Lafzullah

Fi Zilal al-Quran — هود 11:51 – هود 11:123

Author / source: Fi Zilal al-Quran

Contents
  1. هود 11:51
  2. هود 11:52
  3. هود 11:53
  4. هود 11:54
  5. هود 11:55
  6. هود 11:56
  7. هود 11:57
  8. هود 11:58
  9. هود 11:59
  10. هود 11:60
  11. هود 11:61
  12. هود 11:62
  13. هود 11:63
  14. هود 11:64
  15. هود 11:65
  16. هود 11:66
  17. هود 11:67
  18. هود 11:68
  19. هود 11:69
  20. هود 11:70
  21. هود 11:71
  22. هود 11:72
  23. هود 11:73
  24. هود 11:74
  25. هود 11:75
  26. هود 11:76
  27. هود 11:77
  28. هود 11:78
  29. هود 11:79
  30. هود 11:80
  31. هود 11:81
  32. هود 11:82
  33. هود 11:83
  34. هود 11:84
  35. هود 11:85
  36. هود 11:86
  37. هود 11:87
  38. هود 11:88
  39. هود 11:89
  40. هود 11:90
  41. هود 11:91
  42. هود 11:92
  43. هود 11:93
  44. هود 11:94
  45. هود 11:95
  46. هود 11:96
  47. هود 11:97
  48. هود 11:98
  49. هود 11:99
  50. هود 11:100
  51. هود 11:101
  52. هود 11:102
  53. هود 11:103
  54. هود 11:104
  55. هود 11:105
  56. هود 11:106
  57. هود 11:107
  58. هود 11:108
  59. هود 11:109
  60. هود 11:110
  61. هود 11:111
  62. هود 11:112
  63. هود 11:113
  64. هود 11:114
  65. هود 11:115
  66. هود 11:116
  67. هود 11:117
  68. هود 11:118
  69. هود 11:119
  70. هود 11:120
  71. هود 11:121
  72. هود 11:122
  73. هود 11:123

هود 11:51

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

هود 11:52

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

هود 11:53

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

هود 11:54

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

هود 11:55

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

هود 11:56

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

هود 11:57

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

هود 11:58

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

هود 11:59

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

هود 11:60

آغاز سورت کے مقدمے اور پھر ان تمثیلات کے بعد نتیجہ یوں اخذ کیا جاتا ہے : تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ الخ : اے نبی یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو ، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔ یہ آخری تبصرہ یہ بتاتا ہے کہ قرآن مجید میں قصص قرآن لانے کے اہداف و مقاصد کیا ہیں : ٭ یہ کہ وحی منجانب اللہ ہے ، جس کا مشرکین مکہ انکار کرتے تھے اور ان قصص سے وحی کا ثبوت اس طرح ہوتا ہے کہ عربوں یا کسی اور اقوام کے پاس ان نصوص کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ یہ غائبانہ قصے ہیں اور اس سے قبل تمام لوگ جانتے تھے کہ نبی ﷺ کے پاس ان کا کوئی ذریعہ علم نہ تھا۔ یہ حکیم اور خبیر کی طرف سے وحی آرہی تھی۔ ٭ دوسرا مقصد ان قصوں کے لانے سیہ ہے کہ حضرت نوح جو انسانوں کے لیے آدم ثانی ہیں سے لے کر آج تک تمام انبیاء کا نظریہ اور عقیدہ ایک ہی رہا ہے ، تمام انبیاء کا عقیدہ بھی ایک رہا ہے اور الفاظ تعبیر بھی تقریبا ایک ہی رہے ہیں۔ ٭ان قصص سے یہ بتانا مقصود ہے کہ تمام مکذبین کے اعتراضات بھی ایک ہی نوعیت کے رہے ہیں حالانکہ ان کے سامنے آیات و دلائل پیش کیے گئے اور باوجود اس کے کہ پیغمبروں کی تاریخ میں یہ اعتراضات بار بار باطل ثابت ہوچکے ہیں لیکن بار بار انہی کو دہرایا جاتا ہے۔ ٭ یہ حقیقت بتانا کہ رسول کس بات کی خوشخبری دیتے ہیں اور کس سے ڈراتے رہے ہیں اور آج حضرت نبی ﷺ بھی انہی باتوں کے بارے میں بشارت اور ڈراوا دکھاتے ہیں اور یہ تاریخی شہادت ہے حضور اکرم کی سچائی پر ۔ ٭ اور یہ بتانا کہ اس کائنات میں وہ کیا سنت الہیہ ہے جو جاری وساری ہے اور وہ کسی کے ساتھ کوئی رو رعایت نہیں کرتی اور نہ اس میں کسی رشتہ داری کا لحاظ ہوتا ہے اور خلاصہ یہ کہ انجام متقی لوگوں کے لیے ہوتا ہے۔ آخر کار سنت الہی کو کامیاب ہونا ہے۔ ٭ ان روابط کی حقیقت جو ایک فرد اور دوسرے فرد کے درمیان اسلامی نظام میں پائے جائیں گے نیز ایک نسل اور دوسری نسل کے درمیان جو وجود میں آئیں گے یہ ہے کہ وہ صرف اسلامی عقیدہ ہے ، جو تمام مسلمانوں کو بھائی بھائی بنا دیتا ہے ، جن کا الہ ایک ہے اور جن کا رب اور حاکم اللہ وحدہ ہے اور اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کوئی مقابل۔ ۔۔۔۔ اب طوفان نوح کے بارے میں چند سوالان ہیں ؟ پہلا سوال یہ ہے کہ آیا یہ طوفان پورے کرہ ارض پر تھا یا اس علاقے میں آیات تھا جس میں حضرت نوح مبعوث ہوئے تھے۔ یہ زمین کہاں تھی ، قدیم دنیا میں اس کے حدود کیا تھے اور جدید دنیا میں اس کی حدود کہاں تک ہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب محض ظن اور تخمین سے دیا جاتا ہے اور ظن اور تخمین سے یقین اور سچائی کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔ یا پھر ان سوالات کا جواب اسرائیلیات سے ملتا ہے۔ اور اسرائیلیات بذات خود ایک مشکوک ریکارڈ ہے۔ نیز قرآن کریم نے جن مقاصد کے لیے قصے بیان کیے ہیں ان مقاصد کے حوالے سے ان سوالات کے جوابات کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کے نصوص سے یہ اشارات ملتے ہیں کہ حضرت نوح کے زمانے میں تمام آبادی وہی تھی جس کی طرف حضرت نوح کو بھیجا گیا تھا اور حضرت نوح کی قوم جس علاقے میں آباد تھی۔ اس وقت انسانی آبادی اسی علاقے میں تھی اور طوفان نے اس تمام علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں انسان آباد تھے۔ اور اس طوفان کی زد سے وہی لوگ بچے تھے جو کشتی نوح میں سوار تھے۔ یہ عظیم کائناتی حادثہ جس کے بارے میں قرآن کریم نے ہمیں ، اطلاع دی جبکہ قرآن کریم کے واحد مصدقہ دستاویز ہے ، اور یہ عظیم حادثہ ہے بھی زمانہ ماقبل التاریخ کے دور کا۔ اس کے بارے میں انسانی تحریری تاریخ خاموش ہے۔ اس دور میں تو تاریخ کا کوئی ریکارڈ موجود نہ تھا۔ انسانی تاریخ تو دور جدید کی چیز ہے اور پھر تاریخ نے جو ریکارڈ تیار کیا ہے اس میں بھی غلطی کا پوا امکان ہے ، تاریخی واقعہ سچا بھی اور جھوٹا بھی ہوسکتا ہے۔ ان واقعات کو جرح و تعدیل کے عقلی اصول کی کسوٹی پر پرکھا جاسکتا ہے۔ یہ مناسب نہیں ہے کہ اس بارے میں کسی اور ذریعہ سے پوچھا جائے جبکہ ایک سچے خبر دینے والے نے اس بارے میں اطلاع دے دی ہو۔ کیونکہ اگر ہم ایسے واقعات کے بارے میں کسی اور سے پوچھیں گے تو ہم الٹی گنگا بہائیں گے اور اس بات کو کوئی ایسی عقل تسلیم نہ کرے گی جس کے اندر دین کی حقیقت اچھی طرح بیٹھ چکی ہو۔ اس وقت دنیا میں جس قدر اقوام آباد ہیں ، ان کی قدیم ، پیچیدہ اور غیر مصدقہ لٹریچر میں بھی طوفان نوح کا ذکر ملتا ہے۔ ان تذکروں میں یہ کہا گیا ہے کہ قدیم زمانوں میں کسی وقت اس قسم کا ایک طوفان گزر ہے۔ اور یہ عظیم حادثہ ان اقوام کی نافرمانی اور جہالت کی وجہ سے پیش آیا تھا۔ اور بنی اسرائیل کی مرتب کردہ کہانیوں میں جن کو وہ عہد قدیم کے نام سے پکارتے ہیں ، طوفان نوح کا تذکرہ موجود ہے ، لیکن قرآن کریم نے طوفان نوح کے بارے میں جو کچھ کہا اس کے ضمن میں ان اسرائیلی کہانیوں کا تذکرہ موزوں نہیں ہے۔ اور قرآن کریم کی سچی اور صاف کہانیوں کے ساتھ ان مجہول الاصل ، پیچیدہ افسانوں کو نہیں ملانا چاہیے ، جن کی پشت پر کوئی سند نہٰں ہے۔ اگرچہ ان تمام کہانیوں سے ایک حقیقت واضح ہوکر سامنے اتی ہے کہ ان اقوام کی سرزمین پر بھی طوفان آیا تھا یا یہ کہ اس طوفان سے کشتی نوح میں جو لوگ بچ گئے تھے اور ان کی اولاد جہاں جہاں بھی گئی تھی انہوں نے اپنے ساتھ ان یادوں کو سینہ بہ سینہ یہاں سے وہاں تک پھیلایا۔ یوں ان لوگوں نے جہان کے اطراف و اکناف میں پھیل کر زمین کو آباد کیا۔ یہاں یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلینی چاہیے کہ جس دستاویز کو کتاب مقدس کا نام دیا جاتا ہے ، چاہے وہ یہودیوں کی کتابوں پر مشتمل عہد قدیم یا عیسائی لٹریچر پر مشتمل عہد جدید ہو ، ان میں سے کوئی چیز بھی اللہ کی جانب سے نازل شدہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ تورات کا وہ نسخہ جو اللہ نے نازل فرمایا تھا ، اسے اہل بابل نے برباد کرکے اس کے اندر تحریف کردی تھی۔ اس دور میں جب انہوں نے تمام یہودیوں کو غلام بنا کر بابل منقتل کردیا تھا۔ حضرت عیسیٰ کی آمد سے قریبا پانچ صدیاں پہلے تک عہد قدیم کتابی شکل میں بھی دوبارہ مرتب نہ کیا جاسکا۔ اسے عزرا کاہن نے مرتب کیا اور ممکن ہے کہ عزرا حضرت عزیر ہی ہوں انہوں نے تورات کے باقی ماندہ حصوں کو جمع کیا۔ تورات کے علاوہ جو کچھ ہے وہ ان کی تالیف ہے۔ یہی حال اناجیل کا ہے۔ ان میں بھی وہی مضامین مذکور ہیں جو حضرت مسیح کے شاگردوں کے حافظے میں محفوظ رہے تے اور ان کو بھی تقریبا حضرت عیسیٰ کے اٹھائے جانے کے ایک صدی بعد لکھا گیا۔ اس کے بعد بھی ان میں بیشمار قصے کہانیاں اور افسانے جمع کردئیے گئے۔ چناچہ مسلمانوں کو ہدایت یہی ہے کہ وہ ان کتابوں کی کسی چیز کو بھی ہدایت نہ سمجھیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس قصے سے انسان کو کیا نصیحت حاصل ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے لیے اس میں عبرت کے کئی پہلو ہیں۔ صرف ایک ہی عبرت نہیں ہے۔ درج ذیل صفحات میں ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کریں گے اور اس کے بعد پھر حضرت ہود کے قصے کی طرف بات چل نکلے گی۔ ۔۔۔۔ حضرت نوح کے قصے سے ان کی قوم کے جو خدوخال معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ لوگ انتہائی درجے کے جاہل ہیں۔ وہ باطل پر سخت اصرار کرتے ہیں اور حضرت نوح کی خالص دعوت کا مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی دعوت یہ تھی کہ ہمارا خالق اللہ واحد ہے اور تمام انسانوں کا فرض ہے کہ وہ صرف اسی الہ واحد کی غلامی کریں اور اسے اپنا بادشاہ اور حاکم تصور کریں اور اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم نہ سمجھیں۔ قوم نوح حضرت آدم کی اولاد سے تھی اور حضرت آدم کا قصہ اس سے قبل سورت اعراف میں مذکور ہوچکا ہے۔ اسی طرح سورت بقرہ میں بھی اس کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ حضرت ادم کو جنت سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ اس زمین پر فریضہ خلافت ادا کریں اور یہ وہ ذمہ داری ہے جس کی تمام صلاحیتیں اللہ نے حضرت آدم کے اندر پیدا کی ہوئی تھیں۔ حضرت آدم سے جنت میں جو لغزش ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کے لیے ان کو تعلیم دے دی تھی۔ انہوں نے اللہ سے کچھ کلمات سیکھے اور ان کی ادائیگی کے بعد اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اور اس کے بعد اللہ نے ان سے ان کی بیوی سے اور ان کی اولاد سے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی اللہ کی طرف سے ان کے پاس کوئی رسول ہدایت لے کر آئے گا تو وہ اس پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اور یہ کہ وہ شیطان کی پیروی نہ کریں گے کیونکہ شیطان خود ان کا دشمن ہے ، ان کی اولاد کا دشمن ہے اور قیامت تک کے لیے دشمن ہے۔ اب حضرت آدم جنت سے زمین پر ایک مسلمان کی حیثیت میں اترے ، اللہ کی ہدایات کی اطاعت کرتے ہوئے اترے اور اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت آدم نے نسلاً بعد نسل اپنی اولاد کو اسلام کی تعلیم دینے کا انتظام فرمایا ہوگا۔ اور یہ کہ اسلام ہی وہ پہلا اور حقیقی نظریہ حیات ہے جو انسانیت نے سیکھا اور اسے سکھایا گیا۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) کے بالمقابل نہ کوئی دوسری نسل تھی اور نہ کوئی دوسرا عقیدہ تھا۔ اور جب حضرت آدم کے صدیوں بعد حضرت نوح تشریف لائے ، اگرچہ آج ہمارے پاس کوئی ذریعہ علم نہیں ہے کہ حضرت آدم کے کتنے عرصہ بعد حضرت نوح تشریف لائے تو اس عرصے میں آدم کی تمام اولاد نے اسلام کو ترک کرکے جاہلیت کا عقیدہ اختیار کرلیا تھا۔ اور اس جاہلیت کی تفصیلات اس قصے میں قرآن کریم نے دی ہیں۔ تو ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جاہلیت کی موجودہ بت پرستیوں ، دیومالائی کہانیوں ، خرافاتتی عقائد ، بت پرستیوں ، غلط تصورات اور غلط رسم و رواج کو انسان پر اس کے ماحول اور اس کی جاہلیت نے مسلط کی ہے اور انسان پہلے جادہ مستقیم پر تھا اور وہ شیطان لعین کی سعی نا مشکور کی وجہ سے گمراہ ہو کر جاہلیت کا پیرو بنا ہے۔ یہ گمراہی اس پر اس لیے مسلط ہوگئی کہ شیطان کی بیرونی مساعی کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کے اندر اللہ تعالیٰ نے بعض کمزوریاں رکھ دی تھیں اور ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر شیطان نے انسان کو گمراہ کیا جو اللہ کا بھی دشمن ہے اور انسان کا بھی ازلی دشمن ہے اور شیطان انسان ہر اس وقت کامیاب حملہ کرتا ہے۔ جب انسان ہر چھوٹے بڑے معاملے میں اللہ کی ہدایت کو مضبوطی سے پکڑے نہیں رکھتا۔ اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اسے کسی قدر اختیار بھی دیا۔ اور انسان کا یہ اختیار تمیزی ہی اس کے لیے سبب ابتلا ہے۔ اگر وہ اپنے اس اختیار تمیزی کو درست طور پر اختیار کرکے صرف اللہ کی رسی اور ہدایت کو مضبوطی سے پکڑ لے تو اس کے دشمن شیطان کا انسان پر کوئی داؤ نہ چلے گا۔ اور انسان کو یہ اختیار بھی ہے کہ وہ اس ہدایت سے انحراف کرے اگرچہ وہ معمولی انحراف ہو اور جب انسان معمولی سا انحراف کرلے تو شیطان پھر اسے اسلام اور راہ مستقیم سے بہت ہی دور پھینکتا ہے۔ اور آخر کار اسے مکمل طور پر جاہلیت کا پیرو کار بنا دیتا ہے۔ جس طرح حضرت نوح کی قوم نے جاہلیت کو اختیار کیا۔ اور یہ عمل صدیوں کے تغیرات کے بعد مکمل ہوتا ہے جس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ حقیقت کہ اسلام وہ عقیدہ ہے جس سے یہ دنیا سب سے پہلے متعارف ہوئی اور وہ عقیدہ یہ ہے کہ الہہ ، حاکم ، مقتدر اعلی ، اور رب صرف اللہ وحدہ ہے ، ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتی ہے کہ نام نہاد علماء ادیان اور ان کے درمیان تقابلی مطالعہ کرنے والوں کا یہ نظریہ کعقیدہ توحید درحقیقت ترقی کرتے کرتے اپنی موجودہ شکل کو پہنچا ہے اور اس موجود وہ شکل سے پہلے یہ مختلف ادوار سے گزرا ہے۔ محض ایک مفروضہ ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ان لوگوں کے تصورات یہ ہیں کہ پہلے لوگ کئی راہوں کے قائل تھے۔ وہ طبیعی قوتوں وک الہ مانتے تھے ، پھر وہ ارواح کو الٰہ مانتے تھے ، پھر شمس و قمر اور مختلف ستاروں کو الٰہ مانتے تھے۔ ان لوگوں کے نظریات کی حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ پہلے ادیان کو لوگوں کے نفسیاتی ، سیاسی اور ماحول کے حالات سے وابستہ کرتے ہیں۔ اس طرح یہ تو درپردہ ادیان سماوی کا انکار کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہن میں ڈالتے ہیں کہ دینی تصورات بھی مختلف مرحلوں سے گزر کر اپنے موجودہ مقام تک پہنچے ہیں اور ان تبدیلیوں اور ترقی میں زمانے کے ماحول کا دخل ہے۔ اس طرح یہ لوگ در اصل وحی الہی ، منصب رسالت کا انکار کرکے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ تمام ادیان اور ان کے بنیادی تصورات بھی انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں اور انسانی فکر کا شاخسانہ ہیں۔ اب ذرا ان لوگوں کے طرز عمل کا جائزہ لیجئے جو ادیان سماوی کے بارے میں لکھتے ہیں اور جو ان مغربی اہل علم سے متاثر ہوتے ہیں چناچہ یہ لوگ اسی لغزش میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہ مستشرقین کے وضع کردہ طریقے کے مطابق تحقیقات کرتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر اس غلطی میں پڑجاتے ہیں۔ جس میں ان کے اساتذہ مشتشرقین مبتلا ہوئے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان مصنفین اپنے زعم میں اسلام کی مدافعت کر رہے ہوتے ہیں اور اسلام کے حامی ہوتے ہیں لیکن درحقیقت یہ لوگ اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں اور اسلام کے ان اصل نظریات اور اعتقادات کی نفی کرتے ہیں جن کا اثبات پورے قرآن مجید میں کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت کے ساتھ اور نہایت دو ٹوک الفاظ میں اس عقیدے کو ثابت کرتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) مکمل اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد سے لے کر جنت سے زمین پر اترے تھے اور پھر صدیوں بعد حضرت نوح نے اولاد آدم کو اسی اسلام کی طرف دعوت دی جنہیں شیطان نے گمراہ کرکے بت پرستی میں مبتلا کردیا تھا۔ یہ عقائد و نظریات مکمل توحید پر مبنی تھے۔ اور حضرت نوح کے بعد دوبارہ یہ شیطانی چکر چلا اور اس نے پھر لوگوں کو جاہلیت کی طرف لوٹا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے رسول آتے رہے اور انسانیت وک پکڑ پکڑ کر پھر جادہ مستقیم پر ڈالتے رہے۔ اور توحید مطلق پر مبنی نظریہ حیات انہیں عطا کرتے رہے اور یہ بات بالکل غلط ہے کہ کتب سماوی کے اندر مذکور صحیح اعتقادات کے اندر کسی قسم کی تبدیلی یا ترقی ہوئی ہے۔ البتہ اگر کوئی ترقی اور تبدیلی ہوئی ہے تو وہ ان قانونی نظاموں میں ہوئی ہے جو مختلف اوقات میں اسلامی نظریہ حیات پر قائم ہوئے۔ اگر جاہلیت کے عقائد میں سے کسی عقیدے میں تغیر اور ترقی ہوئی ہے تو اس سے یہ بات کس طرح ثابت ہوتی ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں بھی ارتقاء کا عمل ہوا ہے۔ اور جاہلیت کے عقائد میں بھی اگر کوئی ارتقائی عمل ہوا ہے تو وہ بھی اسلام کے حقیقی عقیدہ توحید کے اثرات کی وجہ سے ہوا ہے ، جو وقتاً فوقتاً نسلوں پر اثر انداز ہوتا ہے ہے باوجود اس کے کہ بعد کی نسلیں عقیدہ توحید سے منحرف ہوتی رہی ہیں لیکن وہ تدریجاً عقیدہ توحید کے قریب آتی رہی ہیں۔ رہا عقیدہ توحید اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تاریخ کا قدیم ترین عقیدہ ہے اور یہ تمام بت پرستانہ عقائد سے پہلے موجود تھا۔ جب سے حضرت آدم نے اسے پیش کیا ہے۔ اسی وقت سے یہ ہمیشہ اپنی اصل شکل میں موجود رہا ہے۔ اس لیے کہ عقیدہ توحید انسانی دماغ کا ایجاد کردہ نہیں ہے بلکہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ جب سے انسان کو اللہ نے پیدا کیا ہے اور اسے عقیدہ توحید سکھایا ہے اسی وقت سے یہ عقیدہ موجود ہے اور اسی وقت سے اپنی اس شکل میں موجود ہے۔ یہ سچائی ہے اللہ کی طرف سے آئی ہے اور پہلے ہی دن سے اپنی مکمل شکل میں ہے۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کو قرآن ایک اٹل حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے اور اسی حقیقت پر پورا اسلامی تصور حیات قائم ہے ، اس لیے کوئی مسلم محقق خصوصا وہ شخص جو اسلام کی مدافعت میں قلم اٹھاتا ہے ، اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور نہ ان خطوط کے علاوہ کسی اور لائن پر تحقیق کرسکتا ہے کیونکہ ادیان کے بارے میں اہل عرب کے ہاں جو تصورات پائے جائے تے ہیں وہ غلط ہیں اور ان کو ایک خاص مقصد کے لیے مدون کیا گیا ہے۔ یہاں فی ظلال القرآن میں ہم اس قسم کے غلط تصورات سے تفصیلی بحث کرسکتے ، کیونکہ اس کے لیے میری ایک مستقل کتاب زیر ترتیب ہے جس کا عنوان ہوگا " موجودہ دور میں فکر اسلامی میں ضروری تصحیحات "۔ البتہ یہاں ہم بطور مثال ایک موضوع کو پیش کرتے ہیں کہ بعض محققین کیا کہتے ہیں اور قرآن مجید کیا کہتا ہے۔ استاد عقاد اپنی " کتاب اللہ " میں لکھتے ہیں : انسان نے جس طرح علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح عقائد میں ترقی کی ہے۔ اور جس طرح اس نے علوم میں ترقی کی ہے اسی طرح صنعتوں میں ترقی کی ہے۔ ابتدائی دور میں جس طرح اس کی زندگی تھی اسی طرح اس کے عقائد بھی تھے۔ یہی حالات اس کے علوم اور صنعتوں کی ہے۔ لہذا اس کے ابتدائی دور کے علوم اور صنعت اس کے ابتدائی دور کے ادیان اور عبادات سے زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہیں اور ان میں سے کسی ایک کے اندر حقیقت کے عناصر کسی اور کے اندر پائے جانے والے حقیقت کے عناصر سے زیادہ نہیں ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ دین کے معاملے میں انسانی کاوشیں ، علوم اور صناعات کے مدین میں انسانی کاوشوں سے بہت زیادہ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کائنات کی عظیم سچائی تک پہنچنا بہت زیادہ مشکل کام ہے بمقابلہ ان متفرق اشیاء اور مفردات کی حقیقت تک رسائی کے ، جن تک رسائی محض علمی یا محض صنعتی مطلوب ہو۔ ذرا دیکھئے کہ سورج روز طلوع ہوتا ہے اور یہ اس کائنات کی ان چیزوں میں سے ہے جو بالکل ظاہر ہیں اور جسے انسانی جسم محسوس کرتا ہے اور ماضی قریب تک اس کے بارے میں لوگوں کے خیالات یہ تھے کہ یہ سورج زمین کے ارد گرد پھرتا ہے اور علماء فلکیات سورج کی حرکات اور اس کے حالات کے بارے میں ایسی تفسیرات بیان کرتے تھے جس طرح پہیلیوں کی تشریح کی جاتی ہے یا محض تخیلات کو بیان کیا جاتا ہے۔ لیکن کسی شخص کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ وہ سورج کا سرے سے انکار کردے۔ اس لیے کہ لوگوں کے سورج کے بارے میں جو خیالات تھے وہ تاریکیوں کے تہہ بہ تہہ پردوں میں تھے اور شاید اب بھی سورج کے بارے میں لوگ تاریک خیالی میں مبتلا ہوں۔ لہذا قدیم جاہلیت کے ادوار میں لوگوں کا اصول دین کی طرف رجوع کرنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ دینداری کی کوئی حقیقت نہیں ہے یا یہ کہ دین داری محالات پر طبع آزمائی کرتی ہے۔ مطالعہ ادیان سے جو بات معلوم وہتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کے سامنے عظیم سچائی یکبارگی ظاہر نہیں ہوئی اور وہ کسی ایک ہی زمانے میں حقیقت کبریٰ کو نہیں سمجھ سکے۔ لوگ عظیم حقیقت کے سمجھ سکنے کے لیے زمانے گزرنے کے بعد تیار ہوئے اور اس راہ میں انہیں طویل راستے طے کرنے پڑے اور وہ مختلف اسالیب سے غور کرکے اس حقیقت تک پہنچے جیسا کہ وہ دوسرے چھوٹے حقائق بڑی صبر آزما جدوجہد کے بعد دریافت کیے۔ ادیان کے تقابلی مطالعہ مطالعہ کے موضوع نے بیشمار وہ حقائق غلط ثابت کرکے رکھ دئیے ہیں جن پر ابتدائی دور کے انسان ایمان لاتے تھے اور آج بھی دنیا کے پسماندہ قبائل میں ان لوگوں کے بقایا اور نمونے موجود ہیں بلکہ ان متمدن اقوام کے اندر بھی ایسے لوگ پائے جاتے جن کی تہذیب و تمدن کی خاصی طویل تاریخ ہے۔ علم تقابل ادیان کا مقصد اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اور نہ یہ ممکن ہے کہ ابتدائی دور کے ادیان ان جہالتوں اور گمراہیوں سے خالی ہوں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہی وہ معقول نتیجہ ہے جس کی توقع کسی بھی معقول انداز فکر سے کی جاسکتی ہے۔ اس اسلوب فکر کے اندر کوئی ایسی تعجب انگیز بات بھی نہیں ہے جسے کوئی اہل علم بعید از قیاس سمجھے یا دین کی حقیقت اور اصلیت کے بارے میں کوئی نیا نظریہ اپنا لے۔ علمائے ادیان کے جو محققین اس تلاش میں ہیں کہ ابتدائی ادیان میں کوئی ایسی حقیقت بھی پائی جاتی تھی یا ان کے ہاں سچائی کا کوئی ایسا تصور بھی موجود تھا جو ہر قسم کے شکوک و شبہات سے پاک ہو تو ایسے محققین محال کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کتاب کے فصل " تصور خدا میں ارتقاء " میں وہ لکھتے ہیں : علماء تقابل ادیان اس بات پر متفق ہیں کہ ابتدائی زمانے کی اقوام کے ہاں جو تصور دین تھا اس میں تصور خدا اور تصور رب تین مراحل سے گزرا۔ پہلے دور میں متعدد الٰہوں (Poly theism) اس کے بعد دوسرے دور میں لوگوں نے ان الٰہوں اور ارباب کے درمیان فرق و امتیاز کیا اور کسی کو کسی پر ترجیح (Heno theism) دی۔ اور سب سے آخر میں وحدانیت (Mono theism) کا دور آیا۔ تعداد ارباب کے ابتدائی دور میں دسیوں بلکہ سینکڑوں ارباب اور الہ تھے۔ اس دور میں ہر خاندان اور ہر قبیلے کا اپنا الہ ہوا کرتا تھا۔ یہ الہ یا تو بذات خود الہ تصور ہوتا تھا یا نائب الہ ہوتا اور لوگ اس کی پناہ مانگتے تھے اور یہ الہ قربانیاں اور عبادات قبول کرتا تھا۔ دوسرا دور جو دور تمیز و ترجیح کہلاتا ہے ، اگرچہ اس میں الہ اور ارباب متعدد ہی رہے لیکن ان میں سے بعض ارباب اور الہ متعدد اسباب کی وجہ سے دوسروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہوگئے۔ مثلا یوں کہ اگر کوئی قبیلہ علاقے اور ملک میں سیاسی طور پر چھا گیا تو اس کا معبود بھی علاقے میں چھا گیا۔ اور اس الٰہ سے لوگ معاشری حاجات اور آفات و بلیات سے بچاؤ کی مدد مانگتے تھے۔ بعض الٰہ اس لیے نمایاں ہوگئے کہ لوگوں کے زعم کے مطابق وہ زیادہ لوگوں کے زیادہ مفید تھے اور دوسرے الٰہوں کے مقابلے میں وہ انسان کے زیادہ مطالبات پورے کرتے تھے۔ مثلاً بارش کا دیوتا ، اس علاقے میں بہت مانا جاتا جہاں بارش کی ضرورت ہوتی تھی یا جن سے ڈر زیادہ ہوتا تھا مثلاً مصائب کے الہ یا طوفان باد و باراں کا الہ ، یعنی جہاں ڈر ہوتا لوگ اس سے ڈر کے الہ سے ڈرتے اور جہاں امید ہوتی لوگ اس الہ سے امید رکھتے ، غرض اس کائنات میں دوسرے طبعی مظاہر کے مطابق الٰہوں کا تصور بھی قائم ہوتا۔ تیسرے دور میں جب قبائل اقوام و امم کی شکل اختیار کر گئے ہیں تو اب ارباب متفرقہ کے ہوتے ہوئے انہوں نے ایک مشترکہ عبادت کا طریقہ ایجاد کرلیا اور مختلف علاقوں اور مختلف اقوام کے ہاں عبادت کے مختلف طریقے رائج ہوگئے۔ اس دور کی خصوصیت یہ بھی رہی کہ جس طرح ایک قوم دوسری اقوام پر اپنا اقتدار اور قیادت و سیادت اور کلچر مسلط کرتی اسی طرح ان پر اپنا طریقہ عبادت بھی مسلط کرتی۔ بعض اوقات مغلوب کے الہوں کو یہ حکمران تسلیم کرلیتے تھے جس طرح کوئی بادشاہ اپنے حاشیہ نشینوں کی کوئی بات مان لیتا ہے اس طرح تابع اور متبوع کا تعلق باہم قائم رہتا۔ اس کمزور قسم کے ذہنی اتحاد تک بھی کوئی قوم ایک طویل تہذیبی جو جہد کے بعد پہنچتی ہے۔ اور اس کے بعد پہنچی جب اس کے اندر علم و معرفت کی ایک وافر مقدار پیدا ہوگئی اور اس علم و معرفت کی بدولت انسان کے لیے خالص جاہلانہ تصورات کا قبول کرنا مشکل ہوگیا۔ اب انسان نے اپنے سابقہ تصورات کے ملبے میں سے اچھے اور اللہ کی پاکی اور قدوسیت کے قریب تر صفات کے ساتھ اللہ کو متصف کرنا شروع کردیا۔ عبادت کے اندر اس کائنات کے اسرار و رموز کو بھی شامل کردیا گیا۔ اور اس کائنات کے پیچھے کام کرنے والی گہری حکمت کی بات بھی ہونے لگی۔ اور ان اقوام و ملل کے اندر اللہ کو حقیقی مقام ربوبیت دیا جانے لگا۔ اور دوسرے تمام اچھے درجے کے الٰہوں کو فرشتوں کا مقام دیا جانے لگا یا ان کو ایسے خدا قرار دیا گیا جو اللہ تعالیٰ کے حظیرہ قدس سے دھتکارے گئے تھے یعنی جو برے تھے۔ درج بالا اقتباسات میں مصنف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہو یا ان علماء کے خیالات نقل کیے گئے ہیں جو اپنے لیے اپنے عقائد خود ہی گھڑتے ہیں ، بہرحال یہ خیالات اسلام کے خلاف ہیں کیونکہ ان لوگوں کے دینی تصورات میں انسان کے عقلی ، علمی ، تہذیبی اور سیاسی واقعات دخیل نظر آتے ہیں۔ اور ان کے سلسلہ خیال کے مطابق ترقی یوں ہوئی ہے کہ لوگ شرک اور بیشمار الٰہوں کے قائل ہونے کے بعد توحید کی طرف لوٹے ہیں اور یہ بات مؤلف کے مقدمہ کتاب کے پہلے فقرے ہی سے واضح ہے جس میں وہ کہتے ہیں : " اس کتاب کا موضوع یہ ہے کہ انسان نے عقیدہ الہ کس طرح اختیار کیا۔ جب انسان نے اپنے لیے مختلف الٰہوں کو رب تسلیم کیا ، پھر اس نے اللہ وحدہ کو دریافت کیا اور پھر وہ عقیدہ توحید کی پاکیزگی میں داخل ہوا۔ یہ تو ہیں دور جدید کے علمائے ادیان اور کتاب " اللہ " کے مصنف کے خیالات۔ اس کتاب میں مصنف دور جدید کے علمائے تقابل ادیان سے متاثر نظر آتے ہیں حالانکہ اللہ نے دین کی اصلیت کے بارے میں اس سے بالکل علیحدہ اور دو ٹوک بات کہی ہے۔ وہ کہ یہ کہ حضرت آدم جو ابوالبشر ہیں پوری طرح حقیقت توحید کو جانتے تھے اور ان کا عقیدہ توحید اسی طرح صاف اور ستھرا تھا جس طرح حضرت محمد کا تھا اور اس میں شرک کوئی آلودگی نہ تھی ، اس میں کوئی تعدد اور ثنائیت نہ تھی۔ حضرت آدم براہ راست اللہ سے ہدایت لیتے تھے۔ اور صرف اللہ کی ہدایات کے متبع تھے اور حضرت آدم نے اپنی اولاد کو یہی پاک صاف تعلیم دی۔ لہذا انسان کی قدیم ترین تاریخ میں ایسی نسلیں تھیں جو اسلام کے بغیر کسی اور دین سے واقف ہی نہ تھیں۔ ان کا عقیدہ صرف عقیدہ توحید تھا۔ ہاں جب آدم کے بعد ان کی اولاد پر ایک طویل عرصہ گزرا تو ان کی اولاد نے عقیدہ توحید سے انحراف اکتیار کرلیا۔ بعض اوقات انہوں نے دو خداؤں کا اور بعض اوقات متعدد خداؤں کا نظریہ اپنایا اور متعدد الٰہوں کا دین اختیار کرلی۔ اس کے بعد حضرت نوح مبعوث ہوئے اور انہوں نے پوری نسل انسانی کو از سر نو عقیدہ توحید پر قائم فرمایا اور جو لوگ شرک کرتے تھے اور نظام جاہلیت پر مصر تھے ، ان سب کو طوفان نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اور اس طوفان سے صرف ان لوگوں نے نجات پائی جو پاک و صاف توحید کو جانتے تھے۔ اور وہ دو خداؤں یا بیشمار الٰہوں اور متعدد ارباب کے دین سے بیزار تھے۔ اس تاریخ کے مطابق ہم پر فرض ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ایک عرصے تک کشتی نوح کے سواروں کی اولاد توحید مطلق کے عقیدے پر قائم رہی۔ ایک طویل عرصہ کے بعد انہوں نے پھر عقیدہ توحید کو ترک کرکے شرک اور بت پرست کو اپنایا۔ چناچہ انسانی تاریخ میں جو رسول مبعوث کیے گئے ان سب کا مشن قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : و ما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون " اور آپ سے پہلے ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے ، اس کی طرف ہم نے وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی الہ و حاکم نہیں ہے اس لیے صرف میری پیروی کرو "۔ اب یہ ابت واضح ہے کہ اگر اللہ کی کتاب کسی معاملے کو ایک فیصلہ کن انداز میں بیان کردے اور اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا شخص اسی بات کو بالکل متضاد صورت میں پیش کرے تو ایک مسلمان کے لیے اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ کے قول کی اطاعت کرے۔ خصوصاً ایسا شخص جو بزعم خود اسلام کی مدافعت کر رہا ہو ، اور وہ یہ بتاتا ہو کہ وہ اسلام اور دین کے بارے میں اساسی شبہات کو دور کرنے کے موضوع پر کلام کر رہا ہے۔ یہ بات ہر لکھنے والے کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ یہ اس دین کی کوئی خدمت نہیں ہے کہ اس بات کا سرے سے انکار کردیا جائے کہ دین اسلام اللہ کی طرف سے بذریعہ وحی آیا ہے۔ اور یہ ثابت کیا جائے کہ اس دین کو اس حد تک خود انسان نے پہنچایا ہے۔ انسان نے نہیں بلکہ ابتدائے آفرینش سے اللہ نے انسان کو عقیدہ توحید بذریعہ وحی سکھایا۔ اور اللہ نے انسان کو کسی دور میں بھی یہ اجازت نہیں دی کہ وہ عقیدہ توحید کے علاوہ کوئی اور عقیدہ اختیار کرے نہ اس مضمون کی کوئی رسالت اللہ نے بھیجی ہے۔ نہ اس قسم کے نظریات کا پیش کرنا کسی معنی میں بھی اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ خصوصاً اس حال میں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہو کہ علمائے تقابل ادیان اسلام کے خلاف ایک خاص منصوبہ بندی اور ایک خاص لائن پر کام کرتے ہیں اور اسلام کے بنیادی تصورات کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ جبکہ اسلام کا بنیادی تصور ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی جانب سے وحیپر مبنی ہے اور یہ انسان کے ترقی پذیر فکر کا نتیجہ نہیں ہے جس طرح مادی میدان میں انسان نے آہستہ آہستہ تجربات حاصل کرکے علمی ترقی کی۔ اس نکتے پر یہ مختصر نوٹ ، امید ہے کہ اس مسئلے کی اہمیت کو سمجھانے کے لیے کافی ہوگا۔ اس سے زیادہ طویل بحث ہم یہاں فی ظلال القرآن میں نہیں کرسکتے۔ غرض ایسے اساسی تصورات اور موضوعات پر ہم کسی غیر اسلامی سرچشمنے سے کوئی ہدایت نہیں لے سکتے اور ہمیں اس مختصر بحث سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ جو لوگ ایسے حساس موضوعات پر مغربی افکار پڑھتے ہیں اور مغربی مفکرین کی نہج پر تحقیقات کرتے ہیں وہ کس قدر صحیح راہ سے دور چلے جاتے ہیں اور دعوی یہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام کا دفاع کرتے ہیں حالانکہ : ان ھذا القران یھدی للتی ھی اقوام : قرآن ہی مضبوط ہدایت و رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اب حضرت نوح کے قصے کا ایک دوسرا پہلو ، ذرا مزید رکیے۔ نئی بات یہ ہے کہ اللہ حضرت نوح کے حقیقی بیٹے کے بارے میں فرماتا ہے کہ یہ تمہارا بیٹا نہیں ہے۔ اسلام کے نظریاتی اور تحریکی سفر کا یہ ایک اہم پڑاؤ ہے۔ ایک اہم موڑ ہے اور اس پر رک کر غور کرنا نہایت ہی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَنْ يُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ إِلا مَنْ قَدْ آمَنَ فَلا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ (36) وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا وَلا تُخَاطِبْنِي فِي الَّذِينَ ظَلَمُوا إِنَّهُمْ مُغْرَقُونَ (37): " نوح پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے ، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا ، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں " حَتَّى إِذَا جَاءَ أَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ إِلا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَهُ إِلا قَلِيلٌ (40): " یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور ابل پڑا تو ہم نے کہا " ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھر والوں کو بھی۔ سوائے ان اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جا چکی ہے۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔ اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح کے ساتھ ایمان لائے تھے " وَهِيَ تَجْرِي بِهِمْ فِي مَوْجٍ كَالْجِبَالِ وَنَادَى نُوحٌ ابْنَهُ وَكَانَ فِي مَعْزِلٍ يَا بُنَيَّ ارْكَبْ مَعَنَا وَلا تَكُنْ مَعَ الْكَافِرِينَ (42) قَالَ سَآوِي إِلَى جَبَلٍ يَعْصِمُنِي مِنَ الْمَاءِ قَالَ لا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِلا مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَيْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِينَ (43) کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوح کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوح نے پکار کر کہا بیٹا ہمارے ساتھ سوار ہوجا ، کافروں کے ساتھ نہ رہ اس نے پلٹ کر جواب دیا میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھ جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوح نے کہا آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔ وَنَادَى نُوحٌ رَبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ (45) قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ فَلا تَسْأَلْنِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ (46) قَالَ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ وَإِلا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ (47):" نوح نے اپنے رب کو پکارا ، کہا "" اے رب ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔ " جواب میں ارشاد ہوا۔ اے نوح وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام ہے ، لہذا تو اس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔ توح نے فورا عرض کیا اے میرے رب ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں ، اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تونے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجاؤں گا۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)

