Fi Zilal al-Quran — يونس 10:1 – هود 11:50
Contents
- يونس 10:1
- يونس 10:2
- يونس 10:3
- يونس 10:4
- يونس 10:5
- يونس 10:6
- يونس 10:7
- يونس 10:8
- يونس 10:9
- يونس 10:10
- يونس 10:11
- يونس 10:12
- يونس 10:13
- يونس 10:14
- يونس 10:15
- يونس 10:16
- يونس 10:17
- يونس 10:18
- يونس 10:19
- يونس 10:20
- يونس 10:21
- يونس 10:22
- يونس 10:23
- يونس 10:24
- يونس 10:25
- يونس 10:26
- يونس 10:27
- يونس 10:28
- يونس 10:29
- يونس 10:30
- يونس 10:31
- يونس 10:32
- يونس 10:33
- يونس 10:34
- يونس 10:35
- يونس 10:36
- يونس 10:37
- يونس 10:38
- يونس 10:39
- يونس 10:40
- يونس 10:41
- يونس 10:42
- يونس 10:43
- يونس 10:44
- يونس 10:45
- يونس 10:46
- يونس 10:47
- يونس 10:48
- يونس 10:49
- يونس 10:50
- يونس 10:51
- يونس 10:52
- يونس 10:53
- يونس 10:54
- يونس 10:55
- يونس 10:56
- يونس 10:57
- يونس 10:58
- يونس 10:59
- يونس 10:60
- يونس 10:61
- يونس 10:62
- يونس 10:63
- يونس 10:64
- يونس 10:65
- يونس 10:66
- يونس 10:67
- يونس 10:68
- يونس 10:69
- يونس 10:70
- يونس 10:71
- يونس 10:72
- يونس 10:73
- يونس 10:74
- يونس 10:75
- يونس 10:76
- يونس 10:77
- يونس 10:78
- يونس 10:79
- يونس 10:80
- يونس 10:81
- يونس 10:82
- يونس 10:83
- يونس 10:84
- يونس 10:85
- يونس 10:86
- يونس 10:87
- يونس 10:88
- يونس 10:89
- يونس 10:90
- يونس 10:91
- يونس 10:92
- يونس 10:93
- يونس 10:94
- يونس 10:95
- يونس 10:96
- يونس 10:97
- يونس 10:98
- يونس 10:99
- يونس 10:100
- يونس 10:101
- يونس 10:102
- يونس 10:103
- يونس 10:104
- يونس 10:105
- يونس 10:106
- يونس 10:107
- يونس 10:108
- يونس 10:109
- هود 11:1
- هود 11:2
- هود 11:3
- هود 11:4
- هود 11:5
- هود 11:6
- هود 11:7
- هود 11:8
- هود 11:9
- هود 11:10
- هود 11:11
- هود 11:12
- هود 11:13
- هود 11:14
- هود 11:15
- هود 11:16
- هود 11:17
- هود 11:18
- هود 11:19
- هود 11:20
- هود 11:21
- هود 11:22
- هود 11:23
- هود 11:24
- هود 11:25
- هود 11:26
- هود 11:27
- هود 11:28
- هود 11:29
- هود 11:30
- هود 11:31
- هود 11:32
- هود 11:33
- هود 11:34
- هود 11:35
- هود 11:36
- هود 11:37
- هود 11:38
- هود 11:39
- هود 11:40
- هود 11:41
- هود 11:42
- هود 11:43
- هود 11:44
- هود 11:45
- هود 11:46
- هود 11:47
- هود 11:48
- هود 11:49
- هود 11:50
يونس 10:1
درس نمبر 95 ایک نظر میں
جس طرح ہم نے اس سورة کے دیباچے میں کہا ہے یہ پوری سورة ایک ٹکڑا ہے۔ اس کو مختلف اسباق میں تقسیم کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح پارہ ہفتم میں سورة انعام اور جس کے بارے میں یہی رائے ہم نے دی کہ ہر سورة کا اپنا مزاج اور اپنی شخصیت اور اپنی خصوصیات ہوتی ہیں۔ اسی طرح اس سورت کا بھی معاملہ ہے۔
اس سبق میں ان متعدد امور کا ذکر کیا گیا ہے جو حکیمانہ امور ہیں اور کتاب کی صفت حکمت کی تشریح کے طور پر ان امور کا ذکر کیا ہے۔ مثلا رسول اللہ کی طرف نزول وحی اور یہ کہ وحی ایک انسان پر کیوں اتاری ہے ؟ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ تخلیق کائنات اور زمین و آسمان کے فزیکلل نظام میں کس قدر گہری حکمت ہے کہ اس میں سورج کو تیز روشنی اور چاند کو نورانیت عطا کی گئی اور پھر چاند کے لیے منازل طے کی گئیں تاکہ لوگ ماہ و سال کا حساب رکھ سکیں۔ پھر رات اور دن کا اختلاف اور اس کی حکمتیں ۔
درس نمبر 95 تشریح آیات 1 تا 25:
الۗرٰ سورة البقرہ کے شروع میں (حروف مقطعات کی) بحث گزر چکی ہے (یہ بھی دوسرے حروف مقطعات کی طرح ہے) ۔
تلک یہ۔ سورت یا قرآن کی آیات کی طرف اس لفظ سے اشارہ ہے۔ بعض نے کہا : ان آیات کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر اس سورت اس پہلے کردیا گیا۔
اٰیٰت الکتب الحکیم۔ پر حکمت قرآن کی آیات ہیں۔ الحکیم ‘ الکتاب کی صفت ہے : پر حکمت ‘ یا حکیم کا کلام ‘ یا محکم غیر منسوخ۔ مؤخر الذکر مطلب اس وقت ہوگا جب آیات سے مراد صرف اس سورت کی آیات ہیں (اس سورت میں کوئی آیت منسوخ نہیں لیکن پورا قرآن مراد ہو تو حکیم بمعنی غیر منسوخ ...... نہیں کہا جاسکتا (قرآن میں تو بعض آیات کے احکام منسوخ بھی ہیں) یا حکیم بمعنی محکم سے یہ مراد ہے کہ اس میں کوئی آیت غلط نہیں اور کلام میں کہیں اختلاف نہیں۔ حسن نے کہا : آیات کتاب میں حکم دیا گیا ہے : انصاف اور بھلائی کرنے کا ‘ قرابتداروں کو دینے کا ‘ بےحیائی ‘ برے کام اور ظلم و زیادتی سے باز رہنے کا ‘ فرمانبرداروں کیلئے جنت اور نافرمانوں کیلئے دوزخ کا۔
ابن جریر نے بطریق ضحاک ‘ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے جب محمد (ﷺ) کو نبی بنا کر بھیجا تو عرب نے اس کو ماننے سے انکار کردیا اور کہا : اللہ کسی انسان کو پیغمبر بنا کر بھیجے ‘ اس کی شان اس سے بہت بڑی ہے (وہ انسانوں کا محتاج نہیں) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
1 :۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ (جسے حروف مقطعات ) سے مراد ہیں سورتوں کو کھولنے والے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے یہ بھی ہیں ۔
2 :۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں وابن النجار (رح) نے اپنی تاریخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ ہوں اور میں دیکھتا ہوں (ساری مخلوق کو ) ۔
3 :۔ ابن منذر (رح) رحمۃ اللہ علیہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ دیکھ رہا ہوں ۔
4 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ سے مراد ہے کہ میں اللہ دیکھ رہا ہوں ۔
5 :۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ اور حمٓ اور نٓ “ یہ سب اسم مقطع ہیں (یعنی یہ آیت ایک اسم ہے جو الگ الگ حروس میں لھ گیا اور وہ اسم الرحمن ہے۔
6 :ـ۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الرحیم “ اور نٓ میں لفظ رحمن کے حروف ہیں جدا جدا کئے ہوئے ۔
7 :۔ ابوالشیخ (رح) نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الٓر “ اس میں الف اور لام اور راء یہ لفظ رحمن میں سے ہیں ۔
واما قولہ : تلک ایت الکتب الحکیم (1)
8 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ” تلک “ سے مراد وہ ہے ھذ۔
9 :۔ ابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) تلک ایت الکتب “ سے مراد ہے وہ کتابیں جو قرآن مجید سے پہلے گزر گئیں ۔
يونس 10:2
اکان للناس عجبًا ان اوحینآ کیا لوگوں کیلئے عجیب ہے یہ بات کہ ہم نے وحی بھیجی۔ یہ استفہام تعجبی انکاری ہے (یعنی تعجب ہے کہ لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ اللہ نے انسان کے پاس وحی بھیجی ‘ ان کو اس بات پر تعجب نہ کرنا چاہئے) لِلنَّاسِمیں لازم بتا رہا ہے کہ انسان کا پیغمبر ہونا ان کی نظر میں ایک اعجوبہ تھا ‘ قابل انکار و استہزاء۔ کسی نادر واقعہ کو دیکھ کر اور معمول و عادت کے خلاف کوئی بات مشاہدہ کرنے سے جو حالت پیدا ہوتی ہے ‘ اس کو عجب کہتے ہیں۔
لوگوں کے تعجب کو آیت میں جو تعجب آفریں قرار دیا گیا ہے اور ان کے تعجب کو واجب الانکار بتایا ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کا پیغمبر بنایا جانا کوئی انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ تخلیق آدم (علیہ السلام) کے وقت سے ہی اللہ کا معمول رہا ہے کہ ہمیشہ انسانوں کو ہی پیغمبر بنایا گیا ہے ‘ اسی لئے اللہ نے فرمایا ہے : وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ الاَّ رِجَالاً ہم نے آپ سے پہلے بھی ہمیشہ مردوں کو پیغمبر بنایا۔
بادشاہوں کا یہی قاعدہ ہے کہ تحریر و تقریر کی زبان وہی اختیار کرتے ہیں جس کو مخاطب جانتا ہو اور قاصد بھی اسی کو بنا کر بھیجا جاتا ہے جو ان لوگوں کی جنس سے ہو جن کے پاس بھیجا گیا ہو۔ فائدہ اندوزی اور فائدہ رسانی بغیر مناسبت کے ممکن نہیں۔ اللہ نے اسی لئے فرمایا ہے : قُلْ لَّوْ کَانَ فِی الْاَرْضِ مَلَآءِکَۃٌ یَّمْشُوْنَ مُطْمَءِنِّیْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَکًا رَّسُوْلاً اگر زمین پر ملائکہ چلتے پھرتے اور رہتے ہوتے تو ہم ان پر آسمان سے کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے۔
الی رجل منھم ان میں سے ایک شخص کے پاس۔ یعنی ایک معمولی آدمی کے پاس جو (دنیوی دولت و حکومت کے اعتبار سے) بڑے آدمیوں میں سے نہیں ہے۔ کافروں نے کہا تھا کہ اگر انسان کو ہی رسول بنانا تھا تو محمد (ﷺ) کے علاوہ دوسرے بڑے لوگ اس کے مستحق تھے کہ ان کو رسول بنایا جاتا۔ اللہ نے (اسی قول کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے اور) فرمایا ہے : لَوْ لاَ نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍیعنی دونوں بستیوں (مکہ اور طائف) میں کے کسی بڑے عظیم آدمی پر قرآن کیوں نہیں نازل کیا گیا۔ بڑے آدمی سے ان کا مقصد تھا : ولید بن مغیرہ مکی اور مسعود بن عمر ثقفی طائفی۔ اس کے رد میں اللہ نے نازل فرمایا : ___ اَھُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَۃَ رَبِّکَ کیا وہ اللہ کی رحمت یعنی نبوت و رسالت کو خود بانٹ رہے ہیں (کہ جس کو چاہیں اس کو نبوت دے دیں۔ یہ کافروں کی حماقت اور وحی سے ناواقفیت تھی کہ وہ دنیوی دولت کی افزونی اور قومی سیادت پر استحقاق وحی و رسالت کا مدار سمجھتے تھے) رسول اللہ (ﷺ) کو رجل عظیم نہیں سمجھتے تھے ‘ حالانکہ سوائے مال کے باقی تمام انسانی صفات و خصائل کے اعتبار سے رسول اللہ (ﷺ) سب سے بڑے اور سب سے کامل تھے۔ مال کی کمی کو نبوت میں دخل نہیں ‘ آپ سے پہلے اکثر انبیاء بھی ایسے ہی گذرے ہیں۔
ان انذر الناس وبشر الذین امنوا کہ لوگوں کو (ا اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کے برے نتیجہ سے) ڈراؤ اور اہل ایمان کو بشارت دو ۔ سب لوگوں کو عموماً ڈرانے کا حکم دیا کہ بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنے اعمال کے لحاظ سے مستحق انذار نہیں ہیں۔ اور کافر چونکہ مستحق بشارت نہیں ‘ اسلئے بشارت دینے کا حکم صرف اہل ایمان کیلئے مخصوص کیا۔
ان لھم قدم صدق عند ربھم کہ ان کے رب کے پاس (پہنچ کر) ان کو پورا مرتبہ ملے گا۔
عطاء کے نزدیک قدم صدق سے مراد ہے صدق کا مقام جس میں نہ کوئی زوال ہے نہ دشواری اور تکلیف۔
(مؤلف کے نزدیک) قدم صدق سے مراد ہے اونچا مرتبہ جس کی طرف اہل ایمان بڑھ رہے ہیں اور جہاں ان کا قیام ہوگا۔ مرتبہ کو قدم سے تعبیر اسلئے کیا گیا کہ آگے بڑھنے اور قیام کرنے کا ذریعہ قدم ہی ہوتا ہے (یعنی سبب بول کر مسبب مراد لیا گیا ہے) جیسے نعمت کو ہاتھ کہا جاتا ہے کیونکہ نعمت کی عطاء ہاتھ کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔
آیت میں لفظ قدم صدق سے اس امر پر تنبیہ ہے کہ اللہ کے ہاں ان کو اونچا درجہ صرف قول اور نیت کی سچائی کی وجہ سے حاصل ہوگا۔ اور سب سے زیادہ سچی بات لا الٰہ الا اللہ ہے۔ ہم نے جو قدم صدق کی تفسیر مرتبہ سے کی ہے ‘ یہی حاصل حضرت ابن عباس اور ضحاک کی تفسیر کا ہے۔ حضرت ابن عباس نے لفظ قدم کی تشریف میں فرمایا : انہوں نے جو اعمال پہلے سے بھیج دئیے ہوں گے ‘ ان کا اچھا بدلہ ان کو ملے گا (اچھا بدلہ اور مرتبہ دونوں کا مطلب ایک ہی ہے) ضحاک نے کہا : قَدَمَ صدقٍ یعنی سچائی کا ثواب (ضحاک نے مرتبہ کی تعبیر ثواب سے کی اور حضرت ابن عباس نے اجر حسن سے) ۔
حسن نے کہا : قَدَمَ صدقٍ سے مراد وہ نیک اعمال ہیں جو اہل ایمان نے (مرنے سے پہلے) کئے ہوں ‘ گویا حسن کے نزدیک قدم بمعنی تقدیم ہے (یعنی پہلے سے کئے ہوئے اچھے اعمال) اللہ نے اس لفظ سے بشارت دے دی کہ اہل ایمان نے جو اچھے اعمال پہلے سے (یعنی مرنے سے پہلے) کئے ہوں گے ‘ وہ اللہ کے ہاں ان کو ملیں گے۔ ابو عبیدہ نے کہا : عرب کے نزدیک ہر آگے بڑھنے والے کو قدم کہا جاتا ہے ‘ خیر کی طرف بڑھے یا شر کی طرف۔ فلاں شخص کو اسلام میں قدم (سبقت) حاصل ہے۔ میرے پاس اس کو قدم حاصل ہے یا برائی کا قدم ‘ یعنی میرے نزدیک وہ خیر میں سبقت کر رہا ہے یا بدی میں۔
ایک روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ قدم صدق سے مراد ہے سعادت سابقہ۔ زید بن اسلم نے کہا : اس سے رسول اللہ (ﷺ) کی شفاعت مراد ہے۔ بخاری نے لکھا ہے کہ زید بن اسلم نے کہا : ان کیلئے قدم صدق ہے ‘ یعنی رسول اللہ (ﷺ) (کی شفاعت) ۔
قال الکفرون کافروں نے کہا۔ یعنی کافروں نے جب رسول اللہ (ﷺ) کے معجزات دیکھے اور ناقابل مقابلہ کلام سنا تو محض عناد اور ضد سے کہا۔
ان ھذا السحر المبین۔ بیشک یہ (یعنی مدعی نبوت) کھلا ہوا جادوگر ہے۔
يونس 10:3
ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض حقیقت ناقابل شک یہ ہے کہ تمہارا مالک وہ اللہ ہے جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ آسمان و زمین تمام ممکنات (مخلوقات) کے اصول ہیں (تمام چیزیں بقول فلاسفۂ یونان انہی کی تائید و تأثر سے بنی ہیں۔
فی ستۃ ایام چھ دن میں ‘ یعنی دنیا کے چھ روز کے بقدر مدت میں۔ یوں تو اللہ آن کی آن میں سارے جہان کو پیدا کرسکتا تھا مگر مخلوق کو آہستہ روی اور تدریج کی تعلیم دینے کیلئے اس نے چھ روز میں آسمان و زمین بنائے۔
ثم استوی علی العرش پھر عرش (تخت شاہی) پر وہ قائم ہوا۔ سلف سے خلف تک تمام اہل سنت کا باتفاق عقیدہ ہے کہ اللہ تمام جسمانی صفات اور حدوث کے عوارض سے پاک ہے ‘ لیکن آیت مذکورۃ الصدر اور اسی جیسی دوسری آیات (جن میں صفات جسم کے ساتھ اللہ کا انصاف ظاہر کیا گیا ہے) بظاہر اہل سنت کے مسلک و عقیدے کے خلاف نظر آتی ہیں۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے دو جواب دئیے گئے ہیں :
(1) تاویل کا مسلک اختیار کیا گیا ہے ‘ یعنی ظاہری الفاظ کے وہ (مجازی) معنی لئے گئے ہیں جو شان خداوندی کے مناسب ہیں کیونکہ آیت وَمَا یَعْلَمُ تَأوِیْلَہٗٓ الاَّ اَللّٰہُ وَالرَّاسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ میں الراسخوان کا عطف اللّٰہُ پر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ متشابہات کا صحیح علم اللہ کو اور مضبوط علم رکھنے والوں کو ہی ہے (اس سے معلوم ہوا کہ متشابہات کی حقیقی مراد اور تاویل سے علماء ربانیین بھی واقف ہیں) اس کی تفصیلی بحث سورة آل عمران میں گذر چکی ہے۔ اس توجیہ کی روشنی میں آیت مذکور میں استَوٰی کو بمعنی اِسْتَولٰیقرار دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ عرش جو سب سے اعلیٰ اور بالا مخلوق ہے ‘ جب اللہ اس پر غلبہ رکھتا ہے تو دوسری مخلوق پر اللہ کا تسلط بدرجۂ اولیٰ ظاہر ہے۔ پس ساری مخلوق اس کے زیرتسلط ہے۔ (1) [ استویٰکا معنی استولٰی اور تَسَلَّطَ عربی کلام میں بکثرت آیا ہے۔ کسی شاعر کا ایک شعر ہے
قَدِ اسْتَویٰ بَشَرٌ عَلَی الْعِرَقِ مِنْ غَیْرِ سَیْفٍ وَدَمٍ مُّھْراقٍ ۔۔ یعنی بشر نے بغیر تلوار چلائے اور خون بہائے عراق پر تسلط کرلیا (مترجم)]
لیکن بغوی نے کہا : استواء کو بمعنی استیلاء وتسلُّط قرار دینا معتزلہ کا قول ہے۔
(2) سلف صالحین کا مسلک ‘ اہل تاویل کے مسلک کے خلاف ہے۔ تمام علماء سلف کا قول ہے کہ اس قسم کی آیات کے ظاہر پر ایمان لانا واجب ہے۔ ان کی تنقیح اور موشگافیوں سے اجتناب لازم ہے۔ ان کی حقیقت کے علم کو اللہ کے سپرد کردینا ضروری ہے۔ اسی بناء پر امام محمد بن حسن نے فرمایا تھا کہ پورب سے پچھم تک تمام فقہاء کا اتفاق ہے کہ قرآن اور صحیح احادیث میں اللہ کی جو صفات آئی ہیں ‘ ان کو (یونہی) بغیر تشریح و تنقیح و توضیح کے ماننا اور ان پر ایمان لانا واجب ہے۔ جو شخص ان کی توضیح کرتا ہے ‘ وہ رسول اللہ (ﷺ) اور اجماع سلف کے خلاف عمل کرتا ہے۔ اس کا رسول اللہ (ﷺ) کے لائے ہوئے دین اور جماعت مسلمین کے اختیار کردہ مسلک سے تعلق نہیں۔ امام مالک بن انس نے فرمایا : استواء (کا حقیقی ترجمہ) مجہول نہیں (استواء کی) کیفیت معلوم نہیں اور کیفیت استواء کو دریافت کرنا بدعت ہے۔
سلف صالحین ‘ تنزیہ باری تعالیٰ کے قائل تھے ‘ اسی کے ساتھ استواء علی العرش کو (بغیر تاویل کے) مانتے تھے۔ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : اللہ آسمان میں یقیناً ہے ‘ زمین میں نہیں۔ رواہ البیہقی۔ اس قول کی نسبت بھی امام ابوحنیفہ کی طرف کی گئی ہے کہ جس نے کہا : مجھے نہیں معلوم کہ میرا رب آسمان میں ہے یا زمین میں ‘ وہ کافر ہوگیا کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرَشِ استَوٰی۔ اور عرش آسمانوں کے ادھر ہے۔ امام ابوحنیفہ کا ایک قول یہ بھی آیا ہے کہ جس نے اللہ کے آسمان میں ہونے کا انکار کیا ‘ وہ کافر ہوگیا۔
امام شافعی نے فرمایا : اللہ اپنے عرش پر اپنے آسمان میں ہے۔ وہ جیسا چاہتا ہے ‘ اپنی مخلوق کے قریب بھی ہوتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے ‘ اترتا ہے (یعنی اللہ کا عرش پر ہونا مخلوق کے قریب ہونا اور نیچے اترنا ‘ تینوں قول صحیح ہیں لیکن عرش پر موجود ہونے ‘ مخلوق کے قریب ہونے اور نیچے اترنے کی کیفیت معلوم نہیں) ایسا ہی قول امام احمد بن حنبل کا بھی مروی ہے۔
اسحاق بن راہویہ کا بیان ہے : تمام اہل علم کا اجماع ہے کہ اللہ عرش کے اوپر مستوی ہے اور ہر چیز کو جانتا ہے۔ مزنی ‘ ذہبی ‘ بخاری ‘ ابو داؤد و ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن ابی شیبہ ‘ ابو یعلی ‘ بیہقی اور دوسرے ائمۂ حدیث کا یہی قول ہے۔ ابو زرعہ رازی کے قول سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اسی قول پر اہل سنت کا اجماع ہے۔ حافظ عثمان بن سعید دارمی نے لکھا ہے کہ تمام مسلمان اس قول پر متفق ہیں کہ اللہ اپنے عرش پر آسمانوں کے اوپر ہے۔ سہل بن عبد اللہ تستری نے فرمایا : یہ کہنا جائز نہیں کہ جس نے استواء کو پیدا کیا ‘ وہ کیسے مستوی ہو سکتا ہے۔ ہمارے لئے (استواء کو) ماننا اور تسلیم کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے۔ محمد بن جریر طبری نے لکھا ہے : مسلمان کیلئے اتنا جان لینا کافی ہے کہ اس کا رب عرش پر مستوی ہے۔ جو اس سے آگے بڑھے گا ‘ وہ نامراد اور خسران مآب ہوگا۔ محمد بن خزیمہ نے کہا : جو شخص اللہ کو عرش پر ساتوں آسمانوں کے اوپر مستوی اور سب مخلوق سے جدا نہیں کہتا وہ کافر ہے ‘ اس سے توبہ کرائی جائے توبہ کرلے تو خیر ‘ ورنہ اس کی گردن مار دی جائے۔
طحاوی نے لکھا ہے کہ عرش و کرسی ویسے ہی ہیں جیسے اللہ نے اپنی کتاب میں ان کو بیان کیا ہے۔ اللہ عرش سے بےنیاز ہے اور عرش کے نیچے والی چیزوں سے بھی۔ وہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے اور ہر چیز سے اوپر ہے۔
شیخ ابو الحسن اشعری بصری نے کتاب ” اختلاف المضلین و مقالات الاسلامیین “ میں اہل سنت اور اصحاب حدیث کا ایک قول لکھا ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کا ‘ اللہ کے فرشتوں ‘ کتابوں اور پیغمبروں کا ماننا اور جو کلام اللہ کی طرف سے آیا ہے اور جو رسول اللہ (ﷺ) کی صحیح حدیثوں میں مذکور ہے ‘ سب کا اقرار کرنا ضروری ہے۔ ان میں سے کسی چیز کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ بھی ماننا لازم ہے کہ اللہ اپنے عرش پر ہے ‘ جیسا کہ اس نے خود آیت الرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرَشِ استَوٰی میں فرمایا ہے اور اللہ کے دو ہاتھ بھی ہیں مگر بغیر کیفیت (مخلوقیہ) کے۔ اس نے خود فرمایا ہے : خَلَقْتُ بِیَدَیَّ ۔
ابو نعیم نے حلیہ میں لکھا ہے : ہمارا طریقہ سلف کے طریقے کے موافق ہے جو کتاب اللہ ‘ احادیث رسول اللہ (ﷺ) اور اجماع کے پیرو تھے اور اس بات کا اعتقاد رکھتے تھے کہ اللہ ہمیشہ سے اپنی تمام صفات میں کامل ہے ...... آخر میں ابو نعیم نے کہا : جن احادیث میں اللہ کے عرش پر مستوی ہونے کا ذکر ہے ‘ سلف ان کو مانتے تھے اور اللہ کو عرش پر بغیر کسی (مخلوقی) کیفیت اور تشبیہ کے مستوی مانتے تھے اور اس امر کے بھی قائل تھے کہ اللہ اپنی مخلوق سے جدا ہے۔
ابن عبدالبر نے لکھا ہے کہ اللہ آسمان میں عرش پر سات آسمانوں کے اوپر ہے ‘ جیسا کہ اہل سنت کا قول ہے۔
خطیب نے کہا : سلف کا مسلک یہ ہے کہ ایسی (متشابہ) آیات کا اقرار کیا جائے اور ان کے ظاہری معنی پر ہی الفاظ کو محمول کیا جائے اور کیفیت و تشبیہ کی نفی کی جائے (یعنی کوئی کیفیت اور تمثیل و تشبیہ نہ بیان کی جائے کہ معنی معلوم ہے مگر معنی کی کیفیت مجہول ہے اور وجہ اللہ یا ید اللہ یا استواء علی العرش کو ہم مخلوق کے چہرے ‘ ہاتھ اور استواء سے تشبیہ نہیں دے سکتے۔ یہ چیزیں اللہ کی صفات ہیں مگر ویسی ہیں جیسی اس کی شان کے مناسب ہیں) امام الحرمین نے کہا : عقیدۂ سلف کا اتباع ہی پسندیدہ اعتقاد اور دین اللہ ہے۔ ائمۂ سلف نے تاویل سے اجتناب کیا ہے ‘ الفاظ کے ظاہری معنی کو اختیار کیا ہے اور معانی (کی وضاحت و تفصیل) کو اللہ کے سپرد کیا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے : اہل سنت قائل ہیں کہ استواء علی العرش اللہ کی صفت ہے بلاکیف۔ اس پر ایمان واجب ہے۔ بیضاوی نے لکھا : اس کا مطلب یہ ہے کہ استواء علی العرش اللہ کیلئے ویسا ہے جیسا اس کے مناسب ہے۔ استقرار اور مکانیت کی آمیزش سے پاک ہے۔
ابوبکرعلی بن عیسیٰ شبلی جو اپنے زمانہ کے صوفیاء میں سب سے بڑے عالم تھے ‘ کہتے ہیں : رب آسمان میں ہے ‘ حکم دیتا ہے اور فیصلہ نافذ کرتا ہے۔ شیخ الاسلام عبد اللہ انصاری نے اخبار شتّٰی میں لکھا ہے کہ اللہ ساتویں آسمان میں عرش پر ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی نے غنیۃ الطالبین میں لکھا ہے اور اس موضوع پر بہت تفصیلی بحث کی ہے (جس کا خلاصہ وہی ہے جو علمائے سلف سے منقول ہے کہ معانی معلوم ہیں ‘ کیفیت نامعلوم اور ہر تشبیہ سے پاک) ۔
یہ تمام اقوال ذہبی نے ” کتاب العلو “ میں نقل کئے ہیں۔ صحابہ ‘ تابعین ‘ محدثین ‘ فقہاء اور صوفیہ کی کثیر جماعت (تقریباً کل) کا یہی مسلک ہے۔ میں نے مختصراً سورة الاعراف کی آیت ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُغْشِی اللَّیْلَ النَّھَارَاور سورة البقرہ کی آیت یَأتِیَھُمُ اللّٰہُ فِی ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِکی تفسیر میں بیان کردیا ہے کہ اصحاب قلوب کے نزدیک ذات باری تعالیٰ کی خصوصی تجلی اور خاص پرتو بعض مخلوق پر پڑتا ہے ‘ وہ مخلوق نورانی لہروں سے نور چیں ہوتی ہے۔ اس سے ذات باری محل حوادث نہیں بن جاتی ‘ نہ خالص مرتبۂ تنزیہ سے اس کا (تشبیہ کی طرف) تنزل ہوتا ہے ‘ بلکہ ممکنات میں ایسا جوہر پیدا ہوجاتا ہے جو پرتو اندوزی کے قابل بن جاتا ہے (امکان و حدوث کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ اس میں جلوہ پزیری کی قابلیت بڑھ جاتی ہے اور بڑھتی رہتی ہے۔ اس جلوہ پاشی سے وجوب و قدم میں کوئی تغیر نہیں آتا۔ وجوب سے امکان اور قدم سے حدوث کی طرف ذات واجب و قدیم کا تنزل نہیں جاتا) میں نے سورة البقرہ میں آیت ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَآءِ فَسَوَّاھُنَّ سَبْعَ سَّمٰوٰتٍ کی تفسیر کے ذیل میں اس جلوہ پاشی کی تنقیح کردی ہے جو مؤمن کے دل پر ‘ کعبہ پر اور عرش عظیم پر خصوصیت کے ساتھ ہوتی ہے (یعنی بعض مخلوق تجلئ الٰہی کی خصوصی جو لانگاہ ہے ‘ خصوصیت کے ساتھ وہ جلوۂ خداوندی سے نورچیں ہوتی ہے ‘ اس پر خاص چمکار 1 اور پرتو پڑتا ہے ‘ اس سے جلوہ ریزی اور نور پاشی کرنے والی ذات کا محتاج مکان و زمان اور حامل کیف و کم ہونا لازم نہیں آتا ہے۔ وہ جلوۂ قدیم بےکیف ہے ........ بےمکان ہے ‘ بےزمان ہے اور ہر حادث مقدار و عوارض سے پاک ہے۔
یدبر الامر ہر کام کی (مناسب) تدبیر کرتا ہے۔ یعنی حسب تقاضائے حکمت وہ کائنات کے تمام امور کا فیصلہ کرتا ہے۔ تدبیر کا معنی ہے تمام امور کے ادبار (یعنی انجام) پر نظر رکھ کر کام کرنا تاکہ نتیجہ اچھا نکلے۔
ما من شفیع الا من بعد اذنہ کوئی (کسی کا) سفارشی نہ ہوگا مگر اس کے اذن کے بعد۔ اللہ کی عظمت کا اظہار اس فقرہ میں کیا گیا ہے۔ اس آیت کا نزول نضر بن حارث کے متعلق ہوا جس نے کہا تھا کہ اگر قیامت کا دن ہوا تو لات و عزّٰی میری سفارش کردیں گے (لات و عزّٰی عورت کی شکل کے دو بت تھے جن کی پوجا کی جاتی تھی) آیت میں اشارہ ہے کہ قیامت کے دن شفاعت ضرور ہوگی مگر اللہ کی اجازت کے بعد ہوگی۔
ذلکم اللہ یہ اللہ ہے۔ یعنی وہ ذات جو صفات مذکورہ کا مجموعہ ہے اور صفات مذکورہ کا تقاضۂ الوہیت ہے ‘ وہی ذات اللہ ہے۔
ربکم تمہارا رب ہے۔ یعنی وہی تمہارا رب ہے ‘ اس کے سوا کوئی رب نہیں۔ یا اس کی صفات میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔
فاعبدوہ پس تم اس کی پوجا کرو۔ یعنی اس کے سوا کسی کی پوجا نہ کرو۔ جماد تو الگ رہے ‘ ان میں تو نفع و نقصان پہنچانے کی صلاحیت ہی نہیں ‘ کسی انسان اور فرشتے کی بھی پوجا نہ کرو۔
افلا تذکرون۔ کیا تم بالکل غور نہیں کرتے کہ غور کرنے سے اتنا سمجھ لو کہ اللہ ہی معبودیت کا مستحق ہے۔ جن کی تم پوجا کرتے ہو ‘ ان میں سے کوئی بھی معبود بننے کے قابل نہیں۔
يونس 10:4
الیہ مرجعکم جمیعًا (مرنے کے بعد قیامت کے دن زندہ ہو کر) تم سب کو لوٹ کر اسی کے پاس جانا ہے۔ مرجع مصدر ہے یا ظرف مکان۔
وعد اللہ حقًا اللہ نے اس کا سچا وعدہ کر رکھا ہے۔ وعد اللہ مفعول مطلق ہے۔ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ اللہ کی طرف سے وعدہ ہے ‘ اس وعدہ کی تاکید وعد اللہ کا لفظ کر رہا ہے۔ حقًّا بھی مفعول مطلق ہے اور اس مضمون کی تاکید کر رہا ہے جس پر وعد اللہ کا لفظ دلالت کر رہا ہے۔ گویا اول مفعول مطلق ہے تاکید لنفسہ کا اور دوسرا تاکید بغیرہ کا فائدہ دے رہا ہے۔
انہ یبدوا الخلق بلاشبہ وہی ابتدائی تخلیق کرتا ہے۔ یعنی یہ دنیوی زندگی وہی دیتا ہے۔
ثم یعیدہ پھر (موت دینے کے بعد آخرت میں) دوبارہ زندگی بھی وہی دے گا) ۔
لیجزی الذین امنوا وعملوا الصلحت بالقسط تاکہ جن مؤمنوں نے نیک کام کئے ‘ ان کو انصاف کے ساتھ جزاء عنایت کرے) اس صورت میں بالقسط سے مراد ہوگا اللہ کی طرف سے انصاف) یا قسط سے مراد ہے اہل ایمان کا عادل ہونا اور تمام امور میں عدل پر قائم رہنا۔ یا ایمان مراد ہے کیونکہ ایمان ہی سب سے بڑا عدل ہے ‘ جس طرح شرک ظلم عظیم ہے۔ مؤخر الذکر معنی مراد لینا ہی اس جگہ زیادہ مناسب ہے کیونکہ آئندہ آیت میں کافروں کو کفر کی پاداش دئیے جانے کا ذکر ہے (اسلئے اوپر کی آیت میں اہل ایمان کو ان کے ایمان کی جزاء ملنے کا ذکر کیا جانا زیادہ مناسب ہے) ۔
والذین کفروا لھم شراب من حمیم و عذاب الیم بما کانوا یکفرون اور جن لوگوں نے کفر کیا ‘ ان کیلئے کفر کی سزا میں انتہائی کھولتا پانی اور درد رساں عذاب ہوگا۔ عبارت کی رفتار سے کافروں کا مستحق عذاب ہونا پرزور طور پر ظاہر ہو رہا ہے اور اس امر پر تنبیہ بھی مستفاد ہو رہی ہے کہ تخلیق اول و دوئم کی اصل غرض تو مؤمنوں کو ثواب دینا ہے ‘ کافروں کا عذاب تو بالواسطہ (ذیلی طور پر) ہوجائے گا ‘ گویا عذاب ایک بیماری ہے جو بداعتقادی اور بداعمالی سے پیدا ہوتی ہے۔
يونس 10:5
ھو الذی جعل الشمس ضیآء اللہ وہی ہے جس نے آفتاب کو روشنی والا بنایا۔ ضیاءً سے پہلے مضاف محذوف ہے یعنی ذات۔ ضیاءٍ روشنی والا۔ ضیاءً قیام کی طرح مصدر ہے یا سیاط کی طرح جمع ہے۔ اس کا واحد ضوء ہے جیس سیاطکا واحد سَوْطہے۔
والقمر نورًا اور چاند کو نور والا۔ نور کا لفظ معنی کے اعتبار سے ضوء سے عام ہے۔ نور کے اعلیٰ مرتبہ کا نام ضوء ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ براہ راست روشنی کو ضوء اور بالواسطہ روشنی کو نور کہتے ہیں (اور چاند کا نور چونکہ آفتاب کا عکس پڑنے سے حاصل ہوتا ہے ‘ اسلئے شمس کے ساتھ ضیاء اور قمر کے ساتھ نور کا لفظ استعمال کیا) ۔
وقدرہ منازل اور اس (کی چال) کیلئے منزلیں مقرر کیں۔ یعنی چاند اور سیورج میں سے ہر ایک کی منازل سیر مقرر کردیں ‘ یا ہر ایک کو منازل والا بنا دیا (یعنی منازل سے پہلے مضاف محذوف ہے) یا ہٗ کی ضمیر چاند کی طرف راجع ہے۔ صرف چاند کی منازل کا تذکرہ اسلئے کیا کہ سیر قمر کی منزلیں نظروں کے سامنے ہیں۔ اس کے علاوہ روزہ ‘ زکوٰۃ ‘ حج وغیرہ کے احکام اسی کی رفتار سے وابستہ ہیں۔ آئندہ آیت میں تقرر منازل قمر کی علت یہی بیان فرمائی ہے۔
لتعلموا عدد السنین تاکہ تم جان لو برسوں کی گنتی۔ یعنی چاند کی رفتار سے مہینوں کی گنتی کر کے برسوں کی گنتی جان لو۔
والحساب اور (اپنے معاملات میں دنوں اور مہینوں کے اوقات کے) حساب کو جان لو۔
ما خلق اللہ ذلک الا بالحق اللہ نے اس مخلوق کو نہیں پیدا کیا مگر حق کے ساتھ۔ یعنی اپنی حکمت کاملہ کے مطابق اپنی کاریگری اور قدرت کو ظاہر کرنے کیلئے۔
یفصل الایت لقوم یعلمون یہ دلائل ان لوگوں کو صاف صاف بتا رہے ہیں جو دانش رکھتے ہیں۔
يونس 10:6
ان فی اختلاف الیل والنھار بیشک رات دن کے اختلاف میں۔ اختلاف سے مراد ہے ایک کا دوسرے کے پیچھے آنا جانا یا رنگوں کا اختلاف مراد ہے ‘ روشن اور تاریک
وما خلق اللہ فی السموت والارض اور جو کائنات آسمانوں میں اور زمین اللہ نے بنائی ہے ‘ اس میں۔
لایٰت بلاشبہ نشانیاں ہیں۔ صانع کے وجود کی ‘ اس کی توحید کی ‘ اس کے کمال علم وقدرت کی اور تمام عیوب و نقائص سے اس کے پاک ہونے کی۔
لقوم یتقون۔ ان لوگوں کیلئے جو (برے انجام سے) ڈرتے ہیں کیونکہ یہ ساری کائنات اہل اتقاء کو غور و فکر کی دعوت دے رہی ہے۔
يونس 10:7
ان الذین لا یرجون لقآء نا بیشک جو لوگ ہم سے ملنے کے امیدوار نہیں۔ ملنے سے مراد ہے ثواب کیونکہ اللہ کی ملاقات اور اس کا دیدار سب سے بڑا ثواب ہے۔
ورضوا بالحیوۃ الدنیا اور دنیوی زندگی پر مگن ہیں ‘ یعنی آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو انہوں نے ترجیح دے رکھی ہے۔
واطمانوا بھا اور اسی زندگی پر مطمئن ہو بیٹھے ہیں۔ یعنی اسی زندگی پر وہ ٹھہر گئے ہیں ‘ اسی کی لذتیں اور آرائشیں ان کا منتہائے قصد ہیں اور آخرت میں کام آنے والے اعمال ترک کرچکے ہیں۔
والذین ھم عن ایٰتنا غٰفلون۔ اور وہ لوگ جو ہماری (قدرت و صنعت کی) نشانیوں سے غافل ہیں۔
ترجمۂ مذکورۂ بالا کی صورت میں اوّل الذکر الذین سے مراد ہوں گے یہود و نصاریٰ جو اللہ کی ہستی کو تو مانتے ہیں ‘ حشرنشر کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن اسکے ساتھ ہی دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ‘ ثواب آخرت سے مایوس ہیں۔ ان کا مقصد صرف دنیوی لذت اندوزی اور راحت کوشی ہے اور مؤخر الذکر الذین سے مراد ہیں وہ لوگ جو اللہ کی توحید کو نہیں مانتے اور حشر و جزا کا عقیدہ نہیں رکھتے۔
بیضاوی نے لکھا ہے : اول الَّذِیْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جو قیامت کے منکر ہیں ‘ جزائے آخرت کی ان کو امید ہی نہیں۔ زندگی صرف اسی دنیوی زندگی کو جانتے ہیں اور مؤخر الذکر الَّذِیْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جن کو محبت دنیا نے تصور آخرت اور تیاری آخرت سے غافل بنا رکھا ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک دونوں الَّذِیْنَ سے مراد عام کفار ہی ہیں لیکن تعدد اوصاف کی وجہ سے دونوں کے درمیان حرف عطف ذکر کردیا گیا ہے (جیسے الی الملک القرم وابن الہمام ولیث الکتیبۃ فی المزدحم میں سب اوصاف یعنی قرم ‘ ابن الہمام اور لیث الکتیبۃ کا مصداق الملک ہی ہے لیکن اوصاف کے تغایر کو ذات کے تغایر کے قائم مقام قرار دے کر اوصاف کے درمیان حروف عطف ذکر کئے گئے ہیں اسی طرح آیات میں بھی تعداد اوصاف کو تعدد ذوات کا درجہ دے کر بیچ میں حروف عطف ذکر کردیا گیا ہے) اس امر پر بھی تنبیہ ہے کہ چونکہ وہ دونوں اصاف قبیحہ کے حامل اور جامع ہیں ‘ اسلئے مستحق وعید ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : رجائکا معنی خوف بھی ہے اور طمع بھی۔ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو نہ ہمارے عذاب کا خوف ہے نہ ثواب کی امید (گویا ہمارے سامنے آنے کا نہ ان کو کوئی اندیشہ ہے نہ کوئی امید) حضرت ابن عباس نے فرمایا : عَنْ اٰیٰاتِنَا یعنی محمد رسول اللہ (ﷺ) اور قرآن سے غافل ہیں ‘ ان کی طرف سے رخ موڑے ہوئے ہیں۔
يونس 10:8
اولئک ماوٰھم النار ۔ یہی ہیں کہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ‘ ان کے برے کرتوت کی وجہ سے۔ یعنی کفر پر قائم اور معاصی پر جمے رہنے کی وجہ سے۔
يونس 10:9
ان الذین امنوا وعملوا الصلحٰت یدیھم ربھم بایمانھم ناقابل شک ہے یہ بات کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ‘ ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کو (جنت میں پہنچانے والے راستہ کی) ہدایت کرے گا۔
مجاہد نے کہا : پل صراط پر ان کو جنت تک پہنچانے والا راستہ بتا دے گا۔ ان کیلئے نور کر دے گا جس کی راہنمائی میں وہ (جنت تک) جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہدایت سے مراد یہ ہے کہ ایمان کی وجہ سے اللہ ان کو حقائق دین سمجھنے کا راستہ بتا دے گا۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے جانی چیز پر عمل کیا ‘ اللہ اس کو انجانی چیز کا علم عطا فرما دے گا۔ رواہ ابونعیم فی الحیلۃ۔ بعض نے کہا : یھدیھم کا یہ معنی ہے کہ اللہ ان کو ثواب اور جزا دے گا یا جنت کے اندر ان کے مقاصد ان کو پہنچا دے گا۔
بیضاوی نے لکھا ہے : ترتیب کلام کا مفہوم اگرچہ بتا رہا ہے کہ ہدایت کا سبب ایمان اور عمل صالح (کا مجموعہ) ہے لیکن تنہا بایمانھم کا صریحی لفظ بتا رہا ہے کہ ہدایت کا مستقل سبب ایمان ہے ‘ عمل صالح تو اس کا تکملہ اور تتمہ ہے۔
تجری من تحتھم الانھٰر ان کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ نیچے سے مراد ہے سامنے ‘ جیسا آیت قَدْ جَعَلَ رَبُّکَ تَحْتَکِ سَرِیًّا میں تحت سے مراد سامنے ہے ‘ کیونکہ حضرت مریم کا نہر کے اوپر بیٹھنا اس آیت کا مقصود نہیں ہے بلکہ نہر کا سامنے ہونا مراد ہے۔
فی جنت النعیم۔ چین کے باغوں میں۔
يونس 10:10
دعوٰھم فیھا سبحانک اللھم جنتوں میں ان کی دعاء (اس طرح ) ہوگی : اے اللہ ! تو ہر برائی سے پاک ہے ‘ ہم تجھے ہر عیب و نقص سے پاک جانتے اور مانتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : اہل تفسیر کا بیان ہے کہ اہل جنت اور ان کے خادموں کے درمیان سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ کا لفظ طلب طعام کی علامت ہوگا۔ جب اہل جنت کھانے کے خواہشمند ہوں گے تو کہیں گے : سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ فوراً حسب پسند کھانے کے خوان حاضر کر دئیے جائیں گے۔ ہر خوان ایک میل لمبا ‘ ایک میل چوڑا ہوگا۔ ہر خوان پر ستر ہزار کا سے ہوں گے ‘ ہر کاسہ میں الگ رنگ کا کھانا ہوگا ‘ ایک دوسرے کے مشابہ نہ ہوگا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب اللہ کی ثنا کریں گے۔ وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُِ للّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَکا یہی معنی ہے۔ بعض علماء نے کہا : اہل جنت سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ مزے لے لے کر کہیں گے ‘ یعنی اس کلام کے کہنے میں ان کو لذت آئے گی۔ مسلم ‘ ابو داؤد اور امام احمد نے حضرت جابر کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ سانس لینے کی طرح اللہ کی طرف سے سبحان اللہ اور الحمد اللہ کہنے کا اہل جنت کو الہام ہوگا (یعنی بےاختیار ان کی زبانوں پر تسبیح وتحمید جاری ہوگی) ۔
وتحیتھم فیھا سلم اور جنت کے اندر ان کا ملاقاتی ابتدائی کلام (لفظ) سلام ہوگا۔ ایک دوسرے کو سلام کرے گا اور فرشتے بھی ہر دروازے سے داخل ہو کر کہیں گے۔ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ اور اللہ کی طرف سے بھی سلام لے کر فرشتے آئیں گے اور کہیں گے : اللہ تم کو سلام فرماتا ہے (یعنی بشارت سلامتی دیتا ہے) ابن ماجہ ‘ ابن ابی الدنیا ‘ دارقطنی اور اجری نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب اہل جنت اپنی راحتوں میں مشغول ہوں گے کہ اچانک ان پر اوپر سے ایک نور چمکے گا۔ سر اٹھا کر دیکھیں گے تو (نظر آئے گا کہ) اللہ اوپر سے ان پر جلوہ پاش ہے۔ اللہ فرمائے گا : ” السلام علیکم یا اہل الجنۃِ “ یہی ہے معنی سَلٰمٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ کا۔
امام احمد ‘ بزار اور ابن حبان نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ کی مخلوق میں سے جنت کے اندر سب سے پہلے فقراء مہاجرین داخل ہوں گے جن سے (اسلام کی) سرحدوں کا انتظام ہوتا ہے اور انہی کے ذریعے سے ناگوار امور سے حفاظت کی جاتی ہے ‘ لیکن (اتنی اہم شخصیت کے حامل ہونے کے باوجود) ان میں سے جب کوئی مرتا ہے تو دل کی خواہش دل ہی میں لے کرجاتا ہے ‘ پورا کرنے کی توفیق ہی اس کو نہیں ملتی۔ اللہ اپنے ملائکہ میں سے جس کو چاہے گا حکم دے گا کہ مہاجرین کے پاس جاؤ اور ان کو میرا سلام پہنچاؤ۔ فرشتے عرض کریں گے : اے ہمارے مالک ! ہم تیرے آسمان کے باشندے ہیں ‘ مخلوق میں تیرے برگزیدہ بندے ہیں۔ کیا تو ہم کو حکم دے رہا ہے کہ ہم ان کے پاس جائیں اور ان کو سلام کریں ؟ اللہ فرمائے گا : یہ میرے ایسے بندے تھے کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے ‘ کسی کو میرا شریک نہیں قرار دیتے تھے۔ انہی کو سرحدوں پر بھیجا جاتا تھا اور انہی کے ذریعہ سے ناگوار امور سے حفاظت ہوتی تھی اور جب ان میں سے کوئی مرتا تھا تو اپنا ارمان اپنے دل میں ہی لے کر مرتا تھا ‘ پورا کرنے کی اس کو توفیق ہی نہ ہوتی تھی۔ حسب الحکم فرشتے ان کے پاس جنت کے ہر دروازہ سے آئیں گے اور کہیں گے : سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔
واخر دعوٰھم ان الحمد اللہ رب العٰلمین۔ اور ان کی (اس وقت کی باتوں میں) آخری بات ہوگی الْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ شاید اس سے مراد یہ ہے کہ جب اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہو کر اللہ کی عظمت کا معائنہ کریں گے تو اس کی بزرگی بیان کریں گے اور صفات جلالیہ کا اظہار کریں گے۔ پھر اللہ کی طرف سے فرشتے حاضر ہو کر ان کو تمام آفتوں سے سالم رہنے اور عزت و کرامت پر فائز ہونے کی دعا دیں گے۔ اس وقت وہ اللہ کی حمد و ثنا کریں گے اور اللہ کی صفت اکرام کو بیان کریں گے۔
بغوی نے لکھا ہے : وہ کلام کا آغاز تسبیح سے کریں گے اور الحمد اللہ پر کلام کو ختم کریں گے اور ان دونوں کے درمیان جو بات کرنی چاہیں گے ‘ کریں گے۔
يونس 10:11
ولو یعجل اللہ للناس الشر استجالھم بالخیر اور اگر (لوگوں کی عجلت طلب کے موافق) اللہ فوراً برا نتیجہ دے دیتا ‘ جیسا کہ فوری عجلت طلب پر اچھا نتیجہ دے دیتا ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس (آیت) سے مراد وہ قول ہے جو عموماً غصہ کے وقت لوگ اپنے اہل و عیال کے متعلق کہتے ہیں کہ تم پر اللہ کی مار ‘ تم پر خدا کی لعنت وغیرہ۔
قتادہ نے کہا : آیت کا تشریحی مطلب یہ ہے کہ لوگ جب اللہ سے کوئی بددعا کرتے ہیں اور فوری شر کے طلبگار ہوتے ہیں ‘ اگر اللہ ان کی بددعا کو قبول کرنے میں اسی عجلت سے کام لے جس عجلت سے وہ لوگوں کی نیک دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ نیک دعاؤں کے نتیجہ کو جلد طلب کرنے کا تو آیت میں ذکر ہے ‘ جلد نتیجہ دینے کا ذکر نہیں۔ اور شر کے ساتھ استعجال کا ذکر نہیں کیا ‘ یعنی بددعا کے ساتھ نتیجہ کی فوری طلب کا ذکر نہیں کیا بلکہ فوری نتیجہ دینے کا ذکر کیا۔ اس طرح کلام میں اختصار ہوگیا اور غیر مذکور مطلب قرینہ سے معلوم ہوگیا۔ روایت میں آیا ہے کہ نضر بن حارث نے (اپنے لئے بددعا کی تھی اور) کہا تھا کہ اے اللہ ! اگر یہی حق ہے جو تیری طرف سے آیا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
لقضی الیھم اجلھم تو ان کا (عذاب کا) وعدہ کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا۔ یعنی مار دئیے گئے ہوتے اور ہلاک ہو چکتے۔
فنذر الذین لا یرجون لقاء نا فی طغیانھم یعمھون۔ سو اسلئے ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے ‘ ہم (یونہی بلا عذاب چند روز) چھوڑ رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔
لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا یعنی حشر اور عذاب سے نہیں ڈرتے۔ فَنَذَرُالخ کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے ‘ اصل کلام یوں تھا : لیکن ہم ہلاک کرنے میں جلدی نہیں کرتے اور ڈھیل دینے کے بجائے فوری نہیں مار ڈالتے اور ان کافروں کو گمراہی میں چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں سرگرداں پھرتے رہیں۔
يونس 10:12
واذا مس الانسان الضر اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ الضر سے مراد ہے سختی ‘ مصیبت۔
دعانا لجنبہ او قاعدًا او قائمًا تو وہ (نجات و خلاص کیلئے) ہم کو پکارتا ہے پہلو کے بل (یعنی لیٹ کر) یا بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر۔ یعنی مصیبت دور ہونے کی ہر حالت میں فوراً ہم سے دعا کرتا ہے لیٹے لیٹے ‘ بیٹھے بیٹھے ‘ کھڑے کھڑے۔
فلما کشفنا عنہ ضرہ مر پھر جب ہم اس کی تکلیف ہٹا دیتے ہیں ‘ کھول دیتے ہیں تو وہ اپنے سابق طریقے پر قائم رہتا ہے ‘ کفر کرتا رہتا ہے ‘ ناشکری کرتا ہے۔
کان لم یدعنا معلوم ہوتا ہے کہ (مصیبت اور دکھ کی حالت میں) اس نے ہم سے دعا ہی نہیں کی تھی ‘ ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔
الی ضر مسہ اس مصیبت کو دور کرنے کیلئے جو اس کو پہنچی تھی۔
کذلک زین للمسرفین ما کانوا یعملون۔ ان حد سے گذرنے والوں کو ان کے اعمال اسی طرح مستحسن معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی خواہشات نفس میں انہماک اور ذکر و عبادت سے اعراض کو ان کی نظر میں محبوب بنا دیا جاتا ہے۔
يونس 10:13
ولقد اھلکنا القرون من قبلکم اور (اے اہل مکہ ! ) تم سے سابق قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔
لما ظلموا جب انہوں نے (کفر و بداعمالی کر کے) خود اپنے اوپر ظلم کیا۔
وجاء تھم رسلھم بالبینت اور ان کے پیغمبر کھلی ہوئی واضح دلیلیں ان کے پاس لا چکے (مگر انہوں نے کسی دلیل کو نہیں مانا) گویا حجت تمام ہوگئی اور ہلاکت کا ان کو استحقاق ہوگیا۔ اسی مضمون کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ۔
وما کانوا لیؤمنوا اور وہ (ظالم قومیں) ایسی تھیں ہی نہیں کہ ایمان لاتیں۔ یعنی ان میں ایمان لانے کی فطری صلاحیت ہی نہ تھی۔ اللہ کے اسم مضل (گمراہ کرنے والا) کا پرتو ان کا مبدء تعین تھا ‘ اسلئے اللہ نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے ازلی علم میں وہ مؤمن نہ تھے ‘ اللہ (تخلیق سے پہلے ہی) جانتا تھا کہ وہ کافر مریں گے۔
کذلک نجزی القوم المجرمین۔ ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ یعنی پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں اور کفر پر جمے رہنے والوں کی سزا ان کو ہلاک کردینا ہے جبکہ یہ امر یقین ہوجائے کہ ان کو مہلت دینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ پس ایسی ہی سزا ہم ہر مجرم کو یا تم کو دیں گے۔ جرم کا تقاضا ہی یہ ہے ‘ جرم ہلاکت کا مستحق بنا دیتا ہے۔
يونس 10:14
ثم جعلنکم خلئف فی الارض من بعدھم پھر ان کے یعنی ہلاک شدہ قوموں کے بعد ہم نے (اے اہل مکہ ! ) تم کو ان کا جانشین بنایا۔
لننظر کیف تعملون۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو اچھے یا برے اور گزشتہ اقوام کے احوال سے عبرت اندوز ہو کر پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہو یا نہیں کرتے۔ یہ آیت بتا رہی ہے کہ اعمال و افعال بذات خود نہ اچھے ہوتے ہیں نہ برے۔ افعال کی اچھائی برائی ‘ کیفیت و جہت کے اختلاف پر مبنی ہے۔ ایک ہی عمل مختلف وجوہ کے تحت اچھا بھی ہوجاتا ہے اور برا بھی۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : دنیا میٹھی اور سرسبز ہے۔ اللہ تم کو یہاں (گزشتہ اقوام کا) جانشین بنائے گا اور دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔
يونس 10:15
واذا تتلی علیھم ایاتنا اور جب ان کے سامنے ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں۔ قتادہ کے قول پر مشرکین مکہ مراد ہیں۔ مقاتل نے کہا : پانچ آدمیوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہو۔ مکرز بن حفص ‘ عمرو بن عبد اللہ بن ابو قیس عامری ‘ عاص بن عامر بن ہشام ‘ عبد اللہ بن ابی مخزومی ‘ ولید بن مغیرہ۔
بینٰت کھلی ہوئی یعنی جو واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔
قال الذین لا یرجون لقاء نا کہتے ہیں : وہ لوگ جو ہماری پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یعنی حشر سے نہیں ڈرتے اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔
ائت بقران غیر ھذا اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لاؤ۔ یعنی اس کے سوا کوئی دوسری کتاب لاؤ جس کو ہم پڑھیں اور اس کے اندر ایسے امور نہ ہوں جو ہماری نظر میں بعید از صداقت ہیں جیسے مرنے کے بعد ثواب و عذاب ہونا ‘ بتوں کی پوجا کی ممانعت اور ان کے عیوب کا اظہار۔
او بدلہ یا اسی کو بدل دو ۔ یعنی ایک آیت کی جگہ دوسری آیت رکھ دو ۔ مقاتل کا بیان ہے : مندرجۂ بالا پانچوں آدمیوں نے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں عرض کیا تھا : اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو کوئی ایسا قرآن پیش کیجئے جو اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہو یا نہ ہو ‘ لات و منات اور عزّٰی کی برائی اور ان کی پوجا کی ممانعت اس میں نہ ہو۔ اگر اللہ کی طرف سے ایسا قرآن نہ آئے تو آپ خود اپنی طرف سے بنا دیجئے یا اسی کو بدل دیجئے۔ آیت عذاب کی جگہ آیت رحمت اور حرام کی جگہ حلال اور حلال کی جگہ حرام ہونے کا حکم دے دیجئے۔
قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقآء نفسی (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اپنی طرف سے اس کو بدل دینا میرے لئے درست نہیں۔ جواب میں صرف تبدیل آیت (یا تبدیل حکم) کا ذکر کیا (دوسرا قرآن پیش کرنے کا ذکر نہیں کیا) کیونکہ جب تبدیل آیت کا امکان نہیں تو دوسرا قرآن پیش کرنا بدرجۂ اولیٰ ناممکن ہوگا۔ یا یوں کہا جائے کہ ایک آیت کی جگہ دوسری آیت پڑھ دینا تو انسانی اختیار میں ہے اور اس قرآن کی طرح دوسرا معجز قرآن پیش کرنا انسانی قدرت سے ہی خارج ہے۔ پس جب امکانی چیز سے انکار کا حکم دے دیا گیا تو خارج از قدرت کام سے انکار بدرجۂ اولیٰ ہوگیا۔ یا یہ کہا جائے کہ اُبَدِّلَہٗ میں تبدیل سے مراد عام تبدیل ہے۔ قرآن کی جگہ دوسرا قرآن لانا یا آیت کی جگہ دوسری آیت ذکر کرنا (یعنی کسی قسم کی تبدیلی میرے لئے درست نہیں) ۔
ان اتبع الا ما یوحی الی میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی سے آتا ہے۔ یہ جملہ اختیار تبدیل نہ ہونے کی علت ہے جو محض متبع ہوتا ہے ‘ اس کو بذات خود کوئی تصرف اور خرد برد کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔
قرآن میں بعض آیات ناسخ اور بعض منسوخ ہیں (اس طرح تبدیل آیات ہوجاتی ہے) اس سے پیدا ہونے والے وہم کا بھی اس جملہ سے ازالہ ہوگیا (کہ یہ تبدیلی بھی میری خودساختہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ کفار بعض آیات کی ناسخیت و منسوخیت کو دیکھ کر شبہ کرسکتے تھے کہ شاید یہ رسول اللہ (ﷺ) کا اپنا کلام ہے ‘ جب چاہا حکم دے دیا ‘ جب چاہا منسوخ کردیا۔ مِنْ تِلْقَآءِ نَفِسِیْ کے لفظ سے اس کی بھی تردید ہوگئی۔ اپنی طرف سے تبدیل کرنے کو آئندہ آیت میں نافرمانی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔
انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں گا تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔ بڑے دن سے مراد ہے قیامت کا دن۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ کافر مذکورۂ بالا خواہش (یعنی تبدیل حکم و تغیر قرآن کی درخواست) کی وجہ سے مستحق عذاب ہوگئے۔
يونس 10:16
قل لو شآء اللہ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو کچھ اور منظور ہوتا۔ یا یہ مطلب کہ اگر اللہ کو اس قرآن کی تلاوت کرانی منظورنہ ہوتی تو وہ مجھ پر اس کو نازل نہ فرماتا۔
ما تلوتہ علیکم ولا ادرٰں کم بہ نہ میں تم کو پڑھ کر سناتا نہ اللہ اس سے تم کو میری زبانی واقف بناتا۔
فقد لبثت بیکم عمرا من قبلہ میں تمہارے اندر ایک مدت یعنی چالیس سال سے نزول قرآن سے پہلے رہتا ہوں اور جب تک میرے پاس وحی نہیں آئی ‘ میں نے کچھ نہیں بیان کیا۔ اس جملہ سے قرآن کے معجز ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جو شخص چالیس برس کچھ لوگوں کے ساتھ رہا ہو اور نہ تعلیم حاصل کی ہو ‘ نہ کسی عالم سے ملا ‘ نہ کبھی شعر کہا ہو ‘ نہ خطبہ دیا ہو ‘ پھر اچانک وہ ایسی کتاب پیش کر دے جس کی فصاحت ہر کلام کی فصاحت سے اعلیٰ اور ہر نظم و نثر سے بالا ہو اور انکار و اعمال کے تمام ضابطے اس میں مذکور ہوں اور گذشتہ و آئندہ کے واقعات صحیح صحیح بیان کئے گئے ہوں تو یقیناً ایسی کتاب کسی مخلوق کی ساختہ پرداختہ نہیں ہو سکتی ‘ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہی ہوگی۔
افلا تعقلون کیا تم اپنی دانش و عقل سے قرآن پر غور نہیں کرتے کہ تم کو معلوم ہوجاتا کہ یہ کتاب میری ساختہ پرداختہ نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔
فائدہ : وحی سے پہلے چالیس سال کی عمر تک رسول اللہ (ﷺ) مکہ میں رہے ‘ پھر وحی نازل ہوئی تو نزول وحی کے بعد بھی تیرہ سال تک مکہ میں ہی قیام پذیر رہے ‘ اس کے بعد مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کو تشریف لے گئے اور دس سال تک وہاں سکونت پذیر رہے۔ وفات کے وقت حضور (ﷺ) کی عمر 63 سال تھی۔ رواہ مسلم عن ابن عباس۔
محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ تمام علماء کا اس امر پر تو اتفاق ہے کہ ہجرت کے بعد رسول اللہ (ﷺ) مدینہ میں دس سال قیام پذیر رہے اور وحی سے پہلے چالیس سال مکہ میں رہے لیکن نبوت کے بعد مکہ میں کتنی مدت گذری ‘ یہ اختلافی مسئلہ ہے۔ صحیح قول یہ ہے کہ نبوت کے تیرہ سال آپ نے مکہ میں گذارے۔
بغوی نے حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ آغاز نبوت کے بعد دس سال حضور (ﷺ) مکہ میں رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔
ابن سعد ‘ عمرو بن شیبہ اور حاکم نے اکلیل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اوّل روایت (یعنی 63 سال کی عمر میں وفات ہونا اور نبوت کے بعد مکہ میں 13 سال قیام پذیر رہنا) زیادہ مشہور بھی ہے اور واضح بھی ___ مسلم نے حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی بھی یہی عمر ہوئی۔
ابو داؤد طیالسی اور مسلم نے معاویہ بن ابی سفیان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی۔ شیخین نے حضرت عائشہ کی روایت سے لکھا کہ حضور (ﷺ) کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی۔ نووی نے اسی کو صحیح اور مشہور اور علماء کا متفق علیہ قول قرار دیا ہے۔
احمد اور مسلم نے لکھا ہے کہ عمار بن ابی عمار نے بیان کیا : میں نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا : وفات کے وقت رسول اللہ (ﷺ) کی عمر کیا تھی ؟ فرمایا : کیا تم گنتی نکالو گے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : چالیس جس میں بعثت ہوئی ‘ پندرہ تک مکہ میں امن و خوف کی حالت میں قیام رکھا اور دس ہجرت کے بعد مدینہ میں گذارے۔
حاکم نے اکلیل میں علی بن ابی زید کی وساطت سے یوسف بن مہران کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : 65 سال کی عمر میں رسول اللہ (ﷺ) کی وفات ہوئی۔ حاکم نے اکلیل میں اور نووی نے لکھا ہے کہ علماء کے نزدیک بالاتفاق صحیح ترین روایت 63 سال والی ہے ‘ باقی روایات کی تاویلیں کی گئی ہیں۔ ساٹھ سال والی روایت میں صرف دہائیاں ذکر کی گئی ہیں ‘ اکائی نظر انداز کردی گئی ہیں ___ 65 والی روایت بھی قابل تاویل یا مشکوک ہے۔ عروہ نے حضرت ابن عباس کی 65 سال والی روایت کا انکار کیا ہے اور اس کو غلط قرار دیا ہے۔ آغاز نبوت کا دور حضرت ابن عباس نے نہیں پایا۔ محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس کا قول اکثر روایتوں میں 63 سال کا آیا ہے ‘ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حضرت ابن عباس کے قول میں 65 سال کی عمر میں وفات پانے کا ذکر تھا ‘ پھر آپ نے اکثر کے قول کی طرف رجوع کرلیا (یعنی 63 سال کی عمر میں وفات پانا تسلیم کرلیا) ۔
قاضی عیاض نے حضرت ابن عباس اور حضرت سعید بن مسیب کے حوالہ سے 43 سال کی عمر میں بعثت ہونے کا ذکر کیا ہے مگر یہ راویت شاذ ہے ‘ صحیح 40 سال کی عمر ہے۔
يونس 10:17
فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبًا پس اس سے بڑا کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹی تہمت تراشی کی اور خیال کیا کہ اللہ کا کوئی ساجھی اور اولاد ہے۔
او کذب بٰایٰتہ یا اللہ کی آیتوں کو سچا نہ جانا اور ان (کی صداقت) کا انکار کردیا۔
انہ لا یفلح المجرمون۔ کوئی شبہ نہیں کہ مجرموں یعنی مشرکوں کو فلاح یعنی نجات نہیں ملے گی۔
يونس 10:18
ویعبدون من دون اللہ ما لا یضرھم ولا ینفعھم اور مکہ کے کافر اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں کہ اگر ان کی پوجا نہ کریں تو وہ ان پجاریوں کو نقصان نہیں دے سکتیں اور اگر ان کی پوجا کریں تو پجاریوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ یعنی بتوں کی پوجا کرتے ہیں جو بالکل بےجان ہیں ‘ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور معبود میں نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت ہونی چاہئے تاکہ پوجا کرنے والے کو پوجا کا ثواب دے سکے ‘ فائدہ پہنچا سکے یا ضرر کو دفع کرسکے۔
ویقولون ھؤلآ شفعاؤنا عند اللہ اور کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں یہ (معبود) ہمارے سفارشی ہیں۔ دنیوی امور میں بھی ہماری سفارش کرتے ہیں اور اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی یہ شفاعت کریں گے۔
قل اتنبؤن اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی بات کی اطلاع دے رہے ہو جس کو وہ نہیں جانتا اور آسمان و زمین میں کہیں اس کا وجود نہیں۔ یعنی اللہ کا شریک قرار دے رہے ہو اور بتا رہے ہو کہ اللہ کے علاوہ بھی دوسرے معبود ہیں۔ اس آیت میں کافروں کو رجز بھی ہے اور استہزاء بھی (کہ آپ بڑے عالم ہیں کہ جو چیز اللہ کو بھی معلوم نہیں اس کی اطلاع آپ دے رہے ہیں) فِی السَّمٰوٰتِ والْاَرْضِ کے الفاظ سے اسی طرف اشارہ ہے کہ جس کو یہ لوگ اللہ کا شریک قرار دے رہے ہیں ‘ وہ آسمانی موجودات میں سے ہوگا مثلاً فرشتہ ہوگا یا زمین کی موجودات میں سے مثلاً پتھر وغیرہ اور کائنات سماوی و ارضی سب کی سب حادث ہے ‘ مغلوب ہے ‘ اس کو شریک الوہیت قرار دینے کیسے درست ہو سکتا ہے۔
سبحٰنہ وتعلیٰ عما یشرکون۔ وہ پاک ہے اور ان کے شرک کرنے یا مشرکوں سے برتر ہے۔
يونس 10:19
وما کان الناس الا امۃ واحدۃ اور نہیں تھے لوگ مگر ایک گروہ۔ یعنی سب موحد تھے ‘ فطرت پر تھے یا اسلام پر تھے مطلب یہ کہ حضرت آدم کے زمانہ سے حضرت نوح کی بعثت سے کچھ پہلے تک یا طوفان کے بعد یا حضرت ابراہیم کے عہد سے عمرو بن لحی کے زمانہ تک سب لوگ توحید پر تھے۔
یا ایک امت سے مراد ہے گمراہی پر سب کا اتفاق۔ مطلب یہ کہ زمانۂ فترۃ (انقطاع رسالت) میں سب لوگ گمراہ تھے۔
فاختلفوا پس ان میں (نفس پرستی اور خواہشات کی پیروی کی وجہ سے) اختلاف ہوگیا (ان کے فرقے بن گئے) یا پیغمبروں کی بعثت کی وجہ سے گمراہ جماعت میں پھوٹ پڑگئی۔ ایک گروہ پیغمبر وں کا متبع اور دوسرا گروہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والا۔
ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم فیما فیہ یختلفون۔ اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ‘ اس کا قطعی فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا۔ کلمۂ سابقہ سے مراد ہے اللہ کا وہ ازلی فیصلہ کہ ہر امت کی ایک میعاد زندگی مقرر ہے۔ کلبی نے کہا : کلمۂ سابقہ سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے اس امت کو ڈھیل دینے اور دنیوی عذاب سے ہلاک نہ کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے۔ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ یعنی دنیا میں عذاب نازل کردیا جاتا اور تکذیب کرنے والوں کو فوراً ہلاک کردیا جاتا ‘ یہی ان کے اختلاف کا فیصلہ ہوجاتا۔ حسن نے کہا : اللہ کا ازلی فیصلہ ہوچکا تھا کہ قیامت سے پہلے دنیا میں عذاب وثواب کی شکل میں ان کے اختلاف کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا کہ دنیا میں ہی جنت یا دوزخ میں داخل کردیا جائے بلکہ اللہ کی طرف سے جنت و دوزخ میں داخلہ کا وقت روز قیامت کو مقرر کردیا گیا ہے۔
يونس 10:20
ویقولون لو لا انزل علیہ ایۃ من ربہ اور (کفار مکہ) کہتے ہیں کہ اس پر (ہماری مطلوبہ آیات میں سے) کوئی آیت کیوں نازل نہیں کی گئی۔
فقل انما الغیب اللہ تو آپ کہہ دیجئے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے ‘ وہی جانتا ہے کہ مطلوبہ آیات کا نزول کیوں نہ ہوا ‘ مانع کیا ہے۔ یا الغیب سے مراد ہے مَا غَابَ عَنِ النَّاس یعنی اللہ کا امر جو لوگوں کو معلوم نہیں ‘ اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
فانتظروا پس تم منتظر رہو۔ یعنی مطلوبہ آیات کے نزول کا انتظار کرو ‘ یا ہمارے تمہارے درمیان اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو کہ ہم میں سے کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔
انی معکم من المنتظرین۔ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ نازل شدہ آیات کے انکار اور نئی مطلوبہ آیات کی خواہش پر اللہ تمہارے ساتھ کیا کرتا ہے۔
