا پڑا۔ حضور (ﷺ) نے (وہاں) اپنی والدہ کی قبر دیکھی ‘ فوراً وضو کیا ‘ نماز پڑھی اور رونے لگے۔ پھر فرمایا : میں نے اپنے رب سے ان کیلئے شفاعت کرنے کی اجازت مانگی تھی مگر مجھے ممانعت کردی گئی۔ پھر اللہ نے نازل فرمایا : مَا کَان للنَّبِیِّ الخ ۔ سیوطی نے کہا : اس حدیث کے تمام طرق (روایت) مجروح ہیں۔
حافظ ابن حجر نے بخاری کی شرح میں لکھا ہے : جو شخص حضرت ابن مسعود والی حدیث کو صحیح کہتا ہے ‘ وہ اس کو صحیح لذاتہٖ نہیں کہتا بلکہ اسلئے صحیح کہتا ہے کہ ان طریقوں سے اس کی روایت کی گئی ہے ‘ مگر میں نے ان طریقوں پر غور کیا تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ تمام طرق روایت مجروح ہیں۔ اس کے علاوہ اس حدیث کے معلول ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ صحیحین کی اس روایت کے خلاف ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس آیت کا نزول مکہ میں ابو طالب کے انتقال کے موقع پر ہوا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا تھا : میں اپنے باپ کیلئے مغفرت کی دعا اسی طرح کروں گا جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کیلئے کی تھی۔ اس پر آیت مَا کَان للنَّبِیِّ الخ نازل ہوئی۔ یہ روایت مرسل ہے ‘ صحیح نہیں ہے ‘ ضعیف ہے ‘ صحیحین کی روایت کے خلاف ہے۔
لہٰذا اس آیت کو دلیل بنا کر حضور (ﷺ) کے والدین کو مشرک قرار دینا درست نہیں ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) کے والدین کو مؤمن ثابت کرنے کیلئے سیوطی نے چند رسائل لکھے ہیں ‘ بلکہ حضرت آدم (علیہ السلام) تک آپ (ﷺ) کے تمام آباء و اجداد و امہات کے ایمان کو ثابت کیا ہے۔ میں نے ان سب کا خلاصہ کر کے اس موضوع پر ایک رسالہ تقدیس آباء النبی (ﷺ) تالیف کردیا ہے۔ اس جگہ اس موضوع پر زیادہ تفصیل سے بحث کرنے کی گنجائش نہیں۔
ایک شبہ : صحیحین کی حدیث میں ابو طالب کے انتقال کے وقت ابو جہل کا ابو طالب سے یہ کہنا کہ کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے پھرجائیں گے اور ابو طالب کا آخری جواب یہ دینا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں ‘ بتا رہا ہے کہ عبدالمطلب مشرک تھے (پھر حضور (ﷺ) کے تمام آباؤ اجداد کا موحد ہونا کہاں سے ثابت ہوا) ۔
جواب : اس حدیث سے یہ نہیں نکلتا کہ عبدالمطلب مشرک تھے ‘ عبدالمطلب یقینامؤمن تھے۔ ابن سعد نے طبقات میں اپنی خصوصی سندوں سے بیان کیا ہے کہ عبدالمطلب نے رسول اللہ (ﷺ) کی کھلائی ام ایمن سے کہا : اے برکت ! میرے بیٹے کی طرف سے غفلت نہ کر ‘ میں نے بیری کے درخت کے پاس اس کو دیکھا تھا۔ اور اہل کتاب کہتے ہیں کہ میرا یہ بیٹا اس امت کا پیغمبر ہے۔ بات یہ ہے کہ عبدالمطلب دور جاہلیت میں تھے ‘ آسمانی شریعتوں سے ناواقف تھے۔ وہ زمانہ فترت کا تھا اور فترت کے زمانہ میں صرف توحید کا اقرار کافی ہے (فترت اس مدت کو کہتے ہیں جس میں گزشتہ پیغمبر کی شریعت مٹ چکی ہو ‘ کالعدم ہو ‘ اصل شریعت گم ہوچکی ہو اور نیا پیغمبر ابھی آیا نہ ہو) تمام شرائع سے عبدالمطلب کی ناواقفیت ابوجہل کو معلوم تھی ‘ اس کی وجہ سے اس کو اور ابو طالب کو یہ خیال قائم کرنے کا موقع ملا کہ عبدالمطلب کے مذہب کے خلاف محمد رسول اللہ (ﷺ) کوئی نیا مذہب پیش کر رہے ہیں اور ان کا جدید دین عبدالمطلب کے دین سے ٹکراتا ہے ‘ اسلئے ابو طالب نے کہہ دیا کہ میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔
التوبة 9:114
وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ اور حضرت ابراہیم کا اپنے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنا صرف اس وجہ سے تھا کہ انہوں نے باپ سے اس کا وعدہ کرلیا تھا۔
حضرت ابراہیم کے بات سے مراد آزر ہے۔ آزر آپ کا چچا تھا ‘ باپ کا نام تارخ تھا۔ اس کی پوری تفصیل سورة الانعام میں گزر چکی ہے۔
بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ وَعَدَ کی ضمیر بات کی طرف راجع ہے اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم ہیں ‘ یعنی باپ نے حضرت ابراہیم سے مسلمان ہونے کا وعدہ کرلیا تھا ‘ اس پر حضرت ابراہیم نے فرمایا : میں آپ کیلئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا ‘ جبکہ آپ مسلمان ہوجائیں گے۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک وَعَدَ کا فاعل حضرت ابراہیم ہیں اور ایَّاہُ سے مراد حضرت ابراہیم کا باپ (ہم نے ترجمہ اسی قول کے موافق کیا ہے (یعنی حضرت ابراہیم نے باپ کے مسلمان ہوجانے کی امید میں یہ وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارے لئے دعائے مغفرت کروں گا۔ اس تفسیر کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے : قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْٓ اِبِرٰھِیْمَ ....... لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَتک۔ اس آیت میں حضرت ابراہیم کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے مگر حضرت ابراہیم نے جو باپ کیلئے دعائے مغفرت کی تھی اس کو عمومی حکم اتباع سے مستثنیٰ کردیا ‘ یعنی اس میں حضرت ابراہیم کی پیروی نہ کی جائے۔ اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ حضرت ابراہیم کا باپ مشرک تھا اور باوجود اس کے مشرک ہونے کے محض اس کے مسلمان ہوجانے کی امید پر حضرت ابراہیم نے اس سے وعدہ کرلیا تھا کہ میں تیرے لئے اپنے رب سے دعائے مغفرت کروں گا۔ صحیح حدیث ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اولاد آدم (علیہ السلام) کے جتنے قرون (صدیاں) گذرے ان سب میں سے بہترین دور میں میں مبعوث ہوا (یعنی میرے آباؤ اجداد بہترین قرون میں قرن در قرن گذرتے گئے۔ آخری قرن جو سب سے بہتر قرن ہے ‘ میری بعثت کا قرن ہے) اس حدیث کے صحیح ہوتے ہوئے کیسے کہا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کے سلسلۂ آباؤ اجداد میں کوئی کافر گذرا ہے۔
فلما تبین لہ ان عدو اللہ تبرا منہ (باپ کے کفر کی حالت پر مرنے سے یا اللہ کی طرف سے اطلاع ملنے کی وجہ سے کہ وہ کافر مرے گا) جب حضرت ابراہیم پر کھل گیا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے باپ سے بیزار ہوجانے کا اظہار کیا اور دعائے مغفرت قطع کردی۔
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس آیت کا تعلق آخرت سے ہے ‘ یعنی آخرت میں جب حضرت ابراہیم پر واضح ہوجائے گا کہ ان کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوجائیں گے۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : قیامت کے دن حضرت ابراہیم کی ملاقات ان کے باپ آزر سے ہوگی۔ آزر کا چہرہ اس وقت دھنوالا ‘ پژمردہ ‘ خاک آلود ہوگا۔ حضرت ابراہیم اس سے کہیں گے : کیا میں نے تجھ سے نہیں کہا تھا کہ میری ہدایت کے خلاف نہ کر۔ باپ جواب دے گا : آج میں تیری نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت ابراہیم (بارگاہ الٰہی میں) عرض کریں گے : اے میرے مالک ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جس روز لوگوں کو (قبروں سے) اٹھایا جائے گا اس روز تو مجھے رسوا نہیں کرے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور کونسی رسوائی ہوگی جو میرے باپ کی حالت ہے۔ اللہ فرمائے گا : میں نے کافروں کیلئے جنت حرام کردی ہے۔ پھر حکم ہوگا : ابراہیم ! اپنے قدموں کے نیچے دیکھو۔ حضرت ابراہیم اپنے قدموں کی طرف دیکھیں گے تو ان کو (گندگی یا کیچڑ میں) لتھڑا ہوا ایک پشمی بجو نظر آئے گا ‘ پھر اس کو ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک روایت میں اتنا اور بھی آیا ہے کہ حضرت ابراہیم اس سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔
ان ابرھیم لاواہ حلیم۔ واقعی ابراہیم رحیم المزاج ‘ حلیم الطبع تھے۔ حضرت کعب احبار نے کہا : اوَّاہٌ وہ شخص ہے جو اللہ کے خوف کی وجہ سے بہت زیادہ آہیں کھینچے (آہ آہ کرے) حضرت ابراہیم اپنی زندگی میں دوزخ کے خوف سے بکثرت آہیں بھرتے تھے۔ بعض نے کہا کہ گناہوں کی وجہ سے آہیں بھرنے والے کو اوَّاہٌ کہا جاتا ہے۔ مآل اور حاصل دونوں قولوں کا ایک ہی ہے (کہ بکثرت آہیں کھینچنے والے کو اوَّاہٌ کہا جاتا ہے ‘ خواہ اللہ کے خوف اور دوزخ کے ڈر سے ہو یا اپنے گناہوں کے اندیشہ سے۔ عطاء نے کہا : اوَّاہٌ سے وہ شخص ہے جو دوزخ سے ڈرتا ہو اور جو امور اللہ کو پسند نہیں ‘ ان سے تائب ہو۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : اوَّاہٌ سے مراد ہے بکثرت دعا کرنے والا۔ حضرت ابن عباس نے تشریح کی : مؤمن بکثرت توبہ کرنے والا اوَّاہٌ ہے۔ حسن اور قتادہ نے کہا : اوَّاہٌ وہ شخص ہے جو اللہ کے بندوں پر شفت و مہربانی کرے۔ مجاہد نے کہا : صاحب یقین مراد ہے۔ عکرمہ نے کہا : یہ لفظ حبشی زبان کا ہے ‘ حبشی زبان میں اوَّاہٌ کا معنی ہے یقین رکھنے والا۔ عقبہ بن عامر نے کہا : اوَّاہٌ سے مراد ہے بہت زیادہ اللہ کا ذکر کرنے والا۔ حضرت سعید بن جبیر کے نزدیک بہت زیادہ سیاحت کرنے والا اوَّاہٌ ہے۔ ایک روایت میں حضرت سعید بن جبیر کا قول آیا ہے کہ اوَّاہٌ سے مراد ہے معلم خیر۔ نخعی نے کہا : اوَّاہٌ کا معنی ہے دانشمند۔ قاموس میں ہے : اوَّاہٌ یقین کرنے والا ‘ یا دعا کرنے والا ‘ یا مہربانی کرنے والا ‘ یا دانشمند ‘ یا ایمان رکھنے والا۔ یہ آخری معنی حبشی زبان میں ہیں۔ ابو عبیدہ نے کہا : اوَّاہٌ سے وہ شخص مراد ہے جو خوف سے آہ آہ کرنے والا ‘ یقین کی وجہ سے گڑگڑانے والا اور طاعت کا التزام کرنے والا ہو۔ زجاج نے کہا : ابوعبیدہ کا قول ان تمام معانی کو جامع ہے جو اوَّاہٌ کے بیان کئے جاتے ہیں۔ حلیم کا معنی ہے دوسروں کی ضرر رساں حرکتوں سے درگذر کرنے والا (بردبار) حضرت ابراہیم حلیم تھے ‘ باوجودیکہ باپ نے ان سے کہا تھا کہ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں گا ‘ لیکن حضرت ابراہیم نے فرمایا : آپ کو (دوزخ سے) سلامتی نصیب ہو ‘ میں اپنے رب سے آپ کیلئے دعائے مغفرت کروں گا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حلیم کا معنی ہے سردار۔ قاموس میں ہے : حلم کا معنی ہے تحمل اور دانائی۔ حلیم (صفت مشبہ کا صیغہ) حلم سے ہی بنا ہے۔ حضرت ابراہیم کو جس بات نے باپ کیلئے دعائے مغفرت کرنے پر آمادہ کیا اس (علت استغفار) کو یہ جملہ واضح کر رہا ہے (یعنی حضرت ابراہیم اواہ و حلیم تھے ‘ اسلئے انہوں نے باپ کیلئے دعائے مغفرت کی) مقاتل اور کلبی کا بیان ہے کہ کچھ لوگ (اپنے اپنے قبائل سے) خدمت گرامی میں حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ اس وقت تک شراب حرام نہیں ہوئی تھی ‘ نہ بیت المقدس کو چھوڑ کر کعبے کی طرف رخ موڑنے کا حکم نازل ہوا تھا۔ یہ لوگ مسلمان ہو کر اسی حالت میں اپنے گھروں کو چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد حرمت شراب اور تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا ‘ مگر ان کو اس کی اطلاع نہیں پہنچی۔ کچھ مدت کے بعد جب پھر مدینہ آئے اور شراب کی حرمت اور تحویل قبلہ کا ان کو علم ہوا تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ جس دین پر تھے (اس درمیانی مدت میں) ہمارا مسلک اس سے الگ رہا۔ ہم اس مدت میں شرابیں پیتے اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھتے رہے (اسلئے) ہم گمراہ رہے (اب ہمارا کیا ہوگا) اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل فرمائی :