هود 11:61

لیکن ان لوگوں کے دل اس قدر مسخ ہوگئے تھے ، اس قدر بگڑ گئے تھے ، اور ان کی ماہیت اس قدر بدل گئی تھی کہ وہ اس کلام کے کمال و جمال کو سمجھنے سے عاجز تھے ، وہ اس کلام کی جلالت قدر اور بلند تصورات و نظریات کے ادراک سے قاصر تھے۔ یہ کلام کس قدر نرم اور تشفی بخش ہے ، کس قدر صاف اور روشن ہے ، لیکن ان پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ وہ اس کو سن کر کس قدر نا موافق رد عمل کا اظہار کرتے ہیں ، ذرا سنئے اور غور کیجئے :

هود 11:62

ہماری امیدیں تم سے وابستہ تھیں۔ ہم یہ سمجھتے تھے کہ تمہارعلم ، تمہاری عقلمندی ، تمہاری سچائی اور تمہار حسن تدبیر یہ سب صلاحیتیں ہمارے لیے مفید ثابت ہوں گی لیکن یہ امیدیں سب کی سب اکارت گئیں اور ہم لوگ مایوسی کا شکار ہوگئے۔ أَتَنْهَانَا أَنْ نَعْبُدَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا (11 : 26) “ کیا تو ہمیں ان معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ”۔ یہ تو ایک تباہ کن بات ہے ، ہم ہر بات برادشت کرسکتے ہیں مگر یہ بات برداشت نہیں کرسکتے اور ہمیں تم سے یہ توقع ہر گز نہ تھی کہ یہ بات تمہارے منہ سے نکلے گی ، تم سے ہمیں جو بلند توقعات تھیں ، وہ ڈھیر ہوگئیں ۔ اس پر مزید یہ بھی ایک اہم حقیقت ہے کہ جو بات تم کرتے ہو اس سے ہم گہرے شک میں ہیں۔ یہ شک اس قدر قوی ہے کہ اس کی وجہ سے ہمارے دلوں میں ایک مستقل خلجان بیٹھا ہوا ہے۔ إِنَّنَا لَفِي شَكٍّ مِمَّا تَدْعُونَا إِلَيْهِ مُرِيبٍ (11 : 62) “ تو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے۔ ” اس طرح یہ لوگ ایک ایسے معاملے میں تعجب کر رہے تھے جس میں تعجب کرنے کی کوئی وجہ نہ تھی بلکہ وہ ایک لازمی اور فرض بات کو ایک ناپسندیدہ امر تصور کرتے تھے۔ ان کو اپنے بھائی سے محض اس لیے وحشت ہونے لگی کہ وہ انہیں صرف ایک خدا کی بندگی کی طرف بلا رہے تھے اور جو وحشت انہیں کسی دلیل کی بناء پر نہ تھی ، نہ انہوں نے اس معاملے پر کوئی تحقیق یا غور و فکر کیا تھا بلکہ محض اس لیے تھی کہ ان کے آباء و اجداد متعدد الٰہوں کی پوجا اور پرستش کرتے تھے۔ آباؤ اجداد کے رسم و رواج پر چلتے چلتے لوگوں کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ وہ جمود کا شکار ہوجاتے ہیں اور ثابت شدہ اور واضح سچائی پر تعجب کرنے لگتے ہیں ، عقائد پر دلیل وبرہان پیش کرنے کی بجائے عقائد کو اپنے آباؤ اداد کے عمل سے ثابت کرتے ہیں۔ ان تمام آیات سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ عقیدہ توحید دراصل ذہنی جمود کے خلاف بغاوت ہے اور یہ عقیدہ انسان کو فکری آزادی عطا کرتا ہے اور یہ ہدایت کرتا ہے کہ عقل انسانی کو آباؤ اجداد کے رسوم وقیود سے آزاد کیا جائے۔ اسی طرح وہم و خرافات سے بھی عقل انسانی کو نجات دی جائے اور ایسے عقائد کو قبول کیا جائے جسے عقل تسلیم کرتی ہو اور جس پر کوئی سند موجود ہو۔ اہل ثمود نے صالح کو جو کہا۔ قَالُوا يَا صَالِحُ قَدْ كُنْتَ فِينَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هَذَا (26 : 11) “ انہوں نے کہا ’ “ اے صالح ” اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔ ” یہی توقعات اہل قریش در حقیقت حضرت محمد ﷺ کے ساتھ وابستہ کیے ہوئے تھے۔ جب حضور ﷺ نے ان کو بتایا کہ اللہ کے سواء کوئی الٰہ نہیں ہے تو ان لوگوں نے حضور ﷺ سے ایسی ہی وحشت کا اظہار کیا جس طرح قوم صالح نے حضرت صالح علیہ والسلام سے کیا۔ جس طرح انہوں نے کہا کہ تو ساحر ہے اور افترا باندھنے والا ہے۔ اسی طرح انہوں نے بھی یہی کہا اور شہادت حق دینے سے انکار کردیا۔ حقیقت یہ ہے کہ جاہلیت کا ہمیشہ ایک ہی مزاج ہوتا ہے اور پوری اسلامی تاریخ میں پیغمبر اور احیائے اسلام کے لیے جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ ایک ہی جیسا سلوک کیا گیا۔ اور پھر پیغمبروں نے بھی پوری تاریخ میں ایک ہی بات کی۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی بات بالکل ایک ہے۔

هود 11:63

اے میری قوم ، تمہارا کیا خیال ہے ؟ میں تو اپنے نفس میں اپنے رب کی حقیقت کو واضح طور پر پاتا ہوں اور یہ ربانی حقیقت مجھے صاف صاف بتاتی ہے کہ جس راہ پر میں چل رہا ہوں وہ بالکل واضح اور حقیقی ہے ، پھر اس پر مزید فضل مجھ پر یہ ہوا ہے کہ اللہ نے مجھے منصب رسالت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔ اور اللہ نے مجھے وہ صلاحتیں دی ہیں جو اس منصب کے لیے ضروری ہیں ، اگر ان حقائق کو جانتے ہوئے بھی میں اللہ کی نافرمانی کروں اور تبلیغ دین میں قصور کا ارتکاب کروں تو میری مدد کون کرے گا ؟ کیا میں تمہاری امیدوں کا پاس رکھوں یا اپنی نجات کی فکر کروں ؟ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا کہ میں اپنے انجام کو محض اس لیے داؤ پر لگا دوں کہ تمہاری امیدیں پوری ہوں۔ فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ (63) “ تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ، اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو ، سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو ”۔ اگر میں تمہاری آرزوؤں کا خیال رکھوں تو میں عظیم خسارے میں مبتلا ہوجاؤں گا۔ میں اللہ کے غضب کا مستحق ہوجاؤں گا۔ اور منصب رسالت سے معزول کردیا جاؤں گا۔ دنیا میں بھی شرمندگی ہوگی اور آخرت میں بھی اللہ کے عذاب سے نہ بچ سکوں گا۔ اور یہ ایک عظیم اور مسلسل خسارہ ہوگا۔ چناچہ یہ تباہ کن اور ناقابل برداشت گھاٹا ہوگا۔

هود 11:64

یہاں یہ قرآن کریم نے اس ناقہ کے بارے میں تفصیلات نہیں دی ہیں جو ان کے لیے ایک نشانی اور علامت تھی۔ لیکن اس ناقہ کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ “ اللہ کی اونٹنی ” ہے۔ اور تمہارے لیے یہ ایک نشانی ہے ان ریمارکس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ممتاز اونٹنی تھی اور وہ جانتے تھے کہ یہ ان کے لیے اللہ کی جانب سے ایک نشانی ہے۔ بس ہم بھی یہاں صرف ان باتوں پر اکتفاء کرتے اور ناقہ صالح (علیہ السلام) کے بارے میں اسرائیلی روایات کے مطابق مفسرین نے جو رطب ویابس جمع کی ہیں ان کے ساتھ یہاں تعرض نہیں کرتے۔ هَذِهِ نَاقَةُ اللَّهِ لَكُمْ آيَةً فَذَرُوهَا تَأْكُلْ فِي أَرْضِ اللَّهِ وَلا تَمَسُّوهَا بِسُوءٍ (64 : 11) “ دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔ اسے خدا کی زمین پر چرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو ۔ اس سے ذرا تعرض نہ کرنا۔ ” ورنہ اللہ تمہیں بہت جلد پکڑ لے گا اور عذاب دے گا۔ عبارت میں فاء تعجیل کے لیے ہے۔ فَيَأْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِيبٌ (11 : 64) ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آجائے گا ”۔ یعنی تم اللہ کی شدید پکڑ میں آجاؤ گے ، انداز تعبیر محض عذاب ہونے یا عذاب کے نزول سے کہیں زیادہ کسی چیز کو ظاہر کر رہا ہے۔

هود 11:65

۔ ” انہوں نے ناقہ کی ٹانگیں کاٹ دیں (فعقروھا) اور اس انداز میں اسے قتل کردیا ’ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کس قدر مفسد تھے اور کس قدر بےباک تھے ، سیاق کلام میں یہاں نزول ناقہ اور قتل ناقہ کے درمیان مدت کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ، کیونکہ مدت کے ذکر کا دعوت دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ محض ایک تاریخی پہلو ہے۔ البتہ قتل ناقہ کے بعد سیاق کلام میں ان کے عذاب کا ذکر آجاتا ہے۔ یہاں واقعات کے تمام مراحل کو فاء تعقیب کے ساتھ لایا جاتا ہے یعنی پس یہ ہوا ، پس یہ ہوا۔ فَعَقَرُوهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ ذَلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ (11 : 65) “ مگر انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس پر صالح (علیہ السلام) نے ان کو خبردار کردیا کہ “ بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو۔ یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی ”۔ یعنی اب تمہاری مہلت زندگی صرف تین دن رہ گئی اور یہ میعاد ایسی ہے جس میں کوئی تغیر و تخلف نہیں ہو سکتا۔ اب یہ فائنل آرڈر ہے۔ فا تعقیب سے یہ مفہوم معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعات آگے پیچھے وقوع پذیر ہوئے۔

هود 11:66

جب اللہ کے امر کا وقت قریب ہوگیا اور امر یہ تھا کہ یا تو یہ لوگ ڈر جائیں اور ایمان لے آئیں ورنہ پھر انہیں نیست و نابود کردیا جائے تو اس وقت ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے ساتھیوں کو اپنی رحمت کی وجہ سے نجات دی ، یہ نجات صرف ان کے لیے تھی اور ان کے ساتھ مخصوص تھی۔ یعنی ان کو موت سے بھی نجات دی اور اس دن کی شرمندگی اور ذلت سے بھی نجات دی کیونکہ ان کو زندگی سے معمول کے مطابق محروم نہیں کیا گیا بلکہ بڑی ذلت کے ساتھ ان سے حیات کو چھینا گیا۔ اور جب ایک سخت آواز نے ان کو آ لیا تو یہ سب کے سب مر گئے۔ اور جو جہاں تھا ، وہیں گر گیا اور یہ ان کے لیے ذلت آمیز موت تھی۔ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (11 : 66) “ بیشک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالادست ہے۔ ” وہ نافرمانوں کو خوب پکڑتا ہے اور یہ کام اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے دوستوں کی خوب رعایت بھی کرتا ہے اور ان پر فضل بھی کرتا ہے۔ اب یہاں قرآن مجید اشارہ بتاتا ہے کہ اس عذاب کے نتیجے میں ان کی حالت کیا ہوگئی ۔ تعجب انگیز اور عبرت آموز طریقے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر عجلت کے ساتھ نیست ونابود کردیئے گئے۔

هود 11:67

جب اللہ کے امر کا وقت قریب ہوگیا اور امر یہ تھا کہ یا تو یہ لوگ ڈر جائیں اور ایمان لے آئیں ورنہ پھر انہیں نیست و نابود کردیا جائے تو اس وقت ہم نے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان پر ایمان لانے والے ساتھیوں کو اپنی رحمت کی وجہ سے نجات دی ، یہ نجات صرف ان کے لیے تھی اور ان کے ساتھ مخصوص تھی۔ یعنی ان کو موت سے بھی نجات دی اور اس دن کی شرمندگی اور ذلت سے بھی نجات دی کیونکہ ان کو زندگی سے معمول کے مطابق محروم نہیں کیا گیا بلکہ بڑی ذلت کے ساتھ ان سے حیات کو چھینا گیا۔ اور جب ایک سخت آواز نے ان کو آ لیا تو یہ سب کے سب مر گئے۔ اور جو جہاں تھا ، وہیں گر گیا اور یہ ان کے لیے ذلت آمیز موت تھی۔ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ (11 : 66) “ بیشک تیرا رب ہی دراصل طاقتور اور بالادست ہے۔ ” وہ نافرمانوں کو خوب پکڑتا ہے اور یہ کام اس کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی طرح وہ اپنے دوستوں کی خوب رعایت بھی کرتا ہے اور ان پر فضل بھی کرتا ہے۔ اب یہاں قرآن مجید اشارہ بتاتا ہے کہ اس عذاب کے نتیجے میں ان کی حالت کیا ہوگئی ۔ تعجب انگیز اور عبرت آموز طریقے سے بتایا جاتا ہے کہ وہ کس قدر عجلت کے ساتھ نیست ونابود کردیئے گئے۔

هود 11:68

کَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْھَا۔ “ گویا ان بستیوں میں کبھی انہوں نے قیام ہی نہ کیا تھا اور نہ عیش و عشرت کی تھی۔ یہ نہایت موثر نظر ہے ، پرتاثیر احساس ہے ، یہ منظر زندگی اور موت کے درمیان ایک کھلا منظر ہے ، لیکن چشم زدن میں یہ نظر کے سامانے سے گزر جاتا ہے اور نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد گویا زندگی ایک ٹیپ ہے۔ جو تزی سے گزر رہی ہے اور نظر یوں آتا ہے کہ شاید خواب و خیال تھا۔ اب اس قصے پر حسب سابق آخری تبصرہ یہ ہے کہ ملامت اور لعنت کے ساتھ اس صفحے کو لپیٹ دیا جاتا ہے ، اور یہ منظر جس طرح نظروں سے اوجھل ہوتا ہے ، اسی طرح لوح حافظہ سے بھی مٹ جاتا ہے۔ اَلَآ اِنَّ ثَمُوْدَاْ کَفَرُوْا رَبَّھُمْ اَلَابُعْداً لِّثَمُوْدَ (68) “۔ ” ایک بار پھر ہمارے سامنے ، اس قصے کی صورت میں دعوت اسلامی کی تاریخ کی ایک لڑی موجود ہے۔ وہی دعوت ہے جو حضور ﷺ دے رہے ہیں۔ اسلامی نظام کے وہی خدو خال ہیں جو حضور ﷺ پیش کر رہے ہیں۔ دعوت یہ دی جا رہی ہے کہ صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرو ، صرف اللہ کے وضع کردہ نظام زندگی کو اپناؤ۔ ہمیں نظر آتا ہے کہ جاہلیت اور اسلام کی وہی کشمکش ہے جو مکہ میں برپا ہے۔ شرک اور توحید کی ٹکر ہے۔ اہل ثمود بھی ان لوگوں میں سے تھے جو عاد کی طرح کشتی نوح میں بچ گئے تھے۔ کشتی نوح کے سواروں کی اولاد تھے لیکن وہ اپنے حقیقی دین ، دین نوح سے منحرف ہو کر جاہلیت میں ڈوب گئے تھے اور تاریخ کے اس مرحلے میں حضرت صالح (علیہ السلام) اب ان کی اصلاح کے لیے مامور ہوئے تھے تا کہ ان کو از سر نو اسلام میں داخل کردیں۔ اس قصے میں ہمیں نظر آتا ہے کہ انہوں نے خود ایک خارق عادت معجزے کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ معجزہ انہیں دکھا دیا گیا لیکن انہوں نے اس کا جواب ایمان اور قبول حق کے ساتھ نہ دیا بلکہ انہوں نے صاف صاف انکار کردیا اور ناقہ کی ٹانگیں کاٹ کر اسے ہلاک کردیا۔ مشرکین عرب بھی حضور ﷺ سے ایسے ہی خارق عادت معجزات کے طلب گار تھے تا کہ وہ امیان لائیں تو ان کو سمجھایا جاتا ہے کہ قوم صالح (علیہ السلام) نے بھی معجزات طلب کیے۔ وہ آگئے انہوں نے نہ مانا اور ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں وہ معجزات طلب نہیں کیا کرتے۔ اسلام تو ایک سادہ اور فطری دعوت ہے ، اس کے قبول کرنے کے لیے کسی معجزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس لیے محض غور وفکر اور تعقل و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن جاہلیت کی وجہ سے لوگوں کی عقل پر پردے پڑجاتے ہیں اور ان کی عقل مسخ ہوجاتی ہے۔ اس قصے میں بھی ہمارے سامنے حقیقت باری اپنے اس رنگ میں آتی ہے جس طرح اللہ کے مختار بندوں کے ذہنوں میں وہ موجود ہوتی ہے۔ یعنی اللہ کے رسولوں کے ذہن میں۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے قول پر ذرا غور فرمائیں : قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي وَآتَانِي مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ عَصَيْتُهُ فَمَا تَزِيدُونَنِي غَيْرَ تَخْسِيرٍ (11 : 63) “ صالح نے کہا ، اے برادران قوم ، تم نے کچھ اس بات پر غور کیا کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا ، اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور خسارے میں ڈال دو ۔ ” اور یہ اظہار حضرت صالح (علیہ السلام) نے اس کے بعد کیا۔ إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ (11 : 61) “ میرا رب قریب ہے اور وہ دعاؤں کا جواب دینے والا ہے۔ ” ذات باری کی حقیقت حضرات انبیاء کے اذہان وقلوب میں اس طرح منعکس ہوتی ہے اور اس طرح جمال و کمال کے ساتھ موجود ہوتی ہے کہ اس شان سے وہ کسی اور کے دل میں نہیں ہوتی۔ کیونکہ انبیاء کے دل آئینہ کی طرح صاف ہوتے ہیں اور ان میں ذات باری کا انعکاس نہایت ہی صفائی کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور نہایت ہی منفرد شان کے ساتھ۔ اس قصے کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہمیں اس میں نظر آتا ہے کہ جاہلیت اپنے آپ کو ہدایت کی شکل میں پیش کرتی ہے اور ہدایت کو ضلالت کے جامے ہیں۔ اور وہ نہایت ہی عیاری سے سچائی پر تعجب کرنے لگتی ہے۔ وہ سچائی کا تصور بھی نہیں کرسکتی۔ صالح علہی السلام سے ان کی قوم نے بہت امیدیں وابستہ کی ہوئی تھیں ، کیونکہ وہ ایک صالح ، عقلمند ، باخلاق اور پسندیدہ نوجوان تھے ، لیکن اب قوم ان کے بارے میں سخت مایوسی کا اظہار کرتی ہے ، یہ کیوں ؟ یہ محض اس لیے کہ وہ ان کو اسلامی نظام زندگی کی طرف بلاتے ہیں ، صرف اسلامی نظام کی اطاعت کا حکم دیتے ہیں اور ان کی دعوت آبا ؤاجداد کی مورثی ڈگر سے مختلف ہے۔ یاد رہے کہ انسانی فکر و نظر اگر جادہ مستقیم سے بال برابر بیھ ادھر ادھر ہوجائے تو ضلالت و گمراہی کی کسی حد پر وہ رکتی نہیں ہے۔ آخر کار انسانی سوچ کی حالت یہ ہوجاتی ہے کہ اسے نہایت ہی واضع اور سادہ سچائی بھی گمراہی نظر آتی ہے اور وہ سچائی کو سن کر تعجب کرنے لگتا ہے اور انسانی سوچ اور تصور اس قدر محدود ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر سادہ سے سادہ حقیقت بھی نہیں سماتی اور کوئی فطری اور سیدھی منطق بھی سمجھ میں نہیں آتی۔ دیکھئے ، حضرت صالح (علیہ السلام) ان سے کہتے ہیں کہ اے قوم صرف اللہ کی بندگی کرو ، اللہ کے سوا تمہارا اور کوئی الٰہ نہیں ہے۔ وہی ہے جس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور یہاں تمہیں ترقی دی۔ وہ پکارتے ہیں کہ دیکھو تم اس کرہ ارض پر موجود ہو ، یہ وجود تمہیں اللہ نے بخشا ہے ، یہ ایک حقیقت ہے جس سے تم دیکھتے اور جس کا تم انکار نہیں کرسکتے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو خود نہیں پیدا کیا اور نہ خود اپنے لیے حیات اور رزق کا انتظام کیا ہے۔ یہ بات بالکل واضح بھی تھی ، کیونکہ وہ اس حقیقت کا انکار بھی نہ کرتے تھے کہ انہیں اللہ نے پیدا کیا ہے۔ وہی ہے جس نے انسانی کو وہ عقل دی ہے جس کے ذریعے وہ اس کرہ ارض کو ترقی دے رہا ہے لیکن وہ اس صغریٰ کبریٰ کو تسلیم کرنے کے بعد اس کا منطقی نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کرتے تھے کہ اللہ ہی الٰہ ہے اور اس نے انسان کو یہاں خلیفہ و مختار بنایا ہے۔ لیکن اس پر لازم کیا ہے اور اس کے لیے مناسب بھی یہی ہے کہ وہ صرف اللہ کی ربوبیت کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور نہ اس کے سوا کسی اور کی اطاعت کرے۔ یہی سادی حقیقت تھی جس کی طرف حضرت صالح (علیہ السلام) دعوت دیتے تھے۔ (یٰقَوْمِ اعْبُدُوْا اللّٰہ َ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہ غَیْرُہُ ) مسئلہ کیا تھا ؟ مسئلہ الوہیت و ربوبیت کا تھا۔ کہ کون حاکم اور مطاع ہوگا۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس کے گرد تمام انبیاء کے مشن گھومتے ہیں اور اس کے گرد انبیاء کے بعد تمام دعوتی تحریکیں گھومتی ہیں اور یہی ہے آج بھی اسلام اور جاہلیت کی کشمکش کا محور۔

هود 11:69

درس نمبر 102 ایک نظر میں اب حضرت نوح (علیہ السلام) کے دور کے بعد ، دوسرے ادوار میں کاروان تاریخ اسلامی میں داخل ہوتا ہے ، اب منصہ تاریخ پر کچھ اور بابرکت اقوام آتی ہیں اور کچھ اور ایسی اقوام آتی ہیں جنہیں عاد وثمود کی طرح ہلاک کیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کے ایک پہلو کو یہاں لیا جاتا ہے۔ آپ کے قصے میں خیر و برکت کا جو پہلو ہے اس پر ایک نظر ڈال کر ہمیں تاریخ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی طرف بڑھ جاتی ہے جو مستحق عذاب ٹھہری اور جسے سخت عذاب دیا گیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے قصص میں اللہ کا وہ وعدہ حقیقت کا روپ اختیار کرتا ہے جو اللہ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کیا تھا۔ کہا گیا تھا۔ قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلامٍ مِنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِمَّنْ مَعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُمْ مِنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ (11 : 48) “ کہا گیا اے نوح ، ہماری جانب سے سلامتی کے ساتھ اتر جا اور برکتوں کے ساتھ تم پر اور ان اقوام پر جو تمہارے ساتھ ہیں۔ اور ان اقوام پر جن کو ہم عنقریب متاع دیں گے اور اس کے بعد ان کو ہماری جانب سے عذاب الیم پکڑلے گا ”۔ برکات کے مستحق تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد ہوئی اور آپ کی اولاد حضرت اسحٰق اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے انبیاء آئے اور حضرت خاتم النبیین ﷺ سب سے آخر میں آئے حضرت ابراھیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بعض مستحق عذاب بھی ہوئے۔ درس نمبر 102 تشریح آیات 69۔۔۔۔ تا ----83

هود 11:70

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُ سُلُنَآ اِبْرٰھِیْمَ بِالْبُشْرٰی یہاں قرآن کریم نے خوشخبری کے بیان کو بعد میں آپ کی بیوی کی موجودگی کے وقت تک موخر کردیا کیونکہ یہاں تو ابھی قاری کو معلوم نہیں کہ آنے والے فرشتے ہیں۔ یہاں مفسرین نے ان آنے والوں کے بارے میں جو تفیصلات دی ہیں ہم ان کے ذکر کو ضروری نہیں سمجھتے۔ کیونکہ یہ تفصیلات بلا دلیل ہیں : قَالُوْا سَلٰمًا قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذِ (69) فَلَمَّارَآاَ یْدِیَھُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْہِ نَکِرَھُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْھُمْ خِیْفَۃً ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) عراق کے لدانیوں میں پیدا ہوئے اور یہاں سے انہوں نے ہجرت کر کے دریائے اردن کو عبور کرتے ہوئے کنعان کی صحرائی سرزمین میں بودباش اختیار کرلی۔ اور جس طرح دیہاتی رسم و رواج کے مطابق جو شخص کھان نہیں کھاتا اس سے یہ خوف کیا جاتا ہے کہ شاید یہ کسی جنایت اور دشمنی کا ارادہ رکھتا ہے جبکہ تمام دیہاتی لوگ کھانا کھانے کے بعد اہل خانہ کے ساتھ برائے کا ارتکاب کرنے سے ابا کرتے ہیں۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ مہمان کھان نہیں کھا رہے تو قدرتی طور پر انہیں خوف دامن گیر ہوا اور طرح طرح کی باتیں سوچنے لگے۔ غرض اس صورت حالات کو دیکھ کر انہوں نے مناسب سمجھا کہ اپنا تعارف کرا دیں اور اپنی مہم سے ان کو آگاہ کردیں۔ قَالُوا لا تَخَفْ إِنَّا أُرْسِلْنَا إِلَى قَوْمِ لُوطٍ (70) ‘۔ ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو فوراً سمجھ گئے کہ قوم لوط کی طرف فرشتوں کے بھیجنے کے کیا معنی ہیں ، لیکن اچانک روئے سخن ایک ایسے موضوع کی طرف مڑ گیا جو زیر بحث نہ تھا۔

