Fi Zilal al-Quran — يوسف 12:1 – يوسف 12:111
Contents
- يوسف 12:1
- يوسف 12:2
- يوسف 12:3
- يوسف 12:4
- يوسف 12:5
- يوسف 12:6
- يوسف 12:7
- يوسف 12:8
- يوسف 12:9
- يوسف 12:10
- يوسف 12:11
- يوسف 12:12
- يوسف 12:13
- يوسف 12:14
- يوسف 12:15
- يوسف 12:16
- يوسف 12:17
- يوسف 12:18
- يوسف 12:19
- يوسف 12:20
- يوسف 12:21
- يوسف 12:22
- يوسف 12:23
- يوسف 12:24
- يوسف 12:25
- يوسف 12:26
- يوسف 12:27
- يوسف 12:28
- يوسف 12:29
- يوسف 12:30
- يوسف 12:31
- يوسف 12:32
- يوسف 12:33
- يوسف 12:34
- يوسف 12:35
- يوسف 12:36
- يوسف 12:37
- يوسف 12:38
- يوسف 12:39
- يوسف 12:40
- يوسف 12:41
- يوسف 12:42
- يوسف 12:43
- يوسف 12:44
- يوسف 12:45
- يوسف 12:46
- يوسف 12:47
- يوسف 12:48
- يوسف 12:49
- يوسف 12:50
- يوسف 12:51
- يوسف 12:52
- يوسف 12:53
- يوسف 12:54
- يوسف 12:55
- يوسف 12:56
- يوسف 12:57
- يوسف 12:58
- يوسف 12:59
- يوسف 12:60
- يوسف 12:61
- يوسف 12:62
- يوسف 12:63
- يوسف 12:64
- يوسف 12:65
- يوسف 12:66
- يوسف 12:67
- يوسف 12:68
- يوسف 12:69
- يوسف 12:70
- يوسف 12:71
- يوسف 12:72
- يوسف 12:73
- يوسف 12:74
- يوسف 12:75
- يوسف 12:76
- يوسف 12:77
- يوسف 12:78
- يوسف 12:79
- يوسف 12:80
- يوسف 12:81
- يوسف 12:82
- يوسف 12:83
- يوسف 12:84
- يوسف 12:85
- يوسف 12:86
- يوسف 12:87
- يوسف 12:88
- يوسف 12:89
- يوسف 12:90
- يوسف 12:91
- يوسف 12:92
- يوسف 12:93
- يوسف 12:94
- يوسف 12:95
- يوسف 12:96
- يوسف 12:97
- يوسف 12:98
- يوسف 12:99
- يوسف 12:100
- يوسف 12:101
- يوسف 12:102
- يوسف 12:103
- يوسف 12:104
- يوسف 12:105
- يوسف 12:106
- يوسف 12:107
- يوسف 12:108
- يوسف 12:109
- يوسف 12:110
- يوسف 12:111
يوسف 12:1
سورة پر ایک نظر کا بقیہ حصہ :
فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَى أَبِيهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَيْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَكْتَلْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (63) قَالَ هَلْ آمَنُكُمْ عَلَيْهِ إِلا كَمَا أَمِنْتُكُمْ عَلَى أَخِيهِ مِنْ قَبْلُ فَاللَّهُ خَيْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ (64) وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَيْهِمْ قَالُوا يَا أَبَانَا مَا نَبْغِي هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَيْنَا وَنَمِيرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ كَيْلَ بَعِيرٍ ذَلِكَ كَيْلٌ يَسِيرٌ (65) قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَكُمْ حَتَّى تُؤْتُونِ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ لَتَأْتُنَّنِي بِهِ إِلا أَنْ يُحَاطَ بِكُمْ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَلَى مَا نَقُولُ وَكِيلٌ (66) جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا اباجان ، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے ۔ لہذا آپ ہمارے بھائی کو
ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ کے کر آئیں ۔ اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں “ باپ نے جواب دیا ” کیا میں اس معاملے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملے میں کرچکا ہوں ؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے “۔ پھر جیسا انہوں نے اپنا سامان کھولا تو ایکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے ۔ یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے ، ” اباجان اور ہمیں کیا چاہئے دیکھئے یہ ہمارا مال بھی ہمیں دے دیا گیا ہے ، بس اب ہم جائیں گے اواپنے اہل و عیال کے لئے رسد لے آئیں گے ، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بار شتر اور زیادہ بھی لائیں گے ۔ اتنے غلے کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا “۔ ان کے باپ نے کہا ” میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک تم اللہ کے نام سے مجھے کوئی بیان نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرورلے کر آؤگے الا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لئے جاؤ “ﷲجب انہوں نے اس کو اپنے پیمان دے دئیے تو اس نے کہا ” دیکھو ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے “ پھر اس نے کہا ” میرے بچو ، مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا ۔ مگر میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچاسکتا ، حکم اس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہے اسی پر کرے “۔
اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی۔ ہاں یعقوب کے دل میں جو ایک کھٹک تھی ، اسے دور کرنے کے لئے اس نے اپنی سی کوشش کی ، بےچک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحب عالم تھا ، مگر اکثر لوگ معاملے کی حقیقت کو جانتے نہیں “۔ اس کے بعد اس قصے میں ان کا کردار اس وقت سامنے آتا ہے جب وہ دوسرے صدمے سے دوچار ہوتے ہیں ۔ یہ خدا رسیدہ نبی ہیں اور بےپناہ محبت کرنے والے ہیں۔ یہ اس وقت جب اللہ نے ایک خاص تدبیر کے ذریعے یوسف کے بھائی کو مصر میں رکوا دیا۔ حضرت یعقوب کے بیٹوں میں ایک صاحب جو معتدل شخصیت کے مالک تھے وہ بھی مصر ہی میں رک جاتے ہیں ، ان کی شخصیت کا یہ اعتدال اس پورے قصے میں نمایاں رہا ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ میں کن آنکھوں سے باپ کا سامنا کروں یا تو وہ اجازت دیں یا پھر اللہ کوئی اور صورت نکال دے۔
فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُمْ مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُمْ فِي يُوسُفَ فَلَنْ أَبْرَحَ الأرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ (80) ارْجِعُوا إِلَى أَبِيكُمْ فَقُولُوا يَا أَبَانَا إِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَا إِلا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ (81) وَاسْأَلِ الْقَرْيَةَ الَّتِي كُنَّا فِيهَا وَالْعِيرَ الَّتِي أَقْبَلْنَا فِيهَا وَإِنَّا لَصَادِقُونَ (82) قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنْفُسُكُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِيلٌ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَنِي بِهِمْ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (83) وَتَوَلَّى عَنْهُمْ وَقَالَ يَا أَسَفَى عَلَى يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ (84) قَالُوا تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّى تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ (85) قَالَ إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ (86) يَا بَنِيَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ يُوسُفَ وَأَخِيهِ وَلا تَيْأَسُوا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِنَّهُ لا يَيْئَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ (87) جب وہ یوسف سے مایوس ہوگئے تو ایک گوشے
میں جاکر مشورہ کرنے لگے ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا ” تم جانتے نہیں کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر عہد و پیمان لے چکے ہیں اور اس سے پہلے یوسف کے معاملے میں جو زیادنی تم کرچکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے ۔ اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دے دیں یا پھر اللہ ہی میرے حق میں فیصلہ فرمادے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ تم جاکر اپنے والد سے کہو کہ ” اباجان ، آپ کے صاحبزادے نے تو چوری کی ہے ، ہم نے اس سے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہے بس وہی ہم بیان کررہے ہیں اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے۔ آپ اس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجئے جہاں ہم تھے۔ اس قافلے سے دریافت کرلیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں “۔۔۔۔ باپ نے یہ داستان سن کر کہا ” دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لئے ایک اور بڑی بات کو سہل بنادیا ، اچھا اس پر بھی صبر کروں گا۔ اور بخوبی کروں گا ۔ کیا بعید کہ اللہ ان سب کو مجھ سے ملادے ، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں “۔ پھر وہ ان کی طرف سے منہ پھر کر بیٹھ گیا اور کہتے لگا ” ہائے یوسف “ وہ دل ہی دل میں غم سے گھٹا جارہا تھا۔ اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں۔ بیٹوں نے کہا ” خدا را آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کیے جارہے ہیں ۔ نوبت یہ آگئی ہے کہ اسکے غم میں اپنے آپ کو گھلا دیں گے یا اپنی جا ہلاکت میں ڈالیں گے “۔ اس نے کہا ” میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا ، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو۔ میرے بچو ، جاکر یوسف اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں “۔
یہ ضعیف بوڑھا ، اس قصے کے آخری منظر میں بھی نہایت ہی واقفیت پسند ہے ۔ اس طویل غم نے اسے توڑپھوڑدیا ہے ۔ اب وہ دور سے یوسف کی قمیص کو سونگھ لیتا ہے ، وہ اپنے بیٹوں کی ملامت کا بھی مقابلہ کرتا ہے لیکن اسے جو امید ہے وہ شک نہیں کرتا کہ وہ پوری نہ ہوگی ۔ اسے اپنے رب پر پوراپورا بھروسہ ہے۔
وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّي لأجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ (94) قَالُوا تَاللَّهِ إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ (95) فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لا تَعْلَمُونَ (96) قَالُوا يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ (97) قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ (98) ” جب قافلہ مصر سے روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں) کہا ” میں یوسف کی خوشبو محسوس کررہا ہوں ، تم
لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں “۔ گھر کے لوگ بولے ” خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں “۔۔۔ پھر جب خوشخبری لانے والا آیا تو اس نے یوسف کی قمیص یعقوب کے منہ پر ڈال دی اور یکایک اس کی بینائی عود کر آئی ۔ تب اس نے کہا ” میں تم سے کہتا نہ تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے “۔ سب بول اٹھے ” اباجان آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کی دعا کریں واقعی ہم خطاکار تھے “۔ اس نے کہا ، ” میں اپنے رب سے تمہارے لئے معافی کی درخواست کروں گا ، وہ بڑا معاف کرنے والا اور حیم ہے “۔
یہ ہے وہ شخصیت جس کے خدوخال یکساں ہیں ، جس کا شعور حقیقت پسندانہ ہے ، وہ ہر حالت اور ہر صورت میں ربانی شعور رکھتے ہیں۔ ان کے اندر کوئی طمع کاری نہیں ہے ، ان کی سیرت میں کوئی جھول نہیں ہے اور ان کے معیار اخلاق میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔
يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ (29) یوسف (علیہ السلام) اس معاملے سے درگزر کر ۔ اور اے عورت
، تو اپنے قصور کی معافی مانگ ، تو ہی اصل میں خطاکار تھی “۔
نیز عورتوں کی چہ میگوئیاں کہ عزیز مصر کی بیوی کیا کررہی ہے اور اس کی جو ابی تدبیر اور دعوت کا انتظام اور ان کے سامنے یوسف (علیہ السلام) کا حاضر ہونا اور سب کا حیران را جانا اور اس کا یہ تبصرہ :
قَالَتْ فَذَلِكُنَّ الَّذِي لُمْتُنَّنِي فِيهِ وَلَقَدْ رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ وَلَئِنْ لَمْ يَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُونًا مِنَ الصَّاغِرِينَ (32) بیشک میں نے
اسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا ، اگر یہ میرا کہا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا “۔
یہ سوسائٹی جس میں اس قسم کی باتیں آزادانہ ہوتی ہوں ، یہ اونچے طبقے کی سوسائٹی ہوتی ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) اس میں بطور غلام پھنسے ہوئے تھے اور اسی میں پل رہے تھے۔ اور عمر کا زمانہ ایسا تھا جسے فتنے اور آزمائش کا زمانہ کہا جاتا ہے ۔ یہ تھا یوسف (علیہ السلام) کا ایک طویل اور کٹھن امتحان اور اس میں وہ ثابت قدم رہے ۔ وہ اس سے سرخرو ہوکر نکلے ، اور اس سوسائٹی اور اس عمر کی فتنوں کے مقابلے میں کامیاب رہے ، ان کی عمر اور عورت کی عمر کو مدنظر رکھ کر سو چا جائے کہ اس عورت کے ساتھ وہ ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں ، ان سب امور سے یہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف نے کس قدر طویل عرصے تک حالات کا مقابلہ کیا۔ اگر یہ واقعہ صرف یہی ایک ہوتا تو وہ بسہولت اس کا مقابلہ کرلیتے اور ان کے لئے مشکل پیش نہ آتی خصوصاً جبکہ مرد مطلوب ہو ، خود طالب نہ ہو ، خصوصاً جبکہ عورت کی خواہش ہو تو مرد اس سے انکار نہیں کرسکتا اور اس واقعہ میں عورت خواہشمند تھی۔
اس تمہید کے بعد اب تشریح آیات ۔
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِي هُوَ فِي بَيْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الأبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (23) جس عورت
کے گھر میں وہ تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازہ بند کرکے بولی ” آجاؤ “۔
اس بار یہ عورت کھلے بندوں حضرت (علیہ السلام) کو ورغلانے کی کوشش کرتی ہے اور اس میں وہ واضح طور پر آخری مرحلے کے لئے دعوت دیتی ہے ۔ دروازے بند کرنا آخری مرحلے پر ہوا کرتا ہے اور یہ عورت اب اس انتہا تک پہنچ چکی ہے ، جسمانی خواہش کا یہ آخری مرحلہ ہے ۔
وقالت ھیت لک : اور یہ آخری ، واضح اور علانیہ دعو کسی عورت کی طرف سے پہلی مرتبہ نہیں ہوتی ۔ یہ بڑی تمہیدات کے بعد ہوتی ہے ۔ اگر عورت جسمانی خواہش کے اعتبار سے مجبور نہ ہوجائے تو ایسی دعوت وہ ہرگز نہیں دیتی ۔ نوجوان چونکہ ان کے گھر میں رہا تھا ، اس کی جسمانی قوت آہستہ آہستہ مکمل ہوئی تھی اور عورت کی خواہسشات (ھیت لک) کہنے سے قبل کئی مراحل سے گزری ہوگی اور اس آخری مرحلے سے پہلے اس کی کئی اداؤں کا مقابلہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کیا ہوگا۔
قَالَ مَعَاذَ اللَّهِ یوسف ” نے کہا “ خدا کی پناہ میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی (اور میں یہ کام کروں ! ) ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے “۔ معاذاللہ ، میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں ۔ میں یہ کیسے کر سکتا ہوں۔
إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوَايَ ” میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی ہے “۔ اس نے مجھے کنویں سے نجات دے کر باعزت جگہ دی اور ایسے اونچے گھرانے میں رکھا۔
إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (23) ” اے ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے “۔ جو حدود اللہ سے تجاوز کرتے ہیں اور تم جس بات کی دعوت دے رہی ہو یہ تو سراسر حدود اللہ سے تجاوز ہے۔
یہاں قرآن اس بات کی تصریح کرتا ہے اور قطعیت کے ساتھ تصریح کرتا ہے کہ عورت کے اس ورغلانے کے عمل اور دروازے بند کرکے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو علانیہ دعوت گناہ دینے کو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بغیر تامل کے رد کردیا۔ انہوں نے حدودا للہ کو یاد کیا ، اللہ کے انعامات کو یاد کیا جبکہ قرآن نے اس کی دعوت گناہ کو بھی غلیظ الفاظ کے نجائے مہذب الفاظ میں بیان کی یعنی
وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ ” وہ اسکی طرف بڑھی اور یوسف (علیہ السلام) بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا “۔
یہ آخری مرحلہ تھا اور تمام مفسرین نے اس ہر طویل کلام کیا ہے ۔ قدیم مفسرین میں سے بعض لوگوں نے اسرائیلیات کا تباع کیا ہے اور اس بارے میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔ ان روایات میں یہ ذکر ہوا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) بھی ایک عام نوجوان کی طرح اس آخری فعل کے ارتکاب پر مائل تھے ، آگے بڑھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو برہان پر برہان کھارہا تھا مگر وہ رک نہ رہے تھے ۔ اس تنہاخانے میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی تصویر ظاہرہوئی اور انہوں نے اپنی انگلی دانتون میں دبا رکھی تھی۔ اور ان کے سامنے ایک ایسی تختی اچانک آگئی جس کے اوپر آیات قرآنی مکتوب تھیں ۔ قرآنی آیات ! جن میں یہ لکھا تھا کہ ایسے کام سے باز آجاؤ، لیکن ، پھر بھی نہ رکے تو اللہ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور کہا کہ پہنچو میرا بندہ کرنے لگا ہے ۔ وہ آئے اور انہوں نے حضرت یوسف کو سینے میں ایک ضرب لگائی ۔ یہ اور ایسی دوسری روایات جو واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ یہ جعلی اور بناونی ہیں۔ رہے جمہور مفسر ین ، تو انہوں نے یہ کہا ہے کہ عورت نے تو ارادہ گناہ کرلیا تھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی اس کے بارے میں سوچ لیا ہوتا ، اگر اس پر اللہ کا برہان روشن نہ ہوگیا ہوتا اور پھر انہوں نے اپنا ارادہ ترک کرلیا۔
سید رشید رضا نے اپنی تفسیر المنار میں جمہور علماء کی اس تفسیر پر رد فرمایا ہے ۔ اصل مفہوم یہ ہے کہ یہ جابر مالک تھی اور اس نے اسے دعوت گناہ دی اور اسے مارا بیٹا کیونکہ اس نے انکار کرکے اس کی توہین کی تھی اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسکی زیادتی کا جواب دیا ۔ اور اس کے بعد انہوں نے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور اس طرح اس نے اسے پکڑ کر قمیص پھاڑ دی ۔ (ھم) کا مفہوم مارنا اور مارنے کا جواب دینا ایک ایسی تفسیر ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے ۔ یہ ایک کوشش سے پاک صاف ثابت کیا ہے ۔ لیکن یہ تفسیر تکلف سے خالی نہیں ہے ۔ اور نہ عربی الفاظ اس کے متحمل ہیں۔
ان نصوص پر غور کرنے کے بعد جو بات میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس پختہ کار عورت کے ساتھ ایک مکان میں رہ رہے تھے اور ایک طویل عرصے تک رہ رہے تھے۔ علم و حکمت عطا ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی موجود تھے۔
اس آیت سے میں جو سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اس میں آْخری مرحلے کو بیان کیا گیا ہے ۔ اس عورت نے ایک طویل عرصہ ان کو ورغلانے کی سعی کی اور آپ نے انکار کیا ، اس عرصے میں حضرت یوسف (علیہ السلام) ان مشکل حالات کا مقابلہ کرتے رہے اور قرآن اس آیت میں آخری مراحل کا ذکر کردیا کہ انہوں نے پاکیز گی اختیار کی اور اللہ کے برہان کو دیکھ لیا ۔ اس کشاکش کو یہاں قرآن مجید نے نہایت ہی مختصر اً بیان کیا ہے اور اسے مختصر جگہ دی ہے ۔ اس کے لئے مناسب اور ضروری الفاظ استعمال کیے ۔ کشاکش کے آغاز اور انجام کو ان الفاظ میں قلم بند کردیا کہ آغاز میں انہوں نے انکار کیا اور انتہا میں انہوں نے براہین الٰہیہ کو دیکھا لیکن ابتدائی اور آخری مرحلے کے درمیان ممکن ہے کہ کمزوری کے لمحات بھی آئے ہوں اور اس طرح حقیقت پسندانہ سچائی اور پاک فضادونوں مکمل ہوں ۔
ان حالات ونصوص کا مطالعہ کرتے وقت میرے ذہن میں میں یہ بات آئی ہے ۔ یہ بات انسانی مزاج اور طیعت کے بھی قریب ہے اور منصب نبوت کے بھی ہم آہنگ ہے ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) بہر حال انسان تھے اور ایک برگزیدہ انسان تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نفسیاتی میلان ہی رہا ۔ اور جب ان کے اپنے قلب اور ضمیر میں اللہ کا برہان ظاہر ہوا تو ان کا یہ نفسیاتی میلان بھی ختم ہوگیا اور وہ حالت اعتصام اور مکمل انکار کی طرف لوٹ آئے ۔
علامہ زمخشری کشاف میں کہتے ہیں ” سوال یہ ہے کہ ایک نبی کس طرح برائی کا ” ھم “ کرسکتا ہے اور کس طرح وہ ارادہ کرسکتا ہے کہ وہ یہ کام کرے ۔ جواب یہ ہے کہ یہ ایک نفسیاتی میلان تھا ، جوانی کی خواہشات کا دباؤہر انسان پر ہوتا ہے ۔ یہاں اسے ھم اور قصد سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ایسے حالات میں انسان پر سخت دباؤ ہوتا ہے اور عزم اور مدافعت کے ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے ، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ کے براہین کے ملاحظے کے بعد اس دباؤ کا مقابلہ کرتے ہیں ۔ اگر یہ میلان ہی نہ ہوتا اور جسمانی دہاؤنہ ہوتا ، تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس کام سے رک کر قابل ستائش کس طرح ہوگئے ۔ کیونکہ صبر ، برادشت اور ابتلاپر اجرتب ہی ہے کہ انسان کے اندر قوت اور میلان موجود ہو “۔
y كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ (24) ایسا ہوا ، تاکہ ہم اس سے بدی اور بےحیائی کو دور کردیں ، درحقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا “۔
اس قصے کرداروں میں جو حقیقت پسندی ، صداقت ، پاکیزگی ، صفائی ہے وہ صرف اس قصے کے کرداروں تک ہی محدود نہیں ہے۔ آپ نے دیکھ لیا کہ یہاں اشخاص کی ایک بڑی تعداد کا ذکر اس قصے میں لایا گیا ہے ، بلکہ اس قصے کے واقعات ، ان کا طرز ادا ، اس کے زمان و مکان اور ظروف و احوال بھی بالکل نیچرل ہیں ، اور حسن و خوبی سے بھی مالا مال ہیں ، جس معاشرے اور سوسائٹی میں یہ واقعات ہو رہے ہیں ، وہ بھی نہایت ہی قدرتی اور بےساختہ ہے۔ اس قصے کی ہر حرکت ہر لفظ اور ہر سوچ اپنے قدرتی وقت اور انداز پر آتی ہے اور ایسی شکل و صورت میں آتی ہے جس کی انسان توقع کرتا ہے اور اس وقت آتی ہے جب اس کے لیے اسٹیج تیار ہوتا ہے۔ ہر حرکت ، ہر بات اور ہر شخصیت ضرورت کے مطابق نمایاں کی گئی ہے۔ اور ضرورت کے مطابق اسے پس منظر میں رکھا گیا ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم کرداروں کے سلسلے میں تفصیل سے بحث کر آئے ہیں۔
اس قصے میں جنسی لمحات بھی آتے ہیں لیکن وہ اس رنگ میں ہیں جس قدر پاکیزہ رنگ میں انسان کے ساتھ مناسب ہیں اور قدرتی ہیں۔ کسی قدرتی اور طبیعی انداز میں نہ کمی کی گئی ہے اور نہ ہی اس میں بےجا مبالغہ ہے۔ ہر بات ، ہر حرکت اور ہر ایکٹ نہایت ہی متناسب قدرتی اور مکمل ہے۔ لیکن جنس کو اس قصے پر حاوی نہیں کیا گیا کہ گویا انسانی اقدار میں ایک جنس اور سیکس ہی اور ہے اور تمام باتوں ، تمام مظاہر اور تمام افعال کو صرف اس محور کے گرد گھماتا ہے جیسا کہ آج کی جاہلیت جدیدہ نے قصص کو انداز میں پیش کیا ہے اور وہ اس کی داعی ہے اور اسے واقعیت کہتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جاہلیت انسان کو بحیثیت انسان مسخ کردیتی ہے ، اسے حیوان بنا دیتی ہے اور یہ کام وہ فنی سچائی اور واقعیت اور حقیقت کے عنوان سے کرتی ہے۔ جاہلیت جب جنسی لمحات کا اظہار کرتی ہے ، وہ ان لمحات کو اس قدر طول دیتی چلی جاتی ہے کہ زمان و مکان اور حرکت میں اسے جنسی لمحات و حرکات ہی نظر آتے ہیں۔ چناچہ انسانی زندگی کو وہ ایک گندا تالاب بنا دیتی ہے جس کی سطح کو وہ خوب مزین کرتی ہے۔ سطح پر پھول تیر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن سطح سے نیچے گندا گٹر ہی ہوتا ہے۔
جاہلیت کی فی الواقعہ اس کام کو واقعیت سمجھ کر کرتی ہے ؟ کیا وہ فی الواقعہ ایک حقیقی تصویر کھینچنا چاہتا ہے ؟ نہیں ، ہر گز نہیں ، نہیں یہ صیہونیوں کے پروٹوکولز کے مطابق سب کچھ ہورہا ہے۔ بین الاقوامی صیہونیت کی اسکیم یہ ہے کہ تمام انسانوں کو ننگا کرکے ، انسانی اقدار سے محروم کرکے دنیا کو دنیا کو یہ بتایا جائے کہ اعلی اقدار کے حامل صرف یہودی ہیں اور وہی سپر انسان ہیں۔ اس اسکیم کے مطابق یہودیت یہ چاہتی ہے کہ تمام انسانوں کو جنس کے اس گندے تالاب میں گرا دے۔ انسانوں کی تمام بلند اقدار جنس کے اندر محدود ہوجائیں ، ان کی پوری قوت جنسی لذتیت کی نذر ہو ، کیونکہ انسانوں کو تباہ کرنے کا یہ تیر بہدف نسخہ ہے تاکہ تمام انسان عظیم صیہونی مملکت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔ انسانی اخلاق کو تو ان لوگوں نے اسی طرح تباہ کیا اور انسانی افکار و عقائد کو انہوں نے سیکولر ازم اور مادیت کے اندر محدود کردیا۔ یہاں تک کہ انسان کو سائنس طریقے سے باور کرایا کہ وہ در اصل حیوان ہے۔ اس کے نتیجے میں اسے ڈارونزم ، فرائڈ از ، مارکسزم ، سوشلزم اور دوسرے لادینی نظریات دئیے جو سب کے سب بوگس تھے اور ان کو ایک اسکیم کے تحت ایجاد کیا گیا اور رائج کیا گیا تاکہ انان محض حیوان بن جائے اور اسے چارے اور سیکس کے سوا کسی اور قدر کی کوئی پروا نہ ہو۔
۔۔
شخصیات اور واقعات کے بعد اس قصے میں کچھ تاریخی اشارات بھی ہیں کہ یہ کس دور کا واقعہ ہے اور اس قصے میں جن کثیر التعداد کرداروں کو پیش کیا گیا ہے اور ان کی جن خصوصیات کو اس میں قلم بند کیا گیا ہے اور جو عمومی خدوخال بیان کیے گئے ان کا تعلق کس دور سے ہے۔ چناچہ اس قصے کے بعض لمحات قابل غور ہیں اور بعض ایکشن اور اقوال اس طرف راہنمائی کرتے ہیں اور ان سے واضح طور پر اس زمانے کا تعین ہوجاتا ہے۔
٭ جس دور کے ساتھ اس قصے کا تعلق ہے اس دور میں مصر پر خاندان فراعنہ کی حکمرانی نہ تھی۔ یہ " گڈریوں " کے خاندان کا دور تھا ، جس میں حضرت ابراہیم حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب مصر کے پڑوس کنعان میں تھے۔ اس دور میں مصر کے باشندوں میں دین اسلام کے بارے میں قدرے معلومات تھیں۔ اس لیے کہ اس دور کے بادشاہوں کے لیے قرآن نے ملک کا لفظ استعمال کیا ہے اور بعد کے ادوار میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں بادشاہ کے لیے فرعون کا لقب استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کس دور میں گزرے تھے۔ یہ گڈریوں " کا دور تھا اور یہ لوگ تیرہویں اور سترہویں خاندان حکمرانان مصر کے درمیان زمانے میں گزرے ہیں۔ مصری اس خاندان کو ہی کو (Heksus ) کہتے ہیں ، اور یہ لقب ان کو اس لیے دیا گیا ہے کہ مصری اس خاندان سے بہت نفرت کرتے تھے۔ ہیکن کا مفہوم قدیم مصری زبان میں خنزیر ہے یا خنزیر کے چرانے والے کے یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ خاندان ڈیڑھ سو سال تک مصر پر حکمران رہا ہے۔
٭اسی دور میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی نبوت کا زمانہ رہا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دین اسلام کے بنیادی نظریہ یعنی عقیدہ توحید کی طرف دعوت زمانہ قید خانہ ہی سے شروع کردی تھی ، قیدیوں کے سامنے تقریر میں انہوں نے فرمایا کہ یہ میرے آباء و اجداد کا دین ہے۔ حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق ، اور حضرت یعقوب کا۔ جس طرح قرآن کریم نے آپ کی جیل کی تقریر نقل فرمائی ہے اس میں انہوں نے عقیدہ توحید کو بڑے واضح انداز میں پیش کیا ہے۔
قَالَ لا يَأْتِيكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلا نَبَّأْتُكُمَا بِتَأْوِيلِهِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَكُمَا ذَلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِي رَبِّي إِنِّي تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَهُمْ بِالآخِرَةِ هُمْ كَافِرُونَ (37) وَاتَّبَعْتُ مِلَّةَ آبَائِي إِبْرَاهِيمَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ مَا كَانَ لَنَا أَنْ نُشْرِكَ بِاللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ذَلِكَ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَشْكُرُونَ (38) يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ (39) مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلا أَسْمَاءً سَمَّيْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنِ الْحُكْمُ إِلا لِلَّهِ أَمَرَ أَلا تَعْبُدُوا إِلا إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لا يَعْلَمُونَ (40):" واقعہ یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ، اپنے بزرگوں ابراہی ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک ٹھہرائی
درحقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر ، مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔ اے زندان کے ساتھیو بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے ؟ اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے۔ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں "
اسلامی تصور حیات اور اسلامی نظام زندگی کی یہ ایک جامع تصویر ہے ، اور تمام رسولوں نے اسلام کی یہی تصویر پیش کی ہے۔ اس میں ایک طرف بنیادی عقائد ہیں ، یعنی اللہ پر ایمان ، آخر پر ایمان ، اور اللہ وحدہ کو لاشریک الہ سمجھنا اور اللہ کی مغفرت اس کی تمام صفات کے ذریعے حاصل کرنا کہ وہ واحد اور قہار ہے۔ اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی نہ حاکم اور نہ مقتدر اعلی ہے۔ اس لیے اس عقیدے کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے ماننے والا تمام ان ارباب کی نفی کرے جو اللہ کے سوا عوام الناس کو خود اپنا غلام بناتے ہیں اور صرف حکومت الہیہ کا اعلان کردیا جائے کیونکہ اللہ نے حکم ہی یہ دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت اور غلامی نہ کی جائے اور بادشاہت ، حکمرانی اور ربوبیت صرف اللہ کی ہوگی ، حضرت یوسف کے ہاں عبادت کا مفہوم ہی یہ ہے کہ حکومت اور اقتار اعلی اور بندگی اور اطاعت اور قانون اسی کا ہو۔
ان الحکم الا للہ " فرماں روائی صرف اللہ کی ہے "
امر الا تعبدوا الا ایاہ " اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو "
ذالک الدین القیم " یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے " تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اسلام کا نہایت ہی جامع اور مانع تعارف کرایا اور خصوصا اس کے نظریاتی اور سیاسی پہلو کو اجاگر کیا۔
اس نظریہ کا لازمی نتیجہ ہے کہ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ میں پورے مصر کا اقتدار آگیا تو انہوں نے دعوت اسلامی کو اسی طرح جامع شکل میں پھیلایا ہوگا اور یہ بھی واضح ہے کہ ان کے ذریعے مصر میں مکمل اسلامی نظام پھیل کر نافذ ہوگیا ہوگا۔ نہ صرف یہ کہ وہ مصر کے حکمران بن گئے تھے۔ بلکہ مصر کے تمام خزانے ان کے ہاتھوں میں دے دئیے گئے تھے اور انہوں نے خشک سالی کے لیے جو ذخائر جمع کر رکھے تھے اور بعد میں وہ وہ خود انہیں تقسیم کر رہے تھے ، ان کے پاس دور دور سے لوگ غلہ خیردنے آتے تھے تو ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہوگا اور اس طرح حقیقی دین اسلام دور دور تک پھیل چکا ہوگا۔ جس طرح خود ان کے بھائی کنعان جیسے دور دراز علاقوں سے غلے کے لیے آگئے تھے۔ اس قصے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خشک سالی کس قدر وسیع تھی۔
نیز اس قصے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ کنعان سے دینی نظریات گڈریوں کے دور میں مصر تک پہنچ چکے تھے اور ان کے مشرکانہ نظریات میں کافی اصلاح ہوچکی تھی۔ اس قصے میں مصر کی اعلی طبقات کی خواتین کے اجتماعی کے موقع پر جب انہوں نے حضرت یوسف کو دیکھا تو بےساختہ کہا فَلَمَّا رَأَيْنَهُ أَكْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلا مَلَكٌ كَرِيمٌ (31): " جب انہوں نے اسے دیکھا تو حیران رہ گئیں اور کہا ، ماشاء اللہ یہ بشر نہیں یہ تو ایک معزز فرشتہ ہے۔ اور پھر عزیز مصر اپنی بوعی سے کہتا ہے : " يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا وَاسْتَغْفِرِي لِذَنْبِكِ إِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخَاطِئِينَ (29): " یوسف اس سے صرف نظر کرو ، اور تو (بیوی سے) اپنے گناہ سے استغفار کر ، بیشک تو ہی غلط کاروں سے تھی "
نیز اس پر امراۃ العزیز کا یہ کلام بھی دلالت کرتا ہے کہ وہ بھی حضرت یوسف کے عقائد کو تسلیم کر کے مومن ہوگئی تھی اور اس کی اصلاح ہوگئی تھی۔
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ إِذْ رَاوَدْتُنَّ يُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَالَتِ امْرَأَةُ الْعَزِيزِ الآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدْتُهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (51) ذَلِكَ لِيَعْلَمَ أَنِّي لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَأَنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي كَيْدَ الْخَائِنِينَ (52) وَمَا أُبَرِّئُ نَفْسِي إِنَّ النَّفْسَ لأمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلا مَا رَحِمَ رَبِّي إِنَّ رَبِّي غَفُورٌ رَحِيمٌ (53): " عزیز کی بیوی بول اٹھی ، اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اسے پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے۔ اس سے میری غرض یہ تھی کہ وہ جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا۔ میں کچھ اپنے نفس کی براءت نہیں کر رہا۔ نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے ، الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت جو بیشک میرا رب غفور و رحیم ہے "
جب یہ معلوم ہوگیا کہ عقیدہ توحید حضرت یوسف کے برسر اقتدار آنے سے قبل ہی مصر میں پھیل گیا تھا تو ظاہر ہے کہ حضرت یوسف کے برسر اقتدار آنے کے بعد تو نہایت ہی وسیع پیمانے پر یہ عقیدہ پھیل گیا ہوگا اور خاندان گڈریاں کے بعد جب اٹھارویں خاندان کی شکل میں فراعنہ مصر نے دوبارہ حکومت مصر پر قبضہ کرلیا تو اس دور میں تو بنی اسرائیل یہاں پھیل گئے تھے اور دوسرے یہ کہ عقیدہ توحید کو بیہ عروج نصیب تھا پھر فراعنہ نے دوبارہ یہاں بت پرست کو رائج کیا۔
یہاں ایک بات سمجھ آتی ہے اور وہ بھی بہت معقول کہ اقتدار پر قبضے کے بعد فراعنہ نے بنی اسرائیل پر ظلم و ستم شروع کردیا یہاں تک کہ ان کی نسل کشی پر اتر آئے۔ اس کی سیاسی اور ثقافتی وجوہات یہ تھیں۔ ایک یہ کہ وہ باہر سے آئے اور مصر میں اقتدار پر قابض ہوگئے اور دوسرے یہ کہ انہوں نے مصر میں ثقافتی انقلاب بھی برپا کردیا اور تمام لوگ عقیدہ توحید قبول کرکے اسلام میں داخل ہوگئے ، جب مصریوں نے گڈریوں کو شکست دی تو ساتھ ساتھ ان کے حامیوں بنی اسرائیل کو بھی خوب دبا کے رکھا۔ اگرچہ ثقافتی اور نظریاتی اختلاف اس کا اصلی اور حقیقی سبب تھا۔ وجہ یہ ہے کہ اسلامی نظریہ حیات اور عقیدہ توحید کا اصلی اثر یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی فرعون نہ ہو اور اقتدار اعلی صرف اللہ کا ہو۔ چناچہ عقیدہ توحید کے ماننے والے تمام فرعونوں اور تمام طاغوتوں کے دشمن ہوتے ہیں۔
جس نکتے کو ہم یہاں بیان کر رہے ہیں۔ سورت غافر میں " رجل مومن " کی تقریر بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ یہ تقریر اس شخص نے فرعون موسیٰ کے دربار میں کی تھی اور یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دفاع میں تھی۔ اس وقت فرعون کے دربار میں اس کے تمام حواری موجود تھے اور وہ یہ فصلہ کر رہے تھے کہ حضرت موسیٰ کو قتل کردیں اور وہ قتل محض اس لیے کر رہے تھے کہ حضرت موسیٰ عقیدہ توحید کی تبلیغ کر رہے تھے جس کے نتیجے میں فرعون کی حکومت کو خطرہ لاحق ہوگیا تھا :
وَقَالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُمْ بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ رَبِّكُمْ وَإِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ (28) يَا قَوْمِ لَكُمُ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ظَاهِرِينَ فِي الأرْضِ فَمَنْ يَنْصُرُنَا مِنْ بَأْسِ اللَّهِ إِنْ جَاءَنَا قَالَ فِرْعَوْنُ مَا أُرِيكُمْ إِلا مَا أَرَى وَمَا أَهْدِيكُمْ إِلا سَبِيلَ الرَّشَادِ (29) وَقَالَ الَّذِي آمَنَ يَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ مِثْلَ يَوْمِ الأحْزَابِ (30) مِثْلَ دَأْبِ قَوْمِ نُوحٍ وَعَادٍ وَثَمُودَ وَالَّذِينَ مِنْ بَعْدِهِمْ وَمَا اللَّهُ يُرِيدُ ظُلْمًا لِلْعِبَادِ (31) وَيَا قَوْمِ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِ (32) يَوْمَ تُوَلُّونَ مُدْبِرِينَ مَا لَكُمْ مِنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (33) وَلَقَدْ جَاءَكُمْ يُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَيِّنَاتِ فَمَا زِلْتُمْ فِي شَكٍّ مِمَّا جَاءَكُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ رَسُولا كَذَلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُرْتَابٌ (34) الَّذِينَ يُجَادِلُونَ فِي آيَاتِ اللَّهِ بِغَيْرِ سُلْطَانٍ أَتَاهُمْ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ وَعِنْدَ الَّذِينَ آمَنُوا كَذَلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ (35): " ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا چھوڑو مجھے میں اس موسیٰ کو قتل کیے دیتا ہوں اور پکار دیکھے یہ اپنے رب کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا ، یا ملک میں فساد برپا کرے گا " موسیٰ نے کہا : میں نے تو ہر اس متکبر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے رب اور تمہارے رب کی پناہ لے لی ہے۔ اس موقع پر آل فرعون میں سے ایک مومن شخص ، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا ، بول اٹھا کیا تم ایک شخص کو اس بنا پر قتل کردوگے کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے ؟ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینات لے آیا۔ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسی پر پلٹ پڑے گا۔ لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور آ ہی جائیں گے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذاب ہو۔ اے میری قوم کے لوگو ، آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا ، فرعون نے کہا میں تو تم کو وہی رائے دے رہا ہوں ، جو مجھے مناسب نظر آتی ہے اور میں اس راستے کی طرف تمہاری راہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے۔ اور جو شخص ایمان لایا تھا اس نے کہا اے میری قوم کے لوگو ، مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتھوں پر آچکا ہے ، جیسا دن قوم نوح اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والی قوموں پر آیا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اے قوم مجھے ڈر ہے کہ تم پر فریاد و فغاں کا دن نہ آجائے۔ جب تم ایک دوسرے کو پکاروگے اور بھاگے بھاگے پھروگے مگر اس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا۔ اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس بینات لے کر آئے تھے مگر تم اس کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پرے رہے۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب اس کے بعد اللہ کوئی رسول نہ بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ان لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو۔ یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر اور جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔
غرض اصل جھگڑا تھا عقیدہ توحید (بایں معنی کہ اللہ واحد ہے ، وہی رب اور حاکم ہے ، اس کی بندگی فرض ہے) اور فرعونیت کے درمیان جو بنت پرستی پر مبنی تھی اور جس میں انسان ، انسان پر حکمران تھا
(بہت طویل ہونے کی وجہ سے اس آیت کی مکمل تفسیر شامل نہیں کی جا سکی۔ ہم اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔ برائے مہربانی اس آیت کی تفسیر کا بقیہ حصہ فی ظلال القرآن جلد سے پڑھیں)
يوسف 12:2
یعنی تم اس بات کو سمجھ سکو کہ متداول حروف تہجی اور عام بولے جانے والے کلمات سے ایک ایسی کتاب مرتب کرنا جو معجز ہو کسی انسان کی استطاعت میں نہیں ہے۔ لہذا عقلاً یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ قرآن وحی الہی ہے ، گویا عقل کو دعوت دی جا رہی ہے کہ وہ کتاب الہی کے اس اعجازی پہلو رپ غور کرے اور اس سے نتائج اخذ کرے۔
چونکہ اس سورت کا بیشتر حصہ ایک قصے پر مشتمل ہے۔ اس لیے اس کتاب کے موضوعات میں سے قصے کے موضوع کی صراحت کردی گئی اور یہ فرمایا کہ یہ قصہ احسن القصس ہے۔
يوسف 12:3
یعنی قرآن کریم کی وحی تمہاری طرف کرکے ہم نے بہترین قصص تم پر نازل کیے اور یہ قصہ پھر تمام قصص سے احسن ہے اور یہ بھی وحی الہی ہے۔
وَاِنْ كُنْتَ مِنْ قَبْلِهٖ لَمِنَ الْغٰفِلِيْنَ : " ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزوں سے) تم بالکل ہی بیخبر تھے " کیونکہ آپ بھی اپنی پوری قوم کی طرح خواندہ نہ تھے ، نہ اس قسم کے موضوعات پر کلام کرتے تھے جن پر قرآن کریم نے بات کی ہے اور قرآن کریم کے موضوعات میں سے ایک موضوع اس قسم کے قصے بھی ہیں جو گہری دانشمندی پر مشتمل ہیں۔
يوسف 12:4
اس خواب کے وقت حضرت یوسف ابھی بچے تھے یا مراہق۔ لیکن یہ خواب جو انہوں نے اپنے باپ کے سامنے بیان کیا یہ بچوں یا نوجوانوں کا خواب نہ تھا ، بچے اور نوجوان بچوں جیسے خواب دیکھتے ہیں یا وہ ایسے خواب دیکھتے ہیں جن کے بارے میں وہ کوئی سوچ رکھتے ہوں ، مثلاً یہ کہ سورج اور چاند ان کے ہاتھ میں ہوں اور یہ کہ اس نے انہیں پکڑ لیا ہو۔ لیکن یوسف نے دیکھا کہ شمس و قمر ایک عاقل شخص کی ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور ستارے بھی ان کے سامنے سر جھکائے ہیں۔ یہ سجدہ تعظیم تھا۔ قرآن کریم نہایت ہی وضاحت سے اس بات کو یوں نقل کرتا ہے۔
اِذْ قَالَ يُوْسُفُ لِاَبِيْهِ يٰٓاَبَتِ اِنِّىْ رَاَيْتُ اَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَاَيْتُهُمْ لِيْ سٰجِدِيْنَ : " یہ اس وقت کا ذکر ہے جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا اباجان میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گیا ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں "
اس آیت میں لفظ روئیت کا اعادہ بطور تاکید ہے۔ غرض حضرت یعقوب نے خواب کو سن کر معلوم کرلیا کہ یہ خواب بچوں کا خواب نہٰں ہے اور حضرت یوسف کا مستقبل تابناک ہے۔ یہ تعبیر ان کے شعور نبوت نے ان کو بتا دی تھی لیکن انہوں نے اس کا اظہار نہ کیا اور نہ قصے میں تعبیر کو بیان کیا گیا۔ یہاں تک اس خواب کے آثار بھی قصے کی دو کڑیوں کے پڑھنے کے بعد ہی قارئین پا سکتے ہیں۔ رہا پورا خوب تو وہ قارئین کو پورا قصہ پڑھ لینے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے۔ خواب چونکہ اہم تھا اس لیے انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو نصیحت کی کہ وہ اس خواب کا اظہار اپنے بھائیوں کے سامنے نہ کریں ، ہوسکتا ہے کہ وہ سمجھ جائیں کہ اس بچے کا مستقبل تو غیر معمولی ہے۔ کیونکہ حضرت یوسف ان کے چھوٹے بھائی تو تھے لیکن سگے نہ تھے۔ حضرت یعقوب کے شعور نبوت نے یہ خطرہ محسوس کرلیا کہ شیطان کہیں ان کے بھائیوں کے درمیان عداوت حسد اور دشمنی پیدا نہ کردے۔ اور وہ ایک دوسرے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔
يوسف 12:5
حضرت یعقوب نے خواب کو راز میں رکھنے کا سبب یہ بتایا کہ شیطان انسان کا دشمن ہے اور بعض لوگوں کے دلوں کو دوسرے کے خلاف حسد اور بغض سے بھر دیتا ہے اور وہ لوگوں کو آمادہ کرتا رہتا ہے کہ وہ غلطی کریں ، شر کریں اور بڑی بڑی غلطیوں کو وہ لوگوں کے سامنے معمولی کرکے اور خوشنما کرکے پیش کرتا ہے۔
حضرت یعقوب ابن حضرت اسحاق ابن ابراہیم (علیہم السلام) تھے نبوت کا خاندان تھا۔ انہوں نے خوب سنتے ہی محسوس کرلیا تھا کہ یہ بیٹا ایک تابناک مستقبل کا مالک ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ یہ تابناک مستقبل دین ، اصلاح اور علم و معرفت کے میدان میں ہوگا۔ پھر ان کو یہ بھی معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں اس شمع نے روشن رہنا تھا ، لہذا وہ یہ توقع رکھتے تھے کہ وارث نبوت یقینا حضرت یوسف ہیں ہیں۔ اس لیے انہوں نے ان کو اس کی بشارت دے دی :
يوسف 12:6
حضرت یعقوب کی سوچ اس اہم خواب کے بارے میں یہ بتا رہی ہے کہ حضرت یوسف اللہ کے ہاں برگزیدہ بن گئے ہیں اور ان پر اسی طرح کا فضل و کرم ہوچکا ہے کہ جس طرح ان کے باپ اور دادا پر ہوچکا ہے یعنی حضرت اسحاق اور ابراہیم پر ، عربی میں باپ اور دادا دونوں کے لیے " اب " کا لفظ بولا جاتا ہے۔
البتہ آیت کا یہ حصہ ویعلمک من تاویل الاحادیث " تجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھائے گا " تاویل کا مفہوم یہ ہے کہ کسی بات کے انجام کا علم ہوجائے۔ احادیث سے دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ اللہ حضرت یوسف کو نبی کا منصب عطا کرے گا ، اسے سچا شعور دے گا ، دور رس بصیرت دے گا جس کی وجہ سے وہ ہر بات کے انجام اور نتائج کو پہلے سے معلوم کرلیں گے اور یہ صلاحیت الہی صلاحیت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ یہ ان لوگوں کو دیتا ہے جن کو تیز فہم اور ادراک عطا ہوتا ہے۔
دوسرا مفہوم احادیث سے خوابیں بھی ہوسکتی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ حضرت یوسف کو خوابوں کی تعبیر کے سلسلے میں دور رس بصیرت دے گا۔ یہ دونوں مفہوم احادیث کے ہوسکتے ہیں اور دوسرا مفہوم تو عملاً قصے میں موجود ہے۔
اِنَّ رَبَّكَ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ: " تمہارا رب علیم و حکیم ہے " وہی علم اور حکمت کا سر چشمہ ہے جسے وہ چیزیں چاہے دے سکتا ہے۔
خوابوں اور احلام کی حقیقت کیا ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں ان پر ایک نوٹ دے دیا جائے کیونکہ اس قصے کی اہم کڑیاں خوابوں پر مشتمل ہیں۔
ایک مسلمان کو یہ عقیدہ لازماً رکھنا پڑتا ہے کہ بعض خوابیں ایسی ہوتی ہیں جو مستقبل قریب یا بعید کے بارے میں صریح پیشین گوئی کرتی ہیں ، کیونکہ اس سورت میں حضرت یوسف کے خواب ، حضرت یوسف کے دو ساتھیوں کے خواب اور شاہ مصر کے خواب اور ان کا ذکر صراحت سے اس بات کو لازم کرتے ہیں کہ خوابوں کے اندر پیشین گوئی آجاتی ہے۔ پھر ہم میں سے ہر شخص اپنی شخصی زندگی میں اس قسم کی خوابیں اور بشارتیں دیکھتا ہے اور وہ سچی ثابت ہوتی ہیں۔ اس قدر سچی کہ انسان خواب کی حقیقت کا انکار نہیں کرتا۔ کیونکہ عملاً ہر شخص اس حقیقت کو موجود پاتا ہے۔ خواب پر یقین کرنے کے لیے یہ سورت اور قرآن کی تصریحات ہی کافی ہیں لیکن جس دوسری بات کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ بھی ایک عملی اور تجربی حقیقت ہے اور اس کا انکار کرنا ممکن نہیں۔ سوال یہ ہے کہ پھر خواب کی حقیقت کیا ہے۔ نفسیاتی تجربہ کرنے والوں نے کہا ہے کہ خوابیں در اصل انسان کے خفیہ اور خوابیدہ خواہشات کا عکس ہوتی ہیں۔ بےیہ بھی خوابوں کا ایک پہلو ہے ، لیکن یہ تمام خوابوں کی تعبیر نہیں ہے۔ فرائیڈ اپنی مکمل بےدینی اور اپنی مکمل ہٹ دھرمی کے باوجود اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ بعض خوابیں یقینا پیشین گوئی کا درجہ رکھتی ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان مبشرات کی نوعیت کیا ہوتی ہے ؟ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خواب کی حقیقت کو ہم سمجھ سکیں یا نہیں لیکن اس بات میں شک نہیں ہے کہ بعض خوابیں نہایت ہی سچی ہوتی ہیں۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ انسان اللہ کی عجیب و غریب مخلوق ہے اور اللہ نے اس کے وجود کے اندر جو قوانین اور حکمت ودیعت کی ہے ہم اس کے بعض پہلوؤں کو جان سکیں۔
ایسی سچی خوابوں کی حقیقت کو ہم اس انداز سے تعبیر کرتے ہیں کہ ماضی اور مستقبل کے حوادث اور واقعات کو ہم اس لیے نہیں سمجھ سکتے کہ ہمارے اور ان کے درمیان زمان و مکان کا پردہ حائل ہوتا ہے یا ایک چیز حاضر بھی ہوتی ہے۔ لیکن ہماری نظروں سے پوشیدہ ہوتی ہے۔ ماضی اور مستقبل کو تو زمانے کا فیکٹر ہماری نظروں سے اوجھل کردیتا ہے۔ جیسا کہ حاضر بعید کو مکان کا فیکٹر ہمارے علم سے دور رکھتا ہے۔ بعض اوقات انسان کے اندر ایسے حواس جاگ اٹھتے ہیں یا قوی ہوجاتے ہیں۔ جو زمانے کے پردوں کو پھاڑ کر آگے دیکھ لیتے ہیں ، لیکن ان کی صورت مبہم ہوتی ہے۔ یہ مکمل علم نہیں ہوتا لیکن استشقاف ہوتا ہے اور بعض لوگوں کو یہ جاگتے ہوئے بھی حاصل ہوتا ہے اور بعض لوگوں کو یہ احساس سوتے میں ہوتا ہے لیکن ہمیں نہ اس کی حقیقت کا علم ہے اور نہ زمان کی حقیقت کا۔ اس طرح مکان جو مادے سے عبارت ہے یہ بھی ہمیں اچھی طرح معلوم نہیں ہے۔
وما اوتیتم من العلم الا قلیلا " تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے " بہرحال حضرت یوسف نے خواب دیکھا اور اس کی تعبیر آرہی ہے۔
جہاں تک میر تعلق ہے میں یہ کہوں گا کہ میں ہر چیز کی تکذیب کرسکتا ہوں لیکن میں ایک ایسے واقعہ کی تکذیب نہیں کرسکتا جو خود مجھے پیش آیا۔ میں نے خوب میں دیکھا کہ میری ایک بھانجی کی آنکھوں میں خون ہے اور اسے نظر نہیں آ رہا ہے۔ میں نے گھر خط لکھا اور اس میں اس کی آنکھوں کے بارے میں پوچھا کہ اسے کیا ہوگیا ہے ؟ تو انہوں نے لکھا کہ اسے ایک ایسی تکلیف ہے کہ باہر سے نظر نہیں آرہی۔ بظاہر اس کی آنکھیں درست نظر آتی ہیں لیکن اسے کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا۔ اور یہ کہ اس کا علاج ہو رہا ہے۔ میر خواب سچی تھی اور اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جس کے ذکر کی ضرورت نہیں۔
يوسف 12:7
اب پردہ گرا ہے ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ایک دوسرا منظر سامنے آتا ہے۔ برادران یوسف اس میں متحرک نظر آتے ہیں۔ ان کی حرکات سے معلوم ہوتا ہے کہ آئندہ اہم واقعات پیش آنے والے ہیں۔
لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ الخ : حضرت یوسف اور ان کے بھائیوں کے قصے میں بہت سی آیات اور نشانیاں ہیں اور ان کے ذریعہ انسان بڑے حقائق تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ افتتاحیہ کلمات قارئین کو متوجہ متنبہ اور بات کی اہمیت کی تحریک کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ کلمات اس طرح ہیں جس طرح اسٹیج پر سے پردہ گرا دیا جاتا ہے اور اسٹیج کے اوپر جو کچھ ہوتا ہے ، وہ سامنے نظر آنے لگتا ہے کیونکہ ان کلمات کے بعد متصلاً برادران یوسف بات کرتے نظر آتے ہیں اور وہ اس مکالمے میں یوسف کے خلاف سازش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
کیا یہاں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کے سامنے اپنا خواب بیان کردیا تھا جیسا کہ کتاب عہد قدیم کہتی ہے یا نہیں ، یہاں سیاق کلام سے ایسی کوئی بات معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ان کا الزام یہ ہے کہ حضرت یعقوب یوسف اور ان کے سگے بھائی سے زیادہ محبت کیوں کرتے ہیں۔ اگر ان کو معلوم ہوتا کہ حضرت یوسف نے خواب دیکھا ہے تو ان کی زبان سے اس کا ذکر ضرور ہوجاتا۔ اور یوں وہ کینہ پروری اور حقد و حسد کے لیے معذور بھی ہوتے ، اس لیے کہ حضرت یعقوب نے یوسف کو خواب کو پوشیدہ رکھنے کا جو مشورہ دیا تھا تو محض اسی لیے دیا تھا کہ آپ کو دوسرے حالات کے پیش نظر معلوم تھا کہ وہ جل بھن اٹھیں گے اور اس حسد اور کینے واقع تو ہونا ہی تھا کیونکہ اس بھٹی سے گزر کر ہی حضرت یوسف نے اپنے مقررہ مقام تک پہنچنا تھا۔ ان کی زندگی کے حالات ، ان کے خاندانی حالات اور پھر ان کا حضرت یعقوب کے بڑھاپے میں پیدا ہونا ، چھوٹا ہونا ، کین کہ بڑھاپے میں چھوٹے بچوں کے ساتھ بہت پیار ہوتا ہے ، خصوصا جبکہ چھوٹے بچے سوتیلی اور چھوٹی ماں کے ہوں۔
يوسف 12:8
لَقَدْ كَانَ فِيْ يُوْسُفَ وَاِخْوَتِهٖٓ اٰيٰتٌ لِّلسَّاۗىِٕلِيْنَ ۔ اِذْ قَالُوْا لَيُوْسُفُ وَاَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰٓي اَبِيْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَةٌ ۭ اِنَّ اَبَانَا لَفِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنِۨ: حقیقت یہ ہے کہ یوسف اور اس کے بھائیوں کے قصے میں ان پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا " یہ یوسف اور اس کا بھائی دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں ، حالانک کہ ہم پورا تجھا ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارے اباجان بالکل بہک گئے ہیں "۔
یہ کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں ، ہم اسلام اور خاندان کی مدافعت کرتے ہیں اور مفید ہیں۔ جبکہ ہمارے والد محترم ہمارے مقابلے میں ایک بچے اور ایک لڑکے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں ، باوجود اس کے کہ ان کے مقابلے میں ہماری افادیت بھی زیادہ ہے اور تعداد بھی۔