التوبة 9:115
وما کان اللہ لیضل قومًا بعد اذھدھم حتی یبین لھم ما یتقون اور ہدایت یاب کردینے کے بعد اللہ کسی قوم کو اس وقت تک گمراہ نہیں قرار دیتا جب تک وہ چیزیں ان کو نہ بتا دے جن سے ان کو پرہیز رکھنا چاہئے۔ یعنی اسلام کی ہدایت دینے کے بعد اللہ کسی قوم کو گمراہ نہیں قرار دیتا اور نہ ان کا کسی فعل پر مؤاخذہ کرے گا تاوقتیکہ ان کے سامنے کھول کر وہ امور نہ بیان کر دے جن سے ان کو بچنا لازم ہے اور جن کو آئندہ اختیار کرنے کے بعد وہ گمراہ قرار پانے کے مستحق ہوجاتے ہیں۔
بعض علماء نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) نے جو اپنے چچا کے متعلق فرمایا تھا کہ جب تک مجھے ممانعت نہ ہوجائے میں آپ کیلئے دعائے مغفرت کرتا رہوں گا۔ اس آیت میں رسول اللہ (ﷺ) کیلئے قول مذکور کا عذر بیان فرما دیا (کہ یہ قول رسول اور وعدۂ استغفار ممانعت دعا سے پہلے تھا ‘ اسلئے ناقابل مؤاخذہ ہے) یہ بھی کہا گیا ہے کہ ممانعت سے پہلے جن لوگوں نے اپنے مشرک آباؤ اجداد کیلئے دعائے مغفرت کی تھی ان کو اس آیت میں معذور ‘ ناقابل مؤاخذہ قرار دینا مقصود ہے۔ مجاہد نے کہا : آیت میں مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت کرنے والے مؤمنوں کا حکم تو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے لیکن حکم عام ہے (قبل از نزول حکم) ہر معصیت وطاعت کو شامل ہے (یعنی نزول حکم سے پہلے کا کوئی فعل قابل مؤاخذہ نہیں۔ یہ ضابطہ عمومی ہے ‘ مشرکوں کیلئے قبل از ممانعت دعائے مغفرت کرنے کی ہی اس میں خصوصیت نہیں ہے) ۔
ان اللہ بکل شیء علیم۔ بیشک اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ یعنی کس نے ناواقفیت اور عدم علم کی وجہ سے ایسا کیا اور کس نے سرکشی اور تمرد کے جذبہ کے زیر اثر کیا ‘ کون گمراہ قرار دیئے جانے کا مستحق ہے اور کون اس کا مستحق نہیں ہے ‘ اللہ ان باتوں کو خوب جانتا ہے۔
التوبة 9:116
ان اللہ لہ ملک السموت والارض یحي ویمیت وما لکم من دون اللہ من ولی ولانصیر۔ بلاشبہ آسمانوں کی اور زمین کی حکومت اللہ ہی کی ہے ‘ وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ (اے لوگو ! ) اللہ کے سوا نہ کوئی تمہارا حامی ہے کہ اللہ سے تم کو بچا سکے نہ کوئی مددگار کہ اللہ کے بھیجے ہوئے ضرر کو روک سکے ‘ اسلئے تمہارے لئے جائز نہیں کہ مشرکوں سے (قلبی) دوستی کرو اور ان کیلئے مغفرت کی دعائیں کرو خواہ وہ تمہارے قرابتدار ہی ہوں۔ تمہارے لئے اللہ کی دوستی اور مدد کافی ہے۔
التوبة 9:117
لقد تاب اللہ علی النبی والمھجرین والانصار اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر اور مہاجرین و انصار کے حال پر توجہ فرمائی۔ منافقوں کو تبوک کے جہاد میں شرکت نہ کرنے کی جو اجازت دے دی گئی تھی ‘ اس قصور کو اللہ نے معاف کردیا۔ یا یہ معنی ہے کہ کہ گناہگار قرار دینے سے اللہ نے ان کو بچا لیا ‘ جیسے (رسول اللہ (ﷺ) کے متعلق ) فرمایا ہے : لِیَغْفِرَ لَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذُنِبْکَم وَمَا تَأْخَّرَ ۔ بعض نے کہا : یہ توبہ کی ترغیب ہے۔ کوئی شخص ایسا نہیں جو توبہ کا محتاج نہ ہو ‘ یہاں تک کہ رسول اللہ (ﷺ) اور صحابہ بھی توبہ کے ضرورت مند ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : تم سب اللہ سے توبہ کرو۔ بات یہ ہے کہ ہر شخص جس درجہ پر بھی ہو ‘ اپنے سے اونچے درجہ پر پہنچنے سے قاصر رہتا ہی ہے (اور اونچے درجہ تک پہنچنا چاہتا ہے) لہٰذا جو کمی اس کے اندر ہو اس سے توبہ کرنا ضروری ہے۔ آیت میں توبہ کی فضیلت کا اظہار کیا گیا ہے کہ توبہ انبیاء و صالحین کا خصوصی مقام ہے۔ بعض نے کہا : اس آیت میں رسول کا ذکر بطور تمہید ہے ‘ کیونکہ آپ صحابہ کی توبہ قبول ہونے کا ذریعہ تھے ‘ اسلئے آپ کا ذکر شروع میں بطور تمہید کردیا گیا۔ جیسے آیت لِلّٰہِ خُمُسُہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی میں اللہ کا ذکر بطور تمہید ہے۔
الذین اتبعوا فی ساعۃ العسرۃ جنہوں نے ایسی تنگی کے وقت میں پیغمبر کا ساتھ دیا۔ یعنی جب رسول اللہ (ﷺ) نے مہاجرین و انصار کو تبوک کے جہاد کی ترغیب دی تو انہوں نے آپ کا اتباع کیا۔ ساعۃ سے مراد ہے وقت۔ عُسرت سختی۔ اس غزوہ میں مسلمانوں کیلئے سواری ‘ زاد راہ اور پانی کی بہت تنگی اور دشواری تھی ‘ اسلئے غزوۂ تبوک کو غزوۃ العسرۃ یا غزوۃ جیش العسرت کہا جاتا ہے ‘ غزوۃ الجیش بھی اسی کو کہتے ہیں۔ کذا قال البغوی
حسن نے کہا : دس دس آدمیوں کیلئے صرف ایک ایک اونٹ تھا ‘ باری باری سے دس آدمی ایک ہی اونٹ پر سوار ہوجاتے تھے۔ ایک اترتا تھا تو دوسرا چڑھتا تھا۔ زاد راہ کیلئے گھنے ہوئے چھوارے اور خراب قسم کے جَو تھے۔ جو کچھ ساتھ تھا ‘ لوگ اس کو باہم تقسیم کرلیا کرتے تھے۔ پھر نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ بعض لوگ انتہائی بھوک کی وجہ سے ایک چھوارہ لے کر منہ میں گھماتے اور جب مزہ لے لیتے تو اپنے ساتھی کو دے دیتے اور وہ اس کو چوستا ‘ پھر ایک گھونٹ اوپر سے پانی پی لیتا۔ اس طرح ایک ہی چھوارہ سب لوگ باری باری سے چوستے اور چوسنے میں ہی چھوارہ ختم ہوجاتا ‘ صرف گٹھلی رہ جاتی۔ لیکن ایمان و یقین کے ساتھ رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ چلے جاتے تھے۔
امام احمد ‘ ابن خزیمہ ‘ ابن حبان اور حاکم نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت عمر نے فرمایا : ہم سخت گرمی کے دنوں میں (رسول اللہ (ﷺ) کے ہمرکاب) تبوک کی طرف نکل کھڑے ہوئے۔ ایک پڑاؤ پر اترے اور اتنی پیاس لگی کہ ہم نے خیال کیا کہ اب ہماری گردنیں ٹوٹ جائیں گی۔ بعض لوگ پانی کی تلاش میں جاتے اور خیال ہوتا کہ یہ زندہ لوٹ کر نہ آئے گا۔ بعض لوگ اپنا اونٹ ذبح کر کے اس کے اوجھ سے پانی نکال کر نچوڑ کر پی لیتے اور جو کچھ باقی رہتا ‘ اس کو اپنے کلیجے پر رکھ لیتے۔ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اللہ نے دعائے خیر کا آپ کو عادی بنا دیا ہے (یعنی آپ دعائے خیر کرتے ہی ہیں اور اللہ آپ کی دعا قبول فرماتا ہے) اللہ سے ہمارے لئے دعا کر دیجئے۔ حضور (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس کو پسند کرتے ہو ؟ حضرت ابوبکر نے عرض کیا : جی ہاں۔ حضور (ﷺ) نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا دئیے اور لوٹا کر نیچے نہ لانے پائے تھے کہ بادل اٹھ کر (لشکر پر) چھا گیا۔ پھر اتنی بارش ہوئی کہ لوگوں کے پاس جو برتن تھے ‘ وہ سب بھر لئے۔ اس کے بعد جو ہم دیکھنے چلے (کہ کہاں کہاں بارش ہوئی) تو معلوم ہوا کہ لشکر سے آگے کہیں بارش نہیں ہوئی) ۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابو حرزہ انصاری کی روایت سے بیان کیا کہ لوگ (تبوک کے راستہ میں) حجر میں اترے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے حکم دیا : یہاں کا پانی کوئی نہ لے۔ پھر (وہاں سے) کوچ کرنے کے بعد دوسرے پڑاؤ پر اترے۔ پانی کسی کے پاس نہ تھا ‘ لوگوں نے پانی نہ ہونے کی شکایت کی۔ حضور (ﷺ) نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کی ‘ اللہ نے فوراً ایک بادل بھیج دیا جس سے اتنی بارش ہوئی کہ سب سیراب ہوگئے۔ ایک انصاری نے اپنے ساتھی سے جس کو لوگ منافق سمجھتے تھے ‘ کہا : ارے دیکھو ! رسول اللہ (ﷺ) کے دعا کرنے سے اللہ نے ہم پر بارش کردی۔ وہ کہنے لگا : بارش تو فلاں فلاں ستاروں (کے طلوع اور گردش) کی وجہ سے ہوئی ہے۔ اس پر اللہ نے آیت وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَنازل فرمائی۔
من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منھم بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہو چلا تھا۔ قلوب فریقٍ یعنی بعض لوگوں کے دلوں میں۔ زیغ سے یہ مراد نہیں ہے کہ بعض لوگوں کے دل دین سے پھرجانے کی طرف مائل ہوگئے تھے بلکہ آگے نہ جانے اور انتہائی شدائد کی وجہ سے واپس ہوجانے کی طرف میلان رکھتے تھے ‘ زیغ سے یہی مراد ہے۔
کلبی نے کہا : بعض لوگوں نے ساتھ نہ جانے کا ارادہ کرلیا تھا لیکن (سوچنے کے بعد) پیچھے سے رسول اللہ (ﷺ) تک پہنچ گئے۔ ابن اسحاق اور محمد بن عمر کا بیان ہے کہ بعض مسلمانوں کی نیت سست پڑگئی اور رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ جانے سے رہ گئے (اور وقت آجکل آجکل کہتے گذر گیا) مگر ان لوگوں کو (جانے میں) کوئی تردد نہ تھا (جانا ضرور چاہتے تھے اور جانے کا ارادہ تھا مگر ٹال مٹول میں پڑگئے) ان میں سے کعب بن مالک ‘ ہلال بن امیہ ‘ مرارہ بن ربیع اور ابو ذر غفاری بھی تھے۔ یہ گروہ تھا صادق الایمان ‘ ان کے اسلام میں کسی کو کوئی شبہ نہ تھا۔ ابن اسحاق نے حضرت ابن مسعود کا بیان نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) روانہ ہوگئے تو (راستہ میں) بعض لوگ ساتھ چھوڑ (کر واپس ) جانے لگے۔ صحابہ عرض کرتے تھے : یا رسول اللہ (ﷺ) ! فلاں شخص نے ساتھ چھوڑ دیا۔ حضور (ﷺ) فرماتے تھے : اس کو رہنے دو ۔ اگر اس (کے ساتھ آنے) میں کوئی بہتری ہوگی تو اللہ خود اس کو پیچھے سے تم سے لا ملائے گا ‘ ورنہ میں اس کے متعلق اللہ کے حکم کا انتظار کروں گا (ا اللہ جو حکم دے گا ویسا کروں گا) آخر جب حضرت ابو ذر ساتھ سے رہ گئے تو لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ابو ذر پیچھے رہ گئے ‘ ان کا اونٹ سست پڑگیا۔ حضور (ﷺ) نے حسب معمول وہی پہلا جواب دے دیا۔ حضرت ابو ذر نے اونٹ کو ڈانٹا مگر اونٹ سست پڑا رہا (چال میں تیزی نہ آئی) یہ دیکھ کر حضرت ابوذر اپنا سامان پشت پر اٹھا کر پیدل رسول اللہ (ﷺ) کے پیچھے قدم بقدم چل پڑے۔ محمد بن عمر کا بیان ہے کہ حضرت ابوذر فرماتے تھے : میں غزوۂ تبوک میں اپنے اونٹ کی وجہ سے پیچھے رہ گیا تھا (ساتھ نہ جاسکا تھا) اونٹ بہت کمزور اور دبلا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ اس کو چند روز چارہ گوت (یعنی خوراک) دے دوں ‘ پھر پیچھے سے (تیزی کے ساتھ) رسول اللہ (ﷺ) سے جا ملوں گا۔ چناچہ میں چند روز تک اس کو چارہ دیتا رہا ‘ پھر روانہ ہو کر ذی المودہ میں پہنچا تھا کہ اونٹ اڑ گیا۔ میں نے دن بھر اس پر محنت کی مگر وہ اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ آخر میں نے اپنا سامان اپنے اوپر لادا اور (چل دیا) دوپہر کو ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں سے رسول اللہ (ﷺ) پر نظر پڑ رہی تھی (جانے والے) مسلمانوں میں سے کسی مسلمان نے مجھے دیکھ لیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! یہ شخص تنہا پیدل چل رہا ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : ابو ذر ہو (تو اچھا ہے) لوگوں نے میری طرف غور سے دیکھا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! خدا کی قسم ‘ یہ ابو ذر ہی ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : ابو ذر پر اللہ کی رحمت ہو ‘ تنہا جا رہا ہے۔ اکیلا مرے گا اور اکیلا اٹھایا جائے گا۔ محمد بن یوسف صالحی نے کہا : ہوا بھی ایسا ہی۔ جب رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں پہنچ گئے اور اپنی سرگزشت بتائی تو فرمایا : ابو ذر ! میرے پاس پہنچنے تک تو نے جو قدم اٹھایا ‘ اللہ نے اس کے عوض تیرا ایک گناہ معاف کیا۔