هود 11:71

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کیوں ہنس پڑی۔ اس لیے کہ اسے بھی معلوم تھا کہ حضرت لوط کس برائی اور غلاظت کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں۔ اور وہ چونکہ بانجھ تھی اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اور اس طرح وہ معمر ہوگئی تھی اس لیے اس کے لیے یہ خوشخبری ایک عجوبہ تھی اور یہ خوشی اس وقت دوگنی ہوگئی جب ان کو خوشخبری دی گئی کہ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) پیدا ہوں گے۔ عورت اور پھر بانجھ باعورت کو اگر اس قسم کی خوشخبری ملے تو لازمی ہے کہ وہ غیر معمولی اور اچانک خوشی کا مظاہرہ کرے گی۔

هود 11:72

فی الواقعہ یہ ایک عجیب بات تھی ، ایک معین مدت کے بعد عورت کا حیض ختم ہوجاتا ہے اور اس کے بعد اس کا حمل رک جاتا ہے لیکن اللہ کی قدرت اپنے قوانین کی پابند نہیں ہے۔

هود 11:73

بیشک امر الٰہی میں تعجب کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اگر ایک روٹین کسی حکم کے مطابق چل رہی ہو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس عادت اور حکم کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن جب اللہ کی حکمت چاہے تو یہ روٹین بدل بھی سکتی ہے۔ یہاں اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گھرانے پر رحم کرتے ہوئے اس کو بدلا لیکن جب ہمیں بظاہر نظر آتا ہے کہ واقعات کی روٹین بدل گئی ہے اور کوئی واقعہ خلاف عادت ہے تو بھی دراصل وہ ایک گہری عادت کے مطابق ہوتا ہے۔ کیونکہ ہمیں سنن الہیہ کا بالاستیعاب علم حاصل نہیں ہے۔ اس کی حدود بہت ہی وسیع ہیں۔ ہم تو ایک حد تک حقائق کو دیکھ سکتے ہیں اور یہ حد بہت ہی مختصر اور محدود ہوتی ہے جبکہ ہم واقعات کی حقیقت کا استقراء اور استیعاب کرنے سے قاصر ہیں۔ جو لوگ ذات باری کی قدرت و حکمت کو اپنے علم کے محدود پیمانے سے ناپتے ہیں۔ حتی کہ وہ لوگ جو اللہ کی مشیت کو خود اللہ کے بنائے ہوئے قواعد میں محدود کرتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ ذات باری کی ماہیت اور حقیقت کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ کیونکہ اللہ کی مشیت خود اللہ کے بنائے ہوئے قواعد سے بھی آزاد ہے ، اللہ کی مشیت خود اللہ کے بنائے ہوئے نوامیس قدرت کی پابند بھی نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کائنات کو ان قوانین قدرت کے مطابق چلاتا ہے جو اس نے اس جہاں کے لیے تیار کیے ہیں لکین یہ ایک علیحدہ بات ہے اور یہ کہنا کہ اللہ کی مشیت قوانین طبیعہ کی پابند ہے تو یہ ایک دوسری بات ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ قوانین طبیعہ ٹھیک ٹھیک چلتے ہیں اورو لیکن ہر مرتبہ ان کا جزئی عمل جو اثرات مرتب کرتا ہے وہ اللہ کے حکم سے کرتا ہے۔ یہ اثرات خود کار طور پر نہیں ہوتے تو اگر کسی موقعہ پر اللہ تعالیٰ یہ حکم کر دے کہ کوئی جزوی طبیعی عمل وہ اثرات نہیں ظاہر کرے گا تو ایسا نہ ہوگا اور پھر ہم یہ نہ کہیں گے کہ اللہ کا قانون قدرت بدل گیا ہے بلکہ درست یہ ہوگا کہ قانون قدرت اب یہ ہے کو خارق عادت نظر آتا ہے۔ لہذا نوامیس قدرت اور قوانین طبیعت دراصل اللہ کے ارادے کا مظہر ہوتے ہیں جب اللہ کا ارادہ کچھ اور چاہتا ہے تو وہ اور قانون قدرت بن جاتا ہے۔ اصل قانون قدرت اللہ کا بےقید ارادہ ہے۔ چناچہ یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مطمئن ہوگئے کہ یہ اللہ کے نمائندگان قدرت ہیں اور پھر وہ اس پر بھی مطمئن ہوگئے کہ ان کے لیے یہ لوگ جو خوشخبری لائے ہیں وہ بھی لازماً متحقق ہونے والی ہے۔ لیکن وہ ان حالات میں بھی حضرت لوط اور ان کی قوم کو نہ بھولے کیونکہ وہ ان کے بھائی تازح کے بیٹے تھے اور ان کے قریب ہی رہائش پذیر تھے۔ اب چونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ اللہ نے جن لوگوں کو بھیجا ہے وہ تو قوم لوط (علیہ السلام) کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکیں گے اور حضرت ابراہیم نہایت ہی مشفق اور رحم دل تھے۔ چناچہ قوم لوط (علیہ السلام) کے بارے میں فرشتوں سے یہ مکالمہ شروع کردیا۔

هود 11:74

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسے حلیم الطبع تھے کہ وہ موجبات غیظ و غضب کو برداشت کرلیتے تھے ، صبر کرتے تھے اور جوش میں نہ آتے تھے۔ اور اواہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا خوفی کی وجہ سے وہ ہر وقت آہ وزاری فرماتے تھے اور منیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہر معاملے میں جلدی سے اپنے رب کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ ان تمام صفات کے باعث حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کے ساتھ قوم لوط (علیہ السلام) کے حوالے سے جھگڑنا شروع کردیا۔ اب یہ کہ حضرت نے کیا جھگڑا فرمایا ؟ قرآن کریم نے اس کی کوئی تشریح نہیں کی ہے لیکن عین اس وقت اللہ کا حکم آگیا اور فرمایا گیا کہ اس معاملے میں نہ جھگڑو ، لہذا جھگڑا ختم ہوگیا۔

هود 11:75

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایسے حلیم الطبع تھے کہ وہ موجبات غیظ و غضب کو برداشت کرلیتے تھے ، صبر کرتے تھے اور جوش میں نہ آتے تھے۔ اور اواہ کے معنی یہ ہیں کہ خدا خوفی کی وجہ سے وہ ہر وقت آہ وزاری فرماتے تھے اور منیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہر معاملے میں جلدی سے اپنے رب کی طرف رجوع فرماتے تھے۔ ان تمام صفات کے باعث حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے فرشتوں کے ساتھ قوم لوط (علیہ السلام) کے حوالے سے جھگڑنا شروع کردیا۔ اب یہ کہ حضرت نے کیا جھگڑا فرمایا ؟ قرآن کریم نے اس کی کوئی تشریح نہیں کی ہے لیکن عین اس وقت اللہ کا حکم آگیا اور فرمایا گیا کہ اس معاملے میں نہ جھگڑو ، لہذا جھگڑا ختم ہوگیا۔

هود 11:76

پردہ گرتا ہے اور یہ خوش کن اور دلربا منظر آنکھوں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ سیاق کلام پر خاموشی طاری ہوجاتی ہے۔ لازمی ہے کہ حکم باری کے سامنے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی خاموش ہوگئے ہوں گے۔ لیکن اچانک آنکھوں کے سامنے ایک دوسرا منظر آجاتا ہے جو ہاو و ہو سے پر ہے۔ اردن کے ایک شہر میں قوم لوط (علیہ السلام) سامنے آتی ہے۔ یہ شہر عموریہ اور صدوم ہیں :

هود 11:77

آپ اپنی قوم کو اچھی طرح جانتے تھے ، ان کی فطرت کے اندر جو بگاڑ اور گندگی پیدا ہوگئی تھی وہ ناقابل تصور اور بےمثل تھی۔ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے ساتھ شہوانی تعلقات قائم کرتے تھے۔ اور یہ حرکت اس نظام فطرت کے خلاف تھی جس کے مطابق اللہ نے تمام مخلوقات کو نر اور مادہ کی شکل میں پیدا کیا ، تا کہ تمام انواع کی بقا اور تسلسل قائم رہ سکے اور جس کے ذریعے نوامیس فطرت نے انسان کے لیے جو لذت اور خوشی ودیعت کی ہے اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ یہ راہ فطرت انسان خود اپنے غور و فکر اور اپنی تدابیر اور محنت سے حاصل نہیں کرسکتا ، صرف راہ راست پر استقامت اور ہدایت ربانی سے یہ لذت مل سکتی ہے۔ جنسی بےراہ روی کے سلسلے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں کے اندر اس قسم کی شاذ ونادر بےراہ روی تو انسانی تاریخ کا حصہ ہے۔ بعض انسان بیمار ہوتے ہیں لیکن قوم لوط (علیہ السلام) کی بیماری ایک عجیب اور ہمہ گیر بیماری تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نفسیاتی بیماریاں بھی اسی طرح پیھل جاتی ہیں جس طرح جسمانی بیماریاں پھیل جاتی ہیں اور اگر کسی سوسائٹی کا معیار حسن و قبح بدل جائے تو اس کے اندر ایسی بیماریاں بھی پھیل جاتی ہیں اور قوم پوری کی پو ری اخلاقی بگاڑ کا شکار ہوجاتی ہے اور یہ بگاڑ سوسائٹی کے بگڑے ہوئے تصورات کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ بگاڑ انسانی فطرت سلیمہ کے ساتھ متصادم ہوتا ہے ، کیونکہ فطرت سلیمہ تو کائنات کے نوامیس کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے اور وہ موجبات حیات کی ممد ہوتی ہے ، متصادم نہیں ہوتی جبکہ یہ جنسی بےراہ روی امتداد حیات کے نظام کے ساتھ متصادم ہوتی ہے۔ انسان تخم حیات کو ایسی سرزمین میں بوتا ہے جہاں سے زندگی کی نشوونما نہیں ہو سکتی ، یہی وجہ ہے کہ اس قسم کی جنسی بےراہ روی سے انسانی فطرت نہ صرف یہ کہ اخلاقی طور پر متصادم ہوتی ہے بلکہ قوانین فطرت بھی اس سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ عمل قوم لوط نہ صرف یہ کہ فطرت کے خلاف ہے بلکہ نظام امتداد حیات اور حقیقی لذت کے بھی خلاف ہے۔ بعض اوقات انسان موت میں وہ لذت محسوس کرتا ہے جو حیات میں نہیں ہوتی لیکن یہ لذت اعلیٰ اقدار اور بلند مقاصد کے حصول کے لیے ہوتی ہے۔ یہ حسی اور جسمانی لذت نہیں ہوتی اور جہاد میں سر قربان کرنا نظام بقائے حیات کے ساتھ متصادم نہیں ہے بلکہ اس طرح زندگی کو کم کرنا دوسرے پہلو سے زندگی کو بلند کرنا ہے۔ اللہ کی راہ میں شہادت سے زندگی ختم نہیں ہوتی بلکہ زندگی ایک دوسرا انداز اختیار کرتی ہے۔ تو حضرت لوط (علیہ السلام) مہمانوں کو دیکھ کر بہت ہی کبیدہ خاطر ہوئے ، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ ان کی قوم ان خوبصورت مہمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرے گی اور اس طرح انہیں بہت ہی شرمندہ ہونا پڑے گا۔ هَذَا يَوْمٌ عَصِيبٌ “ آج بڑی مصیبت کا دن ہے

هود 11:78

(يُهْرَعُونَ إِلَيْهِ ) یعنی اس طرح دوڑے جس طرح بخار میں مبتلا شخص کانپتے ہوئے دوڑتا ہے۔ بےچینی سے ، ہرع بخار کی حالت میں کانپنا۔ اس سے قبل ان کے ہاں مہمانوں کے ساتھ بد سلوکی عام تھی۔ اس لیے حضرت لوط (علیہ السلام) ان فرشتوں کے بارے میں سخت دل تنگ ہوئے اور اس دن کو مصیبت کے دن سے تعبیر کیا۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے دیکھا کہ یہ لوگ بدکاری کے لیے اس طرح بےاختیار دوڑے چلے آتے ہیں جس طرح بخار میں مبتلا شخص بےاختیار کانپتا ہے اور ان کے مہمانوں کی توہین پر تلے ہوئے ہیں تو انہوں نے ان کی ذات کے اندرموجود فطرت سلیمہ کو اپیل کی۔ ان کو متوجہ کیا کہ دیکھو عورتیں موجود ہیں جن کو اللہ نے اسی مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ خود حضرت لوط (علیہ السلام) کے گھر میں لڑکیاں موجود تھیں اور وہ اسی وقت جائز طریقوں سے ان کے جوش لذت کو تسکین دے سکتی تھیں۔ جن کو اسی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا تھا۔ وہ اسی وقت ان کو نکاح کر کے ان کے حوالے کرنے کے لیے تیار تھے تا کہ وہ ان کی جنونی شہوت رانی کے لیے سکون کا سامان فراہم کریں۔ قَالَ يَا قَوْمِ هَؤُلاءِ بَنَاتِي هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَلا تُخْزُونِي فِي ضَيْفِي أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ (11 : 78) ۔ لوط (علیہ السلام) نے ان سے کہا ، “ بھائیو ، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں ، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں۔ کچھ خدا کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں ؟ ” هُنَّ أَطْهَرُ لَكُمْ (78 : 11) “ وہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں ”۔ یعنی وہ ہر لحاظ سے پاکیزہ ہیں۔ نفسیاتی اعتبار سے پاکیزہ ، حسی اعتبار سے پاکیزہ اور اخلاقی اعتبار سے پاکیزہ ہیں۔ وہ پاک فطرت ہیں اور پاک جذبات کی تسکین کے لیے تیار ہیں۔ ان کے اخلاق اور ان کا دین پاکیزہ ہے اور قدرت نے بھی انہیں اس پاک اور عظیم مقصد کے لیے تیار کیا ہے اور یہ راستہ بھی بمقابلہ اس راہ کے جو وہ اختیار کر رہے ہیں پاکیزہ ہے۔ فَاتَّقُوا اللَّهَ (87 : 11) “ پس اللہ سے ڈرو ” پہلے فقرے میں ان کو سمجھایا گیا کہ فطری طور پر پاکیزہ راہ اختیار کرو ، یہاں کہا گیا کہ اللہ سے ڈرو اور اس غلط روش سے باز آجاؤ ” وَلا تُخْزُونِي فِي ضَيْفِي (87 : 11) “ اور میرے مہمانوں کے بارے میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ ” یہ فقرہ ان کے جذبہ انسانی غیرت کو بیدار کرنے کے لیے کہا گیا اور دیہاتی لوگ مہمان کا عموماً خیال رکھتے ہیں اور مہمانوں کی توہین کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔ أَلَيْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ (11 : 78) “ کیا تم میں سے کوئی بھلا آدمی نہیں ہے۔ ” یہ معاملہ بھی ہدایت ، نیکی اور بھلائی کا ہے۔ نیز فطرت اور مروت اور اخلاق کا بھی یہی تقاضا ہے۔ لیکن یہ تمام اپیلیں بد فطرت لوگوں پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔ اس لیے کہ ان لوگوں کے دل منحرف ہوگئے تھے۔ ان کی عقل ماؤف ہوگئی تھی اور ان کا ناقابل مثال شہوانی جوش ان پر غالب تھا۔

هود 11:79

انہوں نے کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ اگر ہم تمہاری بیٹیوں کا رشتہ چاہتے تو تم ضرور نکاح کر کے ہمارے حوالے کردیتے اور تم جانتے ہو کہ ہم کیا چاہتے ہیں ؟ یہ ان کی جانب سے ان کے خبیث اور گندے ارادے کی طرف نہایت ہی خبیثانہ اشارہ ہے۔ اس موقعہ پر حضرت لوط (علیہ السلام) نڈھال ہوگئے۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ وہ اب ان کے مقابلے میں بالکل بےبس ہیں ، وہ اس قوم میں اس طرح ہیں جس طرح ایک مسافر ہوتا ہے۔ گویا یہاں ان کا کوئی خاندان اور کوئی مددگار نہیں ہے۔ اور اس مصیبت کے وقت کوئی نہیں ہے جو ان کی دستگیری کرے۔ ایسے حالات میں وہ جس پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں ، وہ یہ ہے :

هود 11:80

جب حضرت لوط (علیہ السلام) یہ کلمات کہہ رہے تھے تو روئے سخن ان نوجوانوں کی طرف تھا۔ یعنی فرشتوں کی طرف جو خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں موجود تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی نظر میں یہ نوجوان اس قدر مضبوط نہ تھے کہ اپنا دفاع کرسکیں۔ چناچہ حضرت لوط (علیہ السلام) یہ اشارہ دینا چاہتے تھے کہ اگر تم لوگ مضبوط ہوتے تو بھی ان ظالموں کا مقابلہ کیا جا سکتا تھا یا یہ کہ اور کوئی ان کا حامی و مدد گار ہوتا تو وہ اس کی مدد اور معاونت طلب کرلیتے لیکن کوئی نہیں ہے۔ حضرت لوط جن مشکلات سے دو چار تھے اور جس پریشانی میں مبتلا تھے۔ اس میں ان کی نظروں سے وقتی طور پر یہ حقیقت اوجھل ہوگئی کہ وہ تو ایک مضبوط سہارے کی پناہ میں ہیں۔ حضور ﷺ نے جب یہ آیت پڑھی ، ایک حدیث میں فرمایا ، “ اللہ حضرت لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے وہ تو اس وقت بھی ایک مضبوط سارے کی پناہ میں تھے۔ ” غرض جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی پریشانی انتہاؤں کو چھونے لگی اور مصیبت کا دائرہ ان پر تنگ ہوگیا ، تو اس وقت اللہ کے رسولوں نے اپنا تعارف کرا دیا اور بتا دیا کہ وہ تو ایک نہایت ہی مضبوط سہارے کی پناہ میں ہیں۔ خدائی قوت آپ کی پشت پر ہے۔

هود 11:81

چناچہ انہوں نے اپنے مشن کی بابت بتادیا اور حکم دیا کہ وہ اپنے پاکیزہ خاندان کے ساتھ نکل جائیں۔ ہاں تمہاری بیوی تمہارے ساتھ نہیں ہے۔ یہ فاسقین کی جماعت میں شامل ہے۔ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍِ (81 : 11) “ کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے۔ ” یہ فقرہ اس لیے آیا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی روح خوش ہوجائے کیونکہ انہوں نے گزشتہ محفل بڑی اذیت کے ساتھ گزاری تھی۔ مقصد یہ تھا کہ ان لوگوں کا انجام بہت ہی قریب ہے۔ صبح ہوتے ہی یہ لوگ ہلاک ہوجائیں گے۔ اب وہ خواہش اللہ پوری فرمائیں گے جو خواہش حضرت لوط اپنی کم قوت کی بناء پر پوری نہ کرسکتے تھے۔

هود 11:82

یعنی جب ان پر عذاب نافذ کرنے کا وقت آیا تو ہم نے ان کی بستی کو اوپر نیچے کردیا۔ یعنی یہ سزا ان کے لیے اس لیے تجویز ہوئی کہ انہوں نے بھی اپنے آپ کو مقام انسانیت سے گرا کر مقام حیوانیت تک لے آئے تھے۔ بلکہ وہ حیوانات سے بھی نیچے گر گئے تھے کیونکہ حیوانات بہرحال حیوانی فطرت کے اصولوں کے تابع ہوتے ہیں اور اپنی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ لیکن انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فطرت کی حدود کو بھی پار کرلیتا ہے۔ أَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ (83 : 11) اور ہم نے ان پر مٹی آلود پتھر برسائے۔ ” یعنی ایسے پتھر جن کے ساتھ مٹی لگی ہوئی تھی۔ اس مقام پر ان کے لیے خاک آلود پتھر ان کے حال اور مقام سے زیادہ مناسب تھے۔ منضود کے معنی ہیں اوپر تلے آنے والے پتھر اور یہ پتھر مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ (83 : 11) “ تمہارے رب کے ہاں نشان زدہ تھے۔ ” جس طرح مویشیوں پر نشان لگا کر چھوڑ دیا جاتا ہے تا کہ پڑھے جاسکیں۔ گویا ان پتھروں کو اللہ نے اس طرح چھوڑا کہ وہ خود کار عمل سے پڑتے تھے اور ضرورت کے وقت اپنا کام کرتے تھے۔ یہ ایک عجیب تصویر کشی ہے۔ ذہن پر اس کے بےپناہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس تصویر کشی سے ذہن پر جو اثر مرتب ہوتا ہے وہ لمبی لمبی تشریحات سے نہیں پڑتا۔ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ (11 : 83) “ ظالموں سے یہ سزا کوئی دور نہیں ہے۔ ” یہ سزا قریب ہے ، تیار ہے اور اللہ کسی بھی وقت نازل کرسکتا ہے۔ یہاں آل لوط (علیہ السلام) کی اس سزا کو جن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ، اس کی تصویربعض آتش فشاں پہاڑوں کے بالکل مشابہ ہے۔ کیونکہ آتش فشانی کے عمل میں پتھر اور غبار آلود پتھر برستے ہیں اور ظالم اقوام کو اللہ ان کے ظلم کی سزا دیتے ہیں۔ ہم اس مشابہت کا ذکر کر کے یہ کہنا نہیں چاہتے کہ یہ سزا کوئی آتش فشانی تھی اور کسی مخصوص وقت میں عمل واقع ہوگیا۔ نہ ہم اس کی نفی کرتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں ان لوگوں کے لیے آتش فشانی کی سزا مقرر کی ہو۔ یہ بھی سزا کا ایک طریقہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس قوم کو اللہ نے ایک عام اور معمولی آتش فشانی کے ذریعے سے سزا دی ہو۔ اور روز ازل سے ان کے لیے یہ عمل تجویز ہوا ہو۔ اور یہ بھی اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے اس مجرم قوم کے لیے اپنے تصرفات قدرت میں سے ایک عمل کو مخصوص کر یدا ہو۔ اور یہ بھی درست ہو سکتا ہے کہ یہ آتش فشانی عام طبیعی عمل کا حصہ نہ ہو اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے خارق عادت طریقے سے کوئی سنگ باری کی ہو اور اس کا تعلق طبیعی آتش فشانی سے بالکل نہ ہو۔ یہ عمل اسی طرح خارق عادت ہو جس طرح حضرت ابراہیم کے ہاں بچے کی ولادت کا عمل معتاد طریقے کے بالکل برعکس ہوگیا تھا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ جس طرح چاہے ، کرسکتا ہے۔ اس کی مشیت بےقید ہے اور انسان کے لیے اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔

هود 11:83

یعنی جب ان پر عذاب نافذ کرنے کا وقت آیا تو ہم نے ان کی بستی کو اوپر نیچے کردیا۔ یعنی یہ سزا ان کے لیے اس لیے تجویز ہوئی کہ انہوں نے بھی اپنے آپ کو مقام انسانیت سے گرا کر مقام حیوانیت تک لے آئے تھے۔ بلکہ وہ حیوانات سے بھی نیچے گر گئے تھے کیونکہ حیوانات بہرحال حیوانی فطرت کے اصولوں کے تابع ہوتے ہیں اور اپنی حدود کے اندر رہتے ہیں۔ لیکن انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو فطرت کی حدود کو بھی پار کرلیتا ہے۔ أَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِنْ سِجِّيلٍ (83 : 11) اور ہم نے ان پر مٹی آلود پتھر برسائے۔ ” یعنی ایسے پتھر جن کے ساتھ مٹی لگی ہوئی تھی۔ اس مقام پر ان کے لیے خاک آلود پتھر ان کے حال اور مقام سے زیادہ مناسب تھے۔ منضود کے معنی ہیں اوپر تلے آنے والے پتھر اور یہ پتھر مُسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ (83 : 11) “ تمہارے رب کے ہاں نشان زدہ تھے۔ ” جس طرح مویشیوں پر نشان لگا کر چھوڑ دیا جاتا ہے تا کہ پڑھے جاسکیں۔ گویا ان پتھروں کو اللہ نے اس طرح چھوڑا کہ وہ خود کار عمل سے پڑتے تھے اور ضرورت کے وقت اپنا کام کرتے تھے۔ یہ ایک عجیب تصویر کشی ہے۔ ذہن پر اس کے بےپناہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس تصویر کشی سے ذہن پر جو اثر مرتب ہوتا ہے وہ لمبی لمبی تشریحات سے نہیں پڑتا۔ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ (11 : 83) “ ظالموں سے یہ سزا کوئی دور نہیں ہے۔ ” یہ سزا قریب ہے ، تیار ہے اور اللہ کسی بھی وقت نازل کرسکتا ہے۔ یہاں آل لوط (علیہ السلام) کی اس سزا کو جن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ، اس کی تصویربعض آتش فشاں پہاڑوں کے بالکل مشابہ ہے۔ کیونکہ آتش فشانی کے عمل میں پتھر اور غبار آلود پتھر برستے ہیں اور ظالم اقوام کو اللہ ان کے ظلم کی سزا دیتے ہیں۔ ہم اس مشابہت کا ذکر کر کے یہ کہنا نہیں چاہتے کہ یہ سزا کوئی آتش فشانی تھی اور کسی مخصوص وقت میں عمل واقع ہوگیا۔ نہ ہم اس کی نفی کرتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں ان لوگوں کے لیے آتش فشانی کی سزا مقرر کی ہو۔ یہ بھی سزا کا ایک طریقہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اس قوم کو اللہ نے ایک عام اور معمولی آتش فشانی کے ذریعے سے سزا دی ہو۔ اور روز ازل سے ان کے لیے یہ عمل تجویز ہوا ہو۔ اور یہ بھی اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے اس مجرم قوم کے لیے اپنے تصرفات قدرت میں سے ایک عمل کو مخصوص کر یدا ہو۔ اور یہ بھی درست ہو سکتا ہے کہ یہ آتش فشانی عام طبیعی عمل کا حصہ نہ ہو اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے خارق عادت طریقے سے کوئی سنگ باری کی ہو اور اس کا تعلق طبیعی آتش فشانی سے بالکل نہ ہو۔ یہ عمل اسی طرح خارق عادت ہو جس طرح حضرت ابراہیم کے ہاں بچے کی ولادت کا عمل معتاد طریقے کے بالکل برعکس ہوگیا تھا۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے وہ جس طرح چاہے ، کرسکتا ہے۔ اس کی مشیت بےقید ہے اور انسان کے لیے اس کا سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔

هود 11:84

درس نمبر 103 ایک نظر میں اسلامی نظریہ حیات انسانی تاریخ میں واحد ، دائمی اور مسلسل نظریہ ہے ، اب ہم حضرت شعیب (علیہ السلام) کے دور میں پہنچ گئے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم اہل مدین میں اس کا بیڑا اٹھاتے ہیں۔ لیکن ان کی دعوت میں اسلامی نظریہ حیات کے ساتھ ساتھ سوسائٹی کا ایک دوسرا اہم مسئلہ بھی سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ سوسائٹی میں امانت عدل اور حسن معاملہ کے اصول نافذ کرو ، ان معاملات کا تعلق بھی اسلامی عقائد سے ہے۔ کیونکہ اللہ وحدہ کے دین میں داخل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ صرف اللہ کی شریعت کا اتباع کیا جائے۔ لیکن اہل مدین کو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی یہ دعوت سن کر بڑا تعجب ہوا اور یہ بات ان کو انوکھی لگی۔ ان کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ دین کے ساتھ ناپ تول جیسے دنیاوی معاملات کا تعلق کیا ہے ؟ نماز اور ترازو کے درمیان کیا نسبت ؟ عبادت اور مالی معاملات بالکل الگ الگ نوعیت کے حامل ہیں۔ یہ قصہ حضرت ہود (علیہ السلام) اور ان کی قوم عاد کے قصے اور حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی قوم ثمود کے قصے کے بعد آتا ہے۔ لیکن اس قصے کا انجام اور اس کا اسلوب بیان اور عذاب کی نوعیت قصہ صالح کے ساتھ زیادہ مماثلت رکھتی ہے۔ ان کا عذاب بھی ایک جیسا ہے اور اس عذاب کا اسلوب تعبیر بھی یکساں ہے۔ درس نمبر 103 تشریح آیات 84۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 95 صرف اللہ کی بندگی کرنا دین اسلام کی خشت اول ہے۔ اور اسلامی نظام زندگی کی اساس ہے۔ اسلامی شریعت کا بھی یہ قاعدہ اول ہے۔ اسلامی سوسائٹی کا نظام عمل سب کا سب اسی قاعدے پر مبنی ہے۔ یہ وہ عقیدہ ہے جس کے بعیر کوئی عقیدہ ، کوئی پرستش ، کو سی طرز عمل مکمل اور اسلامی نہیں کہلا سکتی۔ ان آیات میں جو اہم معاملہ اٹھایا گیا ہے وہ عدل و انصاف اور امانت و دیانت کا اور معاشی ضابطہ بندی کا مسئلہ ہے۔ اس سے قبل کی آیات میں اسلام کی نظریاتی اساس کا تعین تھا۔ لیکن یہاں جو مالی ہدایات دی گئی ہیں وہ اس نظریہ حیات کا فطری نتیجہ ہیں۔ اہل مدین کا علاقہ حجاز سے شام تک جانے والے تجارتی راستے پر تھا۔ اور ان میں یہ کمزوری پائی جاتی تھی کہ وہ ناپ تول میں لوگوں کا حق مارتے تھے۔ لوگوں کی چیزوں کی قیمت کم دیتے۔ یہ وہ کمزوری ہے جو انسان کے قلب و عمل ، دونوں کو گندہ کردیتی ہے اور انسان سے مروت اور عزت نفس کے بلند اوصاف جاتے رہتے ہیں۔ اس رزالت کے علاوہ یہ لوگ شمالی عرب میں شام کی طرف آنے جانے والے قافلوں کو بھی لوٹ لیتے تھے اور آنے جانے والوں پر ناجائزراہداری عائد کرکے ظلم کرتے تھے۔ اس صورت میں ان کے اس عیب کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلامی نظام حیات میں نظریات ، عقائد کا تعق براہ راست امانت ، دیانت ، عدذل و انصاف اور لین دین میں اصول انصاف کے قیام اور سوسائٹی سے چوری ، ڈکیتی اور تمام دور سے معاشری جرائم کے ، خاتمے سے ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ کسی معاشرے میں عدل و انصاف تب قائم ہو سکتا ہے جب اس کے افراد کے اندر خدا خوفی اور آخرت کی جواب دہی کا احساس ہو۔ صرف ایسے عقائد اور ایسے اخلاق کے ذریعے سوسائٹی میں عدل و انصاف اور منصفانہ معاشی نظام اور معاشی روابط قائم ہو سکتے ہیں اور ایک ٹھوس انسانی معاشرہ قائم کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی صحت مند معاشرے میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ باہم معاملات کا نظام اور معاشرہ کا اخلاقی نظام ایک مستحکم نظریاتی اساس پر مبنی ہوں اور معاملات اور اخلاق ایسے اصولوں اور تصورات پر مبنی نہ ہوں جو آئے دن بدلنے والے ہوں۔ اسلامی نظریہ حیات میں یہی خوبی ہے۔ اسلامی نظام تمام دوسرے نظاموں اور اسلامی سوسائٹی تمام دوسری سوسائیٹوں سے اس پہلو میں منفرد ہے کہ اس میں افراد کی پوری زندگی اسلامی عقائد و تصورات پر استوار ہوتی ہے اس میں محض عارضی اور ظاہری مظاہر و مطالب ہی پش نظر نہیں ہوتے۔ جب اسلامی سوسائٹی اپنے اخلاق و معاملات ان اصولوں اور مستحکم بنیادوں پر رکھتی ہے تو پھر وہ گردش دوران کے عارضی موثرات سے بدلتی نہیں اور نہ ہی وہ کسی مروجہ عارضی سیلاب اور تپش سے متاثر ہوتی ہے۔ لوگوں کے اخلاق ، ان کے باہم معاملات کا اخلاقی رنگ یہ نہیں ہورتا کہ وہ زرعی معیشت پر تکیہ رکھتے ہیں یا وہ جانور پال کر زندگی بسر کرتے ہیں یا ان کا تعلق صنعت و حرفت کے پیشوں سے ہے یہ عوامل ان کے اخلاق اور طرز عمل پر اثر انداز نہیں ہوتے۔ اسلام کے اخلاقی نقطہ نظر میں اور اسلام کے اخلاقی اصولوں میں ان عوامل کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے کیونکہ اسلامی اخلاقیات اور اسلامی شریعت و قوانین کا ماخذ قرآن اور سنت ہیں اور اسلامی قانون اور اخلاق کا نصب العین صرف رضائے الہی کا حصول ہے اور آخرت کے عذاب کا خوف اور ثواب کا حصول اسلامی نظام اور معاشرے میں اصل محرک ہے۔ دنیا میں انسانوں کے وضع کردہ نظام ہائے قانون و اخلاق چونکہ تجارتی روابط ، اقتصادی حالات اور ذاتی اور قومی مفادات کو پیش نظر رکھ کر بنائے اور وضع کیے جاتے ہیں ، اس لیے یہ تصورات اور یہ اخلاقیات اسلامی زاویہ نگاہ سے بالکل لغو اور بودے ہوتے ہیں۔ (تفصیلات کے لیے دیکھیے امیر جماعت اسلامی پاکستان سید ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب “ اسلام کا اخلاقی نقطہ نظر ” اور مولف کی کتاب (نحو مجتمع اسلامی) کی فصل “ نظام اخلاق ”) وَلا تَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّي أَرَاكُمْ بِخَيْرٍ (84 : 11) “ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں۔ ” یعنی اللہ نے تمہیں رزق حسن دیا ہے۔ اس لیے تمہیں اس قسم کی گھٹیا حرکت کرنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ مجبور ہے۔ تم پہلے سے غنی ہو۔ اگر تم ناپ اور تول کے پیمانوں میں یہ بےقاعدگی چھوڑ دو تو تم غریب نہ ہو گے اور اگر اسے جاری رکھو تو تم امیر تر نہیں بن سکتے۔ بلکہ خطرہ یہ ہے کہ اس بےقاعدگی کی وجہ سے تمہارے اچھے دن ختم ہوجائیں اور تمہاری مالی مار دھاڑ کے مواقع ہی نا پید ہوجائیں۔ وَإِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُحِيطٍ (11 : 84) “ مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لے گا۔ ” یہ عذاب آخرت میں بھی آسکتا ہے جہاں پر چھوٹے بڑے معاملے کا فیصلہ ہوگا اور اس جہان میں بھی آسکتا ہے ، جب لوگوں پر تمہاری یہ غلط کاری واضح ہوگی اور تمہاری تجارت ماند پڑجائے گی اور معاشرے کے اندر کشمکش شروع ہوگی اور تم ایک دوسرے کے برسرپیکار ہوجاؤ گے اور رسہ کشی شروع ہوجائے گی۔