ان کا غیظ و غضب اور کینہ جوش مارتا ہے ، عین اس وقت شیطان ان کے دلوں میں داخل ہوجاتا ہے۔ اب وہ واقعات کا صحیح اندازہ نہیں کرپاتے۔ معمولی باتیں ان کو پہاڑ نظر آتی ہیں۔ عظیم جرائم ان و چھوٹے نظر آنے لگتے ہیں۔ ایک انسان کا قتل ان کے لیے اب ایک معمولی بات بن جاتی ہے۔ پھر ایک بچے کی وہ جان لینے کے درپے ہیں جو نہ جانتا ہے اور نہ اپنا دفاع کرسکتا ہے۔ پھر وہ ان کا بھائی بھی ہے اور اس کے باوجود کہ یہ ایک برگزیدہ نبی کے بیٹے ہیں۔ اگرچہ وہ خود نبی نہ تھے۔ ان کے لیے ان کے باپ کی زیادہ محبت ایک عظیم جرم بن گیا ہے ، یہاں تک کہ باپ کی زیادہ محبت کرنا قتل کے لیے جواز بن گیا ہے حالانکہ قتل شرک کے بعد سب سے بڑا جرم ہے۔
يوسف 12:9
اقْــتُلُوْا يُوْسُفَ اَوِ اطْرَحُوْهُ اَرْضًا : " چلو یوسف کو قتل کردو یا اسے کہیں پھینک دو " دونوں باتیں قباحت اور جرم کے اعتبار سے ایک ہیں ، کیونکہ کسی بچے کو ایک ایسی زمین پھینکنا جو دور دراز ہو ، گویا اسے قتل کرنے کے برابر ہے کیونکہ ایسے حالات میں اکثر موت واقع ہوجاتی ہے۔ اور کیوں ایسا کرو ؟
يَّخْلُ لَكُمْ وَجْهُ اَبِيْكُمْ : " تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہوجائے " اب یوسف تمہاری راہ کی رکاوٹ نہ رہیں گے۔ یعنی ان کا دل یوسف کی محبت سے خالی ہوجائے گا۔ جب وہ دیکھیں گے کہ یوسف موجود ہی نہیں ہے۔ حضرت یعقوب اس سے محبت نہ کریں گے۔ اور ان سے محبت شروع ہوجائے گی۔ اور یہ کس قدر عظیم جرم ہے ؟ تو اس کا علاج یہ ہے کہ یہ اس سے توبہ کرلیں گے ، صالح ہوجائیں گے اور توبہ و صلاح سے ماضی کے جرائم معاف ہوجائیں گے۔
وَتَكُوْنُوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ قَوْمًا صٰلِحِيْنَ : " یہ کام کرلینے کے بعد پھر نیک بن رہنا " یوں شیطان کو موقعہ مل جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان تنازعات پیدا کردے۔ جب لوگ ایک دوسرے پر غصے میں آجاتے ہیں ہیں وہ بعض کو بعض پر حملہ آور ہونے پر آمادہ کرتا ہے۔ اور غصے کی حالت میں انسان کے لیے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے۔ کیونکہ انسان کو اپنے اوپر کنٹرول نہیں رہتا۔ اور انسان واقعات اور امور کا اچھی طرح جائزہ نہیں لے سکتا۔ چناچہ جب برادران یوسف کے دلوں میں کینہ کی آگ بھڑک اٹھی تو عین اس وقت شیطان پردے سے سامنے آیا اور کہا کہ اسے قتل کردو ، اس کے بعد توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، حالانکہ توبہ ایسی نہیں ہوتی۔ توبہ اس صورت میں ہوتی ہے کہ انسان سے بتقاضائے بشریت کوئی غلطی سرزد ہوجائے اور وہ اس پر پشیمان ہوجائے۔ یہ توبہ نہیں کہ پہلے توبہ کرنے کے ارادے سے غلطی کرے۔ منصوبے کے تحت جرم کرے۔ درحقیقت یہ توبہ سے غلط فائدہ اٹھانا ہے اور توبہ کو ارتکاب جرائم کے لیے جواز کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ اور یہ انداز انسان کو شیطان سکھاتا ہے رحمن نہیں۔
يوسف 12:10
ہاں اس موقعہ پر ان میں سے ایک شخص کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے ، وہ اس ہولناک منصوبے کو برداشت نہیں کرسکتا۔ چناچہ یہ شخص ایک ایسا حل پیش کرتا ہے کہ حضرت یوسف قتل ہونے سے بھی بچ جائیں اور ان کے لیے ان کے باپ بھی فارغ ہوجائیں۔ وہ یہ تجویز کرتا ہے کہ اسے بیابان میں پھینکنے کی بجائے قافلوں کی آمدورفت والے کنویں میں پھینک دیں ، کوئی قافلے والے اسے پکڑ کرلے جائیں گے۔ کیونکہ غیر آباد جنگل میں اس کی ہلاکت کا امکان زیادہ ہے اور شارع عام کے کنویں میں بہت ہی کم ہے کیونکہ کوئی قافلہ آئے گا اور اسے غنیمت سمجھ کرلے جائے گا۔ اور وہ باپ کی نظروں سے اور دور ہوجائے گا۔
قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ لَا تَـقْتُلُوْا يُوْسُفَ وَاَلْقُوْهُ فِيْ غَيٰبَتِ الْجُبِّ يَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّـيَّارَةِ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِيْنَ ۔ " اس پر ان میں سے ایک بولا۔ یوسف کو قتل نہ کرو ، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنویں میں ڈال دو ۔ کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا "
اس شخص نے جو یہ کہا ہے ان کنتم فعلین " اگر کرنا ہی ہے " ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک یہ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ برادران یوسف ان کے ساتھ یہ حرکت کریں گے۔ نیز اگر انہوں نے کرنا ہے تو یہ ناپسندیدہ فعل ہے۔ اور خوشی کا باعث نہیں ہے۔ بہرحال یہ تجویز اس کے کینہ کو پوری طرح ٹھنڈا کرنے والی نہ تھی اور انہوں نے قتل یوسف کا جو فیصلہ کیا تھا اس سے وہ واپس آنے کے لیے تیار نہ تھے اور یہ باتیں اگلے منظر سے معلوم ہوتی ہیں۔
يوسف 12:11
اب یہ لوگ اپنے باپ کے پاس پہنچ جاتے ہیں اور انہیں آمادہ کر رہے ہیں کہ یوسف کو ان کے ساتھ جانے دیں۔ اب وہ باپ کو دھوکہ دے رہے ہیں ، یوسف کے خلاف سازش کر رہے ہیں ، ذرا براہ راست ان کی بات سنیں۔
اس قرار داد پر انہوں نے اپنے باپ سے کہا : ابا جان کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں۔ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ، کچھ چر چگ لے گا ، اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں۔ کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ، کچھ چر چگ لے گا ، اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں۔ باپ نے کہا تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑ کھائے جبکہ تم اس سے غافل ہو۔ انہوں نے جواب دیا اگر ہمارے ہوتے اسے بھیڑئیے نے کھالی تو ہم بڑے نکمے ہوں گے۔
قَالُوْا يٰٓاَبَانَا مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ : " کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے " یہ ایک سوال ہے لیکن اس میں ایک خفیہ خباثت ، غصہ اور ناگواری بھی ہے۔ لیکن وہ باپ کو آمادہ بھی کر رہے ہیں کہ وہ ان پر اعتبار کرتے ہوئے یوسف کو ان کے حوالے کردیں ، حضرت یعقوب کی عادت یہ تھی کہ وہ یوسف کو ساتھ ہی رکھتے تھے اور جب ان کے دوسرے بیٹے کسی دور دراز کی مہم پر جاتے تھے تو درازی سفر ، مشکلات سفر اور مشقت مہم کی وجہ سے یوسف کو ساتھ جانے نہ دیتے تھے کیونکہ وہ چھوٹا اور یہ بڑے تھے۔ انہوں نے نہایت ہی مکارانہ انداز میں گفتگو کرتے ہوئے باپ کو یہ تاثر دیا کہ شاید وہ ہم پر یوسف کے معاملے میں اعتماد نہیں کرتے۔ حالانکہ ہمارے سب کے باپ ہیں اور یوسف بھائی ہیں۔ نہایت ہی مکارانہ انداز میں وہ بدگمانی کی نفی کر رہے ہیں۔ ذرا ان کی اس خبیث چال پر ایک بار پھر نظر ڈالیں۔
مَالَكَ لَا تَاْمَنَّا عَلٰي يُوْسُفَ وَاِنَّا لَهٗ لَنٰصِحُوْنَ : " کیا بات ہے کہ آپ یوسف کے معاملے میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں "۔ ہمارے دل تو صاف ہیں۔ ان میں کوئی کھوٹ نہیں ہے۔ ہماری نیت صفا ہے اور ہم مخلص ہیں ، یہاں ان کی جانب سے اخلاص اور صفائی کا دعوی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ نہایت ہی گہری چال چل رہے ہیں اور حد درجہ دھوکے باز ہیں۔
يوسف 12:12
یہ لوگ نہایت ہی تاکیدی الفاظ استعمال کر رہے ہیں۔ اور یوسف کو اس سفر میں جو خوشیاں ملنے والی ہیں ان کی خوب تصویر کشی کر رہے ہیں کہ وہ خوش ہوں گے ، ورزش کریں گے ، یوں وہ دھوکہ دے کر والد کو آمادہ کر رہے ہیں کہ وہ یوسف کو ان کے ساتھ بھیج دیں۔
ان کی اس چرب زبانی کا حضرت یعقوب بھی یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ بات نہیں ، کہ میں تم پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ اصل خطرہ یہ ہے کہ علاقے میں بھیڑیے زیادہ ہیں اور میں یہ خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ کہیں اسے کوئی بھیڑیا نہ کھالے۔
يوسف 12:13
یعنی تمہارا لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور میں اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکتا۔ یہی وہ بات جو ان کے دلوں میں کینہ کی آگ دہکا رہی ہتھی کہ اباجان یوسف کو ہر وقت ساتھ رکھتے ہیں اور کسی وقت بھی اپنے سے جدا نہیں کرتے اگرچہ ایک دن کے لیے کیوں نہ ہو۔ حالانکہ وہ اسے سیر و تفریح کے لیے لے جا رہے ہیں۔
حضرت یعقوب نے کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھالے جبکہ تم غافل ہو۔ در اصل وہ کینہ اور حسد کی وجہ سے اس قدر اندھے ہوگئے تھے کہ وہ سوچتے بھی نہ تھے کہ آخر یوسف کے قتل کے بعد وہ جواب کیا دیں گے ، لیکن حضرت یعقوب کے اس اندیشے نے ان کو عذر بتا دیا۔
يوسف 12:14
اب انہوں نے اس اندیشے کا رد کرنے کے لیے پھر نہایت ہی موثر اسلوب اختیار کیا ، کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس قدر جتھے کے ہوتے ہوئے بھی کوئی بھیڑیا یوسف کو پھاڑ کھائے۔ یہ کیسے ممکن ہے ورنہ ہم تو بہت ہی نکمے اور خسارے میں ہوں گے۔
اس مکالمے کے نتیجے میں حضرت یعقوب اپنے تمام اندیشوں کے باوجود مجبور ہوگئے کہ وہ یوسف کو ان کے ساتھ چھوڑ دیں اور یوں تقدیر الٰہی کے مطابق قصے کی مزید کڑیاں ظہور پذیر ہوں۔
يوسف 12:15
اب یہ لوگ انہیں لے کر جا رہے ہیں اس مکروہ سازش پر یہ لوگ عمل پیرا ہورہے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس بچے کے دل میں یہ بات ڈال رہا ہے کہ یہ ایک آزمائش ہے اور یہ ختم ہونے والی ہے اور یہ کہ انشاء اللہ وہ زندہ رہے گا اور اپنے غافل بھائیوں کو اس کے بارے میں خود بتائے گا۔
ان کے درمیان یہ بات طے پاگئی کہ اب یوسف کو کنوئیں میں ڈالنا ہے ، جہاں وہ ان کی نظروں سے دور رہے گا۔ اب ہر شخص یہ سوچ سکتا ہے کہ اس وقت یوسف پر کیا گزری ہوگی کہ یہ سب بھائی مل کر اس کمزور بچے کو کنوئیں میں ڈال رہے ہوں گ۔ جس کو اپنی موت قریب نظر آرہی ہوگی اور بھائیوں کی نظریں بدل گئی ہوں گی ، اس عالم بےبسی و بےکسی میں اب صرف اللہ کی مدد آتی ہے اور اللہ ان کے دل میں اطمینان اور سکینت ڈال دیتے ہیں کہ تم زندہ رہوگے ، ان کو بتاؤ گے کہ تم نے کیا کیا تھا ، اور ایسے حالات میں جبکہ کنوئیں میں ڈالا جانے والا یہ بچہ اب مملکت کا فرمانروا ہوگا۔
يوسف 12:16
اب ہم یوسف کو اس اندھے کنوئیں میں چھوڑ کر ذرا کنعان چلتے ہیں۔ یہ اب اللہ کی حمایت اور کفالت میں ہیں جب تک کہ اللہ ان کو وہاں سے نکال نہیں دیتا۔ اب پردہ گرتا ہے اور یہ لوگ اس قدر برا کام کرنے کے بعد اب والد کے سامنے کھڑے ہیں ذرا ملاحظہ کریں ان کی بہانہ سازی :
شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے۔ اور کہا " ابا جان ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگ گئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اسے کھا گیا۔ آ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں۔ اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کرلے غائے تھے۔ یہ سن کر ان کے باپ نے کہا " بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا۔ اچھا صبروں کروں گا اور بخوبی صبر کروں گا ، جو بات تم بنا رہے ہو ، اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔
ان کے دل میں کینے کی آگ جل رہی تھی اور یہ لوگ جھوٹ پر جھوٹ گھڑ رہے تھے۔ اگر ان کو اپنے اعصاب پر ذرا بھی کنٹرول ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کرتے ، وہ اس مکروہ سازش کا آغاز ہی نہ کرتے اور جب حضرت یعقوب نے ان پر اعتماد کرکے یوسف کو ان کے ساتھ رخصت کردیا تھا تو ان کو باز آجانا چاہیے تھا۔ لیکن یوسف اب ان کی برداشت سے باہر ہوگئے تھے۔ اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے اس سیاہ کارنامے کے سرانجام دینے کے لیے یہ بہترین موقعہ ہے۔ پھر ان کو خود حضرت یعقوب کی زبانی بھیڑئیے کا بہانہ بھی مل گیا تھا اور ان کی جلد بازی اور کچے پن کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے باپ کے اندیشے کے سوا کوئی اور بہانہ بھی نہ بنایا ، کہ کل ہی تو حضرت یعقوب اس بہانے سے انہیں ڈراتے تھے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ ہم تو بڑا جتھا ہیں۔ اب وہی بہانہ بنا رہے ہیں۔ بظاہر یہ بہانہ تو معقول نہیں ہے کہ رات کو جس بات سے انہیں متنبہ کیا گیا تھا وہی بہانہ صبح کو وہ پیش کردیں۔ پھر ان کے سطحی پن کا اس سے زیادہ اور ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ یوسف کی قمیص پر وہ خون لگا کرلے آئے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ یہ بالکل بادی النظر میں ایک چھوٹا سا بہانہ تھا ، لیکن انہوں نے یہ جھوٹ پیش کیا : وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ ۔ قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ : شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے۔ اور کہا " ابا جان ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگ گئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اسے کھا گیا۔
اور وہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ بادی النظر میں نظر آتا ہے کہ یہ بہانہ جھوٹا ہے اور مشکوک آدمی تو نظر ہی یوں اتا ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا : چناچہ کہتے ہیں : وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ : آ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں۔
يوسف 12:17
اب ہم یوسف کو اس اندھے کنوئیں میں چھوڑ کر ذرا کنعان چلتے ہیں۔ یہ اب اللہ کی حمایت اور کفالت میں ہیں جب تک کہ اللہ ان کو وہاں سے نکال نہیں دیتا۔ اب پردہ گرتا ہے اور یہ لوگ اس قدر برا کام کرنے کے بعد اب والد کے سامنے کھڑے ہیں ذرا ملاحظہ کریں ان کی بہانہ سازی :
شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے۔ اور کہا " ابا جان ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگ گئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اسے کھا گیا۔ آ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں۔ اور وہ یوسف کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کرلے غائے تھے۔ یہ سن کر ان کے باپ نے کہا " بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا۔ اچھا صبروں کروں گا اور بخوبی صبر کروں گا ، جو بات تم بنا رہے ہو ، اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے۔
ان کے دل میں کینے کی آگ جل رہی تھی اور یہ لوگ جھوٹ پر جھوٹ گھڑ رہے تھے۔ اگر ان کو اپنے اعصاب پر ذرا بھی کنٹرول ہوتا تو وہ ایسا ہرگز نہ کرتے ، وہ اس مکروہ سازش کا آغاز ہی نہ کرتے اور جب حضرت یعقوب نے ان پر اعتماد کرکے یوسف کو ان کے ساتھ رخصت کردیا تھا تو ان کو باز آجانا چاہیے تھا۔ لیکن یوسف اب ان کی برداشت سے باہر ہوگئے تھے۔ اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے لیے اس سیاہ کارنامے کے سرانجام دینے کے لیے یہ بہترین موقعہ ہے۔ پھر ان کو خود حضرت یعقوب کی زبانی بھیڑئیے کا بہانہ بھی مل گیا تھا اور ان کی جلد بازی اور کچے پن کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہوں نے باپ کے اندیشے کے سوا کوئی اور بہانہ بھی نہ بنایا ، کہ کل ہی تو حضرت یعقوب اس بہانے سے انہیں ڈراتے تھے اور یہ لوگ کہتے تھے کہ ہم تو بڑا جتھا ہیں۔ اب وہی بہانہ بنا رہے ہیں۔ بظاہر یہ بہانہ تو معقول نہیں ہے کہ رات کو جس بات سے انہیں متنبہ کیا گیا تھا وہی بہانہ صبح کو وہ پیش کردیں۔ پھر ان کے سطحی پن کا اس سے زیادہ اور ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ یوسف کی قمیص پر وہ خون لگا کرلے آئے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ یہ بالکل بادی النظر میں ایک چھوٹا سا بہانہ تھا ، لیکن انہوں نے یہ جھوٹ پیش کیا : وَجَاۗءُوْٓا اَبَاهُمْ عِشَاۗءً يَّبْكُوْنَ ۔ قَالُوْا يٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَكَلَهُ الذِّئْبُ : شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے۔ اور کہا " ابا جان ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے لگ گئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اسے کھا گیا۔
اور وہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ بادی النظر میں نظر آتا ہے کہ یہ بہانہ جھوٹا ہے اور مشکوک آدمی تو نظر ہی یوں اتا ہے کہ چور کی داڑھی میں تنکا : چناچہ کہتے ہیں : وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صٰدِقِيْنَ : آ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں۔
يوسف 12:18
حضرت یعقوب نے حالات کو بھانپ لیا ، خود نبوت نے انہیں بتا دیا کہ یوسف کو کم از کم بھیڑئیے نے نہیں کھایا۔ انہوں نے کوئی اور ہی سازش کی ہے۔ یہ جو بتا رہے ہیں وہ واقعہ نہیں ہے جو بتا رہے ہیں ، یہ تو نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے صرف یہ تبصرہ کیا کہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے کوئی بڑا برا کام آسان بنا دیا ہے اور اس کا ارتکاب تم نے کرلیا ہے اور یہ کہ ان کے لیے صبر کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ جزع و فزع ان کے شایان شان نہیں ہے اور یہ جھوٹ بادی النظر میں جھوٹ ہے جو یہ لوگ گھڑ رہے ہیں۔ اس کے بارے میں میں اللہ ہی سے شکایت کرسکتے ہیں۔
يوسف 12:19
اب ہم جلدی سے واپس ہوتے ہیں کہ اندھے کنوئیں میں یوسف (علیہ السلام) کس حال میں ہیں۔ اس طرح اس قصے کی پہلی کڑی ختم ہوتی ہے :
یہ اندھا کنواں شارع عام پر تھا ، شارع عام کے ارد گرد لوگ ہمیشہ پانی کی تلاش میں بوقت ضرورت نکلتے ہی رہتے ہیں۔ خصوصاً بارش کا پانی بھی ایسے کنوؤں میں جمع ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات یہ کنواں خشک بھی ہوتا ہے۔
وجاءت سیارۃ " ادھر ایک قافلہ آیا " عربی میں قافلے کو سیارہ اس لیے کہتے ہیں کہ سیر کے معنی چلنے کے ہیں اور قافلہ بھی ایک طویل سفر پر ہوتا ہے ، اسے نشانہ حوالہ اور فنامہ بھی کہتے ہیں۔
فارسلوا واردھم " اور اس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیاج " وارد بمعنی سقہ اسے وارد اس لیے کہتے ہیں کہ وہ پانی ان کی طرف لاتا ہے۔
فادلی دلو " سقے نے کنوئیں میں ڈول ڈالا " تاکہ وہ دیکھے کہ کنوئیں میں پانی ہے۔ اب یہاں سیاق کلام میں اس بات کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف ڈول کے ساتھ لٹک گئے کیونکہ یہ بات بالکل عیاں ہے اور یہاں قارئین کو ایک حیران کن صورت حال سے دوچار کرنا مطلوب ہے۔ یہ کسی بھی قصے کا فنی کمال ہوتا ہے۔
قال یبشری ھذا غلام۔ (یوسف کو دیکھ) مبارک ہو یہاں تو ایک لڑکا ہے۔ یہاں قصے کی مزید تفصیلات کو حذف کردیا جاتا ہے کہ یوسف کس قدر خوش ہوئے ، یا ان کے تاثرات و حالات کیا تھے ، صرف یوسف کے انجام کی طرف اشارہ آجاتا ہے۔
واسروہ بضاعۃ " ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا " انہوں نے اسے نہایت ہی خفیہ سامان تجارت سمجھا۔ ارادہ کرلیا کہ یہ غلام کی حیثیت میں بہت ہی اچھا فروخت ہوگا ، چونکہ در حقیقت وہ غلام تو تھا نہیں اس لیے انہوں نے اسے لوگوں کی نظروں سے چھپا لیا۔ اور چونکہ چوری کا مال تھا ، اس لیے کم قیمت پر فروخت کردیا اور اونے پونے سکوں کے عوض۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ ۔ آخر کار انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض اسے بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے۔ غرض اللہ کے اس برگزیدہ نبی کے لیے یہ حالات نہایت ہی حوصلہ شکن تھے۔
يوسف 12:20
اب ہم جلدی سے واپس ہوتے ہیں کہ اندھے کنوئیں میں یوسف (علیہ السلام) کس حال میں ہیں۔ اس طرح اس قصے کی پہلی کڑی ختم ہوتی ہے :
یہ اندھا کنواں شارع عام پر تھا ، شارع عام کے ارد گرد لوگ ہمیشہ پانی کی تلاش میں بوقت ضرورت نکلتے ہی رہتے ہیں۔ خصوصاً بارش کا پانی بھی ایسے کنوؤں میں جمع ہوجاتا ہے۔ بعض اوقات یہ کنواں خشک بھی ہوتا ہے۔
وجاءت سیارۃ " ادھر ایک قافلہ آیا " عربی میں قافلے کو سیارہ اس لیے کہتے ہیں کہ سیر کے معنی چلنے کے ہیں اور قافلہ بھی ایک طویل سفر پر ہوتا ہے ، اسے نشانہ حوالہ اور فنامہ بھی کہتے ہیں۔
فارسلوا واردھم " اور اس نے اپنے سقے کو پانی لانے کے لیے بھیاج " وارد بمعنی سقہ اسے وارد اس لیے کہتے ہیں کہ وہ پانی ان کی طرف لاتا ہے۔
فادلی دلو " سقے نے کنوئیں میں ڈول ڈالا " تاکہ وہ دیکھے کہ کنوئیں میں پانی ہے۔ اب یہاں سیاق کلام میں اس بات کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ حضرت یوسف ڈول کے ساتھ لٹک گئے کیونکہ یہ بات بالکل عیاں ہے اور یہاں قارئین کو ایک حیران کن صورت حال سے دوچار کرنا مطلوب ہے۔ یہ کسی بھی قصے کا فنی کمال ہوتا ہے۔
قال یبشری ھذا غلام۔ (یوسف کو دیکھ) مبارک ہو یہاں تو ایک لڑکا ہے۔ یہاں قصے کی مزید تفصیلات کو حذف کردیا جاتا ہے کہ یوسف کس قدر خوش ہوئے ، یا ان کے تاثرات و حالات کیا تھے ، صرف یوسف کے انجام کی طرف اشارہ آجاتا ہے۔
واسروہ بضاعۃ " ان لوگوں نے اس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا " انہوں نے اسے نہایت ہی خفیہ سامان تجارت سمجھا۔ ارادہ کرلیا کہ یہ غلام کی حیثیت میں بہت ہی اچھا فروخت ہوگا ، چونکہ در حقیقت وہ غلام تو تھا نہیں اس لیے انہوں نے اسے لوگوں کی نظروں سے چھپا لیا۔ اور چونکہ چوری کا مال تھا ، اس لیے کم قیمت پر فروخت کردیا اور اونے پونے سکوں کے عوض۔ وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۢ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍ ۚ وَكَانُوْا فِيْهِ مِنَ الزَّاهِدِيْنَ ۔ آخر کار انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض اسے بیچ ڈالا اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے۔ غرض اللہ کے اس برگزیدہ نبی کے لیے یہ حالات نہایت ہی حوصلہ شکن تھے۔
يوسف 12:21
درس نمبر 107 ایک نظر میں
یہ سبق اس قصے کے دوسرے حلقے پر مشتمل ہے۔ اب یوسف (علیہ السلام) مصر پہنچ گئے ہیں۔ غلام کی طرح بک گئے ہیں ، لیکن جس شخص نے اسے خریدا ، اس نے دیکھ لیا کہ یہ بچہ نہایت ہی ہونہار ہے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ چناچہ اس نے اپنی بیوی کو ان کے بارے میں ہدایات دیں کہ یہ بچہ غیر معمولی ہے۔ یہاں سے حضرت یوسف کے خواب کی تعبیر شروع ہوتی ہے۔
لیکن بلوغ تک پہنچتے پہنچے حضرت یوسف کے لیے ایک دوسرے قسم کا امتحان ابھی باقی تھا۔ حضرت یوسف کو اللہ نے منصب رسالت کے شایان شان علم و حکمت عطا کیا ہوا تھا اور یہ آزمائش ایسی تھی کہ محض اللہ کا فضل و کرم ہی اس امتحان میں کسی کو بچا سکتا تھا۔ حضرت یوسف اعلی طبقات کے آزادانہ ماحول میں پل رہے تھے۔ ایسے طبقات بالعموم عیاشی اور فسق و فجور میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان طبقات کے اکثر نوجوان بےراہ روی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ حضرت یوسف محض فضل الہی سے اس گندے ماحول سے پاک دامن بن کر نکلے ۔ ان کے لیے یہ مشقت سابقہ آزمائشوں سے کچھ کم نہ تھی۔
درس نمبر 107 تشریح آیات
21 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 34
تفسیر آیت 21: ابھی تک ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت کو کس نے خریدا۔ لیکن قدرے بعد میں یہ بتایا جائے گا کہ خریدار عزیز مصر ہے۔ کہا گیا ہے کہ وہ مصر کے اکابر میں سے تھا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف کو قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ اب مصیبت اور مشقت کے دن بیت گئے اور اب ان کے لیے اچھے سے اچھے دن آنے والے ہیں
اکرمی مثواہ " اس کو اچھی طرح رکھنا " مثوی ثوی سے اسم ظرف ہے یعنی رات گزارنے کی جگہ اور ٹھہرنے کی جگہ۔ اکرام مثوی سے مراد خود ان کا اکرام ہے۔ لیکن اس کے مقام اکرام کرو ، زیادہ مبالغہ ہے اس سے کہ کوئی کہے اس کا اکرام کرو۔ یعنی صرف اس کی ذات کا اکرام ہی نہیں بلکہ اس کی بجائے قیام کا بھی اکرام ہو۔ اب ایک تو اس کا جائے قیام اندھے کنویں میں تھا جو ہر طرف سے خطرات میں گھرا ہوا تھا اور ہر طرف مصائب ہی مصائب تھے اور اب یہاں ان کا تمکن ہے۔
عزیز مصر اپنی بیوی کو یہ بھی بتا دیتا ہے کہ اس بچے سے اس کی کیا امیدیں وابستہ ہیں ؟
عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا : بعید نہیں کہ یہ ہمارے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ جس طرح بعض روایات میں آتا ہے شاید اس کے ہاں کوئی بیٹآ نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس شخص نے یہ عندیہ دیا کہ اگر یہ بچہ صاحب فراست نکلا تو اسے بیٹآ بنا لیں گے ، جس طرح حضرت یوسف کے مزاج اور طور طریقوں سے معلوم ہوتا تھا ، بعد میں وہ نہایت ہی رجل رشید ثابت ہوئے۔
اب یہاں قصے کے واقعات کو روک لیا جاتا ہے اور درمیان میں ایک مختصر سا تبصرہ آتا ہے اور بتایا جاتا ہے۔ یہ تدابیر اللہ نے اس لیے اختیار کیں تاکہ حضرت یوسف کے قدم مصر میں جم جائیں۔ اب حضرت یوسف نے اس خریدار کے دل اور اس کے خاندان میں قدم جما لیے ہیں اور ان کی ترقی کا دور شروع ہوچکا ہے اور آگے جا کر ان کو اس بلند سوسائٹی میں رکھ کر معاملہ فہمی کے مواقع فراہم ہوں گے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے تمام امور پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ کے منصوبے اسی طرح نافذ ہوتے ہیں جس طرح اللہ چاہتا ہے۔
وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۡ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۭ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : اس طرح ہم نے یوسف کے لیے اس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا۔ اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے۔ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
یہ کس طرح ؟ دیکھو یوسف کے بھائیوں نے ان کے خلاف کیا سازش کی اور اللہ نے ان کے لیے کیا سوچا اور اہا۔ اور اللہ نے جو چاہا وہ کامیاب رہا۔ کیونکہ اللہ کو تمام امور پر کنٹرول حاصل ہے لہذا ان کی تدابیر دھری کی دھری رہ گئیں اور حضرت یوسف کے بارے میں اللہ کا منصوبہ کامیاب رہا۔
مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ جو اللہ چاہتا ہے ، وہ ہوتا ہے اور لوگوں کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
يوسف 12:22
حضرت یوسف کو اللہ نے یہ صلاحیت دی کہ وہ ہر معاملے میں صحیح فیصلہ کرنے ، واقعات کے نتائج وہ پہلے سے معلوم کرلیتے ، خوابوں کی تعبیر وہ بہت ہی اچھی طرح جانتے۔ تاویل احادیث اور تاویل رویا کا مفہوم عام بھی ہوسکتا ہے یعنی زندگی کے تمام معاملات کو وہ اچھی طرح سلجھاتے تھے اور یہ صلاح ان کو ان کی نیکی اور حسن سلوک کی وجہ سے دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ محسنین کو اسی طرح جزا دیتا ہے۔
يوسف 12:23
اب حضرت یوسف (علیہ السلام) پر ان کی زندگی کا سخت ترین امتحان آتا ہے اور یہ ان کے لیے سخت ترین آزمائش ہے۔ یہ ابتلا اس وقت آتا ہے جب اللہ نے ان کو علم دے دیا ہے اور صحیح فیصلے کی توفیق دے دی ہے تاکہ وہ ان کے ذریعے ان کی مشکلات پر قابو پا لیں اور سرخرو ہو کر نکلیں۔ کیونکہ یہ صالح اور پاکیزہ نوجوان ہیں اور محسنین کے ساتھ اللہ کا یہی سلوک ہوتا ہے۔
اب ذرا ملاحظہ کیجیے اس خطرناک منظر کو :
" آخر کار یوسف اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسف کی قمیص (کھینچ کر) پھاڑ دی۔ دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا۔ اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی : "" کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے ؟ اس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے " یوسف نے کہا "" یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کر رہی تھی . اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ " اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا " اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا " جب شوہر نے دیکھا کہ یوسف کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو اس نے کہا یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں ، واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں " یوسف اس معاملے سے درگزر کر۔ اور اے عورت تو اپنے قصور کی معافی مانگ ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی۔
۔۔۔
یہاں قرآن مجید نے یہ نہیں بتایا کہ اس کی عمر کیا تھی اور نہ یہ بتایا ہے کہ حضرت یوسف کی عمر کیا تھی ؟ یہاں ہم محض اندازے سے دونوں کی عمر کا تعین کرسکتے ہیں۔
جب حضرت یوسف کو قافلے نے اٹھایا تو وہ لڑکے تھے۔ انہیں مصر میں فروخت کردیا گیا۔ گویا ان کی عمر چودہ سال کے لگ بھگ تھی۔ کیونکہ عربی میں غلام اسی عمر کے لڑکوں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس کے بعد کے لوگوں کے لیے فتی شاب کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں اور اس کے بعد رجل کا لفظ بولا جاتا ہے۔ ایسی عمر ہی میں حضرت یعقوب یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں کہیں بھیڑیا کھا نہ لے جبکہ اس وقت عزیز مصر کی بیوی ایک بیوی ہے اور پھر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اولاد بھی نہیں ہے۔
او نتخذہ ولدا سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ غالباً ان کی اولاد نہ تھی۔ متبنی بنانے کا خیال ہی تب آتا ہے کہ اولاد نہ ہو ، یا یہ کہ انسان جب ماویس ہوجاتا ہے کہ اب بچے پیدا ہونے کا کوی موقعہ نہیں ہے تب وہ مبنی کے لیے سوچتا ہے۔ لہذا معلوم یوں ہوتا ہے کہ اس جوڑے کی شادی کے بعد کافی وقت گزر گیا ہے اور اب غالباً یہ جوڑا اولاد سے مایوس ہوگیا ہے ، بہرحال یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ مصر کا وزیر اعظم چالیس سال سے بھی کم عمر کا ہو ، نیز اس وقت اس کی بیوی بھی کسی صورت میں تیس سال سے کم نہیں ہوسکتی۔
بہرحال قرین قیاس یہ ہے کہ یوسف کی عمر 15 سال اور عزیز مصر کی بیوی کی عمر 40 سال تھی تقریباً حالات یہ بتاتے ہیں کہ اس واقعہ کے قریقین کی عمریں یہی تھیں۔ اس عورت کے معمر ہونے کا ایک قرینہ یہ بھی ہے کہ اس واقعہ کے بارے میں اس نے جو موقف اختیار کیا وہ ایک پختہ عورت اور جرات والی عورت کا موقف ہے ، جو اپنی سازش کے تانے بانے پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے۔ اس عورت کے بارے میں مصری خواتین کے تبصرے سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ معمر عورت ہے۔
امراۃ العزیز تراود فتٰھا : " کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے " اگرچہ فتی غلام کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن عبد کے لیے بھی وہ اس لیے استعمال ہوتا ہے کہ اس میں فتوت کا مفہوم ہوتا ہے اور یوسف ایسے ہی تھے۔ بہرحال شہادت احوال و کوائف ان حقائق کی تائید میں ہے۔
یہ بحث ہم اس لیے کر رہے ہٰں کہ اس سے ایک متعین نتیجہ اخذ ہو۔ یہ کہ اس عورت نے صرف ایک حادثے میں یوسف کو ورغلانے کی کوشش نہ کی تھی جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے بلکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے زمانہ مراہقت سے مسلسل اس ابتلا میں رہے کیونکہ وہ وزیر اعظم کے محل میں تھے اور اور اس وقت عورت کی عمر 30 40 سال کے درمیان تھی۔ اور اس معاشرے کے اندر جو حالات تھے وہ و اس عورت کے خاوند کے اس قول سے اچھی طرح معلوم ہوتے ہیں : يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ۫وَاسْتَغْفِرِيْ لِذَنْۢبِكِ ښ اِنَّكِ كُنْتِ مِنَ الْخٰطِــِٕيْنَ : یوسف اس معاملے سے درگزر کر۔ اور اے عورت تو اپنے قصور کی معافی مانگ ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی۔
نیز عورتوں کی چہ میگوئیاں کہ عزیز مصر کی بیوی کیا کر رہی ہے اور اس کی جوابی تدبیر اور دعوت کا انتظام اور ان کے سامنے یوسف کا حاضر ہونا اور سب کا حیران رہ جانا اور اس کا یہ تبصرہ : وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ ۭ وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْن : بیشک میں نے اسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا ، اگر یہ میرا کہا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا۔
یہ سوسائٹی جس میں اس قسم کی باتیں آزادانہ ہوتی ہوں ، یہ اونچے طبقے کی سوسائٹی ہوتی ہے۔ یوسف اس میں بطور غلام پھنسے ہوئے تھے اور اسی میں پل رہے تھے۔ اور عمر کا زمانہ ایسا تھا جسے فتنے اور آزمائش کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ یہ تھا یوسف کا ایک طویل اور کٹھن امتحان اور اس میں وہ ثابت قدم رہے۔ وہ اس سے سرخرو ہوکر نکلے اور اس سوسائٹی اور اس عمر کے فتنوں کے مقابلے میں کامیاب رہے۔ ان کی عمر اور عورت کی عمر کو مد نظر رکھ کر سوچا جائے کہ اس عورت کے ساتھ وہ ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں ، ان سب امور سے یہ اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف نے کس قدر طویل عرصے تک حالات کا مقابلہ کیا۔ اگر یہ واقعہ صرف یہی ایک ہوتا تو وہ بسہولت اس کا مقابلہ کرلیتے اور ان کے لیے مشکل پیش نہ آتی خصوصاً جبکہ مرد مطلوب ہو ، خود طالب نہ ہو ، خصوصاً جبکہ عورت کی خواہش ہو تو مرد اس سے انکار نہیں کرسکتا اور اس واقعہ میں عورت خواہشمند تھی۔
اس تمہید کے بعد اب تشریح آیات۔
وَرَاوَدَتْهُ الَّتِيْ هُوَ فِيْ بَيْتِهَا عَنْ نَّفْسِهٖ وَغَلَّقَتِ الْاَبْوَابَ وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ : جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کرکے بولی " آ جا "۔
اس بار یہ عورت کھلے بندوں حضرت یوسف کو ورغلانے کی کوشش کرتی ہے اور اس میں وہ واضح طور پر آخری مرحلے کے لیے دعوت دیتی ہے۔ دروازے بند کرن آخری مرحلے پر ہوتا ہے اور یہ عورت اب اس انتہا تک ہپنچ چکی ہے ، جسمانی خواہش کا یہ آخری مرحلہ ہے۔
وقالت ھیت لک۔ اور یہ آخری واضح اور علانیہ دعوت کسی عورت کی طرف سے پہلی مرتبہ نہیں ہوتی۔ یہ بڑی تمہیدات کے بعد ہوتی ہے۔ اگر عورت جسمانی خواہش کے اعتبار سے مجبور نہ ہوجائے تو ایسی دعوت وہ ہرگز نہیں دیتی۔ نوجوان چونکہ ان کے گھر میں بھی رہا تھا ، اس کی جسمانی قوت آہستہ آہستہ مکمل ہوئی تھی اور عورت کی خواہشات (ھیت لک) کہنے سے قبل کئی مراحل سے گزری ہوں گی اور اس آخری مرحلے سے پہلے اس کی کوئی اداؤں کا مقابلہ حضرت یوسف نے کیا ہوگا۔
قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اِنَّهٗ رَبِّيْٓ اَحْسَنَ مَثْوَايَ ۭ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ : " یوسف نے کہا : " خدا کی پناہ ، میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی (اور میں یہ کام کروں گا) ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔ معاذ اللہ ، میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں ، میں یہ کیسے کرسکتا ہوں۔
انہ ربی احسن مثوای۔ میرے رب نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی ہے۔ اس نے مجھے اندھے کنویں سے نجات دے کر باعزت جگہ دی اور ایسے اونچے گھرانے میں رکھا۔
انہ لایفلح الظلمون۔ بیشک ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔ جو حدود اللہ سے تجاوز کرتے ہیں اور تم جس بات کی دعوت دے رہی ہو یہ تو سراسر حدود اللہ سے تجاوز ہے۔
يوسف 12:24
یہاں قرآن اس بات کی تصریح کرتا ہے اور قطعیت کے ساتھ تصریح کرتا ہے کہ عورت کے اس ورغلانے کے عمل اور دروازے بند کرکے حضرت یوسف کو علانیہ دعوت گناہ دینے کو حضرت یوسف نے بغیر تامل کے رد کردیا انہوں نے حدود اللہ کو یاد کیا ، اللہ کے انعامات کو یاد کیا جبکہ قرآن نے اس کی دعوت گناہ کو بھی غلیظ الفاظ کے بجائے مہذب الفاظ میں بیان کیا یعنی وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ : " وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا "
یہ آخری مرحلہ تھا اور تمام مفسرین نے اس پر طویل کلام کیا ہے۔ قدیم مفسرین میں سے بعض لوگوں نے اسرائیلیات کا اتباع کیا ہے اور اس بارے میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔ ان روایات میں یہ ذکر ہوا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) بھی ایک عام نوجوان کی طرح اس آخری فعل کے ارتکاب پر مائل تھے ، آگے بڑھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو برہان پر برہان دکھا رہا تھا مگر وہ رک نہ رہے تھے۔ اس تنہا خانے میں حضرت یعقوب کی تصویر ظاہر ہوئی اور انہوں نے اپنی اگنلی دانتوں میں دبا رکھی تھی۔ اور ان کے سامنے ایک ایسی تختی اچانک آگئی جس کے اوپر آیات قرآنی مکتوب تھیں۔ قرآنی آیات ! جن میں یہ لکھا تھا کہ ایسے کام سے باز آجاؤ، لیکن وہ پھر بھی نہ رکے تو اللہ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور کہا کہ پہنچو میرا بندہ گرنے لگا ہے۔ وہ آئے اور انہوں نے حضرت یوسف کو سینے میں ایک ضرب لگائی۔ یہ اور ایسی دوسری روایات جو واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ یہ جعلی اور بناوٹی ہیں۔
رہے جمہور مفسرین ، تو انہوں نے یہ کہا ہے کہ عورت نے تو ارادہ گناہ کرلیا تھا اور حضرت یوسف نے بھی اس کے بارے میں سوچ لیا ہوتا ، اگر اس پر اللہ کا برہان روشن نہ ہوگیا ہوتا اور پھر انہوں نے اپنا ارادہ ترک کرلیا تھا۔
سید رشید رضا نے اپنی تفسیر المنار میں جمہور علماء کی اس تفسیر پر رد فرمایا ہے۔ اصل مفہوم یہ ہے کہ یہ جابر مالکہ تھی اور اس نے اسے دعوت گناہ دی اور اسے مارا پیٹآ کیونکہ اس نے انکار کرکے اس کی توہین کی تھی اور حضرت یوسف نے اس کی زیادتی کا جواب دیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور اس طرح اس نے اسے پکڑ کر قمیص پھاڑ دی۔ (ھم) کا مفہوم مارنا اور مارنے کا جواب دینا ایک ایسی تفسیر ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ یہ ایک کوشش سے پاک صاف ثابت کیا ہے۔ لیکن یہ تفسیر تکلف سے خالی نہیں ہے۔ اور نہ عربی الفاظ اس کے متحمل ہیں۔
ان نصوص پر غور کرنے کے بعد جو بات میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف اس پختہ کار عورت کے ساتھ ایک مکان میں رہ رہے تھے اور یہ ایک طویل عرصے تک رہ رہے تھے۔ علم و حکمت عطا ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی موجود تھے۔
اس آیت سے میں جو سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اس میں آخری مرحلے کو بیان کیا گیا ہے۔ اس عورت نے ایک طویل عرصہ ان کو ورغلانے کی سعی کی اور آپ نے انکار کیا ، اس عرصے میں حضرت یوسف ان مشکل حالات کا مقابلہ کرتے رہے اور قرآن اس آیت میں آخری مراحل کا ذکر کردیا کہ انہوں نے پاکیزگی اختیار کی اور اللہ کے برہان کو دیکھ لیا۔ اس کشاکش کو یہاں قرآن مجید نے نہایت ہی مختصراً بیان کیا ہے اور اسے مختصر جگہ دی ہے۔ اس کے لیے مناسب اور ضروری الفاظ استعمال کیے۔ کشاکش کے آغاز اور انجام کو ان الفاظ میں قلم بند کر ردیا کہ آغاز میں انہوں نے انکار کیا اور انتہا میں انہوں نے براہین الہیہ کو دیکھا لیکن ابتدائی اور آخری مرحلے کے درمیان ممکن ہے کہ کمزوری کے لمحات بھی آئے ہوں اور اس طرح حقیقت پسندانہ سچائی اور پاک فضا دونوں مکمل ہوئی ہوں۔
ان حالات و نصوص کا مطالعہ کرتے وقت میرے ذہن میں یہ بات آئی ہے۔ یہ بات انسانی مزاج اور طبیعت کے بھی قریب ہے اور منصب نبوت کے بھی ہم آہنگ ہے۔ حضرت یوسف بہرحال انسان تھے اور ایک برگزیدہ انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نفسیاتی میلان بھی ختم ہوگیا اور وہ حالت اعتصام اور مکمل انکار کی طرف لوٹ آئے۔
علامہ زمخشری کشاف میں کہتے ہیں " سوال یہ ہے کہ ایک نبی کس طرح برائی کا " ھم " کرسکتا ہے اور کس طرح وہ ارادہ کرسکتا ہے کہ وہ یہ کام کرے۔ جواب یہ ہے کہ یہ ایک نفسیاتی میلان تھا ، جوانی کی خواہشات کا دباؤ ہر انسان پر ہوتا ہے۔ یہاں اسے ھم اور قصد سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ایسے حالات می انسان پر سخت دباؤ ہوتا ہے اور عزم اور مدافعت کے ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے ، لیکن حضرت یوسف اللہ کے براہین کے ملاحظے کے بعد اس دباؤ کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اگر یہ میلان ہی نہ ہوتا اور جسمانی دباؤ نہ ہوتا تو حضرت یوسف اس کام سے رک کر قابل ستائش کس طرح ہوگئے۔ کیونکہ صبر ، برداشت اور ابتلا پر اجر تب ہی ہے کہ انسان کے اندر قوت اور میلان موجود ہو۔
كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ : ایسا ہوا ، تاکہ اہم اس سے بدی اور بےحیائی کو دور کردیں ، در حقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔
يوسف 12:25
وَاسْتَبَقَا الْبَابَ : " آخر کار یوسف اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے " حضرت یوسف نے اپنے آپ کو اس کے چنگل سے آزاد کرنے کے لیے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور یہ عورت بھی ان کے پیچھے بھاگی تاکہ ان کو پکڑے کیونکہ یہ ابھی تک جنسی ہیجان میں تھی۔
وَقَدَّتْ قَمِيْصَهٗ مِنْ دُبُرٍ : " اور اس نے پیچھے سے یوسف کی قمیص پھاڑ دی " اس کے کھینچنے کی وجہ سے قمیص پھٹ گئی کیونکہ اس کی کوشش یہ تھی کہ دروازے سے اسے واپس لے جائے۔
وَّاَلْفَيَا سَيِّدَهَا لَدَا الْبَابِ : " دروازے پر دونوں نے اس کے شوہر کو موجود پایا "
یہاں یہ عورت اب مکمل طور پر بالغ نظری کی شکل میں سامنے آتی ہے۔ صورت حالات ایسی ہے کہ اس میں کسی بھی فریق پر شک کیا جاسکتا ہے ، اس عورت کا جواب حاضر ہے ، یہ کہ وہ فوراً نوجوان پر الزام لگا دیتی ہے۔ قَالَتْ مَا جَزَاۗءُ مَنْ اَرَادَ بِاَهْلِكَ سُوْۗءًا : عورت کہنے لگی : " کیا سزا ہے اس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیت خراب کرے ؟۔ لیکن اس کو چونکہ حضرت یوسف سے محبت بھی تھی اور اسے ڈر تھا کہ کہیں اسے قتل ہی نہ کردیا جائے اس لیے خود ہی ہلکی سی سزا تجویز کردیتی ہے۔ اِلَّآ اَنْ يُّسْجَنَ اَوْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ اس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے۔۔ اور حضرت یوسف (علیہ السلام) فورا اس الزم کی تردید کرتے ہیں کہ خود اس عورت نے انہیں ورغلانے کی کوشش کی۔
يوسف 12:26
یہاں قرآن کریم واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اس موقعہ پر اس عورت کے رشتہ داروں میں سے کوئی موجود تھا جس نے شہادت احوال یعنی موجود قرائن پر فیصلہ دے دیا اور نزاع ختم ہوگیا۔ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ " اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا۔
سوال یہ ہے کہ اس شاہد نے کہاں شہادت دی ؟ کیا یہ خاوند کے ساتھ اس وقت موجود تھا یا اس واقعہ کو دیکھ کر بیوی کے خاندان میں سے ایک معمر شخص کو بلایا گیا اور اس واقعہ کو دیکھ کر بیوی کے خاندان میں سے ایک معمر شخص کو بلایا گیا اور اس کے سامنے عزیز مصر نے یہ ماجرا رکھا جیسا کہ ایسے حالات میں اکثر ہوا کرتا ہے۔ خصوصاً ایسے اونچے طبقات میں ایسا ہی ہوتا ہے جن کا خون ٹھنڈا ہوتا ہے اور جن کے ہاں اخلاق قدریں ڈھیلی ہوتی ہیں۔
یہ دونوں باتیں ہوسکتی ہیں اور مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس شخص کے فیصلے کو یہاں شہادت کہا گیا ہے کیونکہ فریقین کی طرف سے اپنا پنا موقف اس کے سامنے پیش ہوا ، اس نے فتوی دیا یا رائے دی اور اسے شہادت کہا گیا اس لیے کہ شہادت سے بھی انسان سچائی تک پہنچتا ہے۔ قرائن کی شہادت یہ ہے کہ اگر آگے سے قمیص پھٹی ہوئی ہے اور تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد حملہ آور ہے اور عورت مدافع ہے۔ لہذا وہ سچی اور یہ جھوٹا ہے۔ اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو وہ بھاگ رہا تھا اور یہ اسے پکڑ کر کھینچ رہی تھی لہذا یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے۔ اس شخص نے پہلے عورت کی سچائی کی صورت پیش کی کیونکہ وہ مالکہ ہے اور یہ غلام ہے۔ لہذا مناسب یہی تھا کہ مالک اور اپر ہینڈ کے حق میں جانے والی بات پہلے کی جائے۔ دونوں صورتوں میں شہادت احوال موجود ہے۔
يوسف 12:27
یہاں قرآن کریم واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اس موقعہ پر اس عورت کے رشتہ داروں میں سے کوئی موجود تھا جس نے شہادت احوال یعنی موجود قرائن پر فیصلہ دے دیا اور نزاع ختم ہوگیا۔ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ " اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا۔
سوال یہ ہے کہ اس شاہد نے کہاں شہادت دی ؟ کیا یہ خاوند کے ساتھ اس وقت موجود تھا یا اس واقعہ کو دیکھ کر بیوی کے خاندان میں سے ایک معمر شخص کو بلایا گیا اور اس واقعہ کو دیکھ کر بیوی کے خاندان میں سے ایک معمر شخص کو بلایا گیا اور اس کے سامنے عزیز مصر نے یہ ماجرا رکھا جیسا کہ ایسے حالات میں اکثر ہوا کرتا ہے۔ خصوصاً ایسے اونچے طبقات میں ایسا ہی ہوتا ہے جن کا خون ٹھنڈا ہوتا ہے اور جن کے ہاں اخلاق قدریں ڈھیلی ہوتی ہیں۔
یہ دونوں باتیں ہوسکتی ہیں اور مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس شخص کے فیصلے کو یہاں شہادت کہا گیا ہے کیونکہ فریقین کی طرف سے اپنا پنا موقف اس کے سامنے پیش ہوا ، اس نے فتوی دیا یا رائے دی اور اسے شہادت کہا گیا اس لیے کہ شہادت سے بھی انسان سچائی تک پہنچتا ہے۔ قرائن کی شہادت یہ ہے کہ اگر آگے سے قمیص پھٹی ہوئی ہے اور تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد حملہ آور ہے اور عورت مدافع ہے۔ لہذا وہ سچی اور یہ جھوٹا ہے۔ اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو وہ بھاگ رہا تھا اور یہ اسے پکڑ کر کھینچ رہی تھی لہذا یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے۔ اس شخص نے پہلے عورت کی سچائی کی صورت پیش کی کیونکہ وہ مالکہ ہے اور یہ غلام ہے۔ لہذا مناسب یہی تھا کہ مالک اور اپر ہینڈ کے حق میں جانے والی بات پہلے کی جائے۔ دونوں صورتوں میں شہادت احوال موجود ہے۔
يوسف 12:28
فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ : جب شوہر نے دیکھا کہ یوسف کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے ۔ تو اس کو معلوم ہوا ہوگا کہ واقعاتی شہادت کے مطابق عورت جھوٹی ہے۔ اسی نے اس کو ورغلانے کی کوشش کی ہے۔ وہی ہے جس نے اسے متہم کرنے کیسازش کی ہے۔ یہاں ترقی یافتہ سوسائٹی کی ایک جھلک نظر آتی ہے۔ اور وہ بھی صدیوں اور ہزاروں سال پرانی ترقی یافتہ سوسائٹی۔ یوں نظر آتا ہے کہ گویا وہ آج ہی کی ترقی یافتہ سوسائٹی ہے۔ اس قسم کی سوسائٹی کی پہلی خصوصیت ہی یہ ہوتی ہے کہ اس میں جنسی سکینڈل نظر انداز کردیے جاتے ہیں۔ ان کو چھپایا جاتا ہے۔ ایسے معاشروں کی یہ اہم باتیں ہیں۔
قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ۭ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ : تو اس نے کہا " یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں ، واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں۔ یوسف اس معاملے سے در گزر کر۔ اور اے عورت ، تو اپنے قصور کی معافی مانگ ، تو ہی اصل میں خطا کار تھی۔
بالکل درست ، واقعی عورتوں کی چالیں غضب کی ہوتی ہیں۔ یوسف اس سے درگزر کرو ، یہ تو چاپلوسی ہے۔ ایسا واقعہ جو خون گرما دیتا ہے ، اسے دیکھ کر صرف یہ کہنا کہ تمہار مکر بڑا عظیم ہوتا ہے اور وہ بھی ان الفاظ میں کہ تمام عورتوں کا مکر غضبانک ہوتا ہے۔ یہ تو اس عورت کی تعریف ہے کہ یہ بڑی مکار اور پختہ کار ہے اور وہ کامیاب چال چلنے والی ہے۔
يوسف 12:29
یوسف کی طرف متوجہ ہو کر بھی یہی کہا گیا۔
اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا : " درگزر کر۔ یعنی اس بات کو یہیں چھوڑ دے ، اس کا تذکرہ نہ کر ، حالات کو جوں کا توں رکھو۔ اس قسم کے معاشرے میں یہ اہم بات ہے۔
اور عورت جو رنگے ہاتھوں پکڑی گئی تھی اس کے لیے یہی تبصرہ کہ تم خطا کار ہو لہذا اپنے گناہوں پر معافی مانگو۔ یہ ہیں اس وقت کے سرکردہ بیوروکریٹ اور بڑوں کے حاشیہ نشین۔ ہر جاہلیت میں یہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔
اب پردہ گرتا ہے اور یہ منظر ختم ہوتا ہے۔ سیاق کلام میں اس مرحلے کو اپنے تام حالات ، تاثرات اور اشارات کے ساتھ پیش کردیا گیا ، لیکن اس نازک مرحلے کو حیوانی لذتیت سے پاک رکھا گیا اور نہایت ہی انسانی اور شریفانہ انداز اختیار کیا گیا۔
يوسف 12:30
حالات یہ ہیں کہ اس عورت اور اس کے اس غلام کے درمیان ابھی تک جدائی نہیں ہے۔ حالات روٹین کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں اور بڑے بڑے محلات میں حالات اسی طرح آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ لیکن محلات کی دیواریں ہوتی ہیں اور دیواروں کے کان ہوتے ہیں۔ قدم اور چشم ان کے اندر ہوتے ہیں ، اندر جو کچھ ہوتا ہے ، وہ لازماً باہر آتا ہے ، خصوصا اونچے اور مراعات یافتہ طبقات کے محلات ہیں۔ ان محلات کے اندر جو کچھ ہوتا ہے وہ لوگوں کی مجالس ، محافل میں اور زبانوں پر ہوتا ہے۔ لوگوں کی راتوں کے لیے یہ چٹ پٹا مسالہ ہوتا ہے۔
شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے ، محبت نے اس کو بےقابو کر رکھا ہے ، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے۔
یہ کلام اور یہ چہ میگوئیاں بعینہ ایسی ہیں جیسا کہ ہر جاہلی دور میں موضوع سخن ہوتی ہیں۔ یہاں آ کر ہمیں پہلی مرتبہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عورت عزیز مصر کی بیوی ہے اور یہ کہ حضرت یوسف کو مصر کے جس شخص نے خریدا تھا وہ عزیز مصر تھا ، یعنی مصر کا وزیر اعظم۔ اس شخص کے نام اور اس کی بیوی کے نام کو ابھی تک مجمل رکھا گیا تھا ، اب نام اس لیے لیا گیا کہ پورا مصر اس واقعہ سے خبردار ہوگیا ہے۔ وَقَالَ نِسْوَةٌ فِي الْمَدِيْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا ۭ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے ، محبت نے اس کو بےقابو کر رکھا ہے ، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کر رہی ہے۔
یعنی عورت کا حال یہ ہے کہ وہ اس کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ عاشق زار بن گئی ہے۔ غلام کی محبت اس کے دل کے پردے میں اتر گئی ہے۔ شفاف اس پردے کو کہتے ہیں جس کے اندر دل لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ لیکن یہ حرکت اس عورت کے لیے مناسب نہیں ہے کہ خاتون اول اور وزیر اعظم کی بیوی ہوتے ہوئے وہ عبرانی غلام پر عاشق ہوجائے جو زرخرید ہے (فتٰھا) کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ شاید اس جاہلی سوسائٹی میں فری سیکس اس قدر معیوب نہ تھا مگر عبرانی زرخرید غلام کے ساتھ زیادہ معیوب تھا۔
اب وہ بات وقوع پذیر ہوتی ہے ، جو ایسے ہی نام نہاد اونچے طبقات ہی میں وقوع پذیر ہوسکتی ہے۔ یہ خود سر عورت ایک دوسرا منظر پیش کرتی ہے۔ یہ جانتی ہے کہ مصری عورتوں کی مکاریوں اور پروپیگنڈے کا جواب وہ کس طرح دے گی۔ ذرا ملاحظہ ہوں اگلی آیات۔
يوسف 12:31
اس نے ان عورتوں کو اپنے محل میں ایک دعوت میں بلایا ، اس دعوت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دعوت نہایت ہی ترقی یافتہ لوگوں کی دعوت تھی۔ ایسی ہی عورتوں کو محلات میں دعوتیں دی جاتی ہیں۔ اور نہایت ہی پر تکلف کھانے پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مشرقی روایات کے مطابق تکیہ لگا کر کھانا کھایا جاتا تھا۔ چناچہ اس نے کھانے کے لیے ایسی جگہ تیار کی جہاں یہ عورتیں تکیوں سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھیں۔ پھر ہر ایک کو چھری دی گئی تاکہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھائے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مصر تہذیب و تمدن کے اعتبار سے بہت ہی آگے نکل گیا تھا اور محلات میں لوگ پر تعیش زندگی بسر کرتے تھے۔ کیونکہ ہزاروں سال قبل چھری کے استعمال کی اطلاع سے معلوم ہوتا ہے کہ مادی اور تمدنی لحاظ سے مصری معاشرہ بہت آگے نکل چکا تھا۔ یہ عورتیں گوشت اور میوے کاٹنے میں مشغول تھیں کہ عزیزہ نے یوسف کو حک دیا کہ ذرا سامنے آؤ۔
قالت اخرج علیھن " اس نے یوسف کو اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ "۔
فلما راینہ اکبرنہ " جب ان عورتوں کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں " اس کو دیکھ کر مبہوت رہ گئیں اور ان پر دہشت طاری ہوگئی۔
و قطعن ایدیھن " اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں " اچانک دہشت زدگی کی وجہ سے انہوں نے اپنے ہاتھ زخمی کردئیے۔
و قلن حاش للہ " اور بےساختہ پکار اٹھیں حاشا للہ " تخلیق قدرت پر حیراں ہوکر حاشا للہ کہا جاتا ہے۔ در اصل حاشا للہ کلمہ تنزیہ اس موقعہ پر بولا جاتا ہے جہاں کسی ذات سے کسی الزام کی شدت سے نفی کی جائے۔
ما ھذا بشرا ان ھذا الا ملک کریم " یہ شخص انسان نہیں ہے ، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے " جیسا کہ ہم نے اس سورت کے دیباچے میں کہا ، ان تعبیرات سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کے بعض تصورات مصری معاشرے میں پھیل چکے تھے۔