يونس 10:21
واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم جب لوگوں کو کوئی دکھ پہنچتا ہے اور پھر ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں۔ رحمت سے مراد ہے سرسبزی ‘ ارزانی ‘ فراخ دستی ‘ صحت۔ اور ضَّراء سے مراد ہے خشک سالی ‘ بدحالی ‘ افلاس اور بیماری۔
اذا لھم مکر فی ایٰتنا تو فوراً ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : مکر سے مراد ہے تکذیب و استہزاء۔ میں کہا ہوں : مکر کا معنی ہے پوشیدہ طور پر کسی کو برائی پہنچانے کا ارادہ کرنا۔ آیات کی تکذیب بظاہر رسول اللہ (ﷺ) کی تکذیب اور آپ کو برائی پہنچانے کے ارادہ کا مظاہرہ تھا ‘ اللہ کی تکذیب نہ تھی لیکن آیات اللہ حقیقت میں اللہ کا کلام تھا ‘ اسلئے درپردہ تکذیب اور ارادۂ شر کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہوتا ہے ‘ اور یہی مکر کی حقیقت ہے۔
مقاتل بن حبان نے کہا : (ا اللہ ان کو رزق دیتا تھا ‘ بارش برساتا تھا اور) وہ اللہ کے رازق ہونے کے قائل نہ تھے بلکہ کہتے تھے : نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔ تکذیب آیات کی ان کی طرف سے یہ حیلہ سازی تھی ‘ اسی کو مکر کہا گیا ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ ایک بار اہل مکہ قحط میں مبتلا ہوئے ‘ پھر اللہ نے ان پر رحم کیا اور قحط کو دور کردیا۔ قحط دور ہوتے ہی وہ ناشکری اور استہزاء بآیات اللہ کرنے لگے۔ اللہ کی نعمت کے شکرگذار نہ ہوئے۔ بخاری کی روایت میں آیا ہے کہ کافروں کی بےرخی اور روگردانی دیکھ کر رسول اللہ (ﷺ) نے بددعا کی اور فرمایا : اے اللہ ! یوسف (علیہ السلام) کے سات سالوں کی طرح ان کو ہفت سالہ قحط میں مبتلا کر کے میری مدد فرما۔ بددعا کے نتیجہ میں اہل مکہ پر قحط مسلط ہوگیا کہ ہر چیز (یعنی کھیتی ‘ سبزی ‘ پھل وغیرہ) تباہ ہوگئی ‘ کھالیں اور مردار جانور تک کھانے کی نوبت آگئی۔ ابو سفیان نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : محمد (ﷺ) تمہاری قوم والے ہلاک ہوگئے۔ تم اللہ کی اطاعت اور صلۃ الرحم (قرابتداروں سے حسن سلوک) کا ہم کو حکم دیتے ہو۔ اللہ سے ان کیلئے دعا کر دو کہ اللہ ان کی مصیبت کو دور کر دے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے دعا فرما دی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ قحط میں مبتلا ہونے کے بعد مشرکوں نے کہا تھا : اے ہمارے رب ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے ‘ ہم ایمان لے آئیں گے۔ رسول اللہ (ﷺ) کو (ا اللہ کی طرف سے) اطلاع دی گئی کہ اگر یہ مصیبت دور کردی گئی تو یہ لوگ پھر اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹ جائیں گے (کفر کرنے لگیں گے) ۔
غرض رسول اللہ (ﷺ) نے دعا کردی اور اللہ نے مصیبت دور کردی ‘ مگر وہ پھر (شرک و تکذیب کی طرف) لوٹ گئے۔ اس کی سزا اللہ نے ان کو بدر کے دن دی (کہ سرداران شرک کو تباہ کردیا) ۔
قل اللہ اسرع مکرًا آپ کہہ دیجئے کہ خفیہ تدبیر کرنے میں اللہ تم سے تیز ہے۔ اس کی خفییہ تدبیر یا تو ڈھیل ہے۔
حضرت علی کا ارشاد ہے : اللہ جس کی دنیا فراخ کر دے اور وہ یہ نہ سمجھے کہ یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل ہے تو اس کی عقل فریب خوردہ ہے۔ میں کہتا ہوں : حضرت کی مراد یہ ہے کہ وسعت دنیا حاصل ہونے کے بعد جو شخص (ا اللہ کی ڈھیل کو نہ سمجھے اور) شکر ادا نہ کرے وہ فریب خوردہ ہے۔
یا مکر سے مراد ہے مگر کی سزا ___ یعنی لوگ تو خفیہ تدبیریں بعد کو کرتے ہیں ‘ اللہ ان کی سازشوں سے پہلے ہی ان کی سزا کی خفیہ تدبیر یا (خفیہ) ڈھیل دینے کو تجویز کرچکا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے سرعت مکر کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ حق کو دفع کرنے کی جو تدبیریں کافر کرتے ہیں ‘ ان سے زیادہ سرعت کے ساتھ اللہ ان کو ہلاک کردینے کی تدبیر کردیتا ہے۔ اللہ کا عذاب ان پر بہت جلد آجاتا ہے۔ اللہ چونکہ قدرت رکھتا ہے ‘ اسلئے وہ جو کچھ چاہتا ہے وہ ضرور آ کر رہتا ہے اور کافر دفع حق کی قدرت نہیں رکھتے۔
ان رسلنا یکتبون ما تمکرون۔ جو مکاریاں تم کرتے ہو ہمارے پیامبر (یعنی اعمال کی نگرانی رکھنے والے فرشتے) اس کو لکھ لیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ تمہاری خفیہ تدبیریں نگرانی رکھنے والے ملائکہ سے بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتیں ہیں ‘ اللہ سے کس طرح چھپی رہ سکتی ہیں جو سارے جہان کا خالق ہے۔
يونس 10:22
ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر اللہ وہی ہے جو خشکی اور سمندر میں تم کو چلاتا ہے۔ یعنی تم کو سفر پر آمادہ کرتا اور چلنے کی طاقت دیتا ہے۔
حتی اذا کنتم فی الفلک یہاں تک کہ جب تم کشتیوں (اور جہازوں) میں ہوتے ہو۔ فُلک کا استعمال ایک
کیلئے بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ کیلئے بھی (گویا یہ لفظ واحد بھی ہے اور جمع بھی) اس آیت میں جمع کا معنی مراد ہے کیونکہ آئندہ فقرہ میں جمع کی ضمیر اس لفظ کی طرف راجع کی گئی ہے۔
وجرین بھم اور کشتیاں (یا جہاز) اپنی سواریوں کو لے کر چلتے ہیں۔ کنتم میں خطاب ہے اور بھم میں ضمیر غائب ہے۔
عبارت کی یہ رنگینی کلام میں زور پیدا کرنے کیلئے اختیار کی گئی۔ ھِمْ کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہ تذکرہ مخاطبین کا نہیں ‘ دوسرے لوگوں کا ہے جن کی حالت تعجب انگیز ہے۔
بریح طیبۃ نرم رفتار منزل تک پہنچانے والی ہوا کے ساتھ۔
وفرحوا بھا اور خوش رفتار ہوا کی وجہ سے وہ خوش ہوتے ہیں۔
جآء ھا ریح عاصف تو (کشتیوں پر) آجاتی ہے آندھی ‘ یعنی سخت طوفان۔
وجآء ھم الموج من کل مکان اور ہر جگہ (یا ہر طرف) سے ان پر (طوفانی) موجیں آجاتی ہیں۔
وظنوا انھم احیط بھم اور ان کا غالب گمان ہوجاتا ہے کہ ہر طرف سے وہ موجوں اور تباہیوں سے گھر گئے ‘ بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں رہا۔ مستقبل میں ہلاک ہوجانے کے قرائن ہوتے ہیں اور قرائن سے غالب گمان ہی ہو سکتا ہے ‘ یقین نہیں پیدا ہوتا ‘ اسلئے ظنوا فرمایا۔
دعوا اللہ مخلصین لہ الدین اس وقت سب خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ یعنی خلوص دل کے ساتھ اللہ سے دعا کرتے ہیں ‘ سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں پکارتے۔ عرب کے مشرک بھی سخت مصیبت پڑنے پر اللہ ہی کو پکارتے تھے۔
لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشکرین۔ اگر تو ہم کو اس طوفان سے بچا لے گا تو ہم شکر کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اگر تو ہم کو الخ۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو الخ۔
يونس 10:23
فلما انجھم اذاھم یبغون فی الارض بغیر الحق پھر جب اللہ ان کو اس مہلکہ سے بچا لیتا ہے تو فوراً ہی وہ اطراف زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ یعنی اللہ جب ان کی دعا قبول کرلیتا ہے اور طوفان سے رہائی دے دیتا ہے تو یکدم وہ حدود فساد میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اِذَامفاجات کیلئے ہے اور بغی سے مراد ہے اباحت کی حدود سے نکل کر فساد کی طرف بڑھنا۔ بغیر الحق کے لفظ سے یبغون کے مفہوم کی تاکید ہو رہی ہے کیونکہ فساد تو ہوتا ہی ناحق ہے۔
شبہ ہو سکتا تھا کہ مسلمان بھی کافروں کی بستیوں کو تباہ کرتے ‘ ان کی کھیتیوں کو اجاڑتے اور باغوں کو ویران کرتے۔ یہ بھی تو فساد ہے۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ (فساد نما) حرکات جو مسلمان سے سرزد ہوتی ہیں ‘ تخریب کیلئے نہیں ہیں بلکہ ان کی غرض تعمیر اور اصلاح ہوتی ہے۔ ایسا اللہ کے حکم سے کیا جاتا ہے ‘ حدود اباحت سے تجاوز نہیں کیا جاتا۔
یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم اے لوگو ! (سن لو) یہ تمہاری سرکشی تمہارے لئے وبال (جان) ہونے والی ہے۔ ظلم کا برا نتیجہ تمہاری ہی طرف لوٹتا ہے۔ ترمذی و ابن ماجہ نے حسن سند کے ساتھ حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : حسن سلوک اور اقربا پروری کا اچھا نتیجہ ہر بھلائی سے جلد مل جاتا ہے اور ظلم و قطع رحم کا برا نتیجہ ہر برائی کے نتیجے سے پہلے آجاتا ہے۔ ابو الشیخ ‘ خطیب اور ابن مردویہ نے تفسیر میں حضرت انس کی روایت سے بیان کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : یہ تین چیزیں اپنے کرنے والے پر ہی لوٹ پڑتی ہیں : ظلم ‘ فریب ‘ دغا۔
ابن لالی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اگر پہاڑ ‘ پہاڑ پر ظلم کرے تو ظلم کرنے والا (پہاڑ) پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے گا۔
متاع الحیوۃ الدنیا زندگی میں چندے اس سے حظ اٹھا رہے ہو ‘ یعنی عارضی اور فنا پذیر ہے۔ متاع الحیٰوۃ فعل محذوف کا مفعول ہے یا بغیکا۔
ثم الینا مرجعکم پھر (مرنے کے بعد یا قیامت کے دن) تمہاری واپسی ہماری ہی طرف ہوگی۔
فننبئکم بما کنتم تعملون۔ پھر تمہارے اعمال کا بدلہ دے کر ہم تم کو آگاہ کردیں گے (کہ یہ بدلہ فلاں عمل کا ہے) ۔
يونس 10:24
انما مثل الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی کی عجیب حالت ‘ یعنی دنیوی زندگی بہت جلد زوال پذیر ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس پر شیفتہ ہیں ‘ یہ عجیب بات ہے۔
کما انزلنہ من السماء ایسی ہے جیسے ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں۔
فاختلط بہ نبات الارض مما یا کل الناس والانعام پھر اس پانی سے زمین کے نباتات جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں ‘ خوب گنجان ہو کر نکلے۔ اخْتَلَطَ گتھ جاتا ہے ‘ گھنا ہوجاتا ہے۔ مَا یَأکُلُ النَّاس یعنی انسان کی خوراک غلہ ‘ پھل ‘ سبزیاں۔ وَالْاََنْعَامُط اور چوپایوں کی خوراک یعنی گھاس ‘ چارہ۔
حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت یہاں تک کہ وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی۔ زُخْرُف حسن ‘ رونق ‘ رنگا رنگ پھولوں اور سبزیوں سے پیدا ہونے والا جمال ارضی۔
وظن اھلھًا انھم قدرون علیھا اور اس زمین کے مالکوں نے خیال کرلیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہوچکے۔
یعنی زمین کے مالک کو یہ خیال ہوجاتا ہے کہ اب زمین کی پیداوار میرے قبضہ میں آگئی ‘ میں کھیتی کاٹ کر غلہ حاصل کرسکتا ہوں اور پھل توڑ کر فائدہ اٹھا سکتا ہوں۔
اتھا امرنا لیلاً او نھارًا فجعلنھا حصیدًا (اچانک بعض حوادث کی وجہ سے کھیتی کو تباہ کرنے کیلئے) رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ پہنچتا ہے اور ہم اس کو کٹے ہوئے کھیت کی طرح کردیتے ہیں۔ یعنی کھڑی کھیتی کو ہم ایسا کردیتے ہیں جیسے کھیت کو کسی نے جڑ سے کاٹ لیا ہو۔
کان لم تغن بالامس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کل کھیتی تھی ہی نہیں۔ لَِمْ تَغْنَ ۔ غَنِیَ بالمکان سے ماخوذ ہے۔
غَنِیَ بالمکان اس جگہ ٹھہرا ‘ قیام کیا ‘ رہا۔ بِالْاَمْسِ یعنی اس وقت سے تھوڑے پہلے ‘ مراد ہے ماضی قریب۔
یہ تشیبہ مرکب بمرکب ہے۔ اگرچہ عبادت میں مشبہ بہ پانی کو قرار دیا گیا ہے لیکن واقعہ کے پورے مضمون کے ساتھ تشبیہ دینی مقصود ہے۔ پورے کلام کا مضمون یہ ہے کہ کھیتی سرسبز اور باغ کے پھل تر و تازہ ہوتے ہیں ‘ زمین شاداب اور پررونق ہوتی ہے۔ مالکوں کو خیال ہوجاتا ہے کہ اب یہ پیداوار اور کھیتی ہر حادثہ سے نکل گئی ‘ اب اس پر کوئی مصیبت نہیں آئے گی کہ یکدم اللہ کا حکم آ پہنچتا ہے (مختلف ارضی و سماوی حوادث کی وجہ سے) اللہ بھرے پرے باغوں اور سرسبز لہلہاتی کھیتیوں کو تباہ کر کے ‘ ریزہ ریزہ اور بھوسہ بنا دیتا ہے ‘ یہی حالت دنیوی زندگی کی ہے۔ قتادہ نے کہا : دنیا پر بھروسہ رکھنے والے اور سامان دنیا میں ڈوبے ہوئے شخص پر یکدم اللہ کا حکم اور اس کا عذاب انتہائی غفلت کی حالت میں آ پہنچتا ہے (گویا اس تشبیہ کی وجہ شبہ ‘ بےفکری اور غفلت کی حالت میں عذاب خداوندی کا آ پہنچنا ہے) ۔
کذلک نفصل الایت لقوم یتفکرون۔ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ‘ ایسے لوگوں کیلئے جو سوچتے ہیں۔
يونس 10:25
وا اللہ یدعوا الی دارالسلام اور اللہ (سب لوگوں کو) ایسے گھر کی طرف بلا رہا ہے جو ہر قسم کی تباہی اور ہلاکت سے سالم ہے ‘ یعنی جنت کی طرف۔ قتادہ نے کہا : جنت اللہ کا گھر ہے۔ السلام اللہ کا نام ہے (یعنی آیت میں السلام سے مراد سلامتی نہیں ہے بلکہ اللہ کا خاص نام مراد ہے اور یہ صیغۂ صفت ہے ‘ مصدر مراد نہیں ہے) لفظ السلام کا ذکر اسی مفہوم پر تنبیہ کرنے کیلئے کیا گیا۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سو رہے تھے کہ کچھ فرشتے آئے اور آپس میں کہنے لگے : تمہارے اس ساتھی کی ایک خاص حالت ہے ‘ مثال دے کر اس کی حالت بیان کرو۔ کسی فرشتے نے کہا : یہ سو رہا ہے۔ دوسرے نے کہا : اس کی آنکھ سو رہی ہے ‘ دل بیدار ہے۔ پھر فرشتوں نے کہا : اس کی حالت ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی مکان بنایا اور (مہمانوں کو کھلانے کیلئے) دسترخوان بچھایا اور لوگوں کو بلانے کیلئے ایک آدمی کو بھیجا۔ جن لوگوں نے دعوت قبول کرلی ‘ وہ اس گھر میں آگئے اور دسترخوان پر کچھ کھالیا اور جس نے دعوت قبول نہیں کی ‘ وہ گھر کے اندر نہیں آیا اور نہ دسترخوان سے کچھ کھایا۔ (دوسرے) فرشتوں نے کہا : اس مثال کی تشریح کرو تاکہ یہ شخص سمجھ جائے۔ ایک فرشتے نے کہا : یہ تو سو رہا ہے۔ دوسرے نے کہا : اس کی آنکھ سو رہی ہے ‘ دل تو بیدار ہے۔ فرشتوں نے کہا : اس کی تشریح یہ ہے کہ مکان جنت ہے اور لوگوں کو بلانے والا محمد (ﷺ) ہے۔ جس نے محمد (ﷺ) کا کہا مانا ‘ اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد (ﷺ) کی نافرمانی کی ‘ اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ لوگوں کے مختلف فرقے ہیں۔ رواہ البخاری
دارمی نے حضرت ربیعہ جرشی کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے لیکن اس روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ مجھ سے کہا گیا : (قوم کے) سردار نے ایک مکان بنایا اور دسترخوان تیار کیا اور ایک آدمی کو (عام لوگوں کو کھانے کیلئے) بلانے کیلئے بھیجا۔ پس جس شخص نے دعوت قبول کرلی ‘ وہ گھر کے اندر آگیا اور دستر خوان پر اس نے (کھانا) کھالیا اور (میزبان) سردار اس سے خوش ہوگیا اور جس نے دعوت قبول نہیں کی ‘ وہ گھر کے اندر نہیں آیا ‘ اس نے دسترخوان سے کچھ نہیں کھایا اور سردار اس سے ناخوش ہوگیا۔ فرمایا : پس اللہ سردار ہے اور محمد (ﷺ) بلانے والا ہے اور مکان اسلام ہے اور دسترخوان جنت ہے۔
بعض علماء کے نزدیک (آیت میں) سلام سے مراد یہی عرفی اسلامی سلام ہے۔ اہل جنت ‘ جنت کے اندر باہم سلام علیک کریں گے ‘ اسی لئے جنت کو دارالسلام کہا گیا اور فرشتے بھی جنت میں سلام کریں گے۔ وَالْمَلَآءِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔
ویھدی من یشآء الی صراط مستقیم۔ اور وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ بتا دیتا ہے۔ سیدھی راہ سے مراد ہے دین اسلام ‘ طریقۂ سنت اور اللہ تک پہنچنے کا راستہ۔ دعوت عمومی ہے (جنت کی طرف اللہ سب لوگوں کو بلا رہا ہے) اور ہدایت یابی مشیت خداوندی پر مؤقوف ہے۔ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ امر اور ارادہ میں فرق ہے (امر تمام لوگوں کو ہے اور ہدایت یابی کا ارادہ صرف مؤمن سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ (ازلی) کافر کو ہدایت کرنا نہیں چاہتا (اگرچہ ہدایت قبول کرنے کا حکم کافر کو بھی دیا ہے) امر الٰہی سے تخلف تو ممکن بلکہ واقع ہے ‘ بیشتر انسان اللہ کے حکم کے خلاف چلتے ہیں مگر اللہ کے ارادے کی خلاف ورزی کوئی نہیں کرسکتا۔ کفر بھی ایمان کی طرح اللہ کے ارادہ سے ہوتا ہے مگر امر کے خلاف ہوتا ہے۔ اشاعرہ کا یہی قول ہے۔ فرقۂ معتزلہ امر اور ارادہ میں فرق نہیں کرتا۔ ان لوگوں کے نزدیک کفر اور ہر قسم کا گناہ اللہ کے ارادہ سے نہیں ہوتا۔
يونس 10:26
درس نمبر 96 ایک نظر میں
للذین احسنوا الحسنٰی وزیادۃ جن لوگوں نے (دنیا میں) نیک عمل کئے ‘ ان کیلئے (آخرت میں) اچھا ثواب ہوگا اور مزید (انعام) بھی۔ رسول اللہ (ﷺ) نے احسان کی تشریح میں فرمایا : احسان (عبادت کا حسن) یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا (عبادت کے وقت) تم اس کو دیکھ رہے ہو ‘ اگر تمہارا معائنہ نہ ہو (اور یہ درجہ میسر نہ ہو تو کم سے کم اتنا یقین رکھو کہ) وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ صحیحین من حدیث عمر بن الخطاب۔ الحسنٰی سے مراد ہے اچھا ثواب ‘ یعنی جنت۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا (یعنی) لاآ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ کی شہادت دی۔ الْحُسْنٰی (یعنی) جنت وَزِیَادَۃٌ (یعنی) اللہ کی طرف دیکھنا۔
ابن جریر اور ابن مردویہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد یہی نقل کیا ہے ‘ حضور (ﷺ) نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ ایک منادی مقرر فرمائے گا جو اتنی آواز سے ندا کرے گا کہ اگلے پچھلے سب سن لیں گے : اے اہل جنت ! اللہ نے تم سے اچھے ثواب کا وعدہ کیا تھا اور زیادت کا بھی۔ اچھا ثواب جنت ہے اور مزید (انعام) رحمن کا دیدار حاصل ہونا۔
ابن جریر ‘ ابن مردویہ ‘ لالکانی اور ابن ابی حاتم نے مختلف سندوں سے حضرت ابی بن کعب کی مرفوع حدیث ایسی ہی نقل کی ہے۔ ابن مردویہ ‘ ابو الشیخ اور لالکانی نے حضرت انس کی مرفوع حدیث ‘ نیز ابو الشیخ نے حضرت ابوہریرہ کی مرفوع روایت بھی اسی مضمون کی بیان کی ہے۔
ابن جریر ‘ ابن مردویہ ‘ ابن المنذر اور ابو الشیخ نے اپنی اپنی تفسیروں میں اور لالکانی نے ‘ نیز اجری نے کتاب الرویتہ میں حضرت ابوبکر صدیق کا قول نقل کیا ہے۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر ‘ ابو الشیخ ‘ لالکانی اور اجری نے حضرت حذیفہ بن یمان کا قول اس آیت کے ذیل میں یہی بیان کیا ہے۔
ہناد ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابو الشیخ اور لالکانی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کا قول بھی یہی نقل کیا ہے۔ ابن مردویہ نے عکرمہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ ابن ابی حاتم اور لالکانی نے بطریق سدی از ابو مالک از ابو صالح حضرت ابن عباس کا قول اور عکرمہ کے حوالہ سے حضرت ابن مسعود کا قول بھی یہی لکھا ہے۔ لالکانی نے یہی تفسیری قول اپنی اسنادوں سے حضرت سعید بن مسیب ‘ حسن بصری ‘ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ‘ عامر بن سعید بجلی ‘ ابن ابی اسحاق سبیعی ‘ عبدالرحمن بن سابط ‘ عکرمہ ‘ مجاہد اور قتادہ کی طرف منسوب کیا ہے۔
قرطبی نے کتاب الرویتہ میں لکھا ہے : یہ تفسیر صحابہ اور تابعین میں مستفیص اور مشہور تھی اور ایسی اجماعی تفسیر رسول اللہ (ﷺ) سے سنے بغیر نہیں کی جاسکتی۔
مسلم اور ابن ماجہ نے حضرت صہیب کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہوچکیں گے تو اللہ ان سے فرمائے گا : کیا تم اس سے زیادہ کچھ اور چاہتے ہو ؟ جنتی عرض کریں گے : کیا تو نے ہمارے چہرے روشن نہیں کر دئیے ‘ کیا تو نے ہم کو جنت میں داخل نہیں کردیا ‘ کیا تو نے ہم کو دزخ سے نہیں بچا لیا (اس سے زیادہ ہم اور کس چیز کی خواہش کرسکتے ہیں) اللہ فوراً (اپنے چہرہ سے) پردہ اٹھا لے گا اور اہل جنت اللہ کی طرف دیکھیں گے۔ پس اس وقت تک جو کچھ ان کو دیا گیا ہوگا ‘ سب سے زیادہ محبوب ان کو اللہ کی طرف دیکھنا ہوگا (یعنی اللہ کے دیدار کے مقابلہ میں جنت کی ساری نعمتیں ہیچ ہوجائیں گی) قرطبی نے لکھا ہے : پردہ کھول دینے سے یہ مراد ہے کہ اللہ کے دیدار سے تمام رکاوٹیں دور کردی جائیں گی اور جنتی اپنی آنکھوں سے نور عظمت و جلال کو اسی طرح دیکھیں گے جس طرح وہ ہے۔ گویا پردہ مخلوق کیلئے پردہ ہے (مخلوق اس کو اب یہاں نہیں دیکھ سکتی ‘ اس کی آنکھوں کیلئے پردہ ہے) خالق کیلئے پردہ نہیں ہے (وہ مخفی نہیں ہے بلکہ مخلوق کی آنکھوں پر حجاب ہے) ۔
ولا یرھق وجوھھم قترو لاذلۃ اور ان کے چہروں پر نہ (غم کی) کدورت چھائے گی نہ ذلت۔ ابن ابی حاتم وغیرہ نے حضرت ابن عباس و حضرت ابن مسعود کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ قتر اس غبار کو کہتے ہیں جس میں سیاہی ہو۔ ذلت کا معنی ہے : حقارت ‘ یعنی دوزخیوں کی طرح اہل جنت کے چہروں پر نہ غبار کی سیاہی چھائی ہوئی ہوگی نہ ذلت۔
اولئک اصحٰب الجنۃ ھم فیھا خٰلدون یہ ہی اہل جنت ہوں گے جس کے اندر ہمیشہ رہیں گے۔ جنت کی نعمتوں کا زوال نہ ہوگا نہ وہ کبھی فنا ہوں گی۔
يونس 10:27
والذین کسبوا السیات جزاء سیءۃ بمثلھا وترھقھم ذلۃ اور جن لوگوں نے برے کام کئے ‘ ان کو بدی کی سزا بدی کے برابر ملے گی ‘ اور ان پر ذلت چھائے گی۔ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا کا عطف اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْاپر ہے ‘ یا یہ مبتداء ہے اور جزآء سیءۃ خبر ہے ‘ یا کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ خبر ہے ‘ یا اولٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّار خبر ہے۔ تَرْھَقُھُمْ یعنی ان کو ڈھانک لے گی۔
مالھم من اللہ من عاصم ان کو اللہ کے غضب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ مِنْ عَاصِمٍ میں مِنْ زائد ہے۔ یا اللہ کی طرف سے کوئی بھی ان کو عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا۔
کانما اغشیت وجوھھم قطعًا من الیل مظلمًا ایسا معلوم ہوگا کہ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت پرت لپیٹ دئیے گئے ہیں۔ قِطع جمع ہے ‘ اس کا واحد قطعۃ ہے۔ مِنَ الَّیْلِ قِطَعًا کا بیان ہے ‘ مُظْلِمًا الیل سے حال ہے۔
اولئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون یہی لوگ دوزخی ہیں ‘ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
شبہ : فرقۂ معتزلہ قائل ہے کہ مرتکب کبائر ہمیشہ دوزخ میں رہے گا (یعنی گناہ کبیرہ کرنے والا مؤمن نہیں رہتا) اس آیت سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے۔
جواب : السَّءِّاٰت (بدیاں ‘ برے اعمال) کا لفظ صغیرہ گناہوں کو بھی ہے اور کبیرہ گناہوں کو بھی اور کفر کو بھی شامل ہے۔ اب اگر اس لفظ کا عمومی معنی مراد لیا جائے گا تو صغیرہ گناہ کے مرتکب کو بھی دوامی دوزخی کہنا پڑے گا اور اس کا کوئی قائل نہیں۔ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍم بِمِثْلِھَا بھی اس قول کے خلاف شہادت دے رہا ہے کیونکہ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ سزا کے درجات مختلف ہیں۔ کبیرہ گناہ کی سزا صغیرہ سے زیادہ اور کفر سے کم ہے۔ لامحالہ اولٰٓءِکَ کا اشارہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ کی طرف عموماً نہیں ہو سکتا بلکہ مرتکبین سیّآت کے بعض کی طرف ہوگا ‘ یعنی صرف کفار کی طرف ہوگا۔ جیسا والْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھُنَّ کے بعد وَبَعْوْلَتُھنَّ احق بِرَدِّھِنَّ آیا ہے اور ھن کا مرجع عام مطلقات نہیں ہیں (بلکہ وہ عورتیں ہیں جن کو رجعی طلاق دی گئی ہو) ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے مراد کفار ہوں کیونکہ ان کے مقابل اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا کو ذکر کیا گیا ہے اور چونکہ ایمان تمام نیکیوں کی چوٹی ہے ‘ اسلئے کبیرہ گناہ کرنے والے مؤمن بھی اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا میں داخل ہیں اور جب مرتکبین کبائر کو اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا شامل ہے تو لامحالہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے مراد کفار ہی ہوں گے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے وہ بدکار مراد ہوں جو رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ میں موجود تھے ‘ کیونکہ مؤمن جو رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ میں تھے ‘ وہ سب صحابی تھے اور صحابہ کا عدول (غیرفاسق) ہونا بالاجماع ثابت ہے۔ اگر کسی صحابی سے کسی گناہ کا صدور ہو بھی جاتا تھا تو وہ فوراً توبہ کرلیتا تھا جس کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتا تھا۔ گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے ‘ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بدکار گناہگار اس زمانہ میں صرف کافر تھے اور اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا سے وہی لوگ مراد ہیں۔
يونس 10:28
ویوم نحشرھم جمیعًا اور وہ دن بھی یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ‘ یعنی دونوں فریقوں کو۔
ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکآؤکم پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : تم اور جن کو تم شریک بناتے تھے (سب) اپنی جگہ ٹھہرو۔ تاکہ جو عمل ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں اس کو دیکھ لو۔ شرکاء سے مراد بت ہیں۔
فزیلنا بینھم پھر ہم ان (کافروں اور ان کے معبودوں) کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ یعنی ان کے دنیوی رشتے اور تعلقات ہم کاٹ دیں گے یہاں تک کہ باطل معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مؤمنوں سے ان کو الگ کردیں گے۔ دوسری روایت میں بھی یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ اَیَّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔
وقال شرکاؤھم ما کنتم ایانا تعبدون۔ اور ان سے ان کے شرکاء یعنی بت کہیں گے : تم ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ مطلب یہ کہ اپنی پوجا کرنے کا ہم نے ان کو حکم نہیں دیا تھا (انہوں نے خواہ مخواہ ازخود ہم کو معبود بنایا تھا) اللہ بتوں کو گویا بنا دیں گے ‘ وہ بجائے شفاعت کرنے کے رو در رو کافروں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرکاء سے مراد ملائکہ اور مسیح ہیں۔ مسیح اور ملائکہ نے مشرکوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ تم ہماری پوجا کرو ‘ نہ وہ کافروں کے اس فعل کو پسند کرتے تھے۔
معبودان باطل جب مذکورۂ بالا کلام کریں گے تو مشرک کہیں گے : ہرگز نہیں ‘ ہم تو تمہاری پوجا کرتے تھے۔ اس کے جواب میں بت کہیں گے :
فکفٰے باللہ شھیدًا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغٰفلین۔ سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے ہم تو تمہاری عبادت سے بیخبر تھے ‘ نہ سنتے تھے ‘ نہ دیکھتے تھے ‘ نہ سمجھتے تھے۔
يونس 10:29
ویوم نحشرھم جمیعًا اور وہ دن بھی یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ‘ یعنی دونوں فریقوں کو۔
ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکآؤکم پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : تم اور جن کو تم شریک بناتے تھے (سب) اپنی جگہ ٹھہرو۔ تاکہ جو عمل ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں اس کو دیکھ لو۔ شرکاء سے مراد بت ہیں۔
فزیلنا بینھم پھر ہم ان (کافروں اور ان کے معبودوں) کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ یعنی ان کے دنیوی رشتے اور تعلقات ہم کاٹ دیں گے یہاں تک کہ باطل معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مؤمنوں سے ان کو الگ کردیں گے۔ دوسری روایت میں بھی یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ اَیَّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔
وقال شرکاؤھم ما کنتم ایانا تعبدون۔ اور ان سے ان کے شرکاء یعنی بت کہیں گے : تم ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ مطلب یہ کہ اپنی پوجا کرنے کا ہم نے ان کو حکم نہیں دیا تھا (انہوں نے خواہ مخواہ ازخود ہم کو معبود بنایا تھا) اللہ بتوں کو گویا بنا دیں گے ‘ وہ بجائے شفاعت کرنے کے رو در رو کافروں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرکاء سے مراد ملائکہ اور مسیح ہیں۔ مسیح اور ملائکہ نے مشرکوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ تم ہماری پوجا کرو ‘ نہ وہ کافروں کے اس فعل کو پسند کرتے تھے۔
معبودان باطل جب مذکورۂ بالا کلام کریں گے تو مشرک کہیں گے : ہرگز نہیں ‘ ہم تو تمہاری پوجا کرتے تھے۔ اس کے جواب میں بت کہیں گے :
فکفٰے باللہ شھیدًا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغٰفلین۔ سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے ہم تو تمہاری عبادت سے بیخبر تھے ‘ نہ سنتے تھے ‘ نہ دیکھتے تھے ‘ نہ سمجھتے تھے۔
يونس 10:30
ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا اور اپنے گذشتہ اعمال کے نفع و ضرر کو دیکھ لے گا۔
وردوا الی اللہ مولھم الحق اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے ‘ لوٹائے جائیں گے۔ یعنی اللہ کے فیصلہ کی طرف یا اللہ کے عذاب کی طرف۔ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ہی حقیقت میں ان کا مالک اور ان کے امور کا ذمہ دار ہے ‘ وہ معبود مالک نہیں جن کو کافروں نے معبود بنا رکھا ہے۔
ایک شبہ : کافروں کا تو کوئی مولیٰ نہیں ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاَنَّ الْکَافِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَھُمُ ۔
ازالہ : آیت زیر بحث میں مولیٰ کا معنی ہے رب اور مالک اور لاَ مَوْلٰی لَھُمُ میں مولیٰ کا معنی ہے مددگار اور حمایتی۔
وضل عنھم ما کانوا یفترون۔ اور جو معبود انہوں نے (از خود) تراش رکھے تھے ‘ وہ سب غائب ہوجائیں گے ‘ کھو جائیں گے (کوئی بھی ان کا ساتھی نہ ہوگا) یَفْتَرُوْنَکا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو شفیع سمجھے ہوئے تھے ‘ یا ان معبودیت کے مدعی تھے۔
يونس 10:31
قل من یرزقکم من السماء والارض آپ پوچھئے کہ آسمان سے (پانی برسا کر اور زمین سے سبزہ پیدا کر کے) تم کو کون رزق دیتا ہے۔ یا یہ مطلب کہ آسمان اور زمین والوں میں کون تم کو رزق دیتا ہے۔
امن یملک السمع والابصار یا وہ کون ہے جو تمہارے کانوں اور آنکھوں پر پورا اختیار رکھتا ہے ‘ یعنی کون تم کو سنا اور دکھا سکتا ہے۔ کس کی قدرت ہے کہ جو بات سنانی اور جو چیز دکھانی چاہے وہ تم کو سنا اور دکھا سکے۔ یا یہ مطلب ہے کہ کس نے تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقت دی اور کس نے شنوائی اور بینائی کی تخلیق کی اور ان کو ٹھیک رکھا۔ یا یہ معنی ہے کہ باوجود کثرت حوادث و امراض کے کون تمہاری شنوائی اور بینائی کو محفوظ رکھتا ہے اور کون ان کو متاثر ہونے سے بچاتا ہے۔
ومن یخرج الحی من المیت ویخرج المیت من الحی اور کون زندہ جاندار کو مردہ نطفہ اور انڈے سے اور نطفہ اور انڈے کو زندہ جاندار سے پیدا کرتا ہے۔
ومن یدبر الامر اور کون تمام امور کا انتظام کرتا ہے اور سب کاموں کے انجام و نتائج کو جانتا ہے۔
فسیقولون اللہ سو وہ (جواب میں) کہیں گے کہ (ایسا کرنے والا) اللہ ہے۔ یعنی ان امور کی نسبت وہ خودساختہ شریکوں کی طرف نہیں کرسکیں گے۔
فقل افلا تتقون تو ان سے کہئے : پھر شرک سے کیوں نہیں پرہیز کرتے۔ یعنی بےطاقت ‘ عاجز مخلوق کو اللہ قادر کے ساتھ معبودیت میں شریک کرتے تم کیوں نہیں ڈرتے ‘ اللہ کے عذاب کا خوف کیا تم کو نہیں۔
يونس 10:32
فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔
ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔
فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔
فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف) کہاں پھرے جاتے ہو۔
يونس 10:33
فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔
ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔
فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔
فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف) کہاں پھرے جاتے ہو۔
يونس 10:34
قل ھل من شرکائکم من یبدوا الخلق ثم یعیدہ آپ پوچھئے کہ تمہارے (مفروضہ) شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو پہلی بار بھی مخلوق کو پیدا کر کے پھر دوبارہ بھی پیدا کرے۔ یعنی آغاز آفرینش وہی کرتا ہے ‘ پھر اس کو معدوم کر کے دوبارہ وہی پیدا کرتا ہے ‘ ایسا اس کے سوا کون کرسکتا ہے۔
قل اللہ یبدؤا الخلق ثم یعیدہ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی پہلی بار پیدا کرتا ہے ‘ پھر وہی اس کو دوبارہ پیدا کرے گا (فنا کے بعد جیسا کہ پہلے تھا) ۔
فانی تؤفکون۔ پھر (حق سے باطل کی طرف) کہاں پھرے جا رہے ہو۔ یعنی اللہ کی عبادت سے دوسروں کی عبادت کی طرف کس طرح مڑتے ہو۔ دلیل کا تقاضا تو وحدت معبودیت اور نفی شرک ہے۔
يونس 10:35
قل ھل من شرکائکم من یھدی الی الحق آپ پوچھئے کہ کیا تمہارے (مفروضہ) شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو (دلائل قائم کر کے اور پیغمبروں کو بھیج کر اور صحیح غور وفکر کی توفیق عطا فرما کر اور ہدایت کے طریقے پیدا کر کے) حق کا راستہ بتاتا ہے۔
قل اللہ یھدی الحق آپ (خود ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ ہی حق کی ہدایت کرتا ہے ‘ کسی اور میں اس کی طاقت نہیں۔
افن یھدی الی الحق احق ان یتبع امن لا یھدی الا ان یھدی تو پھر کیا وہ زیادہ اتباع کے لائق ہے جو امر حق کا راستہ بتاتا ہو یا وہ جس کو بغیر بتائے ہوئے خود ہی راستہ نہ سوجھے۔ یعنی جس وقت اللہ اس کو ہدایت کر دے تو وہ خود بھی ہدایت پا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی ہدایت کرسکتا ہے۔ اللہ کی ہدایت کے بغیر وہ کچھ نہیں کرسکتا۔ مشرکوں کے بڑے بڑے (مفروضہ) شرکاء کا یہی حال ہے۔ مسیح اور عزیر اور ملائکہ (جن کو مشرک اللہ کی عبادت میں شریک قرار دیتے ہیں) خود ہدایت یابی اور ہدایت دہی کیلئے اللہ کے محتاج ہیں۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ہدایت کا معنی ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہونا۔ اس آیت میں بتوں کی بےبسی ظاہر کی گئی ہے کہ وہ خود منتقل نہیں ہو سکتے ‘ دوسرے لوگ اٹھا کر ان کو منتقل کرتے ہیں ‘ پھر معبود ہونے کے کیسے مستحق ہو سکتے ہیں۔
فمالکم کیف تحکمون پس (اے کافرو ! ) تم کو کیا ہوگیا ‘ تم کس طرح ایسا فیصلہ کر رہے ہو جس کا باطل ہونا بالکل ظاہر ہے۔
يونس 10:36
وما یتبع اکثرھم الا ظنًا اور ان میں سے اکثر لوگ (اپنے عقائد میں) صرف گمان پر چلتے ہیں۔ ان کے گمان کی تائید نہ عقلی دلائل سے ہوتی ہے نہ نقلی براہین سے۔ محض بیہودہ خیالات اور غلط قیاس انہوں نے قائم کر رکھے ہیں۔ غائب کو حاضر پر اور خالق کو مخلوق پر ایک موہوم نقطۂ اشتراک کی وجہ سے قیاس کرنا ‘ ایک بےحقیقت گمان سے زائد نہیں۔
اکثر سے مراد سب ہی کافر ہیں (کیونکہ سب ہی کافر توہم پرست ہیں اور شرک کی کوئی معقول دلیل کسی کے پاس بھی نہیں ہے) یا اکثر سے وہ لوگ مراد ہیں جو تمیز اور غور و فکر کے مدعی ہیں اور کو رانہ تقلید کے منکر ہیں (کیونکہ جب اہل دانش وتمیز وہم کو فہم اور گمان کو یقین سمجھے ہوئے ہیں تو عام کافروں کی توہم پرستی تو بدرجۂ اولیٰ واضح ہے ‘ وہ تو مدعی دانش بھی نہیں ہیں) ۔
ان الظن لایغنی من الحق شیءًا بلاشبہ دماغی تک بندی ‘ علم اور اعتقاد حق کے مقابلہ میں بالکل بیمار ہے۔ کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی ‘ یا حق کا کوئی حصہ اس سے حاصل نہیں ہو سکتا۔
اس آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ اعتقادی مسائل میں محض دماغی تک بندی اور دوسروں کی (کورانہ) تقلید جائز نہیں بلکہ عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں علم یقینی حاصل کرنا ضروری ہے۔
ان اللہ علیم بما یفعلون۔ ان کی حرکتوں سے اللہ بخوبی واقف ہے۔ اس میں وعید ہے ان لوگوں کیلئے جو عقلی اور نقلی دلائل سے منہ موڑ کر تو ہم و تقلید کا اتباع کرتے ہیں۔
يونس 10:37
وما کان ھذا القرآن ان یفترٰی من دون اللہ اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ اللہ کی طرف سے نازل ہوئے بغیر ازخود اس کو بنا لیا جائے اور ان کی طرف اس کی نسبت کردی جائے۔
ولکن تصدیق الذی بین یدیہ بلکہ یہ تو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔
الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ سے مراد یا رسول اللہ (ﷺ) کی ذات مبارک ہے ‘ یا گزشتہ کتب الٰہیہ (ترجمہ میں یہی بیان کیا ہے) یا قیامت ‘ یا بعثت نبوی جس کی خبر سابق کتابوں میں دے دی گئی تھی۔
و تفصیل الکتب لاریب فیہ من رب العٰلمین۔ اور احکام ضروریہ (الٰہیہ) کی تفصیل بیان کرنے والا ہے ‘
اس میں کوئی بات شک (و شبہ) کی نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے۔
تفصیل الکتاب (احکام ضروریہ کی تفصیل) یعنی لوح محفوظ میں اللہ کے احکام ‘ فرائض اور حلال و حرام کی تشریح ہے۔ اس کا بیان یہ قرآن ہے۔ لاَ رَیْبَ فِیْہِ یعنی اس میں کوئی بات شک کے قابل نہیں کیونکہ یہ گزشتہ آسمانی کتابوں کے بالکل موافق ہے۔
سابق آیت میں دماغی تک بندیوں کے اتباع کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس آیت میں واجب الاتباع کتاب کا ذکر ہے اور تنبیہ ہے کہ اس قرآن کا اتباع کیا جائے۔ اس کا اتباع لازم ہے۔
يونس 10:38
ام یقولون افتراہ قل فاتوا بسورۃ مثلہ کیا یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ آپ نے ازخود بنا کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ آپ کہہ دیجئے کہ پھر تم بھی اس کی طرح ایک سورت ہی بنا لاؤ۔ یعنی اگر میں نے اس کو ازخود بنا لیا ہے تو تم بھی کوئی ایک سورت ہی ایسی بنا لاؤ جو بلاغت ‘ اسلوب عبات اور قوت معنی میں قرآن کی طرح ہو۔ آخر تم بھی میری طرح عرب اور قادر الکلام اور عبارت و اسلوب کے ماہر ہو۔
وادعوا من استطعتم من دون اللہ ان کنتم صدقین۔ اور اللہ کے علاوہ (اپنے مددگاروں میں سے) جس کو تم (اپنی مدد کیلئے) بلا سکتے ہو بلا لو ‘ اگر تم سچے ہو کہ محمد (ﷺ) نے اس کو خود بنا لیا ہے۔ اس آیت میں قرآن کی عبارت اور معانی پر غور کرنے اور مناظرہ کیلئے مددگاروں کو بلانے کی دعوت دی گئی ہے ‘ اسلئے آگے فرمایا :
يونس 10:39
بل کذبوا بما لم یحیطوا بعلمہ ولا بانھم تاویلہ بلکہ ایسی چیز کی تکذیب کرنے لگے جس کے علم کا احاطہ انہوں نے نہیں کیا اور ابھی اس کی حقیقت ان کے سامنے نہیں آئی۔
یعنی ان کا کلام اور قرآن کی حقانیت سے انکار کسی غور و تحقیق پر مبنی نہیں ہے بلکہ قرآن کی حقیقت کو جانے بغیر اور بلا غور و فکر کے فقط سنتے ہی انہوں نے قرآن کو اللہ کا کلام ماننے سے انکار کردیا۔ انہوں نے ابھی سوچا ہی نہیں کہ یہ کلام انسانی طاقت سے باہر ہے۔ قرآن نے جو غیب کی خبریں بتائی ہیں ‘ مبدء اور معاد سے آگاہی اور ثواب و عذاب کی اطلاع دی ہے ‘ ابھی تک اس کے ظہور کا موقع ہی نہیں آیا ہے۔ ان پر لازم تھا کہ کتب سابقہ کے عالموں سے پوچھتے کہ یہ باتیں جو قرآن بیان کر رہا ہے ‘ ان کی کتابوں میں بھی ہیں یا نہیں۔ اس تحقیق سے یقیناً قرآن کی سچائی ان پر واضح ہوجاتی۔ قرآن کی عبارت اور تعلیم و معانی کا معجز ہونا ان لوگوں پر ظاہر ہو سکتا ہے جو غور کریں ‘ سوچیں اور قرآنی علوم کی تحقیق کریں۔ انہوں نے تو نہ الفاظ قرآن پر غور کیا نہ معانی کی تفتیش کی اور لگے فوراً انکار کرنے۔
لَمَّا یَأتِھِمْابھی تک اس کی حقیقت سامنے نہیں آئی۔ لَمَّا اس جگہ توقع کا لفظ ہے جو قرآن کے اعجاز کے ظاہر ہونے کی امید دلا رہا ہے۔ چناچہ جب بار بار ان کو دعوت مقابلہ دی گئی اور پوری طاقتیں انہوں نے قرآن کے مقابلہ میں صرف کردیں اور تجربہ کرلیا اور مقابلہ کی طاقتوں نے کچھ کام نہ دیا تو قرآن کا معجز ہونا ان پر ظاہر ہوگیا۔ اسی طرح قرآن کی دی ہوئی خبریں بار بار سامنے آگئیں اور سچی ثابت ہوگئیں ‘ جیسے غُلِبَتِ الرُّوْمُ الخ میں ہے کہ رومی مغلوب ہوگئے لیکن عنقریب غالب ہوجائیں گے۔ چناچہ آئندہ رومی ‘ ایرانیوں پر غالب ہوگئے۔ یا جیسے تَبَّتْ یَدآ اَبِی لَھَبِ وَّتَبَّ میں ابولہب کی ہلاکت کی پیشین گوئی کی گئی اور وہ پوری ہو کر رہی۔ اس تجربہ کے بعد کچھ لوگ ایمان لے آے اور کچھ جذبۂ عناد کے زیر اثر کافر رہے۔ حقیقت ‘ معاندین کے سامنے بھی آگئی تھی ‘ وہ حقانیت کو پہچان چکے تھے۔ یَعْرِفُوْنَّہُ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَھُمْ ۔ دلوں سے ان کو بھی قرآن کی صداقت کا یقین ہوچکا تھا مگر عناداً ماننے سے انکار کردیا۔ وَجَحَدُوْا بِھَا وَاسْتَیْقَنَتْھَآ اَنْفُسُھُمْ ۔
کذلک کذب الذین من قبلھم اسی طرح (پیغمبروں اور اللہ کی کتابوں کی) تکذیب کی تھی ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے۔ یعنی ان لوگوں نے قرآن کی جس طرح تکذیب کی ‘ اسی طرح ان سے پہلے کے کافروں نے اپنی اپنی الٰہی کتابوں اور خدائی فرستادوں کی تکذیب کی تھی۔
فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین۔ لیکن دیکھ لو کہ ان ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ یہ تنبیہ ہے قرآن کے منکروں کو کہ اگر یہ باز نہ آئے تو ان کا بھی وہی نتیجہ ہوگا جو گزشتہ منکرین کا ہوا۔
يونس 10:40
ومنھم من یؤمن بہ اور ان تکذیب کرنے والوں میں سے کچھ لوگ (غور و فکر کرنے کے بعد قرآن کی صداقت پر دلوں میں) ایمان رکھتے ہیں۔ یا یہ مطلب کہ آئندہ جب قرآن کی حقانیت ان پر واضح ہوجائے گی تو ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئیں گے اور کفر سے توبہ کریں گے۔ لَمَّا سے آئندہ مؤمن ہوجانے کی توقع دلائی تھی ‘ اس جملہ میں توقع پوری ہونے کی صراحت کردی۔
ومنھم من لا یؤمن بہ اور ان میں سے کچھ لوگ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ ایمان نہ لانے کی وجہ یا تو ان کی انتہائی حماقت ہے ‘ یا یہ وجہ ہے کہ ان کا کفر پر مرناپہلے سے تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے ‘ اسلئے ایمان نہیں لائیں گے۔
وربک اعلم بالمفسدین۔ اور آپ کا رب ان مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔ یعنی ضد پر اڑنے والوں اور عناد کرنے والوں سے وہ خوب واقف ہے۔
يونس 10:41
وان کذبوک فقل لی عملی ولکم عملکم انتم بریؤن مما اعمل وانا برئ مما تعملون۔ اور (دلیل قائم ہونے اور لاجواب ہونے کے بعد بھی) اگر یہ آپ کی تکذیب کرتے رہیں تو آپ ان سے (بیزاری کا اظہار کر دیجئے اور) کہہ دیجئے : میرا عمل میرے لئے اور تمہارا عمل تمہارے لئے ہے (میرے عمل کا بدلہ مجھے ملے گا اور تمہارے عمل کا بدلہ تم کو ملے گا) تم میرے اعمال سے الگ ہو (میرے عمل کا مؤاخذہ تم سے نہ ہوگا ‘ میرا فعل تم کو ضرر نہیں پہنچا سکتا ‘ لہٰذا مجھے دکھ نہ دو اور مجھ پر تہمت تراشی نہ کرو) اور میں تمہارے عمل سے بیزار ہوں ‘ تمہارے اعمال کی گرفت مجھ سے نہ ہوگی۔ میں تو تم سے جو کچھ کہتا ہوں تمہاری بہتری کیلئے کہتا ہوں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : جو چیز مجھے دے کر اللہ نے بھیجا ہے ‘ اس کی اور میری حالت اس شخص کی طرح ہے جس نے قوم والوں سے کہا ہو کہ (اس پہاڑ کے اس طرف) میں نے اپنی آنکھوں سے (دشمن کی) فوج دیکھی ہے (جو تم پر آخر رات میں حملہ کر دے گی اور تم کو قتل و غارت کر دے گی) میں تم کو اس خطرہ سے آگاہ کئے دیتا ہوں۔ بہت جلد (یہاں سے) نکل جاؤ اور بھاگ کر چلے جاؤ۔ اس شخص کے قول کو کچھ لوگوں نے مان لیا اور فرصت کو غنیمت سمجھ کر رات ہی کو چل دئیے ‘ اس طرح دشمن کے حملہ سے بچ گئے اور کچھ لوگوں نے اس شخص کو جھوٹا سمجھا اور صبح تک اپنی جگہ پر ڈٹے رہے۔ صبح کو دشمن کی فوج نے ان پر حملہ کردیا ‘ سب کو تباہ کردیا اور ان کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا۔ یہی حالت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے میری لائی ہوئی تعلیم کو مانا اور میری تصدیق کی ‘ یا تکذیب کی اور میری لائی ہوئی صداقت کو نہ مانا۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم من حدیث ابی موسیٰ ۔
کلبی اور مقاتل نے کہا : آیت جہاد سے یہ آیت منسوخ ہے جیسے لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ منسوخ ہے۔
يونس 10:42
ومنھم من یستمعون الیک اور ان میں سے کچھ لوگ آپ کی طرف (بظاہر) کان لگاتے ہیں۔ جب آپ قرآن پڑھتے ہیں اور حکمت و شریعت کی باتیں کرتے ہیں تو بظاہر کان لگا کر سنتے ہیں لیکن دل کے کانوں سے نہیں سنتے ‘ دلوں سے توجہ نہیں کرتے۔ حکمت و شریعت کی حقیقت کو اپنی استعداد کی خرابی کی وجہ سے نہیں سمجھتے ‘ گویا وہ ایسے پیٹ بھرے ہیں جو کان لگاتے ہیں اور شنوائی کی طاقت نہ ہونے کی وجہ سے سن نہیں پاتے۔
افانت تسمع الصم ولو کانوا لا یعقلون۔ تو کیا آپ بہروں کو سنا دیں گے جبکہ وہ بےسمجھ بھی ہوں۔ اگر بہرے کے پاس سمجھ ہو تو قرائن کی وجہ سے وہ کچھ سمجھ بھی لیتا ہے اور بےسمجھ بہرا ہو تو وہ کچھ نہیں سمجھ سکتا۔ پس جس طرح بےعقل بہرے کو آپ نہیں سنا سکتے ‘ ایسے ہی ان لوگوں کو نہیں سنا سکتے جو گوش دل سے سننے اور فکر و نظر سے سمجھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔
يونس 10:43
ومنھم من ینظر الیک اور ان میں سے کچھ لوگ آپ کی طرف اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ‘ سچائی کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ علامات نبوی ان کو نظر آتی ہیں لیکن ان کے دل نابینا ہیں۔ قلبی بینائی نہ ہونے کی وجہ سے تصدیق نہیں کرتے (گویا وہ اندھے بھی ہیں اور بےبصیرت بھی) ۔
افانت تھدی العمی ولو کانوا لا یبصرون۔ تو کیا آپ اندھوں کو راہ دکھا دیں گے خواہ وہ (بےبصر ہونے کے ساتھ) بےبصیرت بھی ہوں۔ مفقود البصر اگر معدوم البصیرت بھی ہو تو اس کو راستہ کیسے نظر آسکتا ہے۔
ایمان نہ لانے والے کافروں سے بیزاری ظاہر کرنے اور رخ پھیر لینے کا سابق آیت میں حکم دیا تھا۔ ان دونوں جملوں میں اس حکم کی علت بھی بیان فرما دی جس سے رسول اللہ (ﷺ) کو تسلی دینا بھی مقصود ہے کہ وہ بہرے جن میں شنوائی کی طاقت ہی نہ ہو اور وہ اندھے جو معدوم البصیرت ہوں ‘ ان کو تم سنا سکتے ہو نہ راہ دکھا سکتے ہو۔ پس جن کو میں نے ایمان سے محروم کردیا ہے ‘ تم ان کو توفیق ایمان نہیں دے سکتے۔
يونس 10:44
ان اللہ لا یظلم الناس شیءًا ولکن الناس انفسھم یظلمون۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بالکل ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں۔ اپنی فطری صلاحیتوں کی خرابی اور اختیار و پسندیدگی کی غلطی کی وجہ سے اللہ اور اللہ کے رسول (ﷺ) کے بتائے ہوئے راستے کو صحیح نہیں مانتے۔
رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جو ہدایات (اور دینی تعلیم) اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ‘ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی زمین پر خوب بارش ہو تو زمین کو جو ٹکڑا اچھا ہوتا ہے ‘ وہ پانی لے لیتا ہے پھر اس میں سبزہ ‘ گھاس ‘ چارہ بکثرت ہوجاتا ہے اور زمین کا کچھ ٹکڑا پتھریلا سخت ہوتا ہے ‘ وہ پانی کو اپنے اندر روک لیتا ہے (اس پانی سے اس زمین کے ٹکڑے میں تو روئیدگی نہیں ہوتی مگر) اللہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے ‘ لوگ پیتے پلاتے اور کھیتیاں سینچتے ہیں۔ لیکن زمین کا ایک ٹکڑا وہ ہوتا ہے جو چٹیل میدان ہوتا ہے (پانی اس پر برستا ہے اور برس کر بہہ جاتا ہے) وہ نہ پانی کو اپنے اندر روکتا ہے نہ سبزہ پیدا کرتا ہے۔ یہی حالت اس دین کی ہے۔ کچھ لوگ دین کو سمجھتے ہیں۔ اللہ نے جو تعلیم مجھے دے کر بھیجا ہے ‘ ان کو اس تعلیم سے فائدہ ہوتا ہے۔ وہ خود بھی سیکھتے ہیں ‘ دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں اور کچھ لوگ دین کی طرف قطعاً توجہ نہیں کرتے ‘ سر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور جو ہدایت مجھے دے کر بھیجا گیا ہے ‘ اس کو قبول نہیں کرتے (متفق علیہ من حدیث ابی موسیٰ ) ۔
بعض علماء نے آیت مذکورہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ہوش و حواس اور قوت فہم کو اللہ سلب کرلے اور آلات استدلال سے محروم کر دے (اور پھر ہدایت پر چلنے کا حکم دے) اللہ ایسا ظلم نہیں کرتا۔ گویا اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کو کسب (یعنی عمل) کا اختیار ہے ‘ اس کی اختیاری طاقت اللہ نے سلب نہیں کرلی ہے (برے بھلے میں تمیز کرنے کی طاقت عام لوگوں کو بھی دی گئی ہے۔ خود آدمی اس طاقت سے کام نہ لے یا غلط کام لے تو یہ قصور انسان کا ہے) اس سے فرقۂ جبریہ کے قول کی تردید ہوتی ہے (جو انسان کو پتھر کی طرح بےبس اور مجبور جانتے ہیں) ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ منکرین نبوت و قرآن کو اس آیت میں عذاب کی وعید ہو کہ قیامت کے دن جس عذاب میں یہ لوگ گرفتار ہوں گے وہ ان پر ظلم نہ ہوگا ‘ سراسر انصاف ہوگا۔ عذاب کے اسباب کو انہوں نے خود اختیار کیا تھا (جس کے نتیجہ میں ان پر عذاب ہوگا) ۔
يونس 10:45
ویوم یحشرھم کان لم یلبثوا الا ساعۃ من النھار اور جس روز ہم ان کو جمع کریں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ (دنیا میں یا قبروں میں) ان کا قیام گویا گھڑی بھر رہا تھا۔ منظر کی ہولناکی کی وجہ سے وہ دنیوی زندگی یا قیام قبر کی میعاد کو گھڑی بھر سمجھیں گے۔
یتعارفون بینھم باہم ایک دوسرے کو پہچان لیں گے ‘ جیسے دنیا میں ان کا باہمی تعارف تھا۔ گویا تھوڑی دیر کو جدا ہوئے تھے ‘ پھر جمع ہوگئے (اور کوئی کسی کو نہیں بھولا) بغوی نے لکھا ہے : یہ باہمی شناخت قبروں سے اٹھنے کے وقت تو ہوگی ‘ پھر قیامت کی ہولناکی کی وجہ سے باہم تعارف جاتا رہے گا۔ بعض آثار میں آیا ہے کہ آدمی اپنے برابر والے کو پہچان تو لے گا مگر ہیبت اور خوف کی وجہ سے اس سے بات نہیں کرے گا۔
قد خسر الذین کذبوا بلقاء اللہ (منکرین حشر باہم تعارف کے دوران کہیں گے کہ آج) گھاٹے میں پڑگئے جنہوں نے قیامت کا (اور اللہ کے سامنے جانے کا) انکار کیا تھا۔ یا یہ اللہ کی طرف سے شہادت ہے (کافروں کا قول نہ ہوگا) ایمان چھوڑ کر کفر کو اختیار کرنا اور جنت کی جگہ جہنم نصیب ہونا بڑا گھاٹا ہے۔
وما کانوا مھتدین۔ اور نہ تھے وہ ہدایت پانے والے کہ حصول معرفت وسعادت کے جو آلات ان کو دئیے گئے تھے ‘ ان کو صحیح طور پر استعمال کرتے۔ اس جملہ میں تعجب کا مضمون ہے۔
يونس 10:46
واما نرینک بعض الذی نعدھم او نتوفینک فالینا مرجعھم اور جس عذاب کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں ‘ اس میں سے تھوڑا سا (عذاب) اگر آپ کو دکھلا دیں (تو آپ دیکھ ہی لیں گے) یا (اس کے نزول کے قبل) ہم آپ کو وفات دے دیں ‘ سو ہمارے پاس ہی تو ان کو لوٹ کر آنا ہے (عذاب سے تو چھوٹ ہی نہیں سکتے ‘ ہم آپ کو آخرت میں دکھا دیں گے) ۔
ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر (سب کو معلوم ہے کہ) اللہ ان کے سب افعال کی اطلاع رکھتا ہے۔ اطلاع سے مراد ہے نتیجۂ اطلاع (سبب بول کر مسبب مراد ہے) اسی لئے شہادت کو رجوع کا نتیجہ قرار دیا ہے (یعنی شہید کے لفظ سے مطلع ہونا مراد نہیں ہے ورنہ قیامت کے دن واپسی کے بعد اللہ کا ان کے افعال پر مطلع ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اللہ تو دنیا میں بھی ان کے افعال سے واقف ہے ‘ قیامت کے دن واپسی کے بعد ہی واقف نہیں ہوگا۔ البتہ شہید کا معنی اگر عذاب دہندہ کہا جائے تو مطلب درست ہوجائے گا کہ واپسی سب کی اللہ کے پاس ہوگی اور واپسی کے بعد اللہ ان کو عذاب دے گا) مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کے افعال سے واقف ہے ‘ قیامت کے دن اسی واقفیت کی بناء پر ان کو سزا دے گا۔ بعض علماء نے کہا : لفظ ثُمَّ بمعنی واؤ ہے (اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ ان کے اعمال سے واقف ہے۔ ان سب کی واپسی اللہ کے پاس ہوگی۔ گویا دونوں مضمون جدا جدا دو جملوں میں مستقل طور پر بیان کر دئیے گئے (کسی مضمون کا دوسرے سے تقدم و تأخر مراد نہیں ہے) مجاہد نے کہا : عذاب کا جو حصہ اللہ نے اپنے رسول (ﷺ) کو آنکھوں سے دکھا دیا ‘ اس سے بدر کے دن کا عذاب (سرداران کفر کا قتل اور کافروں کی دوامی شکست) مراد ہے ‘ باقی انواع عذاب کا مرنے کے بعد وقوع ہوگا۔
يونس 10:47
ولکل امۃ رسولٌ اور ہر امت کیلئے ایک رسول ہوا ہے۔ رسول سے مراد ہے قاصد ‘ حکم پہنچانے والا ‘ اسلام کی دعوت دینے والا۔
فاذا جآء رسولھم قضي بینھم بالقسط وھم لا یظلمون۔ سو جب ان کا رسول (ﷺ) ان کے پاس آچکا اور (اور احکام پہنچا چکا اور انہوں نے رسول (ﷺ) کی تکذیب کی تو) اس کے بعد انصاف کے ساتھ ان کا فیصلہ کیا گیا اور ان پر ظلم نہیں کیا گیا۔ یعنی جب رسول (ﷺ) نے معجزات پیش کر دئیے اور اس کے بعد بھی انہوں نے نہ مانا اور رسول (ﷺ) کو جھوٹا قرار دیا تو اللہ نے رسول (ﷺ) کا اور اس کی امت کا فیصلہ انصاف سے کردیا۔ تکذیب کرنے والوں کو ہلاک کردیا اور مؤمنوں کو اور رسول (ﷺ) کو محفوظ رکھا اور ہمارا یہ فیصلہ مبنی بر انصاف تھا۔ ہم نے عذاب دینے میں ان پر ظلم نہیں کیا۔ مجاہد اور مقاتل نے آیات کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ ہر امت کا ایک رسول ہوا ہے ‘ جس کو اس امت کی طرف بھیجا گیا تھا۔ جب قیامت کا دن ہوگا اور ہر رسول اپنی امت کے کفر و ایمان کی شہادت دینے آئے گا تو اللہ انصاف کا فیصلہ کرے گا ‘ مؤمنوں کو نجات دے گا اور کافروں کو سزا۔ دوسری آیت میں بھی یہی آیا ہے ‘ فرمایا : وَجِیْئَٓ بالنَّبِیِّیْنَ وَالشَّھَدَآءِ وَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ۔ دوسری جگہ فرمایا : فَکَیْفَ اِذَا جِءْنَا مِنْ کُلِّ اُمَّۃٍ بِشَھِیْدٍ وَجِءْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓؤُلاآءِ شَھِیْدًا۔
يونس 10:48
ویقولون متٰی ھذا الوعد اور (کفار مکہ) کہتے ہیں کہ یہ (عذاب کا) وعدہ کب (پورا ) ہوگا جس سے تم ہم کو ڈرا رہے ہو۔
ان کنتم صدقین۔ اگر تم لوگ (محمد (ﷺ) اور آپ کے ساتھی) سچے ہو تو عذاب موعود کو لے آؤ۔ کفار مکہ نے یہ بات بطور استہزاء کہی تھی۔
يونس 10:49
قل لا املک لنفسی ضرًا ولا نفعًا الا ما شآء اللہ (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنی جان کے نفع نقصان کا بھی مالک نہیں ‘ سوائے اتنی مقدار کے جتنی مقدار کا (مالک بنانا) اللہ نے چاہا۔ یعنی ضرر کو دفع کرنے اور نفع و حاصل کرنے کی مجھے قدرت نہیں۔ صرف اتنی قدرت ہے جتنی اللہ نے دینی چاہی۔ یا الاَّ مَا شَآء اللّٰہُ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے ‘ وہی ہوتا ہے۔ مجھے اپنے نفع و ضرر پر قدرت نہیں۔
لکل امۃ اجل (ا اللہ کے علم میں) ہر امت کی ہلاکت کی ایک میعاد مقرر ہے۔
اذا جاء اجلھم فلا یستاخرون ساعۃً ولا یستقدمون۔ سو جب ان کا وہ معین وقت آ پہنچتا ہے تو (اس وقت) نہ گھڑی بھر پیچھے ہٹ سکتے ہیں نہ آگے سرک سکتے ہیں۔ اَجَلُھُمْ یعنی عذاب دینے کا مقرر وقت۔ سَاعَۃً ذرا سی دیر۔ مرادیہ ہے کہ عذاب آنے کی جلدی نہ مچاؤ ‘ عنقریب اس کا وقت آجائے گا اور وعدہ پورا ہوجائے گا۔
يونس 10:50
قل ارء یتم ان اتکم عذابہ بیاتًا او نھارًا ما ذا یستعجل منہ المجرمون۔ آپ پوچھئے : یہ تو بتاؤ ‘ اگر تم پر اللہ کا عذاب رات میں آپڑے (جبکہ تم نیند میں مشغول ہو) یا دن کو (جب تم کاروبار میں مصروف ہوتے ہو) تو عذاب میں کونسی چیز ایسی ہے کہ مجرم لوگ اس کو جلدی مانگ رہے ہیں۔
مَا ذَا میں استفہام تعجبی ہے ‘ یعنی تعجب ہے کہ عذاب جیسی ناگوار چیز کو جلد طلب کر رہے ہیں۔ ناگوار چیز کی عاجلانہ طلب تو نامناسب ہے۔
اِنْ اَتٰکُمْ کی جزاء محذوف ہے ‘ یعنی اگر رات کو یا دن کو عذاب آجائے گا تو اس وقت تم کو عجلت طلبی پر ندامت ہوگی اور اپنی غلطی جان لوگے۔
بغوی نے لکھا ہے : کفار عذاب جلد آجانے کے طلبگار تھے۔ ایک شخص نے کہا تھا : اے اللہ ! اگر یہ حق ہے ‘ تیری طرف سے ہے تو ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر لے آ۔ اللہ اس کے جواب میں فرما رہا ہے : یہ کون سے عذاب کے آنے کی جلدی مچا رہے ہیں ‘ عذاب تو ہر ایک کیلئے ناگواری کی چیز ہے۔
میں کہتا ہوں : مَا ذَا یَسْتَعْجِلُالخ شرط کی جزاء ہو سکتی ہے۔ مطلب یہ ہوگا کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر آگیا تو اس وقت کس چیز کی طلب میں عجلت کرو گے ‘ کیا اسی قسم کا دوسرے عذاب مانگو گے اور عذاب میں رہنا پسند کرو گے یا رہائی کے طلبگار ہو گے ؟ ظاہر ہے کہ عذاب کے خواستگار نہ ہو گے۔
يونس 10:51
اثم اذا ما وقع امنتم بہ کیا پھر جب وہ مطلوبہ عذاب آجائے گا تو (پشیمان ہو گے اور) عذاب پر یا عذاب کی خبردینے والے پر ایمان لاؤ گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم پر عذاب آجائے گا تو کیا اس وقت بھی عذاب کی جلدی مچاؤ گے ‘ پھر اس وقت عذاب کو یا عذاب کی خبر دینے والے کو مانو گے جبکہ ایمان سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
آلن (آخرت کا عذاب دینے کے بعد یا موت کے گھنگھرو بولنے کے وقت جب تم ایمان لاؤ گے تو اس وقت تم سے کہا جائے گا) کیا اب (تم ایمان لائے ‘ ایسے وقت میں تو ایمان بےسود ہے) ۔
وقد کنتم بہ تستعجلون۔ حالانکہ (تکذیب و استہزاء کے طور پر) تم عذاب کے جلد آجانے کے خواستگار تھے۔
يونس 10:52
ثم قیل للذین ظلموا ۔ پھر ظالموں (مشرکوں ) سے کہا جائے گا کہ ہمیشہ کا عذاب چکھو۔ تم کو تو تمہارے ہی کئے کا بدلہ دیا جا رہا ہے۔
يونس 10:53
ویستنبؤک احق ھو وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہ (یعنی توحید ‘ نبوت ‘ قرآن ‘ قیامت اور عذاب وثواب) حق ہے (یا بےحقیقت ‘ محض مذاق) ۔
قل اي وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین۔ آپ کہہ دیجئے : جی ہاں ‘ اپنے رب کی قسم ! بلاشک و شبہ وہ حق ہے اور تم ہرا نہیں سکتے (یعنی اس کے آنے کو اور اس کی صداقت کو روک نہیں سکتے) مطلب یہ کہ تم اس سے چھوٹ نہیں سکتے۔ عَجَزَ عَنِ الشَّیْءِ وہ شخص فلاں چیز سے عاجز ہوگیا ‘ یعنی وہ چیز اس سے فوت ہوگئی۔