هود 11:85

وَيَا قَوْمِ أَوْفُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ (85 : 11) “ اور اے برادران قوم ، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پوارا ناپو اور تولو ”۔ یہاں یہ کہا کہ ناپ اور تول پورا پورا کرو ، یعنی کم ناپ تول کے مقابلے میں پورا ناپنے اور تولنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ پورے سے بھی دقرے زیادہ ہو۔ چناچہ اس انداز تعبیر یعنی أَوْفُوا الْمِكْيَالَ (85 : 11) کے اندر وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِکْیَالَ (84 : 11) کے مقابلے میں زیادہ خوبصورتی ہے۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ زیادتی کی طرف مائل ناپ و تول کی راہ لو۔ وَلا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ (85 : 11) “ اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو۔ ” یہ فقرہ ناپ تول کی اشیاء تک محدود نہیں ہے۔ یہ عام ہے یعنی تمام قیمتی اشیاء خواہ ناپ سے متعلق ہوں ، یا تول سے ، قیمت سے ہوں یا ویلیو سے۔ کیونکہ “ شیئٌ” کے لفظ کا اطلاق بہت عام ہے۔ اس کا اطلاق محسوسات اور غیر محسوسات دونوں پر ہوتا ہے۔ لوگوں کی چیزوں کو گھٹانا ایک پہلو سے تو ظلم ہے لیکن اس کے بعض دوسرے مفاسد بھی ہیں۔ لوگوں کے اندر اس کی وجہ سے نفرت اور دوسرے برے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کو کوفت ہوتی ہے اور معاشرے کے اندر ایک دور سے کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے اور جب عدل و انصاف کے اداروں پر لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے تو معاشرے کے اندر اجتماعی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اور لوگوں کے دل ایک دوسرے کے خلاف بھر جاتے ہیں اور اجتماعی زندگی سے اصلاح اور نیکی کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔ وَلا تَعْثَوْا فِي الأرْضِ مُفْسِدِينَ (11 : 85) “ اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔ ” عثو کے معنی بگاڑ پیدا کرنے کے ہیں۔ یعنی فساد پھیلانے کے منصوبے نہ بناتے پھرو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے اندر موجود بھلائی کے میلانات کو ابھارتے ہیں کہ اللہ نے ان کو جائز ذرائع سے جو دولت دی ہے وہ اس ناپاک دولت سے بہت ہی بہتر ہے جو ناپ تول میں کمی بیشی کر کے وہ کماتے ہیں اور لوگوں کے حقوق مار کر جمع کرتے ہیں۔

هود 11:86

بَقِيَّةُ اللَّهِ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (11 : 85) “ اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ ” کیونکہ اللہ کے ہاں جو اجر ہے یا اللہ کی شریعت کے مطابق جائز ذرائع سے آنے والی کمائی زیادہ قیمتی اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔ اس سے قبل اللہ نے بتایا تھا کہ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کرو اور اللہ کے دین میں پورے کے پورے داخل ہوجاؤ۔ اور اب یہ بتایا جاتا ہے کہ اس دین کے مطابق جو منافع وہ کمائیں گے وہ زیادہ نفع بخش کام ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور معاشی سرگرمیوں میں پاکیزہ راہ اختیار کرنا اس ایمان اور نظریہ کا لازمی تقاضا بھی ہے۔ اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو اور ان کے سامنے پیش کی گئی دعوت کو ایک طرف چھوڑتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ بذات خود کسی تصرف کے مالک نہیں ہیں ، کوئی گارنٹی تمہیں نہیں دے سکتے اور وہ عملا شر اور عذاب اور فساد سے تمہیں روک دینے پر قدرت نہیں رکھتے ۔ اور وہ اس بات کے ذمہ دار نہیں ہیں کہ وہ ہر حال میں تمہیں ہدایت پر لے آئیں اور اگر تم لوگ ضلالت پر اصرار کرتے ہو تو اس بات کی عند اللہ کوئی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے۔ میرا فرض تو صرف ابلاغ مبین ہے اور تبلیغ دین کا فریضہ ظاہر ہے کہ میں نے ادا کردیا ہے۔ وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظٍ (11 : 86) “ اور بہرحال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں۔ ” یہ انداز کلام ایک سننے والے کو اس بات پر مجبور کردیتا ہے کہ معاملہ بڑا سنگین ہے۔ اس کے نتائج خطرناک ہوں گے اور اگر وہ غور نہ کریں گے تو برے انجام سے خود وہ دو چار ہوں گے اور کوئی وہاں نہ رکاوٹ ڈال سکتے گا اور نہ کوئٍ بچانے والا ہوگا۔ لیکن قوم بگڑی ہوئی تھی اور وہ فساد اور بےراہ روی کے عادی ہوگئے تھے اور وہ لوگوں کا استحصال صدیوں سے کرتے چلے آئے تھے۔ چناچہ وہ کہتے ہیں :

هود 11:87

یہ جواب نہایت ہی توہین آمیز اور خود سری پر مبنی ہے۔ ایک جاہل اور بگاڑ میں مبتلا اور مسخ شدہ فطرت پر مبنی جاہل شخص کا جواب ہے اور جواب دینے والا مخاطب کے ساتھ سخت عناد اور دشمنی رکھتا ہے ، ذرا غور کیجئے۔ قَالُوا يَا شُعَيْبُ أَصَلاتُكَ تَأْمُرُكَ أَنْ نَتْرُكَ مَا يَعْبُدُ آبَاؤُنَا أَوْ أَنْ نَفْعَلَ فِي أَمْوَالِنَا مَا نَشَاءُ (87 : 11) “ انہوں نے جواب دیا ، “ اے شعیب (علیہ السلام) کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟ ” وہ اس بات کو نہیں سمجھتے یا اس بات کو وہ سمجھنا نہیں چاہتے کہ نماز اسلامی نظریہ حیات اور ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ اور اللہ کی پرستش اور بندگی کا متعین طریقہ ہے۔ وہ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ کوئی عقیدہ و نظریہ ، عقیدہ توحید کے بغیر حق نہیں ہو سکتا اور کوئی نظام اس کے سوا درست نہیں ہو سکتا کہ آباؤ اجداد کے تمام غلط طریقوں کی کلی نفی کردی جائے۔ نیز اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی نظام اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک اسلامی شریعت قائم نہ کردی جائے اور اسلامی شریعت بھی زندگی کے تمام شعبوں میں نہ نافذ کردی جائے۔ تجارت اور مالی معاملات میں زندگی کے انفرادی معاملات میں اور زندگی کے اجتمائی معاملات میں۔ کیونکہ عقیدہ و عمل اسلامی نظامی میں ایک ہی مجموعہ ہیں۔ ان میں تفریق نہیں ہو سکتی اور نہ عمل کے بغیر محض خالی خولی نعرے کی اسلام میں کوئی اہمیت ہے۔ اس سے قبل کہ ہم دین و معاملات کے درمیان افتراق کے اس احمقانہ تصور کی تردید میں مزید بحث کریں۔ یہاں اس بات کو نوٹ کرنا ضروری ہے کہ آج کی جاہلیت کے عمل برادار اس سلسلے میں وہی کچھ سوچتے ہیں جو حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کی سوچ تھی۔ اور دور جدید کی جاہلیت نے اس غلط سوچ کے لیے قوم شعیب (علیہ السلام) سے برھ کر آگے کوئی دلائل فراہم نہیں کیے۔ جس طرح اس معاملے میں قوم شعیب مشرک تھی ، جدید جاہلیت کے پیروکار بھی اس شرک میں مبتلا ہیں۔ چاہے وہ یہودی ہوں ، چاہے عیسائی ، چاہے وہ آج کے نام نہاد مسلمان ہوں کیونکہ یہ سب لوگ دور جدید میں امیان و عقیدے اور اعمال وشعائر کے درمیان افتراق کرتے ہیں ، شریعت اور عمل کو جدا کرتے ہیں ، یہ لوگ عقائد و عبادات کو اللہ کے لیے مخصوص کرتے ہیں اور معاملات اور دنیاوی امور اپنے دوسرے مبعودوں اور لیڈروں کے احکام کے مطابق سر انجام دیتے ہیں اور یہی ہے حقیقی اور اصلی شرک۔ ہاں ، اس بات کا اعتراف کرنا بےجا نہ ہوگا کہ جو لوگ یہودی عقائد کے پیروکار ہیں اور ان کے عقائد بار ہا کی تحر یفات کے عمل سے بھی گزرے ہیں ، لیکن اس کے باوجود ان کی اسمبلی میں جب یہ مسئلہ پیش ہوا کہ ان کے بحری جہاز بعض مسافروں کو غیر شرعی حرام کھانا پیش کرتے ہیں تو ان کی اسمبلی نے ایسے جہازوں کو حکم دے دیا کہ جس قدر خسارہ بھی ہو ، ان کو چاہیے کہ ہر مسافر کو اسرائیلی شریعت کے مطابق صرف حلال کھانا پیش کیا جائے۔ اب ذرا ان لوگوں کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جو دعوائے مسلمانی کے ساتھ ساتھ یہ سب کچھ کرتے ہیں۔ آن ہم میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں ، جو مسلمانی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن وہ اخلاقی نیز معاشی اور معاملات کے میدان میں شریعت کی پابندی نہیں کرتے۔ اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جن کے پاس دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹیوں کی ڈگریاں ہیں ، یہ لوگ نہایت ہی تعجب سے پوچھتے ہیں اسلام کو ہمارے ذاتی اور انفرادی معاملات سے کیا تعلق ہے۔ اسلام کو اس بات سے کیا تعلق ہے کہ کوئی ساحلوں پر ننگا پھرتا ہے یا باپردہ۔ اسلام کو اس سے کیا تعلق ہے کہ کوئی عورت گلیوں میں پھرتے ہوئے کیسا لباس زیب تن کرتی ہے۔ پھر اسلام کو اس سے کیا واسطہ کہ کوئی اپنی جنسی قوت کو کس طرح استعمال کرتا ہے۔ پھر اگر کوئی اپنا مزاج درست کرنے کے لیے شراب پیتا ہے تو اسلام کو کیا تکلیف ہے ، پھر اس جدید دور کے تقاضے ہیں اور کچھ لوگ ان تقاضوں کو پورا کرتے ہیں تو اسلام کو کیا تکلیف ہے ؟ یہ سوالات اور قوم شعیب کے اس سوال میں فرق کیا ہے ؟ (اَصَلَوتٰک تَاْمُرُکَ ) “ کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے ان تمام معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پوجا ہمارے آباء کرتے چلے آئے ہیں۔ ” پھر وہ دوسرا سوال بڑی شدت اور استکار سے کرتے ہیں کہ اسلام کو اقتصادی تعلقات میں دخل دے یا ہمارے لیے اقتصادی اخلاقیات کا کوئی نظام وضع کرے۔ دین کا سودی لین دین کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ دین کو اس سے کیا لگی کہ اگر کوئی مہارت اور دھوکے سے لوگوں سے مال جمع کرتا ہے تو وہ ایسا نہ کرے بشرطیکہ یہ چالاکی و عیاری انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کے دائرے کے اندر ہو ، بلکہ یہ لوگ بڑھی ڈھٹائی سے یہاں تک کہتے ہیں کہ جب بزنس میں اخلاق دخل اندازی کرے تو بزنس تباہ ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگ بعض مغربی مفکرین کے اخلاقی نظام اقتصاد کو بھی برا سمجھتے ہیں اور ان کا یہ خیال ہے کہ ہمارے دور کے بعض مخلصین کا مغالطہ ہے۔ قدیم جاہلیت کے علم بردار اہل مدین کی مذمت میں ہمیں بہت آگے نہیں بڑھنا چاہیے جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ دور جدید کی جاہلیت اس کے مقابلے میں کہیں آگے بڑھ گئی ہے۔ اگر چہ جدید جاہلیت علم ، ترقی اور تہذیب کی مدعی ہے اور یہ جاہلیت ان لوگوں کو رجعت پسندی اور جہالت جمود اور تعصب کا الزام دیتی ہے جو لوگ یہ دعوت دیتے ہیں کہ ایمان ، شخصی طرز عمل اور بازار کے مادی اور اقتصادی طرز عمل کو باہم مربوط کردیا جائے۔ کوئی شخص اس وقت تک صحیح موحد نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے شخصی معاملات کو اپنے اجتماعی معالمات کو اپنے عقیدے کے ساتھ منسلک نہ کرے ، کیونکہ اگر کوئی ایسا نہ کرے تو وہ مشرک ہے اور مشرک اور توحید ایک دل میں کسی طرح جمع ہو سکتے ہیں یاد رہے کہ شرک کی کئی قسمیں اور کئی رنگ ہیں ایک رنگ اس کا وہ ہے جو آج کل رائج ہے اور ہم اس کے اندر زندگی بسر کر رہے ہیں اور اصل اور حقیقی شرک کی طرح اس پر بھی تمام مشرکین کا اتفاق ہے ، جدید ہوں کہ قدیم۔ جس دور میں ہوں اور جس مقام پر ہوں۔ ذرا ملاحظہ کیجئے اہل مدین حضرت شعیب (علیہ السلام) کے ساتھ کیسا طنز کرتے ہیں اور یہی حرکت آج کے مدعیان توحید بھی کرتے ہیں۔ إِنَّكَ لأنْتَ الْحَلِيمُ الرَّشِيدُ (11 : 87) “ بس تو ہی تو ایک عالی ظرف اور راست باز آدمی رہ گیا ہے ؟ ان کا مطلب یہ نہ تھا کہ وہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کو فی الواقعہ راست باز سمجھتے تھے ، بلکہ وہ اس کے برعکس سمجھتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک دانش مندی اور راست بازی یہ تھی کہ وہ ان بتوں کی پوجا کریں جن کی پوجا ان کے آباؤ اجداد کرتے چلے آئے ہیں اور یہ کام بغیر سوچے سمجھے کیا جائے اور یہ کہ عبادت کے دائرے سے تجارت و معاملات کو آزاد رکھا جائے۔ اور یہی تنازعہ آج نام نہاد ترقی پسندوں اور دنام رجعت پسندوں کے درمیان اسی انداز سے چل رہا ہے۔ اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ایک ایسے داعی حق کی طرح جیسے اپنی سچائی پر پورا پورا یقین ہو ، ان کے ساتھ نہایت ہی نرمی سے ہم کلام ہوتے ہیں وہ ان کے اس مذاق کو سنجیدگی کے ساتھ نظر انداز کردیتے ہیں۔ اور ان کی جہالت اور ان کے قصور کو خاطر میں نہیں لاتے۔ آپ ان کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ وہ اپنے رب کی طرف سے پوری شہادت رکھتے ہیں اور ان کو اپنے مشن کے بارے میں شرح صدر حاصل ہے اور یہ کہ ان کو وہ علم نبوت دیا گیا ہے جس سے یہ لوگ محروم ہیں ، نیز جب یہ اپنے معاملات کو اسلامی طریقہ کار کے مطابق استوار کریں گے تو ان کو جلد ہی اسلامی نظام معیشت کے فوائد کا علم ہوجائے گا۔ جیسا کہ خود حضرت شعیب (علیہ السلام) اس پر عمل پیرا ہیں اور صاحب مال و تجارت ہیں ، کیونکہ وہ اس دعوت پر ان سے کسی ذاتی مفاد کے طلب گار نہیں ہیں اور نہ وہ یہ چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو اچھے طرز عمل کی تلقین کر کے خود برے اعمال پر عمل پیرا ہوں اور بازار کو خالی پا کر خود مفاد سمیٹ لیں ان کی دعوت تو ان لوگوں کے لیے اور عوام الناس سب کے لیے عام ہے اور اس میں ان کے لیے کوئی نقصان بھی نہیں ہے۔ یہ محض ایک وہم ہے کہ معیشت میں اسلامی ہدایات کے نفاد سے شاید ان کو نقصان ہوگا۔

هود 11:88

حضرت اپنی تقریر میں نہایت ہی ہمدردی ، محبت اور برادرانہ جذبات کا خیال رکھتے ہوئے خطاب کرتے ہیں۔ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كُنْتُ عَلَى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّي (88 : 11) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے رب کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا۔ ” میرے نفس کے اندر ایک حقیقت موجود ہے اور میں اسے سچ سمجھتا ہوں ، پھر میری طرف وحی آتی ہے اور مجھے حکم دیا جاتا ہے کہ تم تبلیغ کرو اور ان واضح شہادتوں کے بعد میں تمہارے سامنے بڑے اعتماد کے ساتھ یہ دعوت پیش کرتا ہوں۔ وَرَزَقَنِي مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا (88 : 11) “ پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھا رزق بھی عطا کیا ہے۔ ” میں خود بھی مالدار ہوں اور اپنی دولت میں تمہاری طرف تصرفات کرتا ہوں۔ وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ (88 : 11) “ اور میں یہ ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں۔ ” یعنی میرا مقصد یہ نہیں ہے کہ میں اس بری حرکت سے تمہیں تو روک دوں اور دکان میں جا کر خود یہ کام کروں اور دولت کماؤں ، ہر گز نہیں بلکہ إِنْ أُرِيدُ إِلا الإصْلاحَ مَا اسْتَطَعْتُ “ میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تم بھی میرا بس چلے۔ ” اصلاح سے مراد عام اصلاح ہے جس میں پورے معاشرے کی بھلائی ہو ، معاشرے کے تمام افراد اور تمام جماعتوں کی بھلائی ہو۔ اگرچہ بعض لوگ اس خام خیالی میں مبتلا ہیں کہ اسلامی نظریہ حیات اپنانے سے مادی لحاظ سے نقصان پہنچتا ہے اور انسان سے نفع اندوزی کے مواقع جاتے رہتے ہیں ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان نہ صرف حرام اور خبیث اور ناپاک دولت کے سمیٹنے سے بچ نکلتا ہے۔ بلکہ حرام اور ناپاک کمائی کی جگہ رزق حلال اسے ملتا ہے اور اسلامی نظریہ حیات کے نتیجے میں ایک ایسا پاکیزہ معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں تمام لوگوں کی ضروریات کی ضمانت ہوتی ہے اور جس کے اندر کوئی تعصب نہیں ہوتا اور نہ کوئی جنگ وجدال ہوتا ہے۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلا بِاللَّهِ (88 : 11) “ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ ” وہی ہے جو میرے اصلاحی کام کو کامیابی تک پہنچا سکتا ہے ، کیونکہ اسے خوب علم ہے کہ میری نیت اور میرا ارادہ کیا ہے اور وہی ہے جو اس جدوجہد پر مجھے جزاء دے سکتا ہے۔ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ (88 : 11) “ اسی پر میں نے بھروسہ کیا۔ ” یعنی میرا اعتماد صرف پر ہے اور اس کے سوا کسی اور پر میں کوئی بھروسہ نہیں کرتا۔ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ (88 : 11) “ اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ ” میرا رخ اسی کی طرف ہے اور تمام امور میں میرا رجوع اسی کی صرف ہے۔ میری نیت ، میرا ارادہ اور میرا عمل اسی کی طرف متوجہ ہے۔ اور تمام جدوجہد اس کے لیے ہے۔ اب حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو ایک دوسرے میدان میں فہمائش کرتے ہیں۔ ان کو بتاتے ہیں کہ ذرا قوم نوح۔ قوم ہود ، قوم صالح اور قوم لوط کے انجام پر غور کرو۔ تاریخی واقعات کند ذہن افراد پر زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ جامد اور سنگدل لوگوں پر عقلی دلائل کے مقابلے میں واقعات کا زیادہ اثر ہوتا ہے۔

هود 11:89

یعنی میری مخالفت اور دشمنی تمہیں اس بات پر مجبور نہ کر دے کہ تم مخالف اور تکذیب میں بہت آگے چلے جاؤ

هود 11:90

حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کو وعظ و نصیحت یاد دہانی اور تخویف اور اچھے انجام کی یقین دہانی اور تمام دوسرے ذرائع سے راہ راست پر لانے کی سعی کرتے ہیں۔ ہر حربہ استعمال کرتے ہیں کہ ان کے دل نرم ہوجائیں۔ ان کے اندر خدا خوفی پیدا ہوجائے۔ لیکن ان لوگوں کے دل انتہائی درجے تک بگاڑ اور فساد میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ان کا تصور حیات ہی غلط تھا ، اس لیے ان کی روش بھی غلط تھی۔ چناچہ وہ ان کی پرسوز گفتگو کے نتیجے میں سرکشی کی راہ میں مزید آگے بڑھ جاتے ہیں۔

هود 11:91

حق بالکل واضح ہے لیکن ان کا سینہ اس کے لیے تنگ ہے ، وہ چاہتے ہی نہیں کہ حق کا ادراک کرسکیں۔ قَالُوا يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِمَّا تَقُولُ (91 : 11) “ انہوں نے جواب دیا “ اے شعیب تیزی بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔ ” یہ کیوں ؟ اس لیے کہ وہ اقدار حیات کا تعین صرف مادی مفادات کے اصولوں کے مطابق کرتے ہیں اور ہر معاملے کے ظاہری پہلو کو دیکھتے ہیں۔ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا (91 : 11) “ اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بےزور آدمی ہے۔ ” یہ لوگ مادی قوت ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک اس حقیقت اور قوت کا کوئی وزن نہیں ہے جو حضرت شعیب (علیہ السلام) ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ وَلَوْلا رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ (91 : 11) “ اور اگر تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کرچکے ہوتے۔ ” ان کے نزدیک گویا نظریاتی قوت کے مقابلے میں خاندان کی قوت زیادہ اہم ہے۔ دلی جوڑ کے مقابلے میں نسب کا جوڑ زیادہ مضبوط ہے لیکن یہ لوگ دراصل اس بات سے غافل ہیں کہ اللہ اپنے دوستوں پر ، ایک بھائی کے حق میں بھائی کی غیرت سے زیادہ غیور ہے۔ وَمَا أَنْتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ (11 : 91) “ تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو۔ ” یعنی تم ایک بھائی اور معزز آدمی کی حیثیت سے بھی ہم پر غالب نہیں ہو اور نہ ایک طاقتور شخص کی حیثیت سے تمہارا پلہ بھاری ہے ، ہم اگر مجبور ہیں تو خاندانی روابط کی وجہ سے تجھ پر ہاتھ ڈالنے سے مجبور ہیں۔ جب انسان ایک پختہ نظریہ سے محروم ہوجاتا ہے ، اس کے پیش نظر اعلیٰ قدریں اور اعلیٰ روایات نہیں ہوتیں تو وہ زمین پر گر پڑتا ہے ، اس کے ذہن میں اس دنیا کے مفادات ہی اعلیٰ وارفع ہوجاتے ہیں اور وہ دنیاوی قدروں کا گرویدہ ہوجاتا ہے لہذا وہ اس جیسی قیمتی اور بلند دعوت کی قدر نہیں کرتا۔ وہ اعلیٰ حقائق کے ادراک سے محروم ہوجاتا ہے۔ اس قسم کی ذہنیت کے لوگ ایسی بلند دعوت پر اگر ہاتھ نہیں اٹھاتے تو بھی محض دنیاوی قوت کے ڈر سے نہیں اٹھاتے۔ ایسے لوگ محض مادی قوت کو خاطر میں لاتے ہیں۔ رہے بلند عقائد ، اعلی خیالات اور بلند اقدار تو یہ وہ چیزیں ہیں جن کی کسی مادہ پرست شخص کے ہاں کوئی اہمیت نہیں ہے۔ گرے ہوئے پست لوگوں کی ذہینت ہمیشہ کچھ ایسی ہی ہوتی ہے۔ اب حضرت شعیب (علیہ السلام) کی غیری ایمانی جوش میں آتی ہے ، ان سے اللہ رب العالمین کی یہ توہین برداشت نہیں ہوتی وہ اپنی قوم اور کنبے کی مادی قوت سے دست بردار ہوجاتے ہیں۔ وہ ان کو اس برے انجام کے حوالے کردیتے ہیں جو اس کائنات میں ایسے لوگوں کے لیے مقدر ہوتا ہے اور اللہ کے بارے میں ان کے توہین آمیز رویے کی مذمت کرتے ہیں اور ان کے سامنے ایک آخری اور فیصلہ کن دعوت پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں میرا عمل میرا ہے اور تمہارا عمل تمہارا ہے۔ اب وہ ان کو خدائی قوتوں کے حوالے کرتے ہیں اور ان کو صاف صاف بتاتے ہیں کہ تم جیسے لوگوں کے لیے اللہ کے ہاں ایک بہت بڑا عذاب ہر وقت تیار رہتا ہے لہذا لو اپنا وہ انجام جو تم نے خود اپنے لیے اختیار کیا ہے۔ قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (92) وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ (93) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری براداری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور ) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا ؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ اے میری قوم کے لوگو ، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدڈی ہی تمہیں معلوم ہو جاؤے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ ”

هود 11:92

قَالَ يَا قَوْمِ أَرَهْطِي أَعَزُّ عَلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ (92 : 11) “ شعیب (علیہ السلام) نے کہا “ بھائیو ، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے۔ ” میری برادری تو انسانوں کا فقط ایک مجموعہ ہے۔ جس قدر بھی وہ قوی ہوں بہرحال وہ انسان ہی تو ہیں ، ضعیف مخلوق ہی تو ہیں۔ اللہ کے تو بہرحال وہ بندے اور غلام ہیں ، کیا چند لوگوں سے تم ڈرتے ہو اور اللہ سے نہیں ڈرتے ہو ، کس قدر بودی سوچ ہے تمہاری۔ وَاتَّخَذْتُمُوهُ وَرَاءَكُمْ ظِهْرِيًّا (92 : 11) “ اور اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا۔ ” کسی کو چھوڑ دیتے اور کسی سے منہ پھیر دینے کا یہ نہایت ہی مخصوص انداز بیان ہے ، واضع تصویر کے انداز میں۔ چونکہ یہ لوگ اللہ سے منہ پھیرتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اس لیے ان کا یہ فعل نہایت ہی گھناؤنا ہے۔ کیونکہ اللہ ہی نے ان کو پیدا کیا ہے۔ جن اچھے حالات میں وہ زندگی بسر کر رہے ہیں ان میں ان کا رازق وہی تو ہے۔ گویا ان کا یہ فعل نہایت متکبرانہ ، ناسیاسی اور سفید چشمی ہے اور شرعی اعتبار سے کفر وتکذیب کا حالم ہے اور نہایت ہی برا اندازہ ہے جو انہوں نے لگایا۔ إِنَّ رَبِّي بِمَا تَعْمَلُونَ مُحِيطٌ (11 : 92) “ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے ” احاطہ کا مفہوم یہ ہے کہ جس چیز کا احاطہ کیا گیا ہو وہ پوری طرح محیط کے قبضہ اور زیر قدرت ہوتی ہے اس سے مراد قدرت کاملہ ہے۔ ایک مومن کی جانب سے بارگاہ رب العزت میں یہ بڑی جرات ہے کہ وہ اللہ کی عزت کو ہاتھ ڈالے اور اللہ کے غضب کو دعوت دے۔ اللہ کا عذاب جب جب نازل ہوتا ہے تو اس کے مقابلے میں قوم ، خاندان اور ملازم بےبس ہوجاتے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی خاندانی اور قوم قبیلے کی قوت کا تو انہوں نے اعتراف بھی کیا لیکن وہ تو مومن باللہ تھے۔ انہوں نے اس معمولی قوت کی کوئی پرواہ نہیں کی نہ اسے قابل ذکر سمجھا کہ قوم کی وجہ سے وہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ نہ انہوں نے قوم اور قبیلے کی قوت پر اکتفاء کیا اور یہی رویہ ایک سچے مومن کا رویہ ہوتا ہے۔ ایک سچا مومن صرف اپنے رب پر ہی بھروسہ کرتا ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی صرف اللہ سے ڈریں۔ ایک مومن قوم اور قبیلے کی قوت اور عصبیت کو بھی اسلام اور رب کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ ہے اسلامی اور غیر اسلامی قومیت کے درمیان فرق۔ ہر دور اور زمانے میں قوم قبیلے کے بارے میں اسلام اور جاہلیت کا یہی تصور اور فرق رہا ہے۔ یہ جذبہ ایمانی اور جوش ایمان ہے جس کی تہہ میں اللہ پر بھروسے کے سواء اور کچھ نہیں ہے۔ اسی سے حضرت شعیب (علیہ السلام) اب اپنی قوم کے لوگوں کو یہ سخت چیلنج دیتے ہیں اور ان کے درمیان جدائی ہوجاتی ہے اور اب دونوں کی راہیں جدا ہوجاتی ہیں۔

هود 11:93

وَيَا قَوْمِ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ (92 : 11) “۔ ” تم اپنے راستے اور اپنے منصوبے پر عمل کرو میں اپنے پر کر رہا ہوں۔ اب میں نے تم سے اپنے ہاتھ جھاڑ لیے ہیں۔ إِنِّي عَامِلٌ سَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ يَأْتِيهِ عَذَابٌ يُخْزِيهِ وَمَنْ هُوَ كَاذِبٌ وَارْتَقِبُوا إِنِّي مَعَكُمْ رَقِيبٌ (11 : 93) “ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا ، جلدی ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ذلت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔ ” تم اپنے طریقے پر کام کرو میں اپنے پر کر رہا ہوں۔ عنقریب تمہیں اپنا انجام معلوم ہوجائے گا اور ہمیں اپنا۔ نیز جو عذاب تمہارے انتظار میں ہے اس کے لیے انتظار کرو۔ (اِرْتِقوا) میں انہیں جو انتظار کا مشورہ دیا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر کے دل میں پورا یقین تھا کہ عذاب آنے والا ہے۔ نیز اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے ان سے مکمل جدائی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اب اس منظر کا پردہ گرتا ہے۔ یہ منظر نظروں سے اوجھل ہونے سے پہلے ایک آخری بات یعنی حق و باطل کی مکمل جدائی کی بات کی جاتی ہے دوسرا منظر اب اس قوم کی مکمل تباہی کا منظر ہوگا۔ اس منظر میں یہ لوگ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہیں۔ ان کو ایسی کڑک نے آ لیا جیسے قوم صالح (علیہ السلام) پر آئی تھی۔ چناچہ دونوں کا انجام ایک جیسا تھا۔ ان کے محلات خالی پڑے تھے گویا کبھی یہاں کوئی بستا ہی نہ تھا گویا کبھی یہ محلات تعمیر ہی نہ ہوئے تھے یہ لوگ بھی قوم صالح (علیہ السلام) کی طرح تاریخ کا حصہ بن گئے اور ابدالاباد تک ملعون ٹھہرے۔ جس طرح ان کا وجود اس کرہ ارض سے لپیٹ لیا گیا۔ اسی طرح صفحات تاریخ سے ان کا ذکر بھی مٹا دیا گیا۔

هود 11:94

تاریخ کا ایک دوسرا سیاہ ورق الت دیا گیا اور مکذبین پر عذاب الٰہی ایک حقیقت بن کر آیا۔ ان لوگوں پر جو پیغمبروں کے ڈراوے کو جھٹلاتے تھے۔

هود 11:95

تاریخ کا ایک دوسرا سیاہ ورق الت دیا گیا اور مکذبین پر عذاب الٰہی ایک حقیقت بن کر آیا۔ ان لوگوں پر جو پیغمبروں کے ڈراوے کو جھٹلاتے تھے۔

هود 11:96

درس نمبر 104 ایک نظرر میں یہاں قصص کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس خاتمے میں حضرت موسیٰ اور فرعون کے قصے کی طرف اشارہ کردیا جاتا ہے تاکہ یہاں قوم فرعون کی ہلاکت کو بھی ریکارڈ پر لایا جائے اور یہ بتایا جائے کہ قوم فرعون نے بھی اللہ کے پیغمبر کے مقابلے میں فروعون کی اطاعت کی تھی اس لیے ہلاک ہوئی۔ اس اشارہ میں قصہ فرعون کی ناگفتہ کڑیوں کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جبکہ قصے کی بعض اہم جھلکیاں بھی اس منظر میں موجود ہیں۔ ان تمام قصص میں یہی اہم اصول زیر بخث ہے کہ اسلام میں ہر فرد اپنے کیے کا ذمہ دار ہے اور اگر کوئی رؤسا اور کبراء کی اطاعت کرتا ہے تو خدا اور رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری کی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتا۔ قصہ فرعون کا آغاز اس منظر سے ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو آیات اور دلائل و بینات کے ساتھ فرعون کے باس بھیجا جاتا ہے جن کے اندر خدائی قوت ہے اس لیے کہ فرعون عظیم مادی قوت کا مالک تھا۔ لہذا اس کی قوت کے مقابلے میں قوت کا ہونا ضروری تھا۔ درس نمبر 104 تشریح آیات