طبرانی نے خود حضرت ابو خثیمہ کی روایت سے اور ابن اسحاق و محمد بن عمر نے اپنے مشائخ کی سند سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ (ﷺ) کی روانگی کو چند دن گذر گئے تو حضرت ابو خثیمہ (ایک روز) اپنے گھر پہنچے ‘ دن گرم تھا۔ گھر پہنچ کر دیکھا کہ باغ کے اندر ان کی دونوں بیویوں نے الگ الگ دو اٹاریاں بنائی ہیں اور ہر ایک نے اپنی جھونپڑی کو ٹھنڈا کرنے کیلئے چھڑکاؤ کیا ہے اور حضرت ابوخثیمہ کیلئے پانی ٹھنڈا کر کے رکھا ہے اور کھانا تیار کیا ہے۔ جھونپڑی کے دروازہ پر پہنچ کر انہوں نے جو یہ کیفیت دیکھی اور بیویوں نے جو کچھ کیا تھا ‘ اس کا معائنہ کیا تو کہنے لگے : سبحان اللہ ! رسول اللہ (ﷺ) کی اگلی پچھلی لغزشیں تو اللہ نے معاف کردیں ہیں ‘ اس کے باوجود آپ ٹھیک دوپہر کو (گرم) ہوا اور گرمی میں اپنا اسلحہ کاندھے پر اٹھائے ہوئے (راہ خدا میں نکلے) ہیں اور ابو خثیمہ تیار کھانے پر ٹھنڈے سایہ میں خوبصورت بیوی کے ساتھ اپنے مال میں موجود ہے ‘ یہ انصاف کی بات نہیں ہے۔ خدا کی قسم ! میں دونوں میں سے کسی کی جھونپڑی میں داخل نہ ہوں گا ‘ بلکہ رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں پیچھے سے پہنچوں گا۔ تم دونوں میرے لئے زاد راہ تیار کر دو ۔ بیویوں نے زاد راہ تیار کردیا۔ پھر آپ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر رسول اللہ (ﷺ) کی تلاش میں چل دئیے ‘ یہاں تک کہ حضور (ﷺ) سے جا ملے۔ راستہ میں حضرت ابو خثیمہ سے عمیر بن وہب جمحی کا ساتھ ہوگیا تھا۔ وہ بھی رسول اللہ (ﷺ) کی تلاش میں نکلے تھے ‘ راستہ میں دونوں ساتھ ہوگئے۔ تبوک کے قریب پہنچ کر حضرت ابو خثیمہ نے عمیر سے کہا : مجھ سے ایک گناہ ہوگیا ہے ‘ اسلئے کوئی حرج نہیں اگر تم میرے ساتھ سے الگ ہوجاؤ۔ غرض جب حضرت ابو خثیمہ رسول اللہ (ﷺ) کے قریب (یعنی اتنے فاصلہ پر کہ لوگوں کی نظر ان پر پڑجائے) پہنچے تو لوگوں نے کہا : یہ کوئی سوار آ رہا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ابو خثیمہ ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا : وا اللہ ! ابوخثیمہ ہی ہے۔ حضور (ﷺ) نے حضرت ابو خثیمہ سے فرمایا : ابو خثیمہ ! تیرا برا ہو۔ حضرت ابو خثیمہ نے آپ کو واقعہ بتایا تو رسول اللہ (ﷺ) نے ان کے حق میں کچھ کلمات خیر فرمائے اور دعائے خیر کی۔
ثم تاب علیھم پھر اللہ نے ان کے حال پر توجہ فرمائی۔ تَابَ کی تکرار مفید تاکید ہے۔ پہلی آیت میں منافقوں کو جہاد میں شریک نہ ہونے کی اجازت دینے پر توبہ قبول کرنے کا اظہار کیا گیا تھا اور اس آیت میں منافقوں کی دوستی سے جو قلوب میں کجی پیدا ہونے لگی تھی ‘ اس کو معاف کردینے کا اعلان ہے۔ یا پہلی آیت میں توفیق توبہ عطا کرنے کا اظہار کیا گیا تھا اور اس آیت میں قبول توبہ کا۔ یا اس آیت میں معافی کا اظہار اس شدت و مصیبت کے مقابلہ میں کیا جو اس سفر میں لوگوں نے اٹھائی تھی۔
انہ بھم رؤف رحیم۔ بیشک اللہ ان پر بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : جن لوگوں پر اللہ نے رحم کردیا ‘ پھر ان کو اس گناہ کی سزا کبھی نہیں دے گا۔
التوبة 9:118
وعلی الثلثۃ الذین خلفوا اور ان تین شخصوں کے حال پر بھی توجہ فرمائی جن کا معاملہ ملتوی چھوڑ دیا گیا تھا۔
عَلَی الثَّلٰثَۃِکا عطف عَلَیْھِمْ پر ہے۔ خُلِفُوْا کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود غزوۂ تبوک سے رہ گئے (رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ نہیں گئے) یہ بھی مطلب بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابو لبابہ اور ان کے ساتھیوں کی توبہ قبول ہونے سے پیچھے جن کا معاملہ چھوڑ دیا گیا ‘ ملتوی رکھا گیا۔ یہ تینوں حضرات کعب بن مالک ‘ شاعر مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ تھے۔ یہ حضرات انصاری تھے۔
شیخین نے صحیحین میں اور امام احمد و ابن ابی شیبہ ‘ ابن اسحاق اور عبدالرزاق نے حضرت کعب بن مالک کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت کعب نے فرمایا : جس غزوہ پر بھی رسول اللہ (ﷺ) تشریف لے گئے ‘ میں کسی غزوہ میں حضور (ﷺ) کے ساتھ سے سوائے غزوۂ تبوک کے ‘ پیچھے نہیں رہا۔ ہاں غزوۂ بدر میں ساتھ نہیں گیا تھا (اور بدر میں میرا شریک نہ ہونا قابل مؤاخذہ نہ تھا کیونکہ ) جو لوگ بدر کو نہ جاسکے ان میں سے کسی پر اللہ نے عتاب نہیں کیا۔ وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ (ﷺ) قریش کے قافلہ کے ارادہ سے نکلے تھے (لڑائی کا ارادہ ہی نہ تھا) لیکن بغیر کسی مقررہ وعدہ کے دشمن سے بحکم خدا مڈبھیڑ ہوگئی۔ میں عقبہ والی رات میں بھی حاضر تھا (یعنی تیسرے عقبہ کے موقع پر جب انصار نے بیعت کی تھی ‘ میں بھی موجود تھا) وہاں ہم سب نے اسلام پر مضبوط عہد و پیمان کیا تھا۔ اگرچہ لوگوں میں بدر کی شہرت زیادہ ہے لیکن شب عقبہ کی حاضری کے مقابلہ میں بدر کی شرکت میرے خیال میں افضل نہیں ہے۔
میرا واقعہ یہ ہوا کہ غزوۂ تبوک کے زمانہ میں میں بڑا طاقتور اور فراخ حال تھا ‘ اس سے پہلے کبھی میں اتنا مرفہ الحال اور طاقتور نہ ہوا۔ اس زمانہ میں پہلی ہی مرتبہ میرے پاس سواری کی دو اونٹنیاں ہوئیں ‘ اس سے پہلے میرے پاس کبھی دو سواریاں نہیں ہوئیں۔ رسول اللہ (ﷺ) کا قاعدہ تھا کہ جب کسی جہاد کا ارادہ کرتے تھے تو بطور توریہ کسی دوسرے جہاد کا نام لے دیتے تھے اور فرماتے تھے : لڑائی خفیہ تدبیر (کا نام) ہے۔ جب تبوک کے جہاد کا موقع آیا تو گرمی سخت تھی ‘ سفر طویل تھا ‘ راستہ میں بیابان تھے ‘ دشمنوں کی تعداد بہت تھی ‘ اسلئے رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں سے کھول کر بیان فرما دیا تھا اور اپنے رخ کی صحیح اطلاع دے دی تھی تاکہ اپنے جہاد کی تیاری کرلیں ۔ مسلمانوں کی تعداد رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ بہت تھی۔ بقول مسلم دس ہزار مسلمان ساتھ تھے۔ حاکم نے اکلیل میں حضرت معاذ کی روایت سے لکھا ہے کہ غزوۂ تبوک کو جانے کے وقت ہماری تعداد تیس ہزار سے بھی زائد تھی۔ ابو زرعہ نے کہا : کسی کتاب میں ان کے نام محفوظ نہ تھے۔ زہری نے کہا : کتاب سے مراد رجسٹر ہے۔ جو آدمی بھی غیر حاضر ہونا چاہتا تھا ‘ وہ یہی سمجھتا تھا کہ جب تک میرے بارے میں اللہ کی طرف سے وحی نہ آئے ‘ میرا معاملہ پوشیدہ ہے (کسی کو پتہ بھی نہ چلے گا) حضور (ﷺ) نے غزوۂ تبوک کا ارادہ ایسے وقت کیا جب پھل اور (درختوں کے) سائے خوشگوار ہوگئے تھے۔ حضور (ﷺ) اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے تیاریاں کرلیں اور جمعرات کے دن روانہ ہوگئے۔ آپ سفر پر خواہ جہاد کا ہو یا کسی اور غرض سے ‘ جمعرات کو روانہ ہونا ہی پسند فرماتے تھے۔ میں بھی (روزانہ) صبح کو تیاری کرنے کے ارادہ سے گھر سے نکلتا تھا مگر بغیر کچھ کئے واپس آجاتا تھا اور دل میں کہتا تھا : مجھ میں استطاعت ہے ‘ جب چاہوں گا فوراً کرلوں گا۔ یونہی وقت ٹلتا رہا ‘ یہاں تک کہ گرمی سخت ہوگئی اور رسول اللہ (ﷺ) مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوگئے اور میں اپنی کچھ بھی تیاری نہ کرسکا اور دل میں خیال کرلیا کہ حضور (ﷺ) کے بعد ایک دو روز میں تیاری مکمل کر کے پیچھے سے جا پہنچوں گا۔ مسلمانوں کی روانگی کے بعد میں تیاری کرنے کیلئے صبح کو نکلا ‘ مگر بغیر کچھ کئے لوٹ آیا۔ پھر دوسرے روز صبح کو نکلا ‘ تب بھی کچھ نہیں کیا۔ اسی طرح مدت بڑھتی گئی ‘ یہاں تک کہ لوگ دور چلے گئے اور تیزی کے ساتھ جہاد کی طرف بڑھ گئے اور میں ارادہ ہی کرتا رہا کہ (جلد) کوچ کر کے ان کو پیچھے سے جا لوں گا۔ کاش ! میں نے ایسا کرلیا ہوتا ‘ مگر میرے مقدر میں ہی نہیں تھا۔ رسول اللہ (ﷺ) کی روانگی کے بعد جب میں باہر نکل کر لوگوں کو دیکھتا تھا تو گھومنے کے بعد مجھے یا تو صرف وہ لوگ نظر آتے تھے جو منافق کہے جاتے تھے یا وہ کمزور لوگ دکھائی دیتے تھے جن کو اللہ نے معذور بنا دیا تھا ‘ اور کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ تبوک پہنچنے تک رسول اللہ (ﷺ) نے میرا تذکرہ نہیں کیا۔ تبوک پہنچ کر ایک روز آپ صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ دریافت فرمایا : کعب بن مالک کو کیا ہوگیا ؟ بنی سلمہ کے یا میری قوم کے ایک آدمی نے (جس کا نام حسب روایت محمد بن عمر ‘ عبد اللہ بن انیس سلمی تھا) کہا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس کو اس کی دو چادروں نے اور (غرور و فخر کے ساتھ) اپنے دونوں پہلوؤں پر دیکھنے نے نہیں آنے دیا (یعنی آجکل وہ مرفہ الحال ہے ‘ ایک چادر باندھتا ہے ‘ ایک اوڑھتا ہے اور دونوں طرف گردن موڑ موڑ کر اپنے مونڈھوں کو دیکھتا ہے ‘ اسی وجہ سے وہ نہ آسکا) حضرت معاذ بن جبل یا ابو قتادہ نے کہا : تم نے بری بات کہی (ایسا نہیں ہے) یا رسول اللہ (ﷺ) ! خدا کی قسم ‘ میں نے اس کے اندر سوائے اچھائی کے اور کچھ نہیں پایا۔ رسول اللہ (ﷺ) خاموش ہوگئے۔
حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے : جب مجھے اطلاع ملی کہ رسول اللہ (ﷺ) واپس آنے کیلئے چل پڑے ہیں تو مجھے بڑی فکرہوئی اور رسول اللہ (ﷺ) کے سامنے پیش کرنے کیلئے عذر بنانے لگا اور ایسی بات کی تیاری کرنے لگا کہ کل کو رسول اللہ (ﷺ) کی ناراضگی سے میں کس طرح بچ سکوں گا۔ مختلف اہل الرائے اور گھر والوں سے میں نے اس معاملہ میں مدد بھی لی۔ پھر جب مجھ سے کہا گیا کہ رسول اللہ (ﷺ) قریب ہی آپہنچے ہیں تو میرے دل سے تمام غلط خیالات جاتے رہے اور میں سمجھ گیا کہ جس بات میں جھوٹ کی آمیزش ہوگی ‘ اس کے ذریعہ سے میں ناراضگی سے کبھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ چناچہ میں نے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کرلیا اور یقین کرلیا کہ سچائی ہی مجھے نجات دے سکتی ہے۔ صبح کو حضور (ﷺ) تشریف لے آئے۔