يونس 10:54
ولو ان لکل نفس ظلمت ما فی الارض لافتدت بہ اور (بالفرض) اگر ہر مشرک شخص کو (قیامت کے دن) وہ تمام (دفینے ‘ خزانے) مل جائیں جو زمین میں ہیں تو وہ عذاب سے رہا ہونے اور بچنے کیلئے سب کچھ دے دے گا۔ مَا فِی الْاَرْضِ سے مراد ہیں زمین کے خزانے اور تمام مرغوبات ارضی۔ افتداء اور فداء کا ایک ہی معنی ہے : عذاب سے بچنے کیلئے عوض دے دینا (ہر چیز کو قربان کردینا) ظلم سے مراد ہے شرک یا دوسرے شخص پر زیادتی۔
واسروا الندامۃ لما اوا العذاب اور جب عذاب کو دیکھیں گے تو (دلوں میں) پوشیدہ طور پر پشیمان ہوں گے۔
ابوعبیدہ نے کہا : اَسَرُّوا النَّدَامَۃَ سے مراد یہ ہے کہ اس وقت ندامت کو ظاہر کریں گے کیونکہ قیامت کا دن بناوٹ اور مصنوعی اظہار صبر کا نہ ہوگا ( تکلیف اتنی سخت ہوگی کہ جھوٹے صبر اور مصنوعی برداشت کو کوئی ظاہر نہ کرسکے گا) بعض علماء نے کہا : اَسَرُّوا کا معنی یہی ہے کہ وہ ندامت کو چھپائیں گے ‘ یعنی بالادست سرداران اپنے زیر اثر کمزور تابعین سے اپنی ندامت کو چھپائیں گے تاکہ ان کی وجہ سے گمراہ ہونے والے ان کو ملامت نہ کریں۔ بعض علماء نے کہا کہ اخفائے ندامت سے مراد ہے بول نہ سکنا۔ غیر متوقع اور بےگمان عذاب جب سامنے آئے گا تو انتہائی تحیر میں بول بھی نہ سکیں گے۔
بعض علماء نے کہا : کسی چیز کے خلاصہ کو سِر کہا جاتا ہے۔ راز کی طرح خلاصۂ شی قابل اخفاء و حفاظت ہوتا ہے ‘ پس اسرار کا معنی اس جگہ ہے خالص ندامت کرنا۔
وقضی بینھم بالقسط وھم لا یظلمون۔ اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا ‘ ظلم نہیں کیا جائے گا کہ بلاقصور عذاب دیا جائے۔ مطلب یہ کہ ظالموں کو مظلوموں پر ظلم کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔ ظالم و مظلوم کا فیصلہ انصاف کے ساتھ کیا جائے گا۔ اوّل قُضِیَ سے انبیاء اور ان کی امتوں کے درمیان فیصلہ کرنا مراد ہے اور اس جگہ قُضِیَسے مراد ہے مشرکوں کو شرک کی سزا دینا اور مظلوموں کو ظالموں سے ظلم کا بدلہ دلوانا ‘ یعنی ظالموں کو عذاب دینا۔
يونس 10:55
الا ان اللہ ما فی السموت والارض خوب سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ‘ اللہ ہی کا ہے۔ اسلئے وہ ثواب و عذاب دینے کی قدرت رکھتا ہے (کائنات ارضی و سماوی میں سے کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں) ۔
الا ان وعد اللہ حق خوب سمجھ لو کہ (ثواب و عذاب کا) اللہ کی طرف سے کیا ہوا وعدہ برحق ہے۔ اس کی خلاف ورزی نہیں ہو سکتی ‘ عذاب وثواب ضرور ہوگا۔
ولکن اکثرھم لا یعلمون لیکن (دانش و فہم کی کوتاہی کی وجہ سے) اکثر لوگ اس کو نہیں جانتے۔ صرف ظاہری دنیا کو جانتے ہیں۔
يونس 10:56
ھو یحی ویمیت وہی (دنیا میں) جلاتا اور موت دیتا ہے۔ پس آخرت میں وہ زندہ کرسکتا ہے اور مار سکتا ہے۔ نہ اس کی قدرت میں زوال ہو سکتا ہے ‘ نہ موت وحیات کو قبول کرنے والا بدل سکتا ہے۔
والیہ ترجعون اور (مرنے کے بعد قبروں سے اٹھ کر) تم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے) ۔
يونس 10:57
یایھا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک عظیم الشان نصیحت آگئی ہے ‘ یعنی رسول اللہ (ﷺ) کی زبانی قرآن مجید تم کو پہنچ گیا۔ قرآن پیام بیداری ہے اور ایک یادداشت ہے جو اچھی باتوں کی دعوت دے رہا ہے اور بری باتوں سے بازداشت کر رہا ہے کیونکہ یہ اوامرو نواہی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں اور اللہ حکیم ہے ‘ جس کام کو کرنے کا حکم دے رہا ہے وہ یقیناً اچھا ہے اور اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور جس کام سے روک رہا ہے وہ یقیناً برا ہے اور اس کا نتیجہ برا ہوگا۔ اچھا کام قابل رغبت اور برا کام قابل نفرت ہوتا ہے۔
و شفاء لما فی الصدور اور دلوں کی بیماریوں کیلئے شفاء بخش دوا ہے۔ امراض قلبی سے مراد ہیں غلط عقائد اور اللہ کے سوا دوسری چیزوں سے دلوں کا لگاؤ اور وابستگی۔
ابن مردویہ نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے سینہ کا دکھ ہے۔ فرمایا : قرآن پڑھا کرو۔ اللہ نے (قرآن کے متعلق) فرمایا ہے : وَشَفَآءٌ لِّمَا فِی الصَّدُوْرِلا 5 اس حدیث کی شاہد واثلہ بن اسقع کی روایت بھی ہے جس کو بیہقی نے شعب الایمان میں بیان کیا ہے۔
وھدی اور رہنما ہے۔ صحیح عقائد و افکار کا ‘ جنت کا اور اللہ کے قرب کے درجات کا راستہ بتاتا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : (قیامت کے دن) قرآن پڑھنے والوں سے کہا جائے گا : پڑھ اور چڑھتا چلا جا اور جس طرح دنیا میں ترتیل کرتا تھا ‘ اسی طرح ترتیل کر کیونکہ تیرا درجہ وہاں ہے جہاں تک تو آخری آیت پڑھنے پر پہنچے گا۔ رواہ احمد والترمذی وابو داؤد والنسائی عن عبد اللہ بن عمرو
ورحمۃ للمؤمنین۔ اور ایمان والوں کیلئے یہ اللہ کی طرف سے رحمت ہے۔ ایمان والے ہی اس سے فائدہ اٹھانے والے اور اس کو پڑھ کر اور اس کی تعلیم پر چل کر اللہ کی رحمت سے بہرہ اندوز ہونے والے ہیں۔
يونس 10:58
قل بفضل اللہ وبرحمتہ اے محمد (ﷺ) ! آپ (ا اللہ کے شکر ادا کرنے کے طور پر) کہیں کہ اللہ کے فضل و رحمت سے (یہ نصیحت ‘ شفاء ‘ ہدایت اور رحمت خدا ہم کو ملی ہے ‘ ہمارے استحقاق کو اس میں کوئی دخل نہیں) ۔
فبذلک فلیفرحوا پس (ا اللہ کے اس فضل و کرم اور حصول قرآن سے) ان کو خوش ہونا چاہئے۔ بِذٰلِکَ کی تقدیم اشارہ کر رہی ہے اس بات کی طرف کہ خوشی کی چیز قرآن اور اللہ کا فضل و کرم ہی ہے ‘ اس کے علاوہ دنیا کی کوئی راحت و نعمت موجب فرح نہیں ہے۔
بعض علماء نے کہا کہ اللہ کے فضل و رحمت سے مراد قرآن کا نزول ہی ہے۔ مجاہد اور قتادہ کا قول ہے : اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت قرآن۔ حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا : اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت یہ ہے کہ اللہ نے ہم کو اہل قرآن بنایا۔
ابو الشیخ وغیرہ نے حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ان کو خوش ہونا چاہئے اللہ کے فضل سے یعنی قرآن سے اور اللہ کی رحمت سے ‘ یعنی اس بات سے کہ اللہ نے ان کو اہل قرآن میں سے بنایا۔
حضرت ابن عمر نے فرمایا : اللہ کا فضل اسلام ہے اور اللہ کی رحمت یہ ہے کہ اللہ نے اسلام کو ہمارے دلوں میں محبوب بنا دیا۔
حضرت خالد بن معدان نے فرمایا : اللہ کا فضل اسلام ہے اور اللہ کی رحمت رسول اللہ (ﷺ) کی سنت۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللہ کا فضل ایمان ہے اور اللہ کی رحمت سنت۔
ھو خیر مما یجمعون۔ وہ (یعنی قرآن کا نزول یا اللہ کا فضل و رحمت) اس (دنیوی متاع حقیر) سے بہتر ہے جس کو وہ جمع کر رہے ہیں۔
يونس 10:59
قل ارء یتم ما انزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حرامًا وحللاً (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ (مکہ کے کافروں سے) کہہ دیجئے کہ یہ بتلاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدہ کیلئے جو رزق اتارا تھا ‘ سو تم نے (ازخود) اس کا کچھ حصہ حرام اور کچھ حصہ حلال قرار دے لیا۔
اَنْزَلَاتارا ‘ یعنی پیدا کیا۔ تخلیق کو اتارنا فرمایا کیونکہ ان چیزوں کی تخلیق بالائی ذریعہ یعنی بارش سے ہوتی ہے اور بارش اوپر ہی سے اترتی ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ تخلیق کائنات سے پہلے اللہ نے پیدا کی جانے والی چیزوں کو لوح محفوظ میں لکھ دیا ہے۔ اب تحریر لوح کے مطابق تخلیق رزق ہوتی ہے ‘ گویا رزق لوح محفوظ سے اترتا ہے۔ رزق سے مراد ہے کھیتی یا مویشی دودھ والے۔ لَکُمْ کے لفظ سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ نے یہ چیزیں تمہارے لئے حلال بنائی تھیں مگر تم نے (ازخود) ان میں سے کسی کو حلال بنا لیا اور کسی کو حرام۔ کافروں نے کہا تھا : ھٰذِہٖ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌ یہ چوپائے ہیں اور کھیتیاں ہیں جو ممنوع ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا : مَا فِیْ بُطُوْنِ ھٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ان جانوروں کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہے وہ مردوں کیلئے خصوصیت کے ساتھ حلال ہے ‘ عورتوں کیلئے حرام ہے۔ انہوں نے بحیرہ ‘ سائبہ ‘ وصیلہ اور حام (مختلف اقسام کے سانڈوں) کو بھی حرام قرار دے رکھا تھا۔
قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون۔ آپ ان سے پوچھئے کہ کیا (اس حرام حلال بنانے کی) اللہ نے تم کو اجازت دی ہے (کہ اس کے حکم سے ایسا کر رہے ہو) یا اللہ پر تم دروغ بندی کر رہے ہو کہ اس خود ساختہ تحلیل و تحریم کی نسبت اللہ کی طرف کر رہے ہو۔ مراد یہ ہے کہ اللہ نے تم کو اس کی اجازت نہیں دی۔ تم خود اللہ پر تہمت تراشی کر رہے ہو اور جھوٹ کہہ رہے ہو کہ اللہ نے ہم کو اس کا حکم دیا ہے۔
يونس 10:60
وما ظن الذین یفترون علی اللہ الکذب یوم القیمۃ اور جو لوگ اللہ پر دروغ بندی کر رہے ہیں ‘ ان کا خیال قیامت کے دن (کے سلسلہ) میں کیا ہے ‘ کیا ان کا یہ خیال ہے کہ قیامت کے دن ان کو اس دروغ بندی کی سزا نہیں دی جائے گی ؟ نہیں ! ایسا ضرور ہوگا۔ لفظ ما میں وعید کا ابہام بتا رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے کافروں کو یہ تہدید عذاب سخت طور پر دی گئی ہے۔
ان اللہ لذو فضل علی الناس اس میں شک نہیں کہ اللہ لوگوں پر بڑا مہربان ہے۔ اس نے عقل کی نعمت عطا کی اور ہدایت کیلئے کتابیں اتاریں اور پیغمبر بھیجے۔
ولکن اکثرھم لا یشکرون۔ لیکن اکثر لوگ اس نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے۔ اگر شکر ادا کرنا ہوتا تو عقل و نقل کے حکم پر چلتے اور اللہ پر دروغ بندی نہ کرتے۔
آیت کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ بندوں پر بڑا مہربان ہے۔ بندے نافرمانی کرتے ہیں مگر اللہ دنیا میں فوراً ہی عذاب میں مبتلا نہیں کرتا (ڈھیل دیتا رہتا ہے) ۔
يونس 10:61
وما تکون فی شان وما تتلوا منہ من قرآن ولا تعملون من عمل الا کنا علیکم شہودًا اذ تفیضون فیہ اور (اے رسول (ﷺ) ! ) آپ (خواہ) کسی حال میں ہوں اور منجملہ ان احوال کے کہیں سے قرآن پڑھتے ہوں اور (اسی طرح ‘ اے لوگو ! ) تم جو کام بھی کرتے ہو ‘ ہم کو سب کی خبر رہتی ہے جب تم اس کام کو کرنا شروع کرتے ہو۔
تَکُوْنُ کا خطاب رسول اللہ (ﷺ) کو ہے اور لاَ تَعْمَلُوْنَ کا خطاب سب لوگوں کو۔ شَأنٍ کا معنی ہے امر ‘ حالت۔ ایک محقق کا قول ہے کہ شان کا اطلاق عظیم حالت اور جلیل القدر امر پر ہوتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے : (شان کا معنی ہے قصد) شَأَنْتُ شَانَہٗ میں نے اس کا جیسا قصد کیا۔ مِنْہُ کی ضمیر شان کی طرف راجع ہے۔ قرآن کی تلاوت رسول اللہ (ﷺ) کا ایک بڑا کارنامہ تھی۔ یا مِنْ احلیت کا ہے ‘ یعنی رسول اللہ (ﷺ) کی شان عظیم کی وجہ سے جو تلاوت آپ کرتے ہیں۔ مِنْ قرآن میں من بیانیہ ہے ‘ یا تبعیضیہ ہے ‘ یا زائد ہے۔ جو کچھ آپ (ﷺ) پڑھتے ہیں یعنی قرآن۔ یا جو حصہ قرآن کا آپ پڑھتے ہیں۔ وَلاَ تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اوّل خطاب خصوصیت کے ساتھ رسول اللہ (ﷺ) کو کیا کیونکہ آپ تمام انسانوں کے سرگردہ تھے ‘ اسی لئے آپ کے بڑے عظیم الشان عمل کا ذکر کیا ‘ پھر سب لوگوں کو خطاب کیا اور ان کے ہر چھوٹے بڑے عمل کا ذکر کیا۔ شھود نگراں ‘ واقف۔ اِذْ تُفِیْضُوْنَ جب تم اس عمل کو شروع کرتے ہو ‘ اس میں داخل ہوتے ہو۔ بعض نے کہا کہ افاضہ کا معنی ہے بکثرت کسی کام کو کرنا ‘ اسی لئے تُفِیْضُوْنَ کا معنی ہوگیا بکثرون۔
وما یعزب عن ربک من مثقال ذرۃ فی الارض ولا فی السمآہ ولا اصغر من ذلک ولا اکبر فی کتب مبین۔ اور آپ کے رب سے کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں ‘ نہ زمین میں اور نہ آسمان میں اور کوئی چیز ذرہ سے بھی چھوٹی یا بڑی ‘ ایسی نہیں کہ واضح کتاب (لوح محفوظ ‘ اللہ کی علمی کتاب) میں نہ ہو۔
مَا یَعْزُبُ غائب نہیں ہے۔ مِنْ مِّثْقَالِ ‘ مِنْ زائد ہے۔ مثقال مصدر ہے بمعنی وزن۔ ذَرَّۃٍ چھوٹی چیونٹی یا خاک کا ذرہ۔ زمین و آسمان سے مراد ہے سارا جہان امکان اور عالم ہستی۔ کوتاہ نظر عوام کی نظری رسائی انہی دونوں تک ہو سکتی ہے ‘ اس لئے ان ہی دونوں کا ذکر کیا۔ اور اہل ارض کی حالت کا ذکر چونکہ پیش نظر تھا ‘ اسلئے زمین کا ذکر آسمان سے پہلے کیا۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ کا علم ہمہ گیر ہے ‘ سارے جہان کو گھیرے ہوئے ہے۔
لاآ اَصْغَرَ وَلاآ اَکْبَرَالخ مستقل جملہ ہے۔ کتاب سے مراد ہے لوح محفوظ یا وہ اعمال نامے جو کرام کاتبین کے پاس ہوتے ہیں۔
يونس 10:62
الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون۔ خوب سن لو کہ (قیامت کے دن جب سب لوگوں کو مصیبت میں مبتلا ہونے کا خوف ہوگا) اللہ کے دوستوں کو (عذاب کا) کوئی اندیشہ نہ ہوگا اور نہ وہ (اپنی کسی امید کی ناکامی کے) غم میں مبتلا ہوں گے (یعنی ان کی ہر امید پوری کی جائے گی) ۔
دلاء اور تو الی کا لغوی معنی ہے دو یا زیادہ چیزوں کا براہ راست بلاواسطہ تعلق و اتصال۔ مجازاً اس سے مراد ہوتا ہے قرب خواہ مکانی ہو ‘ یا نسبی ‘ یا دینی ‘ یا اعتقادی ‘ یا دوستی اور مدد کے لحاظ سے ہو۔ قاموس میں ہے : وَلْیٌ قرب وَلِیٌّ۔ وَلْیٌسے صفت کا صیغہ ہے ‘ جس کا معنی ہے قرب رکھنے والا ‘ دوست ‘ مددگار۔
تنقیح
یوں تو ہر شخص بلکہ ہر چیز کا اللہ سے قرب ہے جس کی کیفیت نہیں جانی جاسکتی۔ اللہ نے فرمایا ہے : نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ رگ جان سے بھی زیادہ ہم بندہ کے قریب ہیں۔ اسی قرب کی وجہ سے یہ کائنات جامۂ ہستی پہنتی اور دائرۂ وجود میں آتی ہے۔ اگر یہ قرب نہ ہوتا تو کوئی وجود کی بو بھی نہیں سونگھ سکتا۔ اصل ذات کے اعتبار سے ہر چیز نیست ہے ‘ سب کی اصل عدم ہے لیکن خاص بندوں کو ایک بےکیف قرب اور بھی حاصل ہے ‘ یہ قرب محبت ہے۔ عالم مثال میں اہل کشف کو یہ بےکیف محبت ‘ قرب جسمانی کی شکل میں نظر آتی ہے۔ لفظ قرب کا قرب خلقی اور قرب محبت دونوں پر اطلاق بطور اشتراک لفظی کے ہوتا ہے۔ حقیقت قرب دونوں جگہ جدا جدا ہے۔ مؤخر الذکر قرب کے ان گنت ‘ غیر محدود درجات ہیں۔ ایک حدیث قدسی ہے (ا اللہ نے فرمایا) میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے پیار کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس کو پیار کرتا ہوں تو پھر میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے۔ الی آخر الحدیث (یعنی اس وقت وہ جو کام کرتا ہے ‘ وہ گویا میرا عمل ہوتا ہے) رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ۔
اس قرب کا ابتدائی درجہ صرف ایمان سے حاصل ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور آخری انتہائی درجہ انبیاء کا خصوصی حصہ ہے ‘ جن کے سردار رسول اللہ (ﷺ) ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) کے درجات ترقی پذیر ہیں جن کی کوئی انتہاء نہیں۔
صوفیہ کی اصطلاح میں کم سے کم وہ درجہ جس پر لفظ ولی کا اطلاق ہو سکتا ہے ‘ اس شخص کا ہے جس کا دل اللہ کی یاد میں ہر وقت ڈوبا رہتا ہے۔ وہ صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرنے میں مشغول رہتا ہے۔ اللہ کی محبت میں سرشار رہتا ہے۔ کسی اور کی محبت کی اس میں گنجائش نہیں ہوتی خواہ باپ ہو ‘ یا بیٹا ‘ یا بھائی ‘ یا بیوی ‘ یا دوسرے کنبہ والے ‘ کسی سے اس کو محبت نہیں ہوتی۔ اگر کسی سے محبت ہوتی ہے تو محض اللہ کیلئے اور نفرت ہوتی ہے تب بھی خوشنودئ مولیٰ کے حصول کیلئے۔ وہ کسی کو کچھ دیتا ہے تو صرف اللہ کیلئے اور نہیں دیتا ہے تب بھی اللہ کی مرضی کیلئے۔ اس گروہ کی آپس میں محبت لوجہ اللہ ہوتی ہے۔ صوفیہ کی اصطلاح میں اس صفت کو فناء قلب کہا جاتا ہے۔ ولی کا ظاہر و باطن تقویٰ سے آراستہ ہوتا ہے۔ جو اعمال و اخلاق اللہ کو ناپسند ہیں ‘ ان سے وہ پرہیز رکھتا ہے۔ شرک خفی و جلی سے پاک رہتا ہے ‘ بلکہ وہ شرک جو چیونٹی کی رفتار کی آواز سے بھی زیادہ خفی ہوتا ہے ‘ اس سے بھی بچتا ہے۔ غرور ‘ کینہ ‘ حسد ‘ حرص اور ہوس سے منزہ ہوتا ہے اور انہی کے ساتھ عمدہ اخلاق و اعمال سے متصف ہوتا ہے۔ اس مرتبہ کو صوفیہ فناء نفس کا مرتبہ کہتے ہیں۔ صوفیہ کا قول ہے کہ اس درجہ پر جب ولی پہنچ جاتا ہے تو اس کا شیطان اس کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے اور فرمانبردار بن جاتا ہے۔ ولایت کے ابتدائی درجہ کی طرف اللہ نے
يونس 10:63
الذین امنوا سے اشارہ فرمایا : اولیا اللہ وہ ہیں جو ایمان لے آئے ‘ یعنی حقیقت ایمان ان کے اندر پیدا ہوگئی۔ ایمان کا محل قلب ہے۔ کمال ایمان یہ ہے کہ اللہ کی یاد سے دل میں اطمینان پیدا ہوجائے ‘ اللہ کے ذکر سے لمحہ بھر غافل نہ ہو ‘ کسی دوسرے کی طرف توجہ ہی نہ ہو۔ دوسرے مرتبہ کی طرف اشارہ فرمایا۔
وکانوا یتقون۔ اور (شرک و معاصی سے) پرہیز رکھتے ہیں۔ یعنی اللہ کے اوامرو نواہی کی ظاہری اور باطنی ہر طرح پابندی کرتے ہیں۔
ابو داؤد نے حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ کے بندوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نہ انبیاء ہیں نہ شہدا لیکن قیامت کے دن ان کے مرتبۂ قرب کو دیکھ کر انبیاء اور شہدا ان پر رشک کریں گے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! وہ کون لوگ ہیں ؟ فرمایا : جو بندگان خدا سے محض اللہ کیلئے محبت رکھتے ہیں۔ اس میں نہ ان کی باہم رشتہ داریاں ہیں نہ مالی لین دین (کہ قرابت یا مالی لالچ کی وجہ سے ایک کو دوسرے سے محبت ہو) خدا کی قسم ! انکے چہرے (قیامت کے دن جسم) نور ہوں گے ‘ بالائے نور۔ جب اور لوگوں کو (عذاب کا) خوف ہوگا ‘ ان کو خوف نہ ہوگا۔ جب اور لوگ غم میں مبتلا ہوں گے ‘ وہ غمگین نہیں ہوں گے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : اَلاآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَ خوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَ ھمْ یَحزَنُوْنَ بغوی نے ابو مالک اشعری کی روایت سے بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے اور بیہقی نے شعب الایمان میں یہی لکھا ہے۔
حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سے آیت الاآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ کا معنی دریافت کیا گیا۔ فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کے واسطے آپس میں محبت رکھتے ہیں۔ ابن مردویہ نے حضرت جابر کی روایت سے بھی ایسا ہی لکھا ہے۔
حصول ولایت کے ذرائع
مرتبۂ ولایت کا حصول رسول اللہ (ﷺ) کی پرتو اندازی سے ہوتا ہے ‘ خواہ عکس رسالت براہ راست پڑے ‘ یا کسی ایک واسطہ سے ‘ یا چند واسطوں سے۔ رسول اللہ (ﷺ) یا آپ کے نائبوں سے محبت اور ان کی ہم نشینی و اطاعت حصول ولایت کیلئے ضروری ہے ۔ رسول اللہ (ﷺ) نے قلب ‘ نفس اور جسم کا رنگ ولی کے قلب ‘ قالب اور جسم پر ان ہی دونوں اوصاف کی وجہ سے چڑھ جاتا ہے اور یہی صبغۃ اللہ ہے جس کے متعلق فرمایا : صِبْغَۃَ اللّٰہِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً طریق مسنون کے مطابق ذکر اللہ کی کثرت عکس پذیری کیلئے مددگار ہوتی ہے ‘ اس سے دل کا میل دور ہوجاتا ہے اور آئینۂ قلب کی صفائی ہو کر عکس پذیری کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ہر چیز کی منجھائی ہوتی ہے اور دل کو مانجھنے والا اللہ کا ذکر ہے۔ رواہ البیہقی۔
عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص ۔ امام مالک ‘ امام احمد اور بیہقی نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے بیان کیا ‘ حضرت معاذ نے فرمایا : میں نے خود ‘ خود حضور (ﷺ) کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ نے فرمایا : جو دو آدمی میرے لئے باہم محبت کرتے ہیں ‘ میرے لئے مل کر بیٹھتے ہیں ‘ میرے لئے خرچ کرتے ہیں ‘ ان سے میری محبت واجب ہوجاتی ہے۔
امام احمد ‘ طبرانی اور حاکم نے حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے بھی یہ حدیث بیان کی ہے۔ صحیحین میں حضرت ابن مسعود کی روایت سے آیا ہے کہ ایک شخص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! اس شخص کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں جو کسی قوم سے محبت رکھتا ہے مگر اس قوم (کے عمل) تک اس کی رسائی نہیں ہوتی۔ فرمایا : آدمی کا شمار انہی لوگوں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی۔ رسائی نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص کے عمل اس قوم کے اعمال کی طرح نہ ہو سکے ہوں۔ صحیحین میں حضرت انس کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث آئی ہے۔
بیہقی نے شعب الایمان میں لکھا ہے کہ حضرت ابو رزین نے بیان کیا : مجھ سے رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میں تجھے بتاؤں کہ اس کام کا مدار کس چیز پر ہے جس سے تجھے دنیا اور آخرت کی بھلائی مل جائے (مدار خیر یہ ہے کہ اہل ذکر کی مجلسوں میں حاضری کی پابندی کر اور تنہائی ہو تو جہاں تک ہو سکے اللہ کے ذکر سے زبان کو ہلاتا رہ اور اللہ کے واسطے محبت اور اللہ کے واسطے نفرت کر (یعنی اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے لوگوں سے محبت و عداوت رکھ ‘ ذاتی غرض کوئی نہ ہو) ۔
امام احمد اور ابو داؤد نے حضرت ابو ذر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے پیارا عمل یہ ہے کہ اللہ کی خوشنودی کیلئے محبت اور بغض کیا جائے۔
اللہ کا محبوب کون ہے
اولیاء میں ایک جماعت اللہ کی محبوبیت کے درجہ پر بھی فائز ہوجاتی ہے۔ مسلم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ جب کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبرئیل کو طلب فرما کر حکم دیتا ہے : میں فلاں بندہ سے محبت کرتا ہوں ‘ تو بھی اس سے محبت کر۔ حسب الحکم حضرت جبرئیل اس بندے سے پیار کرنے لگتے ہیں ‘ پھر حضرت جبرئیل آسمان پر (اہل سمٰوات کو) ندا دیتے ہیں کہ اللہ فلاں بندے سے محبت کرتا ہے ‘ تم بھی اس سے محبت کرو۔ حسب الارشاد اہل سماء اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔
پھر زمین (والوں) میں اس کو مقبولیت عطا کردی جاتی ہے۔ اور جب اللہ کسی بندہ سے نفرت کرتا ہے تو حضرت جبریل کو طلب فرما کر حکم دیتا ہے : میں فلاں شخص سے نفرت کرتا ہوں ‘ تو بھی اس سے نفرت کر۔ حسب الحکم حضرت جبرئیل اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ‘ پھر آسمان والوں کو حضرت جبرئیل ندا کرتے اور کہتے ہیں : اللہ فلاں شخص سے نفرت کرتا ہے ‘ تم بھی اس سے نفرت کرو۔ لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں ‘ پھر زمین والوں میں سے اس سے نفرت پیدا کردی جاتی ہے (اور زمین والے اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں) ۔
فصل
اولیاء اللہ کی علامات کیا ہیں ؟
رسول اللہ (ﷺ) سے دریافت کیا گیا : اولیاء اللہ کون ہوتے ہیں ؟ فرمایا : جن کو دیکھنے سے اللہ کی یاد ہوتی ہے (بغوی) ۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ اللہ نے ارشاد فرمایا : میرے بندوں میں میرے اولیاء وہ ہیں جن کی یاد میرے ذکر سے اور میری یاد ان کا ذکر کرنے سے ہوتی ہے (بغوی) ۔
حضرت اسماء بنت یزید نے رسول اللہ (ﷺ) کو فرماتے سنا : سنو ! کیا میں تم کو نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے اچھے کون لوگ ہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ضرور فرمائیے۔ فرمایا : جن کو دیکھنے سے اللہ کی یاد ہوتی ہے (رواہ ابن ماجہ) ۔
فائدہ : اس کا گریہ ہے کہ اولیاء اللہ کو اللہ سے قرب اور بےکیف مصاحبت حاصل ہوتی ہے ‘ اسی وجہ سے ان کی ہم نشینی گویا اللہ کی ہم نشینی اور ان کا دیدار اللہ کی یاد دلانے والا اور ان کا ذکر اللہ کے ذکر کا موجب ہوتا ہے۔ ان کی مثال ایسی ہے جیسے سورج کے سامنے رکھا ہوا آئینہ جو سورج کی شعاعوں سے جگمگا جاتا ہے اور اس آئینہ کے سامنے جو چیز رکھی جاتی ہے آئینہ کی عکس ریزی سے وہ چیز بھی روشن ہوجاتی ہے ‘ بلکہ اگر روئی کو اس آئینے کے سامنے زیادہ قریب رکھا جائے تو آئینہ کے قرب کی وجہ سے روئی جل جاتی ہے اور سورج چونکہ دور ہوتا ہے ‘ اسلئے دھوپ میں روئی نہیں جلتی۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ اللہ نے اولیاء کے اندر اثر پذیری اور اثر اندازی کی قوی طاقت رکھی ہے۔ اللہ سے قرب اور بےکیف مناسبت رکھنے کی وجہ سے اولیاء میں اثر پذیری کی صلاحیت زیادہ قوی ہوتی ہے اور جنسیت نوعیت اور شخصیت کے اشتراک کی وجہ سے دوسرے ہم جنس ‘ ہم نوع اور مناسب التشخص افراد پر اثر اندازی کی استعداد بھی ان میں قوی ہوتی ہے۔ یہی تأثر و تاثیر کا تعلق اس امر کا باعث ہوتا ہے کہ ان کا حضور ‘ اللہ کے سامنے حضور کا ذریعہ اور ان کو دیکھنا اور ان کے ساتھ بیٹھنا اللہ کی یاد کا موجب ہوتا ہے ‘ مگر شرط یہ ہے کہ دیکھنے والے اور بیٹھنے والے کے دل میں انکار نہ ہو (منکروں کو کوئی فیض حاصل نہیں ہوتا) وَاللّٰہُ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ اللہ ایمان و اطاعت کی حدود سے نکل جانے والوں کو ہدایت نہیں کرتا۔
رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے کہ اللہ نے فرمایا : جس نے میرے ولی سے دشمنی کی ‘ میں نے اس کو (اپنی طرف سے) جنگ کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔ رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ
حضرت حنظلہ نے عرض کیا تھا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! جب ہم آپ کی خدمت میں موجود ہوتے ہیں اور آپ دوزخ اور جنت کی ہم کو یاد دلاتے ہیں تو گویا ہم اپنی آنکھوں سے جنت و دوزخ کو دیکھ لیتے ہیں ‘ لیکن جب آپ کے پاس سے نکل کر ہم باہر جاتے ہیں اور بیویوں ‘ بچوں اور زمینوں کے جھگڑوں میں مشغول ہوجاتے ہیں تو بہت کچھ (جنت و دوزخ کو) بھول جاتے ہیں۔ فرمایا : قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر ہر وقت تم اسی حالت پر رہو ‘ جس حالت پر میرے پاس اور میرے نصیحت کرنے کے وقت ہوتے ہو تو فرشتے تمہارے بستروں پر اور تمہارے راستوں میں تم سے مصافحہ کریں ‘ مگر حنظلہ ! وقت ‘ وقت ہوتا ہے (ایک حضور کا وقت ‘ ایک غیبوبت کا وقت) یہ الفاظ حضور (ﷺ) نے تین مرتبہ فرمائے۔ رواہ مسلم
فائدہ : عام لوگ کشف و کرامت کو ولایت کی خصوصی نشانی سمجھتے ہیں ‘ مگر یہ غلط ہے۔ بہت سے اولیاء کشف و کرامت سے خالی ہوتے ہیں اور کبھی بطور استدراج دوسرے لوگوں میں اولیاء کے علاوہ بھی خرق عادات اور انکشافات غیبی پایا جاتا ہے (اسلئے کشف و کرامت معیار ولایت نہیں ہے ( اگر بعض اولیاء سے اتفاقاً کشف و کرامت کا ظہور ہوجائے تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ کشف و کرامت معیار ولایت ہے۔ اللہ نے اپنے رسول مکرم (ﷺ) کو خطاب کر کے فرمایا : قلْ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَيَّ آپ کہہ دیجئے کہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ میں تم جیسا انسان ہوں (مگر مجھے یہ امتیاز ہے کہ) میرے پاس وحی آتی ہے۔ دوسری جگہ خطاب کر کے فرمایا : قُلْ لَّوْ کُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوْٓہُ اگر میں غیب داں ہوتا تو کثیر بھلائی سمیٹ لیتا اور برائی مجھے چھو بھی نہ جاتی۔ ایک جگہ اور خطاب فرمایا ہے : قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ آپ کہہ دیجئے کہ معجزات تو اللہ کے قبضہ میں ہیں۔
صوفیاء کرام کا قول ہے : کرامت تو مردوں کا حیض ہے ‘ اس کو چھپانا ہی ضروری ہے۔ کرامت کی وجہ سے ایک ولی کو دوسرے ولی پر فضیلت نہیں ہوتی ‘ اسی لئے جن اولیاء کے ہاتھوں سے کرامات کا ظہور زیادہ ہوا ان کو اپنے اس فعل پر ندامت ہوئی۔
يونس 10:64
لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی میں انہی کیلئے بشارت ہے۔ یہ بشارت وہی ہے جو رسول اللہ (ﷺ) نے صحابہ کو عموماً اور بعض مخصوص صحابہ کو خصوصاً دی تھی۔
ترمذی نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کی روایت سے اور ابن ماجہ نے حضرت سعید بن زید کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ابوبکر جنت میں (یعنی جنتی ) ہے ‘ عمر جنتی ہے ‘ عثمان جنتی ہے ‘ علی جنتی ہے ‘ طلحہ جنتی ہے ‘ زبیر جنتی ہے ‘ عبدالرحمن بن عوف جنتی ہے ‘ سعد بن ابی وقاص جنتی ہے ‘ سعید بن زید جنتی ہے ‘ ابو عبیدہ بن جراح جنتی ہے۔
ابو داؤد نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : میری امت میں سب سے پہلے اے ابوبکر ! تم جنت میں جاؤ گے۔ ترمذی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : سب سے پہلے زمین پھٹ کر میں برآمد ہوں گا ‘ پھر ابوبکر ‘ پھر عمر۔ ترمذی نے حضرت طلحہ بن عبیدا اللہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : ہر نبی کا ایک رفیق ہوگا اور میرا رفیق جنت کے اندر عثمان ہوگا۔
حضرت سعد بن ابی وقاص کی روایت سے بخاری و مسلم نے صحیحین میں بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے حضرت علی سے فرمایا : تم مجھ سے اس جگہ پر ہو جس جگہ پر حضرت ہارون ‘ حضرت موسیٰ سے تھے (یعنی جو قرب درجہ یا قرب نسب یا قرب محبت حضرت موسیٰ کی طرف سے حضرت ہارون کو تھا ‘ وہی قرب تم کو مجھ سے حاصل ہے) مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
حضرت زید بن ارقم کی روایت سے امام احمد اور ترمذی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس کا مولیٰ (آقا ‘ سردار ‘ دوست) میں ہوں ‘ علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔
حضرت مسوربن مخرمہ کی روایت سے صحیحین میں آیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : فاطمہ میرا ٹکڑا ہے۔ جس نے اس کو ناراض کیا ‘ اس نے مجھے ناراض کیا۔
ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا : حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ یہ بھی فرمایا : جنت کی عورتوں میں سب سے بہتر مریم بنت عمران اور خدیجہ بنت خویلد ہیں۔ اور فرمایا : عورتوں پر عائشہ کی برتری ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت (باقی) کھانوں پر اور یہ بھی فرمایا کہ عبد اللہ یعنی ابن عمر صالح آدمی ہیں (رواہ البخاری و مسلم فی الصحیحین عن ابن عمر) حضرت عبد اللہ بن سلام کے متعلق فرمایا کہ وہ اہل جنت میں سے ہے ( متفق علیہ عن سعد بن ابی وقاص) اور فرمایا : انصار سے محبت نہیں رکھتا ‘ مگر مؤمن اور ان سے بغض نہیں رکھتا ‘ مگر منافق (یعنی انصار سے محبت رکھنا ایمان کی علامت اور ان سے بعض رکھنا نفاق کی نشانی ہے) جو ان سے محبت کرے گا ‘ اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو ان سے بعض رکھے گا ‘ اللہ اس سے نفرت کرے گا۔ اور فرمایا : اسید بن حضیر کیسا اچھا آدمی ہے۔ ثابت بن قیس کیسا اچھا آدمی ہے۔ معاذ بن جبل کیسا اچھا آدمی ہے۔ معاذ بن عمرو بن جموح کیسا اچھا آدمی ہے۔
اور فرمایا : جنت تین شخصوں کی مشتاق ہے : علی ‘ عمار ‘ سلمان۔ حضور (ﷺ) نے اسی طرح بکثرت صحابہ کو تفصیل کے ساتھ بشارتیں دی تھیں۔ اور اللہ نے سب صحابہ کو بشارت دیتے ہوئے فرمایا ہے : وَکُلاّآ وَّعْدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی اور اللہ نے ہر ایک (مخلص صحابی) سے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔ دوسری آیت میں بھی عمومی بشارت دی ہے ‘ فرمایا ہے : مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ الخ۔
حضور (ﷺ) نے فرمایا : میرے اصحاب کو برا بھلا نہ کہو کیونکہ اگر تم میں سے کوئی (کوہ) احد کے برابر سونا راہ خدا میں صرف کرے تو ان کے ایک سیر بلکہ آدھ سیر (راہ خدا میں صرف کرنے) کو نہیں پہنچے گا۔ رواہ البخاری ومسلم فی الصحیحین عن ابی سعید خدری
رزین نے حضرت عمر کی روایت سے بیان کیا کہ حضور (ﷺ) نے فرمایا : میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں ۔ جس کی (روشنی کی) پیروی کرو گے ‘ ہدایت پا لوگے۔
اور فرمایا : میری امت میں سب سے بہتر لوگ میرے زمانہ کے ہیں ‘ پھر وہ لوگ جو ان سے متصل آئیں گے اور پھر وہ لوگ جو ان کے متصل آئیں گے (متفق علیہ عن عمران بن حصین) ۔
رسول اللہ (ﷺ) کی وفات کے بعد دنیوی بشارت وہ ہوتی ہے جو اللہ اپنے اولیاء کو خواب یا بیداری کی حالت میں عالم مثال کا انکشاف کر کے دیتا ہے۔ رویائے صالحہ (اچھے خواب) سے یہی عالم مثال کا انکشاف مراد ہے۔
رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : سوائے مبشرات (بشارتوں) کے ‘ نبوت کا کوئی جزء باقی نہیں رہا (یعنی میرے بعد لوگوں کو سوائے بشارتوں کے ‘ اللہ کے کسی قول کی اطلاع براہ راست یا ملائکہ کی معرفت آئندہ نہ ہوگی ‘ نبوت کا دروازہ بند ہوگیا) صحابہ نے عرض کیا : مبشرات کیا ہیں ؟ فرمایا : سچے خواب۔ رواہ البخاری عن ابی ہریرۃ۔
حضرت عبادہ بن صامت راوی ہیں : میں نے رسول اللہ (ﷺ) سے آیت لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کی تشریح دریافت کی۔ فرمایا : (بشریٰ سے مراد) سچا خواب ہے جو آدمی کو دکھایا جاتا ہے (بغوی) ۔
حضرت ابو درداء سے لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا کا معنی دریافت کیا گیا تو فرمایا : جب سے میں نے رسول اللہ (ﷺ) سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی ‘ اب تک سوائے تیرے کسی نے مجھ سے اس کی تفسیر دریافت نہیں کی۔ میں نے حضور (ﷺ) سے پوچھا تھا تو حضور (ﷺ) نے فرمایا تھا : جب سے یہ آیت نازل ہوئی ‘ کسی نے تیرے سوا اس کی مراد نہیں دریافت کی۔ (بشریٰ ) سے مراد) سچا خواب ہے جو مؤمن کو دکھایا جاتا ہے۔ دنیوی زندگی میں بھی اس کیلئے بشارت ہے اور آخرت میں جنت بشارت ہوگی (امام احمد و سعید بن منصور) یہ حدیث بہت سندوں سے آئی ہے۔
سچے خواب سے مراد عوام کے خواب نہیں بلکہ اولیاء اور صالحین کے خواب مراد ہیں۔ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : خواب تین ہوتے ہیں : (ایک) اللہ کی طرف سے بشارت ‘ (دوسرا) حدیث نفس (یعنی دماغی تخیلات یا تحت الشعور تصورات) ‘ (تیسرا) شیطان کی طرف سے ڈراوا (یعنی ہیبت ناک ‘ بےسروپا خواب) ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔
ایک شبہ : خواب خواہ اولیاء اور صلحاء کا ہو ‘ مفید یقین نہیں (اور اللہ کی طرف سے بشارت کو مفید یقین ہونا چاہئے) ۔
ازالہ : خواب سے یقین نہیں تو غالب گمان ضرور حاصل ہوجاتا ہے اور بشارت کیلئے غلبۂ ظن ہی کافی ہے۔
رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : نبوت کے 46 اجزاء میں سے اک جزء سچا خواب ہے۔ یہ حدیث بخاری نے حضرت ابو سعید راویت سے اور مسلم نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور احمد و ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود کی روایت سے بیان کی ہے۔ اسی کی مثل ابن ماجہ نے حضرت عوف بن مالک کی روایت سے بھی بیان کیا ہے۔ 1
امام احمد نے حضرت ابن عمرو حضرت ابن عباس کی روایت سے اور ابن ماجہ نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ سچا خواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک ہے۔
ابن النجار نے حضرت ابن عمر کا قول بیان کیا ہے کہ سچا خواب نبوت کے پچیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔
البشرٰی سے وہ عمومی بشارت مراد ہے جس کا تعلق جنت اور ثواب سے ہے۔ یہ بشارت ضرورتمام مؤمنوں کو دی گئی ہے مگر اس کا ظہور اس وقت ہوگا جب ایمان پر خاتمہ ہو اور ایمان پر خاتمہ کیا معلوم ہو یا نہ ہو۔
بعض علماء کے نزدیک البشرٰی سے مراد لوگوں کی طرف سے ستائش ہے۔ بغوی نے عبد اللہ بن صامت کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابو ذر نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! آدمی (اچھے) کام تو اپنے لئے کرتا ہے مگر لوگ اس سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ فرمایا : مؤمن کیلئے یہ بشارت (دنیوی) ہے۔ مسلم کی روایت میں (بجائے محبت کرنے کے) لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ‘ آیا ہے۔ زہری اور قتادہ نے کہا : مرنے کے وقت اللہ کی طرف سے ملائکہ بشارت لے کر نازل ہوتے ہیں ‘ البشرٰی سے یہی مراد ہے۔ اللہ نے فرمایا : تَتَنَزَّلُ عَلَیْھِمُ الْمَلاآءِکَۃ الاَّ تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا وَاَلْبَشِرُ وَابَالْجَنَّۃ۔ عطاء کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔
وفی الاخرۃ اور آخرت میں۔ یعنی جان نکلنے کے وقت مؤمن کی روح کو قرب الٰہی کی طرف لے جایا جاتا ہے اور اللہ کی خوشنودی کی بشارت دی جاتی ہے اور قیامت کے دن قبر سے نکلنے کے وقت بھی اس کو بشارت دی جائے گی۔
حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جو شخص اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے ‘ اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ‘ اللہ بھی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ یا کسی اور بی بی نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! ہم کو تو موت پسند نہیں۔ فرمایا : یہ مطلب نہیں ہے ‘ بلکہ مؤمن کے مرنے کا جب وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کی خوشنودی اور رحمت کی بشارت دی جاتی ہے ‘ پس وہ اللہ سے ملنے کا خواستگار ہوجاتا ہے اور کافر کی موت سامنے آتی ہے تو اس کو اللہ کے عذاب اور سزا کی اطلاع دی جاتی ہے۔ اس کو اپنے سامنے آنے والے عذاب سے زیادہ ناگوار اور کوئی چیز نہیں ہوتی ‘ اسلئے اللہ سے ملنے کو پسند نہیں کرتا اور اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے۔ رواہ البخاری ومسلم فی الصحیحین۔
حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : لاآ اِلٰہَ الاَّ اللہ والوں کو نہ موت کے وقت وحشت ہوگی ‘ نہ قبروں میں ‘ نہ قبروں سے اٹھنے کے وقت۔ گویا وہ منظر میرے سامنے ہے کہ چیخ (صور کی آواز) کے وقت وہ (اہل ایمان) سروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے کہہ رہے تھے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَذْھَبَ عَنَّا الْحَزَنُ سزاوار ستائش ہے وہ اللہ جس نے ہم سے سختی کو دور کردیا۔ رواہ الطبرانی۔ ختلی نے دیباج میں حضرت ابن عباس کا مرفوع قول بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
لا تبدیل لکلمات اللہ اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ یعنی اللہ کے وعدوں کے خلاف نہیں ہو سکتا۔
ذلک ھو الفوز العظیم۔ وہ یعنی مؤمنوں کا دونوں جہان میں بشارت یافتہ ہونا ہی بڑی کامیابی ہے۔ یہ اور اس سے پہلے کا جملہ ” معترضہ جملے “ ہیں جن سے اس جزاء کی عظمت و حقانیت کا اظہار مقصود ہے جس کی بشارت دی گئی ہے۔ جملہ معترضہ ہونے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ کلام کے اوّل و آخر کے درمیان آئے اور کلام کا آخری حصہ وہ ہو جو اوّل سے مربوط ہے۔
يونس 10:65
ولا یحزنک قولھم ان کا قول آپ کو رنجیدہ نہ کرے (آپ ان کی باتوں سے غمگین نہ ہوں) قول سے مراد ہے
کلمۂ شرک اور رسول اللہ (ﷺ) کی تکذیب اور دکھ پہنچانے کی دھمکیاں۔
ان العزۃ اللہ جمیعًا کیونکہ غلبہ تو سارا کا سارا اللہ ہی کو حاصل ہے (ساری طاقت اسی کو حاصل ہے) کسی کے قبضہ میں کوئی چیز نہیں۔ اللہ سب پر غالب ہے ‘ وہی آپ کی مدد کرے گا اور کامیاب فرمائے گا۔
ھو السمیع العلیم۔ وہی (ان کے اقوال کو) سننے والا (اور ان کی نیتوں کو) جاننے والا ہے۔ یعنی ان کو خود سزا دے گا۔
يونس 10:66
الا ان اللہ من فی السموت ومن فی الارض خوب سن لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو لوگ (ملائکہ ‘ جن ‘ انس) ہیں ‘ وہ اللہ کے (پیدا کئے ہوئے اور مملوک و مقبوض اور بندے) ہیں اور جب وہ ہستیاں جو تمام مخلوق میں اعلیٰ ہیں ‘ اللہ کی محکوم و پرستار ہیں ‘ ان میں کوئی بھی رب ہونے کے قابل نہیں۔ تو جو مخلوق نادان ‘ بےجان ‘ بےعقل ہے وہ اللہ کی شریک اور مثل کیسے ہو سکتی ہے ‘ اسلئے
وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکاء جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں ‘ وہ ایسی مخلوق کا اتباع نہیں کرتے جو اللہ کی شریک ہو۔
ان یتبعون الا الظن صرف اپنے گمان کی پیروی کرتے ہیں۔ اپنے خیال میں جن کو شریک عبادت قرار دے رکھا ہے ‘
بس ان کی عبادت کرتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ما یتبع میں ما استفہامیہ انکار یہ ہو یا موصولہ ہو اور اس کا عطف مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ پر ہو۔
وان ھم الا یخرصون۔ اور محض قیاسی باتیں کر رہے ہیں۔
یعنی ان معبودوں کو اللہ کا شریک قرار دینے میں جھوٹ بولتے ہیں یا یہ ان کی محض من گھڑت ہے۔ غلط طور پر یہ اپنے معبودوں کو شریک الوہیت قرار دے رہے ہیں۔
يونس 10:67
ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ اللہ وہی تو ہے جس نے تمہارے سکون کیلئے رات بنائی۔ یعنی دن کی محنت سے جو تم تھک جاتے ہو ‘ رات میں اس تکان سے آرام حاصل کرلو۔
والنھار مبصرًا اور دن کو روشنی بخش بنایا ‘ جس کی روشنی میں دنیا کی چیزیں دکھائی دیتی ہیں۔
ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون۔ اس میں ان لوگوں کیلئے بڑی نشانیاں ہیں جو سنیں۔ یعنی اللہ نے جو اپنی حکمت کے زیر اثر اتنی بڑی بڑی چیزیں پیدا کیں ‘ ان کی تخلیق کے اندر ایسی نشانیاں موجود ہیں جو اللہ کی قدرت تامہ ‘ نعمت عظیمہ اور حکمت شاملہ کو ظاہر کر رہی ہیں اور اللہ کو مستحق معبودیت ثابت کر رہی ہیں ‘ مگر یہ تمام نشانیاں انہی لوگوں کیلئے مفید ہیں جو اللہ کا کلام اور ہدایت کرنے والوں کی نصیحت کو تفکر و عبرت کے کانوں سے سنیں۔
يونس 10:68
قالا اتخذ اللہ ولدًا مشرکوں کا کہنا ہے کہ اللہ اولاد رکھتا ہے۔ یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔
سبحٰنہ اللہ (اس تہمت سے) پاک ہے۔ یعنی کسی کا باپ بننے سے منزہ ہے۔ یہ فقرہ تنزیہیہ بھی ہے اور احمقوں کے کلام پر تعجب کا اظہار بھی ہے کہ یہ لوگ ایسی بات کہہ رہے ہیں جس کا وقوع بھی ناممکن اور تصور بھی (یعنی سبحان اللہ ! کیسی سخت بات کہہ رہے ہیں) ۔
ھو الغنی وہی بےنیاز ہے ‘ کسی چیز کا حاجتمند نہیں۔ کسی کی اس کو احتیاج نہیں ‘ اس کے سوا ہر چیز ممکن ہے۔ اپنے وجود ‘ بقائے وجود اور تمام حالات وصفات میں اسی کی محتاج ہے۔ بےنیاز اللہ اور محتاج ممکن میں کوئی مناسبت نہیں ‘ پھر کس طرح اللہ والد اور کوئی مخلوق اس کی اولاد ہو سکتی ہے ؟ اولاد کو تو اپنے والد کا ہم جنس ہونا چاہئے۔ یا یوں کہا جائے کہ اولاد کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں باپ کمزور ہو اور بیٹے کی وجہ سے طاقت حاصل کرنا چاہتا ہو ‘ یا مفلس ہو اور بیٹے سے مالی مدد کا خواستگارہو ‘ یا اس کو عزت حاصل نہ ہو اور قابل بیٹا اس کیلئے باعث عزت ہوجائے ‘ یا باپ مر جانے والا ہو اور اپنی نسل قائم رکھنا چاہتا ہو (بہرحال باپ کو بیٹے کی ضرورت کسی غرض اور حاجت کے زیر اثر ہوتی ہے) اور مذکورۂ بالا کسی قسم کی حاجتمندی سے اللہ بےنیاز ہے ‘ وہ غنی اور قدیم ہے۔
لہ ما فی السموت وما فی الارض اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ یعنی اسی کی مخلوق و ملک ہے ‘ پھر کس طرح اس میں سے کوئی چیز اللہ کی اولاد ہو سکتی ہے (اولاد نہ والد کی ملک ہوتی ہے نہ مخلوق) ۔
ان عند کم من سلطن بھدا تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ یعنی نفی ولد کی دلیل کے مقابل کوئی دلیل نہیں ہے۔
اتقولون علی اللہ ما لا تعلمون۔ کیا تم اللہ پر ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کا علم (کسی دلیل کی روشنی میں) تم کو خود نہیں ہے۔
اس جملہ میں مشرکوں کو ان کی جہالت پر زجر ہے اور اس امر پر تنبیہ ہے کہ بےدلیل کوئی بات کہنی درست نہیں۔ عقائد کیلئے تو ناقابل شک قطعی دلیل کی ضرورت ہے۔ دوسروں کے مفروضات فکریہ کی تقلید کسی طرح جائز نہیں۔
يونس 10:69
قل ان الذین یفترون (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ پر دروغ بندی کرتے ہیں ‘ وہ یقیناً کامیاب نہیں ہوں گے۔ نہ دوزخ سے بچیں گے ‘ نہ جنت میں پہنچیں گے۔
يونس 10:70
متاع فی الدنیا یہ دنیا میں (چند روزہ) تھوڑا سا عیش ہے۔ یعنی یہ دورغ بندی دنیا میں کچھ مزہ اڑانے کا سبب ہوجائے گی۔ اس طریقے سے وہ کفر کی حالت میں اپنی ریاست کو قائم رکھ سکیں گے۔ یا ان کی زندگی دنیوی متاع حقیر ہے۔
ثم الینا مرجعھم ثم نذیقھم العذاب الشدید بما کانوا یکفرون۔ پھر (موت کے بعد) ان کی واپسی ہماری ہی طرف ہوگی ‘ پھر ان کے کفر کی پاداش میں ہم ان کو عذاب شدید کا مزہ چکھائیں گے۔
يونس 10:71
واتل علیھم نبا نوح اور (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ (مکہ والوں کو) نوح کی خبر پڑھ کر سنائیے۔ یعنی قوم کے ساتھ حضرت نوح کی سرگزشت ان کے سامنے پڑھئے۔
اذ قال لقومہ یاد کیجئے کہ جب نوح نے اپنی قوم سے کہا۔ برقول بغوی قوم نوح قابیل کی نسل سے تھی ‘ لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ حضرت نوح ‘ حضرت شیت کی نسل میں سے تھے ‘ قابیل کی نسل میں سے نہیں تھے اور چونکہ قوم کی نسبت حضرت نوح کی طرف کی گئی ہے ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم نوح حضرت شیت کی نسل میں سے تھی۔
یقوم ان کان کبر علیکم مقامی اے میری قوم ! اگر تم پر میرا قیام شاق ہوگیا ہو۔ یعنی مدت دراز تک تمہارے اندر میرا رہنا یا دعوت پر قائم رہنا اگر تمہارے لئے ناگوار ہوگیا ہو۔
وتذکیری بایت اللہ اور احکام خداوندی کی نصیحت کرنا (ناگوار اور بھاری معلوم ہوگیا ہو) ۔
فعلے اللہ توکلت پس اللہ ہی پر میرا بھروسہ ہے (میں اللہ ہی پر بھروسہ رکھتا ہوں) ۔
فاجمعوا امرکم وشرکاء کم تم مع اپنی مفروضہ شرکاء کے (مجھے ضرر پہنچانے کی) اپنی تدبیر پختہ کرلو۔
اَجْمَعَ الْاَمْرَ کسی کام کا پختہ ارادہ کرلیا ‘ عزم کرلیا۔ یعنی تم اور تمہارے مفروضہ شرکاء مجھ کو قتل کرنے یا دکھ پہنچانے کا پختہ عزم کرلو (کذا قال الزجاج) یا شرکاء سے پہلے مضاف محذوف ہے ‘ یعنی اپنے کام کو اور اپنے شرکاء کے کام کو درست کرلو۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم اپنے کام کا پختہ ارادہ کرلو اور اپنے (مفروضہ) شریکوں کو بھی بلا لو۔
ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ پھر وہ تدبیر تمہارے دلوں کی گھٹن کا باعث بھی نہ ہونا چاہئے۔ غُمَّۃً پوشید ‘ چھپا ہوا۔ غَمَّہٗاس کو چھپایا ‘ یعنی تمہاری تدبیر پوشیدہ بھی نہ ہو ‘ بالکل واضح طور پر اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب تم مجھے ہلاک کر چکو اور میری دن رات کی نصیحت و وعظ کے بار سے آزاد ہوجاؤ تو تمہارا حال تم پر مستور نہ رہنا چاہئے۔
ثم اقضوا الی پھر جو کچھ میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو ‘ کر گذرو۔
ولا تنظرون اور مجھے بالکل مہلت بھی نہ دو ۔ حضرت نوح کے اس کلام میں امر بمعنی تعجیز ہے (یعنی تم ایسا کر ہی نہیں سکتے ‘ اگر کرسکتے ہو تو کر گذرو ‘ انتظار کس بات کا ہے) اس کلام کو نقل کرنے سے مقصود یہ ہے کہ حضرت نوح کا اعتماد اپنے رب پر نہایت مضبوط تھا۔ ان کو اللہ کی مدد پر بھروسہ تھا۔ وہ قوم کی کسی خفیہ تدبیر سے خائف نہ تھے۔ ان کو یقین تھا کہ ان کی قوم اور قوم کے معبود کچھ نہیں کرسکتے۔ نہ نفع ان کے قبضہ میں ہے نہ ضرر۔
يونس 10:72
فان تولیتم فما سالتکم من اجر پھر بھی تم اگر اعراض ہی کئے جاؤ تو (اتنا سمجھ لو کہ) میں تم سے کسی معاوضہ کا طالب نہیں۔
جزاء کو حذف کر کے جزاء کی علت کو اس کے قائم مقام ذکر کیا ہے۔ اصل مطلب (تشریحی) اس طرح ہے کہ اگر تم میرے وعظ و نصیحت سے اب بھی روگردانی کرو گے اور میری بات نہیں مانو گے تو ہلاک ہوجاؤ گے ‘ یا اللہ تم کو عذاب دے گا کیونکہ تمہاری روگردانی کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ قبول حق سے کوئی امر مانع نہیں۔ اس وعظ و تذکیر میں میرا کوئی مقصد نہیں۔ میں اس دعوت کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا کہ تم معاوضہ ادا کرنے سے قاصر ہو اور اسلئے روگردانی کر رہے ہو ‘ یا مجھے (دنیا طلبی کی تہمت سے) متہم کرسکو۔ یا یہ مطلب ہے کہ روگردانی کرو گے تو خود اپنا نقصان کرو گے ‘ میرا کچھ بگاڑ نہ ہوگا۔ میں تم سے معاوضہ کا طلبگار نہیں کہ تمہاری روگردانی سے مجھے معاوضہ نہ ملے۔ تمہارا ہی بگاڑ ہوگا ‘ تم ہی ہدایت سے محروم ہو گے۔
ان اجری الا علی اللہ (اس دعوت و وعظ کا) میرا معاوضہ تو بس اللہ کے ذمہ ہے۔ یعنی تم سے معاوضہ کا کوئی تعلق نہیں۔ تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ ‘ میرے عمل کا ثواب تو اللہ دے گا۔
اس فقرہ سے اشارۃً نکلتا ہے کہ تعلیم قرآن وغیرہ کی اجرت لینی جائز نہیں (تعلیم قرآن و احادیث بھی تبلیغ دین ہے اور تبلیغ دین کی اجرت ان لوگوں سے لینی جن کو تبلیغ کی گئی ہو ‘ بظاہر اس آیت سے ناجائز قرار پاتی ہے) ۔
وامرت ان اکون من المسلمین۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (ا اللہ کے حکم کی) اطاعت کروں ‘ ایمان لاؤں۔
اعمال میں بھی اتباع حکم الٰہی کروں اور لوگوں کو بھی دعوت دوں اور اس حکم کی تعمیل میں نے کی ہے اور کر رہا ہوں۔
يونس 10:73
فکذبوہ (حق واضح ہونے کے بعد بھی محض عناد اور ضد کی وجہ سے) قوم نوح تکذیب پر جمی رہی۔
فنجینہ ومن معہ فی الفلک پس ہم نے نوح کو اور ان کے ساتھیوں کو کشتی میں (غرق ہونے سے) بچا لیا۔ یہ سب اسّی آدمی تھے۔
وجعلھم خلف واغرقنا الذین کذبوا بایتنا اور ہم نے ان کو (مرنے والوں کا) جانشین بنایا اور جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا ‘ ان کو (طوفان میں) ڈبو دیا۔
فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین۔ سو آپ دیکھئے کہ جو لوگ ڈرائے گئے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ یعنی جن لوگوں کو پیغمبروں نے اللہ کی نافرمانی کے عذاب سے ڈرایا تھا اور وہ ایمان نہیں لائے تھے ‘ وہ کس طرح تباہ ہوئے۔
اس جملہ میں رسول اللہ (ﷺ) کیلئے پیام تسکین اور تکذیب کرنے والوں کو عظیم الشان عذاب سے تخویف ہے۔
يونس 10:74
ثم بعثنا من بعدہ رسلا الی قومھم پھر نوح کے بعد ہم نے (مختلف بکثرت) پیغمبروں کو ان کی قوم کے پاس (ہدایت کیلئے ) بھیجا۔ یعنی ہر رسول کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔
فجاء وھم بالبینت پس پیغمبر قوم والوں کے پاس کھلے ہوئے واضح دلائل (صداقت) لے کر پہنچے۔
فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا بہ من قبل اور بسبب اس کے جس چیز کی تکذیب انہوں نے پہلی بار کی تھی (اس پر اڑے رہے ‘ بعد کو بھی) ایمان نہیں لائے۔
کذلک نطبع علی قلوب المعتدین۔ اسی طرح ہم کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتے ہیں۔
یعنی جس طرح ہم نے قوم نوح اور نوح کے بعد آنے والے پیغمبروں کی امتوں کے دلوں پر مہر لگا دی تھی (بےمدد چھوڑ دیا تھا) اسی طرح آپ کی امت میں سے جو لوگ حکم خداوندی سے تجاوز کرنے والے ہیں ‘ ان کے دلوں پر بھی مہر لگا دیتے ہیں۔ اور چونکہ وہ خود گمراہی میں غرق ہیں اور خواہشات نفس کو نہیں چھوڑتے ‘ اسلئے ہم بھی ان کو بےمدد چھوڑ دیتے ہیں۔
يونس 10:75
ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ وھٰرون الی فرعون وملاۂ بایتنا پھر ان (پیغمبروں) کے بعد ہم نے موسیٰ (بن عمران) اور (ان کے بھائی) ہارون کو فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس اپنی نشانیاں دے کر بھیجا۔ چونکہ اگلی آیت میں قوم فرعون کی سرکشی کا بیان کیا گیا ہے ‘ اسلئے اس جگہ فرعون کے ساتھ سرداران قوم کا لفظ بھی ذکر کردیا۔
فاستکبروا وکانوا قوما مجرمین۔ پس انہوں نے اپنے کو بڑا سمجھا اور وہ تھے مجرم لوگ۔
یعنی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کی بات ماننے کو حقیر سمجھا اور مغرور ہوگئے (اسلئے اتباع نہیں کیا) اور وہ جرم کے خوگر تھے ‘ عادی تھے ‘ اسلئے انہوں نے رسالت کے پیام کو حقیر سمجھا اور تردید رسالت کی جرأت کی۔
يونس 10:76
فلماء جاء ھم الحق الخ : پھر جب ان کے پاس ہماری طرف سے حق پہنچ گیا تو کہنے لگے : بلاشبہ یہ (یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات) کھلا ہوا جادو ہے۔ یعنی جب فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس دین حق پہنچا اور واضح ‘ ناقابل شک معجزات سے اس کی حقانیت و صداقت کو وہ سمجھ بھی گئے تب بھی ضد اور سرکشی کی وجہ سے انہوں نے نہ مانا اور موسیٰ کے پیش کردہ معجزات کو کھلاہوا جادو قرار دیا اور موسیٰ کو ماہر جادوگر کہا۔
يونس 10:77
قال موسیٰ اتقولون للحق لما جاء کم اسحر ھذا موسیٰ نے کہا : کیا حق جب تمہارے پاس آگیا تو تم اس کو سحر کہتے ہو۔ کیا یہ جادو ہے ؟
یعنی حضررت موسیٰ نے بطور عجب و انکار کہا کہ جس امر کی صداقت و حقانیت اللہ کی طرف سے ہے ‘ تم اس کو سحر کہتے ہو ؟ سحر کی تو کوئی حقیقت نہیں ہوتی ‘ وہ تو صرف فریب کاری ہوتا ہے۔ یَقُوْلُوْنَ کا مفعول محذوف ہے۔ اَسِحْرٌ مفعول نہیں ہے ‘ یہ الگ جملہ ہے۔
ولا یفلح الساحرون۔ اور جادوگر کامیاب نہیں ہوتے۔ یہ جملہ حضرت موسیٰ کے کلام کا تتمہ ہے ‘ یعنی یہ جادو نہیں ہے۔ اگر جادو ہوتا تو نابود ہوجاتا اور جادوگروں کے جادو کو تباہ نہ کرسکتا۔ یا یہ فقرہ فرعونیوں کے قول (سحر ھذا) کا تکملہ اور جزء ہے۔ گویا فرعونیوں نے کہا تھا کہ موسیٰ ! کیا تم جادو کا مظاہر کر کے کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہو ‘ جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔
يونس 10:78
قالوا اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ ابآء نا وتکون لکم الکبریاء فی الارض وما نحن لکما بمؤمنین۔ فرعون نے کہا : (موسیٰ ! ) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ جس (مذہب) پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ‘ اس سے ہم کو پھیر دو ( موڑ دو ۔ قتادہ۔ یعنی بت پرستی یا فرعون کی پوجا سے ہم کو پھیرنے کیلئے آئے ہو) اور تم دونوں کی ملک مصر میں حکومت ہوجائے اور ہم تمہاری بات کو سچا نہیں مانیں گے۔ کبریاء سے مراد ہے حکومت اور اقتدار اعلیٰ ۔ بادشاہوں میں غرور دنیوی پیدا ہو ہی جاتا ہے ‘ اسلئے بادشاہت کا نام ہی غرور ہوگیا۔
يونس 10:79
قالوا اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ ابآء نا وتکون لکم الکبریاء فی الارض وما نحن لکما بمؤمنین۔ فرعون نے کہا : (موسیٰ ! ) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ جس (مذہب) پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ‘ اس سے ہم کو پھیر دو ( موڑ دو ۔ قتادہ۔ یعنی بت پرستی یا فرعون کی پوجا سے ہم کو پھیرنے کیلئے آئے ہو) اور تم دونوں کی ملک مصر میں حکومت ہوجائے اور ہم تمہاری بات کو سچا نہیں مانیں گے۔ کبریاء سے مراد ہے حکومت اور اقتدار اعلیٰ ۔ بادشاہوں میں غرور دنیوی پیدا ہو ہی جاتا ہے ‘ اسلئے بادشاہت کا نام ہی غرور ہوگیا۔
يونس 10:80
قالوا اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ ابآء نا وتکون لکم الکبریاء فی الارض وما نحن لکما بمؤمنین۔ فرعون نے کہا : (موسیٰ ! ) کیا تم ہمارے پاس اسلئے آئے ہو کہ جس (مذہب) پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ‘ اس سے ہم کو پھیر دو ( موڑ دو ۔ قتادہ۔ یعنی بت پرستی یا فرعون کی پوجا سے ہم کو پھیرنے کیلئے آئے ہو) اور تم دونوں کی ملک مصر میں حکومت ہوجائے اور ہم تمہاری بات کو سچا نہیں مانیں گے۔ کبریاء سے مراد ہے حکومت اور اقتدار اعلیٰ ۔ بادشاہوں میں غرور دنیوی پیدا ہو ہی جاتا ہے ‘ اسلئے بادشاہت کا نام ہی غرور ہوگیا۔
يونس 10:81
فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر پھر جب جادوگروں نے پھینکاتو موسیٰ نے فرمایا : تم جادو ہی لائے ہو۔
ان اللہ سیبطلہ یقیناً اللہ اس کو مٹا دے گا ‘ اس کا بےحقیقت ہونا ظاہر کر دے گا۔
ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو قائم نہیں رکھتا ‘ قوت نہیں دیتا۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ‘ یہ محض فریب کاری اور فساد انگیزی ہے۔
يونس 10:82
فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر پھر جب جادوگروں نے پھینکاتو موسیٰ نے فرمایا : تم جادو ہی لائے ہو۔
ان اللہ سیبطلہ یقیناً اللہ اس کو مٹا دے گا ‘ اس کا بےحقیقت ہونا ظاہر کر دے گا۔
ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بگاڑ پیدا کرنے والوں کے عمل کو قائم نہیں رکھتا ‘ قوت نہیں دیتا۔ اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ جادو کی کوئی حقیقت نہیں ‘ یہ محض فریب کاری اور فساد انگیزی ہے۔
يونس 10:83
فلما امن لموسی پس موسیٰ کی تصدیق نہیں کی (باوجودیکہ انہوں نے جادوگروں کے جادو کو نابود کردیا ‘ اور صداقت کی نشانیاں پیش کیں) ۔
الا ذریۃ من قومہ مگر موسیٰ کی قوم کے تھوڑے آدمیوں نے۔ مِنْ قَوْمِہٖ کی ضمیر بعض اہل تفسیر کے نزدیک حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی صرف وہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ پر ایمان لائے جو مصر میں رہتے تھے اور مصر سے نکلنے کے وقت حضرت موسیٰ کے ساتھ تھے (قبطی ایمان نہ لائے) ۔
مجاہد نے کہا : ایمان لانے والے ان اسرائیلیوں کی اولاد تھے جن کی ہدایت کیلئے حضرت موسیٰ کو بھیجا گیا تھا۔ آباء کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے باقی رہے تھے۔ ذریت سے یہی لوگ مراد ہیں۔
بعض علماء نے کہا : جب فرعون نے بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا آرڈر جاری کردیا تھا تو بعض اسرائیلی عورتوں نے اپنے نوزائیدہ بچے قبطی عورتوں کو ویسے ہی دے دیئے۔ ان بچوں نے قبطیوں کے پاس پرورش پائی اور جس روز حضرت موسیٰ جادوگروں پر غالب آگئے ‘ اس روز یہی اسرائیلی ایمان لائے تھے (جو نسلاً اسرائیلی تھے اور بظاہر قبطی زادے) ۔