هود 11:97

یہاں سیاق کلام میں اس قصے کو یہات ہی اجمال کے ساھ لایا جاتا ہے کیونکہ یہاں مقصد یہ ہے کہ قصے کا آخری منظری بیش کیا جائے چناچہ نظر آتا ہے کہ آگے آگے فرعون ہے اور اس کے پیچھے پیچھے اس کی قوم ہے۔ یہ لوگ اللہ کی حکم عدولی کر کے فرعون کے احکام مانتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ فرعون کا حکم جاہلانہ ، احمقانہ اور بودا ہے۔ فَاتَّبَعُوا أَمْرَ فِرْعَوْنَ وَمَا أَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِيدٍ (97) یہ لوگ جو ن کہ فرعون کے متبعین تھے اس لیے یہ اس کے پیچھے چلیں گے۔ جس طرح یہاں وہ بغیر سوچ اور تدبیر کے اس کے پیچھے چلتے تھے۔ اپنی رائے اور عقل کو استعمال نہ کرتے تھے۔ وہ ذلت پر راضی تھے ، اور اللہ نے عقل ، ارادہ اور آزادی کی جو نعمتیں ان کو دی تھیں ، انہوں نے ان نعمتوں سے دست برداری اختیار کرلی تھی ، اور غلام کی راہ اختیار کرلی تھی ، یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن یہ عذاب میں بھی اسی غلامہ شان سے داخل ہوں گے۔ فرعون وہاں بھی ان کا لیڈر ہو کا۔

هود 11:98

ذرا اس منظر کو دیکھئے ! آغاز یوں ہوتا ہے کہ قصہ ماضی کا ہے اور مستقبل میں انجام بد کا ڈراوا ہے۔ اچانک یہ منظر عملاً شروع ہوجاتا ہے۔ مستقبل ماضی میں بدل جاتا ہے اور اسکرین پر مابضی کی حالت چتلی ہے۔ فرعون نے گویا قیامت میں ان کی قیادت کر ہی ڈالی۔ (فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ) “ مویشیوں کی طرح انہیں آگ کے گھاٹ پر لے گیا ”۔ جس طرح ایک چروایا اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے گھاٹ پر لے جاتا ہے ۔ بیشک یہ لوگ جانوروں کا ایک ریوڑ ہی تو تھے۔ ریوڑ نے کبھی غور وفکر کیا ہے ، کیا انہوں نے انسانیت کی اعلیٰ صفات یعنی غور وفکر کرنے سے انکار نہیں کردیا ؟ اور حریت و اراداہ سے دست برداری اختیار نہیں کرلی ؟ لہذا وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ جہنم کے گھاٹ پر پہنچ جائیں ، جاں ان کی پیاس نہ بجھے گی۔ جہاں ان کا سینہ ٹھنڈا نہ ہوگا بلکہ وہاں کا پانی تو ان کی آنتوں اور ہونٹوں کو بھون ڈالے گا ، دل جلا دے گا۔ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ (11-98) “ کیسی بدتر جائے ورود ہے یہ ”۔ یہ تو ایک منظر تھا جس میں فرعون ان کی قیادت کر رہا ہے اور ان کو آک تک پہنچاتا ہے۔ لیکن اس منظر پر تبصرہ یوں ہے :

هود 11:99

یہ ایک تو توہین آمیر تبصرہ ہے۔ یوں کہ آگ کو تحفے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ محنت کا صلہ۔ یہ تھا تحفہ جو فرعون نے ان کو دیا۔ وہاں اس نے جادوگروں کے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو عظیم صلہ اور جزاء دے گا۔ یہ ہے اس کی دی ہوئی جزا اور انعام۔ یہ ہے اس کا عظیم انعام کیا ہی برا ہے وہ گھاٹ جس پر اس نے اپنی قوم کو اتارا اور کیا ہی برا ہے وہ صلہ جو اس نے اپنی قوم کو اس کی جانب سے اتباع پر دیا۔ یہاں قرآن کریم کا اسلوب بیان ایسا ہے کہ انسان عش عش کرنے لگتا ہے اور یہ ہے دراصل اعجاز اس کتاب عزیز جسے وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو قرآنی اسلوب کا ذوق رکھتے ہیں۔

هود 11:100

درس نمبر 105 ایک نظر میں یہ سبق اس سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں کافی تبصرے اور متنوع نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ سورت کے تمام مضامین کو پیش نظر رکھ کر ایک مکمل اختتامیہ ہے۔ سورت کے آغاز اور قصص سب کا خلاصہ یہاں آگیا ہے۔ یہ تبصرے اور نتائج سورت کے مباحث کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور سورت کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مکمل مناسبت بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً پہلا نتیجہ واضح طور پر قصص القرآن کے ساتھ متعلق ہے۔ ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) (11 : 1000 تا 102) “ یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ، ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ اپنے اوپر ظلم کیا ، اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ، ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہوتے ہے۔ فی الواقعہ اس کی پکڑ سخت اور دردناک ہوتی ہے ”۔ دوسرا تبصرہ ہے ان اقوام کی ہلاکت پر جو اس دنیا میں ہلاکت سے دوچار ہوئیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس دنیاوی پکڑ کے بعد آخرت کی پکڑ شدید ہوگی۔ آخرت کے عذات کا یہ نقشہ اس طرح کھینچا جاتا ہے کہ منظر آنکھوں کے سامنے اسکرین پر چلتا پھرتا نظر آتا ہے جس طرح قرآن کریم مشاہد قیامت کے مناظر کو پیش کرتا ہے۔ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103) وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلا لأجَلٍ مَعْدُودٍ (104) يَوْمَ يَأْتِ لا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (105) فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ (106) خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (107) وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ (108) (11 : 103 تا 108) “ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس ورز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ہم اس کے لانے میں کچھ زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں۔ بس ایک گنی چنی مدت اسکے لیے مقرر ہے۔ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ پھر کچھ لوگ اس دن بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت جو بدبخت ہ . ں گے وہ دوزخ میں جائیں گے ، جہاں وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ بیشک تیرا ربت پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے ، کرے۔ رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ ریھ گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کجھ اور چٔہے۔ ایسی بخشش ان کو ملے گی کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا ”۔ اس کے بعد ان ہلاک شدہ بستیوں کے انجام سے یہ نتینجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جو انجام ان بستیوں کا ہوا ، وہی انجام اہل مکہ کا بھی ہوگا۔ اگر دنیا میں ان کو ہلاک نہ کیا گیا اور ان کو مہلت دے دی گئی جس طرح قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ضرور عذاب سے دوجار ہوں گے ، لہذا اے رسول آپ اور آپ کے ساتھ چلنے والے ساتھی اپنی راہ پر سیدھے آگے بڑھیں اور ان مشرکین اور ظالموں کی طرف ذرا بھی جھکاؤ اختیار نہ کریں ، نماز قائم کریں ، مشکلات پر صبر کریں کیونکہ اللہ محسنین کے اجر کو ذرہ برابر ضائع نہیں کرتا۔ فَلاتَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلاكَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (109) وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (110) وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (111) فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (112) وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (113) وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (114) وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (115) (11 : 109 تا 115) “ پس اے نبی ، تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ ولوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے ، اور ہم ان کا حصہ انہیں بھر پور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔ ہم اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیا جارہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا ہوتا۔ یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔ پس اے نبی ﷺ ، تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ، جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ، ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے۔ اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اور صبر کرو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبہی ضائع نہیں کرتا ”۔ اس کے بعد روئے سخن ان ازمنہ قدیمہ کی اقوام کی طرف مڑجاتا ہے جن میں ایسے لوگ نہ تھے جو لوگوں کو فساد فی الارض سے روکتے ۔ ان اقوام کی اکثریت اسی راہ پر چلتی رہی جس پر وہ چل پرے تھے۔ اس لیے وہ اقوام ہلاکت کی مستحق قرار پائیں۔ اللہ کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ کسی بستی کو ہلاک کر دے اور اس کے باسی مصلح ہوں۔ فَلَوْلا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُو بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الأرْضِ إِلا قَلِيلا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ (116) وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ (117) (11 : 116 ۔ 117) “ پھر کیوں نہ ان قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ، ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے ؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچالیا ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کا سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیا گیا اور وہ مجرم بن کر ہے۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ”۔ اس حصے میں اللہ نے ان سنتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جو اللہ نے اپنی مخلوقات کے اندر جاری کی ہوئی ہے اور وہ سنت یہ ہے کہ لوگوں کے رجحانات اور میلانات مختلف ہوں گے اور ان کے خیایات میں اخلاف ہو کا۔ اگر الہل چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی ملت کردیتا۔ لیکن اللہ نے لوگوں کو فکری اور اختیاری آزادی عطا کردی اور اس وجہ سے ان کے درمیان اختلافات واقع ہوگے۔ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ (118)إِلا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (119) (11 : 118 – 119) “ بیشک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا۔ مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے اور بےراہ رویوں سے صرف وہی لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اسی (آزادی انتخاب و اختیار اور امتحان) کے لیے تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا ”۔ آخر میں ، اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ان قصص کے بیان سے غرض وغایت کیا ہے ؟ یہ کہ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کفار کو آخری وارننگ دے دیں اور ان کو بتادیں کہ کس قدر عظیم عذاب آخرت ان کے انتظار میں ہے ، اور یہ کہ آپ اللہ پر توکل کر کے اللہ کی عبادت کریں اور لوگون کو اللہ کے حوالے کردیں تاکہ اللہ ان کو ان کے عمل کے مطابق جزا دے۔ وَكُلا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (120) وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (121) وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ (122) وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (123) (11 : 121 ۔ 123) “ اور اے نبی ﷺ ، یہ پیغمبروں کے قصے ، جو ہم تمہیں سناتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا۔ اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کا کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جارہے ہیں ، انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔ آسمان اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے ۔ سب الہل کے قبضہ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اللہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ بس اے نبی تو اس کسی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ، جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو ، تیرا رب اس سے بیخبر نہیں ہے ”۔ درس نمبر 105 تشریح 100۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 123 ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) “ یہ چند بستیوں کی سر گزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے ، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے ”۔ اس سے قبل جو مناظر پیش کیے گئے وہ آنکھوں کے سامنے ہیں۔ پردہ خیال پر مناظر و تصاویر بری تیزی سے آرہی ہے اور گزر رہی ہیں۔ نظر آتا ہے کہ بعض لوگ ایک عظیم طوفان میں موجوں کے تھپیڑے کھا رہے ہیں۔ بعض لوگ سخت آندھی میں گھرے ہوئے ہیں جو سب کچھ تباہ کرتی آگے بڑہ رہی ہے ، بعض لوگوں پر اس قدر شدید آواز اور چیخ آئی وہ دھڑام سے گرے اور ڈھیرے ہوگئے۔ بعض لوگ اپنے گھروں سمیت زمین کے پیٹ میں دھنس گئے اور بعض ایسے ہیں کہ جو اپنے متبعین کے جلوس کی قیادت کر رہے ہیں لیکن پورے کا پورا جلوس جاکر جہنم میں گر جاتا ہے ، غرض اقوام سابقہ کو پیش آنے والے تمام واقعات نظروں کے سامنے آجاتے ہیں اور بات لوگوں کے دل و دماغ اور ان کے شعور کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے تو اس حالت میں درج ذیل تبصرہ آتا ہے۔ ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (11 : 100) “ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے ”۔ یہ چند بستیوں کی مختصر سرگزشت ہے ، عبرت آموزی کے علاوہ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ جو پیغمبر یہ علم پیش کر رہا ہے ، مسلمہ طور پر اس سے قبل وہ ان باتوں کو نہ جانتا تھا ، لہذا اس کے پاس یہ معلومات بذریعہ وحی ہی آرہی ہیں اور قصص قرآن کے بیش کرنے کے بیشمار مقاصد میں سے یہ بھی ایک مقصد ہے۔ (منہا قائم) “ یعنی ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں ، لوگ دیکھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ یہ کس قدر متمدن اور ترقی یافتہ اقوام تھیں مثلا علاقہ احقاف میں عاد کے آثار ہیں ، اور علاقہ حجر میں وقم ثمور کے آثار ابھی تک موجود ہیں اور ان میں سے بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ یعنی وہ “ زرع محصور ” کی طرح ہیں کہ فصل کٹ جانے کے بعد زمین چٹیل رہ گئی ہے ، مثلاً قوم نوح (علیہ السلام) اور قوم لوط (علیہ السلام) جن کے آثار بھی غائب ہیں۔ اقوام اور گروہوں کی حیثیت کی کیا ہے ، کبھی ہم نے غور کیا ہے ؟ دراصل وہ بھی انسانوں کی فصلیں ہیں ، بوئی جاتی ہیں ، بری ہوتی ہیں اور کٹ جاتی ہیں۔ ان میں سے بعض فصلیں اچھی ہوتی ہیں اور بعض بری ہوتی ہیں ، بعض فصلیں بڑھتی ہیں اور بعض گھٹتے گھٹتے مرجاتی ہیں۔ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ (11 : 101) ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا۔ ” انہوں نے اپنے فہم و ادارت کے ذرائع کو معطل کردیا تھا۔ ہدایت سے منہ موڑ لیا تھا ، اللہ کی آیات و معجزات کی تکذیب کردی تھی اور ان کو جن باتوں سے ڈرایا گیا تھا اس کے ساتھ انہوں نے مذاق کیا تھا ، لہذا وہ مظلوم نہ تھے بلکہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (11 : 101) “ اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سواء انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ ” ان قصص کے لانے کی یہ ایک دوسری غرض ہے۔ اس سورت کا آغاز ہی اس بات سے ہوا تھا کہ جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرتے ہیں ، ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس کے بعد قصص رسل میں تمام رسولوں نے لوگوں کو باری باری بےانجام سے ڈرایا۔ تمام رسولوں نے لوگوں کو کہا کہ تم نے جن خود ساختہ الہوں کی پیروی اختیار کر رکھی ہے ، وہ تمہیں نہیں بچا سکتے چناچہ تمام قصص کا یہ خلاصہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ بھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اور جب اللہ کا حکم آئے گا اور قیامت برپا ہوگی تو وہاں یہ الہ کسی بھی پیروکار کو عذاب سے نہ بچا سکیں گے بلکہ ان کی وجہ سے خسارہ اور بربادی ہوگی (یہاں لفظ تتبیب استعمال ہوا ہے۔ جو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے سخت بربادی کا اظہار کرتا ہے) یہ بربادی زیادہ اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے ان جھوٹے خداؤں پر اندھا اعتماد کیا اور اس وجہ سے یہ اعراض اور تکذیب میں آگے بڑھ گئے اس وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے یہ الہ تو جس طرح نفع نہیں دے سکتے تھے اسی طرح نقصان بھی نہ دے سکتے تھے لیکن اس اندھے اعتماد کی وجہ سے خسارہ بڑھ گیا۔ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ (11 : 102) “ اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ ” (اسی طرح) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قصص میں بیان ہوا ، جس طرح اقوام ملل کو تباہ اور ہلاک کیا گیا ، جب انہوں نے ظلم کیا۔ ظالم سے مراد مشرکہ ہے یعنی جب وہ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت سے رو گردانی کر کے کسی اور کو رب اور حاکم بنا لیتی ہیں اس طرح وہ اپنے اوپر ظلم کرتی ہیں کیونکہ شرک و فساد میں مبتلا ہو کر عذاب آخرت کی مستحق بنتی ہیں ایسی اقوام شرک کی وجہ سے دعوت توحید دعوت اصلاح سے محروم ہوجاتی ہیں اور اس طرح زمین ظلم و فساد سے بھر جاتی ہے۔ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (11 : 102) “ فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے۔ ” یہ سزائے شدید اللہ تعالیٰ مہلت کے بعد دیتا ہے جب لوگ خوب عیاشی کرلیتے ہیں ، یوں وہ ابتلاء میں پڑجاتے ہیں۔ پھر ان کے عذرات بھی غتم ہوجاتے ہیں ، اس لیے کہ رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ ان پر حجت تمام کردیتا ہے۔ پھر جب ان اقوام میں ظلم کا دور دورہ ہوتا ہے اور مظلوموں پر ظالموں کی گرفت مضبوط ہوجاتی ہے اور حالت یہ ہوجاتی ہے کہ دعوت حق دینے والے مصلحین نہایت ہی قلیل اور بےاثر رہ جاتے ہیں اور ظالموں کے آگے ان کی ایک نہیں چلتی۔ کیونکہ وہ ظلم میں بہت آگے جا چکے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان ان ظالموں سے علیحدہ ہوجاتے ہیں جو ظلم میں بہت آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔ یہ اہل ایمان پھر اپنے آپ ہی کو امت سمجھتے ہیں ، اپنے دین اور اپنے رب کی پیروی کرتے ہیں ، ان کا اپنا قائد ہوتا ہے اور اپنے روابط ہوتے ہیں اور امت ظالمہ کو وہ چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے قدرتی انجام تک پہنچ جائے اللہ کی اس سنت کے مطابق جو اس نے اس کائنات کے لیے تجویز کر رکھی ہے ، ہمیشہ ہمیشہ کے ۔ یہ دنیاوی پکڑ دراصل آخرت کے لیے ایک علامتی سزا ہوتی ہے اور جو لوگ عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں وہ اس پکڑ سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کو اللہ نے بہرحال یہ بصیرت دے دی ہوتی ہے کہ جو خدا دنیا میں اس قدر شدید عذاب کسی قوم کو دے سکتا ہے وہ آخرت میں اس سے بھی شدید عذاب دے سکتا ہے ، اس لیے وہ ڈرتے ہیں۔ یہاں قرآن مجید انسان کو اچانک دنیا کے مناظرے قیامت کے مناظر کی طرف لے جاتا ہے اور یہ قرآن مجید کا خاص اسلوب ہے کہ وہ دنیا کے مناظر کے بعد اچانک آخرت کا منظر پیش کردیتا ہے۔

هود 11:101

درس نمبر 105 ایک نظر میں یہ سبق اس سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں کافی تبصرے اور متنوع نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ سورت کے تمام مضامین کو پیش نظر رکھ کر ایک مکمل اختتامیہ ہے۔ سورت کے آغاز اور قصص سب کا خلاصہ یہاں آگیا ہے۔ یہ تبصرے اور نتائج سورت کے مباحث کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور سورت کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مکمل مناسبت بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً پہلا نتیجہ واضح طور پر قصص القرآن کے ساتھ متعلق ہے۔ ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) (11 : 1000 تا 102) “ یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ، ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ اپنے اوپر ظلم کیا ، اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ، ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہوتے ہے۔ فی الواقعہ اس کی پکڑ سخت اور دردناک ہوتی ہے ”۔ دوسرا تبصرہ ہے ان اقوام کی ہلاکت پر جو اس دنیا میں ہلاکت سے دوچار ہوئیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس دنیاوی پکڑ کے بعد آخرت کی پکڑ شدید ہوگی۔ آخرت کے عذات کا یہ نقشہ اس طرح کھینچا جاتا ہے کہ منظر آنکھوں کے سامنے اسکرین پر چلتا پھرتا نظر آتا ہے جس طرح قرآن کریم مشاہد قیامت کے مناظر کو پیش کرتا ہے۔ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103) وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلا لأجَلٍ مَعْدُودٍ (104) يَوْمَ يَأْتِ لا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (105) فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ (106) خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (107) وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ (108) (11 : 103 تا 108) “ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس ورز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ہم اس کے لانے میں کچھ زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں۔ بس ایک گنی چنی مدت اسکے لیے مقرر ہے۔ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ پھر کچھ لوگ اس دن بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت جو بدبخت ہ . ں گے وہ دوزخ میں جائیں گے ، جہاں وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ بیشک تیرا ربت پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے ، کرے۔ رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ ریھ گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کجھ اور چٔہے۔ ایسی بخشش ان کو ملے گی کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا ”۔ اس کے بعد ان ہلاک شدہ بستیوں کے انجام سے یہ نتینجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جو انجام ان بستیوں کا ہوا ، وہی انجام اہل مکہ کا بھی ہوگا۔ اگر دنیا میں ان کو ہلاک نہ کیا گیا اور ان کو مہلت دے دی گئی جس طرح قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ضرور عذاب سے دوجار ہوں گے ، لہذا اے رسول آپ اور آپ کے ساتھ چلنے والے ساتھی اپنی راہ پر سیدھے آگے بڑھیں اور ان مشرکین اور ظالموں کی طرف ذرا بھی جھکاؤ اختیار نہ کریں ، نماز قائم کریں ، مشکلات پر صبر کریں کیونکہ اللہ محسنین کے اجر کو ذرہ برابر ضائع نہیں کرتا۔ فَلاتَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلاكَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (109) وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (110) وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (111) فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (112) وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (113) وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (114) وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (115) (11 : 109 تا 115) “ پس اے نبی ، تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ ولوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے ، اور ہم ان کا حصہ انہیں بھر پور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔ ہم اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیا جارہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا ہوتا۔ یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔ پس اے نبی ﷺ ، تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ، جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ، ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے۔ اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اور صبر کرو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبہی ضائع نہیں کرتا ”۔ اس کے بعد روئے سخن ان ازمنہ قدیمہ کی اقوام کی طرف مڑجاتا ہے جن میں ایسے لوگ نہ تھے جو لوگوں کو فساد فی الارض سے روکتے ۔ ان اقوام کی اکثریت اسی راہ پر چلتی رہی جس پر وہ چل پرے تھے۔ اس لیے وہ اقوام ہلاکت کی مستحق قرار پائیں۔ اللہ کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ کسی بستی کو ہلاک کر دے اور اس کے باسی مصلح ہوں۔ فَلَوْلا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُو بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الأرْضِ إِلا قَلِيلا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ (116) وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ (117) (11 : 116 ۔ 117) “ پھر کیوں نہ ان قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ، ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے ؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچالیا ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کا سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیا گیا اور وہ مجرم بن کر ہے۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ”۔ اس حصے میں اللہ نے ان سنتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جو اللہ نے اپنی مخلوقات کے اندر جاری کی ہوئی ہے اور وہ سنت یہ ہے کہ لوگوں کے رجحانات اور میلانات مختلف ہوں گے اور ان کے خیایات میں اخلاف ہو کا۔ اگر الہل چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی ملت کردیتا۔ لیکن اللہ نے لوگوں کو فکری اور اختیاری آزادی عطا کردی اور اس وجہ سے ان کے درمیان اختلافات واقع ہوگے۔ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ (118)إِلا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (119) (11 : 118 – 119) “ بیشک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا۔ مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے اور بےراہ رویوں سے صرف وہی لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اسی (آزادی انتخاب و اختیار اور امتحان) کے لیے تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا ”۔ آخر میں ، اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ان قصص کے بیان سے غرض وغایت کیا ہے ؟ یہ کہ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کفار کو آخری وارننگ دے دیں اور ان کو بتادیں کہ کس قدر عظیم عذاب آخرت ان کے انتظار میں ہے ، اور یہ کہ آپ اللہ پر توکل کر کے اللہ کی عبادت کریں اور لوگون کو اللہ کے حوالے کردیں تاکہ اللہ ان کو ان کے عمل کے مطابق جزا دے۔ وَكُلا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (120) وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (121) وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ (122) وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (123) (11 : 121 ۔ 123) “ اور اے نبی ﷺ ، یہ پیغمبروں کے قصے ، جو ہم تمہیں سناتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا۔ اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کا کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جارہے ہیں ، انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔ آسمان اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے ۔ سب الہل کے قبضہ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اللہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ بس اے نبی تو اس کسی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ، جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو ، تیرا رب اس سے بیخبر نہیں ہے ”۔ درس نمبر 105 تشریح 100۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 123 ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) “ یہ چند بستیوں کی سر گزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے ، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے ”۔ اس سے قبل جو مناظر پیش کیے گئے وہ آنکھوں کے سامنے ہیں۔ پردہ خیال پر مناظر و تصاویر بری تیزی سے آرہی ہے اور گزر رہی ہیں۔ نظر آتا ہے کہ بعض لوگ ایک عظیم طوفان میں موجوں کے تھپیڑے کھا رہے ہیں۔ بعض لوگ سخت آندھی میں گھرے ہوئے ہیں جو سب کچھ تباہ کرتی آگے بڑہ رہی ہے ، بعض لوگوں پر اس قدر شدید آواز اور چیخ آئی وہ دھڑام سے گرے اور ڈھیرے ہوگئے۔ بعض لوگ اپنے گھروں سمیت زمین کے پیٹ میں دھنس گئے اور بعض ایسے ہیں کہ جو اپنے متبعین کے جلوس کی قیادت کر رہے ہیں لیکن پورے کا پورا جلوس جاکر جہنم میں گر جاتا ہے ، غرض اقوام سابقہ کو پیش آنے والے تمام واقعات نظروں کے سامنے آجاتے ہیں اور بات لوگوں کے دل و دماغ اور ان کے شعور کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے تو اس حالت میں درج ذیل تبصرہ آتا ہے۔ ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (11 : 100) “ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے ”۔ یہ چند بستیوں کی مختصر سرگزشت ہے ، عبرت آموزی کے علاوہ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ جو پیغمبر یہ علم پیش کر رہا ہے ، مسلمہ طور پر اس سے قبل وہ ان باتوں کو نہ جانتا تھا ، لہذا اس کے پاس یہ معلومات بذریعہ وحی ہی آرہی ہیں اور قصص قرآن کے بیش کرنے کے بیشمار مقاصد میں سے یہ بھی ایک مقصد ہے۔ (منہا قائم) “ یعنی ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں ، لوگ دیکھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ یہ کس قدر متمدن اور ترقی یافتہ اقوام تھیں مثلا علاقہ احقاف میں عاد کے آثار ہیں ، اور علاقہ حجر میں وقم ثمور کے آثار ابھی تک موجود ہیں اور ان میں سے بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ یعنی وہ “ زرع محصور ” کی طرح ہیں کہ فصل کٹ جانے کے بعد زمین چٹیل رہ گئی ہے ، مثلاً قوم نوح (علیہ السلام) اور قوم لوط (علیہ السلام) جن کے آثار بھی غائب ہیں۔ اقوام اور گروہوں کی حیثیت کی کیا ہے ، کبھی ہم نے غور کیا ہے ؟ دراصل وہ بھی انسانوں کی فصلیں ہیں ، بوئی جاتی ہیں ، بری ہوتی ہیں اور کٹ جاتی ہیں۔ ان میں سے بعض فصلیں اچھی ہوتی ہیں اور بعض بری ہوتی ہیں ، بعض فصلیں بڑھتی ہیں اور بعض گھٹتے گھٹتے مرجاتی ہیں۔ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ (11 : 101) ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا۔ ” انہوں نے اپنے فہم و ادارت کے ذرائع کو معطل کردیا تھا۔ ہدایت سے منہ موڑ لیا تھا ، اللہ کی آیات و معجزات کی تکذیب کردی تھی اور ان کو جن باتوں سے ڈرایا گیا تھا اس کے ساتھ انہوں نے مذاق کیا تھا ، لہذا وہ مظلوم نہ تھے بلکہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (11 : 101) “ اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سواء انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ ” ان قصص کے لانے کی یہ ایک دوسری غرض ہے۔ اس سورت کا آغاز ہی اس بات سے ہوا تھا کہ جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرتے ہیں ، ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس کے بعد قصص رسل میں تمام رسولوں نے لوگوں کو باری باری بےانجام سے ڈرایا۔ تمام رسولوں نے لوگوں کو کہا کہ تم نے جن خود ساختہ الہوں کی پیروی اختیار کر رکھی ہے ، وہ تمہیں نہیں بچا سکتے چناچہ تمام قصص کا یہ خلاصہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ بھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اور جب اللہ کا حکم آئے گا اور قیامت برپا ہوگی تو وہاں یہ الہ کسی بھی پیروکار کو عذاب سے نہ بچا سکیں گے بلکہ ان کی وجہ سے خسارہ اور بربادی ہوگی (یہاں لفظ تتبیب استعمال ہوا ہے۔ جو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے سخت بربادی کا اظہار کرتا ہے) یہ بربادی زیادہ اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے ان جھوٹے خداؤں پر اندھا اعتماد کیا اور اس وجہ سے یہ اعراض اور تکذیب میں آگے بڑھ گئے اس وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے یہ الہ تو جس طرح نفع نہیں دے سکتے تھے اسی طرح نقصان بھی نہ دے سکتے تھے لیکن اس اندھے اعتماد کی وجہ سے خسارہ بڑھ گیا۔ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ (11 : 102) “ اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ ” (اسی طرح) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قصص میں بیان ہوا ، جس طرح اقوام ملل کو تباہ اور ہلاک کیا گیا ، جب انہوں نے ظلم کیا۔ ظالم سے مراد مشرکہ ہے یعنی جب وہ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت سے رو گردانی کر کے کسی اور کو رب اور حاکم بنا لیتی ہیں اس طرح وہ اپنے اوپر ظلم کرتی ہیں کیونکہ شرک و فساد میں مبتلا ہو کر عذاب آخرت کی مستحق بنتی ہیں ایسی اقوام شرک کی وجہ سے دعوت توحید دعوت اصلاح سے محروم ہوجاتی ہیں اور اس طرح زمین ظلم و فساد سے بھر جاتی ہے۔ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (11 : 102) “ فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے۔ ” یہ سزائے شدید اللہ تعالیٰ مہلت کے بعد دیتا ہے جب لوگ خوب عیاشی کرلیتے ہیں ، یوں وہ ابتلاء میں پڑجاتے ہیں۔ پھر ان کے عذرات بھی غتم ہوجاتے ہیں ، اس لیے کہ رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ ان پر حجت تمام کردیتا ہے۔ پھر جب ان اقوام میں ظلم کا دور دورہ ہوتا ہے اور مظلوموں پر ظالموں کی گرفت مضبوط ہوجاتی ہے اور حالت یہ ہوجاتی ہے کہ دعوت حق دینے والے مصلحین نہایت ہی قلیل اور بےاثر رہ جاتے ہیں اور ظالموں کے آگے ان کی ایک نہیں چلتی۔ کیونکہ وہ ظلم میں بہت آگے جا چکے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان ان ظالموں سے علیحدہ ہوجاتے ہیں جو ظلم میں بہت آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔ یہ اہل ایمان پھر اپنے آپ ہی کو امت سمجھتے ہیں ، اپنے دین اور اپنے رب کی پیروی کرتے ہیں ، ان کا اپنا قائد ہوتا ہے اور اپنے روابط ہوتے ہیں اور امت ظالمہ کو وہ چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے قدرتی انجام تک پہنچ جائے اللہ کی اس سنت کے مطابق جو اس نے اس کائنات کے لیے تجویز کر رکھی ہے ، ہمیشہ ہمیشہ کے ۔ یہ دنیاوی پکڑ دراصل آخرت کے لیے ایک علامتی سزا ہوتی ہے اور جو لوگ عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں وہ اس پکڑ سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کو اللہ نے بہرحال یہ بصیرت دے دی ہوتی ہے کہ جو خدا دنیا میں اس قدر شدید عذاب کسی قوم کو دے سکتا ہے وہ آخرت میں اس سے بھی شدید عذاب دے سکتا ہے ، اس لیے وہ ڈرتے ہیں۔ یہاں قرآن مجید انسان کو اچانک دنیا کے مناظرے قیامت کے مناظر کی طرف لے جاتا ہے اور یہ قرآن مجید کا خاص اسلوب ہے کہ وہ دنیا کے مناظر کے بعد اچانک آخرت کا منظر پیش کردیتا ہے۔