ابن سعد نے کہا : رمضان میں (واپس پہنچے) کعب نے کہا : کہ رسول اللہ (ﷺ) جب (سفر سے واپس) آتے تھے تو دن چڑھے مدینہ میں پہنچتے تھے اور سب سے پہلے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے ‘ پھر وہیں بیٹھ جاتے تھے ‘ پھر وہاں سے حضرت فاطمہ کے پاس تشریف لے جاتے تھے ‘ اس کے بعد امہات المؤمنین کے ہاں جاتے تھے۔ حسب دستور آپ نے سب سے پہلے مسجد میں پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھی ‘ پھر وہیں لوگوں کے (معاملات سننے کے) لئے بیٹھ گئے۔ اب تبوک کی شرکت سے رہنے والے لوگ آنے لگے اور (اپنے اپنے) عذر پیش کرنے اور قسمیں کھانے لگے۔ یہ سب لوگ کچھ اوپر اسی تھے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ان کے ظاہری عذر کو قبول کرلیا ‘ ان سے بیعت لے لی اور ان کیلئے دعائے مغفرت کی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کردیا۔ جب میں خدمت گرامی میں حاضر ہوا اور سلام کیا تو آپ مسکرا دئیے ‘ مگر مسکراہٹ غصہ آلود تھی اور فرمایا : آؤ۔ میں چلتا چلتا سامنے پہنچ کر بیٹھ گیا۔ ابن عابد کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے کعب کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ کعب نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آپ نے میری طرف سے کیوں منہ پھیرلیا ؟ وا اللہ ! میں منافق نہیں ہوں ‘ نہ مجھے (اسلام کی صداقت میں) کوئی شک ہے ‘ نہ میں (عقیدۂ اسلام سے) بدل گیا ہوں۔ فرمایا : پھر تم (ساتھ جانے سے) کیوں رہ گئے ‘ کیا تم نے سواری نہیں خرید لی تھی ؟ میں نے عرض کیا : بیشک (میں نے سواری بھی خرید لی تھی) یا رسول اللہ (ﷺ) ! اگر میں کسی اور دنیا دار کے پاس اس وقت بیٹھا ہوتا تو خدا کی قسم ! کوئی عذر معذرت کر کے اس کی ناراضگی سے بچ جاتا کیونکہ مجھ میں قوت کلامیہ (اور دلیل کی طاقت) موجود ہے ‘ لیکن مجھے معلوم ہے کہ اگر میں آپ کے سامنے جھوٹ بنا بھی دوں گا اور آپ راضی بھی ہوجائیں گے تب بھی عنقریب اللہ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا اور اگر سچ سچ کہہ دوں گا تو گو آپ ناراض ہوجائیں گے مگر امید ہے کہ اللہ مجھے معاف فرما دے گا۔ بخدا ! مجھے کوئی عذر نہ تھا ‘ نہ اس سے پہلے میں اتنا طاقتور اور فراخ حال (کبھی ہوا) تھا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اس نے سچی بات کہہ دی۔ اب تم اٹھ جاؤ اور اللہ جو کچھ چاہے گا ‘ تمہارے متعلق فیصلہ کر دے گا۔
میرے سچ بولنے کی وجہ سے بنی سلمہ کے کچھ لوگ برانگیختہ ہوگئے اور کہنے لگے : تو نے اس سے پہلے تو کوئی جرم کیا نہ تھا ‘ نہ اتنا کمزور تھا کہ جس طرح دوسرے شرکت نہ کرنے والوں نے اپنی عدم شرکت کے عذر کئے (اور عتاب سے بچ گئے) تو کوئی عذر نہ پیش کرسکتا (آئندہ) رسول اللہ (ﷺ) کی دعائے مغفرت تیرے (اس) گناہ کے معاف ہونے کیلئے کافی تھی۔ غرض وہ برابر مجھے ڈانٹتے اور سرزنش کرتے رہے اور اتنی سرزنش کی کہ میرا ارادہ ہوگیا کہ دوبارہ خدمت گرامی میں حاضر ہو کر اپنے پہلے قول کی تکذیب کر دوں ‘ لیکن میں نے کہہ دیا : مجھ سے دو جرم یکجا نہیں ہو سکتے کہ جہاد میں رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ بھی نہیں گیا اور اب حضور (ﷺ) سے جھوٹ بھی بولوں۔
پھر میں نے لوگوں سے دریافت کیا : کیا میرے ساتھ ایسا کوئی اور بھی ہے جو تبوک کو نہیں گیا ہو (اور اس نے کوئی عذر تراشی بھی نہ کی ہو) لوگوں نے کہا : ہاں دو آدمی اور بھی ہیں جنہوں نے اسی طرح کی بات کہی تھی جیسی تو نے کی تھی اور ان کو بھی وہی ہدایت کی گئی جو تجھے کی گئی۔ میں نے پوچھا : وہ دونوں کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا : مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقضی۔
ابن ابی حاتم نے حسن تابعی کی مرسل روایت سے بیان کیا ہے کہ اوّل الذکر کے نہ جانے کی وجہ تو یہ ہوئی کہ ان کا ایک باغ تھا جو کھل چکا تھا (یعنی اس میں خوشے لٹک رہے تھے) انہوں نے اپنے دل میں کہا : اس سے پہلے میں (بہت) جہاد کرچکا ہوں ‘ اگر اس سال اپنے گھر ٹھہرا رہوں تو کیا حرج ہے۔ لیکن جب ان کو اپنے اس جرم کا احساس ہوا تو کہنے لگے : اے اللہ ! میں تجھے گواہ بناتا ہوں کہ اس کو تیری راہ میں خیرات کرتا ہوں (اسی نے مجھے جانے سے روکا ہے) اور دوسرے صاحب کا واقعہ یہ ہوا کہ ان کے گھر والے کہیں (سفر میں) منتشر تھے ‘ لوٹ کر آئے تو کہنے لگے : اس سال (جہاد کو) نہ جاؤ ‘ ہمارے پاس رہو (تو کوئی حرج نہیں) ان کو بھی اپنے جرم کا احساس ہوا تو انہوں نے (ا اللہ سے عہد کیا اور) کہا : اے اللہ ! مجھ پر لازم ہے کہ میں اپنے گھر والوں کے اور مال کے پاس لوٹ کر نہ جاؤں گا (تاوقتیکہ تیرا جدید حکم نہ ہو)
حضرت کعب کا بیان ہے : لوگوں نے میرے سامنے دو نیک آدمیوں کا نام لیا جو بدر میں شریک ہوچکے تھے اور جن کی پیروی کی جاسکتی تھی۔ ان کا نام سن کر میں اپنی سابق بات پر قائم رہا۔ جو لوگ تبوک کو نہیں گئے تھے ‘ ان میں سے صرف ہم تینوں سے ہی رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو کلام کرنے کی ممانعت فرما دی۔ لوگ اس فرمان کے بعد ہمارے لئے بالکل بدل گئے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں آیا ہے : ہم صبح کو لوگوں میں نکلتے تھے مگر کوئی ہم سے سلام کلام نہیں کرتا تھا ‘ نہ ہمارے سلام کا جواب دیتا تھا۔ عبدالرزاق کی روایت ہے : لوگ ایسے بدل گئے کہ گویا وہ ہم کو جانتے ہی نہیں ہیں۔ درو دیوار اجنبی ہوگئے ‘ وہ در و دیوار ہی نہ رہے جن کو ہم پہچانتے تھے۔ میرے لئے سب سے زیادہ رنج آفریں یہ خیال تھا کہ اگر میں اسی حالت میں مر گیا تو رسول اللہ (ﷺ) میرے جنازہ کی نماز بھی نہیں پڑھیں گے اور اگر اسی دوران میں رسول اللہ (ﷺ) کی وفات ہوگئی تو میری یہی حالت قائم رہے گی کہ نہ کوئی مجھ سے کلام کرے گا نہ میرے جنازے کی نماز پڑھے گا۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ وہ سرزمین ہی میرے لئے اجنبی ہوگئی ‘ وہ بستی وہ نہ رہی جو میری شناسا تھی۔ یہ حالت پچاس رات قائم رہی۔ میرے دونوں ساتھی تو کمزور تھے ‘ وہ گھروں میں بیٹھ رہے مگر میں طاقتور اور جوان تھا ‘ گھر سے نکل کر مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں گھومتا تھا مگر کوئی مجھ سے کلام سلام نہیں کرتا تھا۔ نماز کے بعد جب رسول اللہ (ﷺ) صحابہ کے جلسہ میں بیٹھے ہوتے تو میں حاضر ہو کر سلام کرتا اور دل میں کہتا : کیا حضور (ﷺ) نے سلام کا جواب دینے کیلئے لب مبارک ہلائے یا نہیں ‘ پھر حضور صلی اللہ علیہ کے پاس پہنچ کر (دانستہ) نماز پڑھتا اور کن انکھیوں سے دیکھتا رہتا (کہ حضور (ﷺ) کی توجہ میری طرف ہوئی یا نہیں ( جب میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو حضور (ﷺ) میری طرف منہ کرلیتے ‘ لیکن جب میں التفات نظر کرتا تو آپ منہ پھیر لیتے۔ جب مدت تک لوگ مجھ سے یونہی دور دور رہے تو ایک روز دیوار پھلانک کر میں ابوقتادہ کے پاس ان کے باغ میں پہنچ گیا۔ ابو قتادہ میرے چچا زاد تھے ‘ یعنی قبیلۂ بنی سلمہ سے تھے ‘ میرے باپ کے بھائی کے بیٹے نہ تھے۔ مجھے ان سے بڑی محبت تھی۔ میں نے ان کو سلام کیا مگر خدا کی قسم ! انہوں نے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا : ابو قتادہ ! یہ تو تم کو معلوم ہی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں۔ ابو قتادہ خاموش رہے۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی۔ وہ خاموش رہے ‘ کوئی بات نہیں کی۔ تیسری یا چوتھی بار کہنے کے بعد انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی کو خوب معلوم ہے۔ یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور لوٹ کر دیوار پھلانگ کر میں آگیا۔ ایک روز میں بازار میں جا رہا تھا کہ علاقۂ شام کا رہنے والا ایک دیہاتی نظر پڑا ‘ یہ شخص غلہ لے کر مدینہ میں بیچنے آیا تھا۔ کسی سے اس نے پوچھا : مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتا دے۔ لوگوں نے میری طرف اشارہ کردیا۔ وہ میرے پاس آیا اور ایک خط مجھے دیا جو شاہ غسان کی طرف سے تھا (یعنی بادشاہ شام کی طرف سے) ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ میرے قبیلہ کا کوئی آدمی شام میں تھا ‘ اس نے بھیجا تھا۔ خط ریشمی کپڑے کے ایک ٹکڑے میں لپٹا ہوا تھا اور اس میں لکھا تھا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تم کو دور کردیا ہے اور پرے پھینک دیا ہے اور اللہ نے تم کو ایسا نہیں بنایا کہ ذلت کے مقام میں رہو اور تمہارا حق ضائع کیا جاتا رہے ‘ اسلئے اگر تم سکونت منتقل کرنا چاہتے ہو تو ہم سے آ ملو ‘ ہم تمہاری مدد کریں گے۔ خط پڑھ کر میں نے کہا : یہ بھی (ا اللہ کی طرف سے) آزمائش ہے کہ کافر بھی میرا لالچ کرنے لگے (میری ذات کافروں کے لالچ کی جولان گاہ بن گئی) پھر میں نے تحریر کو تنور میں جھونک دیا۔ ابن عابد کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت کعب نے رسول اللہ (ﷺ) سے اپنی حالت کا شکوہ کیا اور عرض کیا : آپ کی مجھ سے روگردانی اب اس حد تک پہنچ گئی کہ مشرک میرا لالچ کرنے لگے۔
جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گذر گئیں تو اچانک رسول اللہ (ﷺ) کا ایک قاصد میرے پاس پہنچا۔ محمد بن عمر نے اس قاصد کا نام خزیمہ بن ثابت بتایا ہے ‘ یہی قاصد مرارہ اور ہلال کے پاس بھی گیا۔ قاصد نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) نے تم کو حکم دیا ہے کہ اپنی بیوی سے الگ ہوجاؤ۔ میں نے کہا : کیا طلاق دے دوں یا کچھ اور ؟ اس نے کہا : طلاق کا حکم نہیں ہے۔ اس سے الگ رہو ‘ قربت نہ کرو۔ میرے دونوں ساتھیوں کے پاس بھی یہی حکم پہنچا۔ حسب الحکم میں نے اپنی بیوی سے کہا : اپنے گھر چلی جا اور فیصلہ قطعی ہونے تک وہیں رہ۔ ہلال بن امیہ کی بیوی یعنی خولہ بنت عاصم نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہلال بن امیہ بوڑھا آدمی ہے ‘ اپنا کام خود نہیں کرسکتا اور اس کا کوئی خادم بھی نہیں ہے۔ کیا اگر میں اس کا کام کردیا کروں تو آپ کی ناگواری کا باعث ہوگا ؟ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : وہ بوڑھا ہے ‘ نظر بہت کمزور ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : نہیں (کام کردینے کی ممانعت نہیں ہے) مگر وہ تجھ سے قربت نہ کرے۔ عورت نے کہا : خدا کی قسم ! اس کو تو کسی بات کی حس ہی نہیں ہے۔ جب سے اس کا یہ واقعہ ہوا ہے ‘ برابر آج تک رونے میں مشغول ہے۔ حضرت کعب کا بیان ہے : مجھ سے بھی میرے کسی گھر والے نے کہا : اگر ہلال بن امیہ کی بیوی کی طرح تم بھی اپنی بیوی کیلئے رسول اللہ (ﷺ) سے اجازت لے لو کہ وہ تمہاری خدمت کردیا کرے تو مناسب ہے۔ میں نے کہا : خدا کی قسم ! میں رسول اللہ (ﷺ) سے اجازت نہیں مانگوں گا۔ کیا معلوم حضور (ﷺ) کیا فرمائیں اور میں تو جوان آدمی ہوں (مجھے دوسرے سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہے) اسی حالت میں دس راتیں اور گذر گئیں اور پچاس راتیں پوری ہوگئیں۔