اب عزیز کی بیوی کو یقین ہوگیا کہ اس نے میدان مار لیا ہے ، اور اس کے خلاف باتیں بنانے والی عورتوں سے انتقام لے لیا ہے ، اور خود یہ عورتیں دہشت زدہ ، حیران بلکہ مبہوت ہو کر رہ گئی ہیں۔ اب یہ عورتوں کے سامنے کھل جاتی ہے اور اپنے جنسی سکینڈل کو عورتوں کے سامنے کھول کر بیان کرتی ہے اور کوئی شرم محسوس نہیں کرتی۔ اب وہ دھمکی آمیز لہجے میں اقرار کرتی ہے کہ اس شخص کو میری مرضی کے مطابق چلنا ہوگا ورنہ ۔۔ اب اس کی باتوں کا انداز اور ہے۔
يوسف 12:32
قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِيْ لُمْتُنَّنِيْ فِيْهِ " عزیز کی بیوی نے کہا " دیکھ لیا ، یہ ہے وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں " دیکھ لیا تم نے۔ ذرا اپنی حالت کو تو دیکھ ، بتاؤ تم کیوں حیران و پریشان اور حواس باختہ ہوگئی ہو۔
وَلَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ : " بیشک میں نے اسے رجھانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا " اس نے مجھے اسی طرح حواس باختہ کردیا ہے ، میں نے اسے ورغلانے کی بہت کوشش کی مگر یہ بچ نکلتا ہے۔ یہ میری تمام کوششوں اور فتنہ سامانیوں کے مقابلے میں اپنے اصول پر جما ہوا ہے لیکن ۔۔۔ تعجب یہ ہے کہ اس کی مصری معاشرے میں اونچے طبقے کی یہ عورت علانیہ تمام عورتوں کے سامنے اپنے جنسی عزائم کا اظہار کر رہی ہے اور دھمکی بھی دیتی ہے۔ وَلَىِٕنْ لَّمْ يَفْعَلْ مَآ اٰمُرُهٗ لَيُسْجَنَنَّ وَلَيَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِيْنَ : " اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا "
اب یہ عورت صنف نازک کے ورغلانے والے حربوں کے علاوہ بڑے فخر سے تشدد اور دھمکی کے ذرائع بھی استعمال کر رہی ہے۔ یہ دھمکی عورتوں کے مجمعے میں یوسف کو کھلے بندوں دی جا رہی ہے۔ اور انہی عورتوں کے سامنے جن میں سے ہر ایک اپنی فتنہ سامانیوں کے ساتھ موجود ہے۔ اور یہ دھمکی اسے خود اپنی مالکہ دے رہی ہے ، چناچہ ایسے نازک اور خطرناک حالات میں صرف رب تعالیٰ ہی سے مدد لی جاسکتی ہے۔
يوسف 12:33
حضرت یوسف اب صرف عزیز کی بیوی کے خلاف دست بدعا نہیں بلکہ مصر کے اس اعلی طبقے کی عورتیں اب ان کے پیچھے پڑگئی ہیں ، اپنی حرکات اور اپنی باتوں کی وجہ سے تمام عورتیں ان پر بچھی جا رہی ہیں اب وہ اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں اور ان فتنوں کے مقابلے میں وہ اللہ کی نصرت طلب کرتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ہر طرف سے ورغلایا جا رہا ہے اور کسی بھی وقت ان سے کمزوری ظاہر نہ ہونے اس لیے وہ ان حالات میں اور ایسی سخت آزمائش میں خوف کھا رہے ہیں۔
وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ : " یہ اس انسان کی پکار ہے جسے اپنی شریعت کا احساس ہے ، وہ جانتا ہے کہ انسان انسان ہے۔ وہ اگرچہ جمے ہوئے ہیں لیکن اپنی کمزوریاں بھی ان کی نظر میں ہیں۔ لہذا وہ اللہ کی حفاظت مزید چاہتے ہیں تاکہ وہ ان فتنوں کا مقابلہ اطمینان سے کرسکیں "
يوسف 12:34
اللہ نے ان کی سازشوں کو کس طرح پھیرا ، یہ کہ وہ ان سے مایوس ہوگئیں ، انہوں نے بہت سی چالیں چلیں اور تجربات کیے مگر وہ ان کے دام میں نہ آئے کہ عنقا را بلند است آشیانہ۔ یہ بھی صورت تھی کہ ان فتنہ سامانیوں کا حضرت پر اثر ہی نہ ہوتا ، اللہ سمیع وعلیم ہے وہ تو سب کچھ دیکھ رہا ہے ، سن رہا ہے ، یہاں آ کر حضرت یوسف زندگی کے اس دوسرے امتحان اور آزمائش میں کامیاب رہے۔ (بفضل اللہ و رحمتہ)
يوسف 12:35
یہ سبق اس قصے کی تیسر کڑی ہے اور حضرت یوسف کی مشکلات زندگی بھی تیسری اور آخری کڑی ہے۔ اس کڑی کے بعد حضرت یوسف کی زندگی کے مشکل دن ختم ہونے والے ہیں۔ اب آرام اور سکون ہی ہوگا۔ اب حضرت یوسف کی زندگی کا امتحان دوسرے انداز میں ہوگا۔ پہلے مصائب میں ان کی آزمائش تھی ، اب عیش و آرام اور اقتدار کی زندگی میں ان کی آزمائش ہوگ۔ اس کڑی میں ان کی آزمائش جیل جانے میں ہو رہی ہے یہ عجیب آزمائش ہے کہ وہ الزام سے بری ہوگئے ہیں پھر بھی جیل میں ہیں ، ایک گناہ گار تو صبر کرلیتا ہے کیونکہ اس کو علم ہوتا ہے کہ اس نے قصور کیا ہے لیکن ایک بےگناہ جب قید ہوتا ہے تو اس کے لیے سزا ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ اگرچہ دل میں اسے یہ سکون ہوتا ہے کہ وہ بےگناہ ہے۔
اس عرصے میں حضرت یوسف پر اللہ کے انعامات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اب ان کو تعبیر رویا کا علم لدنی عطا کردیا گیا ہے ، اسی طرح وہ تاویل احادیث میں ماہر ہوچکے ہیں ، واقعات کے آغاز ہی میں وہ معلوم کرلیتے ہیں کہ ان کے نتائج کیا ہوں گے اور اس کے بعد اب بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف کی براءت کا بھی انتظام ہورہا ہے ، خود بادشاہ عورتوں کو بلا کر انکوائری کرتا ہے۔ اب حضرت یوسف کی خفیہ صلاحیتیں سامنے آرہی ہیں۔ وہ بادشاہ کے مقرب خاص ہوکر تمام اختیارات کے مالک اور مقتدر اعلی بن جاتے ہیں۔ اور جس مقام پر اللہ نے ان کو پہنچانا تھا وہ پہنچ جاتے ہیں۔
درس نمبر 108 تشریح آیات 35 ۔۔۔ تا۔۔۔ 52
۔۔۔
محلات کی فضاؤں میں ، آمریت کی چھاؤں میں نوابوں کے درباروں میں جاہلیت کے نظاموں میں ایسے ہی فیصلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا ، انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ یہ عورت اس فرشتہ سیرت شخص کو عورتوں کی مجالس میں پیش کرتی ہے اور برملا دھمکیاں دیتی ہے ، تمام مصری عورتوں کو یقین تھا کہ یہ عورت اپنے غلام کی محبت میں اندھی ہو رہی ہے اور اپنی فریفتگی کا اعلان کرتی پھر رہی ہے۔ یوسف علیہ السالم پر ان عورتوں کا دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ اللہ سے استعانت طلب فرماتے ہیں۔ دوسری جانب یہ عورت بھی اس بات پر تلی ہوئی ہے اور اعلان کر رہی ہے کہ یوسف کو اس کی مراد پوری کرنا ہوگی یا اسے قید خانوں میں ذلیل و خوار ہونا ہوگا ، اب یا تو وہ حکم کی تعمیل کرے گا یا جیل جائے گا۔
ان حالات کے بعد یہ لوگ اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ ایک عرصے کے لیے یوسف کو قید کردیا جائے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ یہ عورت اب مایوس ہوگئی ہوگی ، دوسری جانب چہ میگوئیاں عام ہوگئی ہوں گی اور اب ان نام نہاد اونچے گھرانوں کی عزت کا تحفظ اسی طرح ہوسکتا تھا کہ بےگناہ کو قید کردیا جائے۔ یہ کام تو ان کے لیے بہت ہی آسان ہے۔ اس نے چونکہ اس ترقی یافتہ عورت کی خواہشات کو پورا نہ کیا تھا لہذا اسے لازماً جیل جانا تھا کیونکہ وہ بیچار بدنام ہوگئی اور ہر طرف سے چہ میگوئیاں تھیں اور ہر محفل میں وہ موضوع سخن تھی۔
يوسف 12:36
عنقریب سیاق کلام میں یہ بات ظاہر ہوگی کہ یہ لوگ بادشاہ کے خواص اور خدام میں سے تھے۔ یہاں قرآن مجید میں حضرت یوسف کے زمانہ قید کے حالات تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے ، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ قید خانے میں آپ کی طہارت اخلاق اور نیکی اور سنجیدگی اور وقار اس قدر عام ہوگیا کہ تمام قیدیوں میں آپ ایک مثال بن گئے۔ تمام قیدیوں کے لیے معتمد اعلی بن گئے ، ان قیدیوں میں وہ لوگ بھی تھے جو شاہی عتاب کی وجہ سے قید خانے میں پڑے تھے۔ کیونکہ شاہی محل اور شاہی دربار میں دربار میں ان سے کچھ قصور سرزد ہوگئے ہوں گے۔ چناچہ ان پر عارضی طور پر عتاب وارد ہوگیا تھا۔ بہرحال قرآن واقعات قصے کو جلدی آگے بڑھانے کے لیے باقی تفصیلات ترک کردیتا ہے اور صرف دو نوجوانوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہ دو نوجوان حضرت یوسف کے پاس آئے اور انہوں نے ان کے سامنے اپنے خوابوں کو پیش کیا اور یہ مطالبہ کیا کہ آپ ان کی تعبیر بتائیں۔ ان لوگوں نے تعبیر خواب کے لیے حضرت یوسف کا انتخاب کیوں کیا ؟ اس لیے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ وہ سچے ، نیک عبادت گزار اور ذکر و فکر کے مالک تھے۔
قید خانے میں دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے ، ایک روز ان میں سے ایک نے کہا میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں دوسرے نے کہا " میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں " دونوں نے کہا ہمیں اس کی تعبیر بتائیے ، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں۔ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ موقعہ ہاتھ آگیا کہ وہ قیدیوں کے سامنے اپنا نظریہ حیات پیش کریں۔ ان کو صحیح عقیدہ دیں ، کیونکہ قیدی کے لیے یہ ممنوع نہیں ہے کہ ان کا عقیدہ اچھا ہو۔ قیدیوں کی نظریاتی اور عملی تربیت بھی ضروری ہے۔ لہذا حضرت یوسف ان کو تلقین کرتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ فاسد نظام زندگی ہے جس میں حکم اور اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ہو۔ چناچہ وہ ان کو تلقین کرتے ہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو اس کرہ ارض کا رب تسلیم کرنا اصل گمراہی ہے ، اس طرح حکمران فرعون بن جاتے ہیں۔
حضرت یوسف اپنی بات کا آغاز اس موضوع سے کرتے ہیں جس میں اس کے جیل کے دونوں ساتھیوں کو دلچسپی ہے۔ لیکن ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے دلچسپی کے موضوع پر بات ذرا بعد میں آئے گی۔ اور وہ خوابوں کی صحیح تعبیر بتا دیں گے کیونکہ اس شعبے میں اللہ نے ان کو علم لدنی دیا ہے اور یہ اس لیے دیا ہے کہ میں اللہ کی بندگی کرتا ہوں اور اللہ کے ساتھ میں اور میرے آباء و اجداد کسی کو شریک نہیں کرتے ، یوں حضرت یوسف ان لوگوں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ تعبیر خواب بھی بتائیں گے اور یہ کہ حضرت یوسف کا دین بھی نہایت ہی متین دین ہے۔
يوسف 12:37
اسے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف کی بات کس قدر دل نشین ہے اور وہ بات سے کس طرح بات نکالتے چلے جاتے ہیں اور کس قدر نرمی اور لطافت کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ اس پورے قصے میں حضرت یوسف کی بات چیت کی یہ امتیازی خصوصیت ہے۔
قَالَ لَا يَاْتِيْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖٓ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِيْـلِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّاْتِيَكُمَا ۭ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِيْ رَبِّيْ : یوسف نے کہا یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھ عطا کیے ہیں۔
یہ تاکید اس بات کا اظہار کر رہی ہے کہ حضرت یوسف کو اس معاملے میں ایک خاص علم دیا گیا ہے کہ کھانے آنے سے قبل ہی وہ اپنے اس مخصوص علم کے ذریعے ان کو ان کے خوابوں کی تعبیر بتا دیں گے۔ اور یہ علم ان کو اس لیے دیا گیا تھا کہ اس دور میں خوابوں کی تعبیر کے فن نے کافی ترقی کی ہوئی تھی۔ یہ ان علوم میں سے ہے جو میرے رب نے مجھے عطا کیے ہیں۔ یہ الفاظ حضرت نے اس لیے استعمال کیے کہ ان لوگوں پر نفسیاتی اثر ہوجئے اور حضرت یوسف کی بات ان کے دل میں اتر جائے۔ اور وہ ان خوابوں کی تعبیر کی وجہ سے یوسف کی دعوت کو قبول کرلیں جبکہ یہ تعبیر نہایت ہی مخصوص انداز کی تھی۔
اِنِّىْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَهُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ : " واقعہ یہ ہے کہ میں نے ان لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر ، جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں "
یہ اشارہ اس قوم کی طرف بھی ہے جس میں ان کی تربیت ہوئی ، یعنی عزیز مصر کا گھرانا اور شاہ مصر کے حاشیہ نشین ، اور اس پوری قوم کی طرف بھی جو شاہ مصر کی مطیع فرمان تھی ، جبکہ یہ دونوں نوجوان ظاہر ہے کہ بادشاہ اور اپنی قوم ہی کے دین پر تھے لیکن حضرت یوسف ان کے ساتھ بات کرنے میں یہ نہیں فرماتے کہ میں نے تمہارا دین چھوڑ دیا ہے بلکہ ایک عام بات فرماتے ہیں تاکہ ان نوجوانوں کے دلوں میں دین اسلام سے نفرت پیدا نہ ہوجائے۔ یہ نہایت ہی دانشمندی اور اعلی درجے کی حکمت تبلیغ ہے اور نہایت ہی لطافت اور فراست کے ساتھ بات پہنچانے کا انداز ہے۔
يوسف 12:38
نشانات کفر بتانے کے بعد یوسف (علیہ السلام) ان نوجوانوں کے سامنے نشانات ایمان بھی رکھتے ہیں ، جن پر وہ اور ان کے آباء چل رہے ہیں۔
میں نے اپنے بزرگوں ابراہیم ، اسحاق ، اور یعقوب کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو شریک ٹھہرائیں۔
ملت اسلامیہ مکمل توحید کی ملت ہے ، اور اس میں اللہ کے ساتھ شرک کا شائبہ تک موجود نہیں ہے۔ توحید کی طرف ہدایت کرنا اللہ کی طرف سے فضل و کرم ہے۔ اور یہ فضل و کرم اس قدر عام ہے کہ ہر شخص اس کو قبول کرسکتا ہے اور حاصل کرسکتا ہے۔ کیونکہ اس کا رجحان اور اس کے اصول انسان کی فطرت کے اندر موجود ہیں۔ اور اس کے اشارات اور براہین انسانی ماحول کے اندر بھی موجود ہیں۔ رسولوں کی ہدایات اور کتب سماوی میں اس کی تعلیمات بھی موجود ہیں لیکن لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ اس عمومی فضل و کرم سے اپنے آپ کو محروم رکھ رہے ہیں۔ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَيْنَا وَعَلَي النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ : در حقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر (کہ اس نے اپنے سوا کسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔
حضرت یوسف آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں اپنی بات اتار رہے ہیں ، نہایت ہی احتیاط کے ساتھ ، نہایت نرمی کے ساتھ۔ ان کے دلوں میں بات کو بٹھاتے چلے جاتے ہیں اور اپنے عقائد و نظریات کا اظہار آہستہ آہستہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ اور ساتھ یہ بھی واضح کرتے چلے جاتے ہیں کہ تمہارے اور تمہاری قوم کے عقائد و نظریات غلط ، فاسد اور باطل ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں وہ سوسائٹی ایک فاسد سوسائٹی ہے جس میں وہ رہ رہے ہیں۔ اس طویل تمہید کے بعد حضرت یوسف اصل بات کہتے ہیں۔
يوسف 12:39
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ان نہایت ہی مختصر ، واضح اور فیصلہ کن کلمات کے اندر دین اسلام کے پورے نشانات راہ نقش کرکے رکھ دیے ہیں۔ اس دین کے پورے عناصر ترکیبی بیان کردیے گئے ہیں۔ حضرت یوسف ان نشانات اور ان عناصر کی براہ راست دعوت نہیں دیتے بلکہ ان کو ایک موضوع غور و فکر کے طور پر ان کے سامنے رکھتے ہیں۔
يٰصَاحِبَيِ السِّجْنِ ءَاَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُوْنَ خَيْرٌ اَمِ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ : " اے زندان کے ساتھیو ، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق رب بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے ؟ "
یہ ایک ایسا سوال ہے کہ براہ راست انسانی فطرت کی گہرائیوں میں لگتا ہے اور فطرت انسانی کو خوب جھنجھوڑتا ہے۔ انسانی فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ الہ ایک ہونا چاہیے۔ اگر تم محسوس کرتے ہو کہ یہ فطرت کا تقاضا ہے تو پھر کیوں تم ارباب متفرقون کے قائل ہو ، یعنی جو ذات اس بات کی مستحق ہے کہ اسے رب اور حاکم تسلیم کیا جائے ، جس کی عبادت اور بندگی کی جائے اور جس کی اطاعت کی جاتی رہے۔ وہ صرف اللہ واحد اور قہار ہی ہے۔ اگر ہم اس بات کو تسلیم کرلیں کہ انسانی فطرت اور عالم کی فطرت کا الہ اور رب اللہ وحدہ ہے تو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان کی اخیتار زندگی میں رب ، حکم اور شارع وہی اللہ وحدہ ہو۔ اور یہ ممکن نہیں ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ وحدہ ہی خالق اور قہر ہے اور پھر بھی وہ غیر اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں۔ اور اس کے سوا پھر کوئی ان کا حاکم ہو۔ رب ہی الہ اور حاکم ہوتا ہے۔ وہ اس پوری کائنات کے امور کو بھی چلاتا ہے اور یہ ممکن نہیں ہے کہ ایک ذات کائنات کو نہ چلا سکتی ہو اور وہ ھو رب الناس ہو یہ عقلاً ممکن نہیں ہے۔
لہذا اللہ واحد اور قہار ہی اس بات کا مستحق ہے اور بہتر ہے کہ لوگ اس کی بندگی کریں۔ بجائے اس کے کہ وہ ارباب متفرقہ کی بندگی کریں جن کو اندھی جاہلیت نے گھڑ رکھا ، جس کی نظر کوتاہ ہوتی ہے اور وہ فریب کے سوا کچھ بھی دیکھ نہیں سکتے انسانیت کے لیے سب سے بڑی بدبختی ہی یہ ہے کہ وہ ایک الہ کے بجائے متعدد الہوں کو مانے اور یہ متعدد الٰہ اس کی زندگی کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں۔ ان کے رجحانات اور میلانات کے اندر بھی کشمکش ہو اللہ کے سوا جس قدر ارباب ہم نے بنا رکھے ہیں یہ در اصل اللہ تعالیٰ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرتے ہیں اور ہم نے اپنی جاہلیت کی وجہ سے ، وہم پرستی کی وجہ سے خرافات اور قصے کہانیوں کی وجہ سے ان ارباب من دون اللہ کو رب تسلیم کر رکھا ہے۔ یا بعض جبار وقہار انسانی الٰہوں نے اپنی ربوبیت کا نظام لوگوں پر جبراً مسلط کر رکھا ہے۔ اور یہ انسانی ارباب ایک منٹ کے لیے بھی اپنے ذاتی مفادات ، اپنے وجود اور اپھنی عزت کی بقا کے جذبات اور خواہشات سے علیحدہ نہیں ہوسکتے۔ اور ان کے دلوں میں یہ خواہش کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے کہ عوام الناس پر ان کا تسلط جاری اور باقی رہے۔ ایسے الٰہوں کی پالیسی اور دائمی پالیسی یہ ہوتی ہے کہ یہ لوگ ان قوتوں کو کچل کر رکھ دیتے جن سے انہیں براہ راست یا بالواسطہ کوئی بھی خوف ہو۔ نیز الٰہ ان قوتوں کو ہمیشہ زندہ رکھتے ہیں ان کی پرورش کرتے ہیں اور ان کے حق میں پروپیگنڈہ کرتے جو ان کی خدائی کے قیام اور بقا میں ممد و معاون ہوتی ہیں۔ یہ الٰہ ایسے تمام اداروں کی ترقی اور عزت افزائی کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔
جبکہ اللہ واحد اور قہار ہے اور وہ دونوں جہاد سے غنی ہے۔ اللہ کا مطالبہ لوگوں سے صرف یہ ہے کہ وہ اللہ سے ڈریں ، نیکی کی راہ لیں اور اپنی اصلاح اور اپنے ماحول کی اصلاح و تعمیر کریں اور یہ اصلاح اور تعمیری کام اللہ کی قائم کردہ شریعت کے مطابق ہو۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کا کام بھی پورے کا پورا عبادت ہوگا۔ اللہ نے جو عبادات انسانوں کے لیے فرض کی ہیں وہ بھی ایسی ہیں جن سے خود انسانوں کے دل و دماغ اور سیرت و کردار کی اصلاح مطلوب ہے۔ ورنہ اللہ کو تو انسانوں کی طرف سے کسی عبادت اور بندگی کی ضرورت نہیں ہے۔
یا ایہا الناس انتم الفقراء الی اللہ واللہ ھو الغنی الحمدی " اے لوگو تم اللہ کی طرف محتاج ہو اور صرف اللہ ہی غنی اور حمید ہے۔ اس لیے اللہ کی بندگی اور غلامی اور اللہ کے دوسرے الٰہوں کی بندگی اور غلامی میں بہت فرق ہے۔
يوسف 12:40
اس کے بعد حضرت یوسف ایک قدم اور آگے بڑھتے ہیں۔ اور اب وہ ذرا کھل کر جاہلیت کے افکار اور اوہام پر تنقید فرماتے ہیں : مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اَسْمَاۗءً سَمَّيْتُمُوْهَآ اَنْتُمْ وَاٰبَاۗؤُكُمْ مَّآ اَنْزَلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ : اس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو ، وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے رکھ لیے ہیں ، اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔
یہ ارباب ، خواہ وہ انسانوں میں سے ہوں یا غیر انسان ہوں ، مثلا فرشتے ، ارواح اور شیاطین یا دوسری کائناتی قوتیں جو اللہ کے تابع ہیں ، یہ کسی معنی میں بھی رب نہیں ہیں۔ اور انہ ان کو حقیقت ربوبیت میں سے کوئی حقیقت حاصل ہے۔ کیونکہ حق ربوبیت اور مقام ربوبیت صرف اللہ وحدہ کو حاصل ہے اور وہی اس کا سزاوار ہے۔ کیونکہ وہی خالق ہے اور اسی کے کنٹرول میں تمام مخلوقات زندہ رہ رہی ہیں۔ لیکن مختلف جاہلیتوں میں لوگوں نے خود اپنی طرف سے بعض قوتوں کو رب کے نام سے موسوم کردیا ہے ، یہ رب حقیقی کی صفات کو ان نام نہاد ارباب کی طرف منسوب کرتے ہیں جبکہ درحقیقت ان کے اندر نہ صفات موجود ہیں اور نہ ان کو رب حقیقی کی طرح کسی پر قہر اور غلبہ حاصل ہے۔
اب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے غلط عقائد پر آخری ضرب لگاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اصل سلطنت کا حقدار و سزاوار کون ہے ؟ کون اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ؟ کون اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی بندگی کی جائے فقط اس کی ؟
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو ، یہی ٹھیٹھ سیدھا طریق زندگی ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
حکم اور حاکمیت صرف اللہ کے لیے ہے ، حاکمیت خاصہ خدائی ہے۔ اس لیے اللہ کے سوا کوئی اور حاکم ہو ہی نہٰں سکتا۔ اللہ کے سوا کوئی اور شخص اگر اللہ کے اس حق میں کوئی دعویداری کرے گا وت اس کا مقدمہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہوگا ، چاہے اللہ کے سوا حاکمتی کا دعوی کرنے والا کوئی فرد واحد ہو ، یا کوئی طبقہ ہو یا کوئی جماعت ، یا کوئی امت یا سب کے سب لوگ ہوں یا کوئی عالمی ادارہ ہو۔ اور جو شخص اللہ کے بالمقابل اپنی حاکمتی (Soverenity) کا مدعی ہوگا وہ گویا کفر کا ارتکاب کرے گا اور یہ اس کی جانب سے واضح کفر ہوگا۔ اور یہ آیت اس پر نص صریح ہے۔
اب کوئی شخص کس طرح اللہ کے بالمقابل دعوائے الوہیت کرسکتا ہے ؟ کسی بھی صورت میں اگر کوئی دعوی کرے گا تو مدعی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہوگا چاہے وہ فرعون کی طرح دعوی کرے اور کہے (انا ربکم الاعلی) یا وہ کہے (ما علمت لکم من الہ غیری) یا وہ اسلامی شریعت کو نظام حکمرانی سے خارج کردے یا وہ یہ فیصلہ کردے کہ حکمرانی اور قانون سازی کا مرجع اللہ کے سوا کوئی اور ہوگا۔ اگرچہ وہ فرد ہو یا انسانوں کا کوئی مجموعہ ہو۔
اسلامی نظام میں امت مسلم ہی حاکم کا انتخاب کرتی ہے اور کسی شخص کو حاکمیت کا اختیار دیتی ہے اور وہ یہ اختیارات استعمال کرتا ہے لیکن وہ اپنے اختیارات شرعی حدود کے اندر استعمال کرسکتا ہے۔ اسلامی نظام میں کوئی شخص یا کوئی ادارہ مصدر قانون سازی اور مصدر حاکمیت نہیں ہوتا ، حاکمیت اور قانون سازی کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہوگا۔ بیشمار مسلم مفکرین حق حاکمیت کے استعمال اور مصدر حاکمیت کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ تمام انسان حق حاکمیت کے مالک نہیں ہیں۔ حق حاکمیت صرف اللہ کو حاصل ہے۔ جہاں تک انسانوں کا تعلق ہے تو ان کی ڈیوٹی صرف یہ ہے کہ اللہ نے جو نظام قانون اور دستور متعین فرما دیا ہے ، انسان صرف اس کے نافذ کرنے والے ہیں۔ لیکن جو دستور اور قانون اللہ نے نہیں بنایا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ اور اس کی قانونی حیثیت کچھ بھی نہیں ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اس بات کی دلیل بھی بیان کر رہے ہیں : اس دلیل کو ہم تب ہی سمجھ سکتے ہیں جب ہم لفظ عبادت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ اسی طرح جس طرح عرب اسے سمجھتے تھے۔
عبد کا مفہوم عربی میں ہے (دان و خضع و ذل) یعنی تابع ہوا ، تابع فرمان ہوا اور کسی کے سامنے جھکا اور ذلیل ہوا۔ آغاز اسلام میں عبادت کا مفہوم بھی مراسم عبودیت اور پرستش نہ تھا۔ اس لیے کہ جب سب سے پہلے یہ آیات نازل ہوئیں تو اس وقت مراسم عبودیت فرض ہی نہ تھے۔ یہ (نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ اور جہاد) بعد میں فرض ہوئے۔ ابتداء میں عبادت کا لفظ اپنے لغوی مفہوم میں استعمال ہوا تھا جو بعد میں اصطلاحی مفہوم میں استعمال ہوا۔ ابتدا میں اس لفظ کا مفہوم یہ تھا کہ صرف اللہ کی اطاعت کی جائے ، صرف اللہ کے سامنے جھکا جائے ، صرف اللہ کے احکام مانے جائیں ، ان احکام کا تعلق عبادات کے مراسم سے ہو ، یا اخلاقی امور سے ، ان تمام شعبوں پر لفظ عبادت کا اطلاق ہوتا تھا۔ اس کے مفہوم میں اطاعت اور بندگی شامل تھی جس کے بارے میں اللہ کا حکم تھا کہ اس کے سوا کسی کی اطاعت اور بندگی نہ کی جائے۔
جب ہم عبادت کے اس مفہوم کو معلوم کرلیں تو پھر ہماری سمجھ میں یہ بات آجاتی ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے کہا حکم اللہ کا ہے ، اس لیے عبادت اور بندگی اور اطاعت بھی صرف اسی کی ہے۔ اگر حکم کسی اور کا ہو تو پھر صرف اللہ کی بندگی کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا۔ اور حکم اللہ کا ہے ، ایک عام اصول ہے اس سے مراد تکوینی حکم بھی ہے کہ اس کائنات کے بارے میں وہی متصرف فی الامور ہے اور اس سے مراد شرعی اور قانونی حاکمیت بھی ہے کہ شرعی اور تکوینی امور بھی اللہ ہی کے ہوں گے۔
میں اس بات کو دوبارہ دہراتا ہوں کہ جو شخص حاکمیت کے حق میں اللہ کے برخلاف دعویداری کرتا ہے وہ دین اسلام سے خارج ہے۔ اور اس کے بارے میں اسلام کا حکم واضح اور لازمی ہے اور یہ در اصل بدترین شرک اور کفر بواح (صریح کفر) ہے۔ اسی طرح جو شخص اللہ کے بالمقابل حاکمیت کا دعوی کرتا ہے اور دوسرے لوگ اس کا اقرار کرتے ہیں اور دل سے اس کی اطاعت کرتے ہیں اور اپنے دل میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے وہ لوگ بھی کفر بواح کے مرتکب ہیں اور وہ دین اسلام سے خارج ہیں۔
حضرت یوسف فرماتے ہیں کہ چونکہ اللہ ہی حاکم مطلق ہے اس لیے ہی اللہ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور یہ درست اور صحیح دین ہے۔ ذلک الدین القیم " یہی دین قیم ہے " یعنی اس کے سوا دین قیم کی اور کوئی صورت نہیں ہے۔ درست دین وہی ہے جس میں حاکمتی صرف اللہ کی ہو۔ اور اللہ کی حاکمیت کا اظہار اس طرح ہو کہ لوگ صرف اللہ کی بندگی اور اطاعت کریں
چونکہ لوگ حقیقت کو نہیں جانتے ، اس لیے لازم نہیں آتا کہ اپنی جہالت کی وجہ سے وہ دین قیم پر متصور ہوں۔ اس لیے کہ جو دین اسلام کو جانتا ہی نہیں اس کی زندگی میں دین کا وجود متحقق کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اگر لوگوں کی حالت یہ ہو کہ وہ حقیقت دین ہی سے بیخبر ہیں تو عقلا حقیقتاً اور بطور واقعہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ دین پر ہیں۔ جہالت کوئی عذر نہیں ہے جو ان کو صفت اسلام سے متصف کردے کیونکہ جہالت تو سرے سے صفت دین ہی کی نفی کردیتی ہے کیو کہ کوئی شخص اس وقت تک اسلام کا اعتقاد نہیں رکھ سکتا جب تک وہ اسلام کو جانے نہیں۔ یہ بات نہایت ہی منطقی اور بدیہی ہے۔
حضرت یوسف نے ان واضح اور فیصلہ کن اور مختصر کلمات کے ذریعے شرک کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہے اور دین اسلام کے حقیقی نشانات مقرر کردئیے ہیں۔ اور اسلامی نظریہ حیات کے تمام بنیادی عناصر یہاں بیان کردئیے ہیں اور ایک دو فقروں میں جاہلیت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہے۔
دنیا میں طاغوتی نظام قائم ہی تب ہوتا ہے جب وہ اللہ سے حق حاکمیت چھین لے اور لوگوں سے اللہ کے بجائے اپنی اطاعت کرائے۔ یعنی لوگ اللہ کی شریعت اور قانون کے بجائے اس کی شریعت کے مطیع فرمان ہوں اور وہ طاغوتی سوچ ، طاغوتی قانون اور طاغوتی احکام اور اطاعت رائج کردیں۔ اس کے سوا طاغوت قائم ہی نہیں ہوتا۔
طاغوتی نظام قائم ہی تب ہوتا ہے جب دین اسلام دنیا سے غائب ہوجائے۔ جب لوگوں کے دل و دماغ میں یہ عقیدہ راسخ ہو کہ اللہ کے سوائی اور حاکم اور مطاع نہیں ہے اور تمام معاملات زندگی میں انسانوں نے صرف اللہ کی اطاعت کرنا ہے تو اس سوقت طاغوتی نظام قائم ہی نہیں ہوتا۔
یہاں حضرت یوسف اپنا حقیقی درس اور تعلیم ختم فرما دیتے ہیں اور اس تقریر کو الٰہوں کے ابتداء میں قیدیوں کی مراد اور مطلب سے مربوط کردیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہی تاکہ قیدیوں کے سوال کا جواب بھی دے دیں۔
يوسف 12:41
حضرت یوسف نے اچھے انجام پانے والے اور برے انجام تک پہنچنے والے کا یہاں تعین نہیں فرمایا کیونکہ انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ برا انجام پانے والے کو ذاتی طور پر مخاطب کریں البتہ انہوں نے تاکید سے کہہ دیا کہ انجام یہی ہوگا۔ یہ امر فیصلہ شدہ ہے جس طرح فیصلہ ویسا ہی ہونے والا ہے۔ حضرت یوسف ایک ناکردہ گناہ قیدی تھے ۔ بادشاہ نے ان کی قید کا حکم بغیر سوچ اور تحقیق کے صادر فرما دیا تھا۔ شاید اس کے حاشیہ نشینوں نے عزیز مصری کی بیوی کے واقعہ کو اس طرح اس کے سامنے پیش کیا کہ اس میں حضرت یوسف کو گناہ گار کر کے پیش کیا ہوک ، جس طرح با اثر طبقات عموماً ایسا کرلیتے ہیں۔ چناچہ حضرت یوسف نے اس موقعہ پر یہ مناسب سمجھا کہ وہ بادشاہ تک یہ بات پہنچا دیں کہ وہ ان کے معاملے میں تحقیق کرے۔
يوسف 12:42
یعنی میرے حالت ، میرا واقعہ اور میری حقیقت کا ذکر اپنے رب اور حاکم کے سامنے کرنا جس کے قانونی اور دستوری نظام کے تم تابع ہو۔ اور جس کے احکام کے تم مطیع ہو۔ ان معنوں میں ہی وہ تمہارا رب ہے۔ کیونکہ رب کے معنی ہی یہ ہیں کہ جو حاکم ، سردار اور قانون دہندہ ہو۔ اسلامی اصطلاح میں ربوبیت کا جو مفہوم ہے۔ یہاں اسے واضح کردیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہنا چاہیے کہ حضرت یوسف گڈریوں کے دور میں تھے اور گدرئیے بادشاہوں کا یہ عقیدہ نہ تھا کہ وہ خود رب ہیں جس طرح فراعنہ کا عقیدہ تھا۔ نہ وہ فرعونوں کی طرح اپنے آپ کو الٰہ سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک ربوبیت کا مفہوم حاکمیت تھا ، یہاں لفظ رب صریح طور پر حاکم کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
اب یہاں سیاق کلام یہ تفصیلات نہیں دیتا کہ قیدی ساتھیوں کا انجام اسی طرح ہوا جس طرح حضرت یوسف نے خواب کی تعبیر کی تھی۔ یہاں قصے میں خلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ قارئین خود معلوم کرلیتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ لیکن جس شخص کے بارے میں حضرت یوسف کی تاویل یہ تھی کہ وہ نجات پائے گا ، اس نے حضرت یوسف کے بارے میں حضرت یوسف کی وصیت کو پورا نہ کیا۔ جب وہ شاہی محلات کی زندگی کی ہماہمی میں دوبارہ پہنچا تو وہ ان سرگرمیوں میں مدہوش ہوگیا ، اس نے درس توحید بھی بھلا دیا ، حضرت یوسف کے مسئلے کو بھی پیش نہ کیا۔
فلبث ۔ یہ آخری ضمییر (لبث) حضرت یوسف کی طرف عائد ہے۔ اللہ کی حکمت کی مشیت یہ تھی کہ حضرت یوسف تمام دنیاوی اسباب سے کٹ کر صرف اللہ پر بھروسہ کریں۔ مشیت ایزدی کے نزدیک یہ بات حضرت یوسف کے شایان شان نہ تھی کہ ان کی رہائی کسی دنیاوی اور انسانی ذریعے سے ہو۔
اللہ کے مخلص بندوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کے لیے خالص ہوجائیں۔ وہ صرف اس کو اپنی حاجات میں پکاریں اور دعا کریں کہ اللہ ان کو ثابت قدم رکھے۔ اور اگر کبھی ان بندوں سے کوتاہی ہوجائے تو پھر ان پر اللہ کا فضل ہوتا ہے۔ اور وہ اپنی حقیقی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ وہ از سر نو شوق ، محبت اور رضامندی سے اللہ کی راہ پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ اور ان پر اس کا فضل و کرم پورا ہوجاتا ہے۔
يوسف 12:43
منظر پھر منتقل ہوجاتا ہے۔ اب ہم بادشاہ کے دربار میں پہنچ جاتے ہیں۔ بادشاہ نے ایک اہم خواب دیکھا ہے۔ وہ اپنے حاشیہ نشینوں اور کاہنوں اور مذہبی لیڈروں سے اس کی حقیقی تاویل دریافت کرتا ہے۔
بادشاہ نے اس خواب کی تعبیر چاہی اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والے حاشیہ نشین اور درباری مذہبی لیڈر ان خوابوں کی تعبیر نہ بتا سکے۔ یا انہوں نے محسوس تو کرلیا تھا کہ ملک کو کچھ مشکلات در پیش آنے والی ہیں لیکن وہ بادشاہ کے سامنے کسی بدشگونی کے اظہار کی جرات نہ کرسکے۔ شاہی درباریوں کا یہ طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ بات کو ٹال دیتے ہیں اور یا جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے ان اہم خوابوں پر ایسا ہی تبصرہ کیا کہ یہ خواب ہائے پریشان ہیں اور ان کو ان تاویل کی کوئی سمجھ نہیں آرہی ہے۔ کیونکہ ان خوابوں میں کوئی واضح اشارہ نہیں ہے۔
یہاں تک تین خوابوں کے ساتھ ہمارا واسطہ پڑچکا ہے۔ حضرت یوسف کا خواب ، یوسف کے دو قیدی ساتھیوں کے خواب ، اور با بادشاہ وقت کا خواب۔ ان خوابوں کی تعبیر اور اور ان خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مصر اور مصر سے باہر اردگرد کی دنیا میں تعبیر خواب کا فن بہت ہی زوروں پر تھا اور اللہ نے حضرت یوسف کو اپنی جانب سے جو صلاحیت دی ، کہ وہ خوابوں کی تعبیر تک پہنچ جاتے تھے ، وہ ایک ایسا کامل تھا جو روح عصر تھا۔ اور تمام انبیاء کو جو بھی معجزات دیے جاتے ہیں وہ ان کے عصری ماحول کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ تو کیا خوابوں کی تعبیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے ایک معجزہ تھا۔ یہاں فی ظلال القرآن می ہم یایس بحثیں نہیں چھیڑتے۔ بہرحال بادشاہ نے خواب دیکھا ہے اور اس کی تعبیر کی تلاش ہے۔
يوسف 12:44
منظر پھر منتقل ہوجاتا ہے۔ اب ہم بادشاہ کے دربار میں پہنچ جاتے ہیں۔ بادشاہ نے ایک اہم خواب دیکھا ہے۔ وہ اپنے حاشیہ نشینوں اور کاہنوں اور مذہبی لیڈروں سے اس کی حقیقی تاویل دریافت کرتا ہے۔
بادشاہ نے اس خواب کی تعبیر چاہی اور اس کے ارد گرد بیٹھنے والے حاشیہ نشین اور درباری مذہبی لیڈر ان خوابوں کی تعبیر نہ بتا سکے۔ یا انہوں نے محسوس تو کرلیا تھا کہ ملک کو کچھ مشکلات در پیش آنے والی ہیں لیکن وہ بادشاہ کے سامنے کسی بدشگونی کے اظہار کی جرات نہ کرسکے۔ شاہی درباریوں کا یہ طریقہ کار ہوتا ہے کہ وہ بات کو ٹال دیتے ہیں اور یا جو بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے ان اہم خوابوں پر ایسا ہی تبصرہ کیا کہ یہ خواب ہائے پریشان ہیں اور ان کو ان تاویل کی کوئی سمجھ نہیں آرہی ہے۔ کیونکہ ان خوابوں میں کوئی واضح اشارہ نہیں ہے۔
یہاں تک تین خوابوں کے ساتھ ہمارا واسطہ پڑچکا ہے۔ حضرت یوسف کا خواب ، یوسف کے دو قیدی ساتھیوں کے خواب ، اور با بادشاہ وقت کا خواب۔ ان خوابوں کی تعبیر اور اور ان خوابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں مصر اور مصر سے باہر اردگرد کی دنیا میں تعبیر خواب کا فن بہت ہی زوروں پر تھا اور اللہ نے حضرت یوسف کو اپنی جانب سے جو صلاحیت دی ، کہ وہ خوابوں کی تعبیر تک پہنچ جاتے تھے ، وہ ایک ایسا کامل تھا جو روح عصر تھا۔ اور تمام انبیاء کو جو بھی معجزات دیے جاتے ہیں وہ ان کے عصری ماحول کی مناسبت سے ہوتے ہیں۔ تو کیا خوابوں کی تعبیر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لیے ایک معجزہ تھا۔ یہاں فی ظلال القرآن می ہم یایس بحثیں نہیں چھیڑتے۔ بہرحال بادشاہ نے خواب دیکھا ہے اور اس کی تعبیر کی تلاش ہے۔
يوسف 12:45
یہاں بچ جانے والے قیدی ساتھی کو حضرت یوسف یاد آجاتے ہیں۔ اس سے قبل شیطان نے اس سے حضرت یوسف کو بھلا دیا تھا اور یہ شخص محل کی ہماہمی ، مہمانوں شرابوں اور عیش و طرب میں مصروف ہوگیا تھا۔ اب اسے حضرت یوسف یاد آتے ہیں جنہوں نے اس سے پہلے تعبیر بتائی تھی اور وہ حقیقت کی طرح نمودار ہوئی تھی۔
یہ شخص کہتا ہے کہ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اس کی تاویل کیا ہے۔ اب یہاں پردہ گرتے ہی یہ منظر ختم ہوجاتا ہے۔ جب پردہ اٹھتا ہے تو ہم جیل میں حضرت یوسف کا مکالمہ سنتے ہیں (اگلی آیات)
يوسف 12:46
یہاں یہ شخص یوسف کے لیے صدیق کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ یعنی بکثرت سچائی بولنے والے یہ لفظ اس لیے استعمال کرتا ہے کہ اس دیکھ لیا کہ حضرت اعلی درجے کے صدیق ہیں۔ اور پھر بادشاہ کا خواب نقل کردیتا ہے۔ افتنا۔ ۔۔۔
یہ شخص خواب کے الفاظ پورے کے پورے نقل کرتا ہے کیونکہ خواب کی تعبیر چاہتا ہے۔ لہذا پورا خواب بتانا ضروری ہے۔ چناچہ وہ خواب لفظ بلفظ نقل کرتا ہے۔
يوسف 12:47
یہاں حضرت یوسف خواب کی تعبیر بھی بتاتے ہیں اور ساتھ ہی تجاویز اور مشورے بھی دیتے ہیں۔
یوسف نے کہا سات برس تک لگاتار تم کھیتی باڑی کرتے رہوگے ، یعنی مسلسل اور پے در پے۔ یہ سرسبز اور شاداب سال ہوں گے اور ان کی طرف " بقرات سمان " سے اشارہ کیا گیا تھا۔
اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو ان میں سے بس تھوڑا سا حصہ ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے ، نکالو اور باقی کو اس کی بالیوں ہی میں رہنے دو ۔ یعنی ان سالوں میں جو فصل تم کاٹو اسے خوشوں کے اندر چھوڑ دو تاکہ وہ حشرات ارض اور دوسرے موسمی اثرات سے محفوظ رہیں۔ ہاں جسے تم نے استعمال کرنا ہے اسے صاف کرو لیکن استعمال شدہ حصہ تھوڑا ہونا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ غلہ مشکل وقت کے لیے بچ جائے۔
يوسف 12:48
یہ سات سال اس طرح سخت ہوں گے کہ ان میں زرعی پیداوار نہ ہوگی۔ یہ سال سب کچھ کھا جائیں۔ اس سے مقصود یہ ہے کہ یہ سال قحط سالی کے ہوں گے اور ان سے وہی کچھ بچے گا جو تم نے سابقہ سالوں میں محفوظ کرلیا ہوگا۔
يوسف 12:49
اب یہ سات خشک سال ختم ہوں گے ، تمہارا سابقہ محفوظ غلہ بھی ختم ہوگا اور اب سرسبزی اور شادابی کا دور لوٹ آئے گا۔ بارشیں ہوں گی ، پانی اور فصل زیادہ ہوں گے ، انگوروں کی فصل بکثرت ہوگی اور لوگ ان کا جوس نکالیں گے شراب بنائیں گے۔ اسی طرح تل اور زیتون اور دوسرے مغزیات ہوں گے۔ یہاں یہ بات پیش نظر رہے کہ سات سالہ خشک سالی کے بعد خوشحالی کے اس دور کی طرف بادشاہ کے خواب میں کوئی اشارہ نہیں ہے۔ یہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے لدنی اور نبوتی علم کے بل بوتے پر کہہ رہے ہیں ، اس طرح حضرت یوسف نے اس شاہی فرستادے کو خوشخبری دی کہ سات سالہ مشکل دور کے بعد وسیع پیمانے پر خوشحالی کا دور آئے گا تاکہ وہ بادشاہ کو اس کی اطلاع دے۔
يوسف 12:50
اب یہاں ہمارے سامنے ایک دوسرا منظر آتا ہے اور ان دونوں مناظر کے درمیان ایک خلا ہے۔ یہ خلا انسانی تخیل خود بھر دیتا ہے۔ اب ہم دوبارہ شاہی دربار میں ہیں۔ یہاں فرستادہ شاہی نے مکمل رپورٹ دے دی ہے۔ خواب کی تعبیر بتا دی گئی ہے۔ اب اس نے بادشاہ کو حضرت یوسف کی ناجائز سزا کے بارے میں بھی بتا دیا ہے۔ لیکن سیاق کلام میں یہ باتیں مذکور نہیں ہیں۔ ہمارے سامنے بادشاہ کی خواہش آتی ہے۔
وَقَالَ الْمَلِكُ ائْتُوْنِيْ بِهٖ : بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاؤ۔
مزید تفصیلات ترک کردی جاتی ہیں۔ بادشاہ کا حکم ہے۔ ہر کا رہ خود حضرت یوسف کے پاس پہنچتا ہے۔ لیکن حضرت یوسف ہر کارے کو لوٹا دیتے ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ ہر کا رہ وہی ساقی ہے یا کوئی اور ہے۔ شاہی اوامر کا نفاذ شاید کسی اور کے ذمے ہو۔ لیکن حضرت یوسف طویل قید کے بعد بھی قید خانے سے نکلنے میں جلدی نہیں فرماتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مقدمے کا صحیح فیصلہ ہو ، احقاق حق ہو اور غلط کار لوگوں کی سازشیں بےنقاب ہوں اور وہ باعزت طور پر بری ہوکر نکلیں۔ یہ اطمینان قلب اور یہ طمانیت صرف ربانی تربیت کے نتیجے میں آسکتی ہے۔ اب وہ اس قدر پختہ کار ہوگئے ہیں ان کے مزاج میں عجلت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
حضرت یوسف کی سنجیدگہ اور پختہ کاری اور طمانیت دونوں مواقف میں واضح ہوتی ہے ، پہلے انہوں نے ساقی کو صرف یہ کہا کہ اپنے رب کے پاس میرا تذکرہ کردے۔ اور دوسرے میں انہوں نے رہائی کے احکام کے باوجود یہ کہہ دیا کہ پہلے میرے مقدمے کی تحقیقات کرو ، لیکن پہلے موقف اور دوسرے موقف میں فرق ہے کیونکہ چند سالوں کی قید اور تربیت نے ان کو مزید پختہ کار بنا دیا ہے۔
حضرت یوسف نے رہائی کے شاہی احکام کو اس لیے مسترد کیا کہ بادشاہ کو صحیح طرح معلوم تو ہوجائے کہ ان کے معاملے کی حقیقت کیا ہے اور ان عورتوں کے الزامات کی حقیقت کیا ہے ؟ حضرت یوسف نے عورتوں کے واقعات کی طرف اشارہ کرکے گویا یہ کہہ دیا کہ تحقیقات ہونے پر وہ عورتیں اصل صورت حال بتا سکتی ہیں جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ یہ تحقیقات یوسف کی عدم موجودگی میں ہو تاکہ یوسف کی شاہی دربار میں موجودگی غیر جانبدارانہ تحقیقات کو متاثر نہ کردے۔ یہ سب اس لیے کہ حضرت یوسف کو اپنی بےگناہی کا یقین تھا اور وہ مطمئن تھے کہ نتیجہ لازما ان کے حق میں ہوگا۔ کیونکہ سچائی چھپ نہیں سکتی ، نہ اسے دیر تک چھپایا جاسکتا ہے۔
قرآن کریم نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان سے لفظ رب استعمال کرایا ہے اور اسے مخاطب کی طرف مضاف کیا ہے (ربک) اس لیے کہ حضرت یوسف کا رب تو اللہ ہے جبکہ اس فرستادے کا رب بادشاہ جس کے نظام حکومت کا وہ کارندہ ہے اس سے رب کا یہ مفہوم سامنے آتا ہے کہ حکمران بھی رب ہوتا ہے۔
يوسف 12:51
اب یہ فرستادہ واپس ہوتا ہے ، رپورٹ دیتا ہے ، لیکن قرآن کریم کی درمیانی کڑیاں انسانی تخیل پر چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقاتی مجلس کا منظر :
قَالَ مَا خَطْبُكُنَّ اِذْ رَاوَدْتُّنَّ يُوْسُفَ عَنْ نَّفْسِهٖ ۭ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوْۗءٍ ۭ قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا تمہارا کیا تجربہ ہے اس وقت کا جب تم نے یوسف کو رجھانے کی کوشش کی تھی ؟
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عزیز مصر کے گھر کیا ہوتا رہا ؟ پھر عورتوں نے اپنی مجلس میں جو گفتگو کی وہ پہلے ریکارڈ ہوچکی ہے۔ نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کسی قوم پر خوشحالی آتی ہے تو اس کے اعلی طبقات کی عورتوں میں اس قسم کی اخلاقی گراوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ اگرچہ ان کا ماحول پسماندہ ہو زیر بحث جاہلیت تو قدیم تاریخ کی جاہلیت ہے لیکن جاہلیت جس دور میں بھی ہو ، وہ جاہلیت ہوتی ہے اور ہر جگہ اس کے خدوخال وہی ہوتے ہیں اور اس کے خوشحال طبقات فسق و فجور میں ڈوب جاتے ہیں۔
اب شاہی دربار میں منعقد ہونے والی تحقیقاتی مجلس میں ان عورتوں کے لیے مقام نہ تھا کہ وہ کوئی اور جھوٹ تصنیف کریں۔
قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ مِنْ سُوء : سب نے یک زبان ہوکر کہا " حاشا للہ " ہم نے تو اس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا۔
یہ حقیقت تھی ، اب ان کے لیے مشکل تھا۔ یہ عورتیں نہایت ہی بدکار اور بےباک تھیں مگر معاملہ اس قدر واضح تھا کہ انکار کی کوئی صورت نہ رہی تھی۔
اب وہ عورت سامنے آتی ہے جو یوسف کی محبت میں گرفتار تھی۔ جو ان سے مایوس ہوگئی تھی لیکن وہ ان کے ساتھ وابستگی کو کاٹ نہ سکی تھی۔ یہ عورت سامنے آتی ہے اور صراحت کے ساتھ اقرار جرم کرتی ہے اور یوسف کی پاکی کی بشارت دیتی ہے۔
قَالَتِ امْرَاَتُ الْعَزِيْزِ الْــٰٔنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ ۡ اَنَا رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ وَاِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ : عزیز کی بیوی بول اٹھی اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی وکشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے۔
اب بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ سچائی سامنے آگئی ہے۔ میں ہی تھی جس نے اسے ورغلانے کی کوشش کی۔
انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین : وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بےشدک وہ بالکل سچا ہے۔ اس نے جس انداز میں شہادت دی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اب بھی حضرت یوسف کی ہمدردی حاصل کرنے کی امدی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت یوسف کے عقائد اور نظریات اس کے دل میں گھر کر گئے ہیں اور وہ ایمان لے آئی ہو۔ اسی لیے وہ کہتی ہے ذٰلِكَ لِيَعْلَمَ اَنِّىْ لَمْ اَخُنْهُ بِالْغَيْبِ وَاَنَّ اللّٰهَ لَايَهْدِيْ كَيْدَ الْخَاۗىِٕنِيْنَ : یہ اس لیے کہ عزیز مصر جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ، اللہ ان کی چالوں کو کامیابی کی راہ پر نہیں ڈالتا۔
يوسف 12:52
اس اعتراف کو سیاق کلام میں اس طرح قلم بند کیا گیا ہے کہ اس کے پس منظر میں جذبات کا ایک طوفان نظر آتا ہے ، جس طرح اس سے قبل اس نے واضح اعتراف کیا اور نہایت ہی خوبصورت انداز میں۔
انا راودتہ عن نفسہ وانہ لمن الصدقین " وہ میں ہی تھی جس نے اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے "۔ یہ حضرت یوسف کی پاکدامنی اور مکمل جرات کی واضح شہادت تھی۔ یہ شہادت اس نے بڑی جرات سے دی اور اس کی کوئی پروا نہیں کی کہ اس کی ذات پر اس کے کیا اثرت پڑتے ہیں۔
کیا یہ عورت بادشاہ اور اس کے درباریوں کے ساتھ صرف سچائی کی خاطر شہادت دی ؟ ہاں ایک دوسرا مقصد اور خواہش بھی اس کے دل میں ضرور ہے۔ وہ یہ کہ یہ مومن شخص جسے اس نے جسمانی مقاصد کے لیے پھسلانے کی سعی کی تھی ، اب اس شہادت اور اقرار پر اس کا احترام کرے۔ کیونکہ جب وہ جیل میں غائب تھا تو اس کے بعد وہ ایمان لے آئی ہے۔ یہ ہے مفہوم۔
ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب " یہ کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کی "
اس کے بعد اس عورت کی طرف سے حالات کو درست کرنے کی مزید کوشش کی جاتی ہے کہ یہ کہتی ہے۔
و ان اللہ لایھدی کید الخائنین " اللہ خیانت کرنے والوں کی سازشوں کو کامیاب نہیں کرتا " یعنی یہ اس حقیقت کا اعتراف کرتی ہے جسے حضرت یوسف پسند کرتے ہیں۔
یہ ایک قدم اور آگے بڑھتی ہے :
وَمَآ اُبَرِّئُ نَفْسِيْ ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْۗءِ اِلَّا مَارَحِمَ رَبِّيْ ۭ اِنَّ رَبِّيْ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: میں کچھ اپنے نفس کی برات نہیں کرتی ، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے الا یہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو ، بیشک میرا رب بڑا غفور و رحیم ہے۔
یہ عورت محبت کرنے والی تھی۔ یہ اس ذات کے ساتھ جاہلیت میں بھی جاہلیت میں بھی جاہلانہ محبت کرتی تھی اور اب اسلام میں بھی اس کے ساتھ محبت کرتی ہے۔ چناچہ اس کی سر توڑ کوشش ہے کہ وہ کسی طرح حضرت یوسف سے کوئی کلمہ خیر یا توجہ ، یا خوشی حاصل کرلے۔
یہ اس قصے میں انسانی جذبات کا عنصر ہے۔ یہ محض فنکاری کی وجہ سے یہاں نہیں لایا گیا۔ محض عبرت اور نصیحت کے لیے اسے یہاں لایا گیا ہے۔ اس لیے تاکہ اس کے ذریعے نظریات و عقائد کو پھیلایا جائے اور دعوت اسلامی کو وسعت دی جائے۔ اس قصے میں جہاں جہاں انسانی جذبات ، میلانات اور انسانی تخیل و وجدان کو لایا گیا وہ نہایت ہی نرم اور محبت بھرے اور خوبصورت انداز میں لایا گیا ہے۔ ایسے انداز میں کہ تمام موثرات ، تمام واقعات ، تمام کرداروں اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگ ہو ، اور جس ماحول کی طرف اشارہ ہو وہ قدرتی نظر آئے۔
یہاں آ کر حضرت یوسف کے زمانہ اسیری کی مشکلات ختم ہوجاتی ہیں۔ اب حضرت یوسف کو عزت و اقتدار دے کر آزمایا جائے گا۔ انسان کے لیے ہر حال آزمائش۔
یہاں یہ پاراہ اختتام کو پہنچتا ہے اور مزید واقعات اگلے پارے میں دیکھیں۔
بٹ گرام 2 نومبر 1992 ء
يوسف 12:53
پارہ 13 ایک نظر میں
یہ پارہ سورة یوسف کے بقیہ حصے اور سورة رعد اور سورة ابراہیم پر مشتمل ہے۔ یہ دونوں سورتیں بھی مکی ہیں۔ گویا یہ پورا پارہ مکی قرآن پر مشتمل ہے اور اس میں مکی سورتوں کی تمام خصوصیات موجود ہیں۔
سورة رعد اور سورة ابراہیم پر تبصرے ہم آئندہ پر اٹھائے رکھتے ہیں۔ رہی سورة یوسف تو اس کے بقیہ حصے کے مطالعہ سے قبل امید ہے کہ قارئین گذشتہ پارے میں سورة یوسف پر کئے گئے تبصرہ کو ذہن میں رکھیں گے۔
اس پارے میں سورة یوسف کا باقی حصہ ہے اور اس کے اندر جا بجا تبصرے ہیں۔ اور آخر میں اس پوری سورة پر ایک تبصرہ ہے۔ اس حصے میں ہم قصے کے مرکزی کردار حضرت یوسف (علیہ السلام) کی ذاتی زندگی اور ان کی شخصیت کے بعض نئے پہلوؤں سے متعارف ہوتے ہیں یعنی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت اب ذرا مختلف روپ میں سامنے آتی ہے ۔ اس شخصیت کے ان بنیادی عناصر ترکیبی کے ساتھ ساتھ جن کا ذکر ہم نے اس قصے کے کرداروں کے بیان کے ضمن میں کیا ہے ، یہاں اس جدید مرحلے میں ان کی شخصیت کے کچھ نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ یہ شخصیت آغاز سے لے کر آخر تک ایک ہی سے خدو خال رکھتی ہے لیکن اس نئے مرحلے میں اس کی کچھ نئی خوبیاں سامنے آتی ہیں اور بظاہر یہ نئی خصوصیات کئی نظر آتی ہیں۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت اپنے نشوونما اور بات اور واقعات اور ان مشکلات کی وجہ سے جو ان کو پیش آتی رہیں اب ایک مکمل شخصیت ہے۔ شخصیت کی یہ تکمیل خالص ربانی تربیت کے تحت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں وہ ایک بندہ صالح بن کر سامنے آتے ہیں۔ اس بندہ کی صالح کو تیار ہی اس لئے کیا جارہا ہے کہ زمین میں اس کو تمکن حاصل ہو اور مشرق وسطیٰ کے ایک ایسے ملک میں اسے اقتدار ملے جہاں سے ہر چیز ہر طرف سپلائی جاتی ہے۔
اس شخصیت کے نئے خدو خال کیا ہیں ؟ سب سے پہلے یہ کہ ان کا تعلق باللہ بہت گہرا ہے اور وہ راضی برضا ہیں۔ وہ اللہ کے ہوگئے ہیں اور ان کو اللہ پر پورا پورا بھروسہ ہے۔ انہوں نے تمام دنیاوی اقدار کا لیا وہ اتار دیا ہے ، زمین کے تمام بندھنوں سے آزاد ہوگئے ہیں۔ وہ اس دنیا کے حکمرانوں سے بےنیاز ہیں۔ یہ دنیاوی قدریں اور یہ قوتیں اس شخصیت کے ہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کیونکہ اس شخصیت نے اب صرف اللہ سے لو لگا لی ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کی شخصیت میں یہ اوصاف اس وقت سامنے آتے ہیں جب بادشاہ مصر کے فرستادے قید خانے میں ان کے پاس آتے ہیں اور اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ بادشاہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ تو حضرت یوسف (علیہ السلام) اس موقع پر آپے سے باہر نہیں ہوجاتے۔ نہ وہ اس قید خانے کی تاریکیوں سے نکلنے اور بادشاہ وقت سے ملاقات کرنے کے لئے کسی بےتابی کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ایسے مواقع پر بےتابی اور جلد بازی کا اظہار ہو ہی جاتا ہے خصوصاً جبکہ ایک شخص قید خانے کی کوٹھڑی میں بند ہو۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کردار میں اس تبدیلی کو تب ہی سمجھا جاسکتا ہے جب ہم ذرا چند سال پیچھے ہٹ کر حالات کا معالعہ کریں۔ چند سال پیشتر خود انہوں نے اس شخص سے جو رہا ہونے والا تھا ، درخواست کی تھی کہ بادشاہ کے سامنے ان کے کیس کو پیش کریں۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ اس طرح اس شخصیت کی قدریں بدل گئی ہیں ، ایمان تو اپنی جگہ پہلے کی طرح موجود ہے ، لیکن اب ان کی شخصیت میں ایک طمانیت ہے ۔ وہ اب بھی اللہ کی تقدیر پر راضی ہیں اور تقدیر کے ساتھ چل رہے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ تقدیر اپنا کام کیسے کرتی ہے ۔ ان کو وہ اطمینان حاصل ہے جس کے طلبگار ان کے جد اعلیٰ تھے جنہوں نے خدا سے مطالبہ کیا تھا “ اے رب ، مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے ؟ “ تو رب تعالیٰ نے فرمایا : “ کیا تجھے یقین نہیں ہے ؟ “ لیکن انہوں نے کہا “ یقین تو ہے لیکن میں قلبی اطمینان چاہتا ہوں ”۔
یہ ہے وہ اطمینان جو ربانی تربیت نے اس بندۂ مختار کی دل میں انڈیل دیا ہے۔ ابتلاؤں سے گزار کر ، مشکلات میں مبتلا کر کے ، مختلف حالات اور مشاہدوں سے گزار کر اور علم و معرفت اور یقین و اطمینان عطا کر کے وہ اس مقام تک پہنچے ہیں۔
اس مرحلے کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کے کردار میں یہ صفت بہت واضح ہے ۔ یہاں تک اس سورة کے آخری تبصرے ہیں۔ وہ جب اپنے رب کے ساتھ مناجات میں ہیں تو وہ تمام دنیاوی قدروں سے بےنیاز نہیں ۔ فرماتے ہیں :
رب قد اتیتنی من الملک و علمتنی من تاویل الاحادیث فاطر السموت والارض انت ولی فی الدنیا والاخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصلحین (101)
“ اے رب تو نے مجھے مملکت عطا کردی ہے ، بات کی تہہ تک پہنچنا سکھا دیا ہے۔ دنیا و آخرت میں تو ہی میرا والی ہے۔ مجھے ایک مسلمان کی طرح موت دے اور صالحین کے ساتھ ملا دے ”۔
اب رہیں وہ تعصبات اور تبصرے جو اس سورة میں آئے ہیں ان کے بارے میں ہم بہت کچھ کہہ آئے ہیں اور مزید تشریحات تفسیر آیات میں آئیں گی۔ یہاں تو فقط اس تبدیلی کا تذکرہ مطلوب تھا جو اس بندۂ مختار کی شخصیت میں پیدا ہوئی جو اس قصے میں بڑا کردار ہیں۔ اس تبدیلی کے ساتھ دراصل ان کی شخصیت اب ایک مکمل شخصیت ہے۔ نیز یہ خصوصیت وہ ہے جسے اس پورے حصے میں اجاگر کرنا مطلوب ہے کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے احیائے اسلام کا کام کرنا ہے اور یہی قرآن کا منہاج انقلاب ہے کہ وہ قارئین کے ذہن میں اصل مقصد بٹھا دیتا ہے۔
اب ہم آیات کی تشریح و تفسیر کی طرف آتے ہیں۔
درس نمبر 109 ایک نظر میں