بعض مفسرین کا قول ہے کہقَوْمِہٖ کی ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ قوم فرعون کے کچھ قلیل آدمی حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے تھے۔ فرعون کی بی بی اور فرعون کا خزانچی اور خزانچی کی بی بی اور فرعون کی بی بی کے بالوں میں کنگھا کرنے والی خادمہ اور مؤمن اٰل فرعون (جس کا تذکرہ سورة یٰسین کی آیت وَجَاءَ مِنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃٍ رَجُلٌ لَیَّسْغٰی میں آیا ہے) انہی لوگوں میں سے تھے اور یہی چند اہل ایمان آیت میں مراد ہیں (اخرجہ ابن جریر) دوسری روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے : وہ ستر آدمی مراد ہیں جن کے باپ قبطی تھے اور مائیں اسرائیلی۔ یہ لوگ اپنی ننہال کے پیرو ہوگئے تھے۔ فراء نے کہا : ان کو ذریت اسلئے کہا گیا کہ ان کے باپ قبطی تھے اور مائیں اسرائیلی۔ جس طرح بعض اہل فارس یمن میں آ بسے تھے ‘ ان کی اولاد کو ابناء فارس کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے باپ دوسرے ملک سے تھے اور مائیں دوسرے ملک سے۔
علی خوف من فرعون وملاءھم ان یفتنھم ڈرتے ڈرتے فرعون اور اپنے حاکموں سے کہ (کہیں ایمان کی اطلاع فرعون کو اگر مل گئی تو) ان کو سخت مصیبت میں ڈال دے گا۔
ملاءھم کی ضمیر جمع فرعون کی طرف راجع ہے اور اظہار تعظیم کیلئے ہے۔ یا فرعون سے مراد ہیں اس کے متبعین ‘ یعنی فرعونی لوگ۔ جیسے ربیعہ اور مضر سے مراد ہوتے ہیں ربیعہ اور مضر کی نسل کے قبائل۔ یا ذریت کی طرف راجع ہے ‘ یعنی ذریعت مؤمنہ کو فرعون اور اپنے قبطی حکام سے ڈر تھا۔ یا قوم کی طرف راجع ہے۔
وان فرعون لعال فی الارض وانہ لمن المسرفین۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ فرعون ملک (مصر) میں اونچا (طاقتور ‘ مغرور) تھا اور (اپنی) حدود سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا۔ کہ باوجود مخلوق اور محتاج ہونے کے ملوکیت سے آگے بڑھ کر ربوبیت کا مدعی بن بیٹھا تھا اور انبیاء زادوں کو باندی غلام بنا رکھا تھا۔
يونس 10:84
وقال موسیٰ یقوم کنتم امنتم باللہ فعلیہ توکلوا ان کنتم مسلمین۔ اور موسیٰ نے (جب مؤمنوں کو خوف زدہ دیکھا تو) کہا : اے میری قوم ! اگر تم اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو اسی پر اعتماد اور بھروسہ کرو (فرعون اور اس کے آدمیوں سے مت ڈرو) اگر (ا اللہ کے فیصلہ کو) مانتے ہو اور مخلص ہو تو اللہ ہی پر توکل کرو۔ اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ کی جزاء محذوف ہے اور اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ کی جزاء فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْٓا ہے۔ ایمان وجوب توکل کا مقتضی ہے ‘ اسلئے تَوَکَّلُوْا کا اٰمَنْتُمْ سے تعلق ہے اور جب تک دلوں میں اخلاص نہ ہو اور اپنی ہستی کو فیصلۂ خداوندی کے سپرد نہ کردیا جائے ‘ اس وقت تک حصول توکل نہیں ہو سکتا۔ توکل نفسانی خواہشات کو احکام الٰہی کے ساتھ مخلوط کرنے کی صورت میں حاصل نہیں ہوتا۔ توکل صوفیہ کے مقامات میں سے ایک مقام ہے۔
يونس 10:85
فقالوا علی اللہ توکلنا (چونکہ وہ لوگ مخلص تھے اور اللہ کے پیغمبر کے سچے صحابی تھے ‘ اسلئے) انہوں نے کہا : ہمارا بھروسہ اللہ ہی پر ہے۔ اس کے بعد انہوں نے دعا کی اور بولے۔
ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین۔ اے ہمارے رب ! ہم کو ان ظالم لوگوں کا تختۂ مشق نہ بنا۔ فتنہ سے مراد ہے نشانۂ عذاب ‘ نزول عذاب کا مقام۔ یعنی اے ہمارے رب ! ان ظالموں کو ہم پر قابو نہ دینا کہ ہم کو یہ اپنے عذاب کا نشانہ بنا سکیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کے کفر اور سرکشی میں اضافہ کا سبب ہم کو نہ بنانا کہ براہ راست تیرے امتحان میں ہم مبتلا ہوجائیں یا فرعون کے ہاتھوں ہم پر عذاب نازل ہوجائے اور پھر فرعون والے کہیں کہ اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو عذاب میں مبتلا نہ ہوتے اور اس کہنے سے ان کا کفر اور ترقی پر ہوجائے۔
يونس 10:86
ونجنا برحمتک من القوم الکٰفرین۔ اور ہم کو ان کافروں کے گروہ سے اپنی رحمت سے نجات عطا کر۔
یعنی ان کی مکاری اور سازش اور نحوست سے نجات دے۔
دعا سے پہلے توکل کا ذکر کرنا بتا رہا ہے کہ دعا کرنے والے پر سب سے پہلے اللہ پر بھروسہ رکھنا لازم ہے تاکہ اس کی دعا قبول ہو سکے۔
میں کہتا ہوں : صوفی کیلئے توکل تو ان صفات میں سے ہے جو صوفی کے اندر ہونی لازم ہیں۔ دعاء تو لوازم میں سے نہیں ‘ بیرونی عوارض میں سے ہے (اگر صوفی دعاء کرتا ہے تو بہتر ہے۔ صوفیت کا حال اس کا مقتضی ہے لیکن لازم نہیں ‘ اور توکل صوفی کی لازمی خصوصیت ہے) ۔
يونس 10:87
واوحینا الی موسیٰ واخیہ اور ہم نے وحی بھیجی موسیٰ کے اور اس کے بھائی (ہارون) کے پاس۔
ان تبوا لقومکما بمعصر بیوتا کہ تم دونوں اپنے لوگوں کے مصر میں گھر مقرر کرلو۔
یعنی کچھ مکان مقرر کرلو کہ سکونت اور عبادت کیلئے تمام مکانوں کو چھوڑ کر مقررہ گھروں کی طرف رجوع کرو۔
بغوی نے لکھا ہے : اکثر مفسرین کا بیان ہے کہ پہلے بنی اسرائیل صرف گرجوں اور خانقاہوں میں نماز پڑھا کرتے تھے ‘ لیکن حضرت موسیٰ کی بعثت کے بعد فرعون کے حکم سے تمام عبادت خانے ڈھا دئیے گئے اور بنی اسرائیل کو وہاں نماز پڑھنے کی ممانعت ہوگئی تو اللہ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اپنے گھروں کے اندر ہی مسجدیں بنا لو اور وہیں نماز پڑھا کرو۔ ابراہیم نخعی کا یہی قول ہے اور عکرمہ کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔
مجاہد کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں کو فرعون کی طرف سے ڈر تھا کہ جامع مسجدوں میں نماز پڑھیں گے تو فرعون پکڑوا کر سزا دے گا ‘ اسلئے اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا کہ بنی اسرائیل اپنے گھروں میں کعبے کے رخ پر مسجدیں بنا لیں اور چھپ کر وہاں نمازیں پڑھا کریں۔
واجلعوا بیوتکم قبلۃ اور تم سب بنا لو (مقرر کردہ) گھروں کو قبلہ رخ نماز کی جگہ۔ قبلہ سے مراد ہے نماز کی جگہ جو قبلہ رخ ہو ‘ یعنی کعبہ کی چھت پر ہو۔ ابن جریح نے حضرت ابن عباس کا قول بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ اور آپ کے ساتھیوں کا قبلۂ عبادت کعبہ تھا۔
واقیموا الصلوۃ اور اس میں نماز قائم کرو۔ تاکہ کفار غلبہ حاصل کر کے ان کو ایذاء نہ پہنچائیں۔
وبشر المؤمنین۔ اور (اے موسیٰ ! ) تم ایمانداروں کو بشارت دے دو ۔ کہ اللہ تمہارے دشمنوں کو ہلاک کر دے گا اور تم کو ملک میں ان کا جانشین بنا دے گا ‘ اور آخرت میں تم کو جنت عطا فرمائے گا۔ شروع کلام میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ‘ دونوں کو خطاب کیا ‘ پھر ان دونوں کو مع قوم کے مخاطب بنایا کیونکہ دونوں حضرات کی کوشش اور سرداران قوم کے مشورہ سے گھروں کے اندر مسجدیں ہو سکتی تھیں اور چونکہ ہر شخص پر گھروں کے اندر نماز کی جگہ مقرر کرنا اور وہاں ادائے صلوٰۃ کرنا لازم تھا ‘ اسلئے سارے مؤمنوں کو خطاب فرمایا۔ آخر میں صرف حضرت موسیٰ کو مخاطب کیا کیونکہ آپ ہی صاحب شریعت تھے اور قوم کو بشارت دینا آپ ہی کا فریضہ تھا۔
بغوی نے لکھا ہے کہ بشر سے خطاب رسول اللہ (ﷺ) کو ہے۔
يونس 10:88
وقال موسیٰ ربنا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ اور موسیٰ نے کہا : اے ہمارے مالک ! تو نے فرعون کو اور اس کے سرداروں کو سامان آرائش عطا فرمایا ہے۔
زینت سے مراد اسباب زینت ‘ لباس ‘ زیور ‘ فرش فرنیچر ‘ استعمال کا سامان ‘ سواریاں ‘ نوکر چاکر اور خدمتگار وغیرہ۔
واموالا فی الحیوۃ الدنیا ربنا لیضلوا عن سبیلک اور بہت مال دنیوی زندگی میں ‘ اے ہمارے رب ! (اس کا نتیجہ یہ ہے) کہ وہ تیرے راستے سے بہکا دیں۔
لِیُضِلُّوْا میں لام عاقبت ہے (یعنی وہ لام جو نتیجہ پر داخل ہوتا ہے اور لام سے پہلے کا کلام بعد والے کلام کا سبب ہوتا ہے) مطلب یہ کہ تیرے دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ گمراہ اور گمراہ کن ہوگئے۔ جیسا دوسری آیت میں آیا ہے : فَالْتَقَطَہٗٓ اٰلُ فِرْعَوْنَ لِیَکُوْنَ لَھُمْ عُدُوًّا وَّحَزَنًا فرعون کے آدمیوں نے موسیٰ کو پا لیا کہ موسیٰ (نتیجہ میں) ان کے دشمن اور ان کے حزن کا سبب ہوجائیں۔
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ لام بمعنی کَےْ ہے (تاکہ) یعنی تو نے یہ سارا مال و متاع دے کر ان کو ڈھیل دی ہے تاکہ وہ گمراہی پر جمے رہیں۔ یا یوں کہا جائے کہ چونکہ فرعون اور اس کے ساتھیوں نے خداداد مال و متاع اور جاہ و حشم کو گمراہی کا ذریعہ بنا رکھا تھا تو گویا ان کو دیا ہی گیا اسلئے تھا کہ وہ گمراہ ہوجائیں اور دوسروں کو بہکائیں۔ اظہار عجز اور شدت زاری کیلئے رَبَّنَا کو بطور تاکید دوبارہ ذکر کیا۔
شیخ ابو منصور ماتریدی نے فرمایا کہ اللہ جانتا تھا کہ کافر دوسرے لوگوں کو اللہ کے راستے سے بہکائیں گے ‘ اسلئے ان کو دنیا کا مال و متاع عطا فرما دیا تاکہ وہ اس کے راستے سے لوگوں کو بہکائیں (گویا مال دینے کی غرض ہی یہ تھی کہ وہ گمراہ ہوں اور گمراہ کریں) جیسا دوسری آیت میں آیا ہے : اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْآ اِثْمًا ہم ان کو ڈھیل دیتے ہیں تاکہ گناہوں میں ترقی کریں۔ اس صورت میں یہ آیت معتزلہ کے مسلک کے خلاف ایک واضح شہادت ہوجائے گی۔ معتزلہ کہتے ہیں کہ بندوں کیلئے جو امر زیادہ نفع بخش ہو ‘ اس کا کرنا اللہ پر واجب ہے (غیر مفید اور ضرررساں کام اللہ نہیں کرتا ‘ بندہ خود اس کی تخلیق کرتا ہے) ۔
بیضاوی نے لکھا : رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِکَ (الگ جملہ انشائیہ ہے ‘ اس) میں لِیُضِلُّوْا امر کا صیغہ ہے اور کافروں کیلئے بددعا ہے۔
ربنا اطمس علی اموالھم اے ہمارے رب ! ان کے مالوں کو (تباہ کر کے) مٹا دے (مجاہد) ۔ بعض اہل علم نے کہا : طْمَسْ سے مراد ہے صورت مسخ کردینا ‘ ہیئت بگاڑ دینا۔ قتادہ کا قول ہے کہ ان کا سارا مال ‘ کھیتیاں اور جواہر پتھر بنا دئیے گئے۔ نقوش اور شکل وہی تھی جو اصلی چیزوں کی تھی مگر سب چیزیں پتھر کی ہوگئیں تھیں اور پھٹ کر کسی کے دو اور کسی کے تین ٹکڑے ہوگئے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک تھیلا منگوایا ‘ اس میں فرعون والوں کی کچھ باقی ماندہ چیزیں تھیں۔ انڈا نکالا تو وہ بھی شگافتہ اور اخروٹ نکالا تو وہ بھی پھٹا ہوا اور سب چیزیں پتھر کی۔
سدی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے ان کے سب مال ‘ درخت ‘ پھل ‘ آٹا ‘ کھانا پتھرکا کردیا تھا۔ یہ معجزہ بھی حضرت موسیٰ کے نو معجزات میں سے ایک تھا۔
واشد علی قلوبھم اور ان کے دلوں پر سخت بند باندھ دے۔ یعنی ان کے دلوں کو سخت کر دے ‘ ان پر مہر لگا دے کہ ایمان کیلئے ان میں نرمی ہی پیدا نہ ہو۔ حضرت موسیٰ نے مایوس ہو کر ان کیلئے یہ بددعا کی تھی ‘ ورنہ حضرت موسیٰ کو تو اسلئے بھیجا گیا تھا کہ وہ ایمان کی طرف بلائیں (نہ یہ کہ انکار پر قائم رکھنے کی دعا کریں) ۔
ایک شبہ : جب حضرت موسیٰ کو معلوم تھا کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پھر بددعا کرنا بےسود تھا۔
ازالہ : بددعا کی وجہ شاید یہ ہو کہ ایمان کی فطرت اللہ کے دشمنوں سے اللہ کیلئے نفرت کرتی ہے (اور بغض و نفرت کا تقاضا ہے کہ بددعا کی جائے بشرطیکہ نفرت ذاتی نہ ہو ‘ لوجہ اللہ ہو) یا حضرت موسیٰ کو بددعا کرنے کا حکم دیا گیا ہوگا اور اس کی تعمیل میں آپ نے بددعا کی۔ مثلاً تم یہ جانتے ہو کہ ابلیس پر اللہ کی لعنت ہے ‘ لیکن اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْْہُ عَدُوًّا شیطان تمہارا دشمن ہے ‘ تم اس کو دشمن سمجھو۔ تم اس حکم کی تعمیل میں شیطان پر لعنت کرتے ہو۔
فلا یؤمنوا حتی یروا العذاب الالیم۔ پھر وہ ایمان نہ لائیں یہاں تک کہ (مرنے کے بعد) دردناک عذاب کا مشاہدہ کرلیں (سدی) ۔
يونس 10:89
قال قد اجیبت دعوتکما اللہ نے (حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون سے) فرمایا : تم دونوں کی دعا قبول کرلی گئی۔
حضرت موسیٰ دعا کر رہے تھے اور حضرت ہارون آمین کہہ رہے تھے ‘ اسلئے دعا کی نسبت دونوں کی طرف کی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ کی دعا چالیس برس کے بعد قبول ہوئی تھی۔
فاستقیما پس تم قائم رہنا۔ یعنی رسالت اور دعوت پر قائم رہنا اور میرے حکم پر چلنا یہاں تک کہ ان پر عذاب آجائے گا۔
ولا تتبعٰن سبیل الذین لا یعلمون۔ اور نادانوں کے طریق کی پیروی نہ کرنا کہ نادانوں کی طرح نزول عذاب میں جلدی کرنے لگو۔ یا اللہ کے وعدہ پر پورا بھروسہ نہ رکھو۔
يونس 10:90
وجاوزنا ببنی اسراء یل البحر اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار کرا دیا۔ یعنی عبور کرا کے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ پانی پھٹ کر ادھر ادھر ہوگیا۔ حضرت موسیٰ اور آپ کی قوم والے (خشک زمین پر چل کر) پار نکل گئے۔
فاتبعھم فرعون و جنودہ بنی اسرائیل کے پیچھے سے فرعون اور اس کا لشکر بھی جا پہنچا۔ تَبِعَاور اَتْبَعَ جا پہنچا ‘ پیچھے سے چلا اور اگلے لوگوں سے جا کر مل گیا۔ اِتَّبَعَ (باب افتعال) پیروی کی۔ بعض نے کہا : اَتْبَعَ (باب افعال) اور اِتَّبَعَ (باب افتعال) دونوں ہم معنی ہیں۔
بغیًا وعدوا ظلم اور زیادتی کے ارادہ سے۔
بعض نے کہا : بغی سے مراد ہے قول میں زیادتی اور عدوًاسے مراد ہے فعل میں زیادتی۔ غرض فرعون لشکر کو لے کر جب دریا کے کنارے پہنچا تو اندر گھسنے سے سب کو ڈر لگا مگر (غیب سے انسانی شکل بنا کر) حضرت جبرئیل گھوڑی پر سوار ہو کر آئے اور سب سے آگے پانی میں گھس پڑے۔ گھوڑی کے پیچھے فوج کے گھوڑے بھی دریا میں داخل ہوگئے۔ جب آخری آدمی تک دریا میں گھس گیا اوّل ترین آدمی نے دوسرے کنارہ سے نکلنے کا ارادہ کرلیا تو یکدم پانی برابر ہوگیا اور سب کے اوپر آگیا۔
حتی اذا ادر کہ الغرق قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسراء یل وانا من المسلمین۔ یہاں تک کہ فرعون جب ڈوبنے لگا تو بولا : مجھے یقین ہوگیا کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں جس کو بنی اسرائیل مانتے ہیں اور میں (اس کے) فرمانبراروں میں سے ہوں۔ حضرت جبرئیل نے فوراً اس کے منہ میں کیچڑ بھر دی اور توبہ قبول ہونے سے پہلے وہ مر گیا۔ جب قبول توبہ کا وقت تھا تو بدبخت منہ موڑے رہا اور جب قبول توبہ کا وقت جاتا رہا تو پرزور توبہ کی (جس کا کوئی نتیجہ نہ ہوا) ۔
يونس 10:91
آلن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین۔ (ا اللہ نے فرمایا :) کیا اب (تجھے یقین ہوا اور تو نے مانا) حالانکہ اس سے پہلے (ساری عمر) تو نافرمانی کرتا رہا اور تباہی پیدا کرنے والوں میں رہا۔ خود بھی گمراہ رہا اور دوسروں کو بھی ایمان سے بہکاتا رہا۔ بغوی نے حضرت ابن عباس کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب اللہ فرعون کو غرق کرنے لگا (یعنی بحکم خدا فرعون ڈوبنے لگا) تو بولا : اٰمَنْتُ اَنَّہٗ لاآ اِلٰہَ الاَّ الَّذِیْٓ اٰمَنَت بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَآءِ یْلَ ۔ حضرت جبرئیل نے (رسول اللہ (ﷺ) سے) کہا : محمد ! کاش آپ وہ منظر دیکھتے کہ میں اس کے منہ میں سمندر کی کیچڑ ٹھونس رہا تھا کیونکہ مجھے اندیشہ تھا کہ کہیں اللہ کی رحمت اس کو پہنچ جائے (اور مرنے سے پہلے اس کی توبہ قبول ہوجائے) ۔
فائدہ : جلال الدین دوّانی کا قول ہے کہ فرعون نے چونکہ کلمۂ توحید زندگی میں پڑھ لیا تھا ‘ اسلئے (اس کی توبہ قبول ہوگئی اور) وہ مسلمان مرا۔ دوّانی نے اس قول میں حضرت شیخ محی الدین ابن عربی کی پیروی کی ہے۔ ابی عربی کا بھی یہی قول ہے کہ فرعون پاک مرا۔
حق یہ ہے کہ شیخ کا قول ظاہر نصوص کے خلاف ہے۔ آپ کے سکر کی حالت کے بکثرت الفاظ شرع کے مطابق نہیں ہیں۔ شیخ کا فرعون کے متعلق یہ قول بھی اجماع علماء کے خلاف ہے اور صحیح احادیث سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
دوّانی نے کہا : فرعون کا دوزخی ہونا کسی آیت سے ثابت نہیں۔ جس جس آیت میں عذاب دوزخ سے ڈراوا دیا گیا ہے ‘ وہ آل فرعون کو دیا ہے ‘ فرعون کو نہیں دیا گیا۔ دیکھو اللہ نے فرمایا ہے : اَدْخِلُوْا اٰل فِرْعُوْنَ اَشَدَّ الْعَذَابِ آل فرعون کو شدید ترین عذاب میں داخل کر دو ۔ نَاَوْرَدَھُمْ النَّار فرعون نے اپنے متبعین کو دوزخ میں اتار دیا۔ وَحَاقَ بِاٰلِ فِرًْعُوْنَ سُوْٓہُ الْعَذَابِآل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کفر کی وجہ سے فرعون کو عذاب نہ ہوگا بلکہ مخلوق پر چونکہ اس نے مظالم کئے تھے ‘ اسلئے اس کو عذاب ہوگا۔ بندوں کے حقوق معاف نہیں کئے جائیں گے۔
میں کہتا ہوں : دوّانی کی یہ دلیل لغو ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : فَحَشَرَ فَنَادٰی فَقَالَ اَنَا رَبُّکُمْ الْاَعْلٰی فَاَخَذَہُ اللّٰہُ نَکَالَ الْاٰخِرَۃِ وَالْاُوْلٰی فرعون نے سب کو جمع کر کے کہا : میں تم سب کا رب اعلیٰ ہوں۔ آخر اللہ نے اس کی پکڑ کی اور اس کو دنیا و آخرت میں (یا اگلوں پچھلوں کیلئے) عبرت بنا دیا۔ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ کفر کی وجہ سے آخرت میں فرعون پر عذاب ہوگا۔ دوسری آیت میں حضرت موسیٰ کی دعا نقل کی ہے : اِنَّکَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَمَلاَہٗ الخ۔ اس کے آخر میں فرمایا ہے : قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُکُما۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ نے فرعون کیلئے بددعا کی تھی اور درخواست کی تھی کہ اس کا خاتمہ کفر پر ہو اور یہ دعا قبول کرلی گئی ‘ پس کفر پر اس کا خاتمہ ہوگا۔ اس کا انکار آیت کا انکار ہے۔
يونس 10:92
فالیوم ننجیک ببدنک لتکون لمن خلفک ایۃ پس آج کسی اونچے ٹیلہ پر ہم تیرے بدن کو ڈال دیں گے (کہ جسم کو مچھلیاں نہ کھا سکیں اور بدن اپنی شکل کے ساتھ قائم رہے ) تاکہ تو اپنے پیچھے آنے والوں کیلئے عبرت بن جائے۔ نُنَجِّیْ نجوۃ سے مشتق ہے۔ نجوۃ کا معنی ہے اونچی جگہ۔ یا یہ مطلب ہے کہ پانی کے جس قعر میں تیری قوم غرق ہوگئی (اور ان کے بدن بھی تہہ نشین ہوگئے) ہم ان کی طرح تیرے جسم کو پانی کے اندر نہیں داخل کریں گے بلکہ پانی کے اوپر ترائیں گے۔ ببدنک یعنی بےجان لاشہ ‘ یا مکمل جسم ‘ یا برہنہ جسم۔ یا ببدنک سے مراد یہ ہے کہ تجھے تیرے کرتہ سمیت ہم اوپر لا پھینکیں گے۔ فرعون کا ایک کرتہ سنہری تاروں کے جواہر سے مرصع مشہور تھا۔
بغوی نے لکھا ہے : جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کو فرعون کے ہلاک ہوجانے کی اطلاع دی تو ان کو یقین نہیں آیا۔ کہنے لگے : فرعون نہیں مرا ہے۔ ان کا شبہ دور کرنے کیلئے اللہ نے فرعون کی لاش کو ساحل پر لا پھینکا۔ لاش سرخ اور چھوٹی تھی ‘ بیل معلوم ہوتی تھی (یعنی پھول گئی تھی) بنی اسرائیل نے دیکھ کر اس کو پہچان لیا اور حضرت موسیٰ کی اطلاع کی تصدیق کی۔ اٰیَۃً سے مراد ہے عبرت ‘ نصیحت یا ایسی نشانی جس سے اللہ کی توحید (قدرت) اور بندہ کا عجز ثابت ہو رہا ہو ‘ خواہ بندہ بادشاہ ہی ہو۔ بات یہ تھی کہ بنی اسرائیل کے دماغوں میں یہ بات جم چکی تھی کہ فرعون کبھی نہیں مرے گا ‘ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ کی اطلاع کے بعد بھی ان کو فرعون کے مرنے میں شک رہا۔ آخر ساحل پر پڑی ہوئی لاش کو دیکھ کر ان کو یقین ہوا۔ یا مَنْ خَلْفِکَسے مراد ہیں آئندہ زمانہ میں آنے والے لوگ کہ ان کو اس واقعہ کو سن کر عبرت ہوگی اور وہ سرکشی سے باز رہیں گے۔
وان کثیرًا من الناس عن ایتنا لغفلون۔ اور بہت لوگ (یعنی کفار) ہماری نشانیوں کی طرف سے غافل ہیں ‘ غور نہیں کرتے اور عبرت اندوز نہیں ہوتے۔
يونس 10:93
ولقد بوانا بنی اسراء یل مبوا صدق اور ہم نے بنی اسرائیل کو سچائی کی جگہ رہنے کو دی (یعنی اچھے مقام میں ٹھہرنے اور رہنے کا ٹھکانا عطا کیا) مُبَوَّاَ صِدْقٍسے مراد ہے اچھی جگہ ‘ یعنی مصر یا اردن اور فلسطین۔ یہ وہی پاک سرزمین تھی جس کا حضرت ابراہیم اور آپ کی نسل کو عطا کرنا اللہ نے لکھ دیا تھا۔ ضحاک کے نزدیک مصر اور شام مراد ہیں۔
ورزقنھم من الطیبٰت اور ہم نے ان کو لذیذ چیزیں عطا کیں۔
فما اختلفوا پس بنی اسرائیل نے اختلاف نہیں کیا۔ یعنی رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ میں جو بنی اسرائیل تھے ‘ انہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کی بعثت سے پہلے نبی آخر الزماں کے مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں کیا تھا۔ سب متفق تھے کہ جن صفات کا تذکرہ توریت میں ہے ‘ ان کا حامل اللہ کا رسول برحق ہوگا۔ لوگوں کو وہ بشارت بھی دیتے تھے کہ اللہ کے رسول برحق کی بعثت کا زمانہ قریب آگیا ہے۔ وہ لڑائی میں کافروں پر فتحیاب ہونے کی دعا بھی نبی آخر الزماں کے طفیل سے مانگتے تھے۔
حتی جاء ھم العلم یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا۔ یعنی وہ شخص آگیا جس کی صفات کو وہ جانتے تھے۔ اس سے مراد ہے رسول اللہ (ﷺ) کی شخصیت مبارکہ۔ اس جگہ علم بمعنی معلوم ہے ‘ جیسے خلق بمعنی مخلوق۔ اللہ نے فرمایا ہے : ھٰذَا خَلْقُ اللّٰہِ یہ اللہ کی مخلوق ہے۔ یا یہ معنی ہے کہ جب بنی اسرائیل کو علم ہوگیا کہ محمد (ﷺ) انہی صفات کے حامل ہیں جن کا ذکر توریت میں آیا ہے اور آپ کے معجزات سے بھی ان کو واقفیت ہوگئی تو اس وقت آپس میں دو فریق بن گئے۔ کچھ ایمان لے ائے اور دوسرے فریق نے محض عناد و حسد کی وجہ سے نبوت کو ماننے سے انکار کردیا۔
ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون۔ جس مسئلہ میں یہ اختلاف کرتے ہیں قیامت کے دن اللہ اس کا فیصلہ کر دے گا اور ان کے باہمی اختلاف کو چکا دے گا۔ اہل حق کو اہل باطل سے الگ کر دے گا۔ اوّل کو عذاب سے محفوظ رکھے گا اور دوسرے کو ہلاک کر دے گا۔
يونس 10:94
فان کنت فی شک مما انزلنا الیک پس (اے انسان ! ) اگر تجھے شک ہو اس (قرآن و ہدایت) میں جو ہم نے (اپنے رسول محمد (ﷺ) کی زبانی) تیری طرف بھیجا ہے۔ (1) [ حضرت مفسر نے کنت کا مخاطب ہر انسان کو اس لئے قرار دیا کہ رسول اللہ (ﷺ) کو تو کوئی شک ہی نہ تھا۔ آپ کے پاس وحی آئی ‘ قرآن اترا ‘ احکام خداوندی نازل ہوئے۔ آپ کو اپنی جگہ ناقابل شک یقین اور ایسا ایمان تھا جس میں کسی وہم کی گنجائش نہ تھی ‘ پھر اہل کتاب سے تصدیق طلب کرنے کا کوئی معنی ہی نہیں۔ ہاں جاہل مشرک کے پاس اگر عقلی اور وجدانی شہادت نہ ہو تو وہ اہل علم سے تصدیق طلب کرنے کا محتاج ہوتا ہے ‘ اسلئے عام انسان کو خطاب فرمایا۔]
فسئل الذین یقرء ون الکتب من قبلک تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے (ا اللہ کی) کتاب (توریت و انجیل) پڑھتے تھے۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد اور ضحاک نے فرمایا کہ اہل کتاب سے مراد ہیں وہ اہل کتاب جو ایمان لے آئے تھے ‘ جیسے عبد اللہ بن سلام اور آپ کے ساتھی۔ یعنی ایمان دار اہل کتاب سے پوچھ لے ‘ وہ شہادت دیں گے کہ جس کتاب (ورسول) کا وعدہ توریت و انجیل میں کیا گیا تھا ‘ وہ یہی ہے۔ بیان قصص اور اصول احکام کی تعلیم میں سابق کتابوں کے موافق ہے۔
رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ میں سچے ایماندار اور اندرون قلب سے انکار و تکذیب کرنے والے۔ یہ دو گروہ تو موجود ہی تھے ‘ ایک تیسرا گروہ بھی تھا جو تصدیق و تکذیب کے درمیان شک میں پڑا ہوا تھا ‘ اسی کو آیت میں خطاب ہے۔
آیت میں درپردہ تعلیم ہے اس بات کی کہ اگر کسی کو دین کی صداقت میں کوئی شک و شبہ پیدا ہوجائے تو اس کو علماء حق کی طرف رجوع کر کے پوچھنا چاہئے۔
بعض اہل تفسیر کے نزدیک کُنْتَ سے خطاب رسول اللہ (ﷺ) کو ہے اور مطلب یہ ہے کہ بالفرض اگر آپ کو شک ہو ‘ یا اس کلام سے مقصود ہے رسول اللہ (ﷺ) کو ایمان پر جمائے رکھنا۔ اس قول کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو عبدالرزاق اور ابن جریر نے بیان کی ہے کہ قتادہ نے کہا : ہم کو اطلاع ملی ہے کہ (اس آیت کے نزول کے بعد) رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : مجھے نہ کوئی شک ہے نہ میں (شک دور کرنے کیلئے) کسی سے کچھ پوچھوں گا۔
بعض علماء نے کہا : خطاب تو رسول اللہ (ﷺ) کو ہے مگر روئے خطاب دوسرے لوگوں کی طرف ہے۔ عرب کا (بلکہ ہر زبان والوں کا) قاعدہ ہی یہ ہے کہ گفتگو میں مخاطب کسی شخص خاص کو کرتے ہیں مگر مراد اس شخص کی ذات نہیں ہوتی ‘ دوسرے لوگ مراد ہوتے ہیں۔ مختلف آیات میں یہ طرز خطاب اختیار کیا گیا ہے۔ ایک آیت ہے : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیِّ اتَّقَ اللّٰہَ اے نبی ! اللہ سے ڈر۔ آیت میں مخاطب رسول اللہ (ﷺ) ہیں مگر مراد خطاب دوسرے مؤمن ہیں کیونکہ اس کے آگے آیا ہے : اِنَّ اللہ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًاتم لوگ جو کچھ کرتے ہو ‘ اللہ اس سے باخبر ہے۔ اس آیت میں تعملون فرمایا ‘ یعنی جماعت کو خطاب کیا۔ دوسری آیت ہے : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ اے نبی ! جب تم طلاق دو عورتوں کو (خطاب نبی (ﷺ) کو ہے اور حکم مؤمنوں کو دیا گیا ہے اور طلقتم جمع کا صیغہ ذکر کیا گیا ہے) ۔
فراء نے کہا : اللہ کو معلوم تھا کہ اس کے رسول کو شک نہیں ہے لیکن عرب محاورہ کے مطابق طرز کلام اختیار کیا گیا۔ بعض لوگ اپنے غلام سے کہتے ہیں : اگر تو میرا غلام ہے تو میرے حکم کی تعمیل کر۔ اگر تو میرا لڑکا ہے تو یہ کام کر (ظاہر ہے کہ حکم دینے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ غلام کو اپنے غلام ہونے میں اور بیٹے کو بیٹا ہونے میں کوئی شک نہیں ہوتا ‘ پھر بھی اگر کا لفظ بولتا ہے ‘ مگر یہ لفظ شکیہ نہیں ہوتا۔
لقد جاءک الحق من ربک بیشک آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے سچی کتاب آپہنچی۔ یعنی جو کچھ ہم نے آپ کی طرف اتارا ہے ‘ وہ حق ہے ناقابل شک۔ روشن دلائل اور قطعی آیات سے اس کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا ثابت ہے۔ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
فلا تکونن من الممترین پس آپ شک میں پڑجانے والوں میں نہ ہوجائیں کہ جو یقین آپ کو حاصل ہے ‘ اس میں تذبذب پیدا کرلیں اور تردد میں پڑجائیں۔
يونس 10:95
ولا تکونن من الذین کذبوا الخ۔ اور نہ آپ ان لوگوں میں سے ہوجائیں جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی ورنہ آپ تباہ ہوجانے والوں (کی جماعت میں) سے ہوجائیں گے۔
اس آیت میں بھی گزشتہ آیت کی طرح یا شک کرنے والوں کو خطاب ہے ‘ یا رسول اللہ (ﷺ) کو مگر مراد دوسرے لوگ ہیں ‘ یا رسول اللہ (ﷺ) کو ہی خطاب ہے مگر وجہ خطاب بالفرض ہے۔ یعنی بالفرض اگر تکذیب آیات کریں گے تو خاسرین میں سے ہوجائیں گے۔ یا خطاب کا مقصود ہے رسول اللہ (ﷺ) کو مزید ثبات کا حکم دینا کہ اپنے یقین پر جمے رہیں ‘ جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : فَلاَ تَکُوْنَنَّ ظَھِیْرًا لِّلْکَافِرِیْنَ (یعنی کافروں کا مددگار نہ بننے پر آپ جمے رہیں) ۔
يونس 10:96
ان الذین حقت علیھم کلمت ربک لایؤمنون۔ بیشک جن لوگوں کیلئے آپ کے رب کا حکم (فیصلہ ازلی) طے ہوچکا (وہ ایمان نہیں لائیں گے) وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
حَقَّتْ واجب ہوگیا۔ کلمۂ رب سے مراد ہے ازلی فیصلہ کہ وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ مالک ‘ ترمذی اور ابو داؤد نے مسلم بن یسار کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب سے آیت وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ وَذُرِّیَّتَھُمْ کا معنی دریافت کیا گیا تو آپ نے جواب دیا : میں نے خود سنا کہ جب اس آیت کا (مرادی اور تشریحی) معنی رسول اللہ (ﷺ) سے دریافت کیا گیا تو حضور (ﷺ) نے فرمایا : اللہ نے آدم کو پیدا کیا ‘ پھر ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیر کر ان کی کچھ نسل باہر نکالی اور فرمایا : ان کو میں نے جنت کیلئے پیدا کیا اور یہ جنت والوں ہی کے کام کریں گے ‘ پھر پشت پر ہاتھ پھیر کر کچھ نسل برآمد کی اور فرمایا : ان کو میں نے دوزخ کیلئے پیدا کیا اور یہ دوزخیوں ہی کے کام کریں گے۔ امام احمد نے بوساطت ابو نصرہ ‘ حضرت ابو عبد اللہ صحابی کا بیان نقل کیا ہے ‘ ابوعبدا اللہ نے فرمایا : میں نے خود رسول اللہ (ﷺ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ نے اپنے دائیں ہاتھ کی ایک مٹھی لی اور دوسرے ہاتھ کی دوسری مٹھی (اوّل کے متعلق فرمایا :) یہ اس کیلئے ہے ‘ یعنی جنت کیلئے اور یہ اس کیلئے ہے ‘ یعنی دوزخ کیلئے اور مجھے (کسی کی پرواہ نہیں۔
ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ اللہ کا فیصلہ ناقابل شکست ہے۔
يونس 10:97
ولوجاء تھم کل ایۃ اگرچہ آجائے ان کے پاس ہر نشانی۔ جو صداقت پر دلالت کر رہی ہو اور ایمان کی مقتضی ہو ‘ کیونکہ ایمان کا اصلی سبب تو اللہ کا ارادہ ہے اور مشیت ایمان نہیں تو پھر ایمان کیسے لا سکتے ہیں۔
حتی یروا العذاب الیم ۔ جب تک کہ دردناک عذاب (آنکھوں سے) نہ دیکھ لیں گے۔ یعنی مرنے کے وقت غرغرہ کی حالت میں ‘ یا مرنے کے بعد قبروں میں ‘ یا قیامت کے دن دوزخ میں اور یہ اوقات ایسے ہیں کہ ان میں ایمان لانا فرعون کیلئے سودمند نہ ہوا۔
يونس 10:98
فلولا کانت قریۃ امنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس قوم یونس کے علاوہ کوئی اور ایسی بستی کیوں نہیں ہوئی کہ (مشاہدۂ عذاب کے بعد) وہ ایمان لائی ہو اور ایمان اس کیلئے مفید ہوا ہو۔ قریہ سے مراد ہیں قریہ والے ‘ یعنی ان بستیوں والے جن کو اللہ نے (تکذیب رسول کی سزا میں) تباہ کردیا۔ اٰمَنَتْ یعنی عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے ایمان لے آئی ہو اور فرعون کی طرح وقت موت پر ایمان کو نہ ٹالا ہو۔ ایمان کے مفید ہونے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے ان کا ایمان قبول کرلیا ہو (اور آیا ہوا عذاب ٹال دیا ہو) ۔
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ اپنے بندہ کی توبہ قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ نہ لگنے لگے۔ رواہ الترمذی وابن ماجہ وابن حبان والحاکم والبیہقی۔
حضرت ابو ذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ بلاشک اپنے بندہ کی مغفرت کردیتا ہے جب تک پردہ نہ پڑجائے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! پردہ کیا۔ فرمایا : شرک کی حالت میں مرنا۔ رواہ احمد والبیہقی فی کتاب البعث والنشور
لَوْلا حرف تحضیض (ابھارنا ‘ برانگیختہ کرنا) ہے۔ اس کے اندر نفی کا معنی ہے ‘ اسلئے الاَّ قَوْمَ یُوْنُسَاستثناء متصل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قوم یونس مستثنیٰ ہے۔ وہ عذاب (دنیوی) کا مشاہدہ کرنے کے وقت ایمان لائی اور اس کو اس ایمان نے فائدہ پہنچایا (ا اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی) آخرت کے عذاب سے محفوظ ہوگئی (لیکن قوم یونس غرغرہ کی حالت سے پہلے اور عذاب آخرت کے معائنہ سے قبل ایمان لائی تھی) ۔
لما امنوا جب وہ ایمان لے آئے ‘ یعنی اختیار کی حالت میں جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان کے ایمان کو قبول کرلیا۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ کی روایت سے رسول اللہ (ﷺ) کا یہ فرمان اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ جب وہ ایمان لے آئے تو انھوں نے دعا کی :
کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا اور ہم نے دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے دور کردیا۔
ومتعنھم الی حین۔ اور ایک (معین مقرر) وقت تک (دنیا میں) ان کو بہرہ اندوز کردیا۔ مقرر وقت سے مراد وقت موت جس کا علم اللہ کو تھا۔ بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بستی ایسی نہیں ہوئی کہ عذاب کا مشاہدہ کرلینے کے بعد ایمان لائی ہو اور اس حالت میں اس کے ایمان نے اس کو فائدہ پہنچایا ہو ‘ سوائے قوم یونس کے۔ ان کو ایسے وقت میں ایمان لانے سے بھی فائدہ ہوا۔
اس جگہ علماء کے دو قول ہیں : ایک فریق کا قول ہے کہ قوم یونس نے عذاب کو آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھ لیا تھا اور اس کے بعد ایمان لائے تھے۔ دوسرا فریق قائل ہے کہ عذاب کی علامت دیکھی تھی ‘ عذاب نہیں دیکھا تھا۔ اول قول اکثر اہل علم کا ہے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِاور عذاب کو دور کرنا وقوع کے بعد ہی ہوتا ہے۔
بغوی کے اس کلام کا مفاد یہ ہے کہ دنیوی عذاب آجانے کی حالت (جس کو بغوی نے حالت بأس کہا ہے) میں کسی کا ایمان قابل قبول نہیں۔ حالت بأس میں ایمان صرف قوم یونس کا قبول کیا گیا ‘ اس کے علاوہ کسی کا قبول نہیں کیا گیا۔
صحیح یہ ہے کہ آیت میں عذاب الیم سے وہ اخروی عذاب مراد ہے جو مرنے کے وقت ملائکۂ موت کی شکل میں مردہ کے سامنے آجاتا ہے۔ اس عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان لاناقابل قبول نہیں (دنیوی عذاب کو دیکھ کر ایمان لانا قابل قبول ہے) دیکھو ! بدر کے دن کافروں پر قتل و قید کی شکل میں دنیوی عذاب آیا اور اس جنگ سے جو کفار بچ گئے اور بعد کو ایمان لے آئے تو ان کا ایمان قبول بھی کیا گیا۔ قوم یونس کا بھی یہی حال ہوا۔ آخرت کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے وہ لوگ ایمان لے آئے باوجودیکہ دنیوی عذاب انہوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا تھا اور دیکھنے کے بعد ایمان لائے تھے ‘ پھر بھی ان کا ایمان مقبول ہوا اور دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب اللہ نے ان سے دور کردیا۔
رہا فرعون کے ایمان کا قبول نہ ہونا ‘ اس کی وجہ یا یہ تھی کہ وہ مرنے کے وقت غرغرہ کی حالت میں ایمان لایا تھا جو ناقابل قبول ہے ‘ یا یہ سبب تھا کہ زبان سے اس نے اگرچہ ایمان کا اظہار کیا تھا مگر (ا اللہ کو معلوم تھا کہ وہ) دل سے ایمان نہیں لایا تھا کیونکہ حضرت موسیٰ نے اس کیلئے بددعا کی تھی اور آپ کی بددعا قبول ہوئی تھی ‘ اسلئے فرعون دل سے ایمان لانے والا ہی نہ تھا۔ فرعون اور اس کی قوم کی عادت ہی ہوگئی تھی کہ جب ان پر کوئی عذاب پڑجاتا تھا تو کہتے تھے : موسیٰ ! اپنے رب سے اس عذاب کو ٹال دینے کی دعا کر دو ۔ اگر عذاب تم نے دور کرا دیا تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے کی اجازت دے دیں گے۔ لیکن جب اللہ عذاب کو ایک مدت مقرر کیلئے دور کردیتا تھا تو وہ عہد توڑ دیتے تھے اور وعدہ کے خلاف کرتے تھے۔ پس ممکن ہے کہ آخری مرتبہ بھی فرعون دل سے ایمان نہ لایا ہو ‘ صرف زبان سے اقرار کرلیا ہو۔
غرغرہ کی حالت میں ایمان قبول ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ سورة النساء کی آیت اِنَّمَا التَّوبَتَہ علی اللّٰہ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَھَالَۃٍ الخ کی تفسیر کے ذیل میں ہم نے بیان کردیا ہے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصّہ
بغوی نے حضرت ابن مسعود اور حضرت سعید بن جبیر اور وہب بن منبہ وغیرہ کی روایات سے حسب ذیل بیان کیا ہے۔
قوم یونس نینوا علاقۂ موصل کی رہنے والی تھی۔ اللہ نے ان کی ہدایت کیلئے حضرت یونس کو مامور فرمایا۔ حضرت یونس نے ان کو ایمان کی دعوت دی مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اللہ کی طرف سے حضرت یونس کو حکم دیا گیا : ان سے کہہ دو کہ تین روز تک صبح کے وقت ان پر عذاب آئے گا۔ حضرت یونس نے اطلاع دے دی۔ قوم والوں نے کہا : تجربہ سے ثابت ہے کہ یہ شخص کبھی جھوٹ نہیں بولا ‘ اسلئے انتظار کرو اور دیکھو ! اگر یہ آج رات تمہارے ساتھ رہے تو سمجھ لو صبح کو کچھ نہیں ہوگا اور اگر رات کو تمہارے ساتھ نہ رہے تو سمجھ لو کہ صبح ........... کو عذاب ضرور آئے گا۔ وسط شب میں حضرت یونس قوم کے پاس سے باہر چلے گئے۔ صبح ہوئی تو لوگوں کے سروں سے ایک میل اوپر عذاب آگیا۔ وہب کا بیان ہے : عذاب ایک سیاہ گھٹا کی شکل میں سخت دھواں اڑاتا آگیا ‘ پھر نیچے اتر کر شہر پر چھا گیا جس سے گھروں کی چھتیں کالی ہوگئیں۔ یہ دیکھ کر لوگوں کو ہلاک ہوجانے کا یقین ہوگیا۔ حضرت یونس کو تلاش کیا تو ان کا بھی کہیں پتہ نہ چلا۔ آخر اللہ نے ان کے دلوں میں توبہ کرنے کا خیال ڈال دیا اور بڑے ‘ بچے ‘ عورت ‘ مرد اور چوپائے سب شہر کے باہر میدان میں جمع ہوگئے۔ سبھوں نے کمبل کا (فقیرانہ) لباس پہن لیا اور لگے توبہ کرنے اور صحیح نیت کے ساتھ ایمان کا اظہار کرنے۔ ہر ماں کو بچے سے علیحدہ کردیا گیا تھا یہاں تک کہ چوپایوں کے بچے بھی ماؤں سے جدا کر دئیے گئے تھے۔ اس علیحدگی کی وجہ سے آدمیوں اور جانوروں کے بچوں نے چیخنا شروع کردیا ‘ مائیں بھی (جذبۂ محبت کے زیر اثر) چیخنے لگیں (ایک کہرام مچ گیا) بیتابی سے سب چیخ پڑے اور اللہ کے سامنے گڑگڑائے۔ آخر اللہ نے رحم فرمایا ‘ دعا قبول فرمائی اور چھایا ہوا عذاب دور کردیا۔ یہ واقعہ 10 محرم کا تھا۔
ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن المنذر اور ابو الشیخ نے قتادہ کا بیان نقل کیا ‘ قتادہ نے کہا : ہم سے کہا گیا کہ قوم یونس مقام نینوا علاقۂ موصل میں رہتی تھی۔ اس بیان میں اتنا زائد ہے کہ جب اللہ نے ان کے دلوں کی سچائی مشاہدہ فرما لی اور توبہ و ندامت جان لی تو عذاب دور کردیا حالانکہ عذاب ان کے سروں پر لٹک آیا تھا ‘ صرف ایک میل کا فاصلہ رہ گیا تھا۔
ابن ابی حاتم نے حضرت علی کا بیان نقل کیا ہے کہ قوم یونس کی توبہ عاشورہ کے دن قبول ہوئی تھی۔ حضرت یونس قوم کی بستی سے باہر چلے گئے اور عذاب نازل ہونے اور قوم کے ہلاک ہونے کا انتظار کرتے رہے ‘ لیکن جب آپ نے عذاب آتا نہ دیکھا (اس زمانہ کا قومی ضابطہ تھا کہ) اگر کوئی شخص بلاثبوت جھوٹ بولتا تھا تو اس کو قتل کردیا جاتا تھا۔ حضرت یونس نے کہا : میں نے قوم سے جھوٹی بات کہی (یعنی میرا جھوٹ ثابت ہوگیا) اب کیسے ان کے پاس لوٹ کر جاسکتا ہوں۔ یہ خیال کر کے قوم سے ناراض اور اپنے رب سے کشیدہ ہو کر چل دئیے۔ دریا پر پہنچے تو کچھ لوگ کشتی میں سوار ہو رہے تھے۔ لوگوں نے پہچان لیا اور بلا کرایہ سوار کرلیا۔ کشتی جب آپ کو لے کر بیچ سمندر میں پہنچی تو رک گئی ‘ نہ آگے بڑھ سکتی تھی نہ پیچھے ہٹ سکتی تھی۔ کشتی والوں نے کہا : کشتی کے اڑ جانے کی کوئی خاص وجہ ہے۔ حضرت یونس نے کہا : مجھے اس کی وجہ معلوم ہے ‘ اس میں کوئی بڑا گناہگار سوار ہے۔ لوگوں نے کہا : وہ کون ہے ؟ حضرت یونس نے کہا : میں ہوں ‘ مجھے دریا میں پھینک دو ۔ لوگوں نے کہا : جب تک ہمارے نزدیک کوئی خاص وجہ نہ ہو ‘ ہم تو آپ کو پھینکنے والے نہیں۔ آخر قرعہ اندازی کی اور تین بار حضرت یونس ہی کا نام قرعہ میں نکلا۔ حضرت یونس نے فرمایا : یا تو تم مجھے پانی میں پھینک دو ورنہ سب ہلاک ہوجاؤ گے۔ مجبوراً کشتی والوں نے آپ کو پھینک دیا۔ پھینکتے ہی کشتی روانہ ہوگئی۔ کشتی کے نچلے حصہ کے پاس ایک مچھلی منہ کھولے اللہ کے حکم کی منتظر تھی۔ جونہی حضرت یونس پانی میں گرے ‘ مچھلی نے اپنے منہ میں لے لیا۔
یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ اللہ نے ایک بڑی مچھلی کو حکم دیا ‘ اس نے کشتی کی طرف رخ کیا۔ کشتی والوں نے جو اس کو منہ کھولے ہوئے کشتی کی طرف رخ کئے ہوئے دیکھا جو بڑے پہاڑ جیسی تھی تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ کشتی کے اندر کسی کی جستجو کر رہی ہے۔ حضرت یونس نے یہ دیکھتے ہی پانی میں چھلانگ لگا دی (اور مچھلی نے ان کو پکڑ لیا) ۔
حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ حضرت یونس اپنی قوم سے ناراض ہو کر نکل کھڑے ہوئے اور بحر روم پر پہنچے۔ وہاں ایک کشتی مسافروں سے بھری کھڑی تھی۔ آپ اس میں سوار ہوگئے۔ جب کشتی روانہ ہو کر وسط میں پہنچی تو رک کر کھڑی ہوگئی۔ قریب تھا کہ سب لوگ ڈوب جائیں ‘ ملاح بولے : ہماری کشتی میں کوئی گناہگار آدمی یا بھاگا ہوا غلام سوار ہوگیا ہے جس کی وجہ سے کشتی اڑ گئی ہے۔ ہمارا طریقہ ہے کہ ایسے موقع پر قرعہ اندازی کرتے ہیں۔ جس کے نام پر قرعہ نکل آتا ہے ‘ اس کو سمندر میں پھینک دیتے ہیں (کشتی چل نکلتی ہے) ایک آدمی کو ڈبو دینا تو پوری کشتی کے مع سواریوں کے ڈوب جانے سے بہتر ہوتا ہے۔ چناچہ لوگوں نے تین بار قرعہ ڈالا ‘ ہر بار حضرت یونس کے نام پر نکلا۔ حضرت یونس فوراً کھڑے ہوئے اور بولے : میں ہی گناہگار آدمی اور بھاگا ہوا غلام ہوں۔ اس کے بعد آپ نے خود اپنے کو پانی میں پھینک دیا۔ فوراً ایک مچھلی نے نگل لیا ‘ پھر اس مچھلی سے بڑی مچھلی نے آکر اس مچھلی کو نگل لیا۔ اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ یونس کو بال برابر تکلیف نہ ہونے پائے۔ میں نے تیرے پیٹ کو اس کیلئے قید خانہ بنایا ہے ‘ اس کو تیری غذا نہیں بنایا۔ حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ مچھلی کو ندا دی گئی کہ ہم نے یونس کو تیری روزی نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کی حفاظت کا مقام اور عبادت خانہ بنایا ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ قرعہ ڈالنے سے پہلے ہی حضرت یونس کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں ہی گنہگار ‘ بھاگا ہوا غلام ہوں۔ کشتی والوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ فرمایا : یونس بن متی۔ لوگ پہچان گئے اور بولے : اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کو نہیں پھینکیں گے بلکہ قرعہ اندازی کریں گے۔ قرعہ اندازی کی گئی اور حضرت یونس کے نام کا قرعہ نکل آیا اور آپ نے خود اپنے آپ کو پانی میں پھینک دیا۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جس مچھلی نے آپ کو نگلا تھا ‘ وہ آپ کو ساتویں زمین کی گہرائی میں لے گئی اور چالیس رات تک آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ وہاں آپ نے سنگریزوں کے تسبیح کرنے کی آواز سنی تو تاریکیوں میں ہی پکار اٹھے : لاَ اِلٰہَ الاَّ اَنْتَ سُبْحْانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور بحکم خداوندی مچھلی نے لا کر آپ کو سمندر کے کنارے پھینک دیا۔ اس وقت آپ کی ہیئت ایسی تھی جیسے پرو بال نوچا ہو اچوزہ۔ اللہ نے فوراً کدو کا درخت پیدا کردیا جس کے سایہ میں آپ نے آرام لیا اور ایک پہاڑی بکری یا پاڑی کو مامور کردیا ‘ آپ اس کا دودھ پیتے رہے۔ جب درخت سوکھ گیا تو آپ درخت پر رو دئیے۔ اللہ نے وحی بھیجی : تو ایک درخت کے خشک ہوجانے پر تو رو دیا اور ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ آدمیوں پر نہیں رویا اور ان کو ہلاک کروا دینا چاہا۔ یہاں سے حضرت یونس چل دئیے اور ایک غلام سے ملاقات ہوئی جو جانور چرا رہا تھا ‘ اس سے پوچھا : غلام ! تو کون ہے ؟ اس نے کہا : یونس کی قوم کا ہوں۔ حضرت نے فرمایا : جب تو اپنی قوم والوں سے جا کر ملے تو ان سے کہہ دینا کہ میری ملاقات یونس سے ہوئی تھی۔ غلام نے کہا : آپ واقف ہیں کہ اگر میرے پاس گواہ نہ ہوں گے تو (مجھے جھوٹی اطلاع دینے پر) قتل کردیا جائے گا۔ حضرت یونس نے فرمایا : یہ زمین کا ٹکڑا اور یہ درخت تیری گواہی دے گا۔ غلام نے کہا : تو شہادت دینے کا ان کو حکم دے دیجئے۔ حضرت یونس نے فرمایا : جب یہ غلام تمہارے پاس آئے تو تم دونوں اس کی گواہی دینا۔ زمین اور درخت نے کہا : بہت اچھا۔ اس غلام نے جا کر اپنے بادشاہ کو اطلاع دے دی کہ حضرت یونس سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ بادشاہ نے غلام کو قتل کردینے کا حکم دے دیا۔ غلام نے کہا : میرے پاس (اس بات کی سچائی کے) گواہ ہیں ‘ میرے ساتھ کسی کو بھیجو۔ غرض غلام لوگوں کو ساتھ لے کر اس جگہ اور اس درخت کے پاس پہنچا اور کہا : میں تم دونوں کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا حضرت یونس نے تم دونوں کو گواہ بنایا تھا ؟ دونوں نے کہا : ہاں۔ یہ سنتے ہی لوگ خوفزدہ ہو کر لوٹ آئے اور بادشاہ سے آ کر کہہ دیا کہ درخت اور زمین نے اس غلام کی گواہی دی۔ بادشاہ نے غلام کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اپنی جگہ بٹھا دیا اور کہا : تو اس جگہ کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے۔ غلام نے ان لوگوں کا انتظام چالیس سال تک کیا۔
يونس 10:99
ولو شاء ربک لامن من فی الارض کلھم جمیعا اور (اے محمد (ﷺ) ! ) اگر اپ کے رب کو منظور ہوتا تو زمین پر رہنے والے سب کے سب ایمان لے آتے ‘ کوئی بغیر ایمان لائے نہ بچتا اور کوئی ایمان سے اختلاف نہ کرتا۔ سب ایمان پر متفق ہوجاتے۔
فرقۂ قدریہ قائل ہے کہ اللہ تو سب لوگوں کا مؤمن ہوجانا چاہتا ہے لیکن لوگ خود اپنے اختیار سے ایمان لانا نہیں چاہتے (اس فرقہ کے نزدیک مشیت اور رضا میں فرق نہیں ہے۔ چاہنے کا معنی ہے پسند کرنا۔ اُشَاعِرَہ کہتے ہیں کہ اللہ کو ایمان تو سب کا پسند ہے مگر مشیت نہیں کہ سب مؤمن ہوجائیں۔ رضائے الٰہی سے تخلف تو ہو سکتا ہے مگر مشیت سے تخلف نہیں ہو سکتا۔ قدریہ کے نزدیک جو رضا ہے وہی مشیت رضا عام ہے ‘ مشیت بھی عام ہے ‘ رضا کے خلاف ہونا ممکن ہے اور ہوتا ہے۔ مشیت کے خلاف بھی ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے) آیت بتا رہی ہے کہ اللہ نے سب لوگوں کو مؤمن بنانا چاہا ہی نہیں ‘ اگر اس کی مشیت ہوتی تو سب مؤمن ہوجاتے (ہاں سب کا مؤمن ہوجانا اس کو پسند ہے) قدریہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آیت میں مشیت سے مراد ہے مجبور کن مشیت اور مجبور کن مشیت الٰہی کے خلاف ہونا ممکن نہیں (پس اللہ کی مجبور کن مشیت نہیں ہوتی کہ سب مؤمن ہوجائیں ‘ مگر یہ زائد شرط خلاف ظاہر ہے۔
افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مؤمنین۔ (اے محمد (ﷺ) ! ) کیا آپ لوگوں کو اللہ کی مشیت نہ ہونے کے باوجود مجبور کردیں گے کہ وہ مؤمن ہوجائیں __ استفہام انکاری ہے اور اَنْتَ ضمیر کا تُکْرِہُفعل سے پہلے لانا دلالت کر رہا ہے کہ اس امر پر کہ اللہ نے نہ چاہے تو کسی چیز کا وجود ناممکن ہے۔ جبر کر کے بھی اس کو حاصل نہیں کیا جاسکتا ‘ ترغیب دے کر حاصل کرنے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) بہت زیادہ خواہشمند تھے کہ سب لوگ مؤمن ہوجائیں ... (حالانکہ) آپ کا کام صرف ترغیب دینا تھا ‘ جبر کرنے کا تو اختیار ہی نہ تھا اور جو کام جبر سے بھی پورا نہ ہو سکے وہ محض ترغیب سے کیسے پورا ہو سکتا ہے) پس اللہ نے بتا دیا کہ جس کے نصیب میں سعادت ہوگی ‘ وہی ایمان لائے گا اور جو اللہ کے علم میں شقی ہے ‘ وہ ایمان نہیں لا سکتا ‘ آپ اس کی کچھ پرواہ نہ کیجئے۔ گویا اس آیت میں رسول اللہ (ﷺ) کیلئے تسکین ہے۔
يونس 10:100
وما کان لنفس ان تؤمن الا باذن اللہ کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ اللہ کے ارادہ و توفیق کے بغیر ایمان لا سکے۔
ویجعل الرجس علی الذین لا یعقلون۔ اور اللہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو سمجھتے نہیں۔ رجس سے مراد ہے عذاب یا اللہ کی مدد سے محرومی ‘ کیونکہ یہ محرومی ہی عذاب کا سبب ہے۔ نہ سمجھنے سے مراد ہے حق و باطل میں تمیز نہ کرنا ‘ یعنی کافروں کے دلوں پر چونکہ مہر لگی ہوئی ہے اور اللہ نہیں چاہتا کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکیں ‘ اسلئے ان کو حق کا باطل سے امتیاز نہیں۔
يونس 10:101
قل انظروا ما ذا فی السموت والارض (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ دیکھو ‘ غور کرو ‘ سوچو ! آسمان اور زمین میں کیسی عجیب نشانیاں ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ ان کی بناوٹ ‘ مربوط رفتار ‘ پہاڑ ‘ ان کی استقامت ‘ سمندر ‘ دریا ‘ درخت اور کائنات نباتی و حیوانی ‘ ان تمام چیزوں کے اندر ایک صانع و قادر ‘ دانا و یگانہ کی قدرت و صنعت جھلک رہی ہے ‘ اس کی ذات کی عظمت اور صفات کے کمال کا ان سے ظہور ہو رہا ہے۔
وما تغنی الایت والنذر عن قوم لا یؤمنون۔ جو قوم (ا اللہ کے علم میں اور اس کی مشیت میں) ایمان لانے والی نہیں ‘ اس کو (علم و یقین پیدا کرنے والی) نشانیوں اور ڈرانے والے (پیغمبروں اور عبرتوں) سے کیا فائدہ۔
ما تُغْی میں لفظ مانافیہ ہے (کوئی فائدہ نہیں) یا استفہام انکاری کیلئے (کیا فائدہ) ۔
النُّذُرُجمع ۔ نذیر ‘ ڈرانے والے۔ اس سے مراد ہیں اللہ کے پیغمبر (جو اللہ کی نافرمانی کی سزا سے ڈراتے ہیں) اور دوسری عبرت آفریں چیزیں جیسے بڑھاپا (جو فنا اور موت کا نشان ہے) اور ساتھیوں کی موت (جو انسان کیلئے اپنی موت کا یقین دلانے اور ڈرانے کیلئے کافی ہے) چونکہ ایمان محض عطیۂ خداوندی ہے (اس کی مشیت پر اس کا حصول موقوف ہے) اسلئے فرمایا کہ جو ایمان لانے والے نہیں یعنی اللہ کی مشیت و علم میں ان کا مؤمن ہونا مقدر نہیں ‘ وہ کسی نشانی کو دیکھ کر اور ڈراوا سن کر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
يونس 10:102
فھل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلھم پس وہ (یعنی مکہ کے مشرک) انتظار نہیں کر رہے ہیں مگر انہی جیسے واقعات و مصائب کا جو ان سے پہلے گذرے ہوئے کافروں کے ہوئے ہیں۔ قتادہ نے کہا : یعنی اس جیسے عذاب الٰہی کا جو قوم نوح و عاد اور ثمود پر آیا تھا۔ عربی محاورہ میں ایام کے لفظ سے عذاب بھی مراد لیا جاتا ہے اور انعامات بھی۔ اللہ نے فرمایا : وَذَکِّرْھُمْ بِاَیَّام اللّٰہِ گویا انسانوں پر جو بھلائی یا تباہی آتی ہے ‘ سب کو ایام کہا جاتا ہے۔
قل فانتظروا انی معکم من المنتظرین (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ تم (میری ہلاکت کے) منتظر رہو۔ میں بھی تمہارے ساتھ (تمہاری ہلاکت کا) انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔
يونس 10:103
ثم ننجی رسلنا والذین امنوا پھر ہم (کافروں اور منکروں کو ہلاک کردیتے ہیں اور) اپنے پیغمبروں اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ یہ حال گزشتہ کا بیان ہے (یعنی گزشتہ زمانہ میں ہم نے ایسا کیا تھا اور یہی ہمارا دستور تھا) ۔
کذلک حقا علینا ننج المؤمنین۔ اسی طرح (یعنی گزشتہ پیغمبروں کی طرح) ہم بچا لیں گے مؤمنوں کو۔
ہمارا یہ وجوبی وعدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے گزشتہ پیغمبروں اور مؤمنوں کو ہم نے بچایا ‘ اسی طرح نزول عذاب کے وقت ہم محمد (ﷺ) کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیں گے اور یہ بچا لینا (حسب وعدہ) ہم پر واجب ہے۔
يونس 10:104
قل یایھا الناس ان کنتم فی شک من دینی آپ کہہ دیجئے : اے لوگو ! (یعنی اے اہل مکہ) اگر تم میرے دین (کی صحت) میں شک کرتے ہو۔ اہل مکہ کی نظر میں نبوت بہت ہی بعید از فہم چیز تھی لیکن آیات کو دیکھ کر ماننے پر مجبور تھے مگر پیدائشی بدبختی کی وجہ سے شک و تردد میں پڑے ہوئے تھے (گویا آیات کو دیکھ کر ماننے پر مجبور تھے اور فطری شقاوت ان کے دلوں میں اطمینان پیدا نہیں ہونے دیتی تھی) ۔
فلا اعبد الذین تعبدون من دون اللہ پس میں ان (پتھروں کے بتوں) کی پوجا نہیں کرتاجن کی پوجا تم لوگ اللہ کے سوا کرتے ہو۔
ولکن اعبد اللہ الذی یتوفٰکم بلکہ اس اللہ کی پوجا کرتا ہوں جو تمہاری جانیں قبض کرتا ہے۔
یعنی جو تم کو زندگی عطا کرتا ہے ‘ پھر موت دیتا ہے اور جو کچھ چاہتا ہے اور جس طرح چاہتا ہے ‘ پیدا کرتا ہے (اگرچہ تخلیق موت وحیات دونوں مراد ہیں لیکن) صرف وفات کا ذکر تہدید پیدا کرنے کیلئے فرمایا : فَلاَ اَعْبُدُ ۔ اِنْ کُنْتُمْ کی جزاء نہیں ہے بلکہ جزاء کے قائم مقام ہے۔ سبب کو مسبب کی جگہ قائم کیا ہے۔ کلام کا مغز یہ ہے کہ اگر تم کو میرے دین کی صحت میں شک ہے تو میرے دین پر غور و فکر کر کے اس شک کو دور کر دو ۔ دیکھو ! میں ان پتھروں کو نہیں پوجتا جن کے قبضہ میں نہ نفع ہے نہ ضرر بلکہ اس خدا کو پوجتا ہوں جو خالق ‘ قدرت والا اور نفع و ضرر کا مختار ہے۔
وامرت ان اکون من المؤمنین۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ایمان والوں میں سے ہوں (ایماندار رہوں) یعنی عقلی دلائل اور آسمانی کتابوں کا حکم ہے کہ میں ایماندار بنوں اور مؤمن رہوں۔
يونس 10:105
وان اقم وجھک للذین حنیفا ولا تکونن من المشرکین۔ اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس دین (توحید خالص) کی طرف اپنا رخ رکھنا ہر دین سے کٹ کر اور ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہوجانا۔ یعنی مجھے ایمان پر رہنے ‘ دینی استقامت رکھنے اور تن دہی کے ساتھ فرائض ادا کرنے اور برائیوں سے باز رہنے کا بھی حکم دیا گیا ہے (گویا اقامت لِلَّذِیْنَ سے مراد ہے تمام فرائض کی ادائیگی اور ممنوعات سے پرہیز) یا اقامت وجہ سے مراد ہے نماز کو قبلہ رخ ہو کر ادا کرنا۔
يونس 10:106
ولا تدع من دون اللہ ما لا ینفعک ولا یضرک اور نہ عبادت کرنا اللہ کے علاوہ۔ ایسی چیزوں کی جو تجھے کوئی نفع نہیں پہنچا سکتیں (اگر تو ان کی پوجا کرے) اور نہ تجھے ضرر پہنچا سکتی ہے (اگر تو ان کی پوجا چھوڑ دے) (1) [ یعنی اللہ کے سوا کسی مخلوق کی عبادت نہ کر ، پکارنے سے مراد ہے عبادت کرنا ، کیونکہ مخلوق نفع و نقصان پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتی ] یہ جملہ لاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ پر معطوف ہے اور اس کی تشریح ہے۔
یہ حقیقت ہے اور عقلی و نقلی شہادت سے اس کی تائید ہو رہی ہے کہ انصاف کی نظر سے اگر اس دین اسلام کو دیکھا جائے اور غور و تامل سے کام لیا جائے تو دین کی صحت ثابت ہوجاتی ہے اور دین کے خلاف ہر شک و شبہ خود دور ہوجاتا ہے۔
فان فعلت فانک اذا من الظلمین۔ اور اگر (بالفرض) تو نے ایسا کیا تو بلاشک ایسی حالت میں تو (ا اللہ کی) حق تلفی کرنے والوں میں سے ہوجائے گا۔ یعنی اگر تو ایسی چیز کی عبادت کرے گا جو فائدہ بخش بھی نہیں اور ضرر رساں بھی نہیں تو یقیناً ایسی حالت میں تو بیجا حرکت کرنے والا (ظالم) ہوگا کہ اپنی عبادت کا محور ایسی ہستی کو بنائے گا جو محل عبادت نہیں۔
يونس 10:107
وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو وان یردک بخیر فلا راد لفضلہ اور اگر تجھ کو کوئی دکھ چھوا (بھی) دے تو اس کو دور کرنے والا سوائے اس کے اور کوئی نہیں اور اگر وہ تجھ کو کوئی راحت پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی لوٹانے والا نہیں۔
مَسٌّ سے مراد ہے پہنچانا۔ ضُرّ بیماری ‘ یا سختی ‘ یا مصیبت۔ فَلاَ کَاشِفَ اس کو دفع کرنے والا کوئی نہیں (کشفکھولنا ‘ مراد دفع کرنا) خیر دنیا اور آخرت کی بھلائی۔ دکھ یا سکھ سب اللہ کے ارادہ سے ہی ہوتا ہے لیکن اس جگہ ضُرّ کے ساتھ لفظ مس اور خیر کے ساتھ ارادہ کا لفظ استعمال کرنے سے غالباً اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کا اصل مقصد خیر پہنچانا ہوتا ہے اور دکھ پہنچانا مقصد اوّل نہیں ہوتا۔ لِفَضْلِہٖ کے لفظ میں بجائے سادہ ضمیر کے لفظ فضل کا اضافہ یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اللہ جو خیر عطا فرماتا ہے ‘ وہ اپنی مہربانی سے عطا فرماتا ہے ‘ کسی کا اس پر کوئی حق نہیں ہے۔
یصیب بہ من یشاء من عبادہ وھو الغفور الرحیم۔ وہ دکھ سکھ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے اور وہی بڑی مغفرت اور بڑی رحمت والا ہے۔ یعنی خیر ہو یا شر ‘ سب کچھ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے ‘ لہٰذا تم پر لازم ہے کہ طاعت کے ساتھ خیر کے طلبگار بنو مگر طاعت پر اعتماد نہ کر بیٹھو اور مغفرت سے ناامید بھی نہ ہو ‘ بلکہ عذاب کا خوف رکھو (اور رحمت کی امید) ابونعیم نے حضرت علی کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ نے اسرائیلی انبیاء میں سے ایک نبی کے پاس وحی بھیجی کہ تمہاری امت میں جو طاعت گذار لوگ ہوں ‘ ان سے کہہ دو کہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں۔ قیامت کے دن حساب کیلئے جب میں بندوں کو کھڑا کروں گا تو جس کو عذاب دینا چاہوں گا (اس کی حساب فہمی خوردہ گیری کے ساتھ کروں گا اور) اس کو عذاب دوں گا اور اپنی امت کے گنہگاروں سے کہہ دو کہ خود اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو (یعنی ناامید نہ ہو) اگر میں چاہوں گا تو بڑے بڑے گناہ معاف کر دوں گا اور مجھے پرواہ بھی نہ ہوگی۔
مذکورۂ بالا آیات نازل فرما کر اللہ نے اپنے سوا دوسروں سے ڈرنے یا امید رکھنے کا راستہ ہی بند کردیا۔
اللہ غفور و رحیم ہے ‘ یعنی اس کی رحمت غضب پر غالب ہے۔
يونس 10:108
قل یایھا الناس قد جاء کم الحق من ربکم (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے : لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے صحیح واقعہ علم آگیا۔ الحقّ سے مراد ہے صحیح علم ‘ یعنی اللہ کی توحید وصفات اور مبدء و معاد کے احوال قرآن میں اور رسول اللہ (ﷺ) کی زبانی بتا دئیے ‘ اب کسی کیلئے جہالت کا عذر باقی نہیں رہا۔ یا حق سے مراد ہے وہ (قرآن مجید یا رسول اللہ (ﷺ) کی رسالت) جس کا اثبات اعجاز کے ذریعہ سے کردیا گیا اور کسی کو کوئی عذر باقی نہیں رہا۔
فمن اھتدی اب جو بھی ہدایت یاب ہو ‘ یعنی اس علم پر ایمان رکھے اور اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلے۔
فانما یھتدی لنفسہ خود اپنے فائدہ کیلئے ہدایت یاب ہوگا (یعنی خود اس کا فائدہ ہوگا) ۔
ومن ضل اور جو (راہ حق سے) بھٹک جائے گا ‘ انکار کرے گا۔
فانما یضل علیھا تو گمراہی کا ضرر اسی کے نفس پر پڑے گا۔
فما انا علیکم بوکیل اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ تمہارے امور کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے کہ تمہاری گمراہی کا مؤاخذہ مجھ سے ہو۔
يونس 10:109
یہ خاتمہ کلام ہے ، اور آغاز سورت کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور یہ آخری کلمات پوری سورت کے مضامین کے ساتھ بھی مناسب ہیں۔ قرآن کریم کا طرز کلام ہی یہ ہے کہ وہ بات متوازن تصویر کشی کے ذریعے پیش کرتا ہے۔ صدق اللہ العظیم !