عبدالرزاق کی روایت میں حضرت کعب کا قول آیا ہے : ایک تہائی رات کے وقت ہماری توبہ قبول ہونے کی آیت رسول اللہ (ﷺ) پر نازل ہوئی۔ حضرت ام سلمہ نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! کیا کعب بن مالک کو ہم بشارت دے دیں۔ فرمایا : (اس وقت قبول توبہ کی اطلاع دو گی) تو لوگ تم پر ٹوٹ پڑیں گے اور باقی رات میں سونے نہ دیں گے (فجر کو اطلاع دے دینا) ۔
کعب کا بیان ہے : پچاسویں رات کی صبح کو میں فجر کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے گھر کی چھت پر (بیٹھا) تھا اور میری حالت وہ تھی جو اللہ نے بیان فرمائی ہے (ضاقت علیھم الارض بما رحبت) زمین باوجود فراخ ہونے کے میرے لئے تنگ ہوگئی تھی۔ یکدم ایک چیخنے والے کی آواز سنائی دی جو کوہ سلع پر چڑھ کر انتہائی اونچی آواز سے چیخا تھا : اے کعب بن مالک ! تجھے خوش خبری ہو۔ محمد بن عمر کی روایت ہے کہ کوہ سلع پر چڑھنے والے حضرت ابوبکر تھے ‘ آپ نے ہی پکار کر کہا تھا : اللہ نے کعب پر رحم فرما دیا۔ اے کعب ! خوش ہوجا۔ عقبہ کی روایت ہے کہ دو آدمی دوڑے ہوئے حضرت کعب کو بشارت دینے کیلئے گئے ‘ ایک آگے بڑھ گیا۔ جو پیچھے رہ گیا تھا ‘ وہ کوہ سلع پر چڑھ گیا اور وہیں سے اس نے ندا کی : اے کعب ! توبہ قبول ہونے کی تجھے بشارت ہو۔ اللہ نے تم لوگوں کے بارے میں قرآن نازل فرما دیا۔
اہل تاریخ کا خیال ہے کہ بشارت دینے کیلئے دوڑنے والے یہ دونوں حضرات حضرت ابوبکر و حضرت عمر تھے۔
حضرت کعب کا بیان ہے : آواز سنتے ہی میں سجدہ میں گر پڑا اور خوشی سے رونے لگا اور سمجھ گیا کہ کشائش کا وقت آگیا۔ رسول اللہ (ﷺ) نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد ہماری توبہ قبول ہونے کا اعلان فرمایا۔ لوگ ہم کو بشارت دینے کیلئے آگئے۔ کچھ اور لوگ میرے دونوں ساتھیوں کو خوشخبری دینے کیلئے پہنچے۔ ایک شخص گھوڑا دوڑاتا میرے پاس آیا۔ محمد بن عمر نے کہا : یہ حضرت زبیر بن عوام تھے۔ قبیلۂ اسلم کا ایک اور شخص بھی دوڑ پڑا مگر گھوڑے کے پہنچنے سے پہلے مجھے آواز پہنچ گئی تھی ‘ اسلئے جب وہ شخص آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی ‘ یعنی حمزہ اسلمی تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس کو پہنا دئیے۔ خدا کی قسم ! میرے پاس ان دو کپڑوں کے سوا اور کپڑے ہی نہ تھے۔ ابو قتادہ (بروایت محمد بن عمر) سے دو کپڑے عاریتہ لے کر میں نے پہنے۔ ہلال بن امیہ کو قبول توبہ کی خوشخبری دینے سعید بن زید گئے تھے۔ ہلال نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا ‘ مسلسل روزے رکھ رہے تھے اور برابر رونے میں مشغول تھے۔ میرا خیال تھا کہ وہ سر بھی نہیں اٹھا سکتے ‘ ان کی جان نکل جائے گی۔ مرارہ بن ربیع کو بشارت سلکان بن سلامہ نے دی۔ یہ سلامہ بن وقش کے باپ تھے۔
حضرت کعب بن مالک کا بیان ہے : میں رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہونے کیلئے روانہ ہوا۔ راستہ میں لوگوں کے گروہ در گروہ مبارک باد دینے کیلئے مجھ سے ملتے رہے۔ آخر میں مسجد میں داخل ہوا۔ رسول اللہ (ﷺ) بیٹھے ہوئے تھے ‘ گرداگرد لوگ بھی موجود تھے۔ مجھے دیکھ کر طلحہ بن عبیدا اللہ اٹھے اور لپک کر میری طرف بڑھے ‘ مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے سوائے طلحہ کے اور کوئی نہیں اٹھا۔ میں طلحہ کی یہ بات نہیں بھولوں گا۔ رسول اللہ (ﷺ) کا چہرۂ مبارک خوشی سے چمک رہا تھا۔ میں نے سلام کیا ۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : جب سے تو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے ‘ اس وقت سے آج تک ہر دن سے بہتر دن کی تجھے بشارت ہو۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! کیا یہ آپ کی طرف سے ہے ‘ یا اللہ کی طرف سے ؟ فرمایا : نہیں ‘ اللہ کی طرف سے ہے۔ تم لوگوں نے اللہ سے سچا معاملہ کیا ‘ اللہ نے بھی تم کو سچا قرار دیا۔ رسول اللہ (ﷺ) کی عادت تھی کہ خوشی کے وقت آپ کا چہرہ چمکنے لگتا تھا ‘ معلوم ہوتا تھا چاند کا ٹکڑا ہے۔ ہم دیکھ کر پہچان لیتے تھے (کہ حضور (ﷺ) اس وقت خوش ہیں) جب میں سامنے بیٹھا تو عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! میری توبہ کا تتمہ یہ ہے کہ اپنے کل مال سے دستبردار ہوجاؤں اور بطور صدقہ اللہ اور اس کے رسول کی خدمت میں پیش کر دوں۔ فرمایا : کچھ مال اپنے لئے بھی روک رکھو ‘ تمہارے لئے یہی بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا : اچھا ! نصف مال (سے دستبردار ہوتا ہوں) فرمایا : نہیں۔ میں نے عرض کیا : تو ایک تہائی (قبول کرلیجئے) فرمایا : اچھا۔ میں نے عرض کیا : تو خیبر میں جو میرا حصہ ہے ‘ میں اس کو روکے رکھتا ہوں۔ پھر میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اللہ تعالیٰ نے سچ بولنے کی وجہ سے مجھے نجات دی ہے ‘ لہٰذا میری توبہ کا تتمہ یہ بھی ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا ‘ سچ ہی بولوں گا۔ خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ سچ بولنے کی وجہ سے جو کرم اللہ نے مجھ پر کیا ہے ‘ کسی اور پر اس سے بہتر احسان کیا ہوگا۔ چناچہ اس عہد کے بعد آج تک میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور امید ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا ‘ اللہ جھوٹ بولنے سے مجھے محفوظ رکھے گا۔
اللہ نے توبہ قبول فرمانے کیلئے سلسلہ میں لَقَدْ تَاب اللّٰہُ علَی النَّبِیِّ وَالْمُھَاجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ ..... سے ..... وَکُوْنَوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ تک آیات نازل فرمائیں۔ خدا کی قسم ! جب سے اللہ نے مجھے اسلام کی توفیق عطا فرمائی ‘ اس کے بعد سے کوئی اس نعمت سے بڑی نہیں عنایت کی جو رسول اللہ (ﷺ) کے سامنے سچ کہنے سے مجھے ملی۔ اگر میں جھوٹ بول دیتا تو میں بھی ان لوگوں کی طرح تباہ ہوجاتا جنہوں نے جھوٹ بولا تھا اور اللہ نے بدترین الفاظ میں ان کا ذکر کیا۔ فرمایا : سَیَحْلِفُوْنَ باللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ ...... فَاِنَّ اللّٰہَ لاَ یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِیْنَ ۔
کعب نے فرمایا : جن لوگوں نے قسمیں کھالی تھیں اور رسول اللہ (ﷺ) نے ان کے عذر کو قبول فرما لیا تھا اور ان سے بیعت لے لی تھی اور ان کیلئے دعائے مغفرت کردی تھی ‘ ہم تینوں کا معاملہ ان کے معاملہ سے پیچھے رکھا گیا تھا۔ ہمارے معاملہ کو اللہ کے فیصلہ تک رسول اللہ (ﷺ) نے ملتوی رکھا تھا۔ آیت وَعَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا میں پیچھے چھوڑ دینے سے مراد جہاد سے پیچھے چھوڑ دینا نہیں ہے بلکہ ان معذرت کرنے والوں کے معاملہ سے ہمارے معاملہ کو پیچھے چھوڑ دینا اور ہمارے فیصلہ کو ملتوی رکھنا مراد ہے۔
حتی اذا ضاقت علیھم الاض بما رحبت یہاں تک کہ جب زمین باوجود فراخ اور لمبی چوڑی ہونے کے (ساتھیوں کی بےرخی کرنے کی وجہ سے) ان پر تنگ ہوگئی۔ کسی پر زمین تنگ ہوجانا ایک محاورہ ہے جو شدت حیرت کی تصویرکشی کرتا ہے یعنی وہ لوگ اپنے معاملہ میں اتنے حیران و پریشان تھے کہ ان کو اپنی بےچینی اور پریشانی دور کرنے کا کوئی مقام ہی اتنی لمبی چوڑی زمین میں میسر نہ تھا۔
وضاقت علیھم انفسھم اور وہ خود اپنی جان سے تنگ آگئے۔ یعنی ان کے دل انتہائی وحشت اور غم کی وجہ سے اتنے تنگ ہوگئے کہ انس و مسرت کی ان میں گنجائش ہی نہیں رہی۔
وظنوا ان لا ملجا من اللہ الا الیہ اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ (کی ناراضگی و غضب) سے بچنے کا کوئی ٹھکانا سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ اسی سے مغفرت کی دعاء کی جائے۔
ثم تاب علیھم پھر اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی۔
لیتوبوا تاکہ توبہ پر قائم رہیں۔ اس جگہ توبہ سے مراد ہے توبہ پر قائم رہنا ‘ کیونکہ توبہ تو وہ پہلے کرچکے تھے (توبہ کے بعد توبہ کے کوئی معنی نہیں) یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی تاکہ توبہ کرنے والوں کے گروہ میں وہ شامل ہوجائیں۔
ابوبکر وراق نے کہا : خالص اور سچی توبہ یہ ہے کہ اگر گناہ سرزد ہوجائے تو اس پر یہ لمبی چوڑی زمین تنگ ہوجائے اور دل میں سخت بےچینی اور گھبراہٹ پیدا ہوجائے ‘ جیسے ان تینوں حضرات کی توبہ تھی۔
ان اللہ ھو التواب الرحیم۔ بیشک اللہ بہت توجہ فرمانے والا اور بڑا مہربان ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ رات میں (توبہ قبول فرمانے کیلئے) اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا (رات کو) توبہ کرلے اور دن میں اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا (دن میں) توبہ کرلے۔ یہ سلسلہ اس وقت تک قائم رہے گا جب سورج مغرب سے برآمد ہوگا (یعنی قیامت تک توبہ کا دروازہ کھلا رہے گا ‘ جب سورج مغرب سے نکلے گا تو توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا) رواہ مسلم۔
حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اگر کسی بیابان صحراء میں (سفر کی حالت میں) تم میں سے کسی کی سواری کی اونٹنی گم ہوجائے اور اونٹنی پر ہی اس مسافر کے کھانے پینے کا سب سامان ہو اور ڈھونڈ کر ناامید ہو کر یہ شخص کسی درخت کے سایہ میں لیٹ کر سو جائے ‘ پھر اچانک اس کی آنکھ کھل جائے تو اونٹنی کو اپنے پاس کھڑا پائے اور فوراً اونٹنی کی نکیل پکڑ لے اور انتہائی خوشی کی وجہ سے (زبان بےقابو ہوجائے) اور بول اٹھے : اے اللہ ! تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ اس مسافر کو اونٹنی کے دستیاب ہونے سے جتنی خوشی ہوتی ہے ‘ اس سے زیادہ خوشی اللہ کو بندہ کے توبہ کرنے سے ہوتی ہے ‘ جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے۔ رواہ مسلم۔ توبہ اور قبول توبہ کی احادیث بہت آئی ہیں۔
التوبة 9:119
یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وکونوا مع الصدقین۔ اے ایمان والو ! اللہ (کی نافرمانی اور عذاب) سے ڈرو اور رہو سچوں کے ساتھ۔ یعنی جو لوگ ایمان اور وعدوں میں سچے ہیں۔ یا وہ لوگ جو اسلام میں سچے ہیں ‘ نیت کے خلوص ‘ قول کی صداقت اور عمل کے اعتبار سے (گویا پہلے قول پر صدق سے مراد ہے ایمان اور وعدہ کی سچائی اور دوسرے قول پر مراد ہے نیت کا خلوص اور قول و عمل کی سچائی) مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں سچائی کو اختیار کرو اور سچائی کی پابندی کرو۔ حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر نے فرمایا : یعنی محمد (ﷺ) اور آپ کے صحابہ کے ساتھ رہو جن کی نیتیں خالص ہیں ‘ دل بےلوث ہیں اور اعمال میں اخلاص ہے۔ اخلاص اور سچے ارادہ سے رسول اللہ (ﷺ) کے ہمرکاب تبوک کو نکلے ہیں۔ منافقوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کا ساتھ نہیں دیا۔ حضرت سعید بن جبیر نے الصادقین کی تفسیر ابوبکر وعمر سے کی ‘ یعنی ابوبکر و عمر کے ساتھ رہو۔ ضحاک نے کہا : حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر اور ان حضرات کے ساتھیوں کے ساتھ رہنے کا مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب کے ساتھ رہو۔ سفیان ثوری نے فرمایا : یہ (اپنی طرف سے) تفسیری اختلاف ہے ‘ آیت ان سب تفسیروں کو شامل ہے۔ یہ بھی مراد ہے ‘ وہ بھی مراد ہے (کسی ایک کی تعیین نہیں) ۔