هود 11:102

درس نمبر 105 ایک نظر میں یہ سبق اس سورت کا اختتامیہ ہے ۔ اس میں کافی تبصرے اور متنوع نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ سورت کے تمام مضامین کو پیش نظر رکھ کر ایک مکمل اختتامیہ ہے۔ سورت کے آغاز اور قصص سب کا خلاصہ یہاں آگیا ہے۔ یہ تبصرے اور نتائج سورت کے مباحث کے ساتھ مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں اور سورت کے اغراض و مقاصد کے ساتھ مکمل مناسبت بھی رکھتے ہیں۔ مثلاً پہلا نتیجہ واضح طور پر قصص القرآن کے ساتھ متعلق ہے۔ ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) (11 : 1000 تا 102) “ یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ، ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ اپنے اوپر ظلم کیا ، اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ، ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہوتے ہے۔ فی الواقعہ اس کی پکڑ سخت اور دردناک ہوتی ہے ”۔ دوسرا تبصرہ ہے ان اقوام کی ہلاکت پر جو اس دنیا میں ہلاکت سے دوچار ہوئیں۔ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس دنیاوی پکڑ کے بعد آخرت کی پکڑ شدید ہوگی۔ آخرت کے عذات کا یہ نقشہ اس طرح کھینچا جاتا ہے کہ منظر آنکھوں کے سامنے اسکرین پر چلتا پھرتا نظر آتا ہے جس طرح قرآن کریم مشاہد قیامت کے مناظر کو پیش کرتا ہے۔ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103) وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلا لأجَلٍ مَعْدُودٍ (104) يَوْمَ يَأْتِ لا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (105) فَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَشَهِيقٌ (106) خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (107) وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِي الْجَنَّةِ خَالِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ إِلا مَا شَاءَ رَبُّكَ عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ (108) (11 : 103 تا 108) “ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس ورز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ہم اس کے لانے میں کچھ زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں۔ بس ایک گنی چنی مدت اسکے لیے مقرر ہے۔ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ پھر کچھ لوگ اس دن بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت جو بدبخت ہ . ں گے وہ دوزخ میں جائیں گے ، جہاں وہ ہانپیں گے اور پھنکارے ماریں گے اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کچھ اور چاہے۔ بیشک تیرا ربت پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے ، کرے۔ رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے تو وہ جنت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ ریھ گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں الا یہ کہ تیرا رب کجھ اور چٔہے۔ ایسی بخشش ان کو ملے گی کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا ”۔ اس کے بعد ان ہلاک شدہ بستیوں کے انجام سے یہ نتینجہ اخذ کیا گیا ہے کہ جو انجام ان بستیوں کا ہوا ، وہی انجام اہل مکہ کا بھی ہوگا۔ اگر دنیا میں ان کو ہلاک نہ کیا گیا اور ان کو مہلت دے دی گئی جس طرح قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح ضرور عذاب سے دوجار ہوں گے ، لہذا اے رسول آپ اور آپ کے ساتھ چلنے والے ساتھی اپنی راہ پر سیدھے آگے بڑھیں اور ان مشرکین اور ظالموں کی طرف ذرا بھی جھکاؤ اختیار نہ کریں ، نماز قائم کریں ، مشکلات پر صبر کریں کیونکہ اللہ محسنین کے اجر کو ذرہ برابر ضائع نہیں کرتا۔ فَلاتَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلاكَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (109) وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيهِ وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (110) وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (111) فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ وَلا تَطْغَوْا إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (112) وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (113) وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (114) وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (115) (11 : 109 تا 115) “ پس اے نبی ، تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ ولوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے ، اور ہم ان کا حصہ انہیں بھر پور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔ ہم اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیا جارہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چکا دیا ہوتا۔ یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔ پس اے نبی ﷺ ، تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ، جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ، ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے۔ اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اور صبر کرو اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبہی ضائع نہیں کرتا ”۔ اس کے بعد روئے سخن ان ازمنہ قدیمہ کی اقوام کی طرف مڑجاتا ہے جن میں ایسے لوگ نہ تھے جو لوگوں کو فساد فی الارض سے روکتے ۔ ان اقوام کی اکثریت اسی راہ پر چلتی رہی جس پر وہ چل پرے تھے۔ اس لیے وہ اقوام ہلاکت کی مستحق قرار پائیں۔ اللہ کی یہ سنت نہیں ہے کہ وہ کسی بستی کو ہلاک کر دے اور اس کے باسی مصلح ہوں۔ فَلَوْلا كَانَ مِنَ الْقُرُونِ مِنْ قَبْلِكُمْ أُولُو بَقِيَّةٍ يَنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِي الأرْضِ إِلا قَلِيلا مِمَّنْ أَنْجَيْنَا مِنْهُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَا أُتْرِفُوا فِيهِ وَكَانُوا مُجْرِمِينَ (116) وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ (117) (11 : 116 ۔ 117) “ پھر کیوں نہ ان قوموں میں جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں ، ایسے اہل خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے ؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچالیا ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کا سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیا گیا اور وہ مجرم بن کر ہے۔ تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں ”۔ اس حصے میں اللہ نے ان سنتوں کا بھی ذکر فرمایا ہے جو اللہ نے اپنی مخلوقات کے اندر جاری کی ہوئی ہے اور وہ سنت یہ ہے کہ لوگوں کے رجحانات اور میلانات مختلف ہوں گے اور ان کے خیایات میں اخلاف ہو کا۔ اگر الہل چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی ملت کردیتا۔ لیکن اللہ نے لوگوں کو فکری اور اختیاری آزادی عطا کردی اور اس وجہ سے ان کے درمیان اختلافات واقع ہوگے۔ وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلا يَزَالُونَ مُخْتَلِفِينَ (118)إِلا مَنْ رَحِمَ رَبُّكَ وَلِذَلِكَ خَلَقَهُمْ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (119) (11 : 118 – 119) “ بیشک تیرا رب اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا۔ مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے اور بےراہ رویوں سے صرف وہی لوگ بچیں گے جن پر تیرے رب کی رحمت ہے۔ اسی (آزادی انتخاب و اختیار اور امتحان) کے لیے تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا ”۔ آخر میں ، اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ان قصص کے بیان سے غرض وغایت کیا ہے ؟ یہ کہ نبی ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ آپ کفار کو آخری وارننگ دے دیں اور ان کو بتادیں کہ کس قدر عظیم عذاب آخرت ان کے انتظار میں ہے ، اور یہ کہ آپ اللہ پر توکل کر کے اللہ کی عبادت کریں اور لوگون کو اللہ کے حوالے کردیں تاکہ اللہ ان کو ان کے عمل کے مطابق جزا دے۔ وَكُلا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (120) وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (121) وَانْتَظِرُوا إِنَّا مُنْتَظِرُونَ (122) وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (123) (11 : 121 ۔ 123) “ اور اے نبی ﷺ ، یہ پیغمبروں کے قصے ، جو ہم تمہیں سناتے ہیں یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا۔ اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کا کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جارہے ہیں ، انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔ آسمان اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے ۔ سب الہل کے قبضہ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اللہ کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ بس اے نبی تو اس کسی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ، جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو ، تیرا رب اس سے بیخبر نہیں ہے ”۔ درس نمبر 105 تشریح 100۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 123 ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (100) وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (101) وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (102) “ یہ چند بستیوں کی سر گزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے ، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے ”۔ اس سے قبل جو مناظر پیش کیے گئے وہ آنکھوں کے سامنے ہیں۔ پردہ خیال پر مناظر و تصاویر بری تیزی سے آرہی ہے اور گزر رہی ہیں۔ نظر آتا ہے کہ بعض لوگ ایک عظیم طوفان میں موجوں کے تھپیڑے کھا رہے ہیں۔ بعض لوگ سخت آندھی میں گھرے ہوئے ہیں جو سب کچھ تباہ کرتی آگے بڑہ رہی ہے ، بعض لوگوں پر اس قدر شدید آواز اور چیخ آئی وہ دھڑام سے گرے اور ڈھیرے ہوگئے۔ بعض لوگ اپنے گھروں سمیت زمین کے پیٹ میں دھنس گئے اور بعض ایسے ہیں کہ جو اپنے متبعین کے جلوس کی قیادت کر رہے ہیں لیکن پورے کا پورا جلوس جاکر جہنم میں گر جاتا ہے ، غرض اقوام سابقہ کو پیش آنے والے تمام واقعات نظروں کے سامنے آجاتے ہیں اور بات لوگوں کے دل و دماغ اور ان کے شعور کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے تو اس حالت میں درج ذیل تبصرہ آتا ہے۔ ذَلِكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرَى نَقُصُّهُ عَلَيْكَ مِنْهَا قَائِمٌ وَحَصِيدٌ (11 : 100) “ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے ”۔ یہ چند بستیوں کی مختصر سرگزشت ہے ، عبرت آموزی کے علاوہ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ جو پیغمبر یہ علم پیش کر رہا ہے ، مسلمہ طور پر اس سے قبل وہ ان باتوں کو نہ جانتا تھا ، لہذا اس کے پاس یہ معلومات بذریعہ وحی ہی آرہی ہیں اور قصص قرآن کے بیش کرنے کے بیشمار مقاصد میں سے یہ بھی ایک مقصد ہے۔ (منہا قائم) “ یعنی ان کے آثار ابھی تک قائم ہیں ، لوگ دیکھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ یہ کس قدر متمدن اور ترقی یافتہ اقوام تھیں مثلا علاقہ احقاف میں عاد کے آثار ہیں ، اور علاقہ حجر میں وقم ثمور کے آثار ابھی تک موجود ہیں اور ان میں سے بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔ یعنی وہ “ زرع محصور ” کی طرح ہیں کہ فصل کٹ جانے کے بعد زمین چٹیل رہ گئی ہے ، مثلاً قوم نوح (علیہ السلام) اور قوم لوط (علیہ السلام) جن کے آثار بھی غائب ہیں۔ اقوام اور گروہوں کی حیثیت کی کیا ہے ، کبھی ہم نے غور کیا ہے ؟ دراصل وہ بھی انسانوں کی فصلیں ہیں ، بوئی جاتی ہیں ، بری ہوتی ہیں اور کٹ جاتی ہیں۔ ان میں سے بعض فصلیں اچھی ہوتی ہیں اور بعض بری ہوتی ہیں ، بعض فصلیں بڑھتی ہیں اور بعض گھٹتے گھٹتے مرجاتی ہیں۔ وَمَا ظَلَمْنَاهُمْ وَلَكِنْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ (11 : 101) ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا۔ ” انہوں نے اپنے فہم و ادارت کے ذرائع کو معطل کردیا تھا۔ ہدایت سے منہ موڑ لیا تھا ، اللہ کی آیات و معجزات کی تکذیب کردی تھی اور ان کو جن باتوں سے ڈرایا گیا تھا اس کے ساتھ انہوں نے مذاق کیا تھا ، لہذا وہ مظلوم نہ تھے بلکہ خود اپنے آپ پر ظلم کرنے والے تھے۔ فَمَا أَغْنَتْ عَنْهُمْ آلِهَتُهُمُ الَّتِي يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ لَمَّا جَاءَ أَمْرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوهُمْ غَيْرَ تَتْبِيبٍ (11 : 101) “ اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سواء انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ ” ان قصص کے لانے کی یہ ایک دوسری غرض ہے۔ اس سورت کا آغاز ہی اس بات سے ہوا تھا کہ جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرتے ہیں ، ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ اس کے بعد قصص رسل میں تمام رسولوں نے لوگوں کو باری باری بےانجام سے ڈرایا۔ تمام رسولوں نے لوگوں کو کہا کہ تم نے جن خود ساختہ الہوں کی پیروی اختیار کر رکھی ہے ، وہ تمہیں نہیں بچا سکتے چناچہ تمام قصص کا یہ خلاصہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الہ بھی کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتا اور جب اللہ کا حکم آئے گا اور قیامت برپا ہوگی تو وہاں یہ الہ کسی بھی پیروکار کو عذاب سے نہ بچا سکیں گے بلکہ ان کی وجہ سے خسارہ اور بربادی ہوگی (یہاں لفظ تتبیب استعمال ہوا ہے۔ جو لفظی اور معنوی دونوں اعتبار سے سخت بربادی کا اظہار کرتا ہے) یہ بربادی زیادہ اس لیے ہوگی کہ ان لوگوں نے ان جھوٹے خداؤں پر اندھا اعتماد کیا اور اس وجہ سے یہ اعراض اور تکذیب میں آگے بڑھ گئے اس وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق ٹھہرے یہ الہ تو جس طرح نفع نہیں دے سکتے تھے اسی طرح نقصان بھی نہ دے سکتے تھے لیکن اس اندھے اعتماد کی وجہ سے خسارہ بڑھ گیا۔ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ (11 : 102) “ اور تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے۔ ” (اسی طرح) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قصص میں بیان ہوا ، جس طرح اقوام ملل کو تباہ اور ہلاک کیا گیا ، جب انہوں نے ظلم کیا۔ ظالم سے مراد مشرکہ ہے یعنی جب وہ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت سے رو گردانی کر کے کسی اور کو رب اور حاکم بنا لیتی ہیں اس طرح وہ اپنے اوپر ظلم کرتی ہیں کیونکہ شرک و فساد میں مبتلا ہو کر عذاب آخرت کی مستحق بنتی ہیں ایسی اقوام شرک کی وجہ سے دعوت توحید دعوت اصلاح سے محروم ہوجاتی ہیں اور اس طرح زمین ظلم و فساد سے بھر جاتی ہے۔ إِنَّ أَخْذَهُ أَلِيمٌ شَدِيدٌ (11 : 102) “ فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے۔ ” یہ سزائے شدید اللہ تعالیٰ مہلت کے بعد دیتا ہے جب لوگ خوب عیاشی کرلیتے ہیں ، یوں وہ ابتلاء میں پڑجاتے ہیں۔ پھر ان کے عذرات بھی غتم ہوجاتے ہیں ، اس لیے کہ رسولوں کو بھیج کر اللہ تعالیٰ ان پر حجت تمام کردیتا ہے۔ پھر جب ان اقوام میں ظلم کا دور دورہ ہوتا ہے اور مظلوموں پر ظالموں کی گرفت مضبوط ہوجاتی ہے اور حالت یہ ہوجاتی ہے کہ دعوت حق دینے والے مصلحین نہایت ہی قلیل اور بےاثر رہ جاتے ہیں اور ظالموں کے آگے ان کی ایک نہیں چلتی۔ کیونکہ وہ ظلم میں بہت آگے جا چکے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اہل ایمان ان ظالموں سے علیحدہ ہوجاتے ہیں جو ظلم میں بہت آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں۔ یہ اہل ایمان پھر اپنے آپ ہی کو امت سمجھتے ہیں ، اپنے دین اور اپنے رب کی پیروی کرتے ہیں ، ان کا اپنا قائد ہوتا ہے اور اپنے روابط ہوتے ہیں اور امت ظالمہ کو وہ چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ اپنے قدرتی انجام تک پہنچ جائے اللہ کی اس سنت کے مطابق جو اس نے اس کائنات کے لیے تجویز کر رکھی ہے ، ہمیشہ ہمیشہ کے ۔ یہ دنیاوی پکڑ دراصل آخرت کے لیے ایک علامتی سزا ہوتی ہے اور جو لوگ عذاب آخرت سے ڈرتے ہیں وہ اس پکڑ سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں ان کو اللہ نے بہرحال یہ بصیرت دے دی ہوتی ہے کہ جو خدا دنیا میں اس قدر شدید عذاب کسی قوم کو دے سکتا ہے وہ آخرت میں اس سے بھی شدید عذاب دے سکتا ہے ، اس لیے وہ ڈرتے ہیں۔ یہاں قرآن مجید انسان کو اچانک دنیا کے مناظرے قیامت کے مناظر کی طرف لے جاتا ہے اور یہ قرآن مجید کا خاص اسلوب ہے کہ وہ دنیا کے مناظر کے بعد اچانک آخرت کا منظر پیش کردیتا ہے۔

هود 11:103

دنییا کی یہ پکڑ عذاب آخرت کی یاددہانی کرانے والی اور دل میں خوف بٹھانے والی ہے۔ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ (103 : 11) “ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ ” لیکن حقیقت ہے کہ یہ عبرت وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کے دل میں آخرت کے عذاب کا ڈر ہو ، ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کے فکر و نظر کو جلا ملتی ہے۔ لیکن جن کے دل میں آخرت کا خوف نہیں ہوتا ، ان کے دل بہرے ہوتے ہیں ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس نے پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر قاصر ہوتی ہے اور وہ صرف اس دنیا ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس دنیا میں جو عبرت انگیز حالات پیش آتے ہیں وہ ان سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرسکتے ہیں۔ اب بتایا جاتا ہے کہ یہ دن کیسا ہوگا ؟ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103 : 11) “ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ” یہ ایک منظر ہے جس میں سب لوگ جمع کردیئے جائیں گے ، اس اکٹھ میں ان کے اپنے ارادے کا کوئی دخل نہ ہوگا بلکہ اس نظر آنے والے منظر میں ان کو چلا کر لایا جائے گا ، تمام کے تمام لوگ یکجا حاضر ہوں گے اور سب کی سب انجام کے منتظر ہوں گے۔

هود 11:104

دنییا کی یہ پکڑ عذاب آخرت کی یاددہانی کرانے والی اور دل میں خوف بٹھانے والی ہے۔ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَةً لِمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَةِ (103 : 11) “ حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ، ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے۔ ” لیکن حقیقت ہے کہ یہ عبرت وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جن کے دل میں آخرت کے عذاب کا ڈر ہو ، ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور ان کے فکر و نظر کو جلا ملتی ہے۔ لیکن جن کے دل میں آخرت کا خوف نہیں ہوتا ، ان کے دل بہرے ہوتے ہیں ان کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے کہ جس نے پیدا کیا ہے وہ دوبارہ بھی پیدا کرسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کی نظر قاصر ہوتی ہے اور وہ صرف اس دنیا ہی کو دیکھ سکتے ہیں۔ اس دنیا میں جو عبرت انگیز حالات پیش آتے ہیں وہ ان سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرسکتے ہیں۔ اب بتایا جاتا ہے کہ یہ دن کیسا ہوگا ؟ ذَلِكَ يَوْمٌ مَجْمُوعٌ لَهُ النَّاسُ وَذَلِكَ يَوْمٌ مَشْهُودٌ (103 : 11) “ وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔ ” یہ ایک منظر ہے جس میں سب لوگ جمع کردیئے جائیں گے ، اس اکٹھ میں ان کے اپنے ارادے کا کوئی دخل نہ ہوگا بلکہ اس نظر آنے والے منظر میں ان کو چلا کر لایا جائے گا ، تمام کے تمام لوگ یکجا حاضر ہوں گے اور سب کی سب انجام کے منتظر ہوں گے۔

هود 11:105

يَوْمَ يَأْتِ لا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلا بِإِذْنِهِ (105 : 11) “ جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی ، الا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے۔ ” سب لوگوں پر ہیبت طاری ہوگی اور خوفناک سکوت کا ماحول ہوگا ، لوگ سہمے ہوں گے ، وہاں بات اجازت سے ہوگی مگر اجازت طلب کرنا کارے دارد۔ یہ اللہ ہی ہوگا جو کسی کو اجازت دے دے ، تو کچھ عرض کی جاسکتے گی۔ اب لوگوں کو ان کے انجام کے مطابق تقسیم کردیا جائے گا : فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ (11 : 105) “ پھر کچھ لوگ اس روز بدبخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔ ” انداز تعبیر ایسا ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ بدبختی کا شکار ہوئے وہ دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں ، ان کی سانس پھولی ہوئی ہے اور ہانپ رہے ہیں اور پھنکارے مار رہے ہیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ جنت میں ہیں وہ بھی نظر آتے ہیں اور ان کے لیے ایسے عطیات ہیں جو دائمی ہیں اور ختم ہونے والے نہیں ہیں۔

هود 11:106

یہ سب لوگ جنت و جہنم میں “ اس وقت تک رہیں گے جب تک زمین و آسمان ہیں۔ ” یہ عربی محاورہ ہے جو استمرار اور دوام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ محاورات کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور ایک خاص اثر انگیزی ہوتی ہے ، یہاں بھی یہ محاورہ انداز تعبیر کے اعتبار سے بہت ہی خوب ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (11 : 107) “ بیشک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے ” یہ فقرہ ان لوگوں کے قلبی اطمینان کے لیے ہے جو خوش قسمت وافعہ ہوئے تھے کہ ان کا انعام دائمی ہوگا اور کبھی منقطع نہ ہوگا ، اگر چہ مفروصہ اپنی جگہ ہو کر اللہ تبدیل کرسکتا ہے لیکن چونکہ اللہ نے ان کے لیے ایسا ارادہ کرلیا ہے ، اس لیے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی مشیت بہرحال آزاد ہے۔ جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ آخرت میں دونوں فریقوں کا انجام کیا ہوگا اور یہ بتا دیا گیا کہ دنیا میں بد خبت اقوام کا حشر کیا ہوگا اور آخ ، رت میں ان کی حالت کیا ہوگی ، یہاں ان پر کیا کیا عذاب آئے گا اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا اب سیاق کلام میں بات کا رخ نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اب آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں سے ہے جو مکہ میں کمزور حالت میں ہیں ، ان کو تسلی دی جاتی ہے اور ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ جس راہ پر چل پڑے ہیں اس پر ثابت قدم رہیں اور مکہ کے منکریں کو مزید ڈرایا جاتا ہے کہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو ان اقوام کا ہوا جن کے قصص بیان ہوئے ۔ اگر چہ عذاب الہی میں تاخیر ہوئی ہے لیکن اس سے قبل بھی اللہ نے کئی اقوام کو لمبی مہلت دی ہے اور مہلت ختم ہونے کے بعد سب کو ان کے لیے کا اچھا یا برا پورا پورا بدلہ دے دیا گیا لیکن اپنی مقررہ معیاد کے بعد۔ عذاب اور حساب و کتاب میں تاخیر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اقوام حق پر تھیں ، جس طرح ان اقوام کے آباؤ و اجداد باطل پر تھے اسی طرح یہ بھی باطل پر تھیں۔

هود 11:107

یہ سب لوگ جنت و جہنم میں “ اس وقت تک رہیں گے جب تک زمین و آسمان ہیں۔ ” یہ عربی محاورہ ہے جو استمرار اور دوام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ محاورات کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور ایک خاص اثر انگیزی ہوتی ہے ، یہاں بھی یہ محاورہ انداز تعبیر کے اعتبار سے بہت ہی خوب ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (11 : 107) “ بیشک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے ” یہ فقرہ ان لوگوں کے قلبی اطمینان کے لیے ہے جو خوش قسمت وافعہ ہوئے تھے کہ ان کا انعام دائمی ہوگا اور کبھی منقطع نہ ہوگا ، اگر چہ مفروصہ اپنی جگہ ہو کر اللہ تبدیل کرسکتا ہے لیکن چونکہ اللہ نے ان کے لیے ایسا ارادہ کرلیا ہے ، اس لیے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی مشیت بہرحال آزاد ہے۔ جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ آخرت میں دونوں فریقوں کا انجام کیا ہوگا اور یہ بتا دیا گیا کہ دنیا میں بد خبت اقوام کا حشر کیا ہوگا اور آخ ، رت میں ان کی حالت کیا ہوگی ، یہاں ان پر کیا کیا عذاب آئے گا اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا اب سیاق کلام میں بات کا رخ نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اب آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں سے ہے جو مکہ میں کمزور حالت میں ہیں ، ان کو تسلی دی جاتی ہے اور ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ جس راہ پر چل پڑے ہیں اس پر ثابت قدم رہیں اور مکہ کے منکریں کو مزید ڈرایا جاتا ہے کہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو ان اقوام کا ہوا جن کے قصص بیان ہوئے ۔ اگر چہ عذاب الہی میں تاخیر ہوئی ہے لیکن اس سے قبل بھی اللہ نے کئی اقوام کو لمبی مہلت دی ہے اور مہلت ختم ہونے کے بعد سب کو ان کے لیے کا اچھا یا برا پورا پورا بدلہ دے دیا گیا لیکن اپنی مقررہ معیاد کے بعد۔ عذاب اور حساب و کتاب میں تاخیر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اقوام حق پر تھیں ، جس طرح ان اقوام کے آباؤ و اجداد باطل پر تھے اسی طرح یہ بھی باطل پر تھیں۔

هود 11:108

یہ سب لوگ جنت و جہنم میں “ اس وقت تک رہیں گے جب تک زمین و آسمان ہیں۔ ” یہ عربی محاورہ ہے جو استمرار اور دوام کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ محاورات کا اپنا مفہوم ہوتا ہے اور ایک خاص اثر انگیزی ہوتی ہے ، یہاں بھی یہ محاورہ انداز تعبیر کے اعتبار سے بہت ہی خوب ہے۔ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ (11 : 107) “ بیشک تیرا رب پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے ” یہ فقرہ ان لوگوں کے قلبی اطمینان کے لیے ہے جو خوش قسمت وافعہ ہوئے تھے کہ ان کا انعام دائمی ہوگا اور کبھی منقطع نہ ہوگا ، اگر چہ مفروصہ اپنی جگہ ہو کر اللہ تبدیل کرسکتا ہے لیکن چونکہ اللہ نے ان کے لیے ایسا ارادہ کرلیا ہے ، اس لیے انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ اس کی مشیت بہرحال آزاد ہے۔ جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ آخرت میں دونوں فریقوں کا انجام کیا ہوگا اور یہ بتا دیا گیا کہ دنیا میں بد خبت اقوام کا حشر کیا ہوگا اور آخ ، رت میں ان کی حالت کیا ہوگی ، یہاں ان پر کیا کیا عذاب آئے گا اور آخرت میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا اب سیاق کلام میں بات کا رخ نبی ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے اور خطاب اب آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں سے ہے جو مکہ میں کمزور حالت میں ہیں ، ان کو تسلی دی جاتی ہے اور ان کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ جس راہ پر چل پڑے ہیں اس پر ثابت قدم رہیں اور مکہ کے منکریں کو مزید ڈرایا جاتا ہے کہ تمہارا انجام بھی وہی ہوگا جو ان اقوام کا ہوا جن کے قصص بیان ہوئے ۔ اگر چہ عذاب الہی میں تاخیر ہوئی ہے لیکن اس سے قبل بھی اللہ نے کئی اقوام کو لمبی مہلت دی ہے اور مہلت ختم ہونے کے بعد سب کو ان کے لیے کا اچھا یا برا پورا پورا بدلہ دے دیا گیا لیکن اپنی مقررہ معیاد کے بعد۔ عذاب اور حساب و کتاب میں تاخیر ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ اقوام حق پر تھیں ، جس طرح ان اقوام کے آباؤ و اجداد باطل پر تھے اسی طرح یہ بھی باطل پر تھیں۔

هود 11:109

آپ اپنے دل میں ذرہ برابر شک نہ کریں کہ یہ لوگ جن بتوں کی پیروں کرتے ہیں وہ غلط ہیں ، خطاب تو حضور ﷺ کو ہے لیکن ڈر اور اقوام کو ہے یہ اسلوب بسا اوقات زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان یہ معاملہ طے ہوچکا ہے۔ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو آخری احکامات دے دئیے ہیں اب اس میں کوئی نزاع کا موقعہ نہیں ہے اور جو لوگ مجرم ہیں ان کو ایک طرف چھوڑ دیا گیا گویا وہ بات کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں ، اس طرح ان پر زیادہ اثر ہوگا ، بمقابلہ اس کے کہ اگر ان کو براہ راست خطاب کیا جاتا۔ فَلا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِمَّا يَعْبُدُ هَؤُلاءِ مَا يَعْبُدُونَ إِلا كَمَا يَعْبُدُ آبَاؤُهُمْ مِنْ قَبْلُ (109 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ ، جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اسی طرح پوجا پاٹ کیے جا رہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے۔ ” لہذا ان کا انجام بھی اقوام سابقہ کی طرح ہوگا ، یعنی دائمی عذاب۔ لکین یہاں صراحت نہیں کی جاتی کیونکہ ان کا انجام معروف و معلوم ہے۔ وَإِنَّا لَمُوَفُّوهُمْ نَصِيبَهُمْ غَيْرَ مَنْقُوصٍ (11 : 109) اور ہم ان کا حصہ انہیں بھرپور دیں گے ، بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔ ” اور ان کا انجام اسی طرح مشہور و معروف ہے جس طرح ان سے پہلے لوگوں کے بارے میں سے شدہ ہے اور سابقہ لوگوں کے کچھ مناظر اس سے قبل پیش کیے بھی جا چکے ہیں ، ہاں دنیا میں تو یہ بھی ممکن ہے کہ قوم موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح انہیں مہلت دے دی جائے۔

هود 11:110

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ فَاخْتُلِفَ فِيه (110 : 11) “ ہم اس سے پہلے موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کو کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے) ” قوم موسیٰ ٰ (علیہ السلام) نے اپنی کتاب کے بارے میں بہت سے اختلافات کیے ، ان کے اعتقادات کیا سے کیا بن گئے اور وہ فرقے فرقے بن گئے۔ لیکن اللہ کی طرف سے حکم یہ تھا کہ ان کو تباہ نہ کیا جائے اور ان سے پورا پورا حساب قیامت کے دن لیا جائے۔ وَلَوْلا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ (110 : 11) “ اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصہل چکا دیا گیا ہوتا۔ ” اور اللہ کے اس کلمے اور فیصلے سے بھی پہلے اللہ کی حکمت کا یہ تقاضا تھا کہ بنی اسرائیل کے مقدمے کو قیامت تک موخر کردیا جائے کیونکہ بنی اسرائیل اہل کتاب تھے اور تمام ایسے رسول جو اہل کتاب تھے ، ان کی امتوں کو قیامت تک کے لیے مہلت دی گئی۔ کیونکہ کتاب اس بات پر دلیل تھی کہ ہدایت باقی ہے اور بعد کی نسلیں بھی ان پر اس طرح غور کرسکتی ہیں جس طرح انہوں نے غور کیا جن کی طرف نازل ہوئی تھی اور مادی معجزات اور خارق عادت امور کا معاملہ بالکل مختلف ہے کو ین کہ مادی معجزات کو صرف وہی لوگ دیکھ سکتے ہیں جن کے سامنے وہ معجزات ظاہر ہوئے لوگوں کے سامنے دو راستے ہوتے ہیں یا تو ایمان لائیں اور یا پھر ہلاکت کے لیے تیار ہوجائیں۔ تورات اور انجیل دو مستقل کتابیں تھیں جو نزول قرآن تک لوگوں کے سامنے موجود تھیں۔ یہاں تک کہ قرآن مجید نازل ہوا۔ قرآن کریم نے تورات و انجیل کی تصدیق کی اور یہ دعویٰ کیا کہ وہ اب آخری کتاب ہے اور تمام انسانوں کے لیے ہدایت ہے اور اب قیامت میں تمام انسانوں کا حساب و کتاب قرآنی احکام کی اساس پر ہوگا۔ وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ (110 : 11) “ یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں۔ ” سے مراد یہ ہے کہ قوم موسیٰ اس کتاب کے بارے میں سخت خلجان میں ہے کیونکہ یہ کتاب موسیٰ ٰ (علیہ السلام) سے صدیوں بعد لکھی گئی اور اس کی آیات و مضامین کے بارے میں روایات میں سخت اضطراب پیدا ہوگیا ، لہذا یہ کتاب قابل یقین نہ رہی۔ یہ درست ہے کہ عذاب موخر کردیا گیا ہے ، لیکن قیامت میں سب کو ان کے اعمال کی جزاء و سزا دی جائے گی اور یہ سزا ان لوگوں کو علیم وخبر دے گا جو ہر گز کسی چیز کو ضائع نہیں کرتا۔

هود 11:111

وَإِنَّ كُلا لَمَّا لَيُوَفِّيَنَّهُمْ رَبُّكَ أَعْمَالَهُمْ إِنَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ خَبِيرٌ (11 : 111) “ اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رب انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا ، یقینا وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔ ” اس میں اس قدر تاکیدی انداز تعبیر اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ کوئی مہلت اور تاخیر کی وج کہ سے پوری پوری جزاء و سزا میں شک نہ کرنے لگے۔ کوئی یہ شک نہ کرے کہ اہل مکہ نے جو موقف اختیار کیا ہے وہ باطل ہے اور اس کے باطل ہونے میں کوئی شک نہیں ہے یہ شرک ہے اور یہ شرکیہ دین اس سے پہلے بھی کئی اقوام نے اختیار کیا ہے۔ یہاں یہ تاکیدی انداز اختیار کرنے کا پس منظر بھی تھا ، اس وقت تحریک اسلامی کے حالات واقعات یہ تھے کہ مسلمانوں کے مقابلے میں اہل کفر ایک معاند قوت کی طرح کھڑے تھے ، وہ رسول اللہ کے راستے کو ہر طرف سے روک رہے تھے ، مسلمان قلیل تعداد میں تھے اور ان پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے ، دعوت کا پھیلاؤ تقریبا منجمد ہوگیا تھا اور خدا کی طرف سے عذاب کا آنا بھی قیامت تک ملتوی ہوگیا تھا۔ مومنین کو ہر طرح کی اذیت دی جا رہی تھی اور ان کے دشمن بظاہر کامیاب جا رہے تھے۔ ایسے حالات میں بعض کمزور قسم کے دل متزلزل ہو سکتے تھے نیز ثابت قدم لوگ بھی بہرحال پریشانی کا شکار ہو سکتے تھے ، لہذا تحریک اسلامی کو اس قسم کی تسلی اور ہمت بندھانے کی ضرورت تھی ، اس سے زیادہ مسلمانوں کے دل کسی اور چیز سے حوصلہ نہیں پاتے کہ اللہ ان کے دشمنوں کو اپنا دشمن بتلا دے اور یہ اعلان کر دے کہ بلا شک و بلا ریب و باطل پر ہیں۔ معرکے میں حصہ لیتا ہے اور کس طرح صحابہ کرام کو موقع بموقع نشانات راہ بتلاتا جاتا ہے۔ یہ تاکیدی بیان کہ اللہ کے دشمنوں کا یہ انجام ہو کر رہے گا ، نفس کے اندر قدرتی طور پر یہ بات بٹھاتا ہے کہ سنت الہیہ اس کی مخلوق میں جاری وساری ہے اس کا دین بھی اس کی سنت کے مطابق غالب ہوگا اس کا وعدہ بھی اور اس کی دھمکی بھی سنت الہیہ کے مطابق روبعمل ہوگی ، لہذا جو لوگ اس دین کو قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اس دین کی دعوت دیتے ہیں ان کو چاہیے کہ وہ مسنون طریقے کے مطابق دعوت دیتے رہیں جس طرح کہ ان کو حکم دیا گیا ہے ، نہ اس میں کمی کریں ، نہ اس میں زیادتی کریں نہ ظالموں کے سامنے جھکیں ، اگر چہ وہ جبار ہوں ، وہ غیر اللہ کے دین کو قبول نہ کریں ، اگر چہ راستہ طویل ہوجائے ، وہ مشکلات راہ کے لیے تیاریاں کریں اور اس وقت تک صبر کریں جب تک اللہ وہ کام نہیں کرتا جو وہ چاہتا ہے۔