اس سبق میں قصہ یوسف (علیہ السلام) ذرا آگے بڑھ رہا ہے۔ اس قصے کے چار بڑے مناظر میں سے یہ چوتھا منظر ہے۔ پچھلے پارے میں اس قصے کی تین کڑیاں ختم ہوگئی تھیں۔ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) قید خانے سے باہر آگئے ہیں۔ بادشاہ نے خود درخواست کی ہے کہ وہ انہیں ایک اہم منصب سپرد کرنے والے ہیں۔ ان کے اس نئے منصب کی ذمہ داریوں کے بارے میں یہاں اب بات ہوگی۔
یہ سبق سابقہ منظر کے آخری فقرے سے شروع ہوتا ہے۔ گذشتہ منظر کی آخری کڑی یہ تھی کہ اس میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خواہش کے مطابق بادشاہ نے ان عورتوں سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں انکوائری کی تھی جنہوں نے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ وہ اسباب نکھر کر سامنے آجائیں جن کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ناحق جیل جانا پڑا تھا تا کہ ان کی بےگناہی کا اعلان ہوجائے اور یہ بات ان کے نئے منصب کے لئے ضروری تھی تا کہ وہ اپنی نئی ذمہ داریاں نہایت اطمینان ، نہایت وثوق اور اعتماد سے پوری کریں۔ ان کا نفس مطمئن ہو اور وہ اعتماد کے ساتھ امور مملکت سر انجام دیں۔ اب ان کی دعوتی زندگی دو قسم کی سر گرمیوں پر مشتمل تھی۔ ایک مملکت کی ذمہ داریاں اور ایک دعوت اسلامی کی ذمہ داریاں ۔ لہٰذا مناسب یہ تھا کہ ان دہری ذمہ داریوں کے اس دور میں وہ ماضی کے گردوغبار کو جھاڑ کر اور ہلکے پھلکے ہو کر سامنے آئیں۔
ان کی شرافت یہ تھی کہ انہوں نے اس مرحلے پر عزیز مصر کی عورت کے بارے میں کچھ نہیں کہا ، بلکہ اس کی طرف کوئی اشارہ تک نہیں کیا۔ صرف یہ کہا کہ بادشاہ کو ان عورتوں کے معاملے میں تحقیق کرنا چاہئے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے۔ لیکن عزیز مصر کی بیوی خود سامنے آتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ حقیقت کیا تھی اور ہوا کیا تھا ؟
قال ما خطبکن ۔۔۔۔۔۔۔ ان ربی غفور رحیم ( یوسف 51 تا 53 ) “ اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اسے پھیلانے کی کوشش کی تھی ، بیشک وہ بالکل سچا ہے ، اس سے میری غرض یہ تھی کہ یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اسی سے خیانت نہیں کی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں اللہ ان کی چالوں کو کامیابی کی راہ پر نہیں ڈالتا۔ میں کچھ اپنے نفس کی براءت نہیں کرتی۔ نفس بدی پر اکساتا ہی ہے الایہ کہ کسی پر میرے رب کی رحمت ہو ، بیشک میرا بڑا غفور و رحیم ہے ”۔
یہاں آکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا المناک ماضی ختم ہوجاتا ہے اور اب خوشحالی ، عزت اور اقتدار کا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔
آیت نمبر 53 تا 57
اس طرح ہم نے اس سرزمین میں یوسف (علیہ السلام) کے لئے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔ اسی طرح ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں ، نوازتے ہیں ، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا ، اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے ”۔
بادشاہ کے ہاں یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی بھی ہوگئی ، اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے خواب کی سچی تعبیر بھی معلوم ہوگئی ، بادشاہ نے یہ بھی دیکھ لیا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے عورتوں کے معاملے کی چھان بین کس طرح کرالی۔ نیز ان کی شرافت اور عزت نفس بھی اس کے سامنے کھل کر ثابت ہوگئی کہ یہ شخص براءت کے بغیر جیل خانے سے بھی باہر آنا گوارا نہیں کرتا ، نہ ہی وہ بادشاہ سے ملاقات کے لئے بےتاب ہے۔ بادشاہ بھی کوئی معمولی بادشاہ نہ تھا بلکہ مصر جیسے بڑے ملک کا بادشاہ تھا۔ انہوں نے اس موقعے پر نہایت ہی شریف اور کریم شخص کا موقف اختیار کیا جو الزام کے ہوتے ہوئے جیل سے باہر آنا گوارا نہیں کرتا۔ وہ حصول مناصب ، بادشاہ سے ملاقات اور جیل کی مشکلات سے ربانی سے قبل اپنی عزت اور شہرت پر سے داغ ہٹانا چاہتا ہے۔ اور یہ کچھ وہ بادشاہ کے دربار میں قدم رکھنے سے قبل چاہتا ہے۔ ان تمام امور نے بادشاہ کے دل میں ان کی وقعت اور اہمیت کو اور بڑھا دیا اس لئے اس نے کہا :
وقال الملک ئتونی بہ استخلصہ لنفسی (12 : 54) بادشاہ نے کہا “ انہیں میرے پاس لاؤ تا کہ میں ان کو اپنے لئے مخصوص کرلوں ”۔ بادشاہ وقت حضرت یوسف (علیہ السلام) کو محض رہائی کے لئے طلب نہیں فرماتے یا محض اس لئے نہیں بلا رہے کہ وہ نفسیات اور تعبیر خواب کے ماہر ہیں ، نہ اس لئے بلا رہے ہیں کہ ان کو بادشاہ سلامت کی رضا مندی کی اطلاع دے دیں اور حضرت یوسف (علیہ السلام) پھولے نہ سمائیں ۔ ان مقاصد کے لئے نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ بادشاہ کے مخصوص مشیر اور ذاتی دوست اور معتمد علیہ ہوں۔
ہمیں ان لوگوں کی حالت پر رونا آتا ہے جو اپنی عزت اور شرافت کو بادشاہوں کے قوموں میں نچھاور کرتے ہیں۔ یہ لوگ آزاد اور بری الذمہ ہیں لیکن یہ خود غلامی کا جوا اپنے ہاتھ سے لے کر اپنی گردنوں میں ڈالتے ہیں اور بڑوں کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں یا ان کی طرف سے تعریف کا ایک لفظ سن کر خوش ہوتے ہیں اور پھر نہایت ہی مطیع فرمان بن کر رہتے ہیں بلکہ وہ اپنے آپ کو بڑوں کے سامنے دلیل کرتے ہیں اور بچھے جاتے ہیں۔ کاش اس قسم کے لوگ سورة یوسف پڑھتے اور معلوم کرتے کہ خودداری ، عزت نفس اور شرافت اور سنجیدگی میں کیا مزہ ہے۔ حالانکہ خود داری ، عزت نفس اور کرامت کے فائدے چاپلوسی ، غلامی اور ذلت کی زندگی سے زیادہ ہیں۔ بہرحال بادشاہ نے یہ حکم دیا۔
وقال الملک ئتونی بہ استخلصہ لنفسی (12 : 54) بادشاہ نے کہا “ انہیں میرے پاس لاؤ تا کہ میں ان کو اپنے لئے مخصوص کرلوں ”۔
اب یہاں سیاق کلام میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی رہائی وغیرہ کی کڑیاں حذف کردی گئی ہیں اور انسانی تخیل پر چھوڑ دی گئی ہیں۔
فلما کلمہ قال انک الیوم لدینا مکین امین (12 : 54) “ اب آپ ہمارے ہاں قدرو منزلت رکھتے ہیں اور ہمیں آپ کی امانت پر بھروسہ ہے ” ۔ جب یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ سے گفتگو کی تو اسے معلوم ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کی علامات جو کچھ بتا رہی تھیں وہ ان کے مطابق سچے ہیں تو بادشاہ نے اعلان کردیا کہ یوسف (علیہ السلام) ہماری مملکت میں اب صاحب قدرو منزلت ہیں۔ اب یوسف (علیہ السلام) عبرانی غلام نہیں ہیں ، نہ ہی وہ اس تہمت میں گرفتار ملزم ہیں جو عزیز مصر کی بیوی نے ان پر لگائی تھی۔ اب وہ ایک باعزت شخصیت ہیں اور بادشاہ کے ہاں انہیں اونچا مقام حاصل ہے اور وہ بہت ہی امانت دار شخص ہیں۔
بادشاہ کی طرف سے اس اعلان کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) کا رویہ کیا رہا۔ انہوں نے بادشاہ کے سامنے سجدۂ شکر ادا نہیں کیا۔ جیسا کہ عموماً بادشاہوں کے مصاحب سجدے کرتے ہیں۔ نہ انہوں نے تملق اور چاپلوسی سے کہا اے میرے آقا ! تم زندہ رہو اور یہ غلام تمہارا خادم رہے گا۔ یا یہ کہ میں تمہارا امین ، خادم اور غلام ہوں۔ بلکہ تملق اور چاپلوسی کے بجائے انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ مملکت کو پیش آنے والی مشکلات میں وہ جو خدمات کرسکتے ہیں اس کے لئے وہ حاضر ہیں ان آنے والے حالات کے مطابق جو تعبیر خواب کے نتیجے میں لازماً آنے والے ہیں کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پختہ یقین تھا کہ آنے والی مشکلات کو صرف وہی دیکھ رہے ہیں اور صرف وہی ان کے لئے تیاری اور پیش بندی کرسکتے ہیں ورنہ لوگ قحط کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ صرف یوسف (علیہ السلام) ہی تھے جو اپنی دیانت وامانت کی وجہ سے ملک کو بچا سکتے تھے۔
يوسف 12:54
قال اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم (12 : 55) یوسف (علیہ السلام) نے کہا “ ملک کے خزانے میرے پیرو کیجئے ، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں ”۔
آئندہ کی مہم کا خلاصہ یہ ہے کہ سات سال سرسبزی کے ہیں اور ان میں اس بات کی ضرورت ہے کہ پیداوار کے ایک ۔۔۔۔۔ بچایا جائے ، امور مملکت کو اچھے طریقے سے چلایا جائے ، مملکت کے تمام شعبوں کو درست کیا جائے اور خوشحالی کے دور میں ایسی پلاننگ کی جائے کہ بدحالی اور خشک سالی میں اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اسی لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایسی ہی صلاحیتوں کا ذکر کیا اور جو ایسے حالات کے لئے ضروری تھیں یعنی حفیظ وعلیم۔ اور مصر اور تمام علاقائی ، ممالک کے لئے یہ انتظام مفید تھا۔ اس لئے کہا انی حفیظ علیم (12 : 55) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ مطالبہ اس لئے نہ تھا کہ وہ وزارت خزانہ لے کر اپنے لئے کچھ مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ ایک صاحب رائے دانشور تھے اور انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ اس ڈیوٹی کے لئے ان سے زیادہ اور کوئی موزوں شخص نہیں ہے۔ آنے والا دور ایک عبرانی دور ہوگا کیونکہ پوری مصری قوم اور پڑوسی اقوام کے لئے غلے اور دوسری رصد کے انتظام کا عظیم مسئلہ در پیش ہوگا۔ سات اچھے سالوں میں کفایت شعاری اور سات مشکل سالوں میں سپلائی کو بحال رکھنے کا عظیم انتظام درپیش تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی ذات کے لئے کچھ طلب نہ فرماتے تھے بلکہ یہ تو وہ عظیم ذمہ داری تھی جس سے ہر ایک بھاگ رہا تھا ، کوئی شخص بھی خوشی سے غنیمت سمجھ کر اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔ ایک تو یہ کہ شاہی نظام میں گردن زدنی کا بھی خطرہ تھا ، دوسرے یہ کہ عوام الناس کو بھوک اور افلاس کی حالت میں کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب عوام بھوکے ہوں تو وہ مجنون کی طرح اہلکاروں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ یہ تمام امکانات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پیش نظر تھے۔
یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا اور مطالبہ کیا کہ “ مجھے زمین کے خزانوں پر نگراں کر دیجئے ، میں حفیظ وعلیم ہوں ”۔ کیا ان کی طرف سے یہ منصب کا مطالبہ نہیں ہے جو اسلامی نظام میں سخت معیوب ہوتا ہے ۔ جبکہ یہ تو کسی منصب پر مقرر کرنے کا صریح مطالبہ ہے ، اور حدیث میں آتا ہے (خدا کی قسم ہم اس معاملے کو اس شخص کے حوالے نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرے ) (متفق علیہ ) ۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہاں خود بتایا ہے کہ وہ حفیظ اور علیم ہیں۔ یہ ایک گونہ اعلان تزکیہ نفس ہے اور خود قرآن میں آتا ہے۔ فلا تزکوا انفسکم “ اپنی پاکی داماں کی حمایت مت کرو ”۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ انتظامی اصول حضور اکرم ﷺ کے دور میں تو نافذ ہوئے لیکن ضروری نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں بھی یہ ممنوع ہوں۔ کیونکہ تمام پیغمبروں کا اصول دین پر تو اتفاق رہا ہے لیکن انتظامی امور اور شرعی قوانین ہر ایک کے ہاں جدا تھے۔
لیکن ہم یہ سر سری جواب نہیں دیتے کیونکہ اس مسئلے کو ذرا گہرائی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے نتائج نہایت گہرے اور دور رس ہیں۔ اس کے کچھ اور پہلو اور اعتبارات ہیں ، اسے ان پہلوؤں سے وسیع تناظر میں دیکھنا ضروری ہے تا کہ ہم احکام فقیہہ کے استنباط میں اس وسیع نقطہ نظر سے مسائل کا استنباط کرسکیں اور فقہی احکام کو بھی تحریکی اندازدے سکیں۔ کیونکہ فقہی احکام ، ان کے استنباط کا طریق کار اور اصول فقہ بھی مسلمانوں کے دور جمود اور زوال میں منجمد ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کو بھی تحریکی Daynamic انداز دینا ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی فقہ محض خلاء میں وجود میں نہیں آئی نہ اسے محض خلاء میں سمجھا یا نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ فقہ اسلامی کا ارتقاء ایک ارتقاء پذیر اسلامی معاشرے کے اندر ہوا ہے۔ اس معاشرے کو اپنے ارتقائی دور میں اسلامی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ یہ فقہ اسلامی نہ تھی جس نے کسی اسلامی معاشرے کو جنم دیا ہو ، بلکہ ایک اسلامی معاشرہ کے اندر اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اسلامی فقہ ارتقاء پذیر ہوئی۔ یہ دو عظیم حقائق ہیں اور اسلامی تاریخ ان پر گواہ ہے۔ اسلامی معاشرے اور تخلیق فقہ کے باہم تعلق کو جب تک نہ سمجھیں گے اس وقت تک ہم اسلامی فقہ کو سمجھ ہی نہیں سکتے اور نہ اسلامی فقہ کی تحریکی اور ارتقائی حیثیت کو سمجھ سکتے ہیں۔
وہ لوگ جو آج ان نصوص کو پڑھتے اور فقہ کے مدون احکام کو لیتے ہیں اور ان کے پیش نظریہ حقیقت نہیں ہوتی کہ پہلی اسلامی معاشرہ وجود میں آیا تھا اور پھر فقہ وجود میں آئی اور وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ نصوص کن حالات میں نازل ہوئیں اور اسلامی فقہی مسائل کس طرح مرتب ہوئے ، خصوصاً وہ ماحول ، وہ معاشرہ اور وہ مزاج جن میں یہ نصوص نازل ہوئیں ان کو بھی پیش نظر نہیں رکھتے تو اس قسم کے لوگ اس قانون کو محض خلاء میں نافذ کرنا چاہتے ہیں ، حالانکہ کوئی قانونی نظام کسی خلاء میں نافذ نہیں ہوا کرتا بلکہ وہ معاشرے میں نافذ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دراصل فقہاء نہیں ہیں نہ یہ لوگ ماہرین قانون اسلامی ہیں۔ یہ لوگ در حقیقت اسلامی نظام کے مزاج ہی کو نہیں سمجھے نہ اس دین کی حقیقت کو سمجھے ہیں۔
تحریکی فقہ دراصل اس فقہ سے مختلف ہے جو کتابوں کے اوراق میں ہے ، اگرچہ فقہ تحریکی بھی ان اصول اور نصوص پر مبنی ہوتا ہے جن پر فقہ اوراق مبنی ہے۔ تحریکی فقہ ان حالات پر بھی نظر رکھتی ہے جن میں نصوص قرآن و سنت کا نزول ہوا۔ ایک عملی فقیہ کو نظر آتا ہے کہ شان نزول اور حالات نزول دونوں کو اصل نصوص سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر کسی نص کو ہم ان حالات سے علیحدہ کر کے اس پر غور کریں گے جن میں وہ نازل ہوئی تھی تو ہمارا استنباط اور اجتہاد غلط ہوجائے گا۔ اور اس طرح جو فقہ مرتب ہوگی وہ درست نہ ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ کوئی فقہی حکم خداوندی ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنی جگہ مستقلاً خلاء میں آیا ہو اور جس میں اس وقت کے ماحول اور معاشرے کے اثرات نہ ہوں جن میں وہ پہلی مرتبہ وارد ہوا۔ کوئی فقہی حکم اور اجتہاد چونکہ خلاء میں نہیں ہوا اس لئے وہ خلاء میں نہیں رہ سکتا۔
یہ اصول جو اوپر ہم نے بیان کیا اس کی مثال وہ احکام ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کسی شخص کو اپنی پاکی داماں کا دعویٰ نہیں کرنا چاہئے یا کسی شخص کو اپنے آپ کو کسی منصب کے لئے پیش نہیں کرنا چاہئے۔ یہ احکام اس آیت فلا تزکوا انفسکم “ اپنے نفسوں کی پاکی کا دعویٰ نہ کرو ” اور حضور ﷺ کی حدیث سے ماخوذ ہیں۔ انا واللہ لا تولی ھذا العمل حدا اسالہ “ ہم خدا کی قسم یہ منصب اس شخص کو نہیں دیتے جو اسے مانگتا ہے ”۔
یہ احکام اس معاشرے میں آئے تھے جو ایک اسلامی معاشرہ تھا اور اس اسلامی معاشرے میں ان احکام کو عملاً نافذ بھی کردیا گیا تھا ۔ یہ احکام تھے ہی ایسے معاشرے کے لئے ، تا کہ قائم اسلامی معاشرے کی ضرورت کو پورا کریں ، اس وقت کا قائم اسلامی معاشرہ اپنا ایک تاریخی پس منظر اور اپنا ایک مخصوص عضویاتی ترکیب کا حامل تھا ، اس معاشرے کی اپنی مخصوص اور ذاتی صورت حال تھی۔ یہ دونوں احکام ایسے احکام تھے جنہوں نے ایک مکمل قائم شدہ اسلامی معاشرے کے اندر نافذ ہونا تھا ، انہیں حالات میں وہ نازل ہوئے ۔ یہ خلاء میں نازل نہیں ہوئے تھے ، لہٰذا ان دونوں احکام کو ہم ایک قائم شدہ اسلامی معاشرے میں نافذ کرسکتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جس کی ترکیب ، جس کی اٹھان اور جس کی عضویاتی تحریک اسلامی ہو۔ جب بھی ایسا معاشرہ قائم ہوگا اس میں ایسے احکام اور ان کے مطابق نظام قائم ہوجائے گا۔ اگر کہیں اسلامی معاشرے کا نام و نشان ہی نہ ہو تو ان میں یہ احکام نافذ نہیں ہو سکتے ، محض خلاء میں۔
یہی معاملہ تمام اسلامی احکام کا ہے لیکن ہم اسلام کے دوسرے احکام کے بارے میں یہاں تفصیلات دینا مناسب نہیں سمجھتے۔
سوال یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں لوگ خود اپنے منہ میاں مٹھو کیوں نہیں بنیں گے اور خود اپنے آپ کو امیدوار کیوں نہ بنائیں گے اور وہ اپنے پسندیدہ افراد کے لئے یہ پروپیگنڈہ کیوں نہ کرسکیں گے کہ ان کو مجلس شوریٰ گورنر یا کسی اور منصب کے لئے منتخب کیا جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ جب اسلامی معاشرہ قائم ہوگا تو لوگوں کو اپنی صلاحیت اور افضلیت کے اظہار کے لئے کسی پروپیگنڈے کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ نیز اسلامی معاشرے میں منصب ایک قسم کی ذمہ داری ہے اور کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو خواہ مخواہ کوئی ذمہ داری اپنے سر لینے کے لئے جدو جہد کرے گا الا یہ کہ اللہ کی رضا مندی کے حصول ، خدمت خلق کے ذریعہ حصول ثواب یا معاشرے کے اندر فرائض کی ادائیگی کے لئے اس منصب کی خواہش ہو سکتی ہے لیکن یہ بھی اس طرح کہ کوئی یہ منصب اور ذمہ داری کسی پر ڈال دے۔ جو لوگ خود مطالبہ کرتے ہیں اور مناصب کے پیچھے دوڑتے ہیں یہ ہلکے لوگ ہوتے ہیں اور ان کے پیش نظر ان مناصب سے کچھ اور اغراض حاصل کرنی ہوتی ہیں لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں کو یہ مناصب ہرگز پیش نہ کئے جائیں۔
لیکن یہ حقیقت صرف اس وقت سمجھ میں آسکتی ہے جب اسلامی معاشرے کے قیام اور اس کے مزاج کو سمجھا جائے اور اس کی تشکیل کی نوعیت ذہن میں ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ حرکت اور تحریک کسی بھی اسلامی معاشرے کی جان ہے۔ اسلامی معاشرہ دراصل تحریک اسلامی کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے ، کس طرح ؟
(1) ۔ مثلاً اللہ کی جانب سے ایک پیغام اور عقیدہ نازل ہوتا ہے ۔ ایک رسول اس کی تبلیغ کرتا ہے۔ زمانہ نبوت میں تو رسول بذات خود تبلیغ کرتا تھا ، جبکہ زمانہ نبوت کے بعد اب رسول کی جگہ کوئی داعی اسی عقیدے کی طرف سے دعوت دیتا ہے۔ اس دعوت کو کچھ لوگ قبول کرتے ہیں جبکہ دعوت کے ابتدائی ایام میں نظام حکومت جاہلی ہوتا ہے اور یہ جاہلی نظام حکومت اور یہ جاہلی معاشرہ اس تحریک پر ظلم کرتا ہے اور تشدد اور فتنے اور آزمائش کے دور میں کچھ لوگ تحریک کا ساتھ چھوڑ کر مرتد ہوجاتے ہیں جبکہ بعض لوگ مقابلہ کر کے شہید ہوجاتے ہیں اور بعض انتظار کرتے ہیں اور کام جاری رکھتے ہیں۔
جو لوگ مشکلات برداشت کر کے کام جاری رکھتے ہیں ، اللہ ان کو فتح نصیب کرتا ہے ، یہ لوگ پھر دست قدرت کا آلہ ہوتے ہیں ، ان کو اللہ تعالیٰ تمکن فی الارض اور غلبہ اور اقتدار عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کا مستقل وعدہ ہے ۔ اس طرح یہ لوگ زمین پر حکومت الہیہ قائم کرتے ہیں اور اس میں اللہ کے احکام نافذ کرتے ہیں ۔ یہ اقتدار اور تمکن فی الارج ان لوگوں کی ذات کے لئے نہیں ہوتا بلکہ یہ نصرت اور غلبہ اللہ کے دین کے لئے ہوتا ہے اور زمین پر اللہ کا نظام ربوبیت قائم کرنے کے لئے ہوتا ہے۔
دین کا یہ ہر اول دستہ دین کو لے کر پھر کسی ارضی حدود پر ٹھہرتا نہیں ، نہ کسی قوم اور نسل کی حدود کے اندر اپنے آپ کو محدود کرتا ہے۔ نہ کسی رنگ اور نسل تک محدود ہوتا ہے نہ کسی زبان اور شکل تک محدود ہوتا ہے ، یہ تو بہت ہی کچے اور ناپائیدار عناصر اور محدود دائرے ہیں ، بلکہ یہ ہر اول دستہ اس پیغام کو لے کر اطراف عالم میں پھیلتا چلا جاتا ہے اور پورے کرۂ ارض سے تمام انسانوں کو انسانی غلامی سے آزاد کرتا ہے۔ تمام طاغوتی قوتوں سے ٹکراتا ہے اور پورے کرۂ ارض پر اللہ کی بندگی کا نظام قائم کرتا ہے۔
اس تحریکی عمل کے دوران اس دین کو لے کر تحریک برپا کرنے والے کسی ایک علاقے میں حکومت برپا کر کے رک نہیں جاتے۔ نہ کسی جغرافیائی یا نسلی یا قومی حدود پر وہ رکتے ہیں۔ یہ تحریک لوگوں کی قدریں بدل دیتی ہے۔ معاشرے کے اندر لوگوں کے مرتبہ و مقام کا از سر نو تعین ہوتا ہے۔ تمام اقدار ایمانی پیمانے کے اوپر استوار ہوتی ہے۔ لوگوں کا معاشرے میں تعارف ان جدید اقدار پر ہوتا ہے اور ہر فرد کی قیمت از سر نو متعین ہوتی ہے۔ اسلامی معاشرے میں افراد کی قدرو قیمت اس پر ہوتی ہے کہ انہوں نے اقامت دین کے لئے کس قدر جدو جہد کی ، کس قدر آزمائشیں ان پر آئیں ، تقویٰ ، خدا خوفی ، اخلاق اور صلاحیت کے اعتبار سے وہ کیسے ہیں۔ یہ وہ اقدار ہوتی ہیں جو واقعات کی صورت میں متعین ہوتی ہیں اور اسلامی تحریک ان کا اظہار کرتی ہے اور تمام اسلامی معاشرہ اور اسلامی تحریک ایسے افراد سے واقف ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسے افراد کو اس بات کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی تعریف خود کریں یا کسی منصب اور ذمہ داری کا مطالبہ کریں ، ایک تو ان کو اس بات کی ضرورت ہی پیش نہیں ا آتی۔ دوسرے یہ کہ ان کا تزکیہ اور تربیت اس قدر ہوچکی ہوتی ہے کہ وہ ایسے نہیں کرتے۔
بعض اوقات ، بعض لوگ اس طرح سوچتے ہیں کہ یہ پہلے اسلامی معاشرے کی خصوصیت تھی کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قرن اول کے ان لوگوں کی بہترین انداز میں تربیت فرمالی گئی تھی لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے کہ کوئی ایسا معاشرہ بھی اس وقت وجود میں نہیں آسکتا جب تک اس کے لے اس قسم کی تحریک برپا نہ کی جائے اور صحابہ کرام کی طرح ان کی تربیت کر کے اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے جدو جہد نہ کی جائے۔ جب بھی ہم کوئی ایسا معاشرہ قائم کریں گے ہمیں ایسی ہی راہوں سے گزرنا ہوگا ۔ ایک تحریک برپا ہوگی ، وہ لوگوں کو از سر نو دین اسلام کے اپنانے کی دعوت دے گی اور اس طرح لوگوں کو جاہلیت سے نکالنے کی سعی کی جائے گی۔ پھر اہل جاہلیت اسی طرح ان کارکنوں پر تشدد کریں گے۔ کچھ لوگ تحریک سے بھاگ نکلیں گے اور ارتداد کی راہ اختیار کریں گے لیکن بعض لوگ اپنی راہ پر جم جائیں گے۔ ان کے لئے دعوت اور تحریک کو چھوڑنا ایسا ہی ہوگا جس طرح کسی کو آگ میں ڈال دیا جائے۔ پھر اس کشمکش کا فیصلہ ہوگا ، اللہ تحریک کو فتح دے گا اور کسی ایک جگہ اسلامی حکومت قائم ہوجائے گی۔ اس مرکز سے اسلامی انقلاب کا پھیلاؤ شروع ہوگا۔ اس وقت مجاہدین اور متحرکین بالکل سامنے آچکے ہوں گے۔ اس وقت ایمانی اقدار اور اوصاف واضح ہوچکے ہوں گے اور کسی کو ضرورت نہ ہوگی کہ وہ کوئی درخواست کسی منصب کے لئے پیش کرے کیونکہ ایسے لوگ تو معاشرے کے خدوخال ہوں گے اور وہ خود ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کو کوئی ذمہ داری سپرد کرے گا۔
بعض اوقات یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس ابتدائی مرحلے کے بعد پھر ایسا ہوگا لیکن جب اسلامی معاشرہ مستقلا قائم ہوگیا تو پھر کیا صورت ہوگی۔ یہ سوال وہی لوگ کرتے ہیں جو اس دین کی حقیقت کو نہیں جانتے ۔ یہ دین ہمیشہ ایک تحریک کی شکل میں رہتا ہے۔ یہ کسی وقت بھی ٹھہرتا نہیں۔ اس کی تحریک اس مقصد کے لئے ہوتی ہے کہ تمام انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے رہا کر کے اللہ کی بندگی اور غلامی میں داخل کیا جائے۔ یہ آزادی اور قربت تمام کرۂ ارض کے مکینوں کو حاصل ہو اور لوگ طاغوت کی بندگی کے بجائے اللہ کی بندگی کریں اور تحریک مسلسل جاری رہے۔ رنگ ، نسل اور جغرافیہ کی حدود و قبول کے بغیر۔
جب یہ تحریک مسلسل جاری رہے گی تو اس میں ثابت قد ، مخلص ، قربانی دینے والے لوگ ممتاز ہو کر خود بخود اوپر آتے جائیں گے۔ چونکہ یہ تحریک جاری رہے گی اس لئے یہ معاشرہ کبھی بھی رک کر منجمد اور بدمزہ نہ ہوگا الا یہ کہ یہ معاشرہ اسلامی راہ سے منحرف ہوجائے ۔ غرض اپنی صفات کے بارے میں خاموش رہنے اور تزکیہ نفس اور عدم امیدواری کا حکم اپنی جگہ قائم رہے گا جس طرح کہ آغاز میں ایک دائرے میں یہ حکم آیا۔ ایسے ہی دائرے میں ہی اپنی جگہ قائم رہے گا اور کام کرتا رہے گا۔
یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب سوسائٹی میں وسعت ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کی صلاحیتوں اور شخصیتوں سے متعارف ہی نہیں ہوتے تو پھر با صلاحیت لوگوں کو مجبوراً اپنی صلاحیت کے بارے میں اشتہار دینا پڑے گا اور یہ بتانا پڑے گا کہ ان کا یہ اخلاق وکردار ہے اور وہ اس طرح کی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔
یہ سوال بھی ایک وہم پر مبنی ہے اور یہ موجودہ جاہلیتوں کی عملی صورت حالات پر مبنی ہے۔ لیکن اسلامی معاشرے کی یہ صورت حال نہیں ہوتی۔ اسلامی معاشرہ میں اہل محلہ ایک دوسرے سے متعارف اور باہم متغافل ہوتے ہیں کیونکہ اسلامی تربیت ، اسلامی معاشرے کی تشکیل اور اس کے رخ اور اس کے التزامات کا لازمی تقاضا ہی یہ ہے کہ اس کے لوگ ایک دوسرے سے بہت ہی اچھی طرح متعارف ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی ان صلاحیتوں کی جان پہچان ایمانی اقدار میں کرتے ہیں اس لئے یہ بات کوئی مشکل بات نہ ہوگی کہ اسلامی معاشرہ میں اچھے لوگوں کو مجلس شوریٰ یا انفرادی اور اجتماعی سروسز کے لئے منتخب نہ کرسکے۔ رہے بڑے عہدے مثلاً گورنر اور حاکم تو امام خود ان کے لئے آدمی تلاش کرسکتا ہے۔ جو اہل حل و عقد میں سے ہوتے ہیں۔ امام کے اہل شوریٰ بھی اس میں امداد کرسکتے ہیں اور اچھے افراد کو تلاش کرنے میں امیر اور امام کی مدد کرسکتے ہیں۔ پھر جس طرح ہم نے کہا اسلام تو ایک تحریک ہے اور جہاد تو یوم القیامت تک جاری رہے گا۔ لہٰذا تحریک اور جہاد کے ہوتے ہوئے کوئی صاحب صلاحیت کس طرح پوشیدہ رہ سکتا ہے ؟
جو لوگ آج اسلامی نظام حیات اور اس کی مفصل تنظیم کے بارے میں سوچتے ہیں یا اس موضوع پر لکھتے ہیں وہ ایک حماقت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ اسلامی نظام حیات کے مدون فقہی اصولوں کو ایک خلاء میں نافذ کرنا چاہتے ہیں ، پھر وہ اس جاہلی معاشرے میں ان احکام کا نفاذ چاہتے ہیں جو عملاً قائم اور غالب ہے ۔ اس جاہلی معاشرے کی اپنی ایک مخصوص عضویاتی ترکیب ہے اور یہ عملاً قائم جاہلی معاشرہ اسلامی نقطہ نظر سے اور اسلام کے فقہی احکام کے نقطہ نظر سے ایک خلاء ہے اور اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ اس کے اندر اسلامی شریعت نافذ ہو کیونکہ موجودہ جاہلی معاشرے کی عضویاتی ترکیب سو فیصد اسلامی معاشرے کی عضویاتی ترکیب کے خلاف ہے۔ جیسا کہ ہم نے تفصیل سے بتایا کہ اسلامی معاشرے کی عضویاتی تشکیل ان شخصیات ، ان گروہوں اور ان لوگوں سے ہوتی ہے جنہوں نے اسلامی نظام کے لئے تحریک چلائی ، جاہلیت کے خلاف جدو جہد کی اور عالم اسلام کو عملی صورت میں نافذ کیا اور انہوں نے جاہلیت کے خلاف عملی جدو جہد کی تا کہ لوگوں کو جاہلیت سے نکال کر اسلام میں داخل کیا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے جاہلیت کے تمام دباؤ برداشت کئے ، جاہلیت کی جانب سے ہر قسم کے تشدد اور ایذا رسانی کو انگیز کیا اور تحریک اسلامی کے ساتھ جاہلیت کی ہمہ گیر جنگ میں وہ اسلام کے ثابت قدم سپاہی رہے اور آغاز سے انتہاء تک وہ اس جدو جہد میں شریک رہے۔ رہا موجودہ جاہلی معاشرہ ، تو وہ ایک ٹھہرا ہوا معاشرہ ہے اور ایسی اقدار پر قائم ہے جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، نہ اس معاشرے کا ایمانی اصولوں کے ساتھ تعلق ہے۔ اس لئے اسلامی شریعت کے زاویہ سے یہ معاشرہ اسلام کے لئے ایک خلاء ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس خلاء میں اسلامی نظام جڑ نہیں پکڑ سکتا۔
اس قسم کے محقق اور لکھنے والے جب اسلامی احکامات کو عملی شکل دینے لگتے ہیں تو وہ قدم قدم پر پریشانی اور حیرانی سے دو چار ہوتے ہیں ۔ ان کو پہلی پریشانی یہ لاحق ہوجاتی ہے کہ اہل حل وعقد یا مجلس شوریٰ کو کس طرح چنا جائے۔ یعنی ایسا طریقہ کس طرح وضع کیا جائے کہ لوگ خود اپنے آپ کو امیدوار بھی نہ بنائیں اور خود اپنے منہ میاں مٹھو بھی نہ بنیں اور اچھے لوگ اوپر بھی آجائیں۔ ایسے لوگوں کو اس معاملے میں مشکل یہ درپیش ہوتی ہے کہ موجودہ معاشرے جن میں ہم زندہ رہتے ہیں ، لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہی نہیں ہیں۔ نیز موجودہ دور میں ایسے لوگ بھی ناپید ہیں جو صلاحیت ، پاکدامنی اور امانت و دیانت کے ۔۔۔۔ پر پورے اترتے ہوں۔ اسی طرح امام اور خلیفہ کے انتخاب کے طریقے میں بھی یہ لوگ سخت پریشان ہیں۔ آیا خلیفہ کا انتخاب عوام الناس کریں گے یا اہل حل و عقد کریں گے۔ اگر اہل حل و عقد خود امیدوار نہ ہوں گے اور نہ اپنا تزکیہ کریں گے اور ان کا انتخاب امام کرے گا تو پھر وہ کس طرح امام کا انتخاب کریں گے۔ کیا اس کا اہل حل و عقد پر اثر نہ پڑے گا۔ پھر اگر یہ لوگ امام کو نامزد کریں گے تو کیا یہ لوگ امام کے مقابلے میں برتر نہ ہوں گے ، حالانکہ امام برتر امام ہوتا ہے اور امام اگر اہل حل و عقد کو منتخب کرتا ہے یا نامزد کرتا ہے تو یہ لوگ اس کے پسندیدہ نہ ہوں گے اور ان کے انتخاب میں یہ بات سر فہرست نہ ہوگی کہ وہ اس کے وفادار ہوں۔۔۔۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے بیشمار سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے اور ان محققین کی سطحی سوچ کی وجہ سے وہ اس کا کوئی جواب نہیں پا رہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایسے محققین اسی نکتے سے غلط راہ میں پڑگئے ہیں۔ ان لوگوں کی غلط روی اس نکتے سے شروع ہوتی ہے کہ یہ لوگ ہمارے موجودہ معاشروں کو اسلامی معاشرہ سمجھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظام کے اصول و فروع موجودہ جاہلی معاشروں پر نافذ ہوں گے۔ موجودہ معاشروں اور سو سائٹیوں کی عضویاتی تشکیل اور ان کی اخلاقی اقدار کے ہوتے ہوئے ان میں اسلام نافذ ہوجائے گا۔ ایں خیال است ومحال است و جنوں۔
ان لوگوں کی حماقت اور پریشانی اس نکتے سے شروع ہوتی ہے کہ یہ لوگ موجود جاہلی معاشرے کو بھی ایک اسلامی معاشرہ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ اسلامی احکام اور قواعد اس معاشرے میں منطبق ہوں گے اور اس معاشرے کی عضویاتی ترکیب اور اخلاقی احکام اور قواعد اس معاشرے میں منطبق ہوں گے اور اس معاشرے کی عضویاتی ترکیب اور اخلاقی حالت جوں کی توں رہے گی۔
ان لوگوں کی حیرانی و پریشانی کا یہ نقطہ آغاز ہے اور جب یہ لوگ سوچ اور تحقیق شروع کرتے ہیں تو ہم خلاء میں ہوتے ہیں اور اس خلاء میں یہ لوگ اس قدر دور چلے جاتے ہیں اور ان کا مدار اس قدر وسیع ہوجاتا ہے کہ پھر ان سے اپنی راہ ہی گم ہوجاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ جاہلی معاشرہ جس میں ہم رہ رہے ، کوئی اسلامی معاشرہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں نہ شریعت نافذ ہو سکتی ہے اور نہ اس میں فقہی دستور نافذ ہو سکتا ہے اور یہ اسی وجہ سے نافذ نہیں ہو سکتے کہ اسلامی شریعت اور اسلامی دستور کبھی بھی خلا میں نافذ نہیں ہوتے کیونکہ اسلامی نظام ایک عملی نظام ہے اور یہ کسی اسلامی معاشرے ہی میں نافذ ہو سکتا ہے ، خلا میں نافذ نہیں ہو سکتا۔
اسلامی معاشرے کی عضویاتی تشکیل ہی دراصل موجودہ جاہلی معاشرے کی نظریاتی تشکیل سے مختلف ہوتی ہے۔ اسلامی معاشرے کے افراد اور گروہ وہ نہیں ہوتے جو موجودہ معاشرے کے ہیں۔ اس کے افراد بالکل مختلف اور اس کے گروہ بالکل دوسرے ہوتے ہیں۔ اس کے افراد اور گروہوں کی اخلاقی قدریں تحریک کے دوران وجود میں آتی ہیں اور وہ بہت ہی مختلف اور عملی ہوتی ہیں۔
یہ ایک جدید اور نیا معاشرہ ہوتا ہے۔ یہ دائماً حرکت میں رہتا ہے۔ ترقی پذیر ہوتا ہے اور اس کے انسان ، پورے کرۂ ارض کے مقابلے میں آزاد انسان ہوتے ہیں۔ وہ اس کرۂ ارض پر کسی کے غلام نہیں ہوتے اور اس معاشرے سے طاغوتی قوتیں ختم ہوجاتی ہیں۔
یہ مسئلہ اور اس قسم کے دوسرے مسائل مثلاً اپنے آپ کو کسی منصب کا اہل بتانا ، منصب طلب کرنا ، امام کا انتخاب ، اہل شوریٰ کا انتخاب اور اس جیسے دوسرے مسائل کے بارے میں لوگ عموماً خلا میں سوچتے ہیں۔ یہ مسائل اور جاہلی معاشروں میں ان کا نفاذ ، یہ سوچ ہی متضاد ہے۔ خصوصاً جبکہ یہ جاہلی معاشرہ اپنی عضویاتی ترکیب میں اسلامی معاشرے سے کلیۃً متضاد ہو۔ اس کی اقدار ، اخلاقی پیمانے ، تصورات اور سوچیں سب کی سب اسلامی معاشرے سے الٹ ہوں۔
موجودہ دور کے بینک اور ان کی تمام سرگرمیاں ، انشورنس اور اس کے قواعد و ضوابط ، ضبط تولید کے مسائل اور اس قسم کے دوسرے عقدے جن کو یہ محققین کھولنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کے بارے میں صحیح حل موجودہ سوسائٹی میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔
ان موضوعات پر آغاز بحث ہی سے محقق پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی سعی یہ ہوتی ہے کہ وہ اسلامی شریعت کے قواعد وقوانین کو موجودہ جاہلی اور گندے معاشرے میں نافذ اور جاری کرنے کے بارے میں سوچتا ہے اور یہ معاشرہ سو فیصد اسلامی احکام سے متضا د ہے۔ اس لئے ایسے محققین کو ان میں دشواری پیدا ہوتی ہے۔ یہ لوگ اسلامی قوانین کو نافذ کر کے یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ جاہلی معاشرے اسلامی بن جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت ہی مضحکہ خیز سوچ ہے۔
حقیقت یہ ہے اسلامی معاشرے کو فقہ اسلامی نے وجود نہیں بخشا بلکہ اسلامی معاشرے کی تحریکی جدو جہد اور تحریک اسلامی اور جاہلیت کے درمیان طویل کشمکش کے نتیجے میں اسلامی معاشرے کے وجود میں آنے کے بعد اور ایک اسلامی معاشرے کی عملی ضروریات سامنے آنے کے بعد اسلامی فقہ اس کے احکام اور اس کے اصول وجود میں آئے۔ لہٰذا دور جدید میں بھی فقہ اسلامی کا وجود اس طرح آسکتا ہے کہ اسلامی انقلاب کے ذریعے اسلامی سوسائٹی وجود میں لائی جائے۔ اس کے برعکس ممکن ہی نہیں ہے۔
یاد رکھئے کہ فقہ اسلامی اور اسلامی شریعت کا نفاذ خلاء میں ممکن نہیں ہے ، نہ خلاء میں کوئی بھی قانون قائم رہ سکتا ہے۔ اسلامی شریعت دماغوں اور کتابوں میں قائم نہیں ہو سکتی ، یہ تو ایک عملی زندگی کا عملی ضابطہ ہے اور ضابطہ بھی ہر عملی زندگی کا نہیں بلکہ ایک اسلامی زندگی کا ضابطہ ہے۔ ایک اسلامی سوسائٹی کی فضا ہی میں اسلامی نظام زندگی اور اسلامی قانون نافذ ہو سکتا ہے۔
جس وقت اسلامی معاشرہ وجود میں آئے گا اور وہ بھی ایک تحریکی شکل میں وجود میں آئے گا تو اس وقت اسے بینکوں اور تجارتی اداروں کی ضرورت درپیش ہوگی یا نہ ہوگی ، یہ سوال اس وقت پیدا ہوگا۔ اب جبکہ اسلامی معاشرہ سرے سے وجود میں بھی نہیں ہے ، وقت سے پہلے ہم اس معاشرے کی ضروریات کو کس طرح معلوم کرسکتے ہیں۔ نہ اس وقت کے معاشرے کی شکل یا اس کے حجم کے بارے میں کچھ معلوم کرسکتے ہیں۔ وقت سے قبل ہم کسی معاشرے کے لئے قانون سازی کیسے کرسکتے ہیں۔ اس وقت اسلامی شریعت کے جو احکام مدون ہیں ، وہ ایک جاہلی اور کافرانہ معاشرے میں نافذ ہی نہیں ہوسکتے ، کیونکہ اسلامی شریعت موجودہ جاہلی اور کافرانہ سو سائٹیوں کے وجود ہی کو تسلیم نہیں کرتی ، اسے ان جاہلی سوسائٹیوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔
اس قسم کے محققین جس مصیبت میں گرفتار ہیں وہ یہ ہے کہ یہ لوگ موجودہ جاہلی معاشروں کو اصل سمجھتے ہیں اور دین اسلام کو ان کے تابع سمجھتے ہوئے ، اسے ان کے مطابق بنانے کی سعی کرتے ہیں لیکن حقیقی صورت حالات اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام اصل ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم جدید سوسائٹی کو دین اسلام کے تابع بناتے چلے جائیں۔ یہ کام صرف ایک ہی ذریعے سے ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ جاہلیت کے مقابلے میں اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے تحریک برپا کی جائے۔ یہ تحریک اس کرۂ ارض پر اللہ کی حاکمیت کے قیام کے لئے ہو۔ اللہ کی حاکمیت کا نظام ہوتا ہی وہ ہے جس میں لو اللہ کے سوا کسی کے تابع فرمان نہیں ہوتے۔ وہ کسی طاغوت کے تابع نہ ہوں اور ان کی زندگیوں میں صرف شریعت کی حکمرانی ہو۔ جب بھی کوئی یہ تحریک برپا کرے گا اسے فتنوں ، آزمائشوں اور تشدد کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ جب اس قسم کی تحریک پر تشدد ہوگا تو کچھ لوگ ان مشکلات کو برداشت کریں گے ، کچھ لوگ الٹے پاؤں پھرجائیں گے اور کچھ لوگ اللہ کے پیغام کی تصدیق کرتے ہوئے مقام شہادت پر فائز ہوں گے جبکہ کچھ لوگ یہ جدو جہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک اللہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان صحیح فیصلہ نہیں فرما دیتے۔ جب اللہ ان انقلابیوں اور ان کی اقوام کے درمیان فیصلہ کر دے گا تو ان کو تمکن فی الارض نصیب ہوگا اور اس وقت ہی اسلامی نظامی زندگی صحیح معنوں میں قائم ہوگا ۔ اس وقت تمام لوگ اسلام میں رنگے ہوں گے اور وہ اسلامی اقدار کو لے کر اس دنیا میں ممتاز مقام حاصل کرچکے ہوں گے۔ اس وقت پھر اس سوسائٹی کی کچھ ضروریات اور تقاضے ہوں گے اور یہ ضروریات اور تقاضے دوسری جاہلی سو سائٹیوں سے بالکل مختلف ہوں گے۔ ان ضروریات اور تقاضوں کے پورے کرنے کے انداز بھی مختلف ہوں گے ۔ اس وقت اسلامی نظام زندگی کے احکام کا استنباط ایک قائم سوسائٹی کے لئے ہوگا ، ایک اسلام فقہ اور شریعت وجود میں آئے گی ۔ یہ شریعت خلاء میں نہ ہوگی بلکہ یہ شریعت ایک متعین اور موجود سوسائٹی میں نافذ ہوگی اور اس سو سائٹی کے مقاصد اور ضروریات بھی متعین ہوں گی۔
ہمیں کوئی بتائے کہ وہ سو سائٹی اس دنیا میں کہا ہے جس میں نظام زکوٰۃ نافذ ہو اور زکوٰۃ لی جاتی ہو اور اسے اپنے حقیقی مصارف پر خرچ کیا جاتا ہو اور جس کے ہر محلے میں باہم محبت ، رحمت اور نظام تکافل قائم ہو ، پھر پوری سوسائٹی میں تکافل (Social Security) کا نظام قائم ہو اور اس سوسائٹی کا مالی نظام اسراف ، تعیش ، خود نمائی اور زر اندوزی پر قائم نہ ہو۔ اس کا مالی نظام صحیح اسلامی خطوط پر قائم ہو ، پھر اگر ایسا کوئی نظام قائم ہوجائے اور ایسی سو سائٹی وجود میں آجائے تو ثابت کیا جائے کہ اس میں انشورنس کی ضرورت ہوگی اور انشورنس کے یہ ضابطے پھر اسلامی سوسائٹی کے حالات ، اس کی اقدار اور مالی تصورات کے مطابق ہوں گے۔ اگر اسلامی سوسائٹی کو کسی انشورنس کی ضرورت بھی پڑے تو ثابت کیا جائے کہ اسے بعینہ اسی طرح ہونا لازمی ہے جس طرح کہ موجودہ جاہلی معاشروں میں انشورنس کا نظام موجود ہے۔ جو موجودہ جاہلی سوسائٹی جاہلی تصورات اور اقدار پر مبنی ہے اور اسے جاہلی سوسائٹی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وجود میں لایا گیا ہے۔
پھر یہ ثابت کیا جائے کہ ایک متحرک اسلامی معاشرہ تحدید نسل اور ضبط تولید کا محتاج ہوگا جس طرح موجودہ غیر اسلامی معاشرہ ہے۔
جب ہم موجودہ حالات میں ایک اسلامی سوسائٹی کی ضروریات کا تعین ہی نہیں کرسکتے ، نہ اس کی سوسائٹی کے حجم اور شکل کی کوئی متعین صورت ہمارے سامنے ہے ، اور یہ ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ ایک اسلامی سوسائٹی کی عضویاتی ترکیب ہی موجودہ جاہلی سوسائٹی سے بالکل جدا ہوتی ہے۔ اس کی سوچ ، اس کی قدریں اور اس کے ۔۔۔۔ ہی مختلف ہوتے ہیں لہٰذا اس وقت جو لوگ ایک غیر موجودہ سوسائٹی کے لئے احکام مدون کرنے کی سعی کر رہے ہیں ان کی یہ سعی نا مشکور ہوگی ، اس لئے کہ جس طرح اسلامی سوسائٹی اس وقت ہوا میں ہے اسی طرح ان لوگوں کی یہ مساعی بھی ہوا میں ہیں اور لا حاصل ہیں۔
جیسا کہ ہم نے بار بار کہا ہے کہ اس معاملے میں غلطی کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ یہ محققین موجودہ معاشروں کو اسلامی معاشرے سمجھتے ہیں اور وہ اسلامی فقہ کے اوراق سے احکام نکال کر ان معاشروں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ معاشروں کے اجزاء ترکیبی کو وہ نہیں چھیڑتے اور ان معاشروں کی اقدار اور تصورات اور ۔۔۔ کو بھی جوں کا توں رہنے دیتے ہیں۔
پھر ان حضرات کے شعور اور لاشعور میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ موجودہ جاہلی معاشرے اصل اور قائم حقیقت ہیں اور یہ دین اسلام کا فرض ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی لا کر اپنے آپ کو ان کے مطابق کرلے۔ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں۔۔۔ اس طرح دین اسلام کا فرض ہے کہ وہ جدید جاہلی سوسائٹی کے تقاضے پورے کرے۔ حالانکہ جدید جاہلی سو سائٹی کے تقاضے سراسر اسلام کے خلاف ہیں اور یہ تقاضے ایک مسلمان کو سرے سے اسلام سے خارج کرنا چاہتے ہیں ”۔
میرا خیال یہ ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اب اسلام اہل اسلام کے دل و دماغ میں سر بلند ہوجائے۔ اب اہل اسلام یہ روش ترک کردیں کہ اسلام جاہلی سوسائٹی کے تقاضوں کو پورا کرتا پھرے۔ داعیان اسلام کو اب یہ اعلان کردینا چاہئے کہ لوگو ! تم اسلام کے مطیع فرمان بن جاؤ، اس کے احکام کو دل و جان سے تسلیم کرو ، بلکہ یہ کہ لوگو ! سب سے پہلے تم دین اسلام میں داخل ہوجاؤ، اعلان کر دو کہ تم اب صرف اللہ کے بندے ہو ، اور کلمہ طیبہ کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دو ، بایں معنی کہ اللہ کے سوا اس کرۂ ارض پر کوئی اور حاکم نہیں ہے۔ صرف وہی رب اور خالق ، مالک اور رازق ہے ۔ تمام لوگوں کی زندگی پر اسی کے احکام چلیں گے ۔ آئندہ کوئی انسان انسان کا غلام نہ ہوگا اور کوئی انسان کسی انسان کے لئے اب قانون نہیں بنائے گا۔
جب لو یہ اعلان کردیں گے تو اسلامی معاشرے کا پودا کونپل نکالے گا اور جب اس اعلان کی اساس پر کوئی سو سائٹی وجود میں آجائے گی تو اس میں پھر فقہ اسلامی کا اجراء ہوگا۔ اس وقت پھر فقہ اسلامی اس سوسائٹی کی تمام ضروریات کو پورا کرے گا اور عملاً اسلامی شریعت نافذ ہوگی۔
جب تک اسلامی انقلاب کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی قائم نہیں ہوجاتی اسلام کے دستوری اور انتظامی احکامات کے بارے میں دماغ سوزی کرنا محض اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے۔ محض ہوا اور خلاء میں تخم ریزی کرنا ہے جبکہ کوئی قانون کبھی کسی خلاء میں نہیں اگتا جیسا کہ ہوا میں کوئی فصل نہیں اگتی۔
٭٭٭
اسلامی فقہ کے فکری میدان میں کام کرنا نہایت ہی دلچسپ کام ہے ، کیونکہ اس میں کوئی خطرہ اور ابتلاء نہیں ہے۔ لیکن یہ اسلامی کام نہیں ہے یعنی اسلام کے لئے نہیں ہے ، نہ یہ اس دین کے مزاج کے مطابق ہے نہ یہ اسلامی منہاج کار ہے ، اور یہ طریقہ صرف ان لوگوں کا ہے جو خیر و عافیت کی زندگی بسر کرتے ہوئے محض علمی اور فنی امور میں اپنے آپ کو مشغول رکھتے ہیں ، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ تحریک کے اس مرحلے میں اسلامی فقہ کے موضوعات پر دماغ سوزی کرنا عمر ضائع کرنا ہے۔ موجودہ سوسائٹی کے ہوتے ہوئے میں سمجھتا ہوں اس میں کوئی اجراء ضروری نہ ہوگا۔
دین اسلامی جاہلیت کے لئے خرکاری کا کام نہیں کرتا ، نہ وہ جاہلیت کا بندہ فرمان بننا قبول کرتا ہے ، جس کا مشن صرف یہ ہو کہ جاہلیت کی خواہشات کے لئے ہر وقت وجہ جو از فراہم کرتا پھرے ۔ جبکہ یہ جاہلی سوسائٹی دین سے متنفر ، دین سے دور اور دین پر فقدان ہو اور دین کی اطاعت نہ کرتے ہوئے یہ سو سائٹی دین سے اپنے اعمال کے لئے وجہ جواز مانگتی ہو۔
اس بات کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ اس دین کی فقہ اور اس کے احکام نہ خلاء میں ترقی کرتے ہیں اور نہ ہی خلاء میں رد بعمل آتے ہیں۔ اسلامی سوسائٹی ابتداءً اللہ کی حاکمیت کو قبول کرنے والی ہوتی ہے۔ یہی سوسائٹی دراصل فقہ کو وجود بخشتی ہے اور یہی سوسائٹی اس کو ترقی دیتی ہے ، یہ نہیں ہے کہ کوئی فقہی نظام سوسائٹی کو وجود بخشے۔
احیائے اسلام کے مراحل اور اس کا طریقہ کار آغاز ہی سے ایک ہی ہیں۔ جاہلیت سے کسی سوسائٹی کا اسلام کی طرف منقلب ہونا تو سہل امر نہیں ہوتا اور یہ اس طرح نہیں ہوتا کہ پہلے فقہی احکام کا کوئی سانچہ ڈھالا جائے اور اس کے مطابق انسان تیار ہوتے جائیں اور یہ سانحہ پہلے سے خلاء میں تیار کردیا گیا ہو اور جب اسلامی انقلاب کے بعد اسلامی سوسائٹی تیار ہو تو اس میں اسے نافذ کردیا جائے۔ جاہلیت سے کسی سوسائٹی کا اسلام کی طرف منقلب ہونا کسی قانونی نظام کی وجہ سے نہیں ہوا کرتا ۔ اس لئے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ شاید قانونی نظام مفصل طور پر تیار نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی معاشرہ وجود میں نہیں آرہا ہے۔ بعض لوگ اس معاملے میں غلط فہمی کا شکار ہوا کرتے ہیں اور بعض اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی وجود میں اس لئے نہیں آرہی ہے کہ کچھ طاغوتی قوتیں اس کی راہ روکے کھڑی ہیں۔ یہ طاغوتی قوتیں اللہ کی حاکمیت کے اصول کو تسلیم نہیں کرتیں۔ اس سے کسی بھی اسلامی ملک میں اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت پر مبنی نظام وجود میں نہیں آرہا ہے۔ ان طاغوتی قوتوں نے دراصل لوگوں کو اپنا بندہ اور غلام بنا لیا ہے اور اس طرح یہ قوتیں اور ان کے تحت تمام جمہور عوام شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ حقیقی شرک ہے اور اس شرک کا تعلق اللہ رب العالمین کے مخصوص اختیارات کے ساتھ ہے۔
اس نظریہ کی اساس پر جاہلیت زمین پر اپنا ایک مستقل نظام برپا کرتی ہے۔ یہ نظام بھی ان جاہلی تصورات کی اساس پر قائم کرتی ہے اور اس میں جاہلی تصورات کے ساتھ ساتھ مادی قوتوں پر بھی بھروسہ کرتی ہے۔
اس قائم نظام کا مقابلہ احکام فقہیہ سے نہیں کیا جاسکتا۔ نہ احکام فقہیہ اس جاہلی نظام اور اس کے تصورات کے لئے برابر کی قوت ہوتے ہیں۔ اس جاہلیت کا مقابلہ صرف اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو از سر نو اسلام میں داخل ہونے کی طرف دعوت دی جائے ۔ اور پھر اسلامی تصورات کے ساتھ تمام قوتوں کو لے کر جاہلیت کا مقابلہ کیا جائے۔ اس میدان کے اندر اسلام اور جاہلیت کی کھلی کشمکش کے بعد جو نتیجہ بھی ہوگا وہ سامنے آجائے گا۔ کچھ لوگ صحیح طرح اسلام کے حال ہوں گے اور باقی قوم ان کے مخالفت ہوگی اور اس کشمکش کے نتیجے میں پھر تحریک اسلامی اور اس کی قوم کے درمیان اللہ اپنا فیصلہ لاتا ہے۔ جب تحریک اسلامی غالب آکر کر اسلامی سوسائٹی قائم کردیتی ہے تو پھر فقہی احکام کی تدوین کا وقت آتا ہے ۔ اس طرح جو قانون نظام برپا ہوتا ہے وہ نظام اپنی حقیقی فضا میں نہایت ہی قدرتی ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک زندہ اسلامی معاشرے کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اور اس نئی سوسائٹی کی حقیقی ضروریات کے لئے قانون سازی ہوتی ہے۔ اور اس میں قانون کا حجم اور اس کی شکل قدرتی ہوتی ہے۔ اب یہ سوسائٹی اور اس کی ضروریات ہمارے پیش نظر موجود نہیں ہیں اور انقلاب کے بعد وجود میں آنے والی سوسائٹی کے بارے میں ابھی تک ہم کوئی پیشین گوئی بھی نہیں کرسکتے۔ نہ ہی اس کی ضروریات کو ہم متعین کرسکتے ہیں۔ لہٰذا قبل از وقت اسلامی قانون کی تدوین و ترتیب کے کام میں ابھی سے مشغول ہونا یا اس کا مطالبہ کرنا ، دین اسلام کی سنجیدگی اور متانت کے منافی ہے۔
میرے اس نکتے کے بیان کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ قرآن اور سنت میں جو قائم منصوص احکام ہیں وہ اس وقت قانوناً نافذ نہیں ہیں بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ یہ احکام اسلامی سوسائٹی کے لئے نازل ہوئے تھے اور ان کو ایک اسلامی معاشرے کے اندر ہی نافذ بھی ہونا ہے۔ یہ احکام اس وقت عملاً نافذ نہیں ہیں۔ یہ احکام عملاً تب ہی نافذ ہو سکتے ہیں جب کوئی اسلامی معاشرہ قائم ہو اور اسلامی معاشرے کا قیام ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اس وقت جاہلی معاشرے میں زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے تا کہ اس میں اسلام کا قانونی نظام نافذ ہو سکے۔ یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو دین کو لے کر ایک تحریک کی شکل میں اٹھیں اور ان طاغوتی قوتوں کو ۔۔۔۔ کریں جنہوں نے اس طاغوتی نظام کو قائم کر رکھا ہے اور لوگ اللہ وحدہ کی اطاعت کے بجائے مشرک ہو کر ان طاغوتی قوتوں کی اطاعت میں مبتلا ہیں۔
احیائے دین کے سلسلے میں اس نکتے کو جب لوگ پالیں گے کہ جب جاہلی نظام قائم ہو تو اس کے مقابلے میں اسلامی تحریک کا برپا کرنا ضروری ہے تو اس ادراک کے نتیجے ہی میں اسلامی انقلاب کا آغاز ہوجاتا ہے اور پھر لوگ احیائے اسلام کی تعمیری جدو جہد کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے اسلامی قانون کی جگہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین نے لی ہے ، اسلامی نظامی قائم نہیں رہا ہے اور یہ کرۂ ارض حقیقی اسلام سے خالی ہوگیا ہے۔ اگرچہ اذان خانے باقی ہیں اور مساجد باقی ہیں ، دعائیں ہو رہی ہیں اور نمازیں ادا ہو رہی ہیں۔ گزشتہ دو سو سال سے یہی صورت حال ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں اس دین کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ ہے اور یہ نماز اور یہ دعا ان کے اندر یہ تسکین پیدا کردیتی ہے کہ اسلام بخیر و عافیت ہے ، حالانکہ اس کرۂ ارض سے طاغوتی قوتیں اس کا وجود مٹانے کے درپے ہیں۔
میں کہتا ہوں ، اسلامی عبادات سے بھی قبل اسلامی معاشرہ وجود میں آگیا تھا۔ مساجد سے بھی قبل اسلامی معاشرہ وجود میں آگیا تھا۔ یہ معاشرہ اور یہ سوسائٹی اس وقت وجود میں آگئی تھی کہ جب ان سے کہا گیا تھا اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ “ اللہ ہی کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارے لئے کوئی الٰہ نہیں ہے “ ۔ یاد رہے کہ یہ لوگ جو ان بتوں کی بندگی کرتے تھے تو یہ ان کی نمازیں اور ان کے روزے تو نہ رکھتے تھے ، نماز اور روزہ تو اس آیت کے نزول کے وقت فرض ہی نہ تھے ۔ صرف اللہ کی بندگی کا مطلب یہ تھا کہ صرف اللہ کو اپنا حاکم تصور کرو ، اور اس وقت کوئی اسلامی قانون نظام بھی نہ تھا۔ اور جب لوگوں نے اللہ کو اس زمین پر اپنا حاکم تسلیم کرلیا تو پھر حاکم کی طرف سے شریعت آگئی ۔ یہ شریعت بھی اس طرح آئی کہ جب بھی اس اسلامی سوسائٹی کو کسی قانون کی حقیقی ضرورت درپیش ہوئی تو قانون نازل ہوگیا یا انہوں نے قرآن اور سنت کی روشنی میں خود اپنے لئے قانون کا استنباط کرلیا۔۔۔ یہی ہے واحد منہاج کار اور قیامت تک کے لئے یہی منہاج رہے گا۔
اسلامی انقلاب کا اس سے آسان طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک داعی ایک تقریر کرے ، اسلام کے احکام بیان کر دے اور اسلامی قانون کی تشریح کر دے۔ لوگ یکدم اسلام میں داخل ہوجائیں اور قصہ تمام شد۔ لیکن یہ طریقہ کار محض تمنا ہے۔ ایک اچھی خواہش ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عوام الناس طاغوتی قوتوں اور جاہلیت کو چھوڑ کر اسلامی نظام میں صرف اسی طریقہ کار کے مطابق ہی داخل ہوسکتے ہیں اور وہ طریقہ کار ایک دیرپا ، تدریجی اور دعوت اسلامی کا طریقہ کار ہے۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک فرد دعوت اسلامی کا آغاز کرتا ہے ، ایک ہر اول دستہ اس کی دعوت کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ ہر اول دستہ موجود اور قائم نظام جاہلیت کو ۔۔۔ کرتا ہے اور اس کے بعد اس کے اور اس نظام جاہلیت کے درمیان کشمکش برپا ہوجاتی ہے۔ ایک قوم بلکہ معاشرے کی پوری قوم کے ساتھ اسی قوم سے اٹھے ہوئے ان داعیوں کی جنگ شروع ہوتی ہے۔ اللہ اس ہر اول دستے کو فتح دیتا ہے اور لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور یہ دین اسلام کیا ہے ؟ یہ اللہ کا وہ نظام ہے جس کے سوا اللہ کسی نظام کو برداشت نہیں کرتا۔
ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ “ اور جو شخص بھی اسلام کے سوا کسی نظام زندگی کی تابع داری کرے گا ، اس سے یہ تابع داری قبول نہ کی جائے گی ”۔
شاید یہ طویل بیان حضرت یوسف (علیہ السلام) کے موقف کو اچھی طرح واضح کر دے گا۔ یہ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کسی اسلامی سوسائٹی میں نہیں تھے جس میں کسی شخص کے لئے طلب عہدہ کا کوئی موقعہ نہ ہو ، اور اس میں کوئی شخص کوئی منصب نہ طلب کرسکتا ہو۔ دوسری جانب وہ دیکھ رہے تھے کہ اس غیر اسلامی نظام میں انہیں ایک ایسا منصب مل رہا ہے جس میں تمام اختیارات ان کے ہاتھ آرہے ہیں اور وہ اس حاکم طاع ہوں گے ، اس طرح انہیں موقعہ ملے گا کہ وہ اپنے عقائد پورے مصر میں پھیلا دیں۔ چناچہ عملاً ایسا ہی ہوا کہ ان کے دور اقتدار میں پورے مصر میں عقیدۂ توحید پھیل گیا۔ اس دور میں حضرت یوسف (علیہ السلام) مصری سوسائٹی پر اس طرح چھا گئے کہ اعیان مصر اور بادشاہ مصر دونوں پس منظر میں چلے گئے۔
يوسف 12:55
قال اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم (12 : 55) یوسف (علیہ السلام) نے کہا “ ملک کے خزانے میرے پیرو کیجئے ، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں ”۔