ابن جریج نے کہا : الصادقین سے مہاجرین مراد ہیں۔ اللہ نے فرمایا ہے : لِلْفُقَرَاء الْمُھَاجِرِیْنَ ......... اُولٰٓءِکَ ھُمُ الصَّدِقُوْنَ (اس آیت میں مہاجرین کو ہی صادقین فرمایا ہے) ۔
بعض نے کہا : الصادقین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنے گناہ کا سچے دل سے اعتراف کرلیا ‘ جھوٹے عذر نہیں پیش کئے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جھوٹ بولنا کسی طرح درست نہیں ‘ نہ مذاق میں نہ سنجیدہ کلام میں۔ کوئی شخص اپنے بچہ (کو بہلانے کیلئے اس) سے ایسا وعدہ نہ کرے جس کو پورا نہ کرے۔ اگر تم (اس قول کی) تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھو۔ پھر آپ نے آیت مندرجۂ بالا پڑھی :
التوبة 9:120
ما کان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب ان یتخلفوا عن رسول اللہ ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ مدینہ کے رہنے والوں کو اور جو دیہاتی ان کے گرد و پیش رہتے ہیں ‘ ان کو یہ زیبا نہ تھا کہ رسول اللہ (ﷺ) کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ زیبا تھا کہ اپنی جانوں کو ان کی جانوں سے زیادہ عزیز سمجھیں۔
بظاہر الفاظ یہ کلام خبری ہے لیکن حقیقت میں نہی اور ممانعت ہے ‘ جیسے دوسری آیت آئی ہے : وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْل اللّٰہِ اَلْاَعْرَاب یعنی قبائل مزینہ ‘ جہنیہ ‘ اشجع ‘ اسلم ‘ غفار جو صحراء میں رہتے تھے (مدینہ کے اندر نہیں رہتے تھے) ۔
عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ کا یہ مطلب ہے کہ جب خود رسول اللہ (ﷺ) بنفس نفیس جہاد پر تشریف لے جائیں تو آپ کا ساتھ چھوڑ دینا اور ہمراہ نہ جانا جائز نہیں۔ وَلاَ یَرْغَبُوْا کا یہ مطلب ہے کہ جس جہاد سے رسول اللہ (ﷺ) نے اپنے نفس کو الگ نہیں رکھا اس سے لوگ بھی اپنی جانوں کو الگ نہ رکھیں۔
ذلک بانھم لا یصیبھم ظمأ ولا نصب ولا مخمصۃ فی سبیل اللہ ولا یطؤن موطءًا یغیظ
الکفار ولا ینالون من عدو نیلاً الا کتب لھم بہ عمل صالح ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین یہ (ساتھ جانے کی ضرورت) اس سبب سے ہے کہ اللہ کی راہ میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جو چلنا چلے جو کفار کیلئے موجب غیظ ہوا اور دشمنوں کی جو کچھ خبر لی ‘ ان کے نام اس کی وجہ سے ایک ایک نیک کام لکھا گیا۔ یقیناً اللہ مخلصوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
ذٰلِکَ سے اشارہ حکم ممانعت کی طرف ہے جو اوپر کے کلام سے سمجھا جا رہا ہے۔ بِاَنَّھُمْ میں باء سببی ہے بسبب اس کے۔ ظمأ پیاس کی حقیر مقدار۔ نصبٌ تھکان۔ مَخْصَمَۃٌ بھوک۔ مَوْطِءًا مصدر ہے (تاکید فعل کیلئے) یا ظرف ہے ‘ یعنی وہ نہیں جائیں گے کسی زمین پر۔ نیلاً تاکہ کسی قسم کا قابو پائیں خواہ قتل کریں ‘ یا قید کریں ‘ یا لوٹیں ‘ یا مال غنیمت حاصل کریں۔ اِلاَّ کُتِبَیعنی وہ اس کی وجہ سے ثواب کے مستحق ہوجاتے ہیں اور یہ وعدہ چاہتا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ جائیں ‘ ہمراہ جانے سے منہ نہ موڑیں۔ اِنَّ اللّٰہَ لاَ یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَیہ جملہ گزشتہ حکم کی علت ہے اور اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ جہاد ایک بھلائی ہے (سب انسانوں کے حق میں) کافروں کے حق میں جہاد کا بھلائی ہونا تو اس وجہ سے ہے کہ کافروں کو دوزخ سے رہا کرانے اور ان کی انسانیت کو مکمل کرنے کی یہ انتہائی کوشش ہے ‘ جیسے پاگل کو مارنا (کبھی اس کیلئے علاج ہوتا ہے) اور بچہ کو ادب سکھانے کیلئے مارنا (اس کے حق میں بھلائی ہوتا ہے) مؤمنوں کے حق میں جہاد کی بھلائی یہ ہے کہ جہاد ہی کے ذریعے سے اہل ایمان کافروں کی چیرہ دستی ‘ اقتدار اور تسلط سے محفوظ رہتے ہیں۔ حضرت ابو عبس کی روایت ہے ‘ انہوں نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ کی راہ میں جس کے قدم گرد آلود ہوں گے ‘ اللہ نے اس کیلئے دوزخ حرام کردی ہے۔ رواہ البخاری فی الصحیح واحمد فی المسند والترمذی والنسائی۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا جب تک جہاد سے واپس نہیں آتا ‘ اس کی حالت ایسی ہوتی ہے جیسے (ہر روز) روزہ رکھنے والا ‘ (رات) کو نماز پڑھنے والا ‘ اللہ کی آیات کی تلاوت کرنے والا جو روزہ نماز سے سست نہیں پڑتا ہو (چستی کے ساتھ برابر مشغول رہتا ہو) بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کے حکم (کے عام یا خاص ‘ ہنگامی یا دوامی ہونے) میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔
قتادہ کا قول ہے : یہ حکم رسول اللہ (ﷺ) کے ہمراہ جانے کی صورت سے تعلق رکھتا ہے (عمومی نہیں ہے) جب رسول اللہ (ﷺ) خود جہاد پر تشریف لے جائیں تو کسی کیلئے بغیر (شرعی) عذر کے ساتھ نہ جانا جائز نہ تھا۔ دوسرے خلفاء اور حکام کے ساتھ جانے کا وجوبی حکم اس آیت میں نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں کو جہاد کرنے کی ضرورت نہ ہو تو خلیفہ یا حاکم کے ساتھ جہاد کو نہ جانا مسلمانوں کیلئے جائز ہے۔
ولید بن مسلم کا بیان ہے کہ میں نے اوزاعی ‘ عبد اللہ بن مبارک ‘ ابن جابر اور سعد بن عبدالعزیز سے سنا کہ اس آیت کا حکم اس امت کے آغاز کے وقت بھی تھا اور آخری دور کیلئے بھی ہے (یعنی حکم دوامی ہے ‘ ہر خلیفہ کا ساتھ دینا ہر زمانہ میں لازم ہے) ۔
ابن زید نے کہا : یہ حکم اس وقت تھا جب مسلمان کم تھے ‘ جب زیادہ ہوگئے تو اللہ نے اس حکم کو منسوخ کردیا اور جو جہاد پر نہ جانا چاہے ‘ اس کیلئے نہ جانا جائز کردیا اور فرما دیا : وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ۔ میں کہتا ہوں : تمام اماموں کا اتفاق ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے ‘ اگر بقدر ضرورت مسلمانوں کی جماعت جہاد کرے گی تو باقی مسلمانوں کے سروں سے فرض اتر جائے گا۔
حضرت سعید بن مسیب کے نزدیک جہاد فرض عین ہے کیونکہ جہاد کے احکام عمومی ہیں اور جو لوگ تبوک کے جہاد کو نہیں گئے تھے ‘ ان کے معاملہ میں سخت احکام نازل کئے گئے۔ ہم کہتے ہیں : جب جہاد کا اعلان عام ہو تو باتفاق علماء ہر شخص پر جہاد کرنا فرض ہوجاتا ہے جیسے غزوۂ تبوک کے موقع پر ہوا ورنہ فرض کفایہ ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَالخ اس آیت کے آخر میں ہے : وَکُلاّْ وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰیہر فریق سے اللہ نے بھلائی کا وعدہ کرلیا ہے (لیکن بھلائی کے مراتب میں تفاوت ہے ‘ سب برابر نہیں) دوسری آیت ہے : وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً ۔
التوبة 9:121
ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ اور نیز جو کچھ چھوٹا بڑا (راہ خدا میں) انہوں نے صرف کیا۔ جیسے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جیش عسرت کی تیاری کے موقع پر مال صرف کیا۔
ولا یقطعون وادیاً الا کتب لھم اور جتنے میدان ان کو طے کرنا پڑے ‘ یہ سب بھی ان کے نام نیکیوں میں لکھے گئے۔ یعنی آتے جاتے جس وادی کو بھی وہ قطع کرتے ہیں ‘ اس کو لکھ لیا جاتا ہے۔ وادی نالہ جس میں سیلاب کا پانی (پہاڑ سے آ کر) بہتا ہے۔ وادی اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ وَدِی (ماضی) جاری ہوگیا ‘ بہہ گیا۔ مجازاً اس سے زمین مراد ہوتی ہے ‘ اس معنی میں استعمال عام ہے۔
لیجزیھم اللہ احسن ما کانوا یعملون تاکہ اللہ ان کو ان کے نیک کاموں کا اچھے سے اچھا بدلہ دے۔
یعنی ان کے اچھے اعمال کی جزاء اچھے عمل سے ‘ مراد ہے جہاد۔ یا ان کے اعمال کی اچھی جزاء۔ حضرت ابو مسعود انصاری کی روایت ہے کہ ایک آدمی نکیل پڑی اونٹنی لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا : یہ اللہ کی راہ میں ہے۔ حضور (ﷺ) نے فرمایا : قیامت کے دن اس کے عوض تجھے سات سو نکیل پڑی اونٹنیاں ملیں گی۔ رواہ مسلم
حضرت زید بن خالد راوی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کیلئے سامان تیار کر کے دیا ‘ اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے مجاہد کے بیوی بچوں کی اس کے بعد خبرگیری کی ‘ اس نے بھی جہاد کیا۔ رواہ البخاری ومسلم فی صحیحہما۔ وا اللہ اعلم
کلبی نے ذکر کیا ہے کہ قبائل بنی اسد بن خزیمہ قحط سالی میں مبتلا ہو کر (گھروں کو چھوڑ کر) بچوں کو لے کر مدینہ میں آپڑے۔ ان کی وجہ سے مدینہ کے راستے گندے ہوگئے اور چیزوں کے نرخ گراں ہوگئے۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
التوبة 9:122
وما کان المؤمنون لینفروا کآفۃ اور (ہمیشہ کیلئے) مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہئے کہ جہاد کیلئے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں۔ یہ نفی بمعنی نہی ہے ‘ یعنی طلب علم کیلئے تمام مسلمان اپنے وطنوں سے نہ نکل پڑیں ‘ اس سے معاشرہ کا بگاڑ اور معاش کا فساد پیدا ہوجائے گا۔
فلولا نفر من کل فرقۃ منھم طآئفۃ لیتفقھوا فی الدین سو ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر بڑی جماعت میں سے ایک چھوٹی جماعت جایا کرے تاکہ یہ (باقی ماندہ) لوگ دین کی سمجھ بوجھ حاصل کرتے رہیں۔ یعنی ہر بڑی جماعت مثلاً ایک قبیلہ یا ایک شہر یا ایک بستی میں سے چھوٹا گروہ کیوں طلب علم کیلئے نہیں نکلا کہ تکلیفیں اور مشقتیں اٹھا کر دینی سمجھ حاصل کرتا اور دین کے مسائل سمجھتا۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے : فقہ کا اصلی لغوی معنی ہے سمجھنا۔ اس کا اشتقاق ‘ شق اور فتح (کے مفہوم سے) ہے۔ ” فرقۃ “ سے مراد بڑی جماعت ہے۔ ” طائفۃ “ چھوٹی جماعت۔ قاموس میں ہے : فقہ بکسر فاء کسی چیز کو جاننا سمجھنا۔ چونکہ (تمام علوم میں) علم دین کو فضیلت حاصل ہے ‘ اسلئے فقہ کا لفظ (اصطلاح میں) علم دین کیلئے مخصوص کرلیا گیا۔ بعض نے کہا : معلوم کے ذریعے سے نامعلوم کو حاصل کرنا فقہ ہے یعنی علم استدلالی کیلئے یہ لفظ خاص ہے ‘ اس صورت میں لفظ علم عام اور لفظ فقہ خاص ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَمَا لھآؤُلاآءِ الْقَوْمِ لاَ یَکَادُوْنَ یَفْقَھُوْنَ حَدِیْثًاان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ بات سمجھ بھی نہیں سکتے۔ یعنی بات کے مضمون کا استنباط نہیں کرتے (بات کے مغز کو نہیں سمجھتے) ۔