هود 11:1
درس نمبر 99 ایک نظر میں
یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات اس کائنات میں کس قدر موثر ہیں۔ نیز اس سبق میں ذات باری کی حقیقت اور اس کی حکمرانی ، انسان کی جانب سے اس کی بندگی اور اطاعت اور اس کے تقاضوں سے مومنین کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور انسان کی بندگی کے تقاضے یہ ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسان اس کا بندہ ہوگا۔ اسی طرح آخرت میں بھی انسان اس کا بندہ ہوگا۔
اس مقدمے میں قیام رسالت اور حقیقت رسول پر بھی بحث ہے۔ اور رسول کو مخاطب کرکے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی دعوت کے مقابلے میں منکرین جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، چیلنج دے رہے ہیں اور بلا وجہ عناد کر رہے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا مکہ میں پوری دعوتی تاریخ میں نبی اکرم کے لیے یہ مشکل ترین دور تھا اور مشرکین قرآن کو کلام الہی تسلیم نہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں مشرکین سے کہا گیا کہ اگر وہ اس قرآن کو کلام الہی تسلیم نہیں کرتے تو وہ اس جیسی دس سورتیں تو پیش کردیں ، جیسا کہ ان کا زعم تھا۔ اس طرح حضور کو تسلی دی گئی کہ وہ ہرگز اس قرآن جیسا کلام نہیں پیش کرسکتے۔ اس طرح ان لوگوں کے لیے یہ چیلنج باعث تسلی تھا ، جو ایمان لا چکے تھے۔
اس تسلی کے ساتھ منکرین حق کو دو ٹوک دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ جس عذاب کے آجانے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں وہ بہت ہی دردناک ہے اور ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب دنیا میں ان پر کوئی معمولی تکلیف آجاتی ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ہر تکلیف معمولی ہے۔
اس دھمکی کو مناظر قیامت کے ایک منظر کی صورت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مشرکین اور مکذبین اور ان کے شرکاء اور سفارشی قیامت کے دن ان کو کسی طرح بھی عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ جبکہ اہل ایمان جنتوں میں ہوں گے اور انعامات و اکرامات ان کا حصہ ہوگا۔ یہ منطر قرآن کے مخصوص انداز کے مطابق نہایت ہی مجسم اور مصور ہے اور چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور قرآن کہتا ہے :
) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24): (اور ان دو فریقوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اندھا اور بہرا ہوا۔ دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو ، کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اس بات سے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ "
درس نمبر 99 تشریح آیات 1 تا 24:
تفسیر آیات 1 تا 4:
ان آیات میں درج ذیل حقائق بیان ہوئے جو دین اسلام کے بنیادی حقائق ہیں :
٭۔ وحی اور رسالت کا ثبوت
٭۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کا اثبات
٭۔ جو لوگ اس وحی اور ہدایت کی اتباع کریں گے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے انعام ہوگا بشرطیکہ وہ اس ہدایت کو بطور نظام زندگی اپنائی۔
٭۔ وہ لوگ جو اسے جھٹلائیں گے وہ مستوجب سزا ہوں گے۔ چاہے کوئی مطیع فرمان ہو یا منکر ہو ، اسے ایک دن اللہ کے سامن کھڑا ہونا ہوگا۔
٭۔ اللہ کی قدرت اور سلطنت غیر محدود ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ال ر ، یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر آگے پورا جملہ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے ہی حروف سے بنی ہے جو لوگوں کی دسترس میں ہیں اور یہ لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں ، اگر ان سے کہا جائے کہ ان حروف سے تم ایسی ہی کتاب بناؤ تو یہ عاجز رہ جاتے ہیں۔
كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ : " فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے "
اس کی آیات محکم ہیں یعنی وہ مضبوط ترکیب رکھتی ہیں ، گہرا مفہوم رکھتی ہیں ، ان کا ہر حرف اور ہر حکم با مقصد ہے ، ہر مفہوم اور ہر ہدایت مطلوب اور بامقصد ہے۔ اس کا ہر اشارہ ایک ٹارگٹ کی طرف ہے اور یہ نہایت ہی ہم آہنگ اور مربوط ہیں ، تمام آیات کا نظر اور تصور ایک ہے۔ ان آیات کی پھر تفصیلات ہیں اور موضوع اور مطلب کے مطابق وہ منقسم ہیں اور ان کی تبویب کی گئی ہے اور ہر آیت کو اس کے لیے موزوں جگہ پر رکھا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان آیات کو اس طرح مستحکم ترکیب اور نہایت ہی بلیغ مفہوم میں کس نے مرتب فرمایا ہے۔ تو یاد رہے کہ اللہ جل شانہ نے یہ کام خود کیا ہے ، آن آایت کی تشکیل و تسوید میں رسول اللہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ من لدن حکیم خبیر ہیں یہ کتاب اللہ کے احکام بتاتی ہے اور ان کی ضروری تفصیلات بھی دیتی ہے۔ اور یہ اسی طرح اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور جس طرح ہمارے سامنے ہے۔ اس میں کوئی تغیر و تبدل کسی جگہ نہیں ہوا ہے۔
اور ان آیات میں کیا بنیادی نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی تعلیمات کی اساس یہ کلمہ ہے۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ یعنی نظام زندگی اللہ کا ہو ، عبادت اللہ کی ہو اور اطاعت و حکمرانی اللہ کی ہو صرف اور صرف اللہ کی۔
اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ ۔ (میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی) یہ تصور رسالت ہے ہے اور رسالت کا بڑا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے انعام کی خوشخبری دے اور برے انجام سے ڈرائے۔
وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ (اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ) یعنی شرک و کفر اور نافرمانی کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹ آؤ اور توحید اور اسلامی نظام زندگی کو قبول کرلو۔
يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ (تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا) یہ توبہ و استغفار کرنے والوں کے لیے جزا ہے۔
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ (لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) ۔ یہ ان لوگوں کے لیے ڈراوا ہے جو دعوت سے منہ موڑتے ہیں۔
الی اللہ مرجعکم (تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے) اس میں اس عقیدے کا اظہار ہے کہ آخر کار سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے) اور اس میں اللہ کی قدرت مطلقہ کا ذکر ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر کام پر قادر ہے۔
یہ ہیں کتاب اللہ کے مقاصد اور اس کی آیات انہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ ہیں وہ بنیادی عقائد اور تصورات جن کے اوپر اسلامی نظام حیات کی عمارت کو اٹھایا گیا ہے۔
یہ بات ہر شخص کو اچھی طرح ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کرہ ارض پر کوئی دین اور کوئی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا اور کوئی تہذیب اور کلچر دنیا میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان اساسی سوالات کا جواب نہ دے۔ دنیا میں ہر فلسفے اور نظام فکر کو ان سوالات کا جواب دینا لازمی ہے۔
یہ عقیدہ کہ دنیا میں ہر قسم کی بندگی صرف اللہ وحدہ کی ہوگی ، ان تمام راستوں کو بند کردیتا ہے جن پر انسان جا کر انتشار کا شکار ہوتا ہے اور وہ نظریاتی اور فکری بےراہ روی میں مبتلا ہوتا ہے۔ انسانیت کو خام خیالی ، وہم پرستی اور کھوٹے نظریات اور جھوٹے خداؤں کی بندگی اور غلامی سے صرف اس صورت میں نجات دلائی جاسکتی ہے کہ اسے اللہ وحدہ کا غلام بنا دیا جائے۔ دنیا میں کچھ ایسے لوگ اور چیزیں ہم نے تجویز کر رکھی ہیں۔ جن کو ہم اللہ اور بندے کے درمیان رابطے کا مقام دیتے ہیں ، اور یہ لوگ روحانی طور پر لوگوں کو بد راہ کرتے ہیں ، کوئی لوگ اور ادارے ایسے ہیں جن کو ہم نے حاکم اور مقتدر اعلی تصور کرلیا ہے اور یہ لوگ انسانوں کی دنیاوی زندگی کو اپنی منشاء کے مطابق چلاتے ہیں۔ اور اللہ کی مختص ترین خصوصیات یعنی حاکمیت اور اقتدار اعلی کے اختیارات وہ خود اپنے لیے حاصل کرلیتے ہیں۔ اس طرح وہ لوگوں کو ان کھوٹے اور جھوٹے خداؤں کا غلام بناتے ہیں جو شرک جلی ہے۔
دنیا میں جب تک عقیدہ توحید کو اس وسیع مفہوم میں نکھار کر قائم نہ کیا جائے گا اس وقت تک کوئی ایسا اجتماعی ، سیاسی ، اقتصادی ، اخلاقی ، قومی اور بین الاقوامی نظام قائم نہیں ہوسکتا جس میں انسان بعض دوسرے انسانوں کی خواہشات ، ان کی تاویلات اور ذاتی مقاصد کا آلہ کار بننے سے نجات پا سکے۔
ماسوائے قیام عقیدہ توحید کے ، انسان وہ آزادی اور شرف حاصل نہیں کرسکتا جو اللہ نے انسان کے لیے تجویز کیا ہے اور نہ انسان ذلت ، خوف اور بےچینی سے نجات پا سکتا ہے جس سے وہ ہمیشہ دوچار رہتا ہے عقیدہ توحید بھی صرف ان معنوں میں کہ اللہ کو رب ، معبود ، تکوینی حاکم و مدبر اور تشریعی حاکم و قانون ساز تسلیم کیا جائے اور اس دائرہ اختیار سے انسان کو بالکل بےدخل کردیا جائے اور انسان کا کوئی عمل و دخل ان امور میں نہ رہے ، صرف اس صورت میں مکمل عقیدہ توحید قائم ہوسکتا ہے۔
پوری انسانی تاریخ میں اسلام اور جاہلیت کے درمیان جو کمشک رہی ہے اور حق اور طاغوت کے درمیان تاریخی معرکہ آرائی اور مقابلہ اس موضوع پر نہیں رہا ہے کہ اللہ اس کائنات کا الہ اور رب ہے ، اور اس کائنات کو وہی اپنی تدبیر اور اپنے تکوینی قوانین کے ساتھ چلا رہا ہے بلکہ یہ معرکہ اور یہ اختلاف اس بات پر تھا کہ رب الناس کون ہو ؟ لوگوں پر نظام اور شریعت کس کی نافذ ہو ؟ اور لوگ کس کی اطاعت کریں اور کس کے احکام خصوصا سیاسی احکام قبول کریں ؟
اس دنیا کی طاغوتی قوتیں اللہ کے اس حق کو غصب کرکے لوگوں کی زندگیوں میں اپنے قوانین و فرامین نافذ کرتی رہیں اور اس طرح لوگوں کو اللہ کی حاکمیت سے نکال کر اپنی حاکمیت کے دائرے میں داخل کرتی رہی ہیں۔ تمام انبیاء تمام رسالتوں اور تمام اسلامی تحریکات کا اہدف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لوگوں کو ان طاغوتی قوتوں کے غصب کردہ اختیارات کے دائرے سے نکال کر اللہ کی حکومت ، اللہ کی بادشاہت اور اللہ کی حاکمیت میں داخل کیا جائے۔
اللہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز بادشاہ ہے۔ لوگوں کی نافرمانی اور سرکشی اس کی حکومت میں پرکاہ کی کمی بھی نہیں کرسکتی اور اگر تمام مخلوقت اس کی بندگی پر متفق ہوجائے اور اس کی حکومت کو تسلیم کرلے تب بھی اللہ کی مملکت میں پرکاہ کا اضافہ نہیں ہوسکتا لیکن جب لوگ اللہ کے سوا کسی اور ذات یا ادارے کی حاکمیت کو قبول کرلیں تو خود وہ ذلیل و خوار اور غلام ہوجاتے ہیں۔ اور اگر وہ اللہ وحدہ کی سیاسی اور نظریاتی حاکمیت کو قبول کرلیں تو خود ان کے لے یہ بات باعث عز و شرف ہے۔ وہ غلامی کی جگہ آزادی اور پستیوں کی جگہ سربلندی حاصل کرلیتے ہیں کوئی انسان کسی انسان یا غیر انسان کا غلام نہیں رہتا۔ اللہ چونکہ اپنے بندوں کو معزز شرف اور سربلند دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے رسولوں کو بھیجا تاکہ وہ ان کو یہ عزت اور شرف عطا کریں۔ اور ان کو اپنے جیسے بندوں کی غلامی سے نجات دیں۔ غرض اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام میں اگر کوئی بھلائی ہے تو وہ خود انسانوں کے لیے ہے اللہ تو تمام جہانوں سے غنی اور مستغنی ہے۔
اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کو جس قدر معزز دیکھنا چاہتا ہے ، اور اسے جس سطح تک بلند کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس وقت تک بلند نہیں ہوسکتی جب تک تمام انسان اس بات کا عزم نہ کرلیں کہ وہ اپنے گلوں سے غیر اللہ کی غلامی کا جوا اتار کر پھینکیں گے کیونکہ غیر اللہ کی غلامی کا یہ پٹا انسان کے لیے باعث ذلت ہے ، چاہے اس کی صورت جو بھی ہو۔
دین صرف اللہ کے لیے تب ہوگا جب لوگ صرف اللہ وحدہ کو رب تسلیم کرلیں اور اللہ کی ربوبیت کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ اللہ کا نظام ، اللہ کا دستور اور اللہ کے قوانین و فرامین کو اپنا لیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جو اس سورت کے آغاز ہی میں منضبط کی گئی ہے : كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ : فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔
یہ ہے عبادت کا مفہوم جس طرح اسے عرب اچھی طرح سمجھتے تھے جن کی زبان میں قرآن کریم نازل ہوا تھا۔ اب دوسرا اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اللہ کی اس حاکمیت کو قائم کس طرح کیا جائے تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ انسان رسالت کا اقرار کریں ، کیونکہ حاکمیت الہیہ کا یہ نظریہ اور نظام صرف اللہ نے پیش کیا ہے اور رسالت کو تسلیم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ رسول جو کچھ دیتا ہے وہ من عنداللہ دیتا ہے۔ اگر کسی رسول کی تعلیمات کو من عنداللہ تسلیم نہ کیا جائے تو انسانی ضمیر میں ان تعلیمات کا جو تقدس اور احترام ہوتا ہے وہ ختم ہوجاتا ہتے کیونکہ اگر یہ تعلیمات کسی رسول اللہ کی جانب سے تصور ہوں تو رسول کا کوئی چاہے جس قدر بھی احترام کرے ، ان تعلیمات کی وہ قدر و قیمت انسان کے دل و دماغ میں جگہ نہیں پکڑتی اور نہ انسان چھوٹے بڑے معاملات میں ان تعلیمات کا احترام کرتا ہے جب انسان کے قلب و نظر میں یہ شعور جاگزیں ہوتا ہے کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں تو پھر یہ شعور ہر وقت انسان کا پیچھا کرتا ہے۔ اور انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ شعور ہی ہے جو متقیوں اور اطاعت شعاروں کو صراط مستقیم سے ادھر ادھر بھٹکنے نہیں دیتا۔
نیز اقرار بالرسالت کے ذریعے ہی وہ سرچشمہ اور ضابطہ متعین ہوتا ہے جس سے انسان وہ تمام ہدایات اکخذ کرسکتا ہے جن کا تعلق اسلامی نظام اور دین سے ہے۔ صرف یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے طاغوتی قوتوں کو ختم کیا جاسکتا ہے جن کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ از خود کوئی قانون اور ضابطہ اور نظریہ و عقیدہ گھڑ لیتی ہیں اور پھر کہتی ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے حالانکہ یہ سب کچھ انہوں نے از خود تصنیف کیا ہوتا ہے۔
ہر جاہلیت کی تاریخ یہ ہے کہ کچھ لوگ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے جانب سے کوئی قانون اور ضابطہ بنایا ، لوگوں کے لیے اقار اور رسم و رواج وضع کیے اور پھر کہا کہ یہ اللہ کی جانب سے ہیں۔ اللہ کے نام پر یہ انتشار تب ہی ختم ہوسکتا ہے کہ ایک رسول پر ایمان لا کر اس کے اقوال کو من جانب اللہ تسلیم کرلیا جائے۔
یہاں شرک سے استغفار اور توبہ کو اس لیے لایا گیا ہے کہ استغفار اس بات کی دلیل ہے کہ دل کے اندر احساس موجود ہے۔ وہ برائی کے خلاف فعال ہے اور اسے گناہ کا شعور ہے اور رجوع اور لوٹنے کی طرف مائل ہے۔ لیکن احساس و شعور کے ساتھ ساتھ حقیقی توبہ یہ ہے کہ انسان عملاً اس گناہ کو ترک بھی کردے اور برے اعمال کے مقابلے میں اچھے کاموں پر عمل پیرا بھی ہوجائے۔ ترک معاصی اور عمل صالح کے بغیر توبہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ توبہ کے لیے دو عملی علامات یہ ہیں۔ یہ دونوں شرطیں توبہ کی ترجمان ہوتی ہیں اور توبہ کا عملی وجود صرف ان دو صورتوں میں متحقق یہ ہوتا ہے اور صرف ایسی ہی توبہ کے بعد مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی یہ گمان رکھے کہ وہ شرک سے تائب ہوگیا اور اسلام میں داخل ہوگیا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ عملاً اللہ کی اطاعت نہیں کرتا ، اسلامی نظام کو قبول نہیں کرتا اور زندگی کی اقدار اور ترجیحات اسلام سے اخذ نہیں کرتا تو اس قسم کے زعم اور گمان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس اقرار کی تکذیب اس کا عمل کر رہا ہے کہ عملاً وہ طاغوتی قوتوں نظام کو قبول کرتا ہے۔
رسالت کا بنیادی ذریعہ دو چیزوں سے مرکب ہے۔ بشارت و نذارت ، نیکوں کے لیے اچھا اجر اور بروں کے لیے برا انجام دکھانا ، رسالت کا بنیادی کام ہے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور انسانی نفسیات سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے ، اس لیے برے انجام سے ڈرانا اور اچھے انجام کی خوشخبری دینا انسان پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے اور اس کے اندر داعیہ عمل پیدا کرتا ہے۔
آخرت کی جواب دہی کا عقیدہ بھی ضروری اور حق ہے اور اس کے نتیجے میں اس زندگی کے بارے میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک بامقصد اور حکیمانہ زندگی ہے اور وہ بھلائی جس کی طرف تمام رسول دعوت دیتے چلے آئے ہیں وہ زندگی کا اصل مقصد اور مدعا ہے۔ لہذا انسان کو دعوت رسل کے قبول کرنے کا اجر ضرور ملے گا ، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اگر اس دنیا میں اسے کوئی صلہ نہ ملا تو آخرت میں ضرور ملے گا۔ جہاں اس زندگی کی تکمیل ہوگی۔ وہ لوگ جو اسلامی نظام سے کج روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگیون میں بےراہ روی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو عذاب کا مستحق ٹھہراتے ہیں۔ اس تصور کے ساتھ فطرت سلیمہ سیدھی راہ پر چل نکلتی ہے اور وہ بےراہ روی اختیار نہیں کرتی۔ اور اگر وہ کبھی بےراہ روی پر چل نکلے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہوتا ہے ، اس لیے یہ نہیں ہوتا کہ وہ نافرمانی میں ڈوب ہی جائے۔ توجہ اور رجوع الی اللہ کے نتیجے ہی میں انسان کی زندگی کا سدھار ہے۔ اور زندگی کا رخ خیر اور بھلائی کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔ عقیدہ آخرت بذات خود آخرت کے اجر کا باعث نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ یہ عقیدہ انسان کو اس دنیا میں عمل پر آمادہ کرتا ہے اور اسے صالح اور پاکبازی کی زندگی پر قائم کرتا ہے۔ اور اس طرح انسان وہ زندگی حاسل کرلیتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ یہ طرز زندگی انسان کے لائق ہے اور اسی کے ذریعے انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوسکتا ہے۔ اسلام نے انسان کو جو تصور دیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے اسے بطور خاص بنایا ہے۔ پھر اس کے اندر اپنی خاص روح پھونکی ہے اور اسے اپنی تمام مخلوقات پر ترجیح دی ہے۔ اور اس طرح اسے حیوانیت کے مقام سے اوپر اٹھایا ہے تاکہ اس کی زندگی کے مقاصد حیوانوں سے بلند ہوسکیں اور اس کے میلانات اور مقاصد محض حیوانی میلانات اور مقاصد سے ذرا برتر ہوجائیں۔
یہ وہ غرض وغایت ہے جس کی وجہ سے اس کتاب محکم میں عقیدہ توحید ، اسلامی نظام کے قیام و اطاعت ، عقیدہ رسالت اور اتباع رسول کے بعد یہ دعوت دی گئی ہے کہ لوگو ، شرک سے توبہ کرو اور اللہ کی طرف لوٹ آؤ یہی عمل صالح اور پاکیزہ زندگی کے قیام کی سبیل ہے۔ عمل صالح کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ انسان کوئی اچھا عمل کرے اور بس بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر اس کرہ ارض پر اصلاح کے ہر مفہوم کے مطابق جدوجہد کی جائے ، اس زمین کی آبادی اور تعمیر کے لیے جدوجہد کی جائے۔ اس کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور جب کوئی قوم اصلاح کے اس مقام پر فائز ہوجائے تو پھر اسے یہ انعام دیا جاتا ہے۔
يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ : " تو ایک مدت خاص تک تم کو سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا " اس دنیا میں متاع حسن کبھی تو نوعیت کے اعتبار سے ہوتا ہے اور کبھی کمیت کے اعتبار سے۔ اور آخرت میں تو نوعیت اور کمیت دونوں کے اعتبار سے ہوگا اور اس قدر ہوگا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ البتہ ہم چاہتے ہیں کہ اس دنیا کے متاع حسن پر کچھ بات کریں۔
اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے پاکباز اور نیکوکار اور توبہ و استغفار کرنے والے ، اس دنیاوی زندگی میں بڑی تنگی اور ترشی سے جسم اور روح کا رشتہ جوڑے ہوئے ہوتے ہیں ، حالانکہ ان آیات میں اللہ کی جانب سے متاع حسن کا صریح وعدہ ہے۔ یہ سوال ہم بیشمار لوگوں کی زبان سے سنتے ہیں۔
اس آیت میں جو معنویت پائی جاتی ہے۔ اسے سجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم زندگی کو اس کے وسیع تر مفہوم میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ زندگی کے ظاہری حالات سے ہٹ کر اور وسیع اور گہرے مفہوم کے مطابق سمجھنے کی سعی کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ جس سوسائٹی میں بھی ایک صالح نظام رائج کیا جائے ، جو ایمان باللہ کی اساس پر تشکیل پایا ہو ، جس میں اطاعت فرمانبرداری صرف اللہ کی ہو ، صرف اللہ کو اس میں شارع اور قانون ساز تسلیم کیا گیا ہو ، اور اس میں لوگ اچھے اعمال اور کردار کے مالک ہوں ، تو لامحالہ وہ سوسائٹی ترقی یافتہ ہوجاتی ہے ، اس میں زندگی کی سہولیات وافر ہوجاتی ہیں ، اور وہ سوسائٹی عمومی طور پر پاک و صاف زندگی کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ ایسی سوسائٹی میں ہر فرد کو اس کی جدوجہد کے مطابق اجرت ملتی ہے۔ اس سوسائٹی کے افراد مطمئن ہوتے ہیں اور انہیں خوشحالی نصیب ہوجاتی ہے اور اس کے مقابلے میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی سوسائٹی میں صالح اور پاک طینت لوگ بڑی مشکل سے وقت گزار رہے ہیں اور وہ سازوسامان اور وسائل رزق کے اعتبار سے محروم لوگوں میں شمار ہوتے ہیں تو لازماً صورت حال یہ ہوگی کہ اس سوسائٹی کی عمارت ایمان باللہ پر تعمیر نہ ہوگی اور اس کا نظام عادلانہ نہ ہوگا اور اس پوری سوسائٹی میں کسی بھی شخص کو اس کی جدوجہد کے مطابق معاوضہ نہ ملتا ہوگا۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صالح اور نیکوکار لوگ اگر مالی وسائل اور رزق کے اعتبار سے تنگ و ترش زندگی بسر کر رہے ہوں بھی ، اور ان پر موجود سوسائٹی کی طرف سے مظالم بھی ڈھائے جا رہے ہیں اور ان کا ہر طرف سے پیچھا کیا جا رہا ہو ، جیسا کہ مکہ کے مشرکین اس سورت کے نزول کے وقت مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت پر مظالم ڈھا رہے تھے ، اور جس طرح ہر جاہلیت اسلام کے علم بردار داعیوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی سلوک کرتی رہتی ہے ، تب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ بات محض خیال یا دعوی ہی نہیں ہے ، کیونکہ تعلق باللہ ، اطمینان قلب اور آخرت کی جانب سے اطمینان اور اللہ کے فضل و کرم کی امید بھی درحقیقت بہتر سازوسامان ہے۔ اور جن لوگوں کی نظریں حسی اور مادی زندگی سے ذرا اونچی ہوتی ہیں۔ یہ روحانی دولت ان کے لیے زیادہ متاع حسن ہوتی ہے۔
ہم یہ بات اس لیے نہیں کہتے کہ جن لوگوں کو ان کی محنت کے مطابق اجرت اور متاع حسن عادلانہ اور منصفانہ طور پر نہیں ملتا وہ متاع حسن کی جدوجہد ترک کردیں۔ کیونکہ اسلام کبھی ظلم پر راضی نہیں ہوتا۔ اور اس قسم کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایک مومن کبھی خاموش نہیں ہوسکتا ، ایک مومن فرد اور ایک مومن جماعت سے اسلام تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایسے حالات کو بدلنے کی سعی اور جدوجہد جاری رکھیں تاکہ نیکو کار اور صالح کارکن اپنی محنت کے مطابق متاع حسن حاصل کرسکیں۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک صالح فرد کو اپنے حقوق کا احساس کرنا چاہیے اور یہ صورت قبول نہ کرنا چاہیے کہ وہ عمل تو کرتا رہے ، محنت کرتا رہے لیکن اسے اس کا بدلہ اور مزدوری نہ ملے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں جن میں نیک اور خدا ترس لوگوں کو ان کے پورے پورے حقوق ملیں۔
وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ ۔ (اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا ہو) ۔ بعض مفسرین نے اسے آخرت کے فضل سے مختص کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہے۔ جس طرح ہم نے المتاع الحسن کی تفسیر کی ہے۔ ہر صاحب فضیلت اپنی فضیلت کا اظہار کرتے ہی جزا پا لیتا ہے۔ اسے نفسیاتی اور شعوری خوشی نصیب ہوتی ہے۔ یہ فضل عملی ہو یا مالی۔ اگر فی سبیل اللہ ہو تو اس وقت جزا ملتی ہے۔ اس پر اللہ کی جانب سے جو جزاء ملے گی وہ فضل پر فضل ہوگا اور احسن الجزاء ہوگی۔
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ (اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یوم بدر کا عذاب ہے۔ لیکن یہ رائے درست نہیں ہے کیونکہ یوم کبیر کا لفظ اگر مطلقاً بولا جائے تو اس سے مراد قیامت کا دن ہوتا ہے اور اس رائے کو تقویت اگلے فقرے سے ملتی ہے۔
اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ (تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے) اگرچہ دنیا و آخرت دونوں میں مرع اللہ ہے اور ہر لمحہ اور ہر لحظہ انسان اللہ ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ لیکن قرآنی تعبیرات کی رو سے مراد اس دنیا کی زندگی کے بعد کی حالت ہے
وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ (اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے) اور یہ فقرہ بھی بتاتا ہے کہ اس یوم کبیر سے مراد یوم القیامت ہے کیونکہ اس میں لوگوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا جسے مشرکین عرب مستبعد سمجھتے تھے ، اس لیے کہا گیا کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
۔۔۔۔
هود 11:2
درس نمبر 99 ایک نظر میں
یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات اس کائنات میں کس قدر موثر ہیں۔ نیز اس سبق میں ذات باری کی حقیقت اور اس کی حکمرانی ، انسان کی جانب سے اس کی بندگی اور اطاعت اور اس کے تقاضوں سے مومنین کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور انسان کی بندگی کے تقاضے یہ ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسان اس کا بندہ ہوگا۔ اسی طرح آخرت میں بھی انسان اس کا بندہ ہوگا۔
اس مقدمے میں قیام رسالت اور حقیقت رسول پر بھی بحث ہے۔ اور رسول کو مخاطب کرکے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی دعوت کے مقابلے میں منکرین جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، چیلنج دے رہے ہیں اور بلا وجہ عناد کر رہے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا مکہ میں پوری دعوتی تاریخ میں نبی اکرم کے لیے یہ مشکل ترین دور تھا اور مشرکین قرآن کو کلام الہی تسلیم نہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں مشرکین سے کہا گیا کہ اگر وہ اس قرآن کو کلام الہی تسلیم نہیں کرتے تو وہ اس جیسی دس سورتیں تو پیش کردیں ، جیسا کہ ان کا زعم تھا۔ اس طرح حضور کو تسلی دی گئی کہ وہ ہرگز اس قرآن جیسا کلام نہیں پیش کرسکتے۔ اس طرح ان لوگوں کے لیے یہ چیلنج باعث تسلی تھا ، جو ایمان لا چکے تھے۔
اس تسلی کے ساتھ منکرین حق کو دو ٹوک دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ جس عذاب کے آجانے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں وہ بہت ہی دردناک ہے اور ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب دنیا میں ان پر کوئی معمولی تکلیف آجاتی ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ہر تکلیف معمولی ہے۔
اس دھمکی کو مناظر قیامت کے ایک منظر کی صورت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مشرکین اور مکذبین اور ان کے شرکاء اور سفارشی قیامت کے دن ان کو کسی طرح بھی عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ جبکہ اہل ایمان جنتوں میں ہوں گے اور انعامات و اکرامات ان کا حصہ ہوگا۔ یہ منطر قرآن کے مخصوص انداز کے مطابق نہایت ہی مجسم اور مصور ہے اور چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور قرآن کہتا ہے :
) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24): (اور ان دو فریقوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اندھا اور بہرا ہوا۔ دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو ، کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اس بات سے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ "
درس نمبر 99 تشریح آیات 1 تا 24:
تفسیر آیات 1 تا 4:
ان آیات میں درج ذیل حقائق بیان ہوئے جو دین اسلام کے بنیادی حقائق ہیں :
٭۔ وحی اور رسالت کا ثبوت
٭۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کا اثبات
٭۔ جو لوگ اس وحی اور ہدایت کی اتباع کریں گے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے انعام ہوگا بشرطیکہ وہ اس ہدایت کو بطور نظام زندگی اپنائی۔
٭۔ وہ لوگ جو اسے جھٹلائیں گے وہ مستوجب سزا ہوں گے۔ چاہے کوئی مطیع فرمان ہو یا منکر ہو ، اسے ایک دن اللہ کے سامن کھڑا ہونا ہوگا۔
٭۔ اللہ کی قدرت اور سلطنت غیر محدود ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ال ر ، یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر آگے پورا جملہ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے ہی حروف سے بنی ہے جو لوگوں کی دسترس میں ہیں اور یہ لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں ، اگر ان سے کہا جائے کہ ان حروف سے تم ایسی ہی کتاب بناؤ تو یہ عاجز رہ جاتے ہیں۔
كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ : " فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے "
اس کی آیات محکم ہیں یعنی وہ مضبوط ترکیب رکھتی ہیں ، گہرا مفہوم رکھتی ہیں ، ان کا ہر حرف اور ہر حکم با مقصد ہے ، ہر مفہوم اور ہر ہدایت مطلوب اور بامقصد ہے۔ اس کا ہر اشارہ ایک ٹارگٹ کی طرف ہے اور یہ نہایت ہی ہم آہنگ اور مربوط ہیں ، تمام آیات کا نظر اور تصور ایک ہے۔ ان آیات کی پھر تفصیلات ہیں اور موضوع اور مطلب کے مطابق وہ منقسم ہیں اور ان کی تبویب کی گئی ہے اور ہر آیت کو اس کے لیے موزوں جگہ پر رکھا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان آیات کو اس طرح مستحکم ترکیب اور نہایت ہی بلیغ مفہوم میں کس نے مرتب فرمایا ہے۔ تو یاد رہے کہ اللہ جل شانہ نے یہ کام خود کیا ہے ، آن آایت کی تشکیل و تسوید میں رسول اللہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ من لدن حکیم خبیر ہیں یہ کتاب اللہ کے احکام بتاتی ہے اور ان کی ضروری تفصیلات بھی دیتی ہے۔ اور یہ اسی طرح اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور جس طرح ہمارے سامنے ہے۔ اس میں کوئی تغیر و تبدل کسی جگہ نہیں ہوا ہے۔
اور ان آیات میں کیا بنیادی نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی تعلیمات کی اساس یہ کلمہ ہے۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ یعنی نظام زندگی اللہ کا ہو ، عبادت اللہ کی ہو اور اطاعت و حکمرانی اللہ کی ہو صرف اور صرف اللہ کی۔
اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ ۔ (میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی) یہ تصور رسالت ہے ہے اور رسالت کا بڑا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے انعام کی خوشخبری دے اور برے انجام سے ڈرائے۔
وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ (اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ) یعنی شرک و کفر اور نافرمانی کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹ آؤ اور توحید اور اسلامی نظام زندگی کو قبول کرلو۔
يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ (تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا) یہ توبہ و استغفار کرنے والوں کے لیے جزا ہے۔
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ (لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) ۔ یہ ان لوگوں کے لیے ڈراوا ہے جو دعوت سے منہ موڑتے ہیں۔
الی اللہ مرجعکم (تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے) اس میں اس عقیدے کا اظہار ہے کہ آخر کار سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے) اور اس میں اللہ کی قدرت مطلقہ کا ذکر ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر کام پر قادر ہے۔
یہ ہیں کتاب اللہ کے مقاصد اور اس کی آیات انہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ ہیں وہ بنیادی عقائد اور تصورات جن کے اوپر اسلامی نظام حیات کی عمارت کو اٹھایا گیا ہے۔
یہ بات ہر شخص کو اچھی طرح ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کرہ ارض پر کوئی دین اور کوئی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا اور کوئی تہذیب اور کلچر دنیا میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان اساسی سوالات کا جواب نہ دے۔ دنیا میں ہر فلسفے اور نظام فکر کو ان سوالات کا جواب دینا لازمی ہے۔
یہ عقیدہ کہ دنیا میں ہر قسم کی بندگی صرف اللہ وحدہ کی ہوگی ، ان تمام راستوں کو بند کردیتا ہے جن پر انسان جا کر انتشار کا شکار ہوتا ہے اور وہ نظریاتی اور فکری بےراہ روی میں مبتلا ہوتا ہے۔ انسانیت کو خام خیالی ، وہم پرستی اور کھوٹے نظریات اور جھوٹے خداؤں کی بندگی اور غلامی سے صرف اس صورت میں نجات دلائی جاسکتی ہے کہ اسے اللہ وحدہ کا غلام بنا دیا جائے۔ دنیا میں کچھ ایسے لوگ اور چیزیں ہم نے تجویز کر رکھی ہیں۔ جن کو ہم اللہ اور بندے کے درمیان رابطے کا مقام دیتے ہیں ، اور یہ لوگ روحانی طور پر لوگوں کو بد راہ کرتے ہیں ، کوئی لوگ اور ادارے ایسے ہیں جن کو ہم نے حاکم اور مقتدر اعلی تصور کرلیا ہے اور یہ لوگ انسانوں کی دنیاوی زندگی کو اپنی منشاء کے مطابق چلاتے ہیں۔ اور اللہ کی مختص ترین خصوصیات یعنی حاکمیت اور اقتدار اعلی کے اختیارات وہ خود اپنے لیے حاصل کرلیتے ہیں۔ اس طرح وہ لوگوں کو ان کھوٹے اور جھوٹے خداؤں کا غلام بناتے ہیں جو شرک جلی ہے۔
دنیا میں جب تک عقیدہ توحید کو اس وسیع مفہوم میں نکھار کر قائم نہ کیا جائے گا اس وقت تک کوئی ایسا اجتماعی ، سیاسی ، اقتصادی ، اخلاقی ، قومی اور بین الاقوامی نظام قائم نہیں ہوسکتا جس میں انسان بعض دوسرے انسانوں کی خواہشات ، ان کی تاویلات اور ذاتی مقاصد کا آلہ کار بننے سے نجات پا سکے۔
ماسوائے قیام عقیدہ توحید کے ، انسان وہ آزادی اور شرف حاصل نہیں کرسکتا جو اللہ نے انسان کے لیے تجویز کیا ہے اور نہ انسان ذلت ، خوف اور بےچینی سے نجات پا سکتا ہے جس سے وہ ہمیشہ دوچار رہتا ہے عقیدہ توحید بھی صرف ان معنوں میں کہ اللہ کو رب ، معبود ، تکوینی حاکم و مدبر اور تشریعی حاکم و قانون ساز تسلیم کیا جائے اور اس دائرہ اختیار سے انسان کو بالکل بےدخل کردیا جائے اور انسان کا کوئی عمل و دخل ان امور میں نہ رہے ، صرف اس صورت میں مکمل عقیدہ توحید قائم ہوسکتا ہے۔
پوری انسانی تاریخ میں اسلام اور جاہلیت کے درمیان جو کمشک رہی ہے اور حق اور طاغوت کے درمیان تاریخی معرکہ آرائی اور مقابلہ اس موضوع پر نہیں رہا ہے کہ اللہ اس کائنات کا الہ اور رب ہے ، اور اس کائنات کو وہی اپنی تدبیر اور اپنے تکوینی قوانین کے ساتھ چلا رہا ہے بلکہ یہ معرکہ اور یہ اختلاف اس بات پر تھا کہ رب الناس کون ہو ؟ لوگوں پر نظام اور شریعت کس کی نافذ ہو ؟ اور لوگ کس کی اطاعت کریں اور کس کے احکام خصوصا سیاسی احکام قبول کریں ؟
اس دنیا کی طاغوتی قوتیں اللہ کے اس حق کو غصب کرکے لوگوں کی زندگیوں میں اپنے قوانین و فرامین نافذ کرتی رہیں اور اس طرح لوگوں کو اللہ کی حاکمیت سے نکال کر اپنی حاکمیت کے دائرے میں داخل کرتی رہی ہیں۔ تمام انبیاء تمام رسالتوں اور تمام اسلامی تحریکات کا اہدف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لوگوں کو ان طاغوتی قوتوں کے غصب کردہ اختیارات کے دائرے سے نکال کر اللہ کی حکومت ، اللہ کی بادشاہت اور اللہ کی حاکمیت میں داخل کیا جائے۔
اللہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز بادشاہ ہے۔ لوگوں کی نافرمانی اور سرکشی اس کی حکومت میں پرکاہ کی کمی بھی نہیں کرسکتی اور اگر تمام مخلوقت اس کی بندگی پر متفق ہوجائے اور اس کی حکومت کو تسلیم کرلے تب بھی اللہ کی مملکت میں پرکاہ کا اضافہ نہیں ہوسکتا لیکن جب لوگ اللہ کے سوا کسی اور ذات یا ادارے کی حاکمیت کو قبول کرلیں تو خود وہ ذلیل و خوار اور غلام ہوجاتے ہیں۔ اور اگر وہ اللہ وحدہ کی سیاسی اور نظریاتی حاکمیت کو قبول کرلیں تو خود ان کے لے یہ بات باعث عز و شرف ہے۔ وہ غلامی کی جگہ آزادی اور پستیوں کی جگہ سربلندی حاصل کرلیتے ہیں کوئی انسان کسی انسان یا غیر انسان کا غلام نہیں رہتا۔ اللہ چونکہ اپنے بندوں کو معزز شرف اور سربلند دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے رسولوں کو بھیجا تاکہ وہ ان کو یہ عزت اور شرف عطا کریں۔ اور ان کو اپنے جیسے بندوں کی غلامی سے نجات دیں۔ غرض اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام میں اگر کوئی بھلائی ہے تو وہ خود انسانوں کے لیے ہے اللہ تو تمام جہانوں سے غنی اور مستغنی ہے۔
اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کو جس قدر معزز دیکھنا چاہتا ہے ، اور اسے جس سطح تک بلند کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس وقت تک بلند نہیں ہوسکتی جب تک تمام انسان اس بات کا عزم نہ کرلیں کہ وہ اپنے گلوں سے غیر اللہ کی غلامی کا جوا اتار کر پھینکیں گے کیونکہ غیر اللہ کی غلامی کا یہ پٹا انسان کے لیے باعث ذلت ہے ، چاہے اس کی صورت جو بھی ہو۔
دین صرف اللہ کے لیے تب ہوگا جب لوگ صرف اللہ وحدہ کو رب تسلیم کرلیں اور اللہ کی ربوبیت کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ اللہ کا نظام ، اللہ کا دستور اور اللہ کے قوانین و فرامین کو اپنا لیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جو اس سورت کے آغاز ہی میں منضبط کی گئی ہے : كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ : فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔
یہ ہے عبادت کا مفہوم جس طرح اسے عرب اچھی طرح سمجھتے تھے جن کی زبان میں قرآن کریم نازل ہوا تھا۔ اب دوسرا اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اللہ کی اس حاکمیت کو قائم کس طرح کیا جائے تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ انسان رسالت کا اقرار کریں ، کیونکہ حاکمیت الہیہ کا یہ نظریہ اور نظام صرف اللہ نے پیش کیا ہے اور رسالت کو تسلیم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ رسول جو کچھ دیتا ہے وہ من عنداللہ دیتا ہے۔ اگر کسی رسول کی تعلیمات کو من عنداللہ تسلیم نہ کیا جائے تو انسانی ضمیر میں ان تعلیمات کا جو تقدس اور احترام ہوتا ہے وہ ختم ہوجاتا ہتے کیونکہ اگر یہ تعلیمات کسی رسول اللہ کی جانب سے تصور ہوں تو رسول کا کوئی چاہے جس قدر بھی احترام کرے ، ان تعلیمات کی وہ قدر و قیمت انسان کے دل و دماغ میں جگہ نہیں پکڑتی اور نہ انسان چھوٹے بڑے معاملات میں ان تعلیمات کا احترام کرتا ہے جب انسان کے قلب و نظر میں یہ شعور جاگزیں ہوتا ہے کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں تو پھر یہ شعور ہر وقت انسان کا پیچھا کرتا ہے۔ اور انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ شعور ہی ہے جو متقیوں اور اطاعت شعاروں کو صراط مستقیم سے ادھر ادھر بھٹکنے نہیں دیتا۔
نیز اقرار بالرسالت کے ذریعے ہی وہ سرچشمہ اور ضابطہ متعین ہوتا ہے جس سے انسان وہ تمام ہدایات اکخذ کرسکتا ہے جن کا تعلق اسلامی نظام اور دین سے ہے۔ صرف یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے طاغوتی قوتوں کو ختم کیا جاسکتا ہے جن کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ از خود کوئی قانون اور ضابطہ اور نظریہ و عقیدہ گھڑ لیتی ہیں اور پھر کہتی ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے حالانکہ یہ سب کچھ انہوں نے از خود تصنیف کیا ہوتا ہے۔
ہر جاہلیت کی تاریخ یہ ہے کہ کچھ لوگ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے جانب سے کوئی قانون اور ضابطہ بنایا ، لوگوں کے لیے اقار اور رسم و رواج وضع کیے اور پھر کہا کہ یہ اللہ کی جانب سے ہیں۔ اللہ کے نام پر یہ انتشار تب ہی ختم ہوسکتا ہے کہ ایک رسول پر ایمان لا کر اس کے اقوال کو من جانب اللہ تسلیم کرلیا جائے۔
یہاں شرک سے استغفار اور توبہ کو اس لیے لایا گیا ہے کہ استغفار اس بات کی دلیل ہے کہ دل کے اندر احساس موجود ہے۔ وہ برائی کے خلاف فعال ہے اور اسے گناہ کا شعور ہے اور رجوع اور لوٹنے کی طرف مائل ہے۔ لیکن احساس و شعور کے ساتھ ساتھ حقیقی توبہ یہ ہے کہ انسان عملاً اس گناہ کو ترک بھی کردے اور برے اعمال کے مقابلے میں اچھے کاموں پر عمل پیرا بھی ہوجائے۔ ترک معاصی اور عمل صالح کے بغیر توبہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ توبہ کے لیے دو عملی علامات یہ ہیں۔ یہ دونوں شرطیں توبہ کی ترجمان ہوتی ہیں اور توبہ کا عملی وجود صرف ان دو صورتوں میں متحقق یہ ہوتا ہے اور صرف ایسی ہی توبہ کے بعد مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی یہ گمان رکھے کہ وہ شرک سے تائب ہوگیا اور اسلام میں داخل ہوگیا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ عملاً اللہ کی اطاعت نہیں کرتا ، اسلامی نظام کو قبول نہیں کرتا اور زندگی کی اقدار اور ترجیحات اسلام سے اخذ نہیں کرتا تو اس قسم کے زعم اور گمان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس اقرار کی تکذیب اس کا عمل کر رہا ہے کہ عملاً وہ طاغوتی قوتوں نظام کو قبول کرتا ہے۔
رسالت کا بنیادی ذریعہ دو چیزوں سے مرکب ہے۔ بشارت و نذارت ، نیکوں کے لیے اچھا اجر اور بروں کے لیے برا انجام دکھانا ، رسالت کا بنیادی کام ہے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور انسانی نفسیات سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے ، اس لیے برے انجام سے ڈرانا اور اچھے انجام کی خوشخبری دینا انسان پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے اور اس کے اندر داعیہ عمل پیدا کرتا ہے۔
آخرت کی جواب دہی کا عقیدہ بھی ضروری اور حق ہے اور اس کے نتیجے میں اس زندگی کے بارے میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک بامقصد اور حکیمانہ زندگی ہے اور وہ بھلائی جس کی طرف تمام رسول دعوت دیتے چلے آئے ہیں وہ زندگی کا اصل مقصد اور مدعا ہے۔ لہذا انسان کو دعوت رسل کے قبول کرنے کا اجر ضرور ملے گا ، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اگر اس دنیا میں اسے کوئی صلہ نہ ملا تو آخرت میں ضرور ملے گا۔ جہاں اس زندگی کی تکمیل ہوگی۔ وہ لوگ جو اسلامی نظام سے کج روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگیون میں بےراہ روی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو عذاب کا مستحق ٹھہراتے ہیں۔ اس تصور کے ساتھ فطرت سلیمہ سیدھی راہ پر چل نکلتی ہے اور وہ بےراہ روی اختیار نہیں کرتی۔ اور اگر وہ کبھی بےراہ روی پر چل نکلے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہوتا ہے ، اس لیے یہ نہیں ہوتا کہ وہ نافرمانی میں ڈوب ہی جائے۔ توجہ اور رجوع الی اللہ کے نتیجے ہی میں انسان کی زندگی کا سدھار ہے۔ اور زندگی کا رخ خیر اور بھلائی کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔ عقیدہ آخرت بذات خود آخرت کے اجر کا باعث نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ یہ عقیدہ انسان کو اس دنیا میں عمل پر آمادہ کرتا ہے اور اسے صالح اور پاکبازی کی زندگی پر قائم کرتا ہے۔ اور اس طرح انسان وہ زندگی حاسل کرلیتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ یہ طرز زندگی انسان کے لائق ہے اور اسی کے ذریعے انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوسکتا ہے۔ اسلام نے انسان کو جو تصور دیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے اسے بطور خاص بنایا ہے۔ پھر اس کے اندر اپنی خاص روح پھونکی ہے اور اسے اپنی تمام مخلوقات پر ترجیح دی ہے۔ اور اس طرح اسے حیوانیت کے مقام سے اوپر اٹھایا ہے تاکہ اس کی زندگی کے مقاصد حیوانوں سے بلند ہوسکیں اور اس کے میلانات اور مقاصد محض حیوانی میلانات اور مقاصد سے ذرا برتر ہوجائیں۔
یہ وہ غرض وغایت ہے جس کی وجہ سے اس کتاب محکم میں عقیدہ توحید ، اسلامی نظام کے قیام و اطاعت ، عقیدہ رسالت اور اتباع رسول کے بعد یہ دعوت دی گئی ہے کہ لوگو ، شرک سے توبہ کرو اور اللہ کی طرف لوٹ آؤ یہی عمل صالح اور پاکیزہ زندگی کے قیام کی سبیل ہے۔ عمل صالح کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ انسان کوئی اچھا عمل کرے اور بس بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر اس کرہ ارض پر اصلاح کے ہر مفہوم کے مطابق جدوجہد کی جائے ، اس زمین کی آبادی اور تعمیر کے لیے جدوجہد کی جائے۔ اس کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور جب کوئی قوم اصلاح کے اس مقام پر فائز ہوجائے تو پھر اسے یہ انعام دیا جاتا ہے۔
يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ : " تو ایک مدت خاص تک تم کو سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا " اس دنیا میں متاع حسن کبھی تو نوعیت کے اعتبار سے ہوتا ہے اور کبھی کمیت کے اعتبار سے۔ اور آخرت میں تو نوعیت اور کمیت دونوں کے اعتبار سے ہوگا اور اس قدر ہوگا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ البتہ ہم چاہتے ہیں کہ اس دنیا کے متاع حسن پر کچھ بات کریں۔
اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے پاکباز اور نیکوکار اور توبہ و استغفار کرنے والے ، اس دنیاوی زندگی میں بڑی تنگی اور ترشی سے جسم اور روح کا رشتہ جوڑے ہوئے ہوتے ہیں ، حالانکہ ان آیات میں اللہ کی جانب سے متاع حسن کا صریح وعدہ ہے۔ یہ سوال ہم بیشمار لوگوں کی زبان سے سنتے ہیں۔
اس آیت میں جو معنویت پائی جاتی ہے۔ اسے سجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم زندگی کو اس کے وسیع تر مفہوم میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ زندگی کے ظاہری حالات سے ہٹ کر اور وسیع اور گہرے مفہوم کے مطابق سمجھنے کی سعی کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ جس سوسائٹی میں بھی ایک صالح نظام رائج کیا جائے ، جو ایمان باللہ کی اساس پر تشکیل پایا ہو ، جس میں اطاعت فرمانبرداری صرف اللہ کی ہو ، صرف اللہ کو اس میں شارع اور قانون ساز تسلیم کیا گیا ہو ، اور اس میں لوگ اچھے اعمال اور کردار کے مالک ہوں ، تو لامحالہ وہ سوسائٹی ترقی یافتہ ہوجاتی ہے ، اس میں زندگی کی سہولیات وافر ہوجاتی ہیں ، اور وہ سوسائٹی عمومی طور پر پاک و صاف زندگی کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ ایسی سوسائٹی میں ہر فرد کو اس کی جدوجہد کے مطابق اجرت ملتی ہے۔ اس سوسائٹی کے افراد مطمئن ہوتے ہیں اور انہیں خوشحالی نصیب ہوجاتی ہے اور اس کے مقابلے میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی سوسائٹی میں صالح اور پاک طینت لوگ بڑی مشکل سے وقت گزار رہے ہیں اور وہ سازوسامان اور وسائل رزق کے اعتبار سے محروم لوگوں میں شمار ہوتے ہیں تو لازماً صورت حال یہ ہوگی کہ اس سوسائٹی کی عمارت ایمان باللہ پر تعمیر نہ ہوگی اور اس کا نظام عادلانہ نہ ہوگا اور اس پوری سوسائٹی میں کسی بھی شخص کو اس کی جدوجہد کے مطابق معاوضہ نہ ملتا ہوگا۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صالح اور نیکوکار لوگ اگر مالی وسائل اور رزق کے اعتبار سے تنگ و ترش زندگی بسر کر رہے ہوں بھی ، اور ان پر موجود سوسائٹی کی طرف سے مظالم بھی ڈھائے جا رہے ہیں اور ان کا ہر طرف سے پیچھا کیا جا رہا ہو ، جیسا کہ مکہ کے مشرکین اس سورت کے نزول کے وقت مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت پر مظالم ڈھا رہے تھے ، اور جس طرح ہر جاہلیت اسلام کے علم بردار داعیوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی سلوک کرتی رہتی ہے ، تب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ بات محض خیال یا دعوی ہی نہیں ہے ، کیونکہ تعلق باللہ ، اطمینان قلب اور آخرت کی جانب سے اطمینان اور اللہ کے فضل و کرم کی امید بھی درحقیقت بہتر سازوسامان ہے۔ اور جن لوگوں کی نظریں حسی اور مادی زندگی سے ذرا اونچی ہوتی ہیں۔ یہ روحانی دولت ان کے لیے زیادہ متاع حسن ہوتی ہے۔
ہم یہ بات اس لیے نہیں کہتے کہ جن لوگوں کو ان کی محنت کے مطابق اجرت اور متاع حسن عادلانہ اور منصفانہ طور پر نہیں ملتا وہ متاع حسن کی جدوجہد ترک کردیں۔ کیونکہ اسلام کبھی ظلم پر راضی نہیں ہوتا۔ اور اس قسم کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایک مومن کبھی خاموش نہیں ہوسکتا ، ایک مومن فرد اور ایک مومن جماعت سے اسلام تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایسے حالات کو بدلنے کی سعی اور جدوجہد جاری رکھیں تاکہ نیکو کار اور صالح کارکن اپنی محنت کے مطابق متاع حسن حاصل کرسکیں۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک صالح فرد کو اپنے حقوق کا احساس کرنا چاہیے اور یہ صورت قبول نہ کرنا چاہیے کہ وہ عمل تو کرتا رہے ، محنت کرتا رہے لیکن اسے اس کا بدلہ اور مزدوری نہ ملے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں جن میں نیک اور خدا ترس لوگوں کو ان کے پورے پورے حقوق ملیں۔
وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ ۔ (اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا ہو) ۔ بعض مفسرین نے اسے آخرت کے فضل سے مختص کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہے۔ جس طرح ہم نے المتاع الحسن کی تفسیر کی ہے۔ ہر صاحب فضیلت اپنی فضیلت کا اظہار کرتے ہی جزا پا لیتا ہے۔ اسے نفسیاتی اور شعوری خوشی نصیب ہوتی ہے۔ یہ فضل عملی ہو یا مالی۔ اگر فی سبیل اللہ ہو تو اس وقت جزا ملتی ہے۔ اس پر اللہ کی جانب سے جو جزاء ملے گی وہ فضل پر فضل ہوگا اور احسن الجزاء ہوگی۔
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ (اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یوم بدر کا عذاب ہے۔ لیکن یہ رائے درست نہیں ہے کیونکہ یوم کبیر کا لفظ اگر مطلقاً بولا جائے تو اس سے مراد قیامت کا دن ہوتا ہے اور اس رائے کو تقویت اگلے فقرے سے ملتی ہے۔
اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ (تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے) اگرچہ دنیا و آخرت دونوں میں مرع اللہ ہے اور ہر لمحہ اور ہر لحظہ انسان اللہ ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ لیکن قرآنی تعبیرات کی رو سے مراد اس دنیا کی زندگی کے بعد کی حالت ہے
وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ (اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے) اور یہ فقرہ بھی بتاتا ہے کہ اس یوم کبیر سے مراد یوم القیامت ہے کیونکہ اس میں لوگوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا جسے مشرکین عرب مستبعد سمجھتے تھے ، اس لیے کہا گیا کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
۔۔۔۔
هود 11:3
درس نمبر 99 ایک نظر میں
یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات اس کائنات میں کس قدر موثر ہیں۔ نیز اس سبق میں ذات باری کی حقیقت اور اس کی حکمرانی ، انسان کی جانب سے اس کی بندگی اور اطاعت اور اس کے تقاضوں سے مومنین کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور انسان کی بندگی کے تقاضے یہ ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسان اس کا بندہ ہوگا۔ اسی طرح آخرت میں بھی انسان اس کا بندہ ہوگا۔
اس مقدمے میں قیام رسالت اور حقیقت رسول پر بھی بحث ہے۔ اور رسول کو مخاطب کرکے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی دعوت کے مقابلے میں منکرین جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، چیلنج دے رہے ہیں اور بلا وجہ عناد کر رہے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا مکہ میں پوری دعوتی تاریخ میں نبی اکرم کے لیے یہ مشکل ترین دور تھا اور مشرکین قرآن کو کلام الہی تسلیم نہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں مشرکین سے کہا گیا کہ اگر وہ اس قرآن کو کلام الہی تسلیم نہیں کرتے تو وہ اس جیسی دس سورتیں تو پیش کردیں ، جیسا کہ ان کا زعم تھا۔ اس طرح حضور کو تسلی دی گئی کہ وہ ہرگز اس قرآن جیسا کلام نہیں پیش کرسکتے۔ اس طرح ان لوگوں کے لیے یہ چیلنج باعث تسلی تھا ، جو ایمان لا چکے تھے۔
اس تسلی کے ساتھ منکرین حق کو دو ٹوک دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ جس عذاب کے آجانے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں وہ بہت ہی دردناک ہے اور ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب دنیا میں ان پر کوئی معمولی تکلیف آجاتی ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ہر تکلیف معمولی ہے۔
اس دھمکی کو مناظر قیامت کے ایک منظر کی صورت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مشرکین اور مکذبین اور ان کے شرکاء اور سفارشی قیامت کے دن ان کو کسی طرح بھی عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ جبکہ اہل ایمان جنتوں میں ہوں گے اور انعامات و اکرامات ان کا حصہ ہوگا۔ یہ منطر قرآن کے مخصوص انداز کے مطابق نہایت ہی مجسم اور مصور ہے اور چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور قرآن کہتا ہے :
) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24): (اور ان دو فریقوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اندھا اور بہرا ہوا۔ دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو ، کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اس بات سے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ "
درس نمبر 99 تشریح آیات 1 تا 24:
تفسیر آیات 1 تا 4:
ان آیات میں درج ذیل حقائق بیان ہوئے جو دین اسلام کے بنیادی حقائق ہیں :
٭۔ وحی اور رسالت کا ثبوت
٭۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کا اثبات
٭۔ جو لوگ اس وحی اور ہدایت کی اتباع کریں گے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے انعام ہوگا بشرطیکہ وہ اس ہدایت کو بطور نظام زندگی اپنائی۔
٭۔ وہ لوگ جو اسے جھٹلائیں گے وہ مستوجب سزا ہوں گے۔ چاہے کوئی مطیع فرمان ہو یا منکر ہو ، اسے ایک دن اللہ کے سامن کھڑا ہونا ہوگا۔
٭۔ اللہ کی قدرت اور سلطنت غیر محدود ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ال ر ، یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر آگے پورا جملہ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے ہی حروف سے بنی ہے جو لوگوں کی دسترس میں ہیں اور یہ لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں ، اگر ان سے کہا جائے کہ ان حروف سے تم ایسی ہی کتاب بناؤ تو یہ عاجز رہ جاتے ہیں۔
كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ : " فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے "
اس کی آیات محکم ہیں یعنی وہ مضبوط ترکیب رکھتی ہیں ، گہرا مفہوم رکھتی ہیں ، ان کا ہر حرف اور ہر حکم با مقصد ہے ، ہر مفہوم اور ہر ہدایت مطلوب اور بامقصد ہے۔ اس کا ہر اشارہ ایک ٹارگٹ کی طرف ہے اور یہ نہایت ہی ہم آہنگ اور مربوط ہیں ، تمام آیات کا نظر اور تصور ایک ہے۔ ان آیات کی پھر تفصیلات ہیں اور موضوع اور مطلب کے مطابق وہ منقسم ہیں اور ان کی تبویب کی گئی ہے اور ہر آیت کو اس کے لیے موزوں جگہ پر رکھا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان آیات کو اس طرح مستحکم ترکیب اور نہایت ہی بلیغ مفہوم میں کس نے مرتب فرمایا ہے۔ تو یاد رہے کہ اللہ جل شانہ نے یہ کام خود کیا ہے ، آن آایت کی تشکیل و تسوید میں رسول اللہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ من لدن حکیم خبیر ہیں یہ کتاب اللہ کے احکام بتاتی ہے اور ان کی ضروری تفصیلات بھی دیتی ہے۔ اور یہ اسی طرح اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور جس طرح ہمارے سامنے ہے۔ اس میں کوئی تغیر و تبدل کسی جگہ نہیں ہوا ہے۔
اور ان آیات میں کیا بنیادی نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی تعلیمات کی اساس یہ کلمہ ہے۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ یعنی نظام زندگی اللہ کا ہو ، عبادت اللہ کی ہو اور اطاعت و حکمرانی اللہ کی ہو صرف اور صرف اللہ کی۔
اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ ۔ (میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی) یہ تصور رسالت ہے ہے اور رسالت کا بڑا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے انعام کی خوشخبری دے اور برے انجام سے ڈرائے۔
وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ (اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ) یعنی شرک و کفر اور نافرمانی کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹ آؤ اور توحید اور اسلامی نظام زندگی کو قبول کرلو۔
يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ (تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا) یہ توبہ و استغفار کرنے والوں کے لیے جزا ہے۔
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ (لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) ۔ یہ ان لوگوں کے لیے ڈراوا ہے جو دعوت سے منہ موڑتے ہیں۔
الی اللہ مرجعکم (تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے) اس میں اس عقیدے کا اظہار ہے کہ آخر کار سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے) اور اس میں اللہ کی قدرت مطلقہ کا ذکر ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر کام پر قادر ہے۔
یہ ہیں کتاب اللہ کے مقاصد اور اس کی آیات انہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ ہیں وہ بنیادی عقائد اور تصورات جن کے اوپر اسلامی نظام حیات کی عمارت کو اٹھایا گیا ہے۔
یہ بات ہر شخص کو اچھی طرح ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کرہ ارض پر کوئی دین اور کوئی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا اور کوئی تہذیب اور کلچر دنیا میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان اساسی سوالات کا جواب نہ دے۔ دنیا میں ہر فلسفے اور نظام فکر کو ان سوالات کا جواب دینا لازمی ہے۔
یہ عقیدہ کہ دنیا میں ہر قسم کی بندگی صرف اللہ وحدہ کی ہوگی ، ان تمام راستوں کو بند کردیتا ہے جن پر انسان جا کر انتشار کا شکار ہوتا ہے اور وہ نظریاتی اور فکری بےراہ روی میں مبتلا ہوتا ہے۔ انسانیت کو خام خیالی ، وہم پرستی اور کھوٹے نظریات اور جھوٹے خداؤں کی بندگی اور غلامی سے صرف اس صورت میں نجات دلائی جاسکتی ہے کہ اسے اللہ وحدہ کا غلام بنا دیا جائے۔ دنیا میں کچھ ایسے لوگ اور چیزیں ہم نے تجویز کر رکھی ہیں۔ جن کو ہم اللہ اور بندے کے درمیان رابطے کا مقام دیتے ہیں ، اور یہ لوگ روحانی طور پر لوگوں کو بد راہ کرتے ہیں ، کوئی لوگ اور ادارے ایسے ہیں جن کو ہم نے حاکم اور مقتدر اعلی تصور کرلیا ہے اور یہ لوگ انسانوں کی دنیاوی زندگی کو اپنی منشاء کے مطابق چلاتے ہیں۔ اور اللہ کی مختص ترین خصوصیات یعنی حاکمیت اور اقتدار اعلی کے اختیارات وہ خود اپنے لیے حاصل کرلیتے ہیں۔ اس طرح وہ لوگوں کو ان کھوٹے اور جھوٹے خداؤں کا غلام بناتے ہیں جو شرک جلی ہے۔
دنیا میں جب تک عقیدہ توحید کو اس وسیع مفہوم میں نکھار کر قائم نہ کیا جائے گا اس وقت تک کوئی ایسا اجتماعی ، سیاسی ، اقتصادی ، اخلاقی ، قومی اور بین الاقوامی نظام قائم نہیں ہوسکتا جس میں انسان بعض دوسرے انسانوں کی خواہشات ، ان کی تاویلات اور ذاتی مقاصد کا آلہ کار بننے سے نجات پا سکے۔
ماسوائے قیام عقیدہ توحید کے ، انسان وہ آزادی اور شرف حاصل نہیں کرسکتا جو اللہ نے انسان کے لیے تجویز کیا ہے اور نہ انسان ذلت ، خوف اور بےچینی سے نجات پا سکتا ہے جس سے وہ ہمیشہ دوچار رہتا ہے عقیدہ توحید بھی صرف ان معنوں میں کہ اللہ کو رب ، معبود ، تکوینی حاکم و مدبر اور تشریعی حاکم و قانون ساز تسلیم کیا جائے اور اس دائرہ اختیار سے انسان کو بالکل بےدخل کردیا جائے اور انسان کا کوئی عمل و دخل ان امور میں نہ رہے ، صرف اس صورت میں مکمل عقیدہ توحید قائم ہوسکتا ہے۔
پوری انسانی تاریخ میں اسلام اور جاہلیت کے درمیان جو کمشک رہی ہے اور حق اور طاغوت کے درمیان تاریخی معرکہ آرائی اور مقابلہ اس موضوع پر نہیں رہا ہے کہ اللہ اس کائنات کا الہ اور رب ہے ، اور اس کائنات کو وہی اپنی تدبیر اور اپنے تکوینی قوانین کے ساتھ چلا رہا ہے بلکہ یہ معرکہ اور یہ اختلاف اس بات پر تھا کہ رب الناس کون ہو ؟ لوگوں پر نظام اور شریعت کس کی نافذ ہو ؟ اور لوگ کس کی اطاعت کریں اور کس کے احکام خصوصا سیاسی احکام قبول کریں ؟
اس دنیا کی طاغوتی قوتیں اللہ کے اس حق کو غصب کرکے لوگوں کی زندگیوں میں اپنے قوانین و فرامین نافذ کرتی رہیں اور اس طرح لوگوں کو اللہ کی حاکمیت سے نکال کر اپنی حاکمیت کے دائرے میں داخل کرتی رہی ہیں۔ تمام انبیاء تمام رسالتوں اور تمام اسلامی تحریکات کا اہدف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لوگوں کو ان طاغوتی قوتوں کے غصب کردہ اختیارات کے دائرے سے نکال کر اللہ کی حکومت ، اللہ کی بادشاہت اور اللہ کی حاکمیت میں داخل کیا جائے۔
اللہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز بادشاہ ہے۔ لوگوں کی نافرمانی اور سرکشی اس کی حکومت میں پرکاہ کی کمی بھی نہیں کرسکتی اور اگر تمام مخلوقت اس کی بندگی پر متفق ہوجائے اور اس کی حکومت کو تسلیم کرلے تب بھی اللہ کی مملکت میں پرکاہ کا اضافہ نہیں ہوسکتا لیکن جب لوگ اللہ کے سوا کسی اور ذات یا ادارے کی حاکمیت کو قبول کرلیں تو خود وہ ذلیل و خوار اور غلام ہوجاتے ہیں۔ اور اگر وہ اللہ وحدہ کی سیاسی اور نظریاتی حاکمیت کو قبول کرلیں تو خود ان کے لے یہ بات باعث عز و شرف ہے۔ وہ غلامی کی جگہ آزادی اور پستیوں کی جگہ سربلندی حاصل کرلیتے ہیں کوئی انسان کسی انسان یا غیر انسان کا غلام نہیں رہتا۔ اللہ چونکہ اپنے بندوں کو معزز شرف اور سربلند دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے رسولوں کو بھیجا تاکہ وہ ان کو یہ عزت اور شرف عطا کریں۔ اور ان کو اپنے جیسے بندوں کی غلامی سے نجات دیں۔ غرض اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام میں اگر کوئی بھلائی ہے تو وہ خود انسانوں کے لیے ہے اللہ تو تمام جہانوں سے غنی اور مستغنی ہے۔
اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کو جس قدر معزز دیکھنا چاہتا ہے ، اور اسے جس سطح تک بلند کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس وقت تک بلند نہیں ہوسکتی جب تک تمام انسان اس بات کا عزم نہ کرلیں کہ وہ اپنے گلوں سے غیر اللہ کی غلامی کا جوا اتار کر پھینکیں گے کیونکہ غیر اللہ کی غلامی کا یہ پٹا انسان کے لیے باعث ذلت ہے ، چاہے اس کی صورت جو بھی ہو۔
دین صرف اللہ کے لیے تب ہوگا جب لوگ صرف اللہ وحدہ کو رب تسلیم کرلیں اور اللہ کی ربوبیت کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ اللہ کا نظام ، اللہ کا دستور اور اللہ کے قوانین و فرامین کو اپنا لیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جو اس سورت کے آغاز ہی میں منضبط کی گئی ہے : كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ : فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔
یہ ہے عبادت کا مفہوم جس طرح اسے عرب اچھی طرح سمجھتے تھے جن کی زبان میں قرآن کریم نازل ہوا تھا۔ اب دوسرا اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اللہ کی اس حاکمیت کو قائم کس طرح کیا جائے تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ انسان رسالت کا اقرار کریں ، کیونکہ حاکمیت الہیہ کا یہ نظریہ اور نظام صرف اللہ نے پیش کیا ہے اور رسالت کو تسلیم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ رسول جو کچھ دیتا ہے وہ من عنداللہ دیتا ہے۔ اگر کسی رسول کی تعلیمات کو من عنداللہ تسلیم نہ کیا جائے تو انسانی ضمیر میں ان تعلیمات کا جو تقدس اور احترام ہوتا ہے وہ ختم ہوجاتا ہتے کیونکہ اگر یہ تعلیمات کسی رسول اللہ کی جانب سے تصور ہوں تو رسول کا کوئی چاہے جس قدر بھی احترام کرے ، ان تعلیمات کی وہ قدر و قیمت انسان کے دل و دماغ میں جگہ نہیں پکڑتی اور نہ انسان چھوٹے بڑے معاملات میں ان تعلیمات کا احترام کرتا ہے جب انسان کے قلب و نظر میں یہ شعور جاگزیں ہوتا ہے کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں تو پھر یہ شعور ہر وقت انسان کا پیچھا کرتا ہے۔ اور انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ شعور ہی ہے جو متقیوں اور اطاعت شعاروں کو صراط مستقیم سے ادھر ادھر بھٹکنے نہیں دیتا۔
نیز اقرار بالرسالت کے ذریعے ہی وہ سرچشمہ اور ضابطہ متعین ہوتا ہے جس سے انسان وہ تمام ہدایات اکخذ کرسکتا ہے جن کا تعلق اسلامی نظام اور دین سے ہے۔ صرف یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے طاغوتی قوتوں کو ختم کیا جاسکتا ہے جن کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ از خود کوئی قانون اور ضابطہ اور نظریہ و عقیدہ گھڑ لیتی ہیں اور پھر کہتی ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے حالانکہ یہ سب کچھ انہوں نے از خود تصنیف کیا ہوتا ہے۔
ہر جاہلیت کی تاریخ یہ ہے کہ کچھ لوگ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے جانب سے کوئی قانون اور ضابطہ بنایا ، لوگوں کے لیے اقار اور رسم و رواج وضع کیے اور پھر کہا کہ یہ اللہ کی جانب سے ہیں۔ اللہ کے نام پر یہ انتشار تب ہی ختم ہوسکتا ہے کہ ایک رسول پر ایمان لا کر اس کے اقوال کو من جانب اللہ تسلیم کرلیا جائے۔
یہاں شرک سے استغفار اور توبہ کو اس لیے لایا گیا ہے کہ استغفار اس بات کی دلیل ہے کہ دل کے اندر احساس موجود ہے۔ وہ برائی کے خلاف فعال ہے اور اسے گناہ کا شعور ہے اور رجوع اور لوٹنے کی طرف مائل ہے۔ لیکن احساس و شعور کے ساتھ ساتھ حقیقی توبہ یہ ہے کہ انسان عملاً اس گناہ کو ترک بھی کردے اور برے اعمال کے مقابلے میں اچھے کاموں پر عمل پیرا بھی ہوجائے۔ ترک معاصی اور عمل صالح کے بغیر توبہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ توبہ کے لیے دو عملی علامات یہ ہیں۔ یہ دونوں شرطیں توبہ کی ترجمان ہوتی ہیں اور توبہ کا عملی وجود صرف ان دو صورتوں میں متحقق یہ ہوتا ہے اور صرف ایسی ہی توبہ کے بعد مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی یہ گمان رکھے کہ وہ شرک سے تائب ہوگیا اور اسلام میں داخل ہوگیا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ عملاً اللہ کی اطاعت نہیں کرتا ، اسلامی نظام کو قبول نہیں کرتا اور زندگی کی اقدار اور ترجیحات اسلام سے اخذ نہیں کرتا تو اس قسم کے زعم اور گمان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس اقرار کی تکذیب اس کا عمل کر رہا ہے کہ عملاً وہ طاغوتی قوتوں نظام کو قبول کرتا ہے۔
رسالت کا بنیادی ذریعہ دو چیزوں سے مرکب ہے۔ بشارت و نذارت ، نیکوں کے لیے اچھا اجر اور بروں کے لیے برا انجام دکھانا ، رسالت کا بنیادی کام ہے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور انسانی نفسیات سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے ، اس لیے برے انجام سے ڈرانا اور اچھے انجام کی خوشخبری دینا انسان پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے اور اس کے اندر داعیہ عمل پیدا کرتا ہے۔
آخرت کی جواب دہی کا عقیدہ بھی ضروری اور حق ہے اور اس کے نتیجے میں اس زندگی کے بارے میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک بامقصد اور حکیمانہ زندگی ہے اور وہ بھلائی جس کی طرف تمام رسول دعوت دیتے چلے آئے ہیں وہ زندگی کا اصل مقصد اور مدعا ہے۔ لہذا انسان کو دعوت رسل کے قبول کرنے کا اجر ضرور ملے گا ، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اگر اس دنیا میں اسے کوئی صلہ نہ ملا تو آخرت میں ضرور ملے گا۔ جہاں اس زندگی کی تکمیل ہوگی۔ وہ لوگ جو اسلامی نظام سے کج روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگیون میں بےراہ روی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو عذاب کا مستحق ٹھہراتے ہیں۔ اس تصور کے ساتھ فطرت سلیمہ سیدھی راہ پر چل نکلتی ہے اور وہ بےراہ روی اختیار نہیں کرتی۔ اور اگر وہ کبھی بےراہ روی پر چل نکلے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہوتا ہے ، اس لیے یہ نہیں ہوتا کہ وہ نافرمانی میں ڈوب ہی جائے۔ توجہ اور رجوع الی اللہ کے نتیجے ہی میں انسان کی زندگی کا سدھار ہے۔ اور زندگی کا رخ خیر اور بھلائی کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔ عقیدہ آخرت بذات خود آخرت کے اجر کا باعث نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ یہ عقیدہ انسان کو اس دنیا میں عمل پر آمادہ کرتا ہے اور اسے صالح اور پاکبازی کی زندگی پر قائم کرتا ہے۔ اور اس طرح انسان وہ زندگی حاسل کرلیتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ یہ طرز زندگی انسان کے لائق ہے اور اسی کے ذریعے انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوسکتا ہے۔ اسلام نے انسان کو جو تصور دیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے اسے بطور خاص بنایا ہے۔ پھر اس کے اندر اپنی خاص روح پھونکی ہے اور اسے اپنی تمام مخلوقات پر ترجیح دی ہے۔ اور اس طرح اسے حیوانیت کے مقام سے اوپر اٹھایا ہے تاکہ اس کی زندگی کے مقاصد حیوانوں سے بلند ہوسکیں اور اس کے میلانات اور مقاصد محض حیوانی میلانات اور مقاصد سے ذرا برتر ہوجائیں۔
یہ وہ غرض وغایت ہے جس کی وجہ سے اس کتاب محکم میں عقیدہ توحید ، اسلامی نظام کے قیام و اطاعت ، عقیدہ رسالت اور اتباع رسول کے بعد یہ دعوت دی گئی ہے کہ لوگو ، شرک سے توبہ کرو اور اللہ کی طرف لوٹ آؤ یہی عمل صالح اور پاکیزہ زندگی کے قیام کی سبیل ہے۔ عمل صالح کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ انسان کوئی اچھا عمل کرے اور بس بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر اس کرہ ارض پر اصلاح کے ہر مفہوم کے مطابق جدوجہد کی جائے ، اس زمین کی آبادی اور تعمیر کے لیے جدوجہد کی جائے۔ اس کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور جب کوئی قوم اصلاح کے اس مقام پر فائز ہوجائے تو پھر اسے یہ انعام دیا جاتا ہے۔
يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ : " تو ایک مدت خاص تک تم کو سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا " اس دنیا میں متاع حسن کبھی تو نوعیت کے اعتبار سے ہوتا ہے اور کبھی کمیت کے اعتبار سے۔ اور آخرت میں تو نوعیت اور کمیت دونوں کے اعتبار سے ہوگا اور اس قدر ہوگا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ البتہ ہم چاہتے ہیں کہ اس دنیا کے متاع حسن پر کچھ بات کریں۔
اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے پاکباز اور نیکوکار اور توبہ و استغفار کرنے والے ، اس دنیاوی زندگی میں بڑی تنگی اور ترشی سے جسم اور روح کا رشتہ جوڑے ہوئے ہوتے ہیں ، حالانکہ ان آیات میں اللہ کی جانب سے متاع حسن کا صریح وعدہ ہے۔ یہ سوال ہم بیشمار لوگوں کی زبان سے سنتے ہیں۔
اس آیت میں جو معنویت پائی جاتی ہے۔ اسے سجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم زندگی کو اس کے وسیع تر مفہوم میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ زندگی کے ظاہری حالات سے ہٹ کر اور وسیع اور گہرے مفہوم کے مطابق سمجھنے کی سعی کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ جس سوسائٹی میں بھی ایک صالح نظام رائج کیا جائے ، جو ایمان باللہ کی اساس پر تشکیل پایا ہو ، جس میں اطاعت فرمانبرداری صرف اللہ کی ہو ، صرف اللہ کو اس میں شارع اور قانون ساز تسلیم کیا گیا ہو ، اور اس میں لوگ اچھے اعمال اور کردار کے مالک ہوں ، تو لامحالہ وہ سوسائٹی ترقی یافتہ ہوجاتی ہے ، اس میں زندگی کی سہولیات وافر ہوجاتی ہیں ، اور وہ سوسائٹی عمومی طور پر پاک و صاف زندگی کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ ایسی سوسائٹی میں ہر فرد کو اس کی جدوجہد کے مطابق اجرت ملتی ہے۔ اس سوسائٹی کے افراد مطمئن ہوتے ہیں اور انہیں خوشحالی نصیب ہوجاتی ہے اور اس کے مقابلے میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی سوسائٹی میں صالح اور پاک طینت لوگ بڑی مشکل سے وقت گزار رہے ہیں اور وہ سازوسامان اور وسائل رزق کے اعتبار سے محروم لوگوں میں شمار ہوتے ہیں تو لازماً صورت حال یہ ہوگی کہ اس سوسائٹی کی عمارت ایمان باللہ پر تعمیر نہ ہوگی اور اس کا نظام عادلانہ نہ ہوگا اور اس پوری سوسائٹی میں کسی بھی شخص کو اس کی جدوجہد کے مطابق معاوضہ نہ ملتا ہوگا۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صالح اور نیکوکار لوگ اگر مالی وسائل اور رزق کے اعتبار سے تنگ و ترش زندگی بسر کر رہے ہوں بھی ، اور ان پر موجود سوسائٹی کی طرف سے مظالم بھی ڈھائے جا رہے ہیں اور ان کا ہر طرف سے پیچھا کیا جا رہا ہو ، جیسا کہ مکہ کے مشرکین اس سورت کے نزول کے وقت مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت پر مظالم ڈھا رہے تھے ، اور جس طرح ہر جاہلیت اسلام کے علم بردار داعیوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی سلوک کرتی رہتی ہے ، تب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ بات محض خیال یا دعوی ہی نہیں ہے ، کیونکہ تعلق باللہ ، اطمینان قلب اور آخرت کی جانب سے اطمینان اور اللہ کے فضل و کرم کی امید بھی درحقیقت بہتر سازوسامان ہے۔ اور جن لوگوں کی نظریں حسی اور مادی زندگی سے ذرا اونچی ہوتی ہیں۔ یہ روحانی دولت ان کے لیے زیادہ متاع حسن ہوتی ہے۔
ہم یہ بات اس لیے نہیں کہتے کہ جن لوگوں کو ان کی محنت کے مطابق اجرت اور متاع حسن عادلانہ اور منصفانہ طور پر نہیں ملتا وہ متاع حسن کی جدوجہد ترک کردیں۔ کیونکہ اسلام کبھی ظلم پر راضی نہیں ہوتا۔ اور اس قسم کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایک مومن کبھی خاموش نہیں ہوسکتا ، ایک مومن فرد اور ایک مومن جماعت سے اسلام تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایسے حالات کو بدلنے کی سعی اور جدوجہد جاری رکھیں تاکہ نیکو کار اور صالح کارکن اپنی محنت کے مطابق متاع حسن حاصل کرسکیں۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک صالح فرد کو اپنے حقوق کا احساس کرنا چاہیے اور یہ صورت قبول نہ کرنا چاہیے کہ وہ عمل تو کرتا رہے ، محنت کرتا رہے لیکن اسے اس کا بدلہ اور مزدوری نہ ملے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں جن میں نیک اور خدا ترس لوگوں کو ان کے پورے پورے حقوق ملیں۔
وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ ۔ (اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا ہو) ۔ بعض مفسرین نے اسے آخرت کے فضل سے مختص کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہے۔ جس طرح ہم نے المتاع الحسن کی تفسیر کی ہے۔ ہر صاحب فضیلت اپنی فضیلت کا اظہار کرتے ہی جزا پا لیتا ہے۔ اسے نفسیاتی اور شعوری خوشی نصیب ہوتی ہے۔ یہ فضل عملی ہو یا مالی۔ اگر فی سبیل اللہ ہو تو اس وقت جزا ملتی ہے۔ اس پر اللہ کی جانب سے جو جزاء ملے گی وہ فضل پر فضل ہوگا اور احسن الجزاء ہوگی۔
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ (اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یوم بدر کا عذاب ہے۔ لیکن یہ رائے درست نہیں ہے کیونکہ یوم کبیر کا لفظ اگر مطلقاً بولا جائے تو اس سے مراد قیامت کا دن ہوتا ہے اور اس رائے کو تقویت اگلے فقرے سے ملتی ہے۔
اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ (تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے) اگرچہ دنیا و آخرت دونوں میں مرع اللہ ہے اور ہر لمحہ اور ہر لحظہ انسان اللہ ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ لیکن قرآنی تعبیرات کی رو سے مراد اس دنیا کی زندگی کے بعد کی حالت ہے
وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ (اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے) اور یہ فقرہ بھی بتاتا ہے کہ اس یوم کبیر سے مراد یوم القیامت ہے کیونکہ اس میں لوگوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا جسے مشرکین عرب مستبعد سمجھتے تھے ، اس لیے کہا گیا کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
۔۔۔۔
هود 11:4
درس نمبر 99 ایک نظر میں
یہ پہلا سبق ایک مقدمے کی شکل میں ہے اس کے بعد قصص کا حصہ اور آخر میں نتائج اور تبصرے تبصرے ہیں۔ اس تمہیدی حصے میں وہ تمام اساسی باتیں کہی گئیں ہیں جو اسلامی نظریہ حیات کی اساسی باتیں ہیں اور بنیادی حقائق ہیں۔ یعنی اطاعت اور بندگی صرف اللہ وحدلہ لا شریک کی ہوگی اور دین صرف اللہ کا ہوگا۔ اور یہ اعتقاد رکھنا لازم ہوگا کہ ایک دن ہم نے جزاء و سزا اور حساب و کتاب کے لیے اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔ اور یہ حساب و کتاب دنیا میں اچھے اور برے اعمال کی اساس پر ہوگا۔ کیونکہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس ابتدائیہ میں اللہ کی معرفت اور اللہ کی صفات کو اس زاویہ سے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات وصفات اس کائنات میں کس قدر موثر ہیں۔ نیز اس سبق میں ذات باری کی حقیقت اور اس کی حکمرانی ، انسان کی جانب سے اس کی بندگی اور اطاعت اور اس کے تقاضوں سے مومنین کو آگاہ کیا گیا ہے۔ اور انسان کی بندگی کے تقاضے یہ ہیں کہ جس طرح دنیا میں انسان اس کا بندہ ہوگا۔ اسی طرح آخرت میں بھی انسان اس کا بندہ ہوگا۔
اس مقدمے میں قیام رسالت اور حقیقت رسول پر بھی بحث ہے۔ اور رسول کو مخاطب کرکے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ آپ کی دعوت کے مقابلے میں منکرین جس طرح اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، چیلنج دے رہے ہیں اور بلا وجہ عناد کر رہے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم نے کہا مکہ میں پوری دعوتی تاریخ میں نبی اکرم کے لیے یہ مشکل ترین دور تھا اور مشرکین قرآن کو کلام الہی تسلیم نہ کرتے تھے۔ اس کے جواب میں مشرکین سے کہا گیا کہ اگر وہ اس قرآن کو کلام الہی تسلیم نہیں کرتے تو وہ اس جیسی دس سورتیں تو پیش کردیں ، جیسا کہ ان کا زعم تھا۔ اس طرح حضور کو تسلی دی گئی کہ وہ ہرگز اس قرآن جیسا کلام نہیں پیش کرسکتے۔ اس طرح ان لوگوں کے لیے یہ چیلنج باعث تسلی تھا ، جو ایمان لا چکے تھے۔
اس تسلی کے ساتھ منکرین حق کو دو ٹوک دھمکی بھی دی گئی ہے کہ وہ جس عذاب کے آجانے کی خواہش کا اظہار کررہے ہیں وہ بہت ہی دردناک ہے اور ان کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کی حالت یہ ہے کہ جب دنیا میں ان پر کوئی معمولی تکلیف آجاتی ہے تو وہ اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ حالانکہ آخرت کے عذاب کے مقابلے میں دنیا کی ہر تکلیف معمولی ہے۔
اس دھمکی کو مناظر قیامت کے ایک منظر کی صورت میں بھی پیش کیا جاتا ہے۔ اس منظر میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ مشرکین اور مکذبین اور ان کے شرکاء اور سفارشی قیامت کے دن ان کو کسی طرح بھی عذاب سے نہ بچا سکیں گے۔ جبکہ اہل ایمان جنتوں میں ہوں گے اور انعامات و اکرامات ان کا حصہ ہوگا۔ یہ منطر قرآن کے مخصوص انداز کے مطابق نہایت ہی مجسم اور مصور ہے اور چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور قرآن کہتا ہے :
) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24): (اور ان دو فریقوں کی مثال اس طرح ہے کہ ایک آدمی اندھا اور بہرا ہوا۔ دوسرا دیکھنے والا اور سننے والا ہو ، کیا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم اس بات سے نصیحت نہیں پکڑتے ؟ "
درس نمبر 99 تشریح آیات 1 تا 24:
تفسیر آیات 1 تا 4:
ان آیات میں درج ذیل حقائق بیان ہوئے جو دین اسلام کے بنیادی حقائق ہیں :
٭۔ وحی اور رسالت کا ثبوت
٭۔ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کا اثبات
٭۔ جو لوگ اس وحی اور ہدایت کی اتباع کریں گے دنیا اور آخرت میں ان کے لیے انعام ہوگا بشرطیکہ وہ اس ہدایت کو بطور نظام زندگی اپنائی۔
٭۔ وہ لوگ جو اسے جھٹلائیں گے وہ مستوجب سزا ہوں گے۔ چاہے کوئی مطیع فرمان ہو یا منکر ہو ، اسے ایک دن اللہ کے سامن کھڑا ہونا ہوگا۔
٭۔ اللہ کی قدرت اور سلطنت غیر محدود ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ال ر ، یہ مبتداء ہے اور اس کی خبر آگے پورا جملہ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کتاب ایسے ہی حروف سے بنی ہے جو لوگوں کی دسترس میں ہیں اور یہ لوگ اس کی تکذیب کرتے ہیں ، اگر ان سے کہا جائے کہ ان حروف سے تم ایسی ہی کتاب بناؤ تو یہ عاجز رہ جاتے ہیں۔
كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ : " فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے "
اس کی آیات محکم ہیں یعنی وہ مضبوط ترکیب رکھتی ہیں ، گہرا مفہوم رکھتی ہیں ، ان کا ہر حرف اور ہر حکم با مقصد ہے ، ہر مفہوم اور ہر ہدایت مطلوب اور بامقصد ہے۔ اس کا ہر اشارہ ایک ٹارگٹ کی طرف ہے اور یہ نہایت ہی ہم آہنگ اور مربوط ہیں ، تمام آیات کا نظر اور تصور ایک ہے۔ ان آیات کی پھر تفصیلات ہیں اور موضوع اور مطلب کے مطابق وہ منقسم ہیں اور ان کی تبویب کی گئی ہے اور ہر آیت کو اس کے لیے موزوں جگہ پر رکھا گیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان آیات کو اس طرح مستحکم ترکیب اور نہایت ہی بلیغ مفہوم میں کس نے مرتب فرمایا ہے۔ تو یاد رہے کہ اللہ جل شانہ نے یہ کام خود کیا ہے ، آن آایت کی تشکیل و تسوید میں رسول اللہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔ یہ من لدن حکیم خبیر ہیں یہ کتاب اللہ کے احکام بتاتی ہے اور ان کی ضروری تفصیلات بھی دیتی ہے۔ اور یہ اسی طرح اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور جس طرح ہمارے سامنے ہے۔ اس میں کوئی تغیر و تبدل کسی جگہ نہیں ہوا ہے۔
اور ان آیات میں کیا بنیادی نظریہ پیش کیا گیا ہے۔ ان کی تعلیمات کی اساس یہ کلمہ ہے۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ یعنی نظام زندگی اللہ کا ہو ، عبادت اللہ کی ہو اور اطاعت و حکمرانی اللہ کی ہو صرف اور صرف اللہ کی۔
اِنَّنِيْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ ۔ (میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی) یہ تصور رسالت ہے ہے اور رسالت کا بڑا مقصد یہ ہے کہ اللہ کے انعام کی خوشخبری دے اور برے انجام سے ڈرائے۔
وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَيْهِ (اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ) یعنی شرک و کفر اور نافرمانی کو چھوڑ کر اللہ کی طرف پلٹ آؤ اور توحید اور اسلامی نظام زندگی کو قبول کرلو۔
يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ (تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا) یہ توبہ و استغفار کرنے والوں کے لیے جزا ہے۔
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ (لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) ۔ یہ ان لوگوں کے لیے ڈراوا ہے جو دعوت سے منہ موڑتے ہیں۔
الی اللہ مرجعکم (تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے) اس میں اس عقیدے کا اظہار ہے کہ آخر کار سب کو اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے۔
وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے) اور اس میں اللہ کی قدرت مطلقہ کا ذکر ہے۔ اور یہ کہ وہ ہر کام پر قادر ہے۔
یہ ہیں کتاب اللہ کے مقاصد اور اس کی آیات انہی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ یہ ہیں وہ بنیادی عقائد اور تصورات جن کے اوپر اسلامی نظام حیات کی عمارت کو اٹھایا گیا ہے۔
یہ بات ہر شخص کو اچھی طرح ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کرہ ارض پر کوئی دین اور کوئی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا اور کوئی تہذیب اور کلچر دنیا میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان اساسی سوالات کا جواب نہ دے۔ دنیا میں ہر فلسفے اور نظام فکر کو ان سوالات کا جواب دینا لازمی ہے۔
یہ عقیدہ کہ دنیا میں ہر قسم کی بندگی صرف اللہ وحدہ کی ہوگی ، ان تمام راستوں کو بند کردیتا ہے جن پر انسان جا کر انتشار کا شکار ہوتا ہے اور وہ نظریاتی اور فکری بےراہ روی میں مبتلا ہوتا ہے۔ انسانیت کو خام خیالی ، وہم پرستی اور کھوٹے نظریات اور جھوٹے خداؤں کی بندگی اور غلامی سے صرف اس صورت میں نجات دلائی جاسکتی ہے کہ اسے اللہ وحدہ کا غلام بنا دیا جائے۔ دنیا میں کچھ ایسے لوگ اور چیزیں ہم نے تجویز کر رکھی ہیں۔ جن کو ہم اللہ اور بندے کے درمیان رابطے کا مقام دیتے ہیں ، اور یہ لوگ روحانی طور پر لوگوں کو بد راہ کرتے ہیں ، کوئی لوگ اور ادارے ایسے ہیں جن کو ہم نے حاکم اور مقتدر اعلی تصور کرلیا ہے اور یہ لوگ انسانوں کی دنیاوی زندگی کو اپنی منشاء کے مطابق چلاتے ہیں۔ اور اللہ کی مختص ترین خصوصیات یعنی حاکمیت اور اقتدار اعلی کے اختیارات وہ خود اپنے لیے حاصل کرلیتے ہیں۔ اس طرح وہ لوگوں کو ان کھوٹے اور جھوٹے خداؤں کا غلام بناتے ہیں جو شرک جلی ہے۔
دنیا میں جب تک عقیدہ توحید کو اس وسیع مفہوم میں نکھار کر قائم نہ کیا جائے گا اس وقت تک کوئی ایسا اجتماعی ، سیاسی ، اقتصادی ، اخلاقی ، قومی اور بین الاقوامی نظام قائم نہیں ہوسکتا جس میں انسان بعض دوسرے انسانوں کی خواہشات ، ان کی تاویلات اور ذاتی مقاصد کا آلہ کار بننے سے نجات پا سکے۔
ماسوائے قیام عقیدہ توحید کے ، انسان وہ آزادی اور شرف حاصل نہیں کرسکتا جو اللہ نے انسان کے لیے تجویز کیا ہے اور نہ انسان ذلت ، خوف اور بےچینی سے نجات پا سکتا ہے جس سے وہ ہمیشہ دوچار رہتا ہے عقیدہ توحید بھی صرف ان معنوں میں کہ اللہ کو رب ، معبود ، تکوینی حاکم و مدبر اور تشریعی حاکم و قانون ساز تسلیم کیا جائے اور اس دائرہ اختیار سے انسان کو بالکل بےدخل کردیا جائے اور انسان کا کوئی عمل و دخل ان امور میں نہ رہے ، صرف اس صورت میں مکمل عقیدہ توحید قائم ہوسکتا ہے۔
پوری انسانی تاریخ میں اسلام اور جاہلیت کے درمیان جو کمشک رہی ہے اور حق اور طاغوت کے درمیان تاریخی معرکہ آرائی اور مقابلہ اس موضوع پر نہیں رہا ہے کہ اللہ اس کائنات کا الہ اور رب ہے ، اور اس کائنات کو وہی اپنی تدبیر اور اپنے تکوینی قوانین کے ساتھ چلا رہا ہے بلکہ یہ معرکہ اور یہ اختلاف اس بات پر تھا کہ رب الناس کون ہو ؟ لوگوں پر نظام اور شریعت کس کی نافذ ہو ؟ اور لوگ کس کی اطاعت کریں اور کس کے احکام خصوصا سیاسی احکام قبول کریں ؟
اس دنیا کی طاغوتی قوتیں اللہ کے اس حق کو غصب کرکے لوگوں کی زندگیوں میں اپنے قوانین و فرامین نافذ کرتی رہیں اور اس طرح لوگوں کو اللہ کی حاکمیت سے نکال کر اپنی حاکمیت کے دائرے میں داخل کرتی رہی ہیں۔ تمام انبیاء تمام رسالتوں اور تمام اسلامی تحریکات کا اہدف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ لوگوں کو ان طاغوتی قوتوں کے غصب کردہ اختیارات کے دائرے سے نکال کر اللہ کی حکومت ، اللہ کی بادشاہت اور اللہ کی حاکمیت میں داخل کیا جائے۔
اللہ تو تمام جہانوں سے بےنیاز بادشاہ ہے۔ لوگوں کی نافرمانی اور سرکشی اس کی حکومت میں پرکاہ کی کمی بھی نہیں کرسکتی اور اگر تمام مخلوقت اس کی بندگی پر متفق ہوجائے اور اس کی حکومت کو تسلیم کرلے تب بھی اللہ کی مملکت میں پرکاہ کا اضافہ نہیں ہوسکتا لیکن جب لوگ اللہ کے سوا کسی اور ذات یا ادارے کی حاکمیت کو قبول کرلیں تو خود وہ ذلیل و خوار اور غلام ہوجاتے ہیں۔ اور اگر وہ اللہ وحدہ کی سیاسی اور نظریاتی حاکمیت کو قبول کرلیں تو خود ان کے لے یہ بات باعث عز و شرف ہے۔ وہ غلامی کی جگہ آزادی اور پستیوں کی جگہ سربلندی حاصل کرلیتے ہیں کوئی انسان کسی انسان یا غیر انسان کا غلام نہیں رہتا۔ اللہ چونکہ اپنے بندوں کو معزز شرف اور سربلند دیکھنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس نے رسولوں کو بھیجا تاکہ وہ ان کو یہ عزت اور شرف عطا کریں۔ اور ان کو اپنے جیسے بندوں کی غلامی سے نجات دیں۔ غرض اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام میں اگر کوئی بھلائی ہے تو وہ خود انسانوں کے لیے ہے اللہ تو تمام جہانوں سے غنی اور مستغنی ہے۔
اللہ تعالیٰ انسانی زندگی کو جس قدر معزز دیکھنا چاہتا ہے ، اور اسے جس سطح تک بلند کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس وقت تک بلند نہیں ہوسکتی جب تک تمام انسان اس بات کا عزم نہ کرلیں کہ وہ اپنے گلوں سے غیر اللہ کی غلامی کا جوا اتار کر پھینکیں گے کیونکہ غیر اللہ کی غلامی کا یہ پٹا انسان کے لیے باعث ذلت ہے ، چاہے اس کی صورت جو بھی ہو۔
دین صرف اللہ کے لیے تب ہوگا جب لوگ صرف اللہ وحدہ کو رب تسلیم کرلیں اور اللہ کی ربوبیت کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ اللہ کا نظام ، اللہ کا دستور اور اللہ کے قوانین و فرامین کو اپنا لیں۔ یہ ہے وہ حقیقت جو اس سورت کے آغاز ہی میں منضبط کی گئی ہے : كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ خَبِيْرٍ ۔ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ : فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔
یہ ہے عبادت کا مفہوم جس طرح اسے عرب اچھی طرح سمجھتے تھے جن کی زبان میں قرآن کریم نازل ہوا تھا۔ اب دوسرا اہم سوال سامنے آتا ہے کہ اللہ کی اس حاکمیت کو قائم کس طرح کیا جائے تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ انسان رسالت کا اقرار کریں ، کیونکہ حاکمیت الہیہ کا یہ نظریہ اور نظام صرف اللہ نے پیش کیا ہے اور رسالت کو تسلیم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ رسول جو کچھ دیتا ہے وہ من عنداللہ دیتا ہے۔ اگر کسی رسول کی تعلیمات کو من عنداللہ تسلیم نہ کیا جائے تو انسانی ضمیر میں ان تعلیمات کا جو تقدس اور احترام ہوتا ہے وہ ختم ہوجاتا ہتے کیونکہ اگر یہ تعلیمات کسی رسول اللہ کی جانب سے تصور ہوں تو رسول کا کوئی چاہے جس قدر بھی احترام کرے ، ان تعلیمات کی وہ قدر و قیمت انسان کے دل و دماغ میں جگہ نہیں پکڑتی اور نہ انسان چھوٹے بڑے معاملات میں ان تعلیمات کا احترام کرتا ہے جب انسان کے قلب و نظر میں یہ شعور جاگزیں ہوتا ہے کہ یہ تعلیمات اللہ کی طرف سے ہیں تو پھر یہ شعور ہر وقت انسان کا پیچھا کرتا ہے۔ اور انسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ شعور ہی ہے جو متقیوں اور اطاعت شعاروں کو صراط مستقیم سے ادھر ادھر بھٹکنے نہیں دیتا۔
نیز اقرار بالرسالت کے ذریعے ہی وہ سرچشمہ اور ضابطہ متعین ہوتا ہے جس سے انسان وہ تمام ہدایات اکخذ کرسکتا ہے جن کا تعلق اسلامی نظام اور دین سے ہے۔ صرف یہی ایک راستہ ہے جس کے ذریعے طاغوتی قوتوں کو ختم کیا جاسکتا ہے جن کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ از خود کوئی قانون اور ضابطہ اور نظریہ و عقیدہ گھڑ لیتی ہیں اور پھر کہتی ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے حالانکہ یہ سب کچھ انہوں نے از خود تصنیف کیا ہوتا ہے۔
ہر جاہلیت کی تاریخ یہ ہے کہ کچھ لوگ کھڑے ہوئے ، انہوں نے اپنے جانب سے کوئی قانون اور ضابطہ بنایا ، لوگوں کے لیے اقار اور رسم و رواج وضع کیے اور پھر کہا کہ یہ اللہ کی جانب سے ہیں۔ اللہ کے نام پر یہ انتشار تب ہی ختم ہوسکتا ہے کہ ایک رسول پر ایمان لا کر اس کے اقوال کو من جانب اللہ تسلیم کرلیا جائے۔
یہاں شرک سے استغفار اور توبہ کو اس لیے لایا گیا ہے کہ استغفار اس بات کی دلیل ہے کہ دل کے اندر احساس موجود ہے۔ وہ برائی کے خلاف فعال ہے اور اسے گناہ کا شعور ہے اور رجوع اور لوٹنے کی طرف مائل ہے۔ لیکن احساس و شعور کے ساتھ ساتھ حقیقی توبہ یہ ہے کہ انسان عملاً اس گناہ کو ترک بھی کردے اور برے اعمال کے مقابلے میں اچھے کاموں پر عمل پیرا بھی ہوجائے۔ ترک معاصی اور عمل صالح کے بغیر توبہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ توبہ کے لیے دو عملی علامات یہ ہیں۔ یہ دونوں شرطیں توبہ کی ترجمان ہوتی ہیں اور توبہ کا عملی وجود صرف ان دو صورتوں میں متحقق یہ ہوتا ہے اور صرف ایسی ہی توبہ کے بعد مغفرت کی امید کی جاسکتی ہے۔ اگر کوئی یہ گمان رکھے کہ وہ شرک سے تائب ہوگیا اور اسلام میں داخل ہوگیا ہے۔ لیکن اس کے بعد وہ عملاً اللہ کی اطاعت نہیں کرتا ، اسلامی نظام کو قبول نہیں کرتا اور زندگی کی اقدار اور ترجیحات اسلام سے اخذ نہیں کرتا تو اس قسم کے زعم اور گمان کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس اقرار کی تکذیب اس کا عمل کر رہا ہے کہ عملاً وہ طاغوتی قوتوں نظام کو قبول کرتا ہے۔
رسالت کا بنیادی ذریعہ دو چیزوں سے مرکب ہے۔ بشارت و نذارت ، نیکوں کے لیے اچھا اجر اور بروں کے لیے برا انجام دکھانا ، رسالت کا بنیادی کام ہے۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور انسانی نفسیات سے اللہ اچھی طرح باخبر ہے ، اس لیے برے انجام سے ڈرانا اور اچھے انجام کی خوشخبری دینا انسان پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے اور اس کے اندر داعیہ عمل پیدا کرتا ہے۔
آخرت کی جواب دہی کا عقیدہ بھی ضروری اور حق ہے اور اس کے نتیجے میں اس زندگی کے بارے میں یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ یہ ایک بامقصد اور حکیمانہ زندگی ہے اور وہ بھلائی جس کی طرف تمام رسول دعوت دیتے چلے آئے ہیں وہ زندگی کا اصل مقصد اور مدعا ہے۔ لہذا انسان کو دعوت رسل کے قبول کرنے کا اجر ضرور ملے گا ، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور اگر اس دنیا میں اسے کوئی صلہ نہ ملا تو آخرت میں ضرور ملے گا۔ جہاں اس زندگی کی تکمیل ہوگی۔ وہ لوگ جو اسلامی نظام سے کج روی اختیار کرتے ہیں اور اپنی زندگیون میں بےراہ روی اختیار کرتے ہیں وہ اپنے آپ کو عذاب کا مستحق ٹھہراتے ہیں۔ اس تصور کے ساتھ فطرت سلیمہ سیدھی راہ پر چل نکلتی ہے اور وہ بےراہ روی اختیار نہیں کرتی۔ اور اگر وہ کبھی بےراہ روی پر چل نکلے تو توبہ کا دروازہ کھلا ہوتا ہے ، اس لیے یہ نہیں ہوتا کہ وہ نافرمانی میں ڈوب ہی جائے۔ توجہ اور رجوع الی اللہ کے نتیجے ہی میں انسان کی زندگی کا سدھار ہے۔ اور زندگی کا رخ خیر اور بھلائی کی طرف موڑا جاسکتا ہے۔ عقیدہ آخرت بذات خود آخرت کے اجر کا باعث نہیں جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ یہ عقیدہ انسان کو اس دنیا میں عمل پر آمادہ کرتا ہے اور اسے صالح اور پاکبازی کی زندگی پر قائم کرتا ہے۔ اور اس طرح انسان وہ زندگی حاسل کرلیتا ہے جو اللہ کو مطلوب ہے۔ یہ طرز زندگی انسان کے لائق ہے اور اسی کے ذریعے انسان دوسرے حیوانات سے ممتاز ہوسکتا ہے۔ اسلام نے انسان کو جو تصور دیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے اسے بطور خاص بنایا ہے۔ پھر اس کے اندر اپنی خاص روح پھونکی ہے اور اسے اپنی تمام مخلوقات پر ترجیح دی ہے۔ اور اس طرح اسے حیوانیت کے مقام سے اوپر اٹھایا ہے تاکہ اس کی زندگی کے مقاصد حیوانوں سے بلند ہوسکیں اور اس کے میلانات اور مقاصد محض حیوانی میلانات اور مقاصد سے ذرا برتر ہوجائیں۔
یہ وہ غرض وغایت ہے جس کی وجہ سے اس کتاب محکم میں عقیدہ توحید ، اسلامی نظام کے قیام و اطاعت ، عقیدہ رسالت اور اتباع رسول کے بعد یہ دعوت دی گئی ہے کہ لوگو ، شرک سے توبہ کرو اور اللہ کی طرف لوٹ آؤ یہی عمل صالح اور پاکیزہ زندگی کے قیام کی سبیل ہے۔ عمل صالح کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ انسان کوئی اچھا عمل کرے اور بس بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر اس کرہ ارض پر اصلاح کے ہر مفہوم کے مطابق جدوجہد کی جائے ، اس زمین کی آبادی اور تعمیر کے لیے جدوجہد کی جائے۔ اس کی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور جب کوئی قوم اصلاح کے اس مقام پر فائز ہوجائے تو پھر اسے یہ انعام دیا جاتا ہے۔
يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ : " تو ایک مدت خاص تک تم کو سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا " اس دنیا میں متاع حسن کبھی تو نوعیت کے اعتبار سے ہوتا ہے اور کبھی کمیت کے اعتبار سے۔ اور آخرت میں تو نوعیت اور کمیت دونوں کے اعتبار سے ہوگا اور اس قدر ہوگا جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔ البتہ ہم چاہتے ہیں کہ اس دنیا کے متاع حسن پر کچھ بات کریں۔
اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے پاکباز اور نیکوکار اور توبہ و استغفار کرنے والے ، اس دنیاوی زندگی میں بڑی تنگی اور ترشی سے جسم اور روح کا رشتہ جوڑے ہوئے ہوتے ہیں ، حالانکہ ان آیات میں اللہ کی جانب سے متاع حسن کا صریح وعدہ ہے۔ یہ سوال ہم بیشمار لوگوں کی زبان سے سنتے ہیں۔
اس آیت میں جو معنویت پائی جاتی ہے۔ اسے سجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم زندگی کو اس کے وسیع تر مفہوم میں سمجھنے کی کوشش کریں۔ زندگی کے ظاہری حالات سے ہٹ کر اور وسیع اور گہرے مفہوم کے مطابق سمجھنے کی سعی کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ جس سوسائٹی میں بھی ایک صالح نظام رائج کیا جائے ، جو ایمان باللہ کی اساس پر تشکیل پایا ہو ، جس میں اطاعت فرمانبرداری صرف اللہ کی ہو ، صرف اللہ کو اس میں شارع اور قانون ساز تسلیم کیا گیا ہو ، اور اس میں لوگ اچھے اعمال اور کردار کے مالک ہوں ، تو لامحالہ وہ سوسائٹی ترقی یافتہ ہوجاتی ہے ، اس میں زندگی کی سہولیات وافر ہوجاتی ہیں ، اور وہ سوسائٹی عمومی طور پر پاک و صاف زندگی کا نمونہ پیش کرتی ہے۔ ایسی سوسائٹی میں ہر فرد کو اس کی جدوجہد کے مطابق اجرت ملتی ہے۔ اس سوسائٹی کے افراد مطمئن ہوتے ہیں اور انہیں خوشحالی نصیب ہوجاتی ہے اور اس کے مقابلے میں جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی سوسائٹی میں صالح اور پاک طینت لوگ بڑی مشکل سے وقت گزار رہے ہیں اور وہ سازوسامان اور وسائل رزق کے اعتبار سے محروم لوگوں میں شمار ہوتے ہیں تو لازماً صورت حال یہ ہوگی کہ اس سوسائٹی کی عمارت ایمان باللہ پر تعمیر نہ ہوگی اور اس کا نظام عادلانہ نہ ہوگا اور اس پوری سوسائٹی میں کسی بھی شخص کو اس کی جدوجہد کے مطابق معاوضہ نہ ملتا ہوگا۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ صالح اور نیکوکار لوگ اگر مالی وسائل اور رزق کے اعتبار سے تنگ و ترش زندگی بسر کر رہے ہوں بھی ، اور ان پر موجود سوسائٹی کی طرف سے مظالم بھی ڈھائے جا رہے ہیں اور ان کا ہر طرف سے پیچھا کیا جا رہا ہو ، جیسا کہ مکہ کے مشرکین اس سورت کے نزول کے وقت مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت پر مظالم ڈھا رہے تھے ، اور جس طرح ہر جاہلیت اسلام کے علم بردار داعیوں کے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی سلوک کرتی رہتی ہے ، تب ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ لوگ اچھی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ بات محض خیال یا دعوی ہی نہیں ہے ، کیونکہ تعلق باللہ ، اطمینان قلب اور آخرت کی جانب سے اطمینان اور اللہ کے فضل و کرم کی امید بھی درحقیقت بہتر سازوسامان ہے۔ اور جن لوگوں کی نظریں حسی اور مادی زندگی سے ذرا اونچی ہوتی ہیں۔ یہ روحانی دولت ان کے لیے زیادہ متاع حسن ہوتی ہے۔
ہم یہ بات اس لیے نہیں کہتے کہ جن لوگوں کو ان کی محنت کے مطابق اجرت اور متاع حسن عادلانہ اور منصفانہ طور پر نہیں ملتا وہ متاع حسن کی جدوجہد ترک کردیں۔ کیونکہ اسلام کبھی ظلم پر راضی نہیں ہوتا۔ اور اس قسم کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایک مومن کبھی خاموش نہیں ہوسکتا ، ایک مومن فرد اور ایک مومن جماعت سے اسلام تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایسے حالات کو بدلنے کی سعی اور جدوجہد جاری رکھیں تاکہ نیکو کار اور صالح کارکن اپنی محنت کے مطابق متاع حسن حاصل کرسکیں۔ بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک صالح فرد کو اپنے حقوق کا احساس کرنا چاہیے اور یہ صورت قبول نہ کرنا چاہیے کہ وہ عمل تو کرتا رہے ، محنت کرتا رہے لیکن اسے اس کا بدلہ اور مزدوری نہ ملے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں جن میں نیک اور خدا ترس لوگوں کو ان کے پورے پورے حقوق ملیں۔
وَّيُؤْتِ كُلَّ ذِيْ فَضْلٍ فَضْلَهٗ ۔ (اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا ہو) ۔ بعض مفسرین نے اسے آخرت کے فضل سے مختص کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی دنیا اور آخرت دونوں سے متعلق ہے۔ جس طرح ہم نے المتاع الحسن کی تفسیر کی ہے۔ ہر صاحب فضیلت اپنی فضیلت کا اظہار کرتے ہی جزا پا لیتا ہے۔ اسے نفسیاتی اور شعوری خوشی نصیب ہوتی ہے۔ یہ فضل عملی ہو یا مالی۔ اگر فی سبیل اللہ ہو تو اس وقت جزا ملتی ہے۔ اس پر اللہ کی جانب سے جو جزاء ملے گی وہ فضل پر فضل ہوگا اور احسن الجزاء ہوگی۔
وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيْرٍ (اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں) یہ قیامت کے دن کا عذاب ہے۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یوم بدر کا عذاب ہے۔ لیکن یہ رائے درست نہیں ہے کیونکہ یوم کبیر کا لفظ اگر مطلقاً بولا جائے تو اس سے مراد قیامت کا دن ہوتا ہے اور اس رائے کو تقویت اگلے فقرے سے ملتی ہے۔
اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ (تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے) اگرچہ دنیا و آخرت دونوں میں مرع اللہ ہے اور ہر لمحہ اور ہر لحظہ انسان اللہ ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ لیکن قرآنی تعبیرات کی رو سے مراد اس دنیا کی زندگی کے بعد کی حالت ہے
وَھُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔ (اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے) اور یہ فقرہ بھی بتاتا ہے کہ اس یوم کبیر سے مراد یوم القیامت ہے کیونکہ اس میں لوگوں کو دوبارہ اٹھایا جائے گا جسے مشرکین عرب مستبعد سمجھتے تھے ، اس لیے کہا گیا کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
۔۔۔۔
هود 11:5
اس اعلان کے بعد کہ یہ کتاب ایک فرمان الہی ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ہیں۔ اور ایک دانا اور باخبر خدا کی طرف سے ہیں۔ یہ بتایا جتا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود جب ڈرانے والے اور بشارت دینے والے نبی ان کو سناتے ہیں تو ان آیات کے حوالے سے بعض لوگوں کا رد عمل کس قدر غلط ہے۔ قرآن کریم ان کے رد عمل اور ان کی جسمانی حرکت کو یکجا کرکے پیش کرتا ہے کہ یہ لوگ سر جھکا لیتے ہیں اور اپنے سینوں کو ایک طرف موڑ لیتے ہیں تاکہ چھپ جائیں اور پہلو تہی کر جائیں۔ کیا خدا سے یہ چھپ سکتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش کس قدر عبث ہے۔ خدا تو اس وقت بھی سب کچھ جانتا ہے جب یہ بزعم خود کپڑے اوڑھ کر چھپے ہوتے ہیں بلکہ اللہ تو اس کرہ ارض پر ہر چلنے اور ینگنے والی چیز کو بھی جانتا ہے۔ وہ تو لطیف وخبیر ہے۔
یہ دو آیتیں (آیت 5 تا 6) وہ منظر پیش کرتی ہیں کہ اگر اسے اچھی طرح ذہن میں لایا جائے اور اس پر غور کیا جائے تو انسان مارے خوف کے کانپ اٹھے۔ یہ منظر کس قدر خوفناک ہے اور لرزا دینے والا ہے ، ذرا سوچو تو سہی کہ بندہ ضعیف اللہ سے چھپنا چاہتا ہے جبکہ اللہ کا علم اسے گھیرے ہوئے ہے۔ جب ان کو اللہ کی آیات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ چھپتے ہیں لیکن کب چھپ سکتے ہیں ؟
اَلَآ اِنَّھُمْ يَثْنُوْنَ صُدُوْرَھُمْ لِيَسْتَخْفُوْا مِنْهُ ۭ اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ۚ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
دیکھو ، یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اس سے چھپ جائیں۔ خبردار ، جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی ، وہ تو ان بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں۔
شاید اس آیت میں بعض واقعات کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ نبی ﷺ ان لوگوں کو کلام الہی سنان چاہ رہے ہیں اور یہ لوگ روگردانی کرکے اس سے چھپنا چاہتے ہیں اور اپنے سر لٹکائے گزرنا چاہتے ہیں اور اپنی طرف سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ گویا وہ چھپ گئے ہیں اور انہوں نے نظر بچا کر اپنے آپ کو گزار لیا۔ ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات انہوں نے ایسی حرکت کی ہو۔
ایک مختصر فقرے میں بتا دیا جاتا ہے کہ ان کی یہ حرکت کس قدر بھونڈی ہے۔ اللہ جس نے یہ آیات نازل کی ہیں ہر حال میں ان کے ساتھ ہے ، یہ ظاہر ہوں یا چھپے ہوں۔ قرآن کریم ایسے مخصوص انداز میں یہاں ان کی اس حرکت کو ان کی خفیہ ترین حسی صورت کو سامنے لا کر غلط بتاتا ہے کہ جب وہ رات کے وقت اپنے گھروں کے اندر ، رات کی تاریکی میں اپنے بستروں پر لیٹے ہوتے ہیں اس وقت بھی اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ نہیں چھپ سکتے۔ وہ تو حاضر و ناظر اور قاہر ہے۔ ہر ظاہر اور چھپی بات کو جانتا ہے۔
اَلَا حِيْنَ يَسْتَغْشُوْنَ ثِيَابَھُمْ ۙ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ ( خبردار ، جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اللہ ان کے چھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی ، ) ۔ بلکہ اللہ اس سے بھی زیادہ خفی باتوں سے واقف ہے۔ ان کے پردے علم الہی کے سامنے کیا رکاوٹ بنیں گے ؟ البتہ ایسے حالات میں صرف انسان خود یہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اکیلا ہے اور اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ یہ انداز تعبیر انسان کے وجدان کو چھوتا ہے ، اسے جگاتا ہے اور اسے جھنجھوڑتا ہے کہ وہ ذات باری کے بارے میں ذرا غور کرے اور سمجھے کہ ایک آنکھ ہر وقت اسے دیکھتی رہتی ہے۔
اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (وہ تو ان بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں) جو راز دلوں میں چھپے ہیں ان کا بھی اسے علم ہے۔ حالانکہ یہ راز ابھی دل میں ہوتے اور دل کے ساتھ اس طرح جڑے ہوتے ہیں۔ جس طرح مالک اپنی ملک سے جڑا ہوتا ہے یا دوست ، دوست کے ساتھ ، یعنی انتہائی رازداری کی وجہ سے ان کو ذات الصدور کہا گیا۔ جب اللہ ایسے دلی بھیدوں سے بھی واقف ہے ، تو پھر اور کیا ہے جو اس سے مخفی رہ سکتا ہے۔ غرض انسان کی کوئی حرکت اور اس کا کوئی سکون اس سے مخفی نہیں رہ سکتا۔
هود 11:6
اللہ کے علم محیط کی یہ ایک دوسری شکل ہے۔ نہایت ہولناک ، ذرا زمین پر چلنے والے حیوانات اور رینگنے والے کیڑے مکوڑوں پر غور کریں ، ہر وہ چیز جو زمین پر حرکت کرتی ہے وہ دابہ ہے
زمین پر حرکت کرنے والے لاتعداد اور بیشمار دواب (جانداروں) میں سے جو کچھ بھی ہے ، زمین کے اطراف و اکناف میں سے جہاں بھی ہے ، اوپر ہے یا اندر ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہے۔ صرف علم بھی نہیں بلکہ اللہ ان کو رزق بھی فراہم کرتا ہے اور اللہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کہاں قرار و سکون حاصل کرتے ہیں اور کہاں سونپے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ سب دواب اللہ کے علم محیط کے ضبط اور کنٹرول میں ہیں۔
یہ اللہ کے علم الہی کی نہایت ہی واضح مثال ہے۔ یہ علم ہر وقت مخلوقات کے ساتھ وابستہ رہتا ہے۔ جب انسان اس وسیع علم کے بارے میں سوچتا ہے اور اسے اپنے محدود تصور میں لانا چاہتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے اور اس کے تصور ہی سے عاجز آجاتا ہے۔
اب صرف علم کی بات نہیں ہے۔ دواب ارض کی اس ناقابل تصور تعداد کے ہر فرد کے لیے اللہ نے رزق کی کفالت بھی اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ اس زمین میں ہر مخلوق کے لیے وسائل رزق پیدا کیے ہیں اور ہر چیز کو یہ قوت دی ہے کہ وہ بقدر ضرورت رزق حاصل کرے۔ بعض کا رزق بہت سادہ ہے۔ بعض اپنے لیے رزق پیدا کرتے ہیں بعض مصنوعات اور مرکبات اپنے لیے تیار کرتے ہیں اور اب دور جدید میں تو ذرائع رزق بہت ہی پھیلے ہوئے اور متنوع ہیں۔ بعض مخلوق ایسی ہے کہ وہ زندہ مخلوق کے خون پر پلتی ہے مثلا مچھر اور پسو وغیرہ۔
اس دنیا کو اللہ تعالیٰ نے جس طرح پیدا کیا اور جس طرح اس کے اوپر منوع مخلوقات کو وجود بخشا ، اسی طرح ان کے وسائل رزق بھی مہیا کیے۔ اور ہر ایک مخلوق کو اس کی تکنیک تخلیق کے مطابق استعداد اور وسائل بھی فراہم کیے۔ خصوصاً دواب ارض میں سے انسان ہماری توجہ اور مطالعہ کا زیادہ مستحق ہے جو خلیفۃ اللہ فی الارض ہے۔ جسے تحلیل و تجزیہ اور ترکیب اور صنعت کی استعداد بھی دی گئی ہے۔ وہ ترقی اور پیداوار میں بھی آگے جاسکتا ہے۔ وہ اس کرہ ارض کے چہرے کو بھی بدل سکتا ہے۔ زندگی کے رنگ ڈھنگ بدلتا رہتا ہے۔ وہ اپنے لیے متنوع وسائل رزق مہیا کرتا ہے لیکن وہ کسی چیز کی تخلیق نہیں کرسکتا۔ اللہ نے اس زمین کے اندر جو وسائل ودیعت کردیے صرف انہی میں ردو بدل کرتا ہے اور یہ ردو بدل اور تحلیل و ترکیب بھی وہ ان قوانین فطرت کے مطابق کرتا ہے جو اللہ نے اس کائنات کے اندر وضع کیے ہیں اس طرح یہ زمین اپنے زندہ دواب کے لیے ہر قسم کی ضروریات فراہم کرتی ہے۔
اللہ کے ذمے رزق ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سعی کے بغیر کسی کس کوئی رزق مل سکتا ہے یا اگر کوئی بیٹھ جائے تو بھی اسے ضرور ملے گا یا سسی اور منفی رویے سے وہ ضائع نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ بعض لوگوں نے غلط طور پر سمجھا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو پھر اسباب اور وسائل اللہ نے کیوں مقرر فرمائے۔ اور یہ کیوں لازم کیا کہ اسباب کو اختیار کیا جائے اور اسباب وسائل کو قوانین قدرت کا حصہ پھر کیوں بنایا اور پھر اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے مختلف لوگوں کو مختلف صلاحیتیں کیوں دیں اور ان وسائل و اسباب کے کام میں لانے کے سوا دنیا کی تعمیر و ترقی کیسے ممکن ہوگئی حالانکہ یہ سب کچھ اللہ کے علم میں تھا اور اللہ نے اس غرض کے لیے انسان کو اس کرہ ارض پر خلیفہ بنایا تاکہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔
ہر مخلوق کے لیے رزق مقرر ہے ، یہ حق ہے۔ لیکن یہ رزق اس کائنات کے اندر ودیعت شدہ ہے اور اللہ کی سنت کے مطابق ہر مخلوق کے لیے مقدر اور متعین ہے۔ اور سنت الہی یہی ہے کہ ہر شخص اپنے مقد رکے لیے جدوجہد کرے گا۔ لہذا سعی و جدوجہد کو کوئی شخص ترک نہ کرے جبکہ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ آسمانوں سے سونے اور چاندی کی بارش نہیں ہوا کرتی بلکہ پانی کی بارش ہوتی ہے اور ہر قسم کا رزق زمین کے اندر پوشیدہ ہے۔ اور تمام مخلوقات کے لیے یہ کافی ہے۔ بشرطیکہ یہ مخلوق خدا سنن الہیہ کے مطابق اس کی تلاش کرے اور سنن الہیہ کسی کی رو رعایت نہین کرتیں۔
دنیا میں معاملہ کسب اور عمل پر ہے۔ کسب و عمل یا طیب ہوگا یا خبیث اور گندہ ہوگا۔ دونوں کے لیے جدوجہد ضروری ہے۔ دونوں کی نوعیت میں فرق ہے اور نتائج جدا جدا ہیں۔ حلال ، حلال ہے اور حرام ، حرام ہے۔
یہاں دواب کے لیے فقط رزق کا لفظ استعمال ہوا ہے جبکہ اس سے قبل مومنین کے لیے رزق حسن کہا گیا ہے۔ انسانوں اور حیوانوں کے لیے سیاق میں بہترین الفاظ کا انتخاب کرنا قرآن مجید کا ایک خاص اسلوب ہے۔ الفاظ کا انتخاب موقعہ و محل اور ماحول کے مطابق ہوتا ہے۔
یہ دو آیات اس رب کی تعریف اور شان کے بیان کا آغاز ہیں جس کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ لوگ صرف اس کی بندگی اور غلامی کریں۔ کیونکہ وہی عالم ہے ، محیط ہے ، رزاق ہے ، کوئی شخص اس کی ریاست میں بھوکا نہیں رہتا اور یہ تعریف باری تعالیٰ اور یہ حمد ربی ضروری ہے تاکہ بندے اور مخلوق اور خالق کے درمیان حقیقی تعلق پیدا ہو اور لوگ صحیح طرح علی وجہ البصیرت رب اور خالق کی اطاعت اور بندگی کریں۔
۔۔۔۔
هود 11:7
اب اس سے آگے رب کریم کی شان کا ایک دوسرا رخ پیش کیا جاتا ہے۔ رب کریم کی قدرت کے بعض و آثار اور مظاہر پیش کیے جاتے ہیں۔ اس کی حکمت اور کارکردگیوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ دیکھو ، اللہ نے زمین اور آسمانوں کو کس قدر حکیمانہ انداز دیا ہے۔ یہاں اس کائنات کے ان پہلوؤں کو سامنے لایا جاتا ہے جو عمل ، حساب و کتاب ، اور بعث بعد الموت کے عقائد کے ساتھ متناسب ہوں بلکہ یہ تصور دیتے ہوں :
وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ۭ وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْن : اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ جب کہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اب اگر اے نبی ، تم کہتے ہو کہ لوگو ! مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے ، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔
اللہ نے زمین و آسمان کو چھو دنوں میں پیدا کیا ، اس موضوع پر ہم سورت یونس میں بات کر آئے ہیں۔ وہاں یہ بات سیاق وسباق میں آئی تھی۔ وہ یہ تھا کہ اس کائنات کے قوانین فطرت جن کے مطابق زمین و آسمان چلتے ہیں اور اس نظام کے درمیان جن کے مطابق لوگوں کی زندگی چلتی ہے ، ربط اور مطابقت ہے۔
لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (تاکہ تم کو آزما کر دیکھے کہ تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے) یہاں جو نئی بات ہے وہ یہ ہے ، خلق آسمان و زمین کے بیان کے بعد ایک جملہ معترضہ ہے۔
وکان عشہ علی الماء (جبکہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا) اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین و آسمان کی تخلیق کے عمل میں وہ جس طرح کہ موجودہ شکل میں ہیں اس تک پہنچنے سے پہلے یہاں پانی تھا اور اللہ کا عرش پانی پر تھا۔
یہ پانی کیسے تھا ، یہ پانی کہاں تھا اور اس کی حالت کیا تھی ، اور اس کے بعد عرش الہی کس طرح تھا ، اس آیت میں ان امور کی کوئی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔ جن مفسرین کو اپنے مبلغ علم کی حدود کا علم ہے۔ وہ اس سے زیادہ بہرحال کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یہ غیبی امور ہیں اور ان کے بارے میں اللہ نے ہمیں فقط یہی معلومات دی ہیں جو اس آیت میں ہیں اور محدود ہیں۔
ہمارا کام یہ نہیں ہے کہ ہم قرآنی نصوص کی تائید میں سائنسی نظریات پیش کریں۔ خواہ کوئی نص کسی سائنسی نظریے کے ساتھ منطبق کیوں نہ ہو اس لیے کہ سائنسی نظریات بار بار بدلتے ہیں بلکہ الٹتے رہتے ہیں علماء طبیعیات جب کوئی نظریہ پیش کرتے اور سائنسی تجربات کرکے اسے ثابت کرتے ہیں تو وہ اس جدید نظریے کو سابقہ نظریات کے مقابلے میں تکوینی مظاہر سے زیادہ قریب پاتے ہیں جبکہ نص قرآنی بذات خود صادق اور حق ہے۔ چاہے سائنس اس حق اور حقیقت تک پہنچ سکی ہو یا نہیں۔ پھر سائنسی حقیقت اور سائنسی نظریات کے درمیان فرق بھی ہے۔ سائنسی حقیقت وہ ہوتی ہے جو تجربے میں آجائے۔ اگرچہ تجربات بھی ہمیشہ احتمالی رہتے ہیں ، قطعی نہیں ہوتے۔ رہے سائنسی نظریات تو وہ مفروضوں پر مبنی ہوتے ہیں اور یہ مفروضے بعض کائنات مظاہر یا چند مظاہر کے مجموعے کی بنا پر قائم کیے جاتے ہیں اور ان میں ہر وقت تبدیلی ہوسکتی ہے۔ اس لیے نہ ہم ان نظریات سے قرآن کی تائید کرسکتے ہیں اور نہ ان نظریات پر قرآن سے استدلال کرسکتے ہیں۔ کیونکہ قرآن کا طریقہ کار اور ہے اور سائنس کا اور۔ اس طرح قرآن اور سائنس کے موضوعات کار بھی مختلف ہیں۔
ہمارے دور میں قرآن کریم میں بعض سائنسی نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں یہ طرز فکر نصوص قرآن پر ہمارے ایمان کے منافی ہے۔ قرآن کریم حکیم اور خبیر کی طرف سے ہے ، یہ غلطی اس لیے کی جاتی ہے کہ ہم سائنس کو اپنے دائرہ کار کے اندر محدود نہیں رکھتے۔ اور اسے اپنے دائرے سے وسعت دیتے ہیں۔ یہ در اصل ہماری اخلاقی اور ذہنی شکست خوردگی ہے۔ جبکہ ایسا کرنے والے لوگ اپنے اس فعل کو خدمت قرآن سمجھتے ہیں۔ اور اس طرح اپنے ایمان کو ثابت کرتے ہیں۔ وہ ایمان جسے سائنس کے کسی اصول سے ثابت کیا جاتا ہے ، میں یہ کہوں گا کہ ایسے ایمان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ یہ محل نظر ہے۔ قرآن کریم اصل الاصول ہے اور سائنسی نظریات اس کے موافق ہوں یا مخالف ، قرآن کے مقابلے میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ رہے وہ سائنسی حقائق جو تجربات سے ثابت ہیں تو ان کے دائرہ کار اور قرآن کے دائرہ کار میں فرق ہے۔ دونوں موضوعات ہی مختلف ہیں۔ قرآن کریم نے سائنسی حقائق کے دریافت کے کام کو عقل انسانی کے لیے چھوڑ دیا ہے اور اسے مکمل آزادی دی ہے کہ وہ اس میدان میں کام کرے اور تجربے کرکے جن نتائج تک پہنچا جاسکتا ہو ، پہنچا جائے۔ قرآن کریم نے اپنے ذمے صرف یہ ڈیوٹی لی ہے کہ عقل انسانی کی تربیت صحیح سلامت اور سمتقیم انداز میں کرے۔ اور اسے وہم و خرافات اور دیومالائی سوچ سے باہر نکالے۔ اس طرح قرآن نے اپنے ذمہ یہ کام لیا ہے کہ انسانی زندگی کے درست چلن کے لیے ایک نظام تجویز کرے جس کے دائرے کے اندر عقل انسانی بھی درست راہ پر آگے بڑھے اور آزاد ہو کر امن و سلامتی کے ساتھ رہے اور اپنے محدود اور مخصوص دائرے میں کام کرے تاکہ اصول کی روشنی میں جزوی حقائق دریافت کرے۔ قرآن کریم نے سائنسی حقائق کا تذکرہ شاذ و نادر ہی کیا ہے مثلاً یہ کہ تمام جاندار پانی سے زندہ ہیں اور پانی ان کی زندگی کا اہم عنصر ہے۔ مثلاً تمام زندہ جانور اور نباتات جوڑے جوڑے پیدا ہوئے ہیں۔ اور جوڑوں کے ملاپ سے زندگی انسانی ، حیوانی اور نباتاتی اشکال میں نشوونما پاتی ہے۔ یہ وہ بعض حقائق ہیں جن کا قرآن نے تذکرہ کیا ہے (تفصیلات کے لیے دیکھئے پارہ دوئم اور پارہ ہفتم)
اس جملہ معترضہ کے بعد ہم دوبارہ قرآنی آیت کی طرف آتے ہیں :
وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ وَّكَانَ عَرْشُهٗ عَلَي الْمَاۗءِ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۔ اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ جب کہ اس سے پہلے اس کا عرش پانی پر تھا۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔
آسمان اور زمین کو چھ دنوں کے اندر پیدا کیا۔ اس کے بعد کئی فقرے اور جملے محذوف ہیں۔ ان پر بعد کی عبارت دلالت کرتی ہے یعنی اس عرصے میں اسے پیدا کرکے انسان کی رہائش کے لیے اسے صالح اور کار آمد بنایا گیا۔ زمین میں سب چیزوں کو تمہارے لیے مسخر کیا اور آسمانوں میں وہ انتظام کیا تاکہ تم یہاں زندہ رہ سکو اور اللہ کی ذات اس پوری کائنات پر حاوی ہے۔
ِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا (تاکہ تم کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے) ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پوری کائنات کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں اس کی کنجیاں اور کنٹرول ہے اور یہ سب انتظام انسان کی آزمائش کے لیے ہے تاکہ معلوم ہو کہ یہ آزمائش ایک اہم معاملہ ہے ، اور یہ محض کھیل تماشا نہیں ہے بلکہ ایک بامقصد اور سنجیدہ اسکیم ہے۔ اور انسان کی تخلیق ایک با مقصد منصوبے کے تحت ہوئی ہے۔
جس طرح اللہ نے زمین و آسمان کو اس طرح تیار کیا ہے کہ وہ جنس انسان کے لیے ممد و معاون ہوں ، اسی طرح جنس انسان کو بھی ایک مخصوص اور جیب صلاحیت اور قوت دی ہے۔ انسان کی تخلیق بھی اسی قانون فطرت کے مطابق ہوئی ہے ، جس کے مطابق اس کائنات کی تخلیق ہوئی ہے۔ لیکن انسان کے اس تکوینی پہلو کے علاوہ اسے ایک صلاحیت اختیار و ارادے کی بھی دی ہے۔ اس اختیاری صلاحیت کی وجہ سے وہ کبھی راہ ہدایت اختیار کرتا ہے اور اللہ اس کے ساتھ معاونت کرتا ہے اور اسے ہدایت مل جاتی ہے اور کبھی وہ راہ ضلالت اختیار کرتا ہے اور اللہ بھی اسے ڈھیل دیتا ہے۔ اور ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہے تاکہ وہ عمل کریں اور یہ اس کی جانب سے ایک آزمائش ہے کہ کون اچھی راہ لیتا ہے اور کون بری۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو آزماتا اور ڈھیل دیتا ہے۔ اس لیے نہیں کہ اللہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ تو پہلے سے جانتا ہے۔ آزمائش اور عمل کے ذریعے در اصل لوگوں کے خفیہ اعمال لوگوں پر ظاہر ہوجاتے ہیں اور پھر وہ ان اعمال پر جزا پاتے ہیں۔ اور اس طرح اللہ نے یہ اسکیم تیار فرمائی۔
اس لیے بعث بعد الموت اور جزاء و سزا کے عمل کا سر انجام پانے سے انکار اس فضا میں عجیب ہی لگتا ہے۔ کیونکہ قانون مکافات عمل ایک تکوینی مقانون ہے۔ اور یہ اس کائنات کے اصول میں سے ایک مستقل اور بنیادی اصول ہے۔ اور جو لوگ اس اصول کی تکذیب کرتے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ ان کا رویہ معقول رویہ نہیں ہے۔ اور ایسے لوگ اس کائنات کے عظیم اصولوں کے ادراک سے محروم ہیں۔ اپنی اس ناقص سوچ ہی کی وجہ سے وہ تعجب کرتے ہیں کہ انسان پھر اٹھے گا ، یہ ایک عجیب بات ہوگی :
وَلَىِٕنْ قُلْتَ اِنَّكُمْ مَّبْعُوْثُوْنَ مِنْۢ بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُوْلَنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْــرٌ مُّبِيْنٌ۔ اب اگر اے نبی ، تم کہتے ہو کہ لوگو ! مرنے کے بعد تم دوبارہ اٹھائے جاؤ گے ، تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔
بادی النظر میں معلوم ہوتا ہے کہ بعث بعد الموت کو عجیب سمجھنے والوں کا یہ قول عجیب و غریب ہے اور مذکورہ بالا واقعات کی روشنی میں اس سے زیادہ جھوٹ اور کوئی نہیں ہوسکتا۔
۔۔۔
وہ جس طرح بعث بعد الموت کی تکذیب کرتے ہیں اور اس کائنات کے اٹل اصولوں کی روشنی میں نہیں سمجھتے ، اسی طرح دنیاوی عذاب الہی اور تکوینی ہلاکت آفرینیوں کو بھی سمجھ نہیں پا رہے وہ یہ پوچھتے ہیں کہ ان پر پھر عذاب الہی نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ حالانکہ اس میں تاخیر بھی بوجہ حکمت ہے۔ اللہ ہر کسی کو مہلت دیتا ہے۔
هود 11:8
قرون اولیٰ کی اقوام پر ایسے ایسے عذاب نازل ہوئے ، جن کی وجہ سے ان اقوام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا لیکن تباہ اور فنا کردینے والے یہ عذاب اس وقت آئے جب رسول اپنی قوم کے سامنے معجزات پیش کرچکے اور انہوں نے معجزات کے باوجود تکذیب جاری رکھی۔ یہ ہمہ گیر تباہی اس لیے آتی رہی کہ اس وقت کی رسالتیں وقتی رسالتیں تھیں ، ایک محدود پیریڈ کے لیے تھیں اور بسا اوقات وہ ایک نسل کے لیے تھیں اور ان معجزات کا مشاہدہ بھی وہی لوگ کرسکتے تھے جو موجود تھے۔ یہ معجزات مسلسل اور جاری اور باقی نہ ہوتے تھے تاکہ بعد میں آنے والی نسلیں بھی انہیں دیکھ سکیں جیسا کہ پہلی نسل نے دیکھا تھا۔
رسالت محمدی کی نوعیت سابقہ رسالتوں سے ذرا مختلف ہے۔ آپ خاتم الرسل ہیں۔ تمام نسلوں کے لیے رسول ہیں اور آپ کو جو معجزہ دیا گیا وہ مادی معجزہ نہیں ہے۔ یہ ایسا معجزہ ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والا ہے۔ آنے والی نسلیں بھی اسے دیکھ سکتی ہیں اور اس پر تدبر کرسکتی ہیں اور نسلاً بعد نسل اس پر ایمان لا سکتی ہیں۔ اس لیے اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ آپ کی امت پر ایسا عذاب نازل نہ ہو جس کے ذریعے اسے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکا جائے بلکہ یہ عذاب افراد پر نازل ہو اور یہی صورت اللہ نے ان اقوام کے لیے اختیار کی جن کو کتاب دی گئی تھی۔ کس کتابی قوم کو جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا گیا
لیکن مشرکین مکہ کی حالت یہ تھی کہ وہ نہ تو اس کائنات کے نظام تخلیق اور اس کے لیے اللہ کے تجویز کردہ قانون قدرت کو سمجھتے تھے اور یہ بات سمجھتے تھے کہ اس کائنات کے اندر اللہ نے انسان کو آزادی اور اختیار کے ساتھ کام کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں اور اسے نیک و بد اختیار کرنے کی آزادی ہے اور زمین کی تخلیق اس طرح ہے کہ وہ انسان کی آزادی و ارادہ کے لیے مواقع فراہم کرتی ہے۔ اپنے اس جہل کی وجہ سے وہ بعث بعد الموت کا انکار کرتے تھے اور اپنی اس جہالت ہی کی وجہ سے وہ پوچھتے تھے کہ اللہ نے ان کی تکذیب اور انکار کے باوجود ابھی تک انہیں ہلاک کیوں نہیں کیا۔ وہ نہ جانتے تھے کہ موجودہ رسالت اور سابقہ رسالتوں کے لیے اللہ نے کیا اصول طے کر رکھے ہیں چناچہ وہ پوچھتے تھے کہ کئی سال گزر گئے اور عذاب نہیں آ رہا ہے۔ یہ لوگ نہ تو اللہ کی حکمت سے واقف تھے اور نہ ہی اللہ کی رحمت سے۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ جب یہ عذاب آئے گا تو اسے پھر کوئی بھی پھیر نہ سکے گا بلکہ وہ پوری طرح انہیں گھیر لے گا اور یہ ان کے استہزاء اور بدعملی کی سزا ہوگی ، اور وہ نہایت ہی خود سری کی صورت میں سوالات کر رہے تھے۔
اَلَا يَوْمَ يَاْتِيْهِمْ لَيْسَ مَصْرُوْفًا عَنْهُمْ وَحَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ ۔ سنو ! جس روز اس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آ گھیرے گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی سنجیدہ فرد اور صاحب ایمان شخص عذاب الہی کے نزول کے مطالبہ میں جلدی نہیں کرتا۔ اگر عذاب الہی نہیں آتا تو اس میں بھی کوئی حکمت ہوگی اور اللہ کی رحمت اس میں مانع ہوگی تاکہ جو لوگ ایمان کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ ایمان لے آئیں۔