آئندہ کی مہم کا خلاصہ یہ ہے کہ سات سال سرسبزی کے ہیں اور ان میں اس بات کی ضرورت ہے کہ پیداوار کے ایک ۔۔۔۔۔ بچایا جائے ، امور مملکت کو اچھے طریقے سے چلایا جائے ، مملکت کے تمام شعبوں کو درست کیا جائے اور خوشحالی کے دور میں ایسی پلاننگ کی جائے کہ بدحالی اور خشک سالی میں اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اسی لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایسی ہی صلاحیتوں کا ذکر کیا اور جو ایسے حالات کے لئے ضروری تھیں یعنی حفیظ وعلیم۔ اور مصر اور تمام علاقائی ، ممالک کے لئے یہ انتظام مفید تھا۔ اس لئے کہا انی حفیظ علیم (12 : 55) حضرت یوسف (علیہ السلام) کا یہ مطالبہ اس لئے نہ تھا کہ وہ وزارت خزانہ لے کر اپنے لئے کچھ مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں بلکہ وہ ایک صاحب رائے دانشور تھے اور انہوں نے یہ مناسب سمجھا کہ اس ڈیوٹی کے لئے ان سے زیادہ اور کوئی موزوں شخص نہیں ہے۔ آنے والا دور ایک عبرانی دور ہوگا کیونکہ پوری مصری قوم اور پڑوسی اقوام کے لئے غلے اور دوسری رصد کے انتظام کا عظیم مسئلہ در پیش ہوگا۔ سات اچھے سالوں میں کفایت شعاری اور سات مشکل سالوں میں سپلائی کو بحال رکھنے کا عظیم انتظام درپیش تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنی ذات کے لئے کچھ طلب نہ فرماتے تھے بلکہ یہ تو وہ عظیم ذمہ داری تھی جس سے ہر ایک بھاگ رہا تھا ، کوئی شخص بھی خوشی سے غنیمت سمجھ کر اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا ۔ ایک تو یہ کہ شاہی نظام میں گردن زدنی کا بھی خطرہ تھا ، دوسرے یہ کہ عوام الناس کو بھوک اور افلاس کی حالت میں کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب عوام بھوکے ہوں تو وہ مجنون کی طرح اہلکاروں کو پھاڑ کھاتے ہیں۔ یہ تمام امکانات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پیش نظر تھے۔
یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو یہ فرمایا اور مطالبہ کیا کہ “ مجھے زمین کے خزانوں پر نگراں کر دیجئے ، میں حفیظ وعلیم ہوں ”۔ کیا ان کی طرف سے یہ منصب کا مطالبہ نہیں ہے جو اسلامی نظام میں سخت معیوب ہوتا ہے ۔ جبکہ یہ تو کسی منصب پر مقرر کرنے کا صریح مطالبہ ہے ، اور حدیث میں آتا ہے (خدا کی قسم ہم اس معاملے کو اس شخص کے حوالے نہیں کرتے جو اس کا مطالبہ کرے ) (متفق علیہ ) ۔
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہاں خود بتایا ہے کہ وہ حفیظ اور علیم ہیں۔ یہ ایک گونہ اعلان تزکیہ نفس ہے اور خود قرآن میں آتا ہے۔ فلا تزکوا انفسکم “ اپنی پاکی داماں کی حمایت مت کرو ”۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ یہ انتظامی اصول حضور اکرم ﷺ کے دور میں تو نافذ ہوئے لیکن ضروری نہیں ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں بھی یہ ممنوع ہوں۔ کیونکہ تمام پیغمبروں کا اصول دین پر تو اتفاق رہا ہے لیکن انتظامی امور اور شرعی قوانین ہر ایک کے ہاں جدا تھے۔
لیکن ہم یہ سر سری جواب نہیں دیتے کیونکہ اس مسئلے کو ذرا گہرائی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے اور اس کے نتائج نہایت گہرے اور دور رس ہیں۔ اس کے کچھ اور پہلو اور اعتبارات ہیں ، اسے ان پہلوؤں سے وسیع تناظر میں دیکھنا ضروری ہے تا کہ ہم احکام فقیہہ کے استنباط میں اس وسیع نقطہ نظر سے مسائل کا استنباط کرسکیں اور فقہی احکام کو بھی تحریکی اندازدے سکیں۔ کیونکہ فقہی احکام ، ان کے استنباط کا طریق کار اور اصول فقہ بھی مسلمانوں کے دور جمود اور زوال میں منجمد ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کو بھی تحریکی Daynamic انداز دینا ضروری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی فقہ محض خلاء میں وجود میں نہیں آئی نہ اسے محض خلاء میں سمجھا یا نافذ کیا جاسکتا ہے ۔ فقہ اسلامی کا ارتقاء ایک ارتقاء پذیر اسلامی معاشرے کے اندر ہوا ہے۔ اس معاشرے کو اپنے ارتقائی دور میں اسلامی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ یہ فقہ اسلامی نہ تھی جس نے کسی اسلامی معاشرے کو جنم دیا ہو ، بلکہ ایک اسلامی معاشرہ کے اندر اس کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے اسلامی فقہ ارتقاء پذیر ہوئی۔ یہ دو عظیم حقائق ہیں اور اسلامی تاریخ ان پر گواہ ہے۔ اسلامی معاشرے اور تخلیق فقہ کے باہم تعلق کو جب تک نہ سمجھیں گے اس وقت تک ہم اسلامی فقہ کو سمجھ ہی نہیں سکتے اور نہ اسلامی فقہ کی تحریکی اور ارتقائی حیثیت کو سمجھ سکتے ہیں۔
وہ لوگ جو آج ان نصوص کو پڑھتے اور فقہ کے مدون احکام کو لیتے ہیں اور ان کے پیش نظریہ حقیقت نہیں ہوتی کہ پہلی اسلامی معاشرہ وجود میں آیا تھا اور پھر فقہ وجود میں آئی اور وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ یہ نصوص کن حالات میں نازل ہوئیں اور اسلامی فقہی مسائل کس طرح مرتب ہوئے ، خصوصاً وہ ماحول ، وہ معاشرہ اور وہ مزاج جن میں یہ نصوص نازل ہوئیں ان کو بھی پیش نظر نہیں رکھتے تو اس قسم کے لوگ اس قانون کو محض خلاء میں نافذ کرنا چاہتے ہیں ، حالانکہ کوئی قانونی نظام کسی خلاء میں نافذ نہیں ہوا کرتا بلکہ وہ معاشرے میں نافذ ہوتا ہے۔ ایسے لوگ دراصل فقہاء نہیں ہیں نہ یہ لوگ ماہرین قانون اسلامی ہیں۔ یہ لوگ در حقیقت اسلامی نظام کے مزاج ہی کو نہیں سمجھے نہ اس دین کی حقیقت کو سمجھے ہیں۔
تحریکی فقہ دراصل اس فقہ سے مختلف ہے جو کتابوں کے اوراق میں ہے ، اگرچہ فقہ تحریکی بھی ان اصول اور نصوص پر مبنی ہوتا ہے جن پر فقہ اوراق مبنی ہے۔ تحریکی فقہ ان حالات پر بھی نظر رکھتی ہے جن میں نصوص قرآن و سنت کا نزول ہوا۔ ایک عملی فقیہ کو نظر آتا ہے کہ شان نزول اور حالات نزول دونوں کو اصل نصوص سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ اگر کسی نص کو ہم ان حالات سے علیحدہ کر کے اس پر غور کریں گے جن میں وہ نازل ہوئی تھی تو ہمارا استنباط اور اجتہاد غلط ہوجائے گا۔ اور اس طرح جو فقہ مرتب ہوگی وہ درست نہ ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ کوئی فقہی حکم خداوندی ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنی جگہ مستقلاً خلاء میں آیا ہو اور جس میں اس وقت کے ماحول اور معاشرے کے اثرات نہ ہوں جن میں وہ پہلی مرتبہ وارد ہوا۔ کوئی فقہی حکم اور اجتہاد چونکہ خلاء میں نہیں ہوا اس لئے وہ خلاء میں نہیں رہ سکتا۔
یہ اصول جو اوپر ہم نے بیان کیا اس کی مثال وہ احکام ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ کسی شخص کو اپنی پاکی داماں کا دعویٰ نہیں کرنا چاہئے یا کسی شخص کو اپنے آپ کو کسی منصب کے لئے پیش نہیں کرنا چاہئے۔ یہ احکام اس آیت فلا تزکوا انفسکم “ اپنے نفسوں کی پاکی کا دعویٰ نہ کرو ” اور حضور ﷺ کی حدیث سے ماخوذ ہیں۔ انا واللہ لا تولی ھذا العمل حدا اسالہ “ ہم خدا کی قسم یہ منصب اس شخص کو نہیں دیتے جو اسے مانگتا ہے ”۔
یہ احکام اس معاشرے میں آئے تھے جو ایک اسلامی معاشرہ تھا اور اس اسلامی معاشرے میں ان احکام کو عملاً نافذ بھی کردیا گیا تھا ۔ یہ احکام تھے ہی ایسے معاشرے کے لئے ، تا کہ قائم اسلامی معاشرے کی ضرورت کو پورا کریں ، اس وقت کا قائم اسلامی معاشرہ اپنا ایک تاریخی پس منظر اور اپنا ایک مخصوص عضویاتی ترکیب کا حامل تھا ، اس معاشرے کی اپنی مخصوص اور ذاتی صورت حال تھی۔ یہ دونوں احکام ایسے احکام تھے جنہوں نے ایک مکمل قائم شدہ اسلامی معاشرے کے اندر نافذ ہونا تھا ، انہیں حالات میں وہ نازل ہوئے ۔ یہ خلاء میں نازل نہیں ہوئے تھے ، لہٰذا ان دونوں احکام کو ہم ایک قائم شدہ اسلامی معاشرے میں نافذ کرسکتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جس کی ترکیب ، جس کی اٹھان اور جس کی عضویاتی تحریک اسلامی ہو۔ جب بھی ایسا معاشرہ قائم ہوگا اس میں ایسے احکام اور ان کے مطابق نظام قائم ہوجائے گا۔ اگر کہیں اسلامی معاشرے کا نام و نشان ہی نہ ہو تو ان میں یہ احکام نافذ نہیں ہو سکتے ، محض خلاء میں۔
یہی معاملہ تمام اسلامی احکام کا ہے لیکن ہم اسلام کے دوسرے احکام کے بارے میں یہاں تفصیلات دینا مناسب نہیں سمجھتے۔
سوال یہ ہے کہ اسلامی معاشرے میں لوگ خود اپنے منہ میاں مٹھو کیوں نہیں بنیں گے اور خود اپنے آپ کو امیدوار کیوں نہ بنائیں گے اور وہ اپنے پسندیدہ افراد کے لئے یہ پروپیگنڈہ کیوں نہ کرسکیں گے کہ ان کو مجلس شوریٰ گورنر یا کسی اور منصب کے لئے منتخب کیا جائے ۔
حقیقت یہ ہے کہ جب اسلامی معاشرہ قائم ہوگا تو لوگوں کو اپنی صلاحیت اور افضلیت کے اظہار کے لئے کسی پروپیگنڈے کی ضرورت ہی نہ ہوگی۔ نیز اسلامی معاشرے میں منصب ایک قسم کی ذمہ داری ہے اور کوئی بیوقوف ہی ہوگا جو خواہ مخواہ کوئی ذمہ داری اپنے سر لینے کے لئے جدو جہد کرے گا الا یہ کہ اللہ کی رضا مندی کے حصول ، خدمت خلق کے ذریعہ حصول ثواب یا معاشرے کے اندر فرائض کی ادائیگی کے لئے اس منصب کی خواہش ہو سکتی ہے لیکن یہ بھی اس طرح کہ کوئی یہ منصب اور ذمہ داری کسی پر ڈال دے۔ جو لوگ خود مطالبہ کرتے ہیں اور مناصب کے پیچھے دوڑتے ہیں یہ ہلکے لوگ ہوتے ہیں اور ان کے پیش نظر ان مناصب سے کچھ اور اغراض حاصل کرنی ہوتی ہیں لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ ایسے لوگوں کو یہ مناصب ہرگز پیش نہ کئے جائیں۔
لیکن یہ حقیقت صرف اس وقت سمجھ میں آسکتی ہے جب اسلامی معاشرے کے قیام اور اس کے مزاج کو سمجھا جائے اور اس کی تشکیل کی نوعیت ذہن میں ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ حرکت اور تحریک کسی بھی اسلامی معاشرے کی جان ہے۔ اسلامی معاشرہ دراصل تحریک اسلامی کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے ، کس طرح ؟
(1) ۔ مثلاً اللہ کی جانب سے ایک پیغام اور عقیدہ نازل ہوتا ہے ۔ ایک رسول اس کی تبلیغ کرتا ہے۔ زمانہ نبوت میں تو رسول بذات خود تبلیغ کرتا تھا ، جبکہ زمانہ نبوت کے بعد اب رسول کی جگہ کوئی داعی اسی عقیدے کی طرف سے دعوت دیتا ہے۔ اس دعوت کو کچھ لوگ قبول کرتے ہیں جبکہ دعوت کے ابتدائی ایام میں نظام حکومت جاہلی ہوتا ہے اور یہ جاہلی نظام حکومت اور یہ جاہلی معاشرہ اس تحریک پر ظلم کرتا ہے اور تشدد اور فتنے اور آزمائش کے دور میں کچھ لوگ تحریک کا ساتھ چھوڑ کر مرتد ہوجاتے ہیں جبکہ بعض لوگ مقابلہ کر کے شہید ہوجاتے ہیں اور بعض انتظار کرتے ہیں اور کام جاری رکھتے ہیں۔
جو لوگ مشکلات برداشت کر کے کام جاری رکھتے ہیں ، اللہ ان کو فتح نصیب کرتا ہے ، یہ لوگ پھر دست قدرت کا آلہ ہوتے ہیں ، ان کو اللہ تعالیٰ تمکن فی الارض اور غلبہ اور اقتدار عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کا مستقل وعدہ ہے ۔ اس طرح یہ لوگ زمین پر حکومت الہیہ قائم کرتے ہیں اور اس میں اللہ کے احکام نافذ کرتے ہیں ۔ یہ اقتدار اور تمکن فی الارج ان لوگوں کی ذات کے لئے نہیں ہوتا بلکہ یہ نصرت اور غلبہ اللہ کے دین کے لئے ہوتا ہے اور زمین پر اللہ کا نظام ربوبیت قائم کرنے کے لئے ہوتا ہے۔
دین کا یہ ہر اول دستہ دین کو لے کر پھر کسی ارضی حدود پر ٹھہرتا نہیں ، نہ کسی قوم اور نسل کی حدود کے اندر اپنے آپ کو محدود کرتا ہے۔ نہ کسی رنگ اور نسل تک محدود ہوتا ہے نہ کسی زبان اور شکل تک محدود ہوتا ہے ، یہ تو بہت ہی کچے اور ناپائیدار عناصر اور محدود دائرے ہیں ، بلکہ یہ ہر اول دستہ اس پیغام کو لے کر اطراف عالم میں پھیلتا چلا جاتا ہے اور پورے کرۂ ارض سے تمام انسانوں کو انسانی غلامی سے آزاد کرتا ہے۔ تمام طاغوتی قوتوں سے ٹکراتا ہے اور پورے کرۂ ارض پر اللہ کی بندگی کا نظام قائم کرتا ہے۔
اس تحریکی عمل کے دوران اس دین کو لے کر تحریک برپا کرنے والے کسی ایک علاقے میں حکومت برپا کر کے رک نہیں جاتے۔ نہ کسی جغرافیائی یا نسلی یا قومی حدود پر وہ رکتے ہیں۔ یہ تحریک لوگوں کی قدریں بدل دیتی ہے۔ معاشرے کے اندر لوگوں کے مرتبہ و مقام کا از سر نو تعین ہوتا ہے۔ تمام اقدار ایمانی پیمانے کے اوپر استوار ہوتی ہے۔ لوگوں کا معاشرے میں تعارف ان جدید اقدار پر ہوتا ہے اور ہر فرد کی قیمت از سر نو متعین ہوتی ہے۔ اسلامی معاشرے میں افراد کی قدرو قیمت اس پر ہوتی ہے کہ انہوں نے اقامت دین کے لئے کس قدر جدو جہد کی ، کس قدر آزمائشیں ان پر آئیں ، تقویٰ ، خدا خوفی ، اخلاق اور صلاحیت کے اعتبار سے وہ کیسے ہیں۔ یہ وہ اقدار ہوتی ہیں جو واقعات کی صورت میں متعین ہوتی ہیں اور اسلامی تحریک ان کا اظہار کرتی ہے اور تمام اسلامی معاشرہ اور اسلامی تحریک ایسے افراد سے واقف ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسے افراد کو اس بات کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کہ وہ اپنی تعریف خود کریں یا کسی منصب اور ذمہ داری کا مطالبہ کریں ، ایک تو ان کو اس بات کی ضرورت ہی پیش نہیں ا آتی۔ دوسرے یہ کہ ان کا تزکیہ اور تربیت اس قدر ہوچکی ہوتی ہے کہ وہ ایسے نہیں کرتے۔
بعض اوقات ، بعض لوگ اس طرح سوچتے ہیں کہ یہ پہلے اسلامی معاشرے کی خصوصیت تھی کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ قرن اول کے ان لوگوں کی بہترین انداز میں تربیت فرمالی گئی تھی لیکن وہ یہ بات نہیں جانتے کہ کوئی ایسا معاشرہ بھی اس وقت وجود میں نہیں آسکتا جب تک اس کے لے اس قسم کی تحریک برپا نہ کی جائے اور صحابہ کرام کی طرح ان کی تربیت کر کے اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے جدو جہد نہ کی جائے۔ جب بھی ہم کوئی ایسا معاشرہ قائم کریں گے ہمیں ایسی ہی راہوں سے گزرنا ہوگا ۔ ایک تحریک برپا ہوگی ، وہ لوگوں کو از سر نو دین اسلام کے اپنانے کی دعوت دے گی اور اس طرح لوگوں کو جاہلیت سے نکالنے کی سعی کی جائے گی۔ پھر اہل جاہلیت اسی طرح ان کارکنوں پر تشدد کریں گے۔ کچھ لوگ تحریک سے بھاگ نکلیں گے اور ارتداد کی راہ اختیار کریں گے لیکن بعض لوگ اپنی راہ پر جم جائیں گے۔ ان کے لئے دعوت اور تحریک کو چھوڑنا ایسا ہی ہوگا جس طرح کسی کو آگ میں ڈال دیا جائے۔ پھر اس کشمکش کا فیصلہ ہوگا ، اللہ تحریک کو فتح دے گا اور کسی ایک جگہ اسلامی حکومت قائم ہوجائے گی۔ اس مرکز سے اسلامی انقلاب کا پھیلاؤ شروع ہوگا۔ اس وقت مجاہدین اور متحرکین بالکل سامنے آچکے ہوں گے۔ اس وقت ایمانی اقدار اور اوصاف واضح ہوچکے ہوں گے اور کسی کو ضرورت نہ ہوگی کہ وہ کوئی درخواست کسی منصب کے لئے پیش کرے کیونکہ ایسے لوگ تو معاشرے کے خدوخال ہوں گے اور وہ خود ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کو کوئی ذمہ داری سپرد کرے گا۔
بعض اوقات یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اس ابتدائی مرحلے کے بعد پھر ایسا ہوگا لیکن جب اسلامی معاشرہ مستقلا قائم ہوگیا تو پھر کیا صورت ہوگی۔ یہ سوال وہی لوگ کرتے ہیں جو اس دین کی حقیقت کو نہیں جانتے ۔ یہ دین ہمیشہ ایک تحریک کی شکل میں رہتا ہے۔ یہ کسی وقت بھی ٹھہرتا نہیں۔ اس کی تحریک اس مقصد کے لئے ہوتی ہے کہ تمام انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے رہا کر کے اللہ کی بندگی اور غلامی میں داخل کیا جائے۔ یہ آزادی اور قربت تمام کرۂ ارض کے مکینوں کو حاصل ہو اور لوگ طاغوت کی بندگی کے بجائے اللہ کی بندگی کریں اور تحریک مسلسل جاری رہے۔ رنگ ، نسل اور جغرافیہ کی حدود و قبول کے بغیر۔
جب یہ تحریک مسلسل جاری رہے گی تو اس میں ثابت قد ، مخلص ، قربانی دینے والے لوگ ممتاز ہو کر خود بخود اوپر آتے جائیں گے۔ چونکہ یہ تحریک جاری رہے گی اس لئے یہ معاشرہ کبھی بھی رک کر منجمد اور بدمزہ نہ ہوگا الا یہ کہ یہ معاشرہ اسلامی راہ سے منحرف ہوجائے ۔ غرض اپنی صفات کے بارے میں خاموش رہنے اور تزکیہ نفس اور عدم امیدواری کا حکم اپنی جگہ قائم رہے گا جس طرح کہ آغاز میں ایک دائرے میں یہ حکم آیا۔ ایسے ہی دائرے میں ہی اپنی جگہ قائم رہے گا اور کام کرتا رہے گا۔
یہ سوال بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب سوسائٹی میں وسعت ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کی صلاحیتوں اور شخصیتوں سے متعارف ہی نہیں ہوتے تو پھر با صلاحیت لوگوں کو مجبوراً اپنی صلاحیت کے بارے میں اشتہار دینا پڑے گا اور یہ بتانا پڑے گا کہ ان کا یہ اخلاق وکردار ہے اور وہ اس طرح کی صلاحیتیں رکھتے ہیں۔
یہ سوال بھی ایک وہم پر مبنی ہے اور یہ موجودہ جاہلیتوں کی عملی صورت حالات پر مبنی ہے۔ لیکن اسلامی معاشرے کی یہ صورت حال نہیں ہوتی۔ اسلامی معاشرہ میں اہل محلہ ایک دوسرے سے متعارف اور باہم متغافل ہوتے ہیں کیونکہ اسلامی تربیت ، اسلامی معاشرے کی تشکیل اور اس کے رخ اور اس کے التزامات کا لازمی تقاضا ہی یہ ہے کہ اس کے لوگ ایک دوسرے سے بہت ہی اچھی طرح متعارف ہوتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی ان صلاحیتوں کی جان پہچان ایمانی اقدار میں کرتے ہیں اس لئے یہ بات کوئی مشکل بات نہ ہوگی کہ اسلامی معاشرہ میں اچھے لوگوں کو مجلس شوریٰ یا انفرادی اور اجتماعی سروسز کے لئے منتخب نہ کرسکے۔ رہے بڑے عہدے مثلاً گورنر اور حاکم تو امام خود ان کے لئے آدمی تلاش کرسکتا ہے۔ جو اہل حل و عقد میں سے ہوتے ہیں۔ امام کے اہل شوریٰ بھی اس میں امداد کرسکتے ہیں اور اچھے افراد کو تلاش کرنے میں امیر اور امام کی مدد کرسکتے ہیں۔ پھر جس طرح ہم نے کہا اسلام تو ایک تحریک ہے اور جہاد تو یوم القیامت تک جاری رہے گا۔ لہٰذا تحریک اور جہاد کے ہوتے ہوئے کوئی صاحب صلاحیت کس طرح پوشیدہ رہ سکتا ہے ؟
جو لوگ آج اسلامی نظام حیات اور اس کی مفصل تنظیم کے بارے میں سوچتے ہیں یا اس موضوع پر لکھتے ہیں وہ ایک حماقت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ لوگ اسلامی نظام حیات کے مدون فقہی اصولوں کو ایک خلاء میں نافذ کرنا چاہتے ہیں ، پھر وہ اس جاہلی معاشرے میں ان احکام کا نفاذ چاہتے ہیں جو عملاً قائم اور غالب ہے ۔ اس جاہلی معاشرے کی اپنی ایک مخصوص عضویاتی ترکیب ہے اور یہ عملاً قائم جاہلی معاشرہ اسلامی نقطہ نظر سے اور اسلام کے فقہی احکام کے نقطہ نظر سے ایک خلاء ہے اور اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ اس کے اندر اسلامی شریعت نافذ ہو کیونکہ موجودہ جاہلی معاشرے کی عضویاتی ترکیب سو فیصد اسلامی معاشرے کی عضویاتی ترکیب کے خلاف ہے۔ جیسا کہ ہم نے تفصیل سے بتایا کہ اسلامی معاشرے کی عضویاتی تشکیل ان شخصیات ، ان گروہوں اور ان لوگوں سے ہوتی ہے جنہوں نے اسلامی نظام کے لئے تحریک چلائی ، جاہلیت کے خلاف جدو جہد کی اور عالم اسلام کو عملی صورت میں نافذ کیا اور انہوں نے جاہلیت کے خلاف عملی جدو جہد کی تا کہ لوگوں کو جاہلیت سے نکال کر اسلام میں داخل کیا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے جاہلیت کے تمام دباؤ برداشت کئے ، جاہلیت کی جانب سے ہر قسم کے تشدد اور ایذا رسانی کو انگیز کیا اور تحریک اسلامی کے ساتھ جاہلیت کی ہمہ گیر جنگ میں وہ اسلام کے ثابت قدم سپاہی رہے اور آغاز سے انتہاء تک وہ اس جدو جہد میں شریک رہے۔ رہا موجودہ جاہلی معاشرہ ، تو وہ ایک ٹھہرا ہوا معاشرہ ہے اور ایسی اقدار پر قائم ہے جن کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ، نہ اس معاشرے کا ایمانی اصولوں کے ساتھ تعلق ہے۔ اس لئے اسلامی شریعت کے زاویہ سے یہ معاشرہ اسلام کے لئے ایک خلاء ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس خلاء میں اسلامی نظام جڑ نہیں پکڑ سکتا۔
اس قسم کے محقق اور لکھنے والے جب اسلامی احکامات کو عملی شکل دینے لگتے ہیں تو وہ قدم قدم پر پریشانی اور حیرانی سے دو چار ہوتے ہیں ۔ ان کو پہلی پریشانی یہ لاحق ہوجاتی ہے کہ اہل حل وعقد یا مجلس شوریٰ کو کس طرح چنا جائے۔ یعنی ایسا طریقہ کس طرح وضع کیا جائے کہ لوگ خود اپنے آپ کو امیدوار بھی نہ بنائیں اور خود اپنے منہ میاں مٹھو بھی نہ بنیں اور اچھے لوگ اوپر بھی آجائیں۔ ایسے لوگوں کو اس معاملے میں مشکل یہ درپیش ہوتی ہے کہ موجودہ معاشرے جن میں ہم زندہ رہتے ہیں ، لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہی نہیں ہیں۔ نیز موجودہ دور میں ایسے لوگ بھی ناپید ہیں جو صلاحیت ، پاکدامنی اور امانت و دیانت کے ۔۔۔۔ پر پورے اترتے ہوں۔ اسی طرح امام اور خلیفہ کے انتخاب کے طریقے میں بھی یہ لوگ سخت پریشان ہیں۔ آیا خلیفہ کا انتخاب عوام الناس کریں گے یا اہل حل و عقد کریں گے۔ اگر اہل حل و عقد خود امیدوار نہ ہوں گے اور نہ اپنا تزکیہ کریں گے اور ان کا انتخاب امام کرے گا تو پھر وہ کس طرح امام کا انتخاب کریں گے۔ کیا اس کا اہل حل و عقد پر اثر نہ پڑے گا۔ پھر اگر یہ لوگ امام کو نامزد کریں گے تو کیا یہ لوگ امام کے مقابلے میں برتر نہ ہوں گے ، حالانکہ امام برتر امام ہوتا ہے اور امام اگر اہل حل و عقد کو منتخب کرتا ہے یا نامزد کرتا ہے تو یہ لوگ اس کے پسندیدہ نہ ہوں گے اور ان کے انتخاب میں یہ بات سر فہرست نہ ہوگی کہ وہ اس کے وفادار ہوں۔۔۔۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے بیشمار سوالات ہیں جن کا جواب ضروری ہے اور ان محققین کی سطحی سوچ کی وجہ سے وہ اس کا کوئی جواب نہیں پا رہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ایسے محققین اسی نکتے سے غلط راہ میں پڑگئے ہیں۔ ان لوگوں کی غلط روی اس نکتے سے شروع ہوتی ہے کہ یہ لوگ ہمارے موجودہ معاشروں کو اسلامی معاشرہ سمجھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی نظام کے اصول و فروع موجودہ جاہلی معاشروں پر نافذ ہوں گے۔ موجودہ معاشروں اور سو سائٹیوں کی عضویاتی تشکیل اور ان کی اخلاقی اقدار کے ہوتے ہوئے ان میں اسلام نافذ ہوجائے گا۔ ایں خیال است ومحال است و جنوں۔
ان لوگوں کی حماقت اور پریشانی اس نکتے سے شروع ہوتی ہے کہ یہ لوگ موجود جاہلی معاشرے کو بھی ایک اسلامی معاشرہ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ اسلامی احکام اور قواعد اس معاشرے میں منطبق ہوں گے اور اس معاشرے کی عضویاتی ترکیب اور اخلاقی احکام اور قواعد اس معاشرے میں منطبق ہوں گے اور اس معاشرے کی عضویاتی ترکیب اور اخلاقی حالت جوں کی توں رہے گی۔
ان لوگوں کی حیرانی و پریشانی کا یہ نقطہ آغاز ہے اور جب یہ لوگ سوچ اور تحقیق شروع کرتے ہیں تو ہم خلاء میں ہوتے ہیں اور اس خلاء میں یہ لوگ اس قدر دور چلے جاتے ہیں اور ان کا مدار اس قدر وسیع ہوجاتا ہے کہ پھر ان سے اپنی راہ ہی گم ہوجاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ جاہلی معاشرہ جس میں ہم رہ رہے ، کوئی اسلامی معاشرہ نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں نہ شریعت نافذ ہو سکتی ہے اور نہ اس میں فقہی دستور نافذ ہو سکتا ہے اور یہ اسی وجہ سے نافذ نہیں ہو سکتے کہ اسلامی شریعت اور اسلامی دستور کبھی بھی خلا میں نافذ نہیں ہوتے کیونکہ اسلامی نظام ایک عملی نظام ہے اور یہ کسی اسلامی معاشرے ہی میں نافذ ہو سکتا ہے ، خلا میں نافذ نہیں ہو سکتا۔
اسلامی معاشرے کی عضویاتی تشکیل ہی دراصل موجودہ جاہلی معاشرے کی نظریاتی تشکیل سے مختلف ہوتی ہے۔ اسلامی معاشرے کے افراد اور گروہ وہ نہیں ہوتے جو موجودہ معاشرے کے ہیں۔ اس کے افراد بالکل مختلف اور اس کے گروہ بالکل دوسرے ہوتے ہیں۔ اس کے افراد اور گروہوں کی اخلاقی قدریں تحریک کے دوران وجود میں آتی ہیں اور وہ بہت ہی مختلف اور عملی ہوتی ہیں۔
یہ ایک جدید اور نیا معاشرہ ہوتا ہے۔ یہ دائماً حرکت میں رہتا ہے۔ ترقی پذیر ہوتا ہے اور اس کے انسان ، پورے کرۂ ارض کے مقابلے میں آزاد انسان ہوتے ہیں۔ وہ اس کرۂ ارض پر کسی کے غلام نہیں ہوتے اور اس معاشرے سے طاغوتی قوتیں ختم ہوجاتی ہیں۔
یہ مسئلہ اور اس قسم کے دوسرے مسائل مثلاً اپنے آپ کو کسی منصب کا اہل بتانا ، منصب طلب کرنا ، امام کا انتخاب ، اہل شوریٰ کا انتخاب اور اس جیسے دوسرے مسائل کے بارے میں لوگ عموماً خلا میں سوچتے ہیں۔ یہ مسائل اور جاہلی معاشروں میں ان کا نفاذ ، یہ سوچ ہی متضاد ہے۔ خصوصاً جبکہ یہ جاہلی معاشرہ اپنی عضویاتی ترکیب میں اسلامی معاشرے سے کلیۃً متضاد ہو۔ اس کی اقدار ، اخلاقی پیمانے ، تصورات اور سوچیں سب کی سب اسلامی معاشرے سے الٹ ہوں۔
موجودہ دور کے بینک اور ان کی تمام سرگرمیاں ، انشورنس اور اس کے قواعد و ضوابط ، ضبط تولید کے مسائل اور اس قسم کے دوسرے عقدے جن کو یہ محققین کھولنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کے بارے میں صحیح حل موجودہ سوسائٹی میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔
ان موضوعات پر آغاز بحث ہی سے محقق پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی سعی یہ ہوتی ہے کہ وہ اسلامی شریعت کے قواعد وقوانین کو موجودہ جاہلی اور گندے معاشرے میں نافذ اور جاری کرنے کے بارے میں سوچتا ہے اور یہ معاشرہ سو فیصد اسلامی احکام سے متضا د ہے۔ اس لئے ایسے محققین کو ان میں دشواری پیدا ہوتی ہے۔ یہ لوگ اسلامی قوانین کو نافذ کر کے یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ جاہلی معاشرے اسلامی بن جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت ہی مضحکہ خیز سوچ ہے۔
حقیقت یہ ہے اسلامی معاشرے کو فقہ اسلامی نے وجود نہیں بخشا بلکہ اسلامی معاشرے کی تحریکی جدو جہد اور تحریک اسلامی اور جاہلیت کے درمیان طویل کشمکش کے نتیجے میں اسلامی معاشرے کے وجود میں آنے کے بعد اور ایک اسلامی معاشرے کی عملی ضروریات سامنے آنے کے بعد اسلامی فقہ اس کے احکام اور اس کے اصول وجود میں آئے۔ لہٰذا دور جدید میں بھی فقہ اسلامی کا وجود اس طرح آسکتا ہے کہ اسلامی انقلاب کے ذریعے اسلامی سوسائٹی وجود میں لائی جائے۔ اس کے برعکس ممکن ہی نہیں ہے۔
یاد رکھئے کہ فقہ اسلامی اور اسلامی شریعت کا نفاذ خلاء میں ممکن نہیں ہے ، نہ خلاء میں کوئی بھی قانون قائم رہ سکتا ہے۔ اسلامی شریعت دماغوں اور کتابوں میں قائم نہیں ہو سکتی ، یہ تو ایک عملی زندگی کا عملی ضابطہ ہے اور ضابطہ بھی ہر عملی زندگی کا نہیں بلکہ ایک اسلامی زندگی کا ضابطہ ہے۔ ایک اسلامی سوسائٹی کی فضا ہی میں اسلامی نظام زندگی اور اسلامی قانون نافذ ہو سکتا ہے۔
جس وقت اسلامی معاشرہ وجود میں آئے گا اور وہ بھی ایک تحریکی شکل میں وجود میں آئے گا تو اس وقت اسے بینکوں اور تجارتی اداروں کی ضرورت درپیش ہوگی یا نہ ہوگی ، یہ سوال اس وقت پیدا ہوگا۔ اب جبکہ اسلامی معاشرہ سرے سے وجود میں بھی نہیں ہے ، وقت سے پہلے ہم اس معاشرے کی ضروریات کو کس طرح معلوم کرسکتے ہیں۔ نہ اس وقت کے معاشرے کی شکل یا اس کے حجم کے بارے میں کچھ معلوم کرسکتے ہیں۔ وقت سے قبل ہم کسی معاشرے کے لئے قانون سازی کیسے کرسکتے ہیں۔ اس وقت اسلامی شریعت کے جو احکام مدون ہیں ، وہ ایک جاہلی اور کافرانہ معاشرے میں نافذ ہی نہیں ہوسکتے ، کیونکہ اسلامی شریعت موجودہ جاہلی اور کافرانہ سو سائٹیوں کے وجود ہی کو تسلیم نہیں کرتی ، اسے ان جاہلی سوسائٹیوں کے مسائل سے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔
اس قسم کے محققین جس مصیبت میں گرفتار ہیں وہ یہ ہے کہ یہ لوگ موجودہ جاہلی معاشروں کو اصل سمجھتے ہیں اور دین اسلام کو ان کے تابع سمجھتے ہوئے ، اسے ان کے مطابق بنانے کی سعی کرتے ہیں لیکن حقیقی صورت حالات اس کے برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام اصل ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم جدید سوسائٹی کو دین اسلام کے تابع بناتے چلے جائیں۔ یہ کام صرف ایک ہی ذریعے سے ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ جاہلیت کے مقابلے میں اسلامی معاشرے کے قیام کے لئے تحریک برپا کی جائے۔ یہ تحریک اس کرۂ ارض پر اللہ کی حاکمیت کے قیام کے لئے ہو۔ اللہ کی حاکمیت کا نظام ہوتا ہی وہ ہے جس میں لو اللہ کے سوا کسی کے تابع فرمان نہیں ہوتے۔ وہ کسی طاغوت کے تابع نہ ہوں اور ان کی زندگیوں میں صرف شریعت کی حکمرانی ہو۔ جب بھی کوئی یہ تحریک برپا کرے گا اسے فتنوں ، آزمائشوں اور تشدد کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ جب اس قسم کی تحریک پر تشدد ہوگا تو کچھ لوگ ان مشکلات کو برداشت کریں گے ، کچھ لوگ الٹے پاؤں پھرجائیں گے اور کچھ لوگ اللہ کے پیغام کی تصدیق کرتے ہوئے مقام شہادت پر فائز ہوں گے جبکہ کچھ لوگ یہ جدو جہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک اللہ ان کے اور ان کی قوم کے درمیان صحیح فیصلہ نہیں فرما دیتے۔ جب اللہ ان انقلابیوں اور ان کی اقوام کے درمیان فیصلہ کر دے گا تو ان کو تمکن فی الارض نصیب ہوگا اور اس وقت ہی اسلامی نظامی زندگی صحیح معنوں میں قائم ہوگا ۔ اس وقت تمام لوگ اسلام میں رنگے ہوں گے اور وہ اسلامی اقدار کو لے کر اس دنیا میں ممتاز مقام حاصل کرچکے ہوں گے۔ اس وقت پھر اس سوسائٹی کی کچھ ضروریات اور تقاضے ہوں گے اور یہ ضروریات اور تقاضے دوسری جاہلی سو سائٹیوں سے بالکل مختلف ہوں گے۔ ان ضروریات اور تقاضوں کے پورے کرنے کے انداز بھی مختلف ہوں گے ۔ اس وقت اسلامی نظام زندگی کے احکام کا استنباط ایک قائم سوسائٹی کے لئے ہوگا ، ایک اسلام فقہ اور شریعت وجود میں آئے گی ۔ یہ شریعت خلاء میں نہ ہوگی بلکہ یہ شریعت ایک متعین اور موجود سوسائٹی میں نافذ ہوگی اور اس سو سائٹی کے مقاصد اور ضروریات بھی متعین ہوں گی۔
ہمیں کوئی بتائے کہ وہ سو سائٹی اس دنیا میں کہا ہے جس میں نظام زکوٰۃ نافذ ہو اور زکوٰۃ لی جاتی ہو اور اسے اپنے حقیقی مصارف پر خرچ کیا جاتا ہو اور جس کے ہر محلے میں باہم محبت ، رحمت اور نظام تکافل قائم ہو ، پھر پوری سوسائٹی میں تکافل (Social Security) کا نظام قائم ہو اور اس سوسائٹی کا مالی نظام اسراف ، تعیش ، خود نمائی اور زر اندوزی پر قائم نہ ہو۔ اس کا مالی نظام صحیح اسلامی خطوط پر قائم ہو ، پھر اگر ایسا کوئی نظام قائم ہوجائے اور ایسی سو سائٹی وجود میں آجائے تو ثابت کیا جائے کہ اس میں انشورنس کی ضرورت ہوگی اور انشورنس کے یہ ضابطے پھر اسلامی سوسائٹی کے حالات ، اس کی اقدار اور مالی تصورات کے مطابق ہوں گے۔ اگر اسلامی سوسائٹی کو کسی انشورنس کی ضرورت بھی پڑے تو ثابت کیا جائے کہ اسے بعینہ اسی طرح ہونا لازمی ہے جس طرح کہ موجودہ جاہلی معاشروں میں انشورنس کا نظام موجود ہے۔ جو موجودہ جاہلی سوسائٹی جاہلی تصورات اور اقدار پر مبنی ہے اور اسے جاہلی سوسائٹی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے وجود میں لایا گیا ہے۔
پھر یہ ثابت کیا جائے کہ ایک متحرک اسلامی معاشرہ تحدید نسل اور ضبط تولید کا محتاج ہوگا جس طرح موجودہ غیر اسلامی معاشرہ ہے۔
جب ہم موجودہ حالات میں ایک اسلامی سوسائٹی کی ضروریات کا تعین ہی نہیں کرسکتے ، نہ اس کی سوسائٹی کے حجم اور شکل کی کوئی متعین صورت ہمارے سامنے ہے ، اور یہ ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ ایک اسلامی سوسائٹی کی عضویاتی ترکیب ہی موجودہ جاہلی سوسائٹی سے بالکل جدا ہوتی ہے۔ اس کی سوچ ، اس کی قدریں اور اس کے ۔۔۔۔ ہی مختلف ہوتے ہیں لہٰذا اس وقت جو لوگ ایک غیر موجودہ سوسائٹی کے لئے احکام مدون کرنے کی سعی کر رہے ہیں ان کی یہ سعی نا مشکور ہوگی ، اس لئے کہ جس طرح اسلامی سوسائٹی اس وقت ہوا میں ہے اسی طرح ان لوگوں کی یہ مساعی بھی ہوا میں ہیں اور لا حاصل ہیں۔
جیسا کہ ہم نے بار بار کہا ہے کہ اس معاملے میں غلطی کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ یہ محققین موجودہ معاشروں کو اسلامی معاشرے سمجھتے ہیں اور وہ اسلامی فقہ کے اوراق سے احکام نکال کر ان معاشروں پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ معاشروں کے اجزاء ترکیبی کو وہ نہیں چھیڑتے اور ان معاشروں کی اقدار اور تصورات اور ۔۔۔ کو بھی جوں کا توں رہنے دیتے ہیں۔
پھر ان حضرات کے شعور اور لاشعور میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ موجودہ جاہلی معاشرے اصل اور قائم حقیقت ہیں اور یہ دین اسلام کا فرض ہے کہ وہ اپنے اندر تبدیلی لا کر اپنے آپ کو ان کے مطابق کرلے۔ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں۔۔۔ اس طرح دین اسلام کا فرض ہے کہ وہ جدید جاہلی سوسائٹی کے تقاضے پورے کرے۔ حالانکہ جدید جاہلی سو سائٹی کے تقاضے سراسر اسلام کے خلاف ہیں اور یہ تقاضے ایک مسلمان کو سرے سے اسلام سے خارج کرنا چاہتے ہیں ”۔
میرا خیال یہ ہے کہ وقت آگیا ہے کہ اب اسلام اہل اسلام کے دل و دماغ میں سر بلند ہوجائے۔ اب اہل اسلام یہ روش ترک کردیں کہ اسلام جاہلی سوسائٹی کے تقاضوں کو پورا کرتا پھرے۔ داعیان اسلام کو اب یہ اعلان کردینا چاہئے کہ لوگو ! تم اسلام کے مطیع فرمان بن جاؤ، اس کے احکام کو دل و جان سے تسلیم کرو ، بلکہ یہ کہ لوگو ! سب سے پہلے تم دین اسلام میں داخل ہوجاؤ، اعلان کر دو کہ تم اب صرف اللہ کے بندے ہو ، اور کلمہ طیبہ کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دو ، بایں معنی کہ اللہ کے سوا اس کرۂ ارض پر کوئی اور حاکم نہیں ہے۔ صرف وہی رب اور خالق ، مالک اور رازق ہے ۔ تمام لوگوں کی زندگی پر اسی کے احکام چلیں گے ۔ آئندہ کوئی انسان انسان کا غلام نہ ہوگا اور کوئی انسان کسی انسان کے لئے اب قانون نہیں بنائے گا۔
جب لو یہ اعلان کردیں گے تو اسلامی معاشرے کا پودا کونپل نکالے گا اور جب اس اعلان کی اساس پر کوئی سو سائٹی وجود میں آجائے گی تو اس میں پھر فقہ اسلامی کا اجراء ہوگا۔ اس وقت پھر فقہ اسلامی اس سوسائٹی کی تمام ضروریات کو پورا کرے گا اور عملاً اسلامی شریعت نافذ ہوگی۔
جب تک اسلامی انقلاب کے نتیجے میں اسلامی سوسائٹی قائم نہیں ہوجاتی اسلام کے دستوری اور انتظامی احکامات کے بارے میں دماغ سوزی کرنا محض اپنے آپ کو دھوکہ دینا ہے۔ محض ہوا اور خلاء میں تخم ریزی کرنا ہے جبکہ کوئی قانون کبھی کسی خلاء میں نہیں اگتا جیسا کہ ہوا میں کوئی فصل نہیں اگتی۔
٭٭٭
اسلامی فقہ کے فکری میدان میں کام کرنا نہایت ہی دلچسپ کام ہے ، کیونکہ اس میں کوئی خطرہ اور ابتلاء نہیں ہے۔ لیکن یہ اسلامی کام نہیں ہے یعنی اسلام کے لئے نہیں ہے ، نہ یہ اس دین کے مزاج کے مطابق ہے نہ یہ اسلامی منہاج کار ہے ، اور یہ طریقہ صرف ان لوگوں کا ہے جو خیر و عافیت کی زندگی بسر کرتے ہوئے محض علمی اور فنی امور میں اپنے آپ کو مشغول رکھتے ہیں ، لیکن میرا خیال یہ ہے کہ تحریک کے اس مرحلے میں اسلامی فقہ کے موضوعات پر دماغ سوزی کرنا عمر ضائع کرنا ہے۔ موجودہ سوسائٹی کے ہوتے ہوئے میں سمجھتا ہوں اس میں کوئی اجراء ضروری نہ ہوگا۔
دین اسلامی جاہلیت کے لئے خرکاری کا کام نہیں کرتا ، نہ وہ جاہلیت کا بندہ فرمان بننا قبول کرتا ہے ، جس کا مشن صرف یہ ہو کہ جاہلیت کی خواہشات کے لئے ہر وقت وجہ جو از فراہم کرتا پھرے ۔ جبکہ یہ جاہلی سوسائٹی دین سے متنفر ، دین سے دور اور دین پر فقدان ہو اور دین کی اطاعت نہ کرتے ہوئے یہ سو سائٹی دین سے اپنے اعمال کے لئے وجہ جواز مانگتی ہو۔
اس بات کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے کہ اس دین کی فقہ اور اس کے احکام نہ خلاء میں ترقی کرتے ہیں اور نہ ہی خلاء میں رد بعمل آتے ہیں۔ اسلامی سوسائٹی ابتداءً اللہ کی حاکمیت کو قبول کرنے والی ہوتی ہے۔ یہی سوسائٹی دراصل فقہ کو وجود بخشتی ہے اور یہی سوسائٹی اس کو ترقی دیتی ہے ، یہ نہیں ہے کہ کوئی فقہی نظام سوسائٹی کو وجود بخشے۔
احیائے اسلام کے مراحل اور اس کا طریقہ کار آغاز ہی سے ایک ہی ہیں۔ جاہلیت سے کسی سوسائٹی کا اسلام کی طرف منقلب ہونا تو سہل امر نہیں ہوتا اور یہ اس طرح نہیں ہوتا کہ پہلے فقہی احکام کا کوئی سانچہ ڈھالا جائے اور اس کے مطابق انسان تیار ہوتے جائیں اور یہ سانحہ پہلے سے خلاء میں تیار کردیا گیا ہو اور جب اسلامی انقلاب کے بعد اسلامی سوسائٹی تیار ہو تو اس میں اسے نافذ کردیا جائے۔ جاہلیت سے کسی سوسائٹی کا اسلام کی طرف منقلب ہونا کسی قانونی نظام کی وجہ سے نہیں ہوا کرتا ۔ اس لئے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ شاید قانونی نظام مفصل طور پر تیار نہ ہونے کی وجہ سے اسلامی معاشرہ وجود میں نہیں آرہا ہے۔ بعض لوگ اس معاملے میں غلط فہمی کا شکار ہوا کرتے ہیں اور بعض اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی سوسائٹی وجود میں اس لئے نہیں آرہی ہے کہ کچھ طاغوتی قوتیں اس کی راہ روکے کھڑی ہیں۔ یہ طاغوتی قوتیں اللہ کی حاکمیت کے اصول کو تسلیم نہیں کرتیں۔ اس سے کسی بھی اسلامی ملک میں اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت پر مبنی نظام وجود میں نہیں آرہا ہے۔ ان طاغوتی قوتوں نے دراصل لوگوں کو اپنا بندہ اور غلام بنا لیا ہے اور اس طرح یہ قوتیں اور ان کے تحت تمام جمہور عوام شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ یہ حقیقی شرک ہے اور اس شرک کا تعلق اللہ رب العالمین کے مخصوص اختیارات کے ساتھ ہے۔
اس نظریہ کی اساس پر جاہلیت زمین پر اپنا ایک مستقل نظام برپا کرتی ہے۔ یہ نظام بھی ان جاہلی تصورات کی اساس پر قائم کرتی ہے اور اس میں جاہلی تصورات کے ساتھ ساتھ مادی قوتوں پر بھی بھروسہ کرتی ہے۔
اس قائم نظام کا مقابلہ احکام فقہیہ سے نہیں کیا جاسکتا۔ نہ احکام فقہیہ اس جاہلی نظام اور اس کے تصورات کے لئے برابر کی قوت ہوتے ہیں۔ اس جاہلیت کا مقابلہ صرف اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ لوگوں کو از سر نو اسلام میں داخل ہونے کی طرف دعوت دی جائے ۔ اور پھر اسلامی تصورات کے ساتھ تمام قوتوں کو لے کر جاہلیت کا مقابلہ کیا جائے۔ اس میدان کے اندر اسلام اور جاہلیت کی کھلی کشمکش کے بعد جو نتیجہ بھی ہوگا وہ سامنے آجائے گا۔ کچھ لوگ صحیح طرح اسلام کے حال ہوں گے اور باقی قوم ان کے مخالفت ہوگی اور اس کشمکش کے نتیجے میں پھر تحریک اسلامی اور اس کی قوم کے درمیان اللہ اپنا فیصلہ لاتا ہے۔ جب تحریک اسلامی غالب آکر کر اسلامی سوسائٹی قائم کردیتی ہے تو پھر فقہی احکام کی تدوین کا وقت آتا ہے ۔ اس طرح جو قانون نظام برپا ہوتا ہے وہ نظام اپنی حقیقی فضا میں نہایت ہی قدرتی ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ ایک زندہ اسلامی معاشرے کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ اور اس نئی سوسائٹی کی حقیقی ضروریات کے لئے قانون سازی ہوتی ہے۔ اور اس میں قانون کا حجم اور اس کی شکل قدرتی ہوتی ہے۔ اب یہ سوسائٹی اور اس کی ضروریات ہمارے پیش نظر موجود نہیں ہیں اور انقلاب کے بعد وجود میں آنے والی سوسائٹی کے بارے میں ابھی تک ہم کوئی پیشین گوئی بھی نہیں کرسکتے۔ نہ ہی اس کی ضروریات کو ہم متعین کرسکتے ہیں۔ لہٰذا قبل از وقت اسلامی قانون کی تدوین و ترتیب کے کام میں ابھی سے مشغول ہونا یا اس کا مطالبہ کرنا ، دین اسلام کی سنجیدگی اور متانت کے منافی ہے۔
میرے اس نکتے کے بیان کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ قرآن اور سنت میں جو قائم منصوص احکام ہیں وہ اس وقت قانوناً نافذ نہیں ہیں بلکہ میرا مقصد یہ ہے کہ یہ احکام اسلامی سوسائٹی کے لئے نازل ہوئے تھے اور ان کو ایک اسلامی معاشرے کے اندر ہی نافذ بھی ہونا ہے۔ یہ احکام اس وقت عملاً نافذ نہیں ہیں۔ یہ احکام عملاً تب ہی نافذ ہو سکتے ہیں جب کوئی اسلامی معاشرہ قائم ہو اور اسلامی معاشرے کا قیام ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو اس وقت جاہلی معاشرے میں زندگی بسر کر رہا ہوتا ہے تا کہ اس میں اسلام کا قانونی نظام نافذ ہو سکے۔ یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں جو دین کو لے کر ایک تحریک کی شکل میں اٹھیں اور ان طاغوتی قوتوں کو ۔۔۔۔ کریں جنہوں نے اس طاغوتی نظام کو قائم کر رکھا ہے اور لوگ اللہ وحدہ کی اطاعت کے بجائے مشرک ہو کر ان طاغوتی قوتوں کی اطاعت میں مبتلا ہیں۔
احیائے دین کے سلسلے میں اس نکتے کو جب لوگ پالیں گے کہ جب جاہلی نظام قائم ہو تو اس کے مقابلے میں اسلامی تحریک کا برپا کرنا ضروری ہے تو اس ادراک کے نتیجے ہی میں اسلامی انقلاب کا آغاز ہوجاتا ہے اور پھر لوگ احیائے اسلام کی تعمیری جدو جہد کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ جب سے اسلامی قانون کی جگہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین نے لی ہے ، اسلامی نظامی قائم نہیں رہا ہے اور یہ کرۂ ارض حقیقی اسلام سے خالی ہوگیا ہے۔ اگرچہ اذان خانے باقی ہیں اور مساجد باقی ہیں ، دعائیں ہو رہی ہیں اور نمازیں ادا ہو رہی ہیں۔ گزشتہ دو سو سال سے یہی صورت حال ہے۔ مسلمانوں کے دلوں میں اس دین کے ساتھ ایک جذباتی لگاؤ ہے اور یہ نماز اور یہ دعا ان کے اندر یہ تسکین پیدا کردیتی ہے کہ اسلام بخیر و عافیت ہے ، حالانکہ اس کرۂ ارض سے طاغوتی قوتیں اس کا وجود مٹانے کے درپے ہیں۔
میں کہتا ہوں ، اسلامی عبادات سے بھی قبل اسلامی معاشرہ وجود میں آگیا تھا۔ مساجد سے بھی قبل اسلامی معاشرہ وجود میں آگیا تھا۔ یہ معاشرہ اور یہ سوسائٹی اس وقت وجود میں آگئی تھی کہ جب ان سے کہا گیا تھا اعبدوا اللہ ما لکم من الہ غیرہ “ اللہ ہی کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارے لئے کوئی الٰہ نہیں ہے “ ۔ یاد رہے کہ یہ لوگ جو ان بتوں کی بندگی کرتے تھے تو یہ ان کی نمازیں اور ان کے روزے تو نہ رکھتے تھے ، نماز اور روزہ تو اس آیت کے نزول کے وقت فرض ہی نہ تھے ۔ صرف اللہ کی بندگی کا مطلب یہ تھا کہ صرف اللہ کو اپنا حاکم تصور کرو ، اور اس وقت کوئی اسلامی قانون نظام بھی نہ تھا۔ اور جب لوگوں نے اللہ کو اس زمین پر اپنا حاکم تسلیم کرلیا تو پھر حاکم کی طرف سے شریعت آگئی ۔ یہ شریعت بھی اس طرح آئی کہ جب بھی اس اسلامی سوسائٹی کو کسی قانون کی حقیقی ضرورت درپیش ہوئی تو قانون نازل ہوگیا یا انہوں نے قرآن اور سنت کی روشنی میں خود اپنے لئے قانون کا استنباط کرلیا۔۔۔ یہی ہے واحد منہاج کار اور قیامت تک کے لئے یہی منہاج رہے گا۔
اسلامی انقلاب کا اس سے آسان طریقہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ایک داعی ایک تقریر کرے ، اسلام کے احکام بیان کر دے اور اسلامی قانون کی تشریح کر دے۔ لوگ یکدم اسلام میں داخل ہوجائیں اور قصہ تمام شد۔ لیکن یہ طریقہ کار محض تمنا ہے۔ ایک اچھی خواہش ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ عوام الناس طاغوتی قوتوں اور جاہلیت کو چھوڑ کر اسلامی نظام میں صرف اسی طریقہ کار کے مطابق ہی داخل ہوسکتے ہیں اور وہ طریقہ کار ایک دیرپا ، تدریجی اور دعوت اسلامی کا طریقہ کار ہے۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک فرد دعوت اسلامی کا آغاز کرتا ہے ، ایک ہر اول دستہ اس کی دعوت کو قبول کرلیتا ہے۔ یہ ہر اول دستہ موجود اور قائم نظام جاہلیت کو ۔۔۔ کرتا ہے اور اس کے بعد اس کے اور اس نظام جاہلیت کے درمیان کشمکش برپا ہوجاتی ہے۔ ایک قوم بلکہ معاشرے کی پوری قوم کے ساتھ اسی قوم سے اٹھے ہوئے ان داعیوں کی جنگ شروع ہوتی ہے۔ اللہ اس ہر اول دستے کو فتح دیتا ہے اور لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہوتے ہیں اور یہ دین اسلام کیا ہے ؟ یہ اللہ کا وہ نظام ہے جس کے سوا اللہ کسی نظام کو برداشت نہیں کرتا۔
ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ “ اور جو شخص بھی اسلام کے سوا کسی نظام زندگی کی تابع داری کرے گا ، اس سے یہ تابع داری قبول نہ کی جائے گی ”۔
شاید یہ طویل بیان حضرت یوسف (علیہ السلام) کے موقف کو اچھی طرح واضح کر دے گا۔ یہ کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کسی اسلامی سوسائٹی میں نہیں تھے جس میں کسی شخص کے لئے طلب عہدہ کا کوئی موقعہ نہ ہو ، اور اس میں کوئی شخص کوئی منصب نہ طلب کرسکتا ہو۔ دوسری جانب وہ دیکھ رہے تھے کہ اس غیر اسلامی نظام میں انہیں ایک ایسا منصب مل رہا ہے جس میں تمام اختیارات ان کے ہاتھ آرہے ہیں اور وہ اس حاکم طاع ہوں گے ، اس طرح انہیں موقعہ ملے گا کہ وہ اپنے عقائد پورے مصر میں پھیلا دیں۔ چناچہ عملاً ایسا ہی ہوا کہ ان کے دور اقتدار میں پورے مصر میں عقیدۂ توحید پھیل گیا۔ اس دور میں حضرت یوسف (علیہ السلام) مصری سوسائٹی پر اس طرح چھا گئے کہ اعیان مصر اور بادشاہ مصر دونوں پس منظر میں چلے گئے۔
يوسف 12:56
اب ہم سیاق کلام میں اصل مضمون اور قصے کی طرف واپس ہوتے ہیں۔ یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں کہا جاتا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی درخواست منظور ہوگئی ، بلکہ ان کی جانب سے درخواست بذات خود منظوری تھی۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان لوگوں کے ہاں اب حضرت یوسف (علیہ السلام) بہت ہی عظیم المرتبہ انسان تھے۔ چناچہ جواب درخواست کی جگہ اس پر ایک تبصرہ کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے منصب کا چارج بھی لے لیا ہے۔ کہا جاتا ہے :
وکذلک مکنا لیوسف ۔۔۔۔۔۔ خیر للذین امنوا وکانوا یتقون (12 : 56 ۔ 57) “ اس طرح ہم نے اس سر زمین میں یوسف کے لئے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔ ہم اپنی رحمت سے جو کو چاہتے ہیں ، نوازتے ہیں ، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا ، اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے ”۔
“ اس طرح !” یعنی اسے غلط الزام سے بری کر کے ، بادشاہ مصر کو ان کا گرویدہ کر کے اور پھر ان کو ان کے طلب کردہ عظیم منصب پر فائز کر کے ، یوں ہم نے ان کے لئے اقتدار کی راہ ہموار کی ، ان کے قدموں کو مضبوط کردیا اور انہوں نے اس سر زمین پر ایک بلند مقام حاصل کرلیا۔ اس سر زمین پر کہ مصر ان دنوں ایک عظیم اور ترقی یافتہ ملک تھا گویا وہی ملک تھا۔ یتبوا منھا حیث یشاء (12 : 56) “ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے ”۔ جہاں چاہے چلا جائے ، جہاں چاہے رہے ، جو عہدہ چاہے لے ، ذرا اس حالت کو اس حالت کے تناظر میں دیکھو کہ وہ اندھے کنوئیں میں تھے اور ہر لمحہ جان کی پڑی تھی ، پھر ذرا اس حال سے مقابلہ کرو کہ وہ قید و بند کی سختیاں جھیل رہے تھے۔
نصیب برحمتنا من نشاء (12 : 56) “ ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں ”۔ اسے مشکلات سے نکال کر آسانیوں میں لاتے ہیں پریشانیوں کے بدلے اسے خوشیاں دیتے ہیں۔ خوف کے بدلے امن دیتے ہیں ، قید کے بدلے آزادی دیتے ہیں ، لوگوں کی نظروں میں ہلکے پن کے بدلے مقام بلند دیتے ہیں۔
ولا نضیع اجر المحسنہ (12 : 56) “ اور نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا ” ۔ جو لوگ اللہ پر پختہ ایمان رکھتے ہیں ، اس پر توکل کرتے ہیں ، اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، اس کے حوالے سے اپنے طرز عمل ، اپنے معاملات اور لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو درست کرتے ہیں۔
يوسف 12:57
ولا جر الاخرۃ خیر للذین امنوا وکانوا یتقون (12 : 57) “ اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے ”۔ لہٰذا ان کا بنیادی اجر بھی کم نہ ہوگا اگرچہ آخرت کا اجر دنیا کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے بشرطیکہ انسان ایمان اور تقویٰ کی راہ پر گامزن ہوجائے اور اپنی سری اور ظاہری زندگی کو خدا ترسی کی راہ پر استوار کردے۔
یوں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مشکلات دور کردیں ، انہیں زمین میں بلند مرتبہ دیا۔ آخرت میں ان کو خوشخبری دی ، صبر اور احسان کرنے والوں کی یہی مناسب جزاء ہے۔
٭٭٭
زمانے کی گاڑی چلتی رہی۔ سر سبزی و شادابی کے سات سال گزر گئے۔ قرآن کریم نے ان سات سالوں کی تفصیلات کو حذف کردیا ہے تا کہ ان سالوں میں لوگ کیا کرتے رہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سالوں میں کیا تدابیر اختیار کیں۔ ملک کا نظم و نسق کس طرح چلایا ، کیونکہ ان امور نے تو بطریق احسن چلنا ہی تھا کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا تھا۔ انی حفیظ علیم قرآن نے ملک میں قحط آنے کا تذکرہ کرنا بھی ضروری نہ سمجھا کہ ان میں لوگوں پر کیا گزری ، کس طرح خشک سالی آئی اور کس طرح گئی۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر خواب نے یہ تفصیلات گویا بتا دی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں :
ثم یاتی من بعد ذلک سبع ۔۔۔۔ ۔ مما تحصنون (12 : 48) “ اس کے بعد سات سخت آئیں گی ، یہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے جمع کر رکھا تھا ، مگر تھوڑا سا وہ جو تم نے بچایا ”۔ سیاق کلام میں اب نہ بادشاہ سامنے آتا ہے نہ کوئی اور شاہی کارندہ۔ گویا اب یوسف (علیہ السلام) ہی سب کچھ ہیں ، جو اس خوفناک دور میں پوری ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ اب اسٹیج پر صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں ۔ ہر طرف سے روشنی کی زد میں ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے اس قصے میں فنی طور پر بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
جہاں تک خشک سالی کا تعلق ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خشک سالی سینائی سے اس طرف کنعان تک پھیل گئی ہے اس لئے یہ لوگ غلے کی تلاش میں مصر تک پہنچ گئے ہیں۔ اور علاقے میں مصری حکومت ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تدابیر کے نتیجے میں ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ تمام پڑوسی ممالک کی نظریں مصر پر ہیں ، تمام ممالک کے لئے مصر اب غلہ کا گودام ہے۔ ایسے حالات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کہانی میں اب ان کے بھائی نمودار ہوتے ہیں اور اس میں فنی خصوصیات کے ساتھ ساتھ اب دینی مقاصد بھی سامنے آتے ہیں۔
يوسف 12:58
آیت نمبر 58 تا 62
خشک سالی اور قحط نے سر زمین کنعان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ چناچہ برادران یوسف بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ عازم مصر ہوئے تھے کیونکہ مصر نے اپنے غلے کے ذخائر دوسرے ممالک کے لئے کھول دئیے تھے۔ یہ ذخائر اس نے شادابی کے زمانے میں جمع کر رکھے تھے ۔ ہمارے سامنے اب منظر یہ ہے کہ یہ لوگ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کے مہمان ہیں ، ایسے حالات میں کہ اپنے فرمان کو نہیں جانتے جبکہ وہ انہیں خوب جانتے ہیں۔ کیونکہ ان کے اندر کوئی زیادہ تبدیلی نہیں ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) تبدیل ہوگئے ہیں ، پھر ان کے خیال میں یہ بات آہی نہیں سکتی کہ یوسف (علیہ السلام) یہ مقام حاصل کرسکیں گے ، ایک عبرانی لڑکا جسے انہوں نے اندھے کنویں میں ڈال دیا ہے وہ یہاں تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔ اور اس پر تقریباً بیس سال بھی گزر گئے ہیں۔ پھر وہ ہے بھی عزیز مصر کی صورت میں خصم و خشم اور نوکر شاکر اور منصب عالیہ کا رعب داب کس طرح ان کے تخیل کو اس طرف رخ کرنے دیتا ہے ؟
ادھر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنا تعارف نہیں کرایا۔ وہ مناسبت سمجھتے ہیں کہ انہیں ذرا مزید سبق پڑھایا جائے۔
وجاء اخوۃ یوسف۔۔۔۔۔۔ منکرون ۔ (12 : 58)
“ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے ۔ اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے ”۔
يوسف 12:59
سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو عزت و احترام سے بٹھایا اور ان کو اس طرح سبق پڑھانا شروع کیا۔
ولما جھزھم ۔۔۔۔۔ من ابیکم (12 : 59) “ پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروادیا تو چلتے وقت ان سے کہا “ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے لانا ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بےتکلف ہوگئے تھے ، اس طرح انہوں نے عزیز مصر کو بتا دیا کہ وہ کون ہیں اور یہ کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہے جسے ہمارا باپ اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ نہیں آیا۔ جب ان لوگوں کا سامان تیار ہوگیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ وہ تمہارے اس بھائی سے ملنا چاہتے ہیں۔ تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں خریداروں کو ٹھیک ٹھیک حق دیتا ہوں ، اگر تمہارا بھائی آجائے تو اس کا حصہ بھی ادا کردوں گا۔ اور دوسروں کی طرح تمہاری قدرو منزلت کروں گا۔
الا ترون انی ۔۔۔۔۔۔۔ ولا تقربون (12 : 59- 60) “ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح نہ بھر کردیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں۔ اگر تم اسے نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ نہیں ہے۔ بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ”۔
ان کو تو معلوم تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے بعد یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کو ہر وقت ساتھ رکھتے تھے اس لئے انہوں نے کہہ دیا کہ اسے لانا ان کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان کے باپ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں ، بہرحال وہ کوشش کریں گے کہ وہ دوسری بار ان کے ساتھ آجائے۔