هود 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ (112 : 11) “ پس اے نبی ﷺ تم اور تمہارے وہ ساتھی جو (کفر و بغاوت سے ایمان و اطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ ” اس حکم کی مشکلات اور شدت اور ہیبت کو حضور ﷺ نے محسوس فرمایا تھا۔ حضور ﷺ سے روایت میں آتا ہے کہ “ مجھے ہود اور اس کے ساتھی سورتوں نے بوڑھا کردیا ہے۔ ” استقامت کا مفہوم ہے کہ اعتدال سے چلو اور اسلامی منہاج کے مطابق سیدھے چلو ، کوئی انحراف نہ ہونے پائے۔ ہر وقت غور فکر کی ضرورت پڑتی ہے اور ہر وقت حدود اللہ پر نظر رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ہے اور ان انسانی میلانات اور رحجانات کو ضبط کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جو کبھی زیادہ ہوتے ہیں اور کبھی کم ، غرض کسی بھی تحریک میں یہ ایک دائمی اور مسلسل ڈیوٹی ہے اور زندگی کی ہر حرکت اور ہر سکون میں اسے ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔ وَلا تَطْغَوْا (112 : 11) “ اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ” یہاں اس بات کو سمجھ لینا ضروری ہے کہ استقامت کے حکم کے بعد یہ نہیں اس لیے نہیں ہے کہ استقامت میں قصور نہ کرو ، بلکہ یہ نہیں طغیان اور حد سے گزرنے کی نہی ہے ، یہ اس لیے وارد ہوئی ہے کہ استقامت کے مسلسل حکم کے نتیجے میں انسان کے ذہن میں اس قدر بیداری پیدا ہوجاتی ہے اور انسان اس قدر حزم اور احتیاط کرنے لگتا ہے کہ وہ غلو اور مبالغے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے اور اس غلو اور مبالغے کے نتیجے میں “ الدین یسر ” بن جاتا ہے دین میں افراط وتفریط شروع ہوجاتی ہے۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے اور ایک مسلمان کو معتدل مزاج اور صراط مستقیم پر گامزن رہنا چاہیے ، غافل بھی نہیں ہونا چاہیے اور غالی بھی نہیں۔ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (11 : 112) “ جو کچھ تم کر رہے ہو ، اس پر تمہارا رب نگاہ رکھتا ہے۔ ” بصیر ، بصیرت کا لفظ یہاں پر محل ہے ، یعنی دیکھتا بھی ہے اور اس کا دیکھنا سرسری نہیں ہے۔ بصیرت اور گہرائی سے دیکھتا ہے لہذا اے پیغمبر ﷺ تم اور تمہارے ساتھی خدا سے ڈرتے ہوئے سیدھی راہ پر گامزن رہو۔

هود 11:113

وَلا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ (113 : 11) “ ان ظالموں کی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ ” یعنی ظالموں پر بھروسہ نہ کرو اور نہ ان کی جانب سے کسی قسم کا اطمینان کرو ، ظالموں سے مراد وہ جبار وقہار اور سرکش لوگ ہیں جو زمین پر اپنے مظالم کی بنیاد پر اپنی برتری قائم کرتے ہیں اور عوام الناس سے خدا کے مقابلے میں اپنی بندگی کراتے ہیں ان پر بھروسہ بھی نہ کرو اور ان کی جانب سے اطمینان کا اظہار بھی نہ کرو۔ کیونکہ اگر تم ان کی جانب سے اسی طرح غیر جانبدار اطمینان و بھروسے کا اظہار کرو گے تو تم گویا بالواسطہ ان ظالمانہ کاروائیوں میں ان کے موید ہو گے اور اس طرح اس عظیم جرم میں تم بھی حصہ دار بن جاؤ گے ، اگر تم نے ایسا کیا تو تم آگ کی لپیٹ میں آجاؤ گے۔ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لا تُنْصَرُونَ (11 : 113) “ اور تمہیں کوئی ایسا ولی و سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمہیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔ ” ایسے مشکل حالات میں جن سے اس وقت تحریک اسلامی کے مٹھی بھر پیروکار گزر رہے تھے ، سیدھی راہ پر جم جانا فی الواقعہ ایک مشکل کام ہوتا ہے اور اس کے لیے روحانی زادراہ کی ضرورت ہوتی ہے ، اس لیے اللہ تعالیٰ حضور اکرم ﷺ اور آپ کے مٹھی بھر ساتھیوں کو اخلاقی اور روحانی تربیت اور تعلق باللہ پیدا کرنے کے لیے اس زاد راہ کی نشاندہی فرماتا ہے :

هود 11:114

وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ (11 : 114) “ اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے رپ درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ ” اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ یہ وہ زاد سفر ہے جو اس وقت کام آتا ہے جب تمام زاد سفر ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ روحانی وقت کا زاد سفر ہے اور یہ انسان کو ایسی قوت دیتا ہے جو عظیم تر مشکلات کو برداشت کرنے کے قابل بناتا ہے۔ اس لیے یہ زاد راہ معراج المومنین ہے اور یہ اہل ایمان کو رب کریم اور رحیم و ودود سے ملاتا ہے جو قریب ہے اور تمام پکاروں کو خوب سنتا ہے اور جب مومن تنہا ہوتا ہے اور پریشان ہوتا ہے تو ایسے حالات میں یہ زاد راہ اس انس و محبت کی باد نسیم چلاتا ہے اور اس طرح اس پر جاہلیت اور کفر کی گٹھن فضا میں قدر کشادگی پیدا ہوجاتی ہے۔ آیت میں دن کے دو سروں کا ذکر کیا گیا ہے یعنی اول اور آخر اور پھر است کے قریب وقت کا۔ اس میں تمام کے تمام اوقات آگئے ۔ اگر نمازوں کی تعداد کا تعین نہیں ہوا ، تعداد کا تعین بہرحال سنت رسول سے ہوا ہے اور نیز متعین اوقات کا تعین بھی سنت سے ہوا ہے۔ اس آیت میں نماز کی اقامت کے حکم ، یعنی پوری پوری ادائیگی کے حکم کے بعد یہ حکم آیا ہے کہ نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ عام آیت ہے اس سے تمام نیکیاں مراد ہیں اور نماز بہرحال عظیم ترین نیکی ہے لہذا یہ بھی اس آیت میں شامل ہے بہرحال “ المحسنات ” نماز کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جیسا کہ بعض مفسرین کی رائے ہے۔ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ (11 : 114) “ یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔ ” نماز اپنی حقیقت کے اعتبار سے ذکر الہی ہے۔ اس لیے یہ صفت نہایت ہی مناسب ہے۔ استقامت انسان تب ہی اختیار کرسکتا ہے جب اس میں مشکلات پر صبر کرنے کا حوصلہ ہو ، نیز اللہ کی سنت کے مطابق منکرین کے انجام بد سے دو چار ہونے کے لیے ایک مہلت ہوتی ہے اور اس کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور یہ اتنظار بھی صبر کا محتاج ہے لہذا استقامت اور تمام پچھلی ہدایات پر کامیابی سے عمل پیرا ہونے کے لیے حکم دیا جاتا ہے کہ صبر کرو۔

هود 11:115

وَاصْبِرْ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ (11 : 115) “ اور صبر کر ، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ ” اللہ کی راہ میں استقامت احسان ہے اور وقت پر نماز ادا کرنا بھی احسان ہے ، جھٹلانے والوں کی طرف سے جھٹلانے پر صبر کرنا بھی احسان ہے اللہ محسنین کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔ اقوام وملل کی ہلاکت اور بستیوں کی بربادی پر جو تبصرہ کیا گیا اس کی تکمیل کی طرف روئے سخن پھرجاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر ان بستیوں میں اہل خیر موجود ہوتے اور وہ نہی عن المنکر اور زمین سے فتنہ و فساد کے دور کرنے کی سعی جاری رکھتے اور زمین سے ظلم مٹانے کی سعی کرتے اور دست درازی کرنے والوں کے ہاتھ روکتے تو ان بستیوں اور قوموں پر ایسا عذاب نازل نہ ہوتا جس نے ان کو چڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ بستیوں پر ظلم نہیں کرتا جبکہ لوگ صالح ہوں اور مصلح ہوں۔ یعنی خود بھی نیک ہوں اور بقدر طاقت لوگوں کو نیک بنانے میں بھی مصروف ہوں ، ہاں ان ہلاک شدہ بستیوں میں بھی اہل ایمان کی ایک قلیل تعداد موجود تھی لیکن ان کے پاس بقدر ضرورت قوت اور اثر نہ تھا۔ اس لیے اللہ نے ان کو نجات دے دی ، اکثریت چونکہ مترفین اور مفسدین کی تھی اور دوسرے لوگ ان کے تابع تھے اس لیے اللہ نے پوری کی پوری بستیوں کو ہلاک کردیا۔

هود 11:116

یہ مختصر سا اشارہ اس پالیسی کو ظصاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے بارے میں اختیار کی ہوئی ہے۔ جس قوم کے اندر بگاڑ اور فساد عام ہوجائے ، جس میں انسان انسان کا غلام ہو ، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو ، لیکن اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو اصلاح احوال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ قوم بچنے والی قوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو نیست و نابود نہیں فرماتا۔ لیکن ایسی اقوام جس میں ظالم ظلم کریں اور دندناتے پھریں ، فسادی فساد کرتے رہیں اور کوئی روکنے والا نہ ہو یا ان میں ایسے لوگ ہوں جو ظلم و فساد کو برا سمجھتے ہوں کے وہ صورت حالات کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ تو ان قوموں کے بارے سنت الہٰیہ اپنا کام کرتی ہے یا تو اس قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا ہے یا اس پر ایسا عذاب آتا ہے کہ یہ قوم من حیث القوم بکھر جاتی ہے۔ لہذا وہ لوگ جو اس زمین پر اللہ کی ربوبیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں ، ایسا نظام جس میں صرف اللہ حاکم ہو اور وہ لوگ جو زمین میں اللہ کی حاکمیت اور شر یعت کی عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کے سوا کسی کا حکم نہ چلتا ہو تو ایسے لوگ دراصل زمین کا نمک ہیں اور ان کی وجہ سے اقوام کی ہلاکت رکی ہوئی ہوتی ہے۔ لہذا وہ لوگ جو دنیا میں اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لیے سعی کرتے ہیں۔ وہ بڑی قدر و قیمت کے مالک ہوتے ہیں ، جو ظلم و فساد کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں ، نہ صرف یہ کہ لوگ اپنے رب کی طرف سے عائد شدہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں بلکہ یہ جس قوم میں کام کرتے ہیں وہ قوم کلی ہلاکت اور من حیث القوم ہلاکت کے عذاب سے بچ جاتی ہے ، ان کی وجہ سے اقوام پر اللہ کا عذاب موقوف رہتا ہے۔ آخری تبصرہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، بعض انسان بھلائی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور بعض بگاڑ کی طرف ، اس کائنات میں اللہ نے یہ سنت بھی جاری کردی ہے کہ کچھ لوگ اس طرف ہوں گے اور کچھ اس طرف

هود 11:117

یہ مختصر سا اشارہ اس پالیسی کو ظصاہر کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کے بارے میں اختیار کی ہوئی ہے۔ جس قوم کے اندر بگاڑ اور فساد عام ہوجائے ، جس میں انسان انسان کا غلام ہو ، خواہ اس کی کوئی بھی صورت ہو ، لیکن اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہوں جو اصلاح احوال کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تو یہ قوم بچنے والی قوم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایسی قوم کو نیست و نابود نہیں فرماتا۔ لیکن ایسی اقوام جس میں ظالم ظلم کریں اور دندناتے پھریں ، فسادی فساد کرتے رہیں اور کوئی روکنے والا نہ ہو یا ان میں ایسے لوگ ہوں جو ظلم و فساد کو برا سمجھتے ہوں کے وہ صورت حالات کو بدلنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں۔ تو ان قوموں کے بارے سنت الہٰیہ اپنا کام کرتی ہے یا تو اس قوم کو نیست و نابود کردیا جاتا ہے یا اس پر ایسا عذاب آتا ہے کہ یہ قوم من حیث القوم بکھر جاتی ہے۔ لہذا وہ لوگ جو اس زمین پر اللہ کی ربوبیت کا نظام قائم کرنا چاہتے ہیں ، ایسا نظام جس میں صرف اللہ حاکم ہو اور وہ لوگ جو زمین میں اللہ کی حاکمیت اور شر یعت کی عدالت قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اللہ کے سوا کسی کا حکم نہ چلتا ہو تو ایسے لوگ دراصل زمین کا نمک ہیں اور ان کی وجہ سے اقوام کی ہلاکت رکی ہوئی ہوتی ہے۔ لہذا وہ لوگ جو دنیا میں اسلامی نظام زندگی کے قیام کے لیے سعی کرتے ہیں۔ وہ بڑی قدر و قیمت کے مالک ہوتے ہیں ، جو ظلم و فساد کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں ، نہ صرف یہ کہ لوگ اپنے رب کی طرف سے عائد شدہ فریضہ سرانجام دیتے ہیں بلکہ یہ جس قوم میں کام کرتے ہیں وہ قوم کلی ہلاکت اور من حیث القوم ہلاکت کے عذاب سے بچ جاتی ہے ، ان کی وجہ سے اقوام پر اللہ کا عذاب موقوف رہتا ہے۔ آخری تبصرہ یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، بعض انسان بھلائی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور بعض بگاڑ کی طرف ، اس کائنات میں اللہ نے یہ سنت بھی جاری کردی ہے کہ کچھ لوگ اس طرف ہوں گے اور کچھ اس طرف

هود 11:118

اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی فکر و نظر پر پیدا کردیتا ایک ہی صلاحیت سب میں ہوتی۔ ایک ہی چھاپ کے لوگ ہوتے۔ ان میں کوئی تفاوت یا تنوع نہ ہوتا۔ لیکن اللہ کو ایسا مطلوب نہ تھا ، کہ وہ مخلوق جو اس کی جانشین اور خلیفہ ہے وہ اس قسم کی ہو ، اس لیے اس نے لوگوں کو مختلف صلاحیتیں اور میلانات دیئے۔ اللہ کی مشیت ہی ایسی تھی کہ انسان اپنای استعداد اور رحجانات کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ اس کے بعد اللہ نے لوگوں کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ جس رحجان کو چاہیں ، اپنائیں ، جو راستہ چاہیں اس پر چل پڑیں اور جس راہ پر چلیں اس کے نتائج بھگیں۔ اگر اچھا راستہ اختیار کریں تو جزاء ملے ، اگر برا راستہ اپنائیں تو سزا ملے۔ یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کی مشیت کے مطابق جاری وساری ہے۔ اس لیے جو ہدایت کی راہ لیتا ہے وہ اور جو ضلالت اختیار کرتا وہ دونوں ہی اللہ کی سنت کے مطابق چل رہے ہیں اور یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق ہے اور سزاء و جزاء بھی اللہ کی سنت اور مشیت کے مطابق ہے۔ یہ اللہ کی اسکیم تھی کہ لوگ امت جامدہ نہ ہوں ، اور کامیات وہ لوگ ہوں جن کو اللہ نے ہدایت کی توفیق دی اور وہ حق پر جمع ہوجائیں ، کیونکہ ہدایت اور سچائی ایک ہی ہوتی ہے۔ ان میں عتدد نہیں ہے۔ اگرچہ وہ اہل ضلال کے خلافا ہوں۔ ہدایت یافتہ لوگوں کے بالمقابل یہ لوگ ہیں۔ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (11 : 119) “ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ ” اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو لوگ ہدایت پر جمع ہوئے ان کا انجام اور ہے ، وہ جنت ہے اور وہ ان سے بھر دی جائے گی جس طرح جہنم ان لوگوں سے بھر دی جائے گی جو اہل حق سے مختلف ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہیں کیونکہ باطل کے انواع و اقسام بہت ہیں۔ اس سورت کا اختتامیہ رسول اللہ ﷺ سے خطاب پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ کی طرف قصص انبیاء وحی کرنے کا مقصد کیا ہے۔ خصوصا اہل ایمان کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو آخری وارننگ دے دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ تعلق ختم کردیں اور ان کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس انجام تک جا پہنچیں جو ان کے لیے منتظر ہے اور پردہ غیب کے پیچھے ہے۔ حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی ، اللہ پر بھروسہ کریں اور ان لوگوں کو چھوڑ دیں کہ جو چاہیں کریں۔

هود 11:119

اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ایک ہی فکر و نظر پر پیدا کردیتا ایک ہی صلاحیت سب میں ہوتی۔ ایک ہی چھاپ کے لوگ ہوتے۔ ان میں کوئی تفاوت یا تنوع نہ ہوتا۔ لیکن اللہ کو ایسا مطلوب نہ تھا ، کہ وہ مخلوق جو اس کی جانشین اور خلیفہ ہے وہ اس قسم کی ہو ، اس لیے اس نے لوگوں کو مختلف صلاحیتیں اور میلانات دیئے۔ اللہ کی مشیت ہی ایسی تھی کہ انسان اپنای استعداد اور رحجانات کے لحاظ سے مختلف ہوں۔ اس کے بعد اللہ نے لوگوں کو یہ اختیار بھی دیا کہ وہ جس رحجان کو چاہیں ، اپنائیں ، جو راستہ چاہیں اس پر چل پڑیں اور جس راہ پر چلیں اس کے نتائج بھگیں۔ اگر اچھا راستہ اختیار کریں تو جزاء ملے ، اگر برا راستہ اپنائیں تو سزا ملے۔ یہی اللہ کی سنت ہے جو اس کی مشیت کے مطابق جاری وساری ہے۔ اس لیے جو ہدایت کی راہ لیتا ہے وہ اور جو ضلالت اختیار کرتا وہ دونوں ہی اللہ کی سنت کے مطابق چل رہے ہیں اور یہ سنت اللہ کی مشیت کے مطابق ہے اور سزاء و جزاء بھی اللہ کی سنت اور مشیت کے مطابق ہے۔ یہ اللہ کی اسکیم تھی کہ لوگ امت جامدہ نہ ہوں ، اور کامیات وہ لوگ ہوں جن کو اللہ نے ہدایت کی توفیق دی اور وہ حق پر جمع ہوجائیں ، کیونکہ ہدایت اور سچائی ایک ہی ہوتی ہے۔ ان میں عتدد نہیں ہے۔ اگرچہ وہ اہل ضلال کے خلافا ہوں۔ ہدایت یافتہ لوگوں کے بالمقابل یہ لوگ ہیں۔ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لأمْلأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ (11 : 119) “ اور تیرے رب کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھر دوں گا۔ ” اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو لوگ ہدایت پر جمع ہوئے ان کا انجام اور ہے ، وہ جنت ہے اور وہ ان سے بھر دی جائے گی جس طرح جہنم ان لوگوں سے بھر دی جائے گی جو اہل حق سے مختلف ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہیں کیونکہ باطل کے انواع و اقسام بہت ہیں۔ اس سورت کا اختتامیہ رسول اللہ ﷺ سے خطاب پر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آپ کی طرف قصص انبیاء وحی کرنے کا مقصد کیا ہے۔ خصوصا اہل ایمان کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کو آخری وارننگ دے دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اب ان کے ساتھ تعلق ختم کردیں اور ان کو چھوڑ دیا جائے کہ وہ اس انجام تک جا پہنچیں جو ان کے لیے منتظر ہے اور پردہ غیب کے پیچھے ہے۔ حضور ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی ، اللہ پر بھروسہ کریں اور ان لوگوں کو چھوڑ دیں کہ جو چاہیں کریں۔

هود 11:120

خدا کے رسول اللہ ﷺ کی ذات بابرکات بھی اپنی قوم کی طرف سے مشکلات کا مقابلہ کررہی تھی ، بعض لوگ حددرجہ منحرف اور گمراہ تھے۔ پھر دعوت اسلامی کے سلسلے میں آپ پر بےحد ذمہ داریاں عائد ہورہی تھیں ۔ اس لیے اس بات کی ضرورت تھی کہ آپ کو تسلی دی جائے اور رب کی طرف سے آپ کی حوصلہ افزائی کی جائے ، اگرچہ آپ ثابت قدم تھے اور مام مشکلات کو مستقل مزاجی سے برداشت کررہے تھے۔ وَكُلا نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنْبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ وَجَاءَكَ فِي هَذِهِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَةٌ وَذِكْرَى لِلْمُؤْمِنِينَ (11 : 120) اور اے نبی ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں ، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں ۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ٗٗٗ توقصص میں ایک تو تثبیت قلب ہے ، دعوت اسلامی کے بارے میں حقائق اور سچائیاں ہیں ، مختلف انبیائ کے نمونے اور ماسوے ہیں ۔ سنن الٰہیہ کے مختلف نمونے ہیں خوشخبریاں ہیں اور ڈراوے ہیں اور وہ نصیحت آموزواقعات ہیں جو ان قصص میں موجود ہیں۔ ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا جو اس وعدونصیحت کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے ۔ ان کے لیے یہ قصص بالکل مفید نہیں ہیں ۔ ان کے لیے ان میں فیصلہ کن بات ہے ۔ ان کو کہہ دیں :

هود 11:121

وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (11 : 121) رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں ٗٗ ۔ اور اے پیغمبر تمہارے ایک دوسرے بھائی نے بھی اپنی قوم کو ایسا ہی کہا تھا ، جس کا تذکرہ اسی سورت میں ہوچکا ہے اور پھر اپنی قوم کو ایک طرف چھوڑ دیا تھا ، کہ وہ اپنے انجام کا انتظار کرے۔

هود 11:122

وَقُلْ لِلَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ اعْمَلُوا عَلَى مَكَانَتِكُمْ إِنَّا عَامِلُونَ (11 : 121) رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں انجام کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں ٗٗ ۔ اور اے پیغمبر تمہارے ایک دوسرے بھائی نے بھی اپنی قوم کو ایسا ہی کہا تھا ، جس کا تذکرہ اسی سورت میں ہوچکا ہے اور پھر اپنی قوم کو ایک طرف چھوڑ دیا تھا ، کہ وہ اپنے انجام کا انتظار کرے۔