مثلاً قریش پر اللہ نے عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کی۔ ان کو مہلت دی جاتی رہی۔ اس عرصے میں بیشمار لوگ ایمان لائے۔ ایمان لا کر پھر انہوں نے اسلام کے لیے کارہائے نمایاں سر انجام دیے۔ اور کفار کے ہاں بھی کئی ایسے بچے پیدا ہوئے جنہوں نے بعد کے ادوار میں اسلام کی خدمات سر انجام دیں۔ یہ اور ایسی ہی دیگر معلوم اور نامعلوم حکمتیں ہوسکتی ہیں ، جو جلد باز لوگوں کی سمجھ میں نہیں آسکتیں۔
هود 11:9
تفسیر آیات 9 تا 11:۔ یہ لوگ مطالبہ نزول عذاب میں بےصبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، انسانی مزاج کے اس پہلو پر یہاں مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ انسان کسی حالت پر بھی ثابت قدم اور صحیح رائے قائم کرنے میں صحیح الفکر نہیں ہوتا۔ اس کی نفسیات یہ ہیں :
اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ، ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے سارے دلدر پار ہوگئے ، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔
انسان فطرتاً جلد باز اور پر تقصیرات ہے اور ان آیات (آیات 9 تا 11) میں اس کی کیا ہی اچھی تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ اس قدر کوتاہ نظر ہے کہ صرف حاضر حالات ہی کو دیکھ سکتا ہے اور اپنے اوپر وہی حالات طاری کردیتا ہے جو اس کے ماحول پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ نہ ماضی پر غور کرنے کی تکلیف کرتا ہے اور نہ مستقبل کی فکر کرتا ہے۔ کبھی وہ اس قدر مایوس ہوجاتا ہے کہ اسے کسی بھلائی کی اور اچھے حالات کی امید نہیں رہتی۔ اور اگر اچھے دن گزرتے ہیں تو وہ تمام گزشتہ نعمتوں کا انکار کردیتا ہے۔ حالانکہ یہ تو اللہ کی جانب سے ایک انعام و اکرام تھا۔ اس کا کوئی استحقاق نہ تھا اور مشکلات کے بعد اگر اس کے اچھے دن آجائیں تو وہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے ، غرور کرتا ہے۔ نہ وہ مشکلات بردشت کرکے اللہ کے رحم و کرم کا امیدوار ہوتا ہے اور نہ اپنی خوشی میں اعتدال اختیار کرتا ہے اور خوشیوں اور نعمتوں کے زوال کے لیے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔
اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ یعنی انہوں نے انعامات و اکرامات پر بھی صبر کیا اور مشکلات پر بھی صبر کیا۔ مشکلات میں تو بیشتر لوگ صبر کرتے ہیں اپنی خود داری اور سفید پوشی کی وجہ سے اور اس لیے کہ ان کی کمزوری اور مشکلات کا لوگوں کو پتہ نہ لگ جائے۔ لیکن کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشحالی اور مالداری میں اپنے آپ کو سنبھال سکتے ہیں اور غرور اور سرکشی سے اپنے آپو کو بچا سکتے ہیں۔ تاہم جو لوگ اچھی روش بحال رکھتے ہیں ، مشکلات میں بھی اور خوشحالی میں بھی اچھے کام کرتے ہیں اور نعمتوں کا شکر کا دا کرتے ہیں یعنی وعملوا الصلحات کے پیکر ہوتے ہیں ان کے متعلق ارشاد ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ اس لیے کہ انہوں نے مشکلات میں صبر کیا اور خوشحالی میں انہوں نے سنجیدگی اور اعتدال سے کام لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سنجیدہ اور مخلص اور سچا ایمان ہی انسان کو نہایت ہی مشکل حالات میں کافرانہ مایوسی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح سچا ایمان باللہ ہی انسان کو اس کی خوشحالی اور فراوانی میں کبر و غرور سے بچاتا ہے۔ غرض قلب انسانی کو یہ سچا ایمان ہی اچھے اور برے دونوں حالات میں متوازن اور مستقیم رکھتا ہے۔ اور قلب مومن اچھی طرح بندھا ہوا ہوتا ہے۔ مشکلات اور مصائب ڈانواں ڈول نہیں ہوتا اور خوشحالی اور مالداری میں پھولتا نہیں اور یوں اہل ایمان کی دونوں حالات اچھے رہتے ہیں اور اہم مقام صرف مومنین کو ملتا ہے جس طرح حضور نے فرمایا۔
هود 11:10
تفسیر آیات 9 تا 11:۔ یہ لوگ مطالبہ نزول عذاب میں بےصبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، انسانی مزاج کے اس پہلو پر یہاں مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ انسان کسی حالت پر بھی ثابت قدم اور صحیح رائے قائم کرنے میں صحیح الفکر نہیں ہوتا۔ اس کی نفسیات یہ ہیں :
اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ، ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے سارے دلدر پار ہوگئے ، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔
انسان فطرتاً جلد باز اور پر تقصیرات ہے اور ان آیات (آیات 9 تا 11) میں اس کی کیا ہی اچھی تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ اس قدر کوتاہ نظر ہے کہ صرف حاضر حالات ہی کو دیکھ سکتا ہے اور اپنے اوپر وہی حالات طاری کردیتا ہے جو اس کے ماحول پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ نہ ماضی پر غور کرنے کی تکلیف کرتا ہے اور نہ مستقبل کی فکر کرتا ہے۔ کبھی وہ اس قدر مایوس ہوجاتا ہے کہ اسے کسی بھلائی کی اور اچھے حالات کی امید نہیں رہتی۔ اور اگر اچھے دن گزرتے ہیں تو وہ تمام گزشتہ نعمتوں کا انکار کردیتا ہے۔ حالانکہ یہ تو اللہ کی جانب سے ایک انعام و اکرام تھا۔ اس کا کوئی استحقاق نہ تھا اور مشکلات کے بعد اگر اس کے اچھے دن آجائیں تو وہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے ، غرور کرتا ہے۔ نہ وہ مشکلات بردشت کرکے اللہ کے رحم و کرم کا امیدوار ہوتا ہے اور نہ اپنی خوشی میں اعتدال اختیار کرتا ہے اور خوشیوں اور نعمتوں کے زوال کے لیے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔
اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ یعنی انہوں نے انعامات و اکرامات پر بھی صبر کیا اور مشکلات پر بھی صبر کیا۔ مشکلات میں تو بیشتر لوگ صبر کرتے ہیں اپنی خود داری اور سفید پوشی کی وجہ سے اور اس لیے کہ ان کی کمزوری اور مشکلات کا لوگوں کو پتہ نہ لگ جائے۔ لیکن کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشحالی اور مالداری میں اپنے آپ کو سنبھال سکتے ہیں اور غرور اور سرکشی سے اپنے آپو کو بچا سکتے ہیں۔ تاہم جو لوگ اچھی روش بحال رکھتے ہیں ، مشکلات میں بھی اور خوشحالی میں بھی اچھے کام کرتے ہیں اور نعمتوں کا شکر کا دا کرتے ہیں یعنی وعملوا الصلحات کے پیکر ہوتے ہیں ان کے متعلق ارشاد ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ اس لیے کہ انہوں نے مشکلات میں صبر کیا اور خوشحالی میں انہوں نے سنجیدگی اور اعتدال سے کام لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سنجیدہ اور مخلص اور سچا ایمان ہی انسان کو نہایت ہی مشکل حالات میں کافرانہ مایوسی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح سچا ایمان باللہ ہی انسان کو اس کی خوشحالی اور فراوانی میں کبر و غرور سے بچاتا ہے۔ غرض قلب انسانی کو یہ سچا ایمان ہی اچھے اور برے دونوں حالات میں متوازن اور مستقیم رکھتا ہے۔ اور قلب مومن اچھی طرح بندھا ہوا ہوتا ہے۔ مشکلات اور مصائب ڈانواں ڈول نہیں ہوتا اور خوشحالی اور مالداری میں پھولتا نہیں اور یوں اہل ایمان کی دونوں حالات اچھے رہتے ہیں اور اہم مقام صرف مومنین کو ملتا ہے جس طرح حضور نے فرمایا۔
هود 11:11
تفسیر آیات 9 تا 11:۔ یہ لوگ مطالبہ نزول عذاب میں بےصبری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، انسانی مزاج کے اس پہلو پر یہاں مزید روشنی ڈالی جا رہی ہے کہ انسان کسی حالت پر بھی ثابت قدم اور صحیح رائے قائم کرنے میں صحیح الفکر نہیں ہوتا۔ اس کی نفسیات یہ ہیں :
اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ، ہم اسے نعمت کا مزا چکھاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے سارے دلدر پار ہوگئے ، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔
انسان فطرتاً جلد باز اور پر تقصیرات ہے اور ان آیات (آیات 9 تا 11) میں اس کی کیا ہی اچھی تصویر کشی کی گئی ہے۔ وہ اس قدر کوتاہ نظر ہے کہ صرف حاضر حالات ہی کو دیکھ سکتا ہے اور اپنے اوپر وہی حالات طاری کردیتا ہے جو اس کے ماحول پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ نہ ماضی پر غور کرنے کی تکلیف کرتا ہے اور نہ مستقبل کی فکر کرتا ہے۔ کبھی وہ اس قدر مایوس ہوجاتا ہے کہ اسے کسی بھلائی کی اور اچھے حالات کی امید نہیں رہتی۔ اور اگر اچھے دن گزرتے ہیں تو وہ تمام گزشتہ نعمتوں کا انکار کردیتا ہے۔ حالانکہ یہ تو اللہ کی جانب سے ایک انعام و اکرام تھا۔ اس کا کوئی استحقاق نہ تھا اور مشکلات کے بعد اگر اس کے اچھے دن آجائیں تو وہ آپے سے باہر ہوجاتا ہے ، غرور کرتا ہے۔ نہ وہ مشکلات بردشت کرکے اللہ کے رحم و کرم کا امیدوار ہوتا ہے اور نہ اپنی خوشی میں اعتدال اختیار کرتا ہے اور خوشیوں اور نعمتوں کے زوال کے لیے اپنے آپ کو تیار کرتا ہے۔
اِلَّا الَّذِيْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ۭ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے اور نیکو کار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ یعنی انہوں نے انعامات و اکرامات پر بھی صبر کیا اور مشکلات پر بھی صبر کیا۔ مشکلات میں تو بیشتر لوگ صبر کرتے ہیں اپنی خود داری اور سفید پوشی کی وجہ سے اور اس لیے کہ ان کی کمزوری اور مشکلات کا لوگوں کو پتہ نہ لگ جائے۔ لیکن کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خوشحالی اور مالداری میں اپنے آپ کو سنبھال سکتے ہیں اور غرور اور سرکشی سے اپنے آپو کو بچا سکتے ہیں۔ تاہم جو لوگ اچھی روش بحال رکھتے ہیں ، مشکلات میں بھی اور خوشحالی میں بھی اچھے کام کرتے ہیں اور نعمتوں کا شکر کا دا کرتے ہیں یعنی وعملوا الصلحات کے پیکر ہوتے ہیں ان کے متعلق ارشاد ہے۔
اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۔ وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ اس لیے کہ انہوں نے مشکلات میں صبر کیا اور خوشحالی میں انہوں نے سنجیدگی اور اعتدال سے کام لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سنجیدہ اور مخلص اور سچا ایمان ہی انسان کو نہایت ہی مشکل حالات میں کافرانہ مایوسی سے بچاتا ہے۔ اسی طرح سچا ایمان باللہ ہی انسان کو اس کی خوشحالی اور فراوانی میں کبر و غرور سے بچاتا ہے۔ غرض قلب انسانی کو یہ سچا ایمان ہی اچھے اور برے دونوں حالات میں متوازن اور مستقیم رکھتا ہے۔ اور قلب مومن اچھی طرح بندھا ہوا ہوتا ہے۔ مشکلات اور مصائب ڈانواں ڈول نہیں ہوتا اور خوشحالی اور مالداری میں پھولتا نہیں اور یوں اہل ایمان کی دونوں حالات اچھے رہتے ہیں اور اہم مقام صرف مومنین کو ملتا ہے جس طرح حضور نے فرمایا۔
هود 11:12
اللہ کی مخلوقات میں سے جو لوگ سنن الہیہ سے واقف نہیں ہوتے ، اللہ کی حکمت تخلیق سے وہ بےبہرہ ہوتے ہیں۔ وہ کم فہم ، غافل ، مایوس ، متکبر اور جھوٹی باتوں پر فخر کرنے والے ہوتے ہیں جن کو معلوم نہیں ہے کہ رسولوں کے بھیجنے کی حکمت کیا ہوتی ہے اور پھر یہ کہ رسول انسانوں میں سے کیوں بھیجے گئے ہیں اس قسم کے لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ خود رسول فرشتہ کیوں نہیں ہے یا اس کے ساتھ فرشتہ مامور کیوں نہیں ہے ؟ یہ لوگ رسول اور رسالت کے مقام سے اس قدر بیخبر ہوتے ہیں کہ رسول کے لیے مالدار ہونا ضروری خیال کرتے ہیں۔ یہ لوگ جھوٹے عقائد میں گم رہتے ہیں اور یہ لوگ تکذیب کے لیے اس قسم کے بھونڈے جواز تلاش کرتے ہیں۔ لہذا آپ متاثر نہ ہوں۔
۔۔
لعل کا مفہوم یہاں استفہامی ہے۔ اگرچہ خالص استفہامی نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نفس انسانی سے شاید متوقع یہی ہے کہ ایسے حالات میں وہ تنگ دل ہوجائے اور اس کام ہی کو چھوڑ دے۔ کیونکہ لوگ جہالت اور عناد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اور اس قسم کی بوگس اور لا یعنی تجاویز پیش کر رہے ہیں ، جن کو رسالت کے مزاج اور اس کی عمل نوعیت اور منصب کے ساتھ کوئی ہم آہنگی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اس صورت حالات کے بارے میں ایک متبادل اور ناقابل عمل صورت پیش کرکے سوال کرتا ہے کہ حالات گو برے ہیں لیکن آپ ان میں کیا اپنی دعوت اور ما انزل اللہ کا کچھ چھوڑ سکتے ہیں ، شاید کہ وہ اس جاہلیت اور بغض وعناد کا مظاہر نہ کریں ؟ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ آپ ان باتوں کو تو چھوڑ نہیں سکتے۔
انما انت نذیر (آپ تو خبر دار کرنے والے ہیں) آپ کے فرائض تو یہی ہیں کہ آپ پورا پورا پیغام پہنچا کر لوگوں کو ڈرائیں۔ اور ڈرانا اس لیے ضروری ہے کہ وہ لوگ ایسا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں کہ انہیں ڈارنا ضروری ہے لہذا آپ اپنے فرائض سر انجام دیتے چلے جائیں۔
وَاللّٰهُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ وَّكِيْلٌ۔ آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے۔ اللہ ہی ان سب کا ذمہ دار ہے اور وہ اپنی سنت کے مطابق جس طرح چاہے گا ، انہیں پھیر دے گا۔ اور اس کے بعد جو کچھ وہ کمائیں گے اس کی جزاء و سزا دے گا۔ آپ ان کے ذمہ دار یا حوالہ دار نہیں ہیں۔ نہ آپ ان کے کفر کے ذمہ دار ہیں اور ایمان کے۔ آپ تو فقط نذیر ہیں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں اسلامی تحریک کس قدر مشکل حالات سے گزر رہی تھی اور اس دور میں آپ کے دل پر کس قدر بوجھ تھا۔ خصوصاً جبکہ تحریک کے حامی اور مددگار اور خاندانی معاون فوت ہوگئے تھے۔ حضور ﷺ کے دل پر پریشانی کا غلبہ تھا۔ اور مسلمانوں کی قلیل تعداد مشکلات میں گھری ہوئی تھی اور ہر طرف مایوسی کے باد چھائے ہوئے تھے۔
اس آیت کے الفاظ بتاتے ہیں کہ کس قدر مشکل حالات تھے اور ان حالات میں حضور اکرم ﷺ کو اللہ کی جانب سے کس قدر تسلی اور اطمینان دلایا جا رہا تھا اور آپ کے اعصاب کو کس قدر سکون اور تازگی عطا ہو رہی تھی۔
هود 11:13
ایک دوسری بات جسے وہ بار بار دہراتے چلے جاتے تھے ، یہ کہ حضور نبی کریم ﷺ اس کتاب کو اپنی جانب سے پیش کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تم اس جیسی دس سورتیں تو بنا لاؤ اور اس مہم میں پورے جہاں سے مدد بھی لے لو۔
قدماء مفسرین نے کہا ہے یہ چیلنج علی الترتیب تھا۔ پہلے یہ تھا کہ اس قرآن جیسا قرآن لاؤ، پھر دس سورتوں کا چیلنج تھا ، آخر میں ایک سورت کا چیلنج دیا گیا۔ لیکن اس چیلنج کی اس مخصوص ترتیب پر کوئی منقول دلیل نہیں ہے۔ بظاہر دلیل اس کے خلاف ہے کیونکہ سورة یونس اس سورت سے پہلے نازل شدہ ہے اور اس میں ایک سورت کا چیلنج دیا گیا ہے اور زیر نظر سورت اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اور اس میں دس سورتوں کا چیلنج ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آیات کا نزول سورتوں کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے۔ کیونکہ بعض اوقات کوئی آیت نازل ہوتی تھی لیکن اسے بعض اوقات تو سابقہ سورتوں میں رکھ دیا جاتا تھا اور بعض اوقات ایسی سورت میں جو اس آیت کے بعد نازل ہوئی تھی۔ وقت نزول کی مکمل طور پر نقلی دلیل پر موقوف ہے۔ اسباب نزول میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ سورة یونس سورة ہود کے بعد نازل ہوئی ہے اور اپنی جانب سے قیاسی حکم اس موضوع پر مقبول نہیں ہے۔
علامہ رشید رضا مرحوم نے دس سورتوں کے چیلنج کی ایک خاص وجہ بیان کرنے کی سعی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں طویل کوشش کی ہے (دیکھئے تفسیر منار ، ص 32 تا 41، ج 12) فرماتے ہیں کہ یہاں تحدی سے مراد قصص القرآن کا چیلنج ہے۔ تحقیق و تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ جن سورتوں میں طویل قصص نازل ہوئے ہیں ، سورت ہود کے نزول تک ان کی تعداد دس تھی ، چناچہ یہاں دس سورتوں کے لیے چیلنج دیا گیا ، کیونکہ ایک سورت کا چیلنج ان کے لیے دس سورتوں کے چیلنج سے زیادہ مشکل تھا۔ اس لیے کہ دس سورتوں میں بہرحال زیادہ قصے اور زیادہ اسالیب کلام تھے اور جن لوگوں کو یہ چیلنج دیا گیا تھا ، ان کو دس سورتوں جیسی نقل کی ضرورت تھی اگر وہ نقل کرتے۔
لیکن حقیقت تو خدا جانتا ہے ، یہ بات اس قدر مشکل نہیں ہے جس قدر انہوں نے مشکل بنا دی ہے کیونکہ چیلنج کے معاملے میں اعتراض کرنے والوں کے اعتراض اور حالات نزول دونوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اس لیے کہ قرآن کریم عملی حالات کے پیش نظر نازل ہوتا رہا ہے اور ہر سورت اور آیت کے نزول کے وقت متعین صورت حالات ہوا کرتی تھی۔ اس لیے بعض حالات میں کہا گیا کہ قرآن جیسی کتاب لاؤ، بعض میں کہا گیا ، ایک سورت لاؤ اور بعض میں دس سورتوں کا مطالبہ ہوا۔ ان مطالبات میں ترتیب زمانی کا پایا جانا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ اصل مقصد چیلنج تھا کہ نفس قرآن جیسا کلام لاؤ۔ کل قرآن یا جزء یا ایک سورت وغیرہ۔ لہذا چیلنج قرآن جیسے کلام کے بارے میں تھا ، کسی خاص مقدار کی بات نہ تھی۔ اور مخالفین جو عاجز آئے تو وہ قرآن جیسے کلام سے عاجز آئے۔ یہ نہ تھا کہ وہ کوئی سورت نہ لا سکے ، لہذا اس موضوع پر کل اور جزء کا ذکر برابر ہے اور اس سلسلے میں ترتیب لازم نہیں ہے بلکہ بعض مخصوص حالات کی وجہ سے مقدار کا ذکر ہوا۔ یعنی اعتراض کرنے والوں کے اعتراضات کی نوعیت کے اعتبار سے یہ کہا گیا کہ ایک سورت ، دس سورتیں یا پورا قرآن لاؤ۔ یہ مخصوص حالات کیا تھے ؟ آج ہم ان کا تعین بہرحال نہیں کرسکتے۔
وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (اور اللہ کے سوا جو جو (تمہارے معبود) ہیں ان کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو۔ اپنے شرکاء و خصماء کو بلاؤ، شعراء اور بلغاء کو بلاؤ، جنوں اور انسانوں سب کو بلاؤ اور اس چیلنج کو قبول کرو ، اور اپنی طرف سے بناوٹی دس سورتیں لاؤ۔ اگر تمہاری یہ دعوی سچا ہے کہ قرآن حضرت نبی کریم کی طرف سے بنایا گیا ہے اور اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔
هود 11:14
ایک دوسری بات جسے وہ بار بار دہراتے چلے جاتے تھے ، یہ کہ حضور نبی کریم ﷺ اس کتاب کو اپنی جانب سے پیش کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تم اس جیسی دس سورتیں تو بنا لاؤ اور اس مہم میں پورے جہاں سے مدد بھی لے لو۔
قدماء مفسرین نے کہا ہے یہ چیلنج علی الترتیب تھا۔ پہلے یہ تھا کہ اس قرآن جیسا قرآن لاؤ، پھر دس سورتوں کا چیلنج تھا ، آخر میں ایک سورت کا چیلنج دیا گیا۔ لیکن اس چیلنج کی اس مخصوص ترتیب پر کوئی منقول دلیل نہیں ہے۔ بظاہر دلیل اس کے خلاف ہے کیونکہ سورة یونس اس سورت سے پہلے نازل شدہ ہے اور اس میں ایک سورت کا چیلنج دیا گیا ہے اور زیر نظر سورت اس کے بعد نازل ہوئی ہے۔ اور اس میں دس سورتوں کا چیلنج ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ آیات کا نزول سورتوں کی ترتیب کے مطابق نہیں ہے۔ کیونکہ بعض اوقات کوئی آیت نازل ہوتی تھی لیکن اسے بعض اوقات تو سابقہ سورتوں میں رکھ دیا جاتا تھا اور بعض اوقات ایسی سورت میں جو اس آیت کے بعد نازل ہوئی تھی۔ وقت نزول کی مکمل طور پر نقلی دلیل پر موقوف ہے۔ اسباب نزول میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے جو یہ ثابت کرے کہ سورة یونس سورة ہود کے بعد نازل ہوئی ہے اور اپنی جانب سے قیاسی حکم اس موضوع پر مقبول نہیں ہے۔
علامہ رشید رضا مرحوم نے دس سورتوں کے چیلنج کی ایک خاص وجہ بیان کرنے کی سعی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں طویل کوشش کی ہے (دیکھئے تفسیر منار ، ص 32 تا 41، ج 12) فرماتے ہیں کہ یہاں تحدی سے مراد قصص القرآن کا چیلنج ہے۔ تحقیق و تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ جن سورتوں میں طویل قصص نازل ہوئے ہیں ، سورت ہود کے نزول تک ان کی تعداد دس تھی ، چناچہ یہاں دس سورتوں کے لیے چیلنج دیا گیا ، کیونکہ ایک سورت کا چیلنج ان کے لیے دس سورتوں کے چیلنج سے زیادہ مشکل تھا۔ اس لیے کہ دس سورتوں میں بہرحال زیادہ قصے اور زیادہ اسالیب کلام تھے اور جن لوگوں کو یہ چیلنج دیا گیا تھا ، ان کو دس سورتوں جیسی نقل کی ضرورت تھی اگر وہ نقل کرتے۔
لیکن حقیقت تو خدا جانتا ہے ، یہ بات اس قدر مشکل نہیں ہے جس قدر انہوں نے مشکل بنا دی ہے کیونکہ چیلنج کے معاملے میں اعتراض کرنے والوں کے اعتراض اور حالات نزول دونوں کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اس لیے کہ قرآن کریم عملی حالات کے پیش نظر نازل ہوتا رہا ہے اور ہر سورت اور آیت کے نزول کے وقت متعین صورت حالات ہوا کرتی تھی۔ اس لیے بعض حالات میں کہا گیا کہ قرآن جیسی کتاب لاؤ، بعض میں کہا گیا ، ایک سورت لاؤ اور بعض میں دس سورتوں کا مطالبہ ہوا۔ ان مطالبات میں ترتیب زمانی کا پایا جانا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ اصل مقصد چیلنج تھا کہ نفس قرآن جیسا کلام لاؤ۔ کل قرآن یا جزء یا ایک سورت وغیرہ۔ لہذا چیلنج قرآن جیسے کلام کے بارے میں تھا ، کسی خاص مقدار کی بات نہ تھی۔ اور مخالفین جو عاجز آئے تو وہ قرآن جیسے کلام سے عاجز آئے۔ یہ نہ تھا کہ وہ کوئی سورت نہ لا سکے ، لہذا اس موضوع پر کل اور جزء کا ذکر برابر ہے اور اس سلسلے میں ترتیب لازم نہیں ہے بلکہ بعض مخصوص حالات کی وجہ سے مقدار کا ذکر ہوا۔ یعنی اعتراض کرنے والوں کے اعتراضات کی نوعیت کے اعتبار سے یہ کہا گیا کہ ایک سورت ، دس سورتیں یا پورا قرآن لاؤ۔ یہ مخصوص حالات کیا تھے ؟ آج ہم ان کا تعین بہرحال نہیں کرسکتے۔
وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (اور اللہ کے سوا جو جو (تمہارے معبود) ہیں ان کو مدد کے لیے بلا سکتے ہو تو بلا لو اگر تم (انہیں معبود سمجھنے میں) سچے ہو۔ اپنے شرکاء و خصماء کو بلاؤ، شعراء اور بلغاء کو بلاؤ، جنوں اور انسانوں سب کو بلاؤ اور اس چیلنج کو قبول کرو ، اور اپنی طرف سے بناوٹی دس سورتیں لاؤ۔ اگر تمہاری یہ دعوی سچا ہے کہ قرآن حضرت نبی کریم کی طرف سے بنایا گیا ہے اور اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔
هود 11:15
اس دنیا میں جو لوگ بھی جدوجہد کرتے ہیں وہ اس کا ثمرہ پاتے ہیں۔ اب بات اس کے نصب العین پر موقوف ہے۔ بعض لوگوں کی نظر اعلی مقاصد اور بلند افق پر ہوتی ہے۔ اور بعض لوگ صرف اپنے قدموں پر نظر رکھتے ہٰں اور دنیا کے قریب اور محدود مقاصد ان کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کے کروفر کے متلاشی ہوتے ہیں تو وہ صرف اس کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ان کو ان کے عمل کا نتیجہ اس دنیا ہی میں ملتا ہے۔ اور پھر وہ اس سے نفع اٹھاتے ہیں جس طرح ان کی مرضی ہوتی ہے۔ لیکن آخرت میں ان کا حصہ صرف آگ ہوتی ہے کیونکہ ایسے شخص نے آخرت کے لیے کچھ کمائی نہیں کی اور نہ آخرت کو اس نے اہمیت دی۔ اس لیے وہ دنیا میں جو بھی اچھا عمل کرے گا ، اس کی جزاء اسے یہاں ہی مل جائے گی اور آخرت میں وہ عمل باطل ہوگا۔ وہاں اس کے اعمال کا کوئی وزن نہ ہوگا۔ آخرت میں ایسے لوگوں کے اعمال حبط ہوں گے۔ یعنی اس طرح جس طرح کسی مویشی کو زہر آلود گھاس پھلا دیتی ہے جبکہ در حقیقت وہ بیمار ہوتا ہے ، موٹا نہیں ہوتا اور اس کا یہ موٹاپا موجب ہلاکت ہوتا ہے۔
اس دنیا میں ہمیں بہت سے افراد اور اقوام نظر آتے ہیں جو رات دن اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کو ان کی جدوجہد کے ثمرات بھی ملتے ہیں۔ ان کی دنیا نہایت ہی ترقی یافتہ اور فلاح یافتہ ہوتی ہے ، اور اس طرح پھولی ہوتی ہے جس طرح بیمار جانور۔ لہذا ہمیں ایسے لوگوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی پوچھنا چاہیے کہ کیوں ؟ کیونکہ زمین میں یہی قانون الہی ہے کہ :
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ " جو شخص حیات دنیا اور اس کی زینت کا طلبگار ہے اس دنیا میں ہم اس کے اعمال کا ثمر پورا پورا دیں گے اور ان کا کچھ نقصان نہ کیا جائے گا " لیکن اللہ کی اس سنت کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس کے نتائج کو یقین مانتے ہوئے ہمیں یہ حقیقت بھولنا نہ چاہئے کہ ایک شخص دنیا کے لیے کام کرتے ہوئے بھی آخرت پر نظر رکھ سکتا ہے اور دنیا کی جدوجہد کے دوران بھی آخرت کے لیے کام کرسکتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ اس کی دنیا بھی اچھی اور مزین ہو اور دنیا میں بھی کوئی کمی نہ ہو اور آخرت میں بھی کوئی کمی نہ ہو اور آخرت میں بھی کامیاب ہو
حقیقت یہ ہے کہ آخرت کے لیے کام کرنا ، دنیا کے لیے کام کرنے کے ساتھ تضاد نہیں رکھتا بلکہ دنیا کا کام بھی آخرت کے لیے کام ہے بشرطیکہ توجہ الی اللہ قائم ہو اور اگر ایک انسان دنیا کی جدوجہد میں اللہ کو یاد رکھے تو اس کی جدوجہد میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اس میں مزید برکت ہوتی ہے۔ اس کی کمائی پاکیزہ اور ستری ہوتی ہے اور دنیا کے ساتھ آخرت بھی اسے ملتی ہے۔ الا یہ کہ جو شخص دنیا میں حرام خواہشات کی پیروی کرے ناجائز شہوات نہ صرف یہ کہ آخرت میں مردود ہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ پسندیدہ نہیں ہیں۔ اس کا تجربہ مغربی اقوام کو ان کی نفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہوچکا ہے اور انسانی تاریخ کا جن لوگوں نے مطالعہ کیا ہے وہ بھی اچھی طرح ان نتائج تک پہنچ چکے ہیں۔
اب سیاق کلام اس رویے کی طرف مڑجاتا ہے ، جو مشرکین نے رسول اللہ کے ساتھ اختیار کر رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور کی سچائی منجانب اللہ ہے اور پھر یہ قرآن بھی حضور کی رسالت اور حقانیت پر گواہ ہے۔ اور یہ کہ حضور مرسل من جانب اللہ ہیں اور اس پر حضرت موسیٰ کی کتاب بھی گواہ ہے۔ چناچہ رسول اللہ اور آپ کی دعوت کے بارے میں تمام براہین اور دلائل بیان کیے جاتے ہیں۔ اس طرح حضور کی تالیف قلب مقصود ہے۔ نیز آپ کے ساتھ جو مختصر جماعت اس عظیم مقصد کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کی ڈھارس بندھانا بھی پیش نظر ہے۔ اور مخالفین اور کفار کو ان کے انجام بد سے ڈرانا بھی مطلوب ہے کہ اگر انہوں نے روش نہ بدلی تو انجام آگ ہے۔ ان کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جس میں وہ شرمندگی ، بےعزتی اور ذلت کا شکار ہیں ، محض اس لیے کہ انہوں نے دنیا میں کبر اور غرور کا رویہ اختیار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ جواب ڈینگیں مار رہے ہیں۔ قیامت میں کس قدر ذلیل و خوار اور عاجز ہوں گے اور اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی ولی اور مددگار ہوگا۔
لاجرم انہم فی الاخرۃ ھم الاخسرون (یہ لازمی بات ہے کہ آخرت میں یہی لوگ سخت خسارے میں ہوں گے) چناچہ اب (اگلی آیات میں) کفار اور مومنین کے درمیان ایک مشاہداتی موزانہ کیا جاتا ہے اور دونوں کے درمیان فرق کو نمایاں کی ا جاتا ہے کہ دونوں کا حال اور مآل کس قدر مختلف ہے۔ ذرا غور سے پڑھیے :
هود 11:16
اس دنیا میں جو لوگ بھی جدوجہد کرتے ہیں وہ اس کا ثمرہ پاتے ہیں۔ اب بات اس کے نصب العین پر موقوف ہے۔ بعض لوگوں کی نظر اعلی مقاصد اور بلند افق پر ہوتی ہے۔ اور بعض لوگ صرف اپنے قدموں پر نظر رکھتے ہٰں اور دنیا کے قریب اور محدود مقاصد ان کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کے کروفر کے متلاشی ہوتے ہیں تو وہ صرف اس کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ ان کو ان کے عمل کا نتیجہ اس دنیا ہی میں ملتا ہے۔ اور پھر وہ اس سے نفع اٹھاتے ہیں جس طرح ان کی مرضی ہوتی ہے۔ لیکن آخرت میں ان کا حصہ صرف آگ ہوتی ہے کیونکہ ایسے شخص نے آخرت کے لیے کچھ کمائی نہیں کی اور نہ آخرت کو اس نے اہمیت دی۔ اس لیے وہ دنیا میں جو بھی اچھا عمل کرے گا ، اس کی جزاء اسے یہاں ہی مل جائے گی اور آخرت میں وہ عمل باطل ہوگا۔ وہاں اس کے اعمال کا کوئی وزن نہ ہوگا۔ آخرت میں ایسے لوگوں کے اعمال حبط ہوں گے۔ یعنی اس طرح جس طرح کسی مویشی کو زہر آلود گھاس پھلا دیتی ہے جبکہ در حقیقت وہ بیمار ہوتا ہے ، موٹا نہیں ہوتا اور اس کا یہ موٹاپا موجب ہلاکت ہوتا ہے۔
اس دنیا میں ہمیں بہت سے افراد اور اقوام نظر آتے ہیں جو رات دن اس دنیا کے لیے کام کرتے ہیں اور ان کو ان کی جدوجہد کے ثمرات بھی ملتے ہیں۔ ان کی دنیا نہایت ہی ترقی یافتہ اور فلاح یافتہ ہوتی ہے ، اور اس طرح پھولی ہوتی ہے جس طرح بیمار جانور۔ لہذا ہمیں ایسے لوگوں سے متاثر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی پوچھنا چاہیے کہ کیوں ؟ کیونکہ زمین میں یہی قانون الہی ہے کہ :
مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَيْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِيْهَا وَهُمْ فِيْهَا لَا يُبْخَسُوْنَ " جو شخص حیات دنیا اور اس کی زینت کا طلبگار ہے اس دنیا میں ہم اس کے اعمال کا ثمر پورا پورا دیں گے اور ان کا کچھ نقصان نہ کیا جائے گا " لیکن اللہ کی اس سنت کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس کے نتائج کو یقین مانتے ہوئے ہمیں یہ حقیقت بھولنا نہ چاہئے کہ ایک شخص دنیا کے لیے کام کرتے ہوئے بھی آخرت پر نظر رکھ سکتا ہے اور دنیا کی جدوجہد کے دوران بھی آخرت کے لیے کام کرسکتا ہے اور یہ ممکن ہے کہ اس کی دنیا بھی اچھی اور مزین ہو اور دنیا میں بھی کوئی کمی نہ ہو اور آخرت میں بھی کوئی کمی نہ ہو اور آخرت میں بھی کامیاب ہو
حقیقت یہ ہے کہ آخرت کے لیے کام کرنا ، دنیا کے لیے کام کرنے کے ساتھ تضاد نہیں رکھتا بلکہ دنیا کا کام بھی آخرت کے لیے کام ہے بشرطیکہ توجہ الی اللہ قائم ہو اور اگر ایک انسان دنیا کی جدوجہد میں اللہ کو یاد رکھے تو اس کی جدوجہد میں کمی نہیں ہوتی بلکہ اس میں مزید برکت ہوتی ہے۔ اس کی کمائی پاکیزہ اور ستری ہوتی ہے اور دنیا کے ساتھ آخرت بھی اسے ملتی ہے۔ الا یہ کہ جو شخص دنیا میں حرام خواہشات کی پیروی کرے ناجائز شہوات نہ صرف یہ کہ آخرت میں مردود ہیں بلکہ دنیا میں بھی وہ پسندیدہ نہیں ہیں۔ اس کا تجربہ مغربی اقوام کو ان کی نفرادی اور اجتماعی زندگی میں ہوچکا ہے اور انسانی تاریخ کا جن لوگوں نے مطالعہ کیا ہے وہ بھی اچھی طرح ان نتائج تک پہنچ چکے ہیں۔
اب سیاق کلام اس رویے کی طرف مڑجاتا ہے ، جو مشرکین نے رسول اللہ کے ساتھ اختیار کر رکھا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حضور کی سچائی منجانب اللہ ہے اور پھر یہ قرآن بھی حضور کی رسالت اور حقانیت پر گواہ ہے۔ اور یہ کہ حضور مرسل من جانب اللہ ہیں اور اس پر حضرت موسیٰ کی کتاب بھی گواہ ہے۔ چناچہ رسول اللہ اور آپ کی دعوت کے بارے میں تمام براہین اور دلائل بیان کیے جاتے ہیں۔ اس طرح حضور کی تالیف قلب مقصود ہے۔ نیز آپ کے ساتھ جو مختصر جماعت اس عظیم مقصد کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس کی ڈھارس بندھانا بھی پیش نظر ہے۔ اور مخالفین اور کفار کو ان کے انجام بد سے ڈرانا بھی مطلوب ہے کہ اگر انہوں نے روش نہ بدلی تو انجام آگ ہے۔ ان کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جس میں وہ شرمندگی ، بےعزتی اور ذلت کا شکار ہیں ، محض اس لیے کہ انہوں نے دنیا میں کبر اور غرور کا رویہ اختیار کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لوگ جواب ڈینگیں مار رہے ہیں۔ قیامت میں کس قدر ذلیل و خوار اور عاجز ہوں گے اور اللہ کے عذاب سے بچ نکلنے کا کوئی موقعہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی ولی اور مددگار ہوگا۔
لاجرم انہم فی الاخرۃ ھم الاخسرون (یہ لازمی بات ہے کہ آخرت میں یہی لوگ سخت خسارے میں ہوں گے) چناچہ اب (اگلی آیات میں) کفار اور مومنین کے درمیان ایک مشاہداتی موزانہ کیا جاتا ہے اور دونوں کے درمیان فرق کو نمایاں کی ا جاتا ہے کہ دونوں کا حال اور مآل کس قدر مختلف ہے۔ ذرا غور سے پڑھیے :
هود 11:17
یہ (آیات 17 تا 24) ایک طویل تنقیدی جملہ ہے ، اس کے اندر پائے جانے والے اشارات و ہدایات ، متنوع یاد دہانیوں اور تنبیہا اور موثر ضربات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تاریخ کے اس دور میں مسلمانوں کی قلیل تعداد اور دعوت اسلامی کو کن مشکلات کا سامنا تھا اور یہ کہ اس اشاراتی تقریر کی اس دور میں کیوں ضرور پیش آئی۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم اپنے اندر ایک تحریکی مزاج رکھتا ہے۔ اور وہ ایک واقع حالات میں ان تھک جدوجہد کی ہدایات دیتا ہے اور قیامت تک کے لیے ایسی تحریکات کے لیے ایک گائیڈ بک ہے۔
اس قرآن کا مزہ وہی شخص چکھ سکتا ہے جو عملاً احیائے اسلام کے معرکے میں کود چکا ہوتا ہے اور اسے انہی حالات سے سابقہ پیش ہوتا ہے جن حالات میں یہ قرآن سب سے پہلے نازل ہوا تھا اور پھر یہ شخص حالات کا مقابلہ کرتا ہے اور ان حالات کو اپنے راستے پر موڑتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو آرام سے گھروں میں بیٹھے ہوں اور قرآن کریم کو سمجھنا چاہیں اور اس کا مطالعہ فنی اور محض علمی انداز میں کریں تو اس قسم کے آرام طلب ، سرد مزاج اور زمن پسند لوگ اس کتاب کو نہیں سمجھ سکتے ، جو زندگی کے عملی معرکے سے دور ہوں اور کسی اسلامی تحریک میں کوئی دلچسپی نہ رکھتے ہوں غرض اس قسم کے آرام طلب مسند نشینوں پر قرآن کے اسرار کبھی بھی نہیں کھلتے ، جو لوگ اللہ کے سوا دوسری قوتوں کے غلام ہوں ، امن پسند ہوں اور آرام طلب ہوں اور کسی بھی طاغوتی نظام کے تحت زندگی بسر کرنے پر راضی ہوں۔ ان کے لیے اسرار قرآن اسی طرح ہیں جس طرح کور مادر زاد و نور آفتاب۔
اَفَمَنْ كَانَ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰٓى اِمَامًا وَّرَحْمَةً ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔ پھر بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا ، اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے (اس شہادت کی تائید میں) آگیا ، اور پہلے موسیٰ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی (کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کرسکتا ہے ؟ ) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کو وعدہ ہے وہ دوزخ ہے۔ پس اے پیغمبر تم اس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔
اس آیت کے بارے میں بیشمار روایات وارد ہیں کہ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ کا مطلب کیا ہے اور وَيَتْلُوْهُ شَاهِدٌ سے مراد کیا ہے۔ نیز ربہ اور یتلوہ کی ضمیروں کا مرجع کیا ہے ؟ منہ کے ضمیر کا مرجع کون ہے ؟ میرے خیال میں اس عبارت کا سب سے راجح اور موزوں مفہوم یہ ہے کہ جو شخص (یعنی رسول اللہ) اپنے رب کی طرف سے صاف صاف شہادت اور ثبوت رکھتا ہے اور رسول اللہ کے بعد اس سے مراد تمام مسلمان ہوں گے اور اللہ کی طرف سے مزید گواہ جو آیا جو اس کی نبوت کے لیے ایک ناقابل انکار ثبوت ہے۔ وہ قرآن کریم ہے ، جو بذات خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ وحی الہی ہے اور اس قسم کا کلام پیش کرنے سے لوگ عاجز آگئے ہیں اور اس گواہ سے قبل یعنی قرآن سے قبل حضرت موسیٰ کی کتاب بھی موجود ہے جو حضرت محمد ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرتی ہے کیونکہ اس کتاب میں رسول اللہ کے بارے میں واضح خوشخبری موجود ہے اور اس کتاب کی تعلیمات اور اس کی تعلیمات بالکل ایک جیسی ہیں۔
اس آیت کی جو تاویل و تفسیر میں نے بیان کی ہے اس پر اس پوری سورت کا انداز کلام بھی دلالت کرتا ہے۔ اس سورت میں تمام رسولوں نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ خود اپنی ذات کے اندر باری تعالیٰ کی طرف سے دلائل پاتے ہیں اور ان کو اس بات پر بھرپور یقین اور مشاہدہ حاصل ہے کہ ان کی طرف اللہ کی جانب سے وحی آتی ہے۔ وہ ذات باری کو اپنی ذات میں نہایت ہی واضح ، نہایت ہی یقینی اور نہایت ہی قریب پاتے ہیں اور ان کو ذات باری اور وحی الہی کے بارے میں مشاہداتی یقین حاصل ہے۔ ذارا ملاحظہ فرمائیں کہ حضرت نوح نے فرمایا : قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي رَحْمَةً مِنْ عِنْدِهِ فَعُمِّيَتْ عَلَيْكُمْ أَنُلْزِمُكُمُوهَا وَأَنْتُمْ لَهَا كَارِهُونَ (28) " اے برادران قوم ، ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اس رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ پر اپنی خاص رحمت سے بھی نواز دیا مگر تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہماری پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سر چپک دیں "
اور حضرت صالح نے بھی فرمایا : قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ (63) " اے برادران قوم ، تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھ کو کون بچائے گا۔ اگر میں اس کی نافرمانی کروں گا ، تم میرے کس کام آسکتے ہو ، سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارے میں ڈال دو "
اور حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی ایسی ہی بات کہی : قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا " اے بھائیو ، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا ، اور پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق بھی عطا کیا "
یہ تمام تعبیرات بتاتی ہیں کہ ان میں رسولوں کا خا کے ساتھ ایک مخصوص تعلق بتایا گیا۔ اور اس کی نوعیت کچھ اس طرح ہے کہ وہ اپنے اندر ایک ایسی بصیرت پاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ حقیت الوہیت کو اپنے اندر واضح شہادت کی طرح پاتے ہیں کیونکہ وحی کے ذریعے ان کے ساتھ رب کا ایسا تعلق ہوتا ہے جس طرح کسی نظر کا مشاہدات کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ انداز تعبیر اور وحدت تعبیر یہ بتاتی ہے کہ ان آیات میں اللہ اور رسول کے ذاتی تعلق کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جب کہ ہم نے کہا کہ اس بینۃ سے مراد ہے رسول کی اندرونی شہادت جس کی طرف دوسرے رسولوں کے کلام میں بھی شارہ موجود ہے۔ اور یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ آپ کے مشاہدات وہی ہے جو سابقہ رسل کے تھے۔ لہذا مشرکین مکہ کے تمام دعوے باطل ہیں۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ آپ اور آپ کے مٹھی بھر ماننے والوں کو یہ تسلی ہوجائے کہ وہ سابقہ رسل کی طرح حق پر ہیں اور یہ کہ مسلمانوں نے جس تعلیم کو قبول کیا ہے وہ تمام نبیوں کی تعلیم ہے۔
اب اس آیت کا اصولی مفہوم یہ ہوگا کہ یہ نبی جس کی صداقت پر بیشمار دلائل و براہیں قائم ہوگئے ہیں اس یقین و ایمان اور اس کے نظریات حق ہیں ، کیونکہ ایک طرف وہ خود اپنے نفس میں اس ایمان کو مشاہداتی طور پر دیکھ رہا ہے اور اسے یقین ہے۔ اور اس کے اس یقین کے اوپر خدا کی طرف سے بھی ہر وقت قرآن کی صورت میں شواہد چلے آ رہے ہیں اور جو اس بات پر بین دلیل ہیں کہ یہ قرآن بھی اسی ربانی سرچشمے سے آ رہا ہے اور ایک دوسرا بیرونی گواہ کتاب موسیٰ ہے۔ جو بنی اسرائیل کی قیادت کے لیے امام اور راہنما کتاب تھی اور ایک رحمت تھی جس کا نزول بنی اسرائیل پر ان کے رب کی طرف سے ہوا اور وہ کتاب بھی رسول اللہ کی تصدیق کر رہی ہے۔ کیونکہ آپ کے بارے میں اس کے اندر واضح بشارتیں ہیں اور ان بشارتوں کے علاوہ یہ کتاب اپنے بنیدادی تصورات اور اصولوں کے اندر بھی قرآن سے مطابقت رکھتی ہے۔ تو کیا ایسا شخص اس لائق ہے کہ اس کی تکذیب کی جائے جس طرح تم لوگ کر رہے ہو اور جس طرح مشرکین کے مختلف طبقات اسے لے رہے ہیں۔ یہ گویا نہایت ہی ناپسندیدہ امر ہے اور ایسے ہمہ جہت شواہد و دلائل کے مقابلے میں ایسا طرز عمل نہ اختیار کرنا چاہئے۔
اس کے بعد ان لوگوں کا موقف بھی بیان کردیا جاتا ہے جن لوگوں نے قرآنی تعلیمات پر ایمان لا کر اسے تسلیم کیا اور ان لوگوں کا بھی جنہوں نے اس کا انکار کیا اور پھر ان دونوں کے انجام سے بھی خبردار کردیا گیا۔
اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ ۚ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ " ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کو وعدہ ہے وہ دوزخ ہے۔ پس اے پیغمبر تم اس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے "
بعض مفسرین کے ذہن میں آیت اولئک یومنون بہ کے مفہوم میں اشکال پیدا ہوا ہے خصوصا اس صورت میں جبکہ أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ سے مراد رسول اللہ کی ذات ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ کیونکہ اس صورت میں اولئک سے مراد مومنین کی وہ جامعت ہوگی جو حضور پر آنے والی وحی پر ایمان لاتی ہو اور اس وحی سے وہی دلائل مراد ہوں گے جو حضور پر نازل ہوتے ہیں لیکن اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کیونکہ أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ میں ضمیر قرآن کی طرف راجع ہوگی۔ معنی یہ ہوگا کہ لوگ اس گواہ یعنی قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور رسول اللہ تو اول مسلمان ہیں اول مومن ہیں ان باتوں پر جو ان کی طرف نازل ہوتی ہیں اور مومنین حضور کے ایمان کا اتباع کرتے ہیں۔ دوسری جگہ سورت بقرہ میں ہے : امن الرسول بما انزل الیہ من ربہ والمومنون۔ کل امن باللہ و ملائکتہ و کتبہ و رسولہ۔ " رسول اس پر ایمان لایا ہے جو اس کی طرف اتارا گیا اور مومنین بھی۔ سب اللہ پر ایمان لائے اور اس کے ملائکہ پر ایمان لائے۔ اس کی کتابوں پر ایمان لائے اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے " یہاں رسول اللہ اور ان لوگوں کے ایمان کو یکجا کر کے بیان کیا گیا اور قرآنی تعبیرا میں یہ انداز کلام بالکل مالوف ہے لہذا اس آیت کے مفہوم میں کوئی اشکال نہیں ہے۔
وَمَنْ يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ " اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے " اور یہ ایسا وعدہ ہے جس کی کوئی خلاف ورزی نہ ہوگی کیونکہ اس کی تقدیر اور تدبیر اللہ نے فرمائی ہے۔
فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يُؤْمِنُونَ " پس اے پیغمبر تم اس چیز کی طرف سے شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے " یہ تو حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف جو وحی آرہی تھی اس میں حضور نے شک نہیں فرمایا ، نہ اس میں کبھی ان کو شبہ لاحق ہوا ہے۔ وہ تو اپنے رب کی طرف سے ایک خاص شہادت رکھتے تھے ، لیکن ان دلائل وبراہین کے بعد حضور کو یہ ہدایت اس لیے دی کہ حضور اپنے دل میں تنگی محسوس کرتے تھے اور تبلیغ کرتے کرتے تھک جاتے تھے۔ اور معاندین کی کثرت اور شدید مخالفتوں کی وجہ سے آپ ڈرتے تھے کہ دعوت پر جمود کی حالت طاری نہ ہوجائے اس لیے آپ کو یہ ہدایات محض تسلی کے لیے دی گئیں تاکہ آپ نہایت ہی ثابت قدمی سے اپنے کام کو جاری رکھیں۔ نیز امت مسلمہ بھی ان دونوں نہایت ہی قلق ، کرب اور تنگ دلی میں مبتلا تھی اور اسی طرح ان کے دلوں پر بھی باد یقین کے جھونکے آگئے۔
ہمارے دور میں اسلامی تحریکات کو ہر جگہ اسی قسم کے حالات درپیش ہیں۔ ہر جگہ ان کو ایسے ہی مشکل حالات سے سابقہ درپیش ہے اور وہ پریشانی اور تنگ دلی کی کیفیات سے دوچار ہیں۔ ان کے خلاف ہر طرف سے استہزاء اور مذاق ہوتا ہے اور لوگ ان کی دعوت سے منہ موڑتے ہیں ، ان کو سخت سے سخت ایذائیں دی جا رہی ہیں اور ان کے خلاف تمام فکری اور نفسیاتی اور مادی وسائل اختیار کیے جا رہے ہیں ، ہر طرف سے جاہلیت کی قوتیں ان کے خلاف ٹوٹ پڑی ہیں۔ مقامی غیر اسلامی قوتیں اور عالمی قوتیں ان کے خلاف رات دن سازشوں میں مصروف عمل ہیں اور ان کے خلاف ہمہ گیر جنگ شروع ہے اور اسلامی تحریکات کے خلاف جو لوگ کام کرتے ہیں ان کی ہر طرف سے حوصلہ افزائی ہو رہی ہے ایسے حالات میں اسلامی تحریکات کو ایسی ربانی تسلیوں کی بےحد ضرورت ہے۔
تمام اسلامی تحریکات کا فرض ہے کہ وہ ان آیات پر اچھی طرح غور کریں۔ ان کے ہر ہر فقرے کو سمجھیں ، ان کے اندر پائی جانے والی ہدایات سے اشارات اخذ کریں اور ان کے خطوط پر آگے گامزن رہیں۔
اللہ تعالیٰ ان آیات میں جس تاکید ، یقین دہانی اور جس سچائی کو بیان کر رہا ہے۔ وہ تحریک اسلامی کی پہلی ضرورت ہے۔ ذرا پھر غور کریں :۔ فَلَا تَكُ فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ ۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُوْنَ " پس اے پیغمبر ، تم سا چیز کی طرف سے شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے "۔ اسلامی تحریک کے ہر کارکن پر آج ایسے سایہ عاطفت کی ضرورت ہے جو تمام رسولوں پر ہر وقت سایہ فگن رہتا تھا اور جو خداوند قدوس کی طرف سے ایک گواہ کا مقام رکھتا تھا۔ یہ خداوند کریم کی طرف سے ایک سایہ رحمت ہوا کرتا تھا۔ وہ اس سایہ میں اپنی منزل کی طرف بڑھتے تھے اور اس راہ میں وہ اپنی کامیابی اور اس راہ کی سچائی میں انہیں کوئی شک نہ ہوتا تھا۔ اور اس راہ میں ان کو جو جو مشکلات پیش آتیں وہ ان کو برداشت کرتے ، جیسا کہ حضرت صالح نے فرمایا :
یقوم ارئیتم ان کنت علی بینۃ من ربی واتانی منہ رحمۃ فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہ فما تزیدونن غیر تخسیر " اے برادران قوم ، تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھ کو کون بچائے گا۔ اگر میں اس کی نافرمانی کروں گا ، تم میرے کس کام آسکتے ہو ، سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارے میں ڈال دو ۔
اس وقت عالم اسلام میں احیائے اسلام کے لیے کام کرنے والی تحریکوں کے مقاصد وہی ہیں جن کے لیے پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا یعنی احیائے اسلام اور جن جاہلیتوں اور مشکلات کا واسطہ ان پیغمبروں کو پڑا تھا ، آج وہی جاہلیتیں ان تحریکی دستوں کو در پیش ہیں۔ جس طرح رسول اللہ نے پوری انسانیت کے سامنے مکمل دین پیش کیا تھا ، آج وہی دین انسانیت کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔ گویا وہی زمانہ لوٹ کر آگیا ہے۔ آج اسلامی تحریکات کا مقابلہ اسی جاہلیت سے ہے جس سے حضرت ابراہیم کو واسطہ پڑا تھا ، جس سے اسماعیل ، اسھاق ، یعقوب ، اسباط ، یوسف ، موسیٰ ، ہارون ، داود ، سلیمان ، یحییٰ اور عیسیٰ اور تمام دوسرے نبیوں کو پڑا تھا۔
بعض جاہلیتیں تو وجود باری ہی کی منکر ہوتی ہیں اور بوض وجود باری کو تسلیم کرتی ہیں۔ لیکن وجود باری کو مانتے ہوئے بھی انہوں نے اس کرہ ارض پر ایسے لوگوں کو رب اور حاکم بنا رکھا ہوتا ہے جو لوگوں پر ان قوانین کو نافذ کرتے ہیں جو اللہ نے نازل نہیں کیے۔ اس طرح لوگ ان ارباب کے دین پر ہوتے ہیں۔ آج پورے عالم اسلام میں اسلامی تحریکات کی دعوت یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے تمام حالات میں ، اپنے پورے معاشرے سے اپنی اقدار اور قوانین میں سے ان ارباب من دون اللہ کی حکومت اور اقتدار کو ختم کردیں اور اللہ وحدہ کی ربوبیت میں داخل ہوجائیں اور اس طرح مکمل طور پر داخل ہوجائیں کہ ان کی زندگی میں اللہ کی ربوبیت کے ساتھ کوئی دوسرا رب نہ ہو۔ وہ صرف اللہ کی شریعت کی تابع داری کریں۔ صرف اللہ کے اوامرو نواہی کی پابندی کریں۔ اس نظریاتی جدوجہد کے نتیجے میں اس وقت اسلام اور جاہلیت کے درمیان ایک ہمہ گیر کشمکش برپا ہے اور اس معرکے میں اسلامی تحریکات کے مقابلے میں دنیا کے تمام طاغوت ایک صف میں کھڑے ہیں۔
لہذا اسلامی تحریکات کے ان ہر اول دستوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے تمام نظریات اور تمام موقف اور تمام پالیسیاں قرآن سے اخذ کریں۔ اور یہی ہے مطلب اس بات کا جو ہم بار بار کہتے ہیں کہ اس قرآن کا مزہ وہی شخص چکھ سکتا ہے جو اس قسم کے معرکے میں کود پڑے۔ جس میں حضور اکرم کے ساتھی کودے تھے اور وہ ویسا ہی موقف اختیار کرے اور ویسے ہی حالات سے دوچار ہو جس سے وہ لوگ دو چار تھے اور حالات کے دھارے کو اسی طرح بدلنا شروع کردے جس طرح ان حضرات نے بدلا تھا۔ وہ لوگ جو حجروں میں بیٹھ کر قرآن کے معانی تلاش کرتے ہیں اور احیائے اسلام کے لیے عملاً جدوجہد نہیں کرتے اور قرآن کی محض فنی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور محض بیان کی حد تک اس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ وہ قرآن کی حقیقت تک رسائی نہیں پا سکتے۔ ایسے لوگوں کا فہم قرآن محض جامد اور عملی زندگی سے بہت دور ہوتا ہے۔
هود 11:18
اب سیاق کلام ان لوگوں کی طرف رخ کرتا ہے جن لوگوں کا زعم یہ ہے کہ حضور نعوذ باللہ اپنی جانب سے اس قرآن کو پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ اور رسول اللہ دونوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ لوگ اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں موجود ہیں اور ایسے افتراء پردازوں کا مقدمہ اللہ کے ہاں پیش ہے۔ چاہے ان لوگوں کی تکذیب یہ ہو کہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے منزل ہے یا نہیں یا یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ اور لوگوں کو شریک کرتے ہوں ، یا یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسرے انسانی خداؤں کو اللہ کے اقتدار اعلیٰ میں شریک ٹھہراتے ہوں۔ آیات عام ہیں تاکہ سب قسم کے افتراء پرداز اس کے مدلول میں شامل ہوجائیں۔ غرض ان لوگوں کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے ، ان کی تشہیر ہو رہی ہے ، انہیں شرمندہ کیا جا رہا ہے ، سر عام۔ اسی منظر میں دوسری جانب مومنین ہیں جو مطمئن کھڑے ہیں اور ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے انعامات منتظر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں قسم کے لوگوں کا تقابل اس طرح پیش فرماتا ہے۔ ایک طرف اندھے اور بہرے ہیں اور دوسری جانب سننے اور دیکھنے والے ہیں : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأشْهَادُ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ (18) الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمْ بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ (19) أُولَئِكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِينَ فِي الأرْضِ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ (20) أُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (21) لا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الآخِرَةِ هُمُ الأخْسَرُونَ (22)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَى رَبِّهِمْ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (23) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24) " اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے ؟ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سنو ! خدا کی لعنت ہے ظالموں پر . ان ظالموں پر جو خدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں ، اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں ، اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ وہ زمین میں اللہ کو بےبس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا۔ انہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ وہ نہ کسی کی سن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہو کر رہے ، تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سننے والا ، کیا یہ دونوں یکساں ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم (اس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے ؟ "
جھوٹا باندھنا تو بذات خود ایک بڑا جرم ہے ، اور جس پر افترا باندھا جائے یہ اس پر ایک عظیم ظلم ہے۔ لیکن اگر یہ افترا ذات باری پر باندھا جائے تو یہ ایک عظیم جرم ہے ، اور نہایت ہی خطناک جسارت ہے۔ اس لیے کہ أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأشْهَادُ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ ۔ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔
کس پر جھوٹ ؟ اپنے رب پر جھوٹ ، کسی اور پر نہیں۔ اس منظر میں ان جیسے لوگوں کو اچھی طرح شرمندہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس شرمناک جرم کی سزا کے طور پر ان پر لعنت اور ملامت وارد ہوتی ہے۔
اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ " سنو خدا کی لعنت ہے ظالموں پر " اور گواہ بھی یہ شہادت دے دیں گے۔ یہ گواہ کون لوگ ہوں گے ، ملائکہ ، رسول ، اور اہل ایمان یہ تمام مخلوق خدا سب کی سب گواہ بن جائے گی۔ یہ نہایت ہی بڑی شرمندگی اور سر عام ملامت ہوگی ، مجمع عام ہوگا اور اس کے سامنے ان کو اس شرمندگی سے دوچار ہونا ہوگا۔
اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ " سنو خدا کی لعنت ہے ظالموں پر "۔ ظالموں سے مشرکین مراد ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر افتراء باندھتے ہیں تاکہ عوام الناس کو اللہ کی راہ سے روکیں اور یبغونھا عوجا " ان کے راستے کو کجی کرنا چاہتے ہیں " وہ نہ درستگی چاہتے ہیں اور نہ راہ راست کو پسند کرتے ہیں۔ وہ ہر معاملے میں ٹیڑھ ، پہلو تہی اور انحراف کے عاشق ہیں ، چاہے وہ راستے پر جا رہے ہوں ، چاہے وہ زندگی گزارنے کی کوئی حالت ہو یا کوئی اور معاملہ درپیش ہو۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ " اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں " ھُم کے لفظ کو دو بار اس لیے لایا گیا ہے کہ اس سے حصر اور تاکید مقصود ہے اور یہ بتانا مطلوب ہے کہ یہ انکار ان کے رگ و پے میں بسا ہوا ہے اور وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ یہ ان کی علامت ہو۔ وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں وہی ظالم کہلاتے ہیں وہ جب اسلام کے صراط مستقیم اور سواء السبیل سے پھرتے ہیں تو ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے پورے نظام کو ٹیڑھا کردیتا ہے اور انسان کی سوچ کے دھارے پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔
اللہ تو چاہتا ہے کہ انسان راہ مستقیم پر گامزن ہوکر شرف کے مقام تک پہنچ جائے ، جبکہ غیر اللہ کی غلامی نفس انسانی کے اندر ذلت پیدا کردیت ہے اور اس کے نتیجے میں سوسائٹی کے اندر ظلم اور تجاوز پرورش پاتا ہے حالانکہ اللہ کا منشا یہ ہے کہ ہر سوسائٹی میں عدل و انصاف قائم ہو۔ اور لوگوں کی جدوجہد کا رخ اس فضول مقصد کے حصول کی طرف مڑجاتا ہے کہ وہ اہل زمین کو اپنا رب اور الہ بنانا چاہتے ہیں اور انسانوں کے ارد گرد ناچتے اور ڈھول پیٹتے ہیں اور ان کو اس قدر بڑھاتے چڑھاتے ہیں کہ یہ انسان حقیقی رب کی جگہ لے لیں حالانکہ یہ بونے اور حقیر لوگ جو خود مخلوق ہیں ، خالق حقیقی کے خلا کو کس طرح بھر سکتے ہیں۔ ان ارضی ارباب کے یہ حقیر اور بونے بندے رات دن کوشش کرتے ہیں کہ ان جھوٹے خداؤں کی خدائی قائم ہو ، یہ لوگ ان تھک جد و جہد کرتے ہیں۔ وہ ہر وقت ان ارضی بتوں کو روشن رکھتے ہیں اور ان کی شخصیات کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے ارد گرد اور ان کے تکیوں اور آستانوں پر میلے اور ڈھول دھمکاتے برپا رکھتے ہیں اور گانے بجانے اور دوسری دلچسپیوں کے ذریعے ان کی تعریف اور تسبیح بھی کرتے رہتے ہیں لیکن ان تمام دلچسپیوں اور ان تمام انتھک مساعی کے نتیجے میں انسان کے لیے کوئی بھی مفید نتیجہ نہیں نکلتا۔ اس سے زیادہ انسانیت کی بدبختی اور کیا ہوگی کہ انسان کی پوری زندگی کی جدوجہد یوں اکارت جائے۔
هود 11:19
اب سیاق کلام ان لوگوں کی طرف رخ کرتا ہے جن لوگوں کا زعم یہ ہے کہ حضور نعوذ باللہ اپنی جانب سے اس قرآن کو پیش کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ اور رسول اللہ دونوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہ لوگ اب قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں موجود ہیں اور ایسے افتراء پردازوں کا مقدمہ اللہ کے ہاں پیش ہے۔ چاہے ان لوگوں کی تکذیب یہ ہو کہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے منزل ہے یا نہیں یا یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ اور لوگوں کو شریک کرتے ہوں ، یا یہ لوگ اللہ کے ساتھ دوسرے انسانی خداؤں کو اللہ کے اقتدار اعلیٰ میں شریک ٹھہراتے ہوں۔ آیات عام ہیں تاکہ سب قسم کے افتراء پرداز اس کے مدلول میں شامل ہوجائیں۔ غرض ان لوگوں کو قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے ، ان کی تشہیر ہو رہی ہے ، انہیں شرمندہ کیا جا رہا ہے ، سر عام۔ اسی منظر میں دوسری جانب مومنین ہیں جو مطمئن کھڑے ہیں اور ان کے لیے ان کے رب کی طرف سے انعامات منتظر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں قسم کے لوگوں کا تقابل اس طرح پیش فرماتا ہے۔ ایک طرف اندھے اور بہرے ہیں اور دوسری جانب سننے اور دیکھنے والے ہیں : وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأشْهَادُ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ (18) الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُمْ بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ (19) أُولَئِكَ لَمْ يَكُونُوا مُعْجِزِينَ فِي الأرْضِ وَمَا كَانَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ يُضَاعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ مَا كَانُوا يَسْتَطِيعُونَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوا يُبْصِرُونَ (20) أُولَئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنْفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَا كَانُوا يَفْتَرُونَ (21) لا جَرَمَ أَنَّهُمْ فِي الآخِرَةِ هُمُ الأخْسَرُونَ (22)إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَخْبَتُوا إِلَى رَبِّهِمْ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (23) مَثَلُ الْفَرِيقَيْنِ كَالأعْمَى وَالأصَمِّ وَالْبَصِيرِ وَالسَّمِيعِ هَلْ يَسْتَوِيَانِ مَثَلا أَفَلا تَذَكَّرُونَ (24) " اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے ؟ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سنو ! خدا کی لعنت ہے ظالموں پر . ان ظالموں پر جو خدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں ، اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں ، اور آخرت کا انکار کرتے ہیں۔ وہ زمین میں اللہ کو بےبس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلہ میں کوئی ان کا حامی تھا۔ انہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ وہ نہ کسی کی سن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا۔ ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے رب ہی کے ہو کر رہے ، تو یقیناً وہ جنتی لوگ ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سننے والا ، کیا یہ دونوں یکساں ہوسکتے ہیں ؟ کیا تم (اس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے ؟ "
جھوٹا باندھنا تو بذات خود ایک بڑا جرم ہے ، اور جس پر افترا باندھا جائے یہ اس پر ایک عظیم ظلم ہے۔ لیکن اگر یہ افترا ذات باری پر باندھا جائے تو یہ ایک عظیم جرم ہے ، اور نہایت ہی خطناک جسارت ہے۔ اس لیے کہ أُولَئِكَ يُعْرَضُونَ عَلَى رَبِّهِمْ وَيَقُولُ الأشْهَادُ هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ ۔ ایسے لوگ اپنے رب کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔
کس پر جھوٹ ؟ اپنے رب پر جھوٹ ، کسی اور پر نہیں۔ اس منظر میں ان جیسے لوگوں کو اچھی طرح شرمندہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد اس شرمناک جرم کی سزا کے طور پر ان پر لعنت اور ملامت وارد ہوتی ہے۔
اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ " سنو خدا کی لعنت ہے ظالموں پر " اور گواہ بھی یہ شہادت دے دیں گے۔ یہ گواہ کون لوگ ہوں گے ، ملائکہ ، رسول ، اور اہل ایمان یہ تمام مخلوق خدا سب کی سب گواہ بن جائے گی۔ یہ نہایت ہی بڑی شرمندگی اور سر عام ملامت ہوگی ، مجمع عام ہوگا اور اس کے سامنے ان کو اس شرمندگی سے دوچار ہونا ہوگا۔
اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَي الظّٰلِمِيْنَ " سنو خدا کی لعنت ہے ظالموں پر "۔ ظالموں سے مشرکین مراد ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ پر افتراء باندھتے ہیں تاکہ عوام الناس کو اللہ کی راہ سے روکیں اور یبغونھا عوجا " ان کے راستے کو کجی کرنا چاہتے ہیں " وہ نہ درستگی چاہتے ہیں اور نہ راہ راست کو پسند کرتے ہیں۔ وہ ہر معاملے میں ٹیڑھ ، پہلو تہی اور انحراف کے عاشق ہیں ، چاہے وہ راستے پر جا رہے ہوں ، چاہے وہ زندگی گزارنے کی کوئی حالت ہو یا کوئی اور معاملہ درپیش ہو۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ " اور وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں " ھُم کے لفظ کو دو بار اس لیے لایا گیا ہے کہ اس سے حصر اور تاکید مقصود ہے اور یہ بتانا مطلوب ہے کہ یہ انکار ان کے رگ و پے میں بسا ہوا ہے اور وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ یہ ان کی علامت ہو۔ وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں وہی ظالم کہلاتے ہیں وہ جب اسلام کے صراط مستقیم اور سواء السبیل سے پھرتے ہیں تو ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کے پورے نظام کو ٹیڑھا کردیتا ہے اور انسان کی سوچ کے دھارے پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔
اللہ تو چاہتا ہے کہ انسان راہ مستقیم پر گامزن ہوکر شرف کے مقام تک پہنچ جائے ، جبکہ غیر اللہ کی غلامی نفس انسانی کے اندر ذلت پیدا کردیت ہے اور اس کے نتیجے میں سوسائٹی کے اندر ظلم اور تجاوز پرورش پاتا ہے حالانکہ اللہ کا منشا یہ ہے کہ ہر سوسائٹی میں عدل و انصاف قائم ہو۔ اور لوگوں کی جدوجہد کا رخ اس فضول مقصد کے حصول کی طرف مڑجاتا ہے کہ وہ اہل زمین کو اپنا رب اور الہ بنانا چاہتے ہیں اور انسانوں کے ارد گرد ناچتے اور ڈھول پیٹتے ہیں اور ان کو اس قدر بڑھاتے چڑھاتے ہیں کہ یہ انسان حقیقی رب کی جگہ لے لیں حالانکہ یہ بونے اور حقیر لوگ جو خود مخلوق ہیں ، خالق حقیقی کے خلا کو کس طرح بھر سکتے ہیں۔ ان ارضی ارباب کے یہ حقیر اور بونے بندے رات دن کوشش کرتے ہیں کہ ان جھوٹے خداؤں کی خدائی قائم ہو ، یہ لوگ ان تھک جد و جہد کرتے ہیں۔ وہ ہر وقت ان ارضی بتوں کو روشن رکھتے ہیں اور ان کی شخصیات کی طرف لوگوں کو متوجہ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے ارد گرد اور ان کے تکیوں اور آستانوں پر میلے اور ڈھول دھمکاتے برپا رکھتے ہیں اور گانے بجانے اور دوسری دلچسپیوں کے ذریعے ان کی تعریف اور تسبیح بھی کرتے رہتے ہیں لیکن ان تمام دلچسپیوں اور ان تمام انتھک مساعی کے نتیجے میں انسان کے لیے کوئی بھی مفید نتیجہ نہیں نکلتا۔ اس سے زیادہ انسانیت کی بدبختی اور کیا ہوگی کہ انسان کی پوری زندگی کی جدوجہد یوں اکارت جائے۔
هود 11:20
(اولئک) یہ لوگ جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اور جو اللہ کے نزدیک قابل ملامت اور لعنت ہیں۔
اُولٰۗىِٕكَ لَمْ يَكُوْنُوْا مُعْجِزِيْنَ فِي الْاَرْضِ " ان کی یہ تمام تدبیریں اللہ کو عاجز کرنے والی نہیں ہیں۔ لہذا اللہ جس وقت بھی چاہے ان پر اپنا عذاب نازل کرسکتا ہے اور خود اس دنیا میں بھی "
وَمَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِيَاۗءَ " نہ اللہ کے مقابلے میں ان کا کوئی حامی تھا " جو ان کو اللہ سے بچا سکتا یا اللہ کے مقابلے میں ان کی نصرت کرسکتا۔ لیکن اللہ نے ان لوگوں کو اخروی عذاب کے لیے یہاں مہلت دے دی ہے تاکہ وہاں ان کو دنیا اور آخرت دونوں کا عذاب دیا جائے۔
يُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ " انہیں اب دہرا عذاب دیا جائے گا " اس لیے کہ انہوں نے دنیا میں اپنی ان صلاحیتوں سے کام نہ لیا جن کے ذریعے وہ حقیقت کا ادراک کرسکتے تھے۔ انہوں نے زبردستی اپنی آنکھوں کو بند رکھا۔ وہ اس طرح تھے جیسے وہ نہ سن سکتے ہوں اور نہ دیکھ سکتے ہوں۔
مَا كَانُوْا يَسْتَطِيْعُوْنَ السَّمْعَ وَمَا كَانُوْا يُبْصِرُوْنَ " وہ نہ کسی کی سن سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سوجھتا تھا "
هود 11:21
اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَهُمْ " یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا " یہ بہت ہی عظیم اور تباہ کن خسارہ ہے ، اس لیے کہ اس کاروبار میں جو شخص خسارہ اٹھائے کوئی دوسرا شخص اس کی امداد نہیں کرسکتا۔ اس قسم کے لوگوں نے خسارہ اٹھا کر اپنی دنیا میں بھی ضائع کردی ، یہاں انہوں نے اپنے انسانی شرف کو بھی گنوایا۔ کیونکہ انسان کو یہاں شرف صرف اسلامی نظام زندگی کے ذریعے مل سکتا ہے اور انہوں نے آخرت بھی گنوا دی کیونکہ انہوں نے آخرت کا انکار کیا جس کی وجہ سے اخروی عذاب ان کے انتظار میں ہے۔
وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ " اور وہ سب کچھ ان سے کھو گیا جو انہوں نے گھڑ رکھا تھا " دنیا میں انہوں نے جھوٹے خدا بنا رکھے تھے وہ سب غائب۔ اب کوئی بھی کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ سب ناپید اور گم ہوگئے۔
هود 11:22
لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ " ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں گے " اس قدر خسارے میں کہ دنیا و آخرت میں اس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کردیا۔
هود 11:23
اس کے مقابلے میں اہل ایمان ہیں اور وہ لوگ جو ایمان کے بعد عمل صالح بھی رکھتے ہیں ، وہ اپنے رب کی جانب سے بےحد مطمئن ہوں گے ، انہیں پورا وثوق ہوگا کہ ان کے اعمال صالح کا پورا پورا اجر ملے گا۔ نہایت ہی پرسکون ، ہر قسم کی پریشانیوں اور شکو وں سے دور۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاَخْبَتُوْٓا۔ اخبات کے معنی ہیں اطمینان ، استقرار وثوق اور تسلیم و رضا۔ یہ لفظ ایک حقیقی مومن اور اس کے رب کے درمیان پائے جانے والے تعلق کی بہت ہی اچھی تصویر کشی کرتا ہے۔ مومن مکمل طور پر اللہ کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ اس کی طرف سے اس پر جو حالت بھی آتی ہے اس پر مطمئن ہوتا ہے اس کے نفس میں ایک ٹھہراؤ ہوتا ہے ، اس کا دل مطمئن ہوتا ہے اور اسے امن ، قرار اور رضا کی کیفیت مل جاتی ہے۔
اب دونوں پر تبصرہ دیکھیے (اگلی آیت میں)
هود 11:24
یہ ایک حسی تصویر کشی ہے جس کے اندر دونوں فریقوں کو مجسم طور پر پیش کردیا گیا ہے۔ پہلا فریق ایک نابینا کی طرح جو کچھ دیکھ ہی نہیں سکتا ، بہرے کی طرح ہے جو کچھ سن نہیں سکتا۔ جس کے قوائے مدرکہ معطل ہیں اور وہ علی امفاہیم کے ادراک سے عاجز ہے۔ چونکہ اس کے اعضائے مدرکہ کام نہیں کرتے اس لیے وہ گویا ان اعضا ہی سے محروم ہے جبکہ دوسرا فریق ان سے کام لیتا ہے اور سمیع وبصیر ہے اور ان قوتوں سے اس کی عقل استفادہ کرتی ہے۔
اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ۔ آخری میں سوال کیا جاتا ہے کہ کیا یہ دونوں قسم کے لوگ برابر ہوسکتے ہیں ؟ اور اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا جاتا کیونکہ جواب کی ضرورت ہی کیا ہے ؟
بلکہ دوسرا سوال کردیا جاتا ہے کہ کیا تم لوگ اس مثال سے سبق نہیں لیتے اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ ۔ اس لیے کہ بات اس قدر واضح ہے کہ اس پر کسی گہرے غور و فکر کی تو ضرورت ہی نہیں ہے۔
هود 11:25
درس نمبر 100 ایک نظر میں
قصص انبیاء اس سورت کا مرکزی موضوع ہے۔ لیکن ، اصل مقصود بذات خود قصہ نہیں ہے بلکہ اصل مقصود وہ حقیقت ہے جسے ان قصص کے ذریعے ثابت کیا جا رہا ہے اور سورت کے آغاز میں مجملاً اس کا تذکرہ کردیا گیا ہے : الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ (1) أَلا تَعْبُدُوا إِلا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (2) وَأَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُمْ مَتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ (3)إِلَى اللَّهِ مَرْجِعُكُمْ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (4): " ال ر۔ فرمان ہے جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہوتی ہیں ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے۔ کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ میں اس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں ، اور بشارت دینے والا بھی۔ اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدت خاص تک تم کو اچھا سامان زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔ "
سورت کے آغاز میں ان حقائق کے بارے میں متعدد اور مکرر بار تبصرہ ہوچکا ہے۔ زمین اور آسمان کے نظام ، انسانی نفس کی تخلیق اور حشر کے میدان کے مکالموں کے ذریعے ان حقائق کو ذہن نشین کرانے کی کوشش کی گئی تھی۔ اب یہاں کرہ ارض کے اطراف و اکناف میں بسنے والے انسانوں اور ان کی تاریخ کے حوالے سے ان حقائق کو پیش کیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام اور جاہلیت کی یہ کشمکش ایک تاریخی کشمکش ہے۔ اور ابتدائے آفرینش سے یونہی چلی آرہی ہے۔
یہ قصص اس سورت میں قدرے تفصیل سے آئے ہیں ، خصوصاً حضرت نوح کا قصہ طوفان۔ اس میں وہی نظریاتی کشمکش ہے جس کا سورت کے آغاز میں ذکر ہوا۔ اور وہی حقائق اس میں موضوع جدال ہیں جن کو لے کر ہر دور میں ہر رسول آیا ہے۔ گویا موجود مکذبین بھی وہی ہیں جو حضرت نوح سے ادھر تکذیب کرتے آئے ہیں۔ ان کا مزاج ایک ہے ، ان کی سوچ ایک جیسی ہے اور پوری تاریخ انسانی میں جس طرح رسولوں کی دعوت ایک ہے ، مکذبین کا جواب بھی ایک ہے۔ اس سورت کے قصے تاریخی ترتیب کے مطابق ہیں۔ آغاز حضرت نوح سے ہوتا ہے ، پھر حضرت ہود ، پھر حضرت صالح ، کچھ اشارہ حضرت ابراہیم کی طرف اور پھر بحث حضرت لوط کی طرف چلی جاتی ہے ، پھر حضرت شعیب اور پھر حضرت موسیٰ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بات آگے بڑھ جاتی ہے اور تاریخی ترتیب کو اس لیے یہاں بحال رکھا ہے کہ مقصد پچھلوں کو اگلوں کے انجام بد سے ڈرانا ہے اور یہ بتانا ہے کہ پوری انسانی تاریخ کا طرز عمل ایک جیسا ہے۔
قصہ نوح تاریخی اعتبار سے بھی مقدم ہے ، سورت میں بھی مقدم ہے تو لیجییے قصہ نوح علیہ السلام۔
۔۔۔
درس نمبر 100 تشریح آیات 25 تا 49
۔۔۔
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ۔ اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ ۭ اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ : (اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ (اس نے کہا) " میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں۔ کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا۔
یہ وہی الفاظ ہیں جو آغاز سورت میں حضرت محمد ﷺ کی بعثت اور آپ کے پیغام کے بارے میں کہے گئے ہیں کہ یہ کتاب ہے جس کی آیات پختہ ہیں اور مفصل ہیں اور ایک حکیم اور خبردار ذات کی طرف سے ہیں اور میں اس کی طرف سے نذیر اور بشیر ہوں۔ دعوت کے مفہوم اور مقصد کو ایک ہی جیسے الفاظ میں ادا کرنے سے یہ ثابت کرنا مطلوب ہے کہ تمام انبیاء کا مشن اور ان کی دعوت ایک ہی رہی ہے۔ ان کے نظریات ایک ہی رہے ہیں ، اسی وجہ سے انداز تعبیر بھی ایک ہی جیسا اختیار کیا گیا ہے ، یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ یہاں حضرت نوح کے اپنے الفاظ کو نقل نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کے مفہوم کو عربی میں ادا کیا گیا ہے اور یہی راجح مذہب ہے کیونکہ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ حضرت نوح کی زبان کیا تھی ؟
وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰي قَوْمِهٖٓ ۡ اِنِّىْ لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ: " (اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح کو اس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔ (اس نے کہا) " میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں "۔
یہاں متن قرآن میں لفظ " اس نے کہا " نہیں لایا گیا۔ ایک تو اس لیے کہ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ گویا حضرت نوح ہمارے سامنے کھڑے ہیں اور ایک زندہ اور چلتا پھرتا منظر ہمارے سامنے ہے اور آپ تقریر فرما رہے ہیں اور ہم سن رہے ہیں۔ اس لیے ماضی کا بیانی اور حکایتی انداز اختیار نہیں کیا گیا۔ دوسرے یہ کہ یہاں فریضہ رسالت کو نہایت ہی مختصر الفاظ میں اور مخصتر مفہوم میں بتا دیا گیا ہے کہ " میں تم کو صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں " یہ انداز سامعین کے وجدان میں مقاصد رسالت کو اچھی طرح ذہن نشین کردیتا ہے "
هود 11:26
اَنْ لَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّا اللّٰهَ " کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو "۔ یہ اہداف رسالت کا تعین ہے کہ پیغمبر تمہارے سامنے صرف یہ ابتدائی حقیقت پیش کرتا ہے اور اگر اسے تسلیم نہ کیا گیا تو عذاب الہی آنے کا اندیشہ ہے۔
اِنِّىْٓ اَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ اَلِيْمٍ " ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا "۔ رسالت اور ڈراوے کی یہ اساسی حقیقتیں ہیں کہ میں تمہیں اس ہلاکت سے ڈراتا ہوں ، اور بس اور ان ہی مختصر کلمات میں رسالت کے تمام اہداف کو مختصراً قلم بند کردیا جتا ہے۔
يَوْمٍ اَلِيْمٍ ۔ دن دردناک نہیں ہے۔ الیم سے مراد مولم ہے۔ الیم بمعنی مالوم ہے۔ در اصل اس دن لوگ مالوم ہوں گے۔ لیکن زیادہ مبالغے کے لیے یہ انداز تعبیر اختیار کیا گیا ہے کہ اس دن وقت بھی درد کو محسوس کرے گا۔ دن بھی اس روز کے شدائد کو محسوس کرے گا۔ اس سے لوگوں کے حالات کا انداز کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر دردناک ہوں گے۔
هود 11:27
یہ ہے اونچے طبقات کے مستکبرین کا جواب ، جو کسی بھی سوسائٹی کے صدر نشین ہوتے ہیں۔ اور یہی جواب حضور ﷺ کو بھی آپ کی قوم قریش کے مستکبرین نے دیا تھا۔ وہ بھی کہتے تھے ، ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان سمجھتے ہیں اور ہماری قوم کے کم درجے کے لوگوں نے بغیر سوچے تمہاری دعوت کو قبول کرلیا ہے اس لیے کہ عوام الناس گہری سوچ نہ رکھتے۔ آخر تمہیں ہم پر کیا فوقیت حاصل ہے۔ اس لیے ہم تمہیں جھوٹا سمجھتے ہین۔
وہی شبہات ، وہی الزامات ، وہی تکبر و غرور ، اور وہی جہالت اور کم فہمی جو قوم نوح نے اختیار کی اور یہ لوگ بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔
انسانوں میں ہمیشہ یہ جہالت پائی جاتی رہی ہے کہ انسان حامل رسالت نہیں ہوسکتا اور اگر کسی انسان کو منصب رسالت عطا ہوسکتا ہے تو پھر یہ منصب کسی بادشاہ یا اس سے بھی کسی برتر مخلوق کو دیا جانا چاہئے۔ یہ ایک نہایت ہی جاہلانہ اور احمقانہ تصور ہے کہ وہ انسان جسے اللہ نے اس کرہ ارض پر خلافت عطا کی ، اور جس کو خلافت ارضی کی بھاری ذمہ داری سپرد کی گئی ہے وہ منصب رسالت کا اہل نہیں ہے کیونکہ مصب خلافت ارضی بھی تو ایک عظیم منصب ہے ، اور ظاہر ہے کہ انسان کے اندر اللہ نے ایسی صلاحیتیں ودیعت کی ہوں گی جن کے ذریعے وہ اسے ادا کرسکے۔ لہذا اللہ تعالیٰ جنس انسانی میں سے بعض افراد کو اس سے بھی بڑی صلاحیت عطا کرسکتا ہے کہ وہ اس کے ذریعے منصب رسالت کی ذمہ داریاں ادا کرسکے اور اپنی مخلوق میں سے اللہ جسے چاہے یہ ذمہ داریاں عطا کردے۔ کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اس نے کس ذات کے اندر یہ صلاحیت رکھی ہے تاکہ اس کے اندر یہ منصب بھی رکھ دے۔
دوسری غلط فہمی انسانوں کو ہمیشہ یہ لاحق رہی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو یہ منصب عطا بھی کرتا ہے تو یہ منصب ان بڑوں اور مالداروں کا حق ہے ، کیونکہ وہ پہلے سے اپنی قوم پر مسلط ہیں اور ایک بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔ یہ درحقیقت ان اقدار سے لا علمی ہے جو اللہ نے اس مخلوق انسانی کے لیے محترم گردانی ہیں اور جن کی وجہ سے انسان خلافت ارضی کا مستحق ہوا ہے اور پھر ان میں سے مزید اونچے مرتبے والے لوگ منصب رسالت کے اہل گردانے گئے ہیں۔ ان اقدار کا تعلق مال اور مرتبے اور زمین پر قوت سے نہٰں ہے۔ ان کا تعلق نفس انسانی سے ہے اور یہ کہ کوئی نفس آیا اپنے اندر وہ مخصوص قوت رکھتا ہے جو عالم بالا سے رابطہ رکھ سکے۔ اس رابطے کے لیے مال و دولت اور عزت مرتبے کی نہیں بلکہ خاص روحانی قوتوں اور صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو اس امانت کبری اور منصب دعوت اور اقدار کو قبول کرنے کی استعداد رکھتی ہوں۔ اور اس راہ میں مشکلات پر صبر کرنے کی صلاحیت بھی اس میں ہو۔ یعنی وہ صفات جو منصب نبوت کے لیے ضروری ہوں۔ ان صفات کا تعلق مال اور جاہ سے نہیں ہے اور نہ سوشل مقام و مرتبے سے ہے۔
لیکن اس کے برعکس حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے اونچے طبقات کا خیال یہ تھا جیسا کہ ہر سوسائٹی کے اونچے طبقات یہ خیال رکھتے ہیں کیونکہ وہ اپنے اونچے مرتبے کی وجہ سے اندھے ہوجاتے ہیں اور مقام نبوت کے ادراک سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کوئی بشر نبی نہیں ہوسکتا اور اگر ہوسکتا ہے ، تو پھر اس مقام کے وہ حقدار ہیں۔
مَا نَرٰىكَ اِلَّا بَشَرًا مِّثْلَنَا " ہماری نظر میں تو تم ہم جیسے انسان ہو " ایک تو یہ بات ہے اور دوسری یہ ہے کہ وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ " اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس ان لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے ، بےسوچے سمجھے تمہاری پیروری اختیار کی ہے "
یہ لوگ غریبوں کو " اراذل " کے لفظ سے یاد کرتے ہیں اور ہمیشہ مستکبرین ان لوگوں کو رذیل سمجھتے ہیں جن کو دولت و اقتدار نصیب نہیں ہوتا۔ حالانکہ رسولوں اور اسلامی تحریکات میں ہمیشہ غریب اور سلیم الفطرت لوگ ہی سب سے پہلے دلچسپی لیتے ہیں اور اونچے لوگوں کے مقابلے میں وہ سچائی کو جلدی قبول کرتے ہیں۔ ان کے دل رب واحد کے ساتھ زیادہ جڑے ہوتے ہیں۔ جو بلند اور قاہر ہے۔ اس لیے کہ مالداری ، عیاشی اور سرکشی نے ان کی فطرت کو بگاڑا نہیں ہوتا۔ اس لیے ان کے ہاں قبولیت حق کی راہ میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں۔ غریب لوگوں کو یہ ڈر نہیں ہوتا کہ اسلام قبول کرکے وہ اس چرائے ہوئے مقام کو گنوا دیں گے جو جمہور لوگوں کی غفلت اور نادانی کی وجہ سے انہوں نے حاصل کرلیا ہوتا ہے اور جمہور عوام کو بت پرستی اور شاہ پرستی میں مبتلا کردیا ہوتا ہے اور سب سے بڑی بت پرستی تو یہ ہوتی ہے کہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر اپنے جیسے لوگوں کو بڑا بنا کر اور انہیں زمین کا اقتدار دے کر ان کا اتباع اور پرستش کریں۔ تمام رسولوں کی دعوت تو در اصل عوام الناس کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی سے آزادی کی دعوت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے اس دعوت کا مقابلہ سوسائٹی کے اکابر کرتے ہیں ، اور جمہور عوام کو بھی یہ دعوت دی جاتی ہے کہ اسے قبول نہ کیا جائے اور وہ پیغمبر کی دعوت کو للکارتے ہیں ، ان پر الزامات عائد کرتے ہیں اور لوگوں کو اس سے متنفر کرتے ہیں۔
ذرا ان لوگوں کے الفاظ پر تو غور کرو " ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس ان لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذ تھے ، بےسوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کرلی ہے " ہم انہوں نے تمہاری دعوت پر غور و فکر نہیں کیا ہے۔ یہ ہے وہ الزام جو ہر دور میں سوسائٹی کے بلند اور با اثر طبقات اہل ایمان کی خلاف عائد کرتے ہیں ، یہ کہ یہ لوگ بھولے بھالے ہوتے ہیں اور ان میں غور و فکر نہیں ہوتا۔ اور بڑے لوگوں کے لیے یہ موزوں نہیں ہے کہ وہ عوام الناس کے پیچھے چلیں۔ اب چونکہ یہ مومن ہوگئے ہیں اس لیے ہم کیسے مومن ہو سکتے ہیں کیونکہ بڑے لوگ چھوٹے لوگوں کے ایمان اور دعوت کا اتباع کیسے کرسکتے ہیں۔
وَمَا نَرٰي لَكُمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلٍ " اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو " اب یہ لوگ داعی اور متبعین دونوں کے خلاف ایک ہی تبصرہ کرتے ہیں ، کہ اہل ایمان کو ہمارے اوپر کوئی برتر حاصل نہیں ہے کہ تم لوگ زیادہ ہدایت یافتہ سمجھے جاؤ، یا تم لوگ ہمارے مقابلے میں زیادہ سچائی کے قریب ہو۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی تو ہم تم سے پہلے ہوتے۔ غرض وہ ہدایت کو بھی دنیا پرستی پر قیاس کرتے ہیں کہ دنیا پرستی کے معاملے میں ہم سے کوئی آگے نہیں ہے تو دین کے معاملے میں کیسے آگے ہوگیا۔ کیونکہ ہم معاملات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ہمارے پاس اقتدار ہے۔ لہذا اہل ثروت اور اہل اقتدار ہی افضل ہوسکتے ہیں۔ اور زیادہ سمجھدار ہوسکتے ہیں۔ جب کسی معاشرے سے عقیدہ توحید غائب ہوجاتا ہے تو اس معاشرے کی ذہنیت وہ بن جاتی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا۔ جب بھی عقیدہ توحید ختم ہوا ، لوگ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے اور انہوں نے مختلف پہلوؤں سے بت پرستی اختیار کرلی۔ اگرچہ بظاہر ایسا معاشرہ نہایت سلجھا ہوا اور ترقی یافتہ نظر آتا ہے لیکن در حقیقت یہ پوری انسانیت کی پسماندگی ہوتی ہے۔ کیونکہ ایسی سوسائٹی ان اقدار کی تحقیر کرتی ہے جن اقدار کی وجہ سے انسان ، انسان بنتا ہے۔ اور انہی کی وجہ سے انسان خلافت ارضی کا مستحق ٹھہرا ہے اور انہی کی وجہ سے انسان کو عالم بالا سے منصب نبوت عطا ہوا۔ یہی وہ تصورات ہیں جن کی بنا پر انسان عالم بالا سے دور ہو کر خالص حیوانیت اور مادیت اور جسمانیت کے قریب چلا جاتا ہے۔
بَلْ نَظُنُّكُمْ كٰذِبِيْنَ " بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں " یہ وہ آخری الزام ہے جو وہ رسول اور آپ کے متبعین کے سر تھوپتے ہیں۔ لیکن اس میں بھی وہ اپنی مستکبرانہ شان سے بات کرتے ہیں کہ " ہم یہ سمجھتے ہیں ہمیں یہ گمان ہے " یہ محتاط انداز گفتگو ہے جسے یہ مالدار طقبہ اپنایا کرتا ہے۔ کیونکہ ان کے خیال میں ہر بات پر یقین کرلینا اور دو ٹوک بات کرنا ایک عامی بات ہے اور سطحی رائے والے نادان لوگ فوراً یقین کرلیتے ہیں۔ یہ تو بڑے لوگ ہیں جو مفکرانہ انداز میں تحفظ کے ساتھ بات کرتے ہیں۔
یہ ہے مزاج ان لوگوں کا جو مالدار ہوتے ہیں ، جو فارغ البارلی کی زندگی بسر کرتے ہیں ، جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور جن کی گردنیں موٹی اور پیٹ پھولے ہوئے ہوتے ہیں۔
هود 11:28
حضرت نوح ان الزامات ، اس سرکشی اور استکبار کو نہایت ہی خوش اخلاقی کے ساتھ برداشت کرتے ہیں۔ وہ یقین ، ثابت قدمی اور نہایت ہی ٹھنڈے انداز میں اس سچائی کو ان کے سامنے پیش کرتے ہیں جو اللہ نے ان پر نازل کی ہے۔ وہ نہایت ہی وضاحت سے بات کرتے ہیں ، نہایت ہی سلجھے ہوئے انداز میں گہرے شعور اور یقین کے ساتھ ان سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ وہ ان کی زبان میں بات نہیں کرتے ، وہ الزام کا جواب الزام سے نہیں دیتے۔ وہ ایسا دعویٰ نہیں کرتے جو وہ کرتے ہیں۔ وہ اپنے بارے میں حقیقی تاثر کے بجائے کوئی مبالغہ آمیز تصور نہیں دیتے۔ وہ اپنی رسالت اور منصب رسالت کے بارے میں ان کے سامنے نہایت ہی حقیقی بات کرتے ہیں۔
قَالَ يٰقَوْمِ " اے برادران قوم " کس قدر مہذب ، پرخلوص داعیانی خطاب ہے ! ان کی نسبت اپنی طرف اور اپنی نسبت ان کی طرف۔ آپ فرماتے ہیں کہ تم اعتراض یہ کرتے ہو کہ میں تمہاری جیسا ایک آدمی ہی ہوں تو بظاہر تمہاری تو درست ہے لیکن اگر میرا میرے رب کے ساتھ پیغمبرانہ اتصال ہو تو ذرا سوچو تمہاری اس رائے کے نتائج تمہارے لیے کس قدر خطرناک ہوسکتے ہیں۔ میں تو واضح طور پر اپنے رب کے ساتھ رابطہ رکھتا ہوں۔ اور مجھے اس کا شعور بھی ہے اور یہ ایک ایسی خصوصیت ہے جس سے تم لوگ محروم ہو۔ اللہ نے مجھے اپنا رسول ہونے کا منصب دیا ہے اور یہ اس کی جانب سے میرے لیے رحمت ہے یا مجھے ایسے خصائص عطا کیے جن کی بنا پر میں اس رحمت الہی کا حامل ہوگیا ہوں اور یہ بیشک ایک عظیم رحمت ہے۔ تم اس پوزیشن پر بھی ذرا غور کرلو کہ اگر مجھ پر یہ رحمت ہو۔ اور تم اس کو سمجھ نہ پا رہے ہو ، کیونکہ تم عقل کے اس قدر کورے ہو کہ اس عظیم حقیقت کے ادراک ہی سے محروم ہو۔ تم اس کو دیکھ نہیں سکتے ہو تو ہمارے پاس اب اور کیا ذریعہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو زبردستی تمہارے ذہن میں ڈال دیں۔ نہ میں ایسا کرسکتا ہوں اور نہ ایسا کرنا میرے فرائض میں شامل ہے۔ خصوصاً جب کہ تم اس کے تسلیم کرنے کو ناپسند کرتے ہو۔ جب نفرت کی خلیج حائل تو تم سمجھ ہی کب سکتے ہو۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نہایت پیار کے ساتھ ان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ فرماتے ہیں اور ان کے احساس کو تیش فرماتے ہیں تاکہ وہ ان بلند حقائق کو سمجھنے کی سعی کریں۔ اور رسالت کے بارے میں وہ جس غلط فہمی اور غفلت کا شکار ہیں اس سے باہر نکل آئیں۔ ان کو حضرت نوح (علیہ السلام) یہ حقیقت سمجھانے کی کو ششش کرتے ہیں کہ رسالت کا معاملہ اس قدر سطحی نہیں ہے جس قدر وہ اسے سمجھ رہے ہیں۔ لیکن حضرت نوح اپنے اس نرم کلام میں ان کو یہ عظیم اصول بتا رہے ہیں کہ عقیدے کا معاملہ خالص کسی شخص کی سمجھ پر موقوف ہے اور کسی عقیدے کا اختیار ایک شخص کے ذاتی غور و فکر پر منحصر ہے۔ اس باب میں کسی پر کوئی زبردستی نہیں کی جاسکتی اور نہ کسی پر کوئی عقیدہ ٹھونسا جاسکتا ہے۔ خواہ کوئی جس قدر جبر اور تشدد چاہے ، اختیار کرلے۔
هود 11:29
اے برادران قوم " جن لوگوں کو تم رذیل کہتے ہو یہ تو وہ لوگ ہیں جنہیں میں نے دعوت دی اور انہوں نے میری دعوت قبول کرلی اور ایمان لے آئے اور میرا مطالبہ لوگوں سے فقط یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئیں۔ اس کے سوا میرا ان پر کوئی حق نہیں ہے۔ میں جو دعوت دے رہا ہوں ، اس کے عوض میں ان سے کوئی معاضہ طلب کرنے کا حقدار نہیں ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو میں فقراء کے مقابلے میں امراء کے درپے ہوجاتا۔ میرے نزدیک تمام لوگ برابر ہیں ، فقیر ہوں کہ امیر۔ جو شخص لوگوں کی دولت میں دلچسپی نہیں رکھتا اس کے نزدیک فقراء اور امراء ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔
اِنْ اَجْرِيَ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ " میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے " صرف اللہ کے ذمہ ، اس کے سوا کسی اور سے میں کسی قسم کے معاوضے کا طلبگار ہی نہیں۔
وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا " اور میں ان لوگوں کو دھکے دینے والا بھی نہیں ، جو ایمان لائے ہیں " اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید انہوں نے ایسا کوئی مطالبہ کیا تھا یا ایسے اشارات دیے تھے کہ وہ ان عوام الناس کے ساتھ اکٹھے نہیں بیٹھ سکتے۔ اگر ان کو دور کردیا جائے تو وہ ایمان لانے پر غور کرسکتے ہیں کیونکہ وہ مجلس نوح میں ان رذیل لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے۔ نہ وہ یہ برداشت کرسکتے ہیں کہ ہم جیسے بڑے لوگ ان رذیلوں کے طریقے پر چلیں۔ میں ان لوگوں کو دھکے دینے والا نہیں۔ یعنی مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا وہ تو ایمان لے آئے ہیں۔ اب وہ جانیں اور ان کا رب جانے۔
اِنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ " وہ آپ ہی اپنے رب کے حضور جانے والے ہیں "
وَلٰكِنِّيْٓ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْـهَلُوْنَ " مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو " یعنی تم ان اقدار کو نہیں سمجھ سکتے جن کے ساتھ اللہ کے ترازو میں لوگ تولے جاتے ہیں۔ اور تم اس حقیقت کو بھی نہیں سمجھتے کہ سب لوگوں کو اللہ کی طرف لوٹنا ہے۔
هود 11:30
اللہ موجود ہے ، وہ فقراء کا بھی رب ہے اور اغنیاء کا بھی رب ہے۔ ضعیفوں کا بھی والی ہے اور طاقتوروں کو بھی سہارا دینے والا ہے۔ اللہ کے ہاں جو اقدار وزن رکھتی ہیں وہ اور ہیں۔ وہاں ایک ہی ترازو ہے ، ترازوئے ایمان باللہ۔ لہذا یہ لوگ جو ایمان لا چکے ہیں ، اب اپنے رب کی حفاظت میں ہیں
وَيٰقَوْمِ مَنْ يَّنْصُرُنِيْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ طَرَدْتُّهُمْ " اور اے قوم ، اگر میں ان لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا ؟ " جب میں نے اللہ کی قائم کردہ اقدار کو پامال کردیا۔ اور اللہ کے ان بندوں پر زیادتی شروع کردی جو ایمان لے آئے ہیں اور دعوت قبول کرلی۔ یہ لوگ تو اللہ کے ہاں معزز ہیں۔ اس صورت میں تو میں در اصل تمہاری اقدار کو قائم کرنے والا بن جاؤں گا حالانکہ اللہ نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہی اس لیے ہے کہ ان کھوٹی قدروں کو بدل کر رکھ دوں ، اس لیے نہیں کہ میں خود ان کی پیروی کروں۔
اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ " تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی سی بات نہیں آتی "۔ تم جن اقدار کی پیروی کر رہے ہو ، وہ کھوٹی ہیں اور انہوں نے تمہیں فطری اقدار بھلا دی ہیں۔
هود 11:31
اس کے بعد حضرت نوح (علیہ السلام) ان کے سامنے اپنی شخصیت اور رسالت کی حقیقت نہایت ہی واضح طور پر رکھتے ہیں۔ بالکل سادہ اور غیر مصنوعی حقائق کی شکل میں۔ رسول کی شخصیت اور منصب رسالت کو دنیا کی کھوٹی قدروں سے بالکل الگ کر کے پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ حقیقت کو سمجھ سکیں اور یہ جان سکیں کہ اللہ کے ہاں حقیقی قدریں کیا ہیں تاکہ ان کے سامنے دنیا کی ظاہری قدریں الگ ہوجائیں اور حقیقی قدریں صاف اور ستھری ہوکر واضح ہوجائیں تاکہ رسول اور رسالت اپنی اصلی شکل میں ، بغیر کسی ملمع کاری کے ان کے سامنے ہوں چاہے وہ قبول کریں یا نہ کریں۔ چناچہ کہا جاتا ہے :
وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ : " اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں " اس لیے میں نہ دولت مندی کا دعوی کرتا ہوں اور نہ یہ قدرت رکھتا ہوں کہ تمہیں دولت مند بنا دوں۔
وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ : " نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں "۔ تاکہ میں کسی ایسی قوت کا دعوی کروں جو عام انسانوں کے پاس نہیں ہے ، ماسوائے تعلق رسالت کے۔
وَلَآ اَقُوْلُ اِنِّىْ مَلَكٌ: " نہ میرا دعوی ہے کہ میں فرشتہ ہوں "۔ تاکہ میں عام انسانوں کے مقابلے میں کسی بلند تر جھوٹی صفت کا دعوی کروں اور تمہاری نظروں میں ، میں بلند تر ہوجاؤں اور اپنی قیادت اور سیادت تم سے منوا سکوں۔
وَّلَآ اَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ تَزْدَرِيْٓ اَعْيُنُكُمْ لَنْ يُّؤْتِيَهُمُ اللّٰهُ خَيْرًا : " اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں ، انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی "۔ تاکہ اس طرح میں سوسائٹی کے ان مستکبرین کو راضی کرسکوں یا اس طرح میں تمہاری دنیاوی سطحی اقدار اور عارضی رسومات کے ساتھ ہاں میں ہاں ملاؤں۔
اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ : " ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے " ان لوگوں کی حقیقت کا حال بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ میں ان کے ساتھ ان کے ظاہری حالات کے مطابق ہی اچھا معاملہ کرسکتا ہوں اور ان کا ظاہری حال اس بات کا مستحق ہے کہ میں ان کی قدر کروں اور یہ امید رکھوں کہ اللہ ان کا انجام اچھا کرے گا۔
اِنِّىْٓ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِيْنَ : " اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہوں گا "۔ اگر مذکورہ بالا دعوں میں سے کوئی دعوی بھی میں نے کیا۔ اس صورت میں ، گویا میں سچائی کے ساتھ ظلم کروں گا حالانکہ مجھے حکم یہ دیا گیا ہے کہ میں سچائی کی تبلیغ کروں اور میں اپنے آپ کو غضب الٰہی کا مستحق ٹھہرا کر خود اپنے اوپر بھی ظلم کروں گا اور لوگوں کے ساتھ بھی ظلم کروں گا کیونکہ میں ان کو وہ مقام دوں گا جو انہیں اللہ نے نہیں دیا ہے۔
اس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) اپنی ذات اور اپنے منصب رسالت سے ان جھوٹی اقدار کو جھاڑ دیتے ہیں جو ان کی قوم نے تصور رسول اور تصور رسالت کے ساتھ وابستہ کر رکھی تھیں۔ اور اپنی قوم کے سامنے رسول اور رسالت کو اپنے حقیقی روپ میں پیش فرماتے ہیں اور ان تمام سطحی اور جعلی تصورات سے ان حقائق کو پاک کرکے پیش فرماتے ہیں کیونکہ کسی بھی حقیقت کو مصنوعی رنگ و روغن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ سچائی کو اپنے حقیقی روپ میں اپنی حقیقی قوت کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور نہایت ہی محبت بھری اپیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں تاکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوں اور اگر ان کی قسمت میں کچھ لکھا ہے تو اپنا حصہ وصول کرلیں۔ غرض حضرت نوح کی دعوت میں نہ ہیر پھیر ہے ، نہ کوئی کھوٹ ہے ، نہ کوئی بناوٹ ہے ، نہ کسی حقیقی قدر قدر کی قربانی ہے۔ سیدھی سادی بات اپنے حقیقی روپ میں وہ پیش فرماتے ہیں۔ آپ اللہ کے سوا کسی اور کی رضامندی نہیں چاہتے اور پوری انسانی تاریخ کو دعوت پیش کرنے کا ایک نمونہ دیتے ہیں کہ سچائی کو اپنے حقیقی روپ میں پیش کرو ، بغیر کسی ہیر پھیر کے ، بغیر اس کے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی رضامندی مطلوب ہو۔ البتہ نہایت ہی ترغیبی اسلوب میں ہو۔
هود 11:32
اب اس مقام پر قوم نوح ، صداقتِ نوح ، دلائلِ نوح اور اسلوبِ نوح کے مقابلے سے عاجز آجاتی ہے۔ چناچہ وہ ضد پر اتر آتے ہیں اور محبت اور دلیل کا جواب استکبار اور ہٹ دھرمی سے دیتے ہیں اور اب بحث و مباحثہ اور غور و فکر کی راہ کو ترک کرکے وہ چیلنج دینے پر اتر آتے ہیں۔
آخر کار ان لوگوں نے کہا کہ " اے نوح ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کرلیا۔ اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو ، اگر سچے ہو۔
یہ ایک انوکھا انداز ہے ، عاجزی نے قوت کا لباس پہن رکھا ہے۔ ضعیفی توانائی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ در حقیقت یہ لوگ ڈرتے تو ہیں لیکن زبان سے انکار کرکے نیز چیلنج کے الفاظ کا سہارا دے کر بہادری کا جھوٹا مظاہرہ کرتے ہیں۔
فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ : " اب تو بس وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو ، اگر سچے ہو۔ "۔ وہ دردناک عذاب جس سے تم ہمیں ڈراتے رہے ہو اب ہم پر نازل کردو ، ہم تو کسی صورت میں تصدیق کرنے والے نہیں ہیں اور ہم تمہارے ڈراوے کی اب کوئی پروا نہیں کرتے۔
هود 11:33
اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح کا رد عمل کیا ہے ؟ یہ تکذیب اور یہ معاندانہ چیلنج ان کو ایک دینی اور رسول کریم کے جادہ مستقیم سے نہیں ہٹا سکتا۔ وہ حق اور صداقت کی تبلیغ سے ہاتھ نہیں کھینچ لیتے۔ وہ مسلسل ان کے سامنے وہ سچائی پیش کرتے چلے جاتے ہیں ، بھلایا ہوا سبق یاد کراتے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا رویہ بہت ہی جاہلانہ ہے اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لے آئیے وہ عذاب ! آپ ان کو یہ جواب دیتے ہیں کہ بھائیو ! میں تو فقط رسول ہوں اور میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ پیغام تم تک پہنچا دوں۔ رہا عذاب الہی تو وہ امر الہی کے تابع ہے اور تمام امور کی تدبیر تو اللہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اللہ کرتا ہے کہ عذاب جلدی لے آئے یا اسے کسی وقت تک موخر کردے۔ یہ اس کی سنت کے مطابق آئے گا اور سنت الہیہ میں کبھی تخلف نہیں ہوتا۔ ایک نبی نہ تو سنت الہیہ میں تبدیلی کرسکتا ہے اور نہ اس کا رخ پھر سکتا ہے۔ رسول کا فریضہ اور ذمہ داری فقط یہ ہے کہ وہ آخری لمحے تک تبلیغ کرتا رہے۔ لوگوں کی جانب سے تکذیب اور روگردانی اور چیلنج کی وجہ سے رسول کبھی اپنا کام نہیں چھوڑتا۔
اگر سنت الہی کا تقاضا یہ ہوا کہ تم اپنی گمراہی کی وجہ سے ہلاک ہوجاؤ تو یہ سنت تم پر جاری ہوکر رہے گی ، چاہے جس قدر جدوجہد کروں ، اس لیے نہیں کہ اللہ تمہیں میری نصیحت سے استفادہ کرنے سے روکتے ہیں ، بلکہ اس لیے کہ تم اپنے اختیار تمیزی کو اس طرح استعمال کر رہے ہو کہ سنت الہی کے مطابق تم اس انجام تک پہنچ جاؤگے۔ اور اس سلسلے میں تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے ہو۔ تم تو دائماً اس کے قبضہ قدرت میں ہو ، اللہ ہی تدبیر امور کرتا ہے۔ اور تقصیرات کا تعین کرتا ہے۔ تم سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ حساب و کتاب دینا ہے اور جزاء و سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔
هُوَ رَبُّكُمْ ۣ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ " وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے "
۔۔۔
هود 11:34
اب ذرا دیکھئے کہ حضرت نوح کا رد عمل کیا ہے ؟ یہ تکذیب اور یہ معاندانہ چیلنج ان کو ایک دینی اور رسول کریم کے جادہ مستقیم سے نہیں ہٹا سکتا۔ وہ حق اور صداقت کی تبلیغ سے ہاتھ نہیں کھینچ لیتے۔ وہ مسلسل ان کے سامنے وہ سچائی پیش کرتے چلے جاتے ہیں ، بھلایا ہوا سبق یاد کراتے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا رویہ بہت ہی جاہلانہ ہے اور وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ لے آئیے وہ عذاب ! آپ ان کو یہ جواب دیتے ہیں کہ بھائیو ! میں تو فقط رسول ہوں اور میری ذمہ داری صرف یہ ہے کہ پیغام تم تک پہنچا دوں۔ رہا عذاب الہی تو وہ امر الہی کے تابع ہے اور تمام امور کی تدبیر تو اللہ کرتا ہے۔ یہ فیصلہ اللہ کرتا ہے کہ عذاب جلدی لے آئے یا اسے کسی وقت تک موخر کردے۔ یہ اس کی سنت کے مطابق آئے گا اور سنت الہیہ میں کبھی تخلف نہیں ہوتا۔ ایک نبی نہ تو سنت الہیہ میں تبدیلی کرسکتا ہے اور نہ اس کا رخ پھر سکتا ہے۔ رسول کا فریضہ اور ذمہ داری فقط یہ ہے کہ وہ آخری لمحے تک تبلیغ کرتا رہے۔ لوگوں کی جانب سے تکذیب اور روگردانی اور چیلنج کی وجہ سے رسول کبھی اپنا کام نہیں چھوڑتا۔
اگر سنت الہی کا تقاضا یہ ہوا کہ تم اپنی گمراہی کی وجہ سے ہلاک ہوجاؤ تو یہ سنت تم پر جاری ہوکر رہے گی ، چاہے جس قدر جدوجہد کروں ، اس لیے نہیں کہ اللہ تمہیں میری نصیحت سے استفادہ کرنے سے روکتے ہیں ، بلکہ اس لیے کہ تم اپنے اختیار تمیزی کو اس طرح استعمال کر رہے ہو کہ سنت الہی کے مطابق تم اس انجام تک پہنچ جاؤگے۔ اور اس سلسلے میں تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے ہو۔ تم تو دائماً اس کے قبضہ قدرت میں ہو ، اللہ ہی تدبیر امور کرتا ہے۔ اور تقصیرات کا تعین کرتا ہے۔ تم سب نے اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ حساب و کتاب دینا ہے اور جزاء و سزا کا مستحق قرار پاتا ہے۔
هُوَ رَبُّكُمْ ۣ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ " وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم کو پلٹنا ہے "
۔۔۔
هود 11:35
قصے کے اس مرحلے پر روئے سخن اچانک پلٹا ہے۔ اب ایک بات قریش مکہ اور مشرکین مکہ کی طرف بھی ، کیونکہ ان کی حالت بھی ایسی ہی تھی جیسے حضرت نوح کی قوم کی تھی۔ ان کا دعوی یہ ہے کہ حضرت محمد یہ قصے اپنی جانب سے گھڑتے ہیں ، تو درمیان میں اچانک بات کاٹ کر ان کے اس اعتراض کا جواب دے دیا جاتا ہے اور بعد میں قصہ پھر شروع ہوجاتا ہے۔
۔۔۔۔
افتراء پردازی بیشک ایک بڑا جرم ہے۔ اے پیغمبر ان سے کہہ دیں سے کہہ دیں کہ اگر میں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے تو اس کا گناہ مجھ پر ہے۔ جب مجھے معلوم ہے کہ یہ بہت بڑا جرم ہے تو میں کیسے اس کا ارتکاب کرسکتا ہوں اور تم جو مجرمانہ تہمت مجھ پر لگا رہے ہو تو میں اس سے بھی بری الذمہ ہوں ، نیز اس کے علاوہ تم جن دوسرے جرائم کا ارتکاب کر رہے ہو ، یعنی شرک اور تکذیب اس سے بھی۔
یہ جملہ معترضہ سیاق قصہ میں برا نہیں لگتا اس لیے کہ سیاق قصہ کی غرض وغایت بھی تو یہی ہے جس کی اس جملے میں تصریح کردی گئی۔
هود 11:36
اب قصہ نوح دوبارہ شروع ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح اب اپنے رب کی طرف سے ہدایات پاتے ہیں اور احکام الہی یوں وارد ہیں :
وَاُوْحِيَ اِلٰي نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ يُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ : " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ "
جو دل ایمان لانے کے لیے آمادہ تھے وہ ایمان لاچکے ، جو رہ گئے ان کے اندر ایمان لانے کی استعداد باقی نہیں رہی ہے۔ نہ وہ اس طرف کوئی رجحان رکھتے ہیں۔ یہ تھی اللہ کی جانب سے حضرت نوح کو آخری اطلاع اور یہ اللہ کی جانب سے تھی اور اللہ تو علیم ہے۔ لہذا اب دعوتی مہم جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہ رہا۔ اور کہہ دیا گیا کہ اب ان کی جانب سے کفر تکذیب اور خندہ و استہزاء کی کوئی پروا نہ کرو۔
فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ : " ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑ دو " آپ اپنی ناکامی پر رنج و الم محسوس کرنا چھوڑ دیں۔ اور یہ لوگ جو کرتے رہے ، اور جو کر رہے ہیں اس کی کوئی پروا نہ کریں۔ خود اپنی فکر نہ کریں وہ آپ کو کچھ بھی تکلیف نہیں پہنچا سکتے۔ اور نہ ان کے لیے حسرت کریں کیونکہ ان سے خبر کی کوئی توقع نہیں ہے۔ لہذا ان کا معاملہ یہاں ختم کردیجئے۔
هود 11:37
وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا : " اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو "۔ ہماری مرضی اور ہدایات کے مطابق۔
وَلَا تُخَاطِبْنِيْ فِي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ : " اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں "
ان کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے اور ان کا انجام اب متعین ہوچکا ہے۔ لہذا اب آپ ایسے لوگوں کے بارے میں مجھ سے بات نہ کریں۔ نہ ان کی ہدایات کے لیے دعاٗ کریں اور نہ ہی بد دعا کیونکہ دوسری جگہ قرآن مجید میں یہ ٓیا ہے کہ حضرت نوح نے ان کے خلاف بد دعا فرمائی۔ لہذا یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ مایوسی اس کے بعد تھی۔ جب فیصلہ ہوچکا تو اللہ کے ساتھ خطاب ممنوع ہوگیا
هود 11:38
اب ایک تیسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے ہیں۔
وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ، حالیہ فعل کو فعل مضارع کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے کلام میں نہایت ہی سنجیدگی اور سرگرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ اب ہم اپنی تصوراتی دنیا میں گم ہو کر دیکھ رہے ہیں کہ حضرت نوح کشتی بنا رہے ہیں۔ اور ان کی قوم کے لوگ گروہ در گروہ ان کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ اور مذاق کر رہے ہیں۔ یہ مذاق کس کے ساتھ کر رہے ہیں اس شخص کے ساتھ جو ان سے کہتا تھا کہ وہ رسول رب العالمین ہے۔ ان کو دعوت دیتا تھا۔ ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کر رہا تھا اور یہ مکالمہ ایک طویل عرصے تک جار رہا تھا۔ لیکن یہ پیغمبر اب بڑھئی کا کام کر رہے ہیں۔ اور یہ لوگ مذاق اس لیے کرتے تھے کہ یہ صرف ظاہری امور کو دیکھ سکتے تھے۔ اس فعل کے پیچھے جو اللہ کے احکامات و ہدایات تھیں ، وہ ان کی نظروں سے اوجھل تھیں۔ وہ تو مویشیوں کی طرح صرف ظاہری امور کو دیکھ رہے تھے۔ ظاہری حالات کے پس پشت جو حکمت ربانی اور جو تقدیر الہی کام کر رہی تھی وہ پردے میں تھی۔ رہے نوح (علیہ السلام) تو وہ پوری طرح مطمئن تھے۔ اللہ کا جو فرمان ہے وہ ہو کر رہے گا۔ وہ ان کے مذاق کے مقابلے میں نہایت ہی اطمینان ، سربلندی اور بڑی شان سے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ وہ کہتے جاتے : اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ " اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں "۔ ہم تمہارے ساتھ اس لیے مذاق کر رہے ہیں کہ تم معاملات و واقعات کے پس منظر سے نابلد ہو۔ اللہ کی تقدیر تمہارے انتظار میں ہے۔ اور تمہارا انجام سامنے آنے والا ہے۔
فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔
عنقریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کردے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی۔ سوچ لو کہ اس عذاب کے مستحق ہم ہوں گے یا تم۔ ذرا پردہ گرنے کا انتظار کرو۔
هود 11:39
اب ایک تیسرا منظر سامنے آتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے ہیں۔
وَيَصْنَعُ الْفُلْكَ ۔ ذرا انداز کلام ملاحظہ ہو ، حالیہ فعل کو فعل مضارع کے ساتھ بیان کیا جا رہا ہے۔ اس سے کلام میں نہایت ہی سنجیدگی اور سرگرمی پیدا ہوجاتی ہے۔ اب ہم اپنی تصوراتی دنیا میں گم ہو کر دیکھ رہے ہیں کہ حضرت نوح کشتی بنا رہے ہیں۔ اور ان کی قوم کے لوگ گروہ در گروہ ان کے پاس سے گزر رہے ہیں۔ اور مذاق کر رہے ہیں۔ یہ مذاق کس کے ساتھ کر رہے ہیں اس شخص کے ساتھ جو ان سے کہتا تھا کہ وہ رسول رب العالمین ہے۔ ان کو دعوت دیتا تھا۔ ان کے ساتھ بحث و مباحثہ کر رہا تھا اور یہ مکالمہ ایک طویل عرصے تک جار رہا تھا۔ لیکن یہ پیغمبر اب بڑھئی کا کام کر رہے ہیں۔ اور یہ لوگ مذاق اس لیے کرتے تھے کہ یہ صرف ظاہری امور کو دیکھ سکتے تھے۔ اس فعل کے پیچھے جو اللہ کے احکامات و ہدایات تھیں ، وہ ان کی نظروں سے اوجھل تھیں۔ وہ تو مویشیوں کی طرح صرف ظاہری امور کو دیکھ رہے تھے۔ ظاہری حالات کے پس پشت جو حکمت ربانی اور جو تقدیر الہی کام کر رہی تھی وہ پردے میں تھی۔ رہے نوح (علیہ السلام) تو وہ پوری طرح مطمئن تھے۔ اللہ کا جو فرمان ہے وہ ہو کر رہے گا۔ وہ ان کے مذاق کے مقابلے میں نہایت ہی اطمینان ، سربلندی اور بڑی شان سے اپنے کام میں لگے ہوئے تھے۔ وہ کہتے جاتے : اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَ " اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں "۔ ہم تمہارے ساتھ اس لیے مذاق کر رہے ہیں کہ تم معاملات و واقعات کے پس منظر سے نابلد ہو۔ اللہ کی تقدیر تمہارے انتظار میں ہے۔ اور تمہارا انجام سامنے آنے والا ہے۔
فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۙ مَنْ يَّاْتِيْهِ عَذَابٌ يُّخْزِيْهِ وَيَحِلُّ عَلَيْهِ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ۔
عنقریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کردے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی۔ سوچ لو کہ اس عذاب کے مستحق ہم ہوں گے یا تم۔ ذرا پردہ گرنے کا انتظار کرو۔
هود 11:40
اور جب مقررہ وقت آجاتا ہے۔ وہ لمحہ جس کا انتظار تھا تو پھر اس کا منظر کچھ اس طرح ہے :
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ نوح نے کہا سوار ہوجاؤ اس میں ، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اسکا ٹھہرنا بھی ، میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔
یہ تنور کس طرح جوش میں آیا ؟ بعض اقوال ایسے ہیں جو تخیلات پر مبنی ہونے کی وجہ سے بہت دور کے نظر آتے ہیں اور بعض کے اندر اسرائیلیات کی بو آتی ہے۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم بغیر کسی راہنمائی کے غیر آباد وادیوں میں گھومنے کے قائل نہیں۔ کیونکہ قرآن کریم جو خبریں دیتا ہے وہ عالم الغیب کی خبریں ہیں اور اس سلسلے میں اسی حد پر جا کر رک جانا چاہیے ، جس کی تصریح قرآن کریم کرتا ہے اور مدلول نص پر مزید کوئی حاشیہ آرائی نہیں کرنا چاہیے۔
زیادہ سے زیادہ ہم جو کچھ کہہ سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ تنور سے فوارہ چھوٹنا ، خصوصاً چلتے ہوئے تنور سے ، یوں ہوسکتا ہے کہ تنور سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑے یا اس کے اندر آتش فشانی کا عمل شروع ہوجائے اور یہ کہ یہ حضرت نوح کے لیے عذاب الہی اور خطرے کی آخری گھنٹی کے طور پر اللہ نے مقرر کیا تھا یا اللہ کے عذاب کی آمد کا یہ ایک حصہ تھا۔ اور بیک وقت زمین سے پانی ابلنا شروع ہوگیا اور آسمان سے موسلا دھار بارش برسنا شروع ہوگئی۔
جب یہ واقعات شروع ہوئے تو اللہ نے حکم دیا کہ :
قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ : " ہم نے کہا ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو "۔ عملی نظام کا تقاضا یہ تھا کہ حضرت نوح کو ہر مرحلے کے لیے اپنے وقت پر احکام دیے جائیں۔ پہلے کہا کہ تم کشتی بناؤ تو وہ بنانے لگ گئے اور وہاں سیاق کلام میں یہ نہ بتا دیا گیا کہ یہ حکم کیوں دیا جا رہا ہے اور یہ بھی نہ کیا گیا کہ خود حضرت نوح کو اس کی اطلاع کردی گئی ہے۔
حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءَ اَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّوْرُ : " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو "۔ اور اس کے بعد دوسرے مرحلے کے لیے حکم دیا گیا :
قُلْنَا احْمِلْ فِيْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ : ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں
اب زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ کے مفہوم میں بھی مفسرین کا اختلاف ہے۔ اور ان میں بھی زیادہ تر اختلاف ذوق ہے اور اسرائیلی رنگ ہے۔ اس لیے ہم اس آیت کے بارے میں بھی خیالی گھوڑے نہیں دوڑاتے کہ نوح نے کس قدر زندہ چیزوں کے جوڑے اپنے ساتھ لیے اور کن کے نہ لیے۔ یہ محض اندھیروں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والی بات ہے۔
وَاَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ اٰمَنَ : اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ یعنی وہ لوگ جو سنت الہی کے مطابق مستحق عذاب ہوچکے ہیں۔
وَمَنْ اٰمَنَ " اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے " یعنی تمہارے اہل و عیال کے علاوہ جو لوگ ایمان لائے ہیں۔
وَمَآ اٰمَنَ مَعَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلٌ: " اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے۔
یوں اللہ کا حکم نافذ ہوا اور جن کو ہلاک ہونا تھا ، وہ ہلاک ہوئے۔
هود 11:41
بِسْمِ اللّٰهِ مَجْــرٖ۩ىهَا کا مفہوم یہ ہے کہ اب یہ کشتی اللہ کی مشیت کے حوالے ہے۔ اس کا چلنا پانی کے اوپر اور پھر کسی مقام پر ٹھہرنا اللہ کے قوانین مشیت کے مطابق ہے۔ جب ناقابل کنٹرول لہریں اٹھتی ہیں تو ان میں انسان کی قوت کے حدود ختم ہوجاتے ہیں اور انسان اور کشتی طوفان کے حوالے ہوجاتے ہیں ، پھر اللہ غفور و رحیم ہی فیصلے کرتا ہے۔
اب (اگلی آیات میں) جو منظر آ رہا ہے وہ نہایت ہی خوفناک ہے یعنی طوفان اور کافروں کا غرق ہونا۔
هود 11:42
یہاں دو خوف باہم ملتے ہیں : ایک خاموش طبیعت کا خوف اور ایک نفس بشری کا خوف۔
وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ " کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی "
ایسے خوفناک حالات حضرت نوح دیکھتے ہیں کہ ان کے بچوں میں سے ایک ان سے دور بھاگا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار نہیں ہو رہا۔ یہاں باپ کی خوبیدہ پدری شفقت جاگ اٹھتی ہے اور اس گمراہ بیٹے کو وہ پکار اٹھتے ہیں۔
وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ وَكَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : " نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ "۔
لیکن یہ نافرمان بیٹا اپنے شفیق باپ کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ یہ نوجوان اور مغرور ہے ، یہ اندازہ نہیں کرپاتا کہ طوفان کس قدر شدید ہے اور کہتا ہے :
قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ : " اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ "
لیکن شفیق باپ تو جانتے ہیں کہ یہ عذاب کس قدر ہولناک ہے اور وہ آخری اپیل کرتے ہیں : قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ : " نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ "
اللہ کے عذاب کو نہ پہاڑ ٹال سکتے ہیں اور نہ غاروں میں کوئی اس سے چھپ سکتا ہے۔ نہ اس کے مقابلے میں کوئی حامی ہے اور نہ کوئی بچا سکتا ہے۔ صرف وہی بچ سکتا ہے جس پر اللہ کا رحم ہوجائے۔
وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ : " اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا "۔ ہزارہا سال گزر چکے ہیں ، آج بھی جب ہم اس ہولناک صورت حالات کا تصور کرتے ہیں۔ تو ہماری سانس رک جاتی ہے اور ہم پر اس قدر ہیبت طاری ہوجاتی ہے کہ گویا یہ منظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان ڈول رہی ہے۔ حضرت نوح بار بار اپنے بیٹے کو پکارتے ہیں اور ان کا مغرور بیٹا انکار کرتا جاتا ہے اور پہاڑ پر چڑھتا جاتا ہے۔ اچانک ایک عظیم پہاڑ جیسی موج آتی ہے اور چشم زدن میں قسہ تمام ہوجاتا ہے۔ سب کام ختم ہوجاتا ہے اب نہ پکار ہے اور نہ انکار ہے۔
اس خوفناک فضا کا تصور دو پہلوؤں سے کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو یہ پہلو ہے کہ والد اور بیٹے کے درمیان ایک حقیقی اور زندہ تعلق ہوتا ہے۔ اور دوسرا پہلو انسان کا طبعی مزاج ہے کہ طوفان پہاڑوں اور وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد اب خود انسان کے بچوں کو لپیٹ میں لے رہا ہے۔ یہ دونوں قسم کے جذبات انسان کی شخصیت کے اندر موجود ہوتے ہیں اور قرآن کریم نے ان کی خوب تصویر کشی کی ہے۔
هود 11:43
یہاں دو خوف باہم ملتے ہیں : ایک خاموش طبیعت کا خوف اور ایک نفس بشری کا خوف۔
وَهِىَ تَجْرِيْ بِهِمْ فِيْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ " کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی "
ایسے خوفناک حالات حضرت نوح دیکھتے ہیں کہ ان کے بچوں میں سے ایک ان سے دور بھاگا جا رہا ہے اور ان کے ساتھ کشتی میں سوار نہیں ہو رہا۔ یہاں باپ کی خوبیدہ پدری شفقت جاگ اٹھتی ہے اور اس گمراہ بیٹے کو وہ پکار اٹھتے ہیں۔
وَنَادٰي نُوْحُۨ ابْنَهٗ وَكَانَ فِيْ مَعْزِلٍ يّٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَلَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِيْنَ : " نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ "۔
لیکن یہ نافرمان بیٹا اپنے شفیق باپ کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ یہ نوجوان اور مغرور ہے ، یہ اندازہ نہیں کرپاتا کہ طوفان کس قدر شدید ہے اور کہتا ہے :
قَالَ سَاٰوِيْٓ اِلٰي جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ مِنَ الْمَاۗءِ : " اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ "
لیکن شفیق باپ تو جانتے ہیں کہ یہ عذاب کس قدر ہولناک ہے اور وہ آخری اپیل کرتے ہیں : قَالَ لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ : " نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ "
اللہ کے عذاب کو نہ پہاڑ ٹال سکتے ہیں اور نہ غاروں میں کوئی اس سے چھپ سکتا ہے۔ نہ اس کے مقابلے میں کوئی حامی ہے اور نہ کوئی بچا سکتا ہے۔ صرف وہی بچ سکتا ہے جس پر اللہ کا رحم ہوجائے۔
وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِيْنَ : " اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا "۔ ہزارہا سال گزر چکے ہیں ، آج بھی جب ہم اس ہولناک صورت حالات کا تصور کرتے ہیں۔ تو ہماری سانس رک جاتی ہے اور ہم پر اس قدر ہیبت طاری ہوجاتی ہے کہ گویا یہ منظر ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ کشتی پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان ڈول رہی ہے۔ حضرت نوح بار بار اپنے بیٹے کو پکارتے ہیں اور ان کا مغرور بیٹا انکار کرتا جاتا ہے اور پہاڑ پر چڑھتا جاتا ہے۔ اچانک ایک عظیم پہاڑ جیسی موج آتی ہے اور چشم زدن میں قسہ تمام ہوجاتا ہے۔ سب کام ختم ہوجاتا ہے اب نہ پکار ہے اور نہ انکار ہے۔
اس خوفناک فضا کا تصور دو پہلوؤں سے کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو یہ پہلو ہے کہ والد اور بیٹے کے درمیان ایک حقیقی اور زندہ تعلق ہوتا ہے۔ اور دوسرا پہلو انسان کا طبعی مزاج ہے کہ طوفان پہاڑوں اور وادیوں کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد اب خود انسان کے بچوں کو لپیٹ میں لے رہا ہے۔ یہ دونوں قسم کے جذبات انسان کی شخصیت کے اندر موجود ہوتے ہیں اور قرآن کریم نے ان کی خوب تصویر کشی کی ہے۔
هود 11:44
اب خطاب زمین و اسمان سے ہے۔ گویا وہ سمجھتے ہیں۔ دونوں تعمیل کرتے ہیں۔ زمین نے پانی کو چوسنا اور نگلنا شروع کردیا اور آسمان نے برسانا چھوڑ دیا۔ پانی زمین کے پیٹ میں چلا گیا اور سطح زمین معمول پر آگئی۔ اللہ نے جو کرنا تھا وہ انجام کو پہنچا اور یہ کشتی جودی پہاڑ پر آ کر رک گئی۔ " اور یہ کہہ دیا گیا کہ دوری ہو ظالموں کی قوم کے لیے " یہ ایک مختصر سا جملہ ہے لیکن نہایت ہی دو ٹوک اور فیصلہ کن انجام کا اظہار کرتا ہے۔ جس کے اندر بہت بڑی گہرائی ہے اور یہ اسلوب اظہار " کہہ دیا گیا " کہنے والے کا نام نہ لیا گیا۔ مطلب یہ کہ اس باب کو اب بند کردیا گیا ہے اور بُعْدًا لِّلْقَوْمِ یعنی اب یہ نیست و نابود ہوگئے ، زندگی سے دور ہوگئے ، اللہ کی رحمت سے بہت دور جا پڑے اور اب وہ عوام کی یاد سے دور ہوگئے اور اقوام کی تاریخ سے ان کو حذف کردیا گیا۔
هود 11:45
جب یہ مصیبت دور ہوجاتی ہے ، خوف کی حالت جاتی رہتی ہے اور کشتی جودی پہاڑ پر آ کر رک جاتی ہے تو اب ایک حقیقی والد کے دل میں درد اٹھتا ہے اور وہ غم زیادہ ہوجاتا ہے۔ اور وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں کہ میرا بیٹا میرے خاندان میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے کہ میرے خاندان والوں کو بچایا جائے گا اور تو بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔ تیرے فیصلے حکمت اور تدبیر پر مبنی ہوتے ہیں۔
حضرت نوح یہ بات اس لیے فرما رہے تھے کہ اللہ نے جو وعدہ کیا ہے اسے پورا فرما دے اور یہ وعدہ آپ کے اہل خاندان کی نجات کی بابت تھا۔ نیز حضرت نوح (علیہ السلام) یہ بھی چاہتے تھے کہ وہ وعدے اور فیصلے کی بابت حکمت دریافت کریں۔
اس سوال کا جواب بہت ہی اہم۔ یہ حقیقت حضرت نوح کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تھی کہ اللہ کے ہاں نیک و بد کا جو معیار ہے اس میں خون اور رشتہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہاں نظریاتی قرابت داری کی اہمیت ہے۔ آپ کا یہ لڑکا مومن نہ تھا لہذا یہ آپ کے خاندان کا فرد نہ رہا۔ آپ تو نبی اور مومن اول ہیں اور یہ جواب نہایت ہی فیصلہ کن اور دو ٹوک انداز میں دیا گیا اور سخت تنبیہی اور باز پرسی کے انداز میں دیا گیا۔
جواب میں ارشاد ہوا : قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ ڶ فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : جواب میں ارشاد ہوا " اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔
دین اسلام کا یہ ایک عظیم اصول ہے۔ وہ سر رشتہ جس تک تمام تاریں پہنچتی ہیں وہ عقیدے کا سر رشتہ ہے۔ اسلام میں ایک فرد اور فرد کے درمیان اصل تعلق عقیدے کا ہے۔ یہاں نسب اور قرابت داری کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔
هود 11:46
قَالَ يٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَيْسَ مِنْ اَهْلِكَ : " اے وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے " وہ آپ سے کٹ چکا ہے اور آپ اس سے کٹ چکے ہیں ، اگرچہ وہ تمہارا حقیقی بیٹا ہے کیونکہ اسلام میں اصل تعلق اور رابطہ نظریاتی رابطہ ہے ، اس کے علاوہ کوئی رابطہ اور قوت جامعہ اسلام میں معتبر نہیں ہے۔
حضرت نوح نے جن حالات میں دعا کی تھی وہ ایسے تھے کہ ان کی دعا منظور نہ ہوئی اس لیے اس کا جو جواب انہیں دیا گیا اس میں قدرے تہدید اور تنبیہ بھی ہے۔
فَلَا تَسْـــَٔـلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ۭ اِنِّىْٓ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : " لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تو میں نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے " میں اس بات سے ڈر کر تمہیں تاکیدی نصیحت کرتا ہوں کہیں تم اسلامی روابط کی حقیقت اور اسلامی اخوت کی ماہیت کے سمجھنے میں غلطی نہ کرجاؤ یا اللہ نے جو وعدہ کیا تھا اس کے سمجھنے میں غلطی نہ کر بیٹھو۔ اللہ کا وعدہ تو پورا ہوچکا ہے اور جو تمہارے اہالی و موالی تھے وہ سب نجات پا چکے ہیں اور یہ حقیقت ہے۔
اس تنبیہ آمیز جواب کو سنتے ہی حضرت نوح کانپ اٹھتے ہیں جس طرح ایک حقیقی مومن اس وقت کانپ اٹھتا ہے جب اسے یہ سوچ آتی ہے کہ بارگاہ الہی میں اس سے کہیں غلطی اور گستاخی نہ ہوجائے۔ چناچہ حضرت نوح فوراً توبہ و استغفار فرماتے ہیں۔
هود 11:47
اللہ کی رحمت نے حضرت نوح کو ڈھانپ لیا ، آپ کا دل مطمئن ہوگیا۔ آپ اور آپ کی نسل اور آپ کے ساتھی نجات پا گئے اور دوسرے لوگ نذر طوفان ہوگئے۔
هود 11:48
معاملہ یہاں ختم ہوجاتا ہے۔ حضرت نوح کو خوشخبری ملتی ہے۔ آپ کے ساتھی مومن نجات پاتے ہیں ، اب ان سے ایک مومن نسل چلتی ہے۔ اور ان میں سے جو لوگ صرف بنیادی ترقی اور دنیاوی سازوسامان چاہتے تھے ان کو عذاب الیم کی خوشخبری دی جاتی ہے اور سورت کے ابتداء میں بھی یہی خوشخبری اور یہی ڈراوا تھا جو لوگوں کو بتایا گیا تھا۔ اور اسی مقصد کے لیے یہ قصص یہاں لائے گئے تھے تاکہ مثالوں اور مناظر پیش کرکے لوگوں کو سمجھایا جائے۔
هود 11:49
آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔
یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :
٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔
٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔
٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔
٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔
٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔
٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔
۔۔۔۔
اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔
البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔
یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔
اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔
یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔
۔۔۔۔
حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔
قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔
اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔
یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔
اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔
یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔
یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں :
انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔
یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔
ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔
لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔
ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں :
علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔
تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔
دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔
تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔
اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔
درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔
یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔
اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ :
ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔
اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں "
حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے "
وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔
وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
هود 11:50
آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔
یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں :
٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔
٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔
٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔
٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔
٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔
٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔
۔۔۔۔
اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔
البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔
یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔
اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔
یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔
۔۔۔۔
حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔
قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔
اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔
یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔
اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔
یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔
یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں :
انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔
یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔
ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔
لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔
ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں :
علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔
تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔
دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔
تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔
اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔
درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔
یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔
اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ :
ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔
اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں "
حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے "
وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔
وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)