قالوا سنراودعنہ اباہ وانا لفعلون (12 : 61) “ انہوں نے کہا “ ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہوجائیں ، اور ہم ایسا ضرور کریں گے ”۔ (نرادو ) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کام کے لئے انہیں بہت ہی سعی کرنی ہوگی۔
یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ملازمین کو حکم دے دیا کہ جو در ثمن یا سامان وہ غلے کے مبادلے میں لائے تھے وہ بھی انہیں ان کے بارے میں رکھ کو لوٹا دیا جائے ، ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ نقدی ہو یا کوئی صحرا دی قیمتی غلات ہوں یا چمڑے اور دوسری چیزیں مثلاً اون وغیرہ جو شہروں میں اچھی قیمت پر بکتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ جب یہ اپنے بار کھولیں گے تو یہ اپنی چیزیں دیکھ کر حیران رہ جائیں گے اور پہچان لیں گے کہ یہ تو ان کی اشیاء ہیں۔
يوسف 12:60
سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو عزت و احترام سے بٹھایا اور ان کو اس طرح سبق پڑھانا شروع کیا۔
ولما جھزھم ۔۔۔۔۔ من ابیکم (12 : 59) “ پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروادیا تو چلتے وقت ان سے کہا “ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے لانا ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بےتکلف ہوگئے تھے ، اس طرح انہوں نے عزیز مصر کو بتا دیا کہ وہ کون ہیں اور یہ کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہے جسے ہمارا باپ اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ نہیں آیا۔ جب ان لوگوں کا سامان تیار ہوگیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ وہ تمہارے اس بھائی سے ملنا چاہتے ہیں۔ تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں خریداروں کو ٹھیک ٹھیک حق دیتا ہوں ، اگر تمہارا بھائی آجائے تو اس کا حصہ بھی ادا کردوں گا۔ اور دوسروں کی طرح تمہاری قدرو منزلت کروں گا۔
الا ترون انی ۔۔۔۔۔۔۔ ولا تقربون (12 : 59- 60) “ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح نہ بھر کردیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں۔ اگر تم اسے نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ نہیں ہے۔ بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ”۔
ان کو تو معلوم تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے بعد یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کو ہر وقت ساتھ رکھتے تھے اس لئے انہوں نے کہہ دیا کہ اسے لانا ان کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان کے باپ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں ، بہرحال وہ کوشش کریں گے کہ وہ دوسری بار ان کے ساتھ آجائے۔
قالوا سنراودعنہ اباہ وانا لفعلون (12 : 61) “ انہوں نے کہا “ ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہوجائیں ، اور ہم ایسا ضرور کریں گے ”۔ (نرادو ) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کام کے لئے انہیں بہت ہی سعی کرنی ہوگی۔
یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ملازمین کو حکم دے دیا کہ جو در ثمن یا سامان وہ غلے کے مبادلے میں لائے تھے وہ بھی انہیں ان کے بارے میں رکھ کو لوٹا دیا جائے ، ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ نقدی ہو یا کوئی صحرا دی قیمتی غلات ہوں یا چمڑے اور دوسری چیزیں مثلاً اون وغیرہ جو شہروں میں اچھی قیمت پر بکتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ جب یہ اپنے بار کھولیں گے تو یہ اپنی چیزیں دیکھ کر حیران رہ جائیں گے اور پہچان لیں گے کہ یہ تو ان کی اشیاء ہیں۔
يوسف 12:61
سیاق کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کو عزت و احترام سے بٹھایا اور ان کو اس طرح سبق پڑھانا شروع کیا۔
ولما جھزھم ۔۔۔۔۔ من ابیکم (12 : 59) “ پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروادیا تو چلتے وقت ان سے کہا “ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے لانا ”۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی ہی ملاقات میں وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بےتکلف ہوگئے تھے ، اس طرح انہوں نے عزیز مصر کو بتا دیا کہ وہ کون ہیں اور یہ کہ ان کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہے جسے ہمارا باپ اپنے سے جدا کرنا نہیں چاہتا۔ اس لئے وہ نہیں آیا۔ جب ان لوگوں کا سامان تیار ہوگیا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا کہ وہ تمہارے اس بھائی سے ملنا چاہتے ہیں۔ تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں خریداروں کو ٹھیک ٹھیک حق دیتا ہوں ، اگر تمہارا بھائی آجائے تو اس کا حصہ بھی ادا کردوں گا۔ اور دوسروں کی طرح تمہاری قدرو منزلت کروں گا۔
الا ترون انی ۔۔۔۔۔۔۔ ولا تقربون (12 : 59- 60) “ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح نہ بھر کردیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں۔ اگر تم اسے نہ لاؤ گے تو میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ نہیں ہے۔ بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ”۔
ان کو تو معلوم تھا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے بعد یوسف (علیہ السلام) کے بھائی کو ہر وقت ساتھ رکھتے تھے اس لئے انہوں نے کہہ دیا کہ اسے لانا ان کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ان کے باپ اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہ ہوں ، بہرحال وہ کوشش کریں گے کہ وہ دوسری بار ان کے ساتھ آجائے۔
قالوا سنراودعنہ اباہ وانا لفعلون (12 : 61) “ انہوں نے کہا “ ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہوجائیں ، اور ہم ایسا ضرور کریں گے ”۔ (نرادو ) کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کام کے لئے انہیں بہت ہی سعی کرنی ہوگی۔
یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ملازمین کو حکم دے دیا کہ جو در ثمن یا سامان وہ غلے کے مبادلے میں لائے تھے وہ بھی انہیں ان کے بارے میں رکھ کو لوٹا دیا جائے ، ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ نقدی ہو یا کوئی صحرا دی قیمتی غلات ہوں یا چمڑے اور دوسری چیزیں مثلاً اون وغیرہ جو شہروں میں اچھی قیمت پر بکتے ہیں۔ مقصد یہ تھا کہ جب یہ اپنے بار کھولیں گے تو یہ اپنی چیزیں دیکھ کر حیران رہ جائیں گے اور پہچان لیں گے کہ یہ تو ان کی اشیاء ہیں۔
يوسف 12:62
وقال لفتینہ اجعلوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لعلھم یرجعون (12 : 62) “ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ “ ان لوگوں نے غلے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو ”۔ یہ یوسف (علیہ السلام) نے اس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے (یا اس فیاضی پر احسان مند ہوں گے ) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں ”۔
يوسف 12:63
اب حضرت یوسف (علیہ السلام) مصر میں رہ جاتے ہیں اور کنعان میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور برادران یوسف (علیہ السلام) منظر پر ہیں۔ ان کی واپسی کے بارے میں قرآن خاموش ہے۔
آیت نمبر 63 تا 66
معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ سیدھے باپ کے سلام کو حاضر ہوئے۔ سامان کھولنے سے بھی پہلے انہوں نے باپ کو یہ بتانا ضروری خیال کیا کہ ہمارے بارے میں تو فیصلہ کردیا گیا ہے کہ جب تک ہم اپنے چھوٹے بھائی کو عزیر مصر کے سامنے پیش نہ کریں گے ہمیں مزید کوئی غلہ نہ دیا جائے گا۔ چناچہ پہنچتے ہی انہوں نے باپ سے مطالبہ شروع کردیا کہ چھوٹے بھائی کو ساتھ بھیجیں تا کہ ایک اونٹ بار غلہ بھی مل جائے اور وہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لیتے ہیں۔
فلما رجعوا الی ۔۔۔۔۔۔ لحفظون (12 : 63) “ جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا “ اباجان ، آئندہ ہم کو غلہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے ، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تا کہ ہم غلہ لے کر آئیں ۔ اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں ”۔ اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خفیہ خدشات سامنے آجاتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں بھی انہوں نے ایسا ہی پختہ عہد کیا تھا۔ چناچہ آپ اپنے درد کا اظہار کردیتے ہیں۔
يوسف 12:64
قال ھل ۔۔۔۔۔۔ من قبل (12 : 64) “ باپ نے جواب دیا “ کیا میں اس کے معاملے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملہ کرچکا ہوں ؟ ” چھوڑو ، یہ جھوٹے وعدے اور اپنے پاس رکھو اپنی حفاظت ، میں اللہ کی حفاظت اور اللہ کی رحمت کا طالب ہوں۔ صرف وہی حفاظت کرنے والا ہے۔
فاللہ خیر حفظا وھو ارحم الرحمن (12 : 64) “ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے ”۔ جانوروں کو سنبھالنے اور سفر سے سستانے کے بعد جب انہوں نے اپنے سامانوں کو کھولا تا کہ لائے ہوئے غلے کو ٹھکانے لگائیں ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا وہ پورا سامان انہیں واپس کردیا گیا ہے جو وہ غلہ خریدنے کے لئے لے گئے تھے اور ان کے غلے کے ساتھ خود ان کا اپنا سامان دے دیا گیا۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے انہیں گندم دینے کے ساتھ خود ان کا سامان بھی ان کے باروں میں رکھ دیا ، تو جب سامان کھولا تو انہوں نے اپنا سامان پایا۔ اس لئے انہوں نے کہا اے باپ ہم سے گندم روک لی گئی اور یہ اس لیے کیا گیا تا کہ وہ مجبور ہوجائیں اور بھائی کو لے کر جائیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو جو سبق دینا چاہتے تھے یہ اس کا ایک حصہ تھے۔ انہوں نے اپنے سامان کی واپسی کو اس بات کے لئے بطور دلیل پیش کیا کہ وہ بھائی کو ساتھ لے جانے کے مطالبے میں زیادتی نہیں کر رہے اور نہ ظلم کر رہے ہیں۔
يوسف 12:65
ولما فتحوا متاعھم۔۔۔۔۔۔۔۔ کیل یسیر ۔ (12 : 65) “ پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ ان کا مال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ پکار اٹھے “ ابان جان ، اور ہمیں کیا چاہئے ، دیکھئے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے۔ اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل عیال کے لئے رسد لے کر آئیں گے ، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بار شتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے ، اتنے غلہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا ”۔
ان کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ صرف خاندان کا بھلا چاہتے ہیں ، جب خاندان کے لئے ہم زاد راہ کی تلاش میں جا رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ بھائی کی حفاظت کریں گے۔ بھائی کی وجہ سے ایک بار شتر غلہ اور زیادہ مل جائے گا۔ جب بھائی ساتھ ہوگا تو اس کا حصہ رسدی لازماً ملے گا۔
ان کی اس بات سے کہ ہم ایک بار شتر غلہ زیادہ لائیں گے ، یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہر شخص کو ایک بار شتر غلہ دیتے تھے۔ کسی شخص کو اس بات کی اجازت نہ تھی کہ وہ جس قدر غلہ چاہے لے جائے۔ کیونکہ خشک سالی کے دور میں کنڑول کرنے میں حکمت تھا تا کہ سب کو تھوڑا تھوڑا غلہ ملتا رہے۔
يوسف 12:66
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے مجبور ہو کر ان کے اس مطالبے کو تسلیم کیا لیکن ایک شرط لگا دی اور بہت ہی کڑی شرط۔
قال لن ارسلہ۔۔۔۔۔۔ یحاط بکم (12 : 66) ان کے باپ نے کہا “ میں اس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا۔ جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو ۔۔۔ نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرور واپس لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم گھیر ہی لیے جاؤ ”۔
یعنی تم اللہ کی قسم اٹھا کر یہ یقین دلاؤ گے کہ تم اسے لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم سب کے سب گھیر لیے جاؤ اور تمہارے نکل آنے کی کوئی تدبیر نہ رہے اور ایسے حالات ہوں کہ تم بےبس ہوجاؤ۔
فلما اتوہ موثقھم ۔۔۔۔۔۔ وکیل (12 : 66) “ جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے ۔۔۔۔ دے دئیے تو اس نے کہا ، “ دیکھو ، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے ”۔ یعنی نہایت تاکید کے طور پر اور بات کو پختہ کرنے کے لئے اور زیادہ نصیحت اور خدا خوفی کے لئے خدا کو شاہد کردیا۔ اس تاکید مزید کے بعد اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) ان کو زیادہ نصیحت کرتے ہیں کہ مصر کی مملکت میں داخلے کے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرو۔
يوسف 12:67
آیت نمبر 67
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (ان الحکم الا للہ ) اس پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس بات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے تقدیری اور جبری احکام اس کائنات میں اس طرح رواں اور دواں ہیں کہ ان کے اندر کوئی انغکاک ممکن نہیں ہے۔ کوئی تخلف نہیں ہے۔ ان احکام سے کوئی مغر نہیں ہے۔ اور امنت باللہ میں والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ کا یہی مطلب ہے۔
اللہ کے تکوینی اور تقدیری احکام اس دنیا میں لوگوں پر نافذ ہوتے ہیں اور ان کا اجراء خود لوگوں کی مرضی اور ارادے پر موقوف نہیں ہے۔ ان جبری اور تقدیری احکام الہیہ کے ساتھ ساتھ ایسے الٰہی احکام بھی ہوتے ہیں جو انسانوں کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں۔ اور یہ شرعی احکام ہیں جو قرآن اور سنت میں امرو نہی صادر نہیں کرسکتا۔ ان احکام کا حکم بھی تقدیری اور تکوینی احکام کی طرح ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شرعی احکام میں لوگ مختار ہیں ، ان کو نافذ کریں یا نہ کریں ، اور اسی پر دنیا اور آخرت میں ان کی زندگی کے اعمال پر نتائج اور احکام مرتب ہوتے ہیں اور ہوں گے۔ اور سزا اور جزاء کا فیصلہ ہوگا۔ لیکن لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک وہ اللہ کے شرعی احکام کو بھی اپنی پوری زندگیوں میں نافذ نہ کریں۔
يوسف 12:68
غرض اب یہ قافلہ چلتا ہے اور وہ اپنے والد کی وصیت پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔
آیت نمبر 68
ترجمہ : سوال یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان کو یہ وصیت کیوں فرمائی۔ اس موقعہ پر ان کے باپ یہ کیوں کہتے ہیں کہ ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ متفرق ابواب سے داخل ہونا۔
روایات اور تفاسیر نے اس سلسلے میں دور دراز کی باتیں کی ہیں جبکہ ان کی سرے سے ضرورت ہی نہ تھی۔ بعض مفسرین نے تو ایسی باتیں بھی لکھی ہیں جو سیاق قرآن کے خلاف ہیں۔ قرآن کریم اگر اس کا کوئی سبب بنانا چاہتا تو ضرور بتا دیتا لیکن قرآن مجید نے تو صرف اس قدر کہا۔
الا حاجۃ فی نفس یعقوب قضھا (12 : 68) “ یعقوب (علیہ السلام) کے دل میں ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کی انہوں نے اپنی سی کوشش کی ”۔ لہٰذ مفسرین کو چاہئے تھا کہ بس وہ اسی بات پر توقف کرتے جو قرآن کریم نے کہہ دی۔ اور اپنی رائے کو اس ماحول اور فضا تک محدود کرتے جس میں یہ وصیت کی گئی اور جس ماحول میں یہ بات ہو رہی تھی اس میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں کی سلامتی کے بارے میں خدشات رکھتے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر یہ متفرق دروازوں سے غیر محسوس طور پر داخل ہوگئے تو جس خطرے کے بارے میں وہ سوچتے تھے وہ شاید ٹل جاتا لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہہ دیا کہ میں اللہ کی مشیت سے تم کو نہیں بچا سکتا۔ حکم اس کے سوا کسی کا نہیں چلتا۔ صرف اسی پر بھروسہ ہونا چاہئے۔ البتہ ان کے دل میں ایک کھٹک تھی اور ان کا وجدان کسی خطرے کو محسوس کر رہا تھا اور اس کا فیصلہ انہوں نے اس وصیت کے ذریعے کیا ۔ لیکن وہ جانتے تھے کہ اللہ کا ارادہ نافذ ہونے والا ہے اور یہ بات ان کو اللہ نے سمجھائی تھی اور یہ ان کے پیغمبرانہ علم میں تھی۔
ولکن اکثر الناس لا یعلمون (12 : 68) “ مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ”۔ اب اس کا حقیقی سبب کیا تھا ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ ان کو حاسدوں کی آنکھوں سے بچانا چاہتے تھے یا یہ بات بھی ہو سکتی تھی کہ اگر وہ جتھے کی شکل میں جاتے تو مصر کی مملکت اپنے لئے اس کو سیکورٹی کا مسئلہ بنا لیتی۔ یا ان کو اس کی شان و شوکت سے داخل ہونے سے غیرت آجاتی۔ یا یہ کہ ان کو کوئی ڈاکو نہ سمجھے یا جو بھی ہو ، یہاں اس کی وضاحت وصراحت سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہاں ایک قاری اور مفسر کو یہ نقصان ضرور ہوتا کہ وہ اصل قرآنی موضوع اور غرض وغایت سے ذرا ہٹ کر ان اسباب پر کلام کرتا اور قال و قیل کا سلسلہ چل نکلتا۔ اس قسم کے قال و قیل پر مشتمل مباحث بسا اوقات بحث کو خالص قرآنی فضا اور موضوع سے دور لے جاتے ہیں۔
يوسف 12:69
مناسب یہ ہے کہ ہم اس وصیت اور اس سفر کو اسی طرح لکھیں جس طرح قرآن کریم نے اسے لیا ہے۔ اب برادران یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ اگلے منظر میں ہم یوں ملتے ہیں :
آیت نمبر 69
اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے حقیقی بھائی کی ملاقات جلدی سے کرا دی جاتی ہے۔ پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) کسی تمہید کے بغیر بھائی کو اطلاع دے دیتے ہیں کہ میں تمہارا بھائی یوسف (علیہ السلام) ہوں اور یہ مشورہ بھی ان کو دیتے ہیں کہ دوسرے بھائیوں نے ان کے ساتھ اس سے قبل جو سلوک کیا اس کو بھول جائیں۔ ماضی کی پریشان کن یادیں بہرحال کسی شخص کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں اور وہ چونکہ کنعان میں اسی خاندان میں رہتے تھے جن میں یہ واقعات رونما ہوئے تھے تو لازماً یہ ان کے لئے ہر وقت پریشان کن تھے اور تکلیف دہ تھے۔
سیاق کلام نے کیوں اس بات کو پہلے بیان کردیا ؟ حالانکہ قدرتی امر یہ ہے کہ برادران کے درمیان یہ مکالمہ عین اس وقت نہ ہوا ہوگا جب یہ وفد حضرت یوسف (علیہ السلام) حاکم مصر سے ملا ہوگا ، بلکہ یہ اس وقت ہوا ہوگا جب یوسف (علیہ السلام) اور ان کے جھوٹے بھائی تنہا ہوئے ہوں گے۔ ہاں جب یہ لوگ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ملے ہوں گے اور انہوں نے اس طویل جدائی کے بعد اپنے بھائی کو دیکھا ہوگا تو ان کے دل میں یہ خیال سب سے پہلے آگیا ہوگا کہ میں بھائی کو یہ اطلاع کردوں۔
یہ چونکہ پہلا خیال تھا اس لئے اس منظر میں اسے خیال یوسف (علیہ السلام) کی شکل میں دے دیا گیا اور یہ قرآن کریم کا ایک نہایت ہی لطیف اور خوبصورت اسلوب بیان ہے اور اس سے لطف اندوز وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو کلام کی فنی باریکیوں کو جانتے ہیں۔
اس منظر میں بھی بعض واقعات کے بیان کو غیر ضروری سمجھتے ہوئے کاٹ دیا جاتا ہے۔ مثلاً برادران یوسف (علیہ السلام) کی مہمانداری اور اس دوران ان کے درمیان ہونے والی گفتگو ، اور برادران یوسف (علیہ السلام) کی روانگی کا منظر لے لیا جاتا ہے۔ اس منظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی کو اپنے ہاں روکنے کے لئے ایک خاص تدبیر کرتے ہیں تا کہ ان کے بھائیوں کو سبق دیا جائے بلکہ بہت سے سبق دئیے جائیں جو ان کے لئے ضروری تھے اور قیامت تک آنے والے لوگ بھی اس سے عبرت لیتے ہیں۔ چناچہ اس تدبیر کو ابدی کتاب کا حصہ بنا دیا جاتا ہے۔
يوسف 12:70
آیت نمبر 70 تا 78
یہ ایک نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔ اس میں متنوع حرکات ، تاثرات ، سر پر ائز شامل ہیں۔ جیسا کہ کوئی نہایت ہی موثر ، جذباتی اور زندگی سے بھر پور کوئی ڈرامائی منظر ہو سکتا ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ قرآن کریم زندہ اور حقیقی واقعات کو نہایت ہی موثر انداز میں بیان کرتا ہے۔
پس پردہ حرکت یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پیمانے یا پیالے کو ان کے سامان میں رکھوا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے یہ پیالہ بیک وقت پینے کے کام بھی آتا تھا اور غلہ ماپنے کا پیمانہ بھی تھا ۔ اس دور میں گندم کو سونے کے پیمانے میں ناپنا تعجب انگیز امر نہیں ہے کیونکہ اس قحط کے دور میں سونے کے مقابلے میں گندم کی اہمیت زیادہ تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) پس منظر میں اس پیالے کو اپنے بھائی کے بار میں رکھوا رہے ہیں تا کہ اللہ کی ہدایات کے مطابق اس تدبیر اے بھائی کو پکڑا جاسکے۔ تفصیلات ابھی آرہی ہیں۔
اب جبکہ یہ قافلہ بار لدوا کر واپس عازم کنعان ہوچکا تو ایک منادی نمودار ہوتا ہے اور وہ اعلان عام کی شکل میں آواز دیتا ہے اور یہ اعلان پورے قافلے کے لئے ہے۔
ایتھا العیر انکم لسرقون (12 : 70) “ اے قافلے والو ! تم لوگ چور ہو ”۔ برادران یوسف ڈر سے کانپ اٹھتے ہیں کیونکہ چوری کا الزام پورے قافلے پر لگ چکا ہے۔ ان کے لئے اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ وہ حضرت یعقوب علی السلام ، ابن اسحاق ابن ابراہیم (علیہم السلام) کے بیٹے ہیں۔ یہ لوگ اپنے جانور اور بار واپس کرلیتے ہیں تا کہ اس الزام کی تحقیقات کی جاسکے۔
يوسف 12:71
قالوا واقبلوا علیہم ما ذا تفقدون (12 : 71) “ انہوں نے پلٹ کر پوچھا تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ؟ ” چناچہ ان ملازمین نے ، جن کی ڈیوٹی تھی کہ وہ ان کے بار تیار کریں ، کہا چوکیداروں نے کہا جن میں سے یہ اعلان کنندہ بھی تھا۔
يوسف 12:72
قالوا نفقد صواع الملک (12 : 72) “ سرکاری ملازمین نے کہا بادشاہ کا نہ ہم کو نہیں مل رہا ”۔ اس دوران ایک دوسرا شخص منظر پر آتا ہے اور وہ انعام ، انعام کی ایک بڑی رقم کا اعلان کرتا ہے کہ اگر کوئی رضا کارانہ طور پر واپس کر دے تو یہ قیمتی انعام دیا جائے گا۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر وانا بہ زعیم (12 : 72) “ جو شخص لا کر دے گا اس کے لئے ایک بار شتر انعام ہے اور اس کا میں ذمہ دارہوں ”۔ زعیم بمعنی ضامن کہ اسے ایک بار شتر گندم دوں گا۔
لیکن ان حضرات کو تو پورا یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں ، کیونکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی۔ اور نہ ہی وہ اس لئے آئے تھے کہ ایسی حرکتیں کریں ، جس سے باہم اعتماد تباہ ہوجائے اور مختلف ممالک کے بین الاقوامی تعلقات خراب ہوں۔ چناچہ وہ قسمیہ بیان دیتے ہیں :
قالوا تاللہ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (12 : 73) “ ان بھائیوں نے کہا خدا کی قسم ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں ”۔ تمہیں ہماری تاریخ کا بھی علم ہے ، ہمارے نسب و حسب کا بھی علم ہے اور ہماری ظاہری پوزیشن بھی نظر آتی ہیں۔
وما کنا سرقین (12 : 73) “ اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں ”۔ ہم سے یہ برا فعل ہرگز صادر نہیں ہو سکتا ، ہرگز نہیں۔ بادشاہ کے کارندوں اور چوکیداروں نے کہا۔
يوسف 12:73
قالوا نفقد صواع الملک (12 : 72) “ سرکاری ملازمین نے کہا بادشاہ کا نہ ہم کو نہیں مل رہا ”۔ اس دوران ایک دوسرا شخص منظر پر آتا ہے اور وہ انعام ، انعام کی ایک بڑی رقم کا اعلان کرتا ہے کہ اگر کوئی رضا کارانہ طور پر واپس کر دے تو یہ قیمتی انعام دیا جائے گا۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر وانا بہ زعیم (12 : 72) “ جو شخص لا کر دے گا اس کے لئے ایک بار شتر انعام ہے اور اس کا میں ذمہ دارہوں ”۔ زعیم بمعنی ضامن کہ اسے ایک بار شتر گندم دوں گا۔
لیکن ان حضرات کو تو پورا یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں ، کیونکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی۔ اور نہ ہی وہ اس لئے آئے تھے کہ ایسی حرکتیں کریں ، جس سے باہم اعتماد تباہ ہوجائے اور مختلف ممالک کے بین الاقوامی تعلقات خراب ہوں۔ چناچہ وہ قسمیہ بیان دیتے ہیں :
قالوا تاللہ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (12 : 73) “ ان بھائیوں نے کہا خدا کی قسم ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں ”۔ تمہیں ہماری تاریخ کا بھی علم ہے ، ہمارے نسب و حسب کا بھی علم ہے اور ہماری ظاہری پوزیشن بھی نظر آتی ہیں۔
وما کنا سرقین (12 : 73) “ اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں ”۔ ہم سے یہ برا فعل ہرگز صادر نہیں ہو سکتا ، ہرگز نہیں۔ بادشاہ کے کارندوں اور چوکیداروں نے کہا۔
يوسف 12:74
قالوا فما جزؤہ ان کنتم کذبین (12 : 74) “ اچھا ، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو پھر چور کی سزا کیا ہے ؟ ” اس سے وہ حکمت معلوم ہوتی ہے جو اس تدبیر کی شکل میں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سمجھائی۔ دین یعقوب (علیہ السلام) میں قانون یہ تھا کہ چور کو چوری کے مال اور جرم کے بدلے رہن قیدی یا غلام بنا لیا جائے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) کو چونکہ اپنی گناہی کا پورا پورا یقین تھا ، تو وہ کو خوشی خوشی اس پر راضی ہوگئے کہ دین یعقوبی کے مطابق فیصلہ ہوجائے جو بھی مجرم ہو۔ یوں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے لئے جو اسکیم تیار کی وہ پایہ تکمیل کو پہنچی۔
يوسف 12:75
قالوا جزؤہ ۔۔۔۔۔۔ الظلمین “ انہوں نے کہا اس کی سزا ؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے۔ ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے ”۔
یہ سب گفتگو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی موجودگی میں ہو رہی تھی اور وہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے ۔ اس لیے کہ انہوں نے تلاشی کا حکم دیا اور ان کی دانش مندی نے انہیں یہ سمجھایا کہ دوسرے بھائیوں کے باروں کی تلاشی پہلے لی جائے تا کہ تفتیش اور تدبیر کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو۔
يوسف 12:76
فبدا باوعیتھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وعاء اخیہ (12 : 76) “ تب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی سے پہلے ان کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی ”۔
اس مرحلے پر قرآن اس دہشت اور پریشانی کو بیان نہیں کرتا جس سے برادران یوسف اچانک دو چار ہوگئے۔ ان کو تو سو فیصدی یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں۔ انہوں نے بیان حلفی بھی دے دیا تھا اور بیک آواز دے دیا تھا۔ قرآن کریم نے منظر کا یہ حصہ انسانی تخیل پر چھوڑ دیا کیونکہ ایسے مواقع پر ایسے تاثرات خود بخود ظاہر ہوتے ہیں۔ اس تاثر کو انسانی خیال پر چھوڑ دیا گیا اور واقعہ پر ایک تبصرہ کردیا گیا تا کہ ابنائے یعقوب جس دہشت اور شرمندگی سے دو چار تھے ، ایک قاری اس سے ذرا نکل آئے۔
کذلک کدنا لیوسف (12 : 76) “ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی تائید اپنی تدبیرت کی جو نہایت ہی گہری تدبیر تھی۔
ما کان لیاخذ اخاہ فی دین الملک (12 : 76) “ اس کو دین شاہی میں اپنے بھائی کو پکڑنے کا حق نہ تھا ”۔ یعنی اگر اس کیس کا فیصلہ شاہی قانون کے مطابق کیا جاتا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بھائی کو شخصی طور پر نہیں روک سکتے تھے۔ صرف اسے چور کی سزا دے سکتے تھے۔ لیکن بھائیوں نے یہ تجویز دی کہ ان کے اپنے دین کے مطابق چور کا فیصلہ ہونا چاہئے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے اسباب اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سمجھائے ۔ یہ ہے اللہ کی جانب سے یوسف (علیہ السلام) کے حق میں تدبیر۔ لفظ “ کید ” عربی میں خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس کا استعمال لغت میں خیر اور شر دونوں معنوں میں ہوتا ہے۔ لیکن عموماً اس کا استعمال شر میں ذرا زیادہ ہوگیا۔ بظاہر تو یہاں اس کے بھائی کے لئے بھی واقعہ شر ہی کا ہو رہا ہے ، بھائیوں کے لئے بھی یہ بظاہر شر ہے کیونکہ ان کو والد کا سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لئے بھی یہ وقتی طور پر تکلیف دہ امر ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے واقعہ کے ظاہری پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لئے “ کید ” کا لفظ استعمال کیا جو قرآن کریم کا ایک نہایت ہی لطیف اسلوب بیان ہے۔
ما کان ۔۔۔۔۔۔ یشاء اللہ (12 : 76) “ وہ بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو نہ پکڑ سکتے تھے الا یہ کہ اللہ ایسا چاہتا ”۔ جیسا کہ اللہ نے ان کے لئے زیر نظر تدبیر کی۔
اس آخری تبصرے میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے بہت ہی رفعتیں بہت ہی علم ، عطا فرما دیا تھا۔
نرفع درجت من نشاء (12 : 76) “ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ تنبیہ بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کا علم سب سے اونچا اور اعلیٰ ہے۔
وفوق کل ذی علم علیم (12 : 76) “ اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے ”۔ یہ ایک لطیف احتیاط ہے۔
یہاں قرآن مجید نے اس آیت :
کذلک کدنا۔۔۔۔۔۔۔ دین الملک (12 : 76) “ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے یوں تدبیر کی۔۔۔۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون نظام میں گرفتار نہ کرسکتے تھے ” میں لفظ “ دین ” کو ایک مخصوص مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے اور یہ نہایت ہی ٹیکنیکل اصطلاحی استعمال ہے۔ یعنی نظام اور شریعت کے مفہوم میں کیونکہ مصر کے قانونی نظام میں چور کے لئے یہ سزا نہ تھی کہ اسے جرم کے عوض رکھ ہی لیا جائے۔ یہ سزا صرف حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے شرعی اور قانونی نظام میں تھی۔ برادران یوسف اس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ کیس کا فیصلہ ان کے قانون کے مطابق کیا جائے۔ جب ۔۔۔۔ اس کے بھائی کی خرجی سے نکلا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان پر انہی کا قانون نافذ کردیا۔ یہاں قرآن کریم نے نظام اور قانون پر “ الدین ” کا اطلاق فرمایا ہے۔
دین کا یہ نہایت ہی واضح اور صریح مفہوم ہے ، اور بیسویں صدی کی جاہلیت میں سب کے ذہن سے یہ مفہوم غائب ہے۔ ان لوگوں کے ذہن سے بھی جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے ذہن سے بھی جو اس جاہلیت کے داعی اور پیروکار ہیں۔
ان لوگوں نے دین کا مفہوم عبادت اور مراسم مذہبی تک محدود کردیا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی وحدانیت پر اعتقاد رکھتا ہو ، رسول کو سچا سمجھتا ہو ، ملائکہ اور کتب پر ایمان رکھتا ہو ، تمام رسولوں کو مانتا ہو ، آخرت پر یقین رکھتا ہو ، اور اچھی اور بری تقدیر کے من جانب اللہ ہونے کا قائل ہو اور پھر وہ فرائض و عبادات پر عمل پیرا ہو ، بس وہ پکا دین دار ہے۔ اگرچہ زندگی کے دوسرے معاملات میں وہ دوسرے ارباب اور دوسرے حاکموں کی اطاعت کرتا ہے اور دوسروں کے قانون اور شریعت کے مطابق فیصلے کرتا ہو حالانکہ اس آیت میں صریح طور پر کہا گیا ہے کہ نظام قانون اور شریعت دین کا مسئلہ ہے اور اللہ کے دین کا مفہوم اللہ کا پورا نظام زندگی ہے۔
“ الدین ” کے مفہوم کو اس قدر محدود کردیا گیا ہے اور اس قدر سکیڑ دیا گیا ہے کہ وہ عبادات اور اعتقادات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء نے جو دین پیش کیا اس کا مفہوم اس طرح محدود نہ تھا۔
دین کا مفہوم ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مکمل بندگی کی جائے۔ ان تمام امور پر عمل کیا جائے جو شریعت کا حصہ ہیں۔ اور ان تمام امور کو ترک کیا جائے جو شریعت کے خلاف ہیں۔ جس طرح اللہ وحدہ آسمانوں میں حاکم ہیں اسی طرح زمین پر بھی اللہ وحدہ کی حکومت قائم کی جائے اور اللہ وحدہ کو تمام انسانوں کا رب سمجھا جائے یعنی وہی حاکم ہو ، وہی قانون ساز ہو ، اور اسی کے احکام و نواہی چلیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کون لوگ اللہ کے دین میں ہیں اور کون لوگ بادشاہ کے دین میں ہیں ؟ اس مفہوم کے اعتبار سے جو لوگ اللہ کے نظام ، اللہ کے قانون کی اطاعت کرتے ہیں وہ دین الٰہی میں ہیں اور جو لوگ بادشاہ کے نظام اور قانو کو مانتے ہیں وہ بادشاہ کے دین میں ہیں۔ یہ لوگ اگر شرک بھی کرتے ہیں تو پھر یہ اعتقادات و نظریات میں بھی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور نظام اور قانون اور دستور میں بھی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔
دین کے مفہوم کے یہ منطقی اور بدیہی نتائج ہیں اور اسلامی نظریہء حیات کے بدیہیات میں سے ہیں۔
آج کل عوام الناس کے بعض ہمدرد عوام کی طرف سے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ یہ لوگ “ دین اللہ ” کا مفہوم ہی نہیں سمجھتے اس لیے ایسے لوگ نہ اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلامی قانون اور دستور کو نافذ کیا جائے اور نہ اس کے لئے جدو جہد کرتے ہیں۔ پھر کیا ان لوگوں کی یہ جہالت اور دین کے حقیقی مفہوم سے لا علمی ان کے لئے معافی کا عذر بن جائے گی ؟
میں تو یہ نہیں سمجھتا کہ دین کے مفہوم کو نہ جاننا اور اس کی حقیقت سے بیخبر ہونا کسی کو دین دار بناتا ہے ۔ کسی حقیقت پر یقین اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کسی کو وہ حقیقت معلوم ہو۔ اگر لوگ کسی عقیدے کا علم ہی نہیں رکھتے تو وہ اس کے معتقد کیسے ہو سکتے ہیں اور کس طرح انہیں اس عقیدے والا کہا جاسکتا ہے جبکہ وہ اس عقیدے کا مفہوم ہی نہیں سمجھتے۔
ہو سکتا ہے کہ دین کی حقیقت سے بیخبر ی آخرت میں ان کے حساب و کتاب میں کسی نرمی کا باعث ہو ، یا عذاب میں کمی ہوجائے ، اور یہ حساب ان سے لیا جائے جنہوں نے ان کو دین سکھایا نہیں جبکہ وہ دین کے حقیقی مفہوم سے واقف تھے۔ لیکن یہ ایک مسئلہ ہے جس کا تعلق اخروی حساب سے ہے ، اور تمام اہل جاہلیت کی سزا کا مسئلہ جن تک دعوت نہ پہنچی ہو۔ اس میں بحث و مباحثہ کرنا ہمارے لیے کچھ زیادہ مفید نہیں ہے نہ یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ ہمارا فریضہ تو یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں اور ایک ایک تک پہنچائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ بھی فریضہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان کے موجودہ دین کی حقیقت سمجھائیں۔ یہ کہ یہ دین اللہ کا دین قطعاً نہیں ہے۔ اللہ کا دین تو وہ ہے جو اس کے نصوص کی صورت میں بطور نظام زندگی اور نظام قانون کے موجود ہے۔ اس طرح اسلامی عقائد کے ساتھ جو شخص اللہ کے نظام اور قانون کو بھی رائج اور نافذ کرے گا وہی دین اسلام میں ہوگا۔ جو شخص کسی بادشاہ یا دوسرے شخص کا نظام رائج کرے گا وہ اس کے نظام اور دین میں ہوگا۔ یہ مسئلہ مختلف فیہ نہیں ہے۔
وہ لوگ جو اس دین کے مفہوم ہی سے ناواقف ہیں ، ان کے بارے میں اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اس دین کا اعتقاد رکھتے ہوں ۔ کیونکہ ان کی جہالت کا تعلق دین کی بنیاد سے وابستہ ہے اور جو شخص کسی چیز کی حقیقت کا علم نہ رکھتا ہو وہ عقلاً اور واقعتاً اس چیز پر اعتقاد رکھنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ کیونکہ عقیدہ علم کے بعد آتا ہے۔ یہ بات ہدایتہً ثابت ہے کہ علم کے بغیر عقیدہ ممکن نہیں ہے۔
پس ہمارے لیے یہ بہتر ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے دین کے اصل مفہوم اور دین کی حقیقت ظاہر کریں ۔ بجائے اس کے کہ ہم ان کی جانب سے بےجامد افعت کریں ، ان کے لیے عذرات تلاش کریں ، ان کے لئے ہم اللہ کریم سے بھی زیادہ رحمدل ہوجائیں۔ جبکہ وہ درحقیقت اللہ کے دین میں داخل نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں پالیسی یہ ہونا چاہئے کہ انہیں صاف صاف بتا دیا جائے کہ ان کی یہ پوزیشن ہے چاہے وہ دین کو اپنائیں یا چھوڑ دیں۔
یہ پالیسی ہمارے لیے بھی مفید ہے اور ان عوام الناس کے لیے بھی مفید ہے۔ اس طرح ہم ان جاہلوں کی گمراہی کے نتائج بھگتنے سے بھی بچ جائیں گے کیونکہ یہ لوگ دین کے مفہوم کو نہ پانے کی وجہ سے دین کے معتقد ہی نہیں رہے۔ اگر ہم ان لوگوں کے سامنے دین کی اصل حقیقت پیش کردیں جو دراصل دین اسلام میں داخل نہیں ہیں بلکہ دین شاہ وغیرہ میں ہیں تو ممکن ہے کہ ان کا ضمیر بیدار ہوجائے اور وہ در حقیقت دین اسلام میں داخل ہوجائیں۔
یہی پالیسی نبی کریم ﷺ کی رہی ہے اور یہی پالیسی تمام داعیان حق کی ہونی چاہیے ، ہر زمان و مکان میں ہونی چاہیے ، تمام جاہلوں اور جاہلیت پرستوں کے مقابلے میں۔
يوسف 12:77
اس مختصر سبق آموز تبصرے کے بعد اب ہم برادران یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹتے ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ اس مشکل مرحلے سے دو چار ہو کر یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف ان کے دل میں چھپی ہوئی عداوت اور بغض و حسد اب اہل پڑا ہے۔ چناچہ وہ اپنے آپ کو اس جرم سے بری قرار دے کر ، اس کا ذمہ دار حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دوسری بیوی کی اولاد کو ٹھہراتے ہیں۔
قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل (12 : 77) ان بھائیوں نے کہا “ یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسف (علیہ السلام) بھی چوری کرچکا ہے ”۔ ہمارے تفاسیر کے ذخیرے میں اس الزام پر طویل تبصرے ، حکایات اور روایات بیان کی گئی ہیں ، جو سب کی سب اسرائلیات پر مشتمل ہیں۔ یہ کہ اس کی طرف سے سرقہ قابل تعجب نہیں ہے۔ اس سے قبل اس کے بھائی (یوسف (علیہ السلام) اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ گویا انہوں نے تو یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں باپ کے سامنے جھوٹ نہیں کہا تھا۔ کیا وہ اب عزیز مصر کے سامنے جھوٹ نہیں بول رہے کہ اپنے آپ کو اس شرمندگی سے نکالیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی سے قدرے علیحدہ کردیں۔ اس طرح یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے حق میں اپنے قدیمی بغض اور حسد کو ظاہر کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر یہ بالکل ناحق اور جھوٹا الزام لگایا۔
فاسرھا یوسف فی نفسہ ولم یبدھالھم (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) ان کی یہ بات سن کر پی گیا اور یہ بات ان پر نہ کھولی ”۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اس الزام کے جواب میں ، اپنی حقیقت ان پر نہ کھولی ، بات کو پی گئے اور اپنے تاثرات کا اظہار نہ کیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اور ان کے بھائی دونوں بری الذمہ ہیں۔ البتہ انہوں نے صرف اتنا کہا :
قال انتم شرمکانا (12 : 77) “ تم بہت ہی برے لوگ ہو ”۔ یعنی تم یہ جھوٹا الزام لگا رہے ہو اور جس پر تم الزام لگا رہے ہو ، اس کے مقابلے میں تم تو بہت ہی برے ہو ”۔
قال انتم شر مکاناً (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، تم بہت ہی برے ہو ”۔ یعنی تم جس پر الزام سرقہ لگا رہے ہو اس کے مقابلے میں اللہ کے نزدیک تم خود بہت ہی برے ہو ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا۔ یہ محض گالی نہ تھی بلکہ حقیقت تھی۔
واللہ اعلم بما تصفون (12 : 77) “ جو الزام تم لگا رہے ہو ، اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے ”۔ اور اس واقعہ کی حقیقت بھی اور تمہارے الزام کی حقیقت بھی۔ یوں اللہ پر چھوڑ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بات کو یہاں ہی ختم کردیا کیونکہ یہاں مطلب و موضوع کے ساتھ اس واقعہ کا تعلق نہیں ہے۔
اب یہ لوگ اس پریشان کن صورت حال پر غور کرنے لگے جس میں وہ گرفتار ہوگئے تھے۔ سوچنے لگے کہ والد نے تو پہلے ہی یہ کہا تھا کہ :
لتاتننی بہ الا این یحاط بکم (12 : 66) “ تم ضرور اسے لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم سب گھر جاؤ ”۔ اب وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے رحم کی اپیل کرنے لگے۔ اس نوجوان بھائی کے بہت ہی بوڑھے باپ کا واسطہ دینے لگے ، یہ پیش کرنے لگے کہ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو گرفتار کرلے ۔ یہ ان کو یاد دلا رہے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) تم بہت محسن ، نیک نفس انسان ہو اور اس کے باپ ہی کی خاطر اسے رہا کردو۔
قالوا یایھا العزیز ۔۔۔۔۔ المحسنین (12 : 78) “ انہوں نے کہا “ اے سردار ذی اقتدار (عزیر) اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں ”۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) تو انہیں مزید سبق پڑھانا چاہتے تھے۔ وہ ان کو اس اچانک خوشی کے لئے تیار کررہے تھے ، جو ان کے لیے ، ان کے والد کے لئے اور سب رشتہ داروں کے لئے آرہی تھی تا کہ وہ بےحد خوش ہوں اور ان پر اس کا گہرا اثر ہو۔
يوسف 12:78
اس مختصر سبق آموز تبصرے کے بعد اب ہم برادران یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹتے ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ اس مشکل مرحلے سے دو چار ہو کر یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف ان کے دل میں چھپی ہوئی عداوت اور بغض و حسد اب اہل پڑا ہے۔ چناچہ وہ اپنے آپ کو اس جرم سے بری قرار دے کر ، اس کا ذمہ دار حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دوسری بیوی کی اولاد کو ٹھہراتے ہیں۔
قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل (12 : 77) ان بھائیوں نے کہا “ یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسف (علیہ السلام) بھی چوری کرچکا ہے ”۔ ہمارے تفاسیر کے ذخیرے میں اس الزام پر طویل تبصرے ، حکایات اور روایات بیان کی گئی ہیں ، جو سب کی سب اسرائلیات پر مشتمل ہیں۔ یہ کہ اس کی طرف سے سرقہ قابل تعجب نہیں ہے۔ اس سے قبل اس کے بھائی (یوسف (علیہ السلام) اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ گویا انہوں نے تو یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں باپ کے سامنے جھوٹ نہیں کہا تھا۔ کیا وہ اب عزیز مصر کے سامنے جھوٹ نہیں بول رہے کہ اپنے آپ کو اس شرمندگی سے نکالیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی سے قدرے علیحدہ کردیں۔ اس طرح یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے حق میں اپنے قدیمی بغض اور حسد کو ظاہر کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر یہ بالکل ناحق اور جھوٹا الزام لگایا۔
فاسرھا یوسف فی نفسہ ولم یبدھالھم (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) ان کی یہ بات سن کر پی گیا اور یہ بات ان پر نہ کھولی ”۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اس الزام کے جواب میں ، اپنی حقیقت ان پر نہ کھولی ، بات کو پی گئے اور اپنے تاثرات کا اظہار نہ کیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اور ان کے بھائی دونوں بری الذمہ ہیں۔ البتہ انہوں نے صرف اتنا کہا :
قال انتم شرمکانا (12 : 77) “ تم بہت ہی برے لوگ ہو ”۔ یعنی تم یہ جھوٹا الزام لگا رہے ہو اور جس پر تم الزام لگا رہے ہو ، اس کے مقابلے میں تم تو بہت ہی برے ہو ”۔
قال انتم شر مکاناً (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، تم بہت ہی برے ہو ”۔ یعنی تم جس پر الزام سرقہ لگا رہے ہو اس کے مقابلے میں اللہ کے نزدیک تم خود بہت ہی برے ہو ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا۔ یہ محض گالی نہ تھی بلکہ حقیقت تھی۔
واللہ اعلم بما تصفون (12 : 77) “ جو الزام تم لگا رہے ہو ، اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے ”۔ اور اس واقعہ کی حقیقت بھی اور تمہارے الزام کی حقیقت بھی۔ یوں اللہ پر چھوڑ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بات کو یہاں ہی ختم کردیا کیونکہ یہاں مطلب و موضوع کے ساتھ اس واقعہ کا تعلق نہیں ہے۔
اب یہ لوگ اس پریشان کن صورت حال پر غور کرنے لگے جس میں وہ گرفتار ہوگئے تھے۔ سوچنے لگے کہ والد نے تو پہلے ہی یہ کہا تھا کہ :
لتاتننی بہ الا این یحاط بکم (12 : 66) “ تم ضرور اسے لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم سب گھر جاؤ ”۔ اب وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے رحم کی اپیل کرنے لگے۔ اس نوجوان بھائی کے بہت ہی بوڑھے باپ کا واسطہ دینے لگے ، یہ پیش کرنے لگے کہ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو گرفتار کرلے ۔ یہ ان کو یاد دلا رہے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) تم بہت محسن ، نیک نفس انسان ہو اور اس کے باپ ہی کی خاطر اسے رہا کردو۔
قالوا یایھا العزیز ۔۔۔۔۔ المحسنین (12 : 78) “ انہوں نے کہا “ اے سردار ذی اقتدار (عزیر) اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں ”۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) تو انہیں مزید سبق پڑھانا چاہتے تھے۔ وہ ان کو اس اچانک خوشی کے لئے تیار کررہے تھے ، جو ان کے لیے ، ان کے والد کے لئے اور سب رشتہ داروں کے لئے آرہی تھی تا کہ وہ بےحد خوش ہوں اور ان پر اس کا گہرا اثر ہو۔
يوسف 12:79
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ نہیں کہا کہ پناہ خدا کی ، کہ ہم کسی چور کے بدلے ایک بےگناہ کو پکڑ لیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بھائی چور نہیں ہے ، اس لیے انہوں نے نہایت ہی ٹیکنیکل انداز تعبیر اختیار کیا۔ اگرچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان مصری ہوگی لیکن قرآن نے ان کی جو حالت بتائی ہے ظاہر ہے وہ اصل کے مطابق ہے۔ “ جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ”۔ ان الفاظ میں بالکل سادہ حقیقت کا اظہار ہے ، نہ الزام ہے اور اس کی طرف اشارہ کہ مال رکھا کس نے۔
انا اذا لظلمون “ اگر ہم دوسرے کو گرفتار کریں تو ہم ظالم ہوں گے ”۔ بس یہ آخری بات تھی ۔ وہ سمجھ گئے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب وہ سوچنے لگے کہ والد کو کس طرح منہ دکھائیں گے۔
يوسف 12:80
درس نمبر 110 تشریح آیات
80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101
برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔
آیت نمبر 80 تا 82
برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک ان کے والد اجازت نہیں دیتے یا اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہیں فرماتے ، اللہ کے فیصلے کے وہ بہرحال پابند ہیں۔ وہ کیا کریں ؟ تو ان سے انہوں نے کہا کہ تم جاؤ اور باپ سے صاف صاف کہو کہ آپ کے بیٹے نے چوری کا ارتکاب کیا ہے۔ پکڑا گیا ، یہ ہے ان کا علم اور مشاہدہ۔ اگر وہ بری الذمہ اور بےگناہ ہے اور اصل حقیقت کچھ اور ہے تو اس سے وہ بیخبر ہیں۔ ان کو بالکل یہ توقع نہ تھی کہ ان کو ایسا حادثہ پیش آئے گا۔ یہ تو ہے اس معاملے کا ظاہری پہلو ، اگر اصل بات کوئی اور ہو تو وہ امر غیبی ہوگی اور ہم اس کو نہیں جانتے۔ نہ جاننے کے مکلف ہیں اور یہ بات ان کی نسبت غیب ہی تھی اور کوئی شخص غیبی واقعات کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اور یہ کہ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ ، شہر کے دوسرے لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں اور پھر مصر سے ہم جس قافلے کے ساتھ آئے ہیں ، اس سے بھی پوچھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے تو نہ تھے ، آج کل مصر کو قافلے پر قافلہ جارہا ہے اور وہاں سے لوگ غلہ لے کر آتے ہیں۔ مصر کے گرد تمام علاقے قحط کی لپیٹ میں ہیں ، سخت خشک سالی ہے۔
٭٭٭
اب وہ کس حال میں واپس آئے ، سفر کس طرح بےہوا ، یہاں ان تفصیلات کو حذف کردیا گیا ہے۔ یہ لوگ اب غم زدہ باپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے ماجرا سنا دیا۔ غم زدہ باپ کا صرف ایک مختصر جواب سیاق کلام میں نقل کردیا جاتا ہے۔ نہایت ہی اندوہناک الفاظ میں ۔ لیکن ان کے کلام میں اب بھی امید کی ایک کرن باقی ہے۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ خدا دونوں بچے ان کو واپس کر دے گا۔ بلکہ تینوں کو واپس کر دے گا۔ کیونکہ تیسرا بھی مصر میں دھرنا مار کر بیٹھ گیا ہے۔ اس بوڑھے باپ کے شکستہ دل میں اب بھی ایک عجیب امید ہے۔ یہ ہے پیغمبرانہ بصیرت !
يوسف 12:81
درس نمبر 110 تشریح آیات
80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101
برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔
آیت نمبر 80 تا 82
برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک ان کے والد اجازت نہیں دیتے یا اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہیں فرماتے ، اللہ کے فیصلے کے وہ بہرحال پابند ہیں۔ وہ کیا کریں ؟ تو ان سے انہوں نے کہا کہ تم جاؤ اور باپ سے صاف صاف کہو کہ آپ کے بیٹے نے چوری کا ارتکاب کیا ہے۔ پکڑا گیا ، یہ ہے ان کا علم اور مشاہدہ۔ اگر وہ بری الذمہ اور بےگناہ ہے اور اصل حقیقت کچھ اور ہے تو اس سے وہ بیخبر ہیں۔ ان کو بالکل یہ توقع نہ تھی کہ ان کو ایسا حادثہ پیش آئے گا۔ یہ تو ہے اس معاملے کا ظاہری پہلو ، اگر اصل بات کوئی اور ہو تو وہ امر غیبی ہوگی اور ہم اس کو نہیں جانتے۔ نہ جاننے کے مکلف ہیں اور یہ بات ان کی نسبت غیب ہی تھی اور کوئی شخص غیبی واقعات کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اور یہ کہ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ ، شہر کے دوسرے لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں اور پھر مصر سے ہم جس قافلے کے ساتھ آئے ہیں ، اس سے بھی پوچھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے تو نہ تھے ، آج کل مصر کو قافلے پر قافلہ جارہا ہے اور وہاں سے لوگ غلہ لے کر آتے ہیں۔ مصر کے گرد تمام علاقے قحط کی لپیٹ میں ہیں ، سخت خشک سالی ہے۔
٭٭٭
اب وہ کس حال میں واپس آئے ، سفر کس طرح بےہوا ، یہاں ان تفصیلات کو حذف کردیا گیا ہے۔ یہ لوگ اب غم زدہ باپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے ماجرا سنا دیا۔ غم زدہ باپ کا صرف ایک مختصر جواب سیاق کلام میں نقل کردیا جاتا ہے۔ نہایت ہی اندوہناک الفاظ میں ۔ لیکن ان کے کلام میں اب بھی امید کی ایک کرن باقی ہے۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ خدا دونوں بچے ان کو واپس کر دے گا۔ بلکہ تینوں کو واپس کر دے گا۔ کیونکہ تیسرا بھی مصر میں دھرنا مار کر بیٹھ گیا ہے۔ اس بوڑھے باپ کے شکستہ دل میں اب بھی ایک عجیب امید ہے۔ یہ ہے پیغمبرانہ بصیرت !
يوسف 12:82
درس نمبر 110 تشریح آیات
80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101
برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔
آیت نمبر 80 تا 82
برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک ان کے والد اجازت نہیں دیتے یا اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہیں فرماتے ، اللہ کے فیصلے کے وہ بہرحال پابند ہیں۔ وہ کیا کریں ؟ تو ان سے انہوں نے کہا کہ تم جاؤ اور باپ سے صاف صاف کہو کہ آپ کے بیٹے نے چوری کا ارتکاب کیا ہے۔ پکڑا گیا ، یہ ہے ان کا علم اور مشاہدہ۔ اگر وہ بری الذمہ اور بےگناہ ہے اور اصل حقیقت کچھ اور ہے تو اس سے وہ بیخبر ہیں۔ ان کو بالکل یہ توقع نہ تھی کہ ان کو ایسا حادثہ پیش آئے گا۔ یہ تو ہے اس معاملے کا ظاہری پہلو ، اگر اصل بات کوئی اور ہو تو وہ امر غیبی ہوگی اور ہم اس کو نہیں جانتے۔ نہ جاننے کے مکلف ہیں اور یہ بات ان کی نسبت غیب ہی تھی اور کوئی شخص غیبی واقعات کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اور یہ کہ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ ، شہر کے دوسرے لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں اور پھر مصر سے ہم جس قافلے کے ساتھ آئے ہیں ، اس سے بھی پوچھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے تو نہ تھے ، آج کل مصر کو قافلے پر قافلہ جارہا ہے اور وہاں سے لوگ غلہ لے کر آتے ہیں۔ مصر کے گرد تمام علاقے قحط کی لپیٹ میں ہیں ، سخت خشک سالی ہے۔
٭٭٭
اب وہ کس حال میں واپس آئے ، سفر کس طرح بےہوا ، یہاں ان تفصیلات کو حذف کردیا گیا ہے۔ یہ لوگ اب غم زدہ باپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے ماجرا سنا دیا۔ غم زدہ باپ کا صرف ایک مختصر جواب سیاق کلام میں نقل کردیا جاتا ہے۔ نہایت ہی اندوہناک الفاظ میں ۔ لیکن ان کے کلام میں اب بھی امید کی ایک کرن باقی ہے۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ خدا دونوں بچے ان کو واپس کر دے گا۔ بلکہ تینوں کو واپس کر دے گا۔ کیونکہ تیسرا بھی مصر میں دھرنا مار کر بیٹھ گیا ہے۔ اس بوڑھے باپ کے شکستہ دل میں اب بھی ایک عجیب امید ہے۔ یہ ہے پیغمبرانہ بصیرت !