هود 11:123

غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالأرْضِ (123:12) ّآسمانون اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے سب اللہ کے قضبہ قدرت میں ہےٗ ۔ ان تمام امور کے آخری فیصلے اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ اے پیغمبر تمہارے معاملات اور اہل ایمان کے تمام معاملات اور ان کو گون کے معاملات جو ایمان نہیں لاتے اور تمام موجودہ مخلوقات کے معاملات اور اہل ایمان کے تمام معاملات ۔ اور ان لوگوں کے معاملات جو ایمان نہیں لاتے اور تمام موجوسہ مخلوقات کے معاملات اور تمام آنے والے مخلوقات کے معاملات سب کے سب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الأمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (11 : 123) اور سارا معاملہ اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے ۔ پس اے نبی ، تو اس کی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ رکھ ، جو کچھ تم لوگ کررہے ہو ، تیرا رب اس سے بیخبر نہیں ہے ٗٗ ۔ چونکہ تمام امور اسی کی طرف برائے فیصلہ لوٹتے ہیں اس لیے وہی اس قابل ہے کہ اس کی بندگی جائے ۔ وہی اس قابل ہے کہ اس پر بھروسہ کیا جائے ، کیونکہ وہی ولی ہے وہی جانتا ہے کہ کس کی کیا ضرورت ہے اور وہ ہر خیر اور شر سے واقف ہے ۔ اس کے ہاں کسی کی جزائ ضائع نہیں ہوتی اور کوئی سزا سے بچ نہیں سکتا ۔۔۔۔۔ وہ تمہارے کسی عمل سے غافل نہیں ہے ۔ غرض اس سورت کا آغاز بھی عبادت انابت الی اللہ اور آخر کار رجوع الی اللہ کے مضمون سے ہوا ، تو اس کا خاتمہ بھی توحید ، عبادت توبہ انابت اور آخرکار اللہ کی طرف لوٹنے کے مضامین پر ہوا جبکہ ان مضامین کی وضاحت اس پوری کائنات کے مطالعے ار تاریک انسانی کے مطالعے کے ذریعے کی گئی ۔ اسی طرح قرآن کریم کا فنی حسن کلام کے آغاز و انجام میں یگانگت پیدا کردیتا ہے اور قرآن کریم کے تمام قصص ، مضامین اور ان کا فکری رخ باہم متناسب بن جاتے ہیں اور اگر یہ قرآن اللہ کا کلام نہ ہوتا تو اس میں بیشمار فکری تضادات موجودہوتے ۔ جو شخص اس سورت میں بات کی روانی ، بلکہ تمام مکی قرآن کریم کے کلام کا ہدف معلوم کرنے کی کوشش کرے تو اسے آسانی کے ساتھ معلوم ہوجاتا ہے کہ اس پورے کلام میں ایک لائن اختیار کی گئی ۔ اس لائن پر پورا کلام آگے بڑھ رہا ہے بلکہ یہ لائن اس کلام کا محور ہے اور پورا کلام اس محور اور موضوع کے گردگھوم رہا ہے ۔ تمام خطوط اس مرکزی نکتے پر آکر ملتے ہیں اور اس کے تمام ریشے اس محور کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ یہ محور نظریہ حیات اور اس قصورحیات کا محور اور موضوع ہے جس کے اردگرد کلام گھوم رہا ہے ۔ وہ کیا ہے ، یہ کہ قرآن انسان کے لیے ایک مکمل نظام زندگی تجویز کرتا ہے اور اس کا قیام چاہتا ہے۔ مناسب یہ ہے کہ ہم اس مرکزی لائن ، اس محور اور اس عمود پر قدرے بحث کریں ۔ اس کا اظہار اس پوری سورت میں اچھی طرح ہوتا ہے ۔ بعض نکتے تو ہم بیان بھی کر آئے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس تبصرے میں ربط قائم کرنے کے لیے ان کو دربارہ یہاں لے لیں ۔ ایک نہایت ہی اہم حقیقت اس پوری سورت میں بیان کی گئی ۔ اس سورت کی ابتدائی تمہیدی آیات میں بھی ، اس سورت کے قصص میں بھی جن میں پوری سورت اور پوری تاریخ انسانی کی لائن دی گئی ہے ۔ اور اس سورت کی اختتامی آیات میں بھی جہاں حضور اکرم ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ مشرکین کو صاف صاف بتادیں کہ وہ آخری نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں ، وہ حقیقت ہے کیا ؟ اس پوری سورت میں جس اہم مسئلے کو لیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ تم لوگ صرف اللہ کی ّّعبادت ٗٗکرو اور اس بات کی ممانعت کی گئی ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کی ّّعبادت ٗٗکرو ، اور یہ کہ عبادت ہی دراصل پورے نظام زندگی یعنی ّّدین ٌٗکانام ہے ۔ اور ہر قسم کی سزا کی دھمکی اور ہر قسم کی جزائ کے وعدے اور حشر کے دن کا حساب و کتاب اور ثواب عقاب سب کے سب اسی بنیادی عقیدے اور اصول پر مبنی ہیں جیسا کہ ہم نے سورت کے مقدمے میں بھی کہا کہ ّّعبادت ٗٗصرف اللہ کی کرو۔ سب سے پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ قرآن نے اس حقیقت کو ذہن نشین کرنے کے لیے کیا منہاج اختیار کیا ہے اور اس منہاج کی اہمیت کیا ہے ؟ صرف اللہ کی ّّعبادتٗٗ کرنے کو قرآن کریم جن صیغوں اور طریقوں میں ادا کیا ہے ایک ان میں سے یہ ہے کہ وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُه (50) ّّاے برادران قوم ، اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہےٗٗ ۔ اور دوسرا طریقہ ہے۔ أَلا تَعْبُدُوا إِلا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (2) ّّاللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، بیشک میں اس کی طرف سے تمہارے لیے نذیر اور بشیر ہوں ٗٗ ۔ ان دونوں اندارہائے تعبیر میں فرق یہ ہے کہ ایک امر ہے اور دوسرے میں نہیں ہے ۔ کیا مثبت امر اور منفی اور ممانعتی انداز تعبیر میں کوئی فرق ہے یا ایک ہی مفہوم ہے ؟ پہلے انداز تعبیر کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ ہی کی بندگی کرو اور اسکے سوا کوئی قابل پرسش قدر ہی نہیں ہے اور دوسرے کا مفہوم یہ ہے کہ کسی غیر اللہ بندگی نہ کرو ۔ دوسرا مفہوم پہلے مفہوم کا تقاضا ہے ۔ پہلا مفہوم تو ثابت مفہوم ، ہے اور صراحت کے ساتھ حکم ہے اور دوسرا مفہوم اسکا لازمی نتیجہ ہے ۔ لیکن اللہ نے صرف پہلے انداز یعنی مثبت حکم ہی پر اکتفانہ کیا بلکہ دوسرے الٰہوں کی بندگی سے بھی صراحت کے ساتھ ممانعت کردی حالانکہ اگر دوسرا منفی مفہوم کو مستقلا بیان کیا جاتا تو بھی وہ پہلے مثبت حکم کا لازمی تقاضا تھا۔ پھر ایک ہی بات کو مثبت اور منفی دونوں طریقوں سے کیوں بیان کیا گیا اس لیے کہ اللہ کے ہاں یہ بات نہایت ہی اہم ہے اور اس اہمیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس پر اکتفائ نہیں کیا کہ نہی عبادت الٰہی کے منطوق کا لازمی نتیجہ ہے اس لیے اس کے تکرار کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس اہمیت پیش نظر اسے منفی صیغوں سے بھی بیان کیا گیا۔ مثبت اور منفی عبادت میں توحید کے عقیدے کے بیان کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو ، یہ مثبت اور منفی انداز بیان اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ بعض اوقات انسانیت پر ایسے حالات آجاتے ہیں کہ انسان خدائے بزرگ و برتر کے وجود کے بھی قائل ہوتے ہیں لیکن وہ اللہ کے ساتھ ساتھ دوسری شخصیات اور الٰہوں کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور ان کی بھی عبادت کرتے ہیں ۔ یوں لوگ درحقیقت شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں لیکن سمجھتے یہ ہیں کہ وہ صحیح العقیدہ مسلمان ہیں۔ صرف اس وجہ سے عقیدہ توحید کو امرونہی اور بیک وقت مثبت ومنفی انداز میں بیان کیا گیا تاکہ ایک حکم دوسرے کے مئوید اور مئوکد ہو اور تاکہ عقیدہ توحید کے اندر کوئی جھول اور کوئی سوراخ نہ رہے ۔ جس سے شرک اندر آسکے ۔ یہ انداز تعبیر قرآن میں متعدد مقامات پر وہرایا گیا ہے ۔ اس کے چند نمونے اس سورت سے نیز دوسری سورتوں سے قابل ملاحظہ ہیں : الر كِتَابٌ أُحْكِمَتْ آيَاتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ (1) أَلا تَعْبُدُوا إِلا اللَّهَ إِنَّنِي لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ (2) یہ کتاب ہے جس کی آیات کو محکم بنایا گیا پھر ان کو مفصل کیا گیا ، اس ذات کی طرف سے جو حکیم اور خبیر ہے ، یہ کہ نہ عبادت کرو ماسوائے اللہ کے ، میں تمہارے لیے اس کی جانب سے ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں “۔ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ (25) أَنْ لا تَعْبُدُوا إِلا اللَّهَ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ (26) ” بیشک ہم نے بھیجا نوح علیہ السلام کو اس کی قوم کی طرف ، اس نے کہا بیشک میں تمہارے لیے کھلا ڈرانے والا ہوں کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرہ۔ تمہارے بارے میں عذاب الیم سے ڈرتا ہوں “ ‘۔ وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنْ أَنْتُمْ إِلا مُفْتَرُونَ (50) ” اور عاد کی طرف ان کا بھائی ہو ، اس نے کہا اے برادر ان قوم ، اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارے لیے کوئی الٰہ نہیں ہے ، تم نے محض جھوٹ گھڑ رکھے ہیں “۔ وَقَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْٓا اِلٰـهَيْنِ اثْـنَيْنِ ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ ۚ فَاِيَّايَ فَارْهَبُوْنِ 51؀ ” اور اللہ نے کہا ، دو الٰہہ نہ بناؤ یہ حقیقت ہے کہ الٰہ صرف ایک ہے ، بس مجھ ہی سے ڈرو “۔ مَا كَانَ اِبْرٰهِيْمُ يَهُوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا ۭ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ 67؀ ” ابراہیم نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ وہ یکسو مسلم تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے “۔ ” میں اپنے چہرے کو یکسو ہو کر اس ذات کی طرف پھیر تا ہوں جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں “۔ توحید اور اس کی حقیقت کے بیان میں یہ اندازباربار قرآن میں آتا ہے اور اس مفہوم میں کوئی شک نہیں رہتا۔ اس انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اس عقیدے کی اہمیت اور عظمت کیا ہے ۔ اور یہ انداز اس لیے کیا گیا ہے کہ اس عقیدے کے ضمنی تقاضون اور ضمنی مفہومات کو بھی واضح اور منصوص طریقے سے لایا جائے ۔ اور اللہ تعالیٰ اپنی اس مخلوق کو اچھی طرح جانتے تھے اور اللہ نے اس طرح اس انسان کے مفاد میں ضروری سمجھا کہ عقیدہ تو حید کے کسی بھی پہلو میں کوئی اجمال اور کوئی جھول نہ رہے ۔ اور اللہ تو حکمت بلیغہ کا مالک ہے ، وہ اپنی مخلوق کی کمزوریوں کو اچھی طرح جانتا ہے اور نہایت ہی باریک بین اور خبردار ہے ۔ اب ہم لفظ ” عبادت “ کے اصطلاحی معنی پر غور کرتے ہیں ۔ یہ لفظ اس سورت اور پورے قرآن مجید میں بار بار استعمال ہوا ہے تاکہ ہم یہ سمجھ سکیں کہ قرآن کریم بار بار کیوں اس بات پر زور دیتا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا کسی اور کی عباد نہ کرو ۔ اور یہ کہ اس لفظ کو مثبت اور منفی صیغوں میں تاکید بیان کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل قصہ ہود اور ان کی قوم کے ساتھ حضرت ہود کے مکالمے کے ضمن میں ہم نے ” العبادۃ “ “ کے مفہوم کو اچھی طرح واضح کیا ہے ۔ اور یہ بتایا ہے کہ اس نکتے کو قرآن کریم کیوں بار بار لاتا ہے اور یہ کہ اس نکتے پر کس طرح انسانی تاریخ میں انبیاء اور مصلحین نے زور دیا ہے ؟ اور اس راہ میں انہوں نے کیا کیا مشکلات پر داشت کی ہیں لیکن اس تشریح کے علاوہ یہاں ہم چاہتے ہیں کہ اس کے مفہوم کے بارے چند اور جھلکیاں یہاں دے دیں۔ عبادت کا یہ مفہوم کہ اسکا اخلاق ان مراسم پر ہوتا ہے جو اللہ اور اسکے بندے کے درمیان ہوتے ہیں اور یہ مفہوم بمقابلہ ان معاملات کے ہے جو ایک انسان دوسرے انسان کے درمیان ہوتے ہیں۔ یہ نزول قرآن کے وقت مروج نہ تھے ۔ عبادات ومعاملات دو الگ اصطلاحات بعد میں درج ہوئی ہیں ۔ اسلام کے عہد اول اور دور نزول قرآن میں یہ تفریق نہ تھی۔ اس سے قبل ہم اپنی کتاب (خصائص التصور الاسلامی ومقوماتہ ) میں اس کے بارے میں تفصیلات دی ہیں ۔ مناسب ہے یہاں چند فقرے نقل کردیں۔ ” انسانی اعمال اور سرگرمیوں کی یہ تقسم کہ اس کا ایک حصہ ” عبادات “ پر مشتمل ہے اور دوسراحصہ معاملات پر مشتمل ہے ۔ اسلامی تاریخ کا اس دور سے متعلق ہے جس میں فقہ کی تدوین ہوئی ۔ ابتداء میں اس تقسیم کی غرض وغایت صرف علوم ومضامین کی فنی ترتیب وتدوین تھی۔ جس طرح کسی فن کی کتابوں کی ترتیب وتدوین میں ہوتارہتا ہے ۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ محض اس فنی تقسیم کی وجہ سے اسلامی تصورات اور نظریات میں بہت ہی برے نتائج پیدا ہوئے۔ اور اس تصوراتی اور نظریاتی کجی کی وجہ سے اسلامی معاشرے کی عملی زندگی پر بھی برا اثر مرتب ہوا۔ لوگوں کے اندر یہ خیال پیدا ہوگیا صرف وہی اعمال عبادت ہیں جن کا تعلق خدا کی پرستش کے مراسم سے ہے اور فقہی تقسیم کے مطابق دوسری سرگرمیاں جن کو فقہ میں ” معاملات “ “ کے عنوان سے بیان کیا گیا ۔ ان پر عبادت کا اطلاق نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہ بات اسلامی تصورحیات کے مطابق اصل بات سے انحراف ہے ۔ اور اس کی بےراہ روی کی وجہ سے مسلمانوں کی پوری زندگی میں انحراف پیدا ہوگیا۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اعمال میں سے کوئی عمل ایسا نہیں ہے جس پر لفظ عبادت کا اطلاق نہ ہوتا ہو بلکہ اسلامی نظام حیات کا ہرجزواول سے لے کر آخر تک عبادت الٰہی کے لیے ہے ۔ غرض اسلامی نظام کے اجزاء یعنی نظام حکومت وسیاست ، اقتصادی نظام ، اسلام کا قانون جرائم اور اسلام کا سول لاء ، اسلام کا عائلی قانون اور تمام دوسرے قوانین درحقیقت عبادات ہیں ۔ اور یہ تمام قوانین لفظ عبادت کے مفہوم کو بروئے کا لانے کے لئے وضع ہوئے ہیں۔ لیکن انسان کی تمام سرگرمیاں اسلامی نظام کے مطابق اور لفظ عبادت کی تعریف میں تب آئیں گی جب وہ قرآن وسنت اور اسلامی شریعت کے مطابق ہوں۔ اس طرح کہ ایک مسلمان اللہ وعدہ کو الٰہ اور خدا سمجھے ۔ صرف اس کی بندگی اور عبادت کا اقرار کرے۔ اور پوری زندگی اس نظام کے مطابق عملاً بسر کرے۔ اور یہی تخلیق انسان اور تخلیق کائنات کی اصل غرض وغایت ہے ، اگر ایسا نہ ہوگا تو انسان اسلامی نظام کی اسکیم سے خارج ہوگا اور وہ دین اسلام کے اندر تصورنہ ہوگا۔ وہ مضامین اور شعبے جن کے لئے فقہاء ” عبادات “ استعمال کیا ہے ، اگر ان پر غور کیا جائے اور قرآن کریم میں ان کے بارے میں جو احکام دیئے گئے ہیں ، ان کو پڑھائے جائیں تو معلوم ہوگا کہ یہ شعبے اور مضامین قرآن نے ان شعبوں اور مضامین سے علیحدہ نہیں پیش کیے جن پر فقہاء نے لفظ معاملات کا اطلاق کیا ہے بلکہ دونوں قسم کے احکام قرآن اور سنت میں ایک ہی سیاق کلام میں باہم مربوط آتے ہیں اور ان کا ذکر اس طرح ہوا کہ دونوں ہی خدا اور رسول ﷺ کی اطاعت اور خدا کی بندگی اور عبادات کے مفہوم میں آتے ہیں جس کے لیے اللہ نے زمین و آسمان اور جن وانس کو پیدا کیا ہے اور یہی مفہوم ہے لا الٰہ الا اللہ اور توحید کا ہے۔ تاریخ اسلام میں ازمنہ متاخرہ میں اس تقسیم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ مسلمانوں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ اگر وہ عبادات کے حصے پر عمل پیراہوں اور عبادات احکام خداوندی کے مطابق سرانجام دیں اور اگر معاملات میں وہ کسی دوسرے نظام کے پیرو ہوں اور معاملات میں وہ اللہ کے بجائے کسی اور ذریعے اور ماخذ سے ہدایات لیں تو بھی وہ مسلمان ہوسکتے ہیں ، حالانکہ قانون سازی اور زندگی کی ضابطہ بندی کے دوسرے نظام اللہ کے احکام خلاف ورزی کیوں نہ کررہے ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے یہ ان کی خالص خوش فہمی ہے ۔ اسلام کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا اور نہ اسلامی نظام کے حصے بخرے کیے جاسکتے ہیں ۔ اسلام کو اس انداز اور اس نہج پر جو بھی تقسیم کرے گا وہ دائرہ اسلام سے خارک ہوگا اور اس کا اس دین سے کوئی تعلق نہ ہوگا ۔ یہ ہے وہ عظیم حققت جس کی فکر ہر مسلمان کو کرنی چاہئے کہ وہ اپنے اسلام کو حقیقی اسلام بنائے۔ بشرطیکہ وہ اللہ کے اس مقصد کو پورا کرنا چاہئے جس کے لیے اللہ نے اس کی تخلیق کی ہے۔ یہ ہیں وہ چند مقصدی فقرے جو ہم نے اپنی کتاب خصائص التصور اسلامی سے نقل کیے ۔ ان فقروں پر ہم صرف چند کلمات کا اضافہ ہی کریں گے ۔ جو ہم اس سے پہلے اس پارے میں مفصل بیان بھی کردیئے ہیں کہ جن عربوں کے سامنے نبی ﷺ یلا الہ الا اللہ کی دعوت پیش کی اور کہا تھا کہ اللہ ہی کی عبادت کرو ، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے کہ وہ عرب اس لفظ کو صرف پرستش کے معنی میں نہ بولتے تھے اور نہ ان کو فقہاء کی تقسیم عبادات و معاملات کا علم تھا بلکہ مکہ میں جب یہ حکم آیا کہ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرو تو اس وقت اسلامی عبادات ابھی تک فرض ہی نہ تھیں۔ بلکہ ان کے نزدیک عبادت کا مفہوم یہ تھا کہ پوری زندگی اللہ کی اطاعت میں دے دو اور اپنی پوری زندگی کو غیر اللہ کی اطاعت میں سے نکال دو اور حضور اکرم ﷺ سے حضرت عدی ابن حاتم سے احبار وریان کے بارے میں فرمایا بلی انہم ْْ ہاں اہوں نے ان (اہل کتاب) کے لیے حرام کو حلال کیا اور حلال کو حرام کیا۔ اور انہوں نے ان کی اطاعت کی۔ یہ تھی ان کی جانب سے ان کی عبادت ۔ اور مراسم عبودیت پر فظ عبادت کا اطلاق یوں ہوا کہ یہ بھی عبادت کا ایک جزء ہیں اور انسانی زند کی کی سرگرمیوں کا ایک حصہ ہیں لیکن لفظ عبادت کا پورا مفہوم و مدلول صرف ان مراسم میں منحصر نہیں ہے۔ اس سے قبل ہم اسی بارے میں یہ بات کہہ آئے ہیں واقعہ یہ ہے کہ اگر عبادت سے مراد صرف مراسم عبادت ہی ہوتے تو پھر رسولوں اور رسالتوں کی سرے سے ضرروت ہی نہ پڑتی ، اور رسولوں نے انسانی تاریخ میں اقامت دین کے لیے جو ان تھک کوششیں اور مساعی کیں ان سرے سے ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ اور پوری انسانی تاریخ میں اہل ایمان نے جو عظیم قربانیاں دیں ان کی ضرورت بھی نہ تھی ، حقیقت یہ ہے کہ یہ عظیم قربانیاں محض اس لیے دی گئیں کہ لوگوں کو اپنے جیسے انسانوں کی غلامی اور اطاعت سے نکال کر صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت میں داخل کیا جائے اور ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جس میں اللہ کی حاکمیت ہو اور لوگ دنیا و آخرت دونوں کے معاملات میں اللہ کے مطیع ہوں۔ صرف اللہ کی حاکمیت اور صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کرنا ہی ایک ایسا مقصد اور جامع و مانع توحید ہے جس کے لیے رسالتوں کا طویل سلسلہ جاری کیا گیا۔ اور اس کے لیے تاریخ میں عظیم جدوجہد کی گئی اسی راہ میں اس قدر قربانیاں دی کئیں اور مشقتیں برداشت کی گئیں اور یہ کام اس لیے نہیں کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو کہ سی اس یک ضرورت تھی ، بلکہ اس لیے کہ اس کے سوا انسان کی زندگی نہ درست ہوسکتی ہے ، نہ انسان معززوبلند ہوسکتا ہے اور نہ اس کا رہن سہن ایک اسنان کے لائق ہوسکتا ہے۔ یہ کام صرف اس ہمہ جہت اور ہمہ گیر عقیدہ توحید کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ ایسا عقیدہ جس کی گرفت میں انسان کی پوری زندگی ہو “۔ جہاں ہم نے مذکورہ بالا اقتباس دیا تھا ، وہاں ہم نے یہ وعدہ کیا تھا کہ آخر میں ہم اس موضوع پر طویل بحث کریں گے۔ لہذا ہم یہاں انسانی زندگی پر عقیدہ توحید کے اثرات کے بارے میں قدرے بحث کرتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ اگر انسان عقیدہ توحید کو اس کے اس جامع و مانع اور مکمل مفہوم کے ساتھ قبول کرلے تو اس کا اس کی ذاتی زندگی کی حد تک کیا اثر ہوگا ، اس کی فطری ضروریات ، اس کیمادی وجود ، اس کے تصورات اور پھر ان تصورات کی وجہ سے اس کی عملی زندگی پر کیا اثر ہوگا۔ ” یہ تصور اور یہ سوچ اپنی پوری عمومیت کے ساتھ جب تمام امور حیات کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہے تو یہ تصور انسانی زندگی سے اس کے ہر پہلو سے مخاطب ہوتا ہے۔ انسانی زندگی کی تمام دلچسپیوں ، اس کی تمام ضروریات ، اور اس کے تمام رجحانات کو اپنی گرفت میں لیتا ہے اور ان کے رخ کو صرف ایک سمت کی طرف موڑ دیتا ہے۔ اب اس کا معاملہ صرف اسی سمت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ انسان سب کچھ اسی جہت سے طلب کرتا ہے۔ انسان اپنی ہر چیز کے ساتھ اسی طرف آگے بڑھتا ہے ، اس کی امیدیں بھی اسی سمت سے وابستہ ہوتی ہیں اور اس کے اندیشے بھی اسی سے ہوتے ہیں ، وہ صرف اس سمت کی رضاجوئی کا طلبگار ہوتا ہوتا اور اسی کے غضب سے استغفار کرتا ہے۔ اس کے لیے کہ یہی سرکار ہر چیز کی مالک و خالق ہے ، اور وہی پوری کائنات کی مدبر ہے۔ ۔ ” یہ تصور انسانی شخصیت کا رخ ایک ہی مرجع اور منبع کی طرف موڑیتا ہے۔ اسی مصدر سے انسان حقائق و تصورات اخذ کرتا ہے ، اسی سے اپنے پیمانے اور اقدار لیتا ہے ، اس سے اصول و قوانین حاصل کرتا ہے۔ ہر سوال کا جواب وہ وہیں سے لیتا ہے ، اور انسان اور اس کائنات کے حوالے سے جو سوالات بھی اس کے ذہن میں اٹھتے ہیں ان کا حل وہ اسی مصدر اور مرجع سے پاتا ہے “۔ اب انسان کی شخصیت ایک مجتمع شخصیت ہوتی ہے۔ اس کا شعور ، اس کا طرز عمل ، اس کے جذبات و میلانات ، ان کا تعلق عقیدے سے ہو یا نظام زندگی سے نصرتو اعانت سے ہو یا ہدایت اخذ کرنے سے ہو ، زندگی سے متعلق یا آخرت سے متعلق ہو ، زندگی کی جدوجہد اور تحریک سے ہو یا صحت اور رزق سے متعلق ہو ، دنیاوی امر یا اخروی امر سے یہ تمام امور باہم مجتمع ہوجاتے ہیں ، اب ان میں کوئی تفریق اور جدائی نہیں رہتی اور ان امور میں انسانی شخصیت مختلف راستے اختیار نہیں کرتی اور نہ ہی مختلف اسالیب پر چلتی ہے “۔ ” انسانی شخصیت جب اس نہج پر متحد و مجتمع ہوجاتی ہے۔ تو یہ اس کے بہت ہی اچھے دن ہوتے ہیں ، کیونکہ یہ وحدت کی حالت میں ہوتی اور سچائی کہ پہلی صفت یہ ہے کہ اس کے اندر وحدت ہوتی ہے ، وہ ایک ہوتی ہے ، اس لئے کہ جب حق تعالیٰ ایک ہے تو حق بھی ایک ہوتا ہے ، بلکہ اس پوری کائنات میں یہ وحدت اور یگانگت ایک اہم حقیقت ہے ، اگرچہ مظاہر ، اشکال اور حالات مختلف ہوں۔ انسان اپنی مختلف صلاحیتوں اور رنگون اور شکلوں کے باوجود اصل میں ایک ہے۔ توحید اور وحدت دراصل انسانی وجود کا اصل مدعا ہے۔ انسان جب بھی اور جہاں بھی اپنی حقیقت کی تلاش میں نکلے گا ، اپنی عادات اور شکلوں کے اختلاف کے باجود اس کی حقیقت ایک ہی ہوگی۔ “۔ ” جب یہ انسانی شخصیت ایسے حالات میں ہوتی ہے کہ وہ حالات ہر میدان میں ” حقیقت “ اور اس کیت ساتھ ہم آہنگ ہوں تو اس وقت شخصیت اپنے عروج پر ہوتی ہے وہ اس پوری کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اس کی ذات اور اس کائنات کے درمیاں کوئی تضاد اور ٹکراؤ نہیں ہوتا جس کے اندر وہ رہتی ہے۔ اس شخصیت اور اس کائنات دونوں کے درمیان ایک ہی حقیقت موثر ہوتی ہے۔ جب انسانی شخصیت اس عظیم کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر چلتی ہے تو اس ہم آہنگی کے نتیجے میں دنیا میں عظیم انقلابات برپا ہوتے ہیں اور عظیم ادوار وجود میں آتے ہیں۔ “ ” مثلاً جب مسلمانوں کی پہلی جماعت اپنی شخصیت کے اعتبار سے اس مقام حقیقت تک پہنچ گئی تو اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اس کرہ ارض پر دور رس تبدیلیاں کیں اور اس نے تاریخ پر گہرے اثرات چھوڑے اور خود انسانی شخصیت اور سوچ کے دھارے بدل گئے “۔ ” اور آئندہ بھی جب کوئی ایسی جماعت اور اس قسم کی مجتمع شخصیت والے لوگ دنیا میں پیدا ہوئے تو انسانیت اور تاریخ پر ایسے ہی گہرے اثرات چھوڑیں گے اور ایسے افراد اور ایسی جماعت ضرور پیدا ہوگی انشاء اللہ ۔ اگرچہ ملت اسلامیہ کے دشمن ایسی جماعت وجود میں آجاتی ہے تو اس کے اندر ایسی قوت ہوتی ہے جس کا مقابلہ رکاوٹ نہیں کرسکتی کیونکہ ایسی جماعت کی قوت فطرت اور کائنات کی قوت سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور انسانی قوتوں اور کائناتی قوتوں کا مرجع و مبداء ایک ہوتا ہے۔ “۔ ” اس توحید اور وحدت کا فائدہ صرف یہ نہیں ہے کہ انسان کا ایمانی تصور درست ہوجاتا ہے۔ اگرچہ یہ تصحیح اور درستی بذات خود بہت اہم ہے کیونکہ پوری انسانی زندگی کی عمات اس تصحیح پر قائم اور استوار ہوتی ہے ، لیکن اس سے زیادہ اس عقیدے کی اہمیت یہ بھی ہے کہ عقیدہ توحید انسان کے اندر حسن ذوق پیدا کردیتا ہے۔ انسان زندگی کو بڑی خوبی سے گزارتا ہے اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کے درمیان ہم آہنگی اور تناسق پیدا ہوجاتا ہے ، کیونکہ اس ہمہ گیر توحید کے نتیجے میں انسانی زندگی کا ہر بڑا چھوٹا پہلو ، اور ہر بڑا چھوٹا عمل عبادت بن جاتا ہے۔ جب انسان اللہ وحدہ کو اپنا حاکم اور رب قرار دیتا ہے اور زند کی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے میں فقط اس کی بندگی کرتا ہے ، تو انسان انسانیت کے اعلیٰ ترین مرتبے پر فائز ہوجاتا ہے ، یہی وہ مقام ہے جس کے تمام پہلوؤں پر فقط رسول اللہ فائز ہوئے ہیں۔ یہ مقام ، مقام وحی اور اسراء ہے۔ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّه هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (1) ” بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس نے فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ وہ تمام جہانوں کے لیے ڈرانے والے بن جائیں “۔ اور دوسری جگہ ہے : سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا إِنَّه هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ (1) ” پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو سیر کرائی رات کے وقت مسجد حرام سے مسجداقصیٰ تک جس کے ماحول کو ہم بابرکت بنایا ہے تا کہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں ، بیشک اللہ سمیع وبصیر ہے “۔ اب ہم بندگی کی توحید کو حاکم اور رب سمجھتے ہوئے اس کی تکمیل بندگی اختیار کرنے کا ایک دوسرا فائدہ قارئین کے سامنے رکھتے ہیں ، اور یہ نتاتے ہیں انسانی زندگی اور غلامی سے نکل آتا ہے ، اور ایک ایسا نظام قائم ہوتا ہے ، جس میں ایک انسان ، انسان کی غلامی سے آزاد ہوتا ہے ۔ انسان ایک مکمل آزادی حاصل کرلینے کے بعد ایک باعزت مقام بھی حاصل کرلیتا ہے ، یہ آزادی اور یہ شرف انسان کو سی بھی غیر اسلامی اور جاہلی نظام میں حاصل نہیں ہوتا ہے ، کیونکہ ان دوسرے نظاموں میں انسان ، انسان کا غلام ہوتا ہے ، اور انسانوں پر انسان کی حاکمیت کے رنگ ڈھنگ اگرچہ مختلف ہوتے ہیں ، بعض اوقات انسان ذہناً دوسروں کا غلام ہوتا ہے ، بعض اوقات وہ غیروں کے سامنے سجدے بھی کرتا ہے ، بعض اوقات وہ دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے ضوابط میں بندھا ہوا ہوتا ہے ، غلامی کی یہ مختلف اقسام ہیں اور نوعیت ایک ہی جیسی ہے کہ ان میں انسان ، انسان کے تابع اور ماتحت ہوتا ہے ۔ کسی نہ کسی طرح ہو بندھا ہوا ہوتا ہے ۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ لوگ کسی قانون اور ضابطے کے پابند نہ ہوں ، اگر وہ اللہ کے قوانین اور ضابطوں کے پابند نہ ہوئے تو ظاہر ہے کہ کسی اور کے قانون کے پابند ہوں گے ، یوں وہ دوسرے انسانوں کی غلامی میں پڑجائیں گے ۔ جب بھی انسان غیر اللہ کی غلامی میں گرفتار ہوجائے تو یہ ہر وقت غیر اللہ کی خواہشات اور مرضی کا غلام ہوتا ہے اور اس غلامی کی وجہ سے انسانیت کے مقام سے گر کر حیوانیت کے مرتبے تک جاپہنچتا ہے۔ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الأنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًى لَهُمْ (12) ” وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا یہ متاع دنیا سے استفادہ کرتے ہیں اور اس طرح کھاتے ہیں جس طرح مویشی کھاتے ہیں ۔ آگ ان کے لیے جائے آرام ہے “۔ انسان کے لئے اس سے بڑا خسارہ کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی انسانیت کھوبیٹھے اور جونہی ایک انسان صرف اللہ کی حاکمیت اور غلامی سے نکلتا ہے وہ پہلے تو اپنی خواہشات اور شہوات کا غلام بن جاتا ہے ، اور یوں وہ حیوانوں کے مرتبے تک جاگرتا ہے ۔ جو صرف اپنی خواہشات کے تابع ہوتے ہیں۔ اس کے بعد پھر وہ اپنے جیسے بندوں کی غلامی میں مبتلا ہوجات ہے ، اس کے بعد ایسے انسان پھر حکام اور رؤسا کے غلام بن جاتے ہیں ، یوں کہ یہ حکام اور رؤسا ان کو ایسے قوانین کے شکنجے میں کس دیتے ہیں ، جو انہوں نے خود اپنے مفاد میں بنائے ہوتے ہیں اور یہ قوانین صرف بنانے والون کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں یہ قانون ساز بعض اوقات ایک بادشاہ اور ڈکٹیٹر کی شکل میں ہوتے ہیں بعض اوقات ایک حاکم طبقے کی صورت میں ہوتے ہیں ، بعض اوقات ایک حکمران نسل کی شکل میں ہوتے ہیں ۔ یہ خصوصیت ان تمام نظاموں میں موجود ہوتی ہے جو اللہ کی ہدایات سے ماخوذ نہیں ہوتے یعنی جو اللہ کی شریعت سے ماخوذ نہیں ہوتے۔ انسان کی طرف سے انسان کی غلامی ، یہ صرف حکام رؤسا اور قنون سازوں تک ہی محدود نہیں ہوتی ۔ یہ غلامی بظاہر ان طبقات تک ۔۔۔۔۔۔۔ نظر آتی ہے ، بلکہ اس طرح ہر انسان بعض دوسری خفیہ قوتون کا بھی غلام ہوتا ہے ۔ بعض اوقات یہ دوسری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقوتوں سے بھی زیادہ قوی ہوتی ہیں ۔ مثلاً رسم و رواج اور لباس تک میں انسان جکڑا ہوا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنے آپ کو ترقی پسند ظاہر کرکے اپنے مفادات کے لئے رسومات و لباس وضع کرتے ہیں ۔ یہ لوازمات لباس میں ، گاڑیوں میں بڑی بڑی کوٹھیوں کی شکل میں ، مناظر کی شکل میں اور پھر مخصوص محفلوں کی شکل میں لوگوں پر عائد کئے جاتے ہیں۔ کوئی جاہلیت پرست مرد یا عورت ان ناجائز طور ہر فرض کردہ لوازمات سے نکل نہیں سکتی ۔ بلکہ ان جاہلی رسومات ولوازمات کے گرفتار ان کے دائرے پر ہمیشہ بند اور محدود رہتے ہیں۔ آج انسان جس طرح ان لوازمات اور رسومات کی اندھی پابندی کرتے ہیں اگر وہ اس قسم کی پابندی اللہ کے چند احکام ہی کی کرتے ہیں تو وہ زاہد شب زندہ دار کا مقام تک جاپہنچتے ۔ یہ اندھی غلامی نہیں ہے ، تو اور کیا ہے ، غیر اللہ کی حاکمیت اگر یہ نہیں ہے تو اور کیا ہوگی کہ ایک انسان دوسرے انسانوں کے رائج کئے ہوئے فیشن کا بھی غلام ہو۔ بعض اوقات ایک شریف انسان ایک عورت کو دیکھتا ہے کہ وہ ایسا لباس پہنی ہوئی ہے کہ اس سے اس کا رنگ ڈھنگ نظر آتا ہے ۔ یہ لباس نہ اسکی چکل و صورت کے مناسب ہوتا ہے اور نہ اس کی جسمانی ساخت کے مناسب ہوتا ہے اور پھر یہ عورت ایسے اطوار اور ایسی ادائیں اختیار کرتی ہے کہ جس کی جانب ہر طرف سے اشارے ہوتے ہیں اور وہ ایک مذاق بنی ہوئی ہوتی ہے ۔ لیکن فیشن ہاوسز کی قوت قاہرہ ان لوگون کو مجبور کرتی ہے کہ لوگ ان کی اطاعت کریں اور ان لوگوں کو اس ذلت میں مبتلا کریں ۔ اس طرح کہ یہ لوگ طاقت نہیں رکھتے کہ اس کا انکار کردیں ، جبکہ ان کا پورا ماحول اس غلامی میں گرفتار ہوتا ہے۔ یہ اگر غلامی نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ یہ فیشن ہاؤسز اگر حاکم اور رب نہیں تو اور کیا ہیں ؟ جب لوگ اللہ کی بندگی سے نکلتے ہیں اور غیر اللہ کی بندگی اور غلامی اختیار کرتے ہیں تو وہ کئی قسم کی ذلالتوں میں گرفتار ہوتے ہیں ۔ فیشن کی مذکورہ بالا ذلت تو ان میں سے ایک ہے ، اسی طرح امراء اور رؤسا کی حاکمیت بھی وہ واحد مکروہ صورت نہیں ہے جس میں لوگ مبتلا ہوجاتے ہیں ، جب انسان ، انسان کا غلام ہوتا ہے اور ایک بندہ بندے کی غلامی کررہا ہوتا ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی کئی اور خرابیاں ہیں جو ایسے معاشرے میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس بات سے ہمیں اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے ، صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرنے اور صرف اللہ وحدہ کی بندگی کرنے اور صرف اللہ کو رب اور حاکم مان لینے کے اثرات انسان کی روح ، اس کی عزت اور اس کی ثروت پر کس قدر دور رس ہوتے ہیں۔ جب ایک انسان ، انسان کا غلام ہوجائے تو اس کے اخلاق ، اس کی عزت اور اس کی دولت محفوظ نہیں رہنی چاہئے غیر اللہ کی بندگی کی نوعیت جو بھی ہو ، غیر اللہ کی قانون سازی کے میدان میں ہو ، یا رسم و رواج کی شکل میں یا غلط اعتقادات اور تصورات کی صورت میں ہو۔ مثلاً اگر کوئی اعتقادات ، خیالات اور نصورات اور نظریات میں غیر اللہ کا غلام ہوجائے تو وہ ہم پرستی ، قصے کہانیوں اور خرافات میں یقین کرتا ہے ۔ دنیا میں جہاں جہاں بھی بت پرستی کی جاہلیت کا غلبہ ہے ، وہ اس غلط سوچ کی غلامی کے نتیجے میں ہے ایسی گمراہیوں میں عوام مختلف قسم کے اوہام کا شکار ہوتے ہیں‏ ۔ اور ان سے ڈر کر وہ وہمی خداؤں کے درباروں میں نذر ونیاز گراز تے ہیں اور چڑھا وئے چرھاتے ہیں اور قربانیاں بھی دیتے ہیں ۔ بعض اوقات اولاد اور انسانون کی قربانیاں بھی دیتے ہیں اور یہ محض فاسد اور ناکارہ خیالات کی غلامی کیوجہ سے ہوتا ایسے معاشروں میں لوگ محض وہم و گمان کے خود تراشیدہ خداؤں سے ڈرتے ہیں ۔ پھر یہ لوگ کاہنوں اور پجاریوں سے بھی ڈرتے ہیں ، جو ان کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کا تعلق ان خداؤں سے ہے ۔ ایسے معاشروں میں لوگ جنوں اور بلاؤں سے بھی ڈرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی بھی قدر کرتے ہیں جو یہ باور کرادیں کہ ان کے قبضے میں جن ہیں۔ پھر وہ ایسے بتوں اور آستانوں کے مجاور مذہبی پیشواؤں کی اطاعت کرتے ہیں اور ایسے معاشروں کے تمام لوگ ڈرپوک ، کم ہمت ہوتے ہیں اور ہر وقت ڈرے سہمے ہوتے ہیں ، اور ہر وقت ایک خوف انہیں لاحق ہوتا ہے ۔ اور اسطرح تمام انسانی قوتیں ضائع ہوجاتی ہیں۔ ایک متوسط گھر انا اوسط درجے کی آمدنی رکھنے والا ، تیل ، خوشبو اور سرخی پوڈر ہر ایک بڑی رقم صرف کرتا ہے ۔ بالوں کو سنوارنے اور ان کے بنانے ہر وہ ایک بری رقم خرچ کرتا ہے ۔ پھر بدلتے ہوئے فیشوں کا ساتھ دینے کے لئے ہر سال نئے نئے جوڑے خریدتا ہے ۔ ان جوڑوں کے ساتھ ان کے ہم رنگ بوٹ اور دوسرے ملبوسات بھی فراہم کرتا ہے ۔ اور یہ سب کچھ ان خداؤں کی اتباع میں ہوتا ہے جو پس پردہ بیٹھ کر یہ فیشن گھڑتے ہیں ۔ تفتیش کرنے سے معلوم ہوگا کہ ایک متوسط آمدنی والا گھرانہ اپنی کل آمدنی کا نصف حصہ فیشن اور رسم و رواج پر خرچ کردیتا ہے۔ فیشن اور سرخی پوڈر کے پیچھے بین الاقوامی یہودیت کا ہاتھ ہوتا ہے اور اس نے تمام انسانوں کو فیشن کے جال مین پھنسایا ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں ان کی بین الاقوامی کمپنیاں چلتی ہیں۔ اور یہ کمپنیان لوگوں کے مال اور ان کی آبرو اور ناموس پر ڈاکے ڈالتی ہیں اور وہ مجبور محض ہیں۔ اب سب سے آخر میں دیکھیں جب انسان ، انسان کا غلام ہوتا ہے اور آقا انسان کے لئے قانون بناتا ہے تو غلام انسان کو کس قدر قربانی دینا پڑتی ہے اور اللہ کی غلامی اختیار کرنے میں انسان کو کس قدر قربانی دینا نہیں پڑتی ہے معلوم ہوگا کہ انسان کو غیر اللہ کی گلامی میں زیادہ مالی اور جانی قربانیاں دینا پڑتی ہیں ۔ اس کے علاوہ ، وطن کا بت ، قوم کا بت ، طبقات کا بت ، پیداوار اور ان کے علوہ دوسرے بت جنہوں نے الوہیت کا درجہ اختیار کررکھا ہے اور جو اس جہاں میں ان مصنوعی بتوں پر ڈھول بجائے جاتے ہیں اور جھنڈے لہرائے جاتے ہیں اور پھر ان کے بندوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان بتوں کے نام پر جانی اور مالی قربانیاں دیں اور وہ دیتے ہیں ، بلاترود دیتے ہیں۔ اگر وہ نہیں دیتے تو ان پر اس قدر معاشرتی دباؤہوتا ہے کہ انہیں غدار سمجھا جاتا ہے اور ان کی توہین ہوتی ہے ۔ اگر کسی کے مال اور آبر و اور ان بتوں میں سے کسی بت کا مقابلہ ہو تو مال وآبرو کو ان بتوں پر قربان کردیا جاتا ہے اور ان مصنوعی بتوں کو اس قدر اونچا مقام دیا جاتا ہے کہ ان کے آستانوں پر کوں بہایا جاتا ہے اور اس پوری اسکیم کے پیچھے ان ارباب من دون اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔ وہ تمام قربانیاں جو جہاد فی سبیل اللہ کے لئے دی جاتی ہیں ، اور اس کے لئے کہ اس کرۃ ارض پر صرف اللہ کی بندگی جائے اور اس لیے کہ لوگوں کو بتوں اور طاغور کی غلام سے نجات دالائی جائے اور اس لئے کہ انسان کو اس مرتبہ بلند تک اٹھا دیاجائے اور اس بلند افق تک پہنچادیا جائے جو اللہ نے اس کے لئے مقرر کیا ہے یہ تمام قربانیاں ان قربانیوں سے بہت کم ہیں جو بعض لوگ انسانوں پر انسانوں کی خدائی کا نظام قائم کرنے لے لئے دیتے ہیں ۔ گر کم نہیں تو اس کے برابر ضرور ہیں جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے سے کتراتے ہیں اور اس میں شہادت ، جان ، مال اور اولاد کی قربانی دین سے ڈرتے ہیں ، ان کو ذرا یہ سوچنا چاہئے کہ غیر اللہ کی غلامی کی صورت میں انہیں اس سے کہیں زیادہ قربانیاں دینی ہوں گی ۔ بلکہ غیر اللہ کے لئے انہیں جان ومال کے علاوہ عزت وآبرو کی قربانی بھی دینی ہوگی۔ (بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)