امام ابوحنیفہ نے فرمایا : نفس کے ضرر رساں اور فائدہ بخش امور کو جاننا فقہ ہے (خواہ فکر و عقیدہ کے لحاظ سے ہو یا قول و عمل کے اعتبار سے۔ اصول کا علم ہو یا فروع کا) فروع دین کے علم کو خصوصیت کے ساتھ فقہ کہنا اصطلاح جدید ہے (قرن اول میں یہ خصوصیت نہیں تھی) ۔
ظاہر یہ ہے کہ لفظ فقہ کے اندر مقلد کا علم بھی داخل ہے ‘ مجتہد سے یامجتہد کی کتاب سے علم حاصل کرنے سے اس فرض کی ادائیگی ہوجاتی ہے جس کا حکم آیت مندرجہ میں دیا گیا ہے۔
ولینذروا قومھم اذا رجعوآ الیھم لعلھم یحذرون۔ اور (جانے والے) لوگ جب واپس آئیں تو یہ ان کو ڈرائیں تاکہ وہ (ان سے دین کی باتیں سیکھ کر) برے کاموں سے احتیاط رکھیں۔
یعنی جب وہ لوگ اپنے وطن کو لوٹ کر آئیں تو جو لوگ تحصیل علم کیلئے نہیں گئے تھے اور وطن ہی میں مقیم رہے ‘ ان کو واپس آ کر (ا اللہ کے دئیے ہوئے احکام کی مخالفت سے) ڈرائیں (اور ان کو احکام بتائیں) مجاہد نے کہا : کچھ لوگ تبلیغ کرنے اور دعوت ہدایت دینے کیلئے دیہات اور صحراء کی طرف گئے تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا : تم ہمارے پاس (تو تبلیغ کیلئے) آگئے اور اپنے ساتھی (یعنی رسول اللہ (ﷺ) کو چھوڑ کر آگئے۔ یہ بات سن کر ان حضرات کے دلوں میں کچھ احساس ہوا ‘ وہ فوراً دیہات سے لوٹ آئے اور رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ اس پر آیت مذکورۂ بالا نازل ہوئی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا ہے : سونے اور چاندی کی کانوں کی طرح انسانوں کی بھی تم کانیں پاؤ گے (خیر و شر کے مختلف معاون ہیں اور مختلف انسان ‘ مختلف معاون کی پیداوار ہیں) پس جو لوگ (طبعاً ) جاہلیت (کے دور) میں بہتر تھے ‘ وہ اسلام میں بھی بہتر ہوں گے بشرطیکہ سمجھ پیدا کرلیں۔ رواہ الشافعی وکذا روی الشیخان فی الصحیحین واحمد عن ابی ہریرہ۔ طبرانی نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : آدمی (بس) دو ہیں : عالم اور متعلم ‘ ان کے سوا باقی (آدمیوں) میں کوئی خیر نہیں۔
آیت دلالت کر رہی ہے کہ خبر آحاد (شرعی) حجت ہے (یعنی کسی مسئلہ کو جاننے کیلئے خبر آحاد کو بشرطیکہ وہ قابل وثوق روایت سے پہنچی ہو ‘ ماننا ضروری ہے) کیونکہ آیت میں ” کل فرقۃ “ کا لفظ عام ہے جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اگر کسی بستی میں تین ہی آدمی ہوں تو ان میں سے بھی کسی ایک کو علم حاصل کرنے کیلئے جانا اور سیکھ کر واپس آ کر دوسروں کو بتانا ضروری ہے۔ اگر تواتر کے بغیر کوئی خبر قابل تسلیم نہ ہو تو کلِّ فرقۃٍکے لفظ کا کوئی معنی نہیں ہوگا۔
فقہ کا کچھ حصہ تو فرض عین ہے کچھ فرض کفایہ۔ صحیح عقائد اور ضروری اعمال جیسے طہارت ‘ نماز ‘ روزہ ‘ زکوٰۃ ‘ حج اور تمام فرائض کا علم فرض عین ہے۔ عبادات کے علاوہ وہ معاملات جو سامنے آتے رہتے ہیں اور جن سے واسطہ پڑتا رہتا ہے ‘ ان کو جاننا بھی فرض عین ہے مثلاً تاجروں کیلئے بیع صحیح ‘ بیع فاسد ‘ سود وغیرہ کے احکام جاننا لازم ہے۔ جو ٹھیکہ یا مزدوری یا نوکری وغیرہ سے تعلق رکھتے ہیں ‘ ان کیلئے ان کے احکام کو حاصل کرنا ضروری ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : علم کی طلب ہر مسلمان مرد پر فرض ہے۔ یہ حدیث حضرت انس کی روایت سے ابن عدی اور بیہقی نے اور حضرت امام حسن بن علی کی روایت سے خطیب نے اور طبرانی نے صغیر میں ‘ نیز طبرانی نے الاوسط میں حضرت ابن عباس کی روایت سے اور الکبیر میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے اور خطیب نے حضرت علی کی روایت سے اور طبرانی نے الاوسط میں ‘ نیز بیہقی نے حضرت ابو سعید کی روایت سے بیان کی ہے۔ حضرت انس کی روایت میں حسب نقل ابن عبدالبر اتنا زائد بھی آیا ہے کہ طالب علم کیلئے ہر چیز دعائے مغفرت کرتی ہے یہاں تک کہ سمندر کے اندر مچھلیاں بھی (دعائے مغفرت کرتی ہیں) ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں : اور اللہ مصیبت زدوں کی فریاد رسی کو پسند فرماتا ہے۔
فرض کفایہ یہ ہے کہ ہر موضوع کے مسائل سے واقفیت حاصل کی جائے یہاں تک کہ فتویٰ دینے کے مقام پر پہنچ جائے۔ اگر کسی شہر کا کوئی آدمی ایسا عالم نہ ہوگا اور ایک شخص بھی اس درجہ پر فائز نہ ہوگا اور سب بیٹھ رہیں گے تو سب گناہ گار ہوں گے اور اگر ایک بھی تکمیل علمی کیلئے تیار ہوجائے گا تو سب کے سر سے فرض ساقط ہوجائے گا اور سب پر اس کی تقلید لازم ہوگی۔ جو واقعات پیش آئیں ‘ ان کے فیصلے کیلئے اس عالم کی طرف سب بسعی والے رجوع کریں۔
تحصیل علم ہر نفلی عبادت سے افضل ہے۔ حضرت ابن عباس کی روایت سے مؤلف سند الفردوس نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : علم کی طلب اللہ کے نزدیک نماز ‘ روزہ ‘ حج اور راہ خدا میں جہاد کرنے سے افضل ہے۔ یہ بھی حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ ایک گھڑی علم کی تحصیل ایک رات کے قیام (نماز) سے اور ایک دن علم کی طلب تین دن کے روزے رکھنے سے افضل ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : عابد پر عالم کی فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ آدمی پر۔ بلاشبہ اللہ (رحمت کرتا ہے) اور اللہ کے فرشتے اور آسمانوں والے اور زمینوں والے یہاں تک کہ سوراخوں کے اندر چیونٹیاں اور پانی کے اندر مچھلیاں اس شخص کیلئے دعائے رحمت کرتی ہیں جو لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے۔ رواہ الترمذی بسند صحیح عن ابی امامۃ۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ہزار عابدوں سے ایک عالم ‘ شیطان پر زیادہ بھاری ہوتا ہے۔ یہ بھی رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین اعمال (کا فائدہ جاری رہتا ہے) صدقہ جاریہ ‘ یا وہ عمل جس سے لوگ نفع حاصل کریں ‘ یا نیک اولاد جو اس کیلئے دعا کرے۔
علم لدنی جس کے حامل صوفیہ کرام ہوتے ہیں ‘ فرض عین ہے کیونکہ اس باطنی علم کے دو مقصد ہوتے ہیں :
(1) اللہ کے سوا ہر چیز کی رغبت کو دل سے نکال دینا ‘ ہر دم اللہ کے سامنے اپنے کو حاضر سمجھنا۔ خود پسندی ‘ غرور ‘ حسد ‘ دنیا کی محبت ‘ عبادات میں سستی ‘ خواہشات نفس ‘ ریاکاری ‘ شہرت طلبی اور دوسرے اخلاقی باطنی عیوب سے نفس کو پاک رکھنا۔
(2) گناہوں سے توبہ ‘ رضا بالقضاء ‘ مصائب پر صبر ‘ نعمتوں کا شکر اور دوسرے اچھے خصائل و مکارم اخلاق سے اپنے نفس کو آراستہ کرنا۔ اور ظاہر ہے کہ ہر شخص کیلئے ان ممنوعات سے پرہیز اور فرائض کی پابندی سے زیادہ اہم اور ضروری ہے جن کا تعلق اعضاء جسمانی سے ہے۔ اگر اخلاص اور نیت کی صحت نہ ہو تو نماز ‘ روزہ اور دوسری عبادتیں ناقابل اعتبار ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : اللہ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص ہو اور محض خوشنودی خدا حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہو۔ رواہ النسائی عن ابی امامۃ۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ تمہاری صورتوں اور مالوں پر نظر نہیں کرتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔
اور یہ بات ظاہر ہے کہ جس چیز پر فرض عین کا مدار ہو وہ خود فرض عین ہوگی ‘ لہٰذا علم لدنی جس کے حامل صوفیۂ کرام ہیں ‘ فرض عین ہے۔
آیت کے نزول کا ایک اور سبب بھی بیان کیا گیا ہے۔ بغوی نے بروایت کلبی اور ابن ابی حاتم نے بروایت عکرمہ و عبد اللہ بن عمیر حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب غزوۂ تبوک کے سلسلہ میں منافقوں کے عیوب اللہ نے بیان فرمائے اور آیت اِنْ لاَّ تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اِلْیْمًانازل ہوگئی اور رسول اللہ (ﷺ) جہادی دستے (مختلف اطراف میں) بھیجنے لگے تو سب مسلمان جہاد کو نکلنے لگے اور رسول اللہ (ﷺ) کو تنہا چھوڑ کر جانے لگے۔ عکرمہ کی روایت میں آیا ہے کہ کچھ دیہاتی صحراء نشین جہاد کو نہیں گئے۔ منافق کہنے لگے : یہ بدوی تباہ ہوگئے (انہوں نے حکم جہاد کی پابندی نہیں کی) اس پر آیت مَا کَانَ الْمُوؤمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا (یعنی الی الغزر) کَآفَّۃً فَلَولاَ نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ (یعنی عظیمۃ) طَاءِفَۃٌ (یعنی الی الغزر وبقی طائفۃ مع النبی) لِیَتَفَقُّھُوْا (ای القَْاعِدُوْنَ ) فِی الدِّیْنِ (ای القراٰن والسنن والفرائض والاحکام) نازل ہوئی۔ مطلب یہ کہ تمام مسلمانوں کو جہاد پر نہ چلا جانا چاہئے بلکہ بڑے گروہ میں سے ایک چھوٹی جماعت کو جہاد پر جانا لازم ہے اور ایک جماعت کو رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں قرآن ‘ سنت ‘ فرائض اور احکام سیکھنے کیلئے رہنا چاہئے تاکہ فوجی دستے جب واپس آئیں تو ان کو یہ لوگ بتا سکیں کہ ان کے جانے کے بعد کیا احکام نازل ہوئے۔ چناچہ (اس آیت کے نزول کے بعد) ایسا ہی ہونے لگا۔ کچھ جماعتیں رسول اللہ (ﷺ) کے پاس رکی رہتیں اور کچھ دستے چلے جاتے ‘ اس طرح دینی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے پاتا۔ دینی تفقہ جہاد اکبر ہے۔ بعثت کی اصل غرض ہی یہ ہے کہ دلائل کے ساتھ اسلامی احکام کو پیش کیا جائے (تلوار سے جہاد کا درجہ تو دفاعی ہے ‘ تبلیغی جہاد کا درجہ اعلیٰ ہے) اسی لئے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ علماء انبیاء کے جانشین ہیں۔ اس شان نزول اور اس مطلب کی صورت میں لِیَتَفَقَّھُوْا اور لِیَنْذِرُوْا کی ضمیریں ان لوگوں کی طرف راجع ہوں گی جو جہادی دستوں کی روانگی کے بعد تحصیل علم کیلئے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور رَجْعُوْا کی ضمیر جہاد پر جانے والے دستوں کی طرف راجع ہوگی۔
سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس آیت کا حکم اس صورت کیلئے مخصوص ہوگا جب (بغیر رسول اللہ (ﷺ) کے) جہاد پر مسلمانوں کے دستے گئے ہوں اور ترک جہاد کی ممانعت کا حکم اس صورت میں ہوگا جب رسول اللہ (ﷺ) خود تشریف لے جائیں۔
حسن کا قول ہے کہ لِیَتَفَقَّھُوْا اور لِیَنْذِرُوْا کی ضمیریں ان مسلمانوں کے دستوں کی طرف راجع ہیں جو جہاد پر گئے ہوں۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ایک فرقہ (ہر گروہ میں سے) جہاد پر چلا جائے اور دین کی نصرت اور مشرکوں پر غالب ہونے کا خود مشاہدہ کرے اور سمجھے اور پھر جہاد سے واپس آنے کے بعد اپنی قوم کے کافروں کو بتائے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اور مؤمنوں کو فتح عنایت فرمائی اور اس اطلاع دینے کا مقصد یہ ہو کہ ان کی قوم کے کافر رسول اللہ (ﷺ) کا مقابلہ کرنے سے باز رہیں اور ڈرتے رہیں کہ جو دوسرے کافروں کا حال ہوا ‘ رسول اللہ (ﷺ) سے جنگ کر کے ہمارا بھی وہی حال ہوگا۔
اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاد فرض کفایہ ہے ‘ اگر ایک جماعت اس فرض کو ادا کر دے گی تو سب کے سروں سے فرض ساقط ہوجائے گا۔ ہاں اگر جہاد کی عام نداء کردی جائے اور سب کو جہاد کیلئے آجانے کا حکم دے دیا گیا ہو تو پھر ہر شخص پر جہاد عینی فرض ہوجاتا ہے۔
التوبة 9:123