يوسف 12:83
آیت نمبر 83
تمہارے نفوس نے بہت ہی بڑے گناہ کو سہل بنا دیا ہے۔ تم بھائیوں کے خلاف سازش کرتے ہو۔ میں اس پر صبر ہی کرسکتا ہوں۔ یہ الفاظ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے وقت بھی کہے تھے۔ لیکن اس بار یہاں وہ ایک امید بھی ظاہر کرتے ہیں کہ شاید اللہ ان سب کو واپس دلادے۔ بیشک اللہ ہی علیم و حکیم ہے۔ وہ میرے حالات سے بھی واقف ہے اور پسران کے بیانات کی حقیقت بھی جانتا ہے۔ واقعات و امتحانات کی حقیقت بھی وہ جانتا ہے اور جب بھی اللہ کی حکمت کا تقاضا ہوگا تمام واقعات و حقائق سامنے آجائیں گے۔
امید کی یہ کرن اس بوڑھے کے دل میں کہاں سے آئی۔ یہ خدا تعالیٰ سے امید کی کرن تھی ، ذات باری سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ اللہ اور اس کی رحمت کے وجود کا پختہ یقین تھا۔ اور یہ یقین اللہ کے برگزیدہ بندوں کے قلوب میں صاف نظر آیا کرتا ہے۔ اور ان کے نزدیک یہ یقین اس قدر حساس ہوتا ہے کہ اس کے مقابلے میں حواسہ خمسہ کا احساس کم نظر آتا ہے۔
يوسف 12:84
یہ ایک غم زدہ والد کی نہایت ہی موثر تصویر کشی ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس غم کو جھیلنے کے لئے وہ تنہا ہیں ، اس میں ان کے اہل و عیال کے دل شریک نہیں ہیں۔ نہ وہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور نہ یک جہتی کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ علیحدگی میں تنہا ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں ایک صدمہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کی صورت میں پہنچ چکا تھا ، وہ اسے بھول نہ سکے۔ اور طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس صدمے میں بھی کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اب تازہ صدمہ یوسف (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی صورت میں پیش آیا ہے ، اور اس کی وجہ سے سابقہ زخم بھی تازہ ہوگئے ہیں۔ اب ان کے صبر جمیل کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے۔
یاسفی علی یوسف (12 : 84) “ ہائے یوسف ! ” انسان اپنے غموں کو چھپاتا ہے ، برداشت کرتا ہے ، اس کے اعضاء ٹوٹ جاتے ہیں اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوجاتی ہیں اور یہ غم انہیں اندر ہی اندر میں گھلا رہا ہے۔
وابیضت ۔۔۔۔۔ کظیم (12 : 84) “ اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں اور وہ دل ہی دل میں غم کھائے جا رہا تھا ”۔
لیکن اس کے دوسرے بیٹوں کے دل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسد سے اس قدر بھرے ہوئے تھے کہ انہیں اپنے بوڑھے باپ کے حال پر بھی رحم نہ آرہا تھا ، ان کی سنگدلی کا یہ عالم تھا کہ ان کے والد کی یہ بےپناہ محبت بھی ان پر اثر انداز نہ ہو رہی تھی۔ بجائے اس کے کہ وہ تعزیت کرتے ، ان کے دل میں شمع امید روشن کرتے وہ ان کو اور مایوس کرتے اور امید کی آخری کرن کو بھی بجھانے کی سعی کرتے ہیں۔
يوسف 12:85
آیت نمبر 85
یہ نہایت ہی مکروہ اور بغض و حسد سے زہر آلود بات ہے ، خدا کی قسم آپ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) کی یاد میں ہلاک کر رہے ہیں۔ آپ دیکھتے نہیں کہ آپ پگھل کر رہ گئے ہیں۔ آخر اس غم واندوہ اور ماتم کا اب کیا فائدہ ؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) تو اب گیا وہ لوٹ کر آنے والا نہیں ہے۔
لیکن والدان کی اس بات رد فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بس چھوڑ دو مجھے۔ میرا غم اور میرا شکوہ اللہ ہی سے ہے۔ میرا میرے رب کے ساتھ تعلق ہے اور میں اللہ کی جانب سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
يوسف 12:86
آیت نمبر 86
ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پیغمبر کے دل میں اللہ کی حاکمیت اور اختیار مطلق کا کس قدر گہرا شعور ہوتا ہے۔ خدا رسیدہ لوگوں کو اللہ کے انعامات کا بھی احساس ہوتا ہے اور اللہ کی جلالت شان کا گہرا شعور بھی۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق جو ظاہری صورت حالات تھی وہ نہایت ہی مایوس کن تھی اور ایک طویل عرصہ بھی گزر چکا تھا۔ ان کی تو زندگی کی امید ہی قطع ہوچکی تھی چہ جائیکہ یہ امید ہو کہ وہ اپنے والد کو اپنے پاس آنے کی دعوت دیں گے اور اس مایوس کن صورت حال ہی کے نتیجے میں ان کے بیٹوں نے ان کے اس تازہ تجسس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ لیکن یہ تمام حالات اس اللہ کے بندے کی اس پختہ امید کو متاثر نہ کرسکے جو وہ اللہ سے رکھتے تھے ۔ کیونکہ ان کا اپنے رب سے گہرا رابطہ تھا اور وہ اپنے رب کے بارے میں وہ کچھ جانتے تھے جو وہ دوسرے لوگ نہ جانتے تھے کیونکہ وہ حقائق ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ خصوصاً اس واقعہ کے بارے میں۔
یہ ہے حقیقی ایمان کی قدرو قیمت اور اللہ کی حقیقی معرفت کی شان۔ جب اللہ کے بندوں کو معرفت حاصل ہوتی ہے تو ان پر تجلیات ہوتی ہیں۔ اور وہ عالم شہود میں ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی قدرت اور اللہ کی تقدیر سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اور اللہ کی نگرانی اور اس کی رحمت ان کے شامل حال ہوتی ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ اپنے صالح بندوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔
یہ الفاظ واعلم من اللہ ما لا تعلمون (12 : 86) “ اور میں اللہ کی طرف سے جو کچھ جانتا ہوں تم نہیں جانتے ” ایسے ہیں جن سے یہ حقیقت اس قدر عیاں ہے کہ ہم اس کو کسی طرح اپنے جملے میں ادا نہیں کرسکتے۔ اس بات کو وہی شخص جان سکتا ہے جس کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرح صبر کا ذوق خاص دیا گیا ہو ، ایسے ہی لوگ جان سکتے ہیں کہ ان کلمات کا مفہوم کیا ہے ؟
اور جن قلوب کے اندر اس قسم کا ذوق پیدا ہوگیا ہو ، یعنی معرفت الٰہی کا ذوق ، ان پر اگر مشکلات اور شدائد کی بارش ہوجائے تو بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، سوائے اس کے کہ ان شدائد سے ایسے قلوب کا تعلق باللہ ، ذوق معرفت اور مشاہدہ حق مزید قوی ہوجاتا ہے۔
میں اس کے سوا اور کچھ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا ، لیکن میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس کا مجھ پر بہت ہی بڑا کرم ہے۔ اس کا میرے ساتھ جو تعلق ہے اسے وہ جانتا ہے یا میں۔ وہ تو علیم وخبیر ہے۔
اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں کی تلاش کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور لڑکوں کو کہتے ہیں کہ وہ مایوس نہ ہوں اللہ کی رحمت بہت ہی وسیع ہے ، اس بات کا امکان ہے کہ وہ سب مل جائیں۔ رحمت الٰہی کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔
يوسف 12:87
آیت نمبر 87
یہ ہے اس دل کی آواز جو اللہ تک پہنچا ہوا ہے ! !۔ “ میرے بچو جا کر یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاؤ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ”۔ اپنے پورے حواس کو استعمال کرو ، نہایت رقت سے ، گہری نظروں سے اور مستقل مزاجی سے تلاش کرو۔ اللہ کے فضل وکرم سے کسی بھی وقت مایوسی کا اظہار نہ کرو۔ یہاں اللہ کے کرم کے لئے (روح) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اللہ کی رحمت پر گہرائی سے دلالت کرتا ہے اور اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ مشکلات کے بعد اب آسانیوں کا دور آنے والا ہے۔ کیونکہ جان کن مشکلات کی بعد اب اللہ کی رحمت کی شبنم سے روح کو تراوت ملنے والی ہے۔ '
ولا تایئسو۔۔۔۔۔۔۔ الکفرون (12 : 87) “ اللہ کی رحمت سے تو صرف کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں ” ۔ رہے وہ مومن جن کے دل اللہ تک پہنچے ہوئے ہوتے ہیں جن کی روح پر معرفت الٰہی کی شنبم گرتی ہے ، جن کے اوپر رحمت الٰہی کی روح پرور خوشگوار ہوا کے جھونکے چلتے ہیں ، وہ کبھی بھی اللہ کے فضل و کرم سے مایوس نہیں ہوتے اگرچہ مشکلات ناقابل برداشت ہوجائیں اور ان کا کلیجہ منہ کو آجائے۔ مومن ہمیشہ ایمان کی چھاؤں میں ہوتا ہے ، وہ تعلق باللہ کی وجہ سے اللہ سے مربوط ہوتا ہے۔ اپنے مولا پر اسے بھروسہ ہوتا ہے۔ اور یہ بھروسہ انتہائی کرب و الم میں بھی زندہ رہتا ہے۔
يوسف 12:88
اب تیسری مرتبہ برادران یوسف (علیہ السلام) مصر کے شہر میں داخل ہوتے ہیں۔ قحط نے ان کا برا حال کر رکھا ہے۔ نقدی ختم ہے ، اب وہ ردی قسم کی مال اور روپیہ لے کر آئے ہیں اور اس کے سوا ان کے پاس کچھ بچا بھی نہیں ہے۔ یہ لوگ اس حال میں داخل ہوتے ہیں کہ ان کی شخصیت ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے ، اب وہ پرانی باتیں کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اس کے حال میں داخل ہوتے ہیں کہ ان کی شخصیت ٹوٹی ہوئی ہوتی ہے ، اب وہ پرانی باتیں کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اس موقعے پر انہوں نے اپنی بدحالی کا جو شکوہ کیا اس سے ان کا حال اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے۔
آیت نمبر 88
یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ اس کے بھائی اس قدر خستہ حال ہوگئے ہیں اور ان کے اندر اس قدر انکسار آگیا ہے اور وہ رحم کی اپیلیں کر رہے ہیں تو وہ اپنے مرتبے اور مقام کا مزید مظاہرہ جاری نہ رکھ سکے۔ اب ان کے لئے ممکن ہی نہ رہا کہ اپنی شخصیت کو ان سے چھپا سکیں۔ جو سبق ان کو دینا مقصود تھا وہ دے چکے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان کو وہ عظیم سر پر ائز دیا جائے جس کے لئے وہ بالکل تیار نہ تھے۔ ان کو تصور ہی نہ تھا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کے دربار میں کھڑے ہیں۔ چناچہ وہ براہ کرم ان پر اپنی حقیقت ظاہر فرماتے ہیں۔ وہ اشارہ کرتے ہیں کہ دیکھو تم نے ماضی میں وہ کیا کرتوت کیا تھا ؟ یہ تو ان کی زندگی کا راز تھے۔ اس کے بارے میں انہوں نے کسی کو بتایا ہی نہ تھا۔ صرف اللہ جانتا تھا۔
يوسف 12:89
آیت نمبر 89
اب ان کے کانوں میں ایک ایسی آواز پڑی جو انہیں مانوس نظر آئی۔ انہیں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے چہرے کے خدو خال اب ایسے نظر آئے کہ وہ دیکھا ہوا چہرہ ہے۔ اس سے قبل وہ اپنے آپ کو بظاہر عزیز مصر کے سامنے پاتے تھے اور یہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے کہ یہ شخص یوسف (علیہ السلام) بھی ہو سکتا ہے کیونکہ وہ شاہی دربار کے رعب کے نیچے تھے لیکن اب دور ہی سے انہیں نظر آگیا کہ یہ تو بھائی کا چہرہ ہے۔
يوسف 12:90
آیت نمبر 90
اب ان کو یقین ہوگیا اور کہا کہ تم ہی یوسف (علیہ السلام) ہو۔ اگرچہ یوسف (علیہ السلام) اب ایک معمر آدمی ہیں۔ اس کے بچپن کے خدو خال صاف صاف نظر آنے لگے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اچانک اپنے آپ کو ظاہر کیا اور اجمالاً وہ ان کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے جہالت میں اپنے بھائی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ بس وہ صرف یہی بات کہتے ہیں اور اللہ کے ان احسانات کا تذکرہ کرتے ہیں جو ان پر اور ان کے بھائی پر ہوئے۔ اور یہ احسانات اس لیے ہوئے کہ ہم نے تقویٰ اور صبر کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور یہ سب کچھ اللہ کے نظام عدل کا نتیجہ ہے۔ وہ متقین و صابرین کو جزائے خیر دیتا ہے۔
لیکن اس اچانک انکشاف کا اثر ان بھائیوں پر کیا ہوا ؟ ان کی آنکھوں کے سامنے وہ پوری گھناؤنی صورت حال مجسم ہوگئی جو وہ یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کے ساتھ کرتے رہے تھے۔ یہ بےحد شرمندہ ہیں۔ جس کے ساتھ انہوں نے برا کیا وہ بطور محسن کھڑا ہے ، جس کے ساتھ انہوں نے سنگدلی کی وہ نہایت ہی حلیم ہے اور جس کے ساتھ انہوں نے ظلم کیا وہ کریم اور محسن ہے۔ اب اس کے سوا وہ کہہ کیا سکتے تھے۔
يوسف 12:91
آیت نمبر 91
انہوں نے اپنی غلطی کا صاف صاف اقرار کرلیا۔ گناہ کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے جان لیا کہ اللہ نے ان پر اسے ترجیح دے دی ہے کیونکہ وہ حلیم الطبع ، متقی اور محسن تھے۔ اور ان کے اس صاف صاف اعتراف کے جواب میں حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کو تہ دل سے معاف فرماتے ہیں۔ اس طرح ان کی شرمندگی میں کمی آتی ہے اور اہل کرم کا شیوہ ہی عفو و درگزر ہوتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) جس طرح مشکلات میں کامیاب ہوئے تھے ، اسی طرح اقتدار کی آزمائش میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ یقیناً وہ محسنین میں سے ایک تھے۔
يوسف 12:92
آیت نمبر 92
آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ، کوئی انتقام نہیں اور تمہیں شرمندہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے تمام کدورتوں کو دل سے نکال دیا ہے۔ اللہ بھی تمہیں معاف کر دے۔ بیشک وہ ارحم الراحمین ہے۔ اب روئے سخن ایک دوسرے اہم معاملے کی طرف پھرجاتا ہے۔ اب اس باپ کی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے جن کی آنکھیں یوسف (علیہ السلام) کے انتظار میں سفید ہوگئی ہیں۔ سب سے پہلے انہیں خوشخبری دینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے ان سے ملنا فرض ہے۔ ان کے دل کی کدورتوں کو دور کرنا ضروری ہے اور وہ جس جسمانی اور روحانی اذیت میں ہیں ، اس سے ان کو جلد از جلد نکالنا ضروری ہے اور سب سے پہلے ان کی بینائی !
يوسف 12:93
آیت نمبر 93
سوال یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ ان کی قمیض کی بو سے ان کے والد کی گئی ہوئی بینائی لوٹ آئے گی ؟ یہ ہے وہ علم جو انہیں اللہ نے دیا تھا۔ اور اچانک خوشی اور اچانک غم میں بعض اوقات ایسے معجزات صادر ہوجاتے ہیں جبکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ، نبی ، رسول ہیں اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) بھی نبی اور رسول ہیں۔
يوسف 12:94
اب دوسری جانب کنعان کے منظر میں بھی غیر متوقع انکشافات ہو رہے ہیں اور کنعان کے مناظر اب یوسف (علیہ السلام) کے اس خواب کی آخری تعبیر پر ختم ہوتے ہیں جو انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا۔
آیت نمبر 94 تا 95
یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو ! یہ کیا کہہ رہے ہیں ، کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس قدر طویل عرصہ کے بعد بھی یوسف (علیہ السلام) زندہ ہوگا اور یہ بوڑھا اس کی بو سونگھ رہا ہوگا !۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتا ہے میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو پارہا ہوں اگر تم میرا مذاق نہ اڑاؤ، درحقیقت میں یہ خوشبو پا رہا ہوں۔
سوال یہ ہے کہ ادھر مصر سے قافلہ چلا ، ادھر کنعان میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بو پا رہے ہیں۔ یہ کیونکر ہوگیا ، کیا یہ قافلہ مصر سے چلا تو ان کو بو آنے لگی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ قافلہ مصر سے چلا اور انہوں نے بو کو سونگھ لیا۔ اس قدر دور سے۔ لیکن آیت میں مصر کی تصریح نہیں ہے ، ہو سکتا ہے کہ قافلہ کنعان کے قریب کسی دورا ہے سے جب جدا ہوا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے مقام رہائش کے قریب انہیں یہ خوشبو آگئی ہو۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم مصر کی دوری سے بطور معجزہ اس بو کو محسوس کرنے کو معبد سمجھتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ یہ معجزہ ہوا ہو ۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) دونوں نبی ہیں۔ ہمارا مقصد اور طریقہ یہ ہے کہ آیت قرآن جس قدر مفہوم دیتی ہیں ہم اسی پر توقف کریں۔ خصوصاً جبکہ آیت پر اضافی مفہوم کے لئے سند صحیح کے ساتھ کوئی روایت بھی مروی نہ ہو۔ یہاں بھی اس بات پر صحیح سند سے مروی کوئی روایت نہیں ہے کہ یہ خوشبو مصر سے آئی ۔ محض قیاس اور دلالتہ النص سے ایسے مفہوم کو اخذ نہیں کرنا چاہیے۔
لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان کے اندر وہ احساس نہ تھا جو رب نے ان کو عطا کیا تھا۔ چناچہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو نہ پایا۔
قالوا تاللہ انک لفی ضللک القدیم (12 : 95) ” انہوں نے کہا خدا کی قسم بیشک آپ اپنی پرانی غلط فہمی میں پڑے ہیں “۔ آپ اپنی پرانی غلط فہمی میں مبتلا ہیں ، اب بھی یوسف (علیہ السلام) کا انتظار کر رہے ہیں حالانکہ وہ ان راستوں پر چل نکلا ہے جن سے واپسی ممکن نہیں ہے۔ لیکن اس پوری کہانی میں جگہ جگہ معجزات اور مناجات ہیں۔
يوسف 12:95
اب دوسری جانب کنعان کے منظر میں بھی غیر متوقع انکشافات ہو رہے ہیں اور کنعان کے مناظر اب یوسف (علیہ السلام) کے اس خواب کی آخری تعبیر پر ختم ہوتے ہیں جو انہوں نے بچپن میں دیکھا تھا۔
آیت نمبر 94 تا 95
یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو ! یہ کیا کہہ رہے ہیں ، کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس قدر طویل عرصہ کے بعد بھی یوسف (علیہ السلام) زندہ ہوگا اور یہ بوڑھا اس کی بو سونگھ رہا ہوگا !۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کہتا ہے میں یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو پارہا ہوں اگر تم میرا مذاق نہ اڑاؤ، درحقیقت میں یہ خوشبو پا رہا ہوں۔
سوال یہ ہے کہ ادھر مصر سے قافلہ چلا ، ادھر کنعان میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی بو پا رہے ہیں۔ یہ کیونکر ہوگیا ، کیا یہ قافلہ مصر سے چلا تو ان کو بو آنے لگی۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ قافلہ مصر سے چلا اور انہوں نے بو کو سونگھ لیا۔ اس قدر دور سے۔ لیکن آیت میں مصر کی تصریح نہیں ہے ، ہو سکتا ہے کہ قافلہ کنعان کے قریب کسی دورا ہے سے جب جدا ہوا تو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے مقام رہائش کے قریب انہیں یہ خوشبو آگئی ہو۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم مصر کی دوری سے بطور معجزہ اس بو کو محسوس کرنے کو معبد سمجھتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ یہ معجزہ ہوا ہو ۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) دونوں نبی ہیں۔ ہمارا مقصد اور طریقہ یہ ہے کہ آیت قرآن جس قدر مفہوم دیتی ہیں ہم اسی پر توقف کریں۔ خصوصاً جبکہ آیت پر اضافی مفہوم کے لئے سند صحیح کے ساتھ کوئی روایت بھی مروی نہ ہو۔ یہاں بھی اس بات پر صحیح سند سے مروی کوئی روایت نہیں ہے کہ یہ خوشبو مصر سے آئی ۔ محض قیاس اور دلالتہ النص سے ایسے مفہوم کو اخذ نہیں کرنا چاہیے۔
لیکن حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے اردگرد جو لوگ بیٹھے تھے ان کے اندر وہ احساس نہ تھا جو رب نے ان کو عطا کیا تھا۔ چناچہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو کو نہ پایا۔
قالوا تاللہ انک لفی ضللک القدیم (12 : 95) ” انہوں نے کہا خدا کی قسم بیشک آپ اپنی پرانی غلط فہمی میں پڑے ہیں “۔ آپ اپنی پرانی غلط فہمی میں مبتلا ہیں ، اب بھی یوسف (علیہ السلام) کا انتظار کر رہے ہیں حالانکہ وہ ان راستوں پر چل نکلا ہے جن سے واپسی ممکن نہیں ہے۔ لیکن اس پوری کہانی میں جگہ جگہ معجزات اور مناجات ہیں۔
يوسف 12:96
اچانک ان کے چہرے پر قمیض ڈال دی جاتی ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقات اب بہت ہی قریب ہے ۔ اچانک معجزانہ طور پر بینائی لوٹ آتی ہے۔ یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے حاشیہ نشینوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ہے وہ چیز جس کا علم ان کو تھا ۔ اور رب کی طرف سے تھا اور اسی علم کا میں نے تم نے تذکرہ کیا تھا۔
آیت نمبر 96 تا 97
یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے ناراض تھے لیکن انہوں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ وہ ان کے ساتھ یہ وعدہ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے لیے اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کروں گا۔ ذرا سستا لینے دو ، ذرا دل کی کدورتوں کو صاف ہونے دو اور ذرا سکون کا سانس لے لینے دو ۔
يوسف 12:97
اچانک ان کے چہرے پر قمیض ڈال دی جاتی ہے ، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ملاقات اب بہت ہی قریب ہے ۔ اچانک معجزانہ طور پر بینائی لوٹ آتی ہے۔ یہاں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے حاشیہ نشینوں کو بتاتے ہیں کہ یہ ہے وہ چیز جس کا علم ان کو تھا ۔ اور رب کی طرف سے تھا اور اسی علم کا میں نے تم نے تذکرہ کیا تھا۔
آیت نمبر 96 تا 97
یہاں یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اپنے بیٹوں سے ناراض تھے لیکن انہوں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ بلکہ وہ ان کے ساتھ یہ وعدہ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے لیے اللہ سے عفو و درگزر کی درخواست کروں گا۔ ذرا سستا لینے دو ، ذرا دل کی کدورتوں کو صاف ہونے دو اور ذرا سکون کا سانس لے لینے دو ۔
يوسف 12:98
آیت نمبر 98
لفظ سوف کے ساتھ وعدہ دعا سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے زخمی دل سے کدورت نکلتے نکلتے وقت لگتا ہے۔ دلوں کی کدورت جلدی صاف نہیں ہوتی۔
يوسف 12:99
اب یہاں اس قصے ، کا خاتمہ بھی اس قصے کے دوسرے اچانک مناظر اور معجزانہ واقعات کی طرح اچانک ہوجاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور آخری تبصرہ یوں آتا ہے اور اس میں بیشمار موڑ اور جذباتی مناظر ہیں۔
آیت نمبر 99 تا 100
یہ کیا ہی خوب صورت منظر ہے ! ایک عرصہ گزر گیا ہے اور یوسف (علیہ السلام) لا پتہ ہیں۔ ان کے بارے میں مکمل مایوسی پائی جاتی ہے اور لوگ انہیں پوری طرح بھول چکے ہیں۔ رشتہ دار اس کے رنج سہ چکے ہیں ، یوسف (علیہ السلام) پر بھی اور پسماندگان پر بھی عرصہ بیت چکا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا رنج و الم ، ناقابل کنٹرول پدری محبت کا جوش اور جان کن رنج اور حزن کا طویل عرصہ اور پھر اچانک حالات کا یہ پلٹا۔۔۔۔ یہ ایک ایسا اچانک منظر ہے کہ جس میں دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں ، خوشی کے آنسو بہہ نکلتے ہیں اور ہر طرف گہرے تاثرات ہیں ، خوشی کے بھی اور شرمندگی کے بھی۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس قصے کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہے ، آغاز میں عالم غیب کی طرف غائبانہ اشارات تھے لیکن وہ سب اشارات اب عالم واقعہ ہیں اور ایسے حالات میں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان پر ثنائے ربانی ہے۔
فلما دخلوا۔۔۔۔۔۔۔ امنین (12 : 99) ” پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور اپنے سب کنبے والوں سے کہا ” چلو ، اب شہر میں چلو ، اللہ نے چاہا تو زمین چین سے رہو گے “۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اب اپنا خواب یاد کرتے ہیں اور اس کی تاویل ان کے سامنے ہے کہ ان کے بھائی ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ درآنحالیکہ اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا ہوا ہے۔ اب گیارہ ستارے اور الشمس و قمر ان کے سامنے ہیں اور سجدہ ریز ہیں۔
ورفع ابویہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ربی حقا (12 : 100) ” اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بےاختیار سجدے میں جھک گئے۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ” ابا جان ، یہ تعبیر ہے میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا “۔
اور رب کے احسانات کی تو حد نہیں ہے۔
وقد احسن بی ۔۔۔۔۔۔۔ اخوتی (12 : 100) ” اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا ، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا ، حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا “۔
اور پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ کی خفیہ تدابیر کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حد ہی نہیں ہے۔
ان ربی لطیف لما یشاء (12 : 100) ” حقیقت یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے “۔ وہ نہایت ہی خفیہ طریقوں سے اپنی مشیت کے مقاصد پورے کرتا ہے۔ اس قدر خفیہ طریقے سے کہ لوگ اس کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔
انہ ھو العلیم الحکیم (12 : 100) ” بیشک وہ علیم و حکیم ہے “۔ اور یہ وہی انداز ہے جو خود حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اختیار کیا۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے ساتھ اپنا خواب بیان کر رہے تھے۔ ان ربک علیم حکیم ” بیشک تمہارا رب علیم و حکیم ہے “۔ اس طرح آغاز قصہ اور اختتام قصہ ایک ہی تبصرے کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور اختتام پذیر ہوتا ہے۔
آخری منظر کے اختتام سے قبل ، ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ملاقات ، خوشی اور مسرت کے منتظر اور پھر تخت و تاج اور جاہ و منزلت اور امن و سکون اور عیش و آرام کی تقریب سے اچانک نکل آتے ہیں۔ آخر وہ پیغمبر خدا ہیں اور رب ذوالجلال کی تسبیح و تہلیل میں مشغول ہوجاتے ہیں اور ایک شکر گزار بندے کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اور دست بدعا ہوتے ہیں کہ جاہ و منزلت کے اس اونچے مقام پر اللہ ان کو ایک صحیح مسلمان ہونے کی توفیق بخشیں اور صالحین میں ان کو اٹھا لیں۔
يوسف 12:100
اب یہاں اس قصے ، کا خاتمہ بھی اس قصے کے دوسرے اچانک مناظر اور معجزانہ واقعات کی طرح اچانک ہوجاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور آخری تبصرہ یوں آتا ہے اور اس میں بیشمار موڑ اور جذباتی مناظر ہیں۔
آیت نمبر 99 تا 100
یہ کیا ہی خوب صورت منظر ہے ! ایک عرصہ گزر گیا ہے اور یوسف (علیہ السلام) لا پتہ ہیں۔ ان کے بارے میں مکمل مایوسی پائی جاتی ہے اور لوگ انہیں پوری طرح بھول چکے ہیں۔ رشتہ دار اس کے رنج سہ چکے ہیں ، یوسف (علیہ السلام) پر بھی اور پسماندگان پر بھی عرصہ بیت چکا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا رنج و الم ، ناقابل کنٹرول پدری محبت کا جوش اور جان کن رنج اور حزن کا طویل عرصہ اور پھر اچانک حالات کا یہ پلٹا۔۔۔۔ یہ ایک ایسا اچانک منظر ہے کہ جس میں دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں ، خوشی کے آنسو بہہ نکلتے ہیں اور ہر طرف گہرے تاثرات ہیں ، خوشی کے بھی اور شرمندگی کے بھی۔
یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس قصے کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہے ، آغاز میں عالم غیب کی طرف غائبانہ اشارات تھے لیکن وہ سب اشارات اب عالم واقعہ ہیں اور ایسے حالات میں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان پر ثنائے ربانی ہے۔
فلما دخلوا۔۔۔۔۔۔۔ امنین (12 : 99) ” پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور اپنے سب کنبے والوں سے کہا ” چلو ، اب شہر میں چلو ، اللہ نے چاہا تو زمین چین سے رہو گے “۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) اب اپنا خواب یاد کرتے ہیں اور اس کی تاویل ان کے سامنے ہے کہ ان کے بھائی ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ درآنحالیکہ اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا ہوا ہے۔ اب گیارہ ستارے اور الشمس و قمر ان کے سامنے ہیں اور سجدہ ریز ہیں۔
ورفع ابویہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ربی حقا (12 : 100) ” اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بےاختیار سجدے میں جھک گئے۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ” ابا جان ، یہ تعبیر ہے میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا “۔
اور رب کے احسانات کی تو حد نہیں ہے۔
وقد احسن بی ۔۔۔۔۔۔۔ اخوتی (12 : 100) ” اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا ، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا ، حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا “۔
اور پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ کی خفیہ تدابیر کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حد ہی نہیں ہے۔
ان ربی لطیف لما یشاء (12 : 100) ” حقیقت یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے “۔ وہ نہایت ہی خفیہ طریقوں سے اپنی مشیت کے مقاصد پورے کرتا ہے۔ اس قدر خفیہ طریقے سے کہ لوگ اس کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔
انہ ھو العلیم الحکیم (12 : 100) ” بیشک وہ علیم و حکیم ہے “۔ اور یہ وہی انداز ہے جو خود حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اختیار کیا۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے ساتھ اپنا خواب بیان کر رہے تھے۔ ان ربک علیم حکیم ” بیشک تمہارا رب علیم و حکیم ہے “۔ اس طرح آغاز قصہ اور اختتام قصہ ایک ہی تبصرے کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور اختتام پذیر ہوتا ہے۔
آخری منظر کے اختتام سے قبل ، ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ملاقات ، خوشی اور مسرت کے منتظر اور پھر تخت و تاج اور جاہ و منزلت اور امن و سکون اور عیش و آرام کی تقریب سے اچانک نکل آتے ہیں۔ آخر وہ پیغمبر خدا ہیں اور رب ذوالجلال کی تسبیح و تہلیل میں مشغول ہوجاتے ہیں اور ایک شکر گزار بندے کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اور دست بدعا ہوتے ہیں کہ جاہ و منزلت کے اس اونچے مقام پر اللہ ان کو ایک صحیح مسلمان ہونے کی توفیق بخشیں اور صالحین میں ان کو اٹھا لیں۔
يوسف 12:101
آیت نمبر 101
اے رب تو نے مجھے بادشاہت بخشی ، اونچا مقام و مرتبہ دیا۔ مال و دولت سے نوازا اور تمام دنیاوی نعمتیں عطا کردیں۔
رب قد اتیتنی من الملک (12 : 101) ” اے رب تو نے مجھے حکومت بخشی “۔ اور پھر تو نے مجھے معاملہ فہمی عطا فرمائی۔
وعلمتنی من تاویل الاحادیث (12 : 101) ” زمین و آسمان بنانے والے “۔ تو نے اس کائنات کو کن فیکون سے تخلیق کیا اور اس کا پورا کنٹرول تیرے ہاتھ میں ہے اور تو ہی اس کائنات پر اور اس کے اندر بسنے والوں پر قدرت رکھتا ہے “۔
انت ولی۔۔۔۔۔ الاخرۃ (12 : 101) ” تو ہی دنیا و آخرت میں میرا سر پرست ہے “۔ تو ہی مددگار اور نصرت کرنے والا ہے۔ اے اللہ یہ ہیں تیرے انعامات اور یہ ہیں تیری قدرتیں۔
اب میرے رب میں تجھ سے حکومت طلب نہیں کرتا ، میں تجھ سے صحت طلب نہیں کرتا ، اور میں تجھ سے مال طلب نہیں کرتا۔ رب ذوالجلال ، میں وہ چیز طلب کرتا ہوں جو دیر تک باقی رہنے والی ہے۔
توفنی مسلما والحقنی بالصلحین (12 : 101) ” میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا “۔ یوں حکومت اور جاہ و مرتبت غائب ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح ملاقات کی خوشیاں اور اہل و عیال اور بھائیوں کا اجتماع نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اور اب منظر پر ایک بندہ خدا سامنے آتا ہے ۔ یہ نہایت ہی عاجزی سے دست بدعا ہیں کہ اے رب ، میرے اسلام کو محفوظ کیجیو۔ یہاں تک کہ میں تیرے سامنے مسلم ہو کر آؤں اور یہ کہ مجھے اہل صلاح وتقویٰ کی سوسائٹی میں جگہ دیجئے۔۔۔۔۔ یہ آخری امتحان ہے اور یہ ہے مکمل کامیابی !
٭٭٭
يوسف 12:102
درس نمبر 111 تشریح آیات
102۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 111
یہاں آکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اصل قصہ ختم ہوجاتا ہے اور اب اس پر سبق آموز تبصرے کیے جاتے ہیں۔ اس سورة پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے ان اغراض ومقاصد کی طرف اشارہ کیا تھا جس کے لئے یہ قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا۔ یہاں اب عبرت کے لئے کئی باتوں کی طرف قارئین کو متوجہ کیا جاتا ہے اور ان کے احساسات کو جگایا جاتا ہے۔ اس کائنات کی وسعتوں اور نفس انسانی کی گہرائیوں میں فکر انسانی کو دوڑایا جاتا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے حالات ، موجودہ حالات اور پردۂغیب کے پیچھے مستور حقائق بتائے جاتے ہیں۔ چناچہ اس آخری تبصرے کے اندر بیان کردہ حقائق کو ہم اسی ترتیب سے لیتے ہیں کیونکہ یہ قرآنی ترتیب بھی حکمت پر مبنی ہے۔
٭٭٭
یہ قصہ عربوں میں مشہور نہ تھا ، وہ عرب معاشرہ جس میں حضور ﷺ نے پرورش پائی ان واقعات سے بیخبر تھا۔ انہی لوگوں میں حضور ﷺ کی بعثت ہوئی۔ چونکہ اس قصے کے کرداروں کے حالات میں بہتر اسرار و رموز تھے ، اگرچہ وہ صدیوں پرانے کردار تھے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورة کے آغاز ہی میں اسے احسن القصص کہا ہے۔
نحن نقص ۔۔۔۔۔۔ لمن الغفلین (12 : 3) “ ہم آپ کے سامنے احسن القصص بیان کرتے ہیں ، یوں کہ ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن وحی کیا اگرچہ اس سے قبل آپ غافلوں میں سے تھے ”۔ اور اب اس قصے کے اختتام پر تعقیب یوں آرہی ہے ، اور یوں اس کے اختتام میں بھی اس کے آغاز کی طرف اشارہ ہے۔
آیت نمبر 102
یہ قصہ جو گزشتہ صفحات میں بیان کیا گیا ، ان غیبی خبروں میں سے ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔ تم بھی نہ جانتے تھے اور ہم نے یہ تمہاری طرف وحی کیے اور یہ ایک زندہ معجزہ ہے ، اے پیغمبر جب وہ یہ سازش تیار کر رہے تھے تو آپ ان کے پاس موجود نہ تھے ، خصوصاً جب انہوں نے اپنا ایکشن پلان تیار کرلیا اور جس کی تفصیلات اس پورے قصے میں دی گئیں۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے خلاف بھی سازش کی ، اپنے باپ کے خلاف بھی سازش کی۔ پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو پکڑ لیا تو یہ لوگ علیحدہ ہو کر مشورہ کرنے لگے جو ان کی جانب سے ایک مکر یعنی تدبیر تھا۔ نیز اس میں عورتوں کی جانب سے یوسف (علیہ السلام) کے خلاف بھی مکاریاں تھیں۔ پھر اس میں عزیز مصر کی پارلیمنٹ کی مکاری بھی تھی کہ انہوں نے ناحق حضرت یو سف (علیہ السلام) کو جیل بھجوا دیا۔ یہ سب کچھ مکر تھا اور اے پیغمبر آپ کو ان میں سے کسی مکاری کا علم نہ تھا۔ نہ آپ اس وقت موجود تھے کہ آپ نے اس قدر وقت کے ساتھ قلمبند کردیا بلکہ یہ وحی ہے اور اس سے اس نئے نظریہ حیات اور نئے دین کے بنیادی عقائد کو ثابت کرنا مقصود ہے۔ اور اس قصے کے مختلف مشاہد اور مناظر ہیں۔ اس جدید نظریہ حیات کے مسائل اور افکار اس میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔
٭٭٭
یہ قصہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ کلام وحی الٰہی ہے ، اس کے اشارات ، تاثرات اور ہدایات دلوں کو متحرک کرتی ہیں ، اور ان سب کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ پھر اس کلام پر ایمان لائیں۔ خصوصاً جبکہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے ذاتی احوال سے بھی باخبر ہیں۔ وہ آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور آپ ان کے سامنے ایسی ایسی نصیحت آموز غیبی دلچسپ خبریں دیتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت مان کر نہیں دیتی۔ لوگوں کی اکثریت اس کائنات میں بکھری ہوئی آیات و معجزات کو رات دن دیکھتے ہیں لیکن انہیں ہوش نہیں آتا۔ یہ لوگ ان آیات و دلائل کے مفہوم کو نہیں سمجھتے ۔ مثلاً ایک اندھے کی طرح کہ وہ ایک جانب سے دوسری منہ موڑتا ہے اور اسے کچھ خبر نہیں لگتی۔ سوال یہ ہے کہ اس معجزانہ قصہ کے بعد اب یہ لوگ کس بات کا انتظار کرتے ہیں۔ کیا وہ اللہ کے ایسے عذاب کا انتطار کر رہے ہیں کہ جو ان کو اچانک پکڑ لے اور ان کو کوئی شعور نہ ہو ؟
يوسف 12:103
آیت نمبر 103 تا 107
رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی رہیں گے اس لیے کہ یہ لوگ آیات الٰہی کو دیکھ کر یونہی گزر جاتے ہیں ، منہ پھیر لیتے ہیں اور ان کا یہ اعراض ہی ان کے راستے کا روڑا ہے۔ ان کو ایمان سے روک رہا ہے۔ اس کائنات میں جگہ جگہ جو دلائل بکھرے ہوئے ہیں ، یہ ان سے استفادہ نہیں کرتے۔
آپ تو فقط تبلیغ پر مامور ہیں ، اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ کا کچھ نقصان نہیں ہے۔ آپ اس کام کے لئے کسی کوئی اجر طلب نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اور ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں حالانکہ یہ ہدایت انہیں مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
وما تسئلھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ للعلمین (12 : 104) “ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے ”۔ آپ ان کو آیات الٰہیہ کی یاد دہانی کرا رہے ہیں ، ان کی بصارت اور بصیرت دونوں کو راہ ہدایت کی طرف موڑنا چاہتے ہیں اور یہ رہنمائی تمام جہان والوں کے لیے عام ہے ، یہ کسی ایک قوم ، کسی مخصوص نسل اور کسی خاص قبیلے کے لئے محدود نہیں ہے۔ اس کی کوئی بھی قیمت مقرر نہیں ہے کہ کوئی ادا کرنے سے قاصر ہو ، صرف اغنیاء ہی اسے خرید سکتے ہیں۔ فقراء کے بس کی بات نہ ہو۔ نیز اس کے حصول کے لئے کوئی جسمانی توانائی کی شرط بھی نہیں ہے کہ طاقتور لوگ اسے حاصل کرسکتے ہیں اور ناتواں اس کے حصول سے عاجز ہوں۔ یہ تو تمام جہاں والوں کے لیے کھلی نصیحت ہے۔ یہ ایک ایسا کھلا دستر خوان ہے جس پر تمام لوگ مدعو ہیں جو چاہے اسے قبول کرلے۔
وکاین من ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 105) “ زمین و آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے ”۔ وہ نشانیاں جو ذات باری پر گواہی دے رہی ہیں ، جو اللہ کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں وہ اس کائنات میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں اور لوگوں کی بصارت اور بصیرت کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔ یہ آسمانوں میں بھی ہیں اور زمین میں بھی ہیں اور یہ لوگ صبح و شام ان کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ رات کے وقت بھی یہ ان کے سامنے ہوتی ہیں اور صبح کے وقت بھی ۔ یہ لوگوں کو پکار پکار کر دعوت دے رہی ہیں اور یہ اس قدر کھلی ہیں کہ لوگوں کی نظروں اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ یہ انسان کے قلب و نظر کو دعوت فکر دے رہی ہیں ، لیکن لوگ نہ ان کو دیکھتے ہیں ، نہ ان کی پکار کی طرف کان دھرتے ہیں اور نہ ان کے جھنجھوڑنے سے ان کا احساس جاگتا ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لئے سورج کے طلوع اور غروب پر ہی غور کرلو ، ذرا درختوں کے سائے پر ہی غور کرلو کہ کس طرح غیر محسوس انداز میں گھٹتا بڑھتا ہے۔ ذرا ناپید کنار سمندر کو دیکھو ، ذرا زمین میں سے ابلتے ہوئے چشموں کی دیکھو ، ذرا بہتی ہوئی ندیوں کا نظارہ کرو ، ذرا فضائے آسمانی میں اڑنے والے پرندوں کو دیکھو ، اور پھر ذرا پانی کے اندر تیرتی ہوئی رنگ برنگ مچھلیوں کو دیکھو ، ذرا سطح زمین پر رینگنے والے کیڑوں کو دیکھو ، چیونٹیوں اور دوسرے حشرات و حیوانات کے اس لشکر عظیم کو دیکھو اور وہ حیوانات و جراثیم جو نظر ہی نہیں آتے ، اور گردش لیل ونہار کو دیکھو ، رات کے سکون اور دن کی خوشیوں کو دیکھو۔ ایک لمحے کا غوروفکر انسان پر اس کائنات کے عجائبات کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ یہ مختصر اور متفکرانہ لحظہ ہی انسانی ادراک کی دنیا میں ایک وسیع ارتعاش پیدا کرسکتا ہے اور انسان فطرت کائنات کی پکار پر لبیک کہہ سکتا ہے لیکن یمرون علیھا وھم عنھا معرضون (12 : 105) “ یہ لوگ ان پر گزرتے ہیں لیکن توجہ نہیں کرتے ”۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ پھر وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ان کی فکرو نظر میں بھی کسی نہ کسی راہ سے شرک داخل ہوگیا ہے۔ لہٰذا ایمان خالص کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر لمحہ بیدار اور چوکنا رہے اور دل سے ہر قسم کے شیطانی وسوسوں کو نکال باہر کر دے۔ دل کو ہر قسم کی دنیاوی آلائشوں سے پاک کردے۔ اپنی ہر سوچ ، ہر عمل اور ہر قسم کے تصرفات و اقدامات میں رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھے۔ ہر عمل اور ہر اقدام اللہ کرے ، ایمان خالص وہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہو ، وہ انسان کے قول و فعل اور طرز عمل پر پوری طرح حکمران ہو ، اور وہ انسان پر اس طرح اثر انداز ہو کہ انسان کی زندگی پر اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی باقی نہ رہے۔ انسان اپنے کسی معاملے میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرے۔ اور وہ اس حاکم کا بندہ ہو جس کے حکم کو کوئی بھی رد کرنے والا نہیں ہے۔
وما یومن ۔۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ یہ لوگ کیسے مشرک ہیں ؟ یہ اس کرۂ ارض پر واقعات ، اشیاء اور اشخاص کی قدرو قیمت کے تعین میں شرک کرتے ہیں۔ انسان کے نفع پہنچنے میں اور انسان کو مضرت سے بچانے کے سلسلے میں محض اللہ کی قدرت اور فیصلے کے سوا اور اسباب بھی تلاش کرتے ہیں۔ یہ اللہ اور اللہ کے قانون کے سوا کچھ اور شخصیات اور اداروں کو منبع ہدایت اور ذریعہ قانون اور شریعت قرار دیتے ہیں۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں باندھتے ہیں ، یہ ایسی قربانیاں اور خیراتیں کرتے ہیں جن کی تہہ میں رضائے الٰہی کے علاوہ کچھ اور شخصیات کی رضا بھی موجود و ملحوظ ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے نفع حاصل کرنے یا نقصان کے رکوانے کے عمل بےسود میں جدو جہد کرتے ہیں یا اللہ کی بندگی میں محض اللہ کی رضا کے سوا اوروں کی رضا کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی شرک خفی ہے اور اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارے اندر شرک اس قدر غیر محسوس طور پر داخل ہوجاتا ہے جس طرح چیونٹی کے چلنے کی آواز خفیہ ہوتی ہے۔
حضرت نبی ﷺ نے اس سلسلے میں چند نمونے بیان فرمائے ہیں جن سے شرک خفی کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کی ہے “ جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔ امام ابو داؤد اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے “ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دم اور تعویذ شرک ہے ” ۔ مسند امام احمد میں عقبہ ابن عامر کی حدیث نقل ہوئی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے انہی کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں شریکوں کی شرکت کا محتاج نہیں ہوں جس نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی غیر کو شریک کیا تو میں اسے اس غیر کے حوالے کردیتا ہوں ”۔
امام احمد نے ابو سعید ابن فضالہ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے حضور اکرم ﷺ کو کہتے سنا “ جب اللہ اولین اور آخرین کو اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے تو ایک پکارنے والا پکارے گا “ جس شخص نے ایسے کام میں اللہ کا کوئی شریک ٹھہرایا جو اللہ کا مخصوص تھا ، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا اجر اس شریک سے طلب کرے ، کیونکہ اللہ شریکوں کی شراکت کا محتاج نہیں ہے ”۔
امام احمد نے اپنی سند سے محمود ابن بسید سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ میں تمہیں اس چھوٹے شرک سے ڈراتا ہوں جس کے بارے مجھے تشویش ہے ”۔ صحابہ نے کہا “ رسول خدا ، وہ چھوٹی شرک کیا ہے ؟ ” تو آپ نے فرمایا “ وہ خواہیں ہیں ”۔ جب قیامت میں لوگ اپنے اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، جاؤ ان لوگوں کے پاس جن کو تم دنیا میں کچھ سمجھتے تھے اور دیکھو ان کے پاس ہے کچھ تمہیں جزاء کے طور پر دینے کے لئے ۔ ”
غرض ایمان کے باوجود یہ شرک خفی کی اقسام ہیں۔ ایک مومن کو چاہئے کہ وہ ان کے بارے میں چوکنا رہے اور ان سے بچنے کی سعی کرے تا کہ اس کا ایمان خالص ہوجائے۔
شرک خفی کے علاوہ بعض واضح اعمال شرکیہ ہیں اور ان میں سے ایک یہ طرز عمل ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرے ، زندگی کے معاملات میں سے کسی بھی معاملے میں۔ مثلاً وہ ایسے قانون کے مطابق فیصلے کرائے یا کرے جو شریعت کے خلاف ہو ، یہ فعل ایک صریح اور منصوص اور واضح شرک ہے جس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے مثلاً ایسے عرس اور میلے مقرر کرنا جو اللہ نے مقرر کیے ہوئے نہ ہوں یا دوسرے ایسے رسم و رواج جن کا کوئی ثبوت شریعت سے نہ ہو۔ یا ایسے لباس جن میں ستر عورت اور دوسرے احکامات کے سلسلے میں شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ یہ سب کے سب صریح شرکیہ افعال ہیں۔
ایسے معاملات جن کا تعلق ایسے رسوم اور ایسی تقریبات سے ہو جو خلاف اسلام ہوں اور جن کو اللہ کے سوا کسی اور نے رواج دیا ہو اور جن پر عمل پیرا ہونا لوگ ضروری سمجھتے ہوں ، اس طرح جس طرح فرمودۂ خدا و رسول ہو تو ایسے افعال و رسوم محض گناہ ہی نہیں رہتے بلکہ یہ شرک کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ ان کی پیروی سے انسان غیر اللہ کے دین اور نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام اسلامی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر نہایت ہی اہم ، خطرناک اور شرک ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وما یومن ۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ لہٰذا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو جزیرۃ العرب میں ایمان لانے کے بعد بھی شرک کرتے تھے اور آپ کے بعد آنے والے لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو ایمان تو لاتے ہیں مگر پھر بھی کسی نہ کسی طرح شرک کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے کہ ہدایت سے اعراض کرنے والے یہ لوگ اس سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں اور آیات قرآنیہ کے بعد آیات کونیہ سے بھی وہ منہ موڑ رہے ہیں۔ آخر وہ کیا سہارا ہے ؟ کیا یہ خدا کا خوف نہیں کرتے۔
افا منوا ان۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (12 : 107) “ کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بیخبر ی میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی ”۔ یہ ان کے شعور کے تاروں پر ایک قوی ضرب ہے ، تا کہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور اس غفلت کے انجام بد سے ڈریں ، کیونکہ عذاب الٰہی کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے ، وہ تو کسی بھی وقت نازل ہو سکتا ہے ۔ وہ کسی بھی وقت ان کو دبوچ سکتا ہے اور یہ عذاب عمومی بھی ہو سکتا ہے اور یہ عذاب اس خوفناک دن کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جو اچانک نمودار ہوجائے گا اور کسی کو اس کا شعور تک نہ ہوگا۔ عالم غیب کے دروازے تو بند ہیں ، پردۂ غیب کے پیچھے کیا ہے ، کسی کان کو خبر نہیں ، کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے ، لہٰذا ایک ذی ہوش شخص کس طرح غافل رہ سکتا ہے ؟
جب رسول خدا ﷺ کی رسالت کے دلائل سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ جب اس کائنات کا ذرہ ذرہ شاہد ہے کہ اس کا ایک واحد خالق ومالک ہے اور یہ لوگ اس کائنات کو بھی دیکھ رہے ہیں اور قرآن کو بھی سمجھتے ہیں کہ وہ عرب ہیں ، اور پھر بھی یہ اللہ کے ساتھ پوشیدہ یا ظاہری شرک کرتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت اس مرض اور غفلت کا شکار ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کے لئے اس کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی راہ پر گامزن رہیں اور آپ کے پیروکار بھی اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے رہیں ، وہ کسی کے عمل اور کسی کی بات سے متاثر نہ ہوں اور انحراف کرنے والوں کی طرف نہ دیکھیں۔
يوسف 12:104
آیت نمبر 103 تا 107
رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی رہیں گے اس لیے کہ یہ لوگ آیات الٰہی کو دیکھ کر یونہی گزر جاتے ہیں ، منہ پھیر لیتے ہیں اور ان کا یہ اعراض ہی ان کے راستے کا روڑا ہے۔ ان کو ایمان سے روک رہا ہے۔ اس کائنات میں جگہ جگہ جو دلائل بکھرے ہوئے ہیں ، یہ ان سے استفادہ نہیں کرتے۔
آپ تو فقط تبلیغ پر مامور ہیں ، اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ کا کچھ نقصان نہیں ہے۔ آپ اس کام کے لئے کسی کوئی اجر طلب نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اور ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں حالانکہ یہ ہدایت انہیں مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
وما تسئلھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ للعلمین (12 : 104) “ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے ”۔ آپ ان کو آیات الٰہیہ کی یاد دہانی کرا رہے ہیں ، ان کی بصارت اور بصیرت دونوں کو راہ ہدایت کی طرف موڑنا چاہتے ہیں اور یہ رہنمائی تمام جہان والوں کے لیے عام ہے ، یہ کسی ایک قوم ، کسی مخصوص نسل اور کسی خاص قبیلے کے لئے محدود نہیں ہے۔ اس کی کوئی بھی قیمت مقرر نہیں ہے کہ کوئی ادا کرنے سے قاصر ہو ، صرف اغنیاء ہی اسے خرید سکتے ہیں۔ فقراء کے بس کی بات نہ ہو۔ نیز اس کے حصول کے لئے کوئی جسمانی توانائی کی شرط بھی نہیں ہے کہ طاقتور لوگ اسے حاصل کرسکتے ہیں اور ناتواں اس کے حصول سے عاجز ہوں۔ یہ تو تمام جہاں والوں کے لیے کھلی نصیحت ہے۔ یہ ایک ایسا کھلا دستر خوان ہے جس پر تمام لوگ مدعو ہیں جو چاہے اسے قبول کرلے۔
وکاین من ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 105) “ زمین و آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے ”۔ وہ نشانیاں جو ذات باری پر گواہی دے رہی ہیں ، جو اللہ کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں وہ اس کائنات میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں اور لوگوں کی بصارت اور بصیرت کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔ یہ آسمانوں میں بھی ہیں اور زمین میں بھی ہیں اور یہ لوگ صبح و شام ان کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ رات کے وقت بھی یہ ان کے سامنے ہوتی ہیں اور صبح کے وقت بھی ۔ یہ لوگوں کو پکار پکار کر دعوت دے رہی ہیں اور یہ اس قدر کھلی ہیں کہ لوگوں کی نظروں اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ یہ انسان کے قلب و نظر کو دعوت فکر دے رہی ہیں ، لیکن لوگ نہ ان کو دیکھتے ہیں ، نہ ان کی پکار کی طرف کان دھرتے ہیں اور نہ ان کے جھنجھوڑنے سے ان کا احساس جاگتا ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لئے سورج کے طلوع اور غروب پر ہی غور کرلو ، ذرا درختوں کے سائے پر ہی غور کرلو کہ کس طرح غیر محسوس انداز میں گھٹتا بڑھتا ہے۔ ذرا ناپید کنار سمندر کو دیکھو ، ذرا زمین میں سے ابلتے ہوئے چشموں کی دیکھو ، ذرا بہتی ہوئی ندیوں کا نظارہ کرو ، ذرا فضائے آسمانی میں اڑنے والے پرندوں کو دیکھو ، اور پھر ذرا پانی کے اندر تیرتی ہوئی رنگ برنگ مچھلیوں کو دیکھو ، ذرا سطح زمین پر رینگنے والے کیڑوں کو دیکھو ، چیونٹیوں اور دوسرے حشرات و حیوانات کے اس لشکر عظیم کو دیکھو اور وہ حیوانات و جراثیم جو نظر ہی نہیں آتے ، اور گردش لیل ونہار کو دیکھو ، رات کے سکون اور دن کی خوشیوں کو دیکھو۔ ایک لمحے کا غوروفکر انسان پر اس کائنات کے عجائبات کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ یہ مختصر اور متفکرانہ لحظہ ہی انسانی ادراک کی دنیا میں ایک وسیع ارتعاش پیدا کرسکتا ہے اور انسان فطرت کائنات کی پکار پر لبیک کہہ سکتا ہے لیکن یمرون علیھا وھم عنھا معرضون (12 : 105) “ یہ لوگ ان پر گزرتے ہیں لیکن توجہ نہیں کرتے ”۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ پھر وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ان کی فکرو نظر میں بھی کسی نہ کسی راہ سے شرک داخل ہوگیا ہے۔ لہٰذا ایمان خالص کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر لمحہ بیدار اور چوکنا رہے اور دل سے ہر قسم کے شیطانی وسوسوں کو نکال باہر کر دے۔ دل کو ہر قسم کی دنیاوی آلائشوں سے پاک کردے۔ اپنی ہر سوچ ، ہر عمل اور ہر قسم کے تصرفات و اقدامات میں رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھے۔ ہر عمل اور ہر اقدام اللہ کرے ، ایمان خالص وہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہو ، وہ انسان کے قول و فعل اور طرز عمل پر پوری طرح حکمران ہو ، اور وہ انسان پر اس طرح اثر انداز ہو کہ انسان کی زندگی پر اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی باقی نہ رہے۔ انسان اپنے کسی معاملے میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرے۔ اور وہ اس حاکم کا بندہ ہو جس کے حکم کو کوئی بھی رد کرنے والا نہیں ہے۔
وما یومن ۔۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ یہ لوگ کیسے مشرک ہیں ؟ یہ اس کرۂ ارض پر واقعات ، اشیاء اور اشخاص کی قدرو قیمت کے تعین میں شرک کرتے ہیں۔ انسان کے نفع پہنچنے میں اور انسان کو مضرت سے بچانے کے سلسلے میں محض اللہ کی قدرت اور فیصلے کے سوا اور اسباب بھی تلاش کرتے ہیں۔ یہ اللہ اور اللہ کے قانون کے سوا کچھ اور شخصیات اور اداروں کو منبع ہدایت اور ذریعہ قانون اور شریعت قرار دیتے ہیں۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں باندھتے ہیں ، یہ ایسی قربانیاں اور خیراتیں کرتے ہیں جن کی تہہ میں رضائے الٰہی کے علاوہ کچھ اور شخصیات کی رضا بھی موجود و ملحوظ ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے نفع حاصل کرنے یا نقصان کے رکوانے کے عمل بےسود میں جدو جہد کرتے ہیں یا اللہ کی بندگی میں محض اللہ کی رضا کے سوا اوروں کی رضا کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی شرک خفی ہے اور اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارے اندر شرک اس قدر غیر محسوس طور پر داخل ہوجاتا ہے جس طرح چیونٹی کے چلنے کی آواز خفیہ ہوتی ہے۔
حضرت نبی ﷺ نے اس سلسلے میں چند نمونے بیان فرمائے ہیں جن سے شرک خفی کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کی ہے “ جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔ امام ابو داؤد اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے “ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دم اور تعویذ شرک ہے ” ۔ مسند امام احمد میں عقبہ ابن عامر کی حدیث نقل ہوئی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے انہی کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں شریکوں کی شرکت کا محتاج نہیں ہوں جس نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی غیر کو شریک کیا تو میں اسے اس غیر کے حوالے کردیتا ہوں ”۔
امام احمد نے ابو سعید ابن فضالہ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے حضور اکرم ﷺ کو کہتے سنا “ جب اللہ اولین اور آخرین کو اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے تو ایک پکارنے والا پکارے گا “ جس شخص نے ایسے کام میں اللہ کا کوئی شریک ٹھہرایا جو اللہ کا مخصوص تھا ، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا اجر اس شریک سے طلب کرے ، کیونکہ اللہ شریکوں کی شراکت کا محتاج نہیں ہے ”۔
امام احمد نے اپنی سند سے محمود ابن بسید سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ میں تمہیں اس چھوٹے شرک سے ڈراتا ہوں جس کے بارے مجھے تشویش ہے ”۔ صحابہ نے کہا “ رسول خدا ، وہ چھوٹی شرک کیا ہے ؟ ” تو آپ نے فرمایا “ وہ خواہیں ہیں ”۔ جب قیامت میں لوگ اپنے اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، جاؤ ان لوگوں کے پاس جن کو تم دنیا میں کچھ سمجھتے تھے اور دیکھو ان کے پاس ہے کچھ تمہیں جزاء کے طور پر دینے کے لئے ۔ ”
غرض ایمان کے باوجود یہ شرک خفی کی اقسام ہیں۔ ایک مومن کو چاہئے کہ وہ ان کے بارے میں چوکنا رہے اور ان سے بچنے کی سعی کرے تا کہ اس کا ایمان خالص ہوجائے۔
شرک خفی کے علاوہ بعض واضح اعمال شرکیہ ہیں اور ان میں سے ایک یہ طرز عمل ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرے ، زندگی کے معاملات میں سے کسی بھی معاملے میں۔ مثلاً وہ ایسے قانون کے مطابق فیصلے کرائے یا کرے جو شریعت کے خلاف ہو ، یہ فعل ایک صریح اور منصوص اور واضح شرک ہے جس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے مثلاً ایسے عرس اور میلے مقرر کرنا جو اللہ نے مقرر کیے ہوئے نہ ہوں یا دوسرے ایسے رسم و رواج جن کا کوئی ثبوت شریعت سے نہ ہو۔ یا ایسے لباس جن میں ستر عورت اور دوسرے احکامات کے سلسلے میں شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ یہ سب کے سب صریح شرکیہ افعال ہیں۔
ایسے معاملات جن کا تعلق ایسے رسوم اور ایسی تقریبات سے ہو جو خلاف اسلام ہوں اور جن کو اللہ کے سوا کسی اور نے رواج دیا ہو اور جن پر عمل پیرا ہونا لوگ ضروری سمجھتے ہوں ، اس طرح جس طرح فرمودۂ خدا و رسول ہو تو ایسے افعال و رسوم محض گناہ ہی نہیں رہتے بلکہ یہ شرک کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ ان کی پیروی سے انسان غیر اللہ کے دین اور نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام اسلامی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر نہایت ہی اہم ، خطرناک اور شرک ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وما یومن ۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ لہٰذا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو جزیرۃ العرب میں ایمان لانے کے بعد بھی شرک کرتے تھے اور آپ کے بعد آنے والے لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو ایمان تو لاتے ہیں مگر پھر بھی کسی نہ کسی طرح شرک کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے کہ ہدایت سے اعراض کرنے والے یہ لوگ اس سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں اور آیات قرآنیہ کے بعد آیات کونیہ سے بھی وہ منہ موڑ رہے ہیں۔ آخر وہ کیا سہارا ہے ؟ کیا یہ خدا کا خوف نہیں کرتے۔