یایھا الذین امنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار اے ایمان والو ! ان کفار سے لڑو جو تمہارے آس پاس رہتے ہیں۔
اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ کافروں سے جہاد کرنے کا آغاز الاقرب فالاقرب کے طریقے پر کیا جائے۔ سکونت اور نسبی قرابت کے اعتبار سے جو کافر قریب ترین ہوں ‘ ان سے جہا دشروع کیا جائے۔ قریب ترین کافروں کو اصلاح طلبی اور شفقت کا سب سے زیادہ حق ہے ‘ اسی لئے رسول اللہ (ﷺ) کو سب سے پہلے اپنے قریب ترین خاندان والوں کو تبلیغ کرنے کا حکم دیا گیا اور ہجرت کے بعد بنی قریظہ ‘ بنی نضیر اور خیبر کے یہودیوں سے جہاد کرنے کا حکم سب سے پہلے دیا گیا۔ جب عرب سے جہاد ختم ہوگیا اور ضرورت نہ رہی تو رومیوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا۔ اس آیت میں رومیوں سے جہاد کرنے ہی کا حکم دیا گیا ہے۔ رومی شام میں رہتے تھے (اور ایرانی عراق میں) اور عراق کی بہ نسبت شام مدینہ سے قریب تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ (ﷺ) نے تبوک کی طرف رومیوں سے جہاد کرنے کیلئے خروج کیا ‘ جیسا کہ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے مجاہد کے قول سے اور ابن جریر نے حضرت سعید بن جبیر کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
اس آیت کے مقتضا کا لحاظ کرتے ہوئے علماء فقہ نے صراحت کی ہے کہ کفار کی سرحد کے قریب جو مسلمان رہتے ہوں ‘ ان پر سرحدی کافروں سے جہاد کرنا واجب ہے۔ اگر وہ کافی نہ ہوں اور زیادہ طاقت کی ضرورت ہو یا وہ سستی کریں اور حکم جہاد کی پرواہ نہ کریں تو ان سرحدی مسلمانوں کے متصل جو مسلمان رہتے ہوں ‘ ان پر سرحدی کافروں سے جہاد کرنا واجب ہوجاتا ہے اور ان میں بھی اگر بقدر ضرورت طاقت نہ ہو یا سستی کی وجہ سے وہ جہاد ترک کر بیٹھیں تو ان سے پیچھے والے مسلمانوں کا وہی فریضہ ہوجاتا ہے جو سستی کرنے والوں کا تھا۔ اسی ترتیب کے ساتھ مشرق و مغرب کے تمام مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت ہوجاتی ہے۔ میّت کی تجہیز و تکفین کا سامان مہیا کرنا اور میّت کی نماز پڑھنے کا بھی یہی حکم ہے۔
ولیْجدوا فیکم غلظۃ اور ان کو تمہارے اندر سختی پانا چاہئے۔
غلطۃًکا معنی ہے شدت اور اسلام کی حمیت۔ حسن کے نزدیک غلظت سے مراد ہے جہاد پر صبر۔ بظاہر لیجدوا کا صیغہ امر کا ہے جس کی ضمیر کافروں کی طرف راجع ہے اور کفار مامور ہیں ‘ لیکن حقیقت میں امر کا رجوع مسلمانوں کی طرف ہے اور مراد یہ ہے کہ مسلمانو ! تم کافروں کے مقابلہ میں سختی اور شدت اختیار کرو (ان کو تمہارے اندر کوئی نرمی اور بزدلی محسوس نہ ہو) ۔
واعلموا ان اللہ مع المتقین۔ اور جان لو کہ اللہ کی مدد اور نصرت متقیوں کے ساتھ ہے۔ کافروں کے ساتھ نہیں ہے ‘ اسلئے تم ان کی جنگ کی پرواہ نہ کرو (خوف زدہ نہ ہو) ۔
التوبة 9:124
واذا مآ انزلت سورق فمنھم من یقول ایکم زادتہ ھذٓہ ایمانًا فاما الذین امنوا فزادتھم ایمانًا اور جب کوئی (جدید) سورت نازل کی جاتی ہے تو بعض منافق (غرباء مسلمین سے بطور تمسخر) کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان میں ترقی دی ؟ سو (سنو ! ) جو لوگ ایماندار ہیں ‘ اس سورت نے ان کے ایمان میں ترقی دی ہے۔
یعنی جب کوئی سورت نازل کی جاتی ہے تو منافقوں میں سے کچھ لوگ اپنے بھائی بندوں سے بطور مذاق کہتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کے ایمان و یقین میں اضافہ کیا۔ اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا : ایمانداروں کے ایمان کو نازل شدہ سورت بڑھاتی ہے۔ سورت کے اندر جو اعجاز بیان ہوتا ہے ‘ اس سے مؤمنوں کے علم میں اضافہ ہوتا ہے اور نازل شدہ سورت پر ان کو یقین ہوجاتا ہے ‘ اسلئے سابق ایمان کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے (پہلے اسی حصہ پر ان کا ایمان تھا جو نازل ہوچکا تھا ‘ پھر سورت جدیدہ پر بھی ان کا ایمان ہوجاتا ہے اور جو کچھ سورت میں علمی اور اعجازی حصہ ہوتا ہے ‘ وہ بھی ان کو حاصل ہوجاتا ہے۔ اس طرح ایمان بڑھ جاتا ہے) ۔
وھم یستبشرون۔ اور وہ (سورت کے نزول سے) خوش ہو رہے ہیں کیونکہ سورت کی وجہ سے ان کے علم و کمال میں اضافہ ہوجاتا ہے اور ان کے درجات اونچے ہوجاتے ہیں۔
التوبة 9:125
واما الذین فی قلوبھم مرض فزادتھم رجسًا الی رجسھم وماتوا وھم کافرون۔ اور جن کے دلوں میں (نفاق کا) آزار ہے ‘ اس سورت نے ان میں ان کی (پہلی) گندگی کے ساتھ اور نئی گندگی بڑھا دی اور وہ حالت کفر میں مر گئے۔
مرض سے مراد ہے شک و نفاق۔ رجس گندگی ‘ مراد کفر۔ یعنی پہلے وہ سابق میں نازل شدہ آیات دسور کے منکر تھے ‘ اب اس جدید سورت کے بھی منکر ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کفر بالائے کفر ہوجاتا ہے۔
کفر کی حالت پر مرنے کی صراحت اسلئے فرمائی کہ ایمان ایک خداداد چیز ہے۔ آیات کا کام ایمان بخشی نہیں۔ اللہ ایمان نہ دے تو آیات غیر مفید ہوتی ہیں۔ مجاہد نے کہا : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ایمان میں کمی بیشی ہوتی ہے (یعنی ایمان مرکب ہے ‘ اس کے اجزاء میں کمی بیشی ہوتی ہے) حضرت عمر اپنے ساتھیوں میں سے کسی ایک یا دو آدمیوں کا ہاتھ پکڑ کر فرماتے تھے : آؤ ‘ ہم اپنا ایمان بڑھائیں (یعنی اگر کوئی جدید آیت یا سورت نازل ہوئی ہو تو اس کو چل کر سنیں تاکہ ہماے ایمان میں اضافہ ہو) حضرت علی نے فرمایا : دل کے اندر ایمان ایک سفید نقطہ کی شکل میں نمودار ہوتا ہے ‘ جتنا ایمان بڑھتا ہے ‘ اتنی ہی سفیدی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ پورا دل سفید ہوجاتا ہے اور نفاق دل میں سیاہ نقطہ کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے ‘ پھر جتنا نفاق بڑھتا ہے ‘ سیاہی بھی بڑھتی ہے یہاں تک کہ پورا دل کالا ہوجاتا ہے۔ خدا کی قسم ! اگر تم مؤمن کا دل چیر کر دیکھو گے تو اس کو سفید پاؤ گے اور اگر منافق کا دل چیر کر دیکھو گے تو اس کو سیاہ پاؤ گے۔
التوبة 9:126
اولایرون انھم یفتنون فی کل عامر مرۃ او مرتین ثم لا یتوبون ولا ھم یذکرون۔ اور کیا ان کو نہیں دکھائی دیتا کہ ہر سال ایک یا دو بار وہ کسی آفت میں پھنستے رہتے ہیں پھر بھی باز نہیں آتے اور نہ وہ کچھ سمجھتے ہیں (کہ آئندہ باز آنے کی امید ہو) ۔
یعنی طرح طرح کے امراض اور مصائب بھیج کر ان کی آزمائش کی جاتی ہے۔ مجاہد نے کہا : قحط اور شدت میں مبتلا کر کے آزمائش کی جاتی ہے۔ قتادہ نے کہا : رسول اللہ (ﷺ) کی ہمرکابی میں جہاد کو جاتے ہیں اور جو صداقت کی نشانیاں ظہور پذیر ہوتی ہیں ‘ ان کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مقاتل بن جان نے کہا : ان کے نفاق کو ظاہر کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی رسوائی ہوتی ہے۔ عکرمہ نے کہا : منافقت کرتے ہیں ‘ پھر ایمان لے آتے ہیں ‘ پھر منافق ہوجاتے ہیں۔ یمان نے کہا : عہد شکنی کرتے ہیں۔
پھر توبہ نہیں کرتے یعنی عہد شکنی سے ‘ گناہوں سے اور نفاق سے جو مصائب کے آنے اور رسوائیاں ہونے کا سبب ہے۔
اور نہ وہ نصیحت پکڑتے ہیں اس بات سے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر سے نصرت کا اور مسلمانوں سے فتح کا جو وعدہ کیا تھا ‘ اس کو کس طرح پورا کیا۔
التوبة 9:127
واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔
ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔
ثم انصرفوا پھر (یعنی اس سورت نازلہ پر ایمان لانے سے) پھرگئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اس مقام سے جہاں بیٹھے سورت سن رہے تھے ‘ یعنی مجلس رسول اللہ (ﷺ) سے پھرگئے۔ بیٹھے رہنے میں ان کو رسوائی کا اندیشہ تھا۔
صرف اللہ قلوبھم اللہ نے ان کے دلوں کو (ایمان سے) پھیر دیا۔ ابو اسحاق نے کہا : اللہ نے ان کے کرتوت کی سزا میں ان کو گمراہ کردیا۔ یہ جملہ (بجائے خبریہ ہونے کے) بددعائیہ بھی ہو سکتا ہے (مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو ایمان سے پھر دے ‘ رہاسہا شائبۂ ایمان بھی ان کے دلوں سے جاتا رہے) ۔
بانھم قوم لا یفقھون اس سبب سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنی بدفہمی اور غلط تدبر کی وجہ سے حق کو) نہیں سمجھتے۔
التوبة 9:128
واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔
ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔
ثم انصرفوا پھر (یعنی اس سورت نازلہ پر ایمان لانے سے) پھرگئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اس مقام سے جہاں بیٹھے سورت سن رہے تھے ‘ یعنی مجلس رسول اللہ (ﷺ) سے پھرگئے۔ بیٹھے رہنے میں ان کو رسوائی کا اندیشہ تھا۔
صرف اللہ قلوبھم اللہ نے ان کے دلوں کو (ایمان سے) پھیر دیا۔ ابو اسحاق نے کہا : اللہ نے ان کے کرتوت کی سزا میں ان کو گمراہ کردیا۔ یہ جملہ (بجائے خبریہ ہونے کے) بددعائیہ بھی ہو سکتا ہے (مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو ایمان سے پھر دے ‘ رہاسہا شائبۂ ایمان بھی ان کے دلوں سے جاتا رہے) ۔
بانھم قوم لا یفقھون اس سبب سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنی بدفہمی اور غلط تدبر کی وجہ سے حق کو) نہیں سمجھتے۔
التوبة 9:129
واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض اور جب کوئی سورة اتاری جاتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھتا ہے۔ یعنی آنکھوں آنکھوں میں انکاریہ یا استہزائیہ اشارہ کرتا ہے ‘ یا آنکھوں کے اشارے سے غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اس سورة میں ان کے عیوب کو بیان کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کی گئی ہے اور مجلس سے اٹھ کر بھاگ جانے کا ارادہ کرتے ہوئے آنکھوں کے اشارہ سے ایک دوسرے سے کہتا ہے۔
ھل یراں کم من احد کیا تمہیں کوئی (مسلمان) دیکھ رہا ہے ؟ اگر اس مجلس سے اٹھ جاؤ گے تو کیا کسی کی نظر پڑجائے گی۔ پھر اگر کوئی مسلمان نہیں دیکھتا ہوتا تو وہ مسجد سے سرک جاتے ‘ اگر دیکھنے کا یقین ہوتا تو جمے بیٹھے رہتے۔
ثم انصرفوا پھر (یعنی اس سورت نازلہ پر ایمان لانے سے) پھرگئے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ مطلب ہے کہ اس مقام سے جہاں بیٹھے سورت سن رہے تھے ‘ یعنی مجلس رسول اللہ (ﷺ) سے پھرگئے۔ بیٹھے رہنے میں ان کو رسوائی کا اندیشہ تھا۔
صرف اللہ قلوبھم اللہ نے ان کے دلوں کو (ایمان سے) پھیر دیا۔ ابو اسحاق نے کہا : اللہ نے ان کے کرتوت کی سزا میں ان کو گمراہ کردیا۔ یہ جملہ (بجائے خبریہ ہونے کے) بددعائیہ بھی ہو سکتا ہے (مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے دلوں کو ایمان سے پھر دے ‘ رہاسہا شائبۂ ایمان بھی ان کے دلوں سے جاتا رہے) ۔
بانھم قوم لا یفقھون اس سبب سے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (اپنی بدفہمی اور غلط تدبر کی وجہ سے حق کو) نہیں سمجھتے۔