افا منوا ان۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (12 : 107) “ کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بیخبر ی میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی ”۔ یہ ان کے شعور کے تاروں پر ایک قوی ضرب ہے ، تا کہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور اس غفلت کے انجام بد سے ڈریں ، کیونکہ عذاب الٰہی کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے ، وہ تو کسی بھی وقت نازل ہو سکتا ہے ۔ وہ کسی بھی وقت ان کو دبوچ سکتا ہے اور یہ عذاب عمومی بھی ہو سکتا ہے اور یہ عذاب اس خوفناک دن کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جو اچانک نمودار ہوجائے گا اور کسی کو اس کا شعور تک نہ ہوگا۔ عالم غیب کے دروازے تو بند ہیں ، پردۂ غیب کے پیچھے کیا ہے ، کسی کان کو خبر نہیں ، کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے ، لہٰذا ایک ذی ہوش شخص کس طرح غافل رہ سکتا ہے ؟
جب رسول خدا ﷺ کی رسالت کے دلائل سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ جب اس کائنات کا ذرہ ذرہ شاہد ہے کہ اس کا ایک واحد خالق ومالک ہے اور یہ لوگ اس کائنات کو بھی دیکھ رہے ہیں اور قرآن کو بھی سمجھتے ہیں کہ وہ عرب ہیں ، اور پھر بھی یہ اللہ کے ساتھ پوشیدہ یا ظاہری شرک کرتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت اس مرض اور غفلت کا شکار ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کے لئے اس کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی راہ پر گامزن رہیں اور آپ کے پیروکار بھی اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے رہیں ، وہ کسی کے عمل اور کسی کی بات سے متاثر نہ ہوں اور انحراف کرنے والوں کی طرف نہ دیکھیں۔
يوسف 12:105
آیت نمبر 103 تا 107
رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی رہیں گے اس لیے کہ یہ لوگ آیات الٰہی کو دیکھ کر یونہی گزر جاتے ہیں ، منہ پھیر لیتے ہیں اور ان کا یہ اعراض ہی ان کے راستے کا روڑا ہے۔ ان کو ایمان سے روک رہا ہے۔ اس کائنات میں جگہ جگہ جو دلائل بکھرے ہوئے ہیں ، یہ ان سے استفادہ نہیں کرتے۔
آپ تو فقط تبلیغ پر مامور ہیں ، اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ کا کچھ نقصان نہیں ہے۔ آپ اس کام کے لئے کسی کوئی اجر طلب نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اور ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں حالانکہ یہ ہدایت انہیں مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
وما تسئلھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ للعلمین (12 : 104) “ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے ”۔ آپ ان کو آیات الٰہیہ کی یاد دہانی کرا رہے ہیں ، ان کی بصارت اور بصیرت دونوں کو راہ ہدایت کی طرف موڑنا چاہتے ہیں اور یہ رہنمائی تمام جہان والوں کے لیے عام ہے ، یہ کسی ایک قوم ، کسی مخصوص نسل اور کسی خاص قبیلے کے لئے محدود نہیں ہے۔ اس کی کوئی بھی قیمت مقرر نہیں ہے کہ کوئی ادا کرنے سے قاصر ہو ، صرف اغنیاء ہی اسے خرید سکتے ہیں۔ فقراء کے بس کی بات نہ ہو۔ نیز اس کے حصول کے لئے کوئی جسمانی توانائی کی شرط بھی نہیں ہے کہ طاقتور لوگ اسے حاصل کرسکتے ہیں اور ناتواں اس کے حصول سے عاجز ہوں۔ یہ تو تمام جہاں والوں کے لیے کھلی نصیحت ہے۔ یہ ایک ایسا کھلا دستر خوان ہے جس پر تمام لوگ مدعو ہیں جو چاہے اسے قبول کرلے۔
وکاین من ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 105) “ زمین و آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے ”۔ وہ نشانیاں جو ذات باری پر گواہی دے رہی ہیں ، جو اللہ کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں وہ اس کائنات میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں اور لوگوں کی بصارت اور بصیرت کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔ یہ آسمانوں میں بھی ہیں اور زمین میں بھی ہیں اور یہ لوگ صبح و شام ان کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ رات کے وقت بھی یہ ان کے سامنے ہوتی ہیں اور صبح کے وقت بھی ۔ یہ لوگوں کو پکار پکار کر دعوت دے رہی ہیں اور یہ اس قدر کھلی ہیں کہ لوگوں کی نظروں اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ یہ انسان کے قلب و نظر کو دعوت فکر دے رہی ہیں ، لیکن لوگ نہ ان کو دیکھتے ہیں ، نہ ان کی پکار کی طرف کان دھرتے ہیں اور نہ ان کے جھنجھوڑنے سے ان کا احساس جاگتا ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لئے سورج کے طلوع اور غروب پر ہی غور کرلو ، ذرا درختوں کے سائے پر ہی غور کرلو کہ کس طرح غیر محسوس انداز میں گھٹتا بڑھتا ہے۔ ذرا ناپید کنار سمندر کو دیکھو ، ذرا زمین میں سے ابلتے ہوئے چشموں کی دیکھو ، ذرا بہتی ہوئی ندیوں کا نظارہ کرو ، ذرا فضائے آسمانی میں اڑنے والے پرندوں کو دیکھو ، اور پھر ذرا پانی کے اندر تیرتی ہوئی رنگ برنگ مچھلیوں کو دیکھو ، ذرا سطح زمین پر رینگنے والے کیڑوں کو دیکھو ، چیونٹیوں اور دوسرے حشرات و حیوانات کے اس لشکر عظیم کو دیکھو اور وہ حیوانات و جراثیم جو نظر ہی نہیں آتے ، اور گردش لیل ونہار کو دیکھو ، رات کے سکون اور دن کی خوشیوں کو دیکھو۔ ایک لمحے کا غوروفکر انسان پر اس کائنات کے عجائبات کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ یہ مختصر اور متفکرانہ لحظہ ہی انسانی ادراک کی دنیا میں ایک وسیع ارتعاش پیدا کرسکتا ہے اور انسان فطرت کائنات کی پکار پر لبیک کہہ سکتا ہے لیکن یمرون علیھا وھم عنھا معرضون (12 : 105) “ یہ لوگ ان پر گزرتے ہیں لیکن توجہ نہیں کرتے ”۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ پھر وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ان کی فکرو نظر میں بھی کسی نہ کسی راہ سے شرک داخل ہوگیا ہے۔ لہٰذا ایمان خالص کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر لمحہ بیدار اور چوکنا رہے اور دل سے ہر قسم کے شیطانی وسوسوں کو نکال باہر کر دے۔ دل کو ہر قسم کی دنیاوی آلائشوں سے پاک کردے۔ اپنی ہر سوچ ، ہر عمل اور ہر قسم کے تصرفات و اقدامات میں رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھے۔ ہر عمل اور ہر اقدام اللہ کرے ، ایمان خالص وہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہو ، وہ انسان کے قول و فعل اور طرز عمل پر پوری طرح حکمران ہو ، اور وہ انسان پر اس طرح اثر انداز ہو کہ انسان کی زندگی پر اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی باقی نہ رہے۔ انسان اپنے کسی معاملے میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرے۔ اور وہ اس حاکم کا بندہ ہو جس کے حکم کو کوئی بھی رد کرنے والا نہیں ہے۔
وما یومن ۔۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ یہ لوگ کیسے مشرک ہیں ؟ یہ اس کرۂ ارض پر واقعات ، اشیاء اور اشخاص کی قدرو قیمت کے تعین میں شرک کرتے ہیں۔ انسان کے نفع پہنچنے میں اور انسان کو مضرت سے بچانے کے سلسلے میں محض اللہ کی قدرت اور فیصلے کے سوا اور اسباب بھی تلاش کرتے ہیں۔ یہ اللہ اور اللہ کے قانون کے سوا کچھ اور شخصیات اور اداروں کو منبع ہدایت اور ذریعہ قانون اور شریعت قرار دیتے ہیں۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں باندھتے ہیں ، یہ ایسی قربانیاں اور خیراتیں کرتے ہیں جن کی تہہ میں رضائے الٰہی کے علاوہ کچھ اور شخصیات کی رضا بھی موجود و ملحوظ ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے نفع حاصل کرنے یا نقصان کے رکوانے کے عمل بےسود میں جدو جہد کرتے ہیں یا اللہ کی بندگی میں محض اللہ کی رضا کے سوا اوروں کی رضا کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی شرک خفی ہے اور اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارے اندر شرک اس قدر غیر محسوس طور پر داخل ہوجاتا ہے جس طرح چیونٹی کے چلنے کی آواز خفیہ ہوتی ہے۔
حضرت نبی ﷺ نے اس سلسلے میں چند نمونے بیان فرمائے ہیں جن سے شرک خفی کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کی ہے “ جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔ امام ابو داؤد اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے “ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دم اور تعویذ شرک ہے ” ۔ مسند امام احمد میں عقبہ ابن عامر کی حدیث نقل ہوئی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے انہی کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں شریکوں کی شرکت کا محتاج نہیں ہوں جس نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی غیر کو شریک کیا تو میں اسے اس غیر کے حوالے کردیتا ہوں ”۔
امام احمد نے ابو سعید ابن فضالہ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے حضور اکرم ﷺ کو کہتے سنا “ جب اللہ اولین اور آخرین کو اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے تو ایک پکارنے والا پکارے گا “ جس شخص نے ایسے کام میں اللہ کا کوئی شریک ٹھہرایا جو اللہ کا مخصوص تھا ، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا اجر اس شریک سے طلب کرے ، کیونکہ اللہ شریکوں کی شراکت کا محتاج نہیں ہے ”۔
امام احمد نے اپنی سند سے محمود ابن بسید سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ میں تمہیں اس چھوٹے شرک سے ڈراتا ہوں جس کے بارے مجھے تشویش ہے ”۔ صحابہ نے کہا “ رسول خدا ، وہ چھوٹی شرک کیا ہے ؟ ” تو آپ نے فرمایا “ وہ خواہیں ہیں ”۔ جب قیامت میں لوگ اپنے اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، جاؤ ان لوگوں کے پاس جن کو تم دنیا میں کچھ سمجھتے تھے اور دیکھو ان کے پاس ہے کچھ تمہیں جزاء کے طور پر دینے کے لئے ۔ ”
غرض ایمان کے باوجود یہ شرک خفی کی اقسام ہیں۔ ایک مومن کو چاہئے کہ وہ ان کے بارے میں چوکنا رہے اور ان سے بچنے کی سعی کرے تا کہ اس کا ایمان خالص ہوجائے۔
شرک خفی کے علاوہ بعض واضح اعمال شرکیہ ہیں اور ان میں سے ایک یہ طرز عمل ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرے ، زندگی کے معاملات میں سے کسی بھی معاملے میں۔ مثلاً وہ ایسے قانون کے مطابق فیصلے کرائے یا کرے جو شریعت کے خلاف ہو ، یہ فعل ایک صریح اور منصوص اور واضح شرک ہے جس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے مثلاً ایسے عرس اور میلے مقرر کرنا جو اللہ نے مقرر کیے ہوئے نہ ہوں یا دوسرے ایسے رسم و رواج جن کا کوئی ثبوت شریعت سے نہ ہو۔ یا ایسے لباس جن میں ستر عورت اور دوسرے احکامات کے سلسلے میں شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ یہ سب کے سب صریح شرکیہ افعال ہیں۔
ایسے معاملات جن کا تعلق ایسے رسوم اور ایسی تقریبات سے ہو جو خلاف اسلام ہوں اور جن کو اللہ کے سوا کسی اور نے رواج دیا ہو اور جن پر عمل پیرا ہونا لوگ ضروری سمجھتے ہوں ، اس طرح جس طرح فرمودۂ خدا و رسول ہو تو ایسے افعال و رسوم محض گناہ ہی نہیں رہتے بلکہ یہ شرک کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ ان کی پیروی سے انسان غیر اللہ کے دین اور نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام اسلامی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر نہایت ہی اہم ، خطرناک اور شرک ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وما یومن ۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ لہٰذا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو جزیرۃ العرب میں ایمان لانے کے بعد بھی شرک کرتے تھے اور آپ کے بعد آنے والے لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو ایمان تو لاتے ہیں مگر پھر بھی کسی نہ کسی طرح شرک کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے کہ ہدایت سے اعراض کرنے والے یہ لوگ اس سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں اور آیات قرآنیہ کے بعد آیات کونیہ سے بھی وہ منہ موڑ رہے ہیں۔ آخر وہ کیا سہارا ہے ؟ کیا یہ خدا کا خوف نہیں کرتے۔
افا منوا ان۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (12 : 107) “ کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بیخبر ی میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی ”۔ یہ ان کے شعور کے تاروں پر ایک قوی ضرب ہے ، تا کہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور اس غفلت کے انجام بد سے ڈریں ، کیونکہ عذاب الٰہی کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے ، وہ تو کسی بھی وقت نازل ہو سکتا ہے ۔ وہ کسی بھی وقت ان کو دبوچ سکتا ہے اور یہ عذاب عمومی بھی ہو سکتا ہے اور یہ عذاب اس خوفناک دن کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جو اچانک نمودار ہوجائے گا اور کسی کو اس کا شعور تک نہ ہوگا۔ عالم غیب کے دروازے تو بند ہیں ، پردۂ غیب کے پیچھے کیا ہے ، کسی کان کو خبر نہیں ، کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے ، لہٰذا ایک ذی ہوش شخص کس طرح غافل رہ سکتا ہے ؟
جب رسول خدا ﷺ کی رسالت کے دلائل سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ جب اس کائنات کا ذرہ ذرہ شاہد ہے کہ اس کا ایک واحد خالق ومالک ہے اور یہ لوگ اس کائنات کو بھی دیکھ رہے ہیں اور قرآن کو بھی سمجھتے ہیں کہ وہ عرب ہیں ، اور پھر بھی یہ اللہ کے ساتھ پوشیدہ یا ظاہری شرک کرتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت اس مرض اور غفلت کا شکار ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کے لئے اس کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی راہ پر گامزن رہیں اور آپ کے پیروکار بھی اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے رہیں ، وہ کسی کے عمل اور کسی کی بات سے متاثر نہ ہوں اور انحراف کرنے والوں کی طرف نہ دیکھیں۔
يوسف 12:106
آیت نمبر 103 تا 107
رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی رہیں گے اس لیے کہ یہ لوگ آیات الٰہی کو دیکھ کر یونہی گزر جاتے ہیں ، منہ پھیر لیتے ہیں اور ان کا یہ اعراض ہی ان کے راستے کا روڑا ہے۔ ان کو ایمان سے روک رہا ہے۔ اس کائنات میں جگہ جگہ جو دلائل بکھرے ہوئے ہیں ، یہ ان سے استفادہ نہیں کرتے۔
آپ تو فقط تبلیغ پر مامور ہیں ، اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ کا کچھ نقصان نہیں ہے۔ آپ اس کام کے لئے کسی کوئی اجر طلب نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اور ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں حالانکہ یہ ہدایت انہیں مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
وما تسئلھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ للعلمین (12 : 104) “ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے ”۔ آپ ان کو آیات الٰہیہ کی یاد دہانی کرا رہے ہیں ، ان کی بصارت اور بصیرت دونوں کو راہ ہدایت کی طرف موڑنا چاہتے ہیں اور یہ رہنمائی تمام جہان والوں کے لیے عام ہے ، یہ کسی ایک قوم ، کسی مخصوص نسل اور کسی خاص قبیلے کے لئے محدود نہیں ہے۔ اس کی کوئی بھی قیمت مقرر نہیں ہے کہ کوئی ادا کرنے سے قاصر ہو ، صرف اغنیاء ہی اسے خرید سکتے ہیں۔ فقراء کے بس کی بات نہ ہو۔ نیز اس کے حصول کے لئے کوئی جسمانی توانائی کی شرط بھی نہیں ہے کہ طاقتور لوگ اسے حاصل کرسکتے ہیں اور ناتواں اس کے حصول سے عاجز ہوں۔ یہ تو تمام جہاں والوں کے لیے کھلی نصیحت ہے۔ یہ ایک ایسا کھلا دستر خوان ہے جس پر تمام لوگ مدعو ہیں جو چاہے اسے قبول کرلے۔
وکاین من ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 105) “ زمین و آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے ”۔ وہ نشانیاں جو ذات باری پر گواہی دے رہی ہیں ، جو اللہ کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں وہ اس کائنات میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں اور لوگوں کی بصارت اور بصیرت کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔ یہ آسمانوں میں بھی ہیں اور زمین میں بھی ہیں اور یہ لوگ صبح و شام ان کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ رات کے وقت بھی یہ ان کے سامنے ہوتی ہیں اور صبح کے وقت بھی ۔ یہ لوگوں کو پکار پکار کر دعوت دے رہی ہیں اور یہ اس قدر کھلی ہیں کہ لوگوں کی نظروں اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ یہ انسان کے قلب و نظر کو دعوت فکر دے رہی ہیں ، لیکن لوگ نہ ان کو دیکھتے ہیں ، نہ ان کی پکار کی طرف کان دھرتے ہیں اور نہ ان کے جھنجھوڑنے سے ان کا احساس جاگتا ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لئے سورج کے طلوع اور غروب پر ہی غور کرلو ، ذرا درختوں کے سائے پر ہی غور کرلو کہ کس طرح غیر محسوس انداز میں گھٹتا بڑھتا ہے۔ ذرا ناپید کنار سمندر کو دیکھو ، ذرا زمین میں سے ابلتے ہوئے چشموں کی دیکھو ، ذرا بہتی ہوئی ندیوں کا نظارہ کرو ، ذرا فضائے آسمانی میں اڑنے والے پرندوں کو دیکھو ، اور پھر ذرا پانی کے اندر تیرتی ہوئی رنگ برنگ مچھلیوں کو دیکھو ، ذرا سطح زمین پر رینگنے والے کیڑوں کو دیکھو ، چیونٹیوں اور دوسرے حشرات و حیوانات کے اس لشکر عظیم کو دیکھو اور وہ حیوانات و جراثیم جو نظر ہی نہیں آتے ، اور گردش لیل ونہار کو دیکھو ، رات کے سکون اور دن کی خوشیوں کو دیکھو۔ ایک لمحے کا غوروفکر انسان پر اس کائنات کے عجائبات کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ یہ مختصر اور متفکرانہ لحظہ ہی انسانی ادراک کی دنیا میں ایک وسیع ارتعاش پیدا کرسکتا ہے اور انسان فطرت کائنات کی پکار پر لبیک کہہ سکتا ہے لیکن یمرون علیھا وھم عنھا معرضون (12 : 105) “ یہ لوگ ان پر گزرتے ہیں لیکن توجہ نہیں کرتے ”۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ پھر وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ان کی فکرو نظر میں بھی کسی نہ کسی راہ سے شرک داخل ہوگیا ہے۔ لہٰذا ایمان خالص کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر لمحہ بیدار اور چوکنا رہے اور دل سے ہر قسم کے شیطانی وسوسوں کو نکال باہر کر دے۔ دل کو ہر قسم کی دنیاوی آلائشوں سے پاک کردے۔ اپنی ہر سوچ ، ہر عمل اور ہر قسم کے تصرفات و اقدامات میں رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھے۔ ہر عمل اور ہر اقدام اللہ کرے ، ایمان خالص وہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہو ، وہ انسان کے قول و فعل اور طرز عمل پر پوری طرح حکمران ہو ، اور وہ انسان پر اس طرح اثر انداز ہو کہ انسان کی زندگی پر اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی باقی نہ رہے۔ انسان اپنے کسی معاملے میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرے۔ اور وہ اس حاکم کا بندہ ہو جس کے حکم کو کوئی بھی رد کرنے والا نہیں ہے۔
وما یومن ۔۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ یہ لوگ کیسے مشرک ہیں ؟ یہ اس کرۂ ارض پر واقعات ، اشیاء اور اشخاص کی قدرو قیمت کے تعین میں شرک کرتے ہیں۔ انسان کے نفع پہنچنے میں اور انسان کو مضرت سے بچانے کے سلسلے میں محض اللہ کی قدرت اور فیصلے کے سوا اور اسباب بھی تلاش کرتے ہیں۔ یہ اللہ اور اللہ کے قانون کے سوا کچھ اور شخصیات اور اداروں کو منبع ہدایت اور ذریعہ قانون اور شریعت قرار دیتے ہیں۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں باندھتے ہیں ، یہ ایسی قربانیاں اور خیراتیں کرتے ہیں جن کی تہہ میں رضائے الٰہی کے علاوہ کچھ اور شخصیات کی رضا بھی موجود و ملحوظ ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے نفع حاصل کرنے یا نقصان کے رکوانے کے عمل بےسود میں جدو جہد کرتے ہیں یا اللہ کی بندگی میں محض اللہ کی رضا کے سوا اوروں کی رضا کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی شرک خفی ہے اور اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارے اندر شرک اس قدر غیر محسوس طور پر داخل ہوجاتا ہے جس طرح چیونٹی کے چلنے کی آواز خفیہ ہوتی ہے۔
حضرت نبی ﷺ نے اس سلسلے میں چند نمونے بیان فرمائے ہیں جن سے شرک خفی کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کی ہے “ جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔ امام ابو داؤد اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے “ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دم اور تعویذ شرک ہے ” ۔ مسند امام احمد میں عقبہ ابن عامر کی حدیث نقل ہوئی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے انہی کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں شریکوں کی شرکت کا محتاج نہیں ہوں جس نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی غیر کو شریک کیا تو میں اسے اس غیر کے حوالے کردیتا ہوں ”۔
امام احمد نے ابو سعید ابن فضالہ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے حضور اکرم ﷺ کو کہتے سنا “ جب اللہ اولین اور آخرین کو اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے تو ایک پکارنے والا پکارے گا “ جس شخص نے ایسے کام میں اللہ کا کوئی شریک ٹھہرایا جو اللہ کا مخصوص تھا ، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا اجر اس شریک سے طلب کرے ، کیونکہ اللہ شریکوں کی شراکت کا محتاج نہیں ہے ”۔
امام احمد نے اپنی سند سے محمود ابن بسید سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ میں تمہیں اس چھوٹے شرک سے ڈراتا ہوں جس کے بارے مجھے تشویش ہے ”۔ صحابہ نے کہا “ رسول خدا ، وہ چھوٹی شرک کیا ہے ؟ ” تو آپ نے فرمایا “ وہ خواہیں ہیں ”۔ جب قیامت میں لوگ اپنے اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، جاؤ ان لوگوں کے پاس جن کو تم دنیا میں کچھ سمجھتے تھے اور دیکھو ان کے پاس ہے کچھ تمہیں جزاء کے طور پر دینے کے لئے ۔ ”
غرض ایمان کے باوجود یہ شرک خفی کی اقسام ہیں۔ ایک مومن کو چاہئے کہ وہ ان کے بارے میں چوکنا رہے اور ان سے بچنے کی سعی کرے تا کہ اس کا ایمان خالص ہوجائے۔
شرک خفی کے علاوہ بعض واضح اعمال شرکیہ ہیں اور ان میں سے ایک یہ طرز عمل ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرے ، زندگی کے معاملات میں سے کسی بھی معاملے میں۔ مثلاً وہ ایسے قانون کے مطابق فیصلے کرائے یا کرے جو شریعت کے خلاف ہو ، یہ فعل ایک صریح اور منصوص اور واضح شرک ہے جس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے مثلاً ایسے عرس اور میلے مقرر کرنا جو اللہ نے مقرر کیے ہوئے نہ ہوں یا دوسرے ایسے رسم و رواج جن کا کوئی ثبوت شریعت سے نہ ہو۔ یا ایسے لباس جن میں ستر عورت اور دوسرے احکامات کے سلسلے میں شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ یہ سب کے سب صریح شرکیہ افعال ہیں۔
ایسے معاملات جن کا تعلق ایسے رسوم اور ایسی تقریبات سے ہو جو خلاف اسلام ہوں اور جن کو اللہ کے سوا کسی اور نے رواج دیا ہو اور جن پر عمل پیرا ہونا لوگ ضروری سمجھتے ہوں ، اس طرح جس طرح فرمودۂ خدا و رسول ہو تو ایسے افعال و رسوم محض گناہ ہی نہیں رہتے بلکہ یہ شرک کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ ان کی پیروی سے انسان غیر اللہ کے دین اور نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام اسلامی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر نہایت ہی اہم ، خطرناک اور شرک ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وما یومن ۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ لہٰذا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو جزیرۃ العرب میں ایمان لانے کے بعد بھی شرک کرتے تھے اور آپ کے بعد آنے والے لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو ایمان تو لاتے ہیں مگر پھر بھی کسی نہ کسی طرح شرک کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے کہ ہدایت سے اعراض کرنے والے یہ لوگ اس سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں اور آیات قرآنیہ کے بعد آیات کونیہ سے بھی وہ منہ موڑ رہے ہیں۔ آخر وہ کیا سہارا ہے ؟ کیا یہ خدا کا خوف نہیں کرتے۔
افا منوا ان۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (12 : 107) “ کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بیخبر ی میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی ”۔ یہ ان کے شعور کے تاروں پر ایک قوی ضرب ہے ، تا کہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور اس غفلت کے انجام بد سے ڈریں ، کیونکہ عذاب الٰہی کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے ، وہ تو کسی بھی وقت نازل ہو سکتا ہے ۔ وہ کسی بھی وقت ان کو دبوچ سکتا ہے اور یہ عذاب عمومی بھی ہو سکتا ہے اور یہ عذاب اس خوفناک دن کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جو اچانک نمودار ہوجائے گا اور کسی کو اس کا شعور تک نہ ہوگا۔ عالم غیب کے دروازے تو بند ہیں ، پردۂ غیب کے پیچھے کیا ہے ، کسی کان کو خبر نہیں ، کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے ، لہٰذا ایک ذی ہوش شخص کس طرح غافل رہ سکتا ہے ؟
جب رسول خدا ﷺ کی رسالت کے دلائل سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ جب اس کائنات کا ذرہ ذرہ شاہد ہے کہ اس کا ایک واحد خالق ومالک ہے اور یہ لوگ اس کائنات کو بھی دیکھ رہے ہیں اور قرآن کو بھی سمجھتے ہیں کہ وہ عرب ہیں ، اور پھر بھی یہ اللہ کے ساتھ پوشیدہ یا ظاہری شرک کرتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت اس مرض اور غفلت کا شکار ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کے لئے اس کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی راہ پر گامزن رہیں اور آپ کے پیروکار بھی اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے رہیں ، وہ کسی کے عمل اور کسی کی بات سے متاثر نہ ہوں اور انحراف کرنے والوں کی طرف نہ دیکھیں۔
يوسف 12:107
آیت نمبر 103 تا 107
رسول اللہ ﷺ بڑی شدت کے ساتھ یہ چاہتے تھے کہ آپ کی قوم ایمان لے آئے۔ آپ چاہتے تھے کہ آپ جو بھلائی لے کر آئے ہیں وہ ان تک پہنچ جائے اور وہ محروم بھی نہ رہیں ، نیز آپ کو اپنی برادری پر ترس آ رہا تھا کہ اگر وہ شرک کی حالت پر ہی رہے تو دنیا میں بھی ان کو روز بد دیکھنا ہوگا اور آخرت میں وہ دائمی عذاب میں مبتلا رہیں گے لیکن اللہ تعالیٰ تو انسانی دلوں کے بہت ہی قریب ہے ، وہ علیم وخبیر ہے۔ وہ انسانوں کے مزاج اور ان کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اس لیے حضور اکرم ﷺ کو بتلایا جاتا ہے کہ آپ کی یہ حرص اور یہ شدید خواہش ان کو اسلام کی طرف راغب نہ کرسکے گی ، اور ان میں سے اکثر مشرک ہی رہیں گے اس لیے کہ یہ لوگ آیات الٰہی کو دیکھ کر یونہی گزر جاتے ہیں ، منہ پھیر لیتے ہیں اور ان کا یہ اعراض ہی ان کے راستے کا روڑا ہے۔ ان کو ایمان سے روک رہا ہے۔ اس کائنات میں جگہ جگہ جو دلائل بکھرے ہوئے ہیں ، یہ ان سے استفادہ نہیں کرتے۔
آپ تو فقط تبلیغ پر مامور ہیں ، اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو آپ کا کچھ نقصان نہیں ہے۔ آپ اس کام کے لئے کسی کوئی اجر طلب نہیں کرتے۔ لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اعراض کرتے ہیں اور ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں حالانکہ یہ ہدایت انہیں مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
وما تسئلھم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ للعلمین (12 : 104) “ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے ”۔ آپ ان کو آیات الٰہیہ کی یاد دہانی کرا رہے ہیں ، ان کی بصارت اور بصیرت دونوں کو راہ ہدایت کی طرف موڑنا چاہتے ہیں اور یہ رہنمائی تمام جہان والوں کے لیے عام ہے ، یہ کسی ایک قوم ، کسی مخصوص نسل اور کسی خاص قبیلے کے لئے محدود نہیں ہے۔ اس کی کوئی بھی قیمت مقرر نہیں ہے کہ کوئی ادا کرنے سے قاصر ہو ، صرف اغنیاء ہی اسے خرید سکتے ہیں۔ فقراء کے بس کی بات نہ ہو۔ نیز اس کے حصول کے لئے کوئی جسمانی توانائی کی شرط بھی نہیں ہے کہ طاقتور لوگ اسے حاصل کرسکتے ہیں اور ناتواں اس کے حصول سے عاجز ہوں۔ یہ تو تمام جہاں والوں کے لیے کھلی نصیحت ہے۔ یہ ایک ایسا کھلا دستر خوان ہے جس پر تمام لوگ مدعو ہیں جو چاہے اسے قبول کرلے۔
وکاین من ۔۔۔۔۔۔۔ معرضون (12 : 105) “ زمین و آسمان میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے ”۔ وہ نشانیاں جو ذات باری پر گواہی دے رہی ہیں ، جو اللہ کی وحدانیت اور قدرت پر دلالت کرتی ہیں وہ اس کائنات میں جگہ جگہ بکھری پڑی ہیں اور لوگوں کی بصارت اور بصیرت کو دعوت نظارہ دے رہی ہیں۔ یہ آسمانوں میں بھی ہیں اور زمین میں بھی ہیں اور یہ لوگ صبح و شام ان کا مشاہدہ بھی کر رہے ہیں۔ رات کے وقت بھی یہ ان کے سامنے ہوتی ہیں اور صبح کے وقت بھی ۔ یہ لوگوں کو پکار پکار کر دعوت دے رہی ہیں اور یہ اس قدر کھلی ہیں کہ لوگوں کی نظروں اور ان کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں ہے۔ یہ انسان کے قلب و نظر کو دعوت فکر دے رہی ہیں ، لیکن لوگ نہ ان کو دیکھتے ہیں ، نہ ان کی پکار کی طرف کان دھرتے ہیں اور نہ ان کے جھنجھوڑنے سے ان کا احساس جاگتا ہے۔
ذرا ایک لمحے کے لئے سورج کے طلوع اور غروب پر ہی غور کرلو ، ذرا درختوں کے سائے پر ہی غور کرلو کہ کس طرح غیر محسوس انداز میں گھٹتا بڑھتا ہے۔ ذرا ناپید کنار سمندر کو دیکھو ، ذرا زمین میں سے ابلتے ہوئے چشموں کی دیکھو ، ذرا بہتی ہوئی ندیوں کا نظارہ کرو ، ذرا فضائے آسمانی میں اڑنے والے پرندوں کو دیکھو ، اور پھر ذرا پانی کے اندر تیرتی ہوئی رنگ برنگ مچھلیوں کو دیکھو ، ذرا سطح زمین پر رینگنے والے کیڑوں کو دیکھو ، چیونٹیوں اور دوسرے حشرات و حیوانات کے اس لشکر عظیم کو دیکھو اور وہ حیوانات و جراثیم جو نظر ہی نہیں آتے ، اور گردش لیل ونہار کو دیکھو ، رات کے سکون اور دن کی خوشیوں کو دیکھو۔ ایک لمحے کا غوروفکر انسان پر اس کائنات کے عجائبات کا دروازہ کھول سکتا ہے۔ یہ مختصر اور متفکرانہ لحظہ ہی انسانی ادراک کی دنیا میں ایک وسیع ارتعاش پیدا کرسکتا ہے اور انسان فطرت کائنات کی پکار پر لبیک کہہ سکتا ہے لیکن یمرون علیھا وھم عنھا معرضون (12 : 105) “ یہ لوگ ان پر گزرتے ہیں لیکن توجہ نہیں کرتے ”۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔ پھر وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں ان کی فکرو نظر میں بھی کسی نہ کسی راہ سے شرک داخل ہوگیا ہے۔ لہٰذا ایمان خالص کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ہر وقت اور ہر لمحہ بیدار اور چوکنا رہے اور دل سے ہر قسم کے شیطانی وسوسوں کو نکال باہر کر دے۔ دل کو ہر قسم کی دنیاوی آلائشوں سے پاک کردے۔ اپنی ہر سوچ ، ہر عمل اور ہر قسم کے تصرفات و اقدامات میں رضائے الٰہی کو پیش نظر رکھے۔ ہر عمل اور ہر اقدام اللہ کرے ، ایمان خالص وہ ہوتا ہے کہ وہ انسان کے دل و دماغ پر چھایا ہوا ہو ، وہ انسان کے قول و فعل اور طرز عمل پر پوری طرح حکمران ہو ، اور وہ انسان پر اس طرح اثر انداز ہو کہ انسان کی زندگی پر اللہ کے سوا کسی اور کی حکمرانی باقی نہ رہے۔ انسان اپنے کسی معاملے میں اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرے۔ اور وہ اس حاکم کا بندہ ہو جس کے حکم کو کوئی بھی رد کرنے والا نہیں ہے۔
وما یومن ۔۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ یہ لوگ کیسے مشرک ہیں ؟ یہ اس کرۂ ارض پر واقعات ، اشیاء اور اشخاص کی قدرو قیمت کے تعین میں شرک کرتے ہیں۔ انسان کے نفع پہنچنے میں اور انسان کو مضرت سے بچانے کے سلسلے میں محض اللہ کی قدرت اور فیصلے کے سوا اور اسباب بھی تلاش کرتے ہیں۔ یہ اللہ اور اللہ کے قانون کے سوا کچھ اور شخصیات اور اداروں کو منبع ہدایت اور ذریعہ قانون اور شریعت قرار دیتے ہیں۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے امیدیں باندھتے ہیں ، یہ ایسی قربانیاں اور خیراتیں کرتے ہیں جن کی تہہ میں رضائے الٰہی کے علاوہ کچھ اور شخصیات کی رضا بھی موجود و ملحوظ ہوتی ہے۔ یہ اللہ کے سوا اوروں سے نفع حاصل کرنے یا نقصان کے رکوانے کے عمل بےسود میں جدو جہد کرتے ہیں یا اللہ کی بندگی میں محض اللہ کی رضا کے سوا اوروں کی رضا کو بھی ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی شرک خفی ہے اور اسی وجہ سے حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تمہارے اندر شرک اس قدر غیر محسوس طور پر داخل ہوجاتا ہے جس طرح چیونٹی کے چلنے کی آواز خفیہ ہوتی ہے۔
حضرت نبی ﷺ نے اس سلسلے میں چند نمونے بیان فرمائے ہیں جن سے شرک خفی کو سمجھا جاسکتا ہے ۔ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کی ہے “ جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔ امام ابو داؤد اور امام احمد وغیرہ نے حضرت ابن مسعود ؓ سے نقل کیا ہے “ حضور ﷺ نے فرمایا کہ دم اور تعویذ شرک ہے ” ۔ مسند امام احمد میں عقبہ ابن عامر کی حدیث نقل ہوئی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ جس نے تعویذ لٹکایا اس نے شرک کا ارتکاب کیا ”۔
حضرت ابوہریرہ ؓ نے انہی کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں شریکوں کی شرکت کا محتاج نہیں ہوں جس نے بھی کوئی عمل کیا اور اس میں میرے ساتھ کسی غیر کو شریک کیا تو میں اسے اس غیر کے حوالے کردیتا ہوں ”۔
امام احمد نے ابو سعید ابن فضالہ سے روایت کی ہے ۔ انہوں نے کہا میں نے حضور اکرم ﷺ کو کہتے سنا “ جب اللہ اولین اور آخرین کو اس دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے تو ایک پکارنے والا پکارے گا “ جس شخص نے ایسے کام میں اللہ کا کوئی شریک ٹھہرایا جو اللہ کا مخصوص تھا ، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے عمل کا اجر اس شریک سے طلب کرے ، کیونکہ اللہ شریکوں کی شراکت کا محتاج نہیں ہے ”۔
امام احمد نے اپنی سند سے محمود ابن بسید سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا “ میں تمہیں اس چھوٹے شرک سے ڈراتا ہوں جس کے بارے مجھے تشویش ہے ”۔ صحابہ نے کہا “ رسول خدا ، وہ چھوٹی شرک کیا ہے ؟ ” تو آپ نے فرمایا “ وہ خواہیں ہیں ”۔ جب قیامت میں لوگ اپنے اپنے اعمال لے کر آئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ، جاؤ ان لوگوں کے پاس جن کو تم دنیا میں کچھ سمجھتے تھے اور دیکھو ان کے پاس ہے کچھ تمہیں جزاء کے طور پر دینے کے لئے ۔ ”
غرض ایمان کے باوجود یہ شرک خفی کی اقسام ہیں۔ ایک مومن کو چاہئے کہ وہ ان کے بارے میں چوکنا رہے اور ان سے بچنے کی سعی کرے تا کہ اس کا ایمان خالص ہوجائے۔
شرک خفی کے علاوہ بعض واضح اعمال شرکیہ ہیں اور ان میں سے ایک یہ طرز عمل ہے کہ انسان اللہ کے سوا کسی اور کے دین اور نظام کی پیروی کرے ، زندگی کے معاملات میں سے کسی بھی معاملے میں۔ مثلاً وہ ایسے قانون کے مطابق فیصلے کرائے یا کرے جو شریعت کے خلاف ہو ، یہ فعل ایک صریح اور منصوص اور واضح شرک ہے جس میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے مثلاً ایسے عرس اور میلے مقرر کرنا جو اللہ نے مقرر کیے ہوئے نہ ہوں یا دوسرے ایسے رسم و رواج جن کا کوئی ثبوت شریعت سے نہ ہو۔ یا ایسے لباس جن میں ستر عورت اور دوسرے احکامات کے سلسلے میں شریعت کی خلاف ورزی ہوتی ہو۔ یہ سب کے سب صریح شرکیہ افعال ہیں۔
ایسے معاملات جن کا تعلق ایسے رسوم اور ایسی تقریبات سے ہو جو خلاف اسلام ہوں اور جن کو اللہ کے سوا کسی اور نے رواج دیا ہو اور جن پر عمل پیرا ہونا لوگ ضروری سمجھتے ہوں ، اس طرح جس طرح فرمودۂ خدا و رسول ہو تو ایسے افعال و رسوم محض گناہ ہی نہیں رہتے بلکہ یہ شرک کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں کیونکہ ان کی پیروی سے انسان غیر اللہ کے دین اور نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام کا اتباع کرتا ہے جو خلاف نظام اسلامی ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے یہ امر نہایت ہی اہم ، خطرناک اور شرک ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
وما یومن ۔۔۔۔۔ مشرکون (12 : 106) “ ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہیں ”۔ لہٰذا اس آیت کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو جزیرۃ العرب میں ایمان لانے کے بعد بھی شرک کرتے تھے اور آپ کے بعد آنے والے لوگوں پر بھی ہوتا ہے جو ایمان تو لاتے ہیں مگر پھر بھی کسی نہ کسی طرح شرک کرتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہے کہ ہدایت سے اعراض کرنے والے یہ لوگ اس سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں اور آیات قرآنیہ کے بعد آیات کونیہ سے بھی وہ منہ موڑ رہے ہیں۔ آخر وہ کیا سہارا ہے ؟ کیا یہ خدا کا خوف نہیں کرتے۔
افا منوا ان۔۔۔۔۔۔ لا یشعرون (12 : 107) “ کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بیخبر ی میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی ”۔ یہ ان کے شعور کے تاروں پر ایک قوی ضرب ہے ، تا کہ وہ خواب غفلت سے جاگیں اور اس غفلت کے انجام بد سے ڈریں ، کیونکہ عذاب الٰہی کا وقت کسی کو معلوم نہیں ہے ، وہ تو کسی بھی وقت نازل ہو سکتا ہے ۔ وہ کسی بھی وقت ان کو دبوچ سکتا ہے اور یہ عذاب عمومی بھی ہو سکتا ہے اور یہ عذاب اس خوفناک دن کی شکل میں بھی ہو سکتا ہے جو اچانک نمودار ہوجائے گا اور کسی کو اس کا شعور تک نہ ہوگا۔ عالم غیب کے دروازے تو بند ہیں ، پردۂ غیب کے پیچھے کیا ہے ، کسی کان کو خبر نہیں ، کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ اگلے لمحے کیا ہونے والا ہے ، لہٰذا ایک ذی ہوش شخص کس طرح غافل رہ سکتا ہے ؟
جب رسول خدا ﷺ کی رسالت کے دلائل سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔ جب اس کائنات کا ذرہ ذرہ شاہد ہے کہ اس کا ایک واحد خالق ومالک ہے اور یہ لوگ اس کائنات کو بھی دیکھ رہے ہیں اور قرآن کو بھی سمجھتے ہیں کہ وہ عرب ہیں ، اور پھر بھی یہ اللہ کے ساتھ پوشیدہ یا ظاہری شرک کرتے ہیں اور لوگوں کی اکثریت اس مرض اور غفلت کا شکار ہے تو پھر رسول اللہ ﷺ کے لئے اس کے سوا اور کیا راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ اپنی راہ پر گامزن رہیں اور آپ کے پیروکار بھی اپنے نصب العین کی طرف بڑھتے رہیں ، وہ کسی کے عمل اور کسی کی بات سے متاثر نہ ہوں اور انحراف کرنے والوں کی طرف نہ دیکھیں۔
يوسف 12:108
آیت نمبر 108
ھذہ سبیلی ، “ یہ ہے میرا راستہ ”۔ یہ ایک راستہ ہے ، یہ سیدھا راستہ ہے ، اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ، اور اس کے احکام و قوانین میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔
ادعوا الی ۔۔۔۔۔۔ ومن اتبعنی “ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھ بھی ”۔ یعنی ہمیں اللہ کی راہنمائی حاصل ہے اور ہمیں اس کی طرف سے روشنی دی گئی ہے۔ ہمیں اپنا راستہ اچھی طرح معلوم ہے اور ہم بصیرت و بصارت کے ساتھ اس پر چل رہے ہیں۔ ہمیں بھٹکنے کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اور نہ کسی سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہی راستہ ہے اسے ہم روشنی میں دیکھ بھی رہے ہیں۔ ہم اللہ کو ان چیزوں سے پاک سمجھتے ہیں جو اس کے شایان شان نہیں ہیں اور ہم ان سے جدا اور ممتاز اور قطع تعلق کرنے والے ہیں جو اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ وما انا من المشرکین “ اور میں شریک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ”۔ نہ ظاہری شرک کرنے والوں میں سے اور نہ باطنی شرک کرنے والوں میں سے۔ یہ ہے براہ راست پس جو چاہے اسے قبول کرلے اور جو چاہے اس سے انکار کر دے ۔ میں تو بہرحال اسی راہ پر چلوں گا کیونکہ یہی سیدھی راہ ہے۔
یہاں داعیان حق کو ایک بات نوٹ کرلینا چاہئے یہ کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ انہوں نے دو ٹوک بات کرنی ہے ، ان کو اعلان کرنا ہے کہ وہ ایک علیحدہ امت ہیں۔ وہ ان لوگوں سے بالکل جدا ہیں جو ان کے نظریات کو من و عن تسلیم نہیں کرتے ۔ جو ان کے مسلک اور طریق کار کے مطابق چلتے نہیں ، یا جو ان کی قیادت کو تسلیم نہیں کرتے ، انہیں جاہلی معاشرے سے چھٹ کر علیحدہ ہوجانا چاہئے ، پوری طرح علیحدہ۔ داعیان حق کا صرف یہی فریضہ نہیں ہے کہ بس وہ دعوت دین کا حق ادا کردیں اور پھر اپنے اردگرد پھیلے ہوئے جاہلی معاشرے میں گھل مل جائیں۔ اس قسم کی دعوت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ان کو صاف صاف اعلان کرنا ہوگا۔ کہ وہ جاہلیت سے ممتاز کچھ علیحدہ لوگ ہیں۔ ان کو ایک نظریہ کی بنیاد پر علیحدہ اجتماعیت اور تنظیم کی بنیاد رکھنی ہوگی اور ایک اسلامی قیادت کے نام اور عنوان سے منظم ہونا ہوگا۔ اور اس جاہلی معاشرے سے پوری طرح علیحدہ ہونا ہوگا۔ ان کی قیادت کو بھی ایک جاہلی قیادت سے ممتاز ہونا ہوگا۔
کسی جاہلی معاشرے میں گھل مل جانا اور جاہلی قیادت کے تحت زندگی بسر کرنا ، اسلامی نظریہ حیات کی قوت اور جوش کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ اور ان کی دعوت کے تمام اثرات زائل ہوجاتے ہیں۔ اور دعوت اسلامی کے اندر وہ جاذبیت نہیں رہتی جو اس صورت میں ہوتی ہے جب اسلامی نظام قائم ہو۔
یہ حقیقت صرف اسی وقت حقیقت نہ تھی جب حضور اکرم ﷺ مشرکین مکہ کے جاہلی معاشرے میں کام کر رہے تھے بلکہ جب بھی جاہلیت غالب ہوگی اور کوئی اسلامی تحریک اس کے خلاف جدو جہد شروع کرے گی تو اس کے خلاف ایسا ہی کرنا ہوگا۔ اس وقت بیسویں صدی کی جو جاہلیت چھائی ہوئی ہے ، وہ ان تمام جاہلیتوں کی طرح ہے جن کے خلاف انسانی تاریخ میں انبیاء کی اسلامی تحریکات نے کام کیا ، سب کے خدو خال ایک جیسے ہیں۔
وہ لوگ جن کے ذہنوں میں یہ خیال خام جاگزیں ہے کہ وہ موجودہ جاہلی معاشرے کے اندر رہ کر ، اور موجودہ جاہلی معاشرے کے طور طریقے اپنا کر اور ان جاہلی سو سائٹیوں کے اندر رہ کر نہایت ہی نرم انداز تبلیغ سے اسلام کی دعوت دیں گے اور کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے وہ کھلی خام خیالی میں مبتلا ہیں۔ وہ اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی عقائد کو سرے سے سمجھے ہی نہیں اور ان کو معلوم ہی نہیں کہ اسلامی نظریہ حیات دلوں میں کس طرح اترتا ہے۔ تمام جاہلی نظریات کے حامل لوگ اپنے نصب العین ، اپنے طریقہ کار اور اپنا نام اور عنوان نہایت ہی واضح طور پر بتاتے ہیں اور اعلانیہ اپنے مقاصد کے لیے کام کرتے ہیں۔ کیا داعیان اسلام ہی رہ گئے ہیں جو چھپ چھپا کر کام کریں گے ۔ حالانکہ ان کے کام کے لئے ایک طریقہ کار وضع شدہ ہے اور وہ جاہلیت کے طریقہ کار سے ممتاز ہے۔
٭٭٭
اب ایک نکتہ توجہ طلب ہے کہ رسولوں اور رسالتوں کے بارے میں اللہ کی سنت کیا ہے ؟ اور یہ کہ بعض سابقہ اقوام کا جو انجام ہوا اس میں بعد میں آنے والوں کے لیے کیا عبرت ہے ؟ حضرت محمد ﷺ کوئی پہلے نبی نہیں ہیں۔ آپ سے قبل بھی رسول آئے اور انہوں نے اپنی رسالت پیش کی۔ اس سے قبل جن لوگوں نے ناحق تکذیب کی ، ان کا انجام تمہارے لیے سبق آموز ہے۔
يوسف 12:109
آیت نمبر 109
سابقہ اقوام کی تاریخ میں بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت ہوتی ہے۔ اس لئے بعد میں آنے والوں کو چاہئے کہ وہ سابقین کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔ اس سے دل نرم ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ بڑے بڑے ڈکٹیٹروں کے دلوں میں خوف پیدا ہوجاتا ہے۔ جب اقوام سابقہ کی سرگرمیوں اور ان کی چلت پھرت کو اپنے تخیل میں زندہ کیا جاتا ہے۔ یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنی اپنی شان و شوکت ہے اور پھر پردۂ خیال پر یہ دور آتا ہے کہ وہ دیکھو یہ لوگ تو نیست و نابود ہوگئے اور مرمٹ گئے ، بغیر حس و حرکت پڑے ہیں اور مٹی میں مل گئے ہیں۔ ان کے وہ شہر اور بستیاں کھنڈرات کی شکل اختیار کر گئیں اور ان کے ساتھ ان کا علم و ثقافت اور ان کی چلت اور پھرت اور ان کا عروج اور ان کے افکار بھی مر مٹ گئے تو ایسے تخیلات اور غوروفکر سے انسانوں کے دل دہل جاتے ہیں اور غافل سے غافل انسان کے بھی مارے خوف کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم لوگوں کو امم سابقہ کے عروج وزوال کی کہانیاں سناتا ہے اور ان کو لے جا کر ان کھنڈرات میں گھماتا ہے جو ان اقوام کی داستانیں سناتے ہیں۔
وما ارسلنا۔۔۔۔۔ القری (12 : 109) ” تم سے پہلے جو ہم نے پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان تھے اور انہی بستیوں کے رہنے والے تھے اور انہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے “۔ یعنی وہ نہ ملائکہ اور فرشتے تھے اور نہ وہ کوئی اور انوکھی مخلوق تھے ، بلکہ اے پیغمبر وہ تو آپ ہی جیسے انسان تھے۔ شہری تھے ، دیہاتی نہ تھے تا کہ وہ سلجھے ہوئے ہوں اور نرمی سے بات سنیں۔ لہٰذا آپ دعوت اسلامی کی راہ میں پیش آنے والی مشکلات کو برداشت کرنے کی سعی کریں اور لوگوں کو راہ راست دکھاتے رہیں۔ آپ کی تحریک اور دعوت بھی اسی سنت الٰہی پر قائم ہے جس کے مطابق اللہ نے تمام انبیاء کو بھیجا۔ یہ لوگ بشر تھے اور ان کی طرف خدا کا پیغام وحی کیا گیا تھا ؟
افلم یسیروا ۔۔۔۔۔ من قبلھم (12 : 109) ” پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان قوموں کا انجام نظر نہ آیا ، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں “۔ تا کہ وہ جان سکیں کہ ان کا انجام بھی وہی ہونے والا ہے جیسا کہ ان کا ہوا۔ الا یہ کہ سنت الٰہیہ انہیں اپنی گرفت میں لینے ہی والی ہے اور تا کہ وہ یہ سمجھتے کہ اس دنیا سے تو جانا ہی ہے۔
ولدارالاخرۃ خیر للذین اتقوا (12 : 109) ” یقیناً آخرت کا گھر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جنہوں نے تقوی کی روش اختیار کی “۔ اس لئے کہ اس جہان میں تو قرار نہیں ہے ، یہاں سے تو جانا ہی ہے۔
افلا تعقلون (12 : 109) ” کیا اب بھی تم لوگ نہیں سمجھتے “۔ کیا تم لوگ انسانی تاریخ میں سنت الٰہیہ کے عمل کو سمجھتے نہیں۔ اور کیا تمہاری عقل ایسے معاملے میں بھی معقول فیصلہ نہیں کرسکتی کہ ایک چیز فانی ہے اور ایک باقی ہے اور فانی پر باقی کو ترجیح دینا چاہئے۔
اب رسولوں کی زندگی کی بعض مشکل گھڑیوں کا ذکر کیا جاتا ۔ اور یہ مشکل مقامات آخری فتح سے قبل آیا کرتے ہیں۔ یہ مشکلات اللہ کی سنت کا حصہ ہیں اور یہ داعی کو درپیش آتی ہیں کیونکہ سنت الٰہیہ ٹلنے والی نہیں ہوتی ۔
يوسف 12:110
آیت نمبر 110
یہ نہایت ہی خوفناک صورت حال ہے۔ یہاں رسولوں کی زندگیوں کے نہایت ہی کربناک ، تنگی اور شدید مشکل حالات کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ ایسے حالات کہ ان میں رسول کفر ، انکار ، ہٹ دھرمی اور کھلے اندھے پن کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ دن یوں ہی گزرتے گئے مگر رسولوں نے کبھی بھی دعوت کو نہیں چھوڑا اور لوگ بھی انکار کرتے رہے۔ روز و شب کا سلسلہ یوں ہی چلتا رہا اور باطل دندندتا رہا۔ اہل باطل بہت ہی کثرت سے رہے اور اہل ایمان قلیل اور ضعیف رہے۔
کس قدر سخت حالات ہیں ، باطل ہانپ رہا ہے ، سرکشی اور طغیانی کا ارتکاب کر رہا ہے ، اور ظلم وعدوان اس کا شعار ہے۔ رسول ان حالات میں اللہ کے وعدے کا انتظار کرتے ہیں۔ لیکن اللہ کا وعدہ سامنے نہیں آرہا ہے۔ ان حالات میں ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے آرہے ہیں۔ تم دیکھتے ہو کہ انہیں مسترد کردیا گیا ، تم دیکھتے ہو کہ بظاہر ان کا یہ نظریہ مسترد کردیا گیا کہ اس دنیا میں ان کو کامیابی نصیب ہوگی۔ لیکن یہ کامیابی حاصل نہ ہوئی۔
کوئی بھی رسول جب ایسے حالات سے دو چار ہوتا ہے تو اس وقت تنگی ، شدت اور کرب اور اذیت اس کے لئے ناقابل برداشت ہوتی ہے ۔ یہ آیت اور اس کے ساتھ ساتھ جب سورة بقرہ کی درج ذیل آیت میں پڑھتا ہوں۔
ام حسبتم ان ۔۔۔۔۔۔ نصر اللہ۔ (2 : 214) “ کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور تمہیں وہ حالات پیش نہ آئیں گے جو ان لوگوں کو پیش آئے جو تم سے پہلے گزرے ہیں۔ ان کو سخت مصیبت اور تکلیف نے چھوا اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لائے تھے پکار اٹھے کہ کب آئے گی اللہ کی نصرت ؟ ”
جب بھی ان دو آیات میں سے کوئی آیت پڑھتا ہوں تو میں مارے خوف کے کانپ اٹھتا ہوں کہ رسولوں کو کس قدر جان کن مشکلات کا مقابلہ کرنا پڑا ، ایسے مشکل حالات میں انسان طرح طرح کے وسوسوں کا شکار ہوتا ہے ، ایک تسلسل کے ساتھ تکلیف دہ اور ہلا مارنے والے حالات سے دو چار ہوتا ہے جن میں رسول تک متزلزل ہوجاتے ہیں ، ایک کربناک نفسیاتی کشمکش سے انسان دو چار ہوتا ہے اور ایک ناقابل برداشت اذیت ہر وقت پیچھا کرتی رہتی ہے۔
ایسے حالات میں جن میں یہ رنج و غم مسلسل نظر آتا ہے اور کلیجہ منہ کو آجا تا ہے اور رسول اور اس کی جماعت اپنی پوری قوت صرف کردیتی ہے ، تو ایسے حالات میں اللہ کی نصرت آجاتی ہے۔ اور ایسے حالات میں جو نصرت آتی ہے وہ فیصلہ کن ہوتی ہے۔ جاءھم نصرنا فنجی من نشاء ولا یرد باسنا عن القوم المجرمین (12 : 110) “ یکایک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی۔ پھر جب ایسا موقع آجاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں ، بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جا سکتا ”۔ یہ ہے دعوت اسلامی کے بارے میں اللہ کی سنت۔ اس راہ میں مشکلات کا آنا ضروری ہے۔ کربناک حالات سے دوچار ہونا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ تحریک اسلامی اپنی پوری قوت اس راہ میں خرچ کردے۔ اس کی قوت اور طاقت کا پورا حصہ صرف ہوجائے اور نہایت ہی مایوس کن حالات ظاہر ہوجائیں اور ظاہری اسباب جن پر لوگ تکیہ کرتے ہیں ، ایک کے بعد ایک غائب ہوجائیں ، ایسے حالات میں پھر صرف من جانب اللہ نصر آتی ہے اور وہی لوگ نجات پاتے ہیں جن کے بارے میں اللہ کا کوئی حکم ہوتا ہے اور تحریک اسلامی کے مخالفین پر پھر ہلاکت آتی ہے ، اس سے وہ لوگ بچ جاتے ہیں جو نجات کے مستحق ہوتے ہیں ، اور ان پر وہ ہلاکت نہیں آتی جو مکذبین پر آتی ہے۔ یوں ایسے لوگ اس جبر اور تشدد کے ماحول سے نجات پاتے ہیں جو ظالموں اور جابروں نے ان پر مسلط کردیا ہوتا ہے۔ اب مایوسی اور بےبسی مجرموں کے حصے میں آتی ہے۔ ان کو تباہ و برباد کردیا جاتا ہے اور ان کی قوت پاش پاش ہوجاتی ہے۔ اب نہ ان کا کوئی ولی ہوتا ہے نہ مددگار ”۔
یہ سنت کیوں وضع کی گئی ہے ؟ اس لیے کہ فتح و نصرت بےقدر نہ ہو۔ وہ محض مذاق نہ ہو ، اگر قربانیوں کے بغیر فتح و نصرت ہاتھ آجایا کرتی تو ہر کوئی اٹھ کر داعی بن جاتا اور کوئی قربانی دئیے بغیر وہ کامیابی سے ہمکنار ہوجاتا یا معمولی جدو جہد سے وہ انقلاب برپا کردیتا۔ اس لیے اللہ نے دعوت اسلامی کو محض کھیل تماشے کی طرح آسان نہیں رکھا۔ دعوت اسلامی کا مقصد پوری زندگی کے طور پر طریقوں میں انقلاب برپا کرنا ہے۔ اور یہ انقلاب وہ لوگ نہیں برپا کرسکتے جو محض دعویٰ ہی کریں ، اس کی پشت پر کوئی قربانی نہ ہو۔ ایسے لوگ دعوت اسلامی کی راہ میں دی جانے والی قربانیاں نہیں برداشت کرسکتے۔ ایسے لوگ پہلے تو دعوت اسلامی جیسے مشکل کام میں ہاتھ نہیں ڈالتے لیکن اگر یہ غلطی کر بھی بیٹھیں تو وہ اس کا حق ادا نہیں کرسکتے اور جلد ہی عاجز آ کر اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ جب راہ حق میں مشکلات آتی ہیں تو صرف صادق اور اولوالعزم لوگ ہی ان کا مقابلہ کرتے ہیں جو کسی حال میں بھی دعوت اسلامی کی راہ نہیں چھوڑتے اگرچہ ان کو یقین ہوجائے کہ اس جہان میں ان کو کامیابی نہ ہوگی۔
دعوت اسلامی کوئی ایسا سودا نہیں ہے جو ایک محدود وقت کے لئے ہو ، نیز اس سودے کا منافع بھی اس دنیا کی محدود زندگی تک موقوف نہیں ہے اور یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ سودا کرنے والے لوگ اس کا اقالہ کر کے کسی اور نفع بخش سودے کے لئے تیار ہوجائیں ، جس سے ان کو اس دنیا میں جلدی نفع مل جائے۔ جو ۔۔۔ لوگ دعوت اسلامی کا علم کسی بھی جاہلی معاشرے میں بلند کرتے ہیں (اور یاد رہے کہ جاہلی معاشرہ ہر وہ معاشرہ ہوتا ہے جس میں اللہ کے احکام کی اطاعت نہ ہو ، اور اللہ کے سوا اور طاغوتوں کی اطاعت کی جاتی ہو ) ایسے لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ تحریک کا کارکن ہونا کوئی تفریح کا کام نہیں ہے ، نہ یہ کام دنیا کے مفاد کا کوئی تجارتی عمل ہے۔ یہ تو ان طاغوتی قوتوں کے ساتھ کشمکش پیہم کا معاملہ ہے جو افراد اور مالی قوت رکھتی ہیں اور ان طاغوتی قوتوں نے جمہور کو اس طرح دبا رکھا ہے کہ وہ سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کہتی ہیں۔ اور عوام بےبس ہیں۔ پھر یہ قوتیں اس قدر بااثر ہیں کہ یہ عوام کا لانعام کو اسلامی تحریکوں پر کتوں کی طرح چھوڑ دیتی ہیں اور عوام کے اندر ان کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ لوگو ! یہ لوگ تم کو ہر قسم کی تفریح اور عیاشی سے محروم کردیں گے اور زندگی کی رنگا رنگی ختم کر کے چھوڑ دیں گے۔۔۔۔ غرض دعوت اسلامی کے حاملین کا فرض ہے کہ وہ سمجھ لیں کہ اس راہ میں کانٹے ہی کانٹے ہیں ، اور پھر اس مشکلات کو انگیز کرنے کا عمل مزید مشکل ہے۔ لہٰذا قاعدہ یہ ہے کہ ابتداء میں تحریک اسلامی کے کارکن اولو العزم لوگ ہی ہوا کرتے ہیں۔ عامۃ الناس اس تحریک سے دور بھاگتے ہیں۔ معاشرے کے چیدہ ، پسندیدہ اور اولوالعزم لوگ ہی اس طرف آتے ہیں۔ یہ لوگ اقامت دین پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں ان دنیا کا سب آرام اور سامان قربان کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ابتداء میں ایسے لوگ قلیل ہوتے ہیں ، لیکن اللہ ایسے لوگوں اور ان کی قوم کے درمیان حق پر فیصلہ فرماتے ہیں اور یہ حق تب ظاہر ہوتا ہے جب اس کے لئے طویل جدو جہد کی جائے اور جب حق آتا ہے ، فیصلہ ہوجاتا ہے ، فتح حاصل ہوجاتی ہے تو جمہور لوگ اس میں داخل ہوتے ہیں۔
قصہ یوسف (علیہ السلام) میں رنگا رنگ مشکلات ہیں جن سے یہ داعی دو چار ہوتا ہے۔ اندھے کنویں میں ان کو ڈالا جاتا ہے۔ عزیز مصر کے گھر وہ ملازم اور غلام کی طرح رہتے ہیں۔ پھر ناحق جیل جاتے ہیں اور لوگوں کی امداد سے مایوس ہوتے ہیں لیکن آخری انجام انہیں لوگوں کے حق میں ہوتا ہے۔ جو ایمان لاتے ہیں اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں جیسا کہ اللہ نے فرمایا اور اللہ کا وعدہ ہر حال میں سچا ہوتا ہے ۔ قصہ یوسف قصص انبیاء میں سے ایک اہم نمونہ ہے اور ہر عقل رکھنے والے کے لئے اس میں سبق ہے۔ اس میں یہ سبق بھی ہے کہ حضرت محمد ﷺ انبیائے سابقہ کے حالات سے خبردار نہ تھے لیکن اس قصے میں یہ تفصیلات دی گئیں ، اس لیے یہ دلیل ہے صداقت قرآن پر ، ورنہ کسی کے لئے ممکن نہیں کہ وہ ایسے حالات اپنی طرف سے گھڑ کر بنائے اور وہ حرف بحرف درست ہوں اور مصنوعی کہانیوں پر دل مومن کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔
يوسف 12:111
آیت نمبر 111
ذرا غور کیجئے ، سورة کا آغاز اور اختتام کس قدر ہم آہنگ ہیں۔ اس طرح قصے کا آغاز و اختتام بھی باہم ۔۔۔۔ ہیں۔ قصے کے آغاز میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ اس کے درمیان بھی عبرت آموزی کی گئی ہے اور اس کے آخر میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں اور مضمون اور موضوع باہم پیوست و ہم آہنگ ہے۔ طرز ادا اور فقرے موزوں ، فنی اعتبار سے قصہ نہایت ہی پرکشش ہے۔ لیکن ان سب خصوصیات کے ساتھ واقعات حقیقت پر مبنی ہیں اور کوئی مبالغہ نہیں ہے۔
یہ قصہ ایک ہی سورة میں پوری طرح بیان ہوجاتا ہے ۔ یک جا پورے کا پورا۔ اس لیے کہ اس قصے کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ یہ یکجا ہو۔ کیونکہ واقعات آہستہ آہستہ رونما ہوتے ہیں۔ ایک دن کے بعد دوسرا دن آتا ہے۔ ایک مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ آتا ہے ، اس لیے اس سے نتائج صرف اسی صورت میں اخذ کیے جاسکتے تھے کہ قصے کو پوری شکل میں ایک سورة میں دے دیا جائے۔ اگر دوسرے قصص کی طرح اس کے صرف بعض حلقے ہی لائے جاتے تو اس طرح وہ نتائج اخذ نہ ہو سکتے تھے جو مکمل قصہ کی شکل میں سامنے آتے ہیں دوسرے قصص کا انداز قرآن میں مختلف رہا ہے۔ مثلاً بلقیس یا قصہ تخلیق مریم۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا واقعہ ، کیونکہ یہ ان قصوں کے بعض حلقے اپنی جگہ مکمل حصے اور کڑیاں ہیں اور ان سے ایک مستقل سبق ملتا ہے۔ لیکن قصہ یوسف ایسا ہے کہ اس کو مکمل طور پر ایک ہی نشست میں پڑھنا ضروری ہے اور ابتداء سے انجام تک ایک ہی جگہ اس کا بیان بھی ضروری ہے۔
نحن نقص علیک ۔۔۔۔۔ الغفلین (12 : 3) “ ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرائے میں واقعات و حقائق (قصص) تم سے بیان کرتے ہیں ورنہ اس سے پہلے تم بالکل بیخبر تھے ”۔